Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, December 31, 2015

خواب جھوٹے خواب! تیرے خواب میرے خواب بھی!


جذبات کو کچھ دیر کے لیے تھیلے میں ڈالیے‘ تھیلا دیوار میں لگی کیل کے ساتھ لٹکا دیجئے۔ پھرٹھنڈے دل سے‘ خالی الذہن ہو کر‘ سوچیے۔
جب بھی ہم عالم اسلام کی بات کرتے ہیں تو زمینی حقائق کی روشنی میں ہم اس سے کیا مراد لیتے ہیں؟ ایک طرف سے شروع ہو جائیے۔
مراکش‘ الجزائر‘ تونس سے ہمارے کون سے تعلقات ہیں؟ وسطی اور مغربی افریقہ کے مسلمان ملکوں کے ہم میں سے اکثر لوگ نام تک نہیں جانتے۔ مصر سے ہمارے تعلقات ایسے ہی ہیں جیسے کسی بھی دور دراز ملک سے ہو سکتے ہیں۔ وسط ایشیا کی ریاستوں نے جتنے معاہدے بھارت اور اسرائیل کے ساتھ کیے ہوئے ہیں‘ ہماری سوچ سے زیادہ ہیں۔ مشرق بعید میں انڈونیشیا‘ ملائیشیا اور برونائی کی اپنی دنیا ہے۔ کیا آپ کو یاد پڑتا ہے کہ ماضی قریب میں ان ملکوں میں سے کسی ملک کا سربراہ یہاں آیا ہو یا کوئی معاہدے ہوئے ہوں؟ ایران کو دیکھیے۔ کھلم کھلا نہ سہی‘ اندر خانے چپقلش ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتی۔ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات مثالی ہیں۔ ہماری مجوزہ اقتصادی راہداری کے مقابلے میں ایران اور بھارت دونوں ایک پیج پر ہیں۔ یو اے ای میں چند ہفتے پہلے جو پذیرائی مودی کو ملی‘ پاکستان کو اپنی اوقات یاد آگئی۔ لے دے کر‘ عالم اسلام سے ہماری مراد سعودی عرب رہ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے تعلقات‘ بلاشبہ قریبی ہیں مگر ان تعلقات کی تہہ میں ہمارے حکمرانوں اور سعودی حکمرانوں کے شخصی روابط کا کردار‘ ریاستی کردار کی نسبت زیادہ ہے۔ ہمارے تارکین وطن کو جو وہاں ملازمتیں کر رہے ہیں یا ہمارے حجاج کو‘ کبھی بھی دوسرے ممالک کی نسبت ترجیحی سلوک نہیں ملا۔
پھر‘ یہ قریبی تعلقات دو ملکوں کے دوطرفہ باہمی تعلقات ضرور ہیں‘ عالم اسلام سے ان کا کیا تعلق ہے؟
آپ بار بار اس تھیلے کو دیکھ رہے ہیں جو دیوار میں لگی کیل سے لٹکا ہے اور جس میں آپ نے کچھ دیر پہلے جذبات ڈالے تھے۔ ازراہ عنایت‘ ابھی جذبات کو تھیلے ہی میں رہنے دیجیے اور اس تازہ خبر پر غور فرمائیے۔ حکومت پاکستان کے اعدادوشمار کے لحاظ سے سعودی عرب اور ایران دو ایسے ممالک ہیں جو پاکستان میں اپنے مدارس کو سب سے زیادہ مالی امداد پہنچا رہے ہیں۔ ہمارے میڈیا نے بی بی سی کے حوالے سے بتایا ہے کہ تین سو مدارس اس ضمن میں نمایاں ہیں۔ سعودی عرب 172 اور ایران 84 مدارس کی مدد کر رہا ہے۔ قطر‘ کویت‘ یو اے ای‘ امریکہ‘ انگلینڈ‘ یورپی ممالک اور جنوبی افریقہ بھی حسب توفیق اس کارِخیر میں حصہ لے رہے ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ 172 مدارس جو سعودی عرب نے منتخب کیے ہیں اور یہ 84 مدارس جو ایران کے منظور نظر ہیں‘ اپنے طلبہ کو اٹلی اور برازیل کی تاریخ پڑھا رہے ہوں گے؟ یا جاپان اور فلپائن کے جغرافیے کا درس دے رہے ہوں گے؟ ہم جانتے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب عقائد‘ سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ بچے کو بھی معلوم ہے اور کپڑے پھاڑ کر‘ نوالے منہ کے بجائے کان میں ٹھونسنے والا پاگل بھی جانتا ہے کہ ایران سے مدد لینے والے مدارس اپنے طلبہ میں ایران کی محبت اور سعودی عرب سے وابستہ مدارس اپنے طلبہ میں سعودی نقطۂ نظر سے پیار بھر رہے ہیں!
اب معاملے کا ایک اور پہلو دیکھیے۔ روزنامہ دنیا نے کل کی اشاعت میں یہ راز کھولا ہے کہ مودی دراصل پاکستان کو روس اور ایران کا پیغام دینے آئے تھے۔ پیغام یہ تھا کہ پاکستان 34 ملکوں کے اسلامی اتحاد میں شامل نہ ہو۔
ایک لمحے کے لیے بھول جائیے کہ پیغام کس کا تھا اور لانے والا کون تھا؟ ظاہر ہے کہ مودی بھارت کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے اور صدر پیوٹن کی اولین ترجیح روسی مفادات ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارا مفاد کیا ہے؟
ہمارا مفاد۔ ہمارا اولین مفاد۔ ملک کے عوام ہیں۔ ان عوام کے درمیان ہم آہنگی پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ کیا ہمیں نہیں معلوم کہ پاکستان قرضوں کے لحاظ سے‘ عقائد کے اعتبار سے‘ زبانوں‘ نسلوں اور قومیتوں کے حوالے سے ایک متنوع اور رنگارنگ سرزمین ہے۔ یہ تنوع اور یہ بوقلمونی ہی ہمارے ملک کا حسن ہے اور اگر ہم نے دانش مندانہ رویہ نہ اپنایا تو یہ رنگارنگی‘ یہ تنوع‘ ہمارے لیے اضطراب کا باعث بھی بن سکتا ہے! اگر ہم پاکستان کے خیرخواہ ہیں تو ہمیں وہ اقدامات فوراً سے پیشتر اٹھانے ہوں گے۔
اوّل : ایران اور سعودی عرب کے درمیان جو سرد جنگ جاری ہے‘ اور جو تیزی سے صف آرائی کی طرف گامزن ہے‘ اس جنگ میں ہمیں غیر جانبدار رہنا ہو گا۔ ہمارا واسطہ نہ اُس اتحاد سے ہونا چاہیے جو روس ‘شام اور ایران کے درمیان ہے ‘نہ ہی اُس سے جو اس کے مقابلے میں تشکیل پا رہا ہے! ہمارے ہاں شیعہ بھی ہیں اور سُنی بھی۔ ہم کسی ایسی پالیسی کے متحمل نہیں ہو سکتے جو ہمارے ماتھے پر ان دونوں میں سے کسی ایک بلاک کا لیبل لگا دے۔ ہماری مسلح افواج میں تمام فرقوں اور تمام عقائد کے افسر اور جوان شامل ہیں اور سب ملک پر قربان ہونے کا عزم رکھتے ہیں۔ ہماری عافیت اسی میں ہے کہ دونوں اتحادوں سے دور رہیں!
ہمیں دوٹوک فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا ان ملکوں سے اپنے مدارس کے لیے امداد قبول کرنا ہمارے لیے سودمند ہے یا مُہلک؟ کیا ایران ہمیں اجازت دے گا کہ ہم وہاں سُنی آبادیوں کے لیے مسجدیں بنوائیں اور کیا جزیرہ نمائے عرب میں ہم شیعہ یا بریلوی مکتب فکر کے مدارس کو امداد بہم پہنچا سکتے ہیں؟ حضور! ان دونوں ملکوں میں تو چڑیا پر نہیں مار سکتی! پاکستانیوں کی ہر دو ملکوں میں وہ چھان بین ہوتی ہے اور ائرپورٹوں پر اُن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے کہ ’’عالم اسلام کے اتحاد‘‘ کا پول کُھل کُھل جاتا ہے۔ حکومت پاکستان پر لازم ہے کہ دونوں ملکوں سے صاف صاف کہے کہ کسی مدرسہ کو مدد نہ دیں ورنہ یہ مدد پاکستان دشمنی پر محمول کی جائے گی! یہاں ایک سوال وزارت داخلہ سے کرنے کو دل چاہتا ہے۔ کیا وزارت داخلہ کے ارباب قضا و قدر کو معلوم ہے کہ ان مدارس میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؟ پڑھانے والے کون ہیں؟ اور گزشتہ تین یا پانچ برسوں میں فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ اِس وقت کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟
کوئی مانے یا نہ مانے‘ زمینی حقیقت یہ ہے کہ اسلامی اتحاد ایک روحانی تصور ہے۔ اس کا سیاست‘ معیشت اور معاشرت سے کوئی عملی تعلق نہیں! کون سا اسلامی اتحاد؟ بنگلہ دیش اور پاکستان کے باہمی تعلقات اس اتحاد کی اصلیت کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جو آگ جل رہی ہے‘ درست ہے کہ اس کے جلانے میں امریکی ہاتھ کا عمل دخل ہے مگر کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ امریکہ کو اشیرباد مسلمان ملکوں کی حاصل رہی ہے؟ ایران اور عراق برسر پیکار رہے۔ پھر عراق نے کویت پر چڑھائی کر دی۔ خطے کے اسلامی ممالک نے عراق کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کی ہر ممکن معاونت کی۔ ترکی اور ایران صدیوں سے ایک دوسرے کے مخالف چلے آ رہے ہیں۔ یمن میں مسلمان مسلمان کو مار رہا ہے! ان تمام حقائق کو پس پشت ڈال کر جو حضرات الیکٹرانک میڈیا پر اسلامی اتحاد کے حوالے سے لچھے دار گفتگو کرتے ہیں ان میں سے کچھ تو خود فریق ہیں کیونکہ ان کے مدارس کو بیرونی امداد ملتی ہے اور کچھ اپنے آپ کو عوامی سطح پر مقبول سے مقبول تر بنانے کے لیے اس امرت دھارے کا استعمال کر رہے ہیں! 
سادہ لوح عوام کو اسلامی ممالک کے نام تک نہیں معلوم! یہ تک نہیں پتا کہ اپنے ملک کے صوبوں میں کیا کچھ ہو رہا ہے‘ اسلامی اتحاد کے نام پر ان سادہ لوح عوام کے خون کو گرم کرنا آسان ترین سرگرمی ہے۔ مقبول عام ہونے کا یہ نسخہ اکسیر ہے!
مشرق وسطیٰ میں آگ جل رہی ہے! ہمیں اس آگ سے اپنے ملک کو بچانا ہو گا۔ سرحدیں اس قدر مضبوط کرنا ہوں گی کہ کوئی رضا کار ایران کے تربیتی کیمپوں میں جا سکے نہ داعش میں شمولیت اختیار کر سکے۔ ہمیں اپنے سادہ دل لوگوں کو قائل کرنا ہو گا کہ یہ عقائد کی جنگ ہے‘ نہ اسلام کی‘ یہ عالمی طاقتوں کے مفادات کی جنگ ہے۔ روس امریکہ کو باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر برابر کا حریف ہے۔ امریکہ اپنی برتری کو بچانے کے درپے ہے۔ یہ راز کی بات نہیں کہ مشرق وسطیٰ میں فرقہ وارانہ جنگ کی منصوبہ بندی امریکہ کے پالیسی سازوں نے چالیس پچاس برس پہلے کر لی تھی اور جو کُچھ ہو رہا ہے‘ منصوبہ بندی کے عین مطابق ہو رہا ہے!

Tuesday, December 29, 2015

بادشاہ ہزارے نا ہوسی

یہ ایک نمایاں اور ممتاز یونیورسٹی تھی۔ جس کلاس میں گفتگو کرنا تھی اس کے طلبہ اصل میں کالجوں کے اساتذہ تھے جو ایک ہی صوبے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا کیا خیال ہے، کالج میں پڑھانے والے کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں؟ نہیں! اعلیٰ تعلیم یافتہ! ایم اے کے ڈگری ہولڈر‘ ملک کی آبادی کے عشیر عشیر سے بھی کم! مگر جب عینک ایک خاص رنگ کے شیشوں کی پہنا دی جائے اور ذہن کو ایک کٹہرے میں لپیٹ کر دنیا سے لاتعلق کر دیا جائے تو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم بھی لاحاصل ثابت ہوتی ہے۔ وہ جو کسی نے کہا تھا کہ تعلیم بھی فلاں کا کچھ نہیں بگاڑ سکی‘ تو کسی ایسے ہی موقع پر کہا تھا!
بات صرف اتنی ہوئی کہ ان طلبہ سے خطاب کرنے والے نے ایک واقعہ سنا دیا جو کچھ عرصہ قبل پنجاب کے شہر لاہور میں پیش آیا تھا۔ ایک نواب صاحب پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ کسی بد دماغ نے سوال کر دیا کہ جھوٹ سچ میں تمیز کرنے کے لیے جلتے سلگتے انگاروں پر چلانا کہاں کا انصاف ہے۔ نواب صاحب نے فخر سے جواب دیا کہ یہ ہماری روایت ہے! طلبہ کو واقعہ سنانے کا مقصد یہ تھا کہ روایت کے نام پر ظلم و جہالت کو جاری رکھنا عوام کے لیے سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ مگر کُچھ طلبہ برافروختہ ہو گئے!
اب مزے کی بات یہ تھی کہ بر افروختہ ہونے کے لیے دلیل کوئی نہیں تھی! یہ تو کہہ نہیں سکتے تھے کہ جلتے کوئلوں پر چلانا شرعی یا قانونی یا سائنسی اعتبار سے جائز ہے! لے دے کہ ایک ہی نکتہ تھا کہ ہمارے سرداروں کو کچھ نہ کہا جائے!
سرداری یا بادشاہی کی بقا کے لیے سب سے ضرری حفظ ماتقدم کیا ہے؟ عوام کو باور کرانا کہ تم فلاں قبیلے سے تعلق رکھتے ہو اس لیے برتر ہو‘ اور تمہارا حکمران یا سردار یا نواب تنقید سے بالاتر ہے! رضا شاہ پہلوی نے اپنے گرد تقدس کا جو ہالہ بُنا تھا‘ کیا تھا؟ اور کس لیے تھا؟ یہ کہ بادشاہ مقدس ہے! غلطی سے بادشاہ نے ٹائم غلط بتا دیا تو اسے ٹوکنے کے بجائے پورے ملک کی گھڑیاں غلط ٹائم کے مطابق تبدیل کر دی گئیں۔ ابوالفضل اور فیضی کے لکھے ہوئے روزنامچے پڑھ کر دیکھ لیجیے، لگتا ہے نعوذ باللہ بادشاہ نہیں‘ پیغمبر کا تذکرہ ہے! اسی طرح! جی ہاں، بالکل اسی طرح! اگر قبیلے کے ہر فرد کو یہ یقین دلایا جائے کہ تمہاری سلامتی اسی میں ہے کہ تمہارا قبیلہ تمہارے سردار کی قیادت میں زندگی بسر کرے اور جو روایات صدیوں سے چلی آ رہی ہیں‘ تمہارے لیے باعث فخر ہیں‘ تو لوگ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود عصبیت کو اوڑھنا بچھونا بنا لیں گے اور اگر تعلیم یافتہ افراد قبیلے میں اتنے ہیں جتنا آٹے میں نمک تو معاملہ اور بھی آسان ہے!
زخم کریدنے کو دل اس لیے چاہ رہا ہے کہ بلوچستان کے ریگستان میں چند مربع فٹ پر مشتمل جو نخلستان آیا تھا‘ گزر گیا ہے۔ آگے پھر لق و دق صحرا ہے۔ ٹوٹی ہوئی طنابیں ہیں۔ اُکھڑے ہوئے خیمے ہیں۔ ہر آن محل وقوع بدلتے خوفناک ٹیلے ہیں اور بے امان مسافر!
گزشتہ چالیس سال کے دوران جتنے وزیراعلیٰ آئے‘ سب سردار تھے اور نواب! عطاء اللہ مینگل‘ جام غلام قادر خان‘ محمد خان باروزئی‘ میر ظفر اللہ خان جمالی‘ خدا بخش مری‘ نواب اکبر بگتی‘ ہمایوں خان مری‘ تاج محمد جمالی‘ ذوالفقار علی مگسی‘ محمد نصیر مینگل‘ اختر مینگل‘ میر جان محمد جمالی‘ جام محمد یوسف‘ محمد صالح بھوٹانی‘ نواب اسلم رئیسانی اور غوث بخش باروزئی۔ ان صاحبوں میں سے کُچھ دو دو بار بھی سریر آرائے اقتدار ہوئے۔ یہ سب وہ امرا ہیں جو وسیع و عریض جاگیروں کے مالک ہیں۔ اپنے اپنے قبیلے کے سردار ہیں یا حد درجہ ممتاز ارکان! قبیلے ان کے سامنے دست بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ ان کی زبانوں سے نکلا ہوا لفظ قانون بنتا ہے۔ کئی کئی سو مسلح پہرے دار ان کے جلو اور عقب میں ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر و بیشتر وہ ہیں جن کے محلات کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ہیں۔ ان کے قبیلوں کی اکثریت نے کوئٹہ بھی نہیں دیکھا مگر یہ لوگ بڑے بڑے شہروں میں زندگی گزارتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو ملازمت یا کاروبار کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جاگیروں سے آمدنی آتی ہے۔ معدنیات ان کی ملکیت میں ہیں!
پورے صوبے میں ان صاحبوں سے کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ حضور! آپ نے اپنے عہد اقتدار میں کتنے کالج بنوائے؟ کتنی یونیورسٹیاں قائم کیں؟ کتنے ہسپتال بنوائے؟ کتنے کارخانے لگوائے؟ زراعت کو کتنا مشینی بنایا؟ چلیں‘ صوبے کو چھوڑیے‘ اپنے قبیلے کے کتنے طلبہ کو آپ نے آکسفورڈ یا ہارورڈ بھجوایا؟ ان مقتدر افراد سے‘ جو ہر وقت پروٹوکول کے سائے میں رہتے ہیں‘ کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ آپ کے قبیلے میں خواندگی کا تناسب کیا ہے؟ کتنی عورتیں تعلیم یافتہ ہیں؟ کتنے لوگوں کے پاس اپنے گھر ہیں؟ صوبے میں آپ کے قبیلے کی آبادی کے لحاظ سے کیا پوزیشن ہے اور ملازمتوں کے لحاظ سے قبیلہ کہاں کھڑا ہے؟
کیا آپ کو معلوم ہے کہ بلوچستان کے سرداری نظام کی مثال‘ افریقہ اور جنوبی امریکہ کے کچھ مافیا زدہ ملکوں کو چھوڑ‘ دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے؟ کیا آپ جانتے ہیںکہ سردار نئی بندوق ٹیسٹ کرنے کے لیے گلی میں گزرنے والے کسی بھی شخص کو نشانہ بنا سکتا ہے؟ کیا آپ کے علم میں ہے کہ کالجوں اور سکولوں کی عمارتیں ان سرداروں کے غلّے کا گودام ہیں؟
غلامی کی اِس بدترین شکل کی ذمہ دار پاکستان کی ریاست ہے۔ اڑسٹھ سال ہو گئے‘ بلوچستان کے معاشرے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ صدیوں پرانا قبائلی طرز زندگی جاری و ساری ہے۔ ملک کے دارالحکومت میں جو نام نہاد پالیسی ساز بیٹھے ہوئے ہیں‘ سچی بات یہ ہے کہ وہ اُس وژن سے، اُس ادراک سے محروم ہیں جو تبدیلی لانے کے لیے درکار ہے! عبدالمالک بلوچ پہلا غیر سردار تھا جسے اڑھائی برس کی چیف منسٹری ملی۔ اب اس گناہ کا کفارہ ادا کیا جا رہا ہے۔ اقتدار سرداروں کے پاس واپس آ گیا ہے۔
قبائلی طرز زندگی ان سرداروں کو خوب راس آتا ہے۔ اس طرز زندگی میں کوئی شخص خم ٹھونک کر ان کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا! کچے گھر میں رہنے والا ایک ناخواندہ قبائلی جس کے بیوی بچے ہزار سالہ قدیم زندگی گزار رہے ہیں‘ کندھے پر بندوق رکھ کر فخر سے کہتا ہے کہ میں بگتی ہوں‘ مری ہوں‘ مینگل ہوں اور اپنے سردار کا وفادار ہوں! اُسے آپ لاکھ بتائیں کہ تمہارے کچھ حقوق بھی ہیں‘ وہ آپ کی بات نہیں مانے گا! اصرار کریں گے تو آپ کو حکومت کا یا اسٹیبلشمنٹ کا یا پنجاب کا گماشتہ قرار دے گا! وہ جو اقبالؒ نے گوشے میں بیٹھے ہوئے اور دنیا سے کٹے ہوئے مسلمان کے لیے کہا تھا کہ ؎
اس سے بہتر ہے الٰہیات میں اُلجھا رہے
یہ کلام اللہ کی تاویلات میں اُلجھا رہے
تو بلوچستان کا عام باشندہ اگر پتھر کے زمانے میں رہ رہا ہے تو رہتا رہے۔ سرداری نظام کا بھلا اسی میں ہے!
پتا نہیں یہ واقعہ ہے یا زیب داستاں کے لیے بات گھڑی گئی۔ صدر ایوب خان کی وفات پر اُن کے علاقے کے لوگوں نے جلوس نکالا اور مطالبہ کیا کہ ’’بادشاہ ہزارے نا ہوسی‘‘۔ بادشاہ تو دوسرا ہزارے سے نہ آ سکا مگر یہ طے ہے کہ بلوچستان کی حکمرانی سرداروں کے پاس ہی رہے گی! 

Monday, December 28, 2015

پسِ دیوار قسمت کب سے بیٹھی رو رہی ہے


ظلّ ہما پر درد کا شدید حملہ ہوا۔ 23 برس کی یہ لڑکی کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ شعبے کی طالبہ تھی۔ گھر والوں نے ٹیکسی میں ڈالا اور جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سینٹر کی طرف بھاگے۔
مگر کراچی شہر پر صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نازل ہو چکے تھے۔ شاہراہیں بند تھیں‘ راستے مسدور تھے‘ گھنٹوں انتظار کے بعد ہسپتال پہنچے تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ اپنڈکس پھٹ چکا تھا۔ ظلّ ہما کمانڈو صدر کی رعیت سے نکل کر ایک اور عدالت میں پہنچ چکی تھی‘ یہ قتل 2006ء کے اپریل میں ہوا۔ گورنر عشرت العباد سے لے کر وزیراعلیٰ ارباب رحیم اور سٹی ناظم مصطفیٰ کمال تک کسی کو ظلّ ہما کے گھر آ کر معافی مانگنا تو درکنار تعزیت کرنے کی بھی توفیق نہ ہوئی۔ اخباری بیان تک جاری کرنا مناسب نہ سمجھا گیا!
یہ کالم نگار بلاول زرداری کی موروثی سیاست کی ہم نوائی کرنے والا اس ملک میں آخری شخص ہو گا۔ مگر بسمہ کی موت پر سیاست دانوں اور مصنوعی سیاست دانوں کے ’’غم زدہ‘‘ بیانات پڑھ اور سُن کر ہنسی نہ آئے تو کیا ہو؟ چھاج تو بولے مگر نو سو چھید دامن میں رکھنے والی چھلنی کو بولنے کا کیا حق ہے؟ کیا ہی دلچسپ اور مضحکہ خیزخبر ہے کہ آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین جنرل مشرف اور ان کی جماعت کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ سیاست دان پروٹوکول کی لعنت ختم کر دیں کیونکہ بقول ان کے پروٹوکول کی وجہ سے بسمہ کی ہلاکت انسانیت کے لیے باعث شرم ہے! اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز ایم کیو ایم کے ایک لیڈر کا بیان ہے کہ شہریوں سے جانوروں کا سلوک بند کیا جائے اور ذمہ داروں پر قتل کا مقدمہ درج کیا جائے!
اپنے عہد ہمایونی میں پرویز مشرف صاحب جب بھی کراچی آئے‘ شہر پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ محتاط سے محتاط اندازے کے مطابق بھی ہر بار دل کے کئی مریض‘ ٹریفک بند ہونے کی وجہ سے گاڑیوں میں مر گئے۔ کسی ’’حق پرست‘‘ نے کسی موقع پر بھی چُوں تک نہ کی کیونکہ حق وہی ہوتا ہے جو راس آئے اور جس سے مفاد وابستہ ہو! اور پھر پرویز مشرف صاحب تو اپنے تھے!
18 اپریل 2004ء کو صدر پرویز مشرف لاہور تشریف لائے۔ جیل روڈ‘ مین بلیوارڈ اور ساری لنک روڈز بند کر دی گئیں۔ مزنگ چونگی چوک‘ بہاولپور روڈ اور ریلوے روڈ پر ٹریفک رُکی رہی! تنگ آمد بجنگ آمد ‘پولیس سے ہاتھا پائی کی نوبت آئی۔
3 ستمبر 2002ء کو جنرل صاحب کراچی آئے۔ ہمیشہ کی طرح وہ تمام راستے بلاک کر دیے گئے جو شاہراہ فیصل پر نکلتے ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے امراض قلب‘ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ‘ کڈنی سینٹر‘ غرض تمام ہسپتالوں کے راستے بند ہو گئے۔ جب بھی صدر کا شہر میں ورودہوا‘ معصوم بچے رُل گئے اور شام گئے گھروں تک پہنچے۔ ایم کیو ایم نے جو ہڑتالیں کیں اور کرائیں‘ ان کا شمار ممکن ہے ‘نہ اُن اموات کا جو ان ہڑتالوں کے دوران ہوئیں۔ 2010ء میں صدر زرداری کوئٹہ کے دورہ پر تھے۔ شہر کو سیل کر دیا گیا ۔ایک حاملہ عورت نے رکشے میں بچے کو جنم دیا۔ یاسر عرفات کے لاہور آنے پر شہر کو قیامت کی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ قصور کی حاملہ عورت نے فورٹریس سٹیڈیم کے سامنے‘ سڑک پر سوزوکی ڈبے میں بچے کو جنم دیا اور دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اپنی وزارت کے زمانے میں ذوالفقار مرزا صاحب نے خیابان شمشیر کو اپنی زر خرید جاگیر بنایا ہوا تھا۔ دونوں طرف سپیڈ بریکر تھے۔ جب بھی گھر سے نکلتے یا واپس آ رہے ہوتے‘ راستے بند کر دیے جاتے۔ ایک ایسے ہی موقع پر معروف ماہر تعمیرات ثمر علی خان نے جرأت دکھائی‘ بند ٹریفک کے درمیان گاڑی سے نکل کر احتجاج کیا‘ پھر گھنٹی بجا کر صاحب خانہ یعنی ذوالفقار مرزا سے بات کرنا چاہی۔ نتیجہ وہی نکلا‘ جو نکلنا تھا۔ ثمر علی خان کو درخشاں پولیس سٹیشن میں بند کر دیا گیا! لاہور کے شاہی خاندان نے بابل کے معلّق باغات تو‘ کرم کیا‘ کہ شہر سے باہر جا کر تعمیر کیے مگر شہر کے اندر بھی کئی پوش علاقوں میں ان کے بُوہے باریاں ہیں۔ اردگرد کی سڑکوں کے مکینوں سے کون پوچھے کہ اُن پر کیا گزرتی ہے۔
جو کُچھ دارالحکومت میں ہوتا آیا ہے اور ہو رہا ہے‘ سب سے سوا ہے! ’’رُوٹ لگنا‘‘ ایک ایسا منحوس‘ مکروہ محاورہ جو ہر راہگیر کی زبان سے گالی بن کر نکلتا ہے خواہ وہ راہگیر پیدل چلنے والا ہے یا اپنی گاڑی خود ڈرائیو کر رہا ہے یا کسی کا ڈرائیور ہے یا ٹیکسی‘ بس یا ویگن چلا رہا ہے۔
اِس بے بضاعت لکھنے والے نے غلامی کی اس علامت پر سب سے زیادہ لکھا ہے اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں! یہاں تک کہ پڑھنے والے تنگ آ گئے ۔اندرون ملک اور بیرون ملک سے قارئین نے کہا کہ کیا رائی کا پہاڑ بنا رکھا ہے! جنوبی ایشیا میں یہ ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا! یہ وہی طرز فکر ہے جس کے سبب لوگ کہا کرتے تھے کہ قتل کرائے تو کیا ہوا! آخری بادشاہ مخالفین کو مرواتے ہی رہے ہیں‘ یہ بھی تو دیکھو کہ بھٹو صاحب سُوٹ کتنے اچھے پہنتے ہیں اور انگریزی کتنی خوبصورت بولتے ہیں!
مگر بسمہ کی اندوہناک موت نے اِس ملک کی تاریخ کا ایک نیا ورق الٹا ہے! جنوبی ایشیا کی تاریخ بدلے گی اور ضرور بدلے گی! پاکستانیوں کے مقدر میں ہمیشہ کی غلامی نہیں لکھی گئی! قوموں کا مقدر قومیں خود بناتی ہیں! دن بدل رہے ہیں۔ نو سال پہلے ظل ہما اسی ظلم کا شکار ہوئی تھی۔ مگر اُس وقت سب مُہر بہ لب تھے۔ کچھ کے ہونٹ مفادات کی شیرینی کھا کر بند تھے ‘کچھ اس خوف سے چُپ رہے کہ آمریت کا کوڑا کڑک رہا تھا۔ ’’ہوشیار‘‘ سیاست دان وردی استری کرنے کے لیے دھوبی بنے ہوئے تھے! حالت یہ تھی   ؎
بہت لمبی روش تھی باغ کی دیوار کے ساتھ 
پِس دیوار قسمت کب سے بیٹھی رو رہی تھی!
مگر پھر   ؎
چمن تک آ گئی دیوارِ زنداں! ہم نہ کہتے تھے!
آج وہی پاکستان ہے‘ وہی کراچی ہے‘ نثار کھوڑو نے قتل کا جواز پیش کیا تو سوشل میڈیا میں طوفان بپا ہو گیا یہاں تک کہ بلاول زرداری کو مقتولہ کے گھر جا کر اس غیر دانش مندانہ بیان پر معذرت کرنا پڑی۔
مگر ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑنے والے مریض اس لعنت کا ایک چھوٹا سا شکار ہیں! اصل شکار وہ عزت نفس ہے جس کو شاہی جلوس موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ ایک شریف شہری‘ خون پسینے کی کمائی سے خریدی ہوئی گاڑی پر اپنے گھر یا کام پر جا رہا ہے۔ وہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ گاڑی کے سارے ٹوکن ادا کردہ ہیں! سڑک پر بچھی ہوئی تارکول اُس کی جیب سے نکلے ہوئے پیسے سے خریدی گئی ہے۔ سڑک بنانے والے ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں اُس کی کمائی سے کی گئی ہیں یہاں تک کہ بدطنیت‘ بداصل اور حرام خور انجینئر افسروں کے تنور نما شکم میں ڈالے جانے والے کمیشن کا بوجھ بھی اُسی کی کمر پر لادا گیا ہے۔ اچانک ایک سپاہی سیٹی بجاتا ہوا‘ سڑک پر ایڑیوں کے بل گُھوم کر اسے روک دیتا ہے۔ نہ رکے تو اُس کے بونٹ پر مکہ مارتا ہے یا بندوق تان لیتا ہے کہ فرعونوں کی طرح گردن اکڑانے والوں نے گزرنا ہے! وہ فرعون جو ٹیکس نہیں دیتے اور جو کروڑوں روپوں کی گاڑیوں میں بیٹھے ہیں۔ وہی گاڑیاں جو روکے جانے والے شہری کے ادا کردہ ٹیکسوں سے خریدی گئی ہیں! ہسپتال جانے والا وہیں دم توڑ دیتا ہے! حاملہ عورت بچے کو وہیں جنم دے دیتی ہے۔ طالب علم کمرہ امتحان میں نہیں پہنچ سکتا۔ ائرپورٹ یا ریلوے سٹیشن جانے والا خوار و زبوں ہو جاتا ہے۔ کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ جس حاکم کو جمہور نے زمام اقتدار اس لیے سونپی تھی کہ جمہور کے دکھوں کا مداوا کرے‘ وہ اُسی جمہور کے گلے پر پائوں رکھتا ہے اور پھر پوری قوت سے پائوں کو دباتا ہے!
عمران خان کا اعلان کہ کے پی کے میں اس لعنت کا خاتمہ کر دیا جائے گا‘ ہوا کا رُخ بتاتا ہے! رُخ متعین ہو چکا ہے! دیر ہوئی ہے‘ اندھیر نہیں۔ وہ جو انگریز محاورہ استعمال کرتے ہیں کہ
 IT IS A BIG IF
 تو عمران خان کا اعلان بھی ایک بہت بڑا 
IF
 ہے۔ پروٹوکول کے مارے ہوئے ‘احساس کم تری کا شکار‘ ذہنی مریض‘ ہٹو بچو کی بیساکھیوں کے بغیر کہاں رہ سکتے ہیں مگر ایک بار مریض کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا آ گیا تو چلنا بھی شروع کر دے گا۔ وزیراعظم اور صوبائی حکمرانوں کی اور پارٹی کے موروثی مالکوں کی سواریاں عام ٹریفک کا سامنا کریں گی تو ٹریفک کے مسائل بھی کم ہو جائیں گے۔ پولیس کا رویہ بھی منصفانہ ہو جائے گا۔ کیا عجب اس حوالے سے ہم بھی مہذب اقوام میں شمار ہونے لگیں۔ 
1986ء کی بات ہے۔ سویڈن کا وزیراعظم آدھی رات کو سینما میں فلم دیکھ کر‘ گھر کی طرف پیدل جا رہا تھا۔ بیگم ساتھ تھی۔ پیٹھ پر گولی لگی اور وزیراعظم کی موت واقع ہو گئی۔ حکمرانوں نے اس خوفناک واقعہ کے بعد بھی سکیورٹی کا حصار اپنے گر دنہ قائم ہونے دیا۔ سترہ سال بعد 2003ء میں سویڈن کی وزیر خارجہ اینا لَینڈھ کو ایک نامعلوم قاتل نے چُھرے کے پے در پے وار کر کے اُس وقت موت کے گھاٹ اتار دیا جب وہ گاہکوں سے بھرے ہوئے ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں شاپنگ کر رہی تھی۔ ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی کہ حکمرانوں کو اپنی حفاظت کے لیے سکیورٹی کے اندر رہنا چاہیے مگر ملک کے اہل سیاست نے خاص طور پر برسر اقتدار سیاست دانوں نے طرز زندگی تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عام شہری ہی کی طرح رہیں گے۔ چنانچہ اب بھی وہ عام ٹرینوں میں سفر کرتے ہیں۔ سبزی اور کریانے کی دکانوں سے اپنا سودا سلف خود خریدتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ جسے جان کا خطرہ لاحق ہو‘ وہ سیاست میں آئے نہ حکومت میں بلکہ گھر بیٹھے  ع
جس کو ہو دین و دل عزیز‘ اُسکی گلی میں جائے کیوں؟

Friday, December 25, 2015

انتہا

کس مونہہ سے؟
کس برتے پر؟
جو کچھ ہم حلب میں کر رہے ہیں اور جو کچھ عدن میں کر رہے ہیں اور جو کچھ بیروت میں کر رہے ہیں اور جو کچھ رقّہ میں کر رہے ہیں اور جو کچھ دمشق میں کر رہے ہیں اور یہ جو ہم قبریں اکھاڑ رہے ہیں‘ قیدیوں سے قبریں کھدوا کر انہیں ان قبروں میں لیٹنے کا حکم دے رہے ہیں‘ عورتیں فروخت کر رہے ہیں بچوں کو اچھال کر سنگینوں میں پرو رہے ہیں‘ اسلحہ کبھی سعودی عرب سے یمن اور کبھی ایران سے بھیج رہے ہیں‘ جنگ جُو کبھی تہران سے دمشق بھیجتے ہیں اور کبھی وزیرستان سے‘ کبھی پیرس پر حملہ کرتے ہیں تو کبھی لندن پر۔قندوز میں خون بہاتے ہیں تو کبھی قندھار میں! ہم میں سے کچھ ہلمند پر حملہ کرتے ہیں اور کچھ دفاع‘ عورتوں کو گھروں میں بند کر دیتے ہیں یا چوراہوں پر سنگسار! بچوں کے ہاتھوں میں غلیلیں دیتے ہیں۔ ان کے کاندھوں پر بندوقیں رکھتے ہیں اور ان کے کچّے ‘ادھ پکے جسموں پر بارودی جیکٹیں پہناتے ہیں۔دیدہ دلیری کی انتہا ہے کہ یہ سب کچھ کر کے ہم بارہ ربیع الاول کو دربارِ نبوت میں بھی حاضر ہو جاتے ہیں۔جس مقدس ہستی کا نام‘ فرشتے بھی درود پڑھے بغیر زبان پر نہیں لاتے‘ جہانوں زمانوں اور کائناتوں کا پروردگار‘ خدائے عزّو جلّ ‘ خود جن پر درود بھیجتا ہے اور پھر اپنے کلام میں اس کا اعلان کرتا ہے‘ اس ہستی کے دربار میں یہ سب کچھ کر کے ہم کس مونہہ سے کس برتے پر حاضر ہونے کی جسارت کرتے ہیں؟
دنیا کی کون سی برائی ہے جو ہم میں موجود نہیں‘ ہم جو کچھ کر رہے 
ہیں‘ اس میں ایک لمحے کا رخنہ نہیں برداشت کر سکتے‘ ٹیکس بچا کر ہم حکومت کو غچہ دیتے ہیں‘ حکومتی کارندوں کو کرپٹ کرتے ہیں خوراک میں زہر ملا رہے ہیں‘ ادویات میں جعل سازی کر رہے ہیں‘ معصوم بچوں کے دودھ میں ملاوٹ کر رہے ہیں۔ کارخانے اور دکان کے ساتھ والی زمین آہستہ آہستہ ہڑپ کر رہے ہیں‘ سرکاری رقبے پر راتوں رات مسجد یا مزار یا خانقاہ یا مدرسہ تعمیر کر لیتے ہیں‘ دین کے نام پر لوگوں کی جیبوں سے رقم نکلواتے ہیں اور پرورش اس سے اہل و عیال کی کرتے ہیں!لاکھوں روپے کی تنخواہ لیتے ہیں مگر ڈیوٹی پر گیارہ بجے پہنچتے ہیں۔ سرکار سے پچانوے ہزار ماہانہ گاڑی کی مد میں لے کر بے حیائی کے ساتھ سرکاری گاڑی اور سرکاری ڈرائیور بھی استعمال کرتے ہیں‘ ریٹائرمنٹ کے بعد توسیع کے لیے ہر فرعون کے تلوے چاٹتے ہیں۔ فائلوں پر وہ کچھ لکھتے ہیں جس سے قوم کی پھنسی ہوئی کشتی مزید ہچکولے کھاتی ہے کروڑوں بناتے ہیں اور بنانے والوں کی چشم پوشی کرتے ہیں!
مذہب کے نام پر کبھی جزیرہ نمائے عرب سے درہم لیتے ہیں کبھی ایران سے ریال اور کبھی لیبیا قطر اور عراق سے دینار! پھر خلقِ خدا کے سامنے دستار باندھ کر‘ عبا اوڑھ کر‘ تسبیح کے دانے گھما کر‘ ہونٹ ہلا کر آسمان کی طرف دیکھ کر‘ اللہ اللہ یوں کرتے ہیں جیسے دل باہر آ جائے گا!پھر راتوں کی تاریکی میں دوسرے مسلک والوں پر حملے کے منصوبے بناتے ہیں! دن کی روشنی میں حکومت کا ساتھ دیتے ہیں!
قطر سے گیس لاتے ہیں‘ نندی پور اجاڑ دیتے ہیں۔ مہینے میں دو بار لندن ‘ تین بار بیجنگ اور چار بار ترکی جاتے ہیں‘ اقتدار صاحبزادوں کو سونپ دیتے ہیں۔ عوام کے خون پسینے سے چلنے والے جہازوں میں براتیں ڈھوتے ہیں‘ رعایا کا ماڈل ٹائون کر دیتے ہیں ۔سرکاری سکولوں کو اصطبل اور ہسپتالوں کو ذبح خانوں میں تبدیل کر رہے ہیں‘ ڈاکو راج ہر طرف پھیلا ہے‘ اغوا برائے تاوان انڈسٹری بن چکا ہے سٹریٹ کرائم سکہ رائج الوقت ہے مگر پولیس کو ہم خانہ زاد غلام بنا کر اپنے محلات پر مامور کیے ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو ممیاتی بھیڑ بنا کر الیکشن جیتنے کے فن کو سائنس بنا دیتے ہیں۔
ہم نے حاجیوں کے احرام بیچ کھائے‘ چالیس چالیس کارٹن ڈیزائنر سوٹوں سے بھرے ہوئے ان محلات میں اتروائے جو تحفے میں ملے تھے! ہم نے ڈکشنری میں کمال دیدہ دلیری سے ایم بی بی ایس کے معنی تک تبدیل کر ڈالے۔ ایوان صدر کو وال سٹریٹ بنا دیا‘ گماشتوں کو لاکھوں کروڑوں روپے خزانے سے عیدی کی مد میں بخش دیے۔ پٹرول اور گیس کے محکموں سے اور ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کو کنٹرول کر کے بیس بیس کروڑ روپے روزانہ کماتے رہے‘ ہم وہ ہیں جو ماڈلوں اور یاروں کو بچانے کے لیے حکومتیں دائو پر لگا دیتے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت کو اٹھا کر دساور لے جاتے ہیں‘ ہاتھوں پر بٹھاتے ہوئے اور سدھائے عقابوں کو حکم دیتے ہیں کہ ہمارا دفاع کریں! پارٹی کو ہم نے خاندان میں میں یوں بند کر رکھا ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کرتے ہیں!
ہم سات سمندر پار بیٹھ کر اہلِ وطن سے پائونڈ منگواتے ہیں ‘ بوریوں میں لاشوں کو بند کرتے ہیں‘ پوری ایک نسل کو کتاب اور قلم سے ہٹا کر سیکٹر کمانڈروں کی بندوقوں کے سائے میں بٹھادیتے ہیں۔ سرحد پار جاتے ہیں تو اپنے ہی ملک کی تشکیل کو غلط قرار دیتے ہیں‘ پھر اسی ملک کے خزانے سے ہائی کمیشن میں ڈنر بھی اڑاتے ہیں ۔ بھارت سے مال کھاتے ہیں‘ اپنے حواریوں کے کنبوں کو بیرون ملک مقیم کراتے ہیں اور سیاست ان سے ملک کی کراتے ہیں!
ہمارا عام آدمی جو اپنے آپ کو غریب کہتا ہے سب سے زیادہ ڈھیٹ اور بے شرم ہے۔ وہ ریڑھی سے گندے سیب اور پھٹے ہوئے ٹماٹر گاہک کی نظر بچا کر اس کے تھیلے میں ڈالتا ہے‘ گھر کا کوڑا کرکٹ گلی میں پھینکتا ہے‘ گھر کے نقشے کو خلافِ قانون تبدیل کرا کے رشوت دیتا ہے۔ کم نمبروں کے باوجود بچے کے داخلے کے لیے سفارشیں ڈھونڈتا ہے‘ بیٹی کی پیدائش کے جرم میں بیوی کو گالیاں اور طلاق کی دھمکیاں دیتا ہے‘ پڑوسی کو اذیت پہنچاتا ہے‘ دن میں دس بار جھوٹ بولتا ہے اور پانچ بار وعدہ خلافی کا ارتکاب کرتا ہے‘ قرض لے کرواپس نہیں کرتا‘ رشتہ داروں سے قطع تعلق کرتا ہے‘ بچوں کے سامنے جھوٹ کی قسمیں کھاتا ہے اور ان کے پیٹ میں حرام کی چوگ ڈالتا ہے‘ یہ سب کچھ کر کے وہ اپنے آپ کو عام شہری کہتا ہے اور غریب کہلواتا ہے۔ اُس کے خیال میں اصلاح صرف لیڈروں کی اور حکومتوں کی اور علماء کی اور امرا کی اور وزیروں کی اور افسروں کی اور جرنیلوں کی ہونی چاہیے!
ہم یہ سب کچھ سارا سال کرتے ہیں! اگلے سال بھی یہی کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہاتھ باندھ کر دربارِ نبوت میں کھڑے ہو جاتے ہیں ہم کتنے ’’جری‘‘ اور ’’بہادر‘‘ ہیں جس ادب گاہ میں جنیدؒ اور با یزیدؒ جیسے اولیاء اللہ سانس روک کر حاضر ہوتے ہیں‘ جس کے حوالے سے اقبال جیسا شخص کہتا ہے کہ    ؎
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہِ مصطفی پنہان بگیر
 کہ میرا حساب کتاب حشر کے دن کرنا بھی ہو تو نگاہِ مصطفی سے چھپا کر کیجیو! اُس ادب گاہ میں ہم ناپاک قلوب اور متعفن روحوں کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں‘ اور دوسرے دن پھر وہ سب کچھ کرنا شروع کر دیتے ہیں جو گزشتہ برس کرتے رہے! ہم ایک لمحے کے لیے بھی رُک کر نہیں سوچتے کہ کل ‘ حشر کی دھوپ میں‘ اور پُل صراط پر اور حوضِ کوثر کے کنارے‘آپ ﷺ کی نگاہوں کا سامنا کیسے کریں گے؟ انتہا ہے! دیدہ دلیری کی انتہا ہے!

Saturday, December 19, 2015

ایجنڈا

34مسلمان ملکوں کے اتحاد کی تشریح اس اتحاد کے معمار سفارت کاری کے انداز میں کر رہے تھے مگر امریکی وزیر دفاع نے نرم گفتاری کو ایک طرف رکھ کر اسے ایک خاص مسلک سے منسوب کر دیا ۔
اصل سوال اور ہے، بالکل اور! وہ یہ کہ کیا یہ اتحاد جارحانہ ہے؟ یا دفاعی ہے؟ابتدا کس نے کی؟ انگریزی محاورے کی رُو سے پھاوڑے کو پھاوڑا ہی کہنا پڑے گا، اُسے گلدان یا روئی کے بنے تکیے کا نام نہیں دے سکتے! دوسرے مسلک نے مشرق وسطیٰ میں عمل دخل کا اسّی کے عشرے ہی میں آغاز کر دیا تھا۔ یہ عمل دخل، زبان و بیان پر مشتمل نہ تھا، نہ محض تھیوری تھی، یہ جارحانہ عمل دخل تھا اور مسلّح عمل دخل تھا! اس لحاظ سے دیکھا جائے تو دوسرے مسلک کا یہ حالیہ اتحاد تیس پینتیس برس بعد وجود میں آیا ہے۔
 لبنان کی مسلّح جماعت حزب اللہ بظاہر تو اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے بنی تھی مگر اس میں شامل سب لوگ ایک خاص ملک سے تعلق رکھتے تھے۔ اسے مالی امداد ایران نے دی۔ اس کی رہنمائی ایرانی لیڈر شپ کے ہاتھ میں تھی۔ پندرہ سو ایرانی انقلابی گارڈ، شام کی اجازت سے آئے اور حزب اللہ کے ارکان کی جنگی تربیت کی۔ حزب اللہ کی تشکیل میں اسرائیل کا نام لیا گیا۔ اس نے اسرائیل سے لڑائیاں بھی لڑیں مگر جلد ہی حزب اللہ نے اپنے عمل سے واضح کر دیا کہ وہ دراصل مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثرونفوذ کا ہر اول دستہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں حزب اللہ ایران کی جارحانہ پالیسی کے ایک علامت ہے۔ ایک سمبل ہے! 2014ء کے جون میں نصراللہ نے اعلان کیا کہ ’’ہم نے شام میں جتنے جاں نثار شہید کیے ہیں، عراق میں اس سے پانچ گنا زیادہ شہید کرنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔ عراق میں شیعہ جنگ جوئوں کو حزب اللہ ہی نے تیار کیا۔ 2009ء میں آسٹریلیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ  ’’حزب اللہ عراق میں جنگی قابلیت حاصل کر چکی ہے۔ حزب اللہ کے یونٹ، ایران کے القدس بریگیڈ کے وسائل سے قائم کیے گئے ہیں‘‘! 
عالمِ اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے ذرائع ابلاغ محض اُن خبروں کی جگالی کرتے ہیں جو مغربی ذرائع ابلاغ پیش کرتے ہیں۔ ایران کے رہنما کھلم کھلا انقلاب کو برآمد کرنے کا اعلان ایک عرصہ سے کر رہے ہیں۔ مگر اس کا نوٹس، دوسرے مسلمان ملکوں کے ذرائع ابلاغ نے نہیں لیا، اس لیے کہ مغربی میڈیا اِس ’’ایکسپورٹ‘‘ کا اعلان اُس وقت کرنا چاہتا تھا جب مغرب کے مفاد کا تقاضا ہو! چالیس سال سے جو انقلاب برآمد ہو رہا تھا، اُس کا ذکر مغربی ذرائع ابلاغ نے کم ہی کیا مگر جیسے ہی سعودی عرب نے اتحاد تشکیل دیا، امریکی وزیر دفاع ڈھول لے کر کوٹھے پر چڑھ گیا اور ڈھنڈورا پیٹا کہ یہ سُنی کر دار ہے! اصل بات وہی ہے جو ایران کے سفارت کار زینل بیگ نے چار سو سال پہلے کر دی تھی اور جس کا تفصیلی ذکر گزشتہ کالم میں کیا گیا ہے۔ اُس نے یورپ سے شاہ عباس صفوی کو لگی لپٹی رکھے بغیر، بے مثال جرأت کے ساتھ لکھا تھا کہ یورپی طاقتیں ترکوں کے ساتھ مصالحت میں سنجیدہ ہیں نہ ایران کے ساتھ مخلص ہیں، وہ تو دونوں مسلمان سلطنتوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں تا کہ نقصان اسلام کو پہنچے!
افسوس ! آج کوئی زینل بیگ نہیں جو مسلمان طاقتوں کو سمجھائے! اگر ایرانی یہ سمجھ رہے ہیں کہ روس ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھے گا اور اگر عرب اس خیال میں ہیں کہ امریکہ ہاتھ سینے پر باندھ کر آمین بھی بلند آواز سے کہے گا تو دونوں احمقوں کی جنت میں ر ہ رہے ہیں ۔ ایران، جو جارحانہ حکمت عملی مشرق وسطیٰ میں اپنائے ہوئے ہے، کوئی مانے نہ مانے، وہ امریکہ کے طویل المیعاد منصوبے کے عین مطابق ہے۔ ایران کے پالیسی ساز، نا دانستہ، امریکی تھنک ٹینکوں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں۔ سعودی عرب اگر اس کے مقابلے میں دوسرے مسلک کا اتحاد بنا رہا ہے تو وہ بھی امریکی حکمت عملی کے مطابق ہے! اگر دونوں طاقتیں، (ایران اور عرب) اسلام اور عالمِ اسلام کا بھلا چاہتی ہیں تو ایک دوسرے کے ملکوں میں نقب لگانے کے بجائے ایک میز پر بیٹھیں اور پریشر گروپ تشکیل دینے کا سلسلہ ختم کریں!
آہ! عملی طور پر ایسا ہونا ناممکن نظر آرہا ہے۔زمینی حقائق کیا ہیں ؟ ہر سال فروری میں انقلاب ایران کی سالگرہ منائی جاتی ہے۔ اس سال یعنی فروری 2015ء میں اس سالگرہ کے موقع پر ایران کی ’’القدس فورس‘‘ کے کمانڈر، جنرل قاسم نے فخر سے کہا: ’’ہم پورے خطّے میں، بحرین اور عراق سے لے کر شام، یمن اور شمالی افریقہ تک اسلامی انقلاب کی ایکسپورٹ کا منظر دیکھ رہے ہیں!‘‘
اس سے پہلے کہ ہم ایکسپورٹ کی نوعیت پر بحث کریں۔ آئیے، دیکھتے چلیں کہ جنرل قاسم سلیمانی کتنی اہم شخصیت ہیں! ان کی اہمیت سمجھنے کے لیے القدس فورس کا تعارف ضروری ہے۔ القدس فورس ایرانی فوج کا وہ ڈویژن ہے جو بیرون ملک آپریشن کرتا ہے۔ جنرل قاسم گزشتہ اٹھارہ سال سے القدس فورس کے کمانڈر ہیں۔ حزب اللہ کو جنگی مدد القدس فورس ہی بہم پہنچاتی ہیں۔ پھر جب مالکی کی حکومت عراق میں بنی تو وہاں شیعہ ملیشیا کو القدس فورس ہی نے مستحکم کیا۔
شام میں بشار الاسد کو بچانے کے لیے ایران نے جو کوششیں کی ہیں، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں! ایران کے سپریم لیڈر جناب علی خامنہ ای نے روس میں اپناخصوصی ایلچی بھیجا اور صدر پوٹن سے مداخلت کی اپیل کی۔ روایت یہ ہے کہ پوٹن نے سفیر کو جواب دیا: ’’ٹھیک ہے، ہم مداخلت کر یں گے۔ جنرل قاسم سلیمانی کو بھیجو‘‘۔ جولائی 2015ء میں جنرل قاسم سلیمانی نے جا کر روسیوں سے بات چیت کی۔ انہوں نے میز پر شام کا نقشہ پھیلا کر، نشانات لگا کر، روسیوں کا سمجھایا کہ روسی کس کس طرح اور کہاں کہاں باغیوں کو شکست دے سکتے ہیں۔
ایرانی انقلاب کے موقع پر، اس سال جنرل قاسم سلیمانی کا یہ اعلان کہ ’’پورے خطے میں ، بحرین اور عراق سے لے کر شام یمن اور شمالی افریقہ تک، دنیا ایرانی انقلاب کو برآمد ہوتا دیکھ رہی ہے‘‘ کوئی معمولی یا عام اعلان نہیں! جنرل قاسم عملی طور پر انقلاب برآمد کرنے کے انچارج ہیں! عام مسلمان اسلامی انقلاب کی ایکسپورٹ سے یہی سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظامِ حکومت قائم ہوگا۔ مگر اصل میں انقلاب کی برآمد ایک نپی تُلی ڈرل ہے۔ جب یمن میں حوثی ایرانی مدد کے ساتھ منظر آرا ہوئے تو ایران کی ایک سرکاری ویب سائٹ نے حوثیوں کی حکمت عملی واضح کی۔ ایرانی انقلاب کی برآمد میں ’’عوامی کمیٹیاں‘‘ مرکزی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ عوامی کمیٹیاں انقلاب کی حفاظت کرتی ہیں اور اُن عناصر کی بیخ کنی کرتی ہیں جو انقلاب کے مخالف ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایک سٹریٹ فورس ہے۔ ایران کی عوامی ملیشیابھی جسے ’’سازمانِ بسیجِ مستضعفین‘‘ کہا جاتا ہے، ایرانی انقلاب کا ایک اہم ستون ہے۔ شام عراق اور یمن میں یہی ماڈل دُہرایا جا رہا ہے! 
صاف نظر آرہا ہے کہ خطے کے مسلمان ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو چکے ہیں۔ ایک طرف شام عراق اور ایران ہے اور ایرانی تنظیمیں ہیں جو ہر ملک میں موجود ہیں۔ روس بھی اسی صف میں ہے۔ دوسری طرف عرب اور ترک ہیں۔ امریکہ ان کا ساتھ دے رہا ہے۔ یہ اور بات کہ امریکہ نے کبھی کسی کا ساتھ نہیں دیا۔ وسائل کی دونوں طرف کمی نہیں! ایران اور عراق کے پاس بھی تیل کی دولت ہے اور عرب بھی پیٹرو ڈالر کما رہے ہیں۔ روس اس موقع سے فائدہ اٹھا کر عالمی بساط پر اپنے آپ کو نمایا ں کرنا چاہتا ہے۔ کریمیا میں فوج کشی کر کے وہ امریکہ کی مونچھیں پہلے ہی نیچے کر چکا ہے! ایک محتاط انداز ے کی رُو سے اِس وقت دنیا بھر میں آٹھ سو کے قریب امریکی بیسس
(Bases)
 موجود ہیں۔ دوسری طرف روس کے پاس 
Bases
صرف اُن ملکوں میں ہیں جو 1992ء سے پہلے سوویت یونین کا حصّہ تھے! روس دنیا کو یک قطبی
(Unipolar)
 صورتِ حال سے باہر نکال کر ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ بھی امریکہ کے برابر کی طاقت ہے۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال اُسے راس آ رہی ہے۔ امریکہ اگر بشارالاسد کے مستحکم ہونے کی بنا پر، بظاہر شکست خوردہ بھی لگ رہا ہے تو حقیقت میں کامیاب اور مسرور ہے اس لیے کہ مسلمانوں کو مسلک کی بنیاد پر تقسیم کرنا، امریکی ایجنڈے کا حصہ ہے! اور یہ سب کو معلوم ہے!!
کیا کوئی سبیل ایسی ہے کہ یہ فرقہ وارانہ صف بندی ختم کی جا سکے؟ خطّے کے نقطۂ نظر سے مشرق بعید کے اسلامی ممالک (انڈونیشیا، ملائشیااور برونائی) غیر جانب دار ہیں۔ مگر ان ملکوں میں مہاتیر جیسا دماغ اب نا پید ہے۔ بنگلہ دیش کردار ادا کر سکتا تھا مگراس کی  وزیراعظم کا ذہن اتنا ہی تنگ ہے جتنا قدیم فارسی شاعری میں محبوب کا دہانہ تنگ ہوتا تھا۔ ایک شے ’’او آئی سی‘‘ (آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس) ہوا کرتی تھی۔ جانے کس سیارے پر رہ رہی ہے!
کون ہے جو اُٹھے اور اِس خطرناک صورتِ حال کو سنبھالے، درجۂ حرارت کو کم کرے، ایرانیوں اور عربوں کو ایک میز پر بٹھائے! پاکستان کے پاس کبھی صاحبزادہ یعقوب خان اور آغا شاہی جیسی دانش مند ہستیاں ہوتی تھیں! اب بلبلوں اور قمریوں کی جگہ زاغ و زغن نے لے لی ہے! کیا علماء کرام کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں؟ شاید نہیں! اس لیے کہ ان میں سے جو درد مند دل رکھتے ہیں ، وہ گوشہ نشین اور گمنام ہیں! کوئی محمد اسد؟ کوئی ذوالفقار علی بھٹو؟ کوئی ذکی یمنی؟   ؎
اے خاصۂ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے
امّت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے

Friday, December 18, 2015

پرانے شکاری…نیا جال

بالآخر وہ ہو کر رہا جو امریکی تھنک ٹینک چاہتے تھے۔ سعودی عرب کے زیر انتظام 34 ملکوں کے اتحاد نے عالمِ اسلام میں اُس شیعہ اور سنی تقسیم پر مہر لگا دی ہے جس کا آغاز ایران نے کیا تھا اور پھر اِس تقسیم کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مسلسل تگ و دو کی! امریکی وزیر دفاع نے کسی لگی لپٹی بغیر کہہ دیا ہے کہ ’’یہ اتحاد امریکی حکمت عملی کے عین مطابق ہے جس کے تحت داعش کے مقابلے کے لیے سنیوں کے کردار کو وسعت دینا ہے‘‘
اس شیعہ سنی تفریق میں امریکی کردار تاریخ کے لیے نیا نہیں ہے۔ یہ ایک پرانی مہم کا تسلسل ہے۔ ایران کو ایک مسلک کی ریاست میں ڈھالنے کی ابتدا شاہ اسماعیل صفوی نے کی۔ اُس کی پالیسی کشت و خون کی پالیسی تھی۔ لاتعداد سنی مارے گئے۔ بہت سے پڑوسی ملکوں میں جا بسے۔ شاہ اسماعیل نے عرب امامیہ علماء کو دعوت دی کہ آ کر اِس ’’کام‘‘ میں اُس کا ہاتھ بٹائیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ اکثر عرب شیعہ علماء اپنی اِس روایت پر قائم رہے کہ کسی حکومت کی خدمت نہیں کرنی۔ انہیں اِس رسم پر بھی اعتراض تھا جو شاہ اسماعیل نے دربار میں شروع کی تھی کہ اس کے آگے جھکا جائے۔ عرب شیعہ علماء اِسے عقیدۂ توحید کے خلاف سمجھتے تھے۔ تا ہم ایک لبنانی عالم شیخ علی الامیلی نے شاہ اسماعیل کی دعوت کو قبول کیا۔ پہلے تو وہ کئی بار ایران گیا، اور بعد میں وہیں مقیم ہو کر شاہ اسماعیل کی شیعہ سازی کی مہم میں سرگرمی سے شریک رہا۔ یوں سمجھیے کہ یہ  لبنانی حزب اللہ کا آغاز تھا!
اس وقت صفوی سلطنت مشرقی اناطولیہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ شاہ اسماعیل سلطنت عثمانیہ کو تر نوالہ سمجھ رہا تھا۔ ایک وجہ یہ تھی کہ عثمانیہ 
سلطنت میں بسنے والے بہت سے ترکمان‘ شاہ اسماعیل سے ہمدردی رکھتے تھے۔ ایک خفیہ نیٹ ورک تھا جو ان ترکمانوں کو ایرانی حکومت سے جوڑے ہوئے تھا، تاہم ترکوں نے 1514ء میں شمال مغربی ایران میں شاہ اسماعیل کو ایک لڑائی میں بری طرح شکست دی۔ مشرقی اناطولیہ ہمیشہ کے لئے چھن گیا۔ آج بھی یہ ترکی ہی کا حصہ ہے۔ آج کے حالات کو سمجھنے کیلئے 1514ء کی اس جنگ کے اثرات پر نگاہ ڈالنی ضروری ہے۔ جو ترکمان‘ شاہ اسماعیل صفوی کو ناقابل شکست سمجھتے تھے، ان کا خیال غلط ثابت ہوا۔ مگر اس جنگ کا دوسرا نتیجہ مسلمانوں کے لئے بہت خطرناک نکلا۔ ایرانی سلطنت نے فیصلہ کرلیا کہ عثمانیوں سے نمٹنے کے لئے یورپ کی عیسائی طاقتوں کو ساتھ ملانا پڑے گا۔ ترک فوجیں یورپ میں آگے بڑھ رہی تھیں۔ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔ یوں یورپی طاقتیں، ایران کو دوست سمجھنے لگیں۔ سلطنت عثمانیہ دونوں کا مشترکہ ہدف تھا!
شاہ اسماعیل نے اس کے بعد یورپی ملکوں میں سفارتوں پر سفارتیں بھیجیں۔ اس نے ایک ایک یورپی  طاقت پر زور دیا کہ وہ مغرب سے ترکوں پر حملہ کریں تاکہ وہ مشرق سے حملہ کرے اور یوں ترک چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پس جائیں، برصغیر کے مغربی ساحل پر گوا کی پرتگیزی کالونی نے اس سفارت کاری میں نمایاں حصہ لیا۔ اس وقت  صفوی تخت پر شاہ عباس بیٹھ چکا تھا۔ گوا کے پرتگیزی وائسرائے نے ایک معروف سفارت کار ڈی گو وی کو ایران بھیجا۔ اس کے پاس ہسپانوی بادشاہ کا خط بھی تھا۔ اس خط میں ہسپانیہ نے ایران کو یقین دلایا تھا کہ جیسے ہی ایرانی، ترکوں پر حملہ کریں گے، یورپ بھی ترکوں پر چڑھائی کردے گا۔ دلچسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب ڈی گو وی نے گوا کے وائسرائے کی طرف سے تحائف پیش کرنے چاہے۔ ایرانی افسروں نے اسے متنبہ کیا کہ وائسرائے کا درجہ شاہ ایران کے برابر کا نہیں اس لئے بادشاہ کو یہ بتایا جائے کہ یہ تحائف ہسپانیہ کے بادشاہ نے بھیجے ہیں۔ عیسائی مشن کے پاس سرخ رنگ کی مجلد کتاب تھی جو حیات مسیح پر مشتمل تھی۔ شاہ عباسی نے اس کتاب میں گہری دلچسپی لی۔ بہرطور یہ طے ہوگیا کہ دونوں طاقتیں بیک وقت ترکوں پر حملہ کریں گی۔
مگر جب شاہ عباس نے ترکوں پر حملہ کیا تو یورپ سے کسی طاقت نے معاہدے کی پاسداری نہ کی ۔ شاہ عباس کی مایوسی انتہا کو پہنچ گئی۔1605ء میں اس نے یاددہانی کے لئے ایک اور سفارت میڈرڈ بھیجی، مگر اسے یہ حوصلہ شکن اور مایوس کن خبر ملی کہ ہابس برگ کے شہنشاہ روڈولف نے ترکوں سے صلح کرلی ہے۔ اس صلح کی افواہیں تو وہ سن رہا تھا مگر اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔ اس لئے کہ رو ڈولف نے پختہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ترکوں کو نہیں چھوڑے گا۔ اس یقین دہانی کی وجہ سے شاہ عباس کو ہابس برگ کے شہنشاہ سے اس قدر محبت اور عقیدت ہوگئی تھی کہ اس نے اپنی خواب گاہ کے دروازے پر اس کی تصویر آویزاں کر دی تھی اور خواب گاہ میں داخل ہوتے وقت اسے سلام کرتا تھا۔ اسے زیادہ قلق اس منافقت کا تھا کہ جس دن روڈولف نے اپنی ٹیم کو ترکوں سے مذاکرات شروع کرنے کا حکم دیا، ٹھیک اسی دن پراگ میں تین ایرانی سفارت کاروں کو رخصت کرتے وقت اپنا عہد دہرایا کہ وہ ترکوں کو لوہے کے چنے چبوا دے گا۔ دوسری بدقسمتی یہ ہوئی کہ ان سفیروں کو روس میں روک لیا گیا اور وہ تین چار سال بعد ایران پہنچے۔ یوں شاہ عباس کو بروقت خبر ہی نہ ہوئی کہ یورپی طاقتیں ترکوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہیں۔ ترکوں اور ہابس برگ کے درمیان یہ معاہدہ پچاس برس برقرار رہا۔ اس عرصہ میں ترکوں نے اپنے اندرونی معاملات پر توجہ دی اور ایران کے ساتھ اپنی سرحدوں کو ناقابل تسخیر بنالیا۔
شاہ عباس نے 1609ء میں ایک اور سفارت کار زینل بیگ کو یورپی دارالحکومتوں میں بھیجا تاکہ ترکوں کے خلاف مدد مانگے۔ زینل بیگ ایک دردمندانسان تھا اور حقیقت پسند بھی تھا۔ اس نے شاہ عباس کو یورپ سے خط لکھا اور بتایا کہ یورپی طاقتیں ترکوں سے صلح کرنے میں مخلص نہیں‘ نہ ہی وہ ایران سے مخلص ہیں۔ ان کا  اصل مدعا یہ ہے کہ ایرانی اور ترک آپس میں لڑتے رہیں اور مسلمان کمزور سے کمزور تر ہوتے رہیں تاکہ اسلام کو نقصان پہنچے۔ مگر شاہ عباس پر زینل بیگ کی نصیحت کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اب اس نے پوپ سے مدد کی درخواستیں کرنا شروع کردیں۔ پوپ سے اس نے یہ وعدہ بھی کیا کہ اگر بیت المقدس پر اس کا قبضہ ہوگیا تو وہ شہر پوپ کو پیش کردے گا۔ مگر پوپ جانتا تھا کہ یہ محض ہوائی ہے اور ایسا خواب ہے جس کا حقیقت میں بدلنا ازحد مشکل تھا۔ ایک سفیر ایران نے پولینڈ بھی بھیجا مگر وہ استراخان سے آگے نہ جاسکا اور تین برس روسیوں کی قید میں گزار کر ایران واپس آ گیا۔
اس سارے عرصہ میں شیعہ علماء اس سفارت کاری کی مخالفت کرتے رہے۔ وہ ترک مسلمانوں کے خلاف یورپ سے مدد مانگنے کو ازحد ناپسند کرتے تھے۔ اسی اثنا میں ترک سفیر ایرانی دربار میں پہنچ کر، شاہ ایران کو قائل کرنے کی مسلسل کوششیں کرتے رہے کہ ایران اور ترک سلطنتوں کو آپس میں جنگ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے خوشی صرف غیر مسلموں کو ہوگی۔ دربار کے شیعہ علماء نے اس کی تائید کی۔ مگرقزلباش عمائدین صلح کے مخالف تھے۔ بڑی بڑی جاگیریں قزلباشوں کے قبضے میں تھیں۔ جنگ کے وقت عسا کر وہی بہم پہنچاتے تھے اس لئے ایران نے ترک دشمن پالیسی جاری رکھی۔ اس پس منظر میں آج کے شرق اوسط کو دیکھا جائے تو کوئی تعجب نہیں ہوتا۔ سعودی عرب کے تجویز کردہ اتحاد کا سرگرم ترین رکن ترکی ہی ہوگا جو پہلے ہی شام میں ایرانی مداخلت کے خلاف ہے اور ایران کے مددگار، روس کا، طیارہ بھی جس نے حال ہی میں مار گرایا ہے۔ 
شیعہ سنی صف آرائی مشرقی وسطیٰ میں کن خطوط پر کی گئی ہے، اس کی تفصیل آئندہ نشست میں پیش کی جائے گی!

Monday, December 14, 2015

تنور! دوزخ کے! اور شکم کے!

اگر آپ نیدرلینڈز کے نقشے کو غور سے دیکھیں تو جنوب میں یہ ایک تنگ پٹی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس پٹی کے مغرب میں بیلجیئم ہے اور مشرق میں جرمنی۔ پٹی کے اُوپر والے، یعنی شمالی سرے پر نیدرلینڈز کا پانچواں بڑا شہر آئن دھوون واقع ہے۔
یہاں یہ وضاحت بھی ہو جائے کہ نیدرلینڈز کو ہالینڈ کیوں کہا جاتا ہے؟ نیندرلینڈز کے بارہ صوبے ہیں۔ دو صوبوں کے نام شمالی ہالینڈ اور جنوبی ہالینڈ ہیں۔ایمسٹرڈیم اور ہیگ جیسے بڑے بڑے شہر انہی صوبوں میں واقع ہیں۔ نیدر لینڈز کو دنیا میں اکثر و بیشتر ہالینڈ انہی صوبوں کی وجہ سے کہا جاتا ہے مگر، شمالی ہالینڈ اور جنوبی ہالینڈ سے باہر، دوسرے صوبوں میں ملک کے لیے ہالینڈ کا لفظ استعمال کیا جائے تو ناپسند کیا جاتا ہے۔
نیدرلینڈز کا سب سے چھوٹا صوبہ زی لینڈ ہے۔ نیوزی لینڈ کا نام اِسی صوبے کے نام پر ہے کیونکہ نیوزی لینڈ کو نیدر لینڈز ہی کے ایک جہاز ران نے دریافت کیا تھا۔
ہم آئن دھوون کے شہر کی بات کر رہے تھے۔ اس شہر کی ایک وجہ شہرت فلپس کمپنی بھی ہے۔ 1891ء میں دو بھائیوں گیراڈ فلپس اور اینٹن فلپس نے بلب بنانے کی چھوٹی سی فیکٹری لگائی۔ یہ اتنی بڑی کمپنی بن گئی کہ ہائی ٹیکنالوجی کی کئی کمپنیاں یہاں آ گئیں اور آئن دھوون صنعت اور ٹیکنالوجی کا عظیم الشان مرکز بن گیا۔ 2005ء میں پورے ملک نے ریسرچ پر جو رقم خرچ کی، اس کا ایک تہائی صرف آئن دھوون میں صرف ہوا۔ آج سے چار سال پہلے فلپس کمپنی نے ریسرچ کے لیے جو رقم مختص کی وہ پونے دو ارب یورو تھی اور یہ آمدنی کا صرف سات فی صد تھا! 
ایک ماہ پہلے آئن دھوون شہر پوری دنیا میں ایک اور وجہ سے مشہور ہوا۔ کرۂ ارض پر اس کی دھوم مچ گئی۔ سوشل میڈیا میں اس کے نام کا سیلاب آ گیا جو ابھی تک نہیں تھما۔ لاکھوں کمنٹس فیس بک پر آئے۔ لاکھوں نے لائک
(LIKE)
 کیا اور شیئر بھی! دنیا بھر کے اخبارات میں تذکرے ہوئے اور کئی ملکوں کے کروڑوں باشندوں نے اپنے اپنے ٹیلی ویژن پر اس شہر کا نام سنا!
آئن دھوون کی پولیس کو ایک ایمرجنسی ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ ایک خاتون کی طبیعت سخت خراب تھی۔ پولیس فوراً پہنچی۔ خاتون کا شوگر لیول خطرناک حد تک کم ہو چکا تھا۔ پولیس نے ایمبولینس بلائی اور خاتون کو ہسپتال روانہ کیا۔ مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ پولیس کی ڈیوٹی میں شامل نہ تھا۔
پولیس نے دیکھا کہ گھر میں خاتون کے پانچ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ یوں تو حکومت بھی اِن بچوں سے غافل نہ تھی۔ فوراً تلاش شروع ہوئی کہ مال کی عدم موجودگی میں ان کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ مگر اس میں تو وقت لگنا تھا۔ پولیس نے اس صورتِ حال میں بچوں کو اکیلا چھوڑنا گوارا نہ کیا۔ دو پولیس افسر گھر میں رک گئے۔ انہوں نے بچوں کے لیے کھانا تیار کیا۔ انہیں کھلایا پھر سُلایا! اس کے بعد برتن دھوئے اور باورچی خانہ صاف کیا!
اس واقعہ میں سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ایمرجنسی چوری، ڈکیتی یا قتل سے متعلق نہیں تھی۔ خاتون بیمار ہو گئی تھی۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ہمارے ملک میں پولیس سے رابطہ کر کے یہ بتایا جائے کہ اماں بے ہوش ہو گئی ہے۔ اگر کوئی سرپھرا ایسا کر بھی دے تو جواب میں تھانے سے ایک قہقہہ سنائی دے گا اور ساتھ ہی ایک کھردری آواز کہ پاگل دے پتر!یہ تھانہ ہے، ہسپتال نہیں۔ اگر پاکستان میں پولیس کسی مریض کے گھر پہنچے اور اسے ایمبولینس میں لٹا کر ہسپتال بھیجے تو یہ خبر آئن دھوون کی خبر سے بھی بڑی خبر بنے گی۔
پولیس کے بارے میں ہمارا بنیادی تاثر ہی منفی ہے۔ یعنی ڈر اور خوف والا! اس کا سبب یہ ہے کہ ہماری پولیس عوام کے لیے نہیں، حکمران کے لیے ہے! پہلے یہ برطانوی حکومت کی حفاظت کرتی تھی۔ تقسیم کے بعد یہ ان حکومتوں کی حفاظت کر رہی ہے جو برطانوی حکومت کی جانشین ہیں۔ آپ صرف اسی واقعہ پر غور کر کے دیکھ لیجیے جو تین دن پہلے پشاور میں پیش آیا۔ وزیر اعظم نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلامیہ کالج پشاور پہنچنا تھا مگر پولیس نے شہر کو سر بہ مہر کر دیا اور عوام کے گردے نکال کر خاردار درختوں پر ٹانگ دیئے۔ صبح جس وقت وزیر اعظم چک شہزاد اسلام آباد کے قریب ایک سکول میں طالبات سے خطاب کر رہے تھے، اُس وقت پشاور کی شہراہیں بند تھیں! اس لیے کہ وزیر اعظم نے ہیلی کاپٹر پر آنا تھا! اسلامیہ کالج پشاور سے گورنر ہائوس پشاور تک کا سفر بھی وزیر اعظم نے ہیلی کاپٹر ہی سے طے کیا۔ پشاور شہر کی شہ رگ یونیورسٹی روڈ ہے۔ اس روڈ کو پولیس نے بند کیا تو لاکھوں راہ گیر عذاب میں مبتلا ہو گئے۔ ٹریفک رنگ روڈ کی طرف موڑ دی گئی۔ رِنگ روڈ بھی ازدہام کی وجہ سے بلاک ہو گئی۔ صدر جانے والی ٹریفک اور صدر سے یونیورسٹی، یونیورسٹی ٹائون، تہکال اور حیات آباد جانے والی ٹریفک امن چوک پر روک دی گئی۔ پھر گردوں کے ساتھ ساتھ عوام کی انتڑیاں نکالنے کے لیے خیبر روڈ بھی بند کر دی گئی۔ ہزاروں افراد میلوں پیدل چلنے پر مجبور ہوئے۔ جن بچوں نے چھٹی کر کے بارہ بجے(اُس دن جمعہ تھا) گھروں میں پہنچنا تھا وہ سہ پہر کو اور کچھ اس کے بعد پہنچے۔ ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے درمیان اس معاملے پر نوک جھونک بھی ہوئی کیوں کہ پولیس نے اِس ’’عوام دوست‘‘ اقدام کی خبر ضلعی انتظامیہ تک پہنچنے ہی نہ دی۔ ضلعی انتظامیہ کو اُس وقت معلوم ہوا جب شہریوں کی سسکیوں، آہوں اور کراہوں کی آواز اُس تک پہنچی۔
کیا آپ نے کبھی پولیس کے افسروں اور جوانوں کے چہروں کو اُس وقت غور سے دیکھا ہے جب وہ کسی شاہی سواری کی آمد پر ٹریفک بلاک کرتے ہیں؟ اُن کے چہروں پر کس قدر رعونت، سختی اور اجنبیت ہوتی ہے! وہ بسا اوقات گاڑیوں کے بونٹ پر مکا مار کر اُسے رُکنے کا حکم دیتے ہیں اور کبھی کسی ٹیکسی ڈرائیور کو گالی دے رہے ہوتے ہیں۔ اس کالم نگار نے ایک بار پولیس کے ایک افسر سے پوچھا کہ ٹریفک کیوں روکی جا رہی ہے؟ اُس نے جواب دینے کے قابل تو نہ سمجھا مگر جن شعلہ بار نظروں سے دیکھا، وہ بھلائی نہیں جا سکتیں! اس رُکی ہوئی ٹریفک میں جب حاملہ عورتیں بچے جَن کر بے ہوش ہوتی ہیں یا دل کے مریض تڑپتے ہیں تو یہ پولیس مکمل لاتعلق رہتی ہے کیوں کہ یہ اُس کی ’’ڈیوٹی‘‘ میں شامل نہیں!
حکومتی پولیس اور عوامی پولیس میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ یہاں اگر چوری ہو، ڈاکہ پڑے یا قتل کا ارتکاب ہوتو پولیس کے دروازے پر جانا پڑتا ہے مگر مہذب ملکوں میں ایسے واقعات ہوں تو پولیس خود آ کر دروازے پر دستک دیتی ہے! ہزاروں لاکھوں پاکستانی نقصان اٹھانے کے باوجود وارداتوں کی اطلاع پولیس کو نہیں دیتے؟ کیوں؟ اس لیے کہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ دادرسی نہیں ہو گی اور رہا سہا مال، رہا سہا سکون اور رہی سہی عزت بھی تفتیش کی ’’نذر‘‘ ہو جائے گی!!
تو کیا پولیس کے اس خوفناک منفی تاثر کی ذمہ دار پولیس خود ہے؟ انصاف کی بات یہ ہے کہ نہیں! اس کی ذمہ داری پولیس نہیں! زیادہ سے زیادہ دس پندرہ فی صد ذمہ داری پولیس کے کندھوں پر آتی ہے۔ اس سے زیادہ نہیں۔ اس کی ذمہ داری پالیسی سازوں پر ہے! سیاست دانوں پر ہے جو حکمرانی کرتے ہیں۔ اُن آمروں پر ہے جو آ کر، ڈنڈا ہاتھ میں پکڑے، ملک کو سیدھے راستے پر چلانے کی بڑیں ہانکتے رہے اور پولیس کو بد سے بدتر کر گئے! اور بھیڑیے کی کھال اوڑھے اس بیورو کریسی پر ہے جو اصل میں بھیڑیے اور جس کی سفید اون سے تیار ہونے والے گرم کپڑے صرف خوشامد پسند حکمرانوں کے جسم گرم رکھتے ہیں! آج تک ایوان صدر اور وزیر اعظم کے دفتر میں براجمان کسی بیورو کریٹ نے، کسی نام نہاد پرنسپل سیکرٹری نے، کسی حکمران کو یہ نہیں کہا کہ حضور! پولیس کو غیر سیاسی 
(De Politicise)
 کیجیے تا کہ اس ملک کے عوام سکھ کا سانس لیں اور کھوئی ہوئی عزتِ نفس دوبارہ حاصل کر سکیں! نوکر شاہی کے ان بلند ترین نمائندوں کو اقتدار کے ایوانوں میں حکمرانوں کے ساتھ والے کمروں میں بیٹھ کر تنور تو یاد آتے ہیں مگر بدقسمتی سے یہ وہ تنور نہیں ہوتے جو دوز، میں ہوں گے، انہیں صرف اپنے شکم کے تنور یاد رہتے ہیں جو کبھی بھرتے ہی نہیں! پینتیس پینتیس سال، اڑتیس اڑتیس سال ملازمتیں کرنے کے بعد بھی ان کی رال بدستور ٹپکتی رہتی ہے۔ کوئی ایشیائی ترقیاتی بنک کو سدھارتا ہے اور کوئی عوام کے خون پسینے کی کمائی پر واشنگٹن چلا جاتا ہے۔ ایک صاحب نے فائل روکے رکھی یہاں تک کہ خود ایک اتھارٹی کے چیئرمین لگ گئے!
رہے حکمران! تو وہ پولیس کو غیر سیاسی کیوں کریں؟ اگر ایسا کریں تو کل ڈاکٹر عاصم کو بے گناہ کون قرار دے گا اور ماڈل ٹائون میں گولیاں کون چلائے گا؟
آج اگر سندھ یا پنجاب یا وفاقی دارالحکومت کے پولیس کے سربراہ کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ تمہارے کام میں مداخلت نہیں ہو گی! تمہاری رضا مندی کے بغیر تمہارے دائرہ کار میں کسی ایس پی، کسی ایس ایچ او اور کسی انسپکٹر کی تعیناتی نہیں ہو گی اور کسی مجرم کو چھوڑنے یا کسی بے گناہ کو پکڑنے کا حکم ’’اوپر‘‘ سے نہیں آئے گا مگر ریزلٹ سو فیصد درکار ہو گا تو یقین کیجیے، یہی پولیس جرائم کا بھی صفایا کر دے گی اور گھروں میں پہنچ کر بچوں کو کھانا بھی کھلائے گی!

Saturday, December 12, 2015

سچ کہتا تھا افضل خان

ایک انٹلیکچوئل اور ایک تاجر کے وژن میں کیا فرق ہے؟
ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم بنے تو بے نظیر بھٹو کو ’شباب جن کے دروازے پر دستک دے رہا تھا‘ وزارتِ خارجہ میں بٹھا دیا۔ فائلیں پڑھتی تھیں، ہو سکتا ہے ان پر کچھ لکھتی بھی ہوں۔ نہیں معلوم کتنا عرصہ یہ سلسلہ جاری رہا! 
مریم نواز امریکہ کے حالیہ دورے میں امریکی خاتونِ اوّل سے ملاقات کے دوران بولیں تو اچھا بولیں۔ اس سطح پر، گفتگو کرنے کے حوالے سے شہزادی کا غالباً یہ پہلا Exposure
 تھا! والدِ گرامی نے بیٹی کو میڈیا کا کام سونپا ہے جو اصلاً ایک منفی کام ہے۔ اس ملک میں میڈیا کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ دریا کے اِس کنارے والوں کی تعریف و توصیف اور ہر اقدام کی خواہ وہ کتنا ہی غیر دانش مندانہ کیوں نہ ہو، ایسی توجیہہ کہ مافوق الفطرت نظر آئے۔ اور دریا کے دوسرے کنارے کھڑے ہونے والوں کو ہر حال میں یزداں کے مقابلے میں اہرمن ثابت کرنا! امورِ مملکت میں تربیت دینے کا یہ ایسا انداز ہے جو ہرگز مستحسن نہیں! ہاں رموزِ مملکت اس سے ضرور سمجھے جا سکتے ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ ’’رموز‘‘ سے مراد ہمارے ہاں وہ ساری ترکیبیں ہیں جو ’’دوسری‘‘ قبیل سے تعلق رکھتی ہیں۔ چند دن پہلے احباب جمع تھے۔ کسی نے رونا رویا کہ وزیرِ خارجہ ہی کوئی نہیں! ایک دوست نے جو اعلیٰ سطح کے حکومتی عہدے پر ہیں، کہا کہ مریم نواز کو لگایا جا سکتا ہے! ایک معقول بات ہے۔ مگر یہ تو ہو کہ پہلے مرحلے میں وہ وزارتِ خارجہ میں بنیادی مراحل سے گزریں۔ سیکشن افسر، ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر جنرل کے دائرۂ کار سے براہِ راست واقفیت حاصل کریں۔ پھر ایسی فائلیں دیکھیں جو سیکرٹری اور مشیر کو بھیجی جا رہی ہیں! جوہر اگر قابل ہو تو تربیت زمین سے آسمان تک پہنچا دیتی ہے۔ سنائی نے کہا تھا  ؎
سالہا باید کے تایک سنگِ اصلی زآفتاب
لعل گردد  در  بد خشاں یا عقیق اندریمن
بدخشاں کا لعل اور یمن کا عقیق بننے کے لیے پتھر کو ایک عرصہ سورج سے فیض حاصل کرنا پڑتا ہے!
ذوالفقار علی بھٹو قلم اور کتاب کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ دانش ور تھے۔ اگر قریشیوں، کھروں اور دوسرے پشتینی جاگیرداروں سے پرہیز کرتے! اگر دلائی کیمپ والا کارنامہ نہ سرانجام دیتے! اگر لیاقت باغ میں گولیاں نہ چلتیں، اگر سیدھے راستے پر رہتے! اگر زرعی اصلاحات کا ڈول ڈالتے! مگر وہ کسی اور ہی راہ پر چل پڑے!
مریم نواز اور سشما سوراج کی باہمی ملاقات کی جو تصویر میڈیا میں چھپی ہے، وہ محض تصویر نہیں، آٹھ سو سالہ تاریخ کی علامت ہے۔ سشما، مریم نواز کے کندھوں تک مشکل سے پہنچ رہی تھیں۔ شاستری اور ایوب خان کے قد بھی ایسے ہی تھے۔ افغانستان اور وسط ایشیا سے ترک اور پھر مغل آئے۔ لمبے تڑنگے، سورما، گھوڑوں کی پیٹھیں تھک جاتیں، وہ نہ تھکتے۔ پستہ قد ہندو نشانہ بازی کے ماہر تھے، مگر گھوڑوں پر سوار، جو کارنامے وسط ایشیائی اور افغان، نیزوں، بھالوں اور تلواروں سے دکھاتے، انہیں حیران کر دیتے۔ ترک اور مغل شہزادیوں کی قامتیں قیامتوں سے کم نہ تھیں مگر جسمانی برتری کے باوجود مسلمان ہندو ذہن کی چالبازی سے اکثر و بیشتر دھوکہ ہی کھاتے رہے! بغل میں چھری منہ میں رام رام کا محاورہ یوں ہی نہیں بنا۔ شیواجی کو اورنگ زیب نے قید کیا تو مٹھائی کے ٹوکرے میں بیٹھ کر جُل دے گیا۔ اُس کی جگہ، اُس کا ہم شکل سوتیلا بھائی ہیراجی، یوں اداکاری کرتا رہا جیسے وہی شیواجی ہے! اورنگ زیب کو معلوم ہونے تک شیواجی منزلوں پر منزلیں مار چکا تھا!
کیا مریم نواز، چالاکی میں سشما سوراج کا مقابلہ کر سکتی ہیں؟ کیا ایوب خان نے مذاکرات میں شاستری کو پچھاڑ دیا تھا؟ نہیں معلوم ان سوالوں کے جواب کیا ہیں مگر پستہ قد شیواجی نے جو دھوکہ طویل قامت افضل خان کو دیا، کاش ہر پاکستانی اُس سے آگاہ ہو!
ضمیر جعفری نے کہا تھا   ؎
سچ کہتا تھا افضل خان
تری پورہ تا راجستان
مر گیا ہندو میں انسان
شیواجی جب اچھا خاصا دردِ سر بن گیا اور طاقت پکڑ گیا تو بیجاپور کے حکمران عادل شاہ نے اُس کا قصہ تمام کرنے کے لیے اپنے نامور جرنیل افضل خان کو مامور کیا۔ افضل خان شکست پر شکست دیتا شیواجی کے ہیڈ کوارٹر تک پہنچ گیا۔ شیواجی نے عاجزی اور ذلت کی چادر اوڑھ لی اور پیغام بھیجا کہ وہ تو اطاعت قبول کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ خان اُس کی جان بخشی کرے۔ یہاں افضل خان سادگی سے مار کھا گیا۔ یہی سادگی مسلمانوں کو مارتی رہی ہے۔ اُس نے یقین دہانی کرنے کے لیے ایک برہمن گوپی ناتھ کو ایلچی بنا کر بھیجا۔ شیواجی نے گوپی ناتھ کو دھرم کا واسطہ دے کر کہا کہ وہ تو جو کچھ کر رہا ہے‘بھوانی دیوی کو خوش کرنے کے لیے کر رہا ہے۔ گوپی ناتھ دھرم کی خاطر شیواجی کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گیا اور آ کر افضل خان کو آمادہ کیا کہ شیواجی اطاعت قبول کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے اس لیے افضل خان درخواست قبول کرے اور شیوا جی کو ملاقات کا شرف بخشے۔
شیواجی نے استقبال کی زبردست تیاریاں کیں۔ قالینیں بچھیں۔ سائبان تنے، سنہری خوبصورت خیمے نصب ہوئے۔ مگر ساتھ ہی جنگل کاٹ دیا تا کہ خان اپنی فوج کو چھپا نہ سکے۔ خان ملاقات کے لیے اپنے مستقر سے نکلا تو پندرہ سو جاں نثار ہمراہ تھے۔ مگر گوپی ناتھ نے چرب زبانی سے یقین دلایا کہ ان کی ضرورت ہی نہیں! خان پالکی میں تھا اور پرسکون موڈ میں تھا۔ ململ کا کرتا زیب تن تھا اور پاس صرف ایک تلوار۔ باڈی گارڈ بھی ایک ہی ساتھ لیا۔ نامور شمشیر زن! جس کا نام سید بندہ تھا! خان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ گوپی ناتھ غداری کر سکتا ہے!
شیواجی نے سرپر پگڑی کے نیچے لوہے کی ٹوپی پہنی اور عبا کے نیچے زرہ! خنجر اُس کی آستین میں چھپا تھا اور بدنامِ زمانہ مرہٹہ ہتھیار، لوہے کا ایک خاص پنجہ مٹھی میں بند تھا۔ اس کے کنارے کٹیلے تھے۔ افضل خان نے خیمہ گاہ سے دیکھا کہ شیواجی اپنی کمین گاہ سے نکلا اور اُس کی سمت چلا۔ چال سے عاجزی اور پست ہمتی نمایاں تھی! بظاہر مسلح بھی نہیں تھا! آ کر جھکا اور فرشی سلام کیا۔ افضل خان کا باڈی گارڈ خان کے احترام میں ایک طرف ہو گیا تا کہ خان آگے بڑھ سکے۔ شیواجی کا باڈی گارڈ بھی رُک گیا۔ مورخ لکھتے ہیں کہ طویل قامت، وجیہہ اور بارعب افضل خان کے سامنے شیواجی بونا لگ رہا تھا! افضل خان نے آگے بڑھ کر شیواجی کو گلے لگایا۔ شیواجی نے بند مٹھی کھولی اور قاتل کٹیلے کنارے افضل خان کے پیٹ میں بھونک دیئے۔ افضل خان اچھل کر پیچھے ہٹا۔ اس کے منہ سے لفظ نکلا... ’’دھوکہ‘‘۔ خان نے تلوار نکال لی۔ بلاکا وار کیا مگر تلوار فولادی زرہ سے ٹکرا کر ناکام واپس ہوئی۔ اس اثناء میں شیواجی نے آستین سے خنجر نکالا اور پے در پے وار کیے۔ سید بندہ تلوار سونتے آگے بڑھا مگر شیواجی اور اُس کے محافظ نے اسے قتل کر دیا۔ خان کے کہار اسے پالکی میں ڈال کر واپس بھاگے۔ راستے میں مرہٹے انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے خان کا سرکاٹ کر شیواجی کو بھیج دیا!
اب وہ زمانہ نہیں کہ ہمارے جرنیل کسی بونے بھارتی سے، کسی دور افتادہ گھاٹی میں ملاقات کریں۔ مگر یہ ضرور ہے کہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے! یہ طے ہے کہ کشمیر جنگ سے نہیں ملے گا۔ چین نے تائیوان کا مسئلہ حل کرنے کے لیے جنگ کا سہارا نہیں لیا۔ سیاح بھی آ جا رہے ہیں اور تجارت بھی ہو رہی ہے۔ مومن کی فراست اتنی پُراعتماد ہونی چاہیے کہ بھارت سے معمول کے تجارتی اور سیاحتی تعلقات اس فراست میں رخنہ نہ ڈال سکیں! جنگ ہمارے مسائل کا حل نہیں! خونریزی ہمارے مفاد میں نہیں! مگر یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ دہلی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ہونے والے فیصلوں سے شیواجی کی روح لا تعلق نہیں!!

Friday, December 11, 2015

کسبِ کمال

ہم تین دوست بیٹھے تھے۔ یونیورسٹی میں تینوں اکٹھے تھے اس لیے ایک دوسرے کے ’’اندرونِ خانہ‘‘ احوال سے واقف تھے، اپنے مسائل پر ایک دوسرے سے بات چیت کرتے تھے اور حل مانگتے تھے یا تجویز کرتے تھے۔ بھٹی نے اُس دن بھی وہی پرانی پٹاری کھول رکھی تھی۔ بیٹے ماشاء اللہ اس کے چار پانچ تھے۔ باعثِ اذیت اس کے لیے یہ تھا کہ دس بارہ جماعتیں پڑھنے کے بعد بریک لگ جاتی تھی۔ کسی کی کسی مضمون میں کمپارٹمنٹ آ جاتی تھی، کوئی پورا فیل ہو جاتا تھا،کوئی کالج میں داخلے لینے کے بعد پڑھائی میں عدم دلچسپی کا باقاعدہ اعلان کر دیتا تھا اور کوئی اگر فیل نہیں بھی ہوتا تھا تو آگے بڑھنے سے منکر ہو جاتا تھا!
اب تک تو جب بھی بیٹھتے تھے، یہی سوچتے تھے کہ کم از کم گریجوایشن تو کرلیں، مگر اُس دن ہم میں سے ایک کا میٹر بالکل پھِرا ہُوا تھا۔ اُس نے پوچھا، گریجوایشن، گریجوایشن کی جو ہم رٹ لگائے رکھتے ہیں، اگر دھکیل کر، مارکُٹ کر، لعن طعن کر کے، بہلا پھُسلا کر، گریجوایشن کر بھی لیں گے تو ظاہر ہے کہ اس سے آگے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہو گا۔ مگر کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ گریجوایشن کے بعد کیا کریں گے؟ اب تو ڈرائیور کا اشتہار دیا جائے تو بی اے، ایم اے کی درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔ لفٹ بوائے اچھے خاصے ڈگری یافتہ ہیں! نائب قاصدوں نے اوپن یونیورسٹی کی وساطت سے ایم بی اے تک کر لیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا تم نے کبھی بچوں سے پوچھا ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ آخر اُن کی اپنی خواہش بھی تو کچھ ہو گی؟ بھٹی نے اپنی اولاد کو ایک موٹی سی گالی دی اور کہا کہ بزنس کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں دکانیں کھول کر دو!
چوہدری کا میٹر اُس دن اچھا خاصا پھرا ہوا تھا۔ کہنے لگا، یار بھٹی! اللہ کا نام لو اور جو وہ چاہتے ہیں، انہیں کرنے دو! کاروبار چلا لیں گے تو کامیاب ٹھہریں گے، تم بھی ذمہ داری سے سبکدوش ٹھہرو گے، نہ چلا سکے تو شکوہ بھی نہیں کر سکیں گے اور یہ روز روز کی کِل کِل ختم ہو جائے گی!
بھٹی نے تین بیٹوں کو دکانیں ڈال دیں۔ ایک کو کھلونوں کی، دوسرے کو ریڈی میڈ گارمنٹس کی اور تیسرے کو سٹیشنری کی! پہلے دو نے اچھا خاصا کامیاب بزنس کیا۔ یوں سمجھیے اگر چوٹی پر پہنچنے کا مطلب دس ہے تو وہ کچھ ہی عرصے میں چھ تک پہنچ گئے۔ گریجوایشن کر کے کلرک بنتے (وہ بھی تب اگر کلرکی مل جاتی) تو دس میں سے مشکل سے چار تک پہنچ پاتے، تیسرا واقعی ٹیلنٹ رکھتا تھا۔ اس کی دکان کا محلِ وقوع بھی بہتر تھا۔ اُس کا وژن دور رس تھا۔ اس نے جنرل آرڈر سپلائی کا کام بھی شروع کر دیا۔ پانچ چھ سال بعد اُس نے ماں باپ کو حج کرایا۔ دس سال ہوئے تو شہر کے نواح میں اچھے خاصے رقبے پر مشتمل زمین خریدی، پھر ایک نسبتاً بہتر آبادی میں اپنے لیے بہت ہی مناسب مکان تعمیر کرایا۔ پھر ماں باپ کو اندرونِ شہر کی گھٹن سے نکالا اور ان کے لیے الگ رہائش گاہ بنوائی۔ چند ماہ پہلے معلوم ہوا کہ بزنس ٹرپ پر یورپ گیا ہوا ہے۔ 
یہ صرف ایک مثال ہے! کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ بچوں پر، کیریئر کے حوالے سے، ماں باپ کو اپنی خواہش مسلط نہیں کرنی چاہیے! لڑکا فائن آرٹس میں جانا چاہتا ہے، باپ اسے ڈاکٹر بنانے پر مُصر ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ڈاکٹر بن نہیں پاتا اس لیے کہ زبردستی کے سودے کم ہی کامیاب ہوتے ہیں۔ فائن آرٹس کا کیریئر بھی ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے پھسل جاتا ہے۔ بیٹی کی دلچسپی اکائونٹنسی میں ہے مگر ماں انجینئر بنانے پر مُصر ہے۔ بچوں کو ڈاکٹر یا انجینئر بنانے کے خبط نے کتنے ہی ذہین طلبہ اور طالبات کی زندگیاں بدمزہ کی ہیں! کتنے ہی بچے جو باکمال بزنس مین بن سکتے تھے، ماں باپ کی احمقانہ ضد کے سامنے بے بس ہو کر گریجوایٹ بنے۔ پھر ملازمت کے لیے در در کے دھکے کھاتے رہے۔ آخر کار کلرکی ملی۔ ساری زندگی کولہو کے بیل کی طرح مشقت کرتے رہے۔ بہت تیر مارا تو ریٹائرمنٹ سے ایک دو سال پہلے نام نہاد افسری ملی!
کیریئر پلاننگ، ہمارے ہاں سکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر ناپید ہے۔ ماں باپ کو پروا ہی نہیں کہ بچوں کا ذہنی میلان کس طرف ہے۔
باپ نے اپنی شادی سے پہلے ہی خواب دیکھ لیا تھا کہ اُس کا بیٹا ڈاکٹر بنے گا۔ اب وہ اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بیٹے کو قربانی کا بکرا بنانے پر تلا ہوا ہے۔ اساتذہ بے نیاز ہیں۔ اس امر کا تصور ہی نہیں کہ استاد طالب علم کے والدین کو طلب کرے، اُن سے بچے کے کیریئر اور ذہنی میلان پر گفتگو کرے اور پھر تینوں مل کر، طالب علم سے بات چیت کریں اور یوں اس کے کیریئر کا فیصلہ اس کی خواہش اور صلاحیت کے مطابق ہو!
ہر تحریر میں نصیحت کی جاتی ہے اور ہر تقریر میں یہ قولِ زریں دہرایا جاتا ہے کہ   ع
 کسبِ کمال کُن کہ عزیزِ جہاں شوی!
مگر یہ کوئی نہیں سوچتا کہ کسبِ کمال صرف اُس شعبے میں ہوتا ہے جو دل اور دماغ دونوں کو پسند ہو! ایک غریب آدمی کا بچہ چاہتا ہے کہ صوفہ بنانا سیکھے۔ یہ کام اُسے پسند ہے۔ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ پندرہ بیس سال بعد اُس کی اچھی خاصی بڑی ورکشاپ ہو، بیس پچیس کاریگر اُس کے ملازم ہوں، صوفوں کے آرڈر پر آرڈر آ رہے ہوں اور وہ ورکشاپ کے ایک کونے میں، شیشے کی دیواروں کے پیچھے، اپنے باعزت دفتر میں بیٹھا سب کی نگرانی کر رہا ہو۔ کسبِ کمال یہ ہے کہ وہ صوفے کو دیکھتے ہی جان جاتا ہے کہ اس کا ڈھانچہ کتنا مضبوط ہے، لکڑی کس قبیل کی لگی ہے اور کپڑا یا چرم لگانے والے سے کہاں چوک ہوئی ہے۔ اگر باپ صوفہ بنانے کے فن کو حقارت سے دیکھتا، اُسے دو گالیاں دیتا، تین تھپڑ رسید کرتا اور بارہ جماعتیں فیل یا پاس کرواتا تو وہ آج صاحب کو چائے پلا کر میز صاف کر رہا ہوتا!
ہماری عمر کے افراد کو، جو قیامِ پاکستان کے آگے پیچھے اِس دنیا میں آئے، یاد ہو گا کہ اُن دنوں مسجدوں میں پانی کے پائپ اور ٹونٹیاں نہیں ہوتی تھیں۔ مٹی کے کوزے ہوتے تھے۔ اِن کوزوں کا دہانہ تنگ ہوتا تھا۔ یہ وضو کے لیے اور نہانے کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے۔ وہ زمانہ حد درجہ کفایت شعاری کا تھا! بستیوں میں ماچس کی ایک تیلی بچانے کے لیے سلگتا ہوا انگارہ پڑوسن کے چولہے سے، دھات کے چوڑے ٹکڑے پر رکھ کر لایا جاتا تھا! لالٹین کا شیشہ ٹوٹتا تھا تو ٹوٹا ہوا ٹکڑا، آٹے سے یا سریش سے دوبارہ جوڑا جاتا تھا۔ چائے کی پیالی ٹوٹتی تھی تو پٹھان کاریگر اُسے ٹانکا لگا کر دوبارہ قابلِ استعمال کر دیتا تھا۔ اسی طرح کوزہ ٹوٹ جاتا تو اسے مسجد سے باہر نہیں پھینک دیا جاتا تھا۔ اُس پر چمڑے کا پیوند لگتا تھا۔ بزرگوں سے ایک ایسے ماہر کاریگر کے بارے میں بھی سنا، جو پیوند لگاتے وقت، سوئے کو کوزے کے اندر سے واپس بھی لے آتا تھا۔ اُس کی مہارت کا چرچا اتنا ہوا کہ علاقے کے حاکم نے دربار میں بلایا، اُس کے فن کا مظاہرہ دیکھا اور اسے انعام و اکرام سے نوازا۔ ہمیں کسبِ کمال کا بنیادی فلسفہ ہی معلوم نہیں! کسبِ کمال فقط یہ نہیں کہ آپ آنکھ کا آپریشن کرنے کے ماہر ہیں یا فائیو سٹار ہوٹل کی چین کامیابی سے چلا رہے ہیں یا لوہے کے ایک کارخانے سے دس کارخانے کما لیتے ہیں یا اے لیول طلبہ کو ریاضی یوں پڑھاتے ہیں کہ سب کامیاب ہو جاتے ہیں۔ کسبِ کمال یہ بھی ہے کہ آپ فرش پر ٹائلیں یوں لگائیں کہ دیکھنے والا آپ کے ہاتھ کی صفائی پر قربان ہو جائے۔ فرنیچر ایسا بنائیں کہ استعمال کرنے والا تہہ خاک جاسوئے مگر لکڑی خراب نہ ہو! کپڑا ایسا سیئیں کہ درجنوں سفیر یورپ واپس جا کر بھی ملبوسات آپ ہی سے سلوائیں اور باغبان ایسے ہوں کہ لوگ آپ کے پیچھے پیچھے پھریں!
رہی یہ بات کہ ہاتھ سے کام کرنے والوں کی ہمارے ہاں عزت نہیں اور یہ منافق معاشرہ انہیں حقارت سے دیکھتا ہے تو آپ اس معاشرے پر تین حرف بھیجئے۔ یہ اپنی موت آپ مر رہا ہے۔ یہ تہذیب اپنے خنجر سے خود ہی خود کشی کر رہی ہے! یہاں اگر بڑھئی کی، موچی کی، راج کی، درزی کی عزت نہیں تو پی ایچ ڈی استاد کی تکریم کہاں ہے؟ یہاں تو تنگ ذہن والا سیکشن افسر، باہر سے پڑھ کر آنے والے پروفیسر کو لوہے کے چنے چبوا دیتا ہے اور شام کو اپنے بے ضمیر ساتھیوں میں بیٹھ کر فائلوں پر حاصل کی ہوئی فتوحات کے قصے، ہنس ہنس کر سناتا ہے! جن ملکوں نے ترقی کی ہے وہاں ہائوس آف کامنز کے ممبر کے ساتھ والے گھر میں خاکروب رہتا ہے اور وزیر اعظم کی بیٹی، پلمبر کے بیٹے سے شادی کرے تو کسی کے پیٹ میں مروڑ نہیں اُٹھتے!

Thursday, December 10, 2015

مظلوموں کی پریڈ

عوام کے دلوں سے خدا کا خوف نکل چکا ہے۔ مظلوموں کی آہ آسمانوں کا سینہ چیر کر سیدھا اُوپر جا رہی ہے۔ آغا حشر کاشمیری کا شعر ایک زمانے میں زبان زد خاص و عام تھا‘ آج پھر اُس کا ورد کرنا چاہیے   ؎
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لیے
بادلو ہٹ جائو دے دو راہ جانے کے لیے 
ڈاکٹر عاصم مظلوم ہیں۔ اُن کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ وہ فریاد کناں ہیں کہ غصہ کسی اور پر ہے‘ نکل اُن پر رہا ہے۔ اُنہی کے ہسپتال میں انہیں اس طرح لے جایا گیا کہ ہاتھ لوہے سے بندھے تھے۔ کبھی کہا جاتا ہے‘ اتنے کروڑ روزانہ کے حساب سے لیتے رہے‘ کبھی الزام لگایا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا علاج معالجہ کراتے رہے۔ حالانکہ وہ بے قصور ہیں‘ معصوم ہیں!
آصف علی زرداری مظلوم ہیں۔ آہ! وطن سے دُور‘ جلاوطنی کے دن گزار رہے ہیں۔ اپنی سرزمین کی مٹی کو ترس گئے ہیں! غریب الوطنی صحت کو گھُن کی طرح کھا رہی ہے۔ روکھی سوکھی جو ملے زہر مار کرنا پڑتی ہے۔ یا رب کوئی جہاں میں اسیِر محسن نہ ہو! اُن کے احوال کا سُن کر کلیجہ مُنہ کو آتا ہے مگر افسوس! سوائے صبر کے چارہ نہیں!
قائم علی شاہ مظلوم ہیں۔ خوش قسمت لوگ ضُعف اور پیری کے عالم میں آرام کرتے ہیں‘ اولاد سے خدمت کراتے ہیں مگر شاہ صاحب کو اِس عمر میں طعنے سننے پڑ رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے سرکاری اجلاس میں اُس نے اُن کے خراّٹے خود سنے ہیں۔ کوئی طنز کرتا ہے کہ سانس لینے سے پہلے اجازت لیتے ہیں۔ کوئی نشتر چلاتا ہے کہ وظیفہ پڑھتے وقت کہتے ہیں ’’مُنہ طرف دبئی کے‘‘! کوئی کہتا ہے صوبے میں اہمیت کے لحاظ سے ان کا ساتواں نمبر ہے۔ کبھی بلاول کے ہاں حاضری دیتے ہیں تو کبھی صاحب کے (سوتیلے یا مُنہ بولے) بھائی کے ہاں! تھر کے قحط کا معائنہ کرنے گئے تو گاڑیوں کا جلوس لے کر کیا گئے کہ طعن و تشنیع کے انبار لگ گئے۔ اِس عمر میں قوم کی دن رات خدمت کر رہے ہیں اور اِس جذبے کے ساتھ کہ دل ان کا چاہتا ہے خدمت کرتے ہی رہیں۔ مگر مظلومیت کی انتہا کہ آفرین کہنے کے بجائے ظالم عوام کُچھ اور ہی کہتے پھرتے ہیں!
الطاف حسین مظلوم ہیں! ہائے افسوس! صد افسوس! بیس برس سے زیادہ عرصہ ہوا دیارِ غیر کی سختیاں سہہ رہے ہیں! وطن سے سات سمندر دُور‘ بھائی بہن‘ عزیز و اقارب کے ہجر میں مرغِ بسمل کی طرح روز و شب تڑپتے ہیں‘ مگر برطانوی حکومت جانے کی اجازت دیتی ہے نہ پاکستانی حکومت آنے کی! اور یہ دونوں کانٹے نکل جائیں تو ظالم عوام فرمائش کر دیتے ہیں کہ وہیں رہیے! اس پر مستزاد یہ کہ بیروزگار ہیں۔ سفید پوشی کا بھرم جُوں تُوں کر کے قائم رکھے جا رہے ہیں‘ ورنہ سچی بات یہ ہے کہ اُن کی حالت اُس خاندانی شریف کی طرح ہے جو اچکن پہن کر گھر سے نکلتا تھا‘ مگر تنگدستی کی وجہ سے اچکن کے نیچے کُچھ نہیں ہوتا تھا! اِن ساری مصیبتوں کے باوجود ہر وقت قوم کا غم کرتے ہیں!
حمزہ شہباز شریف مظلوم ہیں۔ پرسوں تو ان کی آنکھیں ماضی کو یاد کر کے چھلک چھلک گئیں۔ دادا جان کی چارپائی کو اُن کے علاوہ کندھا دینے والا کوئی نہ تھا! اچھے زمانوں میں جلا وطنی کے لیے حکومتیں کالا پانی چنتی تھیں‘ یا آسٹریلیا کا غیر آباد جزیرہ! اب ظلم کی انتہا دیکھیے کہ جدہ بھیجتے ہیں‘ جہاں لق و دق صحرا ہے اور باقر خانیاں بنانے والا خاص باورچی ساتھ نہ لے جایا جائے تو بیچارے جلاوطنوں کا بُھوک کے مارے جانے کیا حال ہو! حمزہ شہباز جوانی کے دن رات قوم پر لٹا رہے ہیں۔ رکن وفاقی پارلیمنٹ کے ہیں‘ اس کے باوجود اپنی جان کو ہلکان کرتے ہوئے صوبے کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ پارٹی بھی چلا رہے ہیں‘ انتخابات کی مشینری کو بھی گریس دیتے ہیں۔ مگر خدمات کا اعتراف کرنے کے بجائے لوگ نکتہ چینی کرتے ہیں!
مولانا فضل الرحمن مظلوم ہیں! پکار پکار کر قوم کو متنبہ کر رہے ہیں کہ عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے‘ مگر قوم ہے کہ کانوں میں روئی ڈالے ہوئے ہے! مدارس کا پارلیمنٹ میں دفاع کرتے ہیں اور مدارس شکریہ تک نہیں ادا کرتے! جب بھی قوم کی کشتی بھنور میں پھنستی ہے‘ مولانا صاحب اُسے خون آشام لہروں کے مُنہ سے نکال کر ساحل پر لاتے ہیں۔ مشرف کا زمانہ ہو یا بے نظیر کا‘ زرداری کا ہو یا میاں صاحب کا‘ وہ اپنی خدمات ہمیشہ پیش کرتے ہیں۔ بے پناہ مصروفیات کے باوجود کشمیر کمیٹی کو وقت دیتے ہیں۔ حکومتوں کے بے حد اصرار پر مجبوراً پروٹوکول قبول کرتے ہیں! اِس وقت مُلک میں اگر امن و امان ہے اور آٹا چاول نظر آ رہے ہیں تو مولانا کی جماعت کا بے لوث کردار اس کامیابی کی پشت پر ہے۔ مگر افسوس! طوطا چشم عوام اُن کو عجیب عجیب القاب و خطابات سے یاد کرتی ہے!
میاں شہباز شریف مظلوم ہیں! بغیر تنخواہ کے وزارت خارجہ کی بیگار کاٹ رہے ہیں۔ ایک ٹانگ چین ہے تو دوسری ترکی! کبھی برطانیہ کے لیے پا بہ رکاب ہیں تو کبھی شرق اوسط کا رُخ کیے ہوئے ہیں! صوبے کی فکر الگ ہے۔ فرزند ارجمند کی صلاحیتیں صوبے کو سونپ دیں! بارہ بارہ اٹھارہ اٹھارہ وزارتیں خود چلاتے ہیں۔ ایک میں اور اتنے لاکھوں سلسلوں کے سامنے! مگر عوام ہیں کہ خوش نہیں ہوتے۔ سڑکوں کے جال بچھا دیے‘ مگر نا شکر گزار قوم ہسپتال کا ذکر لے بیٹھی ہے جہاں مریض برآمدوں میں پڑے ہیں اور قینچی‘ روئی اور آکسیجن سلنڈر کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر بھی نایاب ہیں! لیکن اُن سرکاری سکولوں کا قصہ لے بیٹھتی ہے‘ جن کی چھتیں ہیں نہ دیواریں۔ اساتذہ ہیں نہ پینے کا پانی! کہیں تھانہ کلچر کے نہ بدلنے کا شکوہ کرنے لگتی ہے۔ حالانکہ شاہی خاندان نے اسٹامپ پیپر پر یہ لکھ کر ہرگز نہیں دیا کہ تین عشروں میں‘ محض تین عشروں میں‘ سکول ہسپتال اور تھانے جدید عہد میں داخل ہو جائیں گے!
ان مظلوموں کا موازنہ اگر عوام سے کریں تو صورت حال ایسی سامنے آتی ہے کہ دل بھر آتا ہے۔ المیہ زیادہ گمبھیر یوں ہو جاتا ہے کہ عوام کو ذرہ بھر ان مظلوموں کا احساس نہیں! حقیقت یہ ہے کہ عوام مظالم سے واقف تک نہیں! انہیں معلوم ہی نہیں کہ دبئی میں زندگی گزارنا کتنا جانکاہ اور کٹھن کام ہے! عوام کو جلاوطنی کے جیم کا بھی علم نہیں! جدہ کے محلات میں‘ لندن کے اپارٹمنٹوں میں اور دبئی کے ایوانوں میں زندگی گزارتے تو ان ظالم عوام کے چودہ طبق روشن ہو جاتے۔ جتنی دولت ڈاکٹر عاصم نے اکٹھی کی ہے‘ عوام اکٹھی کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ دولت حاصل کرنا آسان ہے مگر اُسے محفوظ رکھنے کے لیے قربانیاں دینا پڑتی ہیں‘ ہتھکڑیاں‘ جیلیں‘ عدالتوں میں پیشیاں‘ میڈیا بدنامی‘ ان میں سے عوام نے تو کچھ بھی نہیں دیکھا۔ جتنی کربناک زندگی حمزہ شہباز گزار رہے ہیں‘ عوام کے فرشتوں کو بھی اس کی خبر نہیں ایک جہاز سے اترنا‘ دوسرے پر سوار ہونا‘ میلوں لمبے پروٹوکول کے جلو میں چلنا‘ ماتحتوں‘ ملازموں اور وابستگان کے ہجوم میں رہنا‘ بیک قلم لوگوں کی تقدیریں بگاڑنا یا سنوارنا‘ یہ سب کتنا اذیت ناک ہے۔ عوام کو اِس انوکھی دنیا کے مصائب کا کوئی اندازہ ہی نہیں!
یہ مُلک اگر اب تک سلامت ہے تو اِن مظلوموں کی آہوں‘ کراہوں اور دعائوں کی بدولت! ان سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں! کاش وہ دن بھی آئے کہ ظالم عوام کیفر کردار کو پہنچیں‘ اور مظلوموں کا یہ گروہ مصائب کے چنگل سے رہائی پائے۔ اُمید کا دیا دُور‘ بہت دُور‘ ٹمٹا رہا ہے! ایک نہ ایک دن اِن مظلوموں کی ضرور سُنی جائے گی! احمد ندیم قاسمی نے انہی کے لیے کہا تھا   ؎
خراشیں دل کی امڈیں گی ندیم اک موجِ خوں بن کر
یہی پگڈنڈیاں مل جل کے بن جائیں گی شہراہیں

Saturday, December 05, 2015

شام سے ایک عمر چُھپتے رہے

اکادمی ادبیات کے صدر نشین پروفیسر ڈاکٹر قاسم بگھیو نے جب بتایا کہ اکادمی کے پروگرام
 Meet The Writer 
کے تحت ’’اکادمی کیفے‘‘ میں ان سطور کے لکھنے والے کے ساتھ ایک شام کا اہتمام کیا گیا ہے تو تعجب ہوا  ع
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
جس طرح قومی زندگی کے ہر شعبے پر رنگ رنگ کے مافیا چھائے ہوئے ہیں، اسی طرح ادب پر بھی مافیا چھایا ہوا ہے۔ اخبارات کے ادبی صفحات کا مافیا‘ پبلشر حضرات کا مافیا‘ بیرون ملک مشاعروں کا مافیا جو اب شعراء کے لیے انڈسٹری کا درجہ اختیار کر چکا ہے‘ اردو کے نام پر کانفرنسوں کا مافیا‘ انعامات‘ ایوارڈز اور تمغوں کے پیچھے دوڑنے والا اور دینے والا مافیا‘ ادب سے متعلق سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کی کرسیوںکو کن انکھیوں سے دیکھنے والا مافیا‘ غرض ادب بیچارہ ایک اور ادب پیشہ مافیا لاتعداد۔ بقول منیر نیازی  ؎
ایک میں اور اتنے لاکھوں سلسلوں کے سامنے
ایک صوتِ گنگ جیسے گنبدوں کے سامنے
مونث ہوتا تو اس صورت حال میں ادب کنیز کہلاتا، مگر تذکیر کی بدولت اس کا شمار غلمان میں ہونے لگا۔
اکادمی کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا ایک طویل داستان ہے تفصیل جس کی پھر کبھی سہی۔ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔
ڈاکٹر قاسم بگھیو نے آ کر ایک نیا آغاز کیا ہے۔ مافیا کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ تعلقات دیکھے نہ روابط۔ ملاقاتیں شمار کیں نہ ’’خدمات‘‘! ہم جیسے گوشہ نشینوں کو گھر سے اٹھایا۔ سامنے لا بٹھایا‘ شاعروں اور ادیبوں کو جمع کیا اور انہیں صلائے عام دی کہ پوچھو! رائٹر سے سوال پوچھو! اس کے فن کے بارے میں‘ اس کی زندگی کے بارے میں! اور ہر وہ سوال جو اس کی تحریریں پڑھتے وقت ذہن میں آتا ہے اور جواب مانگتا ہے!
ڈاکٹر بگھیو کی خوش قسمتی ہے کہ ان کی ٹیم میں اختر رضا سلیمی جیسے فعال اور بے لوث افسر موجود ہیں جو ڈیوٹی کو ذاتی کام جیسی اہمیت دیتے ہیں‘ اختر رضا سلیمی کا ایک شعر تو ضرب المثل ہی بن چکا ہے   ؎
پھر اس کے بعد گر گیا سونے کا بھائو بھی
اک شام اس نے کان سے جُھمکا اتارا تھا
اس کا پہلا ناول ’’جاگے ہیں خواب  میں‘‘ ایک نئے انوکھے لینڈ سکیپ کو لے کر اترا ہے‘ اور یہ محض آغاز ہے۔
اس لکھنے والے کی خوش بختی تھی کہ نہ صرف جڑواں شہروں کی کریم اکٹھی تھی‘ بلکہ لاہور‘ ایبٹ آباد اور پشاور سے بھی دوست مسافت قطع کر کے آئے ہوئے تھے۔ سرفہرست یار دیرینہ شاعرنغز گو حلیم قریشی تھے چالیس سالہ رفاقت کو چند بلیغ فقروں میں سمو دیا۔ کیسے کیسے شعر کہے ہیں حلیم قریشی نے   ؎  
نہ جانے روٹی کے ان نوالوں پہ کس کا حق ہے
گلے سے اترے جو ایک تو دوسرا نہ اترے 
او ر   ؎  
اے منتظم ہستی! اک چھوٹی سی خواہش ہے
اُس دن مجھے جینے دے جس روز قضا اترے
سعود عثمانی لاہور سے تشریف لائے۔ ان کا ایک شعر تو ورد زبان ہی رہتا ہے  ؎
میں رفتگاں کے بنائے مکاں میں رہتا ہوں
کسی کے خواب سے کرتا ہے استفادہ کوئی
خاکسار کی نثری نظموں اور کالم نگاری پر سعود نے بھرپور گفتگو کی! سچی بات ہے اُس دن معلوم ہوا کہ یہ شاعر گفتگو بھی کمال کی کرتا ہے!
قیوم طاہر کے تلہ گنگ کو لیجنڈری شاعر جعفر طاہر نے کیا اچھوتا خراج پیش کیا ہے  ؎
گل و گلزار کے اورنگ ہمہ رنگ پہ یہ نغمہ و آہنگ مرے
جھنگ و تلہ گنگ کی بہتی ہوئی لے
(یہ ایک مصرع ہے) افسوس! جعفر طاہر کو ہم نے بھلا دیا! ایک پورا کالم ان پر لکھنے کا ارادہ ہے!
قیوم طاہر نے دلکش گفتگو کی۔ شعر کیا خوب کہتے ہیں   ؎ 
دیکھ یہ میری آنکھ ہے‘ دیکھ یہ میرے سارے رنگ
دیکھ یہ میں ہوں‘ میں ابھی خواب و خبر ہوا نہیں
یہاں حسن عباس رضا بھی تھا! نیویارک کی وہ اداس ملگجی شام نہیں بھولتی جب حسن عباس رضا انتظار میں حلقہ ارباب ذوق کی عمارت کے باہر کھڑا تھا۔ دیکھتے ہی لپٹ گیا۔ اور شاعری کو اُس نے اچھوتی زمینیں اور نئی ردیفیں دیں   ؎
نمی دانم کہ مجھ سے کیوں گریزاں ہے مرا سایہ
مرا ہو کر بھی کیوں مجھ میں نہیں رہتا؟ نمی دانم
بہت کم عمر میں افسانے اور تنقید کی قلمرو پر اپنا جھنڈا نصب کرنے والے حمید شاہد نے پرانے وقتوں کے حوالے سے گفتگو کی! اُس کے والد اور لکھنے والے کے والد پنڈی گھیپ کے گوشہ گیر مگر دلفریب قصبے میں باہم دوست تھے۔ اُس کے چچا میرے ہم جماعت تھے۔ ہمیں فخر ہے کہ حمید شاہد کی نثر کا طوطی ہندوستان میں بھی بولتا ہے۔
’’ہم آگ چراتے ہیں‘‘ کے خالق ڈاکٹر وحید احمد تھے۔ صاحب شام کا ایک بھولا بسرا شعر سنایا   ؎
شام سے ایک عمر چھپتے رہے
دن ڈھلے سوئے‘ نیم شب جاگے
اور امیجری اور ڈکشن کے حوالے سے گفتگو کی!
نظم گو وحید احمد غزل کہتا ہے تو مضامین لاتے ہوئے جیسے بادلوں میں شگاف کر دیتا ہے   ؎
اندھے نے اپنے ہاتھ پہ آنکھیں اگائی ہیں
چھونے کی دیر ہے‘ تجھے پہچان جائے گا
شنکیاری سے آئے ہوئے میجر امان اللہ نے وہ سوالات کئے جو بنیادی اہمیت کے حامل تھے اور شاعر کی شاعری کو سمجھنے کی کلید تھے۔ یہ ایک طولانی داستان ہے جو کہیں اور لکھی جائے گی۔ مانسہرہ سے ڈاڈر تک کا علاقہ دنیا کے خوبصورت ترین مقامات میں سے ہے اور امان کی شاعری اُس خوبصورتی کی نمائندگی کرتی ہے۔ پشاور سے شاعر، ڈرامہ نگار اور پی ٹی وی کے مانے ہوئے پروڈیوسر عزیز اعجاز آئے ہوئے تھے۔ وہ جو غلام محمد قاصر نے غزل کہی تھی  ؎
مکاں خالی نہیں رہتا ہے قاصر
کبھی شہلا کبھی شہناز دل میں 
تو اُس غزل میں قاصر نے یہ بھی کہا تھا ع
کہے گا کیا عزیز اعجاز دل میں
ناصر علی سید آئے مگر گفتگو نہیں کی۔ پشاور کا جو زمانہ ان کی اور میری آوارہ گردی کا تھا‘ خواب و خیال ہوا مگر ملتے ہیں تو یادیں گھٹا بن کر گھرِ آتی ہیں! 
پشاور! میرا داستانوی شہر! افسوس! جسے کچھ انتہا پسند لوگوں نے کچھ کا کچھ بنا دیا!!
اپنے نامور والد خلیق قریشی کا نام روشن کرنے والے انجم خلیق تھے۔ ہمیشہ کی طرح سراپا محبت! جتنی خوبصورت نظم اس فقیر کے بارے میں لکھی اور سنائی‘ شاید مستحق نہ تھا مگر دوستوں کی فیاضی استحقاق نہیں دیکھتی‘ اپنی دریادلی دیکھتی ہے! بہن عائشہ مسعود نے ہمیشہ کی طرح بھائی کی محبت کا حق ادا کیا اور دل آویز گفتگو کی۔ دارالحکومت کی تنظیم ’’گوشہ ٔ ادب‘‘ چالیس برس سے زیادہ عمر کی ہو چلی ہے۔ اس عفیفہ کی خدمت جس طرح وفا چشتی اور شیدا چشتی کر رہے ہیں‘ انہی کا حصہ ہے۔ دریائے تصوف کے پیراک وفا چشتی نے نکات و اسرار سے بھرپور گفتگو کی! کیا آہستگی تھی اور اس میں بھی کیا روانی تھی! اپنی شاعری کو نعت رسولؐ کے لیے وقف کر دینے والی اور اپنے درویش والد انوار فیروز مرحوم کے لیے صدقہ جاریہ بن جانے والی نیک اولاد‘ نورین طلعت عروبہ بھی تھیں! ٹیکسلا کی کہکشاں کے ستارے حفیظ اللہ بادل‘ کرنل شہاب عالم اور راکب راجہ تھے! نوجوان پروفیسر اور علم اور زندگی سے بھرپور منیر فیاض اور سعید احمد تھے! میرے فتح جنگ کے نامی گرامی شاعر سجاد بلوچ تھے اور ان کی بیگم عنبرین صلاح الدین! خوش لباس ضیاء الدین نعیم تھے۔ ادبی تنظیم کو ایک ماہر انجینئر کی طرح چلانے والے رحمن حفیظ تھے۔ نسیم سحر تھے۔ جنید آذر تھے‘ افتخار یوسف تھے اور کچھ اور دوست بھی! اور سب سے بڑھ کر وہاں میری بیٹی مرضیہ شاہین بھی تھی جو میرے کھانے پینے اور آرام کا یوں خیال رکھتی ہے جیسے میں کوئی بچہ ہوں…اور ہاں! میری بیگم بھی تقریب میں موجود تھیں! جب احباب میری جلالی طبیعت کا ذکر کر رہے تھے تو وہ مسکرا رہی تھیں! اس مسکراہٹ میں یقیناً تصدیق کا پہلو تھا! غالباً یہ فارسی ادب سے اُن کے شغف کا اثر ہے کہ کمال کی قوت برداشت کی مالک ہیں!!

Friday, December 04, 2015

یہ ندیمِ یک دو ساغر!!

اس کالم نگار کا تعلق لکھنے والوں کے اُس خاموش گروہ سے ہے جس کا کسی لین دین سے کچھ لینا دینا ہے‘ نہ کوئی مفاد ہی وابستہ ہے۔ قربت شاہ چاہیے نہ محل میں حاضری کا شوق ہے! بیرونی دوروں کی خواہش ہے نہ کسی ایسے طیارے میں بیٹھنے کی تمنا‘ جس میں عالی جاہ دوران پرواز حال چال پوچھیں اور گفت و شنید کریں‘ کسی مقتدر ہستی سے اپنے کسی عزیز کو کوئی فائدہ دلوانا ہے نہ کسی رنگ روڈ کا ٹھیکہ حاصل کرنا ہے…؎
یونہی تو کُنج قناعت میں نہیں بیٹھا ہوں
خسروی‘ شاہ جہانی مری دیکھی ہوئی ہے
یہ خاموش، یہ بے غرض گروہ تنقید کرتا ہے تو ملک کے مجموعی مفاد اور وقار کو سامنے رکھ کر اور تعریف و تحسین کرتا ہے تو خالص میرٹ پر۔ کسی سے دشمنی ہے نہ ایسی وابستگی جو قلم کی روانی میں رکاوٹ بنے۔
کُچھ دوست محبت بھرا شکوہ کرتے ہیں کہ تُم ہمیشہ تنقید ہی کرتے ہو۔ انہیں محبت بھرا جواب ملتا ہے کہ جہاں میرٹ نظر آئے‘ تحسین بھی کی جاتی ہے، یہ اور بات ہے کہ تحسین نمایاں نہیں لگتی جبکہ تنقید‘ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے ہائی لائٹ ہو جاتی ہے ۔
اس ضمن میں کبھی کبھی دلچسپ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ جس وقت وزیر اعظم کو
 Genuine
 دفاع کی ضرورت پیش آتی ہے‘ اُس وقت اُن کے دفاع پر مامور حضرات صمٌ بکمٌ ہو جاتے ہیں‘ جیسے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں! اُس وقت ہم جیسے ’’بُرے‘‘ اور ’’ہمیشہ‘‘ تنقید کرنے والے لکھاری صرف اور صرف اپنے ضمیر کی آواز پر وزیر اعظم کا دفاع کرتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ وزیر اعظم ہیں‘ نہ ہی اس لیے کہ اس دفاع سے مفاد وابستہ ہے!
اس سلسلے کی واضح مثال کُچھ دن پہلے نظر آئی جب وزیر اعظم نے لبرل پاکستان کی بات کی۔ اُس کے بعد ایک تماشا تھا‘ جو دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا! کسی نے کہا کہ آئین کے فلاں آرٹیکل کے تحت وزیر اعظم پر مقدمہ چلایا جائے‘ کسی نے فریاد کی کہ اسلام اور پاکستان سخت خطرے میں ہیں‘ مگر اس ہنگامے کا عروج یہ تھا کہ ایک رہنما نے وزیر اعظم پر غداری کا الزام لگا دیا۔
تعجب کی بات ہے کہ چُوری کھانے والے مجنوئوں کا گروہ جو وزیر اعظم کے گرد حلقہ باندھے کھڑا رہتا ہے‘ مکمل خاموش رہا۔ کسی کو غدار کہنا‘ غلیظ سے غلیظ گالی سے بھی بدتر ہے۔ مگر بقول فیض…؎
کوئی یار جاں سے گزرا‘ کوئی ہوش سے نہ گزرا
یہ ندیمِ یک دو ساغر مرے حال تک نہ پہنچے
وزیر اعظم کی صفوں سے کسی کو احتجاج تو کیا‘ دفاع کرنے کا بھی خیال نہ آیا‘ میاں محمد نواز شریف پر ہزار اعتراض سہی‘ اُن کی پالیسیوں سے لاکھ اختلاف سہی‘ اُن کے قبائلی طرز حکومت پر تنقید بجا‘ حکومتی امور میں خاندان کے افراد کی مداخلت بھی غلط‘ مگر ہم صدق دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ملک سے یا اسلام سے غداری کے مرتکب نہیں ہو سکتے۔ عمران خان کے بارے میں بھی حسن ظن یہی ہے! غداری کا شعلہ نما الزام جن کے دہن مبارک سے نکلا‘ اُن کی اپنی صفوں میں ایسے ایسے نابغے موجود ہیں جو ہمارے عساکر کے شہدا کو شہدا تک نہیں مانتے! مگر دوسروں کو یہ حضرات اتنی سہولت سے غدار کہہ دیتے ہیں جیسے یہ گالی نہیں‘ تمغہ ہے!
لگتا ہے وزیر اعظم کی شان میں رطب اللسان رہنے والے حضرات اس قدیم فارمولے پر ایمان رکھتے ہیں کہ کھانا کھاتے وقت فلاں کے دسترخوان پر بیٹھو مگر نماز فلاں کے پیچھے پڑھو۔ غالباً ان میں سے اکثر کا تعلق اندرون خانہ اُسی گروہ سے ہے جس سے انسان نکل بھی جائے تو گروہ اندر سے نہیں نکلتا!!
پھر ایک اور طوفان اٹھا۔ وزیر اعظم نے کراچی کے ایک ہوٹل میں ہندو برادری کی دیوالی کی تقریب میں شرکت کی اور کیک کاٹا۔ اس پر خوب لے دے ہوئی۔ اخبارات میں مضامین چھپے‘ ویب سائٹس پر ان مضامین کی تشہیر کی گئی۔ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کو ایک بار پھر کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔ کسی نے لکھا کہ کیک صرف پیدائش پر کاٹا جاتا ہے۔ کہیں بات عقائد اور تصورات تک پہنچائی گئی۔ صاف ظاہر ہے کہ اعتراض کرنے والوں کا الزام یہ تھا کہ تقریب میں شرکت کر کے اہل تقریب کے عقائد کو اپنایا گیا ہے!!
وزیر اعظم کے خیرخواہ یا نام نہاد خیرخواہ اس موقع پر بھی خاموش رہے۔ کسی نے معترضین کو جواب نہ دیا۔ کسی نے اس طرف توجہ نہ دلائی کہ وزیر اعظم پورے ملک کے‘ پوری قوم کے اور ملک میں رہنے والے تمام گروہوں کے وزیر اعظم ہیں۔ بطور سربراہ اگر وہ کسی تقریب میں شرکت کرتے ہیں تو یہ ان کے آئینی فرائض کا حصہ ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اپنے عقائد سے برگشتہ ہو رہے ہیں! رہا اعتراض کیک کاٹنے پر تو کیک صرف پیدائش پر نہیں‘ خوشی کے ہر موقع پر کاٹا جاتا ہے۔ کسی بچے کے پاس ہونے کی تقریب میں‘ کسی ساتھی کی ریٹائرمنٹ پر‘ کسی اور تقریب میں! کیا ہم اپنے ملک کے وزیر اعظم پر اتنا اعتماد بھی نہیں کر سکتے؟ اگر وہ اپنے ہم وطنوں کی کسی تقریب میں شرکت کرتے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ کسی دیوی یا دیوتا کی پیدائش پر یقین کرنے لگے ہیں؟
تقسیم سے پہلے ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے تہواروں میں عام شریک ہوتے تھے۔ ہندو عید کے موقع پر مٹھائیاں لے کر مسلمان دوستوں کے گھروں میں آتے تھے۔ مسلمان ہندوئوں اور سکھوں کی تقاریب میں شریک ہوتے تھے۔ کوئی ہندو عورت کسی مسلمان کی خالہ بنی ہوتی تھی‘ کسی مسلمان عورت نے کسی ہندو بچے کو بیٹا بنایا ہوتا تھا۔ ایک دوسرے کے دوست مذہبی تہواروں میں‘ شادیوں کے مواقع پر‘ یہاں تک کہ مرگ کے مواقع پر بھی‘ شامل ہوتے تھے۔ کسی ہندو کو یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ تُم عید منا کر مسلمان ہو گئے ہو، نہ ہی کسی مسلمان کو یہ طعنہ دیا جاتا تھا کہ تُم دیوالی یا دسہرے کی تقریب میں شریک ہوئے ہو‘ تو تمہارا ایمان خطرے میں پڑ گیا ہے۔ مغربی ممالک میں اس وقت کروڑوں مسلمان آباد ہیں‘ یہ کرسمس کے موقع پر اپنے دوستوں اور پڑوسیوں کے ساتھ کرسمس کا ڈنر کرتے ہیں۔ عید کے موقع پر غیر مسلم دوستوں کو مدعو کرتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی الحمدللہ مسلمان ہی رہتے ہیں۔ اپنے عقائد ہی پر قائم ہیں اور اپنی مسجدوں ہی میں عبادت کرتے ہیں!
سرکاری میڈیا ٹیم میں سے کسی کو یہ نشاندہی کرنے کی ہمت نہ ہوئی کہ جب مسلمان بچوں اور عورتوں کے چیتھڑے اڑائے جاتے رہے‘ راولپنڈی کی پریڈلین مسجد میں خون کے دریا بہائے گئے‘ قبروں سے میتیں نکال کر چوراہوں پر لٹکائی گئیں‘ بازاروں اور مزاروں میں بیگناہ مسلمانوں کو شہید کیا جاتا رہا‘ سکولوں کو بموں سے اڑایا جاتا رہا‘ پشاور میں سکول پر حملہ کر کے چھوٹے‘ نابالغ بچوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا‘ اُس وقت کسی نے اخباروں میں مضامین نہ لکھے۔ اُس وقت تو یہ کہہ کر مصلحت کی آڑ لی گئی کہ یہ فتنوں کا زمانہ ہے اور خاموشی بہتر ہے! غیر مسلم ’’حسن سلوک‘‘ سے تنگ آ کر ملک چھوڑ رہے ہیں۔ مگر کسی عالم دین نے اس بات کا نوٹس لیا نہ مضمون لکھا! اگر قتل و غارت کی مذمت کی بھی گئی تو ساتھ ہی اگر‘ مگر کے لاحقے لگائے گئے! اسی پاکستان میں چھپنے والے نام نہاد مذہبی ماہناموں میں پشاور سکول کے قتل عام کا جواز پیش کیا گیا اور کُھلے عام ’’شد و مد‘‘ کے ساتھ پیش کیا گیا۔ بھارت کے علما خود بھارت چھوڑ کر یورپ کے ممالک میں جا بسے مگر اُن میں سے کچھ پاکستان سے شائع ہونے والے رسالوں میں پاکستان‘ قائد اعظم ؒاور اقبالؒکے خلاف زہر بھرے مضامین لکھ رہے ہیں۔ چھاپنے والے برابر چھاپ رہے ہیں۔ ان پر کوئی گرفت نہیں کرتا۔ مگر وزیر اعظم کے اسلام کا آئے دن محاسبہ ہوتا ہے!!کہیں ایسا تو نہیں کہ پوری کی پوری ٹیم صرف عمران خان کو جواب دینے میں لگی ہوئی ہے‘ اور وزیر اعظم پر حملے کسی اور جانب سے ہو رہے ہیں۔

Monday, November 30, 2015

بادشاہت کے تقاضے

بچہ ہی تو تھا!
پچیس تیس سال کی عمر‘ عمر ہی کیا ہے! بچے سے قتل ہو گیا اور پولیس والے پکڑ کر لے گئے۔ ماں‘ دادی اور نانی نے پولیس کو ہزار ہزار بد دعائیں اور کوسنے دئیے۔ جو مارا گیا اُس کی تقدیر ہی یہی تھی! بچے کا تو محض بہانہ بن گیا۔ جاگیرداروں‘ سرداروں‘ چودھریوں اور خانوں کے بیٹے اور پوتے جب مزارعوں اور ہاریوں کی خواتین سے’’کھیلتے‘‘ ہیں تو اُس پر بھی یوں ہی واویلا مچا دیا جاتا ہے۔۔۔۔ اس عمر کے بچے ’’کھیل کود‘‘ نہ کریں تو آخر کیا کریں! قصور میں جب بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیو کا سکینڈل منظرعام پر آیا تو ایک فریادی عورت کو بااثر خاندان کے فرد نے یہی تو سمجھایا کہ جو سلوک ہم تمہارے ساتھ کرتے رہے ہیں‘ تمہارے بچوں کے ساتھ ہوگیا ہے تو کون سی قیامت برپا ہو گئی ہے؟
اب یہ جو بچی سے چند ڈالر پکڑے گئے ہیں تو گویا آسمان گر پڑا ہے۔ ایان علی کی عمر ہی کیا ہے؟ اس پر مقدمہ چلانے والوں اور اُسے سزا دینے کی خواہش کرنے والوں کو کم از کم اُس ستر سالہ بڑے میاں سے ضرور سبق سیکھنا چاہیے جو عدالت کے باہر پھول لے کر کھڑا تھا۔ کتنی محبت اور عقیدت سے بڑے میاں نے وہ پھول ایان علی کو پیش کیے تھے۔ اس کے علاوہ بھی خیرخواہوں کی تعداد کم نہ تھی۔ ہجوم عاشقاں گھنٹوں پہلے پہنچ جاتا تھا! الیکٹرانک میڈیا نے بھی عدالت میں ایان علی کی آمد و رفت کو میک اپ کی کمپنیوں کا اشتہار بنا دیا۔ کبھی کیمرہ بالوں کی آرائش پر پڑتا‘ کبھی تازہ فیشن کے دھوپ کے چشمے پر اور کبھی لباس پر جو ہر بار الگ سٹائل کا ہوتا!
اب یہ جو ڈاکٹر عاصم علی کو پکڑ لیا گیا ہے تو یہ کیا حماقت ہے! وہ بادشاہ کے مصاحب تھے۔ اللہ کے بندو! اپنی تاریخ کو کیوں جھٹلاتے ہو۔ روایات آدھی اپناتے ہو اور آدھی رد کرتے ہو۔ عجیب منافقت ہے! خلجیوں‘ لودھیوں‘ تغلقوں‘ مغلوں کے اقتدار کا موروثی سلسلہ اپناتے ہو۔ بادشاہت دل و جان سے قبول کرتے ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اُس کی صاحبزادی کو پارٹی کا بادشاہ بناتے ہو‘ پھر بی بی کے میاں کو‘ پھر میاں کی بہنوں کو‘ پھر صاحبزادے کو۔ وفاق بڑے بھائی کو اور صوبہ چھوٹے بھائی کو دیتے ہو‘ پارٹی میں سربراہ کے بھتیجے کو، دو بڑے میاں صاحبان کے بعد پہلی پوزیشن دیتے ہو۔ مفتی صاحب پردہ فرماتے ہیں تو مولانا فضل الرحمن کو جماعت کا بادشاہ بناتے ہو۔ ولی خان کے بعد پارٹی بیگم صاحبہ پھر فرزند ارجمند چلاتے ہیں‘ چیف منسٹر اُن کے خاندان سے بنتا ہے اور کراچی برانچ کی سربراہی بھی خاندان ہی میں رہتی ہے۔ جب یہ سب کچھ کر رہے ہو تو پھر بادشاہی کے تقاضے بھی پورے کرو! عقل کے اندھو! بادشاہوں کو پکڑا نہیں کرتے۔ فقط کارناموں کی تعریف کرتے ہیں! بندوں کو مروانا‘ دولت جمع کرنا‘ حسینائوں کے سروں پر محبت بھرا ہاتھ رکھنا‘ مصاحبوں کو کھلی چُھٹی دینا، ان سب کا بادشاہت کے ساتھ چولی دامن کا تعلق ہے۔ نیویارک کے مہنگے اپارٹمنٹوں‘ لندن کی جائدادوں، جدہ کے کارخانوں اور دبئی کے محلات پر ناک بھوں چڑھاتے ہو۔ 1206ء میں تمہارا پہلا بادشاہ دلی کے تخت پر بیٹھا اور 1857ء میں آخری بادشاہ دلی سے رخصت ہوا۔ کیا ان چھ سو اکاون برسوں میں کسی نے کسی بادشاہ سے کچھ پوچھنے کی جرأت کی؟ کیا محلات نہیں بنے؟ تاج محل اور لال قلعہ بنانے پر جو دولت صرف ہوئی کیا شہنشاہ ظہیر الدین بابر کابل سے ساتھ لائے تھے؟ کیا تخت طائوس بنوانے کے لیے ظل الٰہی نے ہل چلایا تھا یا دکانداری کی تھی؟ یا کوئی اور کمائی تھی؟ مغل سلطنت جب عروج پر تھی اور سکہ دکن سے لے کر کشمیر تک اور بنگال سے لے کر افغانستان تک چلتا تھا تو پورے برصغیر کی کل آمدنی کا ایک چوتھائی صرف پانچ ساڑھے پانچ سو افراد کے تصرف میں تھا۔ آج پورے ملک کی آمدنی کا تین چوتھائی اگر چند شاہی خاندانوں کے ہاتھ میں ہے تو پیٹ میں قولنج کا درد کیوں اُٹھ رہا ہے اور مرگی کے دورے کیوں پڑ رہے ہیں؟ کیا تم عوام نے ’’سیاسی‘‘ جماعتیں ان خانوادوں کے حوالے خود نہیں کیں؟ اگر ایسا کیا ہے اور یقیناً ایسا ہی کیا ہے تو اب بادشاہی کے باقی آداب بھی بجا لائو! 
اور کیا صرف اسی معصوم بچی نے یہ گناہ کیا ہے؟ سوشل میڈیا پر اُن مردوں کے نام اور تصویریں سب کُھلی پڑی ہیں جو سیروں کے حساب سے سونا باہر لے جاتے رہے ہیں اور لے جا رہے ہیں! ڈاکٹر عاصم جس جُرم میں پکڑا گیا ہے‘ وہ تو پورے ملک میں ہو رہا ہے۔ کیا لاہور اور اسلام آباد کے ترقیاتی اداروں میں دیانت کا بول بالا ہو رہا ہے؟ تھانوں اور کچہریوں میں سارا دن سورت یاسین کی تلاوت ہوتی ہے؟ اور چپڑاسی سے لے کر کمشنر تک اور پٹواری سے لے کر تحصیلدار تک سب مشکوٰۃ شریف کا سبق پڑھتے اور پڑھاتے ہیں؟
اور یہ جو تیرہ چودہ انسان ماڈل ٹائون میں قتل ہو گئے توکون سا سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگیا؟ کیا پہلے بندے اس طرح نہیں مرتے تھے؟ سلاطین دہلی کے محلات کے دروازوں پر لاشیں ایک ایک ماہ لٹکی رہتی تھیں۔ ابن بطوطہ ملتان سے دہلی روانہ ہوا تو راستے میں دیکھا کہ بادشاہ کے حکم سے دو زندہ مجرموں کی کھالیں اتاری جا رہی تھیں۔ طریقہ یہ تھا کہ گڑھا کھودا ہوا تھا، مجرم کو الٹا یوں لٹایا جاتا تھا کہ مُنہ اور ناک کے نیچے گڑھا ہو تاکہ سانس لینے میں دقت نہ ہو۔ ابن بطوطہ بتاتا ہے کہ جس کی کھال اتاری جا رہی تھی وہ بار بار جلّاد کی منت کرتا تھا کہ اُسے ایک ہی بار تلوار سے ختم کر دے مگر جلّاد ایسا کرتا تو اُس کی اپنی کھال اتروائی جاتی! کیا بھٹو صاحب کے دور میں بندے نہیں مرے؟ تو اب اگر ایسا ہو گیا تو کون سی انہونی ہو گئی؟ اور یہ بندے تو کسی حکمران نے مروائے بھی نہیں۔ یہ تو پولیس والوں نے مارے۔ آخر پولیس والوں کا ان مقتولوں سے جائداد کا خاندانی جھگڑا جو چل رہا تھا!
منافقت چھوڑ دو! خاندانوں کی بادشاہت قائم کی ہے اور بادشاہت کے ان پودوں کو پانی دے رہے ہو تو اُن کاموں پر نہ چِلّائو جو بادشاہ اور ان کے خاندان کیا کرتے ہیں۔ اور اگر ایان علی اور ڈاکٹر عاصم کو پکڑا ہے تو پھر بہادر بنو‘ شیر بنو‘ ساری ایانوں کو اور سارے ڈاکٹر عاصموں کو پکڑو! سارے جرائم صرف اُن علاقوں میں تو نہیں ہو رہے جو جیکب آباد اور کندھ کوٹ کے جنوب میں واقع ہیں    ؎
دو رنگی چھوڑ دے‘ یک رنگ ہو جا
 سراسر موم ہو یا سنگ ہو جا! 
اسلام میں تو پورے کے پورے تم داخل نہ ہو سکے‘ اب کم از کم خاندانی آمریت میں تو پورے کے پورے داخل ہو جائو! یوں بھی جمہوریت کے نام پر تُم ایک بدنما داغ ہی تو ہو! ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونا‘ جی جناب اور یس سر کہنا تمہاری سرشت میں ہے۔ اگر پارٹی کا سربراہ دن کو رات کہے تو تُم کہتے ہو جناب وہ دیکھیں ستارے چمک رہے ہیں اور وہ دیکھیں چاند دمک رہا ہے! تُم وزیر بن جائو یا سینیٹ کے چیئرمین یا اسمبلی کے سپیکر، فرمانبرداری تُم بلاول یا حمزہ شہباز ہی کی کرتے ہو۔ فیصل آباد کا بزرگ سیاستدان کہتا ہے کہ اُس کے حریف نے اٹھارہ قتل کیے ہیں لیکن شاہی خاندان کی رعایا بن کر پارٹی کے اندر تو دونوں نے زندگی گزارنی ہے!
اسلام سے نفاق برت رہے ہو‘ جمہوریت کے مُنہ پر طمانچے مار رہے ہو‘ اللہ کے بندو! بادشاہی نظام سے تو وفا کر جائو!

 

powered by worldwanders.com