Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Sunday, May 19, 2019

کوئی ہے جو اس قتلِ عام کو روکے




یہی کہا ہے نا کہ کمزور ترین کرنسی ہے پاکستان کی؟


 مان لیا کمزور ترین ہے! مگر گزارہ ہو جائے گا۔ ایک وقت فاقہ کر لیں گے۔ چُپڑی ہوئی نہ سہی‘ سوکھی کھا لیں گے۔ گوشت کے بجائے چٹنی پر قناعت کر لیں گے۔ مگر جس ملک میں ٹریفک دنیا کی بدترین ٹریفک میں سے ہو اس میں کون بچے گا؟ مغربی سیاح کا کمنٹ نہیں بُھولتا۔


‏People have been left on roads to kill each other! 


خلق خدا شاہراہوں پر ایک دوسرے کو کھلے عام قتل کر رہی ہے! 


قمر زمان کائرہ کا جواں سال بیٹا ٹریفک کے حادثے کی نذر ہو گیا ع 


دل صاحبِ اولاد سے انصاف طلب ہے! 


جو ماں باپ ایسے روح فرسا سانحے سے گزر چکے ہوں۔ وہی اس قیامت کا اندازہ کر سکتے ہیں!اولاد ماں باپ کو کاندھا دینے کے لئے پال پوس کر بڑی کی جاتی ہے مگر جب موت و حیات کا مالک فیصلہ کر لے کہ باپ نے کاندھا دینا ہے تو آمناّ و صدّقناَ کے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے! امانتیں سپرد کرنے والا امانتیں واپس لے لیتا ہے! وقت کا تعین وہی کرتا ہے! مگر ڈھلتی عمر والے ماں باپ اس کے بعد ہر روز مرتے ہیں! 


ہر روز جیتے ہیں! کاش کوئی ایسا دلدوز حادثہ اس ملک کے اربابِ حل و عقد کو عقل سکھا دے کہ اس قتل عام کو روکنا ہے! مدتوں سے اس ملک کی شاہراہوں پر بدترین خانہ جنگی جاری ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ وحشیوں کو ڈرائیونگ لائسنس دے دیے جاتے ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ بے مہار ڈمپر‘ ٹریکٹر‘ ٹرالیاں‘ سڑکوں پر دندنا رہے ہیں۔ کاروں کو کچل دیتے ہیں۔ کوئی پوچھ گچھ نہیں! کوئی نیاں نہیں۔ راولپنڈی میں پروفیسر ڈاکٹر طیب منیر جیسا ہیرا‘ عالم فاضل‘ طلبہ کے دلوں پر حکمرانی کرنے والا۔ ڈمپر کے نیچے آ کر کچلا گیا۔ شہر کے رکھوالوں کو کچھ فرق نہیں پڑا۔ کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی! 


ستر کی دہائی کے اوائل تھے۔ انگریزی ادبیات میں ایم اے کرنے کا ارادہ تھا۔ تیاری بھی تھی۔ اس لئے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں اکنامکس میں ایم اے کرنے کے دوران‘ بنگالی دوست رفیق اللہ اکثر و بیشتر طعنہ دیتا کہ ایم اے کرنا ہو تو انگریزی ادب میں کیا جائے۔ ورنہ شاعری کا دعویٰ چھوڑ دو۔ اس کا تو اوڑھنا بچھونا ہی انگریزی ادب تھا۔ اداس آنکھوں سے افق کو دیکھتا اور شہزادہ ہیملٹ کا فقرہ دہراتا۔


‏ To Be, or not to be that is the Question 


اتنی دماغ شوئی کی کہ مغربی پاکستان واپس آ کر انگریزی میں ایم اے کی تیاری شروع کر دی۔ پھر نہ جانے کیا ہوا۔ داخلہ بھیجنے کا وقت آیا تو سی ایس ایس کا داخلہ بھیج دیا۔ صرف چند ہفتے تھے لولی لنگڑی ‘ ماڑی موٹی‘ گرتی پڑتی تیاری کی! ایک پرچے کے لئے مسلمان ملکوں میں جاری ہم عصر تحریکوں کا حال درکار تھا۔اس موضوع پر کچھ مل ہی نہیں رہا تھا۔ کسی نے بتایا کہ خلیل حامدی کی تصنیف ’’عالم اسلام اور اس کے افکار و مسائل‘‘ دیکھو! کیا مبسوط تذکرہ کیا تھا خلیل حامدی صاحب نے انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک سب پر ان کی نظر تھی پھر ایک دن والد گرامی مرحوم کے پاس تشریف لائے۔ مولانا مودودی کی کسی کتاب یا کچھ کچھ کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کرنے کی فرمائش کی۔ والد گرامی مرحوم کی صحت ان دنوں ڈانواں ڈول تھی! معذرت کی! 


عربی زبان کے بحر ذخار خلیل حامدی کا انجام اس ملک میں کیا ہوا؟ کیا کسی کو یاد ہے؟ جماعت اسلامی کی موجودہ قیادت کو تو شاید نام تک معلوم نہ ہو اس لئے کہ عبدالحمید صدیقی‘ مصباح الاسلام فاروقی‘ نعیم صدیقی‘ خلیل حامدی‘ ملک غلام علی‘ اسعد گیلانی‘ پروفیسر غلام اعظم اور خرم جاہ مراد جیسے اصحابِ قلم آج کی جماعت اسلامی کے لئے اجنبی ہیں۔ اب سیف رہی نہ قلم رہا ! ؎ 


گل گئے گلشن گئے جنگلی دھتورے رہ گئے 

عقل والے چل بسے کچھ بے شعورے رہ گئے 


اب تو پیش منظر پر وہ لوگ ہیں جو گہرا شعور اور ادراک رکھتے ہیں مگر کاروبار کا‘ پراپرٹی کا! کسی کے اعمال نامے میں کتاب تو کیا ایک صفحہ بھی ہو تو سورج مغرب سے طلوع ہونے کی ضد کرے! رہی تقریر! تو اس فن کے ایسے ایسے ماہرین ہیں کہ اچھے بھلے جاگتے کو تھپکی دے کر سلا دیں!


 کیا انجام ہوا خلیل حامدی کا؟ ایک ٹرالی نے کہ شاید گنے ڈھو رہی تھی‘ ان کی گاڑی کوکچلا جیسے وہ انسان نہ ہوں‘ ایک بے بضاعت کپڑا ہوں! شیخ فریدالدین عطار کو ایک تاتاری سپاہی نے غلام بنا لیا۔ کسی نے اس غلام کو خریدنے کے لئے دس ہزار اشرفیاں پیش کیں۔ عطار نے سپاہی کو متنبہ کیا خبردار! اتنے میں نہ بیچنا۔ میری قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے! ایک اور خریدار نے عطار کے عوض گھاس کے گٹھے کی پیشکش کی۔ عطار نے کہا لے لو! میری قیمت تو اتنی بھی نہیں ! سپاہی جھلا گیا۔ غصے میں قتل کر ڈالا۔ روایت ہے کہ بعد میں جب قاتل کو مقتول کا مقام و مرتبہ معلوم ہوا تو ندامت میں غرق ہوگیا۔ مسلمان ہو کر ان کے مزار پر ہی بیٹھ گیا۔ خلیل حامدی کو قتل کرنے والا ٹرالی کا ڈرائیور اس وحشی تاتاری سے بدتر تھا کیوں کہ اسے بعد میں بھی نہ معلوم ہوا ہو گا کہ اس نے ایک باکمال عالم مصنف اور مترجم کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔


 پاکستان کی ٹریفک آج 2019ء میں بھی بدترین ہے۔ مائوں کے لخت ہائے جگر بہنوں کے بھائی‘ دلہنوں کے سہاگ‘ بچوں کے باپ‘ گھروں سے نکلتے ہیں اور لاشوں کی صورت میں پلٹتے ہیں۔ پولیس کا رول صفر سے کم تر ہے۔ ہدایات نہ تربیت ! نہ قانون کا نفاذ! نہ جیل کا ڈر نہ پھانسی کا خوف! ویگن کا مالک ڈرائیور کو وارننگ دیتا ہے کہ اتنے منٹ میں تم نے اس روٹ پر ایک پھیرا پورا کرنا ہے تاکہ دن میں اتنے پھیرے لگ سکیں اور اتنی کمائی ہو سکے اب وقت کی یہ قید ڈرائیور کو مسلسل کوڑے مارتی ہے۔ اسے سڑک پر کوئی گاڑی دکھائی دیتی ہے نہ پیدل چلنے والا۔ وحشت اس کے سر پر سوار ہے۔ اتنے وقت میں پہنچنا ہے! خلق خدا کیوں نہ قتل ہو! 


موٹر سائیکل سواروں نے الگ حشر برپا کر رکھا ہے۔ سانپ کی طرح ادھر سے ادھر دائرے بناتے ہوئے۔ گاڑیوں کے بیچ سے نکل کر زن سے جا رہے ہوتے ہیں! ٹرک ڈرائیور ہائی ویز پر کاروں کو راستہ نہیں دیتے۔ اکثر چرسی ہیں اور جرائم پیشہ! بڑے شہروں کو تو چھوڑ دیجیے‘ ضلع‘ تحصیل‘ یونین کونسل اور اس سے نیچے کی سطح پر جو حشر برپا ہے‘ ناقابل تصور ہے! پتھر کے زمانے میں گاڑیاں ہوتیں تو ٹریفک اس سے بدتر نہ ہوتی۔ 


جی ٹی روڈ‘ موت کا کنواں ہے۔ صرف گتکا کھیلنے کا ماہر اس پر کامیاب ڈرائیونگ کر سکتا ہے۔ اس شاہراہ پر سفر کرنے والا ہماری تہذیب‘ ہمارا کلچر‘ ہماری انسانیت ‘ہمارا ایمان۔ ہمارا اندر باہر سب کچھ جانچ لیتا ہے۔ آپ اندازہ لگائیے۔ کتنے شہر درمیان میں پڑتے ہیں کسی شہر کی انتظامیہ میں خوف خدا ہے نہ عقل کہ بازار اور جی ٹی روڈ کے درمیان حدِ فاصل تعمیر کر کے سروس روڈ الگ بنا لیں۔ بازار اور شاہراہ آپس میں گڈ مڈ ہیں۔ ریڑھیاں شاہراہ پر ہیں اور گاڑیاں دکانوں میں گھس رہی ہیں۔ صندوق میں بندوق ہے بندوق میں گولی۔ اعصاب چٹخ جاتے ہیں۔ بازاروں کے لئے سروس روڈز الگ بن جائیں۔ بڑی شاہراہ اور سروس روڈ کے درمیان دیوار بنا دی جائے تو خلق خدا کو سکون ملے۔ ہر بار اس شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے لڑائی جھگڑے نظر آتے ہیں۔ ڈرائیور ایک دوسرے سے دست و گریباں‘ کہیں زخمی پڑے ہوتے ہیں کہیں لاشیں اٹھائی جا رہی ہوتی ہیں! 


تہذیب و ترقی دو چیزوں سے جانچی جاتی ہے۔ ٹریفک اور واش روموں کی صفائی کا معیار! ہم دونوں میں ناکام ہیں! 


کسی دوسرے ملک کو ٹھیکہ دے دیجیے کہ ہماری ٹریفک کو قانون کے دائرے میں لے آئے۔ اپنے حکمران‘ اپنے عمال ‘ یہ کام نہیں کر سکتے! شاید آئندہ ستر برس بھی!! ۔

Saturday, May 18, 2019

بد بخت کہیں کے



‎پھر وہی سیاپا وہی پھوہڑی ! وہی سینہ کوبی وہی ماتم! ؎ 

‎آج بھی صید گہ عشق میں حُسنِ سفّاک 
‎لیے ابرو کی لچکتی سی کماں ہے کہ جو تھا 

‎یہ رمضان بھی اپنے نصف کو پہنچنے والاہے مگر نالاں ہے! شاکی ہے! فریاد کناں ہے۔ہم منافقین سے پناہ مانگ رہا ہے! اس کا بس چلے تو کٹر کتا عذاب نازل کر دے! 

‎یہ لطیفہ بھی پرانا ہو چکا ہے جو کمال بے شرمی بے حیائی اور ڈھٹائی سے ہم منافقین ہنس ہنس کر ایک دوسرے کو سناتے ہیں کہ کسی ترقی یافتہ ملک کے غیر مسلم نے مسلمان سے پوچھا روزے میں کیا کیا کرتے ہو اور کیا کیا نہیں کرتے۔ مسلمان نے فخر سے سینہ پھیلایا اور کہا کہ رمضان میں سحری سے افطار تک اکل و شرب سے پرہیز کرتے ہیں۔ ساتھ یہ کوشش کرتے ہیں کہ جھوٹ نہ بولیں‘ وعدہ خلافی نہ کریں۔ کسی کو دھوکہ نہ دیں! ماپ تول میں خیانت نہ کریں! غیر مسلم نے اداس ہو کر حسرت بھرے لہجے میں کہا کہ یہ سارے بُرے کام جن سے تم رمضان میں پرہیز کرتے ہو‘ ہم تو ان سے سارا سال پرہیز کرتے ہیں۔ 

‎یہ نوحہ خوانی بھی ہر سال ہوتی ہے کہ مسیحی دنیا میں کرسمس اور ایسٹر کے مواقع پر بازاروں میں ارزانی کا دور دورہ ہوتاہے———-سیلیںُُُُُُ
(sales) 
‎لگتی ہیں اور صحیح معنوں میں لگتی ہیں۔ کچھ تو غیر مسلم ملکوں کے بڑے بڑے سپر سٹوروں میں رمضان کے موقع پر بھی اشیا سستی کر دی جاتی ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص رمضان اور عید کے ساتھ بازاروں میں ایک وحشت در آتی ہے! ایک بربریت دندنانے لگتی ہے! سبزی اور پھل سے لے کر تمام اشیائے خوردو نوش تک۔ جوتے اور کپڑوں سے لے کر‘ تمام سامان آرائش و زیبائش تک۔ گرانی اپنا منحوس سایہ پھیلا دیتی ہے۔ تاجر جلاد بن جاتے ہیں عوام کے گلے میں مہنگائی کا پھندا ڈال دیا جاتا ہے۔ 

‎یہ رونا دھونا‘ یہ آہ وزاری ‘ یہ پٹنا کُٹنا ہر سال ہوتا ہے۔ کوئی رمضان کبھی ایسا نہیں آیا کہ یہ سب کچھ نہ ہو! آ بھی کیسے سکتا ہے! یہ کیسے ممکن ہے کہ جو معاشرہ گیارہ مہینے جھوٹ بولے‘ عہد شکنی کرے۔ فریب دہی میں طاق ہو‘ خیانت ہر شخص کی عادت ثانیہ ہو۔ وہ معاشرہ رمضان کا چاند دیکھ کر اپنے آپ کو تبدیل کر لے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان رزائل کا گناہ صرف رمضان میں ہوگا؟ کیا ان گناہوں کا ارتکاب باقی گیارہ مہینوں میں جائز ہے؟ ہم منافقین ‘ جب اعلان کرتے ہیں کہ اس مہینے جھوٹ، چوری، غیبت، وعدہ خلافی اور بددیانتی سے بچنا ہے تو ہم اقرار کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ عادات خبیثہ باقی سارا سال ہمارے لئے روا ہیں! 

‎ہم عجیب لوگ ہیں! ہم وہ ہیں جسے کسی نے شرم دلانے کے لئے بتایا تھا کہ تمہاری پیٹھ پر درخت اُگا ہے تو شرم کرنے کے بجائے اس نے ہنس کر کہا تھا اچھا ہے‘ سائے میں بیٹھوں گا!ہم میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اصلاح کا آغاز دوسروں سے ہو! میں اسی ڈگر پر چلتا رہوں جس پر چل رہا ہوں۔ ہم منافقین یہ حدیث ایک دوسرے کو خوب سناتے ہیں کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ بات کرے تو جھوٹ بولے۔ وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کا مرتکب ہو، امانت دار بنایا جائے تو خیانت کرے۔ یہ بھی مروی ہے کہ منافق کی علامت یہ ہے کہ جھگڑا کرتے وقت گالی بکتا ہے! یہ ساری نشانیاں ہم نے سینوں پر سجائی ہوئی ہیں۔ یہ ساری علامات ہمارے گھروں کی چھتوں پر پرچموں کی طرح لہرا رہی ہیں! ہم میں سے کوئی شخص‘ دوسرے پر اعتماد نہیں کرتا۔ جو کہتا ہے کہ کل تک یہ کام کر دے گا‘ جانتا ہے کہ نہیں کرے گا۔ جو سن رہا ہے اسے بھی یقین ہے کہ وعدہ پورا نہیں ہو گا۔ مگر دونوں انشاء اللہ کہتے ہیں اور دونوں منافق ہیں۔ دونوں زمین پر بوجھ ہیں! المیے کی انتہا یہ ہے کہ دونوں کو احساس نہیں کہ جھوٹ بول رہے ہیں اور منافقت کر رہے ہیں! 

‎اس پر طرہ یہ کہ ہم میں سے ہر شخص اسلام کا علمبردار ہے! دوسروں سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ کیا تم روزے سے ہو؟ اتنی تمیز نہیں کہ ایسے سوال نہ کریں! روزہ بندے اور بندے کے خدا کا معاملہ ہے! کسی کو کسی سے پوچھنے کا حق نہیں! اسی پر بس نہیں! ہم میں سے ہر شخص ابو حنیفہ اور احمد بن حنبل بنا ہوا ہے۔ فلاں نے نماز غلط پڑھی۔ فلاں قرآن درست نہیں پڑھ رہا۔ فلاں کا عقیدہ غلط ہے! فلاں گناہ کا مرتکب ہو رہا ہے۔ پھر ہم ایک قدم آگے بڑھتے ہیں اور وہ فتویٰ لگاتے ہیں جو ابو حنیفہ اور احمد بن حنبل جیسے ثقہ فقہا بھی نہیں لگاتے تھے۔ ہم دوسروں کو کافر قرار دیتے ہیں! اعلان کرتے ہیں کہ فلاح کا نکاح فسخ ہو گیا ہے۔ فلاں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ اپنی نماز کی فکر ہے نہ روزے کی!قمیض میں گریبان ہی نہیں رکھتے کہ جھانکنا نہ پڑ جائے۔ ہر شخص کو اپنے سے کم تر سمجھتے ہیں حالانکہ ارذل الخلائق ہم خود ہیں!جیب میں حرام مال ڈال کر حلال تلاش کرتے ہیں! پورا پورا بکرا خرید کر لاتے ہیں۔ باورچی کو یا بیوی کو تلقین کرتے ہیں کہ گوشت خوب نرم ہو مگر کیا رمضان کیا شعبان اور کیا محرم‘ مردہ بھائی کا گوشت کچا کھاتے ہیں خلال تک نہیں کرتے! 

‎ہمیں جس سے نفرت ہو‘ اسے یہودی قرار دیتے ہیں! یہودی کہنا بدترین نفرت کا اظہار ہے!حال یہ ہے کہ پوری دنیا میں یہودی تاجر‘ یہودی کمپنیاں‘ یہودی برانڈ‘ خریدا ہوا مال‘ بغیر کسی وجہ کے واپس لے لیتے ہیںاور قیمت خریدار کو واپس کر دیتے ہیں۔ کوئی پندرہ دن کے اندر کوئی ایک ماہ کے اندر اور بہت سے ایسے ہیں کہ وقت کی قید ہی نہیں! خرید شدہ مال‘ اچھی حالت میں ہے اور رسید دکھا سکتے ہیں تو تین ماہ بعد جا کر واپس کیجیے اور ری فنڈ لے لیجیے۔ یہ برانڈ لندن میں ہیں یا نیو یارک میں یا اسلام آباد میں یا لاہور میں۔ اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ مگر مسلمان کمپنیاں‘ مسلمان برانڈ، مسلمان تاجر اس کی اجازت نہیں دیتے۔ خریدا ہوا مال واپس کرنے کا تصور تک ان کے ہاں مفقود ہے! پھر بھی یہودی بُرے ہیں۔ جنت کا ٹھیکہ سارے کا سارا مسلمانوں کے پاس ہے! اب تو یہ ٹھیکہ آگے پٹے پر بھی دیا جا رہا ہے!! جنت اور دوزخ میں بھیجے جانے کا فیصلہ مسلمانوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے! سنتے آئے تھے کہ یہ فیصلہ روز محشر پروردگار عالم خود فرمائے گا! مگر روزِ محشر کا انتظار کون کرتا۔ 

‎وہ جو ہم سے پوچھا گیا تھا کہ لِم تقولون مالا تفعلون ! جو کہتے ہو وہ کرتے کیوں نہیں اور جو کرتے نہیں وہ کہتے کیوں ہو؟ تو ہم مکمل بے نیاز ہیں کہ اس کا جواب سوچیں! ہماری ثقافت اور ہمارے طرز زندگی کی بنیاد ہی اس محاورے پر اٹھی ہے کہ خود را فضیحت دیگراں را نصیحت، یعنی دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت! نائب قاصد اور ریڑھی بان سے لے کر اعلیٰ ترین طبقات تک۔ ہم سب منافقت میں گلے گلے تک دھنسے ہوئے ہیں۔ یہی مثال لے لیجیے‘ ہم واعظ ہیں تو دوسروں کو حجامہ کی تلقین کرتے ہیں احادیث سناتے ہیں۔ زور دیتے ہیں کہ ڈاکٹروں کے چنگل میں نہ آئو۔ مگر خود بیمار پڑتے ہیں تو شہرکے بہترین ہسپتال میں سب سے زیادہ لائق ڈاکٹر کے پاس جا کر اینجیو گرافی کراتے ہیں۔ سٹنٹ ڈلواتے ہیں! 

‎ہر بار رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہم سے آزردہ خاطر ہو کر رخصت ہوتا ہے۔ ہم اسے زخموں سے چور کر کے الوداع کہتے ہیں۔ اگر ہم اعتراف کر لیتے کہ ہم معصیت میں مبتلا ہیں۔ ہم منافقت کا شکار ہیں تو بچنے کا امکان تھا! مگر ہم تو اصرار علی المعصیت کا ارتکاب کرتے ہیں چوری اور سینہ زوری! چور بھی اور چترا بھی یہ معصیت سے اگلا درجہ ہے۔ اسے بغاوت کہتے ہیں! اس کا نام نافرمانی ہے!

‎ مگر اس قصے کو چھوڑیے آئیے! افطار کے بعد چل کر کسی کیفے میں بیٹھتے ہیں اور یہود و ہنود کی ان سازشوں کا پردہ چاک کرتے ہیں جو وہ ہمارے خلاف کر رہے ہیں! بدبخت کہیں کے!

Thursday, May 16, 2019

اچھے ماتحت


‎یہ ایک مختصر‘ عام سا بیان ہے جسے ہو سکتا ہے بہت سے اخبار بینوں نے غور سے پڑھا بھی نہ ہو۔ مگر ایک خاص طرز سیاست کا کچا چٹھہ کھول رہا ہے جو اس ملک پر مسلط ہے!

‎ ’’مریم نواز ایک سیاسی کارکن ہیں وہ سیاسی میدان میں بھر پور کردار ادا کرتی ہیں لیکن قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتیں‘‘ 

‎یہ بیان کس کا ہے؟ یہ اہم نہیں! اس لئے کہ مقصد کسی کی ذات یا کسی کے نام کو موضوع سخن بنانا نہیں۔ مقصد اس فرق کو سامنے لانا ہے جو ہماری جمہوریت اور ترقی یافتہ ملکوں کی جمہوریت میں ہے۔ 

‎ہماری جمہوریت میں خاندان اہم ہے پارٹی اہم نہیں! ترقی یافتہ ممالک میں پارٹی اہم ہے۔ خاندان اہم نہیں! 

‎کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی برطانوی سیاست دان سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی یا اس کے خاندان کی صفائیاں پیش کر رہا ہو؟ امریکہ کے اخبارات کھنگال لیجیے۔ یو ٹیوب پر تقریریں۔ بیانات‘ چھان ماریے‘ کوئی ڈیمو کریٹ سیاستدان ایسا نہیں ملے گا جو سابق صدر بارک اوباما کے خاندان کی تعریفیں کر رہا ہو!یہ طرز جمہوریت صرف ہمارے ہاں رائج ہے کہ تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص کی بیٹی کے لئے میدان صاف کیا جا رہا ہے اور فل ٹائم خاندانی وفادار صاحبزادی کے حاجب بنے ہوئے ہیں ان حاجبوں کا اپنا کیا مستقبل ہے؟ کیا تاریخ انہیں یاد رکھے گی؟ 

‎نہیں! تاریخ خاندانی غلاموں کو ہمیشہ کوڑے دان میں ڈالتی ہے۔ عباسیوں نے ایک ایک اموی شہزادے کو موت کے گھاٹ اتارا۔ صرف ایک بچ پایا۔ عبدالرحمن جو قسمت کا دھنی نکلا اور اندلس پہنچ کر عبدالرحمن اول اور عبدالرحمن الداخل کے نام سے مشہور ہوا۔ دمشق میں تعاقب کرتی ننگی تلواروں سے بچ کر شمالی مراکش پہنچا اور پھر سمندر عبور کر کے اندلس لینڈ کرنا آسان نہ تھا۔ اس طویل‘ اذیت ناک سمندر میں اس کا ساتھ کس کس نے دیا؟ شام سے مصر اور مصر سے تیونس (اس وقت تیونس کو ’’افریقہ‘‘ کہا جاتا تھا) پھر تیونس سے مراکش تک کے خطرناک سفر میں کون اس کا ہم سفر تھا؟ کیا کسی کو نام یاد ہے؟ نہیں ہاں! تاریخ کی کرم خوردہ کتابوں میں ڈوب جائیے تو نام مل پائیں گے۔ ورنہ نہیں! اس لئے کہ خاندانی وفاداروں کو تاریخ نے کبھی اہمیت نہیں دی خواہ وہ امویوں کے خاندانی وفادار ہوں یا زرداریوں کے یا شریفوں کے! ان خاندانی وفاداروں کو ملنے والا یہ صلہ کیا کم ہے کہ ان کی زندگی میں لوگ ان کا نام سنتے رہتے ہیں! 

‎نوجوان ظہیر الدین بابر فرغانہ سے بھاگا۔ سالہا سال جدوجہد کرتا رہا۔ پہاڑیوں میں چھپتا کبھی جان بچا کر صحرائوں میں بھاگتا پھرتا۔ اس سارے عرصہ میں کون کون اس کے ساتھ رہا۔ بابر سے لے کر اورنگ زیب تک سب کے نام بچے بچے کو آج بھی یاد ہیں مگر جنہوں نے بابر کا ساتھ دیا۔ انہیں کوئی نہیں جانتا۔

‎ اور آخری مثال۔ ہمایوں در بدر ہو کر بھٹکتا رہا۔ جب عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوا تو بے کسی کا عالم یہ تھا کہ معزول بادشاہ کے لئے گوشت خود (ہیلمٹ) میں ابالا گیا پھر ایران پہنچا مدد ملی تو کابل کو فتح کیا پھر سوریوں سے سلطنت واپس چھینی۔ اس طویل جدوجہد میں چند جاں نثار ہمایوں کے ساتھ ہی رہے۔ سوائے بیرم خان کے تاریخ نے کسی کو اس قابل نہیں گردانا کہ اس کا نام آج معروف ہو۔ بیرم خان کا نام بھی اس لئے باقی رہ گیا کہ اکبر نے تاج پہنا تو بچہ تھا۔ عملی طور پر کئی برس بیرم خان ہی حکمرانی کرتا رہا۔ 

‎کل ہماری تاریخ نے نام باقی رکھا بھی تو سعد رفیق کا یا چودھری نثار علی خان کا رکھے گی جو خاندانی غلامی کا طوق گلے میں پہننے کے لئے تیار نہ ہوئے اس طویل قامت باریش وفادار کو تو شاید فٹ نوٹ میں ایک سطر بھی نہ نصیب ہو جو مبد ء ِفیاض کا اس قدر ناشکرا تھا کہ وزیر اعظم بن کر بھی اپنے آپ کو وزیر اعظم نہ کہہ سکا اور جس نے سرکاری اڑن کھٹولے میں ایک مجرم کو فرار کرا کر قومی ’’دیانت‘‘ کا چمکدار ثبوت دیا۔ 

‎اس وفادار گروہ کی نفسیات سمجھنے کے لئے آپ کو ایک عسکری اصطلاح پر غور کرنا ہو گا۔ ایک بریگیڈیئر جب کور ہیڈ کوارٹر میں تعینات ہوتا ہے تو وہ کور کمانڈر کا چیف آف سٹاف لگتا ہے۔ یہاں اس نے فیصلے نہیں کرنے بلکہ کمانڈر کو اس کے کام میں مدد فراہم کرنی ہے اس کے احکام کی متعلقہ حلقوں تک پہنچانا ہے اور ان پر تعمیل کرانا ہے۔ اسے سٹاف پوسٹنگ کہتے ہیں۔ کل اسی بریگیڈیر کو ایک بریگیڈ کا سربراہ بنا دیا جاتا ہے اب وہ بریگیڈ کمانڈر ہے۔ اب اس نے قیادت کرنی ہے، فیصلے کرنے ہیں۔ اسے کمانڈ پوسٹنگ کہتے ہیں۔ یہی صورت حال سول انتظامیہ میں ہے۔ ایک افسر کو ضلع کا سربراہ بنایا جاتا ہے تو اس نے پورے ضلع کی قیادت کرنی ہے۔ انتظام و انصرام کرنا ہے۔ فیصلے صادر کرنے ہیں۔ وہ اپنے دائرہ کار میں ٹاپ پر ہے۔ مگر جب وہ پنجاب یا سندھ سیکرٹریٹ میں تعینات ہوتا ہے تو اب اسے چیف سیکرٹری یا چیف منسٹر کے سٹاف کے طور پر کام کرنا ہے

‎ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جن میں کوئی شرارہ کوئی چنگاری نہیں ہوتی۔ وہ قیادت کے اہل ہوتے ہیں نہ فیصلے کرنے کے ۔وہ صرف ماتحت ہو کر احکام کی تعمیل کر سکتے ہیں ایک ذہین شخص ایسے فرد کی نفسیات پر ایک طویل تقریر کرنے کے بجائے صرف ایک جملہ کہے گا کہ’’فلاں ایک اچھا ماتحت ہے‘‘ یہ جملہ جو بظاہر تعریفی ہے۔ بتا رہا ہے کہ اس میں قیادت کی اہلیت نہیں۔ انسانوں کی یہی وہ قسم ہے جو کسی حکمران خاندان کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کر لیتے ہیں۔ اسی کے سائے میں اسی کی چھتری تلے‘ وقت گزارتے ہیں۔ انہیں سیاست دان کہنا سیاست کی توہین ہے۔ یہ خاندانی غلام۔ پشتینی وفادار۔ اپنی رائے نہیں رکھتے۔ فیصلہ نہیں کر سکتے۔ قیادت ان کے بس کی بات نہیں۔ لیڈر شپ کوائلٹی ان کی صفر ہے۔ 

‎مثلاً انہی صاحب کو لیجیے جنہوں نے پرسوں مریم بی بی کے بارے میں بیان صفائی دیا ہے آپ ان کا پورا کیریر اور کیریر کاریکارڈ غور سے دیکھیے۔ یہ کوئی پالیسی بیان کبھی نہیں دیتے۔ ملک اور قوم کے بارے میں انہوں نے کبھی کوئی بات نہیں کی۔ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کا ان کے نزدیک اور کوئی طریقہ روئے زمین پر موجود ہی نہیں سوائے اس کے کہ شریف خاندان کا کوئی مرد یا عورت حکمران ہو۔ ملک میں تعلیمی نظام کیا اصلاحات چاہتا ہے؟ زراعت کن تبدیلیوں کی متقاضی ہے؟ ادارے کس پراگندگی میں ہیں؟ بین الاقوامی تعلقات کی نزاکت کیا چاہتی ہے؟ یہ سب باتیں ان کے ذہن کی رسائی سے بلند ہیں۔ گزشتہ دس سال کے ان کے بیانات دیکھ لیجیے یہ صرف دو اقسام کے ہیں۔ شریف خاندان(یا شریف خاندان کے کسی فرد) کی تعریف میں یا دفاع میں۔ اور شریفوں کے مخالفن کی مذمت میں۔ اس مذمت میں ایسے وفاداروں نے اپنے آپ کو مضحکہ خیز تک بے نقاب کر دیا۔ 

‎ایسے افراد کبھی کسی جماعت کے لیڈر نہیں بن سکتے۔ یہ صرف اچھے ماتحت ہیں۔اچھے سٹاف افسر ہیں۔ خاندان کادفاع کرنا جانتے ہیں۔ ان کی صلاحیتیں صرف اس وقت نمایاں ہوتی ہیں جب مربی خاندان کے مخالفوں کی کردار کشی کرنا ہوتی ہے۔ مومن نے شاید انہی کے بارے میں کہا تھا ؎ 

‎بے بخت رنگ خوبی کس کام کا کہ میں تو 
‎تھا گُل ولے کسی کی دستار تک نہ پہنچا

‎ یہ ہمیشہ کسی دوسرے کی دستار میں لگتے ہیں۔ اس کے بغیر ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ بغاوت کا یہ سوچ تک نہیں سکتے۔ جی سر جی سر کہنا انہیں اچھا لگتاہے۔ وہ مر کر دوبارہ جی اٹھیں تب بھی اپنے لیڈر کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ’’مجھے آپ سے اختلاف ہے‘‘ 

‎اقبال نے مومنؔ سے اختلاف کیا اور ایسے لوگوں کو شرم دلائی کہ ؎ 

‎نہیں یہ شان خودداری‘ چمن سے توڑ کر تجھ کو 
‎کوئی دستار میں رکھ لے کوئی زیب گلو کر لے 

‎یہ وہ مخلوق ہے جو کسی چھتنار کے سائے تلے اگتی ہے۔ وہیں پرورش پاتی ہے۔ وہیں مرجھا کر زمین کا رزق ہو جاتی ہے۔ سیاست کے دامن پر یہ داغ ہیں ایسا داغ جسے خوشننما کہنے کے لئے ’’اچھا ماتحت‘‘ ہونا ضروری ہے!

Tuesday, May 14, 2019

اب افاقہ ہے؟



یوگی ادتیاناتھ
(Aditya nath)
یو پی کے ایک گائوں میں 1972ء میں پیدا ہوا۔ باپ محکمہ جنگلات کا ملازم تھا۔ نوے کی دہائی میں ادتیا ناتھ اس تحریک میں شامل ہو گیا جو ایودھیا مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنا چاہتی تھی۔ اسی دوران خاندان سے قطع تعلق کر کے وہ گورکھ پور کے مشہور مندر گورکھ ناتھ سے وابستہ ہو گیا۔ یہیں اسے ’’مہنت‘‘ کا درجہ دے دیا گیا۔ پھر وہ انتہا پسند ہندو کے طور پر سیاست میں آیا اور لوک سبھا کا رکن منتخب ہو گیا۔ آر ایس ایس کو اس کے نظریات راس آ رہے تھے۔

2017
ء میں وہ یو پی کا وزیر اعلیٰ مقرر ہو گیا۔ اس کے بعد مسلمانوں پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ مدارس کو پابند کیا گیا کہ یوم آزادی پر قومی ترانہ گائیں
 اور ثبوت میں ویڈیو پیش کریں۔ پاکستان کو شیطان سے تشبیہ دی۔ صدر ٹرمپ کی اینٹی مسلم پالیسی کی حمایت کی۔ اس نے اعلان کیا کہ ہم ہر مسجد میں دیوتائوں کے بت نصب کریں گے۔2015ء میں اس نے کہا کہ شاہ رخ خان وہی زبان استعمال کرتا ہے جو حافظ سعید کی ہے۔ 

حال ہی میں ادتیا ناتھ نے الہ آباد کا نام تبدیل کر کے پریاگ راج رکھ دیا ہے۔ مسلم ثقافت پر یہ بھارتی تاریخ کا بدترین حملہ ہے۔ عبدالقادر بدایونی‘ نظام الدین احمد اور اکبر نامہ کا مصنف سب یہی لکھتے ہیں کہ الہ آباد کی بنیاد اکبر اعظم نے رکھی۔ 1580ء میں اکبر نے اسے صوبائی دارالحکومت قرار دے دیا۔ شہزادہ سلیم نے بغاوت کی تو الہ آباد کو مستقر بنایا۔ تاریخ الہ آباد کے نام ہی سے آشنا ہے۔ 1902ء سے 1922ء تک الہ آباد یوپی کا دارالحکومت رہا۔ آزادی کی تحریکوں میں الہ آباد پیش منظر پر چھایا رہا۔1857ء میں مولوی لیاقت علی نے علم بغاوت یہیں بلند کیا۔ 1930ء میں علامہ اقبال نے اپنا مشہور خطبہ جس میں الگ ریاست کا تصور پیش کیا۔ یہیں دیا تھا۔ اکبر الہ آبادی ے بغیر الہ آباد کا تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔ اقبال کو اکبر نے آم بھیجے تو اقبال نے رسید یوں دی ؎

 اثر یہ تیرے اعجاز مسیحائی کا ہے اکبرؔ 
الہ آباد سے لنگڑاچلا لاہور تک پہنچا 

مشہور شاعر نوح ناروی یہیں سے تھے۔ مصطفی زیدی کا ابتدائی تخلص تیغ الہ آبادی تھا۔ 

ایودھیا مسجد کے سانحہ کے بعد الہ آباد کے نام کی تبدیلی مسلمانان برصغیر کے لئے دوسرا بڑا ثقافتی صدمہ ہے۔ پاکستانی مسلمان کم رنجیدہ نہیں مگر بھارتی مسلمانوں کے لئے یہ ایک المناک تبدیلی ہے۔ مسلمانوں کے بدترین دشمن یوگی ادتیا ناتھ نے مسلمانوں کو بڑے بڑے زخم دیے ہیں۔ مگر یہ زخم سب سے زیادہ گہرا ہے۔

 تاہم یہ گریبان میں جھانکنے کا لمحہ ہے۔ اس حوالے سے ہم پاکستانیوں کا ریکارڈ کیا ہے؟آج اگر ادتیاناتھ سے گلہ کیاجائے تو وہ ایک فلک شگاف قہقہہ لگائے گا اور کہے گا ع 

این گناہیست کہ در شہر شمانیزکنند 

کہ تم بھی تو یہی کرتے آئے ہو۔ 

جہاں آج فیصل آباد ہے۔ وہاں ایک زمانہ تھا کہ صرف جنگل تھے اورجانگلی قبیلے !بقول ناصر کاظمی ؎ 

یہاں جنگل تھے آبادی سے پہلے
 سنا ہے میں نے لوگوں کی زبانی 

انگریز سرکار نے غلہ انگلستان بھیجنے کے لئے اس علاقے میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام قائم کرنے کی ٹھانی اور زرعی پیداوار میں انقلاب برپاکر کے دکھا دیا۔ ایک انگریز افسر پوہم ینگ نے نئے شہر کا نقشہ ترتیب دیا اور وہی ڈیزائن بنایا جو انگریزی پرچم(یونین جیک) کا ہے۔ مرکز اور اس کے گرد آٹھ شاہراہیں۔ مرکزگھنٹہ گھر بنا اور آٹھ شاہراہیں آٹھ مشہور بازار بن گئے۔ 

اس وقت کے پنجاب کے گورنر جیمز لائل نے شہر کو تعمیر کرایا۔ لائل کا نہری نظام کی تعمیر میں بہت بڑا حصہ تھا۔ ساٹھ لاکھ ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بنانے کی منصوبہ بندی کی۔ نیا شہر صفر سے شروع ہوا۔ یہ برصغیر میں انگریزی عہد کا پہلا شہر تھا جو باقاعدہ پلاننگ سے آباد کیا گیا۔1895ء میں اسے ٹرین کے ذریعے وزیر آباد سے جوڑا گیا۔1904ء میں اسے ضلع بنایا گیا۔ موجودہ زرعی یونیورسٹی اصل میں زرعی کالج تھا جو 1906ء میں قائم ہوا۔1930ء سے یہ شہر 
صنعتی ہونا شروع ہوا۔ تقسیم کے بعد اسے پاکستان کا مانچسٹر قرار دیا گیا کیونکہ کپڑے کی صنعت کا مرکز بن گیا تھا۔ 

1977
ء میں اس کا نام لائل پور سے بدل کر فیصل آباد رکھ دیا گیا۔ شاہ فیصل سے اہل پاکستان کی محبت اور عقیدت اپنی جگہ۔ مگر آج تک یہ راز‘ راز ہی ہے کہ شاہ فیصل مرحوم کا لائل پور سے کیا تعلق تھا۔ ایسا بھی نہیں کہ لائل پور کا اصل نام فیصل آباد تھا۔ جسے انگریز سرکار نے بدل دیا تھا۔ شہر کی پہلی اینٹ ہی برطانوی عہد میں رکھی گئی پوہم ینگ نے نقشہ بنایا۔ جیمز لائل نے تعمیر کی سرپرستی کی۔1977ء میں جب شہر کو ’’مسلمان‘‘ کیا گیا تو اس کی کل عمر نوے برس کے لگ بھگ تھی۔ انصاف کا اندازہ لگائیے کہ نقشہ کسی اور نے بنایا۔ تعمیر کسی اور نے کرایا۔ شاہ فیصل کی پیدائش 1906ء کی تھی۔ جب کہ اس وقت تک لائل پور ضلع بھی بن چکا تھا! 

1978ء میں ہمارے اندر کے یوگی ادتیا ناتھ نے ایک بار پھر انگڑائی لی۔ اس بار ہم نے کیمبل پور شہر کا نام اٹک رکھ دیا حالانکہ اٹک اصل میں ایک پرانا قصبہ تھا جو دریائے سندھ کے کنارے سینکڑوں برس سے آباد چلا آ رہا ہے۔ اکبر کا تعمیر کردہ قلعہ بھی اٹک کے نام سے موسوم چلا آ رہا ہے۔ کیمبل پور شہر کی بنیاد انگریز سرکار نے رکھی تھی۔ کیمبل پورچھائونی 1857ء میں وجود میں آ چکی تھی۔ فیلڈ مارشل کولن کیمپ بیل 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران انگریزی فوج کا کمانڈر ان چیف تھا۔ جنگ آزادی کے ہیرو تانیتا ٹوپی کو اسی نے شکست دی۔ پھر لکھنؤ کو دوبارہ انگریزی عملداری میں لایا۔ کیمبل پور (Campbell pur)شہر کی بنیادیں 1908ء میں کھودی گئیں۔ اصل اٹک قصبہ اس سے کئی میل دور شمال مغرب میں تھا۔ نئے شہرکو کیمپ بیل کے نام پر کیمپ بیل پور کہا گیا۔ عام لوگ جو انگریزی تلفظ سے ناآشنا تھے۔ کیمبل پور اور کبھی کامل پور کہتے اور لکھتے تھے۔ یہ دو الگ الگ آبادیاں تھیں۔ اٹک قصبہ جو دریا کے کنارے‘ قلعے کے نزدیک تھا۔ اور کیمبل پور شہر جو انگریزوں نے بنایا اور بسایا۔

اگر قومی ثقافت کا دورہ اتنا ہی شدید تھا تو ضلعی ہیڈ کوارٹر کیمبل پور سے اٹک(موجودہ اٹک خورد) میں منتقل کر دیتے۔ مگر ایک شہر جو کسی اور نے بنایا اور آباد کیا‘ اس کا نام بدلنے کا کوئی جوازؤ۱ نہ تھا۔ 

خود ہم نے ستر برسوں میں ایک نیا شہر اسلام آباد بسایا جو اب جرائم کا گڑھ بن چکا ہے اور نااہلی اور شرمناک بدانتظامی کا بدترین نمونہ ہے۔ ہر روز کئی گاڑیاں چوری ہوتی ہیں۔ پانی کمیاب ہے۔ کوڑے کے جابہ جا ڈھیر ہیں۔ شہر کا مرکز میلوڈی مارکیٹ اور میلوڈی فوڈ پارک غلاظت کا گڑھ ہے گندھے بدبودار پانی کے اوپر بیٹھ کر کباب اور نہاری کھائی جاتی ہے۔ سڑکوں پر اینٹوں کے انبار لوہے کے سریے اور بجری کے ڈھیر پڑے ہیں۔ گرین ایریا‘ لینڈ مافیا کے جبڑوں میں آ چکا ہے۔ ہر نئی حکومت نے پلاٹوں کو رشوت کے طور پر بانٹا۔ شہر کے دونوں کناروں پر بارہ کہو اور ترنول کے ’’آزاد‘‘ علاقے ہیں۔ انہیں علاقہ غیر کہا جانا چاہیے۔ شہر کے عین درمیان پورا سیکٹر(جی۔12) غیر منظم اور انتظامیہ کے قبضے سے آزاد ہے۔ یہ منشیات اور تمام ممکنہ جرائم کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ 

اس شرمناک کارکردگی اور بدترین نااہلی پر حیا کرنے کے بجائے ہم نے پرانے شہروں کو فتح کرنا بہتر جانا۔ کبھی ایک شہر کا نام بدلا کبھی دوسرے کا۔ کمائی کسی اور کی۔ جیب ہماری! ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ آئے چوکھا۔ 

وہی کام ادتیا ناتھ نے کیا تو ہمیں صدمہ ہوا۔ لائل ‘ پوہم ینگ اورکیمپ بیل زندہ ہوتے تو ہم سے ضرور پوچھتے کہ اب افاقہ ہے؟

Sunday, May 12, 2019

جو ہو رہا ہے ہم اسی کے مستحق ہیں

 


کیا آپ کو یاد ہے مہاجن چوکی سامنے رکھےدری پر بیٹھا ہوتا تھا؟ 


نواب صاحب کا منشی اس کے پاس آتا تھا۔ کہ نواب صاحب نے مزید قرض مانگا ہے۔ وہ کھاتہ دیکھتا تھا کہ پچھلا حساب کتنا ہے۔ پھر کچھ کہے یا پوچھے بغیر مطلوبہ رقم گن کر منشی کے حوالے کر دیتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ قر ض واپسی آنا ہی آنا ہے اور مع سود آنا ہے۔ نواب صاحب کے پاس رقم نہ بھی ہوئی تو جاگیر تو کہیں نہیں گئی۔ یوں آہستہ آہستہ جاگیر قسطوں میں مہاجن کے نام منتقل ہوتی رہتی تھی۔ اس زمانے میں کتنے ہی نواب قرض لے لے کر قرقی ہوئے۔ کچھ نے پیسہ طوائفوں کے کوٹھوں پر لٹایا کچھ نے کنیزیں پالیں اور ان پر فدا ہوئے کچھ کو شادیوں کا شوق تھا۔ کچھ شراب نوشی اور قمار بازی کے شیدا تھے۔ کچھ کو انگریز سرکار پنشن جتنی دیتی تھی وہ ان کے شاہانہ اخراجات کی متحمل نہ ہوتی تھی۔ واجد علی شاہ کو لکھنؤ سے نکال کر انگریزوں نے کلکتہ میٹا برج میں نظر بند کیا تو ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دکانداروں کو انہیں ادھار دینے سے منع کر دیا۔ 


مہاجن کا وصف یہ تھا کہ وہ نصیحت نہیں کرتا تھا۔ قرض دیتے وقت شرط نہیں عائد کرتا تھا کہ نواب صاحب اپنی سلطنت میں فلاں فلاں اصلاحات بروئے کار لائیں یا جاگیر کے انتظام و انصرام میں یہ یہ تبدیلی لائیں۔ آئی ایم ایف بھی مہاجن ہے۔ مگر جدید زمانے کا پڑھا لکھا طاقت ور مہاجن ! جس کا رعب داب اتنا ہے کہ قرض مانگنے والے ملکوں کو پندو نصائح کرتا ہے۔ اصلاحات تجویزکرتا ہے۔ پھر ان اصلاحات کا عملی نفاذ مانگتا ہے۔ 


اگر ہم گریبان میں لمحہ بھر کے لئے جھانکنا گوارا کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ آئی ایم ایف کے بجائے اگر عہد رفتہ کا مہاجن ہوتا تو اب تک پاکستان کے وسیع رقبے اس کے نام منتقل ہو چکے ہوتے۔ ہم وہ نواب ہیں جس کی جاگیر بدترین بدانتظامی کا شکار ہے اور ہم خود شکار کھیل رہے ہیں اور کوٹھوں پر بیٹھے مجروں سے حظ اٹھا رہے ہیں۔ 


سوال یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے اختیار میں تھا کیا ہم نے کیا ؟ حکومتیں سٹیل مل اور پی آئی اے کی درجنوں یونینوں کے ہاتھوں یرغمال رہی ہیں آج بھی حکومت یرغمال ہے۔ پی آئی اے کو پے درپے ہر حکومت نے رشوت کے طور پر استعمال کیا آج بھی اچھی طرح یاد ہے ایک سیاسی جماعت کے دو لیڈروں کی دو ڈاکٹر بیٹیوں کی تعیناتی قومی ایئر لائن میں ہوئی تھی۔ جب کہ ملک کی ہزاروں ڈاکٹر بیٹیاں اس خصوصی سلوک سے محروم تھیں۔ کتنے عشرے گزر گئے کہ کسی اشتہار کے بغیر کسی اوپن مقابلے کے بغیربھرتیاں کی جاتی رہیں۔ کیا بائیں بازو کے کامریڈ اور کیا اسلام پسند۔ سب نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ گنتی کے چند جہاز اور دنیا بھر میں فی جہاز سب سے زیادہ ملازمین؟ یونینیں کوئی اصلاحات نہیں کرنے دیتیں۔پائلٹوں کی اپنی یونین، انجینئروں کی اپنیانتظامی سائڈ والے الگ ۔ اس کا ایک ہی علاج تھا کہ اسے نجی شعبے کے حوالے کیا جاتا۔وہ اسے نفع نقصان کی بنیاد پر چلاتا اور یہ اندھیر نہ ہوتا کہ جہاز کے اندر اچھی نشستیں سب اپنے ملازمین کو دی جاتی ہیں جو مفت سفر کرتے ہیں۔ 


یہی حال سٹیل مل کا ہے۔ شریفوں سمیت سب کے نجی کارخانے کامیابی سے چل رہے ہیں صرف سٹیل مل سفید ہاتھی ہے ؎ 


انجم غریب شہر تھے اب تک اسیر ہیں 

سارے ضمانتوں پہ رہا کر دیے گئے 


مگر حکومت اس سے جان نہیں چھڑا رہی ۔ہر سال اربوں روپے خیرات میں اس لولے لنگڑے کارخانے کو دیے جاتے ہیں۔ 


ہم کروڑوں روپے کی ماہانہ اس چوری کو نہیں روک سکتے جو گیس اور بجلی کی ملک کے اطراف و اکناف میں ہو رہی ہے آپ نااہلی اور بدانتظامی کی انتہا دیکھیے کہ گیس سائل کو قانونی طریقے سے نہیں دی جا رہی، وہ برسوں جوتے چٹخاتا ہے۔کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ رشوت دے کر چوری کا کنکشن لے لیتا ہے جس کا بل بھی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی کے نرخ بڑھا دیں گے مگر ملک کے جن حصوں میں بجلی مفت دی جا رہی ہے، وہاںمفت دی جاتی رہے گی۔ چوری نہیں روکی جا رہی۔ پھر محکمے کے ہزاروں ملازمین جس بے دردی سے ایئر کنڈیشنر مفت استعمال کر رہے ہیں اس کا کوئی حساب ہے نہ تخمینہ!


 کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ تاجروں کی ہٹ دھرمی اور ملک دشمنی کتنی مہنگی پڑ رہی ہے؟ ٹیکس کی بات نہیں کی جا رہی۔ اوقات کار کی طرف اشارہ ہے۔ یہ کیسے محب وطن ہیں جو دن کے بارہ ایک بجے کاروبار شروع کرتے ہیں اور آدھی رات تک توانائی کو بے دردی سے استعمال کرتے ہیں پوری مہذب دنیا میں بازار نو بجے کھل جاتے ہیںپاکستان میں دوپہر تک سناٹا رہتا ہے۔ 


آپ اداروں کی کارکردگی پر غور کریں گے توسر پیٹ لیں گے۔ نادرہ جیسے حساس ادارے میں غیر ملکی ملازمین پائے گئے۔ ہزاروں شناختی کارڈ غیر ملکیوں کو جاری کر دیے گئے۔ ترقیاتی ادارے کرپشن کا گڑھ ہیں۔ باقی شہروں کوچھوڑ دیجیےوفاقی دارالحکومت کا ترقیاتی ادارہ نااہلی رشوت اور بدانتظامی سے ناسور بن چکا ہے ایک انتہائی طاقت ور یونین ہے جس کے عہدیدار دفتری کام کئے بغیر صرف دادا گیری کرتے ہیں۔ دارالحکومت کے رہائشی سیکٹر جھگیوں سے بدتر تصویر پیش کرتے ہیں۔ دکانداروں سے رشوت لی جاتی ہے۔ ناجائز تجاوزات کی بھر مار پارکنگ کے رقبے ریڑھیوں اور سٹال لگانے والوں کو ٹھیکے پر دیے جاتے ہیں۔ ترقیاتی ادارے کی آنکھوں کے سامنے ناجائز تعمیرات ہوتی ہیں۔ غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیاں تشکیل پاتی اور پروان چڑھتی ہیں۔ بارہ کہو کے علاقے میں پہاڑ کاٹ کاٹ کر سرکاری زمینیں ہڑپ کی جا رہی ہیں۔ مگر چیف کمشنر کا ادارہ کچھ کرتا ہے نہ ترقیاتی ادارہ


آپ ترقیاتی ادارے کی نااہلی کا اندازہ ایک مثال سے لگائیے پورے وفاقی دارالحکومت میں اگر کوئی سڑک پر تعمیراتی سامان یعنی سریااینٹیںبجریسیمنٹ رکھ دے یہاں تک کہ گزرگاہ بند ہو جائے تو اس ظلم سے روکنے والا کوئی نہیں۔ دوسری طرف بحریہ اور ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹیوں میں اس حرکت کو جرم قرار دے کر بھاری جرمانے عائد کئے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ترقیاتی ادارے میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ 


کیا عجب کل آئی ایم ایف حکومت پاکستان سے یہ کہے کہ قرض لینے سے پہلے اپنے ملازمین کو وقت کا پابند کیجیے۔ کیا افسر کیا کلرک کیا نائب قاصد دس گیارہ بجے سے پہلے دفترخواب گراں سے جاگتے نہیں! سائل آئے تو متعلقہ اہلکار نشست پر موجود نہیں ہوتا۔ ایک استدعا آئی ایم ایف سے ہم خود کرنا چاہتے ہیں کہ کسی طرح اہل پاکستان کو تقاریب وقت پر شروع کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اس لاقانونیت میں شادی بیاہ کی تقاریب کے علاوہ تمام سرکاری اور نجی تقاریب سرگرم کارہیں۔ یہ عجیب مست ملنگ اور دامن دریدہ قوم ہے کہ دعوتی کارڈ پر آٹھ بجے کا وقت لکھتے ہیں اور میزبان خود نو دس بجے سے پہلے نہیں نظر آتے۔ جن تقریبات میں وزیر اعظم صدر اور وزراء شرکت کرتے ہیں ان میں بھی یہی جاہلانہ رویہ اپنایا جاتا ہے۔

پاکستان میں وقت پر کوئی کام کرنے کا تصور سرے سے مفقود ہے۔ ہماری اپیل ہے کہ مادام لگارڈےجو آئی ایم ایف کی سربراہ ہیں۔ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں اور وقت کے ناقابل بیان ضیاع کو رکوائیں۔ 


اگر وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کی ناک کے عین نیچے وفاقی دارالحکومت میں اتنی دھاندلیاتنی لاقانونیت اور اتنی انارکی کا دور دورہ ہے تو ضلعوں اور تحصیلوں میں جو کچھ ہو رہاہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر بادشاہ ہے۔ دوپہر کو دفتر آئے تو کون اعتراض کر سکتا ہے۔ ڈپٹی کمشنرایس پیتحصیلدارپٹواریفراعنہ اور نماردہ سے کم نہیں! پورا دن دفترنہ آئیں سائل بیٹھ بیٹھ کر سوکھ سڑ جائیں تو کوئی تلافی ہے نہ شنوائی


جس قوم کے یہ لچھن ہوں وہ دنیا میں سر اٹھا کر کیسے چل سکتی ہے؟ وہ اسی قابل ہے کہ کشکول ہاتھ میں اٹھائےرُسوا ہوتی رہے

 

powered by worldwanders.com