Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Wednesday, February 25, 2009

Will tomorrow come?

Why do we Pakistanis leave everything to future? Why do we brush past aside? Has mitti pao become our national symbol of compromise?

President Asif Ali Zardari, soon after he landed in the magnificent palace located behind the Parliament, proceeded to Saudi Arabia to perform Umra. True to the tradition of Pakistani rulers he took a bunch of 250 associates along with him who were housed in top class hotels in the vicinity of holy places. This was done at a cost of Rs 24.9 million. What followed was drastically different from past practice of rulers. The president, in the third week of January deposited this amount into national exchequer out of his personal resources.

Barring early years of Pakistan, this act of the sitting president can safely be termed as unprecedented. Muhammad Ali Jinnah was meticulously honest for not financing his personal requirements from the exchequer. So was Liaquat Ali Khan. It is said that Chaudhry Muhammad Ali, as former PM, accepted Rs 18 (or 28) thousands for treatment abroad but subsequently returned the amount. No such incidence has been reported since then.

A section of our press has, while praising this act of the President, suggested that to save national pecuniary resources from onslaught of future heads of state and government, a law should be enacted stipulating that henceforth such pious deeds would not be done at the cost of public money. And it is here that one is reminded of extreme national obsession for "future tense." Each new drone-attack is followed by dauntless pledges that no such trespass would be tolerated in the future. Each suicide attack, causing bloodshed of scores of innocent citizens is accompanied by boisterous claims of the people at the helm of affairs that no such act of barbarity would be forgiven in future. Even kids ridicule such meaningless pronouncements with guffaws. Nobody takes them seriously. It appears that the role of majestic buildings erected on constitution Avenue by spending billions of hard-earned rupees is as "effective" as was that of the splendid Red Fort of Delhi in the years preceding 1857.
The million dollars question is: will an enactment with prospective effect be efficacious? The famous American historian Barbara Tuchman had defined wisdom as an "exercise of judgement acting on, 1) Past experience, 2) Common sense and 3) Available information." All three ingredients of wisdom amply indicate that our law-makers in general, and rulers in particular, have been, and will keep on, circumventing, disregarding and bulldozing the regulations which are not compatible with their sweet will.

Common sense demands that if President Zardari has rectified a past irregularity, Why can not others do the same? Mir Zafrullah Khan Jamali, the then Prime Minister, has drained on the exchequer to the tune of Rs. 16.7 million to perform Umra along with his cronies. Ch Shujaat Hussain, as Prime Minister, deprived the treasury of Rs 15.2 million when he led a large contingent to Holy Places. When Shaukat Aziz, our great plastic PM, occupied the throne with all his buffoonery, he too followed the godly practice of performing the Umra at State expense. The great "economist" premier wrung "only" Rs 18.7 million from treasury of the Islamic Republic. He claimed later on, that he had spent this amount out of his personal Kitty but there is no evidence to prove this claim truthful. This poor nation, the majority of which has no access even to potable water, not to speak of comforts, has a right to ask as to why these former prime ministers do not follow the example set by President Zardari. It is a simple matter of "now or never." Government, which claims to be a people's government, must ordain these extremely wealthy persons to pay the extorted public money back to the exchequer. Let the Ministry of Finance ask them. Let the Parliament pass a resolution to that effect, or prime minister office direct these defaulters to avoid further delay in doing what the president has already done.

But if somebody thinks that the example set by President Zardari will save the exchequer from plunders in future, it is a wishful thinking unless the recoveries are made retrospectively. Tomorrow never comes. It has never come at least in this wretched country. Let Mir Zafrullah Jamali and Ch Shujaat follows the president. As for as the plastic PM Shaukat Aziz is concerned, his pecuniary lawlessness may be condoned on compassionate ground. The poor soul could not afford even an economy class air passage to Pakistan on the sad demise of his father in law! Let someone venture to draw attention of Maulana Edhi to make his two ends meet.

This brings us to another paradox. Politicians, especially public representatives, sooner or later, do get exposed. Whether it is a written off loan of enormous magnitude or a massive tax evasion, there is always a hue and cry in the parliament and consequently in the domestic and international press. But what about the wolves disguised as sheep in the herd known as bureaucracy? What about the public servants, whatever is colour of their attires, who have gained illegitimate capital out of their positions? A foreign journalist once, while writing in one of English dailies of Pakistan, had compared the jet set living of one such (retd) public servant with that of Latin American despots! The stories of 64 plots and 14 palaces are not very old. If accountability is not to be staged as mere source of entertainment for the fun-starved public, it has to be effected with retrospective effect and no holy bull is to be exempted.

Gar yih naheen to baba / Phir sab kahanian hain!

Tuesday, February 17, 2009


زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے۔ مقام دلی ہے۔ وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے۔ سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے۔ پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری دونوں ڈرل کیلئے جاگ گئے ہیں۔ دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے ہیں۔ انگریز عورتیں گھڑ سواری کو نکل گئی ہیں۔ سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے۔ کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے۔ بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہے۔ دن کے ایک بجے سرمٹکاف بگھی پر سوار ہو کر وقفہ کرنے کیلئے گھر کی طرف چل پڑا ہے۔ یہ ہے وہ وقت جب لال قلعہ کے شاہی محل میں ''صبح'' کی چہل پہل شروع ہو رہی ہے۔ صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھاجس کے بعد ظلِ الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو گئے تھے۔ اب کنیزیں نقرئی برتن میں ظلِ الٰہی کا منہ ہاتھ دھلا رہی ہیں اور تولیہ بردار مہ جبینیں چہرہ، پائوں اور شاہی ناک صاف کر رہی ہیں اور حکیم چمن لال شاہی پائے مبارک کے تلووں پر روغن زیتون مل رہا ہے۔ اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے کھانے کا وقت ایک ہی تھا۔ دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیربازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا۔
اب ایک سو سال یا ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں۔ برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں۔ برسات کا موسم ہے مچھر ہیں اور پانی ہے۔ ملیریا سے اوسط دو انگریز روزانہ مرتے ہیں۔ لیکن ایک شخص بھی اس ''مرگ آباد'' سے واپس نہیں جاتا۔ نواب سراج الدولہ پالکی پر سفر کر تے ہیں، بیگمات مع زیورات ساتھ ہیں، ہر چندکوس کے بعد آرام کیا جاتا ہے۔ لارڈ کلائیو پہرول گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے۔اب 2009ء میں آتے ہیں۔پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں۔ آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں۔ بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے۔ پورے یورپ امریکہ جاپان آسٹریلیا اورسنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں!
اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی۔ اسکا کوئی رشتہ دار نہیں۔ نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا۔ کلائیو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا۔ تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، مسلمان ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا۔ بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کا محبوب
رات بھر یا تو پالیسی بناتارہا تھا یا سجدے میں پڑا رہا تھا! حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا۔ کیا سلطنتِ خداداد پاکستان اللہ کی رشتہ دار سے اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی دشمن تھی۔
اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے۔ ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے۔ کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈی سی او کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر مجود ہوتے ہیں؟ کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں، اورکوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے۔ کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے جہاں شادی کے دعوت ناموں پر آٹھ بجے کا وقت لکھا جاتا ہے اور کھانا رات کے بارہ اور ڈیڑھ بجے پیش کیا جاتا ہے اور مہمانوں کی پیشانیوں پر شکن پڑتی ہے نہ میزبانوں کے چہروں پر شرم کی جھلک نظر آتی ہے۔ جانے قدرت کسی چیز کا انتظار کر رہی ہے! کیا قدرت کو امید ہے کہ ہم سیدھے راستے پر آجائیں گے؟
قدرت چاہے تو آصف علی زرداری کے ہاتھوں ''خاندانی'' سیاستدانوں کی پوزیشن خراب کردے! صدر زرداری نے عمرہ پر خرچ ہونیوالے دو کروڑ 49 لاکھ 78ہزار 437 روپے سرکاری خزانے میں جمع کرا دیئے ہیں۔ مجھے اپنے اس عزیز دوست سے اختلاف ہے جس نے تجویز پیش کی ہے کہ آئندہ کی روک تھام کیلئے اسے قانون کی شکل دے دینی چاہئے۔ ہماری اکثر ذلتوں کا سبب فعل مستقبل (FUTURE-TENSE) ہے۔ خودکش حملے برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دی جائیگی! کیا کوئی سرجن ایسا بھی ہے جو پھوڑے کو جس میں پیپ پڑ چکی ہے چھوڑ دے اور یہ مشورہ دے کہ اسکے بعد کسی اور پھوڑے میں پیپ پڑ گئی تو نشتر لگائیں گے۔ مصر کے گورنر حضرت عمرو
ؓ بن عاص کے فرزند محمد نے ایک مصری کو تازیانے مارے اور کہا ''لے میں بڑوں کی اولاد ہوں''۔ مظلوم قاہرہ سے سیدھا مدینہ پہنچا۔ عمر فاروقؓ نے یہ نہیں کہا کہ ہم آئندہ ایسی حرکت برداشت نہیں کریں گے۔ اس زمانے میں جب ریگزار کی تیز ترین سواری اونٹ تھا، گورنر اور اسکے فرزند دونوں کو دارالحکومت میں حاضر کیا گیا۔ مجلس قصا ص میں دونوں پیش ہوئے۔ فاروق اعظمؓ نے مصری کے ہاتھ میں تازیانہ دیا اور حکم دیا کہ ''بڑوں کی اولاد کو مار'' مصری نے محمد بن عمروؓ بن عاص کو تازیانے مارنے شروع کئے، مارتا جاتا تھا اور فاروق اعظم کہتے جاتے تھے ''بڑوں کی اولاد کو مار'' پھر آپنے مصری کو کہا کہ اب گورنر کو مار، خدا کی قسم باپ کی حکومت کا گھمنڈ نہ ہوتا تو بیٹا ہرگز نہ مارتا۔ لیکن مصری نے کہا کہ جس نے مجھے مارا تھا، میں نے اس سے بدلہ لے لیا۔ نہیں…جناب…نہیں…ہرگز نہیں۔ مستقبل کیلئے قانون صرف اس وقت موثر ہوگا جب ماضی کے مجرم حساب دینگے۔ میر ظفر اللہ جمالی وزیراعظم تھے تو لائو لشکر کو عمرے پر لے گئے۔ انہیں کہا جائے کہ وہ ایک کروڑ 67 لاکھ روپے کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائیں۔ وزارت خزانہ کہے یا قومی اسمبلی کہے یا وزیراعظم کا دفتر حکم دے۔ لوگوں کے پاس آٹے کے پیسے نہیں، بچے پیراسٹامول کا سیرپ نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں، آبادی کی اکثریت ذاتی مکانوں سے محروم ہے اور یہاں کروڑ پتیوں کو عوام کے خون پسینے سے عمرے کرائے جا رہے ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین نے عمرے پر (بطور وزیراعظم) ایک کروڑ باون لاکھ روپے خرچ کئے۔ وہ ایک نرم دل شریف النفس انسان ہیں۔ انکے والد نے ہزاروں مستحقین کی خاموشی سے مدد کی اور مسلسل مدد کی۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ان جیسا رجلِ رشید سرکاری خزانے کو اس خطیر رقم سے محروم رکھے۔ رہے پلاسٹک کے وزیراعظم شوکت عزیز جنہوں نے اس ''عبادت'' پر ایک کروڑ ستاسی لاکھ روپے خرچ کئے اور جھوٹ بولا کہ یہ خرچ انہوں نے ذاتی جیب سے کیا ہے تو ان کا کیا ہی کہنا! انکی غربت کا تو یہ عالم ہے کہ انکے سسر انتقال کرگئے تو وہ ان کی موت پر بھی پاکستان نہ آئے۔ ٹکٹ کی رقم کہاں سے لیتے؟ شنید ہے کہ ایک پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینل پر ناظرین کو اذیت دینے والے ''دانش ور'' نے دریائے ٹیمز کے کنارے معزول شدہ ڈکٹیٹر کے اعزاز میں مجلسِ عیش و عشرت برپا کی تو پلاسٹک کے وزیراعظم وہاں باقاعدہ موجود تھے! وہ ''ماہر اقتصادیات'' ہیں۔ انہوں نے حساب لگا رکھا ہے کہ اس دنیا میں ایک روڑ ستاسی لاکھ روپے کی ادائیگی مشکل ہے، لیکن ایک اوردنیا میں، جہاں انکے پاس کوئی کرنسی نہیں ہوگی، سولہ کروڑ عوام کے گناہ اپنے سر لینا آسان ہوگا، وہ سولہ کروڑ عوام جو اس ایک کروڑ ستاسی لاکھ اور کئی اور کروڑوں کے اصل مالک ہیں!!ابھی تو اس آڈٹ رپورٹ کی روشنائی بھی خشک نہیں ہوئی جس میں بتایا گیا تھا اور سب اخباروں میں آیا تھا کہ جناب فاروق لغاری کے دور صدارت میںاس رقم سے جو وزارت حج میں حاجیوں کی امانت تھی، عمائدین اور امرا کو عمرہ (یا حج) کرایاگیاتھا۔ اس میں تھری پیس سوٹ اور نکٹائیاں تو تھیں ہی، دستاریں، عبائیں، تسبیحیں اور عمامے بھی تھے!…؎

بھرم کھل جائے ظالم! تیری قامت کی درازی کا
اگر اس طُرۂ پُر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
حساب ایک ایک پیسے، ایک ایک پائی کا حساب! محلات، جاگیروں، کارخانوں کا حساب۔ ان کا بھی جو کروڑ پتی تھے لیکن پاکستان سے صرف اسلئے احرام باندھ کر نہیں جاتے تھے کہ جدہ میں سرکاری خزانے سے خریدا جائیگا حالانکہ میقات تو راستے میں ہے! نوے ریال کی چربی جرابوں کی رسید بھی کہیں پڑی ہوگی! اربوں کھربوں کے قرضے معاف کروانے والے اور ٹیکس نہ دینے والے سیاست دان ہیں یا قومی خزانے سے نسلیں سنوارنے والے سرکاری ملازم۔ جب تک ان سے ایک ایک پائی وصول نہیں کی جائیگی، تب تک یہ ملک نزع کی اسی کیفیت میں رہے گا جس میں ہے۔ جان لبوں پر ہے۔ نکلتی ہے نہ رکتی ہے۔ کوئی میثاق جمہوریت، کوئی دھرنا، کوئی شب بیداری۔ کوئی چلہ، کوئی ایوان بالا کا انتخاب، کوئی جیالوں کی بھرتی، کوئی متوالوں کی تالیفِ قلب، کوئی واسکٹ کوئی ڈیزائز سوٹ کوئی حجاز سے آیا ہوا زرد چار خانے کا رومال… کچھ بھی اس ملک کے کام نہیں آسکتا جب تک ادائیگیاں ماضی سے شروع نہیں ہوتیں۔ رہا چار خانے والا زرد رومال۔ تو یرقان کی آخری کیفیت یہ ہوتی ہے کہ رومال ہاتھ میں لیاجائے تو پیلا ہوجاتا ہے

Thursday, February 12, 2009

Pakistan's High Commissioner for Bangladesh

Mr. Alqama Khairuddin, the nominated High Commissioner is son of Khwaja Khairuddin who hailed from Dhaka's nawab family.
The Nation
The Bangladesh Today

A section of Pakistani Press has slated Bangladesh's rejection of Pakistan's proposed High Commissioner. It is astonishing that even after thirty eight years, what is now left as Pakistan has not done any soul-searching in the context of losing the major chunk of its population as well as territory. One can only take pity on the intelligentsia of the country who, even now, are harping that the decision to declare Urdu as the only national language was correct. The conditions which led to breakup of Quaid-e-Azam's Pakistan are still prevailing and are holding the same potential. In this background it is not at all surprising that Pakistan is incapable of appreciating Bangladesh's inability to accept the recent nomination of High Commissioner.
Mr.Alqama Khairuddin, the nominated High Commissioner is son of Khwaja Khairuddin who hailed from Dhaka's nawab family. Khwaja Shahabuddin, a member of this family served Ayub Khan, the military dictator of Pre-Bangladesh Pakistan, as a Federal Minister. It goes without saying that a dictator accepts only sycophants around him. Mr. Shahbuddin, being information Minister, thumped a ban on Radio Pakistan to do anything with Tagore songs. Being non Bengali speaking, the Nawab family kept themselves aloof from the decisive Language Movement in the then East Pakistan. Every student of Pakistan's chequered history knows that the Language Movement was a watershed in context of relations between two parts of the then Pakistan. During the turmoil of 1971, Khwaja Khairuddin sided with Pakistan Army, thus further alienating the protagonists of Bangladesh Movement. During the ensuing transfer of population, he bade farewell to Bangladesh, came to Karachi and never went back. His name, even today, is listed among the criminals of war in the dossiers of Bangladesh's Government. It was thus quite natural on the part of Bangladesh Government to reject nomination of son of a war criminal as an ambassador. An identical situation will arise if tomorrow Pakistan nominates son of Hafiz Saeed or Molana Masood Azhar, the chiefs of Jihadi outfits wanted by Indian Government, as Pakistan High Commissioner for Delhi!
The question arises: why did not Pakistan's Foreign office bring this background to the knowledge of decision makers? The answer to this question leads to a painful aspect of what is known as "governance" in Pakistan. Although the so called "lateral entry", a distorted form of USA's "spoils system", brought political appointees in Pakistan's bureaucracy first time during the Government of Zulfaqar Ali Bhutto, yet it was eleven years long despotic rule of Gen.Zia ul Haq which took nepotism to unprecedented proportion and every nook and corner of Civil service stood manned by his favorites. Foreign Service was targeted particularly as ambassadorships in different countries promised jet set living for the dictator's cronies whereas professional work was performed by Foreign Service career officers who worked under these "ambassadors". This usurpation, unfortunately, could not be rolled back during the brief democratic period sandwiched between dictatorships of Gen. Zia and Gen. Musharraf. Infiltration of serving and retired Military officers in Civil Service, during Musharraf's eight years, touched new heights when thousands of the posts fell prey to the covetousness of garrison. Although Musharraf's Military era has come to an end, yet the sordid tradition of throwing attractive positions in the lap of favorites continues. Mr. Alqama Khairuddin, the nominee for Bangladesh, is teaching in the University of Multan, the city which is playing very prominent role in the present set-up. Only Pakistan's Foreign Office can tell whether it was consulted before this nomination was put forward and whether it rendered necessary briefing thereon.
The fact of the matter is that nothing has changed in Pakistan since it was halved into two. No study has been made as to what were the factors which led to 1971 crisis and what were the lessons to be learnt by leftover Pakistan. After all Bengalis did not lose confidence in Islamabad over night. It was a process which started at a certain stage of history and then continued till the point of breakdown. Pakistan should have diagnostically analyzed this catastrophic part of its existence and should have inferred what it needed the most. But it never happened. The so called Hamoodurrehman Commission Report never saw light of the day. On the other hand, social, political and sectarian disintegration of Pakistani society is galloping at horrendous speed. Feudalism is not only thriving, it is transforming itself into serfdom. Education system, if at all it can be called a system, is based, entirely, on class system. Rulers have a different set of educational institutions and "natives" are being prepared to become clerks or laborers in schools where either buildings are roofless or there are no teachers. Madrasas, which, by and large, are turning out to be nurseries for jihadis, represent another world, more of underworld, where poverty stricken masses send their children to get free lodging and food. The most inauspicious irony is that Urdu which was attempted to be imposed on Bengalis as the only national language is yet to find its lawful place in Pakistan. Not a single file, not to speak of an office, is being attended, nor has ever been attended, in Urdu in Federal and Provincial Governments. In this backdrop, no wonder if a High Commissioner has been nominated for an important country without doing the required essential spadework!

Tuesday, February 10, 2009

مجھے کیا خبر تھی کہ اصل میں وہ فرشتہ تھا

میں کنکر، مٹی اور پتے صاف کر رہا تھا اور میرا بیٹا دونوں ہاتھ منہ پر رکھے کچھ پڑھ رہا تھا۔
یہاں وہ شخص سویا ہوا تھا جو میرے گھر واپس آنے تک سوتا ہی نہ تھا، اور اب یہ حال تھا کہ میں اس کی خواب گاہ کی چھت سے کنکر، مٹی اور پتے ہاتھوں سے ہٹا رہا تھا اور وہ کروٹ بدل کر، جاگ کر، دیکھتا ہی نہیں تھا۔ اور کہہ ہی نہیں رہا تھا کہ ''میرے بچے! دیکھنا، کہیں کنکر چُبھ نہ جائیں، اور دیکھو، تمہارے ہاتھ خراب نہ ہو جائیں۔
یہاں وہ شخص محوِ خواب تھا جس کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے ساٹھ میں سے تقریباً چوّن سال گزارے اور کوئی ایک دن بھی ایسا نہ تھا جس دن میں نے کوئی نئی چیز نہ سیکھی ہو اور جس دن اس نے مجھے کوئی نیا نکتہ بتا کر حیران نہ کردیا ہو اور جس دن مجھے شدید احساسِ زیاں نہ ہوا ہو کہ افسوس! بحرِ دخار گھر میں تھا اور میں پیاسا ہی رہا۔ حکمت کا منبع اور علم کا مصدر میرے پاس تھا اور میں اِدھر اُدھر بھٹکتا رہا۔ سورج صحن میں تھا۔ دنیا آ کر روشنی جھولیوں میں بھر بھر کر لے جاتی رہی اور میں چراغ کی لو سیدھی کرتا رہا!
میں نے کئی دفعہ کہا ہے اور لکھا ہے…

بار ہا گفتہ ام و بارِ دگر می گویم
پھر کہہ رہا ہوں کہ ہر مرد او ر ہر عورت کو خدا دو ولیوں تک رسائی دیتا ہے اور وہ اس کے ماں باپ ہوتے ہیں جو کچھ ملتا ہے نظر آنے والا سامان، ترقیاں، عروج، نعمتیں اور نظر نہ آنے والے درجات اور فضائل۔ سب کچھ انہی کے ذریعے ملتا ہے اور انسان کی یہ بھی کتنی دردناک تیرہ بختی ہے کہ وہ گھر میں ولیوں کے ہوتے ہوئے ریگستانوں جنگلوں میں سرگرداں ہے اور دوسروں کی دہلیز پر سر پٹخ رہا ہے۔ رومی نے رو رو کر اور سسک سسک کر کہا تھا…
اے قوم! بہ حج رفتہ! کجائید کجائید
معشوق ہمیں جاست بیایید بیایید
دَہ بار ازاں راہ بداں خانہ برفتید
یک بار ازیں خانہ بریں بام برآیید
افسوس! تم دس بار دوسرے راستے پر چل کر ایک اور گھر میں جاتے رہے کبھی ایک بار تو اس گھر میں بھی آتے اور اسکے زینے سے چھت چڑھ کر دیکھتے!
ایک بے مہر، سنگدل اور سفید رات تھی اور ابھی آدھی بھی نہ ہوئی تھی جب میرے والد گرامی نے اسلام آباد ہسپتال کے ایک کمرے میں اس دنیا کو خیرباد کہا۔ کتنے ہی دنوں سے وہ ایک شعر باربار سنا رہے تھے …
وَ اِذِ الٔمَنِیّۃُ اَنْشَیَتْ اَظْفَارُھا
فَاَلْفَیْتَ کُلَّ تَمیمَتہِِ لَا تَنْفَعْ
جب موت اپنے پنجے گاڑ دے تو کوئی تعویذ، کوئی جھاڑ پھونک کام نہیں آتی۔ اسی مفہوم کا اپنا شعر بھی بار بار پڑرہے تھے…
ٹھان لے جب وہ مِٹا دینے کو نقشِ زندگی
تو اجل سے کاوش و پیکار کرسکتا ہے کون
یوں لگتا ہے کہ درخت، سائبان، بادل، چھت، چھائوں دینے والی ہر چیز غائب ہوگئی ہے۔ دھوپ ہے اور ایسی کہ کوڑے برسا رہی ہے اور برہنگی ہے کہ امڈ امڈ کر آ رہی ہے۔ میرے لئے وہ مجسم ہدایت تھے اور نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ جب بھی غلط راستے پر چلا واپس لے آئے۔ کسی کے ساتھ درشتی سے پیش آیا تو نرمی کا حکم دیا، حکمت کی روشنی بکھیرنے کاعجیب انداز تھا۔ میں نے اپنے ایک شاگرد کا، جو بڑے منصب پر فائز ہو چکا تھا، ایک جگہ تعارف کرایا تو یہ بھی کہا کہ کالج میں میرے طالب علم رہے ہیں، جب وہ رخصت ہوگیا تو عجب آہستگی سے فرمایا کہ شاگرد بڑا آدمی بن جائے تو استاد کو نہیں بتانا چاہئے کہ یہ میرا شاگرد ہے۔ مزہ تو جب ہے کہ شاگرد دوسروں کو بتائے کہ یہ میرے استاد رہے ہیں اور اگر وہ نہ بتائے تو استاد کو بتانے کی کوئی ضرورت نہیں! ستر کی دہائی میں مجھے مقابلے کا امتحان دینا تھا۔ اس وقت صرف تین مقامات پر سول سروس کے امتحانی مراکز تھے، کراچی، لاہور اور لندن۔ میں نے فریاد کی کہ آکسفورڈ اور کیمبرج کے فارغ التحصیل حضرات سے میں کیا مقابلہ کرونگا، ایک لمحے کیلئے خاموش ہوئے، پھر پوچھا، اس امتحان میں فارسی ادب کی کوئی گنجائش ہے؟ میں نے عرض کیا کہ دو سو نمبر کا رکھ سکتے ہیں، فرمایا، یہ رکھ لو اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو۔ جانے کرامت تھی کہ سحر۔ سارے پرچوں میں حیرت انگیز حد تک نمبر زیادہ آئے۔ پھر ایک وقت آیا کہ ہاتھ تنگ رہنے لگا، سرکاری کورس پر چھ ماہ کیلئے یورپ جارہا تھا، ایک آسان وظیفہ بتایا، جس ترقی نے سالوں بعد ہونا تھا، مہینوں میں ہوئی اور اللہ نے ایسی مالی آسودگی عطا کی کہ آج تک اچنبھا ہے۔ اکلِ حلال کی تاکید کرتے تو یہ ضرور کہتے کہ ایک سیر دودھ میں ایک قطرہ بھی غلاظت کا گرے تو سارے کا سارا ناپاک ہو جاتا ہے۔
یہ غم ذاتی غم نہیں ہے۔ کتنے ہی قارئین اس غم کے پہاڑ تلے پسے ہیں۔ ہر شخص کا باپ اس کیلئے ولی ہے، اس لئے کہ اللہ کے رسول
ؐ نے فرمایا ہے ''اللہ کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے'' اور اتنا بڑا مقام اللہ کے رسولؐ نے باپ کو بے سبب نہیں عطا فرمایا۔ باپ کی صرف ایک بے غرضی پر غور کیجئے۔ کوئی گوشت پوست کا بنا ہواانسان نہیں برداشت کرسکتا کہ دوسرا شخص اس پر سبقت لے جائے صرف باپ روئے زمین پروہ واحد شخص ہوتا ہے جو چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا لیاقت اور ذہانت میں اور مناصب اور درجات میں اس سے آگے بڑھ جائے!
لیکن اسکے مقابلے میں اولاد کا رویہ ماں باپ کیلئے کیسا ہے؟ یہ بھی ایک عجیب تماشا ہے۔ انسان کی جتنی محبت اور جتنی تشویش اپنی اولاد کیلئے ہوتی ہے، اتنی ماں باپ کیلئے نہیں ہوتی! محبت اورتشویش کا یہ بہائو آگے کی طرف کیوں ہے؟ پیچھے کی طرف کیوں نہیں؟ میرے دادا جان نے اس کا سبب یہ بتایا تھا کہ آدم کے ماں باپ نہیں تھے۔ صرف اولاد تھی پلٹ کر کیسے دیکھتے؟ ان کے شوق کا بہائو آگے ہی کی طرف ہوتا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ والدین کی بے غرضی، وابستگی اور ایثار عاشقانہ ہوتا ہے، اسکے برعکس اولاد کا رویہ ماں باپ کے ساتھ معشوقانہ ہوتا ہے جس میں تغافل اور بے رُخی شامل ہوتی ہے، لیکن آدم کی اولاد کی آنکھوں سے کبھی نہ کبھی، زندگی میں ایک بار یا ایک سے زیادہ بار یہ پردہ ضرور ہٹتا ہے اور اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس نے انصاف نہیں کیا۔ جنہوں نے اس کیلئے تکلیفیں اٹھائیں ان کیلئے وہ راحت کا سامان نہیں بنا اور جنہیں خدا نے شکر میں اپنا شریک کیا، ان کا شکر اس نے ادا نہیں کیا۔
اب یہ اپنا اپنا مقدر ہے کہ یہ پردہ کب ہٹے اور قدرت تلافی کی مہلت دے یا نصیب میں صرف پچھتاوا ہو اور وہ فیضی کی طرح ننگے پائوں فرش پر بیٹھا کفِ افسوس ملکر خون کے آنسو رو رہا ہو۔ فیضی اپنے زمانے کا نامی گرامی طبیب تھا لیکن مہمات پر ہی رہا اور پائوں میں سفر کا چکر رہا۔ ماں کے مرنے کے بعد واپس آیا اور دردناک مرثیہ کہا۔ ایک شعر میں کہتا ہے کہ کاش! میں اپنے کاسۂ سر کو ہائون دستہ (لنگری) بناتا اور جڑی بوٹیوں کے بجائے اپنا دل اس میں کھرل کرکے ماں کی دوا بناتا۔اس سے پہلے کہ پچھتاوا نوچے اور حسرت آنکھوں سے خون بن کر ٹپکے، جن کے گھروں میں یہ نعمت موجود ہے اسکی قدر کریں۔ ماں ہو یا باپ یا دونوں، انکے پیروں پر سَر رکھیں، تکیے کے بجائے خود ان کے پیچھے بیٹھیں، انکا سر اپنے سینے سے ٹیکیں، انکے جوتے اپنے ہاتھوں سے صاف کریں، انکے چہرے کا بوسہ لیں، انکی جھریوں میں بہشت کے باغ ہیں انکے کانپتے ہاتھ اور لرزتے پائوں جنت کی ضمانت ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کفِ افسوس ملکر یہ کہنا پڑے…

مجھے کیا خبر تھی کہ اصل میں وہ فرشتہ تھا
جو مسافر اک تھکا ہارا تھا مرے باغ میں


powered by worldwanders.com