Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Tuesday, June 18, 2019

خسارہ ہے اور مسلسل خسارہ


اُن دنوں جس اخبار سے وابستہ تھا۔ شفیق مرزا مرحوم وہاں ادارتی صفحے کے انچارج تھے۔ ایک دن ان کے کمرے میں گیا تو ایک صاحب بیٹھے تھے۔ میچنگ شلوار قمیض اور واسکٹ۔ زریں کُھسّہ زیبِ پا۔ خوش شکل تعارف ہوا تو کہنے لگے’’آپ نے اپنی والدہ کی وفات پر جو کالم لکھا تھا‘ رقّت طاری کرنے والا تھا‘‘ 

یہ رحمت علی رازی تھے۔ دوستی کا ایسا جپھا  ڈالا کہ پھر اپنے حصار سے نکلنے نہ دیا۔ زندہ دل۔ خوش گفتار - فون جب بھی کرتے۔ آغاز مزاح سے کرتے اور کمال سنجیدگی سے کرتے ! کتنی ہی بیٹھکیں ان کے گھر پر ہوئیں۔ دستر خوان وسیع تھا۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ لاہور جانا ہو‘ انہیں معلوم ہو جائے اور وہ دعوت برپا کیے بغیر ٹلیں۔ اسلام آباد آتے تو فون کھڑکاتے۔ جہاں قیام ہوتا‘ پہنچ جاتا۔ دوستوں کی محفل جمتی۔دارالحکومت میں ان کی اتنی مصروفیات ہوتیں کہ کھانے کے لئے بمشکل ہاتھ آتے۔ اسلام آباد کلب کا کھانا مرغوب تھا۔ خوش خوراک تھے۔ 

2000ء میں سٹاف کالج لاہور میں کورس کر رہا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب رحمت علی رازی کی آواز بیورو کریسی کے لئے صورِ اسرافیل سے کم نہ تھی۔ ہفتہ وار طویل کالم۔ نوکرشاہی کے بڑے بڑوں کے چھکے چھڑا دیتا۔ خاص طور پر‘ پولیس سروس کے امور و رموز پر انہیں دسترس کمال کی تھی۔ پُلسیوں کی رگ رگ سے واقف تھے۔ ایک شام مجھے ملنے سٹاف کالج میں آ گئے۔ بہت دیر بیٹھے رہے اب یہ یاد نہیں کھانا ہم نے سٹاف کالج کے مَیس ہی میں کھایا یا کہیں باہر‘ دوسرے دن پولیس سروس کے دو افسر جو اُسی بَیچ میں ہمراہ تھے۔ تشریف لائے اور حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے پوچھا۔
’’یار!یہ رازی صاحب تمہارے دوست ہیں؟ ’’
جواب اثبات میں پا کر انہوں نے اپنی اپنی فرمائشیں اور سفارشیں پیش کیں۔ 
’’فلاں کے بارے میں ازراہِ کرم ہاتھ ہولا رکھیں‘‘ 
’’مجھ سے تو ملوا دو‘‘
 ’’فلاں کے خلاف ضرور لکھیں‘‘ 
عرض کیا کہ رازی دوست تو ہیں مگر کسی کے کہنے پر زبردستی لکھتے ہیں نہ معاف کرتے ہیں۔ 

رازی صاحب نے اردو کالم نگاری کو کئی نئی اصطلاحات دیں۔ مثلاً میرمنشی! کم زلف۔ کچھ اور جو اس وقت ذہن میں نہیں آ رہیں۔ ایتوار کو ان کا کالم شائع ہوتا۔ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات دیر تک کام کرتے لکھ کر نوک پلک سنوارتے۔ پھر سنیچر کی صبح دیر تک سوتے۔ 

اس سارے عرصہ میں انہیں کسی سے کوئی التجا کرتے نہ دیکھا۔ محفل میں بات دھڑلّے سے کرتے اور کھڑک کر کرتے۔ سفارش کرتے تو جائز اور رکھ رکھائو کے ساتھ کرتے۔ جس اخبار کی بات‘ کالم کے آغاز میں کی‘ اسی میں ایک صاحب شعبہ مالیات میں تھے۔ مُغلوں کی نشانی!(بعد میں کراچی تعینات ہو گئے تھے) ان سے ملاقات ہمیشہ رازی صاحب کے ساتھ ہی ہوتی۔اُن دنوں میری تعیناتی جی ایچ کیو میں تھی۔ رازی صاحب نے حکم دیا کہ مغلوں کی اس نشانی کو ڈیفنس کلب لاہور کی ممبرشپ دلوانی ہے۔ ڈویژن کمانڈر میرے دوست تھے۔ ایک نیم سرکاری عریضہ ان کے نام لکھا اور عرضِ مدعا کیا۔ انہوں نے کرم فرمائی کی اور درخواست قبول کر لی۔ یہ اور بات کہ ممبر شپ لینے کے بعد‘ کسی موقع پر اُن صاحب سے آمنا سامنا ہوا تو پہچاننے سے تقریباً منکر ہی ہو گئے۔ رازی صاحب سے برسبیل تذکرہ ذکر کیا تو جو کچھ انہوں نے کہا‘ وہ انسان کی خود غرضانہ نفسیات پر بہترین مگر خوب ہنسانے والا تبصرہ تھا۔ 

ہفت روزہ عزم اور روزنامہ جرأت شروع کیا تو خوش خبری دی! اصرار تھا کہ لاہور آئوں تو ان کے دفتر حاضری دوں!جیل روڈ کے ایک پلازہ میں یہ دفتر تھا۔ حاضر ہوا تو سارا سیٹ اپ دکھایا۔ ملاقاتی کو دیکھتے تو سب سے پہلے‘ گھر میں ہوں یا دفتر‘ اس کے کھانے کا حکم دیتے۔ اس شام بھی کام و دہن کی تواضع کی اور اپنی فیاضی اور مہمان نوازی کی روایت برقرار رکھی۔ میری بڑی بیٹی کا ولیمہ لاہور میں ہوا۔ بھر پور شرکت کی۔ اُن دنوں چھوٹے بیٹے معاذ نے ذرا فیشنی قسم کی الٹرا جدید داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ دیکھ کر کہنے لگے’’اظہار الحق کے بیٹے کو یہ سٹائل نہیں جچتا‘‘ 

جب بیرون ملک جانا اور ٹھہرنا شروع ہوا تو بدقسمتی سے ملاقاتوں میں کمی آ گئی تاہم ان کا ہفت روزہ (عزم) باقاعدگی سے موصول ہوتا رہا۔ فون پربھی رابطہ رہتا دو دن پہلے سوشل میڈیا پر اُڑتی سی خبر دیکھی۔ یقین بالکل نہ آیا اس لئے کہ چند ہفتے پہلے کراچی کے ایک دوست کے بارے میں ایسی ہی خبر سوشل میڈیا پر چلی اور بعد میں غلط ثابت ہوئی۔ دل کو یقین دلایا کہ یہ محض افواہ ہے۔ پھر سوشل میڈیا پر تواتر کے ساتھ خبر آنے لگی۔ رازی صاحب کے موبائل نمبر پر فون کیا۔ دھڑکتا ہوا دل آرزو کر رہا تھا کہ ان کی اپنی آواز آئے۔ مگر یہ ان کے برادر نسبتی خضر حیات صاحب تھے۔ پوچھا‘ خبر درست ہے؟ کہنے لگے ہاں! انا للہ و انا الیہ راجعون! 

رحمت علی رازی نے شہرت اورعزت ایک طویل جدوجہد کے بعد‘ خالص محنت اور پروردگار کے کرم سے حاصل کی! گائوں سے نکلے تو زمانے کی گردش نے بہت کچھ دکھایا اور بہت کچھ سکھایا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑ رہا ہے کسی پولٹری فارم پر بھی کام کرتے رہے۔ فخر اور تحدیثِ نعمت کے طور پر بتاتے کہ کئی راتیں ناصر باغ میں کاٹیں۔ محنت دیانت اور اپنے کام میں لگن نے انہیں بلند مقام پر پہنچایا۔ ایوارڈ اور انعامات لئے۔ صحافت سے متعلق ملک گیر تنظیموں اور باڈیز میں بھر پور کردار ادا کیا۔ طویل عرصہ ملازمت کے بعد آخر میں اپنا ادارہ قائم کیا اور کامیابی سے چلا کر دکھایا۔ 

کب سوچا تھا کہ ہزاروں میل دور بیٹھ کر اُن کا نوحہ لکھنا پڑے گا۔ کہتے ہیں اور سچ کہتے ہیں کہ آنے کی باری ہے مگر جانے کی نہیں!رحمت علی رازی پرکون سا ضُعفِ پیری طاری ہوا تھا۔ ابھی تو انہیں ادھیڑ عمر کہنے کو بھی دل نہیں کرتا تھا۔ مگر زندگی کے راستے کا یہی وہ موڑ ہے جہاں انسان کی بے بسی کا بورڈ لگا ہے۔ ہر رات سوتے ہیں۔ ہر رات روح قبض ہوتی ہے۔ پھر صبح‘ لوٹائی جاتی ہے مگر کوئی گارنٹی نہیں کہ ضرور لوٹائی جائے۔ صائب نے عجیب دردناک پیرائے میں اس بے یقینی کا ذکر کیا ہے۔ 

ہر شب کواکب کم کنند از روزیٔ ماپارہ ای 
ہر روز گردد تنگ تر سوراخِ این عزبال ہا 

ستارے ہر رات ہماری روزی سے ایک ٹکڑا کم کر دیتے ہیں۔ ان چھلنیوں کے سوراخ دن بدن زیادہ تنگ ہوتے جا رہے ہیں۔ 

رات دن کی چکّی چل رہی ہے۔ ہم گندم کے وہ دانے ہیں جو پِس رہے ہیں۔ کیا پتہ دانوں کی کس مُٹھی میں ہماری باری آ جائے ؎ 

پیستی جاتی ہے اک اک کو ظہورؔ
 آسیائے  گردشِ لیل و نہار

 مجید امجد نے کہا تھا‘’’ایک دھبّہ سا پڑا۔ دانت گرا‘‘ ایک دوست اورکم ہو گیا۔ خسارہ ہے اور مسلسل خسارہ! بیلنس شیٹ میں اثاثے کم ہو رہے ہیں۔ مسؤلیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مردم گزیدگی سے سب ڈرتے ہیں۔ مست اتنے کہ وقت گزیدگی کو بُھولے ہوئے ہیں۔ دھیان سے چلنا چاہیے اگلے موڑ پر کچھ بھی ہو سکتا ہے! نقارے پر جب بھی چوٹ پڑتی ہے‘ کوئی نہ کوئی اُٹھ کر چل پڑتا ہے۔ کوئی پہلے کوئی بعد میں۔ انتظار گاہ بہر طور خالی ہونی ہے۔

Sunday, June 16, 2019

وقت آ گیا ہے کہ ہم بھی آسمان کی طرف دیکھیں


مرض تھا اور ایسا کہ ناقابل بیان!


طبیب سر جوڑ کر بیٹھے مگر تشخیص نہ کر پائے۔ کئی دن کے بعد ایک طبیب نے کہ ممتاز تھا، کہا بادشاہ کو فلاں بیماری ہے اور علاج اس کا ایک ہی ہے۔ نوجوان شخص کا پِتّہ! اور وہ نوجوان شخص بھی فلاں فلاں خاصیتوں کا حامل ہو! سرکاری گماشتے سلطنت میں پھیل گئے۔ 


بالآخر ایک دہقان زادہ ملا جس میں مطلوبہ خاصیتیں موجود تھیں۔ اس کے ماں باپ کو سمجھایا گیا کہ رعایا میں سے ایک نوجوان کی قربانی سربراہ ملک کی سلامتی کے لئے کیا معنی رکھتی ہے۔ ساتھ ہی زر وسیم بہت سا پیش کیا گیا۔ ماں باپ راضی ہو گئے۔ عدالت میں قاضی نے فتویٰ دے دیا کہ یہ قربانی جائز ہے۔ جلاد جب نوجوان کی گردن تن سے جدا کرنے کے لئے تلوار اٹھانے لگا تو نوجوان نے فلک کی طرف دیکھا اور ہنسا! بادشاہ نے پوچھا یہ ہنسنے کا کون سا موقع ہے نوجوان نے جواب دیااولاد کے ناز ماں باپ اٹھاتے ہیں، میرے ماں باپ نے خود میرا سودا کر دیا۔ انصاف کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے۔ یہاں میرے قتل کا جواز خود عدالت نے تراشا ہے۔ آخری امید حکمران ہوتا ہے۔ اسے اپنی جان بچانے کے لئے میرا خون درکار ہے۔ اب سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جو مجھے بچائے۔ اس لئے آسمان کی طرف دیکھا کہ وہی آخری امید ہے ؎ 


فلک کو بار بار اہل زمیں یوں دیکھتے ہیں 

کہ جیسے غیب سے کوئی سوار آنے لگا ہے 


اس سے آگے کیا ہوا؟ اس کا موضوع سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر بھی سن لیجیے کہ تجسس بے چین نہ رکھے۔ یہ درد بھرا بیان سن کر بادشاہ نے قتل روک دیا اور کہا کہ یہ بے گناہ کا خون بہانے سے بہتر ہے میں خود ہی جان دے دوں۔ سعدی بتاتے ہیں کہ اسی ہفتے حکمران شفایاب ہو گیا۔ 


وقت آ گیا ہے کہ ہم بھی آسمان کی طرف دیکھیں کہ زمین پر جن سے امیدیں تھیں وہ زخم سہلانے کے بجائے زخم کھرچ رہے ہیں


اس نام نہاد جمہوری مملکت میں تکیہ میڈیا پر تھا مگر افسوس ! بڑے بڑے جغادری کالم نگاراینکر پرسنصحافیمدیرکرپشن کے عفریت سے یوں بے نیاز ہیں جیسے یہ عفریت نہ ہوگوشت پوست کا عام انسان ہوجسے زندہ رہنے کا پورا حق حاصل ہے۔ نواز شریف پر پانامہ کے مقدمے چلے تو ملک کے مستقبل سے بے نیاز ان دانش وروں کو شریف فیملی کے مستقبل کی فکر پڑ گئی۔ جتنے تجزیے تھے اور تبصرے اور کالم سب میں یہی اندازے تھے کہ مریم نواز کا مستقبل کیا ہے؟ حمزہ شہباز کو پنجاب کی راجدھانی کیسے ملے؟ نواز شریف دوبارہ کب برسر اقتدار آئیں گے اور کیسے؟ کچھ اصحاب جنوں نے تو یہ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ پنجابشہباز شریف ہے اور شہباز شریف پنجاب! ایک معزز دوست نے یہ تک دعویٰ کیا کہ پنجاب میں جس طرف سے داخل ہوںترقی ہی ترقی نظر آتی ہے! جغرافیے کی ستم ظریفی یہ ہوئی کہ سارے پنجاب سے پیسہ نچوڑ نچوڑ کر شہباز شریف نے جس شہر پر لگایا اس میں داخل ہونے کے لئے پنجاب کے باہر سے نہیں پنجاب کے اندر سے آنا پڑتا ہے۔ پنجاب میں داخل ہونے کے لئے ایبٹ آباد سے آنا پڑتا ہے یا خیر آباد سےیا خوشحال گڑھ سےیا جنوبی پنجاب سےیا آزاد کشمیر سے اور یہ سب وہ علاقے ہیں جو خادم اعلیٰ کو دکھائی ہی نہیں دیتے تھے! اب زرداری صاحب گرفتار ہوئے ہیں تو ان اصحاب جنوں کو ان کی کرپشن نہیں نظر آ رہی! ان کے معلوم اثاثےجو کئی صفحات بھر دیتے ہیں دکھائی نہیں دیتے۔ تجزیے ہو رہے ہیں کہ وہ مفاہمت کے ماہر ہیںپھر کیوں گرفتار ہو گئے؟ انہیں باہر لانے کے لئے کیا کچھ کرنا پڑے گا؟ کیا تحریک چلے گی؟ حکومت گرے گی یا نہیں؟ مریم نواز اور بلاول زرداری کے درمیان پیدا ہونے والی ہم آہنگی کچھ کر دکھائے گی یا نہیں؟ پیپلز پارٹی کی چلائی جانے والی تحریک سے حکومت کا تخت لرزنے لگے گا یا نہیں؟ سرکاری خرچ پر عمرہ کرنے والی ایک خاتون دور کی کوڑی لائی ہیں کہ اپوزیشن اتحاد کا مظاہرہ کرے اور اسمبلیوں سے استعفے دے دے تاکہ نئے انتخابات کا ڈول ڈالا جا سکے۔ 


میڈیا کے ان بزرجمہروں کو اس سے قطعاً کوئی سروکار نہیں کہ زرداری اور شریف خاندانوں کے پاس کھربوں کی دولتجائیدادیںکارخانے۔ زرعی زمینیں۔ کہاں سے آئیں؟ دبئی سے لے کر لندن تک فرانس سے لے کر نیو یارک تک محلات اور اپارٹمنٹس کس دولت سے خریدے گئے۔ یہ دولت ملک سے باہر کیسے گئی؟ ان اصحاب جنوں کو صرف ’’جمہوریت‘‘ سے غرض ہے۔ ایسی’’جمہوریت‘‘ جو ان دو تین خاندانوں کے گرد طواف کرتی رہے۔ یہ دو تین خاندان جن کے بچے ابھی سے بادشاہوں جیسا پروٹوکول لے رہے ہیں ۔کبھی خبر آتی ہے کہ مریم نواز کے چیف سکیورٹی افسر کی گاڑی موٹر وے ٹول پلازے پر روکی گئی اور کبھی بتایا جاتا ہے کہ اس کے سکیورٹی سکواڈ کی گاڑی ریل گاڑی کے راستے پر کھڑی کر دی گئی۔ سیاسی حرکیات کا تمام ادراک ان خاندانوں کے لئے مخصوص ہے۔ 


میڈیا کے بعد دوسرا سہارا جمہوری ملکوں میں پارلیمنٹ ہوتی ہے۔ مگر جس پارلیمنٹ میں پشتینی گدیاں یوں محفوظ ہوں جیسے بتیس دانتوں میں زبانوہ پارلیمنٹ جمہوریت کی حفاظت کیا کرے گی! مفتی محمود صاحب کی تیسری نسلاس پارلیمنٹ میں ایک اور زیرک اور ذہین مولانا کی صورت میں جلوہ گر ہو رہی ہے کل جو تصویر دیکھیاس سے ملک کا مستقبل یوں صاف نظر آنے لگا جیسے سامنے فلم چل رہی ہو۔ مونس الٰہیبلاول بھٹو کو گلے مل رہے ہیں۔ گلے ملنا کوئی جرم نہیں مگر کھلتے ہوئے چہرے اور والہانہ پن بتاتا ہے کہ مفادات مشترک ہیں۔ لڑائی جھگڑا سب بچوں کے جھگڑوں کی مثال ہے۔ ابھی جھگڑےابھی دوبارہ اکٹھے کھیل رہے ہیں۔ 


کبھی کبھی یوں لگتا ہے عمران خاننادانستہمراعات یافتہ سیاسی طبقات کے لئے سیڑھی کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ جیسے اس پکڑ دھکڑ سے کچھ بھی نہ برآمد ہو گا اور جیل سے سیدھا مسند وزارت پر پہنچنے کی روایات مستقبل میں 

بھی جاری رہیں گی۔جیسے گجرات۔ صرف اپنی نہیںلاڑکانہ اور رائے ونڈ کی بھی نمائندگی کر رہا ہو! اور کہہ رہا ہو کہ ؎ 


تو وہاںزیر افقچند گھڑی سستا لے 

میں ذرا دِن سے نمٹ کرشبِ تار! آتا ہوں 


میڈیا بھی ان طبقات کا زر خرید۔ پارلیمنٹ بھی ان کی جاگیروں کا ایک بے بضاعتنمائشی ٹکڑا! دور دور تک سحر کے آثار نہیں


کیا بخت پایا ہے پاکستان جیسے ملکوں نے۔ صوبے دیکھیے تو قبائلی سرداروں کی ازلی ابدی حکمرانی !! وہی مخدوم! وہی قریشی ،وہی گیلانیوہی کھوسے وہی لغاریوہی باچا خان کا خاندان! سیدہ عابدہ حسین کی نئی نسل سیاسی گدی سنبھال چکی! صدر ایوب خان ایک اور شکل میں اب بھی حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیںاوجڑی کیمپ کی بھٹی میں تپ کر کندن بننے والے خاندان پیش منظر پر چھائے ہوئے ہیں! وفاقبازو وا کیے شریفوں اور زرداریوں کا منتظر ہے


کہیں ایسا تو نہیں کہ عمران خان جذبے کی صداقت کے باوجود حالات کے چنگل میں جکڑےبے بس ہیں! کیا بے بسی ہے کہ اُنہی علی جہانگیر صدیقی کو جو گزشتہ حکومت کی آنکھ کا تارا تھےموجودہ وزیر اعظم کا سفیر عمومی مقرر کیا جا رہا ہے ۔ ع 


خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا 








Saturday, June 15, 2019

جناب مفتی منیب الرحمن کے مکتوب گرامی کا جواب


‎محترم مفتی منیب الرحمن صاحب! سلام مسنون! معذرت خواہ ہوں کہ جو مکتوب آپ نے ای میل کے ذریعے ارسال فرمایا‘ میں نے اسے کالم میں شائع کیا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ آپ کا موقف‘ بلا کم و کاست‘ قارئین تک پہنچ جائے۔ 

‎آپ کی شفقت ہے کہ اس بے سواد وکم مایہ کو صاحبِ علم کہا۔ میں فقط طالب علم ہوں! اور آپ جیسے فضلا سے استفادہ کرنے کا متمنی!یہ جو آپ نے فرمایا کہ میری شخصیت کا تضاد ہے کہ اپنا دینی و علمی پس منظر بھی بتاتا ہوں اور لبرل ازم بھی میرے مزاج کا حصہ ہے‘ تو اس سے محظوظ ہوا ہوں۔ لبرل کا لفظ بھی کچھ دوسرے الفاظ کی طرح ایک
CLiche
‎سے زیاد کچھ نہیں! ایک پیش پا افتادہ‘ فرسودہ طعنہ!! بالکل اسی طرح جیسے کسی توحید پرست کو بلا سوچے سمجھے وہابی یا کسی عاشقِ رسولؐ کو بدعتی کہہ دیا جائے!! اسلام نے جب لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے منع کیا‘ خواتین کو ان کے حقوق دیے اور آبائو اجداد کی گھسی پٹی راہ پر چلنے کی حوصلہ شکنی کی تو جواب میں لوگوں نے جو طعنے دیے۔ آج کی زبان میں انہیں لبرل ازم کا طعنہ ہی کہا جائے گا۔ خیر‘ یہ ایک اور بحث ہے جس کا یہ موقع نہیں! 

‎تاہم آپ نے یہ جو میٹھا طعنہ دیا ہے کہ’’ علما سے بھی آپ اکثر ناراض رہتے ہیں‘‘ تو شکیب جلالی یاد آ گئے ع 

‎پھینکا ہے اس نے سنگ گلوں میں لپیٹ کے 

‎یہ الزام مبنی برحقیقت نہیں۔ بقول عدمؔ ؎ 

‎لوگ کہتے ہیں عدمؔ نے بادہ خواری چھوڑ دی
‎ افترا ہے جھوٹ ہے بہتان ہے الزام ہے 

‎میں تو علماء حق کی خاک پا بھی نہیں! ہاں وہ علماء جو دین کو سیڑییھی کے طور پر استعمال کر کے سیاسی رہنما بنتے ہیں اور اپنے میمنہ اور میسرہ پر کرپٹ سیاست دانوں کو تعینات کرتے ہیں‘ یا دین کو اپنی مالی آسودگی اور سیلف پروجیکشن کے لئے پی آر کے ٹول کے طور پر برتتے ہیں ان کی ہمیشہ مخالفت کی اور کرتا رہوں گا۔ اگر اس بے بضاعت کی تحریریں آپ کی نظر سے گزرتی رہی ہیں تو یاد ہو گا کہ سب سے پہلے اسی حقیر نے مدارس کے اساتذہ کے (جو مدارس کی جان ہیں) حقوق کی طرف توجہ دلائی اور کئی 
forums
‎پر کہا ہے کہ مالکان مدارس انہیں رہائش ‘ علاج اور جی پی فنڈ یا کنٹری بیوٹری فنڈ کی سہولیات اسی طرح دیں جیسے نجی شعبے میں دی جاتی ہیں۔ 

‎اصل مسئلے سے آپ صرف نظر کر گئے اور صرف یہ کہہ کر
’’ISNA
‎نے جو کیلنڈر ترتیب دیا ہے اس کا امکانِ رویت سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔‘‘ معشوقانہ تغافل یاد دلا دیا۔ گویا بقول استاد ذوقؔ ؎ 

‎یاں لب پہ لاکھ لاکھ سخن اضطراب میں 
‎واں ایک خامشی تری‘ سب کے جواب میں 

‎حضرت ! کیلنڈر 
ISNA
‎نہیں بلکہ اس کے تحت جو ٹیکنیکل ادارہ ہے فقہ کونسل آف نارتھ امریکہ‘ اس نے بنایا ہے اور یورپی کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ (المجلس الاوروبی للافتا ء والبحوث) اس کی پشت پر ہے۔ علامہ یوسف قرضاوی جو کسی تعارف کے محتاج نہیں اسی سے وابستہ رہے ہیں۔ فقہ کونسل میں ڈاکٹر مزمل صدیقی‘ ڈاکٹر زینب اور ڈاکٹر ذوالفقار علی شاہ جیسے علماء کے علاوہ بہت سے ملکوں کے ائمہ اور اصحابِ علم شامل ہیں۔ اس کیلنڈر کی ترتیب و تشکیل میں بیس برس کی محنت شاقہ شامل ہے۔ ترکی‘ ابوظہبی‘ دبئی‘ یورپ اور امریکہ میں درجنوں کانفرنسیں اس موضوع پر ہوئیں۔ فقہ کونسل کی طرف سے ڈاکٹر ذوالفقار علی شاہ ان تمام کانفرنسوں میں شریک رہے۔ فقہ کونسل کی ویب سائٹ 
(fiqhcouncil.org) 
‎پر اس موضوع سے متعلق تفصیلی مضامین موجود ہیں۔ بنیادی فارمولے کا ذکر میرے کالم میں بھی موجود تھا۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کیلنڈر کے پیرو کار‘ ہر سال زیادہ ہو رہے ہیں۔ آخر پاکستان سے باہر بھی تو مسلمان اور اہل علم و فضل موجود ہیں!!

‎ اپنے کالموں میں یہ کہہ کر کہ ملائشیا اور ترکی وغیرہ‘‘ میں کیلنڈر کے مطابق رمضان کا آغاز ہوتا ہے‘ آپ نے اس موقف کی تصدیق فرما دی کہ کیلنڈر عالم اسلام میں مقبول ہو رہا ہے ساتھ ہی یہ کہہ کر یہ کیلنڈر’’ہمارے ممالک‘‘ میں یہ قابل عمل نہیں‘ آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ مسئلہ ’’ہمارے ممالک‘‘ کا ہے ‘ عالم اسلام کا نہیں! رہا آپ کا یہ دعویٰ کہ ملائشیا اور ترکی وغیرہ کا کیلنڈر امکان رویت پر مبنی نہیں‘ تو اس الزام کا کیا ثبوت ہے ؟ کیا ان ملکوں میں علما نہیں؟ کیا ان ملکوں میں مسلمان نہیں بستے؟ ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ ان کے کیلنڈر پر یک طرفہ رائے دیں اور یہ نہ دیکھیں کہ ان ملکوں کے علماء اور ماہرین کا اپنا موقف کیا ہے؟

‎ آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ’’جنوبی ایشیا کے مسلمان خواہ اپنے وطن میں رہتے ہوں یا کہیں اور منتقل ہو گئے ہوں وہ رویت بصری کو مدار بناتے ہیں‘‘ تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کا الگ موقف ہے اور باقی عالم اسلام کا الگ؟ اسلام‘ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں اورجنوبی ایشیا کے علماء کی جاگیر تو نہیں! عالم اسلام کے مسئلے کو آپ جنوبی ایشیا کی عینک سے کیوں دیکھتے ہیں؟ 

‎مفتی پوپلزئی صاحب سے اپنے اختلاف کا ذکر شدومد سے کر کے آپ ہمارے اس موقف کی پر زور تائید فرما رہے ہیں کہ کیلنڈر کو رد کر کے اگر صرف علماء پر انحصار کیا جائے تب بھی ایک عید نہیں ہو سکتی۔ آپ کا استدلال سارا یہ ہے کہ رویت ہلال کمیٹی سرکاری ہے اس کی پشت پر ریاست ہے جب کہ پوپلزئی صاحب کو ریاست نے مقرر نہیں کیا۔ مسئلہ تو رویت ہلال کا ہے۔ کیا احادیث میں یہ فرمایا گیا ہے کہ رویت صرف سرکاری کمیٹی کی قبول ہو گی؟ آقائے نامدارؐ مدینہ کی ریاست کے حکمران تھے کیا انہوں نے کوئی کمیٹی ریاستی سطح پر تشکیل فرمائی تھی؟ سوال یہ ہے کہ دو بڑے علماء میں (یا کمیٹی کے علماء اور ایک معروف عالم میں) اختلاف حقیقت نہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ یہ مذہب کا معاملہ ہے تو سرکار کیوں مداخلت کر رہی ہے؟ 

‎ہم پوپلزئی صاحب کی مخالفت یا تائید نہیں کر رہے‘ ہم تو صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ علماء خود متفق نہیں! رہا پوپلزئی صاحب کے ضمن میں ملا فضل اللہ وغیرہ کی مثال دینا۔ یا انہیں ’’مذہبی دہشت‘‘ سے تعبیر کرنا تو یہ مناسب نہیں! اگر آپ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ’’ادارے‘‘ پوپلزئی صاحب کو ’’کنٹرول‘‘ کر بھی لیں تو یہ حقیقت تو پھر بھی باقی رہے گی کہ عید کے چاند کی رویت پر علماء میں خود اختلاف ہے پوپلزئی صاحب کے خلاف ایکشن کی تجویز آپ اسی لئے تو دے رہے ہیں کہ وہ اختلاف کر رہے ہیں ۔یہی تو ہم کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ ماہرین فلکیات کا ہے۔ جو لوگ یہ بتاتے ہیں کہ غروب اور طلوع آفتاب کتنے بجے ہو گا۔ ہوا کی رفتار کل کیا ہو گی۔ بادل کتنے فیصد ہوں گے۔ ٹمریچر کتنا ہو گا‘ بارش کس وقت ہو گی‘ برف باری کتنی ہو گی‘ ہوا میں نمی کتنے فیصد ہو گی 
Dew Point

‎کیا ہو گا۔
Precipitation
‎کتنے فیصد ہو گا۔ ہوا کا دبائو کتنا ہو گا۔ وہی رویت یا امکانِ رویت کا بھی فیصلہ کریں گے۔ 

‎آپ ہمارے مذہبی رہنما ہیں۔ آپ سے لوگ پیار اور محبت کی توقع کرتے ہیں التماس دست بستہ یہ ہے کہ ایک ایک کالم میں کئی بار لبرل کا طعنہ دینا مناسب نہیں۔ بقول نظیری نیشا پوری ؎

‎ درسِ ادیب گر بود زمزمۂ محبتی
‎ جمعہ بہ مکتب آورد طفل گریز پائی را
 
‎ آپ کا یہ طنز بھی نامناسب ہے کہ ’’رویت ہلال کے نظام پر بات کرنے والے لبرلز اسی نظریے کے حامی ہیں۔ انہیں روزہ اور عبادات سے چنداں غرض نہیں ہوتی‘‘۔معاف فرمائیے گا۔ اس سے استکبار جھلک رہا ہے۔ دلوں کے بھید پروردگار جانتا ہے۔ سب کو ایک لاٹھی سے نہیں ہانکنا چاہیے۔ جو آپ کو لبرلز لگتے ہیں ان میں خدا سے ڈرنے والے‘ عبادت کرنے والے اور معاملات میں حد درجے احتیاط کرنے والے بھی ہیں اور بے شمار ہیں ؎ 

‎ہرگوشہ گمان مبرکہ خالی ست 
‎شاید کہ پلنگ خفتہ باشد!! 

‎یہ لبرلز یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ سحری ختم کرنے کے لئے باہر نکل کر سفید اور سیاہ دھاگے کا امتیاز کیوں نہیں دیکھا جاتا؟ زوال‘ ظہر اور عصر کے اوقات جاننے کے لئے زمین میں سلاخ کیوں نہیں گاڑی جاتی؟ گھڑی پر اعتماد کیوں کیا جاتا ہے؟ 

‎حضرت ! بہت ادب کے ساتھ! اس معاملے کو وقت پر چھوڑ دیجیے۔ چھاپہ خانے‘ تصویر‘ لائوڈ سپیکر فلم اور ٹیلی ویژن کی طرح کیلنڈر بھی ہمارے علماء ایک نہ ایک قبول فرمالیں گے مگر بعداز خرابیٔ بسیار! ؎

‎ تفاوت است میانِ شنیدنِ من وتو 
‎توبستن در و من فتحِ باب می شنوم

‎ کوئی گستاخی ہو گئی ہو تو دامنِ عاطفت وسیع کر کے درگزر فرما دیجیے ؎ 

‎مرا بہ سادہ دلی ہائی من تو ان بخشید
‎ خطا نمودہ ام و چشمِ آفرین دارم! 
‎اس ننگِ اسلاف کا تعلق جس خانوادے سے ہے‘ اس کی تلقین یہ ہے کہ علماء کا احترام واجب ہے! آپ کی دعائوں کا طالب ہوں اور رہنمائی کا محتاج ! اسلام آباد تشریف آوری ہو توغریب خانے پر قدم رنجہ فرمائیے۔ انشاء اللہ فتح جنگ اور پنڈی گھیب کے تحفۂ خاص مکھڈی حلوے سے تواضع ہو گی! یہ شعر آپ جیسے اساتذہ ہی سے پڑھا ہے کہ 

‎یا ضیفنا لو زرتنا لوجد تنا 
‎نحن الضیوف وانت رب المنزلٖ

Thursday, June 13, 2019

جناب مفتی منیب الرحمان کا مکتوب


‎محترم جناب اظہار الحق صاحب السلام علیکم و رحمتہ و برکاتہ! دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ صحت و سلامتی کے ساتھ اپنے حفظ و امان اور عافیت میں رکھے۔ 

‎میں آپ کا کالم باقاعدگی سے پڑھتا ہوں‘ آپ صاحبِ علم ہیں‘ آپ کی شخصیت کا تضاد یہ کہ آپ اپنا دینی و علمی پس منظر بھی بتاتے ہیں اور لبرل ازم بھی آپ کے مزاج کا حصہ ہے‘ علماء سے بھی آپ اکثر ناراض رہتے ہیں۔ رویتِ ہلال کے حوالے سے آپ کا موقف میں پڑھتا رہا ہوں‘ آپ نے اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ
(ISNA) 
کے سائنسی کیلنڈر کا بھی حوالہ دیا ہے‘ یہ کم علم فقیر امریکہ جاتا رہتا ہے اور اس کیلنڈر کا بخوبی علم ہے۔ISNAنے جو کیلنڈر ترتیب دیا ہے‘ اس کا امکانِ رویت سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کی وجہ سے ISNAتقسیم ہوئی اور اس کے بطن سے اسلامک کونسل آف نارتھ ISNA وجود میں آئی، اس کیلنڈر نے مسلمانوں کو مزید تقسیم کر دیا۔ اس سال بھی امریکہ میں تین عیدیں ہوئیں ایک منگل‘ ایک بدھ اور ایک جمعرات کو۔ ISNAوہی تنظیم ہے جس نے امریکی حکومت کو خوش کرنے کے لئے LGBTیعنی Lesbian,Gay,Bisexual, Transgender بل کی حمایت کی تھی۔ میں اس پر ماضی میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔ ہم آپ کے مقابلے میں کم علم سہی‘ لیکن ایک طالب علم کی حیثیت سے معاصر دنیا کی بہت سی چیزوں کا ہم بھی مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ آپ نے گزشتہ کالم میں بھی چند باتیں کی تھیں۔ سلیم صافی صاحب کے تین کالموں کے جواب میں ،میں نے تین کالم لکھے ہیں‘ آخری ابھی چھپا نہیں ہے‘ وہ تینوں کالم آپ کو بھیج رہا ہوں۔ اگر آپ کم علموں کا موقف پڑھنے اور سمجھنے کے روادار ہوں ‘ تو ان کا مطالعہ فرما لیجیے‘ آپ کو بھیج رہا ہوں۔ نیز مسئلہ رویتِ ہلال پر میرے فتاویٰ پر مشتمل ایک مستقل رسالہ بھی موجود ہے۔ جس میں اس پر اٹھنے والے تمام سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں۔ 

‎رہا آپ کا یہ سوال کہ مفتی منیب الرحمن اور مفتی پوپلزئی میں سے کس کی بات مانی جائے تو نہایت ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ اسلامی شریعت اور جدید مُتمدن دنیا میں بھی قضا ریاست تفویض کرتی ہے اور یہ ریاست کا دائرہ اختیار ہے‘ کوئی بھی شخص از خود جج یا قاضی نہیں بن سکتا۔ رویتِ ہلال کمیٹی کا منصب بھی رویت کی قضا ہے اور سلطنت عثمانیہ کے ضوابط قوانین پر مشتمل’’المجلۃ الاحکام العدلیہ‘‘ میں لکھا:’’عمومی قضا کے علاوہ کسی خاص شعبے کے لئے بھی الگ سے قاضی مقرر کیا جا سکتا ہے‘‘افتاء اور قضاء میں فرق ہے‘ افتاء کسی پیش آمدہ مسئلے پر فقہی رائے یعنیJuristic Opinionکا نام ہے اور اس کی تنفیذ کے لئے اس کی پشت پر ریاستی اتھارٹی نہیں ہوتی‘ جبکہ قضا فیصلہ کرنے کا نام ہے اور اس کے پیچھے ریاستی اتھارٹی ہوتی ہے۔ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کسی کو پسند ہو یا ناپسند‘ ریاست کی مقررہ ہے جبکہ عالی جناب مفتی پوپلزئی صاحب کو ریاست نے مقرر نہیں کیا‘ وہ خود ساختہ ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کے باپ دادا کی میراث ہے اور وہ اس سے دست بردار نہیں ہوں گے۔ رویت کے مسئلے میں مرکز یا وفاق سے ان کا اعتزال و انحراف قیامِ پاکستان سے چلا آ رہاہے‘ ثبوت کے طور پر 1958ء کے ایک قومی اخبار کی متعلقہ خبر کا عکس آپ کو بھیج رہا ہوں۔ 

‎آپ ہماری بیورو کریسی میں اعلیٰ ترین منصب پر فائز رہے ہیں‘ سو آپ کی طرف سے یہ سوال اٹھانے پر مجھے حیرت ہوئی اور قدرے افسوس بھی‘ بہرحال آپ مالک و مختار ہیں‘ ہم عاجز بندے ہیں۔ ایسا سوال اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص ریاست کے مقابل کھڑا ہو سکتا ہے اور اپنے احکام جاری کرسکتا ہے۔ ملا فضل اللہ اور صوفی محمد نے یہی کام تو کیا تھا‘ پھر ان کے خلاف ایکشن کا کیا جواز رہ جاتا ہے‘ کیونکہ وہ بھی شریعت کے نام پرگردنیں کاٹ رہے تھے اور سوات مالا کنڈ میں ریاست کی رِٹ کو مفلوج کر دیا تھا۔ لال مسجد کا سانحہ بھی اسی سے ملتا جلتا تھا۔ ریاست کے حساس ادارے کے اعلیٰ افسران نے پوچھا:’’اس مسئلے کا کوئی حل ہے؟ میں نے کہا:’’یقینا ہے۔ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو اعتزالی و انحرافی رویے سے روک دیا جائے۔‘ میں نے ان سے کہا:’’اگر دس سال پہلے کوئی دو کروڑ آبادی والے شہر کراچی کے کسی شہری سے پوچھتا کہ آیا کراچی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے‘ تو وہ فی البدیہ جواب دیتا:ہرگز نہیں‘ مگر آپ نے چاہا تو کر دیا‘ اسی طرح آپریشن راہ راست‘ ضرب عضب اور ردالفساد بھی کئے‘ مگر یہاں ہمارے ادارے ایک شخص کو کنٹرول نہیں کرنا چاہتے‘ تو نہیں ہو رہا‘‘ پختونخوا کے جید علماء کبھی بھی اس مسئلے میں فریق نہیں بنے‘ مفتی شہاب الدین پوپلزئی صاحب نے ایک Nuisance Valueحاصل کررکھی ہے‘ اسے مذہبی دہشت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اور وہ اسے نہایت کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں۔ پشاور(پچاس فیصد) مردان‘ چارسدہ‘ نوشہرہ‘ صوابی اور بنوں شہر(مضافات نہیں) کو انہوں نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے اور ہمارا میڈیا اسے پورے صوبہ‘ خیبر پختونخوا سے تعبیر کرتا ہے۔ اس سال میڈیا نے قدرے بہتر رپورٹنگ کی اور بتایا کہ پشاور کے نصف شہر‘ ہزارہ ڈویژن کے سات اضلاع ‘ سوات مالا کنڈ ڈویژن‘ تیمر گرہ‘ بونیر ‘ دیرچترال ‘ کوہاٹ شہر‘ ڈی آئی خان ڈویژن اوربعض قبائلی علاقوں میں مرکز کے ساتھ عید منائی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ جناب محمود خان کے اپنے حلقے میں عید مرکز کے ساتھ بدھ کو ہوئی۔ سو لوگ مذہبی لوگوں کو ووٹ نہیں دیتے۔ لیکن تاحال مذہب کی باگ ڈور سیاستدانوں کو تفویض کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ 

‎رہا یہ سوال کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان پشتونوں کی گواہی کو نہیں سنتی۔ یہ بہتان ہے الزام ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ زونل رویت ہلال کمیٹی ہر ضلع میں موجود ہوتی ہے‘ گواہ وہاں آئیں۔ وہ ہم سے رابطہ کرائیں گے ہم جرح و تعدیل اور تزکیۃ الشہود کریں گے‘ البتہ شہادت کا ردو قبول قاضی یا مجلس قضا کا شرعی اور قانونی اختیار ہے‘ شہادت علی الاطلاق کسی جرح اور تزکیہ کے بغیر روئے زمین کے کسی نظام میں حجت قطعیہ نہیں ہے۔ کیا پشاور کی ماتحت عدالتوں سے لے کر ہائی کورٹ تک انہی لوگوں کی شہادتیں رد نہیں ہوتیں۔ میرا آبائی تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ سے ہے۔ اگرچہ اب میں کراچی میں قیام پذیر ہوں۔ اگر کسی کا ادعایہ ہو کہ وہ علاقے بلند ہیں‘ اس لئے چاند نظر آ جاتا ہے، ایسا نہیں ہے، بلند علاقے تو گلیاں‘ آزاد کشمیر ‘ کاغان اور ہزارہ ڈویژن کے دیگر پہاڑی علاقے اور گلگت بلتستان وغیرہ ہیں‘ ان علاقوں میں کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا، یہ صرف مخصوص علاقوں کا Mindestہے، ذہنی نہاد ہے۔ مرکز سے اعتزال و انحراف کا ایک رویہ ہے۔ ماضی میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا اور پچاس فیصد وزرائے اعلیٰ پشاور ڈویژن ہی کے رہے ہیں۔ انہوں نے مقامی حالات کے تحت عید پڑھ لی۔ لیکن اسے قومی سطح پر مسئلہ نہیں بنایا۔نہ صوبائی حکومت کی طرف سے سرکاری طور پر عید کا اعلان کیا مگر آصف علی زرداری صاحب کے بقول یہ انڈر فورٹین کی حکومت ہے۔ سو انہوں نے اس سال یہ نمایاں کارنامہ انجام دے دیا اور خود اپنے ہی صوبے میں ان کے حصے میں رسوائی آئی اور میرے لئے یہ حیرت کا سبب ہے کہ صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی صاحب کے بقول انہوں نے جناب عمران خان صاحب کی منظوری سے یہ نمایاں کارنامہ انجام دیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

‎ستاون مسلم ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں درجنوں کالم نگار رویت ہلال پر طبع آزمائی کرتے ہیں‘ ٹاک شوزمیں ہر فن مولا اینکر پرسنز شرعی مسئلے پرفتاویٰ صادر کرتے ہیں۔ یہ کسی اور مسلم ملک میں نہیں ہوتا۔ معلوم نہیںکہ یہ ہماری جمہوریت اور آزاد میڈیا کا مثبت استعمال ہے یا منفی یا ہمارے دوستوں کے پاس بوجوہ موضوعات کی قلت ہے۔ سارے مسئلے کا آغاز سعودی عرب سے ہوتا ہے۔ اگر وہ رویت حقیقی یا امکان رویت کی طرف آئیں تو عالمی سطح پر اسی نوے فیصد یہ مسئلہ خود ہی حل ہو جائے۔ اس سال بھی آسٹریلیا‘ جاپان‘ تھائی لینڈ‘ ملائشیا‘ بنگلہ دیش‘ انڈیا‘ پاکستان‘ ایران‘ عمان‘ ترکمانستان‘ ازبکستان‘ امریکہ‘ کینیڈا‘ برطانیہ اور ہالینڈ میں امکان روایت یا حقیقی رویت پر مدار رکھنے والوں نے ہمارے ساتھ بدھ ہی کو عید کی ہے اور پہلی مرتبہ مصر‘ لبنان‘ سوڈان اور صومالیہ نے بھی سعودی عرب سے انحراف کیا۔ سو مسئلے کی جڑ وہاں ہے۔ والسلام با احترمات فائقہ /منیب الرحمن n

Tuesday, June 11, 2019

ماں صدقے !کیا عقل پائی ہے


‎’’سستالے بار بار۔ مہنگالے ایک بار!‘‘

‎پروفیسر منہاس صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ 

‎ان سے پوچھا یہ تھا کہ ڈرائیور کو اتنی زیادہ تنخواہ کیوں دے رہے ہیں؟ کلب پہنچیں گے تو ڈرائیور کو پانچ سو دیں گے حالانکہ وہاں وہ ڈیڑھ سو میں اچھا خاصا معقول لنچ کر سکتا ہے۔ کپڑوں کا ایک جوڑا نہیں ایک وقت میں دو تین جوڑے لے کر دیں گے۔جوتے لے کر دیں گے تو مہنگے‘ اسی معیار کے جس کے وہ خود لیتے ہیں۔ 

‎پروفیسر صاحب یہ سارے کام نرم دلی کے سبب یا ثواب کی خاطر نہیں کر رہے۔ یہ چاق و چوبند ڈرائیور سالہا سال سے ان کے پاس ہے۔ اس اثناء میں ان کے دوستوں کے پاس کئی ڈرائیور آئے اور کئی گئے مگر پروفیسر صاحب کے ڈرائیور کے پاس کہیں اور جانے کا کوئی جواز نہیں۔ اچھی تنخواہ اچھی ٹپ‘ اچھا لباس‘ اس کے لئے وہی کام کر رہے ہیں جو مقوی قلب خمیرہ گائوزبان عنبری جواہر والا کرتا ہے۔

‎ یہ نکتہ سنگا پور کے معمار وزیر اعظم لی کوان ییو نے بھی سمجھ لیا تھا اس نے سرکاری ملازموں کی تنخواہیں کئی گنا بڑھا دیں اتنی کہ لوگ حیران رہ گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پبلک سیکٹر‘ خم ٹھونک کر‘ نجی شعبے کے مقابلے میں آ گیا۔ بقول شاعر 

؎ 
‎رخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں 
‎ادھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پروانہ آتا ہے

‎ ہارورڈ‘ لندن سکول آف اکنامکس اور میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی جیسی صف اول کی درس گاہوں سے فارغ التحصیل‘ سنگا پور کے بہترین دماغ سرکاری ملازمت کی طرف کشاں کشاں آئے اور بہترین بیورو کریسی نے مچھروں اور کیچڑ سے بھرے اس خرابہ نما جزیرے کو جاپان کے بعد ایشیا کا دوسرا امیر ترین ملک بنا دیا۔ 

‎یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں جو سمجھ میں نہ آئے۔ مگر افسوس‘ پاکستان کے فیصلہ سازوں کو یہ نکتہ نہیں سوجھ رہا سرکاری ملازموں کے ساتھ سوتیلی مائوں والا سلوک کیا جا رہا ہے ایک زمانہ تھا کہ ملک کے بہترین دماغ مقابلے کا امتحان دے کر سرکاری نوکری کرتے تھے۔ اب نوجوان تعلیم ختم کرتا ہے تو سیدھا نجی شعبے کا رخ کرتا ہے۔ اچھا آغاز! خوشگوار ماحول! کچھ عرصہ کے بعد اس کے پاس چھوٹی سی گاڑی ہوتی ہے۔ 

‎پاکستان میں سرکاری ملازم بدترین ماحول میں کام کرتا ہے۔ پرانا‘ زنگ آلود فرنیچر۔ کمرے ایسے جن سے ہوا کا گزر ہوتا ہے نہ روشنی کا! کیریر پلاننگ صفر پھر جو ٹاپ پر پہنچ کر سیکرٹری بن جاتا ہے یا محکمے کا سربراہ۔ اس کی ترجیح اوپر والوں کی خوشنودی ہو جاتی ہے! نیچے والے جائیں بھاڑ میں۔ چند ماہ ہوئے ایک وفاقی سیکرٹری کو یاد دلایا کہ آپ کا فلاں افسر ایک ہی جگہ پر بارہ سال سے بیٹھا ہے‘ اسے کہیں اور بھیج دیجیے۔ تجربے میں تنوع ہونا چاہیے یہ صاحب انسان سے فوراً لوہے کا مجسمہ بن گئے بلکہ لوہے کی لاٹھ! 

‎تازہ ترین خبر پڑھ کر سرکاری ملازموں پر تو رحم آیا ہی ہے۔ ریاست کی بدقسمتی پر زیادہ افسوس ہو رہا ہے جو بھی حکمران آیا‘ اسے دیوار کے پار تو کیا نظر آتا، دیوار کے اس طرف بھی دیکھنے سے معذور ہے! وزیر اعظم کے ہاں غور اس بات پر ہو رہا ہے کہ گریڈ سترہ اور سترہ سے اوپر کے ملازمین کی تنخواہیں آنے والے بجٹ میں نہ بڑھائی جائیں۔ دوسری طرف‘ عذاب کو دوگو نہ کرنے کے لئے یہ تجویز بھی ہے کہ تنخواہ دار ملازمین کے لئے قابل ٹیکس آمدنی کی حد بارہ لاکھ سے کم کر کے چار لاکھ یا چھ لاکھ روپے کر دی جائے۔ 

‎قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ گریڈ سترہ ‘اٹھارہ‘ انیس یا بیس کا سرکاری ملازم کروڑ پتی نہیں ہوتا۔ وہ بھی اسی بازار سے سودا سلف لیتا ہے جس سے سب لیتے ہیں‘ اسے تنخواہ کے ساتھ پٹرول کا ڈرم مفت ملتا ہے نہ بجلی گیس پانی اور ٹیلی فون کے بل ادا کرنے کے لئے روپوں کی تھیلی الگ دی جاتی ہے اس نے لباس بھی اسی بازار سے لینا ہے جہاں سے سب لیتے ہیں اور کفن بھی۔ 

‎اگر ایسا فیصلہ کیا گیا تو یہ ایک احمقانہ فیصلہ ہو گا۔ بہت سے دوسرے فیصلوں کی طرح! ایماندار سرکاری ملازم‘ حالات سے مجبور ہو۔ دیانت داری کو الماری میں بند کر دیں گے۔ اس لئے کہ ؎ 

‎شب جو عقدِ نماز می بندم 
‎چہ خورد بامراد فرزندم 

‎رات کو نماز پڑھتا ہوں تو دل میں خیال یہ ہوتا ہے کہ صبح اولاد کھائے گی کیا؟ 

‎جو ایمانداری پر قائم رہیں گے ان کے دل ٹوٹ جائیں گے۔ بددلی غلبہ پائے گی۔ کارکردگی نیچے آ جائے گی! ریاست ان کا خیال نہیں رکھ رہی‘ وہ کیوں ریاست کا خیال رکھیں؟ ایک طرف یہ اندھا پن کہ گریڈ بیس ‘ اکیس اوربائیس والوں کو کہا گیا ہے کہ تم سرکاری گاڑی اور سرکاری ڈرائیور استعمال نہ کرو ہم تمہیں ماہانہ ستر ہزار سے لے کر نوے پچانوے ہزار تک الائونس 
(Monetization)
‎دے رہے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ کثیر تعداد الائونس بھی لے رہی ہے اور سرکاری گاڑیاں مع ڈرائیور بھی استعمال کر رہی ہے۔ دوسری طرف اتنی بے بصیرتی کہ سترہ اٹھارہ اور انیس والوں کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جا رہیں۔ انگریز اس اندھے پن کو بلکہ ڈنگر پن کو کہتے ہیں
Penny wise, pound foolish
‎یعنی چھوٹی رقوم پر سوچ بچار اور بڑی رقوم پر شاہ خرچی۔ بنیادی ضروریات میں کنجوسی اور اسراف و تبذیر پر خزانے کا منہ کھول دینا! 

‎پائی پائی کو ترستے‘ ان سرکاری ملازموں کے بچے جب بڑے ہوں گے تو سرکاری ملازمت کو پائوں کی ٹھوکر پر رکھیں گے جس ریاست نے ان کے والدین کو تڑپایا‘ وہ اس ریاست کے جبڑے میں اپنے آپ کو کیوں پھنسائیں؟ کیوں نہ نجی شعبے کا رخ کریں جہاں کھوتے اورگھوڑے میں اور گندم اور جَو میں فرق روا رکھا جاتا ہے کام چور اور مستعد کو ایک لاٹھی سے نہیں ہانکا جاتا۔ سیٹھ کو معلوم ہے کہ کون اس کے ادارے کے لئے مفید ہے اور کون محض بوجھ! دوسری طرف ریاست کی آنکھوں میں کالا موتیا اترا ہوا ہے۔ ہاتھ میں سفید چھڑی بھی نہیں پکڑتی! لگتا ہے حافظ شیرازی نے یہ شہرہ آفاق سدا بہار اشعار پاکستان کی نوکر شاہی کے حوالے سے کہتے تھے ؎ 

‎ابلہان را ہمہ شربت زگلاب و قنداست 
‎قوتِ دانا ہمہ از خون جگر می بینم

‎ اسپ تازی شدہ مجروح بہ زیر پالان 
‎طوق زرین ہمہ در گردن خرمی بینم 

‎احمقوں کو خوش ذائقہ شربت پلائے جا رہے ہیں۔ وہ جو عقل مند ہیں اپنے جگر کا خون پی رہے ہیں۔ بہترین نسل کے گھوڑے کی پیٹھ پر گدھے کا پالان ہے اورگدھے کی گردن میں سنہری رسی!! 

‎قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ایک ایک اجلاس پر لاکھوں کروڑوں خرچ ہو رہے ہیں۔ ایک ہی سرکار میں کچھ کو’’ایم پی ون‘‘ اور ایم پی ٹی‘‘ تنخواہوں سے نوازا جا رہا ہے اور باقی کے لئے عام گریڈ۔ یہ جو ریگولیٹنگ اتھارٹیز ہیں۔ پیمرا اوگرا ‘ نیپرا وغیرہ، ان سفید ہاتھیوں میں کتنی تنخواہیں  ہیں  ذرا عوام کو بتائیے۔ ایک ایک شعبے میں چار چار مشیر وزیر اعظم نے رکھے ہوئے ہیں۔ مگر ع 
‎برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر 
‎تنخواہیں منجمد کریں گے تو سرکاری ملازموں کی! ماں صدقے!کیا عقل پائی ہے!
 

powered by worldwanders.com