Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, June 29, 2023

پھر تو تم آزاد ہو جاؤ گے نا؟

یہ بیس بائیس سال پہلے کی بات ہے۔ خوش بختی جدہ لے گئی کہ عمرہ کی سعادت حاصل ہو سکے۔ جدہ میں واقع پاکستانی قونصل خانہ میں تعینات ایک افسر اپنے برخوردار تھے۔ دن کا کچھ حصہ ان کیساتھ گزرا۔ انہوں نے تین چشم دید واقعات سنائے۔ پہلا یہ کہ جدہ میں ان کے قریب ایک عرب خاتون رہتی تھی‘ میاں اس کا چل بسا! دولت بہت سی چھوڑ گیا۔ رشتہ دار‘ ثروت مند بیوہ کے گرد منڈلانے لگے! شادی کی پیشکشیں آنا شروع ہو گئیں! خاتون نے ساری پیشکشوں کا جواب اس طرح دیا کہ ایک دن اپنے بنگالی ملازم کو کہا تیار ہو جاؤ! میں تم سے نکاح کرنے لگی ہوں! اور پھر بنگالی ملازم سے اس نے شادی کر لی! (یہ واقعہ آج کے موضوع سے تعلق نہیں رکھتا)۔ دوسرا واقعہ یہ تھا کہ اس وقت کے وزیراعظم کو بتایا گیا کہ احرام پاکستان سے باندھ کر آنا ہے کیونکہ میقات راستے میں پڑتا ہے۔ مگر انہوں نے احرام جدہ آ کر باندھا! کیوں؟ تاکہ احرام کا مالی بوجھ قونصل خانے پر یعنی قومی بجٹ پر پڑے۔ اور وہ پڑا!! تیسرا واقعہ اس سے بھی زیادہ دلدوز اور دلخراش تھا۔ مطاف میں طواف کرتے وقت بعض لوگ پیروں کی حفاظت کیلئے نفیس چمڑے کی جرابیں پہن لیتے ہیں! ایک وزیر صاحب نے جرابوں کا یہ جوڑا بھی قونصل خانے سے خریدوایا! آپ کا کیا خیال ہے اس کی کیا قیمت ہو گی؟ بیس ریال! اس وقت کے بیس ریال جب ڈالر ساٹھ روپے سے بھی نیچے تھا! مگر کہانی کا سب سے زیادہ دردناک اور مضحکہ خیز حصہ ابھی باقی ہے۔ وہ یہ کہ یہ وزیر ذاتی طور پر بھی انتہائی امیرکبیر تھے! یہ ہیں ہمارے سیاستدان اور ہمارے حکمران!! ان کی ذہنی سطح پر غور کیجیے! ان کا لیول دیکھیے! فاروق گیلانی مرحوم ان وزیروں کے نام بتایا کرتے تھے جو دفتر میں سرکاری لنچ کا انتظار کرتے تھے اور لنچ کے فوراً بعد دفتر سے چلے جاتے تھے جبکہ لنچ سے پہلے بھی فارغ بیٹھے ہوتے تھے!
صدرِ مملکت مکمل پروٹوکول کیساتھ حج پر گئے ہیں! کہا جا رہا ہے کہ اپنے خرچ پر گئے ہیں‘ صرف خصوصی فلائٹ مہیا کی گئی ہے۔ کیا حکومت بتائے گی کہ ایسی خصوصی فلائٹ عام پاکستانیوں کو کیوں نہیں مہیا کی جاتی!! ذرا یہ خبر پڑھیے: ''صدر کے سٹاف میں ملٹری سیکرٹری‘ ایک میجر چیف سکیورٹی افسر‘ ایک میجر اے ڈی سی‘ ایک لیفٹیننٹ کمانڈر اے ڈی سی‘ ایک میجر سٹاف افسر‘ ایک پروٹوکول اسسٹنٹ‘ ایک نائیک سکیورٹی سٹاف‘ ایک حوالدار سکیورٹی سٹاف اور ایک ویلٹ فریضۂ حج کے دوران‘ ذرائع کے مطابق صدرِ پاکستان کے ہمراہ ہوں گے‘‘!! واہ! کیا بات ہے۔ حج ایک عبادت ہے! اور عبادت کے دوران اگر ملٹری سیکرٹری ایک میجر چیف سکیورٹی افسر‘ ایک میجر اے ڈی سی‘ ایک لیفٹیننٹ کمانڈر اے ڈی سی‘ ایک میجر سٹاف افسر‘ ایک پروٹوکول اسسٹنٹ‘ ایک نائیک سکیورٹی سٹاف‘ ایک حوالدار سکیورٹی سٹاف اور ایک ویلٹ ساتھ ہو تو اس شاہانہ عبادت کے کیا ہی کہنے!! اور یہ ویلٹ! ہو سکتا ہے کچھ سادہ لوح‘ معصوم پاکستانیوں کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ان کے خون پسینے کی کمائی سے صدر صاحب کو جو ویلٹ (کئی ویلٹ) مہیا کیے گئے ہیں اور جن میں سے ایک خوش بخت حج کے دوران صدر صاحب کیساتھ ہوگا‘ یہ ہوتا کیا ہے؟ کولنز انگلش ڈکشنری کے مطابق‘ ویلٹ یہ ہوتا ہے:A man servant who acts as personal attendant to his employer, looking after his clothing, serving his meals, etc.۔ یعنی ایک مرد ملازم جو ذاتی خادم کے طور پر خدمت کرتا ہے جیسے لباس کا خیال رکھنا‘ کھانا پیش کرنا وغیرہ!! لغت کہتی ہے کہ ویلٹ ذاتی خادم ہوتا ہے مگر صدرِ مملکت کے ''ذاتی خدام‘‘ کی تنخواہ بھی قومی خزانے سے ادا کی جاتی ہے۔ دو وزرا کرام نے قومی اسمبلی میں بتایا ہے کہ اس ''خصوصی‘‘ فلائٹ پر اور مسافر بھی ہیں! ذرا ان ''اور‘‘ کی فہرست تو معلوم ہو کہ یہ خوش قسمت ''اور‘‘ کون ہیں جو اس خصوصی فلائٹ پر جا رہے ہیں جو صدر‘ صدر کے کثیر المقدار سٹاف‘ وزرا اور ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے خصوصی طور پر مہیا کی گئی ہے!! صدر گرامی قدر تو تبدیلی کے علمبردار تھے! انہیں تو عام پرواز پر عوام کے ساتھ جانا چاہیے تھا مگر حسنِ اتفاق دیکھیے۔ صدر صاحب خصوصی فلائٹ پر ان وزیروں کی معیت میں سفر کر رہے ہیں جو تحریکِ انصاف کے مانے ہوئے مخالفین ہیں!!
قومی خزانے سے حج کرنے اور کرانے کی ریت‘ جہاں تک اس لکھنے والے کو علم ہے‘ مردِ مومن ضیا الحق نے ڈالی تھی! آپ نے اسلام کی خدمت کے حوالے سے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے!! انہی میں سے ایک بڑا کارنامہ سرکاری جہاز بھر بھر کر عمروں اور حج کے لیے لے جانا تھا! یہ صدقۂ جاریہ آج تک یہ غریب قلاش قوم ادا کر رہی ہے۔ طاقت کے نشے میں مست یہ لوگ کیوں نہیں سوچتے کہ منصب کے زور پر حج کے لیے خصوصی فلائٹ کا حصول اور فل پروٹوکول کے ساتھ حج ثواب کے بجائے اُلٹا وبال کا باعث بن سکتا ہے!! قومی خزانے کے ناروا استعمال سے آڈٹ اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تو چشم پوشی کر سکتی ہے‘ آخرت میں کوئی منصب‘ کوئی شان و شوکت‘ اس ناروا استعمال کو رسوا ہونے سے نہیں بچا سکے گا! سینیٹ کے چیئرمین صاحب نے اپنے‘ اپنے جانشینوں اور اپنے پیشروؤں کیلئے جو بھاری مراعات‘ تاحیات حاصل کی ہیں ان کی شرمناک تفصیلات سے تو آپ آگاہ ہو ہی چکے ہیں‘ ذرا پارلیمنٹ کے ملازمین اور افسروں کی ''اعزازی‘‘ تنخواہوں پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے تاکہ آپ کو اچھی طرح یہ بات معلوم ہو جائے کہ آئی ایم ایف کے سامنے اس گڑگڑاتی قوم کو بھنبھوڑنے والوں میں کون کون شامل ہیں! روزنامہ دنیا کے ایس ایم زمان صاحب کے حاصل کردہ اعدادو شمار کی رُو سے پارلیمنٹ ہاؤس کے ملازمین اس سال پہلے ہی 48 کروڑ روپے سے زیادہ کی اعزازی تنخواہیں وصول کر چکے ہیں۔ (اعزازی تنخواہ اصل تنخواہ کے علاوہ ہوتی ہے)۔ وزیر خزانہ نے ان خوش قسمت پاکستانیوں کیلئے تین تین مزید اعزازی تنخواہوں کا اعلان کیا ہے! جو اعزای تنخواہیں پہلے ہی دی جا چکی ہیں ان کی تفصیل دیکھیے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین 24کروڑ 46لاکھ 51ہزار روپے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ ملازمین 17کروڑ 36لاکھ 22ہزار روپے‘ سینیٹ کے قائدِ ایوان اور حزبِ اختلاف کے ملازمین 32لاکھ‘ 90ہزار روپے‘ سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے ملازمین‘ چار کروڑ 10لاکھ روپے‘ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے ملازمین‘ چار کروڑ 55لاکھ 29ہزار روپے‘ سپیکر‘ ڈپٹی سپیکر آفس کے ملازمین‘ 82لاکھ 34ہزار روپے‘ قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈر آفس کے ملازمین‘ 22لاکھ‘ کشمیر کمیٹی آفس کے ملازمین‘ 62لاکھ24 ہزار روپے!!
کام تو تمام سرکاری ملازم کرتے ہیں مگر پارلیمنٹ کے ملازمین 24 گھنٹوں کے بجائے 80گھنٹے کام کرتے ہیں! دوسرے ملازمین جب قلم سے لکھتے ہیں تو حروف ظاہر ہوتے ہیں مگر ہماری پارلیمنٹ کے ملازمین جب لکھتے ہیں تو حروف کے بجائے ہیرے اور موتی نکلتے ہیں! اسی لیے ان پر کروڑوں روپوں کے اعزازیے وار دیے گئے! ماں صدقے!! اور اس درد ناک لطیفے پر غور کیجئے کہ کشمیر کمیٹی کے ملازمین کو بھی 62لاکھ 24ہزار روپے کی اعزازی تنخواہیں دی گئی ہیں!! کوئی پوچھے کہ کشمیر کا کون سا حصہ فتح کرنے کی خوشی میں یہ اعزازیے اڑائے جا رہے ہیں؟ اے اہلِ کشمیر!! ہم نے تمہاری آزادی کے لیے کشمیر کمیٹی تشکیل دی! اس میں کام کرنے والوں کو لاکھوں روپے اعزازیہ‘ یعنی انعام بھی دے رہے ہیں! کیا ابھی تک اے اہلِ کشمیر ! تم آزاد نہیں ہوئے! پریشان ہونے کی ضرورت نہیں! خاطر جمع رکھو! آئندہ سال ہم ایک نہیں‘ چار پانچ کشمیر کمیٹیاں بنا لیں گے اور اعزازیے میں لاکھوں نہیں‘ کروڑوں روپے اڑائیں گے! پھر تو تم آزاد ہو جاؤ گے نا؟؟

Tuesday, June 27, 2023

ایک چپت نہرِ سویز کے اُس پار سے !!

وزارتِ خارجہ کو لَکھ لَکھ مبارکاں اور کروڑوں بار تہنیت! خارجہ امور کے میدان میں پاکستان نے ایک اور معرکہ سر کر لیا ہے!بھارت‘ افغانستان‘ ایران کے ساتھ ہمارے گہرے اور گُوڑھے تعلقات تو ہیں ہی! ایک گلدستہ‘ اور ساتھ مٹھائی کا ڈبہ‘ مصر سے بھی موصول ہوا ہے! 

مصر کے مفتیِ اعظم نے بھارتی وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات مصر میں ہوئی ہے! اس ملاقات کے بعد مصر کے مفتیِ اعظم نے اس امر پر ‘ ماشاء اللہ‘ اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ'' مودی بھارت میں مختلف مذہبی طبقات میں بقائے باہمی اور ہم آہنگی بڑھانے کے لیے قابلِ قدر کام کر رہے ہیں۔ '' مفتی صاحب نے کہا ہے کہ اس سے پہلے نئی دہلی میں بھی صوفی کانفرنس کے موقع پر مودی سے ان کی ملاقات ہو ئی تھی۔ مفتیِ اعظم نے مودی کی دانشمندانہ قیادت کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے جو کوششیں کر رہے ہیں اس میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق مفتیِ اعظم مصر نے بھارتی جھنڈے کے سامنے کھڑے ہو کر بھارتی وزیر اعظم کے تدبر کو خراجِ تحسین پیش کیا‘‘۔
مجبوری یہ ہے کہ اس عظیم الشان بین الاقوامی کامیابی کا سہرا پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے سر ہی باندھا جا سکتا ہے! قاہرہ میں ایک پاکستانی سفارت خانہ بھی یقینا ہو گا۔ ایک عام آدمی کے ذہن میں کچھ سوال اُٹھتے ہیں۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وزارتِ خارجہ کے بزرجمہر کسی بھی عام آدمی کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ عام آدمی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے ٹائی لگائی ہوئی ہے نہ تازہ ترین ڈیزائن کا سوٹ زیب تن کیا ہوا ہے۔اس کے منہ میں لمبا سا قیمتی پائپ ہے نہ امپورٹڈ سگار! نہ اس کی زندگی کا واحد مقصد یورپ اور امریکہ میں تعینات ہونا ہے!
جو کچھ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کر رہا ہے اور آسام سے لے کر گوا تک جو کچھ مذہبی اقلیتوں‘ خاص طور پر‘ مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے ‘ اس کا اگر چوتھا حصہ بھی پاکستان میں ہو رہا ہوتا تو بھارت نے دنیا میں قیامت برپا کردینا تھی۔ اس کا فارن آفس‘ اس کے سفارت خانے ‘اس کی میڈیا کی وزارت اور متعلقہ ادارے‘ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے سے کرۂ ارض کو بھر دیتے۔مگر پاکستان ہے کہ بھارت کے کھلے ظلم سے ‘ جو اندھے کو بھی نظر آرہا ہے‘ دنیا کو آگاہ نہیں کر سکا! کچھ سوالات ہیں جو ہر معقول ذہن میں اُٹھ سکتے ہیں۔ کیا وزارتِ خارجہ نے بھارتی مسلمانوں کیساتھ ہونے والی بدسلوکی کی تشہیر کرنے کے لیے اپنے سفارت خانوں کو کبھی ہدایت کی ہے؟ اگر کی ہے تو اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ کیا فیڈ بیک کا کوئی نظام وضع کیا گیا؟ کیا اس حوالے سے سفارت خانوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا؟ کتنے ملکوں کے بڑے اخبارات میں ہمارے سفارتخانوں نے اس حوالے سے مضامین لکھے؟ ان سوالوں کے جواب جاننا عوام کا حق ہے! کیونکہ قیمتی ڈیزائن سوٹ‘ ریشمی نکٹائیاں اور سگار اور پائپ عوام ہی کے خون پسینے کا نتیجہ ہیں! دہلی میں واقع ہمارے سفارتخانے کے پاس تو یقینا مکمل اعدادو شمار ہوں گے کہ مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد مسلمانوں کے خلاف کتنے اور کہاں کہاں فسادات ہوئے؟کتنے مسلمان گوشت رکھنے کے جرم میں گھروں سے ہاتھ دھو بیٹھے ؟ کتنے مارے گئے؟ گائے لانے یا لے جانے والے کتنے مسلمانوں کو جان سے مار دیا گیا! یوپی کا وزیر اعلیٰ ادتیا ناتھ مسلمانوں کو اذیت دینے کے لیے کیا کچھ کر رہا ہے۔ آسام میں کتنے مسلمانوں سے شہریت چھینی گئی؟کیا وزارتِ خارجہ نے یہ تمام اعدادو شمار دہلی میں واقع پاکستانی سفارت خانے سے لے کر تمام پاکستانی سفارت خانوں کو بھیجے ہیں؟ قصہ مختصر ‘ پاکستانی سفارت خانوں نے اس حوالے سے کیا کچھ کیا ہے؟ 
مفتیِ اعظم مصر نے کسی صوفی کانفرنس کا ذکر بھی کیا ہے جو بھارت میں منعقد ہوئی تھی۔ یہ ایک بھارتی چال تھی! عالم اسلام کو دھوکا دینے کے لیے! دہلی میں واقع پاکستانی سفارت خانے نے یقینااس نام نہاد صوفی کانفرنس کی تفصیلات وزارتِ خارجہ کو بھیجی ہوں گی! کیا وزارتِ خارجہ نے متعلقہ وزارتوں کو اور وقت کے وزیر اعظم کو یہ باور کرایا کہ پاکستان میں بھی بین الاقوامی سطح کی صوفی کانفرنس کا اہتمام ضروری ہے؟ تاکہ بھارت کو بتایا جا سکے کہ عالم اسلام کو دھوکا دینے کی اجازت پاکستان اسے کبھی نہیں دے گا! پاکستانی سفارت خانے نے یقینا اُن معتبر شخصیات کی فہرست اسلام آباد کو بھیجی ہو گی جو اس صوفی کانفرنس میں شامل ہو ئی تھیں؟ کیا ان شخصیات کو ہمارے سفیروں نے مل کر اصل صورت حال سے آشنا کرنے کی کوشش کی ؟ مصر ہی کو لے لیجیے۔ مفتیِ اعظم مصر یقینا مصر کی اہم ترین شخصیات میں شامل ہیں۔ پروٹوکول کی فہرست میں ان کا نمبر اور مقام خاصا بلند ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ قاہرہ میں متعین پاکستانی سفیر کبھی مفتیِ اعظم کو ملنے گئے؟ کیا کبھی انہیں پاکستانی سفارت خانے کی تقاریب میں مدعو کیا گیا؟ کیا انہیں کسی نے کبھی پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی ؟ اگر ایسا کچھ نہیں کیا گیا تو پاکستانی وزارتِ خارجہ کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور اپنی کارکردگی کا محاسبہ کرنا چاہیے! مفتیِ اعظم مصر کا مودی کے حوالے سے یہ بیان سفارتی اور تشہیری میدان میں پاکستان کی شکستِ فاش ہے! 
اس بات کو بھی چھوڑ دیجیے کہ بیرونی ممالک میں رہنے والے پاکستانی اپنے سفارت خانوں کے بارے میں کیسا تجربہ رکھتے ہیں اور ان کے کیا خیالات ہیں! 
سب کو معلوم ہے کہ کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں! وزارت خارجہ کے اربابِ قضا و قدر ہی کا مائنڈ سیٹ دیکھ لیجیے۔ ہم ہر گز یہ نہیں کہہ رہے کہ پانچوں انگلیاں ایک جیسی ہیں! فارن آفس کے افسروں اور اہلکاروں میں فرض شناس اور خوش اخلاق افراد بھی پائے جاتے ہیں! جلیل عباس جیلانی سیکرٹری خارجہ تھے تو عام شہری کی ای میل کا جواب بھی دیتے تھے اور ٹیلیفون کال بھی سنتے تھے۔ مسٹر سہیل محمود کا رویہ اس کے مقابلے میں افسوسناک تھا۔ ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر کا بیٹا شام کے جنگ زدہ علاقے میں پھنسا ہوا ہے جہاں سے اس کا گھر والوں سے رابطہ مکمل طور پر معدوم ہے۔ اس افسر نے بہت کوشش کی کہ سہیل محمود صاحب سے ملے مگر بات کرنا جہاں نا ممکن ہو وہاں ملاقات کیسے ہو گی؟ اس کالم نگار نے بھی انہیں کئی بار فون کیا مگر انہوں نے بات نہ کی۔ آسٹریلیا میں کچھ عرصہ پہلے ایک خاتون سفارت کار متعین تھیں۔ وہ بھی بات نہیں کرتی تھیں۔ ایک پاکستانی کا مسئلہ اٹکا ہوا تھا اور خاتون بہادر نارسائی کے حصار میں تھیں۔ نفیس زکریا صاحب نے‘ جو فارن آفس کے ترجمان تھے‘ مدد کی اور خاتون سفیر سے بات کی! مددگار اور مثبت افسروں کے ساتھ ساتھ وہ افسر اور اہلکار بھی موجود ہیں جو احساسِ کمتری کے مارے ہوئے ہیں۔ایسے افراد کو اپنے ہی ملک کے شہریوں سے بات کرنا یا ان کے مسائل حل کرنا بھاتا نہیں !! 
ایک بات طے ہے کہ مفتیِ اعظم مصر نے مودی اور بھارتی جھنڈے کے سامنے کھڑے ہو کر پاکستان کے سر پر جو چپت رسید کی ہے اُس چپت کو وزارتِ خارجہ میں محسوس کیا جائے گا نہ وزارتِ اطلاعات میں اور نہ ہی وزارتِ مذہبی امور میں !! یہاں تو ترجیحات ہی اور ہیں! ان ترجیحات میں ملک‘ قوم ‘ عوام یا عزتِ نفس بہت نیچے ہیں! ترجیحات میں سر فہرست کیا کیا ہے ؟
آپ بھی جانتے ہیں اور لکھنے والے کو بھی معلوم ہے !!

Monday, June 26, 2023

حقانی صاحب اور کچھ دیگر مشاہیر

یہ ایک ابر آلود شام تھی۔میں وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر آئی ایٹ سے نکلا اور گاڑی چلاتا ہوا سیکٹر آئی نائن کی طرف بڑھنے لگا۔ اتنے میں بوندا باندی شروع ہو گئی۔ دائیں طرف دیکھا تو یقین نہ آیا۔ گاڑی روک کر پھر غور سے دیکھا۔ یہ حقانی صاحب تھے ! ارشاد احمد حقانی صاحب۔ فٹ پاتھ پر کھڑے تھے۔ ساتھ ایک گاڑی کھڑی تھی۔ میں گاڑی سے نکل کر ان کے پاس آیا اور سلام کر کے اپنا نام بتایا۔ انہوں نے پوچھا '' اظہارالحق جو کالم لکھتے ہیں؟‘‘۔ میں نے عرض کیا جناب وہی! کہنے لگے: آپ بہت تیکھے انداز میں لکھتے ہیں! پھر انہوں نے بتایا کہ گاڑی خراب ہو گئی ہے۔ میں نے تجویز پیش کی کہ بارش تیز ہونے کا امکان ہے۔ وہ میرے ساتھ میرے افلاس کدے پر تشریف لائیں۔میں اپنے ڈرائیور کو بھیجتا ہوں۔ وہ ان کے ڈرائیور کے ساتھ مل کر گاڑی کو ٹھیک کر دے گا یا کرا دے گا! انہوں نے میری تجویز کو شرفِ قبولیت بخشا اور یوں میرے ساتھ گھر تشریف لے آئے! یہ پچیس سال پہلے کی بات ہے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ان کے ساتھ ان کی بیگم یا صاحبزادی بھی تھیں۔
باتوں باتوں میں انہوں نے کہا کہ میں ان کے اخبار میں کیوں نہیں لکھتا؟میں نے عرض کیا کہ سر! کہاں میں اور کہاں آپ کا اخبار! میں تو سوچ بھی نہیں سکتا! انہوں نے فرمایا کہ کل کالم انہیں بھجوا دوں! ان کی اقامت گاہ ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں تھی۔ وہ آئی ایٹ تھری میں رہ رہے تھے۔ دوسرے دن کالم ان کے گھر پہنچا دیا جو ان کے اخبار میں چھپ گیا۔ یوں ایک خوشگوار حادثے کے نتیجے میں ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ میرے گھر تشریف لے آئے۔کہاں وہ اور کہاں یہ طالب علم! مگر میرا ہفتہ وار کالم کئی سال ان کے اخبار میں شائع ہوتا رہا! 
حقانی صاحب متعدد دیگر مشاہیر کی طرح جماعت اسلامی کی نرسری میں تیار ہوئے اور پھر اسے چھوڑ کر صحافت کی بے کنار دنیا میں داخل ہو گئے اور بہت نام کمایا۔یعنی بقول اقبال ؎
غربت میں آکے چمکا‘ گمنام تھا وطن میں!
سیاسی حرکیات ( Dynamics )کے بیان میں ان کا ثانی کوئی نہیں تھا۔ تجزیہ کرتے جاتے تھے اور ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری گرہ کھولتے جاتے تھے۔ ملکی صورت حال پر ان کے کالم یادگار تھے۔ موجودہ ایرانی جمہوریت اور شورائے نگہبان کے حوالے سے ان کے کالم اردو صحافت میں بے مثال تھے اور میری طرح بہت سے افراد کے لیے انتہائی معلومات افزا! ایران کے پیچیدہ اور تہہ در تہہ ریاستی ڈھانچے پر انہوں نے قسط وار کئی مضامین تحریر کیے جو بعد میں کتابی صورت میں شائع ہوئے۔ جب بھی ان کے دفتر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوتا ‘ شفقت سے پیش آ تے اور شدید مصروفیت کے باوجود ‘ پوری توجہ سے نوازتے! 
حقانی صاحب کی یاد یوں آئی کہ شاعرہ اور کالم نگار سعدیہ قریشی نے اپنی تازہ تصنیف '' کیا لوگ تھے‘‘ میں ان کے حوالے سے دو مضامین لکھے ہیں۔ جن میں ان کے حوالے سے ایک عجیب و غریب واقعہ بیان کیا ہے۔ سعدیہ قریشی لکھتی ہیں کہ حقانی صاحب کی صحافتی خدمات کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیا جا رہا تھا۔اس میں پنجاب حکومت کا تعاون بھی شامل تھا۔مہمانوں کی فہرست مرتب کی جا رہی تھی جس میں ادب ‘ صحافت اور سیاست کے بڑے بڑے نام شامل تھے۔ کچھ روز کے بعد معلوم ہوا کہ تقریب کا انعقاد مارچ 2010ء میں ہو گا۔ اس پر حقانی صاحب نے تقریب کے انتظامات سے منع کر دیا کیونکہ بقول ان کے ''میں مارچ 2010ء میں دنیا میں نہیں ہوں گا‘‘۔ ایک روز انہوں نے سعدیہ کو بلایا اور بتایا کہ انہوں نے اس کی‘ یعنی سعدیہ کی‘ کالموں کی کتاب کے لیے اپنی رائے لکھ دی ہے۔سعدیہ نے کہا کہ وہ کون سا کتاب چھپوا رہی ہے!اس پر حقانی صاحب نے کہا کہ جب اس کی کتاب آئے گی تو وہ موجود نہیں ہوں گے! موت سے چند ماہ پہلے حقانی صاحب نے اپنی ملکیت میں موجود اشیا تقسیم کرنا شروع کر دیں! ان کی لائبریری کا زیادہ حصہ راولپنڈی کے ایک کالج کو گیا۔انہوں نے تحائف میں ملے ہوئے قیمتی پارچہ جات بھی تقسیم کر دیے۔سعدیہ لکھتی ہیں کہ حقانی صاحب نے اپنی خود نوشت مکمل کر لی تھی جو ان کی وفات کے بعد ابھی تک شائع نہیں ہوئی۔حقانی صاحب کی خود نوشت تاریخ کی ایک اہم گواہی ہو گی۔ اس کا شائع ہونا بہت ضروری ہے! نہیں معلوم اس کا مسودہ کس کے پاس ہے! جس کے پاس بھی ہے‘ اس کی خدمت میں گزارش ہے کہ اسے شائع کر کے منظر عام پر لائے کیونکہ یہ امانت ہے جو حقانی صاحب کے قارئین اور دلدادگان تک پہنچنی چاہیے۔ 
سعدیہ قریشی نے دیگر مشاہیر کے ضمن میں کچھ دلچسپ واقعات سنائے ہیں جنہیں سبق آموز بھی کہا جا سکتا ہے۔ منو بھائی نے اپنے ماموں‘ مشہور شاعر ظہور نظر کے بارے میں کہا کہ وہ جب بھی میرے پاس آتے ‘ ان کی جیبوں سے کئی قسم کی پرچیاں برآمد ہوتیں۔ان سب پرچیوں پر دُکھی لوگوں کے کام لکھے ہوتے۔میں کہتا ماموں کیوں مصیبت میں پڑے رہتے ہو‘ آرام سے شاعری کرو‘ یہ غریبوں کے مسائل حل کرنے کے لیے نہیں ہوتے‘ نظمیں لکھنے کے لیے ہوتے ہیں۔ماموں ایک شگفتہ سی گالی دے کر کہا کرتے ایسی نظمیں منکر نکیر کی سمجھ میں نہیں آئیں گی پتر جی !!
بلقیس ایدھی کے بارے میں سعدیہ لکھتی ہیں کہ انہوں نے بھارت کی ہندو لڑکی گیتا کو محبت سے سنبھالا۔ پھر اس کے ماں باپ کو ڈھونڈا ۔پھر اسے ماں باپ کے پاس چھوڑنے خود بھارت گئیں۔ وہ بھارتی سرکار کی مہمان تھیں! بھارتی حکومت نے انہیں ایک کروڑ بھارتی روپوں کی پیشکش کی۔ اماں بلقیس نے بے نیازی سے جواب دیا نہیں ! ہم حکومتوں سے کچھ نہیں لیتے آپ ان پیسوں کو بھارت میں لاوارث بچیوں کی خدمت اور فلاح پر لگا دیں۔
منیر نیازی کے ساتھ پہلی ملاقات میں سعدیہ نے ان سے پوچھا ''کیسے ہیں آپ؟‘‘منیر نیازی نے اس احوال پُرسی کا عجیب و غریب جواب دیا '' عمروں کے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہم سب ایک جیسے ہیں‘‘۔ ملک سے باہر ایک بار منیر نیازی نے اپنے میزبان سے پوچھا یہاں کوئی جھیل ہے ؟ انہوں نے پوچھا کیوں خیریت ہے! کیا آپ جھیل کی سیر کرنا چاہتے ہیں ؟ منیر صاحب نے کہا نہیں! جہاں جاتا ہوں وہاں کے شاعر ادیب اپنی کتابیں پیش کرتے ہیں۔ یہ ساری کتابیں جھیل میں پھینکنا چاہتا ہوں! ایک سوال کے جواب میں منیر نیازی نے کہا '' میں زندگی میں بہت بار عشق میں مبتلا ہوا۔ ضروری نہیں کہ عشق پوری شخصیت سے ہو۔ بہت پرانی بات ہے۔ ریل کے سفر میں کسی کو دیکھا۔ شاید پورا چہرا بھی دکھائی نہیں دیا۔ بس ایک تِل پر نگاہ پڑی! یہ منظر میرے اندر اُتر گیا۔بعض اوقات آپ لمحہ بھر کو ایک منظر دیکھتے ہیں مگر آپ کے اندر زمانوں تک اس منظر سے ملاقات ہوتی رہتی ہے! میں حُسن کے ایسے کئی مناظر کا گرفتار رہا ہوں! اسی عشق سے میری شاعری جنم لیتی ہے!‘‘ 
طارق عزیز کے حوالے سے سعدیہ قریشی نے بہت دردمند دل کے ساتھ جو کچھ لکھا ہے‘ وہ‘ میرے علاوہ ‘ بہت سے دلوں کی آواز ہے ''طارق عزیز اور نیلام گھر ایک دبستان میں ڈھل چکے تھے‘جو ذہن سازی کرتا ہے اور سکھاتا ہے۔طارق عزیز نام کے ساتھ سینئر اینکر لکھنے والو! خدا کے لیے اس کے قدو قامت کو پہچانو!اینکر والی مخلوق تو جدید دور کی پیداوار ہے جس کا ادب سے تعلق ہے نہ حرف کی حرمت کا پتہ نہ تلفظ سیدھا نہ اپنی کوئی سوچ!جبکہ اینکرز کے اس ہجوم کے مقابل طارق عزیز ایک ادارہ تھا! اردو تلفظ اور الفاظ کی نشست و برخاست کا استاد تھا!

Thursday, June 22, 2023

ڈوبتے جہاز کے امیر مسافر


جہاز ہچکولے کھا رہا ہے ! 
نیچے والی منزل میں غدر برپا ہے! قیامت کا سماں ہے! پیندے میں سوراخ ہو گیا ہے! چھوٹا سا ‘ بے بضاعت سا سوراخ! پانی ذرا ذرا سا آنا شروع ہوا ہے مگر آئے جا رہا ہے! سوراخ بند کرنے کی کسی کو فکر نہیں! سب شور مچا رہے ہیں! نوشتۂ دیوار نظر آ رہا ہے۔ کوئی بچوں کو بچانے کی فکر میں ہے۔کسی کو خواتین کا خیال ہے۔ جہاز کے ڈوبنے میں کتنا وقت لگے گا؟ کچھ معلوم نہیں! اگر معجزہ برپا ہو جائے تو کوئی مددگار جہاز غیب سے نمودار ہو! جان بچانے والی کشتیاں 
(lifeboats )
 نہ جانے میسر ہیں کہ نہیں! 
جہاز کی اوپر والی منزل میں اور ہی صورت حال ہے! یہ اپر کلاس کے مسافر ہیں۔ ان کے پاس بڑے بڑے کیبن ہیں! یعنی لگژری خوابگاہیں ! کھانے پینے کے بہترین انتظامات ہیں! ایک ایک مسافر کے لیے کئی کئی دست بستہ خدمت گار ہیں۔ آواز دیں تو تیرتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں !ان مسافروں کو تنکا بھی خود نہیں توڑنا پڑتا۔ انہیں ذرہ بھر بھی پروا نہیں کہ پیندے میں سوراخ ہو چکا ہے۔ ان کے خیال میں یہ مسئلہ نیچے والوں کا ہے! ان کے لیے تو لائف بوٹس بھی میسر ہیں!ہماری سینیٹ اور اسمبلی کے معزز و محترم نمائندے بھی اسی اوپر والی منزل پر تشریف فرما ہیں ! تازہ ترین خبر کی رُو سے چیئرمین سینیٹ کی سرکاری رہائشگاہ کی تزئین و آرائش کے لیے پہلے ایک لاکھ روپے کی رقم مخصوص تھی۔ اب اسے بڑھا کر پچاس لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کا اضافی الاؤنس چھ ہزار روپے سے بڑھا کر پچاس ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین کی صوابدیدی گرانٹ چھ لاکھ روپے سے بڑھا کر اٹھارہ لاکھ کر دی گئی ہے۔چیئرمین کے سرکاری دورے کے دوران ڈیلی الاؤنس کو 1750 روپے سے بڑھا کر دس ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔اسی طرح روزانہ کے قیام کے لیے چار ہزار آٹھ سو روپے کا خصوصی رینٹ بڑھا کر پندرہ ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ ایک گاڑی رکھنے کا مجاز تھا ‘ اب وہ اور ان کی فیملی تین‘ چار یا اس سے بھی زیادہ گاڑیاں رکھ سکیں گے۔سابق چیئرمینوں کو بھی تا حیات مکمل حفاظتی بندو بست فراہم کیا جائے گا یعنی کئی سنتری اور کئی اہلکار ! اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے! اس کے باوجود چیئرمین صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ ان اضافوں سے پاکستان پر اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔ اسے کہتے ہیں زخموں پر نمک چھڑکنا۔ فرنگی زبان میں کہا جاتا ہے: 
Adding insult to injury
۔صرف جماعت اسلامی کے سینیٹر نے اس بِل کی مخالفت کی۔پیپلز پارٹی کے سینیٹر کو اس پر اعتراض نہیں تھا کہ یہ اضافے نا روا ہیں۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ صرف چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئر مین کے لیے اضافے کیوں؟ سارے ارکان کے لیے کیوں نہیں ؟؟ ان ناروا اضافوں کے حق میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے ووٹ دیا! عوام کے یہ خادم جو دست و گریباں رہتے ہیں ‘ مراعات کی خاطر ہمیشہ اکٹھے ہو جاتے ہیں! 
یہ ملک ایک بحری جہاز ہے۔ اوپر والے حصے میں ملک کی کل آبادی کا پانچ فیصد حصہ‘ یا شاید پانچ فیصد سے بھی کم ‘ سفر کر رہا ہے! اس میں سیاستدان ہیں‘ فیوڈل ہیں‘ بلوچستان کے سردار ہیں۔سوِل اور خاکی بیورو کریسی کا اوپر کا حصہ ہے۔ کچھ پراپرٹی ٹائیکون ہیں! کچھ صنعتکار اور بزنس مین ہیں! اور دیگر اُمرا! انہیں آبادی کے اُس پچانوے فیصد حصے کی اتنی بھی پروا نہیں جتنی قدموں کے نیچے آنے والی چیونٹی کی ہوتی ہے!! ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ ان کی زندگیاں آسودہ تر سے آسودہ ترین ہو جائیں! ورنہ ان حالات میں جب آئی ایم ایف ہماری پشت پر لات تک نہیں مار رہا‘ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی مراعات یوں نہ بڑھائی جاتیں!! اس پانچ فیصد آبادی کی الگ دنیا ہے۔ ان کی خوراک‘ ان کا پانی‘ ان کی سیر و تفریح‘ ان کی تعلیم غرض ان کی زندگی کا ہر شعبہ پچا نوے فیصد عوام سے الگ اور دور ‘ بہت دور ہے! آپ غور کیجیے۔ جس وقت عوام کشتی کی ہلاکتوں کا ماتم کر رہے تھے‘ عوامی '' نمائندے‘‘دیدہ دلیری کے ساتھ اور پوری بیگانگی‘ عدم دلچسپی‘ بے حسی‘ بے توجّہی اور لاتعلقی کے ساتھ اپنی مراعات بڑھانے کی فکر میں تھے۔ اس پانچ فیصد ایلیٹ اور امیر طبقے کاکوئی اصول ہے نہ نظریہ ! یہ مرغانِ باد نما کا ایک طائفہ ہے جو اپنا رُخ ‘ مفادات دیکھ کر بدلتا رہتا ہے۔ 
رہی پچانوے فیصد آبادی ! تو وہ جہاز کے نیچے والے حصے میں مقید ہے! یہ ایک اور ہی دنیا ہے۔ ان لوگوں کا پانی‘ غذا‘ تفریح‘ تعلیم‘ صحت ‘ اگر ہو تب بھی ‘ پانچ فیصد والوں سے بالکل مختلف ہے یہاں تک کہ زمین و آسمان کا فرق ہے! یہ عدالتوں میں جائیں تو فیصلوں کے انتظار میں ان کی زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں! بازاروں میں جائیں تو حسرتوں کے سکے دے کر محرومیاں خریدتے ہیں! ایک بہتر زندگی کی تلاش میں بیرونِ ملک جائیں تو سمندروں میں غرق ہو جاتے ہیں!اس نوے فیصد آبادی کا ملک کے وسائل پر کوئی حق نہیں! اسی لیے یہ سفارت خانوں کے سامنے قطاریں باندھ کر کھڑے رہتے ہیں۔ جیسے ہی ویزہ لگے‘ ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔ اگر ان کے وسائل ہیں اور اگر ان کے حقوق ہیں تو وہ دوسرے ملکوں میں جا کر ہی ہاتھ آتے ہیں! یہ ملک اس پچانوے فیصد سسکتی‘ بلکتی ‘ روتی‘ سینہ کوبی کرتی آبادی کا نہیں ! یہ ملک ‘ اس کے وسائل‘ اس کی حکومتیں‘ مراعات‘ حقوق‘ سب کچھ‘ بلاولوں‘ مریم نوازوں‘ حمزہ شہبازوں‘مونس الہٰیوں‘ اسعد محمودوں‘ آمروں کی آل اولاد‘ اور آمروں کے ساتھیوں کی آل اولاد کے لیے ہیں ! یہ پچانوے فیصد آبادی کبھی سیلابوں میں ڈوب کر مرتی ہے ‘ کبھی بسوں اور ٹرکوں کے حادثوں میں ‘ کبھی بیرون ملک‘ بے یار و مددگار کشتیوں میں اور کبھی سرکاری ہسپتالوں کے بے رحم برآمدوں میں ایڑیاں رگڑ کر ہلاک ہوتی ہے جہاں ڈاکٹر موجود ہوں تو دوا نہیں ملتی اور دوا موجود ہو تو ڈاکٹر نہیں ہوتے ! یہ پچانوے فیصد آبادی نلکوں‘ جوہڑوں اور ندی نالوں کا پانی پیتی ہے۔ ان کے بیماروں کے علاج مزاروں پر ہوتے ہیں! ان کے بچے ورکشاپوں ‘ ریستورانوں ‘ پانچ فیصد کے گھروں‘ اور کھیتوں کھلیانوں میں کام کرتے ہیں۔ ان کے ناشتوں میں انڈا ہوتا ہے نہ مار ملیڈ نہ پھلوں کا رس! ان کے بچوں کو سکول لے جانے کے لیے ڈرائیور ہوتے ہیں نہ گاڑیاں! یہ لندن‘ نیویارک اور ٹوکیو تو دور کی بات ہے‘ کراچی‘ لاہور اور اسلام آباد کی جھلک بھی مشکل سے دیکھ پاتے ہیں!ان کے نوجوانوں کو پولیس والے کسی شک میں پکڑ کر تھانے لے جائیں تو چھڑا نے والا کوئی نہیں ہوتا۔ پھر لاش ہی واپس ملتی ہے! ان کے بیٹے نوکری کی تلاش میں اسلام آباد آئیں تو کسی بااثر خاتون کا بچہ انہیں کچل دیتا ہے پھر انصاف غائب ہو جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی فرد ‘ وردی پہنے‘ چوک پر کھڑا ہو کر ڈیوٹی دے رہا ہو تو ایک سردار کی گاڑی اسے دن دہاڑے کچل دیتی ہے۔ پھر وہ سردار دو انگلیوں سے فتح کا نشان بنا کر حوالات سے باہر نکل آتا ہے اور انصاف قتل کو یوں بھول جاتا ہے جیسے قتل ہوا ہی نہیں تھا ! 
اس کے باوجود‘ رحم اُن مسافروں پر آرہا ہے جو اوپر کی منزل میں ہیں اور مال مست ہیں!اس لیے کہ وہ پیندے کے سوراخ کو صرف نیچے والوں کا مسئلہ سمجھ رہے ہیں۔پانچ فیصد مراعات یافتہ آبادی کو اندازہ ہی نہیں کہ عوام کی فلاکت اور خواری و ناداری جب ایک خاص حد سے آگے بڑھی تو سب کچھ بہا لے جائے گی !

Tuesday, June 20, 2023

جب اعلیٰ تعلیم بھی کچھ نہ بگاڑ سکے


کرشن کمار پروفیسر ہے۔ سائنس کی ایک برانچ میں اس نے یورپ سے پی ایچ ڈی کی ہے۔ ایک بڑی یونیورسٹی میں گریجوایشن اور ایم اے کی کلاسوں کو پڑھاتا ہے۔ اس کی نگرانی میں کئی طلبہ و طالبات ایم فل اور پی ایچ ڈی کر چکے ہیں! بین الاقوامی شہرت رکھنے والے معتبر جریدوں میں اس کے تحقیقی مضامین شائع ہوتے ہیں! اس نے اپنے گھر کے ایک گوشے میں پتھر کے بنے ہوئے بت رکھے ہوئے ہیں۔ صبح یونیورسٹی جانے سے پہلے وہ ان کی پو جا کرتا ہے۔ وہ گائے کو گؤ ماتا کہتا ہے۔ گائے کا پیشاب اس کی روزانہ خوراک کا حصہ ہے!
نجم خان ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد ہے۔ وہ ایک بینک میں برانچ منیجر ہے۔ اس کی اپنے پیر صاحب سے اندھی عقیدت ہے۔ یہ پیر صاحب ''لوٹا ‘‘ پیر صاحب ہیں۔ لوٹا گھماتے ہیں اور چوری کا سراغ لگا لیتے ہیں! بدقسمتی سے نجم کے گھر کچھ عرصہ پہلے چوری کی واردات ہوئی۔اس کے احباب نے اسے بہت سمجھایا کہ پولیس سٹیشن جا کر رپورٹ درج کرائے مگر اس کا کہنا تھا کہ پیر صاحب لوٹا گھمائیں گے تو چور پکڑا جائے گا۔ معلوم نہیں چور پکڑا گیا یا نہیں‘ مگر اس کی عقیدت میں کوئی فرق نہیں آیا۔
آپ کا کیا خیال ہے یہ دو افراد‘ اور انہی جیسے اور لوگ‘ نفرت کے لائق ہیں یا رحم کے حقدار ؟ اعلیٰ ترین تعلیم بھی ان کی اندھی عقیدت کے قلعے میں شگاف نہیں ڈال سکی! ان مثالوں سے ‘ جو حقیقی زندگی سے لی گئی ہیں‘ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ضروری نہیں صرف نا خواندگی ضعیف الاعتقادی کا سبب ہو! خواندگی یا نا خواندگی کا‘ تھوڑی تعلیم یا اعلیٰ تعلیم کا ‘ عام طور پر‘ ضعیف الاعتقادی سے کوئی تعلق نہیں! ضعیف الاعتقادی کے ڈانڈے جہالت سے ملتے ہیں! اور جہالت اعلیٰ تعلیم کے باوجود بھی قائم رہ سکتی ہے! اگر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص گائے کا قارورہ پیتا ہے یا چوری کا سراغ لوٹا گھمانے سے لگواتا ہے تو وہ اعلیٰ تعلیم کے باوجود جاہل ہے۔ اس سے نفرت نہیں کرنی چاہیے! اسے بیمار سمجھ کر اس کا علاج کرنا یا کرانا چاہیے! اسے قابلِ رحم سمجھنا چاہیے!
تو پھر اس میں تعجب ہی کیا ہے اگر کوئی کیمبرج سے پڑھا ہے یا ہاورڈ سے ‘ اور اس کے باوجود جہالت کی گہرائی میں گرا ہوا ہے۔ ایسے فرد کے ذہن کو کنٹرول کرنا چنداں مشکل نہیں! ایک بار اس کے ذہن پر قبضہ ہو جائے تو پھر وہ کوئی سوال‘ کوئی اعتراض ‘ نہیں کرے گا! وہ مکمل طور پر عامل کا ذہنی غلام ہو جائے گا! ہاورڈ سے پڑھا ہے یا کیمبرج سے‘ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اسے کہا جائے گا یہاں دہلیز پر سجدہ کرو ‘ وہ وہیں ماتھا ٹیک دے گا ! اسے کہا جائے گا تم نے کسی میت کی موجودگی میں نہیں جانا‘ وہ نہیں جائے گا یہاں تک کہ وہ عزیز ترین فرد کے جنازے میں شرکت نہیں کرے گا۔ اسے بتایا جائے گا کہ تم نے کس وقت باہر نکلنا ہے اور کس وقت واپس آنا ہے تو وہ ان اوقات کی پابندی کرے گا۔ اسے کہا جائے گا کہ ملازم اسے رکھو جس کا نام 'بے‘ سے یا 'ر‘ے سے یا 'سین‘ سے شروع ہو تو وہ ایسا ہی کرے گا خواہ وہ ملازم بالکل ناکارہ ہی کیوں نہ ہو! وہ اس حد تک عامل کے احکام کا پابند ہو گا کہ اگر اسے بتایا جائے گا کہ ملازم چوری کرنے کا عادی ہے یا بد دیانت ہے تو وہ پھر بھی اسے ہٹانے کی جرأت نہیں کرے گا اس لیے کہ عامل کے حکم سے سرتابی کی اس میں جرأت ہی نہیں ہو گی! ذہنی غلامی اس حد تک جا سکتی ہے کہ اگر عامل کہے کہ اپنے بچوں سے ‘ یا بھائیوں سے یا فلاں عزیز سے نہیں ملنا تو وہ ایسا ہی کرے گا! عامل اسے جو کہانی بھی سنائے گا وہ یقین کر لے گا۔ اگر اسے بتایا جائے گا کہ عامل کے قبضے میں جنات ہیں یا شر‘ اشرار ہیں یا پُر اسرار مخلوقات سے اس کا رابطہ ہے تو وہ آنکھیں بند کر کے یقین کر لے گا!ایسے بیمار شخص کو ‘ کسی حال میں بھی کوئی ایسا منصب نہیں سونپنا چاہیے جس کا تعلق مفادِ عامہ سے ہو! کیونکہ وہ کسی عاقل کے مشورے پر کبھی بھی نہیں عمل کرے گا اور وہی کرے گا جو عامل کہے گا۔ یوں نتیجہ صرف فساد اور عوام کے نقصان کی شکل میں ظاہر ہو گا!
تاریخ نے کئی ضعیف الاعتقاد حکمران دیکھے ہیں! مگر وہ فیصلے اپنی عقل یا اہل ِدانش کے مشورے سے کرتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ تخت نشینی کے لیے یا نئے محل میں منتقل ہونے کے لیے وہ نجومیوں سے یا جوتشیوں سے مبارک ساعت پوچھتے تھے مگر کاروبارِ سلطنت میں وہ ریشنل اور منطقی ہوتے تھے! ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی عامل یا جوتشی یا نجومی نے بادشاہ سے امیدواروں کی تصویریں منگوائی ہوں اور پھر اسی نے یہ فیصلہ کیا ہو کہ فلاں اس عہدے پر لگایا جائے اور فلاں کو یہ منصب دیا جائے!
اسلام کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دی۔ اسلام کے لیے یہ تصور ہی ناقابلِ برداشت ہے کہ ایک انسان‘ اپنے جیسے انسان کے سامنے حاجتمند ہو کر کھڑا ہو یا اپنے آپ کو اس کے احکام کا پابند بنا دے۔ کوئی سبز کرتا پہنے ہو‘ یا چغہ اور عمامہ پہنے ہو‘ یا تھری پیس سوٹ زیب تن کر کے گھومنے والی کرسی پر براجمان ہو یا اپنے زعم میں ‘ غیب کی خبریں بتانے والا ہو ‘ کسی صورت میں بھی اس امر کا مستحق نہیں کہ اس سے خوف زدہ ہوا جائے۔ سچ یہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں نفع ہے نہ نقصان ! آنکھیں بند کر کے اس کی پیروی کرنا انسانی شرف و نجابت کی توہین ہے!
وہ لوگ جو ضعیف الاعتقادی سے بچے ہوئے ہیں اور اپنے جیسے کسی انسان کو اپنی قسمت کا یا اپنے مستقبل کا مالک نہیں سمجھتے‘ خوش بخت ہیں! انہیں پروردگار کا شکر ادا کرنا چاہیے ورنہ وہ بھی کسی چو کھٹ پر سجدہ ریز ہوتے یا کسی اپنے جیسے انسان کو مافوق الفطرت سمجھ کر اس کے اشاروں پر ناچ رہے ہوتے! ذلت ان کے مقدر میں ہوتی اور دنیا اور آخرت دونوں میں رسوا ہوتے!
ایک ہی دن پیدا ہونے والے افراد کی عادات‘ مزاج‘ افتاد طبع اور رجحا نات میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ کوئی فیاض تو کوئی بخیل! کوئی بہادر تو کوئی بزدل! ان کی زندگیاں بھی مختلف انداز کی ہوتی ہیں۔ کوئی کامیابیوں سے ہمکنار ہوتا ہے تو کوئی پے در پے ناکامیوں کا شکار ہوتا ہے۔مگر ہاروسکوپ ہے کہ کروڑوں لوگوں کو اپنے جال میں الجھائے ہوئے ہے۔ سب سے پہلا سوال ہی یہ ہوتا ہے کہ آپ کا سٹار کون سا ہے۔لطیفہ نما واقعہ یہ ہوا کہ کئی سال پہلے ایک دوست کے ہاں بیٹھا تھا۔ اس کی بیٹی بھی‘ جو اُس وقت سکول میں پڑھتی تھی‘ ہمارے ساتھ بیٹھی تھی۔ میرا دوست کسی کام سے اندر گیا۔ بیٹی نے مجھ سے پوچھا‘ انکل آپ کا سٹار کون سا ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ مجھے معلوم نہیں! پھر میں اسے سٹارز کی حقیقت بتا رہا تھا کہ اتنے میں میرا دوست آگیا۔اور کہنے لگا‘ تم بچی کو گمراہ کر رہے ہو! اس پر ایک اور لطیفہ یاد آرہا ہے۔ ایک کاکروچ کھانا کھا رہا تھا۔اس کا بیٹا کہنے لگا‘ ابو یہ نالی جو ساتھ والی گلی میں ہے‘ اس کا پانی صاف ہے۔ اس پر اسے بڑے کاکروچ نے ڈانٹا کہ میرے کھانا کھانے کے دوران گندی باتیں نہ کیا کرو!

Monday, June 19, 2023

…سرائے عالمگیر سے دینہ تک



صبح چھ بجے سیالکوٹ سے چلے تو حد درجہ اطمینان تھا کہ صحیح وقت پرنکلے ہیں‘ شاہراہوں پر ٹریفک کم ہے۔ اس لیے جلداسلام آباد پہنچ جائیں گے۔ آٹھ یا شاید ساڑھے آٹھ تھے جب ہم سرائے عالمگیر پہنچے۔ارادہ تھا کہ جہلم کے چائے خانہ میں ناشتہ کریں گے! 

مگر آگے راستہ مسدود تھا۔ سینکڑوں ہزاروں کاریں‘ بسیں‘ ٹرک‘ ویگنیں‘ موٹر سائیکل کھڑے تھے۔معلوم ہوا کہ انتظامیہ نے کھدائیاں کر کے‘ آگے جانا ناممکن بنایا ہوا ہے تا کہ تحریک لبیک والوں کاجلوس جہلم کا دریا عبور نہ کر سکے اور اسلام آباد نہ پہنچ سکے! تحریک لبیک والے تو رُک گئے مگر ساتھ ہی دوسرے مسافر بھی ! گندم کے ساتھ گھُن بھی پِس رہا تھا۔ ان مسافروں کا کیا بنے گا؟ اس کی ذمہ دار انتظامیہ ( حکومت) نہیں تھی۔ حالانکہ حکومت کا اولین فریضہ عوام کے لیے آسانیوں کی فراہمی ہے۔ اس محصور ہجوم میں شیر خوار بچے تھے۔ بوڑھے تھے۔ مریض تھے۔عورتیں تھیں! ان کے کھانے پینے کا کیا انتظام ہو گا؟ ادویات کا کیا انتظام ہو گا؟ بچوں کا دودھ کون لائے گا؟ بیت الخلا کہاں سے آئیں گے؟ جوعورتیں ماں بننے والی تھیں اور ہسپتال جا رہی تھیں ان کا کیا بنے گا؟ حکومت کو ان میں سے کسی بات کی فکر نہیں تھی۔ اس کانصب العین ایک ہی تھا۔ صرف ون پوائنٹ ایجنڈا! کہ احتجاجی قافلہ آگے نہ بڑھ سکے۔ خلقت مرتی ہے تو مرے!

ہم پریشان پھر رہے تھے۔ وہ جو اطمینان تھا کہ سیالکوٹ سے مناسب وقت پر نکلے یہاں تک کہ آٹھ بجے سرائے عالمگیر پہنچ گئے‘وہ اطمینان کافور ہو چکا تھا۔پنجاب پولیس کے تین جوان نظر آئے۔ انہیں بلایا۔ ہماری گاڑی کی طرف خراماں خراماں‘ مٹکتے‘ ٹہلتے ہوئے آئے۔پوچھا تو ہنس کر کہنے لگے: جہاں سے آئے ہیں وہیں واپس چلے جائیے! میں نے پوچھا کہ تم کس مرض کی دوا ہو۔ اس پران میں سے ایک نے انتہائی اذیت رساں ( sadist )لہجے میں کہا کہ '' ہمارا کام عوام کو تکلیف پہنچانا ہے‘‘۔ خیال آیا کہ اس کی تصویر کھینچ لوں! پھر سوچا تصویر کھینچنے سے کیا ہو گا؟ اسے تنبیہ کریں گے یا کوئی چھوٹی موٹی سزا دے دیں گے! مگر جن سینئرز نے ان سپاہیوں کو یہ تربیت دی‘ انہیں کیا سزاملے گی اور کون سزا دے گا ؟
موٹر وے پولیس کی ایک گاڑی دکھائی دی! اس میں دو وردی پوش بیٹھے تھے۔ گاڑی کو روکا۔ موٹر وے پولیس کا ایک افسر گاڑی سے اتر کر ہمارے پاس آیا۔ وہ ایک خوش اخلاق شخص تھا۔ اس سے پوچھا کہ ہم کیا کریں؟ اس نے دو متبادل راستے بتائے۔ پہلا یہ کہ ہم واپس کھاریاں جائیں۔ وہاں سے ڈِنگہ کا رخ کریں! اس کے بعد موٹر وے کی طرف بڑھیں! مگر اس کا مشورہ تھا کہ دوسرا راستہ اختیار کریں! چنانچہ اس کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق ہم سرائے عالمگیر سے پلٹ کر کھاریاں آئے۔ یہاں ایک چوک تھا جس کے دو نام تھے۔مدثر چوک اور بسم اللہ چوک!یہاں سے ہم بائیں طرف مڑے اورآزاد کشمیر کا رُخ کیا۔ ایک ڈھابے پر رکے اور ڈھابے والے سے پوچھا کہ کیا چائے اور پراٹھا مل سکتا ہے؟ وہ شاید قرون اولیٰ سے کوئی بچا کھچا مسلمان تھا‘ کہنے لگا: یہاں مکھیاں بہت ہیں‘ ذرا آگے آپ کو بہتر ریستوران مل جائے گا۔ وہ جو بہتر ریستوران تھا اس میں دو بچے کام کر رہے تھے۔ایک پندرہ سولہ سال کا دوسرا دس بارہ سال کا۔ ہم نے ہر بے خبر پاکستانی کی طرح پوچھا کہ یہ بچے سکول کیوں نہیں جا رہے‘ یہ جانے یا سوچے بغیر کہ کن حالات نے بچوں کو یہاں آنے اور کام کرنے پر مجبور کیا!

پھر ہم بھمبر پہنچے۔ مغل تاریخ‘ جو ذہن میں تھی‘ آنکھوں کے سامنے پھرنے لگی! تو یہ تھا بھمبر! مغل بادشاہوں کے زمانے میں جسے بھاگ لگے ہوئے تھے۔اس قصبے کو بابِ کشمیر کہا جاتا تھا یعنی کشمیر کا دروازہ! مغل گرمیاں گزارنے کشمیر جاتے۔ دہلی ( یاآگرہ) سے لاہور اور لاہور سے بھمبر! بھمبر پہنچ کر گھوڑوں‘ ہاتھیوں‘ اونٹوں اور بیل گاڑیوں کا کردار ختم ہو جاتا تھا۔ اس سے آگے قُلی سامان اٹھاتے تھے۔ ڈاکٹر برنیئر نے‘ جو شاہ جہاں اور اورنگ زیب کے ساتھ رہا‘ لکھا ہے کہ چھ ہزار قلی صرف بادشاہ کا سازوسامان اٹھانے اور لیجانے پر مامور تھے۔ بھمبر کو ایک بادشاہ کی مرگ دیکھنے کا بھی موقع ملا۔جہانگیر جس کی محبت شراب‘ افیون‘ گوشت اور نورجہاں کے گرد طواف کرتی تھی‘ بیمار پڑا اور بیماری کو کم کرنے کے لیے کشمیر آیا۔ مگر جب مقررہ وقت آجائے تو کشمیر کیا‘ آسمان کو چھونے والے پہاڑ بھی کام نہیں آتے۔طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی۔ اسے دمہ کا مرض تھا۔ کشمیرکی آب و ہوا کا دمہ پر کچھ اثر نہ ہوا۔اس نے افیون تک چھوڑ دی جس سے اس کی رفاقت چالیس سالہ تھی۔ واپس لاہور کا رُخ کیا۔بھمبر سے ذرا پہلے اسے شکار کی شدید خواہش ہوئی۔ وہ ایک پہاڑ کی ڈھلان پر بیٹھا۔ ڈھول بجانے والے جانور ہانک کر لائے۔ اس نے ایک ہرن پر فائر کیا۔ ہرن زخمی ہو کر بھاگا۔ایک پیادہ سپاہی ہرن کے پیچھے بھاگا اور جہانگیر کی آنکھوں کے سامنے پہاڑی سے پھسل کر نیچے کھائی میں جا گرا۔جہانگیر نے سپاہی کی موت میں اپنی موت دیکھ لی۔ اس واقعہ کے بعد اسے چین نہ آیا۔انگور کی شراب کے چند گھونٹ پینا بھی عذاب بن گیا۔بھمبر کے نواح میں پہنچا تو اٹھاون سالہ بادشاہ‘ بائیس برس حکمرانی کرنے کے بعد مرگیا۔بھمبر ہی میں اس کا جنازہ پڑھا گیا اور یہیں سے اس کی میت لاہور لے جائی گئی۔
برنیئر نے بھمبر کے بارے میں خاصی تفصیل سے لکھا ہے۔یہیں سے بادشاہ اپنے خانوادے کی خواتین اور چیدہ چیدہ 
امرا کے ساتھ کشمیر کو جاتا تھا۔ بھمبر سے کشمیر تک پانچ دن کا سفر تھا اور مشکل سفر تھا۔ توپخانے کا انچارج اور امرا کی کثیر تعداد‘ اپنے اپنے لشکریوں کے ساتھ بھمبر ہی میں ٹھہر جاتی تھی یہاں تک کہ چار پانچ ماہ کے بعد بادشاہ کشمیر سے واپس بھمبر پہنچ جاتا۔یہ سب لوگ بھمبر اور بھمبر کی نواحی بستیوں میں پڑاؤ ڈال لیتے۔ آگے جانے والوں کا سامان اٹھانے کے لیے تیس ہزار قلی بھرتی کیے جاتے۔ برنیئر خود بھی اورنگ زیب کے اُس مخصوص قافلے میں شامل تھا جو بھمبر سے آگے کشمیر جا رہا تھا۔
بھمبر سے ہم بائیں طرف‘ میر پور جانے والی شاہراہ پر مڑے۔ یہ سارا وقت میں یہی سوچتا رہا کہ جب بادشاہ کشمیر کی طرف جارہے ہوتے تو ان بستیوں پر کیا قیامت گزر تی ہوگی۔ فصلوں کا کیا حال ہوتا ہو گا۔اشیائے خورو نوش کچھ خریدی جاتی ہوں گی کچھ خراج کے طور پر چھین لی جاتی ہوں گی۔
میر پور سے ہم منگلا ہوتے ہوئے دینہ پہنچے اور جی ٹی روڈ پر آگئے۔ اندازہ لگائیے۔ کھاریاں سے بھمبر‘ میرپور اور منگلا کے راستے دینہ پہنچنے میں ہمیں تین گھنٹے سے زائدوقت لگا۔ اگر راستہ مسدود نہ ہوتا تو سرائے عالمگیر سے دینہ پہنچنے تک زیادہ سے زیادہ بیس پچیس منٹ لگ جاتے۔ ہم خوش قسمت تھے کہ ہمارے پاس سواری تھی اور تین گھنٹے ہی سہی‘ دینہ پہنچ تو گئے۔ اُن ہزاروں لوگوں کا کیا حال ہوا ہو گا جو بسوں‘ ٹرکوں اور ویگنوں میں کئی دن رات‘ جہلم کے اُس پار محصور رہے۔ یہاں یہ بتانا لازم ہے کہ تحریک لبیک والوں کا جلوس‘ قطع نظر اس کے کہ ان کا مؤقف درست ہے یا غلط‘ پُرامن تھا اور وہ مسافروں کو گزرنے دے رہے تھے۔ راستے کی بندش کا سارا گناہ انتظامیہ کے سر ہے! اور ہاں! بہت سے قارئین کو شاید معلوم نہ ہو کہ مشہور بھارتی شاعر اور دانشور گلزار کا تعلق دینہ سے ہے!!

روزنامہ دنیا

Thursday, June 15, 2023

اوقاتِ کار



آپ کا کیا خیال ہے کون سا طبقہ سب سے زیادہ محب وطن ہے؟
عساکر؟ جو وطن کی خاطر شہید ہو تے ہیں؟ پولیس؟ جو ہر وقت جان ہتھیلی پر رکھے ہےسیاستدان؟ جو پھانسیاں پاتے ہیں۔ گولیاںکھاتے ہیں۔ جیلوں میں جاتے ہیں۔ جلا وطن کر دیے جاتے ہیںکسان؟ جو خون پسینہ ایک کر کے غلہ اُگاتے ہیں۔ مزدور؟ جو فیکٹریوںمیں لوہے کے ساتھ بھِڑتے ہیںاساتذہ؟ جونئی پود کی نگہداشت کرتے ہیں۔
نہیںجناب نہیںسب سے زیادہ محب وطن طبقہ تاجروں کا ہے۔ تاجر سراپا حب الوطنی ہیںاب اوقاتِ کار کا مسئلہ ہی دیکھ لیجیے۔بیچاری تاجر برادری ہر حکومت کو سمجھاتی رہی ہے کہ ترقی کا راز اس میں ہے کہ بازار دن کے بارہ ایک بجے کھلیں اور رات بارہبجے تک کھلے رہیں۔ یہی حب الوطنی کی معراج ہے۔ مگر افسوسصد افسوسحکومتیں یہ بات سمجھتیں نہیںان کی سوئی اسیبات پر اٹکی ہوئی ہے کہ توانائی کا زیاں ہوتا ہے اور یہ کہ سارے ترقی یافتہ ملکوں میں بازار صبح سویرے کھلتے ہیں اور شام پانچچھ بجے بند ہو جاتے ہیںہر حکومت نے کوشش کی مگر تاجروں نے ہر بار حب الوطنی کے زور پر یہ کوشش ناکام بنا دی۔ موجودہحکومت ایک بار پھر کوشش کررہی ہے۔ الحمدللہتاجر برادری اس بار بھی حکومتی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہے۔ تاجربرادری کا مؤقف یہ ہے کہ رات کو جاگنا‘ شام کا کھانا رات بارہ ایک بجے تناول کرنا‘ دن کو سونا‘ یہ سب اچھی صحت کے لیے لازمہےوہ جو بچوں کو پڑھایا جاتا تھا کہ
منہ اندھیرے جاگ اٹھنا عاقلوں کا کام ہے!
دن چڑھے تک سوئے رہنا غافلوں کا کام ہے
وہ اب پرانا ہو چکا ہے۔ ہمارے تاجروں نے اسے یوں کر دیا ہے:
منہ اندھیرے جاگ اٹھنا غافلوں کا کام ہے
دن چڑھے تک سوئے رہنا عاقلوں کا کام ہے
کیا حکومت‘ کیا عوام‘ سب عقل سے عاری ہیںکسی کو بھی وطن سے محبت نہیںاگر تاجروں کا مؤقف یہ ہے کہ دن کے بارہ بجےسے لے کر رات کے بارہ بجے تک کے اوقات بہترین اوقاتِ کار ہیں تو حکومت کو اور قوم کو یہ مؤقف نہ صرف تسلیم کر لینا چاہیے بلکہاس کی پیروی بھی کر نی چاہیے۔ ظاہر ہے تاجر ایک سیانا طبقہ ہیں۔ ایک تاجر کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتا۔ تاجر کا سارا کام‘ سارا فلسفۂ زندگی صرف ایک شے کے گرد گھومتا ہے اور وہ شے ہے نفعتو پھر یقینا ان اوقاتِ کار میں بھی نفع ہےبجائے اس کےکہ تاجروں کو مجبور کیا جائے کہ وہ اوقات کار بدلیں‘ ہم ان کی پیروی کیوں نہ کریں؟ پوری قوم کو یہی اوقات کار اپنانے چاہئیںسبسے پہلے تعلیمی اداروں کے اوقات دن بارہ بجے سے رات بارہ بجے تک کر دیجیے۔ تاجروں کا اس میں اضافی فائدہ یہ ہو گا کہ بازارجاتے ہوئے‘ دن کے بارہ بجے‘ بچوں کو سکول چھوڑتے جائیں گے اور رات بارہ بجے واپس لیتے آئیں گے۔ یوں ڈبل اخراجات سے بچجائیں گے۔ کچہریوں اور تھانوں کا بھی یہی وقت ہو۔ بینک بھی یہی اوقات اپنائیں۔ تمام سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر کے بھی یہیاوقات کار ہوں۔ تمام عدالتیں انہی اوقات میں کام کریں۔ کسان کھیتوں میں اور مزدور کارخانوں میں رات کو کام کریںبسوں‘ ٹرینوںاور ہوائی جہازوں کے بھی یہی اوقات ہوں۔ غیر ملکی معززین کو بتا دیا جائے کہ ہمارے صدر یا وزیراعظم سے ملاقات کرنی ہو تو دنکے بارہ ایک سے پہلے یہ ممکن نہیں ہوگا۔ پوری قوم کو رات جاگنے کے اور دن کو سونے کے طبی اور روحانی فوائد بتائے جائیں۔عشائیے کا سرکاری وقت رات بارہ بجے کے بعد کا مقرر کیا جائے۔ اسی طرح ناشتے کا سرکاری وقت دن کے پونے بارہ بجے ہو۔ آپدیکھیے گا کہ تاجروں کے اوقات کار کی پیروی کرنے سے ملک میں ایک ہمہ جہتی قسم کا انقلاب آجائے گا۔ عوام کی صحت بہتر ہوجائے گی۔ دن کو سونے اور رات کو جاگنے کی وجہ سے چہرے نورانی ہو جائیں گے۔ ملک ترقی کرے گا بلکہ سیدھا‘ تیر کی طرح ‘ اوپرجائے گا۔ دوسرے ممالک ہماری معجزانہ ترقی دیکھ کر‘ ہمارے اوقات کار اپنائیں گے اور یوں ہمارے جینیس تاجر پوری دنیا میں ایکآئیڈیل کے طور پر دیکھے جائیں گے۔
تاجروں کی حب الوطنی کا یہ صرف ایک ثبوت ہے ورنہ ان کے بہت سے اقدامات اسی جذبے سے معمور ہیں۔ ملک بھر میں نارواتجاوزات کی اکثریت تاجر حضرات کی حب الوطنی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ برآمدے‘ فٹ پاتھ‘ راستے‘ گلیاں‘ ہر جگہ ان کے قبضےہیںشے بیچتے وقت شے کا نقص نہ بتانا بھی عام ہے۔ اس بات کا ماتم تو بارہا ہو چکا ہے کہ غیرمسلم ملکوں میں رمضان اور عید پراشیا کے نرخ کم کر دیے جاتے ہیں مگر ہمارے مسلمان تاجر‘ ملبوسات‘ جوتوں اور اشیائے خورو نوش کی قیمتیں رمضان آتے ہی کئیگنا بڑھا دیتے ہیںیقینا اس میں بھی ان کی حب الوطنی پوشیدہ ہو گی۔ ریفنڈ پالیسی کا اس ملک میں کوئی وجود نہیں۔ پوری مہذبدنیا میں صارفین کو خریدی ہوئی شے واپس کرنے کا حق حاصل ہے مگر یہاں نہیںحب الوطنی کے علاوہ ہمارے تاجر نیکوکاری میںبھی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ خوراک ہے یا ادویات‘ دودھ ہے یا آٹا‘ شہد ہے یا تیل‘ ہر شے میں ہولناک ملاوٹ ہے۔ ٹیکس چوری عام ہے۔مذہب کے نام پر استحصال کیا جاتا ہے۔ دکانوں اور کمپنیوں کے نام مذہبی اصطلاحات اور شعائر پر رکھے جاتے ہیں تا کہ خریدارکشش محسوس کریںانصاف کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ ایک تاجر جرم کرے تو اسے بچانے کے لیے سب اکٹھے ہو جاتے ہیں۔پوری پوری مارکیٹوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کر دی جاتی ہے۔ یوں قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس ہو کر رہ جاتے ہیں۔ چھوٹےقصبوں کی تو بات ہی کیا ہے‘ بڑے بڑ ے شہروں میں بھی خریدار کو رسید ( واؤچرنہیں مہیا کی جاتیہاں کوئی اصرار کرے تو اوربات ہے۔
مغربی ملکوں میں تاجر حکومت کے قوانین کے سامنے سر جھکا دیتے ہیںبھلا یہ بھی کوئی حب الوطنی ہے۔ حب الوطنی کسی نےسیکھنی ہے تو ہمارے تاجروں سے سیکھےاب بھی جب حکومت نے بازار جلد بند کرنے کی بات کی ہے تو سب تاجروں نے‘ ملک بھرمیں‘ بیک آواز‘ ایک ہی نعرہ لگایا ''نہیںنہیں!‘‘ اور حکومت کانپنے لگیترقی یافتہ ملکوں میں گرمیوں کے موسم میں غروبِ آفتاب نوبجے ہوتا ہےبازار ساڑھے پانچ یا چھ بجے بند ہوتے ہیں۔ اچھی خاصی دھوپ ہوتی ہے۔ سات بجے یہ لوگ‘ ڈنر کر لیتے ہیںاُس وقتبھی دھوپ دکھائی دے رہی ہوتی ہے۔ یہ بے وقوف اس کے بعد سو جاتے ہیں۔ صبح طلوع آفتاب سے پہلے اٹھتے ہیں اور ٹھیک وقت پرکام پر پہنچ جاتے ہیںیہاں حساب بالکل الٹ ہے۔ یقین کیجیے‘ ہمارے ایک دوست کے ہاں رات گیارہ بجے یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کیا پکایاجائے۔ کھانا ایک اور دو بجے کے درمیان کھایا جاتا ہے۔ تاجروں کی ایک دلیل یہ ہے کہ گرمیوں کے موسم میں گاہک شام کے بعد آتےہیں۔ سنگا پور‘ آسٹریلیا اور امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں اچھی خاصی گرمی ہوتی ہے۔ مقررہ اوقاتِ کار کے اندر ہی لوگ شاپنگکرتے ہیں۔ پاکستان میں گاہک اس لیے شام کے بعد آتے ہیں کہ انہیں معلوم ہے بازار بارہ بجے تک کھلے ہیں۔ ہاںہم جب تاجروں کےاس سخت رویے کی بات کرتے ہیں تو اس میں کتابوں کے تاجر اور فارمیسی والے شامل نہیںادویات اور کتابوں کی دکانیں چوبیسگھنٹے کھلی رہنی چاہئیںادویات جسم کے لیے اور کتابیں روح کے لیے ضروری ہیںخطرناک حقیقت یہ ہے کہ بُک شاپس کم ہوتی جارہی ہیں!

روزنامہ دنیا 


 

powered by worldwanders.com