Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Friday, July 10, 2020

عمر میں پچاس سال کا اضافہ

ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔ خلقِ خدا نے دیکھا کہ آسمان پر سفید رنگ کے حروف ظاہر ہو رہے ہیں۔ یہ ایک اعلان تھا جو سب کو نظر آ رہا تھا۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ ہر دیکھنے والے کو یہ اعلان اس کی اپنی زبان میں دکھائی دے رہا تھا۔
اکیسویں صدی میں کیسے کیسے ناقابل یقین واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ کورونا دنیا کے پونے آٹھ ارب افراد کو ان کے گھروں میں نظر بند کر دے گا اور لوگ ایک دوسرے سے دور بھاگیں گے۔ یہ محیرالعقول واقعہ بھی، جس کا ذکر کیا جا رہا ہے، اسی اکیسویں صدی کا کرشمہ ہے!
آسمانوں پر لکھا ہوا اعلان یہ تھا کہ تمہاری زندگی میں پچاس سال کا اضافہ کیا جا سکتا ہے! مگر اس کے لیے ایک شرط ہے۔ اپنی زندگی کے خفیہ گوشے چار افراد کو بتا دو۔ نمبر ایک: بیوی یا شوہر، نمبر دو: پڑوسی، نمبر تین: تمہارا افسر، نمبر چار: تمہارا ماتحت۔
کچھ گھنٹے تو لوگ حیرت سے گنگ رہے! پھر انہوں نے سوچا کہ پچاس سال! پوری نصف صدی! سودا بُرا نہیں! ساٹھ سے اوپر والوں نے تو باقاعدہ جشن منائے۔ اس کے بعد ہر ایک نے دل کڑا کیا۔ پہلے بیوی کو اپنے سارے کرتوت، بے وفائیاں، چھپا کر رکھے ہوئے بینک اکائونٹس، سب کچھ بتایا۔ پھر بیوی نے وہ سب کچھ شوہر کو بتایا جو اس سے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ چونکہ مفاد مشترکہ تھا اس لیے دونوں نے حوصلے سے سب کچھ سنا پھر پڑوسیوں کی باری آئی۔ عورتوں نے پڑوسی عورتوں سے اور مردوں نے پڑوسی مردوں سے اپنی اپنی زندگی کے نہفتہ پہلو شیئر کیے۔ سب کچھ بلا کم و کاست بتایا اس لیے کہ معلوم تھا‘ اگر دیانت داری سے راز افشا نہ کیے تو پچاس سال مزید نہیں ملیں گے۔ 
پھر لوگوں نے دفتروں، کارخانوں، کھیتوں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، بحری جہازوں، ریلوے سٹیشنوں پر اپنے سینئرز اور اپنے ماتحتوں کو اپنے اپنے کچے چٹھے سنائے۔ کاروبار میں کیا کیا بد دیانتیاں کیں۔ حکومت کو، کمپنی کو، شراکت داروں کو، گاہک کو، سپلائرز کو کیسے کیسے دھوکے دیئے۔ کتنا ناروا مال بنایا۔ ہر ایک کو پچاس سال کا بونس نظر آ رہا تھا۔ سب نے حوصلے، خاموشی اور سنجیدگی سے ایک دوسرے کے چہروں سے نقاب اترتے دیکھے۔
یہ سب دو دن کے اندر ہی ہو گیا۔ کسی نے چانس نہ لیا کہ تاخیر کرے۔ سب نے شرط پوری کر دی۔ نتیجہ ظاہر ہونا شروع ہو گیا۔ اسی اسی، نوے نوے سال کے بوڑھے، بوڑھیاں جو زندہ درگور پڑی تھیں، اٹھ بیٹھیں۔ جو ساٹھ کے پیٹے میں تھے ان میں تیس سال کی توانائی آ گئی۔ عورتوں کے چہروں سے جھریاں صاف ہو گئیں۔ دنیا میں ٹھہرائو آ گیا۔ خوشی کی لہر ایک کنارے سے اٹھی اور دوسرے کنارے تک دلوں کو گرما گئی۔
شروع میں تو سب ایک دوسرے کے رازوں کے حوالے سے یہ سوچ کر خاموش رہے کہ دوسروں کو بھی ان کے بارے میں سب کچھ پتہ ہے مگر چند ماہ ہی گزرے تھے کہ انسانی جبلّتیں عود کر آئیں۔ بدلی ہوئی زندگی کے نتائج ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔ صورت حال عجیب و غریب ہو گئی۔ میاں باہر نکلتا تو بیوی چھپ کر تعاقب کرتی۔ بیوی کی باتیں سننے کے لیے شوہر فون ریکارڈ کرتا۔کسی بات پر جھگڑا بڑھتا تو بچوں کے سامنے ایک دوسرے کو طعنے دیتے۔ ماں بچوں کو الگ بٹھا کر باپ کے بارے میں اور باپ الگ بٹھا کر ان کی ماں کے بارے میں بتاتا۔ دونوں غبار نکالتے۔ اس سے بچوں کی نفسیات، خود اعتمادی، والدین کے لیے احترام سب کچھ تہس نہس ہو گیا۔ کچھ بچے برافروختہ ہو کر گھروں سے نکل بھاگے۔ کچھ نے نشہ آور ادویات میں پناہ ڈھونڈی، چڑچڑا پن آ گیا۔ ماں پر اعتماد رہا نہ باپ پر۔ بات بات پر بہن بھائیوں میں لڑائیاں ہونے لگیں۔
پڑوسی عورتوں نے جو کچھ اپنے بارے میں اُگلا تھا، اسے تو بھول گئیں‘ مگر دوسری عورتوں کے بارے میں داستانیں چلانا شروع کر دیں۔ ایک ایک کوچے، ایک ایک محلّے میں کہانیاں عام ہونے لگیں۔ ''اسے دیکھو معزز بنی پھرتی ہے۔ ساس کے ساتھ یہ کیا۔ بہو کو یہ دھوکہ دیا۔ شوہر سے پہ چھپایا‘‘۔ مردوں کا بھی باہر نکلنا دوبھر ہو گیا۔ چوہدری صاحب، ملک صاحب، خان صاحب، راجہ صاحب قدم قدم پر بے عزت ہونے لگے۔ بڑے بڑے عمائدین، مخیر حضرات، کیا مولانا‘ کیا پنڈت سب منہ چھپانے لگے۔
کاروبار رُک گئے۔ کوئی کسی پر اعتبار کرنے کو تیار نہ تھا۔ سب کا ماضی کھلی کتاب کی طرح سامنے تھا۔ قرض دینے کی سکیمیں ختم ہو گئیں۔ صنعت و حرفت کا پہیہ رک گیا۔ زرعی سرگرمیاں ماند پڑنے لگیں۔ طلبہ اساتذہ پر آوازے کسنے لگے۔ افسر ماتحتوں کو طعنے دیتے اور ماتحت افسروں کے کپڑے اتارتے۔ میڈیا میں وزیروں کے خفیہ کارنامے سامنے آنے لگے۔ حکومتیں ناکام ہونے لگیں۔ بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ صفر سے نیچے چلی گئی۔ پھر وارداتیں ہونے لگیں۔ کہیں بیوی میاں کو زہر دے کر موت کے گھاٹ اتار رہی تھی۔ کہیں میاں‘ بیوی اور اس کے رشتہ داروں پر حملے کر رہا تھا۔ سوکنوں نے ایک دوسرے کے گھروں پر چڑھائیاں کر دیں۔ نفرتیں چاروں طرف موت بن کر رقص کرنے لگیں۔ پڑوسی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔ انسان انسان کو کاٹنے لگا۔ اعتبار دنیا میں عنقا ہو گیا۔ اعتماد کا لفظ صرف لغت میں رہ گیا۔
پھر خود کشیاں شروع ہو گئیں۔ بزنس مین، صنعت کار، جاگیر دار، ٹائیکون کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گئے۔ کسی نے زہر کھا لیا۔ کوئی پلیٹ فارم سے پٹڑی پر کود گیا۔ کوئی چلتی گاڑی سیدھی سمندر میں لے گیا۔ سیاست دان پبلک کا سامنا کرنے کے بجائے پنکھوں سے لٹک کر جھول گئے۔ شک، عناد، نفرت، قطع کلامی سے زندگیوں میں زہر بھر گیا۔ خواب آور گولیاں کروڑوں کی تعداد میں بکنے لگیں۔ ماہرینِ نفسیات خود پا گل ہو گئے۔ ابھی پچاس برس کا بونس ملے دو سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ زندگی ہر ایک کو کھلنے لگی۔ ایک ایک دن کاٹنا عذاب ہو گیا۔ قیامت سے پہلے قیامت آ گئی۔
لوگوں کو احساس ہو گیا اور بدرجۂ اتم احساس ہو گیا کہ یہ گھاٹے کا سودا تھا۔
قدرت جو سمجھانا چاہتی تھی سمجھا چکی تھی۔ یہ جو خالق نے مخلوق کو علمِ غیب نہیں دیا اور پردہ رکھا تو یہی وہ اصل روح ہے جس سے زندگی میں جان ہے۔ عمر کی طوالت نعمت نہیں، عمر میں برکت اصل نعمت ہے۔ جس طرح بدن کی جلد نے انتڑیاں، پھیپھڑے، گردے اور عملِ انہضام چھپا کر رکھا ہے اسی طرح قدرت نے دلوں میں موجود بد نیتی، جھوٹ اور کینہ بھی چھپا دیا ہے تا کہ زندگی کا پہیہ چلتا رہے۔
پھر گرجے، مندر، مسجدیں، عبادت گاہیں انسانوں سے بھر گئیں۔ صدقے، خیراتیں، قربانیاں دی جانے لگیں۔ مخلوق گڑگڑائی۔ روئی کہ قدرت پچاس برس کا بونس واپس لے لے۔ اور اس کے بدلے میں پردہ پوشیاں واپس آ جائیں۔ سب ایک دوسرے کے ماضی کو بھول جائیں۔ بچے ماں باپ کا اور شاگرد اساتذہ کا احترام کرنے لگیں۔ کاروبار چل پڑیں۔ ساکت و جامد دنیا پھر سے رواں ہو جائے۔ 
جو کچھ نہاں ہے، عیاں ہو جائے تو بیوی، بچے، احباب، کولیگ تو دور کی بات ہے، ماں باپ، سگی اولاد کو نہ برداشت کریں۔ یہ وہی ہے ستّر مائوں سے زیادہ شفیق جو انسان کی ساری خیانتوں، منافقتوں، شقاوتوں، عہد شکنیوں، حیلہ کاریوں اور عیاریوں کے باوجود پردہ پوشی کرتا ہے۔ عزت دیئے رکھتا ہے، رزق فراہم کرتا ہے۔ اور دلوں میں باہمی محبت ڈالتا ہے؎
شکر نعمت ہائی تو، چند انکہ نعمت ہائی تو
عذرِ تقصیراتِ ما، چند انکہ تقصیراتِ ما

Thursday, July 09, 2020

مندر

آڈرے ٹرشکے (Audrey Truschke) معروف سکالر اور محقق ہیں۔ نیو یارک کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ ابتدا ہی سے مشرقی کلچر، مشرق کی ہسٹری اور مشرقی زبانوں سے دلچسپی تھی۔ سنسکرت پر عبور رکھتی ہیں۔ فارسی، اردو اور ہندی بھی جانتی ہیں۔ مغلوں کی تاریخ پر پڑھا بھی بہت اور لکھا بھی بہت!
2017ء میں انہوں نے اورنگ زیب عالم گیر پر ایک کتاب تصنیف کی۔ ایک سو چالیس صفحات کی اس کتاب پر بھارت میں بہت لے دے ہوئی۔ بی جے پی کے ہم نوائوں کو آڈرے ٹرشکے کی صاف گوئی پسند نہ آئی۔ آڈرے نے دلائل اور حوالہ جات سے ثابت کیا تھا کہ جن چند مندروں کو اورنگ زیب نے گرایا تھا، اس کی وجوہ مذہبی نہیں، سیاسی تھیں اور سکیورٹی سے متعلق تھیں۔ اس کے مقابلے میں جن مندروں کی اس نے کفالت کی، جنہیں جاگیریں، زمینیں اور رقوم دیں، ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔
پاکستان میں آج کل جو بحث چل رہی ہے، اس کے پیشِ منظر یہ مناسب محسوس ہوا کہ یہ اور کچھ اور معلومات شیئر کی جائیں۔ اس حقیقت کا تذکرہ بے جا نہ ہو گا کہ برِّ صغیر کے مسلمانوں کی اکثریت بالعموم، اور مذہبی طبقات بالخصوص اورنگ زیب عالم گیر کو ایک پرہیز گار اور دیانت دار بادشاہ سمجھتے ہیں اور اس کی حکومت کو، باقی مغل بادشاہوں کے اقتدار کے مقابلے میں، اسلامی قرار دیتے ہیں۔ فقہ حنفی کی نمایاں ترین کتاب ''فتاویٰ عالم گیری‘‘ اورنگ زیب ہی نے مرتب کرائی۔ اس کی تالیف میں آٹھ برس لگے۔ درجنوں نامور علما اور فقہا نے اس میں حصّہ لیا، اورنگ زیب نے ہر مرحلے پر نگرانی کی۔ دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ وقتاً فوقتاً اس کے مختلف حصے پڑھوا کر سنتا تھا اور اپنی رائے دیتا تھا۔
تخت نشینی کے نویں سال اورنگ زیب نے گوہاٹی (آسام) کے اومانند مندر کے بارے میں ایک فرمان جاری کیا، اس کی رُو سے اُس زمین کی تصدیق کی جو حکومت نے مندر کو پہلے دی تھی۔ ساتھ ہی ٹیکس جمع کرنے کا اختیار بھی تفویض کیا۔ 1680ء میں اس نے حکم جاری کیا کہ ہندو جوگی بھگونت گوسائیں کو، جو بنارس میں گنگا کے کنارے رہتا تھا، پریشان نہ کیا جائے۔ 1687ء میں اورنگ زیب نے بنارس کے ہندوئوں کو زمین دی تا کہ برہمنوں اور نیک فقیروں کے لیے رہائش گاہیں تعمیر کی جائیں۔ 1691ء میں (وفات سے سولہ سال قبل) ہندوئوں کے مقدس مقام چتر کوٹ میں آٹھ دیہات پر مشتمل جاگیر دی تا کہ بالا جی مندر کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ خاندیش (وسطی ہندوستان) میں مقیم ایک برہمن رنگ بھاٹ کو بادشاہ نے 1698ء میں زمین دی جس کے عوض کوئی کرایہ یا ٹیکس نہیں لیا گیا۔ یاد رہے‘ یہ بادشاہ کے زندگی کے آخری آٹھ نو سال تھے۔ پہلے مغل بادشاہوں نے ایک ہندو فرقے ''جنگم‘‘ کو 1564ء میں جاگیر عطا کی تھی‘ وہ ان سے چھین لی گئی۔ ایک مقامی با اثر مسلمان انہیں پریشان کر رہا تھا۔ 1672ء میں اورنگ زیب نے اُس سے بچایا۔ جو ناجائز کرایہ (یا محصول) لیا گیا تھا‘ 1674ء میں وہ بھی واپس کرایا۔
جَین فرقے کے پیروکاروں کو اورنگ زیب نے سرکاری خزانے سے گجرات میں کئی زمینیں دیں۔ وفات سے چار سال پہلے اورنگ زیب نے فرمان جاری کیا کہ جین پنڈت جینا چندر سُوری کو تنگ نہ کیا جائے۔
نوجوان محقق احمد سرفراز چند روز پہلے ایک انتہائی اہم کتاب منظرِ عام پر لے کر آئے ہیں۔ یہ کتاب جس کاعنوان ''ہندو مندر اور اورنگ زیب عالم گیر کے فرامین...‘‘ ہے‘ ڈاکٹر بی این پانڈے کی تصنیف ہے۔ ڈاکٹر پانڈے (وفات 1998ء) کانگرسی تھے۔ نہرو کے قریبی رفقا میں سے تھے۔ یو پی اسمبلی کے رکن رہے۔ الٰہ آباد کے میئر رہے۔ راجیہ سبھا کے دو بار رکن رہے۔ چار سال اوڑیسہ کے گورنر رہے۔ ان کی متعدد تصانیف میں ''اسلام اور انڈین کلچر‘‘ اور ''اورنگ زیب‘‘ بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر پانڈے کی جس تصنیف کا ہم احمد سرفراز صاحب کے حوالے سے ذکر کر رہے ہیں، اس کے مرتب مولانا مفتی عطاالرحمن قاسمی ہیں۔ مولانا آزاد اکیڈمی نئی دہلی نے اسے 2001ء میں شائع کیا۔
احمد سرفراز کہتے ہیں کہ ڈاکٹر پانڈے نے جب 29 جنوری 1977ء کو بھارتی پارلیمنٹ میں ثابت کیا کہ اورنگ زیب مندروں اور گوردواروں کو جاگیریں اور عطیات دینے والا تھا تو پارلیمنٹ پر سکتہ طاری ہو گیا اور کسی کو مخالف کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اورنگ زیب نے ایک سو ستر بیگھے زمین ستیا کنڈھ کے لیے وقف کی۔ لال قلعہ کے نزدیک واقع جین مندر کو اورنگ زیب وظیفہ دیتا تھا۔ کئی مندروں کے نگران سنتوں کے پاس بادشاہ کے اصل فرامین آج بھی محفوظ ہیں۔ اورنگزیب کی خادمہ مس جولیا عیسائی تھی۔ اس کیلئے چرچ کی تعمیر اور دیگر اخراجات کے ضمن میں شاہی فرمان جاری ہوا جو آج بھی نئی دہلی کے گول ڈاکخانہ چرچ میں آویزاں ہے۔
اجین کے مندر میں ہر وقت دیا جلتا ہے۔ اسے بجھنے نہیں دیا جاتا۔ تمام حکومتیں اس دیے کو روشن رکھنے کے لیے وسائل فراہم کرتی رہیں۔ اورنگ زیب نے اس روایت کو برقرار رکھا اور وسائل مہیا کیے۔ 1685ء میں ایک ہندو ناگر سیٹھ کو اورنگ زیب نے احمد آباد میں مندروں کی تعمیر کے لیے زمین عطا کی۔ آڈرے ٹرشکے اور ڈاکٹر پانڈے کی کتابوں میں بہت سے حوالے مشترک ہیں۔ ڈاکٹر پانڈے ٹیپو سلطان کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ جس قلعہ میں سلطان متمکن تھا وہاں مسجد تھی اور قدیم مندر بھی تھا۔ سلطان ٹیپو ہر سال ایک سو چھپن مندروں کو تحائف اور چڑھاوے بھجواتا تھا!
''دی نیو لیم‘‘ دہلی سے شائع ہونے والا معروف جریدہ ہے۔ 15 جنوری 2019ء کی اشاعت میں بھرت ڈوگرا لکھتے ہیں ''انتہا پسند تنظیمیں مسجد، مندر کا تنازعہ اس شدت سے کھڑا کر رہی ہیں کہ بہت سے لوگ مسلم حکمرانوں کو مندروں کے دشمن سمجھنے لگ گئے ہیں، اس سے زیادہ کوئی بات حقیقت کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ یقینا کچھ واقعات مندروں کے انہدام کے پیش آئے مگر اس سے کہیں زیادہ مثالیں مسلمان بادشاہوں کی مندر نوازی کی ملتی ہیں۔ مسلمان بادشاہ کئی مندروں کی تعمیر اور نگہداشت کیلئے وسائل فراہم کرتے رہے۔ ان میں ایودھیا، متھرا اور کئی اور اہم مندر شامل ہیں...‘‘
بھرت ڈوگرا لکھتے ہیں کہ اکبر تو مندر نواز تھا ہی، جہانگیر نے بھی مزید اضافے کیے۔ اودھ کے مسلمان نوابوں نے ایودھیا کے مندر کو کئی گرانٹس (رقوم) دیں۔ نواب صفدر گنج کے دیوان نے کئی مندر تعمیر کرائے۔ نواب نے اس مقصد کیلئے زمین دی۔ دستاویزات شاہد ہیں کہ مسلمان بادشاہوں نے چتر کوٹ، بنارس، اجین اور الہ آباد کے مندروں کیلئے سرکاری طور پر فنڈز مہیا کیے۔ دکن کے حکمران ابراہیم عادل شاہ نے کئی ہندو عبادتگاہیں تعمیر کرائیں۔ بہمنی سلطنت کے فرمانروا سلطان علائوالدین ثانی نے اپنے محل کے نزدیک ایک چھوٹا سا خوبصورت مندر تعمیر کرایا۔ پندرھویں صدی کے کشمیری حکمران زین العابدین نے کئی مندر تعمیر کرائے۔
ایودھیا کے سب سے زیادہ مشہور اور اہم مندر کا نام ہنومان گڑھی ہے۔ مہنّت گیان داس اس کا پروہت ہے۔ 1962ء سے وہ اس عہدے پر فائز ہے۔ نومبر 2019ء میں اس نے گلف نیوز کے ایڈیٹر جناب بوبی نقوی کو بتایا کہ یہ مندر 1774ء میں اس 52 بیگھہ زمین پر بنا تھا جو نواب شجاع الدولہ نے مندر کیلئے سرکاری طور پر دی تھی۔ تعمیر بھی نواب ہی نے کرایا۔ ان کے بیٹے منصور علی بھی بہت فیاضی سے مالی امداد دیتے رہے۔ فارسی میں لکھا ہوا اصل فرمان گیان داس کے پاس آج بھی محفوظ ہے۔ وہ اسے فخر سے دکھاتا ہے۔ اسکی تصویر، جس میں وہ مُہر لگا اصل فرمان دکھا رہا ہے، گلف نیوز میں شائع ہوئی۔ مندر کے ساتھ ایک عالی شان مسجد بھی ہے۔

Monday, July 06, 2020

قالین اٹھا کر دیکھیے نیچے کیا ہے

ابھی تک آسمان سے پتھر نہیں برسے۔ ابھی تک بادلوں نے آگ نہیں برسائی۔ ابھی تک وہ چاردیواریاں جہاں بیٹیاں محفوظ نہیں‘ زمین کے اوپر موجود ہیں‘ زمین کے پیٹ میں نہیں گئیں!
متعلقہ وزیر نے درست کہا کہ ''یہ میرے بچے ہیں! میں ان کی حفاظت کروں گا‘‘۔ یہ اور بات کہ ابھی تک معاملہ جہاں تھا‘ وہیں پڑا ہے!
وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ کمیٹی بنا دی گئی! کمیٹی نے رپورٹ دی کہ سکول انتظامیہ نے کمیٹی کے ساتھ تعاون ہی نہیں کیا۔ طالبات سے ملاقات کرائی نہ ڈیٹا فراہم کیا۔ کمیٹی کے بقول سکول انتظامیہ کا مؤقف یہ ہے کہ وہ طالبات کی ذاتی معلومات شیئر نہیں کر سکتے۔ کون سی ذاتی معلومات ؟ سب کچھ تو طالبات نے سوشل میڈیا پر پوری دنیا سے شیئر کر دیا ہے۔ افراد کے نام‘ ان کی تصویریں ان کے پیغامات‘ سب کچھ سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ یہ ''تعلیم‘‘ ایک عرصہ سے دی جا رہی تھی۔ ان افراد کے نام بھی مبینہ طور پر دیئے گئے ہیں جن سے طالبات فریاد کرتی رہیں مگر وہ کوڑے کرکٹ کو قالین کے نیچے سرکاتے رہے۔
حکومت ایکشن لینا چاہتی تو کمیٹیوں اور رپورٹوں کے سرخ فیتے میں پڑنے کے بجائے ڈائریکٹ ایکشن لے سکتی تھی!
ایک رائے یہ بھی ظاہر ہوئی ہے کہ کچھ قصور طالبات کا بھی ہوگا! یہ رائے ہمارے معاشرے کی مجموعی رویے سے مناسبت رکھتی ہے! قصور آخر میں لڑکی یا عورت ہی کا نکلتا ہے! یہاں تو بڑے بڑے جغادریوں کے وڈیو کلپ موجود ہیں جن میں ان کا ''فلسفہ‘‘ یہ ہے کہ عورت کے ساتھ زیادتی ہو تو اسے خاموش رہنا چاہیے۔ جس معاشرے میں عورت کو‘ آج بھی‘ کم و بیش‘ فرنیچر کا پیس سمجھا جاتا ہے‘ جہاں لڑکے والے آ کر لڑکی کو ''دیکھتے‘‘ ہیں‘ پھر اسے منظور یا رد کرتے ہیں‘ جہاں عورت کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ جہاں جا رہی ہو وہاں سے جنازہ ہی نکلنا چاہیے‘ جہاں پانچ پانچ برس کی بچیوں کو ساٹھ ساٹھ سال کے بڈھوں سے ''بیاہ‘‘ دیا جاتا ہے اس لیے کہ جرم بچیوں کے باپ یا بھائی نے کیا تھا‘ جہاں عورتوں کے چہرے تیزاب سے مسخ کیے جاتے ہیں اور مجرم پکڑے نہیں جاتے‘ جہاں بیٹی جنم دینے پر عورت کو مارا پیٹا جاتا ہے اور طلاق دے کر گھر سے باہر نکال دیا جاتا ہے‘ جہاں بچہ پیدا نہ کرنے کا نقص ہمیشہ عورت ہی میں دریافت کیا جاتا ہے‘ وہاں ایسی رائے کا اظہار اچنبھے کی بات نہیں! بے شک درجنوں طالبات الزام لگا رہی ہوں‘ موجودہ بھی‘ سابق طالبات بھی‘ پھر بھی قصور کا کچھ حصہ لڑکیوں پر ضرور تھوپنا چاہیے! اس لیے کہ یہاں حرفِ آخر مرد ہی کا چلے گا۔ اسی کے منہ سے نکلا ہوا حرف قانون بنے گا!
ایک تعلیم یافتہ معمر خاتون بتا رہی تھیں کہ انہیں کہیں جانے کے لیے شوہر کے علاوہ بیٹے سے بھی اجازت لینا پڑتی ہے! ماں کے قدموں میں جنت ہو گی تو ہو گی‘ ابھی تو ماں پر حکومت بھی بیٹا کرتا ہے اور اس لیے کہ وہ مرد ہے!!
اس ملک کا بچہ بچہ اسلام کے لیے جذباتی ہے! مگر سنتِ رسولؐ پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں! جہانوں کے سردارﷺ اپنا کرتہ دھو رہے تھے۔ دیکھنے والے نے پوچھا کہ آپ پیغمبر ہو کر کپڑے دھو رہے ہیں۔ فرمایا: اس سے پیغمبری کو کیا فرق پڑتا ہے (مفہوم)۔ جوتے گانٹھتے تھے۔ گھر کا کام کرتے تھے۔ ایک عورت آتی ہے۔ کہتی ہے: یا رسول اللہؐ! میں اپنے میاں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ پوچھا کیوں؟ کہتی ہے: مجھے وہ پسند نہیں! آپ مزید کچھ نہیں پوچھتے کہ کیوں پسند نہیں! یہاں عورت سے کوئی پوچھتا ہی نہیں کہ فلاں مرد سے شادی کرنا منظور ہے یا نہیں؟ ذمہ داریاں بھی اس پر ہیں‘ قصور بھی اسی کے سر ہیں۔ ملازمت کرے تب بھی گھر کی ذمہ داریاں نبھائے۔ جیسا بھی ماحول ہو‘ گزر بسر کرے۔ مانا کہ سو فیصد گھروں میں ایسا نہیں۔ خواتین بھی افراط و تفریط کی مرتکب ہوتی ہیں۔ ا یسی ایسی ''بہادر‘‘ خواتین بھی ہیں کہ آتے ہی مرد کو اور اس کے ماں باپ کو ''سیدھا‘‘ کر دیتی ہیں۔ بیٹی کی پیدائش پر خوش ہونے والے خاندان بھی ہیں۔ بہو کو بیٹی سمجھنے والے سسرال بھی یقینا موجود ہیں‘ مگر اوپر جو کچھ عورت کی حالتِ زار پر کہا گیا ہے وہ اکثریت کو سامنے رکھ کر کہا گیا ہے!
تعلیمی ادارے میں پردے کے پیچھے سے جو کچھ ظاہر ہوا‘ اس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اس پہلو کی تفہیم کے لیے ذرا اس پوسٹ پر نظر دوڑائیے جو کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر وائرس ہو رہی ہے۔
تاریخی ڈرامہ ارطغرل دیکھنا چھوڑئیے اپنے ڈرامے دیکھیے! اپنا کلچر دیکھیے:
ایک چینل لگایا۔ ڈرامے میں رنگ رلیاں منائی جا رہی تھیں۔
دوسرا ڈرامہ لگایا: اس میں بھی ایسا کچھ ہی ہو رہا تھا!
ایک اور چینل لگایا: باس اپنے ملازم کی عزت میں نقب لگا رہا ہے۔
ایک اور چینل لگایا: سسر بیٹے کی حرمت کے پیچھے پڑا تھا۔
ایک اور ڈرامے میں ایک لڑکی کے پیچھے پانچ بھیڑئیے لگے ہیں۔
کیا یہ ہمارا کلچر ہے؟ یا پھر یہ مصنفوں‘ پروڈیوسروں اور ڈائریکٹروں کے گھروں کا کلچر ہے؟ پاکستان میں رہنے والا عزت دار انسان یہ ڈرامے فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتا۔سوشل میڈیا پر چینلوں اور ڈراموں کے نام بھی درج ہیں؛ تاہم پرنٹ میڈیا کی اپنی حدود و قیود ہیں اس لیے یہ (اصل) نام حذف کر دئیے گئے ہیں۔ یہ کثافت چھوٹی سکرین پر ایک عرصہ سے پھیلائی جا رہی ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ ان ناقابلِ دید ڈراموں میں کام کرنے والے اداکاروں میں ہی سے کچھ ایسے بھی ہیں جو مبینہ طور پر ان گراں بہا طاقت ور تعلیمی اداروں میں پڑھانے کے مقدس کام پر مامور ہیں! کہاں یہ تصور کہ استاد باپ ہوتا ہے اور اخلاق سکھاتا ہے اور کہاں یہ قیامت کہ ڈراموں میں نا مناسب کردار ادا کرنے والے ایکٹر تعلیمی اداروں میں بھی سرنگیں لگا چکے ہیں!
چلیے‘ اسے استثنائی معاملہ سمجھ لیتے ہیں۔ یقینا ایک آدھ مثال ہی ایسی ہوگی! مگر اصل سوال یہ ہے کہ جب ہر روز چینلوں پر ایسے کھیل دکھائے جائیں گے جن میں محرم اور غیر محرم کی تمیز نہیں ہوگی‘ گھروں کے اندر حرمتیں پامال ہوتی دکھائی دیں گی۔ مقدس رشتوں کی حدود پامال کرنے کے مظاہرے ہوں گے‘ تو نژادِ نو پر کیا اثر پڑے گا؟ ہم کون سی فصل تیار کر رہے ہیں؟ کس نوعیت کے بیج بو رہے ہیں؟ کیا ہم خاندانی نظام کو انتشار کی نذر کرنا چاہتے ہیں؟
کچھ ذمہ داری والدین کی بھی ہے۔ بچوں کو اتنا رسمی اور خوف زدہ نہ کیجیے کہ کسی ایسی قباحت کی شکایت کرتے ہوئے ڈریں اور کئی بار سوچیں۔ ان کے معاملات اور مسائل میں دلچسپی لیجیے۔ بات بات پر ٹوک کر ان کی خود اعتمادی کو مجروح نہ کیجیے۔ دن بھر کی روداد ان سے سنیے اور دلچسپی لے کر سنیے۔ تبھی وہ آپ سے اپنی ہر بات شیئر کریں گے۔
ایک انگریزی معاصر میں ایک خاتون نے ایک اور آپشن بھی بتایا ہے۔ اس کی بیٹی اسی ادارے میں زیر تعلیم تھی۔ اس نے گارڈ کی مشکوک نظروں کی شکایت کی۔ خاتون نے اسے عبابا پہنا کر بھیجنا شروع کر دیا۔ یہاں مذہب کو درمیان میں نہ لائیے۔ اسے حفاظتی ہتھیار کے طور پر دیکھیے۔ کورونا سے بچنے کے لیے ماسک بھی تو پہن رہی ہیں‘ ہوس ناک نظروں سے محفوظ رہنے کے لیے یہ بھی کر دیکھیے۔ اگرچہ یہاں بچائو کی گارنٹی پھر بھی نہیں!

 

Monday, June 29, 2020

مسائل‘‘ جو ہمیں در پیش ہیں

پٹرول کی قیمت میں یکدم پچیس چھبیس روپے فی لٹر کا اضافہ ہو گیا۔ مگر یہ اصل مسئلہ نہیں!
پہلے چینی کے حوالے سے اہلِ خیر نے کروڑوں اربوں کمائے۔ چینی کا ایک بہت بڑا ٹائیکون چارٹرڈ جہاز پر بیٹھ کر ملک سے چلا گیا اور اُس دیار میں پہنچ گیا جو اُس سمیت بہت سوں کے لیے ارضِ موعود (Promised land) ہے۔
پھر پٹرول کی قلت پیدا کی گئی۔ اب قیمت بڑھی ہے تو پٹرول باہر نکلے گا۔ مگر یہ بھی اصل مسئلہ نہیں!
ہمارے مسائل اور نوعیت کے ہیں۔ اہم ترین مسئلہ جو قوم کو آج در پیش ہے‘ یہ ہے کہ اسامہ بن لادن شہید تھا یا نہیں؟ قوم اس مسئلے پر دو واضح گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر شہید کہنے والے اور نہ کہنے والوں کی بھرمار ہے! وہ تو خدا کا شکر ہے کہ سوشل میڈیا پر دونوں گروہ جسمانی طور پر آمنے سامنے نہیں آ سکتے ورنہ خون کی ندیاں بہہ چکی ہوتیں۔ کسان کا بیٹا جو دوسری جنگ عظیم میں بھرتی ہوا تھا‘ بہت سخت تھا۔ کسان کو معلوم ہوا کہ ہٹلر بھی سخت ہے۔ وہ ڈرا کہ دونوں کا آمنا سامنا ہوا تو کیا بنے گا؟ 
اس نوع کے مسائل ہم چھیڑتے رہتے ہیں۔ کبھی خود! کبھی کسی کی انگیخت پر! تا کہ پٹرول اور چینی جیسے ایشوز پس منظر ہی میں رہیں! اس سے پہلے ایک صاحب نے ٹیلی ویژن پر اسی نوعیت کا ایک اور مسئلہ چھیڑا تھا۔ اب یہ جو نیا سیاپا اٹھایا گیا ہے! اندیشہ ہے کہ ہفتوں چلے گا!
زندگی اور موت جس پر منحصر ہے‘ وہ ایک اور مسئلہ بھی ان دنوں پیش منظر پر چھایا ہوا ہے! مندر کی تعمیر !! قوم پریشان ہے۔ آدھے اس کے حق میں ہیں۔ آدھے اسے ایمان اور اسلام کے لیے خطرناک قرار دے رہے ہیں! امید واثق ہے کہ یہ قضیّہ بھی ہفتوں نہیں مہینوں چلے گا۔ اس کی آڑ میں پٹرول مافیا بھی شوگر مافیا کی طرح بچ نکلے گا! پھر ایک اور مافیا آ دھمکے گا!
ہماری ذمہ داریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پہلے ہم زندگیوں کے ذمہ دار تھے کہ فلاں اگر زندہ ہے تو مسلمان ہے یا نہیں! اب ہم نے ترقی کر لی ہے۔ اب ہم حیات بعد الموت کے بھی ٹھیکیدار ہیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے اور یہ ہمارا اختیار ہے کہ کس کو شہادت کا درجہ دیں اور کس کو غیر شہادت کا۔ جسے چاہیں جنت میں بھیجیں اور جسے چاہیں جہنم کا ایندھن قرار دیں!
کورونا کے حوالے سے سازشی نظریات تو دوسرے ملکوں میں بھی چلے مگر شاید ہم واحد ملک ہیں جس نے کورونا کے وجود ہی کو چیلنج کر دیا! اَن پڑھ تو اَن پڑھ‘ اچھے خاصے پڑھے لکھوں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ کورونا قسم کا کوئی وائرس یا بیماری موجود ہے! اپنے وجود کو تسلیم کرانے کے لیے کورونا کو کئی پاپڑ بیلنے پڑے۔ لوگ باگ پوچھتے تھے کہ کیا اپنی آنکھوں سے کورونا کا کوئی مریض دیکھا ہے؟ کورونا نے ہر شخص کو مریض دکھا دیئے۔ نہ ماننے والوں کے سامنے جنازوں پر جنازے اٹھے! حفیظ جالندھری نے کہا تھا؎
حفیظ اہلِ زباں کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
کورونا نے بھی فتح مندی کے بعد یہی شعر پڑھا ہو گا!
صنعت‘ زراعت‘ درآمدات‘ برآمدات‘ بجٹ‘ گرانی‘ تعلیم‘ زرعی اصلاحات‘ صحت‘ بنیادی حقوق‘ فیصلوں میں غیر معمولی تاخیر‘ محکموں میں سرخ فیتہ‘ یہ مسائل تو ہمیں مسائل لگتے ہی نہیں! بہادری کا یہ عالم ہے کہ یہ سب ایشوز پرِ کاہ کے برابر بھی نہیں! ہمارے مسائل آفاقی‘ مابعد الطبیعاتی اور غیر مرئی ہیں! ایک صاحب نے یہ ایشو چھیڑا کہ اللہ تعالیٰ کواللہ تعالیٰ ہی کہنا چاہیے‘ خدا نہیں کہنا چاہیے۔ چودہ پندہ سو برسوں سے خدا کا لفظ استعمال ہو رہا ہے! بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر! ہر شخص کی زبان پر ہے۔ صدیوں سے خدا حافظ کہا جا رہا ہے!
حکومتوں کے مزے ہیں۔ جو بھی حکومت ہو‘ زرداری صاحب کی‘ میاں صاحبان کی‘ عمران خان کی‘ جنرل ضیاء الحق کی‘ اپنی دُھن میں مست رہتی ہے۔ عوام انہی پریشانیوں میں گرفتار رہتے ہیں جن کی مثالیں ہم نے اوپر دی ہیں!
پائلٹوں کی ایسوسی ایشن نے الگ معاملہ اٹھایا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سو کے لگ بھگ پائلٹوں کے لائسنس کیسے جعلی ہو سکتے ہیں؟ شاہد خاقان عباسی تو خیر خود پارٹی ہیں اس لیے کہ ایک ائیر لائن کے مالک ہیں مگر پالپا کے اس پوائنٹ میں خاصا وزن ہے کہ تشہیر سے پوری دنیا میں بدنامی ہوئی ہے اور غیر ملکی ائیر لائنوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹوں کو عجیب نظروں سے دیکھا جائے گا۔ وفاقی وزیر کے بیان کا ردِّ عمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ کئی ملکوں نے پاکستانی پائلٹوں اور انجینئروں کو گرائونڈ کر دیا ہے۔ فہرستیں بن رہی ہیں۔ صاف معلوم ہو رہا ہے کہ پاکستانی پائلٹ اب کہیں بھی قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔ اپنی ہی حکومت کا بیان ان کے گلے کا پھندا بن رہا ہے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ خاموشی سے جعل سازوں کو پکڑ کر سخت سزائیں دی جاتیں۔ تادمِ تحریر‘ نہیں معلوم کہ کسی کو پکڑا بھی گیا ہے یا نہیں! فہرست کی ثقاہت کا یہ حال ہے کہ مبینہ طور پر ان پائلٹوں کے نام بھی شامل ہیں جو دنیا سے رحلت کر چکے۔
ابھی تو یہ بھی معلوم نہیں کہ انجینئرنگ‘ حسابات اور دوسرے شعبوں میں جعلی ڈگری ہولڈر ہیں! ایک سابق وزیر اعلیٰ تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے‘ جعلی ہو یا اصلی!!
نیا جھگڑا مغلوں کی تاریخ پر بھی پڑا ہوا ہے۔ پہلے چھ بادشاہوں کا عرصۂ اقتدار ایک سو پچاس سال نہیں‘ ایک سو اکاسی برس ہے۔ یعنی 1526ء سے لے کر 1707ء تک! اس میں سے پندرہ برس سُوری خاندان کے نکال دیں تو یہ عرصہ ایک سو چھیاسٹھ سال رہ جاتا ہے۔ رہا مسئلہ اورنگ زیب کے بعد کا تو اس میں عمران خان اور خواجہ آصف دونوں اپنی اپنی جگہ درست کہہ رہے ہیں‘ وزیر اعظم جب کہتے ہیں کہ اورنگ زیب کے بعد چھ فرماں روا صرف تیرہ برس نکال سکے تو یہ واقعاتی طور پر درست ہے! اورنگ زیب کی وفات (1707ء) کے بعد تیرہ سال 1720ء میں پورے ہوئے۔ ان تیرہ برسوں میں چھ ہی بادشاہ تھے۔ کسی کو تین برس ملے‘ کسی کو تین سو پچاس دن! کسی کو دو سو تریپن دن! کسی کو صرف اٹھانوے دن!
دوسری طرف خواجہ آصف جب کہتے ہیں کہ 1707ء سے لے کر 1857ء تک چودہ (یا تیرہ؟) بادشاہ حکمران رہے‘ وہ بھی صحیح ہے۔ وزیر اعظم نے صرف پہلے تیرہ برس کا ذکر کیا جب کہ خواجہ صاحب کُل ڈیڑھ سو برس کا حساب لگا رہے ہیں! اس معاملے میں کمیشن بٹھانے کی ضرورت نہیں!
ہاں ایک اشکال یہ ابھرا ہے کہ وزیر اعظم ایک طرف کہتے ہیں کہ بادشاہت کی وجہ سے مسلمان پیچھے رہ گیا اور مغرب آگے نکل گیا کیونکہ بادشاہت میں میرٹ نہیں ہوتا۔ مگر اُسی سانس میں وہ پہلے چھ مغل بادشاہوں کی تعریف بھی کرتے ہیں!!
پہلے چھ مغل بادشاہوں نے کمال کیا کہ ان کے سامنے انگریز‘ پرتگالی اور فرانسیسی بحری جہازوں سے اُتر کر ہندوستان کے مغربی‘ مشرقی اور جنوبی ساحلوں پر ''تجارتی‘‘ کوٹھیاں تعمیر کرتے رہے اور ہمارے بادشاہ کبھی تختِ طائوس بنواتے رہے اور کبھی کئی کئی ہفتے تاج پوشی کے جشن مناتے رہے۔ خدا نرم معاملہ کرے اورنگ زیب عالم گیر کے ساتھ! پچیس برس دکن میں گزار دیئے۔ جن مسلمان ریاستوں (بیجا پور‘ گولکنڈہ‘ احمد نگر) نے مرہٹوں کو زیر کر کے رکھا ہوا تھا‘ اُن ریاستوں کو بزعمِ خویش فتح کیا۔ مغل سلطنت ''وسیع تر ‘‘ ہو گئی مگر مرہٹہ جِن بوتل سے نکل آیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا‘ ہم سب جانتے ہیں!!

Thursday, June 25, 2020

معاملات باہر نہ جائیں

‘‘ 

یہ ایک عجیب و غریب صورتِ حال ہے، جس میں وفاقی حکومت کا سربراہ ایک صوبے میں جاتا ہے مگر صوبائی حکومت کے سربراہ سے ملاقات نہیں کرتا!
سیاست اور حکومت... جمہوریت میں جڑواں بہنیں ہیں۔ یہاں مخالفت مستقل ہے نہ موافقت! کسی بھی ایشو پر، اختلاف ہو سکتا ہے! مگر کیا اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کی طرح کُٹی کر لی جائے؟ وزیر اعظم حکومت کے سربراہ ہیں۔ ان کا نمائندہ یا نائب، صوبے کا وزیر اعلیٰ ہے! گورنر نہیں! گورنر تو ریاست کا نمائندہ ہے! حکومت وزیر اعلیٰ چلاتا ہے! اگر وزیر اعظم سندھ جا کر اپنی پارٹی کی کور کمیٹی سے ملتے ہیں اور صرف گورنر سے! اور ان کے پروگرام میں اور تو سب کچھ ہے، صوبائی حکومت کے سربراہ سے ملاقات کا پروگرام نہیں، تو نرم ترین الفاظ میں بھی اسے سیاسی ناپختگی ہی کہیں گے۔
کئی دیگر معاملات میں خود وزیر اعظم کے عمل نے ثابت کیا ہے کہ سیاست میں مخالفت دائمی نہیں ہوتی۔ قاف لیگ کے رہنمائوں اور راولپنڈی کے ایک سیاست دان کے بارے میں اُن کے ریمارکس ریکارڈ پر ہیں جنہیں یہاں نقل کرنا مناسب نہیں! مگر یہی حضرات آج موجودہ حکومت کے اتحادی ہیں! اہم اتحادی!! وزیر اعظم اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اگر وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرتے، انہیں طلب ہی کر لیتے اور کورونا سے پیدا شدہ صورت حال پر کچھ سنتے، کچھ سناتے تو وفاق کا بندھن اس سے ضعیف نہیں، قوی ہوتا، گورنر اور ایک وفاقی وزیر... صوبے کی صورت حال پر آخر کتنا کچھ بریف کر سکتے ہیں!
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جب اپنے آئین میں ترمیم کر کے بدنیتی اور ظلم کا ارتکاب کیا تو یہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا ایشو تھا! قوم توقع کر رہی تھی کہ اس موقع پر بھی وزیراعظم اپوزیشن سمیت تمام سیاسی رہنمائوں کو اعتماد میں لیں گے‘ مگر ایسا نہ ہوا۔ اگر وہ ایک آل پارٹیز کانفرنس اس ضمن میں بلاتے تو ان کی نیک نامی میں اضافہ ہوتا۔ حزبِ اختلاف میں سے اگر کوئی ایسی کانفرنس کا بائیکاٹ کرتا، تو اس کی اپنی پوزیشن پر سوالیہ نشان لگتا!
یہ بات تواتر کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ حکومت سنبھالنے کے بعد عمران خان صاحب صرف تحریک انصاف کے سربراہ نہیں، وفاقی حکومت کے بھی سربراہ ہیں! وفاق کی تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر چلنا ان کا فرضِ منصبی ہے۔ اگر وہ ان کے پاس جا کر بھی ان سے ملاقات نہیں کریں گے تو یہ اکائیوں کے لیے ایک صحت مند پیغام نہیں ہو گا۔ ریاض مجید کا شعر یاد آ رہا ہے؎
اے زمیں! ہم خاک زادوں سے جدا ہے کس لیے
ہم ترے بچے ہیں، ماں! ہم سے خفا ہے کس لیے
اس کالم نگار کا پیپلز پارٹی سے تعلق ہے نہ مراد علی شاہ سے شناسائی! مگر ابتلا کے اس دور میں سندھ کے وزیر اعلیٰ ایک متحرک اور فعال شخصیت بن کر ابھرے ہیں۔ مخالفت میں بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے مگر کورونا کے حوالے سے ان کی تشویش اور اقدامات... دونوں... قابلِ ستائش رہے! کاش! اس نازک مرحلے پر وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی رہتی مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! یہاں عوام جس شے کی تمنا کریں وہی عنقا ہو جاتی ہے؎
ہمارے بھاگ میں لکھے گئے ہیں تہہ خانے
کہ آرزو تھی ہمیں صحن میں نکلنے کی
فواد چوہدری کا انٹرویو ایک افق سے نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے افق تک چھا گیا! یہاں تک کہ کابینہ کے اجلاس کو بھی اس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وزیر اعظم نے مبینہ طور پر تلقین کی کہ ''معاملات باہر نہ جائیں...‘‘! یہ تلقین دلچسپ ہے! کیا ریاست مدینہ میں حکومت کے سربراہ اپنے مشیروں اور ساتھیوں کو یہی ہدایت دیتے تھے کہ معاملات باہر نہ جائیں؟ یا معاملات شفاف ہوتے تھے۔ کھلی کتاب کی طرح؟ باہر اور اندر کی تفریق نہیں تھی! سوال یہ ہے کہ ایسا کچھ کیا ہی کیوں جائے جسے پردۂ اخفا میں رکھنے کی ضرورت پڑے؟
فواد چودھری صاحب کے انٹرویو سے بہت کچھ چھن کر باہر آیا ہے۔ بنیادی طور پر ان کے دو نکات ایسے ہیں جن سے موجودہ حکومت کے طریق کار (Modus operandi) پر روشنی پڑ رہی ہے۔ اوّل: بہترین لوگوں کو عہدوں پر لگانے کے بجائے کمزور اور ڈکٹیشن لینے والے لوگوں کو لگایا گیا ہے۔ فواد کہتے ہیں ''ہم نے سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن بات نہیں بنی‘‘۔ دوم: سیاسی کلاس آئوٹ ہو گئی اور ان کی جگہ بیورو کریٹس نے لے لی۔
یہ بات کہ عہدوں پر کمزور اور ڈکٹیشن لینے والے لوگوں کو لگایا گیا ہے، کسی دھند کے بغیر، پیش منظر پر صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اس ضمن میں اتنا کچھ کہا اور لکھا گیا ہے کہ شاید ہی کسی اور ایشو پر کہا اور لکھا گیا ہو! مگر ع
واں ایک خامشی تری، سب کے جواب میں
کائنات کے جو لا ینحل مسائل ہیں، جیسے انسانی زندگی کی ابتدا کب ہوئی، خاتمہ کب ہو گا، آسٹریلیا، ایشیا سے کب جدا ہوا، اور بہت سے دوسرے، ان میں اب ایک اور لا ینحل مسئلے کا اضافہ ہوا ہے کہ جناب بزدار کو کس بنیاد پر ملک کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کا حکمران بنایا گیا اور یہ کہ وہ کس کی دریافت ہیں؟ سب اپنے اپنے اندازے لگا رہے ہیں۔ ڈور کو سلجھا رہے ہیں اور سرا ملتا نہیں! اندازوں کے ڈانڈے کہاں جا ملتے ہیں؟ اس بارے میں بات نہ کرنا ہی مناسب ہے!
نبض پر جو ہاتھ فواد چوہدری نے بیوروکریسی کی مکمل حاکمیت کے حوالے سے رکھا ہے وہ بالکل صحیح ہے! کہتے ہیں ''ڈاکٹر عشرت حسین 1968ء سے یہ کام کر رہے ہیں۔ انہیں اصلاحات لانا ہوتیں تو پہلے لے آتے...‘‘!
ڈاکٹر عشرت حسین کی اس حکومت میں تعیناتی کے بعد اس کالم نگار نے سب سے پہلے یہی بات کی تھی جو آج فواد چوہدری کر رہے ہیں۔ کالم بھی لکھے۔ ٹی وی پر بھی دہائی دی۔ ڈاکٹر صاحب ذہنی طور پر سول سروس کے اُس خاص گروپ سے باہر نکلے ہی نہیں جس میں چھپن سال پہلے وہ اترے تھے۔ اصلاحات کی جو شکل بھی وہ پیش کریں گے (اگر پیش کی تو) اس میں یہ خاص گروپ ہی غالب رہے گا۔ لمحۂ موجود میں زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایک خاص گروپ کے سوا، سول سروس کے تمام گروپ دل شکستہ، نا امید اور آشفتہ حال ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ حکومت کے سربراہ کو اس زمینی حقیقت کا کوئی اندازہ نہیں کیونکہ ان کے اردگرد اس مخصوص گروہ نے مضبوط حصار بنا رکھا ہے! بیورو کریسی کی جتنی مضبوط گرفت اس عہد میں ہے، گزشتہ ادوار میں شاید ہی اس کی کوئی مثال ہو! اس کی ایک خفیف سی جھلک کل کی اس خبر میں دیکھیے کہ ایک بیوروکریٹ نے مدتِ ملازمت ختم ہونے سے ایک سال پہلے ریٹائرمنٹ لی اور فوراً انہیں صوبائی محتسب کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔ وجہ ظاہر ہے کہ اگر وہ ایک سال بعد، ریٹائر ہوتے تو یہ آسامی خالی نہ ہوتی! اس خبر کا دردناک حصہ یہ ہے کہ ''صوبائی محتسب لگانے کی منظوری وزیراعظم نے دی‘‘۔ کیا وزیراعظم کو منظوری دیتے وقت پوچھنا نہیں چاہیے تھا کہ اگر اس منصب پر کسی ر یٹائرڈ بیوروکریٹ ہی کو لگنا ہے تو جو افراد اس سال ریٹائر ہوئے ہیں، کیا ان میں کوئی اس کا اہل نہیں؟ کیا قحط الرجال کا یہ عالم ہے کہ ایک خاص فرد کو ایک سال پہلے صرف اس منصب پر مقرر کرنے کے لیے ریٹائر کیا جا رہا ہے؟ کیا اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ بیوروکریسی جو کچھ سامنے رکھتی ہے، منظور کر لیا جاتا ہے؟
فواد چوہدری کا یہ انٹرویو چشم کشا ہے! اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس سے اصلاح کی کوئی صورت برآمد ہوگی یا صرف یہی نتیجہ نکلے گا کہ ... ''معاملات باہر نہ جائیں‘‘؟

Tuesday, June 23, 2020

جس کا کام اُسی کو ساجھے

سب سے پہلے پروفیسر صاحب کی ہخدمت میں حاضر ہوا''جناب! اس ملک کے دانشور ایک عرصہ سے کہہ رہے ہیں کہ سیاست پر اور اسمبلیوں کی ممبری پر‘ کچھ خاندانوں کی نسل در نسل اجارہ داری چلی آ رہی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی سیاست میں آنا چاہیے تاکہ اس خاندانی اجارہ داری کا خاتمہ ہو سکے۔ آپ کی خدمت میں درخواست ہے کہ اپنے صاحبزادے کو سیاست میں لائیں! ہمیں سیاست میں علم و فضل اور نیک نامی کی ضرورت ہے‘‘۔پروفیسر صاحب نے چائے کا کپ محبت سے پیش کیا۔ ان کا جواب واضح تھا''آپ کی پیشکش کا شکریہ! مگر جوڑ توڑ اور عوامی رابطے‘ ہمارے ضمیر میں نہیں! میں نے آکسفورڈ سے پی ایچ ڈی کی اور ساری عمر یونیورسٹی میں پڑھایا۔ اپنے بیٹے کیلئے میں اُس کی پیدائش سے لے کر آج تک ایک ہی خواب دیکھتا آیا ہوں کہ وہ آکسفورڈ یا کیمبرج میں جائے۔ وہاں کی لائبریریوں میں بیٹھے‘ پی ایچ ڈی کرے اور واپس آ کر پروفیسر لگے‘‘۔
پھر میں حضرت مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا۔''مولانا! سیاست میں علما کے چند خاندان نسل در نسل چلے آ رہے ہیں! التماس ہے کہ اپنے صاحبزادے کو الیکشن میں حصہ لینے کا حکم دیجئے‘‘۔مولانا قالین پر آلتی پالتی مار کر تشریف فرما تھے۔مہمان نوازی کے طور پر انہوں نے کمال شفقت سے میری پشت پر ایک تکیہ اپنے دستِ مبارک سے رکھا اور فرمایا:''نہیں جناب! میں خود بھی سیاست سے کنارہ کش رہا اور اپنی اولاد کو بھی اس میدان سے دور ہی رکھنا پسند کروں گا! سیاست ہمارے بس کی بات نہیں! میں اپنے بیٹے کو الازہر یونیورسٹی بھیج رہا ہوں۔ وہاں سے فارغ التحصیل ہوکر لوٹے گا تو باپ دادا کی مسندِ ارشاد سنبھالے گا۔ میری خواہش ہے کہ وہ علمِ حدیث کا ماہر بنے!‘‘
پھر میں ایک نیک نام سینئر صحافی کے پاس گیا۔''حضور! آپ کی شہرت بہت اچھی رہی ہے! آپ نے نیک نامی کمائی! وہی لکھا ‘وہی کہا جسے آپ نے سچ سمجھا۔ اچھے کاموں کی تعریف کی! آپ جیسے مخلص‘ بے لوث لوگوں کو سیاست میں آ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ آپ اپنے بیٹے کو بھی صحافت میں بھیج رہے ہیں‘ ہماری درخواست ہے کہ اسے سیاست میں لائیے۔ شہر کا ہر گھر آپ کی شرافت کا قائل ہے‘ وہ انتخابات میں ضرور کامیاب ہوگا!‘‘بزرگ صحافی نے مسکرا کر میری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔''عزیزِ من! میں نے صحافت کے کوچے میں زندگی گزاری۔ اہلِ سیاست کو جتنا قریب سے میں نے دیکھا ہے‘ کسی نے نہ دیکھا ہوگا! سچ پوچھیں تو سیاست سے زیادہ مشکل کام کوئی نہیں!الیکشن میں مخالفین آبا و اجداد کی قبریں تک کھود ڈالتے ہیں کہ کوئی نقص ظاہر ہو! ایک ایک محلّے‘ ایک ایک گھر جا کر ووٹ مانگنا آسان نہیں! ہر ایک کے ساتھ چل کر تھانے کچہری جانا میرے بیٹے کے بس کی بات ہی نہیں! پھر اقتدار سے اترنے کے بعد عدالتوں کا سامنا کرنا اور میڈیا میں اپنی پگڑی اچھلنے دینا اہلِ سیاست ہی کا حوصلہ ہے! میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جن سیاست دانوں نے آبائی جائیدادیں فروخت کر کے اخراجات پورے کیے‘ ان پر بھی خیانت کے الزام لگے! الزام سچ ثابت ہو یا نہ ثابت ہو‘ بدنامی تو ہو جاتی ہے! میرے بیٹے کے خون میں صحافت ہے اور یہی پیشہ اُسے راس آئے گا! میں اسے سیاست کے خارزار میں نہیں دھکیلوں گا!‘‘
یہاں سے مایوس ہو کر اُٹھا اور بیورو کریسی کا رُخ کیا۔ صوبے کے حسابدارِ اعلیٰ (اکاؤنٹنٹ جنرل) کے پاس گیا۔ اتفاق سے چیف کمشنر انکم ٹیکس بھی وہاں بیٹھے تھے۔ ٹیکس اور حسابات کے ٹیکنیکل مسائل پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ان کی خدمت میں عرضگزار ہوا۔''آپ دونوں سینئر بیورو کریٹ نے صاف ستھری زندگی گزاری۔ دونوں کے کیریئر بے داغ ہیں۔ ہم موروثی سیاست دانوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ آپ حضرات اپنے بچوں کو سیاست میں لائیے‘ نیا خون کچھ کر کے دکھائے گا!‘‘دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے۔ کمشنر صاحب نے کہا کہ ان کی بیٹی سیاست میں نہیں آ سکتی۔ سیاست میں کوئی عزت نہیں! طعنے ہی طعنے ہیں! وہ باپ کے نقشِ قدم پر چل کر مقابلے کا امتحان دینا چاہتی ہے‘‘ اکاؤنٹنٹ جنرل صاحب نے بھی صاحبزادے کو سیاست کیلئے موزوں نہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وہ پی ایچ ڈی کرنا چاہتا ہے ‘‘۔
آخری امید علاقے کا وہ نیک نام شریف زمیندار تھا جس کی جاگیر وسیع تھی اور بہت غریب پرور اور شریف النفس انسان تھا۔ وہ اپنے ہاریوں سے محبت کرتا تھا۔ انہیں ان کے حقوق دیتا تھا۔ بیٹے نے ایک بار ایک مزارع کو پیٹا تو اس نے بیٹے کو وارننگ دی کہ آئندہ ایسی حرکت کی تو سبق سکھا دے گا۔ میں نے اُسے آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنے خاندان کو سیاست میں لا کر‘ ملک کی خدمت کرے۔ علاقے کو ضرورت ہے کہ وہ اسمبلی میں پہنچ کر پسماندگی کا علاج کرے۔ مگر زمیندار نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔''نہیں بابا! میرے جو عزیز‘ سیاست میں دخیل ہیں‘ میں ان کا انجام دیکھ رہا ہوں۔ ووٹر گالیاں دیتے ہیں۔ میڈیا سے وہ خوف کھاتا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں اس کے دو کارکن مارے گئے۔ اس نے اپنے حلقے میں ترقیاتی کام کرائے مگر مخالفین نے الزام لگایا کہ اس نے حرام کا مال اکٹھا کیا ہے۔ جب بھی اس کے مخالف اقتدار میں آتے ہیں‘ اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ میں سیاست کے دنگل میں کودنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ مجھے اپنی بہو بیٹیوں کی عزت عزیز ہے اور اپنے آباؤ اجداد کے نام کی شہرت!‘‘
میرا دماغ درست ہو چکا تھا! یہ معمہ کہ مخصوص خاندانوں کے افراد ہی انتخابات کیوں لڑتے ہیں‘ حل ہو چکا تھا۔ ہر شخص ہر کام نہیں کر سکتا۔ سروس سیکٹر کے لوگ کاروبار نہیں کر سکتے اور کاروباری خاندانوں میں ایک لاکھ میں ایک ہی شخص پروفیسری یا ڈاکٹری کرتا ہے! گھر کا ماحول بچوں کی اٹھان پر گہرا اثر ڈالتا ہے! سیاست دان کا بیٹا یا بیٹی بچپن سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کے باپ کو وقت ناوقت لوگ ملنے آتے ہیں کبھی کسی کے ساتھ تھانے جا رہا ہوتا ہے کبھی کسی جرگے میں بیٹھا ہوتا ہے۔ ایک ایک ووٹر کے حسب و نسب کا اسے علم ہے۔ کونسلر سے شروع کیا اور وفاقی اسمبلی تک پہنچا۔ یہ سب کچھ ایک ڈاکٹر‘ بیورو کریٹ‘ عالمِ دین یا ماہرِ تعلیم کے بچوں کیلئے اجنبی دنیا ہے۔ تمام نہیں‘ مگر بہت سے ڈاکٹروں کے بچے ڈاکٹر اور علما کی اولاد عالمِ دین بنتی ہے۔ سرکاری ملازموں کے بیٹے بیٹیاں سرکاری ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں‘ رشتے بھی اکثر و بیشتر انہی خاندانوں میں کئے جاتے ہیں جن سے سماجی ہم آہنگی ہو! ایدھی کا بیٹا سوشل ورکر ہے‘ سعد رفیق‘ خواجہ آصف‘ شاہ محمود قریشی‘ عابدہ حسین‘ عمر ایوب خان‘ محمد میاں سومرو‘ بلاول‘ حمزہ شہباز‘ اسفند یار ولی‘ مولانا اسد محمود اور بے شمار دوسرے افراد‘ پیدائش سے اپنے اپنے گھروں میں سیاست دیکھ کر جوان ہوئے۔ سیاست کا میدان ان کا فطری اور قدرتی چناؤ تھا۔ پھر افتادِ طبع پر بھی بہت کچھ منحصر ہے۔ شیخ رشید طالب علمی ہی سے سیاست میں ہیں۔ فردوس عاشق اعوان میڈیکل کالج میں دورانِ تعلیم سٹوڈنٹس یونین میں آئیں۔
ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو یاد آ گیا۔ اینکر پرسن نے ایک سیاست دان کو (غالباً میجر طاہر صادق تھے) الزامی لہجے میں کہا کہ آپ اپنے بیٹے اور صاحبزادی کو بھی الیکشن لڑوا رہے ہیں۔ سیاست دان نے فوراً پوچھا:''کیا آپ الیکشن لڑنے کیلئے تیار ہیں؟‘‘اینکر کا جواب نفی میں تھا۔

Monday, June 22, 2020

2023ء

پہلا مشیر: مبارک ہو عالی جاہ! ہماری شرحِ نمو منفی چار سے ترقی کرتے کرتے صفر پر پہنچ گئی ہے۔ امید ہے کہ ہماری حکومت میں اگلے دس برسوں کے دوران یہ دو یا تین تک پہنچ جائے گی!
دوسرا مشیر: جہاں پناہ! چینی کا نرخ تین سو روپے سے کم ہو کر دو سو اسّی ہو گیا ہے! ہم عوام کو مہنگائی کے جبڑوں سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو رہے ہیں! یہ سب آپ کی دوراندیشی اور مستقبل بین پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
تیسرا مشیر: حضور! پٹرول کا مسئلہ بھی حل ہو چکا ہے۔ ہر بڑے شہر‘ یعنی لاہور‘ کراچی‘ اسلام آباد‘ پشاور وغیرہ میں کم از کم ایک پٹرول پمپ ضرور پٹرول مہیا کرے گا! اسی طرح ہر ضلع میں ایک پٹرول پمپ یہ فرض ادا کرے گا۔ پہلے تو تجویز یہ تھی کہ دو یا تین متصل اضلاع کیلئے ایک پٹرول پمپ ہو‘ مگر عوام کی سہولت کیلئے اب ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر میں ایک پٹرول پمپ پر پٹرول لازماً دستیاب ہوگا۔
چوتھا مشیر: اس سے ماحولیات کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ درخت لگانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی! صرف دس فیصد گاڑیاں اور بسیں چل رہی ہیں۔ لوگ پیدل چلتے ہیں یا گھوڑا گاڑیوں پر۔ حضور تاریخ کو ہم سے بہتر سمجھتے ہیں۔ مغلوں کے زمانے میں گھوڑوں‘ گھوڑا گاڑیوں اور بیل گاڑیوں کے ذریعے آمد و رفت ہوتی تھی۔ دھواں اور کاربن نہیں ہوتا تھا۔ ماحول صاف ستھرار ہتا تھا۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ صحرائے عرب سے اونٹ اور سری لنکا اور تھائی لینڈ سے ہاتھی درآمد کریں تاکہ سواری کے ذرائع میں اضافہ ہو سکے۔ اگلے بجٹ میں شتربان اور مہاوت کی آسامیاں پیدا کی جائیں گی۔ پڑھے لکھے نوجوانوں کیلئے روزگار میں اضافہ ہوگا! جیسا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا‘ لاکھوں افراد کو نوکریاں مل جائیں گی!
پانچواں مشیر: سرکار!آئی ایم ایف کا جو کارندہ ہمارے مرکزی بینک کا گورنر تھا‘ اپنا مشن مکمل کر کے واپس جا رہا ہے۔ اسے بے مثال کارکردگی کے نتیجہ میں آئی ایم ایف نے ترقی دے کر پورے جنوبی امریکہ کا ڈائریکٹر تعینات کیا ہے! اُس کی روانگی سے پہلے ڈالر چار سو روپے کا ہو چکا ہے! بہت سے کمرشل بینک اپنا کاروبار ختم کر کے کفن بنانے کی فیکٹریاں لگا رہے ہیں! سنا ہے جو صاحب یہاں مشیر تھے‘ انہیں بھی واپس بلایا جا رہا ہے! یہ اور بات کہ وہ واپسی کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔اُن کا خیال ہے کہ ہماری حکومت جلد انہیں دوبارہ بلانے پر مجبور ہو جائے گی!
پہلا مشیر: ہم نے عالی جاہ! ایک اور مسئلہ بھی حل کر لیا ہے۔ وزارت خزانہ میں عالمی اقتصادی اداروں کے ملازمین کو دفاتر مہیا کرنے کیلئے اپنے ملازمین کو ریٹائر کر دیا ہے۔ اس سے ہم نے دو فوائد بیک وقت حاصل کئے ہیں۔ اوّل: ان اداروں کے افسروں اور اہلکاروں کو بیٹھنے کی باعزت جگہ مل گئی ہے۔ دوم: وزارت خزانہ کے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دینا پڑیں گی۔ یوں بھی وہ بیکار بیٹھے تھے‘کام تو سارا آئی ایم ایف کے لوگ ہی کر رہے تھے۔ ہمیں سالانہ قرض لینے کیلئے اب پُر صعوبت مذاکرات نہیں کرنا پڑیں گے۔ جب بجٹ آئی ایم ایف کے اپنے کارندے بنائیں گے تو قرض لینے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی!
جہاں پناہ: باقی مشیرانِ کرام کہاں ہیں‘ سپیشل اسسٹنٹ بھی نظر نہیں آ رہا!
(مشیر نظریں نیچی کر لیتے ہیں! ماحول پر خاموشی چھا جاتی ہے)
پہلا مشیر: (ہکلاتے ہوئے) بندہ پرور! ان میں سے جو جناب کے ذاتی احبّا و اصدقا ہیں‘ ان کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی تاب نہیں!
جہاں پناہ:جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے ضمن میں کیا پروگریس ہے؟
دوسرا مشیر! حضورِ پرنور! ہم نے پولیس اور سیکرٹریٹ کا ایک ایک افسر تو جنوبی پنجاب کو دے ہی دیا تھا۔ باقی امور بھی طے کئے جا رہے ہیں! بہاولپور اور ملتان کے حامیوں کے درمیان اختلافات طے کرانے کیلئے ایک کمیٹی بنانے پر غور کیا جا رہا ہے! امید واثق ہے کہ 2050ء تک جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کیلئے اہم نکات پر اتفاق کرا لیا جائے گا!
تیسرا مشیر: جہاں پناہ! کچھ طالع آزما‘ کوتاہ اندیش اب بھی یہ سوال اٹھانے کی جسارت کر رہے ہیں کہ احتساب کے نتیجہ میں تاحال کوئی چھوٹی موٹی رقم‘ حتیٰ کہ چند روپے بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرائے جا سکے۔ یہ سوال زرداری اور شریف خاندان کے ضمن میں پوچھا جا رہا ہے! اس پر مستزاد یہ پہلو ہے کہ ان افراد سے دولت واپس لینے کی کارروائی پر قومی خزانے سے کتنا روپیہ خرچ کیا جا چکا ہے؟ لوگ حساب مانگتے ہیں۔
پہلا مشیر! ایسے لوگوں کی بات سنی ان سنی کر دینی چاہیے۔ لوگوں کا کیا ہے! ایسے ناروا سوالات اٹھانے والوں میں حاسد‘ بداندیش اور کور چشم شامل ہیں۔ یہ ہماری کامیابیوں پر سیخ پا ہوتے ہیں!
جہاں پناہ: مکان اب تک کتنے بن چکے ہیں اور کتنے خاندانوں کو نئے گھروں میں مقیم کیا جا چکا ہے؟
تیسرا مشیر: کام زور و شور سے جاری ہے! گھروں کے ڈیزائن پر اختلافات تھے۔ اب کوئی صورت اتفاق کی نظر آنے کی امید ہے! پروجیکٹ کے اخراجات ہم اُس رقم سے پورے کریں گے جو زرداری خاندان اور شریف خاندان سے واپس ملے گی!
جہاں پناہ: کورونا کی تازہ ترین صورت احوال سے آگاہ کیا جائے!
چوتھا مشیر: صاحبِ عالم! ہم بدستور ٹاپ کے دو یا تین ملکوں میں شمار کئے جا رہے ہیں۔ مگر مثبت پہلو اس ابتلا میں یہ ہے کہ ہر چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک ہزار افراد موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں! ہماری لحیم شحیم آبادی کے تناظر میں‘ جہاں پناہ اتفاق فرمائیں گے‘ یہ تعداد کچھ زیادہ نہیں!
جہاں پناہ: بازار‘ منڈیاں‘ مارکیٹیں کھلی ہونی چاہئیں! پارک‘ سیر گاہیں‘ باغات‘ کوئی چیز بند نہ ہو! دیہاڑی دار مزدوروں متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
پانچواں مشیر:شاہِ عالم! دیہاڑی دار مزدوروں کی اکثریت کورونا کی نذر ہو چکی ہے! اس طرح قدرت نے اس مسئلے کو حل کرنے میں ہماری مدد غیب سے کی ہے! تاجر برادری کے بچے کھچے ارکان خوش ہیں۔ مضبوط معیشت کا سہرا ہماری حکومت کے ماتھے پر جھومر کی طرح چمک رہا ہے۔
جہاں پناہ: ہم کچھ شہروں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں! (دورہ شروع ہوتا ہے)
جہاں پناہ: یہ تیسرا شہر ہے جس کا ہم دورہ کر رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے لوگ بہت ہی کم نظر آ رہے ہیں۔ راستوں پر اردگرد کی بستیوں میں سناٹا ہے‘ ٹریفک برائے نام ہے۔ کیا وجہ ہے؟
پہلا مشیر: حضور! کورونا کی وجہ سے لاکھوں افراد مر چکے ہیں۔ جب عالمی ادارئہ صحت نے لاک ڈاؤن کی تلقین کی تھی اور پنجاب کی وزیر صحت نے اس کی تائید کی تھی اس وقت بھی ہم اپنے موقف پر ڈٹے رہے! اس کے نتیجہ میں شہر کے شہر‘ محلوں کے محلے‘ آبادیوں کی آبادیاں کورونا چٹ کر گیا۔ مگرخدا کا شکر ہے کہ معیشت کمزور نہیں ہوئی۔ جو پانچ چھ دیہاڑی دار مزدور زندہ ہیں‘ ان کی دال روٹی برابر چل رہی ہے۔ 
جہاں پناہ: بہت خوب! معیشت متاثر نہیں ہونی چاہئے! کورونا نے پھیلنا ہی پھیلنا تھا! اس کا کچھ نہیں ہو سکتا! لاک ڈاؤن پر اصرار کرنے والے قبروں میں جا لیٹے ہیں۔
دوسرا مشیر:جہاں پناہ! آئی ایم ایف نے سرکاری ملازموں کی تنخواہیں پچاس فیصد کم کرنے کا حکم دیا ہے!
جہاں پناہ: حکم کی تعمیل کی جائے۔

Thursday, June 18, 2020

ترازو تو کہیں اور ہے!!


دل گرفتگی کا عالم ہے! ہاتھ قلم سے کنارہ کش ہونا چاہتا ہے اور قلم خیالات سے! قومیں گرتی ہیں! یہاں تک کہ پاتال آ جاتا ہے تو رُک جاتی ہیں! مگر ہم، بحیثیت قوم، پاتال پر آ کر بھی رُک نہیں رہے! نیچے ہی نیچے جا رہے ہیں! اخلاق، شائستگی، شرافت، سب کچھ ختم ہو گیا ہے! دلیل گالی سے شروع ہوتی ہے۔ گالی پر ختم ہوتی ہے! طعن و تشنیع، دشنام طرازی، لُچپن، جوتم پیزار! اور یہ سب ان کا حال ہے جن کا شمار پڑھے لکھوں میں ہو رہا ہے! ناخواندہ ان سے بدرجہا بہتر ہوں گے!
اس میں شک نہیں کہ گنتی کے چند شرفا اس عامیانہ طرزِ گفتگو کے جبراً عادی ہو چکے مگر کبھی کبھی صدمہ اس طرح آتا ہے کہ پیس کر رکھ دیتا ہے! ایک شریف انسان ہے۔ سیاست سے بھی تعلق ہے۔ ایک عرصہ سے اخبارات میں لکھ بھی رہے ہیں۔ اس کالم نگار سے ان کا تعارف ہے نہ ملاقات۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک فریاد پوسٹ کی کہ لاہور کے نجی ہسپتال کورونا کے مریضوں سے لاکھوں روپے ایڈوانس مانگ رہے ہیں۔ اس پر ایک کمنٹ یہ تھا : ''اوئے لعنتی! ہسپتال کا نام بھی بتا‘‘!
زیادہ شرمناک بات یہ کہ کسی نے اپنے کمنٹ میں اس طرزِ تخاطب کی مذمت کی نہ بیزاری کا اظہار!!
ایک دن اور ایک رات اس کالم نگار کے ہاتھ کانپتے رہے! یا خدا! ہم کہاں پہنچ گئے ہیں! اور یہ تو وہ کمنٹ ہے جو کالم میں نہ چاہتے ہوئے بھی، لکھا جا سکتا ہے! ایسی مغلظات بکی جا رہی ہیں اور اس قدر افراط سے کہ انسان حیران ہوتا ہے کہ آسمان سے پتھروں کی بارش کیوں نہیں ہو رہی، زمین دھنس کیوں نہیں رہی! کوئی کسی کو ولدیت پر اشتباہ کا اظہار کر رہا ہے! کوئی کسی کی پردہ نشین کے بارے میں ناقابلِ بیان، ناقابلِ یقین، انگارے منہ سے نکال رہا ہے! کوئی کسی کے بزرگ، پیر، استاد کے بارے میں اشتعال انگیز الفاظ استعمال کر رہا ہے! عدم برداشت اور بات ہے! یہ تو عدم برداشت سے کوسوں آگے تک معاملہ پہنچ چکا ہے! سوشل میڈیا اوباش خانے میں بدل چکا ہے! اخبارات کی ویب سائٹس پر کالموں کے نیچے کمنٹس میں لوگ گالیاں لکھ رہے ہیں۔ آئی ٹی والے ایڈٹ کر کر، تھک چکے! ویب سائٹس والے ایک کو بلاک کرتے ہیں تو اس کی جگہ دوسرا اوباش آ جاتا ہے!
رات دن دہانوں سے آگ کے بھبکے نکل رہے ہیں۔ کالم نگاروں پر بُرا وقت آیا ہے۔ لفافہ صحافی کی اصطلاح یوں استعمال ہو رہی ہے جیسے اس ملک میں ہر لکھنے والا، دوسروں کے سامنے، گواہ بنا کر لفافے وصول کر رہا ہے! خدا کے بندو! جس پر الزام لگا رہے ہو، اس کے گناہ ہلکے اور اپنا نامۂ اعمال سیاہ کر رہے ہو! تم لفافہ صحافی کہہ کر بھول چکے مگر کل وہ خدا کی عدالت میں تم سے اس الزام، اس بہتان، اس افترا کا ثبوت مانگے گا۔ تم منہ کی کھائو گے اور اوندھے پڑے ہوگے!
لکھنے والا ڈاکٹر ہے تو ڈاکٹری کے پورے شعبے کو گالیاں دی جا رہی ہیں! لکھنے والا پروفیسر ہے تو کمنٹس میں شعبۂ تعلیم کی ایسی تیسی کی جا رہی ہے۔ سرکاری ملازم ہے تو اسے رشوت خور قرار دیا جا رہا ہے! پیشہ ور صحافی ہے تو صحافت ہی کو سرے سے شرمناک قرار دیا جا رہا ہے! اصل موضوع پر کوئی نہیں بات کرتا! کسی کے بارے میں ذاتی معلومات حاصل ہیں تو ان کی بنیاد پر زبانِ طعن دراز کی جا رہی ہے! تیس تیس، چالیس چالیس سال صحافت کے شعبے سے جو وابستہ رہے ہیں ان کی عزت وہ اٹھائی گیرے اچھال رہے ہیں جن سے ان کے اپنے محلّہ دار پناہ مانگتے پھرتے ہیں!
کیا یہ لوگ اپنے گھروں میں یہی زبان استعمال کرتے ہیں؟ کیا اپنے اعزہ و اقربا کو مخاطب کرتے وقت بھی ایسے ہی الفاظ کا استعمال کرتے ہیں؟ کیا یہ اپنی روزمرہ کی گفتگو میں، اپنی دکانوں میں، اپنے کارخانوں، دفتروں، سکولوں، کالجوں، مدرسوں میں ایک دوسرے سے بات کرتے وقت اسی طرح مخاطب کرتے ہیں؟ کیا انہیں یہی سکھایا گیا ہے کہ فلاں کے باپ کی تلاش جاری ہے اور فلاں کی ماں غیرت کے نام پر قتل کر دی گئی؟
تم سُنّی ہو یا شیعہ، بریلوی ہو یا دیو بندی، مسلم لیگی ہو یا جیالے، تحریک انصاف کے ہو یا جے یو آئی اے، کے پنجابی ہو یا سندھی، بلوچی ہو یا پختون، کراچی کے ہو یا گلگت کے، تم جو کچھ بھی ہو، تمہارے بزرگ، تمہارے پیشوا، تمہارے استاد، تمہارے لیڈر یہی لفظیات استعمال کرتے تھے؟تم امیرالمومنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ پر جان چھڑکتے ہو! انہوں نے تو اُس دشمن کو چھوڑ دیا تھا جس نے ان کے رخِ انور پر تھوکنے کی جسارت کی تھی! کجا کہ اسے کچھ کہتے! امیرالمومنین حضرت عثمانؓ نے جان دے دی مگر قتل کرنے والوں کو ایک لفظ بُرا نہ کہا! امام شافعیؒ فرماتے ہیں، جب بھی امام جعفر صادقؓ کی خدمت حاضر ہوا، نماز میں مشغول ہوتے یا تلاوت میں۔
پھر قریب کا زمانہ دیکھ لو! کیا قائداعظم اور لیاقت علی خان کی ایسی زبان تھی! قائداعظم کو عمر بھر کسی سے اپنے کہے ہوئے الفاظ پر معذرت کرنا پڑی نہ الفاظ واپس لینا پڑے۔ یہ طرزِ تخاطب تم نے کہاں سے سیکھا؟ کس سے اخذ کیا؟ کہتے ہیں طرزِ گفتگو خاندانی پس منظر کا عکّاس ہوتا ہے۔ کیا خدانخواستہ، اب ہماری اکثریت کا خاندانی پس منظر مشکوک ہو چکا ہے؟ اناللہ و انا الیہ راجعون ۔ خدا کا خوف کرو! تمہارے یہ غلیظ کمنٹ، یہ گالیاں، یہ دوسروں کی ولدیت اور دوسروں کے حسب نسب پر ناگفتہ بہ حملے، عورتیں بھی پڑھتی ہیں، بچے بھی، بزرگ بھی! اب تو بڑی بوڑھیاں بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں! کچھ شرم کرو! پاسِ ادب نہیں تو اُس موت ہی کا خیال کرو جو چاروں طرف رقص کر رہی ہے! اب تو شرح اموات، چوبیس گھنٹوں میں سوا سو تک پہنچ چکی ہے! ابھی تو اوپر جا رہی ہے! یہ وقت نامۂ اعمال گندا کرنے کا ہے یا سنوارنے کا؟ تم اگر اب تک زندہ ہو تو اس زندگی کا کیا فائدہ جو دوسروں کے لیے اذیت کا سامان بنے؟
اور یاد رکھو! تمہاری گالی سے زرداری کو، نواز شریف کو، عمران خان کو، بلاول کو، مولانا فضل الرحمن کو کچھ نقصان نہیں پہنچنے والا! تم ان کو گالیاں دے کر اپنے عالمِ نزع کو درد ناک سے درد ناک تر کر رہے ہو! اختلاف کرو! گالی کیوں دیتے ہو؟ آج مریم نواز سیاست میں ہے۔ کل بے نظیر سیاست میں تھیں۔ ان کے لیے غلط الفاظ استعمال کرتے وقت یہ نہ بھولو کہ کل، کل نہیں تو پرسوں، پرسوں نہیں تو اس کے بعد، تمہارے گھر کی کوئی خاتون بھی سیاست میں داخل ہو سکتی ہے! تو کیا تم پسند کرو گے کہ اس کے لیے کل لوگ وہی زبان استعمال کریں جو آج تم بھٹو اور نواز شریف کی بیٹیوں کے لیے استعمال کر رہے ہو؟ اس کالم نگار کو مریم نواز سے ایک سو دس فیصد اختلاف ہے۔ بے نظیر بھٹو کبھی اس کی پسندیدہ رہنما نہیں رہیں۔ مگر خدا کی پناہ! کہ پاکستان کی ان بیٹیوں کیلئے کوئی غیر پارلیمانی لفظ استعمال کرنے کا کبھی سوچا بھی ہو! یاد رکھو! اس ملک کی ہر بیٹی تمہاری بیٹی ہے! ہر ماں تمہاری ماں ہے! ہر بہن تمہاری بہن ہے! دوسروں کی خواتین پر زبانِ طعن دراز کرو گے تو خود بھی محفوظ نہیں رہو گے۔ مجنوں پر سنگ اٹھاتے وقت اپنے سر کا بھی خیال کرلو! تمہارے کانوں میں تو یہ بول ڈالے گئے تھے ع
سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سُن کر دعائیں دیں
تو پھر سوچو کہ کس کی پیروی کر رہے ہو؟ رہا یہ معاملہ کہ کون سچا ہے اور کون جھُوٹا، کون حق پر ہے اور کون باطل پر؟ تو یہ فیصلہ تم نے نہیں کرنا! نہ کسی نے تمہیں کہا ہے کہ فیصلہ کرو! صائب تبریزی کئی سو سال پہلے کہہ چکا؎
ای کہ مشغول بہ سنجیدنِ مردم شدہ ای
دست بردار ازیں کار کہ میزان آنجاست!
لوگوں کو جانچنے کا کام تم نے سنبھال لیا، حالانکہ اعمال تولنے والا ترازو تو کہیں اور ہے

Tuesday, June 16, 2020

سرکاری ملازم: مُکا بازی کا بہترین ہدف

فروری کے وسط میں کورونا کی مصیبت آ چکی تھی۔ یہ پانچواں مہینہ ہے۔
ان پانچ مہینوں میں بجلی کی سپلائی معطل نہیں ہوئی‘ گیس بند نہیں ہوئی‘ ٹیلی فون کام کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ موجود رہا اور موجود ہے! سرکاری ہسپتال برابر کام کر رہے ہیں۔ ہر یکم کو لاکھوں وفاقی اور صوبائی ملازمین کو تنخواہیں موصول ہو رہی ہیں۔ عسا کر جہاں جہاں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں‘ ان کی ہر یونٹ کو تنخواہ وہیں پہنچائی جا رہی ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک پولیس مسلسل موجود ہے۔ دونوں سرکاری بینک‘ سٹیٹ بینک اور نیشنل بینک آف پاکستان ایک دن کے لیے بھی بند نہیں ہوئے۔ ڈاکخانے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ وزارت خزانہ سے لے کر ایف بی آر تک سب نے بجٹ کی تیاری میں رات دن ایک کیا۔ اضلاع اور تحصیلوں میں سرکاری اہلکار ڈیوٹیاں سر انجام دیتے رہے۔ اب یہ جو کہا جا رہا ہے کہ سرکاری ملازم گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں‘ تو پھر ریاست کے یہ تمام کام‘ کون انجام دیتا رہا؟ کیا یہ تمام امور جِنّات کے سپرد ہیں یا سبز پوش ملنگ دفتروں ‘ ہسپتالوں‘ شاہراہوں‘ بینکوں میں آ کر فرائض سنبھالے رہے؟ 
ہم میں سے اکثر کو معلوم ہے کہ ''پنچنگ بیگ‘‘ کیا ہے! جو نہیں جانتے ان کے لیے بتائے دیتے ہیں۔ پنچ مُکّے کو کہتے ہیں۔ ہوا سے یا فوم سے بھرا ہوا بیگ‘ جس پر مکے باز‘ مکے مارنے کی مشق کرتے ہیں‘ پنچنگ بیگ کہلاتا ہے۔ سرکاری ملازم پنچنگ بیگ ہے! سیاست دان سے لے کر عوام تک‘ سب اسے مُکے مارتے ہیں۔ سب اس پر مشقِ ناز کرتے ہیں! اس لیے کہ یہ اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔ یہ پریس کانفرنس نہیں بلا سکتا۔ اخبار یا ٹیلی ویژن پر وضاحت نہیں کر سکتا۔ کرے تو انضباطی کارروائی (کنڈکٹ رُولز) کے تحت دھر لیا جاتا ہے! اس لیے اسے مُکّے مارنا محفوظ ترین سرگرمی ہے!وزرا اور مشیران کرام کی اچھی خاصی تعداد اپنے نجی کاروبار اور جاگیریں سنبھالنے میں مصروف رہتی ہے۔ کاروبارِ مملکت سرکاری ملازم چلاتا ہے۔ جس دن یہ گھر بیٹھ گیا‘ لگ پتہ چل جائے گا۔ اس لیے بات انصاف کی کرنی چاہیے۔ مرنا صرف سرکاری ملازم نے نہیں‘ طعنہ زنوں نے بھی ہے!کبھی جا کر ان سرکاری ملازموں کی کام کرنے کی حالت (Working Condition) دیکھیے۔ چند افسروں کی میز‘ کرسی‘ قالین اور پردوں پر نہ جائیے۔ ضلع کچہریاں ہیں یا ڈاکخانے‘ اکائونٹس کے دفاتر ہیں یا ریلوے کے شیڈ‘ ڈھنگ سے بیٹھنے کی جگہ ہے نہ ریکارڈ رکھنے کی! کرسی کا بازو ہے تو پشت نہیں! کہیں بلب نہیں‘ کہیں گھنٹی خراب ہے۔ کہیں بیوی بچوں کے علاج کے لیے سرکاری ہسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں‘ کہیں سکولوں میں داخلے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ شام گئے بھی دفتروں میں کام مکمل کر رہے ہیں۔ اور اب جب پہلی بار بجٹ میں تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں تو اس کے جواز میں یہ پروپیگنڈا کیا جانے لگا کہ یہ تو گھر بیٹھے ہوئے تنخواہ لے رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کے سامنے پھیلایا جانے والا کشکول توڑنے کی دعویدار حکومت نے آئی ایم ایف کے اشارۂ ابرو پر سرکاری ملازموں کی تنخواہیں نہیں بڑھائیں! مشیر خزانہ سے پوچھا جاتا ہے تو طرح دے جاتے ہیں! کچھ بزرجمہر یہ دلیل دے رہے ہیں کہ سعودی عرب میں تو تنخواہیں بیس فیصد کم کر دی گئیں۔ ان سے کوئی پوچھے کہ وہاں تنخواہیں تھیں کتنی؟ وہاں کی بھاری بھرکم عظیم الجثّہ تنخواہیں‘ بیس فیصد کم ہو کر بھی اچھی خاصی تنومند ہیں! پھر وہاں مہنگائی بڑھنے کی رفتار بھی پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا کم ہے! یہاں آپ نے روپے کی قدر میں چالیس فیصد کمی کر دی۔ اوپر سے تنخواہ بھی نہیں بڑھا رہے! سو روپیہ‘ ساٹھ روپے کا رہ گیا ہے! مثالیں آپ سعودی عرب جیسے ملکوں کی دے رہے ہیں! ہنسا جائے یا رویا جائے؟ 
پارلیمنٹ کے ہر رکن کو اٹھائیس ریٹرن ہوائی ٹکٹ سالانہ ملتے ہیں۔ یہ اکانومی کلاس کے نہیں‘ بزنس کلاس کے ہوتے ہیں۔ پہلے یہ ٹکٹ صرف ارکان کی ذات تک محدود تھے۔ موجودہ عہدِ حکومت میں ان کا اطلاق ان کے خاندانوں پر بھی کر دیا گیا تا کہ کوئی ٹکٹ خرچ ہونے سے بچ نہ جائے۔ حکومت کو اگر بچت کرنا تھی تو ان عیاشیوں کو محدود کرتی! آخر ارکان پارلیمنٹ اکانومی کلاس میں کیوں نہیں سفر کر سکتے؟ کیا ملک کے معاشی حالات اس عشرت کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا بجٹ 82 فیصد بڑھا دیا گیا۔ یہ صرف ایک ضلع کا احوال ہے! وزیراعظم نے اپنے احباب کو بھی مشیرانِ کرام کی فوج ظفر موج میں شامل کر رکھا ہے۔ جہازی سائز کی کابینہ ہے۔ کفایت شعاری کرنی ہے تو اس کی تعداد کم کیجیے۔سرکاری ملازم صرف وہ نہیں جس نے سوٹ پہن رکھا ہے‘نکٹائی لگا رکھی ہے اور گاڑی پر آتاہے۔ یہ تعداد تو سرکاری ملازموں کی کل تعداد کا مشکل سے ایک فیصد ہو گی۔ سرکاری ملازم کلرک بھی ہے‘ ڈرائیور بھی! نائب قاصد بھی! دفتری بھی! سپرنٹنڈنٹ بھی! ٹائپسٹ بھی! کی پنچ آپریٹر بھی! گریڈٖ گیارہ کا آڈیٹر بھی! انسپکٹر بھی! محرّر بھی! پی اے بھی! غم ہائے روزگار کا بارِ گراں پشت پر رکھے‘ یہ اہلکار کس طرح مہینے کے دن پورے کرتے ہیں‘ انہیں معلوم ہے یا ان کے خدا کو! ادویات کی قیمتیں آسمان کو چھُو رہی ہیں۔ آٹا‘ دال‘ سبزی‘ گھی‘ چائے‘ دودھ‘ مرچ مصالحہ‘ ڈبل روٹی‘ پھل‘ کیا ان سب کی قیمتوں میں استحکام ہے؟ کیا یہ نہیں بڑھیں؟ کیا جوتوں‘ کپڑوں‘ کپڑے دھونے والے صابن اور سرف کی قیمتیں وہی ہیں جو گزشتہ سال تھیں؟ کیا بسوں‘ ویگنوں‘ رکشہ کے کرائے وہی ہیں‘ جو پہلے تھے؟ وزارتِ خزانہ کے اربابِ حل و عقد ایک کلرک یا ایک نائب قاصد کا ماہانہ بجٹ بنا کر دکھا دیں! بے شک آئی ایم ایف کی اجازت لے کر یہ کارِ خیر انجام دے دیجیے! ذرا رہنمائی فرما دیجیے کہ یہ لوگ مہینہ کس طرح گزاریں؟ 
دنیا بھر کی حکومتیں کرپشن کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے سرکاری ملازموں کی تنخواہیں بڑھاتی ہیں‘ یہ ایک پورا فلسفہ ہے! پورا طرزِ فکر ہے! سنگاپور کے معمار لی کوان ییو نے جدید سنگاپور کی بنیاد رکھی تو پہلی اینٹ یہی تھی۔ اس نے سرکاری شعبے میں تنخواہیں نجی شعبے کے برابر کیں۔ پھر عدلیہ سے اپیل کی اور سمجھایا کہ ان بڑھی ہوئی تنخواہوں کے بعد ہم کسی کو کرپشن پر پکڑیں تو آپ اس سے ہمدردی نہ کیجیے گا! یہی طرزِ فکر تمام ترقی یافتہ ملکوں میں کار فرما ہے! سرکاری ملازم کی زندگی پُر صعوبت بنا کر آپ اس سے کیا توقع رکھتے ہیں؟
لاکھوں‘ کروڑوں روپوں کا نظامِ حکومت چلانے والوں کو آپ چند سو‘ چند ہزار روپوں کے اضافے سے محروم رکھ کر آزمائش میں مبتلا کر رہے ہیں۔ یہ انصاف نہیں! امیر المومنین سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ‘ سے یہ فرمان منسوب ہے کہ کفر کی حکومت چل سکتی ہے‘ ظلم کی نہیں چل سکتی! سرکاری ملازم کو اس نوبت تک نہ لے جائیے کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائے؎
درمیانِ قعرِ دریا تختہ بندم کردہ ای
باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش
بیچ منجدھار‘ تختے پر باندھ کر چھوڑ دیا اور حکم یہ ہے کہ چھینٹا تک نہ پڑے!
ایک دنیا آئی ایم ایف کے ائیر کنڈیشنڈ دفتروں اور وزارت خزانہ کے قالینی برآمدوں سے باہر بھی آباد ہے! اس دنیا میں سگار ہیں نہ نکٹائیاں! ائیر کنڈیشنر ہیں نہ کافی کے دھواں دھار کپ! کلائیو اور کرزن کی چھوڑی ہوئی جُوٹھی انگریزی ہے نہ اعداد و شمار کے گتکے کا کھیل! اس دنیا میں بچوں کی فیسیں ہیں! مکان کا کرایہ ہے! بیوی کی دوا ہے! مہینے بھر کا راشن ہے! گیس‘ بجلی اور پانی کے بل ہیں! اور ایک غم زدہ خاموش سرکاری ملازم! خوف کھائیے! اس سے نہیں ڈرتے تو اس کے خدا سے ڈریئے! یہاں نہیں تو کل کسی اور عدالت میں آپ کو اس کا ماہانہ بجٹ بنا کر کسی کے سامنے پیش کرنا ہوگا!

Monday, June 15, 2020

بہت پہلے یہ گھر ایسا نہیں تھا

حکیم شفائی‘ شاہ عباس صفوی کا پرسنل فزیشن تھا‘ اور با کمال شاعر! ایک روایت کے مطابق وہ صائب تبریزی کا استاد بھی تھا! اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ طبابت نے اس کے علم و فضل کو ماند کر ڈالا اور شاعری اس کی طبابت کو پیچھے چھوڑ گئی!
طب اور ادب کا چولی دامن کا ساتھ رہا۔ یہی روایت وسط ایشیا اور ایران و خراسان سے مسلم ہندوستان میں در آئی۔ حکیم مومن خان مومن اس روایت کی درخشاں مثال تھے۔ باپ دادا‘ شاہی اطبا میں شامل تھے۔ مومنؔ نے شاعری بھی کی اور طبابت بھی! اور اس میں کیا شک ہے کہ شاعری کے آگے طبابت ماند پڑ گئی! اپنے تخلص کا بھی خوب خوب استعمال کیا؎
مومنؔ تم اور عشقِ بتاں! اے پیر و مرشد خیر ہے
یہ ذکر اور منہ آپ کا! صاحب! خدا کا نام لو
شفیق الرحمن بھی ڈاکٹر تھے۔ ایسے ڈاکٹر کہ ادب پر چھا گئے اور چھائے رہیں گے! حماقتیں‘ مزید حماقتیں‘ دجلہ! شگوفے! ایک سے ایک بڑھ کر! شیطان‘ روفی اور حکومت آپا جیسے لازوال کردار تخلیق کیے! زبان ایسی کہ ہر عمر کے لوگ پڑھیں اور حظ اٹھائیں!
ہمارے ہم عصروں میں ڈاکٹر آصف فرخی نے ادب میں خوب نام پیدا کیا۔ اعلیٰ پائے کے تراجم کیے۔ ادبی پرچہ نکالا۔ ادبی میلوں کو رواج دیا۔ ایک اور ڈاکٹر‘ وحید احمد نے نظم گوئی میں کیا کیا کمالات دکھائے ہیں۔ ''ہم شاعر ہوتے ہیں‘‘ اور ''خانہ بدوش‘‘ جیسی لازوال نظمیں کہیں۔ شاید ہی شاعری کا کوئی دلدادہ ایسا ہو جس نے ان نظموں کو شوق سے پڑھا اور سنا نہ ہو!
ڈاکٹر ابرار احمد اسی روایت سے وابستہ ہیں! آنکھ‘ ناک اور گلے کے ماہر ڈاکٹر! ان کی ڈاکٹری سے شفا پانے والے مریضوں کو کیا معلوم کہ ڈاکٹر ابرار دل کے ڈاکٹر نہیں‘ مگر شاعری سے دلوں کا علاج کرتے ہیں! وہی بات کہ طبابت شاعری کو پیچھے چھوڑ گئی اور شاعری نے طبابت کو ماند کر ڈالا!
اسّی کی دہائی تھی۔ ڈاکٹر ابرار احمد راولپنڈی کے سول ہسپتال (فوارہ چوک) میں تعینات تھے۔ ڈاکٹر مرزا حامد بیگ گارڈن کالج میں پروفیسری کرتے تھے! اور یہ کالم نگار ایک دفتر میں کلرکی! اچھے زمانے تھے۔ بہم مل بیٹھتے تھے! شاعری اور ادب پر گفتگو ہوتی تھی۔ آج کورونا کی تیز‘ چلچلاتی دھوپ میں وہ زمانے نعمت لگتے ہیں کہ اب تو مل بیٹھنا بھی خواب و خیال ہو گیا؎
وحشت اتنی ہے تو کیوں سائے سے بھی خوف نہ کھائیں
دہشت اتنی ہے تو کیوں شیرِ دلاور نکلے
پھر ڈاکٹر ابرار لاہور آئے اور یہیں کے ہو رہے! کلینک اور شاعری ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ چنیوٹ کے مردم خیز شہر نے لاہور کو ہمیشہ بہترین افرادی قوت فراہم کی! ابرار کا تعلق بھی چنیوٹ سے ہے! شاہ جہان کے نامی گرامی وزیر اعظم نواب سعد اللہ خان بھی چنیوٹ سے تھے۔ نوجوان شاعر اور بیوروکریٹ شکیل جاذب بھی چنیوٹ ہی کی دین ہیں!
ابرار نے نظم اور غزل دونوں میں نام پیدا کیا ہے؛ تاہم‘ اس فقیر کے نزدیک‘ ان کا ایک بڑا کارنامہ انگریزی میں ادبی کالم نویسی ہے۔ تقریباً دس سال‘ قومی سطح کے معروف انگریزی روزنامہ میں ادبی کالم لکھے۔ یہ معرکہ آرا کالم تھے۔ اردو ادب کا ایک مسئلہ یہ رہا ہے کہ اکثر ادیب اور شاعر انگریزی سے اچھے خاصے فاصلے پر رہے اور اب بھی ہیں۔ لکھنا تو دور کی بات ہے۔ انگریزی ادب براہ راست پڑھنے ہی کی سکت نہیں رکھتے! فرانسیسی‘ روسی‘ ہسپانوی اور دیگر مغربی زبانوں کا ادب بھی ہم تک انگریزی ہی کے ذریعے پہنچا ہے اور پہنچ سکتا ہے! ڈاکٹر ابرار احمد کو انگریزی لکھنے پر قدرت حاصل ہے۔ ان کالموں کو کتابی شکل میں محفوظ رکھنا از بس ضروری ہے۔
پھر ابرار نے ستم ڈھایا کہ انگریزی میں کالم لکھنا چھوڑ دیئے۔ سچ یہ ہے کہ اس کے بعد اُس اخبار کا ہفتہ وار ادبی صفحہ ایسا بے رنگ ہوا کہ ویرانے ہی میں تبدیل ہو گیا۔کبھی کبھی یوں لگتا ہے ابرار غزل کے ساتھ انصاف نہیں کر رہا۔ نظموں کے کئی مجموعے لا چکا۔ ''موہوم کی مہک‘‘ تازہ تصنیف ہے۔ ڈر لگتا ہے کہ نظموں کے اس تلاطم میں غزل گو ابرار چھپ نہ جائے! غزلوں کا مجموعہ ''غفلت کے برابر‘‘ 2007ء میں چھپا‘ اس کے بعد خاموشی ہے! غزل میں اس طرح دار شاعر کا رنگ‘ آہنگ اور ڈھنگ دیکھئے؎
جگہ نہ چھوڑے کہ سیلِ بلا ہے تیز بہت
اڑا پڑا ہی رہے اب جہاں تہاں کوئی ہے
وہ کوئی خدشہ ہے یا وہم‘ خواب ہے کہ خیال
کہ ہو نہ ہو مرے دل! اپنے درمیاں کوئی ہے
وہ راستہ ابھی بھولا نہیں ہے‘ سو یہ فقیر
تُو جب کہے تری جانب رواں دواں ہو گا
یہاں سے اب ہمیں کچھ بھی سجھائی دیتا نہیں
اگر یہ ابر نہیں ہے تو پھر دھواں ہو گا
جو بھی دیکھے اسے میلا کر دے
وہ کہاں چاند سی صورت لے جائے
کام بھی کرنے ہیں پر کیا کیجے
وقت سارا تو یہ فرصت لے جائے
ترے کچھ کام آنا چاہتا ہوں
بالآخر رائیگاں ہونے سے پہلے
نشانی چھوڑ کر جائوں گا کوئی
میں بے نام و نشاں ہونے سے پہلے
مجھے کچھ کام یاد آنے لگے ہیں
تری جانب رواں ہونے سے پہلے
آ بھی گیا تو آرزوئے وصل اب کسے
اب اور بھی انتظار بھی کتنا کریں گے ہم
مارنے والا ہے کوئی کہ ہے مرنے والا
اسی مٹی میں ہے آخر کو اترنے والا
جانے کس چیز کو کہتے ہیں مکافاتِ عمل
اور کرتا ہے‘ کوئی ہے بھرنے والا
چشم و دل کام میں لائو کہ ابھی مہلت ہے
اور کچھ دن میں یہ ساماں ہے بکھرنے والا
ابھی پہلی مصیبت کم نہیں تھی
درِ آفات وا ہونے کو ہے پھر
نہ جانے کون کس کے کام آئے
نہ جانے کیا سے کیا ہونے کو ہے پھر
وہ شام شامِ الم تھی سو اپنی آنکھوں میں
چراغِ خواب جلایا‘ ملال میں نے کیا
سو چکا تھا تہہِ خاک میں جس گھڑی
میرے اندر کوئی جاگتا رہ گیا
سب چراغوں کو بجھنا تھا‘ بجھتے گئے
آنکھ میں ایک جلتا دیا رہ گیا
یہاں مہماں بھی آتے تھے ہوا بھی
بہت پہلے یہ گھر ایسا نہیں تھا
یوں ہی نمٹا دیا ہے جس کو تو نے
وہ قصّہ مختصر ایسا نہیں تھا
ان ڈاکٹروں کو خدا سلامت رکھے۔ دوائوں سے ہمارا جسمانی علاج کرتے ہیں اور ادب سے ہمارا جذباتی علاج! مجید امجد نے اسی لیے دعا کی تھی؎
سدا لکھیں/ انگلیاں یہ/ لکھتی رہیں۔۔۔۔۔۔!
 

powered by worldwanders.com