Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, December 12, 2019

بیماری پرانی ہے مگر مہلک نہیں


سوال دو روپے کا نہیں، سوال یہ ہے کہ ہمارا کوئی ضابطہ، کوئی قانون، کوئی اصول ہے یا نہیں؟
بِل جمع کرانے ملازم کو بینک بھیجا تو بتایا کہ ایک سو بارہ روپے واپس ملیں گے۔ وہ ایک سو دس روپے لایا۔ پوچھنے پر لاپروائی سے کہا کہ دو روپے اس کے پاس نہیں تھے۔ ملازم کے نزدیک بھی یہ ایک معمول کی کارروائی تھی! 
بینک کی برانچ میں فون کیا۔ یہ منیجر صاحب خود تھے جنہوں نے شرفِ گفتگو بخشا۔ ان سے سوال سیدھا سادا پوچھا... اِس رہائشی کالونی میں تقریباً پانچ ہزار گھر آباد ہیں۔ سب پابند ہیں کہ اسی بینک میں کالونی کے بل جمع کرائیں۔ ہر بل سے دو روپے رکھیں تو کل رقم کم از کم دس ہزار ماہانہ بنتی ہے۔ اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے‘ کیونکہ دو روپوں کے بجائے پانچ روپے بلکہ دس روپے بھی رکھ لیں تو کسی کو احتجاج کی جرأت نہ ہو گی۔ منیجر صاحب سے پوچھا کہ دس ہزار یا زیادہ کی یہ رقم صرف کیشئر رکھتا ہے یا برانچ کے سارے ملازمین میں تقسیم ہوتی ہے؟
منیجر نے غلطی تسلیم کی۔ معذرت بھی کی‘ مگر ساتھ ہی اس نے ایک اور جملہ لڑھکایا اور وہی مسئلے کی جڑ تھی... ''جناب! ہمارے کلرک دو یا پانچ روپے رکھ لیتے ہیں مگر بل جمع کرانے والے بھی تو نہیں مانگتے! ذمہ داری دو طرفہ ہے۔ اگر سارے کلائنٹ اپنے حق کا مطالبہ کریں تو یہ رجحان ختم ہو سکتا ہے‘‘!
مگر ہم اپنے حقوق کا مطالبہ کیوں کریں؟ ہم پاکستانی دریا دل لوگ ہیں! پٹرول پمپ والا دس روپے رکھ لیتا ہے۔ ہم نہیں مانگتے۔ لوگ کیا کہیں گے! اتنا بُھکا ننگا ہے کہ دس، پانچ یا دو روپے مانگ رہا ہے!
دوسری طرف غور کیجیے، کیا کوئی بینک‘ کوئی پٹرول پمپ‘ کوئی دکاندار، دو یا پانچ یا دس روپے کم لینے پر کبھی راضی ہوا ہے؟ خود ایک ایک پائی پوری وصول کرتے ہیں!
قلابے ہم امریکہ، فرانس اور جرمنی کے ملاتے ہیں۔ روش ہماری افریقی قبائلیوں کی ہے! ہر وہ کام ہم کرتے ہیں جس کا ترقی یافتہ ملکوں میں تصوّر تک نہیں! کیا وہاں بھی کسی دکان میں لکھا ہوتا ہے کہ خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہ ہو گا؟ کیا وہاں بھی لاش شاہراہ کے درمیان رکھ کر ٹریفک روک دی جاتی ہے؟ کیا وہاں بھی میچ کی وجہ سے میٹرو بس بند کر دی جاتی ہے؟ کیا وہاں بھی دھرنوں کے سبب شہری محصور کر دیئے جاتے ہیں؟ یہاں تک کہ ہسپتالوں اور ہوائی اڈوں تک پہنچنا نا ممکن ہو جاتا ہے! کیا وہاں بھی چیف کمشنر، ڈی سی اور اے سی تک رسائی نا ممکنات میں سے ہے؟ کیا وہاں بھی ڈاکٹر دس بجے تشریف لا کر، گیارہ بجے چائے کے وقفے کے لیے چلے جاتے ہیں؟ کیا وہاں بھی ایئر پورٹوں پر غیر ملکیوں کے لیے مخصوص کائونٹروں کے سامنے بندھی قطاروں میں مقامی مسافر کھڑے ہوتے ہیں؟ کیا وہاں بھی بازار دن کے ایک بجے کھلتے ہیں اور رات بارہ بجے بند ہوتے ہیں؟ کیا وہاں بھی ہر نئی حکومت پچھلی حکومت کے شروع کیے ہوئے ترقیاتی اور فلاحی منصوبے جہاں ہیں وہیں روک دیتی ہے اور کوئی احتجاج نہیں کرتا؟ کیا وہاں بھی صنعت کار وزرا کے اپنے کارخانے بیرون ملک ہوتے ہیں؟
ہم اپنے آپ کو جو سٹیٹس چاہیں دے دیں، دنیا ہمیں وہی مقام دے رہی ہے، جس کے ہم مستحق ہیں! کل جس امریکی بیان میں ہمارے ایک معروف و مشہور پولیس افسر پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں اُس بیان میں ہمارے علاوہ بھی کچھ ممالک شامل ہیں۔ یہ ممالک سنگا پور، فرانس، جرمنی اور کینیڈا نہیں بلکہ کانگو، میانمار، لیبیا، جنوبی سوڈان اور سلواکیہ ہیں!
سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا
یہ کسر باقی تھی سو پوری ہو گئی! آج تک تو ہم دہشت گردی کے حوالے سے مشہور تھے! اسامہ بن لادن پکڑا گیا تو ہمارے ہاں! مُلا منصور مارا گیا تو پاکستان میں! اور تو اور پاکستانی تارکینِ وطن کے اپنے بچّے پاکستان نہیں آتے کہ خطرہ ہی خطرہ ہے! اب دنیا بھر میں ہماری شہرت نے نیا موڑ مڑا ہے کہ ہمارے ہاں پولیس مقابلوں میں ایک ایک پولیس افسر چار چار سو افراد مار دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے!ع
ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند!
یہ ہے مردانگی اور بہادری! جس کا شہرہ اب چار دانگِ عالم میں پھیل رہا ہے!
بُرے ہم ہیں! بدنامی ملک کی ہو رہی ہے! ناکامی حکومتوں کی ہے! نام پاکستان کا بدنام ہو رہا ہے! جب پولیس ''مقابلوں‘‘ میں سینکڑوں انسان موت کے گھاٹ اتارے جا رہے تھے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں دیکھ رہی تھیں! سیاسی جماعتوں کی ناک کے عین نیچے یہ سب کچھ ہو رہا تھا! سب کے اپنے اپنے مفادات تھے! سب منقار زیر پر تھے! کوئی سرپرست تھا تو کوئی منہ دوسری طرف کیے ہوئے تھا! آج پاکستان کا نام میانمار، کانگو اور جنوبی سوڈان کے ساتھ شامل ہو رہا ہے! ہم سب کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے! کیا مادرِ وطن کو اس کی ہوا‘ چاندنی، دھوپ‘ گندم اور پانی کے بدلے ہم یہ صلہ دے رہے ہیں؟ ؎
اے ماں! تجھے تو کوئی نہ خورسند رکھ سکا
فرزند گرچہ تو نے دیے تھے جنم بہت
تو پھر کیا ہم نا امید ہو جائیں؟ نہیں! حالیؔ نے مسدس میں خوب مرثیہ خوانی کی۔ بین کیا اور ایسا کہ سر سیّد سمیت پوری قوم روئی۔ مگر آخر میں ضمیمہ لکھا اور امید دلائی۔ ؎
بس اے نا امیدی نہ یوں دل بجھا تو
جھلک اے امید! اپنی آخر دکھا تو
حالی نے ایک نکتہ اس ضمیمے میں کمال کا بیان کیا۔ فرمایا کہ مرض بظاہر سارے مُزمِن (پرانے) ہیں مگر ان میں مہلک کوئی نہیں!
یہ جو کچھ پاکستان کے ساتھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار پاکستانیوں کی اکثریت نہیں، ایک حقیر اقلیت ہے جو غلبہ پا چکی ہے! اسی ملک میں دیانت دار پولیس افسر اور اہلکار بھی موجود ہیں! اسی ملک میں فلاحی کام کرنے والے ادارے اور افراد کثیر تعداد میں دیکھے جا سکتے ہیں! ملک کی اکثریت مخلص اور دیانت دار لوگوں پر مشتمل ہے! افسوس صرف یہ ہے کہ جو کارکردگی دکھا سکتے ہیں وہ کونوں کھدروں میں چھپ کر عزت بچاتے پھرتے ہیں ؎
گُھٹ گُھٹ کے جہاں میں رہے جب میرؔ سے مرتے
تب جا کے یہاں واقفِ اسرار ہوئے ہم
اس ملک کے ساتھ سانحہ ہی یہ ہوا کہ جو حکومت بھی آئی، مخصوص ٹولوں میں گھِر گئی۔ مخلص جو بھی تھا، محرومِ توجہ رہا! سیاست دان تھا یا ٹیکنو کریٹ، سول سرونٹ تھا یا پولیس افسر، صنعت کار تھا یا ماہرِ زراعت، آئی ٹی کا ماہر تھا یا ماہرِ تعلیم، اگر خوشامد کے فن میں یدِ طولیٰ نہیں رکھتا تھا تو اُس سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا! اور سوء اتفاق یہ ہے کہ بلا امتیاز ہر حکومت نے یہی رویہ رکھا۔ ناصر کاظمی نے کہا تھا ؎
کتنی مردم شناس ہے دنیا
منحرف بے حیا ہمی سے ہوئی
جو افراد، جو نجی ادارے اخلاص مند ہیں وہ اپنا اپنا کام کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری سکول زوال پذیر ہوئے تو نجی شعبہ آگے بڑھا اور خلا پُر کیا۔ سرکاری ہسپتال مذبح خانوں میں تبدیل ہوئے تو پرائیویٹ ہسپتال کھل گئے۔ یہ سچ ہے کہ نجی شعبے نے ناروا سلوک بھی روا رکھا مگر اکثریت ایسی نہیں! ذمہ داری حکومتوں کی تھی کہ ان منتشر کوششوں کی تنسیق (Coordination) کرتی۔ نجی شعبوں کی ایک طرف حوصلہ افزائی کرتی، دوسری طرف قواعد و ضوابط کا اطلاق کر کے انہیں زیادتی سے روکتی مگر ایسا نہ ہوا۔ حکومتیں اپنے فرائض سے عہدہ برآ نہ ہو سکیں۔ وہ جو انور مسعود نے کہا تھا کہ ع
حکومتاں دی گل تو حکومتاں تے رہن دے
تو حکومتوں کا قصّہ حکومتوں پر کیا چھوڑیں! حکومتوں کو تو مسلسل نگرانی اور تنقید کی ضرورت ہوتی ہے۔ تبھی وہ سیدھی رہتی ہیں -اسی لیے تاریخِ اسلام کے اوائل میں ایک شہری نے حکمران کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ : آپ ٹیڑھے ہوئے تو ہم آپ کو تیر کی طرح سیدھا کر دیں گے اور حکمران نے اس بلند سیاسی شعور پر اللہ کا شکر ادا کیا تھا!

Tuesday, December 10, 2019

اے طائرِ لا ہوتی ! تو کہاں ہوتا ہے؟


لاہور سے سوا چھ ہزار کلو میٹر دور‘ لندن میں مسلم لیگ نون کا اجلاس منعقد ہوا ہے۔ لاہور میں درجۂ حرارت سولہ اور لندن میں نو ہے!
اقبالؔ نے کہا تھا ؎
زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی
تاہم پارٹی لندن کی زمستانی ہوا میں اپنی شمشیریں تیز کر رہی ہے۔ ہر پارٹی کو تیاری کرنے کا‘ اجلاس منعقد کرنے کا اور مقابلہ کرنے کا حق ہے۔ مگر آپ کا کیا خیال ہے‘ پاکستان کی قسمت کے فیصلے لندن میں ہونے چاہئیں؟ اگر آپ کا جواب ''نہیں‘‘ میں ہے تو معاف کیجیے آپ غلط ہیں!
کابل کی ہوا اُس روز سرد تھی! کسی مہم سے تازہ تازہ لَوٹا ہوا کابل کا حکمران تھکا ہوا تھا‘ مگر مہمان ایسے تھے کہ ملنا ضروری تھا! یہ دو خاص مہمان تھے۔ کابل کے خربوزے چار سو پچانوے برس پہلے بھی شیریں تھے۔ اتنے شیریں کہ لب دوز! انار تب بھی بیج کے بغیر تھے۔ حد درجہ میٹھے اور بلخ کے انگور اور شفتالو!
اس کے بعد ان خاص مہمانوں کی ضیافت ہوئی۔ بھیڑ کے بِریاں پار چے!
ظہیر الدین بابر کے آبائی خطے کا اُزبک پلاؤ!
خوبصورت رنگین پیالوں میں شوربہ اور تِل‘ خشخاش اور کلونجی سے بھرے ہوئے نرم نان!
یہ خاص مہمان‘ ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ کرنے‘ ہندوستان سے باہر‘ کابل میں وارد ہوئے تھے! پنجاب سے طویل سفر طے کر کے دلاور خان لودھی اور عالم خان لودھی بابر کے پاس اس لیے آئے تھے کہ وہ ہندوستان آ کر‘ ابراہیم لودھی پر حملہ کرے! وہی ابراہیم لودھی جو دونوں کا رشتہ دار تھا۔ آنے والے تین سو اکتیس برسوں کے لیے ہندوستان کا فیصلہ ہندوستان کی حدود سے باہر‘ اُسی روز ہو گیا تھا۔ بابر نے اس دعوت کو قبول کر لیا۔ حملہ آور ہوا۔ پشتونوں کی ہندوستانی سلطنت ملیا میٹ کر کے مغل ایمپائر کی بنیاد رکھی!
ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ کچھ عرصہ بعد‘ ہندوستان کے مسلمانوں نے‘ ایک بار پھر ہندوستان کی حدود کے باہر کیا! انیس برس بعد ہمایوں دریائے ہلمند پار کر کے ایران کے با دشاہ کے پاس بیٹھا ہندوستان پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ ایک بار پھر مغلوں نے ہندوستانی پشتونوں کی سُوری سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔
ہمایوں اور شہباز شریف کے درمیان چار سو پچھتر سال کا عرصہ ہے۔ اس عرصہ میں وہی کچھ ہوتا رہا جو آج شہباز شریف اور مسلم لیگ نون کے اکابر کر رہے ہیں۔ پلاسی کی جنگ سے لے کر تقسیم ہند تک‘ پورے ایک سو نوّے سال‘ سارے فیصلے اُسی لندن میں ہوتے رہے جہاں آج مسلم لیگ نون پاکستان کی قسمت کے فیصلے کر رہی ہے! یہ فیصلے نافذ ہوتے ہیں یا نہیں‘ اور بات ہے۔ مگر ہو تو رہے ہیں! یوں شہباز شریف انگریزوں سے مخاطب ہو کر وہ سب کچھ کہہ سکتے ہیں جو مسولینی نے اپنے حریفوں سے کہا تھا ؎
میں پھٹکتا ہوں تو چھلنی کو برا لگتا ہے کیوں
ہیں سبھی تہذیب کے اوزار‘ تُو چھلنی میں چھاج
پاکستان بنا تو سیٹو اور سنٹو کے معاہدوں میں شمولیت کے فیصلے پاکستان میں تھوڑی ہی ہوئے۔ ''یُوٹُو‘‘ کا جاسوس طیارہ پشاور سے اُڑانے کا فیصلہ بھی پاکستان سے باہر ہی ہوا اور جب پشاور کے اردگرد نقشے پر سرخ دائرہ لگایا گیا تو یہ فیصلہ روس میں ہوا۔
کوئی مانے نہ مانے‘ سچ یہ ہے کہ ہماری باگیں ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہیں! افغان امور میں جنرل ضیاء الحق کے عہد میں مداخلت وسیع پیمانے پر ہوئی تو فیصلے سعودی عرب اور امریکہ میں ہوئے۔ ہماری سرحدوں کی لکیریں مدہم پڑ گئیں۔ منشیات اور اسلحہ پاکستان میں گھر گھر پہنچا۔ کراچی سے لے کر گلگت تک غیر ملکی پھیل گئے۔ جنہیں یہ عاجز معاشرہ آج بھی بھگت رہا ہے!
بے نظیر بھٹو اور صدر مشرف کے درمیان مذاکرات کہاں ہوئے؟ پاکستان سے باہر! یہ رائٹر نیوز ایجنسی تھی‘ جس نے یہ خبر دی تھی۔ جنرل مشرف کے تین قریبی رفقا پاکستان کی قسمت کے فیصلے لندن میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ بیٹھ کر کر رہے تھے۔ یہ 2007ء کی بات ہے!
اس سے پہلے 2000ء میں جب شریف خاندان پاکستان سے باہر روانہ ہوا تو یہ فیصلہ بھی باہر ہوا تھا۔ سعودی شاہی خاندان اور حریری‘ سارے غیر ملکی ہی تو تھے۔
2007ء میں شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز بھی بیرون ملک ہی سے پاکستان تشریف لائے‘ معاہدے کے کاغذات لہرا کر میاں برادران کو یاد دلایا کہ ابھی آپ نے پاکستان واپس نہیں آنا کیوں کہ ''جلاوطنی‘‘ دس برس کے لیے طے کی گئی تھی!
اب لندن سے ہٹ کر رُخ دبئی کی طرف کر لیجئے۔ 2008ء سے لے کر 2013 ء تک زرداری صاحب صدرِ مملکت رہے۔ اس عرصہ میں وہ کتنی بار دبئی گئے؟ اسے تو چھوڑ ہی دیجیے۔ عرصۂ صدارت کے بعد عملاً سندھ کے صوبے کا صدر مقام دبئی منتقل ہو گیا۔ کتنی بار پیپلز پارٹی کے چیدہ چیدہ ارکان دبئی گئے؟ کوئی سر پھرا یہ تحقیق کرے تو نتائج حیران کن نکلیں گے اور روح فرسا! چیونٹیوں کی قطار جیسی ایک قطار تھی جو کراچی اور دبئی کے درمیان چلتی رہی۔ بلاول بھٹو‘ فریال تالپور‘ قائم علی شاہ اور دیگر زعما‘ بریف کیس اٹھائے دبئی سے واپس آ رہے ہوتے یا عازمِ سفر ہو رہے ہوتے۔ موجودہ وزیراعلیٰ سیّد مراد علی شاہ تب صوبے کے وزیر خزانہ تھے۔ کوئی جس عہدے پر بھی تھا‘ دبئی جا کر حاضری لگواتا تھا۔ تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے!
ہماری باگیں بیرون ملک ہی رہیں! آج بھی بیرون ملک ہی ہیں! پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ یا تحریک انصاف! پاکستانی خود مختار نہیں ہوئے! بھلا پوچھیے یہ فیصلہ کہاں ہوا کہ اٹھارہ برس آئی ایم ایف کی ملازمت کرنے والا شخص سٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر تعینات ہو گا؟ اگر آپ اس زعم میں ہیں کہ یہ فیصلہ شاہراہِ دستور پر ہوا یا کراچی یا لاہور میں‘ تو اپنی معلومات پر نظرثانی کیجیے۔ ابھی ہم اتنے آزاد نہیں ہوئے کہ ایسے فیصلے ملک میں ہونے لگیں۔ ہمیں تو کبھی امریکہ‘ کبھی چین‘ کبھی آئی ایم ایف‘ کبھی ورلڈ بینک‘ کبھی یو اے ای‘ کبھی سعودی عرب کبھی قطر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں ؎
نالہ ہے بلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
پہلے لندن ہمارے بخت کا مالک و مختار تھا۔ اب دوسرے دارالحکومت بھی ہمارے مقّدر کے فیصلے کرنے لگے ہیں! خدا وہ دن نہ دکھائے کہ کابل‘ موگادیشو‘ کولمبو یا کٹھمنڈو میں ہمارے فیصلے ہونے لگیں۔ اس لیے کہ ہم کوئی کام ادھورا تو چھوڑتے نہیں! آخری حد تک لے کر جاتے ہیں! اگر پاتال میں گر رہے ہیں تو پھر تحت الثریٰ تک گر سکتے ہیں!
یہ جو ہر چوک پر آپ گداگروں کے جُھنڈ کے جُھنڈ دیکھتے ہیں تو اس میں حیرت ہی کیا ہے! فکر ہر کس بقدرِ ہمت اوست! 
ہم میں سے ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق بھیک مانگتا ہے! کوئی سابق صدر ہے تو کسی بادشاہ سے لاکھوں ڈالر لیتا ہے تاکہ لندن اور دبئی میں رہائش گاہیں خرید سکے! کوئی سابق وزیراعظم ہے تو کسی دوسری بادشاہت سے جہاز مانگ کر لندن کا سفر کرتا ہے! کوئی حکمران ہے تو کسی شہزادے کے طیارے میں بیٹھ کر نیو یارک جاتا ہے۔ یہ سب ہماری عزتِ نفس کی مثالیں ہیں! ہم میں سے ہر ایک کے ماتھے پر لکھا ہے ؎
اے طائر لا ہوتی! اُس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

Saturday, December 07, 2019

تیری مجبوریاں درست مگر



باغ ہرا رہے گا۔ یہ حُسن دامنِ دل کھینچتا رہے گا۔ یہ ملک سلامت رہے گا!
یہ چراغ بجھنے کے لیے نہیں جلا۔ بہت سے پھونکیں مار چکے! اپنی سی کوشش بہت سوں نے کی۔ مگر خلّاقِ عالم نے اس کی حفاظت کی۔ وہ حفاظت کرتا رہے گا! جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی یہ شناخت ہے اور پناہ گاہ۔
وہ جو بغلیں بجاتے ہیں کہ اکہتر میں یہ ٹوٹ گیا، اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لیے اظہارِ مسرت کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے الگ وجود نے تحریکِ پاکستان پر مُہرِ تصدیق ثبت کر دی! بنگلہ دیش، مغربی بنگال میں ضم کیوں نہیں ہوا؟ تین اطراف سے بھارت میں گھِرا ہوا یہ ملک اپنی الگ شناخت اس لیے قائم رکھے ہوئے ہے کہ یہ مسلمانوں کا ملک ہے! بھائی بڑے ہو جائیں تو ایک گھر کے کئی الگ الگ یونٹ بن جاتے ہیں۔ یہ بد قسمتی تھی کہ جو بٹوارا امن و آشتی کے ساتھ ہو سکتا تھا، لڑ بھڑ کر ہوا! مگر بھائی، لڑ بھڑ کر بھی، بھائی ہی رہتے ہیں! خاتون وزیر اعظم بہت جلد تاریخ کی گرد میں چھپ جائے گی! پاکستان کے ساتھ مخاصمت اس کا ذاتی مسئلہ ہے، شمال مشرق کے مسلمانوں کا نہیں!
پاکستان کی بقا قدرت نے مقّدر کر دی ہے؛ تاہم کچھ ہاتھ پائوں ہم اہلِ پاکستان کو خود بھی ہلانے ہوں گے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہماری اکثریت کا مائنڈ سیٹ ہے! ہمیں مادّی انفراسٹرکچر سے زیادہ ذہنی انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے! اس میں دو آرا نہیں کہ ملک کو شاہراہوں، ہوائی اڈوں، پُلوں، کارخانوں اور پلازوں کی ضرورت ہے مگر اس سے بھی زیادہ، ہماری سوچ پُلوں اور شاہراہوں کی محتاج ہے۔ ہماری سوچ کے پُل ٹوٹے ہوئے ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے، ذہنی طور پر، دور ہیں! برداشت عنقا ہے۔ ملک دشمنی کے طعنے عام ہیں۔ جس طرح مذہبی حوالے سے اختلاف کرنے والے کو ہم جھٹ کافر کا خطاب دے دیتے ہیں، اسی طرح سیاسی تفاوت پر ملک دشمنی کا الزام لگا دیتے ہیں۔ ماضی میں غداری کی فیکٹریاں رات دن چلتی رہیں۔ کبھی کسی پر غداری کا لیبل لگا، کبھی کسی پر۔ اب غداری کی جگہ ملک دشمنی کی اصطلاح عام کی جا رہی ہے! جرم سرزد ہو تو سزا دینی چاہیے! ملک دشمنی کا طعنہ نہیں دینا چاہیے؎
حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں!
سلامتی کو بیرونی دشمن سے نہیں، ہماری اپنی عدم برداشت سے خطرہ ہے! عدم برداشت کا عفریت قومی اِکائی کو پارہ پارہ کرنے کے در پے ہے ۔ اور تو اور، آج کا خطیب بھی خیالات اور الفاظ کا سہارا لینے کے بجائے آواز پر تکیہ کرتا ہے! جتنی آواز کسی کی اونچی ہے، اتنا ہی وہ زبردست مقرر گردانا جاتا ہے! نواب بہادر یار جنگ اور ابوالکلام آزاد سے لے کر شورش کاشمیری تک خطابت الفاظ کی روانی اور لہجے کے اتار چڑھائو سے عبارت تھی! چیخنے، دھاڑنے کا رواج نہ تھا! معروف صحافی نصراللہ خان عزیز نے ابوالکلام آزاد کی تقریر کا حال لکھتے ہوئے کہا تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے روشنی کی کرنوں پر رقص کرتا ہوا مضامینِ تازہ کا ایک سیلاب ہے جو سٹیج پر سے ایک غیر معلوم چشمے سے ابل رہا ہے۔ گویا تقریر نور کی چادر کی طرح تمام مجمع پر چھائی ہوئی تھی۔ اقبال نے تو ماتم کیا تھا کہ ؎
میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہو گا
مسائلِ نظری میں الجھ گیا ہے خطیب
مگر یہ قصّہ پرانا ہے۔ علامہ کے زمانے میں ایسا ہوتا ہو گا۔ آج کل خطیب مسائل ہی سے بے نیاز ہے۔ فقط آواز کی گھن گرج باقی ہے!
کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ آواز کی آہستگی اور گفتار کی نرم روی برداشت کا پہلا سبق ہے؟ جو معاشرے ذہنی پختگی کو پہنچ گئے ہیں، ان میں چیخنے، دھاڑنے، للکارنے کی رِیت نہیں! ان کے جہازوں، ٹرینوں، بسوں، انتظار گاہوں، بازاروں میں شاید ہی کوئی اتنی بلند آواز سے بات کرتا ہو یا کسی کو بلاتا ہو کہ دوسرے حیران یا زِچ ہو کر اُسے دیکھنے لگ جائیں! نیپلز (ناپولی) میں مشرقی زبانوں کی بہت بڑی یونیورسٹی ہے۔ اطالیہ میں قیام کے دوران اس یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی کے سربراہ ڈاکٹر رحیم رضا سے دوستی ہوئی۔ کلکتہ سے تھے۔ تہران سے پی ایچ ڈی کی۔ وہیں اُس اطالوی خاتون سے اُن کی ملاقات ہوئی جو فارسی ادب پڑھنے ایران گئی تھی۔ اس سے رشتۂ ازدواج میں بندھے اور پھر روم میں آ کر گویا رومن ہو گئے۔ روم کی سیر کراتے ہوئے ایک خاص ریستوران میں لے گئے‘ جو سیاسی بحثوں کے لیے معروف تھا۔ کہنے لگے: الیکشن کے دنوں میں یہ ریستوران ہمہ وقت لوگوں سے چھلکتا ہے۔ خوب خوب بحثیں ہوتی ہیں مگر کوئی ایک مرد یا عورت بھی آواز بلند نہیں کرتی۔ بس مکھیوں کی بھنبھناہٹ سے زیادہ شور نہیں ہوتا! کالم نگار سوچ میں پڑ گیا کہ ہمارے ہاں سیاسی بحثیں بلند آواز تو کیا، جسمانی لڑائیوں سے بھی محروم نہیں۔ تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں۔ رشتہ داریاں منقطع ہو جاتی ہیں۔ جیسے جھگڑے سیاسی نہ ہوں‘ جائیداد کے ہوں!
عدم برداشت شک کا بچہ جنتی ہے۔ تنقید پر دشمنی کا شک ہونے لگتا ہے۔ خاص طور پر اربابِ حکومت تنقید پر اور تنقید کرنے والوں پر شک کرتے ہیں کہ یہ ہمارے مخالف ہیں، اور ہمارے اقتدار کے در پے ہیں۔ حالانکہ بہت سے تنقید کرنے والے دل سوزی کی بنا پر تنقید کرتے ہیں۔ انہیں اصلاح مطلوب ہوتی ہے۔ گویا؎
اُن کے غصّے میں ہے دل سوزی، ملامت میں ہے پیار
مہربانی کرتے ہیں نامہربانوں کی طرح
پنجاب بیوروکریسی میں حالیہ اکھاڑ پچھاڑ اس شک کی تازہ ترین مثال ہے۔ اس پر تنقید ہو رہی ہے اور اربابِ اختیار اس تنقید کو مخاصمت پر محمول کر رہے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں! کوشش یہ سمجھانے کی ہو رہی ہے کہ منتظمِ اعلیٰ لائق نہ ہو تو ماتحت، جیسے بھی ہوں، ایک حد سے زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہو سکتے! سرکاری اہلکار اُس سلائی مشین کی طرح ہیں جس کی کارکردگی کپڑے کاٹنے اور سینے والے کاریگر پر منحصر ہے! بیوروکریسی قوتِ نافذہ کا نام ہے۔ پالیسی بنانا اہلِ سیاست کا کام ہے، اس لیے کہ عوام انہیں پالیسیاں بنانے کے لیے ہی تو چُنتے ہیں۔ تبادلوں کی ایک لہر نہیں، طوفان بھی آ جائیں تو اصل سوال یہی رہے گا کہ بیوروکریسی کی رہنمائی کرنے والا، پالیسی دینے والا اور نگرانی کرنے والا کون ہے؟ اس میں کتنی صلاحیت ہے اور اس کی کیا قابلیت ہے؟
بیوروکریسی کی کارکردگی تبھی جانچی جا سکتی ہے، جب وہ سیاسی مداخلت سے مکمل مبرا ہو! حکومت کا جو عزمِ صمیم تھا کہ پنجاب میں بیوروکریسی کو، خاص طور پر پولیس کو، سیاسی مداخلت کی زنجیروں سے رہا کیا جائے گا، تاحال پورا نہیں ہوا! مجبوریاں بھی ہیں مگر ناصر کاظمی نے کہا تھا ؎
تیری مجبوریاں درست مگر
تو نے وعدہ کیا تھا، یاد تو کر
زنجیروں میں جکڑی ہوئی افسر شاہی سے کیا گلہ! اس کی مثال تو اُس شخص کی ہے جسے پانی میں پھینک دیا جائے اور پھر الزام لگے کہ دامن تر ہو گیا ہے! رات دن وعظ سنتے ہیں کہ ادارے اپنی اپنی حدود میں رہیں! بیوروکریسی بھی تو ایک ادارہ ہے۔ اس کی حدود میں مداخلت کرنے کا مطلب ہے کہ اسے کام نہ کرنے دیا جائے۔ اسے آزادی سے کام کرنے دیجیے۔ اس کے بعد مطلوبہ نتائج نہ دکھا سکے تو بے شک ٹانگ دیجیے مگر اُسے یہ کہنے کا موقع نہیں ملنا چاہئے کہ ؎
نا حق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
جو چاہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

Sunday, December 01, 2019

بیورو کریسی میں اکھاڑ پچھاڑ سے مسائل حل ہو جائیں گے؟



‎کیا بیورو کریسی کو اتھل پتھل کرنے سے مسائل حل ہو جائیں گے؟

‎…کیا گملوں کی ترتیب بدلنے سے پھولوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے؟ 

‎ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کے مناصب انگریز استعمار کی ضرورت تھے۔ بنیادی کام ان کا مالیہ اور محصولات اکٹھا کرنا تھا۔ پھر وقت کے ساتھ اور کام بھی سونپے جاتے رہے۔ ملکہ کی حکومت کا استحکام اصل مقصد تھا۔ انگریز نواز طبقات کو خوش رکھنا اور انگریز مخالف لوگوں کو ڈرا کر رکھنا فرائض میں شامل تھا۔ ڈپٹی کمشنر انگریزی حکومت کا ستون تھا۔ اسی ستون پر استعمار کھڑا تھا! 

‎جنرل پرویز مشرف نے ایک ہی انقلابی قدم اٹھایا۔ کمال کا قدم، مقامی حکومتوں کا قیام، عوام کے منتخب نمائندوں نے ضلعی حکومتیں سنبھال لیں۔ ڈپٹی کمشنر، ڈی سی او بن گیا۔ اقتدار کی باگ اب اس کے ہاتھ میں نہیں تھی۔ اپنے ضلع کی بات کروں تو تصدیق کر سکتا ہوں کہ ضلع ناظم کو ملنا، مطالبات منوانا، کوئی مشکل کام نہ تھا۔ ترقیاتی کام ہوئے اور خوب ہوئے۔ 

‎ڈپٹی کمشنر تو دور کی بات ہے، تحصیل دار اور پٹواری تک عام لوگوں کی دسترس سے دور ہیں۔ کمشنر سے لے کر…نائب تحصیل دار تک…سب بادشاہوں کی طرح عوام سے الگ تھلگ ہیں۔ یہ کیا ریلیف دیں گے۔ بقول شاعر ؎ 

‎تم ہمیں کیا نئی منزل کی بشارت دو گے 
‎تم تو رستہ نہیں دیتے ہمیں چلنے کے لیے 

‎ایک نہیں ہزار تبادلے کر لیں، کنوئیں سے سو ڈول نکالنے والا معاملہ ہوگا۔ صوبوں میں اور ضلعوں میں بیورو کریسی کیوں عوام کو مطمئن نہیں کر پا رہی، اس کی بنیادی وجوہ تین ہیں۔ 

‎اوّل: بیورو کریسی کے ان ارکان کی تعیناتیوں اور تبادلوں کے حوالے سے کوئی پالیسی سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔ کیریئر پلاننگ مفقود ہے۔ ایک افسر نے کتنا عرصہ فیلڈ میں رہنا ہے؟ کتنا عرصہ سیکرٹریٹ میں کام کرنا ہے؟ صوبوں میں کب تک رہنا ہے؟ وفاق میں لائے جانے کا کیا معیار ہے؟ کچھ بھی طے نہیں! سرحد پار بھارت میں، ہر افسر کو ایک معینہ مدت کے لیے صوبوں سے مرکز میں آنا ہوتا ہے، پھر یہ مدت پوری نہ کرنے کے بعد واپس جانا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ہاں ان افسروں کے کیریئر چارٹ بنائے جاتے ہیں؟ نہیں! کوئی اصول ہے نہ ضابطہ! کوئی وزیر یا وزیر اعلیٰ کسی بھی افسر کی تعیناتی یا تبادلہ کسی بھی وقت کرا سکتا ہے؟ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے افسر شاہی کے رکن کو اپنے علاقے سے نکلوا سکتا ہے اور اس کی جگہ اپنے کسی پسندیدہ افسر کو پوسٹ کرا سکتا ہے۔ کوئی برسوں سے فیلڈ میں ہے اور کوئی سالہا سال ہوئے لاہور یا اسلام آباد سے نکلنے کا نام نہیں لیتا۔ 

‎دوم: ڈپٹی کمشنر کس کے تحت فرائض سرانجام دیتا ہے؟ کمشنر کے! یا چیف سیکرٹری کے! انہیں ضلع کی بہبود سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ وہ تو مسائل سے واقف ہی نہیں۔ مسائل کا علم تو عوام کو ہے اور ڈپٹی کمشنر عوام کا نمائندہ ہی نہیں، وہ تو حکومت کا نمائندہ ہے۔ اس کی ترجیحات کیا ہیں؟ باس کو مطمئن رکھنا، اچھی رپورٹ لینا، اگلی تعیناتی کے لیے ابھی سے ’’کام‘‘ شروع کر دیا۔ ڈپٹی کمشنر کا رُخ عوام کی طرف نہیں، کمشنر اور صوبائی دارالحکومت کی طرف ہے، آپ کسی بحران کے دوران تجربہ کر کے دیکھ لیجیے، ضلع میں سیلاب آ گیا ہے، وبا پھوٹ پڑی ہے، فسادات ہو گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر بحران کے دوران، اگر ہمیشہ نہیں، تو اکثر و بیشتر، ضلع میں موجود ہی نہ ہو گا۔ میٹنگ لینے کمشنر کے حضور ہو گا یا لاہور حاضری دے رہا ہو گا۔ 

‎تیسری وجہ ڈپٹی کمشنر کا اُس ضلع سے کسی تعلق کا نہ ہونا۔ اُسے کوئی جذباتی دلچسپی ہے مقامی معاملات سے نہ تہہ در تہہ مسائل او رعوامل و محرکات کا پورا علم ہے۔ اس نے تو دو تین برس یہاں گزارنے کے بعد، کبھی اِدھر کا رُخ نہیں کرنا۔ یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے ضلعی بیورو کریسی ہمیشہ قلیل المیعاد رویہ رکھتی ہے۔ اس رویے کو عام زبان میں ڈنگ ٹپائو رویہ کہتے ہیں۔ یعنی ؎ 

‎بس ایک رات ٹھہرنا ہے! کیا گلہ کیجے 
‎مسافروں کو غنیمت ہے یہ سرائے بہت 

‎اگر تحریک انصاف کی حکومت کوئی انقلابی قدم اٹھانا چاہتی ہے تو ضلعی حکومتوں کو از سر نو زندہ کرے۔ منتخب نمائندے کو ضلعی حکومت کا اقتدار سونپے۔ ضلع میں جمہوریت ہو، مکمل جمہوریت۔ اپوزیشن ہو جو ضلعی حکومت کو نکیل ڈال کر رکھے۔ منتخب ضلع حاکم کو معلوم ہو کہ اس نے تین سال کے بعد ضلع کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ نہیں جانا، یہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ اس کی نسلوں کو بھی سیاست کرنا ہو گی۔ اسے معلوم ہے اُس نے غلطی کی یا جرم کیا تو ووٹر یاد رکھیں گے۔ اپوزیشن اس کے در پے ہو گی۔ وہ پھونک پھونک کر قدم رکھے گا۔ ترقیاتی کام زیادہ سے زیادہ کرائے گا کیوں کہ اس نے ووٹ دیتے وقت عوام سے وعدے کیے تھے۔ 

‎ہم بیک وقت دو کشتیوں میں سوار ہیں۔ بالائی سطح پر ہمارا کہنا یہ ہے کہ منتخب وزیر اعظم اور منتخب وزرائے اعلیٰ جمہوریت کے لیے لازم ہیں۔ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہے مگر جب مقامی حکومتوں کا سوال اٹھتا ہے تو ہم منافقت کا عَلم بلند کر لیتے ہیں۔ وہاں ہمیں ایک بابو نما سرکاری ملازم راس آتا ہے جو یس سر یس سر کہتا رہے اور عوام کو خاطر میں نہ لائے۔ پہلی کوشش تو یہ ہوتی ہے کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات ہی نہ کرائے جائیں۔ اگر عدالتوں کے اصرار پر یہ انتخابات کرانے بھی پڑیں تو اس کے نتیجے میں مقامی حکومتوں کے عملی قیام کو ہر ممکن حد تک ٹالا جائے اور فرض کریں مقامی حکومتیں بن بھی جائیں تو انہیں مالی آزادی قطعاًً نہ دی جائے۔ وہ ہر وقت کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ کے دست نگر رہیں! یوں وزیر اعلیٰ کی ’’اہمیت‘‘ میں فرق نہ پڑے اور پورا صوبہ مٹھی میں رہے۔ 

‎یہ کیا ہے؟ یہ وہ آمریت ہے جس پر جمہوریت کا رنگ چڑھا ہوا ہے۔ ذرا کھرچیں تو یہ رنگ اتر جاتا ہے اور نیچے سے شاہی نظام نظر آتا ہے۔ کان پک گئے ہیں ’’گراس رُوٹ لیول‘‘ کے الفاظ سُن سُن کر…مگر گراس روٹ لیول پر اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر براجمان ہیں اور وہ جو اقتدار کے اصل مالک ہیں وہ ان کے دفتروں کے چکر لگا لگا کر ہلکان ہو رہے ہیں۔ 

‎رہی پولیس کی کارکردگی تو بقول اقبال ؎ 

‎وہی دیرینہ بیماری، وہی نا محکمی دل کی 
‎علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی! 

‎پولیس کی کامیابی کے لیے ایک ہی شرط ہے۔ سیاسی مداخلت کا خاتمہ اور مکمل خاتمہ! مشہور واقعہ ہے۔ برطانوی وزیر اعظم(غالباً ایڈورڈ ہِیتھ) نے لندن ٹریفک پولیس کے سربراہ کو کہا کہ میں جب پارلیمنٹ(دارالعوام) سے اپنے دفتر (یا قیام گاہ) آتا ہوں تو اکثر اوقات ٹریفک کے اژدہام کی وجہ سے تاخیر سے پہنچتا ہوں جب کہ غیر ملکی معزز مہمان انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے جب میں پارلیمنٹ سے نکل کر جا رہا ہوں تو اتنی دیر کے لیے ٹریفک کو بطور خاص ’’قابو‘‘ میں رکھا جائے۔ ٹریفک پولیس کے سربراہ نے وزیر اعظم کو جواب دیا کہ حضور!یہ تو ممکن نہیں ہاں ایک تجویز پیش خدمت ہے اور وہ یہ کہ آپ ذرا جلدی نکل آیا کیجیے تا کہ وقت پر پہنچ سکیں۔ 

‎یہ ہے سیاسی عدم مداخلت کی ایک مثال! ہماری پولیس زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ سیاسی مداخلت کی زنجیریں، عوامی نمائندوں کو خوش رکھنے کی زنجیریں، پروٹوکول ڈیوٹی کی زنجیریں، تبادلوں کے خوف کی زنجیریں، سفارش کی زنجیریں! 

‎ارادہ ہمارا مکہ جانے کا ہے! رُخ ہمارا قطب شمالی کی طرف ہے!!
 

powered by worldwanders.com