Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Monday, September 21, 2020

ایک بے مثال کامیابی



بیڈ پر نیم دراز میرے ساٹھ سالہ پوتے نے اپنے دائیں ہاتھ پڑے ہوئے ٹیبل پر لگی گھنٹی کا بٹن دبایا۔ بغیر کسی تاخیر اور بغیر کسی آواز کے‘ سامنے والی دیوار ‘ ٹی وی سکرین میں تبدیل ہو گئی۔
ایک خاتون ''اِنگ اردو‘‘ میں خبریں سنا رہی تھی۔ حیران نہ ہوں جب میرا پوتا ساٹھ سال کا ہوا تو اس وقت تک اردو بھی غائب ہو چکی تھی اور انگلش کی ہیئت بھی بدل چکی تھی۔ اب یہ ایک نئی زبان تھی۔ اردو اور انگلش کا آمیزہ۔ اسے پہلے تو انگلش اردو کہا جاتا تھا مگر کثرت استعمال سے یہ لفظ ''اِنگ اردو‘‘ ہو گیا۔ یہ ایک ضمنی بات درمیان میں آ گئی۔ بتا میں یہ رہا تھا کہ میرا ساٹھ سالہ پوتا لیٹسٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹی وی پر خبریں سن رہا تھا۔ اچانک اس کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی۔ ہڑبڑا کر نیم دراز پوزیشن اس نے بدلی اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ پھر اس نے بیوی کو آواز دی۔ بیوی چھت پر گاڑی پارک کر رہی تھی۔ اڑتی ہوئی گاڑی اْس نے چھت کے اوپر فضا میں ٹھہرائی تھی اور اب ایک متحرک کرسی پر بیٹھ کر‘ گراؤنڈ فلور کی طرف آ رہی تھی۔
''کیوں آوازیں دے رہے ہو؟ ایک منٹ ادھر ادھر نہیں ہونے دیتے‘ بالکل اپنے دادا پر گئے ہو‘ میں نے سنا ہے کہ وہ بھی اپنی بیگم کو پاس ہی بٹھائے رکھتے تھے اور ذرا ادھر ادھر ہوتی تھیں تو آوازیں دینے لگتے تھے‘‘۔
''اِس وقت ایسی بات نہیں‘‘ میرے پوتے نے سنجیدگی سے کہا ''تمہیں یہ خبر سنانا تھی‘‘
خبر سن کر اس کی بیوی نے مخصوص انداز میں منہ سے سیٹی کی آواز نکالی۔ پھر اس نے اپنی کلائی پر بندھی‘ گھڑی نما شے کو ٹچ کیا۔ گھڑی نما شے فوراً مائیک میں تبدیل ہو گئی۔ اس نے یہ خبر اپنے ابو امی کو‘ بھائی بہنوں کو اور اعزہ و احباب کو سنائی۔ فرط حیرت سے سب منہ کُھلے کے کُھلے رہ گئے۔
ملک میں‘ ایک کونے سے دوسرے کونے تک جیسے کہرام مچ گیا۔ کچھ کو تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ پھر دوسرے ملکوں سے حکومت کو مبارک باد کے پیغامات آنے لگے۔ شام کو متعلقہ وزیر‘ چوہدری چنگ شائی اوکاڑوی نے قوم سے خطاب کیا۔ تحیّر انگیز خبر کی تفصیلات بتائیں‘ اور اس مسئلے کے‘ جس نے پچاس برس سے پورے ملک کو اذیت اور تجسس کی سُولی پر لٹکا رکھا تھا‘ حل پر عوام کو مبارک دی۔
مبارک بنتی بھی تھی۔ یہ 2070ء تھا۔ پچاس سالوں کی شبانہ روز جدوجہد کے بعد سیالکوٹ موٹر وے گجر پورہ کیس کا بڑا ملزم عابد آخر کار پکڑا گیا تھا۔ پورے ملک میں جشن کا سماں تھا۔ پولیس کا کوئی سپاہی‘ کانسٹیبل یا انسپکٹر جہاں بھی نظر آتا لوگ اسے کندھوں پر بٹھا لیتے۔ پولیس زندہ باد کے نعرے لگاتے۔ تھانوں میں پھولوں اور مٹھائی کے ڈبوں کے ڈھیر لگ گئے۔ حکومت نے خصوصی ترقیوں اور ایوارڈوں کے اعلانات کیے۔ بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں نے تربیت کے لیے اپنی پولیس کو پاکستان بھیجنے کے پروگرام بنانے شروع کر دیے۔ مختصر یہ کہ ہماری پولیس کی پوری دنیا میں دھاک بیٹھ گئی۔
عابد کی کمر جھک گئی تھی۔ سر‘ ڈاڑھی یہاں تک کہ ابرو اور پلکیں بھی برف کے مانند سفید ہو چکی تھیں۔ اب وہ تقریباً اسّی کے پیٹے میں تھا۔ اسکے بیٹے اور پوتے بدنامی سے تنگ آ کر بیرون ملک جا بسے تھے۔ اس کے ہاتھوں میں رعشہ آ گیا تھا۔ جس خاتون کے ساتھ اس نے زیادتی کی تھی اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا کہ اب کہاں ہے؟ فرانس چلی گئی یا پاکستان ہی میں ہے؟ ہے بھی یا نہیں ! شناخت پریڈ کیلئے اسے ڈھونڈا جا رہا تھا۔ صرف اتنا معلوم ہوا کہ اس کا پوتا فرانس میں کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہے۔
میڈیا کے نمائندوں نے سب سے پہلا سوال عابد سے یہ پوچھا کہ اتنا طویل عرصہ وہ پکڑنے والوں کی گرفت سے کس طرح بچا رہا؟ اس سوال پر وہ کافی دیر ہنستا رہا۔ ہنسنے سے پتہ چلا کہ دانت بھی اس کے گر چکے تھے۔ کہنے لگا: چھپنا اور بچنا کیا تھا‘ میں تو اپنی روٹین کی زندگی گزارتا رہا۔ خود پکڑنے والے ہی مجھ سے آنکھ مچولی کھیلتے رہے۔ یہ جو اس قسم کی خبریں آپ لوگ دیتے اور پڑھتے رہے کہ فلاں جگہ دس فٹ کے فاصلے سے مجھے نہ پکڑا جا سکا یا فلاں مقام پر میں بیوی کے ساتھ کھیتوں میں چھپ گیا‘ تو آپ خود سوچیے کہ کیا یہ ممکن ہے؟ کیا پکڑنے والے واقعی دس فٹ کے فاصلے سے بھی دوڑ نہیں جیت سکتے؟ اور خدا کے بندو! کیا کھیت کوئی جنگل یا پہاڑ تھے کہ میں کسی غار یا کسی کھوہ میں روپوش ہو گیا اور پکڑنے والے تلاش نہ کر سکے۔ اصل میں ہوتا یہ رہا کہ پکڑنے والے اتنی جانفشانی اور مستعدی سے مجھے ڈھونڈ رہے تھے کہ‘ قدرتی طور پر‘ وہ تھک جاتے تھے اور جب مجھ سے دس بارہ فٹ کے فاصلے پر پہنچتے تھے تو مارے تھکاوٹ کے‘ گر کر بے ہوش ہو جاتے تھے۔ میں انتظار کرتا تھا کہ آ کر مجھے پکڑیں مگر کوئی نہیں آتا تھا۔ اب یہ تو ممکن نہیں تھا کہ میں ان کی سہولت کے لیے اسی جگہ بیٹھا رہتا۔ آخر میرے بھی کام تھے۔ 
محنت مزدوری‘ ہل چلانا‘ فیملی کے ساتھ سوشل لائف کی مصروفیات۔ مجھے وہاں سے جانا پڑتا تھا۔ پکڑنے والے پھر میرا تعاقب شروع کرتے مگر میرے نزدیک پہنچ کر پھر بے ہوش ہو جاتے۔ بھائی! میں نے کہاں چھپنا تھا‘ اور میرے سر پر کون سی سلیمانی ٹوپی تھی کہ میں نظروں سے اوجھل ہو جاتا! پھر پنجاب کے پکڑنے والے!!! یہ تو وہ فورس ہے جس پر سلطنت انگلشیہ بھی فخر کرتی تھی اور آج بھی یہ دوسرے صوبوں اور دوسرے ملکوں کی فورس کی آئیڈیل ہے! یہ مجھے ڈھونڈنا چاہتی تو میں ان کے چند گھنٹوں کی مار تھا۔ اصل میں مجھے لگتا ہے ان کی اپنی مصروفیات ہی کچھ اس نہج پر تھیں کہ مجھے پکڑا نہ جائے اور آنکھ مچولی جاری رہے! جانے کیا مصلحت تھی! ہو سکتا ہے یہ مجھ پر مشق کر رہے ہوں اور اپنے نئے رنگروٹوں کی تربیت کے لیے مجھے استعمال کر رہے ہوں!
بڑھاپے نے عابد کو بالکل از کار رفتہ کر رکھا تھا۔ اتنی بات کرنے ہی سے اس کی سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگی تھی۔ اس نے لرزتے ہونٹوں سے پانی مانگا اور پھر دھڑام سے زمین پر گر پڑا۔ اسے ہسپتال لے جایا جا رہا تھا مگر راستے ہی میں اس کی زندگی کا چراغ بجھ گیا۔ میڈیا پر اعلان کیا گیا کہ مجرم کو سزائے موت دے دی گئی۔
اس دن کے بعد ملک کے ہر جرائم پیشہ‘ ہر غنڈے‘ ہر عورت دشمن‘ ہر قاتل‘ ہر اغوا کار نے اچھی طرح جان لیا کہ سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہو سکتا ہے مگر مجرم اس سرزمین پر نہیں بچ سکتا۔ عابد کی بر وقت حراست‘ اور موت‘ ہر شخص کے لیے نشان عبرت تھی۔ خواتین کو اس کے بعد اس قدر خود اعتمادی حاصل ہوئی کہ‘ رات ہو یا دن‘ بلا کھٹکے سفر کرنے لگیں۔ تن تنہا غیر مسلح عورت زیورات سے بھرا تھال لیے کراچی سے گلگت تک پیدل سفر کرتی مگر کیا مجال کہ اسے کوئی بری نظر سے دیکھتا۔ عابد کی حراست ملک کی معاشرتی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت اختیار کر گئی۔ یہ ایک واٹر شَیڈ تھا جس سے امن و امان کے سوتے پھوٹے اور اطراف و اکناف کو سیراب کر گئے۔
آج عابد کا کیس امریکہ اور یورپ کی قانون پڑھانے والی یونیورسٹیوں میں خاص طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ اسے پکڑنے والے وہاں جا کر لیکچر دیتے ہیں۔ جرم و سزا کے حوالے سے اس زمانے کو ''پاکستانی زمانہ‘‘ کہا جاتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, September 17, 2020

مجرم کون؟؟ سزائے موت


''آج جب دنیا میں اسلحہ سے متعلق جرائم، اسلحہ کی سمگلنگ اور اسلحہ کی نقل و حمل زوروں پر ہے، سنگا پور میں یہ جرائم بہت ہی کم ہیں۔ اس کی وجہ ہمارا یہ قانون ہے کہ اگر کوئی فائر کرتا ہے، تو کوئی اس سے زخمی یا ہلاک نہ ہو تب بھی اس کی سزا موت ہے‘‘۔
یہ الفاظ جیا کمار کے ہیں۔ جیا کمار مذہباً ہندو ہیں۔ نسلاً تامل ہیں۔ سنگا پور کے ڈپٹی وزیر اعظم رہے۔ مختلف اوقات میں مختلف وزارتوں کے انچارج رہے۔ یکم جولائی 2020ء سے انہیں نیشنل یونیورسٹی آف سنگا پور کا پرو چانسلر مقرر کیا گیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اتنی سخت سزا کے باوجود، جو بظاہر ظلم لگتی ہے‘ اسلحہ سے متعلق جرائم اس ملک سے بالکل ختم نہیں ہوئے‘ مگر سنگا پور میں یہ کبھی ایشو نہیں بنا۔
لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر رونما ہونے والے گھناؤنے جرم کے بعد سزائے موت پر ایک بار پھر بحث چل نکلی ہے۔ دو وفاقی وزیروں سمیت، کچھ حضرات کی رائے یہ ہے کہ سزائے موت جرائم کا حل نہیں۔ ہر کسی کو رائے دینے کا حق حاصل ہے مگر رائے دیتے وقت انصاف سے کام لینا چاہیے۔ سزائے موت اس وقت جاپان، روس، چین، جاپان، سنگا پور، جنوبی اور شمالی کوریا، تھائی لینڈ اور تائیوان سمیت کئی ملکوں میں رائج ہے مگر نام صرف سعودی عرب، ایران اور پاکستان کا لیا جاتا ہے۔ صرف جاپان کی صورت احوال دیکھیے۔ جاپان میں 2014ء میں تین، 2015ء میں تین، 2016ء میں تین، 2017ء میں چار، 2018ء میں پندرہ اور 2019ء میں تین افراد کو مختلف جرائم کے سلسلے میں موت کی سزا دی گئی۔ چین اور دوسرے ملکوں کے اعداد و شمار بھی موجود ہیں۔
دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ایران اور سعودی عرب میں سزائے موت کے باوجود جرائم کم نہیں ہوئے۔ ایسا کہتے وقت یہ حضرات کوئی اعداد و شمار نہیں پیش کرتے۔ آخر کس سال کے جرائم کو بنیاد (بنچ مارک) بنا کر آپ یہ بات کر رہے ہیں؟ اور کن برسوں میں جرائم بڑھے اور کتنے بڑھے؟ کوئی حوالہ تو دیجیے۔ آئیے صرف اور صرف اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ زمینی حقائق کیا ہیں؟
جن ملکوں میں سزائے موت ختم کر دی گئی ہے، کیا وہاں جرائم کا خاتمہ ہو گیا ہے؟ یورپ میں روس اور بیلاروس کے سوا تمام ملکوں میں سزائے موت ختم کر دی گئی ہے۔ ہمارے سامنے اس وقت جو دستاویز کھلی ہوئی ہے‘ وہ فن لینڈ میں قائم ''یورپین انسٹی ٹیوٹ فار کرائم کنٹرول‘‘ کی شائع کردہ پبلی کیشن سیریز نمبر55 ہے۔ یہ ادارہ اقوام متحدہ سے وابستہ ہے۔ یہ دستاویز یورپی ملکوں میں 1995ء اور 2004ء کے درمیان جرائم کی کمی یا بیشی کے اعداد و شمار پیش کرتی ہے۔ اس کی رو سے ان دس برسوں میں جرائم مندرجہ ذیل فی صد بڑھے: 

سویڈن6 فی صد
فن لینڈ 38 فی صد
بلجیم 38 فی صد
آسٹریا 30 فی صد
شمالی آئرلینڈ 83 فی صد
یونان35فی صد
سپین 31 فی صد
سوئٹزر لینڈ 19 فی صد

ڈنمارک، جرمنی، لکسمبرگ، آئر لینڈ اور ہنگری میں جرائم پہلے کی نسبت کم رونما ہوئے ۔              

Numbeo.com 

 ایک بڑی ویبسائیٹ ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں میں رائج قیمتوں، جرائم اور دیگر اشاریوں کو انڈیکس کی صورت میں پیش کرتی ہے۔ اس ویب سائٹ کو حوالے کے طور پر پیش کرنے والوں میں اکانومسٹ، بی بی سی، ٹائم میگزین، فوربس، نیویارک ٹائمز، دی ٹیلی گراف، سڈنی مارننگ ہیرالڈ، چائنہ ڈیلی، واشنگٹن پوسٹ اور کئی دیگر اخبارات و جرائد شامل ہیں۔ اس ویب سائٹ نے سال رواں یعنی 2020ء کے وسط میں جرائم کا جو انڈیکس پیش کیا ہے اس کی رو سے سعودی عرب کا کرائم انڈیکس 26.68 فیصد ہے اور ایران کا 48.91 فیصد۔ اب اس کے مقابلے میں امریکہ اور یورپی ملکوں کے کرائم انڈیکس ملاحظہ فرمائیے:

یو ایس اے 47.70
سویڈن 47.43
فرانس 47.37
بلجیم 45.29
برطانیہ 44.54
اٹلی 44.24
نیوزی لینڈ 42.19
آسٹریلیا 41.67

دیکھ لیجیے کہ سعودی عرب کا کرائم انڈیکس ان سب یورپی ملکوں اور امریکہ سے کم ہے۔ اب بھی یہ کہنا کہ سعودی عرب میں سزائے موت کے باوجود جرائم کم نہیں ہوئے، ایک بے سر و پا بات ہے۔ ایران کا کرائم انڈیکس زیادہ ہے مگر کتنا زیادہ؟ 45‘ 47 اور 48 میں کتنا فرق ہے؟ سب سے کم کرائم انڈیکس قطر کا ہے یعنی 11.90، تائیوان کا 15.26ہے‘ متحدہ عرب امارات کا 15.45 ہے اور عمان کا 20.62 ہے۔ ان چاروں ملکوں میں سزائے موت کا قانون موجود ہے۔
امریکہ کی لگ بھگ نصف یعنی 25 ریاستوں میں سزائے موت ختم کر دی گئی ہے۔ اب ذرا جرائم کے حوالے سے سعودی عرب اور امریکہ کا موازنہ ملاحظہ کیجیے: جرائم کی سطح سعودی عرب میں 23.41 ہے اور امریکہ میں 55.84 یعنی دو گنا زیادہ ہے۔ منشیات کا استعمال امریکہ میں سعودی عرب کے مقابلے میں ستاون گنا زیادہ ہے۔ قتل کی شرح سعودی عرب میں 0.9 اور امریکہ میں 5 ہے۔ ڈاکے امریکہ میں سعودی عرب کی نسبت پچاس گنا زیادہ پڑتے ہیں۔ ہر فی ہزار افراد میں سعودی عرب میں جرائم 3.88 اور امریکہ میں 41.29 ہیں یعنی گیارہ گنا زیادہ! سعودی عرب میں 35 فی صد افراد کے پاس اسلحہ ہے اور امریکہ میں 88.8 فی صد کے پاس۔ قتل کی شرح امریکہ میں 49 گنا زیادہ ہے۔ ہر دس لاکھ سعودیوں میں 10.23 افراد قتل کا ارتکاب کرتے ہیں جب کہ امریکہ میں ہر دس لاکھ افراد میں 42.01 افراد قتل کا ارتکاب کرتے ہیں یعنی چار گنا زیادہ۔
ہم کوئی مذہبی حوالہ نہیں دے رہے۔ غیر مسلم ممالک میں بھی سزائے موت دینے کا قانون موجود ہے مگر احساس کمتری اتنا شدید ہے کہ نظر پاکستان، ایران اور سعودی عرب ہی پر پڑتی ہے۔ یوں بھی مسئلہ سزائے موت دینے یا نہ دینے کا نہیں ہے۔ اصل ایشو ہمارا نظام ہے۔ مناسب قانون سازی نہ کیے جانے کے سبب مجرم چھوٹ جاتے ہیں اور بے گناہ زندانوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ قوانین میں اتنے سقم ہیں کہ عدلیہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ سزائے موت کا فائدہ بھی تب ہے جب دلوں میں یہ یقین راسخ ہو کہ سزا ملے گی اور جلد ملے گی، ضمانت نہیں ہو گی اور چھوٹنا نا ممکن ہو گا۔ اس کے لیے پولیس کی چابک دستی اور سیاسی مداخلت سے نجات ضروری ہے۔
ہم ملا نصرالدین کی طرح سوئی باہر سڑک پر تلاش کر رہے ہیں جبکہ سوئی کمرے میں گم ہوئی ہے۔ دلیل ہماری یہ ہے کہ سڑک پر روشنی ہے اور کمرے میں اندھیرا ہے۔ خرابی کہیں اور ہے مگر ہم اُس طرف دیکھنا نہیں چاہتے۔ ایک ایک دن میں متعدد عورتوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ انسان درندے بن گئے ہیں۔ ان کی اپنی مائیں کہہ رہی ہیں کہ انہیں مار دیا جائے اور ہمیں یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ کہیں انہیں واقعی سزائے موت نہ دے دی جائے۔ کل کو ہم یہ مطالبہ بھی کر دیں گے کہ سانپ اور بچھو ڈستے ہیں تو ڈسنے دو مگر انہیں مارو نہیں۔ مانا کہ عورت کو کمتر سمجھنے والے مائنڈسیٹ میں تبدیلی بھی ضروری ہے مگر اُسی سانس میں عورت کے بدترین دشمنوں کو بچانے کی فکر!! یہ تضاد نہیں فساد ہے

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, September 14, 2020

جاگدے رہنا! ساڈے تے نہ رہنا



حمید صاحب ہمارے پڑوسی تھے۔ ایک ریٹائرڈ بینکار۔ ہم لوگ جس آبادی میں رہ رہے تھے وہ وزیر اعظم کے مغل سٹائل، پُرشکوہ، دفتر سے صرف پندرہ بیس منٹ کی ڈرائیو پر واقع تھی۔ ایک صبح معلوم ہوا کہ حمید صاحب کے گھر سے رات ان کی گاڑی چوری ہو گئی ہے۔ متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کرائی گئی۔ تھانے والے آئے‘ اور کئی بار آئے۔ حمید صاحب بھی تھانے کے چکر لگاتے رہے۔ ہونا کیا تھا! صبر کر کے بیٹھ گئے۔
دو تین ماہ گزرے تھے کہ حمید صاحب کو ایک فون کال موصول ہوئی کہ گاڑی، جس کا رجسٹریشن نمبر یہ ہے، ہمارے پاس ہے‘ بنوں آ کر فلاں جگہ ملیے اور ''سودا‘‘ کر کے گاڑی لے جائیے۔ حمید صاحب پتہ نہیں کس ذہنی کیفیت میں تھے، بیگم سے مشورہ کیا نہ بچوں کو بتایا، ایک پٹھان دوست کو، جو ڈاکٹر ہے‘ ساتھ لیا اور ٹاپو ٹاپ بنوں پہنچ گئے۔ وہاں دونوں کو اغوا کر لیا گیا۔ ساٹھ ساٹھ لاکھ دونوں کے لواحقین نے دیے (یہ لگ بھگ 2012ء کی بات ہے) اور رہائی دلوائی۔ گاڑی اغوا کنندگان کے پاس تھی ہی نہیں۔ ان کا کل اثاثہ ''انفارمیشن‘‘ تھی۔ آپ کا کیا خیال ہے‘ یہ انفارمیشن انہیں کس نے بہم پہنچائی ہو گی؟ حمید صاحب کے اڑوس پڑوس اور ملنے والوں میں دور دور تک بنوں کا کوئی نہیں تھا۔
جی ہاں! آپ کا اندازہ درست ہے! انفارمیشن وہیں سے ملی جہاں موجود تھی! چوروں اور چوکیداروں کا گٹھ جوڑ ہمارے ہاں مسلمہ ہے۔ اس گٹھ جوڑ کے حوالے سے ایک مشہور محاورہ پنجابی زبان کا خاصا چٹ پٹا ہے مگر یہاں اس کا ذکر کرنا شاید مناسب نہ ہو گا۔ بہر طور کئی عشروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ گڈریے بھیڑیوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور کھیت کی باڑ کھیت ہی کو کھا رہی ہے۔ تازہ خبر ملاحظہ کیجیے جو گداگروں کے حوالے سے دس ستمبر یعنی چار دن پہلے روزنامہ دنیا میں شائع ہوئی ''اگر کوئی نیا بھکاری کسی شاہراہ یا مارکیٹ میں مانگنے آ جائے تو پہلے سے موجود (بھکاریوں کا) گروہ اس کو وہاں سے چلے جانے کی دھمکیاں دیتے ہیں، نہ جانے پر کسی کو فون کر دیتے ہیں جس پر کچھ ہی دیر بعد پولیس پکڑ کر لے جاتی ہے‘ جبکہ دوسرے گداگر بدستور اپنے کام میں مگن رہتے ہیں‘‘۔ سبحان اللہ! گداگروں کا گروہ شکایت کرتا ہے کہ ایک حریف گروہ بھی آ کر بھیک مانگنے لگ گیا ہے تو اس حریف گروہ کے ارکان کو پولیس والے پکڑ کر لے جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ صاف اور کلیئر گواہی چوروں اور چوکیداروں کے گٹھ جوڑ کی کیا ہو گی۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ اس خبر کو سب حکامِ اعلیٰ اور سب وزرائے بالا نے پڑھا ہو گا یعنی ع
چہ دلاور است دزدی کہ بکف چراغ دارد
چور کی جرأت کا کیا کہنا! چراغ ہتھیلی پر لیے پھرتا ہے۔
اب اس سیاق و سباق میں سی سی پی او کے اس بیان پر غور کیجیے جس پر احتجاج ہو رہا ہے۔ کیا غلط کہا ہے انہوں نے! وہی تو کہا ہے جو ایک چوکیدار کہا کرتا تھا کہ ''جاگدے رہنا، ساڈے تے نہ رہنا‘‘ یعنی ہم پر بھروسہ نہ کرنا، سو نہ جانا! واقفان حال کا کہنا ہے کہ جہاں یہ افسوسناک قیامت خیز واردات رونما ہوئی، وہاں یہ پہلی واردات نہیں ہے۔ اس سے پہلے جو بربریت ہوئی اس کے شکار نے تشہیر سے بچنے کے لیے چُپ سادھ لی۔ اس جگہ شاہراہ کے دونوں طرف تار لگائے ہی نہیں گئے۔ اب تک کم از کم اْس ذات شریف کو تو پکڑا جانا چاہیے تھا جو تار نہ لگانے کا یا نہ لگوانے کا ذمہ دار ہے۔
گزشتہ ہفتے ہی شیخوپورہ موٹر وے پر ڈاکوؤں نے درخت اور جھاڑیاں ڈال کر شاہراہ بلاک کی۔ انہوں نے کارروائی شروع کی ہی تھی کہ حسن اتفاق سے ایک ایمبولینس وہاں آ گئی اور وہ ایمبولینس کو پولیس کی گاڑی سمجھ کر فرار ہو گئے۔ تونسہ شریف میں دو بچوں کی ماں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا گیا۔ رپورٹ درج نہیں کی جا رہی تھی نہ میڈیکل ہونے دیا جا رہا تھا۔ لواحقین نے احتجاج کیا تو مقدمہ درج کیا گیا‘ اور سلامت تا قیامت رہے ہمارا سسٹم کہ ملزموں نے گرفتاری سے پہلے ہی ضمانت کرا لی۔
خواتین اور بچوں کے ساتھ یہ بربریت اس ملک میں عام ہے۔ حالت یہ ہے کہ کچھ با اثر طبقات ڈی این اے کی گواہی قبول کرنے میں متامل ہیں۔ ایک بڑی سیاسی مذہبی جماعت کے مرحوم سربراہ کی یہ ویڈیو آج بھی دیکھی جا سکتی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ چار گواہ میسر نہ ہوں تو مظلوم عورت خاموش رہے۔ عورت کے حوالے سے ہماری سوسائٹی کا مجموعی رویہ ان افسوس ناک واقعات کا براہ راست نہ سہی، بالواسطہ ضرور ذمہ دار ہے۔
سکّے کا دوسرا رخ بھی نظر سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس کی کیا مشکلات ہیں؟ مطلوبہ فنڈز کی کمی اور افرادی قوت کی قلت! مگر سب سے بڑی صعوبت جس کا پولیس کو سامنا ہے، سیاسی مداخلت ہے۔ وہ جو وعدہ تھا تحریک انصاف کا پولیس کو ہر قسم کی مداخلت سے نجات دلانے کا، وہ قصۂ پارینہ ہو چکا اور اس حقیقت سے اب شاید ہی کوئی انکار کرے۔ سات دن کے بعد ناصر درانی کا منظر سے ہٹ جانا اس امر کی علامت ہے کہ پنجاب کی پولیس کو مداخلت سے پاک کرنے کا عزم ہے نہ ہمت! پتھر بھاری تھا! حکومت نے چوم کر چھوڑ دیا۔ یہ جو شورِ محشر بپا ہے کہ ہر کچھ ماہ بعد پولیس کا سربراہ تبدیل کر دیا جاتا ہے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہ سیاسی مداخلت ہی کا شاخسانہ ہے! معروف بیوروکریٹ خاتون انیتہ تراب کا کیس اس قدر مشہور ہو چکا ہے کہ ہم سب اس سے آگاہ ہیں۔ اس کیس میں سپریم کورٹ نے رولنگ دی تھی کہ تعیناتی کی مدت (Tenure) مکمل ہونے سے پہلے کسی کا تبادلہ کیا جائے گا تو متعلقہ اتھارٹی کو اس تبادلے کی وجوہات ریکارڈ پر لانا ہوں گی۔ یوں موجودہ آئی جی کی یہ بات سو فی صد غلط ہے کہ وہ ایک سیکشن افسر کے نوٹیفکیشن کی مار ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ریاست کے ملازم ہیں، حکومت کے نہیں! سپریم کورٹ کے احکام کی رو سے وقت سے پہلے تبادلہ ہونے کی صورت میں وہ اس تبادلے کے اسباب جاننے کا حق رکھتے ہیں۔ جب تک ہمارے بیوروکریٹ، خاص طور پر سینئر بیوروکریٹ‘ جو نوواردان کے لیے مثال بنتے ہیں‘ اپنے آپ کو ہیچ سمجھتے رہیں گے اور اپنے آپ کو underestimate کرتے رہیں گے، حکومتیں انہیں رولنگ سٹون بنائے رکھیں گی۔ یہ سلسلہ کب تلک چلے گا؟ کہ بقول غالب؎
کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل
انسان ہوں، پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
مقررہ مدت پوری ہونے سے پہلے تبادلہ کرنے کی بیماری پوری سول بیوروکریسی کو گُھن کی طرح کھائے جا رہی ہے۔ ایس ایچ او سے لے کر آئی جی تک، اے سی سے لے کر کمشنر تک، کیا ایف بی آر، کیا آڈیٹر جنرل، ہر محکمے میں میوزیکل چیئر کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور یہ مضحکہ خیز صورت حال عرصۂ دراز سے چلی آ رہی ہے۔ مسلح افواج میں ایسا نہیں ہوتا مگر المیہ یہ ہوا کہ جنرل ضیاالحق سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک، کسی فوجی حاکم نے اس صورت حال کو بدلنے کی کوشش نہیں کی‘ اور سیاست دانوں کی طرح سول بیوروکریسی کو اپنے مقاصد ہی کیلئے استعمال کرتے رہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا بنیادی فریضہ ہی یہ ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری ملازموں کی کیریئر پلاننگ کرے۔ کیریئر پلاننگ کیلئے مدتِ تعیناتی کی تکمیل ضروری ہے۔ مخصوص حالات میں تبادلہ پہلے بھی کیا جا سکتا ہے مگر معقول وجوہ ریکارڈ کر کے! گزشتہ اور موجودہ، سب حکومتیں جس طرح اس ضمن میں اختیارات کو نا روا استعمال کرتی آ رہی ہیں وہ ہرگز درست نہیں! اس روش کو بدلنا ہو گا!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, September 10, 2020

کچی، ٹیڑھی اینٹیں



بچے کو بخار ہے۔ ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہے۔ کیا کبھی کسی نے کہا کہ جب سارے ملک ہی میں صحت کا نظام درست نہیں تو ایک آدمی کی تندرستی سے کیا فرق پڑے گا؟ بچوں کو سکول داخل کیوں کراتے ہیں؟ کیوں تعلیم دلاتے ہیں؟ پورے ملک میں نا خواندگی کا دور دورہ ہے، جہالت عام ہے، صرف آپ کے بچے پڑھ لکھ گئے تو کتنی بہتری آ جائے گی؟ گھر کی صفائی مت کیجیے۔ شہر ہمارے گندگی سے اٹے پڑے ہیں۔ کراچی کا کچرا ملک کے گلے کا ہار بن کر رہ گیا ہے۔ کوڑے کے ڈھیر قصبوں اور قریوں کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں۔ ایک آپ کے چھوٹے سے گھر کی صفائی سے کون سا انقلاب آ جائے گا؟ کیوں تھکتے ہیں؟ کیوں اپنے آپ کو ہلکان کرتے ہیں؟
مگر ایسا ہوتا نہیں۔ کوئی پاگل ہی اپنے بچے کو علاج سے اس لیے محروم رکھے گا کہ اس سے ملک کے نظامِ صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ملک کا تعلیمی نظام حد درجہ پستی میں ڈوبا ہوا ہے مگر ہر فرد اپنے بچوں کو، مقدور بھر، اعلیٰ تعلیم دلا رہا ہے۔ گلی کوچے کیچڑ اور کچرے سے بھرے پڑے ہیں مگر یہ کوئی وجہ نہیں کہ میں اپنے گھر کی صفائی نہ کروں!
تو پھر اُس وقت موت کیوں پڑ جاتی ہے جب کوئی ہمیں کاروباری معاملات میں، دفتری امور میں یا روزمرہ کی زندگی میں دیانت داری کی تلقین کرتا ہے؟ ہمارا رد عمل عجیب مجہول، منفی اور بہانہ ساز سا ہو جاتا ہے۔ بھئی‘ جب پورا معاشرہ خراب ہے تو ایک فرد کے سچ بولنے سے کیا ہو گا؟ صرف میری امانت داری کی کیا حیثیت ہے؟ میں ایک ٹھیک ہو بھی گیا تو حالات کون سے ٹھیک ہو جائیں گے؟ یار! سبھی ایسا ہی کرتے ہیں! ارے بھائی! رہنے دو کس کس کو ٹھیک کرو گے یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے! بالکل ایسا ہی جواب کچھ عرصہ پہلے ایک پاکستانی نے میرے منہ پر تھپڑ کی طرح جڑا۔ بیت اللہ کا طواف تھا۔ دوران طواف دائیں بائیں زائرین سیلفیاں لے رہے تھے سخت کوفت ہو رہی تھی۔ اتنے میں میرے دائیں طرف ایک پاکستانی نے کہ شلوار قمیص میں ملبوس تھا، موبائل فون تقریباً میرے ساتھ رکھ کر سیلفی بنائی۔ کیوں اپنا طواف خراب کر رہے ہو بھائی؟ میں نے غصے میں کہا۔ اس کا جواب وہی تھا جس کا ذکر اوپر کیا ہے کہ سب لوگ بنا رہے ہیں۔ 
اس نا مراد، مکروہ منطق نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اس زنگ آلود دلیل کو ہم نے اس بری طرح استعمال کیا ہے کہ معاشرہ اسفل السافلین سے بھی نیچے چلا گیا ہے۔ یہ رویہ اپناتے وقت ہم تین حقائق بھول جاتے ہیں۔ اول‘ آخرت میں ہم سے معاشرے کی نہیں ہمارے اپنے اعمال کی باز پرس ہو گی۔ وہاں یہ دلیل کام نہیں آئے گی کہ میں نے اس لیے بد دیانتی کی، اس لیے جھوٹ پر جھوٹ بولے‘ اس لیے سرکاری مال کھایا یا اس لیے دوسروں کا حق ہڑپ کیا کہ وہاں سبھی ایسا ہی کر رہے تھے۔ وہاں تو ہر کسی نے اپنا بوجھ اٹھانا ہے۔ نیکیاں بھی اپنی اور برائیاں بھی اپنی۔ دوم‘ اگر معاشرہ سارے کا سارا غلط راستے پر گام زن ہے تو سوال یہ ہے کہ اسے راہ راست پر لانے کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟ کم سے کم حصہ جو آپ ڈال سکتے ہیں یہ ہے کہ خود برائی سے بچیں۔ سوم‘ اگر آپ معاشرے کو درست کرنا چاہتے ہیں تب بھی آپ کو اپنی اصلاح سب سے پہلے کرنا ہو گی‘ ورنہ آپ کے پند و نصائح بے اثر رہیں گے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کو سیدھے راستے پر چلتا دیکھ کر، دوسرے، آپ کے کہے بغیر ہی، آپ کی پیروی شروع کر دیں۔
ہم تقریروں میں، تحریروں میں، ہمیشہ اقبال کا یہ شعر پیش کرتے ہیں
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
مگر کیا ہر فرد کو جو کچھ کرنا چاہیے، وہ کر رہا ہے؟ ہمارا المیہ یہ ہے کہ میرے سمیت ہر شخص اصلاح کا آغاز دوسروں سے کرنا یا کرانا چاہتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی بزرگ بس میں کھڑا ہو تو میں خود اٹھ کر اسے اپنی نشست پیش نہ کروں بلکہ کسی دوسرے مسافر کو اس کار خیر کے لیے کہوں۔
کُڑھنے، وعظ کرنے، دوسروں پر تنقید کرنے اور معاشرے کے انحطاط پر گریہ و زاری کرنے کے بجائے ہم میں سے ہر شخص یہ کیوں نہیں سوچتا کہ وہ آغاز اپنی ذات سے کرے؟ اگر ٹریفک کا نظام لا قانونیت کا شکار ہے تو آج سے عہد کریں کہ ہم ہر حال میں ٹریفک کے ضوابط کی پابندی کریں گے۔ اس کے بعد ہم اپنے اہل و عیال سے اس کی پابندی کرائیں گے۔ ہم اپنے کاروبار میں اصول پسندی اور قانون پسندی پر سختی سے عمل پیرا ہوں گے۔ ہم دفتر وقت پر پہنچیں گے۔ کسی سائل کو پریشان نہیں کریں گے۔ کوئی غلط حکم نہیں مانیں گے۔ اپنی روزمرہ زندگی میں دروغ گوئی اور عہد شکنی سے کام نہیں لیں گے۔
ہم عجیب لوگ ہیں۔ قوم کے زوال پر نوحہ خوانی کر رہے ہوتے ہیں۔ اتنے میں ٹیلی فون آتا ہے یا دروازے کی گھنٹی بجتی ہے تو بیٹے کو کہتے ہیں کہ میرا کوئی پوچھے تو کہنا گھر پر نہیں ہوں۔ دکان پر ملازم دیر سے پہنچے تو اسے طعنہ دیتے ہیں کہ تنخواہ حرام کر رہے ہو اور اپنی آمدنی کے حلال یا حرام ہونے کا نہیں سوچتے۔ رفقائے کار اور ماتحتوں کو دیانت داری کا درس دیں گے مگر خود دفتر کا کارِ منصبی تاخیر سے انجام دیں گے یا اسے سفارش، اقربا پروری اور دوست نوازی کی نذر کر دیں گے۔ زرداری سے لے کر نواز شریف تک، بلاول سے لے کر مریم نواز تک شہباز شریف سے لے کر عمران خان تک ہر ایک کا محاسبہ کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کی ذاتی زندگیوں پر تبصرے کرتے ہیں۔ بیوروکریسی کو مطعون کرتے ہیں۔ سیاست دانوں پر ہر اُس برائی کا الزام لگاتے ہیں جو روئے زمین پر ممکن ہے۔ نہیں جھانکتے تو اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔
قوم ایک عمارت ہے۔ فرد اینٹ ہے۔ عمارت مضبوط ہونے کے لیے لازم ہے کہ ایک ایک اینٹ پختہ ہو، سالم ہو اور درست زاویے سے لگائی گئی ہو۔ بطور فرد ہم مکمل طور پر غیر ذمہ دار ثابت ہوئے ہیں۔ ہم تو کچی، ٹیڑھی اینٹیں ہیں جو عمارت کو بد نما اور نا قابل اعتبار کر رہی ہیں۔ ہمارے اعمال اور رویے دونوں ہولناک نتائج پیدا کر رہے ہیں۔ ان افراد کے مجموعے سے اُسی قسم کی قوم بنے گی جو ہم ہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی حیثیت والے پاکستانی کا کردار، قوم کے مجموعی کردار پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ریڑھی والا ہے یا معمولی دکان دار یا سرکاری کارندہ، ملک کے لیے اس کا انداز فکر اور طرز عمل بھی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ صرف حکمران نہیں جو ملک کو سمت مہیا کرتے ہیں۔ ایک ترقی یافتہ ملک اور ایک پسماندہ ملک کے عام باشندے کی سوچ اور عمل کا موازنہ کر کے دیکھ لیجیے۔ زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا۔ صرف قطار بندی دیکھ لیجیے یا صرف اس بات پر غور کیجیے کہ بچے کو جھوٹ سکھانے کا وہاں کوئی تصور نہیں۔ جو تارکین وطن مغربی ملکوں سے واپس آ کر دوبارہ وطن میں رہنے لگتے ہیں انہیں پیش آنے والے مسائل میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے بچے جھوٹ سے نا واقف ہوتے ہیں اور یہاں قدم قدم پر جھوٹ سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ان کے بچے کسی صورت جھوٹ نہیں بولتے اور ہم میں سے کتنے ہیں جن کے بچے یہ دعویٰ کریں گے کہ ان کے ماں باپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور کسی کے ساتھ وعدہ کریں تو پورا کرتے ہیں؟؟؟

بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, September 08, 2020

حاجی عطا اللہ



دنیا میں پہلے ہماری عزت دو وجوہ سے تھی۔ ایک ہمارا پاسپورٹ‘ دوسری ہماری کرنسی۔امریکہ سے لے کر جاپان تک سب ہمارا پاسپورٹ دیکھ کر ٹھٹک جاتے اور سمجھ جاتے کہ یہ مسافر ایک عظیم الشان ملک سے تعلق رکھتا ہے۔ یہی حال کرنسی کا تھا۔ پانچ ڈالر کی چائے کا مطلب نوسو یا ہزار روپے تھا۔
مگر یہ صورتِ احوال ایک ہفتہ پہلے تک تھی۔ گزشتہ ہفتے ہمیں ایک طلسمی اسم مل گیا ہے‘ جادو کا لفظ۔اب دنیا میں عزت حاصل کرنے کے لیے ہمیں پاسپورٹ دکھانا پڑے گا نہ کرنسی کی شرح مبادلہ بتانا پڑے گی۔ اب ہم صرف ایک لفظ کہیں گے حاجی عطا اللہ۔ اور لوگ ہمارے سامنے احترام سے جھُک جائیں گے۔حاجی عطا اللہ !صرف گیارہ حروف ! اور اتنا بڑا اعزاز! ایک پاکستانی جس ملک میں بھی اب جائے گا‘ لوگ اسے دیکھ کر حاجی عطا اللہ کا ذکر کریں گے۔ پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہو جائے گا۔ سینہ تن جائے گا۔ ہمارے صدرِ مملکت‘ ہمارے وزیر اعظم‘ ہمارے چیئرمین سینیٹ‘ ہمارے سپیکر قومی اسمبلی‘ ہمارے وزرائے کرام ‘ جہاں بھی ملک کی نمائندگی کرنے جائیں گے ‘ وہاں حاجی عطا اللہ کا ذکر ہو گا۔دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کے نصابوں میں‘ قانون کی کتابوں میں ‘ انصاف کے تذکروں میں ‘ وکیلوں کی بحثوں میں ‘اخبارات کے اداریوں میں ‘ادیبوں کے ناولوں میں ‘ شاعروں کی نظموں میں اور ججوں کے فیصلوں میں حاجی عطااللہ کا ‘ اور حاجی عطا اللہ کے حوالے سے پاکستان کا نام ضرور لیا جائے گا۔اس نام نے ہمیں دنیا کے مہذب ترین ملکوں میں سر فہرست لا کھڑا کیا ہے۔بنیادی انسانی حقوق کے لحاظ سے ہم اس وقت دنیا کو لیڈ کر رہے ہیں۔اسلام کا نظام ِقصاص آج مسلمان ملکوں میں کہیں رائج ہے تو وہ ہمارا ملک ہے !
اقبال کی عہدساز تصنیف '' پیام مشرق‘‘ میں ایک نظم '' ستاروں کا گیت‘‘ہے۔ اس میں ستارے کہتے ہیں کہ وہ تاریخ کے تمام ادوار‘ زمین کے سارے انقلابات اور زمانے کے سب الٹ پھیر دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔
خواجہ ز سروری گذشت
بندہ ز چاکری گذشت
زاری و قیصری گذشت
دورِ سکندری گذشت
شیوۂ بت گری گذشت
می نگریم و میرویم
مالکوں اور جاگیرداروں کا زمانہ لد چکا‘غلامی کا دور گزر گیا‘زار تھا یا قیصر یا سکندر سب وقت کی دھول میں گم ہو چکے ‘یہ سب کچھ ستارے دیکھتے جا رہے ہیں۔
حاجی عطااللہ کو بھی ستارے دیکھ رہے تھے۔ یہ جون 2017 ء کا ایک گرم دن تھا‘ حاجی عطااللہ کوئٹہ کے ایک چوک پر کھڑا ٹریفک کنٹرول کر رہا تھا۔ یہ اس کا کارِ منصبی تھا جو ریاست ِپاکستان نے اس کے سپرد کیا ہوا تھا۔ وہ کسی کا ذاتی ملازم تھا نہ کسی سردار کی رعایا تھا۔ وہ تو حکومت کا ملازم بھی نہ تھا۔ حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں۔ وہ ریاست کا ملازم تھا! ریاست پاکستان کا! ایک تیزرفتار قیمتی گاڑی آئی اور اسے روند کر گزر گئی۔ جیسے وہ ایک کیڑا تھا ‘ زمین پر رینگتا ہوا۔بقول رومی کے‘ وہ کنگھی نہ تھا کہ بال اسے توڑ دیں نہ ہی وہ دانہ تھاکہ زمین اسے لے بیٹھے۔ وہ تنکا بھی نہ تھا کہ ہوا اُسے اُڑا لے جاتی نہ ہی وہ پانی تھا کہ سرما میں برف بن جاتا۔ وہ انسان تھا۔ اپنے خاندان کا واحد سہارا!
اس گاڑی کو ایک سردار چلا رہا تھا۔ اچکزئی قبیلے کا سردار ‘منتخب ایوان کا نمائندہ ! تین سال دو ماہ یہ کیس قانون اور انصاف کی چکی میں پسا اور گزشتہ ہفتے سردار صاحب کو باعزت بری کر دیا گیا۔فوٹیج موجود تھی۔ حاجی عطا اللہ کے روندے جانے ‘ پھر جنازہ پڑھے جانے اور آخر میں زیر زمین دفن ہونے کو ساری دنیا نے دیکھا تھا‘ مگر عدل کا تقاضا یہی تھا کہ سردار کو بری الذمہ قرار دیا جائے۔مقتول ریاست کا نمائندہ تھا۔ ریاست نے اسے جو فرضِ منصبی سونپا تھا اسی کو سرانجام دیتے ہوئے اسے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ ریاست ہار گئی۔ عدل جیت گیا۔ کیا ریاست بالائی عدالتوں میں اپنا مقدمہ لے جائے گی ؟ یا یہ طے ہے کہ ریاست اپنے کارکنوں کی حفاظت کرنے سے قاصر ہے؟ یا بے نیاز ہے؟
پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے پاس‘ اس دور میں بھی ایک ایسا خطۂ زمین موجود ہے جو ہزاروں سال پرانے سرداری نظام پر چل رہا ہے۔ آج کی دنیا میں شاید ہی کہیں اس کی مثال ہو ! اگر کوئی اسے غلامی قرار نہیں دیتا تو اس کی مرضی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سرداری اور غلامی کا ایک مضبوط نظام ہے جو بلوچستان میں رائج ہے۔ اس نظام کا آج کے زمانے سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ یہ تو ابھی چند سال پہلے کی بات ہے کہ ایک سردار سے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران پوچھا گیا کہ یہ چور پکڑنے کے لیے جلتے کوئلوں پر چلانے کا کیا سلسلہ ہے تو سردار نے پورے اعتماد کے ساتھ جواب دیا تھا کہ یہ تو ان کے قبیلے کی روایت ہے۔ تعلیمی اداروں کی سرکاری عمارتیں وہاں مویشی خانوں اور غلے کے گوداموں کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ نئی بندوق کو آزمانے کے لیے سردار گلی میں سے گزرتے ہوئے کسی بھی شخص کے سر کا نشانہ لے سکتا ہے۔سردار کے علاقے میں تعینات سرکاری ملازموں کو تنخواہ سردار کی پرچی دکھائے بغیر نہیں دی جاتی۔ سردار قبیلے کے ہر فرد کے ذاتی معاملات میں دخل دینے اور فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ کسی بھی ناپسندیدہ شخص کے جسم پر شہد یا گڑ کا شیرہ مل کر اُسے چیونٹیوں بھری غار میں پھینکا جا سکتا ہے۔ گیس یا تیل کی کسی بھی پائپ لائن کو ‘ بجلی کے کسی بھی ٹرانسفامر کو‘ ٹیلی فون کی کسی بھی تنصیب کو سردار کے حکم سے اُڑایا جا سکتا ہے۔ کوئی کمشنر یا ریاست کا کوئی افسر یا اہلکار سردار کی لاقانونیت یا '' ریاست کے اندر ریاست‘‘ کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ سردار کے اشارے پر اس کے قبیلے کے لوگ بندوقیں لے کر پہاڑوں پر چڑھ جائیں تو کوئی انہیں منع کر سکتا ہے نہ واپس لا سکتا ہے۔ تہتر برسوں میں ایک‘ جی ہاں ! صرف ایک‘ ایسا سیاستدان صوبے کا وزیر اعلیٰ بن سکا ہے جو کسی قبیلے کا سردار نہ تھا ورنہ سیاست ان سرداروں کی کنیز ہے۔ حکومت ان کی دست بستہ غلام ہے۔ قانون ان کے پاؤں کی جوتی ہے۔ ریاست ان کے سامنے بے بس ہے۔اقتدار کی کلید اِن کی جیب میں ہے۔ اس پس منظر میں دیکھئے تو آپ خود ہی اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ حاجی عطااللہ جیسا ایک معمولی اہلکار‘ بے شک وہ کتنا ہی فرض شناس کیوں نہ ہو‘ ایک سردار کے مقابلے میں اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتا جتنی آندھی کے مقابلے میں تنکے کی ہوتی ہے۔
سچ یہ ہے ‘ اور جتنا بھی کڑواہو ‘ بہر طور سچ یہی ہے کہ ریاست پاکستان بلوچستان کے معاملے میں آج تک کچھ نہیں کر سکی۔ کسی حکومت میں اتنا وژن تھا ہی نہیں کہ صوبے کے عوام کو سرداری نظام سے چھڑا سکتی۔ یہ وژن کل بھی مفقود تھا۔ آج بھی عنقا ہے۔ زرعی اصلاحات کی کسی کو فکر ہے نہ دماغ۔ اور اب تو حال وہ ہو چکا ہے کہ بقول اقبال؎
خواجگی میں کوئی مشکل نہیں رہتی باقی
پختہ ہو جاتے ہیں جب خوئے غلامی میں غلام
اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ سرداروں کو مائی باپ‘ مربی اور آقا سمجھتے ہیں اور سرداری نظام کا دفاع کرتے ہیں۔ ابتری یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ جہاں بظاہر سرداری نظام نہیں ہے وہاں بھی مائنڈسیٹ وہی ہے۔یقین نہ آئے تو شہ زیب اور نقیب اللہ محسود کی روحوں سے پوچھ لیجئے جو انصاف کی تلاش میں آج بھی بھٹک رہی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, September 07, 2020

قائداعظمؒ، جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ



77 سال کا یہ طویل قامت، دھان پان شخص، ایک فرد نہیں ایک ادارہ ہے۔ ایک ریسرچ سنٹر ہے، ایک لشکر ہے۔
ادارہ! کیونکہ تن تنہا اس نے اتنا کام کیا جتنا بڑے بڑے ادارے موٹی موٹی گرانٹس سے سرانجام دیتے ہیں۔ ریسرچ سنٹر! اس لیے کہ قائد اعظمؒ اور پاکستان پر جہاں بھی، جتنا کچھ بھی‘ لکھا گیا ہے یا کہا گیا ہے اسے اُس کی خبر ہے۔ اسّی‘ نوّے سال پہلے کے اخبارات ہوں یا دنیا کے کسی کونے میں قائد اعظمؒ یا قائدؒ کی جدوجہد کے متعلق کوئی کتاب، کوئی جریدہ یا کوئی دستاویز ہو، یہ 77 سالہ طویل قامت شخص اس سے آگاہ ہوتا ہے۔ لشکر! اس لیے کہ وہ ایک اکیلا ہے مگر پورے لشکر کا مقابلہ لشکر کی طرح کرتا ہے۔ قلم اس کی شمشیر ہے۔ تحقیق اس کا نیزہ ہے۔ ریسرچ میں دیانت اس کی ڈھال ہے۔ قائد اعظمؒ سے محبت وہ جذبہ ہے جس سے مسلح ہو کر وہ ہر اُس دشمن، ہر اُس بد اندیش، ہر اُس فتنہ پرور اور ہر اُس عفریت کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑا ہو جاتا ہے جو قائدؒ پر، پاکستان پر یا علامہ اقبالؒ پر حملہ آور ہو!
قائد اعظمؒ کا یہ سپاہی ڈاکٹر صفدر محمود ہے! مجھے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے‘ ڈاکٹر صاحب قدرت کی طرف سے اس کام پر مامور کیے گئے ہیں۔ یہ سراسر توفیق الٰہی ہے۔ جس طاقت نے قائد اعظمؒ سے اتنا بڑا کام لیا کہ دنیا حیران رہ گئی، وہی طاقت اب صفدر محمود جیسے جینوئن محقق سے قائد اعظمؒ اور تحریک پاکستان کا دفاع کروا رہی ہے۔
قائد اعظمؒ اور تاریخ پاکستان پر ڈاکٹر صاحب نے درجنوں اہم کتابیں تصنیف کی ہیں مگر ان کی تازہ ترین تصنیف 'سچ تو یہ ہے‘ اس لیے معرکہ آرا ہے کہ اس میں تقریباً اُن تمام اعتراضات کے مسکت جوابات دیے گئے ہیں جو آج کل ایک مخصوص لابی قائدؒ، اقبالؒ اور تحریک پاکستان کے حوالے سے کر رہی ہے اور خالی الذہن نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ صرف چند عنوانات ملاحظہ کیجیے اور اندازہ لگائیے کہ کس قدر حساس معاملات پر ڈاکٹر صاحب نے رہنمائی کی ہے۔ یہ رہنمائی محض جذبات یا لفاظی کی مرہون منت نہیں، بلکہ ٹھوس دلائل اور حوالہ جات پر مبنی ہے۔
٭ خطبۂ الہ آباد، قرار داد پاکستان اور مخالفین کے بے بنیاد الزامات؛
٭ ریڈ کلف ایوارڈ اور ایک مؤرخ کی مو شگافیاں؛
٭ قائد اعظمؒ، جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ... سب سے بڑا جھوٹ؛
٭ قرارداد پاکستان پر بہتان؛
٭ قائد اعظمؒ کے آخری ایام اور سازشی افسانے؛
٭ اقبالؒ، جناحؒ اور مذہبی کارڈ؛
٭ قائد اعظم ثانی!!
پاکستان کی تحریک اور تاریخ پر پڑا ہوا گرد و غبار ڈاکٹر صاحب کس طرح صاف کر رہے ہیں‘ صرف ایک مثال سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پہاڑ جتنے مضبوط دلائل سے بات کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے ایک حاطب اللیل گروہ یہ شوشہ چھوڑ رہا ہے کہ قائد اعظمؒ نے قیام پاکستان سے پہلے 9 اگست 1947 کو جگن ناتھ آزاد کو بلا کر پاکستان کا قومی ترانہ لکھنے کو کہا‘ جنہوں نے پانچ دن میں لکھ کر پیش کر دیا‘ جسے قائد اعظمؒ نے منظور کر لیا۔ پھر یہ اعلانِ آزادی کے ساتھ ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا۔ 23 فروری 1949 کو حکومت نے قومی ترانے کے لیے کمیٹی بنائی تو یہ ترانہ بند کر دیا گیا۔ اب دیکھیے ڈاکٹر صاحب نے شرارت پر مبنی اس سفید جھوٹ کا تاروپود کس طرح بکھیرا ہے۔ اول‘ قائد اعظمؒ مکمل طور پر قانونی اور جمہوری مزاج رکھتے تھے۔ یہ نا ممکن تھا کہ وہ ماہرین، کابینہ اور حکومت کی رائے لیے بغیر خود ہی کسی کو یہ کام سونپ دیتے اور پھر خود ہی چپ چاپ اس کی منظوری بھی دے دیتے۔ یہ ان کے مزاج ہی میں نہ تھا۔ شاعری اور اردو فارسی سے ان کا تعلق بھی زیادہ نہ تھا۔ دوم‘ ان کی عمر کا زیادہ حصہ بمبئی اور دہلی میں گزرا۔ 1947 میں وہ 71 سال کے تھے۔ جگن ناتھ آزاد اُس وقت 29 سال کے غیر معروف نوجوان تھے۔ لاہور میں رہتے تھے اور ایک اینٹی پاکستان ہندو اخبار جے ہند میں نوکری کر رہے تھے۔ قائد اعظمؒ سے تو ان کی شناسائی بھی ممکن نہ تھی کجا یہ کہ وہ انہیں بلا کر قومی ترانہ لکھنے کا حکم دیتے۔ سوم‘ قائد اعظمؒ کوئی عام شہری نہ تھے۔ ان کے ملاقاتیوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔ پروفیسر سعید کی کتاب Visitors of Quaid-e-Azam میں 25 اپریل 1948 تک کی ملاقاتوں کا ریکارڈ محفوظ ہے۔ اس میں جگن ناتھ آزاد کا کہیں نام نہیں۔ چہارم‘ سید انصار ناصری کی تصنیف 'پاکستان زندہ باد‘ میں7 اگست سے پندرہ اگست تک کی مصروفیات کوَر کی گئی ہیں۔ اس میں بھی جگن ناتھ کا ذکر نہیں۔ پنجم‘ پھر ڈاکٹر صاحب نے اُس اے ڈی سی کی تلاش شروع کی جو قائد اعظمؒ کے ساتھ تعینات تھے۔ یہ عطا ربانی تھے۔ پیپلز پارٹی کے معروف رہنما رضا ربانی کے والدِ محترم! ان سے ملاقات مشکل تھی۔ مجید نظامی کی مدد سے ڈاکٹر صاحب ان سے ملے۔ ان کا جواب تھا کہ جگن ناتھ آزاد نام کا کوئی شخص قائد سے ملا نہ ان کی زبان سے کبھی اس کا نام سنا گیا۔ ششم‘ پھر ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز چھانے گئے کہ ان میں کہیں جگن ناتھ آزاد کے کسی ترانے کا کوئی ذکر مل جائے‘ لیکن ایسا کوئی ثبوت ان آرکائیوز میں کہیں نہیں۔ چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی رات، اعلانِ آزادی کے فوراً بعد احمد ندیم قاسمی کا گیت نشر ہوا تھا:
پاکستان بنانے والے! پاکستان مبارک ہو
اس کے بعد مولانا ظفر علی خان کا نغمہ گایا گیا:
توحید کے ترانے کی تان اڑانے والے
ہفتم‘ اُس زمانے میں ریڈیو کے پروگرام اخبارات میں چھپتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے اگست 1947 کے اخبارات چھان مارے‘ ان میں انہیں جگن ناتھ آزاد کا نام کہیں نہ تھا۔ ہشتم‘ ریڈیو پاکستان کے رسالے 'آہنگ‘ میں بھی، جس میں ریڈیو پاکستان کے ایک ایک پروگرام کا ریکارڈ ہوتا ہے‘ آزاد کا نام کہیں نہیں۔ نہم‘ خالد شیرازی نے 14 اگست سے لے کر 21 اگست 1947 تک کے ریڈیو پروگراموں کا چارٹ بنایا تھا۔ انہوں نے بھی اس دعوے کو ماننے سے صریحاً انکار کیا۔ دہم‘ سب سے بڑھ کر یہ کہ جگن ناتھ آزاد نے وفات تک خود کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ قائد اعظمؒ سے ان کی ملاقات ہوئی یا انہوں نے ترانہ لکھنے کا کہا۔ اپنی تصنیف 'آنکھیں ترستیاں ہیں‘ میں انہوں نے یہ لکھا ہے کہ ریڈیو پاکستان لاہور سے انہوں نے اپنا ملی نغمہ سنا۔ کب سنا؟ اس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ قومی ترانے اور ملی نغمے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قائد اعظمؒ سے ملاقات اور ان کے حکم سے ترانہ لکھنا کوئی ایسا معمولی کام نہیں تھا کہ آزاد اس کا ذکر نہ کرتے۔ ایسا ہوا ہوتا تو وہ اس اعزاز کا کئی بار ذکر کرتے۔
یہ صرف ایک مثال ہے۔ مقصود صرف یہ بیان کرنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ہر اُس شک، اعتراض، افترا پردازی اور دروغ گوئی کا رد کرنے کی سعی کی ہے جو پاکستان اور بانیٔ پاکستان کے حوالے سے کچھ لوگ، شرارت یا جہالت کی وجہ سے، پھیلا رہے ہیں۔ دیانت داری کی بات یہ ہے کہ تاریخِ پاکستان کے ہر طالب علم کو اس مجموعۂ مضامین کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
پاکستان اقبالؒ کی فکر اور قائد اعظمؒ کی جدوجہد کا حاصل ہے۔ اس جدوجہد میں بر صغیر کے مسلمانوں کا خون شامل ہے۔ یہ جدوجہد سچائی اور صرف سچائی سے عبارت تھی۔ پہلے بھی سچائی جیتی‘ آئندہ بھی سچائی ہی غالب رہے گی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آج، جب فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے کانگرس نواز مسلمان قائد اعظمؒ کے مؤقف کو درست تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، پاکستان میں بے سروپا بحثیں چھیڑی جا رہی ہیں!!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, September 03, 2020

کامونکے منڈی کا الیاس


کامونکے لاہور اور گوجرانوالہ کے درمیان واقع ایک قصبہ ہے۔ یہ چاول کی بڑی منڈی ہے۔ اسلام آباد‘ پنڈی کے لوگ یہاں سے گزریں تو چاول خرید لے جاتے ہیں۔ کچھ میری طرح صرف بھاؤ پوچھنے پر اکتفا کرتے ہیں اور خریداری اس کے پُر کشش تنگ بازاروں سے چاول کے مرنڈوں، مکھانوں، بھنے ہوئے چنوں، پتاشوں اور نُگدی کی کرتے ہیں۔ جو کچھ بچپن میں کھایا ہو زندگی بھر اس کی بھوک رہتی ہے۔
اس کامونکے میں ایک شخص رہتا تھا۔ الیاس اس کا نام تھا۔ انسان کے بھی کیا کیا شوق، خبط اور مشغلے ہوتے ہیں۔ ان بھائی صاحب کا شغل تھا سانپ پکڑنا اور انہیں دودھ نہیں! اپنا خون، جی ہاں! خون جسے لہو کہا جاتا ہے، پلانا! طریقۂ واردات اس کا یہ تھا کہ بلیڈ سے اپنی کلائی کاٹتا ، لہو نکال کر رکابی میں ڈالتا اور سانپ کو پیش کر دیتا۔ یہ سلسلہ ایک مدت سے چل رہا تھا۔ سانپ بھی خون پر پل رہے تھے اور سپیرا بھی آزار دوستی (Masochism) کے لطف سے بھرپور خوش خوش زندگی گزار رہا تھا۔
پھر ایک دن وہی ہوا جو ہونا تھا یا جس کا ڈر تھا۔ تین چار دن پہلے کی بات ہے الیاس ایک نیا سانپ لایا۔ بلیڈ سے اپنی کلائی کاٹی، رکابی میں اپنا خون اکٹھا کیا اور سانپ کی خدمت میں پیش کر دیا‘ مگر سانپ کو خون میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ خون کے ساتھ گوشت بھی چاہتا تھا۔ اس نے الیاس کو کاٹ لیا۔ اس کے کاٹے سے الیاس کی حالت غیر ہو گئی۔ الیاس کو طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں اس کی موت واقع ہو گئی۔
یہ افسوس ناک خبر صرف الیاس کی نہیں لگ رہی۔ یہ محض کامونکے منڈی میں نہیں ہوا۔ یہ تو ایک علامتی کہانی ہے، ایک آئینہ، جس میں، ہمارے سمیت، کئی ملک، کئی صدیاں اور کئی قومیں اپنا چہرہ دیکھ سکتی ہیں۔ اِن دنوں ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ زیر مطالعہ ہے۔ ایک سانپ میر جعفر نے بھی پالا تھا۔ اسے خوب دودھ پلایا۔ خوب موٹا کیا۔ اس پر اتنی دولت لٹائی کہ کلائیو اس وقت کے یورپ کا امیر ترین شخص بن گیا‘ مگر پھر اسی سانپ نے میر جعفر کو کاٹ لیا۔ میر جعفر کی نوابی خواب و خیال ہو گئی‘ بلکہ سارے خواب بکھر گئے۔ جیتے جی ذلیل و خوار ہو گیا۔
پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد ہم نے بھی ایک سانپ پال لیا۔ یہ بحرِ اوقیانوس کے اُس پار کا تھا۔ ہم نے ہمیشہ اسے دودھ پلایا۔ ہمیشہ کلائیاں کاٹ کر خون سے اس کے لیے رکابیاں بھریں مگر ہماری قسمت کہ اس نے ہمیشہ ہمیں کاٹا۔ ہم ہر بار ڈسے گئے مگر آفرین ہے ہماری مستقل مزاجی پر کہ ڈسے جانے کے بعد بھی ہم نے ہمیشہ سانپ کی بلائیں لیں، کلائی کاٹی اور مزید خون پیش کر دیا۔ اس سانپ کے ساتھ ہمارا Love- hate relationship ایسا بے مثال ہے کہ تاریخ میں کم ہی ایسی مثالیں ہوں گی۔ دشمن بھی وہی ہے۔ دوست بھی وہی ہے۔ ہم اس موج کی طرح ہیں جو ساحل کو چوم کر دور بھاگتی ہے اور تھوڑی دیر میں پھر آ موجود ہوتی ہے۔ ہم میں سے ہر محبِ وطن اس سانپ کا سر کچلنا چاہتا ہے اور ہم میں سے ہر محبِ وطن اس سانپ کے دیس میں جانے کے لیے، اس کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے اور وہاں آباد ہونے کے لیے شدید خواہش رکھتا ہے اور ہر وقت اس حوالے سے کوشش بھی کر رہا ہوتا ہے۔ زندگی بھر اس امیگریشن کا انتظار رہتا ہے پھر پھیروں پر پھیرے لگتے ہیں۔ پہلا مرحلہ سبز کارڈ کا ہوتا ہے۔ گویا جنت ارضی کا پہلا دروازہ کھل گیا۔ پھر جب سالہا سال کے انتظار کے بعد پاسپورٹ ملتا ہے تو ٹنوں کے حساب سے مبارک بادیں وصول ہوتی ہیں۔ کسی کو اگر دنیا میں معلوم ہو جائے کہ عاقبت سنور گئی ہے تو شاید اتنی خوشی نہ ہو؛ چنانچہ ہمارے سیاست دانوں، افسروں، کیا سول کیا خاکی، صحافیوں اور جاگیرداروں میں سے بہت سوں کے پاس یہ شہریت موجود ہے۔ خود یہاں بھی ہوں تو خاندان وہیں رہ رہے ہوں گے۔ ارض موعود وہی ہے۔ وطن اصلی وہی ہے۔ وہاں تو ان کی نمازیں تک قصر نہیں ہوتیں۔ اپنا وطن جو ہے۔ مگر ہے یہ سانپ ہمارا دشمن۔ پکا دشمن! ہمارے خلاف سازشیں کرتا ہے، بھارت کا ساتھ دیتا ہے۔ اسرائیل کا مربّی ہے۔
1970ء کی دہائی ختم ہوئی، اسّی کا عشرہ آغاز ہوا تو پڑوس سے سانپوں نے بارڈر کراس کیا اور لاکھوں کی تعداد میں اندر گھس آئے۔ مجبوری کے تحت۔ یہی مجبوری انہیں پڑوس کے ایک اور ملک میں بھی لے گئی مگر وہ ملک سیانا تھا۔ اُس نے ان سانپوں کو پورے ملک میں آزادانہ چلنے پھرنے کی اجازت نہ دی‘ تاروں اور دیواروں میں محصور کر کے رکھا مگر ہماری تو سرشت اور ہے۔ ہم نے ان کیلئے بھی کلائیاں کاٹیں اور رکابیاں خون سے بھر گئیں۔ پورا ملک ان کیلئے کھول دیا۔ یہ گلگت کے برف زاروں سے لے کر کراچی کے ساحلوں تک پھیل گئے۔ اونٹ خیمے کے اندر آ گیا اور پھر آتا ہی گیا۔ اب ان کی تیسری نسل دودھ پی رہی ہے مگر اس ملک کے ساتھ وفاداری ان کی طینت میں نہیں۔ کلائیاں ہماری کٹ گئیں مگر رہے ہم برے کے برے۔ جتنا غیر محفوظ ہمارا سفارتخانہ مشرقی پڑوسی کے ہاں ہے‘ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ مغربی ہمسائے میں ہے۔
لگ بھگ انہی وقتوں میں ہم نے ملک کے اندر بھی سانپوں کی پرورش وسیع پیمانے پر شروع کر دی۔ کبھی اِس نام پر تو کبھی اُس نام پر۔ خوب دودھ پلایا۔ خوب اپنی کلائیاں کاٹیں۔ مگر جب ان سانپوں نے ڈسنا شروع کیا تو ملک میں خون کی ندیاں بہہ نکلیں۔ مزار تھے یا بازار، مسجدیں تھیں یا سکول، چوراہے تھے یا گلیاں، ہر جگہ دھماکے اور خود کُش حملے اور غارت گری۔ گھر کے ان سانپوں نے ہمارے بچوں تک کو نہ چھوڑا۔ بچیوں کے سکول جلا کر خاکستر کر دیئے مگر کسی سے کیا گلہ کرتے۔ سب ہمارا اپنا ہی تو کیا دھرا تھا‘ خود پالے تھے۔ خود دودھ پلایا تھا۔ اپنا لہو پلا پلا کر موٹے کیے تھے۔
علمائے نفسیات کا کہنا ہے کہ ہم سانپوں سے محبت نہیں کرتے۔ دراصل اس معاملے میں ہم احساس کمتری کا شکار ہیں۔ سانپ، خاص طور پر غیر ملکی سانپ دیکھ کر ہم مرعوب ہو جاتے ہیں۔ ان سے دبتے ہیں، انہیں اپنے سے بہتر مخلوق گردانتے ہیں۔ انہیں اپنے ملک کے قواعد و قوانین سے فوراً مستثنا قرار دے دیتے ہیں۔ ان کی خدمت میں مستعد ہو جاتے ہیں۔ لاہور میں ایک غیر ملکی سانپ نے ہمارے شہریوں کو ڈس کر ہلاک کیا۔ اسے بچانے اور اسے سلامتی کے ساتھ گھر واپس بھجوانے میں ہمارے اپنوں نے جو کردار ادا کیا اور جو شرمناک رویہ اختیار کیا اس کی مثال تاریخ میں شاید ہی ملے۔
کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جنہیں ایک خاص موسم میں سانپ آ کر ڈستا ہے۔ جہاں بھی ہو اس موسم میں سانپ ضرور ان کے پاس آتا ہے۔ سنا ہے، جب سانپ کے آنے اور ڈسنے کے دن قریب آتے ہیں تو اس انسان کی بے تابی بڑھ جاتی ہے۔ بدن ٹوٹنے لگتا ہے۔ انگڑائیاں آتی ہیں۔ وہ اُس لذت کے لیے تڑپ رہا ہوتا ہے جو سانپ کے ڈسنے سے اسے حاصل ہوتی ہے۔ ہمارا بھی وہی حال ہے۔ ہم کسی نہ کسی سانپ کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ کوئی نہ نظر آئے تو طبیعت نا آسودہ ہونے لگتی ہے۔ ہمیں ہر حال میں ایک نہ ایک سانپ ضرور چاہیے ہوتا ہے۔ ہمارا خون رگوں کے اندر تلملانے، جلنے اور سلگنے لگتا ہے۔ سانپ دیکھتے ہی ہمیں سکون مل جاتا ہے۔ ہم بلیڈ پکڑتے ہیں، کلائی کاٹتے ہیں، خون نکلتا ہے۔ یہ جانا پہچانا منظر دیکھ کر سرور سے ہماری آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں۔ پھر جب سانپ یہ خون پیتا ہے تو ہم خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں۔ تہتر برسوں سے ہم کامونکے کا الیاس بنے ہوئے ہیں

بشکریہ روزنامہ دنیا
 

powered by worldwanders.com