Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Tuesday, July 17, 2018

میاں نواز شریف سول بالادستی کی جنگ کیوں نہیں جیت سکتے



چلیے مان لیا آپ کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔

نادیدہ قوتوں نے دفاع اور خارجہ کے امور میں آپ کو آزادی نہیں دی تھی۔ مان لیا مداخلت ہوتی تھی۔ مان لیا کہ غیر ملکی سفیر اور امریکی افواج کے بڑے بڑے کمانڈر جی ایچ کیو میں آتے تھے۔ مگر جب آپ وزارت عظمیٰ کے تختِ طائوس پر بیٹھے تو آپ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ ایسا ہی ہوتا آیا ہے! 

آپ کے سامنے دو راستے تھے یا تو آپ اقتدار سنبھالنے سے انکار کر دیتے کہ حکومت لوں گا تو مکمل لوں گا۔ لولی لنگڑی اندھی بہری نہیں لوں گا۔ دفاع کے فیصلے وزیر دفاع کرے گا اور خارجہ سرگرمیوں کا مرکز وزارت خارجہ ہو گی یا وزیر اعظم کا آفس! جی ایچ کیو کا کردار صفر ہو گا۔ وہ وہی کام کریں گے جو کتاب میں ان کے حوالے سے لکھا ہوا ہے! 

مگر آپ نے یہ راستہ نہ چنا۔ آپ نے دوسرا راستہ اختیار کیا تخت پر بیٹھ گئے۔ تاج پہن لیا! اب آپ کے سامنے واحد راستہ یہ تھا کہ جو شعبے آپ کے مکمل اختیار میں تھے‘ آپ ان میں مثالی کارکردگی دکھاتے!مثلاً اگر نادیدہ قوتیں اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہیں تو آپ اپنے دائرہ اختیار میں قانون کا نفاذ اس زبردست طریقے سے کرتے کہ نادیدہ قوتوں کے پاس قانون کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ رہتا۔ مگر آپ نے ایسا نہ کیا۔ آپ نے اپنے وزراء کو‘ اپنے ساتھیوں کو‘ اپنی پارٹی کے بڑوں کو قانون کی دھجیاں اڑانے کی اجازت دے دی۔ آپ کی پارٹی کے رہنما نے راولپنڈی تھانے پر حملہ کر کے ملزموں کو چھڑا لیا۔ فیصل آباد میں تھانوں پر آپ کے لوگوں نے حملے کیے۔ اسمبلی کے ارکان قانون سے بالاتر تھے۔ سرکاری رہائش گاہوں کے وہ کروڑوں کے مقروض ہیں۔ آپ کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ نادیدہ قوتیں قانون سے بالاتر ہیں‘ قانون سے بالاتر تو آپ خود رہے‘ آپ کی پارٹی کے ارکان بھی! آپ کے خاندان نے قانون کو بوٹوں تلے روندا۔ آپ کہتے ہیں نادیدہ قوتیں آپ کے کام میں مداخلت کرتی ہیں۔ آپ کی بیٹی کیوں مداخلت کرتی رہی؟ آپ لندن میں کئی ماہ مقیم رہے۔ وہ کس قانون کے تحت وزیر اعظم کے دفتر میں غیر ملکی سفیروں سے ملتی رہی؟ یہ کون سی جمہوریت ہے؟ یہ قانون کی کون سی بالادستی ہے؟ آپ کا بھتیجا پنجاب میں بیورو کریسی کی تعیناتیاں کس قانون کے تحت کرتا رہا؟آپ کا داماد کس قانون کے تحت ارکان اسمبلی میں رقوم کی تقسیم کا انچارج بنا رہا؟ آپ نے کس قانون کے تحت خالی جہاز لندن میں کھڑا کیے رکھا؟ کس قانون نے آپ کو اجازت دی کہ نواسی کا نکاح حجاز میں ہو تو قومی ایئر لائن کے جہازوں کو ذاتی رکشا سمجھ لیں؟ 

آپ نے ایک بار بھی قومی اسمبلی میں سوال جواب کا سیشن اٹنڈ نہیں کیا؟ سال بھر سینیٹ میں نہیں آئے؟ آپ ازراہ کرم اس سوال کا دو ٹوک جواب دیں کہ کیا اس میں نادیدہ قوتیں رکاوٹ تھیں؟ آپ نے مہینوں کابینہ کااجلاس نہیں بلایا - کیوں؟ آپ سارے اہم فیصلے اپنے ذاتی وفاداروں اور رکوع میں جھکے ہوئے ٹوڈیوں کے مشورے سے کرتے تھے؟ کیوں؟ آخر کیوں؟ 

سول بیورو کریسی آپ کے مکمل اختیار میں تھی‘ ان کی تعیناتیوں میں کوئی نادیدہ قوت‘ کوئی جی ایچ کیو‘ کوئی آئی ایس آئی مداخلت نہیں کر رہی تھی۔ مگر آپ نے سول بیورو کریسی کا دھڑن تختہ کر دیا۔ وفاق اور پنجاب میں لاقانونیت کی وہ ہولی کھیلی گئی کہ بیورو کریسی نگوڑی کا حلیہ بگڑ گیا۔ جونیئر افسروں کو ٹاپ پر بٹھا دیا گیا۔ کیا یہ سول بالادستی تھی؟ تعیناتیاں کرتے وقت آپ کو خدا کا خوف نہ رہا۔ آپ نے صرف یہ دیکھا کہ خواجہ کون ہے؟ اور وانی کون ہے؟ روایت ہے کہ آپ پوچھتے تھے۔’’اے اپنا بندہ اے؟ 

تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو 

وزارت تجارت آپ کے اختیار میں تھی۔ آپ نے اپنے عہد اقتدار میں کتنی بار وہاں آ کر حالات کا جائزہ لیا؟ مئی 2018ء میں جب آپ کا پانچ سالہ اقتدار کوچ کرنے کو تھا تو درآمدات اس قدر زیادہ اور برآمدات اتنی کم تھیں کہ خسارہ تیس ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ اس کی متعدد وجوہات میں ایک بڑی وجہ تعیناتیوں میں آپ کی دھاندلی اور دوست پروری تھی۔ آپ نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن جیسے اہم ادارے میں نوکرشاہی کے اس رکن کو سفیر بنا کر بھیجا جس کا تجارت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس کی واحد اہلیت یہ تھی کہ ماڈل ٹائون قصے میں اس کا کلیدی کردار تھا۔ یہ آپ کے وژن کی صرف ایک مثال ہے۔ اگر کوئی محقق آپ کے عہد اقتدار کی تعیناتیوں کا تجزیہ کر کے رپورٹ تیار کرے تو پبلک ایڈمنسٹریشن کی تاریخ میں یہ بدترین کارکردگی ہو گی۔ 

آپ کو صحت اور تعلیم میں مکمل خود مختاری حاصل تھی۔ اسلام آباد میں صرف دو سرکاری ہسپتال ہیں ۔بیس نہیں۔ ایک بار بھی آپ وہاں نہ گئے کہ عوام کی حالت زار کا براہ راست مشاہدہ کریں۔ آج آپ کی پوری پارٹی لاہور میں چند ہزار سے زیادہ لوگ اکٹھے نہ کر سکی۔ آپ دو بار ہی ہسپتال میں عوام کے ساتھ قطار میں کھڑے ہو کر پرچی بنواتے۔ دوائی لیتے‘ ہسپتال کی حالت راتوں رات زمین سے آسمان تک پہنچ جاتی۔ لوگ دیوانہ وار‘ کسی کے کہے بغیر‘ آپ کے لیے لاہور ایئر پورٹ کی طرف بھاگ رہے ہوتے۔ آپ ہر چھ ماہ میں تین سرکاری سکولوں ہی کا دورہ کر کے احکام جاری کر دیتے‘ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے لیے مثال بنتے۔ آج آپ کے لیے لوگ جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر باہر نکلتے۔ 

آپ آج کس سول بالادستی کی بات کرتے ہیں؟ آپ تو چار برس ایک عالی شان پکنک مناتے رہے۔ آپ کے فرائض منصبی ‘ آپ کے بجائے اسحاق ڈار اور فواد حسن فواد سرانجام دیتے رہے۔ آپ خود لندن ہوتے تھے یا مری! ملک تو دور کی بات ہے آپ صرف دارالحکومت کو صاف ستھرا مثالی شہر نہ بنوا سکے۔ آپ کا طرز حکومت یہ تھا کہ اہم وزارت‘ ہائوسنگ اینڈ ورکس کا وزیر ہفتے میں صرف ایک دن دفتر آتا تھا مگر آپ کو معلوم ہی نہ تھا۔ آپ نے چار سال میں اپنے وزراء کی کارکردگی چیک کرنے کے لیے کوئی طریقہ‘ کوئی میکانزم‘ کوئی نظام‘ کوئی سلسلہ نہ بنایا۔ آپ کی حکومت مثالی ہوتی تو نادیدہ قوتیں آپ کے رعب میں ہوتیں۔ آپ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بلند آواز سے کہہ سکتے کہ جب میرا وزیر‘ میرا ایم این اے ‘ میری بیٹی‘ میرا بھتیجا‘ قانون سے بالاتر نہیں تو بریگیڈیئر یا جرنیل کس طرح قانون سے ماورا ہو سکتا ہے۔ مگر آپ کی اپنی لاقانونیت کا یہ عالم تھا کہ پچانوے فیصد بیرونی دوروں میں صرف ایک وزیر اعلیٰ آپ کے ہمراہ ہوتا تھا۔ اس لیے کہ وہ آپ کا بھائی تھا۔ آپ کے عہد اقتدار میں تو یہاں تک کہا گیا کہ فلاں ملک کے ساتھ پنجاب کے تعلقات ایسے ہوں گے! گویا پنجاب ملک تھا۔ 

آپ کی حکومت لاقانونیت‘ اقربا پروری اور عیش و عشرت کا تعفن زدہ مرقع تھی! آپ کا عوام سے براہ راست رابطہ تھا نہ ہے۔ آپ نادیدہ قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں! آپ سول بالادستی کی جنگ نہیں لڑ سکتے اور لڑنے کی کوشش کریں بھی تو جیت نہیں سکتے۔ 

کیا کوئی ایسا لیڈر سول بالادستی کی جنگ لڑ سکتا ہے جس کے بیٹے‘ پوتے‘ پوتیاں‘ نواسے‘ نواسیاں‘ لندن میں پل بڑھ رہے ہوں‘ جو خود ہر عید لندن جا کر کرے اور جس کی اولاد کا لندن کے گلی کوچوں میں چور چور کہہ کر ہر جگہ تعاقب کیا جا رہا ہو۔ 

اور اتنی ہمت تو آپ میں کبھی نہیں ہو گی کہ آپ قوم کی دولت قوم کو واپس کر دیں۔ مال و زر اور جائیداد کی محبت نے آپ سے تونگری اور ہمت چھین لی ہے۔ نصف درجن لکھاری اور صحافی‘ جنہیں آپ نے عہدے دیے‘ وزارتیں دیں‘ دوروں میں ساتھ رکھا کچھ کو اداروں کی سربراہی اور کچھ کو رکنیت دی‘ آپ کے لیے نثری قصیدے لکھ رہے ہیں‘ مگر سوشل میڈیا پر خلقِ خدا ان نام نہاد دانشوروں کو جن القابات سے نواز رہی ہے ان میں عزت نفس ہوتی تو ڈوب مرتے! ایک زلہ خوار نے ایک شہکار لکھا ہے اس پر عوام کے نرم ترین کمنٹ دیکھیے۔ 

“”آپ جیسے مشیروں نے نواز شریف کو اس حال تک پہنچایا ہے۔ “”

“”لوگوں کے دلوں میں ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش! اس بلی نے سو سے زائد چوہے کھا رکھے ہیں اور آپ اسے ’’حج‘‘ پر لیے جاتے ہیں۔ “”

روغن قاز ملنے والے ان اصحابِ قلم نے اس ابوالفضل اور فیضی کو بھی مات کر دیا ہے جو کیلنڈر ہی تخت نشینی کی تاریخ سے آغاز کرتے تھے۔ ایک معروف اینکر نے جس کی شہرت ایک زمانے میں اچھی تھی‘ نون لیگ کی ریلی کے دوران ریکارڈ کیا جانے والا پروگرام نشر نہ ہونے پر اپنا مستقل شو جاری رکھنے سے انکار کر دیا۔ اس خبر پر صرف دو کمنٹ آئے۔ دونوں ہی چشم کشا ہیں۔ 

“”اس پروگرام کو روکنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ ہجوم اتنا نہ تھا۔ جوش اتنا نہ تھا‘ جتنا بیان کیا گیا ہے۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ حق ادا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسے نہیں روکا جانا چاہیے تھا تاکہ اس اینکر کا کردار لوگوں کے سامنے آتا۔ “”

“”یہ پروگرام تو چل نہ پایا۔ اب دوسرا شو شروع کریں کہ کیسے اربوں کی چوری پکڑے جانے پر اداروں کو مطعون کیا جائے اور حکمرانوں کی بدعنوانی کی پردہ پوشی کی جائے۔ پروگرام بکے نہ بکے‘ حکمران اقتدار میں آ کر آپ کا منہ تو جواہرات سے بھریں گے۔””









Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net


Sunday, July 15, 2018

ہم بدبختوں کی قسمت میں الیکشن کے دن سونا ہی ہے



ہمایوں اختر خان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں۔ 

آپ نے بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کی اور پارٹی کے منشور اور قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ بھر پور طریقے سے پارٹی کی انتخابی مہم چلانے کا اعلان بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک کے مستقبل کیلئے موثر ترین جدوجہد کی ہے۔ عمران خان نے ہمایوں اختر کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت سے تحریک انصاف کو تقویت ملے گی۔ 

ہمایوں اختر نے 1990ء کا الیکشن اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے لڑا اور کامیاب ہوئے۔ میاں نواز شریف کی دوسری حکومت میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین رہے۔ جنرل مشرف کے زمانے میں قاف لیگ میں شامل ہوئے اور پانچ سال وزیر تجارت رہے۔2012ء میں ہم خیال گروپ کے رکن کی حیثیت سے مسلم لیگ نون کے ساتھ ہو گئے۔ 2015ء میں وزیر اعظم نواز شریف نے ہمایوں اختر کے بھائی ہارون اختر کو اپنا ’’خصوصی معاون‘‘ مقرر کیا‘ ہارون اختر بعد میں مسلم لیگ نون کی طرف سے سینیٹر بھی ہوئے۔ 

9جولائی کے اخبارات میں قندیل بلوچ فیم مفتی عبدالقوی کا بیان چھپا جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ 1۔ عمران خان نے اسے اپنا مشیر دینی امور مقرر کیا ہے۔ 2۔عمران خان نے وعدہ کیا کہ جن علماء و مشائخ نے پاک پتن میں چوکھٹ بوسی کی تائید کی ہے انہیں وہ اقتدار میں آ کر اعزاز و اکرام سے نوازیں گے اور 3۔ عمران خان نے کہا ہے کہ مفتی آنے والی حکومت کا حصہ ہو گا۔ دوسرے دن‘ دس جولائی کو اس کالم نگار نے اپنے کالم میں اس خبر کے حوالے سے لکھا کہ عمران خان کے باقی نورتنوں کا اندازہ بھی دیگ کے اس ایک چاول سے لگایا جا سکتا ہے۔ 

اس پر قارئین کا ردعمل دو حوالوں سے تھا۔ کچھ نے کالم نگار کی مذمت کی کہ ’’ایسی‘‘ شہرت رکھنے والے شخص کے دعویٰ پر اعتبار کر کے عمران خان کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے اور یہ کہ اس خبر کی تردید کا عمران خان اور تحریک انصاف کے پاس وقت ہی نہیں! مگر تبدیلی کے مخلص خواہش مند پوچھنے لگے کہ پھر ووٹ کسے دیا جائے؟ 

مسلم لیگ نون ‘ جنرل مشرف اور مسلم لیگ قاف کے دیرینہ ساتھی ہمایوں اختر خان کو تحریک انصاف میں لے کر عمران خان نے تبدیلی کے عمل کو مکمل کر دیا ہے۔ 

عمران خان نے سٹیٹس کو کے علم برداروں کو پہلے اس بنیاد پر لیا کہ الیکشن میں کامیاب ہونا ایک سائنس ہے اور وہی کامیاب ہو سکتے ہیں جو اس سائنس کے سائنسدان ہیں۔ چنانچہ سٹیٹس کو کے سکہ بند طرف دار گروہ در گروہ‘ قبیلہ در قبیلہ فوج در فوج‘ تحریک انصاف میں یوں شامل ہوئے کہ پرانے نظریاتی کارکن اقلیت میں تبدیل ہو گئے۔ مگر اب! اب عمران خان کس بنیاد پر پارٹیاں تبدیل کرنے والے سٹیٹس کو کے علم برداروں بلکہ سرداروں کو لے رہے ہیں؟ اب تو ٹکٹ دیے جا چکے! اب کیا مجبوری ہے؟ 

آخری وقت میں یونینسٹ پارٹی کے جاگیردارمسلم لیگ میں شامل ہوئے تھے۔ پاکستان بن گیا۔ ان جاگیرداروں نے آج تک ستر سال ہو گئے‘ زرعی اصلاحات نافذ نہیں ہونے دیں‘ دلوں کا حال عالم الغیب ہی جانتا ہے مگر ایک لمحے کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ عمران خان تبدیلی لانے میں مخلص ہے تو یہ سٹیٹس کو کے علمبردار‘ یہ ہر پارٹی کے ساتھ مل کر اقتدار میں حصہ لینے والے ‘کیاعمران خان کو تبدیلی لانے دیں گے؟ کیا عمران خان قائد اعظم ‘ لیاقت علی خان‘ عبدالرب نشتر اور حسین شہید سہروردی سے زیادہ بااثر اور پُرعزم ہے؟ 

نواز شریف پر جو بہت سے اعتراضات تھے۔ ان میں ایک بڑا اعتراض یہ تھا کہ انہوں نے جنرل مشرف کے ساتھیوں اور قاف لیگ کے زعما کو‘ جنہوں نے آمریت کا بھر پور ساتھ دیا‘ اپنی آغوش میں لے لیا‘ دانیال عزیز‘ طارق عظیم‘ امیر مقام‘ زاہد حامد‘ طلال چودھری‘ ماروی میمن اور مشاہد حسین میں اور کیا برائی تھی؟ ہمایوں اختر خان اور ان کے بھائی ہارون اختر بھی ان سب سیاست دانوں کی طرح جنرل مشرف اور قاف لیگ کو چھوڑ کر نون لیگ میں شامل ہو ئے۔ عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد نے مسلم لیگ نون اور قاف لیگ کو ایسے ہی سیاست دانوں کی وجہ سے ووٹ نہیں دیا۔ اب وہی سیاست دان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں تو تحریک انصاف کو کیوں ووٹ دیا جائے؟ جن رنگ بدلنے والے شعبدہ بازوں کی وجہ سے دوسری جماعتیں ناقابل قبول تھیں‘ وہی شعبدہ باز تحریک انصاف میں آ گئے ہیں تو پھر تحریک انصاف کو کس برتے پر ووٹ دیا جائے؟ 

میاں نواز شریف کو لوگ طعنہ دیتے تھے کہ جنرل مشرف کے ساتھی قابل قبول ہیں تو جنرل مشرف ہی سے کیا دشمنی ہے! آخر یہی لوگ تو آمر کے دست و بازو تھے۔ اب یہی سوال عمران خان سے پوچھا جانا چاہیے کہ میاں نواز شریف کے ساتھی قابل قبول ہیں تو نواز شریف ہی سے کیا جائیداد کا جھگڑا ہے؟ آخر یہی لوگ تو میاں نواز شریف کی حکومت کی پالیسیاں طے کرتے تھے۔ یہی ہمایوں اختر خان بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سربراہ تھے‘ انہی کے بھائی فیڈرل بورڈآف ریونیو کے مدارالمہام تھے۔ میاں صاحب تو ساری دنیا کو معلوم ہے فائل پڑھتے تھے نہ سنجیدہ پالیسی امور پر توجہ مرکوز کر سکتے تھے! وزراء مکمل طور پر آزاد تھے! 

یہ دلیل کہ لیڈر جو چاہے‘ وہی ہوتا ہے‘ بودی دلیل ہے۔ کیا عمران خان شہنشاہِ مطلق ہوں گے کہ ان کی زبان سے نکلا ہوا لفظ قانون بن جائے گا؟ کیا نذر محمد گوندل‘ فردوس عاشق اعوان‘ عامر لیاقت ‘ ہمایوں اختر خان ‘ جہانگیر ترین اور بے شمار دوسرے روایتی سیاست دان موم کے بنے ہوئے بت ہیں جنہیں عمران خان جدھر چاہے گا موڑ لے گا؟ ان سیاست دانوں نے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے۔ ان کی ترجیحات میں سرِ فہرست کیا رہا ہے؟ یہ کوئی معمہ ہے نہ راز! سب کو معلوم ہے! ان کا دنیا کی ہر شے سے تعلق ہو سکتا ہے‘ تبدیلی سے نہیں! 

چشم تصور سے نظارہ کیجیے! عمران خان وزیر اعظم ہیں! دائیں طرف گوندل صاحب اور فردوس عاشق اعوان صاحبہ تشریف فرما ہیں۔ بائیں طرف ہمایوں اختر ہیں۔ ساتھ ان کے بھائی ہارون اختر صاحب بیٹھے ہیں۔ ان کے ساتھ عامر لیاقت نظر آ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ مفتی عبدالقوی صاحب بیٹھے مسکرا رہے ہیں۔ مفتی صاحب کے ہاتھ میں جھنڈا ہے اس پر قندیل بلوچ اور الماس بوبی کی تصویریں جلوہ افروز ہیں! مسلم لیگ نون سے تحریک انصاف میں آ کر ٹکٹ حاصل کرنے والوں کی مکمل فہرست ہمارے دوست آصف محمود صاحب کے پاس ضرور ہو گی۔ اگر وہ اپنے آئندہ کالم میں اسے شائع کر دیں تو آنے والی تبدیلی کے خدوخال بدرجۂ اتم واضح ہو جائیں گے! 

ہم جیسے بیوقوف الیکشن کے دن آسمان کی طرف منہ کر کے فریاد کرینگے ؎ 

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں 
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

 اور پھر سو جائیں گے! الیکشن کے دن ہماری قسمت میں سونا ہی ہے۔2013ء کے انتخابات میں نیند قربان کر کے ووٹ ڈالا تھا۔ آج تک قمر جلالوی کو یاد کر کے آہیں بھر رہے ہیں ؎ 

توبہ کیجے اب فریب دوستی کھائیں گے کیا

ا آج تک پچھتا رہے ہیں اور پچھتائیں گے کیا 

کل بہار آئے گی یہ سُن کر قفس بدلو نہ تم 

رات بھر میں بے پروں کے پر نکل آئیں گے کیا؟




Saturday, July 14, 2018

میری مجوزہ ہائوسنگ سوسائٹی… پہلے آئیے،پہلے پائیے


سنا ہے دارالحکومت میں روات سے لے کر گوجر خان تک، شاہراہ کے اردگرد زمینیں خریدی جا چکی ہیں۔ آبادی کا دبائو بے تحاشا بڑھ رہا ہے۔ سرکاری ادارے، نیم سرکاری تنظیمیں نجی شعبہ، سب ہائوسنگ سوسائٹیاں ڈیویلپ کرنے میں لگے ہیں۔ زراعت کے لیے مخصوص رقبے رہائشی آبادیوں کی نذر ہو رہے ہیں۔ جنگل کاٹے جا رہے ہیں۔ باغوں، سیر گاہوں اور پارکوں پر پراپرٹی ڈیلروں کی عقابی نظریں مرکوز ہیں۔ جھپٹتے ہیں اور پارک ختم ہو جاتے ہیں۔ 

انسانوں کا جنگل ہے کہ پھیلتا ہی جا رہا ہے۔ سنا ہے کہ ڈھاکہ میں پیدل چلنے وارلوں کا بھی ’’ٹریفک جام‘‘ ہو جاتا ہے۔ ہم بھی اُسی صورت حال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ اور بات کہ بنگلہ دیش نے آبادی کی شرحِ اضافہ کو کنٹرول کر لیا ہے۔ یعنی تین فیصد سے کم۔ ہمارا اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک معروف انگریزی روز نامے نے بتایا تھا کہ خیبرپختونخوا میں یہ اضافہ چار اعشاریہ چھ فیصد ہے۔ تا ہم اس مخصوص اضافے کی پشت پر افغان مہاجرین بھی شامل ہیں اور قبائلی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی بھی ایک اہم عامل ہے۔ 

بڑھتی ہوئی ہائوسنگ سوسائٹیوں کا سبب صرف آبادی کا دبائو نہیں۔ اس میں اُس طاقت ور طبقے کی حد سے بڑھی ہوئی کاروباری لالچ بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے جسے لینڈ ڈیویلپرز کہا جاتا ہے یعنی زمین کے بڑے بڑے قطعات خرید کر انہیں رہائشی کالونیوں میں تبدیل کرنے والے! اگرچہ اس میدان میں سب سے بڑا نام تو ہم سب جانتے ہیں کس کا ہے۔ مگر اس ایک بڑے ٹائیکون کے علاوہ بھی یہ شعبہ زور آور افراد سے بھرا پڑا ہے۔ ان سب میں کچھ صفات مشترک ہیں۔ اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں۔ کچھ تو بالکل ہی نہیں! یہ قانون سے کھیلنے والے لوگ ہیں۔ بہت سوں نے نجی فورس بنا رکھی ہے۔ مسلح غنڈے اور بدمعاش جاتے ہیں اور زمینیں قبضے میں لے لیتے ہیں۔ غریب مکینوں کو اُن کے گھروں سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ پھر پلاٹنگ ہوتی ہے۔ کوشش ہوتی ہے کہ سڑکوں، سکولوں اور پارکوں کے لیے کم سے کم رقبہ مخصوص کیا جائے۔ دکانیں زیادہ بنائی جائیں۔ جمال احسانی نے کہا تھا ؎ جہاں بدلنے کا وہ بھی گمان رکھتے ہیں جو گھر کے نقشے میں پہلے دکان رکھتے ہیں بجلی گیس اور فون لگانے والے اداروں سے ان طاقت ور کاروباری حضرات کے گہرے ’’روابط‘‘ ہوتے ہیں۔ متعلقہ افسروں کو پلاٹ پیش کیے جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مجوزہ ہائوسنگ سوسائٹی میں بجلی گیس اور فون کنکشن پہنچ جاتے ہیں، غالباً ہمارے دوست اجمل نیازی تھے جنہوں نے ایک بڑے بیورو کریٹ کے بارے میں لکھا تھا کہ اس کی ملکیت میں چونسٹھ پلاٹ ہیں۔ یہ میاں نواز شریف کا پہلا یا دوسرا دورِ حکومت تھا۔ اس کے بعد ان صاحب کو بلند تر منصب مل گیا۔ نوکر شاہی کا ایک ایسا ہی رکن ملک سے بھاگ گیا تھا۔ اس کی بیٹی کی شادی اس کی غیر حاضری ہی میں انجام پائی۔ سنا ہے ایک طاقت ور اعلیٰ شخصیت اس کے وسیع و عریض عشرت کدے میں محفلِ رقص و سرور میں شرکت کیا کرتی تھی! 

ایک اور صاحب کو یہ کالم نگار اچھی طرح جانتا ہے۔ بنک میں افسر تھے۔ پھر ملازمت چھوڑ دی۔ زمین خریدی، نجی فورس تشکیل دی۔ پولیس اور اعلیٰ انتظامیہ سے روابط گانٹھے۔ شہر کے گراں ترین علاقے میں دفتر بنایا۔ وارے نیارے ہو گئے۔ پراڈو جیسی جہازی سائز کی گاڑیوں میں نظر آتے۔ کچھ عرصہ پہلے معلوم ہوا۔ سلاخوں کے پیچھے مقیم ہیں۔ انگریزی کا محاورہ ہے کہ جب بھی دولت آتی ہے، کسی نہ کسی جرم پر سوار ہو کر آتی ہے۔ 

ایک اصطلاح اکثر و بیشتر سننے میں آتی ہے۔ ’’غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیاں‘‘ ان غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کی پشت پر سرکاری ادارے ہوتے ہیں۔ یہ ادارے مثلاً سی ڈی اے، ایل ڈی اے، کے ڈی اے اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں کے ترقیاتی ادارے، دیکھتے رہتے ہیں کہ غیر قانونی رہائشی کالونی وجود میں آ رہی ہے۔ یہ خاموش رہتے ہیں۔ ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم! متعلقہ اہلکار رشوتیں لے لے کر منہ دوسری طرف کیے رکھتے ہیں۔ یہ خبر بھی پڑھی گئی تھی کہ دارالحکومت کے نئے ایئرپورٹ کے قرب و جوار میں چار سو کے لگ بھگ غیر قانونی سوسائٹیاں قائم ہو چکی تھیں۔ پھر جب بات بہت آگے بڑھ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ مکان تعمیر ہو جاتے ہیں۔ لوگ رہ رہے ہوتے ہیں اس وقت ’’قانون‘‘ حرکت میں آتا ہے۔ پھر حکمِ امتناعی کے چکر چلتے ہیں، سالہا سال گزر جاتے ہیں۔ جرم 
Fait accompli 
یعنی امر واقعہ کی صورت اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ عدالتیں بھی بے بس ہو جاتی ہیں۔ پھر سب کچھ قانونی
(Legalise)
قرار دے دیا جاتا ہے۔ ایک معروف و مشہور قومی سطح کی شخصیت نے بنی گالا میں سب سے پہلا غیر قانونی محل تعمیر کیا تھا۔ آج وہاں شہر آباد ہے۔ سعدی نے کہا تھا، چشمہ رواں ہونے لگے تو اس وقت آنکھوں میں سرمہ ڈالنے والی سلائی سے بھی سوراخ بند کیا جا سکتا ہے۔ مگر جب وقت گزر جائے، پانی کا زور بڑھ جائے تو ہاتھی سے بھی بند نہ ہو گا۔ تا ہم یہ سب بدنیتی کے کرشمے ہیں۔ اس جُوع الارض میں اس 
Land Hunger
میں حکومتیں بھی شامل ہیں، کچھ عرصہ پہلے دارالحکومت میں واقع قومی ادارے ’’پاکستان زرعی ریسرچ کونسل‘‘ کو بے دخل کر کے وہاں ہائوسنگ سوسائٹی بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس میں ترقیاتی ادارے سے لے کر وزیر اعظم کے دفتر تک سب بڑے بڑے مگرمچھ ملوث تھے۔ مگر ادارہ ڈٹ گیا۔ متعلقہ وفاقی وزیر نے بھی اپنے ادارے کا ساتھ دیا اور بلا ٹل گئی۔ 

احمد ندیم قاسمی مرحوم مجلسِ ترقی ادب لاہور کے سربراہ تھے۔ ایک دن صبح دفتر پہنچے 
تو کچھ ’’طاقت ور‘‘ نوجوان دفتر کے رقبے کا طول و عرض ماپ رہے تھے۔ قاسمی صاحب نے پوچھا تو ایک ادائے بے نیازی سے بتایا گیا کہ کوئی تعمیراتی ’’منصوبہ‘‘ ہے۔ آپ کے ادارے کو متبادل جگہ دے دی جائے گی۔ جنرل ضیاء الحق کے ایک عزیز مرکز میں وزیر تعلیم تھے۔ قاسمی صاحب نے دوڑ دھوپ کی۔ ہاتھ پیر مارے، وزیر صاحب کے ذریعے ضیاء الحق تک بات پہنچائی اور یوں بال بال بچ گئے۔ 

اب تک تو یہ ساری تمہید تھی۔ اصل بات جو بیان کرنی ہے یہ ہے کہ میں نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ غربت مکائو پروگرام ہے۔ سوچا ہے ایک قطعۂ زمین حاصل کیا جائے۔ آبادی سے زیادہ دور نہ کم۔ ایک نیا شہر وہاں بسایا جائے۔ اس وقت سرمایہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ گاڑی، ریفریجریٹر اور دیگر سامان فروخت کر کے بھی بیس پچیس لاکھ ہی جمع ہو سکیں گے۔ مگر یہ ابتدائی ادائیگی(ڈائون پے منٹ) کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ بقیہ رقم مجوزہ سوسائٹی کے ارکان قسطوں میں انتظامیہ کو یعنی مجھے ادا کریں گے تو زمین کے مالکوں کو دے کر پٹواری کے کاغذوں میں انتقال کرا لیا جائے گا۔ اس رہائشی کالونی میں سب سے زیادہ زور شجر کاری پر دیا جائے گا تا کہ ہر پلاٹ درختوں سے گھرا ہو اور اس پر چھائوں پڑتی رہے۔ پلاٹوں کی الاٹ منٹ پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر ہو گی۔ مکان کی تعمیر سے پہلے قسطوں کی مکمل ادائیگی ضروری ہے۔ اس ہائوسنگ سوسائٹی کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ مکین روشنی کے لیے واپڈا کے یا کسی بھی ادارے کے محتاج نہیں ہوں گے۔ یہ ذمہ داری ہر مکین کی اپنی ہو گی۔ قبر کے اندر روشنی کرنے کا سامان ابھی سے کرنا ہو گا۔ یہ انتظام، یہ بندوبست زندگی ہی میں کر لیجیے۔ ایسا نہ ہو کہ اندر اندھیرے سے پالا پڑے۔ اندھیرے میں حشرات الارض بھی بہت آتے ہیں۔












Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net


Thursday, July 12, 2018

کُھلا خط۔-------اُن دو کے نام


بات چھوٹی سی تھی مگر بڑھتے بڑھتے اتنی بڑی ہو گئی کہ معمولی تلخ کلامی جھگڑے میں تبدیل ہوئی اور پھر دشمنی میں! 

چوہدری نسیم کا خاندان گائوں میں کھاتا پیتا شمار ہوتا تھا۔ یوں سمجھیے جیسے شہر میں مڈل کلاس کے کنبے ہوتے ہیں۔دیہی پس منظر رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ مڈل کلاس کا مطلب شہر میں کچھ ہو نہ ہو‘ بستیوں اور قریوں میں اس کا مطلب ایک باعزت مقام ہوتا ہے۔ معیار زندگی اوسط سے کافی اوپر! ڈھور ڈنگر ضرورت کے مطابق مناسب مقدار میں‘ زمین سے پیداوار ٹھیک ٹھاک! جس دن یہ واقعہ پیش آیا‘ اس دن شام کے وقت گائوں کے لوگ چوپال میں اکٹھے تھے، بحث سیاست پر ہو رہی تھی۔ چودھری نسیم جس سیاسی جماعت کا طرفدار تھا اس کے دفاع میں بول رہا تھا۔ اس کا ایک رشتہ دار جو دوسری جماعت کا حامی تھا‘ زبان کاتیز تھا۔ اس کی آواز ضرورت سے زیادہ اونچی ہو گئی۔ چودھری نسیم نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ بات بڑھ گئی۔ تیز زبان والے رشتہ دار نے چودھری نسیم کے مرحوم باپ اور دادا کے بارے میں کوئی بے ہودہ بات کہہ دی۔ چوہدری نسیم اُٹھا ۔ صرف اتنا کہا کہ میں سب کچھ برداشت کر سکتا ہوں‘ مرے ہوئے باپ اور دادا کی بے عزتی نہیں برداشت کر سکتا۔ یہ کہہ کر نسیم نے ٹارچ اٹھائی اور گھر چلا گیا۔ چوپال پر چند لمحوں کے لیے سناٹا چھا گیا۔ کچھ معمر افراد نے تیز زبان والے رشتہ دار کو ملامت کرتے ہوئے سمجھایا کہ جا کر معذرت کر لو کیوں کہ تمہاری غلطی ہے مگر وہ نہ مانا۔ اس نے کچھ اور غلط باتیں کہہ دیں جو ان لوگوں نے چوہدری نسیم تک پہنچا دیں جو اس قسم کے مواقع پر جلتی پر تیل ڈالتے ہیں۔ ایک ہفتہ گزر گیا ایک صبح گولی چلنے کی آواز آئی۔ کھیتوں میں تیز زبان والے رشتہ دار کی لاش تڑپ رہی تھی۔ چوہدری نسیم بندوق کے ساتھ نزدیکی تھانے میں پیش ہو گیا اور قتل کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے بے عزتی کا بدلہ لیا ہے۔ 

دونوں بیٹے چوہدری نسیم کے ملک سے باہر تھے۔ ایک دبئی میں ملازمت کرتا تھا‘ دوسرا انڈونیشیا کی ایک آئل کمپنی میں کام کرتا تھا۔ خبر ملی تو دونوں پہنچ گئے۔ دبئی والا ایک دن پہلے پہنچا۔ سیدھا تھانے آیا اور پولیس کو کہا کہ قتل میرے والد نے نہیں کیا۔ میں نے کیا ہے۔ انڈونیشیا والا دوسرے دن تھانے پیش ہوا۔ اس کا بیان یہ تھا کہ قتل اس نے کیا ہے اور یہ کہ اس کا باپ اور بھائی دونوں اس کی جان بچانے کے لیے جھوٹ بول کر الزام اپنے سر لے رہے ہیں۔ 

یہ پنجاب کے ایک گائوں کا سچا واقعہ ہے۔ پاکستان کے تھانوں اور عدالتوں کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ نوجوان سب کچھ برداشت کر لیتے ہیں مگر اپنے باپ کی تکلیف‘ اپنے باپ کی ہتک‘اپنے باپ کی بے بسی برداشت نہیں کر سکتے! اپنا مال‘ اپنی عزت یہاں تک کہ اپنی جان بھی قربان کر دیتے ہیں۔ 

ایک اور معاملے میں یہ لوگ اور بھی زیادہ حساس ہوتے ہیں وہ ہے خاندان کی خواتین کی عزت! ماں بہن بیٹی اور بیوی کے لیے سب کچھ نثار کر دیتے ہیں۔ ان کی حرمت پر کٹ مرتے ہیں! 

مگر تم دونوں بھائی کس مٹی کے بنے ہوئے ہو؟جس بے حسی کا مظاہرہ تم کر رہے ہو اس کی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ کوئی باغیرت نوجوان اس بے حسی‘ اس تغافل اور اس ’’مستقل مزاجی‘‘ کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارا بوڑھا باپ عدالتوں میں اور نیب کے دفتروں میں آئے دن پیش ہو رہا ہے۔ تم کیسے بیٹے ہو جو لندن کی اُن رہائش گاہوں میں آرام و عشرت کے مزے لُوٹ رہے ہو جن کی ملکیت تمہارے نام ہے جس کا دفاع تمہارا باپ کر رہا ہے۔ تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو جہاز میں بیٹھتا سیدھا پاکستان آتا اور عدالت کے سامنے پیش ہو کر کہتا کہ میں ہوں مجرم!یہ سب کیا دھرا‘ جو کچھ بھی ہے‘ میرا ہے مجھے پکڑو


پھر تمہاری غیرتاس وقت بھی نہ جاگی جب تمہاری بہن کو عدالتوں اور نیب کی کچہریوں میں پیش ہونا پڑا۔ یہ تو تمہاری پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہونا چاہیے تھا۔ بہن کا سُن کر بھی تم بیٹھے رہے! تم ہر روز ٹیلی ویژن پر سنتے رہے‘ اخبارات میں پڑھتے رہے کہ تمہاری بہن عدالتوں کے دھکے کھا رہی ہے مگر تمہارا دل نہ پسیجا۔ تم عیش و عشرت کی زندگی کو تج نہ سکے۔ جس باپ نے تمہاری خاطر یہ ساری بدنامی مول لی‘ اس باپ کو تم نے اکیلا چھوڑ دیا۔ 

تم سے ہزار گنا زیادہ بہادر تو تمہاری بہن ثابت ہوئی جو آسانی سے بیرون ملک بھاگ سکتی تھی مگر اپنے باپ کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ اس نے باپ کا ہر ممکن دفاع کیا۔ عدالتوں کے سامنے پیش ہوئی۔ نیب کی کچہری چڑھی۔ ملک کے طول و عرض میں سفر کیا۔ تقریریں کیں۔ اس نازک موقع پر باپ کی پشت کے پیچھے تکیہ بن گئی۔ لوگ برملا کہتے ہیں کہ آفرین ہے اس بیٹی پر۔ اصل بیٹا تو یہ ہے۔ وہ جو دو لندن میں بیٹھے پائونڈ گن رہے ہیں اور جائیدادوں، کارخانوں اور اپارٹمنٹوں کے کاغذات سنبھال سنبھال کر تجوریوں میں رکھ رہے ہیں‘ انہیں چوڑیاں پہن لینی چاہئیں اور ہتھیلیوں پر حنا لگا لینی چاہیے بیٹی مرد بن کر دشمنوں کو للکارنے لگی اور بیٹے برقعے پہن کر اندر چھپ گئے۔

آہ! تم نے یہ نہ سوچا کہ تاریخ تمہیں کس حیثیت میں یاد کرے گی۔ یہی کہ باپ اور بہن کو مصیبت میں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پلٹ کر نہ دیکھا کہ وہ کس حال میں ہیں۔ تم نے یہ نہ سوچا کہ خلق خدا تمہیں کیا کہہ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر دوسرا پیغام تمہارے باپ کے نام پر آ رہا ہے کہ اپنے بیٹوں کو لندن میں بٹھایا ہوا ہے اور دوسروں کے بیٹوں کو احتجاج کے لیے باہر نکلنے کا کہہ رہے ہو؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ اس احتجاج کی قیادت تو تمہارے بیٹوں کو کرنا چاہیے تھی۔ 

یہ منظر اس ملک میں پہلے بھی لوگوں نے دیکھا۔ دوسروں کے بیٹوں کو ’’جہاد‘‘ پر بھیجا گیا۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں’’ بم اور میزائل دیے گئے۔ انہیں مدرسوں کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکال کر جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ ان کے گھروں میں صف ماتم بچھا دی گئی۔ مگر ان ’’بہادروں‘‘ کے اپنے فرزند اس ’’جہاد‘‘ سے دور ہی رہے کوئی پشاور میں ہسپتالوں میں سپلائی ہونے والی مشینوں اور دوائوں کا کاروبار کرتا رہا اور کوئی دارالحکومت کے وسیع ‘ آرام دہ محلات میں بزنس کرتا رہا۔ یہ جرنیل‘ یہ علمائ‘ یہ اسلام کے نام لیوا۔ یہ مذہبی جماعتوں کے رہنما‘ دوسروں کے بیٹوں کو قربان کرتے رہے۔ اپنے بیٹوں کے ہاتھوں میں کتابیں دیں اور لیپ ٹاپ اور بزنس کے گوشوارے! 

آج یہ فلم دوبارہ چلائی جا رہی ہے۔ سول بالادستی کے لیے تمہارا باپ جو لڑائی لڑنا چاہتا ہے اس میں وہ دوسروں کے بیٹوں کو جھونکنا چاہتا ہے۔ اپنے بیٹوں کو اس نے لندن میں بٹھایا ہوا ہے۔ مگر بیچارہ بوڑھا باپ کرے بھی تو کیا کرے! وہ تمہیں کیا کہے۔ جن بیٹوں نے باپ کی عزت اور بہن کی حرمت پر قربان ہونا ہو وہ کسی کے کہنے کا انتظار نہیں کرتے۔ یہ ان کے خون کی تپش ہوتی ہے جو اُن کے اندر اُن کے ضمیر کی ہنڈیا میں غیرت کو ابالتی ہے اور وہ باہر نکل پڑتے ہیں! پھروہ باپ اور بہن کے آگے ڈھال بن جاتے ہیں! مگر آہ!تمہاری جس بے حسی پر اپنے افسوس کر رہے ہیں‘ کُڑھ رہے ہیں اور دوسرے ٹھٹھے مار رہے ہیں‘ طنز کر کے قہقہے لگا رہے ہیں‘ اُس کا اصل سبب نہیں جانتے! غیرت تب بیدار ہوتی ہے جب رگوں میں دوڑتا خون اکلِ حلال سے بنا ہو!



Tuesday, July 10, 2018

عمران خان نے حکومت سازی کی ابتدا کر دی


ہم پاکستانی لاکھ کہتے رہیں کہ نواز شریف کو سول بالادستی کے لیے کام کرنے پر سزا ملی ہے یا یہ ایک عالمی سازش ہے یا خود نواز شریف کے بقول‘ ستر سالہ تاریخ کا رخ موڑنے پر یہ سب کچھ ہوا ہے‘ عالمی میڈیا ہمارے اس موقف سے ہرگز اتفاق نہیں کرتا۔

عالمی میڈیا نے جب میاں صاحب کو دی جانے والی سزا کی خبر سنائی تو اس کی وجہ صرف اور صرف کرپشن ہی بتائی۔ 

نیو یارک ٹائمز کی سرخی یہ تھی۔ ’’سابق پاکستانی رہنما نواز شریف کو کرپشن پر سزائے قید سنائی گئی۔‘‘ 

دی ٹائمز لندن نے یہ خبر یوں دی۔ سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کو کرپشن کے الزامات پر دس سال قید کی سزا دی گئی۔ 

مشہور زمانہ اخبار ’’وال سٹریٹ جرنل‘‘ کی سرخی دیکھیے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم کرپشن کے مجرم پائے گئے۔ 

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا۔ سابق پاکستانی رہنما نواز شریف کرپشن کے مقدمے میں قصور وار پائے گئے، دس سال قید کی سزا۔ 

معروف برطانوی اخبار دی گارڈین نے لکھا: سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کو دس سال جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔ لندن فلیٹ خریدنے سے متعلق کرپشن کے الزامات اور فیصلہ انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ 

برطانیہ ہی کے اخبار دی ٹیلی گراف نے میاں صاحب کی تصویر کے اوپر سرخی جمائی: سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو کرپشن کی وجہ سے دس سالہ قید کی سزا۔ 

شکاگو ٹرائی بیون نے لکھا! پاکستانی عدالت نے طویل انتظار کے بعد کرپشن کے مقدمے میں نواز شریف کو لندن کے لگژری اپارٹمنٹ خریدنے پر دس سال جیل کی سزا دی ہے۔ 

جاپان ٹائمز‘ جاپان کا معروف ترین انگریزی اخبار ہے اس نے خبر اس طرح دی۔ عدالت نے سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو لندن کی بیش بہا جائیداد خریدنے پر دس سال قید کی سزا دی۔ 

امریکہ کے مغربی ساحل سے نکلنے والے مشہور اخبار لاس اینجلز ٹائمز نے لندن کے دی گارڈین ہی کی طرح اس خبر کو الیکشن کے ساتھ جوڑا۔ سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو کرپشن کے مقدمے میں دی گئی جیل کی سزا آنے والے انتخابات کو ایک طرف جھکا سکتی ہے۔ 

سعودی عرب کے انگریزی اخبار ’’عرب نیوز‘‘ کی سرخی ملاحظہ کیجیے۔ پاکستان کے سابق 
وزیر اعظم نواز شریف کو عدالت نے کرپشن کے الزامات پر دس سال جیل کی سزا دی ہے۔ 

خلیج سے نکلنے والے ’’گلف نیوز‘‘ نے بھی کرپشن ہی کا ذکر کیا۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو کرپشن پر دس سال قید کی سزا۔ ’’

خلیج ٹائمز‘‘ متحدہ عرب امارات کا بڑا انگریزی اخبار ہے۔ اس نے دوسرے عالمی اخبارات کے برعکس سرخی میں بیٹی کا ذکر بھی کیا ہے۔ سابق پاکستانی وزیر اعظم کو کرپشن پر دس سال قید کی سزا اور بیٹی کو سات سال کی! 

بھارتی اخبارات نے بھی کرپشن کا ذکر برملا کیا ہے۔ دی ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے۔ پاکستان کے معزول شدہ وزیر اعظم نواز شریف کو کرپشن کے مقدمے میں دس سال قید کی سزا۔

’’ہندوستان ٹائمز‘‘ نے یہ خبر اس طرح دی۔ سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو کرپشن پر دس سال جیل کی سزا۔

’’دی ہندو‘‘ معروف روزناموں میں واحد اخبار ہے۔ جس نے سرخی میں اور نہ ہی ذیلی سرخی میں کرپشن کا ذکر کیااس کی سرخی یہ تھی۔ نواز شریف کو دس سال جیل کی سزا‘ ذیلی سرخی میں اخبار لکھتا ہے۔ بیٹی مریم اور داماد صفدر کو بھی بالترتیب سات سال اور ایک سال کی سزا سنائی گئی۔ 

یہ سب کچھ تو میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے ساتھ ہوا۔ پورا عالمی میڈیا کرپشن کا ذکر رہا ہے۔ مگر وہ جو نئی حکومت بنانے کے لیے پر تول رہے ہیں وہ اس عبرت ناک مکافات عمل سے کچھ سبق نہیں سیکھ رہے۔ عمران خان آئے دن نئے سے نیا گل کھلا رہے ہیں۔ چند دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک ماڈل ٹائپ نوجوان عورت کے ساتھ ان کی تصویر وائرل ہوئی۔ کمنٹ کمال کا تھا۔ کہ عمران خان صاحب الیکشن تک صبر کرنا‘ کوئی اور کٹا نہ کھول دینا‘ پنجابی زبان میں کٹا(بھینس کا بچہ) کھولنے سے مراد ہے کوئی نیا چاند چڑھانا‘ ایک اور غلط حرکت کرنا!

ایک مفتی نے جو قندیل بلوچ کے معاملے میں انتہائی بدنامی تک پہنچا اور اس کے علاوہ بھی عجیب و غریب قسم کی خبریں تصویریں اور ویڈیو کلپ اس کے حوالے سے اکثر شہرت پاتے رہتے ہیں‘ کل دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے اسے اپنا ’’مشیر دینی امور‘‘ بنا دیا ہے اور اس تین رکنی کمیٹی کا ممبر بھی نامزد کیا ہے جو ناراض ساتھیوں کو منائے گی۔ ظاہر ہے منطقی طور پر اس سے اگلا حوالہ یہی ہو گا کہ عمران خان کو حکومت ملی تو اس معروف و مشہور مفتی کو وزیر مذہبی امور بھی مقرر کیا جائے گا اور اس کا اشارہ بھی مفتی نے آگے چل کر دے دیا۔ 

اب دوسرا کٹا دیکھیے جو عمران خان نے کھولا ہے۔ یہ مفتی صاحب فرماتے ہیں۔ ’’عمران خان نے وعدہ کیا کہ جن علماء و مشائخ نے پاکپتن میں چوکھٹ بوسی کی تائید کی ہے انہیں اقتدار میں آ کر اعزاز و اکرام سے نوازیں گے!واہ ! تحریک انصاف کرپشن کا آغاز بھی کر رہی ہے تو مذہب کے نام پر ! اگر یہ خبر سچ ہے اور اگر تحریک انصاف اس کی باقاعدہ تردید نہیں کرتی اور مفتی سے غیر مشروط طور پر برأت کا اعلان نہیں کرتی تو تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا فیصلہ کرنے والے اپنے ووٹوں کا انجام اس آئینے میں دیکھ لیں۔ 

ویسے ان ’’انصافی‘‘ علماء و مشائخ کو اگر عمران خان انعام دینا چاہتے ہیں تو اس نیک کام کے لیے اقتدار میں آنے کا انتظار کیوں کر رہے ہیں؟ کیا وہ سرکاری خزانے سے یہ ’’اعزازو اکرام ‘‘ دیں گے؟ کیا اس ’’اعزاز و اکرام‘‘ کے لیے حکومت کو استعمال کیا جائے گا؟ 

اب مفتی کے بیان کا باقی حصہ ملاحظہ فرمائیے۔ ’’عمران خان نے انہیں اہم ذمہ داریاں سونپتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والی حکومت کا آپ حصہ ہوں گے‘‘ اس پر نرم ترین تبصرہ بھی انا للہ و انا الیہ راجعون کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے اگر اس مفتی کے یہ تین اعلانات۔ 1۔ یہ کہ اسے مشیر مقرر کیا ہے۔2۔ یہ کہ ساتھ دینے والے علماء و مشائخ کو اقتدار میں آ کر اعزاز و اکرام سے نوازا جائے گا اور 3۔ یہ کہ یہ مفتی آنے والی حکومت کا حصہ ہو گا۔ درست ہیں تو تحریک انصاف کو اپنا جھنڈا تبدیل کر کے قندیل بلوچ کی تصویر اس میں فٹ کر دینی چاہیے اور یہ جھنڈا ہر جلسے میں مفتی کے ہاتھ میں ہونا چاہیے! 

اگر ان تین مضحکہ خیز خبروں کی باضابطہ تردید نہیں ہوتی تو قیاس کیا جا سکتا ہے کہ عمران خان کی حکومت کیسی ہو گی۔ یہ کالم نگار اپنے بے شمار قارئین کو تو کوئی مشورہ نہیں دے سکتا مگر اپنے قریبی اعزہ و اقارب اور حلقہ احباب کو تو نوشتہ دیوار دکھا کر متنبہ کر ہی سکتا ہے! واہ رے پاکستان تیری قسمت! ؎ 

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔمجھ کو 

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

عمران خان کی حکومت کے باقی نورتنوں کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے !! 

یہ خبر دیتے ہوئے اخبارات نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے اس کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی۔ صرف تردید سے بھی اب بات نہیں بنے گی ایسے کرداروں سے تحریک انصاف کو کسی قسم کا بھی تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ قندیل بلوچ اور الماس بوبی وغیرہ کے ساتھ اس مفتی کی ملاقات اور گفتگو یو ٹیوب پر آج بھی دیکھی جا سکتی ہے!

Sunday, July 08, 2018

رگوں میں دوڑتا پھرتا ہےعجز صدیوں کا


عرب بہار پاکستان میں پہنچی مگر دیر سے۔ 

یہ پاکستانی بہار ہے۔ مگر خدا نہ کرے(میرے منہ میں خاک) انجام مصر یا لیبیا جیسا ہو! 

انسان کچھ نہیں سیکھتا اس لیے ’’لفی خسر‘‘ کہا گیا۔ سیکھنا کیا ہے ایک صاحب اپنے سسر کے پاس بیٹھے تھے کسی نے پوچھا کہاں ہیںجواب دیا ان الانسان لفی خسر۔ کہ خسر کی خدمت میں حاضر ہیں! تاریخ سے انسان نے کیا سیکھا؟ کچھ نہیں! ذوالفقار علی بھٹو جیسے پڑھے لکھے‘ صاحب مطالعہ شخص نے تاریخ سے کچھ نہ سیکھا‘ نواز شریف صاحب پر تو مطالعہ کی تہمت بھی نہیں لگ سکتی۔ اکثر و بیشتر لوگ میاں صاحب کو مغل بادشاہوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ کاش وہ مغلوں کی تاریخ ہی پڑھ لیتے۔ فرانسیسی طبیب برنیئر شاہ جہاں اور اورنگزیب دونوں کے ساتھ رہا۔ لکھتا ہے اورنگزیب کشمیر جاتا تھا تو ہاتھی بھمبر تک جا سکتے تھے اس کے آگے راستہ پہاڑی تھا‘ ہاتھی رک جاتے تھے۔ سامان قُلّی اٹھا لیتے تھے۔ بادشاہ سلامت کا سامان پانچ ہزار قلی اٹھاتے تھے۔ شاہ جہاں شکار کے لیے نکلتا تو ایک لاکھ افراد ساتھ ہوتے۔ پڑائو میں ہر سپاہی اپنا کھانا خود پکاتا۔ دھواں اتنا اٹھتا کہ کوسوں تک کچھ دکھائی نہ دیتا۔ جلوس شاہی کے راستے کی زد میں کوئی راہ گیر آ جاتا تو زندہ نہ بچ پاتا۔ جلوسِ شاہی کے راستے کو آج کل ’’روٹ لگنا‘‘ کہتے ہیں۔ چند ماہ پہلے دارالحکومت میں ایک شہری اس کی زد میں آ کر ہلاک ہوا ؎ 

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا 

یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

وہی شاہ جہان آٹھ سال قید رہا کسی دشمن کی قید میں؟ ہاں! دشمن کون تھا؟ حقیقی فرزند! اکثر مسور کی دال پکاتا کہ اس میں‘ جیسا کہ سنا ہے‘ زہر کی آمیزش نہیں ہو سکتی! 

میاں نواز شریف کا طرز زندگی مغل بادشاہوں کے معیار حیات سے لاکھ گنا نہیں تو ہزار گنا برتر تھا۔ کہاں لندن کے چار عالی شان اپارٹمنٹوں پر مشتمل محل اور کہاں مغلوں کے قلعے‘ جو لاہور آگرہ اور دلی کے تپتے سلگتے شہروں میں واقع تھے۔ بیس بیس سال میں میاں صاحب کے فرزند اور دختر کھرب پتی ہو گئے۔ مغل بادشاہ اور سلاطین دہلی سو بار بھی جنم لیں تو جاتی امرا جیسے محلات انہیں نصیب نہیں ہو سکتے۔ زلہ خوار اور درباری کبھی نہیں تسلیم کریں گے کہ ہزاروں ریاستی پولیس مین پورے خانوادے کی حفاظت پر مامور تھے۔ یہاں تک کہ پورے قبیلے کے لیے! غریب عوام کے ٹیکسوں پر یہ خاندان دنیا کے بلند ترین معیاروں میں سے ایک پر زندگی گزار رہا تھا۔ مری کے کوہستان میں کھانا ہیلی کاپٹروں پر پہنچایا جاتا۔ کل رات ایک واقف حال نے بتایا کہ شریف پرویز مشرف صاحب کے عہد ہمایونی میں جدہ کے محل میں منتقل ہوئے تو وہاں قیام کا خرچ‘ واقفِ حال کے بقول‘ حکومت پاکستان اٹھاتی رہی! واللہ اعلم! 

جو حقیقت انسان کو فراموش نہیں کرنی چاہیے وہ حالات کی غیر یقینی نیچر ہے۔ تخت ہے یا تاج‘ خزانہ ہے یا محل‘ لندن کے اپارٹمنٹ میں یا فرانس کا تین سو سالہ قدیم نوابانہ قصر‘ سب ناقابل اعتبار ہیں۔ نواز شریف صاحب کے پاس کیا نہیں تھا۔ حکومت‘ وفاق‘ طاقت ور ترین صوبہ‘ بے تحاشا بے اندازہ دولت‘ کئی براعظموں کئی ملکوں میں بکھری جائیدادیں‘ کارخانے‘ بنک اکائونٹس‘ مگر کچھ کام نہ آیا۔ حالات نے ایک ہی کروٹ لی اور وہ تخت سے گر کر زمین پر آ رہے۔ سورہ لقمان کے آخر میں فرمایا’’اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ کس زمین پر مرے گا‘‘ 

جس دن جے آئی ٹی کے سامنے اسحق ڈار صاحب کی پیشی تھی ۔اس دن باہر نکل کر انہوں نے جو تقریر کی تھی اس کا لب لباب یہ تھا کہ کسی کو اختیار نہیں کہ ان سے کچھ پوچھے‘ عمران خان کے حوالے سے ایک فقرہ انہوں نے کہا 
Who are You
کہ تم کس کھیت کی مولی ہو‘ مگر آج دبئی اور لندن میں امارت کے لمبے چوڑے سلسلے ملکیت میں ہونے کے باوجود وہ ایک پناہ گیر ہیں۔ میڈیا کو دیکھ کر پچھلے دنوں انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی مگر میڈیا نے تصویریں کھینچ کر ان کی مضحکہ خیز بے بسی دنیا کو دکھا دی۔ اثاثے نوے لاکھ سے نوے کروڑ کر کے ڈار صاحب نے کیا حاصل کیا؟ دولت تو ایک طوائف ہے۔ آج ایک کے ساتھ‘ کل دوسرے کے ساتھ‘ چلیں دولت اکٹھی کیجیے‘ مگر خدا کے بندو! کوئی حد‘ کوئی سرخ لکیر‘ کوئی بیرئیرایک نسل کے لیے دو نسلوں کے لیے!! آنے والی ساری نسلوں کے لیے کیوں اکٹھی کرتے ہو؟ 

تخت طائوس کیا آج شاہ جہان کی اولاد کے پاس ہے؟ اور کوہ نور ہیرا‘ جو پورے برصغیر میں گھومتا‘ طوائف کی طرح تماش بینوں کے دل جیتتا‘ ایران گیا۔ وہاں سے افغانستان۔ وہاں سے پھر ہندوستان‘ وہاں سے لندن! کل کو یہ بھڑوا کیا خبر کس کی نوکری اختیار کر لے! 

مگر عبرت کوئی نہیں پکڑتا‘ حواری‘ ان کے خاندان کی پرستش کرنے والے بیرم خان‘ ان کے دربار کے دریوزہ گر‘ ان کے 
Beneficiary
لاکھ انہیں سول بالادستی کی جنگ کا ہیرو قرار دیں‘ یہ کہنے کی ہمت کوئی نہیں کر سکتا کہ لندن کی جائیداد خریدتے وقت ان کے بیٹے خود کفیل تھے۔ عدالت کے فیصلے میں جو دلائل ہیں ان کے غلط یا درست ہونے کی بات کوئی نہیں کرتا۔ شہباز شریف نے عدالتی فیصلے کے جواب میں پرسوں یہ دلیل دی کہ نواز شریف نے ایٹمی دھماکہ کیا اور سی پیک تصنیف کیا۔ کیا آج تک دنیا میں کسی نے کسی کی بریت کے لیے اس کا کوئی غیر متعلق کام پیش کیا؟ ایک شخص پر چوری کا الزام ہے۔ دفاع یہ کیا جا رہا ہے کہ چونکہ اس نے فلاں موقع پر تیتر مارا تھا اور فلاں وقت انڈوں کا خاگینہ پکایا تھا اس لیے اسے چوری کے الزام سے بری کر دیا جائے!سکولوں کے انسپکٹر صاحب کلاس روم میں آئے اور بچوں سے سوال پوچھا کہ تمہارے کلاس روم کا طول اگر اٹھارہ فٹ ہے اور عرض سولہ فٹ ہے تو بتائو میری عمر کیا ہے؟ سب گنگ! مہر بہ لب! ایک بچہ اٹھا اور کہا آپ کی عمر 36برس ہے! انسپکٹر صاحب مرعوب ہوئے اور خوش بھی! شاباش دے کر کہا بالکل درست! مگر تم نے یہ معمہ بوجھا کیسے؟ بچے نے جواب دیا‘ میرے بڑے بھائی کو ابو آدھا پاگل کہتے ہیں اور اس کی عمر اٹھارہ برس ہے! بات اثاثوں کی ہو رہی ہے! لڑکپن میں صاحبزادوں نے دنیا کی گراں ترین جائیدادوں میں سے نمایاں ترین جائیداد کیسے خرید لی؟ اس پر بات کیجیے۔ 

حیرت ہوتی ہے جن دانش وروں کو اس ملک نے پالا پوسا اور بزر جمہر بننے کا موقع دیا انہیں فکر ہے تو شریفوں کے خاندان کی اور بھٹو فیملی کی ابدی حکمرانی کی! کبھی پھوٹے منہ نہ کہا کہ اس ملک میں کرپٹ لوگوں کو پکڑنا چاہیے اور قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔ عدلیہ چوروں کو پکڑے تو درد قولنج کا حملہ ہوتا ہے کہ یہ تو عدالتی مارشل لاء ہے‘ عدالتی فعالیت ہے! باپ کے بعد بیٹی کو بادشاہ بنانا اور نانا کے بعد نواسے کو حکمران بنانا ان حواریوں اور ان نابینا دانشوروں کے لیے موت و حیات کا اور کفر واسلام کا مسئلہ ہے! دولت کہاں سے آئی؟ یہ ان کا مسئلہ ہی نہیں! احساسِ کمتری کے مارے ہوئے! مرعوب! کانوں میں حلقے ہیں‘ ٹخنوں پر زنجیریں ہیں‘ کلائیوں پر فدویانہ کنگن ہیں اور گلے میں ہار ہے ‘جسے پکڑ کر ان کا سرپرست جدھر چاہے کھینچتا ہے اور یہ کھنچتے چلے جاتے ہیں! 

سول بالادستی ضرور ہونی چاہیے مگر اس کا یہ مطلب کہاں سے نکلتا ہے کہ کھرب پتی خاندان سے کچھ نہ پوچھا جائے‘ اس کا یہ مطلب کہاں سے نکلتا ہے کہ بیگم صاحبہ اور بھائی صاحب اور بیٹی اور بھتیجے کے علاوہ سیاسی جماعت میں سب غلام ہیں؟ خارش کی بیماری لاحق ہے تو علاج اور بھی ہیں!صرف یہ ایک علاج تو نہیں کہ شہزادی اور شہزادے کے سامنے رکوع میں کھڑا ہوا جائے اور ان کے سامنے سجدہ کیا جائے تو سرینوں سے کپڑا ہٹ جائے! ؎ 

رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے عجز صدیوں کا 

رعیت آج بھی اک بادشاہ مانگتی ہے

Saturday, July 07, 2018

یہ لنگڑی‘ یک چشم‘ اونٹنیاں!!


عجیب عرب تھا۔ تینوں بیٹوں کا ایک ہی نام رکھا۔ حجر۔ 



مرتے وقت وصیت بھی عجیب و غریب کی کہ حجر کو وراثت ملے گی اور حجر کو وراثت نہیں ملے گی اور حجر کو وراثت ملے گی۔ یعنی تین میں سے ایک بیٹے کو عاق کر گیا۔ کیسے معلوم ہو کہ کون سے دو حجر ہیں جنہیں حصہ ملے گا اور کون سا حجر ہے جسے کچھ نہیں ملے گا۔ یہ معمہ حل کرانے وہ شہر کی طرف چل دیے تاکہ عدالت پہنچ کر قاضی کے حضور پیش ہوں اور فیصلہ کرائیں‘ راستے میں ایک جگہ ٹھہرے۔ وہاں ایک اعرابی اپنی گم شدہ اونٹنی تلاش کر رہا تھا۔ ایک حجر نے پوچھا کیا تمہاری اونٹنی ایک آنکھ سے بھینگی تھی۔اس نے جواب دیا ہاں! دوسرے حجر نے پوچھا کیا تمہاری اونٹنی ایک ٹانگ سے لنگڑی تھی۔ اس نے کہا ہاں لنگڑی بھی تھی۔ تیسرے حجر نے پوچھا کیا تمہاری اونٹنی کی دم کٹی ہوئی تھی۔ اس نے کہا بالکل درست کہہ رہے ہو۔ دم کٹی ہوئی تھی اب خدا کے لیے بتائو اونٹنی کہاں ہے؟ تینوں حجر نے بیک آواز کہا کہ ہمیں اونٹنی کے بارے میں کچھ پتہ نہیں! اعرابی کو یقین تھا کہ انہیں معلوم ہے اونٹنی کہاں ہے۔ ورنہ اس طرح ساری نشانیاں ٹھیک ٹھیک نہ بتاتے۔ ہو سکتا ہے ذبح کر کے کھا اڑا چکے ہوں۔ اس نے دھمکی دی! میں تمہیں عدالت لے جائوں گا۔ حجر بولے‘ ہم بھی عدالت ہی جا رہے ہیں۔ چلو ہمارے ساتھ‘ اکٹھے چلتے ہیں۔ چاروں قاضی کے حضور حاضر ہوئے۔ اونٹنی کے مالک کا بیان سُن کر قاضی نے تینوں حجر کو کہا کہ تم نے خود ہی ثبوت دے دیے کہ اونٹنی تمہارے پاس ہے یا تمہیں اس کا علم ہے۔ بہتر ہے اعتراف جرم کر لو۔ تینوں نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا حضور اونٹنی نہیں دیکھی۔ اونٹنی کے آثار دیکھے تھے۔ پہلے نے بتایا کہ راستے کے ایک طرف کی گھاس کھائی جا چکی تھی جبکہ دوسری طرف سالم کھڑی لہلہا رہی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ کانی تھی اور صرف ایک آنکھ سے دیکھ سکتی تھی۔ دوسرے نے بتایا کہ راستے پر تین قدم تو گہرے لگے ہوئے تھے جب کہ چوتھا قدم زور سے نہیں لگا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جانور لنگڑا تھا۔ تیسرے نے بتایا کہ اونٹ گوبر کرتے ہیں تو دم سے ادھر ادھر بکھیر دیتے ہیں مگر یہاں گوبر ایک سیدھی قطار کی صورت گرا تھا۔ مطلب واضح تھا کہ دم کٹی ہوئی تھی۔ قاضی نے اونٹنی کے مالک کو فیصلہ سنایا کہ ان تینوں کے پاس اونٹنی نہیں ہے نہ ہی انہیں معلوم ہے کہ کہاں ہے۔



پھر ان تین بھائیوں نے قاضی کو اپنا مسئلہ بتایا اور فیصلہ کرنے کی استدعا کی۔ قاضی حیران ہوا۔ تینوں کو رات اپنے مہمان خانے میں ٹھہرایا کہ کل فیصلہ کروں گا۔ تینوں حجر مہمان خانے میں ٹھہر گئے۔ انہیں محسوس ہوا کہ ان کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ پھر کھانا لگایا گیا۔ گوشت اور روٹیاں! کھانا دیکھتے ہی پہلے حجر نے کہا کہ گوشت کتے کا ہے۔ دوسرے نے بتایا کہ روٹیاں پکانے والی عورت حاملہ ہے اور بچہ جنم دینے کے دن قریب ہیں۔ تیسرے نے کہا کہ قاضی حلال زادہ نہیں‘ حرام زادہ ہے! بات قاضی تک پہنچ گئی۔صبح اس نے تینوں کو طلب کیا۔ پوچھا کس نے کہا تھا کہ سالن کتے کے گوشت کا ہے۔ پہلا بولا کہ میں نے کہا تھا باورچی کو بلا کر پوچھا گیا۔ اس نے اعتراف کیا کہ رات گئے پکانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ مجبوراً کتا مار کر پکا دیا۔ اب قاضی نے پہلے حجر سے پوچھا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ گوشت کتے کا تھا۔ اس نے بتایا کہ بکری یا اونٹ کے گوشت کے نیچے کہیں کہیں چربی لگی ہوتی ہے مگر یہ ساری چربی تھی اور کہیں کہیں چربی کے نیچے گوشت لگا تھا۔ قاضی نے فیصلہ سنایا کہ تم وہ حجر ہو جسے وراثت میں سے حصہ ملے گا۔ پھر پوچھا کس نے کہا تھا کہ روٹیاں حاملہ عورت نے پکائیں۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگا روٹیاں ایک طرف سے پھولی ہوئی اور خوب پکی ہوئی تھیں جب کہ دوسری طرف سے کچی۔ اس سے نتیجہ اخذ کیا کہ روٹیاں پکانے والی خاتون تکلیف کے مارے جُھک نہیں سکتی اور سامنے کی چیز دیکھنے سے بھی قاصرتھی۔ مطلب تھا حاملہ ہے۔ قاضی نے کہا کہ تم وہ دوسرے حجر ہو جسے حصہ ملے گا۔ پھر تیسرے حجر سے پوچھا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ میں ناجائز اولاد ہوں۔ اس نے جواب دیا تم حلال کے ہوتے تو مہمانوں کی نگرانی نہ کرتے‘ نہ کتے کا گوشت کھلاتے اور نہ کسی بیمار‘ تکلیف زدہ عورت سے روٹیاں پکواتے۔ قاضی نے گھر جا کر ماں سے حقیقت حال پوچھی۔ ماں نے تصدیق کی۔ قاضی واپس آیا اور تیسرے سے کہا تم وراثت سے محروم رہو گے اس لیے کہ تم ناجائز اولاد ہو اور ایک ناجائز ہی دوسرے ناجائز کو پہچان پاتا ہے۔ تینوں حجر ماں کے پاس پہنچے اور سارا ماجرا سنایا۔ اس نے کہا تمہارا باپ ایک صبح مسجد نماز پڑھنے گیا تو مسجد کے دروازے کے باہر ایک نوزائدہ بچہ پڑا تھا اسے گھر لے آیا۔ حجر نام رکھا اور پرورش کی۔



 عربی ادب سے اخذ کردہ یہ کہانی ہمارے ہاں بہت مشہور ہے۔ کئی بار پڑھی اور سنی گئی۔ بے شمار افراد اس سے آگاہ ہیں۔ آج یہاں یہ کہانی لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ اس میں وہ کانی‘ لنگڑی دم کٹی اونٹنی‘ جسے ڈھونڈا جا رہا تھاہمارے کام کی نکلی۔۔ 



دنیا میں بالعموم اور ہمارے ہاں بالخصوص مظلوم ترین اور سب سے زیادہ عبرت ناک مخلوقs
 Beneficiarie
کی ہے۔ یعنی فائدہ اٹھانے والے اور مفادات کی خاطر سچ کو لٹا کر اس کے گلے پر چُھری پھیرنے والے! پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے ہمارے ہاں طویل اقتدار کے مزے لوٹے ہیں اور باری باری بہت ترتیب سے لوٹے ہیں۔ جن لوگوں نے ان سے مفادات اٹھائے‘ سیاست دان ہیں یا بیورو کریٹ‘ وکیل ہیں یا تاجر‘ ادیب ہیں یا صحافی‘ کالم نگار ہیں یا شاعر‘ بیچاروں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ وہ اس مربی حکومت کے خلاف کچھ نہیں کہہ یا لکھ سکتے جس سے فوائد اٹھائے ہیں۔ زرداری صاحب اور میاں صاحبان نے کئی لوگوں کو نوازا‘ لطف و کرم کی بارشیں برسائیں۔ چنانچہ ان
 Beneficiaries
 کی آنکھ پر احسان کی پٹی بندھ گئی ہے۔ کل کو عمران خان کی حکومت آئی تو
 Beneficiaries
 کا ایک طبقہ اور وجود میں آ جائے گا جس کی نظریں صرف عمران خان کی خوبیوں پر پڑیں گی اور خامیاں دکھائی ہی نہیں دیں گی۔ 



خامیاں دکھائی بھی دیں تو کیسے؟ایک آنکھ میں تو نقص ہے۔ گھاس صرف راستے کے ایک طرف والی نظر آ رہی ہے۔ موٹر وے نظر آتی ہے مگر کروڑوں اربوں کا کمیشن نہیں دکھائی دیتا۔ میٹرو بس، اورنج ٹرین نظر آتی ہے مگر چھپن کمپنیاں نظر نہیں آتیں۔ صاف پانی پر اربوں خرچ ہوئے۔ ایک قطرہ پانی‘ ڈیلیور نہ ہوا۔ راستے کے دوسری طرف کھڑے‘ لہلہاتے سرسبز و شاداب احد چیمے اور فواد حسن فواد نہیں دکھائی دیتے۔ ہزاروں درخت کاٹ دیے گئے۔ لاہور عقوبت خانے میں تبدیل ہو چکا، سریے اور سیمنٹ کے انبار سے شہر کی صورت مسخ ہو گئی۔ ٹمپریچر بدل گیا مگر صرف میٹرو بس نظر آتی ہے۔ ان کانی‘ بھینگی اونٹنیوں کو جھنگ ‘بہاولپور ‘میانوالی‘اٹک ‘ چکوال اور کئی دوسرے پس ماندہ اضلاع نہیں دکھائی دیتے جہاں پنجاب سپیڈ کی ذرہ بھر جھلک دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ان 
Beneficiaries
نے آج تک ایک آنسو جمہوریت کی اس بربادی پر نہیں بہایا جو نواز شریف کے چار سالہ اقتدار میں عروج پر تھی۔ انہیں نہیں معلوم کہ میاں صاحب مہینوں نیشنل اسمبلی میں اور برس ہا برس سینٹ میں نہیں آئے۔ سات سات ماہ کابینہ کا اجلاس نہ ہوا، سارے فیصلے اندر خانے ہوتے تھے۔ جمہوریت کی لاش کا یہ مسلہ ان حضرات کو کبھی نہ دکھائی دیا۔ مہینوں وزیر اعظم لندن رہے۔ جو ان کا اصل گھر ہے اور مہینوں ان کی بیٹی عملاً حکمران رہی مگر ستم ظریفوں کے اس گروہ کو یہ لاقانونیت نہ دکھائی دی۔ انہیں معلوم ہی نہ ہوا کہ وزیر اعلیٰ کا بیٹا مغل شہزادہ بنا ہوا ہے۔ ممبر قومی اسمبلی کا تھا اور حکومت پنجاب پر کر رہا تھا۔ بے شرمی، ڈھٹائی، بے رحمی اور بے حسی کی آخری حد یہ ہے کہ جب پوچھا گیا کہ بورڈ آف ڈائریکٹر کے اجلاس میں صاحبزادے نے غیر قانونی شرکت کی اور فیصلوں پر اثر انداز ہوئے تو جواب ملا کہ شہزادہ سیاسی ورکر ہے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے اس نے کمپنی کے افسروں کی رہنمائی کی!!اللہ اللہ سیاسی ورکر!! یا بددیانتی ! یا خیانت!یا پسر پروری! تیرا ہی آسرا! یہ 

’’سیاسی ورکر‘‘ جب دوروں پر نکلتا تو پروٹوکول وائسرائے ہند کے پروٹوکول کو مات کر رہا ہوتا! 



یہ لنگڑی اونٹنیاں اپنے ممدوحین کے خصائص بیان کرتے وقت زمین پر پائوں پوری قوت سے رکھتی ہیں مگر رذائل بیان کرتے وقت لنگڑا پیر زمین پر برائے نام پڑتا ہے! 



تاہم بات انصاف کی کرنی چاہیے انگریزوں کا محاورہ ہے کہ Give The Devil His Due 
یہ 
Beneficiaries 
ان مفاد پرستوں سے کئی گنا بہتر ہیں جو اقتدار بدلتے ہی آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں۔کہاں وہ دن کہ میاں صاحب کی حمایت میں اس قدر سرگرمی اور غیر منطقی کج بحثی کہ لوگوں نے پروگرام دیکھنے چھوڑ دیے۔ ایک معروف لکھاری تو تنگ آ کر ایسے ایک پروگرام ہی سے علیحدہ ہو گئے اور کہاں یہ دن کہ جمہوریت کے یہ خود ساختہ چمپئن ہوا کا رُخ بدلتا دیکھ کر باڑ کی دوسری طرف پھدک گئے ہیں چشم فلک نے ایسے مناظر پہلے بھی دیکھے ہیں۔ بیس بیس لاکھ ایک تقریر لکھنے کے وصول کرنے والے پانچ منٹ میں منڈیر پر جا بیٹھے تھے۔ ان مُردہ متعفن اونٹوں سے بہر طور یہ لنگڑی یک چشم اونٹنیاں بہتر ہیں کہ ع وفاداری بشرط استواری…













Thursday, July 05, 2018

‎خلقِ خدا کیا کہہ رہی ہے


‎لاہور سے شہباز شریف بلا مقابلہ منتخب!بارش سے سڑکیں ان کے حق میں بیٹھ گئیں۔

‎الیکشن سے عین پہلے ……… بارشیں شہباز شریف کے خلاف خلائی مخلوق اور محکمہ زراعت کی سازش ہے۔

‎یقین جانیے اگر ایسی ایک بارش پشاور میں بھی ہو گئی تو پشاور کا حال لاہور سے کئی گنا بدتر ہو گا اور کراچی کا تو کچھ نہ پوچھیے۔

‎ری پبلکن کے ناکام تجربے کے بعد کبھی کسی دوسرے نام سے کوششیں نہیں کی گئی۔ تمام مقتدر حلقوں نے ہمیشہ مسلم لیگ ہی کے نام سے نیا پلیٹ فارم بنایا۔ مسلم لیگ کے موجودہ دھڑوں میں سے کسی کو بھی لے لیجیے۔ اس کے پیچھے اس کا خالق کوئی نہ کوئی مقتدر شخصیت ہی نکلے گی۔ اب جیپ کے نشان سے اگر کسی نئی مسلم لیگ کا تانا بانا بُنا جا رہا ہے تو یہ ایک تاریخی تسلسل ہے! کوئی انہونی نہیں!

‎سکندر اعظم فتح کے بعد یونان گیا۔ ایک شخص بے خبر سو رہا تھا۔ سکندر نے اسے لات رسید کی اور جگا کر کہا تو سو رہا ہے اور میں شہر فتح کر چکا ہوں۔ اس نے جواب دیا شہر فتح کرنا بادشاہ کا کام ہے اور لات رسید کرنا گدھے کا۔ کیا کوئی انسان دنیا میں نہیں رہا جو بادشاہت گدھے کو مل گئی ہے۔ ووٹ دینے سے پہلے سوچ لیجیے بادشاہت کسی گدھے کو مل گئی تو پانچ سال لاتیں کھاتے رہیں گے!

‎یااللہ امریکہ انڈیا اور اسرائیل کو بھی ایک نواز شریف عطا فرما!

‎عبادات ضرور کیجیے۔ مگر معاملات پر بھی نگاہ رکھیے۔ کعبہ کے گرد چکر لگانے سے وہ چکر معاف نہیں ہوں گے جو آپ نے لوگوں کو دیے۔

‎ایک بار ایک صحافی نے قائد اعظم سے کہا مسٹر جناح! میں آپ کو ووٹ نہیں دوں گا کیوں کہ آپ شیعہ ہیں۔ قائد اعظم مسکرائے اور بولے’’گاندھی کو دے دو۔ وہ سُنیّ ہے‘‘

‎عمران خان کا مسلک چاہے دیو بندی ہو بریلوی ہو وہابی ہو شیعہ ہو یا سنی جب تک زرداری اور نواز شریف جیسوں کے خلاف لڑنے والا کوئی بہتر متبادل نہیں مل جاتا میں عمران خان کو سپورٹ کرتا رہوں گا، عمران خان کو میں خلیفۂ وقت نہیں بنا رہا‘ نہ اس سے اسلام سیکھنا ہے بلکہ جمہوریت جیسے سسٹم کے ذریعے اسے منتخب کرنا ہے اب چاہے وہ مزار پر جائے چاہے۔ امام بارگاہ میں حاضر ہو چاہے تبلیغی جماعت کے ساتھ چلہ لگائے مجھے اس سے صرف ایک غرض ہے کہ بدمعاشیہ کے خلاف جو جنگ اس نے شروع کی ہے وہ مکمل ہونی چاہیے اور بس!

‎کرپٹ سیاست دانوں اور لوٹوں کو روکنے کے لیے پاکستان میں ’’جماعتی‘‘ سیاست رائج کی 
‎جائے جو پارٹی جتنے فیصد ووٹ لے اسے اتنی سیٹیں دی جائیں۔

‎یہ جو آج کل امیروں کے دل میں غریبوں کے لیے محبت کی لہر اٹھی ہے اس کی ایکسپائری ڈیٹ 25جولائی ہے۔

‎اگر آپ لوگوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ خوش نہیں ہونا اور ناراض ہی رہنا ہے تو الگ بات ہے ورنہ گزشتہ پورے عشرے میں کوئی ایک بارش بتائیں جو شہباز شریف نے گھر میں آرام سے بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھ کر گزاری ہو۔ ہر بارش انہوں نے لمبے بوٹ پہن کر لاہور کی سڑکوں پر گزاری ہے اب اگر ادارے اپنا کام نہ کریں تو شہباز شریف کا اس میں کیا قصور؟

‎تم جیسا بے وقوف کون ہو گا جو خود انتہائی پس ماندہ حال میں رہ رہا ہے اور خوش لاہور کی ترقی پر ہو رہا ہے۔ اپنے علاقے پر نظر نہیں ڈالتا۔

‎ووٹ جسے مرضی ہے دیجیے۔ سپورٹ جسے چاہتے ہیں کیجیے لیکن اخلاق سے نہ گریے آپ کا تعارف پارٹی نہیں آپ کے ماں باپ ہیں جنہوں نے آپ کی تربیت کی ہے۔

‎جب نواز شریف یا مریم نواز کی کوئی خبر آتی ہے تو دانشور اور بعض صحافی جمہوریت کو خطرے میں دیکھتے ہیں مگر بلاول کے قافلے پر پتھرائو میں انہیں جمہوریت کا حسن نظر آتا ہے۔

‎اب یہ کون افواہیں پھیلا رہا ہے کہ لاہور میں زیادہ بارشوں کے پیچھے پیرنی کی دعائوں اور چلوں کا ہاتھ ہے۔

‎سچ بولو سچ لکھو سچ دیکھو سچ کو برداشت کرنا سیکھو سچ کا ساتھ دو ہاں اگر کسی پارٹی سے وابستہ ہو تو پھر تمہارا سچ وہی ہو گا جو پارٹی کا سچ ہے۔

‎چھ ماہ میں کراچی کا کوڑا کرکٹ ختم کر دوں گا۔ دو سال میں گھر گھر پانی پہنچائوں گا۔ یہ جو آپ ہمیں چونا لگانے آئے ہیں یہ ہم دن میں کئی مرتبہ پان پر لگاتے ہیں۔

‎چار ہزار کلو میٹر دور ترکی کی ریاست پر گہری نظر رکھنے والی قوم کی نظر اپنے حکمران منتخب کرتے وقت برادری ‘ بریانی قیمے اور کرائے پر ہوتی ہے۔

‎میں حمزہ شہباز کے بوٹ پالش نہیں کر سکتا۔ ٹکٹ دے دیتے تو پھر بوٹ پالش پر کوئی اعتراض نہ تھا۔

‎چیف جسٹس۔ آپ نے میٹرو بس کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی۔ اس کی سماعت درکار ہے؟ 
‎شاہ صاحب! سر مجھ سے غلطی ہو گئی پٹیشن واپس لیتا ہوں۔ 
‎چیف جسٹس: کیا آپ نون لیگ میں واپس آنے کی وجہ سے پٹیشن واپس لے رہے ہیں یا میٹرو بس ٹھیک ہو گئی ہے؟ 
‎شاہ صاحب! سر حالات ایسے ہیں کہ کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔

‎ہمارا عروج یہ تھا کہ حاکم سے پوچھتے تھے کہ کرتا کیسے بنوایا؟ زوال یہ ہے کہ کہتے ہیں کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے۔

‎لڑکی گھر سے بھاگنے سے ایک دن پہلے کہتی ہے ’’کل ہم میں سے ایک نہیں ہو گا‘‘ دوسرے دن اس کا باپ کہتا ہے ’’لڑکی بھاگ تو گئی مگر تھی سچی! ایک بندہ واقعی کم ہے! 
‎چھوٹے میاں صاحب سچے تھے۔ بتا دیا کہ لوڈشیڈنگ ہو گی اور ذمہ دار نگران ہوں گے۔

‎طلعت حسین نے جاوید چودھری کے پروگرام میں بتایا کہ میاں صاحب کی عادت ہے وہ انٹرویو سے پہلے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔ اکثر ان کو کامیابی ہوتی ہے بعض اوقات کامیابی نہیں بھی ہوتی۔ مجھے بھی پہلے بٹھایا بات کی کہ کیا باتیں ہوں گی۔ میں نے کہا جی کچھ سوچا نہیں ہے۔ بس بڑے ایشوز پر بات کریں گے۔ دہشت گردی پر۔ کرپشن پر‘ انرجی بحران پر۔ بس یہی۔ ان کی تسلی نہ ہوئی ظہر کا وقت عصر میں تبدیل ہو گیا۔ پھر مغرب ہو گئی پھر ہم نے لائننگ وغیرہ تبدیل کی۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا تھا کہ میاں صاحب سیاست پر بولتے ہیں تو نپا تلا اور اچھا بولتے ہیں‘ جب آپ کے پاس اتنا تجربہ ہو آپ نے اتنی دنیا گھومی ہو تو آپ کو انٹرویو میں معاونین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مگر میاں صاحب جب بیٹھے تو ساتھ ہی بہت سارے معاونین بھی بیٹھ گئے اور عجیب و غریب مشورے دینے لگے۔ ایک نے تو کہہ دیا کہ جب سوال کیا جائے گا تو ہم جواب لکھ کر آپ کو سامنے سے دکھائیں گے۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ میاں صاحب الگ پریشان کیوں کہ انٹرویو شروع نہیں ہو رہا تھا۔ کافی دیر بعد شروع ہوا تو احسن اقبال صاحب بھی موجود تھے۔ میں ان کا دل سے احترام کرتا ہوں۔ ذہین اور بردباد شخصیت ہیں مگر اس وقت ماحول ایسا بنا ہوا تھا کہ ہر طرف سے مداخلت ہو رہی تھی کہ میاں صاحب یہ کہیں میاں صاحب یوں کہیں۔ جب دخل اندازی بہت بڑھ گئی تومیں نے کہا دیکھیں آپ کے لیڈر بول رہے ہیں۔ خدارا انہیں بولنے دیجیے آپ اگر چاہتے ہیں تو میں آپ کا انٹرویو الگ لے لوں گا۔ پھر اس انٹرویو کا کلپ چلتا ہے نظر آ رہا ہے کہ میاں صاحب مدد مانگنے کے لیے معاونین کی طرف دیکھتے ہیں اور طلعت حسین احسن اقبال کو بولنے سے روک دیتا ہے جس پر پروفیسر ارسطو ناراض ہو جاتا ہے۔

‎دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جہاں کسی عدلیہ نے ڈیم بنایا ہو۔ بلاول بھٹو۔ بالکل درست کہا۔ دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جہاں سیاست دانوں نے اس قدر بے دردی سے لوٹا ہو۔ جہاں حکومت میں ہو کر ڈیموں کو بموں سے اڑا دینے کی دھمکی دی ہو۔ جہاں پہلے کرپشن سے بنے ہوئے محلات کا انکار کیا ہو پھر چپکے سے انہیں فروخت کر دیا ہو۔ کون سے ملک کا سفیر ہے جو پارٹی کے صدر کی کرپشن کے ثبوت سوئٹزر لینڈ جا کر غائب کر دیتا ہو۔

‎فکری شعور اور علمی طور پر بنجر معاشرے کی مثال اس سے بڑھ کر کیا ہو گی جب فرحت اللہ بابر‘ اعتزاز احسن اور رضا ربانی بلاول جیسوں کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوں۔

‎عمران خان صاحب سے گزارش ہے کہ آپ گجرات تشریف لا رہے ہیں تو اپنے کارکنوں پر ایک احسان کیجیے۔ وہ یوں کہ جس طرح آپ نے قاف سے اتحاد کر کے کارکنوں کے جذبات کو کچلا ہے اسی طرح ان پر ٹریکٹر چڑھا کر ان کے جسموں کو بھی کچل دیں تاکہ اختلاف کا رولا ہی ختم ہو جائے۔

‎شوہر کی کامیابی میں بیوی کا کردار۔ کوئی مری ہوئی بیوی کا نام لے کر صدر بن گیا۔ کوئی بیمار بیوی کے پیچھے چھپ کر خود کو بچا رہا ہے اور کوئی بیوی کے اشاروں پر چل کر وزیر اعظم بننے کی تیاری کر رہا ہے۔ بیویوں کی قدر کرو۔ کامیابی تمہارے قدم چومے گی!

Tuesday, July 03, 2018

ہر شخص ایک عمر سے اگلی صفوں میں ہے


یہ دارالحکومت کی معتبر ترین مارکیٹ تھی۔ میں نے اور میرے دوست نے ریستوران میں چائے پی۔ پھر میرا دوست پھل خریدنے ساتھ والی دکان میں گیا۔ میں ہمراہ تھا۔ یہاں چونکہ غیر ملکی گاہک نسبتاً زیادہ تعداد میں آتے ہیں، اس لیے قیمتوں کا حساب کتاب دیسی سے زیادہ گورا تھا۔ ایک حد سے زیادہ متشرع بزرگ کائونٹر پر تشریف فرما تھے۔ میرے دوست نے قیمت ادا کی۔ بزرگ نے باقی پیسے واپس کیے اور فوراً دوسرے گاہک کی طرف متوجہ ہو گئے۔ میرے دوست نے رقم گنی۔ بیس روپے کم تھے۔ اس نے کائونٹر والے بزرگ سے کہا، آپ نے بیس روپے اور دینے ہیں۔ بزرگ مسکرائے اور کہا ’’آپ نے مانگے ہی نہیں۔ وہ تو میں نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ہیں۔‘‘

اسی شام نواسی ایک فیشن ایبل ماڈرن شاپنگ مال میں لے گئی۔ ایک جدید، امریکی، فاسٹ فوڈ دکان سے کھانا خریدا۔ پیسے دیئے۔ مشین پر ٹھک ٹھک ہوئی۔ رسید نکلی۔ ریزگاری واپس ہوئی۔ میں نے گنی۔ پانچ روپے کم تھی۔ کائونٹر والے کو بتایا تو اس نے پہلے تو غور سے مجھے دیکھا پھر پانچ روپے ہتھیلی پر اس طرح رکھے جیسے میں بھکاری ہوں۔ یوں لگا جیسے میری عزت نفس کے سفید پردے پر ایک داغ لگ گیا۔

واپسی پر ہم نے گاڑی میں پٹرول ڈلوایا۔ رقم ادا کی۔ واپس جو پیسے ملے، گنے تو دس روپے کم تھے۔ کیشیئر نے گلے میں ایک بیگ لٹکایا ہوا تھا۔ رقم واپس دے کر وہ کافی دور، ایک اور گاہک سے وصولی کر رہاتھا۔ میں گاڑی اس کے پاس لے گیا۔ دس روپوں کا تقاضا کیا۔ وہ کافی دیر دوسرے گاہک سے نمٹتا رہا۔ یا یہ ظاہر کرتا رہا کہ مصروف ہے۔ میں گاڑی روک کر ثابت قدمی سے موجود رہا۔ پھر اس نے مجھے پانچ پانچ روپے کے دو زرد رنگ سکے دیئے۔ یہ اس دن کی میری دوسری بھیک تھی۔

یہ تینوں واقعات ایک دن کے ہیں۔ کالم نگار ساری دنیا پھرا ہے۔ قارئین میں بے شمار ایسے ہوں گے جو اس سے بھی زیادہ جہاں نوردی کر چکے ہوں گے۔ بہت سے مستقل بیرون ملک قیام پذیر ہیں۔ آج تک خریداری کرتے ہوئے کہیں، کبھی، ایسا نہیں ہوا کہ بقایا رقم کم ملی ہو۔ ایک ایک پیسہ، ایک ایک سینٹ واپس کیا جاتا ہے۔ گاہک کو بھکاری بنانے کا یہ مکروہ رواج پاکستان ہی میں کیوں ہے؟ اس پر غور کیجئے تو دو سبب دکھائی دیتے ہیں۔

پہلا سبب وہ عمومی بددیانتی ہے جو ہمارا قومی شعار بن چکا ہے۔ پوری قوم، کیا متشرع، کیا بظاہر ماڈرن، روزمرہ کے معاملات میں شرم ناک حد تک جھوٹی، وعدہ شکن اور ناقابل اعتبار ہے۔ پھل والی دکان کا سیلز مین اس لیے بددیانت نہیں تھا کہ وہ متشرع تھا۔ وہ اس لیے بددیانت ہے کہ ایک بددیانت قوم کا فرد ہے۔ فاسٹ فوڈ کے کائونٹر پر بیٹھا ہوا بددیانت لڑکا تو جینز پوش تھا۔ پٹرول پمپ کا کیشیئر بھی بے ریش تھا۔ ہم، بطور قوم، حلال خوری پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ آپ عوام کو لاکھ بتائیے زرداری نے بیرون ملک اتنی دولت اکٹھی کی ہے، اتنے محلات بنائے ہیں، نوازشریف کا دھن پانچ براعظموں پر پھیلا ہوا ہے۔ کسی کے کان پر جون نہیں رینگے گی۔ اس لیے کہ زرداری اور نوازشریف کسی دوسرے براعظم سے ہجرت کر کے آئے ہیں نہ ہی مریخ سے اترے ہیں۔ اسی قوم کے افراد ہیں۔ انہیں میدان وسیع تر ملا۔ دولت اسی حساب سے بنائی، معاملات بیرون ملک تک لے گئے۔ جنہیں میدان تنگ ملا، کسر انہوں نے بھی نہیں چھوڑی۔ جو سڑک بنوا رہا تھا، اس نے اسی میں حرام کمالیا۔ جو دفتر بیٹھا تھا، اس نے سائل کو دبوچا، پانچ سو روپے ملے تو وہ جیب میں ڈال لیے، پچاس ہزار ملے تو وہ لے لیے۔ ٹھیکہ بڑا تھا، میزائلوں کا، یا آبدوزوں کا، یا کوئی ترقیاتی پراجیکٹ تھا تو کک بیک کی رقم سوئٹزرلینڈ یا دبئی کے بینک میں منگوالی۔ ہر کوئی چھری کانٹا تیز کر کے بیٹھا ہوا ہے۔ کوئی ٹوسٹ پر مکھن اور جام سے گزارا کر رہا ہے جس کا ہاتھ اوپر پہنچتا ہے وہ چرغہ کھا رہا ہے۔ پٹرول پمپ والا، فاسٹ فوڈ والا، میوہ فروش، ہر کوئی حرام کے پانچ پانچ، دس دس، بیس بیس جمع کرنے میں مصروف ہے۔ افضل منہاس کا شعر یاد آ رہا ہے ؎

وہ جنگ زرگری ہے کہ محشر بپا ہوا

ہر شخص ایک عمر سے اگلی صفوں میں ہے

پھر بے شرمی، بے حیائی اور ڈھٹائی اس قدر ہے کہ پٹرول ڈلوانے والا کوئی کوئی سر پھرا اپنی رقم کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کے جاتے ہی کیشیئر اس کے لتے لینے لگتا ہے کہ اونہہ! پندرہ لاکھ کی، پچیس لاکھ کی گاڑی رکھتا ہے اور دس روپے کے لیے پاگل ہوا چاہتا ہے۔ کنجوس کہیں کا۔ رمضان کے دنوں میں افطاری کا سامان خریدتے وقت ہجوم زیادہ ہوتا ہے۔ جلیبی والا، پکوڑوں اور سموسوں والا، اکثر و بیشتر ریز گاری کم دیتا ہے ۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ان دکان داروں نے بھول کر گاہک کو رقم زیادہ دی ہو۔ جب بھی بھولتے ہیں، بھول کی سزا گاہک کو ملتی ہے۔ رقم ہمیشہ کم واپس ملتی ہے۔ قومی سطح کی اس بددیانتی کے ڈانڈے دور دور تک گئے ہیں۔ تاجر، کارخانہ دار، سیاست دان، ڈاکٹر، وکیل سارے طبقے پورے جوش و خروش کے ساتھ شامل ہیں۔ کالج سکول کا استاد، نقد پر ہاتھ نہیں مار سکتا تو پیریڈ گول کردیتا ہے۔ سرکاری کالجوں میں اساتذہ ہفتوں کلاس روم سے غائب رہتے ہیں، ان تمام طبقات میں کچھ دیانت دار ضرور موجود ہیں مگر آٹے میں نمک کے برابر۔ کیا خبر فرشتے آٹے میں اس نمک کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں ورنہ ہمارا حال تو یہ ہوتا ؎

اور اب اسے ایک غیب کا ہاتھ انڈیل دے گا

کہ صبر کی انتہا سے بستی چھلک رہی ہے

دوسرا سبب قومی سطح پر ہمارا غیر سنجیدہ اور ڈنگ ٹپائو رویہ ہے۔ اس رویے کو چودھری شجاعت حسین صاحب نے کمال کا عنوان دیا ہے۔ ’’مٹی پائو‘‘۔ یہ عنوان اب پاکستان کے طول و عرض میں بچے بچے کا طرز حیات بن چکا ہے۔ یہ رویہ کیا ہے؟ اپنا حق نہ مانگنا، احتجاج نہ کرنا، کوئی کرے تو اسے فوراً مشورہ مفت دینا کہ چھوڑیئے جناب رہنے دیجئے، دکاندار کو معلوم ہے کہ نوے فیصد گاہک اپنی جھوٹی انا کی خاطر یا مٹی پائو رویہ کی رو میں بہہ کر بقایا رقم پوری نہیں مانگیں گے۔ اس یقین کامل اور خوداعتمادی کا یہ عالم ہے کہ دکاندار یا سروس سٹیشن والا بتاتا تک نہیں کہ اتنے روپے کم ہیں، بہت سے صاحب لوگ تو بقایا رقم گننے کی تکلیف بھی نہیں کرتے۔ ریستوران میں کھانے کا بل کوئی نہیں چیک کرتا۔ جب بھی چیک کیا، اکثر مار دھاڑ سے بھرپور نکلا۔ آپ اپنی خوشی سے ایک ہزار روپے انعام یا بخشش دے دیجئے۔ مگر زبردستی کوئی آپ کا ایک دھیلا بھی کیوں رکھے؟ یہ سراسر استحصال ہے یا بلیک میلنگ۔ یہی رویہ جب پودے سے درخت بنتا ہے تو قومی خزانے میں سے اربوں کی چوری پر مٹی ڈال دی جاتی ہے۔ یہ رویہ دبے پائوں کارپوریٹ سیکٹر میں بھی داخل ہوگیا ہے۔ بجلی گیس یا ٹیلیفون کا بل ادا کریں گے تو بینک کا کلرک کچھ پیسے رکھ لے گا۔ یاد آیا، ان دنوں بیٹی یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھی۔ اس کی فیس جمع کرانے ایک بڑے نامی گرامی بینک میں گیا۔ رقم واپس ملی تو کم تھی۔ بینک منیجر کے پاس چلا گیا۔ اس نے کائونٹر والی لڑکی کو بلا کر باز پرس کی۔ لڑکی نے عذر پیش کیا کہ اس کے پاس دس روپے نہیں تھے مگر سوال یہ ہے کہ کسٹمر کو بتایا کیوں نہیں جاتا؟ معذرت کیوں نہیں کی جاتی؟

مدتوں پہلے ایک واقعہ سنا تھا۔ ایک دکاندار بہت نیک، حلال حرام کے ضمن میں حد درجہ محتاط، دوسروں کے حقوق ادا کرنے والا۔ دنیا سے کوچ کر گیا۔ کسی کے خواب میں آیا پوچھا حساب کتاب کی سنائو، کیا گزری؟ کہنے لگا غلہ وصول کرتے وقت تولتا تھا تو ترازو کے پلڑے میں غلے کی ڈھیری بن جاتی تھی۔ کچھ دانے کناروں سے گر جاتے تھے جو بعد میں سمیٹ کر ایک طرف کرلیتا تھا۔ بس ان دانوں کے حساب کتاب کی مصیبت پڑی ہوئی ہے۔ وہ غلہ دینے والوں کا مال تھا جو وزن سے باہر رہ جاتا تھا۔

نہ جانے دکاندار پر کیا گزری۔ حالانکہ یہ ’’مال‘‘ کسی ارادے کے بغیر لاپروائی سے، اس کی ملکیت میں آ جاتا تھا۔ جو دوسروں کا مال، پورے ارادے کے ساتھ، مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ رکھتے ہیں، سوچ لیں کہ حساب کتاب ان کا بھی ہوگا۔ کروڑوں روپے ہیں یا پانچ روپے۔ ’’جو ایک ذرہ بھر برائی کرتا ہے، اسے دیکھے گا۔‘‘


Sunday, July 01, 2018

ہیں اہل نظر کشور پنجاب سے بیزار


‎سیاسی کشیدگی عروج پر ہے مگر بھلا ہو جناب شہبازشریف کا کہ تفنن طبع کا سامان مہیا 
‎کرتے رہتے ہیں۔ ایک زمانے میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی تو میرا نام بدل دینا۔ یہ دعویٰ ان کی تضحیک کا مستقل عنوان بن گیا۔ لوڈشیڈنگ ختم ہوئی نہ نام ہی بمگر سلام ہے ان کی مستقل مزاجی کو کہ کراچی جا کر پھر چھ ماہ والے سوئے ہوئے شیر کو جگایا۔ چھ ماہ میں کراچی میں یہ کردوں گا۔ وہ کروں گا۔ لیاری گئے تو بلاول کا کمنٹ اس دورے پر دلچسپ تھا ؎

‎مزدور کا ہے ہاری کا

‎سندھ نہیں درباری کا

‎ووٹ مانگنے نکلے ہیں

‎رستہ تک پتہ نہیں لیاری کا

‎جوش خطابت میں شہبازشریف نے کراچی کی دکھتی رگ کو دبا دیا۔ ایک تو پان کا ذکر کر دیا۔ دوسرے کراچی کو طنزاً کرانچی کہہ دیا۔ اس پر سوشل میڈیا میں انہیں خوب خوب جواب دیئے گئے۔ صرف ایک جواب مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر دیکھ لیجئے۔

‎ ’’شہبازشریف کراچی کو لاہور نہ بنائیں‘ بس ہمارے پنجاب اور لاہور کو اتنی ترقی سے بہرہ ور کردیں کہ عیدین پر ہزاروں افراد بھیک مانگنے کے لیے کراچی کا رخ نہ کریں۔ آپ پان کی فکر کیجئے نہ کرانچی کی۔ بس پنجاب میں اتنا روزگار لوگوں کو دے دیجئے بیروزگار ہزاروں کی تعداد میں کراچی نہ آئیں۔ آپ کراچی کے لیے کچھ بھی نہ کریں۔ صرف کراچی کے فٹ پاتھوں سے‘ پلوں کے نیچے سے اور خالی پلاٹوں سے لوگوں کو واپس پنجاب لے جائیں اور انہیں ان کے اپنے علاقوں میں نوکریاں اور رہائش گاہیںفراہم کردیں۔ یقین کیجئے ہم اہل کراچی کو اس کا ہرگز غم نہیں کہ آپ نے کراچی کو پیرس بنا دیا اور پیپلزپارٹی نے کراچی کو قندھار بنا دیا۔ ہم میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ اختیار مل جائے تو اپنے شہر کو ہم خود درست کرلیں۔ مگر جناب شہبازشریف آپ اتنا تو کیجئے کہ پنجاب میں لوگوں کو گدھے کا گوشت نہ کھلایا جائے۔ بچوں کو کیمیکل ملا دودھ نہ مہیا کیا جائے۔ کوئی عمران چھ سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل نہ کرسکے۔ ازراہ کرم انتخابات کا منجن یہاں آ کر فروخت نہ کیجئے۔ بس اتنا کیجئے کہ عالی شان رہائش گاہوں سے نکل کر مڈل کلاس اور لوئر کلاس کے مسائل کا حل نکالیے۔ پنجاب کے غریب عوام انہی مسائل کا شکار ہیں جو اہل کراچی کے درپے ہیں۔ کبھی پانچ مرلے یا دس مرلے کے مکان میں رہ کر بھی سیاست کیجئے تو معلوم ہو کہ زندگی کیا ہے۔ ہمارے پان اور ہمارے ’’کرانچی‘‘ کی فکر نہ کیجئے۔‘‘

‎یہ تو کراچی اور اہل کراچی کا تذکرہ تھا۔ پنجاب میں ایک نیا ہی تماشا لگا ہوا ہے۔ عران خان نے مزار کی دہلیز کو بوسہ دیا تو شور قیامت برپا ہوگیا۔ مزے کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت جس مسلک سے تعلق رکھتی ہے اس میں دہلیز کو بوسہ دینا‘ پیروں اور بزرگوں کے پائوں چومنا‘ عام ہے بلکہ بات اس سے بھی بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ یوٹیوب میں سینکڑوں نہیں تو بیسیوں ایسے کلپ ضرور موجود ہیں اور دن رات لاکھوں افراد انہیں دیکھ رہے ہیں جن میں مرید پیروں کے آگے سجدہ ریز ہورہے ہیں۔ پیر صاحبان مرید خواتین سے بغل گیر ہورہے ہیں۔ کہیں کرنٹ لگائے جا رہے ہیں۔ مرید لرزہ براندام ہو کر گر پڑتے ہیں۔ کہیں والہانہ رقص ہورہے ہیں جن میں مرد اور عورتیں بے خود ہو کر دھمال ڈالتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ معاشرہ اسے قبول کر چکا ہے۔ قانون دیکھ رہا ہے۔ علما بخوبی آگاہ ہیں اور چشم پوشی کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ معیشت کا مسئلہ ہے۔ یہ نام نہاد روحانیت انڈسٹری کا درجہ اختیار کر چکی ہے مگر اسلام خطرے میں اس لیے پڑ گیا ہے کہ عمران خان نے دہلیز کو بوسہ دے دیا۔

‎ویسے اگر عمران خان اس قسم کے تنازعے نہ کھڑے کرے تو اس کے لیے اور اس کی سیاست کے لیے بہتر ہوگا مگر وہ عمران خان ہی کیا جو متنازعہ اقدامات نہ اٹھائے۔ بوسہ دینے کے لیے جھکنا پڑتا ہے اور اقبال نے کہا تھا ؎

‎پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات

‎تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من

‎مگر اب ایسے قلندر کہاں جو غیر کے آگے جھکنے سے منع کریں۔ اب تو روحانی قیادت انگلی سے جھکنے کا اشارہ کرتی ہے اور حکم کی تعمیل پلک جھپکنے میں ہوتی ہے۔

‎مجدد الف ثانی نے جب جہانگیر کے آگے جھکنے سے انکار کیا تو ایک مفتی عبدالرحمن دربار کے شیخ الاسلام تھے۔ انہوں نے تعظیمی سجدہ کے جواز میں دلائل پیش کئے۔ ایسے مفتیان کرام ہر دربار میں‘ ہر حکومت میں موجود ہوتے ہیں جو اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے فقہی دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں۔ شاید فقیہہ شہر کی اصطلاح اسی سے نکلی ہے۔ اقبال نے مجدد الف ثانی کے حوالے سے ایک فکر انگیز نظم لکھی ہے جس کا عنوان ’’پنجاب کے پیرزادوں سے‘‘ ہے۔

‎حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد

‎پر وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار

‎اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے

‎اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحب اسرار

‎گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے

‎جس کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار

‎وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان

‎اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار

‎کی عرض یہ میں نے کہ عطا فقر ہو مجھ کو

‎آنکھیں میری بینا ہیں ولیکن نہیں بیدار

‎آئی یہ صدا سلسلہ فقر ہوا بند

‎ہیں اہل نظر کشور پنجاب سے بیزار

‎عارف کا ٹھکانا نہیں وہ خطہ کہ جس میں

‎پیدا کلہ فقر سے ہو طرہ دستار

‎باقی کلہ فقر سے تھا ولولہ حق

‎ طروں نے چڑھایا نشہ خدمت سرکار

‎ اقبال کا اشارا غالباً ان پیروں اور گدی نشینوں کی طرف ہے جو اونچے شملے لہراتے ہوئے انگریز سرکار کے آگے رکوع میں چلے جاتے تھے۔ ایک دستاویز بھی معروف ہے جو پنجاب کے گدی نشینوں نے ملکہ کی خدمت میں پیش کی تھی اور عرض گزاری تھی کہ خدا کے لیے ہندوستان چھوڑ کر نہ جائیے۔ ان ’’روحانی‘‘ درباروں اور گدیوں کو جاگیریں ملیں۔ ملتان سے لے کر جھنگ تک یہ خاندان آج بھی حکمرانی کر رہے ہیں۔ کل ہمارے دوست امیر عباس ٹیلی ویژن پر رونا رو رہے تھے کہ ایک ایک خاندان کے کئی کئی افراد کو ٹکٹ دیئے گئے ہیں۔ اس خاندان نوازی میں تحریک انصاف سمیت ساری پارٹیاں ملوث ہیں۔ خاندان کا یہ اقتدار دوامی کیوں ہے؟ اس کا سب سے بڑا سبب لامتناہی جاگیریں اور مزاروں کی اندھی آمدنی ہے۔ ملتان سے جھنگ اور ہالہ تک یہی سلسلہ ہے۔

‎بھارت اس میدان میں بھی پاکستان سے بازی لے گیا۔ تقسیم کے چار سال بعد بھارت نے ریاستوں کے ساتھ جاگیروں اور جاگیرداروں کو بھی ختم کردیا۔ پاکستان میں بدترین جاگیر دارانہ اور سرداری نظام بدستور قائم ہے اور یوں لگتا ہے دائم ہے۔ قائداعظم کو قدرت نے وقت نہ دیا۔ اس کے بعد ایوب خان‘ ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق جیسے طاقتور اور جابر حکمران اس مسئلے سے غفلت برتتے رہے۔ یہ غفلت غالباً تجاہل عارفانہ تھی کیونکہ ہر حکمران عوام کی خیر خواہی سے زیادہ اپنی بادشاہی کے دوام کی فکر میں رہا۔ ان جاگیرداروں نے تعلیم عام نہ ہونے دی۔ بہت سوں نے اپنے اپنے علاقوں میں تعلیمی ادارے کھولنے کی مخالفت کی۔ آج 2018ء ہے۔ آج بھی جنوبی پنجاب سندھ اور بلوچستان میں کئی عمارتیں ایسی ہیں جو سکولوں کالجوں کے لیے بنی تھیں مگر مویشیوں کے لیے استعمال ہورہی ہیں یا غلے کے گوداموں کے طور پر۔ ہاری اور مزارع کے پاس ذاتی جھونپڑی تک نہیں۔ اس کے سر پر جو چھت ہے وہ وڈیرے کی ملکیت ہے۔ ایسے میں جمہوریت کیا کرے گی اور ووٹ کی پرچی کیا رول ادا کرسکتی ہے۔ ایک زمیندارنی خود بتا رہی تھی کہ عورتیں حویلی میں اکٹھی کی جاتی ہیں۔ انہیں بتایا اور اچھی طرح سمجھایا جاتا ہے کہ ووٹ کا ٹھپہ کس نشان پر لگانا ہے۔

‎تحریک انصاف نے اگرچہ دوسری سیاسی جماعتوں کی نسبت تعلیم‘ قرضوں اور ٹیکس کے معاملات پر اپنی پالیسیاں بنائی ہیں اور عوام کوان سے آگاہ بھی کیا ہے مگر زرعی اصلاحات کے حوالے سے عمران خان خاموش ہے۔ نہ جانے پاکستان کو ان سرداروں‘ وڈیروں اور خاندانوں سے نجات کب ملے گی۔

‎فلک کو بار بار اہل زمیں یوں دیکھتے ہیں

‎کہ جیسے غیب سے کوئی سوار آنے لگا ہے

Thursday, June 28, 2018

تیرے سب خاندان پر عاشق

’امید کرتا ہوں چوہدری نثار پارٹی کا حصہ بن کر الیکشن لڑیں گے ہر چیز ممکن ہوتی ہے۔ بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں۔ یہ چیز کسی وقت بھی ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے وہ پارٹی کی طرف ہی سے الیکشن لڑیں۔ ماضی میں بھی ایسا ہوا ہے کہ کچھ لوگ ٹکٹ حاصل نہ کر سکے لیکن انہوں نے پارٹی پلیٹ فارم ہی سے الیکشن لڑا۔ ہماری خواہش بھی ہے کہ وہ پارٹی کے پلیٹ فارم ہی سے الیکشن لڑیں۔ چودھری نثار پارٹی کے سب سے پرانے رکن ہیں۔‘‘

 یہ بیان سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا ہے اور پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ انہی کا ہو سکتا ہے۔ 

چودھری نثار ایک طرف میاں نواز شریف کی حد سے بڑھی ہوئی انانیت اور زبان حال سے ان کے اعلان’’انا و لا غیری‘‘کا شکار ہوئے اور دوسری طرف دختر نیک اختر کے اس زعم کا کہ وہ نون لیگ کی سلطنت کی تنہا وارث ہیں! کس کو معلوم نہیں کہ شہباز شریف نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ چودھری نثار کے اور نون لیگ کے درمیان ہر لحظہ بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹا جائے۔ اعلان بھی کر دیا گیا کہ نثار کے مقابلے میں پارٹی امیدوار نہیں کھڑا کرے گی پھر مبینہ طور پر لندن سے ایک وٹس ایپ آیا اور سب کچھ بدل گیا‘ امیدوار کھڑے کر دیے گئے۔ شاہد خاقان عباسی صاحب میں اتنی ہمت نہیں کہ اس معاملے میں ایک بے ضرر اور بے معنی بیان کے علاوہ کچھ کر سکیں! وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اصل قصور وار کا نام لیں اس کی طرف اشارہ ہی کر دیں۔

 شاہد خاقان عباسی میاں نواز شریف کے اندرونی سرکل(کچن کابینہ) کا حصہ کبھی نہیں رہے۔ اس کچن کابینہ میں چودھری نثار علی خان کے سوا سب ارکان وسطی پنجاب سے تھے۔ احسن اقبال‘ خواجہ سعد رفیق‘ خواجہ آصف‘ اسحاق ڈار‘ عابد شیر علی‘ خرم دستگیر ‘ رانا ثناء اللہ‘ انوشہ رحمن سب وہیں سے ہیں چودھری نثار علی خان کے حوالے سے اس کالم نگار نے برسوں پہلے لکھا تھا کہ ع مگر ایک میر شکستہ پا ترے باغ تازہ میں خار تھا وہ ہمیشہ 
odd man out
رہے۔ صاف گوئی اور بات منہ پر کرنے کی وجہ سے! انانیت کا مسئلہ چودھری نثار علی خان میں بھی میاں نواز شریف سے کم نہیں! سیاسی اتار چڑھائو پر گہری نظر رکھنے والے جانتے تھے کہ ع دل کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا چودھری نثار علی خان اور میاں نواز شریف کا باہمی معاملہ ایک عرصہ سے کچھ اس طرح کا رہا کہ ؎ بامن آویزشِ اُو الفتِ موج است و کنار دمبدم بامن و ہر لحظہ گریزان ازمن کہ میرے اور اس کے درمیان معاملات کا جو الجھائو ہے کہ اسی طرح ہے جیسے ساحل اور موج کا تعلق ہے۔ موج ہر وقت ساحل کی طرف لپک کر آ رہی ہوتی ہے۔مگر دوسرے ہی لمحے ساحل کو چھو کر اس سے دور جا رہی ہوتی ہے۔ ایک عرصہ سے جاری اس الجھائو کے حوالے سے چودھری نثار علی خان یہ بھی کہہ سکتے ہیں ؎ کئی دن سلوک وداع کا مرے درپئے دل زار تھا کبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھا چودھری نثار علی خان کے سوا کوئی اور خوش قسمت ایسا نہ تھا جو نواح لاہور سے نہ ہو اور دیوان خاص میں متمکن ہو سکتا ہو۔ حنیف عباسی ہوں یا اٹک کے شیخ آفتاب احمد! کوئی بھی اس مقام تک نہ پہنچ سکا مشاہد اللہ خان بھی سلوک کی مطلوبہ منازل طے نہ کر سکے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میاں صاحب نے شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم کیوں مقرر کیا۔ میاں صاحب کی ذہانت ‘ مردم شناسی اور معاملہ فہمی کی داد دینا پڑتی ہے! اگرچہ وہ فائل نہیں پڑھتے۔ توجہ کے ارتکاز کے بھی قائل نہیں! مگر وہ جو کہتے ہیں کہ ع دیوانہ بکارِ خویش ہُشیار ان کے حسن انتخاب کی داد دینا پڑتی ہے ۔ شاہد خاقان عباسی صاحب نے جس کمال اطاعت کا ثبوت دیا ہے کوئی اور ہوتا تو ہرگز نہ دے سکتا! انہوں نے سانس لیتے وقت بھی رائے ونڈ کا منشا معلوم کیا۔ بارہا اعلان کیا کہ میرے وزیر اعظم میاں صاحب ہیں! حکومت ختم ہونے سے چند روز پہلے کابینہ میں مضحکہ خیز توسیع سے بھی گریز نہ کیا کہ حکمِ حاکم تھا! نیب اور عدلیہ کے خلاف بھی جو ہو سکا اور جو حدود کے اندر رہ کر ممکن تھا کہتے رہے! یہی اطاعت گزاری تھی اور غیر مشروط مکمل وفاداری کہ جس کے طفیل کچن کابینہ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود پاکستان کے وزرائے اعظم کی فہرست میں ان کا نام شامل ہو گیا۔ مسلم لیگ کے امیدوار جو چودھری نثار علی خان کے خلاف کھڑے کیے گئے‘ بالواسطہ طور پر تحریک انصاف کے امیدوار غلام سرور خان کی ڈھارس بندھا رہے ہوں گے مسلم لیگ نون کے ووٹ منقسم ہونے سے اس حلقے میں فائدہ تحریک انصاف کو ہو گا اور غلام سرور خان کے جیتنے کے امکانات پہلے سے زیادہ روشن ہو سکتے ہیں! 

رہا چودھری نثار علی خان کی پریس کانفرنسوں کا وقفے وقفے سے ہونے والا سلسلہ تو اب ناظرین اور سامعین کے لیے اس میں کوئی چارم‘ کوئی افسوں کوئی سحر باقی نہیں رہا۔ چودھری صاحب نے ثابت کر دیا کہ وہ کھل کر مخالفت نہیں کر سکتے اور گومگو کی کیفیت میں ہیں۔ دو قدم آگے بڑھتے ہیں تو چار پیچھے ع 
ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں 
غالباً میاں شہبازشریف کے ساتھ ان کے جو نسبتاً گوارا تعلقات ہیں‘ وہ راستہ روک رہے ہیں اور چودھری صاحب خم ٹھونک کر کھڑا نہیں ہو رہے ویسے بھی بس نکل چکی ہے۔ اگر آغاز میں وہ اپنا گروپ بنا لیتے تو مسلم لیگ نون کے دل شکستہ اور شاکی حضرات ان کے گروپ کو غنیمت سمجھتے ہوئے ساتھ آن کھڑے ہوتے مگر ان تلوں میں تیل نہ پا کر اب وہ زعیم قادری صاحب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ 

بڑی پارٹیوں میں جمع تفریق ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔ زعیم قادری اور عبدالغفور صاحبان کی علیحدگی(یا بغاوت) پر مسلم لیگ نون کے جو مخالف بھنگڑے ڈال رہے ہیں اور تیرہ تالی کھیل رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بڑی جماعتوں سے لوگ نکلتے رہتے ہیں۔ تاہم ان کی آزادانہ حیثیت قابل ذکر نہیں رہتی۔ زعیم قادری اور عبدالغفور‘ چودھری نثار نہیں بن سکتے بلکہ چودھری نثار علی خان کی حیثیت بھی پارٹی سے نکلنے کے بعد اب بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف سے جسٹس وجیہہ الدین نکلے تو پارٹی کو کوئی ڈینٹ نہیں پڑا۔ اب اگر حامد خان یا ولید اقبال داغ مفارقت دے جائیں تو تب بھی ذرا سا گھائو لگے گا جو جلد مندمل ہو جائے گا۔ ؎ 
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
 کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
 اس لیے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں جمہوری نہیں‘ خاندانی اور شخصی ہیں! حافظ حسین احمد کئی سال برگشتہ رہے مگر جے یو آئی کا کچھ نہیں بگڑا اس لیے کہ پارٹی کا دوسرا نام مولانا فضل الرحمن ہے‘ انہیں پارٹی کی قیادت ووٹوں سے نہیں‘ اپنے والد گرامی مرحوم سے وراثت میں ملی ہے۔ یہی حال تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کا ہے۔ نون کا حرف مسلم لیگ کا نہیں‘ نواز شریف کا ہے۔ مسلم لیگ کے حروف میں تو نون آتا ہی نہیں! شریف خاندان کا تسلط ہٹا تو یہ تسبیح دانہ دانہ بکھر جائے گی۔ تحریک انصاف کا بھی یہی حال ہے‘گروپنگ عمران خان کی قیادت کے باوجود دراڑیں ڈال رہی ہے۔ وہ مسند پر نہ ہوں تو دراڑیں شگافوں میں تبدیل ہو جائیں اور دیواریں گر پڑیں۔

 یہ سب اس لیے کہ اس ملک میں سیاسی جماعتیں جمہوری بنیادوں پر کبھی کھڑی نہیں کی گئیں ان خطوط پر تربیت ہی نہیں ہوئی۔ کیا کسی رکن میں اتنی جرات ہے کہ بلاول کے مقابلے میں پارٹی کی صدارت کے لیے کھڑا ہو جائے۔ رضا ربانی ہوں یا اعتزاز احسن‘ سب بھٹو خاندان اور زرداری خاندان کی رعایا ہیں‘ شفیق الرحمن نے کیا خوب کہا ہے ؎ تیرے سب خاندان پر عاشق 
میرا سب خاندان ہے پیارے 
مسلم لیگ نون میں بھی خاندانی تسلط کے سامنے سر اٹھانے والا کامیاب نہیں ہو سکتا کیوں کہ پارٹی کے اندر آزادانہ با معنی انتخابات سرے سے مفقود ہیں۔ بعینہ تحریک انصاف میں عمران خان کے مقابلے میں کوئی دوسرا قائد نہیں ابھر سکتا۔

 

powered by worldwanders.com