Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Tuesday, November 05, 2019

چینی طریقہء علاج



آپ پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ تلاش کر رہے ہیں۔ ایک جگہ خالی نظر آتی ہے۔ آپ وہاں گاڑی پارک کرنے کے لئے قریب پہنچتے ہیں کہ اچانک، زوں کر کے ایک تیز رفتار کار‘ وہاں کھڑی کر دی جاتی ہے۔ آپ اس بدتمیزی پر ہکا بکا رہ جاتے ہیں آپ کو اپنی باری سے محروم کرنے والا شخص کار پارک کر کے‘ کار سے باہر نکلتا ہے۔ گاڑی کو لاک کرتا ہے اور یہ جا وہ جا! وہ آپ کو اس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ آپ سے معذرت کرے۔ یا آپ پر ایک نگاہ ِغلط انداز ہی ڈال لے۔ آپ دل مسوس کر کے رہ جاتے ہیں۔ 

مگر اب ایسا نہیں ہو گا اس لئے کہ چینی عورتیں پہنچ گئی ہیں۔ 

یہ دارالحکومت کا پر رونق اتوار بازار ہے ۔ شاہراہ کے کنارے پارکنگ بنی ہوئی ہے یا بنا لی گئی ہے۔ ایک چینی خاندان بھی خریداری کرنے آیا ہے۔ یہ ایک خالی جگہ گاڑی پارک کرنے ہی والے تھے کہ زوں کر کے ایک گاڑی آتی ہے اور وہاں پارک ہو جاتی ہے۔ جلد باز نوجوان فاتحانہ شان سے باہر نکلتا ہے مگر دوسری گاڑی سے چینی عورتیں باہر نکلتی ہیں اور اس نوجوان کو گریبان سے پکڑ کر اس بدتہذیبی ‘ بدتمیزی اور جنگلی پن کا مزہ چکھانا چاہتی ہیں۔ آناً فاناً لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ ہجوم اکٹھا ہو جاتا ہے۔ابھی چینی خواتین نے نوجوان کی مرمت شروع ہی کی تھی کہ پولیس کا اہلکار بھی پہنچ گیا اور ’’بیچ بچائو‘‘ کرا دیا۔ تاہم چینی خواتین جو پیغام دینا چاہتی تھیں وہ نوجوان کو مل گیا اور پاکستانیوں کے تماش بین انبوہ کو بھی!! 

آپ کا کیا خیال ہے کہ کیا ہم پاکستانی چیخ چیخ کر اعلان نہیں کر رہے کہ ہماری بیماری کا واحد حل یہی ‘‘چینی طریقۂ علاج ہے؟ ستر برس ہو گئے دوسرے طریقہ ہائے علاج آزماتے آزماتے! بیماری ہے کہ وہیں کی وہیں ہے! ہم تہذیب کے بنیادی تقاضے بھی پورے نہیں کر سکتے! دانشور‘ ادیب‘ صحافی‘ ڈرامہ نگار‘ لکھ لکھ کر تھک گئے۔ علما اور واعظ ’’اکرام مسلم‘‘ سمجھا سمجھا کر عاجز آ گئے۔ مسلمان بھائی کا احترام کرنے پر فضائل کے فضائل پڑھے پڑھائے سنے سنائے جا چکے مگر اکرام تو دور کی بات ہے‘ مسلمان بھائی کو یا بہن کو ہم اتنی اہمیت دینے کو بھی تیار نہیں جتنی کسی نوکر کو دی جاتی ہے! 

جو چینی خواتین کے ساتھ ہوا ‘ آپ کے ساتھ کئی بار ہوا۔ مگر آپ کچھ نہ کر سکے!آپ کسی سپر سٹور کے کائونٹر پر کھڑے ہیں۔ پیچھے سے آنے والا آپ سے پہلے سامان کائونٹر پر رکھنا شروع کر دیتا ہے، آپ اسے دیکھتے ہیں حیران ہوتے ہیں مگر کچھ نہیں کر سکتے۔ آپ اے ٹی ایم سے باہر نکلتے ہوئے‘ اگلے گاہک کے لئے دروازہ کھول کر کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ آپ کا شکریہ نہیں ادا کرتا! آپ حیران ہو کر چلے جاتے ہیں۔ ہم پاکستانیوں کو تمیز سکھانے کے لئے چینی عورتیں درآمد کی جانی چاہئیں۔ جیسے ہی آپ کی باری توڑ کر‘ کوئی اپنا سامان کائونٹر پر آپ سے پہلے رکھتا ہے تو وہاں ایک چینی عورت موجود ہو جو اسے گریبان سے پکڑ کر پہلے اچھی طرح جھنجھوڑے پھر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کرے اور بتائے کہ ابھی تمہاری باری نہیں آئی۔ اسی طرح وہ نواب ابن نواب ابن نواب‘ جو آپ کا شکریہ ادا کئے بغیر اے ٹی ایم کے اندر گیاہے‘ چینی عورت اسے گریبان سے پکڑ کر کھینچ کر‘ کیبن سے باہر نکالے اور بتائے کہ یہ شریف آدمی جو تمہارے لئے دروازہ کھول کرکھڑا تھا۔ تمہارا خاندانی ملازم نہیں ہے۔ پہلے اس کا شکریہ ادا کرو ورنہ تمہاری پٹائی کی جائے گی!! 

قدم قدم پر محسوس ہوتا ہے کہ ہم بنیادی ادب آداب سے محروم ہیں۔ دو دن پہلے کی بات ہے کہ مسجد کے دروازے کے قریب یوں معلوم ہوا جیسے مسجد کے اندر کوئی صاحب کسی سے جھگڑا کر رہے ہیں اندر جا کر دیکھا تو ایک صاحب وضو کے چبوترے پر بیٹھے‘ پھیپھڑوں کا پورا زور لگا کر کسی سے باتیں کر رہے تھے۔ عین اسی وقت ساتھ‘ جماعت کھڑی تھی۔ تو کیا چینی عورتیں مسجدوں کے اندر بھی تعینات کرنا پڑیں گی؟؟ کیوں کہ مجھ سمیت ‘ کسی کی مجال نہ تھی کہ ان صاحب کو روکتا یا ٹوکتا! طاقت ور پھیپھڑوں کے ایسے مالک ریل کے ڈبوں میں بھی بیٹھے ہوتے ہیں جو باقی تمام مسافروں کے اعصاب کا امتحان لے رہے ہوتے ہیں۔ 

کئی ملکوں میں اے ٹی ایم‘ کیبن کے اندر نہیں ہوتے بلکہ بازار یا مال کے ایک طرف کھلی جگہ پر نصب ہوتے ہیں۔ کیا مجال کہ پیچھے کھڑا ہوا مرد یا عورت اگلے شخص کے قریب بھی کھڑا ہو وہ ہمیشہ ایک معقول فاصلے پر کھڑا ہو گا۔ اتنا فاصلہ جس میں کم از کم دو افراد سما سکیں! 

برسبیل تذکرہ‘ چین میں ایک شہر ایسا بھی ہے جہاں کی عورتیں شوہروں کی سر بازار پٹائی کرنے کے لئے مشہور ہیں۔ اگر کچھ عورتیں اس شہر سے بھی درآمد کر لی جائیں تو کم از کم ان بے کس پاکستانی عورتوں کو مناسب’’تربیت‘‘ دے سکتی ہیں جن کے ظالم شوہر انہیں اس لئے طلاق کی دھمکیاں دیتے ہیں کہ بیٹی کو کیوں جنم دیا؟ یا اس لئے زدو کوب کرتے ہیں کہ سالن میں نمک کم ہے! چین کے اس شہر کو جہاں شوہر مظلوم ہیں‘ پاکستانی مرد بھی برآمد کئے جا سکتے ہیں جو ان بکری بنے ہوئے مردوں کو حوصلہ دیں اور سکھائیں کہ عورت زدوکوب کرے تو چپ کر کے مار کھانے کے بجائے بھاگ کر کم از کم اس کی دسترس سے وقتی طور پر تو دور ہو جائیں۔ 

اتوار بازار میں جب چینی عورتیں جلد باز نوجوان کو تہذیب سکھانے کی کوشش کر رہی تھیں تو ایک حیرت انہیں یہ بھی ہوئی کہ کس طرح آناً فاناً ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ یہ بھی ہماری شناخت بن چکی ہے۔ آپ کی گاڑی کسی موٹر سائیکل یا کار سے ٹکرائی‘ ابھی آپ باہر نکل کر دوسرے ڈرائیور سے بات ہی کر رہے ہیں کہ آن کی آن میں لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ہر شخص آپ کو مشورہ دے رہا ہے کہ چھوڑیں‘ جانے دیں۔ حالانکہ آپ اور دوسری گاڑی والا شخص آپس میں جھگڑ بھی نہیں رہے۔ ایک سبب اس ہجوم گردی کا یہ ہے کہ ہمارے ہاں بیکار لوگوں کی کمی نہیں اور جو اپنے کام پرجا رہے ہیں وہ بھی باقاعدہ رک کر جائے حادثہ سے لطف اندوز ہونا ضروری سمجھتے ہیں۔ 

شفیق الرحمن لکھتے ہیں کہ ایک شخص‘ ایک دو منزلہ یا سہ منزلہ مکان کے سامنے سڑک پرکھڑا ہوا اور اوپر مکان کی طرف دیکھنے لگا۔ تھوڑی دیر میں ایک اور شخص بھی اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اوپر دیکھنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں ایک ہجوم وہاں کھڑا تھا جو مکان کی بالائی منزل کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔ مکان کے مکین کو معلوم ہوا تو وہ بالائی منزل کی کھڑکی سے نیچے دیکھنے لگا کہ یہ سب لوگ جمع ہو کر اوپر اس کے مکان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں۔ اس منظر کا تصور کیجیے کہ ہجوم اس شخص کو اوروہ شخص ہجوم کو دیکھ رہا ہے اور مسلسل دیکھ رہا ہے۔ 

ماشاء اللہ مردم خیزی میں ہم اپنی مثال آپ ہیں۔ کسی امریکی نے کہا تھا کہ پاکستان میں بلب بدلنے کے لئے پانچ افراد درکار ہوتے ہیں۔ ایک سٹول پر کھڑا ہو کربلب اتارتا ہے۔ دوسرا سٹول کو پکڑے ہوتا ہے۔ تیسرا بلب پکڑتا اور پکڑاتا ہے۔ اور دو افراد پاس کھڑے یہ ’’تماشا‘‘ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ گھر میں کوئی مرمت کا کام ہو اور آپ کسی مستری کو یہ چھوٹا سا کام سونپیں تو دوسرے دن اس کے ساتھ دو اور افراد ضرور آئیں گے۔ زیادہ وقت ان کا اپنے اپنے موبائل پر گزرے گا جس پر وہ بار بار مخاطب سے پوچھیں گے کہ اور سنائو کیا حال ہے؟ ٭٭٭٭٭

Sunday, November 03, 2019

ریاستی قوانین اور ان کی دھجیاں



ریلوے کی آتش زدگی میں 74افراد موت کے گھاٹ اتر گئے۔ درجنوں زخمی موت و حیات کی کشمکش سے گزر رہے 
ہیں۔
آگ ریل کے اے سی سے شروع ہوئی یا گیس کے سلنڈر سے ؟ روایات متضاد ہیں۔ ہمارے ایک ثقہ کالم نگار نے ریلوے کے ایک دیانت دار افسر کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ اصل وجہ سلنڈر ہی تھے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ آگ کی ابتدا اے سی سے ہوئی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ زیادہ پھیلائو سلنڈر پھٹنے سے ہوا جو تعداد میں کئی تھے۔ 

ٹرین کے ڈرائیور محمد صدیق نے بتایا کہ تبلیغی جماعت والوں کو حادثہ کے بعد بھی سلنڈر رکھنے سے منع کیا لیکن تب بھی کوئی نہ مانا۔ روکا تو وہ لڑنے لگے۔ ایک عینی شاہد کہتا ہے کہ ایک شخص نے میرے سامنے سلنڈر جلایا۔ میں اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔ پہلے انہوں نے سالن گرم کیا۔ پھر چائے بنائی۔ دوبارہ پھر چائے بنانے لگے تو سلنڈر پھٹ گیا۔ 

سوال جو ذہن میں اٹھتا ہے یہ ہے کہ کیا سالہا سال تبلیغ میں صرف کرنے والوں کو یہ تربیت نہیں دی جاتی کہ ریاستی قوانین پر عمل پیرا ہونا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے؟ایک شخص جو ایک مذہبی جماعت کا حصہ ہے‘ اور ایک اور شخص جو کسی مذہبی جماعت سے تعلق نہیں رکھتا۔ کیا دونوں میں فرق نہیں ہونا چاہیے؟کیا مذہبی جماعت کے رکن کا رویہ اور عمل دوسرے سے بہتر اور قابل ستائش نہیں ہونا چاہیے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر یہ کیسی تبلیغ ہے؟ کیسی تربیت ہے؟ 

تبلیغی جماعت کے جس شخص کے نام پانچ بوگیاں بک ہوئیں ہماری اطلاع کے مطابق وہ زندہ ہے۔ کیا اس کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟کیا سلنڈر رکھنے کے غیر قانونی عمل پر اسے سزا نہیں دینی چاہیے۔ اس حادثے کے بعد کیا ہوا؟ ریلوے نے خانیوال کے قریب ایک اور ٹرین پر چھاپہ مارا۔ بہت سے سلنڈر ضبط کر لئے مگر بتایا گیا ہے کہ تبلیغی جماعت کے کارکنوں نے ریلوے پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔ حقوق العباد کا معاملہ ان کے ہاں ہمیشہ سے مفقود تھا۔ ریاستی قوانین کو پامال کرنا بھی اب عام ہے! 

اصل میں ریاستی قوانین‘ حقوق العباد کا حصہ ہیں۔ یہ قوانین عوام کی زندگی کی حفاظت کرتے ہیں اگر ریل میں گیس کے سلنڈر رکھنا‘ کھانا پکانا خلاف قانون ہے تو صرف اس لئے کہ اس میں جان کا خطرہ ہے۔ ہم اس آتش زدگی کو بھول کر صرف یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر قانون سلنڈر ریل میں لے جانے کی اجازت نہیں دیتا تو کیا اس قانون پر عمل نہیں کرنا چاہیے؟ 

تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک مدت وابستہ رہنے کے بعد۔ اس کالم نگار کے خیالات علم یا نظریات کی بنا پر نہیں بدلے!کیا اس کالم نگار کے نظریات اور کیا علم! کوئی دعویٰ ہے نہ زعم! خیالات صرف اور صرف آنکھوں دیکھے واقعات کی وجہ سے بدلے۔ مشاہدات کی وجہ سے بدلے۔ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اس جماعت کے ایک مقامی امیر نے کیسے گلی کی سرکاری زمین اپنے مکان میں شامل کر لی۔ کیسے ایک صاحب نے پڑوسی کی مسلسل اذیت سے تنگ آ کر مکان اونے پونے بیچا اور بستی ہی چھوڑ دی۔ یہ پڑوسی تبلیغی جماعت کا سرگرم رکن تھا۔ ایک صاحب عید قربان کے دنوں میں شب جمعہ پر جا رہے تھے۔ بوڑھے باپ نے کہا کہ قربانی کا جانور میں نہیں سنبھال سکتا۔ تم آج نہ جائو‘ وہ نہ مانا اور چلا گیا۔ 

ڈیڑھ عشرہ پہلے یہ کالم نگار ایک سرکاری ادارے کا سربراہ تھا۔ وفاقی حکومت کے ایک (سول) حساس ادارے نے درخواست کی کہ ایک دیانت دار اور معقول افسر تین سال کے لئے ڈیپوٹیشن پر دیا جائے۔ افسران سے آپشن لیا گیا۔ جو لوگ رضا مند تھے۔ ان میں سے ایک صاحب کو چُن کر اس خصوصی تعیناتی پر بھیج دیا گیا۔ یہ صاحب تبلیغی جماعت کے رکن تھے۔ وہاں جا کر چند دن کے بعد انہوں نے ایک سال (یا غالباً دو سال)کی چھٹی کی درخواست داغ دی۔ وجہ یہ لکھی کہ تبلیغ پر نکلنا ہے۔ حساس ادارہ ہکا بکا رہ گیا کہ تین سال کے لئے آپ تشریف لائے ہیں اور آتے ہی سال(یا دو سال) کی چھٹی مانگ رہے ہیں؟ یہ اَڑے رہے۔ تنگ آ کر ادارے نے صورت حال سے آگاہ کیا اور انہیں واپس بھیج دیا۔ محکمے نے اس غیر معقول اور اذیت ناک رویے پر انہیں چارج شیٹ کر دیا۔ چارج شیٹ کرنا تھا کہ بھونچال آ گیا۔ جتنے اصحاب تبلیغی جماعت سے اس کالم نگار کے واقف تھے۔ سب نے فون کرنا اور احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ جو واقف نہیں تھے انہوں نے بھی ڈرانا شروع کر دیا کہ اللہ کے دین کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہو! جب ان سے پوچھا جاتا کہ کیا ان صاحب کا رویہ درست تھا؟ اس کا جواب کوئی نہ دیتا! مگر یہ اصرار سب کرتے کہ چارج شیٹ واپس لی جائے۔ 

یہ دلیل کہ تبلیغی جماعت کے ارکان بھی آخر اسی معاشرے کا حصہ ہیں‘ بے وزن ہے‘ تبلیغی جماعت یا کسی بھی مذہبی جماعت کے ارکان سے عوام بہتر رویے کی توقع رکھتے ہیں۔ اگر ساری زندگی چِلّوں‘ سہ روزوں میں بسر کرنے کے بعد اور سالہا سال گشت ’’تعلیم‘‘ ’’تشکیل‘‘ اور ’’جوڑ‘‘ کے مراحل سے گزرنے کے بعد بھی کھلم کھلا ریاستی قوانین کی خلاف ورزی پر اصرار کیا جائے اور پولیس پر حملے کئے جائیں تو اس ساری تربیت کا کیا فائدہ؟ 

ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ریاستی قوانین قرآن و حدیث اور فقہی احکام کا درجہ نہیں رکھتے۔ یہ دلیل مضحکہ خیز ہے۔ اس کی رُو سے سمگلنگ جائز ہے اور تجارت کا حصہ ہے۔ ٹریفک قوانین کا قرآن و حدیث اور فقہ میں کہاں ذکر ہے؟ لال بتی پر رُک جانا‘ شریعت کی رُو سے ضروری نہیں! قرونِ اولیٰ میں پاسپورٹ اور ویزہ سسٹم بھی نہیں تھا۔ اندازہ لگائیے یہ دلیل معاشرے کو کس افراتفری سے دوچار کر سکتی ہے! 

دوسری طرف ریلوے کے عملہ کو ذمہ داری سے مبرّیٰ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اگر سلنڈر گاڑی میں رکھنے اور بوگیوں کے اندر کھانا پکانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تو پھر یہ اجازت کسی صورت میں نہیں دینی چاہیے۔ ریلوے پولیس ایک الگ محکمہ ہے۔ ایک سینئر افسر اس فورس کا سربراہ ہے۔ ریلوے پولیس کا فرض ہے کہ غیر قانونی عمل کو روکے اور ضرورت پڑے تو طاقت کا استعمال کرے۔ مجرموں کو گرفتار کرے۔ 

تبلیغی جماعت کا اجتماع رائے ونڈ میں جاری ہے۔ کیا جماعت کے بزرگ اپنی تقریروں میں اس حادثے کے اسباب و علل کا ذکر کریں گے؟ کیا وہ ریاستی قوانین پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کریں گے کیا وہ سلنڈر رکھنے والوں پر ناراضگی کا اظہار کریں گے؟ کچھ کہا نہیں جا سکتا! خدا کرے ایسا ہو! 

انگریزی حکومت جو ادارے صحت مند حالت میں چھوڑ کر گئی تھی‘ بدقسمتی سے ہم انہیں سنبھال نہ سکے۔ بھارت کی ریلوے ہماری ریلوے سے آگے نکل گئی۔جو ادارے ہم نے خود بنائے اور کامیابی سے چلائے‘ وہ بھی آخر کار تنزل کا شکار ہوئے قومی ایئر لائن اور سٹیل مل اس کی واضح مثالیں ہیں! ع 

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ ٭٭٭٭٭

Saturday, November 02, 2019

آخر مولانا وزیر اعظم کیوں نہیں بن سکتے



‎ہر طرف زرد رومال نما پگڑیوں کی بہار تھی۔ معلوم ہوا مولانا کی حکومت آ چکی ہے۔ کچھ دیر کے بعد ٹیلی ویژن چینل 
‎تقریب حلف برداری دکھا رہے تھے۔ مولانا ملک کے نئے وزیر اعظم تھے۔ 

‎سول سروس کے ایک مخصوص گروہ نے جو ہمیشہ باڑ پر رہتا ہے کہ بوقت ضرورت پھلانگ کر اس طرف یا اس طرف ہو جائے۔ سب سے پہلے سر پر زرد رومال نما پگڑیاں باندھیں ۔ ایک افسر سے پوچھا کہ اس کمال سرعت سے کایا کلپ کیسے ہو گئی؟ تڑ سے جواب دیا۔’’یاد نہیں؟ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ہمی نے سب سے پہلے واسکٹ اپنائی تھی!‘‘ 

‎پہلا حکم نئی حکومت نے یہ دیا کہ سرکاری دفاتر سے قائد اعظم کی تصاویر ہٹا دی جائیں۔ دوسرا حکم یہ تھا کہ آئندہ قائد اعظم کا لفظ استعمال کرنے والے کو دو سال قید بامشقت کی سزا دی جائے گی۔ بانی پاکستان کے لئے سرکاری ہدایت کی رو سے ’’جناح صاحب‘‘ کا لفظ بروئے کار لایا جائے گا۔ 

‎اس کے بعد تبدیلیوں کا ایک زبردست ریلا آیا جس میں ستر سال کے پاکستان کا سب کچھ بہہ گیا۔ یہ ایک نیا پاکستان تھا۔ مینار پاکستان کا نام بدل کر ’’شیخ الہند مینار‘‘ رکھ دیا گیا۔ سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں کے لئے تاریخ کی کتابیں ازسرنو لکھی جانے لگیں۔ قائد اعظم اور تحریک پاکستان کا ذکر ہر جگہ سے حذف کر دیا گیا۔جمعیت علماء اسلام کے جن اکابر نے تحریک پاکستان کی حمایت کی تھی۔ ان کا ذکر مدارس میں بھی ممنوع قرار دے دیا گیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی‘ مولانا شبیر احمد عثمانی‘ مفتی محمد شفیع کی کتب مع تفاسیر پر پابندی عائد کر دی گئی۔ 

‎نیا بیانیہ یہ جاری کیا گیا کہ تحریک پاکستان اصولاً غلط تھی۔ اس ضمن میں جمعیت علماء ہند اور احرار کا موقف درست تھا۔ مگر چونکہ پاکستان اب ایک امر واقعہ
 (Fait Accompli)
‎ہے اس لئے ہم اسے تسلیم کرتے ہیں۔ 

‎قائد اعظم کے مزار کے اردگرد خار دار تاریں لگا دی گئیں۔ عام لوگوں کا وہاں جانا ممکن نہ رہا۔ مارکیٹ سے راتوں رات علامہ اقبال کی تصانیف غائب ہو گئیں۔ اقبال کے خطبہ الہ آباد پر‘ جس میں انہوں نے علیحدہ مملکت کا تصور پیش کیا تھا۔ پابندی عائد کر دی گئی۔ علامہ کا مشہور قطعہ(زدیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبی ست) لکھنے یا پڑھنے والے کے لئے تین سال قید بامشقت کی سزا رائج کی گئی۔ 

‎ہر اس ادارے کا نام تبدیل کر دیا گیا جس میں قائد اعظم کا لفظ آتا تھا۔ قائد اعظم یونیورسٹی کا نام حسین احمد مدنی یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔ قائد اعظم ایئر پورٹ کا نام قاسم نانوتوی ایئر پورٹ ہو گیا۔ قائد اعظم میڈیکل کالج کا نام مولانا مظہر علی اظہر میڈیکل کالج رکھ دیا گیا۔ مولانا مظہر علی اظہر وہی صاحب تھے جنہوں نے سب سے پہلے قائد اعظم کو کافرِاعظم کہا تھا۔ تاریخ پاکستان کو تاریخ پاک و ہندمیں بدل دیا گیا۔ مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ کانگرس کی تشکیل اور خدمات بھی پڑھائی جانے لگیں۔ پاکستان کی جگہ اکثر و بیشتر‘ برصغیر کا لفظ ڈال دیا گیا۔ نئی لکھی جانے والی تاریخ میں بھارت اور پاکستان کا ذکر برابر برابر کیا گیا۔ 

‎حلف برداری کے بعد مولانا کو بتایا گیا کہ عام طور پر نیا حکمران قائد اعظم کے مزار پر حاضری دیتا ہے۔ مولانا نے اس کے بجائے مولانا مدنی کے مزار پر حاضر ہونے کا فیصلہ کیا۔بھارت میں وزیر اعظم مودی نے وزیر اعظم مولانا کا خود استقبال کیا اور مزارتک ذاتی رہنمائی کی۔ 

‎نئی حکومت نے اس عزم صمیم کا اظہار کیا کہ ہر تقرری خالص اور خالص میرٹ پر ہو گی۔ چنانچہ مولانا نے ایک بھائی کو وزیر خارجہ‘ دوسرے کو وزیر داخلہ اور تیسرے کو وزیر خزانہ مقرر کیا۔ ان کے صاحبزادے نے ڈپٹی وزیر اعظم کا منصب سنبھالا۔ ایک قانون یہ بنایا گیا کہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کو ایم اے یا ایم ایس سی کی ڈگری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک کہ وہ ایک مخصوص مسلک کے کسی مدرسہ سے پانچ سال کا ریفریشر کورس نہ کر لیں۔ چنانچہ یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے والے طلبہ و طالبات کے ریوڑ کے ریوڑ مدرسوں کی جانب رواں ہوئے۔

‎مفتی منیب الرحمن صاحب کو رویت ہلال کمیٹی سے مستعفی ہونا پڑا۔ ان کی جگہ ایک اور مفتی صاحب کا تقرر ہوا۔ اکرم درانی صاحب کو وزارت ہائوسنگ اور تعمیرات کا تاحیات وفاقی وزیر مقرر کیا گیا۔ مولانا کی کابینہ میں ڈاکٹر عشرت حسین‘ عمر ایوب‘ خسرو بختیار‘ ماروی میمن‘ یوسف بیگ مرزا۔ زبیدہ جلال‘ فہمیدہ مرزا‘ علی حیدر زیدی‘ اعظم خان سواتی‘ محمد میاں سومرو‘ شیخ رشید احمد‘ عبدالحفیظ شیخ‘ ثانیہ نشتر‘ فردوس عاشق اعوان‘ اور ڈاکٹر شمشاد اختر شامل تھیں۔ ان میں سے مرد وزراء نے زرد رومال نما پگڑیاں باندھنا شروع کر دی تھیں۔ خواتین وزراء نے افغانستان سے درآمد شدہ شٹل کاک سفید برقعے پہن لئے تھے۔ 

‎مولانا بوجہ مصروفیت ‘ خود کابینہ اجلاس کی صدارت کبھی نہیں بھی کرتے تھے۔ ایسے میں ان کی جگہ ڈپٹی وزیر اعظم (ان کے صاحبزادے) کابینہ اجلاسوں کی سربراہی کا فریضہ سرانجام دیتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد امیر مقام‘ طلال چودھری‘ طارق عظیم‘ زاہد حامد‘ ثناء اللہ زہری اور طارق فاطمی بھی کابینہ کا حصہ بن گئے۔ 

‎یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ وفاقی سیکرٹری صرف مدرسہ سے فارغ التحصیل ہونے والا تعینات ہو سکے گا۔ اس کی مدد کے لئے اس کے نائب کے طور پر سی ایس ایس کے ذریعے آنے والا افسر نائب وفاقی سیکرٹری مقرر ہو گا۔ مگر وہ فائل پر اپنا نام نہیں لکھ سکے گا۔ لازم ہو گا کہ وہ لمبا کرتا‘ بلند شلوار اور سیاہ رنگ کی واسکٹ پہنے یوں تو زرد رومال نما پگڑی اب انگریزی سوٹ کے اوپر بھی پہنی جا سکتی تھی۔ 

‎یہ خواب جب ایک دوست کو سنایا تو وہ حیران قطعاً نہیں ہوا۔ اس کا کہنا تھا کہ ایسا خواب ہی میں نہیں‘ حقیقت میں بھی ہو سکتا ہے۔ اگر پراگیا ٹھاکر بھارتی پارلیمنٹ کی ممبر ہو سکتی ہے تو مولانا وزیر اعظم کیوں نہیں ہو سکتے؟ پراگیا ٹھاکر کا قصہ یہ ہے کہ وہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی کٹر رکن ہے۔ اس نے برملا کہا کہ گاندھی کا قاتل ہیرو تھا۔ ہیرو ہے اور ہیرو رہے گا۔ مودی نے زبانی مذمت کی مگر پارٹی نے کوئی ایکشن نہ لیا۔ الٹا اسے ٹکٹ سے نوازا گیا۔ وہ بھوپال سے تین لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے جیتی اور آج پارلیمنٹ میں براجمان ہے۔ 

‎خطے میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ان کے پیش نظر کچھ بھی ناممکن نہیں۔ بھارت میں اگر گاندھی کے قاتل کو ہیرو کہنے والی لاکھوں ووٹوں کے مارجن سے انتخابات جیت سکتی ہے تو پاکستان میں قائد اعظم کو جناح صاحب کہنے والے اور تحریک پاکستان کے مخالف حکومت کیوں نہیں بنا سکتے۔ اگر انہوں نے بھارت جا کر کہا تھا کہ ایک عدد گول میز کانفرنس بلا کر پاک بھارت سرحد ختم کی جا سکتی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے!

Tuesday, October 29, 2019

نواز شریف اور عمران خان ………دو مسافر ہیں ایک رستہ ہے



نہیں!یہ مسئلہ کرپشن کا نہیں! طرز حکومت کا ہے! 

ایسا طرزِ حکومت جو میرٹ پر نہیں‘ دوست نوازی پر مشتمل ہے! نواز شریف کا طرزِ حکومت جمہوری نہیں‘ قبائلی تھا۔ چلیے ‘ قبائلی کی اصطلاح کُھردری ہے تو شخصی کہہ لیجیے! افسوس! یہی راستہ عمران خان بھی چُن چکے ہیں ایک راستے پر چلنے والے دو مختلف افراد کا انجام ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہو سکتاہے؟ چند سال پہلے ایک دلچسپ خبر پڑھی۔ ترکی میںایک چرواہا بھیڑیں چرا رہا تھا۔ایک بھیڑ‘ اونچی چٹان سے‘نیچے گہری کھائی میں جاگری۔ درجنوں بھیڑوں نے اس کی پیروی کی! 

نواز شریف نے اپنے پسندیدہ افراد کو مناصب عطا کئے۔ ادارے زوال کی کھائی میں گر گئے‘ افسوس !افسوس! ہیہات !ہیہات! عمران خان بھی یہی کچھ کر رہے ہیں! 

انسان کے اعضا و جوارح اس کے خلاف قیامت کے دن گواہی دیں گے مگر ایک نظر نہ آنے والا حشر‘ قیامت سے پہلے دنیا میں بھی برپا ہوتا ہے۔ نواز شریف کے اپنے مداح‘ جو انہیں مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہیں‘ جو انہیں بطلِ جلیل ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں‘ وہ خود(غالباً نادانستہ) گواہی دے رہے ہیں کہ نواز شریف نے میرٹ کو قتل کیا۔ ایک معروف کالم نگار دُہائی دیتے ہیں۔

 ’’شکایت تو نون لیگ سے ہے کہ سینیٹرز کی وہ فوج ظفر موج کہاں ہے جو بے نامی سے نکلے اور نواز شریف کی ایک جنبش ابرو سے قانون ساز ادارے تک جا پہنچے‘‘ 

جنبش ابرو کی ترکیب پر غور کیجیے۔ ایک حکومت کو شخصی قرار دینا ہو اور یہ کہنا ہو کہ سب کچھ فرد واحد کی مرضی و منشا سے ہوتا ہے تو جنبش ابرو سے بہتر پیرایہ اظہار کیا ہو گا! پھر آگے چل کر کالم نگار اس پر مزید ماتم کرتے ہیں۔ 

’’انہوں نے سینیٹ کے ٹکٹ بھی کسی میرٹ پر نہیں دیے اس کا انہیں نقصان ہوا آج ان سینیٹرز میں دو تین کے سوا کوئی ان کے بیانیے کے ساتھ نہیں کھڑا ہوا‘‘

 ذاتی وفاداری کا تقاضا یہی ہے کہ صرف اس نقصان کا ذکر کیا جائے جو نواز شریف کو اس میرٹ کشی سے ہوا ۔ مگر ذرا وسیع تناظر میں دیکھیے تو اندازہ لگانا مشکل نہ ہو گاکہ قوم کو کتنا نقصان ہوا! اداروں کو کتنا نقصان ہوا اور ملک کا جمہوری سفر کتنے فرسنگ‘ کتنے کوس ‘واپس جا پہنچا۔ 

نواز شریف نے قوم کے بلند ترین مقدس اداروں کے منہ کس طرح اپنے دوستوں کے لئے کھول دیے۔ اس کی ایک گواہی آپ نے دیکھ لی۔ اب ایک اور گواہی ملاحظہ کیجیے یہ ایک اور معروف کالم نگار ہیں جو تسلسل سے شریف حکومت کے حق میں لکھتے آئے ہیں۔ عمران خان کے خلاف انہوں نے تسلسل سے جم کر لکھا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ مخالفت میں لکھے گئے کچھ کالم درست تجزیے پر مشتمل ہیں۔ یہ لکھتے ہیں۔

 ’’کیپٹن شاہین بٹ لاہوریے تھے یہ میاں برادران بالخصوص میاں شہباز شریف کے دوست تھے۔2002ء میں کیپٹن شاہین بٹ نے میاں شہباز شریف اور بریگیڈیئر نیاز کا آپس میں رابطہ کرایا۔ شہباز شریف کینسر کے مریض بن چکے تھے۔ …یہ نیو یارک میں شاہین بٹ کے مہمان رہے۔ میاں نواز شریف نے مارچ 2018ء میں شاہین بٹ کو سینیٹر بنا دیا یہ اس وقت سینٹ آف پاکستان کے ممبر ہیں۔‘‘ 

اس سے بڑھ کر اور کیا گواہی درکار ہو گی؟ہم جیسے طالب علم میاں صاحب کے عہد ہمایونی میں یہی تو چیختے رہے۔ پکارتے رہے کہ برادری اور دوستی کے حوالے سے مناصب نہ بانٹیے۔ کسی نے کسی سے ملوایا تو منصب دے دیا۔ کسی نے چند دن کے لئے میزبانی کی تو اسے سینٹ کارکن بنا دیا۔پولیس افسر نے وفاداری نبھائی تو اسے سینیٹر بنا دیا۔ ضلعی انتظامیہ کے افسر کو نوازنا ہوا تو بین الاقوامی تجارتی ادارے میں سفیر لگا دیا۔ 

میاں صاحب مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں کئی تصویریں وائرل ہو رہی ہیں جن میں وہ حرم پاک میں بیٹھے تلاوت کر رہے ہیں۔ سنا ہے ان کے صاحبزداگان بھی دلکش لحن میں تلاوت کرتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں جس کلام پاک کا یہ خاندان فین ہے اس میں میرٹ کے بارے میں کیا حکم ہے۔ سورہ نسا کی آیت 58میں ارشاد ہے۔

 ’’اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچائو۔‘‘ 

اس آیت کی تفسیر میں مفتی محمد شفیع‘ اپنی تفسیر معارف القرآن میں لکھتے ہیں

 ’’حکومت کے عہدے اور منصب جتنے ہیں وہ سب اللہ کی امانتیں ہیں‘‘ آگے چل کر لکھتے ہیں ’’ایک حدیث میں رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپرد کی گئی پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی و تعلق کی مد میں بغیر اہلیت معلوم کئے ہوئے دے دیا اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ نہ اس کا فرض مقبول ہے نہ نفل۔ یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہو جائے(جمع الفوائد 325)اس لئے آنحضرتؐ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا’’جب دیکھو کہ کاموں کی ذمہ داری ایسے لوگوں کے سپرد کر دی گئی جو اس کام کے اہل اور قابل نہیں تو قیامت کا انتظار کرو۔ یہ ہدایت صحیح بخاری کتاب العلم میں ہے(معارف القرآن جلد دوم اشاعت اکتوبر 1983ء صفحہ 447۔ 

حکومتی مناصب میں خیانت کے اثرات اس قدر دوررس ہوتے ہیں کہ ان کا شمار ان کااحاطہ‘ ان کا تعین‘ شاید کوئی خدائی کمپیوٹر حشر کے دن ہی کر سکے۔ کیا عجب ذوالفقار علی بھٹو پر جو افتاد پڑی وہ اس خیانت کے سبب ہو جو انہوں نے میرٹ کو نظر انداز کر کے ضیاء الحق کو آرمی چیف بنا کر کی۔ یہی خیانت نواز شریف نے جنرل مشرف کو چیف بنا کر کی۔ یہ کہنا کہ یہ صوابدیدی اختیار تھا۔ فریبِ نفس کے سوا کچھ نہیں! صوابدیدی اختیار میں بھی فائل پر یہ لکھنا ہوتا ہے کہ سینئر کو کن وجوہ کی بنا پر محروم کیا جا رہا ہے۔ پھر یہی کچھ جنرل مشرف کرتے رہے۔ ایک جاننے والے بریگیڈیئر کو وفاقی شعبہ تعلیم کا سربراہ بنا دیا۔ تو سیع پر توسیع ملی جو مستحق تھے وہ عدالتوں میں جوتے چٹخاتے ریٹائر ہوتے گئے۔ اب خاک وطن جنرل صاحب کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں! 

عمران خان بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔ غیر منتخب افراد کو آگے لے آئے ہیں جو ان کی حکومت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں مگر جیسا کہ اوپر عرض کیا۔ ایک حشر دنیا میں بھی برپا ہوتا ہے۔ کل کو مولانا فضل الرحمن کی حکومت آئی تو یہی ڈاکٹر عشرت حسین ان کی ریفارم کمیٹی کے بھی سربراہ ہوں گے۔ یہی فردوس عاشق اعوان ان کی بھی ترجمان ہوں گی۔ یہی یوسف بیگ مرزا، مولانا حسین احمد مدنی کی زندگی پر ڈاکو منٹریاں بنا رہے ہوں گے۔ 

نواز شریف اور عمران خان ایک ہی راستے کے دو مسافر ہیں۔ دو مسافر ہیں ایک رستہ ہے۔

Sunday, October 27, 2019

صدیوں کی ہار


بہو نے گوشت پکایا تو ساس نے اعتراض کیا کہ سبزی نہیں پکتی۔ سبزی پکائی تو کہا ہمیں ہندو سمجھا ہے! ہم تو گوشت کھانے والے لوگ ہیں! ہنڈیا میں گھی کم ڈالا تو کہا روکھی ہے۔ زیادہ ڈالا تو واویلا مچایا کہ میرے بیٹے کو ہارٹ اٹیک سے مارنے کا ارادہ ہے؟ 

یہی حال کالم کے قارئین کا ہے! 

گزشتہ کالم میں ان قارئین کا ذکرکیا گیا تھا جو مغلظات بکتے ہیں اور دہانوں سے آگ کے بھڑکتے شعلے نکالتے ہیں۔ اب ذرا شریف قارئین کا رویہ ملاحظہ فرمائیے۔ یہ تلوار سے نہیں‘ زبان سے یا قلم سے مارتے ہیں۔ 

یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں اور یہ بات بالکل سامنے کی ہے کہ کالم‘ مضمون ہوتا ہے نہ مقالہ۔ اس میں جو بات بھی کی جاتی ہے‘ انتہائی اختصار سے کرنا پڑتی ہے۔ یہاں گزشتہ تحریروں کے حوالے بھی نہیں دیے جا سکتے۔ تشریح کے لئے فُٹ نوٹ بھی نہیں ہوتے۔ ایک وسیع تناظر میں بات ہو سکتی ہے مگر بعض اوقات کام صرف اشاروں سے کرنا پڑتا ہے اس لئے کہ تفصیل کی گنجائش نہیں ہوتی! 

یہ سارے پہلو قارئین کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اکثر قاری اس عجیب و غریب شخص کی مثال ہیں جس کا ذکر شفیق الرحمن نے کیا ہے۔ اس کا دکاندار سے کچھ اس قسم کا مکالمہ ہوتا ہے، 

’’کیا تمہارے پاس آم ہیں؟‘‘

 ’’نہیں!میرے پاس کدو اورگاجر ہیں‘‘ 

’’کیا انگور اورکیلے ہیں؟‘‘

 ’’نہیں! مگر کھیرے‘ شلغم اور بھنڈی موجود ہے‘‘ 

’’اچھا تو تمہارے پاس سبزی بالکل نہیں! فروٹ ہی فروٹ ہیں‘‘ 

قاری ای میل کرتا ہے یا کمنٹ دیتا ہے تو کالم کے موضوع پر بات نہیں کرتا۔ وہ اُس موضوع کی دہائی دیتا ہے جو اس کے ذہن میں پہلے سے موجود ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کالم نگار صرف اس پر لکھے! مثلاً ٹریفک پر یا تاجروں کی بددیانتی پر لکھا جائے تو قاری پوچھتا ہے کہ سُود کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ اگر یہ لکھا جائے کہ چھپن اسلامی ملکوں میں فتح اللہ گولن اور امام خمینی کو کسی نے گوشہ عافیت نہیں فراہم کیا۔ ایک کو امریکہ میں پناہ لینا پڑی اور دوسرے کو فرانس میں! توقاری شکوہ کرتا ہے کہ دنیا کی بربادی کے پیچھے مغرب اوراس کے مفادات ہیں!!اب قاری سے یہ کون پوچھے کہ کالم کا موضوع یہ نہیں! دنیا کی بربادی اگر مغرب کے ہاتھوں ہو رہی ہے یا مغرب کے اپنے مفادات ہیں تو یہ ایک الگ موضوع ہے۔ بالکل الگ۔ یہاں تو یہ بات ہو رہی تھی کہ طاہر القادری سے لے کر فرحت ہاشمی تک ہر کوئی مغرب میں رہنے کا شائق ہے اور جان بچانے کے لئے گولن اور امام خمینی جیسے علماء اور مشاہیر کو مغرب میں پناہ لینا پڑتی ہے۔ اس کے اسباب پر غور کیا جائے!مگر قاری مصر ہے کہ مغرب کی بدمعاشی کو کیوں نہیں موضوعِ سخن بنا رہے ؟ 

اگر کالم نگار ایئرپورٹ پر بدانتظامی کا رونا رو رہا ہے اور اہلکاروں کی نااہلی کا ذکر کرتا ہے تو قاری کہتا ہے کہ انگریز کے کالے قوانین توڑ کر روحانی خوشی محسوس ہوتی ہے جو انگریز کے جانے کے بعد بھی جوں کے توں ہیں آپ انگریزکے سسٹم کو ختم کیجیے!یعنی ماروں گھٹنا‘ پھوٹے آنکھ! ارے بھئی! انگریز نے قطار بندی سکھائی تو کیا اس ’’کالے‘‘ قانون کو ختم ہو جانا چاہیے؟ اگر ایف آئی اے کا عملہ ایئر پورٹ پر‘ غیر ملکیوں کے کائونٹر پر پاکستانی مسافروں کو لا کھڑا کرتا ہے تو اس میں انگریز کا کالا قانون کہاں سے آ گیا؟ انگریز کے ملک میں تو کائونٹر پر اُسی کو اٹنڈ کیا جاتا ہے جس کا اعلان کائونٹر کے اوپرتحریری شکل میں موجود ہے! 

جرنیلوں کی چیرہ دستیوں کا ذکر کیا جائے تو اعتراض کیا جائے گا کہ سیاست دانوں کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ اہل سیاست کی درفنطنیوں پر ماتم کیا جا رہا ہے ہو تو کہا جائے گا‘ عسکری آمریت پر کیوں نہیں لکھتے؟ مدارس میں طلبہ اور اساتذہ کے حال زار پر لکھا جائے تو اعتراض ہو گا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی تو یہی کچھ ہو رہا ہے گویا آپ چاہتے ہیں مدارس کے طلبہ ہمیشہ روکھی سوکھی کھائیں‘ چندوں پر پلیں۔ مدارس کے اساتذہ قلیل تنخواہوں پر ہی گزارہ کرتے رہیں۔مدارس کے مالکان سے یہ نہ کہا جائے کہ ان عالم لیکن غریب اساتذہ کو رہائش فراہم کیجیے۔ انہیں علاج معالجے کی سہولیات دیجیے۔ انہیں پنشن ملنی چاہیے۔ 

بحث مباحثے میں بھی ہمارا قومی شعار یہ بن گیا ہے کہ خلط مبحث سے پورے مکالمے کو خراب کر دیتے ہیں۔ مہذب دنیا میں طریق کار یہ ہے کہ ایک نشست میں ایک ہی موضوع پر بات ہوتی ہے۔ مگر یہاں یہ حال ہے کہ اگر ٹیکس چوری پر بحث ہو رہی ہے تو حکومت کی کارکردگی کی دہائی دی جائے گی! حکومت کی کارکردگی بُری ہے تو اس پر الگ سیشن رکھیے۔ ٹیکس چوری کے حوالے سے اہلکاروں کے رویے پر کاروبار کے دستاویزی نہ ہونے پر‘ ری فنڈ کی مشکلات پر اور دیگر متعلقہ مسائل پر بات کیجیے۔ 

بحث میں شائستگی کا عنصر بھی عنقا ہے۔ مکالمہ مناظرے پر‘ اور مناظرہ مجادلے پر ختم ہوتا ہے۔ ہمارے گلوں کی رگیں پھول کر سرخ ہو جاتی ہیں۔ دہانوں سے پہلے گالیاں باہر آتی ہیں پھر جھاگ پھر میز پر مکا مارا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن پر بارہا ہاتھا پائی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ حالیؔ نے اسی صورت حال پر آہ وزاری کی تھی ؎ 

کبھی وہ گلے کی رگیں ہیں پھلاتے 
کبھی جھاگ پر جھاگ ہیں منہ پہ لاتے 

کبھی خوک اور سگ ہیں اس کو بتاتے 
کبھی مارنے کو عصا ہیں اٹھاتے 

جو پوچھو کہ حضرت نے جو کچھ پڑھا ہے 
مراد آپ کی اس کے پڑھنے سے کیا ہے 

مفاد اس میں دنیا کا یا دین کا ہے 
نتیجہ کوئی یا کہ اس کے سواہے 

تو مجذوب کی طرح سب کچھ بکیں گے 
جواب اس کا لیکن نہ کچھ دے سکیں گے 

بحث میں جنگ وجدل ہماری پارلیمنٹ میں عام ہے۔ جس طرح کے نعرے وہاں لگائے جاتے ہیں، جس طرح ایک دوسرے کی تقریروں کے دوران ہنگامے برپا کئے جاتے ہیں‘ جس طرح ایوان مچھلی منڈی میں تبدیل ہوتے ہیں‘ اس پر غور کیا جائے تو عوام سے کیا گلہ! 

یونیورسٹیوں کو دیکھ لیجیے۔ علم کے ان گہواروں میں طلبہ کے گروہ ایک دوسرے پر مسلح ہو کر حملے کر رہے ہیں۔ بدبختی کی انتہا یہ ہے کہ ایسے ’’طلبہ‘‘ کی پشت پر اساتذہ بھی سرگرم کار ہوتے ہیں! 

بحث تحریری ہو یا زبانی سوشل میڈیا پر ہو یا الیکٹرانک میڈیا پر‘ قوم کے تہذیبی رویے کی آئینہ دار ہوتی ہے یہ ایک بیرو میٹر ہے جس سے آپ ذہنی پختگی یا ذہنی کچے پن کو ماپ سکتے ہیں! اس ذہنی پختگی کی منزل سے ہم کوسوں دورہیں! کوسوں نہیں !شاید صدیوں!احمد ندیم قاسمی یاد آ گئے ۔ 

پَل پَل میں تاریخ چھپی ہے گھڑی گھڑی گرداں ہے ندیمؔ 
ایک صدی کی ہار بنے گی ایک نظر کی بھول یہاں

Saturday, October 26, 2019

الامان الحفیظ


‎لفافہ خور صحافیوں کی چاندی ہو گئی۔

‎ نری جہالت پر مبنی مضمون 

‎حکمرانوں کا فُضلہ خور اور ظالمانہ نظام کا محافظ صحافی اپنی نمک حلالی کر رہا ہے۔ 

‎افسوس تیری فہم پر! 

‎اس گناہ میں تم جیسے کئی لفافیے شریک ہیں 

‎دریاکے کنارے آباد۔فلاں شہر کی زرخیز مٹی میں سے کبھی کبھی تم جیسے ناسور پیدا ہو جاتے ہیں جو گوبر کو حلوہ پیش کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے پھر بعد میں اسی گوبر کو منہ پر مار کر بھاگنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ 

‎کمپنی بین الاقوامی عدالت میں کیس جیت چکی ہے۔ جو ثبوت وہاں پیش نہیں گئے انہیں اس صحافی کی پشت میں ٹھونک دیا جائے۔ 

‎ان لوگوں کو الٹا لٹکا کر مارنا چاہیے۔ 

‎انتہائی بھونڈی اور بغض سے بھری تحریر۔ 

‎لنڈے کے لبرل 

‎ان کتوں نے اس قوم کا بیڑہ غرق کر دیا 

‎تم جھوٹ لکھ رہے ہو۔ تمہیں شرم آنی چاہیے تم لوگوں کو کالم لکھنے سے پہلے اپنے منہ پر لعنت لکھنی چاہیے اور سویرے اٹھنے سے پہلے اپنے منہ پر تھپڑ مارنے چاہئیں۔

‎ یہ شخص کالم اپنے مالی پشت پناہوں سے وفاداری نبھانے کے لئے لکھتا ہے۔ 

‎مسٹرفلاں، مسٹر فلاں، مسٹر فلاں، مسٹر فلاں، مسٹر فلاں، مسٹر فلاں اور مسٹر فلاں صحافت کے چہرے پر بدنما دھبے ہیں۔ ان جیسوں نے خوب منہ کالا کروایا 

‎سمجھ نہیں آتا کہ کنگلا صحافی کروڑ پتی کیسے ہو گیا؟ 

‎راتب کھاتے ہوئے دوسروں پر بھونکنے والے کبھی اپنے پٹے پر بھی نظر ڈالیں کہ پٹے پر کس کا نام لکھا ہے۔ 

‎صدیوں کی غلامی کیوں نہیں نکلتی تمہارے خون سے؟ 

‎تمہارے اندر کا کیڑا مرا ہے یا نہیں؟ 

‎آپ کو دیکھ کر اس بات پر یقین آنے لگا ہے کہ ’’ناممکن ہے کہ بندہ فلاں علاقے سے ہو اور منافق نہ ہو‘‘ 

‎تم جیسے بے ضمیر صحافیوں نے اس ملک کا بیڑہ غرق کیا ہے۔ 

‎او چل ماما۔ چمچے صحافی 

‎اس گناہ میں تم جیسے کئی لفافیے شریک ہیں 

‎آپ اینکرز ہیں نا اس ملک کے والی وارث! سب کچھ آپ ہی کی میزوں پر طے ہوتا ہے۔ 

‎یہ ہیں وہ چند کمنٹ جو ایک معروف و مقبول ویب سائٹ پر قارئین نے دیے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ان کمنٹ دینے والوں کو ’’قارئین‘‘ کا نام دیتے ہوئے شرم آتی ہے۔ ابھی تو ان کمنٹس کی تہذیب کی گئی ہے کچھ اصل حالت میں قابل اشاعت ہی نہ تھے۔ 

‎یہ صرف وہ تازیانے ہیں جو چار صحافیوں پر برسائے گئے ہیں۔ دو تحریک انصاف کے حامی ہیں اور دو مسلم لیگ نون کے۔ باقی صحافیوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو رہا ہے۔ 

‎کمنٹ دینے والے شرفا کی شناختیں فیس بک کی وساطت سے موجود ہوتی ہیں۔ کوئی مہذب‘ قانون پر چلنے والا ملک ہوتا تو آگ اگلنے والے یہ نام نہاد قارئین عدالت میں کھڑے ہوتے۔ انہیں بتانا پڑتا کہ لفافیہ کس ثبوت کی بنا پر کہا ہے؟ کس کا مالی پشت پناہ کون ہے؟ گالیاں دینے پر ان دشنام طرازوں کو معافی مانگنے کے علاوہ مالی ہرجانہ دینا پڑتا۔ جج ان سے پوچھتا کہ جب بقول تمہارے مسلم لیگ نون نے‘ یا تحریک انصاف نے‘ یا اسٹیبلشمنٹ نے فلاں فلاں کو لفافے دیے تو کیا تم اس وقت وہاں موجود تھے؟ کیا عجب ان آتش خوروں کو جیل کی ہوا بھی کھانا پڑتی۔ 

‎یہ ہے ان عوام کی ذہنی سطح جو صحافیوں اور اینکروں کو مغلظات بکتے ہیں۔ حسن نثار سے لے کر ہارون الرشید تک۔سلیم صافی سے لے کر خورشید ندیم تک۔ رئوف کلاسرہ سے لے کر صابر شاکر تک۔ مجیب الرحمن شامی سے لے کر سہیل وڑائچ تک۔ ان لوگوں کے نزدیک سب گردن زدنی ہیں۔ سب کسی نہ کسی سے لفافہ لیتے ہیں۔ دیانت دار صرف وہ ہیں۔جو گھر میں بیٹھے‘ چائے پیتے ہوئے‘ گالیاں دے رہے ہیں مغلظات بک رہے ہیں اور اپنا نامہ اعمال گندہ کر رہے ہیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون! 

‎جو معروف صحافی ہمارے دوست‘ اس ویب سائٹ کو چلا رہے ہیں وہ خود مجسم شائستگی ہیں۔ شریف النفس ہیں اور نرم گفتار ، دوستوں کے دوست ہیں۔ صاحب علم و ادب ہیں۔ المیہ ان کے ساتھ یہ ہوا کہ افرادی قوت کی کمی ہے۔ ورنہ قاعدہ یہ ہے کہ چھپنے سے پہلے کمنٹ کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس عمل کو ماڈریشن 
(Moderation)
‎یعنی ایڈیٹنگ کہتے ہیں۔ ویب سائٹ چلانے والے جس کمنٹ کو نامناسب خیال کرتے ہیں اسے حذف کر دیتے ہیں جو اخبارات انٹرنیٹ پر چھپے ہیں۔ ان کا بھی یہی قاعدہ ہے کہ قارئین کے کمنٹ کا جائزہ لیتے ہیں‘ مناسب ہوں تو شائع کرتے ہیں ورنہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں۔ 

‎ایک ہفتہ قبل اس کالم نگار نے ویب سائٹ سے درخواست کی کہ اس کے کالم پوسٹ نہ کیا کریں۔ شاعر نے تو کہا تھا ؎ 

‎کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب 
‎گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا 

‎یا بقول مومنؔ ؎ 

‎لگتی ہیں گالیاں بھی ترے منہ سے کیا بھلی 
‎قربان تیرے!پھر مجھے کہہ دے اسی طرح 

‎مگر یہ کالم نگار ابھی تک دیہاتی کا دیہاتی ہے۔ بقول ظفر اقبال ؎ 

‎ظفر میں شہر میں آتو گیا ہوں 
‎مری خصلت بیابانی رہے گی 

‎گالی نہیں برداشت ہو سکتی۔ ویب سائٹ نے کرم کیا۔ کالم جو اخبار سے اٹھا کر لگاتے تھے۔ لگانا بند کر دیا۔ 

‎اس کالم نگار کی اپنی ویب سائٹ پر جو کمنٹ موصول ہوتے ہیں وہ ایڈٹ کئے جاتے ہیں۔ نامناسب الفاظ اور دشنام پر مشتمل کمنٹ فوراً ڈیلیٹ ہو جاتے ہیں اور بِن(ردی کی ٹوکری) میںمنتقل ہو جاتے ہیں۔ یہی سہولت ای میل پر موجود ہے کل ہی ایک صاحب کو جو خرافات لکھ کر بھیجتے تھے۔ بلاک کر دیا ہے۔ بلاک کی ہوئی ایل میل براہ راست جَنک (کوڑے دان) میں چلی جاتی ہے۔ فیس بک پر بھی آپ جسے چاہیں بلاک کر سکتے ہیں۔ نامناسب کمنٹ بھی ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے۔ رہا وٹس ایپ یا ایس ایم ایس تو وہاں بھی بلاک کرنے کی سہولت موجود ہے 

‎کچھ لوگوں نے یہ وطیرہ اختیار کر لیا ہے کہ آپ سے پوچھے بغیر آپ کو وٹس ایپ گروپ کا رکن بنا لیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ نہ ختم ہونے والی ایک خوفناک بمباری کی زد میں آ جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایگزٹ کرنے کا یا گروپ چھوڑنے کا آپشن موجود ہے۔ اگر گروپ بنانے والے میں اتنا اخلاق نہیں کہ آپ سے اجازت لے کر آپ کو گروپ میں شامل کرتا تو آپ کو بھی حق حاصل ہے کہ گروپ سے اپنے آپ کو نکال لیجیے۔ آنکھیں بھی ٹھنڈی رکھیں اور کان بھی!! 

‎مانا کہ سیاست دان بھی غلط ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ بھی مجرم ہے۔ صحافی بھی بٍُرے ہیں۔ کالم نگار بھی قابل نفرت ہیں۔ اینکر بھی مفاد پرست ہیں۔ مگر یہ عوام؟؟ یہ کیا ہیں؟؟ ہر پڑھنے والا‘ لکھنے والے کو گالی دے رہا ہے۔ ہر سننے والا بولنے والے کے خلاف آگ اگل رہا ہے! اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سب پڑھے لکھے لوگ ہیں! 

‎کیا کوئی بتائے گا کہ یہ تربیت کی کمی ہے؟ یا خاندانی پس منظروں کا قصور؟ کیا ہم بدتہذیبی کی آخری منزل پر پہنچ چکے ہیں؟ گالی دینا منافق کی نشانی ہے! کیا ہم منافقوں کی  قوم ہیں ؟

Thursday, October 24, 2019

میرے خدشات مانتا ہی نہیں



مارچ اور دھرنا بھی ہوتے رہیں گے اور وزیر اعظم بھی اُس بدنما حصار کے بارے میں خاموشی پر قائم رہیں گے جو اپنے اردگرد انہوں نے قائم کیا ہوا ہے۔ ان سب کو اس حال میں چھوڑ کر آئیے ہم نواح ایبٹ آباد کا رُخ کرتے ہیں جہاں رستم نامیؔ رہتا ہے۔ 

جنگلات کے محکمے میں معمولی ملازمت کرنے والا رستم نامی کمال کا شاعر ہے۔ سب سے مختلف! اپنے ہی رنگ میں ڈوبا ہوا! اس کے شعری مجموعے ’’باوجود‘‘ کے شروع میں ناشر نے درست لکھا ہے۔ کہ رستم نامی کی شاعری میں رومانی اشعار کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس نے اپنے معاشرے اور صاحب اقتدار افراد کے نامناسب رویوں‘ ناانصافی اور چور بازاری کی باتیں زیادہ کی ہیں۔ اُسے حکمرانوں‘ سیاست دانوںاور ظالم وڈیروں جابر چودھریوں اور بے رحم جاگیرداروں پر غصہ ہے اور بجا ہے۔‘‘ 

ہمارے اس شاعر کے ساتھ کچھ عرصہ قبل ایک دردناک حادثہ پیش آیا۔اس حادثہ میں رستم کا نوجوان فرزند باپ کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے دنیا سے رخصت ہو گیا۔ خود رستم ایک ٹانگ سے محروم ہو گیا۔ ایبٹ آباد میں مشہور شاعر اور نامور ماہر تعلیم واحد سراج اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ’’پاک آئرش بحالی سنٹر‘‘ چلا رہے ہیں۔ معروف شاعر اور نثر نگار احمد حسین مجاہد بھی ان کی مساعدت کر رہے ہیں۔ اسی سنٹر نے رستم نامی کو مصنوعی ٹانگ لگوا کر دی! اب رستم نامی کے اشعار دیکھئیے اور سر دُھنیے کہ بادہ و ساغر کا ذکر کیے بغیر بات بنتی ہے اور کیا خوب بنتی ہے ؎ 

فقط بام و درو دیوار باقی ہیں‘ بقایا گھر مکمل ہے 
ذرا گھر بار کے آثار باقی ہیں بقایا گھر مکمل ہے 

جگہ گھر کے لئے لینی ہے‘ اچھا سا کوئی نقشہ بنانا ہے 
لوازم بس یہی دوچار باقی ہیں بقایا گھر مکمل ہے 

٭٭٭٭ یہ جو اشرافیہ ہے/
یہی تو مافیا ہے/

ہماری زندگی کا/
عجب جغرافیہ ہے/
ہماری عدلیہ بھی
/کہاں انصافیہ ہے 

٭٭٭٭ ایوان سج رہے ہیں مگر قرضہ جات سے 
چلتا ہے انتظام بقایا‘زکات سے ٭٭٭٭

 فقرو فاقہ ہے چاروں طرف/
کوئی بحران ہے ہی نہیں/

وہ مری جان کیسے ہو جب/
جان میں جان ہے ہی نہیں 

٭٭٭٭ چند فِی صد سے زیادہ تو نہیں/
میں بُرا حد سے زیادہ تو نہیں/

ہے محبت بال بچوں سے مجھے/
پر محمدؐ سے زیادہ تو نہیں/

صاحب ایمان کو اچھی جگہ/
اپنے مرقد سے زیادہ تو نہیں 

٭٭٭٭ وہاں ہم لازماً خاموش رہتے ہیں/
جہاں اظہار کی فوری ضرورت ہے/

یہ چرخِ بے ستوں گر جائے گا نامی/
یہاں دیوار کی فوری ضرورت ہے 

٭٭٭٭ منافق لوگ ہیں ہم کب کسی کو داد دیتے ہیں/
اگر دیتے بھی ہیں تو زندگی کے بعد دیتے ہیں

/بڑا احسان ہے اُن دشمنوں کا ہم پہ جو اکثر/
ہمیں برباد ہونے کے لئے امداد دیتے ہیں 

٭٭٭٭ بہت مجبور اور لاچار لوگوں کی ضرورت ہے/
محبت اصل میں بیکار لوگوں کی ضرورت ہے/

اگرچہ کارآمد ہیں بہت کھربوں کے منصوبے/
مگر کچھ اور بھی سرکار!لوگوں کی ضرورت ہے 

٭٭٭٭ کارِ فرصت سے بری الذمہ/
ہم ہیں مدت سے بری الذمہ/

ان کو ملتا ہے یہاں منصب وتاج/
ہیں جو عزت سے بری الذمہ 

٭٭٭٭ ضرورت سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے/
ہمیں شام و سحر آرام کرنے یک ضرورت ہے/

عدو سے بھی بہر صورت نمٹ لیں گے مگر پہلے
/گھریلو سازشیں ناکام کرنے کی ضرورت ہے 

٭٭٭٭ نہ جانے خلدِ بریں میں کہاں بنا ہوا ہے/
ہمارے واسطے وہ جو مکاں بنا ہوا ہے/

کوئی پلازہ بنائے گا کل وہاں نامیؔ
/مکان آج ہمارا جہاں بنا ہوا ہے 

٭٭٭٭ اختلافات مانتا ہی نہیں/
وہ سوالات مانتا ہی نہیں/

پیش کرتا ہے اپنی تاویلیں /
میرے خدشات مانتا ہی نہیں 

٭٭٭٭ حسرت ہے مفت میں یہاں ذلت ہے مفت میں
/جس کو بھی چاہیے‘ یہ سہولت ہے مفت میں

/آتا نہیں ہے کوئی ہماری دکان پر/
ورنہ ہمارے پاس محبت ہے مفت میں 

٭٭٭٭ مجھے واپس کرو آ کر کسی دن/
جو دن تم نے گزارے مرے پاس/

نہیں ہے عشق کا تازہ شمارہ/
مگر پچھلے شمارے ہیں مرے پاس 

٭٭٭٭ زندہ رہتی ہے یہ ہمیں کھا کر/
زندگی کا اناج ہیں ہم لوگ/

دیکھ لے ہم ترا سہارا ہیں/
تو بٹن ہے تو کاج ہیں ہم لوگ/

ہلتے جلتے نہ بات کرتے ہیں/
ایک مُردہ سماج ہیں ہم لوگ/

وہ تو بازار میں نہیں آتا/
ہم نے جس دن سے کی دکان شروع/

کرنا چاہی جو گفتگو ان سے/
ہو گئے ان کے ترجمان شروع 

٭٭٭٭ جو غیروں کی تجوری میں پڑی ہے
/وہ سب دولت ہماری ہے ہماری

/اٹھائیں انگلیاں ہم دوسروں پر/
یہی تو ذمہ داری ہے ہماری 

٭٭٭٭ بچھاتے ہیں جہاں بھی رات آئے/
کہ ہم رکھتے ہیں بستر بوریا پاس/

ہمیں درباں نے روکا ہے یہ کہہ کر/
پرانا ہو چکا ہے آپ کا پاس 

٭٭٭٭ کون بتلائے گا سچی بات پھر/
شہر میں جب کوئی پاگل ہے نہیں/

کس لئے پھر سانپ سے تشبیہ دیں/
اس کی زلفوں میں کوئی بل ہے نہیں/

کس طرح اندھا یقیں پھر ہم کریں/
بات اس کی جب مدلل ہے نہیں 

٭٭٭٭ بٹھا دیں گے اسے بھی تخت پر ہم 
کوئی باہر سے گر آ ہی گیا تو 

٭٭٭٭ فرصت ہی نہیں ملتی انہیں کارِ جہاں سے 
مزدور کے بچے کبھی ورزش نہیں کرتے 

٭٭٭٭ سبھی مارے ہوئے ہیں زندگی کے 
کسی کو موت نے مارا نہیں ہے ٭٭٭٭

Sunday, October 20, 2019

آفرین آفرین


‎بالآخر آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ کے پیشرو آپ سے بہتر تھے! 

‎انہوں نے عوام کے لئے گڑھے کھودے۔ یہ گڑھے صاف نظر آ رہے تھے جوگرے‘ جان بوجھ کر ان میں گرے! جو بچے‘ اس لئے بچے کہ گڑھے دکھائی دے رہے تھے! مگر جناب وزیر اعظم! آپ نے تو گڑھے کھود کر ان پر درختوں کی ٹہنیاں یوں رکھیں جیسے شہتیر رکھتے ہیں۔ پھر ان پر سبز پتے رکھے۔ پھراوپر مٹی ڈالی۔ یہاں تک کہ گڑھے چھپ گئے۔ زمین ہموار ہو گئی۔ عوام خوش کہ گڑھے نہیں رہے! مگر پھر عوام ان گڑھوں میں گرنا شروع ہو گئے۔ آہستہ آہستہ ‘ روز بروز‘ ایک صدمے کے بعد دوسرا صدمہ! اب واضح ہو چلا ہے کہ یہ عوام کا شکار تھا! گڑھوں میں گرا کر انہیں شکار کیا جا رہا ہے! 

‎جناب وزیر اعظم! ٹاپ سطح کی بیورو کریسی کے آگے آپ کی کیا مجبوری ہے ؟اس کے سامنے آپ کیوں بے بس ہو گئے! آپ نے بھی اپنے پیشروئوں کی طرح پٹواریوں، تھانیداروں اور چھوٹے پرزوں پر زور آزمائی کی اور ٹاپ لیول بیورو کریسی کے سامنے کچھ نہ کر سکے۔ استاد ذوق یادؔ آ گئے ؎ 

‎کسی بے کس کو اے بیداد گر! مارا تو کیا مارا
‎ جو خود ہی مر رہا ہو اس کو گر مارا تو کیا مارا
 
‎نہیں وہ قول کا سچا!ہمیشہ قول دے دے کر 
‎جو اس نے ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا تو کیا مارا

‎ جگر‘ دل‘ دونوں پہلو میں ہیں زخمی اس نے کیا جانے 
‎اِدھر مارا تو کیا مارا اُدھر مارا تو کیا مارا! 

‎یہ کالم نگار وفاقی 

‎دارالحکومت کی جس رہائشی آبادی کا مکین ہے اس کے نوے فیصد باشندے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ بدقسمتی سے یہ بستی اُس رسوائے زمانہ ایکسپریس وے کے دہانے پر واقع ہے جس کی تعمیر موجودہ حکومت نے آ کر ‘ آدھے میں روک دی۔ اوپرسے ٹرک مافیا! الامان والحفیظ! خلق خدا ‘ لاکھوں کی تعداد میں صبح و شام ایسے عذاب سے گزر رہے ہیں جس کی مثال کم ہی ملے گی! 

‎بستی کے چند شرفا اس کالم نگار کے پاس تشریف لائے۔ ان کا خیال تھا کہ کالم نگار سرکاری ملازمت میں بلند سطح پر کام کر چکا ہے‘ کار حکومت کے انداز کو سمجھتا ہے۔ میڈیا سے بھی تعلق ہے۔ چنانچہ کوئی نسخہ کیمیا لکھ کر دے گا! ان کی خدمت میں عرض کیا کہ میڈیا تو لکھ لکھ کر‘ چیخ چیخ کر ‘ ہار چکا! حکومت اور وزیر اعظم ذرا نہ موم ہوئے۔ بقول شکیب جلالی ؎ 

‎ذرا نہ موم ہوا پیار کی حرارت سے 
‎چٹخ کے ٹوٹ گیا‘ دل کا سخت ایسا تھا! 

‎مگر عرض کیا کہ چیف کمشنر اسلام آباد سے بطور وفد ملتے ہیں اور قائل کرتے ہیں کہ ٹرک مافیا کو کنٹرول کیا جائے جو 
‎چیف کمشنر کا فرض منصبی بھی ہے! 

‎اب چیف کمشنر سے ملنے کے لئے وقت لینا تھا وقت لینے کے لئے بات کرنا تھی۔ ملنے کا سبب بتانا تھا۔ ستمبر کی چار تاریخ تھی جب پہلی بار فون کیا چیف کمشنر کے پاس دو عہدے اور دو دفاتر ہیں ایک جگہ فون کیا۔ معلوم ہوا صاحب نہیں ہیں! مشتاق نامی معاون کونام فون نمبر نوٹ کرایا۔ سرکاری ملازمت کا حوالہ لکھایا۔ پھر دوسرے دفتر فون کیا۔ رفاقت نامی معاون کو وہاں بھی التماس نوٹ کرائی۔ التماس کیا تھی کہ فون پر دو منٹ بات کرنی ہے! یہ بدھ کا دن تھا! دوسرے دن پھر یہ سارا عمل دہرایا۔ تیسرے دن پھر یہ عمل دہرایا۔ پھرسنیچر ‘ ایتوار دو چھٹیاں آ گئیں۔9تاریخ‘ پیر کا دن طلوع ہوا۔ سہ پہر تک انتظار کرنے کے بعد پھر فون کیے۔ اب کے معاونین بھی تھکے تھے۔ مضمحل ‘ مضمحل ‘ بے بس بے بس نظر آئے۔ 

‎دو ہفتے انتظار میں گزرے کہ چیف کمشنر کی طرف سے ایک باعزت شہری کو ایک باعزت ٹیکس دہندہ کو جوابی فون آئے گا۔ کتنی بھی مصروفیت ہو‘دو ہفتوں میں تو باری آ ہی جانی چاہیے تھی اور پھر مصروفیت کیا! یہ بھی تو فرائض منصبی کا حصہ ہے! لازمی حصہ!! اچانک دماغ میں روشنی لہرائی کہ پاکستان سٹیزن پورٹل کا بڑا شہرہ ہے! وہاں فریاد کی جائے۔ چنانچہ 23ستمبر کو وزیر اعظم کے اس خاص مشہورومعروف سٹیزن پورٹل میں شکایت درج کرائی۔ شکایت کیا تھی۔ یہی کہ ان ان تاریخوں پر التماس کی بات کرنی ہے۔ کوئی شنوائی نہیں چیف کمشنر تک رسائی‘ اس سے بات کرنا ممکن نہیں! شہری حقوق کا معاملہ ہے 

‎اے تبدیلی کے خواہاں عوام! سنو! اس کے بعد کیا ہوا۔ بتایا گیا کہ چیف کمشنر کے خلاف یہ شکایت چیف کمشنر ہی کو بھیج دی گئی ہے! 

‎یہ ہے وہ گڑھا جس کے اوپر ٹہنیاں اور سبز پتے ڈالے گئے ہیں! کہیں دنیا میں ایسا ہوا کہ جس کے خلاف شکایت ہے اسی کو داد رسی کے لئے شکایت بھیجی جائے؟ دیوانے کو بھی معلوم ہے کہ یہ شکایت چیف کمشنر کونہیں‘ چیف کمشنر کے باس کو بھیجنی چاہیے تھی! وہ اس سے جواب طلبی کرتا اس کے کمنٹ لیتا ۔ ارے بھائی! یہ اشک شوئی ‘ یہ سرخ فیتے کی گردان تو ستر برس سے چل رہی ہے۔ ستر برس سے حکمران اعلیٰ کا دفتر ڈاکخانہ بنا ہوا ہے۔ ادھر سے آئے تو ادھر بھیج دو۔ اُدھر سے آئے تو اِدھر! 

‎جناب عمران خان وزیر اعظم پاکستان! ہر شکایت پر غور کرنے کے لئے کسی میٹرک پاس ہی کو تعینات کر دیتے اس کو بھی پتہ ہے کہ باڑ کھیت کو کھا رہی ہو تو باڑ سے شکایت نہیں کرتے۔ چرواہے کو پوچھتے ہیں۔ کیا چیف کمشنر سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ تم جو اتنی تنخواہ اور مراعات لے رہے ہو تو ایک باعزت تعلیم یافتہ ٹیکس دہندہ شہری سے دو منٹ بات کرنے کے روادار نہیں؟ اگر یہ نہیں ہو رہا تو جناب وزیر اعظم ! کس تبدیلی کی بات آپ کر رہے ہیں! 

‎مگر شہریوں کے ساتھ بدترین ‘مذاق ابھی ختم نہیں ہوا۔ خاصے کا پکوان تو آگے آنا ہے۔
Lo and Behold! 
‎سنو اور غور سے سنو! تین ہفتے یعنی تقریباً چوبیس دن کے بعد چیف کمشنر کے دفتر سے یہ شکایت ڈپٹی کمشنر کو بھیج دی گئی! 

‎اللہ !اللہ !ڈپٹی کمشنر اب اپنے باس کمشنر سے پوچھے گا کہ جناب آپ نے نارسائی کا تانا بانا اپنے گرد کیوں بن رکھا ہے؟ آپ کیا خدا ہیں؟ 

‎آپ کا کیا خیال ہے ماتحت ڈپٹی کمشنر اپنے بڑے افسر سے جواب طلبی کرے گا؟ ڈپٹی کمشنر نے شکایت کرنے والے کو لکھ بھیجا کہ ’’تفصیلات بتائو تاکہ اگلی کارروائی کی جائے۔ اللہ اللہ خیر صلاّ۔ کارروائی تمام ہوئی۔ 

‎پنجابی میں کہتے ہیں مٹی تے سواہ! گرد اور راکھ! مکھی پر مکھی ماری جا رہی ہے۔ وہی سرخ فیتہ۔ وہی کمشنر سے ڈپٹی کمشنر۔ ڈپٹی کمشنر سے اسسٹنٹ کمشنر۔ پھر تحصیلدار۔ پھر پٹواری ع 

‎بندہ ہے کوچہ گرد ابھی خواجہ بلند بام ابھی

‎ جناب وزیر اعظم! تبدیلی تو تب ہوتی ہے کہ چیف کمشنر کا فسر اعلیٰ اس سے پوچھتا اور حکم دیتا کہ شہریوں سے بات کرو!مگر ہو وہی رہا ہے جو ستر برس سے لدھیانے میں ہوتا آیا ہے! یہ سنی سنائی بات نہیں ! ذاتی تجربہ ہے!دیگ کا ایک چاول دیگ کا ذائقہ بتا رہا ہے۔ 

‎تو پھر اس میں کیا شک ہے کہ ہزاروں لاکھوں شکایات کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہو گا۔ اعداد و شمار میں اس شکایت کے ساتھ بھی لکھا جائے گا۔’’نمٹا دی گئی‘‘ پھر وزیر اعظم اعلان کریں گے اتنی شکایتوں کا مداوا کر دیا گیا۔ 

‎یہ پورٹل روٹین کی کلرکی کے سوا کچھ بھی نہیں۔خدائے بزرگ و برتر کا شکر ہے کہ وزراء اعظم کی طویل فہرست میں ہمارے محبوب انقلابی رہنما جناب عمران خان کا نام آ گیا ہے! یہی مطلوب و مقصود تھا! سو حاصل ہو گیا! عُود سلگائو! لوبان دہکائو! جھاڑ فانونس روشن کرو! تبدیلی کا خیر مقدم کرو!

Saturday, October 19, 2019

قدر مشترک


کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ’’آزادی‘‘ مارچ اور دھرنے کے پروگرام میں شامل جماعتیں اور شخصیات زیادہ تر وہ ہیں جو تحریک پاکستانقیام پاکستان اور قائد اعظم کی مخالف ہیں یا جنہیں پاکستانی فوج سے نفرت ہے؟ 


سب سے پہلے مولانا کو لے لیجیے؟ کیا ان کی زبان سے کبھی کسی نے تحریک پاکستان یا قائد اعظم کا ذکر سنا ہے؟ کیا 23مارچ یا 14اگست کے حوالے سے انہوں نے کبھی کوئی پیغام قوم کو دیا ہے؟ 


پاکستانی تاریخ کے مبتدی کو بھی علم ہے کہ دیو بند مسلک سے وابستہ جمعیت علمائے ہند نے قیام پاکستان کی بھر پور مخالفت اور کانگرس کی حمایت کی۔ اس کے مقابلے میں تحریک پاکستان کے حامی علمائے دیو بند نے 1945ء میں کلکتہ میں جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھی۔ مولانا حسین احمد مدنی سے یہ فقرہ بھی منسوب ہے کہ ’’اگر پاکستان قائم ہو گیا تو ہندوستان کا دفاع کیسے ہو گا؟‘‘ 


مولانا فضل الرحمن جس جمعیت علمائے ہند کے وارث ہیں وہ قائد اعظم کو کافر اعظم کہتی تھی۔ اس حرکت کو مولانا شبیر احمد عثمانی نے ’’پرلے درجے کی شقاوت و حماقت‘‘ قرار دیا۔ مگر ؎ 


یوں بھی ہوتا ہے کہ آزادی چرا لیتے ہیں لوگ 

قیس کے محمل سے لیلیٰ کو اٹھا لیتے ہیں لوگ 


پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے مخالف علمائے دیو بند اس جمعیت علماء اسلام میں گھس آئے جو پاکستان کی حامی تھی۔اس پر تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما مفتی محمد شفیع مرحوم نے برملا لکھا۔ 


اس کے شرکا عموماً وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے نظریہ سے ہمیشہ مختلف رہے اور جمعیت علماء اسلام کے خلاف جمعیت علماء ہند سے وابستہ رہے۔‘‘ 


اس موضوع پر مزید تفصیل معروف محقق جناب منیر احمد منیر کے مضامین میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن یا ان کے کیمپ کا کوئی شخص بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ ان کی جماعت اور ان کے اکابر نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی۔جہاں تک اس کالم نگار کی معلومات کا تعلق ہے یہ اصحاب مولانا اشرف علی تھانویمولانا شبیر احمد عثمانیمولانا ظفر احمد عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کا شاید ہی ذکر کرتے ہوں۔ 


مولانا کی پاکستان سے مخالفت کا تازہ ترین ثبوت وہ بیان ہے جو جنرل مشرف کے عہد حکومت کے دوران انہوں نے بھارت میں دیا ’’کہ ایک عدد گول میز کانفرنس بلا کر پاک بھارت سرحد ختم کی جا سکتی ہے‘‘ جناب ہارون الرشید نے یہ افسوسناک واقعہ بارہ نومبر 2017ء کے کالم میں لکھا۔ اس کی آج تک تردید نہیں ہوئی


۔ ’’آزادی‘‘ مارچ اور دھرنے کے دیگر سرگرم حامیوں میں محمود اچکزئی اور اسفند یار ولی شامل ہیں۔تحریک پاکستان سے ان حضرات کی ’’وابستگی‘‘ سب پر عیاں ہے۔ افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ اور اچکزئی کے حوالے سے سب کچھ ریکارڈ پر موجود ہے۔ اچکزئی ہوں یا اسفند یار ولیقائد اعظم کا ذکر ان لوگوں کیلئے ایک ناجائز فعل کا درجہ رکھتا ہے۔ سب سے زیادہ پرجوش حامی اس مارچ کے میاں نواز شریف ہیں قیام پاکستان کے بارے میں ان کے جذبات کا اندازہ ان کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے ماضی قریب میں دیا۔


ہمارا ایک ہی کلچر تھا۔ ایک ہی ہمارا جو Heritageہے۔ ایک ہی معاشرے کے ہم لوگ تھے۔ وہ جو بیچ میں ایک بارڈر آ گیا ہے باقی تو آپ ہم ایک ہی سوسائٹی کے ممبران ہیں۔ آپ اور ہم جو ہیں ایک ہی کلچر ہے۔ آپ بھی رب کہتے میں ہم بھی رب کہتے ہیں۔‘‘ 


آلو گوشت والا بیان تو اب یوں بھی ضرب المثل بن چکا ہے۔ کالم کی تنگنائے تفصیل کی متحمل نہیں ہو سکتی ورنہ قائد اعظم کے وہ بیانات ڈھکے چھپے نہیں جن میں انہوں نے واضح طور پربرملا کہا تھا کہ ہندوئوں اور مسلمانوں کا کلچرتہذیبہیروزیہاں تک کہ کھانا پینا سب الگ الگ ہے۔ میاں نواز شریف سے کوئی پوچھے کہ اگر ایک ہی کلچر ہے تو بھارت میں مسلمانوں کو گائے کے ایشو پر کیوں ہر جگہ قتل کیا جا رہا ہے؟ آسام میں انہیں کیمپوں میں کیوں محصور کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں؟ 


پاکستان کی محافظخدائے برتر کے بعد پاکستان کی فوج ہے۔ فوج سے میاں نواز شریف کو نفرت ہے۔ پاکستانی فوج سے محبت کرنے والوں میں سے کوئی بھی مارشل لاء کا حامی نہیں۔ نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے ناراضگی ہے مگر نفرت وہ پوری فوج سے کرتے ہیں۔ ایک بچے کو بھی معلوم ہے کہ پوری فوج کا اسٹیبلشمنٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ لاکھوں جوانوں اور ہزاروں افسروں کا اسٹیبلشمنٹ سے کیا سروکار؟ مگر نواز شریف پوری فوج سے نفرت کرتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین گواہی دو روز قبل ایک معروف صحافی نے دی ہے۔ یہ صحافی نواز شریف کے مخالف کیمپ کے نہیں۔ بلکہ عمران خان کی ڈٹ کر مخالفت کرتے رہے ہیںکر رہے ہیں اور شریف حکومت کے واضح طرف دار ہیں انہوں نے جنرل احمد شجاع پاشا کا یہ قول نقل کیا ہے۔


’’میں اپنے دور میں کبھی میاں نواز شریف سے نہیں ملا۔ مجھے شہباز شریف نے دو مرتبہ کہا لیکن میں نے جواب دیا ان کے دل میں فوج کے لئے نفرت ہے‘‘ 


پھر لکھتے ہیں


: ’’فوج کی ہر فائل وزیر اعظم آفس میں رک جاتی تھی۔ جنرل راحیل شریف مجبور ہو کر شہباز شریف سے رابطہ کرتے تھے۔ یہ چودھری نثار کو ساتھ لے کر فواد حسن فواد کے پاس جاتے تھے اور فائلیں نکلواتے تھے۔ جنرل باجوہ کے زمانے میں بھی یہی ہوا۔ وزیر اعظم آفس میں سترہ فائلیں رک گئیں۔ ہم جنرل باجوہ اور جنرل راحیل شریف سے لاکھ اختلاف کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ دونوں جمہوریت پسند تھے۔ اور اگر میاں نواز شریف ان دونوں کے ساتھ نہیں چل سکے تو پھر یہ کسی جنرل کے ساتھ نہیں نبھا سکیں گے‘‘ 


یہ معروف صحافی نواز شریف کی خوبیاں گنوانے کے بعد لکھتے ہیں۔


 ’’بس ان میں ایک بڑی خامی ہے اور وہ خامی فوج سے نفرت ہے‘‘ فوجی آمریت کی مذمتاس کالم نگار سمیت۔ ہر محب وطن پاکستانی کرتا ہے۔ مگر کیا اس سے یہ جواز نکلتا ہے کہ فوج سے نفرت کی جائے؟ 


میاں صاحب کے دست راست ایک سیاسی لیڈر کے بارے میں بھی تواتر سے یہی سنا گیا ہے کہ تحریک پاکستان اور قائد اعظم کو ناپسند کرتے ہیں۔ تو کیا یہ محض اتفاق ہے کہ مارچ اور دھرنے کی اس تحریک میں شامل سیاسی قوتوں کی اکثریت قیام پاکستان اور قائد اعظم کے مخالفین پر اور پاکستانی فوج سے نفرت کرنے والوں پر مشتمل ہے؟ 


پیپلز پارٹی سے ہزار اختلاف کے باوجود اس پر قیام پاکستان اور قائد اعظم کی مخالفت کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ فوج سے بطور ادارہ نفرت بھی وہاں نہیں نظر آتی۔ کہا جاتا ہے کہ اعتزاز احسن نے سکھ باغی لیڈروں کی فہرست بھارتی حکومت کو دی تھی مگر اس کی تردید بھی کی جاتی ہے۔ آصف علی زرداری نے کچھ عرصہ قبل بلوچستان میں بھارت پر تکیہ کرنے والے ملک دشمن عناصر کو واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ وہ تو گائے بھی کاٹنے نہیں دیں گے۔ ایسا بیان میاں صاحب کی طرف سے بظاہر ناممکن سا لگتا ہے! پیپلز پارٹی کو جو اپنے آپ کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہتی ہےسوچ لینا چاہیے کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ شامل ہونے جا رہی ہے۔ 

 

powered by worldwanders.com