Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, January 21, 2021

…اتنی جلدی ہے تو خط خود پوسٹ کر دو



غلط تھے ہمارے اندازے! غلط تھے ہم!
انسان کی فطرت میں جلد بازی ہے اور یہی جلد بازی تو ہے جو اس کی رائے کو متوازن نہیں رہنے دیتی۔ ہم سے بھی یہی ہوا! ہم نے اس حکومت کے متعلق رائے قائم کرنے میں جلدی کی۔ کاش! ہم انتظار کر لیتے! آج ندامت نہ اٹھانا پڑتی! ہم اپنی غلطی، بہر طور، تسلیم کرتے ہیں! انسان خطا کا پتلا ہے! ہم بھی انسان ہیں! اللہ معاف کرے کیا کیا اول فول باتیں کیں ہم نے اس حکومت کے بارے میں۔ کبھی کہا کہ پولیس کو نہیں سدھار رہی! کبھی کہا کہ ناصر درانی کو ہٹا دیا گیا۔ کبھی تھانہ کلچر کو لے کر ساری حکومت ہی کو مطعون کر دیا‘ حالانکہ بات ساری اتنی تھی کہ وزیر اعظم موقع کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی موقع ملا‘ انہوں نے ضرب لگا دی! ایسی ضرب کہ معترضین گھائل ہو رہے ہیں۔
یہ بے مثال داستان تب شروع ہوئی جب دارالحکومت کی پولیس کے نئے سربراہ نے وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ اب آپ قانونی موشگافیوں میں نہ پڑیے کہ وفاقی پولیس کا سربراہ تو وفاقی سیکرٹری داخلہ کو جوابدہ ہوتا ہے اور اس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ کو۔ یہ بھی نہ پوچھیے کہ یہ ملاقات پولیس کے سربراہ کی اپنی خواہش پر ہوئی یا وزیر اعظم کے حکم پر؟ اگر اپنی خواہش پر ہوئی تو کیا سیکرٹری داخلہ اور وزیر داخلہ کے علم میں یہ ملاقات تھی؟ اور اگر وزیر اعظم نے طلب کیا تھا تو اصولی طور پر، کم از کم، وزیر داخلہ کو اس ملاقات میں موجود ہونا چاہیے تھا؛ مگر کالم نگار تو آپ کو پہلے ہی مشورہ دے چکا ہے کہ ان اصول و ضوابط میں نہ پڑیے۔ وصول ہو گا نہ کچھ حاصل حصول!
راویانِ خوش وضع اور واقفانِ اسرار نے خبر دی ہے کہ جب یہ ملاقات ہوئی اور ایک طرف وفاقی پولیس کے سربراہ تشریف فرما ہوئے اور دوسری طرف سربراہِ حکومت، مسندِ اختیار پر متمکن ہوئے تو وزیر اعظم سربراہ کے علم میں یہ بات لائے کہ بنی گالہ کے، جہاں ان کی ذاتی قیام گاہ ہے، تھانے کے حالات دگرگوں ہیں۔ اہلکار اس تھانے کے اتنے خود سر اور بے خوف واقع ہوئے ہیں کہ زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کی پشت پناہی کرتے ہیں، منشیات کے مکروہ کاروبار میں معاونت کرتے ہیں اور تعمیراتی سامان ڈھونے والوں سے بھتہ گیری کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے یہ شکایت بھی کی کہ اسی تھانے والوں نے ایک ٹرک ڈرائیور سے بھی بھتہ لیا ہے۔ پولیس کی ہائی کمانڈ نے اس ٹرک ڈرائیور کو ڈھونڈ نکالا اور اسے کہا کہ بھتہ لینے والے کو پہچانو‘ مگر ٹرک ڈرائیور پولیس سے زیادہ عقل مند نکلا۔ اس نے شناخت کرنے کے معاملے میں آئیں بائیں شائیں کی۔ پولیس کو اپنا حال نظر آ رہا تھا اور ٹرک ڈرائیور کو اپنا مستقبل! وزیر اعظم کل کون ہو گا اور آئی جی کون ہو گا؟ کسی کو نہیں معلوم! مگر بھتہ لینے والے اہلکار کل بھی ہوں گے اور پرسوں بھی! روایت ہے (نہ جانے کتنی سچائی ہے اس میں) کہ صدر ایوب خان کے دور اقتدار میں پٹواری نے ان کی والدہ محترمہ سے آنے والا نذرانہ دو گنا کر دیا تھا کہ اب آپ کے صاحبزادے بادشاہ ہو گئے ہیں! ایک واقعہ اس کالم نگار کے علم میں بھی ہے۔ سرکار کے تعمیراتی (ورکس) محکمے میں ایک اہلکار نے نذرانہ وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ دینے والا ٹھیکے دار غصے میں آ گیا۔ اس نے اہلکار کو تھپڑ رسید کیا کہ نہ لے کر ہماری عادت خراب مت کرو۔ تمہارے بعد آنے والے اہلکار کو بھی تو دینا ہو گا۔ بات دوسری طرف نکل گئی اور خاصی دور نکل گئی۔ قصہ کوتاہ یہ کہ، نتیجے کے طور پر، بنی گالہ کے تھانے سے درجن بھر کانسٹیبل، ہیڈ کانسٹیبل، سب انسپکٹر، اسسٹنٹ سب انسپکٹر وغیرہ وغیرہ کو ہٹا دیا گیا۔ اب آپ میری نصیحت کے پرخچے اڑاتے ہوئے پھر مسئلے کو کریدیں گے‘ جیسے خرگوش مٹی کی دیوار کو کریدتا ہے‘ اور پوچھیں گے کہ ہٹانے سے کیا مطلب ہے؟ کیا انہیں معطل کیا گیا؟ کیا انہیں چارج شیٹ کیا گیا؟ کیا انہیں بر طرف کیا گیا؟ آخر سزا کیا ملی؟ تو عرض ہے کہ اس واقعے کا سورس زبانِ فرنگ میں ہے جہاں Remove کا لفظ برتا گیا ہے۔ گمان غالب بلکہ یقین یہی ہے کہ ان ہتھ چُھٹ اہلکاروں کو کسی دوسرے تھانے میں بھیج دیا ہو گا‘ جو وزیر اعظم کی آبادی سے خاصی دور ہو گا۔ ہتھ چُھٹ کا لفظ کالم نگار کی لغت میں اضافہ ہے اور اس کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بے تکلف دوست امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کی بیٹیاں تعلیم اور ملازمت کے سلسلے میں دن کو گھر سے باہر رہتی تھیں۔ بیٹیوں کے بچے نانی کے چارج میں ہوتے تھے۔ نانی جان بچوں کو بد تمیزی یا نا فرمانی پر ایک آدھ ہاتھ ٹِکا جاتی تھیں۔ یوں ہمارے دوست نے اپنی بیگم صاحبہ کا نام ہتھ چُھٹ نانی رکھ دیا۔
بات کو، بار بار، اِدھر اُدھر اس لیے لے جا رہا ہوں کہ آپ کو بے تُکے سوال پوچھنے کا وقت ہی نہ ملے‘ مگر آپ نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ اب آپ یہ پوچھ رہے ہیں کہ وزیر اعظم نے شکایت کس حیثیت میں کی تھی؟ بنی گالہ کے مکین کی حیثیت سے؟ یا وزیر اعظم کی حیثیت سے؟ اگر مکین کی حیثیت سے کی تو کیا پولیس کے سربراہ دیگر مکینوں کو بھی ان کے گھروں میں جا کر شرف ملاقات بخشیں گے؟ شکایات سنیں گے؟ اور اسی طرح کا فوری ایکشن لیں گے؟ اور اگر یہ شکایت جناب وزیر اعظم نے مملکت پاکستان کے حکومتی سربراہ کی حیثیت سے کی ہے تو پھر صرف اُس ایک تھانے کی تطہیر کیوں ہوئی ہے؟ باقی تھانوں کی کیوں نہیں ہوئی؟ کیا باقی تھانوں میں تعینات اہلکار ان جرائم سے پاک ہیں؟ اس لیے کہ وزیر اعظم کو تو سارے تھانوں کے بارے میں تشویش ہو گی اور یقینا ہو گی! تو پھر دوسرے تھانوں کا کیا بنے گا؟ آپ کی توجہ ان تخریبی سوالوں سے ہٹانے کے لیے یہ بھی بتائے دیتے ہیں کہ یہ تھانہ اُن چار چیدہ اور چنیدہ تھانوں میں سے ایک ہے‘ جو اکتوبر 2019ء میں ماڈل (مثالی) تھانے قرار دیے گئے تھے۔ وفاقی دارالحکومت کے چار پولیس سٹیشنوں (بنی گالہ، کوہسار، بارہ کہو اور آئی نائن) میں عام روایتی تھانیداروں کے بجائے اے ایس پی تعینات کیے گئے تھے۔ آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ اے ایس پی، مقابلے (سی ایس ایس) کا امتحان پاس کر کے آتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ وژن رکھتے ہیں۔ ان سے دیانت و امانت کی امید ہوتی ہے۔ یہ نہ بھی ہو تو اچھی گورننس کی توقع تو ضرور ہی ہوتی ہے۔ اب تماشا دیکھیے کہ ایک مثالی تھانے میں، اے ایس پی کی ناک کے عین نیچے، اگر یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ پھوڑا، پھوڑا نہیں رہا، سرطان بن چکا ہے۔
اور خدا کے لیے اب یہ نہ پوچھ بیٹھئے گا کہ سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا مگر مثالی تھانوں کی تعداد چار سے آگے نہیں بڑھی! آئیے ہم اپنی جلد بازی کی مذمت کریں کہ حکومت سے نا امید ہو چلے تھے اور شور مچا رہے تھے کہ پولیس اصلاحات کدھر گئیں؟ اڑھائی سال بعد ایک تھانے کو ٹھیک کر تو دیا گیا ہے! اور کیا چاہتے ہیں آپ؟ آپ وہی ہیں نا جس نے کسی کو خط دیا تھا کہ پوسٹ کر دے۔ چھ ماہ بعد آپ نے پوچھا تو اس نے خط آپ کے منہ پر مارا کہ اتنی جلدی ہے تو خود پوسٹ کر دو!
بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, January 19, 2021



امریکہ میں ایک کینسر ہسپتال کے بانی‘ پاکستانی نژادڈاکڑ نے کرسمس پر مریضوں کو تحفہ دیا۔ اس نے دو سو مریضوں کی واجب الادا فیس‘ ساڑھے چھ لاکھ ڈالر معاف کر دی۔
ہمارے عالم فاضل دوست جناب اسلم ملک نے اس خبر پر لطیف مگر دردناک تبصرہ کرتے ہوئے غنی کشمیری کا شہرہ آفاق شعر چسپاں کیا ہے؎
غنی روزِ سیاہِ پیرِ کنعان را تماشا کُن
کہ نورِ دیدہ اش روشن کُند چشمِ زلیخا را
کہ کنعان کے بزرگ ( حضرت یعقوب) کا دن تو تاریکی میں ڈوبا ہے مگر ان کا نورِ نظر زلیخا کی آنکھوں کو روشن کررہا ہے۔ 

اس میں کیا شک ہے کہ یہ ڈاکٹر جو ترقی یافتہ ملکوں میں بے مثال کارکردگی دکھا رہے ہیں ‘ ہمارے لخت ہائے جگر ہیں‘ ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں سے پڑھ کر گئے ہیں۔ہر ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ کاش یہ اپنے ملک کو فائدہ پہنچاتے ! مریض یہاں ایڑیاں رگڑ رہے ہیں اور پاکستانی ڈاکٹر امریکہ‘ برطانیہ‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ شکوہ جائز ہے ؟ ہماری سب سے بڑی دلیل اس حوالے سے یہ ہے کہ قوم ایک ڈاکٹر تیار کرنے پر زرِ کثیر اور بہت سے وسائل خرچ کرتی ہے مگر جب ڈاکٹر قوم کی خدمت کرنے کے قابل ہوتا ہے تو ملک چھوڑ جاتا ہے۔ یہ دلیل بظاہر قوی نظر آتی ہے مگر معاملے کے تین پہلو اس دلیل کو منہدم کر دیتے ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ گلہ صرف ڈاکٹروں سے کیوں ؟ بزنس مین ‘ انجینئر ‘ پروفیسر‘ سبھی کی تعلیم و تربیت پر قوم کے وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ وہ بھی تو باہر سدھار جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ پاکستان کے علمائے دین سے امریکہ اور یورپ بھرا پڑا ہے۔ یہ حضرات جن مدارس سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں وہ بھی عوام کے مہیا کردہ وسائل سے چلتے ہیں۔ دوسرا پہلو یہ کہ آپ نے ایک مرد یا عورت کو ڈاکٹر بنایا تو اسے ساری زندگی کیلئے یرغمال کیسے بنا سکتے ہیں ؟ کیا اس نے کسی معاہدے پر انگوٹھا لگایا تھا کہ وہ ساری زندگی ملک ہی میں گزارے گا خواہ اس کے ساتھ مسلسل نا انصافیاں ہوتی رہیں ؟ تیسرا پہلو بہت دلچسپ ہے۔ یہ جو سینکڑوں ہزاروں ڈاکٹر سی ایس ایس کر کے اسسٹنٹ کمشنر‘ ٹیکس افسر‘ کسٹم افسر‘ ایس پی‘ اکاؤنٹنٹ جنرل بن جاتے ہیں ‘ فارن سروس میں چلے جاتے ہیں اور یوں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے میڈیکل پروفیشن ترک کر دیتے ہیں ‘ ان کی شکایت کوئی کیوں نہیں کرتا ؟
کوئی مانے یانہ مانے‘ ہماری سول سروس کا استعماری ڈھانچہ ڈاکٹروں کو میڈیکل پروفیشن سے نکال باہر کرنے کا سب سے زیادہ ذمہ دار ہے۔ اس کالم نگار نے ایک ڈاکٹر سے پوچھا کہ آپ ڈاکٹر بننے کے بعد مقابلے کے امتحان میں بیٹھ گئے اور افسر بن گئے ؟ آخر کیوں ؟ اس نے جو سبب بتایا وہ غور کرنے کے قابل ہے بشرطیکہ ہم غور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ وہ فیصل آباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں بطور ڈاکٹر تعینات تھا ( یہ پینتیس چالیس سال پہلے کی بات ہے ) کیا کیا خواب تھے‘ مزید پڑھنے کے‘ سپیشلائز کرنے کے۔ پھر ایک دن ڈپٹی کمشنر نے اسے اپنے گھر طلب کیا۔ اُس کی والدہ بیمار تھی۔ جس تحکمانہ لہجے کے ساتھ اس نے ڈاکٹر سے بات کی اور جس طرح اس کی عزتِ نفس کو روندا‘ وہ ڈاکٹر ہی جانتا ہے یا اس کا خدا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ڈاکٹر نے فیصلہ کیا کہ اینج تے فیر اینج ہی سہی۔ وہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھا اور افسر بن گیا۔ آپ ڈاکٹر کو ساری زندگی گھسیٹ گھسیٹ کر ریٹائرمنٹ کے قریب لے جا کر مشکل سے انیس یا بیس گریڈ دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں سی ایس ایس کے افسروں کو عین عالم ِشباب میں بیس گریڈ مل جاتا ہے اور اکیس یا بائیس میں شان و شوکت اور تزک و احتشام کے ساتھ ریٹائر ہوتے ہیں۔ مراعات کی کوئی حد نہیں‘ سرکاری مکان ‘ گاڑیوں کی ریل پیل ‘ گھر کا فون‘ ڈرائیور‘ نوکر چاکر‘ پلاٹ‘ بیرونی کورس‘ دورے‘ سماجی رتبہ! اس کے مقابلے میں ڈاکٹر کو جو کچھ دیتے ہیں ‘ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اس ملک کو اگر ایسی حکومتیں ملتیں جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتیں تو کئی دہائیاں قبل ایک کمیشن تشکیل دیتیں جو اس بات پر غور کرتا کہ ڈاکٹر سی ایس ایس کے امتحان میں بیٹھ کر اپنے پیشے کو کیوں چھوڑ رہے ہیں ؟ پھر اُن اسباب و علل کا تدارک کیا جاتا۔ مگر ہماری حکومتوں میں اتنی سوچ بچار کہاں !بیچارے اوسط ذہانت سے کم درجے کے حکمران! اخلاص سے عاری وزرا‘ اُمرا اور عمائدین ! خود غرض بیورو کریسی ! چنانچہ ہر سال بہترین دماغ رکھنے والے ذہین و فطین ڈاکٹر سی ایس ایس کی افسری اپنا لیتے ہیں۔ تو جناب ! بیرون ملک جانے والے ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ ان کی بھی فکر کیجیے یہ کیوں نہیں نظر آتے آپ کو ؟
مت بھولیے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں ڈاکٹر سوسائٹی کے معزز ترین طبقے میں شمار ہوتے ہیں۔ کسی ڈی سی ‘ ایس پی‘ سیکرٹری یا وزیر کی مجال نہیں کہ انہیں اپنا غلام سمجھے۔ بینک ان کے پیچھے پیچھے پھرتے ہیں کہ گھر خریدنا ہے تو قرضہ حاضر ہے۔ ملازمتوں کا استحکام ہے۔ لوکم ڈاکٹر کو ( جو چھٹی پر جانے والے ڈاکٹر کی جگہ چند دنوں کے لیے کام کرتا ہے ) فی گھنٹہ کے حساب سے معاوضہ ملتا ہے۔ معاشرے میں ان کا ( اور اساتذہ کا بھی ) وہ مقام ہے جو اس احساسِ کمتری کے مارے ہوئے معاشرے میں ڈی سی ‘ اور کرنل کا ہے۔ ڈی سی اور کرنل تو پھر پڑھے لکھے ہیں ‘ یہاں تو ایک پٹواری‘ ایک ایس ایچ او ‘ بڑے سے بڑے ڈاکٹر یا پروفیسر کی عزت درخت پر لٹکا سکتا ہے۔ ایک سیکشن افسر ایک ڈاکٹر کے کیرئیر سے کھیل سکتا ہے۔ ایک مجسٹریٹ ایک پی ایچ ڈی پرنسپل کی ڈیوٹی الیکشن بوتھ پر لگا سکتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ڈاکٹر تو ڈاکٹر ہے‘ ایک نرس یا فارما سسٹ بھی اپنے دائرہ کار میں مکمل خود مختار ہے اور آزاد۔ کوئی اس پر رعب نہیں جھاڑ سکتا۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون ایک ہسپتال میں ایک مریض کی عیادت کو گئے۔ انہوں نے ٹائی اتاری‘ جوتے بدلے‘ سینی ٹائزر سے ہاتھ صاف کیے‘ مگر ان کے ساتھ جو ٹیلیویژن ٹیم تھی انہوں نے یہ احتیاط نہ برتی۔ متعلقہ سرجن نے اس پر سخت اعتراض اور احتجاج کیا ‘ وزیر اعظم کی بھی پروا نہ کی۔ اور یہ تو گزشتہ سال مئی کا واقعہ ہے‘ برسلز (بلجیم ) میں خاتون وزیر اعظم ایک ہسپتال کے دورے پر گئی۔ ڈاکٹر اور سٹاف ناخوش تھے کیونکہ ان کے خیال میں حکومت کورونا کے سلسلے میں تسلی بخش کردار نہیں ادا کر رہی تھی۔ انہوں نے احتجاج کیا۔ یوں کہ ڈاکٹر اور عملہ لائن بنا کر کھڑے ہو گئے۔ جیسے ہی وزیر اعظم کی کار پہنچی‘ سب نے منہ دوسری طرف کر لیے اور وزیر اعظم کی طرف پیٹھ کر لی۔ حکومت کی مجال نہ تھی کی کسی کے خلاف ایکشن لیتی۔
رہی یہ حقیقت کہ ہمارے ڈاکٹر فیس زیادہ لیتے ہیں‘ لوٹ مار مچاتے ہیں تو اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جو معاشرہ قائم ہی جھوٹ اور لوٹ مار پر ہے تو اس میں ڈاکٹر فرشتے کیسے بن سکتے ہیں ؟ جس ملک میں حکومتوں کے بننے بگڑنے میں نیم تعلیم یافتہ بزنس ٹائیکون بنیادی کردار ادا کریں ‘ جہاں ادویات کے سکینڈل میں وزیر کو ہٹا دیا جائے اور چند دن بعد اسے حکومتی پارٹی کا سیکرٹری جنرل لگا دیا جائے‘ جس ملک میں سیاست دانوں نے اپنے اپنے ‘‘ اے ٹی ایم ‘‘ رکھے ہوئے ہوں ‘ وہاں صرف ڈاکٹر ایمان داری سے کام کریں ! صرف ڈاکٹر ولی اللہ ہونے کا ثبوت دیں ! واہ ! حضور واہ !   ؏
آپ کی منطقیں نرالی ہیں !

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, January 18, 2021

وزیر ہمارا ہی بھائی ہے


ایک وزیر صاحب نے کہا ہے ''سابق حکومت ہمارے (یعنی موجودہ حکومت کے) راستے میں بارودی سرنگیں بچھا کر گئی ہے۔ انہیں پتہ تھا کہ ان کی حکومت نہیں آنی اور ان کے غلط معاہدوں اور منصوبوں کا خمیازہ آنے والی حکومت بھگتے گی۔ موجودہ حکومت نے ان کی غلط پالیسیوں کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا۔ اربوں روپے کی سبسڈی دی لیکن عوام پر بوجھ نہیں ڈالا۔ ان کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ آنے والے سالوں میں بھی بھگتنا پڑے گا۔ جب ان سے سوال کرتے ہیں تو آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں۔ ملک کو گروی رکھ کر چلے گئے۔ عوام نے ان کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے جلسے فلاپ ہو چکے۔ یہ حکومت کی کارکردگی اور اصلاحات سے خوفزدہ ہیں‘‘۔
ان وزیر صاحب کا سیاسی بائیو ڈیٹا ملاحظہ فرمائیے: 2002ء میں مسلم لیگ قاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن جیتے۔ شوکت عزیز کی کابینہ میں وزیر رہے۔ 2008ء کے انتخابات میں قاف لیگ ہی کی طرف سے کھڑے ہوئے مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ موسم بدلا۔ پرندوں نے ہجرت کی تو آپ نے بھی 2012ء میں مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کر لی۔ 2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ نون کی طرف سے انتخابات میں حصہ لیا مگر منتخب نہ ہو سکے؛ تاہم 2014ء کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ہی کے ٹکٹ پر کامیاب ہو گئے اور مالیات، ریونیو اور اقتصادی امور کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین رہے۔
حیرت ہے کہ بھرے ایوان میں کوئی رجلِ رشید نہ تھا جو یہ تمام الزامات اُنہی پر لوٹاتا اور انہیں بتاتا کہ جناب! سابق حکومت آپ کی تھی۔ آپ ہی نے بارودی سرنگیں بچھائیں! آپ ہی کی پالیسیاں اور منصوبے غلط تھے۔ آپ ہی نے ملک کو گروی رکھا۔ آپ ہی کو عوام نے مسترد کیا۔ آپ ہی کے جلسے فلاپ ہوئے۔
چند برس یا چند مہینے گزریں گے تو اس ایکشن کا ری پلے ایک بار پھر ہو گا۔ تحریک انصاف کی حکومت اُس وقت اپوزیشن میں ہو گی۔ گمان غالب یہ ہے کہ یہ صاحب، نئی حکومت میں بھی وزیر ہوں گے اور ایوان میں کھڑے ہو کر، تحریک انصاف کو مطعون کر رہے ہوں گے۔ تب بھی انہیں ٹوکنے کی جرأت کوئی نہیں کرے گا۔
کیا پوری قوم میں صرف ایک وزیر ہی ایسا ہے جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے۔ جو موقع پرست ہے؟ جو ابن الوقت ہے؟ نہیں! ہرگز نہیں! ہم میں سے بھاری اکثریت ایسی ہی ہے۔ جبھی تو ہم ایسے فصلی بٹیروں کو ووٹ دیتے ہیں۔ یہ منظر لا تعداد بار دیکھا گیا ہے۔ گھوڑوں کی تجارت میں ہمیں کبھی خسارہ نہیں ہوا۔ جب بھی موسم بدلتا ہے‘ پرندے ہجرت کرتے ہیں اور اچھے خاصی تعداد میں ہجرت کرتے ہیں۔ اب تو کسی کو تعجب تک نہیں ہوتا۔ بقول عباس تابش:
عجیب پیڑ ہیں ان کو حیا نہیں آتی
ہمارے سامنے کپڑے بدلتے رہتے ہیں
یہ ہمارے مجموعی اخلاق کا صرف ایک نمونہ ہے۔ یہ اس پہاڑ جتنے عظیم الشان آئس برگ کا صرف اوپر کا حصہ ہے جو نظر آ رہا ہے، سارا تو پانی میں چھپا ہوا ہے۔ اگر اس کالم نگار کو صرف ایک مختصر جملے میں اپنی قوم کا کردار بیان کرنا پڑے تو یہ کہے گا کہ ہم ایک بے اصول قوم ہیں۔ اصول کیا ہوتا ہے؟ ہر معاملے میں ایک مرکزی نکتہ ہوتا ہے جس کے گرد سارا معاملہ گھومتا ہے۔ اس مرکزی نکتے کو اصول کہتے ہیں۔ ہم جب بھی کسی معاملے میں پڑتے ہیں تو سب سے پہلے اس مرکزی نکتے کو قتل کرتے ہیں‘ جس کا نام اصول ہے۔ اصول کے قتل کی مثالوں سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔ وکیلوں نے ہسپتال پر حملہ کیا اور مریض ہلاک ہوئے تو اصول کیا تھا؟ جان کے بدلے جان! ماڈل ٹاؤن میں چودہ قتل ہوئے تو اصول کیا تھا جان کے بدلے جان! شاہ زیب خان کراچی میں مارا گیا تو اصول کیا تھا‘ جان کے بدلے جان! سولہ سالہ زین لاہور میں گولی کا نشانہ بنا تو اصول کیا تھا؟ جان کے بدلے جان! نقیب اللہ کو قتل کیا گیا تو اصول کیا تھا؟ جان کے بدلے جان! مگر کسی ایک معاملے میں بھی اس اصول کی پاس داری نہیں کی گئی۔ یہ تو مشتے نمونہ از خروارے ہے۔ اس ملک میں ہزاروں لاکھوں قتل ہوئے جن میں 'جان کے بدلے جان‘ کا اصول پاؤں کے نیچے روندا گیا۔ ایسے قتل ہوتے رہیں گے۔ تازہ ترین واقعات میں بھی یہی ہو گا۔ بے قصور نہتے ہزارہ مزدوروں کے قاتل ہوں یا نوجوان اسامہ ستی کے طاقتور قاتل، جان کے بدلے جان کا اصول نہیں نظر آئے گا۔
ملازمت دینے کا اصول کیا ہے؟ میرٹ! امانتیں ان کے سپرد کرنا جو ان کے اہل ہوں‘ مگر یہ اصول ہمیشہ منہ کی کھاتا ہے۔ حال ہی میں، اس عہدِ انصاف میں، سول ایوی  ایشن کا سربراہ ایک ایسے شخص کو لگایا گیا ہے جس نے اشتہار کے نتیجہ میں درخواست ہی نہیں دی تھی۔ جن امیدواروں کے انٹرویو لیے گئے وہ خائب و خاسر بیٹھے ہیں! ووٹ دینے کا اصول کیا ہے؟ اہلیت! چلیے جو ووٹر کسی پارٹی کے رکن ہیں ان کی تو بظاہر مجبوری ہے‘ مگر ہم، آپ، جو کسی پارٹی سے وابستہ نہیں، کیا ہم اصول کی نگہداشت کرتے ہیں؟ رشتے داری، برادری، دوستی، ذاتی روابط، انہی بنیادوں پر ووٹ دیتے ہیں۔ تجارت کا اصول کیا ہے؟ پورا ماپ تول، شے کا نقص نہ چھپانا۔ تاجر کو تو چھوڑیے، کیا ہم گاہک کبھی کہتے ہیں کہ یہ تول میں زیادہ ہو گیا ہے، کم کیجیے؟ استعمال شدہ شے واپس یا تبدیل کرنے پر بضد ہوتے ہیں۔ یہ جھوٹ تو ہم گاہک عام بولتے ہیں کہ ''آپ کے پرانے گاہک ہیں‘‘۔ جبھی تو ایک دکاندار نے کہا تھا کہ خدا کا خوف کیجیے، یہ تو دکان ہی ایک ہفتہ پہلے کھلی ہے۔ ہم تو دوسرے ملکوں میں بھی مشہور ہیں۔ سنا ہے امریکہ میں جس کے ہاں مہمان آ جائیں وہ وال مارٹ سے نئے گدے لے آتا ہے اور دوسرے دن واپس کر کے دام کھرے کر لیتا ہے۔ میڈیکل سہولیات اور سوشل سکیورٹی سسٹم (گزارہ الاؤنس) کا پوری بد دیانتی، ڈھٹائی اور دروغ گوئی سے غلط استعمال کرتے ہیں۔ کونسل کے خیراتی گھر لیے جاتے ہیں۔ ایسے ایسے چشم دید واقعات ہیں کہ سنائے جائیں تو سننے والوں کے سر شرم سے جھک جائیں۔ ہم میں سے بے شمار لوگ ایسے واقعات کے گواہ ہیں۔
نماز ہی کو دیکھ لیجیے! نماز کا اصول کیا ہے؟ سپردگی اور مکمل اطاعت! ہم میں سے پچانوے فی صد کو تو معنی ہی نہیں آتے، سپردگی خاک ہو گی! نماز ایسی پڑھتے ہیں کہ خشوع کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ یہی حال باقی عبادات کا ہے۔ احرام سے لے کر طواف تک سب کچھ فیس بک پر لانے کی دھُن ہو اور دوران طواف سیلفیوں پر زور ہو تو کون سا حج اور کہاں کا عمرہ؟ اب عبادت کا اصول اخلاص نہیں، ریا کاری ہے! ہم تو وہ مجہول ہیں کہ مسجد میں با وضو بیٹھ کر ذہن میں مسلسل غیبت کرتے ہیں کہ فلاں نے ہاتھ کیوں نہیں باندھے اور فلاں نے کیوں باندھ رکھے ہیں اور فلاں کا سر ننگا کیوں ہے؟ نہیں فکر تو اپنی عاقبت کی نہیں! ٹھیکے داری ہم پر ختم ہے۔ نہیں پڑتی تو اپنے آپ پر نظر نہیں پڑتی!
تو پھر تعجب ہی کیا ہے اگر وزیر، اُسی گزشتہ حکومت کی مذمت کر رہا ہے جس میں وہ خود شامل تھا! وزیر ہمارا ہی بھائی ہے۔ ہم میں سے ہی ہے! شکوہ تو تب کریں جب ہم اس سے بہتر ہوں اور اصولوں کی پاسداری کرنے والے ہوں ! ساقی فاروقی یاد آ گئے:
میں کیا بھلا تھا یہ دنیا اگر کمینی تھی
درِ کمینگی پر چوبدار میں بھی تھا

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, January 14, 2021

………فیڈرل اور صوبائی پبلک سروس کمیشن! یا ٹھہرا ہوا متعفن پانی؟


پنجاب پبلک سروس کمیشن میں جو کچھ ہوا آپ میڈیا میں پڑھ اور سُن چکے ہوں گے!
لیکچرر، تحصیلدار، اکاؤنٹس افسر، سمیت خالی اسامیاں پُر کرنے کے لیے جو امتحانات کمیشن نے لینے تھے، یا لیے، ان کے پرچے لاکھوں میں فروخت ہوئے۔ اسے لطیفہ سمجھیے یا ٹریجڈی کی انتہا کہ اینٹی کرپشن کے محکمے کی اسامیوں کے پرچے بھی بیچے گئے۔ جن دو امیدواروں نے انسپکٹر اینٹی کرپشن لگنے کے لیے امتحان میں ٹاپ کیا، انہوں نے بھی پرچے خریدے تھے۔ لیکن یہ جو کچھ آپ نے پڑھا یا سنا یہ تو صرف مکھن ہے جو اوپر کی سطح پر آ گیا۔ نیچے کیا ہے؟ لسّی یا کچھ اور؟
پبلک سروس کمیشن ایک ادارہ ہے جو سرکاری محکموں کو افرادی قوت مہیا کرتا ہے۔ اس کام کے لیے امتحان لیتا ہے۔ تحریری اور زبانی بھی۔ مقابلے کے امتحان بھی یہی ادارہ لیتا ہے۔ وفاق میں کمیشن کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کہا جاتا ہے۔ صوبے میں کمیشن صوبے کے نام کے حوالے سے جانا جاتا ہے‘ جیسے پنجاب پبلک سروس کمیشن، سندھ پبلک سروس کمیشن وغیرہ! جو سوال سب سے پہلے ذہن میں ابھرتا ہے، یہ ہے کہ خود ان اداروں کی، یعنی فیڈرل اور صوبائی پبلک سروس کمیشنوں کی افرادی قوت کہاں سے آتی ہے؟ جو افراد پبلک سروس کمیشن چلاتے ہیں، امیدواروں کے امتحان لیتے ہیں، انٹرویو لیتے ہیں، وہ خود کہاں سے لیے جاتے ہیں؟ کیا ان کے لیے پریس میں کوئی اشتہار دیا جاتا ہے؟ کیا کوئی امتحان ہوتا ہے؟ کیا کوئی کمیٹی ان کا انتخاب کرتی ہے؟ کیا کابینہ یا منتخب اسمبلی اس پروسیس میں کوئی کردار ادا کرتی ہے؟ ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔
آپ یہ جان کر یقینا حیران ہوں گے کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن، پنجاب پبلک سروس کمیشن اور دوسرے صوبوں کے پبلک سروس کمیشنز کے ممبر نوکر شاہی کے ریٹائرڈ ارکان سے لیے جاتے ہیں اور ان کا انتخاب صرف اور صرف سفارش، ذاتی شناسائی، اور اپروچ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ شریف خاندان کی حکومت کے دوران جو پولیس افسر ان سے ذاتی وفاداری نبھاتے تھے، انہیں ریٹائرمنٹ پر پنجاب پبلک سروس کمیشن کا ممبر بنا دیا جاتا تھا۔ یہی کچھ پیپلز پارٹی کے زمانوں میں ہوتا رہا۔ آمریت کے ادوار میں بھی ذاتی واقفیت واحد معیار تھی۔ اب بھی یہی طریق کار ہے (طریق کار تو اسے کہا ہی نہیں جا سکتا)۔ وفاق میں بھی یہی ہوتا رہا ہے۔ یہی ہو رہا ہے۔ جو بیوروکریٹ ریٹائر ہوتا ہے، اگر اس کی رسائی اوپر کی سطح تک ہے تو اسی شام اس کی تعیناتی ہو جاتی ہے۔ اس کی کئی مثالیں موجودہ حکومت کے عہد میں بھی ملتی ہیں۔ جن کی رسائی نہیں ہے، وہ چُپ چاپ، دفتر سے اپنا سامان اٹھاتے ہیں اور گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ کس نمی پرسد کہ بھیّا کیستی؟
اس کا حل یہ نہیں کہ تمام ریٹائرڈ افسروں کو باری باری وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمیشنوں میں تعینات کیا جائے۔ یہ افسر اپنی ملازمت کی میعاد پوری کر کے ساٹھ سال کی عمر پر پہنچ کر ریٹائر ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہر ماہ ایک معقول رقم پنشن کے طور پر ان کے بینک اکاؤنٹ میں پہنچ جاتی ہے۔ ان میں سے اکثر دوران ملازمت بیرون ملک تعیناتیوں کے مزے بھی اُڑا چکے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مزید پانچ سال کے لیے پبلک سروس کمیشن کی ممبری انہیں سونپنے کا کوئی جواز نہیں۔ یہ اس ممبری کے دوران بھی اپنے بڑھاپے کو سنوارنے میں لگے رہتے ہیں۔ کوئی گھر کی تعمیر کرتا ہے۔ کوئی بچوں کی شادیوں میں مصروف رہتا ہے۔ ممبری کی سہولیات انہی ذاتی کاموں کے لیے بروئے کار لائی جاتی ہیں۔ کمیشن کے امور میں بہتری لانے کے لیے تخلیقی صلاحیتیں، اگر ہوں بھی تو، استعمال کرنے کا ان کے پاس وقت ہوتا ہے نہ جذبہ نہ شوق! پینتیس چالیس سال کی سرکاری ملازمت ان کے تخلیقی جوہر کو پہلے ہی مار چکی ہوتی ہے۔ یوں بھی کمیشن کی ممبری انہی افسروں کو پیش کی جاتی ہے جو تخلیقی صلاحیتوں کے بجائے دوسری صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ ان دوسری صلاحیتوں میں اصحاب اقتدار کو خوش رکھنے کی صلاحیت سب سے زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ سی ایس ایس کا انٹرویو لیتے وقت یہ گئے گزرے بزرگ اپنے زمانے سے باہر نہیں نکلتے۔ خود انہوں نے انٹرویو ہوچی منہ کے زمانے میں دیا ہوتا ہے۔ ہم عصر مسائل کا ادراک کم ہی رکھتے ہیں۔ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل، نئے دور کے نوجوان امیدوار، ان ممتحن حضرات کے علم کے آگے بے بس بھی ثابت ہو سکتے ہیں‘ اور ہوتے بھی ہیں۔
انصاف کا راستہ یہ ہے کہ اس سارے قصے میں نجی شعبے کو شامل کیا جائے۔ ایک بورڈ کی تشکیل کی جائے‘ جو براہ راست، ریاست کے سربراہ، یعنی صدر مملکت کو جوابدہ ہو۔ اس بورڈ میں پورے ملک کی نمائندگی ہو۔ صنعت کار، ماہرین زراعت، پروفیسر، وکیل، ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، اس بورڈ کے ممبر ہوں۔ یہ بورڈ اُن امیدواروں کے انٹرویو لے جو پبلک سروس کمیشن کے ممبر بننا چاہتے ہیں۔ اُس سے پہلے میڈیا میں وسیع پیمانے پر اشتہار دیے جائیں۔ سرکاری اور نجی، دونوں شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے درخواستیں طلب کی جائیں۔ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہوں۔ پچاس پچپن سے کم عمر کے ہوں۔ عصری مسائل کا شعور رکھتے ہوں تا کہ ملک کو چلانے کیلئے ان نوجوانوں کا انتخاب کریں جن کا وژن، تعلیم، سوچ کا انداز جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔
ایک بات یقینی ہے کہ جب بھی اس قسم کی تبدیلی کا ڈول ڈالا جائے گا، سب سے زیادہ مخالفت بیوروکریسی کا وہ حصہ کرے گا جو اوپر تک رسائی رکھتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمیشن ان معمر افسروں کو سر سبز چراگاہوں کی طرح نظر آتے ہیں‘ جہاں ریٹائرمنٹ کے بعد یہ حضرات پانچ پانچ سال کے لیے ایک انتہائی مراعات یافتہ زندگی گزارتے ہیں۔ جب نوجوانوں کو کمیشن کا ممبر لگایا جائے گا تو وہ کچھ منصوبہ بندی کریں گے، کچھ اصلاحات لائیں گے، عشروں کے اس ٹھہرے ہوئے پانی میں کچھ کنکر پھینکیں گے جس سے ارتعاش پیدا ہو گا۔ مکھی پر مکھی مارنے کے بجائے کچھ تبدیلی لائیں گے۔

موجودہ حکومت تبدیلی کا وعدہ کر کے آئی تھی۔ امید تھی اس قسم کے کلیشے ان کی نظروں میں ترجیح حاصل کریں گے، انقلابی اقدامات کئے جائیں گے۔ 'کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد‘۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! کچھ بھی نہیں ہوا! گلی سڑی بیورو کریسی جب مستقبل کی بیورو کریسی کا انتخاب کرے گی تو جو نتیجہ نکلے گا وہی ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں۔ کچہریوں، تحصیلوں، پٹوار خانوں اور تھانوں کی حالت دیکھ لیجیے۔ خلق خدا دھکے کھا رہی ہے۔ رشوت کے بغیر کام ہو جانے کا تصور بھی ناممکن ہے، شیر شاہ سوری اور اکبر نے اپنے اپنے زمانوں میں نئے سسٹم متعارف کرائے تھے۔ پھر انگریز آئے تو انہوں نے اپنے استعمارانہ مفادات کا تحفظ کیا۔ بندوبست دوامی رائج کیا۔ وفادار جاگیرداروں کا گروہ کھڑا کیا۔ ان کی آل اولاد کے لیے ایچی سن جیسے  تعلیمی ادارے قائم کیے جہاں تعلیم کم اور پبلک ریلیشننگ زیادہ ہوتی تھی۔ انگریز چلے گئے‘ مگر انگریزی نظام بدستور قائم ہے۔ بیوروکریسی اُس زمانے میں کم از کم ملکہ کی وفادار تھی کیونکہ ملکہ بمنزلہ ریاست تھی۔ آج بیوروکریسی کسی کی وفادار نہیں۔ ریاست کی تو بالکل نہیں۔ نئے زمانے کے نئے تقاضے ہیں۔ کاش کوئی ایسی حکومت آئے جو پاکستان کو لارڈ کلائیو کے زمانے سے نکال کر آج کے دور میں لے آئے۔ آئیے! دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں!

Tuesday, January 12, 2021

بزرگوں کی نصیحت پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ



گھر والے پریشان تھے اور ہکا بکا ! میں نے دو تبادلوں  کا فوری حکم  دیا تھا۔

باورچی کو باغ میں تعینات کر دیا کہ باغبانی کے فرائض  سرانجام دے  ۔مالی روتا ہؤا آیا کہ اس کا آخر قصور کیا ہے۔ اسے تسلی دی اور ہدایت کی  کہ باورچی خانہ سنبھال لے ۔  آج سے وہ  کھانا پکائے گا۔  بیوی نے احتجاج کیا۔ میں خاموش سنتا رہا۔مگر فیصلہ نہ بدلا۔ بچوں نے ان تبدیلیوں کی وجہ پوچھی ۔ انہیں کہا کہ منہ بند رکھیں اور گھر کے معاملات میں ٹانگ نہ اڑائیں ۔ گھر میرا ہے۔ ان کا نہیں۔ 

باغبان نے کھانا کیا پکانا تھا۔ پلاؤ بنانے کی کوشش کرتا تو کھچڑی ٹائپ شے بن جاتی،  دال تک نہ بنا پاتا۔ تنگ آکر بیوی نے خود پکا نا شروع کیا۔ ایک دن کہنے لگی کہ باورچی ( یعنی باغبان ) کو فارغ کر دینا چاہیے۔ میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور الفاظ چبا چبا کر کہا کہ ایسا سوچنا بھی مت! نہ جانے  میری آنکھوں میں اس نیک بخت نے کیا دیکھا کہ سہم گئی۔ اس دن کے بعد  اس نے باورچی کی نا اہلی کا کبھی تذکرہ نہ کیا۔  مہمان زیادہ آجاتے تو کھانا بازار سے منگوا لیتی۔  باغ کی جو حالت ہوئی، نا قابل بیان تھی ۔ہر طرف جھاڑ جھنکار  تھے۔ باغ کے درمیان چلنے والی نہر، جس کا پانی شیشے کی طرح صا ف ہوتا تھا،  کثافت سے  بھر گئی۔ درخت ٹنڈ منڈ ہو گئے۔ طوطے ، بلبلیں اور مینائیں ہجرت کر کے  دوسرے چمنستانوں کو سدھار گئیں۔ شاخوں پر   زاغ و زغن   نظر آنے لگے۔ سبزہ زرد ہو گیا۔  روشیں  کوڑا دان بن گئیں۔ پودے  سوکھ گئے ۔  پھول غائب ہو گئے ۔ پہلے جس باغ میں  کنبوں کے کنبے سیر کے لیے  آتے تھے  ، وہاں آنکھیں آدم زاد  کو دیکھنے کے لیے ترس گئیں ۔ باورچی کو باغبانی کی الف بے نہیں معلوم تھی ۔ مگر میری آمریت کے سامنے سب بے بس تھے۔ محلے والوں نے باغ کی ویرانی کا پوچھا تو میں نے انہیں اپنے کام سے کام رکھنے کی ہدایت کی۔ میں نے انہیں بتایا کہ میرا اپنا باغ ہے۔ میں اسے باغ رہنے دوں یا جہنم بنا دوں، تمہیں کیا ؟ 

 خاندان کی دو فیکٹریاں بھی میری تحویل میں تھیں ۔  ایک میں جوتے بنتے تھے ۔ دوسری   ملبوسات  تیار کرتی تھی۔ کاروبار اچھا چل رہا تھا۔ مقامی منڈی تو تھی ہی،  مال برآمد بھی کیا جاتا تھا۔ دونوں فیکٹریوں میں سے جوتے بنانے والی فیکٹری بڑی تھی۔ خاندان کی آمدنی کا  زیادہ دارومدار اسی پر تھا۔ اس کا ایم ڈی ایک فعّال، تجربہ کار اور انتھک  جنٹلمین تھا۔ ایک صبح فیکٹری  میں اپنے  دفتر پہنچ کر  میں نے اس کی برطرفی کا حکم جاری کیا۔ اور اس کی جگہ  طالب کو ایم ڈی مقرر کر دیا۔ یہ طالب کون تھا؟ طالب اسی فیکٹری میں ایک معمولی اسسٹنٹ فورمین تھا۔ آدھے درجن  ورکروں کا  انچارج! کئی سال پہلے ایک مزدور کی حیثیت میں نوکری شروع کی تھی۔ ذہانت سے عاری! کئی عشروں کے بعد مشکل سے اسسٹنٹ فورمین کی سیٹ تک پہنچ پایا تھا۔  اسے ایم ڈی لگایا تو کیا فیکٹری والے ، کیا خاندان والے، کیا میرا حلقۂ احباب، سب  حیرت  زدہ رہ گئے۔ طالب کو خود بھی یقین نہ آیا۔ وہ متذبذب تھا مگر میں نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اسے یہ خبر دے کر ششدر کر دیا کہ وہ ایک ذہین و فطین لائق شخص ہے۔ لوگ مجھ سے پوچھ پوچھ کر تھک گئے   کہ آخر طالب کو میں نے کیوں چُنا؟ سب کو معلوم تھا کہ میں اسے ذاتی طور پر جانتا ہی نہیں تھا ، تو پھر  کس کے کہنے پر  اسے اتنی بڑی فیکٹری کا سربراہ لگا یا ؟ مگر  میں نے کسی کو اس انتخاب کی وجہ نہ بتائی۔ یہ ایک راز تھا جو صرف مجھے ہی معلوم تھا۔ اس ضمن میں فضا اس قدر پُر اسرار ہو گئی کہ لوگ پہروں بیٹھ کر سوچتے رہتے اور اس انتخاب کی وجہ جاننے کی خاطر  آپس میں بحث کرتے رہتے  مگر اندازوں سے آگے کوئی نہ بڑھ پاتا۔ 

طالب ایم ڈی بن گیا۔ حد درجہ نالائق تھا۔ ذہانت اوسط درجے سے کم تھی۔ آئی کیو  صفر تھا۔ میٹنگ میں بات نہ کر سکتا۔ فائل پر کچھ لکھنے کی صلاحیت سے عاری تھا۔ فیصلہ سازی کی اس میں سکت تک نہ تھی۔ اپنی نالائقی چھپانے لے لیے آئے دن پرسنل سٹاف تبدیل کرتا رہتا۔  کبھی اپنا پرسنل سیکڑٹری بدل دیتا۔ کبھی ایڈمنسٹریشن کے منیجر کا تبادلہ کر دیتا ۔ کبھی  ڈائرکٹر  مالیات کو ہٹا دیتا۔ عملی طور پر فیکٹری کا انتظام میرے ہی ہاتھ میں آ گیا۔ فیصلے میں خود کرتا ۔ تاہم میں طالب کی خوب تعریف بھی کرتا جسے سُن کر سب دل میں ہنستے ۔ خاندان والوں نے اور مخلص دوستوں نے بہت سمجھایا کہ اس نااہل شخص کو چلتا کرو مگر  میں  نے کسی کی نہ سنی۔    فیکٹری کی پیداوار کم ہونے لگی۔ منافع سکڑنے لگا ۔ تاہم میں سب کو یقین دلاتا رہتا کہ انتظار کرو  اور تلقین کرتا کہ طالب کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرو۔ 

گاؤں میں بھی ہماری زمین اور مکانات تھے۔وہاں ایک منیجر تھا جو زمین کے معاملات کی دیکھ بھال کرتا تھا ۔اسے نوکری سے  نکال کر میں نےطارق نامی ایک  شخص کو منیجر مقرر کیا۔
یہ بھی بس نکما ہی تھا اور نکھٹو ! گاؤں کے لوگوں نے کچھ عرصہ بعد مجھے اس کی کارستانیوں سے  آگاہ بھی کیا مگر میں نے طارق کےخلاف کوئی ایکشن نہ لیا۔ 

بالآخر  میری پالیسیوں کے نتائج نکلنا شروع ہوئے۔ میری آمریت سے زچ ہو کر بیوی بچے مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ دونوں  فیکٹریاں بند ہو گئیں  ۔ طالب کی فیملی بہت امیر ہو چکی تھی۔ اب یہ لوگ مجھے سلام تک نہ کرتے۔ گاؤں والے مکان بوسیدہ ہو کر گرنا شروع ہو گئے۔  طارق  کی کارکردگی صفر نکلی۔ اس نے زرعی پیداوار میں سے تھوڑا سا حصہ ہمیں دے دلا کر باقی سے اپنے بھڑولے بھر لیے۔  خاندان والوں نے ایک میٹنگ بلا کر مجھے  یوں سمجھیے معزول کر دیا اور تمام معاملات  میرے ہاتھ سے لے لیے۔مگر جو ان کے ہاتھ آیا وہ  بربادی تھی اور کھنڈر! فیکٹریوں، کھیتوں اور گھروں کو دوبارہ بحال  کرنا  آسان نہ تھا۔ میرے اپنے رہائشی یونٹ کا بھی برا حال تھا۔ باغ بان، جو پیشے سے باورچی تھا، بھاگ گیا تھا۔ شہر   والے، یہاں تک کہ میونسپل کمیٹی والے بھی ، کوڑا اُس ویرانے میں  ڈمپ کرتے تھے جو کبھی باغ  تھا اور سیرگاہ! 

آج میں اس راز  سے پردہ اٹھا  دینا چاتا ہوں  کہ یہ سب کام ، یہ عجیب و غریب تعیناتیاں میں کیوں کرتا رہا۔ اصل میں میرے ڈرائیور  کا کچھ  مافوق الفطرت طاقتوں سے رابطہ تھا۔ وہ اُن سے ہدایات لے کر مجھے بتاتا تھا کہ کیا کرنا ہے۔  ان طاقتوں کا حکم تھا کہ فیکٹری کا ایم ڈی اسے لگانا ہو گا جس کا نام  ط سے شروع ہو۔ طالب، ڈرائیور ہی کی دریافت  تھا۔احتجاج کے باوجود میں اسے ہٹا نہیں سکتا تھا۔ طارق کی تعیناتی کے پیچھے بھی یہی ہدایات تھیں۔ حالات بگڑنا تو پہلے دن ہی سے شروع ہو گئے تھے۔ مگر ڈرائیور ہر بار یہی کہتا کہ یہ بگاڑ عارضی ہے۔ اور یہ کہ زبردست کامیابی اسی بگاڑ  کے اندر سے نکلے گی۔ مگر افسوس ایسا نہ ہؤا۔ سب کچھ تباہ ہو گیا۔  جس دن خاندان نے مجھ سے معاملات کا چارج واپس لیا، اُسی دن ڈرائیور بھی غائب ہو گیا۔ گویا  یہی اس کا مشن تھا۔

توبہ! کیسا ڈراؤنا خواب تھا یہ ! ہڑبڑا کر اٹھا، کلمہ پڑھا پھر آیت الکرسی ! یہ خوابوں کی دنیا بھی عجیب و غریب ہے۔ کہاں میں کہاں دو دو فیکٹریاں! کہاں باغ! اور کہاں باورچی کی عیاشی!  یہاں تو ساری زندگی اہلیہ نے خود کھانا پکایا۔  بزرگ ہمیشہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ سونے سے پہلے  چاروں قُل پڑھ لیا کرو اور دائیں کروٹ سویا کرو ۔ ورنہ بے ہنگم خواب  آئیں گے ۔ میرے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے ! 
……………………………………………………………………………

Monday, January 11, 2021

آگ خون اور آنسو



کوئٹہ پہنچ کر سرائے میں سامان رکھنے کے بعد پہلا کام یہ ہوتا کہ میثم کو فون کرتا۔ وہ ایک سرکاری دفتر میں ملازم تھا اور میرا دوست ! یاد نہیں یہ دوستی کب آغاز ہوئی اور کیسے ۔ بس دوستی ہونے کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ فارسی بولنے والوں میں سے تھا۔ مزدوری کا وقت ختم ہوتا ، اس کا ، اور میرا بھی ، تو ہم دونوں نکل پڑتے۔ علمدار روڈ ہماری جولانگاہ ہوتی! طول طویل علمدار روڈ ! پہلے کسی ریستوران میں افغان کھانا کھاتے! قہوہ پیتے ! پیالہ در پیالہ ! پھر کتاب فروشوں کا رُخ کرتے ! اب تو معلوم نہیں ان کا کیا بنا ، مگر جن دنوں کی بات ہورہی ہے ، انُ دنوں علمدار روڈ پر کتابوں کی بہت سی دکانیں تھیں۔ بڑی بڑی دکانیں ! کتابوں سے چھلکتی! یہ لوگ ایران اور افغانستان سے بھی کتابیں درآمد کیا کرتے۔ کئی کتابیں علمدار روڈ سے خریدیں جن کی دستیابی پاکستان میں کہیں اور ممکن نہ تھی۔ مثلا” منوچہر دامغانی کا دیوان ، نظامی کا کلیاتِ خمسہ ، عراقی اور ثنائی کے دواوین! ایسا بھی ہؤا کہ مطلوبہ کتاب نہ میسر آئی تو کتاب فروش نے خصوصی طور پر در آمد کر کے مہیا کی ۔
علمدار روڈ ، ہزارہ قبیلے کا مسکن ہے۔ ہزارہ ، اصلا” وسطی افغانستان سے ہیں۔افغانستان میں صوبے کو ولایت کہا جاتا ہے۔ چارپانچ وسطی ولایتیں ، جہاں فارسی بولنے والے ہزارہ کی اکثریت ہے، ہزارہ جات کہلاتی ہیں۔ اہم ترین ولایت بامیان ہے۔ پھر اس کے جنوب میں واقع دائے کنڈی اور جنوب مغرب میں واقع غور ہیں۔ غزنی، وردک اور کچھ دوسرے صوبوں میں بھی ہزارہ کی پاکٹس موجود ہیں۔ الجزیرہ نے مچھ کے سانحہ پر جو رپورٹنگ کی ہے اس کی رُو سے مقتولین میں دائے کنڈی کے ہزارہ بھی شامل ہیں۔دائے کنڈی بہت دشوار گذار، کوہستانی اور غریب صوبہ ہے۔ اس کے مکین تلاش رزق میں مسلسل نقل مکانی کرتے رہتے ہیں ۔
انیسویں صدی کے اوائل میں، یعنی پہلی برٹش افغان جنگ (1839) سے پہلے، افغانستان سے آئے ہوئے ہزارہ برٹش انڈیا میں موجود تھے۔ سرکار کی تعمیراتی کمپنیوں یہ لوگ مزدوری کرتے تھے۔ برطانوی ہند کی فوج میں بھی ملازمت کرتے رہے مگر بڑی تعداد میں ہزارہ ، افغانستان سے امیر عبدالرحمان کے دور میں ہجرت کر کے کوئٹہ آباد ہوئے ۔عبد الرحمان ، جسے ڈریکولا امیر بھی کہا جاتا ہے، انتہائی سخت گیر اور بے رحم تھا۔ اس نے ہزارہ کی نسل کُشی کی کوشش کی، ہزاروں کو قندھار اور کابل کے بازاروں میں غلام کے طور پر بیچ دیا گیا۔ بہت سے ہزارہ کوئٹہ اور کچھ مشہد چلے گئے ۔ بیسویں صدی شروع ہوئی تو امیر عبد الرحمان کا بیٹا حبیب اللہ سریر آرائے تخت ہؤا۔ اس کی پالیسی ہزارہ کے حوالے سے بہتر تھی مگر عدم اعتماد کا بیج بویا جا چکا تھا۔ مجموعی طور پر ہزارہ کے ساتھ امتیازی سلوک ہی جاری رہا۔ 1945-46 میں ظاہر شاہ نے کچھ ٹیکس صرف ہزارہ پر لگا دیے ۔ اس سے بغاوت پھوٹ پڑی ۔ بغاوت کچل دی گئی مگر ٹیکس بھی ہٹانے پڑے۔

{

دو واقعات 1979 میں ایسے رونما ہوئے جنہوں نے مشرق وسطیٰ اور پاکستان کا سارا سیاسی اور فکری لینڈ سکیپ بدل کر رکھ دیا۔ ہر ملک ، ہر گروہ اور ہر مکتب فکر ان دو واقعات سے متاثر ہؤا۔ کوئی منفی طور پر کوئی مثبت انداز میں ۔پہلا واقعہ افغانستان پر سوویت یونین کا حملہ تھا۔ اس معاملے میں پاکستان یوں ملوث ہؤا اور الجھا کہ آج تک عواقب بھگت رہا ہے ۔ اگر معاملہ صرف مجاہدین کی مدد اور فنڈز کی تقسیم تک رہتا تو کوئی مضائقہ نہ تھا مگر جنرل ضیاءالحق نے پورے ملک کو داؤ پر لگا دیا۔ ملک کے ویزا سسٹم کو پاؤں تلے روند ڈالا گیا۔ مغربی سرحد ، عملا” کالعدم ہو گئی۔ پوری دنیا کے عسکریت پسندوں کے لیے پاکستان کی سرزمین ہیڈ کوارٹر بن گئی۔ ہزاروں غیرملکی جنگجو ، اسلحہ سمیت، ملک میں آباد ہو گئے۔ راکٹ تک بازاروں میں عام بکنے لگے۔ منشیات کی ریل پیل ہو گئی۔ سارا ملک مہاجرین کے قدموں میں ڈھیر کر دیا گیا۔ ایران کی پالیسی کے بر عکس، مہاجر، پاکستان کےاطراف و اکناف میں پھیل گئے۔ تجارت، ٹرانسپورٹ ، رئیل اسٹیٹ، ہر شعبے پر ان کا قبضہ ہو گیا۔ مقامی تاجروں کے قتل کی خبریں اب بھی آتی رہتی ہیں ۔ اس سارے قضیے میں مسلکی عدم توازن نے ملک میں فرقہ واریت کی ایسی بنیاد رکھی کہ مستقل دراڑیں پڑ گئیں ۔جو ملک اس معاملے میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا اس کی پالیسی بھی مسلک کے گرد ہی گھوم رہی تھی۔ یہاں تک کہ مجاہدین کے ایک لیڈر کو اپنا نام عبد الرسول سے بدل کر عبدالرب رسول رکھنا پڑا کیونکہ مسئلہ فنڈز کے حصول کا تھا۔ اس مسلک کے نام لیوا، بالخصوص وہ جو حکومت سے تعاون میں آگے آگے تھے ، مضبوط ہوتے گئے۔ یوں ملک میں مسلکی حوالے سے عدم توازن پیدا ہو تا گیا۔

{

دوسرا واقعہ انقلاب ایران کا تھا۔ ایران کے انقلاب نے رضاشاہ پہلوی کے غرور کی گردن مروڑ کر رکھ دی مگر انقلاب برآمد کرنے کا عندیہ دے کر مسلمان ملکوں میں اضطراب بھی پیدا کر دیا۔ اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑا۔ پھر اس کا رد عمل ظاہر ہؤا۔ فریقین ایک دوسرے کے مقابلے میں خم ٹھونک کر کھڑے ہو گئے۔ پھر ان فریقوں کی مسلح تنظیمیں وجود میں آگئیں ۔دونوں طرف کے علما نشانہ بنے۔ ہزارہ کمیونٹی بھی اس کی لپیٹ میں آئی ۔ یہ سب کچھ 1979 کے بعد شروع ہؤا اور ہماری بدقسمتی کہ ابھی تک یہ آگ بجھائی نہیں جا سکی۔ سریاب روڈ کوئٹہ پر ایک درجن پولیس کے کیڈٹ جو ہزارہ تھے، بھُون دیے گئے۔ میکانکی روڈ پر نماز جمعہ کے دوران پچپن ہزارہ حملے کا نشانہ بنے۔ دس محرم کے دن لیاقت بازار میں ساٹھ عزادار وں کو شہید کر دیا گیا۔ ستمبر 2010 میں بم پھٹا اور 73 ہزارہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ ایک طویل فہرست ہے۔ خون کی ایک لکیر ہے جو دور تک چلی گئی ہے۔ لہو کے دھبے ، پچھلے تو کیا دھُلتے ، ان میں مسلسل اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

{
مذہب جو انسانیت کی حفاظت اور بقا کا ضامن تھا ، ہمارے ہاں ہلاکت کا حوالہ بن گیا ہے ۔ ایسی ایسی باتیں مذہب کے نام پر بتائی جا رہی ہیں جو چودہ سو سال سے کسی نے کہیں نہ سنیں۔ ملایشیا میں غیر مسلموں کو اللہ کا لفظ استعمال کرنے سے منع کر دیا گیا۔ بنگلہ دیش میں فتویٰ دیا گیا کہ مساجد سے کرسیاں ہٹا دو۔سابق صدر خاتمی نے کسی خاتون سے ہاتھ ملا لیا تو ایران میں آسمان سر پر اٹھا لیا گیا۔ ہمارے ہاں کہا جانے لگا ہے کہ اللہ کو خدا نہ کہو۔ گویاچودہ صدیوں کے اسلامی لٹریچر کو دریا برد کر دیا جائے۔ ہر معاملے میں اشتعال ، ہر بات پر منفی طرز فکر اور منفی ہی طرز عمل !جھگڑے ہی جھگڑے! اختلافات کو دبانے کے بجائے ہوا دی جاتی ہے۔ مذہب جو سلامتی کا نشان تھا، نفرت کا استعارہ بنا دیا گیاہے۔ یو ٹیوب پر واعظین، ذاکرین اور مناظرین جو حشر برپا کر رہے ہیں اس پر پابندی نہ لگائی گئی تو یہ آگ پھیلتی ہی رہے گی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اگر کوئی واعظ، کوئی ذاکر، اتحاد کی بات کرتا ہے ، اختلافات کے بجائے اُن پہلؤوں پر زور دیتا ہے جو مشترک ہیں، محبت کی تلقین کرتا ہے تو اُس کا اپنا مکتب فکر ہی پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے پڑ جاتا ہے ۔ یہ صرف شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں ، ہر مسلک کے اندر بھی ، مخالفتیں، سب و شتم اور دشمنیاں پیدا کی جا رہی ہیں؎
اے خاصۂ خاصان رسل ! وقت دعا ہے
امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے
………………………………………

Thursday, January 07, 2021

اک ذرا سیاست سے ہَٹ کر



مولانا، مریم بی بی، زرداری صاحب اور عمران خان کو کچھ دیر کیلیے شطرنج پر جھکا چھوڑ دیتے ہیں۔ سردست پولیس سے بھی نہیں پوچھتے کہ نہتے اور بے قصور اسامہ ستی کو سترہ گولیاں مار کر اپنی عاقبت کو کیوں سنوارا! کچھ شاعری اور محبت کا ذکر کر لیتے ہیں کہ زندہ رہنے کیلئے یہ آکسیجن بھی ضروری ہے۔
ہمارے دوست ڈاکٹر معین نظامی، وقفے وقفے سے، سوشل میڈیا پر، ادب کے مرجان اور لولو، ہمارے سامنے رکھتے رہتے ہیں! رشک آتا ہے ان کے حسنِ انتخاب پر! فارسی ادب ایک بے کنار سمندر ہے اور معین نظامی اس کے غوّاص! اب ایسے ثقہ عالِم ملتے ہی کہاں ہیں۔ والد گرامی کی رحلت کے بعد جب بھی فارسی ادب یا لغت میں کوئی دشوار گھاٹی سامنے آتی ہے تو نظامی صاحب ہی دستگیری کرتے ہیں یا ڈاکٹر عارف نوشاہی! گھر میں علم کا دریا موجزن تھا! کاش پیاس بجھا لیتے۔ اب تو کفِ افسوس ملنے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ 
عصا در دست ہوں اُس دن سے بینائی نہیں ہے
ستارہ آنکھ میں آیا تھا، میں نے کھو دیا تھا
چند دن پہلے معین نظامی نے امیر خسرو کی ایک غزل لگائی! غزل کیا ہے! پرستان ہے یا پھولوں، پرندوں سے مہکتا باغ! متقّدمین نے صناعی کے کیا کیا جوہر دکھائے! اور قدرتِ کلام سے کیسی کیسی جادوگری کی، یہ اسی کا نمونہ ہے! ''سفید و سیاہ و سرخ‘‘ ردیف ہے! مطلع دیکھیے: 
ای دستت از نگار، سفید و سیاہ و سرخ
وی چشمت از خمار، سفید و سیاہ و سرخ
تمھارے ہاتھ مہندی کے گُل بوٹوں سے سفید، سیاہ اور سرخ ہیں، تمھاری آنکھیں خمار سے سفید، سیاہ اور سرخ ہیں۔ پھر کہتے ہیں: 
از برگ و از سپاری و از رنگِ چونہ شد
دندانِ آن نگار، سفید و سیاہ و سرخ
پان کے پتّے، سپاری اور چونے کے رنگ سے اس ماہ رُو کے دانت سفید، سیاہ اور سرخ ہو گئے۔ باقی اشعار کا ترجمہ (معین نظامی کا کیا ہوا) ملاحظہ فرمائیے: تم چلے گئے اور تمھارے فراق میں رو رو کر میری آنکھیں بہار کے بادلوں کی طرح سفید، سیاہ اور سرخ ہو گئیں/ اگر میری جیب میں لاکھوں سفید، سیاہ اور سرخ سکّے ہوں تو مَیں اس خوبصورت چہرے پر نثار کر دوں/ خسرو نے امتحان کی غرض سے اس غزل کی ردیف میں سفید، سیاہ اور سرخ کی قطار لگا دی ہے۔ 
غور فرمائیے کہ امیر خسرو کا انتقال 1325ء میں ہوا اور ان کی شاعری میں پان کا ذکر ہے۔ اصل میں ترک اور افغان برصغیر میں وارد ہوئے تو یہاں کی دو چیزوں نے فوراً انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ آم اور پان! ظاہر ہے شاعری میں بھی ان کا ذکر در آیا۔ مغل عہد میں تو یہ ذکر درجۂ کمال پر پہنچ گیا۔ دربار میں پان پیش کرنے کا رواج تھا۔ شاہجہان کو شک تھا یا خبر کہ ایک وجیہ ایرانی سے شہزادی کا معاملہ ہے۔ بھرے دربار میں اپنے ہاتھ سے اُس بدقسمت کو پان پیش کیا۔ انکار کی کسے مجال تھی۔ زہر نے قصہ تمام کر دیا۔ انبہ (آم) کی تعریف میں باقاعدہ قصائد لکھے گئے۔ فیضی نے معمّہ کے اسلوب میں آم کی مدح کہی۔ غالب کا وہ فارسی شعر تو مشہور ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ برسات تو بنی ہی اس لیے ہے کہ مے نوش کی جائے، آم کھائے جائیں اور برف کا شربت پیا جائے! کیا ہی اچھا ہو اگر فارسی اساتذہ ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ و طالبات سے ان موضوعات پر تحقیق کرائیں۔ ''فارسی نظم و نثر میں پان کا ذکر‘‘ ایک دلکش مقالے کا عنوان ہو سکتا ہے! اسی طرح آم کا معاملہ ہے۔ کیا عجب ان خطوط پر کام ہوا بھی ہو۔
بات دوسری سمت چل پڑی! معین نظامی کی اس پیشکش سے مجھے بھی انگیخت ہوئی۔ نظامی گنجوی (وفات 1209) یاد آگئے۔ گنجہ آج کے آذربائیجان کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ مشہور شاعرہ مہستی گنجوی (وفات 1159) کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا۔ مہستی گنجوی، یوں سمجھیے، اپنے زمانے کی کشور ناہید تھی۔ دلیر، بولڈ اور روایت شکن! کمال کی رباعی گو تھی! اس کے بارے میں ایک پورا کالم لکھا جانا چاہیے۔ بہرطور ، نظامی کی غزل پڑھیے۔ مُجھ کم علم کے بے رنگ ترجمہ پر قناعت کرنا ہو گی۔ 
لب و دہان و دو چشم تو ای بتِ گُلفام
یکی نبات و دوم پستہ و سوم بادام
اے پھول جیسے محبوب! یہ جو تمہارے لب، منہ اور دو آنکھیں ہیں تو ان میں سے ایک مصری کی ڈلی ہے، دوسرا پستہ ہے اور تیسر ی بادام!
نبات و پستہ و بادام پیشِ آن سہ شدند 
یکی اسیر و دوُم بندہ و سِوُم گمنام 
مصری، پستہ اور بادام کی تمہارے لبوں، منہ اور آنکھوں کے سامنے آخر کیا حیثیت ہے؟ ایک قیدی ہے‘ دوسرا غلام اور تیسرا گمنام!
اسیر و بندہ و گمنام در زمانِ تو، اند
یکی قباد و دوم قیصر و سوم بہرام
قیدی، غلام اور گمنام تیرے عہد میں کون ہیں؟ ایک قباد، دوسرا قیصر‘ تیسرا بہرام! (قباد‘ بہرام ساسانی بادشاہ تھے)
قباد و قیصر و بہرام می فرستندت 
یکی رسول و دوم نامہ و سوم پیغام
قباد، قیصر اور بہرام تمہاری خدمت میں کیا بھیجتے ہیں؟ ایک ایلچی، دوسرا خط اور تیسرا پیغام!
رسول و نامہ و پیغام از تو می طلبند 
یکی ہرات و دوم مشہد و سوم بسطام
یہ ایلچی، یہ خط اور یہ پیغام تمہار ے حضور کن چیزوں کی درخواست کرتے ہیں؟ ایک ہرات کا طلبگار ہے دوسرا مشہد کا اور تیسرا بسطام کا! (تینوں اُس دور کے عالیشان شہر تھے)
ہرات و مشہدو بسطام در زمانِ تو یافت 
یکی رواج و دوم زینت و سوم اسلام!
ہرات، مشہد اور بسطام کو تمہارے زمانے میں کیا ملا؟ ایک کو رونق، دوسرے کو زیب و زینت اور تیسرے کو اسلامی شناخت!
رواج و زینت و اسلام دِہ نظامی را
بحقّ سیّدِ کونین و سورۂ انعام
رونق، زیب و زینت اور اسلامی شناخت! نظامی کو یہ تینوں، جہانوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم اور سورۂ انعام کے وسیلے سے عطا فرما دیجیے!
نظامی شاعر نہ تھا! وہ تو ایک ساحر تھا! اِس کی شاعری عجائبات سے بھری پڑی ہے۔ یہ جو ہمارے ہاں محاورہ ہے کوّا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی بھول گیا تو یہ نظامی ہی کے ایک شعر کا بالکل لفظی ترجمہ ہے 
کلاغی تَگِ کَبک را گوش کرد
تَگِ خویشتن را فراموش کرد
اوپر کشور ناہید کا ذکر ہوا۔ غزل سے ان کی بے رُخی جاری ہے۔ ''لبِ گویا‘‘ کی غزلوں کو کون بھول سکتا ہے! ان کی نظموں کے نئے مجموعے ''دریا کی تشنگی‘‘ سے ایک نظم پڑھیے۔ عنوان ہے ''کرفیو میں کشمیر‘‘ 
میرے بچے! میرے پاس/ تمہیں کھلانے کو کچھ نہیں ہے/ دیکھو خوبصورت چاندنی پھیلی ہوئی ہے/ اسے پی لو تمہیں نیند آجائے گی/ میری بات سن کر تم ہنس پڑے/ کاش میرے اندر اتنی جان ہوتی/ کہ اپنی بوٹی توڑ کر تمہیں کھِلا سکتی/ باہر کا سناٹا یا پھر گولیوں کی آواز/ بس اب تو دن کو دھوپ اور رات کو چاندنی ہماری خوراک ہے/ اب تو ہمارے گھر میں/ مکھیاں بھی نہیں/ ہمیں غلام بنانے والوں کو وہم ہے/ کہ وہ ہماری آزادی چھین سکیں گے/ ان کی بندوقوں کے نصیب میں ہمارے جوانوں کا خون نہیں ہے/ ساری دنیا جان لے/ یہ حبّہ خاتون کی زمین ہے۔

بشکریہ روزنامہ  دنیا

Tuesday, January 05, 2021

ذرا مجھے بھی بتا دیجیے گا



مدثر مختار‘ شکیل احمد‘ سعید احمد‘ محمد مصطفی اور افتخار احمد‘ پولیس کے اُس شعبے میں کام کرتے ہیں جوانسدادِ دہشت گردی کا ذمہ دار ہے۔ پولیس کے ان پانچ جوانوں نے‘ نئے سال کے دوسرے دن‘ بارہویں جماعت کے ایک طالب علم کو‘ مبینہ طور پر‘ عقب سے سترہ گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
اب اس معاملے میں چار فریق ہیں۔ اول: پولیس کا مؤقف ہے کہ رات کو انہیں اطلاع ملی کہ نامعلوم افراد ڈکیتی کی واردات کے بعد سفید رنگ کی گاڑی میں فرار ہوئے ہیں۔ڈکیتی والے سیکٹر کی طرف سے ایک سفید کار آتی دکھائی دی۔ انسدادِ دہشت گردی سکواڈ کے جوانوں نے کار کو روکا تو کار کی رفتار اور تیز ہو گئی۔ گاڑی کا تعاقب کیا گیا۔ بالآخر گاڑی کے ٹائروں پر فائر کرنا پڑا۔ اس فائر سے کار کا ڈرائیور موقع پر جاں بحق ہو گیا۔ دوم: مقتول کے والد کا مؤقف '' ذرا‘‘ مختلف ہے۔ اس کے بقول‘ ایک دن پہلے پولیس کے ان پانچ جوانوں کی مقتول کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی۔ انہوں نے دھمکی دی کہ وہ مزہ چکھائیں گے؛ چنانچہ انہوں نے گاڑی کا پیچھا کیا اور روک کر سترہ گولیاں ماریں۔ سوم: پوسٹ مارٹم ریکارڈ کے مطابق جسم کے گیارہ مقامات پر زخم تھے۔ تمام گولیاں پیچھے کی جانب سے ماری گئیں۔ چار گولیاں پیٹھ پر لگیں اور ایک سر کے پیچھے! چہارم: متعلقہ ڈی ایس پی نے مقتول کے والد اور دیگر اعزّہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تحقیقات کی رُو سے مقتول بے گناہ نکلا۔ ڈکیتی سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔ ڈکیتی کیس کے مدعی سے لڑکے کی شناخت کرائی گئی تو اس نے بھی اسے پہچاننے سے انکار کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ‘ جو پولیس کے بگ باس ہیں‘ مقتول کے گھر تعزیت کے لیے گئے۔ آئی جی پولیس اسلام آباد بھی گئے۔ دیگر وفاقی عمائدین نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ انصاف کیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے باوجود‘ مقتول کے احباب و اقربا نے مین شاہراہ کو بند رکھ کر احتجاج کیا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کے لیے ہم ماضی کے عدالتی معاملات سے نظیر پیش کرتے ہیں۔ ملا نصرالدین نے اپنے پڑوسی سے کوئی برتن ادھار مانگا۔ واپس کیا تو پڑوسیوں نے برتن کو ٹوٹا ہوا پایا۔ مسئلہ عدالت تک پہنچا۔ یہی وہ موقع تھا جب ملا نصرالدین نے اپنا مشہور نظریہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا: اول تو برتن انہوں نے لیا ہی نہیں۔ اور اگر لیا تھا تو برتن ٹوٹا ہوا دیا گیا تھا۔اگر پہلے سے ٹوٹا ہوا نہیں تھا تو کم از کم ملّا نے نہیں توڑا۔ اسی نظریے کی روشنی میں ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اول تو موجودہ حکومت کے عہدِ ہمایونی میں پولیس ایسا کر ہی نہیں سکتی! حکومتی پارٹی کا نام ہی تحریکِ انصاف ہے جبکہ دُم چھلّا ''تبدیلی‘‘ ہے۔ اور اگر پولیس نے ایسا کیا ہے تو غلطی پولیس کی نہیں‘ مقتول کی ہے۔ اور اگر مقتول کی نہیں‘ پولیس کی غلطی ہے تو انصاف ضرور ہو گا، نہ صرف ضرور ہو گا بلکہ عوام کو ہوتا دکھائی بھی دے گا! اس کی مثالیں موجود ہیں۔ آپ کو اگر ایس ایس پی راؤ انوار صاحب اور مقتول نقیب اللہ محسود کا کیس یاد ہے تو یہ بھی یاد ہو گا کہ انصاف کے سارے تقاضے پورے کیے گئے تھے۔ایسا انصاف ہوا تھا کہ نوشیروان عادل کے زمانے میں بھی کیا ہوتا ہو گا۔ نقیب اللہ کا والد محمد خان اس انصاف پر اَش اَش کرتا دنیا سے رخصت ہو گیا۔ یہ تو امریکی حکومت نے ظلم کیا کہ راؤ صاحب کو بلیک لسٹ کر دیا ورنہ وطن ِعزیز میں تو وہ یوں محفوظ اور سلامت ہیں جیسے بتیس دانتوں میں زبان! آپ کو یہ بھی 
یاد ہو گا کہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس نے چودہ قتل کیے تھے۔ زخمی اسّی کے قریب اس کے علاوہ تھے۔ اس وقت تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی۔ چودہ قتل کیس کے داد خواہ‘ یعنی مدعی‘ علامہ طاہر القادری تھے جو تحریکِ انصاف کے ساتھ مل کر حکومتِ وقت کے خلاف تحریک چلا رہے تھے۔ تحریک ِانصاف نے اس کیس میں انصاف کے حصول کے لیے بہت سرگرم کردار ادا کیا۔ شریف برادران نے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے پرنسپل سیکرٹری کو عبرتناک سزا یوں دی کہ اسے عالمی تجارتی ادارے میں سفیر مقرر کر کے بیرونِ ملک بھیج دیا۔ مگر بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی۔ موجودہ حکومت نے آکر اُس کیس کا ذکر اذکار تو کبھی نہ کیا مگر انصاف ضرور کیا۔ جن پولیس والوں نے یہ چودہ قتل کیے تھے انہیں کچھ بھی نہ کہا۔ بال تک ان کا بیکا نہ کیا تا کہ رہتی دنیا تک یہ قاتل نشانِ عبرت بنے رہیں۔ ان واضح اور تابناک مثالوں کی موجودگی میں یہ کیسے ممکن ہے کہ موجودہ حکومت نوجوان طالب علم کے قتل کے معاملے میں انصاف نہ کرے۔ جس آئی جی نے مقتول کے گھر جا کر تعزیت کی‘ اسے‘ اصولی طور پر اس واقعے پر جواب دہ ہوناچاہیے تھا۔ مگر ایسا ایک لمحے کے لیے بھی نہ سوچیے کہ اسے چھوڑ دیا جائے گا۔ عین ممکن ہے کہ اسے بھی سزا یوں دی جائے کہ بیرونِ ملک سفیر مقرر کر دیا جائے۔ آخر نظیر تو موجود ہے۔
اس کیس میں پولیس کے ساتھ کچھ زیادتیاں ہو رہی ہیں۔ مثلاً سترہ گولیاں پولیس کے ان پانچ شیر دل جوانوں نے کار کے ٹائروں پر چلائیں۔ مقتول اس وقت ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا۔ آپ خود سوچیے کہاں ٹائر اور کہاں ڈرائیونگ سیٹ! اگر مقتول کار سے اتر کر ٹائروں کے ساتھ کھڑا ہو گیا تو اس نے ہلاک ہونا ہی تھا۔ اس میں پولیس کو کیسے دوش دے سکتے ہیں آپ! ایک بادشاہ نے اپنے دربار میں ایک رفوگر کو مصاحب بنا کر رکھا۔ یہ رفوگر کپڑے نہیں‘ باتیں رفو کرتا تھا‘ یعنی ایسا ایڈوائزر تھا جو شاہی قول کو سچ ثابت کر دکھاتا۔ایک دن بادشاہ نے اہلِ دربار کو بتایا کہ ایک بار اس نے ایک ہرن کو گولی ماری جو بیک وقت ہرن کے سر اور پاؤں کو لگی۔ درباری واہ واہ کے ڈونگرے برسانے کے بجائے خاموش رہے اس لیے کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہ تھا۔ آخر رفوگر اٹھا اور اس نے بھید کھولا کہ جس وقت جہاں پناہ نے گولی چلائی‘ عین اس وقت ہرن‘ اپنے پاؤں سے اپنا سر کھجارہا تھا!
سب سے زیادہ قابلِ اطمینان بات یہ ہوئی کہ جناب وزیر اعظم نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ نوٹس لینے کے بعد کیا ہوتا ہے۔ چینی‘ادویات اور آٹے کا بھی نوٹس ہی لیا گیا تھا۔دوسری بات جو کمال کی ہوئی ہے یہ ہے کہ اسلام آباد کے چیف کمشنر نے انکوائری کا حکم دیا ہے۔ اس جے آئی ٹی کا سربراہ پولیس ہی کا ایک افسر ہو گا۔ سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! کیا کہنے ! گویا عوامی نمائندوں کو سارے معاملے سے آؤٹ کر دیا گیا۔ جے آئی ٹی بنانے والی بھی نوکر شاہی۔ اور جے آئی ٹی کی سربراہی خود پولیس کے پاس جبکہ قاتل بھی پولیس ہی سے ہیں ! اسے کہتے ہیں انصاف ہوتا دکھائی دینا!
اس ملک میں ہزاروں افراد پولیس کے ہاتھوں قتل ہو چکے اور مسلسل ہو رہے ہیں۔ آج تک کسی کو پھانسی نہیں ہوئی۔ ریاست مدینہ کا اصول تھا '' تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے‘‘ ... زحمت آپ کو یہ دینا چاہتا ہوں کہ جس دن اس نوجوان کے قاتلوں کو پھانسی کی سزا ملی ذرا مجھے بھی بتا دیجیے گا۔ احسان مند رہوں گا!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, January 04, 2021

نیا سال! کون سا نیا سال؟—-



برہمن نے جھوٹ بولا۔ غالب سادہ دل تھے جھانسے میں آ گئے:
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
اور وہ جو ہاتھ دکھانے والے نے خواہش کی تھی وہ بھی حسرت میں تبدیل ہو گئی:
مرا ہاتھ دیکھ برہمنا! مرا یار مجھ سے ملے گا کب
ترے منہ سے نکلے خدا کرے اسی سال میں اسی ماہ میں
برہمن کے منہ سے نکلا بھی تو کیا! یہی کہ یار کو بھول جاؤ۔ جدائیاں ہیں اور لمبی! ہائے قمر جلالوی یاد آ گئے۔ انہیں دیکھا نہیں‘ سنا ہے۔ کس درد سے پڑھتے تھے۔ ہمارے لیے ہی تو کہا تھا:
یہ دردِ ہجر اور اس پر سحر نہیں ہوتی
کہیں اِدھر کی تو دنیا اُدھر نہیں ہوتی
کون سا نیا سال؟ ہمارے استاد ظہیر فتحپوری نے کہا تھا:
جگ میلا، جیون نوٹنکی، سُکھ جھولا
سب دھوکا ہے لیکن جو ہمیں جانا ہو
ہو گا نیا سال خوشیوں کا ایلچی دوسروں کے لیے! ہمارے لیے نہیں! جو سال بیتا ہے اس نے کون سے گھی کے چراغ جلائے ہمارے گھروں کی منڈیروں پر؟ کورونا تو عالمی آفت تھی۔ پوری دنیا پر آئی۔ ہم پر بھی۔ مگر کورونا نہ آتا تو تب ہم نے کون سا سنگا پور یا کوریا یا تھائی لینڈ بن جانا تھا۔
آہ! جو سال گزرا ہے اسے نعمتوں سے بہرہ ور کرنے کے لیے ہم نے کیا نہیں کیا۔ وعدے کرنے والوں کی حمایت کی اور سال ہا سال کی۔ کبھی جیالوں کی رنجش مول لی۔ کبھی متوالوں کا غضب جھیلا۔ دھرنے میں بیٹھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو طنز کرنے والوں نے ممی، ڈیڈی، برگر کے القابات سے نوازا تو ان کا دفاع کیا۔ مخالفین کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ سب کو بھگت چکے ہیں تو خان صاحب کو بھی آزما لیجیے۔ ٹیلی ویژن پر مناظرے کیے۔ مگر یہ سال جو ہماری ہنسی اُڑاتا گزرا ہے، ویسا ہی رہا جیسے گزرے ہوئے سارے سال تھے‘ بلکہ بد تر! اب کے تو ہم احمقوں کو منہ کی کھانی پڑی۔ پرانے سال تو صرف منہ چڑا کر غروب ہوتے تھے‘ مگر یہ سال جو، اب افق پار اُترا ہے، منہ چڑانے کے ساتھ چپت بھی رسید کر گیا ہے۔ دھوکہ ہی دھوکہ۔ فریب ہی فریب ! دروغ گوئی میں یہ گزرا سال تاریخ کے سارے ریکارڈ توڑ گیا۔ سب کچھ وہی تھا۔ بوتل وہی تھی۔ دوا بھی اس میں وہی زائد از میعاد تھی‘ لیکن لیبل کا کیا کہنا! پُر کشش اور دیدہ زیب! اس گزرے سال کے ماتھے پر تبدیلی کا نام کھُدا تھا مگر ہر چیز فرسودہ تھی۔ وہی عشرت حسین صاحب! وہی عمر ایوب صاحب! وہی خسرو صاحب! وہی پندرہ بار آزمائے ہوئے شیخ صاحب۔ وہی آئی ایم ایف والے دوسرے شیخ صاحب! وہی جانے پہچانے چوہدری صاحب! وہی اپنے سواتی صاحب جو بقول ان کے اپنے، کئی سال جے یو آئی کی مالی ضروریات پوری کرتے رہے۔ وہی فروغ صاحب۔ وہی دیکھے بھالے فواد صاحب۔ وہی فہمیدہ صاحبہ! وہی زبیدہ بی بی! وہی ہماری اعوان برادری کے چشم و چراغ بابر صاحب! سب وہی تھے۔ ان سب کے ساتھ وہی تبدیلی آئی جو پہلے بھی ان کے ساتھ آتی ہی رہی۔ دوسری طرف، بچھڑنے والے سال کے دوران ہم بھی وہی تھے۔ پرانے والے! ہمیشہ والے! وہی افتادگان خاک! وہی کوچہ گرد مجبور بندے! وہی گرانی میں پستے، سفوف ہوتے صارف! وہی تھانوں کچہریوں میں دھول چاٹتے، اہلکاروں کی جیبوں میں پیسے ٹھونستے داد خواہ! وہی نوکر شاہی کی غلط انگریزی کے ڈسے ہوئے سرخ فیتے کے شکار سائل! وہی مقتل نما ہسپتالوں میں دھکے کھاتے رُلتے مریض! کاٹن تک نہیں ہوتی! دوا ہے تو ڈاکٹر غائب! ڈاکٹر ہے تو بیڈ ندارد! ہم دیہاتیوں نے تحصیل کی سطح کے ہسپتال بھگتے ہیں۔ پروردگار کی سوگند! قتل گاہیں ان سے بہتر ہوں گی۔ یہ ہسپتال نہیں، موت کی گھاٹیاں ہیں۔ اس سال بھی یہ اسی طرح وحشت بانٹتی رہیں! وہی شاہراہوں پر مرتے لوگ! وہی کچلتی، دھاڑتی ٹرالیاں، ٹریکٹر اور ڈمپر جن کے سٹیئرنگ کے پیچھے کھوپڑیوں کے مینار بنانے والے تاتاری بیٹھے ہوتے ہیں۔ تبدیلی کے ڈھنڈورچی ٹریفک تک نہ درست کر سکے۔ تھانہ کچہری ہسپتال تو دور کی بات ہے!
اس سال بھی کابینہ نصف سنچری سے اوپر ہی رہی! وعدہ سترہ ارکان کا تھا! اس سال بھی ہم، پی ٹی وی نہ دیکھنے والے ہر ماہ پینتیس روپے کا جگا ٹیکس، ہر بجلی کے بل کے ساتھ، انہیں دیتے رہے جن کے چہرے ڈھاٹوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔ سارا سال یہ جملے، یہ للکارتے دھمکیاں دیتے جملے، کانوں میں گونجتے رہے... ''پی ٹی ہمارے پیسے پر چلتا ہے۔ آپ کو پتہ ہے پاکستانیو! ہر مہینے آپ کے بل سے پی ٹی وی کے لیے 35 روپے کٹتے ہیں اور ہر سال دس ارب روپے پی ٹی وی کو آپ دیتے ہیں۔ ہم دیتے ہیں! تو میں پی ٹی وی سے پوچھتا ہوں اور پی ٹی وی کا جو ایم ڈی ہے اس سے پوچھتا ہوں کہ آپ کو شرم نہیں آتی کہ آپ نون لیگ اور نواز شریف کے پتلے بنے ہوئے ہیں۔ ان کو پروجیکٹ کر رہے ہیں‘‘۔ یہ سال جو منہ چھپا کر، چلا گیا ہے، یہ سال بھی ہم سے ہر ماہ پینتیس روپے لیتا رہا۔ جاتے وقت اس کی جیب میں ہمارے دس ارب روپے تھے۔ گویا اس سال بھی پی ٹی وی کا ایم ڈی کسی نہ کسی کی پروجیکشن کرتا ہی رہا!
نئے سال کی مبارکباد سن سن کر ہنسی آتی ہے۔ کون سا نیا سال! خدا کے بندو! یہ اُسی سال کی توسیع ہے جو گزر گیا۔ اور جو گزر گیا، وہ اس سے پہلے والے سال کی توسیع تھا۔ ایک ہی سال ہے جو کئی سال سے ہمارے دن رات پر، ہمارے گھروں پر، ہماری قسمتوں پر محیط ہے! دلاور فگار کا لافانی مصرع ہے: حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہو گئے! ایک ہی رات ہے جو ہم پر محیط ہے! ایک افق سے دوسرے افق تک! ہماری پیدائشوں سے لے کر ہماری اموات تک! نئے سال کی خوشیاں تو ان کے لیے ہیں جو ہر حکومت میں، ہر کابینہ میں، سریر آرا ہوتے ہیں! ہر موسم میں ان کے سروں پر تاج ہوتے ہیں ! وزیر اعظم آفس کے بغلی کمروں میں بیٹھ کر اپنے ہی جیسے بیوروکریٹس کی لگامیں اپنی مرضی سے کھینچتے ہیں۔ انہیں حق حاصل ہے ایک دوسرے کو سالِ نو کی مبارک دینے کا! نیو ایئر نائٹ منانے کا! جشن برپا کرنے کا! رہے ہم! تو ہمارے لیے دسمبر کی آخری شام اور جنوری کی پہلی صبح میں کیا فرق ہے؟ وہی ٹھنڈے ٹھار گھروندے! وہی ٹھٹھرتے در و دیوار! گیس اور بجلی کے وہی روز افزوں نرخ! گھروں کو گرم کریں تو کیسے؟ نیا سال تو ان کا ہے جن کے کنالوں اور ایکڑوں پر محیط محلات میں گیس اور بجلی کے ہیٹر چوبیس گھنٹے چلتے ہیں۔ جن کے گھروں سے برقی رَو کبھی غائب نہیں ہوتی۔ جن کے لیے بجلی، گیس کے بل، کاغذ کے بے بضاعت پرزوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ جن کے سمندروں میں ان بلوں کی رقوم معمولی سا ارتعاش بھی نہیں پیدا کرتیں۔ جن کے لیے پٹرول اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایک لطیفے سے زیادہ کچھ نہیں! انہیں نیا سال مبارک ہو! ہم ان پر قربان!
جو جانتا ہے، سو، جانتا ہے! جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ اس دیار میں تقویمیں دو ہیں ! کیلنڈر دو قسم کے رائج ہیں! جنتریاں دو الگ الگ چل رہی ہیں! ایک میں سال، ہر سال، نیا پیرہن زیب تن کرتا ہے! زرق برق پیرہن! دوسرے میں سال، وہی رہتا ہے! پھٹا پرانا سال ! چیتھڑے اوڑھے ہوئے
بشکریہ روزنامہ دنیا
 

powered by worldwanders.com