Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Sunday, September 15, 2019

باپ کے مرنے کے بعد



کیا گھبرو جوان تھا! اور کیا بھر پور ‘ طوفانی جوانی تھی۔ غلطیوں اور حماقتوں لبا لب بھری ہوئی۔ کبھی گھر والوں سے کج بحثی! کبھی دوست احباب سے جھڑپیں‘ اقربا سے ناراضگیاں ! غصہ ناک پر دھرا ہوا۔ زبان تیز اور نوکیلی جیسے بچھو کا ڈنک! 

پھر وہ مرحلہ آ گیا کہ بقول منیر نیازی ع 

شباب ختم ہوا اک عذاب ختم ہوا 

عمر ڈھلنے لگی۔ اب مزاج میں ٹھہرائو آنے لگا۔ دھماکہ خیز طبیعت میں صبر کی جھلک دکھائی دینے لگی۔ کبھی کبھی ابال آتا مگر جلد بیٹھ جاتا۔ پھر عمر کا وہ سٹیج آیا کہ معاملہ فہمی طبیعت کا خاصہ بن گئی۔ متانت غالب آتی گئی ،کسی سے بگاڑ نہیں۔ معاف کرنے کی عادتہہ سی ہو گئی۔ بات بات پrر قطع رحمی کے بجائے صلہ رحمی کو شعار بنا لیا۔ ازدواجی زندگی کے سمندر کی سطح پرسکون ہو گئی۔ کوئی لہر اٹھتی بھی‘ تو جلد پائوں پکڑ لیتی۔ 

اب یہ احساس ہونے لگا کہ کاش عہد شباب میں بھی ایسا ہی ہوتا! بیکار دوسروں سے الجھتے رہے، بدلے لیتے رہے، جیسے کو تیسا دکھاتے رہے۔ مگر کلاک کبھی الٹا نہیں چلتا۔ میر انیس کی رباعی کیا خوب ہے ؎ 

دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی 
ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی 
جو آ کے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا
 جوجا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی! 

پھر ایک معجزہ برپا ہوا۔وہ دوبارہ تیس برس کا کڑیل جوان بن گیا۔ اسے موقع مل گیا کہ عہد شباب کی کج ادائیوں کی تلافی کرے۔ گزشتہ زندگی سے سبق سیکھے۔ غلطیوں کو نہ دہرائے۔ حماقتوں سے بچے۔ مگر کیا ایسا ممکن ہوا؟ 

انسان بڑھاپے میں دوبارہ جوان کیسے ہوجاتا ہے؟ یوں کہ اس کا بیٹا اس کے سامنے جوان ہو جاتا ہے۔ سرسبز و شاداب فرزند میں اپنا ماضی دکھائی دیتا ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے ؎ 

جواں تو بیٹا ہوا ہے رکھے خدا سلامت 
مجھے لگا جیسے میں جوانی بدل رہا ہوں 

اب وہ چاہتا ہے کہ بیٹا اس کی غلطیوں سے سبق سیکھے! اس کے زندگی بھر کے تجربوں سے فائدہ اٹھائے۔ اس سے راستے کے نشیب و فراز سمجھے! مگر افسوس! آدم کی اولاد اس نعمت سے اس موقع سے کم ہی فائدہ اٹھاتی ہے! 

وہ لڑکا جو باپ کے سامنے جوان ہوا ہے اورعہد شباب میں سے گزر رہا ہے، اگر یہ سمجھے کہ بوڑھا ہونے کے بعد اسے جوانی دوبارہ ودیعت ہوئی ہے اور جو ٹھوکریں اس نے پہلی جوانی میں کھائی تھیں، اب نہیں کھائے گا تو اسے ایک سحر انگیز کامیابی مل جائے۔ مگر وہ ایسا نہیں سمجھتا!بوڑھے باپ کی شکل میں اسے ایک خزانہ میسر ہے ‘ تجربوں کا‘ راستے کے علم کا‘ مگر وہ اسے درخور اعتنا نہیں گردانتا۔ وہ نصیحت کو سنجیدگی سے نہیں سنتا۔ ٹوکنے‘ روکنے پر جھلاتا ہے ! وارننگ پر چیں برجبیں ہوتا ہے۔ بوڑھے کی بات مجذوب کی بڑ لگتی ہے۔ پھر وہ ناکامی کا ایک سرکل پورا کرتا ہےجو بات باپ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ زمانے کے ہاتھوں سیکھتا ہے اور آخر میں وہی کرتا ہے، جو باپ نے تجویز کیا تھا مگر آہ! باپ مفت میں سکھانا چاہتا تھا۔ زمانہ مفت میں نہیں سکھاتا۔ زمانہ بھاری قیمت وصول کرتا ہے! تب احساس ہوتا ہے کہ یہی کچھ تو بلا قیمت ‘ مفت میں مل رہا تھا! 

ساحرؔ نے کہا تھا ؎ 

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں 
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹارہا ہوں میں 

تجربات و حوادث کی شکل میں جو کچھ باپ لوٹانا چاہتاہے ‘ بیٹا قبول نہیں کرتا! شاید اس لئے کہ یہ سیکنڈ ہینڈ مال ہے۔ بیٹا یہی کچھ‘ فرسٹ ہینڈ‘ نیا نکور‘ لینا چاہتا ہے! وہ سبق حاصل کرتا ہے مگر اپنے تجربوں سے۔ کسی دوسرے کے تجربے سے نہیں! 

آخر ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ بیٹا باپ سے پوچھے۔

 ’’میں ان دنوں جس صورت حال سے دوچارہوں‘ کیا آپ کبھی دوچار ہوئے تھے؟ اگر ہوئے تھے تو آپ کا طرز عمل کیا تھا؟ آپ نے اس مسئلے کو کیسے حل کیا تھا؟‘‘ 

مگر ایسا نہیں ہوتا! وہ باپ سے ڈسکس نہیں کرتا۔ شیئر نہیں کرتا۔ اپنا دکھ نہیں بانٹتا۔ باپ کو معلوم ہوتا ہے کہ فرزند کن مراحل سے گزر رہا ہے ۔وہ اسے مسئلے کا حل بتانا چاہتا ہے مگر جوان سنتا نہیں! سن لے تو سنجیدگی سے اس پر توجہ نہیں دیتا! 

زمانوں سے یہی ہورہا ہے! ہر نئی نسل پرانی نسل کے تجربوں سے بے نیاز ہے! ہر پرانی نسل شکوہ کناں ہے کہ ہماری بات کوئی نہیں سنتا۔ ہم خزانہ ہیں! ہم نے دنیا کا اتار چڑھائو دیکھا ہے! بال دھوپ میں سفید نہیں کئے۔ ہم سے کوئی استفادہ تو کرے۔ مگر ہر پرانی نسل ‘ نئی نسل کو متوجہ کرنے میں ناکام رہتی ہے! 

کیا اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی سرشت اس شے کی قدر نہیں کرتی جو مفت میں مل رہی ہو؟ باپ کی مدد مفت میں مل رہی ہوتی ہے اس لئے اس کی قدر نہیں ہوتی! انسان کو پکا پکایا‘ تیار من و سلویٰ بھی مفت میں مل رہا ہو تو قبول نہیں کرتا۔اپنی ریاضت سے مسور اور پیاز اگا کر کھانا چاہتا ہے۔ 

یہ بھی ہوتا ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے کسی بزرگ سے خلق خدا استفادہ کر رہی ہوتی ہے۔ اطراف و اکناف سے لوگ آتے ہیں، علم کی پیاس بجھانے‘ یا علاج کرانے یا دعا کرانے۔ مگر بزرگ کے اپنے قریبی اہل و عیال کو قدرنہیں ہوتی۔ وہ بے نیاز رہتے ہیں! پھر جب وہ بزرگ دنیا سے پردہ کر جاتا ہے تو پس ماندگان حیران ہوتے ہیں کہ خلق خدا قریبی اعزہ سے زیادہ رو رہی ہے! لوگ آ کر ان کی محاسن بتاتے ہیں۔ تب اہل و عیال کو احساس ہوتا ہے کہ جانے والا تو خزانہ تھا جس سے دوسرے لوگوں نے بھر پور فائدہ اٹھایا مگر چراخ تلے اندھیرا رہا۔ اس کے اپنے بیٹے پوتے بھتیجے بھانجے ‘ قریبی رشتہ دار سب محروم رہے! ایک عالم کے بارے میں سنا کہ اپنے گائوں میں بیٹھ کر ساٹھ سال علوم پڑھائے۔ آسام سے کابل تک کے لوگ آ کر مستفید ہوئے مگر ساٹھ سال میں ان کے اپنے گائوں کے کسی ایک شخص نے بھی زانوئے تلمذ تہہ نہ کیا! 

انسان کی کایا کلپ‘ اس کے باپ کے مرنے کے بعد ہوتی ہے۔ اکثر کی شکل اور آواز‘ باپ کی شکل اور آواز کی طرح ہو جاتی ہیں۔ باپ کی خوشبو ان خوشبوئوں میں سے ایک ہے جو کبھی بھی تحلیل نہیں ہوتیں۔ ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں۔ مثلاً گارے کی خوشبو‘ جس میں بھوسہ ملایا گیا ہو پسینے کی خوشبو جو میلی قمیض کو پیٹھ کے ساتھ چپکا دے۔ بکری کے میمنے کی خوشبو‘ اسے بوسہ دیتے وقت‘ کُوزے کی ‘ یا مٹی کے پیالے کی‘ جب وہ کورا ہو! اور باپ کی خوشبو۔ جدا ہونے کے بعد! 

ایک نئے جہان کا دروازہ وا ہوتا ہے باپ کے مر جانے کے بعد!! اس نئے جہان میں کڑکتی دھوپ ہوتی ہے۔ہر شخص کوئی نہ کوئی اپنا پیچ درمیان میں ڈالتا ہے۔ باپ واحد شخص ہوتا ہے جو دنیا کے خم و پیچ ۔ زندگی کرنے کے طریقے‘ کاروبار کے رموز‘ ملازمت عزت و کامرانی سے کرنے کے گُر۔ ازدواجی الجھنوں کے حل بغیر کسی ذاتی غرض کے۔ بغیر کسی ملاوٹ کے۔ بتاتا ہے! باپ اس کرۂ ارض پر وہ واحد شخص ہے جو چاہتا ہے کہ اس کا فرزند‘ اس سے بھی آگے نکلے۔ باقی سب کے دل میں کامیابی دیکھ کر گرہ ضرور پڑتی ہے! باپ کے مرنے کے بعد اس کی ہدایات یاد آتی ہیں اس کی نصیحتیں پسند آنے لگتی ہیں۔ پھر بیٹا اس کے تجربات ڈھونڈتا ہے۔کبھی اس کی تحریریں دیکھتا ہے‘ کبھی دوسروں سے پوچھتا ہے مگر وہ چشمہ تو خشک ہو چکا جو گھر میں بہہ رہا تھا۔ وہ چراغ گل ہو چکا جو روشنی‘ کسی معاوضے کے بغیر‘ بانٹ رہا تھا! پھر تاسّف غالب آتا ہے اور بیٹا پکار اٹھتا ہے ؎ 

عصا دردست ہوں‘ اُس دن سے بینائی نہیں ہے 
ستارہ آنکھ میں آیا تھا‘ میں نے کھو دیا تھا

Saturday, September 14, 2019

It is not the end of the world


عمران خان سے مایوس ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ میرے منہ میں خاک‘ یاس پاکستان کے مستقبل کو ڈھانپ رہی ہے! تحریک انصاف کرہ ارض کا آخری کنارہ نہیں! 

‏It is Not The End of The World 

دس ستمبر کے کالم’’سروں کی فصل کوئی اور آ کر کاٹے گا؟‘‘پر پڑھنے والوں نے مایوسی کا شکوہ کیا۔ ہر اچھے برے‘ بڑے چھوٹے‘ کالم نگار کا اپنا حلقہ قارئین ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ نے ٹائم زون کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ کالم نگار ابھی سو رہے ہوتے ہیں کہ دنیا کے مختلف حصوں سے کمنٹ پہنچ جاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ کراچی کا انگریزی روزنامہ اسلام آباد میں شام ڈھلے ملتا تھا۔ آج ایک بٹن کی کلک نیو یارک سے لے کر یروشلم تک کے اخبارات ایک ملازم کی طرح آنکھوں کے سامنے پھیلا دیتی ہے۔ 

یوں بھی لکھا ہوا حرف لکھنے والا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کہاں کہاں پہنچتاہے۔ 

عربی کے شاعر نے کہا تھا ؎ 

یلُوح الخط فی القرطاس دہراً 
و کاتبہ‘ رمیم فی التراب 

لکھا ہوا لفظ کاغذ پر ہمیشہ رہتاہے جب کہ لکھنے والا مٹی میں مٹی ہو جاتا ہے۔ 

اور فارسی شاعر نے کہا تھا ؎ 

نوشتہ بماند سیہ برسفید 
نویسندہ را نیست فردا امید 

نوشتہ یوں نمایاں رہتا ہے جیسے سفید پس منظر پر سیاہ روشنائی سے لکھا ہو! مگر لکھنے والے کو  کو کل کا بھی نہیں معلوم! 

اور پنجابی کے شاعر نے کہا تھا ؎ 

لکھے رہسن کاغذ اُتے حرف سیاہی والے
 لکھنے والا عاجز بندہ ہوسی خاک حوالے 

لکھاہوا حرف وہ بھی چَھپا ہوا۔ کہاں تک جاتا ہے اس کا اندازہ ایک مشاعرے میں ہوا۔ یہ کئی برس پہلے کی بات ہے۔ ملتان کے ایک نواحی قصبے میں ایک دوست کے اصرار پر مشاعرہ اٹینڈ کرنے چلا گیا۔ مقامی لہجے میں پڑھی گئی شاعری غالب تھی۔ باری آئی تو بے دلی سے تین چار اشعار سنا کر‘ مائک کے آگے سے ہٹنے ہی والا تھا کہ سامنے‘ حاضرین میں سے‘ ایک شخص ‘ جس نے دھجی نما رومال سر پر لپیٹا ہوا تھا‘ بلند آواز میں بولا وہ غزل سنا دیجیے ع 

فقط عشاق کے جسموں کے پنجر دیدنی ہیں 

اشارہ اس غزل کی طرف تھا

 وصال و ہجر کے سب مرحلے ناگفتنی ہیں 
فقط عشاق کے جسموں کے پنجر دیدنی ہیں

 سفر انہونیوں کا ہے ہمارے ساتھ مت آ 
ہمیں جانے دے ہم تو یوں بھی قسمت کے دھنی ہیں

 اپاہج کھیتیاں ہیں جن پہ خوشے ہیں نہ پتے 
زمیں !اس بار تونے بیٹیاں کیسی جنی ہیں 

سنہری طشت میں سر‘ اور سر پر تاج زریں 
منقش چھت ہے‘ دیواروں پہ تعزیریں بنی ہیں 

مشاعرے کے بعد وہ شخص ملا۔ تہمد پوش!بوسیدہ سی قمیض! پوچھا اے دنیا کے عجیب و غریب باشندے! تو کون ہے اور یہ اشعار کیسے یاد ہیں؟ وہ ایک بے حد چھوٹے گائوں میں پرائمری سکول کا استاد تھا۔ کہنے لگا آپ کی چاروں کتابیں میرے پاس ہیں! 

نہیں! ہرگزنہیں! عمران خان سے مایوسی کا یہ مطلب کہاں نکلتاہے کہ پاکستان کا مستقبل تیرہ و تار ہے؟ اس مملکت نے رہنا ہے! برصغیر کے مسلمانوں کے ترکش میں پاکستان آخری تیر ہے! یہ پاکستان ہے جس نے کالی دیوی کو روک رکھا ہے وگرنہ بھارتی توسیع پسندی کے سامنے‘ مودی کوتمغے دینے والوں کی کیا بساط تھی! ایک ہی ریلے میں بہہ جاتے! یہ تو پاکستان اور پاکستان کی مسلح افواج ہیں جو حدِ فاصل بنی ہوئی ہیں! نیپال اور سری لنکا حسرت کرتے ہیں کہ کاش ان کے اور بھارت کے درمیان کوئی پاکستان ہوتا! 

تحریک انصاف کی حکومت اپنے دعوے اوروعدے پورے نہ کر سکی! صحبت تمام ہوئی مگر خدا کے بندو! یار تو زندہ ہے ! پاکستان تو سلامت ہے! عمران خان اپنا رول ادا کر چکے! ان کا کام قدرت نے شاید یہی رکھا تھا کہ چوروں اور ڈاکوئوں کو برہنہ کریں۔ آج قوم کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ دونوں حکمران خاندان کیسے کھرب پتی ہوئے۔ مریم صفدر‘ حسین اور حسن نواز کے بچے اربوں کے مالک کیسے ہوئے؟عمران خان کا یہی کردار تھا کہ جو تاریخ نے انہیں سونپا۔ ایک سال کے تجربوں نے سکھا دیا کہ عمران خان سے بڑا لیڈر درکار ہے! اس قوم کو درست ٹریک پر لانا عمران خان کے ذہنی ظرف کے بس میں نہیں! یا وہ تھک کر ہار بیٹھے ۔ یا اتحادیوں کی بلیک میلنگ کے ہاتھوں یرغمال ہیں! یا ان ضعیف الاعتقاد قوتوں نے انہیں باندھ رکھا ہے جنہوں نے ان کا سر کبھی ایک چوکھٹ پر جھکایا کبھی دوسری پر بوسہ زن کیا! کیا عجب بزدار کا معمہ جو حل نہیں ہو رہا‘ اسی ضعیف الاعتقادی کا شاخسانہ ہو! 

روزنامہ 92نیوز کی تازہ ترین رپورٹ چشم کشا ہے اور ہولناک ‘ دہشت انگیز۔ حیران کن اور صدمے سے دوچار کرنے والی۔

 ’’پنجاب کے دو اہم بڑے دفاتر میں تیرہ ایسے افراد کام کر رہے ہیں جو رکن اسمبلی ہیں اور نہ ہی ان کو کوئی اعزازی عہدہ دیا گیا ہے مگر بااثر شخصیات کے قریب ترین ہونے کی وجہ سے وہ ان دفاتر میں بیٹھ کر نہ صرف اہم ترین سرکاری میٹنگز کے معاملات کو دیکھتے ہیں بلکہ کئی سرکاری اداروں میں تعیناتیاں اور سرکاری لیٹر پیڈز تک استعمال کرتے ہیں۔‘‘ 

یہ اس طویل وحشت اثر رپورٹ کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے! یہی شکایت تو شہباز شریف اور نواز شریف سے تھی کہ حمزہ شہباز پنجاب پر اور صاحبزادی وفاق پر کس حساب سے حکمرانی کر رہی تھیں؟ حمزہ اور مریم سے کون سی دشمنی تھی؟ اور عمران خان سے کون سی عزیزداری ہے کہ وہ جرم دوسرے کریں تو ہم گریباں گیر ہوں اور عمران خان کے عہد میں وہی جرم ہو تو خاموش رہیں؟ کیوں خاموش رہیں؟ اَم لَکُم ایمان علینا بالغتہ الیٰ یوم القیامہ؟؟کیا تمہارے لئے ہم نے قسمیں کھا لی ہیں جو قیامت تک چلی جائیں گی؟ 

کسی ہیلی کاپٹر یا جہاز پر بیٹھنے کی حسرت ہے نہ کسی منصب کی! بڑے بڑے عظیم الشان اداروں کی رکنیتیں پہن پہن کر بوسیدہ کر دیں! تین چوتھائی دنیا دیکھ لی اور کئی بار دیکھی! طارق نعیم دوست جیسا بھی ہے‘ شاعر کمال کا ہے ؎ 

یوں ہی تو کنج قناعت میں نہیں بیٹھا ہوں 
خسروی‘ شاہ جہانی میری دیکھی ہوئی ہے 

سیاہ کو سفید کبھی نہیں کہیں گے۔ سفید ہی سفید کہلائے گا۔ جہاں تحسین کرنی ہو گی‘ کریں گے۔ نواز شریف نے اسلام آباد میں میٹرو چلائی تو تعریف کی اور نشاندہی بھی کی کہ یہ طویل المیعاد چلنے والی سہولت نہیں! اصل حل زیر زمین ریلوے ہے! یہی ہوا! میٹرو تنزل پذیر ہے اور تنزل روز افزوں ہے! 

کس کو پتہ تھا کہ جب اندھیرے ہر چہار طرف غالب تھے تو ایک محمد علی جناح اٹھے گا! ایک شخص جس نے کانگرس اور سفید سامراج دونوں کو ایک ہاتھ سے زمین پر پٹخا! افیون کھانے والے متلون مزاج ہمایوں کو قدرت نے اتارا اورپانچ سال کی لیز 
‏Lease
چاق و چوبند شیر شاہ سوری کو عطا کی! پانچ سال میں اس نے وہ کام کیے جو آج پونے پانچ سو سال بعد بھی خلق کو نفع پہنچا رہے ہیں۔ ساٹھ کا بھی نہیں ہوا تھا کہ لیز کا عرصہ پورا کرکے پیدا کرنے والے کے حضور حاضر ہو گیا! 

قدرت کے خزانے بے کنار ہیں! جو شیر شاہ سوری اور محمد علی جناح دے سکتا ہے‘ جو ملائشیا کو مہاتیر ‘ سنگا پور کو لی‘ برطانیہ کو چرچل اور فرانس کو ڈیگال دے سکتا ہے‘ جس نے ہمیں عمران خان دیا‘ وہ عمران خان سے بہتر ‘ عمران خان سے بڑا لیڈر بھی دے سکتا ہے۔مایوسی کی کوئی بات نہیں! ع 

ابھی اُترا نہیں ہے آخری عاشق زمیں پر! 

ابر اٹھے گا! موسلا دھار بارش ہو گی۔ مردہ کھیتوں کی رگوں میں نئی زندگی کا خون دوڑے گا۔ زمین ہری بانات  کا لباس اوڑھے گی! یہی ملک ہو گا اور یہی اس کے باشندے جو ایک نئی صبح دیکھیں گے!!

Thursday, September 12, 2019

سیاست براستہ مسلک

اسلام آباد میں مرحلہ وار دھرنا ہو گا۔ پہلے مرحلے میں ملک کے لاکھوں کارکن دھرنا دے کر سڑکوں پر مساجد آباد کریں گے۔ درس وتدریس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دوسرے مرحلے میں جیل بھرو تحریک کا آپشن ہو گا۔ حکومت کے جانے تک اسلام آباد میں موجود رہیں گے۔ لاک ڈائون کا فیصلہ اٹل ہے۔ آزادی مارچ میں علماء کرام، پیش امام، حفاظ کرام قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شریک ہوں گے۔‘‘ 


یہ اعلان دو دن پہلے خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی نے کیا ہے۔ درانی صاحب جے یو پی (ف) کے اہم رکن ہیں۔ 


دھرنا دینا جے یو آئی کا یا کسی بھی سیاسی جماعت کا حق ہے۔ موجودہ حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیںہونا چاہیے کیوں کہ ع 


ایں گنا ہیست کہ درشہر شمانیز کنند 


اگر یہ ناروا ہے تو آپ نے بھی یہ ناروا قدم اٹھایا تھا۔ 


تحریک انصاف کے دھرنے میں اور جے یو آئی (ف) کے مجوزہ دھرنے میں ایک جوہری فرق ضرور ہے! تحریک انصاف کا دھرنا ہمہ گیر ملکی بنیادوں پر برپا ہوا تھا۔ اس میں ہر مسلک ہر عقیدےہر زبان، ہر صوبے اور ہر خطے کے پاکستانی موجود تھے۔ جے یو آئی (ف) ایک مسلکی جماعت ہے اور دیو بندی مسلک کی علم بردار ! ظاہر ہے کہ اس جماعت کے ارکان اور ووٹرز دونوں اسی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، چنانچہ قرین قیاس یہی لگتا ہے کہ دھرنے میں بریلوی، شیعہ اور اہل حدیث مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ نہیں ہوں گے۔ ہوئے بھی تو برائے نام سے زیادہ نہیں ہوں گے۔ 


ایک اور اعتبار سے جے یو آئی (ف) مسلکی ہونے کے ساتھ ساتھ لسانی یا صوبائی جماعت بھی ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کی تمام نمائندگی پختون بیلٹ پر مشتمل ہے۔کراچی اورپنجاب سے انہیں کوئی نشست نہیں ملی۔(یہ اس کالم نگار کی ذاتی معلومات ہیں۔ اگر ان علاقوں سے جے یو آئی (ف) کی نمائندگی پارلیمنٹ کو میسر ہے تو پیشگی وضاحت کیے دیتے ہیں


ایک اور تاریخی اور واقعاتی پہلو بھی ہے۔ کیا جے یو آئی (ف) سیاسی حوالے سے تمام اکابر دیو بند کی وارث جماعت ہے؟ اس سوال کا جواب دلچسپ ہے اور دردناک بھی! درد ناک اس لئے کہ پاکستانیوں کی بھاری اکثریت حقیقت حال سے ناواقف ہے!


 تحریک پاکستان کا آغاز ہوا تو جمعیت علماء اسلام کا وجود ہی نہ تھا۔ اس وقت دیوبندی حضرات جس پلیٹ فارم سے سیاست کر رہے تھےاس کا نام جمعیت علماء ہند تھا۔ اس کی قیادت مولانا حسین احمد مدنی کر رہے تھے۔ جمعیت علماء ہند نے تقسیم کی دوسرے لفظوں میں قائد اعظم اور مسلم لیگ کی مخالفت کی تھی اور اپنا سارا سیاسی وزن کانگرس کے پلڑے میں ڈالا تھا۔ علامہ اقبال اور مولانا حسین احمد مدنی کا مناظرہ تاریخ پاکستان کا حصہ ہے۔ جب مولانا نے تقسیم ہند کی مخالفت میں اعلان کیا کہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں تو علامہ اقبال نے اپنا شہرہ آفاق قطعہ کہا ؎ 


عجم ہنوز نداند رموز دیں ورنہ 

 ز دیو بند حسین احمد! ایں چہ بو العجبی ست 


سرود برسر منبر کہ ملت از وطن است 

چہ بے خبر ز مقامِ محمدِ عربی ست 


عجم ابھی تک رموزدین سے ناواقف ہے! کیا بوالعجبی ہے کہ دیو بند کی نمائندگی حسین احمد کر رہے ہیں! منبر پر بیٹھ کر کہا کہ ملت وطن سے بنتی ہے۔ محمد مصطفیﷺ کے مقام سے کتنے بے خبر ہیں!) 


تاہم علماء دیو بند کا ایک بہت بااثر گروہ مولانا حسین احمد مدنی سے اتفاق نہ کر سکا۔ اس گروہ کی قیادت مولانا اشرف علی تھانوی کر رہے تھے۔ ان کی قیادت میں مولانا شبیر احمد عثمانیمولانا ظفر احمد عثمانیمفتی محمد شفیع اور دیگر اکابر نے تحریک پاکستان میں بھر پور حصہ ڈالا اور قائد اعظم کی پر زور حمایت کی! مشہور محقق اور صحافی منیر احمد منیر اس ضمن میں لکھتے ہیں: 26اکتوبر 1945ء کو کلکتہ میں علما کی ایک کانفرنس میں مولانا شبیر احمد عثمانی کی قیادت میں ’’جمعیت علماء اسلام‘‘ قائم ہوئی یہ اجلاس 26اکتوبر سے 29اکتوبر تک رہا جمعیت علماء ہند کے مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے مولانا عثمانی سے شکوہ کیا کہ ’’جمعیت علماء اسلام محض ہماری جمعیت کے مقابلے میں اس کو توڑنے کے لئے قائم کی گئی ہے‘‘ 


تاریخ کے عجائبات میں سے ایک عجوبہ یہ ہے کہ آج جو حضرات ’’جمعیت علماء اسلام‘‘ کے پرچم بردار ہیں وہ جمعیت علماء ہند اور مولانا حسین احمد مدنی کے سیاسی وارث ہیں۔ جمعیت العلماء اسلام پر اس اینٹی پاکستان گروہ کا قبضہ کب اور کس طرح ہوا؟ یہ ابھی تک معمہ ہی ہے! بہر طور بقول منیر احمد منیر’’قیام پاکستان کے نو برس بعد‘ 9اکتوبر 1950ء کو جب انہی لوگوں نے جمعیت علمائے اسلام کے نام تلے پناہ ڈھونڈی تو مفتی محمد شفیع صاحب مرحوم نے لکھا تھا’’اس کے شرکا عموماً وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے نظریہ سے ہمیشہ مختلف رہے اور جمعیت علماء اسلام کے خلاف جمعیت علماء ہند سے وابستہ رہے‘‘ 


مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مرحوم کے مدرسہ میں پاکستان کا یوم آزادی (چودہ اگست) باقاعدہ منایا جاتا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے زیر اثر مدارس میں (میسر معلومات کے مطابق) یوم آزادی منانے کا کوئی تصور نہیں ۔ آپ جے یو آئی(ف) کے کسی عہدیدار یا رہنما کی زبان سے قائد اعظم یا تحریک پاکستان کا نام نہیں سنیں گے! ایک اور المیہ یہ ہوا کہ بالخصوص مفتی رفیع عثمانی اور جسٹس تقی عثمانی سیاست سے کنارہ کش ہی رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی علمی دینی تحقیقی اور تنظیمی خدمات کثیر ہیں مگر جے یو آئی (ف) کو میدان خالی مل گیا۔ یوں بھی جس قسم کی زمانہ ساز 

اور جوڑ توڑ کی سیاست مذہب کے نام پر مسلکی جماعتیں کر رہی ہیں! عثمانی برادران کا مزاج اس سے ہم آہنگ نہیں


مجوزہ دھرنے کی طرف واپس آتے ہیں!اس دھرنے میں ایک خاص بات یہ ہو گی کہ سڑکوں پر مساجد آباد کی جائیں گی، درس و تدریس کا سلسلہ ہو گا اور قرآن پاک کی تلاوت ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لاکھوں مظاہرین کے لئے واش روم اور وضو خانوں کی ضرورت ہو گی! کیا لاکھوں انسانوں کے لئے دارالحکومت کی شاہراہوں پر وضو اور طہارت کا بندوبست کرنا ممکن ہو گا؟ ہو سکتا ہے اس ضمن میں تبلیغی جماعت جے یو آئی(ف) کی مدد کر سکے کیوں کہ تبلیغی جماعت کو بڑے بڑے اجتماعات کے لئے لیٹرینوں اور وضو خانوں کے بندوبست کا طویل تجربہ ہے۔


دیگر مسلکی جماعتیں بھی مستقبل میں اپنے مطالبات منوانے کے لئے اسی قبیل کے دھرنے دے سکتی ہیں اور مطالبات منوانے کے لئے سڑکوں پر مساجد آباد کر کے شاہراہوںراستوں اور گلی کوچوں میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر سکتی ہیں۔ یہ ناممکن نہیں اور اس میں قباحت بھی آخر کیا ہے؟ اگر دیو بندی مسلک کا ایک حصہ یہ طریق کار اپنا سکتا ہے تو کل کو بریلویشیعہ اور دیگر مسالک کو بھی ایسا کرنے سے روکنا قرین انصاف نہ ہو گا! مولانا خادم حسین رضوی اوران کے ہم نوا اس کا ایک تجربہ کربھی چکے ہیں


ہاں! یہ ایک اور سوال ہے کہ جن لاکھوں طلبہ کو مدارس سے ہٹا کر دھرنے میں منتقل کیا جائے گا(اوربظاہر لگتا ہے کہ دھرنے میں ان طلبہ کا قیام طویل ہو گا) تو کیا یہ منتقلی ان کے والدین کی اجازت سے عمل میں لائی جائے گی؟ 

Tuesday, September 10, 2019

سروں کی فصل ………کوئی اور آکرکاٹے گا ؟



وہ سامنے دیکھئے! پہاڑ کی چوٹی سے تحریک انصاف کی حکومت لڑھکتے ہوئے نیچے آ رہی ہے۔ 

دوبارہ دیکھیے! غور سے دیکھیے! سورہ مُلک میں حکم دیا گیا کہ تخلیقِ کائنات کو بار بار دیکھو! فَارْ جعِِ الْبَصَر۔ دوبارہ تلقین کی ثُمَّ الرْجِعِ البَصر! پھر نظر کر! نظر ہر بار ناکام اور تھک کر لَوٹ آئے گی۔ 

پہاڑ کی چوٹی کو دوبارہ دیکھیے! وزیر اعظم کے عہدوپیمان، ولولے، امنگیں، دعوے، چوٹی سے لڑھک کر نیچے آ رہے ہیں۔ 

1258ء میں تاتاریوں نے بغداد کو تاراج کیا تو سعدی اڑتالیس برس کے تھے۔ مرثیہ لکھا۔ ایسا کہ آج تک قرطاس و قلم ہچکیاں لے رہے ہیں! ؎ 

آسمان را حق بود گر خون بگرید برزمین

 بر زوالِ ملکِ مستعصم امیر المومنین 

مگر یہ زوال آخری عباسی خلیفہ مستعصم با اللہ کانہیں! وزیر اعظم عمران خان کا ہے! آسمان زمین پر خون کے آنسو روئے تو حق بجانب ہے۔ خلقِ خدا کی آخری امید ان کی آنکھوں کے سامنے، دم توڑ رہی ہے۔ ماتم کرو! خدا کے بندو! ماتم کرو! ستر سال کی ملکی تاریخ میں اس سے بڑا المیہ صرف ایک گزرا ہے جب یہ اقلیم دولخت ہوئی۔ اس کے بعد اس سے بڑا المیہ کوئی نہیں۔ ایک طرف وہ لوگ دیکھ رہے ہیں جو وزیر اعظم سے امیدیں وابستہ کیے تھے۔ دوسری طرف خود وزیر اعظم دیکھ رہے ہیں مگر ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر! درمیان میں امیدیں، دعوے، ولولے، امنگیں مسلسل نیچے آ رہے ہیں۔ پتھروں سے سر ٹکراتے! ؎ 

سر پہ کتنے ہی لڑھکتے ہوئے سنگ آہ! گرے 
ہم جو چوٹی پہ تھے کس کھائی میں ناگاہ گرے 

حکومتی پارٹی کا امیر مسلح محافظوں کے ساتھ کلب پہنچتا ہے۔ مسلح محافظوں کو پولیس روکتی ہے۔ آگے سے جواب ملتا ہے ’’میں تمہیں لٹا کر جوتے ماروں گا‘‘۔ پولیس بے بسی سے دیکھتی رہ جاتی ہے اور روکے جانے والے اندر چلے جاتے ہیں۔ 

امرا اور عمائدین کے سامنے یہی بے بس پولیس عام آدمی پر تشدد کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ یہاں تک کہ صوبے میں یکے بعد دیگرے، پے در پے، پولیس کی تحویل میں ملزموں کی اموات واقع ہو رہی ہیں۔ وزیر اعظم کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ صلاح الدین کے بعد عامر مسیح، عامر مسیح کے بعد کوئی اور۔ پھر کوئی اور…… 

پنجاب پولیس کا ترجمان کہتا ہے 

’’یہی وزیر اعلیٰ اور آئی جی پنجاب پولیس کا کلچر تبدیل کریں گے…‘‘ 

افسوس! صد افسوس! اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔ یہی وزیر اعلیٰ!! سبحان اللہ!! ایوب خان نے ایک ڈمی مشرق پاکستان میں تلاش کی تھی۔ عبدالمنعم خان نام تھا۔ گورنر بنایا۔بہت بڑا المیہ! بہت بڑا مذاق! وزیر اعلیٰ پنجاب عمران خان کا عبدالمنعم ہے! ڈمی وزیر اعلیٰ! بہت بڑا المیہ! بہت بڑا مذاق! 

وزیر اعظم کی غیر سنجیدگی کا اندازہ لگائیے! ایک تو آج تک ناصر درانی کے معاملے میں منقار زیر پر ہیں۔ سرجھکائے کھڑے ہیں۔ حضور! عالی مرتبت! جناب وزیر اعظم! کچھ تو بولیے! پوری قوم کے سامنے تقریر کرتے ہوئے مژدہ سنایا تھا کہ ناصر درانی پنجاب پولیس کو بدلیں گے جس طرح کے پی میں بدلا تھا۔ پھر کیا ہوا؟ بندہ پرور! جہاں پناہ! فرمائیے کہ کس ناگزیر ہستی کی وجہ سے ناصر درانی پیش منظر سے یوں ہٹے جیسے آئے ہی نہ تھے؟؟ 

وزیر اعظم کی غیر سنجیدگی کی بات ہو رہی تھی۔ تین ماہ پہلے آئی جی پولیس کو پولیس کے اندر موجود برائیوں کے خاتمے، جعلی مقابلوں میں ملوث اہلکاروں کو فارغ کرنے اور تنظیمِ نو کا حکم دیا۔ 

اول تو یہ کام وزیر اعظم کا نہ تھا۔ کوئی ڈھنگ کا وزیر اعلیٰ لگاتے تو صوبے کے معاملات وزیر اعظم کے محتاج نہ ہوتے۔ پھر…آئی جی نے جو جواب دیا وہ بیورو کریسی کے سرخ فیتے کی بدترین مثال تھی۔ پولیس کے سربراہ نے وزیر اعظم کو جوابی خط لکھ دیا کہ قانون سازی کے لیے صوبائی حکومت کو تجاویز بھجوائی ہیں۔ سمریاں بھجوائی گئی ہیں،پائلٹ پروجیکٹ شروع کر دیئے۔ کل کے روزنامہ 92نے خبر دی ہے کہ وزیر اعظم نے تمام اقدامات کو رد کرتے ہوئے اُسی وزیر اعلیٰ اور اُسی آئی جی کو ہدایات دی ہیں کہ…

 ’’پولیس کو غیر سیاسی کرنے، تفتیش کے دوران عدم تشدد اور فورس کا عوام میں امیج بہتر کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں…‘‘ 

اسے کہتے ہیں ’’پانی وچ مدھانی!‘‘ یعنی پانی بلو رہے ہیں اور امید باندھے بیٹھے ہیں کہ مکھن نکلے گا۔ 

بھلا پولیس کا احتساب خود پولیس کیسے کر سکتی ہے؟ جو باڑ کھیت کو کھا رہی ہے، وہ کھیت کو کیسے بچائے گی۔ یہ مژدے کہ جرم کرنے والے پولیس مینوں پر مقدمے چلائے جائیں گے، انہیں تھانے نہیں دیئے جائیں گے، یہ مژدے تو تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے بھی سنائے جاتے تھے۔ 

یہ تو تھی پولیس کے شعبے میں حکومت کی مکمل ناکامی، وعدوں پر قد آدم گھاس اگ چکی ہے۔ دوسری طرف اداروں کو دیکھیں، مکمل انارکی ہے، طوائف الملوکی! سنا ہے، خدا کرے غلط ہو کہ، وزارت خزانہ میں وہی صاحب مداخلت کر رہے ہیں جنہوں نے جنرل مشرف کو سول سروس ریفارم کی گولی دینے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کو شیشے میں اتارا ہے۔ 

خدا خدا کر کے وفاقی دارالحکومت میں منتخب مئیر  آیا تھا۔ اب چیف کمشنر صاحب جو سی ڈی اے کے بھی مدارالمہام ہیں، میئر کو چلنے نہیں دے رہے ہیں۔ میٹرو پولیٹن کارپوریشن، میئر کے ماتحت ہے۔ چیف کمشنر صاحب اس میں مداخلت کر رہے ہیں جو لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015ء کی خلاف ورزی ہے۔ 

اور جو کام چیف کمشنر کے کرنے کا ہے، وہ ابتر سے ابتر ہو رہا ہے۔ شہر کی سب سے بڑی شاہراہ ’’ایکسپریس ہائی وے‘‘ پر ٹرک ڈرائیوروں کا مکمل کنٹرول ہے۔ لاکھوں شہری ہر روز پہروں ٹریفک میں گھرے، اذیت سے دوچار ہو رہے ہیں؟ کیا کبھی چیف کمشنر نے خود آ کر اس غدر کو دیکھا ہے؟ حال یہ ہے کہ چیف کمشنر سے بات نہیں ہو سکتی۔ اس کالم نگار نے، عام شہری کی حیثیت سے چار بار چیف کمشنر سے بات کرنے کی کوشش کی۔ ٹیلی فون وصول کرنے والے معاونین کے نام اور اوقات محفوظ ہیں۔ مگر لارڈ کلائیو کے یہ جانشین کسی شہری سے بات تک کرنے کے روا داد نہیں۔ نوکر شاہی آج بھی عوام کی خادم نہیں، عوام کی حکمرانی کے زعم میں مبتلا ہے ؎ 

تم ہمیں کیا نئی منزل کی بشارت دو گے 
تم تو رستہ نہیں دیتے ہمیں چلنے کے لیے 

سعدیؒ نے اپنے زمانے میں عباسی سلطنت کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھا۔ ہم آج اپنی آنکھوں سے، ایک ایسی تحریک کو دم توڑتے دیکھ رہے ہیں جس نے بائیس برس خلقِ خدا کا خون گرمایا۔ دعوے کیے، کبھی ریاست مدینہ کے خواب دکھائے، کبھی سکینڈے نیویا کی فلاحی ریاستوں کی مثالیں دیں۔ مگر راج پولیس کے افسر اور چیف کمشنر کر رہے ہیں! ع 

کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری 

اسمبلی ممبران کی وہی قانون شکنیاں، وہی پولیس کے تشدد، تھانوں سے نکلتی وہی لاشیں، بیورو کریسی کا وہی تکبر اور عوام سے وہی فاصلہ، وہی کوچ گرد بندہ، وہی بلند بام خواجہ۔ 

سَروں کی فصل تیار ہے! کوئی اور ہی آئے گا جو کاٹے گا

Sunday, September 08, 2019

ہم کشتی میں سوار ہیں



‎اس سے زیادہ قابل رشک زندگی کیا ہو سکتی ہے!

‎ ملک ارشاد کو جب بھی دیکھتا‘ ذہن میں خیال آتا کہ کیا کامیاب شخص ہے! ملک کے تین شہروں میں اپنے گھر! چمکتا کاروبار! ایک فلیٹ دبئی میں! بیٹے دونوں بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے! مالی آسودگی ! چہرے پر طمانیت کی روشنی! حسد تو اس سے کبھی نہیں کیا۔ خدا حسد سے بچائے۔ رشک ضرور کیا اور ہمیشہ کیا! 

‎پھر ایک دن ایک ریستوران میں چائے پیتے ہوئے ملک ارشاد‘ دیکھتے ہی دیکھتے ٹوٹنا شروع ہو گیا ٹوٹتے ٹوٹتے ریزہ ریزہ ہو گیا۔ ایک ایک رنگ بکھر گیا۔ پہلے رویا! پھر ہچکی بندھ گئی! کہنے لگا یار! میں بہت دکھی ہوں! کسی سے شیئر بھی نہیں کر سکتا۔ 

‎مجھے یوں لگا جیسے میرے پائوں تلے سے ریت سرکنے لگی! میں تو ارشاد کو اپنا آئیڈیل سمجھتا تھا۔ کامیابی کا سمبل! مالی آسودگی اور ذہنی اطمینان کا مرقع! مگر آج میری آنکھوں کے سامنے میرا آئیڈیل دھڑام سے نیچے گر گیا تھا! 

‎اس نے اپنا دکھ شیئر کیا۔ بڑے بیٹے کو تعلیم مکمل کرنے پر ایک بین الاقوامی ادارے میں ملازمت مل گئی تھی! بہت اچھی ملازمت! ایک روسی عورت وہاں اس کی باس تھی! باپ کو اس نے بتایا کہ وہ اس سے شادی کر رہا ہے اور پھر دونوں میاں بیوی اپنا تبادلہ سینٹ پیٹرز برگ کروا رہے ہیں جہاں مستقل قیام رکھیں گے۔باپ نے منع کیا۔ بیٹے نے ضد کی اور شادی کر لی۔ باپ نے عاق کرنے کی دھمکی دی!بیٹے نے کہا آپ کیا عاق کریں گے میں خود ہی آپ سے تعلق نہیں رکھنا چاہتا! نہ پاکستان آنے کا ارادہ ہے! گویا باپ نے بیٹے کو نہیں‘ بیٹے نے باپ کو عاق کر دیا! 

‎آپ کا کیا خیال ہے جو درخت ہمیں جھومتے نظر آتے ہیں۔ اندر سے خوش ہوتے ہیں؟ ضروری نہیں! اندر سے کھائے ہوئے بھی ہو سکتے ہیں۔ ہر دمکتی چیز سونا نہیں! المیہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کو دیکھتے ہیں! اپنے آپ کو نہیں دیکھتے! ہم پر جو قدرت کے انعامات ہیں‘ وہ نہیں نظر آتے! ہم سب نے یہ واقعہ سینکڑوں بار پڑھا! سنا اور سنایا کہ ایک صاحب بغیر جوتوں کے برہنہ پا سفر کر رہے تھے شاکی تھے کہ جوتے نہیں! ایک شخص کو دیکھا کہ پابریدہ تھا! سجدہ شکر ادا کیا!یہ جو ہم چل پھر رہے ہیں یہ جو ہمارے اعضا سلامت ہیں! یہ جو سانس اندر جا کر باہر آ رہا ہے! یہ جو گردے کام کر رہے ہیں‘ یہ جو جگر صحت مند ہے۔ یہ جو پیروں کی انگلیوں میں درد نہیں ہو رہا۔ یہ جو بھوک لگ رہی ہے‘ یہ جو ہرے پودینے کی چٹنی اور اس کی مہک لطف دے رہی ہے‘ یہ جو سر چھپانے کے لئے چھت میسر ہے۔ یہ ساری نعمتیں وہ ہیں جن سے بہت لوگ محروم ہیں! مگر کیا ہم ان کا شکر ادا کر رہے ہیں؟ 

‎کبھی کسی ہسپتال جا کر گردوں کے مریضوں کو دیکھ کر آئیے! مشینوں سے ان کے گردے صاف کئے جا رہے ہیں! رنگ ان کے زرد ہیں۔ گال ان کے پچکے ہوئے ہیں! ہفتے میں تین بار اس دردانگیز عمل سے گزرتے ہیں! کبھی کسی ایسے شخص سے ملیے جس کے گھٹنے مصنوعی لگ رہے ہیں اس سرجری میں درد اس قدر ظالم ہوتاہے کہ کوئی پین کلر کام نہیں کرتا! چھ لاکھ یا آٹھ لاکھ کا ایک گھٹنا لگتا ہے! 

‎ہم ہمیشہ دوسروں کی آسودگی پر نظر رکھتے ہیں! فلاں کے پاس فلاں گاڑی ہے فلاں کے اتنے محلات ہیں! فلاں کا زبردست کاروبار ہے! فلاں اقتدار میں ہے مگر یہ نہیں دیکھتے کہ لامحدود دولت کا مالک‘ جس کے اثاثے کرہ ارض پر ٹڈی دل کی طرح بکھرے ہوئے ہیں۔ کھانے میں ذرا سی بھنڈی اور آدھا پائو دہی کھاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے کچھ راس نہیں آتا! ٹرک ہوٹل کے اس مزدور کو دیکھیے جو تین روٹیاں کنگ سائز سالن کی پلیٹ کے ساتھ کھا کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے! 

‎ہم خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے بچے دوسرے ملکوں کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہو کر‘ کوئی جاپان میں بزنس کر رہا ہے کوئی برطانیہ میں اعلیٰ منصب پر فائز ہے ! کوئی آسٹریلیا میں طبیبِ حاذق ہے اور کوئی امریکہ کی سلی کان ویلی میں امریکہ کے لئے اتنا ہی ضروری ہو گیا ہے جتنی جسم کے لئے ریڑھ کی ہڈی! مگر اپنے اس ‘ معاشی لحاظ سے‘ کمتر ‘ رشتہ دارکو بھی دیکھیے کہ وہ کتنا خورسند ہے جس کے بیٹے دس بارہ جماعتوں سے آگے نہیں بڑھے۔ معمولی ملازمتیں کر رہے ہیں‘ کوئی دکان ڈالے ہے‘ کوئی کسی وکیل کا پیش کار ہے۔ مگر شام کو سب ایک ہی صحن میں ہیں‘ ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ بہو سسر کی خدمت کر رہی ہے۔ بیٹا ہر روز سونے سے پہلے ماں کے پائوں دابتا ہے! تو فائدے میں کون رہا؟ اورگھاٹے میں کون؟ 

‎اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بیرونی ملکوں میں مقیم بچے بھی اللہ کی نعمت ہیں۔ شکر اس پر بھی واجب ہے مگر کسی کی آسودگی کا یہ مطلب نہیں کہ وہ خوش ہے اور کسی کی کم آمدنی یا کم حیثیت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ناخوش ہے یا کم خوش قسمت ہے! 

‎کلام پاک میں اللہ تعالیٰ نے جس شخص (ولید بن مغیرہ) کو اپنی نعمتیں گنوائی ہیں اسے مال اور اقتدار کے ساتھ یہ بھی جتلایا کہ اسے ایسے بیٹے عطا کئے جو اس کے پاس حاضررہنے والے ہیں! اس کالم نگار کے دادا نے اپنے چاروں بیٹوں کو پڑھایا لکھایا۔ اس زمانے میں جس کے چار بیٹے ہل چلاتے تھے۔ اسے بڑا زمیندار سمجھا جاتا تھا۔ مگر وہ پڑھ لکھ کر ہل کیا چلاتے‘ گائوں سے دور مختلف شہروں میں ملازمتیں کرنے لگ گئے۔ گائوں میں موچیوں کا ایک خاندان تھا۔ گائوں کے شروع میں ایک کمرے میں یہ پانچ چھ بھائی اکٹھے بیٹھ کر جوتے بناتے تھے۔ ہمارے تایا مرحوم جب بھی چھٹی آتے‘ ان کا ذکر رشک کے ساتھ کرتے کہ ہم سے یہ ان پڑھ موچی اچھے ہیں کہ سب ایک جگہ اکٹھے بیٹھ کر کام کرتے ہیں اور شام کا کھانا اپنے والد کے ساتھ کھاتے ہیں۔ 

‎اس پر بھی غور کیجیے کہ ہمیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے‘ کوئی دھچکہ لگتا ہے تو اس کا مثبت پہلو کیا ہے؟ ہم قدرت کی عطا کردہ نعمتوں میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ ان کی قدر کرتے ہیں نہ ان کی موجودگی کا احساس رہتا ہے! ہماری نماز کھوکھلی‘ بے اثر اور روٹین ہو جاتی ہے! ہم اردگرد کے سسکتے ہوئے ضرورت مندوں سے بے نیاز ہوجاتے ہیں۔ پھر خدا وندقدوس‘ ہمیں اپنے نزدیک لانے کے لئے ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔ ہمارا یا ہمارے کسی پیارے کا خون کا ٹیسٹ مشکوک نکلتا ہے۔ کوئی عزیز بیمار پڑ جاتا ہے‘ ہمیں کوئی مالی ٹھوکر لگتی ہے‘ تب ہم جھرجھری لے کر ‘ ہڑ بڑا کر اپنے آپ میں آتے ہیں۔ تب ہماری دعائوں میں رقت پیدا ہوتی ہے! ہماری نمازوں میں خشوع کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ ہم اپنے مال ‘ اپنی خوراک میں مستحقین کو حصہ دار بناتے ہیں! تب ہمیں یاد آتا ہے کہ ایک شق خدائی آئین کی ’’طعامُ المسکین‘‘ بھی ہے جس کا معمول کی زکوٰۃ ‘ صدقات ‘ خیرات اور فطرانے سے کوئی تعلق نہیں کیوں کہ اس کا ذکر‘ ان سب سے الگ کیا گیا ہے اور اصرار کے ساتھ کیا گیا ہے! 

‎سعدی یاد آ گئے‘ کشتی دریا میں محو سفر تھی۔ ایک شخص خوف زدہ تھا۔ بدن کانپ رہا تھا اورنالہ و فریاد کر رہا تھا کہ ڈوب جائوں گا۔ ایک عقل مند مسافر نے اسے دریا میں ڈالا۔ غوطے کھلائے۔ پھر بالوں سے کھینچ کر واپس کشتی میں بٹھایا تو آرام سے بیٹھ گیا۔ 
ہم کشتی میں  سوار ہیں اور سلامت !  مگر سلامتی کی قدر سے ناآشنا
 

powered by worldwanders.com