Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, May 30, 2024

ایٹم بم کے بعد؟؟


دو دن پہلے‘ اٹھائیس مئی کو‘ اخبارات میں دو خبریں چھپیں۔ ایک تو نمایاں تھی۔ سب نے پڑھی۔ یہ یوم تکبیر کی تھی! ہم نے ایٹم بم بنایا اور دشمن کو قابو کر لیا۔ اس خوشی میں عام تعطیل ہوئی۔ خوشی کی بات بھی ہے‘ اس لیے کہ ایٹمی کلب میں شامل ہونا ہر ملک کے بس کی بات نہیں۔ ہم اب قوموں کی برادری میں ہائی سٹیٹس کے مالک ہیں! بھارت نے جب ایٹمی دھماکا کیا تو اس کے فوراً بعد اس کے لیڈروں کا لہجہ ہی بدل گیا۔ خدا گنجے کو ناخن نہ دے۔ ان کے بیانات سے یوں لگتا تھا جیسے پاکستان اب ایک ترنوالہ ہے۔ پاکستان نے جوابی دھماکا کیا تو حالات نارمل ہوئے۔ دوسری خبر بہت ہی کم لوگوں نے پڑھی ہو گی۔ جنہوں نے پڑھی ہو گی‘ وہ جلدی سے آگے بڑھ گئے ہوں گے۔ اس طالب علم نے بھی پڑھی! یہ خبر کسی دور افتادہ بستی کی ہے نہ علاقہ غیر کی! یہ لاہور شہر کی خبر ہے! ایک عورت نے دوسری بیٹی کو جنم دیا۔ اس گناہِ کبیرہ پر بہادر‘ جوانمرد شوہر نے بیوی کو شدید تشدد اور اذیت کا نشانہ بنایا۔ اس کارِ خیر میں اس کے عظیم المرتبت والدِ گرامی اور قابل ِفخر بھائی نے بھی اُس کا ہاتھ بٹایا۔ خبر کا دلچسپ‘ دردناک اور عبرت انگیز پہلو یہ ہے کہ شوہرِ نامدار حافظ قرآن ہیں! انا للہ وانا الیہ راجعون!
یہ ہیں وہ دو انتہائیں‘ جن کے بیچ میں ہم رہ رہے ہیں! ایسی بلندی! ایسی پستی! ایک طرف ایٹمی طاقت۔ یوم تکبیر کی شان و شوکت! دوسری طرف جہالت کا گھٹا ٹوپ اندھیرا! مکروہ ترین مائنڈ سیٹ! قبل از اسلام کی جاہلی ذہنیت! جس کے ختم ہونے کے کوئی آثار دور دور تک نظر نہیں آ رہے! ایک طرف ہم ایٹمی طاقت ہیں۔ دوسری طرف ہم اپنی ہی بستیوں پر حملے کر رہے ہیں۔ اپنے ہی لوگوں کے مکانات نذرِ آتش کر رہے ہیں! کبھی کسی کو تشدد سے ہلاک کر دیتے ہیں۔ کبھی پٹرول چھڑک کر جلا دیتے ہیں!
بنیادی طور پر یہی کچھ بھارت میں ہو رہا ہے۔ وہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ‘ کم و بیش‘ یہی سلوک ہو رہا ہے جو یہاں غیر مسلموں سے ہو رہا ہے۔ وہاں بھی اتائی‘ سادھو‘ جوگی‘ پنڈت‘ نجومی‘ پامسٹ‘ سوامی راج کر رہے ہیں۔ یہاں بھی نجومی‘ پامسٹ‘ پیر‘ فقیر‘ ملنگ‘ گدی نشین‘ سجادہ نشین‘ مجاور‘ زائچے بنانے والے‘ ہاتھ دیکھنے والے‘ پیشگوئیاں کرنے والے‘ غیب کی خبریں دینے والے‘ مؤکل رکھنے والے‘ پیش منظر پر چھائے ہوئے ہیں! یہاں بھی کاروکاری‘ ونی اور سوارہ ہیں۔ یہاں بھی پنچایتیں دس دس‘ بارہ بارہ سال کی بچیوں کی شادیاں ساٹھ ساٹھ سال کے بوڑھوں سے کر دیتی ہیں۔ وہاں بھی چولہے پھٹتے ہیں اور جہیز نہ لانے والی بہوئیں ہلاک ہو جاتی ہیں۔ یہاں بھی بیٹیاں پیدا کرنے والی عورتوں کو ہسپتال ہی میں طلاق دے دی جاتی ہے۔ مارا پیٹا جاتا ہے۔ وہاں گنگا کے کثیف پانی سے اشنان کیا جاتا ہے۔ یہاں مزاروں کی مٹی پھانکی جاتی ہے‘ ہاں ایک فرق ہے۔ اُن کے پاس قرآن مجید نہیں۔ ہمارے پاس قرآن مجید ہے۔ یہ اور بات کہ ہمارے پاس بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لیے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں اس کے اندر کیا لکھا ہے۔ جن حافظ صاحب نے بیوی کو بیٹی جننے کے جرم میں اذیت دی ہے‘ انہیں وہ آیت حفظ تو ہو گی جس میں اُن جیسے لوگوں کا ذکر ہے۔ گمان غالب یہ ہے کہ اس کے معنی سے ناآشنا ہوں گے۔
کیا ملکوں کو نقصان صرف بیرونی حملوں سے پہنچتا ہے؟ کیا صرف خارجی دشمن خطرناک ہوتے ہیں؟ نہیں! ملکوں کو بعض اوقات اندر سے زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں! سوویت یونین بیرونی حملے سے نہیں منہدم ہوا۔ اس کے پاس ایٹمی اسلحہ امریکہ سے زیادہ تھا۔ مگر سسٹم کے اندر بدعنوانی اس قدر زیادہ ہو گئی تھی کہ سسٹم کا پیٹ پھٹ گیا۔ جارج آرویل کی شہرہ آفاق کتاب ''اینیمل فارم‘‘ میں سوویت یونین کا اصل چہرہ دکھایا گیا ہے۔ پاکستان کا معاشرتی فیبرک تار تار ہو چکا ہے۔ طبقاتی تقسیم مکروہ حد تک خوفناک ہو چکی ہے۔ ریاست کی ترجیحات کسی اور طرف جا رہی ہیں۔ مسائل کا تقاضا کچھ اور ہے۔ مذہب کی بنیاد پر نفرت عام ہے۔ سوشل میڈیا مسلک کی بنیاد پر زہر پھیلا رہا ہے۔ جہالت چاروں طرف رقص کر رہی ہے۔ جہالت ہی غربت کی سب سے بڑی وجہ بھی ہے۔ جہالت کی کئی اقسام ہیں۔ خطرناک ترین قسم وہ ہے جس میں پڑے لکھے لوگ جاہل ہوتے ہیں! ملک کو اندر سے خطرہ ہے۔ باہر کے خطرے کا سدباب تو ہم نے ایٹم بم بنا کر کر لیا۔ اندر کے خطرے سے کیسے نمٹیں گے؟
بریگیڈیئر ڈاکٹر شاہد رانا پرانے دوست ہیں۔ ان کے پاس ایک صاحب تشریف لائے‘ جن کی حالت ایسی تھی کہ انہیں سرجری کی سخت ضرورت تھی۔ ڈاکٹر صاحب سے کہنے لگے ''مجھے تو بیٹا زبردستی لے آیا ہے‘ ورنہ پیر صاحب نے کہا تھا وہ ٹھیک کر دیں گے۔ کسی سرجری کی ضرورت نہیں‘‘۔ میرے ایک مرحوم دوست‘ جو اعلیٰ درجے کے تعلیم یافتہ تھے‘ اپنے والد کو کراچی سے حیدرآباد لائے۔ حیدرآباد میں ایک حکیم صاحب تھے جو شوگر کا علاج شہد سے کرتے تھے۔ منع کیا‘ مگر نہ مانے۔ کچھ ہفتوں بعد فون کیا تو بتانے لگے کہ شہد سے پاپا کی طبیعت بہت بگڑ گئی تھی‘ آخر ہسپتال میں داخل کرانا پڑا! یہ ہے مائنڈ سیٹ کا پرابلم! کسی شہادت‘ کسی ثبوت‘ کسی تحقیق‘ کسی 
Evidence 
کے بغیر کسی کی بات مان لینا! یا اپنے ذہن میں ایک خیال بٹھا لینا اور اسے عالم گیر سچائی کا روپ دے دینا۔ مثلاً جو شخص بیٹی کی پیدائش پر غضبناک ہے اس سے پوچھئے کہ تم کس دلیل کی بنیاد پر بیٹی کے وجود کے مخالف ہو؟ بیٹی کا باپ ہونے میں کون کون سے نقصانات ہیں؟ دلیل سے بات کرو! غالباً وہ جواب دے گا کہ اس کی نسل بیٹے سے چلے گی تاکہ خاندان کا نام اور اس کا اپنا نام زندہ رہے۔ اس سے اس کے پردادا یا لکڑ دادا کا نام پوچھئے۔ اسے نہیں معلوم ہو گا۔ تو اگر بیٹا پیدا کرنے کے باوجود پردادا اور لکڑ دادا کا نام معدوم ہو چکا تو بیٹا اس کا نام کیسے زندہ رکھے گا؟ اگر پیر صاحب سرجری کے بغیر پروسٹیٹ کو ٹھیک کر دیں گے تو بہت اچھی بات ہے۔ صرف یہ ہے کہ اس کے لیے ثبوت چاہیے۔ کتنے لوگ اس تکلیف کے ساتھ پیر صاحب کے پاس آئے؟ ان میں سے کتنے پیر صاحب کی دعا یا تعویذ سے صحت یاب ہوئے۔ اس کا ریکارڈ دیکھنا ہو گا۔ پیر صاحب کے پاس آنے سے پہلے کا‘ اور صحت یاب ہونے کے بعد کا الٹرا ساؤنڈ دیکھنا ہو گا۔ پہلے پروسٹیٹ کا وزن کتنے گرام تھا اور بعد میں کتنا تھا۔ ایک نارمل اور سائنسی مائنڈ سیٹ اس تحقیق کے بغیر اور ریکارڈ دیکھے بغیر پیر صاحب کی روحانی قوت کو کبھی نہیں مانے گا۔ ہمارا قومی شعار یہ بن چکا ہے کہ ہم ہر سنی سنائی بات کو ثبوت دیکھے بغیر مان لیتے ہیں! اس جاہلانہ مائنڈ سیٹ کو سوشل میڈیا پر فارورڈ ہونے والے بے سروپا پیغامات نے مزید جاہل بنا دیا ہے۔ ہر شخص پرکھے بغیر ہر میسیج کو آگے چلا رہا ہے۔ آپ امریکہ یا یورپ کے بچے کو بھی کوئی بات بتائیں گے تو وہ 
Evidence 
مانگے گا۔ آپ مائنڈ سیٹ کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ لوگ اسلامی شہد دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں۔ اگر ان میں عقل ہوتی تو پوچھتے کہ کیا کوئی شہد غیر اسلامی بھی ہوتا ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ ایٹم بم کے بعد مراعات یافتہ طبقات بیرونی خطرات سے بے غم ہو کر‘ اس جاہلی‘ غیر سائنسی مائنڈ سیٹ کی مدد سے طویل حکمرانی کرنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ ایسا سوچ رہے ہیں تو تاریخ سے ناواقف ہیں! ہجوم گردی کل ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کر سکتی ہے جو سری لنکن منیجر کے ساتھ ہوا تھا!
حذَر اے چِیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

Monday, May 27, 2024

قرۃ العین حیدر کی تائید


'' ابراہام لنکن ایک دن دنیا ومافیہا سے بے خبر کسی دوست کے ساتھ سر جوڑے کئی گھنٹوں سے شطرنج میں مصروف تھے۔ بیوی نے کئی بار چائے رکھی اور ہر بار ٹھنڈی ہونے پر واپس لے جاتی۔ شطرنج کھیلنے والا دوست بھی غالباً انہیں ناپسند تھا‘ اس لیے پیمانۂ صبر ذرا جلدی لبریز ہو گیا۔ گرم گرم چائے کی ٹرے لے کر پاس کھڑی ہو گئیں۔ جب کھلاڑیوں نے کوئی نوٹس نہ لیا تو انہوں نے ٹرے کو عین بساط کے اوپر لا کر ہاتھ چھوڑ دیے۔ مسز لنکن پیر پٹختی کچن کی طرف روانہ ہو گئیں اور دونوں دوست کپڑے جھاڑتے کھڑے ہو گئے۔ لنکن نے معذرت کی۔ ہاتھ ملایا اور کہا: کل اسی چال سے دوبارہ گیم شروع ہو گی۔ گڈ نائٹ!‘‘
یہ اقتباس پروفیسر ڈاکٹر صباحت مشتاق کی تصنیف ''اعتراف‘‘ سے ہے۔ کتابوں کا 
Influx 
اس عہد میں سیلِ رواں کی طرح امڈا آتا ہے۔ ایسے میں ہر کتاب توجہ کے لائق نہیں۔ مگر ڈکٹر صباحت مشتاق کی کتاب ''اعتراف‘‘ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قرۃ العین حیدر نے اس کی کہانیوں کی تعریف کی ہے جو معمولی بات نہیں‘ اس لیے کہ قرۃ العین حیدر ایک تو تعریف کرنے میں فیاض ہر گز نہ تھیں‘ دوسرے‘ لگی لپٹی رکھنے کی قائل نہ تھیں۔ ان کا مقام ایک لیجنڈ کا ہے۔ بڑے باپ کی بڑی بیٹی! کئی سال پہلے جب حیات تھیں اور اسلام آباد تشریف لائیں تو مشاہد حسین سید کے گھر ہم بہت سے شعرا کو ان کے سامنے یوں پیش کیا گیا جیسے گھوڑوں کے کسی بڑے تاجر کے سامنے گھوڑے پیش کیے جائیں۔ انہوں نے ہم لوگوں کی شاعری سُنی مگر چہرا سپاٹ رکھا۔ منفی نہ مثبت! مشاہد حسین سید سے ان کی عزیز داری یوں تھی کہ مشاہد صاحب کی بیگم جری احمد سید کی بیٹی ہیں جو پنڈی میں چیف کنٹرولر ملٹری اکاؤنٹس تھے اور عینی آپا کے رشتہ دار تھے۔ اس لکھنے والے کی ملاقات عینی آپا سے ایک دو بار ہی ہوئی مگر ان کے خانوادے سے قریبی تعلق رہا۔ ان کی سگی بھتیجی‘ نور العین حیدر سول سروس میں میرے ساتھ تھیں۔ ان کے ساتھ ٹریجڈی یہ ہوئی کہ جو جہاز اسلام آباد میں مارگلہ پہاڑیوں پر کریش ہوا‘ اس کے مسافروں میں ان کے شوہر بھی تھے۔ یہ تین بہنیں اور دو بھائی سول سروس میں آئے۔ نور العین حیدر سے چھوٹی شہناز حیدر اکاؤنٹنٹ جنرل بلوچستان رہیں۔ ناہید حیدر ضلعی انتظامیہ سے تھیں۔ جلال حیدر لاڑکانہ کے ڈپٹی کمشنر رہے پھر ہجرت کر کے کینیڈا چلے گئے۔ میں اور بیگم ٹورنٹو میں ان کے ہاں ٹھہرے تھے۔ چند دن پہلے جلال حیدر کراچی آئے اور کراچی ہی میں داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ جسدِ خاکی کینیڈا بھجوایا گیا۔ سب سے چھوٹے بھائی‘ دراز قد‘ وجیہ‘ سجاد حیدر ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل رہے۔ ان بہن بھائیوں کے فوٹو ''کارِ جہاں دراز ہے‘‘ میں ہیں۔
قرۃ العین حیدر ڈاکٹر صباحت کے بارے میں لکھتی ہیں ''صباحت مشتاق کے افسانوں کو میں سمجھتی ہوں کہ اچھے ادب کے خانے میں رکھا جائے گا۔ نئے لکھنے والوں کے ہجوم میں شناخت قائم کرنا آسان نہیں ہے۔ لیکن صباحت بڑی آسانی کے ساتھ اپنا راستہ بنا چکی ہے۔ اس کے افسانوں میں مجھ کو ایک اہم وصف یہ نظر آیا کہ ان میں آورد نہیں ہے۔ جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے صباحت مشتاق جذباتیت سے صاف بچ جاتی ہیں۔ غیر ضروری الفاظ اور فالتو تفصیلات کو ان کے افسانوں میں جگہ نہیں ملتی‘‘۔ بارِ دگر عرض ہے کہ عینی آپا کی طرف سے یہ جملے کوئی معمولی ارمغان نہیں! اسی دیباچے میں عینی آپا نے ایک زبردست قاعدہ کلیہ بھی بیان کر دیا جس کا براہِ راست تعلق ڈاکٹر صباحت کی تخلیقات سے نہیں لیکن ادب کے طالب علموں کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ عینی آپا لکھتی ہیں ''مقبول فکشن رائٹرز کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ایک مرتبہ میں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پانچ سو پروفیسروں اور طلبہ کی 
Reading habits
 کا ایک سروے کرایا تھا جس میں زیادہ تر پروفیسروں اور طلبہ نے اپنی پسندیدہ مصنفہ رضیہ بٹ کو بتایا۔ لہٰذا قبولِ عام بھی ادبی مرتبے کی سند نہیں ہے‘‘۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ سوشل میڈیا اور یونیورسٹیوں کے مشاعروں میں جن شاعروں کے کلام پر طلبہ و طالبات قیامت آسا داد دیتے ہیں‘ وہ‘ بقول عینی آپا ''ادبی مرتبے کی سند نہیں ہے‘‘!
ڈاکٹر صباحت کی کہانیوں میں بے پناہ 
Readability 
ہے۔ بلکہ ڈاکٹر معین نظامی صاحب کے بقول ''حد ہے اور بے حد ہے‘‘۔ شروع کرنے کے بعد‘ آخری کہانی پڑھنے تک کتاب ہاتھ سے نہیں چھوٹتی۔ ایک مدت بعد اردو میں لکھی ہوئی ایک ایسی کتاب ہاتھ لگی ہے جس نے اپنے آپ کو خود پڑھوایا ہے۔ ناصر کاظمی کی ''پہلی بارش‘‘ کا فلیپ لکھتے ہوئے ڈاکٹر سہیل احمد خان نے لکھا تھا کہ یہ غزلیں زندگی کے تجربوں سے چھلک رہی ہیں! ڈاکٹر صباحت کی کہانیاں بھی زندگی کے تجربوں سے چھلک رہی ہیں۔ تلخ تجربے! شیریں تجربے اور کھٹے میٹھے تجربے! یہ کہانیاں کئی زندگیوں کا نچوڑ ہیں۔ یہ بتاتی ہیں کہ کچھ لوگوں کو اپنی بے بسی‘ بیچارگی اور احتیاج چھپانے کے لیے کس طرح جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ سننے والے اس جبری جھوٹ پر پردہ ڈالیں۔ ''نہ جنوں رہا نہ پری رہی‘‘ پڑھتے ہوئے میرا ذہن ایک لمحے کے لیے غلام عباس کے ناولٹ ''گوندنی والا تکیہ‘‘ کی طرف گیا ( وجہ بھی کوئی نہ تھی) مگر کہانی ختم ہونے تک مصنفہ اپنا سکہ بلا شرکت غیرے جما چکی تھیں۔ ''آسیب‘‘ میں تناسخ 
(Reincarnation) 
کے حوالے سے درخت کو سمبل بنا کر یہ حقیقت بیان کی ہے کہ محبت اور بزدلی دونوں ایک دل میں نہیں رہ سکتے! ''اعتراف‘‘ اُس بدبخت بن مانس کی عبرتناک اور درد انگیز کہانی ہے جسے پہلی بار انسانوں کے ساتھ خلا میں بھیجا گیا۔ اس نے انسانوں میں شامل ہونے کے لیے ایک عرصہ اپنی دم کو چھپائے رکھا مگر اس سے ناسور نما زخم بن گیا۔ بالآخر اسے اپنی اصلی دنیا‘ یعنی جانوروں کی دنیا میں واپس جانا پڑا۔ یہاں یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا بُرے لوگ‘ اپنی برائیوں کو چھپا کر‘ اچھے لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں؟ اپنی برائیوں پر پردہ ڈالنے سے شخصیت زخمی تو ہو سکتی ہے‘ نیکوکاروں میں ضم 

(Assimilate)
 نہیں ہو سکتی۔ ''انتساب‘‘ میں ہمارے عمومی‘ غیر انسانی رویے پر ماتم کیا گیا ہے۔ بس جاتے جاتے رک جاتی ہے کیونکہ سڑک پر کوئی حادثہ ہو گیا ہے۔ کوئی شخص ہلاک ہو گیا ہے۔ بس کے سب مسافر پریشان ہو جاتے ہیں سب کا دھیان اپنے پیاروں کی طرف جاتا ہے۔ آخر میں کنڈکٹر جب بیزاری سے کہتا ہے کہ چلو استاد جی! مزدور تھا اپنی ہی ٹرالی تلے آکر کچلا گیا تو سب سکون کا سانس لیتے ہیں۔ اس بے حسی کی سزا کے طور پر چہرے مسخ کر دیے جاتے ہیں۔ چہروں پر غلیظ آنکھیں اور مکروہ تھوتھنیاں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ مصنفہ سوچتی ہے کہ اگر زیرِ تعمیر سڑک کو اس مر جانے والے مزدور کے نام کر دیا جائے تو شاید چہرے اصل حالت پر آ جائیں۔ مگر یہ ناممکن ہے۔ یہ تو کسی بڑے نام سے منسوب ہو گی!
آخری تجزیے میں ان کہانیوں میں 
Originality 
ہے اور غضب کی ہے۔ صباحت اپنی انفرادیت کی چھاپ لگانے میں کامیاب ہوئی ہیں! اندازِ بیان سادہ مگر پُرزور ہے جیسے پہاڑی ندی وادی میں داخل ہو رہی ہو۔ نثر اس قدر بلند پایہ ہے کہ کہیں کوئی جھول نہیں محسوس ہوتا۔ بہت بڑے ادیب جناب اسد محمد خان نے امید ظاہر کی ہے کہ ''کہانی کاروں کی آنے والی نسل میں اگر ایسا لکھنے والے دس افراد بھی برسرکار ہو جائیں تو اردو افسانہ انڈو پاک کی تمام بڑی زبانوں یعنی مراٹھی‘ ہندی‘ گجراتی وغیرہ کے ساتھ شانہ ملا کر کھڑا ہو سکتا ہے‘‘۔ ادبِ عالیہ کے طالبعلم‘ مجھ بے بضاعت سمیت‘ ڈاکٹر صباحت کی نئی تخلیقات کا انتظار کر رہے ہیں۔

Thursday, May 23, 2024

محترمہ مریم نواز‘ چیف منسٹر پنجاب کی خدمت میں

پہلے بھی عرض کیا ہے کہ پاکستان ''طبقۂ امرا کی حکومت‘‘ یعنی اولی گارکی 

(Oligarchy)

 کا شکار ہے۔ سالہا سال سے‘ کئی دہائیوں سے‘ یہی سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ متوسط طبقے کا کوئی پروفیسر‘ کوئی معیشت دان‘ کوئی دانشور حکومتی صفوں میں میرٹ پر آیا ہو۔ اگر کوئی‘ ایک آدھ نفر‘ اوپر آیا بھی ہے تو صرف اس لیے کہ اس نے کسی نہ کسی بڑے آدمی کے ساتھ ذاتی وفاداری نبھائی ہے۔ طبقۂ امرا اس قدر غالب ہے کہ کوئی مڈل کلاس سے آ بھی جائے تو جلدی جلدی ہاتھ پاؤں مار کے امرا کی صف میں شامل ہو جاتا ہے۔ جنوب کی جس پارٹی نے شور مچایا تھا کہ مڈل کلاس سے ہے‘ اس کی مڈل کلاس جلد ہی ہوا میں تحلیل ہو گئی۔ اب کسی کی امریکہ میں پٹرول پمپوں کی قطار ہے اور کسی کے اہلِ خانہ لاس اینجلس کے گراں ترین علاقے میں رہتے ہیں۔ ایک صاحب صحافت سے سیاست میں آئے تھے۔ مڈل کلاس سے تھے۔ مگر پارٹیاں اتنی بدلیں کہ ساری حدیں پار کر ڈالیں!
آپ ''اولی گارکی‘‘ کے جبڑوں کی مضبوطی کا اندازہ ایک تازہ مثال سے لگائیے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ملک میں عوام گاجر مولی کی طرح کٹ رہے ہیں۔ صرف شاہراہوں پر رونما ہونے والے حادثات میں ہزاروں افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ ڈمپر اور ٹریکٹر ٹرالیاں موت کا رقص کر رہی ہیں۔ ابھی چند دن پہلے ایک ڈمپر ملتان میں چار پانچ افراد کو کچل چکا ہے۔ بلوچستان میں پنجابیوں کو بے دریغ قتل کیا جا رہا ہے۔ علاج نہ کرا سکنے کے باعث اموات واقع ہو رہی ہیں۔ مگر کسی حکومت کے کان پر کبھی جوں رینگی‘ نہ رینگ رہی ہے۔ کس نمی پُرسد کہ بھیا کیستی؟ مگر جب اولی گارکی کا کوئی رکن کہیں جائے تو اس کی حفاظت کے لیے ساری مشینریاں حرکت میں آ جاتی ہیں! سرکاری خزانوں کے منہ کھل جاتے ہیں! سینیٹ کے معزز چیئرمین نے لاہور آنا ہے۔ صوبائی انٹیلی جنس کمیٹی کا غیر معمولی اجلاس منعقد کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ سینیٹ چیئرمین کو جَیمرز 

(Jammers)

 والی گاڑی مہیا کی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پانچ نئی جَیمرز گاڑیاں اور نو بُلٹ پروف گاڑیاں خریدی جائیں گی! کمیٹی نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ ایک گاڑی عدلیہ کے ایک رکن کو بھی دی جائے گی۔ ملتان کے کوئی ایم پی اے صاحب ہیں‘ انہیں پولیس سکیورٹی مہیا کرنے کے لیے متعلقہ پولیس حکام کو احکام دینے کی بات ہوئی۔ مشائخ وِنگ کے کوئی رہنما ہیں‘ انہیں بھی پولیس سکیورٹی مہیا کی جا ئے گی۔
پانچ جَیمر گاڑیوں اور نو بُلٹ پروف گاڑیوں کی خرید کے لیے سمری چیف منسٹر صاحبہ کو بھیجی جا ئے گی۔ ہمیں چیف منسٹر صاحبہ سے پوری امید ہے کہ وہ اس سمری کو نامنظور کر کے اُس سازش کو ناکام بنا دیں گی جو غیر منتخب اور غیر سیاسی لوگ ان کے خلاف کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر صاحبہ ازراہِ کرم یہ رپورٹ بھی طلب کریں کہ کون کون سے اور کتنے صاحبان کو پولیس سکیورٹی مہیا کی جا رہی ہے۔ اس کام کے لیے کتنی پولیس مختص کی گئی ہے اور سالانہ بجٹ اس سکیورٹی کا کیا ہے؟ ہم چیف منسٹر صاحبہ کی خدمت میں اپیل کرتے ہیں کہ امرا پر بے دریغ خرچ ہونے والے سرکاری روپے کا حساب کریں اور اس سلسلے کو بالکل روک نہیں سکتیں تو کم از کم گھٹانے کی کوشش تو کریں!
کابینہ کا اجلاس ہونا تھا۔ قائداعظم سے چائے کا انتظام کرنے کی اجازت مانگی گئی۔ کہا: نہیں! گھر سے چائے پی کر آئیں۔ سرکاری روپیہ ان چیزوں کیلئے نہیں! آپ کا کیا خیال ہے قائداعظم امرا اور عمائدین کو سرکاری خرچ پر سکیورٹی مہیا کرنے کی اجازت دیتے؟ نہیں! کبھی نہیں! ان کا ایک ہی جواب ہوتا کہ جسے خطرہ ہو سیاست میں‘ یا منظر عام پر نہ آئے‘ اور آئے تو اپنی سکیورٹی کا انتظام اپنے پیسے سے کرے! جس شخص نے گورنر جنرل کیلئے سرکاری جہاز سخت مجبوری میں خریدنے کی اجازت دی اور قیمت کم کرنے کیلئے امریکہ میں پاکستانی سفیر جناب ابو الحسن اصفہانی سے اتنی طویل خط و کتابت کی اور ایک ایک پائی کی تفصیل اس طرح پوچھی کہ ذاتی جیب سے خریداری کرتے وقت بھی اتنی فکر کوئی نہ کرے!! وہ شخص اُن اللے تللوں کی اجازت کس طرح دے سکتا تھا جو بعد میں آنے والے حکمرانوں کا معمول بن گئے!!
یہاں ہم چیف منسٹر صاحبہ کی توجہ ایک اور امر کی طرف دلانے کی جسارت کریں گے۔ بھٹو صاحب کے دور تک ہر شہر میں ''پاکستان کونسل‘‘ کی لائبریری ہوا کرتی تھی۔ مرکز کی وزارتِ اطلاعات ان لائبریریوں کی مائی باپ تھی۔ پھر نہ جانے کیا ہوا کہ یہ لائبریریاں غائب ہو گئیں۔ لاکھوں کتابوں کا کیا بنا؟ کچھ معلوم نہیں! ہماری گزارش ہے کہ چیف منسٹر صاحبہ صوبے کے ہر شہر اور ہر قصبے میں پبلک لائبریری قائم کرنے کا حکم دیں۔ مثال کے طور پر عرض کروں کہ آسٹریلیا اور برطانیہ کے ہر قصبے میں ایک اور ہر شہر میں کئی پبلک لائبریریاں قائم ہیں۔ جیلانگ آسٹریلیا کا چھوٹا سا شہر ہے۔ اس میں 18لائبریریاں قائم ہیں۔ ایک لائبریری کی رکنیت ہر لائبریری میں کام آتی ہے۔ ہر لائبریری میں کمپیوٹر اچھی خاصی تعداد میں رکھے ہیں۔ تعلیمی مقاصد کے لیے لائبریری ممبرز کو مفت انٹر نیٹ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ چیف منسٹر صاحبہ کو لائبریری کلچر کی اہمیت بتانا سورج کو چراغ دکھانے والی بات ہے۔ آج جن ملکوں کی ترقی قابلِ رشک ہے اور جن ملکوں میں جا کر بسنے کیلئے ہم جیسے غریب ملکوں کے عوام ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں‘ اُن ملکوں کی معاشی اور عسکری طاقت کی پشت پر صرف دو چیزیں ہیں۔ لائبریریاں اور یونیورسٹیاں! یونیورسٹیاں بھی ایسی کہ تین تین سو سال سے داخلے اور امتحانوں کی تاریخیں نہیں بدلیں! ہمارے ہاں پبلک لائبریریوں کے فقدان کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نوجوانوں نے مضر‘ غیر اخلاقی اور غیر پیداواری مشغلوں کو مصروفیت بنا لیا ہے۔ افرادی قوت تباہی کے راستے کی طرف جا رہی ہے۔
ہم یہ درخواست بھی کریں گے کہ اگر چیف منسٹر صاحبہ صوبے کے ہر بڑے شہر میں کئی‘ اور ہر قصبے میں کم از کم ایک لائبریری قائم کرنے کے اس منصوبے کو اصولی طور پر شرفِ قبولیت بخشیں تو ازراہِ کرم اس منصوبے کو افسر شاہی کے دندانِ آز سے بچائیں! ملک میں‘ اور صوبے میں بھی‘ ایسے لائق اور بے غرض افراد کی کمی نہیں جو اس منصوبے کو خلوص اور حسن تدبیر سے عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ اسلام آباد کی معروف شخصیت ڈاکٹر فرح سلیم کو یہ فریضہ سونپا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں اورینٹل کالج لاہور کے پرنسپل کے منصب سے ریٹائر ہونے والے‘ فقیر منش‘ عالم اور سکالر‘ ڈاکٹر معین نظامی بھی رجالِ کار میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ملتان میں مقیم پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد بھی یہ منصوبہ قابلیت کے ساتھ سنبھال سکتے ہیں۔ پوری علمی دنیا میں مشہور‘ مگر اپنے ملک میں اجنبی‘ بہت بڑے معیشت دان‘ اقوام متحدہ کے سابق مشیر‘ لاہور میں رہنے والے محمد اکرم خان اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں۔ ان کی لندن سے چھپنے والی کتاب 

What is wrong with Islamic Economics 

کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اخوت کے ڈاکٹر امجد ثاقب بھی اس کام کے لیے موزوں ہیں۔ الغرض کسی ایسی ہی بے غرض اور نیک نام‘ مگر لائق شخصیت سے یہ کام کرایا جانا چاہیے۔ چیف منسٹر صاحبہ اگر صوبے میں لائبریریوں کا جال بچھا دیں تو نہ صرف تاریخ میں اپنا نام تحسین آمیز الفاظ میں لکھوا جائیں گی بلکہ قوم کی ایسی خدمت کر جائیں گی جس کے اثرات آنے والی نسلوں پر پڑیں گے۔ سعدی کہہ گئے ہیں:
خیری کُن اے فلان و غنیمت شمار عمر
زان پیشتر کہ بانگ بر آید فلان نماند
اس سے پہلے کہ کوچ کا نقارہ بج اُٹھے‘ وقت کو غنیمت جانیے اور نیکی کر جائیے۔

Tuesday, May 21, 2024

ویزا‘ بائیو میٹرک اور نجی کمپنی


چلچلاتی دھوپ تھی۔ کڑکتی ہوئی! سایہ عنقا تھا۔ درخت تھا نہ کوئی سائبان! کھلا میدان تھا۔ خلقِ خدا قطار باندھے کھڑی تھی۔ پسینہ ٹنوں کے حساب سے بہہ رہا تھا۔ قطار میں مرد تو تھے ہی‘ بچے بھی تھے‘ عورتیں بھی‘ اور بوڑھے اور بوڑھیاں بھی تھیں! لمبی قطار کے سرے پر ایک شرطہ نما پیشکار کھڑا تھا۔ وہ دروازے میں کھڑا تھا اس لیے دھوپ سے بچا ہوا تھا۔ ایک بوڑھی عورت نے اسے کہا: بھئی! ہم بوڑھے لوگ ہیں! سینئر سٹیزن ہیں۔ کب تک دھوپ میں کھڑے رہیں گے؟ شرطہ نما پیش کار نے ایک ادائے بے نیازی سے اسے دیکھا اور کہا: اچھا! میں اندر بتاتا ہوں۔ معلوم نہیں اس نے کس سے بات کی! کسی سے کی بھی یا نہیں۔ آدھا گھنٹہ اور گزر گیا۔ بوڑھی عورت کڑکتی دھوپ میں کھڑی رہی۔ کافی دیر کے بعد ایک اور داروغہ نما اہلکار آیا اور اسے عمارت کے اندر جانے کی اجازت ملی۔
یہ وفاقی دار الحکومت میں ایک نجی کمپنی کا احاطہ تھا۔ دوسرے ملکوں نے‘ یا دوسرے ملکوں کے مقامی سفارت خانوں نے اس نجی کمپنی کے سپرد اُن پاکستانیوں کو کر رکھا ہے جو ان ملکوں میں جانا چاہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کمپنی ویزا کے طلبگاروں کی درخواستیں وصول کرتی ہے اور پھر انہیں مختلف مراحل سے گزارتی ہے۔ یہ مراحل طویل اور جانکاہ ہیں۔ ان میں ایک مرحلہ انگلیوں کے نشانات (یعنی فنگر پرنٹس یا بائیو میٹرک) کا بھی ہے۔ شاید ہماری وزارتِ خارجہ نے بھی اس کمپنی کو اجازت دی ہوئی ہے۔ مگر اس سلسلے میں پورا علم لکھنے والے کو حاصل نہیں۔
سوال یہ ہے کہ ویزوں کے امیدواروں سے لاکھوں‘ کروڑوں روپے کمانے والی اس کمپنی کو اتنی توفیق نہیں کہ قطار میں کھڑے ہوئے سائلوں کے لیے کمرے کی چھت نہیں تو کم از کم ایک ترپال ہی کا بندو بست کر دے۔ ایک سائبان ہی نصب کرا دے۔ اگر لاکھوں‘ کروڑوں کمانے کے باوجود غربت کا یہ عالم ہے کہ کمپنی ترپال لگوانے کی استطاعت نہیں رکھتی‘ تو ترپال کا گھنٹوں کے حساب سے لوگوں سے کرایہ لے لے۔ دھوپ سے بچنے کی کوئی صورت تو ہو!
اندر اس سے بھی برا حال تھا۔ بتایا گیا کہ ریسیپشن سے ٹوکن لیجیے۔ جن بزرگ کے ساتھ مدد کے لیے میں گیا تھا‘ انہوں نے حسبِ ہدایت‘ ریسیپشن سے ٹوکن لیا۔ پھر انتظار کرتے رہے۔ اندر گئے تو بابو نے کہا کہ یہ ٹوکن غلط جاری ہوا ہے۔ اسے درست کرائیے۔ انہوں نے کہا: اس میں میرا کیا قصور ہے‘ یہ آپ کا اندرونی معاملہ ہے۔ میں عمر رسیدہ آدمی ہوں‘ بار بار کیسے جاؤں گا۔ مگر بابو نے کہا کہ عمر رسیدہ افراد کے لیے یہاں کوئی الگ برتاؤ نہیں ہے۔ پھر انہوں نے ڈھیر سارے پیسے فیس کی شکل میں جمع کرائے۔ پھر ایک اور ٹوکن ملا۔ جب فنگر پرنٹس کے لیے گئے تو متعلقہ کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ ایک خاتون بھی بہت دیر سے اس بند دروازے پر دستک دے رہی تھیں۔ قصہ کوتاہ‘ فنگر پرنٹس کرانے کا مطلب ہے کہ آپ ایک بھٹی سے گزریں! یہ انسان نہیں‘ روبوٹ تھے۔ تمیز‘ ادب آداب‘ اخلاقیات‘ ہر چیز سے عاری! نہ بچوں کا خیال نہ بزرگوں کا لحاظ! کسی نے سچ کہا ہے کہ پاکستانی جب گوروں کے ملازم بنتے ہیں تو اپنے ہم وطنوں ہی سے سفاکی کا سلوک کرتے ہیں! مثلاً اگر ریسیپشن والے نے ٹوکن غلط جاری کیا تو پاکستانی بابو نے بزرگ کو حکم دیا کہ جاؤ اسے درست کرا کر لاؤ۔ (جی! اسی طرح بے ادبی سے کہا) اگر کوئی سفید فام ہوتا تو خود جا کر ٹھیک کراتا!
لیکن یہ سب باتیں‘ یہ ساری شکایتیں‘ یہ تمام حکایتیں ضمنی ہیں۔ اصل مسئلہ اور ہے۔ وہ یہ کہ ہم میز کے اس طرف ہیں! میز کے دوسری طرف امریکہ ہے اور کینیڈا! پرتگال ہے اور برطانیہ! آسٹریلیا ہے اور نیوزی لینڈ!! ہم سائل ہیں! ہم لاکھوں کی تعداد میں کشکول اٹھائے ترقی یافتہ ملکوں کے سفارت خانوں کے سامنے قطاروں میں کھڑے ہیں۔ اس امید پر کہ کشکول میں کوئی ویزا ڈال دے! کوئی امیگریشن ڈال دے۔ کوئی پی آر (پرمَننٹ ریزیڈینس) کا سکہ ڈال دے۔ کوئی گرین کارڈ کی بھیک دے دے۔ جب آپ لاکھوں کی تعداد میں ہوں گے اور سوالی ہوں گے اور کشکول بدست ہوں گے اور درخواست دہندہ ہوں گے اور امیدوار ہوں گے تو یہی سلوک ہو گا‘ جو نجی کمپنی کے پاکستانی ملازمین کر رہے ہیں! اور آپ کر بھی کیا سکتے ہیں؟ شکایت کریں گے تو ویزا نہیں ملے گا۔ کبھی بھیک مانگنے والوں نے‘ بھیک دینے والے سے شکایت یا جھگڑا کیا ہے؟ فارسی کا مشہور شعر ہے:
آنچہ شیراں را کند روبہ مزاج
احتیاج است‘ احتیاج است احتیاج
ضرورت اور حاجت مندی شیروں کو بھی لومڑی بنا دیتی ہے۔ پنجابی میں کہتے ہیں ''نوکر کی تے نخرہ کی‘‘۔ یہ ممالک ہر چند ماہ کے بعد قوانین تبدیل کر دیتے ہیں۔ کبھی نکاح نامہ مانگتے ہیں کبھی کچھ اور! اکثر قوانین ان کے مضحکہ خیز ہوتے ہیں! مقصد لوگوں کی حوصلہ شکنی بھی ہے کہ کم سے کم لوگ ویزے کے لیے ان کے دروازے پر دستک دیں! کبھی ہوائی اڈوں پر عریاں کر کے تلاشی لیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں پاؤں یہاں رکھو اور دونوں بازو دائیں بائیں لمبے کرو! کبھی پتلون کی بیلٹ اترواتے ہیں‘ کبھی جوتے! اس لیے کہ وہ دینے والے ہیں اور ہم لینے والے! کل کو اگر یہ قانون بنا ئیں کہ جس نے ویزا لینا ہے یا ویزا لینے کے بعد جانا ہے تو پہلے اپنے چہرے پر زور سے تھپڑ مارے تو آپ کا کیا خیال ہے لوگ تھپڑ مارنے سے انکار کر دیں گے؟؟ نہیں! خود تو کیا‘ کوئی اور بھی تھپڑ مارے گا تو سر جھکا کر تھپڑ کھا لیں گے۔ چند سال پہلے میں مراکش جا رہا تھا۔ دوحہ (قطر) سے جہاز تبدیل ہونا تھا۔ پہلے جہاز نے سامان اتار دیا تھا۔ سامان کی بیلٹ چل رہی تھی مگر سامان آ نہیں رہا تھا۔ ایک دروازہ تھا شیشے کا۔ اسے کھول کر میں نے دیکھنا چاہا کہ سامان آ رہا ہے یا نہیں۔ ایک بدّو مجھ پر غرایا اور چیخا کہ دروازہ کھول کر جھانکے کیوں ہو؟ اسے جواب دیا کہ آرام سے بات کرو۔ چیخنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ جواب اس کے لیے غیر متوقع تھا۔ ایک پاکستانی کی یہ مجال کہ عرب کو جواب دے؟ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا: اس کے لیے آتے ہو؟ میں کچھ کہنا چاہتا تھا مگر میرے تین چار ہم وطن میری منت کرنے لگے کہ خدا کے لیے چپ ہو جاؤ۔ اس کا کوئی پتا نہیں تمہیں پکڑ کر لے جائے یا ہم سب کے ساتھ کچھ کر دے! یہ ہے احتیاج! محتاجی! جو شیروں کو لومڑی بناتی ہے۔ پچپن مسلمان ملکوں میں سے جو تین چار مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پاکستانیوں کو نوکریاں دیتے ہیں‘ پوری طرح خوار اور رسوا کرتے ہیں۔ کفیل سسٹم بذاتِ خود غلامی کی جدید شکل ہے جس کی تفصیل ہم سب جانتے ہیں۔ ان نام نہاد ''برادر‘‘ ملکوں کی نسبت یورپ اور امریکہ تارکینِ وطن سے بہتر سلوک کرتے ہیں۔ مگر جو پاپڑ ویزے یا امیگریشن کے لیے بیلنے پڑتے ہیں‘ وہ خون کے آنسو رلاتے ہیں! ملکی وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہے۔ دس فیصد لوگ نوے فیصد وسائل پر قابض ہیں۔ باقی رہ گئے دس فیصد وسائل تو وہ نوے فیصد عوام کے لیے بچتے ہیں۔ ایسے میں نوے فیصد عوام کیا کریں؟ چڑی بیچاری کی کرے! ٹھنڈا پانی پی مرے! ہجرت ان عوام کے لیے واحد راستہ رہ جاتا ہے۔ دس فیصد مراعات یافتہ طبقہ بھی ہجرت کر کے امیر ملکوں میں جا بستا ہے مگر اس طبقے کے پاس دولت ہے۔ اور دولت ہو تو ویزا بھی عزت سے مل جاتا ہے اور شہریت بھی!! مراعات یافتہ طبقے کے یہاں بھی مزے ہیں اور وہاں بھی! غریب یہاں بھی مار کھاتا ہے اور وہاں بھی!

Monday, May 20, 2024

کیا آپ ساتھ دیں گے؟

ایک مسوّدے کی ترتیب اور موازنے کے لیے مدد درکار تھی۔ ایک دوست نے ایک پڑھے لکھے‘ ڈگری یافتہ نوجوان کا نام تجویز کیا‘ جو فارغ بیٹھا تھا۔ اس سے رابطہ ہوا۔ طے ہوا کہ وہ اگلے دن صبح دس بجے پہنچ جائے گا۔ اسے تلقین بھی کی کہ دس بجے کا مطلب دس بجے ہے۔ دوسرے دن میں نے اپنے پڑھائی لکھائی والے والے کمرے میں ضروری اشیا ترتیب دیں اور چائے اور رس کا ''شاہانہ اور متعیشانہ‘‘ ناشتہ کر کے اس تعلیم یافتہ‘ ملازمت کے متلاشی‘ نوجوان کا انتظار کرنے لگ گیا۔ دس سے سوا دس ہو گئے۔ پھر ساڑھے دس۔ پھر پونے گیارہ۔ اور پھر گیارہ بج گئے۔ ان دنوں میں جہاں قیام پذیر ہوں وہ جگہ‘ شہر کے وسط میں‘ ایسی ہے کہ وہاں پہنچنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے۔ ایک گھنٹے کے انتظار کے دوران اس کا فون بھی نہ آیا۔ جب سوا گیارہ ہو گئے تو میں نے فون کیا کہ بھائی کہاں ہو؟ انتہائی بے نیازانہ لہجے میں جواب ملا ''سر! آ رہا ہوں‘‘! موصوف آئے تو کہنے لگے: کچھ دوست آ گئے تھے‘ ان کی وجہ سے دیر ہو گئی۔ نو ساڑھے نو بجے دوستوں نے کیا آنا تھا۔ بس اپنے وقت پر بیدار ہوئے۔ پھر آرام سے تیار ہوئے اور چل پڑے۔ کچھ اندازہ تھا نہ فکر کہ کب پہنچیں گے۔ ہم میں سے اکثر جب کہیں جانے کا یا ملاقات کا وقت طے کرتے ہیں تو جانا یا ملاقات یاد رہتی ہے‘ وقت یاد نہیں رہتا‘ اس لیے کہ وقت پر پہنچنے کا یہاں کوئی تصور نہیں!
یہ جو مائنڈ سیٹ ہے وقت سے مکمل بے نیازی کا‘ کیا اس کی ذمہ داری حکومتوں پر ہے؟ ہم میں سے ہر شخص تلوار سونت کر کھڑا ہے۔ کسی کا ہدف عمران خان ہے‘ کسی کا نواز شریف یا زرداری۔ کوئی فوج کے خلاف غصے سے بھرا ہے‘ کوئی سول بیورو کریسی کے خلاف! مگر سوال یہ ہے کہ ہم خود کیا ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ اس کم فہم کی رائے میں وقت کے حوالے سے ہماری اجتماعی بے نیازی ہماری پستی کا اگر واحد نہیں تو بہت بڑا سبب ضرور ہے۔ اب یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ریاست؟ یا ماں باپ؟ یا پورا معاشرہ؟ اگر پورا معاشرہ ذمہ دار ہے تو اصلاح کیسے ہو گی؟ جو اِکا دکا لوگ وقت کے پابند ہیں‘ وہ ہر جگہ منہ کی کھاتے ہیں۔ مگر کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو اپنی پابندیٔ وقت کو نقصان کا باعث نہیں بننے دیتے۔ ہمارے ایک دوست شادی کی کسی تقریب میں جائیں تو ایک معقول انتظار کرنے کے بعد اُٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ ایک بار کھانا کھائے بغیر واپس جا رہے تھے تو میزبان نے دیکھ لیا۔ کہنے لگے: صاحب ایسی بھی کیا بات ہے‘ کھانا کھائے بغیر کیسے جا سکتے ہیں۔ اس تجاہلِ عارفانہ پر ہمارے دوست کو غصہ آ گیا۔ کہا: آپ کی دو چپاتیوں اور ایک پلیٹ سالن کے لیے میں کب تک بیٹھا رہوں گا؟ یہی ہمارے دوست شادیوں پر وقت کے سخت پابند ہیں۔ اپنے ایک عزیز کی شادی انہوں نے کی تو برات کی روانگی کا وقت مقرر کر کے اعلان کیا کہ وقت پر امی جان بھی تیار نہ ہوئیں تو انتظار نہیں کروں گا اور امی جان سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ پھر وقت کی پابندی کر کے بھی دکھائی۔ کسی نے چوں بھی نہیں کی۔
یہ جو عام کہاوت ہے کہ تبدیلی اوپر سے شروع ہوتی ہے‘ اتنی غلط بھی نہیں۔ پابندیٔ وقت کے جتنے پرخچے حکومت اڑاتی ہے‘ شاید عوام بھی نہیں اڑاتے۔ کوئی اجلاس‘ یہاں تک کہ کابینہ کے اجلاس بھی وقت پر نہیں شروع ہوتے۔ پریس کانفرنسیں بار بار ملتوی ہوتی ہیں۔ صدر یا وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرنا ہو تو گھنٹوں کی نہیں‘ پہروں کی تاخیر معمول ہے۔ روایت ہے کہ ہمارے ایک وزیراعظم نے ماضی میں مشرقِ وسطیٰ کے ایک ملک کے سربراہ کے ساتھ ملاقات ضائع کر دی کہ بازار میں مبینہ طور پر گھڑیاں دیکھتے رہے اور تاخیر سے پہنچے تو میزبان کی اگلی میٹنگ شروع ہو چکی تھی۔ اس معاشرے میں کوئی افسر یا وزیر اگر وقت کا پابند نکل بھی آئے تو ماتحت اس سے ناخوش ہی رہتے ہیں اور اس کے تبادلے کی خوشی میں شکرانے کے نفل ادا کرتے ہیں۔
جاپان سے لے کر امریکہ تک اور نیوزی لینڈ سے لے کر کینیڈا تک‘ تمام ترقی یافتہ ملکوں میں وقت کی سخت پابندی ہے۔ انفرادی اور اجتماعی ہر سطح پر۔ اس کا مطلب ہے کہ پابندیٔ وقت اور ترقی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ وقت کی پابندی کے بغیر ملک کا ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا ہونا ناممکن ہے۔ اس ضمن میں کبھی کوئی مہم نہیں چلی! حکومتی سطح پر نہ نجی سطح پر! یہ کام انفرادی سطح سے شروع ہونا چاہیے۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ بارش کا پہلا قطرہ ہی موسلا دھار بارش کا سبب بنتا ہے۔ یہ فقیر اپنے قارئین کی خدمت میں دست بستہ گزارش کرتا ہے کہ مندرجہ ذیل اقدامات پر غور فرمائیے۔ خود بھی ان کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کیجیے اور اپنے اپنے دائرہ کار اور دائرہ اثر میں بھی ان پر عمل کرانے کی کوشش کیجیے۔
1:کسی فنکشن یا کسی تقریب کو کسی ایک یا چند افراد کے تاخیر سے آنے کی بنا پر خراب مت کیجیے۔ جو وقت پر آ چکے ہیں‘ ان کا خیال کیجیے اور تقریب کی کارروائی شروع کر دیا کیجیے۔ 2: جب آپ کسی کو وقت دیتے ہیں تو ہمیشہ یہ تخصیص کیجیے کہ کس وقت سے لے کر کس وقت تک انتظار کریں گے۔ اگر وہ مقررہ وقت کے اندر نہ آئے تو ملنے سے معذرت کر دیجیے۔ ایسا کرنے کی ہمت نہیں تو گھر سے کہیں باہر چلے جائیے۔ جب وہ آئے تو آپ کے اہلِ خانہ اسے بتائیں کہ انتظار کر کر کے چلے گئے ہیں۔ 3: شادی اور اس قبیل کی تقریبات میں دعوتی کارڈ کے مطابق وقت پر پہنچئے۔ میزبان ابھی نہ آیا ہو تو اپنا کارڈ یا نام پتا چھوڑ کر واپس چلے آئیے۔ 4: یا کم از کم اتنا کیجیے کہ کھانے میں بے ہودگی کی حد تک تاخیر ہو تو اٹھ کر چلے جائیے اور میزبان کو بتا کر جائیے کہ مزید انتظار نہیں کر سکتے۔ 5: اپنے بچوں‘ خاص طور پر خواتین کو وقت کا پابند کیجیے۔ اس ضمن میں سختی بھی کرنی پڑے تو کیجیے۔ آپ نے بھی گھر والوں کو کہیں لے جانے کا بتایا ہوا ہے تو وقت کی پابندی کیجیے۔ 6: اگر آپ دکاندار ہیں تو از راہ کرم وقت پر دکان کھولیے۔ نماز کا وقفہ کرنا ہے تو تخصیص کیجیے کہ وقفہ کس وقت ختم ہو گا۔ 7: تقریب کا صدر یا مہمانِ خصوصی وقت پر نہ آئے تو انتظار نہ کیجیے۔ حاضرین میں سے کسی کو کرسیٔ صدارت پر بٹھا کر تقریب شروع کر دیجیے۔ ایسا انسان‘ مرد ہے یا عورت‘ کرسیٔ صدارت کا یا مہمانِ خصوصی بننے کا اہل ہی نہیں! 8: جہاں بھی کوئی تقریب تاخیر کا شکار ہو رہی ہے اور آپ وہاں موجود ہیں تو منتظمین کو تاخیر کا احساس دلائیے۔ گائے بکری بن کر بیٹھے مت رہیے۔ 9: ٹرین یا بس یا جہاز کی روانگی میں دیر ہو رہی ہو تو ممکن حد تک احتجاج ضرور کیجیے۔ آپ کو دیکھ کر دوسرے مسافر بھی ہمت پکڑیں گے اور آپ کا ساتھ دیں گے! تاخیر سے پریشان سب ہو رہے ہوتے ہیں مگر ہمارے معاشرے میں‘ احتجاج کی یا بولنے کی جرأت سب میں نہیں ہوتی۔
یہ اقدامات آسان نہیں! معاشرہ‘ اس ضمن میں‘ مکمل طور پر بے حس ہو چکا ہے۔ آپ کے اقدامات کو کسی حلقے میں بھی پسند نہیں کیا جائے گا۔ کچھ لوگ ناراض ہو ں گے۔ کچھ آپ کو خود سر اور متکبر بھی کہہ سکتے ہیں! مگر ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے آپ اپنا فرض نبھائیے۔ اگر کچھ لوگ ناخوش ہوتے ہیں تو ہونے دیجیے۔ انہیں نرمی اور محبت سے سمجھانے کی کوشش کیجیے۔ خدا کرے کہ ہم‘ بحیثیت قوم‘ اندھے کنویں سے باہر نکل آئیں!

Thursday, May 16, 2024

جناب عمر ایوب کی خدمت میں ایک مخلصانہ مشورہ


خواجہ محمد صفدر مرحوم‘ پاکستان کے تیسرے آمرِ مطلق ضیاالحق کے ساتھیوں میں سے تھے۔ اُس عہد کی مجلس شوریٰ جنرل صاحب کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی تھی اور خواجہ صفدر اس مجلس شوریٰ کے چیئرمین تھے۔ خواجہ صفدر کے صاحبزادے خواجہ آصف اپنے والد کے قول و فعل کے ذمہ دار نہیں۔ (اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی اور اگر کوئی بوجھ والی جان اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گی تو اس کے بوجھ میں سے کچھ بھی نہیں اٹھایا جائے گا‘ اگرچہ قریبی رشتہ دار ہو۔ القرآن ) اس کے باوجود انہوں نے اپنے والد مرحوم کے اُس دور کے حوالے سے معافی مانگی جس کے دوران وہ جنرل ضیا کے ساتھ تھے۔
عمر ایوب صاحب نے کہا ہے کہ مارشل لاء ان کے دادا نے نہیں‘ اسکندر مرزا نے لگایا تھا۔ یہ وہی بات ہے جو ہمارے گاؤں کے ایک صوبیدار صاحب کے بیٹے نے کی تھی! صوبیدار صاحب کو ملازمت کے دوران گھر کے لیے بَیٹ مین ملا ہوا تھا‘ جو فوج میں ملا کرتا ہے۔ بیٹا ان کا چھوٹا تھا۔ گُڑ بہت کھاتا تھا۔ صوبیدار صاحب نے بچے کو سختی سے منع کیا کہ گُڑ نہ کھائے۔ ایک دن چھٹی کر کے گھر آئے تو بچہ مزے سے گڑ کھا رہا تھا۔ باپ نے ڈانٹا تو کہنے لگا: چاچے (یعنی بیٹ مین) کو ماریں‘ اس نے دیا ہے۔ عمر ایوب صاحب نے بھی سارا ملبہ اسکندر مرزا پر گرا دیا۔ جیسے فیلڈ مارشل صاحب بچے تھے۔ تو کیا یہ بھی اسکندر مرزا نے کہا تھا کہ انہیں ملک بدر کر کے خود صدر کا عہدہ سنبھال لیں؟ پھر دس سال تک مطلق العنان حکمران بن کر حکومت کریں اور جاتے وقت اپنے بنائے ہوئے آئین کو خود ہی روند کر اقتدار قومی اسمبلی کے سپیکر کے حوالے کرنے کے بجائے ایک اور جرنیل کو دے جائیں؟
تاریخ کسی کی حمایت کرتی ہے نہ مخالفت! وہ تو جو کچھ ہوا ہے‘ اسے بلا کم و کاست بیان کرتی ہے۔ تاریخ کو اس بات کی بھی پروا نہیں کہ کون کس کا دادا تھا‘ کون کس کا پوتا ہے اور کون کس کا فرزند ہے! کچھ لوگ اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس کی وجہ سے ان کی آئندہ نسلوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے!! جنرل صاحب نے یقینا معاملے کے اس پہلو پر غور نہیں کیا ہو گا۔ جو کچھ انہوں نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کیا‘ وہی انہیں تاریخ میں سیاہ صفحات دلانے کے لیے کافی ہے۔ مذہبی جماعتوں کو ان کے خلاف اکسایا۔ یہاں تک کہ انہیں غدار قرار دیا۔ الیکشن میں دھاندلی کرائی۔ کراچی سے انہیں شکست نہ دلوا سکے تو اہلِ کراچی کو سزا دی گئی۔ ایوب خان کے صاحبزادے گوہر ایوب کی قیادت میں اردو سپیکنگ کمیونٹی پر حملے کیے گئے۔ غالباً یہ پہلا پٹھان مہاجر فساد تھا جو اُس وقت کی حکومت نے کرایا! مگر اس معاملے کو بھی چھوڑ دیجیے۔ ایوب خان کی فردِ عمل میں سب سے بڑا جرم مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہے۔ جو واقعہ بھی رونما ہو‘ اس کی وجوہ دو حصوں میں منقسم ہوتی ہیں۔ ایک فوری وجہ ہوتی ہے۔ دوسری اصل وجہ ہوتی ہے۔ جو کچھ یحییٰ خان‘ بھٹو اور مجیب الرحمان نے 1970-71ء میں کیا‘ وہ فوری وجہ تھی۔ اصل وجوہ وہ تھیں جو ایوب خان کی دس سالہ آمریت میں پروان چڑھیں۔ یہ کالم نگار 1967ء میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں بطور طالب علم داخل ہوا اور 1970ء تک وہیں رہا۔ اصل سوال جو مغربی پاکستانیوں سے پوچھا جاتا تھا‘ یہ تھا کہ جرنیلی دورِ حکومت کب تک رہے گا؟ ایوب خان کے جانے کے آثار مکمل طور پر مفقود تھے۔ دس سال ہونے کو تھے اور اقتدار سے ان کا جی نہیں بھرا تھا۔ انتقالِ اقتدار کا کوئی امکان تھا نہ طریق کار! کون جانشین ہو گا؟ مشرقی پاکستان یہ سوال پوچھتا تھا۔ وہ یہ سوال پوچھنے کا حقدار تھا۔ اس کی آبادی زیادہ تھی۔ اس کا حصہ فارن ایکسچینج کمانے میں زیادہ تھا۔ مگر اسے مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا تھا۔ دارالحکومت بھی وہاں نہیں تھا۔ مشرقی پاکستان کی گورنری کبھی جنرل اعظم خان کو ملی اور کبھی غلام فاروق کو۔ کتنے مشرقی پاکستانی‘ مغربی پاکستان کے گورنر لگائے گئے؟ ایک بنگالی کو گورنر لگایا بھی تو منعم خان جیسے 
Non-entity 
کو‘ جو انتہا درجے کا 
Nincompoop 
تھا اور جس سے مشرقی پاکستانی نفرت کرتے تھے۔ عسکری آمریت کے خلاف مشرقی پاکستان میں لاوا دس سال پکتا رہا۔ عوام کے ذہنوں میں! اہلِ دانش 
(intelligentsia) 
کے ذہنوں میں! طلبہ اور طالبات کے ذہنوں میں! پورے ملک میں اس سوال کا جواب‘ کہ مشرقی پاکستان سے کب کوئی صدر بنے گا؟ صرف اور صرف ایک شخص کے پاس تھا اور وہ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان تھے! تاریخ کے جس صفحے پر یہ سوال لکھا ہے‘ وہ صفحہ سیاہ رنگ کا ہے۔اُس صفحے پر فیلڈ مارشل صاحب کی تصویر ہے۔ اس صفحے کے حاشیے پر ڈھاکہ یونیورسٹی کے ان اساتذہ اور طلبہ کی لاشوں کی تصویریں ہیں جو پچیس مارچ 1971ء کے ایکشن میں بے دریغ اور بلا تخصیص مارے گئے۔
دس سال تک آمر مطلق رہنے والے فیلڈ مارشل صاحب نے اقتدار اُس وقت چھوڑا جب‘ ایک مقبولِ عام روایت کی رُو سے‘ انہوں نے طفلانِ شہر کو ایک جانور کے حوالے سے بار بار وہ نعرہ لگاتے سنا جسے یہاں لکھنا ممکن نہیں! رخصت ہوتے وقت انہوں نے اُس جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل گاڑی جس کے سینے میں وہ پورے دس سال تک خنجر گھونپتے رہے۔ انہوں نے اقتدار ایک اور مغربی پاکستانی جرنیل کے ہاتھ میں دے دیا۔ مشرقی پاکستان سے دشمنی کی یہ انتہا تھی۔
یہ ایک شام تھی! ایسی شام جو آج بھی یاد آتی ہے تو روح کی گہرائیوں سے ہچکیوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ میں ڈھاکہ یونیورسٹی کی لائبریری میں بیٹھا تھا۔ یہ پاکستان کی واحد لائبریری تھی جو ہفتے کے سات دن‘ چوبیس گھنٹے کھلی رہتی تھی۔ باہر تیز ہوا چل رہی تھی۔ لائبریری کے شیشوں سے املی اور کھجور کے جھومتے درخت نظر آ رہے تھے۔ یہ مارچ 1969ء کے آخری دن تھے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان جاتے ہوئے تختِ آمریت پر جنرل یحییٰ کو بٹھا کر ان کے سر پر تاجِ شاہی رکھ چکے تھے۔ میرا بنگالی کلاس فیلو بھی پاس ہی بیٹھا نجانے کس وقت سے اکنامکس کے 
Notes 
بنا رہا تھا۔ اب یہ یاد نہیں اس نے کہا یا میری تجویز تھی کہ چائے پی آئیں۔ اسی دوران اس نے وہ سوال پوچھا جس کا جواب‘ سچی بات ہے‘ علیحدگی کے سوا کوئی نہ تھا ''دس سال ایک جرنیل حکمرانی کرتا رہا! اب ایک اور جرنیل آ گیا ہے۔ اظہار! مجھے بتاؤ! کبھی یہ منصب کسی مشرقی پاکستانی کو بھی ملے گا!‘‘ دل چاہا اسے گلے لگا لوں اور دھاڑیں مار مار کر روؤں! مگر وہ بھی نہ ہو سکا! ایک دلگیر خاموشی کے سوا میرے دریدہ دامن میں کچھ نہ تھا!
اس سب میں عمر ایوب کا کوئی قصور نہیں! ان کی تو پیدائش ہی 1970ء کی ہے۔ تو وہ ناکردہ گناہوں کا بوجھ کیوں اٹھا رہے ہیں؟ خاندان کے بزرگوں کا احترام واجب ہے۔ اس پہلو سے ہم ان کے دادا جان کا پورا احترام کرتے ہیں۔ ہر شخص کو کرنا چاہیے۔ مگر ہمارا اُن کی خدمت میں پُرخلوص مشورہ ہے کہ محترم دادا جان کی دس سالہ آمریت اور جاتے ہوئے آئین کی افسوسناک خلاف ورزی پر قوم سے معافی مانگ لیں۔ بظاہر مشکل کام ہے مگر دل کڑا کر کے یہ کام کر دکھائیں۔ ایسا کرنے سے ان کے دل کو جو اطمینان نصیب ہو گا وہ تو ہو گا مگر قوم کی نظروں میں ان کا قد بہت بڑا ہو جائے گا۔ وہ ایک بڑے رہنما کے طور پر ابھریں گے! محترم اعجاز الحق صاحب کے لیے بھی مضمون واحد ہے!

Monday, May 13, 2024

ایک کالم کانُو صاحبان کے لیے


کانو صاحب بہت اچھے آدمی تھے۔ پڑھے لکھے اور آسودہ حال! واحد مصروفیت اخبار بینی تھی۔ اور یہ اخبار بینی ہی ان کے گھر والوں کے لیے مصیبت بنی ہوئی تھی۔
اخبار ہارڈ کاپی نہیں پڑھتے تھے۔ کمپیوٹر پر پڑھتے تھے۔ اس کی ایک خاص وجہ تھی۔ (یہ آگے چل کر آپ جان جائیں گے) ایک دو اخبارات پر قناعت نہیں کرتے تھے۔ ملک بھر کے تمام اخبارات‘ جو انٹرنیٹ پر پڑھے جا سکتے تھے‘ پڑھتے تھے۔ پڑھنے کا لفظ شاید موزوں نہیں۔ وہ اخبارات پڑھتے نہیں‘ بلکہ ایک ایک سطر‘ ایک ایک فقرہ‘ ایک ایک لفظ ماپتے اور تولتے تھے۔ بیگم صاحبہ سخت مزاج تھیں۔ ان کے سامنے بات کرنے کا یارا نہ تھا۔ بچے اپنے اپنے کام پر چلے جاتے تھے۔ بیگم پر جو غصہ ہوتا‘ اور بیگم صاحبہ کے زیر دست ہونے کی وجہ سے یاس کی جو ایک عمومی اور مستقل کیفیت تھی‘ اس کا توڑ کانو صاحب نے یہ نکالا تھا کہ جہاں جہاں کمنٹ کرنے کی گنجائش تھی‘ کمنٹ کرتے اور اندر کا سارا زہر باہر نکال دیتے۔ کالم نگار ان کا پسندیدہ شکار تھے۔ کالموں کے نیچے ایسے ایسے کمنٹ لکھتے کہ بندہ سن کر یا پڑھ کر کانوں کو ہاتھ لگائے۔ اخبار والوں سے بھی دل میں دشمنی پالی ہوئی تھی کیونکہ وہ ان کے طعن و تشنیع اور دشنام سے بھرے کمنٹس کو متوازن اور مہذب کر دیتے تھے۔ یہ بات کانو صاحب کو گوارا نہیں تھی۔ ایسے مواقع پر ان پر ایک دورہ سا پڑ جاتا۔ مرگی جیسی کیفیت طاری ہو جاتی۔ ہاتھ پاؤں مُڑ جاتے۔ منہ سے جھاگ نکلنے لگتی۔ گردن اکڑ جاتی۔ زمین پر لوٹنے لگتے۔ نیم بے ہوشی کے عالم میں اخبار والوں کے بارے میں نا زیبا کلمات کہتے۔ گھر والوں کو مصیبت پڑ جاتی۔ کئی بار ایسے مواقع پر ہسپتال لے جائے گئے۔ ہوش میں آتے تو ڈاکٹروں اور نرسوں کو بے نقط سناتے کہ جب کوئی مرض نہیں تو علاج کس چیز کا ہو رہا ہے۔
کانو صاحب نے ایک رجسٹر رکھا ہوا تھا۔ اس میں ہر کالم نگار کے لیے کچھ صفحات مخصوص کیے ہوئے تھے۔ ہر کام نگار کی ذاتی زندگی کے بارے میں جو کچھ کہیں سے ملا‘ وہاں نوٹ کیا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ ہر ایک کی عمر‘ اس کے بچوں کی تعداد‘ بچوں کے پروفیشن‘ کہاں کہاں ہیں‘ بیرون ملک ہیں تو کس کس ملک میں ہیں‘ کالم نگار نے کہاں کہاں ملازمت کی‘ کون کہاں کا ہے‘ غرض تمام ممکنہ معلومات نوٹ کی ہوئی تھیں۔ کانو صاحب کا ریکارڈ تھا کہ کبھی کسی کالم نگار کی تعریف نہیں کی۔ کوئی حکومت پر تنقید کرتا تو کمنٹ میں حکومت کے خیر خواہ بن جاتے۔ حکومت کی تعریف کرتا تو کمنٹ میں حکومت کے پرخچے اڑا کر رکھ دیتے۔ ساتھ ہی کالم نگار کو رگڑا لگاتے۔ کوئی کالم نگار پاکستان مخالف امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتا تو رجسٹر میں اس کالم نگار کے کوائف کھنگالتے۔ اگر اس کی بچی یا بچہ امریکہ میں پڑھ رہا ہوتا یا ملازمت کر رہا ہوتا تو کانو صاحب پھول کی طرح کھِل اُٹھتے۔ اللہ دے اور بندہ لے۔ کمنٹ میں کالم کے نفس مضمون کو نظر انداز کرتے ہوئے کالم نگار پر بچوں کے حوالے سے ایسے ایسے تیر‘ بھالے اور نیزے پھینکتے کہ خدا کی پناہ! ایسا کرتے ہوئے ان کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ ہوتی‘ دل اطمینان سے بھرا ہوا ہوتا اور چہرے پر بشاشت آ جاتی! اگر کوئی کالم نگار کسی سیاستدان پر تنقید کرتا تو وہ کمنٹ میں لکھتے کہ تمہیں تو اس سے بغض ہے۔ کالم نگاروں کے سروں پر وہ الفاظ اور وہ فقرے تھوپتے جو انہوں نے زندگی میں کبھی نہیں لکھے تھے۔ پھر ترنگ میں آ جاتے۔ دوستوں کو فون کر کر کے بتاتے کہ آج فلاں کالم نگار کی ایسی تیسی کر دی۔ صوبائیت اور علاقائیت بھی پھیلاتے۔ کالم نگار پنجاب کا ہوتا تو اسے پنجابی ہونے کا طعنہ دیتے۔ سندھ کا ہوتا تو سندھی ہونے کا طعنہ دیتے۔ کسی کو پوٹھوہار کے حوالے سے گالیاں دیتے۔ بہت سوں نے ان کی ای میل بلاک کر رکھی تھی مگر اس کا انہیں علم نہیں تھا۔ ای میل بلاک کر دی جائے تو ای میل کرنے والا بے خبر رہتا ہے۔
ایک دن کانو صاحب اپنے کمرے میں بیٹھے تھے۔ شام کا وقت تھا۔ ان کی بیگم اور بچے لاؤنج میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اچانک کمرے سے اونچی اونچی آوازیں آنے لگیں۔ پھر گالیاں‘ ننگی گالیاں سنائی دینے لگیں۔ گھر والوں کو گمان گزرا کہ کوئی کانو صاحب کے کمرے میں گھس کر ان سے جھگڑ رہا ہے۔ سب بد حواس ہو کر ان کے کمرے کی طرف بھاگے۔ اندر داخل ہوئے تو کانو صاحب منہ سے مغلظات بک رہے تھے اور ہاتھوں سے اپنے بال نوچ رہے تھے۔ پھر انہوں نے کمرے کی چیزوں کو ادھر ادھر پھینکنا شروع کر دیا۔ تکیہ دیوار پر دے مارا۔ گلدان سنگھار میز کے شیشے پر پھینکا‘ جو چکنا چور ہو گیا۔ بیوی اور بچوں نے بڑی مشکل سے پکڑ کر کرسی پر بٹھایا۔ پانی پلایا۔ پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگے: فلاں کالم نگار کو وٹس ایپ پر پیغام بھیجا تھا۔ جواب دینے کے بجائے اس نے بلاک کر دیا ہے۔ اس کی یہ جرأت؟ میں اسے چھوڑوں گا نہیں! یہ کہا اور غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں۔ پھر جیسے ان پر جنون کا دورہ پڑا۔ کافی دیر کے بعد ٹھنڈے ہوئے تو بیگم نے پوچھا کہ وٹس ایپ پر کالم نگار کو کیا پیغام بھیجا تھا۔ کانو صاحب نے انتہائی سادگی اور کمال معصومیت سے بتایا کہ صرف اتنا لکھا تھا کہ تم لفافہ صحافی ہو! بیگم پہلے تو خوب ہنسی اور پھر گرج کر پوچھا کہ اس گندے اور گھناؤنے الزام کے بعد وہ تمہیں بلاک نہ کرتا تو کیا تمہارے مرحوم والدین کے لیے سورہ یٰسین پڑھتا ؟ یہ بھی کانو صاحب کی اذیت رساں رگ کا خاص مشغلہ تھا۔ کبھی کالم کے نیچے کمنٹ میں لکھتے کہ تم Paid ہو۔ کبھی لکھتے کہ تم سے یہ‘ یا وہ‘ لکھوایا گیا ہے۔ مگر اب کے انہوں نے لفافہ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ اس سے ان کی طبیعت کو بہت سکون ملا تھا۔ خیر بیگم نے ڈانٹا بھی اور سمجھایا بھی! چند دن گزرے تھے کہ عدالت سے سمن موصول ہوا۔ جس کالم نگار کو کانو صاحب نے وٹس ایپ پر لفافہ صحافی ہونے کا طعنہ دیا تھا‘ اس نے پولیس اور دوسرے اداروں کی مدد سے ان کا محلِ وقوع اور گھر کا ایڈریس معلوم کرا لیا تھا۔ پھر اس نے موصول شدہ وٹس ایپ پیغام کی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا اور عدالت سے درخواست کی کہ ان سے پوچھا جائے میں نے کس سے‘ کب‘ اور کیسے لفافہ وصول کیا ہے؟ کانو صاحب کا سر گھوم گیا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایسا ہو گا۔ وہ تو اپنی آرام دہ خوابگاہ میں بیٹھ کر‘ گالیوں‘ افترا پردازیوں اور الزامات کی منجنیقوں سے پتھر پھینک پھینک کر لطف اندوز ہوتے تھے اور اس زعم میں تھے کہ کسی کو کیا خبر میں کون ہوں اور کہاں رہتا ہوں!
کانو صاحب نے وکیل کیا۔ اس نے پانچ لاکھ روپے مانگے۔ منت ترلہ کرنے کے بعد اور کہہ کہلوا کر تین لاکھ کی فیس طے ہوئی۔ وکیل نے فیس پہلے لی اور بات بعد میں کی۔ وکیل کا پہلا سوال یہ تھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ثبوت یا گواہ ہے جس کی رُو سے آپ نے کالم نگار پر لفافہ لینے کا الزام لگایا؟ کانو صاحب نے ممیاتے ہوئے جواب دیا کہ ثبوت تو کوئی نہیں! وکیل زیر لب مسکرایا۔ اسے دو اور دو چار کی طرح معلوم تھا کہ کانو صاحب پھنسے ہی پھنسے مگر تین لاکھ روپے وہ لے چکا تھا۔ عدالتی کارروائی میں وکیل نے بس ہوں ہاں کر کے اپنی موجودگی کا ہلکا سا احساس دلایا۔ دلیل کوئی نہ تھی۔ جج نے ثبوت مانگا۔ کانو صاحب گول گول دیدے گھمانے کے علاوہ کچھ نہ کر سکے۔ انہیں کالم نگار سے زبانی اور تحریری معافی مانگنی پڑی!
اپنے ارد گرد دیکھیے۔ بہت سے کانو صاحبان دکھائی دیں گے!

Thursday, May 09, 2024

گورنر سٹیٹ بینک کے نام


نوجوان پریشان تھا۔ غصے میں تھا۔ صدمے میں تھا۔ اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔ اضطراب اس کے جسم سے‘ اس کی رَگ رَگ سے‘ اس کے مساموں سے زہریلی شعاؤں کی طرح پھوٹ رہا تھا۔ وہ میرے ایک دوست کے ساتھ میرے پاس آیا تھا۔ آج کل دو کتابوں پر کام کر رہا ہوں۔ اس لیے ملنے ملانے سے گریز کرتا ہوں۔ یوں بھی زندگی جھنجھٹوں سے بھری ہوئی ہے۔ مگر میرے دوست نے کہا کہ اس نوجوان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اسے ضرور سنوں کہ اس میں نوجوان کو تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا‘ ہاں مجھے اس ملک کی پسماندگی کی ایک اور وجہ ضرور معلوم ہو جائے گی۔ نوجوان بیرونِ ملک سے آیا تھا۔ پہلی بات اس نے جو کی‘ اس کی مایوسی اور بے بسی پوری طرح بتا رہی تھی۔ ''سر! پاکستان میں میرے ماں باپ ہیں ورنہ ادھر کا رخ نہ کرتا ‘‘۔ اسے پانی پلایا‘ چائے پیش کی مگر جو کچھ اس کے ساتھ ہو رہا تھا اُس سلسلے میں مَیں کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ سوائے اس کے کہ اس کے ساتھ بغل گیر ہو کر روؤں۔
اس نوجوان نے‘ جو بیرونِ ملک ملازمت کر رہا تھا‘ کچھ عرصہ پہلے حبیب بینک میں ڈالر اکاؤنٹ کھلوایا تھا۔ سارا سال بیرونِ ملک سے ڈالر بھجواتا رہا جو اس کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتے رہے۔ اب وہ ایک ہفتے کے لیے آیا تھا کہ یہ ڈالر نکلوا کر کچھ ضروری امور سر انجام دے۔ وطن پہنچ کر دوسرے دن متعلقہ برانچ میں گیا کہ رقم نکلوائے‘ مگر برانچ نے بتایا کہ اس کا اکاؤنٹ تو بند 
(De-activate)
 ہو چکا ہے۔ پیسے نہیں نکلوائے جا سکتے۔ نوجوان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے وجہ پوچھی تو بینک نے جواب دیا کہ اس اکاؤنٹ میں ایک سال سے کوئی ٹرانزیکشن (لین دین) ہی نہیں ہوا! نوجوان نے کہا کہ ٹرانزیکشن کیوں نہیں ہوا؟ ہر ماہ ڈالر بھیجتا رہا ہوں جو میرے اکاؤنٹ میں جمع ہوتے رہے۔ اس پر بینک نے کہا کہ آپ نے جمع کرائے ہیں‘ اسے ہم ٹرانزیکشن مانتے ہی نہیں۔ چونکہ اس عرصے میں آپ نے کوئی رقم نکلوائی نہیں‘ اور ساری رقم بینک ہی میں پڑی رہی جس سے بینک کو فائدہ ہوا‘ اس لیے بینک نے اس احسان کا بدلہ یوں اُتارا ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ کو 
De-activate
کر دیا ہے۔ اب آپ رقم نکلوا ہی نہیں سکتے۔ نوجوان نے پوچھا کہ اکاؤنٹ کھولتے وقت یہ بات کیوں نہ بتائی گئی؟ پھر اکاؤنٹ بند کرتے وقت کیوں نہ بتائی؟ اس کا جواب بینک کے پاس کوئی نہ تھا۔ نوجوان چھ سات دن کی چھٹی لے کر آیا تھا۔ اکاؤنٹ کو دوبارہ 
Activate 
کرنے کے لیے ڈھیر ساری کاغذی کارروائی ضروری تھی۔ بائیو میٹرک بھی ہونی تھی۔ یہ کم از کم تین چار دن کا کام تھا۔ اس کے بعد رقم نکل بھی آتی تو نوجوان کے پاس دو دن بچتے تھے جو اس کے کاموں کے لیے کم تھے۔
یعنی آپ کے ملک کو اگر کوئی باہر سے ڈالر بھیج رہا ہے‘ جس کی آپ کو اشد ضرورت ہے تو آپ اسے سہولت پہنچانے کے بجائے اذیت پہنچا رہے ہیں۔ آپ اسے وارننگ دیتے ہیں نہ اطلاع بہم پہنچاتے ہیں‘ نہ اپنا یہ منحوس قانون بتاتے ہیں۔ ہر ماہ ایس ایم ایس کے نام پر پیسے کاٹتے ہیں تو یہ اطلاع ایس ایم ایس پر کیوں نہیں دی جاتی! ڈالر لیے جا رہے ہیں۔ جب نکلوانے کی بات کی جاتی ہے تو اچانک بتایا جاتا ہے کہ اکاؤنٹ ناکارہ ہو چکا ہے۔ اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ سب سٹیٹ بینک کا کیا دھرا ہے!! یعنی: چو کفر از کعبہ بر خیزد کجا ماند مسلمانی (کفر کعبے سے اٹھے گا تو مسلمانی کا کیا بنے گا؟)۔
ہم گورنر سٹیٹ بینک سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ سب کیا ہے؟ جب ڈالر لے رہے ہیں تو واپس دیتے وقت گردے باہر نکال کر تار پر کیوں لٹکا رہے ہیں؟ مالک کی اپنی رقم ہے۔ پانچ منٹ میں تسلی کی جا سکتی ہے کہ مالک یہی ہے۔ تین چار دن کیوں؟ تو پھر اس میں تعجب ہی کیا ہے اگر تارکینِ وطن آپ کو باہر سے رقم نہیں بھیج رہے! بجائے اس کے کہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کریں‘ لوگوں کو خوار کیا جا رہا ہے۔ اندازہ لگائیے‘ ملک کو فارن ایکسچینج دینے والوں کے ساتھ کیسا زبردست حسنِ سلوک کیا جا رہا ہے۔ واہ سٹیٹ بینک واہ!

اس نوجوان کے ساتھ ہونے والے ظالمانہ مذاق کا سن کر مجھے اپنی پڑ گئی۔ تین سال پہلے میں اور اہلیہ یوبی ایل بینک کی مقامی برانچ کے منیجر کے پاس گئے اور بتایا کہ ہم میاں بیوی مشترکہ اکاؤنٹ کھلوانا چاہتے ہیں جس میں ہم ہر ماہ اپنی نواسی کے لیے کچھ رقم ڈالا کریں گے۔ وہ چونکہ چھوٹی ہے اس لیے اس کے اپنے نام اکاؤنٹ نہیں کھل سکتا۔ہم نے منیجر کو خاص طور پر بتایا کہ اس اکاؤنٹ سے رقم نکلوائی نہیں جائے گی۔ منیجر نے اکاؤنٹ کھول دیا۔ اور اس کالے قانون کا نہیں بتایا۔ تب سے ہم اپنی حقیر استطاعت کے مطابق اس اکاؤنٹ میں ہر ماہ کچھ ڈالتے ہیں کہ بچی بڑی ہو گی تو یہ رقم اس کی تعلیم کے کام آ جائے گی۔ نوجوان کی رُوداد سن کر بینک کی اس برانچ کو فون کیا اور خود پوچھا تو معلوم ہوا کہ ہمارا اکاؤنٹ بھی 
De-activate 
کر دیا گیا ہے حالانکہ ہر ماہ رقم جمع بھی ہو رہی ہے۔ پوچھا اطلاع کیوں نہیں دی؟ اس کا جواب ان کے پاس نہ تھا۔ بھئی! اگر ایسی ہی بات ہے تو آپ کو اکاؤنٹ کھولتے وقت یہ حساس قانون وارننگ کی شکل میں لکھ کر دینا چاہیے!!
اور اکاؤنٹ کھولنا کون سا آسان ہے؟ بینک اتنی بار طلب کرتا ہے جتنی بار دانتوں کا ڈاکٹر بھی نہیں طلب کرتا۔ کئی کئی گھنٹے بیٹھنا پڑتا ہے۔ کئی کاغذوں پر دستخط! بائیو میٹرک۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ اکاؤنٹ کھولنے کی منظوری اوپر سے آئے گی۔ اس منظوری کا آپ کو کبھی نہیں بتایا جاتا۔ ہفتوں پر ہفتے گزر جاتے ہیں۔ آپ خود ہی پوچھئے تب کہیں جا کر اکاؤنٹ نمبر بتایا جائے گا۔ میرا کئی بار کا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ اکاؤنٹ نمبر ملنے تک‘ تمام روابط اور پروٹوکول کے باوجود‘ کم از کم پندرہ دن لگ جاتے ہیں۔ اسلام آباد کے ایک بہت بڑے ہوٹل کے بزنس کمپلیکس میں ایک نامی گرامی بینک ہے۔ اس میں پہلے دن حاضری ہوئی۔ ساری کارروائی ہو گئی۔ اکاؤنٹ نمبر کئی یاد دہانیوں کے ساتھ ایک ماہ بعد ملا۔ برانچ نے اس کی ذمہ داری ہیڈ آفس پر ڈالی! یہ واقعہ ایک سال پہلے کا ہے۔ بھارت میں سیونگ اکاؤنٹ تو فوراً کھل جاتا ہے۔ کسی بھی دوسرے اکاؤنٹ کے لیے زیادہ سے زیادہ چار دن درکار ہیں۔ پاکستان میں کوئی بھی کام ملک کے مفاد میں کیا جائے تو یہ طے ہے کہ کام کرنے والے کو خوب رگڑا دیا جائے گا۔ آپ نے کارخانہ لگانا ہے یا کچھ بر آمد کرنا ہے یا باہر سے ڈالر یا پاؤنڈ ملک میں بھیجنے ہیں‘ یا اکاؤنٹ کھولنا ہے یا قومی بچت مرکز میں جا کر اپنی کمائی ریاست کو دینی ہے تو ہر ممکن رکاوٹ ڈالی جائے گی۔ کئی چکر لگوائے جائیں گے‘ دھکے دیے جائیں گے‘ ہر ممکن حوصلہ شکنی کی جائے گی یہاں تک کہ ملک کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ مر جائے گا۔ بندہ کانوں کو ہاتھ لگائے گا۔ اس کے بعد دو ہی راستے ہیں‘ یا تو چُپ کرکے بیٹھ جائے اور ملک کے لیے کچھ کرنے کا خیال دل سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکال دے یا ملک چھوڑ کر بھاگ جائے !! اور دوسروں کو بھی بتا دے کہ:
بھاگ مسافر میرے وطن سے میرے چمن سے بھاگ
اوپر اوپر پھول کھلے ہیں بھیتر بھیتر آگ
اور یقین کیجیے! اس تمام سینہ کوبی اور گریہ و زاری کا نتیجہ کچھ نہیں نکلنے والا!

Tuesday, May 07, 2024

تیمور اور دیگر تارکینِ وطن


جنوری کے آخر میں تیمور واپس گیا۔ ایئر پورٹ پر‘ اندر جانے سے پہلے‘ مجھے گلے ملا تو پوچھا ''ابو! آپ کا ویزا کب لگے گا؟‘‘۔
بارہ سالہ تیمور‘ ہر روز‘ پاکستانی وقت کے مطابق‘ تین بجے سہ پہر‘ وڈیو کال کرتا ہے۔ اُس کے ہاں یہ نو بجے رات کا وقت ہوتا ہے۔ سونے سے پہلے کہانی سنتا ہے۔ یہ اس کا معمول ہے۔ پاس ہو تو مجھے اس کے پلنگ پر‘ اس کے ساتھ بیٹھ کر‘ یا نیم دراز ہو کر کہانی سنانا ہوتی ہے۔ پاس نہ ہو تو وڈیو لنک پر! اس کے ساتھ اس کا چھوٹا بھائی سالار بھی کہانی سنتا ہے۔ آسٹریلیا واپس پہنچ کر کچھ دن تک ہر روز پوچھتا رہا کہ ویزے کا کیا بنا؟ ان معاملات میں اتنی جلدی کوئی پیشرفت تو ہوتی نہیں! یہاں سے روتے ہوئے جاتا ہے۔ وہاں سے جب ہم نے واپس آنا ہوتا ہے‘ تو ہماری روانگی سے چند دن پہلے ہی کہنا شروع کر دیتا ہے کہ ایک مہینہ اور رُک جائیے۔ ابھی جنوری میں جب واپس گیا تو اس کے ابا نے بتایا کہ وہ لوگ‘ تالا کھول کر‘ خالی گھر میں داخل ہوئے تو تیمور رو پڑا اور کہنے لگا ''ہمیں پاکستان سے واپس نہیں آنا چاہیے تھا!‘‘
اب تو ما شاء اللہ بارہ سال کا ہے۔ جب چار پانچ سال کا تھا تب بھی دادا دادی کے ساتھ وابستگی کا یہ عالم تھا کہ ہر وقت ساتھ ہوتا۔ ایک بار مذاق سے کہا کہ آپ کی دادی جان کو تنگ کروں گا تو رونا شروع کر دیا۔ رات کو سونے کا وقت ہوتا اور ماں سونے کا کہتی تو آ کر میرے یا دادی کے پیچھے‘ چھپ جاتا۔ اُسی زمانے میں جب وہ چار پانچ سال کا تھا‘ ایک بار مجھے اکیلے میلبورن جانا پڑا۔ پہلی رات اتنا خوش تھا کہ تین بجے تک سویا نہ مجھے سونے دیا۔ بہت سے کھلونے میرے پلنگ پر لے آیا۔ بہت مشکل سے اس کی ماں نے سلایا۔ دوسرے دن میں واک پر جانے لگا تو ساتھ ہو لیا۔ لمبی واک کی۔ گھر واپس چلنے کا کہا تو انکار کر دیا کہ ابھی اور بھی سیر کرنی ہے۔ چلتے چلتے ایک درخت کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور کہا ''چیز‘‘۔ مجھے اُس وقت تک نہیں معلوم تھا کہ چیز 
(Cheese) 
کا لفظ اس وقت کہتے ہیں جب فوٹو کھنچوانا ہو۔ گھر آ کر بہو کو بتایا تو اس نے یہ نیا سبق پڑھایا کہ چونکہ ''چیز‘‘ کہتے وقت مسکراہٹ ظاہر ہوتی ہے اس لیے فوٹو کھینچنے والا یہ لفظ بولنے کے لیے کہتا ہے۔ گھر کے ساتھ ایک پارک تھا۔ اس میں ایک خوبصورت گزیبو 
(Gazebo)
 بنا ہوا تھا۔ یہ تیمور کی پسندیدہ جگہ تھی۔ اسے وہ '' متان‘‘ یعنی مکان‘ کہتا تھا۔ گھنٹوں وہاں کھیلتا اور واپس آنے کا نام نہ لیتا۔ وہاں سے ہٹانے کی ایک ہی ترکیب تھی کہ چلو مال میں چلتے ہیں‘ وہاں چپس کھاتے ہیں اور جوس پیتے ہیں۔ مال میں‘ ایک ریستوران کے سامنے‘ اس کی اور میری مخصوص جگہ تھی۔ میں اپنے لیے کافی منگواتا اور اس کے لیے چپس اور جوس۔ مگر وہاں سے بھی اٹھنے کا نام نہ لیتا۔ میرے پاکستان واپس آنے کے بعد‘ اس کے امی ابو اُسی مال میں اُس کے ساتھ گئے۔ وہ اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ گیا اور اپنے ماں باپ کو چپس اور جوس کا آرڈر دیا۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ دادا نے یہ عادت ڈالی ہوئی ہے۔
سکول داخل ہوا تو کلاس میں‘ اس کے علاوہ‘ جنوبی ایشیا سے ایک دو ہی بچے تھے۔ اس کی دوستی ایک بھارت نژاد بچے سے ہو گئی۔ گھر آ کر اس سے فون پر لمبی بات کرتا تو ماں نے منع کیا کہ جب سکول ہر روز مل لیتے ہو تو شام کو پھر لمبی بات کیوں؟ اس نے یہی بات اپنے دوست کو بتائی۔ دوست نے کہا کہ تمہاری اپنی لائف ہے۔ تمہاری ماں کیسے منع کر سکتی ہے۔ اس نے آ کر یہ بات ماں کو بتائی۔ تب اسے سمجھایا گیا کہ پاکستانی بچے ماں باپ کا کہا مانا کرتے ہیں اور یہ ''اپنی لائف‘‘ والی بات غلط ہے۔ بات سمجھ گیا۔ اُن دنوں پوری پاکستانی قوم پر ارطغرل والا ڈرامہ سوار تھا۔ تارکینِ وطن بھی اسی رَو میں بہہ رہے تھے۔ ( میں اُن چند پاکستانیوں میں سے ہوں جنہوں نے یہ ڈرامہ دیکھنے سے انکار کر دیا) تیمور کے گھر پر بھی ارطغرل کا راج تھا۔ اس نے کاغذ سے تلواریں بنائیں۔ چھوٹے بھائی کو بھی شمشیر زنی سکھائی۔ ارطغرل صاحب کوئی انگوٹھی ونگوٹھی بھی پہنتے تھے۔ تیمور نے دادی سے فرمائش کی کہ آسٹریلیا آئیں تو ایسی ہی انگوٹھی اس کے لیے بھی لے کر آئیں۔ دادی نے فرمائش پوری کی۔ شاید اس ڈرامے کا اثر تھا کہ بچوں کے ذہن پر ہتھیاروں کا غلبہ تھا۔ تیمور دوسری جماعت میں تھا۔ بچے ان ملکوں میں اپنی استانیوں سے بے تکلف ہوتے ہیں۔ ایک دن کلاس میں استانی نے کہا کہ سب بچے اپنے اپنے ٹیبلٹ پر فلاں مشق کریں۔ استانی نے دیکھا کہ تیمور کچھ اور ہی کر رہا تھا۔ اس نے منع کیا تو تیمور نے استانی سے کہا: I will 
make a weapon and will destroy you
۔ کہ میں ہتھیار بناکر آپ کو تباہ کر دوں گا۔ استانی نے سمجھایا بجھایا۔ والدین کے ساتھ اگلی (پیرنٹس ٹیچرز) میٹنگ ہوئی تو استانی نے اس کے والدین کو سارا واقعہ بتایا اور یہ بھی کہا کہ اس نے اس معاملے کو خود ہی سلجھا لیا تھا۔ تاہم تیمور کی امی کا کہنا ہے کہ یہ ڈائیلاگ تیمور نے ارطغرل ڈرامے سے نہیں‘ ایک انگلش فلم سے سیکھا تھا۔
اب تیمور چھٹی کلاس میں ہے۔ ابھی تک اس کا یہی مؤقف ہے کہ پاکستان آسٹریلیا سے بہت بہتر ہے۔ وہ پاکستان واپس آکر‘ یہیں رہنا چاہتا ہے۔ اسے پاکستان والا گھر‘ یہاں کے مال‘ دکانیں‘ رشتہ دار‘ سب بہت پسند ہیں۔ اس معاملے میں اس کا باپ بھی اس کا ہمنوا ہے۔ باپ پاکستان کے شنواری اور دوسرے کھانے یاد کرتا ہے‘ مگر پاکستان سے باہر رہنے والے ایسے سب پاکستانی شیر کی سواری کر رہے ہیں اور شیر کی پیٹھ سے نیچے اترنا ممکن نہیں۔ کئی قسم کی آہنی اور سنہری زنجیریں پاؤں میں پڑی ہیں۔ ہم پاکستان میں رہنے والے‘ تارکینِ وطن کے درد ناک دوراہے 
(Dilemma)
 کو نہیں سمجھ سکتے۔ جوتا خوبصورت لگتا ہے مگر صرف پہننے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ کہاں سے چُبھ رہا ہے۔ ہم‘ میرے سمیت‘ تارکینِ وطن پر طعنہ زن ہوتے ہیں کہ باہر بیٹھ کر پاکستان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ ہم غلطی کرتے ہیں! تارکینِ وطن کی پہلی نسل پاکستان کو کبھی بھی نہیں بھول سکتی! اپنی گلیاں‘ اپنی مٹی‘ اپنے شہر‘ قصبے اور قریے‘ اپنے اعزہ اور احباب‘ یہ سب کچھ بھلا دینا ممکن ہی نہیں! وہ بیرونِ ملک رہ کر بھی پاکستان کے غموں اور خوشیوں میں برابر کے شریک ہیں۔ ان کا درد بے کنار ہے۔ وطن کی یاد میں ان کے دل سے جو ہُوک اُٹھتی ہے ہم اس کی شدت سے ناآشنا ہیں! ہاں‘ ان کی اگلی نسل جو وہیں کی جَم پَل ہے‘ اس کی بات دوسری ہے۔ کچھ عرصہ پہلے آرٹس کونسل راولپنڈی میں ایک صاحب کے شعری مجموعے کی تقریب تھی۔ نام یاد نہیں مگر امریکہ یا یورپ میں مقیم تھے۔ تقریب میں موجود ایک صاحب نے ان کی شاعری میں اوزان کی غلطیوں کی طرف اشارہ کیا۔ میری باری آئی تو عرض کیا کہ غلطیاں نکالنے کے بجائے خراجِ تحسین پیش کیجیے کہ مغرب کی مصروف‘ افراتفری والی زندگی میں بھی ان حضرات نے اُردو کی بستیاں بسا رکھی ہیں۔ اُردو میں شاعری کر رہے ہیں۔ وطن کے ساتھ ذہنی رابطہ رکھے ہیں۔ کتاب اپنے ہم وطنوں کو پہنچانے اتنی دور سے آئے ہیں! غلطیوں کی نشاندہی کرنی ہے تو بزم میں نہیں‘ تنہائی میں کیجیے اور شائستگی کے ساتھ کیجیے۔
افتخار عارف کا شعر یاد آ رہا ہے:
تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

Monday, May 06, 2024

اسلام آباد کے نئے چیف کمشنر اور محترمہ عظمیٰ بخاری


وفاقی دارالحکومت میں نئے چیف کمشنر نے منصب سنبھال لیا ہے۔ ہم‘ شہر کے مکین‘ نئے والیٔ شہر کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ کسی زمانے میں دستور عجیب ہوتا تھا۔ شہر کے صدر دروازے سے علی الصبح داخل ہونے والے اجنبی کو حکومت سونپ دی جاتی تھی۔ بقول شاعر 
میں جب ساحل پہ اُترا خلق میری منتظر تھی
کئی دن ہو گئے تھے‘ بادشہ ملتا نہیں تھا
مگر یہ داستانوں کی باتیں ہیں۔ اب وہ شہر رہے نہ اُن کے صدر دروازے! اب افسر کئی چھلنیوں سے گزر کر شہر کا والی مقرر ہوتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ نئے چیف کمشنر صاحب ایک
Typical 
بیوروکریٹ کی طرح شہر کے باشندوں سے دور رہنے کی روایت پر عمل پیرا نہیں ہوں گے۔ ان کے پیشرو کو خدا خوش رکھے! اُن سے رابطہ کرنا یا ان کی توجہ حاصل کرنا جو بائیڈن سے بات کرنے سے زیادہ مشکل تھا۔ اسلام آباد کے وسطی حصے میں ایک مسئلہ آن پڑا جو ارد گرد بسنے والوں کے لیے سوہانِ روح تھا۔ بیچارے لوگ رپورٹر یا کالم نگار کو کہتے ہیں کہ‘بھئی! حکام تک ہماری بات پہنچاؤ! رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر اس حصار سے جو اُس وقت کے چیف کمشنر صاحب کے گرد قائم تھا‘ گزرنا ناممکن تھا۔ سو کالم لکھا۔ کچھ نہ ہوا۔پھر کالم ان کی خدمتِ عالیہ میں ارسال کیا۔ صاحب بہادر نے ماتحتوں کے ماتحت تک سے جواب نہ دلوایا! وہ تو بھلا ہو‘ اُس وقت کے سیکرٹری داخلہ جناب اکبر درانی کا‘ کہ ریٹائرمنٹ پر جاتے جاتے مسئلہ حل کر گئے۔ اکبر درانی بھی کیا آدمی ہیں! نایاب موتی! افسری کی خو بو نہ کسی قسم کا احساسِ تفاخر! فون کا جواب دیتے‘ بات توجہ سے سنتے! شاید ایسے ہی چند مردانِ کار ہیں جن کی وجہ سے یہ ملک‘ تلاطم میں گھری یہ بادبانی کشتی‘ چلے جا رہی ہے!! سچ تو یہ ہے کہ جو سرکاری افسر کسی سے ملتے ہیں نہ رابطہ کرنے والے کو جواب دیتے ہیں‘ احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں! اور یہ بنیادی حقیقت تو ہم سب جانتے ہیں کہ احساسِ برتری کوئی شے نہیں ہوتی! احساسِ برتری‘ اصل میں‘ احساسِ کمتری ہی کا شاخسانہ ہے! پچاس دہائیاں پہلے ہم جب سول سروس کے گھاٹ پر اُترے تھے تو نصیحت گروں نے نصیحت کی تھی کہ دو کام کرتے رہو گے تو فائدے میں رہو گے۔ایک یہ کہ ہر ملاقاتی سے ضرور ملو‘ خواہ اس کی باری دیر ہی سے کیوں نہ آئے اور سماجی رتبہ اس کا جو بھی ہو۔ اس سے درست فیڈ بیک ملے گی! ماتحت جو فیڈ بیک دیں گے وہ تحریف شدہ ہو گی‘ خالص نہیں ہو گی! دوسرے یہ کہ‘ ڈاک ہر روز کی خود دیکھو کہ یہ بھی ایک مدد گار بیرو میٹر ہے۔ ہمارے ایک باس ڈاک دیکھتے تھے تو کوئی ریمائنڈر ہوتا تھا تو اس پر لکھتے تھے :
I hate to receive reminders
۔ سکینڈے نیویا کے کسی ملک کے حوالے سے پڑھ رہا تھا کہ وہاں وزیر کی ڈاک‘ سب سے پہلے‘ صحافی کھولتے اور پڑھتے ہیں!
ہر چہار جانب سے مسائل میں گھرے اسلام آباد کے نئے چیف کمشنر مثبت شہرت کے مالک ہیں۔ پہلا سرکاری دورہ انہوں نے فیصل مسجد کا کیا ہے اور اس کی تزئین و آرائش کا کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ فیصل مسجد یقینا اسلام آباد کا اہم لینڈ مارک ہے اور اس کی مذہبی‘ ثقافتی اور معاشرتی اہمیت مسلمہ ہے۔ مگر شہر کے سلگتے مسائل وہ ہیں جن سے عوام کو سابقہ پڑتا ہے۔ میلوڈی مارکیٹ جو شہر کا دل ہے اور سوِک سنٹر کہلاتا ہے‘ غلاظت کا ایک عبرتناک ڈھیر بنا ہوا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ہم غیر ملکیوں کو یہ سوِک سنٹر فخر سے دکھاتے تھے‘ اب کوشش کرتے ہیں کہ غیر ملکی مہمان کہیں وہاں چلا نہ جائے!! یہ تیس پینتیس سال پہلے کی بات ہے‘ کینیڈا سے ایک سکھ دوست آیا۔ اس کا کہنا تھا کہ یوں تو چندی گڑھ بھی نیا اور
Planned 
شہر ہے مگر اسلام آباد صفائی کے حوالے سے بر تر ہے! اس برتری کو ہماری نا اہلی کھا گئی! میلوڈی مارکیٹ اس وقت گندگی میں ٹاپ پر ہے۔ نالیاں عفونت بھرے پانی سے اُبل رہی ہیں اور ان کے درمیان‘ لوگ ریستورانوں کے سامنے بیٹھے کھانے کھا رہے ہیں! ہر طرف گٹر ہی گٹر ہیں! نیشنل بینک والی سائڈ پر ڈھابوں کی وجہ سے ساری جگہ تھرڈ کلاس لاری اڈہ لگتی ہے! خوانچہ فروشوں نے جگہ جگہ ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنائی ہوئی ہے۔ جی پی او اور فوڈ پارک سے لے کر حبیب بینک تک‘ پورا سوک سنٹر ایک بہت بڑا
Slum 
لگتا ہے‘ کچی آبادی کا ایک بد نما محلہ! سوِک کم اور سنٹر زیادہ! گندگی کا سنٹر! 
ہم عرض کریں گے کہ چیف منسٹر‘ شہر کے اس غلیظ مرکز کا دورہ‘اپنے ماتحتوں کو بتائے بغیر‘ بھیس بدل کر‘ ایک عام شہری کی حیثیت سے کریں! اگر ان کے دورے کا علم ان کے ادارے کو یا ان کے دفتر کو ہو گیا تو خرانٹ اہلکار‘ گَرگ ہائے باراں دیدہ‘ راتوں رات‘ پوری جگہ کی شکل‘ بدل دیں گے۔ مگر یہ عارضی میک اَپ‘ افسر کے دورے کے بعد دھُل جائے گا اور دوسرے دن پھر وہی مکروہ صورتِ حال ہو گی جو تھی!
چیف کمشنر صاحب اسلام آباد کے سب سے بڑے اور سب سے پرانے بازار‘ آبپارہ‘ کا دورہ بھی ضرور کریں! یہاں محشر بپا ہے۔ سارے کے سارے فٹ پاتھ‘ سو فیصد‘ تجاوزات کے جبڑوں میں جا چکے ہیں۔ دکانوں سے زیادہ ٹھیلے ہیں۔ ٹھیلوں سے زیادہ زمین پر لگے ہوئے سٹال! چلنے کی جگہ ہے نہ رُکنے کی! صفائی عنقا ہے۔ بے ترتیبی سکہ رائج الوقت ہے! خدا کرے کہ نئے حاکمِ شہر چیلنجوں سے کامیابی کے ساتھ عہدہ بر آ ہوں! ہم تو فقیر ہیں! دیوار کے سائے میں بیٹھے خوش ہیں اور ہر سانس کے ساتھ اُس پروردگار کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے قناعت اور بے نیازی بخشی! کوئی ذاتی غرض نہیں! شہر اور شہریوں کا بھلا چاہتے ہیں! بقول میر تقی میر: فقیرانہ آئے صدا کر چلے!!
پس نوشت۔محترمہ عظمیٰ بخاری ایک منجھی ہوئی شائستہ مزاج سیاستدان ہیں۔گفتگو کرنے کا ڈھنگ جانتی ہیں۔ بحث کرتے وقت دلائل پر تکیہ کرتی ہیں۔قانون کے اونچے نیچے راستوں سے بھی آشنا ہیں! ساری باتیں درست ہیں مگر کبھی کبھی دورانِ گفتگو ایسی بات کہہ جاتی ہیں جو حقیقت کے بھی خلاف ہوتی ہے اور منطق کے بھی! چند دن ہوئے روا روی میں پانچ سو اور آٹھ سو کے سوٹ والی بات کہہ ڈالی۔ سوشل میڈیا ایسے مواقع کی تلاش میں رہتا ہے۔ پرسوں سید عمران شفقت کی بیٹھک والے پروگرام میں انہیں اس کی تشریح کرنا پڑی اور صفائی پیش کرنا پڑی۔ پرسوں پھر انہوں نے ایسی بات کہہ دی کہ بقول استاد قمر جلالوی۔
یہ ایسی بات ہے جو درگزر نہیں ہوتی 
یہ بات کہ '' (ن) لیگ کے قائد نواز شریف اس وقت پاکستان کے وزیراعظم بھی ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب بھی ہیں!‘‘ درست نہیں ہے۔ اول تو انہیں قائد کہہ کر‘ اُسی سانس میں صوبے کا وزیراعلیٰ ثابت کر کے ان کی اپنی حیثیت ہی کو نیچے لا رہی ہیں! دوسرے‘ وہ وزیراعظم ہیں نہ وزیراعلیٰ! جو وزیراعلیٰ ہے وہی وزیراعلیٰ ہے اور جو وزیراعظم ہے وہی وزیراعظم ہے۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے دفاتر سے جو احکام صادر ہوتے ہیں‘ کیا ان پر بڑے میاں صاحب کے دستخط ہوتے ہیں؟ آخر ہم شخصیت پرستی کے کنوئیں سے کب باہر نکلیں گے؟ ایسی باتیں نہیں کہنی چاہئیں جنہیں سُن کر اپنے بھی زیرِ لب مسکرانے پر مجبور ہو جائیں! ملک کے لیے کوئی ناگزیر نہیں! جب آپ دوسروں کو کلٹ
(Cult) 
کہتے ہیں تو ذرا سنبھل کر قدم رکھیے‘ کہیں خود بھی تو اسی جانب نہیں مُڑ رہے؟ و ما علینا الا البلاغ!

 

powered by worldwanders.com