Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, September 20, 2018

واپس آ جائو! تلہ گنگ والو! تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا


سامنے دریا تھا!

تھکے ہارے اکبر کو سستانے کے لیے تھوڑا سا وقت ملا۔

’’کون سی غذا ہے جو ایک نوالے میں مکمل ہو جاتی ہے؟‘‘

اس نے خانخاناں سے پوچھا۔

’’انڈا! جہاں پناہ!‘‘

خانخاناں نے جواب دیا۔

بس اتنا ہی وقت تھا۔ پھر گرد تھی اور گھوڑا۔ اور لشکر اور جنگیں! سال گزر گیا یا اس سے بھی زیادہ عرصہ! سفر کی گردشیں بادشاہ کو ایک بار پھر اٹک لے آئیں۔ وہیں دریائے سندھ کے کنارے! خانخاناں ساتھ تھا۔ بادشاہ نے کسی تمہید‘ کسی یاددہانی ‘ کسی حوالے کے بغیر پوچھا۔

’’کس طرح؟‘‘

’’اُبال کر!جہاں پناہ!!‘‘

نہ جانے یہ روایت درست ہے یا نہیں!مگر یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ کابل آتے جاتے اکبر اٹک ٹھہرتا۔ پھر مقامی شورشوں کو دبانے کے لیے اور افغانوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اس نے یہاں قلعہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اٹک کا قلعہ 1581ء میں بننا شروع ہوا۔ تقریباً تین برس لگے۔ راولپنڈی کی طرف سے جائیں تو قلعے سے پہلے‘ بائیں طرف‘ مُلاّ منصور کی بستی ہے۔ ہمارے دوست پروفیسر ڈاکٹر نصیر احمد کا تعلق اس بستی سے ہے۔ نصیر صاحب عراق میں پڑھاتے رہے۔ پھر قائد اعظم یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کے سربراہِ شعبہ رہے۔ ان کی آبائی زمینیں اٹک قلعہ میں آئیں۔ اب تاریخ اتنی تفصیل نہیں بتاتی کہ اُس وقت‘ زمین کے مالکوں کو زرِتلافی کس حساب سے ملتا تھا۔ آج کل تو اکثر لوگ خوار اور شاکی ہی دیکھے گئے ہیں!

مغل سلطنت کا شیرازہ بکھرا تو جنوبی ہند سے مرہٹے اُٹھے اور شمال پر چھا گئے۔ اٹک ہی کے مقام پر 1758ء میں مرہٹوں کی جنگ درانیوں سے ہوئی۔ فتح پا کر مرہٹوں نے اٹک خورد پر اور قلعے پر قبضہ کر لیا۔

1908ء میں اٹک خورد کے قریب انگریزوں نے نیا شہر بسایا اور جنرل کیمپ بیل
(Campbell)
کے نام پر شہر کا نام کیمپ بیل پور رکھا۔ یہ جرنیل1857ء کی جنگ آزادی کے دوران استعمار کی فوج کا کمانڈر ان چیف تھا۔ آزادی کے مجاہد تانتیا ٹوپے کو اسی نے شکست دی تھی۔

کیمپ بیل پور‘ امتدادِ زمانہ سے کیمبل پور ہو گیا۔ اس زمانے میں مقامی لوگ اسے کامل پور بھی کہتے تھے۔1978ء میں نام بدل کر اٹک رکھ دیا گیا۔ ضلع کیمبل پور(اٹک) 1904ء میں وجود میں آیا۔ اس کی چار تحصیلیں تھیں۔ جہلم کے ضلع سے تلہ گنگ تحصیل لی گئی اور راولپنڈی کے ضلع سے فتح جنگ‘ پنڈی گھیب اور اٹک کی تحصیلیں لے کر نیا ضلع بنایا گیا۔

1904ء سے لے کر 1985ء تک تلہ گنگ ضلع اٹک کا حصہ رہا۔ ثقافت، زبان اور کئی دیگر اعتبار سے یہ ضلع کے باقی علاقوں کے ساتھ پورا ہم آہنگ تھا۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے دوران اٹک کے ضلع نے‘ جو مارشل (عسکری) ایریا کا دِل تھا‘ فوج میں بہترین جوان بھیجے۔ خطہ گیتوں سے چھلکنے لگا۔

ماہیا فتح جنگے دیا! تلہ گنگے دی بولی بول!

گیتوں میں ریل گاڑی سے بہت شکوے ہوئے کہ مائوں کے بچوں کو بٹھا کر دور دیسوں میں لے جاتی ہے!تلہ گنگ اور میانوالی کے درمیانی علاقے کو‘جو اٹک ضلع کا حصہ تھا‘ اعوان کاری کہتے ہیں۔ یہاں لوک کہانیاں محاورے‘بجھارتیں‘ دعائیں‘ گالیاں‘ لطیفے‘ طعنے‘ کوسنے‘ کھانے پینے کے رواج‘ لباس کی روایت‘ سب پنڈی گھیب اور فتح جنگ سے ملتی جلتی ہے۔ فتح جنگ اور تلہ گنگ‘ جغرافیائی فاصلے کے باوجود ہمیشہ جڑواں قصبے ہی سمجھے گئے۔ خواندگی کی شرح تلہ گنگ اور پنڈی گھیب کی تحصیلوں میں ہمیشہ زیادہ رہی۔ پنڈی گھیب میں خواتین شروع ہی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ رہیں۔ ایک کثیر تعداد وہاں کی خواتین کی پنجاب کے کالجوں میں پڑھاتی رہی اور اب بھی یہی صورت حال ہے۔ تلہ گنگ کے علاقے میں حفاظ تاریخی اعتبار سے ہمیشہ زیادہ رہے۔وہ بھی زمانہ تھا کہ خواتین‘ کنوئوں سے ڈول کھینچتے ہوئے اور پانی بھرتے ہوئے‘ قرآن پاک کی تلاوت کرتی رہتیں۔ روایت ہے کہ شہنشاہ اورنگزیب کا اس علاقے سے گزر ہوا تو اسے بتایا گیا کہ یہاں ایک گائوں میں ہر مردوزن‘ بچہ بوڑھا قرآن پاک کا حافظ ہے۔ اس نے سب کوبلا کر امتحان لیا اور کامیاب پایا۔

موٹر وے بننے سے پہلے‘ اہل تلہ گنگ کا راستہ فتح جنگ ہی سے گزرتا تھا۔ راولپنڈی اسلام آباد سے براستہ فتح جنگ‘ یہ لوگ اٹک آئل کمپنی کھوڑ سے ہوتے‘ ڈُھلیاں موڑ جاتے۔ وہاں سے بائیں طرف مُڑ کر اُس شاہراہ پر ہو لیتے جو تلہ گنگ جاتی۔ اس مشترک راستے نے ثقافتی‘ تہذیبی اور لسانی اعتبار سے تلہ گنگ کو اپنے ضلع اٹک کے لوگوں کے ساتھ مزید ہم آہنگ کر دیا تھا۔ مکھڈی حلوہ بھی فتح جنگ‘ پنڈی گھیب اور تلہ گنگ کے درمیان ایک قدر مشترک تھی اور ایسی قدر مشترک جو میٹھی بھی تھی!

تلہ گنگ کے عوام اور خواص کو اپنے شہر اور اپنی تحصیل کی اہمیت کا احساس ہمیشہ سے تھا! تلہ گنگ صرف شہر نہیں‘ایک صد راہا یعنی بہت بڑا جنکشن بھی تھا۔ میانوالی سرگودھا اور کراچی جانے والی ٹرانسپورٹ یہیں سے ہو کر گزرتی تھی۔ چنانچہ انہوں نے تحریک کا آغاز کیا کہ تلہ گنگ کو ضلع بنایا جائے۔ مطالبہ منطقی طور پر درست تھا۔ جغرافیائی محل وقوع تلہ گنگ کا اسی بات کا متقاضی تھا۔چکوال اور پنڈی گھیب اس ضلع کی تحصیلیں بن سکتی تھیں۔ مگر 1985ء میں تلہ گنگ کے لوگوں کو یہ عجیب و غریب خبر ملی کہ نیا ضلع تو بنا‘ مگر ان کا نہیں! اہلِ چکوال جیت گئے تھے۔ شاید ایک وجہ یہ تھی کہ جرنیل وہاں سے زیادہ تھے۔ بااثر سیاست دانوں نے بھی اپنا وزن چکوال کے پلڑے میں ڈالا اور تلہ گنگ کو اٹک سے کاٹ کر تخت چکوال کا حصہ بنا دیا گیا۔

مگر ہم آہنگی نہ در آ سکی! جب بھی!تلہ گنگ جانا ہوا‘ عوام سے بات ہوئی یا خواص سے یہی سنا کہ چکوال چکوال ہے اور اٹک اٹک تھا۔ جو یادیں‘ ثقافتی تال میل‘ لہجے کا اشتراک ضلع اٹک سے تھا‘ تلہ گنگ کے لوگوں نے اُس کا ہجر ہمیشہ تازہ رکھا۔ ہمارے سینئر دوست جناب ایاز امیر نے تلہ گنگ کے حوالے سے کل جو کالم لکھا‘ وہ دلچسپ بھی ہے اور کھٹا کم اور کڑوا زیادہ ہے! شاید ان کا کالم تلہ گنگ والوں کے اس احساس کی تائید کرتا ہے کہ چکوال والے سلوک تو اچھا کرتے ہیں مگر اتنا ہی اچھا جتنا ایک سوتیلی ماں کا ہوتا ہے۔ تلہ گنگ کی اصل ضلعی ماں تو اٹک ہی ہے! مولانا رُوم یاد آ گئے ؎

دستِ ہر نااہل بیمارت کند

پیشِ مادر آ کہ تیمارت کند

کہ ہر نااہل کا ہاتھ تجھے مزید بیمار کیے جا رہا ہے۔ تیمار داری ماں ہی کرتی ہے۔ اس کے پاس آئو!

فوجی اعتبار سے تو تلہ گنگ نمایاں ہے ہی!ائر مارشل نور خان سے لے کر جنرل فیض جیلانی اور بریگیڈیئر فتح خان ملک تک‘ بہت سے عسکری ستارے تلہ گنگ کے آسمان پر جھلملا رہے ہیں! مگر سول سروس میں بھی تلہ گنگ کے سپوتوں نے اپنی لیاقت کا سکہ منوایا ہے۔ پاکستان ریلوے کے موجودہ سربراہ آفتاب اکبر اور ریلوے کے مالیات کے سربراہ منظور ملک تلہ گنگ سے ہیں! ریجنل کمشنر تنویر ملک کا تعلق بھی وہیں سے ہے۔ سعید اختر ملک سول سروس کے بڑے منصب سے ریٹائر ہوئے۔ ملک فتح خان نے بارانی علاقوں کی ترقی کے لیے تحقیقی اور تنظیمی کام سالہا سال کیا۔ اب بھی اقوام متحدہ سے وابستہ ہیں۔ مشتاق ملک وفاقی سیکرٹری رہے۔ جی آر اعوان بڑے بڑے ملکوں میں سفیر رہے!ملک لال خان ایٹمی ادارے سے وابستہ ممتاز سائنسدان ہیں۔ لیاقت ملک مرحوم انجینئر تھے اور کئی فلاحی تنظیموں میں شامل ہو کر عوام کی خدمت کرتے رہے!

چکوال بھی ہمارا اپنا ہے ! اور اٹک بھی اپنا! تلہ گنگ والوں کو نصیحت یہ کرنا ہے کہ یا ضلع اٹک میں واپس آئو! تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا! یا پھر اپنا ضلع الگ بنوالو!!


















Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Tuesday, September 18, 2018

ایک دن اس کا جہاز آ جائے گا


شہروں میں شہر ہے اور بہشتوں میں بہشت! 

افسوس! شاہ عباس صفوی کو اس شہر کا پتہ نہ تھا ورنہ تبریز کو چھوڑا تو اصفہان کے بجائے یہاں کا رخ کرتا۔ تیمور اسے دیکھتا تو سمرقند کا درجہ دیتا۔ بابر کا گزر ہوتا تو کابل کو یاد کرکے آنسو نہ بہاتا۔ شاہ جہان اسی کو آگرہ بنا لیتا۔ 

بادشاہ نے بخارا سے دور پڑائو ڈالا۔ واپسی کا نام نہیں لے رہا تھا۔ رودکی نے بخارا کو یاد کرایا تو چل پڑا ؎ 

بوئی جوئی مولیاں آید ہمی 

یاد یار مہرباں آید ہمی

شاہ مہ است و بخارا آسماں

ماہ سوئی آسماں آید ہمی

شاہ سرو است و بخارا بوستاں 

سرو سوئی بوستاں آید ہمی

مولیاں ندی کی مہک آ رہی ہے جیسے یار مہرباں کی یاد 

بادشاہ چاند ہے اور بخارا آسماں چاند آسماں کی طرف چل پڑا ہے۔ 

بادشاہ سروہے اور بخارا باغ سرو باغ کی طرف چلا آ رہا ہے 

رودکی ایبٹ آباد کی ہوا کے جھونکے چکھتا تو بخارا کی یاد میں آنسو نہ بہاتا۔ تعجب تو ہندوستان کے وائسرائے جان لارنس پر ہے جس نے 1863ء میں شملہ کو موسم گرما کا دارالحکومت قرار دیا اور نظر ایبٹ آباد پر نہ پڑی۔ دس سال پہلے میجر ایبٹ، ایبٹ آباد شہر کی بنیاد رکھ چکا تھا۔ کہاں شملہ اور کہاں ایبٹ آباد۔ ایبٹ آباد تو شمالی علاقہ جات کا دروازہ ہے۔ تاہم ایبٹ آباد کی قسمت اچھی تھی۔ انگریزوں کی نظر اس پر اس اعتبار سے نہ پڑی ورنہ شملہ کا تو وہ حشر ہوا جو شام کا فرنگیوں نے کیا تھا۔ بقول اقبال ؎ 

فرنگیوں کو عطا خاک سوریا نے کیا 

متاع عفت و غم خواری و کم آزاری 

صلہ فرنگ سے آیا ہے سوریا کے لیے 

مے و قمار و ہجوم زنان بازاری 

شملہ راجدھانی بنا تو برطانیہ سے آئی ہوئی زنان بازاری نے اس پر ہلہ بول دیا۔ شوہروں کی تلاش میں جوان میموں کی بھی لائن لگ گئی۔ جوئے، شراب اور حرام کاری کے طوفان نے شملہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

شہروں میں ایبٹ آباد شہر ہے اور بہشتوں میں بہشت۔ کیا اس کی خنک ہوا ہے۔ منوچہری دامغانی یاد آ گیا۔ خوارزم کی طرف سے چلنے والی ہوا پر پکار اٹھا ع 

باد خنک از جانب خوارزم وزان است 

اس کالم نگار نے خوارزم بھی دیکھا ہے۔ اس کی بغل میں رواں جیحوں (آمو) دریا کے کنارے کنارے بھی چلا ہے اور خوارزم کی ہوائوں سے بھی لطف اٹھایا ہے مگر اس پروردگار کی سوگند، جس نے اس ناشکر گزار قوم کوشمالی علاقوں کی نعمت عطا کی ہے، خوارزم کی ہوا ایبٹ آباد کی خنک، دل آویز اور روح کو ٹھنڈک پہنچانے والی ہوا کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ 

شہروں میں ایبٹ آباد شہر ہے۔ اور بہشتوں میں بہشت - شہر کے اندر داخل ہونے سے بہت پہلے شاہراہ قراقرم کی خوشبو ہوا میں اپنا نشان بتاتی ہے۔ خوبصورت پہاڑیوں نے شہر کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ جیسے چاند کے گرد ہالہ۔ پرانے ایبٹ آباد کی گلیوں میں ایک سو پینسٹھ برس پرانی مہلک اس زمانے کی یاد دلاتی ہے جب شتر اور اسپ سامان سے لدے یہاں آتے تھے اور یہاں سے جاتے تھے۔ مانسہرہ روڈ پر جوں جوں آگے بڑھیں، ایک دلربا حسن مسافر کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے جس کا سحر الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ 

بٹراسی، شنکیاری، ڈاڈر۔ ایک سے ایک بڑھ کر۔ بہتے ہوئے جھرنے ہیں۔ پتھروں سے سر ٹکراتی، گنگناتی، مست ندیاں ہیں۔ پہاڑوں پر چنار کے درخت ہیں۔ ڈھورڈنگر چراتے چاند جیسے چرواہے ہیں۔ آسمان ہے جو نیلگوں سمندر کا ٹکڑا لگتا ہے۔ زمین ہے جو چاندی کا تھال نظر آتی ہے۔ وہ اشعار یاد آ گئے جو ایک چاندنی رات میں، تاشقند، برف پہنے درختوں کے درمیان چہل قدمی کرتے کہے تھے ؎ 

شبیں تھیں اطلس کی، دن تھے سونے کے تار جیسے

بہشت اترا ہوا تھا جیحوں کے پار جیسے 

گلاب سے آگ، آگ سے پیاس بجھ رہی تھی 

زمیں وہاں کی فلک، فلک تھے ہزار جیسے 

رات کو چاند نکلا ہو تو ایبٹ آباد کی شاہراہوں پر گھوم کر دیکھو، پہاڑوں پر بنے اونچے مکانوں کی روشنیاں جھک جھک کر چاند کو سلام کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ چلتے جائو۔ انہی راستوں پر را کا پوشی اور کے ٹو کی شہزادیاں آسمان سے خراج حسن لیتی ملیں گی۔ یہیں سے وہ شاہراہ پھوٹتی ہے جو سیب اور خوبانی کے باغوں کو جاتی ہے۔ جہاں شہتوت اور شفتالو کے درختوں کے جھنڈ ہیں۔ جہاں تاکستان ہیں۔ جہاں پیڑوں کی ٹہنیاں بادام اور اخروٹ سے لدی ہیں۔ 

آہ! ہم تو اس نعمت سے فائدہ ہی نہ اٹھا سکے۔ ہم نے سیاحت کا محکمہ ہمیشہ سفارشی اور سیاسی مگرمچھوں کے مکروہ دہانوں میں ڈالا اور نقصان اٹھایا۔ ہم نے سیاحوں کے لیے سہولیات نہ مہیا کیں۔ انفراسٹرکچر صفر سے بھی نیچے ہے۔ مگر یہ مرثیہ خوانی پھر کبھی۔ اس وقت تو سامنے ایبٹ آباد ہے اور اس کی حیرت زدہ کرتی تاثیر۔ 

ایبٹ آباد میں شاعر، دانشور اور ماہر تعلیم واحد سراج ہے۔ ساری زندگی تعلیم اور طلبہ کی خدمت میں گزار دی۔ دونوں میاں بیوی، امریکہ سے اور نہ جانے کہاں کہاں سے پڑھ کر، پڑھا کر اور تربیت لے کر اور دے کر، ایبٹ آباد میں ملک کا بہترین تعلیمی ادارہ چلا رہے ہیں۔ کتنے ہی نادار لائق طلبہ ان کی فیاضی سے فیض یاب ہورہے ہیں۔ پھر اپنی عمارتوں کو اور بڑے بڑے ہال نما کمروں کو ادیبوں اور شاعروں کے اجتماعات کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ فضل تو خدا کا ہن کی طرح بہت سوں پر برستا ہے مگر اس فضل کو آگے بانٹنا کم ہی ثروت مندوں کے حصے میں آتا ہے۔ واحد سراج خوش بخت ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ادب کی بھی سرپرستی کر رہا ہے۔ 

ایبٹ آباد میں احمد حسن مجاہد ہے۔ شاعر اور دوستوں کا دوست۔ بالا کوٹ 2005ء کے زلزلے میں برباد ہوا تو اس کی تباہی پر اور اس کی بحالی کے لیے جمع ہونے والی امداد کے ساتھ ہونے والی بددیانتی پر پوری کتاب لکھی۔ اب ’’رموز شعر‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے جو عروض اور شعری گرامر پر سند کا درجہ رکھتی ہے اور آنے والے تحقیقی حوالوں میں اس کا مذکور ہوگا۔

ایبٹ آباد میں ادیبوں اور شاعروں کی پوری کہکشاں ہے جس نے ہزارہ کے جغرافیائی حسن کو معنوی خوبصورتی سے بھی مالا مال کر رکھا ہے۔ محمد حنیف، میجر امان اللہ، امتیاز احمد امتیاز، ڈاکٹر ضیاء الرشید، پرویز ساحر، نسیم عباسی، سفیان صفی، شعیب آفریدی اور عامر سہیل ان میں سے صرف چند ہیں۔ بزرگ شاعر سلطان سکون اب صاحب فراش ہیں اور ہمارا یار شاعر خوش بیان خالد خواجہ کبھی امریکہ میں ہے اور کبھی ایبٹ آباد کے مرغزار میں۔ 

اور ہاں! رستم نامی بھی تو اسی شہر کا مکین ہے۔ حادثے میں جوان بیٹا شہید ہوا اور خود ایک ٹانگ سے محروم۔ کیا شعر کہا ہے ظالم نے ؎ 

وہ بچھڑ جائے گا ہم سے ایک دن 

ایک دن اس کا جہاز آ جائے گا





Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Saturday, September 15, 2018

حلوے کا سرا نہ تلاش کیجیے



آپ بحث کیے جا رہے ہیں۔ عقل اور منطق کی بنیاد پر دلائل دے رہے ہیں۔ کرپشن کے اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں۔ دوسرا شخص زور اس بات پر دے رہا ہے کہ یہ حکمران ولی اللہ تھا کیوں کہ اس کے لیے سعودی حکومت نے کعبۃ اللہ کا دروازہ کھولا تھا۔ آپ مزید دلائل دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کس کس طرح قانون کو پامال کیا گیا۔ جوابی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا غریب عوام کی خاطر کیا، جو بات آپ بھول رہے ہیں یہ ہے کہ جس سے بحث کر رہے ہیں۔ اس کے دوبھائیوں کو اس حکمران نے اعلیٰ مناصب دیئے، بیٹی کو ایم این اے بنایا۔ پوتے کو ایف آئی اے میں بھرتی کیا۔ آپ زمین و آسمان کے اعداد و شمار لے آئیں، دوسری طرف مسئلہ ذاتی وفاداری کا ہے۔ احسان کا ہے! چنانچہ پہلا سبق آپ یہ یاد کیجیے کہ کسی 
Beneficiary
سے یعنی کسی ایسے شخص سے جس نے مفادات حاصل کیے ہیں، بحث نہیں کرنی چاہیے۔ 

جسے فیکٹری بنانے کے لیے قرض دیا گیا اور پھر قرض معاف کر دیا گیا، جسے پلاٹ ملے، جسے ملازمتیں ملیں، یا جسے کسی محکمے میں اس لیے رکھا گیا کہ اصل کام قصیدہ خوانی یا دفاع ہے، یا جسے راتب مل رہا ہے، اس سے بحث کرنا بے وقوفی ہے۔جس کسی کو بھی کسی شخص یا جماعت یا گروہ یا پارٹی کی وجہ سے کوئی منصب ملا ہے یا کسی ادارے کی رکنیت نصیب ہوئی ہے اس کے لیے تو وہ شخص فرشتہ ہے اور وہ گروہ مقدس گروہ ہے۔ اس کی ہزارہا تحریریں چھان ماریے، کہیں غلطیوں کی نشان دہی نہیں ملے گی۔ صرف توصیف ملے گی اور تعریف میں حد درجہ مبالغہ آرائی۔ اس کی رگوں میں محض تشکر ہے اور احسان مندی! سو، آپ نے صرف اتنا کہنا ہے بھائی معاف کیجیے۔ میں بحث نہیں کرنا چاہتا۔ 

دوسرے دن آپ ایسے شخص سے بحث کر رہے ہیں جو یہ سوچ ہی نہیں سکتا کہ فلاں سیاست دان، فلاں عالم، فلاں پیر، فلاں دانشور غلطی کا ارتکاب بھی کر سکتا ہے۔ ایسے شخص کو شخصیت پرست کہتے ہیں۔ یعنی
 Hero-woriship
کرنے والا۔ آپ کی دلیل عقل کی بنیاد پر ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ فلاں بات ان صاحب نے درست کہی ہے مگر فلاں جگہ وہ غلطی کر گئے ہیں۔ دوسری طرف سے کہا جاتا ہے غلطی وہ کر ہی نہیں سکتے۔ غلطی آپ کے سمجھنے میں ہوئی ہے۔ سو، دوسرا سبق یہ یاد رکھیے کہ شخصیت پرستی میں مبتلا کسی شخص سے بحث کرنا سراسر احمقانہ فعل ہے۔ 

اسی لیے عقل مند لوگ کسی مذہبی گروہ میں شمولیت نہیں اختیار کرتے کیونکہ پھر وہ ہر اقدام کا دفاع کرنے کے پابند ہو جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک مولانا مودودی، سید قطب، جاوید غامدی، فلاں مولانا، فلاں پیر صاحب، فلاں امام، غلطی کا مرتکب ہو ہی نہیں سکتا۔ ان کے ہر قول کا، ہر فعل کا دفاع کرنا ان پر لازم ہے۔ شخصیت پرستی یا ’’شخصیت دشمنی‘‘ کی بہترین مثال ہمارے ہاں سرسید احمد خان ہیں، اس اعتبار سے وہ مظلوم ترین بھی ہیں۔ ایک طبقہ انہیں شیطان کا پیروکار قرار دیتا ہے۔ دوسرا طبقہ اُن پر اس انداز میں فدا ہے کہ ان کے مذہبی عقائد کی بھی غیر مشروط تائید کرتا ہے۔ درمیان راستہ اوجھل ہو گیا ہے۔ بہت کم ایسے متوازن اہلِ علم ملیں گے جو سرسید احمد خان کے خلوص اور ایثار کی تعریف کریں گے۔ یہ وہی تھے جنہوں نے جدید علوم سیکھنے کے لیے مسلمانوں کو آمادہ کیا۔ گستاخِ رسولؐ کی کتاب کا جواب لکھنے کے لیے گھر کا سامان تک بیچ دیا اور لندن گئے۔ مگر دوسری طرف قرآن کی تفسیر لکھی تو ٹھوکریں بھی کھائیں۔ ضروری نہیں کہ ان سے یہاں بھی اتفاق کیا جائے۔ 

یہیں سےنکتہ پھوٹتا ہے کہ لوگ دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جن کی سوچ کا محور شخصیات ہیں دوسرے وہ جو صرف نظریات پر توجہ دیتے ہیں۔ کم ہی ایسے حضرات نظر آئیں گے جنہوں نے نواز شریف کے کچھ اقدامات کو سراہا ہو اور کچھ پر کڑی تنقید بھی کی ہو، جنہوں نے عمران خان کی تعریف بھی کی ہو، اور ان پر تنقید بھی کی ہو۔ یہ وہ لکھاری یا دانش ور ہیں جن کے نزدیک اہمیت نظریات کی ہے۔ شخصیات کی نہیں! 

جو شخص ذہنی طور پر اس قدر اندھا مقلد ہو کہ لباس اور سر کی ٹوپی یا دستار میں بھی اپنے ممدوح کی تقلید کرتا ہو، اس سے آپ بحث کریں گے تو آپ جیسا گائودی دنیا بھر میں مشکل سے ملے گا۔ اپنا دماغ جلائیں گے وقت ضائع کریں گے، تلخی بڑھے گی۔ تعلقات کشیدہ ہوں گے۔ 

وہ جو اکبر الٰہ آبادی نے کہا تھا ؎ 

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں 

فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں 

تو یہ مذہبی بحث کے ساتھ ساتھ دوسری بحثوں پر بھی صادق آتا ہے۔ اُس کتابِ ہدایت میں، جسے ہم نے غلاف میں لپیٹ کر طاق پر رکھا ہوا ہے، دوسنہری فارمولے بتائے گئے ہیں جو ان افراد سے نجات حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں جن کے منہ سے بحث کرتے وقت جھاگ نکلتی ہے۔ گلے کی رگیں سرخ ہو جاتی ہیں، مٹھیاں بھینچ لیتے ہیں، آواز ناروا حد تک بلند کر لیتے ہیں اور مکالمے کو مجادلے میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ یہ دونوں نسخے ایک ہی سورہ، سورہ فرقان میں بیان کیے گئے ہیں۔ پہلے یہ ہدایت کی گئی کہ

’’جب جاہل لوگ اُن کے منہ آتے ہیں تو جواب میں کہتے ہیں اچھا صاحب! سلام!‘‘ 

یعنی معاف کیجیے۔ میں اس معاملے میں پڑنا ہی نہیں چاہتا۔ اگر اس فارمولے پر عمل پیرا ہوا جائے تو زندگی کی مکروہ صورت تبدیل ہو سکتی ہے۔ خاندانوں میں پڑنے والی دراڑیں، دوستوں میں آنے والے بال، دور ہو سکتے ہیں۔ 

زندگی کے روز و شب میں آپ سے ملنے جلنے والے، آپ کے اعزہ اور اقارب سب عقلیت پسند ہوتے ہیں نہ فلسفی نہ اعلیٰ تعلیم یافتہ۔ مگر آپ آئے دن دیکھتے ہیں کہ اچھے خاصے معقول حضرات دیواروں سے سر ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔ ایک صاحب اپنی گاڑی جس مکینک کے پاس لے کر جایا کرتے تھے۔ اس سے سیاسی بحث کرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کے پاس جانا چھوڑ دیا۔ اب میلوں دور، ایک اور ورکشاپ میں جاتے ہیں۔ ایک بھلے مانس ایک قریبی عزیز سے اس لیے الجھ پڑے کہ فلاں مسجد میں نماز پڑھتے ہو، فلاں میں کیوں نہیں جاتے۔ تلخ کلامی اس حد تک بڑھی کہ تعلقات میں شگاف پیدا ہو گیا۔ آپ کا کیا خیال ہے، کیا غلطی اُس بے وقوف کی تھی جس نے بحث کا آغاز کیا؟ نہیں! دوسرے صاحب زیادہ پڑھے لکھے تھے۔ قصور ان کا ہے۔ انہیں چاہیے تھا خاموش رہتے، یا اتنا کہہ دیتے، پھر کبھی بات کریں گے۔ اگر یہ کہہ دیتے کہ آپ کی مسجد میں بھی نماز پڑھ لیں گے، کوئی مضائقہ نہیں۔ تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا۔ جو بھی یہ اعتراض کرتا ہے کہ فلاں مسجد میں کیوں جاتے ہو، وہ یقینا جاہل ہے اور جاہلوں کے متعلق ہدایت یہ ہے کہ منہ پڑیں تو بحث نہ کیجیے، بس سلامتی بھیج کر ایک طرف ہو جائیے۔ 

دوسرا فارمولا بھی آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہے! 

’’اور جب ’’لغو‘‘ کے پاس سے گزر ہوتا ہے تو بس سنجیدگی اور متانت کے ساتھ گزر جاتے ہیں‘‘۔ 

’’لغو‘‘ کا لفظ وسیع و عریض مفہوم رکھتا ہے۔ اس میں وہ کام بھی شامل ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں اور وہ گفتگو بھی شامل ہے جس کا مقصد دوسروں کی دل آزاری ہے۔ کوئی آپ کی پسندیدہ شخصیت کے بارے میں نازیبا کلمات کہتا ہے تو اسے لغو سمجھ کر، متانت اور خاموشی کے ساتھ وہ جگہ چھوڑ دیجیے۔ آگے گزر جائیے۔ 

غیبت کا شمار بھی لغویات ہی میں ہونا چاہیے۔ تھوڑی دیر خاموش رہ کر برداشت کیجیے، اگر غیبت کا سلسلہ طویل ہو جائے اور اس میں شرکا بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگیں تو وہاں سے اُٹھ آئیے۔ 

اکبر الٰہ آبادی ہی نے کہا تھا ؎ 

فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں 
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں 

اب بحث کا سلسلہ فلسفیوں سے گزر کر جہلا کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔ ظفر اقبال نے جبھی تو رونا رویا تھا ؎ 

جزیرۂ جہلا میں گھرا ہوا ہوں ظفرؔ 
نکل کے جائوں کہاں چار سُو سمندر ہے 

ہمارے علاقے میں فضول بحث کرنے والے کے بارے میں کہتے ہیں کہ حلوے کا سرا تلاش کر رہا ہے، بھلا حلوے کا سرا بھی کہیں ہاتھ آتاہے؟







Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Thursday, September 13, 2018

جب لاد چلے گا بنجارا


مکان بنتے دیکھا۔ کل میں نے بھی بنانا ہوگا۔ خوب دلچسپی لی۔ ایک ایک بات پوچھی۔ نقشہ کہاں سے بنوایا؟ ٹھیکہ کسے دیا؟ کمروں کا سائز کیا ہے؟ غسل خانے پر کیا خرچ آیا؟ ٹائلیں لگوائیں یا فرش ماربل کا رکھا؟ سیوریج کے پائپ کون سے برانڈ کے بہترین ہیں؟ نقشہ پاس 
کیسے ہوگا؟ فلاں راج کی شہرت کیسی ہے؟ ایک ایک تفصیل، سوئچ تک، کنڈی تالوں تک کی۔ 

شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ مجھے بھی بیٹے کی شادی کرنی ہے۔ سب کچھ پوچھا۔ کون سا شادی ہال مناسب ہے۔ کھانے کا مینو کیا تھا؟ زیورات کہاں سے اچھے بنے؟ لہنگا کتنے میں بنا؟ 

ہم ہر کام ہوتا دیکھ کر کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔ اپنے فائدے کے لیے۔ زندگی پر نظر دوڑائیے۔ بچے کے سکول میں داخلے سے لے کر گیس کا میٹر لگوانے تک۔ ویزہ لینے سے لے کر ہوٹل کا کرایہ جاننے تک۔ 

مگر یہ عقلمندی، یہ دور اندیشی، یہ باریک بینی۔ اس وقت ہوا ہو جاتی ہے جب کسی کی موت دیکھتے ہیں۔ خدا کے بندو، قبر کھودی جا رہی ہو تو اس کی تفصیلات بھی تو پوچھو۔ کل تمہارے لیے قبر کون سی مناسب ہوگی؟ کتنی گہرائی والی؟ اپنے لیے سلیں تو چن لو۔ باتھ روم میں لگانے کے لیے ایک ایک ٹائل کی کوائلٹی اور قیمت پوچھتے ہو، ان سلوں کے بارے میں بھی کچھ جاننے کی کوشش کرو جو تمہارے بے جان جسم کے اوپر رکھیں گے اور پھران پر گارا تھوپیں گے؟ 

کلثوم نواز اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ یہ کیوں کہتے ہو کہ نوازشریف کی دولت کام نہ آئی؟ اپنے بارے میں سوچو۔ تمہارا کیا بنے گا؟ تم سے نوازشریف کی دولت کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ اپنی خیرمنائو، اپنے بارے میں سوچو، کلثوم نواز نہ رہیں تو تم کس کھیت کی مولی ہو؟ کسی سے اتنا ہی پوچھ لو کہ تدفین کے بعد، مٹی ڈالنے کے بعد، پھول چڑھانے کے بعد، دعا مانگنے کے بعد جب سب لواحقین اور دوست احباب واپس جا رہے ہوں گے اور ان کے دور ہوتے قدموں کی آہٹ تمہیں سنائی دے رہی ہوگی تو اس کے بعد کیا ہوگا؟ تم سے پوچھا جائے گا مال کہاں سے کمایا؟ اور کہاں خرچ کیا؟ 

مان لیا زرداری اور شریفوں نے بہت کچھ جوڑا اور غلط طریقے سے جوڑا مگر سوال یہ ہے تم کیا جواب دو گے؟ تمہارے سامنے قبر میں وہ گاہک دکھائی دیں گے جنہیں کم تول کر، کم ماپ کر دیتے تھے۔ شے کا نقص نہیں بتاتے تھے؟ ٹیکس چوری کرتے تھے، حاجی صاحب کہلواتے تھے۔ آئے دن دیکھتے ہیں کہ ہمارے سامنے میت اتاری جا رہی ہے اور مٹی ڈالی جا رہی ہے مگر کبھی نہ سوچا کہ یہ کل ہمارے ساتھ بھی ہوگا۔ کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟ 

یہ گھاٹی اکیلے پار کرنا ہوگی۔ آج مکان تعمیر کرتے وقت، بچے کی شادی کرتے وقت، بیرون ملک سدھارتے وقت، سب ساتھ دیتے ہیں، ہاتھ بٹاتے ہیں، ڈیوٹیاں تقسیم کرلیتے ہیں مگر موت والا کام اکیلے کرنا ہوگا۔ نوکروں کی فوج ظفر موج۔ دوست احباب کے ہجوم! کوئی کام نہیں آتا۔ کچھ ایک دن روتے ہیں، کچھ ایک ہفتہ، کچھ ایک ماہ، کچھ ایک سال۔ اس کے بعد یوں لگتا ہے جیسے یہاں کوئی کبھی تھا ہی نہیں ؎ 

نہ گور سکندر نہ ہے قصر دارا 

مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے 

اور کرنا کیا ہے؟ کسی کو دفن ہوتے دیکھ کر؟ پلان کیا بنانا ہے کسی کی قبر پر مٹی ڈالتے وقت؟ یہ واحد مہم ہے جس کو سرکرنے کے لیے سامان نہیں خریدنا۔ جیکٹ نہ سلیپنگ بیگ، مال نہیں جمع کرنا، قرض نہیں لینا، صرف یہ کرنا ہے کہ اپنے آپ کو سیدھا کرنا ہے، اپنی ٹیڑھ نکالنی ہے۔ اس منظر کو یاد رکھنا ہے، بس! اور کچھ نہیں۔ 

ملازمت کا معاہدہ آپ نے یہ کیا ہے کہ آٹھ بجے سے پانچ بجے تک کام کریں گے۔ جب اس معاہدے کو توڑتے ہیں تو توڑتے وقت صرف یہ یاد رکھنا ہے کہ کل آپ کو قبر میں اتارا جائے گا۔ وقت پر جائیے، پورا کام کیجئے، نماز یا ظہرانے کے بہانے بھگوڑے نہ بنیے۔ اس لیے کہ آپ کے اوپر مٹی ڈالی جانی ہے۔ 

وعدہ پورا کیجئے۔ ایک ایک وعدہ شکنی کا پوچھا جائے گا۔ سلوں پر مٹی ڈالے جانے کے بعد جواب دینا ہوگا؟ کیا کہیں گے اس وقت؟ آج انا پہاڑ بنی ہوئی ہے۔ رشتہ دار روٹھا ہے تو روٹھا ہے۔ پہلے وہ آئے۔ پہلے وہ معذرت کرے، میری تو غلطی ہی نہیں تھی، یہ انا، یہ تکبر، یہ غرور اس وقت کہاں ہوگا جب تمہارے جسم کے گرد دو پٹکے ڈالے جائیں گے۔ دونوں کو کناروں سے پکڑ کر لحد میں اتارا جائے گا، کیا قابل رحم حالت ہوگی۔ صرف وہ افراد لحد میں اتریں گے جو جسمانی لحاظ سے تنومند اور قوی ہوں گے۔ اپنے شاید نہ ہوں۔ 

ایک فٹ زمین، مکان بناتے وقت، تم نے سرکاری گلی کی مارلی۔ ایک فٹ پڑوس کی ساتھ ملالی، اس لیے کہ وہ بیوہ ہے اور تم سے مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یہ جگہ تمہارے کس کام آئے گی؟ جو مٹی سلوں کے اوپر ڈالی جانی ہے وہ تو کہیں اور سے آنی ہے۔ پھر اس ایک فٹ کے لیے کیوں مرے جا رہے ہو؟ 

یہ کالم نگار ایک ایسے متمول شخص کو جانتا ہے جس نے کوٹھی تعمیر کی۔ ایک مربع فٹ جگہ ایک فٹ چوڑی، ایک فٹ لمبی کا پڑوس کی کوٹھی والے سے جھگڑا پڑ گیا۔ مقدمہ بازی چلی، لوگوں نے ہاتھ جوڑے۔ کوئی ایک ہی چھوڑ دو۔ وہ نہیں چھوڑ رہا تو تم چھوڑ دو۔ ایک مربع فٹ، صرف ایک، مربع فٹ۔ آخری سانس تک اس ’’مقصد جلیلہ‘‘ کے لیے لڑا۔ پھر سانس اکھڑ گئی۔ کوچ کا نقارہ بجا۔ وارثوں نے کبھی دعا تک نہیں کی۔ یاد تک نہیں کیا۔ 

ہم نظیر اکبر آبادی کو پڑھتے ہیں، الفاظ، قافیے، ردیف، تراکیب اور مضمون سے حظ اٹھاتے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ بابے کا پیغام کیا تھا۔

یہ کھیپ بھرے جو جاتا ہے یہ کھیپ میاں مت گن اپنی 

اب کوئی گھڑی، پل، ساعت میں یہ کھیپ بدن کی ہے کھپنی 

کیا تھال کٹورے چاندی کے کیا پیتل کی ڈبیا دھپنی 

کیا برتن سونے روپے کے کیا مٹی کی ہنڈیا دھپنی 

سب ٹاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ 

جب مرگ پھرا کر چابک کو یہ بیل بدن کا ہانکے گا 

کوئی ناز سمیٹے گا تیرے کوئی گون سیے اور ٹانکے گا 

ہو ڈھیر اکیلا جنگل میں تو خاک لحد کی پھانکے گا 

اس جنگل میں پھرآہ نظیر! اک بھنگا آن نہ جھانکے گا

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ 

کچھ کام نہ آوے گا تیرے یہ لعل زمرد سیم اور زر 

جو پونجی ہاتھ میں بکھرے گی پھر آن بنے گی جاں اوپر 

نقارے نوبت بان نشاں دولت حشمت فوجیں لشکر 

کیا مسند تکیہ ملک مکاں کیا چوکی کرسی تخت چھپر 

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ 

ہمارے تصورات عجیب و غریب ہیں۔ ہم نے خود ہی فیصلہ کرلیا ہے کہ غریب نیک ہوتے ہیں اور امیر گنہگار۔ ہم نے یہ بھی طے کرلیا ہے کہ غریب ہی جنت میں جائیں گے۔ یہ صرف مالک روز جزا کو معلوم ہے کہ کون کہاں بھیجا جائے گا۔ ریڑھی والا، جو گاہک کی نظر بچا کر، شاپنگ بیگ ہی بدل ڈالتا ہے، مستری جو مزدوری لے کر غائب ہو جاتا ہے، نوکر جو مالک کا نمک کھا کر، تنخواہ لے کر اس کے مال کے ساتھ بددیانتی کرتا ہے، ٹرک ڈرائیور جو ٹریفک میں دھاندلی اور غنڈہ گردی سے دوسروں کو اذیت پہنچاتا ہے، یہ سب عرف عام میں غریب ہی تو ہیں۔ لاکھوں کروڑوں کی خیرات کرنے والے، مسجدیں اور ہسپتال بنوانے والے امیر ہیں، کس کی چھوٹی سی نیکی کام آ جائے، کیا معلوم۔ اپنی فکر کرو، صرف اپنی، دوسروں کا معاملہ ان کے پروردگار پر چھوڑو، جو تمہارا بھی پروردگار ہے، دنیا سے چھپا لیتے ہو، اس سے کیا چھپائو گے۔ 

آخری بات میاں محمد بخش صاحب کہہ کر مسئلہ ہی حل کر چکے ہیں ع 

دشمن مرے تو خوشی نہ کریے سجناں وی مر جانا ،،،،


Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Tuesday, September 11, 2018

ڈی ایم جی کا بیل اور عمران خان


نہیں! ہرگز نہیں!
عمران خان صاحب اگر اُن پامال شدہ راستوں پر چلتے رہے جن پر اُن کے پیشرو چلے اور ناکام ہوئے تو عمران خان بھی ناکام ہوں گے کیونکہ اللہ کی سنت یہی ہے۔ وہ جو سعدی نے کہا تھا، سوچ سمجھ کر کہا تھا     ؎
ترسم نہ رسی بکعبہ اے اعرابی
کیں رہ کہ تو می روی بہ ترکستان است
ابے او بَدُّو! رُخ تیرا ترکستان کی طرف ہے۔کعبہ کیسے پہنچے گا!
نواز شریف نے ایک ریٹائرڈ، ازکار رفتہ، ضعفِ پیری سے خستہ، بیورو کریٹ کو وزیر اعظم آفس میں نصب کر دیا اس لیے کہ ایک تو وہ خواجہ تھا، دوسرے وسطی پنجاب کی اُس تنگ پٹی سے تھا جس سے ذہنی طور پر شریف برادران کبھی نہ نکل سکے اس لیے کہ ذہن میں فراخی تھی نہ علم۔ دونوں بھائیوں کو کتاب سے اتنی ہی دشمنی تھی جتنی روپے سے محبت! غلطی ہو گئی۔ قلم چوک گیا۔ روپے سے نہیں! انہیں ڈالروں، پائونڈوں سے محبت تھی۔
نہیں! ہر گز نہیں!
بیورو کریسی صرف ڈی ایم جی کا نام نہیں اور ڈی ایم جی نے حصار باندھ لیا ہے۔ نئے وزیر اعظم کے گرد، عمران خان کو ارباب شہزادوں اور عشرت حسینوں سے دامن چھڑانا ہو گا ورنہ نوشتۂ دیوار سامنے نظر آ رہا ہے۔
ارباب شہزاد کا معاملہ عشرت حسین سے قدرے مختلف ہے۔ غالباً وہ عشرت حسین کی طرح جاہ طلب نہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ڈی ایم جی کا افسر، ڈی ایم جی کے حصار سے باہر نہیں نکل سکتا۔ کل شام ایک ٹیلی ویژن چینل پر یہ کالم نگار بھی بیٹھاتھا۔ سعدیہ افضال نے پتے کی بات کہی کہ وہی بیورو کریٹ اوپر لائے جا رہے ہیں جو شریف برادران کے دائیں بائیں تھے۔ عرض کیا کہ یہ مسئلہ تو ہے مگر اصل مسئلہ یہ نہیں، اصل مسئلہ اور ہے اور اس میں غلیل کا قصہ در آتا ہے۔
غلیل کا قصّہ یوں ہے کہ ایک پاگل خانے میں ہر سال مریضوں کا انٹرویو کیا جاتا اور جو نارمل ثابت ہوتا اُسے چھٹی دے دیتے۔ ایک مریض ایسا تھا جس کے حواس پر اور اعصاب پر اور دل و دماغ پر اور فکر کے ہر زاویے پر غلیل چھائی ہوئی تھی۔ انٹرویو میں اس سے پوچھا کہ باہر جا کر کیا کرو گے؟ اس نے کہا غلیل لے کر نشانے لگائوں گا۔ اسے انٹرویو میں فیل قرار دیا گیا۔ ایک سال مزید گزر گیا۔ ایک سال کے بعد پھر انٹرویو میں پیش ہوا۔
’’باہر جا کر کیا کرو گے؟ 
’’نئی بائی سائیکل خریدوں گا‘‘
معقول جواب سن کر ڈاکٹروں کے چہروں پر اطمینان کی چمک آئی۔ روبصحت ہونے کی نشانی صاف نظر آ رہی تھی۔
’’نئی بائی سائیکل پر سوار ہو کر کہاں جائو گے؟‘‘
’’جانا وانا کہیں نہیں! اُس کے ٹائر سے ٹیوب نکال کر، ربڑ کا ٹکڑا کاٹ کر، غلیل بنائوں گا۔‘‘
پھر فیل قرار دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے فیصلہ صادر کیا کہ ایک سال اور رکھا جائے۔
تیسرے سال پھر پیش ہوا۔
’’باہر جا کر کیا کرو گے؟‘‘
’’کسی اچھے برانڈ کا تھری پیس سوٹ خریدوں گا۔‘‘


’’کون سا برانڈ پسند ہے‘‘
’’بہت اعلیٰ برانڈ۔ باس۔ سی کے۔ مارک اینڈ سپینسر۔(کنالی کے اطالوی سوٹ کا شاید اسے علم نہ تھا۔ سنا ہے، دروغ برگردن راوی کہ جنرل مشرف زیبِ تن فرماتے تھے۔ اس کالم نگار نے ہمت کر کے ایک بار قیمت پوچھی تھی۔ سب سے سستا ایک لاکھ روپے میں تھا۔ بلکہ آج کل کے زرِمبادلہ کے نرخ کے حساب سے ڈیڑھ لاکھ کا)
ڈاکٹروں کے چہروں پر پھر بشاشت کی سواری اتری! کیا معقول بات ہے۔ اچھے برانڈ کا سُوٹ! نارمل ہونے کے آثار۔
’’اتنا اچھا سُوٹ پہن کر، دنیا کی سیر کو نکلو گے یا دوست احساب کو ملنے چلو گے؟‘‘
’’کسی کو ملنے کا ارادہ ہے نہ باہر نکلنے کا۔ سوٹ کی پتلون کے ساتھ جو انڈر ویئر ہو گا اُس سے الاسٹک نکال کر غلیل بنائوں گا!‘‘
ڈی ایم جی کا افسر غلیل سے باہر نہیں نکلتا۔ وہ نہایت خلوص اور دلسوزی سے یہ سمجھتا ہے کہ ساری لیاقت ساری ذہانت، ساری فطانت ڈی ایم جی کے افسر میں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جنرل ضیاء الحق کا عہدِ اقتدار آیا تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا طوطی بولتا تھا۔ ایک خاتون، جسے جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں خوب خوب عروج نصیب ہوا، میاں ان کے ڈی ایم جی سے تھے۔ کبھی کبھی فرنگی زبان میں کالم بھی لکھتے تھے۔ روایت ہے کہ اسلام آباد کلب میں بیٹھک جمائے تھیں۔ فرمانے لگیں،’’سنا ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان بہت لائق ہے۔ اتنا جینئیس تھا تو ڈی ایم جی میں کیوں نہ آیا؟‘‘
سول سروس بہت سے گروہوں کا مجموعہ ہے۔ صرف ڈی ایم جی کا نہیں! سول سروس میں پولیس بھی ہے۔ فارن سروس بھی۔ آڈٹ اینڈ اکائونٹس بھی۔ انکم ٹیکس بھی۔ کسٹم بھی۔ ریلوے بھی۔ کامرس اینڈ ٹریڈ بھی! انفارمیشن بھی! ایک دھاندلی تونظر آ گئی کہ ڈی ایم جی کے توقیر شاہ کو شریف برادران نے عالمی تجارتی تنظیم (ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن) میں اعلیٰ ترین منصب پر بھیج دیا۔ مگر یہ دھاندلیاں تو عشروں سے ہو رہی ہیں۔ ڈی ایم جی کا کامرس اینڈ ٹریڈ سے کیا واسطہ؟ بیرون ملک منسٹر آف ٹریڈ اور کمرشل کونسلر کی اسامیوں پر یہی تعینات ہوتے آئے ہیں۔ اس لیے کہ ہوائی اڈوں پر حکمرانوں کو الوداع کہتے ہیں اور استقبال کرتے ہیں۔ یوں واقفیت ہو جاتی ہے۔ اس واقفیت کو پھر ذاتی وفاداری سے ضرب دی جاتی ہے اور حاصل ضرب سے بہت کچھ حاصل ہوتا ہے۔
وہ جو جگر مراد آبادی کے ایک شاگرد نے اپنے استاد کی طرز پر کہا تھا    ؎
مری داستانِ غم کی کوئی حد کہیں نہیں ہے 
ترے سنگِ آستاں سے ترے سنگ آستاں تک
تو ڈی ایم جی کے افسران ٹیلنٹ کی تلاش ڈی ایم جی سے شروع کرتے ہیں اور ڈی ایم جی پر ختم کر دیتے ہیں۔ 
لیاقت علی خان کے ساتھ، متحدہ ہندوستان میں مسلم لیگ کا بجٹ بنانے والے چوہدری محمد علی آڈٹ اینڈ اکائونٹس سے تھے۔ بعد میں وزیر اعظم بنے۔ ایوب خان کے وزیر خزانہ محمد شعیب اور عالمی خوراک کے مسئلے پر کئی کتابوں کے مصنف سرتاج عزیز ملٹری اکائونٹس سروس سے تھے۔ ایچ یو بیگ، آٹھ سال مسلسل سیکرٹری خزانہ رہے اور پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین انکم ٹیکس سروس سے تھے۔ وزیر اعظم چوہدری محمد علی کے چھوٹے بھائی محمد ذوالفقار سول سروس میں فرشتہ صفت گردانے جاتے تھے۔ انکم ٹیکس سروس سے تھے۔ متاخرین میں انور محمود کامیاب سیکرٹری انفارمیشن اور سیکرٹری ہیلتھ رہے، انفارمیشن گروپ سے تھے۔ مشہور شاعر یوسف ظفر کے فرزند جاوید ظفر نے سول سروس میں نام کمایا۔ انکم ٹیکس سروس سے تھے۔ چوہدری محمد الیاس برسلز میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے۔ آڈٹ اینڈ اکائونٹس سروس سے تھے۔ آڈٹ اینڈ اکائونٹس سروس ہی کے محمد اکرم خان ریٹائر ہوئے تو اقوام متحدہ نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ مشرقی تیمور میں پھر سوڈان میں۔ اقوام متحدہ نے اُن سے بڑے بڑے کام لیے۔ لاہور میں گوشہ نشین یہ اکرم خان، پوری دنیا کے اسلامی معیشت دانوں میں معروف ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے کوالالمپور میں اور سالِ رواں میں ترکی میں اسلامک اکنامکس پر دنیا بھر کے معیشت دانوں کے جو عالمی اجتماع ہوئے، دونوں میں کلیدی خطبہ دینے کا اعزاز اسی پاکستانی سپوت اکرم خان کو حاصل ہوا۔ اکرم خان کی معرکہ آرا کتاب 
What is Wrong with Islamic Economics
نے، جو لندن سے شائع ہوئی، اسلامی معیشت دانوں کی دنیا میں تہلکہ برپا کر دیا۔ کئی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا اور ہو رہا ہے۔ نہیں معلوم تو اہلِ پاکستان کو اور پاکستان کی حکومت کو اکرم خان کے ٹیلنٹ کا نہیں علم۔ اس لیے کہ ٹیلنٹ کی تلاش کا کام شہزاد ارباب صاحب کو سونپا گیا ہے اور اصلاحات کا کام عشرت حسین صاحب کو اور دونوں ڈی ایم جی سے باہر نہیں نکل سکتے۔ تعصب کی انتہا یہ ہے کہ ریفارم کمیشن میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان ہے نہ ایف بی آر کا چیئرمین نہ پولیس کا کوئی حاضر سروس افسر۔ نہ باقی گروپوں کے نمائندے۔ یہ کھیل عشرت حسین جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں بھی کھیلتے رہے۔ وہ ان کے دام میں نہ آیا۔ اب یہ عمران خان کا سارا پلان کھوہ کھاتے ڈالنا چاہتے ہیں۔
کوئی ہے جو عمران خان صاحب کی خدمت میں عرض کرے کہ جناب! عزم اگر مکے کا کیا ہے تو رُخ آپ کا ترکستان کی جانب ہے۔ کوئی منصور آفاق! کوئی ہارون الرشید! کوئی ارشاد عارف! کوئی ایاز امیر! کوئی ہے جو خان صاحب کو بتائے کہ اس بیل کو سینگوں سے پکڑیں ورنہ یہ سینگوں پر اٹھائے گا اور زمین پر دے مارے گا!




Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Sunday, September 09, 2018

زمیں گردش میں ہے‘ اس پر مکاں رہتا نہیں ہے


بچہ جو ماں کی گود میں پڑا سسک رہا تھا۔ سات آٹھ سال کا لگ رہا تھا مگر تھا پندرہ سولہ سال کا۔ اس کے جسم نے نشوونما نہیں قبول کی تھی۔ اس کا ڈائیلیسز ہورہا تھا۔ یعنی گردے کام نہیں کر رہے تھے اور خون کی صفائی کا کام جو گردے کرتے ہیں‘ مشین کے ذریعے ہورہا تھا۔
ایک اور بیڈ پر ایک خاتون کا ڈائیلیسز ہورہا تھا۔ ایک مریض سے پوچھا کہ کتنے عرصہ سے ڈائیلیسز پر ہے۔ اس نے بتایا‘ تیرہ برس سے۔
ہر طرف مشینیں لگی تھیں۔ مریض لیٹے ہوئے تھے‘ مستعد‘ چاق و چوبند سٹاف‘ ان کی دیکھ بھال میں مصروف تھا۔ جو کچھ ہورہا تھا‘ معاوضے کے بغیر ہورہا تھا۔ ڈاکٹر بھی تھے‘ نرسیں بھی‘ لیبارٹری بھی اندر ہی تھی۔
کرنل (ر) سردار خان صاحب نے جب یہ ادارہ دیکھنے کی دعوت دی تو بالکل اندازہ نہ تھا کہ چند افراد‘ ذاتی غرض اور تشہیر سے مکمل بے نیاز ہو کر اتنا بڑا فلاحی ادارہ چلا رہے ہیں۔
’’پاکستان کڈنی پیشنٹس ایسوسی ایشن‘‘ 
(Pakistan Kidney Patients Association)
 کا یہ فلاحی ادارہ راولپنڈی کے گنجان اور عوامی علاقے کمال آباد ٹاہلی موری روڈ پر واقع ہے۔ اس کی تعمیر 2008ء میں شروع ہوئی۔ 14 اگست 2009ء کو افتتاح ہوا۔ ابتدا میں گنتی کی چند ڈائیلیسز مشینیں تھیں اب ان مشینوں کی تعداد تیس ہو چکی ہے۔ ایک سو پچاس مریضوں کا باقاعدگی سے ہفتے میں دوبار ڈائیلیسز کیا جاتا ہے۔ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کے لیے الگ مشینیں مختص ہیں تاکہ یہ بیماری دوسرے مریضوں کو نہ لگ جائے۔ او پی ڈی فری کام کر رہی ہے۔ 2017ء میں تقریباً چار ہزار مریضوں کا مفت چیک اپ کیا گیا۔ ادویات بھی دی گئیں۔
ایک کنال زمین پر واقع یہ مرکز مریضوں کی ہر روز بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے ناکافی ہے۔ وہ جو اقبال نے کہا تھا    ع
کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد
تو ان اہل ہمت نے نئی بستی بسانے کا عزم کر رکھا ہے۔ جی ٹی روڈ پر روات سے چھ کلومیٹر دور‘ بارہ کنال زمین خریدی گئی ہے۔ یہاں ڈائیلیسز سنٹر بہت بڑا ہوگا۔ او پی ڈی بھی بڑی ہوگی۔ یہاں گردوں کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ) کا بھی منصوبہ زیر غور ہے۔ پتھری نکالنے کے لیے آپریشن کی سہولت میسر ہوگی۔ لیبارٹری وسیع تر ہوگی۔ مستقبل بعید میں نرسنگ تربیتی سکول بھی کھلے گا۔ ادارہ اس نئے منصوبے کی تعمیروتکمیل کے لیے پرعزم ہے۔
اگرچہ ورکرز اور سٹاف کو تنخواہیں دی جاتی ہیں مگر جو اصحاب انتظامیہ میں ہیں‘ وہ سارے کے سارے رضاکارانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ چائے بھی اپنی جیب سے پیتے ہیں۔ ادارے کے سیکرٹری کرنل (ر) سردار خان اسی آبادی میں رہتے ہیں جہاں یہ کالم نگار رہتا ہے۔ میرے ذاتی علم میں ہے کہ وہ ہر روز‘ ذاتی گاڑی پر‘ جیب سے پٹرول ڈلوا کر‘ سترہ اٹھارہ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے جاتے ہیں۔ دن بھر کام کرتے ہیں اور اسی طرح ذاتی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے واپس آتے ہیں۔ انتظامیہ کے تمام ارکان کا یہی حال ہے۔ یہ ایک گروہ ہے بے غرض‘ بے لوث  افراد کا۔ ان کا کام ان کا جذبہ اور مریضوں کی تعداد دیکھ کر حیرت ہوئی۔ شاید ایسے ہی لوگ ہیں جو اس ملک کی بقا کے ضامن ہیں۔ جنرل نعیم خالد لودھی‘ بریگیڈیئر عبدالحلیم‘ بریگیڈیئر شہزاد سعید‘ سکورڈرن لیڈر غلام عباس‘ بریگیڈیئر ملک فتح خان‘ شوکت بیگ‘ مادام غزالہ جاوید‘ مادام وقار النسا بولانی اور دیگر خواتین و حضرات سب رضاکارانہ طور پر اس ادارے کو چلا رہے ہیں۔ مالیات کے انچارج شوکت بیگ صاحب نے مجھے پہچان لیا۔ پوچھا کہ کیا آپ اصغر مال کالج میں تھے؟ اور کالج میگزین کے ایڈیٹر تھے جواب دیا‘ ہاں۔ مگر کمال ان کا یہ تھا کہ عشروں کے بعد بھی پہچان لیا۔ کہاں اٹھارہ انیس برس کا شاداب ہرا بھرا طالب علم اور کہاں اب ایک پیر مرد۔ زمانے کا کھایا ہوا کالم نگار۔ توصیف تبسم کا شعر یاد آ گیا      ؎

کہنے کو خدوخال نظر آشنا سے ہیں
ہے کون آئینے کے مقابل؟ کہا نہ جائے

خورشید رضوی نے کہا تھا      ؎

خورشید! میں نے نصف نہار شباب پر
کھولی جو آنکھ برج کہولت میں آ گیا

اور اس فقیر کا شعر      ؎

کہاں دوپہر کی حدت! کہاں ٹھنڈک شفق کی
سیہ ریشم میں چاندی کا غبار آنے لگا ہے


لگے ہاتھوں افتخار عارف کا شعر بھی اس مضمون کا سن لیجئے

ابھی سے برف اترنے لگی ہے بالوں میں
ابھی تو قرض مہ وسال بھی اتارا نہیں

اشعار یوں امڈ کر حافظے سے با ہر آ رہے ہیں جیسے چاروں طرف گھٹا چھا جاتی ہے۔ عہد شباب میں جو اشعار یاد تھے‘ ایک لاکھ سے کم کیا ہوں گے۔ اب ضعف پیری یادداشت کو اس طرح کھائے جا رہی ہے جیسے دیمک لکڑی کو اور گھن گندم کو کھاتی ہے۔ آتش کا ایک شعر سنیے پھر موضوع کی طرف پلٹ جائیں گے     ؎

محبت مے و معشوق ترک کر آتش
سفید بال ہوئے‘ موسم خضاب آیا

اب خضاب پر اقبال کا شعر یاد آ گیا۔ اس میں تو نصیحت بھی ہے    ؎

مزن وسمہ بر رو و ابروئی خویش
جوانی ز دزدیدن سال نیست

کہ چہرے اور ابروئوں پر خضاب (وسمہ) نہ لگایا کرو۔ سال چوری کرنے سے جوانی نہیں لوٹتی۔


گردے کے مریضوں کی اس فلاحی تنظیم میں جس شخصیت نے اپنے سحر میں جکڑ لیا وہ چھیاسی سالہ کرنل (ر) یونس بھٹی ہیں۔ 72 سال کی عمر میں وہ اس تنظیم سے وابستہ ہوئے۔ زندگی بھر کی جمع پونجی چالیس لاکھ روپے ادارے کی نذر کردیئے۔ اس کار خیر میں ان کی مرحومہ بیگم بھی ان کے ساتھ تھیں۔ اس عمر میں بھی یونس بھٹی صاحب ہر روز باقاعدگی سے ادارے کے دفتر میں آتے ہیں۔ دن بھر بیٹھ کر سیکرٹری جنرل کی حیثیت میں تمام انتظامی‘ تکنیکی‘ مالی‘ ترقیاتی امور سرانجام دیتے ہیں۔ مطالعہ اس قدر کیا اور اتنی شدید محنت کی کہ پیشہ وارانہ لحاظ سے پائلٹ تھے مگر اب کسی ماہر ڈاکٹر سے کم نہیں۔ گردوں‘ دل اور آنکھوں کی بیماریوں پر اور عمومی صحت کے بارے میں لیکچر دیتے ہیں۔ سننے والوں میں آگہی او رشعور پیدا کرتے ہیں۔ اس ایک چراغ سے بہت چراغ جل رہے ہیں۔ رضاکاروں کی ایک کھیپ انہوں نے تیار کی جو مریضوں کی دنیا اور اپنی عاقبت سنوار رہے ہیں۔


قدرت کے نظام کا ایک کرشمہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ چھیاسی سالہ یونس بھٹی صاحب نے زندگی اور مال کو خدمت خلق کے لیے وقف کردیا۔ اس کا صلہ آخرت میں تو ملنا ہی ہے‘ دنیا میں اس کے عوض خالق کائنات نے ان پر ایک خاص کرم کیا۔ اس زمانے میں جب اولاد‘ ماں باپ کو بڑھاپے کے سپرد کر کے دوسرے ملکوں کو ہجرت کئے جا رہی ہے‘ بھٹی صاحب کا بیٹا‘ امریکہ میں اپنا بائیس سالہ قیام تیاگ کر واپس پاکستان آ گیا صرف اس لیے کہ ماں باپ کی خدمت کرے۔ ماں تو جنت کو سدھار گئی‘ اب اس نے اپنے آپ کو باپ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ وہ والد کے دفتر ہی میں بیٹھا ہوا تھا۔ وابستگی کا یہ عالم تھا کہ اپنے والد کی صحت‘ ادویات اور کام کے ہر پہلو سے بخوبی آگاہ تھا اور جو بات یا دوا کا نام بھٹی صاحب بھول جاتے‘ اسے یاد ہوتی۔ تعجب اور خوشی اس لیے ہوئی کہ کچھ عرصہ پہلے ایک عزیزہ شدید بیمار ہوئیں‘ ان کے صاحبزادے سے پوچھا کہ امی کو کیا ہوا ہے‘ کہنے لگا‘ معلوم نہیں۔ اس آئینے میں ہر مرد اور عورت اپنا چہرہ دیکھ لے کہ ماں باپ کی صحت‘ آرام اور مسرت میں کس قدر دلچسپی لے رہی ہے اور یہ بھی یاد رکھے کہ بڑھاپا گلی کے موڑ پر اس کا بھی انتظار کر رہا ہے۔
آخری منزل سب کی وادی خاموشاں ہے۔ زندگی کی داستان‘ کیا طویل‘ کیا مختصر‘ ایک دن انجام کو پہنچنی ہے۔ جو سینت سینت کر‘ گن گن کر دولت سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں‘ ان کے ہاتھ بھی کفن میں خالی ہی ہوں گے۔ کیا جاتی امرا‘ کیا بلاول ہائوس‘ کیا دبئی کا آنکھوں کو خیرہ کرتا محل‘ کیا نیویارک کے پینٹ ہائوس اور کیا سنٹرل لندن کی خواب گاہیں‘ سب کچھ وارثوں کے لیے ہے اور وارثوں کے وارثوں کے لیے۔ زمین گردش میں ہے۔ اس پر کوئی محل‘ کوئی قصر دائمی نہیں۔ عقل مند وہی ہیں جو اپنی زندگی میں اپنی دولت دوسروں پر خرچ کردیتے ہیں۔ یہ وہ خوش بخت ہیں جنہوں نے موت کے بعد اپنے ٹھکانے ابھی سے آرام دہ بنا لیے ہیں۔




Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Saturday, September 08, 2018

بھنویں تنتی ہیں‘ خنجر ہاتھ میں ہے‘ تَن کے بیٹھے ہیں


ای جی برائون 1862ء میں انگلستان میں پیدا ہوا۔ باپ انجینئر تھا۔ برائون کو ترکی اور ترکی کے باشندوں میں دلچسپی تھی اس لیے اس نے مشرقی زبانیں پڑھنا شروع کر دیں۔1882ء میں اس نے قسطنطنیہ کا سفر کیا۔ پھر اس کی توجہ ایران اور فارسی کی طرف ہو گئی۔1893ء میں اس نے اپنی مشہور کتاب‘‘ایک برس ایرانیوں کے ساتھ‘‘ شائع کی۔ پھر وہ فارسی ادب میں غرق ہو گیاعمرِ عزیز کے بائیس برس لگا کر اس نے چار جلدوں میں ’’لٹریری ہسٹری آف پرشیا‘‘ لکھی جو ایک شہکار ہے۔ ان چار جلدوں میں ایران کی سیاسی تاریخ بھی ہے‘ معاشرتی بھی اور ادبی بھی! اس میں اس نے شبلی نعمانی کی ’’شعر العجم‘‘ کے حوالے بھی دیے ہیں۔ انکسار کا یہ عالم ہے کہ چوتھی جلد کے دیباچے میں اپنے حوالے سے سعدی کا وہ شہرہ آفاق شعر لکھا جو ہم نے اپنے بزرگوں سے اور انہوں نے اپنے بزرگوں سے سنا    ؎

کَفیت اذیً یا من تُعّدُ محاسنی

علانیتی ھذا و لم تدرباطنی

کہ تعریف کرتے ہو تو تکلیف ہوتی ہے کیونکہ یہ تو میرا ظاہر ہے‘ اور جو کچھ میں اندر سے ہوں تم لوگ جانتے ہی نہیں!!


1863
ء میں بہاء اللہ نے ایران میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ اور بہائی مذہب کی بنیاد رکھی۔ قدرتی طور پر ایرانی مسلمانوں کے جذبات بھڑک اٹھے۔ بہائیوں پر اور ان کی عمارتوں پر ہجوم حملہ آور ہوئے۔ یزد شہر میں 1903ء میں ایک سو بہائی قتل کئے گئے۔ برائون’’لٹریری ہسٹری آف پرشیا‘‘ میں اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ لکھتا ہے۔ اصفہان میں ایک مسلمان عالم دین(مجتہد) نے چند بہائیوں کو سزائے موت سنائی۔ ایک غیر ملکی نے جو ایران میں رہ رہا تھا۔ سفارش کی کہ انہیں معاف کر دیجیے۔ مجتہد نہ مانا۔ اُس غیر ملکی نے ‘ جو کئی سالوں سے ایران کے حالات کا جائزہ لے رہا تھا مجتہد کو مخاطب کر کے کہا۔’’آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا بہائی مذہب کی ترقی کا سبب بہائی مذہب کے اصولوں کی برتری ہے؟ ہرگز نہیں!! انہیں تو آپ نے اہمیت اور شہرت دی۔ آپ نے سزائیں دے دے کر انہیں ردعمل میں مبتلا کیا اور یہ پختہ ہو گئے۔ وگرنہ یہ تو چند سو کی تعداد میں تھے اور انہیں کوئی جانتا تھا نہ اہمیت دیتا تھا۔ یہ آپ ہیں اور آپ جیسے ہیں جنہوں نے بہائیوں کی تعدادمیں اضافہ کیا اور انہیں پکا کیا۔ ایک کو مارتے ہو تو اس کی جگہ لینے کے لیے کئی آ موجود ہوتے ہیں۔’’مجتہد نے یہ سن کر چند لمحے کے لیے سوچا اور پھر کہا۔ تم درست کہہ رہے ہو‘‘ پھر سزا معطل کر دی!

ہم پاکستانیوں کو اور ہمارے علماء کرام کو بھی یہ سوچنا ہو گا کہ کیا ہمارا مقصد قادیانیوں اور دوسرے غیر مسلموں کو اسلام کی آغوش میں واپس لانا ہے یا ان کی ترویج و اشاعت میں ان کی مدد کر کے ان کے مذہب کو پوری دنیا میں پھیلانا ہے؟

جب قومی اسمبلی نے غیر مسلم قرار دے دیا تو اس کے بعد ترغیب ‘تحریص اور تبلیغ کا دور آ جانا چاہیے تھا۔ مگر وہ ملک چھوڑ کر باہر جانے لگ گئے۔ آج وہ پوری دنیا میں پھیل چکے ہیں۔ انہیں ہر جگہ پناہ
(Asylum)
مل رہی ہے۔ ان ملکوں میں چونکہ مذہبی آزادی ہے اس لیے ان کی سرگرمیاں ان ملکوں میں روز افزوں ہیں۔ کسی کو اندازہ ہی نہیں کہ باہر انہیں کتنے فنڈز مل رہے ہیں۔ عبادت خانے تعمیر ہو رہے ہیں، اجتماع ہو رہے ہیں۔ عقاید کا پرچار کر رہے ہیں، ساتھ ہی نئے آنے والے ’’پناہ گزینوں‘‘ کے لیے مدد اور رہنمائی کے مراکز کھل رہے ہیں!

جو پاکستانی باہر رہ رہے ہیں یا جنہیں سفر کرنے کے زیادہ مواقع ملتے ہیں اور جنہوں نے قادیانیوں کے اندر جھانک کر دیکھا وہ جانتے ہیں کہ قادیانیوں کی نئی نسل اپنے عقاید پر سوالات پوچھتی ہے۔ ان نوجوان قادیانیوں کو یہ بتایا ہی نہیں جاتا کہ مرزا غلام احمد نے اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہا ہے اور انہیں جنگلوں کے سؤر اور ان کی عورتوں کو کتیا کہا ہے۔ اس پر تعجب اس لیے نہیں ہونا چاہیے کہ قادیانی جماعت ایک بند فرقہ
(CULT)
ہے۔ جس کا باہر کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ آمریت کا یہ عالم ہے کہ ارکان کی ذاتی زندگیاں بھی ’’اوپر‘‘ سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ چند سال قبل ورجینیا میں چالیس قادیانیوں کو جماعت ہی سے اس بنا پر خارج کر دیا گیا کہ انہوں نے کسی شادی کی تقریب میں کچھ آزاد خیالی دکھائی تھی۔ قادیانیوں کی نئی نسل یہ بات ہضم کرنے میں ہچکچا رہی ہے کہ ان کے نبی کو نہ ماننے والے کافر ہیں۔ جو قادیانی نوجوان مغربی ملکوں کی آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں ان کا رویہ اُس نسل سے مختلف ہے جو قبر میں پائوں لٹکائے بیٹھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لندن میں بیٹھی اس گروہ کی ہئیت مقتدرہ نئی نسل سے بہت سے قادیانی عقائد کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

دوسرا ایشو جس سے ہم اور ہمارے علماء غفلت برت رہے ہیں، یہ ہے، کہ قادیانیوں کا خاندانی نظام مربوط اور مضبوط برادری سسٹم پر قائم ہے۔ قادیانیت چھوڑنے والے نوجوان کے لیے برادری اور خاندان سے نکلنا از حد مشکل ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں نے اور ان کے علما نے قادیانیت چھوڑنے والے نوجوانوں کے لیے کوئی ایسی تنظیم نہیں بنائی جہاں یہ لوگ پناہ لیں‘ جہاں ان کی رہائش اور روزگار کا بندوبست ہو۔ ہمارا حال تو یہ ہے کہ کوئی ہندو‘ مسیحی یا قادیانی مسلمان ہو بھی جائے تو اسے رشتہ کوئی نہیں دیتا اور لیبل اس پر لگا ہی رہتا ہے!

ان دونوں پہلوئوں کو سامنے رکھ کر ضرورت اس بات کی تھی کہ تبلیغ کے حوالے سے ایسی پالیسی بنائی جاتی کہ ایک طرف تو قادیانیوں کی نئی نسل کو ان کے اصل عقائد سے آگاہ کیا جاتا کہ ان کے نام نہاد نبی نے مسلمانوں کے لیے کیسی زبان استعمال کی ہے۔ دوسری طرف ایسے ادارے بنائے جاتے جو قادیانیت سے تائب ہونے والے لوگوں کو سماجی اور مالی سہارا دیتے اور انہیں برادری کو خیر باد کہنے کا حوصلہ ہوتا۔ یہ سارا مسئلہ جوش سے زیادہ ہوش کا متقاضی تھا۔ قادیانیت کے عقاید غیر منطقی ہیں۔ ان کی بنیاد اس قدر کمزور ہے کہ اگر قادیانیوں کی نئی نسل کو قریب لانے کی کوشش کرتے تو یہ گروہ برف کی طرح پگھلنا شروع ہو جاتا لیکن سختی نے ان کی نئی نسل پر منفی ردعمل طاری کر کے اسے اس بے بنیاد مذہب پر پختہ تر اور ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ 

اصل مقصد یہ ہونا چاہیے تھا کہ انہیں بھگایا نہیں‘ واپس لایا جائے۔ مگر افسوس! مکمل مقاطعہ کی پالیسی اپنائی گئی۔ ’’نان ایشوز‘‘ یعنی غیر اہم معاملات پر زور دیا گیا۔ یہاں تک ہوا کہ کام نکلوانے کے لیے مسلمانوں کو قادیانی کہہ کر بلیک میل کیا گیا۔ اس کالم نگار کے علم میں ایسے کئی واقعات ہیں۔ مولانا زاہد الراشدی نے بھی ایسے کئی چشم دید افسوسناک واقعات کا تذکرہ کیا ہے۔  

اس قضیے کو ہم کس’’انداز‘‘ سے نمٹا رہے ہیں اور نمٹانا کس طرح چاہیے‘ اس کا حساب ایک سو فیصد سچے واقعے سے لگائیے۔

شمالی امریکہ کا ایک شہر تھا جہاں ایک پاکستانی کو ملازمت ملی۔ چوائس نہیں تھا۔ چند ہفتوں میں اسے احساس ہو گیا کہ پاکستانیوں کی تعداد وہاں کم ہے۔ ان چند پاکستانیوں میں بھی زیادہ تعداد اُن قادیانی حضرات کی تھی جو مذہبی بنیادوں پر پناہ
(ASYLUM)
لے کر آباد ہوئے تھے۔ اس کے سامنے دو راستے تھے ایک یہ کہ وہ ان کا مقاطعہ کرے۔ کسی تقریب میں جائے نہ میل ملاپ رکھے۔ دوسرا یہ کہ وہ ان لوگوں سے ملے اور جہاں بھی موقع مناسب لگے ڈائیلاگ کرے۔ اس نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ تقاریب میں جاتا۔ دعوتوں میں ان سے گھل مل جاتا۔ تفریحی پروگراموں میں شرکت کرتا نماز کا وقت ہوتا تو الگ نماز پڑھتا۔ یوں بھی ہوتا کہ وہ لوگ اسے خود ہی دوسرے کمرے میں جائے نمازبچھا دیتے۔

چند ماہ یہ گزرے تھے کہ ایک دن اسے ایک ٹیلی فون موصول ہوا۔ دوسری طرف ایک قادیانی نوجوان تھا، جو تقاریب میں اسے ملتا رہتا تھا۔ وہ گھر آنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ نوجوان آیا کئی گھنٹے گفتگو رہی۔ جاتے وقت اس نے پاکستان کے دو معروف علماء کے ای میل ایڈریس جاننا چاہے۔ یہ بھی کہا کہ اس ملاقات کا ذکر اُس کی کمیونٹی کے کسی فرد سے نہ کیا جائے۔

چند ہفتوں بعد نوجوان دوبارہ آیا اب کے نشست طویل تر تھی۔ اس بار اُس نے گفتگو قادیانیت کے متعلق کی۔ اس کے خیالات ’’غیر روایتی‘‘ تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ موقع اسے پہلی بار میسر آیا ہے کہ مذہب میں دلچسپی رکھنے والے ایک ایسے شخص سے گفتگو کر رہا ہے جو اُس کے مذہب سے تعلق نہیں رکھتا۔ چند ملاقاتیں اور ہوئیں۔ آخر ایک دن اس نے کہا کہ میں مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا۔

اس واقعہ کے بیان میں ایک رمق بھی مبالغہ آرائی کی نہیں! آپ کوئی کھڑکی، کوئی دروازہ ان کی طرف کھولیں گے تو کوئی اندر آپ کے پاس آئے گا۔ 

عاطف میاں خاندانی قادیانی نہیں، یہ 2002ء میں اس کنوئیں میں گرے۔ انہیں نکالنا نسبتاً آسان تھا۔  خدا نے یہ ہدایت کی ہے کہ ’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور موعظۃ الحسنہ(اچھی نصیحت) کے ساتھ دعوت دو اور بحث بہترین اسلوب کے ساتھ کرو‘‘

اگر اس کنوئیں میں گرنے والوں کو یہ احساس دلایا جاتا کہ جن لوگوں کو چھوڑ کر انہوں نے مذہب تبدیل کر لیا وہ لوگ کس قدر حسنِ سلوک سے پیش آ رہے ہیں اور ان پر قومی معاملات میں اعتماد کر رہے ہیں تو کوئی بعید نہیں‘ وہ اسلام کی آغوش میں واپس آ جاتے۔ وَمَا عَلیناَ اِلاّ البلاغ

Thursday, September 06, 2018

راجہ ظفر الحق صاحب کے نام کھلا خط



…رومی نے ہزار افسوس کے ساتھ بتایا تھا کہ شیخ ہاتھ میں چراغ لیے سارے شہر میں گھوما کہ میں شیطانوں اور عفریتوں سے دل برداشتہ ہو گیا ہوں اور اب مجھے کسی انسان کی آرزو ہے! ایک ہاتھ میں کیا‘ 

دونوں ہتھیلیوں پر چراغ رکھ کر پوری نون لیگ میں گھوم چکے سوائے آپ کے کوئی رجل رشید نہیں نظر آ رہا جس سے گلہ کریں‘ جس کا دامن پکڑ کر کھینچیں‘ جس سے فریاد کریں! آپ کا نام کبھی کسی مالی سکینڈل میں نہیں آیا۔ آپ نے شائستہ سیاست کی اور کبھی کسی کے لیے نازیبا الفاظ استعمال نہیں کئے۔ 

جناب راجہ صاحب! کاغذی طور پر ہی سہی آپ مسلم لیگ نون کے چیئرمین تو ہیں!شاید یہ واحد ادب آداب والا کام ہے جو زرپرست اور بھارت نواز شریف برادران سے صادر ہو گیا۔ آپ کے لیے یہ حقیقت ہرگز ہرگز قابل فخر نہیں کہ آپ اُس مسلم لیگ کے چیئرمین ہیں جس کی اصل‘ عملی قیادت شریف برادران اور اُن کے بچوں کے ہاتھ میں ہے جو اس ملک کو اپنی جاگیر سمجھتے رہے۔ مگر چلیے‘ اسے آپ کی سیاسی مجبوری سمجھ لیتے ہیں!۔ 

محترم بزرگوار! آپ عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں دنیا کی کم اور عقبیٰ کی فکر زیادہ ہوتی ہے۔ آپ نے سب کچھ دیکھ لیا۔ خسروی بھی۔ شاہجہانی بھی۔ وزارت بھی۔ مصر میں پاکستان کی سفارت بھی!پارلیمنٹ کی رکنیت بھی! آپ اقتدار کی ہر غلام گردش میں ہر موڑ مُڑے ہیں۔ آپ نے ہر راہداری پر قدم رکھا ہے۔ ہر دالان سے گزرے ہیں۔ ایک مدت سے آپ سوسائٹی کے اعلیٰ ترین طبقے میں ممتاز نشست پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ کا کیا نقصان ہو جاتا اگر آپ مولانا فضل الرحمن کی امیدواری سے اختلاف کرتے ہوئے بطور چیئرمین مستعفی ہو جاتے؟ اس چیئرمینی کو بچا کر آپ نے کیا پایا ہے؟ 

حرمت فروشوں کے اس انبوہ میں کیا آپ نے بھی نہ سوچا کہ مسلم لیگ نون …جیسی بھی ہے‘ قائد اعظم کا نام لیتی ہے اور اپنے آپ کو اس جماعت کا وارث کہتی ہے جس نے کانگرس کی مخالفت کی۔ جس کا مقابلہ اُس جمعیت العلما نے ڈنکے کی چوٹ کیا جس کے آج فضل الرحمن وارث ہیں! آپ 1947ء میں مقتدر ہوتے تو کیا مولانا ابوالکلام آزاد کو پاکستان کا گورنر جنرل بناتے اور کیا مولانا حسین احمد مدنی کو پاکستان کا جھنڈا لہرانے کا اعزاز سونپتے؟ 

آپ اس حقیقت کو بھی چھوڑ دیجیے کہ ایک معروف صحافی نے الیکٹرانک میڈیا پر وہ دستاویزات دکھائیں جن میں مولانا کو اور ان کے قریبی رفقا کو سینکڑوں کنال اراضی وطن فروش پرویز مشرف نے بھاڑے میں دی! 

آپ اسے بھی بھول جائیے کہ ڈیزل کے پرمٹ کی کون سی کہانی کس سے وابستہ ہے۔ 

آپ اس سے بھی صرفِ نظر کر لیجیے کہ یہ مولانا صاحب ہر حکومت سے فوائد سمیٹتے رہے ہیں۔ وزارتیں لیتے رہے ہیں اور بیک وقت حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں شامل رہے ہیں۔ 

آپ اس چابکدستی پر بھی نہ جائیے کہ یہ ہر انٹرویو میں نظریات کا نام لیتے ہیں اور آج تک کسی کو علم نہ ہو سکا کہ یہ کون سے نظریات ہیں۔ 

اس بات سے بھی چشم پوشی اختیار کر لیتے ہیں کہ بدنام ترین وزارت کا بدنام ترین عہد ان کی جماعت سے وابستہ تھا۔ 

چلیے‘ ہم اس حقیقت کو بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں کہ قیام پاکستان کی مخالفت مولانا نے نہیں‘ ان کے بزرگوں نے کی تھی۔ یہ بات انہوں نے نہیں‘ ان کے مرحوم والد نے فخر سے کہی تھی کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہ تھے۔ پاکستان کی سر توڑ مخالفت کرنے والے یہ نہیں‘ ان کے نظریاتی بزرگ تھے۔ 

مگر آپ کو یہ خیال بھی نہ آیا کہ خود مولانا نے آج تک قائد اعظم کا نام کسی بیان کسی تقریر کسی ریزولیوشن میں نہیں لیا؟ انہوں نے تحریک پاکستان کی موافقت میں آج تک اپنے خاندانی اور روحانی بزرگوں کے موقف سے بال برابر انحراف نہیں کیا۔ فاتحہ خوانی کے لیے آج تک قائد کے مزار پر نہیں گئے۔ 

جناب راجہ صاحب! جناب چیئرمین مسلم لیگ! یہ حقیر کالم نگار آپ کو چیلنج کرتا ہے کہ آپ نے بطور چیئرمین جس شخصیت کو پاکستان کی صدارت کے لیے منظور کیا اس کی زبان سے ایک بار‘ فقط ایک بار۔ جی ہاں! صرف ایک بار ’’قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ کے الفاظ کہلوا دیجیے! ایک بار ۔ صرف ایک بار! جی ہاں! فقط ایک بار انہیں قائد اعظم کے مزار پر فاتحہ خوانی کے لیے بھجوا دیجیے۔ اگر یہ چیلنج آپ قبول نہیں کر سکتے تو اب بھی وقت ہے استعفیٰ دے دیجیے اور اعلان کیجیے کہ یہ نامزدگی تحریک پاکستان سے غداری تھی! چلیے! غداری کا لفظ بھی چھوڑ دیجیے‘ اتنا ہی اعتراف کر لیجیے کہ مسلم لیگ نون تحریک پاکستان سے بے وفائی کی مرتکب ہوئی ہے۔ 

آپ پرانے وقتوں کے بزرگ ہیں۔ اس مصرع کا مطلب خوب سمجھتے ہیں ع

ببین کہ از کہ بریدی و با کہ پیوستی؟

آپ نے مسلم لیگ کا سربراہ ہوتے ہوئے کن سے ناتا جوڑا؟ آپ نے اگر کسی مذہبی رہنما ہی کو صدارت کا امیدوار بنانا تھا تو کیا آپ کو پورے ملک میں کوئی ایسی شخصیت نہ نظر آئی جو مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا مفتی محمد شفیع کی یادگار ہو؟ مولانا حسین احمد مدنی ہی کے سیاسی جانشین پر آپ کی نظر کیوں پڑی ؟ حضور!!آپ مسلم لیگ کے چیئرمین ہیں یا کانگرس کے؟ 

بارہ نومبر 2017ء کا اخبار منگوا کر پڑھیے ۔ہارون الرشید کیا لکھتے ہیں۔

’’حضرت (مولانا فضل الرحمن) بھارت تشریف لے گئے۔ اور یہ کہا کہ ایک عدد گول میز کانفرنس بلا کر پاک بھارت سرحد ختم کی جا سکتی ہے۔ قاضی حسین احمد نے اپنے حلیف کے لیے جوازڈھونڈنے کی کوشش کی مگر منور حسن ڈٹ گئے‘ قاضی صاحب کو خاموش ہونا پڑا۔ جماعت اسلامی کے اجتماعی ضمیر نے قاضی صاحب کی تاویل کو مسترد کر دیا۔‘‘ 

منور حسن آج جماعت کے امیر ہوتے تو اس صدارتی نامزدگی کو کبھی قبول نہ کرتے۔ چلیے‘ جماعت اسلامی کی تو مجبوری تھی۔ اس کا سربراہ ایک ایسا شخص ہے جس کے گوناگوں اور متناقض بیانات اس کی سیاسی ناپختگی کا ثبوت ہیں مگر آپ؟ آپ تو ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ منجھے ہوئے مسلم لیگی ہیں‘ آپ کی فکر کو کیا ہوا؟ تو کیا آپ کے عہدِ چیئرمینی میں مسلم لیگ‘ جماعت اسلامی سے بھی اسفل ہو گئی؟؟؟ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ 

آپ ساری زندگی خار زارِ سیاست میں چلنے کے باوجود یہ بات نہ سمجھ سکے کہ شریف برادران مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کا تو ایجنڈا ایک ہے! ان میں تو قدرِ مشترک اس لکیر کو مٹانے کا عزم ہے جو تقسیم نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کھینچی تھی۔ ایک اگر بھارت جا کر کہتا ہے کہ گول میز کانفرنس بلا کر پاک بھارت سرحد ختم کی جا سکتی ہے تو دوسرا پاکستان کا وزیر اعظم ہوتے ہوئے برملا کہتا ہے کہ بس درمیان میں بارڈر آ گیا ہے ورنہ ہمارا ایک ہی کلچر ہے ایک ہی بیک گرائونڈ ہے۔ مگر آپ کا تو یہ ایجنڈا نہ تھا! پھر آپ کیوں خاموش رہے؟ 

اُس پروردگار کی قسم! جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو قائد اعظم عطا کیا اور اُس خالق کائنات کی قسم! جس نے خلقت کو اتنا فہم دیا کہ محمود خان اچکزئی کے والد کو ’’بلوچی گاندھی‘‘ کے نام سے پکاریں‘ جس دن نواز شریف نے کوئٹہ کے جلسہ عام میں کہا تھا کہ ’’محمود خان اچکزئی، نواز شریف سب ایک ہیں، محمود اچکزئی کے ساتھ میرا نظریاتی تعلق ہے۔ عبدالصمد اچکزئی نے نظریے کی جنگ لڑی ہم نے ان کے نظریے پر عمل کیا ہے‘‘ تو جناب چیئرمین صاحب! مسلم لیگ! آ پ کو اسی دن اسی وقت اس پر احتجاج کرنا چاہیے تھا۔ مگر افسوس! ایک برائے نام چیئرمینی کی خاطر ہر موقع پر آپ کی زبان گنگ رہی، یہاں تک کہ شریف برادران نے پاکستان کی تحریک اور پاکستان کے وجود میں چھرا گھونپتے ہوئے‘ اس شخص کو صدارتی امیدوار نامزد کیا جو پوری زندگی قائد اعظم اور تحریک پاکستان کا نام زبان پر نہ لایا اور آپ پھر بھی چُپ رہے! 

اتنی بھاری قیمت !! 

اس چیئرمینی کے لیے!! 

تو پھر تو یہ چیئرمینی بہت مستقل اور لافانی ہو گی! 

خدا کرے آپ سینکڑوں برس اس منصب پر فائز رہیں ؎ 

تم سلامت رہو ہزار برس 

ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار



Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Tuesday, September 04, 2018

سماجی شعور بازار میں دستیاب نہیں



دارالحکومت میں دو روز پیشتر بھیڑ بکریوں اور گایوں بھینسوں کا ایک انبوہ دیکھا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اس قوم کو قائد اعظم ٹھیک کر سکے نہ عمران خان کر سکتا ہے۔ مہاتیر آ جائے تب بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ چرچل سے لے کر ڈیگال تک اور اتاترک سے لے کر لی کوان یوتک سب قبروں سے اٹھ کر آ جائیں تب بھی بھیڑ بکریوں گایوں بھینسوں کا یہ ریوڑ انسانوں میں نہیں بدل سکتا!

بھیڑ بکریوں اور گایوں بھینسوں کے اس انبوہ کو دیکھ کر اس نتیجے پر بھی پہنچنا پڑا کہ اس قوم کی بدحالی کا ذمہ دار کوئی سیاست دان ہے نہ جرنیل۔ کوئی بیورو کریٹ ہے نہ مولوی! اس قوم کا ہر فرد خود ذمہ دار ہے۔ ہر شخص مجرم ہے۔وہ جو اقبال نے کہا تھا کہ‘ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا ‘تو یہاں ہر فرد ستارا نہیں تباہی کا استعارہ ہے! 

-   ایک معروف گلو کارہ کے ساتھ موسیقی کا پروگرام تھا۔ بنیادی طور پر یہ ایک کمرشل یعنی خالص کاروباری معاملہ تھا ۔ایک ایک ٹکٹ کے لیے روپوں کی بھاری مقدار وصول کی گئی تھی۔ بھاری! بہت بھاری! دوست احباب اس فقیر کو بھی کھینچ کھانچ کر‘ مار کٹ کر‘ لے گئے۔ اس گلو کارہ نے کبھی بھی متاثر نہیں کیا۔ مگر فائدہ یہ ہوا کہ دماغ صاف ہو گیا۔سب کچھ پہلے سے معلوم تھا مگر نئے پاکستان کے تناظر میں غور کرنے کا ایک اور نکتہ سامنے آ گیا

- ۔ خدا کسی قوم کی حالت نہیں تبدیل کرتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو تبدیل نہ کرے۔ عمران خان کی کیا حیثیت ہے! پیغمبر خدا سے فریادیں کر کر‘ رو رو‘ اس دنیا سے چلے گئے۔

درد ناک ترین فریاد حضرت نوح علیہ السلام کی ہے۔ ہمارے ہاں قرآن پاک سمجھ کر پڑھنے کا رواج نہیں ہے۔ ماہر القادری کی معرکہ آرا نظم ’’قرآن کی فریاد‘‘ یاد آ رہی ہے۔



طاقوں میں سجایا جاتا ہوں‘ آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں 



تعویذ بنایا جاتا ہوں دھو دھو کے پلایا جاتا ہوں 



جُزدان حریری و ریشم کے اور پھول ستارے چاندی کے 



پھر عطر کی بارش ہوتی ہے خوشبو میں بسایا جاتا ہوں 



جیسے کسی طوطے مینا کو کچھ بول سکھائے جاتے ہیں 



اس طرح پڑھایا جاتا ہوں اس طرح سکھایا جاتا ہوں 



جب قول و قسم لینے کے لیے تکرار کی نوبت آتی ہے 



پھر میری ضرورت پڑتی ہے ہاتھوں پہ اٹھایا جاتا ہوں 



دل سوز سے خالی رہتے ہیں آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں 



کہنے کو اک اک جلسے میں پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں 



کس بزم میں مجھ کو بار نہیں کس عرس میں میری دھوم نہیں 



پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں



 ۔آدمی کو انسان بنانے کے لیے سورہ نوح ہی کافی تھی۔جوش ملیح آبادی نے کہا تھا ؎ 



ہم ایسے اہلِ نظر کو ثبوتِ حق کے لیے 



اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھی 



مگر پروردگار نے صبح شام‘ رات‘ ستاروں ‘ سورج موسموں کی نشانیاں بھیجیں۔ پھر اتمام حجت کے لیے رسول بھی بھیجے ۔ ایک ایک رسول سو سو برس منتیں کرتا رہا کہ انسان بن جائو۔ دیکھیے ‘کتنا درد ناک منظر ہے۔ خدا کارسول کس طرح فریاد کر رہا ہے کہ خدایا میں نے انہیں دن کو بھی بلایا۔ راتوں کو بھی آواز دی۔ مگر جب بھی بلایا یہ اور دور بھاگے۔

یہاں تک کہ انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیتے تاکہ میری آواز سن ہی نہ سکیں۔ یہ اتنے بدبخت ہیں کہ مجھے دیکھ کر کپڑے سے چہرے ڈھانپ لیتے۔ میں نے انہیں بلند آواز سے علانیہ بھی بلایا‘ مخفی طور پر بھی دعوت دی مگر تکبر کے علاوہ ان کے ردعمل میں کچھ نہ تھا۔



مجھے یاد ہے کہ مولانا غلام اللہ خان مرحوم جب اس آیت پر پہنچتے تھے واستغشو اثیابھم تو ان کی آواز بھرا جاتی۔ ذرا چشم تصور سے دیکھیے۔ ایک جلیل القدر پیغمبر سینکڑوں برس ان لوگوں کے پیچھے پھرتا رہا ‘فائدہ سراسر ان لوگوں کا اپنا تھا۔ کچھ بھی تو نہیں مانگ رہا تھا سوائے اس کے کہ‘ اپنے آپ کو بدل لو اور وہ اسے دیکھتے تو کانوں میں انگلیاں دے لیتے اور چہروں پر کپڑے ڈال لیتے!!



ساری دنیا بدل گئی۔ شرق اوسط کے عرب آج بھی اسی طرح اکھڑ اور متکبر ہیں۔ ایک صاحب جو عربی زبان میں طاق ہیں‘ دو برس پہلے حج کو آئے مدینہ منورہ میں ایک دکان میں داخل ہوئے ‘سلام کیا۔ دکاندار نے جواب نہ دیا۔ بات کی ‘اس نے سنی نہ جواب دیا۔ عربی میں انہوں نے نہایت نرمی سے احتجاج کیا کہ بھائی ! کچھ ادب آداب بھی ہوتے ہیں سلام کا جواب دیتے ہو نہ بات کا! کہنے لگا ’ انا ادب و ابن الادب ! و انت اخرج ‘کہ میں سراپا ادب ہوں اور ادب کا سپوت ہوں اور تم دکان سے دفع جائو! نہیں! 



ہرگز نہیں! کوئی عمران خان اس قوم کو راہ راست پر نہیں لا سکتا۔ بھیڑ بکریوں کے اس ریوڑ میں سب اعلیٰ تعلیم یافتہ امرا اور ایلیٹ کلاس کے جانور تھے اس لیے کہ نچلے طبقے کے افراد اس گراں بہا داخلے کو جھیل ہی نہیں سکتے تھے‘ یہ عمائدین تھے معززین! ٹاپ کلاس!

سوسائٹی کے ذہنی لحاظ سے اگر نہیں تو مالی لحاظ سے کریم! عورتوں کے بال ترشے ہوئے تھے‘ مردوں میں پونیوں اور زلف ہائے دراز والے تھے۔ لباس ایسے ایسے کہ حیرت کو بھی دعوت دیتے اور ہنسی کو بھی۔ کچھ کا تو یہ بھی نہیں معلوم ہو رہا تھا کہ کس صنف سے تعلق ہے۔ مگر یہ ان کے ذاتی چوائس ہیں ہم تو محض تذکرہ کر رہے ہیں۔

ہمیں کیا اگر شاخ گل پر زمزموں کی دھن تراشیں یا پتے لپیٹ لیں ع 

میری بلا سے بُوم رہے یا ہما رہے! 

مسئلہ لباس اور ہیئر سٹائل کا نہیں! مسئلہ رویے کا ہے۔ کنڈکٹ کا ہے! سوک سینس کا یعنی سماجی شعور کا ہے۔ آپ جیسا چاہتے ہیں ہیئر سٹائل رکھیں‘ جو لباس پسند ہے زیب تن کریں مگر ذہنی پختگی کا تو ثبوت دیں - اقبال نے یہی تو سمجھایا تھا۔ 



نی ز سحرِ ساحران لالہ رُوست 



نی ز عریاں ساق ونی از قطعِ موست 



حکمت از قطع و برید جامہ نیست 



مانع علم وہنر عمامہ نیست



 ’’کہ مغرب کی طاقت حسینائوں کے سحر سے ہے نہ کھلی پنڈلی ‘سے نہ تراشیدہ زلف سے! نہ لباس کی تراش خراش سے - عمامہ علم و ہنر سے روکتا نہیں۔ آج کے دور میں اقبال ہوتے تو یہ بھی کہتے کہ خدا کے بندو! عمامہ علم و ہنر اور تقویٰ کی دلیل بھی نہیں! اس لیے کہ ایک بڑھیا ملا نصرالدین کے پاس خط پڑھوانے آئی۔ ملا نے کہا کہ میں تو پڑھا لکھا ہی نہیں! بڑھیا نے طعنہ دیا کہ اتنا بڑا پگڑ سر پر رکھا ہوا ہے اور خط نہیں پڑھ سکتے۔ ملا نے عمامہ اپنے سر سے اتار کر بڑھیا کے سر پر دھرا اور کہا لو‘ اب خود پڑھ لو!



سات بجے کا وقت تھا شائقین اس سے بھی پہلے کے بیٹھے ہوئے تھے۔ بچوں کے ساتھ اور خاندانوں کے بزرگوں کے ساتھ! ایک گھنٹہ گزر گیا سٹیج پر زندگی کے آثار بدستور مفقود تھے۔ منتظمین کے گروہوں کے گروہ ادھر ادھر چہل قدمیاں کر رہے تھے یا ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے‘ پھر ڈیڑھ گھنٹہ گزرا۔ پھر دو گھنٹے گزر گئے۔ اب سٹیج پر ان ناپختہ گلو کاروں کو بلایا جانے لگا جنہیں سننے کا کسی کو اشتیاق نہ تھا۔



پھر یہ اعلان ہوا کہ کچھ ڈاکٹر کسی خاص طریقہ علاج کا تعارف کرائیں گے۔ اب عطائیوں نے آ کر اپنی تشہیر شروع کر دی اس لیے کہ جینوئن ڈاکٹر کو ایسے مجمع میں اپنے تعارف کی کیا ضرورت ہے! یہ تو چلتی بس میں دوا بیچنے والی بات ہوئی۔ جب تین گھنٹے گزر گئے تو دو گوشوں سے کچھ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے صدائے احتجاج بلند کی۔ مگر طرفہ تماشا یہ ہوا کہ اکثریت لاتعلق ہو کر بیٹھی رہی۔



احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو الٹا یہ کہا گیا کہ کیا کر رہے ہو! یہ لوگوں کا انبوہ نہ تھا۔ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ تھا جو اتنا احتجاج کرنے کا شعور بھی نہ رکھتے تھے کہ روپوں کی بوریاں لی ہیں تو تین گھنٹے انتظار کیوں کراتے ہو؟

اس پروردگار کی سوگند جس نے بھیڑ بکریوں اور گایوں بھینسوں کو بے تحاشا مالی وسائل دیے‘ گلو کارہ صبح کی اذان کے وقت بھی آتی تو یہ چوں تک نہ کرتے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی ذہنی بے حسی کو ماپنے کے لیے بادشاہ نے حکم دیا تھا کہ دریا پار کرنے والے کی پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں تو ان لوگوں نے مطالبہ کیا تھا کہ کوڑے مارنے والوں کی تعداد بڑھا دو تاکہ ہم جلد فارغ ہو جایا کریں!

کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ کسی ترقی یافتہ ملک میں سنگا پور میں یا جرمنی میں یا جاپان میں لوگوں سے ڈھیر سارے روپے لے کر تین تین گھنٹے انتظار کرایا جائے؟ یہ صرف اسی سرزمین پر ممکن ہے جہاں ولیمے کی دعوت پر اعلیٰ تعلیم یافتہ مویشی‘ لباس ہائے فاخرہ پہنے‘ ایک چپاتی اور بریانی کی ایک پلیٹ کے لیے پانچ چھ گھنٹے انتظار کرتے ہیں اور احمقوں اور ہونقوں کے کھلے دہانوں میں بھنبھناتی مکھیاں راستے بنا لیتی ہیں!

یہ وہی قوم ہے جس کے فیشن ایبل بازاروں اور مالوں میں غیر ملکی برانڈ خریدی ہوئی شے واپس کر کے رقم لوٹا دیتے ہیں مگر کوئی پاکستانی صنعت کار ایسا نہیں کرتا ‘اس لیے کہ ان مقامی برانڈوں کو معلوم ہے یہ بھیڑ بکریاں ہیں- ان صارفین میں اتنا شعور نہیں کہ ایک ماہ صرف ایک ماہ ایسے برانڈوں کا بائیکاٹ کریں تاکہ یہ اس فرعونیت سے باز آئیں! یہ وہی بھیڑ بکریاں ہیں جو گوشت کے بائیکاٹ کا کہہ کر ‘ رات کے اندھیرے میں پورے پورے بکرے خرید لیں ؎ 



ان ظالموں پہ قہر الٰہی کی شکل میں



 نمرود سا بھی خانہ خراب آئے تو ہے کم 



مگر مشکل یہ ہے کہ سماجی شعور بازار میں دستیاب نہیں





 

powered by worldwanders.com