Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Tuesday, January 08, 2019

تم ایک دن کے لیے اپنا دل ہمیں دے دو


کچھ تو خوشگوار خبریں ہیں اور کچھ یاس پھیلانے والی۔ دونوں کا آپس میں مقابلہ ہے اور بقول ظفر اقبال ؎

در امید سے ہو کر نکلنے لگتا ہوں
تو یاس روزن زنداں سے آنکھ مارتی ہے

یاس صرف آنکھ نہیں مارتی، غنڈوں کی طرح زبردستی بھی کرتی ہے۔ تاہم اب کے امید کا پلڑا بھاری ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی جو دارالحکومت کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے، ایک عرصہ سے انصاف مانگ رہی تھی۔ یونیورسٹی کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں سابق طلبہ اور اساتذہ سب شامل ہیں۔ یونیورسٹی کی سینکڑوں ایکڑ اراضی قبضہ گروپ نے ہتھیا رکھی ہے۔ اس قبضہ گروپ میں سیاسی اثر و نفوذ رکھنے والے بڑے بڑے لوگ شامل ہیں۔ پراپرٹی ڈیلروں کے گروہ بھی اس مار دھاڑ میں شریک ہیں۔

سیاستدان ساتھ نہ ہوں تو صرف پراپرٹی ڈیلر ہی حشر برپا کرسکتے ہیں، یہ جائیداد کی قیمتیں گرا سکتے ہیں۔ جب چاہیں زمین کے سودے آسمان پر لے جا سکتے ہیں۔ اگر کوئی محقق اس گروہ کو موضوع بنائے تو دیکھے گا کہ دبئی سے لے کر کراچی تک اور گوادر سے لے کر گلگت تک یہ ہشت پا ہر جگہ اپنی گرفت مضبوط کئے بیٹھا ہے۔

پھر گزشتہ ادوار میں جن سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم رہیں، انہی کے وابستگان اس قبضہ گروپ میں سرفہرست تھے۔ چنانچہ قائداعظم یونیورسٹی کی صدائے احتجاج صدا بہ صحرا سے زیادہ کچھ نہ ہو سکی۔ حد یہ ہے کہ یونیورسٹی کی چاردیواری بھی آج تک تعمیر نہ ہوئی۔ سبط علی صبا کا مشہور شعر یہاں صادق آتا ہے ؎ دیوار کیا گری مرے کچے مکان کی لوگوں نے گھر کے صحن میں رستے بنا لیے یونیورسٹی کے صحن میں صرف راستے نہیں بنے، لوگوں نے اپنے مکان بنا لیے۔ جو بڑی مچھلیاں تھیں انہوں نے محلات تعمیر کرلیے۔ یونیورسٹی کا موقف یہ ہے کہ 1709 ایکڑ زمین خریدی گئی تھی۔ اس میں سے 289 ایکڑ کا قبضہ نہیں ملا اور 152 ایکڑ حوالے ہی نہیں کی گئی۔ یوں ساڑھے چار سو ایکڑ کے حق سے یہ عظیم درسگاہ ابھی تک محروم ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کی زنبیل میں اب تک جو چند مستحسن اقدامات دکھائی دیتے ہیں، ان میں سرفہرست تجاوزات کا انہدام ہے۔ اگرچہ اس میں تھوڑا بہت گھن بھی گیہوں کے ساتھ پسا ہے مگر مجموعی طور پر قبضہ گروپ کو کئی مقامات سے پسپا کیا گیا ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی نے بھی اطمینان کا سانس لیا ہے کہ کم از کم 180 کنال زمین مگرمچھوں کے منہ سے نکال کر درسگاہ کو واپس دی گئی ہے۔ اگر ایک ایکڑ میں آٹھ کنال ہیں تو یہ ساڑھے بائیس ایکڑ ہوئے۔ اگرچہ یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے مگر چلیں آغاز تو ہوا۔ انتہائی طاقت ور شخصیتوں کا اس ناجائز قبضہ میں عمل دخل ہونے کی بنا پر یہ ایکشن لائق تحسین ہے۔ ابھی یہ اقدام جاری ہے۔ نئے سرے سے نشان دہی کی جا رہی ہے اور مزید اقدام کی توقع ہے۔

تاہم ساتھ ہی وزیراعظم کے معاون برائے سیاسی امور نے بدخبری دی ہے کہ ریاست کی ملکیت میں جو زمینیںغیراستعمال شدہ پڑی ہیں، وہ فروخت کر کے بجٹ کا خسارہ دور کیا جائے گا۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے ایک آدمی اپنی ٹیکسی بیچ کر کپڑے خرید لے، یا کوئی بیوہ عورت سلائی مشین بیچ کر دودھ پتی منگوائے۔ ٹیکسی اگر فارغ کھڑی ہے تو اسے چلا کر باروزگار ہوا جا سکتا ہے۔ سلائی مشین بک گئی تو حاصل شدہ رقم ایک بار کام آئے گی۔ جب کہ بیوہ سلائی مشین پر محلے والوں کے ملبوسات تیار کرے تو ہر روز کچھ نہ کچھ وصول ہوگا۔ اول تو یہی نکتہ سمجھنا مشکل ہے کہ سیاسی امور کے مشیر کا بجٹ کے خسارے سے کیا تعلق ہے؟ اور ریاست کی ملکیتی زمینیں ان کے دائرہ اختیار میں کیسے آ گئی ہیں؟

سونے کا انڈا دینے والی مرغی کو ذبح کرنے کا فیصلہ اگر سیاسی امور کے مشیر ہی نے کرنا تھا تو وزیر خزانہ کیا سیاسی امور نمٹا رہے ہیں؟ یہ زمینیں بک گئیں اور آثار بتاتے ہیں کہ اونے پونے داموں بکیں گی تو کتنے بجٹوں کا خسارہ دور ہو گا؟ ایک یا دو بجٹ کا! عقل مند وزیرو! مشیرو! ان بیکار پڑی زمینوں کو کارآمد بنانے کا کوئی طریقہ نہیں سوجھ رہا آپ حضرات کو؟ عقل بازار سے نہیں مل رہی تو کسی سے کچھ دیر کے لیے ادھار لے لو کہ شاعر نے یہ گُر بھی بتایا تھا ؎

تم ایک دن کے لیے اپنا دل ہمیں دے دو
ہم ایک دن میں طریق وفا سکھا دیں گے

ان زمینوں پر پلازے بنائے جا سکتے ہیں۔ نجی پارٹیوں کے ساتھ پارٹنرشپ کی جا سکتی ہے۔ ان پر فصلیں اگائی جا سکتی ہیں اور کچھ نہیں تو ان کے بدلے میں ایسی زمینیں لی جا سکتی ہیں جو ریاست کے لیے زیادہ کارآمد ثابت ہوں۔

یہ بیکار پڑی زمینیں حکومت کا خون تو نہیں چوس رہیں۔ جو ناکام، باعث شرم ادارے حکومت کا خون جونکوں کی طرح مسلسل پی رہے ہیں انہیں کیوں نہیں فروخت کیا جاتا؟ قومی ایئرلائن، معیشت کے جسد میں رستا ہوا ناسور ہے۔ چند طیارے، ہزاروں فارغ بیٹھے ملازمین جن کے بل پر عوام کے جسم سے خون پی رہے ہیں۔ خود غرض، دھاندلی کرنے والی یونینیں، جو چوروں اور مجرموں کو ملازمت سے نکالنے دیتی ہیں نہ ان کے خلاف کوئی اور کارروائی کرنے دیتی ہیں۔ ہر سال یہ ایئرلائن خون کی کئی بوتلیں لگواتی ہے اور تب سانس لینے کے قابل رہتی ہے۔ سیاسی امور کے مشیر کا اسے فروخت کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

سٹیل مل بھی اسی کیٹیگری میں ہے۔ خون پینے والی جونک، رس چوسنے والی آکاس بیل، مسلسل خسارا اور مسلسل وفاقی امداد، اسے کیوں نہیں فروخت کیا جاتا؟

اس سے بھی زیادہ بری خبر یہ ہے کہ ایک سو ایک فیصد سرکاری ادارے پاکستان انجینئرنگ کونسل نے آڈٹ کرانے سے انکار کردیا ہے اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا آئینی ادارہ بیٹھا اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 169 اور 170 آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو اختیار دیتے ہیں کہ وہ ہر صوبائی، وفاقی اور نیم سرکاری ادارے کا آڈٹ کرسکتا ہے۔ کچھ مقدس گائیں پہلے ہی آڈیٹر جنرل کو اہمیت نہیں دیتیں۔ تو کیا اب پاکستان انجینئرنگ کونسل جیسے ادارے بھی سرکشی کرنے لگے ہیں؟ ریاست کہاں ہے؟ ریاست کا وقار کہاں ہے؟ حکومت کا رعب داب اس طرح اڑ چکا جیسے گھاس کی پتیوں سے اوس کے قطر ے اڑ جاتے ہیں۔ اگر ریاست ان اداروں کو لگام نہیں دے سکتی، اگر حکومت بے بس ہے تو حکومت کو چاہیے کہ اقوام متحدہ کے پاس جا کر روئے، فریاد کرے کہ ہمارے ادارے خود سر ہو گئے ہیں۔ آپ آ کر انہیں ہمارے کنٹرول میں دیں۔ حکومت شاہ عالم، از دلی تا پالم۔ آڈیٹر جنرل صاحب کو ہمارا مشورہ ہے کہ وہ شاہراہ دستور پر بھوک ہڑتال کریں۔


Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Sunday, January 06, 2019

کیا تلّون صرف شہنشاہ ہمایوں میں تھا؟


اگر کبھی آذر بائی جان جانے کا اتفاق ہو تو گنجہ ضرورجائیے۔


مغربی آذر بائی جان کا یہ شہر عجیب قسمت لے کر آیا۔ دنیا کے دو مشہور شاعروں نے یہاں جنم لیا۔ اس شہر کا نام روسی عہد میں دو بار بدلا گیا۔ استعمار کا دور ختم ہوا تو اصل نام گنجہ واپس آ گیا۔

گنجہ نے دنیا کو جو دو عالمی شعرا دیے ان میں ایک مہستی گنجوی تھی جو ایک دبنگ روشن خیال خاتون تھی۔ یوں سمجھئے وہ اپنے زمانے کی کشور ناہید تھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ جو معاشرہ کشور ناہید کو ملا ہے وہ تاریخ کا سب سے زیادہ تنگ نظر معاشرہ ہے۔ آپ گئے وقتوں کا فارسی‘ عربی اور ترکی ادب پڑھ کر دیکھ لیجیے۔ ان میں وہ سب کچھ لکھا اور پڑھا گیا ہے جس کا آج کے زمانے میں تصّور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ عبدالرحمن جامی کی شہرت صوفی شاعر کی ہے۔ ان کی لکھی ہوئی معروف و مشہور مثنوی ’’یوسف زلیخا‘‘ایک زمانے میں مدارس کے نصاب میں شامل تھی۔ اولین ابواب میں سے ایک باب میں جامی نے زلیخا کا سراپا کھینچا ہے۔ یہ سراپا وہ سر سے لے کر پائوں تک ہر عضوِ بدن کا بیان کرتا ہے۔ آج کے دور میں کسی نے یہ سراپا کھینچا ہوتا تو پتھروں سے ہلاک کر دیا جاتا۔ 

عہدِ رسالتؐ کا موازنہ آج کے دور سے کر لیجیے۔ جاہل گنوار دیہاتی آ کر مسجد نبوی کے صحن میں پیشاب کرتا ہے۔ لوگ اس کی طرف دوڑتے ہیں مگر حکمت کا ازلی ابدی منبع ﷺ حکم دیتے ہیں کہ ٹھہر جائو۔ اسے کرنے دو۔ وہ کر چکا تو فرمایا پانی بہا کر صاف کر دو۔ ظاہر ہے بعد میں اسے سمجھایا گیا ہو گا مگر تصوّر کیجیے کہ ایسا کوئی اس عہد میں کرے تو اسکے زندہ بدن کو لاش بننے میں چند ثانیوں سے زیادہ وقت نہ لگے۔ گوہ کا گوشت حاضر کیا گیا۔ آپ نے تناول فرمانا پسند نہیں کیا مگر آپکے سامنے آپکے جاں نثاروں نے کھایا۔ کیا آج ایسا ممکن ہے؟ 

مگر بات تو کچھ اور کرنی ہے۔ مہستی گنجومی کے حوالے سے قارئین نے دلچسپی کا اظہار کیا تو اس کا تعارف الگ سے کرایا جا سکتا ہے۔ ہم ذکر نظامی گنجومی کا کرنا چاہتے ہیں۔ بارہویں صدی کے اس عظیم شاعر نے پانچ شہرہ آفاق مثنویاں تصنیف کیں اور ایسی طرح ڈالی کہ ہندوستان میں امیر خسرو نے اور وسط ایشیا میں جامی نے نظامیؔ کی تقلید میں پانچ پانچ مزید مثنویاں لکھیں۔ یہ سب مثنویاں خمسوں کے نام سے مشہور ہیں۔ نظامی کا خمسہ‘ یعنی نظامی کی پانچ تصانیف‘ خسرو کا خمسہ اور جامی کا خمسہ! یوں تو بہت سے شاعروں نے خمسے لکھے مگر اکثر کو تاریخ کی گرد نے ڈھانپ لیا۔ نظامی‘ امیر خسرو اور جامی کے خمسوں کو شہرت دوام نصیب ہوئی۔ ایرانیوں نے ان کتابوں کو جس اعلیٰ معیار پر شائع کیا ہے اس کی مثال مشکل سے ملے گی۔ اس کالم نگار نے کوئٹہ کی علم دار روڈ سے ایک ہزارہ کتاب فروش سے نظامی کے خمسے کا ایک نسخہ خریدا جو اب آسٹریلیا میں پڑا ہے۔یہ وہی علم دار روڈ ہے جس کے دونوں کناروں پر آباد ہزارہ مسلکی فساد کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ 

نظامی کے خمسے میں ایک کتاب سکندر نامہ ہے جو سکندر اعظم کی مہمات پر مشتمل ہے۔ تاریخ اور داستان طرازی تو ہے ہی‘ شاعری اور ادب اس مثنوی میں اوجِ کمال پر ہے۔ نظامی کی اس تصنیف سکندر نامہ نے ہماری اردو زبان کو ایک محاورہ عطا کیا ہے۔یہ جو محاورہ ہے کوّا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ یہ کہاں سے آیا اور کیسے شکل پذیر ہوا؟ یہ محاورہ اصل میں نظامی گنجومی کے اس شعر کا براہ راست ترجمہ ہے: 

کلاغی تگِ کبک را گوش کرد 
تگِ خویشتن را فراموش کرد 

کلاغ کوّے کو کہتے ہیں۔ تگ چال کو کہتے ہیں۔ اسی سے لفظ تگ و دَو نکلا ہے۔ یعنی دوڑ دھوپ۔ کبک ہنس ہے۔ معشوق کے بارے میں کسی شاعر نے کہا تھا ع 

آپ کی چال پہ ہے کبکِ دری بھی شیدا 

کلاغ یعنی کوّے نے ہنس کی چال اپنائی اور اپنی بھول گیا۔ یہ سب تو تمہید تھی۔ سوچیے کہ یہ کلاغ یعنی یہ کوّا کون ہے۔ یہ کوا ہم اہل پاکستان ہیں۔ ہم اپنی چال بھول گئے ہیں‘ غالب نے ہمارے بارے میں کیا آسمانی پیش گوئی کی تھی ؎ 

چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہرو کے ساتھ 
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں 

جن دنوں شہباز شریف کا طوطی بولتا تھا ان دنوں ترکی ہمارا آئیڈیل تھا۔شاہراہیں بنوانی تھیں یا فُضلے کو ٹھکانے لگانا تھا‘ترکی ہی کی کمپنیاں ہمارا دامن دل کھینچتی تھیں۔ اس سے پہلے آصف زرداری صدر مملکت تھے تو چین اس طرح جاتے تھے جیسے اہل لاہور بادامی باغ یا لبرٹی جاتے ہیں۔ پھر زمانے نے کروٹ بدلی۔ تبدیلی کا نعرہ سر یر آرائے سلطنت ہوا۔ گمان یہ تھا کہ ہم مزید کلاغ پرستی نہیں کریں گے اپنے آپ کو پہچانیں گے۔ اقبال نے کہا تھا 

اپنی خودی پہچان 
او غافل افغان! 

افغانوں کا تو پتہ نہیں‘ ہم پاکستانیوں نے ابھی تک اپنی خودی نہیں پہچانی۔ ہنس کی چال چلنے کا نیا دور آغاز ہوا ہے۔ کبھی ہم ملائشیا کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں اور مہاتیر کو نجات دہندہ کہتے ہیں کبھی سنگا پور کا ’’لی‘‘ ہمیں نشان منزل دکھائی دیتا ہے۔اب تازہ ترین ستارہ جو ہمیں اس تاریک رات میں دکھایا گیا ہے‘ ترکی ہے۔ ترکی ہی میں بیٹھے بیٹھے چین کو بھی آئیڈیل قرار دے دیا گیا ہے۔ کیڑھی گلی جتھے بھاگو نہیں کَھلی۔ یعنی کون سا کوچہ ہے جہاں بھاگ بھری موجود نہیں۔ اب تو ہماری مثال ان گداگروں کی سی ہے جو مسجد کے دروازے کے باہر برجمان ہوتے ہیں۔ مسجد میں نماز پڑھ کر ترکی‘ ملائشیا‘ متحدہ عرب امارات باہر نکلتے ہیں جوتے پہن رہے ہوتے ہیں کہ ہم کشکول پکڑے آن پہنچتے ہیں۔ 

ابھی تک درآمدات کم کرنے کی کوشش نہیں ہوئی۔ امپورٹ بل میں جب تک کَٹ نہیں لگے گا۔اللے تللے اشیائے تعیش درآمد ہوتی رہیں گی۔ ہمارے پڑوسی بھارت نے مدتوں کاروں کی درآمد پر پابندی عائد کئے رکھی۔ پھر جب ان کی معیشت کا سانس بحال ہو گیا تو یہ پابندی اٹھا لی۔ 

ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کیلئے کیا کیا گیا ہے؟ نصف سال نئی حکومت کا ہونے کو ہے۔ کوئی پالیسی اس ضمن میں منظر عام پر نہیں آئی۔ ہر تقریر میں عمران خان صاحب ٹیکس نہ دینے والوں کی مذمت کرتے تھے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ اس معاملے میں تاجر اور ان کے بعد صنعتکار سب سے بڑے مجرم ہیں۔ معیشت بغیر دستاویز کے (Un-documented) چل رہی ہے۔ لاہور اسلام آباد جیسے شہروں میں بھی دکاندار رسید نہیں دیتااس لئے کہ ٹیکس دینا پڑے گا۔سروس سیکٹر میں ڈاکٹر‘ حکیم‘ معمار ‘ نقشہ ساز‘ Consultant) پورا ٹیکس نہیں ادا کر رہے! کس نمی پرسد کہ بھیا کیستی؟ کوئی پوچھنے والا نہیں! 

رہیں حکومتی پالیسیاں! تو صبح اور شام اور۔ گویا

ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں 
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے 

تلّون مزاجی شہنشاہ ہمایوں میں تھی یا پھر آج کے حکمرانوں میں!!

    




Muhammad Izhar ul Haq

www.izharulhaq.net

Saturday, January 05, 2019

نہ بھائی!ہماری تو قدرت نہیں



سینے میں درد ہوا۔ مولانا محترم کو ہسپتال لے جایا گیا۔ اینجو گرافی ہوئی۔ پھر اینجو پلاسٹی ہوئی۔ شریانوں میں سٹنٹ ڈالا گیا۔ الحمدللہ! علاج کارگر رہا۔ شفا اُس ذاتِ پاک نے دی جس کے قبضۂ قدرت میں صحت ہے۔ مگر اس شفاء کے لیے وسیلہ کون بنے؟ 

وہ ماہر امراضِ قلب! جس نے پانچ برس لگا کر ایم بی بی ایس کیا۔ پھر مزید پانچ چھ برس لگا کر دل کے امراض میں تخصص کیا۔ کئی تربیتی مراحل سے گزرا۔ 

وہ کارڈیک ٹیکنیشن!جنہوں نے سارے پروسیجر کی نگرانی(مانیٹرنگ) کی۔ 

وہ ریڈیو گرافر!جس نے آپریشن کے دوران مسلسل ایکس رے کی مشینیں چلائیں اور فلورو سکوپی کا انچارج رہا۔ 

وہ نرسیں(کم از کم تین) جو اس سارے عمل کے دوران مدد کے لیے موجود رہیں۔ مسلسل مدد کرتی رہیں۔ 

پھر اس کے بعد بحالی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ ریکوری ٹیم کی ضرورت پڑتی ہے۔ چاق و چوبند، مستعد، چوبیس گھنٹے چوکنی نرسیں اشد ضروری ہیں۔ آپریشن کے بعد، فالو اپ آپریشن سے زیادہ نہیں تو کم نازک بھی نہیں۔ 

مولانا ایک سیلیبرٹی ہیں، چہار دانگِ عالم میں معروف! لاکھوں کے محبوب! ان کے علاج کی خبر فوراً پھیل گئی۔ ورنہ یہ ماہر امراض قلب، یہ نرسیں، یہ کارڈیک ٹیکنیشن، یہ فلوروسکوپی کا ماہر، یہ ریڈیوگرافر، ریکوری ٹیم کے یہ افراد ہر روز کتنوں ہی کی اینجوگرافی اور اینجو پلاسٹی کرتے ہیں۔ ہر روز کتنوں ہی کی جانیں بچاتے ہیں اور اس فرمانِ الٰہی پر عمل کر رہے ہیں کہ ’’جس نے زندگی بخشی ایک انسان کو تو گویا اس نے زندہ کیا سب انسانوں کو…‘‘ 

تو گویا ڈاکٹری کا علم حاصل کرنا، کارڈیک ٹیکنیشن، ریڈیو گرافر بننا، نرس کے طور پر کام کرنا، پھر سٹنٹ بنانے کے لیے انجینئرنگ کا علم حاصل کرنا، بھی نیکی کا کام ہے اور بے حد لازم بھی! اب اگر یہ سب چارچار مہینے کے لیے کسی مقدس مشن پر چلے جائیں تو مریضوں کا کیا بنے؟ کتنے ہی مریض مر جائیں! یہ دلیل کہ اور بھی تو بہت سے ڈاکٹر، نرسیں، ریڈیو گرافر وغیرہ ہوں گے تو اِس ملک میں آبادی کے لحاظ سے تو عام ڈاکٹر بھی کم ہیں چہ جائیکہ ماہرینِ امراضِ قلب! پاکستان میں ہر 6325 افراد کے لیے ایک ڈاکٹرہے فرانس میں ہر ہزار افراد کے لیے 3.37، جرمنی میں 3.4، آسٹریا میں 3.5اور چیکوسلواکیہ میں جو کم ترقی یافتہ ہے، ہر ہزار افراد کے لیے 3.5ڈاکٹرز میسر ہیں۔ 

’’جس نے ایک انسان کو زندگی بخشی تو گویا اس نے سب انسانوں کو زندہ کیا‘‘ 


تو کیا ہم اس حکم الٰہی پر عمل پیرا ہیں؟ کس کو معلوم نہیں کہ ہمارے چھوٹے شہروں، قصبوں، قریوں، بستیوں میں لاکھوں کروڑوں انسان اذیت ناک جان لیوا امراض میں مبتلا ہیں۔ دلوں میں خون پہنچانے والی شریانیں بند ہو رہی ہیں۔ گردے کام کرنا چھوڑ رہے ہیں، پھیپھڑوں کی بیماریاں عام ہیں۔ سانس لینا دوبھر ہے۔ گرنے والے اور حادثوں میں مجروح ہونے والے زخموں سے سسک رہے ہیں۔ پیپ پڑ رہی ہے۔ دماغ کے امراض عام ہیں۔ نیورو فزیشن شہروں میں بھی خال خال ہیں۔ قصبوں قریوں کا کیا ذکر! کتنے ہی بصارت سے محروم ہو رہے ہیں۔ آپریشن کرنے والے کلینک اور ڈاکٹر ان کی رسائی سے باہر ہیں۔ کان ناک اور گلے کے امراض پھیلتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر کم ہیں، جو ہیں، مہنگے ہیں۔ 

تو پھر کیا اس امر کی بھی تبلیغ ضروری نہیں کہ ڈاکٹر بنو۔ ٹیکنیشن بنو۔ ریڈیو گرافر بنو۔ بچیاں نرسیں بنیں۔ کچھ انجینئرنگ کا علم حاصل کریں تا کہ سٹنٹ بنائیں۔ ایسے سٹنٹ بنائیں جو عام لوگوں کے لیے مہنگے نہ ہوں۔ تو کیا ہم اس ضمن میں تبلیغ کا فرض سرانجام دے رہے ہیں؟ اگر ہم کالجوں، یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو یہ تاثر دیں کہ یہاں تمہارا وقت ضائع ہو رہا ہے۔ نکلو! دین کا کام کرو،اگر ہم آئے دن یہ مثال پیش کریں کہ ہم تو ڈاکٹر کی تعلیم چھوڑ کر اس طرف لگ گئے تو کیا ہم ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کی طرف بڑھیں گے یا ایک ایسی سوسائٹی کی حوصلہ افزائی کریں گے جس میں مبلغ تو ہوں مگر معالج نہ ہوں؟ 

کیا ہم اس بات کی بھی تبلیغ کر رہے ہیں کہ غریبوں کے لیے فری ہسپتال بنوائو، ایسے مراکز بنائو جن میں مستحقین کے لیے مفت ادویات میسر ہوں۔ گائوں گائوں جا کر ہیلتھ کیمپ لگائو۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ جب تشکیل ہو اور تبلیغ کرنے والی جماعت ایک بستی میں پہنچے تو اس جماعت میں ایک ڈاکٹر بھی ہو۔ اس جماعت کے پاس چند دوائیں بھی ہوں۔ صبح سے لے کر ظہر تک ڈاکٹر بستی کے نادار لوگوں کا معائنہ کرے۔ انہیں ادویات فراہم کی جائیں۔ تب انہیں یہ کہا جائے کہ ظہر یا عصر یا مغرب کی نماز مسجد میں آ کر پڑھیں۔ کچھ بات چیت ہو گی؟ کیا اس صورت میں لوگوں کی زیادہ تعداد تبلیغ کے مشن کی طرف راغب نہیں ہو گی؟ کیا یہ نیکی کا کام نہیں۔ یہ دلیل کہ یہ کام دوسرے لوگ کر رہے ہیں، واقعاتی طور پر غلط ہے۔ کہیں کہیں، کم کم، ہو رہا ہے۔ بالکل برائے نام! جتنی وسعت تبلیغ کے گروہوں کو حاصل ہے، اگر اس وسعت میں یہ کام بھی سما جائے تو کیا امر بالمعروف، نہی عن المنکر کے ساتھ ساتھ مَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّما اَحْیَا النَّاسَ جَمِیعا، کے حکم پر بھی عمل نہیں ہو گا؟

2001
ء
میں یہ کالم نگار ایک ایسے وفاقی محکمے کا سربراہ بنا جس کی کل افرادی قوت ملک بھر میں چودہ پندرہ ہزار کے لگ بھگ تھی۔ جس شہر میں سب سے زیادہ دفاتر تھے، وہاں چار پانچ ہزار ملازمین(عورتیں اور مرد دونوں) تعینات تھے چونکہ اس محکمے نے حساس اداروں کی ضروریات پورا کرنا تھیں، اس لیے اس کے ملازمین کو آرام پہنچانے کے لیے ریاست نے اس کے اندر ہی، اس شہر میں ایک ڈسپنسری بنائی۔ جہاں دو ڈاکٹر تعینات کیے۔ ایک مرد ڈاکٹر، ایک لیڈی ڈاکٹر، مرد ڈاکٹر نیک محنت کے لیے سال کا بیشتر حصہ تبلیغ پر صرف کرتا۔ چند دن، وہ بھی برائے نام، ڈسپنسری میں ہوتا۔ اس اثنا میں لیڈی ڈاکٹر ریٹائر ہو گئی۔ پھر پتہ نہیں، ڈاکٹر صاحب نے کیا کرشمہ دکھایا کہ سالہا سال کوئی ڈاکٹر تعینات نہ ہوا۔ اس فقیر نے بطور سربراہ چارج لیا تو ڈاکٹر صاحب کو وہاں غالباً سولہ برس ہو چکے تھے۔ ملازمین خاص طور پر ان کے کنبے سخت پریشان تھے کہ طبی امداد بالکل نہیں پہنچ رہی تھی۔ بولتا اس لیے کوئی نہیں تھا کہ ڈاکٹر صاحب ’’نیکی‘‘ کے کام کے لیے وقف تھے۔ اعتراض کیا جاتا تو ’’گناہ‘‘ سر چڑھتا۔ 

فقیر نے چارج لینے کے کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی اور عرض گزاری کی کہ 
ڈسپنسری اس لیے بنی تھی کہ ہر وقت ڈاکٹر میسر ہوتا کہ ملازمین دلجمعی کے ساتھ حساس اداروں کا مالیاتی نظام چلا سکیں۔ مگر آپ تو موجود ہی نہیں ہوتے۔ انہوں نے فرمایا میں اپنا مشن نہیں چھوڑ سکتا۔ اس پر تجویز پیش کی کہ آپ کو کہیں اور بھجوا دیا جائے اور یہاں کوئی ’’کم نیک‘‘ ڈاکٹر آئے تا کہ علاج معالجہ کر سکے۔ ڈاکٹر صاحب کا فقرہ آج بھی سماعت پر نقش ہے۔ سربراہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارتے ہوئے کہا’’کوشش کر دیکھیں!مجھے کوئی نہیں نکال سکتا!‘‘ 

حاضری کے رجسٹر کا معائنہ کیا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ’’محنت‘‘ سے واپس آ کر اکثر و بیشتر اپنی حاضریاں بھی خود ہی لگا لیتے۔ فقیر نے ان کے تبادلے کے لیے سلسلہ جنبانی کی تو ہر قدم پر رکاوٹ کھڑی نظر آئی۔ پھر بلند ترین سطح پر کوشش کی۔ تب جا کر تین چار ماہ کے بعد یہ کام ممکن ہو سکا۔ جب ڈاکٹر صاحب کو احساس ہوا کہ تبادلہ تو ہونے لگا ہے، تو جیسے بھونچال آ گیا۔ دور و نزدیک سے، شرق و غرب سے، اوپر نیچے سے سفارشوں اور دبائو کے پہاڑ اٹھنے لگے۔ جتنے دوست اس نیک کام سے منسلک تھے، سب نے لعن طعن کی۔ جب بتایا جاتا کہ مریض بے یارومددگار ہیں تو کوئی جواب نہ ملتا۔ 

خدا خدا کر کے سولہ برس کے بعد وہ کہیں اور گئے۔ ان کی جگہ ساڑھے چھ فٹ طویل ڈاکٹر افتخار آئے۔ انہوں نے آتے ہی سب سے پہلے ایک لیڈی ڈاکٹر کی تعیناتی کرائی۔ پھر لیبارٹری کے لیے آلات منگوائے۔ ادویات کی رسد بڑھائی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ڈاکٹر صاحب اور ان کی معاون لیڈی ڈاکٹر ہر روز صبح سے شام تک موجود رہتیں۔ ملازمین نے سکھ کا سانس لیا۔ ان کے کنبوں کو راحت میسر آئی۔ آج یہ ڈسپنسری، عملی طور پر چھوٹا سا ہسپتال ہے!خلقِ خدا فیض یاب ہو رہی ہے۔ 

ایک سنہری اصول یہ بھی ہے کہ لڑکیاں تعلیم نہ حاصل کریں۔ ڈاکٹر بنیں نہ نرسیں۔ پھر جب اپنے گھر کی عورتیں بیمار ہوں تو علاج مرد ڈاکٹر نہ کریں، لیڈی ڈاکٹر ہی کرے! ؎ 

کھنچیں میرؔ تجھ ہی سے یہ خواریاں
نہ بھائی!ہماری تو قدرت نہیں!

   


Thursday, January 03, 2019

3019ء



پچھلے ایک ہزار برس میں جو کچھ ہوا حیران کن تھا۔ مگر اب کے ہزار برس پورے ہوئے تو جو نہ ہو سکا وہ زیادہ حیران کن تھا۔ 

ہزار برس کے عرصہ کو اہل فرنگ ملی نیم 
(Millennium)
 کہتے ہیں۔ کچھ سفید فام اسے ’’کلوائیرز‘‘
 (Killoyears)
 کا نام بھی دیتے ہیں۔ سو سال گزریں تو ایک صدی بنتی ہے۔ سو صدیاں بیت جائیں تو ایک ملی نیم پورا ہوتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا ؎ 

پل پل میں تاریخ چھپی ہے گھڑی گھڑی گرداں ہے ندیم 
ایک صدی کی ہار بنے گی ایک نظر کی بھول یہاں 

دو ہزار سال پہلے یعنی 1019ء میں عجب صورت حال تھی۔ یہ خطہ جو اب پاکستان کہلاتا ہے، مسلسل حملہ آوروں کی زد میں تھا۔ اس خون خرابے کی ابتداء 977ء میں ہوئی جب غزنی کے چھوٹے سے قصبے میں سبکتگین تخت نشین ہوا۔ کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کو اس وقت بھی اس علاقے میں، جواب افغانستان کہلاتا ہے، کچھ نہ تھا۔ اس وقت سمگلنگ کا رواج نہ تھا۔ براہ راست حملہ آور غزنی اور قرب و جوار سے آتے اور جو کچھ ملتا، لے جاتے۔ یوں بھی سبکتگین نے غزنی کی سلطنت کو شمال میں دریائے آمو اور مغرب میں بحیرہ کیسپین تک توسیع دے لی تھی۔ مشرق میں پنجاب تھا۔ اس پر چڑھائی ناگزیر تھی۔ یہاں جے پال حکمران تھا۔ اس نے مقابلہ کیا مگر شکست کھائی۔ 

سبکتگین کے جانشین محمود غزنوی نے جے پال کے بیٹے انند پال کو شکست دی۔ وہ دیار جو آج پاکستان کہلاتا ہے، محمود غزنوی اور اس کے لشکروں کے لیے چراگاہ تھا۔ سترہ حملے ہوئے۔ بت توڑے گئے اور مال منال بھی سمیٹا گیا۔ یہاں سے پکڑے گئے قیدی غلام بنائے جاتے اور وسط ایشیائی منڈیوں میں اچھی قیمت پاتے۔ یہ اس عہد کی عام اقتصادی سرگرمی تھی۔ 1019ء کے لگ بھگ محمود نے پنجاب سے گزر کی قنوج، میرٹھ اور کشمیر کو زیرنگیں کیا۔ اسی عرصہ میں متھرا کو بھی تاراج کیا۔ 

پھر ہزار برس گزر گئے۔ 2019ء آیا۔ اب اس خطے پر ایک پٹھان نژاد عمران خان حکمران تھا۔ یہ سر پھرا پٹھان اس کوشش میں رہا کہ شیر شاہ سوری بنے مگر تاریخ میں سوری صرف ایک ہی پٹھان گزرا ہے۔ کوئی دوسرا اس کا ہمسر نہ ہو سکا ؎ 

قیس سا پھر نہ اٹھا کوئی بنی عامر میں 

فخر ہوتا ہے قبیلے کا سدا ایک ہی شخص 

عمران خان نے حکومت سنبھالی تو چور، ڈاکو، رسہ گیر، اٹھائی گیرے عام دندناتے پھرتے تھے اور تو اور حکومت بھی انہی کے پاس رہی تھی۔ ان ڈاکو حکمرانوں نے بیرون ملک جائیدادیں کارخانے محلات بہت زیادہ بنا رکھے تھے۔ اس زمانے میں ایک تکنیک روپیہ پیسہ بیرون ملک بھیجنے کی، ڈاکوئوں میں عام تھی۔ اسے ’’منی لانڈرنگ‘‘ کہتے تھے۔ اس فرنگی تکنیک کا تعلق دھوبی گھاٹ سے بھی تھا۔ یعنی لانڈری سے! 

ایک مرض عمران خان کے عہد میں یہ پھیلا کہ صحافیوں اور ٹیلی ویژن والوں نے ڈاکو حکمرانوں کا خوب ساتھ دیا۔ اس گروہ کے اپنے مفادات تھے۔ بعض تو صرف اس لیے ڈاکو حکمرانوں کی حمایت کرتے تھے کہ ان کے ساتھ ہیلی کاپٹروں میں گھومتے پھرتے تھے۔ بعض نے اقربا کے لیے نوکریاں مانگیں اور پائیں۔ بعض طیاروں میں بیرون ملک ساتھ جاتے۔ اسی زمانے میں ہائوسنگ سوسائٹیوں کے ایک معروف کھرب پتی کے حوالے سے کچھ صحافیوں کے بینک اکائونٹ نمبر بھی عام ہوئے جن میں اس کھرب پتی نے روپوں کی تھیلیاں ڈالی تھیں۔ کچھ نے نیم دلی سے تردید کی مگر اکثر نے اعصاب مضبوط رکھے۔ بہرطور یہ طے تھا کہ ڈاکو حکمرانوں کے حامی صحافی، کالم نگار اور میڈیا پرسن مفادات کے اسیر تھے۔ 

اس زمانے میں ایک ادارہ نیب کے نام سے لوٹ مار ختم کرنے کا دعویدار تھا مگر کوئی ٹھوس برآمدگی دکھا سکا نہ بیرون ملک سے دولت کی واپسی ہی ممکن ہوئی۔ پختون نژاد عمران خان کے ہم رکاب جو سوار تھے، ان میں سارے گندمی رنگ کے نہ تھے۔ کچھ نیلے پیلے ارغوانی اور زرد رُو بھی تھے۔ ان کے بارے میں زبان خلق جو کچھ کہتی تھی، اطمینان بخش ہرگز نہ تھا۔ نیب زدہ یہ بھی تھے مگر حکومت کی دلیل یہ تھی کہ فرشتے کہاں سے لائے جائیں۔ دوسری طرف عوام کی توقعات آسمان پر تھیں۔ 

پھر صدیاں بیت گئیں۔ ایک ہزار برس گزر گئے۔ اب 3019ء ہے۔ گزشتہ ملی نیم سے موازنہ کریں تو حیرت سے زبان گنگ ہو جاتی ہے اور دماغ گھومنے لگتا ہے۔ 1019ء سے 2019ء تک اس قدر تبدیلیاں رونما ہوئیں کہ کئی انقلابات کی گواہی دینے والے ستارے بھی دم بخود تھے۔ کہاں وہ زمانہ کہ غزنی اور جلال آباد سے آنے والے حملہ آور سینکڑوں ہاتھی اور ہزاروں قیدی ساتھ لے جاتے۔ کہاں 2019ء کہ کسی حملے، کسی قتل و غارت کے بغیر ساری اشیائے ضرورت افغانستان پہنچ جاتیں۔ کپڑا، ادویات، سیمنٹ، سریا، گوشت، گھی، چینی، آٹا یہاں تک کہ پکی ہوئی روٹیاں بھی پاکستان سے جاتیں۔ سمگلنگ کا یہ جادو 1019ء میں ناپید مگر 2019ء میں عام تھا۔ اس کے بدلے میں بارڈر پار سے ہر قسم کا اسلحہ اور ہر قبیل کی منشیات آتیں اور وافر مقدار میں آتیں۔ مگر 2019ء سے لے کر 3019ء تک کوئی خاص تبدیلی نہ آ سکی۔ ایک ہزار برس گذر گئے مگر عمران خان نے جس کام کا آغاز کیا تھا، ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ شریف خاندان کی بیسویں نسل لندن کی جائیدادوں پر بدستور قابض ہے۔ گزشتہ ایک ہزار برس سے یہ لوگ کبھی جیل جاتے ہیں، کبھی باہر نکل کر انگلیوں سے وکٹری کا نشان بناتے ہیں۔ آج تک ایک روپیہ ان سے واپس لے کر قومی خزانے میں نہیں ڈالا گیا۔ 

نیب ہزار برس بعد بھی دعوئوں پر دعوے کر رہی ہے۔ اب تو نیب کے چیئرمین کے پاس آواز سے زیادہ تیز رفتار طیارے ہیں اور خلائی شٹل بھی ہے کہ مجرموں کو مریخ اور زہرہ سے واپس لایا جا سکے۔ مگر مقدمے اس قدر کمزور بنائے جاتے ہیںکہ مریخ اورزہرہ کی پولیس ہنس کر ٹال دیتی ہے۔ عمران خان کے جانشین حکمران دلیل اس پر یہ دیتے ہیں کہ نیب میں اور دیگر تحقیقاتی اداروں میں افرادی قوت اب بھی شریفوں کی وفادار ہے۔ یعنی ہزار سال بعد بھی۔ 

زرداری خاندان کی بھی بیسویں بائیسویں نسل بدستور سندھ پر حکومت کر رہی ہے۔ بلاول کے پڑپوتے کا لکڑ پوتا نیب کا مذاق اڑاتا ہے۔ آج 3019ء میں گائوں گائوں بلاول ہائوس بن چکے ہیں۔ دبئی کے آدھے سے زیادہ ٹاور آج بھی اسحاق ڈار اور زرداری کی موجودہ نسلوں کے قبضے میں ہیں۔ 

بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت ابھی تک جاری ہے۔ سنا ہے ہزار برس پہلے ایک بیوروکریٹ ناصر درانی کو افسر شاہی کی اصلاح کا کام سونپا گیا مگر وہ بددل ہو کر مستعفی ہوگیا۔ پھر کبھی اس کا نام پیش منظر پر نہ آیا۔ نوکرشاہی کا ایک گروہ اس وقت بھی چھایا ہوا تھا۔ اب بھی فرماں روائی اسی کی ہے۔ سنا ہے ہزار سال پہلے ایک عشرت حسین تھا۔ وہ اس گروہ کو آب حیات پلا گیا۔ مورخ کہتے ہیں کہ جاہ طلب تھا عمران خان سے پہلے ایک سپہ سالار جنرل پرویز مشرف کو بھی شیشے میں اس نے اتارا تھا اگرچہ حاصل حصول وصول کچھ نہ ہوا۔ 

عمومی حالت بھی ایک ہزار سال بعد جوں کی توں ہے۔ دارالحکومت میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی شاہراہ ایکسپریس ہائی وے آج بھی گلبرگ سے لے کر روات تک شکستہ اور تنگ ہے۔ عمران خان کے جانشین، ایک ہزار برس بعد بھی سڑکیں اس لیے نہیں بنواتے کہ شریفوں کے ساتھ کوئی قدر مشترک نہ ہو جائے۔ آج 3019ء میں دوسرے ملکوں میں ہوا میں چلنے والی کاریں اور ٹیکسیاں عام ہیں مگر پاکستان میں ٹریفک کی ابتری اسی طرح ہے۔ ٹریکٹر، ٹرالیاں، ڈمپر اور ٹرک اب بھی کاروں کو اور انسانوں کو کچل دیتے ہیں اور وحشی ڈرائیوروں کا قانون کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ عمران خان کا ایک جانشین ہوا میں اڑنے والی کریم اور اوبر لایا مگر شادیوں کے مواقع پر ہونے والی ہوائی فائرنگ سے کئی گاڑیاں زمین پر اوندھے منہ آن لگیں۔ چنانچہ یہ ماڈرن ذریعہ آمدورفت ختم کردیا گیا۔ ہاں، ہوائی فائرنگ کے ذریعے جشن مسرت منانے کا رواج بدستور مقبول عام و خاص ہے۔ 

ملک میں بڑے بڑے کارخانے سارے آئی ایم ایف کی ملکیت میں ہیں۔ زرعی جاگیروں کو قرقی کرکے ورلڈ بینک نے اپنے نام کرلیا ہے۔ ہزار برس پہلے پاکستان کا قبلہ و کعبہ واشنگٹن تھا۔ آج اتنا فرق ہے کہ ماسکو، بیجنگ، دبئی اور ریاض بھی موثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ ترین فیملی ہزار برس پیشتر عمران خان کے زمانے میں نمایاں ہوئی تھی۔ آج اس کی موجودہ نسل کے پاس گنے کی فصل اور شکر کے کارخانوں کی سوفیصد ملکیت ہے۔

کیا خبر ہزار برس بعد یعنی 4019ء تک کچھ تبدیلی رونما ہو جائے۔ 





   

Tuesday, January 01, 2019

کُکڑا دَھمی دیا


ایک زمانہ گزر چکا ہے۔ ہم ایک اور زمانے میں اتر چکے! ایک اور زمانہ جو مختلف ہے۔ 

سنّاٹا ہے۔ گہرا سنّاٹا۔ رات لمبی ہے اور کالی! کہیں کہیں کوئی تارا نرم مدہم لَو دے رہا ہے۔ چاند کب کا رخصت ہو چکا ہے۔ دور سے آواز آتی ہے اندھیرے کھیتوں کے اوپر آہستہ آہستہ پر پھیلاتی۔ 

کُکڑا دھمی دیا کُویلے دِتی اَیی بانگ 
ماہیا ٹور بیٹھی تے میکوں پچھوں لگا ارمان 

اے پَو پھٹے کے مُرغ! تونے ناوقت اذان دی اور میں نے ماہیا رخصت کر دیا اب بیٹھی افسوس کر رہی ہوں!! 

دنیا کی کوئی زبان رات دَھم جانے کا ترجمہ نہیں کر سکتی! پھو پھٹنا یا صبحِ صادق شاید قریب تر ہو۔ مگر رات دَھمنے کا مطلب صرف پو پھٹنا تو نہیں! اس میں تو زمانے بھرے ہیں۔ رات دھم جاتی ہے مگر اُس وقت جب فراق کے طویل لامتناہی اندھیروں سے جگر خون ہو چکا ہوتا ہے۔ 

مرغ کی اذان۔ جدائی کا کڑا استعارہ ہے۔ ایک زمانہ لد چکا۔ ہم ایک اور زمانے میں اتر چکے ہیں۔ 

مسافر مرغ کی اِس اذان کے ساتھ‘ جب رات دھم چکتی تھی۔ گھر سے رخصت ہوتا تھا۔ 
تعطیل کے دن برق رفتاری سے گزر چکے ہوتے تھے۔ رات سونے سے پہلے سامان‘ ٹرنک میں ڈال کر رختِ سفر تیار کر دیا جاتا تھا۔ سرِ شام خاتون خانہ صحن کے کونے میں نصب مٹی کے چولہے سے جلتے انگارے لے کر مٹی کی انگیٹھی میں ڈالتی اور اندر کمرے میں لے آتی۔ اس انگیٹھی کے گرد بیٹھ کر‘ لالٹین کی روشنی میں وصال کا آخری عشائیہ کھایا جاتا۔ کھانے کے بعد‘ ماں تھی یا بیوی‘ کوئلوں پر کڑھا ہوا دودھ مٹی کے پیالے میں ڈال کر اندر لاتی اور اُن آنسوئوں کے ساتھ مسافر کو پیش کرتی جو لالٹین کی ملگجی روشنی میں دکھائی نہ دیتے۔ پھر سونے سے پہلے لالٹین بجھ جاتی! رات کروٹیں لیتے گزرتی آدھی رات کے وقت باہر صحن میں نکلتا تو صحن چاند کی روشنی میں نہا رہا ہوتا۔ مسافر شکیب جلالی کا شعر پڑھتا ؎ 

خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جُھک کے کھڑکی میں 
کبھی چراغ بھی جلتا ہے اس حویلی میں 

پھر رات دَھمتی تھی۔ مرغ مسافر کو بیدار کرتا۔ ملازم گھوڑے پر زین کستا اور کُوچے میں لاکھڑا کرتا۔ پھر صبحِ صادق کے اُس کرب ناک وقت میں آنسو امڈتے۔ کچھ بہتے۔ کچھ رُکتے۔ سورج قدموں کے ان نشانوں پر چل کر طلوع ہوتا۔ مسافر کو ٹرین پر چڑھا کر دوپہر کو گھوڑا اور ملازم واپس آتے تو گھر کی ویرانی میں اضافہ ہو جاتا! 

یہ وہ زمانہ تھا جب لوگ ڈرتے نہیں تھے۔ رات سے نہ رات کے اندھیرے سے نہ آسیب سے! وہ راتوں کو سفر کرتے۔ تن تنہا‘ پیدل یا گھوڑے پر۔ پہاڑوں‘ ٹیلوںچٹانوں اور پتھروں کے درمیان! ندی نالوں کو عبور کرتے‘ دریائوں کو پار کرتے‘ برچھی یا بندوق کی معیت میں! زمین پر رینگتے سانپ دکھائی دیتے۔ سرسراتے کھیتوں سے خرگوش اور گیدڑ بھاگتے ہوئےنکلتے اور ستاروں کی روشنی میں راستہ دیکھتے غائب ہو جاتے۔ 

مہمان آتا تو پہلے اُس کے گھوڑے کے لئے تھان اور چارے کا انتظام کیا جاتا۔ مہمان کی ضیافت پرندوں کے گوشت سے کی جاتی! ایک یا زیادہ سے زیادہ دو ڈشیں ہوتیں۔ تب ڈشیں تعداد میں زیادہ نہ ہوتیں مگر جتنی ہوتیں ان کی مقدار خوب ہوتی۔ گلبدن بیگم ہمایوں نامہ میں لکھتی ہے کہ ہمایوں نے پھوپھیوں کی ضیافت کی تو پچپن بھیڑیں ذبح کیں کسی اور ڈش کا نام نہیں لکھا۔ ہیرلڈ لیم نے امیر تیمور پر کمال کی کتاب لکھی ہے مگر بریگیڈیئر گلزار احمد نے اس کا جو ترجمہ کیا ہے‘ اصل سے بڑھ کر کیا ہے۔ ایسا اسلوب کہ پڑھتے ہوئے خمار آتا ہے۔ افسوس یہ معرکہ آرا ترجمہ اب نایاب ہے’’میری لائبریری‘‘ نے شائع کیا تھا۔ اس میں لکھا ہے کہ موٹی روٹیاں گوسفند کے شوربے میں ڈبو کر کھائی جاتیں! 

دھات کی دیگیں بہت بعد میں عام ہوئیں۔ پہلے کھانا مٹی کی دیگوں میں پکتا تھا۔ انہیں کٹوے کہا جاتا۔ زمین پر لمبی نالیاں کھودی جاتیں ان میں آگ جلاتے اور اُوپر‘ قطار اندر قطار یہ کٹوے رکھ دیے جاتے۔ 

تاروں بھرا آسمان گئی گزری داستان بن چکا ہے۔ تب لوگ چھتوں پر یا صحنوں میں سوتے۔ شہروں کے تنگ مکانوں کے سامنے گلیوں میں بھی سو جاتے۔ رات بھر چاندنی۔ تاروں کی لو اور ہوا کا مزہ اٹھاتے۔ اوس پڑتی۔ بستر گیلے ہو جاتے۔ سر سے پائوں تک چادر اوڑھ لی جاتی۔ تب مچھر دانیاں عام تھیں۔ سرِ شام چارپائیوں پر تان دی جاتیں۔ چھڑکائو کیا جاتا۔ صحن چارپائیوں سے بھر جاتے۔ راتوں کو جھونکوں کی تاب نہ لاتے ہوئے درخت جھومتے۔ قدرت کا ایئر کنڈیشنر چلتا۔ اب ہم جس عہد میں گلے گلے تک دھنس چکے ہیں اس میں مفلس کا یہ حال ہے کہ چھت کے پنکھے تلے حبس بھری رات اس طرح گزارتا ہے کہ بار بار کپڑے سے گردن گلے اور چہرے کا پسینہ پونچھتا ہے اور آسودہ حال ایئر کنڈیشنر میں سو کر جوڑوں کے درد کو دعوت دیتا ہے۔ تازہ ہوا‘ تاروں کی لَو اور چاندنی مفلس کو میسر ہے نہ امیر کو! مال مست اور حال مست دونوں اندر مقید ہیں۔ اب انسان کمرے میں پیدا ہوتا ہے۔ وہیں پلتا بڑھتا ہے۔ وہیں لڑکپن اور شباب گزارتا ہے۔ پھر جب بوڑھا ہو کر چارپائی سے لگتا ہے تو گھر میں بھی کمرہ ہی اُس کے مقدر میں لکھا ہے۔ یا ہسپتال کا وارڈ۔ آخری سانس لیتے وقت۔ دنیا کی آخری چیز جس پر نظر پڑتی ہے‘ چھت کا پنکھا ہے۔ 

پھر فراق کی دھوپ ڈھلتی ہے۔ ہفتے میں دو بار آنے والا چھٹی رساں خط لاتا ہے جس میں آمد کا ذکر ہے۔ سب کچھ بدل جاتا ہے۔ گھر کی دیواروں کو لکڑی کی سیڑھی پر چڑھ کر پوچے سے سفید کیا جاتا ہے۔ کمروں میں مٹی کا فرش نیا بچھتا ہے۔ گول پتھروں سے مٹی کے فرش کو مزید ہموار اور چکنا کیا جاتا ہے۔ صحن میں کیاریوں کی کانٹ چھانٹ ہوتی ہے۔ اب رات دھمتی ہے تو مرغ کی آواز ناوقت نہیں لگتی۔ اب یہ مژدہ جانفزا ہے۔ پھر مسافر پہنچتا ہے تو اعزہ و اقربا جمع ہوتے ہیں۔ گلی کوچوں میں چلتا ہے تو بڑی بوڑھیاں کھڑا کر لیتی ہیں۔ بلائیں لیتی ہیں۔ احوال پوچھتی ہیں۔ 

راستے عجیب تھے۔ دونوں طرف کانٹوں کی باڑ ہوتی۔ مخالف سمت میں سفر کرتے لوگ ایک دوسرے کو‘تپاک سے ملتے۔ سب کو پتہ ہوتا کہ یہ کون ہے‘ کس کا بیٹا ہے۔ کس کا پوتا ہے۔ اس اثنا میں جس جس گھر میں کوئی دنیا سے چل بسا ہوتا‘ اس کی ‘ گھر گھر جا کر تعزیت کی جاتی۔ دعا کو ہاتھ اُٹھتے۔ 

ہر بستی کے مضافات میں گورستان ہے۔ جہاں صرف انسانوں کی قبریں نہیں۔ وقت بھی مدفون ہے۔ وقت کا ایک ٹکڑا آتا ہے۔ اس کے ساتھ بچے ہوتے ہیں یہ بچے اور وقت کا ٹکڑا ایک ساتھ بڑے ہوتے ہیں۔ لڑکپن ‘ شباب‘ پھر بالوں میں چاندی اترتی ہے۔ رخسار سونا ہونے لگتے ہیں‘ وقت کا ٹکڑا ان سب کو ساتھ لیتا قبرستان میں دفن ہو جاتا ہے۔ پھر نئی پیدائشیں ہوتی ہیں۔ نئے قبرستان وجود میں آتے ہیں۔ پھر یہ قبریں بھی دھنستی جاتی ہیں ؎ 

لوح مزار دیکھ کے جی دنگ رہ گیا
ہر ایک سر کے ساتھ فقط سنگ رہ گیا 

پو پھٹے مرغ پر جھاڑ کر آواز لگاتا ہے - رات دھمتی ہے - ایک میت اور !! وقت کا ایک ٹکڑا اور !!
   







 

powered by worldwanders.com