Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Sunday, August 18, 2019

مرغِ حرم!جو اُڑ ہی نہیں رہا


اب تو ہوش آ جانا چاہیے معصوم عوام کو جنہیں اُمہّ کے نام پر پڑیاں بیچی جا رہی ہیں اور کُشتے کھلائے جا رہے ہیں۔ 


کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم اُمہ کے وجود سے انکار کر رہے ہیں۔ ہاں امت سیاسی اتحاد کے حوالے سے کبھی سامنے نہیں آئی۔ چودہ سو سال میں ایک دن بھی ایسا نہیں ہوا کہ امتسیاسیعسکری یا اقتصادی حوالے سے اکائی ثابت ہوئی ہو۔ یہ ایک روحانی تصورہے۔ انفرادی طورپر ترک عرب سے محبت کرتا ہے، ایرانی پاکستانی سے پیار کرتا ہے۔ بنگالی مسلمان افریقی مسلمان کو سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے۔ مگر مسلمان ملکوں اور حکومتوں نے کبھی امت کے تصور کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ 


کشمیر کے حالیہ المیے پر مسلمان ملکوں کے ردعمل نے یہی تو ثابت کیا ہے۔ کویت ،قطر ،بحرین اور اومان نے مکمل سکوت اختیار کیا ہے ۔متحدہ عرب امارات نے واضح طور پر اسے بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔ سعودی عرب کا بیان حد درجہ محتاط اور سفارتی نزاکت میں ملفوف ہے۔ کہ ’’سعودی حکومت موجوہ صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے اور یہ کہ بین الاقوامی قرار دادوں کے مطابق ’’پرامن تصفیہ ‘‘ ہونا چاہیے‘‘ 


ستر لاکھ سے زیادہ بھارتی مشرق وسطیٰ میں کام کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی کل آبادی کا تیس فیصد بھارتیوں پر مشتمل ہے، یعنی تقریباً ہر تیسرا شخص بھارتی ہے! گزشتہ برس دونوں ملکوں کی باہمی تجارت پچاس ارب ڈالر کو چھو رہی تھی۔ بھارت نے متحدہ عرب امارات میں پچپن ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ بھارت کی حالیہ آئینی ترمیم اور کشمیر میں بھارتی فوج کے اضافے کے حوالے سے بھارت میں تعینات یو اے ای کے سفیر احمد البنا کا یہ بیان دونوں ملکوں کے میڈیا میں اجاگر ہوا ہے کہ کشمیر میں ہونے والی تبدیلیاں معاشرتی انصاف اور سکیورٹی میں اضافہ کریں گی اور استحکام اور امن بڑھائیں گی! سعودی کمپنی ’’آرام کو‘‘ بھارت میں پندرہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے سعودی ولی عہد کے بیان کے مطابق 2021ء تک سعودی عرب بھارت میں ایک سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مسلمان ملکوں میں صرف ترکی نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی ہے۔ 


ریت میں سر چھپاتے ہوئے ہم ایک دلیل یہ دیتے ہیں کہ جب سے ’’نیشن سٹیٹ‘‘ کا تصور ابھرا ہے یعنی ملک قومیت کی بنیاد پر بنے ہیں، تب سے اُمہّ کا سیاسی اتحاد کمزور ہوا ہے! لیکن تاریخ ہماری اس خوش فہمی کی حمایت نہیں کرتی۔نیشن سٹیٹ کا تصوراگر مغرب نے دیا ہے تو اس سے پہلے کیا اُمہّ سیاسی اور عسکری حوالے سے متحد تھی؟ 


خلافت راشدہ کے عہد کو احتراماً چھوڑ دیتے ہیں اس کے بعد کیا ہوا؟ مسلمان عباسیوں نے مسلمان امویوں کی لاشوں پر قالینیں بچھائیں اور دعوتیں اڑائیں۔ جب اندلس سے ایک ایک مسلمان کو نکالا جا رہا تھا یا بزور نصرانی بنایا جا رہا تھا تو اُمہّ کہاں تھی؟ مسلمان تیمور نے ہندوستان کی مسلمان تغلق حکومت پر حملہ کیا۔ دہلی لاشوں سے بھر گئی، سروں کے مینار بنے۔ شہر میں تعفن سے سانس لینا مشکل ہو گیا۔ پھر مسلمان امیر تیمور نے حلب اور دمشق کو تاراج کیا۔ دونوں شہر مسلمانوں کے تھے۔ شہریوں کو تیہ تیغ کردیا سوائے کاری گروں کے جنہیں قید کر کے سمرقند لایا گیا۔1401ء میں تیمور نے بغداد کو برباد کیا۔ بیس ہزار شہری قتل کئے ۔حکم دیا کہ ہر سپاہی کم از کم دو بغدادیوں کے بریدہ سر پیش کرے۔ پھرتیمور نے سلطنت عثمانیہ کو تہس نہس کیا۔ ترک خلیفہ اس کی قید ہی میں مر گیا۔ سمرنا(موجودہ ازمیر) لاشوں سے اٹ گیا ،سلطنت عثمانیہ پر فوج کشی کی وجہ تیمور نے یہ گھڑی کہ انا طولیہ پر اصل حق سلجوقیوں کا ہے! گویا تیمور دراصل نیشن سٹیٹ کا تصور پیش کر رہا تھا۔ عثمانی ترک بھی مسلمان تھے اور سلاجقہ بھی۔ مگر تیمور سلجوق قومیت کی حمایت میں عثمانیوں پر چڑھ دوڑا۔


 اُمہّ کا تصور آگے بڑھتا ہے۔ مسلمان ظہیرالدین بابر نے مسلمان ابراہیم لودھی کی سلطنت کو ختم کر دیا۔ ابراہیم لودھی واحد ہندوستانی مسلمان حکمران ہے جو میدان جنگ میں لڑتا ہوا مارا گیا ۔شیر شاہ سوری اور ہمایوں دونوں امت مسلمہ کے فرزند تھے۔ دونوں نے نسلوں تک ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی نبھائی۔ پورے مغل عہدمیں قندھار ایران اور مغل ہندوستان کے درمیان جنگ کی وجہ بنا رہا۔1645ء سے لے کر 1647ء تک شاہ جہاں وسط ایشیا کو اپنی سلطنت میں شامل کرنے کے لئے خون کے دریا بہاتا رہا۔یہ اور بات کہ ازبک اور مغل دونوں اُمہّ کے حصے تھے، شاہ جہان اس جنگ کی نگرانی کے لئے کابل منتقل ہو گیا۔ بلخ مغل فوج کا مستقر ٹھہرا ،مغل فوج کے پانچ ہزار افراد ازبک تلواروں اور موسم کی سختیوں کا شکار ہوئے اتنی ہی تعدادمیں ہاتھی گھوڑے اور اونٹ ہلاک ہوئے، چار کروڑ روپے مہم پر خرچ ہوئے حاصل کچھ نہ ہوا۔ 

ایرانی صفوی اور عثمانی ترک۔ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہے۔ شاہ عباس صفوی نے یورپ کے نصرانی بادشاہوں کو ترکوں پر حملہ کرنے کے لئے سالہا سال تک اکسایا۔ یہاں تک کہ اس کے سفیر نے جو یورپ میں اس کام پر متعین تھا۔ شاہ عباس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یورپ کی طاقتیں ترکوں کے بعد ایران کو بھی ہڑپ کریں گی کیوں کہ وہ ترکوں یا ایرانیوں کے نہیںاصلاً مسلمانوں کے خلاف ہیں مگر شاہ عباس نے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ پرتگال کے سفیر گوا (ہندوستان ) سے اس کے پاس جاتے رہے۔ صفویوں اور عثمانی ترکوں کے درمیان بارہا خوں ریز جنگیں ہوئیں۔ 


اور آگے بڑھیے۔ عربوں نے انگریزوں کی سازش کا حصہ بن کر سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی اور ’’معاوضے‘‘ میں اردن اور عراق وغیرہ کی حکومتیں حاصل کیں ،عربوں کا تعاون شامل حال نہ ہوتا تو اسرائیل کا قیام کبھی عمل میں نہ آتا۔ صدر ناصر نے اور یاسر عرفات جیسے لیڈروں نے کبھی بھی کشمیر یا پاکستان کی حمایت نہ کی۔ ان کا جھکائو ہمیشہ بھارت کی طرف رہا۔ آج امت کا یہ حال ہے کہ یمن میں سعودی اور ایرانی آمنے سامنے ہیں۔ شام میں جو کچھ ہو رہا ہے ہم سب جانتے ہیں۔ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات اور دو طرفہ معاہدے ہیں، عشروں پہلے ایک مسلمان بادشاہ کے باڈی گارڈز نے اسرائیل میں تربیت حاصل کی۔ آج اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ عرب ایران کے مقابلے میں اسرائیل کے قریب آ رہے ہیں۔ 


حاشاو کلاامت کے تصور کی تنقیص مراد نہیں! عرض صرف یہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ایک روحانی تصور ہے۔ سیاسی اور عسکری میدانوں میں بھی امہ کو یکجا ہونا چاہیے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ عراق کو نیست و نابود کرنے کے لئے امریکی جنگی طیارے اردگرد کے مسلمان ملکوں ہی سے تو اڑ کر حملے کرتے رہے! یہ امید ختم کر دیجیے کہ کشمیر امت کا مسئلہ ہے۔ اپنے زور بازو پر بھروسہ کیجیے ترکی اور چین کے علاوہ کوئی بھی پاکستان کا ساتھ نہیں دے رہا نہ دے گا! معصوم اور جذباتی عوام کو سراب نہ دکھائیے۔


اقبال نے نصیحت کی تھی ؎ 

غبار آلودہ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے 

تو اے مرغِ حرم! اُڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جا


 آج زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ مرغِ حرم اُڑنے سے پہلے پرفشاں کیا ہوتااڑ ہی نہیں رہا

Saturday, August 17, 2019

مولانا مودودی کے بیٹے کی کتاب


‎’’آفتابِ علم و عرفان سید ابوالاعلیٰ مودودی‘‘ کے عنوان سے مولانا مودودی کے بیٹے سید حسین فاروق مودودی کی تصنیف منظر عام پر آئی ہے۔ مطبع کا نام عفاف پرنٹر اردو بازار لاہور ہے۔ کتاب پر ’’ترجمان القرآن پبلی کیشنز 5۔اے ذیلدار پارک اچھرہ لاہور کا نام بھی درج ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر مولانا مرحوم کے خاندان اور جماعت اسلامی کے درمیان نزاع کی تفصیل ہے تاہم اس میں کچھ اطلاعات ایسی بھی ہیں جو ہمارے ملک کی سیاست‘ نظام اور ہماری قومی اخلاقیات کے متعلق بہت کچھ بتاتی ہیں۔ 

‎جنرل ضیاء الحق کے حوالے سے سید حسین فاروق مودودی لکھتے ہیں۔ ’’مولانا مودودی اپنے خداداد فہم کے باعث جنرل ضیاء سے نالاں اور بددل ہو گئے۔ وہ جان گئے تھے کہ اسلام کی ترویج و ترقی کے لئے جس خلوص کی ضرورت ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے جنرل ضیاء کے اقدامات بے فائدہ ہوں گے۔ کتنی بدنصیبی کی بات ہے کہ ایسے موقع پر مولانا کی بنائی جماعت جس کی آبیاری انہوں نے خون جگر سے کی تھی وہی جماعت اسلامی جنرل ضیاء کے عہد حکومت میں اور بعدازاں افغان جنگ کی سرخیل بن کر بے پناہ ملی منفعت میں حصہ دار بنی۔ لوگوں کے جوان بچے مارے گئے اور نام استعمال ہوا جہاد اور اسلام کا مگر نہ کہیں باران رحمت کی گھٹا اٹھی اور نہ ہی کوئی روئیدگی ممکن ہوئی‘‘ 

‎آگے چل کر لکھتے ہیں

‎ ’’جماعت کے نظام اور روایات میں بتدریج انحطاط کا اندازہ مولانا(ہمارے والد) کو ہوتا جا رہا تھا۔ قیادت کا ایک معتدبہ حصہ اب انہیں اپنے ہدف کے حصول کی راہ میں رکاوٹ محسوس کرنے لگا تھا۔ جماعت میں امارت کے لئے انتخاب کی غرض سے ہر قسم کی کنوینسنگ انتہائی قابل اعتراض اور ممنوع تھی بلکہ اس کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن یہ سب کچھ بھلا دیا گیا۔ جب غلام اعظم صاحب کے کامیاب ہونے کا واضح امکان تھا تو نتائج تبدیل کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح بقول میاں صاحب کے چودھری رحمت الٰہی صاحب کی جگہ قاضی حسین احمدصاحب کی کامیابی ممکن بنائی گئی اوریہ سب 

Engineered

‎انتخاب کا نتیجہ تھا۔ بعدازاں موجودہ امیر جماعت سراج الحق کا انتخاب بھی اسی طرح ممکن ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ مقتدر حلقوں کو منور حسن صاحب قبول نہیں تھے جس کی وجہ غالباً ان کے بعض بیانات تھے جس میں مسلح افواج بمقابلہ طالبان کا تذکرہ آیا تھا۔ ان انتخابات میں پوسٹل بیلٹ کے تقریباً تین سو سے زائد ووٹوں کے لفافے ہی غائب ہو گئے اور ناظم انتخابات جناب عبدالحفیظ صاحب جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے کو سراج الحق صاحب کی کامیابی کا اعلان کرنے پرمجبور کیا گیا۔ یہ بات انہوں نے خود عبدالوحید سلیمانی صاحب کو انتہائی دکھ کے ساتھ بتائی تھی۔ جہاں سے مجھ تک پہنچی۔ (سلیمانی صاحب حکیم محمد عبداللہ جہانیاں والے کے صاحبزادے تھے اور رکن جماعت تھے(صفحات138تا 140) 

‎مولانا مودودی مستعفی ہو گئے۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ صاحب کتاب لکھتے ہیں

‎ ’’ملک کے اطراف و اکناف سے مولانا سے استعفیٰ واپس لینے کی بے شمار اپیلیں کی جانے لگیں۔ کراچی کے ایک اہم صاحب علم رکن جماعت جناب مصباح الاسلام فاروقی، جو صاحب تصنیف و صاحب قلم بھی تھے جماعت یعنی مولانا کی قائم کردہ ’’اسلامی ریسرچ اکیڈمی کراچی‘‘ سے وابستہ تھے، نے شدید احتجاج کیا اور اس حوالہ سے ایک پمفلٹ لکھ کر شائع کیا۔ اسلامی اکیڈمی کے انتظامی سربراہ جناب منور حسن تھے انہوں نے فی الفور مصباح الاسلام فاروقی صاحب کی تنخواہ اور مراعات منقطع کر دیں اور ان کو مخاطب کر کے فرمایا ’’اب تم اگر گھٹنوں کے بل چل کر بھی آئے تو کچھ نہیں ملے گا(صفحہ140) 

‎حکومتی مراعات کے حوالے سے سید حسین فاروق مودودی رقم طراز ہیں۔ ’’مولانا اصحاب اقتدار سے ذاتی یا سماجی روابط قائم کرنے سے ہمیشہ گریزاں رہے۔ افسوس کہ یہ روایت اکابر جماعت جو مولانا کے بعد جماعت کے ذمہ داران مقرر ہوئے برقرار نہ رکھ سکے۔ خود میاں صاحب نے اپنے صاحبزادے کی شادی کے موقع پر دعوت ولیمہ میں صدر جنرل ضیاء الحق کو مدعو کیا۔ یوں جماعت مارشل لا کی بی ٹیم بھی کہلائی۔ میاں صاحب نے جنرل ضیا سے اپنے بعض اعزہ کے لئے ضرورتاً سفارش بھی دو ایک مواقع پر کی۔ ایک بار جنرل صاحب نے بالآخر ناگواری کا اظہار بھی کیا(صفحہ145) 

‎’’پلاننگ کمیشن کے چیئرمین اور منسٹری کا عہدہ جنرل ضیا نے جماعت کے کوٹے کے علاوہ پروفیسر خورشید احمد صاحب کو دیا تھا۔ اس عہدہ سے قبل بھی جنرل ضیاء الحق نے خورشید صاحب پر نوازشات شروع کر دی تھیں۔ ان کو پی آئی اے کی انکوائری کروانے کی ذمہ داری گئی جو انہوں نے اپنے ادارے آئی پی ایس کے تحت کروائی۔ اس انکوائری کے عوض ایک خطیر رقم موصوف کو ادا کی گئی۔ اس کی فائل میں نے خود دیکھی تھی جس پر ایک افسر نے نوٹ لکھا تھا کہ یہ بالکل 
Fake
‎اور بچگانہ سی انکوائری ہے۔ لگتا ہے کہ گھر بیٹھ کرتیار کی گئی چنانچہ اس پر کوئی 
Payment
‎نہ کی جائے جس کو کاٹ کر جنرل ضیاء نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ فوراً ادائیگی کی جائے ۔اس کے علاوہ اسلام آباد کے بلیو ایریا میں ایک نہایت قیمتی پلاٹ بھی پروفیسر خورشیدکو بالکل مفت الاٹ کیا گیا جہاں پر اب آئی پی ایس کی بلڈنگ موجود ہے‘‘(صفحہ149)

ایک واقعہ کا ذکر مجھ سے محمد صلاح الدین صاحب ( جسارت اور تکبیر کے ایڈیٹر) نے کیا جس کی تصدیق جناب 
الطاف حسن قریشی نے بھی کی - میاں نواز شریف کی پہلی  وزارت عظمی کے دوران ایک ملاقات کے سلسلے میں وزیر اعظم کے دفتر میں جناب صلاح الدین  الطاف حسن قریشی  اور غالبا” مصطفی صادق داخل ہو رہے تھے تو وزیر اعظم کے دفتر سے  قاضی حسین احمد  پروفیسر  خورشید  اور جماعت کے ایک اور  معروف رہنما  باہر نکل رہے تھے  نکلنے والے تینوں حضرات کے ہاتھوں میں بڑے سائز کے بریف کیس تھے  صلاح الدین صاحب سے ملاقات میں  نواز شریف  نے بتایا کہ انہوں نے تینوں کو بہت بڑی رقم فراہم کی ہے “ ( صفحہ 150 )
‎ جماعت کی طلبہ تنظیم جمعیت کے حوالے سے بھی حسین فاروق مودودی نے کچھ واقعات کا تذکرہ کیا ہے۔

‎ ’’قیام پاکستان کے بعد جن دنوں جمعیت طلبہ کے قیام کے لئے جماعت کی شوریٰ میں مشاورت ہو رہی تھی،ایک موقع پر مولانا امین احسن اصلاحی نے نکتہ اعتراض اٹھایا کہ آپ لوگ یہ کیا غضب کرنے لگے ہیں؟ کیا اب طالب علموں کے ہاتھوں سے کتابیں لے کر انہیں اپنے سیاسی پمفلٹ تھمائیں گے؟ یہ بہت غلط بات ہو گی۔ اصلاحی صاحب کے اعتراض پر میاں طفیل صاحب برہم ہوئے اور جذباتی انداز میں کہا کہ یہی نوجوان تو ہماری آئندہ سیاسی تگ و دو کی اصل طاقت ہوں گے۔ بعد کے حالات سے ثابت ہو گیا کہ مولانا اصلاحی کا استدلال بجا تھا۔‘‘(صفحہ145)

‎ ’’ابا جان مرحوم کی زندگی ہی میں پنجاب یونیورسٹی میں اس وقت کے سٹوڈنٹس یونین کے صدر حافظ محمدادریس صاحب نے جمعیت کے دوسرے لڑکوں کے ہمراہ اس وقت کے وی سی علامہ علائوالدین صدیقی کے گھر میں زبردستی گھس کر توڑ پھوڑ کروائی اور محترم استاد کے ساتھ زیادتی اورگالم گلوچ کی جس کی تفصیل دوسرے روز تمام اخبارات کی ہیڈ لائن بنی۔ اس کے جواب میں ہمارے والد مرحوم نے علائوالدین صدیقی صاحب سے بذات خود معافی مانگی اور اخبارات میں جو بیان ان کا چھپا اس میں انہوں نے کہا کہ جمعیت نے میری زندگی بھر کی تربیت اور سارے کام اور محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔ ان کے بعد کے ادوار میں جناب ………… یونیورسٹی کے امتحان دیتے ہوئے کتابوں سے نقل کرتے ہوئے پائے گئے  جبکہ  ان کے دونوں طرف جمعیت کے مسلح لڑکے کھڑے ہوتے تھے - اس دور کے کچھ اساتذہ اور طلبہ  اب بھی زندہ ہوں گے  جو اس منظر کی شہادت دے سکتے ہیں 

‎ ’’زبردستی اساتذہ کا ٹرانسفر اور طلبہ کا ایڈمشن اور دوسری من مانی کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے بہت سے اساتذہ اور طلبہ نے امیر جماعت اور نعیم صدیقی صاحب سے شکایات کرنی شروع کیں ،بے شمار خطوط روزانہ موصول ہونے لگے جس پر نعیم صدیقی صاحب نے اشارات میں لکھنا شروع کیا۔ اشارات کا شروع دن سے یہی مقصد رہا تھا کہ ارکان کو ہدایات ،اصلاح اور رہنمائی فراہم کی جائے۔ اس وقت قاضی صاحب کی امارت کا دور شروع ہو چکا تھا۔ بقول نعیم صدیقی صاحب کے ایک دن صبح کے وقت اچانک ان کے گھر قاضی صاحب مرحوم آدھمکے۔ نعیم صدیقی ان دنوں منصورہ میں جماعت کے ایک فلیٹ میں رہائش پذیرتھے اور ترجمان القرآن کے مدیر تھے۔ دعا سلام کے بعد انتہائی تحکمانہ انداز میں حکم دیا کہ آئندہ ماہ سے ترجمان کے اشارات وہ خود لکھیں گے اور آپ یہ جماعت کا فلیٹ بھی خالی کر دیں اور یہ حکم صادر کر کے بغیر کسی دعا سلام کے ان کی نشست گاہ سے چلے گئے(صفحہ182تا184) 

‎حسین فاروق مولانا مودودی کا بیٹا ہونے کے ناتے’’اندر‘‘ کے آدمی ہیں۔ ان کے بیانات اور الزامات درست ہیں یا غلط‘ بہر طور سنگین ضرور ہیں۔ جماعت اسلامی آج بھی لاکھوں پاکستانیوں کے نزدیک ایک قابل قدر جماعت اور امیدوں کا مرکز ہے حسین فاروق مودودی صاحب کے الزامات کا مسکت جواب دینا ان لاکھوں پاکستانیوں کے دل کی آوازہو گی۔ جماعت کے اصحاب حل و عقد اپنی ذمہ داریاں بہتر سمجھتے ہیں مگر منطقی طور پر انہیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔یہ مقدمہ امریکی عدالت میں بھی دائر کیا جا سکتا ہے جہاں حسین فاروق مقیم ہیں اور جہاں جماعت کا بھی مضبوط سیٹ اپ موجود ہے۔ لمحہ موجود میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ 

‎؎ کس کا یقین کیجیے کس کا یقیں نہ  کیجیے
‎لائے ہیں بزمِ ناز سے یار خبر الگ الگ

Thursday, August 15, 2019

دونوں میں سے بھینس کون سی ہے؟



کیا کسی کو عبدالحمید کا نام یاد ہے؟ 


کم ہی لوگوں کو آج معلوم ہو گا کہ راولپنڈی پشاور روڈ پر آج جہاں ای ایم ای کالج ہے وہاں پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ ہوتا تھا ۔پشاور روڈ راولپنڈی ہی کی نہیں پورے ملک کی لائف لائن ہے۔ یہ لائف لائن پولی ٹیکنیک کے طلبہ کے رحم و کرم پر تھی۔ جب چاہتے شاہراہ پر قبضہ کر کے آمدو رفت معطل کر دیتے۔ بھٹو صاحب کا ایوب خان کے ساتھ عہد عقیدت ختم ہوا تو عہد بغاوت شروع ہوا۔ انہیں دنوں پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ نے شاہراہ پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ حکومت کو گولی چلانا پڑی عبدالحمید نامی طالب علم شہید ہو گیا۔ بھٹو صاحب اسی کی تعزیت کے لئے اس کے آبائی قصبے پنڈی گھیپ گئے یہ وہ زمانہ تھا جب بھٹو صاحب کو اپنی سیاسی اٹھان کے لئے ایسی لاشوں اور ان کی تعزیتوں کی ضرورت تھی۔ یہ الگ بات کہ بعدمیں دلائی کیمپ بھی بنا۔ لیاقت باغ میں گولیوں کی بارش بھی ہوئی اور ڈاکٹر نذیر سے لے کر نواب محمد احمد قصوری تک متعدد قتل بھی ہوئے۔ 


جنرل ضیاء کا زمانہ آ گیا۔ شاہراہ پر قبضہ وقتاً فوقتاً ہوتا رہا۔ یہ قبضہ پشاور سے لاہور تک کی ٹریفک کو متاثر کرتا تھا۔ جنرل صاحب نے بانسری کی روز روز کی آواز سے جان چھڑانے کے لئے بانس ہی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ کالج کو وہاں سے 1979ء میں کہیں اور ’’منتقل ‘‘کرنے کا حکم دیا اور وہاں عسکری انتظام کے تحت چلنے والا ای ایم ای کالج بنا دیا جو اب نسٹ یونیورسٹی کا حصہ ہے۔ ہاں! پولی ٹیکنیک کو ’’منتقل‘‘ ہونے میں تین عشرے لگ گئے


کسی بھی مہذب ملک میں شاہراہچھوٹی ہو یا بڑی مسدود کرنے کا کوئی تصور نہیں! اسلام میں بھی یہ پہلو از حد اہمیت کا حامل ہے۔ ہر مسلمان کو علم ہے کہ راستے سے کانٹے یا کوئی رکاوٹ ہٹانا نیکی کا عمل ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر راستہ بند کرنا کتنا بڑا گناہ ہو گا! فقہا نے شاہراہوں کے کنارے بول و براز ڈالنے سے بھی منع کیا ہے۔ 


تاہم پاکستان چونکہ اسلام کے نام پر بنا ہے اس لئے ایسی کسی بھی پابندی سے مبرا ہے۔ یہاں سڑکیںشاہراہیں، گلی کوچےغریب کی جورو ہیں! جس کا بس چلتا ہےانہیں بند کر دیتا ہے۔ گائوں کے کلچر میں مخالفین کا راستہ بند کر دینا عام ہے۔ اس سے مقدمہ بازی کا آغاز ہوتا ہے جو برسوں نہیںدہائیوں تک چلتی ہے۔ چند مربع فٹ کی پگڈنڈی دو خاندانوں کو قلاش کر کے رکھ دیتی ہے۔ قصبوں اور شہروں میں شادی ہو یا موتسب سے پہلے راستہ ہدف بنتا ہے۔ ٹینٹ اور سائبان یوں نصب ہوتے ہیں کہ پوری گلی بند ہو جاتی ہے اردگرد کے مکین کچھ مروت کے مارے اور کچھ مجہول ہونے کے سببخاموش رہتے ہیں اگرچہ خون کے گھونٹ پیتے ہیں


رہیں بڑی شاہراہیںتو ان کی حرمت اتنی بھی نہیں جتنی جنگل کے کچے دھندلے راستے کی ہوتی ہے۔تحریک انصاف نے ’’بڑا‘‘ دھرنا دیا تو مہینوں شاہراہیں بند رہیں۔ پھر مولانا نے دونوں شہر مفلوج کر کے رکھ دیے آئے روز شاہراہیں مسدود کر دی جاتی ہیں۔ کوئی اپنی غلطی سے گاڑی کے نیچے آ کر کچلا گیا تو لواحقین نے اس کی لاش چارپائی پر ڈالی اور چارپائی شاہراہ کے درمیان رکھ دی۔ احتجاج جس کے خلاف بھی ہونشانہ شاہراہ بنتی ہے۔ جلوس مذہبی ہو یا سیاسیشاہراہ کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے


راستے بند کر کے خلق خدا کو بے پناہ اذیت میں مبتلا کرنے کی ’’نیکی‘‘ عیدالضحیٰ کے دنوں میں عروج پر رہی! سڑکیںگلیاںکوچےشاہراہیںمویشیوں کی منڈیوں میں تبدیل ہو گئے۔ شہریت اورشہری شعور کا جنازہ نکل گیا۔ وحشت اور بے حسی عروج پر رہی! ایئر پورٹوںہسپتالوںقبرستانوں میں پہنچنے والے بے یارومددگارگھنٹوں بلکہ پہروں مسدود راستوں کے کناروں پر کھڑے رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی طور پر پولیس کو ہدایت کی کہ راستے منڈیوں میں تبدیل نہ ہوں ۔ راولپنڈی میونسپل کارپوریشن نے تین مقامات مخصوص کر کے جیسے فرض کفایہ ادا کر دیا۔ دونوں احکامات ہوا میں اڑا دیے گئے۔ دارالحکومت پورے کا پورا مویشی منڈی میں تبدیل ہو گیا۔ 


زینب کو لاہور چھوڑ کر واپسی ہو رہی تھی۔ موٹر وے پر ہم چکری پہنچ گئے۔ چکری سے ایک بڑی شاہراہ سیدھی روات کو جاتی ہے۔ شاید اسے چک بیلی خان روڈ کہتے ہیں۔ عام طور پر اسلام آباد جانے کے لئے موٹر وے کے مسافرچکری سے نکل کر اس سڑک پر ہو لیتے ہیں۔ نئی بنی ہوئی یہ سڑک کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ بچا دیتی ہے مگر افسوس!جب روات یعنی جی ٹی روڈ صرف دس منٹ رہ گئی تو مسافر محصور ہو کر رہ گئے۔ آگے قربانی کے جانوروں کی منڈی لگی تھی گاڑی تو کیاکیڑی تک نہیں گزر سکتی تھی۔ عین شاہراہ کے اوپرجانور فروخت کرنے والے ’’جانور‘‘ کھڑے تھے وہ اس حقیقت سے مکمل بے نیاز تھے کہ سینکڑوں گاڑیاں دونوں طرف رکی ہوئی ہیں۔ ایک ہاتھ سے بکرا یا بیل پکڑےدوسرے ہاتھ سے موبائل کا فون استعمال کرتے یہ بیوپاریآسمان سے اُترا عذاب لگ رہے تھے۔ ایک خاتون نے اپنی بھینس کے ساتھ سیلفی بنا کر کسی دوست کو بھیجی۔ دوست نے پوچھا دونوں میں سے بھینس کون سی ہے؟ یہاں بھی یہی سوال تھا کہ جانور کون ہے؟ چار ٹانگوں والا؟ یا وہ دو پایہ جو جانور کو پکڑےفون کانوں سے لگائےسڑک کے درمیان کھڑا ہے؟ پولیس کو یقینا اس صورت حال کا علم ہو گا مگر پولیس بیچاری خود دوپایہ ہے۔ جانے کہاں کہاں عیدی اکٹھا کر رہی ہو گی! شاعر نے کہا تھا ع 


آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا


 ثابت ہوا کہ ہر دوپایہ انسان نہیں ہو سکتا! شاہراہوں کو منڈیاں بنانے والے دوپائے بیوپاری تو ہو سکتے ہیںانسان نہیں کہلائے جا سکتے


ہم پاکستانیوں کی قسمت عجیب و غریب ہے۔ جو شے بھی ملیادھورینقص والی ملی ! امرود میں کیڑا نکلا! خشک خوبانی میں ڈھیروں لحمیات ! سیاسی پارٹیاں ملیں تو ایسی جن میں جمہوریت ضرور ہے مگر خاندانی ! پارٹی کی ملکیت خاندان سے باہر نہیں جا سکتی! مذہبی رہنما ملے تو ایسے جن کے نزدیک اسلام صرف حقوق اللہ کا نام ہے! حقوق العباد سے کوئی سروکار ہی نہیں۔ خلق خدا کو تلقین کریں گے کہ حجامہ سے بیماری کا علاج کرائوخود بیمار ہوں گے تو ٹاپ کے ہسپتال میں بہترین ڈاکٹروں سے سٹنٹ ڈلوائیں گے! تاجر ملے تو اکثریت مجرموں کی شکل میں! رہنما ملے تو ایسے جن کا ’’وطن اصلی‘‘ پاکستان سے باہر ہے! روحانیت کے علمبردار ہیں تو وہ جن کی روحانیت فقط مستقبل کا حال بتانے پر موقوف ہے! کسی زمانے میں روحانیتباطن کی صفائی کا نام تھا۔ روحانی پیشوا نظر نہ آنے والے رذائل سے چھٹکارا دلواتے تھے! غیبتحسدحب جاہتکبربغضسے نجات دیتے تھے۔ تزکیہ نفس سکھاتے تھے۔ جھوٹ اور وعدہ خلافی کی جڑ کاٹتے تھے۔ اب پہروں گفتگو اس پر ہوتی ہے کہ فلاں ماضی میں جھانک سکتا ہے اور فلاں مستقبل سے آگاہ ہے! مانا یہ ایک علم ہے۔ فرض کیجیے کوئی واقعی اللہ والا ہے۔ مگر آپ کی عاقبت اس کے کشف و کرامات سے کیسے سنورے گی؟ آپ کا اپنا رویہ کیا ہے؟ دوسروں کے کمالات پر یقین کرنے اور ان کی تشہیر کرنے سے آپ کی اپنی آخرت کیسے فلاح پائے گی؟ 


ایک زمانے میں حفیظ جالندھری اور ضمیر جعفری کسی ایک جگہ ملازمت کرتے تھے۔ پھر یہ زمینی قربت ختم ہو گئی۔ مدت بعد ملے۔ ضمیر جعفری نے اشعار سنائے۔حاضرین نے خوب تحسین کی! حفیظ صاحب کو شاید یہ تحسین اچھی نہ لگی۔ کہنے لگےضمیر! تم ہمارے ساتھ تھے تو اتنے اچھے شعر نہیں کہتے تھے! ضمیر جعفری نے جواب دیا’’حضورْ سارا فیض آپ سے دوری کا ہے!‘‘ جو ہماری حالت ہےوہ کتاب الٰہی سے دوری کی نحوست کے سبب ہے! دنیا بھر کی کتابیں چاٹ ڈالیں گےقرآن سمجھ کر نہیں پڑھیں گے۔ پانچ وقت پڑھی جانے والی نماز کا مطلب کتنوں کو معلوم ہے؟ 


آئیے! اگلی عیدالضحیٰ تک یہ سوچیں کہ بکنے والا چوپایہ اشرف ہے یا فروخت کرنے والا دوپایہ؟ 





 

powered by worldwanders.com