Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, November 26, 2020

مانو نہ مانو جانِ جہاں! اختیار ہے



ہوا سرد ہے۔ تیز اور کٹیلی! خزاں کا دور دورہ ہے۔ تحریک انصاف کے پیڑ کے ساتھ لگے پتے پیلے ہو ہو کر جھڑ رہے ہیں۔ حکومت ایک ٹنڈ منڈ درخت کی طرح کھڑی ہے۔ قابلِ رحم! جڑیں تک خشک ہو رہی ہیں۔ بہار آئی بھی تو مشکل ہے کہ برگ و بار دوبارہ ظاہر ہوں۔
حامیوں میں کون کون رہ گیا ہے؟ ایک وہ جو براہ راست مستفید ہو رہے ہیں یعنی Beneficiaries‘ ان میں وہ نوجوان بھی شامل ہیں جنہیں زندگی میں، شاید پہلی بار، کچھ اہمیت مل رہی ہے‘ جیسے ٹائیگر فورس! زمانے کا انقلاب دیکھیے کہ ایک وقت وہ تھا جب اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اس جماعت پر فریفتہ تھے۔ ٹاپ کے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوان! وہ بھی جو بیرون ملک سے قابل رشک ڈگریاں لیے تھے۔ اور آج! ٹائیگر فورس کے نوجوان! چند ہفتے پہلے انہیں وفاقی دارالحکومت میں جمع کیا گیا۔ ان کے سامنے جس قسم کی تقریر کی گئی، اس سے ان نوجوانوں کی کوالٹی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے! دوسرے وہ جو شخصیت کے اسیر ہیں۔ انہوں نے ہر حال میں حمایت کرنی ہے۔ ایسے حامی نون لیگ اور پی پی پی کے تھیلے میں بھی بہت ہیں۔ پرکھنے کی صلاحیت سے عاری! نظریات سے نہیں، صرف شخصیات سے وابستہ! جب لا جواب ہو جائیں تو یہ دلیل دیتے ہیں کہ وزیر اعظم نہیں، ان کی ٹیم کا قصور ہے۔ جیسے ٹیم کسی اور نے چنی اور مسلط کر دی! تیسرا گروہ حامیوں کا ان شرفا پر مشتمل ہے‘ جو اپنے آپ کو بے بس پاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر خان صاحب کو بھی ناکام قرار دے دیا جائے تو متبادل کیا ہے؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے مریض کو نقصان دینے والی دوا صرف اس لیے دی جاتی رہے کہ پھر اور کیا دیں! پچیس کروڑ افراد کے اس ملک میں لیڈرشپ کی کوئی کمی نہیں۔ صرف ان چند پارٹیوں کا طلسم توڑنے کی دیر ہے جو پیش منظر پر چھائی ہوئی ہیں۔ رب العزت نے امکانات کی بے کنار دنیا پیدا کی ہے۔ چوتھا گروہ حامیوں کا تارکین وطن پر مشتمل ہے۔ ان کے سامنے صرف تقریریں اور وعدے ہیں، انہیں کوئی اندازہ نہیں کہ ان اڑھائی برسوں میں عملی طور پر کیا ہوا ہے۔ وہ مہنگائی سے بھی براہ راست متاثر نہیں۔ انہیں اُن نئے مافیاز کا بھی اندازہ نہیں جو پرانے مافیاز کی جگہ لے چکے ہیں۔
ایک غلط فہمی، بلکہ کنفیوژن موجودہ حکومت شد و مد سے یہ پھیلا رہی ہے کہ اِس حکومت سے غیر مطمئن صرف وہ لوگ ہیں جو مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے حامی ہیں۔ یہ ایک عجیب و غریب قسم کی منطق ہے جس کے ڈانڈے بلیک میلنگ سے جا ملتے ہیں۔ ارے بھائی! گزشتہ حکومتوں سے مایوس ہو کر جن لوگوں نے آپ سے امیدیں باندھی تھیں‘ انہیں آپ نے بھی مایوس کیا ہے تو وہ اب کس برتے پر آپ کے ساتھ بندھے رہیں؟ ہر وعدہ آپ نے توڑا، ہر وہ کام آپ کر رہے ہیں جو گزشتہ حکومتیں کرتی رہی ہیں تو آپ کا ساتھ کیوں دیا جائے؟ بزدار صاحب جیسے نابغوں اور عبقریوں کے نام کون تجویز کر رہا ہے؟ میرٹ کے خلاف نوکریوں کی تائید اعلیٰ ترین سطح سے یہ کہہ کر کی گئی کہ ووٹرز کا پریشر ہے۔ یہی کچھ تو پہلے بھی ہو رہا تھا۔ بد ترین مذاق یہ کیا جا رہا ہے کہ ہر اعتراض ہر شکایت کا ایک ہی جواب ہے: این آر او نہیں دیں گے!
باقی سب کچھ چھوڑ دیجیے۔ صرف تین پہلوئوں سے موجودہ حکومت کی سنجیدگی کا جائزہ لے کر دیکھ لیجیے۔ حکومت میں آنے سے پہلے تین بڑے دعوے کیے گئے تھے: آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے‘ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے اور پچاس لاکھ گھر بنائیں گے۔ اکیس سال کا ان کے پاس ہوم ورک تھا۔ اب دو ہی صورتیں ممکن ہیں‘ یا تو یہ وعدے سنجیدگی سے کیے گئے مگر ہوم ورک غلط تھا۔ اتنا بھی نہ جان پائے کہ آئی ایم ایف کے پاس لازماً جانا پڑے گا اور اتنی نوکریاں اور اتنے مکان ممکن ہی نہیں۔ اگر ایسا تھا تو پارٹی کی صلاحیت اور قابلیت مشکوک ٹھہری بلکہ سخت نا قابل اعتبار! اور اگر معلوم تھا کہ یہ نا ممکن ہے اور پھر بھی وعدے اور دعوے کیے تو سبز باغ دکھانے کی فریب کاری کی۔ ایک طویل فہرست ہے عہد شکنیوں کی۔ ہر چند میٹر کے بعد ایک نیا یُو ٹرن۔ جتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے! کابینہ کی تعداد نصف سنچری کو کراس کر چکی، تقریباً ایک تہائی ارکان غیر منتخب ہیں۔ اچھی خاصی تعداد ان میں شوکت عزیزوں کی بھی ہے جو بساط الٹتے ہی بریف کیس اٹھائیں گے اور اپنے اپنے ''وطن‘‘ کا رخ کریں گے۔ بیوروکریسی کا مستقبل جو صاحب طے کرنے میں لگے ہیں‘ وہ خود چھپن سال پہلے کی سول سروس کی باقیات میں سے ہیں۔ چوبِ خشک! فروختنی نہ سوختنی! یعنی 
قیاس کُن ز گلستانِ من بہارِ مرا
اس باغ سے اندازہ لگائیے کہ بہار کیسی ہو گی!
کارکردگی کے خارجی پہلو پر نظر دوڑائیے تو وہاں بھی معاملات اتنے ہی تشویشناک ہیں۔ سی پیک پیش منظر پر کہیں دکھائی ہی نہیں دے رہا۔ بقول مجید امجد 
اب تو یاد ان کی دل میں آتی ہے
جیسے بجلی بہ نبضِ خس گزرے
نہ جانے کہاں ہے اور کس حال میں ہے! لگتا ہے قصّہ پارینہ ہو چکا! کوئی نہیں جو اس ضمن میں قوم کو اصل صورت احوال سے آگاہ کرے۔ یو اے ای سے آنے والی خبریں سخت تشویش ناک ہیں۔ ویزے بند کر دیے گئے ہیں۔ فارن آفس اس ضمن میں خاموش ہے! سعودی عرب اور اسرائیل کے حوالے سے جو پیچیدہ اور غیر واضح اطلاعات مل رہی ہیں، کیا پاکستان کی موجودہ لیڈرشپ میں اس حوالے سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت موجود ہے؟ ابھی تو ملائیشیا میں منعقدہ کانفرنس سے جُڑا پہلا دھچکا بھی پرانا نہیں ہوا۔ رہا امریکہ تو وہاں کے الیکشن سے عین پہلے ہمارے وزیر اعظم صاحب نے اپنا تعلق ٹرمپ سے جا جوڑا۔ یہ ایک انتہائی غیر محتاط مماثلت تھی جو قائم کی گئی۔ نو منتخب امریکی صدر نے اس سے کیا تاثر لیا ہو گا؟ اس کا اندازہ لگانے کے لیے کسی لمبی سوچ بچار کی ضرورت نہیں۔ کشمیر کے معاملے میں بھارت ہمیں بہت پیچھے چھوڑ چکا۔ بھری دنیا میں سوائے دو تین ملکوں کے کسی نے ہمارے حق میں منہ نہ کھولا۔ کیا کسی نے سوچا ہے کہ گلگت بلتستان جیسے حساس علاقے میں جو اضطراب برپا ہے اس سے سرحد پار کیا پیغام جائے گا؟
یہ ہے ایک اجمالی صورت حال جس سے ہم لمحۂ موجود میں دوچار ہیں۔ حکومت اس سے نمٹنے کے بجائے ایک ہی بات بار بار کہے جا رہی ہے کہ این آر او نہیں دے گی۔ ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ نیب اور عدالتیں ہمارے ماتحت نہیں، دوسری طرف یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ چھوڑیں گے نہیں جبکہ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ این آر او دینا ہے یا نہیں یا کسے دینا ہے اور کسے نہیں دینا۔ عوام تو ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کا انتظار کر رہے ہیں۔ پانچ سالہ ٹرم کا نصف تقریباً مکمل ہونے کو ہے۔ اس موقع پر پچیس لاکھ گھر اور نصف کروڑ ملازمتیں تو نظر آ جانی چاہیے تھیں۔ اب بھی وقت ہے۔ نابغوں اور عبقریوں سے حکومت چھٹکارا حاصل کرے۔ بیوروکریسی کے جس مخصوص طائفے نے اقتدار کو اپنے حصار میں قید کر رکھا ہے‘ اسے منتشر کیا جائے۔ جس میرٹ کا شور مچایا گیا تھا‘ اسے بروئے کار لایا جائے۔ ترجیحات درست کی جائیں۔ غرض مند مشیروں کے بجائے بے لوث ماہرین سے استفادہ کیا جائے۔ یہی واحد راستہ ہے عوام کو مطمئن کرنے کا اور اپوزیشن کو نیچا دکھانے کا!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, November 24, 2020

لٹمس پیپر


احمد داؤد مرحوم ادیب تو تھا ہی‘ انسان بھی باکمال تھا اور دوست بھی بہت اچھا! اچھا انسان اور اچھا دوست ہونا‘ بعض بلند پایہ ادیبوں اور شاعروں کی قسمت میں نہیں بھی ہوتا ! طلوعِ آفتاب سے پہلے گھنٹی بجتی ‘ باہر نکلتا تو لان کی شبنم آلود گھاس پر احمد داؤد ننگے پاؤں چل رہا ہوتا۔کہتا :یار کپڑے بدل‘ ناشتہ کرنے کشمیری بازار جانا ہے۔ کبھی کبھی ہم بچوں کو بھی ساتھ لے جاتے۔ کشمیری بازار کی معروف دکان پر پائے اور کلچے کھاتے۔ کئی بار شیخ رشید کو بھی وہاں ناشتہ کرتے دیکھا۔ جو واقعہ بتانا مقصود ہے وہ دوسرا ہے۔ ایک بار احمد داؤد کے گھر مہمان آئے‘ غالبا سسرالی اعزّہ تھے۔ گھر میں کوئی خاص چیز اُس وقت موجود نہ تھی جو مہمانوں کو پیش کی جاتی۔ وقت بھی کھانے کا تھا۔ نہلے پر دہلا یہ ہوا کہ جیب بھی اُس وقت اُس کی خالی تھی۔ اُس نے اپنی لائبریری سے اچھی اچھی قیمتی کتابیں اٹھائیں ‘ موٹر سائیکل پر پیچھے رکھیں‘ یہ وہ زمانہ تھا جب وفاقی دارالحکومت کے تقریبا ہر سیکٹر میں ایک اولڈ بُک شاپ ضرور تھی۔ جس طرح نئی کتابوں اور سٹیشنری کی بڑی بڑی دکانیں‘ جڑواں شہروں میں کم و بیش ایک ہی خاندان کی ملکیت ہیں ‘ اسی طرح اولڈ بُک شاپ کی مختلف برانچیں بھی تقریباً ایک ہی خانوادے کی تھیں۔ ان کے بڑے‘ صدیقی صاحب ‘ اس کالم نگار کے جاننے والے تھے۔ احمد داؤد نے کتابیں قریب کی اولڈ بک شاپ پر فروخت کیں۔ ڈھیر سارے تِکے‘ کباب اور روٹیاں خریدیں اور مہمانوں کوکھانا کھلا کر باعزت طریقے سے رخصت کیا۔
یہ طرزِ عمل ہمارے معاشرے کے لیے اجنبی نہیں ! بالکل نہیں ! دو چیزیں ایسی ہیں جو اس سوسائٹی کا جزو لا ینفک ہیں۔ اور یہی دو چیزیں خاندانی پس منظر متعین کرنے میں بھی خاصا کردار ادا کرتی ہیں۔ ملاقاتی کو کچھ کھلائے پلائے بغیر گھر سے بھیجنا ‘ غریب سے غریب آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہے۔چائے کی پیالی تو بہت ہی ضروری ہے۔ ایک لطیفہ بھی ہے کہ فلاں کے گھر گئے توانہوں نے چائے تک نہیں پلائی۔ صرف کھانا کھلایا!ایک مہمان ہو یا دس‘ کچھ نہ کچھ ضرور پیش کیا جاتا ہے۔ گاؤں ہے یا شہر‘ اس معاملے میں کوئی کسی سے پیچھے نہیں۔ اور یہ تو ہم نے اپنے بچپن اور لڑکپن میں اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مسافر گاؤں کی مسجد میں شب بسری کے لیے ٹھہرتا تھا۔ وہ پوری بستی کا مہمان ہو تا تھا۔ مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں اعلان ہوتا کہ مسافر کے لیے کھانا بھجوائیں۔اسے باعزت کھانا کھلایا جاتا‘ صبح کی نماز کے بعد کسی نہ کسی گھر سے چائے سے بھری ہوئی چینک بھی آتی اور اس بات کا تو تصور بھی ناممکن ہے کہ دس بیس پچاس مہمان ہوں تو صرف دو یا تین کے لیے کھانا لایا جائے ‘ وہ دو یا تین باقی سب کے سامنے کھائیں اور ان دو یا تین میں صاحب خانہ خود بھی شامل ہو! یا للعجب! صرف سوچ کر ہی ندامت سے سر چکرانے لگتا ہے !اس کالم نگار کے گھر کے قریب جو ڈھابا ہے وہاں دودھ پتی کا کپ تیس روپے میں اور عام چائے کا کپ بیس روپے میں آتا ہے۔ فرض کیجیے ستر ملاقاتی آجائیں اور دودھ پتی بھی منگوائی جائے تو اکیس سو روپے بنیں گے۔ اُس وقت رقم پاس نہیں تو محلے کی بات ہے‘ دوسرے دن بھی ادائیگی ہو سکتی ہے۔اللہ نہ کرے کہ کوئی اتنا گیا گزرا ہو کہ یہ بھی نہ کر سکے۔پاکستانی معاشرے میں کشمیری ہیں یا شمالی علاقوں کے لوگ یا ہزارہ وال! سندھی ہیں یا بلوچ‘ سرائیکی ہیں یا پنجابی یا اردو سپیکنگ ‘ کوئٹہ کے ہزارہ ہیں یا تاجک ‘ ان پڑھ ہیں یا تعلیم یافتہ‘مذہبی ہیں یا غیر مذہبی‘ کوئی بھی ایسا نہیں جو مہمان کو اکل و شرب کے بغیر جانے دے۔ اور پھر پختون ! اللہ اللہ ! یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی پٹھان ہونے کا دعویٰ کرے اور مہمان نواز نہ ہو ! کسی پٹھان کے گھر سے چائے یا کھانے کے بغیر ملاقاتی رخصت ہو جائے ‘ ہو ہی نہیں سکتا ! اس کالم نگار کو پروردگار نے جن بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے ان میں ایک بڑی نعمت دوستوں کی شکل میں عطا فرمائی ہے۔
ہزاروں ہیں! کبھی تعداد کم ہونے نہیں دی
کہ ہم نے دوستوں کو آزمایا ہی نہیں ہے!
ان میں پختون دوست بھی بہت سے ہیں۔ کیا سدا بہار اور روح پروردوستیاں ہیں ان سے۔ کسی ادبی یا خاندانی تقریب میں پشاور ‘ کوہاٹ یاکسی اور پختون شہر میں جانا ہو تو طعام و قیام کی درجنوں پیشکشیں ہوتی ہیں اور رسمی نہیں‘ بصد اصرار ! پٹھانوں کی مہمان نوازی ان کے تمام قبیلوں میں یکساں افراط سے ہے۔ اگر کوئی دعویٰ پٹھان ہونے کا کرے اور مہمان نواز نہ ہو تو اس کا دعویٰ محل نظر ہونا چاہیے !
دوسری چیز جو ہماری معاشرتی عمارت کا اہم ستون ہے‘ موت پر اظہارِ افسوس ہے۔کون ہے جسے میاں محمد بخش کا یہ مصرع یاد نہیں ‘دشمن مرے تے خوشی نہ کریے ‘ سجناں وی مر جانا۔ سوسائٹی کے سارے طبقات اس ضمن میں حساس ہیں بہت حساس ! گاؤں میں تو خیر معاملہ یہ ہے کہ گائے بھینس مر جائے تب بھی اظہارِ افسوس کے لیے آتے ہیں‘ یہاں تک کہ چوہدری مزارع کے گھر آتا ہے‘ فرش پر بیٹھتا ہے اور کھانے کا وقت ہو تو کھانا بھی کھاتا ہے۔شہری رہن سہن میں بھی تعزیت کے لیے آنا حد درجہ لازم ہے۔ اس میں مقامی غیر مقامی کی تخصیص نہیں۔ دور دراز کا سفر کر کے احباب و اقارب پہنچتے ہیں۔ ٹیلی فون پر تعزیت کم از کم کے درجے میں آتی ہے۔ اس معاشرے کی خوبی یہ ہے کہ موت کے موقع پر ناراضیاں‘ جھگڑے‘ کدورتیں‘ یہاں تک کہ پرانی دشمنیاں‘ قائم رہتے ہوئے بھی‘ اظہارِ افسوس میں حائل نہیں ہوتیں۔ بنیادی طور پر یہ دعا ہے جو جا کر یا فون کے ذریعے‘ کرنا ہوتی ہے کہ قادرِ مطلق مرحوم یا مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ یہ شرافت کا اور خاندانی پس منظر کا ایک لحاظ سے بیرو میٹر بھی ہے ۔ کسی کی وفات پر جو تعزیت بھی نہیں کرتا اور اپنی ہوا میں مست رہتا ہے‘ اسے ہمارے معاشرے میں جن الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے وہ یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں۔ سب کو معلوم ہے۔ پھر جھگڑا اگر خاندانی جائیداد کا ہے نہ ذاتی ‘ بلکہ سیاسی‘ مذہبی ‘ یا نظریاتی ہے تو پھر ‘ تعزیت کے دو بول نہ کہنا حد درجہ بے حسی کا مظہر ہے اور قلبی شقاوت کا۔ جو ایسے موقع پر شریک غم ہوتا ہے‘ یاد رہتا ہے ‘ جو نہیں ہوتا‘ اسے بھی نہیں بھلایا جا سکتا! گرہ سی دل میں پڑ جاتی ہے جو وقت کے ساتھ پکی ہوتی جاتی ہے۔ مرزا ابراہیم ذوقؔ نے غالبؔ کا جینا محال کر رکھا تھا‘ پھر بھی غالبؔ نے ان کی وفات پر افسوس کیا اور لکھا کہ '' سچ تو یہ ہے کہ یہ شخص اپنی وضع کا ایک اور اس عصر میں غنیمت تھا‘‘غالبؔ کی خاندانی نجابت کا تقاضا بھی یہی تھا! پھر‘ کسی کی مرگ پر اس کی شخصیت کے منفی پہلو اجاگر کرنا بھی بے وقت کی راگنی ہے۔ اس کے لیے کچھ انتظار کر لیا جائے تو بہتر ہے ! یہ ایسے ہی ہے جیسے شادی کے موقع پر دلہن کو بد صورت کہا جائے!
وقت بہت بے رحم ہے! کھوپڑیوں میں سانپ انڈے دیتے پھرتے ہیں۔ جہاں آنکھیں ہیں وہاں کل رینگنے والے کیڑوں کی گزر گاہ ہو گی!
یہاں آنکھ خاک میں تھی‘ چراغ تھا آنکھ میں
یہاں   دیکھنا   مرے   شعلہ رُخ   کا  مزار  تھا

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, November 23, 2020

ویل چیئر والا فقیر

ایسا نہیں کہ وہ فرشتہ تھا۔ انسان تھا! گوشت پوست کا بنا ہوا! اس سے غلطیاں بھی ہوئیں! مقصد کے حصول کے لیے اس نے جو طریقہ اپنایا، اس طریقے سے اختلاف بھی رہا۔ صرف اس کالم نگار کو نہیں، بے شمار دوسرے لوگوں کو بھی۔ اس کی زبان پر، اس کے انداز بیان پر بھی اعتراضات رہے! مگر ایک صفت ایسی تھی کہ سب عیوب کو ڈھانپ گئی۔ دل میں حُبِ رسول تھی! موج موج! اس قدر کہ اُس فقیر نے کوئی مصلحت دیکھی نہ ہی کوئی خوف لاحق ہوا۔ دنیاوی مال ومتاع تھا نہ منصب! اُس کا تو جسم بھی پورا نہ تھا‘ لیکن اُس نے رسول کی محبت کا جھنڈا اٹھایا اور لوگوں کو آواز دی۔ یہ حُبِ رسول کا معجزہ تھا، زندہ معجزہ! کہ لوگ اس کے گرد اکٹھے ہوگئے! فوج در فوج! سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں! اُس نے ثابت کیا کہ حُبِ رسول سے بڑھ کر کوئی شے ایک مسلمان کے لیے اس دنیا میں زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتی! ویل چیئر پر بیٹھے ہوئے اِس جسمانی لحاظ سے معذور فقیر، اِس تہی دست بوڑھے نے، جس کے پاس محل تھا نہ جاگیر نہ کارخانے نہ عہدہ نہ سیاسی چھتری نہ بیرونی پُشت پناہی! جو اچار سے بھی روٹی کھا لیتا تھا لوگوں کو بتایا کہ رسول کی محبت کے بغیر یہ زندگی مٹی کے ایک ذرے کے برابر بھی نہیں! بَکری کی چھینک جتنی بھی نہیں! عزت اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ کسی بادشاہ، کسی وزیر، کسی صدر، کسی امیر، کسی سفیر کی نہیں! اُس نے آواز لگائی اور رسول کے شیدائی اُس سے آ ملے! دنیا داروں نے بہت باتیں بنائیں! کسی نے کہا‘ اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہے! کسی نے کہا‘ حکومت کو گرانا چاہتا ہے۔ کسی نے کہا‘ حکومت کو بچانا چاہتا ہے۔ کسی نے کہا‘ فلاں جماعت پشت پر ہے! مگر اُسے کسی افترا، کسی طعنے کی پروا نہیں تھی۔ اپنے کسی دنیاوی یا سیاسی فائدے کے لیے کسی گروہ، کسی جماعت، کسی ادارے نے اُس کی حمایت کی تو وہ اِس پر اِترایا نہیں! جس مقصد کے لیے اٹھا تھا، اُسے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں بھولا۔ بخار سے پِنڈا دہکتا، سلگتا، بھڑکتا رہا! سانس اٹکتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کی زندگی اسمِ محمد کی حرمت پر قربان ہو گئی۔
خلقت چہار دانگِ عالم سے امڈ کر آئی۔ اس تہی دست فقیر کو رخصت کرنے بوڑھے‘ جوان اور بچے‘ اور تندرست و بیمار لاکھوں کی تعداد میں جمع ہوئے۔ عورتیں جنازے کے راستے پر چھتوں سے پھول پھینکتی رہیں۔ کوئی غیر مرئی طاقت مخلوق کو کھینچ کھینچ کر لارہی تھی۔ بسیں پکڑی گئیں نہ پٹواریوں‘ تھانیداروں تحصیلداروں کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں۔ قیمے والے نان کھلائے گئے نہ بریانیاں پیش کی گئیں۔ یہ بھوکے پیاسے تھے، مگر کیسے بھوکے پیاسے کہ بھوک کی پروا تھی نہ پیاس کی۔ میلوں پیدل چلے مگر تھک کر کوئی بیٹھا نہ واپس ہوا۔ کوئی بس پر آیا توکوئی کسی سوزوکی سے لٹک کر، کوئی کسی ٹرک پر تو کوئی فرسنگ در فرسنگ، سائیکل چلاتا ہوا! کسی کے پاس شب بسری کا انتظام تھا تو کسی کے پاس وہ بھی نہ تھا۔ کسی کی جیب میں سفر کا خرچ تھا تو کوئی تہی کیسہ تھا! مگر ایک دولت سب کے پاس تھی! حْبِ رسول! یہ گٹھڑی بھری ہوئی تھی۔ یوں یہ سب غنی تھے۔ سب مالدار تھے۔
مجنوں پر لوگ ہنستے تھے کہ اتنی بھی کیا محبت کہ اپنا ہوش نہیں۔ محبت کیا ہے یہ اسی کو علم ہوتا ہے جس کے دل میں محبت جاگزین ہو! وہ جو کیڑے نکال رہے ہیں، افق افق سے امڈ کر جنازے میں شامل ہونے والوں کو سادہ لوح کہہ رہے ہیں، انہیں کیا معلوم محبت کیا ہے۔ محبت بھی رسول کی! انہیں کیا خبر یہ کیسا نشہ ہے۔ تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔ کتنوں پر تلوار اٹھا کر کہا گیا کہ محمدﷺ کو ماننے سے انکار کر دو بچ جاؤ گے، گردنیں کٹ گئیں، مگر چھوڑ دینے کا کسی نے سوچا تک نہیں۔ بہت سے دماغ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ محمد رسول اللہ تو محمد رسول اللہﷺ ہیں، ان کے غلاموں کے غلاموں کے غلاموں کے جوتوں کے نیچے لگی ہوئی مٹی بھی دنیا بھر کے خزانوں پر بھاری ہے۔ میکرون کو کیا خبر کہ مسلمان، اپنے پیغمبر کا نام لیتے ہوئے''فداہُ اْمّی و اَبی‘‘ کہتے ہیں کہ میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان! کیا کبھی کسی نے اپنے ماں باپ کو بھی قربان کیا ہے؟ ہاں! مسلمان کرتے ہیں اور فخر سے کرتے ہیں! اہل فرانس کو کیا علم کہ مسلمان نام نامی اسم گرامی لیتے ہوئے فداہ ابی و امی و روحی و مالی و ولدی پکارتے ہیں! کہ روح بھی آپﷺ پر قربان! مال بھی آپﷺ پر فدا! اولاد بھی آپﷺ پر نثار! گنہگار سے گنہگار مسلمان، نماز روزے سے غافل مسلمان، شراب پینے اور قمار بازی کرنے والا مسلمان بھی اپنے نبی کی توہین برداشت نہیں کر سکتا! اختر شیرانی بلا نوش تھے۔ بے عمل مسلمان! ہر وقت نشے میں غرق! ایک بزم میں بیٹھے تھے۔ ہوش سے عاری! جام پر جام لنڈھائے ہوئے! بات بھی روانی سے نہیں کر پارہے تھے۔ حاضرین مجلس مشاہیر کے بارے میں ان کی رائے لے رہے تھے اور ان کی مدہوشی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی بیباک نوجوان نے رحمت دو عالمﷺ کا نام لیا اور اختر کے خیالات جاننا چاہے! اختر کا ردعمل کیا تھا؟ شورش کاشمیری نے لکھا ہے، ''جیسے کوئی برق تڑپی ہو، بلور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔ کہنے لگے، بدبخت! ایک عاصی سے سوال کرتا ہے۔ ایک سیہ رو سے پوچھتا ہے۔ ایک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے؟... رونا شروع کیا گھگھی بندھ گئی۔ پھر فرمایا بدبخت! تم نے اس حال میں یہ نام کیوں لیا، تمہیں یہ جرأت کیسے ہوئی؟ گستاخ، بے ادب! اسے مجلس سے اٹھوا دیا، پھر خود اٹھ کر چلے گئے۔ تمام رات روتے رہے، کہتے تھے کہ یہ لوگ اتنے نڈر ہوگئے ہیں کہ ہمارا آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں‘‘ مگر مغرب مسلمان کی ذہنی ساخت سمجھنے سے قاصر ہے۔ جن مسلمانوں کو خود ان کے خدا نے تلقین کی ہو کہ اپنی آوازیں، نبی کی آواز کے مقابلے میں پست رکھو ورنہ اعمال تہس نہس ہو جائیں گے وہ مسلمان اپنے نبی کی توہین کیسے برادشت کر سکتے ہیں! صوفیا تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ کوئی سیّد ہونے کا مشکوک دعویٰ کرے تب بھی اس کی تعظیم کرو کہ آخر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی لے رہا ہے!
ویل چیئر والے فقیر کے عیوب حُبِ رسول نے ڈھانپ لیے۔ لاکھوں کے جم غفیر نے دست بستہ کھڑے ہو کر، باوضو حالت میں، اس کے لیے سفارش کی۔ روئے! گڑگڑائے! ساری منطقیں اور ساری بحثیں، سارے فقہی جھگڑے، مکاتب فکر کے سارے اختلافات، ایک مقام پر آ کر ختم ہو جاتے ہیں۔ جب آنکھ بھیگی ہوئی ہو تو اختلافات نہیں دیکھتی! اسے صرف محبت دکھائی دیتی ہے، امام مالکؒ نے خاک مدینہ پر چلتے ہوئے جوتے نہیں پہنے۔ کیسی منطق؟ کون سا فتویٰ؟ وقت کا حکمران ہشام بن عبدالملک بیت اللہ کے طواف کے دوران حجر اسود کو بوسہ دینا چاہتا ہے۔ ہجوم اتنا ہے کہ نہیں دے سکتا! پھر ایک شخص آتا ہے اور بے پناہ ہجوم اس کے لیے راستہ چھوڑ دیتا ہے۔ واقعہ طویل ہے اور کالم کا دامن تنگ۔ یہ نواسۂ رسول کے فرزند امام زین العابدینؓ ہیں! جس نام سے نسبت ہے اس کے سامنے حکمرانوں اور سلطنتوں کی کیا حیثیت!
ویل چیئر والا فقیر دنیا میں خالی ہاتھ رہا مگر جاتے ہوئے اس کے پاس بہت قیمتی زادِ راہ تھا!

Thursday, November 19, 2020

توازن ! خواتین و حضرات ! توازن



سوال تحریک انصاف یا پی ڈی ایم کا نہیں۔ سوال اداروں کا یا حکومت کا بھی نہیں، سوال یہ ہے کہ ہم ، ایک قوم کی حیثیت سے، انسانیت کے کم سے کم معیار پر پورے اتر رہے ہیں یا نہیں ؟ اس کا جواب ساجدہ احمد نے دیا ہے۔ اور اثبات میں نہیں ، نفی میں دیا ہے!
ساجدہ احمد کوئی ان پڑھ، یانیم تعلیم یافتہ، یا قصباتی مائنڈ سیٹ کی خاتون نہیں ،اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ڈاکٹر ہیں۔ عدلیہ کا حصہ ہیں ! ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہیں ! ملک کے سب سے بڑے قاضی کو کھلے خط میں انہوں نے پچھتاوے کا اظہار کیا ہے کہ کاش صدی کا ربع حصہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں صرف کرنے کے بجائے وہ گاؤں میں مویشی چراتیں، اُپلے تھاپتیں، کھیتوں میں کام کر کے کاشتکاری میں گھر والوں کی مساعدت کرتیں ! اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کرکے، ایک نہایت بلند منصب پر فائز ہو کر انہیں کیا حاصل ہوا؟ گالیاں، بے حرمتی، خوف و ہراس، توہین، پریشانیاں، مصائب ، بدتمیزی، بدسلوکی، مجبوری اور مایوسی ! ( یہ سب الفاظ ڈاکٹر ساجدہ کے مکتوب میں موجود ہیں ) ! خود کشی روا ہوتی تو، بقول ان کے، وہ عدالت عالیہ کی عمارت کے سامنے اپنے آپ کو ختم کر لیتیں ! پریشانی کی انتہا ہے کہ وہ اپنی تعلیمی اسناد کو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے سامنے نذر آتش کرنے کا سوچ رہی ہیں !
بادی النظر میں ڈاکٹر ساجدہ نے قا نون کے پیشے میں ‘‘ گندے، گھناؤنے اور غیر پیشہ ور ‘‘ عناصر کو الزام دیا ہے اور ضلعی عدلیہ کی حالت زار پر نوحہ خوانی کی ہے؛ تاہم مکتوب کے آخر میں وہ آرزو کرتی ہیں کہ کاش'' خواتین کو اتنا حوصلہ ملے کہ وہ اپنے جوش اور ایمان کے ساتھ کسی کی بہن ، بیٹی یا ماں بن کر وقار اور تکریم کے ساتھ ‘‘قوم کی خدمت کر سکیں ! انہوں نے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کا ذکر اس پیشے کے حوالے سے کیا ہے جس سے وہ منسلک ہیں۔دوسرے لفظوں میں انہوں نے اِس سوسائٹی کے صرف اس حصے کا ماتم کیا ہے جس کاانہیں تجربہ ہوا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وکیل ہیں یا ڈاکٹر، اساتذہ ہیں یا اہل سیاست‘ حکمران ہیں یا عوام، سب ایک ہی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ایک ہی گھر میں پرورش پانے والے بھائیوں میں ایک وکیل بن جاتا ہے دوسرا بیورو کریٹ، تیسرا بزنس مین اور چوتھا سیاست دان ! یہ سب ایک ہی آئینے کا پرتو ہیں۔ وکیل برادری سے ہمیں کوئی ہمدردی ہے نہ دشمنی، بلکہ شکایات ہیں ، مگر ڈاکٹر ساجدہ نے جس ناسور کا ذکر کیا ہے وہ بدن کے کسی ایک عضو تک محدود نہیں ، پورے بدن کو فاسد کر چکا ہے۔ناقابل تردید سچائی یہ ہے کہ عورت کو اس معاشرے نے وہ مقام دیا ہی نہیں جو اس کا استحقاق ہے۔ اس میں صرف وکیل نہیں سب حسب توفیق اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ پوسٹ آفس کے ا دارے کی خاتون افسر ، صوفیہ قاسم ، کو جس مرد نے تھپڑ مارا تھا وہ بزنس مین تھا اور سیاست دان ! سیالکوٹ لاہور موٹر وے پر جس خاتون کے ساتھ ظلم کی انتہا ہوئی تھی اسے زجر و توبیخ کا نشانہ پولیس کے افسر اعلیٰ نے بنایا تھا۔یہ طعنہ کہ پاکستانی عورتیں آبرو ریزی کا ڈھونگ پیسہ بنانے اور کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے کے لیے رچاتی ہیں ، ہمارے ایک حکمران نے دیا تھا۔ جب سولہ سے اٹھارہ سال تک کی تین لڑکیوں کو ریگستان میں زندہ دفن کیا گیا تھا تو یہ مرد سینیٹر تھے جنہوں نے اس بربریت کا دفاع کیا تھا۔ کون سا طبقہ ہے جو عورت کے خلاف جرائم کے ارتکاب سے پاک ہے؟ جسمانی تشدد سب کرتے ہیں۔ کیا ان پڑھ، کیا اعلیٰ تعلیم یافتہ ، کیا دیہاتی کیا شہری! سب سے مراد سو فی صد مرد نہیں بلکہ ہر کلاس مراد ہے! ہاں تعلیم یافتہ مردوں کی تعداد ، موازنے میں ، کم ضرور ہے۔
بیٹی کی پیدائش پر موت پڑ جانا بھی کم و بیش سبھی طبقوں میں پایا جاتا ہے۔ بیٹی یا بہن کو وراثت کے شرعی اور قانونی حق سے محروم کرنے میں بھی ہر طبقہ شامل ہے۔ ہزاروں ایکڑ زمین کا مالک جاگیردار بھی اور چند ایکڑ رکھنے والا کسان بھی۔ اپنی مرضی کا شوہر لڑکی پر مسلط کرنا بھی عام ہے۔ بیٹی کو بھی ماں باپ کی پسند کا خیال رکھنا چاہیے مگر بیٹی کی پسند نا پسند کو ذرا اہمیت نہ دینا بہت بڑی سماجی برائی ہے۔ اس سے معاشرے میں جو قباحتیں پیدا ہوتی ہیں ناقابل بیان ہیں۔
اب یہاں ایک دوسرا عامل یعنی فیکٹر بھی ہے جسے سننے کے لیے خواتین بھی ذرا حوصلہ پیدا کریں۔ خواتین بے شک ملازمت کریں ، کاروبار بھی ! مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان کی ترجیح کیا ہونی چاہیے ؟ اگران کی پہلی ترجیح، فیملی لائف نہیں ، اور اگر خانگی زندگی متاثر ہو رہی ہے تو پھر ایک وقت ایسا آئے گا جب دونوں میں سے ایک کو چھوڑنا پڑے گا اور فیملی کو پس پشت ڈالنا، جس کا انجام گھر کی شکستگی ہو، گھاٹے کے علاوہ کچھ نہیں ! اعلیٰ تعلیم یافتہ ملازمت کرنے والی لڑکیوں میں مطلقہ لڑکیوں کی تعداد دن بدن زیادہ ہو رہی ہے۔ ملازمت کرنے والی کم تعلیم یافتہ خواتین میں طلاق یافتہ کی تعداد نسبتاً کم ہے ! اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ساری برابری اور دوستی کے باوجود ، ہر شادی شدہ جوڑے پر ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب دونوں میں سے ایک کو کسی مسئلے پر ویٹو کرنا پڑتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کائنات کے دو خالق نہیں ہو سکتے۔ کسی بھی کمپنی کے دو ایم ڈی نہیں ہو سکتے۔ کسی بھی ملک کے دو صدر یا دو وزیر اعظم نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح کسی بھی خاندان کے دو سربراہ نہیں ہو سکتے۔ اگر بیوی شوہر کو ویٹو کا حق نہیں دیتی اور شوہر، بیوی کو خاندان کا سربراہ مان لیتا ہے تو خاندان بچ جائے گا۔ تاہم ، اگر مرد خود سربراہ بننا چاہتا ہے اور بیوی اسے ویٹو کا حق نہیں دینا چاہتی تو اس کا انجام مسلسل خانہ جنگی ہے یا طلاق! اپنے ارد گرد ، ٹھنڈے دل و دماغ سے نظر دوڑائیے ، یہ صورت حال آپ کو ان کنبوں میں ضرور نظر آئے گی جہاں عورت اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، ملازمت کرتی ہے، اور مرد کو ہَیڈ آف فیملی ماننے سے ، عملاً انکار کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ''واحد والدین ‘‘ ( Single Parent )کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے۔
اس تین یا چار یا پانچ سالہ بچے کی حالت کا اندازہ لگائیے جسے صبح آٹھ بجے چائلڈ کئیر سنٹر میں چھوڑا جاتا ہے۔ باپ شام پانچ چھ بجے چھٹی کرتا ہے۔ ماں بھی کسی ملٹی نیشنل میں ہے ، یا اپنی کمپنی چلاتی ہے اور پانچ چھ بجے ہی فارغ ہوتی ہے۔ جاڑوں میں جس وقت یہ بچی گھر لائی جاتی ہے ، اندھیرا چھا چکا ہوتا ہے، دونوں ماں باپ گھر لَوٹ کر بھی لیپ ٹاپ یا موبائل فون میں گھسے رہتے ہیں۔ آج کل ایک اصطلاح کا بہت زور ہے۔ کوالٹی آف لائف! اس بچے کی کوالٹی آف لائف کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں!
اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کی ضرورت ،کمپنیوں اور بزنس سے زیادہ ، اس کے اپنے بچوں کو ہے۔ سنگا پور کو سنگاپور بنانے والے لی کوان یئو نے ''گریجویٹ ماؤں کی سکیم ‘‘ کا ڈول ڈالا تھا۔ اس کی تھیوری یہ تھی کہ ماں باپ دونوں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں گے تو بچے لائق فائق ہوں گے۔ اس کی پالیسی یہ تھی کہ کم پڑھی لکھی مائیں کم ، اور، اعلیٰ تعلیم یافتہ مائیں زیادہ بچے پیدا کریں تا کہ لائق افراد کی تعداد زیادہ ہو۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ماں اپنے بچے کے لیے بہترین چائلڈ کئیر سنٹر ہے۔ پچاس چائلڈ کئیر سنٹر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے !!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, November 17, 2020

ایک شہر جو مسلسل زوال پذیر ہے



سرما کی پہلی بارش برس رہی ہے۔
ہم جیسے لوگ جو وفاقی دارالحکومت میں چوّن سال پہلے اترے تھے‘ اور تب سے اسے مستقر بنائے ہیں‘ ان بارشوں میں اُس اسلام آباد کو یاد کرتے ہیں جو لطافت اور نرمی کا مرکز تھا۔ جس میں پھول ہی پھول تھے۔ جہاں سرما میں پیڑوں کے پتے لہو کی طرح لال ہو جاتے تھے‘ جہاں گرین ایریا اتنا ہی تھا جتنا مکانوں اور دکانوں کا تھا۔ یہ اسلام آباد قاعدے قانون سے عبارت تھا۔ ترقیاتی ادارہ مستعد تھا اور مددگار !صرف دو تین سیکٹر آباد تھے۔ اسلام آباد ہوٹل ( اب ہالیڈے ان) زیر تعمیر تھا۔ صفائی بے مثال تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ ایک گرم صبح تھی جب حسبِ معمول آب پارہ سے زیرو پوائنٹ تک اور پھر واپس‘ سیر کی۔ اسی صبح بی اے کا رزلٹ آیا۔ ڈر فیل ہونے کا تھا مگر معاملہ اُلٹ نکلا بالکل اُلٹ !
یہی دارالحکومت تھا جو طالب علموں کے لیے ماں کی طرح آغوش وا کئے تھا۔ یہاں برٹش کونسل کی لائبریری تھی۔ امریکی سفارت خانے کی لائبریری تھی۔ میلوڈی کے پاس پاکستان نیشنل سنٹر کی لائبریری تھی۔ ایک لائبریری سے نکلتے تو دوسری میں چلے جاتے۔ سرما آتا تو جیسے بھاگ جاگ اُٹھتے۔ ہاتھ میں کتاب‘ سامنے پہاڑوں پر بادل‘ شاہراہوں پر لرزتی سٹریٹ لائٹیں‘ جگہ جگہ پانی کے منجمد ٹکڑے! مکروہات جو اَب دامن گیر رہتی ہیں‘ وٹس ایپ‘ انٹر نیٹ‘ یو ٹیوب‘ ایس ایم ایس‘ تب وجود نہیں رکھتی تھیں۔ کتابیں ہی عیاشی تھیں !کتابیں ہی اوڑھنا بچھونا ! ہم نے ٹھٹھرتی سردیوں میں کتابیں پڑھیں۔ ایک ایک کتاب شاہی پکوانوں سے بڑھ کر تھی۔ مجید امجد کی شبِ رفتہ‘ ناصر کا ظمی کی برگِ نے‘ ظفر اقبال کی آبِ رواں‘ باری علیگ کی کمپنی کی حکومت‘ پاسترناک کی ڈاکٹر ژواگو‘ سارتر کی روڈز ٹو فریڈم کے تینوں حصے۔ گان وددی وِنڈ‘ ولیم فاکنر کے ناول جو ادق زبان میں تھے‘ دیوانِ شمس تبریز اور بہت سی دوسری!
اُس زمانے کے اسلام آباد میں پیسہ دھیلا کچھ خاص نہ تھا مگر ہم غریب نہ تھے۔ کپڑوں کے چند جوڑے‘ ایک جوڑا جوتوں کااور ایک سائیکل ! امارت ہم لائبریریوں کی ممبر شپ سے ماپتے تھے۔ بینک بیلنس کی جگہ‘ اطمینان کا باعث کتابوں کی تعداد ہوتی تھی۔ دوست ہمارا سرمایہ تھے۔ جہاں کوئی علمی تقریب ہوتی‘ کوئی سکالر‘ کوئی دانشور آیا ہوتا‘ ہم پہنچ جاتے۔ سینئرز کو سنتے‘ اُن کا احترام کرتے۔ رہنمائی کے طالب ہوتے۔ علم کی دھاک بٹھانے کا رواج نہ تھا۔ کم مائیگی ظاہر کرنے میں شرم محسوس نہیں کی جاتی تھی۔ احساس ِبرتری تھا نہ احساسِ کمتری‘ ہمیں سیکھنے میں عار تھا نہ ہمارے سینئرز کو سکھانے میں ! محب عارفی تب سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہائش پذیر تھے۔ ان کے گھر ہر ویک اینڈ پرشام کو شعرا اور اہلِ دانش اکٹھے ہوتے۔ یہ سلسلہ ان کے ہاں اُس وقت سے چل رہا تھا جب وہ شملہ میں تھے اور متحدہ ہندوستان کے سیکریٹریٹ میں کلرک تھے۔ پھر کراچی آئے تب بھی یہ نشستیں جاری رہیں۔ دارالحکومت منتقل ہوا تو وہ بھی اسلام آباد آگئے‘ اب وہ ڈپٹی سیکرٹری تھے۔ بعدمیں جوائنٹ سیکرٹری ہو گئے تھے اور کوَرڈ مارکیٹ کے پاس ( جو اب معدوم ہو چکی ہے) رہنے لگے تھے۔ مالی قوا نین کے بے مثال ماہر تھے۔ وزارت ِخزانہ ہی میں رہے۔ تب سرکاری ملازموں میں ان کے حوالے سے یہ محاورہ عام گردش کرتا تھاکہ ''جسے دے اللہ‘ اُس سے لے محب اللہ‘‘۔ ہم طالب علموں کو بھی وہ اپنے گھر خوش آمدید کہتے تھے۔
سیاست میں تب بھی تلخیاں تھیں۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سرد جنگ عروج پر تھی‘ مگر وہ شائستگی کا زمانہ تھا۔ حریف کو گیدڑ یا چوہا کہنے کا رواج نہ تھا۔ نہ ہی گلی کے لڑکوں کی طرح سیاست دان منہ پر ہاتھ پھیر کر دھمکی دیتے تھے کہ چھوڑوں گا نہیں۔ اگر کبھی کوئی ایسا فقرہ کہہ بھی دیتا تو بس ایک دو بار ! یہ حال نہ تھا کہ سوتے جاگتے‘ اُٹھتے بیٹھتے‘ رات دن‘ صبح شام‘ نہیں چھوڑوں گا‘ نہیں چھوڑوں گا کی گردان ہو‘ یہاں تک کہ یہ الفاظ تکیہ کلام ہو جائیں‘ وقعت کھوبیٹھیں‘ چِڑ بن جائیں اور سارا معاملہ غیر سنجیدہ ہو جائے۔ ہاں‘ ناشائستگی کی ابتدا ایوب خان کر بیٹھے تھے جب 1965 ء کے انتخابات میں انہوں نے اور ان کے حامیوں نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو غدار کہا۔ ڈھاکہ میں مادرِ ملت نے تقریر کی تو اڑھائی لاکھ افراد جلسے میں موجود تھے۔ چٹا گانگ تک ہر سٹیشن پر لوگوں کا ہجوم منتظر ہوتا۔ اپوزیشن ناشائستگی میں اُس وقت کی حکومت کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ شاید حکومتوں کا پلہ اس معاملے میں ہمیشہ بھاری رہا کرتا ہے۔
سرما اتر رہا ہے‘ قطرہ قطرہ‘ لمحہ لمحہ‘ مگر اسلام آباد وہ نہیں۔ گرین ایریا کا زیادہ حصہ ہڑپ کیا جا چکا۔ اب پھول ہیں نہ درخت۔ لہو کی رنگت کے لال پتے بس کہیں کہیں دکھائی دیتے ہیں۔ لائبریریاں عنقا ہو گئیں۔ سنا ہے ایک سرکاری لائبریری ہے۔شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ کہاں ہے۔ کسی ایسی بزم‘ تقریب‘ مجلس‘ فنکشن کا‘ جہاں کوئی دانشور‘ کوئی اہل علم‘ خطاب کرے‘ کوئی امکان نہیں! اب دانش اور علم کی ضرورت کسی کو نہیں۔ یہ مال اب نہیں بکتا اس لیے کہ ڈیمانڈ ہی نہیں۔اب علم کا ماخذ کتابیں نہیں‘ فیس بک اور وٹس ایپ ہے۔ اب دعویٰ کے ثبوت میں دلیل نہیں‘ دشنام مہیا کی جاتی ہے۔ علمی ترقی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو گا کہ مضحکہ خیز‘ مبتذَل‘ اشعار غالبؔ اقبالؔ‘ اور فیضؔ کے نام سے درج کیے جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے واہ واہ کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت کے ماسٹر پلان کے پرخچے اُڑ چکے۔ جہاں گھاس کے قطعے تھے وہاں مکان بن گئے۔ جہاں درخت تھے‘ وہاں دکانیں کھلی ہیں۔ تجاوزات نے شہر کو بدصورت کر رکھا ہے۔ گلی کوچے تنگ ہو گئے ہیں۔جہاں جہاں پارکنگ تھی وہاں کھوکھے کھڑے ہیں۔ رہائشی علاقے بازاروں میں بدل گئے۔ کھیل کے میدان ختم ہو گئے۔ سیوریج کے بدبو دار نالوں پر لوگوں نے اپنے اپنے مسلک کی مسجدیں‘ متعلقہ اداروں کو پوچھے بغیر‘ کھڑی کر لیں۔ولایتی ناموں والے سیکٹر‘ گنجان آباد قصباتی محلے لگتے ہیں۔ ٹھیلے والے کہیں بھی قبضہ کر سکتے ہیں۔ میوہ فروش جہاں دل کرے‘ سٹال لگا لیتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ‘ اسے پکی دکان میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ متعلقہ ادارہ تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتا ہے۔ایک مدت بعد جب گرانے آتا ہے‘ تو میوہ فروش حکم امتناعی دکھا دیتا ہے۔
نئی صدی کا بیسواں سال ختم ہونے کو ہے۔ اسلام آباد اس ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کا دارالحکومت ہے۔ وفاقی دارالحکومت !مگر یہاں کے باشندوں کو اپنے شہر کیاانتظام و انصرام میں اپنی رائے دینے کا حق حاصل نہیں۔ وہ اپنے شہر کا میئر نہیں چن سکتے۔ شہر کے امور کسی منتخب نمائندے کے پاس نہیں۔ شہر پر‘ اور شہریوں پر‘ اٹھارہویں صدی کی نوکر شاہی مسلط ہے۔اٹھارہویں صدی کی نوکر شاہی پھر بھی غنیمت تھی کہ وہ ویلزلے کو یا منٹو کو یا لارڈ ڈلہوزی کو جوابدہ تھی‘مگر یہ نوکر شاہی کسی کو جوابدہ نہیں! عوام کو تو بالکل نہیں ! کاش کوئی ایسی حکومت آئے جو اسلام آباد کے شہریوں کو ان کا یہ بنیادی حق دے۔سٹی کونسل ہو جس میں منتخب نمائندے بیٹھیں۔شہر کے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ پر بحث کریں۔ عوام کے مسائل پر غور کریں اور انہیں حل کریں۔اُس ملک کی جمہوریت کا اندازہ لگائیں جس کا دارالحکومت ہی اپنے نمائندوں سے محروم ہو ! صادق خان لندن کے میئر منتخب ہوئے تھے تو ہم نے شادیانے بجائے تھے۔ہم بھی عجیب لوگ ہیں! جمہوریت ہمیں پسند ہے مگر کہیں اور ! اپنے ہاں نہیں !

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, November 16, 2020

To Whom It May Concern



حضور والا! ہم صاف پانی کے بغیر رہ لیں گے! ہم پہلے بھی دریاؤں‘ چشموں اور ندی نالوں کا پانی پیتے رہے ہیں۔ ہم نے وہ زمانے بھی دیکھے ہیں جب گھوڑوں‘ گدھوں پر گھڑے رکھ کر دس دس میل دور سے پانی لایا جاتا تھا۔ ہم نے کیڑوں، مینڈکوں، جونکوں والا پانی پیا۔ ہم نے وہ پانی بھی پیا جس کا رنگ مٹیالا ہوتا تھا، کبھی سرخ، کبھی چائے کی طرح کا! مگر ہم زندہ رہے!
بندہ پرور! ہم فاقے کر لیں گے۔ جوار، باجرے اور جو کی روٹی کھا لیں گے۔ چٹنی پر گزر بسر کر لیں گے۔ ہم نے پہلے بھی برے اور کڑے دن دیکھے ہیں۔ ہم ستوئوں، مکی کے بھُٹوں، موٹھ کی پھلیوں اور بھُنے ہوئے چنوں سے بھوک کی آگ بجھاتے رہے ہیں۔ ہم مسور اور ساگ کھانے کے عادی تھے اور پھر اُنہی کی جانب پلٹنے میں ہمیں کوئی عار ہے نہ دقت! ہم بسیار خور ہیں نہ خوش خوراک! ہمیں لذت اور مزے سے کوئی سروکار نہیں! ہم تو قوتِ لا یموت پر جیتے رہے ہیں اور پھر بھی جی لیں گے۔ انواع و اقسام کے پکوانوں سے چھلکتے ہوئے دستر خوان ہماری ضرورت کبھی بھی نہیں تھے۔
جہاں پناہ! ہمیں خوش لباسی کا عارضہ بھی لاحق نہیں! ہم تو اُس سرزمین کے بیٹے ہیں جہاں صدیوں سلے ہوئے کپڑوں کا تصور ہی نہ تھا۔ تہمد تھا یا دھوتی یا لُنگی! جسے لنگوٹی کی صورت دے دیتے تھے! یہ تو سکندر اعظم آیا تو یونانی قینچی لائے۔ آپ بے شک ہمیں لباس ہائے فاخرہ نہ مہیا کیجیے۔ ہم تار تار لباس بھی پہن لیں گے! چیتھڑے بھی اوڑھ لیں گے۔ ہمیں کُلاہ چاہیے نہ کفش! ہم تو رسیوں سے بنی ہوئی چپل پہن سکتے ہیں۔ لکڑی کی کھڑاؤں پر گزارہ کر سکتے ہیں۔ ہمیں موزے درکار ہیں نہ جرابیں! دو اَن سِلی چادروں سے ہم موسموں کی سختیاں گزار سکتے ہیں!
ظلِ الٰہی! ہم اپنے بچوں کی تعلیم کے بغیر بھی زندگی کی گاڑی کھینچ سکتے ہیں! وہ پہلے بھی کھیتوں، کانوں، فیکٹریوں، کوٹھیوں اور حویلیوں میں کام کر کے جوان ہوتے تھے۔ اب بھی ایسا کر سکتے ہیں! ہم نے انہیں آکسفورڈ بھیجنا ہے نہ کیمبرج اور نہ ہی ہارورڈ! ہم ان سے مزدوری کرا لیں گے۔ انہیں قلی بنا دیں گے یا سائیس یا چوبدار! ہمارے پاس کون سی سلطنتیں ہیں کہ ہمارے بچے کل ان کے وارث بنیں گے! ہمارے پاس کاروبار ہے نہ جاگیریں۔ صنعتی ایمپائرز، نہ ساہوکارہ کہ بچے ان پڑھ ہوئے تو سنبھال نہ سکیں گے!
والا مرتبت! آپ ہمیں کچھ بھی نہ دیجیے! ہمیں بھوکا، پیاسا، ننگا رہنے دیجیے‘ مگر ہمیں بغیر قصور، قتل ہونے سے بچا لیجیے۔ ہمیں نذرِ آتش ہونے سے بچا لیجیے۔ ہمیں سڑکوں پر گھسیٹے جانے سے بچا لیجیے۔ ہمیں ہجوم گردی سے بچا لیجیے۔ ہم پتھر کھا کر نہیں مرنا چاہتے۔ ہم گھونسے، لاتیں اور ٹھوکریں کھا کر نہیں مرنا چاہتے۔ ہم گولی کا نشانہ بن کر نہیں ختم ہونا چاہتے۔
اس ملک میں کوئی حکومت ہوتی، کوئی قانون ہوتا، کوئی انصاف ہوتا، کوئی نظام ہوتا، کوئی سسٹم ہوتا تو عمران حنیف کے قاتل کو ہیرو بنانے والے، اس کی پذیرائی میں جلوس نکالنے والے، اس کا ساتھ دینے والے، تھانے پر قبضہ کرنے والے آج جیل میں ہوتے۔ تمام مکاتب فکر کے مقامی علما نے عمران حنیف کے قتل کو قتل ناحق قرار دیا۔ جلوس میں شامل ایک ایک شخص پہچانا جا رہا ہے مگر حکومت کوئی قدم نہیں اٹھا رہی۔ جانے کہاں ہے؟ ہے بھی یا نہیں! اس تحریر کا عنوان:To Whom It May Concern اسی لیے رکھا جا رہا ہے۔ ہمارا محافظ کون ہے! حکومت؟ ریاست؟ پارلیمان؟ عدلیہ ؟ حساس ادارے ؟ضلعی انتظامیہ؟ یا کوئی بھی نہیں! اگر کوئی ہوتا تو اُس بے گناہ بچے کو زندہ نہ جلایا جاتا جو جان بچانے کے لیے کھیتوں میں بھاگتا رہا‘ جسے ہجوم نے پکڑ کر زندہ نذر آتش کر دیا‘ جس کی ماں چیختی رہی‘ ہجوم کے سامنے گڑگڑاتی رہی لیکن سب نے آنکھیں میچے رکھیں۔ پھر قدرت کا نظام حرکت میں آیا۔ اسی گاؤں کے باہر تیل کا ٹینکر الٹا۔ لوگ، بے شرم لوگ، کھاتے پیتے لوگ، تیل لُوٹ کر لے جانے کے لیے پاگلوں کی طرح امڈ پڑے۔ جہاں سے بچے کو مارنے کے لیے لاؤڈ سپیکر پر لوگوں کو بلایا گیا تھا، اسی سے لوگوں کو پھر بلایا گیا کہ آؤ اور مفت تیل لوٹ لو۔ پھر آگ بھڑکی، ایسی آگ جو بجھنے والی نہیں تھی۔ جس جگہ بچہ بھاگتا رہا اور پکڑا گیا اور جلایا گیا اُسی جگہ، ٹھیک اُسی جگہ، جلانے والوں کو آگ نے گھیرا اور راکھ کر دیا۔ عمران حنیف کے قاتل کا جلوس نکالنے والوں کو نہ پکڑا گیا تو قدرت کا نظام پھر انگڑائی لے گاخوشاب کے لوگوں نے جو بویا ہے، اسے کاٹ کر رہیں گے۔

ہم میں سے ہر ایک کی زندگی اُس نرم دھاگے سے بندھی ہے جس کا دوسرا سرا ہجوم کے ہاتھ میں ہے! بے رحم، بپھرے ہوئے اندھے بہرے ہجوم کے ہاتھ میں! ہجوم ہماری زندگیوں کا مالک ہے! ہم میں سے جس نے بھی اپنے ماتحت کو نوکری سے نکالا، کسی کی بد دیانتی کو چیلنج کیا، کسی میڈیکل رَیپ کو ملنے سے انکار کیا، کسی کی فائل پر کوئی جائز اعتراض کر دیا، کسی کو اپنی زمین پر ناجائز قبضہ نہ کرنے دیا، کسی سے ہمارا کسی عام دنیاوی معاملے پر جھگڑا ہو گیا تو ہم پر کوئی بھی، کسی بھی نوعیت کا حساس الزام لگ سکتا ہے، کسی لاؤڈ سپیکر کے بھبکے میں جان پڑ سکتی ہے، پھر خیر نہیں! پھر جو کچھ کرنا ہے ہجوم ہی نے کرنا ہے! اس کی مرضی ہے تو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دے (ایسا ہوا ہے) چاہے تو گلیوں میں گھسیٹ گھسیٹ کر مار دے (ایسا بھی ہوا ہے) چاہے تو مکوں، گھونسوں، ٹھوکروں‘ ڈنڈوں‘ تھپڑوں سے جان لے لے (یہ بھی ہوا ہے) چاہے تو تھانے پر دھاوا بول کر گھسیٹ کر باہر نکالے اور مار دے (یہ بھی ہوا ہے اور کئی بار ہوا ہے)
آج تک ہجوم میں شامل کسی کو سزا نہیں دی گئی۔ آج تک لاؤڈ سپیکر کا ایسا استعمال کرنے والے کسی شخص کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا۔ حتیٰ کہ لاؤڈ سپیکر سے قاتل کو ہیرو بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں!
اس ملک کے بہت سے ماں باپ اپنے بچوں کو بیرون ملک سے واپس نہیں آنے دے رہے اس لیے کہ جہاں وہ رہ رہے ہیں وہاں کوئی حکومت تو ہے! کوئی ریاست تو ہے! کوئی نظام عدل تو ہے! کوئی ایسی پارلیمان تو ہے جو ایک ایک شہری کی جان کی حفاظت کا ذمہ لیتی ہے۔ وہاں انہیں کوئی ہجوم جلا سکتا ہے نہ مار سکتا ہے نہ قاتل کو ہیرو بنا سکتا ہے۔ بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ہجرت کر کے اُن ملکوں میں بس جائیں جہاں وہ محفوظ رہیں۔ وہ ان کے ہجر میں رو لیں گے۔ ان کے فراق میں دل زخم زخم کر لیں گے مگر انہیں اس جنگل سے بھگانا چاہتے ہیں جہاں ہجوم مار سکتا ہے، راستہ بند کر سکتا ہے، تھانے پر قبضہ کر سکتا ہے، تھانہ جو ریاست کی علامت ہے! تھانہ جو ریاست کا چہرہ ہے! جس ملک میں ریاست کا نمائندہ، ٹریفک کا سپاہی، پجارو کے نیچے دن دہاڑے کچل دیا جائے اور قاتل کا بال بیکا نہ ہو سکے، بے وقوفو! وہاں تمہارے  بچوں کی حفاظت کون کرے گا! تم کس کھیت کی مولی ہو؟ عبرت پکڑو عمران حنیف کے انجام سے، اس کے قاتل کی پذیرائی سے اور جلوس میں شامل لوگوں سے جو یوں محفوظ ہیں جیسے بتیس دانتوں کے درمیان زبان!
اور اب اسے کوئی غیب کا ہاتھ انڈیل دے گا
کہ  صبر کی  انتہا  سے بستی  چھلک  رہی  ہے

Thursday, November 12, 2020

بیچارہ یومِ اقبال



''I have requested CM PK Pervez Khatak to declare 9 Nov Iqbal Day as a public holiday in the province‘‘
(میں نے چیف منسٹر کے پی پرویز خٹک سے کہا ہے کہ صوبے میں نو نومبر کو عام تعطیل کا اعلان کریں)۔یہ ٹویٹ عمران خان صاحب نے سات نومبر 2015ء کو شام پانچ بج کر تیرہ منٹ پر کیا تھا۔ تین منٹ بعد انہوں نے ایک اور ٹویٹ کیا ''اگرچہ میں بہت زیادہ چھٹیوں کا حامی نہیں؛ تاہم یومِ اقبال باقی دنوں سے مختلف ہے‘ فکر اقبال نے نظریہ پاکستان کو عملی شکل دی ہے‘‘۔
یہ تب کی بات ہے جب حکومت نواز شریف کی تھی۔ حکومت نے یومِ اقبال کی چھٹی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو تحریک انصاف کے سربراہ نے فوری ایکشن لیا۔ کے پی میں ان کی حکومت تھی۔ وہاں عام تعطیل کرا دی۔ آج چونکہ عمران خان حکومت میں ہیں‘ اس لیے انہوں نے یومِ اقبال کی چھٹی نہ صرف وفاق میں نہیں کرائی بلکہ اپنے زیرِ اقتدار دونوں صوبوں کو بھی اس کا حکم نہیں دیا۔ یومِ اقبال بھی ان کے لاتعداد یو ٹرنز کی زد میں آ گیا۔ بیچارہ یومِ اقبال !!
وزیر اعظم کا اقبال پر یہ احسان اس لیے نمایاں ہو گیا کہ وہ حکومت میں ہیں۔ ورنہ احسانات اقبال پر ہم سب کے ہیں‘ اور من حیث المجموع پوری قوم کے!! یہ احسان ہمارا اقبال پر کیا کم ہے کہ ہم اسے پڑھتے ہی نہیں۔ چلیے‘ اسرار و رموز‘ پیام مشرق‘ جاوید نامہ‘ زبور عجم‘ پس چہ باید کرد اور نصف ارمغانِ حجاز تو فارسی میں ہیں‘ جو کتابیں ان کی اردو میں ہیں‘ وہ ہم میں سے کتنوں نے پڑھی ہیں اور کتنوں نے اپنے بچوں کو پڑھائیں یا اس طرف راغب کیا؟ ان کتابوں کے نام تک نئی نسل کو نہیں معلوم۔ اقبال میوزیم‘ جو جاوید منزل میں بنایا گیا ہے‘ کتنوں نے دیکھا؟ کتنے اپنے بچوں کو وہاں لے گئے؟ اب تو ہماری ذہنی سطح یہ ہو گئی ہے کہ کراچی یا لاہور جائیں تو صرف کھابوں اور ریستورانوں کی فکر میں رہتے ہیں۔ معدے پھیل گئے ہیں اور دماغ سکڑ گئے ہیں۔ فکری اعتبار سے ہم سب شاہ دولہ کے چوہے بن چکے ہیں۔ اقبال پر ہمارا یہ احسان بھی ہے کہ اس کے نام سے بہت سے ادارے بنائے جن کے ذریعے خاندانوں کی پرورش ہوئی۔ ان اداروں میں بیٹھ کر لوگوں نے اپنے اپنے تصوف کے چرچے کیے۔ اپنی کتابوں کی تشہیر کی۔ واعظوں نے اقبال کے کلام سے اپنی دکانیں چمکائیں۔ لیفٹ نے اپنے مطالب کی چیزیں الگ نکالیں۔
ہر کسی از ظنِ خود شد یارِ من
و زدرونِ من نجست اسرارِ من
(اپنی دانست میں ہر کوئی میرا دوست بنا۔ میرے دل میں کیا ہے؟ یہ کسی نے جاننے کی کوشش نہ کی)
سب سے بڑا احسان‘ اقبال پر ہمارا یہ ہے کہ ہر برس‘ یوم اقبال پر‘ تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں۔ ضمیر جعفری کا مشہور شعر ہے۔ 
بپا ہم سال میں اک مجلس اقبال کرتے ہیں
پھر اس کے بعد جو کرتے ہیں وہ قوال کرتے ہیں
اس بار تو خیر سے ایک تقریب ایوانِ صدر میں بھی منعقد ہوئی۔ اس کا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ کم سے کم لوگ شریک ہو سکے۔ جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا۔ہونا یہ چاہیے کہ اقبال کے کلام کو زیادہ سے زیادہ پڑھنے اور سمجھنے کی تحریک چلے۔ اقبال شناسی کے لیے مجلسیں‘ بیٹھکیں‘ گروپ اور زاویے تشکیل دیے جائیں جو مل بیٹھ کر کلام اقبال پڑھیں اور پڑھائیں۔ سمجھیں اور سمجھائیں۔ ابھی ہمارے درمیان ایسے اصحاب کافی تعداد میں موجود ہیں جو فارسی جانتے ہیں۔ انہیں تلاش کیا جائے۔ ان سے گروہوں کی شکل میں کلام اقبال سبقاً پڑھا جائے اور اتنی استعداد پیدا کی جائے کہ ہم سلسلہ وار دوسروں کو پڑھا سکیں۔ ایک تو غلط فہمی یہ مارے جا رہی ہے کہ فارسی مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو اچھی خاصی فارسی آتی ہے مگر ہم جانتے نہیں کہ ہمیں فارسی آتی ہے۔ اردو کے کثیر الفاظ فارسی النسل ہیں۔ آمد و رفت‘ نقل و حمل‘ گفتگو‘ جستجو‘خور و نوش‘ پس و پیش‘ آب و تاب‘ خرابیٔ بسیار‘ نمود و نمائش‘ درودیوار‘ دریچہ‘ غلغلہ‘ پسماندگی‘ واماندہ‘ حالیہ‘ کوشش‘ تپش‘ ہوشیار‘ جنگ بندی‘ نیم دلی‘ ہراساں‘ مشکل‘ مشغلہ‘ پیشرو‘ دستبردار‘ دانا‘ نادان‘ زیرک‘ اور ہزاروں دوسرے الفاظ جو ہم روزمرہ میں بولتے ہیں‘ فارسی کے ہیں۔ رہی فارسی گریمر‘ تو اردو‘ عربی اور انگریزی کی گریمر کی نسبت‘ فارسی گریمر آسان تر ہے۔ (امید ہے ڈاکٹر معین نظامی‘ ڈاکٹر عارف نوشاہی‘ ڈاکٹر شعیب احمد اور دیگر اساتذہ اس طالب علم کی اس ضمن میں تصدیق فرمائیں گے)۔ کلام اقبال پڑھنے اور سمجھنے کے سلسلے میں جن احباب کی ٹوٹی پھوٹی معاونت کی‘ بہت تھوڑے عرصہ میں وہ رواں ہو گئے اور بغیر کسی مدد کے خود پڑھنے اور سمجھنے کے قابل ہو گئے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ فارسی سے بے خبری کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے آٹھ سو سالہ ادب‘ کلچر اور تاریخ سے بے خبر ہیں۔ امیر خسرو سے لے کر فیضی‘ بیدل اور غالب تک‘ ہمارے شعری اور نثری ادب کا وافر حصہ فارسی میں ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم سچائی یہ ہے کہ پاک و ہند کی جتنی بھی تاریخ‘ اٹھارہویں صدی تک اور اس سے پہلے کی ہے اس کے تمام منابع فارسی میں ہیں۔ ہندو‘ سکھ اور انگریز مورخ بھی وہی وقیع مانے جاتے ہیں جنہوں نے برصغیر کی تاریخ‘ اصل منابع کی مدد سے لکھی۔
کلام اقبال صرف ایک پہلو ہے۔ حیات اقبال‘ اقبالیات کا ایک اور اہم حصہ ہے۔ انسان حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے جب یہ دیکھتا ہے کہ اس عظیم شاعر کی زندگی کس قدر مصروف تھی اور تنوع سے چھلکتی ہوئی! بھرپور سیاسی سرگرمیاں‘ یونیورسٹیوں کے لیے خدمات‘ درسی کتب کی تالیف‘ مدراس سے لے کر حیدر آباد تک اور علی گڑھ سے لے کر لاہور تک لیکچرز کا سلسلہ‘ خطوط کا جواب‘ جلسوں میں شرکت‘ دنیائے علم کے تازہ واقعات اور نئی کتابوں سے مسلسل رابطہ‘ مسلسل مطالعہ‘ پھر معاش کے لیے وکالت‘ کبوتر بازی کا شوق‘ آم پارٹیوں میں شرکت‘ غرض ایک ہنگامہ خیز زندگی گزاری اور اس کے ساتھ ہی علوم کے خزانے اپنی شاعری اور دیگر تصانیف میں سمو دیے۔ ڈاکٹر سید سلطان محمود حسین کی تصنیف ''حیاتِ اقبال عہد بہ عہد‘‘ اقبال کی زندگی کا سال بہ سال خوب احاطہ کرتی ہے۔ اسے اقبال اکادمی لاہور نے چھاپا ہے۔ معروف محقق خرم علی شفیق نے 1927ء سے لے کر وفات تک کے حالات عرق ریزی سے اور کمال جستجو کے بعد قلم بند کیے ہیں۔ اسے رائٹ وژن‘ 74۔ آر‘ جی سی پی سوسائٹی‘ جوہر ٹاؤن لاہور نے شائع کیا ہے۔ اقبال کے خطوط بھی اقبالیات کا جزو لا ینفک ہیں۔ دہلی کے مظفر حسین برنی کے مرتّبہ خطوط پہلے بھارت میں چھپے۔ اب چار جلدوں میں جہلم کے پبلشر ''بک کارنر‘‘ نے بہت اہتمام سے شائع کیے ہیں۔
چند ماہ پہلے اپنی نواسی اور نواسوں کو اقبال میوزیم لے کر گیا۔ ایک الماری میں علامہ کے جوتے پڑے تھے۔ کیئر ٹیکر سے درخواست کی کہ باہرنکال دے‘ چومنا چاہتا ہوں‘ مگر اس نے کہا کہ اجازت نہیں ہے۔ شیشے کے اوپر ہی سے جوتے چھوئے اور چومے۔ الفاظ گنگ رہ جاتے ہیں۔ قوت اظہار سلب ہو جاتی ہے۔ ایک روشنی تھی جو راستہ دکھا کر آسمانوں کو لوٹ گئی۔ ایک ستارہ تھا جو ہمارے بخت کی پیشانی پر چمکا اور چلا گیا۔ حیرت ہوتی ہے کہ ایسا شخص اور اتنے قریب کے زمانے میں! ابھی تو صرف بیاسی سال ہوئے ہیں اور سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ آنے والے زمانے اقبال کے ہیں۔ بر صغیر کے دو کناروں پر دو آزاد مسلمان مملکتیں اُس دانائے راز کی سوچ کا استعارہ ہیں

بشکریہ روزنامہ  دنیا

Tuesday, November 10, 2020

پے کمیشن… منزل ہے کہاں تیری ؟؟



یہ کسی دیسی ریاست کا واقعہ ہے۔ انگریز کا زمانہ تھا۔ 565 ''آزاد‘‘ ریاستیں تھیں۔ ریاست کا سربراہ‘ راجہ یا مہاراجہ یا نواب‘ سلطنت انگلشیہ کا وفادار اور اس کی پالیسیوں کا پابند رہتا تھا۔ سفید فام حکمران بہت سیانے تھے۔ اندرونی معاملات میں عام طور پر مداخلت نہیں کرتے تھے۔ ایسی ہی ایک ریاست کا واقعہ ہے۔ پٹیالہ کا یا گوالیار کا یا شاید بڑودہ کا ! مہاراجہ کو بتایا گیا کہ ریاست کا چیف انجینئر چھٹی پر چلا گیا ہے۔ایک ڈاکٹر فارغ بیٹھا تھا‘مہاراجہ نے چیف انجینئر کے منصب پر اُس کی تعیناتی کا حکم دے دیا۔ کچھ عرصہ بعد چیف انجینئر چھٹی سے واپس آیا تو جج کی پوسٹ خالی تھی۔ چیف انجینئر کو جج لگا دیا۔ غرض ریاست وسائل کی غلط تقسیم (Resource mis-allocation)کا نمونہ تھی۔ گھوڑے کا کام بیل سے لیا جاتا اور بیل کا اونٹ سے۔ یہ واقعہ اس لیے یاد آیا کہ ہمارے ہاں بھی تقریباً یہی کچھ ہورہا ہے۔ تازہ ترین مثال اس غلط بخشی کی یہ ہے کہ پے اینڈ پنشن کمیشن کی چیئر پرسن ایک ایسی ریٹائرڈ افسر کو لگایا گیا ہے جن کا مالیات اور حسابات کے میدان میں کوئی تجربہ نہیں۔اس کام کے لیے وزارت ِخزانہ کا تجربہ لازم ہے۔ پے کمیشن کا کام ٹیکنیکل ہے اور بے حد پیچیدہ ! اس کے لیے صرف ریٹائرڈ افسر ہونا کافی نہیں‘ مالیات اور بجٹ کے تجربے کا ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا مریض دیکھنے کے لیے ڈاکٹر ی کا علم رکھنا۔
موجودہ پے اینڈ پنشن کمیشن اس سال اپریل میں تشکیل دیا گیا۔ سابق وفاقی سیکرٹری ( خزانہ ) عبد الواجد رانا کو کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا‘مگر چار ماہ بعد انہوں نے '' ذاتی مصروفیات‘‘ کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا۔ چار ماہ مزید گزر گئے۔ اب ایک ریٹائرڈ خاتون بیورو کریٹ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کمیشن کے ذمہ وفاقی‘ صوبائی اور عسکری تنخواہوں اور پنشنوں کے پورے ڈھانچے کا تنقیدی جائزہ لینا‘ عدم مساوات کو دور کرنا اور ایک جدیدحقیقت پسندانہ سٹرکچر قائم کرنے کی سفارش کرنا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ کمیشن کو اس کام کے لیے چھ ماہ دیے گئے تھے‘مگر آٹھ ماہ ہو گئے ہیں اور ابھی تک کمیشن کا ایک اجلاس بھی منعقد نہیں ہوا۔ بقول منیر نیازی ع
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
کمیشن کے سابق چیئر مین کے ساتھ ہی سندھ کی نمائندگی کرنے والے ممبر نے بھی کمیشن کو خیر باد کہہ دیا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کوئی ممبر بھی گورنمنٹ فنانس اور حسابات کا تجربہ نہیں رکھتا۔ ارکان میں دو بینکار شامل ہیں مگر بینکوں کے نظام اور سرکاری شعبے کی تنخواہوں اور پنشن کے نظام میں اتنا ہی فرق ہے جتنا جزیرے اور سمندر میں ہوتا ہے۔ نجی شعبے کے بینکوں میں ملازمین کو پنشن دی ہی نہیں جاتی۔ تنخواہوں کا ڈھانچہ بھی یکسر مختلف ہے۔
عربی کا محاورہ ہے لِکْلِّ عَمَلِِ رِجاَل، ہر شعبے کے لیے الگ الگ لوگ ہوتے ہیں۔الحمد للہ ہمارے ہاں مالیات کے ماہرین کا فقدان نہیں۔ پے اینڈ پنشن کمیشن کی سربراہی کے لیے سابق آڈیٹر جنرل جناب منظور حسین سے بہتر کوئی انتخاب نہیں ہو سکتا۔ وہ سالہا سال وزارت خزانہ میں بھی خدمات انجام دیتے رہے اور ملکی بجٹ کی تشکیل میں براہ راست حصہ لیتے رہے۔ چوہدی محمد الیاس سول اور عسکری دونوں قسم کے مالیات اور حسابات کا تجربہ رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی شہرت کے مالک اور اقتصادیات اور مالیات پر کئی کتابوں کے مصنف اکرم خان ہیں جو اقوام متحدہ میں مشرقی تیمور‘ سوڈان اور دیگر ملکوں میں پیشہ ورانہ امور سرانجام دیتے رہے۔ سابق وفاقی سیکرٹری سید بلال احمد کئی پے کمیشنوں کے ممبر رہے اور وزارتِ خزانہ میں پے کمیشن کے ٹیکنیکل کام میں براہ راست دخیل رہے۔ احمد وقار سیکرٹری فنانس رہے‘ ایف بی آر کے بھی چیئرمین رہے۔ فرخ قیوم برسوں وزارت خزانہ میں رہے۔ وہیں سیکرٹری ہوئے۔ رانا اسد امین وزارت خزانہ کی ایک ایک پیچیدگی سے آشنا ہیں۔ وزارت خزانہ کے ایڈوائزر رہے‘ آڈیٹر جنرل آف پاکستان رہے۔ زاہد سعید عسکری مالیات اور حسابات کے سربراہ رہے۔ یہ سب افراد‘ اور کچھ اور بھی‘ کسی سیاسی وابستگی کے بغیر‘ صرف اور صرف اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر‘ صلے اور ستائش کی تمنا کے بغیر‘ برسوں حکومتی مالیات کا کام سنبھالے رہے۔یہ وہ ماہرین ہیں جو سرکاری تنخواہوں اور پنشن کے فلسفے‘ طریق کار‘ ڈھانچے‘ خامیوں اور تضادات کی ایک ایک پیچیدگی سے آشنا ہیں اور سرکاری خزانے کی حدود و قیود سے مکمل طور پر واقف ہیں۔ ان کی زندگیاں اسی صحرا میں چلتے گزریں۔ انہیں سرابوں کا بھی علم ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ نخلستان کہاں کہاں ہیں ! ہماری حکومتوں کے ساتھ مسئلہ یہ رہا ہے اور آج بھی ہے کہ سول سروس کے ایک مخصوص حصے کے سوا باقی حصوں سے آگاہ ہی نہیں۔ ضلعی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے سول سرونٹس کو ہر درد کے لیے امرت دھارا جانا جاتا رہا۔ نہلے پر دہلا یہ ہواکہ یہی گروہ حکمرانوں کے یمین و یسار اور عقب اور جلو میں پایا جاتا ہے اور سول سروس کے باقی تمام شعبوں اور گروپس کو عمداً نشیب میں رکھا جاتا ہے تا کہ ماہرین پر حکمرانوں کی نظر ہی نہ پڑے۔ یوں سول سروسز کی تکنیکی تفصیلات سے بے خبر حکومتیں ایک محدود دائرے( Vicious circle)میں پھنس کر رہ جاتی ہیں۔ رجالِ کار حکومت کی نگاہوں سے اوجھل کر دیے جاتے ہیں۔ نقصان پوری حکومتی مشینری کا ہوتا ہے۔ ایک مسافر ایک سرائے میں اترا۔ سرائے کے مالک کو کچھ رقم دے کر کہا کہ ایک ہی چیز لے کر آؤ مگر ایسی ہو کہ میں اسے کھا کر بھوک مٹاؤں‘ اُسی کو پی کر پیاس بجھاؤں اور میرے گھوڑے کے لیے بھی وہی خوراک کا کام دے۔ سرائے والا تربوز لے آیا کہ گودا کھا کر بھوک کا علاج کرو‘ اس کا پانی پی کر پیاس کا مداوا کرو اور اس کے چھلکے گھوڑے کو کھلا دو۔ سول سروس کے اس مخصوص گروہ کو وہ کام دے کر‘ جس کا اسے علم ہے نہ تجربہ‘ اس گروہ کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا رہا‘ تربوز کی طرح ہر جا و بیجا کام انہیں سونپ دیا جاتا ہے۔
پے اینڈ پنشن کمیشن کے سامنے دو بڑے کام ہیں اور دونوں عمودی پہاڑ پر چڑھنے کے مترادف ہیں۔ پہلا‘ افراطِ زر کے حوالے سے ایک خود کار نظام قائم کرنا جس میں ہر سال تنخواہیں‘ مہنگائی کے حساب سے خود بخود بڑھتی رہیں۔ انڈیا میں یہی نظام رائج ہے۔ 2014 ء میں وہاں ساتواں پے کمیشن بنا۔ اس کے بعد کوئی کمیشن نہیں بنا یا گیا۔ ہر سال تنخواہیں‘ قیمتوں کے انڈیکس کے حساب سے‘ خودکار طریقے کے تحت بڑھا دی جاتی ہیں۔ دوسرا بڑا کام مختلف محکموں کے درمیان تنخواہوں کے بلا جواز فرق کا خاتمہ ہے۔ اس وقت کہیں تنخواہیں ڈبل ہیں‘ کہیں الاؤنس کے نام پر نوازا جا رہا ہے‘ کہیں ایم پی ون اور ایم پی ٹو کے پردے میں روپوں کی بارش برسائی جا رہی ہے‘ حالانکہ سب چوبیس گھنٹوں کے ملازم ہیں‘ چھبیس گھنٹے کوئی بھی نہیں کام کرتا۔ تنخواہوں کا تفاوت سرکاری ملازمین میں مایوسی پیدا کرتا ہے۔ دلوں کو مجروح کرتا ہے۔ اس سے کارکردگی کم ہوتی ہے۔ محنت کرنے کا جذبہ ماند پڑ جاتا ہے۔ رشک اور حسد کے بیج نفرتوں کی فصل اُگاتے ہیں۔ حکومتوں کی اپنی بقا اس میں ہے کہ سب ملازمین کے لیے یکساں سکیل ہوں۔الاؤنسوں کی آڑ میں نا انصافی نہ برتی جائے پھر تنخواہیں بھی حقیقت پسندانہ ہوں کہ قرض مانگنا پڑے نہ رشوت کی طرف قدم اٹھیں۔ ہاں ! کارکردگی جانچنے کے لیے بے شک کڑا معیار رکھئے۔ نا اہل اور بد دیانت کو نشان عبرت بنائیے

بشکریہ روز نامہ اسلام آباد

Monday, November 09, 2020

از خود نوٹس لینے کی استدعا



منصور کی قسمت اچھی نہیں تھی۔
ساری زندگی محنت کی۔ حلال کمایا۔ دونوں بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی یہاں تک کہ دونوں کو ملٹی نیشنل کمپنیوں میں قابل رشک ملازمتیں مل گئیں۔ جب تک منصور اور اس کی بیوی کی صحت ٹھیک رہی، انہوں نے پوتوں اور پوتیوں کا بھی خیال رکھا‘ مگر جیسے ہی بڑھاپا اُس مرحلے میں داخل ہوا جہاں انسان کام کرنے اور کمانے کے قابل نہیں رہتا بلکہ دیکھ بھال کی ضرورت پڑتی ہے تو دونوں بیٹوں نے آنکھیں پھیر لیں۔ ہفتے گزر جاتے مگر ماں باپ سے ملنے کی توفیق نہ ہوتی۔ آتے بھی تو مصروفیت کا رونا لے کر۔ کیا کریں دفتر کا کام ہی اتنا ہوتا ہے۔ بچوں کی پڑھائیاں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ دونوں میں سے کسی کو یہ سعادت نصیب نہ ہوئی کہ ضعیف ماں باپ کو اپنے گھر لے جاتا اور خدمت کرتا۔ منصور نے ساری زندگی کی جمع پونجی اکٹھی کی‘ بیوی کے بچے کھچے زیور فروخت کیے اور جو رقم بنی قومی بچت مرکز (نیشنل سیونگ سنٹر) میں جمع کرا دی۔ ماہانہ نفع آنے لگا تو گھر کا خرچ پوراہونے لگا۔
پھر منصور بیمار ہوا اور روتی سسکتی بیوی کو بھری دنیا میں اکیلا چھوڑ کر اُس جہان کو چلا گیا جہاں سے واپس کوئی نہیں آتا۔ بیٹے آئے۔ تجہیز و تدفین سے فارغ ہو کر، ماں کو تسلیاں دے کر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور اپنی اپنی دنیاؤں میں کھو گئے۔ منصور کی بیوہ نیشنل سیونگ سنٹر گئی اور بتایا کہ اس کے شوہر نے جمع شدہ رقم کی ملکیت کے لیے اپنے بعد اُسے یعنی بیوی کو نامزد کیا تھا‘ اس لیے رقم اُس کے نام منتقل کی جائے تاکہ ماہانہ منافع اُسے ملتا رہے اور دال روٹی چلتی رہے۔ اس کے علاوہ تو اس کے پاس گزر بسر کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔ آپ کا کیا خیال ہے‘ یہ رقم بیوہ کے نام منتقل ہونی چاہیے تھی یا قانونِ وراثت کی رُو سے اس کے حصے بیٹوں کو بھی ملنے چاہئیں تھے؟
اِس روئے زمین پر شاید ہی کوئی ایسا سنگدل ہو جو منصور کی اس آخری جمع شدہ پونجی کو بیوہ کے نام منتقل کرنے کی حمایت نہ کرے۔ اُن بیٹوں کا اس پر کیا حق تھا جو ماں باپ کے بڑھاپے میں ان سے لاتعلق ہو گئے تھے؟ مگر افسوس! صد افسوس ! قومی بچت مرکز کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ قومی بچت مرکز کا منیجر منصور کو اچھی طرح جانتا تھا اور اس کے بد بخت بیٹوں کے رویّے سے بھی آگاہ تھا۔ اُس نے بیوہ کو بتایا کہ وہ مجبور ہے۔ قانون میں حالیہ تبدیلی کی رُو سے یہ رقم ورثا میں تقسیم ہو گی۔ دونوں بہوؤں کی باچھیں کھِل گئیں۔
کچھ عرصہ پہلے تک قومی بچت مرکز کا قانون یہ تھا کہ رقم جمع کرنے والا اپنی زندگی میں جس کو بھی نامزد کرے گا، جمع کرنے والے کی وفات کے بعد رقم اسی کے نام منتقل ہو گی۔ قومی بچت میں رقم جمع کرانے والوں کی بھاری اکثریت بوڑھوں، بوڑھیوں، بیواؤں اور ضعیف ریٹائرڈ سرکاری ملازمین پر مشتمل ہے۔ یہ ان کی عمر بھر کی کمائی ہوتی ہے۔ عام طور پر، بوڑھا شخص، اپنی بوڑھی بیوی کو نامزد کرتا ہے کہ یہ رقم اس کی وفات کے بعد اس کی بیوی کے نام منتقل ہو جائے تا کہ اس کا گزر بسر ہوتا رہے۔ اگر رقم عورت کے نام جمع ہو تو وہ عام طور پر اپنے بوڑھے شوہر کو نامزد کرتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں دن بدن افراتفری اور نفسا نفسی بڑھتی جا رہی ہے۔ اولاد بوڑھے والدین سے بے نیاز ہوتی جا رہی ہے۔ ہم لاکھ تنقید کریں مگر اولڈ ہوم کا سلسلہ مغربی ملکوں میں بوڑھوں کے لیے نعمت سے کم نہیں۔ ہم نے جو اولڈ ہوم دیکھے ہیں وہ فائیو سٹار ہوٹلوں سے کم نہیں۔ ہمارے ہاں یہ بھی نہیں۔ پھر، کچھ بیٹے بیٹیاں بیرون ملک مقیم ہیں‘ چاہیں بھی تو والدین کے کام نہیں آ سکتے۔ ہر ماہ ڈالر یا پاؤنڈ بھیجنا بھی ممکن نہیں۔ ایسے میں قومی بچت مرکز ہی ان بے سہارا بوڑھوں بوڑھیوں کی اولاد ہے۔ یہی ان کے کام آ رہا ہے۔ دونوں میں سے ایک کی وفات ہو جائے اور یہ رقم، جو واحد سہارا ہے، دیگر ورثا میں تقسیم ہو جائے تو انصاف نہیں، میری نظر میں یہ ظلم ہو گا۔ قانونِ وراثت کا اطلاق بے شک جائیداد پر کیجیے مگر اِس رقم پر خدا را نہ کیجیے۔ قانون تو یہ بھی ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے مگر قحط کے دوران دوسرے خلیفۂ راشد نے یہ قانون معطل کر دیا تھا۔ اگر قحط زدگاں پر اس قانون کا اطلاق کرتے اور اُن بھوکوں کے ہاتھ کاٹ دیتے جنہوں نے جان بچانے کے لیے چوری کی تھی تو یہ نا انصافی ہوتی۔ پس ثابت ہوا کہ قانون کا اطلاق کرتے وقت دیکھنا ہو گا کہ اس اطلاق کا نتیجہ نا انصافی کی صورت میں تو نہیں نکلے گا۔
کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ڈنمارک، ناروے، سویڈن اور دوسری فلاحی ریاستوں میں بوڑھے والدین کو ان کے بچے چھوڑ بھی جائیں تو وہ بے یارو مددگار نہیں رہتے۔ ریاست ان کی مالی کفالت کرتی ہے۔ بے گھروں کو چھت فراہم کرتی ہے۔ علاج معالجہ مفت کرتی ہے۔ ان ملکوں میں رضا کار بوڑھوں کے گھروں میں جا کر ان کے گھر صاف کرتے ہیں۔ انہیں سودا سلف لا کر دیتے ہیں۔ آسٹریلیا میں میونسپل لائبریریاں بسوں میں کتابیں بھر کر ان بوڑھوں کے گھروں میں جاتی ہیں اور ان کی پسند کی کتابیں ان کے بستروں پر مہیا کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں ان سہولیات اور خدمات کا تصور ہی نا پید ہے۔ واحد سہارا جو ریاست نے مہیا کر رکھا تھا، قومی بچت مرکز کی صورت میں تھا۔ یہ ایک انتہائی قابل تحسین سسٹم تھا‘ مگر اب حالیہ تبدیلی نے بوڑھے جوڑوں کی راتوں کی نیندیں اڑا کر رکھ دی ہیں۔ بوڑھا رات کو سوچتا ہے کہ اس کا بلاوا آ گیا تو رقم تو تقسیم ہو جائے گی اور ان رشتہ داروں کو بھی ملے گی جو پانی کا گلاس تک دینے کے روادار نہیں، تو بیوی کیا کرے گی؟ بجلی اور گیس کے بل۔ مہینے کے اخراجات، دوائیں، کیا ہو گا اور کیا بنے گا؟ دھکے کھائے گی؟ بھیک مانگے گی؟ رات دونوں کی کروٹیں بدلتے گزر جاتی ہے۔ کیا یہ ستم کافی نہیں کہ ریاست بوڑھوں کے لیے کچھ بھی نہیں کرتی۔ علاج نہ رہائش نہ خوراک! تو کیا یہ ستم بالائے ستم ضروری ہے کہ قومی بچت کا ادارہ جو قُوتِ لا یموت فراہم کر رہا تھا وہ بھی کھینچ لی جائے؟ یہ بھی دیکھیے کہ نیا سسٹم طویل مدت چاہتا ہے۔ عدالتوں کے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ تاریخ پر تاریخ ملتی ہے۔ مہینے نہیں اس تقسیم میں سال لگ جاتے ہیں۔ اس کالم نگار کے ایک دوست کے والد اِس دنیا سے چلے گئے تو بینک میں ان کے ڈیڑھ لاکھ روپے پڑے تھے جو چار بھائی بہنوں میں تقسیم ہونے تھے۔ ان صاحب نے وکیل کیا۔ مہینے لگ گئے۔ عدالتوں کے دھکے کھاتے کھاتے عزت بھی گئی۔ رقم پھر بھی نہ ملی۔ تنگ آ کر چھوڑ دی۔ یہی حال ہو رہا ہے اُن بیواؤں کا جن کے شوہر مرتے وقت قومی بچت مرکز میں کچھ رقم چھوڑ کر گئے ہیں۔ اکیلی، عدالتوں میں اُس رقم کے لیے دھکے کھاتی ہیں جو اُن کی اپنی ہے!!!
سسٹم میں یہ تبدیلی سندھ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ہم سندھ ہائی کورٹ کا احترام کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کی خدمت میں گزارش کرتے ہیں کہ اس معاملے کے از خود نوٹس لیں اور پہلے کی طرح نامزد فرد کو رقم منتقل کرنے کا حکم جاری فرمائیں تا کہ بیوہ یا بوڑھا مرد عدالتوں میں دھکے کھانے سے بچ جائے۔ مجھے اس ضمن میں کئی ای میلز اور ٹیلی فون موصول ہوئے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, November 05, 2020

واپس تو کوئی آیا نہیں!



بینک نے خاتون سے شوہر کا شناختی کارڈ مانگا۔
شوہر کو دنیا سے گئے اکیس سال ہو چکے تھے۔ اکیس سال پہلے جب بیوہ خاتون نے فیملی پنشن کے لیے بینک میں اکاؤنٹ کھولا تھا تو بینک کو مرحوم شوہر کے شناختی کارڈ کی نقل فراہم کی تھی۔ ظاہر ہے وہ نقل بینک کے ریکارڈ میں موجود تھی‘ مگر بینک کے تن آسان اہلکار نے نقل خاتون ہی سے مانگی۔ وہ تو اتفاق تھاکہ خاتون کو مرحوم میاں کا شناختی کارڈ مل گیا۔ اس کے باوجود بینک نے اس کا اکاؤنٹ بلاک کر دیا۔ بینکوں کا اب یہ وتیرہ عام ہو گیا ہے کہ ہر غلط کام کی ذمہ داری ہیڈ آفس پر ڈال دیتے ہیں۔ ہیڈ آفس سے کون تصدیق کرے۔ خاتون کے عزیزوں نے بینک منیجر سے بات کی، اس نے نیچے والوں پر ذمہ داری ڈالی۔ نیچے والوں نے کہا کہ یہ سب کچھ تو ہیڈ آفس نے کیا ہے۔ بہرطور منیجر نے تسلیم کر لیا کہ غلطی ہوئی ہے۔ اکاؤنٹ بلا وجہ بلاک ہونے سے معمر خاتون کو بے حد تکلیف ہوئی تھی۔
ایسے واقعات آئے دن پیش آتے ہیں۔ اکثر لوگ بینک منیجر سے بات نہیں کرتے یا نہیں کر سکتے۔ نہ ہی انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو ریکارڈ مانگا جا رہا ہے وہ ادارے کے پاس پہلے سے موجود ہے۔ اگر موجود نہیں تو اکیس برس سے پنشن کیسے دے رہے تھے؟ اصل وجہ اس قسم کے واقعات کی کیا ہے؟ اصل وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے جو جہاں بیٹھا ہے، سہولت کار کی حیثیت سے نہیں، معترض کے طور پر بیٹھا ہے۔ یہی بینک اگر کسی مغربی ملک میں ہوتا تو زیادہ امکان یہ تھا کہ بینک شناختی کارڈ کی نقل اپنے ریکارڈ ہی میں تلاش کر لیتا۔ اگر مجبوراً اکاؤنٹ بلاک کرنا بھی پڑتا تو پہلے فون کرکے پورے معاملے کی وضاحت کرتا اور ساتھ ہی مسئلے کا حل بھی بتاتا۔ ہمارا کلچر بالکل مختلف ہے۔ ہم انکار کرکے، اعتراض کرکے، کلائنٹ کو ناکام واپس کرکے ایک قسم کی طمانیت محسوس کرتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ ہم روڑے اٹکانے کے اور کام کو لٹکانے کے ماہر ہیں۔ ہم میں سے اکثر نفسیاتی طور پر غیر صحت مند ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر فوراً کام کر دیا تو ہماری اہمیت کم ہو جائے گی! جتنا کسی کو پریشان کر سکتے ہیں، جتنے پھیرے ڈلوا سکتے ہیں، اتنا ہی اپنے آپ کو بڑا محسوس کرتے ہیں۔
ایک مغربی ملک میں ایک بار ایک سٹور کی ویب سائٹ پر ایک نکٹائی پسند آئی۔ کوالٹی اچھی تھی‘ قیمت مناسب۔ سٹور پر جا کر انہیں ویب سائٹ پر نکٹائی دکھائی اور بتایا کہ یہ خریدنی ہے۔ انہوں نے معذرت کی کہ یہ تو سٹاک میں نہیں ہے، ختم ہو گئی ہے۔ جواب میں صرف اتنا کہا کہ ہم تو ویب سائٹ دیکھ کر آئے ہیں اور ویب سائٹ پر یہ اب بھی موجود ہے۔ یہ سن کر متعلقہ سیلزمین نے کہاکہ آپ کوئی اور نکٹائی پسند کیجیے، ہم آپ کو اسی قیمت پر دیں گے جو آپ کی چنی ہوئی ٹائی کی تھی۔ اپنے ہاں تجربے اس کے برعکس ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے ایک بڑے اور معروف مال میں ایک دکان پر، پوتی کے لیے کچھ لباس پسند کیے۔ سیلز مین نے قیمت بتائی۔ جب کاؤنٹر پر وہ رسید کاٹ رہا تھا تو اس کا سینئر آ گیا۔ اس نے کہا کہ یہ قیمت درست نہیں، اصل قیمت زیادہ ہے کیونکہ غلطی سے یہ ملبوسات اُس شو کیس میں رکھے گئے تھے جہاں کم قیمت والا مال پڑا ہے۔ غلطی ان کی اپنی تھی۔ اصولی طور پر اسے اپنے رفیق کار کی بتائی ہوئی قیمت کا احترام کرنا چاہیے تھا‘ مگر نہیں! اس نے آئٹم اٹھا کر واپس شو کیس میں رکھ لیے۔ ایک وجہ شاید اس رویّے کی یہ ہو کہ مالک یہاں سیلز مین کو اختیارات نہیں دیتا؛ تاہم ایذا پسندی (Sadism) کے فیکٹر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایسا بھی نہیں کہ یہ رویہ نجی شعبے میں ہے اور گورنمنٹ سیکٹر میں نہیں۔ دونوں طرف یہی حال ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں نجی شعبے کی کارکردگی سرکاری شعبے سے بہتر تھی۔ رویّہ بھی کم تکلیف دہ تھا بلکہ اچھا خاصا ہمدردانہ اور مددگار تھا۔ کارکردگی بھی بہتر تھی‘ مگر اب معاملہ نجی شعبے میں بھی افسوس ناک ہو چکا ہے۔ سرخ فیتہ، ٹال مٹول، منفی اپروچ یہاں بھی عام ہو چکی ہے۔ ہاں ایک فرق اس کالم نگار نے جو محسوس کیا ہے، شاید قارئین بھی اس سے اتفاق کریں! نجی شعبے میں نچلی سطح پر درشتی، کھردرا پن، لاپروائی، بے نیازی اور بعض اوقات سفاکی کی حد تک عدم تعاون زیادہ پایا جاتا ہے۔ جیسے جیسے اوپر جائیں، توجہ اور تعاون بڑھتا جاتا ہے۔ جب بھی کسی پرائیویٹ کمپنی، یا برانڈ، یا سروس سیکٹر کے کسی نجی ادارے میں کوئی مشکل پڑی اور مالک، یا سینئر سطح کے کسی ایگزیکٹو تک مسئلہ پہنچایا تو رد عمل خوش گوار ثابت ہوا۔ فوری ایکشن لیا گیا۔ مالک نے شکایت کنندہ کو فون کرنے میں، رابطہ کرنے میں یا میل کا جواب دینے میں کوئی ہچکچاہٹ کی نہ تاخیر! (نہ جانے اس کی کیا وجہ ہے کہ نچلی سطح پر نجی شعبے میں اہلکار سخت اور لاپروا کیوں ہیں؟) اس کے برعکس سرکاری شعبے میں جوں جوں اوپر جائیں، ہوا سرد اور موسم اذیت رساں ہوتا جاتا ہے۔ اعلیٰ افسر سول سروس کے ہیں یا دوسرے کیڈرز کے، اکثر و بیشتر بات تک کرنے کے روادار نہیں۔ فون کا جواب نہیں دیں گے۔ ای میل یا مراسلہ بھیجیں تو بے اثر! عوام کے ساتھ ہمدردی عنقا ہے۔ احساس ذمہ داری ندارد۔ پروٹوکول کا خبط! فون پر پہلے کیوں لیا؟ بغیر پوچھے اندر کیوں آئے؟ appointment کیوں نہیں لی؟ پہلے نیچے بات کریں! اس قسم کی نزاکتوں نے سائل اور فائل دونوں کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہاں مستثنیات موجود ہیں۔ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔
خدا کے بندو! خدا کی مخلوق کے لیے تکلیف کا باعث نہ بنو! لوگوں کو آرام پہنچاؤ۔ ان کی پریشانیوں میں کمی نہیں کر سکتے تو اضافہ بھی نہ کرو۔ کسی کا کام کرنے کے لیے اگر تمہیں اپنی کرسی سے اٹھنا پڑے، کہیں فون کرنا پڑے، کسی سے التماس کرنی پڑے، اپنا وقت خرچ کرنا پڑے تو اس میں سستی، انا یا مصلحت کو آڑے نہ آنے دو۔ تم جہاں بھی بیٹھے ہو، یاد رکھو، وہاں ہمیشہ نہیں بیٹھے رہو گے۔ تم سیلز مین ہو یا بینک کے اہلکار، نجی شعبے میں ہو یا سرکاری سیکٹر میں، افسر ہو یا کلرک، جو بھی ہو، چند دنوں یا چند ہفتوں یا چند مہینوں یا چند سالوں کے لیے یا کیا عجب چند گھنٹوں کے لیے ہو۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ برج الٹنے میں دیر نہیں لگتی۔ کیا تمہارے سامنے بڑے بڑے کھڑپینچ، بڑے بڑے طاقت ور، بڑے بڑے بلند آوازوں اور اونچے روابط والے وی آئی پی، دھڑام سے نیچے نہیں گر رہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ با اختیار کو سائل بننے میں دیر نہیں لگتی؟ کبھی کبھی یہ گمان ہوتا ہے کہ جو بیواؤں اور یتیموں کے لیے تردد نہیں کرتے اور ان کی مدد کے لیے ذرا سا بھی Out of the way نہیں جاتے، کیا عجب، کل ان کے مرنے کے بعد جب ان کی بیوائیں اور بچے دھکے کھا رہے ہوں گے تو ان کی یہ قابل رحم حالت، خدا انہیں دکھائے گا۔ تب وہ سینوں پر دو ہتھڑ ماریں گے، ہاتھوں کو دانتوں سے کاٹ کر لہو لہان کریں گے مگر کر کچھ نہیں سکیں گے۔ کیا خبر مرنے کے بعد انسان کو کیسے کیسے سبق کس کس طرح سکھائے جائیں گے۔ تصور ہی کر سکتے ہیں۔ واپس تو کوئی آیا نہیں کہ وہاں کا احوال بتائے!!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, November 02, 2020

نئے ابو لہب


ٹوٹ گئے ابو لہب کے دونوں ہاتھ اور وہ ہلاک ہو گیا۔ اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا اس کے کام نہ آیا۔ وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں پڑے گا۔ اور اس کی عورت بھی جو ایندھن اٹھائے پھرتی تھی۔ اس کی گردن میں مونج کی رسی ہے۔
ہر زمانے میں ابو لہب پیدا ہوتے رہے۔ ہر زمانے میں ان کے ہاتھ ٹوٹتے رہے۔ ہلاک ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ اقبال پکار اٹھے:
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرار بو لہبی
میکرون کو اندازہ ہی نہیں کہ اس نے اپنی جان پر کتنا بڑا ظلم کیا ہے۔ کوئی میکرون کو بتائے کہ اس سے کئی گنا زیادہ بڑی سلطنت کے مالک کسریٰ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف ملکوں کے بادشاہوں کو دعوتی خطوط ارسال فرمائے۔ حضرت عبداللہ ابن حذافہ (رض) کو ایران کے شہنشاہ کسریٰ کے پاس بھیجا۔ تکبر نے شہنشاہ کے دماغ کو سُن کر رکھا تھا۔ روئے زمین پر کون تھا اسے للکارنے والا؟ نامہ مبارک کو، میرے منہ میں خاک، اس نے چاک کر دیا۔ یہ اطلاع آپؐ تک پہنچی تو فرمایا: اس کی بادشاہت بھی پارہ پارہ ہو گی۔ بدبخت کسریٰ نے اپنے باجگزار، والئی یمن، باذان کو لکھا کہ یہ کون ہے عرب میں جس نے مجھے خط لکھنے اور تبلیغ کرنے کی جسارت کی ہے؟ اسے میرے پاس لے کر آؤ۔ باذان نے اپنے دو قوی ہیکل آدمی مدینہ منورہ بھیجے۔ آپؐ کے حضور پیش ہوئے تو گھبرائے ہوئے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: کل بات کریں گے‘ رات کو وحی آئی۔ دوسرے دن آپؐ نے دونوں اشخاص کو بتایا کہ باذان سے جا کر کہو کسریٰ کو اس کے بیٹے نے قتل کر دیا ہے۔ باذان کو یہ اطلاع ملی تو دم بخود رہ گیا۔ ساتھ ہی کسریٰ کے بیٹے شیرویہ کا فرمان بھی پہنچ گیا کہ اب میں حکمران ہوں۔ ایرانی سلطنت کا شیرازہ یوں بکھرا کہ لوگ حیران ہو گئے۔ شیرویہ کی حکومت چھ ماہ رہی۔ آنے والے چار سالوں میں دس بادشاہ آئے اور گئے یہاں تک کہ امیرالمومنین عمر فاروق اعظمؓ کے دور میں قادسیہ، جلولہ اور نہاوند کی لڑائیوں نے ایرانی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ آخری بادشاہ، یزد گرد، کٹی پتنگ کی طرح صوبہ صوبہ شہر شہر پھرتا رہا۔ اصفہان، وہاں سے کرمان، پھر سیستان یہاں تک کہ مرو میں پناہ لی‘ جہاں کسی نے اس کے زیور دیکھ کر اسے مار ڈالا۔
اللہ کے نظر نہ آنے والے لشکروں سے یہ کائنات چھلک رہی ہے۔ چیونٹی سے لیکر زمین کو جھنجھوڑ دینے والے زلزلوں تک‘ ساری مخلوقات اور تمام عناصر اللہ کے احکام کے تابع ہیں اور اللہ نے اپنے محبوب پیغمبرؐ کو اذیت پہنچانے والوں اور شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کیا۔ میکرون جیسے کئی آئے اور گئے۔ کسی کو نام بھی نہیں معلوم۔ مگر اسم گرامی، نام نامی، ہمیشہ بلند رہا اور رہے گا۔ میکرون کو کیا پتہ کہ اس سیارے پر، جسے زمین کہتے ہیں، کوئی لمحہ ایسا نہیں جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لاکھوں زبانوں پر نہ ہو۔ کہیں فجر کی اذان اور نماز ہو رہی ہے تو کہیں ظہر کی، کہیں عصر کے بعد درود پاک پڑھا جا رہا ہے تو کہیں عشا کے بعد۔ خالق کائنات نے خود فرمایا کہ ہم نے آپؐ کا ذکر بلند کیا تو پھر کس کی مجال ہے کہ اس میں روڑے اٹکائے۔
یہ تورز کی جنگ (Battle of Tours) تھی جس نے مسلمانوں کو فرانس کے وسط سے واپس موڑا۔ 732ء تک ہسپانیہ کی مسلم افواج مغربی اور جنوب مغربی فرانس فتح کر چکی تھیں۔ اُسی سال امیر عبدالرحمن الغافقی ایک لشکر جرار لے کر شمالی فرانس کی طرف بڑھا۔ نصرانیوں کی متحدہ فوج نے تورز کے مقام پر مقابلہ کیا۔ جب فتح قریب تھی تو افواہ اڑی کہ مال غنیمت خطرے میں ہے۔ مسلمانوں کو جب بھی ڈبویا تو عورت کی ہوس نے یا مال غنیمت کی لالچ نے۔ سو شکست کھائی اور ایسی شکست کہ یورپ کھو دیا۔
بارہ سو سال کے بعد آج یورپ پھر مسلمانوں سے خائف ہے۔ استعمار کے خاتمے کے بعد مسلمان اپنے اپنے غریب، پسماندہ، لُٹے پٹے ملک چھوڑ کر یورپ کے ملکوں میں بسنا شروع ہوئے۔ مشقتیں جھیلیں، نمک اور چٹنی پر گزارا کیا، جو کام سفید فام نہیں کرتے تھے ان مسلمانوں نے کیے۔ ان ملکوں کو سہارا دیا، سنبھالا۔ ان ملکوں کی معیشت تارکین وطن بالخصوص مسلمانوں کی مرہون احسان ہے۔ آج مسلمان ان ملکوں میں نسبتاً خوشحال ہو چکے ہیں تو اب سفید فاموں کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگے ہیں کہ مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ اب یہ سروے پر سروے کر رہے ہیں کہ فرانس کے ستاون لاکھ مسلمان 2050ء تک اتنے ہو جائیں گے اور جرمنی میں اتنے اور برطانیہ میں اتنے۔ اس خوف کو امریکہ کے پیو ((PEW جیسے تھنک ٹینک اور نام نہاد ریسرچ سنٹر مزید ہوا دے رہے ہیں اور جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں۔ سفید فام کبھی توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہیں‘ کبھی حجاب پر تو کبھی نقاب پر پابندیاں لگاتے ہیں‘ کبھی مسجدوں پر حملے کرتے ہیں‘ کبھی طعن و تشنیع اور دشنام طرازی پر اترتے ہیں۔ درحقیقت وائٹ نیشنلزم کی تحریک فرانس ہی میں پیدا ہوئی اور سارے مغرب میں یہیں سے پھیلی۔ نیوزی لینڈ میں جس دہشت گرد، ٹرانٹ برینٹن، نے درجنوں مسلمانوں کو بھون ڈالا، فرانس کے انہی لوگوں سے متاثر تھا جو سفید فاموں کی برتری پر یقین رکھتے ہیں۔ ان میں سر فہرست ایک بد بخت ریناڈ کیمو ہے۔ اسے ہم جنس پرستی کی وجہ سے اس کے ماں با پ نے عاق کر دیا تھا۔ اولین شہرت اس کی اسی برائی کے حوالے سے تھی کہ یہ اس کے حق میں لکھتا تھا۔ اس کے بعد اس نے عظیم تبدیلی یعنی Great Replacement کا مکروہ نظریہ پیش کیا۔ اس تھیوری کا مطلب تھا کہ یورپی ملکوں میں افریقی اور ایشیائی، خاص طور پر مسلمان، آ کر بس رہے ہیں اور سفید فاموں کی جگہ لے رہے ہیں۔ اس نے یہ خیال بھی پھیلایا کہ تارکین وطن جو یورپ میں آرہے ہیں، ہماری تہذیب اور ہماری آبادی کے لیے خطرہ ہیں ۔ اس نے انہیں حملہ آور کا لقب دیا۔ نیوزی لینڈ میں قتل عام کرنے والا ٹرانٹ اس سے بہت متاثر تھا۔ جبھی قتل عام کے بعد ٹرانٹ نے کہا تھا کہ اس اقدام سے میں ان لوگوں کو (یعنی مسلمانوں کو) یہ بتانا چاہتا تھا کہ ہماری سرزمین کبھی بھی تمہاری سرزمین نہیں بن سکے گی۔ فرانس کا صدر‘ میکرون، ذاتی طور پر، اس مہم میں شریک ہو گیا ہے۔ اُسے شرم آنی چاہیے کہ وہ اس پست سطح پر اتر آیا ہے۔ گستاخانہ خاکے اس نے فرانس کی سرکاری عمارتوں پر چلوائے۔ اس میں کیا شک ہے کہ ذہنیت میکرون کی بالکل وہی ہے جو نیوزی لینڈ والے دہشت گرد کی تھی۔
المیے کا بد ترین پہلو مسلم حکمرانوں کی بے حسی، مصلحت کیشی اور بزدلی ہے۔ پچپن ملکوں میں سے، ہماری معلومات کے مطابق، صرف چار ملکوں کے سربراہوں نے بے خوف ہو کر فرانس کے صدر کی مذمت کی ہے۔ ترکی کے صدر اردوان، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، ایرانی صدر حسن روحانی اور مہاتیر محمد (جو اب سابق وزیر اعظم ہیں) اگر تمام مسلمان ممالک متحد ہو کر بائیکاٹ کی مہم چلاتے اور سفیروں کو واپس بلا لیتے تو ایک بات بھی تھی۔ یہ حقیقت، بہر طور، واضح تر ہو چلی ہے کہ مسلم دنیا کی اصل لیڈرشپ اب غیر عرب ملکوں میں ہے۔ یہیں سے کوئی لہر اٹھے تو اٹھے۔ جن کے نام بڑے ہیں ان کے درشن تو چھوٹے نکلے۔ علامہ اقبال کا وژن دیکھیے۔ کتنا عرصہ پہلے کہہ گئے تھے: 
تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کُرۂ ارض کی تقدیر بدل جائ

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, October 29, 2020

ایک لیجنڈ جو ہمارے درمیان موجود ہے!



دارالحکومت کی جس بستی میں کالم نگار رہ رہا ہے اُس بستی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اردو شاعری کے حوالے سے دو بڑی شخصیتیںیہیں قیام فرما ہیں۔ افتخار عارف اور انور مسعود!

فارسی زبان و ادب کے توسط سے والد گرامی مرحوم کی بھی علیک سلیک جناب انور مسعود سے تھی۔ دونوں فارسی کے استادتھے۔ اس حقیر سے بھی انور مسعود شفقت سے پیش آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ نہ بھی متعارف ہوتے تو کالم نگار کے لیےیہی کافی تھا کہ اس نے انور مسعود کو دیکھا ہے، انہیں سنا ہے، ان کے پاس بیٹھا ہے اور ان کے عہد میں جی رہا ہے۔ المیہ یہ ہواکہ مشاعروں کے حوالے سے انور مسعود کی عالمگیر شہرت اور بے پناہ مقبولیت ان کی علمی حیثیت کو پس منظر میں لے گئی؛ تاہمان کی شاعری میں بھی علم ہے۔ ان کے بکھیرے ہوئے قہقہوں کے پیچھے آنسو تو ہیں ہی، مگر‘ جس طرح وہ زبان کو برتتے ہیں اورجس طرح الفاظ کی پرتیں کھولتے جاتے ہیں، اس سے ایک ایک مصرعے میں علم کا دروازہ کھلتا جاتا ہے اور ایک ایک شعر میںلغت کے عقدے وا ہوتے جاتے ہیں۔

ضمیر جعفری کے بعد، وہ اردو مزاح کے سب سے بڑے شاعر ہیں؛ تاہم الفاظ سے کھیلنے کا فن جو انور مسعود جانتے ہیں، ضمیر صاحبکی شاعری میں بھی نہیں ملتا۔ غزل کے بارے میں جب وہ کہتے ہیں کہ 'یوں بحر سے خارج ہے کہ خشکی پہ پڑی ہے، تو شعر کے بحرسے خشکی کا پہلو نکالنا انہی کا کمال ہے۔ ایک اور قطعے میں لغت کا کھیل دیکھیے:

اگر ہیں تیغ میں جوہر، جواہر میں خمیرے ہیں

ادھر زور آزمائی ہے ادھر طاقت کے نسخے ہیں

مطب میں اور میدان دغا میں فرق اتنا ہے

وہاں کُشتوں کے پُشتے ہیں یہاں پُشتوں کے کُشتے ہیں

تیغ میں انور مسعود نے جوہر دیکھا۔ جوہر سے جواہر اور جواہر سے خمیرہ گاؤ زبان عنبری جواہر والے تک پہنچے‘ مگر اصل گتکا جو وہ کھیلےہیں آگے ہے‘ میدان جنگ میں کشتوں کے پشتے لگتے ہیں‘ مگر حکیم صاحب کے مطب میں جو خاندانی کشتے ہیں وہ تو پشتوں کے کشتےہیںاپنی شہرۂ آفاق نظم ''تو کی جانیں بھولیے مَجھے انار کلی دیاں شاناں‘‘ میں جب وہ بھینس کو ہدایت کرتے ہیں کہ اب گُڑ کا شربتنہیں تو نے کولا پینا ہے تو نلکی (سٹراکے لیے جس طرح ''کانا‘‘ کا لفظ فِٹ کیا ہے، کمال کی زباندانی دکھائی ہے۔ع

بوتل دے نال منہ نہ لائیں، منہ وچ پا لے کانا

انور مسعود ایران میں تھے کہ کسی کھانے کی محفل میں ان پر دہی الٹ گیا۔ فوراً بولےاز ماست کہ بر ماست۔ ماست فارسی میںدہی کو کہتے ہیں، بر ماست کا مطلب ہے ''ہم پر ہے‘‘۔ جدہ میں مشاعرہ تھا۔ انور صاحب کی باری آئی تو کہایہ ایک اَن فراموشایبل (Un-framoshable) مشاعرہ ہے۔ انور مسعود کی یہ نکتہ آفرینی دیکھیے کہ وہ کہتے ہیںپانی کے حوالے سے جتنے الفاظ ہیں‘ ان میںسے اکثر ''نون‘‘ سے شروع ہوتے ہیں جیسے نل، نہر، نہانا، نم، ندی، ناؤ، نوکا، نالہ، نلکا، نیاگرا، نِیل، نچڑنا‘ نوش، نوشابہ۔

انور مسعود کو جو غیر معمولی پذیرائی پوری دنیا میں ملی ہے، شہرت کے جس آسمان پر وہ ہیں اور جو عالم ان کی مقبولیت کا ہے‘ اسمیں سارا عمل دخل، صرف نظر آنے والے عوامل کا نہیں، نظر نہ آنے والے اسباب کا بھی ہے۔ وہ پکے اور کٹر مسلمان ہیں۔اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے ہیں۔ ذکر، اذکار، اوراد و وظائف باقاعدگی سے کرتے ہیں۔ ایک ان کا معمول تو اس بے بضاعت کو بھی معلومہے۔ سورہ مُلک کی ہر روز تلاوت کرتے ہیں۔ اعلیٰ درجے کے خطاط ہیں۔ ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی سورہ مُلک دیکھی ہے۔ اپنےخیالات کے اظہار میں کبھی کوئی احساس کمتری آڑے آیا نہ کوئی مصلحتنہ وہ کبھی زمانے کی رَو میں بہے۔ موہنجوداڑو اور ہڑپہ کےبارے میں جو بات انور مسعود نے کہی، شاید ہی کسی نے کہی ہو

عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہو سکی

کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے

سقوط ڈھاکہ کا نوحہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

ملک آدھا گیا ہاتھ سے اور چُپ سی لگی ہے

اک لونگ گواچا ہے تو کیا شور مچا ہے

سچ یہ ہے کہ ان کی جن نظموں کو مزاح سمجھ کر سامعین اور قارئین حظ اٹھاتے ہیں اور ہنستے ہیں، وہ دراصل نوحے ہیں۔ ہماریپسماندگی کا اس سے زیادہ درد ناک نوحہ کیا ہو گا کہ

باندھی ہوئی ہے کَس کر تانگے سے چارپائی

اکیسویں صدی میں ہم جا رہے ہیں بھائی

ان کی نظم "''ہُن کی کرئیے‘‘ سیاسی بازی گروں کی ناکامی کا نوحہ ہے اور رلا دینے والا نوحہ ہے مگر خون جگر سے لکھے ہوئے اننوحوں کو پڑھتے ہوئے انور مسعود خود بھی ہنستے ہیں اور دوسروں کو بھی ہنساتے ہیں۔ یہی ان کے فن کا کمال ہے۔ پھر پڑھنے کا اورادائیگی کا اسلوب بھی قسّام ازل نے بطور خاص بخشا ہے۔ میں جب بھی ان کی نظم ''گل کسے کیتی سی‘‘ پڑھتا یا سنتا ہوں تو روناآتا ہے مگر کمالِ فن یہ ہے کہ اسے بھی انہوں نے مزاح میں ''شوگر کوٹ‘‘ کیا ہے۔ پنجابی سے نا واقف حضرات کے لیے کاش کوئیماہر فن اس نظم کا اردو اور انگریزی میں ترجمہ کر دے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس مضمون کی اور اس پائے کی نظم شاید دنیا کی کسیزبان میں نہیں ہو گی تو اس میں مبالغہ نہ ہو گا۔ یوں لگتا ہے لغت انور مسعود کے آگے دست بستہ کھڑی ہے، لفظ ان کے غلامہیں۔ عام سے لفظ کو استعمال کرتے ہیں تو وہی عام سا لفظ ہیرے کی طرح چمک اٹھتا ہے۔

اس کالم نگار نے تاریخ کے مطالعہ سے، تین تین مشاہیر کا کلاس فیلو ہونا نوٹ کیا ہے۔ عمر خیام، نظام الملک طوسی اور حسن بنصباح تینوں کلاس فیلو تھے۔ تینوں مشہور ہوئے۔ وجۂ شہرت ہر ایک کی الگ تھی۔ پھر مغل دور میں ملاّ عبدالحکیم سیالکوٹی، شیخاحمد سرہندی اور نواب سعداللہ خان کلاس فیلو تھے۔ تینوں مشہور ہوئے۔ ملا عبدالحکیم سیالکوٹی بہت بڑے عالم اور سکالر تھے۔شاہجہان نے دو بار چاندی میں تُلوایا۔ لاہور، آگرہ اور سیالکوٹ میں بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے سربراہ رہے۔ فاضل لاہوری اورآفتابِ پنجاب کے خطابات پائے۔ شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی کے لقب سے مشہور ہوئے۔ ایک روایت کے مطابق، مجددالف ثانی کا لقب انہیں مُلّا صاحب ہی نے دیا تھا۔ رہے، نواب سعداللہ خان، تو وہ شاہجہان کے عہد میں وزیر اعظم بنے۔ اسیتسلسل میں ہمارے عہد کے تین بڑے شاعر بھی کلاس فیلو ہیں۔ انور مسعود، خورشید رضوی اور اسلم انصاری۔ کلاس فیلو اسمعنی میں کہ ایک ہی سیشن میں یہ تینوں اورینٹل کالج کے طالب علم تھے۔ انور مسعود نے فارسی میں ایم اے کیا، خورشید رضوینے عربی میں اور اسلم انصاری نے اردو میں۔ خورشید رضوی شاعر ہونے کے علاوہ عربی ادب کے بلند پایہ ماہر اور محقق ہیں۔اسلم انصاری کمال کے شاعر اور مقرر ہیں۔ ہمارا دوست آفتاب احمد شاہ جب ڈی جی خان کا ڈپٹی کمشنر تھا تو اس کے دور میںڈی جی خان مشاعروں اور ادبی تقاریب کا مرکز تھا۔ وہیں ایک فنکشن میں اسلم انصاری کی تقریر سنی۔

انور مسعود قدیم اور جدید فارسی ادب، بالخصوص شاعری پر ماہرانہ دسترس رکھتے ہیں۔ اس موضوع پر ان کی کتاب بھی آ چکی ہے۔کاشہم جیسے فارسی کے عشاق باقاعدگی سے استفادہ کر سکتےیہ طالب علم جب انہیں ملتا ہے تو ان کے گھٹنے چُھوتا ہے۔ لوگہی کتنے رہ گئے ہیں جن کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا جا سکتا ہے!



















 

powered by worldwanders.com