Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Wednesday, February 14, 2018

منہ اور کھر کی بیماری



آپ کا کیا خیال ہے پاکستانی پنجاب کا سب سے زیادہ بد قسمت ،سب سے زیادہ بد نصیب اور سب سے زیادہ محروم توجہ حصہ کون سا ہے؟

آپ کے ذہن میں سب سے پہلے جنوبی پنجاب یعنی سرائیکی پٹی کا نام آئے گا ۔
مگر آپ کا جواب درست نہیں !
سرائیکی پٹی کے سیاست دان تو وزیر اعظم رہے،صوبے کی گورنری ان کے پاس رہی ،وزیر اعلی رہے مصطفی کھر سے لے کر صادق قریشی تک ،یوسف رضا گیلانی سے لے کر کئی مخدوموں تک ۔سیاہ و سفید کے مالک رہے۔
سرائیکی پٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی جنوبی پنجاب اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہے کہ رؤف کلاسرہ جیسی طاقت ور آواز اس کے لیے اٹھتی رہتی ہے ۔رؤف کلاسرہ صحافیوں کے اس روباہ صفت طبقے سے نہیں جو فروختنی  ہیں  اور اپنے  ماتھے پر پرائس ٹیگ چسپاں کر کے اقتدار کی دہلیز پر حاضر ہوتے ہیں ۔چونکہ وہ بے غرض ہے اس لیے اس کی آواز بلند ہے اور سنی جاتی ہے ۔مگر شکوہ اس سے یہ ہے کہ وہ جنوبی پنجاب کے علاوہ ،ادھر ادھر کہیں نہیں دیکھتا ۔پنجاب کے پسے ہوئے وہ حصے بھی، جو جنوبی پنجاب میں نہیں ،رؤف کلاسرہ کی آواز کے محتاج ہیں۔
تو پھر آپ کا کیا خیال ہے ،پنجاب کا سب سےزیادہ بد قسمت ،سب سے زیادہ بدنصیب اور سب سے زیادہ محروم توجہ حصہ کون سا ہے ؟اب آپ کہیں گے شمالی پنجاب ،مثلاً راول پنڈی مگر یہاں بھی آپ غلطی کر گئے ۔پنڈی کو شیخ رشید جیسا سیاست دان ملا ہوا ہے ۔اس نے شہر کو سکولوں ،کالجوں سے بھر دیا ۔خاص طور پر خواتین کے لیے کئی کالج بنوائے۔حنیف عباسی نے بھی کئی ترقیاتی کام کرائے ۔
تختِ لاہور کے نواحی اضلاع کا تو آپ یقیناً نام نہیں لیں گے ۔یہ تو سنہری اضلاع ہیں ۔سیالکوٹ ،گوجرانوالہ ،شیخوپورہ ،فیصل آباد ،ناروال اور خود لاہور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تو وہ “اصل”پنجاب ہے جسے شریف خاندان واقعی پنجاب سمجھتا ہے ۔مسلم لیگ نون انہی اضلاع کا نام ہے ۔مسلم لیگ نون کے وہ لیڈر جو شریف برادران کے دائیں بائیں آگے پیچھے اوپر نیچے ہیں۔انہی خوش قسمت پانچ چھ ضلعوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔خواجہ سعد رفیق ،خواجہ آصف ،عابد شیر علی،احسن اقبال،خرم دستگیر ،سائر ہ افضل تارڑ،انوشہ رحمان ،رانا ثنا ءاللہ ،رانا افضل حسین ،پرویز ملک ،،کامران مائیکل ،برجیس طاہر ،رانا تنویر حسین،زاہد حامد،دانیال عزیز ،طلال چوہدری ،رانا مشہود احمد خان ،یہی وہ خوش قسمت ہیں جو حکومت کے اصل مالک ہیں اور شریف برادران کے بازو ہاتھ آنکھیں اور کان ہیں ۔چوہدری نثار علی خان ہمیشہ سے
 odd     man   out 
تھے ،چنانچہ اب وہ آؤٹ ہیں ۔ کہنے کو تو شاہد خاقان عبادسی وزیر اعظم ہیں مگر کیا وہ مذکورہ بالا افراد میں سے کسی کا حکم ٹال سکتے ہیں ؟
اس سے پہلے کہ آپ کو بتایا جائے ،پنجاب کا سب سے زیادہ بد قسمت سب سے زیادہ بد نصیب اور سب سے زیادہ محروم توجہ حصہ کون سا ہے ،یہ جان لیجیے کہ ماؤتھ اینڈ فُٹ بیماری کیا ہے ۔یہ بیماری ان جانوروں کو لگتی ہے جن کے چار پاؤں اور چار ٹانگیں ہوتی ہیں ۔اس لیے کہ آج کل دو پاؤں اور دو ٹانگوں والے مویشی بھی عام ہیں ۔اس سے منہ میں چھالے پڑ جاتے ہیں ۔پاؤں یعنی کُھر زخمی ہو جاتے ہیں ۔تیز بخار چڑھتا ہے اور مویشی مرنا شروع ہو جاتے ہیں ۔اس وقت چکوال اور اٹک کے اضلاع اس بیماری کی لپیٹ میں ہیں ۔سو سے زیادہ مویشی ایک ہفتے میں مر چکے ہیں۔ان میں سے ایک ایک بیل لاکھوں کا تھا ۔
اگر حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور حفاظتی ٹیکے بروقت لگائےجایئں تو اس مصیبت کو ٹالا جاسکتا ہے ۔مگر چکوال اور اٹک پنجاب بھر میں وہ دو اضلاع ہیں جہاں حفاظتی ٹیکے(ویکسی نیشن )نہیں لگائے گئے ۔کیوں ؟ انگریز ی زبان میں چھپنے والا معروف ترین روزنامہ نے اس کیوں کا جواب ڈھونڈ نکالا ہے۔سُنیے اور پھر اپنے آپ سے پو چھیے کہ پنجاب کا سب سے زیادہ محروم توجہ حصہ کون سا ہے ۔
“پنجاب لائیو سٹاک اور ڈیری کے محکمے کے ایک سینئر افسر نے روزنامہ کو بتایا کہ چکوال اور اٹک میں بیماری روکنے والا ویکسی نیشن نہیں لگایا گیا کیونکہ دونوں ضلعوں کو حکومت نے “کنٹرول زون”قرار دیا ہوا ہے “۔
“یہ کنٹرول زون “ کیا ہوتا ہے “روزنامہ بتاتا ہے کہ -:
“کنٹرول زون وہ ہوتا ہے جس میں ویکسی نیشن (حفاظتی ٹیکے )نہیں لگائے جاتے ۔وائرس کو کھلی چھٹی دی جاتی ہے کہ وہ مویشیوں پر حملی کرے تا کہ اس وائرس پر تحقیق(میڈیکل سٹڈی )کی جاسکے اور ویکسی نیشن تیار کی جاسکے ۔یوں باقی اضلاع میں مویشیوں کو بچا لیا جاتا ہے ۔”
گویا اٹک اور چکوال کے دو اضلاع ،دو تجربہ گاہیں ہیں۔یہاں حفاظتی ٹیکے روک کر بیماری پھیلنے دی جاتی ہیں ۔پھر اس بیماری کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔تحقیق ہوتی ہے ۔پھر اس کی بنیاد پر ویکسی نیشن تیار کر کے دوسرے اضلاع کے مویشیوں کو لگایا جاتا ہے تا کہ وہ بیماری سے محفوظ رہیں۔
آپ نے سنا ہو گاکہ نئی ادویات تیار کر کے چوہوں ،خرگوشوں ،مینڈکوں اور اس قبیل کےدوسرے جانوروں پر آزمائی جاتی ہیں ۔اٹک اور چکوال کے اضلاع سے بھی وہی سلوک ہو رہا ہے جو خرگوشوں ،چوہوں اور مینڈکوں سے کیا جاتا ہے ۔
اگر ان اضلاع سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندے اپنے حلقوں سے مخلص ہوتے تو صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں کھڑے ہو کر پوچھتے کہ صرف ان دو ضلعوں کو”کنٹرول زون”یعنی تجربہ گاہ کیوں بنایا گیا ہے ؟کیا باقی اضلاع کے مویشی مالکان آسمان سے اترے ہیں ؟ان دو ضلعوں کو کنٹرول زون قرا ردینے والے افراد کی نشان دہی کرائی جاتی پھر انہیں سزا دلوائی جاتی مگر ان بد قسمت اور محروم توجہ اضلاع کے نمائندے حکمرانوں کےسامنے دست بستہ تو کھڑے رہ سکتے ہیں،کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں کر سکتے اس لیے کہ مفادات زبان پر قفل لگا دیتے ہیں ۔
پنجاب کے ان مغربی اضلاع میں وزیر اعلی یا وزیر اعظم چار سال میں کتنی بار آئے؟ان چار سالوں سے پہلے بھی پنجاب میں ان کی حکومت عشروں پر محیط رہی۔اس میں ان اضلاع کے لیے کیا گیا ؟
مویشی تو منہ اور کُھر کی بیماری سے مر ہی جائیں گے ۔مگر ایک بات طے ہے کہ منہ اور کُھر کی بیماری حکمرانوں کو بھی لگ چکی ہے ۔ان کے منہ میں ایسے آبلے پھوٹے ہیں کہ اب”مجھے کیو ں نکالا”کے سوا اور کوئی آواز نہیں نکلتی ۔ان کے کُھروں میں ایسی بیماری ہے جو انہیں لندن، جدہ، استنبول ،چین اور امریکہ تو لے جاسکتی ہے ،صوبے کے اطراف واکناف میں لے جانے سے قاصر ہے۔
یہ مویشیوں کو ویکسی نیشن نہیں لگاتے تو نہ لگائیں قدرت ایک اور ویکسی نیشن تیار کر رہی ہے اور لگا رہی ہے ۔ایک حفاظتی ٹیکہ مکافاتِ عمل نے عدلیہ کے ذریعے لگوایا ہے۔سالہا سال سے رکاوٹیں عوام کی تذلیل کر رہی تھیں ۔ڈرپوک حکمرانوں نے راستے بند کر رکھے تھے ۔عدلیہ نے یہ راستے کھلوائے۔کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ ہیٹ پوش حکمران  عدالتوں میں پیش ہوں گے۔ یہ تو کابینہ اور اسمبلی جیسے اداروں کو پرِکاہ کی اہمیت نہیں دیتے تھے !انہونی ،ہونی ہو گئی ۔کوئی مانے نہ مانے ،تبدیلی تو یہ ہے ۔
مُلک کے جنوبی حصے میں منہ اورکُھر کی بیماری زور پکڑ رہی تھی۔ایک شخص لندن میں بیٹھ کر منہ سے جھاگ نکالتا تھا اور زمین پر زور زور سے سُم مارتا تھا ۔دستِ قدرت نے اسے ایسا ویکسی نیشن لگایا کہ سامان ِعبرت بن گیا ۔اُس کے پیروکار تسبیح کے دانوں کی طرح بکھرگئے۔یوں کہ اب کسی مالا میں پروئے ہی نہیں جارہے ۔آپس میں بر سر ِ پیکار ہیں ۔دست و گریباں ہیں ۔ابھی تو ویکسی نیشن کی ڈوز پوری لگی بھی نہیں۔
غور کیجیے ،کراچی میں ایک سیاست دان نے شہری کو سرِ عام اسلحہ دکھایا ۔ٹیلی ویژن پریہ سیاست دان ایک کان سےدوسرے کان تک دہانے کو پھیلاکر مسکرا رہا ہے ۔وہ کراچی جو علم و فضل کا گہوارہ تھا ۔پورے ملک کا ادبی ،ثقافتی اور علمی رہنما تھا ،اس کراچی کے فرزند اسلحہ کی نمائش کرتے ہیں ۔ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں ۔جسموں میں ڈرل مشین سے سوراخ کرنے اور لاشوں کو بوریوں میں بند کرنے کا رواج یہیں سے چلا ۔منہ سے جھاگ نکالنے والے اور زمین پر زور زور سے سُم مارنے والے لیڈر نے عوام کو کہا ،کتابوں پر لعنت بھیجو ۔پڑھنے لکھنے میں کچھ نہیں رکھا۔ٹیلی ویژن اور وی سی آر بیچو اور کلاشنکوفیں بندوقیں ،ریوالور اور گولیاں خریدو۔جس کمیونٹی میں سلیمان ندوی ،محمد علی جوہر ،حکیم اجمل خان ،شبلی ،حالی ،احمد رضاخان ،اشرف علی تھانوی اور اکبر اٰلہ آبادی جیسے نابغے پیداہوتے تھے ۔اس میں جاوید لنگڑا ،فلاں کمانڈر ،فلاں رسہ گیر ،فلاں کن ٹٹا،فلاں اٹھائی گیرا ،فلاں لقندرا،فلاں بانکا،فلاں دادا،فلاں آتش زن،فلاں مردم خور ،فلاں گرہ کٹااور فلاں خدائی خوار پیدا ہونے لگے اور پھر قوم کی رہنمائی بھی کرنے لگ گئے۔
منہ اور کُھر کی بیماری اہلِ حکومت میں اور اہلِ سیاست میں عام ہونے لگی ہے ۔مگر قدرت ساتھ ساتھ ویکسی نیشن کا  انتظام بھی کیے جارہی ہے۔ دیکھتے جایئے۔


Tuesday, February 13, 2018

زندگی کی سب سے بڑی غلطی


زندگی کی سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ ان پر بھروسہ کرلیا ،
دیکھنے میں یہ صاحب مناسب لگ رہے تھے ،پابند صوم صلٰوۃ ،علم کا دعویٰ تھا ،تقویٰ کا بھی اور سب سے بڑھ کر یہ یقین دہانی کہ وہ میری رہنمائی فرمائیں گے اور ان کا اصرار کہ وہ رہنمائی کرنے کے اہل ہیں ۔
میں نے سب کچھ ان پر چھوڑ دیا ۔،انہوں نے کہا دین کا تقاضا ہے کہ شمال کی طرف چلو ،میں نے بیگ اٹھایا اور شمال کی طرف چل پڑا، چلتا رہا’ چلتا رہا ۔ منزل نہ آئی، انہوں نے کہا ‘نہیں شمال کو چھوڑو ‘مشرق کی طرف چلو۔ میں نے مشرق کی طرف چلنا شروع کردیا ۔پھر انہوں نے کہا تیز چلو۔ میں نے رفتار بڑھا دی !پھر فرمایا آہستہ چلو ۔میں سبک خرام ہوگیا ۔
کہا یہ لباس نہیں ‘وہ لباس پہنو’ میں نے ان پر بھروسہ کرتے ہوئے جو لباس پہنا ہوا تھا، اتار پھینکا۔ ان کی تجویزکردہ پوشاک زیب تن کرلی ۔ایک عرصہ بعد کہنے لگے ‘وہ پہلے والا بھی پہن سکتے ہو!
میری سپردگی ‘میری فرماں برداری ‘اور میرا ان پر مکمل انحصار ۔یہ سب ان کے فخرو اطمینان کا باعث بن گیا۔ وہ اپنے آپ کو حاکم اور مجھے محکوم سمجھنے لگے۔ ،میں ان کی نظر میں موم کی ناک سے زیادہ کچھ نہ تھا۔اب وہ میری زندگی کے ہر پہلو میں دخل اندازی کرنے لگے۔ شادی کس طرح کروں ‘بچے کا نام کیا رکھوں ‘رمضان کیسے گزاروں ‘عید کس طرح مناؤں ‘یہاں تک کہ موت کےموقع پر بھی انہی کے احکام چلنے لگے۔ تدفین کس طرح ہو’ کس وقت ہو’وہ تو بھلا ہو عزرائیل کا ‘اس نے روح قبض کرتے وقت ان سے ہدایات نہ لیں !
میں ان کے لیے ایک کھلونا تھا۔ مجھ سے کھیلے اور خؤب کھیلے۔
میں ان کے لیے پلے ڈو تھا ۔کیا آپ کو معلوم ہے پلے ڈو کیا ہے؟ یہ وہ مٹیریل ہے جس سے بچے مختلف شکلوں کی چیزیں بناتے ہیں۔اس میٹریل میں آٹا اور نمک اور پانی اور بورک ایسڈ اور معدنی تیل ہوتا ہے ۔بچہ اس سے کبھی گڑیا بناتا ہے کبھی مکان’ کبھی بلی اور کبھی پلیٹ۔ میں بھی انکےلیے پلے ڈو تھا۔جس طرح موڑتے ‘مڑ جاتا جس طرف چپٹا کرتے ‘چپٹا ہوجاتا۔انہوں نے میری ہر شکل بنائی اور کوئی شکل بھی بدقمتی سے مستقل نہ تھی!
جہانگیر کے دربار میں پرتگالی پرنٹنگ پریس لائے ۔ انہوں نے اسے غیر اسلامی قرار دیا۔ عثمانی خلیفہ کے دربار میں ایک جرمن ‘یہی پرنٹنگ پریس لایا۔یہاں حضرت نے پھر فیصلہ صادر کیا کہ قرآن پاک اور مقدس کلمات اس شیطانی مشین پر نہیں چھپ سکتے ۔اب حضرت کی اپنی ساری کتابیں سارے جریدے ‘پریس پر چھپتے ہیں ۔انگریزی سکول کالج بنے تو انہوں نے کہا ان میں پڑھنا حرام ہے۔اب ان کے بیٹے چھوڑ بیٹیاں کالجو ں یونیورسٹیوں میں پڑھ رہی ہیں ۔ اور کچھ تو تن تنہا امریکہ میں پڑھ رہی ہیں ۔
ٹیلی فون بنا تو اسے یہ کہہ کر زمین پر پٹخ دیا گیا کہ ۔” ہذا صوت الشیطن” یہ تو شیطان کی آواز ہے! اب ان کے پاس چار موبائل فون ہیں ۔گھر میں ‘مدرسہ میں ‘ہر جگہ لینڈ لائن کام کررہی ہے۔
ٹیلی وژن آیا تو فرمایا ٹی وی تو حرا م ہے ۔میں نے گھر آکر ٹی وی سیٹ توڑ دیا ۔بیوی بچوں سے جھگڑا کیا ۔اب آپ رات دن ٹی وی پر وعظ کرتے ہیں۔
پھر کہا پیپسی اور کوکا کولا کا بائی کاٹ کرو۔ یہ یہودیوں کی  کمپنیاں ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ وہ خؤد یہودیوں کی ایجادات اور مصنوعات خؤب خؤب استعمال کررہے تھے۔ جہاز’ موبائل’انٹرنیٹ ‘کار’ٹیلی ویژن’ ادویات ‘سرجری ‘بہت کچھ یہودیوں اور نصٰریٰ نے بنایا ہے مگر خؤد کسی شے کا بائی کاٹ نہیں کرتے۔
تصویر کو حرام قرا ر دیا ۔اب فوٹو گرافر کے بغیر ساتھ والے گھر میں بھی نہیں جاتے۔
مشرق وسطٰٰی کے ایک طاقتور ملک نے عورتوں کی ڈرائیونگ پر پابندی لگا دی ۔آپ نے فقہ کی ہی نہیں ‘میڈیسن کی کتابیں بھی کھول لیں،حکومت نہیں چاہتی کہ عورتیں ڈرائیو کریں ۔ آپ نے حکومت کا ساتھ دیا۔ ستمبر 2013 میں اس ملک کی خواتین نے نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کیا اور گاڑیاں چلانے کا پروگرام بنایا۔ حضرت کو فکر ہوگئی کہ حکومت ناکا م نہ ہوجائے۔ فوراً فتویٰ جاری کیا ۔ یہ فتویٰ دنیائے سلام کی تاریخ کا شرم ناک ترین فتویٰ تھا۔اس میں کہا گیا۔”گاڑی چلانا عورتوں کو جسمانی طور پر نقصان پہنچائے گا۔اس سے بیضہ دانی متاثر ہوسکتی ہے۔ گاڑٰی چلانے سے پٹیرو(pelvis)

اپنی جگہ سے ہٹ کر اوپر چلا جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان عورتوں کے بچے قسم قسم  کی بیماریاں لے کر پیدا ہوتے ہیں “۔
ایک فتویٰ یہ بھی تھا کہ ان کا دماغ سکڑ کر ایک چوتھائی رہ جاتا ہے۔
سب سے بڑے مفتی شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ الشیخ نے 2016 میں فرمایا کہ “عورتوؐں کی ڈرائیونگ ایک خطرناک معاملہ ہے جو عورتوں کو برائی کی طرف لے جاتا ہے”۔
شیخ عبدالعزیز الفوزان نے کہا کہ عورتوں نے گاڑی چلانی شروع کردی تو اس سے انہیں مردوں کو ملنے کا موقع مل جائے گا۔
ستمبر 2017 میں حکومت نے عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دے دی۔ آپ نے بھی رائے فوراً بدل لی۔28 ستمبر 2017 کے روزنامہ عرب نیوز نے رپورٹ کیا کہ سینئرعلما کی کونسل نے جو بادشا ہ کو مذہبی معاملات میں “مشورہ “دیتی ہے ،کہا ہے کہ بادشاہ کا پابندی ہٹانے کا فیصلہ درست ہے۔ “بادشاہ وہی کچھ کرتا ہے جو قوم کے لیے بہترین ہو۔”27 ستمبر 2017 کے روزنامہ “گلف نیوز” نے علماء کونسل کا مندرجہ ذیل بیان چھاپا
اللہ تعالی خادم حرمین شریفین کی حفاظت فرمائے جو ملک اور قوم کے مفاد کی حفاظت اسلامی قوانین کی روشنی میں فرماتے ہیں ۔
ساری دنیا جانتی ہے کہ شرق اوسط کے مقدس ملک میں خواتین کے لیے عبایا پہننا لازم ہے۔ نہ صرف عرب خواتین ‘نہ صرف مسلمان خؤاتین بلکہ غیر مسلم اور غیر عرب خواتین بھی عبایا کے بغیر گھروں سے باہر نہیں نکل سکتیں ۔سختی کا یہ عالم رہا کہ مطوعے (شرعی پولیس مین) دکانوں پر چھاپے مار کر وہ عبایا بھی ضبط کرتے رہے ہیں جن کے بازوؤں پر کشیدہ کاری پائی جاتی ہے۔ ان کے خیال میں یہ کڑھائی ‘یہ آرائش’ جو عبایا کے بازوؤں یا کناروں پر تھی یہ بھی شریعت کے خلاف تھی۔
اب حالات بدلے ہیں ۔نئے ولی عہد نے پالیسی بدل ڈالی ہے ۔پابندیاں مٹائی جارہی ہیں ۔چنانچہ حضرت نے بھی پینترا بدل لیا ہے۔ سینئر علما کی کونسل(مجلس ہلیت الکبار العلما)کے ایک معزز رکن نے  تو دو دن پہلے  بساط ہی الٹ دی ہے’فرمایا ہے کہ “خواتین کو عبایا پہننے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔خواتین کا لباس یا پہناوا مناسب حد ود میں ہونا لازم اور یہی اہم ہے۔ مسلم دنیا میں90 فیصد خواتین بغیر عبایہ کے زندگی کے معمولات ادا کرتی پھرتی ہیں ۔اور وہ سبھی نیک ہیں ۔عورت سر اوڑھے یا کسی اور طریقے سے پردہ کرے اس میں کوئی حرج نہیں!”
“ظاہر ہے کہ مجلس ِ ہیت الکبارالعلما ءکا کوئی رکن حکومت کی مخالفت نہیں کر سکتا ،کرنی تو دور کی بات ہے سوچ بھی نہیں سکتا ۔اس اعلان کا مطلب واضح ہے کہ حکومت عبایا کی پابندی ہٹانے کا فیصلہ کر چکی ہے اور زمین تیار کرنے کے لیے یہ اعلان کرایا گیا ہے۔مستقبل قریب میں اور بھی تبدیلیاں رونما ہونے کی توقع ہے ۔سینما گھر کھل رہے ہیں خواتین کو کھیلوں کے میدا ن میں زیادہ آزادی دی جا چکی ہے ۔اب ایک ایسا شہر ہ یا زون بھی بسائے جانے کی تیاری ہے جسے عام رائج قوانین سے مستثنی قرار دیا جائے گا۔
میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ ان پہ بھروسہ کیا ۔انہیں رہنما بنایا ۔آپ نے دیکھا کہ انہوں نے مجھ پر ہر وہ شے مسلط کی جس کا شریعت میں وجود نہ تھا ۔کیونکہ وہی شے کچھ عرصے بعد حرام سے حلال ہو گئی !پچاس سال انہوں نے عورتوں پہ عبایا مسلط کیے رکھا ۔شرطے ،مطوعے ،سپاہی عورتوں کوہراساں کرتے رہے ۔کروڑوں اربوں کھربوں کا اس آئٹم پر بزنس ہوا ۔اس لیے کہ عبایا شرعی حکم تھا ۔اور مطوع شریعت کے نفاذ کا ذمہ دار تھا۔اب عبایا حلال ہو گیا ہے ۔عشروں تک عورتیں گاڑی نہ چلا سکیں ۔مریض گھروں میں راستوں پر مرتے رہے ۔مرد پاس نہیں تھا۔عورت گاڑی چلاتی تو شریعت کی خلاف ورزی ہوتی !آ ج ڈرائیونگ حلال ہو گئی ہے ۔
میرا قصور یہ تھا کہ میں نے خود شریعت کو جاننے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی !ان صاحب نے ہمیشہ میری حوصلہ شکنی کی کہ نہیں ہر مسلمان کے بس کی بات نہیں !میں اگر اپنے بچے کے کان میں خود اذان دوں،اپنے بچوں کو دین کا ضروری علم سکھاؤں ۔نکاح خود پڑھاؤں اپنے پیاروں کا جنازہ خود پڑھاؤں تو ان کے چنگل سے نکل سکتا ہوں ۔اگر ایسا نہ کیا تو یہ اپنی “شریعت مجھ پر مسلط کرتے رہیں گے اور ہر تھوڑے عرصے بعد یہ “شریعت “تبدیل ہوتی رہے گی ۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید کو میرے لیے آسان بنایا تھا َاور خود اس میں جگہ جگہ فرمایا کہ ہم نے اسے آسان بنایا ہے ۔ان ظالموں نے مجھے قرآن کے نزدیک ہی نہیں جانے دیا ۔ان کی دیدہ دلیری دیکھیے کہ کہتے ہیں تم خود نہ پڑھو ۔یہ علما کا کام ہے ۔یہ 2002یا 2003 کی بات ہے ۔کالم نگار کے ایک دوست کا فرزند اپنی شادی کا دعوت نامہ دینے آیا ۔سر پر اس نے ایک پٹی باندھی ہوئی تھی جو شائد اس کے خیال میں د ستار تھی ۔پوچھا کہ نیکو کاروں کے فلاں گروہ کے ساتھ وابستگی کو کتنا عرصہ ہو گیا ؟کہنے لگا چودہ برس پوچھا ۔اب تو ماشاء اللہ قرآن پاک کی آیات کا مطلب سمجھ لیتے ہو گے ؟”اپنے پوتوں اور نواسی کی معصومیت کی قسم ۔اور خدا مرتےوقت ایمان نہ دے اگر جھوٹ بولوں ،اس نے جواب دیا نہیں !بزرگوں نے منع کیا ہوا ہے !
یہ کبھی قرآن پاک کے نزدیک نہیں ہونے دیں گے ۔ایسا ہوا تو ان کی اجارہ داری ان کا تسلط ان کا کاروبار ان کی پاپا ئیت سب خطرے میں پڑ جائے گا ۔
ان سے جان چھڑاؤ !ان پیرانِ تسمہ پا سے جان چھڑاؤ ۔ان کی ہر لحظہ بدلتی شریعت کا اصل شریعت سے کوئی تعلق نہیں ۔

Sunday, February 11, 2018

منڈی میں رونق ہے


کس بد بخت،کس شُہدے شکستے نے کہا تھا کہ دیہی سیاست کے بجائے شہری سیاست کا عمل دخل رائج کرو! جاگیرداروں زمینداروں سرداروں سے جان چھڑاؤ ۔معاملات پڑھے لکھے شہری سیاست دانوں کے سپر د کردو۔ اس بدبخت’اس شُہدے شکستے کو ڈھونڈو۔

اسے پکڑ کر مرغا بناؤ اس کی سرین پر جوتے رسید کرو! تھوڑی سی مزید سفاکی کی گنجائش ہوتو اس عقل کے اندھے سے ناک بھی رگڑواؤ !

کاغذ کے صفحے پر یہ غیظ و غضب ‘یہ غصہ ‘اس لیے نہیں بکھر رہا کہ جاگیرداروں وڈیروں خان زادوں زمینداروں سرداروں سے ہمدردی ہے!نہیں !بالکل نہیں !اس طبقے سے ہمدردی کرنے اور ہمدردی رکھنے سے بہتر ہے کہ آدمی نیلے تھوتھے کا پھکا مار لے یا تنبے کا جوس پی لے! پاکستان کی تاریخ میں بدترین کردار دیہی سیاست کے پرچم برداروں نے ادا کیا۔ مگر اس وقت ہم پڑھنے والوں کو کہیں اور لے جانا چاہتے ہیں !

سب سے بڑا اعتراض جاگیرداروں  وڈیروں پر یہی تھا نا کہ پٹواریوں کی پرورش کرتے ہیں !ایک بار ایک نوجوان اسسٹنٹ کمشنر کو ملنے یہ کالم نگار گیا۔ کوئی کام تھا۔ دروازہ کھول کر اندر قدم رکھ رہا تھا کہ بغلی انتظار گاہ پر نظر پڑی ۔علاقے کا ایک بڑا سیاستدان بڑا نام، ملاقات کے انتظار میں صبر و سکون سے بیٹھا تھا۔

دیہات سے تعلق رکھنے والے سیاست دان پٹواریوں ، تحصیل داروں ،تھانیداروں کے مرہون احسان تھے،اگر پٹؤاری کو ہر ماہ” نذرانہ”دیتے تھے ‘اگر تھانیدار کے گھر میں گائے یا مجسٹریٹ کے گھر میں بھینس بندھواتے تھے تو وزیر بننے کے بعد بھی یہ “روٹین” جاری رہتی تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ وزارت آنی جانی ہے مگر علاقے میں مستقل رہنا ہے اور رعب اور دھونس پٹواری اور تھانیدار ہی کے ذریعے قائم رکھنا ہے۔تاہم ان دیہی سیاست دانوں میں رکھ رکھاؤ ضرور تھا۔ یہ فاصلہ رکھتے تھے ۔پٹواری جتنا بھی نک چڑھا ہوتا۔ پٹواری ہی رہتا ! ذاتی دوستی کے حصار کے اندر کبھی نہ داخل ہوتا!

پھر اس ملک کی سیاست نے پلٹا کھایا۔ پلٹا کیا کھایا ‘جمال گوٹے کی پوری پڑیا کھالی! فوجی آمریت نے کسی کونے سے کھینچ کر شریف خاندان کو باہر نکالا، اور اس مقہور، مغضوب اور مظلوم قوم کے سر پر ٹوپی کی طرح پہنا دیا ۔اب وہ ٹوپی بلائے جاں بنی پھرتی ہے ۔اترنے کا نام نہیں لے رہی۔

شریف برادران نے ایسا کام کیا کہ پٹواریوں تھانیداروں تحصیل داروں کی سرپرستی کرنے والے جاگیردار منہ تو خیر دیکھتے رہ گئے،سر بھی پیٹنے لگے۔

ایک سابق پولیس افسر کو سینٹ کا ٹکٹ دے کر نواز شریف نے اپنے آپ کو تجرباتی لیبارٹری میں خود ہی پیش کردیا۔ اپنا طریق واردات آشکارا کردیا۔اپنا مائنڈ سیٹ ‘اپنا طرزِ فکر ‘سب کچھ سامنے میز پر رکھ دیا۔ ایک مرحلہ آتا ہے کہ آدمی خود اپنے آپ کو برہنہ کردیتا ہے ،ایکس پوز کردیتا ہے، ڈھکا چھپا کچھ نہیں رہتا !یہ قدرت کا انتقام لینے کا طریقہ ہے۔

واقفان حال راوی ہیں کہ میاں صاحب پولیس کے افسروں سے ذاتی دوستی کی سطح پر تعلقات رکھتے تھے۔ یوں ان کی سیاست پٹواری اور تھانیدار کی سطح سے “بلند” ہوتی گئی۔ وزیراعلی یا وزیراعظم کا “دوست”بننا کوئی معمولی بات نہیں !یہ ایسا دام تھا جس میں پاؤں الجھا کر افسر کے لیے باہر نکلنا ناممکن تھا۔ اس بلند سطح پر “دوستی” کے بعد کون سا قائدہ اور کون سا ضابطہ؟ قائدے قانون کو میاں صاحب کی ذات پر یہ پولیس افسران وارتے رہے۔ قربان کرتے رہے۔ یوں نیٹ ورک مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔

یوں تو ساری بیوروکریسی کو شریف برادران نے سرطان میں مبتلا کیا مگر جو نگاہِ خاص پولیس پر رہی !بے مثال رہی! اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ پولیس حکومت کی جیب میں رہی۔تھانہ کلچر بدلنے کا نعرہ شہباز شریف اتنے طویل عرصہ سے لگا رہے ہیں کہ برس گننے بھی ممکن نہیں ! مگر بچہ بھی جانتا ہے اور پاگل کو بھی معلوم ہے کہ تھانہ کلچر میں ایک رمق کا ہزارواں حصہ بھی تبدیلی نہیں آئی۔ پولیس کے ساتھ ہر حکومت کا عام طور پر،اور شریف برادران کا خاص طور پر ‘غیر تحریری معاہدہ ہے کہ تم ہماری حفاظت کرو، ہمارے خاندان کی حفاظت کرو!ہمارے ذاتی احکام مانو ‘ہماری انگلیوں پر ناچو۔اس کے بدلے میں تمھیں کھلی چھٹی ہے تھانے میں جو مرضی ہے کرو! جتنا چاہے کماؤ! جس کو چاہو مارو،جسے چاہو ،اندر بند کرو!

نیت صاف ہو اور گورننس دیانتداری سے سرانجام دینی ہو تو جیسے ہی پولیس کا سربراہ ریٹائرڈ ہو ‘میرٹ کی بنیاد پر اس کا جانشیں مقرر کردیا جائے۔ گزشتہ سال پنجاب پولیس کا سربراہ ریٹائرڈ ہوا تو کون سا کھیل ہے جو وزیراعلی نے نہیں کھیلا۔طویل عرصہ تک کسی کو تعینات نہیں کیا ۔پھر مسئلہ عدالت میں چلا گیا۔عدالت نے تعیناتی کا حکم دیا۔اب عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی۔ ایسے افسر کو تعینات کیا گیا جو چند ماہ کے بعد ریٹائر ہونے والا تھا۔ جو “پسندیدہ” آئی جی ریٹائر ہوچکا تھا  اسے ایک ایسی بلند پایہ پوسٹ پر بٹھا دیا گیا جس کے نفسِ مضمون سے پولیس کا تعلق ہی نہ تھا ۔

اگر اعداد و شمار اکٹھے کیے جائیں تو حیرت انگیز نتائج نکلیں گے۔ جن افسران کو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد نوازا گیا’ان میں اکثر پولیس کے نکلیں گے۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن میں جن ریٹائرڈ سرکاری ملازموں کو کھپایا گیا۔ ان میں سے اچھی خاصی تعداد پولیس سے متعلق نکلے گی! دوران سروس” دوستیاں “ خدمتیں !اور ریٹائرمنٹ کے احسان کی کھیتی پر پھل آنا! رہا ضابطہ قانون یا میرٹ !تو اس پر کیا عمل ہونا تھا! عمل ہوتا تو آج ہالی ووڈ کے اداکار ‘اپنے آ پ  کو ہمارے حکمرانوں کے سامنے طفلانِ مکتب نہ سمجھتے۔

جو ذہن پولیس کے ریٹائرڈ افسروں کو اور اسحاق ڈاراور مشاہد حسین سید جیسی شخصیات کو سینٹ کے لیے موزوں سمجھے گا ‘غور کیجیے ‘وہ ذہن کیسا ہوگا؟ اس ذہن کی سطح کیسی ہوگی؟ اس ذہن میں میرٹ کا کیا تصور ہوگا؟ اس ذہن میں ملک اور قوم کی بھلائی کے لیے کیا تصورات ہوں گے؟ ایسے ذہن  کا  قائداعظم کے ذہن سے موازنہ کیجیے! پھر سوچئے ہم کہاں سے چلے تھے اور کس پاتا ل میں اتر گئے ہیں۔ نواز شریف اور آصف زرداری جیسے سیاست دان جن کی واحد صفت دولت مند ہونا ہے اور جو راؤ انوار اور عابد باکسر جیسے اہلکاروں کے بل بوتے پر حکومت کرتے ہیں اس ملک کی تقدیرکے مالک ہیں ۔کُھل کھیل رہے ہیں ۔ آخر اس ملک کے عوام نے کون سا گناہ کیا ہے؟ زرداری صاحب کی پارٹی اندرون سندھ اور نواز شریف صاحب کی پارٹی وسطی پنجاب کے بل بوتے پر پورے ملک کو یرغمال بنائے بیٹھی ہے!تجوریوں کے دہانے کھلے ہیں ! ہر مال فروختنی ہے !ہر شخص کی قیمت لگائی جارہی ہے۔۔ہر شخص اپنے اوپر for sale کا بورڈ لگا کر توجہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔منڈی لگی ہے۔۔کاروبار کا زور ہے۔ دکانداروں اور گاہکوں کا شور ہے!تعلیم ‘قابلیت’ تجربہ’ذہانت کسی گنتی میں نہیں !تجارت اور خالص تجارت! سودا کاری! خالص سودا کاری! ترازو پر باٹ ہیں ! آئیے ۔تُلیے ‘قیمت پائیے۔ یا قیمت ادا کیجیے سینٹ میں بیٹھ جائیے۔

اخبارات کے پہلے صفحات پر ایک تصویر نمایاں ہے۔ایک مشہور مولانا وزیراعظم سے ملاقات کررہے ہیں ۔وزیراعظم جو بھی ہو ‘مولانا اس سے تھوڑے تھوڑے وقفے سے ملاقات کرتے ہیں ۔ ملاقات بھی ون ٹو ون۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کے ساتھ ان کی پارٹی کے دیگر سینئر رہنما ہوں !

مولانا کو قدرت نے بے پناہ صلاحیت سے نوازا ہے۔مزاج کے تاجر ہیں ۔ ایسی تجارت کرتے ہیں کہ نفع ہی نفع ہوتا ہے ۔ خسارے کا سودا کبھی کیا ہی نہیں !جس مال کی تجارت کرتے ہیں وہ مال ذرا مختلف نوعیت کا ہے!حکومت گرانی ہو ‘حکومت بچانی ہو ‘مال کو یوں آگے پیچھے کرتے ہیں کہ دیکھنے والے حیرت زدہ رہ جاتے ہیں !ہمیشہ ایسا منصب لیتے ہیں جو مراعات اور سٹیٹس میں بمنزلہ وزیر ہو !اس سے کم نہیں !سبحان اللہ !کیا ذہانت پائی  ہے !او رذہانت کا کیا استعمال ہے۔ گتکا کھیلنے کے ماہر ، تیز بارش میں پورے صحن کا چکر لگا آئیں مگر ایک بوند خود پر  نہ  پڑنے دیں ! حکومت کوئی بھی ہو وہ حکومت کا حصہ ہیں !اپوزیشن کوئی بھی ہو وہ اپوزیشن کا حصہ ہیں !امریکی سفیر سے وزارت عظمٰٰی مانگتے ہیں اور ہر جلسے میں ‘ہر تقریر میں امریکی سازش کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں ؟

نیلامی لگی ہے۔آکشن ہورہا ہے!
منڈی میں رونق ہے

بولی!
قیمت!

ترازو!

باٹ!

ما ل!

مال!

اور مال!


Saturday, February 10, 2018

ہمارے پاس ان کاموں کے لیے وقت ہی کہاں ہے!


وہ الاسکا سے روانہ ہوئی ۔
کیا آپ کو پتہ ہے الاسکا کہاں ہے؟ دنیا کا نقشہ دیکھیے ۔یہ کرہ ء ارض کا آخری آباد کنارہ ہے۔ انتہائی شمال میں ،کچھ کچھ شمال مغرب میں ۔ یہ امریکہ کی ریاست ہے مگر جغرافیائی لحاظ سے امریکہ سے کٹی ہوئی! اس کے شمال میں ‘ مغرب میں اور جنوب میں بحرالکاہل کی بے کنار وسعتیں ہیں ۔

وہ الاسکا سے روانہ ہوئی۔تن تنہا ۔قافلہ تھا نہ کوئی گاڑی ۔جہاز تھا نہ کوئی راکٹ ۔ سفر کے لیے اس کا کل سامان اس کے د وپُر تھے۔ دو پروں کی بھی کیا حثییت تھی۔ چونچ سے لے کر دُم تک اس کی کل لمبائی چالیس سنٹی میٹر یعنی پندرہ انچ تھی۔

الاسکا سے نکل کر ا س نے اپنا رخ جنوب کی طرف کیا۔ اس کے نیچے اور اس کے اوپر ،بحرالکاہل تھا۔ کرہ ارض کا سب سے بڑ اسمندر۔اڑتے ہوئے اس کی رفتار تقریباً چھپن کلو میٹر فی گھنٹہ تھی۔

اڑتی رہی ،وہ اڑتی رہی، سورج طلوع ہوا ۔،پھر غروب ہوا۔ پھر طلوع ہوا، پھر غروب ہوا ،پھر طلوع ہوا،پھر غروب ہوا۔ اس کے نیچے جزیرے آئے ۔ملک آئے ،شہر آئے ، ہوائی کا جزیرہ آیا، فجی کا جزیرہ آیا ،بحرالکاہل پر سینکڑوں آباد اور غیر آباد جزیرے ہیں ۔یہ سب اس کے پروں کے نیچے آتے رہے۔ جاگتے رہے،سوتے رہے، صبحیں آئیں ،دوپہری آئیں ، راتیں آئیں ، پھر گئیں پھر آئیں ،وہ اڑتی رہی۔

آنکھیں بند کیجئے! دل پر ہاتھ رکھیے ۔جو آپ کو بتایا جانے لگا ہے اس پر یقین کیجئے۔ یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں ،یہ کوئی اندازہ نہیں ، یہ کوئی داستاں نہیں ، یہ کوئی دیومالائی حکایت نہیں ، یہ کوئی اساطیری قصہ نہیں ، یہ کوئی سینہ گزٹ روایت نہیں ،یہ کسی مجذو ب کی بڑ نہیں ،یہ سائنسدانوں کے ایک گروہ کی تحقیق ہے۔ایک پرندے کے جسم کے ساتھ کمپیوٹر کی چپ بندھی تھی۔ ایک لمحے کےلیے سائنسدانوں نے اسے نظر سے، سکرین سے ،ریکارڈ سے اوجھل نہیں ہونے دیا ۔

نو دن اور نو راتیں وہ اڑتی رہی ۔ایک لمحے کے لیے بھی اس کی اڑان بند نہیں ہوئی۔ دونوں پر اس کے ہوا میں پھیلے ہی رہے۔ جھکڑ آئے، آندھیاں چلیں ، تیز ہوائیں بحرالکاہل کے پانیوں کو پہاڑوں کی اونچائی پر لے گئیں ۔ پھر نیچے سمندر پر دے مارا۔ برف کے طوفان آئے،اور اولے گرے، بارشیں ہوئیں ، بحرالکاہل کے کسی نہ کسی حصے میں ہر وقت کوئی نہ کوئی زلزلہ آتا رہتا تھا۔زلزلے آئے ۔عناصرنے ساری سختیاں آزمائیں ۔مگر یہ پندرہ انچ لمبی مادہ پرندہ اڑتی رہی۔ اس عرصہ میں اس کے پیٹ میں کوئی خوراک نہیں گئی، اس نے آرام نہیں کیا۔ اس نے پلک نہیں جھپکی، گیارہ ہزار پانچ سو کلو میٹر کا فاصلہ اس نے طے کیا ،بحرالکاہل کے جنوبی سرے پر پہنچی، یہ نیوزی لینڈ تھا، نیوزی لینڈ جزیروں کا مجموعہ ہے۔اس کے چاروں طرف بحرالکاہل کی نیگوں وسعتیں ہیں ۔ نیوزی لینڈ اس کی منزل تھی، یہ جنوب کا آخری ملک ہے۔

آپ اگر نقشے سے اٹلس سے اور گلوب سے واقف ہیں تو الاسکا او ر نیوزی لینڈ کے درمیانی فاصلے کا سوچ کر ہی آپ کو جھر جھری آجائے گی، اس کا یہ نو دن اور نو راتوں کاسفر اتنا ہی ہے جتنا کوئی انسان سات دن مسلسل ستر کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتا رہے اور ایک پل نہ رکے۔

ہاں !اس پرواز کے دوران پرندے نے جسے 
bar Trailled Godwit
 کہاجاتا ہے، صرف ایک رعایت ،ایک سہولت سے فائدہ اٹھایا، اس کے دماغ کے دو حصے ہیں ، ایک وقت میں ایک حصہ سوتا ہے ،آرام کرتا ہے،دوسرا کام کرتا ہے، پھر پہلا جاگ جاتا ہے اور دوسرا نیند پوری کرتا ہے، اس پرواز کے دوران وہ ساری چربی جو اس نے الاسکا کے قیام کے دوران جسم پر چڑھائی تھی ،پگھل جاتی ہے، اور نیوزی لینڈ پہنچتے پہنچتے اس کا وزن آدھا آدھا یعنی پچاس فیصد رہ جاتا ہے۔

گاڈ وٹ 
Godwit
کو غالباً ہمارے ہاں لم ڈھینگ کہتے ہیں 
، فارسی میں اسے “نوک دار آبی “ کہا جا تا ہے، گاڈوٹ کی کئی اقسام ہیں ۔،سلاخ نما دم والی، سیاہ دم والی، ریڈ ناٹ ، یعنی سرخ گانٹھ، یہ مطالعہ اور مشاہدہ جس کا ذکر کیا جارہا ہے، گاڈوٹ کی اس قسم کا کیا گیا جسے
 Bar Trailled 
کہا جاتا ہے۔

لیکن حیرت کا جہاں ابھی ختم نہیں ہوا۔ یہ پرندے اسی ہزار کی تعداد میں سرما کا موسم نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں گزار کر مارچ میں واپس الاسکا کا رخ کرتے ہیں، اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ واپسی کا  روٹ مختلف ہے۔ اس کی مثال آپ یوں سمجھیے کہ کوئی پرندہ لاہور سے کراچی تک کا سفر کرے تو بہاولپور اور مشرقی سندھ سے ہوتا ہوا کراچی پہنچے مگر واپس لاہور جانے کے لیے وہ پہلے کوئٹہ جائے۔ وہاں سے پشاور اور پھر لاہور ۔گاڈوٹ آسٹریلیا سے شمال کا رخ کرتے ہیں ۔ اب یہ راستے میں ٹھہرتے ہوئے جاتے ہیں ، یہ “زرد سمندر” کوریا اور چین کے درمیان واقع ہے اصل میں بحرالکاہل ہی کا حصہ ہے۔ وہاں سے یہ روس کے مشرقی کناروں کے اوپر پرواز کرتے ہوئے الاسکا پہنچتے ہیں جہاں انہوں نے افزائش نسل کا قرض ادا کرنا ہوتا ہے۔نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سے زرد سمندر (یعنی کوریا) کا فاصلہ دس ہزار دو سو کلو میٹر  ہے۔ وہاں کے میدانوں اور چراگاہوں میں یہ کھاتے پیتے ہیں ،آرام کرتے ہیں مگر الاسکا واپس جانا نہیں بھولتے۔ پانچ ہزار کلو میٹر کا سفر مزید طے کرکے جون تک الاسکا واپس پہنچ جاتے ہیں ۔

جس پرندے کا نام ریڈ ناٹ 
red knot 
ہے،اس کا کارنامہ سن کر یقین نہیں آتا۔ مگر کارخانہء قدرت میں حیرتوں کے خزانے ختم نہیں ہوتے۔ ایک ریڈ ناٹ کا بائیس برس تک  مطالعہ کیا گیا ۔ معلوام ہوا کہ ایک سو گرام وزنی اس پرندے نے بائیس سالوں کے دوران ہر سال نیوزی لینڈ سے سائبیریا کا تک کا سفر کیا ۔

اب اس ہنس نما پرندے کا حال سنئے جسے”بار ہیڈ ڈ گوز
”bar headed goose 
کہا جاتا ہے۔ برطانیہ کی ہینگر یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ان پرندوں کے اجسام کے ساتھ آلات لگائے اور پھر مشاہدہ کیا ۔یہ پرندے وسط ایشیا میں رہتے ہیں ۔جاڑا آتا ہے تو ہندوستا ن کا رخ کرتے ہیں /۔اور آسام بنگال اور تامل ناڈو کی معتدل آب و ہوا  میں تعطیلات مناتے ہیں ۔

آپ کا کیا خیال ہے بار ہیڈڈ گوز وسط ایشیا سے ہندوستان آنے کے لیے کون سا راستہ استعمال کرتے ہیں  ؟نقشہ دیکھیے۔ انٹر نیٹ پر ڈھونڈیے ۔وسط  ایشیا ہندوستان آنے کا راستہ کیا ہے؟ چنگیز خان ،تیمور ۔اور بابر وسط ایشیا سے ہندوستان آئے تو افغانستان کے راستے درہ خیبر کو عبور کرکے آئے اس لیے کہ ان کے پاس گھوڑے اونٹ تھے۔ ساز و سامان تھا اور پیدل فوج بھی تھی۔مگر بار ہیڈڈ گوز کے ساتھ یہ ساری مجبوریاں یہ سارے علائق، یہ سارے بندھن نہیں ۔

وہ سیدھی ہمالیہ کے اوپر سے پرواز کرکے ہندوستان میں دخل ہوتی ہے ۔جی ہاں ! ہمالیہ کے اوپر سے! جارج لود نیوزی  لینڈ کا وہ کوہ پیما ہے جو ماؤنٹ ایورسٹ پر 1953 میں پہنچا تھا۔ اس نے گواہی دی ہے کہ اس نے ان پرندوں کو ماؤنٹ  ایورسٹ کے اوپر اڑتے دیکھا ہے۔ یہ اونچائی 29 ہزار فٹ ہے۔پرندوں کے جسموں کے ساتھ لگے ہوئے آلات نے پرندوں کی پرواز کی اونچائی چوبیس ہزار فٹ تک ریکارڈ کی ہے۔مسلسل پر مارتے ان پرندوں نے 17 گھنٹۓ تک لگا تار پرواز کی۔عجیب بات یہ ہے کہ جہاں آکسیجن کم ہوتی ہے وہاں یہ زیادہ آسانی سے سانس لے سکتے ہیں۔

یاقوت کی گردن والا گنگناتا پرندہ
 RUBBY .THROATED HUMMNG.BIRD
 جنوبی امریکہ کا باسی ہے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے اس کا اوسط وزن پانچ گرام ہے۔ یہ نو سو میل نان سٹاپ اڑتا ہوا خلیج میکسیکو سے  ہو تا سیدھا ریاست ہائے متحدہ میں داخل ہوجاتا ہے۔ سفر شروع کرنے سے پہلے یہ جسم میں چربی ذخیرہ کرتا ہے۔ پھر بیس گھنٹے مسلسل پرواز کے دوران یہ اضافی چربی خرچ ہوجاتی ہے۔ پانچ گرام وزن رکھنے والےاس پرندے کا دل  ایک منٹ میں ایک ہزار  دو سو  پچاس بار سانس لیتا ہے۔

کون ہے جو ان پڑھ پرندے کو الاسکا سے نیوزی لینڈ تک کا گیارہ ہزار پانچ سو کلو میٹر کا فاصلہ رکے بغیر طے کراتا ہے؟ جو نیوی گیشن کے آلے 
GSP
 کے بغیر ا سے کوریا کے نزدیک واقع زرد  سمندر کے راستے واپس بھیجتا ہے ؟ ہمالیہ کی بلندیوں پر پرواز کراتا ہےاور نو سو میل نان سٹاپ اڑاتا ہے۔

جن لوگوں نے دن رات کرکے یہ ساری تحقیق کی ہے!انہیں معلوم ہی نہیں کہ ان پرندوں کو فضا میں قائم و دائم رکھنے والی ذات نے کیا کہا ہے۔

“کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رکھتے ہیں اور پروں کو سکیڑتے ہیں ،انہیں رحمٰن کے سواکوئی نہیں تھامے رکھتا ۔ بے شک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے”۔

جن لوگوں کے  پاس  یہ آیت ہے،اصل میں تو یہ ساری ریسرچ ،یہ ساری تحقیق انہیں کرنا چاہیے تھی ،پھر یہ ریسرچ، یہ تحقیق ،اس آیت کے ثبوت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنی چاہیے تھی مگر ان کے پاس ان کاموں کے لیے وقت ہی کہاں ہے۔ وہ ابھی “اسلامی شہد” فروخت کررہے ہیں ۔ وہ ابھی حوروں کے اسی فٹ گھیرے والے لباس کی تشہیر کررہے ہیں ۔وہ ابھی عوام کو یہ سمجھانے میں لگے ہیں کہ پتلون پہننا اور کرکٹ اور ہاکی کھیلنا حرام ہے ۔ابھی تو وہ بھین کی سری تلاش کررہے ہیں ۔


Wednesday, February 07, 2018

وکی پیڈیا سے ہارس ٹریڈنگ تک


شاید ہی کوئی تعلیم یافتہ یا نیم تعلیم یافتہ ‘مرد ‘یا عورت’ایسی ہو جسے”وکی پیڈیا “کا علم نہ ہو۔
ایک زمانہ تھا کہ انسائیکلو پیڈیا لائبریریوں میں پڑے ہوئے تھے۔لکھنے پڑھنے والے،تحقیق کرنے والے،بستہ بغل میں لیے،لائبریریوں کا رخ کرتے’وہاں کئی کئی جلدوں پر مشتمل انسائیکلو پیڈیا دیکھتے، استفادہ کرتے اور مضامین لکھتے۔اب ہر گھر میں کیا ‘ہر شخص کی جیب میں انسائیکلوپیڈیا پڑا  ہے ۔موبائل فون یا آئی پیڈ اٹھائیے’کلک کیجیے۔”وکی پیڈیا”کا انسائیکلو پیڈیا حاضر ہے۔ دام نہ کہیں جانے کی تکلیف!

وکی پیڈیا جنوری 2001 میں آغاز ہوا ابتدا میں صرف انگریزی زبان میں تھا۔ ۔پھر باقی زبانوں نے بھی پیروی کی، اس وقت وکی پیڈیا تقریباً تین سو زبانوں میں دستیاب ہے۔سب سے بڑا اور جامع ترین بہر طور انگریزی ہی میں ہے۔یہ پچپن لاکھ پینسٹھ ہزار مضامین پر مشتمل ہے ۔آپ نے کسی معروف شخصیت کے بارے میں کچھ جاننا  ہے یا کسی ملک کے بارے میں ' یا کسی دریا کے متعلق’ یا کسی پرندےکے متعلق’ یا اجرام فلکی کے متعلق’ یا کسی مذہب اور اس کے پیروکاروں کے متعلق’ غرض کسی بھی موضوع  پر معلومات حاصل کرنا ہیں تو وکی پیڈیا پر جائیے ‘اب تک دنیا میں اس موضوع  پر جو کچھ دستیاب ہے ’آپ کو مل جائے گا۔

وکی پیڈیا نے کل ایک اعلان کیا ہے کہ آصف علی زرداری کی دو بیٹیوں بختاور بی بی اور آصفہ بی بی کے صفحات وکی پیڈیا  سے ختم کیے جارہے ہیں ۔وکی پیڈیا کی انتظامیہ نے اس ایکشن کی سب سے بڑی وجہ یہ بتائی ہے کہ ان دونوں خواتین کے اپنے دامن میں کچھ نہیں ۔ ان کا اپنا کوئی کارنامہ نہیں ، یہ منتخب بھی نہیں !مضمون کا عنوان ان کے نام پر ہے  مگر اندر سب کچھ بینظیر بھٹو کے بارے میں لکھا ہے۔ ان لڑکیوں کا اپنا کوئی کیرئیر نہیں نہ ہی کوئی نمایاں کارنامہ ایسا ہے جس کا انہیں کریڈٹ دیا جائے۔

یہ خبر پڑ ھ کر ذہن مریم نواز (مریم صفدر)  کی طرف جاتا ہے۔ کیا بنیادی طور پر بختاور (یا آصفہ) اور مریم میں کوئی فرق ہے؟اور اگر ہے تو کیا ہے ؟مریم بھی منتخب لیڈر نہیں ۔ عہدہ بھی پاس نہیں ۔نام نہاد شہرت صرف خاندان یا والد کی وجہ سے ہے۔
اگر آپ وکی پیڈیا پر جائیں تو مریم نواز کے تعارف میں دی ہوئی نمایاں ترین چیز دولت ہے۔خاتون کی دولت کا اندازہ وکی پیڈیا میں سترہ کروڑ پاکستانی روپے یا سولہ  لاکھ امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ ساتھ 2012 کا سال درج ہے۔مریم نواز کے”سیاسی کیرئیر” کے حوالے سے وکی پیڈیا بتاتا ہے کہ
“نومبر 2013 میں مریم نواز کو “ وزیراعظم یوتھ پروگرام “کا سربراہ لگایا گیا ۔تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس کا نوٹس لیا اور اس اقدام کو روز افزوں اقربا پروری سے موسوم کیا۔ پاکستان تحریک انصاف اکتوبر 2014 میں معاملے کو لاہور ہائی کورٹ لے گئی  جہاں جسٹس سید منصور علی شاہ نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ ( خاتون کو ) استعفیٰ دینے پر مجبور کرے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی  جنرل عامر عبدالرحمٰن نے مریم کے تعلیمی کوائف پیش کیے مگر جب پوچھا گیا کہ کیا پی ایچ ڈی کی ڈگری اصل ہے یا محض اعزاز’ تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے پیش کردہ تعلیمی وظائف واپس لے لیے ۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے دعویٰ کیا کہ اس نے یہ تعلیمی کوائف انٹر نیٹ سے لیے ہیں! جن تعلیمی ڈگریوں کا دعویٰ کیا گیا باہمی مناسبت کے حوالے سے ان پر جسٹس شاہ نے حیرت کا اظہار کیا یعنی ایم اے انگریزی ادب میں اور اس کے بعد پی ایچ ڈی پولیٹیکل سائنس( علم سیاسیات میں ) 2014 میں مریم نواز نے(یوتھ پروگرام کی سربراہی سے) استعفٰی دے دیا ! اس کے بعد وکی پیڈیا میں درج ہے کہ
“مارچ 2017 میں چنی گئی سو خواتین میں شامل کیا گیا۔دسمبر 2017 میں نیویارک ٹائمز نے دنیا بھر کی گیارہ طاقت ور خواتین میں شامل کیا۔

آخری پیراگراف میں پانامہ کیس کے حوالے سے مریم نواز کے مبینہ طور پر ملوث ہونے  کا ذکر ہے!
وکی پیڈیا میں مریم نواز کے بارے میں لکھا ہوا مضمون پڑھ کر تاثر  پختہ تر ہوتا ہے کہ موصوفہ کے پاس ایک ‘صرف ایک صفت ہے یا اسے کوالیفکیشن کہہ لیجیے۔ اور وہ ہےمیاں نواز شریف کی بیٹی ہونا !اس کے علاوہ خاتون کے پاس کوئی عہدہ ہے نہ کوئی منتخب حیثیت۔ میاں محمد نواز شریف کی دختر ہونے سے وہ خوب خوب  فائدہ اٹھا ہی  رہی  ہیں ۔ سرکاری گاڑیاں ‘سرکاری ملازم’سرکاری پروٹوکول’ روزنامہ 92 کے کالم نگار جناب آصف نے کل بجا طور پر استفسار کیا ہے کہیں  جب نواز شریف ملک سے باہر تھے تو مریم نواز صاحبہ کس حیثیت  سے  وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر معاملات کو چلاتی رہیں ؟ آصف محمود لکھتے ہیں ۔
“مریم نواز صاحبہ نے علامہ اقبال میڈیکل کالج کے طلبہ کو لیپ ٹاپ  تقسیم کیے یہ سکیم بنیادی طور پر حکومت پنجاب کی ہے۔ اب مریم صاحبہ نہ ایم پی اے ہیں نہ ایم این اے۔ نہ ہی ان کے پاس کوئی وزارت ہے۔سوال یہ ہے کہ کس حیثیت سے یہ کام سرانجام دے رہی تھیں ؟ کیا لیپ ٹاپ سکیم مسلم لیگ نون  کے فنڈز سے شروع ہوئی تھی کہ اسے خاندانی سیاست کے فروغ کے حامل ایک عامل کے طور پر استعمال کیاجاتا؟ یا یہ نواز شریف صاحب کے  ذاتی صدقات و خیرات کے تحت شروع کی گئی سکیم تھی جس میں لیپ ٹاپ بانٹنے ان کی صاحبزادی گئیں ؟

سارا معاملہ مضحکہ خیز نظر آتا ہے ۔اگر یہ خاندانی بادشاہت نہیں تو اور کیا ہے؟ مریم نواز سے اگر اسے کوئی غیر ملکی اخبار نویس پوچھے کہ آپ کی سیاسی متاع کیا ہے؟ تو سوائے اس کے اور کیا جواب دے سکیں گی کہ “میں سابق وزیراعظم کی صاحبزادی ہوں جو اب پارٹی کے صدر ہیں “ اقبال نےاس قسم کے گنجلک معمے کو حل کیا ہے بالِ جبریل میں شامل ایک نظم کا عنوان “شیر اور خچر” ہے شیر خچر سے پوچھتا ہے
ساکنان دشت و صحرا میں ہے تو سب سے الگ
کون ہیں تیرے اب وجد؟کس قبیلے سے ہے تو؟
خچر کی اپنی حیثیت تو صفر تھی۔ جواب دیتا تو کیا؟؟اس نازک مرحلے پر اس نے ماموں کا حوالہ دیا۔ خچر کی واحد صفت یہ تھی کہ وہ گھوڑے کا بھانجا تھا۔
چنانچہ کہا
؎ میرے ماموں کو نہیں پہچانتے شاید حضور
وہ صبا رفتار’ شاہی اصطبل کی آبرو

یوں بھی پاکستان ان دنوں  حیرت سرائے بنا ہوا ہے۔ مچھلیاں اچھل اچھل کر درختوں پر چڑھ رہی ہیں ۔ چونٹیاں گندم کی پوری بوریاں سروں پر اٹھائے قطار اندر قطار بھاگ رہی ہیں۔ دریا اور پل چوری ہورہے ہیں۔ زمین پر رینگنے والی کیڑی ہاتھی کے جوان بیٹے کو دل دےبیٹھی ہے۔پوپ نے احرام کے لیے کپڑے کی خریداری کی ہے۔ ایک صاحب نے جنہوں نے دو دن پہلے ایک بار پھر پارٹی تبدیل کی ہے’فرماتے ہیں ۔”سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ  کا خطرہ ہے ایسا ہواتو ملک اور جمہوریت کے لیے اچھا نہ ہوگا “

اللہ اللہ ! غور کیجیے اور سر دھنیے ۔ہارس ٹریڈنگ پر کون پریشان ہورہا ہے؟ وہ جو خود  زین پیٹھ پر رکھے کبھی آرہا ہے کبھی جارہا ہے ‘کبھی پھر آرہا ہے !اسے کہتے ہیں لگام کے اس حصے کو چبانا جو منہ کے اندر ہے اور لوہے کا بنا ہواہے۔ اسی سیاست دان کی گفتگو کل ایک ٹیلی ویژن چینل پر چل رہی تھی۔ سوال کرنے والے نے پوچھا کہ آپ کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ شریف برادران ہوں یا چوہدری برادران یا مقتدر ادارے’  سب سے آپ کی نبھ جاتی ہے۔ سوال کرنے والے نے تو سوال اس نکتہ نظر سے پوچھا تھا کہ
کہ آن عجوزہ عروس ہزار داماداست
مگر جواب سنیے۔ “اگر لوگ عزت دیتے ہیں تو یہ اللہ تعالی کا بڑا فضل ہے”۔
اس پر کاریں اغوا کر کے لے  جانے والے علاقہ غیر کے وہ حاجی صاحبان یاد آرہے  ہیں جو مالک کو گاڑی واپس کرنے کا “سودا” مسجد میں بیٹھ کر کرتے ہیں اور اگر پوچھا جائے کہ لوگوں کی گاڑیاں انہی کو واپس کرنے کے پیسے  کیوں لیتے ہو تو جواب میں کہتے ہیں ‘ہمارے بچوں کی محنت ہے اللہ کا بڑا فضل ہے ۔یوں بھی حلال سے بنے ہوئے مکانوں پر جلی حروف میں ہذا من فضل ربی لکھا ہوتا ہے ۔اب ہم نے ترقی یہ کرلی ہے کہ پارٹیاں بدلنے کو “عزت “اور “اللہ کا فضل “قرار دینے لگے ہیں ۔ فرمایا کہ پاکستان کے لیے جمہوریت کے لیے اور آئین کے لیے کام کروں  گا۔ انٹرویو کرنے والے کو پوچھنا چاہیے تھا کہ گزشتہ اٹھارہ سال سے جس پارٹی میں تھے کیا پاکستان کے لیے او جمہوریت کے لیے اور آئین کےلیے وہاں کام کرنا منع تھا؟

یہ حال مڈل کلاس اعلی تعلیم یافتہ اہل سیاست کا ہے۔ پہلے ٹو ڈی اور ابن الوقت ہونے کا طعنہ جاگیرداروں کو دیا جاتا تھا۔ اب اگر اپنے کیرئیر میں فخر سے صحافت اور پروفیسری کا ذکر کرنے والوں کا بھی یہی وطیرہ ہے تو سیاست  اور اہل سیاست کا خدا ہی حافظ ہے اور  پھر اپنی”نئی” پارٹی کا بتاتے ہوئے ایک کان سے دوسرے کان تک مسکراہٹ اور قہقہے!بڑے دل گردے کا کام ہے۔
بہر طور انگلی پکڑ کر چلنے کا اپنا ہی لطف ہے ،چوہدری شجاعت حسین کی انگلی ہو یا میاں برادران کی ‘انگلی ضرور ہونی چاہیے۔ اور ساتھ ہی ٹافی  اور چاکلیٹ بھی ملتی رہے تومزے ہی مزے ہیں !


Monday, February 05, 2018

یہ فلاں کا آدمی ہے


اس دن مایوسی گہرے بادلوں کی طرح چھائی ہوئی تھی ۔سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے۔ کس  طرف کا رُخ کیا جائے۔کیا قلم توڑ کر پھینک دیا جائے؟ کیا لکھنا چھو ڑ دیا جائے؟ کیا دماغ کو جسم سے نکال کر کوڑے میں ڈال دیا جائے؟
ایسے مواقع پر گاڑی میں بیٹھتا ہوں اور سیدھا پروفیسر اظہر  وحید  کے پاس جاتا ہوں ،پروفیسر اظہر وحید ان آدمیوں میں سے ہیں جن پر صرف رشک کیا جاسکتا ہے۔پروفیسر کو بیس سال پہلے گردن کے پٹھوں کی تکلیف ہوئی تھی جسے

Cervical spondylosis 
کہتے ہیں ۔اتفاق سے انہی دنوں مجھے بھی یہی عارضہ لاحق ہوا۔ ڈاکٹر نے اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہم دونوں کو ورزش بتائی۔ میں نے تندرست ہوتے ہی ورزش کو عاق کردیا ۔پروفیسر نے اس دن سے لے کر آج تک ایک دن بھی  ناغہ نہیں کیا۔ وہ ہفتے میں سات دن شام کو سیر کرتا ہے۔شدید بارش او ر تیز ندھی کے سوا اسے کوئی امر اس سیر سے منع نہیں کرسکتا ۔خاندانی تقریب ہو یا شادی کی دعوت یا کوئی اور مصروفیت اس کے لیے سیر سے زیادہ کوئی اور شے  زیادہ اہم  نہیں !قدرت نے اسے معاشی آسودگی سے خوب  نوازا ہے مگر اس نےاس آسودگی کو اپنے حواس پر طاری نہیں کیا ۔ تیرہ سالہ پرانی گاڑی خود چلاتا ہے۔ اپنے کپڑے خود دھوتا ہے خود  استری کرتا ہے اپنے  جوتے خود پالش کرتا ہے۔ اپنا باتھ روم خود صاف کرتا ہے قسم قسم کے کھانے میز پر سجے ہوں تو ان میں سے سبزی ڈھونڈ کر کھائے گا۔ دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے پھر بھی وہ اپنے مقررہ وقت پر سوئے گا اور مقررہ وقت پر ہی جاگے گا۔ایک بڑا ادارہ چلا رہا ہے۔ اگر وہ دیر سے پہنچے تو اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ، مگر وہ وقت پر  پہنچتاہے۔ جن دنوں’بہت مدت پہلے’وہ گورنمنٹ کے ایک کالج میں پڑھا رہا تھا۔ ہم دونوں سنگا پور گئے ‘والد گرامی کے ایک دوست نے وہاں اپنا ایک خالی فلیٹ ایک ہفتے کے لیےہمارے سپر د کردیا ۔ پروفیسر نے پہلا اعلان فلیٹ میں سامان رکھنے کے بعد یہ کیا کہ کھانا باہر سے نہیں کھایا جائے گا۔ حیران ہوکر پوچھا ‘یہاں کون پکائے گا؟کہنے لگا میں پکاؤں گا۔ چنانچہ ہم بازار سے سودا سلف لائے، اور پروفیسر نے جتنے دن رہے’کھانا خود پکایا۔ جس دن ہم دونوں کی واپسی طے تھی اس سے دودن پہلے اس نے اعلان کیا “میں ایک دن پہلے جاؤں گا”تم پروگرام کے مطابق آرام سے آؤ۔وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ تعطیلات کے بعد کالج کھل رہا ہےمیں اگر پروگرام کے مطابق تمہارے ساتھ جاؤں تو میرے پہلے دن کے پیریڈ مس ہوجائیں گے۔ حیران ہو کر کہا آپ بیرون ملک ہیں اور ایک ہی دن کی تو بات ہے۔ اس نے کہا”نہیں ،میں نے کبھی اپنی کلاس نہیں چھوڑی”!وہ جہاز میں بیٹھا اور مجھے چھوڑ کرچلا گیا۔
جب تعطیلات کے بعد کالج کھلا تو اس نے اپنا پیریڈ پڑھایا۔
یہاں ایک اور پروفیسر یاد آرہے ہیں دانشور!شاعر!مقرر! ناصح ! زاہد  - سنا ہے کلاس میں اس طرح آتے تھے جیسے آٹے میں نمک!
سادگی سے تم نہ سمجھے ترک دنیاکا سبب
ورنہ وہ درویش پردے میں تھے دنیا دار بھی

ان کے بارے میں ایک واقعہ ثقہ راویوں نے روایت کیا کہ پرنسپل نے تمام اساتذہ کی میٹنگ بلائی اور تشویش کا اظہار کیا کہ امتحانی پرچے پروفیسر حضرات، تاخیر سے دیکھتے ہیں۔مقررہ وقت پر نتیجہ مرتب کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔اس پر مذکورہ بالا پروفیسر صاحب نے ایک طویل’موثر ناصحانہ تقریر کی جس میں فرائض سرانجام دینے میں کوتاہی برتنے کے روحانی اور دنیاوی  نقصانات پر روشنی ڈالی ۔بہر طور’ جب پوچھا گیا کہ کس کس نے ابھی تک  پرچوں کی مارکنگ نہیں کی تو سرِ فہرست جناب ہی کا اسم گرامی تھا!

بات پروفیسر اظہر وحید کی ہورہی تھی۔ ڈسپلن کے مطابق او قواعد کی رو سے زندگی گزارنے کے علاوہ اس میں اصل کشش  یہ ہے کہ وہ زندگی گزارنے کے اصول بھی بتاتا ہے۔ پریشانی کا اس سے ذکر کیا جائے تو وہ اس کا منطقی حل بتا کر باور کراتا ہے کہ اس سے رہائی پائی جاسکتی ہے۔
گاڑی میں بیٹھا اور پروفیسر کے پاس پہنچ گیا۔ دن کے گیارہ بجے تھے۔ مجھے دو جمع دو چار کی طرح معلوم تھا کہ یہ وقت پروفیسر کے پھل کھانے کا ہے’یہی ہوا۔اس کے ایک طرف پلیٹ پڑی تھی جس میں مالٹے اور امرود پڑے تھے۔ اس نے اپنے ادارے کی عمارت میں ایک چھوٹے سے کمرے میں اپنا دفتر بنایا ہوا تھااس کے نزدیک دفتر کے بڑا یا چھوٹا ہونے کا معیار یہ نہیں تھا کہ وہ ادارے کا مالک یا سربراہ ہے۔ معیار یہ تھا کہ اس کی ضروت کیا ہے اور کتنی ہے۔
پروفیسر سے پوچھا کہ ہماری قسمت میں گالیاں کیوں ہیں ۔ہم مسلم لیگ نون کی اچھی بات کی تعریف کریں تو پی ٹی آئی والے طعنے دیتے ہیں کہ بِک گئے۔ عمران خان کے حق میں کچھ لکھیں تو مسلم لیگ والے دشنام دیتے ہیں۔شریف برادران پر تنقید کریں تو ادھر  سے گالیاں پڑتی ہیں ۔عمران خان کی دس اچھی باتوں کی تعریف کرنے کے بعد اس کی ایک غلطی کی نشاندہی کریں تو ایسی ایسی  دشنام طرازی ہوتی ہے کہ نظیری اور صائب  کم مائگی کا اعتراف کریں ‘ ایم کیو ا یم کے حق میں لکھا تو دوستوں نے بھی پوچھا کہ کتنے پیسے ملے ہیں ۔ایم کیو ایم سے پوچھا کہ لاس اینجلز سے لے کر ہوسٹن تک کاروبار کے طویل سلسلوں کے پیچھے کون ہی گیدڑ سنگھی ہے تو کراچی کے ساحل سے گالیوں کی وہ لہر اٹھی کہ سندھ کی ساری ریت اس میں جذب ہوگئی۔ دبئی کے محلات اور پیرس اور نیو یار ک کی جائیدادوں کا سرسری ذکر بھی کیا جائے تو پیپلز پارٹی والے مذہبی ہونے کا طعنہ دیتے ہیں جیسے یہ ساری جائیدادیں تو داس کیپٹل کے صفحات سےبنی ہیں!آخر کیوں ؟کیا کسی شخصیت سے مستقل عقد  باندھ لیناضروری ہے؟ کیا یہ لازم ہے کہ ہمیشہ تعریف ہی کی جائے؟ کیا یہ سب فرشتے ہیں  اور غلطی کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتے؟

پروفیسر نے گلاس بڑھایا اور  کہا'پانی پیو۔ پھر چائے منگوائی ۔پھر حسبِ معمول اپنی گفتگو کا آغاز اس فقرے سے کیا

“پریشان ہونے کی ضرورت نہیں “
پھر وہ مسکرایا ۔پھر اس نے گفتگو جاری رکھی۔
یہ سب کچھ اس طرح نہیں ‘جس طرح تم دیکھ رہے ہو۔تم اس مسئلے کو ‘ا س سارے معاملے کو’ اس قضیے کو’اس بکھیڑے کو ‘ایک خاص زاویے سے دیکھ رہے ہو۔اس لیے کہ تم جس پہلو پر بیٹھے ہوئے ہو اس پہلو پر بیٹھنے سے یہی زاویہ بنتا  ہے۔ تم بیٹھنے کا پہلو بدل لو،زاویہ بھی بدل جائے گا۔ پھر تمہیں ہر شے مختلف نظر آئے گی۔ہمیں جو کچھ نظر آتا ہے’وہ اس سے یکسر مختلف ہوتا ہے   جواصل میں ہے!اسی لیےامیر المومنین علی المرتضٰی سے دعا مروی ہے کہ یا اللہ مجھے چیزیں اس طرح دکھا جیسے کہ وہ اصل میں ہیں ۔ اس طرح نہیں ‘ جیسے نظر آرہی ہیں ۔ تمہیں وہ چند افراد نظر آرہے ہیں جوگالیاں بھیجتے ہیں ۔ طعنے دیتے ہیں ‘برا بھلا کہتے  ہیں ۔مگر یہ افراد کتنے ہوں گے؟ بیس ؟پچاس؟پانچ سو؟پانچ ہزار؟ کیا تمہیں معلوم ہے کتنے پڑھنے والوں نے تم سے اتفاق کیا ہوگا؟ وہ تمہیں اس لیے نہیں دکھائی دے رہے کہ وہ اپنی پسندیدگی تم تک پہنچا نہیں رہے ۔ انہیں تم پر اعتماد ہے کہ تم شخصیت کو نہیں دیکھتے ‘صرف یہ دیکھتے ہو کہ یہ شخصیت کرکیا رہی ہیں  اور کہہ کیا رہی ہیں !اس لیے کہ “کون”سے “کیا “زیادہ اہم ہے؟یاد رکھو کہ خلق خدا ‘ان چند لوگوں سے زیادہ عقل  مند ہے جو کسی نہ کسی شخصیت سے وابستہ ہیں ۔اصل میں یہ لوگ’یہ دانشور’یہ لکھاری’ یہ اینکر’جو کسی نہ کسی لیڈر سے وابستہ ہیں اور ہر حا ل میں اس کا دفاع کرتے ہیں اور ہر حال میں اپنے لیڈر کے مخالفین کو برا بھلا کہتے ہیں ‘یہ لوگ ‘یہ دانشور’یہ لکھاری’یہ اینکر’ قابلِ رحم ہیں ۔خلق خدا کو ان کا کچا چٹھا معلوم ہے ۔خلق خدا کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا کہیں گے؟کیا دلیل دیں گے؟ خلق خدا کو معلوم ہے کہ یہ کسی صورت میں بھی اس لیڈر کے قول اور فعل پر تنقید نہیں کریں گے جس سے اپنے آپ کو وابستہ رکھا ہے۔ نام لینے کی ضرورت نہیں ۔بالکل نہیں ! مگر ہر ایک کی اصلیت واضح ہے۔وہ اپنے آپ کو دانش کی چادر میں جتنا چاہیں لپیٹ لیں ۔جتنی چاہیں بھاری بھرکم علمی اصطلاحات استعمال کریں ‘جتنی چاہیں “نظریہ سازی” کریں ‘خلق خدا انہیں اندر سے جانتی ہے اور خوب جانتی ہے۔خلق خدا کو معلوم ہے کہ فلاں نے کیا حاصل کیا ہے’فلاں کا کون سا مفاد ہے۔ فلاں سرکار کے خرچ پر کہاں کہاں گیا؟ فلاں کو فلاں ادارے سے کیا مل رہا ہے؟فلاں کی اولاد کس سے فائدہ اٹھا رہی ہے؟  کسی سے کچھ نہیں چھپا ہوا۔ خلق خدا ان کی کسی بات کو’کسی تحریر کو ان کی دانش کے کسی ٹکڑے کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔وہ صرف یہ جانتی ہے کہ یہ کس کا آدمی ہے۔یہ کہاں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ خلق خدا  کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ اتنا عرصہ پہلے کس ادارے میں تھا ۔پھر کس سے وابستہ ہوا۔اور اب اگر اپنے محسن یا محسنین پرتنقید کررہا ہے تو کیوں کررہا ہے؟

تمہارے اور تمہاری قبیل کے لکھاریوں کے بارے میں خلق خدا جانتی ہے اور خوب جانتی ہے کہ کسی سے وابستہ نہیں ہو۔ کسی سے مستقل وفاداری کا عقد نہیں باندھا۔ جو اچھاکام کرے گا اس کی تعریف کرو گے۔دوسرے دن غلطی کرے گا تو نشان دہی کروگے۔پڑھنے والے اعتماد کرتے ہیں ۔تم نے شریف برادران کی تعریف بھی کی۔ ان پر تنقید بھی کی ۔تم نے عمرا ن خان کی تعریف بھی کی’ا س پر تنقید بھی کی۔یہی ہے وہ رویہ جسے خلق خدا چاہتی ہے اور جس کی تعریف کرتی ہےخلق خدا کو ایک ایک لکھاری کا معلوم ہے کہ کس نے فلاں لیڈر کے کسی کام یا کسی بات پرآج تک تنقید نہیں  کی! یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کی   ہر بات سو فیصد درست ہو!
تم اپنا کام جاری رکھو۔تمہیں کو ئی غلط لگتا ہے اسے غلط کہو۔ جو صحیح لگتا ہے ‘اسے صحیح لکھو۔رہیں گالیاں  تو شورش کشمیری کا یہ شعر پڑھ لیا کرو
شورش تیرے خلاف زمانہ ہوا تو کیا
کچھ لوگ اس جہاں میں خدا کے خلاف ہیں!
اور ہاں !یہ دعا کرو کہ ا س راستے پر تمہیں استقامت نصیب ہو!اسی راستے پر رہو! خد ا وہ دن نہ لائے کہ لوگ تمہاری شکل یا تمہاری تحریر دیکھ کرکہیں کہ "یہ فلاں کا آدمی" ہے۔


 

powered by worldwanders.com