Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Friday, August 11, 2017

کتنے میجر علی سلمان؟کتنے سپاہی عبدالکریم؟


روشیں لہو سے بھر گئی ہیں! سفید گلاب کے تختے سرخ ہو گئے ہیں! باغ کے درمیان چلتی نہر کی تہہ میں سنگِ مر مر نہیں‘ گوشت کے لوتھڑے نظر آتے ہیں۔
ماتم کر کر کے تھک گئے ہیں! ہمارے نوجوان ہیں کہ شہید ہوئے جا رہے ہیں! مسلسل! مادرِ وطن لہو مانگے جا رہی ہے! مسلسل! خاک ہے کہ سرخ سے سرخ تر ہونا چاہتی ہے!
میجر علی سلمان کا جنازہ پرسوں شام اُس کے  دلگیر باپ نے پڑھا اور الحمد للہ کہا! حوالدار غلام نذیر‘ حوالدار اختر‘ سپاہی عبدالکریم کے بچے یتیم ہو گئے! مائیں کلیجوں پر پھول کاڑھ رہی ہیں! سہاگ اپر دیر کی مٹی میں مل گئے‘ شفق سرخ تھی۔ پھر یہ سرخی غائب ہو گئی۔افق پر زمین اور آسمان ایک ہو گئے۔ خاکِ وطن کی نہ مٹنے والی پیاس نے چار جوان عورتوں کو آن کی آن میں بوڑھا کر دیا! یہ سب کیوں؟ یہ سب کس لیے؟
کارگل اور سیاچین کی چوٹیوں پر‘ ان برفانی مقتلوں میں جہاں موت اپنا پرچم لہرائے کھڑی ہے‘ سفید برف کو دیکھ کر آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں۔ ہاتھ جھڑ جاتے ہیں! راتوں کو قیامت خیز طوفانی ہوائیں خیمے اکھاڑ لے جاتی ہیں! جوان وہاں قائم ہیں! پتھر کی سلوں کی طرح! خیرہ ہوتی آنکھوں اور جھڑے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ!کس لیے؟
وادی ¿ نیلم کے ساتھ‘ سرحدی مورچوں میں‘ آگ اور خون کے بستر بچھے ہیں جن پر بیٹے باپ‘ شوہر اور بھائی آرام کرتے ہیں! پتھروں کے تکیے ہیں۔ سلوں کے گدّے ہیں! غبار صورتیں تبدیل کر دیتا ہے! گولیوں کی بوچھاڑیں ہیں! کیوں؟کس کے لیے۔؟
اپردیر سے لے کر میران شاہ تک مہمند کی سرحد سے لے کر جنوبی وزیرستان کے سیاہ بنجر پہاڑوں تک سینے تنے
 ہوئے ہیں۔ گرد کے مرغولے اٹھتے ہیں! بگولے چکّی کی طرح گھومتے ہیں! دنیا کی پیچیدہ ترین‘ صعوبتوں سے بھری سرحد پر پاک فوج کے جوان زندگیاں بے آب و گیاہ پہاڑوں کے دامن میں بچھائے‘موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کب سے کھڑے ہیں! پاﺅں میں لرزش نہیں! آنکھیں جھپکتی نہیں! ثابت قدم! چٹانوں میں مل کر چٹان ہو گئے! بارود پھٹتا ہے! جسم گرتے ہیں! سبز پرچم خون مانگتا ہے! خون حاضر ہے! کیوں؟ کس کے لیے؟۔
ستر ہزار سے زیادہ عفت مآب خواتین مشرقی پنجاب میں رکھ لی گئیں! بیل گاڑیوں پر رینگتے قافلے لٹ گئے ٹرینیں لاشوں سے اٹ گئیں! بچے ماﺅں سے‘ بیویاں شوہروں سے‘ بچھڑ گئیں! کراچی کی بغل میں ماڑی پور کے ریتلے ٹیلوں کے پاس‘ مہاجرین کی حالت دیکھ کر قائد اعظمؒ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے! جاگیروں کے مالک ‘ زمینوں کے آقا ‘ نواب زادہ لیاقت خان نے آخری ہچکی لی۔ پنڈی کے کمپنی باغ میں پاکستان کو خدا کی حفاظت میں سونپا تو ملکیت میں مکان کوئی نہ تھا! اس شخص نے جس کی دیانت پر پٹیل جیسا خونخوار دشمن بھی انگلی نہ رکھ سکا‘ ایک ایک پائی کی حفاظت کی اپنی جان کو قوم خزانے سے الگ رکھا! کیوں؟ آخر کس لیے؟
پولیس کے سپاہی فرنٹ لائن پر ہیں! دہشت گردی کے سامنے تنی ہوئی فرنٹ لائن پر ! شہادتوں کا شمار مشکل ہے! ہمارے سکول بھک سے اڑ گئے، ہمارے مزار مٹ گئے‘ ہماری مسجدیں شہید ہو گئیں! ہمارے شہریوں کے پرخچے اڑ گئے! کیوں؟ کس کے لیے؟
قوم قربانیاں دے رہی ہے! دیئے جا رہی ہے! مگر کیوں؟کس کے لیے؟
کیا اس لیے کہ مورچوں کے اس طرف ‘ ملک کے اندر‘ لوٹ مار کا بازار گرم رہے؟ حکمران دبئی میں اقامت پذیر ہوں؟ مری میں نظاروں سے لطف اندوز ہوں‘ پھر لندن چلے جائیں ایک عید بھی خاک میں اٹے ہوئے جوانوں کے ساتھ نہ منا سکیں! ایک بھی شہید کی بیوہ کے سر پر ایک بھی یتیم بچے کے رخسار پر ہاتھ نہ رکھ سکیں! دولت کے شمار سے فرصت نہ ہو! آف شور کمپنیوں کے ڈھیر ! لندن! جدہ! نیو یارک! دبئی کے محلات!! ایک ایسا پُر تعیش طرزِ زندگی جسے مغربی ملکوں کے حکمران خواب میں بھی نہ دیکھ سکیں!!

بٹ چکا ہے۔ یہ ملک بٹ چکا ہے۔ قوم دو حصوں میں منقسم ہو چکی ہے! ایک طرف فوج کے جوان ہیں جو نپی تلی تنخواہ پر اپنے کنبوں کو پال رہے ہیں، ایک طرف شہیدوں کے خاندان ہیں جو محدود پنشنوں پر زندگی کی سیاہ رات کو پار کرنے کی تگ و دو میں لگے ہیں۔ کسان ہیں جو ان فصلوں کا بھی لگان دے رہے ہیں جو ابھی کٹی نہیں ہیں! بھٹوں پر کام کرنے والے کنبے ہیں جو نسل در نسل قرضوں میں بندھے ہوئے غلام ہیں! سرکاری سکولوں کے اساتذہ ہیں، مدارس میں پڑھانے والے علماءہیں جو قوتِ لایموت پر گزر بسر کر رہے ہیں۔ ذہین و فطین طلبہ ہیں جو وسائل نہ ہونے کے باعث اعلیٰ تعلیم کے خواب آنکھوں میں بسائے کلرک لگ جاتے ہیں! ایک اوسط پاکستانی کی ساری عمر۔ جی ہاں۔ ساری زندگی‘ ایک مکان۔ صرف ایک مکان بنانے کا سوچ سکتی ہے زندگی بھر کی کمائی اسی کی نذر ہو جاتی ہے!
دوسری طرف وہ طبقہ ہے جس کی پانچوں گھی میں اور سر کڑھائی میں ہے۔ اس طبقے میں سیاست دان اور حکمران سر فہرست ہیں! ایک ایک وزیر‘ ایک ایک منتخب نمائندہ قوم کو کروڑوں میں پڑتا ہے۔ سرکاری رہائش گاہیں! علاج معالجہ‘ اندرون ملک‘ اور بیرون ملک جہازوں کے ذریعے آمدو رفت‘ ہزاروں گاڑیاں ان میں جلنے والا ایندھن! سب کچھ سرکاری خزانے سے !! ایک ایک کی حفاظت پر متعین کئی کئی پولیس کے جوان اور ان کی موبائل گاڑیاں! ہر زوجہ کے لیے الگ محل‘ ہر محل کو سرکاری رہائش گاہ کا درجہ! پورے پورے خاندان قومی خزانے پر پرورش پا رہے ہیں! بیٹوں اور بیٹیوں کے لئے سرکاری پروٹوکول ! زکام ہوتا ہے تو چیک اپ کے لیے لندن کا رُخ کرتے ہیں! خدا کا اتنا خوف نہیں کہ بچوں کا نکاح حرم میں کرواتے ہیں تب بھی سرکاری جہازوں کے رُخ موڑ لیتے ہیں! ریاست اور ذات کے درمیان کوئی لکیر نہیں! یہاں تک کہ ایک مدہم مٹتی لکیر تک نہیں نظر آتی!
سابق وزیر اعظم نے ریلی میں چار حکومتوں کے وسائل جھونک دیئے ہیں۔ وفاق پر ان کے حلقہ بگوشوں کا قبضہ ہے۔ پنجاب اپنے خاندان کی مٹھی میں ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر وفاداروں کے پاس ہے!
میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ صرف دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے کے دو ہزار ملازمین اور سات سو گاڑیاں ریلی میں شامل ہیں۔ دوسرے وفاقی اور صوبائی محکموں کی خدمات کا اسی سے تخمینہ لگایا جا سکتا ہے! بازار بند کرا دیئے گئے ہیں۔ میٹرو بس معطل ہے! ملک کی عدلیہ کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے! آئین اور قانون کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں!
زرداری صاحب پانچ برس ایوانِ صدارت میں متمکن رہے۔ ایوان سے باہر دھماکے ہوتے رہے۔ جسموں کی بوٹیاں اُڑتی رہیں‘ خون بہتا رہا‘ ایک بار بھی باہر نہ نکلے۔ اندر بیٹھ کر ”سیاست“ کرتے رہے۔ سیاست کیا تھی‘ فلاں کو ساتھ ملا لو‘ فلاں کو دور کر دو‘ اس سے پہلے شوکت عزیز‘ پلاسٹک کا وزیر اعظم شہیدوں کے لہو پر پلتا رہا۔ بہادری کا یہ عالم تھا کہ سرکاری محل سے دارالحکومت پولیس کے سربراہ کو فون کیا کہ ایک ایسی پہاڑی بھی محل سے دکھائی دے رہی ہے جس پر بندوق بردار محافظ نہیں ہے! منصوبہ کراچی کا بھی ہوتا تو افتتاح ایوان وزیر اعظم میں کرتا! خاندانی ”وقار“ کا پاس اتنا تھا کہ ملک سے بھاگتے وقت وہ تحائف بھی ساتھ لے گیا جو سرکاری توشہ خانے کی ملکیت تھے!
کتنے علی سلمان‘ کتنے غلام نذیر‘ کتنے اختر کتنے سپاہی عبدالکریم خون دیں گے؟ کس کے لیے؟

Monday, August 07, 2017

ناپختگی صرف سیاسی تو نہیں!


کتنے ہی سال ہو گئے تھے جان فرانسس کو نیویارک میں رہتے ہوئے۔ ایک سیٹ روٹین تھا۔ مقررہ معمولات تھے۔ بیگم خوش تھی۔ بچے دنوں اپنی اپنی تعلیم میں مصروف تھے۔ ایک معتدل دوپہر تھی‘ سردی نہ گرمی‘ جب اسے اطلاع دی گئی کہ کمپنی نے اسے لاس اینجلز والے دفتر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گھر کا سامان اکٹھا کرنے اور پیک کرنے کا کام اس خاندان کے لیے ڈراﺅنا سپنا بالکل نہ ثابت ہوا۔ جان فرانسس ہمیشہ تین قمیضیں اور تین پتلونیں رکھتا۔ جب بھی چوتھی قمیض خریدتا‘ تین میں سے ایک ”سالویشن آرمی“ کو ہدیہ کردیتا۔ سالویشن آرمی بین الاقوامی خیراتی ادارہ ہے جسے چرچ چلاتا ہے۔ اسی طرح اس کی بیوی کے پاس بھی چار پانچ جوڑے تھے۔ کچھ کتابیں تھیں! ایک چھوٹا سا کارٹ (چھکڑا) انہوں نے اپنی گاڑی کے پیچھے باندھا۔ سامان رکھا اور چار ہزار کلومیٹر دور لاس اینجلز چل پڑے۔
ہاں! ان ملکوں میں یہ سہولت ہے کہ گھر جب کرائے پر لیتے ہیں تو اس میں ڈش واشر‘ کپڑے دھونے کی مشین‘ چارپائیاں اور دیگر ضروری سامان موجود ہوتا ہے۔ یوں بھی‘ سامان فروخت کرنا اور استعمال شدہ گھریلو سامان خریدنا چنداں مشکل نہیں۔ کچھ ماہ پہلے آسٹریلوی پارلیمنٹ کے حزب اختلاف کے رہنما نے ایک پرانا ریفریجریٹر اپنے گھر کے لیے خریدا۔ ”ایبے“ اور ”گم ٹری“ جیسی تنظیمیں سامان خریدنے اور فروخت کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ آپ نے شہر چھوڑنا ہے۔ ایبے یا گم ٹری میں اشتہار دیجیے۔ دیکھتے دیکھتے سامان بک جائے گا۔ نئے شہر میں اتریں تو خرید لیجیے۔
آپ کا کیا خیال ہے اوسط درجے کے ایک پاکستانی خاندان کو لاہور سے کراچی منتقل ہونا پڑے تو کیا سماں اور کیسا منظر ہوگا۔ پریشانی کا وہ عالم ہو گا کہ میاں بیوی لرز رہے ہوں گے۔ بچوں کو الگ مصیبت کا سامنا ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ گھر میں سامان ایک خاندان کے لیے نہیں‘ اتنا زیادہ ہے کہ کئی خاندانوں کی کفالت کے لیے کافی ہوگا۔ کراکری کے انبار‘ اکثر اب تک استعمال ہی نہیں ہوئے۔ میاں کے جوتوں کے سات تو بیوی کے دس بارہ پندرہ جوڑے۔ الماریاں ملبوسات سے بھری ہوئیں۔ پہلے تو نام نہاد سیل کی اطلاع اخبارات سے ملتی تھی اب خاتون خانہ کو ایس ایم ایس یا وٹس ایپ کے ذریعے معلوم ہو جاتا ہے اور خبر ملتے ہی وہ چل پڑتی ہے۔ وہاں ایک طویل قطار میں کھڑی ہو کر سیل سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ قطار میں آگے پیچھے سب وہ خواتین ہیں جنہیں مزید ملبوسات کی قطعاً ضرورت نہیں‘ مگر چونکہ سیل لگی ہوئی ہے اس لیے خریداری ضروری ہے۔ گھر کے کاٹھ کباڑ سے جان چھڑانے کا ہمارے ہاں رواج ہی نہیں۔ جو شے ٹوٹ جائے‘ اوپر ممٹی میں ذخیرہ کرلیجیے۔ ہو سکتا ہے سو دو سو برس بعد کام آ جائے۔ پلنگ پوشوں سے صندوق بھرے ہیں۔ فرنیچر زیادہ ہوتے ہوتے پورچ تک آ گیا ہے مگر کم نہیں ہوتا۔ دو تین صندوق تو جہیز کے سامان سے بھرے ہیں۔ نانی اور پرنانی کی چادریں یادگار پڑی ہیں۔ کیڑا لگ جائے یا وقت کی طوالت سے گل سڑ جائیں‘ کسی کو دینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ یہ ہے وہ سٹائل جس کی وجہ سے گھر کی شفٹنگ ڈراﺅنا خواب لگتا ہے۔ ٹرکوں پر ٹرک آتے ہیں۔ تھکاوٹ‘ عدم اطمینان‘ سراسیمگی‘ عشروں کے جمع شدہ سامان کے ٹوٹنے اور گم ہو جانے کا ڈر۔ آلام و افکار سے جان ہلکان ہو جاتی ہے۔ نئے شہر جا کر مزید سازوسامان اکٹھا کرنے کا جوش از سرنو بیدار ہوتا ہے۔
اب جب بچے کالج یونیورسٹی میں پہنچتے ہیں تو واویلا برپا ہوتا ہے کہ فیسیں زیادہ ہیں‘ تعلیم مہنگی ہے‘ کیا ہوگا‘ کمانے والا ایک ہے‘ اب وہ ٹانگے کے گھوڑے کی طرح ادھر ادھر دیکھے بغیر جت جاتا ہے۔ ڈبل شفٹ لگاتا ہے۔ بزنس میں ہے تو بزنس کو دوگنا کرنے کے لیے فکر مند ہوتا ہے۔ ملازمت میں ہے تو پارٹ ٹائم کچھ اور مصروفیات تلاش کرنے کے درپے ہے۔ بچت آپ نے کی نہیں‘ سیل کا اشتہار دیکھا تو چل پڑے۔ گھر میں ضرورت سے زیادہ سامان اتنا ہے کہ اس کی مالیت کا تخمینہ لگایا جائے تو کم از کم یونیورسٹی کی ساری پڑھائی جتنا ضرور ہوگا۔
چینی تمام ہی ایسے سگھڑ ہوں گے مگر کچھ دن ہانگ کانگ میں رہ کر دیکھا کہ وہاں کے چینی خاندان منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ہر منصوبے کے لیے بینک میں الگ اکاﺅنٹ کھول لیتے ہیں۔ مثلاً بچے کی تعلیم ایک پراجیکٹ ہے۔ اس کے لیے الگ اکاﺅنٹ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد کھول لیں گے۔ دنیا کی سیاحت (ورلڈ ٹور) کرنا ہے تو اس پراجیکٹ کاکاﺅنٹ الگ کھولا جائے گا۔ اپنا اپارٹمنٹ خریدنا ہے تو بیس سال پہلے منصوبہ بندی شروع کردیں گے۔ اس کے لیے الگ اکاﺅنٹ کھلے گا۔ پھرجیسے ہو سکا‘ جتنی استطاعت ہوئی‘ اس میں رقم ڈالتے گئے۔ قطرہ قطرہ بہم شود دریا۔
سابق برطانوی وزیراعظم جان میجر کے بارے میں خبر چھپی تھی کہ جوتوں کا ایک جوڑا اٹھارہ سال تک پہنچا۔ وضاحت نہیں تھی مگر تاثر خبر سے یہی ملا کہ ایک ہی جوڑا تھا۔ الہٰکم التکاثر کی عملی تفسیر جس قدر ہمارے ہاں نظر آتی ہے‘ کم ہی کہیں اور ہوگی۔ خواتین فخر سے بتاتی پھرتی ہیں کہ میرے گھر میں تو پچاس یا سو افراد کے کھانے کے برتن‘ کراکری اور سونے کے لیے بستر موجود ہیں۔ یہ پچاس یا سو لوگ زندگی میں کتنی بار اکٹھے ہوں گے؟ کسی بھی موقع کے لیے بازار سے کرائے پر ہر شے مل جاتی ہے۔ پہلے زمانوں میں براتیں آ کر رات کو قیام کرتی تھیں‘ اب وہ رواج بھی ختم ہو گیا ہے۔ تیز رفتار ذرائع آمدورفت نے اسی دن کی واپسی ممکن کردی ہے اور سہل بھی۔
تیس چالیس برس پہلے بچت کا اچھا خاصا رجحان تھا۔ بچے غلوں میں سکے اکٹھے کرتے تھے۔ مردوں پر کوئی افتاد پڑتی تھی‘ کوئی مقدمہ سر پر آ پڑتا تھا یا شادی کا موقع ہوتا تھا تو نانیاں دادیاں قرآن پاک کے غلاف سے جمع شدہ پونجی نکال کر مرد کے حوالے کردیتی تھیں جو اچھی خاصی ہوتی تھی۔ بچے اب اپنی ساری پاکٹ منی جَنک فوڈ پر ضائع کرتے ہیں۔ یہ شوق لڑکپن اور پھر جوانی میں بھی ساتھ رہتا ہے۔ گھر میں روٹی بھی ہے اور سالن بھی‘ دال بھی ریفریجریٹر میں رکھی ہے اور چاول بھی‘ مگر پیزا کا آرڈر دیا جاتا ہے۔ رات کے بارہ ایک بجے گھنٹی بجتی ہے۔ ایک نوجوان موٹرسائیکل پر ”ڈیلیوری“ کرنے دروازے پر کھڑا ہے۔ بچت خاک ہوگی؟
دنیا کی سیر تو دور کی بات ہے‘ اپنے ملک کی سیاحت کا بھی کبھی خیال نہیں آتا۔ لاہور اور اسلام آباد کے کتنے بچوں نے سمندر دیکھا ہے؟ کراچی اور حیدرآباد کے کتنے بچوں نے شمالی علاقوں کے پہاڑوں کی سیر کی ہے؟ پانچ یا دس فیصد سے زیادہ قطعاً نہیں۔ یہ ہماری ترجیحات ہی میں شامل نہیں۔ ساری زندگی اس فکر میں گُھل جاتی ہے کہ مکان عالی شان بنے اور گاڑی بڑی سے بڑی ہو۔
اپنے ملک کی سیاحت سے یہ جو غفلت ہے اس کی ذمہ داری کا بھاری حصہ حکومتوں اور حکومتی اداروں کے سر بھی پڑتا ہے۔ سیاحت وہ شعبہ ہے جس کی طرف کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ آپ مری ایبٹ آباد سے لے کر گلگت چترال تک کھوج لگا لیں‘ ڈھنگ کے ریستوران ہیں نہ ہوٹل نہ موٹل نہ وائی فائی کی سہولیات۔ نجی شعبہ بھی مردہ کا مردہ ہی رہا۔ کیا کبھی کوئی اشتہار کسی کمپنی کا نظر پڑا ہے؟ جس میں یہ ترغیب دلائی جا رہی ہو کہ کراچی آئیے‘ سمندر کی سیر کیجیے‘ شہر کے اہم مقامات دیکھیے‘ ٹھہرنے کے لیے فلاں فلاں سہولیات حاضر ہیں۔ کوئی ایک کمپنی بھی ایسی نہیں جس پر اعتماد کر کے سفر اور قیام کے جملہ انتظامات اسے سونپ دیئے جائیں اور بے فکری سے نکل کھڑے ہوں۔ بددیانتی‘ وعدہ خلافی اور دروغ گوئی کا یہ عالم ہے کہ مذہبی سفر بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ عمرے کے لیے یہاں جب پیشگی رقم لی جاتی ہے تو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ قیام و طعام اور حرم تک کا فاصلہ جو بتایا گیا تھا‘ حقیقت اس سے بالکل مختلف نکلی۔ احتجاج کریں تو کیسے؟ اور کس سے؟ شنوائی ہے نہ تلافی۔
یہ تو قدرت کا انعام ہے کہ سیاحت کے شعبے سے مکمل غفلت برتی گئی‘ مگر پھر بھی دنیا بھر سے کوہ پیما آتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ ان کی مجبوری ہے۔ سربفلک چوٹیاں جن ملکوں میں پائی جاتی ہیں‘ ان میں پاکستان سرفہرست ہے۔ اندازہ لگائیے کہ اگر بھرپور توجہ دی جاتی‘ سیاحت کو انڈسٹری کا مقام دیا جاتا‘ حکومتی سطح پر منصوبہ بندی ہوتی‘ نجی شعبے کو رعایتیں دے کر ساتھ ملایا جاتا تو سیاحت ہمارے زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہوتی۔ پاکستان کو شہرت اور عزت الگ ملتی۔
فرد ہے یا ادارہ‘ نجی شعبہ ہے یا حکومت‘ ہمارے رویے رجعت قہقری کا سبب ہیں۔ نظر دور تک دیکھنے سے قاصر ہے۔ ترجیحات طے کرتے وقت دوراندیشی سے کام لیا جاتا ہے نہ ہی وژن ہے۔ لگتا ہے سیاسی پختگی کی طرح سماجی پختگی کی منزل بھی دور ہے۔

Friday, August 04, 2017

پیش کر غافل!عمل کوئی اگر دفتر میں ہے!!


وہ بوڑھا یاد آ رہا ہے جو بہرا تھا۔ مگر اپنے مطلب کی بات ‘ کتنی ہی آہستہ کیوں نہ ہو‘ سن لیتا تھا!
اہلِ سیاست کو بوڑھے کی یہ ادا اس قدر بھائی کہ اسے اپنا ہی لیا۔ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑواکڑوا تُھو، ایک سیاست دان نے باقاعدہ آہ و فغاں کی ہے کہ پارلیمنٹ سب سے کمزور ادارہ ہے اور یہ کہ جس کا دل چاہتا ہے پارلیمان پر چڑھ دوڑتا ہے!
ہنسی آتی ہے! معصومیت پر نہیں! اس بہرے پن پر جو خوب موقع شناس ہے! سبحان اللہ! کیا انصاف ہے آپ کا! پاناما کا ہنگامہ ملک سے باہر شروع ہوا۔ عدالت نے وکیلوں کو سنا اور آرام و اطمینان سے سنا! پھر دو ججوں نے فیصلہ سنایا‘ تین نے مزید وقت دیا۔ اتنا وقت دیا کہ وکیلوں کے پاس مزید بات کرنے کو کچھ نہ رہا۔ پھر قانون کے مطابق نااہل قرار دیا۔ اس میں پارلیمان کی حق تلفی ہو گئی! کس طرح؟؟
ایک عرصہ سے جمہوریت اور پارلیمان کے لیے بزعمِ خود ”جہاد“ کر رہے ہیں۔ مگر وزیر اعظم آٹھ آٹھ ماہ پارلیمان میں نہ آئیں اور سینیٹ کو ایک برس سے بھی زیادہ عرصہ تشریف آوری سے نہ نوازیں تو بوڑھا بہرہ بنا رہتا ہے۔ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ‘ صوبائی اسمبلی کو پرِکاہ کی حیثیت نہیں دیتا۔ سال میں شاید ایک آدھ بار اُدھر کا رُخ کرتا ہے منتخب اداروں کی یہ توہین‘ یہ ناقدری‘ یہ عملی تضحیک کبھی نہیں نظر آتی۔ عدلیہ ایک مجرم کو سزا سنائے تو پارلیمان کی عصمت خطرے میں پڑ جاتی ہے!
کون سا اہم فیصلہ پارلیمان میں ہوا ہے؟ کیا پارلیمان کو معلوم ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں 35ارب ڈالر کا قرضہ ملک کی کُبڑی پیٹھ پر لاد دیا گیا ہے؟ کتنی دفعہ پارلیمان نے اس قرضے کی تفصیلات مانگی ہیں؟ نو ارب ڈالر اس میں سے مبینہ طور پر مل ہی نہیں رہے کہ کہاں گئے ہیں؟ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ کتنی بار پارلیمان میں موضوعِ بحث بنا ہے؟ خارجہ پالیسی پر پارلیمان نے گزشتہ ایک برس میں کتنی بار بحث کی ہے؟ سی پیک کا منصوبہ‘ اس کی اصل دستاویزات ‘ چین کے ساتھ معاہدہ‘ کیا یہ سب پارلیمان میں پڑھا اور دیکھا گیا؟ کیا اس پر شق وار بحث ہوئی۔ پارلیمان کو تو یہ تک نہیں معلوم کہ اورنج ٹرین لاہور کا منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے یا نہیں؟ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ ‘ جب ملک کے وزیر اعظم کے ہمراہ ملکوں ملکوں پھرتا رہا اور باقی وزرائے اعلیٰ کو گھاس تک نہ ڈالی گئی تو پارلیمان کہاں تھی؟ کیا کبھی سینیٹ نے‘ جس کے چیئرمین صوبوں کے حقوق کے بزعم خود‘ سب سے بڑے چیمپئن بنتے ہیں اس دھاندلی پر احتجاج کیا؟
کیا پارلیمان کو قطر کے ساتھ گیس کے کیے گئے معاہدے کا علم ہے؟ کیا پارلیمان میں اس پر بحث کی گئی ؟ کیا پارلیمان کو جرا ¿ت ہوئی کہ حکومت سے یہ معاہدہ مانگتی اور اس کی شفافیت یا کثافت پر گفتگو کرتی؟
اور یہ بھی بتا دیجیے کہ پارلیمان کے کتنے فیصد ارکان سال میں کتنی بار بولتے ہیں؟ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ملکی بجٹ پر دو فقرے ڈھنگ سے نہیں بول سکتے!جنہیں کیپیٹل اور ریونیو کا فرق نہیں معلوم!جنہیں یہ نہیں پتہ کہ گرانٹ کس چڑیا کو کہتے ہیں اور ترقیاتی بجٹ کون سا بجٹ ہے؟ یہ وہ حضرات ہیں جو یہ بجٹ”پاس“ کرتے ہیں!!
ان سے ذرا پوچھا جائے کہ زرعی اصلاحات اور زرعی آمدنی پر ٹیکس نہ لگائے جانے پر پارلیمان نے گزشتہ دو یا چار برس میں کتنی بار بحث کی ہے؟ آج آپ کو نظر آنے لگا ہے کہ ”ہر کوئی پارلیمان پر چڑھ دوڑتا ہے“ ! حکومت کا وزیر اعظم اور اس کے عمائدین کی ترجیحات میں پارلیمان کا لفظ ہی موجود نہیں! مگر یہ سب کچھ آپ کو نہیں معلوم کہ آپ بہرے ہیں!
آپ صوبوں کے حقوق کے مجاہد ہیں! آپ پارلیمنٹ میں جمہوریت کی خاطر روپڑنے کے لیے مشہور ہیں! آپ کا اپنا تعلق جس صوبے سے ہے‘ اس کا صدر مقام تو دبئی میں ہے! کیا اس پر آپ کو کچھ دُکھ نہیں ہوا؟ ابھی تو کل کے اخبارات نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ کو دبئی میں طلب کیا گیا ہے؟کیا یہ صوبائی خود مختاری ہے؟ کیا آپ اپنی مقدس پارلیمان کے ذریعے یہ استفسار کرنا پسند فرمائیں گے کہ گزشتہ چار برسوں میں دبئی آنے جانے پر حکومتی عمائدین نے صوبے کے خزانے سے کتنا روپیہ خرچ کیا ہے؟ کیا آپ میں اتنی ہمت اور جرا ¿ت ہے؟ کیا آپ ایک قرار داد میں اس ناروا خرچ کی مذمت کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کی پارلیمان حکم جاری کرے گی کہ صوبے کے معاملات غیر ملک سے نہیں‘ صوبے ہی کے کسی شہر سے چلائے جائیں؟ نہیں! آپ ایسا نہیں کریں گے؟ آپ ایسے تمام مواقع پر منقار زیر پر رہتے ہیں!
پوپ مسلمان ہونے کی آرزو کر سکتا ہے! ٹرمپ‘ اوباما کے ہاتھ پر بیعت کر سکتا ہے! بھارت مقبوضہ کشمیر سے دستبردار ہو سکتا ہے! کراچی کے ساحلوں سے ٹکرانے والا سمندر‘ اُٹھ کر‘ ہمالیہ سے ہوتا ہوا‘ سائبیریا کا رُخ کر سکتا ہے مگر ان کے دہن مبارک سے کرپشن کے خلاف ایک جملہ تو دور کی بات ہے‘ ایک لفظ تو معجزہ ہے‘ ایک اُونہہ بھی نہیں سنی جا سکتی! جب حجاج کے جسموں سے احرام نوچے گئے‘ جب ایفی ڈرین کے معاملات نے افق سے افق تک منظر نامے کو ڈھانپ لیا‘ جب ترکی کی خاتون اول کا سیلاب کے لیے دیا ہوا ہار ہڑپ کر لیا گیا اور ملک پر گھڑوں پانی پڑ گیا‘ تو یہ حضرت بہرے بنے رہے! پھر جب کرپشن کا منبع و مخرج ملتان سے گوجر خان منتقل ہوا اور سکینڈلوں سے اخبارات کے صفحے سیاہ ہو گئے اور الیکٹرانک میڈیا کی آوازوں سے فضائیں بھر گئیں تو اس جمہوریت کے رسیا سیاست دان نے کچھ سنا ہی نہیں!
جمہوریت’ اللہ اللہ! کیا یہ جمہوریت ہے کہ باپ کے بعد پارٹی وراثت میں بیٹی کو ملی انکل فارغ کر دیئے گئے۔ پھر یہ ورثہ داماد کو منتقل ہوا۔ داماد نے بہن کو آل اِن آل قرار دیا‘ اب سفید سروں اور سفید مونچھوں داڑھیوں والے عمر رسیدہ سیاست دان ایک طفلِ نوخیز کے سامنے دست بستہ ہیں! یہ حقیقت تاریخ میں ریکارڈ پر ہے کہ اس نو آموز بچے نے دبئی میں طلب کیا تو عمریں سیاست میں پگھلا دینے والے اور پارٹی کی خدمت کر کرکے کمر جُھکا دینے والے سیاست دان دُبئی چل پڑے! عالی جاہ! خدا کا نہیں تو خلقِ خدا ہی کا خیال کر لیجیے! جمہوریت ! صوبوں کے حقوق! پارلیمان کا تقدس!  
یہ گھڑی محشر کی ہے‘ تو عرصہ ¿ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
کس کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں آپ جب فرماتے ہیں کہ پارلیمان پر ہر کوئی چڑھ دوڑتا ہے؟تین دن پہلے جب دو ہزار غیر متعلقہ افراد‘ بغیر کسی پاس‘ کسی اجازت نامے کے‘ پارلیمان پر چڑھ دوڑے تو جناب کہاں تھے؟
پارلیمنٹ کی حرمت کے سلسلے میں آپ اتنے حساس ہیں تو برطانیہ‘ امریکہ اور دوسرے جمہوری ملکوں کے پارلیمنٹرین جیسے ارکان پیدا کریں۔ ایک ایک رکن پارلیمنٹ کا ریسرچ کا اپنا سیٹ اپ ہے جس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان رات دن‘ محنت شاقہ سے‘ مسائل کی جڑیں کھودتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے ارکان تعلیم و صحت سے لے کر بجٹ اور بچت تک اور خارجہ امور سے لے کر داخلی سکیورٹی تک‘ ہر موضوع پر انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ ملک کے صدر یا وزیر اعظم کو قانون کے خلاف ایک قدم نہیں چلنے دیتے!
کیا بات ہے ہماری پارلیمان کی!جس دن مراعات میں اضافے کا بِل پیش ہو‘ جوش و خروش دیدنی ہوتا ہے! ہاں!جس دن زرعی آمدنی پر ٹیکس کا سوال اُٹھے یا غیرت قتل کے خلاف کوئی مسودہ پیش ہو جائے تو اُس دن بھی غیرت بیدار ہو جاتی ہے۔

Wednesday, August 02, 2017

شُوہارن… 2


شُوہارن‘ وہ چمچ نما آلہ ہے جس کی مدد سے پائوں جوتے میں آسانی سے ڈالا 
جا سکتا ہے۔ یہ ایڑی والی سائڈ سے استعمال ہوتا ہے۔ بچپن میں ہم نے بزرگوں سے اس کا نام چمچ ہی سنا۔ یہ حضرات اس جیب میں ضرور رکھتے تھے۔ جوتا پہنتے وقت جیب سے نکالا۔ استعمال کیا۔ ایڑی جوتے کے اندر داخل ہوگئی۔ ’’چمچ‘‘ کو جیب میں  واپس ڈال لیا۔
اس تحریر کا عنوان شو ہارن (2) اس لے رکھا گیا ہے کہ چند برس پہلے بھی ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان شُوہارن تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ملک پر جرنیل صاحب کی حکومت تھی۔ ان کی جیب میں ایک نہیں‘ کئی شُوہارن تھے۔ کچھ مذہبی تھے۔ کچھ سیاسی اور کچھ مذہب اور سیاست کا مرکب۔ مختلف وقتوں میں مختلف شوہارن استعمال کرتے۔ کچھ شوہارن تو ایک طرف سے جوتے کے لیے اور دوسری طرف سے کھجلی کرنے کے لیے استعمال ہوتے۔ انہیں ’’کُھرکو‘‘ بھی کہا جاتا۔ جرنیل صاحب کا اقتدار ختم ہوا تو یہ شوہارن ان کی جیب سے نکل آئے۔ ان شوہارنوں نے چلنا شروع کیا۔ ادھر ادھر دیکھا اور میاں نوازشریف کی جیبوں میں گھس گئے۔ ایک شوہارن جو مذہب اور سیاست کا مرکب ہے‘ کمال کا شوہارن ہے۔ یہ ہر مقتدر شخص کی جیب میں پہنچ جاتا ہے۔ بوقت ضرورت پیٹھ بھی کھجلاتا ہے۔ ایڑی کے لیے تو استعمال ہونے کا ماہر ہے۔ اس شوہارن کا مقابلہ کوئی ماں کا لعل نہیں کر سکتا۔ یہ شوہارن سیاست‘ چالاکی‘ چابکدستی‘ چستی‘ موقع شناسی‘ موقع پرستی‘ ابن الوقتی کا باکمال مرکب ہے۔ یہ ایڑی پر گھوم جانے میں زبردست مہارت رکھتا ہے۔ مذہب کا استعمال‘ گزشتہ چودہ صدیوں میں جن درباری حضرات نے کیا ان میں اس کا نام نمایاں لکھا جائے گا۔
دنیا میں پہلا شوہارن کب وجود میں آیا؟ کچھ کہا نہیں جاسکتا! تاریخ یہ ضرور بتاتی ہے کہ انگلستان کی ملکہ الزبتھ نے 1560ء کے لگ بھگ اپنے موچی سے اٹھارہ شوہارن بنوائے۔ سات سال بعد اس نے مزید چار کا آرڈر دیا۔ قیاس ہے کہ گھر کے سب افراد ان سے متمتع ہوتے تھے۔ پھر شوہارنوں پر ان کے مالکوں کے نام کھدوانے کا رواج پڑ گیا۔ ڈیزائن‘ پھول پتے بھی کاڑھے جانے لگے۔
آج کے عہد میں جس شخص کے پاس شوہارنوں کی کثیر تعداد موجود ہے اس کا تعلق نیدر لینڈ (ہالینڈ) سے ہے! اس کا نام مارٹن توتاف ہے۔ مارٹن نے تقریباً سولہ سو شوہارن اکٹھے کئے ہیں۔ یہ شوق اسے 1977ء میں لاحق ہوا۔ شروع میں وہ صرف تین عدد شوہارنوں کا مالک تھے۔ پھر شوق کو مہمیز لگتی گئی۔ اس نے معلومات اکٹھی کیں۔ اس موضوع پر کتابیں پڑھیں۔ معلوم ہوا کہ شوہارن مختلف میٹریل سے بنائے جاتے رہے ہیں۔ مثلاً لکڑی‘ چمڑا‘ ہاتھی دانت‘ پلاسٹک اور کئی قسم کی دھاتیں! اس کے حلقہ احباب میں اس کا شوق مشہور ہوا تو دوستوں رشتہ داروں نے شوہارن تحفے میں دینے شروع کردیئے۔ پھر ایک مقامی اخبار نے اس پر فیچر لکھا۔ اب وہ جدھر سے گزرتا لوگ اسے شوہارنوں کے حوالے سے پہچان لیتے۔ شادی کی پچیسویں سالگرہ پر‘ اس کی بیگم نے چاندی کا شوہارن پیش کیا جو اسے سب سے زیادہ عزیز ہے!
یاد نہیں اس کالم نگار کو شوہارن جمع کرنے کا عارضہ کب لاحق ہوا۔ ایک حقیر سی تعداد بہرطور ملکیت میں ہے۔ جملہ حقوق اس کے محفوظ ہیں۔ 2007ء میں واشنگٹن سے چرچ کے جوتوں کا جوڑا سیل میں مل گیا۔ دکاندار نے ساتھ مفت میں شوہارن دیا۔ یہ سفید چمکدار سٹیل کا تھا۔ پھر ایک خوبصورت شوہارن لندن میں قدرے سستا مل گیا۔ میلبورن کی ایک گفٹ شاپ میں سٹیل کا ایک شوہارن پڑا ہے۔ جو تقریباً ایک فٹ لمبا ہے۔ قیمت پوچھی تو دو سو ڈالر سن کر ٹھٹھک گیا۔ بہرحال جب بھی وہاں سے گزر ہوتا اسے باہر سے ضرور دیکھتا اور اطمینان ہوتا کہ موجود ہے۔ ایک دن وہاں سیل کا بورڈ لگا تھا مگر چند ڈالر ہی کی تخفیف تھی۔ اس لیے بھی ضبط سے کام لے کر خریدنے سے گریز کیا کہ پہلے کی کتابیں اور فائونٹین پین خریدنے اور جمع کرنے کے شوق سے گھر والے‘ بیزار ہیں۔ ہمارے جیسا روایت پسند جب بھی ’’گھروالے‘‘ کہتا ہے تو مراد گھر والی ہی ہوتی ہے۔ کتابوں کی وجہ سے گھر میں نظم و ضبط کا مکمل فقدان ہے کیوں کہ احتجاج کے باوجود وہ ہر جگہ نظر آتی ہیں۔ کھانے والی میز سے لے کر چارپائیوں تک‘ صوفوں سے لے کر کرسیوں تک‘ سیڑھیوں سے لے کر الماریوں تک! اس بدنظمی پر احتجاج تین نسلوں سے تو خود اپنے کانوں سے سن رہا ہوں۔ دادی جان کتابوں اور رسالوں کو حقارت سے اور تمسخر سے ’’پھڑکے‘‘ کہتی تھیں ’’بھاگوان! جدھر سے آتا ہے‘ مزید پھڑکے لیے آتا ہے‘ پہلے ہی جگہ نہیں۔‘‘ پھر والدہ کا زمانہ آیا۔ ان کا احتجاج نسبتاً نرم تھا۔ اب کالم نگار کی اہلیہ کا فتویٰ یہ ہے کہ گھر میں ہزار الماریاں ہوں تب بھی ان میں کتابیں ہی نظر آئیں گی! فائونٹین پین جگہ تو نہیں گھیرتے مگر نسبتاً مہنگا شوق ہے۔ اس پر تفصیلی تحریر پھر کبھی!
ایک دن میلبورن کے آئکیا (Ikea) سٹور میں آوارہ گردی کر رہا تھا کہ پلاسٹک کے بنے ہوئے خوبصورت‘ شوہارن نظر آئے۔ تقریباً سوا فٹ لمبے۔ قیمت پوچھی تو کانوں پر یقین نہ آیا۔ ایک ڈالر! بعد میں ان کی قیمت بڑھی تو تین ڈالر ہو گئی۔ پاکستان میں ڈھونڈیں تو اصلی چمچ کی لمبائی کے بہت مل جاتے ہیں۔ مگر لمبے نہیں ملتے جو طویل قامت افراد کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔ چند دن پہلے دوست گرامی جنرل کمال اکبر نے‘ جو آئی سپیشلسٹ ہیں اور تینوں مسلح افواج کے سرجن جنرل بھی رہے ہیں‘ لکڑی کا بنا ہوا خوبصورت شوہارن عطا کیا۔ یہ برما (میانمار) کا بنا ہوا ہے۔ لکڑی بھی قیمتی ہے ساگوان ہے یا آبنوس! لمبائی ایک فٹ سے کہیں زیادہ ہے!
مگر غور کریں تو کیا ہے بے وقوفی ہے! کتابیں اور فائونٹین پین جمع کرنا۔ یا سازوسامان میں زیادہ سے زیادہ شوہارن۔ دو تین آبائی زمینیں! ایک آبائی برچھی!    ؎
کتاب اور شمشیر‘ زین اور عصا
یہی کچھ ہمارے مکانوں میں تھا
ہم جیسوں کو عقل ہوتی تو باپ دادا کی کتابیں‘ 
مسودے اور محظوطات سنبھالنے کے بجائے ان کی پیروی کرتے جن کا طوطی 
بول رہا ہے! کیا حماقت ہے کہ حکیم محمدسعید مرحوم نے گھڑی انعام میں دی تھی‘ ہزار دو ہزار روپے کی ہوگی‘ وہی حرز جاں بنا کر رکھی ہوئی ہے کہ حکیم صاحب کے دست شفقت سے ملی تھی! عقل ہوتی تو اڑھائی کروڑ روپے کی گھڑی کا بندوبست کرتے لندن سے لے کر جدہ تک اور قطر سے لے کر پاکستان تک فیکٹریاں محلات اپارٹمنٹ کاروبار‘ حصص‘ اقامے ہوتے! اور اتنے ہوتے کہ وکیلوں کے جمگھٹ بھی گن نہ پاتے۔ چار دانگ عالم میں شہرت ہوتی! جو بچے پیدا نہیں ہوئے‘ وہ بھی کھرب پتی ہوتے۔ طنطنہ ہوتا‘ جاہ و حشمت ہوتی‘ تزک و احتشام ہوتا۔ باقر خانیاں بنانے کے باورچی الگ ہوتے۔ ہریسہ پکانے والے الگ اور پلائو بنانے والے الگ۔
گوجرانوالہ کے ایک نواحی گائوں کوٹلی میں شہنشاہ اکبر کے قاضی القضاۃ شیخ عبدالنبی کا مقبرہ ہے جو پانچ ساڑھے پانچ سال پہلے لاکھوں کے اخراجات سے تعمیر کیا گیا تھا۔ سنگ مرمر بے تحاشا استعمال کیا گیا۔ دروازے جنوبی ہند کی بیش قیمت لکڑی سے بنوائے گئے تھے۔ تعمیر میں چونا‘ ماش کی دال اور کیمیائی مادوں کا آمیزہ لگا تھا۔ گنبدوں اور میناروں پر سونے چاندی کے کلس لگے تھے۔ یہ بھی مشہور تھا کہ زیریں حصے میں خزانے مدفون ہیں۔ یہ تین سال پہلے کی بات ہے کچھ لوگ اس بستی میں آئے اور بتایا کہ وہ محکمہ اوقاف کے افسر اور ملازمین ہیں اور مقبرے کی تعمیر نو اور آرائش کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے سریے اور ریت کی ٹرالیاں بھی منگوائیں۔ مگر پھر تمام منقش دروازے نقش و نگار والی ٹائلیں‘ گنبدوں اور میناروں کے کلس اور دیگر بیش قیمت سامان اتارا اور غائب ہو گئے۔ شیخ کی قبر بھی انہوں نے پائنتی کی طرف سے کھودی۔ جانے کچھ ملایا نہیں۔
مگر یہ چور‘ بہت سے دوسرے چوروں اور ڈاکوئوں سے بہتر تھے۔ کم از کم انہوں نے زندہ مخلوق کے حق پر تو ڈاکہ نہیں ڈالا۔ یہ چور ان ڈاکوئوں سے بہتر ہیں جو لاکھوں کروڑوں مریضوں کا حق مار کر‘ چھینک کا علاج بھی لندن سے کراتے ہیں۔ جو لاکھوں دختران وطن کا مال چرا کر اپنی بیٹیوں کو سونے چاندی سے لاد دیتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ سونے چاندی کا بوجھ اوپر لاد کر‘ ان بیٹیوں کی بدصورتی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
بھارت کی فلم ایکٹریس جے للیتا سیاست میں آئی۔ چیف منسٹر بنی۔ دولت کے انبار اکٹھے کئے۔ امیلدا مارکوس کی طرح اس کے پاس بھی جوتوں کے ہزاروں جوڑے تھے۔ ہزاروں ساریاں تھیں‘ تعجب یہ ہوا کہ کچھ عرصہ پہلے دنیا سے گئی تو جوتوں کا ایک جوڑا اور ایک ساری تک ساتھ نہ لے کر گئی۔ گاڑیوں کی بھی شوقین تھی۔ بنگلے اور فارم بھی بہت تھے مگر چتا میں اکیلی گئی۔
چتا میں جلنا ہو یا پھر لحد میں مدفون ہونا‘ ساتھ کچھ نہیں جاتا‘ پیچھے اگر کتابیں چھوڑی جائیں اور فائونٹین پین اور زیادہ سے زیادہ چند درجن شو ہارن‘ تو پس ماندگان جھگڑا کرنا چاہی

 

powered by worldwanders.com