Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Sunday, December 09, 2018

زلف عنبر بار سے کژدم بکھیر اژدر نکال



’’ختم نبوت‘ ناموس رسالت پر کوئی سودے بازی نہیں کی جا سکتی اور دینی مدارس امتیازی سلوک برداشت نہیں کریں گے۔‘‘

ایک مذہبی رہنما کے اس تازہ ترین بیان پر غور کیجئے۔ کیا دونوں فقروں میں کوئی باہمی تعلق ہے؟

پہلا سوال ذہن میں یہ اٹھتا ہے کہ ختم نبوت اور ناموس رسالت پر کس نے سودا بازی کی ہے؟ یا سودا بازی کی پیشکش کی ہے؟ نام بھی تو معلوم ہو؟ نعوذ بااللہ کیا ختم نبوت اور ناموس رسالت پر سودے بازی ہو سکتی ہے؟ کیا کسی میں اس کی جرأت ہے؟

میڈیا کے اس بدترین دور میں کوئی کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ پھر اپنے مطالبے کو‘ اپنی کمیونٹی کے مطالبے کو‘ اپنے گروہ کے مطالبے کو زور دار بنانے کے لیے ختم نبوت اور ناموس رسالت سے بڑھ کر اور کون سا کندھا بہتر ہوگا جس پر مفادات کی بندوق رکھ کر چلا دی جائے۔ کل کو کیا عجب آپ یہ بھی سنیں:۔

’’ختم نبوت‘ ناموس رسالت پر کوئی سودے بازی نہیں کی جاسکتی اور ڈاکٹر امتیازی سلوک برداشت نہیں کریں گے۔‘‘

یا ختم نبوت‘ ناموس رسالت پر کوئی سودے بازی نہیں کی جا سکتی اور تاجر امتیازی سلوک برداشت نہیں کریں گے۔‘‘
۔ مولانا صاحب نے ساتھ ہی یہ خبر دی کہ ’’مدارس نے ملک میں محبت کو فروغ دیا ہے۔ مدارس کا پیغام بھی پیغام محبت ہے۔‘‘

یہ ایک روح پرور خبر تھی۔ دل کو اطمینان نصیب ہوا۔ میں نے دیوبندی لبادہ اوڑھا اور ایک بریلوی مدرسہ میں جا دھمکا۔ ایک سینئر طالب علم ملا۔ اس سے پوچھا‘
کتنے عرصہ سے یہاں زیر تعلیم ہو؟
ساتواں سال۔
کیا ان سات برسوں میں کسی دیوبندی مدرسہ میں جانے کا اتفاق ہوا؟
نہیں۔
کیا یہاں تمہارے اساتذہ میں کوئی دیو بندی مکتب فکر سے بھی تعلق رکھتا ہے؟
سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
آپ کے مدرسہ سے ملحقہ مسجد میں جلسے ہوتے ہیں۔ کیا کبھی کوئی دیوبندی مولانا بھی وعظ کے لیے بلائے گئے؟
نہیں‘ مگر آپ کون ہیں اور یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں؟
میں ایک دیوبندی ہوں اور آپ سے محبت کرنے آیا ہوں۔
طالب علم کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔
تم ایک دیوبندی ہو؟ تم تو گستاخ رسول ہو‘ تمہارا ہم سے‘ ہمارے مدارس سے‘ ہماری مساجد سے اور محبت سے تعلق ہی کیا ہے۔ ہم تو تم لوگوں کے پیچھے نماز تک نہیں پڑھتے۔ یہاں تک کہ حرمین شریفین میں بھی ہم احتیاط کرتے ہیں۔ تم اولیاء اللہ کو نہیں مانتے۔ تم کرامات کے منکر ہو۔ بہتر ہے یہاں سے نکل جائو۔

اب میں بریلوی بنا اور اہل حدیث مکتب فکر کے مدرسہ میں جا پہنچا۔ محبت کو ماپنے کے لیے بیرومیٹر تلاش کر ہی رہا تھا کہ مدرسہ کے بڑے مولوی صاحب نے بلایا۔
آپ کو یہاں پہلے نہیں دیکھا؟ کون ہیں‘ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟
حضور‘ میں ایک بریلوی ہوں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ مدارس ملک میں محبت کو فروغ دے رہے ہیں اور ان کا پیغام محبت کا پیغام ہے۔ میں یہاں محبت بانٹنے اور محبت وصول کرنے آیا ہوں۔

مولانا کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ ایسے بل جنہیں محبت کی بڑی سے بڑی استری بھی ہموار نہ کرسکے۔
تم مشرک‘ بدعتی‘ یہاں کیسے آن دھمکے؟ ہم تو کسی بریلوی کے گھر رشتہ تک نہیں کرتے‘ تم لوگ مزاروں پر جاتے ہو‘ عرس مناتے ہو‘ پیروں فقیروں کو مانتے ہو‘ گیارہویں پکاتے‘ کھاتے اور کھلاتے ہو۔ اذان سے پہلے درود شریف پڑھتے ہو اور پھر تم حنفی بھی ہو۔ تم رفع یدین کرتے ہو نہ امام کی اقتدا میں سورۃ فاتحہ پڑھتے ہو۔

میں روہانسا ہو کر نکل آیا۔ یہ محبت کا پیغام جو مدارس دے رہے تھے‘ نہ جانے کہاں دستیاب تھا۔ ایک امید باقی تھی۔ میں نے شیعہ عبا پہنی اور سنیوں کے مدرسہ جا پہنچا۔ دور ہی سے پہچان لیا گیا۔
اوئے‘ یہ صحابہ کو نہ ماننے والا اور ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے والا یہاں کیسے گھس آیا۔
نماز کا وقت تھا‘ امام صاحب کسی کام سے گئے ہوئے تھے۔ سب بے تابی سے انتظار کر رہے تھے۔ میں نے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔
میں نماز پڑھا دیتا ہوں۔ ہم بھی تو وہی نماز پڑھتے ہیں۔ اتنی ہی رکعتیں۔
نہیں‘ تم شیعہ ہو‘ ہم سنی ہیں۔ تمہارے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی۔
پھر میں نے سنیوں کا بھیس بدلا اور اثنا عشریوں کے مدرسہ میں جا پہنچا۔ وہاں بھی یہی ہوا۔ میرے پیچھے نماز پڑھنے کو کوئی تیار تھا نہ میرے گھر رشتہ کرنے کو۔
تم محرم میں ماتم کرتے ہو نہ تعزیہ نکالتے ہو‘ تمہارا ہم سے کیا تعلق۔

بات وہ کرنی چاہیے جسے سن کر لوگ ہنسنانہ شروع کردیں۔ خلق خدا سیانی ہو چکی ہے۔ کسی سے پوچھ کر دیکھ لیجئے کہ امت میں تفرقے کا باعث کون سا طبقہ ہے؟ جواب سن کر چودہ طبق روشن ہو جائینگے۔ آپ کی اس بات کو کون تسلیم کریگا کہ لاہور میں برفباری ہوئی ہے اور گرمیوں میں لوگوں نے مری اور کاغان کے بجائے جیکب آباد جانا شروع کردیا ہے۔

ہاں‘ مدارس محبت کے مراکز تھے۔ اس وقت تک جب یہ کمرشل نہیں ہوئے تھے۔ جب مدارس کے مہتمم اور مالکان اپنی روٹی کمانے کے لیے کام کرتے تھے۔ تجارت کرتے تھے‘ ہل چلاتے تھے‘ یہاں تک کہ محنت مزدوری سے بھی عار نہ تھا۔ تب رواداری تھی‘ دلوں میں خدا کا خوف تھا‘ کہاں وہ زمانہ کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے غیر مسلم خاکروب کو اپنے ساتھ کھانے پر بٹھایا‘ اس کے منہ میں آلو ڈالا۔ اس نے آدھا کھایا تو دوسرا آدھا اپنے منہ میں ڈال لیا اور کہاں یہ زمانہ کہ دوسرے مسلک کے مسلمانوں کو مسلمان ماننے کے لیے اہل مدرسہ تیار نہیں۔ یقین نہ آئے تو سوشل میڈیا پر مسلکی اختلافات سے لبالب بھری ہوئی‘ آگ لگا دینے والی تقریریں سن لیجئے۔ وہ جو مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا ؎

تو غزل خوانی پہ آ جائے تو ہے خواجوئے وقت
زلف عنبر بار سے کژدم بکھیر اژدر نکال

خوا جو کرمانی کمال کے غزل گو تھے کژدم بچھو کو کہتے ہیں اور اژدر اژدھا کو۔ وہ زمانہ لد چکا جب محبوب کی زلف سے کژدم اور اژدر نکلتے تھے۔ اب تو پھنکارتے سانپ اور بچھو ہمارے واعظین کے دہانوں سے نکل رہے ہیں۔
خدا وہ دن دکھائے کہ ہمارے محترم علماء کرام ایک دوسرے کی اقتدا میں نمازیں ادا کرنا شروع کریں اور ٹکڑوں میں بٹی امت کو حقیقی معنوں میں محبت کا پیغام دیں۔






Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Saturday, December 08, 2018

ایک خوش بیان کا تذکرہ



قاضی گل حسین صاحب کو دیکھا کبھی نہیں

مگر بچپن اور لڑکپن کی وہ یادیں جنہوں نے ساری زندگی دامنِ دل نہ چھوڑا‘ قاضی صاحب کا نام ان یادوں کا ایک جزو رہا ہے۔ 

نہیں معلوم قاضی صاحب کی دوستی کا آغاز دادا جان کے ساتھ کب ہوا اور کیوں کر ہوا۔ اُس کچّے سن میں اتنا شعور ہی کہاں تھا کہ باتیں کرید کرید کر پوچھی جاتیں اور لکھ لی جاتیں۔ مگر دادا جان جب بھی اپنا لکھنے پڑھنے کا کام کر رہے ہوتے ہیں اکثر و بیشتر ان کے پاس ہوتا۔ فارسی ادبیات عالیہ کی تدریس کے علاوہ علاقے میں ان کا فتویٰ بھی چلتا تھا۔ دور و نزدیک سے خطوط آتے اور سائل بھی۔ کبھی کبھی ان کا کوئی معاون یا شاگرد بھی ان کا ہاتھ بٹاتا۔ کبھی وہ بولتے جاتے اور وہ لکھتا جاتا۔ کبھی وہ متعلقہ کتابوں سے ریفرنس تلاش کرنے کا کام کرتا۔ انگریزی عہد سے وہ میرج انسپکٹر کے عہدے پر بھی فائز تھے۔ تحصیل فتح جنگ ان کے دائرہ فرائض میں شامل تھی۔ یہ بنیادی طور پر مردم شماری کی قسم کا کام تھا۔ گھوڑی پر سوار‘ خادم کے ساتھ وہ گائوں گائوں دورہ کرتے اور اعداد و شمار بہم پہنچا کر رجسٹر پر لکھتے جاتے۔ پھر رپورٹ بنتی اور ضلع کے ڈی سی کو بھیج دی جاتی۔ یہ طے تھا کہ فلاں گائوں میں فلاں کے گھر ٹھہرنا ہے۔ یہ دورہ ہر ماہ کے دس یا پندرہ دنوں پر محیط ہوتا۔ جب رپورٹ لکھوا رہے ہوتے تو اس میں ایک نام چک امرال کا بھی ہوتا۔ اس وقت یہ گائوں (یا قصبہ) فتح جنگ تحصیل کا حصہ تھا۔ قاضی گل حسین کا تعلق چک امرال سے تھا۔ یوں لگتا تھا کہ دادا جان ہفتے میں کئی خطوط قاضی صاحب کو لکھتے اور اتنی ہی تعداد میں ان خطوں کے جواب بھی ہوتے۔ ان میں تین پیسے میں ملنے والا پوسٹ کارڈ بھی ہوتا اور چھ پیسے (ڈیڑھ آنے) میں آنے والا لفافہ بھی !!بس اتنا معلوم تھا کہ یہ قاضی صاحب کوئی اعلیٰ پائے کے عالم دین ہیں اور دادا جان کے گہرے دوست ! اتنے گہرے کہ آتے اور جاتے خطوط کا تانتا لگا تار بندھا رہتا۔ ان خطوں میں ذاتی معاملات کے علاوہ دینی مسائل کا تذکرہ بھی ہوتا۔1966ء میں جب دادا جان کا انتقال ہوا تو ہو سکتا ہے قاضی صاحب بھی تعزیت کے لئے آئے ہوں مگر یہ ناممکن تھا کہ مہینوں تک آنے والے ہزاروں مہمانوں سے خاندان کے ایک لڑکے کا تعارف کرایا جاتا اور وہ سب کو جان جاتا۔ 

عشرے گزر گئے۔ ایک صاحب خورشید احمد ندیم کے کالموں نے اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کیا۔ تجزیہ‘ بالخصوص مذہبی حوالے سے ایک خاص اپروچ ‘ ایک جدید عقلی
(Rational)
اپروچ ! شاید اسی اپروچ نے ارشاد احمد حقانی صاحب مرحوم کو ان کا مداح بنایا۔ میں حقانی صاحب کے دفتر میں ان کے حضور بیٹھا تھا۔ باتیں ہو رہی تھیں۔ خورشید ندیم کے کالموں کی انہوں نے تعریف کی!(اس تعریف کا علم خورشید ندیم کو اس کالم ہی سے ہو گا!)

پھر ایک دن خورشید ندیم سے ملاقات ہو گئی۔ کب اور کہاں‘ یاد نہیں! وہ میرے حدود اربعہ سے واقف تھے۔ مگر میں ان کے حدود اربعہ سے ناواقف تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ قاضی گل حسین مرحوم کے فرزند ہیں۔ حیرت ہوئی اور مسرت بھی!یوں ظاہری رشتے کے اعتبار سے وہ چچا ہوئے مگر تقویم عجائبات کے کیسے کیسے شوشے چھوڑتی ہے۔ عمر میں اٹھارہ برس چھوٹے!! 

’’سماج ریاست اور مذہب متبادل بیانیہ‘‘ ان کی تازہ تصنیف ہے۔ یہ ان تحریروں کا مجموعہ ہے جو 2016ء اور 2017ء کے درمیان لکھی گئیں اور شائع ہوئیں۔ مذہب کے حوالے سے سماج اور سیاست کا تجزیہ اور سماج اور سیاست کی عینک لگا کر مذہب کی تعبیر۔ یہی خورشید ندیم کا میرے نزدیک اصل میدان بھی ہے۔ کاش وہ خالص سیاسی کالم نہ لکھتے۔ ان کالموں سے اختلاف رہا اور ہے۔ مگر یہ ایک اور بحث ہے جس کا یہ وقت نہیں! 

اس مجموعے میں ان تمام نازک معاملات پر خورشید ندیم نے کھل کر بات کی اور اپنا نکتہ نظر شائستہ اسلوب میں پوری طرح واضح کیا جنہیں عرف عام میں بھڑوں کا چھتہ کہا جاتا ہے۔ اس لئے کہ باڑ کے دوسری طرف جو مدافعین یا دعویدار مورچہ زن ہیں وہ دلیل کم دیتے ہیں اور توپ کا آہنی گولہ زیادہ پھینکتے ہیں۔ مثلاً تکفیر کا جو سلسلہ سید قطب سے چلا اور جماعت اسلامی تک پہنچا اور جماعت کے ارکانِ قضا و قدر جس کا کُھل کر اقرار نہیں کرتے‘ اس کا ذکر خورشید ندیم نے دلائل کے ساتھ کیا اور اپنا مقدمہ یوں ثابت کیا کہ 1995ء میں بے نظیر حکومت کے خلاف جماعت نے تحریک چلائی تو ایک مرکزی رہنما نے دلیل اس طرح دی۔ 


’’پاکستان کی موجودہ حکومت طاغوت ہے۔ الجماعتہ نہیں اور اس کی خیر خواہی اور وفاداری کا التزام طاغوت کا التزام ہے، التزامِ جماعت نہیں‘‘

اور پھر یہ بھی کہ 

’’جو لوگ سیکولر سیاست کے قائل ہوں اور سیاست و حکومت میں قرآن و سنت کی بالادستی کو ذہناً بھی تسلیم نہ کرتے ہوں بلکہ ان کا عقیدہ یہ ہو کہ سیاست میں دین و مذہب کا کوئی دخل نہیں ہے وہ تو اعتقادی کفر اور فکری کفر کے مرتکب ہیں۔ ان کی اہلیت کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘‘ 

اس موقف کا اعتراف اور اعلان کھل کر صرف سید منور حسن نے کیا اور ڈٹ گئے۔ یہاں تک کہ پاکستانی عساکر کو شہید کہنے سے بھی انکار کیا۔ تاہم جماعت کے میکانزم کو سید صاحب کی یہ جرأت اور عدم مداہنت ہضم نہ ہو سکی! 

٭ فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک پر صدر اردوان کے بے ثبوت الزامات؛ 

٭ تبلیغی جماعت ؛

٭ دیو بند مکتب فکر کا دہشت گردی سے تعلق اور اس حوالے سے مولانا فضل الرحمن کی پالیسی 

٭ جنید جمشید ؛ 

٭ ایران اور انقلاب ایران؛ 

٭ روحانیت بمقابلہ شریعت؛ 

٭ ہمارے حکمرانوں کا تصوّرِ مذہب؛ ٭ 

یہ اور ایسے کئی نازک متنازعہ مضامین پر اس کتاب میں ایسی تحریریں شامل ہیں جو غورو فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ سوچ کی نئی راہیں دکھاتی ہیں۔ ذہنوں میں بنے ہوئے بُت‘ ممنوعات
(Taboos) 
توڑتی ہیں۔ خورشید ندیم کے نکتہ ہائے نظر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور کرنا بھی چاہیے۔ مگر یہ تحریریں جستجو کی طرف لے کر جاتی ہیں جستجو ہی انسانی عقل کی معراج ہے۔ آبا کے نظریات پر بلا چون و چرا عمل مشرکین مکہ کی سنت ہے۔ اہل ایمان کی نہیں!

خورشید ندیم کا تعلق جاوید احمد غامدی کے سکول آف تھاٹ سے ہے۔ وہ غامدی صاحب کے شاگرد بھی رہے۔ غامدی صاحب کی بہت سی آرا سے اتفاق کیا جا سکتا ہے اور اس سے بھی زیادہ سے اختلاف! اچھا بھلا چلتے چلتے وہ دائیں کان کو بائیں ہاتھ سے پکڑنے میں لگ جاتے ہیں۔ مثلاً وہ جو آیت ہے’’رجالاً اَو رُکبانا‘‘ والی‘(سورۃ بقرہ‘239) جس میں پیادہ یا سواری کی حالت میں نماز پڑھنے کی سہولت عطا کی گئی ہے۔ اس کا تعلق حالت خوف سے ہے۔ مگر غامدی صاحب اس کا اطلاق عام زندگی کی افراتفری پر بھی کرتے ہیں۔ اسی طرح سورہ الفیل کی جو تشریح اس مکتبِ فکر کے بزرگ‘ فراہی تا غامدی‘ فرماتے ہیں‘ اسے دل مانتا ہے نہ دماغ۔ ان کی جماعت کے معروف کارکن برادرم ڈاکٹر ذوالفقار سڈنی سے میلبورن آئے تو غریب خانے پر بھی تشریف لائے۔ ان کی خواہش تھی کہ سرگرمیوں میں باقاعدگی سے حصہ لوں۔ مگر مجھ جیسے آزاد منش طالب علم کی کسی ایک مذہبی یا سیاسی گروہ سے مکمل وابستگی ‘ اپنے آپ پر قدغن لگانے کے مترادف ہے پ؎

ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں 
جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے

تاہم غامدی صاحب کے علم و فضل اور نوجوانوں کو مذہب کے نزدیک لانے کے سلسلے میں ان کی کاوشوں سے انکار کرنا‘ ہرگز روا نہ ہو گا۔ یہاں کہنا یہ ہے کہ اگر وہ اپنے جریدے اشراق کی ادارت خورشید ندیم کے سپرد کر دیں تو ایک تو جریدے کی سنجیدہ حلقوں میں مقبولیت میں کئی گناہ اضافہ ہو جائے گا‘ دوسرے خورشید صاحب خالص سیاسی کالموں کے گناہ بے لذت سے بچ نکلیں گے۔ 

یوں بھی خورشید ندیم‘ ڈاکٹر خالد ظہیر جیسے خود فریفتہ
(SELF-CONCEITED)
سکالروں کی نسبت زیادہ متوازن زیادہ خوش فکر اور زیادہ خوش بیان ہیں۔

    
۔


Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Thursday, December 06, 2018

ایجنسیاں کہاں ہیں؟ کیا واقعی بے خبر ہیں ؟


گورنر ہائوس کی دیواریں گرا کر لوہے کی باڑ لگانے کا حکم سنا تو محمد تغلق یاد آ گیا۔ دارالحکومت دہلی سے ہزاروں میل دور، جنوبی ہند میں لے گیا۔ کچھ جاتے ہوئے لقمۂ اجل بنے۔ بعض کے صرف اعضا پہنچے۔ جب مقیم ہو چکے تو واپسی کا حکم صادر ہوا۔ ابراہام ایرالی نے 
Delhi Sultanate 
میں اس کی روح فرسا تفصیلات نقل کی ہیں۔ 

تو کیا وزیر اعظم کے ذہن میں یہ نکتہ تھا کہ یہ دیواریں انگریزی حاکمیت کی علامت ہیں؟ اور اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان رکاوٹیں ہیں؟ مگر وہ مقصد تو اسے عجائب گھر یا سیرگاہ یا یونیورسٹی بنانے سے پورا ہو جائے گا۔ جب ’’گورنر ہائوس‘‘ کا بورڈ ہی ہٹ گیا تو دیواریں قائم بھی رہیں تو کیا حرج ہے۔ کیا یونیورسٹیوں یا عجائب گھروں یا سیر گاہوں کے گرد چار دیواریاں نہیں ہوتیں۔ دعویٰ ہے کہ خاتون اوّل رومیؔ کو سمجھتی ہیں۔ تو کیا خاتون اول نے رومیؔ کے اس اصول پر عمل کروایا ہے؟ ؎ 

گفت رومی ہربنائے کہنہ کآباد آں کنند
می ندانی اول آں بنیاد را ویراں کنند 

کہ ہر پرانی بنیاد، جسے نیا کرنا ہو، پہلے گرائی جاتی ہے۔ رومی نے اس شعر میں یقینا اشارہ گورنر ہائوس کی دیواروں کی طرف نہیں کیا تھا!! 

مگر دیواریں جو سوشل میڈیا پر اٹھائی جا رہی ہیں ان کا کیا ہو گا؟ کیا کسی کو احساس ہے کہ سوشل میڈیا اس ملک میں فرقہ واریت کا زہر پھیلا رہا ہے۔ مسلسل پھیلا رہا ہے اور وسیع و عریض پیمانے پر پھیلا رہا ہے۔ مسلکی بنیادوں پر اندرونی یا بیرونی دشمن کا ایک لمبا چوڑا ایجنڈا ہے جو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایک طرف آرمی چیف کہہ رہے ہیں کہ 

’’ہائبرڈ جنگ مذہبی، مسلکی اور نسلی بنیادوں پر لڑی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں مشترکہ طور پر جامع قومی جواب کی ضرورت ہے۔ ہماری ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔‘‘ 

دوسری طرف تیسرے درجے کے مولوی، ذاکر، واعظ رات دن آگ اگل رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسے ویڈیو کلپ سننے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جن میں اس قسم کی نظمیں گائی جا رہی ہیں کہ جنت بنی ہی فلاں فرقے کے سربراہ کے لیے ہے اور دوزخ فلاں فرقے کے سربراہ کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ جب کہ دونوں فرقے گزشتہ ڈیڑھ دو سو برسوں میں ظہور پذیر ہوئے ہیں۔ 

شیعہ سنی، اہل حدیث، حنفی اور دیگر مسالک کے اختلافات آج نہیں پیدا ہوئے۔ چودہ سو برس سے یہ اختلافات چلے آ رہے ہیں۔ پوری دنیا کے مسلمان اپنے اپنے علماء اپنے اپنے ائمہ کرام کی تشریحات کے مطابق اسلام پر عمل پیرا ہیں، مگر تیسرے درجے کے مولوی اور ذاکر ان اختلافات کو جس طرح اچھال رہے ہیں، اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ’’اب یا کبھی نہیں‘‘، یعنی
 Now or Never’’
ہماری بات مانو، ورنہ پرخچے اڑا دیں گے‘‘ قرأت خلف الامام، رفع یدین، خلافت و امامت اور دوسرے اختلافی مسائل پہلے صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ سکالروں کی حد تک محدود تھے۔ پہلے یہ بحثیں مدارس میں ذی وقار علماء کرام کے درمیان ہوتی تھیں۔ سنی شیعہ، مقلد، غیر مقلد سب بھائی بھائی تھے۔ شیعہ، سنی علما کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتے تھے۔ سنی شیعہ علما کے شاگرد تھے۔ رواداری کا یہ عالم تھا کہ دیوبندی مسلک کے جید عالم سید انور شاہ کاشمیری گولڑہ شریف تشریف لائے تو حضرت پیر مہر علی شاہ رخصت کرنے پا پیادہ تانگہ اڈے تک ان کے ہمراہ تشریف لائے۔ اہل حدیث عالم مولانا دائود غزنوی، حنفی عالم مولانا احمد علی لاہوری(بانی خدام الدین) کے پاس آئے تو مروتاً ان کے ہمراہیوں اور شاگردوں نے نماز کے دوران اونچی آمین نہ کہی اور مولانا احمد علی کے معتقدین نے رواداری کی خاطر آمین بالجہر کہی۔ پچاس ساٹھ برس پہلے تک شیعہ اور سنی علما ایک دوسرے کے گھروں اور مدارس میں آ کر ایک دوسرے کے مہمان بنتے تھے اور بحث مباحثہ کے باوجود دل میں ملال نہیں آتا تھا۔ رشتہ داریاں مشترکہ تھیں۔ 

اس سے بھی پیچھے چلیے۔ امام مالکؒ حضرت امام جعفر صادقؒ کے بارے میں فرماتے ہیں! 

’’میں امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوا وہ ہمیشہ متبسم نظر آتے تھے لیکن جب ان کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوتا تو وفور تاثر سے ان کا چہرہ زرد پڑ جاتا۔ میں ایک عرصۂ دراز تک ان کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا یا تو وہ نماز میں مصروف نظر آتے یا روزے کی حالت میں ہوتے یا قرآن پاک کی تلاوت کر رہے ہوتے۔ میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی ہو اور وہ باوضو نہ ہوں۔ وہ اپنے وقت کے بہت بڑے عابد اور زاہد تھے جو صرف خدا سے ڈرتے تھے۔ میں جب کبھی ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو جس گدیلے پر تشریف فرما ہوتے تھے اسے اٹھا کر میرے لیے بچھا دیتے تھے‘‘۔ 

کیسا احترام میں گندھا ہوا ایک ایک لفظ ہے اور کیا سرپرستی اور رواداری تھی جس کا اظہار حضرت امام،امام مالک کے ساتھ برتتے تھے۔ تو کیا ان میں اختلافات نہیں تھے؟ آج غضب یہ ہو رہا ہے کہ سنیوں کی زبان پر ائمہ کبار کا ذکر مشکل سے آتا ہے اور شیعہ اپنے ہی ائمہ کے قد آور شاگردوں اور مریدوں کے ذکر سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ 

پھر اختلافی مسائل کی یہ بحث جلسوں جلوسوں تک آ گئی۔ یہاں تک بھی بچائو کی صورتِ حال میسر تھی۔ مگر اب ہلاکت یہ آن پڑی ہے کہ یہ اختلافات سوشل میڈیا کے ذریعے ہر گھر، ہر بیٹھک، حجام کی ہر دکان اور ہر گلی کی ہر نکڑ پر سنے اور سنائے جا رہے ہیں۔ زبان عامیانہ ہے۔ انداز مبتذل ہے۔ مضامین سوقیانہ ہیں۔ لہجہ جارحانہ ہے۔ پورے کا پورا اسلام ہاتھ باندھنے، ہاتھ چھوڑنے، رفع یدین کرنے اور نہ کرنے میں سمٹ آیا ہے۔ یہ آتش خور واعظ علم سے بے بہرہ ہیں۔ ان کے حواریوں کے ہاتھ میں سوشل میڈیا اس طرح آ گیا ہے جیسے بندر کے ہاتھ میں استرا آ گیا تھا۔ فیس بک پر، وٹس ایپ پر، ای میل پر، انٹرنیٹ پر، بھڑکتی آگ کے شعلے آسمان تک پہنچ رہے ہیں۔ یوٹیوب کے ایسے کلپ لاکھوں کی تعداد میں ریوڑیوں کی طرح بانٹے جا رہے ہیں جو نفرت کا پرچار کر رہے ہیں۔ تکفیر کے اڈے ہیں جو گلی گلی کوچہ کوچہ گھر گھر قائم ہو گئے ہیں۔ رات دن عفریت نما گزگز لمبی زبانیں خانہ جنگی کے بیج بو رہی ہیں۔ 

ایجنسیاں کہاں ہیں؟ کیا وہ اس صورت حال سے بے خبر ہیں؟ اگر بے خبر ہیں تو ان کی کارکردگی پر افسوس ہے! اگر با خبر ہیں تو انسداد کے لیے کیا کر رہی ہیں؟ 

کوئی مانے یا نہ مانے، ہر قسم کے مذہبی ویڈیو کلپس پر پابندی عائد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ آج نہیں تو ایجنسیوں کو کل یا پرسوں یہی کچھ کرنا پڑے گا اور کل یا پرسوں تک بہت تاخیر ہو چکی ہو گی۔ اپنے اپنے عقاید کو اپنے اپنے دلوں اور دماغوں تک محدود رکھنا ہو گا۔ کیا ستم ہے کہ مذہبی عقاید سینوں سے نکل گئے اور گاڑیوں کے عقبی شیشوں، دکانوں کے سائن بورڈوں اور مسجدوں کے بیرونی دروازوں کی پیشانیوں پر ابھر آئے۔ ہلاکت کے ان بمبار جہازوں کو گرائو ورنہ محمدؐ اور آلِ محمدؐ کی قسم! گھر گھر آگ بھڑکے گی۔

   









Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Sunday, December 02, 2018

اصلاحات کمیشن کا سربراہ کسی سیاستدان کو بنائیے


نوجوان شوکت علی یوسف زئی نے اگر ایسا کہا ہے تو غلط کہا ہے! 

خلاق عالم کا ایک نظام ہے۔ اس نظام میں مداخلت کی کوشش ہمیشہ ناکام ثابت ہوتی ہے۔ بڑ ہانکنا متین لوگوں کو زیب نہیں دیتا۔ اگر وہ متین ہوں تو۔ 

جنرل ضیاء الحق کا اقتدار پاکستان کے اطراف و اکناف پر یوں چھایا ہوا تھا جیسے سیاہ گھٹائیں برسات میں افق سے افق تک چھا جاتی ہیں۔ محسن کاکوروی نے کیا زندہ جاوید اشعار کہے ؎ 

سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل
برق کے کا ندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جل 

آتش گل کا دھواں بام فلک پر پہنچا 
جم گیا منزل خورشید کی چھت میں کاجل

مگر رت ایک سی نہیں رہتی۔ ساون بیت جاتا ہے۔ گھٹائیں اپنی راہ لیتی ہیں۔ مطلع صاف ہو جاتا ہے۔ یوں جیسے بادل کبھی آئے ہی نہیں تھے۔ پھر سورج اقتدار سنبھال لیتا ہے۔ دھوپ کوڑے برساتی ہے۔ کوئی سوچ سکتا تھا کہ جنرل ضیاء الحق کا اقتدار ختم ہو جائے گا۔ گردش دہر مداخلت نہ کرتی تو جنرل صاحب جنوبی ایشیا میں حافظ الاسد کا ریکارڈ توڑ ڈالتے۔ 

یہ اجلاس وزارت خزانہ میں تھا۔ کوئی بات ہوئی جس پر جنرل صاحب نے تنک کر کہا۔ ’’میں جانے والا نہیں‘‘۔ ابر پارے ہنسے۔ ہنسی افلاک تک گئی۔ فرشتے کانپ اٹھے۔ خلق الانسان ضعیفا۔ انسان کی تخلیق ہی میں بے چارگی شامل ہے۔ پیدائش بے بسی کا نمونہ! کہ بول وبراز میں لپٹا رہے تو کچھ نہیں کرسکتا۔ موت عقاب کی طرح جھپٹتی ہے اور اچک کر لے جاتی ہے۔ 

کالی قبر تے گھپ اندھیرا اے 
جتھے کیڑے مکوڑیاں دا ڈیرا اے 
ایہہ کلمہ نور سویرا اے 
پڑھ لا الٰہ الا اللہ

اس سے پہلے یہی غلطی بھٹو صاحب سے صادر ہوئی۔ اسمبلی میں کہا! یہ کرسی بہت مضبوط ہے۔ پھر کرسی بچی نہ کرسی نشین۔ بساط الٹ گئی۔ مولوی مشتاق کی کیا طاقت تھی اور یحییٰ بختیار کا کیا قصور۔ یہ تو ہمیشگی کا دعویٰ تھا جولے بیٹھا۔ 

شرق اوسط کے طاقت ور ترین شاہ زادے نے یہی غطی چند ماہ پیشتر کی ہے۔ بحر اوقیانوس‘ جسے انگریز تالاب
 (Pond) 
بھی کہہ دیتے ہیں‘ کے اس پار‘ امریکہ کی سرزمین پر رومال پوش شہزادے نے دعویٰ کیا کہ پچاس برس تک حکومت کرے گا۔ اور یہ کہ صرف موت روک سکتی ہے۔ خدا اسے سلامت رکھے‘ خاشقجی والے سانحہ کے بعد اس کا اقتدار خزاں کے زرد پتے کی طرح کانپ رہا ہے۔ حافظ ظہور کہہ گئے ؎ 

کسی کوکیا خبر کیا کچھ چھپا ہے پردہ شب میں 

نہیں قدرت کے اسرار نہاں کا رازداں کوئی

دعویٰ؟ نہیں۔ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے‘ دعویٰ کرنا اسی کو زیب دیتا ہے جو مستقبل کا مالک ہے‘ زمین جس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان جس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ کس تکبر سے پرویز رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کی شیروانی کا بٹن بھی نہیں ملے گا۔ 

شوکت علی یوسف زئی نے ایسا کہا ہے تو اچھا نہیں کیا۔ یوسف زئی قبیلہ کے افراد سولہویں صدی عیسوی کے دوران سوات میں وارد ہوئے۔ اپنے گھر میں عجز و انکسار ہی اچھا لگتا ہے۔ شانگلہ میں شوکت یوسف زئی نے یہ کیا کہہ دیا‘ کہ اگلے بیس سال تک ہم ہی حکومتیں بنائیں گے۔ تحریک انصاف کا وزیر بھول گیا کہ مریم نواز سے لے کر مریم اورنگزیب تک ہر کوئی مدعی تھا کہ 2018ء میں نوازشریف کو آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پھر کیا ہوا؟ 

بیس سال تک آپ حکومتیں بنائیے مگر یہ بھی تو دیکھئے کہ کھاد کون سی ڈال رہے ہیں کہ حکومتیں اگیں اور آپ کھلیان سے حکومتیں بوریوں میں بھر کر گھروں کے گوداموں میں لے جائیں؟ یہ جو کہا گیا ہے کہ بیوروکریسی میں اصلاحات کے بارے میں نو سو سول سرونٹس سے مشاورت کی گئی ہے۔ تو ذرا قوم کو بتائیے کہ یہ نو سو سول سرونٹس کس کس گروپ سے ہیں‘ کس کس سطح کے ہیں اور کہاں کہاں کام کر رہے ہیں؟ یادش بخیر‘ نوکرشاہی کے سدا بہار نمائندے معین افضل صاحب پے (Pay) کمیشن کے چیئرمین بنتے تھے۔ اجلاسوں پر اجلاس ہوتے۔ پھر کمیشن کے ارکان لاہور طلب کئے جاتے۔ پھر کراچی‘ آخر میں وہی ڈھاک کے تین پات۔ سرکاری ملازموں کی جھولی میں پانچ دس فیصد سے زیادہ شاید ہی اضافے کا جھونگا پڑا ہو۔ یہی کام اب ڈاکٹر عشرت حسین کر رہے ہوں گے۔ وزیراعظم ان سے یہ تو پوچھتے کہ جنرل مشرف کے زمانے میں بھی اصلاحات کی ذمہ داری انہوں نے اٹھائی تھی‘ اس کا کیا بنا؟ عمران خان جاہ طلب افراد سے بچیں۔ بیوروکریسی میں اصلاحات کا عزم مخلص ہے تو صرف ایک گروہ کے ہاتھ یرغمال نہ بنیں۔ ڈاکٹر عشرت حسین سابق بیوروکریٹ ہیں۔ بیوروکریٹ رستم بھی بن جائے تو بہا در نہیں ہو سکتا۔ بہادری سے مراد سہراب کو پچھاڑنا نہیں ‘طرز کہن سے نکلنا ہے۔ تبدیلی لانا اس کے خمیر میں نہیں ہوتا۔ اس کی تربیت نظائر اور سوابق 
(Precedents)
 کی اتباع کرنے کی ہوتی ہے۔ پہلے کیا ہوتا رہا؟ وہ اس سے مشکل ہی سے ہٹتا ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین سے لے کر شفقت محمود اور اعظم خان تک سب لکیر کے فقیر ثابت ہوں گے۔ تعمیل ارشاد کی نفسیات ان میں پختہ ہے۔ قابلیت اور شے ہے۔ 
Pragmatic 
ہونا اور شے ؎ 

آئین نو سے ڈرنا ‘طرز کہن پہ اڑنا 
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں 

برامکہ عباسیوں کے بیوروکریٹ تھے۔ جعفر برمکی کی لیاقت کا یہ عالم تھا کہ فائلوں پر اس کے لکھے ہوئے نوٹ (توقیعات) بازاروں میں فروخت ہوتے تھے اور ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے تھے۔ ایک بار دن میں کئی سو احکام لکھے۔ کوئی لفظ کسی توقیع میں دوسری بار نہ آنے دیا۔ تاہم پالیسیاں خلفا کی چلتی تھیں۔ برامکہ نے زیادہ زور پکڑا تو کچل دیئے گئے۔ بیچارے مرثیوں کا موضوع بن گئے۔ 

اکبر کے نورتن کیا تھے؟ بیوروکریٹ ہی تو تھے۔ فیضی اور اس کے بھائی ابوالفضل سے زیادہ اس عہد میں کون زیادہ عالم فاضل تھا؟ بغیر نقطوں کے تفسیر لکھ ڈالی۔ عالی دماغ تھے‘ تاریخ‘ فلسفے‘ طب‘ منطق‘ ادبیات کے چمکتے ہیرے۔ نظم اور نثر میں اوج کمال پر دمکتے موتی۔ مگر فیصلے بادشاہ کے اپنے تھے۔ کیا نوکرشاہی میں یہ ہمت تھی کہ تورانی سرداروں کے بجائے مقامی راجپوت سرداروں پر انحصار کی رائے دیتے؟ یہ تو شاہ ایران‘ طہماسپ نے ہمایوں کو کہا تھا کہ اقتدار دوبارہ مل گیا تو وسط ایشیا اور ایران و افغانستان سے ساتھ آئے ہوئے سرداروں کے بجائے مقامی طاقتوں پر انحصار کرنا۔ ہمایوں کو وقت نہ ملا۔ اکبر نے اس باکمال تصور کو عملی جامہ پہنایا تبھی تو پچاس برس تک پھریرا اس کا لہراتا رہا۔ یہ بیوروکریسی ہی تو تھی جس نے جہانگیر اور عثمانی خلیفہ کو پریس (چھاپہ خانہ) قبول نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ علم کی دوڑ میں دونوں سلطنتیں کوسوں پیچھے رہ گئیں۔ 

کلرک گریڈ دس کا ہویا بائیس کا کلرک ہی رہتا ہے۔ یہ عوامی نمائندے ہوتے ہیں جو عوامی امنگوں سے واقف ہوتے ہیں۔ ہاں‘ مخلص نہ ہوں تو اور بات ہے۔ اگر کوئی سننے والا ہے تو سنے اور وزیراعظم عمران خان کو قائل کرے کہ بیوروکریسی اصلاحات کمیشن کا سربراہ کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ سیاست دان کو بنائے جو فیصلے کرنے میں‘ تبدیلی لانے میں جرأت دکھائے۔ ورنہ وہی ہوتا رہے گا جو لدھیانے میں ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے ؎ 

ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں
مانو نہ مانو جان جہاں! اختیار ہے

    







Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Saturday, December 01, 2018

مجھ پہ ہنستے تو ہیں پردیکھنا روئیں گے رقیب



اکبر الٰہ آبادی نے شبلی نعمانی کو دعوت نامہ بھیجا تو لکھا:

آتا نہیں مجھ کو قبلہ قبلی
بس صاف کہوں کہ بھائی شبلی

تکلیف اٹھائو آج کی رات
کھانا یہیں کھاؤ آج کی رات

حاضر ہے جو کچھ دال دلیہ
سمجھو اس کو پلائو قلیہ

اکبر کو قبلہ قبلی نہیں آتا تھا، ہمیں یہ سو دن کا حساب سمجھ میں نہیں آتا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے سو دن کی جو اڑائی تھی، اسی وقت باخبر لوگوں کو معلوم تھا کہ یہ سیاسی بات ہے۔ تیس چالیس برس کی لوٹ مار کے بعد ایک ایسی حکومت آئی ہے جس نے جھاڑو پھیرنے کے بجائے دوسرے تمام کام کرنے ہیں۔ سو دن میں یہ سب کام کیسے ہوسکتے ہیں؟ یہ کوئی آٹھ یا دس مرلے کا مکان نہیں کہ سو دنوں میں دیواریں اٹھا دی جائیں گی۔ چھت پڑ جائے گی۔ پلستر لگ جائے گا اور مکین منتقل ہو جائیں گے۔

عمران خان کا، ساری غلطیوں کے باوجود، پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے سربراہوں کے ساتھ موازنہ ایسا ہی ہے جیسا استاد امام دین کا تقابل علامہ اقبال سے کیا جائے۔ کہاں عمران خان کا کلی اور جامع
 (Holistic) 
نصب العین اور تجزیہ اور کہاں میاں صاحب کا بار بار گایا جانے والا ٹیپ کا بند جو صرف تین فقروں پر مشتمل ہے کہ ہم نے دہشت گردی ختم کی ہے۔ ہم نے روشنیاں پھیلائی ہیں۔ موٹروے بنائی ہے، فراق گورکھپوری نے کہا تھا ؎

جان دے بیٹھے تھے اک بار ہوس والے بھی
پھر وہی مسئلہ سود و زیاں ہے کہ جو تھا

تعلیم، ٹیکس نیٹ، بیرونی قرضے، ہائوسنگ، زراعت، صنعت، برآمدات اور اس کے علاوہ درجنوں اور پہلو جو ملک کی ترقی کے لیے توجہ کا تقاضا کرتے ہیں عمران خان کی توجہ کا مستقل ٹارگٹ ہیں مگر مینڈک اور مچھلی کی بصارت اور بصیرت دونوں میں فرق ہے۔ مچھلی کنویں میں گر گئی، مینڈک بھائی کو اس نے بتایا کہ وہ سمندر سے آئی ہے جو بہت بڑا ہوتا ہے۔ مینڈک تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور سامنے والے پانی کی طرف اشارہ کرکے کہا کیا اتنا بڑا ہوتا ہے؟ مچھلی نے کہا نہیں، اس سے بھی بڑا، اب مینڈک نے انتہائی قدم اٹھایا اور پیچھے ہٹتے ہٹتے کنویں کی دیوار سے جا لگا۔ سامنے پورے کنویں کا دائرہ تھا۔ پوچھا کیا اس سے بھی بڑا؟

عمران خان نے سو دنوں کے حوالے سے جو تجزیہ اور پروگرام پیش کیا ہے، دیکھیے اس میں اس نے کن مسائل کا احاطہ کیا ہے۔
٭ یکساں نظام تعلیم لانے کے لیے کمیٹی کی تشکیل۔
٭ صحت کا نظام اور صحت کارڈ۔
٭ بلاسود قرض کی فراہمی کے لیے ’’اخوت‘‘ کو پانچ ارب کی گرانٹ۔
٭ کم غذا کے شکار بچوں پر توجہ۔
٭ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں وسعت۔
٭ ایف بی آر میں اصلاحات۔
٭ نیب کے اختیارات میں اضافہ۔
٭ زرمبادلہ کے ذخائر۔ ٭ ریکوری کے لیے دوسرے ملکوں کے ساتھ ایم او یو۔
٭ بیرون ملک سے ترسیلات زر۔ ٭ سیاحت کا فروغ۔ ٭ مذہبی سیاحت کا نکتہ۔
چھوٹے کسانوں کے لیے خصوصی مشینری۔
٭ لاہور میں بہت بڑی مویشی منڈی کا قیام۔
٭ سیم والے علاقوں کے لیے جھینگا فارمنگ۔
٭ دیہی خواتین کو مرغیاں، انڈے اور چوزے بطور کاروبار مہیا کرنے کا پروگرام۔
٭ دنیا کی حلال گوشت مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ۔
٭ نہریں پختہ کرنے کا عزم۔
٭ مچھلی کی برآمدات۔
٭ سول پروسیجر قانون میں تبدیلی۔
٭ بیوائوں اور خواتین کے لیے تیز تر انصاف۔
٭ وراثت میں خواتین کا حصہ۔
٭ لیگل ایڈ اتھارٹی کا قیام یعنی غریب آدمی کے لیے وکیل کی سرکاری فراہمی۔
٭ وسل بلور ایکٹ یعنی کرپشن کی نشان دہی کرنے والے کے لیے بیس فیصد حصہ۔
٭ ہائوسنگ سکیم۔ تارکین وطن کو قبضہ گروپ سے بچانے کی تدبیر۔
٭ بجلی چوری کا انسداد۔
٭ زمینوں کی قبضہ گروپ سے رہائی۔
٭ بے گھر افراد کے لیے پناگاہیں۔

وزیراعظم نے جو اعداد و شمار کاغذات پر نظر ڈالے بغیر پیش کیے ان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ہوم ورک اچھی طرح کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سنگاپور کی برآمدات کتنی ہیں اور پاکستان کی کتنی؟ اور یہ کہ 43 فیصد بچوں کی مناسب غذا نہ ملنے کی وجہ سے درست نشوونما نہیں ہوتی۔ وزیراعظم کو معلوم تھا کہ پوری آبادی میں سے صرف 72 ہزار اپنی ماہانہ آمدنی دولاکھ سے اوپر ظاہر کرتے ہیں۔ یہ بھی بتایا کہ ملائیشیا کی سالانہ آمدنی سیاحت کے ذریعے بیس ارب ڈالر ہے۔ تعصب کی بات الگ ہے ورنہ انسان تصور بھی نہیں کرسکتا کہ زرداری صاحب یا میاں صاحب ایک تقریر میں ان تمام مسائل کا احاطہ کریں گے۔

دو باتیں اور ہیں جو حکومت کے مخالفین اور متخاصمین کر رہے ہیں۔ بظاہر دونوں باتیں منطقی نظر آتی ہیں۔ اول یہ کہ یہ تمام ٹارگٹ حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ بجا فرمایا! مگر قوموں کی تاریخ سے سبق یہ ملتا ہے کہ ترقی کرنے کے لیے نصب العین ہمیشہ بلند رکھا جاتا ہے۔ مندرجہ بالا تیس شعبوں میں سے فرض کیجئے ہم پندرہ شعبوں میں ستر یا اسی فیصد ٹارگٹ حاصل کرلیتے ہیں یا تمام شعبوں میں تیس تیس فیصد کامیاب ہو جاتے ہیں تو کیا یہ اطمینان بخش امر نہ ہوگا؟ یہی اصول انفرادی زندگی میں کارفرما ہے جو طالب علم کلرک بننے کا خواہشمند ہے، وہ کلرکی سے اوپر نہیں جاسکتا مگر جو نوجوان عزم صمیم کرلیتا ہے کہ وہ بزنس میں کامیابی سے ہمکنار ہوگا یا بہت بڑا وکیل یا بہت بڑا طبیب یا بہت بڑا افسر بنے گا وہ اگر اپنے نصب العین کا تین چوتھائی بھی حاصل کرلے تو کلرک کے مقابلے میں پہلے آسمان پر ہوگا۔ پھر، مخالفین کو کس طرح معلوم ہے کہ یہ ٹارگٹ حاصل نہیں ہوں گے؟ کیا وہ غیب کا علم رکھتے ہیں یا اندر کا خبث میلے پردوں سے چھن چھن کر باہر آ رہا ہے؟ یہ پیشگوئی ہے یا خواہش؟ پروردگار عالم نے وعدہ فرمایا ہے کہ لیس للانسان الا ما سعیٰ۔ جس ٹارگٹ کے لیے سعی کرو گے وہی ملے گا۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ گرانی بڑھ گئی ہے۔ ڈالر اوپر نیچے جارہا ہے۔ روپیہ کی قدر گرتی جا رہی ہے۔ یہاں بھی بجا فرمایا مگر جب بھی بیساکھیاں ہٹائی جائیں، ایک بار انسان ضرور گرتا ہے۔ نہ بھی گرے تو ڈگمگاتا ضرور ہے۔ پھر وہ سنبھل جاتا ہے اور آخر کار بیساکھیوں سے نجات حاصل کرلیتا ہے۔ خودکفیل ہونے کا راستہ کٹھن ہے۔ مسلسل قرضے لینے اور مصنوعی اقدامات کرنے سے معیشت کا پیٹ وقتی طور پر پھول جاتا ہے مگر تلوار سر پرلٹکتی رہتی ہے۔ ہم جو کچھ اصل میں ہیں، اسی کا سامنا کرنے میں ہماری نجات ہے۔ گرانی اور ڈالر اوپر جائیں گے مگر جب معیشت مضبوط ہونے سے نیچے آئیں گے تو نیچے آنے کا یہ عمل مستقل بنیادوں پر ہوگا۔

کسی ماں نے کہا تھا میرا پتر جھلا تو ہو سکتا ہے، چور نہیں ہوسکتا۔ عمران خان سے غلطی ہوسکتی ہے، ولایت کا اس نے دعویٰ نہیں کیا مگر اس کی نیت میں کھوٹ نہیں۔ اس نے سرے محل خریدنا ہے نہ لندن میں فلیٹ۔ نہ بھارت کی کسی بستی کے نام پر محلات کا شہر بسانا ہے۔ کابینہ کے ارکان کو جس طرح کٹہرے میں کھڑا کیا جارہا ہے، اس کی مثال گزشتہ ادوار میں کہاں ملتی ہے؟ مومن نے شاید عمران خان ہی کے حوالے سے کہا تھا ؎

مجھ پہ ہنستے تو ہیں پر دیکھنا روئیں گے رقیب
لب خنداں کی قسم! دیدۂ گریاں کی قسم!!

   






Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Thursday, November 29, 2018

: قیصر کا حصہ قیصر کو اور پوپ کا پوپ کو



جناب احسن اقبال نے کرتارپور کوریڈور اقدام کو سراہا۔ یہ حمایت سیاسی پختگی کی علامت ہے۔ لگتا ہے اہل سیاست زیادہ بالغ نظر ہورہے ہیں۔ ذہنی سطح بلند ہورہی ہے۔

جن ملکوں میں جمہوری سفر کئی سو سال پہلے شروع ہوا، وہ اب اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ ’’اپنے‘‘ اور ’’پرائے‘‘ کے گرداب میں پڑے بغیر سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہہ سکتے ہیں۔پارٹیوں کے اندر ’’اصلی‘‘ انتخابات ہوتے ہیں۔ ارکان کھل کر پارٹی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں اور ضرورت پڑے تو پارٹی کے سربراہ کو گلی کاراستہ بھی دکھا دیتے ہیں۔ اسی طرح مخالف پارٹی کے مثبت اقدامات کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ ہم ابھی اس سطح پر نہیں پہنچے تاہم غنیمت ہے کہ خارجہ امور کے ضمن میں تمام پارٹیاں، جب بھی ضرورت پڑے، ایک پیج پر
ہو جاتی ہیں۔ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے جو ہرزہ سرائی کی اور وزیراعظم پاکستان نے اس کا جو جواب دیا، اس حوالے سے ساری اپوزیشن نے حکومت کا ساتھ دیا۔ اتحاد کا یہ ایک عظیم الشان مظاہرہ تھا۔ اس سے عوام کے حوصلے بلند ہوئے، قوم کا مورال بڑھا۔ یکجہتی کی فضا پروان چڑھی۔ 

یہی صورت حال اگراندرونی پالیسیوں کے ضمن میں بھی ہوتی تو ہمارا احوال بہت بہتر ہوتامگر ایک تعصب ہے جو کارفرما ہے۔ نون لیگ کی ہر پالیسی کی تحریک انصاف نے مخالفت کرنی ہے۔ تحریک انصاف ہوا میں اُڑ بھی لے تو اپوزیشن یہی کہے گی کہ ٹیڑھا اُڑے ہیں۔ پیپلز پارٹی الگ کیڑے نکالنے بیٹھ جاتی ہے۔ موٹر وے بہرطور میاں نواز شریف کا ایک قابلِ ذکر کارنامہ ہے۔ اس کی تعریف نہ کرنا تُھڑ دلی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اقلیتوں کے حوالے سے بھی نواز شریف حکومت کا رویہ لائقِ تحسین تھا۔ اسی طرح تحریک انصاف کی حکومت منی لانڈرنگ کے سلسلے میں جو کاوشیں کر رہی ہے ان کی تعریف اپوزیشن کو کرنی چاہیے مگر وہ جو کہتے ہیں کہ ع 

مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات 

تو اپوزیشن کی مجبوری یہاں یہ ہے کہ منی لانڈرنگ میں خود اس کے زعما کے اسمائے گرامی در آتے ہیں۔ 

یوں بھی ’’اپنوں‘‘ کی طرف داری کیے بغیر سوفیصد انصاف کے ساتھ برائی کی مذمت کرنا ہم اہل اسلام کو بطور خاص سکھایا گیا ہے۔ فرمایا کہ ’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو کہ یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔‘‘ یہ اور بات کہ اس بنیادی فریضے سے ہم انفرادی، خاندانی، گروہی اور جماعتی سطح پر اعراض ہی برتتے آئے ہیں اور برت رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا رویہ دیکھئے۔ ایک ڈاکٹر مریض یا پیرا میڈیکل سٹاف کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔ انصاف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صوبے کے اور پھر ملک بھر کے ڈاکٹر، اس ڈاکٹر کی حمایت شروع کردیتے ہیں جو ملزم ہے۔ وکیل ناانصافی کی اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ کبھی موکلین پر ٹوٹ پڑتے ہیں کبھی منصفوں کو زدوکوب کرنے پر اتر آتے ہیں۔ جن سرکاری اور نیم سرکاری شعبوں میں یونین کا زور ہے وہاں یہ ناانصافی اور گروہ پرستی اور بھی زوروں پر ہے۔ قومی ایئرلائن کی مثال سب کے سامنے ہے۔ جہازوں کی تعداد شرمناک حد تک کم ہے مگر ملازمین گلچھرے اڑائے چلے جا رہے ہیں۔ ڈائون سائزنگ کرنا حکومت کے لیے ناممکن بنایا گیا ہے۔ یونینوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ کسی مجرم کو سزا دینے دیتے ہیں نہ اصلاحات کو بروئے کار لانے دیتے ہیں۔ خاندانوں میں افتراق کی بنیادی وجہ بھی یہی تعصب ہے۔ بیٹا چونکہ اپنا خون ہے اس لیے وہ بے قصور ہے۔ سارا الزام بہو پر ہے۔ بیٹی کا ہر حال میں دفاع کرنا ہے، ملبہ داماد پر ڈالنا ہے، مجرم، مجرم ہے مگر چونکہ اپنی برادری سے ہے اس لیے اس کا ساتھ دینا عزت داری کے لیے لازم ہے۔ غلاف میں لپٹا ہوا، طاق پر دھرا قرآن پاک کیا حکم دیتا ہے ،اس کی مطلق پرواہ نہیں، تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں۔ بات چیت ختم ہو جاتی ہے۔ مقدمہ بازی میں سالہا سال گزر جاتے ہیں۔ زمینیں بک جاتی ہیں۔ جائیدادیں ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہیں مگر قاتل کا ہر حال میں ساتھ دینا ہے۔ دوسرے کی زمین ہڑپ کردینے والا چونکہ بیٹے کے سسرال سے تعلق رکھتا ہے یا ذات برادری کے حوالے سے اپنا ہے اس لیے مظلوم کی مخالفت کرنی ہے۔ ظلم کا ساتھ دینا ہے۔ یہ رویہ بنیادی طور پر جاہلی معاشرے کی نشانی ہے۔ مسدس میں حالی نے اسے کمال بلاغت سے بیان کیا ہے 

وہ بکر اور تغلب کی باہم لڑائی 
صدی جس میں آدھی انہوں نے گنوائی 
قبیلوں کی کردی تھی جس نے صفائی 
تھی اک آگ ہر سو عرب میں لگائی 
نہ جھگڑا کوئی ملک و دولت کا تھا وہ 
کرشمہ اک ان کی جہالت کا تھا وہ 

جاہلیت کا یہ رویہ کنبے میں بچوں کی ساری نفسیات کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھال کر رکھ دیتا ہے۔ بچہ جب دیکھتا ہے کہ ماموں یا چچا قصور وار ہے مگر گھر والے اس کی حمایت کر رہے ہیں تو یہ تعصب اور کذب اس کے مستقبل کے رویے کا فیصلہ کردیتا ہے۔ مغربی معاشرے میں بچے کو پہلا سبق یہ دیا جاتا ہے کہ اس نے جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ کہنا ہے۔ ماں یا باپ جھوٹ بولیں گے تو بچے ان کے منہ پر صاف کہہ دیں گے کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اسی رویہ سے برادری ازم کا خاتمہ ہوا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ امریکہ میں اطالوی یا آئرش کسی کے ذاتی مسئلے کو بنیاد بنا کر احتجاج کر رہے ہوں؟ 

احسن اقبال صاحب نے کرتارپورکوریڈور کی تعریف کی مگر ایک زیادتی بھی کرگئے۔ سارا کریڈٹ انہوں نے آرمی چیف کو دیا ہے۔ وہ سیاسی حکومت کا کردار ماننے کے لیے تیار نہیں۔ تاہم اپنی حکومت کے ضمن میں ان کا یہ معیار نہیں تھا۔ سابق وزیراعظم سے لے کر مسلم لیگ نون کے ارکان اور منتخب نمائندوں تک، سب نے دہشت گردی کے استیصال کا کریڈٹ ہمیشہ نونی حکومت کو دیا۔ سب جانتے ہیں کہ پہل اس سلسلے میں عساکر نے کی تھی۔ کیا سابق وزیر اعظم نوازشریف نے فوج کو زبانی یا تحریری حکم دیا تھا کہ وزیرستان سے یا دوسرے علاقوں سے دہشت گردوں کے مراکز ختم کردو؟ نوازشریف صاحب نے تو طالبان سے مذاکرات کے لیے جو ٹیم بنائی تھی اس میں ایک کالم نگار ایسے بھی تھے جو ہمیشہ طالبان کے ہرقول، فعل کی غیر مشروط حمایت کرتے رہے۔ کون نہیں جانتا کہ میاں شہبازشریف نے طالبان سے درخواست کی تھی کہ پنجاب کو کچھ نہ کہیں، مسلکی تنظیموں کے ساتھ اتحاد بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سفارتی محاذ پر کرتار پور کوریڈور پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ ایک تیر سے کئی شکار ہوئے ہیں۔ اس کا کریڈٹ اگر فوج کو جاتا ہے تو سیاسی حکومت کو بھی دیجئے جو قیصر کا حصہ ہے وہ قیصر کو دیجئے جو پوپ کا حصہ ہے وہ پوپ کو دیجئے۔ 

سیاسی بالغ نظری کے سفر میں ارتقا تو ہورہا ہے مگر ابھی بہت سی منازل طے کرنی ہیں۔ 



   


Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Tuesday, November 27, 2018

آٹھ لاکھ روپے کی چربی ……


دل دہل گیا۔ 

جانے کیا ایمرجنسی تھی! ابھی گائوں جانے کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ 

میں بھی انہی بدقسمت لوگوں میں سے ہوں جو گائوں واپس جا کر بسنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں مگر شہر ایک کمبل ہے جو چھوڑتا نہیں۔ ویسے فرق ہی کیا ہے‘ ایک طرف لاہور‘ کراچی‘ اسلام آباد اور دوسری طرف نیویارک‘ لندن‘ سڈنی جا کر بس جانے والوں میں۔ لاہور‘ کراچی‘ اسلام آباد والوں کی ساری زندگی اس منصوبہ بندی میں گزر جاتی ہے کہ بچے نوکریوں پر لگ جائیں تو واپس گائوں چلے جائیں گے۔ کھیتی باڑی کریں گے‘ حویلی کو پکا کریں گے‘ بچوں کو گندم اور سبزیاں بھجوایا کریں گے۔ نیویارک‘ لندن‘ سڈنی والے ارادے باندھتے رہتے ہیں کہ بس ریٹائر ہوتے ہی‘ بچوں کی شادیاں کرتے ہی واپس پاکستان چلے جائیں گے۔ دوست احباب اور اعزہ و اقارب کے درمیان رہیں گے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! نہ لاہور‘ کراچی والے واپس گائوں آپاتے ہیں نہ لندن نیویارک والے پاکستان پلٹ سکتے ہیں‘ یہ کھیل تقدیر کا ہے۔ یہاں پلاننگ‘ منصوبہ بندی‘ ارادے سب ناکام رہتے ہیں‘ مختار صدیقی نے کہا تھا ؎ 

پیر‘ فقیر‘ اوراد‘ وظائف اس بارے میں عاجز ہیں 
ہجر و وصال کے باب میں اب تک حکم چلا ہے ستاروں کا 

گائوں پہنچا۔ شام ڈھل رہی تھی۔ ڈھور ڈنگر واپس آ رہے تھے۔ تنوروں سے دھواں اٹھتا‘ مرغولے بناتا‘ ہوا میں تحلیل ہورہا تھا۔ میں بھی حقیر سا زمیندار ہوں۔ دو تین کھیتوں کا مالک۔ نوجوان جو میرے کھیتوں کا انتظام و انصرام کرتا ہے‘ بے چینی سے منتظر تھا۔ ڈانٹتے ہوئے میں نے پوچھا۔ یار‘ ایسی کیا مصیبت پڑی تھی کہ تم نے فوراً آنے کے لیے کہا۔ پریشان حال نوجوان نے بتایا کہ بڑے والا یعنی بوڑھا دنبہ دو دن اور دو راتوں سے مسلسل ڈھاں ڈھاں کر رہا ہے۔ رخ دارالحکومت کی طرف کر کے پیر زمین پر زور زور سے مارتا ہے اور آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ 

شکاری کتے اور باز رکھنے والے بابے گامے کی روح کو خدا سکون بخشے‘ بچپن میں مجھے بھیڑ بکریوں کی بولی سکھا دی تھی۔ میں شروع سے ہی ان مخلوقات سے محو کلام رہتا تھا۔ دنبے نے مجھے دیکھتے ہی سر جھکا لیا اور گردن میرے کوٹ کے ساتھ رگڑنے لگ گیا۔ معانقہ ختم ہوا تو پوچھا۔ 

تم تو سب سے سینیئر دنبے ہو‘ بجائے اس کے کہ دوسروں کو صبر و رضا کی تلقین کرو‘ تم نے خود ہی ہنگامہ کھڑا کر رکھا ہے۔ 

بوڑھے‘ موٹے دنبے نے میری طرف دیکھا۔ جھیل سی گہری آنکھوں میں شکایت تھی۔ آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ میرے بھی‘ اس کے بھی۔ رہا نہ گیا‘ میں نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔ 

میری جان‘ بتائو‘ مسئلہ کیا ہے۔ 

دنبے نے زیر لب کہا۔ 

صاحب جی‘ پہلے اس نوجوان کو اندر بھیجئے جو آپ کی غیر حاضری میں میرے ساتھ کھردرا سلوک کرتا ہے۔ 

نوجوان کو اندر بھیج دیا۔ دنبہ کہنے لگا‘

یہ آپ میری بیس کلو کی چکی دیکھ رہے ہیں؟ چربی سے بھری ہوئی؟ 

ہاں‘ دیکھ رہا ہوں‘ یہی تو تمہارے حسن کا راز ہے۔ 

نہیں‘ صاحب جی‘ مجھے یہ حسن نہیں چاہیے۔ اس بوجھ کو اٹھا اٹھا کر تنگ آ گیا ہوں۔ بس آپ میرا آپریشن کرا دیجئے۔ چربی کے اس پہاڑ سے میری جان چھوٹے۔ 

یہ ایک مہنگی تجویز تھی‘ مگر بوڑھے دنبے کے ساتھ دیرینہ خاندانی تعلقات کا خیال آڑے آیا۔ اس کے دادا نے میرے دادا جان کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا تھا۔ اس کی سگی پھپو‘ تایا جان کے گھر ایک عرصہ رہی‘ انتقال ہوا تو اس کے بڈھے کالے گوشت کو احتراماً خوب خوب بھونا گیا۔ ہم خاندانی حوالے سے نبھانے والے لوگ ہیں۔ میں نے سوچا اب اسلام آباد لے جا کر ڈاکٹر کو دکھائوں تو سہی‘ دیکھوں کیا کہتا ہے۔ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر دنبے کو بٹھایا۔ دارالحکومت ایک پرائیویٹ کلینک پہنچے۔ لمبی قطار تھی۔ بڑے بڑے پیٹوں والے حضرات بیٹھے تھے۔ معلوم ہوا یہ سب چربی سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔ کئی گھنٹے انتظار کرنے کے بعد باری آئی۔ ڈاکٹر نے دنبے کا تفصیلی معائنہ کیا۔ پھر دنبے کو باہر بھیج کر بتایا کہ آپریشن کرنا پڑے گا۔ اخراجات کا پوچھا تو آٹھ لاکھ کا تخمینہ بتایا۔ 

میں خاموش ہوگیا۔ ڈاکٹر سمجھ گیا۔ پوچھا‘ کیا اتنی استطاعت ہے؟ بلاتکلف عرض کیا کہ نہیں۔ ڈاکٹر نے پوچھا 

کیا اس دنبے کا ایوان بالا سے یعنی سینٹ سے کوئی تعلق ہے یا ماضی میں رہا ہے؟ 

مجھے یاد آیا کہ اس دنبے کا سگا چچا دنبوں کی سینٹ کا رکن رہا تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ سارے ایوان ہائے بالا‘ دنبوں کے ہوں یا انسانوں کے ہار کے موتیوں کی طرح ہیں اور ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ اس کے اخراجات کا بل وفاقی وزارت قومی صحت اپنے بجٹ سے ادا کردے گی۔ 

آپریشن کی تاریخ دو دن بعد کی رکھی گئی۔ آپریشن تھیٹر لے جایا جارہا تھا تو دنبے نے اپنی گردن کو میرے کوٹ کے ساتھ خوب رگڑا اور سرگوشی میں کہا

’’صاحب جی‘ دعا کرنا۔‘‘ 

تین گھنٹے لگے۔ میں بے تابی سے آپریشن تھیٹر کے باہر ٹہلتا رہا۔ بالآخر سٹریچر نمودار ہوا۔ چکی غائب ہو چکی تھی۔ دنبہ ہوش میں آیا تو خوش تھا۔ اس کی خواہش پوری ہو گئی تھی۔ 

اس کے بعد کی کہانی غیرخوشگوار ہے۔ ڈاکٹر نے آٹھ لاکھ روپے کا بل دیا۔ بل لے کر سینٹ کے دفتر پہنچا۔ انہوں نے ٹھپہ لگا کر وفاقی وزارت قومی صحت لے جانے کا کہا۔ وہاں پہنچا تو باہر سے جھگڑے کا شور سنائی دے رہا تھا۔ وفاقی سیکرٹری کی آواز باہر تک آ رہی تھی۔

“ہم یہ آٹھ لاکھ نہیں ادا کرسکتے۔ مولانا صاحب سینٹ کے معزز رکن ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان کے جسم کی زائد چربی نکلوانے کے اخراجات ادا کریں۔ یہ کاسمیٹک سرجری ہے۔ یہ جان بچانے کے زمرے میں نہیں آتا۔ پھر یہ بھی ہے کہ سرکاری ہسپتال پمز میں اس سرجری کی سہولت موجود ہے۔ نجی کلینک میں آپریشن کرانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ “”

سیکرٹری کے معاون نے اپنے باس کو سمجھایا کہ مولانا صرف سینٹ کے رکن ہی نہیں‘ ایک اور مولانا کے بھائی بھی ہیں جو ان سے بھی بڑے مولانا ہیں۔ بہت بااثر ہیں اور فراست و سیاست کے لیے معروف ہیں مگر سیکرٹری کے ہاتھ قوانین نے باندھے ہوئے تھے۔ 

میں اپنے دنبے کا بل لے کر سیکرٹری صاحب کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے ہمدردی کا اظہار کیا مگر عذر ان کا معقول تھا کہ دنبے کا کیس جائز تو ہے مگر مولانا کا کیس پہلے نامنظور ہو چکا ہے‘ اب دنبے کے بل کی ادائیگی کی تو سینٹ میں تحریک استحقاق پیش ہو جائے گی۔ 

دنبے کی چکی مولانا کی چربی پر قربان ہو گئی تھی۔

   






Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Saturday, November 24, 2018

عمر کٹ جائے آنے جانے میں



یہ الوداعی نظر تھی۔

مسجد نبویؐ کے بیرونی گیٹ نمبر5سے باہر نکل رہا تھا۔ پلٹ کر دیکھا، اس سفرِ زیارت کے دوران گنبدِ خضریٰ کا یہ آخری دیدار تھا۔ زمین نے پائوں جکڑ لیے۔ کئی بار ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر اپنے پیاروں کو الوداع کیا۔ مگر یہ کیفیت ہی اور تھی۔ چلنا شروع کیا۔ دو قدم چلا، پھر پلٹ کر دیکھا۔ وہیں کھڑا ہو گیا۔ ایک ایک کرن نور کی، جو گنبد سے نکل رہی تھی، آنکھوں میں بھر لینا چاہتا تھا۔

ایک ہُوک دل میں اٹھی… کاش میں یہیں رہ جائوں! اس دربار کا جاروب کش ہو جائوں! یہاں ماشکی لگ جائوں! زائرین کے جوتے سیدھے کرتا رہوں۔ معاوضے میں گنبدِ خضریٰ کا دیدار ملتا رہے، یہیں مرض الموت آ گھیرے۔ یہیں جان دے دوں۔ زبان پر کلمۂ شہادت ہو، آنکھوں کے سامنے سبز گنبد ہو۔ مسجد نبویؐ کا فرش ہو۔ مگر نظیری نیشا پوری نے کہا تھا ؎

نازاں مرو کہ بارِ علائق گزاشتی
ہستی تعلق است نظیریؔ جریدہ تر

دنیا، خانوادہ، علائق، آلائشیں، آلودگیاں! ہاں حسرت کے اظہار سے تو کوئی نہیں روک سکتا!

؎
 اسی دہلیز پر بیٹھا رہے میرا بڑھاپا
انہی گلیوں میں گزرے میرے بچوں کی جوانی

آتے ہوئے عرضی ڈال آیا کہ پھر طلب فرمائیے۔ والد گرامی حافظ ظہور الحق ظہورؔ کا شعر یاد آ رہا ہے ؎

طیبہ جائوں اور آئوں پھر جائوں
عمر کٹ جائے آنے جانے میں

اُس سے تین دن پہلے مکہ مکرمہ سے روانگی تھی۔ ایک دن خوش بختی سے مطاف میں دوسری صف میں جگہ مل گئی۔ بھاگ جاگ اٹھے۔ دیکھتا رہا، دیکھتا رہا، علماء کرام سے سنا ہے کہ اس گھر کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔ ویٹی کن سے لے کر ایاصوفیہ تک۔ بڑی بڑی پرہیبت عمارتیں دیکھیں جن کی بلندی کے سامنے انسان حقیر ذرہ لگتا ہے۔ مگر یہ گھر! اللہ کا گھر! جس کی اونچائی چند فٹ سے زیادہ نہیں، جلال و جمال میں کوئی ثانی اس کا کیا ہو گا۔ ایک بقعۂ نور ہے جو ابد تک روشنی بکھیر رہا ہے، تزک و احتشام، شان و شکوہ! دست بستہ ہیں۔ دنیا کی کوئی زبان کوئی لغت، کوئی لفظ، کوئی ذریعۂ ابلاغ اُس کیفیت کو بیان نہیں کر سکتا جو اس گھر کو دیکھنے سے دل و دماغ پر طاری ہوتی ہے۔

ایک شاعر کے پاس ہے ہی کیا! برگِ سبز است تحفۂ درویش —جو نذرانہ پیش کیا، اپنے پڑھنے والوں سے شیئر کیا جا رہا ہے۔

(1)

میں تھا قلاش یا زر دار جو بھی تھا وہیں تھا
کہ میرا اندک و بسیار جو بھی تھا وہیں تھا

وہیں تھا ایک پتھر جس پہ تفصیلِ سفر تھی
یہ رستہ سہل یا دشوار جو بھی تھا وہیں تھا

وہیں میزان تھی اوزان لکھے جا رہے تھے
اثاثہ کاہ یا کہسار جو بھی تھا وہیں تھا

وہیں کم مائیگاں کے ناز اٹھائے جا رہے تھے
میں شکوہ سنج و کج گفتار جو بھی تھا وہیں تھا

لہو میں ان گنت شمعیں تھیں آنکھوں میں دھواں تھا
یہ عالم ہجر یا دیدار جو بھی تھا وہیں تھا

وہیں مٹی مری اظہارؔ گوندھی جا رہی تھی
ازل کا اولیں دربار جو بھی تھا وہیں تھا

(2)

متاعِ بے بہا آنسو زمیں میں بو دیا تھا
پلٹ کر جب ترا گھر میں نے دیکھا بو دیا تھا

عصادر دست ہوں اُس دن سے بینائی نہیں ہے
ستارہ آنکھ میں آیا تھا میں نے کھو دیا تھا

زمانے، حُسن، ثروتؔ، ہیچ سب اس کے مقابل
تہی کیسہ کو اُس پہلی نظر نے جو دیا تھا

پروں کی ارغوانی چھائوں پھیلائی تھی سر پر
بہشتی نہر کا پانی مسافر کو دیا تھا

بس اک قندیل تھی جلتی ہوئی اپنے لہو میں
یہی نذرانہ دینا تھا حرم کو، سو، دیا تھا

(3)

برون در نکلتے ہی بہت گھبرا گیا ہوں
میں جس دنیا میں تھا کیوں اس سے واپس آ گیا ہوں

کوئی سیارہ میرے اور اس کے درمیاں ہے
میں کیا تھا اور دیکھو کس طرح گہنا گیا ہوں

مجھے راس آ نہ پائیں گے یہ پانی اور مٹی
کہ میں ایک اور مٹی سے ہوں اور مرجھا گیا ہوں

میں پتھر چوم کر تحلیل ہو جاتا ہوا میں
مگر زندہ ہوں اور ہیہات! واپس آ گیا ہوں

کہاں میں اور کہاں دربار کا جہل و تکبر
مگر اک رسم کی تسبیح جس سے چھا گیا ہوں

(4)

دریچے کاخِ دل کے وا ہوئے ناگاہ میرے
میں تنہا تھا مگر تھے رفتگاں ہمراہ میرے

فرشتے لے چلے سوئے حرم تابوت میرا
کفِ افسوس ملتے رہ گئے بدخواہ میرے

یہاں میں محترم ہوں اور وہ نادم کھڑے ہیں
نظر مجھ سے چراتے ہیں وزیر و شاہ میرے

کہاں یہ چشمۂ کافور، یہ رحمت کی لپٹیں
کہاں وہ زندگی، وہ روز و شب جانکاہ میرے

زمیں گردش میں ہے اس پر مکاں رہتا نہیں ہے
مگر اس سے نہیں آگاہ واقف آہ! میرے

(5)

مدینے کی ہوا ہے اور رخساروں پہ پانی
کوئی ایسی لغت جس میں سنائوں یہ کہا نی

تھما بھی ہے کبھی کیا سیل انسانوں کا اس میں
پریشاں ہے مدینے میں ابد کی بیکرانی

برہنہ پا کھڑی ہے رات پتھر کی سلوں پر
سروں پر صبحِ صادق نے عجب چادر ہے تانی

یہاں مٹی میں کنکر لعل اور یاقوت کے سب
درختوں پر یہاں سارے پرندے آسمانی

مرے آقا کے چاکر اور کیکائوس کا تخت
مرے مولا کے خدمت گار اور تاجِ کیانی

مطہر جسم پر دیکھو چٹائی کے نشاں ہیں
چٹائی کے نشاں اور دو جہاں کی حکمرانی

کہاں تھا وقت میں جب جالیوں کے سامنے تھا
مجھے اس نے سمجھ رکھا ہے کس برتے پہ فانی

کہاں میں اور کہاں یہ فرش اور پلکوں پہ جاروب
زہے قسمت کہ میں نے لوٹ لی یہ میہمانی

کہاں یہ گنبدِ خضریٰ کہاں بینائی میری
کہاں قلاش مجھ سا اور کہاں یہ شہ جوانی

اسی دہلیز پر بیٹھا رہے میرا بڑھاپا
انہی کوچوں میں گزرے میرے بچوں کی جوانی

رہے میرا وطن اس شہر کے صدقے سلامت
۔ قیامت کے تلاطم میں وہ کشتی بادبانی

مرے دشمن مرا کشکول چھپ کر دیکھتے ہیں
غلامانِ محمدؐ کی سخاوت مہربانی

مرے آبِ وضو سے بھیگتی ہے رات اظہارؔ
مری آنکھوں سے کرتے ہیں ستارے دُرفشانی


(6)

ہر اک محاذ پر لشکر تباہ امت کے
حضور! ختم ہوں یہ دن سیاہ! امت کے

حضور! آپ پہ قربان ہوں مرے ماں بات
بدل بھی دیجیے شام و پگاہ امت کے

کسی کا تخت ہو یا جبر، کچھ نہیں ہے یہاں
بس ایک آپ ہی ہیں بادشاہ امت کے

غلام جمع ہیں، میدانِ حشر ہے اظہارؔ
چھپے ہوئے ہیں کہاں کج کلاہ امت کے






Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Tuesday, November 20, 2018

ملے گی اُس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ


نہیں! بیورو کریسی ہشت پا نہیں!

یہ آکٹوپس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ آکٹو پس کو مار سکتے ہیں۔ یہاں معاملہ کچھ اور ہے۔ 

بیورو کریسی پیرِتسمہ پا ہے ؎ 

ہشیار! کہ پیرِ تسمہ پا ہے 
یہ ضُعف سے کانپتا زمانہ

بیورو کریسی تحریکِ انصاف کی گردن پر سوار ہے۔ ٹانگیں گلے میں حمائل کیے۔ رہائی ہو تو کیسے۔ 

رہائی ہو بھی نہیں سکتی۔ تحریکِ انصاف کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟ فواد چوہدری، افتخار درانی اور دوسرے عمائدین کے نزدیک یہ مسئلہ ترجیحی ہی نہیں! رہے شفقت محمود تو خود بیورو کریسی کے اُس برہمن گروپ سے تعلق رکھتے ہیں جو بگاڑ کا ذمہ دار ہے۔ یادش بخیر عشرت حسین بھی اِسی مردم خور قبیلے کے رکن ہیں۔ کبھی سنتے تھے کہ بندہ جماعتِ اسلامی سے نکل جائے، جماعت اسلامی بندے کے اندر سے نہیں نکلتی۔ نہ معلوم یہ درست ہے کہ نہیں! مگر یہ ضرور درست ہے کہ بندہ بیورو کریسی کے برہمن گروپ ڈی ایم جی سے نکل جائے پھر بھی تفاخر کا احساس تا حیات رہتا ہے۔ قدرت چوٹی پر لے جائے بندہ وفاقی سیکرٹری بن جائے۔ وزیر بن جائے، سینیٹ میں بیٹھ جائے مگر ڈپٹی کمشنری کی یاد مرحومہ ماں کی یاد کی طرح ستاتی رہتی ہے۔ 

تحریک انصاف کے گرد گھیرا بیورو کریسی کے مخصوص گروہ کا مضبوط ہے۔ جو طبقہ مسئلے کا حصہ ہے، وہ مسئلہ کیسے حل کر سکتا ہے؟ جب تک بیورو کریسی کے تمام گروپوں کو برابر کے سول سرونٹ نہیں سمجھا جاتا، جب تک فارن سروس، پولیس سروس، ایف بی آر، آڈیٹر جنرل، کامرس اینڈ ٹریڈ، انفارمیشن سروس، ریلوے، پوسٹل سروس اور آفس مینجمنٹ، سب سے اصلاحات کے لیے مشورہ نہیں لیا جاتا، جب تک اصلاحات کمیشن میں ان تمام گروہوں کی مضبوط اور بامعنی نمائندگی نہیں ہو جاتی، ریفارم کی ہر کوشش رجعت قہقری ثابت ہو گی۔ ہاتھی پلٹ کر اپنے ہی لشکر کو روندتے رہیں گے۔ 

نئی حکومت کی معصوم لاعلمی دیکھیے یا اسے بے نیازی پر محمول کیجیے۔ مسلم لیگ نون کی حکومت نے جاتے جاتے نوکر شاہی کو اپنی زلف کا اسیر کرنے کے لیے خزانے کا منہ کھول دیا۔ یہ فیصلہ ہوا کہ گریڈ بیس، اکیس اور بائیس کے افسروں کو سرکاری گاڑیاں نہیں دی جائیں گی۔ وہ اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کریں گے۔ بدلے میں انہیں الائونس دیا جائے گا۔ اس پالیسی کو
 Monetization
کا نام دیا گیا؛چنانچہ درجہ بہ درجہ ان حضرات کو ماہانہ خطیر رقم ملنے لگی۔ بڑے گریڈ والوں کو ایک لاکھ ماہانہ، کم والوں کو نوے ہزار وغیرہ! سرکاری ڈرائیور بھی ہٹا لیے گئے۔ مگر گنتی کے چند دیانت دار افسروں کو چھوڑ کر باقی چوپڑی بھی کھانے لگے اور دو دو بھی۔ ایک لاکھ روپے ماہانہ جیب کے تنور میں ڈالنے لگے اور سرکاری گاڑی اور ڈرائیور کا استعمال پہلے کی طرح جاری رکھا۔ چنانچہ خزانے پر کروڑوں کا اضافی اور ناروا بوجھ پڑ رہا ہے۔ عقل کے اندھوں نے پالیسی بناتے وقت یہ نہ سوچا کہ گاڑیاں اور ڈرائیور انہی افسروں کے تو رحم و کرم پر ہیں۔ بلی دودھ کی رکھوالی کرے گی یا پی جائے گی؟ تحریکِ انصاف کی حکومت اگر چوکنی، چُست اور سمارٹ ہوتی تو ابتدائی ایام ہی میں اس لُوٹ سیل کو بند کرتی۔ ماہانہ الائونس بند کرتی یا سرکاری گاڑیاں ایک جگہ جمع کر کے بیچتی یا جیسے بھی ہوتا، انہیں ٹھکانے لگاتی۔ اسی طرح ڈرائیوروں سے جن کا غلط استعمال ہو رہا ہے، مسلسل ہو رہا ہے اور وسیع پیمانے پر ہو رہا ہے، کچھ اور کام لینے کا فیصلہ کیا جاتا۔ مگر لوٹ سیل جاری ہے۔ انگلیاں گھی میں ہیں۔ سر کڑاہیوں میں ہیں۔ اٹھائی گیروں کو کھلی چھٹی ہے۔ 

نوکر شاہی کے ارکان ایک دوسرے کو کمک پہنچاتے ہیں۔ حکمرانوں کو وہ تجاویز پیش کی جاتی ہیں جن سے اہلکار بھائیوں کا فائدہ ہو۔ اسماعیل میرٹھی نے بچوں کے لیے کمال کی نظمیں لکھیں جن میں مزا بچوں کے لیے ہے اور سبق بڑوں کے لیے۔ کوّے پر، جو ان کی معرکہ آرا اور مشہور نظم ہے، وہ نوکر شاہی پر صادق آتی ہے۔ 

کوئی ذرا سی چیز جو پالے/کھائے نہ جب تک سب کو بلا لے/کھانے دانے پر ہے گرتا/پیٹ کے کارن گھر گھر پھرتا/اچھلا کودا لپکا سکڑا/ہاتھ میں تھا بچے کے ٹکڑا/آنکھ بچا کر جھٹ لے بھاگا/واہ رے تیری پھرتی کاگا! 

بیورو کریسی کے مسائل رہے ایک طرف۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم دیس دیس ملک ملک چندہ اکٹھا کرنے جا رہے ہیں تو ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے دعوے کدھر گئے؟ آٹھ فیصد آبادی ٹیکس ادا کرتی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے سوا کوئی اور حکومت کے ہاتھ نہیں آتا۔ ادبار کا یہ عالم ہے کہ جس ملک کو فیاضیٔ قدرت نے ہر طرح کے وسائل بہتات سے دیئے ہیں وہ ملک دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے۔ یہ امر اطمینان بخش ہرگز نہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد ابھی تک ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کے ضمن میں حکومت نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ وزیر اعظم نے اقتدار میں آنے سے پہلے بارہا یقین دلایا تھا کہ اس سلسلے میں انقلابی اقدام اٹھائے جائیں گے۔ تو کیا قوم پوچھنے کی جسارت کر سکتی ہے کہ ابھی تک کیوں کچھ نہیں کیا گیا؟ 

دوسری طرف قانون سازی کی ضرورت دروازے پر کھڑی مسلسل دستک دے رہی ہے۔ سابق چیف جسٹس پاکستان سعید الزمان صدیقی مرحوم کے پلاٹ پر جس طرح قبضہ کیا گیا جس طرح ان کی معمر اہلیہ کو حبس بیجا میں رکھا گیا، اسلحہ کی نوک پر دھمکیاں دی گئیں اس سے امن و امان کی صورت حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر سابق چیف جسٹس اور سابق گورنر کے اہلِ خانہ کے ساتھ یہ ظلم روا رکھا جا سکتا ہے تو عام شہریوں کے ساتھ کیا نہیں ہو رہا ہو گا۔ قبضہ مافیا سرطان ہے جو اندر تک پھیلا ہوا ہے۔ بیرون ملک رہنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی جائیدادوں پر اس مافیا نے قبضہ کر رکھا ہے کوئی شنوائی ہے نہ تدارک! مالکوں کے سامنے ان کے پلاٹوں اور مکانوں پر قبضہ کر لیا جاتا ہے۔ اگر حکومت اس سرطان کا علاج کرنا چاہتی ہے تو قانون سازی کرے اور ایسے مجرموں کو عبرت ناک اور سخت ترین سزا دے تا کہ اس لعنت کا خاتمہ ہو سکے۔ 

رہا سو دنوں کا حوالہ تو تحریک نے یہ گھنٹی اپنے گلے میں خود ڈالی ہے۔ ناتجربہ کاری اور بچپنے کے طفیل ایسے اعلانات کرتے رہے جو حقیقت پسندانہ نہیں تھے۔ یہ کوئی پانچ مرلے کے مکان کی تعمیر تھوڑی تھی کہ سو دنوں میں دیواریں کھڑی ہو جاتیں اور چھت بھی پڑ جاتی۔ معاملات عشروں کے بگڑے ہوئے ہیں۔آوے کا آوا خراب ہے۔ راستے کی صعوبتوں کا پتہ تب چلتا ہے جب سفر شروع کر دیا جائے۔ گھر بیٹھ کر خاردار جنگلوں کو عبور کرنا آسان لگتا ہے۔ قائم رہنے والے نقوش پا اس قدر جلد نہیں دیکھے جا سکتے۔ 

کاش حکومت کے اربابِ حل و عقد نعروں، طعنوں اور دعوئوں سے ہٹ کر ٹھوس بنیادوں پر کوئی اقدامات اٹھاتے جن کے اثرات دور رس ہوتے۔ اپوزیشن سو دنوں کی کارکردگی مانگ رہی ہے۔مگر بقول مصطفی زیدی ؎ 

ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلائو 
ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ!! ۰


Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Sunday, November 18, 2018

کہ ہم یہ سلسلہ اب ختم کرنا چاہتے ہیں


انوریؔ بارہویں صدی عیسوی کے اوائل میں موجودہ ترکمانستان میں پیدا ہوا۔ مشکل پسند شاعر تھا۔ قصائد معرکے کے لکھے۔ ایک بہت معروف قطعہ ہے جو انوری کے مقام کی نشاندہی کرتا ہے: 

در شعر سہ کسی پیمبرانند 
ہر چند کہ ’’لانبیّ بعدی‘‘ 
ابیات و قصیدہ و غزل را 
فردوسی و انوری و سعدی 

یعنی یہ درست ہے کہ اب کسی نبی نے نہیں آنا مگر یہ تین اشخاص شعر کی دنیا کے پیغمبر ہیں۔ اشعار (یعنی مثنوی) میں فردوسی‘ قصیدہ گوئی میں انوری اور غزل میں سعدی !

اگر یادداشت غلطی نہیں کر رہی تو یہ مشہور عالم فقرہ۔ ’’شعرِ مرا بہ مدرسہ کہ بُرد’’بھی انوری ہی کا ہے۔ اس کی شاعری اہل مدرسہ تک پہنچی تو انہوں نے خوب بال کی کھال اتاری‘ پوسٹ مارٹم کیا۔ کیا خبر فتویٰ بھی لگا دیا ہو۔ انوری کو معلوم ہوا تو برافروختہ ہو کر پوچھا۔ آخر میرے اشعار کو مدرسہ تک لے کر کون گیا۔ چند دن پہلے کچھ دوستوں نے ایک نوجوان دستار پوش مولوی صاحب کا ویڈیو کلپ بھیجا۔ یہ صاحب اختلافی مسائل خوب خوب اچھال رہے ہیں۔ اقبال کے اس شعر میں اپنی دانست میں ’’غلطیاں‘‘ نکال رہے تھے: 

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق 
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی 

علم و فضل میں ’’کمال‘‘ کا یہ حال تھا کہ محوِ تماشائے لبِ بام کو ’’محوِ تماشا۔ لبِ بام‘‘ پڑھ رہے تھے۔اقبال کی زندگی میں تو ان پر ملاّئیت نے خوب خوب فتوے پھینکے مگر لگتا ہے شاعرِ مشرق کی ابھی تک جان نہیں چھوٹی۔ 

انوری کی بات ہو رہی تھی۔ وفات اس کی بلخ میں ہوئی جو اب افغانستان میں ہے اور تب خراسان کہلاتا تھا۔ ایک بار انوری نے دیکھا کہ شہر کے چوک میں بہت سے لوگ جمع ہیں۔ نزدیک جا کر دیکھا تو ایک شاعر‘ اشعار سنا رہا تھا۔ انوری نے اشعار سُنے تو معلوم ہوا یہ تو اُس کے (یعنی انوری) کے اشعار ہیں۔ وہ سنانے والے کے پاس گیا اور پوچھا یہ کس کی شاعری ہے۔ اس نے جواب دیا انوری کی۔ انوری نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو اس نے کہا میں انوری ہی تو ہوں۔ اس پر انوری نے بے اختیار کہا کہ شاعری تو چوری ہوتی ہی آئی ہے۔ اب شاعر خود بھی چرایا جانے لگا ہے! 

پاکستان میں بہت کچھ چرایا جاتا رہا۔ اب بھی چرایا جا رہا ہے۔ دولت بھی‘ تعیناتیاں بھی۔ ترقیاں بھی یہاں تک کہ انتخابات بھی: یوں بھی ہوتا ہے کہ آزادی چرا لیتے ہیں لوگ قیس کے محمل سے لیلیٰ کو اٹھا لیتے ہیں لوگ مگر اب کے بار چوری کی ایک نئی قسم دریافت ہوئی۔ اسمبلی کی پوری نشست چوری کر لی گئی! بلوچستان اسمبلی کی ایک نشست پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے کیوں کہ جو صاحب جیتے تھے وہ پاکستانی نہیں تھے۔ وہ غیر ملکی نکلے!! ہنسا جائے یا رویا جائے؟ یہی وہ ملک ہے جہاں ’’نادرہ‘‘ جیسے حساس محکمے میں بھی غیر ملکی باقاعدہ ملازمت کرتے ہوئے پائے گئے۔ نہ جانے اب بھی’’خدمات‘‘ سرانجام دے رہے ہیں یانکال دئے گئے! 

آج کل زرد فام غیر ملکیوں کی وطن عزیز میں بہتات ہے! کچھ عرصہ ہوا ایک کالم بعنوان’’2040ء میں لکھا گیا ایک کالم‘‘ تحریر کیا۔ یہ وائرل ہوا۔ اس میں یہی رونا رویا تھا۔ کہ خدا نخواستہ ایسا نہ ہو کہ کچھ عشروں بعد ہمارے حاکم‘ والی اور اسمبلی کے ممبران تک زرد فام ہوں۔ ہم اپنے ہی گھر میں محکوم ہو جائیں! 

تاریخ کسی کی رشتہ دار نہیں! کیا ہم آج تک محمد تغلق کے کھاتے میں دہلی کی تباہی نہیں ڈال رہے؟ دارالحکومت وہ جنوبی ہند میں لے گیا۔ دہلی کی آبادی کو بزور نکالا۔ کچھ جاتے ہوئے مر گئے۔ کچھ عرصہ بعد واپسی کا فرمان جاری کیا۔ بہت سے واپس آتے ہوئے سفر کی اذیتوں کی نذر ہو گئے۔ تاریخ آئینہ ہے۔ جو چہرہ سامنے ہو گا وہی نظر آئے گا۔ اگر چہرہ بھدا ہے اور زخم خوردہ بھی! تو سلامت کیسے دکھائی دے؟ جنرل ضیاء الحق کے بارے میں بات کی جائے تو کچھ محبان گرامی کو قلق ہوتا ہے مگر سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ نہیں کہا جا سکتا۔ ’’جہاد‘‘ تک تو مان لیتے ہیں کہ جنرل صاحب مرحوم کا موقف درست تھا۔ یہ اور بات کہ اس جنگ کو جہاد کہنا قدرے مشکل ہے۔ کم از کم حقائق یہی بتاتے ہیں۔ مگر اس پالیسی کی حمایت کیسے کی جا سکتی ہے جو انہوں نے افغان مہاجرین کے ضمن میں بنائی اور پھر نافذ کی۔ لاکھوں غیر ملکی آئے اور ملک کے طول و عرض میں پھیل گئے۔ ان پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ پشاور سے لے کر کراچی تک کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ کاروبار پر چھا گئے۔ شاہراہیں ان کی مال بردار گاڑیوں سے بھر گئیں بازاروں میں وہ دکانیں ڈال کر بیٹھ گئے۔ خیبر پختون خواہ میں مقامی لوگوں کو مزدوری ملنا بند ہو گئی۔ مکانوں کے کرائے آسمان پر پہنچ گئے۔ کیا ایسا بھی کہیں ہوتا ہے؟ ملک کی سرحدیں مقدس ہوتی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق اور ان کے مذہبی اور عسکری ساتھیوں نے ملکی سرحد کو ملیا میٹ کر دیا۔ لاکھوں لوگ روزانہ دستاویزات کے بغیر آتے اور جاتے۔ کون سا پاسپورٹ اور کہاں کا ویزا! 

پھر افغان ہی نہیں پوری دنیا سے لوگ‘ ہتھیاروں سمیت آئے اور پاکستان میں مقیم ہو گئے۔پھر انہوں نے مقامی عورتوں سے شادیاں کر لیں۔ نسلوں کی نسلیں یہاں پروان چڑھیں۔ مگر پاکستان سے وفاداری خون میں شامل نہ ہو سکی۔ گندم پاکستان کی۔ پانی پاکستان کا‘ دھوپ چاندنی ہوا اور بارش سب کچھ پاکستان کا۔ مگر ان احسان فراموشوں نے پاکستانیوں ہی کو شہید کیا۔ یہ ہر اُس طاقت کے آلۂ کار بنے جو پاکستان کی مخالف تھی۔ ان کے گڑھ ‘ خودکش جیکٹوں کے گودام بن گئے۔ پاکستان کے بازاروں مزاروں مسجدوں اور سکولوں کو ان لوگوں نے بموں سے تباہ و برباد کیا۔ بے گناہ پاکستانی موت کے گھاٹ اتارے۔ یہاں تک کہ جب پانی سر سے گزر گیا تو پاکستانی فوج کو مداخلت کرنا پڑی اور سرحدی علاقوں سے ان کے مراکز کو ختم کرنا پڑا۔ 

ہو سکتا ہے جدید تاریخ میں ایسا واقعہ کسی اور ملک میں نہ پیش آیا ہو کہ ایک غیر ملکی اسمبلی کا ممبر تک ہو گیا۔ یہ ہماری ناعاقبت اندیشی کی انتہا ہے۔ ہم غیر ملکیوں کے سامنے بچھ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے مفادات کو بھی قربان کر دیتے ہیں‘ یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے: ع

ہٹا لے جائیں سب دریوزہ گر کشکول اپنے 
کہ ہم یہ سلسلہ اب ختم کرنا چاہتے ہیں



Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

 

powered by worldwanders.com