Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Tuesday, July 31, 2018

یہاں تک کہ دجّال ظاہر ہو



شاعر کا نام یاد نہیں! شعر کا مفہوم یہ تھا کہ تیس برس کے زہد و ریاضت کو ایک نوخیز حسینہ کا حُسن بہا کر لے گیا۔

اعتزاز احسن پیپلز پارٹی میں(غالباً) سب سے زیادہ پڑھے لکھے سیاست دان ہیں۔ مقابلے کے امتحان میں، ملک بھر میں اوّل آئے ملازمت کرنے سے انکار کر دیا۔ وکالت شروع کی پھر وہ وقت بھی آیا کہ ملک کے گراں ترین وکیلوں میں شمار ہونے لگے۔ سیاست دان بنے۔ پیپلزپارٹی کے رکن ہوئے وزیر رہے۔ پارٹی کو کسی حال میں نہ چھوڑا۔ پارٹی سے وفاداری اس قدر کہ پوری دنیا نے کرپشن پر آہ و فغاں کی۔ حج سکینڈل، تُرکی والا ہار، گوجر خان کے حوالے سے داستانیں۔ دنیا بھر میں جائیدادیں، مگر اعتزاز احسن صاحب احتجاج تو کیا، حرفِ شکایت تک زبان پر نہ لائے۔ ع

وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے

شاعری کا اعلیٰ ذوق! اچھی اچھی نظمیں اور غزلیں کہیں، اس کالم نگار کا رسوائے زمانہ شعر

؎
غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر

محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے

کئی بار منتخب ایوان کو سنایا۔ ’’دی انڈس ساگا اینڈ میکنگ آف پاکستان‘‘ کے عنوان سے کتاب تصنیف کی ،اہلِ دانش نے پسند کی کہ اس میں تاریخ بھی ہے سیاست بھی اور کلچر بھی۔

مگر زندگی بھر کی جدوجہد کا حاصل؟؟

بقول ظفر اقبالؔ ؎

یہیں تک لا سکی ہے زندگی بھر کی مسافت

لبِ دریا ہوں میں اور وہ پسِ دریا کھِلا ہے

شہزادے کو تخت نشین دیکھنے کی خواہش !!!

اللہ اللہ!

خواہش اور ایسی کہ اس پر دم نکلے!

فرمایا: ’’الیکشن سے پی پی پی نے جو حاصل کیا وہ یہ ہے کہ جوانی میں بھی بلاول بھٹو نے با معنی تقاریر کیں۔ 2023ء میں بلاول ملک کو لیڈ کرے گا‘‘

آپ سے کچھ پوچھنا، آپ کو کچھ بتانا، سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ جمہوریت اور عوامی راج پر کون سی کتاب ہے جو آں جناب کے مطالعہ سے محروم رہی ہو۔ مگر زندگی بھر کا تجربہ، زندگی بھر کی سیاسی جدوجہد، عمر بھر کا حاصلِ مطالعہ…یہ کہ مستقبل میں بلاول حکمران بنے؟؟ افسوس! افسوس! ھیہات!ھیہات!

کیوں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ جب تک پی پی پی کے دم میں دم ہے، اس پر یہ ایک خاندان ہی قابض رہے؟ کیا آپ کو یقین ہے کہ 2023ء میں بھی پارٹی میں کوئی اور شخص اس قابل نہ ہو گا کہ ملک کو لیڈ کرے؟ کیا آپ کا عزم یہ ہے کہ تا حشر پارٹی کے اندر اور کوئی نہ اُبھرے؟ پارٹی کے اندر انتخابات نہ ہوں؟

کیا خود آپ میں قابلیت نہیں کہ ملک کو لیڈ کریں؟ آپ میں کیا کمی ہے؟ نظمِ حکومت کو آپ زیادہ سمجھتے ہیں یا بلاول؟ دانش اور تجربے کا خزانہ آپ کے پاس ہے یا بلاول کے پاس؟

رضا ربانی نے کیا بال دھوپ میں سفید کیے ہیں؟ ان سے ہزارہا اختلافات ہیں۔ اس کے باوجود، پارٹی کو لیڈ کرنے کے لیے وہ بلاول سے لاکھ درجہ زیادہ ہنرمند ثابت ہوں گے۔

قمر زمان کائرہ نے ترغیب و تحریص کے باوجود پارٹی کے ڈوبتے جہاز کو چھوڑ کر کسی لائف بوٹ میں چھلانگ نہیں لگائی۔ وہ کیوں نہیں پتوار سنبھال سکتے؟ یہ جتنے نام ہیں، کسی نے چاکِ گریباں پر کرپشن کی قبائے زریں نہیں اوڑھی! کیا یہ ہمیشہ ورکر ہی رہیں گے؟

خدا کے لیے، جناب اعتزاز احسن! خدا کے لیے اس قوم پر، اس ملک پر، اپنی پارٹی پر رحم کیجیے۔ اگر آپ جیسا دانش و علم کا مرقع خاندانی اجارہ داری کے دام سے نہ نکلا تو گائوں کا ترکھان اس خاندان کی غلامی سے کیسے نجات پائے گا؟ اس افلاس زدہ، سسکتی قوم کو اُن کھرب پتیوں کی ’’لیڈ‘‘ سے نجات دلوائیے جو پروٹوکول کے بغیر، جہاز کے بغیر، پجارو کے بغیر، پہریداروں کے بغیر، حاجبوں اور نقیبوں کے بغیر، لباسِ فاخرہ کے بغیر، ایک قدم نہیں چل سکتے۔ جنہوں نے زندگی میں نلکے کا پانی نہیں پیا۔ عام ریستوران میں چائے کا کپ نہیں پیا۔ اس ملک پر چھا جانے والے جاڑے اور پگھلا دینے والی گرمی کا ذائقہ نہیں چکھا۔ بازار سے سودا سلف کبھی نہیں لیا۔ جن کے محلات کے اردگرد بلند دیواریں ہیں۔ جنہوں نے مدتوں شاہراہوں کو بند رکھا کہ چڑیا بھی ان کے قلعوں کے آس پاس پر نہ مار سکے اور عوام ان دیواروں کے اردگرد، طویل چکر کاٹ کر اپنے گھروندوں تک پہنچیں ؎

بہت لمبی روش تھی باغ کی دیوار کے ساتھ

پسِ دیوار قسمت کب سے بیٹھی رو رہی تھی

جس دن جناب اعتزاز احسن نے پارٹی پر خاندانی اجارہ داری اور شہزادگی کے تسلسل کے خلاف نعرہ لگایا تو یہ کالم نگار سب سے پہلے ان کے ساتھ شامل ہو گا۔

ایک بچہ شکایت کر رہا تھا کہ تاریخ(ہسٹری) کا مضمون اسے بھاتا ہے مگر سن اور تاریخیں یاد نہیں رہتیں اور وہ کنفیوژ ہو جاتا ہے۔ کہا مثال دو، بتانے لگا کہ یہ نہیں یاد رہتا کہ خاندانِ غلاماں کی حکومت کب شروع ہوئی اور خلجی کب تخت آرا ہوئے اور تغلق خاندان کب عوام کی گردنوں پر سوار ہوا اور سید خاندان کی بادشاہی کتنا عرصہ رہی اور لودھیوں نے کب تاج پہنا۔ پھر یہ نہیں یاد رہتا کہ مغلوں نے ابراہیم لودھی کو کس سال پانی پت کے میدان میں ہلاک کیا۔ پھر سوری خاندان کے اقتدار کا آغاز کب ہوا، پھرہمادوبارہ مغلوں کے سر پر اور مغل دوبارہ عوام کے سروں پر کب براجمان ہوئے۔

میں نے یہ سب پیچیدگیاں سنیں، سرد آہ بھری اور کہا پیارے بچے! مستقبل کے طلبہ کا سوچو جنہیں یہ بھی یاد کرنا پڑے گا کہ پہلی بار خاندانِ شریفاں کب تخت نشین ہوا پھر بھٹو خاندان کے چشم و چراغ کی کب تاج پوش ہوئی، پھر دوسری بار خاندانِ شریفاں پھر دوسری بار بھٹو خاندان نے کب سلطنت سنبھالی۔ پھر تیسری بار خاندانِ شریفاں نے کس سال اقتدار کی باگ پکڑی پھر کب نیچے اترا، انہیں تو یہ بھی یاد کرنا پڑے گا کہ آمریت کے ہولناک وقفے کب سے کب تک تھے۔ ایوب خان کا، پھر یحییٰ خان کا پھر ضیاء الحق کے ’’نوّے دن‘‘ پھر کسی سے نہ ڈرنے والے پرویز مشرف کا عہدِ ہمایونی جس میں شوکت عزیز جیسے خانہ بدوشوں نے چیتھڑے اتارے اور ریشمی خلعتیں پہن کر سالہا سال مسخری کی۔ تو کیا جناب اعتزاز احسن چاہتے ہیں کہ 2023ء کے بعد پیدا ہونے والے بچے بھی ان حکمران خاندانوں کی تاریخ پڑھتے رہیں اور اس تاریخ میں خاندانوں کا اضافہ ہوتا رہے؟ مسلسل ہوتا رہے؟ وہ یہ یاد کریں کہ بلاول بھٹو کب تخت پر بیٹھا اور حمزہ شہباز کب بیٹھا اور بی بی مریم کب رضیہ سلطانہ بنی اور پھر بی بی مریم کا فرزند ارجمند جنید صفدر کب حکمران بنا اور پھر بلاول کا بیٹا اور پھر حمزہ شہباز کا خلف الرشید اور پھر ان کے بیٹے اور پھر ان کے بیٹوں کے بیٹے۔ یہاں تک کہ دجال ظاہر ہو اور زمین دھنس جائے اور بہت بڑی آگ لوگوں کو ہانکنے لگے اور سورج مغرب سے طلوع ہو اور عیسیٰ علیہ السلام لُد کے مقام پر آسمان سے اتریں اور صور پھونکا جائے اور قیامت قائم ہو۔ اور جب صور پھونکنے پر مُردے اپنی اپنی قبر سے نکلیں تو بھٹو خاندان اور شریف خاندان کے وارث تخت سے اتر رہے ہوں!! ؎

کھنچیں میر تجھ ہی سے یہ خواریاں

نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیں



Sunday, July 29, 2018

جناب میاں نواز شریف!ابھی بھی کچھ نہیں گیا


نہیں! ایسا نہیں!
ہرگز نہیں!
جو بزرجمہر اپنی پرانی دوا بیچے جا رہے ہیں خدا کے لیے مریض پر رحم کر دیں! اب تو رحم کر دیں!!
ایک ازکار رفتہ تھیوری! یہ کہ نواز شریف کا بیانیہ مضبوط تھا۔ یہ کہ عوام سول بالادستی کے لیے بڑے میاں صاحب کا ساتھ دینے کے لیے تیار تھے یہ کہ شہباز شریف صاحب کا بیانیہ مختلف تھا۔ یہ کہ عوام کنفیوژ ہو گئے اور یوں مسلم لیگ نون ہار گئی!
رحم !رحم! اے ابنائے زمانہ! رحم!اس قوم پر رحم کر دیجیے!
بیانیہ کے لفظ کے ساتھ یہاں جو کچھ ہوا لغت کے قارون مدتوں یاد رکھیں گے اور گریہ کریں گے!
میاں نواز شریف صاحب کا ہمدرد وہ ہو گا جو انہیں دن کے سپنے سے نکال سکے۔ جو ان کے ذہن کی ساخت کو‘ زیادہ نہیں تو تھوڑا سا ہی بدل سکے!
گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں مسلم لیگ نون نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ تکے کھانے والے‘ چڑوں جیسی قابل رحم مخلوق کو بریاں کر کے ہڑپ کرنے والے کھیلوں کا سامان برآمد کرنے والے‘ کیا سول بالادستی کے نرم و نازک نظریات سمجھ گئے اور ووٹ دیے؟ 
جو کھرب پتی اپنی دولت سے ایئر پورٹ بنوا سکتے ہیں مگر یونیورسٹی بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے‘ کیا وہ سول اور ملٹری بالادستی کی تہہ در تہہ باریکیوں میں پڑ سکتے ہیں؟ نہیں! ہرگز نہیں! شریفوں نے وسطی پنجاب میں کام کیا اور بہت کام کیا۔ وسطی پنجاب میں ان کے محفوظ گوشے (Pockets) ہیں یہاں سے وہ اپنی کارکردگی کی بنا پر جیتے۔ وسطی پنجاب سے باہر ان کی کارکردگی برائے نام تھی۔ ہار گئے! کون سی سول بالادستی کی جنگ! سول نہ بالادستی اور جنگ تو بالکل نہیں!
جو دوست ہر تیسرے کالم میں ثنا خوان تھے کہ پنجاب میں جس سرحد سے داخل ہوں ترقی کے کام نظر آتے ہیں‘ مبالغہ آرائی کرتے تھے۔
خلق خدا جان گئی کہ یہ اپنے دولت کے انبار بچانے کے لیے ہمیں باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ اس الزام کا شریفوں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا کہ ان کے اپنے بیٹے لندن میںدولت سے کھیل رہے ہیں اور دوسروں کے بیٹوں کو وہ باہر نکال کر اپنے خاندانی اقتدار کو طول دینا چاہتے ہیں۔
مگر میاں صاحب! اب بھی کچھ نہیں گیا! اب بھی عوام آپ کے لیے باہر نکل سکتے ہیں! کیسے؟ یہ آپ کو ہم جیسے بے غرض ہی بتا سکتے ہیں جن کا رمق بھر مفاد آپ سے وابستہ ہے نہ عمران خان سے نہ کسی اور حکومت سے!      ؎
یوں ہی تو کنج قناعت میں نہیں بیٹھا ہوں
خسروی شاہ جہانی مری دیکھی ہوئی ہے
خدا کی پناہ اس تصور سے بھی کہ کسی حکومتی رہنما کے ساتھ سرکاری دورے پر جائیں! کسی چیھتڑے کے لیے اشتہار لیں! کوئی تڑپ دل میں وزیر اعلیٰ کے ہیلی کاپٹر پر بیٹھنے کی!ان میں سے کسی ’’کامیابی‘‘ میں عزت نہیں! عزت اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسولؐ کے لیے!!
اس لیے کہ اپنے گھر کی روٹی کھانا اور اپنے گھر میں بیٹھنا۔ سنہری پیٹی باندھ کر حضوری میں کھڑے ہونے سے بہتر ہے! اس لیے کہ گرم لوہے کو موڑ کر آہن گری کرنا دست بستہ کھڑا ہونے سے بہت بہتر ہے اور اس لیے کہ کمر کو کمان کی طرح دہرا کرنے سے بہتر ہے کہ ایک چپاتی پر گزر بسر کر لی جائے!


کمر کو دہرا کرنے سے ایک بھولا بسرا واقعہ یاد آ گیا۔ سول سروس میں اس کالم نگار کے بیچ میٹ ان دنوں وفاقی سیکرٹری برائے تعلیم تھے۔ ایک نام نہاد سرکاری ادبی ادارے کے سربراہ کے بارے میں ہنستے ہوئے بتایا کہ کمرے میں داخل ہوتے ہی دُہرے ہو جاتے ہیں اور پھر بہت مشکل سے کمر کی کمان کو سیدھا کرتے ہیں!
سول سروس کے آخری درجے سے ریٹائرمنٹ ہوئی تو اس وقت تک سر چھپانے کی جگہ نہیں تھی۔ ایک ادیب دوست بااثر تھے۔ یار مہرباں سعود عثمانی نے انہیں سی وی دیااور سفارش کی کہ دوسروں کی طرح اس کا بھی ملازمت کے لیے استحقاق ہے۔ انہوں نے مجھ سے بات کی اور اظہار افسوس کیا کہ دوران ملازمت کوئی انفارمیشن کسی کو پہنچائی ہوتی۔ کسی کے ’’زیر سایہ‘‘آ جاتے تو آج سب کچھ ممکن ہوتا۔ الحمد للہ کہہ کر اس دوستانہ بلکہ سرپرستانہ’’سرزنش‘‘ پر شکریہ ادا کیا۔ خفیہ معلومات بہت بار مانگی گئیں مگر ریاست کی امانت میں خیانت کرنے کا یہاں تصور ہی نہ تھا۔ ایک دفعہ مزدوری کی نوعیت وزارت خزانہ میں ایڈیشنل سیکرٹری کی تھی۔ پلاسٹک کے وزیر اعظم شوکت عزیز کا زمانہ تھا۔ ان کے لیے جہاز خریدنے کا معاملہ تھا۔ وفد تشکیل دیا گیا۔ چار پانچ ملکوں میں جانا تھا۔ اپنی جگہ اپنے ماتحت جوائنٹ سیکرٹری کو وفد کا رکن نامزد کیا۔ خریداری ہو گئی۔ متعلقہ فائل تحویل میں تھی۔ ایک صبح ایک بہت معروف صحافی کا فون آیا۔ کہ وہ فائل دیکھنی ہے۔ عرض کیا اس خریداری کا دکھ تو مجھے بھی بہت ہے مگر فائل سرکار کی امانت ہے انہوں نے اصرار کیا اور کہا کہ وہ بھی کسی دن کام آ سکتے ہیں بہت انکسار کے ساتھ معذرت کی! کچھ عرصہ بعد اس پلازہ میں جانا ہوا جہاں وہ بھی بیٹھتے تھے۔ باہر برآمدے میں کھڑے تھے۔ گزرتے ہوئے سلام کیا۔ رعونت کا سیاہ ابر چہرے پر چھا گیا۔ سلام کا جواب نہ دیا۔
جناب میاں نواز شریف! اب بھی کچھ نہیں گیا۔ سب کچھ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اس پاکستانی شہری کے آپ تین بار وزیر اعظم رہے ہیں۔ جتنی وفاداری ملک کے ساتھ ہے اتنی ہی تین بار ملک کے وزیر اعظم رہنے والے کے ساتھ ہے۔ ہاں! وفاداری کی نوعیت نہ جانے آپ کے فہم میں سما سکے یا ماپ سے باہر ہو جائے۔
آج اعلان کر دیجیے کہ چار عالی شان اپارٹمنٹوں کو ملا کر جو محل بنایا گیا اور جو لندن میں اس وقت خاندان کی رہائش گاہ ہے‘ وہ ریاست پاکستان کو پیش کرتا ہوں اس میں سفارت خانہ بنائیں یا پاکستان مرکز‘ جس میں ثقافتی سنٹر ہو اور ایک عظیم الشان لائبریر ی!
آج اعلان کر دیجیے کہ بیرون ملک سے اپنا سارا سرمایہ‘ ساری جائیداد‘ سارے کارخانے ملک میں واپس لا رہا ہوں۔
آج اعلان کر دیجیے کہ جاتی امرا کے محلات ریاست پاکستان کے نام کررہا ہوں۔ جس طرح چاہے استعمال کرے۔ بے شک غیر ملکی سفارت خانوں کو فروخت کر دے اور حاصل شدہ رقم قومی خزانے میں ڈال دے۔
آج اعلان کر دیجیے کہ حکومت میں آنے سے پہلے جہاں رہائش پذیر تھے وہیں رہیں گے اس لیے کہ محلات لندن میں ہوں یا جاتی امرا میں یا جدہ میں یا دبئی میں‘ یا نیو یارک میں‘ بہت قلیل مدت کے لیے ہیں۔ سورہ دخان میں ارشاد فرمایا:
’’کتنے ہی باغات اور چشمے وہ چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عظیم الشان محلات!!اور عیش و آرام کے اسباب جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے تھے۔ یہ ہوا ان کا انجام! اور ان چیزوں کا ہم نے دوسرے لوگوں کو وارث بنا دیا۔ پھر ان پر آسمان رویا نہ زمین! اور نہ ہی وہ مہلت پانے والے ہوئے!!‘‘
تو عالی جاہ! جب یہ سب کچھ آپ نے چھوڑ ہی جانا ہے‘ تو (خدا آپ کو لمبی زندگی دے) کیوں نہ اپنی زندگی ہی میں اس طرح چھوڑ دیجیے کہ تونگری عش عش کر اٹھے۔آج یہ بھی اعلان کر دیجیے کہ آپ نے کابینہ اور منتخب ایوان کو خاطر میں نہ لا کر غلطی کی۔ اور یہ کہ ایک مخصوص سرکل پر انحصار نقصان دہ ثابت ہوا۔
آج اعلان کر دیجیے کہ حکومت کی کنجیاں ساری کی ساری‘ اسحاق ڈار اور فواد حسن فواد کے سپرد کرنا غلطی تھی۔ 
یہ اعلان بھی کر دیجیے کہ مقدمات کا سامنا کروں گا اور جس ملکیت کی بھی منی ٹریل نہ دکھا سکا۔ ریاست پاکستان کی خدمت میں پیش کر دوں گا۔
یقین کیجیے عالی مرتبت! اس کے بعد بھی آپ کے اور آپ کے لواحقین کے تصرف میں بہت کچھ موجود ہو گا۔ مگر یہ اعلانات کرنے کے بعد آپ کو سول بالادستی کا نعرہ لگانے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ عوام لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں آپ کے لیے باہر نکلیں گے۔ پھر وہ جیپوں کا نہیں‘ آپ کی خاطر ٹینکوں اور توپوں کا بھی سامنا کریں گے اور آپ کو اتنے ووٹ دیں گے کہ آپ کو کسی فضل الرحمن کسی اچکزئی کے کاندھے پر ہاتھ رکھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی!
اس لکھاری کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے باوجود‘ یہ یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہے کہ آپ یہ سب کچھ کریں گے تو عمران خان بھی آپ کے ہاتھ چومے گا!




Saturday, July 28, 2018

تین کام جو عمران خان کو پہلے ہفتے میں کردینے چاہئیں



معاشی گڑھے سے نکلنے کے لیے تو خیر عمران خان کو کچھ طویل المیعاد منصوبوں پر کام کرنا پڑے گا۔ جن میں سے تین اہم ہیں۔ اول: ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ، دوم: درآمدات کے بل میں کمی اور سوم: جن افراد نے گزشتہ عشروں میں قرضے معاف کرائے، (سابق سپیکر…… فہمیدہ مرزا جیسے بااثر سیاستدان بھی ان میں شامل ہیں) ان سے ان بھاری کی واپسی۔ 

مگر تین کام ایسے ہیں جو عمران خان کو حکومت میں آنے کے بعد پہلے ہفتے کے اندر کردینے چاہئیں۔ اول: وزیراعظم ہائوس کو جو دراصل ایک محل نہیں، محلات کا مجموعہ ہے ، فوراً کسی ادارے کے نام وقف کردے۔ یہ تجویز اس کالم نگار نے 26 جولائ کی دوپہر کو 92 نیوز چینل پر پیش کی۔ خوشگوار اتفاق یہ ہوا کہ اسی دن شام کی تقریر میں عمران خان نے اسی عزم کا اظہار کیا۔ مگر مسئلہ یہاں اور ہے۔ 

سکیورٹی کا حصار کھینچنے والوں نے ایک نام نہاد ’’ریڈزون‘‘ بنایا ہوا ہے۔ اعتراض یہ کیا جائے گا کہ اگر وزیراعظم ہائوس کو لائبریری، عجائب گھر یا یونیورسٹی بنایا گیا تو حفاظتی پہلو متاثر ہوں گے۔ اس لیے کہ عوام کی آمدورفت زیادہ ہوگی۔ عوام کی آمدورفت تو اس نام نہاد ریڈ زون میں پہلے ہی زیادہ ہے۔ سپریم کورٹ کے علاوہ تمام وزارتیں یہیں ہیں۔ پورے ملک سے لوگ اپنے کام کروانے کے لیے ان وزارتوں میں آتے ہیں۔ عمران خان کو سکیورٹی کی بنیاد پر کھڑی کی گئی اندیشوں کی ان دیواروں کو گرانا ہوگا۔ وزیراعظم ہائوس میں ان متعدد وفاقی دفاتر کو بھی منتقل کیا جا سکتا ہے جو اس وقت کرائے کی عمارتوں میں کام کر رہے ہیں اور پورے شہر میں بکھرے پڑے ہیں۔ کروڑوں روپے ہر ماہ حکومت کرائے کی مد میں ادا کر رہی ہے۔ اگر سکیورٹی اہلکاروں کے اٹھائے گئے اعتراضات کو بنیاد بنا کر عمران خان اس عزم سے پیچھے ہٹ گیا تو تضحیک کا نشانہ بننے کے علاوہ یہ عمل رجعت قہقری کا افسوسناک نمونہ ہوگا۔ 

دوم: پولیس کو سیاسی مداخلت کی غلاظت سے پاک کرنے کا کام عمران خان کو دارالحکومت سے شروع کرنا چاہیے اور فوراً شروع کرنا چاہیے۔ وفاقی دارالحکومت کے آئی جی پولیس کو بلا کر حکم دیا جائے کہ شہر کو چوریوں، ڈاکوں اور ٹریفک لاقانونیت سے پاک کرے۔ اسے یہ یقین دلایا جائے کہ اس کے فرائض منصبی میں مداخلت نہیں ہوگی اور یہ کہ اسے کسی وزیر، ایم این اے یا بااثر فرد کی سفارش پر کان ہرگز نہیں دھرنے ہوں گے۔ وہ اپنے اہلکاروں کی تعیناتیاں اپنی مرضی سے کرنے کا مجاز ہوگا۔ وفاقی دارالحکومت نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب پولیس کا ایک افسر پنجاب کے شہزادے کا قریبی عزیز تھا اور اپنے سینئر افسروں کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ صرف مارچ 2018ء میں بیس کاریں اور اکتیس موٹرسائیکلیں دارالحکومت سے چوری ہوئیں۔ سیف سٹی پراجیکٹ پر اربوں روپے لگ گئے۔ کیمرے نصب کئے گئے مگر چوریاں اور ڈاکے جتنے تھے اتنے ہی رہے۔ ڈاکوئوں کے گروہوں نے سیکٹر بانٹ رکھے ہیں۔ دارالحکومت کی پولیس ہمیشہ پروٹوکول کے عذاب سہتی رہی ہے۔ پولیس کا سربراہ خودمختار ہوگا تو سرطان کی ان سب مکروہ علامتوں کا خاتمہ کرسکے گا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں پولیس کی خودمختاری کا یہ ماڈل چلایا ہے اور اس میں بہت حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ 

تیسرا کام اپنے وزیروں، پارٹی کے منتخب نمائندوں اور سینئر افسروں کو یہ حکم دینا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے علاج کے لیے وفاقی ہسپتالوں میں جائیں اور پروٹول کے بغیر، کسی ترجیحی سلوک کا انتظام کئے بغیر، عام مریضوں کے ساتھ قطار میں کھڑے ہوں۔ یہ ایک ایسا طلسمی عمل ہوگا جو ان دونوں بڑے ہسپتالوں میں کھل جا سم سم کا سحر آفریں اثر دکھائے گا۔ ہسپتالوں کے سربراہ اس گہری نیند سے ہڑ بڑا کر اٹھ کھڑے ہوں گے جس سے مدتوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ نااہل اور راشی، کیا اہلکار کیا ڈاکٹر، سب کا صفایا ہو جائے گا۔ 

عمران خان کو ان خوشامدی جونکوں سے بچنا ہو گا جو ہر حکمران کو چمٹ جاتی ہیں۔ ان گنہگاروں نے ایسے ایسے شرم ناک مناظر دیکھے کہ آنکھیں ڈھانپ لینے کو دل کرتا تھا اور ایسے ایسے فقرے زہر بھرے عمران خان کے خلاف سنے کہ حیرت ہوتی تھی۔ ٹی وی پر ایسے ایسے انٹیلیکچول کم اور انٹا غضیل زیادہ دیکھے جنہیں کوئی جانتا ہی نہیں تھا اور ان کی پہچان ہی پانامہ گیٹ کے دفاع اور عمران خان کی تضحیک و تنقیص سے بنی۔ کہاں وہ وقت کہ عمران خان کی تقریر سن کر، زہر خند سے کہتے تھے کہ تقریر سن کر ایک ہی بات معلوم ہوئی کہ عمران خان کو تقریر کرنا ہی نہیں آتی اور کہاں یہ دن کہ عمران خان کی تقریر کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ آج اچانک ان مرغان بادنما کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ پرویز خٹک چھوٹے گھر میں رہتا تھا، آج ان کی آنکھوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے لے کر پشاور تک تجاوزات نہیں ہیں۔ آج انہیں یہ امید بھی لاحق ہوگئی ہے کہ کے پی میں پولیس کا کلچر بدلا ہے تو پنجاب میں بھی تبدیلی آئے گی۔ کل ان کا موقف تھا کہ عمران خان جمہوریت کا دشمن ہے اس لیے کہ وہ پانامہ گیٹ کے مسئلے کو حل نہیں ہونے دیتا اور زندہ رکھنا چاہتا ہے۔ کل جو دانش کے گڑھوں سے حکمت نکال نکال کر پانامہ کیس کے گرد بُنی ہوئی ’’سازش‘‘ کو سیخ کباب سے تشبیہہ دیتے تھے کہ گوشت سیخ کے گرد لپٹا ہوتا ہے۔ آج وہ ضمیر کی گٹھڑی سر پر لادے پھر بازار میں نکل آئے ہیں۔ کل وہ عمران خان سے پوچھ رہے تھے کہ آپ ایک مفروضے پر بات کر رہے ہیں کہ جو سامان برآمد ہوا ہے وہ چوری کے پیسوں سے خریدا گیا ہے اور عمران خان انہیں کہہ رہا تھا کہ آپ لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ 

Beneficiaries 
کا یہ گروہ پتیلے، دیگچیاں، تھیلے، کشکول اٹھائے عمران خان کے آگے رکوع میں جھکنے کے لیے تیار ہوگا۔ عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان لوگوں نے ہوا کا رخ تبدیل ہوتا دیکھتے ہی میاں نوازشریف کو چھوڑ دیا۔ نہ صرف چھوڑ دیا بلکہ ان کے خلاف بولنا شروع ہو گئے۔ خوشامدیوں سے بچنا کامیابی کی اولین شرط ہے۔ ہر حکومت کا ساتھ دینے والے خوشامدیوں اور شعبدہ بازوں کو خاطر میں نہ لانے کے لیے ایک ایسا مزاج چاہیے جسے خوشامد سے نفرت ہو۔ یہ مزاج اگر عمران خان میں نہیں ہے تو پھر اس کے لیے دعا ہی کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ روغن قاز کی شیشیاں اٹھائے، تولیے کاندھوں پر رکھے، نچلی سطح کے یہ سوداگر اپنی خدمات بیچنے کے لیے گلی گلی کوچہ کوچہ آوازیں لگاتے پھر رہے ہیں۔




Thursday, July 26, 2018

میرا کُتا واپس کر دو



یہ قصّہ آپ نے پہلے بھی سنا ہو گا۔ 

ایک چرواہا‘ ایک پہاڑ کے دامن میں بھیڑیں چرا رہا تھا۔ گھاس ہری بھری تھی۔ ہوا خوشگوار تھی۔ بھیڑیں خوش خوش پیٹ پوجا میں مصروف تھیں۔ چرواہا درخت کے سائے میں چادر بچھا کر اس پر نیم دراز ‘ بانسری بجا رہا تھا۔ 

ایک لینڈ کروزر آ کر رُکی۔اس عظیم الشان گاڑی سے ایک نوجوان اترا۔ اس نے تازہ ترین فیشن کا تھری پیس سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا۔ اعلیٰ برانڈ کی ریشمی قمیض پہنی ہوئی تھی اور بہترین اطالوی ہینڈ میڈ نکٹائی لگائی ہوئی تھی۔ جوتے جو اس نے پہنے ہوئے تھے‘ ایک ایسے فرانسیسی برانڈ کے تھے کہ سیل میں بھی ان کی قیمت سینکڑوں پائونڈ سے کم نہ تھی۔ نوجوان نے عینک بھی لگائی ہوئی تھی۔ جب وہ چرواہے کی طرف بڑھا تو اس کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ تھا۔

چرواہے نے بانسری بجانا چھوڑ کر‘ اس سے پوچھا فرمائیے! کیا خدمت کروں؟ نوجوان نے پیشکش کی کہ میں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ آپ کے پاس کتنی بھیڑیں ہیں۔ اگر میں بھیڑوں کی تعداد ٹھیک ٹھیک بتا دوں تو ایک بھیڑ لینے کا حقدار ہوں گا۔ چرواہا مسکرایا اور کہا ٹھیک ہے‘ ایسا ہو گا! نوجوان نے گاڑی سے ایک فولڈنگ کرسی نکالی اور اس پر بیٹھ کر لیپ ٹاپ پر اعداد و شمار کی دنیا میں کھو گیا۔ وہ بہت دیر تک کی پیڈ پر انگلیاں چلاتا رہا کبھی سکرین کو دیکھ کر کچھ سوچنے لگتا‘ کبھی آسمان کی طرف دیکھتا‘ اس سارے عرصہ میں اس نے بھیڑوں پر ایک نگاہ غلط انداز تک نہ ڈالی۔ کئی گھنٹوں بعد وہ مسکرایا۔ یہ مسکراہٹ فاتحانہ تھی! کرسی سے اُٹھ کر چرواہے کے پاس آیا۔ اس کا چہرہ خوشی سے اور احساسِ کامرانی سے دمک رہا تھا۔ اس نے چرواہے کو اس کی بھیڑوں کی تعداد بتائی ۔ چرواہے نے کہا بالکل درست! نوجوان نے طے شدہ معاہدے کے تحت ایک بھیڑ اپنی پسند کی گاڑی میں لادی اور چلنے ہی لگا تھا کہ چرواہے نے روکا اور پوچھا کہ کیا میں تمہیں بتا دوں کہ تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟ نوجوان نے جواب اثبات میں دیا۔ چرواہے نے کہا کہ اے نوجوان! تم ایک 
Consultant
(کنسلٹنٹ) ہو اور عالمی بینک سے آئے ہو! نوجوان کا حیرت سے منہ کھل گیا۔ اس نے کنفرم کیا کہ ایسا ہی ہے۔ مگر چرواہے سے پوچھا کہ آخر اسے یہ کیسے معلوم ہوا چرواہے نے کہا‘ تین نشانیاں ایسی تھیں کہ میں تمہاری حقیقت جان گیا۔ اول تم بن بلائے آ گئے دوم تم مجھے وہ چیز بتانے آئے جو مجھے پہلے سے معلوم تھی۔ سوم تمہارا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں تم نے بھیڑوں کو تو دیکھا تک نہیں! اور اب مہربانی کر کے میرا کتا واپس کر دو جسے تم نے بھیڑ سمجھ کر اٹھا لیا ہے! 

کل اس کالم نگار کو بھی اسی صورت حال سے دوچار ہونا پڑا جس سے غریب چرواہا دوچار ہوا تھا۔ میں گائوں سے تعلق رکھنے والا ایک اکھڑ‘ منہ پھٹ‘سر سے پیر تک دیسی پاکستانی‘ایک ایسے گروہ میں پھنس گیا۔ جہاں کنسلٹنٹ قسم کی مخلوقات جمع تھیں۔ کوئی ورلڈ بینک کے لیے رپورٹیں لکھتا رہا تھا۔ کوئی اقوام متحدہ کے کسی ادارے کے لیے اعداد و شمار تصنیف کرتا رہا تھا۔ کوئی نیو یارک اور واشنگٹن میں پاکستان کی بیماریوں کا علاج ڈھونڈ کر لوٹا تھا اور کوئی یورپی یونین کے امور کا ماہر تھا۔ گفتگو کا موضوع پاکستان میں تعلیم اور صحت کی صورت حال تھی۔ ان اصحاب کے پاس ولایتی تھیلے تھے ان تھیلوں سے انہوں نے اعداد و شمار نکالے کہ اتنے عرصہ میں اتنے نئے سکول بنے۔ طلبہ کی تعداد میں اس قدر اضافہ ہوا‘ اساتذہ کی حاضریوں کی تعداد میں اتنی بہتری ہوئی۔ ہسپتالوں میں یہ ہوا اور وہ بھی ہوا۔ 

جب حکم کیا گیا کہ میں بھی کچھ کہوں تو میں نے افسوس کا اظہار کیا کہ میرا تعلق ایک گائوں سے ہے اور صرف اپنے گائوں سے نہیں علاقے کے ایک ایک گائوں سے یوں واقف ہوں جیسے ہتھیلی پر رکھے ہوں! کسی سرکاری سکول میں کوئی بہتری نہیں آئی اساتذہ کی حالت وہی ہے جو پہلے تھی۔ گائوں کے سکول میں پڑھانے والا استاد‘ جسے خلق خدا ماسٹر کہتی ہے۔ کھیتوں پر ہل بھی چلاتا ہے‘ دکانداری بھی کرتا ہے‘ کبھی کبھی ڈاکخانے کا چارج بھی اسے دے دیا جاتا ہے۔ پھر جب ان سارے دھندوں سے فارغ ہو تو سکول میں بچوں کو پڑھا بھی لیتا ہے۔ اور سکولوں کی حالت کیا ہے؟ چھت ہے تو دیواریں مخدوش ہیں! پینے کا صاف پانی ناپید ہے۔ کتنے ہی قریوں میں بچے پٹ سن یا پلاسٹک کی خالی بوریاں گھر سے لاتے ہیں اور فرش پر بچھا کر ان پر بیٹھتے ہیں۔ ماسٹر صاحب کی کرسی شکستہ ہوتی ہے۔ عام طور پر ایک پھٹے پر مشتمل!! پھر جو بچے اس خستہ کمرے سے جسے سکول کہا جاتا ہے پانچ جماعتیں پاس کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو قصبے کے ہائی سکول میں داخلہ لیتے ہیں۔ صبح کو کسی سوزوکی میں کھڑے ہو کر اور شام کو پیدل چل کر یا کسی سے لفٹ لے کر گھر پہنچتے ہیں۔ 

پنجاب میں جب ’’زبردست‘‘ وژن رکھنے والے خادم اعلیٰ نے دانش سکولوں کا ڈول ڈالا تو لوگوں نے بہت سمجھایا کہ لاکھوں سرکاری سکول جو پہلے سے قائم ہیں اور ناگفتہ بہ حالت میں ہیں اولین توجہ کے مستحق ہیں۔ ان ’’خصوصی‘‘ سکولوں پر لگائے جانے والے کروڑوں روپوں پر پہلے سے قائم شدہ سکولوں کا حق زیادہ ہے! 

مگر یہ این جی او قبیل کے حضرات اپنے اعداد و شمار سے باہر نکلنے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔ وہ بھیڑوں کو گن رہے تھے اور بھیڑوں کی طرف دیکھنے کے روا دار نہ تھے۔ کتے کو بھیڑ سمجھ کر اٹھا لینا رپورٹیں مرتب کرنے والے کنسلٹنٹس کے لیے عام ہے۔ ایک زمانہ تھا جب پاکستان کے دارالحکومت میں‘ وزارت زراعت میں بیٹھ کر کئی سال تک ’’کاٹن پالیسی‘‘بنانے والے بیورو کریٹ نے کاٹن کا پودا دیکھا ہی نہیں تھا اور یہ سوال تو عرصہ ہوا شام کی سیر کے دوران ایک بلند منصب افسر نے خود مجھ سے پوچھا تھا کہ گندم کا درخت کتنا بڑا ہوتا ہے۔ حقیقت حال کی وضاحت کرنے ہی لگا تھا کہ بیچارے کو اصل بات بتا دوں مگر پھر سوچا کہ بلند منصب پر فائز اس پالیسی ساز کو اگر اب تک معلوم نہیں ہو سکا کہ گندم کا درخت کتنا بڑا ہوتا ہے تو اب بتانے سے ملک کو کچھ خاص فائدہ بھی نہیں ہو گا۔ چنانچہ میںنے اس کے ’’علم‘‘ کی بنیاد کو متزلزل نہ کیا! 

اور سرکاری ہسپتال؟ ضلع اور تحصیل سطح کے ہسپتال مرگھٹ ہیں یا قتل گاہیں! ڈاکٹر غیر حاضر! سامان اور آلات غائب اور اگر ہیں تو زنگ آلود۔ ان قتل گاہوں میں شفا کم اور موت زیادہ ملتی ہے! 

کوئی مانے یا نہ مانے‘ جب تک دو تبدیلیاں رونما نہ ہوں گی‘ سرکاری سکول اور سرکاری ہسپتال سسکتے بلکتے ہی رہیں گے۔ اول‘ طاقت ور مقامی حکومتوں کا قیام!جو اپنے اپنے دائرہ کار میں نچلی سطح تک کام کریں! لاہور بیٹھے ہوئے نوکر شاہی کے رکن کو کیا پڑی ہے کہ جہلم یا جھنگ کی دور افتادہ بستیوں کے سکولوں کی فکر کرے اور ذاتی طور پر جا کر ان کی حالت زار دیکھے۔ اسے کیا ضرورت ہے کہ لاہور سے نکلے اور فتح جنگ یا جنڈیا بہاولنگر یا عیسیٰ خیل کے ہسپتال میں جا کر چیک کرے کہ ڈاکٹر کس وقت ڈیوٹی پر پہنچا اور کس وقت اپنے پرائیویٹ کلینک کی سمت نکل گیا۔ دوم‘ حکمران‘وزیر‘ عمائدین اور ٹاپ بیورو کریٹ جب تک اپنے بچے ان سکولوں میں نہیں ڈالیں گے اور اپنے آپ کو اور اپنے مریضوں کو علاج کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں نہیں لائیں گے‘ تب تک ان سکولوں اور کالجوں میں جہالت راج کرتی رہے گی۔ تب تک ہسپتال موت بانٹتے رہیں گے! مختص رقوم ہوا میں تحلیل ہوتی رہیں گی! رپورٹیں بنتی رہیں گی۔ اعداد و شمار تصنیف ہوتے رہیں گے۔ آسمانوں پر رہنے والے زمینی حقیقتوں سے بے خبر ہی رہیں گے اور کتے کو بھیڑ ہی سمجھتے رہیں گے۔



Tuesday, July 24, 2018

ابھی کہیں کہیں ہڈیوں پر گوشت باقی ہے


وفاقی حکومت کے سرکاری مکانوں کے محکمے نے عالم بے بدل، فاضل اجل، صدر مملکت جناب ممنون حسین کی خدمت میں ایک خط پیش کیا ہے۔ اس سرکاری کاغذ پر ان کے نام باتھ آئی لینڈ کراچی کا ایک مکان الاٹ کیا گیا ہے جس میں مکرم ومحترم ریٹائرمنٹ کے بعد بود و باش اختیار کریں گے۔ 

چونکہ ’’قانون کی رو سے صدر مملکت کو عہدے سے سبکدوش یا ریٹائر ہونے کے بعد یہ استحقاق حاصل ہے کہ انہیں سرکاری مکان الاٹ کیا جائے۔‘‘ اس لیے صدر ممنون حسین کو یہ ’’جھونپڑی‘‘ الاٹ کی گئی ہے۔ اہل کراچی اچھی طرح جانتے ہیں کہ باتھ آئی لینڈ کا علاقہ ’’غریبوں‘‘ کے لیے مخصوص ہے۔ ایسے ’’غریب‘‘ جن پر امیر بھی رشک کریں! عالم بے بدل فاضل اجل صدر ممنون حسین جب ستمبر میں ایوان صدر کو داغ مفارقت دیں گے اور جب ایوان صدر ان کے فراق میں دھاڑیں مار مار کر روئے گا تو انہیں اس مکان کا قبضہ دے دیا جائے گا۔ 

بے چارے صدر ممنون حسین! جن کے پاس ریٹائرمنٹ کے بعد رہنے کے لیے مکان ہی نہیں۔ 

وہ ایک کاروباری شخصیت ہیں۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر رہے۔ اس وقت شاید وہ خیمے میں رہتے تھے۔ ہو سکتا ہے رات کسی مسجد میں فرش پر سو کر گزارتے ہوں۔ اب ایوان صدارت سے نکلیں گے تو تاحیات سرکاری مکان میں رہیں گے۔ ہماری حکومتیں بھی غریب بے گھروں کے لیے کیا کیا خیراتی کام کرتی ہیں۔ ایک بے گھر کو چھت مل جائے گی۔ ایک غریب کو سر چھپانے کی جگہ میسر آجائے گی۔ اس کا خرچ ہم آپ ٹیکس گزار ادا کریں گے۔ اس غریب مفلس سابق صدر کو مفت رہائش مہیا کر کے ہم ٹیکس دھندگان کو یہ اطمینان تو نصیب ہو گا کہ چلو ایک مفلس کی کفالت تو کر رہے ہیں۔ 

بھارتی صدر عبدالکلام کو ایوان صدر سے نکلنے پرسرکاری مکان الاٹ ہوا تھا اس لیے کہ اس کے پاس بھارت میں اپنا گھر کہیں بھی نہیں تھا۔ دنیا سے رخصت ہوا تو اس کا ترکہ کیا تھا، اڑھائی ہزار کتابیں، کلائی والی گھڑی، چھ قمیضیں، چار پتلونیں، تین سوٹ، جوتوں کا ایک جوڑا۔ گزارا اپنی تصنیف کردہ چار کتابوں کی فروخت پر تھا اور اس پنشن پر جو سرکار سے ملتی تھی۔ دوران صدارت ملنے والے تحائف میں سے اس نے ایک تحفہ بھی اپنے لیے نہ رکھا۔ ہر تحفے کا، چھوٹا تھا یا بڑا، سرکاری کاغذوں پر اندراج ہوتا اور سیدھا ریاستی توشہ خانے میں پہنچا دیا جاتا۔ یہ وہ تحائف تھے جو غیر ملکی مہمان پیش کرتے۔ رہا معاملہ وطن کے اندر کا تو کتاب کے علاوہ وہ کوئی تحفہ وصول ہی نہ کرتا تھا۔ بہت انکسار کے ساتھ معذرت کرتا اور واپس کردیتا۔ 

جن دنوں ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ وزیراعظم آنکھوں پر محدب عدسہ لگا کر منصب صدارت کے لیے موزوں امیدوار تلاش کررہے تھے۔ انہیں مشورہ دیا گیا تھا کہ سرتاج عزیز کو صدر مقرر کردیں تاکہ کم از کم ایک بار تو ہم بھی بھارت کے سامنے سر اٹھا کر کہہ سکیں کہ دیکھو، ہمارے ہاں کا صدر بھی سکالر، مصنف اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے مگر سرتاج عزیز ساری زندگی لاہور میں گزارنے کے باوجود اشیائے خورد ونوش پکانے اور پیش کرنے کا فن نہ سیکھ سکے۔ دہی بڑے اور حلیم کی سوغاتیں پیش کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ 

اس سے پہلا انتخاب بھی میاں نوازشریف کا اپنی مثال آپ تھا۔ ایک جج صاحب کو اٹھایا اور تخت صدارت پر براجمان کردیا۔ ایک روایت یہ تھی کہ اباجی کے پسندیدہ وفاداروں میں سے تھے۔ دوسری روایت نسبتاً طویل ہے۔ اس میں بریف کیس کا اور کوئٹہ کا ذکر آتا ہے۔ کیا کسی کو معلوم ہے کہ یہ حضرت اب کہاں قیام پذیر ہیں۔ کیا یہ اپنے گھر میں رہ رہے ہیں یا یہ بھی جناب ممنون حسین کی طرح بے گھر ہیں اور ہمارے آپ کے ٹیکسوں سے سرکاری گھر میں لطیفہ آرا ہیں؟ 

ریاست پاکستان کا دل بہت بڑا ہے۔ اگرچہ غریب بہت ہے۔ بیرونی قرضوں سے بیچاری کا بال بال اٹا ہے مگر فیاض اتنی کہ جس کا جی چاہے نوچ لے، آکر ماس کھالے، ہڈیاں تک چچوڑ لے، بزنس مین اس مرتبے کے کہ کراچی جیسے شہر کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر، پھر پانچ برس صدارتی ایوان میں مستقل سرکاری مہمان مگر حسرت ریٹائرمنٹ کے بعد بھی یہی کہ ریاست پاکستان ہی کفالت کرے، استحقاق ذرا سا بھی نہیں چھوڑنا، بروئے کار لانا اور ضرور لانا ہے۔ واہ سبحان اللہ۔ 

لیاقت علی خان شہید ہوئے تو کرنال کے اس خاندانی نواب کے پاس اپنی چھت نہیں تھی۔ جمشید مارکر نے اپنی تصنیف ’’کور پوائنٹ‘‘ میں تفصیل لکھی ہے۔ چالیس ہزار روپیہ کل اثاثہ تھا۔ ریاست نے ان کی بیوہ کو چھت مہیا کی۔ 

عبدالکلام کے مقابلے میں ہمارے قومی سائنسدان نے ذرا ’’حقیقت پسندی‘‘ کا مظاہرہ کیا۔ قوم پر احسان کیا مگر مفت نہیں۔ اسلام آباد کے نواح میں ایک صاف شفاف جھیل کے کنارے، جہاں مکان بنانا منع تھا، محل تعمیر کیا۔ ایک غیرقانونی عمل! پھر دیکھتے دیکھتے وہاں پورا غیر قانونی شہر آباد ہو گیا۔ قوم نے ’’محسن پاکستان‘‘ کا خطاب دیا مگر ’’شکرگزاری‘‘ کا یہ عالم کہ شکوہ کناں ہی رہے۔ مجھے یہ نہیں بنایا، مجھے فلاں منصب نہیں سونپا گیا۔ یہاں تک کہ تنگ نظری پر مبنی لسانی طعنے بھی قوم کو دیے - قوم اگر لسانی تعصب برتتی تو محسن قوم کا بے مثال خطاب کیوں دیتی ؟ کبھی اپنے اثاثوں کی تفصیل تو قوم کے ساتھ شئیر کر لیجیے - نہیں بھی کریں گے تو قوم کیا کر لے گی !

قوم تو کسی موقع پر کچھ نہیں کرسکتی۔ بھیڑوں کا ایک گلہ۔ قوم یہ تک نہیں پوچھ سکتی کہ حنیف عباسی کو تو الیکشن سے چار دن پہلے سزا دے دی گئی، ملتان کے سید زادے کا کیا بنا؟ اور وہ بیوروکریٹ جس نے نو ہزار کلوگرام ایفی ڈرین کا کوٹہ الاٹ کیا پھر وزیراعظم گیلانی کا پرنسپل سیکرٹری بنا، پھر ملک سے فرار ہوگیا۔ رئوف کلاسرہ صاحب سے گزارش ہے کہ کھوج لگائیں یہ ذات شریف اب کہاں ہیں، کس ملک میں ہیں؟ ان کی جائیداد عدالت نے ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔ ضبط ہوئی یا نہیں؟ 

یہ پرنسپل سیکرٹری کی پوسٹ بھی ’’کھل جا سم سم‘‘ سے کم نہیں۔ یہاں جو بھی آیا باون گز ہی کا نکلا۔ یوسف رضا گیلانی صاحب کی وزارت عظمیٰ کے دوران ایک مفرور واپس آیا۔ پرنسپل سیکرٹری بنا۔ گھنٹوں کے حساب سے فائلیں دوڑیں، بائیس گریڈ ملا۔ ظاہر ہے فرار ہونے کا دورانیہ بھی نوکری میں شمار کرلیا گیا ہوگا۔ بہن کو بھی ترقی دلوائی۔ بہت بڑی پوسٹ پر لگوایا۔ پھر اپنی تعیناتی بیرون ملک کروالی۔ تاکہ حکومت بدلے تو پانچوں انگلیاں گھی سے اور سرکڑاہی سے باہر نہ نکلے۔ اس کے مربی اور سرپرست نے کمال چابکدستی سے وفاقی محتسب کی آسامی پر قبضہ کیا۔ یہ وہی صاحب ہیں جن کے حوالے سے رئوف کلاسرہ نے خبر بریک کی تھی کہ لاکھوں کے حساب سے سرکاری خزانے سے عیدی لی۔ 

ایک اور صاحب پرنسپل سیکرٹری بنے تو متعلقہ فائل روک لی۔ اشتہار دیکھ کر جنہوں نے درخواستیں دی تھیں وہ دیکھتے رہ گئے اور یہ ایک ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ بن گئے۔ پانچ سال بادشاہی کی۔ 

ریاست پاکستان کتنی فیاض ہے۔ نوچیے ماس کھائیے، ہڈیاں تک چچوڑ جائیے، بھنبھوڑیے، ابھی کہیں کہیں ہڈیوں پر گوشت باقی ہے۔




Sunday, July 22, 2018

استحصال اس کے لیے نرم ترین لفظ ہے



’’……………………آپ نے علی ؓ کو نہیں دیکھا۔ دو بیٹے علیؓ کے آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں بھی علیؓ کا بیٹا ہوں…………بھی علیؓ کا بیٹا ہے۔ …ہمیں دیکھ لیا‘ آپ نے تو سمجھو علی کو دیکھ لیا۔ ہمارا ساتھ دو گے؟ ہاتھ اٹھاکے۔ ہمارا ساتھ دو گے؟ دیکھو میں علیؓ کا بیٹا ہوں۔ یہ علیؓ کا بیٹا ہے۔ یہ میرے بچے ہیں۔ آپ کے بھائی ہیں۔ ہمارا ساتھ دو گے؟ چھوٹا بڑا ووٹ دو گے؟ …………… پر مہر لگائو گے؟ چھوٹی بڑی سیٹ پر مہر لگائو گے؟ سنو! کل قیامت کو جب تیرا کوئی کام آنے والا نہیں ہو گا تو یہ خاتون جنت کے بچے تیرے کام آئیں گے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ دنیا میں بھی تیرے کام کریں گے اور آخرت میں بھی تیرے کام آئیں گے۔ بھائیو! میرے دوستو! مجھ سے محبت کرنے والو! میری محبت کے بدلے میں اللہ کا نبی اپنا جلوہ اور دیدار تجھے کروائے گا… کمپین کو شروع کرنا تھا۔ یہاں کا پہلا مجاہد۔ مجاہد اول۔ محب اول ملک… ………………نکلا اور میرے پاس آیا اور اس نے کہا میں …………… پہ قربان ہونے کو تیار ہوں۔ جب کربلا میں کوفیوں نے حسینؓ کے خاندان کو چھوڑ دیا تھا کوئی بھی نہیں تھا۔ ایک حُر نکلا تھا۔ حضرت حر نکلا تھا۔ ہمارے لیے …………… حُر ہے۔ ہم اس کو حُر کا خطاب دیتے ہیں۔ وعدہ کیجئے کہ دونوں ووٹ ہمیں دیں گے۔‘‘ 

یہ ایک پیر صاحب کا خطاب ہے جو اپنے صاحبزادے کے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ حاضرین جلسہ میں بے پناہ جوش ہے۔ ہاتھ اٹھا اٹھا کر پیر صاحب سے ووٹ دینے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ ووٹ دینے کے بدلے میں دنیا اور آخرت میں کام آنے کا وعدہ کیا جارہا ہے۔ یہ پیمان بھی باندھا جارہا ہے کہ ’’میری محبت کے بدلے میں اللہ کا نبی اپنا جلوہ اور دیدار کرائیں گے۔‘‘ مذہبی نکتہ نظر سے ایسے وعدے ووٹ کے لیے کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اس کے بارے میں تو علماء دین ہی رہنمائی کرسکتے ہیں مگر یہ وڈیو کلپ‘ جس سے پیر صاحب کی یہ تقریر اوپر نقل کی گئی ہے‘ اس حقیقت کو روشن دن کی طرح واضح کر رہی ہے کہ پاکستانی عوام کو مذہب کے نام پر آسانی سے موم کیا جاسکتا ہے اور موم کرنے کے بعد جس طرف چاہیں‘ موڑا جا سکتا ہے۔ 

ترقی یافتہ ملکوں میں ووٹ منشور کے نام پر مانگے جاتے ہیں یا ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر۔ پاکستان میں برادری ازم کا زور ہے۔ دو دن پہلے ایک قاری نے برطانیہ سے ای میل کی کہ ٹیلی ویژن چینل ہر روز مائیک اٹھائے بازاروں اور چوراہوں پر لوگوں سے کیوں پوچھتے پھر رہے ہیں کہ ووٹ کسے دیں گے۔ یہ تو ایک ذاتی مسئلہ ہے۔ قاری مزید لکھتا ہے کہ برطانیہ آنے کے بعد پہلے الیکشن کا ہنگامہ شروع ہوا تو اس نے اپنے ایک انگریز رفیق کار سے پوچھا ووٹ کسے دو گے۔ وہ اس سوال پر پہلے حیران ہوا پھر آزردہ خاطر کہ یہ تو ہم میاں بیوی بھی ایک دوسرے سے نہیں پوچھتے مگر ہمارے اور ان سفید فاموں کے کلچر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہاں تو چھوٹتے ہی پوچھتے ہیں آپ تنخواہ کتنی لے رہے ہیں اور آپ کے فلاں بھائی اور فلاں عزیز کی تنخواہ کتنی ہے۔ پورے گائوں پورے محلے پورے قصبے کو معلوم ہوتا ہے کہ کون کس کو ووٹ دے گا۔ اسی لیے تو دشمنیاں بڑھتی ہیں۔ دوستیاں ٹوٹتی ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ بہو کو حکم دیا جاتا ہے اپنے والدین سے کہے کہ فلاں کو ووٹ دیں ورنہ جھگڑا ہوگا اور نقصان ظاہر ہے لڑکی والے ہی اٹھائیں گے۔ 

سفاک ترین پہلو ہمارے انتخابی کلچر کا مذہب کے نام پر ووٹ مانگنا ہے۔ ایک جذباتی مسلمان کو حضرت علی ؓ کے نام پر قیامت کے دن کام آنے کے نام پر اور حد یہ ہے کہ سرور کونین ؐ کے دیدار کے نام پر‘ رام کرنا کیا مشکل ہے۔ پیر صاحب پیر بھی ہیں اور سید بھی۔ ورنہ ایک عام آدمی کسی کو حُر قرار دیتا تو اس پر توہین کا الزام لگ جاتا۔ حالی کے بقول۔ 

مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں 

پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں

کہاں حضرت حُر! اور کہاں وہ آج کا مرید جو الیکشن میں پیر صاحب کے صاحبزادے کی مدد کر رہا ہے۔ کہاں آسمان کہاں زمین۔ 

غور کیجئے! مذہب کے نام پر اس استحصال کی جڑیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ بارہا آزمائی ہوئی مذہبی جماعتیں مذہب کے نام پر پھر اکٹھی ہوئی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کی مسجدوں میں نماز نہیں پڑھتے۔ ایک دوسرے کے مدرسوں میں اپنے طلبہ کو پڑھنے بلکہ جانے تک کی اجازت نہیں دیتے مگر جب سیاسی فائدہ ہو تو لوگوں سے دین کے نام پر ووٹ کی بھیک مانگتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن‘ علامہ ساجد نقوی کی اقتدا میں ذرا نماز پڑھ کر دکھا دیں۔ کبھی نہیں! ایک دوسرے کے خلاف تکفیر کے فتوے ان کے موجود ہیں۔ مگر سیاست کے لیے مذہب کو استعمال کرنے میں کوئی برائی نہیں۔ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تُھو۔ 

تجارت کے لیے بھی مذہب کو مکروہ طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے۔ اسلامی شہد کی مثال تو عام ہے۔ کل کو اسلامی کلونجی‘ اسلامی کھجور‘ اسلامی زیتون اور اسلامی انجیر بھی بازار میں آ سکتے ہیں۔ نہاری بیچنے کے لیے مقدس نام استعمال کیا جارہا ہے۔ کچھ عرصہ پیشتر بازار میں ایک چپل متعارف کرائی گئی۔ کہا گیا کہ اس کا ڈیزائن وہی ہے جو حبیب خدا ﷺ کی مبارک چپل کا تھا۔ کروڑوں کا کاروبار ہوا۔ پھر وہ چپل مارکیٹ سے غائب ہو گئی۔ مقصد پورا ہو گیا ہوگا۔ 

اس حوالے سے ایک اقتباس پیش کرنا مناسب ہوگا۔ برصغیر کے مشہور و معروف عالم دین مولانا منظور نعمانی ایک حدیث کی تشریح میں لکھتےہیں :

’’رسول اللہ ﷺ لباس کے بارے میں ان حدود وا حکام کی پابندی کے ساتھ‘ جو مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہو چکے ہیں‘ اس طرح کے کپڑے پہنتے تھے جس طرح اور جس وضع کے کپڑوں کا اس زمانے میں آپ کے علاقے اور آپ کی قوم میں رواج تھا۔ آپ تہمد باندھتے تھے‘ چادر اوڑھتے تھے‘ کرتا پہنتے تھے‘ عمامہ اور ٹوپی بھی زیب سر فرماتے تھے اور یہ کپڑے اکثر و بیشتر معمولی سوتی قسم کے ہوتے تھے۔ کبھی کبھی دوسرے ملکوں اور دوسرے علاقوں کے بنے ہوئے ایسے بڑھیا کپڑے بھی پہن لیتے تھے جن پر ریشمی حاشیہ یا نقش و نگار بنے ہوتے تھے۔ اسی طرح کبھی کبھی بہت خوش نما یمنی چادریں بھی زیب تن فرماتے تھے جو اس زمانے کے خوش پوشوں کا لباس تھا۔ اس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ زبانی ارشادات و ہدایات کے علاوہ آپ نے امت کو اپنے طرز عمل سے بھی یہی تعلیم دی کہ کھانے پینے کی طرح لباس کے بارے میں بھی وسعت ہے۔ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود کی پابندی کے ساتھ ہر طرح کا معمولی یا قیمتی لباس پہنا جاسکتا ہے اور یہ کہ ہر علاقے اور ہر زمانے کے لوگوں کو اجازت ہے کہ وہ شرعی حدود و احکام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنا علاقائی و قومی پسندیدہ لباس استعمال کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے ان اصحاب صلاح و تقویٰ نے بھی جن کی زندگی میں اتباع سنت کا حد درجہ اہتمام تھا یہ ضروری نہیں سمجھا کہ بس وہی لباس استعمال کریں جو رسول اللہ ﷺ استعمال فرماتے تھے۔ دراصل لباس ایسی چیز ہے کہ تمدن کے ارتقا کے ساتھ اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور ہوتی رہے گی۔ اس طرح علاقوں کی جغرافیائی خصوصیات اور بعض دوسری چیزیں بھی لباس کی وضع قطع اور نوعیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ساری دنیا کے لوگوں کا لباس یکساں ہو یا کسی قوم یا کسی علاقے کا لباس ہمیشہ ایک ہی رہے۔ اس لیے شریعت نے کسی خاص قسم اور خاص وضع کے لباس کا پابند نہیں کیا ہے۔ ہاں ایسے اصولی احکام دیئے گئے ہیں جن کی ہرزمانے میں ہر جگہ پر سہولت کے ساتھ پابندی کی جا سکتی ہے۔‘‘ (معارف الحدیث حصہ ششم‘ صفحہ 424) 

بات مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے کے تذکرے سے شروع ہوئی تھی۔ مذہب کے نام پر چندہ تو مانگا ہی جا رہا تھا۔ روٹیاں بھی اکٹھی کی جا رہی تھیں۔ تجارت بھی ہورہی تھی‘ ووٹ بھی مانگے جا رہے تھے‘ اب ووٹوں کے ساتھ آخرت کی کامیابی بھی منسلک کی جا رہی ہے۔ پیر صاحب کے صاحبزادے کو ووٹ دیجئے۔ آخرت کی گارنٹی لیجئے۔




Saturday, July 21, 2018

مائی لارڈ! چیف جسٹس! انہیں زندان میں ڈالیے


ہسپتال جا کر ڈاکٹر کا پوچھتے ہیں تو بتایا جاتا ہے کہ وارڈ میں ہیں۔ اور وہ وارڈ میں نہیں ہوتے۔

کسی دفتر میں متعلقہ اہلکار کا پوچھتے ہیں تو بتایا جاتا ہے کہ نماز کے لیے گیا ہے یا کھانے کا وقفہ ہے۔ نماز اور کھانے کا یہ وقفہ کئی گھنٹوں پر محیط ہوتا ہے۔

کسی ترقیاتی ادارے، بجلی، گیس یا ٹیلی فون کے دفتر جا کر متعلقہ انجینئر سے ملنا ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ سائٹ پر گئے ہیں حالانکہ سائٹ پر نہیں ہوتے۔

تھانیدار سے ملنا ہو تو تھانے والے بتاتے ہیں کہ گشت پر نکلے ہوئے ہیں حالانکہ گشت پر نہیں ہوتے۔

سالہا سال سے قومی ایئرلائن (جو قومی زیادہ ہے اور ایئرلائن کم) پروازوں کی تاخیر کا سبب یہ بتاتی چلی آ رہی ہے کہ موسم خراب ہے یا تاخیر تکنیکی وجوہ کی بنا پر ہورہی ہے۔ حالانکہ موسم خراب ہوتا ہے نہ تکنیکی وجہ ہوتی ہے۔

چار دن پہلے جو کچھ سکردو ایئرپورٹ پر ہوا اس پر غور کیا جائے تو بہت آسانی سے یہ بات سمجھ میں آ جائے گی کہ قومی ایئرلائن پاتال کی گہرائی میں کیوں گری ہوئی ہے۔ سکردو ایئرپورٹ پراسلام آباد جانے والے مسافر اس جہاز کے اڑنے کا چار گھنٹے انتظار کرتے رہے جس نے 45 منٹ کے سفر کے بعد اسلام آباد اتر جانا تھا۔ مسافروں کو بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد چار انتظار کرایا گیا۔ سبب اس کا یہ تھا کہ مبینہ طور پر محکمہ ہوا بازی (سول ایوی ایشن) کے بڑے افسران اپنے دوست احباب کے ساتھ نانگا پربت اور کے ٹو کی چوٹیوں کی سیر کر رہے تھے اور کروڑوں روپے قومی خزانے سے خرچ کر کے قومی ہوائی جہاز کو ذاتی یا خاندانی گاڑی کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ سردار کی حیثیت اختیار کرنے والے ان ہائی کلاس اہلکاروں نے اس اثنا میں خصوصی ظہرانہ بھی تناول فرمایا جبکہ بچے عورتیں اور بوڑھے ایئرپورٹ پر گرمی میں ان سرداروں کا انتظار کرتے رہے۔ ایئرپورٹ پر پینے کا پانی تو ختم ہو ہی گیا تھا، قومی ایئرلائن کے متعلقہ ٹوڈیوں نے ایک اور ظلم یہ کیا کہ بیت الخلا عام مسافروں کے لیے ممنوع قرار دیئے کہ وہ صرف سیر کرنے والے بڑے لوگوں کے لیے مختص تھے۔ ان بڑے لوگوں میں حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والا ایک مقامی سیاسی رہنما بھی شامل تھا۔ جس جہاز نے سکردوایئرپورٹ پر صرف ایک گھنٹہ رکنا تھا وہ اترا ہی گھنٹوں بعد کیونکہ ہوا بازی کے محکمے کے بڑے، برف پوش پہاڑی چوٹیوں کی سیر کر رہے تھے اور پھر انہوں نے اور ان کے کنبوں نے ظہرانہ بھی تناول کرنا تھا

ایسے مواقع پر پاکستانی… بے چارے پاکستانی، احتجاج کم ہی کرتے ہیں۔ زیادہ تر ’’مٹی پائو‘‘ کا قومی سبق دہرا کر کندھے جھٹک دیتے ہیں۔ اس لیے کہ ان پیدائشی محکوموں کو وی آئی پی کلچر کاشکار ہونے کی عادت ہے۔ اس کالم نگار کا ذاتی مشاہدہ ہے کہ کوئٹہ اور ملتان جیسے چھوٹے ایئرپورٹوں پر بڑے لوگوں کے ذاتی سٹاف ممبر ایک فون کال سے پرواز موخر کرادیتے ہیں۔ وزیروں، گورنروں، طاقت ور سیاستدانوں بلکہ منتخب نمائندوں تک کے لیے اور ان کی بیگمات اور ذریت کے لیے سینکڑوں مسافروں کو انتظار کے بے در اذیت خانے میں پھینک دینا معمول کی کارروائی ہے۔ 

تاہم گردن بلند اہلکاروں کی بدقسمتی کہ چار گھنٹے بے گھر ہونے والے لاوارث مسافروں میں ایک پاکستانی خاتون بیرون ملک سے بھی آئی ہوئی تھی۔ مشرق وسطیٰ کے مسلمان ملکوں میں تو ہمارے ہاں سے بھی بدتر موروثی اقتدار ہے۔ ایک مقدس شہر کے ہوائی اڈے پر ایک پاکستانی مسافر پر کیا گزری۔ یہ داستان پھر کبھی۔ مگر ’’کفار‘‘ کے آزاد اور قانون پر چلنے والے ملکوں میں آباد پاکستانی احتجاج سے بھی اور اپنے حقوق سے بھی بخوبی آشنا ہو جاتے ہیں۔ چار گھنٹے انتظار کرانے والے مراعات یافتہ اور عوام کے ٹکڑوں پر پلنے والے برتر عالی دماغ سیر و تفریح اور شاہانہ ضیافت سے متمتع ہو کر جب لائونج میں داخل ہوئے تو یہ خاتون ان کے سامنے تن کر کھڑی ہو گئی۔ اس نے انہیں وہ شرم دلائی کہ عزت نفس کی کوئی رمق موجود ہوئی تو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ خاتون نے کہا کہ ہم عام لوگ ہیں اس لیے آپ کا پہروں انتظار کرتے رہے کہ آپ تشریف لائیں تو جہاز پر ہم بھی بیٹھ سکیں۔ خاتون نے انہیں یہ بھی یاد دلایا کہ ’’اس ملک نے آپ کو کرسی دی ہے، اس قوم نے آپ کو رتبہ دیا ہے۔ اور آپ عوام کے اوپر چلتے ہیں۔‘‘ پھر مسافروں نے شرم شرم اور شیم آن یو کے نعرے لگائے۔ سارے منظر پر مشتمل ویڈیو چند ساعتوں میں وائرل ہو گئی۔ لاکھوں لوگوں نے یہ ’’قانون پسندی‘‘ اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔ 

اس کے بعد وہی ہوا جو سکھ کے بقول لدھیانہ میں ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ محکموں کے درمیان باہمی طعنہ زنی شروع ہو گئی۔ الزام تراشی کا والی بال کبھی اس طرف آتا کبھی دوسری طرف۔ فرنگی اسے
 Blame Game
 کہتے ہیں۔ ہوا بازی کے محکمے کے سربراہ نے جو تخت رواں پر سوار ہو کر پرستانوں کی سیر کرنے والوں میں شامل تھے، یہ کہہ کر والی بال جال کے اوپر سے دوسری طرف پھینک دیا کہ مجھے تو قومی ایئرلائن کے بڑے نے دعوت دی تھی کہ ہم ’’ہوائی سفاری‘‘ شروع کر رہے ہیں جس میں آپ بھی موجود ہیں۔ رہا جہاز کی روانگی میں تاخیر کا معاملہ تو یہ ایئرلائن انتظامیہ کا مسئلہ ہے۔ 

اس اثنا میں عدالت عظمیٰ نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ مگر ہم ان سطور کے ذریعے جو عرض داشت قاضی القضاۃ کے حضور پیش کرنا چاہتے ہیں اس کا لب لباب یہ ہے کہ مسافروں کی تذلیل کا یہ سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے۔ اس ہولناک بیماری کو جڑ سے کاٹ پھینکنے کے لیے پیناڈول نہیں، جراحی کے عمل کی ضرورت ہے۔ وی آئی پی کلچر کی حشرسا مانی کا یہ پہلا واقعہ نہیں اور اگر عدالت عظمیٰ نے ذمہ دار اہلکاروں کو اب کے داخل زندان نہ کیا تو یہ واقعہ آخری بھی نہ ہوگا۔ جی ہاں! مائی لارڈ! چیف جسٹس! انہیں زندان میں ڈالیے۔ جس کا جتنا بڑا رتبہ ہو، اسے اتنی ہی زیادہ قید کی سزا دیجئے۔ ان کے سر سے مراعات یافتہ ہونے کا خناس نکالیے۔ مائی لارڈ! جب فریادی، امیرالمومنین عمر فاروقؓ کے حکم پر گورنر مصر کے بیٹے کو مار رہا تھا تو امیرالمومنین کہتے جا رہے تھے، اسے مار! یہ بڑوں کی اولاد ہے۔ مائی لارڈ! یہ اہلکاروں کے اہلکار ہیں! یہ سرداروں کے سردار ہیں! انہیں خدا کے لیے باور کرائیے کہ یہ ٹیکسوں کے بل بوتے پر اڑن کھٹولوں میں بیٹھ کرآسمان بوس چوٹیاں سر نہ کریں۔ 

مائی لارڈ! ان اہلکاروں نے، ان کی یونینوں نے، ان کی افسرانہ بلند مزاجی نے قومی ایئرلائن کو ثریا سے زمین پر دے مارا ہے۔ کہاں وہ وقت کہ جیکولین کینیڈی جیسی عالمی ہستی اس ایئرلائن میں سفر کرتی تھی اور کہاں یہ پستی کہ خود پاکستانی اس ایئرلائن سے نالاں ہیں اور خوف زدہ۔ ان ظالم اہلکاروں نے شہروں میں دکانیں مخصوص کی ہوئی ہیں جہاں باہر سے لائے ہوئے پرفیوم اور دیگر اشیا فروخت کرتے ہیں، ان کی ترجیح زراندازی ہے۔ ان کا اولین مقصد اپنی جیبیں، اپنے تنور نما شکم اور اپنے کیسے بھرنے ہیں۔ تنزل کا یہ عالم ہے کہ بنکاک جیسے ہوائی سفر کے بہت بڑے مرکز میں اس ایئرلائن کا نشان تک نہیں۔ نیویارک ہوائی اڈے پر اس کالم نگار نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایئرلائن کے کائونٹر پر بیٹھی ہوئی امریکی نژاد ’’پاکستانی‘‘ مسافروں سے اس طرح پیش آ رہی تھی جیسے وہ اس کے ہاری ہوں۔ ہر حکومت نے اس ایئرلائن کو اپنی چراگاہ سمجھا۔ سیاسی بنیادوں پر نالائق ترین افراد گردنوں پر مسلط کئے گئے۔ یونینیں کھمبیوں کی طرح اگیں اور پورے ادارے کو یرغمال بنا کر زنجیروں میں جکڑ لیا۔ 

انہیں جیل میں ڈالیے! مائی لارڈ! تاکہ یہ عبرت کا سامان بنیں۔










Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net


Thursday, July 19, 2018

حفظِ مراتب! نوجوانو! حفظِ مراتب



بہت دور، اوپر، بادلوں سے بہت پرے، ستاروں اور کہکشائوں کے اس طرف، لوح تقدیر پر لکھا جا چکا ہے کہ حکومت بدلی تب بھی کردار وہی رہیں گے۔ عمران خان وزیراعظم بنے یا کوئی اور، ہم غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہیں گے اور جو حکومتوں کی طرف داری کرتے رہے ہیں، ایک حکومت کی نہیں، ہر حکومت کی! وہ عمران خان کی حکومت کی بھی چوبداری کریں گے۔ احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا ؎

جب حریت فکر کا دستور ہوا طے

خود جبر مشیت نے قسم کھائی ہماری

عمران خان سے جو امیدیں تھیں ان امیدوں کا شعلہ کجلا گیا ہے۔ روشنی مدہم پڑ رہی ہے مگر انگریزوں نے محاورہ ایجاد کیا تھا کہ فقیروں کے پاس اختیار ہی کہاں ہے، فراق گورکھپوری نے کہا تھا ؎

دل آزاد کا خیال آیا

اپنے ہر اختیار کو دیکھا
عمران خان اب بھی ’’کم تربرائی‘‘ میں ہی شمار ہوگا۔ اس کی ایک خوش بختی یہ ہے کہ اسے وفاق میں حکومت کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ایک صوبے میں ملا تو کم از کم پولیس اور تعلیم کے میدانوں میں افتاں خیزان گرتا پڑتا کچھ نہ کچھ کامیاب ہو ہی ہوگیا۔

عمران خان کو ووٹ نہ دیں تو کیا انہیں دیں جنہوں نے سرے محل خریدے؟ فرانس میں جائیدادیں بنائیں۔ دبئی میں اقامت پذیر ہیں اور بدلتے موسموں کا تقاضا ہو تو وطن کا چکر یوں لگاتے ہیں جیسے وطن نہ ہو کالونی ہو یا پردیس ہو۔

کالونی نہیں تو کیا ہے؟ کل یہاں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت تھی۔ سمندر پار سے آتے تھے۔ حکومت کرتے تھے اور واپس پلٹ جاتے تھے۔ اب حکومت کرنے دبئی سے آتے ہیں۔ اس ملک نے وہ زمانہ بھی دیکھا جب ایک صوبے کا دارالحکومت عملاً مشرق وسطیٰ میں منتقل ہو گیا تھا۔ صوبائی دارالحکومت اور مشرق وسطیٰ کے درمیان وزیروں مشیروں اور پارٹی کے رہنمائوں کا آنا جانا اس تواتر سے تھا جیسے انسانوں کی نہیں، چیونٹیوں کی نہ ختم ہونے والی قطار ہو۔

تو پھر کیا ہم لندن کے شہریوں کو ووٹ دیں؟ جنہوں نے ہر عید، اپنے ’’گھر‘‘ لندن میں منائی! جن کی اولاد اور اولاد کی اولاد لندن میں رہتی ہے وہیں پل بڑھ رہی ہے۔ یہ اور بات کہ ہم ان بچوں کی سلامتی کے لیے بھی دعا گو ہیں اور متفکر کہ وہ اپنے بزرگوں کے کیے کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ افسوس ہوتا ہے حسین نواز اور مریم صفدر کے بچوں کے حال زار پر جنہیں دیکھ کرلوگ نعرے لگاتے ہیں۔ کم از کم ان بچوں کا تو کوئی قصور نہیں۔

منطق سیدھی سادی ہے۔ تلخ سچائی کی طرح کہ جن جماعتوں کو اس ملک کے عوام دیکھ چکے ہیں، آزما چکے ہیں، ان سے بچنے ہی میں حکمت ہے۔ عمران خان کو موقع ملنا چاہیے ایک بار اسے بھی آزما کر دیکھیں۔ اسے ووٹ اس لیے دینا چاہیے کہ کیاخبر اب کے بخت اس ملک کا ساتھ دے۔ کرپشن، اقرباپروری، دوست نوازی اور گروپ بندی سے نجات مل جائے۔ بیوروکریسی کو لاہور گروپ، کشمیری برادری، ککے زئی نیٹ ورک، جاٹ پرستی، مغل نوازی، آرائیں طرف داری، اعوان دھڑے بندی اور راجپوت قبیلہ بازی سے رہائی نصیب ہو جائے۔

اور اگر عمران خان نے وعدے پورے نہ کئے، اگر الیکٹیبلز کے جال میں پھنس گیا، اگرنذر گوندلوں، عاشق اعوانوں، ہمایوں اختروں، قریشیوں اور ترینوں کے ہاتھ میں یرغمال بن گیا تو پھر یہ قوم اتنی مایوسیوں سے گزر چکی ہے کہ وہ تو ایک اور مایوسی کوبرداشت کرلے گی مگر عمران خان ہمیشہ کے لیے بے نقاب ہو جائیں گے۔ اس لیے

حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

سیاست دان انتخابات میں کچھ جیتیں گے، کچھ ہاریں گے ع

کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے کچھ اپنی جزا لے جائیں گے

مگر انتخابات ہم عوام کے لیے بھی امتحان ہیں۔ اس امتحان میں معلوم ہو جائے گا کہ کون تہذیب کے دائرے کے اندر رہا اور کون حدیں پھلانگ گیا۔ ہم عوام کو ان سیاست دانوں سے بہتر ہونا چاہیے جو کبھی ایئرپورٹ پر نوازشریف کے استقبال کے لیے جانے والوں کو گدھا کہتے ہیں اور کبھی تحریک انصاف کو ووٹ دینے والوں کو بے غیرت کے خطاب سے نوازتے ہیں۔ خاندانی تعلقات اور دوستیوں میں دراڑیں نہیں پڑنی چاہئیں۔ بڑے چھوٹے کا لحاظ ختم ہو جائے تو یہ جمہوریت کا سفر نہیں تنزل اور بے ہودگی کاراستہ ہوگا۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر جن لوگوں نے پوری پوری زندگیاں قرطاس و قلم کی معیت میں گزاری ہیں انہیں ان کا جائز مقام دینا ہوگا۔ سیاسی اختلاف کا یہ مطلب نہیں کہ شائستگی، وضعداری اور احترام و ادب کو بالائے طاق رکھ دیا جائے۔ ارشاد احمد عارف، مجیب الرحمن شامی، سجاد میر، ہارون الرشید، خورشید ندیم، اوریا مقبول جان اور کئی دوسرے سینئر قلم کاروں سے ایک پوری نسل نے لکھنا، پڑھنا، سوچنا اور تجزیہ کرنا سیکھا۔ آج ان میں سے اگر کوئی دریا کے اس کنارے خیمہ زن ہے یا کوئی اس پار دوسرے کنارے انجمن آرا ہے تو یاد رکھیے درمیان میں پانی سانجھا ہے۔ ہم نے، خواہ ہم جس کنارے پر ہوں، پانی یہیں سے پینا ہے۔ اس لیے ان نوجوانوں پرجو جذبات کی رو میں بہہ کر خوش اطواری سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں خاص طور پر سوشل میڈیا کے پانی سے کیچڑ نکال کر اپنے اور دوسروں کے چہروں پر مل رہے ہیں لازم ہے کہ جوش میں آ کر ہوش سے نہ گزریں۔ انہیں چاہیے کہ رکھ رکھائو، تعظیم و تکریم، حلم و تواضع اور محبت و احترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ جس طرح ہمارے خاندانوں میں بزرگ ہر حال میں قابل احترام ہوتے ہیں بالکل اسی طرح بلکہ ایک لحاظ سے اس سے بھی زیادہ، صحافت اور لٹریچر میں ہمارے سینئر، ہمارے بڑے نام، ہر حال میں اکرام کے مستحق ہیں۔

لٹریچر سے یاد آیا کہ کچھ عرصہ پہلے جب انتظار حسین رخصت ہوئے تو اس کالم نگار نے ’’بابے‘‘ کے عنوان سے ایک نثر پارہ لکھا اور رونا رویا کہ ہمارے ادب میں بابے رہ ہی کتنے گئے ہیں۔ ایک ظفر اقبال، دوسرے مستنصر حسین تارڑ اور تیسرے عطاء الحق قاسمی! میاں نوازشریف نے لے دے کے ہمارے ایک ہی ثقہ ادیب کو حکومتی عہدہ دیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ دوسرے سینئر ادیبوں اور شاعروں سے بھی فائدہ اٹھایا جاتا۔ یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ کسی ادیب یا شاعر کو حکومتی عہدہ دیا جائے تو یہ اس پر احسان نہیں بلکہ اس کا احسان ہے کہ حکومت اس سے مستفید ہو۔ عطاء الحق قاسمی کو جس انداز میں حکومتی منصب سے ہٹایا گیا اس پر کوئی ادیب کوئی شاعر اطمینان نہیں محسوس کرسکتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قاسمی صاحب کے پیشرو بھی کم و بیش اتنا ہی مشاہرہ اور مراعات لے رہے تھے مگر ’’قرعہ فال‘‘ اس ابتلا کا صرف انہی کے نام نکلا۔ اس میں کیا شک ہے کہ اردوکالم کو اردو ادب کا حصہ بنانے میں قاسمی کا کردار مسلمہ ہے۔

پھر ایک اور غلط بات یہ ہوئی کہ ان کے بیٹے کو بھی اس قضیے میں گھسیٹا گیا جو مقابلے کا امتحان پاس کر کے میرٹ پر اپنی قابلیت اور محنت کے بل بوتے پر سول سروس میں آیا ہے -اس کالم نگار کو ذاتی طور پر معلوم ہے کہ یاسر پیرزادہ نے دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے میں بہت سے مستحسن کام کئے۔ لائبریریوں کی خستہ شکستہ حالت کو سنبھالا دیا۔ دروازے سائلین کے لیے کھلے رکھے اور خوب محنت سے فرائض انجام دیئے۔ کچھ عرصہ پہلے نیب کے سربراہ میجر قمر زمان چوہدری تھے۔ ان سے ایک زمانے میں قریبی دوستانہ مراسم تھے۔ پھر وہ سیکرٹری داخلہ اور اس کے بعد نیب کے چیئرمین ہوئے تو آہنی (یاریشمی) پردے کے پیچھے غائب ہو گئے۔ جب ان کا متنازعہ کردار الیکٹرانک میڈیا پر ہائی لائٹ ہوا تو بدقسمتی سے ان کے بیٹے کو بھی درمیان میں لایا گیا۔ اس وقت بھی اس کالم نگار نے ٹیلی ویژن پر برملا کہا کہ باپ کے سرکاری پروفائل میں اس کے بیٹے کا کیا کام؟ یاسر کے حوالے سے بھی حرف اعتدال اور لفظ نصیحت یہی ہے کہ وہ اپنی آزاد حیثیت میں سول سروس کا معزز رکن ہے اور بے داغ کیریئر رکھتا ہے۔ ایسی ریت ڈالی گئی تو کل کسی کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔

سیاست کفر و اسلام کا مسئلہ نہیں۔ سیاسی جماعتیں سیاسی جماعتیں ہیں، دینی گروہ نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ اس طوفان میں ہم اپنا تہذیبی نقصان کر بیٹھیں۔ اہل قلم کے حوالے سے حفظِ مراتب ہماری روایت کا خوبصورت حصہ ہے۔ اسے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔







Tuesday, July 17, 2018

میاں نواز شریف سول بالادستی کی جنگ کیوں نہیں جیت سکتے



چلیے مان لیا آپ کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔

نادیدہ قوتوں نے دفاع اور خارجہ کے امور میں آپ کو آزادی نہیں دی تھی۔ مان لیا مداخلت ہوتی تھی۔ مان لیا کہ غیر ملکی سفیر اور امریکی افواج کے بڑے بڑے کمانڈر جی ایچ کیو میں آتے تھے۔ مگر جب آپ وزارت عظمیٰ کے تختِ طائوس پر بیٹھے تو آپ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ ایسا ہی ہوتا آیا ہے! 

آپ کے سامنے دو راستے تھے یا تو آپ اقتدار سنبھالنے سے انکار کر دیتے کہ حکومت لوں گا تو مکمل لوں گا۔ لولی لنگڑی اندھی بہری نہیں لوں گا۔ دفاع کے فیصلے وزیر دفاع کرے گا اور خارجہ سرگرمیوں کا مرکز وزارت خارجہ ہو گی یا وزیر اعظم کا آفس! جی ایچ کیو کا کردار صفر ہو گا۔ وہ وہی کام کریں گے جو کتاب میں ان کے حوالے سے لکھا ہوا ہے! 

مگر آپ نے یہ راستہ نہ چنا۔ آپ نے دوسرا راستہ اختیار کیا تخت پر بیٹھ گئے۔ تاج پہن لیا! اب آپ کے سامنے واحد راستہ یہ تھا کہ جو شعبے آپ کے مکمل اختیار میں تھے‘ آپ ان میں مثالی کارکردگی دکھاتے!مثلاً اگر نادیدہ قوتیں اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہیں تو آپ اپنے دائرہ اختیار میں قانون کا نفاذ اس زبردست طریقے سے کرتے کہ نادیدہ قوتوں کے پاس قانون کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ رہتا۔ مگر آپ نے ایسا نہ کیا۔ آپ نے اپنے وزراء کو‘ اپنے ساتھیوں کو‘ اپنی پارٹی کے بڑوں کو قانون کی دھجیاں اڑانے کی اجازت دے دی۔ آپ کی پارٹی کے رہنما نے راولپنڈی تھانے پر حملہ کر کے ملزموں کو چھڑا لیا۔ فیصل آباد میں تھانوں پر آپ کے لوگوں نے حملے کیے۔ اسمبلی کے ارکان قانون سے بالاتر تھے۔ سرکاری رہائش گاہوں کے وہ کروڑوں کے مقروض ہیں۔ آپ کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ نادیدہ قوتیں قانون سے بالاتر ہیں‘ قانون سے بالاتر تو آپ خود رہے‘ آپ کی پارٹی کے ارکان بھی! آپ کے خاندان نے قانون کو بوٹوں تلے روندا۔ آپ کہتے ہیں نادیدہ قوتیں آپ کے کام میں مداخلت کرتی ہیں۔ آپ کی بیٹی کیوں مداخلت کرتی رہی؟ آپ لندن میں کئی ماہ مقیم رہے۔ وہ کس قانون کے تحت وزیر اعظم کے دفتر میں غیر ملکی سفیروں سے ملتی رہی؟ یہ کون سی جمہوریت ہے؟ یہ قانون کی کون سی بالادستی ہے؟ آپ کا بھتیجا پنجاب میں بیورو کریسی کی تعیناتیاں کس قانون کے تحت کرتا رہا؟آپ کا داماد کس قانون کے تحت ارکان اسمبلی میں رقوم کی تقسیم کا انچارج بنا رہا؟ آپ نے کس قانون کے تحت خالی جہاز لندن میں کھڑا کیے رکھا؟ کس قانون نے آپ کو اجازت دی کہ نواسی کا نکاح حجاز میں ہو تو قومی ایئر لائن کے جہازوں کو ذاتی رکشا سمجھ لیں؟ 

آپ نے ایک بار بھی قومی اسمبلی میں سوال جواب کا سیشن اٹنڈ نہیں کیا؟ سال بھر سینیٹ میں نہیں آئے؟ آپ ازراہ کرم اس سوال کا دو ٹوک جواب دیں کہ کیا اس میں نادیدہ قوتیں رکاوٹ تھیں؟ آپ نے مہینوں کابینہ کااجلاس نہیں بلایا - کیوں؟ آپ سارے اہم فیصلے اپنے ذاتی وفاداروں اور رکوع میں جھکے ہوئے ٹوڈیوں کے مشورے سے کرتے تھے؟ کیوں؟ آخر کیوں؟ 

سول بیورو کریسی آپ کے مکمل اختیار میں تھی‘ ان کی تعیناتیوں میں کوئی نادیدہ قوت‘ کوئی جی ایچ کیو‘ کوئی آئی ایس آئی مداخلت نہیں کر رہی تھی۔ مگر آپ نے سول بیورو کریسی کا دھڑن تختہ کر دیا۔ وفاق اور پنجاب میں لاقانونیت کی وہ ہولی کھیلی گئی کہ بیورو کریسی نگوڑی کا حلیہ بگڑ گیا۔ جونیئر افسروں کو ٹاپ پر بٹھا دیا گیا۔ کیا یہ سول بالادستی تھی؟ تعیناتیاں کرتے وقت آپ کو خدا کا خوف نہ رہا۔ آپ نے صرف یہ دیکھا کہ خواجہ کون ہے؟ اور وانی کون ہے؟ روایت ہے کہ آپ پوچھتے تھے۔’’اے اپنا بندہ اے؟ 

تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو 

وزارت تجارت آپ کے اختیار میں تھی۔ آپ نے اپنے عہد اقتدار میں کتنی بار وہاں آ کر حالات کا جائزہ لیا؟ مئی 2018ء میں جب آپ کا پانچ سالہ اقتدار کوچ کرنے کو تھا تو درآمدات اس قدر زیادہ اور برآمدات اتنی کم تھیں کہ خسارہ تیس ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ اس کی متعدد وجوہات میں ایک بڑی وجہ تعیناتیوں میں آپ کی دھاندلی اور دوست پروری تھی۔ آپ نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن جیسے اہم ادارے میں نوکرشاہی کے اس رکن کو سفیر بنا کر بھیجا جس کا تجارت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس کی واحد اہلیت یہ تھی کہ ماڈل ٹائون قصے میں اس کا کلیدی کردار تھا۔ یہ آپ کے وژن کی صرف ایک مثال ہے۔ اگر کوئی محقق آپ کے عہد اقتدار کی تعیناتیوں کا تجزیہ کر کے رپورٹ تیار کرے تو پبلک ایڈمنسٹریشن کی تاریخ میں یہ بدترین کارکردگی ہو گی۔ 

آپ کو صحت اور تعلیم میں مکمل خود مختاری حاصل تھی۔ اسلام آباد میں صرف دو سرکاری ہسپتال ہیں ۔بیس نہیں۔ ایک بار بھی آپ وہاں نہ گئے کہ عوام کی حالت زار کا براہ راست مشاہدہ کریں۔ آج آپ کی پوری پارٹی لاہور میں چند ہزار سے زیادہ لوگ اکٹھے نہ کر سکی۔ آپ دو بار ہی ہسپتال میں عوام کے ساتھ قطار میں کھڑے ہو کر پرچی بنواتے۔ دوائی لیتے‘ ہسپتال کی حالت راتوں رات زمین سے آسمان تک پہنچ جاتی۔ لوگ دیوانہ وار‘ کسی کے کہے بغیر‘ آپ کے لیے لاہور ایئر پورٹ کی طرف بھاگ رہے ہوتے۔ آپ ہر چھ ماہ میں تین سرکاری سکولوں ہی کا دورہ کر کے احکام جاری کر دیتے‘ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے لیے مثال بنتے۔ آج آپ کے لیے لوگ جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر باہر نکلتے۔ 

آپ آج کس سول بالادستی کی بات کرتے ہیں؟ آپ تو چار برس ایک عالی شان پکنک مناتے رہے۔ آپ کے فرائض منصبی ‘ آپ کے بجائے اسحاق ڈار اور فواد حسن فواد سرانجام دیتے رہے۔ آپ خود لندن ہوتے تھے یا مری! ملک تو دور کی بات ہے آپ صرف دارالحکومت کو صاف ستھرا مثالی شہر نہ بنوا سکے۔ آپ کا طرز حکومت یہ تھا کہ اہم وزارت‘ ہائوسنگ اینڈ ورکس کا وزیر ہفتے میں صرف ایک دن دفتر آتا تھا مگر آپ کو معلوم ہی نہ تھا۔ آپ نے چار سال میں اپنے وزراء کی کارکردگی چیک کرنے کے لیے کوئی طریقہ‘ کوئی میکانزم‘ کوئی نظام‘ کوئی سلسلہ نہ بنایا۔ آپ کی حکومت مثالی ہوتی تو نادیدہ قوتیں آپ کے رعب میں ہوتیں۔ آپ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بلند آواز سے کہہ سکتے کہ جب میرا وزیر‘ میرا ایم این اے ‘ میری بیٹی‘ میرا بھتیجا‘ قانون سے بالاتر نہیں تو بریگیڈیئر یا جرنیل کس طرح قانون سے ماورا ہو سکتا ہے۔ مگر آپ کی اپنی لاقانونیت کا یہ عالم تھا کہ پچانوے فیصد بیرونی دوروں میں صرف ایک وزیر اعلیٰ آپ کے ہمراہ ہوتا تھا۔ اس لیے کہ وہ آپ کا بھائی تھا۔ آپ کے عہد اقتدار میں تو یہاں تک کہا گیا کہ فلاں ملک کے ساتھ پنجاب کے تعلقات ایسے ہوں گے! گویا پنجاب ملک تھا۔ 

آپ کی حکومت لاقانونیت‘ اقربا پروری اور عیش و عشرت کا تعفن زدہ مرقع تھی! آپ کا عوام سے براہ راست رابطہ تھا نہ ہے۔ آپ نادیدہ قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں! آپ سول بالادستی کی جنگ نہیں لڑ سکتے اور لڑنے کی کوشش کریں بھی تو جیت نہیں سکتے۔ 

کیا کوئی ایسا لیڈر سول بالادستی کی جنگ لڑ سکتا ہے جس کے بیٹے‘ پوتے‘ پوتیاں‘ نواسے‘ نواسیاں‘ لندن میں پل بڑھ رہے ہوں‘ جو خود ہر عید لندن جا کر کرے اور جس کی اولاد کا لندن کے گلی کوچوں میں چور چور کہہ کر ہر جگہ تعاقب کیا جا رہا ہو۔ 

اور اتنی ہمت تو آپ میں کبھی نہیں ہو گی کہ آپ قوم کی دولت قوم کو واپس کر دیں۔ مال و زر اور جائیداد کی محبت نے آپ سے تونگری اور ہمت چھین لی ہے۔ نصف درجن لکھاری اور صحافی‘ جنہیں آپ نے عہدے دیے‘ وزارتیں دیں‘ دوروں میں ساتھ رکھا کچھ کو اداروں کی سربراہی اور کچھ کو رکنیت دی‘ آپ کے لیے نثری قصیدے لکھ رہے ہیں‘ مگر سوشل میڈیا پر خلقِ خدا ان نام نہاد دانشوروں کو جن القابات سے نواز رہی ہے ان میں عزت نفس ہوتی تو ڈوب مرتے! ایک زلہ خوار نے ایک شہکار لکھا ہے اس پر عوام کے نرم ترین کمنٹ دیکھیے۔ 

“”آپ جیسے مشیروں نے نواز شریف کو اس حال تک پہنچایا ہے۔ “”

“”لوگوں کے دلوں میں ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش! اس بلی نے سو سے زائد چوہے کھا رکھے ہیں اور آپ اسے ’’حج‘‘ پر لیے جاتے ہیں۔ “”

روغن قاز ملنے والے ان اصحابِ قلم نے اس ابوالفضل اور فیضی کو بھی مات کر دیا ہے جو کیلنڈر ہی تخت نشینی کی تاریخ سے آغاز کرتے تھے۔ ایک معروف اینکر نے جس کی شہرت ایک زمانے میں اچھی تھی‘ نون لیگ کی ریلی کے دوران ریکارڈ کیا جانے والا پروگرام نشر نہ ہونے پر اپنا مستقل شو جاری رکھنے سے انکار کر دیا۔ اس خبر پر صرف دو کمنٹ آئے۔ دونوں ہی چشم کشا ہیں۔ 

“”اس پروگرام کو روکنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ ہجوم اتنا نہ تھا۔ جوش اتنا نہ تھا‘ جتنا بیان کیا گیا ہے۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ حق ادا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسے نہیں روکا جانا چاہیے تھا تاکہ اس اینکر کا کردار لوگوں کے سامنے آتا۔ “”

“”یہ پروگرام تو چل نہ پایا۔ اب دوسرا شو شروع کریں کہ کیسے اربوں کی چوری پکڑے جانے پر اداروں کو مطعون کیا جائے اور حکمرانوں کی بدعنوانی کی پردہ پوشی کی جائے۔ پروگرام بکے نہ بکے‘ حکمران اقتدار میں آ کر آپ کا منہ تو جواہرات سے بھریں گے۔””









Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net


Sunday, July 15, 2018

ہم بدبختوں کی قسمت میں الیکشن کے دن سونا ہی ہے



ہمایوں اختر خان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں۔ 

آپ نے بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کی اور پارٹی کے منشور اور قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ بھر پور طریقے سے پارٹی کی انتخابی مہم چلانے کا اعلان بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک کے مستقبل کیلئے موثر ترین جدوجہد کی ہے۔ عمران خان نے ہمایوں اختر کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت سے تحریک انصاف کو تقویت ملے گی۔ 

ہمایوں اختر نے 1990ء کا الیکشن اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے لڑا اور کامیاب ہوئے۔ میاں نواز شریف کی دوسری حکومت میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین رہے۔ جنرل مشرف کے زمانے میں قاف لیگ میں شامل ہوئے اور پانچ سال وزیر تجارت رہے۔2012ء میں ہم خیال گروپ کے رکن کی حیثیت سے مسلم لیگ نون کے ساتھ ہو گئے۔ 2015ء میں وزیر اعظم نواز شریف نے ہمایوں اختر کے بھائی ہارون اختر کو اپنا ’’خصوصی معاون‘‘ مقرر کیا‘ ہارون اختر بعد میں مسلم لیگ نون کی طرف سے سینیٹر بھی ہوئے۔ 

9جولائی کے اخبارات میں قندیل بلوچ فیم مفتی عبدالقوی کا بیان چھپا جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ 1۔ عمران خان نے اسے اپنا مشیر دینی امور مقرر کیا ہے۔ 2۔عمران خان نے وعدہ کیا کہ جن علماء و مشائخ نے پاک پتن میں چوکھٹ بوسی کی تائید کی ہے انہیں وہ اقتدار میں آ کر اعزاز و اکرام سے نوازیں گے اور 3۔ عمران خان نے کہا ہے کہ مفتی آنے والی حکومت کا حصہ ہو گا۔ دوسرے دن‘ دس جولائی کو اس کالم نگار نے اپنے کالم میں اس خبر کے حوالے سے لکھا کہ عمران خان کے باقی نورتنوں کا اندازہ بھی دیگ کے اس ایک چاول سے لگایا جا سکتا ہے۔ 

اس پر قارئین کا ردعمل دو حوالوں سے تھا۔ کچھ نے کالم نگار کی مذمت کی کہ ’’ایسی‘‘ شہرت رکھنے والے شخص کے دعویٰ پر اعتبار کر کے عمران خان کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے اور یہ کہ اس خبر کی تردید کا عمران خان اور تحریک انصاف کے پاس وقت ہی نہیں! مگر تبدیلی کے مخلص خواہش مند پوچھنے لگے کہ پھر ووٹ کسے دیا جائے؟ 

مسلم لیگ نون ‘ جنرل مشرف اور مسلم لیگ قاف کے دیرینہ ساتھی ہمایوں اختر خان کو تحریک انصاف میں لے کر عمران خان نے تبدیلی کے عمل کو مکمل کر دیا ہے۔ 

عمران خان نے سٹیٹس کو کے علم برداروں کو پہلے اس بنیاد پر لیا کہ الیکشن میں کامیاب ہونا ایک سائنس ہے اور وہی کامیاب ہو سکتے ہیں جو اس سائنس کے سائنسدان ہیں۔ چنانچہ سٹیٹس کو کے سکہ بند طرف دار گروہ در گروہ‘ قبیلہ در قبیلہ فوج در فوج‘ تحریک انصاف میں یوں شامل ہوئے کہ پرانے نظریاتی کارکن اقلیت میں تبدیل ہو گئے۔ مگر اب! اب عمران خان کس بنیاد پر پارٹیاں تبدیل کرنے والے سٹیٹس کو کے علم برداروں بلکہ سرداروں کو لے رہے ہیں؟ اب تو ٹکٹ دیے جا چکے! اب کیا مجبوری ہے؟ 

آخری وقت میں یونینسٹ پارٹی کے جاگیردارمسلم لیگ میں شامل ہوئے تھے۔ پاکستان بن گیا۔ ان جاگیرداروں نے آج تک ستر سال ہو گئے‘ زرعی اصلاحات نافذ نہیں ہونے دیں‘ دلوں کا حال عالم الغیب ہی جانتا ہے مگر ایک لمحے کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ عمران خان تبدیلی لانے میں مخلص ہے تو یہ سٹیٹس کو کے علمبردار‘ یہ ہر پارٹی کے ساتھ مل کر اقتدار میں حصہ لینے والے ‘کیاعمران خان کو تبدیلی لانے دیں گے؟ کیا عمران خان قائد اعظم ‘ لیاقت علی خان‘ عبدالرب نشتر اور حسین شہید سہروردی سے زیادہ بااثر اور پُرعزم ہے؟ 

نواز شریف پر جو بہت سے اعتراضات تھے۔ ان میں ایک بڑا اعتراض یہ تھا کہ انہوں نے جنرل مشرف کے ساتھیوں اور قاف لیگ کے زعما کو‘ جنہوں نے آمریت کا بھر پور ساتھ دیا‘ اپنی آغوش میں لے لیا‘ دانیال عزیز‘ طارق عظیم‘ امیر مقام‘ زاہد حامد‘ طلال چودھری‘ ماروی میمن اور مشاہد حسین میں اور کیا برائی تھی؟ ہمایوں اختر خان اور ان کے بھائی ہارون اختر بھی ان سب سیاست دانوں کی طرح جنرل مشرف اور قاف لیگ کو چھوڑ کر نون لیگ میں شامل ہو ئے۔ عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد نے مسلم لیگ نون اور قاف لیگ کو ایسے ہی سیاست دانوں کی وجہ سے ووٹ نہیں دیا۔ اب وہی سیاست دان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں تو تحریک انصاف کو کیوں ووٹ دیا جائے؟ جن رنگ بدلنے والے شعبدہ بازوں کی وجہ سے دوسری جماعتیں ناقابل قبول تھیں‘ وہی شعبدہ باز تحریک انصاف میں آ گئے ہیں تو پھر تحریک انصاف کو کس برتے پر ووٹ دیا جائے؟ 

میاں نواز شریف کو لوگ طعنہ دیتے تھے کہ جنرل مشرف کے ساتھی قابل قبول ہیں تو جنرل مشرف ہی سے کیا دشمنی ہے! آخر یہی لوگ تو آمر کے دست و بازو تھے۔ اب یہی سوال عمران خان سے پوچھا جانا چاہیے کہ میاں نواز شریف کے ساتھی قابل قبول ہیں تو نواز شریف ہی سے کیا جائیداد کا جھگڑا ہے؟ آخر یہی لوگ تو میاں نواز شریف کی حکومت کی پالیسیاں طے کرتے تھے۔ یہی ہمایوں اختر خان بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سربراہ تھے‘ انہی کے بھائی فیڈرل بورڈآف ریونیو کے مدارالمہام تھے۔ میاں صاحب تو ساری دنیا کو معلوم ہے فائل پڑھتے تھے نہ سنجیدہ پالیسی امور پر توجہ مرکوز کر سکتے تھے! وزراء مکمل طور پر آزاد تھے! 

یہ دلیل کہ لیڈر جو چاہے‘ وہی ہوتا ہے‘ بودی دلیل ہے۔ کیا عمران خان شہنشاہِ مطلق ہوں گے کہ ان کی زبان سے نکلا ہوا لفظ قانون بن جائے گا؟ کیا نذر محمد گوندل‘ فردوس عاشق اعوان‘ عامر لیاقت ‘ ہمایوں اختر خان ‘ جہانگیر ترین اور بے شمار دوسرے روایتی سیاست دان موم کے بنے ہوئے بت ہیں جنہیں عمران خان جدھر چاہے گا موڑ لے گا؟ ان سیاست دانوں نے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے۔ ان کی ترجیحات میں سرِ فہرست کیا رہا ہے؟ یہ کوئی معمہ ہے نہ راز! سب کو معلوم ہے! ان کا دنیا کی ہر شے سے تعلق ہو سکتا ہے‘ تبدیلی سے نہیں! 

چشم تصور سے نظارہ کیجیے! عمران خان وزیر اعظم ہیں! دائیں طرف گوندل صاحب اور فردوس عاشق اعوان صاحبہ تشریف فرما ہیں۔ بائیں طرف ہمایوں اختر ہیں۔ ساتھ ان کے بھائی ہارون اختر صاحب بیٹھے ہیں۔ ان کے ساتھ عامر لیاقت نظر آ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ مفتی عبدالقوی صاحب بیٹھے مسکرا رہے ہیں۔ مفتی صاحب کے ہاتھ میں جھنڈا ہے اس پر قندیل بلوچ اور الماس بوبی کی تصویریں جلوہ افروز ہیں! مسلم لیگ نون سے تحریک انصاف میں آ کر ٹکٹ حاصل کرنے والوں کی مکمل فہرست ہمارے دوست آصف محمود صاحب کے پاس ضرور ہو گی۔ اگر وہ اپنے آئندہ کالم میں اسے شائع کر دیں تو آنے والی تبدیلی کے خدوخال بدرجۂ اتم واضح ہو جائیں گے! 

ہم جیسے بیوقوف الیکشن کے دن آسمان کی طرف منہ کر کے فریاد کرینگے ؎ 

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں 
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

 اور پھر سو جائیں گے! الیکشن کے دن ہماری قسمت میں سونا ہی ہے۔2013ء کے انتخابات میں نیند قربان کر کے ووٹ ڈالا تھا۔ آج تک قمر جلالوی کو یاد کر کے آہیں بھر رہے ہیں ؎ 

توبہ کیجے اب فریب دوستی کھائیں گے کیا

ا آج تک پچھتا رہے ہیں اور پچھتائیں گے کیا 

کل بہار آئے گی یہ سُن کر قفس بدلو نہ تم 

رات بھر میں بے پروں کے پر نکل آئیں گے کیا؟




Saturday, July 14, 2018

میری مجوزہ ہائوسنگ سوسائٹی… پہلے آئیے،پہلے پائیے


سنا ہے دارالحکومت میں روات سے لے کر گوجر خان تک، شاہراہ کے اردگرد زمینیں خریدی جا چکی ہیں۔ آبادی کا دبائو بے تحاشا بڑھ رہا ہے۔ سرکاری ادارے، نیم سرکاری تنظیمیں نجی شعبہ، سب ہائوسنگ سوسائٹیاں ڈیویلپ کرنے میں لگے ہیں۔ زراعت کے لیے مخصوص رقبے رہائشی آبادیوں کی نذر ہو رہے ہیں۔ جنگل کاٹے جا رہے ہیں۔ باغوں، سیر گاہوں اور پارکوں پر پراپرٹی ڈیلروں کی عقابی نظریں مرکوز ہیں۔ جھپٹتے ہیں اور پارک ختم ہو جاتے ہیں۔ 

انسانوں کا جنگل ہے کہ پھیلتا ہی جا رہا ہے۔ سنا ہے کہ ڈھاکہ میں پیدل چلنے وارلوں کا بھی ’’ٹریفک جام‘‘ ہو جاتا ہے۔ ہم بھی اُسی صورت حال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ اور بات کہ بنگلہ دیش نے آبادی کی شرحِ اضافہ کو کنٹرول کر لیا ہے۔ یعنی تین فیصد سے کم۔ ہمارا اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک معروف انگریزی روز نامے نے بتایا تھا کہ خیبرپختونخوا میں یہ اضافہ چار اعشاریہ چھ فیصد ہے۔ تا ہم اس مخصوص اضافے کی پشت پر افغان مہاجرین بھی شامل ہیں اور قبائلی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی بھی ایک اہم عامل ہے۔ 

بڑھتی ہوئی ہائوسنگ سوسائٹیوں کا سبب صرف آبادی کا دبائو نہیں۔ اس میں اُس طاقت ور طبقے کی حد سے بڑھی ہوئی کاروباری لالچ بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے جسے لینڈ ڈیویلپرز کہا جاتا ہے یعنی زمین کے بڑے بڑے قطعات خرید کر انہیں رہائشی کالونیوں میں تبدیل کرنے والے! اگرچہ اس میدان میں سب سے بڑا نام تو ہم سب جانتے ہیں کس کا ہے۔ مگر اس ایک بڑے ٹائیکون کے علاوہ بھی یہ شعبہ زور آور افراد سے بھرا پڑا ہے۔ ان سب میں کچھ صفات مشترک ہیں۔ اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں۔ کچھ تو بالکل ہی نہیں! یہ قانون سے کھیلنے والے لوگ ہیں۔ بہت سوں نے نجی فورس بنا رکھی ہے۔ مسلح غنڈے اور بدمعاش جاتے ہیں اور زمینیں قبضے میں لے لیتے ہیں۔ غریب مکینوں کو اُن کے گھروں سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ پھر پلاٹنگ ہوتی ہے۔ کوشش ہوتی ہے کہ سڑکوں، سکولوں اور پارکوں کے لیے کم سے کم رقبہ مخصوص کیا جائے۔ دکانیں زیادہ بنائی جائیں۔ جمال احسانی نے کہا تھا ؎ جہاں بدلنے کا وہ بھی گمان رکھتے ہیں جو گھر کے نقشے میں پہلے دکان رکھتے ہیں بجلی گیس اور فون لگانے والے اداروں سے ان طاقت ور کاروباری حضرات کے گہرے ’’روابط‘‘ ہوتے ہیں۔ متعلقہ افسروں کو پلاٹ پیش کیے جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مجوزہ ہائوسنگ سوسائٹی میں بجلی گیس اور فون کنکشن پہنچ جاتے ہیں، غالباً ہمارے دوست اجمل نیازی تھے جنہوں نے ایک بڑے بیورو کریٹ کے بارے میں لکھا تھا کہ اس کی ملکیت میں چونسٹھ پلاٹ ہیں۔ یہ میاں نواز شریف کا پہلا یا دوسرا دورِ حکومت تھا۔ اس کے بعد ان صاحب کو بلند تر منصب مل گیا۔ نوکر شاہی کا ایک ایسا ہی رکن ملک سے بھاگ گیا تھا۔ اس کی بیٹی کی شادی اس کی غیر حاضری ہی میں انجام پائی۔ سنا ہے ایک طاقت ور اعلیٰ شخصیت اس کے وسیع و عریض عشرت کدے میں محفلِ رقص و سرور میں شرکت کیا کرتی تھی! 

ایک اور صاحب کو یہ کالم نگار اچھی طرح جانتا ہے۔ بنک میں افسر تھے۔ پھر ملازمت چھوڑ دی۔ زمین خریدی، نجی فورس تشکیل دی۔ پولیس اور اعلیٰ انتظامیہ سے روابط گانٹھے۔ شہر کے گراں ترین علاقے میں دفتر بنایا۔ وارے نیارے ہو گئے۔ پراڈو جیسی جہازی سائز کی گاڑیوں میں نظر آتے۔ کچھ عرصہ پہلے معلوم ہوا۔ سلاخوں کے پیچھے مقیم ہیں۔ انگریزی کا محاورہ ہے کہ جب بھی دولت آتی ہے، کسی نہ کسی جرم پر سوار ہو کر آتی ہے۔ 

ایک اصطلاح اکثر و بیشتر سننے میں آتی ہے۔ ’’غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیاں‘‘ ان غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کی پشت پر سرکاری ادارے ہوتے ہیں۔ یہ ادارے مثلاً سی ڈی اے، ایل ڈی اے، کے ڈی اے اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں کے ترقیاتی ادارے، دیکھتے رہتے ہیں کہ غیر قانونی رہائشی کالونی وجود میں آ رہی ہے۔ یہ خاموش رہتے ہیں۔ ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم! متعلقہ اہلکار رشوتیں لے لے کر منہ دوسری طرف کیے رکھتے ہیں۔ یہ خبر بھی پڑھی گئی تھی کہ دارالحکومت کے نئے ایئرپورٹ کے قرب و جوار میں چار سو کے لگ بھگ غیر قانونی سوسائٹیاں قائم ہو چکی تھیں۔ پھر جب بات بہت آگے بڑھ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ مکان تعمیر ہو جاتے ہیں۔ لوگ رہ رہے ہوتے ہیں اس وقت ’’قانون‘‘ حرکت میں آتا ہے۔ پھر حکمِ امتناعی کے چکر چلتے ہیں، سالہا سال گزر جاتے ہیں۔ جرم 
Fait accompli 
یعنی امر واقعہ کی صورت اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ عدالتیں بھی بے بس ہو جاتی ہیں۔ پھر سب کچھ قانونی
(Legalise)
قرار دے دیا جاتا ہے۔ ایک معروف و مشہور قومی سطح کی شخصیت نے بنی گالا میں سب سے پہلا غیر قانونی محل تعمیر کیا تھا۔ آج وہاں شہر آباد ہے۔ سعدی نے کہا تھا، چشمہ رواں ہونے لگے تو اس وقت آنکھوں میں سرمہ ڈالنے والی سلائی سے بھی سوراخ بند کیا جا سکتا ہے۔ مگر جب وقت گزر جائے، پانی کا زور بڑھ جائے تو ہاتھی سے بھی بند نہ ہو گا۔ تا ہم یہ سب بدنیتی کے کرشمے ہیں۔ اس جُوع الارض میں اس 
Land Hunger
میں حکومتیں بھی شامل ہیں، کچھ عرصہ پہلے دارالحکومت میں واقع قومی ادارے ’’پاکستان زرعی ریسرچ کونسل‘‘ کو بے دخل کر کے وہاں ہائوسنگ سوسائٹی بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس میں ترقیاتی ادارے سے لے کر وزیر اعظم کے دفتر تک سب بڑے بڑے مگرمچھ ملوث تھے۔ مگر ادارہ ڈٹ گیا۔ متعلقہ وفاقی وزیر نے بھی اپنے ادارے کا ساتھ دیا اور بلا ٹل گئی۔ 

احمد ندیم قاسمی مرحوم مجلسِ ترقی ادب لاہور کے سربراہ تھے۔ ایک دن صبح دفتر پہنچے 
تو کچھ ’’طاقت ور‘‘ نوجوان دفتر کے رقبے کا طول و عرض ماپ رہے تھے۔ قاسمی صاحب نے پوچھا تو ایک ادائے بے نیازی سے بتایا گیا کہ کوئی تعمیراتی ’’منصوبہ‘‘ ہے۔ آپ کے ادارے کو متبادل جگہ دے دی جائے گی۔ جنرل ضیاء الحق کے ایک عزیز مرکز میں وزیر تعلیم تھے۔ قاسمی صاحب نے دوڑ دھوپ کی۔ ہاتھ پیر مارے، وزیر صاحب کے ذریعے ضیاء الحق تک بات پہنچائی اور یوں بال بال بچ گئے۔ 

اب تک تو یہ ساری تمہید تھی۔ اصل بات جو بیان کرنی ہے یہ ہے کہ میں نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ غربت مکائو پروگرام ہے۔ سوچا ہے ایک قطعۂ زمین حاصل کیا جائے۔ آبادی سے زیادہ دور نہ کم۔ ایک نیا شہر وہاں بسایا جائے۔ اس وقت سرمایہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ گاڑی، ریفریجریٹر اور دیگر سامان فروخت کر کے بھی بیس پچیس لاکھ ہی جمع ہو سکیں گے۔ مگر یہ ابتدائی ادائیگی(ڈائون پے منٹ) کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ بقیہ رقم مجوزہ سوسائٹی کے ارکان قسطوں میں انتظامیہ کو یعنی مجھے ادا کریں گے تو زمین کے مالکوں کو دے کر پٹواری کے کاغذوں میں انتقال کرا لیا جائے گا۔ اس رہائشی کالونی میں سب سے زیادہ زور شجر کاری پر دیا جائے گا تا کہ ہر پلاٹ درختوں سے گھرا ہو اور اس پر چھائوں پڑتی رہے۔ پلاٹوں کی الاٹ منٹ پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر ہو گی۔ مکان کی تعمیر سے پہلے قسطوں کی مکمل ادائیگی ضروری ہے۔ اس ہائوسنگ سوسائٹی کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ مکین روشنی کے لیے واپڈا کے یا کسی بھی ادارے کے محتاج نہیں ہوں گے۔ یہ ذمہ داری ہر مکین کی اپنی ہو گی۔ قبر کے اندر روشنی کرنے کا سامان ابھی سے کرنا ہو گا۔ یہ انتظام، یہ بندوبست زندگی ہی میں کر لیجیے۔ ایسا نہ ہو کہ اندر اندھیرے سے پالا پڑے۔ اندھیرے میں حشرات الارض بھی بہت آتے ہیں۔












Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net


Thursday, July 12, 2018

کُھلا خط۔-------اُن دو کے نام


بات چھوٹی سی تھی مگر بڑھتے بڑھتے اتنی بڑی ہو گئی کہ معمولی تلخ کلامی جھگڑے میں تبدیل ہوئی اور پھر دشمنی میں! 

چوہدری نسیم کا خاندان گائوں میں کھاتا پیتا شمار ہوتا تھا۔ یوں سمجھیے جیسے شہر میں مڈل کلاس کے کنبے ہوتے ہیں۔دیہی پس منظر رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ مڈل کلاس کا مطلب شہر میں کچھ ہو نہ ہو‘ بستیوں اور قریوں میں اس کا مطلب ایک باعزت مقام ہوتا ہے۔ معیار زندگی اوسط سے کافی اوپر! ڈھور ڈنگر ضرورت کے مطابق مناسب مقدار میں‘ زمین سے پیداوار ٹھیک ٹھاک! جس دن یہ واقعہ پیش آیا‘ اس دن شام کے وقت گائوں کے لوگ چوپال میں اکٹھے تھے، بحث سیاست پر ہو رہی تھی۔ چودھری نسیم جس سیاسی جماعت کا طرفدار تھا اس کے دفاع میں بول رہا تھا۔ اس کا ایک رشتہ دار جو دوسری جماعت کا حامی تھا‘ زبان کاتیز تھا۔ اس کی آواز ضرورت سے زیادہ اونچی ہو گئی۔ چودھری نسیم نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ بات بڑھ گئی۔ تیز زبان والے رشتہ دار نے چودھری نسیم کے مرحوم باپ اور دادا کے بارے میں کوئی بے ہودہ بات کہہ دی۔ چوہدری نسیم اُٹھا ۔ صرف اتنا کہا کہ میں سب کچھ برداشت کر سکتا ہوں‘ مرے ہوئے باپ اور دادا کی بے عزتی نہیں برداشت کر سکتا۔ یہ کہہ کر نسیم نے ٹارچ اٹھائی اور گھر چلا گیا۔ چوپال پر چند لمحوں کے لیے سناٹا چھا گیا۔ کچھ معمر افراد نے تیز زبان والے رشتہ دار کو ملامت کرتے ہوئے سمجھایا کہ جا کر معذرت کر لو کیوں کہ تمہاری غلطی ہے مگر وہ نہ مانا۔ اس نے کچھ اور غلط باتیں کہہ دیں جو ان لوگوں نے چوہدری نسیم تک پہنچا دیں جو اس قسم کے مواقع پر جلتی پر تیل ڈالتے ہیں۔ ایک ہفتہ گزر گیا ایک صبح گولی چلنے کی آواز آئی۔ کھیتوں میں تیز زبان والے رشتہ دار کی لاش تڑپ رہی تھی۔ چوہدری نسیم بندوق کے ساتھ نزدیکی تھانے میں پیش ہو گیا اور قتل کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے بے عزتی کا بدلہ لیا ہے۔ 

دونوں بیٹے چوہدری نسیم کے ملک سے باہر تھے۔ ایک دبئی میں ملازمت کرتا تھا‘ دوسرا انڈونیشیا کی ایک آئل کمپنی میں کام کرتا تھا۔ خبر ملی تو دونوں پہنچ گئے۔ دبئی والا ایک دن پہلے پہنچا۔ سیدھا تھانے آیا اور پولیس کو کہا کہ قتل میرے والد نے نہیں کیا۔ میں نے کیا ہے۔ انڈونیشیا والا دوسرے دن تھانے پیش ہوا۔ اس کا بیان یہ تھا کہ قتل اس نے کیا ہے اور یہ کہ اس کا باپ اور بھائی دونوں اس کی جان بچانے کے لیے جھوٹ بول کر الزام اپنے سر لے رہے ہیں۔ 

یہ پنجاب کے ایک گائوں کا سچا واقعہ ہے۔ پاکستان کے تھانوں اور عدالتوں کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ نوجوان سب کچھ برداشت کر لیتے ہیں مگر اپنے باپ کی تکلیف‘ اپنے باپ کی ہتک‘اپنے باپ کی بے بسی برداشت نہیں کر سکتے! اپنا مال‘ اپنی عزت یہاں تک کہ اپنی جان بھی قربان کر دیتے ہیں۔ 

ایک اور معاملے میں یہ لوگ اور بھی زیادہ حساس ہوتے ہیں وہ ہے خاندان کی خواتین کی عزت! ماں بہن بیٹی اور بیوی کے لیے سب کچھ نثار کر دیتے ہیں۔ ان کی حرمت پر کٹ مرتے ہیں! 

مگر تم دونوں بھائی کس مٹی کے بنے ہوئے ہو؟جس بے حسی کا مظاہرہ تم کر رہے ہو اس کی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ کوئی باغیرت نوجوان اس بے حسی‘ اس تغافل اور اس ’’مستقل مزاجی‘‘ کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارا بوڑھا باپ عدالتوں میں اور نیب کے دفتروں میں آئے دن پیش ہو رہا ہے۔ تم کیسے بیٹے ہو جو لندن کی اُن رہائش گاہوں میں آرام و عشرت کے مزے لُوٹ رہے ہو جن کی ملکیت تمہارے نام ہے جس کا دفاع تمہارا باپ کر رہا ہے۔ تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو جہاز میں بیٹھتا سیدھا پاکستان آتا اور عدالت کے سامنے پیش ہو کر کہتا کہ میں ہوں مجرم!یہ سب کیا دھرا‘ جو کچھ بھی ہے‘ میرا ہے مجھے پکڑو


پھر تمہاری غیرتاس وقت بھی نہ جاگی جب تمہاری بہن کو عدالتوں اور نیب کی کچہریوں میں پیش ہونا پڑا۔ یہ تو تمہاری پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہونا چاہیے تھا۔ بہن کا سُن کر بھی تم بیٹھے رہے! تم ہر روز ٹیلی ویژن پر سنتے رہے‘ اخبارات میں پڑھتے رہے کہ تمہاری بہن عدالتوں کے دھکے کھا رہی ہے مگر تمہارا دل نہ پسیجا۔ تم عیش و عشرت کی زندگی کو تج نہ سکے۔ جس باپ نے تمہاری خاطر یہ ساری بدنامی مول لی‘ اس باپ کو تم نے اکیلا چھوڑ دیا۔ 

تم سے ہزار گنا زیادہ بہادر تو تمہاری بہن ثابت ہوئی جو آسانی سے بیرون ملک بھاگ سکتی تھی مگر اپنے باپ کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ اس نے باپ کا ہر ممکن دفاع کیا۔ عدالتوں کے سامنے پیش ہوئی۔ نیب کی کچہری چڑھی۔ ملک کے طول و عرض میں سفر کیا۔ تقریریں کیں۔ اس نازک موقع پر باپ کی پشت کے پیچھے تکیہ بن گئی۔ لوگ برملا کہتے ہیں کہ آفرین ہے اس بیٹی پر۔ اصل بیٹا تو یہ ہے۔ وہ جو دو لندن میں بیٹھے پائونڈ گن رہے ہیں اور جائیدادوں، کارخانوں اور اپارٹمنٹوں کے کاغذات سنبھال سنبھال کر تجوریوں میں رکھ رہے ہیں‘ انہیں چوڑیاں پہن لینی چاہئیں اور ہتھیلیوں پر حنا لگا لینی چاہیے بیٹی مرد بن کر دشمنوں کو للکارنے لگی اور بیٹے برقعے پہن کر اندر چھپ گئے۔

آہ! تم نے یہ نہ سوچا کہ تاریخ تمہیں کس حیثیت میں یاد کرے گی۔ یہی کہ باپ اور بہن کو مصیبت میں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پلٹ کر نہ دیکھا کہ وہ کس حال میں ہیں۔ تم نے یہ نہ سوچا کہ خلق خدا تمہیں کیا کہہ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر دوسرا پیغام تمہارے باپ کے نام پر آ رہا ہے کہ اپنے بیٹوں کو لندن میں بٹھایا ہوا ہے اور دوسروں کے بیٹوں کو احتجاج کے لیے باہر نکلنے کا کہہ رہے ہو؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ اس احتجاج کی قیادت تو تمہارے بیٹوں کو کرنا چاہیے تھی۔ 

یہ منظر اس ملک میں پہلے بھی لوگوں نے دیکھا۔ دوسروں کے بیٹوں کو ’’جہاد‘‘ پر بھیجا گیا۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں’’ بم اور میزائل دیے گئے۔ انہیں مدرسوں کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکال کر جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ ان کے گھروں میں صف ماتم بچھا دی گئی۔ مگر ان ’’بہادروں‘‘ کے اپنے فرزند اس ’’جہاد‘‘ سے دور ہی رہے کوئی پشاور میں ہسپتالوں میں سپلائی ہونے والی مشینوں اور دوائوں کا کاروبار کرتا رہا اور کوئی دارالحکومت کے وسیع ‘ آرام دہ محلات میں بزنس کرتا رہا۔ یہ جرنیل‘ یہ علمائ‘ یہ اسلام کے نام لیوا۔ یہ مذہبی جماعتوں کے رہنما‘ دوسروں کے بیٹوں کو قربان کرتے رہے۔ اپنے بیٹوں کے ہاتھوں میں کتابیں دیں اور لیپ ٹاپ اور بزنس کے گوشوارے! 

آج یہ فلم دوبارہ چلائی جا رہی ہے۔ سول بالادستی کے لیے تمہارا باپ جو لڑائی لڑنا چاہتا ہے اس میں وہ دوسروں کے بیٹوں کو جھونکنا چاہتا ہے۔ اپنے بیٹوں کو اس نے لندن میں بٹھایا ہوا ہے۔ مگر بیچارہ بوڑھا باپ کرے بھی تو کیا کرے! وہ تمہیں کیا کہے۔ جن بیٹوں نے باپ کی عزت اور بہن کی حرمت پر قربان ہونا ہو وہ کسی کے کہنے کا انتظار نہیں کرتے۔ یہ ان کے خون کی تپش ہوتی ہے جو اُن کے اندر اُن کے ضمیر کی ہنڈیا میں غیرت کو ابالتی ہے اور وہ باہر نکل پڑتے ہیں! پھروہ باپ اور بہن کے آگے ڈھال بن جاتے ہیں! مگر آہ!تمہاری جس بے حسی پر اپنے افسوس کر رہے ہیں‘ کُڑھ رہے ہیں اور دوسرے ٹھٹھے مار رہے ہیں‘ طنز کر کے قہقہے لگا رہے ہیں‘ اُس کا اصل سبب نہیں جانتے! غیرت تب بیدار ہوتی ہے جب رگوں میں دوڑتا خون اکلِ حلال سے بنا ہو!



 

powered by worldwanders.com