Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Monday, April 05, 2021

ایک سابق سفیر کی یادداشتیں



واجد شمس الحسن انگریزی زبان کے صحافی ہیں۔ بھٹو خاندان سے ان کا قریبی تعلق رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے دور حکومت میں انہیں برطانیہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا۔ حال ہی میں ان کی تصنیف ''بھٹو خاندان میری یادوں میں‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس میں سے کچھ اقتباسات قارئین سے شیئر کیے جا رہے ہیں۔
شملہ روانگی سے پہلے لاہور ایئر پورٹ سے جب جہاز انڈیا کے شہر چندی گڑھ جانے کے لیے اُڑا تو کچھ دیر بعد بھٹو صاحب جہاز میں موجود صحافیوں اور دیگر سرکاری افسران کے پاس آئے۔ انہوں نے سب کو مخاطب کر کے کہا کہ ہم ہندوستان جا رہے ہیں۔ ہمارے نوّے ہزار فوجی وہاں قید ہیں۔ پاکستان ٹوٹ گیا ہے۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا ہے۔ بھٹو صاحب کے ساتھ جانے والے وفد میں زیادہ تر صحافیوں اور آفیشلز کا تعلق پنجاب سے تھا۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ آپ کا تعلق زندہ دلان پنجاب سے ہے۔ آپ جہاز سے اترنے کے بعد وہاں لوگوں سے جپھیاں نہیں مارو گے‘ میں نہیں چاہتا کہ آپ کے چہروں سے یہ ظاہر ہو کہ آپ بڑے خوش ہیں یا آپ کو کوئی شرمندگی ہے۔ آپ کے ملنے کے انداز اور گفتگو سے یہ تاثر پیدا ہونا چاہیے کہ آپ ان سے ناراض ہیں۔ آپ انڈیا کے لوگوں سے ملتے وقت جوش و خروش نہیں دکھائیں گے۔ آپ کی کسی بات سے یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ آپ ان کے آگے جُھک گئے ہیں اور آپ نے شکست تسلیم کر لی ہے۔ دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ مجھے معلوم ہے آپ میں سے اکثریت کی بیگمات نے انڈین ساڑھی کی فرمائش کی ہو گی‘ میں نہیں چاہتا کہ کوئی ایک بھی شخص وہاں سے انڈیا کی ساڑھی لے کر آئے۔ میں چاہوں گا کہ 1971 کی جنگ اور بنگلہ دیش کے حوالے سے جو بھی کتابیں ملیں وہ خرید لیں۔ کسی کو کتابیں خریدنے کے لیے پیسے چاہییں تو مجھ سے لے لیں۔ انڈیا میں اس جنگ کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ آپ کو جو بھی کتاب انڈیا اور پاکستان کی جنگ کے حوالے سے ملے یا بنگلہ دیش میں کیا ہوا اور کیوں ہوا، وہ کتابیں ضرور خریدیں۔ واپسی پر آپ اپنے ساتھ صرف کتابیں لا سکتے ہیں۔ میں نے لاہور ایئر پورٹ پر ہدایت کر دی ہے کہ جو لوگ میرے ساتھ واپس آئیں، ہر مسافر کے سامان کی تلاشی لی جائے۔ مجھے پتہ چل جائے گا کہ کون کیا چیز لایا ہے۔ آپ جہاں ٹھہریں گے، ہر کمرے میں کیمرہ ہو گا۔ ایسی کوئی بات مت کیجیے گا جس سے ملک کی بدنامی ہو۔ ایسی کوئی حرکت مت کیجیے گا جس سے آپ کی عدم سنجیدگی ظاہر ہو، اگر کوئی اہم بات کرنی ہو تو اپنے کمرے سے باہر آئیے گا اور لان میں ٹہلتے ہوئے بات کیجیے گا۔ کمرے میں ضروری بات کرنی ہو تو لکھ کر بات کیجیے گا۔
.........
میں سمجھتا ہوں حسین شہید سہروردی کے ساتھ ہم نے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا۔ ہم نے ان کے ساتھ زیادتی کی۔ ایوب خان نے انہیں گرفتار کر کے کراچی سنٹرل جیل میں قید کر دیا تھا۔ سہروردی صاحب نے ایوب خان کو جیل سے خط لکھا کہ تم نے مجھے گرفتار کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ مجھے گرفتار کر کے تم ملک کو نقصان پہنچا رہے ہو۔ میں آخری لیڈر ہوں جو مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان پُل کا کردار ادا کر سکتا ہوں۔ مشرقی پاکستان کے لوگ میری بات مانتے ہیں۔ اگر تم نے مجھے مار دیا تو پاکستان کا بچنا مشکل ہو جائے گا۔ ایوب خان نے سہروردی کی بات پر کوئی توجہ نہ دی بلکہ انہیں علاج کی غرض سے زبردستی بیرون ملک بھیج دیا جہاں وہ بیروت میں اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔
.........
شیخ مجیب کے چھ نکات کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں‘ لیکن ایک اہم وجہ 1965 کی جنگ تھی۔ اس جنگ کے دوران شیخ مجیب اور دیگر بنگالی لیڈروں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ بے یارومددگار ہیں۔ ان کا کوئی دفاع کرنے والا نہیں تھا۔ مشرقی پاکستان لا وارث تھا۔ اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے چھ نکات وضع کیے۔ 1962 میں اس وقت کے چیف جسٹس منیر
نے مشرقی پاکستان سے واپس آنے کے بعد ایوب خان سے کہا کہ ہمارا فیڈریشن اس شکل میں نہیں چل سکتا... ‘ایوب خان نے کہا کہ آپ بنگالی لیڈروں سے بات کریں۔ انہوں نے مولانا تمیزالدین سمیت مشرقی پاکستان کے سینئر لیڈروں سے بات کی۔ بنگالی رہنماؤں نے بڑے تلخ لہجے میں چیف جسٹس منیر کو جواب دیا کہ ہم اکثریت میں ہیں۔ اگر آپ الگ ہونا چاہتے ہیں تو الگ ہو جائیں۔ یہ سارا واقعہ انہوں نے اپنی کتاب Jinnah to Zia میں لکھا ہے۔
.........
 
اس جنگ میں امریکی صدر نکسن کا بڑا منفی کردار تھا۔ اگر امریکہ چاہتا تو وہ یحییٰ خان کو مجبور کر سکتا تھا کہ وہ اقتدار مجیب الرحمن کے سپرد کر دے۔ اس وقت یحییٰ خان امریکہ کے لیے بہت اہم رول ادا کر رہے تھے۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر جب پہلی بار چین گئے تو پاکستان سے ہو کر گئے تھے۔ یہ دورہ بہت خفیہ رکھا گیا تھا۔ ان باتوں کی وجہ سے امریکہ نے یحییٰ خان کو سب کچھ کرنے کی کھلی چھٹی دی ہوئی تھی۔ جس کے نتیجہ میں ملک دولخت ہو گیا۔
.........
امریکی صدر ریگن پاکستان میں جنرل ضیاالحق کے مارشل لا کی حمایت کرتے تھے اور چلی میں جنرل Pinochet کی مخالفت کرتے تھے۔ ریگن نے چلی میں مارشل لا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا:
Martial law is war against people
ہم نے اسے اخبار کی سرخی بنایا جس پر بڑا ہنگامہ ہوا۔ انفارمیشن والے سمجھے کہ یہ ہم نے جنرل ضیاالحق کے لیے لکھا ہے۔ ہم نے کہا کہ ہم نے چلی کے مارشل لا کے بارے میں لکھا ہے۔ بہت بحث ہوئی۔ انفارمیشن والے سمجھ گئے تھے کہ ہم نے شرارت کی ہے۔ انہوں نے چلی کی اور جنرل پنوشے کی خبریں فرنٹ پیج پر چھاپنے پر پابندی لگا دی اور کہا کہ اندر کے صفحات پر سنگل کالم خبر لگا کرے گی۔
.........
سکاٹ لینڈ یارڈ والے قاتل کو پکڑنے، قتل کی تحقیقات کرنے کے بجائے اس بات کی تحقیق کرتے رہے کہ بے نظیر بھٹو کا قتل کس ہتھیار سے ہوا ہے۔ میں نے ایس کے وائی ٹیلیوژن پر کہا کہ میں اس انکوائری کو نہیں مانتا۔ کچھ دیر بعد رحمن ملک کا فون آیا کہ سر آپ کیا باتیں کر رہے ہیں‘ آپ یہ باتیں نہ کریں۔ آصف زرداری صاحب نے کہا ہے کہ میں آپ سے اس سلسلے میں بات کروں۔ رحمن ملک کے فون کے کچھ دیر بعد آصف زرداری کا فون آیا۔ میں نے ان سے کہا کہ میں نے رحمن ملک کو وہی جواب دیا جو میں بہتر سمجھتا ہوں‘ کسی کے منع کرنے سے نہیں رکوں گا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ کو میں نہیں مانتا۔ آصف زرداری نے کہا کہ مجھے بھی یہ تحقیقات قبول نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ رحمن ملک نے مجھ سے کہا ہے کہ آپ سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات کے بارے میں کوئی تبصرہ نہ کریں۔ آصف زرداری نے کہا کہ واجد بھائی! آپ کب سے رحمن ملک کی بات سننے لگے۔ میں نے کہا: آپ بھی منع کریں گے تب بھی میں اپنی بات کروں گا۔ آصف زرداری نے کہا : میں کیوں منع کروں گا‘ میں تو چاہتا ہوں کہ محترمہ کے قاتلوں کی تہہ تک پہنچا جائے
.........
میں سمجھتا ہوں کہ ہماری طرف سے کوتاہی ہوئی ہے۔ پاکستان میں جب ہماری حکومت تھی تو محترمہ کے قتل کی فوری طور پر تحقیقات ہونی چاہیے تھی۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, April 01, 2021

شارٹ کٹ



“ میری اپنی زمین ہے، میری اپنی گاڑی ہے اور (گاڑی چلانے والا بچہ) میرا اپنا  بیٹا ہے…………… تنقید کرنے والے …………اپنے کام سےکام رکھیں 
پیپلز پارٹی یانون لیگ کا نہیں، یہ بیان ایک ایسی جماعت کی ایک اہم  شخصیت کا  ہے   جس نے اقتدار میں آنے سے پہلے وعدہ کیا تھا اور دعویٰ بھی کہ  وہ قانون کی  رِٹ قائم کرے گی۔  اس جماعت کے سربراہ  ، جو اب حکومت کے بھی سربراہ ہیں، مغربی ممالک کی مثالیں دیا کرتے تھے کہ وہاں کس طرح  بڑے سے بڑا شخص قانون کے سامنے  دوسروں کے برابر ہے۔ 
{
نہیں معلوم  اس عبرت ناک بیان پر اس پارٹی کا یا  اربابِ اختیار کا کیا ردّ عمل ہو گا ؟ ہوگا بھی  یا نہیں ؟  کوئی نوٹس لے گا بھی یا نہیں ؟ مگر اصل مسئلہ حکومت یا سیاسی جماعتوں کی سطح سے اوپر کا ہے ! بہت اوپر کا ! 
کوئی لیڈر مغربی ملکوں میں رائج قانون پر عملداری کی لاکھ مثالیں دے، محض مثالیں دینے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ مسئلے کی جڑیں گہری ہیں۔ یہ جڑیں ہماری معاشرت ، ہمارے کلچر  اور ہماری ذہنیت میں پیوست ہیں۔ہم نے ظاہر میں نظر آنے والی، مادّی ،  چیزیں تو مغرب سے لے لیں  مگر جن قدروں  نے  ان کے معاشرے  کو  اس قابل بنایا کہ کروڑوں مسلمان ہجرت کر کے  آج وہاں رہ رہے ہیں اور کروڑوں وہاں مقیم  ہونے کے لیے کوشاں ہیں،اُن قدروں سے ہم نہ صرف نا آشنا ہیں بلکہ صدیوں کی مسافت پر ہیں۔ یہاں ایک اور پہلو کی وضاحت بہت ضروری ہے۔  ہم یہ کہتے نہیں تھکتے کہ قرونِ  اُولیٰ   میں ہمارے حکمران عدالتوں کے حضور پیش ہوتے تھے، غلام اور خلیفہ باری باری سواری استعمال کرتے تھے،گورنروں کے اثاثے چیک کیے جاتے تھے،  وغیرہ۔مگر ان مثالوں سے جُڑی ہو ئی دو حقیقتیں ہم مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔صرف یہی نہیں، نظر انداز کرتے وقت بالکل معصوم بھی بن جاتے ہیں جیسے ہمیں کچھ معلوم ہی نہیں۔ تجاہل عارفانہ کی یہ بدترین  قِسم ہے ! نفاق بھری قِسم ! پہلی حقیقت یہ کہ قرون اولیٰ کی یہ مثالیں آج  ، کم و بیش، تمام  مسلمان معاشروں میں عنقا ہیں ! دوسری حقیقت یہ کہ  آج کی دنیا میں اگر ان کی کوئی عملی تصویر نظر آتی ہے تو مغربی ملکوں   میں  !
“ مغربی” کا لفظ ہم لغوی معنی میں نہیں ،  اصطلاحی معنی میں استعمال کر رہے ہیں، ورنہ جاپان ، ہانگ کانگ، سنگاپور، آسٹریلیا وغیرہ، جغرافیائی حوالے سے مغرب میں نہیں، مشرق میں واقع ہیں۔مگر قانون کی  عملداری کے اعتبار سے وہ مغرب ہی کا حصہ ہیں۔  

سترہویں صدی کا پہلا ربع ہے۔ہمارے خطے کا بادشاہِ وقت اپنی پسندیدہ  بیگم  کے ساتھ، ایک خوشگوار شام منانے کے لیے “  آؤٹنگ”  کرنا چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ بیگم کے علاوہ اور کوئی بھی ساتھ نہ ہو ! وہ ملکہ کو  بیل گاڑی میں  بٹھاتا ہے۔ کو چوان کی نشست پر خود بیٹھتا ہے۔ اور  سیر کے لیے نکل جاتا ہے۔برطانوی ایلچی ، سر طامس راؤ، بتاتا ہے کہ شاہی جوڑا جب اس رومانی  آؤٹنگ سے   واپس آیا تو   شام کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔حکم ہؤا کہ روشنیاں بجھا دی جائیں کہ ملکہ چھکڑے سے  اترے تو کسی کی نگاہ نہ پڑے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ اُس وقت اس طاقتور  باشاہ  کو اگر ستر سی سی کا موٹر سائیکل ہی  مل جاتا یا چھ سو ساٹھ سی سی کی پرانی کھٹارہ ٹائپ کارہی  مل جاتی تو  وہ اسے  ہچکولے کھاتی بیل گاڑی پر ترجیح نہ دیتا؟ مصر کے فراعنہ سے لے کر ہندوستان کے شہنشاہوں تک ،  اُس زمانے کے سب حکمران“ تختِ رواں  “  کی سواری استعمال کرتے تھے۔ یہ ایک قسم کا چھوٹا سا گھر ہوتا تھا، یا ایک بہت بڑا کمرہ، جو لکڑی کے بہت بڑے تخت  پر بنا ہوتا تھا۔ اس تخت کو درجنوں یا بیسیوں کہار اٹھا کر چلتے تھے۔ ایک عام شہری تخت رواں کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ مگر آج مزدور بھی شمالی علاقوں سے کراچی جانے کے لیے ، یا مشرق وسطیٰ کے سفر کے لیے، تخت رواں استعمال کرتا ہے جسے عرف عام میں ہوائی  جہاز کہتے ہیں۔ آج ایک معمولی آمدنی  والا شخص بھی بیوی کے ساتھ موٹرسائیکل یا گاڑی پر بیٹھ کر باہر جا سکتا ہے ۔ہم میں سے ہر شخص سہولیات اور مراعات کے اعتبار سے سترہویں یا اٹھارہویں صدی یا اس سے پہلے کے فرما ں رواؤں کی نسبت کئی گنا زیادہ خوش بخت ہے۔بجلی کے چراغ سے لے کر ائر کنڈیشنر تک، گاڑی سےلے کر جہاز تک، ٹی وی سے لے کر فون اور انٹر نیٹ تک ، لائف سیونگ ادیات سے لے کر سرجری کے عجائبات تک، بلڈ ٹیسٹ سے لے کر الٹرا ساؤنڈ اور  سکیننگ تک، آج ہم ہر سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح ایک امریکی یا یورپین یا آسٹریلیوی اٹھا رہا ہے مگر ہم میں اور ان میں دو بنیادی فرق ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سہولتیں اہل مغرب  نے خود ایجاد  یا دریافت کیں جبکہ ہم نے ان  سے خریدیں یا ان کے  عطا کردہ نمونوں کی نقل کر کے بنائیں۔ دوسرے یہ کہ اہل مغرب  نے جس طرح گذشتہ دو اڑھائی سو سال کے دوران مادّی اور ظاہری ترقی کی، اسی تناسب سے   اس عرصہ کے دوران کچھ اخلاقی  قدروں کو بھی  پختہ  کرتے رہے اور ساتھ ساتھ قانون کی عملداری کو بھی  اپنے نظام کا جُزوِ لازم بناتے رہے۔ چنانچہ آج ان کے معاشرے میں پابندئ وقت، صفائی، معاملات میں شفافیت، ایفائے عہد، تجارتی مراحل میں پاکبازی اور  دروغ گوئی سے گریز  واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قانون  اور احتساب کی نظر میں  کمزور اور طاقتور کی برابری کو بھی انہوں نے، کم و بیش، اسی طرح رائج کر دکھایا جس طرح مسلمانوں کے ہاں  قرن اول میں موجود تھا ۔ اس فرق کا ایک ہی نتیجہ نکلنا تھا جو نکلا ۔آج ہم مادی طور پر،  ظا ہر کے لحاظ سے، ان کے نقال ہیں یا خریدار ! جب کہ  معاملات میں ہم غیر شفافیت کے لیے دنیا بھر میں  مشہور ہیں اور قوانین ہمارے ہاں طاقتور کے لیے عاجز اور کمزور کے لیے سفاک ہیں!  طاقور اگر کبھی پکڑا بھی جاتا ہے تو اس وقت جب وہ حکومتِ وقت کا مخالف ہو! رہے حکومتی ارکان تو ان کی گرفت نہ ہونے کے برابر ہے ! فیوڈل سیٹ اپ اس پر مستزاد ہے۔ کوئٹہ میں ٹریفک کے سپاہی  کو گاڑی نے روند ڈالا۔کراچی میں جاگیردار خاندان  کے بیٹے نے نوجوان  کو ہلاک کر دیا۔ اسلام آباد میں سرکاری اہلکاروں نے ایک بے گناہ نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پھر طاقتور طبقے  سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کی گاڑی نے  چار نوخیز نوجوانوں کوکچل دیا۔ ان میں سے کسی مجرم کو تا دم تحریر سزا نہیں دی گئی۔ کوئی امکان بھی نہیں دکھائی دے رہا۔

 
تو پھر تعجب ہی کیا ہے اگر طاقتور طبقے کا ایک رکن  برملا اعلان کرتا ہے کہ اگر چھوٹا بچہ گاڑی چلا رہا ہے تو کیا ہؤا! زمینُ میری ہے! گاڑی میری ہے ! اور بچہ میرا ہے ! اور یہ کہ  تم لوگ اپنے کام سے کام رکھو! غور کیجیے۔ ہم اہل مغرب سے گاڑی بھی  مانگ لائے،بچے کی ڈرائیونگ کی وڈیو  بنانے کے لیے فون اور کیمرہ بھی وہاں سے  منگوا لیا مگر گاڑی چلانے کے ضمن میں جو قانون اہل مغرب کے ہاں رائج ہے اور جس سے کسی کو استثنا نہیں ملتا، اُس  قانون  سے ہم بے بہرہ ہیں! نقل کے لیے عقل چاہیے ! افسوس ! ہم نے نقل کی مگر عقل کو بروئے کار نہ لا سکے! ابھی ہم ان سے صدیوں پیچھے ہیں۔ ہاں ! ایک شارٹ کٹ ہے اور وہ یہ  کہ  ہجرت کر کے وہیں جا بسنا ! جن کا بس چل رہا ہے ، وہ یہ شارٹ کٹ استعمال کر رہے ہیں۔ 
………………………………………………………
بشکریہ  روزنامہ دنیا
 

powered by worldwanders.com