اشاعتیں

کالم

نئی صدی کی نئی چوتھائی

آج صرف نئے سال کا پہلا دن نہیں‘ صدی کی دوسری چوتھائی کا بھی پہلا دن ہے۔ نئی صدی کے 25 برس گزر گئے‘ پہلی چوتھائی ختم ہو گئی۔ دوسری چوتھائی شروع ہو رہی ہے۔ یہ ختم ہو گی تو نصف صدی گزر چکی ہو گی۔ سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم صدی کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں؟ یا جہاں تھے وہیں کھڑے ہیں؟ یا جہاں تھے وہاں سے بھی پیچھے چلے گئے؟ 80 سال گزر چکے جب لندن پر ہر رات بمباری ہوتی تھی۔ کوئی رات ایسی نہ تھی جب آگ اور لوہا نہ برسا ہو۔ موسمِ سرما اسی طرح کٹا۔ پھر خزاں آئی اور چلی گئی۔ بمباری جاری رہی۔ ایک روایت کی رُو سے 70 ہزار عمارتوں کی اینٹ سے اینٹ بجی۔ 42 ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہو گئے۔ قیامت سی قیامت تھی۔ آٹھ مہینے جرمن جہاز برطانوی فضاؤں میں دندناتے رہے۔ فرانس پہلے ہی کھیت ہو چکا تھا۔ اس عالم میں جب یاس چادر کی طرح انگریزی آسمان پر تن چکی تھی‘ دل ڈوب رہے تھے اور امید کے دیے تیز ہواؤں کے سامنے لرز رہے تھے‘ وزیراعظم چرچل نے پوچھا ''کیا برطانیہ کی عدالتیں کام کر رہی ہیں؟‘‘ اسے بتایا گیا کہ ہاں! عدالتیں کام کر رہی ہیں! چرچل نے کہا ''خدا کا ...

اقلیت؟ کون سی اقلیت؟؟

اشتہار۔ یورپ‘ امریکہ‘ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں خاکروبوں کی ضرورت ہے۔ درخواستیں دینے والے لازماً پاکستانی مسلمان ہوں۔ معاوضہ معقول دیا جائے گا۔ ضروری اعلان۔ آج سے امریکہ‘ یورپ‘ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کو بالعموم‘ اور پاکستانی مسلمانوں کو بالخصوص اقلیت کہا اور سمجھا جائے گا۔ فرض کیجیے‘ ایسا اشتہار واقعی نشر کر دیا جائے اور ایسا اعلان بھی حقیقت کا روپ دھار لے تو ہم کیسا محسوس کریں گے؟ ابھی تک تو ان ملکوں میں مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو دوسرے شہریوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن اگر پاکستانی مسلمانوں کو اقلیت قرار دے دیا جائے اور اس پر پاکستانی تارکینِ وطن اعتراض کریں تو آپ کا کیا خیال ہے ان ملکوں کی حکومتوں اور عوام کا کیا ردِ عمل ہو گا؟ یہ مسئلہ ہم اس لیے اُٹھا رہے ہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاکروب کی اسامیوں کے اشتہار میں ''صرف مسیحی‘‘ لکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ جسٹس انعام امین منہاس نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ اشتہار میں ''صرف کرسچین‘‘ لکھنے کے بجائے ''صرف ش...

نہیں! جناب سہیل وڑائچ! نہیں!

''ملمع سازی کی چاندی خوب بکتی ہے اور حقیقت کے فولاد کا کوئی خریدار نہیں ہوتا۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک روپ اور بہروپ کی یہ آویزش جاری ہے۔ کانگریسی مسلمان کہتے تھے‘ ہم ہندوستان کی تقسیم اس لیے نہیں چاہتے کہ اس سے مسلمان تقسیم ہو جائیں گے اور لیگی مسلمان کہتے تھے کہ ہم ہندو کا غلبہ نہیں چاہتے۔ دونوں کے یہ نعرے دلفریب تھے مگر دونوں سچ سے کوسوں دور تھے۔ کانگریسی مسلمان اس لیے غلط تھے کہ اگر ہندوستان کے سارے مسلمان اکٹھے بھی رہتے تو اکثریت کی وجہ سے ہندوستان کی حکمرانی تو ہندو کے پاس ہی رہنی تھی اور لیگی مسلمان اس لیے غلط تھے کہ جن علاقوں میں پاکستان بنا وہاں تو پہلے ہی مسلمانوں کی حکمرانی تھی۔ پنجاب‘ سندھ‘ بنگال سب میں پہلے سے ہی مسلمان حکمران تھے۔ مگر یہ دونوں نعرے بہت بکے اور آج تک بہت بکتے ہیں‘‘۔ یہ اقتباس جناب سہیل وڑائچ کے اُس کالم سے ہے جو 21 دسمبر کو شائع ہوا ہے۔ سہیل وڑائچ صاحب سینئر ترین صحافیوں میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ صحافت کے خارزار میں ایک طویل فاصلہ طے کر کے وہ اس نمایاں مقام تک پہنچے ہیں۔ ان کے سیاسی تجزیے‘ پیش بینیاں اور ت...

نصرت پروین

مسلمان خاتون کا حجاب بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار نے نہیں کھینچا۔ مسلمان خاتون کا حجاب بی جے پی نے کھینچا ہے۔ آر ایس ایس نے کھینچا ہے! بھارت کے مسلمانوں نے بہت کچھ دیکھا ہے‘ مگر یہ اندھیر پہلے نہیں دیکھا تھا۔ یہ پست ترین حرکت اس نفرت کا شاخسانہ ہے جو بی جے پی نے ہندو انتہا پسندوں کے دماغوں میں کوٹ کوٹ کر بھردی ہے۔ ہم پورے بھارت کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا رہے نہ ٹھہرا سکتے ہیں۔ بہت سی ہندو شخصیات نے اس قبیح حرکت کی مذمت کی ہے اور نتیش کمار سے مطالبہ کیا ہے کہ معافی مانگے۔ بالی وُڈ کی معروف اداکارہ راکھی ساونت نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ''نتیش جی اگر میں اسی طرح سرِ بازار آپ کی دھوتی کھینچ لوں تو آپ کو کیسا محسوس ہوگا‘‘۔ مگر بی جے پی اور آر ایس ایس کے ماننے والے ہندو ذہنی بربریت کے اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جہاں انسانیت مر جاتی ہے اور صرف درندگی باقی رہ جاتی ہے۔ اس درندگی اور بربریت کا سب سے بڑا علمبردار پروہت ادتیا ناتھ ہے جو یوپی کا وزیراعلیٰ ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یوپی ہی مسلمانوں کی تہذیبی اور مذہبی میراث کا سب سے بڑا گڑھ ہے۔ ادتیا ناتھ نے کھلی جگہوں پر نماز پڑ...

پاکستان کے شاہی خاندان

سینیٹر کی وفات ہو گئی۔ پارٹی لیڈر نے حکم صادر کیا کہ اس کے بعد اس کے فرزند کو سینیٹر بنایا جائے۔ عرض کیا گیا ''حضور! وہ تو پہلے ہی ایک اعلیٰ منصب پر فائز ہیں اور حکومت سے تنخواہ لے رہے ہیں! قانون اجازت نہیں دیتا کہ انہیں سینیٹر بنایا جائے‘‘۔ ''تو پھر انہیں مشیر کے عہدے پر بٹھایا جائے‘‘۔ آپ کا کیا خیال ہے یہ واقعہ امریکہ میں پیش آیا یا برطانیہ میں؟ کینیڈا میں یا آسٹریلیا میں؟ نہیں! جناب! یہ واقعہ پاکستانی جمہوریہ میں پیش آیا ہے اور باقاعدہ رونما ہو چکا ہے! ہماری سیاسی جماعتیں شخصی ملکیت میں ہیں۔ یہ جماعتیں مالکوں کی خاندانی جائداد‘ مالکوں کی خاندانی پراپرٹی‘ مالکوں کی خاندانی زمین‘ مالکوں کے خاندانی کارخانوں اور مالکوں کے خاندانی بینک بیلنس کی طرح مالکوں کی خاندانی ایمپائر کا حصہ ہوتی ہیں اور بلاشرکت غیرے حصہ ہوتی ہیں۔ سیاسی جماعت کا مالک وفات پا جائے تو اس کی بیٹی تخت پر بیٹھتی ہے۔ وہ انتقال کر جائے تو اس کا میاں تاجدار ہو جاتا ہے۔ اس اثنا میں بیٹے کو تیار کیا جا رہا ہوتا ہے۔ بیٹی کو بھی پارلیمنٹ میں اتار دیا جاتا ہے۔ دوسری س...

سولہ دسمبر

بنگالی دوستوں سے کئی مسائل پر اختلافات کے باوجود ہمارے تعلقات میں کبھی کوئی رخنہ نہ پڑا۔ مجموعی طور پر مشرقی پاکستان میں قیام میری آئندہ زندگی اور کیریئر کیلئے سنگِ میل ثابت ہوا۔ ڈھاکہ یونیوسٹی میں تب سی ایس ایس کا امتحان بہت مقبول تھا۔ ٹاپ کی پہلی یا دوسری پوزیشن مشرقی پاکستان ہی لے جاتا تھا۔ سی ایس ایس میں قسمت آزمانے کا ارادہ وہیں بنا۔ کچھ مشاہیر کو پہلی بار ڈھاکہ ہی میں دیکھا۔ میرے دوست مقصود کی طبیعت خراب تھی۔ معلوم ہوا کہ حکیم محمد سعید آئے ہوئے ہیں۔ میں اسے لے کر ان کے مطب میں گیا۔ یوں انہیں پہلی بار دیکھا۔ مولانا مودودی اور چودھری رحمت الٰہی کو بھی پہلی بار ڈھاکہ ہی میں دیکھا۔ ایک دن مرکز پسند بنگالی طلبہ آئے اور کہنے لگے کہ نواب زادہ نصراللہ خان آئے ہوئے ہیں۔ چلو‘ ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ وہ پرانے ڈھاکہ میں مسلم لیگ کے خواجہ خیرالدین کے ہاں قیام پذیر تھے۔ شاید یہ احسن منزل تھی جہاں 1906ء میں مسلم لیگ کی تشکیل ہوئی تھی! نواب زادہ نصراللہ خان نے ململ کا سفید کُرتا زیب تن کر رکھا تھا جس کے کندھوں اور سینے پر بیل بوٹے کڑھے ہوئے تھے۔ سر پر حسبِ معمول ترکی ٹوپی تھی اور منہ م...

اہلِ قلم کے حقوق اور فرائض

''ہم بُک فیئر منعقد کر رہے ہیں‘ فلاں تاریخ کو آپ کا پروگرام رکھا ہے‘ فلاں نمبر پر بات کر کے تفصیلات لے لیجیے‘‘۔ یہ نادر شاہی حکم ایک نیم سرکاری‘ نیم علمی ادارے کی ایک اہلکار نے ٹیلی فون پر صادر کیا۔ جب کہا کہ مجھ سے پوچھے بغیر آپ نے پروگرام کیسے رکھ لیا؟ اور تاریخ بھی خود ہی طے کر لی؟ تو اہلکار‘ یعنی اہلکارن نے فون بند کر دیا۔ ادارے کے سربراہ سے اس ''آمریت‘‘ کا ذکر کیا تو موصوف نے معذرت کم کی اور اہلکارن پر کام کے بوجھ پر بات زیادہ کی۔ سوال یہ ہے کہ ادیب اور شاعر کے ساتھ Taken for granted والا سلوک کیوں کیا جانے لگا ہے؟ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ کچھ ذمہ دار اس صورتحال کے ادیب اور شاعر خود بھی ہیں۔ ہر پروگرام‘ ہر مشاعرے‘ ہر کتابی میلے میں شامل ہونے کیلئے ''جدوجہد‘‘کرنا! ہر کس وناکس کی‘ ہر ایرے غیرے کی منت سماجت کرنا‘ پروگرام لینے کیلئے مرے جانا‘ عزتِ نفس کو گروی رکھ دینا ہم میں سے کچھ ادیبوں اور شاعروں کا وتیرہ ہی بن گیا ہے۔ اس رویے کے سبب پروگرام منعقد کرنے والے عزت تو کیا ...

قاتلوں کا گروہ اور مقتولین

چیخ تھی اور ایسی کہ زمین و آسمان نے ایسی چیخ نہیں سنی تھی۔ سب دوڑ رہے تھے۔ سب ایک ہی سمت جا رہے تھے۔ لاتعداد لوگ! شمار سے باہر لوگ! حیرت کی بات یہ تھی کہ ہجوم لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہا تھا۔ دھوپ تیز سے تیز تر ہو رہی تھی۔ دور دور تک کوئی درخت‘ کوئی چھت‘ کوئی سائبان‘ کوئی بادل نہیں نظر آ رہا تھا۔ سب سنتے آئے تھے کہ سورج سوا نیزے پر ہو سکتا ہے۔ آج سب یہ ہوتا دیکھ رہے تھے۔ سب پسینے میں شرابور تھے۔ پیاس اتنی تھی کہ زبانوں پر دراڑیں پڑ رہی تھیں۔ کہیں کوئی دریا‘ کوئی جھیل‘ کوئی چشمہ‘ کوئی کنواں‘ کوئی تالاب‘ کوئی جوہڑ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میدان اتنا بڑا تھا کہ ایک کنارہ ایک افق سے تو دوسرا دوسرے افق سے مل رہا تھا۔ یہ میدان بالکل بنجر تھا۔ کہیں کوئی روئیدگی نہیں تھی۔ گھاس کا تنکا تک کہیں نہ تھا۔ لوگ گرتے تھے‘ اُٹھ کر پھر دوڑنے لگتے تھے۔ سینے دھونکنیوں کی طرح چل رہے تھے۔ پھر اس لاتعداد خلقت نے دیکھا کہ ایک طرف‘ افق سے‘ آسمان پر ایک سایہ سا چلا۔ یہ سایہ پھیلتے پھیلتے‘ بڑھتے بڑھتے‘ سب کے سروں پر تن گیا۔ یہ اور بات کہ د...

ثمرین حسین اور تابندہ بتول

زمین ظلم سے بھر گئی ہے۔ آسمان سے پتھر کیوں نہیں برس رہے؟ قانون کے یہ کیسے رکھوالے ہیں جو خود قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں! جن کے اپنے گھروں میں قانون کی حیثیت اُس چیتھڑے سے زیادہ نہیں جس سے جوتے صاف کیے جاتے ہیں‘ وہ خلق خدا کو کیا انصاف دیں گے۔ ایسے واقعات کی تعداد ہولناک رفتار سے بڑھ رہی ہے جن میں طاقتور افراد عام شہریوں کو ہلاک کر رہے ہیں اور قانون ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ یہ ملک ایسی چراگاہ بن چکا ہے جہاں بھیڑوں کے رکھوالے بھیڑوں کو چیر پھاڑ رہے ہیں۔ ریاست ان کے سامنے بے بس ہے۔ قانون ان کے بوٹوں کا تسمہ ہے۔ پولیس چاہے بھی تو اس کے ہاتھ بندھے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ انصاف کی مسندوں پر براجمان ہیں۔ کچھ بھی نہیں ہو گا! کچھ بھی نہیں! پیر کی رات‘ وفاقی دارالحکومت کی شاہراہ دستور پر‘ اندھا دھند رفتار سے کروڑوں کی شاہانہ گاڑی چلانے والے سولہ سالہ چھوکرے نے جن دو بہنوں کو گاڑی کے نیچے دے کر ہلاک کیا ہے‘ ان دو بہنوں کو انصاف نہیں ملے گا۔ لکھ لیجیے کہ نہیں ملے گا۔ اس لیے کہ آج تک یہاں کسی طاقتور کو سزا نہیں دی گئی۔ کیا مجرم کے والد محترم‘ جو خود بڑے عہدے ...

سی ڈی اے کا مزید شکریہ

اگر عزیزِ گرامی رؤف کلاسرا جیسے مشہور‘ کہنہ مشق صحافی اور نبیل گبول صاحب جیسے معروف سیاستدان کا فون بھی چیئرمین سی ڈی اے نہیں سنتے تو ہما و شما کس زعم میں ہیں! صرف چیئرمین ہی نہیں‘ پورا سی ڈی اے وہ معشوق ہے جو فریاد سنتا ہے نہ جواب دیتا ہے۔ بس اپنے حسن پر فریفتہ ہے اور خود ہی فریفتہ ہے۔ چند ہفتے پہلے سی ڈی اے کے ممبر Environments (ماحولیات) سے رابطہ کرنے کی اذیت سے گزرنا پڑا۔ ان کے سٹاف سے کہا کہ بات کرائیں۔ بتایا گیا کہ میٹنگ میں ہیں۔ اب یہ میٹنگ والا سدا بہار نسخہ ہر موقع پر استعمال ہوتا ہے۔ گھر میں بیٹھے ہیں تو جواب ہوتا ہے کہ میٹنگ کے لیے گئے ہیں‘ دفتر میں بیٹھے چائے پی رہے ہیں تو جواب ہوتا ہے کہ اندر میٹنگ چل رہی ہے۔ خیر! سٹاف سے کہا کہ میٹنگ سے واپس آجائیں تو بات کرا دیں۔ سٹاف نے پوچھا کہ ''آپ کیا ہیں؟‘‘۔ اس کا درست جواب تو یہ تھا کہ میں ایک شہری ہوں جس کے ادا کردہ ٹیکس سے ممبر صاحب کو تنخواہ اور مراعات مل رہی ہیں۔ مگر پاکستان میں ایسا کہنا نہ صرف یہ کہ کوئی وزن نہیں رکھتا بلکہ وزن کو گھٹا دیتا ہے‘ اور اتنا گھٹاتا ہے کہ وزن صفر سے بھ...