Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, September 17, 2020

مجرم کون؟؟ سزائے موت


''آج جب دنیا میں اسلحہ سے متعلق جرائم، اسلحہ کی سمگلنگ اور اسلحہ کی نقل و حمل زوروں پر ہے، سنگا پور میں یہ جرائم بہت ہی کم ہیں۔ اس کی وجہ ہمارا یہ قانون ہے کہ اگر کوئی فائر کرتا ہے، تو کوئی اس سے زخمی یا ہلاک نہ ہو تب بھی اس کی سزا موت ہے‘‘۔
یہ الفاظ جیا کمار کے ہیں۔ جیا کمار مذہباً ہندو ہیں۔ نسلاً تامل ہیں۔ سنگا پور کے ڈپٹی وزیر اعظم رہے۔ مختلف اوقات میں مختلف وزارتوں کے انچارج رہے۔ یکم جولائی 2020ء سے انہیں نیشنل یونیورسٹی آف سنگا پور کا پرو چانسلر مقرر کیا گیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اتنی سخت سزا کے باوجود، جو بظاہر ظلم لگتی ہے‘ اسلحہ سے متعلق جرائم اس ملک سے بالکل ختم نہیں ہوئے‘ مگر سنگا پور میں یہ کبھی ایشو نہیں بنا۔
لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر رونما ہونے والے گھناؤنے جرم کے بعد سزائے موت پر ایک بار پھر بحث چل نکلی ہے۔ دو وفاقی وزیروں سمیت، کچھ حضرات کی رائے یہ ہے کہ سزائے موت جرائم کا حل نہیں۔ ہر کسی کو رائے دینے کا حق حاصل ہے مگر رائے دیتے وقت انصاف سے کام لینا چاہیے۔ سزائے موت اس وقت جاپان، روس، چین، جاپان، سنگا پور، جنوبی اور شمالی کوریا، تھائی لینڈ اور تائیوان سمیت کئی ملکوں میں رائج ہے مگر نام صرف سعودی عرب، ایران اور پاکستان کا لیا جاتا ہے۔ صرف جاپان کی صورت احوال دیکھیے۔ جاپان میں 2014ء میں تین، 2015ء میں تین، 2016ء میں تین، 2017ء میں چار، 2018ء میں پندرہ اور 2019ء میں تین افراد کو مختلف جرائم کے سلسلے میں موت کی سزا دی گئی۔ چین اور دوسرے ملکوں کے اعداد و شمار بھی موجود ہیں۔
دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ایران اور سعودی عرب میں سزائے موت کے باوجود جرائم کم نہیں ہوئے۔ ایسا کہتے وقت یہ حضرات کوئی اعداد و شمار نہیں پیش کرتے۔ آخر کس سال کے جرائم کو بنیاد (بنچ مارک) بنا کر آپ یہ بات کر رہے ہیں؟ اور کن برسوں میں جرائم بڑھے اور کتنے بڑھے؟ کوئی حوالہ تو دیجیے۔ آئیے صرف اور صرف اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ زمینی حقائق کیا ہیں؟
جن ملکوں میں سزائے موت ختم کر دی گئی ہے، کیا وہاں جرائم کا خاتمہ ہو گیا ہے؟ یورپ میں روس اور بیلاروس کے سوا تمام ملکوں میں سزائے موت ختم کر دی گئی ہے۔ ہمارے سامنے اس وقت جو دستاویز کھلی ہوئی ہے‘ وہ فن لینڈ میں قائم ''یورپین انسٹی ٹیوٹ فار کرائم کنٹرول‘‘ کی شائع کردہ پبلی کیشن سیریز نمبر55 ہے۔ یہ ادارہ اقوام متحدہ سے وابستہ ہے۔ یہ دستاویز یورپی ملکوں میں 1995ء اور 2004ء کے درمیان جرائم کی کمی یا بیشی کے اعداد و شمار پیش کرتی ہے۔ اس کی رو سے ان دس برسوں میں جرائم مندرجہ ذیل فی صد بڑھے: 

سویڈن6 فی صد
فن لینڈ 38 فی صد
بلجیم 38 فی صد
آسٹریا 30 فی صد
شمالی آئرلینڈ 83 فی صد
یونان35فی صد
سپین 31 فی صد
سوئٹزر لینڈ 19 فی صد

ڈنمارک، جرمنی، لکسمبرگ، آئر لینڈ اور ہنگری میں جرائم پہلے کی نسبت کم رونما ہوئے ۔              

Numbeo.com 

 ایک بڑی ویبسائیٹ ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں میں رائج قیمتوں، جرائم اور دیگر اشاریوں کو انڈیکس کی صورت میں پیش کرتی ہے۔ اس ویب سائٹ کو حوالے کے طور پر پیش کرنے والوں میں اکانومسٹ، بی بی سی، ٹائم میگزین، فوربس، نیویارک ٹائمز، دی ٹیلی گراف، سڈنی مارننگ ہیرالڈ، چائنہ ڈیلی، واشنگٹن پوسٹ اور کئی دیگر اخبارات و جرائد شامل ہیں۔ اس ویب سائٹ نے سال رواں یعنی 2020ء کے وسط میں جرائم کا جو انڈیکس پیش کیا ہے اس کی رو سے سعودی عرب کا کرائم انڈیکس 26.68 فیصد ہے اور ایران کا 48.91 فیصد۔ اب اس کے مقابلے میں امریکہ اور یورپی ملکوں کے کرائم انڈیکس ملاحظہ فرمائیے:

یو ایس اے 47.70
سویڈن 47.43
فرانس 47.37
بلجیم 45.29
برطانیہ 44.54
اٹلی 44.24
نیوزی لینڈ 42.19
آسٹریلیا 41.67

دیکھ لیجیے کہ سعودی عرب کا کرائم انڈیکس ان سب یورپی ملکوں اور امریکہ سے کم ہے۔ اب بھی یہ کہنا کہ سعودی عرب میں سزائے موت کے باوجود جرائم کم نہیں ہوئے، ایک بے سر و پا بات ہے۔ ایران کا کرائم انڈیکس زیادہ ہے مگر کتنا زیادہ؟ 45‘ 47 اور 48 میں کتنا فرق ہے؟ سب سے کم کرائم انڈیکس قطر کا ہے یعنی 11.90، تائیوان کا 15.26ہے‘ متحدہ عرب امارات کا 15.45 ہے اور عمان کا 20.62 ہے۔ ان چاروں ملکوں میں سزائے موت کا قانون موجود ہے۔
امریکہ کی لگ بھگ نصف یعنی 25 ریاستوں میں سزائے موت ختم کر دی گئی ہے۔ اب ذرا جرائم کے حوالے سے سعودی عرب اور امریکہ کا موازنہ ملاحظہ کیجیے: جرائم کی سطح سعودی عرب میں 23.41 ہے اور امریکہ میں 55.84 یعنی دو گنا زیادہ ہے۔ منشیات کا استعمال امریکہ میں سعودی عرب کے مقابلے میں ستاون گنا زیادہ ہے۔ قتل کی شرح سعودی عرب میں 0.9 اور امریکہ میں 5 ہے۔ ڈاکے امریکہ میں سعودی عرب کی نسبت پچاس گنا زیادہ پڑتے ہیں۔ ہر فی ہزار افراد میں سعودی عرب میں جرائم 3.88 اور امریکہ میں 41.29 ہیں یعنی گیارہ گنا زیادہ! سعودی عرب میں 35 فی صد افراد کے پاس اسلحہ ہے اور امریکہ میں 88.8 فی صد کے پاس۔ قتل کی شرح امریکہ میں 49 گنا زیادہ ہے۔ ہر دس لاکھ سعودیوں میں 10.23 افراد قتل کا ارتکاب کرتے ہیں جب کہ امریکہ میں ہر دس لاکھ افراد میں 42.01 افراد قتل کا ارتکاب کرتے ہیں یعنی چار گنا زیادہ۔
ہم کوئی مذہبی حوالہ نہیں دے رہے۔ غیر مسلم ممالک میں بھی سزائے موت دینے کا قانون موجود ہے مگر احساس کمتری اتنا شدید ہے کہ نظر پاکستان، ایران اور سعودی عرب ہی پر پڑتی ہے۔ یوں بھی مسئلہ سزائے موت دینے یا نہ دینے کا نہیں ہے۔ اصل ایشو ہمارا نظام ہے۔ مناسب قانون سازی نہ کیے جانے کے سبب مجرم چھوٹ جاتے ہیں اور بے گناہ زندانوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ قوانین میں اتنے سقم ہیں کہ عدلیہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ سزائے موت کا فائدہ بھی تب ہے جب دلوں میں یہ یقین راسخ ہو کہ سزا ملے گی اور جلد ملے گی، ضمانت نہیں ہو گی اور چھوٹنا نا ممکن ہو گا۔ اس کے لیے پولیس کی چابک دستی اور سیاسی مداخلت سے نجات ضروری ہے۔
ہم ملا نصرالدین کی طرح سوئی باہر سڑک پر تلاش کر رہے ہیں جبکہ سوئی کمرے میں گم ہوئی ہے۔ دلیل ہماری یہ ہے کہ سڑک پر روشنی ہے اور کمرے میں اندھیرا ہے۔ خرابی کہیں اور ہے مگر ہم اُس طرف دیکھنا نہیں چاہتے۔ ایک ایک دن میں متعدد عورتوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ انسان درندے بن گئے ہیں۔ ان کی اپنی مائیں کہہ رہی ہیں کہ انہیں مار دیا جائے اور ہمیں یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ کہیں انہیں واقعی سزائے موت نہ دے دی جائے۔ کل کو ہم یہ مطالبہ بھی کر دیں گے کہ سانپ اور بچھو ڈستے ہیں تو ڈسنے دو مگر انہیں مارو نہیں۔ مانا کہ عورت کو کمتر سمجھنے والے مائنڈسیٹ میں تبدیلی بھی ضروری ہے مگر اُسی سانس میں عورت کے بدترین دشمنوں کو بچانے کی فکر!! یہ تضاد نہیں فساد ہے

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, September 14, 2020

جاگدے رہنا! ساڈے تے نہ رہنا



حمید صاحب ہمارے پڑوسی تھے۔ ایک ریٹائرڈ بینکار۔ ہم لوگ جس آبادی میں رہ رہے تھے وہ وزیر اعظم کے مغل سٹائل، پُرشکوہ، دفتر سے صرف پندرہ بیس منٹ کی ڈرائیو پر واقع تھی۔ ایک صبح معلوم ہوا کہ حمید صاحب کے گھر سے رات ان کی گاڑی چوری ہو گئی ہے۔ متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کرائی گئی۔ تھانے والے آئے‘ اور کئی بار آئے۔ حمید صاحب بھی تھانے کے چکر لگاتے رہے۔ ہونا کیا تھا! صبر کر کے بیٹھ گئے۔
دو تین ماہ گزرے تھے کہ حمید صاحب کو ایک فون کال موصول ہوئی کہ گاڑی، جس کا رجسٹریشن نمبر یہ ہے، ہمارے پاس ہے‘ بنوں آ کر فلاں جگہ ملیے اور ''سودا‘‘ کر کے گاڑی لے جائیے۔ حمید صاحب پتہ نہیں کس ذہنی کیفیت میں تھے، بیگم سے مشورہ کیا نہ بچوں کو بتایا، ایک پٹھان دوست کو، جو ڈاکٹر ہے‘ ساتھ لیا اور ٹاپو ٹاپ بنوں پہنچ گئے۔ وہاں دونوں کو اغوا کر لیا گیا۔ ساٹھ ساٹھ لاکھ دونوں کے لواحقین نے دیے (یہ لگ بھگ 2012ء کی بات ہے) اور رہائی دلوائی۔ گاڑی اغوا کنندگان کے پاس تھی ہی نہیں۔ ان کا کل اثاثہ ''انفارمیشن‘‘ تھی۔ آپ کا کیا خیال ہے‘ یہ انفارمیشن انہیں کس نے بہم پہنچائی ہو گی؟ حمید صاحب کے اڑوس پڑوس اور ملنے والوں میں دور دور تک بنوں کا کوئی نہیں تھا۔
جی ہاں! آپ کا اندازہ درست ہے! انفارمیشن وہیں سے ملی جہاں موجود تھی! چوروں اور چوکیداروں کا گٹھ جوڑ ہمارے ہاں مسلمہ ہے۔ اس گٹھ جوڑ کے حوالے سے ایک مشہور محاورہ پنجابی زبان کا خاصا چٹ پٹا ہے مگر یہاں اس کا ذکر کرنا شاید مناسب نہ ہو گا۔ بہر طور کئی عشروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ گڈریے بھیڑیوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور کھیت کی باڑ کھیت ہی کو کھا رہی ہے۔ تازہ خبر ملاحظہ کیجیے جو گداگروں کے حوالے سے دس ستمبر یعنی چار دن پہلے روزنامہ دنیا میں شائع ہوئی ''اگر کوئی نیا بھکاری کسی شاہراہ یا مارکیٹ میں مانگنے آ جائے تو پہلے سے موجود (بھکاریوں کا) گروہ اس کو وہاں سے چلے جانے کی دھمکیاں دیتے ہیں، نہ جانے پر کسی کو فون کر دیتے ہیں جس پر کچھ ہی دیر بعد پولیس پکڑ کر لے جاتی ہے‘ جبکہ دوسرے گداگر بدستور اپنے کام میں مگن رہتے ہیں‘‘۔ سبحان اللہ! گداگروں کا گروہ شکایت کرتا ہے کہ ایک حریف گروہ بھی آ کر بھیک مانگنے لگ گیا ہے تو اس حریف گروہ کے ارکان کو پولیس والے پکڑ کر لے جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ صاف اور کلیئر گواہی چوروں اور چوکیداروں کے گٹھ جوڑ کی کیا ہو گی۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ اس خبر کو سب حکامِ اعلیٰ اور سب وزرائے بالا نے پڑھا ہو گا یعنی ع
چہ دلاور است دزدی کہ بکف چراغ دارد
چور کی جرأت کا کیا کہنا! چراغ ہتھیلی پر لیے پھرتا ہے۔
اب اس سیاق و سباق میں سی سی پی او کے اس بیان پر غور کیجیے جس پر احتجاج ہو رہا ہے۔ کیا غلط کہا ہے انہوں نے! وہی تو کہا ہے جو ایک چوکیدار کہا کرتا تھا کہ ''جاگدے رہنا، ساڈے تے نہ رہنا‘‘ یعنی ہم پر بھروسہ نہ کرنا، سو نہ جانا! واقفان حال کا کہنا ہے کہ جہاں یہ افسوسناک قیامت خیز واردات رونما ہوئی، وہاں یہ پہلی واردات نہیں ہے۔ اس سے پہلے جو بربریت ہوئی اس کے شکار نے تشہیر سے بچنے کے لیے چُپ سادھ لی۔ اس جگہ شاہراہ کے دونوں طرف تار لگائے ہی نہیں گئے۔ اب تک کم از کم اْس ذات شریف کو تو پکڑا جانا چاہیے تھا جو تار نہ لگانے کا یا نہ لگوانے کا ذمہ دار ہے۔
گزشتہ ہفتے ہی شیخوپورہ موٹر وے پر ڈاکوؤں نے درخت اور جھاڑیاں ڈال کر شاہراہ بلاک کی۔ انہوں نے کارروائی شروع کی ہی تھی کہ حسن اتفاق سے ایک ایمبولینس وہاں آ گئی اور وہ ایمبولینس کو پولیس کی گاڑی سمجھ کر فرار ہو گئے۔ تونسہ شریف میں دو بچوں کی ماں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا گیا۔ رپورٹ درج نہیں کی جا رہی تھی نہ میڈیکل ہونے دیا جا رہا تھا۔ لواحقین نے احتجاج کیا تو مقدمہ درج کیا گیا‘ اور سلامت تا قیامت رہے ہمارا سسٹم کہ ملزموں نے گرفتاری سے پہلے ہی ضمانت کرا لی۔
خواتین اور بچوں کے ساتھ یہ بربریت اس ملک میں عام ہے۔ حالت یہ ہے کہ کچھ با اثر طبقات ڈی این اے کی گواہی قبول کرنے میں متامل ہیں۔ ایک بڑی سیاسی مذہبی جماعت کے مرحوم سربراہ کی یہ ویڈیو آج بھی دیکھی جا سکتی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ چار گواہ میسر نہ ہوں تو مظلوم عورت خاموش رہے۔ عورت کے حوالے سے ہماری سوسائٹی کا مجموعی رویہ ان افسوس ناک واقعات کا براہ راست نہ سہی، بالواسطہ ضرور ذمہ دار ہے۔
سکّے کا دوسرا رخ بھی نظر سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس کی کیا مشکلات ہیں؟ مطلوبہ فنڈز کی کمی اور افرادی قوت کی قلت! مگر سب سے بڑی صعوبت جس کا پولیس کو سامنا ہے، سیاسی مداخلت ہے۔ وہ جو وعدہ تھا تحریک انصاف کا پولیس کو ہر قسم کی مداخلت سے نجات دلانے کا، وہ قصۂ پارینہ ہو چکا اور اس حقیقت سے اب شاید ہی کوئی انکار کرے۔ سات دن کے بعد ناصر درانی کا منظر سے ہٹ جانا اس امر کی علامت ہے کہ پنجاب کی پولیس کو مداخلت سے پاک کرنے کا عزم ہے نہ ہمت! پتھر بھاری تھا! حکومت نے چوم کر چھوڑ دیا۔ یہ جو شورِ محشر بپا ہے کہ ہر کچھ ماہ بعد پولیس کا سربراہ تبدیل کر دیا جاتا ہے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہ سیاسی مداخلت ہی کا شاخسانہ ہے! معروف بیوروکریٹ خاتون انیتہ تراب کا کیس اس قدر مشہور ہو چکا ہے کہ ہم سب اس سے آگاہ ہیں۔ اس کیس میں سپریم کورٹ نے رولنگ دی تھی کہ تعیناتی کی مدت (Tenure) مکمل ہونے سے پہلے کسی کا تبادلہ کیا جائے گا تو متعلقہ اتھارٹی کو اس تبادلے کی وجوہات ریکارڈ پر لانا ہوں گی۔ یوں موجودہ آئی جی کی یہ بات سو فی صد غلط ہے کہ وہ ایک سیکشن افسر کے نوٹیفکیشن کی مار ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ریاست کے ملازم ہیں، حکومت کے نہیں! سپریم کورٹ کے احکام کی رو سے وقت سے پہلے تبادلہ ہونے کی صورت میں وہ اس تبادلے کے اسباب جاننے کا حق رکھتے ہیں۔ جب تک ہمارے بیوروکریٹ، خاص طور پر سینئر بیوروکریٹ‘ جو نوواردان کے لیے مثال بنتے ہیں‘ اپنے آپ کو ہیچ سمجھتے رہیں گے اور اپنے آپ کو underestimate کرتے رہیں گے، حکومتیں انہیں رولنگ سٹون بنائے رکھیں گی۔ یہ سلسلہ کب تلک چلے گا؟ کہ بقول غالب؎
کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل
انسان ہوں، پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
مقررہ مدت پوری ہونے سے پہلے تبادلہ کرنے کی بیماری پوری سول بیوروکریسی کو گُھن کی طرح کھائے جا رہی ہے۔ ایس ایچ او سے لے کر آئی جی تک، اے سی سے لے کر کمشنر تک، کیا ایف بی آر، کیا آڈیٹر جنرل، ہر محکمے میں میوزیکل چیئر کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور یہ مضحکہ خیز صورت حال عرصۂ دراز سے چلی آ رہی ہے۔ مسلح افواج میں ایسا نہیں ہوتا مگر المیہ یہ ہوا کہ جنرل ضیاالحق سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک، کسی فوجی حاکم نے اس صورت حال کو بدلنے کی کوشش نہیں کی‘ اور سیاست دانوں کی طرح سول بیوروکریسی کو اپنے مقاصد ہی کیلئے استعمال کرتے رہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا بنیادی فریضہ ہی یہ ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری ملازموں کی کیریئر پلاننگ کرے۔ کیریئر پلاننگ کیلئے مدتِ تعیناتی کی تکمیل ضروری ہے۔ مخصوص حالات میں تبادلہ پہلے بھی کیا جا سکتا ہے مگر معقول وجوہ ریکارڈ کر کے! گزشتہ اور موجودہ، سب حکومتیں جس طرح اس ضمن میں اختیارات کو نا روا استعمال کرتی آ رہی ہیں وہ ہرگز درست نہیں! اس روش کو بدلنا ہو گا!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, September 10, 2020

کچی، ٹیڑھی اینٹیں



بچے کو بخار ہے۔ ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہے۔ کیا کبھی کسی نے کہا کہ جب سارے ملک ہی میں صحت کا نظام درست نہیں تو ایک آدمی کی تندرستی سے کیا فرق پڑے گا؟ بچوں کو سکول داخل کیوں کراتے ہیں؟ کیوں تعلیم دلاتے ہیں؟ پورے ملک میں نا خواندگی کا دور دورہ ہے، جہالت عام ہے، صرف آپ کے بچے پڑھ لکھ گئے تو کتنی بہتری آ جائے گی؟ گھر کی صفائی مت کیجیے۔ شہر ہمارے گندگی سے اٹے پڑے ہیں۔ کراچی کا کچرا ملک کے گلے کا ہار بن کر رہ گیا ہے۔ کوڑے کے ڈھیر قصبوں اور قریوں کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں۔ ایک آپ کے چھوٹے سے گھر کی صفائی سے کون سا انقلاب آ جائے گا؟ کیوں تھکتے ہیں؟ کیوں اپنے آپ کو ہلکان کرتے ہیں؟
مگر ایسا ہوتا نہیں۔ کوئی پاگل ہی اپنے بچے کو علاج سے اس لیے محروم رکھے گا کہ اس سے ملک کے نظامِ صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ملک کا تعلیمی نظام حد درجہ پستی میں ڈوبا ہوا ہے مگر ہر فرد اپنے بچوں کو، مقدور بھر، اعلیٰ تعلیم دلا رہا ہے۔ گلی کوچے کیچڑ اور کچرے سے بھرے پڑے ہیں مگر یہ کوئی وجہ نہیں کہ میں اپنے گھر کی صفائی نہ کروں!
تو پھر اُس وقت موت کیوں پڑ جاتی ہے جب کوئی ہمیں کاروباری معاملات میں، دفتری امور میں یا روزمرہ کی زندگی میں دیانت داری کی تلقین کرتا ہے؟ ہمارا رد عمل عجیب مجہول، منفی اور بہانہ ساز سا ہو جاتا ہے۔ بھئی‘ جب پورا معاشرہ خراب ہے تو ایک فرد کے سچ بولنے سے کیا ہو گا؟ صرف میری امانت داری کی کیا حیثیت ہے؟ میں ایک ٹھیک ہو بھی گیا تو حالات کون سے ٹھیک ہو جائیں گے؟ یار! سبھی ایسا ہی کرتے ہیں! ارے بھائی! رہنے دو کس کس کو ٹھیک کرو گے یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے! بالکل ایسا ہی جواب کچھ عرصہ پہلے ایک پاکستانی نے میرے منہ پر تھپڑ کی طرح جڑا۔ بیت اللہ کا طواف تھا۔ دوران طواف دائیں بائیں زائرین سیلفیاں لے رہے تھے سخت کوفت ہو رہی تھی۔ اتنے میں میرے دائیں طرف ایک پاکستانی نے کہ شلوار قمیص میں ملبوس تھا، موبائل فون تقریباً میرے ساتھ رکھ کر سیلفی بنائی۔ کیوں اپنا طواف خراب کر رہے ہو بھائی؟ میں نے غصے میں کہا۔ اس کا جواب وہی تھا جس کا ذکر اوپر کیا ہے کہ سب لوگ بنا رہے ہیں۔ 
اس نا مراد، مکروہ منطق نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اس زنگ آلود دلیل کو ہم نے اس بری طرح استعمال کیا ہے کہ معاشرہ اسفل السافلین سے بھی نیچے چلا گیا ہے۔ یہ رویہ اپناتے وقت ہم تین حقائق بھول جاتے ہیں۔ اول‘ آخرت میں ہم سے معاشرے کی نہیں ہمارے اپنے اعمال کی باز پرس ہو گی۔ وہاں یہ دلیل کام نہیں آئے گی کہ میں نے اس لیے بد دیانتی کی، اس لیے جھوٹ پر جھوٹ بولے‘ اس لیے سرکاری مال کھایا یا اس لیے دوسروں کا حق ہڑپ کیا کہ وہاں سبھی ایسا ہی کر رہے تھے۔ وہاں تو ہر کسی نے اپنا بوجھ اٹھانا ہے۔ نیکیاں بھی اپنی اور برائیاں بھی اپنی۔ دوم‘ اگر معاشرہ سارے کا سارا غلط راستے پر گام زن ہے تو سوال یہ ہے کہ اسے راہ راست پر لانے کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟ کم سے کم حصہ جو آپ ڈال سکتے ہیں یہ ہے کہ خود برائی سے بچیں۔ سوم‘ اگر آپ معاشرے کو درست کرنا چاہتے ہیں تب بھی آپ کو اپنی اصلاح سب سے پہلے کرنا ہو گی‘ ورنہ آپ کے پند و نصائح بے اثر رہیں گے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کو سیدھے راستے پر چلتا دیکھ کر، دوسرے، آپ کے کہے بغیر ہی، آپ کی پیروی شروع کر دیں۔
ہم تقریروں میں، تحریروں میں، ہمیشہ اقبال کا یہ شعر پیش کرتے ہیں
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
مگر کیا ہر فرد کو جو کچھ کرنا چاہیے، وہ کر رہا ہے؟ ہمارا المیہ یہ ہے کہ میرے سمیت ہر شخص اصلاح کا آغاز دوسروں سے کرنا یا کرانا چاہتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی بزرگ بس میں کھڑا ہو تو میں خود اٹھ کر اسے اپنی نشست پیش نہ کروں بلکہ کسی دوسرے مسافر کو اس کار خیر کے لیے کہوں۔
کُڑھنے، وعظ کرنے، دوسروں پر تنقید کرنے اور معاشرے کے انحطاط پر گریہ و زاری کرنے کے بجائے ہم میں سے ہر شخص یہ کیوں نہیں سوچتا کہ وہ آغاز اپنی ذات سے کرے؟ اگر ٹریفک کا نظام لا قانونیت کا شکار ہے تو آج سے عہد کریں کہ ہم ہر حال میں ٹریفک کے ضوابط کی پابندی کریں گے۔ اس کے بعد ہم اپنے اہل و عیال سے اس کی پابندی کرائیں گے۔ ہم اپنے کاروبار میں اصول پسندی اور قانون پسندی پر سختی سے عمل پیرا ہوں گے۔ ہم دفتر وقت پر پہنچیں گے۔ کسی سائل کو پریشان نہیں کریں گے۔ کوئی غلط حکم نہیں مانیں گے۔ اپنی روزمرہ زندگی میں دروغ گوئی اور عہد شکنی سے کام نہیں لیں گے۔
ہم عجیب لوگ ہیں۔ قوم کے زوال پر نوحہ خوانی کر رہے ہوتے ہیں۔ اتنے میں ٹیلی فون آتا ہے یا دروازے کی گھنٹی بجتی ہے تو بیٹے کو کہتے ہیں کہ میرا کوئی پوچھے تو کہنا گھر پر نہیں ہوں۔ دکان پر ملازم دیر سے پہنچے تو اسے طعنہ دیتے ہیں کہ تنخواہ حرام کر رہے ہو اور اپنی آمدنی کے حلال یا حرام ہونے کا نہیں سوچتے۔ رفقائے کار اور ماتحتوں کو دیانت داری کا درس دیں گے مگر خود دفتر کا کارِ منصبی تاخیر سے انجام دیں گے یا اسے سفارش، اقربا پروری اور دوست نوازی کی نذر کر دیں گے۔ زرداری سے لے کر نواز شریف تک، بلاول سے لے کر مریم نواز تک شہباز شریف سے لے کر عمران خان تک ہر ایک کا محاسبہ کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کی ذاتی زندگیوں پر تبصرے کرتے ہیں۔ بیوروکریسی کو مطعون کرتے ہیں۔ سیاست دانوں پر ہر اُس برائی کا الزام لگاتے ہیں جو روئے زمین پر ممکن ہے۔ نہیں جھانکتے تو اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔
قوم ایک عمارت ہے۔ فرد اینٹ ہے۔ عمارت مضبوط ہونے کے لیے لازم ہے کہ ایک ایک اینٹ پختہ ہو، سالم ہو اور درست زاویے سے لگائی گئی ہو۔ بطور فرد ہم مکمل طور پر غیر ذمہ دار ثابت ہوئے ہیں۔ ہم تو کچی، ٹیڑھی اینٹیں ہیں جو عمارت کو بد نما اور نا قابل اعتبار کر رہی ہیں۔ ہمارے اعمال اور رویے دونوں ہولناک نتائج پیدا کر رہے ہیں۔ ان افراد کے مجموعے سے اُسی قسم کی قوم بنے گی جو ہم ہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی حیثیت والے پاکستانی کا کردار، قوم کے مجموعی کردار پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ریڑھی والا ہے یا معمولی دکان دار یا سرکاری کارندہ، ملک کے لیے اس کا انداز فکر اور طرز عمل بھی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ صرف حکمران نہیں جو ملک کو سمت مہیا کرتے ہیں۔ ایک ترقی یافتہ ملک اور ایک پسماندہ ملک کے عام باشندے کی سوچ اور عمل کا موازنہ کر کے دیکھ لیجیے۔ زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا۔ صرف قطار بندی دیکھ لیجیے یا صرف اس بات پر غور کیجیے کہ بچے کو جھوٹ سکھانے کا وہاں کوئی تصور نہیں۔ جو تارکین وطن مغربی ملکوں سے واپس آ کر دوبارہ وطن میں رہنے لگتے ہیں انہیں پیش آنے والے مسائل میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے بچے جھوٹ سے نا واقف ہوتے ہیں اور یہاں قدم قدم پر جھوٹ سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ان کے بچے کسی صورت جھوٹ نہیں بولتے اور ہم میں سے کتنے ہیں جن کے بچے یہ دعویٰ کریں گے کہ ان کے ماں باپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور کسی کے ساتھ وعدہ کریں تو پورا کرتے ہیں؟؟؟

بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, September 08, 2020

حاجی عطا اللہ



دنیا میں پہلے ہماری عزت دو وجوہ سے تھی۔ ایک ہمارا پاسپورٹ‘ دوسری ہماری کرنسی۔امریکہ سے لے کر جاپان تک سب ہمارا پاسپورٹ دیکھ کر ٹھٹک جاتے اور سمجھ جاتے کہ یہ مسافر ایک عظیم الشان ملک سے تعلق رکھتا ہے۔ یہی حال کرنسی کا تھا۔ پانچ ڈالر کی چائے کا مطلب نوسو یا ہزار روپے تھا۔
مگر یہ صورتِ احوال ایک ہفتہ پہلے تک تھی۔ گزشتہ ہفتے ہمیں ایک طلسمی اسم مل گیا ہے‘ جادو کا لفظ۔اب دنیا میں عزت حاصل کرنے کے لیے ہمیں پاسپورٹ دکھانا پڑے گا نہ کرنسی کی شرح مبادلہ بتانا پڑے گی۔ اب ہم صرف ایک لفظ کہیں گے حاجی عطا اللہ۔ اور لوگ ہمارے سامنے احترام سے جھُک جائیں گے۔حاجی عطا اللہ !صرف گیارہ حروف ! اور اتنا بڑا اعزاز! ایک پاکستانی جس ملک میں بھی اب جائے گا‘ لوگ اسے دیکھ کر حاجی عطا اللہ کا ذکر کریں گے۔ پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہو جائے گا۔ سینہ تن جائے گا۔ ہمارے صدرِ مملکت‘ ہمارے وزیر اعظم‘ ہمارے چیئرمین سینیٹ‘ ہمارے سپیکر قومی اسمبلی‘ ہمارے وزرائے کرام ‘ جہاں بھی ملک کی نمائندگی کرنے جائیں گے ‘ وہاں حاجی عطا اللہ کا ذکر ہو گا۔دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کے نصابوں میں‘ قانون کی کتابوں میں ‘ انصاف کے تذکروں میں ‘ وکیلوں کی بحثوں میں ‘اخبارات کے اداریوں میں ‘ادیبوں کے ناولوں میں ‘ شاعروں کی نظموں میں اور ججوں کے فیصلوں میں حاجی عطااللہ کا ‘ اور حاجی عطا اللہ کے حوالے سے پاکستان کا نام ضرور لیا جائے گا۔اس نام نے ہمیں دنیا کے مہذب ترین ملکوں میں سر فہرست لا کھڑا کیا ہے۔بنیادی انسانی حقوق کے لحاظ سے ہم اس وقت دنیا کو لیڈ کر رہے ہیں۔اسلام کا نظام ِقصاص آج مسلمان ملکوں میں کہیں رائج ہے تو وہ ہمارا ملک ہے !
اقبال کی عہدساز تصنیف '' پیام مشرق‘‘ میں ایک نظم '' ستاروں کا گیت‘‘ہے۔ اس میں ستارے کہتے ہیں کہ وہ تاریخ کے تمام ادوار‘ زمین کے سارے انقلابات اور زمانے کے سب الٹ پھیر دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔
خواجہ ز سروری گذشت
بندہ ز چاکری گذشت
زاری و قیصری گذشت
دورِ سکندری گذشت
شیوۂ بت گری گذشت
می نگریم و میرویم
مالکوں اور جاگیرداروں کا زمانہ لد چکا‘غلامی کا دور گزر گیا‘زار تھا یا قیصر یا سکندر سب وقت کی دھول میں گم ہو چکے ‘یہ سب کچھ ستارے دیکھتے جا رہے ہیں۔
حاجی عطااللہ کو بھی ستارے دیکھ رہے تھے۔ یہ جون 2017 ء کا ایک گرم دن تھا‘ حاجی عطااللہ کوئٹہ کے ایک چوک پر کھڑا ٹریفک کنٹرول کر رہا تھا۔ یہ اس کا کارِ منصبی تھا جو ریاست ِپاکستان نے اس کے سپرد کیا ہوا تھا۔ وہ کسی کا ذاتی ملازم تھا نہ کسی سردار کی رعایا تھا۔ وہ تو حکومت کا ملازم بھی نہ تھا۔ حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں۔ وہ ریاست کا ملازم تھا! ریاست پاکستان کا! ایک تیزرفتار قیمتی گاڑی آئی اور اسے روند کر گزر گئی۔ جیسے وہ ایک کیڑا تھا ‘ زمین پر رینگتا ہوا۔بقول رومی کے‘ وہ کنگھی نہ تھا کہ بال اسے توڑ دیں نہ ہی وہ دانہ تھاکہ زمین اسے لے بیٹھے۔ وہ تنکا بھی نہ تھا کہ ہوا اُسے اُڑا لے جاتی نہ ہی وہ پانی تھا کہ سرما میں برف بن جاتا۔ وہ انسان تھا۔ اپنے خاندان کا واحد سہارا!
اس گاڑی کو ایک سردار چلا رہا تھا۔ اچکزئی قبیلے کا سردار ‘منتخب ایوان کا نمائندہ ! تین سال دو ماہ یہ کیس قانون اور انصاف کی چکی میں پسا اور گزشتہ ہفتے سردار صاحب کو باعزت بری کر دیا گیا۔فوٹیج موجود تھی۔ حاجی عطا اللہ کے روندے جانے ‘ پھر جنازہ پڑھے جانے اور آخر میں زیر زمین دفن ہونے کو ساری دنیا نے دیکھا تھا‘ مگر عدل کا تقاضا یہی تھا کہ سردار کو بری الذمہ قرار دیا جائے۔مقتول ریاست کا نمائندہ تھا۔ ریاست نے اسے جو فرضِ منصبی سونپا تھا اسی کو سرانجام دیتے ہوئے اسے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ ریاست ہار گئی۔ عدل جیت گیا۔ کیا ریاست بالائی عدالتوں میں اپنا مقدمہ لے جائے گی ؟ یا یہ طے ہے کہ ریاست اپنے کارکنوں کی حفاظت کرنے سے قاصر ہے؟ یا بے نیاز ہے؟
پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے پاس‘ اس دور میں بھی ایک ایسا خطۂ زمین موجود ہے جو ہزاروں سال پرانے سرداری نظام پر چل رہا ہے۔ آج کی دنیا میں شاید ہی کہیں اس کی مثال ہو ! اگر کوئی اسے غلامی قرار نہیں دیتا تو اس کی مرضی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سرداری اور غلامی کا ایک مضبوط نظام ہے جو بلوچستان میں رائج ہے۔ اس نظام کا آج کے زمانے سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ یہ تو ابھی چند سال پہلے کی بات ہے کہ ایک سردار سے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران پوچھا گیا کہ یہ چور پکڑنے کے لیے جلتے کوئلوں پر چلانے کا کیا سلسلہ ہے تو سردار نے پورے اعتماد کے ساتھ جواب دیا تھا کہ یہ تو ان کے قبیلے کی روایت ہے۔ تعلیمی اداروں کی سرکاری عمارتیں وہاں مویشی خانوں اور غلے کے گوداموں کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ نئی بندوق کو آزمانے کے لیے سردار گلی میں سے گزرتے ہوئے کسی بھی شخص کے سر کا نشانہ لے سکتا ہے۔سردار کے علاقے میں تعینات سرکاری ملازموں کو تنخواہ سردار کی پرچی دکھائے بغیر نہیں دی جاتی۔ سردار قبیلے کے ہر فرد کے ذاتی معاملات میں دخل دینے اور فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ کسی بھی ناپسندیدہ شخص کے جسم پر شہد یا گڑ کا شیرہ مل کر اُسے چیونٹیوں بھری غار میں پھینکا جا سکتا ہے۔ گیس یا تیل کی کسی بھی پائپ لائن کو ‘ بجلی کے کسی بھی ٹرانسفامر کو‘ ٹیلی فون کی کسی بھی تنصیب کو سردار کے حکم سے اُڑایا جا سکتا ہے۔ کوئی کمشنر یا ریاست کا کوئی افسر یا اہلکار سردار کی لاقانونیت یا '' ریاست کے اندر ریاست‘‘ کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ سردار کے اشارے پر اس کے قبیلے کے لوگ بندوقیں لے کر پہاڑوں پر چڑھ جائیں تو کوئی انہیں منع کر سکتا ہے نہ واپس لا سکتا ہے۔ تہتر برسوں میں ایک‘ جی ہاں ! صرف ایک‘ ایسا سیاستدان صوبے کا وزیر اعلیٰ بن سکا ہے جو کسی قبیلے کا سردار نہ تھا ورنہ سیاست ان سرداروں کی کنیز ہے۔ حکومت ان کی دست بستہ غلام ہے۔ قانون ان کے پاؤں کی جوتی ہے۔ ریاست ان کے سامنے بے بس ہے۔اقتدار کی کلید اِن کی جیب میں ہے۔ اس پس منظر میں دیکھئے تو آپ خود ہی اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ حاجی عطااللہ جیسا ایک معمولی اہلکار‘ بے شک وہ کتنا ہی فرض شناس کیوں نہ ہو‘ ایک سردار کے مقابلے میں اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتا جتنی آندھی کے مقابلے میں تنکے کی ہوتی ہے۔
سچ یہ ہے ‘ اور جتنا بھی کڑواہو ‘ بہر طور سچ یہی ہے کہ ریاست پاکستان بلوچستان کے معاملے میں آج تک کچھ نہیں کر سکی۔ کسی حکومت میں اتنا وژن تھا ہی نہیں کہ صوبے کے عوام کو سرداری نظام سے چھڑا سکتی۔ یہ وژن کل بھی مفقود تھا۔ آج بھی عنقا ہے۔ زرعی اصلاحات کی کسی کو فکر ہے نہ دماغ۔ اور اب تو حال وہ ہو چکا ہے کہ بقول اقبال؎
خواجگی میں کوئی مشکل نہیں رہتی باقی
پختہ ہو جاتے ہیں جب خوئے غلامی میں غلام
اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ سرداروں کو مائی باپ‘ مربی اور آقا سمجھتے ہیں اور سرداری نظام کا دفاع کرتے ہیں۔ ابتری یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ جہاں بظاہر سرداری نظام نہیں ہے وہاں بھی مائنڈسیٹ وہی ہے۔یقین نہ آئے تو شہ زیب اور نقیب اللہ محسود کی روحوں سے پوچھ لیجئے جو انصاف کی تلاش میں آج بھی بھٹک رہی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, September 07, 2020

قائداعظمؒ، جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ



77 سال کا یہ طویل قامت، دھان پان شخص، ایک فرد نہیں ایک ادارہ ہے۔ ایک ریسرچ سنٹر ہے، ایک لشکر ہے۔
ادارہ! کیونکہ تن تنہا اس نے اتنا کام کیا جتنا بڑے بڑے ادارے موٹی موٹی گرانٹس سے سرانجام دیتے ہیں۔ ریسرچ سنٹر! اس لیے کہ قائد اعظمؒ اور پاکستان پر جہاں بھی، جتنا کچھ بھی‘ لکھا گیا ہے یا کہا گیا ہے اسے اُس کی خبر ہے۔ اسّی‘ نوّے سال پہلے کے اخبارات ہوں یا دنیا کے کسی کونے میں قائد اعظمؒ یا قائدؒ کی جدوجہد کے متعلق کوئی کتاب، کوئی جریدہ یا کوئی دستاویز ہو، یہ 77 سالہ طویل قامت شخص اس سے آگاہ ہوتا ہے۔ لشکر! اس لیے کہ وہ ایک اکیلا ہے مگر پورے لشکر کا مقابلہ لشکر کی طرح کرتا ہے۔ قلم اس کی شمشیر ہے۔ تحقیق اس کا نیزہ ہے۔ ریسرچ میں دیانت اس کی ڈھال ہے۔ قائد اعظمؒ سے محبت وہ جذبہ ہے جس سے مسلح ہو کر وہ ہر اُس دشمن، ہر اُس بد اندیش، ہر اُس فتنہ پرور اور ہر اُس عفریت کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑا ہو جاتا ہے جو قائدؒ پر، پاکستان پر یا علامہ اقبالؒ پر حملہ آور ہو!
قائد اعظمؒ کا یہ سپاہی ڈاکٹر صفدر محمود ہے! مجھے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے‘ ڈاکٹر صاحب قدرت کی طرف سے اس کام پر مامور کیے گئے ہیں۔ یہ سراسر توفیق الٰہی ہے۔ جس طاقت نے قائد اعظمؒ سے اتنا بڑا کام لیا کہ دنیا حیران رہ گئی، وہی طاقت اب صفدر محمود جیسے جینوئن محقق سے قائد اعظمؒ اور تحریک پاکستان کا دفاع کروا رہی ہے۔
قائد اعظمؒ اور تاریخ پاکستان پر ڈاکٹر صاحب نے درجنوں اہم کتابیں تصنیف کی ہیں مگر ان کی تازہ ترین تصنیف 'سچ تو یہ ہے‘ اس لیے معرکہ آرا ہے کہ اس میں تقریباً اُن تمام اعتراضات کے مسکت جوابات دیے گئے ہیں جو آج کل ایک مخصوص لابی قائدؒ، اقبالؒ اور تحریک پاکستان کے حوالے سے کر رہی ہے اور خالی الذہن نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ صرف چند عنوانات ملاحظہ کیجیے اور اندازہ لگائیے کہ کس قدر حساس معاملات پر ڈاکٹر صاحب نے رہنمائی کی ہے۔ یہ رہنمائی محض جذبات یا لفاظی کی مرہون منت نہیں، بلکہ ٹھوس دلائل اور حوالہ جات پر مبنی ہے۔
٭ خطبۂ الہ آباد، قرار داد پاکستان اور مخالفین کے بے بنیاد الزامات؛
٭ ریڈ کلف ایوارڈ اور ایک مؤرخ کی مو شگافیاں؛
٭ قائد اعظمؒ، جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ... سب سے بڑا جھوٹ؛
٭ قرارداد پاکستان پر بہتان؛
٭ قائد اعظمؒ کے آخری ایام اور سازشی افسانے؛
٭ اقبالؒ، جناحؒ اور مذہبی کارڈ؛
٭ قائد اعظم ثانی!!
پاکستان کی تحریک اور تاریخ پر پڑا ہوا گرد و غبار ڈاکٹر صاحب کس طرح صاف کر رہے ہیں‘ صرف ایک مثال سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پہاڑ جتنے مضبوط دلائل سے بات کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے ایک حاطب اللیل گروہ یہ شوشہ چھوڑ رہا ہے کہ قائد اعظمؒ نے قیام پاکستان سے پہلے 9 اگست 1947 کو جگن ناتھ آزاد کو بلا کر پاکستان کا قومی ترانہ لکھنے کو کہا‘ جنہوں نے پانچ دن میں لکھ کر پیش کر دیا‘ جسے قائد اعظمؒ نے منظور کر لیا۔ پھر یہ اعلانِ آزادی کے ساتھ ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا۔ 23 فروری 1949 کو حکومت نے قومی ترانے کے لیے کمیٹی بنائی تو یہ ترانہ بند کر دیا گیا۔ اب دیکھیے ڈاکٹر صاحب نے شرارت پر مبنی اس سفید جھوٹ کا تاروپود کس طرح بکھیرا ہے۔ اول‘ قائد اعظمؒ مکمل طور پر قانونی اور جمہوری مزاج رکھتے تھے۔ یہ نا ممکن تھا کہ وہ ماہرین، کابینہ اور حکومت کی رائے لیے بغیر خود ہی کسی کو یہ کام سونپ دیتے اور پھر خود ہی چپ چاپ اس کی منظوری بھی دے دیتے۔ یہ ان کے مزاج ہی میں نہ تھا۔ شاعری اور اردو فارسی سے ان کا تعلق بھی زیادہ نہ تھا۔ دوم‘ ان کی عمر کا زیادہ حصہ بمبئی اور دہلی میں گزرا۔ 1947 میں وہ 71 سال کے تھے۔ جگن ناتھ آزاد اُس وقت 29 سال کے غیر معروف نوجوان تھے۔ لاہور میں رہتے تھے اور ایک اینٹی پاکستان ہندو اخبار جے ہند میں نوکری کر رہے تھے۔ قائد اعظمؒ سے تو ان کی شناسائی بھی ممکن نہ تھی کجا یہ کہ وہ انہیں بلا کر قومی ترانہ لکھنے کا حکم دیتے۔ سوم‘ قائد اعظمؒ کوئی عام شہری نہ تھے۔ ان کے ملاقاتیوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔ پروفیسر سعید کی کتاب Visitors of Quaid-e-Azam میں 25 اپریل 1948 تک کی ملاقاتوں کا ریکارڈ محفوظ ہے۔ اس میں جگن ناتھ آزاد کا کہیں نام نہیں۔ چہارم‘ سید انصار ناصری کی تصنیف 'پاکستان زندہ باد‘ میں7 اگست سے پندرہ اگست تک کی مصروفیات کوَر کی گئی ہیں۔ اس میں بھی جگن ناتھ کا ذکر نہیں۔ پنجم‘ پھر ڈاکٹر صاحب نے اُس اے ڈی سی کی تلاش شروع کی جو قائد اعظمؒ کے ساتھ تعینات تھے۔ یہ عطا ربانی تھے۔ پیپلز پارٹی کے معروف رہنما رضا ربانی کے والدِ محترم! ان سے ملاقات مشکل تھی۔ مجید نظامی کی مدد سے ڈاکٹر صاحب ان سے ملے۔ ان کا جواب تھا کہ جگن ناتھ آزاد نام کا کوئی شخص قائد سے ملا نہ ان کی زبان سے کبھی اس کا نام سنا گیا۔ ششم‘ پھر ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز چھانے گئے کہ ان میں کہیں جگن ناتھ آزاد کے کسی ترانے کا کوئی ذکر مل جائے‘ لیکن ایسا کوئی ثبوت ان آرکائیوز میں کہیں نہیں۔ چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی رات، اعلانِ آزادی کے فوراً بعد احمد ندیم قاسمی کا گیت نشر ہوا تھا:
پاکستان بنانے والے! پاکستان مبارک ہو
اس کے بعد مولانا ظفر علی خان کا نغمہ گایا گیا:
توحید کے ترانے کی تان اڑانے والے
ہفتم‘ اُس زمانے میں ریڈیو کے پروگرام اخبارات میں چھپتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے اگست 1947 کے اخبارات چھان مارے‘ ان میں انہیں جگن ناتھ آزاد کا نام کہیں نہ تھا۔ ہشتم‘ ریڈیو پاکستان کے رسالے 'آہنگ‘ میں بھی، جس میں ریڈیو پاکستان کے ایک ایک پروگرام کا ریکارڈ ہوتا ہے‘ آزاد کا نام کہیں نہیں۔ نہم‘ خالد شیرازی نے 14 اگست سے لے کر 21 اگست 1947 تک کے ریڈیو پروگراموں کا چارٹ بنایا تھا۔ انہوں نے بھی اس دعوے کو ماننے سے صریحاً انکار کیا۔ دہم‘ سب سے بڑھ کر یہ کہ جگن ناتھ آزاد نے وفات تک خود کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ قائد اعظمؒ سے ان کی ملاقات ہوئی یا انہوں نے ترانہ لکھنے کا کہا۔ اپنی تصنیف 'آنکھیں ترستیاں ہیں‘ میں انہوں نے یہ لکھا ہے کہ ریڈیو پاکستان لاہور سے انہوں نے اپنا ملی نغمہ سنا۔ کب سنا؟ اس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ قومی ترانے اور ملی نغمے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قائد اعظمؒ سے ملاقات اور ان کے حکم سے ترانہ لکھنا کوئی ایسا معمولی کام نہیں تھا کہ آزاد اس کا ذکر نہ کرتے۔ ایسا ہوا ہوتا تو وہ اس اعزاز کا کئی بار ذکر کرتے۔
یہ صرف ایک مثال ہے۔ مقصود صرف یہ بیان کرنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ہر اُس شک، اعتراض، افترا پردازی اور دروغ گوئی کا رد کرنے کی سعی کی ہے جو پاکستان اور بانیٔ پاکستان کے حوالے سے کچھ لوگ، شرارت یا جہالت کی وجہ سے، پھیلا رہے ہیں۔ دیانت داری کی بات یہ ہے کہ تاریخِ پاکستان کے ہر طالب علم کو اس مجموعۂ مضامین کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
پاکستان اقبالؒ کی فکر اور قائد اعظمؒ کی جدوجہد کا حاصل ہے۔ اس جدوجہد میں بر صغیر کے مسلمانوں کا خون شامل ہے۔ یہ جدوجہد سچائی اور صرف سچائی سے عبارت تھی۔ پہلے بھی سچائی جیتی‘ آئندہ بھی سچائی ہی غالب رہے گی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آج، جب فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے کانگرس نواز مسلمان قائد اعظمؒ کے مؤقف کو درست تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، پاکستان میں بے سروپا بحثیں چھیڑی جا رہی ہیں!!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, September 03, 2020

کامونکے منڈی کا الیاس


کامونکے لاہور اور گوجرانوالہ کے درمیان واقع ایک قصبہ ہے۔ یہ چاول کی بڑی منڈی ہے۔ اسلام آباد‘ پنڈی کے لوگ یہاں سے گزریں تو چاول خرید لے جاتے ہیں۔ کچھ میری طرح صرف بھاؤ پوچھنے پر اکتفا کرتے ہیں اور خریداری اس کے پُر کشش تنگ بازاروں سے چاول کے مرنڈوں، مکھانوں، بھنے ہوئے چنوں، پتاشوں اور نُگدی کی کرتے ہیں۔ جو کچھ بچپن میں کھایا ہو زندگی بھر اس کی بھوک رہتی ہے۔
اس کامونکے میں ایک شخص رہتا تھا۔ الیاس اس کا نام تھا۔ انسان کے بھی کیا کیا شوق، خبط اور مشغلے ہوتے ہیں۔ ان بھائی صاحب کا شغل تھا سانپ پکڑنا اور انہیں دودھ نہیں! اپنا خون، جی ہاں! خون جسے لہو کہا جاتا ہے، پلانا! طریقۂ واردات اس کا یہ تھا کہ بلیڈ سے اپنی کلائی کاٹتا ، لہو نکال کر رکابی میں ڈالتا اور سانپ کو پیش کر دیتا۔ یہ سلسلہ ایک مدت سے چل رہا تھا۔ سانپ بھی خون پر پل رہے تھے اور سپیرا بھی آزار دوستی (Masochism) کے لطف سے بھرپور خوش خوش زندگی گزار رہا تھا۔
پھر ایک دن وہی ہوا جو ہونا تھا یا جس کا ڈر تھا۔ تین چار دن پہلے کی بات ہے الیاس ایک نیا سانپ لایا۔ بلیڈ سے اپنی کلائی کاٹی، رکابی میں اپنا خون اکٹھا کیا اور سانپ کی خدمت میں پیش کر دیا‘ مگر سانپ کو خون میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ خون کے ساتھ گوشت بھی چاہتا تھا۔ اس نے الیاس کو کاٹ لیا۔ اس کے کاٹے سے الیاس کی حالت غیر ہو گئی۔ الیاس کو طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں اس کی موت واقع ہو گئی۔
یہ افسوس ناک خبر صرف الیاس کی نہیں لگ رہی۔ یہ محض کامونکے منڈی میں نہیں ہوا۔ یہ تو ایک علامتی کہانی ہے، ایک آئینہ، جس میں، ہمارے سمیت، کئی ملک، کئی صدیاں اور کئی قومیں اپنا چہرہ دیکھ سکتی ہیں۔ اِن دنوں ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ زیر مطالعہ ہے۔ ایک سانپ میر جعفر نے بھی پالا تھا۔ اسے خوب دودھ پلایا۔ خوب موٹا کیا۔ اس پر اتنی دولت لٹائی کہ کلائیو اس وقت کے یورپ کا امیر ترین شخص بن گیا‘ مگر پھر اسی سانپ نے میر جعفر کو کاٹ لیا۔ میر جعفر کی نوابی خواب و خیال ہو گئی‘ بلکہ سارے خواب بکھر گئے۔ جیتے جی ذلیل و خوار ہو گیا۔
پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد ہم نے بھی ایک سانپ پال لیا۔ یہ بحرِ اوقیانوس کے اُس پار کا تھا۔ ہم نے ہمیشہ اسے دودھ پلایا۔ ہمیشہ کلائیاں کاٹ کر خون سے اس کے لیے رکابیاں بھریں مگر ہماری قسمت کہ اس نے ہمیشہ ہمیں کاٹا۔ ہم ہر بار ڈسے گئے مگر آفرین ہے ہماری مستقل مزاجی پر کہ ڈسے جانے کے بعد بھی ہم نے ہمیشہ سانپ کی بلائیں لیں، کلائی کاٹی اور مزید خون پیش کر دیا۔ اس سانپ کے ساتھ ہمارا Love- hate relationship ایسا بے مثال ہے کہ تاریخ میں کم ہی ایسی مثالیں ہوں گی۔ دشمن بھی وہی ہے۔ دوست بھی وہی ہے۔ ہم اس موج کی طرح ہیں جو ساحل کو چوم کر دور بھاگتی ہے اور تھوڑی دیر میں پھر آ موجود ہوتی ہے۔ ہم میں سے ہر محبِ وطن اس سانپ کا سر کچلنا چاہتا ہے اور ہم میں سے ہر محبِ وطن اس سانپ کے دیس میں جانے کے لیے، اس کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے اور وہاں آباد ہونے کے لیے شدید خواہش رکھتا ہے اور ہر وقت اس حوالے سے کوشش بھی کر رہا ہوتا ہے۔ زندگی بھر اس امیگریشن کا انتظار رہتا ہے پھر پھیروں پر پھیرے لگتے ہیں۔ پہلا مرحلہ سبز کارڈ کا ہوتا ہے۔ گویا جنت ارضی کا پہلا دروازہ کھل گیا۔ پھر جب سالہا سال کے انتظار کے بعد پاسپورٹ ملتا ہے تو ٹنوں کے حساب سے مبارک بادیں وصول ہوتی ہیں۔ کسی کو اگر دنیا میں معلوم ہو جائے کہ عاقبت سنور گئی ہے تو شاید اتنی خوشی نہ ہو؛ چنانچہ ہمارے سیاست دانوں، افسروں، کیا سول کیا خاکی، صحافیوں اور جاگیرداروں میں سے بہت سوں کے پاس یہ شہریت موجود ہے۔ خود یہاں بھی ہوں تو خاندان وہیں رہ رہے ہوں گے۔ ارض موعود وہی ہے۔ وطن اصلی وہی ہے۔ وہاں تو ان کی نمازیں تک قصر نہیں ہوتیں۔ اپنا وطن جو ہے۔ مگر ہے یہ سانپ ہمارا دشمن۔ پکا دشمن! ہمارے خلاف سازشیں کرتا ہے، بھارت کا ساتھ دیتا ہے۔ اسرائیل کا مربّی ہے۔
1970ء کی دہائی ختم ہوئی، اسّی کا عشرہ آغاز ہوا تو پڑوس سے سانپوں نے بارڈر کراس کیا اور لاکھوں کی تعداد میں اندر گھس آئے۔ مجبوری کے تحت۔ یہی مجبوری انہیں پڑوس کے ایک اور ملک میں بھی لے گئی مگر وہ ملک سیانا تھا۔ اُس نے ان سانپوں کو پورے ملک میں آزادانہ چلنے پھرنے کی اجازت نہ دی‘ تاروں اور دیواروں میں محصور کر کے رکھا مگر ہماری تو سرشت اور ہے۔ ہم نے ان کیلئے بھی کلائیاں کاٹیں اور رکابیاں خون سے بھر گئیں۔ پورا ملک ان کیلئے کھول دیا۔ یہ گلگت کے برف زاروں سے لے کر کراچی کے ساحلوں تک پھیل گئے۔ اونٹ خیمے کے اندر آ گیا اور پھر آتا ہی گیا۔ اب ان کی تیسری نسل دودھ پی رہی ہے مگر اس ملک کے ساتھ وفاداری ان کی طینت میں نہیں۔ کلائیاں ہماری کٹ گئیں مگر رہے ہم برے کے برے۔ جتنا غیر محفوظ ہمارا سفارتخانہ مشرقی پڑوسی کے ہاں ہے‘ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ مغربی ہمسائے میں ہے۔
لگ بھگ انہی وقتوں میں ہم نے ملک کے اندر بھی سانپوں کی پرورش وسیع پیمانے پر شروع کر دی۔ کبھی اِس نام پر تو کبھی اُس نام پر۔ خوب دودھ پلایا۔ خوب اپنی کلائیاں کاٹیں۔ مگر جب ان سانپوں نے ڈسنا شروع کیا تو ملک میں خون کی ندیاں بہہ نکلیں۔ مزار تھے یا بازار، مسجدیں تھیں یا سکول، چوراہے تھے یا گلیاں، ہر جگہ دھماکے اور خود کُش حملے اور غارت گری۔ گھر کے ان سانپوں نے ہمارے بچوں تک کو نہ چھوڑا۔ بچیوں کے سکول جلا کر خاکستر کر دیئے مگر کسی سے کیا گلہ کرتے۔ سب ہمارا اپنا ہی تو کیا دھرا تھا‘ خود پالے تھے۔ خود دودھ پلایا تھا۔ اپنا لہو پلا پلا کر موٹے کیے تھے۔
علمائے نفسیات کا کہنا ہے کہ ہم سانپوں سے محبت نہیں کرتے۔ دراصل اس معاملے میں ہم احساس کمتری کا شکار ہیں۔ سانپ، خاص طور پر غیر ملکی سانپ دیکھ کر ہم مرعوب ہو جاتے ہیں۔ ان سے دبتے ہیں، انہیں اپنے سے بہتر مخلوق گردانتے ہیں۔ انہیں اپنے ملک کے قواعد و قوانین سے فوراً مستثنا قرار دے دیتے ہیں۔ ان کی خدمت میں مستعد ہو جاتے ہیں۔ لاہور میں ایک غیر ملکی سانپ نے ہمارے شہریوں کو ڈس کر ہلاک کیا۔ اسے بچانے اور اسے سلامتی کے ساتھ گھر واپس بھجوانے میں ہمارے اپنوں نے جو کردار ادا کیا اور جو شرمناک رویہ اختیار کیا اس کی مثال تاریخ میں شاید ہی ملے۔
کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جنہیں ایک خاص موسم میں سانپ آ کر ڈستا ہے۔ جہاں بھی ہو اس موسم میں سانپ ضرور ان کے پاس آتا ہے۔ سنا ہے، جب سانپ کے آنے اور ڈسنے کے دن قریب آتے ہیں تو اس انسان کی بے تابی بڑھ جاتی ہے۔ بدن ٹوٹنے لگتا ہے۔ انگڑائیاں آتی ہیں۔ وہ اُس لذت کے لیے تڑپ رہا ہوتا ہے جو سانپ کے ڈسنے سے اسے حاصل ہوتی ہے۔ ہمارا بھی وہی حال ہے۔ ہم کسی نہ کسی سانپ کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ کوئی نہ نظر آئے تو طبیعت نا آسودہ ہونے لگتی ہے۔ ہمیں ہر حال میں ایک نہ ایک سانپ ضرور چاہیے ہوتا ہے۔ ہمارا خون رگوں کے اندر تلملانے، جلنے اور سلگنے لگتا ہے۔ سانپ دیکھتے ہی ہمیں سکون مل جاتا ہے۔ ہم بلیڈ پکڑتے ہیں، کلائی کاٹتے ہیں، خون نکلتا ہے۔ یہ جانا پہچانا منظر دیکھ کر سرور سے ہماری آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں۔ پھر جب سانپ یہ خون پیتا ہے تو ہم خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں۔ تہتر برسوں سے ہم کامونکے کا الیاس بنے ہوئے ہیں

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, August 27, 2020

مشتاق رضوی انتظار کر رہا ہے



‎مشتاق رضوی انتظار کر رہا ہے!……
‎جنت کے چمن زاروں میں ٹہلتے ٹہلتے اسے جس وقت وہ اذیت یاد آتی ہے جس سے وہ دنیا میں گزرا ہے، تو پاس سے گزرتے ہوئے فرشتے سے پوچھتا ہے: وہ پہنچا ہے کہ نہیں ؟ فرشتہ مسکراتے ہوئے جواب دیتا ہے نہیں! ابھی نہیں پہنچا‘ مگر خاطر جمع رکھو‘ آنا اس نے ضرور ہے‘ تمہیں پورا موقع ملے گا ، تم خود اس سے اُس ظلم کا حساب مانگو گے جو اس نے تم پر ڈھایا‘ حکمران یا سابق حکمران وہ دنیا میں تھا‘ یہاں وہ ملزم ہو گا‘ تمہارا ملزم اور بہت سے دوسرے افراد کا ملزم۔ 
‎سابق حکمران کو مشتاق رضوی کا نام تک یاد نہ ہو گا۔ کہاں سابق حکمران جب پتا بھی اس کے اشارۂ ابرو کے بغیر نہیں ہلتا تھا، جب انصاف اس کے بوٹوں کے نیچے قالین کی طرح بچھا ہوا تھا‘ اور کہاں مشتاق رضوی گریڈ انیس بیس کا معمولی سرکاری ملازم ! کیا حیثیت تھی اس کی حکمران کے سامنے!
‎مگر آہ ! حکمران بھول جاتے ہیں کہ جو مناظر ان کے سامنے تیزی سے گزر کر غائب ہو جاتے ہیں ، وہ کسی اور کمپیوٹر پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ ایک ایک خراش، ایک ایک ٹھنڈی سانس، ایک ایک گرم آہ، ہر چیز کا حساب ہو گا۔
‎تُلیں گے کس ترازو میں یہ آنسو اور آہیں
‎اسی خاطر تو میں روزِ جزا کو مانتا ہوں
‎پھر جب پنڈلی پنڈلی سے جُڑ جاتی ہے، جب جان حلق میں پہنچ جاتی ہے، جب جھاڑ پھونک کرنے والوں کو بلایا جاتا ہے ، جب سورہ یٰسین پڑھنے کے لیے مولوی کی یاد آتی ہے ، تب یہ مناظر جو غائب ہو گئے ہوتے ہیں ایک ایک کر کے فلم کے مانند آنکھوں کے سامنے آتے ہیں۔ پھر دریچہ کُھلتا ہے۔ پھڑپھڑاتے پروں کے ساتھ موت کا قوی ہیکل عقاب کمرے میں داخل ہوتا ہے اور نزع میں ڈوبے انسان کو پنجوں میں یوں دبوچ کر چلا جاتا ہے‘ جیسے انسان نہ ہو چوزہ ہو!
‎فلم چلنی ہی چلنی ہے۔ مشتاق رضوی نے نظر آنا ہی آنا ہے۔ کیا عجب اُن لمحوں میں وہ یارِ دیرینہ بھی نظر آئے جس کے لیے مشتاق رضوی کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔
‎ٹریجڈی کا تاریک ترین پہلو یہی ہے کہ جن کے لیے انسان انصاف کا خون کرتا ہے اور حق دار کو اس کے جائز حق سے محروم کرتا ہے وہی تو اس دن کام نہیں آتے۔ ارے بھائی! اُس دن تو میاں بیوی سے بھاگے گا اور ماں باپ بچوں سے ، تو ایک سابق سفیر، سابق حکمران کی کیا مدد کرے گا۔ جرم کا بوجھ کوئی نہیں بانٹتا نہ اُس دن کسی کا جرم اپنے کھاتے میں کوئی ڈالے گا۔ آپ دنیا میں لاکھ دعویٰ کریں کہ میں کسی سے نہیں ڈرتا یا دونوں ہاتھ اٹھا کر فخر سے اعلان کریں کہ یہ میرا طاقت کا مظاہرہ تھا‘ لیکن جس دن آپ نے ظلم کا حساب دینا ہو گا اس دن آپ اپنی نجات کے لیے اُس فرد یا افراد کے محتاج ہوں گے جن کا حق آپ نے پامال کر کے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو نوازا تھا۔ اگر یہ مظلوم معاف کریں گے تو مالکِ روزِ جزا بھی معاف کرے گا ورنہ نہیں۔
‎ریاست پاکستان کے اس مالی نقصان اور مشتاق رضوی کے ساتھ ہونے والے ظلم کا معاملہ ٹھیک بیس سال پہلے پیش آیا۔ اِس وقت اِس پر اس لیے لکھا جا رہا ہے کہ احتساب کے ادارے نے سابق سفیر کے خلاف ریفرنس اب دائر کیا ہے۔ رواں صدی کا پہلا سال تھا۔ انڈونیشیا میں تعینات پاکستانی سفیر نے دو عمارتیں فروخت کر ڈالیں۔ یہ دونوں عمارتیں پاکستان کی ملکیت تھیں۔ ایک میں سفارت خانہ تھا اور دوسرے میں سفیر کی رہائش گاہ ! ان عالی شان عمارتوں کا محل وقوع بہترین تھا۔ فروخت سراسر خلاف قانون تھی۔ وزارت خارجہ سے اجازت لی گئی نہ کوئی اشتہار دیا گیا۔ ضابطے کا کوئی ایک تقاضا بھی پورا نہ کیا گیا۔ مشتاق رضوی‘ جو فارن سروس آف پاکستان کے رکن تھے اور پیشہ ورانہ امور پر گہری نظر رکھتے تھے‘ وہیں تعینات تھے۔ ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انہوں نے وزارت خارجہ کو اس دھاندلی کی اطلاع دی۔ یہ ایک ایسا قصور تھا جس کی سزا مشتاق رضوی نے مرتے دم تک کاٹی۔ پاکستان پر قابض اُس وقت کے آمرِ مطلق نے اس معاملے میں چھ ظلم کیے۔ اول‘ سفیر نے قانون کی جو دھجیاں اُڑائی تھیں، اس سے چشم پوشی کی۔ دوم‘ اس خلاف قانون سودے سے ریاست کو جو مالی نقصان پہنچا، اس سے اغماض برتا کیونکہ فروخت اونے پونے داموں ہوئی تھی۔ سوم، مشتاق رضوی کو واپس بلا کر او ایس ڈی بنا دیا۔ چہارم، وزارت خارجہ سے نکال کر مشتاق کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ماتحت کر دیا‘ جس کی کوئی نظیر نہ تھی۔ پنجم‘ مشتاق رضوی کو آٹھ سال تک کسی تعیناتی، کسی دفتر کے بغیر رکھا یہاں تک کہ اسی بیچارگی اور کسمپرسی کے عالم میں وہ ریٹائر ہو گیا۔ آٹھ سال ! کہنا آسان ہے مگر تصور کیجیے چھیانوے ماہ تک بغیر کسی کام، بغیر کسی منصب اور بغیر کسی دفتر کے گزارنا‘ وہ بھی اتنی سنیارٹی کے ساتھ ! چھٹا ظلم یہ کیا کہ جرم کرنے والے سفیر کو نہ صرف یہ کہ وہیں رکھا بلکہ توسیع بھی دی۔
‎اب اس معاملے پر مٹی بھی ڈالنا تھی۔ اپنے دوست کو بچانا بھی تھا۔ اس کے لیے یہ حیلہ ایجاد کیا کہ تین افسروں کی ایک کمیٹی کو جکارتہ بھیجا گیا۔ کمیٹی نے واپس آ کر وہی کچھ کہا جو حکمران چاہتا تھا‘ یعنی یہ کہ قانون شکنی تو ہوئی مگر قیمت مناسب مل گئی اور یہ کہ اس سارے دھندے کی اب منظوری دے دی جائے۔
‎کمیٹی کی سفارشات فوراً منظور کر لی گئیں۔ اس کمیٹی کی حقیقت مشتاق رضوی کی بیوہ نے بیان کی۔ جب وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئیں تو انہوں نے بتایا کہ سہ رکنی کمیٹی کے سربراہ، اُس وقت کے سیکرٹری کابینہ نے نوکری میں توسیع کی خاطر سفیر کو بے گناہ قرار دیا۔
‎بے گناہ مشتاق رضوی آٹھ سال تک در بدر ہونے کے بعد اسی عالم میں ریٹائر ہوا۔ اس کے دو سال بعد دل کا دورہ پڑا اور اپنا مقدمہ لیے سب سے بڑی عدالت میں پیش ہو گیا‘ جہاں اب وہ بڑے ملزم، سابق حکمران کا انتظار کر رہا ہے۔ تین افسروں کی کمیٹی کا سربراہ ملازمت میں توسیع لینے میں کامیاب ہوا یا نہیں مگر زندگی میں توسیع نہ مل سکی‘ اور بڑی عدالت میں بلا لیا گیا۔ احتساب کرنے والوں نے مقدمہ سابق سفیر کے خلاف قائم کیا ہے۔ بجا ! مگر اصل مجرم تو سابق حکمران ہے جس نے دوست نوازی کرتے ہوئے پہلے اپنے دوست کو تعینات کیا پھر ناروا فروخت کو معاف کر دیا۔ پھر مشتاق رضوی کو اذیت میں رکھا اور ستم بالائے ستم یہ کیا کہ سفیر کی مدت ملازمت میں توسیع بھی کی۔
‎افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ بیوروکریٹس کی سہ رکنی کمیٹی میں سے کسی ایک کو بھی اختلافی نوٹ لکھنے کی ہمت ہوئی نہ توفیق۔ شاید اس لیے کہ مشتاق رضوی کی حق گوئی کا انجام ان کے سامنے تھا۔ مشتاق رضوی نے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا۔ حکم امتناعی بھی حاصل کیا۔ فائل تھوڑی سی چلی مگر آمریت اور دوست نوازی کے درشت پنجوں نے قاعدوں ، ضابطوں اور عدل و انصاف کو چیر پھاڑ کر رکھا ہوا تھا۔ کیسا تاریک دور تھا۔ کوئی کہتا تھا‘ وردی میری کھال ہے، کوئی دعویٰ کرتا تھا‘ وردی میں اتنی بار منتخب کرائیں گے۔ ہر شام ڈوبتا سورج فنا کا پیغام چھوڑ کر جاتا ہے مگر ہر اگلی صبح لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ چڑھتا سورج ہمیشہ رہے گا‘ حالانکہ یہ طے ہے کہ ع
‎کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے کچھ اپنی جزا لے جائیں گے

‎( اس تحریر کے لیے دو واقفانِ حال جناب جاوید حفیظ اور جناب زاہد سعید سے مشاورت کی گئی ہے )

بشکریہ روزنامہ دنیا 

……………

Tuesday, August 25, 2020

کیا یہ وہی ایبٹ آباد ہے ؟


چھیالیس برس سے ایبٹ آباد میں آنا جانا ہے۔ ہر کوچہ ‘ہر بازار ‘ ہر گوشہ جانا پہچانا ہے۔بچوں کی پرورش ایک لحاظ سے یہیں ہوئی۔ اب ان کے بچے بھی یہاں کے سبزہ زاروں ‘کوہساروں ‘رہگزاروں اور بازاروں سے شناسا ہیں۔ ایک ایسا شہر جو دامنِ دل پکڑ لے تو چھوڑتا نہیں۔ کئی بار یہاں بس جانے کا سوچا مگر آہ ! علائق جنہیں چھوڑا نہ جا سکا اور آہ ! زنجیریں جو توڑی نہ جا سکیں ! تاہم جب بھی دل پر یاس طاری ہوتی ہے پاؤں ایبٹ آباد کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔
غم ِغریبی و غربت چو بر نمی تابم
بشہرِ خود روم و شہریار خود باشم
غریب الوطنی کا غم جب برداشت سے باہر ہو جائے تو اس اپنے شہر میں آجاتا ہوں اور اپنا مالک خود ہو جاتا ہوں۔
ایبٹ آباد شہروں میں ایک شہر ہے۔کوہسار اس کے گرد فصیل باندھے کھڑے ہیں۔ہوا اس کی خنک ہے۔ فضا اس کی عطر بیز ہے۔ بادل اس کے بادل نہیں پانیوں سے بھرے مشکیزے ہیں جو پیاسوں کا امتحان نہیں لیتے۔ درخت اس کے سبز اور گھنیرے ہیں۔باشندے یہاں کے نرم خو اور کشادہ جبیں ہیں۔ بات کریں تو اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔مغربی حاشیے پر شملہ پہاڑی ہے جس پر ہائیکنگ بچوں اور بڑوں کے لیے یکساں سہل ہے۔ شمال مشرق میں ٹھنڈیانی ہے جو کوہ مری کی سگی دختر نیک اختر ہے۔ کیسی دل نواز چوٹی ہے! بادل آپ کے سینے سے لگ کر ماتھا چومتے ہوئے آگے گزرجاتے ہیں اور ارد گرد نمی چھوڑ جاتے ہیں۔ نمی! جس کا اصل مقام آنکھوں میں ہے۔
ایبٹ آباد گیٹ وے ہے۔ جو شمال کے دیاروں کی طرف کھلتا ہے۔ بلتستان کے تاکستانوں اور ہنزہ کے سیب زاروں کی طرف راستے یہیں سے جاتے ہیں۔ یہیں سے قافلے ختن کاشغر‘ بشکیک اور خجند روانہ ہوتے ہیں۔کوہ پیما دنیا بھر سے آتے ہیں اور ایبٹ آباد ہی سے ہو کر ان چوٹیوں کو سر کرنے نکلتے ہیں جو شہزادیوں کی طرح آسماں بوس فضاؤں میں کھڑی ہیں۔ آپ نے دیوسائی کے میدان میں ان پھولوں سے نظر بازی کرنی ہے جن کی عمر چند ہفتوں سے زیادہ نہیں ہوتی ‘ یا شِگر میں پولو کا میچ دیکھنا ہے ‘ ہاں وہی پولو جسے قطب الدین ایبک کے عہد میں چوگان کہتے تھے اور جسے کھیلتے ہوئے ایبک جان ہار بیٹھا اور انارکلی بازار کی ایک گلی میں اب بھی سو رہا ہے ‘ یا‘ خپلو میں رات کو چاندنی اور دریا کے ملاپ کا وہ منظر دیکھنا ہے جو آسمانی ہے اور دیو مالائی ہے اور ناقابل یقین ہے یا''نگر‘‘کے ان سبزہ زاروں سے ملاقات کرنی ہے جن کا مثیل سوئٹزرلینڈ سے لے کر الاسکا تک کہیں بھی نہیں ‘ غرض آپ نے جہاں بھی جانا ہے ‘ ایبٹ آباد کے بہشت زار سے معانقہ کر کے ہی جائیں گے۔
شام کی سیر ایبٹ آباد کا ارمغانِ خاص ہے۔ اس بار ایک مدت بعد بازار کا رخ کیا۔ جی پی او سے ذرا پہلے اب جہاں کمشنر ہزارہ ڈویژن کا دفتر ہے وہاں ایک زمانے میں پیلس ہوٹل تھا۔اُس وقت ہمارا سول سروس کا آغاز تھا۔ اس ہوٹل میں ٹھہرتے رہے۔ جی پی او سے پہلے ‘ جی پی او کی دیوار کے ساتھ ساتھ‘ دائیں طرف مڑ گیا... یہاں ایک بک شاپ ہوتی تھی۔ نظر نہ آئی تو آنکھوں پر دھوکے کا گمان ہوا۔ بار بار دکانوں کو دیکھا۔ بالآخر ایک تاجر سے پوچھا تو وہ مسکرایا۔ ''جناب! وہ بک شاپ تو منڈیاں کے علاقے کو سدھار چکی‘‘ ! یہ پہلا صدمہ تھا۔ کچھ دیر‘ دم بخود‘ وہیں کھڑا رہا اور اس وحشت اثر خبر کو ہضم کرنے کی اپنی سی کوشش کرتا رہا۔سینکڑوں بار اس بک شاپ میں جانا ہوا ہو گا۔ اب وہاں جوتے تھے یا شاید ملبوسات! کونے سے بائیں طرف مڑ گیا۔سامنے جناح روڈ تھی۔دائیں کونے پر ایک دومنزلہ ریستوران ہوا کرتا تھا۔ شاید اس کا نام کاغان ریستوران تھا۔اس کی روٹیاں توے کی ہوتی تھیں۔ بڑی بڑی‘ اور خوب پتلی جو بچوں کو کبھی نہیں بھولیں۔ یا وحشت ! وہ ریستوران کہاں گیا؟ وہاں ایک بیکری منہ چڑا رہی تھی۔اندر جا کر یوں پوچھا جیسے گم شدہ ریستوران اپنا ہی تھا۔ بتایا گیا وہ ختم ہو چکا۔یہ دوسرا صدمہ تھا۔
جناح روڈ پر بائیں طرف مڑ گیا۔ مڑتے ہی آپ کو چند دکانیں نظر آتی ہیں۔ ان دکانوں کے فوراً بعد ایم ای ایس کا انسپیکشن بنگلہ ہے۔ یاد کی سوکھی جلد پر ایک خراش ابھری۔ چالیس پینتالیس سال پہلے یہاں بھی کتابوں کی ایک دکان تھی۔کتابیں یہاں سے بارہا خود ہی ایک ایک الماری چھان کر ڈھونڈیں۔یہیں سے ہیمنگوے کے'' اولڈ مین اینڈ دی سی‘‘ کا ترجمہ ہاتھ آیا تھا۔ صفیہ کے خطوط جاں نثار اختر کے نام ''زیر لب‘‘بھی یہیں سے خریدے تھے۔ آسکر وائلڈ کا طویل محبت نامہ ''ڈی پروفنڈس ‘‘ بھی یہیں ہاتھ لگا۔ اور یہیں ایبٹ آباد ہی میں پڑھ ڈالا۔ چلتا گیا۔ انسپیکشن بنگلے سے آگے بڑھا۔ دائیں طرف پبلک پارک تھا۔ ہجوم اورریڑھیوں پر چاٹ بیچنے ولے سماجی فاصلے کے ساتھ وہی سلوک کر رہے تھے جو چنگیز خان مفتوحہ علاقوں کے ساتھ کرتا تھا۔ اب مجھے '' مونا لیزا‘‘ کی تلاش تھی جو اسی سڑک پر بائیں طرف واقع تھا۔ ایک ایسا ریستوران جو ایبٹ آباد کی شناخت تھا۔جو ہر مسافر اور ہر سیاح کی پناہ گاہ تھا۔ عین شاہراہ کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے یہ ہر ایک کا فطری انتخاب تھا۔اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے آگے نکل گیا۔ پھر واپس آیا مگر یہ عجیب معمہ تھا کہ مونا لیزا ریستوران غائب تھا۔ اب وہاں کچھ اور تھا جو معلوم نہیں کیا تھا۔یہ تیسرا صدمہ تھا۔ آہ ! مونا لیزا ریستوران جو ایبٹ آباد کا جزو لاینفک تھا۔بہت بڑا لینڈ مارک۔ بہت بڑا نشان۔ پرانے وقتوں کا رفیق۔
یہ ایبٹ آباد‘ وہ ایبٹ آباد نہیں جس سے ہم نے محبت کی تھی۔ جو ہمیں پناہ دیتا تھا۔جہاں ہم جون جولائی میں سویٹروں کے ساتھ آتے تھے۔ اب صورت حال ہولناک ہے۔ گاڑیوں کی تعداد روزافزوں ہے۔ کراچی سے لے کر پشاور تک کے اور فیصل آباد سے لے کر لاہور تک کے لوگ یہاں آباد ہو چکے۔رہی سہی کسر غیرملکیوں نے پوری کردی جو واپس جانے کا نام نہیں لے رہے۔پہاڑ کھود دیے گئے ہیں۔ درخت کاٹ دیے گئے ہیں۔ ہر طرف مکان ‘ مکان اور مکان ہی دکھائی دیتے ہیں۔ آبادی مانسہرہ کو چھورہی ہے۔ وہ جو درمیان میں منظر تھے اور وادیاں ‘ مٹا دی گئی ہیں۔ سب سے زیادہ قلق ان پہاڑوں اور پہاڑیوں کا ہے جو انسان کی جُوع الارض کا شکار ہو رہی ہیں۔ کاش کوئی پابندی ہوتی! کاش کوئی ضابطہ‘ کوئی قانون ہوتا۔ کوئی پوچھنے والا ہوتا۔ پلاننگ ہے نہ پروگرامنگ! جنگلی حیات موت کے منہ میں دھکیلی جا رہی ہے۔ جو کبھی ہل سٹیشن تھا اب محض ایک سٹیشن رہ گیا ہے۔ کہاں وہ وقت کہ پنکھوں کی ضرورت نہ تھی کہاں یہ قیامت کا عالم کہ ایئر کنڈیشنر چل رہے ہیں۔ اگر صوبے میں کوئی حکومت ہے اور اگر ایبٹ آباد کا کوئی والی وارث ہے تو فوراً سے پیشتر تین کام کرنے چاہئیں ‘اول: مزید آبادکاروں پر پابندی لگادینی چاہیے۔ دوم: غیر ملکیوں کو شہر سے نکال دینا چاہیے خواہ اس کام میں زور لگے یا زر۔ سوم: درخت کاٹنے اور پہاڑ کھودنے پر عبرتناک سزا دینی چاہیے۔
اور آخری بات... ہزارہ نے الگ صوبہ بننا ہی بننا ہے۔ اسے مؤخر تو کیا جا سکتا ہے‘ روکا نہیں جا سکتا۔ اس لیے کہ وقت کے دھارے کے آگے جو بھی کھڑا ہو گا وقت اسے بہا لے جائے گا۔ جب بھی صوبہ بنے ‘ ایبٹ آباد کو صوبائی دارالحکومت نہیں بننا چاہیے۔ مزید آبادی اور مزید عمارتوں کا بوجھ اسے کراچی بنا دے گا۔ بہترین انتخاب صوبائی ہیڈ کوارٹر کے لیے شنکیاری ہو گا یا اس کے نواح میں کوئی نیا قریہ ! 

ایبٹ آباد سے محبت کرنے والوں کو ایبٹ آباد بچانے کے لیے اب کچھ کرنا ہی ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ  دنیا

Monday, August 24, 2020

دوسال



''ترقی سڑکوں اور پلوں کا نام نہیں‘‘
یہ عظیم اخلاقی سبق ہمیں دیا جاتا رہا؛ چنانچہ جب سبق دینے والوں کو اختیار ملا تو سڑکوں اور پلوں کے منصوبے روک دیے گئے۔ باقی ملک کی طرح وفاقی دارالحکومت میں بھی ہر پروجیکٹ پر فل سٹاپ لگ گیا۔ دو ایسے منصوبوں پر کام ہو رہا تھا جو نہ صرف دارالحکومت کے مکینوں کے لیے بلکہ پورے ملک کے ان لوگوں کے لیے بھی بے حد ضروری تھے جو دارالحکومت تک کا سفر کرتے ہیں۔ ایکسپریس وے جی ٹی روڈ کو اسلام آباد سے ملاتی ہے‘ اور قبل از تاریخ کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ اس شکستہ عبرت ناک شاہراہ کی تہذیب اور تعمیر کے لیے گزشتہ حکومت نے دس ارب کی جو رقم مخصوص کی تھی، یہ واپس لے لی گئی۔ جہلم چکوال، گوجر خان سے لے کر روات تک اور پھر خود اس شاہراہ کے کناروں پر آباد لاکھوں افراد ہر روز ایک ناقابل بیان اذیت سے گزرتے ہیں۔ جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دیتے ہیں۔ جنہوں نے ووٹ دیا تھا وہ اپنے آپ کو کوستے ہیں۔ شنوائی کوئی نہیں۔ چیف کمشنر صاحب کسی کا فون نہیں سنتے۔ متاثرہ فریادی پورٹل کو بھی آزما بیٹھے۔ معلوم ہوا سب مایا ہے۔
دوسرا نشانہ ایئر پورٹ کی میٹرو بس کا منصوبہ بنا۔ بیشتر حصہ بن چکا تھا۔ اسے جہاں تھا‘ جیسے تھا کی بنیاد پر روک دیا گیا۔
مان لیا ''ترقی سڑکوں اور پلوں کا نام نہیں‘‘ ترقی اقدار سے ہوتی ہے۔ اصولوں پر کاربند رہنے سے ہوتی ہے۔ اہلیت کی سرپرستی سے ہوتی ہے۔ میرٹ کی پذیرائی سے ہوتی ہے۔ کرپشن کے استیصال سے ہوتی ہے۔ ایفائے عہد اور صدق مقال ترقی کی بنیاد ہے۔ بجا فرمایا۔ یہی اصل ترقی ہے۔ یہ ہو جائے تو اقتصادی ترقی اس کا لازمی اور منطقی نتیجہ ہے۔ سیاسی استحکام بھی اسی کا ثمر ہے۔ مگر کیا یہ ہو رہا ہے؟
افسوس صد افسوس! ان میں سے کچھ بھی نہیں ہو رہا! جنہوں نے امیدیں باندھی تھیں، ووٹ دیے تھے، خواب دیکھے تھے، مباحثے اور جھگڑے کیے تھے، احباب اور اعزہ کو نا خوش کیا تھا وہ اب ندامت کے گرداب میں غوطے کھا رہے ہیں اور زبان حال سے بقول فراق یوں کہتے پائے جا رہے ہیں:
تو پھر کیا عشق دنیا میں کہیں کا بھی نہ رہ جائے
زمانے سے لڑائی مول لے، تجھ سے برا بھی ہو
سورج کی روشنی سے زیادہ صاف نظر آ رہا ہے کہ وعدے تار تار کئے گئے ہیں۔ جو کچھ کہا گیا اس کے عین الٹ کیا گیا۔ میرٹ کی بات لے لیجیے۔ میرٹ کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ روئے زمین پر کوئی ایسا شخص ہے جو یہ کہہ سکے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا انتخاب میرٹ پر کیا گیا ہے یا یہ دعویٰ کر سکے کہ یہ تعیناتی اہلیت کی بنیاد پر ہوئی ہے؟؟ ہاں جنہیں کچھ مل رہا ہے کہ گن گائیں‘ وہ ضرور گائیں گے۔ ریاست مدینہ کا تذکرہ شب و روز ہوتا ہے۔ ریاست مدینہ کا تو بنیادی اصول ہی یہ تھا کہ امانتیں ان کے سپرد کرو جو اہل ہیں۔ظلم کی تعریف ہی یہ ہے کہ کسی شے کو وہاں رکھنا جو اس کی جگہ نہ ہو۔ یہ انتخاب‘ یہ تعیناتی ایک ایسا عمل ہے کہ جس کا جواز ڈھونڈنے کا تصور ہی مضحکہ خیز ہے۔
یہ کون سا میرٹ ہے کہ پنجاب میں ایک ''آرام دہ‘‘ اسامی خالی ہوتی ہے۔ وفاق میں ایک بیورو کریٹ کو ایک سال پہلے ریٹائر کر دیا جاتا ہے۔ اس ریٹائرمنٹ کی منظوری خود وزیر اعظم دیتے ہیں۔ پھر اسے فوراً پنجاب کی اس آرام دہ پوسٹ پر لگا دیا جاتا ہے تا کہ وہ وہاں چار سال تک افسری کر سکے۔ اسی سطح کے جو افسر انہی دنوں ریٹائر ہوئے کیا وہ اس قابل نہ تھے؟ کیا یہ میرٹ ہے؟ یا کسی کو فائدہ پہنچانے کی میرٹ کُش تدبیر؟ کوئی ہے جو جواز پیش کرے؟
کیا یہ قوم کی توہین نہیں کہ پہلے یہ کہا جائے کہ بجلی کے ہر بل میں پی ٹی وی کے لیے پینتیس روپے غلط کاٹے جا رہے ہیں۔ ''پاکستانیو! ہر مہینے آپ کے بل سے پی ٹی وی کے لیے، 35 روپے کٹتے ہیں اور ہر سال دس ارب روپیہ پی ٹی وی کو آپ دیتے ہیں۔ ہم دیتے ہیں۔ میں پی ٹی وی سے پوچھتا ہوں اور پی ٹی وی کا جو ایم ڈی ہے اس سے پوچھتا ہوں کہ آپ کو شرم نہیں آتی‘‘ تو پھر دو سال ہو گئے یہ ناروا بھتہ کیوں نہیں ختم کیا گیا؟
پوری قوم کو ٹی وی کے ذریعے وزیر اعظم خود، بنفس نفیس، بتاتے ہیں کہ پنجاب میں ناصر درانی کو لگایا جا رہا ہے تا کہ پولیس کو پوتر کیا جا سکے۔ ناصر درانی فائز ہوتے ہیں۔ ایک ہفتے کے بعد ہٹ جاتے ہیں یا ہٹا دیے جاتے ہیں۔ دو سال ہونے کو ہیں وزیر اعظم قوم کو نہیں بتا رہے کہ کیا ہوا؟ پنجاب میں پولیس ریفارمز ایک انچ کے ہزارویں حصے کے برابر بھی نہیں ہوئیں۔ تحصیل، کچہری، پٹوار خانے میں بھی رشوت اسی طرح لی جا رہی ہے جس طرح پہلے ادوار میں لی جاتی تھی۔
دوست نوازی کا پیڑ بھی اسی طرح کھڑا ہے۔ مضبوط تنے کے ساتھ۔ چھتری کی طرح سایہ فگن۔ پیدائش باہر کی۔ زندگی کی ساری برساتیں وہیں گزاریں۔ بینک بیلنس، جائیدادیں، گوشوارے، سب باہر۔ اب پاکستانی قوم کو یہ حضرات حکومت کی پالیسیاں بتاتے ہیں۔ ٹیلی ویژن چینلوں پر جلوہ فگن ہو کر حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں! کس حیثیت میں؟
کیا ووٹوں سے یہ نمائندگی حاصل ہوئی ہے؟ نہیں! واحد سند جو دامن میں ہے دوستی ہے! قوی ہیکل اہم ادارے، عظیم الشان محکمے ان کی تحویل میں ہیں صرف اس لیے کہ شاہ کے مصاحب ہیں! کرونی ازم زندہ باد!!
بیورو کریسی منہ زور ہے بالکل اسی طرح جیسے تھی۔ آئے دن پردوں کے پیچھے سے چھن چھن کر خبریں باہر نکلتی ہیں کہ فلاں وزیر کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی، فلاں کو لائن حاضر کیا گیا۔ اہلکار اور چوبدار مالک بنے ہوئے ہیں اور وہ جو انتخابات جیت کر آئے ہیں بے یار و مدد گار، خوار، پھر رہے ہیں۔ حافظ شیرازی نے کہا تھا کہ حمقا گلاب اور قند کا شربت پی رہے ہیں اور وہ جو دانا ہیں، ان کا گزر بسر خون جگر پر ہے۔ گھوڑوں سے گدھوں کا سا سلوک ہو رہا ہے۔ رہے گدھے تو مزے کر رہے ہیں۔ بقول حافظ، ان کی گردنوں میں سنہری پٹے ہیں۔
جس ہڑپ کی گئی دولت کا شور تھا اس کی ایک دمڑی بھی واپس خزانے میں نہیں آئی۔ گرانی آسمان کو چھو رہی ہے۔ پٹرول سے لے کر چینی تک ہر طرف آہ و بکا ہے۔ سبز پاسپورٹ کی رینکنگ آج بھی وہی ہے جو تھی۔ کرنسی پہلے سے زیادہ خوار و زبوں ہے۔ ایک ڈالر ایک سو اڑسٹھ روپے میں مل رہا ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار !
قومی ایئر لائنز اور سٹیل ملز جیسے ہاتھی پہلے ہی کی طرح قومی خزانے کو چوس رہے ہیں۔ یونینوں نے ماضی ہی کی طرح اداروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہیں نجی شعبے میں لائے بغیر چارہ نہیں۔ ایسے جرأت مندانہ اقدامات کرنے والا کوئی آئے گا تو تبھی صورت احوال بدلے گی۔ قدیم ترین سرداری نظام کو، جو اس ملک میں پایا جاتا ہے ہاتھ وہی ڈالے گا جو کرونی ازم اور میرٹ کُشی کے بجائے بے غرضی کو اپنائے گا۔ اقبال نے کہا تھا:
می رسد مردی کہ زنجیر غلاماں بشکند
دیدہ ام از روزن دیوار زندان شما
میں تمہارے زنداں کی دیوار کے سوراخ سے دیکھ رہا ہوں کہ غلاموں کی زنجیر توڑنے والا آیا چاہتا ہے۔ قائد اعظم آئے اور ایسا ہی ہوا جیسا اقبال نے کہا تھا۔ ایک بار پھر کسی کے آنے کا انتظار کرنا ہو گا۔

Thursday, August 20, 2020

…ہم اس کے، وہ اور کسی کا


نسیم صاحب کے مالی حالات قابل رشک نہیں تھے۔ بچوں کے مستقبل کے حوالے سے پریشان رہتے۔ ذاتی مکان بھی نہیں تھا۔ انہی دنوں ان کا ایک قریبی دوست ہجرت کر کے لندن جا آباد ہوا۔ پاؤں جم گئے تو اس نے نسیم صاحب کو بھی ہجرت کرنے کا کہا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہم لڑکپن میں تھے اور یورپی ملکوں کے لیے امیگریشن ویزے اور وہاں نوکری کا حصول اتنا مشکل نہ تھا۔ نسیم صاحب کی مالی مشکلات کے پیش نظر یہ ایک زبردست موقع تھا۔ گھر والے بھی خوش تھے‘ مگر نسیم صاحب نے اپنے دوست کی پیشکش ٹھکرا دی۔ وجہ انکار کی انہوں نے یہ بتائی کہ جب تک ان کے ماں باپ حیات ہیں وہ ملک سے باہر نہیں جائیں گے۔ بیوی نے دلیل دی کہ اب بھی رہتے تو والدین کے ساتھ نہیں ہیں‘ وہ گاؤں میں ہیں اور آپ شہر میں۔ نسیم صاحب کا جواب تھا کہ جب بھی ان کا جی ماں باپ کو ملنے کے لیے کرتا ہے یا جب بھی ماں باپ کو ان کی ضرورت پڑتی ہے وہ تین گھنٹوں میں ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں‘ لندن سے وہ اس قدر جلد اور اس قدر سہولت کے ساتھ نہیں آسکیں گے۔
ماں باپ کی قربت نسیم صاحب کی پالیسی کا مرکزی ستون تھی۔ ہر شخص کی ایک پالیسی ہوتی ہے جس کے ارد گرد اس کی زندگی کے اہم فیصلے گھومتے ہیں۔ کوئی بچوں کی اعلیٰ تعلیم کی خاطر بیرون ملک چلا جاتا ہے۔ کوئی اپنے ماں باپ یا آبائی گاؤں کو کسی حال میں نہیں چھوڑ نا چاہتا۔ کچھ نوجوان سی ایس ایس کے امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد فارن سروس سے گریز کرتے ہیں کہ روز روز کی خانہ بدوشی سے بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ ایک پکا مسلمان جب بزنس کرے گا تو اس کی بنیادی پالیسی دیانت ہوگی اور اکل حلال۔ ایک کٹر ہندو گوشت کا کاروبار کبھی نہیں کرے گا‘ یہ اس کے کاروبار کی پالیسی ہے۔
افراد کی طرح ملکوں کی پالیسی کا بھی ایک مرکزی ستون ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں امریکہ کی پالیسی کمیونزم کے استیصال کے گرد گھومتی تھی۔ پھر کمیونزم کی جگہ سیاسی اسلام اور پھر عسکری اسلام نے لے لی۔ جنوبی اور شمالی کوریا اپنی پالیسیاں ایک دوسرے کو دیکھ کر، ٹوہ کر، تشکیل دیتے ہیں۔ شرقِ اوسط کی عرب ریاستوں کی پالیسی کا مرکزی نکتہ پہلے اسرائیل تھا۔ انقلاب ایران کے بعد آہستہ آہستہ ان کی ترجیحات بدلنا شروع ہوئیں۔ عراق، شام اور پھر یمن میں غیر ملکی مداخلتوں نے ان کی پالیسیوں کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا۔ اب ان کی پالیسی کا فیصلہ کن حوالہ ایران اور ایران کی پالیسیاں ہیں۔
جب سے یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ہوا ہے، پاکستان میں ایک نئی بحث چل پڑی ہے۔ یوں بھی ہم کوئی نہ کوئی باہمی باعث نزاع ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ بقول غالب
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی
ہر شخص کی زبان پر یا دل میں یہ منطقی سوال ابھر رہا ہے کہ یو اے ای کے اس اقدام کے بعد پاکستان کے لیے لائحۂ عمل کیا ہو گا۔ ایک گروہ کا موقف ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس سے تعلقات قائم کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ دوسرا گروہ عرب ملکوں کی مثال دے کر عملیت پسندی کی تلقین کرتا ہے‘ اور تسلیم کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دونوں گروہ پاکستان کے نقطۂ نظر سے بات نہیں کر رہے۔ جو تسلیم نہ کرنے کا کہہ رہے ہیں وہ یہ سٹینڈ مسلم اُمّہ کے لیے لے رہے ہیں۔ دوسرا گروپ تسلیم کرنے کا اس لیے پرچار کر رہا ہے کہ عرب ممالک ایسا کر رہے ہیں۔
معاملے کا ایک تیسرا پہلو بھی ہے اور وہ ہے پاکستان کا اپنا مفاد اور اپنی پالیسی۔ یہاں ہم امت کی بات اس لیے نہیں کر رہے کہ پاکستان کی شہ رگ کشمیر کے سلسلے میں امت کے ایک کثیر حصے نے (دو تین ملکوں کو چھوڑ کر) کوئی مدد نہیں کی۔ کوئی پسند کرے یا نہ کرے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ستون کشمیر اور کشمیر سے بھی زیادہ وہ دشمنی ہے جو پاکستان کے لیے بھارت کے دل کی گہرائیوں میں اور دل تک خون لے جانے والی ایک ایک رگ میں اور دل سے خون واپس لانے والی ایک ایک ورید میں اور ہڈیوں میں اور ہڈیوں کے اندر گودے میں بھری ہوئی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دو بلاک وجود میں آ چکے ہیں۔ اس وقت یہ وجود دھند میں لپٹے ہوئے ہیں مگر مستقبل میں ان کی صورتیں واضح تر ہو سکتی ہیں۔ ایران ترکی اور چین ایک طرف ہیں۔ اسرائیل اور بھارت کا اتحاد ہمیشہ سے مضبوط تھا۔ اب اس اتحاد میں عرب طاقتیں بھی شامل ہو رہی ہیں۔ پاکستان کسی ایسے اتحاد یا بلاک میں شمولیت اختیار نہیں کر سکتا جس میں بھارت موجود ہو۔ حال ہی میں ایران اور چین کے درمیان قربتیں بڑھی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان ایک طویل المیعاد اقتصادی معاہدے کا امکان روشن ہو رہا ہے۔ دوسری طرف ایران اور بھارت کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے۔ امریکہ نے جو پابندیاں (sanctions)ایران پر لگائی ہیں بھارت ان کی خلاف ورزی کی ہمت نہیں کر سکتا۔ یوں چاہ بہار کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ رہا ہے۔ ایران کو یہ بھی احساس ہے کہ بھارت یو اے ای اور سعودی عرب کے بہت نزدیک ہے۔ ایشیا ٹائمز نے اپنی حالیہ اشاعت میں صاف کہا ہے کہ ایران کے کچھ تجزیہ کار ایک سہ فریقی علاقائی بلاک وجود میں آتا دیکھ رہے ہیں جو چین پاکستان اور ایران پر مشتمل ہو گا اور جس سے بھارت کو جیو سٹریٹجک دھچکا لگ سکتا ہے۔
پاکستان کسی دوسرے ملک کا پیروکار نہیں کہ دوسروں کی دیکھا دیکھی اسرائیل کو تسلیم کر لے۔ اگر پاکستان کے مفاد میں ہے کہ تسلیم کیا جائے تو یہ ایک آزادانہ فیصلہ ہو گا۔ اور اگر اسرائیل کی قربت پاکستان کے مفاد میں نہیں تو بے شک سارا شرقِ اوسط اسرائیل کو تسلیم کر لے، پاکستان نہیں تسلیم کرے گا۔ اس لیے کہ اسرائیل اور ہمارے مشرقِ وسطیٰ کے بھائی، دونوں، بھارت کے قریبی دوست ہیں۔ پاکستان کشمیر اور بھارتی مسلمانوں کو پس پشت ڈال کر کسی بھی ایسے اتحاد میں شامل نہیں ہو سکتا جہاں بھارت پہلے ہی ایک نمایاں حیثیت کا مالک ہے۔
بر صغیر کے مسلمانوں کے ساتھ پاکستان کی قسمت بندھی ہوئی ہے۔ یہ مسلمان خواہ بھارت میں ہیں یا بنگلہ دیش میں، ہماری پالیسیوں کے لیے اہم ہیں۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان حائل برف بھی پگھلنا شروع ہو چکی ہے۔ ڈھاکہ میں تعینات پاکستانی سفیر نے وہاں کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی ہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد صاحبہ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔ بھارت جو سلوک آسامی مسلمانوں اور بنگلہ دیش سے گئے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے اس سے بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان دوریاں پیدا ہوئی ہیں۔ ہمارے عرب بھائیوں نے جو بے نیازی بھارتی مسلمانوں کی حالت زار پر اور مودی کی مسلم دشمنی پر دکھائی ہے اس سے بر صغیر کے مسلمانوں کے دل پر گہرا گھاؤ لگا ہے۔ دوسری طرف ایرانی حکومت نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف برپا کیے گئے منظم فسادات پر گہری تشویش کا برملا اظہار کیا۔
عرب ملکوں کے اپنے مفادات ہیں‘ اور پاکستان کے اپنے۔ حجاز میں واقع مقدس مقامات کے دفاع کے لیے ہماری جانیں حاضر ہیں مگر جہاں تک سیاسی حرکیات کا تعلق ہے پاکستان کسی بھی دوسرے ملک یا ملکوں کی تقلیدِ محض نہیں کر سکتا۔ ظفر اقبال کے بقول
ہم اس کے، وہ اور کسی کا، پکی پختہ ڈوری
اپنا دل، اپنا مذہب، کیا جھگڑا چوں چنوں کا

Tuesday, August 18, 2020

ہمیں عینک بدلنا ہو گی


متحدہ عرب امارات ملک کے بجائے انسان ہوتا اور شعر اس کا شعار ہوتا تو ضرور کہتا؎
غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا
ہماراالمیہ یہ ہے کہ ہم ساری دنیا کو اپنی عینک سے دیکھتے ہیں۔عینک ہماری پرانی ہو چکی۔ کمانیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ ان کمانیوں پر جذبات کی دھجیاں لپیٹ رکھی ہیں۔ شیشوں کے نمبر کئی عشروں سے تبدیل نہیں ہوئے۔ ان فرسودہ نمبروں والے شیشوں سے ہمیں ہر شے دھندلی دکھائی دیتی ہے۔ پھر ستم بالائے ستم یہ کہ دونوں شیشوں کے نمبر ایک دوسرے سے بھی نہیں ملتے۔ کبھی ہم عینک کو نیچے سرکا کر‘ اُوپر سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی بڈھے بابوں کی طرح ایک شیشے کو ہتھیلی سے ڈھانپ کر ایک آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں جو کچھ دنیا کو نظر آرہا ہوتا ہے ہم نہیں دیکھ پاتے۔ اور جو ‘ اپنی دانست میں ‘ ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں ‘ اصل منظر سے مختلف ہوتا ہے۔ ہمیں پورا حق ہے کہ یو اے ای اور اسرائیل کے معاہدے کو اپنے نقطۂ نظر سے دیکھیں اور جانچیں مگر حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ یو اے ای کے نقطۂ نظر سے بھی دیکھیں۔ اسی طرح ایران اور ترکی کے موقف بھی ‘ ان دونوں ملکوں کی عینک سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ایرانی انقلاب سے پہلے بھی خلیج کے ملکوں اور ایران کے درمیان سرد جنگ موجود تھی۔ 1971ء میں جب برطانیہ بوریا بستر سمیٹ کر آبنائے ہرمز سے واپس جا رہا تھا تو ایران نے ابو موسیٰ ‘ طنب اکبر اور طنب اصغر کے جزائر پر قبضہ کر لیا۔ ان پر یو اے ای کا بھی دعویٰ تھا۔ دونوں ملکوں کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔
ایرانی انقلاب کے بعد اس جغرافیائی جھگڑے میں نظریاتی پہلو بھی شامل ہو گیا اور سکیورٹی کا ایشو بھی۔ایران نے لگی لپٹی رکھے بغیر انقلاب کے آغاز ہی سے پوری دنیا پر واضح کر دیا تھا کہ وہ انقلاب کو برآمد کرے گا۔ خود امام خمینی نے کئی بار اس کا ذکر کیا۔ ان کے بعد بھی نمایاں ایرانی رہنماؤں نے انقلاب برآمد کرنے کا عندیہ ہمیشہ دیا۔ ہاشمی رفسنجانی نے جو اُس وقت مجلس کے سپیکر تھے23 ستمبر 1983 ء کو کہا '' ہمارا ایک مشن انقلاب کی بر آمد ہے۔اگر ہم نے انقلاب عراق کو برآمد کیا ہے تو یہ بالکل نارمل ہے ‘‘۔
ایران کی القدس فورس اسی سلسلے میں اپنے فرائض انجام دیتی ہے۔ اور حماس ‘ حزب اللہ ‘ حوثی قبائل اورشام و عراق کی ہم مسلک ملیشیا کی مدد کرتی ہے۔
جنرل قاسم سلیمانی نے اس ضمن میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ وہ ایرانی عزائم کا برملا اظہار کیا کرتے تھے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ انقلاب مشرقِ وسطیٰ سے آگے بڑھ کر شمالی افریقہ تک جائے گا۔ واضح رہے کہ شمالی افریقہ میں مصر‘ لیبیا‘ تیونس الجزائر اور مراکش واقع ہیں۔ 2008 ء میں جب جنرل ڈیوڈ پیٹریاس عراق میں امریکی افواج کا کمانڈر تھا تو جنرل سلیمانی نے اسے پیغام بھیجا کہ'' تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں جنرل قاسم سلیمانی‘عراق‘ لبنان ‘ غزہ اور افغانستان کے حوالے سے ایران کی پالیسیوں کو کنٹرول کرتا ہوں‘‘۔
عراق اور شام کی اندرونی خانہ جنگیوں میں ایران کی شمولیت اور کردار ڈھکا چھپا نہیں ہے نہ ہی ایرانی حکومت نے کبھی اس پر پردہ ڈالنے کی ضرورت محسوس کی۔ 2015 ء میں جنرل قاسم سلیمانی ماسکو گئے جس کے بعد شام میں ایرانی اور روسی اتحاد نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
سچ یہ ہے کہ حوثی قبائل کی یورش اور شورش کے بعد عرب طاقتیں ایک لحاظ سے خوفزدہ اور ایک لحاظ سے چوکس ہو گئیں۔ عربوں کی مین لینڈ یعنی قلب میں بھی کئی واقعات مسلکی اقلیتوں کے حوالے سے رونما ہوئے۔ اگر یہ کہا جائے کہ حالات نے یو اے ای کو اسرائیل کے ساتھ اس معاہدے کے لیے مجبور کیاہے تو اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں۔ عربوں کی دلیل یہ ہے کہ جو کچھ یمن میں ہوا وہ کل کسی اور عرب ملک میں بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کے فیکٹر سے ہٹ کر ‘ دیگر عوامل پر غور کیا جائے تب بھی یو اے ای کے رویے یا اندازِ فکر کوسمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آنی چاہیے۔ یو اے ای کوئی مذہبی یا نظریاتی ریاست نہیں۔ یہ ایک سیکولر ملک ہے۔ سیکولر کا لفظ ہم یہاں کاسموپولیٹن کے معنی میں استعمال کر رہے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر مسلمان سے زیادہ ایک عرب ملک ہے۔ دنیا بھر کی قومیتیں یہاں کام بھی کر رہی ہیں اور رہ بھی رہی ہیں۔ دبئی میں ہر تیسرا فرد بھارت سے آیا ہوا ہے۔ فلسطینی کاز سے یو اے ای کی کوئی جذباتی یا نظریاتی وابستگی نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو یو اے ای کا رویہ بھارت سے اتنا قریبی نہ ہوتا۔ بھارت میں یو اے ای نے بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ تعلقات قریبی نہیں بلکہ انتہائی قریبی ہیں۔ ماضی قریب میں ایک بہت بڑے مندر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ حالانکہ بھارت جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے اور جو قیامت کشمیریوں پر ڈھا رہا ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اسرائیل کے ساتھ جو معاہدہ ہوا ہے اسے اسی پس منظر میں دیکھئے تو سارا مسئلہ صاف اور واضح طور پر دکھائی دینے لگتا ہے۔
خاندانی بادشاہتوں کے نقطۂ نظر سے معاملے کا جائزہ لیں تب بھی یہ معاہدہ یو اے ای جیسے ملکوں کا فطری آپشن ہے۔ شاہ ایران کا عبرتناک انجام ان ملکوں کے لیے خطرے کی گھنٹی تھا۔ پھر عرب بہار نے مزید خطرات دکھائے۔ اسی پس منظر میں ان ملکوں نے مصر میں اخوان حکومت کے خاتمے کے لیے سرگرم کردار اداکیا۔ حزب اللہ ‘ حماس اور اخوان جیسے نان سٹیٹ ایکٹر ان ملکوں کے لیے نیک شگون نہیں۔اپنے مستقبل کو محفوظ کرنے اور خطرات سے بچانے کے لیے ایک فرد یا ریاست یا بادشاہت کسی حد تک بھی جا سکتی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ ہاتھ ملانے سے ان ملکوں کو ایک طرف ایران کی انقلاب برآمد کرنے کی پالیسی کے خلاف مدد ملے گی دوسری طرف خطرے کی گھنٹی بجانے والے نان سٹیٹ ایکٹرز کے حوالے سے ایک مشترکہ پالیسی بنانے کا موقع ملے گا۔
صرف شرق ِاوسط ہی میں نہیں ‘ دنیا بھر میں سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ہانگ کانگ کو دیکھ لیجیے۔ چین اس پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے۔ امریکہ میں سیہ فام اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ترکی پر مسلط کیا ہوا سو سالہ ظالمانہ معاہدہ دن بدن اپنی موت سے قریب ہو رہا ہے اور مغرب اضطراب کی حالت میں انتظار کر رہا ہے کہ
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے نکلتا ہے کیا
گنبدِ نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا
امریکہ میں ڈیمو کریٹک پارٹی نے جو بائیڈن کے ساتھ نائب صدر کے طور پر کمالہ حارث کو نامزد کیا ہے جس کی ماں بھارتی تامل اور باپ جمیکا کا سیہ فام تھا۔ ہر لحظہ رنگ بدلتی دنیا میں عرب اسرائیل قربت اچنبھے کا باعث نہیں ہونی چاہیے۔
خود عرب دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے چند برس پہلے اس کا تصور بھی محال تھا۔ قطر کو سائڈ لائن کر دیا گیا ہے۔ رد ِعمل میں اس کا جھکاؤ ترکی اور ایران کی طرف ہو رہا ہے۔ سعودی عرب میں معاشرتی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔ خواتین گاڑیاں ڈرائیو کر رہی ہیں۔ ان پر عائد سفر کی پابندیاں نرم کر دی گئی ہیں۔ بر صغیر میں بنگلہ دیش اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ صراحی سے قطرہ قطرہ نئے واقعات ٹپک رہے ہیں۔ انہونی ہو رہی ہے۔ اقبال کہہ گئے ہیں۔ع
جو تھا‘ نہیں ہے‘ جو ہے ‘ نہ ہوگا ‘ یہی ہے اک حرفِ محرمانہ !

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, August 17, 2020

……نہ بھائی! ہماری تو قدرت نہیں


جب سے یہ تحریر نظر سے گزری ہے دماغ شل ہو رہا ہے۔ ہاتھ پیر کانپ رہے ہیں۔ ذاتی پسند کے امرا کو گلوری فائی کرنے کے لیے اب ہم اپنے قومی ہیروز کی تنقیص اور تضحیک پر اتر آئے ہیں۔ بار بار یہ شعر زبان پر آرہا ہے:
بسی نادیدنی را دیدہ ام من
مرا ای کاشکی مادر نہ زادی
کہ کیا کچھ دیکھنا پڑ رہا ہے‘ اس سے بہتر تھا پیدا ہی نہ ہوتے
ہمارے ایک دوست نے دعویٰ کیا ہے کہ علامہ اقبال نے عمرِ عزیز کا بڑا حصہ ایک بنیان اور ایک تہبند میں گزار دیا۔ ثبوت اس دعوے کا یہ دیا ہے کہ ڈاکٹر جاوید اقبال کہتے ہیں کہ انہوں نے بچپن میں اقبال کو صرف دو بار گھر میں کپڑے بدلتے دیکھا۔ ایک دفعہ عید پر اور ایک اُس وقت جب قائد اعظم ان سے ملنے تشریف لائے۔
دعوے تو علامہ کی تنقیص کی خاطر ایک دو اور بھی کیے گئے ہیں مگر پہلے کپڑے بدلنے کے سلسلے میں حقائق پر نظر ڈال لیتے ہیں۔
اقبال کے فرزند گرامی جاوید اقبال 1924 میں پیدا ہوئے۔ علامہ کی عمر اس وقت 47 سال تھی۔ شروع کے کم از کم تین برس نکال دیجیے۔ اس کے بعد ہی کے مشاہدات یاد رکھے جا سکتے ہیں۔ گویا ڈاکٹر جاوید اقبال کو علامہ کے آخری گیارہ برس ہی کے واقعات یاد رہے ہوں گے۔ 1928 میں جاوید اقبال چار سال کے تھے۔ آئیے 1928 اور 1929 کے دوران علامہ کی مصروفیات پر ایک اجمالی نظر ڈالتے ہیں:
22 فروری‘ پنجاب کونسل کے اجلاس میں تقریر۔23 فروری کو بھی پنجاب کونسل میں تقریر۔4 مارچ‘ انجمن حمایت اسلام کے اجلاس میں رکن سب کمیٹی تعلیم کی حیثیت سے شرکت۔8 اپریل‘ انجمن کے سالانہ جلسے میں انگریزی میں لیکچر۔ اسی سال دہلی اور شملہ تشریف لے گئے۔ ستمبر کے دوسرے ہفتے شملہ کا ایک اور سفر۔5 نومبر‘ سائمن کمیشن سے ملاقات۔ نومبر ہی کے دوران اوریئنٹل کانفرنس لاہور میں انگریزی میں مقالہ پیش کیا۔9 دسمبر‘ انجمن حمایت اسلام کی نصاب کمیٹی میں شرکت۔ 29 دسمبر‘ دہلی میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس کے چار روزہ اجلاس میں تقریر فرمائی۔ دسمبر ہی میں وائی ایم سی اے میں ڈاکٹر سیموئل کے لیکچر میں شرکت۔ دوسرے روز نواب ذوالفقار علی خان کے ہاں دعوت میں شرکت۔ انہی دنوں انجمن اسلامیہ سیالکوٹ کے سالانہ جلسہ کی صدارت۔ سال کے آخر میں طبی کانفرنس کی صدارت۔2 جنوری 1929‘ روانگی برائے مدراس۔ 3 جنوری‘ بمبئی میں چائے کی دعوت۔ 5 جنوری‘ گوکھلے ہال مدراس میں پہلا لیکچر۔6 جنوری‘ مدرسہ جمالیہ میں تقریر۔ 7 جنوری‘ گوکھلے ہال میں لیکچر۔ اسی روز انجمن خواتین اسلام مدراس کی طرف سے استقبالیہ میں تقریر۔8 جنوری‘ مدراس سے بنگلور روانگی۔ دس جنوری میسور آمد۔ اسی دوران سلطان ٹیپو کے مزار پر حاضری اور گریہ۔ 13جنوری‘ روانگی برائے حیدرآباد دکن۔ اس دوران حیدر آباد میں آپ کے اعزاز میں کئی تقاریب منعقد کی گئیں۔ 18 جنوری‘ حضور نظام سے ملاقات۔4 مارچ‘ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر تقریر۔ 7 مارچ‘ بجٹ پر دوسری تقریر۔14 اپریل‘ انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس میں مقالہ پیش کیا۔ 2 جون‘ انجمن کی کالج کمیٹی میں شرکت۔23 جون‘ انجمن کے جنرل کونسل اجلاس میں شرکت۔28 جولائی‘ شملہ میں موجودگی۔ 5 ستمبر‘ علامہ نے لاہور کی چھ علمی شخصیات کو گھر پر مدعو کیا۔ 7 ستمبر‘ بیرون دہلی دروازہ فلسطین کی حمایت میں منعقد کیے گئے بہت بڑے جلسے کی صدارت فرمائی۔ 25 ستمبر‘ مولوی سید میر حسن کی وفات پر روانگی برائے سیالکوٹ۔ انہی دنوں جنرل نادر خان افغانستان جاتے ہوئے لاہور ریلوے سٹیشن سے گزرے تو علامہ نے ان سے ملاقات فرمائی۔ 17 نومبر‘ روانگی برائے علی گڑھ یونیورسٹی۔23 نومبر‘ علیگڑھ یونیورسٹی میں تقریر۔ اس دوران علیگڑھ کے سٹریچی ہال میں چھ خطبات دیے۔ 19 دسمبر‘ برکت علی اسلامیہ ہال کے جلسہ میں سائمن کمیشن کے متعلق تقریر۔ اسی سال لاہور میں آل انڈیا اوریئنٹل کانفرنس کے متعدد اجلاسوں کی صدارت فرمائی۔
یہ وہ عرصہ ہے جب علامہ کی صحت کا گراف نیچے جا رہا تھا۔ اس سے قیاس کیجیے کہ اس سے پہلے کے برسوں کا کیا عالم ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ علامہ نے ایک بھرپور زندگی گزاری۔ لاہور کی سیاسی، علمی اور ثقافتی زندگی کے وہ روح رواں تھے۔ برصغیر کے کئی شہروں کئی یونیورسٹیوں‘ کئی اداروں میں آپ نے تقریریں فرمائیں‘ خطبات دیے‘ نصاب کمیٹیوں کے فعال رکن رہے‘ سنڈیکیٹس کے اجلاسوں میں کردار ادا کیا‘ وکالت کی۔ کیا یہ سب کچھ وہ بنیان اور تہبند پہن کر کرتے تھے؟ خدا کا خوف کیجیے۔ لندن سے بیرسٹری کی۔ تب بیرسٹری کی سند دیتے وقت امیدوار کی سوشل لائف، اس کا لباس، عشائیوں میں شرکت وغیرہ بہت کچھ دیکھا جاتا تھا۔
برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علامہ کا وجود ایک بہت بڑی نعمت تھا۔ ان کے شیدائی ہر وقت ان کے قرب کے متلاشی رہتے تھے۔ مدراس سے لے کر کشمیر تک اور پٹنہ سے لے کر کابل تک ہر شہر اور ہر تنظیم ان سے وقت کا تقاضا کرتی تھی۔ یہاں تک کہ اپنے عقیدت مندوں کے تمام مطالبات تسلیم کرنا ان کی انتہائی مصروف زندگی کے لیے ممکن ہی نہ تھا۔ وہ صرف فلسفے اور تفکر کے انسان نہ تھے‘ عملی زندگی میں بے حد متحرک، سوشل اور بزم آرا تھے۔ لاہور میں جتنی آم (مینگو) پارٹیاں منعقد ہوتی تھیں‘ ان میں اکثر کو علامہ اپنی شرکت کا اعزاز بخشتے تھے۔ شادیوں کی تقاریب میں شامل ہوتے تھے۔ جنازوں میں جاتے تھے۔ احباب اور اعزہ کی تعزیتوں کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔
جہاں تک فرزندِ اقبال کے ریمارک کا تعلق ہے تو ان کا احترام اپنی جگہ مگر خرم شفیق کی تصنیف دیکھ لیجیے۔ ان سے واقعاتی اغلاط کا صدور ثابت شدہ ہے۔ رہی یہ نکتہ آفرینی کہ علامہ نے چند دن کوچۂ سیاست میں گزارے اور جان لیا کہ وہ اس کے لیے پیدا نہیں ہوئے‘ واقعاتی لحاظ سے غلط ہے۔ علامہ نے سیاست میں بالخصوص پنجاب کی سیاست میں بھرپور حصہ لیا۔ مسلمانوں کی ہر معاملے میں رہنمائی کی۔ قائد اعظم کا انتخاب انہوں نے اس لیے نہیں کیاکہ سیاست علامہ کے بس کی بات نہیں تھی بلکہ اس لیے کہ وہ انہیں مسلمانوں کی قیادت کے لیے موزوں ترین شخصیت سمجھتے تھے۔
آپ کی ممدوحہ کے متعلق بہت کچھ کہا جا سکتا ہے مگر اقدار مانع ہیں۔ صرف اتنی گزارش ہے کہ اپنی پسند اور اپنے معیار کی شخصیات کی سطح پر قائد اعظم اور اقبال کو نیچے نہ اتاریے۔ آپ کو پورا حق حاصل ہے کہ جسے بھی کشتی کا کھیون ہار سمجھتے ہیں اس کی تعریف کیجیے‘ اور پرچار بھی‘ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ آپ کی پسند ہمارے نزدیک درست ہے یا غلط۔ پسندیدگی کے محرکات کیا ہیں؟ ہم اس میں بھی نہیں پڑتے ۔ سیاست میں آرا ہمیشہ مختلف اور متحارب رہی ہیں۔ اس میں کوئی برائی نہیں مگر جب بھی کوئی اپنی مقصد براری کے لیے قائد اعظم یا اقبال کو اس سطح پر نیچے لائے گا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ اس عاجز سے خدانخواستہ ایسی جسارت کا صدور ہو جاتا تو روحِ اقبال سے اور محبانِ اقبال سے غیر مشروط معافی مانگ لیتا۔
کھنچیں میر تجھ ہی سے یہ خواریاں
نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیں
( علامہ کی مصروفیات کے ضمن میں مندرجہ ذیل کتب سے استفادہ کیا گیا: حیات اقبال ہر دو حصے از ڈاکٹر سید سلطان محمود حسین۔ اقبال کی منزل از خرم علی شفیق)

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, August 13, 2020

بنجاروں کا عروج



ایک افریقی کہانی‘ جو ہم اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں!
یہ لوئر مڈل کلاس بستی تھی۔ کچھ اہل حرفہ تھے۔ کچھ کسان۔ بیس تیس فیصد ان میں پڑھے لکھے تھے۔ سب کا گزر اوقات مناسب ہو جاتا تھا۔ مجموعی طور پر یہ باعزت لوگ تھے۔ سائیکل کی سواری عام تھی۔ کئی خوش بخت گاڑیوں کے بھی مالک تھے۔ کچھ کے پاس ذاتی تانگے تھے۔
چند میل کے فاصلے پر بنجاروں کی ایک آبادی تھی۔ ان کی خواتین گلی گلی پھر کر چھوہارے، چوڑیاں وغیرہ بیچتی تھیں۔ مرد نچلی سطح کی محنت مزدوری کرتے تھے۔ کچھ بکریاں چراتے۔ کچھ نے گھوڑے رکھے ہوئے تھے۔ تعلیم سے بے بہرہ ان لوگوں کے بچے آوارہ پھرتے یا ایک دوسرے سے ہاتھا پائی کرتے۔
اگر یہ کہا جائے کہ بنجاروں کی اس مفلوک الحال آبادی کا انحصار اُس لوئر مڈل کلاس بستی پر تھا‘ جس کا ذکر ہم نے ابتدا میں کیا ہے‘ تو مبالغہ نہ ہو گا۔ یہ اپنے تھیلے لاتے اور بستی کے لوگ ان تھیلوں کو آٹے سے بھر دیتے۔ پوٹلیوں میں گندم باندھ کر لے جاتے۔ بستی کے سکول میں بنجاروں کے بچے، جو پڑھنا چاہتے، مفت تعلیم حاصل کرتے؛ اگرچہ ان کے ماں باپ کو تعلیم میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ یہ جلد ہی بچوں کو سکول سے اٹھا لیتے اور کسی کام دھندے پر لگا دیتے۔ بنجاروں کے سردار کی عزت رکھنے کے لیے سب سے پہلی بائیسکل بھی بستی والوں ہی نے دی۔ یہ سائیکل اس وقت بڑی اہم تھی کیونکہ اس کی بدولت سردار سواری کا مالک ہو گیا تھا۔
خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ایک غیر ملکی کمپنی آئی اور اس نے بنجاروں کے زیر تصرف جو زمین تھی اس کا سروے کیا۔ کمپنی والوں کو یقین نہیں آرہا تھا۔ ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ بنجاروں کی زمین کے نیچے قدرت نے معدنیات کے وسیع و عریض خزانے رکھے تھے۔ پیتل‘ تانبا‘ چاندی اور کہیں کہیں سونا بھی۔ کوئلے کے ذخائر بھی تھے۔ کمپنی نے سردار سے ٹھیکہ لے لیا۔ سروے‘ کھدائی اور فروخت کا سارا کام کمپنی کے ذمے تھا۔ اس کے عوض، سردار اور اس کے خاندان کو بہت فیاضانہ نرخ پر رائلٹی دی گئی۔ وارے نیارے ہو گئے۔ دولت کی ریل پیل ہو گئی۔ بکریوں کی جگہ موٹر سائیکل آ گئے۔ گھوڑوں کی جگہ ٹیکسیوں نے لے لی۔
بنجاروں کی قسمت کیا بدلی‘ رہن سہن بھی کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔ پیوند زدہ جھگیوں کے بجائے پختہ مکان بننے لگے۔ سردار کے خاندان کے تو ہر رکن نے محل تعمیر کرا لیا۔ دروازوں پر گارڈز نے پوزیشن سنبھال لی۔ فراخ و کشادہ شاہراہیں تعمیر ہونے لگیں، خواتین زیورات سے لد گئیں۔ جلد ہی دوسری بستیوں سے گھریلو ملازم، ڈرائیور، مستری اور طبیب منگوائے جانے لگے۔
قدرت دنوں کو انسانوں کے بیچ پھیرتی ہے۔ وہی بستی جو بنجاروں کو آٹا اور غلہ دیتی تھی، جس نے ان کے سردار کو اس کی زندگی کی پہلی سواری بخشش میں دی تھی، جس کے سکول میں ان کے بچے خیراتی تعلیم پاتے تھے، جی ہاں وہی بستی اب معاملات میں بنجاروں کی دست نگر ہو گئی۔ بستی کی عورتیں اور مرد ان کے ہاں ملازمتیں کرتے۔ اب بنجارے پے ماسٹر تھے اور بستی والے ان کے تنخواہ دار۔ پیتل، تانبا اور دیگر معدنیات بستی والے انہی سے خریدتے۔
جب کبھی بنجاروں کا سردار بستی والوں کے ہاں آتا تو بستی والے اسے خوب پروٹوکول دیتے۔ اسے خوش اور مطمئن کرنے کی سعی کرتے۔ اس کا ماضی اور اس کی قسمت کا پھیر، سب کچھ، بستی والوں کے سامنے تھا مگر وہ بہر طور، اب اقتصادی حوالے سے بنجاروں کے محتاج تھے۔
زمانے کی گردش نے ایک چکر اور پورا کیا۔ وقت نے اپنی کتاب کا ایک اور ورق الٹا۔ حالات نے نیا رخ اختیار کیا۔ یہ نیا رخ، بستی کے لیے خوش کن نہ تھا بلکہ المناک تھا۔ بستی کے معززین اپنی نا اہلی اور نا لائقی کی وجہ سے بستی کو اقتصادی طور پر مستحکم نہ رکھ سکے۔ مالی حالت خستہ سے خستہ تر ہونے لگی۔ بستی کو قرضے لینے پڑے۔ تعلیم کا معیار گر گیا۔ کرپشن سکۂ رائج الوقت کی صورت اختیار کرنے لگی۔ ایسے میں بستی پوری طرح بنجاروں کی محتاج ہو گئی۔
اب بنجارے بستی میں آتے تو بستی والے ان کے سامنے غلاموں کی طرح دست بستہ کھڑے رہتے۔ بنجارے گھڑ سواری کرتے تو بستی والوں کے بچے لگام پکڑ کر آگے آگے چلتے۔ ان کی گاڑیاں صاف کرتے۔ عورتیں بنجاروں کے گھروں میں آیا اور باورچی کے طور پر کام کرتیں۔ پھر معاملہ اور آگے چلا گیا۔ بستی والے قرضوں کے نیچے دب چکے تھے۔ معدنیات خریدنے کے لیے رقم نہ تھی۔ بنجاروں نے معدنیات ادھار دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ کچھ نقدی بھی دی تاکہ ضروریات پوری ہو سکیں مگر اس کے بعد بنجارے گویا بستی کی تقدیر کے مالک ہو گئے۔ اب وہ سانس بھی آزادی سے لیتے تو بنجاروں کو برا لگتا۔ فلاں سے کیوں بات کی۔ کیا بات کی۔ فلاں قریے سے لوگ تمہارے ہاں کیوں آئے‘ تم فلاں سے تعلقات رکھ سکتے ہو مگر فلاں فلاں سے نہیں۔ ہمارے دشمن تمہارے دشمن ہوں گے۔ تم اب کسی معاملے میں آزاد پالیسی نہیں رکھ سکتے۔ دنیا کو تم نے ہماری نظر سے دیکھنا ہو گا‘ ہم دنیا کو جس نظر سے بھی دیکھیں ہماری مرضی۔ حالت یہ تھی کہ بنجارے بستی کے دشمنوں کے ساتھ مل کر محبت کے گیت گا رہے تھے۔ بستی والے دبی زبان سے شکایت کرتے تو بنجارے قرض کی واپسی کا مطالبہ شروع کر دیتے۔ کبھی دھمکی ملتی کہ بستی کی افرادی قوت جو ان کے ہاں ملازمتیں کر رہی تھی نوکریوں سے نکال دی جائے گی۔ بستی والے دل مسوس کر رہ جاتے مگر کر کچھ نہ سکتے۔ پھر وہی ہوا جو ہونا تھا۔ بقول شاعر
یوں بھی ہوتا ہے کہ آندھی کے مقابل چڑیا
اپنے پر تولتی ہے
اک بھڑکتے ہوئے شعلے پہ ٹپک جائے اگر
بوند بھی بولتی ہے
عوام تو تنگ آئے ہوئے ہی تھے۔ اب خواص نے بھی جھرجھری لی۔ بستی والے خم ٹھونک کر کھڑے ہو گئے۔ ایک اور قریے سے رقم ادھار لے کر بنجاروں کو واپس کی۔ اس کے بعد دوسری بستیوں سے روابط اپنی صوابدید کے مطابق بڑھائے۔ اپنے فیصلے خود کرنے شروع کر دیے۔ قدرت نے بھی مدد کی۔ جو معدنیات بنجاروں سے خریدی جاتی تھیں، وہ دوسری آبادیوں نے پیش کر دیں۔ 
بنجاروں کا سردار بستی والوں کی یہ انگڑائی کیسے برداشت کرتا۔ اس نے فرمان جاری کیا کہ بستی والوں کی افرادی قوت نکال باہر کی جائے۔ غصے سے اس کا چہرہ تمتما رہا تھا۔ وہ بھول گیا کہ یہی بستی والے اسے غلہ فراہم کرتے تھے۔ سائیکل تک انہی نے دے تھی۔ اسے فقط یہ پتہ تھا کہ معدنیات کی وجہ سے امیر وہ بہت ہو گیا ہے۔
دفتر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ ایچ آر کا سربراہ سردار کے سامنے کھڑا تھا۔ حضور! افرادی قوت واپس نہیں بھیج سکتے۔ 
''کیوں‘‘ سردار نے گرج کر پوچھا۔
عالی جاہ! ہمارا پورا نظام بیٹھ جائے گا‘ آپ کے علم میں ہے کہ ہمارے لوگ کام جانتے ہیں نہ محنت کے عادی ہیں۔ ہمارے محکموں کے محکمے بستی کے لوگ چلا رہے ہیں۔ یہ محنتی اور لائق لوگ ہیں‘ حضور! ہمارا گزارہ ان کے بغیر نہیں ہو سکے گا‘ اور ایک اور پہلو جو جہاں پناہ! بہت حساس ہے۔ دفاع کے حوالے سے جب بھی ہم پر مشکل وقت پڑا بستی ہی کی افرادی قوت ہماری ڈھال بنی۔ 
سردار کے ہاتھ سے عصا نیچے گر پڑا تھا۔ 
یوں افریقی کہانی اپنے انجام کو پہنچی

بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, August 11, 2020

…ہر ضلع میں ایک کلائیو بیٹھا ہے


صحافی کا لہجہ شائستہ تھا اور مہذب ۔بات وہ دلیل سے کر رہا تھا ۔ شکایت کا لبِ لباب یہ تھا کہ تحصیل ہسپتال میں ایک عرصہ سے گائنی کالوجسٹ کی تعیناتی نہیں ہوئی تھی۔ شہر اور مضافات کے ڈیلیو ری کے کیسز دوسرے شہروں کو لے جانے پڑتے تھے ۔ عوام کو تکلیف تھی اور بے حد تکلیف !
ڈپٹی کمشنر کا جوابی لہجہ سخت تحکمانہ تھا ۔ کئی بار کہا کہ'' میں ڈپٹی کمشنر ہوں ‘‘۔ یہ بھی کہ میں باتیں سننے کا عادی نہیں۔پھر بڑے فخر سے بتایا کہ وہ فلاں شہر سے ہے اس لیے جگتیں بھی مار سکتا ہے۔ اگر آپ کے قیاس کا گھوڑا فیصل آباد کا رخ کر رہا ہے تو باگ کھینچ لیجئے۔ ڈی سی صاحب بہادر نے ایک اور شہر کا نام لیا تھا۔
مقصد کسی کی پگڑی اچھالنا ہوتا تو ڈی سی کا نام بھی لکھا جا سکتا تھا۔ ضلعے کا بھی اور تحصیل کا بھی‘ مگر مقصد صرف یہ ہے کہ اس گلے سڑے نظام کے تعفن کا ذکر کیا جائے۔یہ نظام از کارِ رفتہ ہو چکا ہے ۔ بوسیدہ‘ کھنڈر سے بد تر ‘ نوکر شاہی اس پانی کی طرح ہو چکی ہے جو مدتوں سے کھڑا ہے۔ بدبو کے بھبکے اُٹھ رہے ہیں ‘جو گزرتا ہے ناک پر کپڑا رکھ لیتاہے‘ مگر جن کا فرض اس پانی کو صاف کرنا ہے یا ختم کرنا ہے وہ خود اس پانی کے پروردہ ہیں۔ وہ مسئلہ کیسے حل کریں۔ وہ تو مسئلے کا جزو ہیں۔ عشرت حسینوں‘ ارباب شہزادوں اور اعظم خانوں سے یہ مسئلہ نہیں حل ہو گا ۔ اسے کوئی تعلیم یافتہ سیاست دان ہی حل کرے تو کرے۔
سیاست دان اور نوکر شاہی کے مہرے میں فرق واضح ہے۔ اول: سیاست دان کبھی ایسی ہلکی اور کچی بات نہیں کرے گا کہ میں ضلع ناظم ہوں اور یہ کہ میں باتیں سننے کا عادی نہیں ۔ باتیں سن سن کر ‘ ووٹروں کی جھاڑیں کھا کھا کر ہی تو وہ اس مقام پر پہنچا ہے۔ دوم: ڈپٹی کمشنر یا کمشنر کی طرح اس کا قیام عارضی نہیں کہ دو تین سال کا عرصہ گزارا اور پھر کبھی پلٹ کر نہ آئے۔ سیاست دان نے یہیں جینا ہے یہیں مرنا ہے وہ لوگوں کو ناراض کرنے کا خطرہ نہیں مول لے سکتا۔ اس نے سیاست کرنی ہے۔ ووٹ لینے ہیں‘ عوام کی شکایات دور کرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی متبادل نہیں۔ سوم: اس کے مخالفین اس کی نگرانی کر رہے ہیں اس کی بد دیانتی‘ اس کی نا اہلی‘ اس کی کام چوری ‘ اس کی بد نیتی کو کسی نے معاف نہیں کرنا‘ اس لیے وہ ہر لمحے چوکنا رہتا ہے۔ چہارم: اس کے وژن اور نوکر شاہی کے وژن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ نوکر شاہی کا رکن اپنے تبادلے اپنی ترقی اپنے باس سے آگے کچھ نہیں سوچ سکتا۔ سیاست دان کی ذہنیت یہ نہیں‘ سیاست دان ایسے کام کرنا چاہتا ہے جس سے یہ واضح ہو جائے کہ اسے عوام کی فکر ہے ۔
اس ملک پر بڑے بڑے ظلم ہوئے مگر ایک بڑا ظلم یہ ہوا کہ ضلع ناظم کی جگہ زمامِ اقتدار دوبارہ نو کر شاہی کے اہلکاروں کو دے دی گئی ۔ ضلعی حکومتوں کا قیام ایک بہت بڑا قدم تھا۔ یہ آگے کا سفر تھا‘ بہت ہی تنگ نظر اور خود نظر تھے وہ صوبائی حکمران جنہوں نے ضلعی حکومتوں کے پودے کو اکھاڑ پھینکا۔ صرف اس لیے کہ ضلع ناظم انہیں سیلوٹ نہیں کرے گا‘ فنڈز مانگے گا‘ یس سر ‘یس سر نہیں کرے گا۔
ایک بات یاد رکھئے کہ آج کی نوکر شاہی انگریز نوکر شاہی سے بد تر ہے۔ انگریز کم از کم اپنے ملک کے لیے تو سراپا ٔاخلاص تھے۔انگریز ڈپٹی کمشنر کو معلوم تھا کہ اس نے چترال یا وانا یا تربت میں مر جانا ہے مگر اس نے زبانیں سیکھیں۔ انصاف کا نظام رائج کیا۔ ہر ضلعے کا گزٹ لکھا ان ضلعGazetteersمیں قیام ِپاکستان کے بعد ایک صفحے کا بھی اضافہ نہیں ہوا۔
تحریکِ انصاف کی حکومت دوسرے شعبوں کی طرح نوکر شاہی کے حوالے سے بھی کوئی تبدیلی نہیں لا سکی‘ بلکہ اس شعبے میں اس کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ یہاں ہم نے کارکردگی کا لفظ غلط استعمال کیا ہے ‘ کارکردگی تو ہے ہی نہیں۔ رویہ بھی وہی ہے جو دہائیوں سے چلا رہا ہے۔ وہی نوازشیں ہیں۔ جوڑ توڑ والا ‘ اوپر سے ڈور کھنچوانے والا ریٹائر ہوتا ہے تو اسی شام کو دوبارہ نوکری مل جاتی ہے۔ یہی کچھ پہلے بھی ہو رہا تھا۔ نوکر شاہی کے ایک نمائندے کو حال ہی میں ایک سال پہلے ریٹائر کر کے ایک ایسی جگہ لگا دیا گیا جہاںوہ چار سال کرسی پر بیٹھے گا۔ اگر یہ میرٹ ہے تو پھر دوست نوازی اور اقربا پروری کس چڑیا کا نام ہے۔
موجودہ حکومت بیورو کریسی کے حوالے سے ایک انچ کے ہزارویں حصے کے برابر بھی تبدیلی نہیں لا سکی ۔مدتوں سے یہ ہوتا چلا آرہا ہے کہ پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعظم کسی بڑے شکار پر ہاتھ مارتا ہے۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی پوسٹ کے لیے نوکر شاہی کے جن چار بااثر نمائندوں کے نام الگ کیے گئے ہیں ان میں سرِ فہرست پھر پرنسپل سیکرٹری ہی کا نام ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اگر نئی زندگی بخش روایت قائم کرنا چاہتی تو اس گھسی پٹی از کار ِرفتہ تقلید کو ترک کر کے نجی شعبے کی طرف توجہ دیتی۔ یہ کس آسمانی کتاب میں لکھا ہے کہ ایسی پوسٹوں کی دال جوتیوں ہی میں بانٹی جائے ؟ کوئی معیشت دان کیوں نہیں بھیجا جا سکتا ؟ ؟ مالیات کا کوئی پروفیسر ؟ اقتصادیات کا کوئی گُرو؟ لگتا ہے حکومت نوکر شاہی کے سامنے بے بس ہے اور بے اختیار ‘مزے کی بات یہ ہے کہ جو معاونینِ خصوصی نوکر شاہی میں ریفارم لانے کے نام پر لائے گئے وہ بھی اسی کلاس اور اسی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں ۔وحید احمد نے ایک نظم لکھی ہے '' علاج بالمثل‘‘۔ اس کی دو سطریں یاد آرہی ہیں:
نشتر زخم لگاتا ہے تو نشتر سے کھلواتا ہوں
سلواتا ہوں
پھنیر نیل اتارتا ہے تو منکے میں رسواتا ہوں
کھنچواتا ہوں
یعنی میرکیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب...
ہماری ترقی کا حال دیکھئے‘ مجہول سے مجہول ملکوں میں بھی مقامی حکومتیں قائم ہیں۔ انتخابات ہوتے ہیں ‘ فنڈز ان کی تحویل میں دیے جاتے ہیں۔ مقامی حزب ِاختلاف انہیں تیر کی طرح سیدھا رکھتی ہے۔ ہمارے حال پر اللہ ہی رحم کرے۔ نئی صدی کا ربع مکمل ہونے میں صرف پانچ برس رہ گئے۔ زمانہ کہاں پہنچ گیا اور ہمارے معززین ‘ ڈپٹی کمشنر سے آج بھی یہ سن رہے ہیں کہ میں ڈپٹی کمشنر ہوں۔ باتیں سننے کا عادی نہیں ہوں۔
چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے بھی لاہور یا پشاور یا کراچی جانا پڑتا ہے اور ایک بار نہیں بار بار جانا پڑتا ہے۔اور یہ بھی آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ دور دور تک اس صورتحال میں تبدیلی کے آثار ہیں نہ امکان ۔ وہ اور ہوتے ہیں‘ بڑے ظرف والے‘ بڑے دل والے ‘ جو اپنے اختیارات دوسروں کو سونپ دیتے ہیں۔ اتھارٹی کو Delegate کرتے ہیں۔ نچلی سطح کے منتخب نمائندوں پر اعتماد کرتے ہیں۔ رہے ہم تو انگریز نے نوکر شاہی کا جو نظام استعمار کا پنجہ مضبوط کرنے کے لیے تین سو سال قبل بنایا تھا اس میں ایک رمق بھر تغیر نہیں لا سکے ... ضمیر جعفری نے کہا تھا:
کلائیو کی یہ بات آئی پسندکہ وہ مر گیا‘مگر کہاں مرا ہے؟ کلائیو تو ہر تحصیل‘ ہر ضلعے میں آج بھی بیٹھا ہے۔
ہم وائسرائے کے عہد میں جی رہے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, August 10, 2020

……ہم سے کوئی امید نہ رکھو



وہ گڑ گائوں سے دہلی جا رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے پک اَپ ٹرک کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔ آٹھ دس مشٹنڈے موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں پر اس کے پیچھے آ رہے تھے۔ ڈر کے مارے اس نے رفتار تیز کر دی۔صدر بازار پہنچا تھا کہ تعاقب کرنے والوں نے آ لیا۔ گھسیٹ کر نیچے اتارا گیا۔ پھر لوہے کی سلاخوں، ڈنڈوں، لاتوں اور گھونسوں سے مارا گیا‘ یہاں تک کہ جسم زخموں کا ڈھیر بن گیا۔ اس نے بہت منت کی کہ یہ گائے کا نہیں‘ بھینس کا گوشت ہے۔ پک اَپ ٹرک کے مالک طاہر قریشی نے بھی لاکھ بتایا کہ یہ بھینس کا گوشت ہے۔ طاہر قریشی ایک مارکیٹ میں گزشتہ پچاس برس سے بھینس کے گوشت کا کاروبار کر رہا ہے۔ لقمان خان اس وقت ہسپتال میں داخل ہے۔ کئی ہڈیاں فریکچر ہو گئی ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ گڑ گائوں اور دہلی پولیس نے کیا کیا ہوگا؟ غنڈوں کو پکڑا ہوگا؟ نہیں! انہوں نے غنڈوں کو کچھ نہیں کہا کیوں کہ یہ غنڈے‘ مقدس غنڈے تھے۔ ''گائے کی حفاظت‘‘ کرنے والے گروہ سے تھے۔ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ لقمان خان اور طاہر قریشی دونوں پر اعتبار نہ کرتے ہوئے گوشت کو لیبارٹری بھجوا دیا کہ ٹیسٹ کر کے معلوم کیا جائے گوشت گائے کا ہے یا بھینس کا! 
یہ ایک لقمان خان اور ایک طاہر قریشی کی کہانی نہیں۔ جب سے گجرات کے قصاب کی حکومت آئی ہے، سینکڑوں مسلمان مارے جا چکے ہیں۔ کبھی ان کے گھر جلائے جاتے ہیں، کبھی پکڑ کر بے رحمی سے قتل کر دیا جاتا ہے، کبھی گھروں سے بے دخل کر دیا جاتا ہے، کبھی کاروبار کو بند کر دیا جاتا ہے اور کبھی انہیں ملازمتوں سے نکال دیا جاتا ہے۔ اس وقت مسلمانوں کیلئے پورا انڈیا مقبوضہ کشمیر بن چکا ہے۔ آسام سے کپورتھلہ تک‘ کہیں مسلمانوں کیلئے انصاف ہے نہ جائے امان! صدیوں سے بھارت میں رہنے والوں سے شہریت کے ثبوت مانگے جا رہے ہیں۔ اسرائیل نے جو رہائشی ڈربے فلسطینیوں کیلئے بنائے ہیں انہی خطوط پر مسلمانوں کو جھونپڑی نما بستیوں میں دھکیلنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ بھارتی مسلمان اس وقت فلسطینیوں اور عراقیوں کی نسبت زیادہ قابلِ رحم حالت میں ہیں تو مبالغہ نہ ہو گا۔ ایک تاریک مستقبل ان کے سامنے خوفناک راکھشس کی صورت کھڑا ہے۔ انکی آئندہ نسلیں گہری کھائی کی طرف ہانکی جا رہی ہیں! ملازمتوں میں ان کا حصہ برائے نام ہے‘ بزنس میں وہ ہندوئوں سے پیچھے تھے، اب زیادہ پیچھے ہیں، مسلمان لڑکیوں کو ملازمت حاصل کرنے کیلئے ہندو نام رکھنا پڑتے ہیں۔ ایک قوم کی پوری نسل شناخت کے بحران کا شکار ہے! ادتیا ناتھ اور امیت شا جیسے متعصب ترین ہندو، منظم طریقے سے مسلمانوں کے خلاف، ایک طویل المیعاد پالیسی پر عمل کر رہے ہیں!
لقمان خان اور طاہر قریشی اگر مسلمان نہ ہوتے، فرض کیجیے، مسیحی ہوتے تو آج کرۂ ارض پر ڈپلومیسی میں ہل چل مچ گئی ہوتی۔ ایک اور مشرقی تیمور بن گیا ہوتا۔ ایک اور جنوبی سوڈان ظہور پذیر ہو چکا ہوتا۔ مگر المیہ یہ ہے کہ یہ مسلمان ہیں‘ اور مسلمانوں کا کوئی والی وارث، کوئی پشتیبان، کوئی محافظ، کوئی ضامن نہیں! جن کے ایک اشارے سے ان کے بخت کا پانسہ پلٹ سکتا ہے، وہ دشمن کے ساتھ مل چکے ہیں۔ وہ مودی کو اعزازات دے رہے ہیں۔ اس کی خوشامدیں کر رہے ہیں۔ ان کے دل کے کسی دور افتادہ گوشے میں بھی بھارتی مسلمانوں کے لیے ہمدردی کے جذبات نہیں ہیں۔ لگتا ہے‘ آنکھیں ماتھوں پر رکھ لی گئی ہیں! خون سفید ہو گئے ہیں! تو کیا امتِ مسلمہ کی پستی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ان کے نزدیک صنعتی ترقی، تجارت، آئی ٹی کا عروج ہی سب کچھ ہے؟ اخلاقی، مذہبی، عصبیتی، سارے پہلو نظروں سے غائب ہو چکے ہیں؟ اب اس امت کی ترجیحات میں سرفہرست تیل کی فروخت، کارخانوں کا قیام اور مالِ تجارت کی افزودگی ہے؟ اور کچھ نہیں؟
ہماری بدقسمتی کہ جب ایک متحدہ مسلم بلاک کی سب سے زیادہ ضرورت پاکستان کو تھی، مسلمان دو بلاکوں میںتقسیم ہو گئے ہیں۔ یہ تقسیم، بنیادی طور پر، عرب اور غیر عرب کی ہے۔ اسلامی کانفرنس، ایک بلاک کے تابع ہو چکی۔ مشرقِ وسطیٰ کے دو تین بڑے ممالک اس کو دامے، درمے، سخنے کنٹرول کر رہے ہیں۔ اس بلاک کو امریکہ کی اشیر باد حاصل ہے۔ مگر کیا ہم اسے اشیرباد کہہ سکتے ہیں؟ غالباً نہیں! اشیرباد سے زیادہ، یہ ماتحتی ہے اور احکام کی تعمیل ہے۔ بڑے صاحب کا حکم بحرِ اوقیانوس کے اس طرف سے پہنچتا ہے اور عبائیں سرِ تسلیم خم کر لیتی ہیں۔ آج اگر پاکستان اقتصادی طور پر پائی پائی کا محتاج نہ ہوتا، قرضوں میں اس کا بال بال بندھا نہ ہوتا، تیل کی خیرات کا ضرورت مند نہ ہوتا تو نہ صرف دوسرے بلاک میں شامل ہوتا بلکہ اس کی قیادت کرتا۔ اصل بات وہی ہے جو شاعر کہہ چکا ؎
ای زر تو خدا نہ ای ولیکن بخدا
ستّارِ عیوب و قاضی الحاجاتٖ
پیسہ خدا تو نہیں مگر خدا کی قسم! عیب بھی چھپاتا ہے اور حاجات بھی پوری کرتا ہے۔
ہم بھارت میں لٹ چکے۔ ہمارا سب کچھ ختم ہونے کو ہے۔ ہمارے شہروں کے نام جو صدیوں سے چلے آ رہے تھے، بدلے جا رہے ہیں۔ ہمیں Main stream سے ہٹا کر، سائیڈ لائن کیا جا رہا ہے۔ ہماری عورتوں کی عصمتیں لوٹی جا رہی ہیں۔ ہمارے بچے قتل کیے جا رہے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔ مگر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم صرف نقشے بنا رہے ہیں۔ ہم صرف شاہراہوں کے نام تبدیل کر رہے ہیں۔ رہے دوسرے مسلم ممالک تو ان پر بے نیازی کی چادر تنی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ایک ماہ کے لیے... صرف ایک ماہ کیلئے پچپن مسلمان ملک اپنے اپنے سفیر بھارت سے واپس بلا لیتے، ایک ماہ کیلئے... صرف ایک ماہ کیلئے پچپن مسلمان ممالک بھارت سے تجارتی تعلقات منقطع کر لیتے۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک صرف ایک نوٹس بھارت کو دیتے کہ کشمیر کی آئینی حیثیت بحال کرو... ورنہ بھارتیوں کو واپس بھیج رہے ہیں‘ تو بھارت کے مسلمان مضبوط ہو جاتے۔ مودی حکومت کے ہوش ٹھکانے آ جاتے۔ بھارتی مسلمانوں کی نکبت و ذلت کے دن ختم ہو جاتے، مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!ع
حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے! 
یہ ہو بھی تو کیسے ہو؟ ہم معاشی طاقت ہیں نہ سیاسی قوت! ہمارے لیے کون سٹینڈ لے؟ ہماری تو ترجیحات ہی اور ہیں۔ دوسرے ملکوں کی اسمبلیوں میں اقتصادی، تجارتی اور مالی مسائل پر غور ہوتا ہے، ہماری اسمبلیوں میں اس پر بحث ہو رہی ہے کہ فلاں فرقہ اپنے بزرگوں کے ناموں کے ساتھ یہ لکھے اور یہ نہ لکھے! بال بال قرض میں بندھا ہوا ہے۔ تیل کیلئے کشکول بدست ہیں اور ترجیحات دیکھیے! بحث کس پر ہو رہی ہے؟ چاند کس نے درست اور کس نے غلط دیکھا! یوٹیوب پر فرقہ واریت پوری طرح مسلط ہو چکی ہے۔ واعظین فخر سے کہہ رہے ہیں‘ ہم تو بات ہی اختلافی مسائل پر کرتے ہیں۔ عوام کو الجھایا جا رہا ہے۔ ایک دوسرے سے متنفر کیا جا رہا ہے۔ ان کے سینوں میں عداوتیں کوٹ کوٹ کر بھری جا رہی ہیں۔ لوگوں کو مشتعل کیا جا رہا ہے۔ برافروختہ کیا جا رہا ہے۔ دشنام طرازی عام ہے۔ ناقابلِ بیان گالیاں دی جا رہی ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ وڈیو کلپ لاکھوں کی تعداد میں سنے جا رہے ہیں۔ پوری قوم کی نفسیات مسخ کی جا رہی ہے۔ ایسے میں کہاں کی اقتصادی ترقی اور کون سی مالی خود کفالت! معاشی سرگرمیاں مفقود ہیں۔ عوام فارغ ہیں۔ کسی کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں۔ دو موٹرسائیکلوں کی ٹکر ہو جائے تو پانچ سو افراد گھنٹوں وہاں کھڑے رہتے ہیں
بھارتی مسلمانو! ہم سے کوئی امید نہ رکھو۔   باقی مسلمان ملکوں کو بھی write off کر دو
 

powered by worldwanders.com