Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Tuesday, October 15, 2019

وزیر اعظم کا آئیڈیل کون ؟

آپ کا کیا خیال ہے ہمارے محترم وزیر اعظم کا آئیڈیل کون ہے؟ 


سب سے پہلے دھیان مہاتیر محمد کی طرف جائے گا۔ وہ اکثر ان کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ مہاتیر نے ملائیشیا کو فرشِ خاک سے اٹھایا اور کم از کم تمام مسلم دنیا میں ٹاپ پر پہنچا دیا۔ 

ایک بات یہاں مشکل میں ڈال رہی ہے۔ مہاتیر نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کر لیا تھا۔ آئی ایم ایف کے سربراہ نے بعد میں تسلیم کیا کہ مہاتیر کی اقتصادی پالیسیاں درست تھیں۔ اس کے برعکس ہمارے وزیر اعظم نےوجوہ جو بھی ہوں حکومت کے پہلے سال کے دوران ہی آئی ایم ایف کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا۔ نہ صرف یہ بلکہ آئی ایم ایف کے ایک ملازم کو سٹیٹ بنک آف پاکستان کا گورنر تعینات کیا۔ حال ہمارا بھی وہی ہو گا جو مصر کا ہو رہا ہے۔ اس لئے کہ ہمارے گورنر سٹیٹ بنک پہلے مصر میں تعینات تھے!! 


تو پھر کیا سنگا پور کا معمارلی کوان ہمارے وزیر اعظم کا آئیڈیل ہے؟ ایسا بھی نہیں! لی کا طرز حکومت مختلف تھا۔ یکسر مختلف۔ 


مہاتیر اور لی اس وجہ سے بھی ان کے آئیڈیل نہیں ہو سکتے کہ ان دونوں کو دو دو تین تین عشرے ملے تھے۔ ہمارے وزیر اعظم کو اقتدار کے تخت پر بیٹھے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں! یعنی صرف ایک سال ! ایک سال ہی میں معیشت کے چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں۔ 


تو پھر وہ کون سی شخصیت ہے جس کے بارے میں شرح صدر حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ وزیر اعظم کی آئیڈیل ہے؟ اگر آپ ٹھنڈے دل سےغیر جانب دار ہو کر دل پر ہاتھ رکھ کرغور کریں تو ایک ہی نتیجے پر پہنچیں گے۔ ہمارے وزیر اعظم کی آئیڈیل شخصیت میاں شہباز شریف ہیں


اس کا ایک ثبوت تو شائع ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم کی کابینہ کے ایک اہم رکن میاں شہباز شریف کے گرویدہ ہیں۔ ان کی تازہ تصنیف میں یہ گواہی موجود ہے۔ میڈیا کے صفحات ریکارڈ پر ہیں کہ انہوں نے شہباز شریف کے طرز حکومت کوان کے وژن کو اور ان کی پالیسیوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اب اگر میاں صاحب کے ایک مداح اور تحسین کنندہ کو وزیر اعظم نے کابینہ کا اہم رکن بنایا اور ایک حساس کام اسے سونپا ہے تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہبالواسطہمیاں شہباز شریف کی صلاحیتوں کے معترف ہیں اور ان کی پالیسیوں کو اپنانا چاہتے ہیں


کچھ واقعاتی شہادتیں بھی اس دعویٰ کو درست ثابت کرتی ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان میاں شہباز شریف کی تقلید کر رہے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ میاں شہباز شریف سر یر آرائے تخت ہوئے تو اپنے پیشرو چودھری پرویز الٰہی کے شروع کئے ہوئے فلاحی اور تعمیراتی منصوبےجہاں تھے وہیں روک دیے۔ وزیر آباد کے ہسپتال کا ذکر نمایاں رہا جو چودھری صاحب نے شروع کیا اور پھر ان کے جانے کے بعدترک کر دیا گیا۔ جنوبی پنجاب میں بھی ایسا ہی ہوا بلکہ بارہا اعداد و شمار کے ساتھ یہ الزام لگایا گیا کہ فنڈز وہاں سے ہٹا کر لاہور پر خرچ کر دیے گئے۔ وزیر اعظم عمران خان بالکل ایسا کر رہے ہیں۔ یوں لگتاہے کہ فلم ری پلے ہو رہی ہے۔ زیادہ عبرت ناک یہ معاملہ اس لئے ہے کہ وزیر آباد اور جنوبی پنجاب تو ایک سائڈ پر واقع ہیں پیش منظر سے ان کامحل وقوع ہٹ کر ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ حکومت کے جن منصوبوں کو ادھورا چھوڑا ہے ان میں سے کم از کم دودارالحکومت کے وسط میں ہیں اور ہر روز لاکھوں ملکی اورغیر ملکی افراد اس ظلم کو دیکھتے ہیں۔ 


آپ کشمیرروڈ سے نئے ایئر پورٹ کی طرف جائیں تو راستے میں آپ کو ڈائنو سار کی طرح کے بڑے بڑے عظیم الجثّہ ڈھانچے نظر آئیں گے۔ کہیں جنگلہکہیں پلیٹ فارمگزشتہ حکومت نے ایک مستحسن فیصلہ کیا تھا کہ نیا ایئر پورٹ چونکہ بہت دور ہے اس لئے عام مسافروں کی سہولت کے لئے خصوصی میٹرو بس وہاں تک چلائی جائے۔اس کا انفراسٹرکچر زیادہ ترتعمیر ہو چکا تھا۔ کچھ رہ گیا تھا۔ اتنے میںشریف حکومت ختم ہو گئی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت اس عوامی منصوبے کو مکمل کرتی اور عوام سے شاباش لیتی مگر کوئی وجہ بتائے بغیر منصوبہ جہاں تھاوہیں روک دیا گیا۔ اب یہ انفراسٹرکچر ۔ یہ ڈھانچے یہ ساری بنیادی تعمیر۔ جوں کی توں پڑی ہے اور موجودہ حکومت کا منہ چڑا رہی ہے۔غیر ملکیسفارت کارسب یہاں سے گزرتے ہیں اور اس طرز عمل پر حیران ہوتے ہیں۔ اس کالم نگار نے اس صورت حال پر بیسیوں افراد سے بات چیت کی ہے مسلم لیگ نون کے بدترین مخالف بھی موجودہ وزیر اعظم کی اس ’’بے نیازی‘‘ کی مذمت ہی کرتے دیکھے۔ کچھ تو اسے تکبّر پر محمول کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے بھی چودھری پرویز الٰہی کے آغاز کردہ منصوبوں کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ 


وزیر اعظم ایک اور ستم عوام پر ڈھا رہے ہیں جس کا کوئی جواز نہیں تلاش کیا جا سکتا۔ دارالحکومت کی لائف لائن وہ ایکسپریس وے ہے جو فیض آباد سے روات جاتی ہے۔ اسے گزشتہ حکومت مرحلہ وار تعمیر کررہی تھی۔ آخری مرحلہ گلبرگ سے روات تک رہ گیا تھا۔ گزشتہ حکومت نے اس مقصد کے لئے سات ارب روپے مختص کیے تھے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے آتے ہی اس منصوبے پر خط تنسیخ پھیر دیا اوریوں راتوں رات جہلم، چکوال، گوجر خان، دینہ، منگلا، میر پوراورمندرہ سے لے کربحریہپی ڈبلیو ڈی سوسائٹی اور درجنوں دوسری آبادیوں کے مکینوں کو اپنا مخالف بنا لیا۔


اگر اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اس شاہراہ پر ٹرک مافیا کو ہی کنٹرول کر لیتی تو عوام کو کچھ تھوڑی سی آسانی ہو جاتی۔ مگر حالت یہ ہے کہ چیف کمشنر اسلام آباد سے ایک عام شہری کا بات کرنا تک ناممکن ہے۔ چہ جائیکہ اسے اس طرف توجہ دینے کے لئے قائل کیا جائے۔ 


ایک اور پہلو سے بھی وزیر اعظم شہباز شریف کا تتبع کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے طلبہ و طالبات کے لئے لیپ ٹاپ سکیم شروع کی تھی۔ اس کے حق میں اور خلاف بہت کچھ کیا گیا۔ موجودہ وزیر اعظم نے اس سے ملتی جلتی سکیم شروع کی ہے۔ انہوں نے ایک نجی ٹرسٹ کے اشتراک سے لنگر خانہ سکیم شروع کی ہے جس میں بقول وزیر اعظممستحقین مفت کھانا کھائیں گے۔ اس سکیم کا انچارج ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو بنایا گیا ہے جن کی وجہ شہرت صحت کا شعبہ ہے۔ کیا یہ بہتر نہ تھا کہ ان سے صحت کے شعبے میں کوئی انقلابی کام کرایا جاتا؟ یہی ان کے تخصص کا میدان ہے۔ 


ایک نجی ٹرسٹ(سیلانی) کو کس معیار پر منتخب کیا گیا؟ ملک میں سینکڑوں ٹرسٹ غریبوں کو کھانا کھلانے کا کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے اس خاص ٹرسٹ کو چنا گیا ہے تو کیا یہ چنائو کابینہ نے کیا ہے یا پارلیمنٹ نے یا یہ وزیر اعظم کا ذاتی فیصلہ ہے؟ عوام کو اعتماد میں لے کر آگاہ کیا جانا چاہیے کہ اس ٹرسٹ میں یہ خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے اسے دوسروں پر فوقیت دی گئی ہے؟ 


یوں بھی عقل مند کہتے ہیں کہ ضرورت مند کو مچھلی نہ دیجیے۔ اسے مچھلی پکڑنا سکھائیے۔ اگر لنگر خانے سے استفادہ کرنے والے افراد قلاش ہیں تو انہیں روزگار مہیا کیجیے تاکہ دوسروں پر انحصارکرنے کے بجائے یہ اپنے پیروں پرکھڑے ہو سکیں۔ ایک شخص خود تو لنگر خانے سے بھوک مٹا لے گابیوی بچوں کا پیٹ کیسے بھرے گا؟ کسان کی گائے بیمارہو گئی۔ اس نے دوسرے کسان سے پوچھا کہ تمہاری گائے بیمارہوئی تھی تو تم نے کیا کیا تھا۔ اس نے دوا کا نام بتایا۔ وہ دوا کھا کر گائے مر گئی۔ اس پر اس نے دوسرے کسان سے گلہ کیا تو اس نے کہا گائے تو میری بھی مر گئی تھی! میاں شہباز شریف نے اپنے پیشرو کے منصوبوں کو ہلاک کیا تھا۔ ان کی اتباع میں موجودہ وزیر اعظم نے بھی گزشتہ حکومت کے شروع کردہ منصوبوں کو قتل کر دیا ہے۔ مگر کیا انجام مختلف ہو گا؟ 

Sunday, October 13, 2019

شرم ہم کو مگر نہیں آتی



وفاقی دارالحکومت کے ’’نئے‘‘ ایئر پورٹ سے ابھی ابھی لوٹا ہوں اور سر پکڑ کر بیٹھا ہوا ہوں 

؎ 
منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے 
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ 

عمارتیں ہم بنا لیتے ہیں۔ سسٹم مغرب سے نقل کر لیتے ہیں مگر چلا نہیں سکتے۔ عمارتیں اندر سے بدنظمی کا شہکار ہوتی ہیں ‘اُوبر اور کریم ہی کو لے لیجیے۔ ساری دنیا میں چل رہی ہیں اور ایک طریقے‘ ایک قانون اور ایک نظم کے تحت کام کر رہی ہیں۔ وہی اچھا بھلا ادارہ ہمارے ہاں آتا ہے تو اس کا حلیہ بگڑ جاتا ہے۔ کوئی شے ان گاڑیوں میں رہ جائے تو شاید ہی ملے۔ ایپ کے ذریعے رائڈ بک کریں تو آپ کے گھر پہنچنے کے بجائے پانچ میل دور پہنچے گی اور آپ کو اطلاع ملے گی کہ کیپٹن پہنچ گیا ہے۔ بقایا رقم آپ کے اکائونٹ میں کبھی کریڈٹ ہو گی کبھی نہیں ہو گی۔ 

یہ اسلام آباد ایئر پورٹ ہے۔ دارالحکومت کا ہے، کسی چھوٹے موٹے شہر کا نہیں۔ بیرون ملک جانے والے مسافروں کے لئے ’’پاسپورٹ کنٹرول‘‘ کا بورڈ لگاہے۔ اس میں پانچ چھ کائونٹر بنے ہیں ‘تین کائونٹروں پر لکھا ہے‘ غیر ملکی پاسپورٹ ۔دوسرے تین کائونٹروں پر لکھا ہے‘پاکستانی پاسپورٹ۔ لیکن گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ غیر ملکی اپنے کائونٹروں کے سامنے قطار باندھے کھڑے ہیں۔ مگر ان کے آگے اُسی قطار میں پاکستانی پاسپورٹ والے مسافر کھڑے ہیں گویا غیر ملکیوں کے کائونٹر پر پاکستانی قابض ہیں۔ 

یہ ایف آئی اے کا دائرہ کار ہے ۔جو افسر ایئر پورٹ پر ایف آئی اے کی قیادت کر رہا تھا اسے ڈھونڈا۔ اُسے اِس موقع واردات پر بنفس نفیس لایا۔ غیر ملکیوں کے ساتھ یہ ’’حسنِ سلوک‘‘ اسے دکھایا۔ اسے بتایا کہ دنیا کے دوسرے ایئر پورٹوں پر مقامی اور غیر ملکی مسافر بیک وقت ہزاروں کی تعداد میں قطاریں باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک ۔صرف ،ایک اہلکار وہاں کھڑا ہوتا ہے جو بلند آوازسے ہدایت دیتا رہتا ہے کہ مقامی مسافر اس طرف اور غیر ملکی اس طرف! کسی ایک قطار میں بھی یہ اصول نہیں ٹوٹتا۔ یہاں کیوں نہیں ایسا ہو سکتا؟ افسر خوش اخلاق تھا مگر اس کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ 

کیا ہم میں کوئی پیدائشی نقص(Manufacturing Defect)ہے جو ہمیں سیدھے راستے پر چلنے سے روکتا ہے اور مسلسل روکتاہے؟ ہم ایک قانون وضع کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ سے پاس کراتے ہیں آئین کا حصہ بناتے ہیں پھر اس کی خلاف ورزی شروع کر دیتے ہیں۔ ہر جگہ ‘ ہر وقت ‘ ہر سطح پر۔ ہر ممکن طرح سے! ساتھ ساتھ شور مچاتے جاتے ہیں کہ قانون پر عمل نہیں ہو رہا۔ قانون توڑا جا رہا ہے! ہم پروہ محاورہ پورا پورا صادق آتا ہے۔ چور مچائے شور۔‘‘ 

وزیر اعظم سے لے کر عام شہری تک ‘ایم این اے سے لے کر پرائمری سکول کے استاد تک۔ ایم پی اے سے لے کر معمولی کلرک تک۔ کارخانے کے مالک سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے مزدور تک ۔ماں باپ سے لے کر بچوں تک۔ استاد سے لے کر شاگرد تک۔ ہر شخص اپنے اپنے دائرے میں قانون کا تیا پانچہ کر رہا ہے! ہر کوئی حسب توفیق قواعد اور ضوابط کو جوتوں تلے روند رہا ہے۔ ساتھ ساتھ دوسروں پر الزام دھرے جا رہا ہے۔ 

ہم ایک بورڈ لگاتے ہیں ۔اس پر جلی حروف میں اتنا واضح لکھا ہوتا ہے کہ اندھا بھی پڑھ لے۔ پھر اسی بورڈ کے سامنے ، عین اس بورڈ کے نیچے  ، بورڈ پر لکھی ہوئی ہدایت کی ایسی تیسی کرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے ہمیں ایک لمحے کے لئے بھی شرم نہیں آتی۔ حیا سے ہم عاری ہیں۔ ڈھٹائی ہمارا طرز زندگی ہے! اپنے لکھے ہوئے کی بے حرمتی خود کرتے ہیں ۔اپنا تھوکا ہوا چاٹتے ہیں ۔اپنے منہ پر اپنے ہاتھوں سے کالک ملتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہم جیسا روئے زمین پر کوئی نہیں! دنیا بھر سے ہم برتر ہیں ‘باقی سب ہمارے مقابلے میں مٹی کے بے بضاعت ذرے ہیں! 

غور کیجیے ! ہمارے ہاں جس طرح مقرر کردہ آخری تاریخوں میں توسیع در توسیع ہوتی ہے‘ شاید ہی کہیں اور اس طرح ہوتا ہو۔ انکم ٹیکس فائل کرنے کی‘ کہیں رقم جمع کرانے کی ‘کوئی قرض واپس کرنے کی‘ آخری تاریخ ہو ‘اس کی پابندی اس حد تک برائے نام ہوتی ہے کہ تاریخ بڑھانا پڑتی ہے۔ آپ دنیا کی بڑی بڑی یورنیورسٹیاں دیکھ لیجیے۔ داخلے کی تاریخ ہو یا امتحان کی تاریخ‘ تین تین چار چار سو سال سے یہ تاریخیں نہیں بدلیں۔ ہمارے ہاں میٹرک سے لے کر ایم اے تک ۔ہر امتحان کی تاریخ آئے دن تبدیل ہوتی ہے۔ رہا کالج یونیورسٹی یاسکول میں داخلہ‘ تو سفارش اور اقربا پروری کا کلچر اس قدر نفوذ کرچکا ہے کہ کسی وقت بھی شب خون کیا، دن دہاڑے مقررہ تاریخ کو پامال کیا جا سکتا ہے! 

شادیوں اور تقاریب کے دعوتی کارڈ ہماری منافقت کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔یہ ثبوت ہاتھ سے لکھا ہوا نہیں‘ باقاعدہ چھپا ہوا ہوتا ہے۔ دعوت دینے والے اور دعوت میں آنے والے‘ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ جو وقت دیا ہوا ہے وہ فقط نمائش کے لئے ہے۔ اصل وقت گھنٹوں بعد کا ہے ۔صدر سے لے کر وزیراعظم تک سب سرکاری تقاریب میں تاخیر سے آتے ہیں۔ سامعین آزاد شہری نہیں۔ محکوم رعایا کی طرح پہروں صبر سے انتظار کرتےہیں - بے حسی اجتماعی ہے ! بے شرمی قومی سطح پر ہے۔ 

اس طرزِعمل کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر سطح پر اعتماد کا مکمل فقدان ہے۔ انفرادی سطح پر غور کیجیے۔ میں کسی کو بتاتا ہوں کہ اتنے بجے تمہارے پاس آئوں گا‘ تو مجھے بھی اور اسے بھی ‘ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ جھوٹ ہے! ہو سکتا ہے کہ آدھا گھنٹہ اورممکن ہے دو تین گھنٹے تاخیر سے آئوں۔ اچنبھاہے نہ کوئی شکوہ شکایت! اجتماعی سطح پر دیکھیے‘ ادارے اعتبار کھو چکے ہیں۔ کوئی سرکاری یا نجی ادارہ کلائنٹ کو جو تاریخ دیتا ہے کلائنٹ اس پر اعتبار نہیں کرتا نہ اسے سنجیدگی سے کوئی مسئلہ بناتا ہے۔ دونوں فریق اس خلاف ورزی پر اس منافقت پر‘ اس جھوٹ پرسمجھوتہ کر چکے ہیں! 

تہذیب اور ترقی صرف مادی اشیا سے عبارت نہیں! اس میں رویوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ جس دن لکھا ہوا حرف ہمارے لئے حرف آخر ثابت ہو گیا‘ اس دن ہم مہذب بھی ہو جائیں گے اور ترقی یافتہ بھی! آئین میں یا بورڈ پر‘ یا دعوتی کارڈ پر جو کچھ لکھا ہے اسے من و عن عملی جامہ پہنائیں گے تو تبدیلی آئے گی! ہمیں اس دو عملی سے نجات حاصل کرنا ہو گی کہ لکھا کچھ اور ہے کرنا کچھ اور ہے! قول اور فعل کا تضاد ہمیں بدتر سے بدترین کر رہا ہے!گفتار کے ہم غازی ہیں ‘کردار کے حوالے سے سامانِ عبرت ہیں! ہر کام میں رویہ غیر سنجیدہ ناقابل اعتبار اور Casualہو تو وہی مقام حاصل ہوتا ہے جو اس وقت دنیا ہمیں دے رہی ہے!

Saturday, October 12, 2019

…کراچی کا بادشاہ اپنے انجام کی طرف



‎کراچی کا بادشاہ بالآخر اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔ 

‎ہر ظالم اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ اکثر اس دنیا میں اور سارے کے سارے آنے والی دنیا میں! یہ دنیا ایک حساب کتاب سے بنائی گئی ہے۔ ایک نسبت تناسب سے !! یہ کسی بچے کی کاغذ پر کھینچی ہوئی الل ٹپ لکیریں نہیںجن کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ 

‎ماضی قریب میں رومانیہ کا بادشاہ (کہلاتا صدر تھا!) چی سسیکو! سیاہ و سفید کا مالک! فرعون اور نمرود اس کے سامنے ہیچ تھے۔ پھر ہوا کا رخ بدلا۔ بادشاہ اور ملکہ دونوں طاعون زدہ چوہوں کی موت مرے! 

‎شاہ ایران! اپنے آپ کو کسریٰ اور کیقباد کا وارث گرداننے والا! بوریا نشین امام خمینی نے اس کا طلسم پاش پاش کر ڈ الا۔ روئے زمین پر مارا مارا پھرتا رہا۔ مشکل سے قبر کے لئے تین ضرب چھ کا رقبہ نصیب ہوا۔ 

‎پاکستانی سیاست کی سیاہ بختی اور حالات کی ستم ظریفی نے الطاف حسین کو کراچی کا بادشاہ بنا دیا۔ عشروں تک الطاف حسین سیاہ و سفید کا مالک رہا! بلا شرکت غیرے مالک! کیا ساحل کیا سمندر! ہر جگہ اس کا سکہ چلتا تھا۔ سوا کروڑ آدم کے بیٹے اور بیٹیاں اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوتے۔ وہ کہتا اٹھو‘ لوگ اٹھ کر کھڑے ہو جاتے۔ وہ انگلی سے بیٹھنے کا اشارہ کرتا‘ سوا کروڑ انسان بیٹھ جاتے۔ وہ ہڑتال کا حکم دیتا۔ شاہراہیں سنسان ہو جاتیں۔ راستوں پر دھول اڑتی۔ بچے سکولوں سے گھر نہ پہنچ سکتے، مریض ہسپتال پہنچنے کے بجائے ملک عدم جا نکلتے۔ ایئر پورٹ‘ بسوں کے اڈے‘ ریلوے اسٹیشن‘ ہوٹل‘ ریستوران‘ ہر جگہ ویرانی کے بھوت ناچ رہے ہوتے! اخبارات اور ٹیلی ویژن چینل اس کے اشارے کے غلام تھے۔ کسی کی مجال نہ تھی کہ اس کے خلاف ایک لفظ لکھتا یا ایک جملہ بولتا۔ 

‎جون ایلیا نے کتنے دکھ سے کہا تھا کہ اردو بولنے والوں کی ایک زمانہ تھا جب شناخت محمد علی جوہر‘ حکیم اجمل خان‘ ابوالکلام آزاد‘ شبلی نعمانی‘ سلیمان ندوی‘ اکبر الہ آبادی‘ مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا احمد رضا خان جیسے ابطال جلیل سے ہوتی تھی۔ پھر ان کا حوالہ جاوید لنگڑا ‘ فلاں کمانڈو‘ فلاں ٹُنڈا بن گیا۔ وہ جو علم و ادب میں رہنمائی کرتے تھے، ان کے ہاتھوں سے الطاف حسین نے کتابیں چھین لیں اور بندوقیں تھمائیں۔ ٹیلی ویژن سیٹ بیچنے کا حکم دیا۔ بچہ بچہ دہشت گرد بن گیا۔ انسانی جسموں میں ڈرل مشینوں سے سوراخ کئے جانے لگے۔ بوریوں سے لاشیں برآمد ہونے لگیں۔ کہیں کٹے ہوئے سر ملتے کہیں اُدھڑے ہوئے جسم!الطاف حسین تقریر کرتا تو سننے والے فرشِ خاک پر مُردوں کی طرح بیٹھے ہوئے سر ہلاتے۔ نعرے لگاتے۔ موم کے پتلوں کی طرح کبھی ہنستے کبھی روتے۔ ان میں پروفیسر تھے اور ڈاکٹر۔ سیاست دان تھے اور عالم فاضل۔ الطاف حسین ایک نیم مجنون شخص کی طرح کبھی تقریر میں ہنستا کبھی روتا۔ کبھی گیت گاتا۔ کبھی قسم قسم کی آوازیں نکالتا۔ سننے والے ہنسی دباتے کہ ہنسے تو شام سے پہلے مار دیے جائیں گے۔ رونا چاہتے تو رو نہ سکتے۔ ووٹ ڈالنے کا دن آتا تو صبح دروازے پر دستک ہوتی۔ ایک غنڈہ گھر والوں کے شناختی کارڈ لے جاتا۔ حکم ہوتا کہ ووٹ ڈالنے آئو گے تو شناختی کارڈ واپس مل جائیں گے۔ کراچی کا بادشاہ حکم دیتا’’میں فلاں کے سوئم میں بیٹھنا چاہتا ہوں‘‘ حکم کی تعمیل ہوتی۔ تیسرے دن الطاف حسین اس کے سوئم میں بیٹھا ہوتا۔ 

‎پاکستان کی تاریخ کے عجائبات جب مورخ لکھے گا تو عجائبات کی تعداد کم نہ ہو گی۔ زرداری صاحب صدر بنے۔نیم تعلیم یافتہ میاں صاحب تین بار حکمران اعلیٰ بنے۔ سلمان فاروقی محتسب اعلیٰ مقرر ہوئے مگر ذہن میں آندھیاں چلانے والا عجوبہ الطاف حسین کی حکمرانی تھی۔ بے تاج بادشاہی! ایسی بادشاہی جس کے سامنے فرعون اور نمرورد کی بادشاہتیں گداگری لگتی تھیں۔ 

‎پھر نہلے پر دہلا یہ ہوا کہ جنرل پرویز مشرف کا عہدِ اقتدار الطاف حسین کے لئے دودھ کا شہد ملا پیالہ ثابت ہوا۔ من تو شُدم تو من شدی والا معاملہ تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے پشتیبان بنے۔ جنرل مشرف کا کراچی کا دورہ ہوتا تو شہر سیل کر دیا جاتا۔ ان ظالموں نے کتنے ہی جاں بلب مریضوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ بچوں کی مائیں کلیجے ہاتھوں میں لئے‘ شام ڈھلے تک سکولوں سے بچوں کی واپسی کے لئے تڑپتی رہتیں۔ کیا کسی نے حساب کیا ہے جنرل مشرف کتنی بار کراچی دورے پر گئے ؟ کتنے پاکستانی اس کی وجہ سے مرے؟ کتنے بچے اذیت میں مبتلا ہوئے؟ کتنے گھنٹے ہر بار خلقِ خدا کے وقت سے ناوقت میں تبدیل ہوئے اورہر بار کتنے کروڑ کا صدمہ کراچی کی معیشت کو برداشت کرنا پڑا؟ جنرل پرویز مشرف نے غضب یہ کیا کہ الطاف حسین نے بھارت میں پاکستان کے خلاف جس روز زہر اُگلا ‘ اسی شام دہلی کے پاکستانی سفارت خانے کو حکم دیا کہ سرکاری زرومال خرچ کر کے الطاف حسین کے اعزاز میں دعوت کی جائے جو کی گئی۔ یہ ایسا داغ ہے جسے جنرل پرویز مشرف کے ماتھے سے کوئی طاقت نہیں دھو سکتی! 

‎الطاف حسین نے پاکستانی سیاست کا ایک اور افسوں بھی توڑ کر رکھ دیا۔ یہ مفروضہ غلط ثابت ہو گیا کہ پڑھی لکھی مڈل کلاس‘ جاگیرداروں اور صنعت کاروں سے زیادہ مخلص ثابت ہو گی۔ یوں تو یہ مفروضہ اکّا دکّا سطح پر ہر جگہ غلط ثابت ہو رہا ہے۔ رضا ربانی‘ اعتزاز احسن‘ احسن اقبال اور مشاہد حسین سے زیادہ پڑھا لکھا کون ہو گا۔ یہ سب مڈل کلاس کی نمائندگی کرنے والے ہیں۔ لیکن ان میں سے کچھ خاندانوں کی وفاداری کی زنجیر پائوں میں پہنے ہیں اور کچھ پارٹیاں یوں بدلتے ہیں جیسے رات دن میں بدلتی ہے اور دن رات کے کپڑے پہن لیتا ہے۔ تاہم پارٹی کی سطح پر اس مفروضے کو غلط الطاف حسین کی پارٹی نے ثابت کیا اور یہ سحر ہمیشہ کے لئے ٹوٹ گیا۔الطاف حسین کی پارٹی میں کوئی جاگیردار تھا نہ کوئی کروڑ پتی۔ مگر اس پارٹی نے کروڑ پتی یوں پیدا کئے جیسے فیکٹری لگی تھی۔ ہیوسٹن سے ڈلاس تک پٹرول پمپوں کی قطاریں لگ گئیں۔ خود پاکستان میں سیاست کرتے تھے اور خاندان والے لاس اینجلز‘ نیو یارک اور شکاگو کے گراں ترین حصوں میں شاہانہ زندگیاں گزارتے تھے۔ کئی دولت کما کر پیش منظر سے پس منظر میں چلے گئے۔ مزے کی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ 

‎خلوص مڈل کلاس کی جاگیر نہیں۔رہنمائی کا کام قدرت کسی سے بھی لے سکتی ہے۔ قائد اعظم، لیاقت علی خان‘ عبدالرب نشتر خواجہ ناظم الدین سب اَپر کلاس سے تھے۔ 

‎الطاف حسین کے جسم میں ٹریکر لگا دیا گیا ہے جو حکام کو اس کے محل وقوع کا ہر وقت پتہ دیتا رہے گا۔ سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ تقریر کی اجازت نہیں۔ بیرون ملک سفر کی اجازت بھی نہیں۔ رات بارہ بجے سے صبح نو بجے تک گھر سے نکلنا منع ہو گیاہے۔ کراچی کا بادشاہ اپنے انجام کی طرف بڑھ رہاہے۔ رسی درازہوتی ہے مگر پھر ایک یوں لپیٹ میں لے لیتی ہے جیسے اژدھا انسانی جسم کو شکنجے میں کس کر رکھ دیتا ہے۔ الطاف حسین کے سر لاتعداد بے گناہوں کا خون ہے۔ درست ہے یا غلط‘ حکیم سعید اور امجد صابری جیسے مشاہیر کی اموات کا ذکر بھی اسی حوالے سے ہوتا ہے۔ واللہ اعلم! 

‎ہے کوئی جو سبق سیکھے! ہے کوئی جو یاد رکھے کہ کھوپڑیوں میں زاغ و زغن انڈے دیتے ہیں اور آنکھوں کے سوراخ ‘ سانپوں کی گزرگاہ بن جاتے ہیں۔

Thursday, October 10, 2019

جو اماں ملی تو کہاں ملی


‎بالآخر جاوید احمد غامدی بھی امریکہ منتقل ہو گئے۔

‎ نامساعد حالات میں انہیں پاکستان چھوڑنا پڑا۔ کچھ عرصہ ملائیشیامیں رہے۔ بہت لوگ ان کے مداح ہیں، اختلاف کرنے والے بھی کم نہیں۔ یہ کالم نگار ان کا مداح بھی ہے اور کئی معاملات میں اختلاف بھی ہے۔ بالخصوص ان کے ایک شاگرد ڈاکٹر صاحب جو الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے شہسوار ہیں‘ دل دکھانے والی تقریروں کے ماہرہیں۔ ائمہ اربعہ کا ذکر تخفیف اور تصغیر کے ساتھ کرتے ہیں۔ جیسے وہ ان کے جونیئر ہوں۔ دوسری طرف یہ حضرات اپنے استاد کو’’استاد امام‘‘ کہتے ہیں،گویا چار امام منظور نہیں مگر پانچواں خود بنا لیا ہے۔ 

‎اس کے باوجود اس میں کیا شک ہے کہ غامدی صاحب کی خدمات بہت ہیں۔ دین سے برگشتہ بے شمار نوجوان ان کے طریق کار سے متاثر ہو کر دین کی طرف پلٹے۔ دلیل اور اسلوب بیان ان کا متاثر کن ہے۔ روایتی مولویانہ طرز تبلیغ اب کارگر نہیں۔ بقول اقبال 

؎ 

‎شیخ مکتب کے طریقوں سے کشاد دل کہاں 
‎کس طرح کبریت سے روشن ہو بجلی کا چراغ 

‎بہر طور ‘ موضوع یہ ہے کہ بالآخر انہیں بھی امریکہ میں پناہ لینا پڑی۔ 

‎اس سے پہلے گزشتہ صدی کے آخری سالوں میں ترکی کے اسلامی رہنما فتح اللہ گولن نے بھی امریکہ میں پناہ لی۔ ان کی غیر حاضری میں ان پر مقدمہ چلا۔ 2016ء میں ترک حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش ہوئی۔اس کے بعد سے ترکی حکومت‘ فتح اللہ گولن کو امریکہ سے نکلوانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاحال یہ کوشش کامیابی کا چہرہ نہیں دیکھ سکی۔ گولن امریکہ کی پناہ میں ہیں۔ 

‎امام خمینی بھی بالآخر مغرب میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہوئے۔ ایران سے نکل کر پہلے ایک برس ترکی میں رہے۔ پھر عراق گئے، صدام حکومت نے وہاں بھی نہ رہنے دیا۔ آخر کار پیرس کی ایک نواحی بستی میں منتقل ہو گئے، وہیں سے انقلاب کی سرپرستی کی اور وہیں سے فاتح اور نجات دہندہ بن کر وطن لوٹے۔ 

‎یہ تین مثالیں تو عصری تاریخ سے ان مسلمان رہنمائوں کی ہیں جو مغربی ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اب دو نمایاں ایسے مسلمان رہنمائوں کا ذکر کرتے ہیں جنہیں کسی حکومت نے جلاوطن کیا نہ ان کی زندگی کو خطرات لاحق تھے۔ انہوں نے اپنی مرضی سے مغرب کی طرف ہجرت کی یا ہجرت کی کوشش کی۔ 
‎علامہ طاہر القادری ایک عرصہ سے کینیڈا میں مقیم ہیں۔ پاکستان آتے ہیں مگر تھوڑے تھوڑے دنوں کے لئے ،مستقل قیام ان کا کینیڈا ہی میں ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی تصویریں آج کل وائرل ہورہی ہیں۔ ان تصویروں میں وہ انگریزی ہیٹ پہنے‘ کسی خوشگوار ساحل پر‘ تفریحی موڈ میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔ 

‎الہدیٰ کی شہرت یافتہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کینیڈا گئیں۔ وہاں انہوں نے مستقل قیام کے لئے جدوجہد کی۔ عدالتوں میں مقدمہ کیا مگر کینیڈا حکومت نے رہنے کی اجازت نہ دی۔ ایک اطلاع کے مطابق انہوں نے بارڈر کراس کر کے امریکہ جانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکیں۔ 

‎اس سارے منظر نامے میں ہمارے لئے فکر کرنے کا بہت سامان ہے! 
‎سوچنے کی ضرورت ہے اور اپنے آپ سے سوال کرنے کی کہ پچپن مسلمان ملکوں میں کوئی ایسا مسلمان ملک نہیں جہاں امام خمینی سے لے کر فتح اللہ گولن اور جاوید احمد غامدی تک‘ ہمارے علماء اور رہنما پناہ لے سکیں۔ پچپن ملکوں میں کوئی ایک ایسا اسلامی دیار نہیں جہاں ہمارے طاہر القادری اور ڈاکٹر فرحت ہاشمی جیسے علماء اور رہنما مقیم ہونے کی خواہش کریں اور رہنا پسند کریں! یہ وہی مغرب ہے جسے ہمارے اکثر دینی رہنما’’طاغوت‘‘ اور ’’کفر‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ جسے فسق و فجور کا مرکز قرار دیتے ہیں ؎ 

‎نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی
‎ میرے جرم ِخانہ خراب کو تیرے عفوِ بندہ نواز میں 

‎یہاں ’’جرم خانہ خراب‘‘ شعری مجبوری ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم ان واجب الاحترام رہنمائوں کے لئے یہ الفاظ استعمال کر رہے ہیں) مولانا مودودی کی کتاب ’’پردہ‘‘ پڑھ لیجیے۔ مغرب کی جو بھیانک تصویر اس کتاب میں انہوں نے کھینچی ہے۔ پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر علاج کے لئے اسی ملعون مغرب میں جانا پڑا۔ وہیں جان ‘ جان آفرین کے سپرد کی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ نہیں جانا چاہتے تھے۔ بیٹا اصرار کے ساتھ لے گیا مگر یہ بھی تو دیکھیے کہ مولانا کے صاحبزادے نے اسی مغرب میں مقیم ہونا پسند کیا جس کے طرز زندگی اور جس کی تہذیب و تمدن کے خلاف ان کے والد زندگی بھر جہاد کرتے رہے۔ لکھتے رہے اور بولتے رہے۔ خلطِ مبحث کے شائقین یہاں یہ نکتہ نہ نکال بیٹھیں کہ ہم مولانا کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں، یہاں یہ مثالیں دلیل کے طور پر پیش کی جا رہی ہیں ۔یہ دعویٰ ثابت کرنے کے لئے کہ مغربی تہذیب کو مسلمانوں کے لئے زہر قاتل قرار دینے والے علماء اور رہنمائوں کی اولاد اسی مغرب کا رُخ کرتی ہے اور صرف مولانا مودودی ہی کی اولاد نہیں‘ آج کے بڑے بڑے‘ معروف و مشہور‘ بین الاقوامی شہرت یافتہ مسلمان علماء کی اولاد بھی مغرب ہی میں مقیم ہے۔ ان میں بڑے بڑے مفتیان کرام بھی شامل ہیں اور چوٹی کے علماء بھی! ایک بہت بڑے عالم دین کے صاحبزادے‘ جن کا تعلق بھارت سے ہے اور پاکستان کے مذہبی جرائد میں لکھتے ہیں۔ اکثر و بیشتر قائد اعظم اور تصورِ پاکستان پر پوری قوت سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ مگر رہتے کہاں ہیں؟ برطانیہ میں!! جس بھارت کی تقسیم کو مسلمانوں کے حق میں غلط سمجھتے ہیں‘ وہاں خود رہنا نہیں پسند فرماتے !! 

‎یہ ایک عجیب مضحکہ خیز صورت حال ہے! بظاہر نفاق سے بھر پور! میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تُھو! چار کروڑ سے زیادہ ان عام مسلمانوں کو تو چھوڑ دیجیے جو پچپن مسلمان ملکوں کو ٹھوکر مار کر مغربی ملکوں میں قیام پذیر ہیں۔ وہاں کی شہریتیں لے رکھی ہیں۔ پارلیمنٹوں کے رکن ہیں۔ جائیدادوں کے مالک ہیں۔ ان کروڑوں عامیوں کو تو ایک طرف رکھیے‘ بات تو ان اکابر ان علما‘ ان برگزیدہ شخصیات کی ہو رہی ہے جو لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے لئے مرکز عقیدت ہیں اور رہنمائی کا مینار ہیں! 

‎تو کیا یہ رہنما جرم کے مرتکب ہوئے ہیں؟ نہیں! حضور والا نہیں!! سبب یہ ہے کہ جو آزادی‘ جو حریت فکر اور کام کرنے کا جو ماحول مغربی ممالک مہیا کرتے ہیں وہ کسی ایک مسلمان ملک کے دامن میں بھی نہیں! طاہر القادری اگر وہاں مقیم ہیں‘ ڈاکٹر فرحت ہاشمی اگر وہاں رہنے کی متمنی ہیں‘تو اس لئے کہ وہاں فکری آزادی ہے! ذہن پرکوئی قدغن نہیں اور ہونٹوں پرکوئی مُہر نہیں! ریاست شہریوں کی یوں سرپرستی کرتی ہے جیسے ماں باپ کرتے ہیں! فتح اللہ گولن اور غامدی صاحب اگر پناہ لیے ہیں تو اس لئے کہ وہاں کوئی بارود بھری گاڑی ان کی رہائش گاہوں سے نہیں ٹکرا سکتا! ع 

‎فکر والوں کو پتے ہیں اس نشانی میں بہت!

Tuesday, October 08, 2019

خاندانوں سے الجھنے آگئے شیطان لوگ ؟؟؟



‎ارشد نے درس نظامی کا کورس پورا پڑھا ہے۔ ایک بڑے مدرسہ میں اس نے آٹھ سال سے زیادہ عرصہ گزارا۔ پھر فارغ التحصیل ہوا سالانہ جلسہ تقسیم اسناد میں اس کی باقاعدہ دستار بندی ہوئی۔ ثقہ متشرع صورت کے ساتھ اب وہ مولانا کہلاتا ہے۔ خوش قسمتی سے اسے ایک مسجدمیں خطابت بھی مل گئی۔ وہ ایک موثر وعظ کرنے والا سنجیدہ عالم دین ہے۔ اس کا ارادہ ہے کہ اس مسجد کے ساتھ ایک مدرسہ بھی قائم کرے جہاں دینی تعلیم دلانے کے شائقین اپنے بچوں کو داخل کرا سکیں! 

‎ارشد کی امی جان کو اس کی شادی کی فکر ہے وہ اپنے بھائی کی بیٹی‘ یعنی بھتیجی کو‘ بہو بنا کر لانا چاہتی ہیں۔ ارشد کو یہ رشتہ منظور نہیں! اس لئے نہیں کہ وہ اپنے ماموں کو پسند نہیں کرتا یا دونوں خاندانوں میں کوئی نزاع ہے۔ رکاوٹ یہ ہے کہ ماموں کی بیٹی انگریزی میڈیم کے ایک مشہورسکول سسٹم سے پڑھی۔ اس نے او لیول کیا۔ پھر اے لیول کا امتحان پاس کیا۔ پھر اس نے لاہور کی اس مشہور یونیورسٹی سے ایم بی اے کا امتحان پاس کیا جو بین الاقوامی سطح پر بھی شہرت یافتہ ہے۔ ابھی فائنل کا نتیجہ بھی نہیں آیا تھا کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اسے ملازمت مل گئی۔ کمپنی نے اسے جی ایم کا منصب پیش کیا۔ گاڑی بھی مہیا کی ہے۔ اس کی پروموشن اور پھر دوسرے ملکوں میں تعیناتی کے امکانات روشن ہیں۔ 

‎ارشد کو یہ رشتہ منظورنہیں۔ ماموں کی بیٹی صوم و صلٰوۃ کی پابند ہے مگر جس شرعی پردے میں ارشد اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنا چاہتا ہے ماموں کی بیٹی نہیں کرتی۔ لڑکے کو لڑکی کی ملازمت بھی پسند نہیں۔ وہ ایک ایسی لڑکی سے بیاہ کرنے کا متمنی ہے جو حافظہ ہو عالمہ ہو۔ شرعی پردہ کرتی ہو اور ہائوس وائف ہو۔ کیا لڑکی ارشد کے ساتھ اپنی زندگی گزارنا پسند کرے گی؟ نہیں! اُسے بھی اس ماحول میں گھٹن محسوس ہو گی! وہ ملازمت نہیں کر سکے گی نہ ہی اپنی سہیلیوں اور اس ماحول سے تعلق نباہ سکے گی۔ جس میں اس کی پرورش ہوئی۔ 

‎آپ غور کیجیے تو یہ دو گانگی
(dichotomy)
‎ہمارے معاشرے میں اکثر و بیشتر نظر آئے گی۔ یہ دو طبقات ہیں جو ایک دوسرے سے کہیں بھی نہیں ملتے۔ ان کا نظام تعلیم‘ ان کی معاشرت‘ ان کا لباس‘ ان کا ماحول ‘ ان کی ملازمتوں کا ڈھانچہ‘ ان کے بچوں کے انداز‘ سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کے باہمی رشتے بہت کم ہوتے ہیں۔ نہ ہونے کے برابر! یہاں تک کہ ان کے مطالعہ کے حوالے سے بھی مختلف ہیں۔ خبارات و جرائد بھی الگ الگ ہیں۔ دوستیاں جن حلقوں پر مشتمل ہیں۔ وہ بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ 

‎مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ حکومت کو چلتا کرتا ہے یا نہیں‘ مگر معاشرے کی اس تقسیم کو واضح تر اور قوی تر ضرور کرے گا۔ مسٹر اورمولانا پہلے ہی دو الگ الگ کیمپوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ اب یہ کیمپ ایک دوسرے کے سامنے بھی کھڑے ہو جائیں گے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ  مولانائوں کے اس مارچ پر مسٹر لوگ ہلّہ بول دیں گے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں شامل نہ ہوکر‘ اس کی مخالفت میں دلائل دے کر‘ وہ اپنے تئیں اس کا مقابلہ کریں گے! 

‎المیے کا تاریک تر پہلو یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن‘ دیو بند مسلک کی سو فیصد نمائندگی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ یہ دعویٰ زبانی نہیں! تاہم عملاً بھر پور کیا جا رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس مسلک سے وابستہ جو مشہور علما مولانا کا ساتھ نہیں دے رہے‘ وہ خاموش ہیں اور مکمل طورپر خاموش ہیں! یہ کہنا کہ مولانا طارق جمیل سیاست میں دخیل ہیں یا کسی نے انہیں سیاست میں دھکیلا ہے۔ واقعاتی طور پرثابت نہیں ہوتا۔ انہوں نے عمران خان کی بطور فرد حمایت کی ہے۔ تحریک انصاف کی یا حکومتِ وقت کی حمایت قطعاً نہیں کی! مولانا طارق جمیل اگر سیاست میں ہوتے تو اپنے لاکھوں کروڑوں معتقدین کو آزادی مارچ یا دھرنے میں شامل ہونے سے کھلم کھلا منع کرتے۔ ان کا سیاست یا سیاسی سرگرمیوں سے کوئی تعلق ہے نہ لینا دینا! اسی طرح مولانا رفیع عثمانی اور مولانا جسٹس تقی عثمانی بھی خاموش ہیں۔ وہ اس مارچ اور دھرنے میں شامل نہیں مگر اس کی مخالفت میں بھی کچھ نہیں کہا۔ یوں ہمارا یہ موقف کہ مولانا فضل الرحمن عملاً پورے مسلک کی نمائندگی کر رہے ہیں‘ درست ثابت ہوتا ہے! 

‎یہ مارچ اور دھرنا ایک طرف تو مسٹر اور مولانا کی تقسیم واضح کر رہا ہے۔ دوسری طرف مسلکی اختلاف کو ہوا دے رہا ہے۔ اس میں شیعہ‘ بریلوی اور اہل حدیث مدارس کے طلبہ نہیں شرکت کر رہے! ہاں ! اس سے ایک خطرناک نظیر ضرور قائم ہورہی ہے کل کو بریلوی یا شیعہ مسلک‘ اپنے کسی مطالبے کو منوانے کے لئے اپنے اپنے مدارس کے لاکھوں طلبہ کو دارالحکومت میں جمع کر کے دھرنا دے سکتا ہے۔ یہ سلسلہ چل پڑا تو اسے روکنا ناممکن نہیں تو ازحد مشکل ضرور ہو جائے گا! 

‎مولانا فضل الرحمن کے دلائل کا جائزہ لیں تو ان کی کوئی ایک دلیل بھی مضبوط بنیاد نہیں رکھتی۔ پشاور میں علماء کے نمائندہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دو دعوے کیے۔ اول یہ کہ وہ مدارس کے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ مدارس پر حملہ کس نے کیا ہے؟ اگر مدارس کے دفاع کی ضرورت آن پڑی ہے تو مولانا مفتی نعیم سے لے کر مولانا حنیف جالندھری تک سب خاموش کیوں ہیں؟ یہ خطرہ جناب مفتی منیب الرحمن کو کیوں نہیں نظر آ رہا؟ کیا یہ حملہ صرف ان مدارس پر ہوا ہے جن کی ہمدردیاں مولانا کو حاصل ہیں؟ کیا کسی نے کسی مدرسہ میں نقب لگائی ہے؟ کیا اساتذہ اور طلبہ کی زندگیاں خطرے میں ہیں؟ کیا راتوں رات کسی نے مولانا کے حامی مدارس کا نصاب تبدیل کر دیا؟ وہ یہ کیوں نہیں بتاتے کہ وہ کس خطرے سے دفاع کی بات کر رہے ہیں۔ 

‎دوسرا دعویٰ اس سے بھی زیادہ مزاحیہ ہے۔ ’’

‎آئین اور اس کی اسلامی شقوں کے تحفظ کی جنگ لڑنا ہمارا مذہبی کارڈ
‎ ہے تو آئین کے تحفظ کی جنگ ہم ضرور لڑیں گے؟‘‘ 

‎آئین کی کس اسلامی شق کو خطرہ لاحق ہے؟ کیا وہ آئین کی کتاب
‎ سامنے رکھ کر شق کا نمبر بتا سکتے ہیں؟ یہ کیا خطرہ ہے کہ مولانا کے علاوہ کسی کو نظر نہیں آ رہا؟ مولانا کے صاحبزادے پارلیمنٹ کے رکن ہیں’ وہی ارکان پارلیمنٹ کو بتا دیتے کہ کون کون سی شق سیلاب میں ڈوب رہی ہے اور آئین پر کون سی افتاد آن پڑی ہے؟ 

‎اصل سبب یہ ہے کہ جب سے مولانا الیکشن میں ہارے ہیں وہ صدمے سے باہر نہیں آ پا رہے۔ وہ شکست سے ذہنی سمجھوتہ کرنے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے عمران خان اور تحریک انصاف کو ہمیشہ حقارت کی نظر سے دیکھا اور ہمیشہ اس کا ذکر حقارت سے کیا۔ بقول شورش کاشمیری ؎ 

‎یار لوگوں کو شکایت تھی کہ نافرمان لوگ 
‎خاندانوں سے الجھنے آ گئے شیطان لوگ؟ 

‎زاغ کی اولاد شاخوں پر غزل خوانی کرے؟ 
‎نیل گائے شیر کے بچوں کی نگرانی کرے؟ 

‎انہونی یہ ہوئی کہ جس پارٹی کو مولانا درخورِ اعتنا ہی نہیں گرادانتے تھے اس کے ’’چھوکروں‘‘ نے انہیں پارلیمنٹ سے باہر نکال دیا۔ اس زمینی حقیقت کو تسلیم کنا ان کے بس سے باہر ہے۔ اگر مہنگائی نہ ہوتی‘ اگر تحریک انصاف کی حکومت کامرانی کے زینے پر اُوپر چڑھ رہی ہوتی۔ تب بھی مولانا نے یہی کچھ کرنا تھا۔ آئین کی اسلامی شقوں اور مدارس کو خطرہ تب بھی لاحق ہوتا۔
 

powered by worldwanders.com