Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Tuesday, July 16, 2019

روک سکتے ہو تو روک لو


 
‎یہ میں ابتدا ہی میں واضح کر دوں کہ میرا دین، ایمان، وطن، قبیلہ، خاندان، زبان، ایک ہے صرف ایک۔ اور وہ ہے پیسہ! 

‎وہ جو لطیفہ مشہور ہے کہ تاجر کو نزع کے وقت سب کلمہ پڑھنے کی تلقین کر رہے تھے اور وہ ایک ہی بات کہے جا رہا تھا کہ دکان کا تالا چیک کرو۔ دکان کا تالا چیک کرو۔ تو وہ محض لطیفہ نہیں‘ ایک حقیقت کا اظہار ہے۔ یہ حقیقت کیا ہے؟ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے راکٹ سائنس کی ضرورت ہے نہ آئن سٹائن بننے کی!حقیقت یہ ہے کہ میرا اوڑھنا بچھونا پیسہ ہے۔ پیسے ہی سے میرا پیمان وفا ہے۔ میں لاکھ نمازیں پڑھوں، دیگیں تقسیم کروں، عمرے اور حج کروں، پائنچے گھٹنوں تک چڑھا لوں۔ نصب العین میرا صرف اور صرف پیسہ رہے گا! 

‎اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس انتہا درجے کی زرپرستی کے باوجود مجھ میں تھوڑی بہت انسانیت موجود ہو گی تو آپ احمق ہیں۔ انسانیت کی رمق تک مجھ میں نہیں پائی جا سکتی۔ آپ مجھ پر دنیا کا ہر الزام لگا سکتے ہیں مگر مجھ پر انسانیت کا الزام نہیں لگا سکتے۔ میرا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں! ایسا ہوتا تو آپ خود سوچیے میں معصوم بچوں کے لئے ناخالص دودھ ڈبوں میں بند کرتا!میں دوائیں جعلی بیچتا؟ میں غذا میں ملاوٹ کرتا؟ 

‎یہاں میں یہ واضح کر دوں کہ میں چھوٹا دکاندار ہوں یا بڑا معروف برانڈ ہوں یا بڑی کمپنی‘ اندر سے میں ایک ہوں میں دکاندار بھی ہوں‘ برانڈ بھی ہوں اور کمپنی بھی! میرا اولین فریضہ گاہک کو ذلیل اور پریشان کرنا ہے۔ دنیا کے سارے مہذب ملکوں میں دکانداروں اور کمپنیوں کی ری فنڈ پالیسی ہے‘ یعنی خریدا ہوا مال رسید دکھا کر واپس کیا جا سکتا ہے۔ مگر پاکستان میں یہ کام میں نہیں کرتا نہ کرنے دیتا ہوں۔ آپ دارالحکومت کے بڑے بڑے مال دیکھ لیجیے۔ سنتارس ہے یا گیگا مال۔ کفّار کا ایک برانڈ یہاں اپنا بزنس کر رہا ہے۔ ان کا اصول ہے کہ چودہ دن کے اندر اندر خریدار ہوا مال واپس لے لیتے ہیںاور رقم گاہک کے حوالے! مگر پاکستانی برانڈ یہاں جتنے بھی ہیں‘ اگر گاہک ایک گھنٹے بعد بھی واپس کرنے آئے رسید بھی دکھائے‘ تب بھی منہ کی کھاتا ہے۔ 

‎مجھ پر الزام ہے کہ ٹیکس نہیں دیتا۔ ہاں!ٖمیں ٹیکس چوری کرتا ہوں!ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں کہ حساب کتاب کے رجسٹر اصل الگ ہیں اور ٹیکس والوں کو دکھانے کے الگ۔ کوئی دیانت دار اہلکار ٹیکس کے محکمے سے آ جائے تو اسے کرپٹ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ اس لئے کہ جب میں دیگیں پکا کر تقسیم کرتا ہوں‘ مسجدوں، مدرسوں میں چندے دیتا ہوں‘ علماء کرام کی دعوتیں کرتا ہوں، پانچ نمازیں پڑھتا ہوں، رمضان میں تراویح پڑھانے والے حافظ صاحب کی خدمت کرتا ہوں تو اس سب کچھ کے بعد ٹیکس کیوں دوں؟ 

‎رہا حکومت کا حکم کہ شناختی کارڈ دیکھا‘ دکھایا جائے اور نمبر بتایا جائے یا یہ کہ ایف بی آر کے نمائندے میری جائے کاروبار پر آ کر معائنے کرتے پھریں تو اس کی اجازت ہرگزنہیں دوں گا۔ یہ جو خناّس سمایا ہے موجودہ حکومت کے ذہن میں کہ بزنس کو دستاویزی(ڈاکومینٹڈ) کرے گی تو یہ نہیں ہونے دوں گا۔ یہ امریکہ ہے نہ سنگا پور‘ جاپان ہے نہ کینیڈا۔ یہ پاکستان ہے۔ یہاں جیسا ہوتا آیا ہے ویسا ہی ہو گا۔ 

‎حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ طاقت ور عناصر سارے میرے ساتھ ہیں۔ ساری حزب اختلاف ! سارے مذہبی عناصر‘ تمام بیرونی قوتیں! حزب اختلاف اس لئے میری حمایت کر رہی ہے کہ میری طرح انہیں بھی حب الوطنی سے کوئی غرض نہیں۔ وہ میرے کندھے پر رکھ کر اپنی بندوق چلا رہے ہیں۔میری ہڑتال کی حمایت کر رہے ہیں۔ معیشت کا پہیہ جام ہو گا تو حکومت ناکام ہو گی۔ میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ حزب اختلاف کا ٹارگٹ بھی یہی ہے۔ 

‎ستارے اگر میرے حق میں ہیں تو حکومت کی اپنی بدبختی ہے۔ حزب اختلاف میں قیادت جن عناصر کے ہاتھ میں ہے۔ وہ خود لوٹ مار کے بادشاہ ہیں۔ پرانے پاپی ہیں۔ دولت کے انبار سے بیرون ملک ان کی تجوریاں چھلک رہی ہیں۔ ان کی جائیدادوں اور کارخانوں کی پشت پر قانونی دستاویزات نہیں ہیں‘وہ میرا ساتھ نہیں دیں گے تو کون دے گا۔ 

‎رہے مذہبی عناصر‘ تو انہیں میں نے خوش رکھا ہوا ہے۔یوں بھی جب مذہبی جماعتی پراپرٹی ڈیلروں کے ہاتھ میں ہیں تو مجھے اور کیا چاہیے! اُن کے نزدیک یہ ٹیکس یہ شناختی کارڈ کی پابندی‘ یہ ایف بی آر کے قوانین‘ یہ دستاویزات کا سلسلہ‘ سب حکومتی ہتھکنڈے ہیں جنہیں ہر حال میں ناکام ہونا چاہیے۔ 

‎ستر سال سے میں ایک نظام کا عادی ہوں۔ اس نظام میں چور بازاری‘ ذخیرہ اندوزی ،شے کا نقص چھپانا‘ حساب کتاب کی کتابیں دُہری دُہری رکھنا، بازار دن کو ایک بجے کھولنا‘ آدھی رات کو بند کرنا، گاہکوں کے ساتھ وعدہ خلافی کرنا‘ جھوٹ بول کر منافع زیادہ کمانا‘ دکان کے باہر فٹ پاتھ پر قبضہ کرنا‘ سامنے جتنی بھی جگہ ہے‘ یہاں تک کہ سڑک بھی اس پر مال اسباب رکھنا‘ یہ سب کچھ اس نظام کا حصہ ہے۔ میں اس نظام کو بدلنے نہیں دوں گا۔ مجھے یہی راس آتا ہے۔ اس میں محنت کم ہے اور نفع زیادہ! 

‎میں تاجر ہوں،دکاندار ہوں، ہول سیلر ہوں، پرچون فروش ہوں، جو کچھ بھی ہوں اپنی مرضی کروں گا۔ ملک ترقی کرے یا پس ماندہ رہے۔ توانائی بچے یا اس کا ضیاع ہو، پاکستان قوموں کی برادری میں باعزت سمجھا جائے یا بدنام ہو‘ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں! میں تو اتنا غلیظ ہوں کہ بازار گندہ ہو، متعفن ہو ،تب بھی وہیں بیٹھا پیسے کماتا رہتا ہوں۔ سڑک ٹوٹی ہوئی ہو،گڑھوں میں بارش کا پانی رکا ہوا ہو‘ مجھے اس سے کیا؟ میں ان چیزوں پر اپنی حلال کی کمائی سے ایک پائی بھی خرچ کرنے کا روادار نہیں! یہ حکومت کا کام ہے۔ کرے نہ کرے‘ اس کی مرضی! نہ کرے تب بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میری کرسی‘ میری گدی‘ اگر غلیظ پانی پر تیر بھی رہی ہو تب بھی مجھے منظور ہے بشرطیکہ تجوری بھرتی رہے! 

‎میں لگے ہاتھوں حکومت کو یہ بھی بتا دوں کہ مجھ سے شرافت کی توقع نہ رکھے۔ضرورت پڑنے پر میں غنڈہ گردی بھی کر سکتا ہوں، بدمعاشی بھی دکھا سکتا ہوں۔میں اپنی ہوسِ زر بجھانے کے لئے آخری حد تک بھی جا سکتا ہوں۔ مجھے اپنی اس شہرت پر فخر ہے کہ گاہک‘ خریدا ہوا مال بدلنے‘ یا شے کا نقص دکھانے میرے پاس واپس آتے ہوئے سو بار سوچتا ہے۔ اسے پتہ ہے میں اس کی بے عزتی کروں گا۔ میں تاجر ہوں! حرام کھائوں گا اور ڈٹ کر کھائوں گا ؎ 

‎ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں 
‎جسے غرور ہو آئے کرے شکارمجھے 

‎وضاحت: اس ملک میں قلیل تعداد دیانت دار اور محب وطن تاجروں اور دکانداروں کی بھی ہے۔ اس کالم میں اشارہ ان کی طرف نہیں ہے۔

Sunday, July 14, 2019

—-‎اقدار کی جنگ


‎ایک کتاب کی تلاش تھی۔ لائبریری میں ڈھونڈی تو مل گئی۔ دو نسخے تھے۔ اتفاق سے ممبران نے دونوں لے رکھے تھے۔ ایک نسخہ اپنے لئے محفوظ کرا لیا۔ جس کا مطلب تھا کہ باری آنے پر مطلع کیا جائوں گا۔ 

‎کچھ دن گزرے تھے کہ ای میل موصول ہوئی کہ کتاب واپس آ چکی ہے فلاں تاریخ تک انتظار کیا جائے گا۔ اگر تب تک لائبریری جا کر ایشو نہ کرائی تو کسی اور منتظر رکن کو دے دی جائے گی۔ 

‎دوسرے دن لائبریری پہنچ گیا۔ رہائش گاہ سے لائبریری کا پیدل فاصلہ بیس پچیس منٹ کا ہے۔ ایک مخصوص الماری میں ریزرو کتابیں پڑی ہوتی ہیں۔ حروف تہجی کے اعتبار سے نام فوراً مل گیا۔ اس کے بعد ایک خاص کمپیوٹر پر جانا تھا۔ اسے آن کیا۔ لائبریری کارڈ پر بنا ہوا۔’’بار کوڈ‘‘ خاص جگہ پر رکھا ۔کتاب کمپیوٹر کے سامنے رکھی۔ کمپیوٹر نے بتایا کہ کتاب ایشو کر دی گئی ہے پھر پوچھا کہ کیا رسید بھی مطلوب ہے؟’’ہاں‘‘ والی جگہ پر سکرین کو ٹچ کیا۔ فوراً رسید باہر نکل آئی۔ اس پر لکھا تھا کہ فلاں کتاب لی گئی ہے اور فلاں تاریخ تک واپس کرنا ہو گی۔ کتاب لے کر باہر آ گیا اس سارے عمل میں لائبریری کے کسی ملازم کسی اہلکار کا کوئی کردار نہ تھا ۔کسی سے بات نہ کرنا پڑی ۔کسی سے اجازت نہ لینا پڑی۔ انسانی رابطہ صفر تھا۔ 

‎جنہیں ہم ترقی یافتہ ملک کہتے ہیں، ان میں انسانی رابطے کو ختم کرنے کی یا ہر ممکن حد تک کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آپ نے ٹرین پر سفر کرنا ہے ۔مشین سے ٹکٹ لیجیے۔ ٹرین کا برقی ٹائم ٹیبل پڑھ کر ٹرین کی روانگی کا وقت دیکھیے۔ پلیٹ فارم نمبر بھی درج ہو گا۔ پلیٹ فارم پر پہنچیں گے تو وہاں پھر ایک برقی بورڈ لگا ہو گا۔ گاڑی آنے میں کتنا وقت ہے؟ یہ ٹرین کس کس سٹاپ پر رکے گی؟ ساری تفصیلات سامنے دیکھی جا سکتی ہیں سفر ختم ہونے تک مسافر کو کسی سے کچھ پوچھنا پڑا نہ رقم دینے کے لئے یا ٹکٹ لینے کے لئے کھڑکی کے سامنے کھڑا ہونا پڑا۔ پاسپورٹ ایشو کرانا ہے یا ڈرائیونگ لائسنس بنوانا ہے یا کوئی اور کام کسی سے ملے بغیر کرا لیا جاتا ہے 

‎ذہن اپنے ملک کی طرف چلا گیا کیا ہمارے ہاں ایسا ہو سکتا ہے؟ ہو سکتا ہے تو اس کایا کلپ کے لئے کتنا عرصہ درکار ہے؟ یاس کا ایک ٹکڑا بادل کی طرح کہیں سے چل کر آیا اور سر پر اپنا سایہ تان گیا سینکڑوں برس لگ جائیں یا شاید اس سے بھی زیادہ! وقت یہاں بے معنی ہے ماورائے تصور!اس کی ایک مثال پہلے بھی کہیں دی ہے۔ سرسید احمد خان نے ڈیڑھ سو سال پہلے برطانیہ کا سفر کیا۔ جتنا فرق اس وقت کے جنوبی ایشیا اور انگلستان میں انہیں نظر آیا‘ آج بھی اتنا ہی ہے بلکہ اس سے کچھ زیادہ! 

‎اس وقت ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی ادارے منظم تھے اب وہ بھی نہیں۔ ریلوے کو ہم آگے تو کیا بڑھاتے‘ جو کچھ میراث میں ملا اسے بھی غرق تنزل کر دیا ۔جی ٹی ایس(گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس) کی بسیں چلتی تھیں پورا محکمہ، پوری سروس ہی کھائی میں گر پڑی۔ کراچی میں ٹرام چلتی تھی تاریخ کا حصہ بن گئی۔ پاکستان بنا تو پابندی وقت کا معیار ۔جو بڑوں سے سنا۔ اچھا خاصا تھا۔ آج اس حوالے سے ہم اسفل السافلین میں ہیں۔ 

‎ترقی یافتہ ملکوں کی نقالی جن شعبوں میں ہم نے کی، وہاں بھی نقل تو ہے۔ عقل عنقا ہے، اُوبر کی مثال لے لیجیے۔ کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں، مہینوں برسوں اُوبر پر تکیہ کیجیے، کوئی شکایت نہیں ہو گی۔ فون پر ایپ کھولیے ۔ بلائیے۔ جتنے منٹ بتائے جائیں گے، ٹھیک اتنے منٹ بعد آپ کے سامنے کار کھڑی ہو گی۔ ہم سے یہ سروس بھی نہ چل سکی۔ جو کارپرداز مامور ہیں وہ ہمارے ہی ملک کے امام دین ہیں۔ آپ پنڈی صدر میں منتظر ہیں۔ ڈرائیور سیٹلائٹ ٹائون کے کسی موڑ پر آپ کے لئے کھڑا ہے۔ آپ شادمان میں کھڑے ہیں۔ ڈرائیور کہتاہے اسے جو ایڈریس کمپیوٹر نے بتایا ہے وہ جوہر ٹائون کا ہے! کوئی شے گاڑی میں رہ جائے تو اس پر فاتحہ پڑھ دیجیے۔ اس کالم نگار کی ایک شے اسی طرح رہ گئی۔ ڈرائیور نے نمبر ہی بلاک کر دیا کمپنی آئیں بائیں شائیں کرتی رہی!

‎دوسرے ملک مٹی کو ہاتھ لگائیں تو سونا بن جاتی ہے ہم زر خالص کو چھو لیں۔ راکھ میں تبدیل ہو جائے گا۔ شاید اپنی’’ کسمت‘‘ دو نقطوں والے قاف سے نہیں‘ کتے والے کاف سے ہے۔ ہماری مثال اس شخص کی طرح ہے جس کا ذکر کلام الٰہی میں آیا ہے کہ گونگا ہے۔ کچھ نہیں کر سکتا۔ اپنے مالک پر بوجھ ہے۔ کہیں بھی بھیجا جائے، ناکام واپس لوٹتا ہے! 

‎یاس کا بادل سر پر کیا تنا‘ ہٹتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ پھر روشنی کی کرن نے اپنا راستہ بنایا۔ اخبار پڑھا تو جان میں جان آئی! ہم اتنے بھی گئے گزرے نہیں! ہمارا دامن یکسر خالی بھی نہیں! اگر مغربی ملکوں کے پاس نظام ہے سسٹم ہے‘ سائنس ہے‘ ٹیکنالوجی ہے خود کار سلسلے ہیں تو ہمارے پاس اقدار ہیں‘ مسلم لیگ نون کے ایک سرکردہ رہنما نے اطلاع دی ہے کہ نون لیگ اقتدار کی نہیں اعلیٰ اقدار کی جنگ لڑ رہی ہے! 

‎اعلیٰ اقدار کی اس جنگ میں شریف خاندان اگلی صف میں ہے اور اقدار کی واپسی کے لئے بھر پور جہاد کر رہاہے۔ جج کو پچاس کروڑ کی پیش کرتا ہے۔ پہلے ویڈیوز بنائی جاتی ہیں پھر ویڈیوزدہ ججوں کو وہاں وہاں تعینات کیا اور کرایا جاتا ہے جہاں ان کے مقدمے پیش ہونے ہیں ججوں کے پورے پورے خاندانوں کو بیرون ملک سیٹل کرانے کے وعدے کئے جاتے ہیں۔ اقدار کی اس جنگ میں وقت کا وزیر اعظم‘ آرمی چیف کو نئی نکور کار کی چابی پیش کرتا ہے۔ شکاگو ٹرائی بیون کی نامہ نگار کم بارکر کو نئے موبائل سیٹ کی پیشکش کر کے دوستی کی درخواست دائر کرتا ہے۔ قومی خزانے کو شیرمادر سمجھتا ہے۔ کروڑوں کے سرکاری فنڈز پر کبھی دختر نیک اختر کو کبھی داماد کو تعینات کرتا ہے۔ قومی ایئر لائن کے جہاز کو ذاتی رکشے کی طرح استعمال کرتا ہے۔ نصف درجن ذاتی رہائش گاہیں سرکاری اخراجات کی چھتری تلے دے دی جاتی ہیں۔ چھپن کمپنیوں کے آفیشل اجلاسوںمیں وزیر اعلیٰ کا صاحبزادہ باقاعدہ بیٹھتا ہے، عدالت اس کا سبب پوچھتی ہے تو جواب دیا جاتا ہے وہ پارٹی کا ورکر ہے!۔ 

‎اعلیٰ اقدار کی تفصیل سینکڑوں صفحات کی متقاضی ہے۔ مسلم لیگ نون ان اعلیٰ اقدار کی جنگ لڑ رہی ہے اس جنگ میں جہان صحافت اور دنیائے دانش کے بڑے بڑے نام مسلم لیگ نون کا ساتھ دے رہے ہیں۔ خیر اور شر کا نیکی اور بدی کا۔ حق اور باطل کا یہ معرکہ ازل سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ مسلم لیگ نون اس پرانے میدان جنگ کی نئی مجاہد ہے۔ کامیابی کی صورت میں پاکستان ایک ایسا پل عبور کر لے گا جو اسے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں راتوں رات کھڑا کر دے گا! 

‎پاکستان کی ترقی و بقا کے ضامن صرف اور صرف دو خاندان ہیں۔ زرداری خاندان اور شریف خاندان۔ جناب آصف زرداری نے قوم کو امید تو دلائی ہے کہ مستقبل بلاول اور مریم کا ہے مگر کچھ کوتاہ اندیش ان عالی مرتبت خاندانوں کے درپے ہیں۔ ان کوتاہ اندیش کور چشموں کو اتنی تمیز بھی نہیں کہ ملک کی سربراہی ہاتھ میں آئی ہے تو اپنے اثاثوں میں اضافہ کر لیں۔ کچھ فیکٹریاں بنا لیں ،بیرون ملک کچھ جائیدادیں خرید لیں۔ بلاول ہائوس کی طرز پر شہر شہر محلات بنوا لیں۔ جاتی امرا کے خطوط پر ایک شہر عجائبات اپنے نام کھڑا کر دیں یہ پست فہم لوگ ان خاندانوں کے مقابل آ کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم ان کی ہدایت کے لئے دعا گو ہیں ۔ہم اقدار کی اس جنگ میں مسلم لیگ نون کے ساتھ کھڑے ہیں۔

Saturday, July 13, 2019

ت سے تکّبر اور ت سے تاجر



دونوں کو قید کر دیا گیا 


ایک دبلا پتلا تھا۔ دن میں ایک وقت کھانا کھانے والا۔ دوسرا فربہ تھا۔ پیٹو! سب کا خیال تھا کہ یہ جو دبلا پتلا سوکھا سڑا ہے زنداں نہیں برداشت کر پائے گا مگر معاملہ الٹ ہوا۔ موٹے تازے آدمی کا جیل کے نپے تُلے کھانے پر گزارہ نہ ہو سکا، چل بسا۔ 


صحت مند وہ نہیں ہوتا جو بسیار خور ہو! اوپر گوشت اور اندر چربی کی تہیں ہوں۔ جسم غبارے کی طرح پھولا ہوا ہو۔ صحت مند وہ ہوتا ہے جس کا بدن چھریرا ہو۔ سریع الحرکت ہو۔ وزن اٹھا سکے۔ بات بات پر سانس نہ پھول جائے۔ 


کوئی ایک ملک ایسااس دنیا کے نقشے پردکھا دیجیے جس میں ٹیکس چوری کیا جا رہا ہو۔ قانون کو پائوں کے نیچے روندا جا رہا ہوحکمرانوں کے اثاثے ملک سے باہر ہوں۔ سمگلنگ زوروں پر ہو اور اسے ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہو؟ 


یہ ملک ایک عرصہ سے وینٹی لیٹر پر ہے۔ موٹا تازہ فربہی کے شکار۔ قرضوں پر چلنے والا ٹیکس چوروں سے بھرا ہوا۔ آصف علی زرداری سے لے کر نواز شریف اور شہباز شریف تک سب حکمرانوں کے کارخانےرہائش گاہیںمحلاتکاروبارکمپنیاںیہاں تک کہ اولاد بھی ملک سے باہر! بھارت سے لے کر سنگا پور اور کوریا تک۔ کینیڈا سے لے کر نیوزی لینڈ تک۔ کس ملک کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے اثاثے بیرون ملک ہیں؟ کس ملک میں ٹیکس چوروں کا معیشت پر قبضہ ہے؟ ان حکمرانوں کی ذہنی حالت کا اندازہ نواز شریف کی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب میں انکم ٹیکس نہیں لیا جاتا تو پاکستان میں کیوں لیا جائے؟ محدود وژن! دور اندیشی سے عاری! سوچنے کا کام معدے سے لینے والے حکمران! بیٹیوں کو شہزادیاں اور بیٹوں کو ولی عہد بنانے والے حکمران! آصف زرداری نے اس قوم کے رخسار پر طمانچہ مارا ہے، یہ کہہ کر کہ مستقبل بلاول اور مریم کا ہے! کسی کی غیرت نہ جاگی کہ للکارتا! کسی سیاست دانکسی حکمرانکسی دانش ور نے اس اعلان پر نوحہ خوانی نہیں کی! ہاں!مستقبل مریم اور بلاول کا ہے! کیوں کہ ان کے علاوہ جو بھی ہیںکمی کمین ہیں! ان کا کوئی حق نہیں! یہ ملک بلاول اور مریم کو وارثت میں ملا ہے۔جیسے بادشاہ مرنے سے پہلے ملک کو اولاد میں بانٹ جاتے تھے! جمہوریت جمہوریت کا وِرد کرنے والے نام نہاد سفید سرپارٹی ارکانہاتھ باندھ کر بلاول اور مریم کے سامنے کھڑے ہیں۔عمریں گزر گئیں خواجہ آصف جیسے لوگوں کو کوچہ سیاست میں خاک اڑاتےمگر مائک مریم کے سامنے ہوتا ہے اور یہ برف جیسے بال سروں پر لادے آمنا و صدقنا کہہ رہے ہوتے ہیں!


حبیب جالب کے اشعار زبان زد خاص و عام ہیں ؎ 


تم سے پہلے وہ جواک شخص یہاں تخت نشیں تھا 

اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقین تھا 


کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتائو 

وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا 


نصرت بھٹو نے تکبر کے آسمان سے نیچے دیکھتے ہوئےنخوت سے کہا تھا 

Bhuttos are born to rule

 بھٹو خاندان کے چشم چراغ پیدا ہی حکمرانی کے لئے ہوتے ہیں! آج کسی بھٹو کا وجود ہی نہیں نظر آتا۔ آصف زرداری بھٹو ہے نہ فریال تالپور صاحبہ بھٹو ہیں نہ ہی بلاول! لاکھ بھٹو کا لاحقہ استعمال کریںبلاول بھٹو نہیں ہو سکتا! وہ نصرت بھٹو کا پوتا نہیں! حاکم علی زرداری کا پوتا ہے! نصرت بھٹو جب اعلان کر رہی تھیں کہ حکمرانی بھٹو خاندان کے لئے مخصوص ہے تو آسمانوں پر فرشتے مسکرا رہے تھے ع 


ما درچہ خیالیم و فلک درچہ خیال


 ہم کچھ اور سوچتے ہیں اور فلک کی گردش نے کچھ اور ٹھان رکھی ہوتی ہے


برامکہ میں سے جعفر برمکی تھا یا یحییٰایسا محل بنوایا کہ خلیفہ نے بھی نہ سوچا ہو گا!دولت مند تو ہم پرست اور ضعیف الاعتقاد ہوتے ہیں۔ نجومیوں سے پوچھا اور زائچے بنوائے کہ کب منتقل ہو۔ پھر ایک ’’نیک ساعت‘‘ متعین ہوئی۔ آدھی رات کو نئے محل میں اترا۔ عین اسی وقت گلی میں سے کوئی یہ شعر پڑھتے ہوئے گزرا


تد بر بالنجوم ولست تدری 

و رب النجم یفعل مایشاء


 ’’تو ستاروں کی مدد سے تدبیریں کرتا ہے حالانکہ کچھ بھی نہیں جانتا! جس نے ستاروں کو پیدا کیا ہے۔ وہ تو سب کچھ اپنی مرضی سے کرتا ہے!‘‘ تھوڑا عرصہ گزرا تھا کہ بساط الٹ گئی۔ 


معمر قذافی سے لے کر حسنی مبارک تک سب نے کیا کیا نہ کوششیں کیں کہ ان کے بعد ان کے بیٹے تخت نشین ہوں۔کوئی قتل ہوا کوئی پنجروں میں قید!کس نے سوچا تھا کہ محمد بن سلمان حکمران ہو گا اور صرف زمانے کی گردش کو معلوم ہے کہ کل محمد بن سلمان کہاں ہو گا۔ مریم صفدر آج کل اس زعم میں ہیں کہ دنیا ان کے سامنے ہیچ ہے اور کرہ ارض پر ان کے سوا اور ان کے والد کے سوا کسی کی کوئی اہمیت نہیں! ٹول ٹیکس لینے والے اہلکاروں کو حقارت سے دیکھ کرملک کے قوانین پائے غرور کے نیچے روندتی ہیں! دولت بے پناہ ہے۔ بے حساب! ہر روز سونے کے نوالے کھائیں پھر بھی نسلوں تک چلےسکیورٹی کے حصار اندر حصار ہیں! نہایت خلوص سے سمجھتی ہیں کہ یہ ملک ان کی جاگیر ہے ، فیکٹری ہے۔ آئے دن اعلان کرتی ہیں کہ نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بنیں گے! کوئی اتنی بڑی بڑ بھی ہانک سکتا ہے؟ گویا میاں صاحب کو صرف اسی لئے دنیا میں بھیجا گیا کہ اس بھوکے ننگے مقروضناخواندہغریب ملک پر بار باربار بارحکمرانی کریں۔ بنو عباس نے امویوں کی لاشوں پر قالینیں بچھائیں اور مرغن کھانے اڑائے۔ اس پروردگار کی قسم! جو عزت داروں کو ذلیل کرتا ہے اور بِھک منگوں کو سلطنتیں عطا کرتا ہےشریف خاندان کا بس چلے تو اس ملک کے آئین میں اپنے کم سن بچوں کے نام حکمرانوں کے طور پر داخل کر دیں! اب تو ان لوگوں نے کھلم کھلا یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ فلاں ملک میں بھی کرپشن ہے اور فلاں ملک میں بھی ! کوئی ان سے پوچھے کہ تم لوگوں نے اپنے اپنے لئے جو وطن چنے ہیںدبئی اور برطانیہامریکہ اور فرانس۔ کیا وہاں بھی کرپشن ہے؟ 


حکومت تاجروں سے ٹیکس لینا چاہتی ہے۔ قانون یہی کہتا ہے مگر تاجر مان کر نہیں دیتے۔ یہ کالم نگار ایک مدت سے کہہ رہا ہے کہ پاکستان کے تاجر خدا سے ڈرتے ہیں نہ خلق خدا سے!مذہب کو بھی کھیل تماشا سمجھتے ہیں۔ کوئی ہے جو انکار کرے کہ اس ملک میں ملاوٹ زوروں پر ہے؟ کم تولا جاتا ہے کم ماپا جاتا ہے۔ 


ایک بار پھر سن لیجیے پاکستانی تاجر کمال بے حیائی سےبھر پور ڈھٹائی سے سات خوفناک جرائم کا ارتکاب کر رہاہےرات دن کر رہا ہے اور ڈنکے کی چوٹ کر رہا ہے۔ 


اول ۔

شے بیچتے وقت نقص نہیں بتاتا بلکہ جھوٹ پر جھوٹ بولتا ہے۔ 

دوم 

ٹیکس نہیں دیتا اور ٹیکس اہلکاروں کو کرپٹ کرتا ہے۔ 

سوم۔ 

وعدہ خلاف ہے۔ وقت پر مال سپلائی کرتا ہے نہ گاہکوں کو پھیرے لگوانے میں شرم محسوس کرتا ہے!

چہارم۔

تجارت کا کم و بیشیہی گنہگار ہے۔ فٹ پاتھدکانوں کے آگے سرکاری زمینآدھی آدھی سڑکیںگلی کوچےسب اس کے ناجائز قبضے میں ہیں۔ آمدنی اس تجاوزات گردی سے اس کی مشکوک ہے۔ 

پنجم

 اوقات کار میں مکمل ملک دشمنی پر تلا ہے! ظہر کے وقت بازار کھلتے ہیں اور آدھی رات تک توانائی ضائع ہوتی ہے۔ششم

!کوئی ایک تاجر مجرم ہونے کی بنا پر پکڑا جائے تو اس کی حمایت میں کووں کی طرح یک جان ہو کر قانون کو پائوں تلے روندتے ہیں اور

 ہفتم

سب سے بڑا جرم یہ کہ مذہب کو تجارت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مذہب فروشوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ نیک بن کر خلق خدا کو دھوکہ دیتے ہیں۔ 


ملک جھوٹٹیکس چوریبدمعاشیملاوٹچور بازار اور قانون شکنی سے اٹا پڑا ہو حکمرانوں اور سیاست دانوں کے اثاثے ملک سے باہر ہوں ایسے میں ڈالر روپے کے برابر بھی ہو جائے تو ملک ترقی یافتہ ہو سکتا ہے نہ قوموں کی برادری میں معزز

Thursday, July 11, 2019

جیسا بھی ہے اپنا تو ہے


یہ لکمبا ہے۔ 


سڈنی کے اندر ڈھاکہ ،قاہرہلاہور۔ 


سامنے میز پر نہاری ہےپائے ہیں! اچار والے چنے ہیں۔ پوریاں اور پراٹھے ہیں۔ تانبے کے گلاس میں میٹھی لسّی ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے لئے سڈنی کو اور سڈنی کے لکمبا کو بہت پاپڑ بیلنے پڑے۔ بڑے مراحل سے گزرنا پڑا۔ 


یہ سفر دو سو تیس سال پہلے شروع ہوا۔ انگریزامریکہ کھو بیٹھے تھے۔ اب نئی کالونیوں کی تلاش تھی قیدیوں کے لئے ایک نئے ’’کالا پانی‘‘ کی ضرورت تھی۔ ایک منجھے ہوئے جہاز ران آرتھر فلپ کو گیارہ بحری جہازوں کا بیڑہ دیا گیا۔ اس میں سات سو بہتر سزا یافتہ قیدی تھے۔ کچھ ملاح اور چند سپاہی اور افسر! یہ برطانیہ سے روانہ ہوا۔ 


1788ء کی جنوری کا چھبیسواں دن تھا۔ جب یہ جہاز اس کھاڑی میں لنگرانداز ہوئے جسے آج دنیا سڈنی ہاربر کہتی ہے۔ لارڈ سڈنی اس وقت برطانیہ کا وزیر داخلہ تھا۔ نئی کالونی کا نام اسی کے نام پر رکھا گیا۔ 


چالیس قیدی راستے میں مر گئے اور سمندر کی نذر کر دیے گئے ۔کھانا اور پانی جو جہازوں میں ساتھ لایا گیا تھامحدود مقدار میں تھا۔ کبھی جہاز کو پینے کے پانی کے لئے بمبئی بھیجنا پڑتاکبھی خوراک کے لئے چین کی کسی بندرگاہ پر۔ زراعت زیادہ کامیاب نہیں ہو رہی تھی۔ زمین زرخیز نہیں تھی۔ قیدیوں کو زمینیں الاٹ کی گئیںاور مقامی خوراک کا تھوڑا بہت انتظام ہوا۔ پھر بھی خوراک راشن کے حساب سے دی جاتی۔ مقامی قبائلی باشندے الگ مصیبت تھے۔ تیروں اور بھالوں سے حملہ آور ہوئے ۔فلپ آرتھر کی یہ لوگ عزت بھی کرتے اس لئے کہ اس کا سامنے کا ایک دانت نہیں تھا اور یہ قبائلیوں کی نظر میں خوش بختی کی علامت تھی۔ گوشت کنگرئوں کو ذبح کر کے حاصل کیا جاتا ۔ مچھلیاں پکڑی جاتیں۔ قلت زیادہ ہوتی تو آرتھر فلپ اپنا ذاتی حصہ بھی جو اسے بطور گورنر ملتاملازموں کو دے دیتا۔ اس سے ملازم وفادار رہتے اور بغاوت کی صورت میں مددگار! پھر قحط پڑ گیا۔ گوبھی کا ایک ایک پھول اور پالک کی ایک ایک گٹھی خزانہ لگنے لگی۔ 


عشرے لگ گئے زراعت اور باغبانی کو کسی اطمینان بخش مقام تک لے جانے میں! بحری جہازوں کے ذریعے آنے والی خوراک سے جان چھڑانے میں مدتیں لگ گئیں۔1850ء تک آٹھ سو سے زیادہ بحری جہاز سڈنی لنگر انداز ہو چکے تھے اور ایک لاکھ باسٹھ ہزار قیدی لائے جا چکے تھے۔ اب کچھ رضا کار بھی آ گئے تھے جو زمینیں آباد کر کے نئے ملک میں قسمت آزمائی کرنا چاہتے تھے۔ پھر مصائب کا دور ختم ہوا۔ آسودگی نے ڈیرے ڈالے آج سڈنی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں سب سے بڑا اور دنیا کا چودھواں بڑا شہر ہے۔ 


واپس لکمبا آتے ہیں۔ تین دن پہلے ہم چند دوست لکمبا کے مشہور ریستوران ’’علی ڈائن ان‘‘ میں وہ نعمتیں سامنے رکھے بیٹھے تھے جن کا آرتھر فلپ نے خواب میں بھی نہ سوچا ہو گا۔ روایتی دیسی کھانے لاہورکراچی اور دہلی میں اپنی مثال آپ یقینا ہوں گے مگر ان شہروں سے ہزاروں میل دورسفید فاموں کے اس نگر میںبحرالکاہل کے کنارےان پکوانوں کی اپنی شان تھی اور معجزاتی شان تھی۔ خوراک کے معجزے کہاں کہاں برپا نہیں ہوئے۔ ذکریا علیہ السلام جب بھی کمرے میں آتے تو دیکھتے کہ حضرت مریم ؑکے پاس کھانے پینے کی اشیا پڑی ہیں۔ پوچھتے کہاں سے آئی ہیں۔ جواب دیتیں اللہ کی طرف سے ؎ 


مقید ہوں میں کالی کوٹھری میں 

مہیا کر ثمر اے غَیب کے ہاتھ 


کبھی اُس دعا پر غور کیا ہے؟ جو کسی نے تپتے سلگتے صحرا میں کھڑے ہو کر مانگی تھی کہ میں نے اپنی اولاد میں سے کچھ کو ایسے دشت میں آ بسایا ہے جہاںکھیتی ہے نہ باغ۔ بارش ہے نہ روئیدگی! انہیں پھلوں کی روزی عنایت کرنا۔ حیرت ہوتی ہے کہ مکہ کے بازاروں میں روئے زمین پر پیدا ہونے والا ہر پھل موجود ہے ہر موسم میں موجود ہے! حج کبھی گرمیوں میں پڑتا ہے۔ کبھی جاڑوں میںکبھی بہار میں۔ کبھی معتدل موسم میں! عمرہ کے زائر بھی سارا سال آتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی پھل کی خواہش کی جائے اور مکہ میں دستیاب نہ ہو! کیا فراوانی ہے رزق کی کہ ایک فرد کا کھانا ہمیشہ دو کے لئے وافر ہوتا ہے! لاکھوں زائر اور ہزاروں کبوتر حرم کے اردگرد اپنی اپنی خوراک پاتے ہیں اور سچ یہ ہے کہ یہ کبوتر بھی زائر ہیں! روایت ہے کہ یہ اُن کبوتروں کی نسل ہے جو عہدِ رسالتؐ میں یہاں موجود ہونے کا شرف رکھتے تھے۔ اس میں اشکال بھی کیا ہو سکتا ہے! نسل در نسل یہ کبوتر یہاں موجود ہیں اور اس وقت سے موجود ہیں! یہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان سفر بھی کرتے ہیں۔ علماء متفق ہیں کہ انہیں قتل کرنے پر فدیہ یا دم واجب آتا ہے۔ 


نہ جانے آغاز کیسے ہوا بہرحال لکمبا سب سے پہلے لبنانی عربوں کا مستقر بنا۔1990ء تک یہ عربستان کا درجہ حاصل کر چکا تھا۔ آج کل بنگلہ دیشی اس کثرت سے آباد ہیں کہ ڈھاکہ کا منظر یاد آتا ہے۔2016ء کے سروے کی رُو سے بنگلہ دیشی تیرہ فیصد ہیں۔ لبنانی آٹھ فیصد! بھارتی مسلم سات فیصد اور پاکستانی چھ فیصد! عربی بنگالی اردو اور روہنگیا زبانیں انگریزی کے ساتھ ساتھ کثرت سے بولی جاتی ہیں۔ 


یہاں شاید ہی کوئی سفید فام نظر آئے۔ جوگورے چٹے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ لبنانی ہیں اور کوئی کوئی ترک ! انگریزی کے علاوہ دکانوں کے سائن بورڈ عربی میں ہیں یا بنگالی میں! خواتین برقع پوش ہیں۔ جو برقع پوش نہیں وہ حجاب اوڑھے ہوئے ہیں۔ تقریباً سارے کے سارے ریستوران حلال کھانا فراہم کرتے ہیںکوئی مرد لنگی(دھوتی) باندھے ہے کوئی شلوار قمیص میں ملبوس ہےکوئی عرب چغہ پہنے ہے! دکانوں پر کبابی بیٹھے ہیں نان بائیوں نے جگہ جگہ تنور کھول رکھے ہیں سب کچھ اپنا اپنا لگتا ہے! مسجدوں کی کمی نہیں


مگر افسوس! مور کے پائوں بدصورت ہیں۔ لکمبا مسلمانوں کا گڑھ ہے اور سڈنی کے ان علاقوں کا صفائی میں مقابلہ کرنے کاسوچ بھی نہیں سکتا جہاں سفید فام آباد ہیں۔ صفائی کا معیار وہی ہے جو ڈھاکہ میں ہے یا لاہور میں یا قاہرہ کے بازاروں میں! ہم جس جگہ گاڑی پارک کر کے اترے وہاں ہر طرف مالٹوں کے چھلکے بکھرے پڑے تھے۔ فٹ پاتھ پر دو نوجوان بیٹھے سگریٹ پھونک رہے تھے اور ان کے اردگرد صرف راکھ نہیںسگریٹوں کے ٹکڑے بھی دکھائی دے رہے تھےتھوکنے کا رواج عام ہے۔ سڑک غلط جگہ سے عبور کی جاتی ہے۔ ٹریفک کی خلاف ورزی کا کوئی کال نہیں! بغیر کام کے مٹر گشت اسی طرح ہے جیسے ’’اصل‘‘ ملکوں میں کی جاتی ہے!کیفے ہیں یا قصاب کی دکانیںبیکری ہے یا سپر مارکیٹبک شاپ ہے یا ریستوران۔ حجام کی دکان ہے یا میوہ فروشلکمبا سڈنی کا حصہ نہیں لگتا۔ اس لئے نہیں کہ یہاں مسلمان بستے ہیں۔ اس لئے کہ صفائی عنقا ہے! لوگ بلند آواز سے ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ سفید فام دکاندار سے پوچھیں گے کہ فلاں شے کہاں ہے تو وہ آپ کے ساتھ جا کر مطلوبہ شے دکھائے گا مگر لکمبا میں یہ رواج نہیں۔ دکاندار وہیں بیٹھا رہے گا۔ ہاتھ کے اشارے سے آپ کی ’’رہنمائی‘‘ کرے گا خواہ گاہک کو مطلوبہ شے ملے یا نہ ملے۔ 


مکانوں کی قیمتیں دوسرے علاقوں کی نسبت کم ہیں۔ سفید فام باشندے یہ علاقے چھوڑ کر جاتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف بزنس یہاں خوب چمکتا ہے۔ رمضان میں شام کے مناظروہی ہوتے ہیں جو مسلمان ملکوں میں نظر آتے ہیں۔ افطاری خریدنے والوں کے ہجوماشیائے خورو نوش کی کثرت! ریستورانوں میں کھانوں کے شائقین کی قطاریں! رات بھر بازاروں چوکوں اور گلی کوچوں میں رونق رہتی ہے


تاہم صرف مسلمان آبادیوں سے شکوہ ناروا ہو گا۔ ویت نامیبھارتی اور بعض مقامات پر چینی اکثریت کے محلے بھی صفائی اور آداب کے حوالے سے اسی زمرے میں آتے ہیں۔ پان کی پیک تھوکنے میں جنوبی ایشیا کے تمام تارکین وطن یکساں مطعون کئے جا سکتے ہیں۔ غنڈہ گردی میں جہاں لبنانی بدنام ہیں وہاں اطالوی اور یونانی زیر زمین مافیا بھی اتنی ہی بری شہرت کا حامل ہے۔


 ساری باتیں درست مگر اپنی ثقافت جیسی بھی ہے اپنی ہی ہے۔ اذان سنائی دے تو مسجد تک رسائی ممکن ہو! بھوک لگے تو حلال کھانا میسر ہوچٹورے پن پر دل چاہے تو مرچوں والے کبابحلیم اور تکّے کھائے جا سکیںبات کرنے کا موڈ ہو تو کوئی ہم زبان ہو! لکمبا ایسی خوش بخت جگہ ہے جہاں یہ سب کچھ میسر ہے! اِ کالم نگار کواپنا جھونپڑا خرید کر یہاں مستقل رہنا ہو تو لکمبا ہی کا انتخاب کرے!! 


 

powered by worldwanders.com