Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Wednesday, July 12, 2017

انشا جی! اُٹھو اب کوچ کرو


ہر خاندان کے عروج کی ایک مدت ہوتی ہے۔ شریف خاندان اپنا عروج دیکھ چکا!
ابن خلکان کی روایت ہے سعید بن سالم سے لوگوں نے پوچھا برامکہ کے زوال کا سبب کیا تھا؟ کہا ان کا زمانہ طول پکڑ گیا تھا اور ہر طوالت کا انجام رنج و غم ہے۔
مگر جو رائے ابن خلدون نے برامکہ کے زوال پردی‘ وہ شریف خاندان پر زیادہ منطبق ہوتی ہے۔ ابن خلدون لکھتے ہیں کہ برامکہ دولت عباسیہ کے خاندان پر قابض ہو گئے تھے یہاں تک کہ خلیفہ کو خزانے سے کچھ ملتا ہی نہ تھا۔ شریف خاندان ملک کے خزانوں پر قابض ہو چکا۔ فولاد سے لے کر مرغی اور مرغی کے گوشت تک ہر خزانے پر ان کا تصرف ہے۔
مگر ایک سبب شریف خاندان کے زوال کا ستاروں کی گردش ہے اور یہی اصل سبب لگتا ہے۔ ان کے بخت کا ماتھا‘ تنگ ہو چکا۔ ان کا چاند گہنا چکا۔ ہما ان کے سر پر تیس سال بیٹھا رہا۔ مگر اب وہ اڑ کر جا چکا۔
برامکہ کی طرف پلٹتے ہیں۔ جعفر برمکی نے عالی شان قصر تعمیر کرایا۔ اس کا باپ یحییٰ دیکھنے آیا تو جعفر نے پوچھا محل میں کوئی عیب آپ کو نظر آیا؟ یحییٰ نے کہا ہاں! عیب ہے اور وہ یہ کہ تمہارے قرب و جوار والوں کو اس سے تکلیف ہوگی! لہٰذا ان کے روزینے مقرر کرو تاکہ زبانیں بند ہو جائیں۔ جن کے گھر شکستہ ہیں انہیں بنوادو اور دستر خوان ہر وقت بچھا رہے۔
تعمیر اور آرائش ختم ہو چکی تو نجومیوں کو بلایا گیا کہ محل میں منتقل ہونے کے لیے سعید ساعت کا تعین کریں۔ زائچے بنے دست شناس کام میں لگ گئے۔ ستاروں کی چالیں جانچی گئیں۔ قرار پایا کہ رات کے وقت منتقل ہوا جائے۔ رات کو منتقل ہوا جارہا تھا۔ ہر جانب سناٹا تھا۔ لوگ گھروں میں سورہے تھے۔ مگر جعفر نے سنا کہ ایک شخص گلی سے گزرا اور وہ گا رہا تھا   ؎
تُدَبّرُ بِالنّجومِ وَلَسْتَ تَدْرِی
وَرَبُّ النَجمِ یَفْعَلُ مَا یَشَاء
’’تمہیں کچھ بھی معلوم نہیں۔ ستاروں سے تدبیر کرتے ہو۔ مگر اُدھر ستاروں کا خدا ہے کہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔‘‘
شریف خاندان نے زبانیں بند کردیں۔ روزینے مقرر کردیئے۔ دوست نوازی کی حد کردی۔ یہاں تک کہ آصف زرداری کوسوں پیچھے رہ گئے۔ نیشنل بینک آف پاکستان‘ ایس ای سی پی‘ سٹیٹ بینک‘ ترقیاتی ادارے‘ وزیراعظم آفس کے مناصب‘ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور بیسیوں دیگر عہدوں پر میرٹ کے بغیر ’’اپنوں‘‘ کو تعینات کیا۔ مدتوں پہلے کے ریٹائرڈ نوکر شاہی کے مہرے بدستور ان کے یمین و یسار میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے قریب ترین دائرے میں‘ سوائے چوہدری نثار کے‘ سب وسطی پنجاب کے چار پانچ اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔ وسطی پنجاب کے یہی چار پانچ اضلاع وزیراعظم کا پنجاب ہیں۔ یہی ان کا پاکستان ہیں۔ ڈار صاحب‘ خواجگان سعد رفیق اور آصف‘ ناروال کے احسن اقبال‘ فیصل آباد کے عابد شیر علی‘ گوجرانوالہ سے خرم دستگیر‘ ریلوے بھی انہی اضلاع کے پاس ہے۔ صحت کا قلم دان بھی‘ دفاعی پیداوار بھی‘ قانون بھی‘ اس اندرونی دائرے میں کوئی سندھی ہے نہ پٹھان‘ خاقان عباسی مری سے ہیں۔ وزارت اہم ہے مگر اندرونی سرکل میں وہ بھی نہیں۔
ہمیشہ عروج کسی کو نہیں ملتا۔ اس خانوادے کے خوشہ چیں امیدیں باندھ رہے ہیں کہ میاں صاحب ہٹ بھی گئے تو انہی کا خاندان وزارت عظمیٰ کا مالک ہو گا۔ بیگم صاحبہ آئیں گی یا بھائی صاحب مگر اندازے لگانے والے اور خوش فہمیوں کے محل تعمیر کرنے والے یہ وفادار بھول رہے ہیں کہ جیسے ہی وزیراعظم تخت سے اترے‘ وفاداریاں بدل جائیں گی۔ ہمایوں کے امرا‘ راتوں رات‘ شیر شاہ سوری کے کیمپ میں جا بیٹھیں گے۔ طلال ہوں کہ دانیال‘ زاہد حامد ہوں کہ امیر مقام‘ سائبیریا سے آنے والے یہ پرندے‘ جنوب کی جھیلوں کے کنارے مستقل بیٹھنے والے نہیں‘ کبھی نہیں‘ یہ اڑ جائیں گے۔ ان کے پیروں میں وفا کی زنجیریں نہیں‘ ان کے جسموں پر ہرجائی پن کے بال و پر لگے ہیں۔ پارٹی تتر بتر ہو جائے گی۔
افسوس! پارٹی پر خاندانی اقتدار مسلط کرنے کے بجائے وزیراعظم پارٹی کی تہذیب و تربیت کو فوقیت دیتے‘ پارٹی اصولوں پر مستحکم کرتے‘ تو آج پارٹی نہ ٹوٹتی‘ مگر شخصی بنیادوں پر زندہ رہنے والی پارٹیاں شخصیت کے کمزور ہوتے ہی حصوں‘ بخروں میں بٹ جاتی ہیں۔ خاندان میں سے جانشین بننے والا‘ یا بننے والی‘ پارٹی کو ڈھونڈتی رہ جاتی ہے۔
وزیراعظم نے کراچی کا دورہ منسوخ کردیا۔ یہ آغاز ہے‘ دس جولائی کی شام کو سفیروں نے اپنے اپنے ملک کو رپورٹ بھیج دی۔ دنیا بھر کی حکومتیں جان گئیں کہ وزیراعظم کی پوزیشن خراب ہو گئی ہے۔ ریت پیروں تلے سے سرک رہی ہے۔ وزیراعظم بیرونی دوروں پر کیسے جائیں گے؟ دوسرے ملکوں کے سربراہوں کا کیسے سامنا کریں گے؟ اپنے ملک کے مختلف حصوں میں کیسے تشریف لے جائیں گے؟ صرف سازش کا الزام لگا کر کیسے بچیں گے؟ وفاقی وزیروں نے دس جولائی کی شام کوپریس کانفرنس میں جے آئی ٹی رپورٹ کو ’’عمران نامہ‘‘ تو کہا‘ دھرنا نمبر تھری کا نام تو دیا مگر یہ نہ کہا کہ مریم بی بی دو کمپنیوں کی مالک نہیں ہیں اور وزیراعظم ایف زیڈ ای کمپنی کے مالک نہیں۔ ایک طرف سازش کا نعرہ ہے‘ دوسری طرف حقیقتیں ہیں۔ ثابت شدہ حقیقتیں۔
عمران خان نے کہا تھا ادارے تباہ کردیئے گئے۔ جو کچھ ایس ای سی پی کے چیئرمین نے کیا اور کرایا‘ جس طرح نیشنل بینک کا چیئرمین ملوث پایا گیا‘ اس سے عمران خان کا دعویً درست ثابت ہوا۔ جس میڈیا ہائوس پر وہ الزام لگاتا تھا‘ اسی میڈیا ہائوس کو عدالت نے توہین عدالت میں پکڑا ہے۔ اسی کے حوالے سے پوچھا ہے کہ حکومت نے کس کس کو کتنے کتنے اشتہار دیئے؟
رہے یہ ساٹھ دن جن کے دوران جے آئی ٹی نے رپورٹ تیار کی‘ ان ساٹھ دنوں نے ہمارے سیاست دانوں اور ہمارے میڈیا کو بری طرح اور پوری طرح 
برہنہ کردیا ہے۔ ثابت ہو گیا کہ ہمارے اہل سیاست کو متانت اور شائستگی سے دور کا 
بھی واسطہ نہیں‘ قصائی کی دکان سے لے کر زیرو زیرو سیون تک ہر ابتذال سے بھرا ہوا فقرہ لڑھکایا گیا۔ سننے والوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔ یہ بھی اظہر من الشمس ہو گیا کہ حکومت کے عمائدین حد درجہ خوشامدی ہیں اور خاندان پرست۔ مریم نواز کی جے آئی ٹی آمد پر جس کروفر کا مظاہرہ کیا گیا جس طرح شہریوں کو پہروں ٹریفک کے عذاب سے گزارا گیا‘ اس سے بادشاہوں کے زمانے لوگوں کی نظروں میں پھرنے لگے۔ شان و شوکت‘ جاہ و جلال‘ تزک و احتشام‘ حد تھی نہ حساب‘ امریکہ برطانیہ فرانس کے حکمران خاندانوں کی بیٹیاں اس طمطراق کا خواب میں بھی نہیں سوچ سکتیں۔
میڈیا پر کثیر تعداد توازن نہ برقرار رکھ سکی‘ بہت سے باڑ پھلانگ کر دوسری طرف چلے گئے۔ شاہی خاندان کے دفاع میں ایسی اسی تاویلات اور توجیہات پیش کی گئیں کہ سننے والے دنگ رہ گئے۔ مگر یہ طے ہے کہ عوام‘ جان گئے ہیں کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ سننے والوں کو اور پڑھنے والوں کو اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ کون غیر جانب دار ہے اور کون وابستگان میں سے ہے۔ خود کسی کو احساس نہ ہو تو بات الگ ہے۔ وابستگی کا نشہ معمولی نشہ نہیں کہ اتر جائے۔ شاہی خاندان سے قربت‘ حکومتی تقاریب میں شرکت‘ ہم سفری‘ ہم نشینی‘ کیسی میٹھی اور خوش ذائقہ چوری ہے جو یہ طوطے کھا رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ساکھ کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں‘ یہ لوگ تو شاہی خاندان سے رات دن پوچھتے ہیں    ؎
یہ عزت ہے یہ جاں ہے اس طرف ایماں پڑا ہے
تو پھر فرمائیے! سودا کہاں سے چاہتے ہیں؟
تیس سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا۔ ہمیشہ کے لیے عروج صرف اس بادشاہ کو ہے جس کے اقتدار کا نقارہ حشر کے دن بجے گا۔ 
لِمَنِ الْمُلکُ الْیَوْم! 
ِللَّہِ الوَاحِدِ القَہَّار!
کس کی ہے آج بادشاہی! کس کے پاس ہے مکمل اختیار؟ صرف اللہ کے لیے جو قہار ہے۔ قہار کی صفت کا بیان یہاں قابل غور ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں جو اپنے آپ کو مالک و رازق سمجھتے ہیں‘ وہ قہر کو بھول جاتے ہیں۔
میاں محمد نوازشریف کو تاریخ کا ادراک ہوتا تو باعزت راستہ اپناتے جو مشورہ انہوں نے ببانگ دہل یوسف رضا گیلانی کو دیا تھا‘ اس پر خود بھی عمل پیرا ہوتے۔ قوم سے خطاب کے دوران کہا کہ قصور وار نکل آیا تو ’’ایک لمحہ تاخیر کیے بغیر گھر چلا جائوں گا۔‘‘ گھر چلے  جاتے تو عزت سادات رہ جاتی۔ انگریز اسے 
Face Saving
 کہتے ہیں۔ چہرہ بچ جانا غنیمت ہوتا ہے۔
مگر آہ! مفاد پرست وزیراعظم کو غلط مشورہ دے رہے ہیں۔ 
Beneficiaries
 کے اپنے مسائل ہیں۔ ان کی دیہاڑیاں لگی ہوئی ہیں۔ بادشاہ تخت سے اترا تو دربارداری ختم ہو جائے گی۔ وہ کب چاہیں گے کہ دربار داری ختم ہو۔ اپنے مفادات کے لیے صائب مشورہ کبھی نہ دیں گے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔

Monday, July 10, 2017

ایک ورق سجاد میر کے لیے


جناب سجاد میر نے عسکری صاحب کا ذکر کیا تو اُس زمانے کا کراچی یاد 
آگیا۔ جب کراچی کراچی تھا اور ابھی بیروت نہیں بنا تھا۔ عسکری صاحب کو نہیں دیکھا وہ اردو ادب کی عہد ساز شخصیت تھے۔ سجاد میر صاحب کی خدمت میں عرض کی ہے کہ حضور! یادداشتیں قلم بند کیجیے۔ ادب کے طالب علم کو ان یادداشتوں میں بہت کچھ ملے گا۔ سیاسی کالموں میں کچھ نہیں دھرا۔
ستر کی دہائی کا آغاز تھا جب یہ چوبیس سالہ نوجوان‘ سی ایس ایس کر کے‘ کراچی میں تعینات ہوا۔ قیام و طعام کے بندوبست سے فارغ ہوتے ہی مصباح الاسلام فاروقی صاحب سے ملنے کی سوجھی۔ ان کی ایک کتاب کا ان دنوں شہرہ تھا۔ بیمار تھے۔ گزر اوقات کے لیے چھت پر مرغیاں پال رکھی تھیں۔ جس مذہبی پارٹی سے وہ وابستہ رہے تھے‘ غالباً اس نے ان کی اس کٹھن زمانے میں کوئی مدد نہیں کی۔
سلیم احمد صاحب کے گھر کئی بار حاضری دینے کا موقع ملا۔ غلطی یہ ہوئی کہ ان حاضریوں کی (ملاقاتوں کی نہیں) روداد نہ لکھی! شعر سناتے تو ساتھ ساتھ بائیں ران پر ہاتھ مارتے جاتے    ؎
کھال چکنی ہو تو دھندے ہیں ہزار
لومڑی نے کب کوئی دوہا سنا
آخری دن تھا کئی دن کی ملاقاتوں کا
آج کی شام تو وہ شخص اکیلا ہوتا
پرانی کشتیاں ہیں میرے ملاحوں کی قسمت میں
میں ان کے بادباں سیتا ہوں اور لنگر بناتا ہوں
جو فصل ابھی نہیں کٹی ہے
میں اس کا لگان دے رہا ہوں
شاید کوئی بندہ خدا آئے
صحرا میں اذان دے رہا ہوں
لیکن کراچی میں جس شخصیت سے استفادہ کرنے کے زیادہ مواقع ملے وہ قمر جمیل تھے۔
چھوٹا منہ بڑی بات اگر یہ کہوں کہ سلیم احمد کے بعد کراچی کے ادیبوں‘ شاعروں کا مرجع قمر جمیل تھے تو شاید کسی کو اعتراض نہ ہو۔ وہ ایک انجمن تھے۔ ایک ادارہ تھے۔ اس کالم نگار سے‘ شاعری کے حوالے سے‘ بہت شفقت فرماتے تھے۔ ایک برس رہنے کے بعد کراچی سے واپسی ہوئی مگر اس کے بعد جب بھی جانا ہوا‘ ان کی خدمت میں حاضری‘ کراچی کے پھیرے کا لازمی جزو تھی۔ پاکستان میں نثری نظم کے تعارف اور آغاز میں ان کا جاندار حصہ تھا۔ ثلاثی (تین مصرعوں کی نظم) کا سہرا حمایت علی شاعر صاحب کے سرباندھا جاتا ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ تین مصرعوں کی نظم قمر جمیل پہلے سے کہہ رہے تھے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ حاضر ہوا تو اگلے دن انہوں نے کئی دوسرے اہل قلم کو گھر پر مدعو کر لیا۔ رسا چغتائی کو پہلی بار انہی کے ہاں دیکھا۔ بہت برس بعد تاشقند کے چغتائی محلہ میں گھومتے اور روایتی شش لیک کھاتے رساؔکا یہ شعر مسلسل ذہن پر سوار رہا    ؎
لڑ رہا ہوں رسا ؔقبیلہ وار
میر و مرزا کے خاندان سے دور
قمر جمیل نے ادبی رسالہ ’’دریافت‘‘ نکالا۔ کئی شمارے نکلے۔ پھر بند ہوگیا۔ اس فقیر کے تیسرے شعری مجموعے ’’پری زاد‘‘ کا دیباچہ انہی کا لکھا ہوا ہے۔ غزل بھی کہی۔ منفرد اور سب سے الگ    ؎
خواب میں جو میں نے دیکھا ہے اس کا دکھانا مشکل ہے
آئینے میں پھول کھلا ہے‘ ہاتھ لگانا مشکل ہے
اس کے قدم سے میں نے سنا ہے پھول کھلے ہیں چاروں طرف
ویسے اس ویران سرا میں پھول کھلانا مشکل ہے
شیشہ گروں کے گھر میں سنا ہے کل کچھ پریاں آئی تھیں
ویسے خیال و خواب ہیں پریاں ان کا آنا مشکل ہے
ایک پتھر جو دست یار میں ہے
پھول بننے کے انتظار میں ہے
قمر جمیل کا اپنا منطقہ تھا‘ اپنی دنیا تھی اور اپنا سٹائل تھا۔ مرغابی کی تعریف یوں کی کہ مرغابی وہ ہوتی ہے جسے گولی مارتے ہیں۔ آج کے شعر و ادب کے طلبہ کو شاید معلوم نہ ہو کہ یہ غالباً ساٹھ کی دہائی تھی جب ایک کتاب چھپی جس کا نام ’’تین کتابیں‘‘ تھا۔ یہ تین شعرا کا مشترک مجموعہ کلام تھا۔ قمر جمیل‘ محبوب خزاں (اکیلی بستیاں) اور محب عارفی (چھلنی کی پیاس) اس دور میں یہ کتاب ہٹ ہوئی۔ پھر تینوں کے مجموعے الگ الگ بھی چھپے۔ المیہ یہ ہے کہ محبوب خزاں اپنی انوکھی افتادِ طبع کے باعث ’’اکیلی بستیاں‘‘ کے بعد دوسرا کوئی مجموعہ نہ لائے۔ ایک بار جب کراچی جانا ہوا تو حسب معمول قمر جمیل کے ہاں حاضر ہونا تھا۔ قمر صاحب نے حکم دیا کہ صدر سے آتے ہوئے راستے میں محبوب خزاں کی رہائش گاہ پڑتی ہے۔ انہیں لیتے آنا۔ قمر جمیل پہلے ایف بی ایریا کے نزدیک یو کے پلازا کے ایک فلیٹ میں مقیم تھے۔ پھر گلشن اقبال منتقل ہو گئے۔ ان کی یہ نئی قیام گاہ فاطمہ حسن کے گھر کے قریب تھی۔ محبوب خزاں کو ان کے گھر سے لیا۔ راستے میں انہوں نے ’’ہدایت‘‘ کی کہ قمر جمیل کے سامنے ان کے (یعنی خزاں کے) نئے شعری مجموعے کا ذکر نہ کرنا ورنہ قمر شروع ہو جائیں گے۔ خزاں صاحب کا ایسا ہی مزاج تھا۔ میرا پہلا شعری مجموعہ ’’دیوارِ آب‘‘ (1982ء میں) چھپا تو جناب محمود لودھی نے انہیں پڑھنے کے لیے دیا۔ اس وقت تک خزاں صاحب سے ملاقات نہ تھی۔ ایک دن فون آیا کہ بھائی میں محبوب خزاں بول رہا ہوں۔ پھر تقریباً دس منٹ انہوں نے دیوارِ آب پر گفتگو کی۔ گفتگو کیا تھی‘ مغز تھا اور جوہر تھا اور زر و جواہر تھے۔ ان کا ہاتھ جیسے میری کتاب کی نبض پر تھا۔ دس بارہ منٹ کے بعد میں نے جسارت کی کہ جو کچھ آپ فرما رہے ہیں‘ قلم بند کردیجیے‘ فوراً ان کا موڈ خراب ہو گیا۔ پھر زیادہ دیر بات بھی نہ کی۔ درست ہے یا غلط مگر سنا ہے کہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھے تو نتیجہ آنے سے پہلے بتا دیا تھا کہ ان کی پوزیشن اتنے نمبر پر ہوگی۔ ایسا ہی ہوا۔ غالباً اکائونٹنٹ جنرل پنجاب اور پھر اکائونٹنٹ جنرل سندھ رہے۔ ان کے کچھ اشعار تو ضرب المثل ہیں     ؎
ایک محبت کافی ہے
باقی عمر اضافی ہے
بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں
ایک جھگڑا نہیں کہ تم سے کہیں
یہ جو ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں رات کو
رات کیا سمجھ سکے ان معاملات کو 
خزاں کبھی تو کہو ایک اس طرح کی غزل
کہ جیسے راہ میں بچے خوشی سے کھیلتے ہیں
سنتے ہیں اک جزیرہ ہے کہ جہاں
یہ بلائے حواسِ خمسہ نہیں
معشوق ہیں کیا مدیر و نقاد؟
شاعر کو غلام جانتے ہیں!
’’اکیلی بستیاں‘‘ جس نظم کا عنوان ہے‘ اردو ادب میں اس نظم کی مثال مشکل ہی سے 
ملے گی۔ ادب کے نئے طالب علم کے لیے یہ نظم جیک پاٹ سے کم نہیں۔ یہاں نقل کرتے وقت ذہن میں جو نکتہ گردش کر رہا ہے یہ ہے کہ اب یہ نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہے۔ ’’اکیلی بستیاں‘‘ کا جو ایڈیشن میرے پاس ہے وہ اگست 1972ء کا ہے۔ البیان چوک انارکلی لاہور نے مکتبہ جدید پریس سے چھپوایا ہے۔ قیمت ایک روپیہ درج ہے۔ خریدنے کی تاریخ کتاب پر پانچ فروری 1976ء درج ہے۔ اب نظم پڑھیے     ؎
بے کس چمیلی پھولے اکیلی آہیں بھرے دل جلی
بھوری پہاڑی خاکی فصیلیں دھانی کبھی سانولی
جنگل میں رستے‘ رستوں میں پتھر‘ پتھر پہ نیلم پری
لہریلی سڑکیں چلتے مناظر بکھری ہوئی زندگی
بادل‘ چٹانیں‘ مخمل کے پردے‘ پردوں پہ لہریں پڑی
کاکل پہ کاکل خیموں پہ خیمے سلوٹ پہ سلوٹ ہری
بستی میں گندی گلیوں کے زینے لڑکے دھماچوکڑی
برسے تو چھاگل ٹھہرے تو ہلچل راہوں میں اک کھلبلی
گرتے گھروندے اٹھتی امنگیں ہاتھوں میں گاگر بھری
کانوں میں بالے چاندی کے ہالے پلکیں گھنی کھردری
ہڈی پہ چہرے‘ چہروں میں آنکھیں‘ آئی جوانی چلی
ٹیلوں پہ جوبن‘ ریوڑ کے ریوڑ‘ کھیتوں پہ جھالر چڑھی
وادی میں بھیگے روڑوں کی پیٹی چشموں کی چمپا کلی
سانچے نئے اور باتیں پرانی مٹی کی جادوگری
یوں معلوم ہوتا ہے کہ محبوب خزاں نے یہ نظم سفر کے دوران کہی۔ جیسے جیسے مناظر‘ تیزی سے ان کی آنکھوں کے سامنے آئے اور گزرتے رہے‘ وہ ان کی صورت گری کرتے رہے۔ ہر منظر‘ دوسرے منظر سے مختلف تھا۔ اسی لیے نظم کا ہر شعر‘ ایک الگ منظر ہے۔ یہ منظر چلتی گاڑی کی وجہ سے‘ فوراً نظروں سے ہٹتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا منظر لیتا ہے۔ بظاہر منتشر اشعار پر مشتمل یہ نظم‘ اصل میں ایک اکائی ہے۔ سفر کے دوران نظر آنے والے مختلف مناظر کی اکائی! بستیاں‘ بستیوں میں دکھائی دیتی خوب صورت مگر مفلس قلاش حسینائیں‘ کھیلتے لڑکے‘ لینڈ سکیپ اور بہت کچھ اور۔
محبوب خزاں مجرّد رہے۔ اب کس سے کہا جائے کہ ان کا کلام یکجا کرے اور چھاپے۔
قمر جمیل اور محبوب خزاں کا یہ تذکرہ ادھورا ہے۔ کراچی کے حوالے سے بہت یادیں ہیں۔ محب عارفی پر ایک طویل مضمون لکھنے کا ارادہ ہے۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! خود نوشت ہے کہ چیونٹی سے بھی کم رفتار پر رینگ رہی ہے۔ تساہل! حد درجہ تساہل! مستقل مزاجی کہاں کہ یہاں مزاج ہی کہاں ہے کہ مستقل ہو۔
شعیب بن عزیز کہہ رہے تھے کہ خود نوشت کا معاملہ آگے بڑھائو ورنہ صادق نسیم جیسے شعرا کا ذکر تک نہ ملے گا۔ نئی نسل کو ان کے تذکرے اور تخلیقات سے آشنا کرنا ضروری ہے   ؎
فراق یوسف گم گشتہ کم نہ تھا صادق
کہ میرے ہاتھ سے کنعانِ کوئٹہ بھی گیا
محب عارفی‘ وفاقی دارالحکومت کے ساتھ ہی کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوئے۔ پھر طویل عرصہ یہاں رہے۔ ہر ویک اینڈ پر ان کے ہاں ادیب اور شاعر جمع ہوتے۔ گفتگو بھی ہوتی‘ شاعری بھی اور سماجی گپ شپ بھی۔ یہ سلسلہ ان کی قیام گاہ پر اس وقت شروع ہوا جب وہ شملہ میں کلرک تھے۔ اسلام آباد میں وہ بڑے افسر تھے۔ یہ روایت ان کے ہاں‘ ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی میں بھی جاری رہی۔
محب ملی ہے مجھے ایک عمر سعی کے بعد
وہ مرگ لوگ جسے ناگہاں سمجھتے ہیں

Sunday, July 09, 2017

اک بھڑکتے ہوئے شعلے پر ٹپک جائے اگر


یہ 1993ء کا واقعہ ہے۔ سنگاپور میں عجیب و غریب سلسلہ رونما ہونے لگا۔ کاروں کی صورت بگاڑی جانے لگی۔ پارکنگ میں کھڑی ہوئی گاڑیوں پر کوئی آ کر ڈنڈے چلا جاتا‘ ان پر رنگ چھڑک جاتا۔ آگے پیچھے سے ڈینٹ پڑے ہوئے ہوتے! ٹیکسیوں کے ٹائر تیز دھار آلوں سے پھاڑ دیئے جاتے۔ ایک شخص نے بتایا کہ اسے اپنی کار چھ ماہ میں چھ بار ورکشاپ لے جانا پڑی‘ پولیس سرگرداں ہو گئی۔ بالآخر معلوم ہوا کہ ’’سنگاپور امریکی سکول‘‘ کے غیر ملکی طلبہ اس میں ملوث ہیں۔ ان کے ساتھ مقامی لڑکے بھی شامل تھے۔ سب سے بڑا مجرم اٹھارہ سالہ امریکی مائیکل فے تھا۔ جرم ثابت ہوگیا۔ سنگاپور کی عدالت نے سزا سنا دی۔ چار ماہ قید! ساڑھے تین ہزار سنگاپوری ڈالر جرمانہ اور بَید کی چھ ضربیں۔ بَید کی سزا سنگاپور کے قانون کا حصہ ہے۔
بَید کی سزا کا سن کر امریکہ میں جیسے بھونچال آ گیا۔ اُس وقت بل کلنٹن صدر تھا۔ اس نے ذاتی مداخلت کی اور سنگاپور حکومت سے کہا کہ چھڑیاں مارنے کی سزا ہٹا دی جائے۔ دو درجن سے زائد امریکی سینیٹرز نے سنگاپور حکومت کو مکتوب بھیجا اور مائیکل فے کو سزا سے استثنیٰ دینے پر زور دیا۔ سنگاپور نے جواب دیا کہ جو کوئی جرم کرے گا اسے سنگاپور کے قانون کے مطابق ضرور سزا دی جائے گی۔ اس سزا کا نتیجہ ہے کہ بقول سنگاپور حکومت‘ سنگاپور اس غنڈہ گردی اور تشدد سے بچا ہوا ہے جو نیویارک کا خاصہ ہے۔ سنگاپور کے میڈیا نے امریکی صدر پرشدید تنقید کی اور کہا کہ امریکہ کئی بحرانوں میں مبتلا ہے۔ امریکی صدر کے پاس اتنا وقت کہاں سے آ گیا کہ ایک مجرم کی حمایت کرنے لگ جائیں۔
امریکہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر سنگاپور ٹس سے مس نہ ہوا۔ ہاں! سنگاپور کے صدر نے کلنٹن کی مداخلت کا پاس کرتے ہوئے بَیدکی ضربوں کو چھ سے چار کردیا۔ مائیکل فے کو بَید مارے گئے! چار ضربیں!!
امریکی میڈیا میں مذمت کا طوفان آ گیا۔ نیویارک ٹائمز‘ واشنگٹن پوسٹ‘ لاس اینجلز ٹائمز اور دیگر بڑے اخبارات نے اداریے لکھے۔ کالم چھاپے گئے۔ سزا کے ڈانڈے ایشیائی اور مغربی تہذیب کے تفاوت سے ملائے گئے۔ بنیادی حقوق کا رونا رویا گیا۔
آپ کا کیا خیال ہے اگر سنگاپور کے بجائے پاکستان ہوتا تو مزاحمت کرسکتا؟ کیا سنگاپور کی طرح خم ٹھونک کرکھڑا ہو جاتا۔ اس سوال کا جواب ہم سب جانتے ہیں۔
اب اسی مسئلے کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھیں۔ اگر مائیکل فے پاکستانی شہری ہوتا تو کیا پاکستان میں اسی طرح تہلکہ برپا ہو جاتا جیسے امریکہ میں ہوا؟ کیا پاکستانی صدر یا وزیراعظم اپنے ایک عام شہری کے لیے‘ جس کا جرم ثابت ہو چکا تھا‘ ذاتی طور پر مداخلت کرتے؟ کیا ہمارے منتخب نمائندے سنگاپور کی حکومت کو خطوط لکھتے؟ اگر فے پاکستانی ہوتا تو کیا تب بھی اس کی سزا میں تخفیف ہوتی؟ بدقسمتی سے ان سوالوں کے جواب بھی ہم سب کو معلوم ہیں اور کسی شبہ یا ابہام کے بغیر معلوم ہیں۔
یہ واقعہ اس لیے یاد آیا کہ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان میں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں۔ کوئی کتاب کو سازش قرار دے رہا ہے کوئی اس وقت کے حکمرانوں پر امریکہ کے پالتو ہونے کا الزام لگا رہا ہے۔ کہیں جنرل پاشا سے لے کر شہباز شریف تک‘ آصف زرداری سے لے کر اس وقت کے عسکری سربراہ تک۔ سب کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ افسوس! اصل سبب کا کوئی نہیں ذکر کرتا۔ ادراک نہیں ہے یا تجاہل عارفانہ ہے!
یہ جنرل پاشا یا آصف زرداری یا شہباز شریف کا معاملہ نہیں۔ یہ معاملہ ہے ایک کمزور ملک اور ایک طاقتور ملک کا۔ یہ معاملہ ہے بھیڑیے اور میمنے کا۔ جب آپ اندر سے کمزور ہوں تو مدافعت نہیں کرسکتے۔ کسی معاملے میں بھی مزاحمت نہیں کرسکتے۔ آپ ایک فون کال پر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ آپ سفیروں کو پکڑ کر دشمن کے حوالے کردیتے ہیں۔ آپ اپنے شہریوں کو ڈالروں کے عوض دوسروں کو سونپ دیتے ہیں۔ آپ میں اتنی طاقت اور اتنی جرأت کہاں کہ آپ ریمنڈ ڈیوس کو واپس کرنے سے انکار کردیتے اور کہتے کہ پاکستان کے قانون کے مطابق ہر حال میں سزا دی جائے گی۔ آپ میں اتنی سکت کہاں تھی کہ آپ سنگاپور کی طرح ڈٹ جاتے۔
سنگاپور کیوں ڈٹ گیا تھا؟ اس لیے کہ سنگاپور کے حکمران سب سے پہلے اپنے اوپر‘ اپنی ذات پر‘ اپنے خاندان پر قانون نافذ کرتے تھے۔ ان کے ذاتی مفادات صفر تھے۔ انہیں بینک بیلنس کی فکر تھی نہ اندرون ملک اور بیرون ملک بکھری ہوئی جائیدادوں‘ محلات‘ اپارٹمنٹوں اور کارخانوں کی۔ سنگاپور مضبوط تھا‘ اس لیے نہیں کہ اس کے پاس کوئی ایٹم بم تھا یا طاقت ور فوج تھی‘ اس لیے مضبوط تھا کہ وہاں قانون کی فرماں روائی تھی۔ پولیس آزاد اور مکمل غیر سیاسی تھی۔ بیوروکریسی کو وزیراعظم کا پرنسپل سیکرٹری کنٹرول نہیں کرتا تھا۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین نے ایک دلچسپ فارمولا وضع کیا ہے۔ اس فارمولے کے تین اجزاء ہیں:
1۔ اگر جھگڑا دو بڑے اور طاقت ور ملکوں کے درمیان ہو تو اقوام متحدہ درمیان سے غائب ہو جاتی ہے۔
2۔ اگر جھگڑا ایک طاقت ور ایک کمزور ملک کے درمیان ہو تو کمزور ملک غائب ہو جاتا ہے۔
3۔ اور جھگڑا دو کمزور ملکوں کے درمیان ہو تو اصل مسئلہ جو جھگڑے کا باعث ہے‘ غائب ہو جاتا ہے۔
اس فارمولے کا آپ اپنی صورت حال پر انطباق کریں تو کیا منظر ابھرے گا؟ یہی کہ جب جھگڑا دو مضبوط ملکوں میں ہو تو مائیکل فے کو بیَدضرورمارے جاتے ہیں اور جب مسئلہ ایک مضبوط اور ایک ضعیف ملک کے درمیان ہو تو ریمنڈ ڈیوس کو رہا کردیا جاتا ہے۔ امریکی صدر تک معاملہ پہنچتا ہی نہیں۔ سفیر ہی کافی رہتا ہے۔ جہاز تیار کھڑے ملتے ہیں۔ قوانین کالعدم ہو جاتے ہیں۔ وزیروں کی ضرورت پڑتی ہے نہ پاسپورٹوں کی۔
طاقت ور ملک کی دو نشانیاں ہوتی ہیں۔ اپنے ہر شہری کی بھرپور‘ آخر دم تک‘ حفاظت کرتا ہے۔ اپنے مجرم کو نہیں چھوڑتا۔ کیا کسی کو اجمل کانسی یاد ہے؟ وہ امریکہ کا مجرم تھا۔ جون 1997ء میں میاں محمد نوازشریف وزیراعظم تھے جب امریکہ نے اسے پاکستان کے اندر سے پکڑا اور لے گیا۔ نوازشریف کی جگہ بینظیر وزیراعظم ہوتیں یا گیلانی یا پرویز مشرف‘ زرداری صدر ہوتے یا پرویز مشرف‘ اجمل کانسی کو امریکہ نے پکڑنا ہی پکڑنا تھا۔ امریکہ کو کون کہتا کہ پاکستانی قانون لاگو ہو گا؟ امریکیوں نے جواب میں یہی کہنا تھا کہ کیا پاکستانی قانون آپ پر‘ یعنی پاکستان کے حکمرانوں پر لاگو ہوتا ہے؟
جب مسلمان سپر پاور تھے تو تب بھی بین الاقوامی ’’قانون‘‘ یہی تھا جو ریمنڈ ڈیوس پر لاگو ہوا۔ سری لنکا سے آنے والے بحری جہاز میں عورتوں نے یا حجاج کہا تو کیا ہوا؟ دنیا کی طاقت ور ترین منجنیق بھیجی گئی جس نے دیبل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ معاملہ دیبل تک نہ ٹھہرا‘ ملتان تک کا علاقہ فتح کرلیا گیا۔
آپ مضبوط ملکوں کی روایت دیکھیں۔ ایک عام شہری کے لیے ان کے سفارت خانے کس طرح جدوجہد کرتے ہیں۔ کئی پاکستانی نژاد لڑکیاں جب پاکستان میں واپس لائی جاتی ہیں اور زبردستی یا فریب کاری سے ان کی شادیاں کرائی جاتی ہیں تو وہ ’’اپنے‘‘ سفارت خانے سے رابطہ کرتی ہیں۔ سفارت خانے پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آتے ہیں۔ عدالتوں کا سامنا کرتے ہیں۔ ان لڑکیوں کو‘ بے شک وہ تارکین وطن ہی کیوں نہ ہوں‘ پوری امداد اور حفاظت مہیا کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ’’اپنے‘‘ اس ملک پہنچا دی جاتی ہیں جہاں کی شہریت ان کے پاس ہوتی ہے۔
ملک فوجوں‘ ہتھیاروں اور بموں سے مضبوط نہیں ہوتے۔ بجا کہ دفاع کے لیے یہ سب کچھ لازم ہے مگر مضبوطی اور شے ہے۔ مضبوط آپ اس وقت ہوتے ہیں جب اپنے مجرموں کو کسی کے کہنے پر نہیں چھوڑتے۔ جب آپ کو کوئی ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا۔ اس مضبوطی کے لیے صرف دفاعی استحکام کافی نہیں ہوتا‘ عزت نفس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ملک کی عزت نفس اس کے شہریوں کی عزت نفس سے عبارت ہے۔ مضبوط ملک وہ ہوتے ہیں جہاں مجید اچکزئی اور جمشید دستی کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہوتا ہے۔ جب کسی سردار کے سامنے قبائلی کی‘ کسی چودھری کے سامنے مزارع کی اور کسی سائیں کے سامنے ہاری کی عزت کا کوئی وجود نہیں ہوگا‘ تو ملک کی مجموعی عزت نفس بھی اس حقیر ذرے کی طرح ہو گی جسے خرد بین سے تلاش کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی ملک ہیں جہاں حکمرانوں کی اولاد بھی حکمران ہوتی ہے اور عام شہریوں کی نسبت ہر حوالے سے ممتاز ہوتی ہے۔ یہ اپنے شہریوں کو تزک و احتشام دکھاتے ہیں اور دوسرے ملکوں کے سامنے بات بھی گھگھیا کر کرتے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی یاد آ گئے    ؎
میں وہ موتی نہ بنوں گا جسے ساحل کی ہوا
رات دن رولتی ہے
یوں بھی ہوتا ہے کہ آندھی کے مقابل چڑیا
اپنے پر تولتی ہے
اک بھڑکتے ہوئے شعلے پہ ٹپک جائے اگر
بوند بھی بولتی ہے!

Friday, July 07, 2017

بادشاہوں کے وارث ہم ہیں!!بھارت نہیں!

شہزادی نے اُس دن اپنے باغ میں جانے کا قصد کیا۔ سب سے پہلے کوتوالِ 
شہر کو طلب کیا گیا۔ اُس نے شہر کو سیل کر دیا۔ یعنی سربمہر! آمدو رفت رک گئی۔ گھوڑا گاڑیاں بیل گاڑیاں ہاتھی‘ جہاں تھے‘ وہیں رک گئے۔ پیدل چلنے والوں کو روک دیا گیا۔ شہر کے گورنر نے شہزادی کے قافلے کی’’حفاظت‘‘ کے لیے چار ایس پی گیارہ ڈی ایس پی‘ 33انسپکٹر اور دو ہزار چھ سو پولیس کے سپاہی راستوں پر تعینات کر دیئے۔ حریفوں نے شور مچایا کہ اس قدر پروٹوکول کی کیا ضرورت ہے۔ ان بددماغوں کو بتایا گیا کہ یہ پروٹوکول نہیں‘ حفاظت ہے! 
شہزادی گیارہ ہاتھیوں کے قافلے میں روانہ ہوئی! ایک ایک ہاتھی کئی کئی سو کئی کئی ہزار ہارس پاور کا تھا۔ اُس زمانے میں لوگوں نے سواری کے ہاتھیوں کے عجیب و غریب اجنبی سے نام رکھے ہوئے تھے۔ کسی کا بی ایم ڈبلیو کسی کا مرسڈیز! شہزادی کے ساتھ شان و شوکت میں مزید اضافے کے لیے اس کے بھائی بھی ساتھ تھے۔ داماد بھی ہمراہ تھا! پیچھے ایک اور ہاتھی پر اس کا میاں بھی سوار تھا۔
شہزادی جب باغ میں اتری ہے تو مداحین کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے تھے۔ ہجوم بے پناہ تھا! سب کورنش بجا لانے کے لیے جانے کب سے کھڑے تھے۔ بڑے بڑے بینر آویزاں تھے۔ وابستگان نعرے لگا رہے تھے۔ شہزادی کجاوے سے اتری تو خاتون کوتوال نے چُستی سے سلیوٹ داغا! شہزادی نے بے نیازانہ مداحین کے سامنے ایک ہاتھ لہرایا۔ ہجوم میں جوش و خروش کی ایک تازہ لہر دوڑی! دیکھنے والوں نے چاروں قُل پڑھ کر پھونکے۔ خدا نظر بد سے بچائے‘ حاسد آگ میں جلتے رہیں! بادشاہی قائم رہے! درباریوں کی نوکری سلامت رہے!
روسیاہ! جو اعتراض کرتے ہیں‘ عقل سے محروم ہیں! بادشاہی اور فقیری کے فیصلے ‘ بدبختو! کہیں اور ہوتے ہیں۔ ایک اقلیم ہے‘ مغرب کی 
سمت‘ اوقیانوس کے اُس پار‘ جہاں کے رہنے والے تمہاری طرح گندمی رنگ کے نہیں‘ بلکہ سفید‘ سرخ‘ گوری رنگت کے ہیں۔ وہی عملاً دنیا کا دارالحکومت ہے۔ کرۂ ارض کا بادشاہ وہیں بستا ہے۔ یہ بادشاہ خود تو چار سال کے لیے منتخب ہوتا ہے‘ اور صرف ایک باری مزید لے سکتا ہے مگر‘ باقی دنیا میں‘ جسے چاہے دس دس‘ بیس بیس بلکہ تیس تیس سال تک اقتدار میں رکھے! سو ہارتو‘ حسنی مبارک‘ اور کئی اور حکمرانوں کو اُس بڑے بادشاہ نے عشروں تک اقتدار میں رکھا۔ پھر نکال کر پھینک دیا!
شہزادی کو پروٹوکول ملے یا حفاظت کے دستے‘ حریفوں حاسدوں کو کیا تکلیف ہے!کیا برصغیر پاک و ہند میں ہمیشہ سے بادشاہی مسلمانوں کا طرزِ حکومت نہیں رہی؟ اگر صوبے میں شہزادی کا چچا زاد شہزادہ سیاہ و سفید کا مالک ہے تو کیا مشرق وسطیٰ میں صوبوں کے گورنر سب شاہی خاندانوں سے تعلق نہیں رکھتے! شاہ جہان نے اپنے فرزندوں کو مختلف صوبوں کی گورنریاں سونپیں۔ اگر پنجاب کے والی نے ترقیاتی فنڈ کا نگران اپنے ہونہار فرزند کو بنا دیا ہے تو بادشاہت کا کون سا اصول اس سے ٹوٹ گیا؟ انسان کو بات کرنے سے پہلے کچھ سوچنا چاہیے۔
اللہ بھائیوں کی جوڑیاں سلامت رکھے! بہن کے دائیں بائیں کھڑے تھے تو آسمان پر چاند ستارے جھوم رہے تھے۔ ہوائیں شادیانے بجا رہی تھیں۔ خدا ہمارے مستقبل کے بادشاہوں کو سلامت تا قیامت رکھے۔ الیکٹرانک میڈیا پر دن رات قصیدہ خوانی کرنے والے متعدد استاد ذوق تا ابد الفاظ کے زر و جواہر نچھاور کرتے رہیں۔ حسد کرنے والے اپنی ہی آگ میں بھسم ہوتے رہیں!رعایا دعا کرتی ہے کہ شہزادے شہزادیاں سلامت رہیں اور ہم پر حکومت کریں!
جنوب میں ایک اور شہزادہ حکمرانی کے آداب سیکھ رہا۔ قوم اس کے لیے بھی سلامتی کی دعا کرتی ہے! شاہی خاندان جتنے بھی ہیں‘ قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں! ہماری آئندہ نسلیں ان کی غلامی پر فخر کریں گی ! بادشاہت ان کا حق ہے۔ یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا!
رعایا کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ کسی ناہنجار گستاخ کو بادشاہ کے آرام میں مخل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے! یہ جو دوا سازکمپنیوں کی انجمن
Pakistan pharmaceutical manufacturers association(PPMA)
نے اخبارات کے صفحہ 
اول پر اشتہار داغا ہے‘ یہ شاہی آرام میں خلل کا باعث ہے! ان گستاخوں نے لکھا ہے کہ پوری دنیا میں جگر‘ کینسر ‘ گردوں اور بلڈ پریشر کے لیے جدید طریقہ علاج متعارف ہو چکا ہے مگر پاکستان میں یہ جدید ادویات ابھی تک عوام سے کوسوں دور ہیں اس لیے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے قیمتوں کی حتمی منظوری کے بغیر ان دوائوں کو بازار میں لانا ممکن نہیں! قیمتیں تجویز کرنے والی کمیٹی اپنی تجاویز پیش کر چکی ہے، فائل ڈیڑھ سال سے بادشاہ سلامت کے محل میں پڑی ان کے مبارک دستخطوں کی منتظر ہے! دوا سازوں کی اس انجمن نے شہنشاہِ دوراں سے اپیل کی ہے جان کی بازی ہارتے لاکھوں لوگوں پر رحم کیا جائے اور اس فائل کو منظور کیا جائے۔
یہ گستاخانہ اشتہار شاہی نظام میں خلل کا باعث ہے! یہ بغاوت کے مترادف ہے! کہاں لاکھوں جان ہارتے‘ سسکتے ‘ بلکتے‘ ایڑیاں رگڑتے مریض۔ اور کہاں بادشاہ سلامت تاقیامت کی شاہانہ مصروفیات! بادشاہ سلامت 
کو مری جانا ہوتا ہے جہاں ان کے محل کو مبینہ طور پر سرکاری رہائش گاہ قرار دیا 
گیا ہے! اب مخالف اس پر بھی انگلی اٹھائیں گے کہ محلات کا سلسلہ رائے ونڈ سے ہوتا ہوا مری جا پہنچا ہے۔ تو کیا رباط جدہ اور دوحہ کی بادشاہتوں میں محلات کی قطاریں نہیں لگی ہوئیں؟ ہم ان سے پیچھے کیوں رہیں؟
ان حاسدوں کو اپنی ہی تاریخ کا علم نہیں! مغل بادشاہ کشمیر جاتے تھے تو کیا فائلیں ڈیڑھ ڈیڑھ سال کے لیے دہلی میں ان کا انتظار نہیں کرتی تھیں! بھمبر تک قافلے ہاتھیوں کے ذریعے آتے تھے۔ اس سے آگے ہاتھی نہیں جاتے تھے۔ قُلّی سامان اٹھا لیتے تھے مغل بادشاہ کا ذاتی 
سامان پانچ ہزار قلی اٹھاتے اور لے جاتے تھے! ہم پاکستانی مسلمان انہی بادشاہوں کے وارث ہیں ! اب مودی‘ واجپائی، من موہن سنگھ اور مرار جی ڈیسائی جیسے خالی ہاتھ فقیر فُقرے تو اِن تزک و احتشام والے بادشاہوں کے وارث نہیں ہو سکتے! بھک منگا مودی! روسیاہ کا جدہ میں کارخانہ ہے نہ لندن میں جائیداد! دبئی میں محل ہے نہ نیو یارک میں پینٹ ہائوس! بُھوکے قلاش بنیے! قوم کے لیے کبھی امریکہ جا دھمکتا ہے کبھی یو اے ای میں جا کر معاہدے کرتا ہے! ابے بدبخت! کچھ اپنی اور اپنے خاندان کی فکر کر! قوم کے کام تو ہوتے ہی رہیں گے۔ یہ بادشاہی پھر کب ملے گی تجھے!کچھ اپنا مُنہ سر کر لے! اپنے اثاثوں میں اضافے کی کوئی تدبیر کر!
دوا سازوں کی انجمن پر بغاوت کا مقدمہ چلنا چاہیے! لاکھوں مریض بادشاہ سلامت کے ایک لمحۂ آرام پر قربان کر دیے جائیں تو گھاٹے کا سودا نہیں! ڈیڑھ سال ہی تو 
ہوافائل کو! پانچ برس تو نہیں ہو گئے کہ تم نے آہ و زاری شروع کر دی! بادشاہی میں ترجیحات اور ہوتی ہیں! مملکت کے رموز بادشاہ ہی جانتے ہیں!
رعایا دست بدعا ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ شہزادی کی حفاظتی پولیس میں مزید اضافہ کیا جائے۔ ہاتھیوں کی تعداد بڑھائی جائے! دارالحکومت میں دو دن پہلے ٹریفک جس طرح جام ہوئی اور بے پناہ گرمی میں جس طرح لاکھوں لوگ ذلیل و خوار ہوئے‘ وہ شہزادی کی حفاظت کے مقابلے میں کچھ نہیں! ٹریفک پر مستقل پابندی عائد کر دی جائے۔ لوگ پیدل گلیوں میں چلیں یا سرنگیں کھود لیں! شاہی خاندان مقدم ہے! شاہی خاندان ہو گا تو ملک بھی ہو گا! قوم بھی ہو گی! بادشاہ سلامت بیرون ملک پوتے ساتھ لے کر گئے ہیں! حکمرانی کے یہ انداز امریکہ برطانیہ اور دیگر ملکوں کے حکمرانوں کو بھی سیکھنے چاہیں!
یہ وحشت اثر خبر بھی ہے کہ دوا ساز کمپنیوں کی انجمن کو کسی نے گُر بتایا ہے کہ فائل واپس منگوا کر اُس پر عنوان (سب جیکٹ) ’’میٹرو‘‘ لکھ دو! یوں فائل شاہی توجہ حاصل کرنے میں جلد کامیاب ہو جائے گی! متبادل تجویز یہ ہے کہ دوا ساز کاروبار بدل لیں۔ سیمنٹ اور لوہے کا کاروبار شروع کر دیں یا شاہراہوں اور پُلوں کے ٹھیکے لینے پر غور کریں!

Wednesday, July 05, 2017

پتھر کے شمع بردار اور موم کے گواہ


اب مزید کون سا ثبوت چاہیے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ سرکاری ادارے‘ ذاتی 
وفاداروں سے بھر دیئے گئے ہیں؟ ریاست کے  نہیں‘ اداروں کے سربراہ خاندان کے وفادار ہیں! ایک خاندان کے! شاہی خاندان!
سی ای سی پی کی خاتون افسر ماہین فاطمہ نے بھانڈا سر راہ پھوڑ دیا۔ ’’چیئرمین نے جے آئی ٹی کے خلاف بیان دینے کے لیے دبائو ڈالا کہ یہ کہوں کہ جے آئی ٹی نے رُلا ڈالا۔ دھمکی دی گئی کہ گلگت پھینک دیا جائے گا۔‘‘ گلگت اس لیے کہ اس سے آگے خنجراب ہے جہاں سے چین کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔
عمران خان غلط نہیں رونا روتا کہ ادارے تباہ و برباد کردیئے گئے۔ ایک نہیں‘ بیسیوں‘ اس سے بھی زیادہ مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ جس دن کسی نے سارا حساب کیا تو یہ مثالیں سینکڑوں‘ شاید ہزاروں کی تعداد میں ہوں۔ جنرل پرویز مشرف نے جس دن اقتدار سنبھالا‘ اس سے ایک یا دو دن بعد‘ ایک معروف انگریزی معاصر نے خبر چھاپی کہ ایف آئی اے میں تیس اہلکار بھرتی ہوئے جن میں سے اٹھائیس ایک خاص شہر کے خاص حصے سے تھے۔ اسی اخبار نے یہ بھی لکھا کہ چالیس سے زیادہ کلیدی مناصب پر ایک خاص شہر اور ممکنہ حد تک ایک مخصوص برادری سے تعلق رکھنے والے بیوروکریٹ فائز تھے۔
اس سے زیادہ ظلم کیا ہوگا کہ نوکرشاہی کے جس رکن کا نام ماڈل ٹائون چودہ قتل معاملے پر سنا جا رہا تھا اسے بیرون ملک‘ بین الاقوامی تجارتی تنظیم میں سفیر مقرر کردیاگیا۔ اس کا سفارت سے تعلق تھا نہ تجارت سے‘ تعلق تھا‘ مگر شاہی خاندان سے!
پنجاب اسمبلی اگر جیتی جاگتی اسمبلی ہوتی تو کسی دن تجزیہ کرتی کہ صوبائی پبلک سروس کمیشن میں جن ریٹائرڈ افسروں کو کھپایا جاتا ہے‘ ان کی کثیر تعداد ایک ہی علاقے سے کیوں ہے؟ پنجاب کو سب سے بڑا صوبہ ثابت کرنا ہو تو اٹک بھی شامل کیا جاتا ہے‘ بہاولپور بھی! مگر جب حقوق کی بات آتی ہے تو صرف وسطی پٹی کے پانچ چھ اضلاع سارے پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ قصور کے ہسپتال کا خادم اعلیٰ کئی بار دورہ کر چکے ہیں۔ اٹک‘ میانوالی اور جھنگ‘ لودھراں‘ مظفر گڑھ اور بہاولپور کیوں نہیں جاتے؟ چار یا پانچ سال پہلے کی بات ہے صوبے کے پبلک سروس کمیشن کے ایک رکن کو مغربی پنجاب کے ایک غریب گائوں کی بے کس مگر اہل لڑکی کی درخواست بھیجی‘مروت کا یہ عالم ہے کہ یہ گردن بلند خط کی رسید تک نہیں دیتے‘ اگرچہ بالمشافہ ملیں تو تعارف کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پولیس افسروں کو دوستی کے جال میں پھنسا کر‘ سارے کیریر کے دوران خدمت گار بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ ریٹائر ہوتے ہیں تو دوسرے دن گاڑی ایک اور کرسی کی طرف لے جا رہی ہوتی ہے۔ اہلیت کو کس طرح ٹھوکروں کی زد پر رکھا جاتا ہے‘ اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ ذوالفقار چیمہ جیسے لائق اور دیانت دار پولیس افسر کو صوبے کا انچارج نہ بنایا گیا۔ آئی جی لگا بھی تو موٹروے کا۔ صوبے کا آئی جی وہ لگایا جاتا ہے جو اشارۂ ابرو پر رقص کرے۔ پھر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بے شک پہلو سے لگا رہے۔
تاخت و تاراج کردیئے گئے ہیں ریاستی ادارے‘ میرٹ کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ دو ماہ سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آسامی خالی ہے۔ محکمے میں تین گریڈ بائیس کے افسر موجود ہیں جو ہر لحاظ سے اہل ہیں۔ مگر نہیں! اس کی تلاش ہے جس کی وفاداری میں شائبہ تک نہ ہو۔ بے شک اس کا ادارے سے اور ادارے کے تکنیکی کام سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔
سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کا کام تو یہ ہے کہ بیوروکریسی کے ایک ایک رکن کا چارٹ بنا کر سامنے رکھے۔ جہاں تعینات ہو‘ تین سال تک کام کرے۔ تمام صوبوں میں اسے باری باری مامور کیا جائے مگر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ‘ ڈاکخانے کا بابو بن کر رہ گیا ہے۔ اسے احکام زبانی دیئے جاتے ہیں۔ اوپر سے! کسی کو چند ہفتوں یا چند ماہ بعد ہٹا دو‘ کسی کو لگا رہنے دو‘ خواہ سالہا سال سے بیٹھا ہو۔ کوئی نظام نہیں‘ کوئی سسٹم نہیں‘ کوئی میرٹ نہیں‘ کوئی اہلیت نہیں۔ اداروں کے سربراہ حقہ بردار بنے پھرتے ہیں۔ ماہین فاطمائوں پر دبائو ڈال کراپنی وفاداریاں صیقل کرتے ہیں۔ ملازم ریاست کے ہیں‘ تنخواہ عوام کے پسینے سے لیتے ہیں مگر وفاداری ریاست کے ساتھ ہے نہ عوام کے ساتھ۔
کہنے کو تو الیکشن سے پہلے نجم سیٹھی وزیراعلیٰ تھے مگر طنابیں اور خیمے رائے ونڈ میں نصب تھے اس لیے کہ حاضری دینے والے بیوروکریٹ جوق در جوق‘ کارواں درکارواں‘ ادھر ہی جا رہے تھے۔ قبلہ سب کا سیدھا تھا‘ یہ جلیبی کی طرح سیدھے‘ نوکرشاہی کے ارکان‘ جنہیں میرٹ کا محافظ بننا پڑے تو پہلے جٹ بن جاتے ہیں‘ گانٹھ کے پکے ہیں‘ انہیں معلوم تھا کہ الیکشن کا نتیجہ کیا ہو گا اور اصل سرکار کہاں بیٹھی ہے۔ دیوانہ بکار خاص ہشیار!!
ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ صاحب! امریکہ میں بھی تو سپائل
 (Spoil)
 سسٹم ہے۔ جو پارٹی برسراقتدار آتی ہے‘ اپنے چہیتوں کو مناصب پر بٹھاتی ہے مگر یہاں دلیل دینے والے حضرات دو نکتے بھول جاتے ہیں۔ اول یہ کہ وہاں مناصب بانٹے جاتے تھے تو پارٹی کے حمایتیوں کو دیئے جاتے تھے۔ اس بنیاد پر ان کا انتخاب نہیں ہوتا تھا کہ فلاں شہر کی فلاں برادری سے ہیں۔ رہی بات امریکی سیاسی پارٹیوں ڈیموکریٹک اور ری پبلکن کی تو ان کے سربراہ ہرسال نہ بھی بدلیں تو دو سال بعد تبدیل ہو جاتے ہیں۔ گائوں سے لے کر ریاست کے صدر مقام تک‘ ہر جگہ پارٹی کے اندر الیکشن ہوتے ہیں‘ جھرلو الیکشن نہیں‘ اصلی اور جیتے جاگتے الیکشن۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ سپائل سسٹم امریکہ میں آیا تھا مگر کب کا چلا بھی گیا۔ صرف جانے والے کی گرد باقی ہے۔ 1829ء سے پہلے کوئی سپائل سسٹم نہیں تھا۔ اسی سال ’’عوامی‘‘ صدر بھائی اینڈریو جیکسن منتخب ہوئے۔ یوں سمجھیے جیالوں کا دور آ گیا۔ ان صاحب نے ووٹروں سے نوکریوں کے وعدے کیے تھے۔ چنانچہ ’’ریفارم‘‘ کے نام پر اپنے حمایتیوں میں عہدے یوں بانٹے جیسے اندھا اپنوں میں ریوڑیاں بانٹتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دس فیصد عہدے ان کے حمایتی ہڑپ کر گئے۔ یہ تعداد ہزار سے ذرا ہی کم بنتی ہے۔ چار سو سے زیادہ پوسٹ ماسٹروں کو نکال کر باہر پھینک دیا گیا اور جیالوں‘ متوالوں کو ان کی کرسیوں پر بٹھا دیا گیا۔
مگر جلد ہی امریکی عوام اس بندر بانٹ کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ پھر ایک واقعہ پیش آ گیا۔ 1881ء 
میں گار فیلڈ امریکی صدر بنا۔ پارٹی کا ایک حمایتی منصب کا امیدوار تھا اور فرانس کے 
امریکی سفارت خانے میں تعینات ہونا چاہتا تھا۔ ناکامی پر اس نے صدر گار فیلڈ کو قتل کر دیا۔ اب سول سروس میں اصلاحات کا تقاضا زور پکڑنے لگا۔ آخر کار 1883ء میں کانگرس نے ’’سول سروس ایکٹ‘‘ پاس کیا جسے پینڈلٹن ایکٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اس ایکٹ کا مصنف ایک شخص ایٹن تھا جو سپائل سسٹم کا سخت مخالف تھا۔ ایکٹ کے نتیجے میں ’’سول سروس کمیشن‘‘ وجود میں آیا اور مناصب کمیشن کی دسترس میں آ گئے۔ شروع میں صرف دس فیصد اور رفتہ رفتہ کثیر تعداد میں۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ سندھ میں حالات پنجاب اور وفاق سے بدتر نہیں تو بہتر بھی نہیں۔ کیا عجب بدتر ہوں۔ وہاں بھی ایک ہی خاندان ہے جو پوری صوبائی بیوروکریسی کو کنیز بنائے ہوئے ہے۔ یہ کنیز اسی کی مرضی کے مطابق بنائوسنگھار کرتی ہے‘ ناچتی ہے اور پیروں میں گھنگھرو باندھ کر تھرکتی ہے۔ نچانے والی ڈور کراچی سے دبئی تک لمبی ہے۔ رہا بلوچستان تو وہاں سرکاری ملازم سرداروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ تازہ عبرت ناک مثال سب نے دیکھ لی۔ سردار ایم پی اے نے پولیس کانسٹیبل کو گاڑی کے نیچے کچل دیا۔ زیارت کا ڈپٹی کمشنر (کچھ کہتے ہیں اسسٹنٹ کمشنر) بھاگتا بھاگتا مقتول کے خاندان کے پاس پہنچا۔ دو لاکھ روپے دیئے اور ’’راضی نامہ‘‘ کی راہ ہموار کرنے لگ گیا۔ کم و بیش ساری نوکرشاہی کا وہاں یہی وتیرہ ہے یا مجبوری۔ وزیراعلیٰ سے لے کر گورنر تک سب سردار ہیں۔ سردار ابن سردار ابن سردار۔ سرکاری ملازموں کو ذاتی خدمت گار سمجھنے والے۔
کب تک مناصب ’’اپنے بندوں‘‘ میں بانٹے جاتے رہیں گے؟ آخر کب تک؟ جوتیوں میں دال کب تک بٹے گی؟ شاہانہ طرز عنایت کب تک عہدوں کو خلعتوں کی طرح تقسیم کرتا رہے گا؟ وفاداروں کے منہ موتیوں سے کب تک بھرے جاتے رہیں گے؟ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ایس ای سی پی اور کرکٹ بورڈ جیسے عالی قدر ادارے کب تک خدمت گاروں کے سپرد ہوتے رہیں گے؟ ریاست کے مفادات پر کب تک شب خون مارا جاتا رہے گا؟
ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے۔ ایک زندہ‘ گوشت پوست کی جیتی جاگتی پارلیمنٹ! ایک ایک تعیناتی کا وہاں پوسٹ مارٹم کیا جائے۔ نااہلوں کو برہنہ کیا جائے۔ ان اہلکاروں کی پشت پناہی کی جائے جو میرٹ کی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں۔ حکومت کو واشگاف الفاظ میں وہی کچھ بتایا جائے جو سعدی نے بتایا تھا۔    ؎
 محال است کہ ہنر مندان بمیرند
 و بی ہنران جائے ایشان گیرند
یہ ممکن نہیں کہ اہل ہنر مر جائیں اور ان کی جگہ بے ہنر لے لیں۔
مگر کون سی پارلیمنٹ؟ بے شمار پڑھنے والے اکنافِ عالم سے پوچھیں گے ’’کالم نگار صاحب! کس پارلیمنٹ کی بات کر رہے ہیں؟ کیا آپ کسی سیارے میں رہ رہے ہیں؟‘‘
آہ! پارلیمنٹ! اس پارلیمنٹ کی ریڑھ کی ہڈی مضبوط ہوتی تو رونا ہی کس بات کا تھا! منتخب نمائندوں کا کیا کہنا! سندھ اسمبلی میں نیب کا گلا گھونٹ کر جھرلو احتساب کا نظام منظور کرلیا گیا    ؎
لگا ہے دربار! شمع بردار سنگ کے ہیں
ہوا کے حاکم ہیں موم کے ہیں گواہ سارے

Tuesday, July 04, 2017

منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے


’’خدا کرے لاٹھی کے سہارے چلو!‘‘
کیا یہ بددعا ہے جو بڑھیا نے نوجوان کو دی؟ نہیں! یہ دعا ہے لیکن لطیف پیرائے میں دی ہوئی دعا!
بڑھیا کی دعا طویل عمر کے لیے تھی! اتنا عرصہ زندہ رہو کہ بوڑھے ہو جائو اور لاٹھی کے سہارے چلو!
یہ ادبی پیرا یہ‘ یہ لطافت‘ یہ گہرائی‘ یہ سب کچھ ہمارے قریوں بستیوں ہماری ڈھوکوں‘ گوٹھوں اور ہمارے چھوٹے چھوٹے قصبوں میں قدم قدم پر سننے اور دیکھنے کو ملتی ہے۔ گلی میں معمر عورت جب کسی نوجوان کو روک کر پیٹھ تھپتھپاتی ہے اور صرف اتنا کہتی ہے ’’چاند نکل آیا ہے‘ پھول کھل اٹھے ہیں‘‘ تو وہ خوش آمدید کہہ رہی ہوتی ہے کہ تم شہر سے آئے ہوئے ہو۔ جب ماں بیٹے کو کہتی ہے کہ تمہیں گرم ہوا نہ لگے تو اس سے زیادہ جامع دعا آخر کیا ہوگی۔ یعنی ہوا معتدل ہو جس سے تم لطف اندوز ہو سکو۔ گرم ہوا سے مراد دنیا کی مصیبتیں بھی ہیں۔
پھر وہ ایک اور دعا دیتی ہے‘ ’’دونوں جہانوں کی کچہری میں سرخرو رہو۔‘‘ ہماری بستیوں کی روزمرہ زندگی میں کچہری کی اہمیت کس قدر زیادہ ہے‘ اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو کسی گائوں یا قصبے میں پلا بڑھا ہو۔ عزت رکھنے اور عزت بچانے کے لیے‘ دشمن کو مات دینے کے لیے‘ اپنا حق ثابت کرنے کے لیے کچہری میں مقدمہ کیا جاتا ہے۔ وکیل بھرا جاتا ہے۔ تاریخوں پر تاریخیں لگتی ہیں‘ مدتیں اسی قانون جنگ میں گزر جاتی ہیں۔ پھر فیصلہ حق میں ہوتا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہوتی ہے جس پر مبارکیں وصول کی جاتی ہیں۔ یہ سب اچھا ہے یا برا‘ لیکن ہے حقیقت! اس حوالے سے ماں دعا دیتی ہے کہ وہ کچہری جو حشر کے دن قائم ہو گی‘ اس میں تمہیں کامیابی نصیب ہو۔
جس زمانے میں جنگ عظیم نے برصغیر کے نوجوانوں کو ہڑپ کرنا شروع کیا تھا‘ مائیں دعائیں مانگا کرتی تھیں ’’خدا کرے لام ٹوٹے! اور سب کے بچے خیریت سے واپس آئیں۔‘‘ لام لڑائی کو کہتے تھے اور نوٹ کیجیے کہ ماں صرف اپنے بچے کے لیے نہیں ‘سب کے بچوں کے لیے دعا مانگ رہی تھی۔ اس میں اس کے دشمن بھی شامل تھے۔ پھر وہ ایک اور دعا مانگتی تھی ’’بچے وڈیرے اور دکھ پر پڑے ہوں۔ یعنی بچے پلیں بڑھیں اور دکھ دور رہیں۔
یہ ادب اور سخن سنجی صرف دعائوں میں نہیں‘ بددعائوں میں بھی موجود ہے۔ ’’خدا کرے روٹی آگے آگے ہو اور تم پیچھے پیچھے‘‘۔ یعنی روٹی کا نوالہ حاصل کرنے کے لیے تمہیں اس کی طلب میں محتاج ہونا پڑے۔‘‘ ایک اور بددعا دیکھیے۔ ’’کبھی اتنا نہ جمع ہو کہ بیٹھ کے کھا سکو!!‘‘ یعنی ہمیشہ لقمے لقمے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے رہو۔
’’تمہارا منہ مٹی تلے آئے‘‘ کون سی مٹی؟ یہاں بددعا یہ ہے کہ مرو‘ تمہیں قبر میں رکھیں اور تمہارے منہ پر مٹی ڈالیں۔
لوک سمجھ بوجھ کی ایک اور جھلک دیکھیے! ایک ان پڑھ چرواہا عقل مند بہت تھا۔ اس کا نام ہی سیانا تھا۔ بادشاہ کے دربار میں جا پہنچا‘ اس نے پوچھا تم کون ہو‘ کہنے لگے جہاں پناہ! میں سیانا ہوں‘ بادشاہ نے طنز سے پوچھا کہ عقل بھی ہے یا صرف نام کے سیانے ہو؟ سیانے نے کہا حضور‘ عقل رکھتا ہوں جبھی تو تین سو مویشیوں کو گانے کی ایک لے سے کنٹرول کرتا ہوں۔ بادشاہ تھوڑا سا لاجواب ہو گیا۔ پوچھا تمہیں آتا کیا ہے؟ سیانے نے جواب دیا کہ میں نے اہل دنیا کے لیے کچھ فارمولے وضع کیے ہیں۔ ان میں سے کچھ سناتا ہوں۔
اب سیانے کے فارمولے دیکھیے
٭  دو گھروں کا مہمان بھوکا رہتا ہے۔
٭  دو آدمیوں سے بچ کے رہو‘ بسنتا نائی اور کم عقل قصائی۔
٭  دو کی بات کبھی نہ مانو‘ داڑھی والا کراڑ (ہندو) اور مونچھوں والی عورت۔
٭  بوڑھی بھینس اور کُند چُھرا! کیا حماقت ہے۔
٭  باگ پکڑنے والا جو گھوڑے کے پیچھے پیچھے چلے اور بیوی جو شوہر سے پہلے کھانا کھالے‘ دونوں نارمل نہیں۔
٭  میدان جنگ سے بھاگنے والا سورما اور سنار کا وہ بیٹا جو حساب کتاب میں مار کھا جائے‘ دونوں ٹھیک نہیں۔
٭  وہ شخص جو اندھے کے سامنے روئے‘ بہرے سے گفتگو کرے اور گونگے کے ذریعے پیغام بھیجے‘ احمق ہے۔
٭  گرمیوں کی دوپہر سخت ہوتی ہے۔ دریا کے کنارے شہر برا ہوتا ہے اور اندھا مارے تو خطرناک ہوتا ہے۔
٭  تین تباہی لاتے ہیں۔ تمباکو نوش عورت‘ رشوت خور حکمران اور لاڈ پیار میں پلا بیٹا۔
٭  راگ رنگ چونچلے رومان سب بھول جاتے ہیں‘ یاد کیا رہتا ہے۔ صرف نمک‘ تیل اور ایندھن کے لیے لکڑیاں۔
٭  تین قسم کے آدمیوں سے دور بھاگو۔ حکمران جسے عزت نفس کا پاس نہ ہو۔ چھوٹا جو بڑے کو دور سے آواز دے اور قلاش جسے اچانک ڈھیر ساری دولت مل جائے۔
٭  چار چیزیں میٹھی ہیں۔ گنڈیری‘ گڑ‘ بیٹے کی نسبت داماد اور بھائی کے مقابلے میں بیوی کا بھائی۔
٭  پانچ چیزیں نقصان پہنچاتی ہیں۔ بات نہ کرسکنے والا فرزند‘ ضدی بیٹی‘ بُڑبڑاتی بہو‘ آوارہ گرد عورت اور ژالہ باری والی بارش۔
٭  اب ان کہاوتوں پر غور کیجیے جو ہمارے بڑے بوڑھے اور ہماری نانیاں دادیاں گفتگو میں استعمال کرتی ہیں۔ ایک ایک کہاوت دانائی کا مینار ہے۔ زندگی کے تجربے ان مقولوں میں مہک اور لہک رہے ہیں۔ یہ کہاوتیں‘ یہ اقوال‘ ایک دن‘ ایک سال یا ایک صدی میں نہیں بنے‘ یہ صدیوں کے پیش آئے واقعات کے بعد ابھرے ہیں۔ مدتیں ان کی تشکیل میں لگیں۔ یہ دانش کے خزانے ہیں۔ ان میں ادبی چاشنی ہے اور ذہانت کی جھلکیاں بھی۔
٭  دھوبی کے گھر ڈاکہ پڑے تو نقصان اس کا نہیں دوسرے کا ہوگا۔
خالہ‘ ماں سے مختلف تو نہ ہوگی‘ اس لیے کہ دیوار‘ بنیاد پر ہی اٹھتی ہے۔
٭  میں بھی رانی ہوں اور تم بھی رانی‘ پانی کون بھرے گا؟
٭  نیفے میں گاجریں چھپائی ہوئی ہیں اور نام خان صاحب ہے۔
٭  بھیڑ اس لیے رکھی تھی کہ اُون حاصل ہوگی مگر وہ تو کپاس کے پودے بھی کھا گئی۔
٭  بھیڑے نے ریوڑ پر حملہ کیا‘ عین اسی وقت حفاظت کرنے والے کتے کو بیت الخلا جانا پڑ گیا۔
٭  سنار اپنی ماں کے لیے زیور بنا رہا تھا۔ بے ہوش ہوگیا۔ کھوٹ ملا کر رہا‘ تب افاقہ ہوا۔
٭  بڑے شہر میں رہنا چاہیے‘ خواہ جھونپڑی میں رہیں۔ راستہ سیدھا چننا چاہیے بے شک لمبا ہی کیوں نہ ہو۔
٭  بہو آ گئی ہے۔ اب میرے سارے دلدر دور ہو گئے۔ دودھ بلوتے وقت ناک پونچھ رہی ہے اور تڑ تڑ جوئیں مار رہی ہے۔
٭  تالاب میں اترنا ہے تو پھر چھینٹوں سے ڈرنا کیسا؟
مگر حیرت ان بجھارتوں پر ہوتی ہے جو ہمارے عوام میں گردش کرتی ہیں۔ کیسے کیسے دور رس نکتے ہیں اور تخیل کی حیرت انگیز اڑانیں۔
٭  قبر چونے گچ اور مردہ دوزخی (گندا انڈا)
٭  ہوا سے زندگی پائے اور پانی سے موت (آگ)
٭  اوپر سے بکرا گرا۔ اس کے منہ سے میٹھی رال ٹپک رہی تھی۔ پیٹ پھاڑ کر دیکھا تو چھاتی پر بال تھے (آم۔ تب آم چوسنے والے ہوتے تھے)۔
٭  دو سگے بھائی کبھی اکٹھے‘ کبھی ایک دوسرے سے الگ (دروازے کے دو کواڑ)۔
٭  تم تو جا رہے ہو مگر یہ ساتھ کون ہے؟ (سایہ)
٭  پہلی نہ آخری! میں تو اس پر قربان جو درمیان میں ہے۔ (جوانی)
٭  ذرا سی چھوکری مگر سر پر راکھ کی ٹوکری (چلم)
٭  ہمارے گھر ایک بچی آئی۔ چٹیا نئی تھی۔ کوٹی ایسی تھی جس میں نو سو بٹن تھے۔ (مکی کا بُھٹہ)
٭  دیگچہ لاہور رکھا‘ آگ ملتان میں لگی۔ پھونک دلی میں ماری‘ جلا ہندوستان (حقہ)  (باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں)
٭  ماں ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی اور بیٹا چھت پر چڑھ گیا۔ (دھواں)
٭  ذرا سی بچی اور لمبا پراندا (سوئی دھاگہ)
٭  پیٹ سے نکالو‘ پسلی میں مارو (ماچس)
جا تو رہے ہو مگر پیچھے کسے چھوڑ کر جا رہے ہو (نقش پا)
اب آخر میں دو لوک لطیفے۔
ایک چودھری لیٹا ہوا تھا۔ نوکر اس کی ٹانگیں دبا رہا تھا۔ سامنے سے میراثی آتا دکھائی دیا۔ چوہدری نے نوکر کو حکم دیا کہ میراثی نزدیک آئے تو اس پر بھونکو۔ میراثی نزدیک آیا تو نوکر بھونکا۔ میراثی کہنے لگا۔ ’’جو مردہ سامنے پڑا ہے پہلے اسے تو بھبھوڑ لو۔‘‘
بنیا کسان کے پاس گدھا مانگنے آیا۔ کسان نے بہانہ بنایا کہ کوئی مانگ کر پہلے ہی لے گیا ہے۔ اتنے میں اندر سے ڈھینچوں ڈھینچوں کی آواز آئی۔ بنیا کہنے لگا تمہارا گدھا تو اندر موجود ہے۔ کسان نے جواب دیا کہ عجیب بدتمیز ہو‘ میری بات پر نہیں گدھے پر اعتبار کر رہے ہو۔

Sunday, July 02, 2017

جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی! مگر کب؟؟

قے ہے کہ رک نہیں رہی! سر ہے کہ درد سے پھٹا جارہا ہے۔ پائوں سُوج گئے ہیں۔ ایک لقمہ تک نہیں کھایا جاتا۔ آنکھیں بند ہورہی ہیں۔
مگر آہ! یہ طبیب کیا کر رہے ہیں! قے روکنے کی عارضی دوا دیئے جا رہے ہیں۔ سر کے درد کے لیے پیرا سٹا مول کھلا رہے ہیں۔ پائوں پر پیاز اور ہلدی کا ملغوبہ لگا رہے ہیں۔ بند آنکھیں ہاتھوں سے کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بیماری تو اندر ہے! یرقان ہے یا ملیریا‘ تپ دق ہے یا پھیپھڑوں کا مرض!! جو کچھ بھی ہے‘ علاج اس کا ہونا چاہیے۔ اصل بیماری کا علاج کارگر ہوا تو قے بھی رک جائے گی‘ سر درد بھی تھم جائے گا‘ پائوں کی سوجن بھی ٹھیک ہو جائے گی اور مریض آنکھیں بھی کھول لے گا۔
یہ کیسے طبیب ہیں! یہ کیسے لواحقین ہیں‘ مرض کی تشخیص نہیں کر رہے ہیں۔ ظاہری علامات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
مجید اچکزئی کا جو طرز عمل ہے اور زیارت کے ڈپٹی یا اسسٹنٹ کمشنر نے جو کچھ کیا‘ خدا کے بندو! وہ تو علامت ہے۔ ڈیوٹی پر کھڑا ہوا کانسٹیبل ایم پی اے نے گاڑی کے نیچے کچل دیا۔ پھر پولیس اور میڈیا پر دھونس جمائی۔ زیارت کا افسر‘ دو لاکھ روپے لے کر مقتول کے گھر پہنچ گیا اور سادہ کاغذ پردستخط کرانے لگ گیا۔ بجا کہ محمود خان اچکزئی اس وقت وفاقی حکومت کا حمایتی ہے‘ بجا کہ اچکزئی خاندان صوبے پر حکمرانی کر رہا ہے مگر یہ قتل اچکزئی کے بجائے کسی اور سردار سے ہوتا تو اس کا بھی رویہ یہی ہوتا۔ افسر اور اہلکار اسے چھڑانے کے لیے بھی اسی طرح دوڑ دھوپ کرتے۔
یہ سب ظاہری علامتیں ہیں۔ اصل بیماری بلوچستان کا سرداری نظام ہے جس کی مثال مہذب دنیا میں شاید ہی کہیں ملے۔ یہ سردار ستر سال سے اقتدار میں ہیں۔ حزب اختلاف میں ہوں۔ تب بھی ان کے اختیارات وہی رہتے ہیں۔ یہ چیف منسٹر بن جائیں تو سارے ترقیاتی منصوبے صرف کاغذوں پر ہوتے 
ہیں۔صوبہ تو ایک طرف رہا‘ اپنے علاقے میں بھی ترقیاتی کام نہیں کرانے نہ ہونے دیتے ہیں۔ کیوں؟ تاکہ قبیلے میں کوئی سر نہ اٹھا سکے! کوئی پڑھ لکھ کران کے سامنے بات نہ کرسکے۔
سردار‘ بلوچستان میں‘ قبیلے کا حکمران مطلق ہے۔ وہی عدالت ہے‘ وہی پولیس ہے‘ وہ قبائلیوں کے خانگی معاملات میں بھی دخیل ہے۔ اس کے علاقے میں تعینات افسر‘ اہلکار‘ اس کے اشارۂ ابرو پر چلتے ہیں۔ سرکاری ملازموں کو تنخواہ اس کی پرچی کے بغیر نہیں ملتی۔ وہ چاہے تو جرم ثابت کرنے کے لیے ملزم کو سلگتے انگاروں پر پائوں دھرنے کا حکم دے دے۔ چاہے تو قبائلی کو حکم دے دے کہ بیوی کوطلاق دے دو! اُس کا علاقہ اس کی ذاتی ملکیت ہے۔ سرکاری منصوبوں کے پائپ اچھے نہ لگیں تو حکم دیتا ہے کہ اڑا دو‘ مخالفت ہو تو اغوا کروا دیتا ہے۔ چاہے تو پورے قبیلے کے ہاتھ میں بندوقیں پکڑوا کر پہاڑوں پر چڑھا دے۔ علاقے کے سکولوں کالجوں کی سرکاری عمارتیں ان کے غلے کے گوداموں کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ نئی بندوق ٹیسٹ کرنے کے لیے چھت پر چڑھ کر‘ گلی میں چلتے کسی بھی انسان کے سر کا نشانہ لے سکتا ہے۔ بلوچستان کے ایک معروف ادیب نے بتایا کہ ایک قبیلے کا ایک نوجوان کراچی چلا گیا اور کچھ پڑھ لکھ گیا۔ واپس آیا تو اپنے باپ کے ساتھ سردار کے حضور‘ حاضری کے لیے گیا۔ کپڑے ذرا اُجلے پہنے تھے۔ بالوں کو ذرا کنگھی کی ہوئی تھی‘ باپ بیٹا واپس ہورہے تھے کہ بیٹے کو پکڑ لیا گیا۔ اس کے جسم پر شہد ملا گیا۔ پھر اسے ایک ایسے غار میں پھینک دیا گیا جس میں لاکھوں چیونٹیاں تھیں۔ سردار کی ’’دُور رس‘‘ نگاہ خطرہ نہیں مول لے سکتی تھی کہ کوئی پڑھ لکھ کر‘ کسی سماجی تبدیلی کا پیش خیمہ بن جائے اور قبائلی بیدار ہو جائیں۔ کالا باغ کا سردار اپنے علاقے میں سکول بنوانے کا اسی لیے مخالف تھا۔ رعایا پڑھ لکھ جائے تو بے چون و چرا حکم نہیں مانتی ‘آگے سے سوالات پوچھتی ہے۔
یہ ہے بلوچستان کی اصل بیماری! ایم پی اے کے تکبر کا سرا اسمبلی کی ممبری تک نہیں‘ سرداری تک جارہا ہے‘ وہ حیران ہے کہ سرداروں سے باز پرس ہورہی ہے۔
زاغ کی اولاد شاخوں پر غزل خوانی کرے؟
نیل گائے شیر کے بچوں کی نگرانی کرے؟
سرداری نظام کی جڑیں کتنی مضبوط ہیں‘ اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگائیے کہ ستر سال میں صرف ایک ایسا شخص وزیراعلیٰ بنا جو سردار نہیں تھا۔ ترقی روکنے کے لیے یہ سردار‘ بلوچستان کے نوجوانوں کوقومیت کی پٹی پڑھاتے ہیں‘ کبھی ’’آزادی‘‘ کے خواب دکھاتے ہیں‘ کبھی پنجابی ’’سامراجیت‘‘ کے خلاف جذبات بھڑکاتے ہیں۔ ذہنوں کو مسخ کرتے ہیں۔ زبان‘ نسل اور قومیت کا جھنڈا اٹھاتے ہیں تاکہ سرداری نظام میں کوئی رخنہ نہ پیدا کرسکے۔ یہ کالم نگار دارالحکومت کی ایک معروف یونیورسٹی میں بلوچستان سے آئے ہوئے اساتذہ سے لیکچر نما گفتگو کر رہا تھا۔ اساتذہ پرائمری سکولوں کے نہیں‘ کالجوں اور یونیورسٹی کے تھے۔ انہی دنوں بلوچستان کے ایک سردار زادے نے لاہور میں پریس کانفرنس کی تھی اور سوالوں کے جواب دیتے ہوئے سلگتے انگاروں پر چلنے کی رسم کا دفاع کیا تھا۔ اُس کے خیال میں یہ بلوچی روایت تھی جس کا وہ دفاع کررہا تھا۔ کالم نگار نے اس کا ذکر کیا اور غلطی یہ کی کہ سردار زادے کا نام لے لیا۔ اعتراضات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی کہ سردار کی عزت پر نہ ہاتھ ڈالا جائے۔
یہ ہے وہ نیم خوابیدہ کیفیت جس میں بلوچی نوجوانوں کو مبتلا کیا جارہا ہے۔ انہیں قبیلے کی ’’عزت‘‘ کا نشہ پلایا جاتا ہے۔ ان کے لیے معاشی ترقی‘ سماجی تبدیلی یا سیاسی ارتقا‘ سب کچھ قبیلے کے سامنے ہیچ ہے۔
سرحد پار‘ بھارت میں کیا ہوا؟ کاش اس سے سبق سیکھا جاتا‘ تقسیم کے بعد چار پانچ سال ہی گزرے تھے کہ نوابوں‘ راجوں‘ مہاراجوں‘ سرداروں سے جاگیریں اور سرداریاں ریاست نے لے لیں‘ شروع شروع میں پینشنیں دی گئیں۔ بعد میں وہ بھی ختم! اس سے اسمبلیوں کی پشتینی نشستیں خود بخود ختم ہوگئیں۔ کوئی اپنے محل کو ہوٹل بنا کر گزارہ کرنے لگا کسی نے کوئی اور پیشہ اختیار کیا۔
جمشید دستی کا اصل جرم یہ نہیں کہ وہ حزب اختلاف میں ہے اور کھڑک کربولتا ہے‘ فوری وجہ گرفتاری کی یہی جرم ہے مگر اصل جرم یہ ہے کہ وہ غریب اور عام آدمی ہے اور سیاست میں منہ مارتا ہے۔ وہ بھی اس علاقے میں جو 
جاگیرداروں‘ زمینداروں اور پشتینی گدی نشینوں کا گڑھ ہے۔ انگریز سرکار سے ملی ہوئی خلعتوں اور جاگیروں کے مالک‘ ایسے عام شخص کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔ جو سلوک دستی کے ساتھ ہورہا ہے‘ کسی خانزادے یا جاگیردار کے ساتھ ہوتا تو گوادر سے لے کر مظفر آباد تک سردار یک زبان ہو کر اٹھ کھڑے ہوتے۔ یہی کچھ منتخب ایوانوں میں اس وقت ہوتا ہے جب زرعی پیداوار پر ٹیکس کی بات ہوتی ہے۔ سارے کوے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور کائیں کائیں کا وہ غلغلہ بلند کرتے ہیں کہ کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی۔
سیاہ بختی یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے زرعی اصلاحات کا ڈول ڈالا تو اصلاحات سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا شکار ہو گئیں۔ زمینداروں نے ترکیب نمبر چھ استعمال کی اور صاف بچ رہے! رہے آج کے حکمران اور سیاست دان تو ان کی سطحی ترجیحات میں ایسی بنیادی اصلاحات کی گنجائش ہے نہ انہیں اس کا ادراک ہے۔
عمران خان بہت سی بنیادی تبدیلیو ں کا ذکر کرتا ہے۔ جیسے صحت اور تعلیم کے میدان! مثلاً بدقسمتی سے سرداری نظام اور جاگیردارانہ تسلط کے ضمن میں اس نے بھی آج تک کوئی روڈ میپ نہیں دیا۔ اگر اسے اقتدار مل گیا تو کیا اس حوالے سے وہ کچھ کر سکے گا؟ اس سوال کا جواب وقت ہی دے سکتا ہے۔ سردست مجید اچکزیوں کے سردارانہ رویے اور جمشید دستیوں کی بے کسی کو گوارا کیجیے! اور فیض صاحب کی اس انقلابی نظم پر گزارا کیجیے جس کی مقبولیت کے پیچھے انقلابی خیالات کم اور اقبال بانو زیادہ ہے!      ؎
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل پر لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پائوں تلے
یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

 

powered by worldwanders.com