Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, September 30, 2021

زندگی بسر کرنے کا فارمولا



چیف کمشنر دوست بھی تھا اور برخوردار بھی!
یہ کالم نگار کسی دوست یا عزیز کے دفتر جانے سے ہر ممکن حد تک گریز کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں باقاعدہ پروگرام بنا کر احباب، کسی دوست کے دفتر جاتے ہیں تاکہ گپ شپ ہو۔ پھر چائے چلتی ہے۔ کھانے منگوائے جاتے ہیں۔ سائل یا مریض باہر انتظار میں سوکھتے رہتے ہیں۔ مدتوں پہلے جب پہلی بار یورپ جانے کا اتفاق ہوا تو جانا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں دفتری گپ شپ یا دفتری مہمان نوازی کا کوئی تصور نہیں۔ دفتر کے اوقات میں ذاتی کام کرنا بھی قابل اعتراض ہے۔ پاکستان کے ایک بڑے افسر امیگریشن لے کر کینیڈا گئے۔ وہاں مشہور عالم فورڈ موٹر کمپنی میں نوکری ملی۔ ایک دن دفتر میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد انہیں تنبیہ کی گئی کہ اخبار پڑھنا آپ کا ذاتی عمل ہے‘ اس سے گریز کیجیے۔ ایک اور صاحب دفتری اوقات میں ایک ڈرامے کا چھوٹا سا کلپ دیکھنے کی وجہ سے نوکری ہی سے فارغ کر دیے گئے‘ اور دفتر میں کسی کو بٹھا کر چائے پینے پلانے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
چیف کمشنر سے ایک کام تھا۔ وہ ابھی ابھی کہیں سے آیا تھا۔ اس نے فون اٹھایا اور اپنے معاون سے کہا کہ جو ٹیلیفون کالیں چیف کمشنر کے لیے آئی ہیں، پہلے وہ ملاؤ اور پھر وہ ملاؤ جو میرے لیے آئی ہیں۔ پوچھا: یہ تقسیم کیسی ہے تم خود ہی تو چیف کمشنر ہو۔ کہنے لگا: میرے لیے وہ کالیں ہیں جو مجھے اس منصب سے ہٹنے کے بعد بھی آتی رہیں گی۔ رہیں وہ کالیں جو چیف کمشنر کو کی گئیں تو ان میں کچھ تو سرکاری امور کے ضمن میں کی گئی ہوں گی اور کچھ وہ جو مجھ سے ربطہ برقرار رکھنے کے لیے کی گئیں کیونکہ میں چیف کمشنر ہوں‘ جب میں اس عہدے پر نہیں رہوں گا تو یہ لوگ مجھ سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے۔ معاون دونوں قسم کی کالوں کا فرق جانتا ہے۔
اُس دفتر سے میں اُٹھ کر تو آ گیا مگر سوچ میں پڑ گیا کہ کیسی حقیقت پسندی سے کام لے رہا ہے یہ افسر! لوگ جاہ و منصب کے غلغلے میں بھول جاتے ہیں کہ ان کی مقبولیت ان کی کرسی کی وجہ سے ہے۔ ایک عام محاورہ ہے کہ قاضی کی ماں مری تو سارا شہر تعزیت کے لیے آیا‘ قاضی خود مرا تو کوئی نہ آیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا چاہیے کہ مقبولیت اس وقت تک ہے جب تک وہ لوگوں کے کام آ سکتے ہیں یعنی جب تک وہ فائدہ پہنچانے کے قابل ہیں۔ یہ اور بات کہ وہ اس زعم میں رہتے ہیں کہ ان کے بہت دوست ہیں۔ جو اہل غرض ہر وقت انہیں گھیرے رکھتے ہیں وہ ان اہل غرض کو جاں نثار سمجھنے لگ پڑتے ہیں۔ اہل غرض ضروری نہیں کہ فوراً اپنی غرض بتا دیں۔ اس قماش کے افراد مہینوں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ حاضری دیتے رہتے ہیں۔ باڈی گارڈ کی طرح ساتھ رہتے ہیں۔ ایسا جال بچھاتے ہیں کہ مقتدر انسان، آخر کار، انہیں اپنا مخلص اور ہمدرد سمجھنے لگتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب لوہا گرم دیکھ کر وہ ضرب لگاتے ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر وہ وقت آتا ہے کہ منصب والا منصب سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی ان اہل غرض کی بھاری اکثریت آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتی ہے۔ رخصت کرنے کے لیے چند ہی افراد آتے ہیں۔ اس سارے معاملے کا المناک پہلو یہ ہے کہ مقتدر شخص کے اندازے الٹ نکلتے ہیں۔ جنہیں وہ وفادار سمجھتا تھا وہ آنکھیں پھیر لیتے ہیں اور جنہیں وہ فصلی بٹیرے سمجھتا تھا ان میں سے کچھ مخلص نکل آتے ہیں۔ مردم شناسی دنیا کے مشکل ترین علوم میں سے ایک علم ہے۔ کم ہی خوش قسمت، انسان کو پہچان سکتے ہیں۔ بڑے بڑے عالی شان بادشاہ اس حقیقت سے بے خبر رہے کہ دشمن ان کے گھر میں ہے۔ خوشامد ایک ایسا جال ہے جس میں ہوشیار سے ہوشیار انسان بھی پھنس جاتا ہے۔
مجید امجد کی ایک نظم اس موضوع پر حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس بہت بڑے شاعر نے ایک زبردست مثال دے کر سمجھایا ہے کہ جس سے فائدے کی امید ہو، دنیا اسے کس طرح سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے‘ اور جب ضرورت نہ ہو تو کس طرح اسے دھتکارتی ہے۔ کہتے ہیں کہ میں پیدل جا رہا تھا کہ تانگے والے نے ادب کے ساتھ، میرے پاس تانگے کو روکا‘ پھر ایک مؤدبانہ آواز آئی کہ کیا آپ کو کہیں جانا ہے؟ میں نے مڑ کر دیکھا تو تانگے والا اس قدر خوش اخلاق لگ رہا تھا جیسے انسان نہ ہو فرشتہ ہو۔ پھر مجید امجد دوسرا تجربہ بتاتے ہیں۔ یہ پھر پیدل چل رہے تھے۔ اچانک پیچھے سے شور اٹھا۔ چابک پڑنے کی آواز آئی۔ گھوڑے کے سم سڑک سے ٹکرا کر عجیب وحشت برپا کر رہے تھے۔ ایک غصیلی، ڈراؤنی آواز آئی کہ آگے سے ہٹو۔ مڑ کر دیکھا تو انسان نہیں ایک جانور گھوڑے کی لگام پکڑے تھا اس لیے کہ تانگہ سواریوں سے بھرا تھا اور اب کوچوان کو مزید کسی سواری کی ضرورت نہیں تھی۔ کہاں مجید امجد کے الفاظ اور کہاں اس عاجز کا قلم۔ اصل نظم پڑھیے۔ اردو ادب تو اردو ادب ہے، اس پائے کی نظم عالمی ادب میں بھی شاید ہی ہو۔ نظم نہیں، زندگی بسر کرنے کا فارمولا ہے۔ ایک ایسا فارمولا، جسے انسان یاد کر لے تو کسی سے دھوکہ نہ کھائے۔ غرض مند بن کر کسی کو دھوکہ دے نہ صاحب اختیار ہو کر کسی سے فریب کھائے۔ خوشامد کرنا اور خوشامد پسند کرنا دونوں ایسے عمل ہیں جو وقتی طور پر تو فائدہ دیتے ہیں اور لذت بھی، مگر آخر میں خوشامد کرنے والا ایک ایسی شہرت کا مالک بن جاتا ہے کہ لوگ اس سے کترانے لگتے ہیں۔ سب پر یہ راز کُھل جاتا ہے کہ یہ چڑھتے سورج کا پجاری ہے۔ اہل اقتدار کو بھی ان کے مخلص متنبہ کر دیتے ہیں۔ یوں وہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ رہا خوشامد پسند تو جس دن اسے اپنا سامان بھی خود اٹھانا پڑتا ہے اس دن اسے احساس ہوتا ہے کہ غرض مند اسے بے وقوف بناتے رہے اور وہ بے وقوف بنتا رہا۔ اب نظم دیکھیے۔ یہ نظم اس قابل ہے کہ بچوں کو سبقاً پڑھائی جائے۔
جلوسِ جہاں
میں پیدل تھا، میرے قریب آکے اس نے، بہ پاسِ ادب، اپنے تانگے کو روکا
اچانک جو بجریلی پٹڑی پہ سُم کھڑکھڑائے، سڑک پر سے پہیوں کی آہٹ پھسل کر جو ٹھہری
تو میں نے سنا، ایک خاکستری نرم لہجے میں مجھ سے کوئی کہہ رہا تھا
''چلیں گے کہیں آپ؟ بازار، منڈی، سٹیشن، کچہری؟‘‘
پلٹ کر جو دیکھا تو تانگے میں کوئی سواری نہیں تھی
فقط اک فرشتہ، پھٹے کپڑے پہنے عنانِ دو عالم کو تھامے ہوئے تھا

میں پیدل تھا، اتنے میں کڑکا کوئی تازیانہ، بہا فرشِ آہن پہ ٹاپوں کا سرپٹ تریڑا
کوئی تند لہجے میں گرجا:''ہٹو، سامنے سے ہٹو!‘‘ اور پُرشور پہیے گھناگھن مری سمت جھپٹے
بہ مشکل سنبھل کر جو دیکھا، کھچاکھچ بھرے تیز تانگے کی مسند پہ، اِک صورتِ سگ لجامِ فرس پر جھکی تھی!

یہ لطفِ کریمانۂ خوشدلاں بھی، یہ پُرغیظ خوئے سگاں بھی
مرے ساتھ رو میں ہیں لوگوں کے جتنے رویّے، یہ سب کچھ، یہ سارے قضیے
غرض مندیاں ہی غرض مندیاں ہیں، یہی کچھ ہے اس رہگزر پر متاعِ سواراں
میں پیدل ہوں، مجھ کو جلوسِ جہاں سے انھی ٹھوکروں کی روایت ملیہے

بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, September 28, 2021

————نجی شعبہ… منزل ہے کہاں تیری ؟



مسئلہ اتنا بڑا نہیں تھا۔
صرف چار کرسیاں خریدنا تھیں۔عام سی کرسیاں۔ لکڑی کی یا شاید لوہے کی‘ جن کی سیٹ پر نرم فوم لگا ہوتا ہے۔ جس آبادی میں ہم رہتے ہیں‘ اس کے قریب ہی ایک شو روم تھا۔باہر سے کافی شان و شوکت اور تزک و احتشام والا۔ اندر گئے تو فرنیچر سے زیادہ سٹاف تھا۔ کچھ لڑکیاں تھیں جو ادھر ادھر چل پھر رہی تھیں۔ کچھ مرد حضرات تھے جن میں سے کچھ کاؤنٹر پر بیٹھے تھے اور کچھ مختلف مقامات پر کھڑے تھے جیسے پہرہ دے رہے ہوں۔ ہمیں نیچے بیسمنٹ میں لے جایا گیا۔ اپنی استطاعت کے اعتبار سے چار کرسیاں چنیں۔قیمت کی ادائیگی کی۔ پھر ان سے کہا کہ ہمارے گھر بھجوا دیجیے۔ ٹرانسپورٹ کا کرایہ ادا کر دیا جائے گا۔ اس پر انہوں نے بتایا کہ یہ کرسیاں نہیں دی جا سکتیں۔یہ تو فقط نمائش ( ڈسپلے ) کے لیے ہیں۔ آپ کا آرڈر لاہور جائے گا جہاں فیکٹری ہے۔ وہاں یہ بنائی جائیں گی۔پھر فیکٹری والے براہِ راست آپ کے گھر بھیج دیں گے۔ پوچھا‘ کتنے دن لگ جائیں گے؟ بہت اعتماد سے سیلزمین نے کہا کہ بس ایک ہفتہ!ایک ہفتہ گزر گیا۔دوسرے ہفتے کا نصف بھی بیت گیا۔ اب تھوڑی سی فکر لاحق ہوئی۔ ادائیگی کی رسید پر جو فون نمبر درج تھا اس پر فون کیا۔ جواب ندارد! کئی بار کیا۔ دوسرے دن پھر کیا۔ کئی کوششوں کے بعد ایک خاتون نے فون اٹھایا۔ ساری بات بتائی۔ کہنے لگیں: ہولڈ کیجیے متعلقہ صاحب سے بات کراتی ہوں۔ کافی دیر ہولڈ کیے رکھا۔ متعلقہ صاحب نہ آئے۔ پھر فون خود ہی بند ہو گیا۔ ہم صبر کر کے بیٹھ گئے۔ پورے بیس دن کے بعد ایک بہت بڑا پیکٹ موصول ہوا جس پر فرنیچر والوں کی کمپنی کا نام لکھا تھا۔ہم حیران ہوئے کہ یہ کیسی کرسیاں ہیں۔ جو صاحب‘ لائے تھے انہوں نے بتایا کہ یہ جوڑنی (اسمبل کرنی) ہیں۔ ہمارا بڑھئی کل آئے گا اور اسمبل کر دے گا۔ دوسرے دن کوئی بڑھئی نہ آیا۔تیسرا دن بھی انتظار میں گزرا۔ چوتھے دن فون کیا تو بتایا گیا کہ آج جمعہ ہے۔ اس کے بعد ہفتہ اور اتوار تعطیل ہے۔ اس لیے پیر کے دن آئے گا۔ پیر کے دن بھی نہ آیا۔ اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ منیجر سے بات کرنا چاہی تو اس کا نمبر جو دیا گیا‘ کسی نے نہ اٹھایا۔ مالک کا پوچھا تو معلوم ہوا کہ کراچی رہتا ہے۔ اس کے بعد ہر ممکن کوشش کی کہ مالک کا فون نمبر یا ای میل ایڈریس مل جائے تو ایک ذمہ دار شہری کا فرض ادا کرتے ہوئے اسے بتایا جائے کہ تمہاری کمپنی میں کیا ہو رہا ہے۔ مگر ہر اہلکار نے ایک ہی بات کہی کہ مالک کا نمبر دینے کی اجازت نہیں۔
یہ صرف ایک نجی کمپنی کا حال نہیں۔ پورا نجی شعبہ غیر ذمہ داری اور نالائقی کا گڑھ بن چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ سرکاری ادارے اپنے کارکنوں کو نجی شعبے کی مثال دیا کرتے تھے۔ وعدے کی نجی شعبے میں پابندی کی جاتی تھی۔ جو وقت ڈلیوری کا دیا جاتا تھا‘ اس سے آگے پیچھے ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ مگر آج پاکستان میں نجی شعبہ زوال کا شکار ہے۔ کسی ای میل کا جواب نہیں دیا جاتا۔ فون خال خال ہی اٹھائے جاتے ہیں۔ ہیلپ لائنیں کسی قسم کی مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ پاکستان میں نجی شعبے کے زوال کا سب سے بڑا سبب مالکان تک نارسائی ہے۔ ان لوگوں نے بھی اپنا تنظیمی ڈھانچا بیورو کریٹک بنا لیا ہے۔ نیچے والے مالک تک کوئی شکایت نہیں پہنچنے دیتے۔ کوشش کر کے مالک سے رابطہ ہو جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ نجی شعبے کے مالکان نرم گفتار بھی ہیں اور ایکشن بھی فوری لیتے ہیں مگر سو شکایتوں میں شاید ایک کا بھی انہیں علم نہیں ہوتا۔ اب آن لائن خریداری کا جو نیا سلسلہ شروع ہوا ہے اس میں تو نااہلی پورے زور وشور سے ہر طرف چھائی ہوئی ہے۔ آپ جو آرڈر دیں گے‘ چیز اس کے الٹ آئے گی۔ اب اسے واپس کرنا‘ یا دوبارہ منگوانا یا رقم واپس لینا‘ یہ سارا ایک اذیت ناک مرحلہ ہوتا ہے۔ کتابوں کی سب سے بڑی کمپنی کراچی میں ہے۔اس کی ویب سائٹ پر جائیے تو ایک کالم کتاب درآمد کرنے کا بھی نظر آئے گا۔ اس پر آرڈر دیا۔ہفتے گزر گئے۔ کوئی جواب ندارد۔ ہزار دقت کے ساتھ کسی چیف منیجر ٹائپ صاحب سے بات ہوئی‘ متاسف ہوئے۔ فرمانے لگے‘ ابھی ایک صاحب آپ سے رابطہ کریں گے۔ تین ماہ ہونے کو ہیں‘ کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ امید ختم کر دی۔ خوش قسمتی سے ایک دوست امریکہ سے آرہے تھے۔ انہوں نے کرم فرمائی کی۔ مطلوبہ کتاب لے آئے۔
سوال اُٹھتا ہے کہ اگر نجی شعبہ اتنا ہی نا اہل ہے تو چل کیسے رہا ہے ؟ کمپنیاں بند کیوں نہیں ہو رہیں ؟بہت اہم سوال ہے اور اس کا جواب معلوم کرنے کے لیے کسی پی ایچ ڈی کی ضرورت نہیں۔ جواب یہ ہے کہ ہم پاکستانیوں کی اکثریت'' مٹی پاؤ‘‘ کے سنہری اصول کی پیروکار ہے۔ تاخیر ہو گئی ہے تو کوئی بات نہیں۔ خریدی ہوئی شے واپس نہیں لے رہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ شے میں نقص نکل آئے تو کم ہی لوگ جا کر بدلوانے کی کوشش کریں گے۔ مالک تک شکایت پہنچانے کی کوشش کوئی نہیں کرتا؛ چنانچہ نجی شعبے نے اپنے آپ کو گاہکوں کے عمومی مزاج کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ جن کمپنیوں یا جن برانڈز کی خریدار صرف خواتین ہیں‘ ان میں دھاندلی کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر خواتین جن سے خریداری کرتی ہیں یا ملبوسات اور زیورات بنواتی ہیں‘ ان کے ہاں وعدہ ایفا کرنے کا کوئی تصور ہی نہیں۔ پھیرے ڈلواتے رہتے ہیں۔ بیچاری عورتیں پھیرے ڈالتی رہتی ہیں۔
وفاقی دارالحکومت ( جڑواں شہروں) میں اس وقت لاتعداد پاکستانی کمپنیاں اور پاکستانی برانڈز کام کر رہے ہیں۔ ان سب میں سے صرف اور صرف ایک پاکستانی برانڈ یا کمپنی ایسی ہے جو خریدا ہوا مال واپس لے کر رقم واپس کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے ہاں ''ریفنڈ‘‘ کرنے کی اجازت ہے نہ تصور! ایک کمپنی اور بھی ہے جو چیز واپس لے کر رقم واپس کر دیتی ہے مگر وہ پاکستانی نہیں‘ برطانوی ہے۔ نجی شعبہ ایک طرف تو گاہکوں کو اپنی نااہلی‘ نالائقی اور کاہلی کی وجہ سے پریشان کر رہا ہے اور دوسری طرف ہٹ دھرمی اور دھاندلی کا یہ عالم ہے کہ خریدا ہوا مال واپس نہیں ہو سکتا۔کسی مہذب ملک میں اس سینہ زوری کا وجود ناممکن ہے۔ ان ملکوں میں خریدا ہوا مال واپس کرنا خریدار کا بنیادی حق ہے۔ واپس کرنے کی وجہ بتانا بھی لازم نہیں! اگر شے استعمال نہیں ہوئی اور رسید محفوظ ہے تو چھ ماہ یا سال کے بعد بھی واپس کر لی جاتی ہے۔ صارفین کا یہ مکروہ استحصال صرف پاکستان میں ہورہا ہے۔ اس کی ذمہ داری گاہکوں پر بھی ہے۔ اگر وہ اس شق پر اصرار کریں اور بصورتِ دیگر خریداری کرنے سے انکار کر دیں تو یہ کمپنیاں تیر کی طرح سیدھی ہو جائیں۔ ایک معروف پاکستانی برانڈ سے‘ جو مردانہ ملبوسات فروخت کرتا ہے‘ کالم نگار نے کچھ اشیا خریدیں۔ گھر آکر دیکھا تو ٹھیک نہیں لگیں‘ دوسرے دن واپس کرنے گیا تو بتایا گیا کہ مال تبدیل کرا سکتے ہیں‘ واپس نہیں کر سکتے۔ خاموشی سے واپس آگیا۔ کافی محنت کے بعد‘ بہ ہزار دقت‘ مالک کا ای میل ایڈریس ملا۔ اسے لکھا کہ یہ میرا بنیادی حق ہے۔ نہ ملا تو عدالت جاؤں گا اور سوشل میڈیا میں طوفان کھڑا کر دوں گا۔ تیسرے دن فون آیا کہ واپس کرنے کی خصوصی اجازت دی گئی ہے ... مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, September 27, 2021

ہمارے شہزادے اور شہزادیاں



عالمی برادری طالبان کے ساتھ بات چیت کرے...دنیا نئی حقیقت کا ادراک کرے۔افغانستان سے رابطہ بڑھانا ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے...افغانستان مشکلات میں ہے‘دنیا کو اس کی مدد کرنی چاہیے... دنیا کے پاس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے سوا کیا آپشن ہے ؟ عالمی برادری طالبان سے رابطے استوار کرے...افغانستان کے منجمد اثاثے جاری کرنا ہوں گے۔طالبان کی نیت پر شک کی کوئی وجہ نہیں...دنیا طالبان کو مزید وقت دے۔ افغانستان کو ماضی کی طرح بھلانے کی غلطیاں نہ دہرائیں۔
آپ سوچ رہے ہوں گے یہ سارے بیانات طالبان کے ہو سکتے ہیں مگر  ایسا نہیں ہے۔ یہ بیانات پاکستانی رہنماؤں کے ہیں جو وہ مسلسل دے رہے ہیں۔ نہیں معلوم طالبان تک یہ بیانات پہنچتے ہیں یا نہیں‘ نہیں معلومات ان پُرآشوب دنوں میں وہاں پاکستانی اخبارات جا رہے ہیں یا نہیں‘یا طالبان رہنما ہمارے ٹی وی چینلوں کو دیکھتے ہیں یا نہیں‘ مگر یہ طے ہے کہ اگر ان کا بس چلے تو ہاتھ جوڑ کر ہمارے رہنماؤں کی منت کریں کہ بس کیجیے ! حضور ! خدا کے لیے بس کیجیے۔ دنیا کو یہ تاثر نہ دیجیے کہ آپ ہمارے سرپرست ہیں۔ ہم بالغ ہیں۔ اپنا اچھا برا سمجھتے ہیں۔ ہماری وکالت نہ کیجیے کہ اس طرح آپ کے کردہ اور ناکردہ گناہوں کی سزا بھی ہمیں ملے گی۔دنیا سے ہم کیا چاہتے ہیں‘ یہ ہمیں آپ سے بہتر معلوم ہے۔ آپ ازراہ کرم اپنے کام سے کام رکھیے۔
ہمارے ان بیانات کے بعد دنیا‘ خاص طور پر مغربی دنیا‘ ہمیں طالبان کے ساتھ بریکٹ نہ کرے تو کیا کرے ؟ کاش ہمارے رہنما تھوڑی بہت ڈپلومیسی ان طالبان لیڈروں ہی سے سیکھ لیتے کہ جو کام کرنا ہو اس کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے‘ خاموشی سے کر گزرتے ہیں۔ سنجیدگی کا تقاضا یہ تھا کہ تقریریں کرنے کے بجائے سفارتی محاذ پر یہ کام متانت سے کیے اور کرائے جاتے۔مگر بقول ظفرؔ اقبال ؎
اس بار تو ہے اصلیتِ عشق اس قدر
تھوڑی ہے بات‘ شور شرابا زیادہ ہے
وزیر اعظم سے لے کر وزیر خارجہ تک‘ مشیر قومی سلامتی سے لے کر وزیر داخلہ تک سب دنیا کو باور کرانے کی کوشش میں ہیں کہ افغانستان ہمارا مسئلہ ہے۔ طالبان کے مسائل ہمارے مسائل ہیں۔انسان حیران ہوتا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کوئی سنجیدگی؟ کوئی گہرائی؟ کوئی احتیاط ؟ کوئی حساسیت ؟ بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ فارن آفس کے منجھے ہوئے سفارت کاروں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ کس موقع پر کیا کہنا ہے اور کس موقع پر خاموش رہنا ہے۔ بہت سی ڈفلیاں ہر وقت بج رہی ہیں۔ کبھی Absolutely Notکا نعرۂ مستانہ لگ رہا ہے۔ کبھی بائیڈن کے فون نہ آنے کو کائنات کا سب سے بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
سچ کڑوا ہوتا ہے اور سچ یہ ہے کہ افغانستان کے نام پر ہمارے زعما نے بھی خوب خوب فائدے اٹھائے۔ ضیاء الحق صاحب کی مونگ پھلی والی بات تو اب تاریخ کے صفحے پر لکھی جا چکی جسے کھرچناممکن ہی نہیں۔ امریکہ نے جو امداد پیش کی اسے جنرل صاحب نے مونگ پھلی یعنی بے حد قلیل قرار دیا جس کا مطلب واضح تھا۔ یہ تو خیر حکومتی معاملہ تھا۔ کچھ صاحبان ایسے تھے جن کے جسم پرخراش تک نہ آئی۔ اپنے محلات جیسے گھروں کے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں اطلس و کمخواب سے بنے ہوئے صوفوں پر بیٹھے رہے مگر افغان جہاد کے چیمپئن بن کر ابھرے۔دوسروں کے سینکڑوں ہزاروں لخت ہائے جگر کو قربان ہونے کے لیے بھیجا مگر اپنے بیٹوں کو امریکہ روانہ کیا۔پھر انہیں مجاہد نہیں‘ بزنس مین بنایا۔ وجہ ظاہر ہے مجاہد بننے میں جان کے زیاں کا امکان تھااور اپنے بچوں کی جان انہیں بہت عزیز تھی۔ اس کارِ خیر کے لیے دوسروں کی اولاد حاضر تھی۔سو دوسروں کی اولاد سے خوب خوب فائدہ اٹھایا گیا۔ یہ دوسروں کی اولاد ہی کا خون تھا جسے اپنے چہرے پر مل کر یہ حضرات جہادِ افغانستان کے چیمپئن بنے۔ مگر اب ایک اور راز کھلا ہے جو کم از کم ہم اہلِ پاکستان میں سے اکثر کو نہیں معلوم تھا۔''دنیا‘‘ہی کے ایک فاضل کالم نگارنے اس راز سے پردہ اٹھایا ہے۔افغانستان کے ایک معروف'' وار لارڈ‘‘ نے‘ جو ایک مذہبی سیاسی جماعت کی آنکھ کا تارا ہیں‘ اپنے پوتے ( یا نواسے) کے ہاتھ میں بندوق پکڑائی نہ راکٹ۔ یوں تو انہوں نے‘ جن کو وہ دشمن سمجھتے تھے‘ ان کے علاوہ اپنے ساتھیوں کا بھی بے دریغ خون بہایا۔ کابل پر ان کا تباہ کُن حملہ روسیوں کے خلاف تھا نہ امریکہ کے‘ بلکہ اپنے ہی ایک افغان بھائی کے خلاف تھا جو انہی کی طرح ''وار لارڈ‘‘ تھا۔ دونوں ہی حکومت کرنے کے شائق تھے اور وہ بھی بلا شرکت غیرے؛چنانچہ شہر کے پرخچے اُڑ گئے۔اپنے پوتے ( نواسے ) کو‘ بہر حال‘ انہوں نے ایک ترقی یافتہ ملک میں‘ بحرالکاہل کے دلآویز اور ہوشربا کناروں پر‘ اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا۔ اب وہ افغانستان میں واپس آکر ایک ایسی یونیورسٹی میں استاد ہے جو ایک جارح اور استعماری ملک سے منسوب ہے ! اسی ملک نے بیس سال افغان سرزمین پر‘ افغانوں کا خون بہایا‘ خواتین کی بے حرمتی کی اور گھروں میں گھس گھس کر تباہی‘ بربادی اور خونریزی کے ریکارڈ توڑے۔ اگر ایک عام جہادی کا بیٹا اس طرح کرتا تو نہ جانے اس پر کیا گزرتی اور اسے کیا کیا طعنے دیے جاتے‘ مگر لیڈر اور رہنما جو چاہے کریں۔حفیظ جالندھری نے کہا تھا ؎
شیروں کو آزادی ہے آزادی کے پابند رہیں
جس کو چاہیں چیریں پھاڑیں، کھائیں،پییں ، آنند رہیں
مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہی ان کے رہنماؤں کی دورُخی پالیسی ہے۔ ہمارے پہلے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر نے اپنے بیٹے کو اُسی فوج سے باہر نکال لیا جس فوج کی بدولت وہ سپہ سالار بنے تھے۔ ایک وزیر اعظم نے داماد کو فوج سے نکالا اور ڈی سی بنا دیا۔ عام لوگوں کے بچوں کے لیے اور قانون ہے اور ان کے بچوں کے لیے اور۔ ایک سیاستدان کی صاحبزادی سی ایس ایس کی چھلنی سے گزرے بغیر ایک پاکستانی سفارت خانے میں افسر لگا دی گئیں۔ ایک اور صاحب نے کہ بہت مشہور و معروف ہیں اپنے ڈاکٹر صاحبزادے کو ایف آئی اے میں تعینات کرا لیا۔ ہمارے سیاست دان حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں‘ ان کے بیٹے شہزادے اور بیٹیاں شہزادیاں ہیں۔تقریباً تمام مسلمان ممالک میں یہی صورتحال ہے۔ مغربی ملکوں میں ایسا نہیں۔ حکمرانوں کے بیٹے دفتروں ریستورانوں اور دکانوں میں کام کرتے ہیں۔صدر اوباما کی بیٹی ساشا‘ باپ کی صدارت کے دوران‘ ریستوران میں ویٹر رہی اور کاؤنٹر پر بھی کام کیا۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ کینیڈا کا موجودہ وزیر اعظم‘ ایک وزیر اعظم کا بیٹا ہے مگر ایک سکول میں ٹیچر رہا۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ہمارے یا کسی بھی مسلمان ملک کے حکمران کا فرزند کسی سکول میں پڑھائے گا؟ پڑھنے پڑھانے کی ضرورت بھی کیا ہے۔ پارٹیوں کی ملکیت موروثی ہے۔ اسمبلیوں کی رکنیت موروثی ہے۔ وزارتیں بھی موروثی ہیں۔ سب کچھ طے ہے۔ اور مستقبل میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان بھی نہیں۔ جن کا دعویٰ تبدیلی کا تھا انہوں نے خود ہی ایسی تعیناتیاں کر کے ثابت کر دیا کہ ''اصل میں سارے ایک ہیں‘‘۔ہمارے اہلِ سیاست اور اہلِ اقتدار کی ایک خوبی ماننا پڑے گی کہ ایک دوسرے کا خیال ضرور رکھتے ہیں۔ اسما عیل میرٹھی نے بچوں کے لیے کمال کی نظمیں کہی ہیں۔ ان کی ایک نظم کوّوں پر بہت مشہور ہے۔ کوے بھی ہمارے بڑے لوگوں کی طرح مل کر کھاتے ہیں۔

 یوں تو ہے کوّا حرص کا بندہ 
کچھ بھی نہ چھوڑے پاک اور گندہ

اچھی ہے پر اُس کی عادت 
بھائیوں کی کرتا ہے دعوت 

کوئی ذرا سی چیز جو پالے 
کھائے نہ جب تک سب کو بُلا لے

………………………………………………بشکریہ روزنامہ  دنیا

Thursday, September 23, 2021

منظرنامہ بدل کر رہتا ہے! …



سب سے پہلے گھر میں نازنین اور شاکرہ آئیں۔
دونوں ہم عمر! صبح صبح اکٹھی باہر نکلتیں۔ گلی میں گھومتیں، پھرتیں! مگر آہ تقدیر ایک بڑا سانحہ ہاتھ میں لیے سامنے کھڑی تھی۔ ایک صبح بیگم فجر کی نماز کے بعد، حسب معمول، سیر کے لیے گھر سے نکلیں۔ چار قدم چلی تھیں کہ پر نظر آئے۔ یوں لگا جیسے کسی نے نوچ کر پھینکے ہوں۔ ان کا دل دہل سا گیا۔ آگے بڑھیں تو گلی کے کنارے نازنین ، زخموں سے چُور تڑپ رہی تھی۔ انہوں نے اٹھایا۔ گھر لا کر اس کے زخم دھو رہی تھیں، ساتھ ساتھ روئے جا رہی تھیں۔ بس یہی عالم تھا کہ ان کے ہاتھوں ہی میں اس مظلوم نے جان دے دی۔ اس کی میت انہوں نے ساتھ والے خالی پلاٹ میں باقاعدہ دفن کرائی۔ میں سوتا ہی دیر سے ہوں۔ پو پھٹنے کے بعد! یونیورسٹی کے زمانے میں بھَیڑی عادت رات کو جاگنے کی پڑی تو پھر چمٹ ہی گئی۔ کافی دیر سے اٹھا تو روہانسی آواز میں بولیں ''بہت بڑا ظلم ہوا ہے‘‘۔ دل ہَول گیا۔ پوچھا: کیا ہوا؟ بتایا کہ نازنین کو بیدردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔ سب کو پڑوسیوں کے سفید بِلّے پر شک تھا۔ اُسی دن سے اُس سفاک بِلّے کا نام اُس ر سوائے زمانہ قاتل کے نام پر رکھ دیا گیا جس نے دارالحکومت میں ایک لڑکی کا سر حال ہی میں، بے رحمی کے ساتھ تن سے جدا کر دیا تھا۔ سفید بِلّے کے مالکوں کو یقینا معلوم نہیں ہو گا کہ یہ خونخوار ہے۔ کیا عجب نازنین سے رومانس لڑایا ہو۔ اس نے سرد مہری کا مظاہرہ کیا ہو اور اس نے طیش میں آکر اسے مار دیا ہو۔ تاہم یہ سب اندازے ہیں۔ حقیقتِ حال صرف اوپر والے کو معلوم ہے۔ قتل کا عینی شاہد کوئی نہیں۔
شاکرہ اب تنہا رہ گئی تھی۔ دن بھر صحن میں گھومتی۔ آوازیں نکالتی۔ کچھ ماتمی، کچھ حسرت انگیز۔ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ اس کی دیکھ بھال بہت زیادہ ہونے لگی۔ کوشش کی جاتی کہ وہ گھر سے باہر گلی میں نہ نکلے۔ نکل جاتی تو ڈھُنڈیا پڑ جاتی۔
اس کے بعد تین مخلوقات زمینی مزید منگوائی گئیں۔ بطخ کے دو بچے مگر طفلانِ شیر خوار جیسے۔ اتنے چھوٹے کہ ایک ہتھیلی پر دونوں آرام سے بیٹھ جاتے اور جگہ پھر بھی بچ جاتی۔ ایک کا نام جانی رکھا گیا، دوسرے کا مانی۔ ساتھ شاکرہ کا ایک ہم نسل آیا۔ عمر میں جانی مانی سے بڑا‘ مگر شاکرہ کے سامنے بچہ! اس کا نام ارباب اختیار نے پونی رکھا۔ توقع یہ ہو رہی تھی کہ پونی اپنی ہم نسل سینئر، شاکرہ، کے ساتھ اتحاد کرے گا‘ اس لیے کہ پنجابی محاورہ ہے 'کاں کاواں دے تے بھرا بھراواں دے‘ یعنی کوّے کوّوں کا ساتھ دیتے ہیں اور بھائی بھائیوں کا۔ یہ شعر بھی زبان زدِ خاص و عام ہے:
کند ہم جنس با ہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر، باز با باز
مگر شاکرہ نے پونی کو نزدیک نہ آنے دیا۔ تکبر اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ مجسم نخوت! ساتھ سینیارٹی کا زعم! اللہ اللہ! یہ سینیارٹی کا زعم بھی بہت مہلک ہوتا ہے۔ انسان ہو یا پرندہ یا کوئی اور مخلوق، کسی کام کا نہیں رہنے دیتا۔ بیوروکریسی میں تو ایک دن کی سینیارٹی بھی بہت سوں کو فراعنہ اور نماردہ کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے حالانکہ سینیارٹی کیا ہے؟ فقط پیدائش کا حادثہ! جس میں سینیارٹی پر اترانے والے کا اپنا کوئی کمال نہیں! اگر ایسا فرد سینئر ہونے کے ساتھ احمق یا نالائق بھی ہو تو نیچے والوں کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دیتا ہے۔ وہ سوچتے ہیں‘ کاش یہ صاحب چند سال یا چند ماہ یا چند دن بعد پیدا ہوتے یا پیدا ہی نہ ہوتے! اسی طرح قبیلے، ذات اور برادری پر اترانا بھی عجیب کام ہے۔ اس میں بھی سارا کمال اُس کا ہے جس نے پیدا کیا! یہ آپ کا اپنا کارنامہ تو نہیں! ہمارے مڈل ایسٹ والے بھائی آج تک قبائلی احساسِ تفاخر سے نہیں نکلے۔ ہمارے ایک بزرگ تھے۔ ان کے ایک دوست ان سے بڑے تھے۔ صرف دس دن بڑے! بحث میں ہارنے لگتے تو کہتے: یار تم خاموش ہو جاؤ تم مجھ سے جونیئر ہو! اسی لیے کہا گیا ہے کہ بزرگی بعقل است نہ بسال! بزرگی عمر سے نہیں عقل سے ہوتی ہے۔ سینیارٹی کے زعم میں مبتلا اکثر افراد کو دیکھ کر تو خدا کی بے نیازی پر یقین پختہ ہو جاتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران شاعروں‘ ادیبوں کو اطلاعات کے شعبے میں ملازمتیں دی گئیں اور رینک بھی دیے گئے (فیض صاحب کرنل تھے)۔ چراغ حسن حسرت کیپٹن تھے۔ ان کا کرنل، یاد نہیں کون تھا، انہیں تنگ کرتا تھا۔ جنگ ختم ہوئی تو یہ حضرات فارغ ہو گئے۔ چراغ حسن حسرت نے اس موقع پر کہا:
جرمنی بھی ختم اس کے بعد جاپانی بھی ختم
تیری کرنیلی بھی ختم اور میری کپتانی بھی ختم
سینیارٹی کے حوالے سے ایک واقعہ احمد فراز سے بھی منسوب ہے۔ وہ اکادمی ادبیات میں ملازم تھے۔ ان کا باس متعلقہ منسٹری کا کوئی افسر ہو گا جو سینیارٹی کے زعم میں تھا۔ ایک تقریب میں اسے کوئی اہمیت نہیں دے رہا تھا جبکہ فراز کو حاضرین گھیرے ہوئے تھے۔ کہنے لگا: فراز تم تو فلاں گریڈ میں ہو۔ فراز نے جواب دیا کہ جی ہاں! گریڈ تو میرا وہی ہے مگر میں ساتھ احمد فراز بھی ہوں!
پونی شاکرہ کے پاس جاتا۔ اسے شاکرہ میں اپنی ماں نظر آتی‘ مگر شاکرہ کا دماغ آسمان پر تھا۔ وہ اسے ٹھونگے مارتی۔ پونی جان بچا کر بھاگتا تو وہ تعاقب کرتی۔ کھانے پینے کے برتن ان کے الگ الگ تھے۔ پھر بھی شاکرہ اپنے برتنوں کو چھوڑ کر پونی کا کھانا کھا جاتی۔ یہ صاف غنڈہ گردی تھی۔ پونی کو اس کے ساتھ، رات، ڈربے میں رکھا گیا تو پتہ نہیں رات بھر اسے مارتی رہی یا ڈراتی رہی، صبح پونی بالکل ڈاؤن تھا۔ سارا دن ایک جگہ بیٹھا رہا۔ دوائی دی گئی تو دو دن کے بعد چلنے پھرنے کے قابل ہوا۔ پونی کے لیے اب ایک ہی راستہ بچا تھا کہ جانی مانی کے گروپ میں شامل ہو جائے۔ یہ بات درست تھی کہ نسلیں الگ الگ تھیں۔ پونی ایک مرغی کی اولاد تھا اور ننھے مُنے تھن متھنے جانی مانی بطخ خاندان کے چشم و چراغ تھے‘ مگر جاگیردارانہ صفات رکھنے والی متکبر شاکرہ کے رویے کا یہ رد عمل تھا کہ پونی اور جانی مانی دوست بن گئے۔ ہر وقت اکٹھے رہتے۔ جانی مانی کو غور سے دیکھنا ہمارے لیے بہت بڑی انٹرٹین منٹ تھی۔ برتن سے باجرے کا ایک دانہ چُگتے۔ پھر فوراً پانی والے برتن سے پانی پیتے۔ پھر باجرے کا دانہ، پھر پانی کا گھونٹ اور یہ سلسلہ چلتا رہتا اور ہم کتنی کتنی دیر یہ تماشہ دیکھتے رہتے۔ گھر کے تین طرف پانچ فٹ چوڑی گلی ہے۔ تینوں اس گلی کا چکر لگاتے‘ جیسے سپاہی گشت پر ہوں۔ آگے آگے پونی چلتا، پیچھے پیچھے جانی مانی، پروں کو ہِلا ہِلا کر، چلتے۔ چھوٹے تھے مگر چال میں وہی بڑی بطخوں والا حسن اور مستانہ پن تھا۔ ایک صاحب آئے تو ان کا منظم گشت دیکھ کر کہنے لگے: یہ پونی تو ان کا جیسے ناظم ہے۔ اُس دن سے پونی کا نام ناظم پڑ گیا۔ پو پھٹے جانی مانی اور ناظم اتنا شور کرتے ہیں کہ انہیں باہر نکالنا پڑتا ہے۔ انسان دیر سے سوتے اور دیر سے جاگتے ہیں مگر دیگر مخلوقات غروب آفتاب کے ساتھ ساری سرگرمیاں چھوڑ دیتی ہیں اور صبح صادق کے وقت اٹھ کر کام شروع کر دیتی ہیں!
اور ہاں جب بھی کوئی تکبر کرتا ہے اور ظلم و جور، تو یاد رکھیے، زیر دست اکٹھے ہو جاتے ہیں اور جب زیر دست اکٹھے ہو جائیں تو منظرنامہ بدل کر رہتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, September 20, 2021

who Bothers!!



وہ تو بھلا ہو رضاربانی کا کہ انہوں نے امریکی ارکان کانگرس کی یاوہ گوئی کا بھرپور جواب دیا۔
جس تکبر سے اور جس لہجے میں ان ارکان کانگرس نے پاکستان کے بارے میں بات کی، اس کا فوری نوٹس وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کو لینا چاہیے تھا۔ ان ارکان نے اپنی حکومت سے کہا کہ پاکستان کے خلاف سخت رویہ اپنائے کیونکہ افغانستان میں، بقول ان کے، پاکستان کا کردار دُہرا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعاون بھی کیا اور طالبان کو، بشمول حقانی نیٹ ورک، پناہ بھی دی۔ اس ہرزہ سرائی کا جواب جناب رضا ربانی نے دیا کہ پاکستان امریکی ریاست نہیں‘ ایک خود مختار ملک ہے۔ انہوں نے امریکہ کو یاد دلایا کہ وہ خود افغانستان میں دوغلا کردار ادا کرتا رہا ہے اور دنیا بھر میں اپنے مفاد کے لیے آمروں کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔ اُدھر تو یہ سب کچھ ہو رہا تھا اِدھر، ہمارے وزیر خارجہ مریدوں کے سروں پر دست شفقت پھیر رہے تھے اور وزیر اعظم پنجاب کے آئی جی اور چیف سیکرٹری کے ساتھ میٹنگ کر رہے تھے۔ اس میٹنگ میں ما شاء اللہ وزیر اعلیٰ پنجاب بھی شامل تھے۔ آئی جی اور چیف سیکرٹری‘ دونوں وزیر اعلیٰ کے ماتحت ہیں۔ وزیر اعظم کو صوبے کے افسروں کے ساتھ براہ راست میٹنگ کرنا پڑے تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ صوبے کے حکومتی سربراہ اپنے ماتحتوں سے خود کام لینے کا ہنر نہیں جانتے! جس صاحبِ اختیار کے جسم میں ریڑھ کی ہڈی ہو گی وہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ وزیر اعظم سے کیوں ملے گا؟ وہ تو عرض کرے گا کہ حضور! آپ مجھے حکم دیجیے! حکم کی تعمیل میں کس طرح کرتا ہوں اور کراتا ہوں، یہ میرا کام ہے‘ جناب کا نہیں ! مگر ایسی بات کہنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا ہونا لازم ہے۔ ویسے کسے نہیں معلوم کہ پنجاب کی حکومت کہاں سے چلائی جا رہی ہے اور کون چلا رہا ہے ! عضو معطل کون ہے اور سرگرمی کہاں سے پھوٹتی ہے۔ مگر فرنگی محاورہ ہے: Who bothers!‘ ہم پنجابی شاید ایسے ہی مواقع پر یاس کا اظہار یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ مٹی تے سواہ! یا مٹی تے گھٹّا۔
جناب وزیر اعظم نے نتھیا گلی میں فائیو سٹار ہوٹل کا افتتاح کیا ہے۔ اچھی بات ہے۔ آگے کی طرف پیش رفت ہے۔ مگر پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن ( پی ٹی ڈی سی ) کے تیس سے زیادہ موٹل اور ریستوران تقریباً دو پونے دو سال سے‘ یعنی نومبر 2019ء سے ٹھپ پڑے ہیں۔ پی ٹی ڈی سی چوالیس سال پہلے منافع کے لیے تشکیل نہیں دی گئی تھی بلکہ اس کا مقصد سیاحت کا فروغ تھا۔ یہ موٹل ایسی ایسی جگہوں پر بنائے گئے تھے جہاں نجی شعبہ کے سرمایہ کاری کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ یہ موٹل خپلو، ناران، گلگت، بالا کوٹ، بمبریٹ (کیلاش وادی) سکردو، بشام، کالام، سست، اور دیگر کئی مشکل مقامات پر بنائے گئے تھے۔ کچھ ان میں سے کروڑوں روپے کما رہے تھے اور حکومت کو ٹیکس بھی ادا کر رہے تھے۔ قارئین میں سے اکثر و بیشتر ان موٹلوں میں ٹھہرے بھی ہوں گے۔ ایک سال دس ماہ پہلے ان تمام موٹلوں اور ریستورانوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ کہا یہ گیا کہ یہ گھاٹے میں جا رہے تھے۔ یہ اور بات کہ اعداد و شمار پیش نہیں کیے گئے کیونکہ سلطانی احکام جاری کرتے وقت ثبوت یا منطق یا دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اتنے عظیم الشان ادارے کی بندش کے مدارالمہام وزیر اعظم کے ایک قریبی دوست تھے۔ یہ وہی دوست تھے جن کا نام وزیر اعظم نے الیکشن جیتنے کے بعد، ایئر پورٹ پر بیٹھے بیٹھے ای سی ایل سے نکلوایا تھا۔ اللہ ہی جانے وہ ان موٹلوں کو بند کر کے کیا کرنا چاہتے تھے مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتے، رنگ روڈ سکینڈل کی نذر ہو گئے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ تیس سے زیادہ، یعنی تمام کے تمام، موٹل بند ہیں۔ ان کا کروڑوں کا ساز و سامان بیکار پڑا ہے۔ دیمک، کیڑوں اور پھپھوندی کے وارے نیارے ہیں۔ ملازمین بر طرفی کے بعد عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔ سیاحوں کے قیام کا کوئی بندوبست نہیں۔ یہ ہے ٹورازم کا فروغ جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ بقول شاعر:
تم ہمیں کیا نئی منزل کی بشارت دو گے
تم تو رستہ نہیں دیتے ہمیں چلنے کے لیے
بات پھر وہی ریڑھ کی ہڈی کی آ جاتی ہے۔ پارلیمنٹ کے جسدِ ضعیف میں جان ہوتی تو اس المناک نقصانِ عظیم پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتی۔
اب آئیے ایک اور معاملے کی طرف جس کا ذکر ہیڈ لائنز میں ہو رہا ہے۔ معروف کامیڈین عمر شریف بیمار ہیں۔ ہم دست بدعا ہیں کہ خالقِ کائنات انہیں صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور وہ پھر سے اپنے ناظرین اور سامعین کو محظوظ کر سکیں۔ سندھ حکومت نے چار کروڑ روپے انہیں علاج کی غرض سے دیے ہیں۔ ایئر ایمبولینس کا انتظام اس کے علاوہ کیا جا رہا ہے۔ ایئر ایمبولینس اس طرح کی وین نہیں ہوتی جیسے ایدھی والوں کی ہوتی ہے۔ یہ چھوٹے فاصلوں کے لیے ہیلی کاپٹر اور طویل فاصلوں کے لیے ہوائی جہاز ہوتا ہے۔ عمر شریف نے امریکہ جانا ہے اس لیے ان کی ایئر ایمبولینس ہوائی جہاز ہو گا۔ ایئر ایمبولینس پر کتنے اخراجات آتے ہیں؟ اس کا دار و مدار مندرجہ ذیل عوامل پر ہے۔ اوّل‘ فلائٹ کا رُوٹ یعنی کل فاصلہ کتنا ہے۔ دوم‘ مریض کی حالت، یعنی کون کون سے میڈیکل آلات کی راستے میں ضرورت پڑ سکتی ہے، طبّی عملہ کن افراد اور کتنے افراد پر مشتمل ہو گا؟ سوم‘ مریض کے ساتھ جانے والی لواحقین کی تعداد کیا ہو گی؟ اگر ایک سے زیادہ افراد ہیں تو جہاز بڑا ہو گا۔ کچھ کمپنیاں جائے رہائش سے لے کر ہوائی اڈے تک اور اترتے وقت ہوائی اڈے سے لے کر ہسپتال تک کا فاصلہ بھی مدِ نظر رکھتی ہیں۔ قصہ کوتاہ ایئر ایمبولینس کے اخراجات بھی حکومت ادا کرے گی۔ اب اس سارے معاملے کو ایک اور نقطہ نظر سے دیکھیے۔ کامیڈین ہونا عمر شریف کا پیشہ تھا۔ کیا یہ کام وہ مفت کرتے تھے؟ یا فی سبیل اللہ کرتے تھے؟ نہیں! یہ پیشہ ان کا ذریعۂ معاش تھا۔ وہ ہر پروگرام کا، اندرون ملک بھی اور بیرون ملک بھی، خطیر معاوضہ لیتے تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قومی خزانے سے ایک نامور شہری کا علاج، وہ بھی اتنا مہنگا، کیا روا ہے؟ یہ قومی خزانہ عوام کے ٹیکسوں سے بھرا جاتا ہے۔ ٹیکس ادا کرنے والے یہ عوام خود اپنا علاج، اپنی جیب سے کراتے ہیں۔ نہ کرا سکیں تو حکومت کراتی ہے‘ نہ پوچھتی ہے۔ اس ملک کے سب سے بڑے محسن اساتذہ ہیں۔ کیا ایک استاد کا علاج سرکار کراتی ہے؟ ڈاکٹروں سے بڑا محسن کون ہے! کورونا جب سے آیا ہے درجنوں ڈاکٹر اپنی جان کی قربانی دے چکے ہیں۔ کیا ڈاکٹروں کا علاج حکومتی خزانے سے ہوتا ہے؟ ایک خاص شہری کے علاج پر کروڑوں روپے کس قانون کے تحت صرف کیے جا رہے ہیں؟ ہمارے فنکار ساری زندگی کماتے ہیں اور معاف کیجیے گا‘ ان میں سے اکثر اللوں تللوں پر روپیہ اڑا دیتے ہیں۔ ایک زمانے میں یہ کالم نگار وزارت ثقافت میں مزدوری کرتا تھا۔ ڈیوٹی میں فنکاروں کو بیرون ملک دورے کرنے کے لیے این او سی جاری کرنا بھی شامل تھا۔ ایک بہت مشہور فنکار کے بیرون ملک جانے پر سرکار نے پابندی عائد کر رکھی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ایک ملک میں، جو ہمارے مشرق میں واقع ہے، انہوں نے نشے میں دُھت، ایک عالی مرتبہ خاتون کو چھیڑا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایک اور ملک میں جو ہمارے مغرب میں واقع ہے انہوں نے سٹیج پر، عالم وارفتگی میں شاشیدن مصدر کی گردان شروع کر دی تھی۔ شاشیدن کا معنی کسی فارسی لغت میں آپ خود دیکھ لیجیے!
بشکریہ روزنامہ  دنیا

Thursday, September 16, 2021

قائدِ اعظم کا ایک سپاہی رخصت ہو گیا



فرزندِ اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال کی رحلت کے بعد دوسرا بڑا سانحہ ڈاکٹر صفدر محمود کی وفات ہے۔

قائد اعظم کا یہ سپاہی، یہ نظریاتی باڈی گارڈ، تحریک پاکستان کا یہ مجاہد تیرہ ستمبر کو اپنی آبائی بستی ڈنگہ ضلع گجرات میں سپرد خاک ہو گیا۔ تحریک پاکستان کے مجاہد وہ اس طرح تھے کہ اس تحریک پر آج تک برابر حملے ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر صفدر محمود ان حملوں کا دفاع کرتے ہوئے ہمیشہ اگلی صفوں میں رہے! عرب شاعر نے کہا تھا:

أضاعُونی وأیَّ فَتیً أضاعوا 
لیومِ کریہۃٍ وسدادِ ثَغــرِ

مجھے کھو دیا! اور جنگ کے دن کے لیے اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے کیسا زبردست جوان کھو دیا!
ڈاکٹر صاحب کی وفات پر زیادہ زور اس ذکر پر دیا جا رہا ہے کہ وہ وفاقی سیکرٹری رہے اور کالم نگار! اقبال نے دربار رسالت میں فریاد کی تھی کہ انصاف فرمائیے! مجھے لوگ غزل گو سمجھ بیٹھے ہیں!
من ای میرِ امم داد از تو خواہم
مرا یاران غزل خوانی شمردند
وفاقی سیکرٹری ایک اینٹ اکھاڑیے تو نیچے سے تین نکلتے ہیں۔ بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے۔ کالم نگار بھی بہت ہیں! مگر صفدر محمود مؤرخ تھے! چوٹی کے محقق! بیسیوں کتابوں کے مصنف اور کتابیں بھی ایسی کہ عرق ریزی اور مشقت کا حاصل! کئی زبانوں میں ان کے ترجمے ہوئے۔ کئی بار انہوں نے لندن جا کر انڈیا آفس کو کھنگالا۔ واشنگٹن جا کر آرکائیوز کا مطالعہ کیا۔ پاکستان کیوں ٹوٹا؟ پاکستان، تاریخ و سیاست۔ مسلم لیگ کا دورِ حکومت۔ آئینِ پاکستان۔ یہ تو چند کتابوں کے عنوانات ہیں۔ ان کی تصانیف اور بھی ہیں۔ اردو میں بھی، انگریزی میں بھی۔
ڈاکٹر صفدر محمود کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ پاکستان، تحریکِ پاکستان اور قائد اعظم کے بارے میں جو بے اصل، غلط اور جھوٹی باتیں پھیلائی گئیں یا پھیل گئیں، ڈاکٹر صاحب نے بہت محنت کرکے ان کی اصلیت کو واضح کیا۔ اس کے لیے وہ ہر اس شخصیت سے ملے جس کا قائد اعظم سے تعلق رہا یا جو واقفِ حال تھا۔ ایک ایک سورس، ایک ایک ذریعہ تلاش کیا۔ کڑی مشقت کے بعد سچ دنیا کے سامنے لائے۔ پاکستان کے کئی بدخواہ ان کی تحقیق اور ان کے لائے ہوئے سچ کا جواب نہ دے سکے۔ کچھ نے اپنی غلطی تسلیم کی۔ یہ اور بات کہ جہاں جہاں نیت کا فتور تھا، وہاں ہٹ دھرمی قائم رہی! کچھ مغالطے جو عام ہیں یا عام کیے گئے اور جن کے بارے میں ڈاکٹر صاحب نے تحقیق کرکے حقیقت واضح کی، مندرجہ ذیل ہیں:
٭ قراردادِ پاکستان وائسرائے نے قائد اعظم کو دی اور انہوں نے مسلم لیگ کے اجلاس سے منظور کروالی۔ ٭ حلف برداری کے لیے قائد اعظم آتے ہی کرسی پر بیٹھ گئے جس پر چیف جسٹس میاں عبدالرشید نے اعتراض کیا۔ ٭ پرچم کشائی مولانا شبیر احمد عثمانی سے کروائی گئی۔ ٭ ریڈ کلف ایوارڈ اور خاص طور پر پنجاب کی تقسیم مسلم لیگ کے مطالبات کے عین مطابق تھی۔ ٭1935 ء میں قائد اعظم کی ہندوستان واپسی ایک خواب کا نتیجہ تھی۔ ٭ علامہ اقبال نے خطوط لکھ کر قائد اعظم کو لندن سے واپسی پر آمادہ کیا۔ ٭ قائد اعظم سے منسوب یہ بیان کہ پاکستان میں نے اور میرے ٹائپ رائٹر نے بنایا۔ ٭ قائد اعظم سے منسوب یہ فقرہ کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ڈال دیے گئے ہیں۔ ٭ کراچی میں ایمبولنس کی خرابی سازش تھی۔ ٭ زیارت سے لے کر کراچی آمد تک لیاقت علی خان کے حوالے سے تراشے گئے بدگمانیوں کے افسانے۔
ڈاکٹر صفدر محمود نے یہ سب مفروضے اور جھوٹ غلط ثابت کیے۔ انہوں نے دلائل کے انبار لگا دیے۔ گواہیاں پیش کیں۔ حوالے دیے۔ ریفرنسز دکھائے۔ عینی شاہدوں سے ملے۔ حلف برداری کی تقریب کی وڈیو ڈھونڈی اور دیکھی۔ یہ جو آج پوری دنیا میں تحریک پاکستان کی تاریخ کے طالب علم اور قائد اعظم کے شیدائی ڈاکٹر صفدر محمود کی وفات پر غم زدہ ہیں تو اس کا سبب مرحوم کی یہ محنت اور مشقت ہی تو ہے۔ انہوں نے تن تنہا اتنا کام کیا جتنا بڑے بڑے ادارے کرتے ہیں۔ کوئی مالی امداد ان کی پشت پر نہ تھی۔ کسی ادارے کا تعاون حاصل نہ تھا۔ ہم جیسے طالبان علم کے لیے ان کے دروازے ہمہ وقت کھلے تھے۔ جب بھی ان موضوعات پر کوئی مشکل پیش آتی، رہنمائی فرماتے۔ کتاب پاس ہوتی تو ارسال فرما دیتے‘ ورنہ بتاتے کہ کون سا حوالہ ہے اور کہاں ملے گا۔ اس کالم نگار پر ہمیشہ شفقت فرماتے اور اس قابل سمجھتے کہ کسی مسئلے پر تشویش ہو تو شیئر کریں۔
ڈاکٹر صاحب کس طرح مسئلے کی تہہ تک پہنچتے تھے، اس کی صرف ایک مثال قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے: یہ جھوٹ کچھ حلقوں نے تواتر کے ساتھ پھیلایا کہ قائد اعظم نے قیام پاکستان سے قبل جگن ناتھ آزاد کو پاکستان کا قومی ترانہ لکھنے کو کہا۔ انہوں نے ترانہ لکھا جو قائد نے منظور کیا اور پھر یہ ترانہ اٹھارہ ماہ تک گایا جاتا رہا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس جھوٹ کے رد میں عقلی اور نقلی بارہ دلائل دیے۔ 

ایک: قائد کی قانونی اور آئینی شخصیت کے لیے ناممکن تھا کہ کابینہ، حکومت اور ماہرین کی رائے کے بغیر ترانہ خود ہی منظور کر لیتے جبکہ انہیں اردو اور فارسی سے واجبی سا تعلق تھا۔ 

دو: قائد اس وقت 71 سال کے تھے۔ جگن ناتھ آزاد اس وقت29 برس کا ایک غیر معروف نوجوان تھا۔ لاہور میں اس کا قیام تھا اور اینٹی پاکستان اخبار 'جئے ہند‘ میں ملازم تھا۔ دوستی تو کجا، قائد سے اس کا تعارف بھی ناممکن تھا۔ 

تین: پروفیسر سعید کی کتاب میں 25اپریل 1948 تک کے قائد کے ملاقاتیوں کی مکمل لسٹ ہے۔ اس میں جگن ناتھ نام کا کوئی ملاقاتی نہیں۔ 

چار: انصار ناصری نے قائد کے کراچی آنے کے بعد کی مصروفیات پر ایک مبسوط کتاب لکھی ہے‘ اس میں بھی جگن ناتھ آزاد کا کوئی ذکر نہیں۔

 پانچ: ڈاکٹر صفدر محمود، عطا ربانی سے‘ جو قائد کے اے ڈی سی تھے، ملے۔ یہ ملاقات کافی جدوجہد کے بعد مجید نظامی کی مدد سے ممکن ہوئی۔ عطا ربانی کا صاف سیدھا جواب تھاکہ اس نام کا کوئی شخص قائد سے ملا نہ قائد سے انہوں نے یہ نام کبھی سنا۔

 چھ: جگن ناتھ آزاد نے اپنی وفات تک خود یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا۔ 

سات: ڈاکٹر صفدر محمود نے ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز چھان مارے۔ ان میں بھی ایسا کوئی ذکر نہیں۔ 

آٹھ: ڈاکٹر صاحب نے اگست 1947 کے اخبارات چھان مارے۔ جگن ناتھ کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔ 

نو: ڈاکٹر صاحب نے خالد شیرازی سے ملاقات کی جنہوں نے اگست1947 کے ریڈیو پروگراموں کا چارٹ بنایا تھا۔ انہوں نے بھی اس دعوے کی نفی کی۔ 

دس: ریڈیو پاکستان کے رسالہ 'آہنگ‘ میں ایک ایک پروگرام کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس میں بھی جگن ناتھ کے ترانے کا کوئی ذکر نہیں۔ 

گیارہ: جگن ناتھ آزاد نے اپنی کتاب ''آنکھیں ترستیاں ہیں‘‘ میں صرف یہ لکھا کہ اس نے ریڈیو لاہور سے اپنا ملی نغمہ سنا۔ اس نے قائدِ اعظم کا ذکر کیا نہ ترانے کا۔ 

بارہ: ایک بھارتی سکالر منظور عالم نے جگن ناتھ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا‘ جس میں جگن ناتھ کا انٹرویو ہے جس میں انہوں نے ان مشاہیر کا ذکر کیا‘ جن سے وہ ملے۔ ان میں قائد اعظم کا ذکر نہیں، اگر ملے ہوتے تو یقیناً ذکر کرتے۔

یہ صرف ایک مثال ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہر ایشو پر اسی طرح مکمل تحقیق کی اور کوئی گوشہ تشنہ نہ چھوڑا۔ ان کی دو کتابیں ''سچ تو یہ ہے‘‘ اور ''اقبال، جناح اور پاکستان‘‘ تاریخِ پاکستان کے ہر شائق کو ضرور پڑھنی چاہئیں۔ ان کی بعض آرا سے اختلاف بھی ہے‘ مگر اس کا یہ موقع نہیں۔ خداوند قدوس ان کی لغزشوں سے درگزر کرے اور ان کی نیکیوں اور قومی خدمات کو قبول کرے

بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, September 14, 2021

نئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تقرری



دو دن پہلے صدر پاکستان نے‘ وزیر اعظم کی تجویز پر‘ محمد اجمل گوندل کو نیا آڈیٹر جنرل آف پاکستان مقرر کیا ہے۔
یہ تقرری دو لحاظ سے خوش آئند ہے۔ ایک اس لیے کہ اس آئینی پوسٹ کے لیے ایسے افسر کو منتخب کیا گیا ہے جو آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کے محکمے کے اندر موجود تھا اور باقاعدہ ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔ دوسرا اس لیے کہ یہ افسر سب سے زیادہ سینئر تھا۔ اور میرٹ پر اسی کا حق بنتا تھا۔ اس سے پہلے کچھ آڈیٹر جنرل ایسے بھی مقرر کیے گئے جو ریٹائر ہو کر گھر بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ وہ تھے جو محکمے سے باہر تھے۔ اور محکمے کی افرادی قوت سے براہِ راست آشنائی نہیں رکھتے تھے۔ اگرچہ ان میں منظور حسین اور تنویر آغا مرحوم جیسے مردم شناس اور قابل آڈیٹر جنرل بھی ہو گزرے ہیں جو اگرچہ ایک مدت محکمے سے باہر رہے مگر کارکردگی اور سیاسی دباؤ کا مقابلہ کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ منظور حسین نے اپنے عہد میں بدعنوان افسران کو نکال باہر پھینکا۔ یہ اور بات کہ ان کے جانے کے بعد یہ نکالے گئے لوگ‘ سسٹم کی مہربانی سے‘ ایک ایک کر کے واپس آموجود ہوئے۔
جب ہم کہتے ہیں کہ اجمل گوندل سب سے زیادہ سینئر تھے اس لیے ان کے حق میں جو فیصلہ ہوا ہے‘ وہ خالص میرٹ پر ہوا ہے‘ تو اس میں ایک نکتہ ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ ایک لفظ جسے فرنگی Discretion کہتے ہیں‘ اور ہم اردو والے'' صوابدید‘‘ کہتے ہیں‘ ہمارے ہاں بہت ہی رگیدا گیا ہے۔ اس رگیدنے کا بھی سن لیجیے کہ فرنگی اسے یعنی رگیدنے کو Misuseکرنا کہتے ہیں۔ جب سب سے زیادہ سینئر افسر کے بجائے اس کے جونیئرکو نوازنا ہو تو کہتے ہیں کہ حکومت کی‘‘ صوابدید‘‘ ہے۔ یہ ملمع کاری کی ایک شکل ہے۔ اصول یہ ہے کہ اگر سینئر کو ترقی نہیں دے رہے تو فائل پر اس کی وجوہ لکھئے مگر یہاں صوابدیدی اختیار کو ذاتی پسند ناپسند کے حوالے سے استعمال کیا جاتا ہے جو صریح ناانصافی ہے اور ہمارے دو حکمران اس ناانصافی کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سینئر جرنیلوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے جنرل ضیاء الحق کو عساکر کا سربراہ نامزد کیا۔ بھٹو صاحب فدویانہ ناز و انداز سے گھائل ہو گئے تھے مگر قدرت کا اپنا نظام ہے۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچا دو‘ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو‘ تو یہ اس لیے نہیں فرمایا گیا کہ حکمران من مانیاں کرتے پھریں اور انہیں سزا نہ ملے۔ آپ حقدار کو محروم کر کے غیر حقدار کو نواز یں گے تو آپ کو قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ بھٹو صاحب کو اسی جنرل ضیا نے تختۂ دار پر لٹکایا۔ یہی غلطی میاں نواز شریف نے کی اور جسے نیچے سے اوپر لائے‘ اس نے انہیں ناکوں چنے چبوائے۔ خود جنرل پرویز مشرف کا عہد ایسی ناانصافیوں سے بھرا پڑا ہے۔ اب خاکِ وطن کو ترس رہے ہیں۔ اگر اندر کی آنکھ وا ہو تو انسان یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ قدرت حقدار کی حق تلفی برداشت نہیں کرتی اور آخرت کے علاوہ‘ اس جرم کی سزا دنیا میں بھی دیتی ہے۔
اجمل گوندل گریڈ بائیس کے افسر تھے۔ ان کے علاوہ جن دو دوسرے افسروں کے نام اوپر بھیجے گئے تھے‘ فرخ حامدی اور ڈاکٹر غلام محمد‘ وہ بھی گریڈ بائیس میں ہیں اور لائق اور اچھی شہرت کے مالک ہیں مگر سنیارٹی لسٹ میں گو ندل کا نام ٹاپ پر تھا اس لیے مقامِ شکر ہے کہ یہ فیصلہ درست ہوا اور کسی کی حق تلفی نہیں ہوئی۔ اجمل گوندل ایک محنتی اور فرض شناس افسر ہیں۔ متین اور نجیب! امید کرنی چاہیے کہ وہ اُن محرومیوں کو دور کریں گے جو اس آئینی محکمے کو لاحق ہیں‘میرٹ کا بول بالا کریں گے اور ایک سیاسی خاندان کا حصہ ہونے کے باوجود سیاسی دباؤ کا مقابلہ جرأت اور دانشمندی سے کریں گے۔ بالخصوص سفارت خانوں کے آڈٹ کے لیے جن افسروں اور اہلکاروں کو بیرونِ ملک بھیجا جاتا ہے اس میں میرٹ اور انصاف کی سخت ضرورت ہے۔ آڈیٹر جنرل کے محکمے کی کچھ اسامیاں برطانیہ‘ امریکہ اور دوسرے ملکوں میں بھی موجود ہیں جن کے لیے ماضی میں جوڑ توڑ اور دوڑ دھوپ کی جاتی رہی۔ ان میں بھی انصاف کرنا ہو گا۔ بلند مناصب قدرت کی طرف سے انعام بھی ہوتے ہیں اور امتحان بھی۔ نیک نامی بھی کمائی جا سکتی ہے اور خدا نخواستہ سفید لباس پر داغ بھی لگ سکتا ہے۔ سعدی نے کمال کی نصیحت کی ہے:
خیری کُن ای فلان و غنیمت شمار عمر /زان پیشتر کہ بانگ بر آید فلاں نماند
ارے صاحب ! نیکی کیجیے اور وقت کو غنیمت جانیے اس سے پہلے کہ لوگ کہیں کہ آپ کے منصب کی مدت ختم ہو گئی!
آڈیٹر جنرل کا عہدہ‘اور ادارہ‘انگریز بہادر نے قائم کیا۔ ہمارے اپنے بادشاہ آڈٹ کو پسند نہیں کرتے تھے۔ کبھی کسی کا منہ موتیوں سے بھر دیا۔ کبھی کسی کو سونے میں تلوا دیا۔ کبھی کسی کو پورا ضلع جاگیر میں دے دیا۔ سرکاری خزانہ بادشاہ کا ذاتی خزانہ تھا۔ شاہ جہان کا تخت ِ طاؤس سات سال میں بنا۔ کروڑوں روپے خرچ ہوئے اور یہ وہ زمانہ تھا جب ایک روپے میں چار یا پانچ بکریاں ملتی تھیں۔ وہ پانچ کروڑ روپے کے زیورات کا مالک تھا اور ایک ایک ہار‘ جو گلے میں پہنتا تھا‘ آٹھ آٹھ لاکھ روپے کا تھا۔ آج کے مسلمان بادشاہوں کے ہاں بھی یہی نظام کار فرما ہے۔ 1857 ء کی جنگ ِ آزادی کے بعد جب برطانیہ نے برصغیر کی حکومت براہِ راست سنبھالی تو ہندوستان میں آڈیٹر جنرل بھی مقرر کیا جس کی منظوری کے بغیر مالیات میں کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتاتھا۔ ملٹری اکاؤنٹس اور آڈٹ کی بنیاد ایسٹ انڈیا کمپنی اس سے بھی ایک سو سال پہلے رکھ چکی تھی۔ کلائیو نے مدراس کی فوج کے لیے ایک لاکھ روپے کا ایڈوانس ملٹری اکاؤنٹس سے لیا تھا جس کا ریکارڈ‘ غالباً آج بھی موجود ہو گا۔ اسی رقم سے پلاسی کی جنگ لڑی اور جیتی گئی۔
ذوالفقار علی بھٹو نے1973ء میں دو کام ایسے کیے جن کے عواقب ملک آج تک بھگت رہا ہے۔ ایک تو بیورو کریسی کے سر سے آئینی حفاظت کی چھتری ہٹا دی۔اس کے بعدافسر شاہی‘ ریاست کی نہیں‘ حکومت کی ملازم ہو گئی۔ اس کا درجہ کنیز کا ہو گیا۔پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ2005ء میں ایک وفاقی وزیر نے ایک سینئر بیورو کریٹ کو تھپڑ دے مارا۔ اس وقت پلاسٹک کے وزیر اعظم شوکت عزیز کے چرمی دام چل رہے تھے۔ اس نے وزیر کو کچھ بھی نہ کہا۔ وزیر اعلیٰ بھی اپنے افسر کی داد رسی نہ کر سکا۔ 
دوسرا کام بھٹو نے یہ کیا کہ بیورو کریسی کو سیاسی تقرریوں کی نذر کر دیا۔ اس سے پہلے مقابلے کا امتحان پاس کر کے آنے والے افسر اپنے نام کے ساتھ اپنے اپنے شعبے کا نام لکھتے تھے۔ جیسے پی ایس پی یعنی پولیس سروس آف پاکستان یا پی اے اینڈ پی ایس۔( PA&AS)یعنی پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس مگر سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر آنے والے ایسا نہیں لکھ سکتے تھے۔ وہ تو چھلنی سے گزر کر نہیں‘ بلکہ '' اوپر‘‘ سے آتے تھے اس لیے فیصلہ ہوا کہ نام کے ساتھ سروس کا لاحقہ کوئی بھی نہیں لگائے گا یعنی کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے۔وزارتِ خزانہ کے منہ سے دانت ہی نکل گئے۔ جنرل ضیا الحق ترکی میں تھے۔ کوئی فنکار تھا یا کھلاڑی‘ ترک صدر نے بتایا کہ یہ بیمار ہے‘ میں اسے علاج کے لیے امریکہ بھیجنا چاہتا ہوں مگر وزارتِ خزانہ مانتی نہیں۔ پاکستانی صدر نے وہیں پر اس کے بیرونِ ملک علاج کی منظوری دے دی۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔
( یہ واقعہ ارشاد احمد حقانی مرحوم نے اپنے کالم میں لکھا تھا)

بشکریہ روزننامہ دنیا

Thursday, September 09, 2021

چاندنی اور دھوپ کو کبھی کوئی روک پایا ہے؟



عربوں کی کہاوت ہے کہ انسان دو طرح کے ہوتے ہیں: فیاض اور بخیل! ایک کہاوت ہمارے ہاں بھی ہونی چاہیے تھی۔ وہ یہ کہ مجاہد اور غازی دو طرح کے ہوتے ہیں۔
ایک قسم مجاہدوں اور غازیوں کی وہ ہے جو اپنے اوپر ایک خراش تک نہیں آنے دیتے‘ دوسروں کے جگر گوشوں کو میدانِ وغا میں بھیجتے ہیں اور اپنے لخت ہائے جگر کو ایٹلانٹک کے اُس پار، نئی دنیا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے بھیجتے ہیں۔ ( اس اثنا میں مغربی تعلیم کی تنقیص جاری رکھتے ہیں۔) واپس آ کر ان مجاہدوں اور غازیوں کے یہ فرزندانِ کرام بزنس کرتے ہیں‘ پھلتے پھولتے ہیں‘ دھن دولت کماتے ہیں۔ یہ مجاہد اور غازی ہر وہ کارنامہ سرانجام دیتے ہیں جس میں کسی مالی یا جانی قربانی کا دور دور تک کوئی امکان نہ ہو۔ کاروبار کرتے ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنتی ہیں۔ کشمیر کمیٹیاں تشکیل پاتی ہیں۔ ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکڑی! انگلی تو انگلی ہے ، ناخن تک شہید نہیں ہونے دیتے۔ پانچوں گھی میں سر کڑاہی میں رکھتے ہیں۔ مجاہد اور غازی بھی کہلواتے ہیں۔
دوسری قسم ان سر فروشوں کی ہے جن کو دنیا سے اتنی ہی غرض ہوتی ہے جتنی مسافر کو سرائے سے۔ یہ دوسروں کو قربانی کے لیے بھیجنے سے پہلے خود میدان میں اترتے ہیں۔ تاریک راتوں میں ان کے ہاتھوں میں چراغ نہ ہوں تو یہ اپنے سروں سے مشعلوں کا کام لیتے ہیں۔ یہ دولت کے انبار نہیں اکٹھے کرتے، زر و سیم اور جاہ و حشم کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔ یہ نام کے مجاہد نہیں ہوتے، سچے اور اصل مجاہد ہوتے ہیں۔ یہ زندگی کو سنبھال سنبھال کر نہیں رکھتے بلکہ اپنے مقصد کے لیے جان ہر وقت ہتھیلی پر رکھتے ہیں۔ سید علی گیلانی اس دوسری قسم سے تعلق رکھتے تھے۔
علی گیلانی چاہتے تو خود پیچھے رہ کر بھی تحریک برپا کر سکتے تھے۔ چندے اکٹھے کر کے ایک آسان زندگی گزار سکتے تھے۔ لگژری سے بھرپور زندگی! کشمیر اور آزادیٔ کشمیر کے نام پر دورے کر سکتے تھے۔ بزنس کی ایمپائر کھڑی کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے وہ راستہ چنا جو ٹیپو سلطان نے چنا تھا۔ جو امام شامل نے چنا تھا۔ جو نیلسن منڈیلا نے چنا تھا۔ انہوں نے وہ راستہ چنا جو ان کے آبائواجداد نے امویوں اور عباسیوں کے عہد میں چنا! وہ سید تھے۔ سادات کے راستے پر چلے! سادات کا راستہ زنداں کا راستہ ہے یا شہادت کا! کربلا تو محض آغاز تھا! اس کے بعد کیا کیا نہیں ہوا۔ امام حسنؓ کے پوتے امام عبداللہؒ کا انتقال جیل میں ہوا۔ حافظ ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ آپ کی موت زنداں میں طبعی نہیں تھی! امام نفس ذکیہؒ کے ایک درجن سے زیادہ قریبی اعزہ کو محبوس رکھا گیا، شہادت کے بعد آپ کا سرِ مبارک کاٹ کر عباسی حکمران کو بھیجا گیا۔ امام ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ نے امام نفس ذکیہؒ کی حمایت کی تھی۔ امام باقرؒ کو امویوں نے جیل میں ڈالا۔ جب قیدی آپ سے متاثر ہونے لگے تو رہا کر دیا مگر ان کے راستے میں پڑنے والے شہروں کے بازار بند کرا دیے تا کہ اشیائے خور و نوش نہ خرید سکیں۔ امام موسیٰ کاظمؒ کا انتقال جیل میں ہوا۔
علی گیلانی سیّد تھے۔ انہوں نے سیّد ہونے کا حق ادا کیا۔ انہوں نے تخت کا نہیں تختے کا راستہ چنا۔ لوگ سادات سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں مگر سادات کی اتباع نہیں کرتے‘ اس لیے کہ سادات کی سنت سر جھکانا نہیں، سر کٹانا ہے۔ آخری گیارہ سال تو سید علی گیلانی مستقل نظر بند رہے۔ا س سے پہلے بارہا قید رہے۔ ان کی قید اور نظر بندی کا کُل عرصہ انتیس سال پر محیط ہے۔ ایک سال کم تیس سال! نیلسن منڈیلا کا عرصۂ اسیری ستائیس برس بنتا ہے۔ منڈیلا کے لیے ایک دنیا نے شور برپا کیا۔ سید علی گیلانی مسلمان تھے، کشمیری تھے! اس لیے دنیا نے اغماض برتا! بانوے سال کے ضعیف اور نحیف انسان کو بھارتی استعمار نے ہر اس سہولت سے محروم رکھا جو کسی بھی انسان کا بنیادی حق ہے۔ پوتوں اور نواسوں، پوتیوں اور نواسیوں سے نہ ملنے دیا۔ پاسپورٹ معطل رکھا، مواصلات سے، رسل و رسائل سے، ملنے ملانے سے، احباب اور متعلقین سے، غرض پوری دنیا سے کاٹ کر رکھا! یہاں تک کہ فرشتے آئے اور سعید روح کو حفاظت سے لے گئے۔
فرشتے لے چلے سوئے حرم تابوت میرا
کفِ افسوس ملتے رہ گئے بد خواہ میرے
غاصب بھارتی حکومت کے ہاتھ ان کا جسد خاکی لگا۔ رات کے اندھیرے میں تدفین کر دی۔ اعزہ و اقارب کو شریک نہ ہونے دیا۔ جتنے راستے ان کے گھر کو جاتے تھے، سب پر پہرے اور ناکے لگا دیے۔ وفات کے بعد بھی بھارتی حکومت کے خوف کا یہ عالم تھا کہ فوج کی پلٹنوں کی پلٹنیں کھڑی کر دیں۔ اس بزدلانہ حرکت کو علی گیلانی آسمانوں سے دیکھ کر مسکر ائے ہوں گے۔
ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے
سید علی گیلانی اقبال کے شیدائیوں میں سے تھے۔ اقبال کبھی نہ بھولے کہ وہ اصلاً کشمیر سے تھے۔
تنم گُلی زخیابانِ جنت کشمیر
دلم ز خاکِ حجاز و نوا، زشیراز است
کہ میرا وجود چمنستانِ کشمیر کا ایک پھول ہے۔ دل حجاز کی مٹی سے اور آواز شیراز سے ہے۔
کشمیر کے بارے میں علامہ کی تشویش اور فکر ایک الگ موضوع ہے۔ یہاں ہم اُس نظم کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں جس کا عنوان ہے ''ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام‘‘۔ روایت ہے کہ یہ اشعار پطرس بخاری کے حوالے سے کہے گئے مگر درمیان کے دو اشعار یوں لگتا ہے علامہ نے سید علی گیلانی کو مخاطب کر کے کہے۔
میں اصل کا خاص سومناتی/ آبا مرے لاتی و مناتی
تو سیدِ ہاشمی کی اولاد/ میری کفِ خاک برہمن زاد
جس کشمیر کا نقشہ علامہ نے پیش کیا ہے وہ یہ کشمیر نہیں جو آگ میں جل رہا ہے اور سنگینوں کی زد میں ہے۔
رخت بہ کاشمر کشا، کوہ و تل و دمن نگر
سبزہ جہان جھان ببین، لالہ چمن چمن نگر
باد بہار موج موج، مرغ بہار فوج فوج
صلصل و سار، زوج زوج، بر سر نارون نگر
رخت سفر کشمیر کے لیے باندھ، پہاڑ‘ ٹیلے اور وادیاں دیکھ! ہر طرف سبزہ زار اور ہر باغ گُلِ لالہ سے بھرا ہوا! کیا بادِ بہاری کی لہریں ہیں اور کیا ہی خوبصورت پرندوں کی ڈاریں ہیں! انار کے درختوں پر فاختائیں اور مینا جوڑوں کی صورت میں دیکھ!
سید علی گیلانی کی طویل قید اور قید میں بے بسی کی موت رائیگاں نہیں جائے گی۔ یہ خدا کی سنت ہے۔ اس کے ہاں قربانی اور ایثار کا حساب رکھا جاتا ہے۔ کشمیر پر برستی ہوئی آگ ایک دن پھولوں میں تبدیل ہو گی۔ سیب اور انار کے درخت اُس آنے والے دن جو پھل دیں گے‘ اُن پھلوں تک غاصب بھارتی حکومت کے ہاتھ نہیں پہنچ سکیں گے۔ یہ ہاتھ آج طاقت ور اور لمبے دکھائی دے رہے ہیں مگر یہ ہاتھ ٹوٹ جائیں گے۔ کنول کے خوبصورت پھول کشمیر کی جھیلوں کو ڈھانپ لیں گے۔ انگور کے خوشوں تک صرف کشمیریوں کے ہاتھ پہنچیں گے۔ بنفشی اور ارغوانی رنگ کشمیر کے مہکتے باغوں کو بہشت میں تبدیل کر دیں گے۔ علی گیلانی کی قبر پر پھول کھلیں گے۔ جگنو دیے جلائیں گے۔ کرنیں اتریں گی۔ تتلیاں قبر کا طواف کریں گی۔ آسمان پر لگے ہوئے دریچوں سے علی گیلانی کشمیر کو آزاد ہوتا دیکھیں گے!
چاندنی اور دھوپ کو کبھی کوئی روک پایا ہے؟
خوشبو کو کبھی کوئی ختم کر سکا ہے؟

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, September 06, 2021

افغانستان … چند معروضات



اتنا سہل نہیں جتنا نظر آتا ہے۔ اسلام کے حوالے سے ایک ملک چلانا بہت بڑا کام ہے۔ چیلنج کرنے والا! ساری دنیا کی نظریں آپ پر لگی ہیں!
وژن چاہیے۔ ایسا وژن جس کی راہ میں آشوب چشم حائل ہو نہ ککرے! سفید موتیا نہ کالا موتیا! شفاف ‘ صحت مند نظر درکار ہے! ایسی نظر جو مسلکوں کے پار دیکھ سکے اور مکاتب فکر اُسے پار دیکھنے سے روک نہ سکیں! طالبان کی خدا مدد کرے اور انہیں مسلک سے اُوپر ہو کر دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے! اگر وہ مملکت کا کاروبار چلانے میں‘ خدانخواستہ‘ خدانخواستہ‘ کامیاب نہ ہو سکے تو الزام اُن پر نہیں آئے گا! میرے منہ میں خاک! اسلام پر آئے گا!
سب سے پہلے انہیں طے کرنا ہو گا کہ انکے ستر اسی ہزار جنگجو باقاعدہ فوج میں ضم ہوں گے یا معاشرے میں پھیل کر اپنے اور اپنے خاندانوں کیلئے معاش کا انتظام کریں گے! بیس سال سے جو چھاپہ مار فوج کاحصہ رہے ہوں ان کیلئے دونوں کام آسان نہ ہوں گے! باقاعدہ فوج کی تربیت ایک الگ سائنس ہے اور اس سے بھی بڑی سائنس یہ ہے کہ زمانۂ امن میں اس فوج کو کس طرح مصروف اور تنظیم کا پابند رکھا جائے۔ رہا معاشرے میں پھیل کر معاشی سرگرمی کا حصہ بننا تو یہ اور بھی مشکل ہے‘ اس لیے کہ انہوں نے کوئی کام بھی نہیں کیا۔ کھیت کارخانہ‘ دکانداری‘ سب کچھ ان کیلئے اجنبی ہے۔
اگر ایک طرف خواہش یا پالیسی یہ ہو کہ مریض عورتوں کا علاج صرف خواتین ڈاکٹر اور خواتین نرسیں کریں اور لڑکیوں کو صرف خواتین اساتذہ پڑھائیں اور دوسری طرف عورتوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے میں بہت سے اگر مگر اور بہت سے اِفس اور بَٹس سے کام لیا جائے اور اجازت فراخ دلی اور خندہ پیشانی سے نہ دی جائے تو یہ ایسے ہی ہو گا جیسے گاڑی چلاتے وقت بریک اور ایکسی لیریٹر‘ دونوں پر بیک وقت پاؤں رکھ کر دبایا جائے۔ اگر مخلوط تعلیم نہیں پسند تو کوئی مضائقہ نہیں مگر پھر خواتین کے لیے میڈیکل کالج‘ انجینئر نگ کالج‘ ہوم اکنامکس کالج‘ ٹیچرز ٹریننگ کالج ‘ کامرس اور آئی ٹی پڑھانے والے ادارے الگ بنانے ہوں گے اور مردوں کے لیے الگ! اس اعلان نے کہ کابینہ میں خواتین کی شمولیت خارج از امکان ہے‘ پوری دنیا میں سگنلز بھیجے ہیں! ایسے سگنلز جو آنے والے دنوں کا احوال بتاتے ہیں!
نئی حکومت کو فارن سروس‘ پولیس سروس اور ضلعی انتظامیہ کے شعبے تشکیل دینے ہوں گے! ایف بی آر قائم کرنا ہو گا! قومی خزانے سے ادائیگیاں کرنے کے لیے وفاق اور ولایتوں میں اکاؤنٹس کے سیٹ اپ تشکیل دینے ہوں گے۔ ان ادائیگیوں کا آڈٹ کرنے کے لیے آڈیٹر جنرل کا محکمہ قائم کرنا ہو گا۔ تجارت کے فروغ کے لیے مردانِ کار ضرورت ہوں گے جنہیں کم از کم توازنِ ادائیگی (Balance of payment) اور توازنِ تجارت (Balance of trade) کے بارے میں علم ہو۔ مالیات کے ماہرین کی ضروت ہو گی جو افراطِ زر اور بیروزگاری کے باہمی تعلق کو بخوبی جانتے ہوں! ٹیکس عائد کرنے کے لیے ایک متناسب اور عادلانہ نظام بنانا ہو گا! بیرونی ممالک میں ان لوگوں کو سفیر بنا کر بھیجنا ہو گا جو میزبان ملکوں کی ترقی کو تنقیدی نہیں بلکہ مثبت نظر سے دیکھیں اور کار آمد پالیسیوں کا اپنے ملک میں تتبع کروائیں! خذ ما صفا ودع ما کدر!
مگر افغانستان کی شہ رگ اگر محفوظ رکھنی ہے تو سب سے اہم کام صنعت (مینو فیکچرنگ) سیکٹر کا قیام ہو گا تا کہ کم از کم بنیادی ضرورت کی اشیا مثلاً چینی‘ گھی‘ آٹا‘ سیمنٹ‘ سٹیل‘ جوتے‘ کپڑا‘ بنیادی ادویات‘ کتابیں‘ کاپیاں‘ پنسلیں‘ سکول بیگ اور دیگر سخت ضرورت کی اشیا ملک کے اندر ہی بنیں اور پڑوسی ملکوں سے چور دروازے یعنی سمگلنگ کے ذریعے نہ لانا پڑیں۔ زمانے ہو گئے افغانستان کی بنی ہوئی کوئی شے کبھی نظر نہیں آئی۔ یہاں تک کہ جراب بھی نہیں! افغانستان کو اس ناقابل رشک احتیاج سے نکلنا ہو گا۔
افغانستان پھلوں کے سلسلے میں خوش قسمت واقع ہوا ہے۔ آپ نے بازار میں تھائی لینڈ‘ فلپائن اور ملائیشیا کا انناس بند ڈبوں میں دیکھا ہو گا اور خرید کے کھایا بھی ہو گا۔ 2018ء میں صرف تھائی لینڈ نے چالیس کروڑ ڈالر کا ڈبوں میں بند انناس فروخت کیا۔ فلپائن بھی اس مد میں کروڑوں کما رہا ہے۔ اگر افغانستان اپنا خربوزہ‘ سیب‘ انار‘ خوبانی اور دوسرے پھل ڈبوں میں بند کر کے بین الاقوامی منڈی میں لائے تو کروڑوں کما سکتا ہے مگر اس کے لیے ماہرین کو بلا کر پُر کشش مراعات کی پیشکش کرنا ہو گی تا کہ وہ راغب ہو کر افغانستان کے مختلف حصوں میں پھلوں کو Process کرنے اور ڈبوں میں بند کرنے کا کام کریں! قالین افغانستان کی برآمد کا بڑا آئٹم بن سکتے ہیں بشرطیکہ مارکیٹنگ کا صدیوں پرانا نظام ترک کر کے جدید طریقے اپنائے جائیں۔
ایک جدید اسلامی مملکت صرف دُرِّ مختار‘ فتاویٰ عالمگیری‘ فتاویٰ قاضی خان‘ ہدایہ اور کنزالدقائق جیسے منابع سے نہیں چل سکتی ! انہیں شرق اوسط‘ شمالی افریقہ (المغرب) ‘ ترکی ‘ ملائیشیا‘ برونائی اور انڈونیشیا کے علما سے تبادلہ خیالات کرنا ہو گا تاکہ سوچ کا افق وسیع تر ہو اور مسائل کے متبادل حل ہاتھ آ سکیں ! یہ سب کتب بہت قیمتی اور ہمارا بہت بڑا سرمایہ ہیں مگر جو مسائل آج کی طالبان حکومت کو درپیش ہوں گے ان کے حل ان کتابوں میں نہیں ملیں گے۔ یہ کتابیں اُس وقت ترتیب دی گئی تھیں جب مسلمان دنیا کی سپر پاور تھے۔ آج کروڑوں مسلمان غیر مسلم ترقی یافتہ ملکوں میں جانے کے لیے ہاتھوں میں عرضیاں لیے کھڑے ہیں اور ہوائی جہازوں کے ساتھ چمٹ کر‘ لٹک کر‘ جانے کے لیے تیار ہیں۔ آج کے مسائل نئے ہیں‘ اس قدر نئے کہ سینکڑوں سال تو کیا‘ پچاس سال پہلے کی پالیسیاں بھی از کارِ رفتہ ہو چکیں۔ ایک مثال دیکھیے۔ اکرم خان ماہر اقتصادیات ہیں اور بین الاقوامی شہرت کے مالک۔ اگرچہ چراغ تلے اندھیرا ہے کہ اپنے ملک میں انہیں کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ ان کی شہرہ آفاق تحقیقی تصنیف: What is Wrong with Islamic Economics? کا ترجمہ عربی‘ ترکی اور انڈونیشیا کی زبان ''بھاشا‘‘ میں ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس کے دیباچے میں ایک فکر انگیز نکتہ اٹھایا ہے۔ اب تک اس بات پر تقریباً اجماع رہا ہے کہ اگر غیر مسلم میاں بیوی میں سے بیوی اسلام قبول کرتی ہے تو اس کا نکاح فسخ ہو جائے گا۔ اب وہ غیر مسلم میاں کے ساتھ نہیں رہ سکتی مگر مشہور و معروف فقیہ علامہ یوسف قرضاوی‘ سوڈانی عالم حسن ترابی اور کئی دیگر علما کے نزدیک اس زمانے میں ایسا کرنے سے مغربی ملکوں میں دوسری غیر مسلم عورتیں اسلام قبول کرنے سے احتراز کریں گی اور اُس عورت کے میاں کے مسلمان ہونے کا امکان بھی ختم ہو جائے گا۔ یورپی کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ کا موقف بھی یہی ہے‘ اس مسئلے پر اور اس قبیل کے دوسرے نئے مسائل پر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے اپنی تصنیف ''مقاصد شریعت‘‘ میں تفصیل سے لکھا ہے۔ یہ انتہائی اہم کتاب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ادارہ تحقیق اسلامی نے شائع کی ہے۔
افغانستان کا ایک ایشو یہ بھی رہا ہے کہ مقامی ثقافت‘ جیسے پشتون ولی کی روایات کو اسلام کے ساتھ خلط ملط کر دیا گیا ہے۔ افغانوں کو ‘ خواہ وہ طالبان ہیں یا غیر طالبان‘ اپنا قومی یا علاقائی لباس پہننے کا پورا حق حاصل ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے پاکستانیوں یا بنگالیوں یا سوڈانیوں کو یہ حق حاصل ہے۔ مگر کوئی پاکستانی یا بنگالی یا افغان یا سوڈانی یہ دعویٰ کیسے کر سکتا ہے کہ اس کا لباس اسلامی ہے؟ اس سیاق و سباق میں کچھ لطیفہ نما واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔ کل کی نشست میں اس پر مزید بات ہو گی!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, September 02, 2021

کہانی ابھی نامکمل ہے



اس کا انجام ساری دنیا نے دیکھ لیا۔ جگر کے جن ٹکڑوں کے لیے اللہ کی مخلوق کی گردن پر پاؤں رکھ کر اللہ کی مخلوق کو نچوڑتا رہا، خون پیتا رہا‘ جگر کے ان ٹکڑوں میں سے کوئی کام نہ آیا۔ وہ سب بحر اوقیانوس پار کر گئے اور ایک عشرت بھری لگژری سے بھرپور زندگی گزارنے میں مصروف ہو گئے۔
جن لوگوں کا خون چوستا رہا، وہ اپنی زندگی بھر کی خون پسینے کی کمائی کے پیچھے بھاگتے رہے، پامال ہوتے رہے، ٹھوکریں کھاتے رہے۔ ان کی حیثیت اُس مٹی کی تھی جو پاؤں کے نیچے آتی رہتی ہے۔ کبھی اس مٹی پر بوٹوں والے چلتے ہیں کبھی ڈھور ڈنگر! کبھی اس مٹی کو پانی بہا لے جاتا ہے اور یہ کسی گہرے گڑھے میں جا گرتی ہے‘ لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس مٹی کا کوئی پرسان حال کبھی بھی نہیں ہو گا، تو وہ اندھا ہے یا احمق یا مجنون !
اس نے گھر بنایا تو ایسا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لاٹ صاحب کا کلکتہ والا گھر اس گھر کے سامنے چمار گھر لگتا تھا۔ سالہا سال یہ گھر بنتا رہا۔ لوگ اس گھر کو بنتا، اوپر جاتا، چوڑا ہوتا دیکھتے رہے۔ دیکھنے والوں کو اس گھر کے سامنے اپنی بے بضاعتی کا احساس ہوتا۔ انہیں یوں محسوس ہوتا جیسے وہ اس قصر کے سامنے زمین پر رینگنے والے کیڑے ہیں۔ راج، معمار، مزدور، بڑھئی، لوہار، نقاش، ہنر مند، روبوٹ بن کر کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ شداد کی یہ جنت مکمل ہو گئی۔
پھر حساب کے دن کا آغاز ہو گیا۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ صبح سب کے لیے روشنی کا پیغام نہیں لاتی۔ یہ کچھ کے لیے نجات کا سبب بنتی ہے تو کچھ کے لیے عذاب کا۔ پو پھٹے غنچے کھل کر پھولوں کا روپ دھارتے ہیں اور یہ تڑکے کا وقت ہوتا ہے جب قیدی کو دار پر چڑھایا جاتا ہے! اِنَّ مَوْعِدَہُمُ الصُّبْحُ -اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْب۔ ہائے وعدے کا وقت صبح ہے اور صبح ہونے میں دیر ہی کتنی ہے! اسے بیماری لگ گئی! ایسی جس کا علاج روئے زمین پر نہ تھا۔ اربوں کھربوں کے اس مالک کو کوئی ایسا طبیب، کوئی جراح، کوئی وید، کوئی سنیاسی کوئی جوگی، نہ ملا جو تندرست ہونے میں اس کی مدد کرتا۔ ظاہر ہے کہ روحانی علاج بھی کیا گیا ہو گا۔ دعائیں، تعو یذ‘ پانی جس پر آیاتِ شفا پڑھ کر پُھونکی گئیں، کیا کچھ نہ ہوا۔ ایوب نبی بیمار ہوئے تھے تو پکار اٹھے میرے رب! مجھے لگ گئی بیماری ! اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ وہ پیغمبر تھے ۔ پیغمبر کے دامن کی شفافیت کا کیا ہی کہنا! کچھ بزرگ بیماری میں دعائے ایوب پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ نہیں پوچھتے کہ کسی کا حق تو نہیں مارا؟ کسی غریب کا مال تو نہیں ہڑپ کیا؟ کسی مزدور کی مزدوری تو تمہارے ذمہ نہیں؟ کسی رشتہ دار سے تعلق تو نہیں قطع کیا؟ کسی کی زمین، کسی کی پگڈنڈی، کسی کا کھیت تو نہیں دبایا ہوا؟ کسی کے مقروض تو نہیں؟ بہر طور کوئی دوا کارگر نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ اربوں کھربوں روپوں اور ڈالروں کی موجودگی میں اس کے سانسوں کی میعاد بڑھ نہ سکی۔ اب یہاں یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ پُر اسرار ، لا علاج بیماری کا سبب وہ چیخیں اور آہیں کیسے ہو گئیں جو فلک کے اُس پار پہنچیں! بجا فرمایا۔ کوئی ثبوت نہیں! کوئی گواہی نہیں! مگر اس امر کے شواہد بھی تو ناپید ہیں کہ پُراسرار ، لا علاج بیماری کا کوئی تعلق، کوئی کنکشن، چیخوں اور آہوں سے نہیں! ہاں تجربہ کرنے میں کوئی حرج نہیں! صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے ! جو سمجھتا ہے کہ دونوں چیزوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تو وہ خلق خدا کے ساتھ وہی کچھ کر کے دیکھے جو اس شخص نے کیا۔ پھر اگر اس کا انجام خوشگوار اور قابلِ رشک ہوا تو وہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب شمار ہو گا!
موت کا سُن کر لوگ جوق در جوق پہنچے۔ ان کے ہاتھوں میں پنج سورے تھے نہ تسبیحیں! وہ دعائے مغفرت کرنے آرہے تھے نہ پس ماندگان سے اظہار افسوس کے لیے۔ ان کے ہاتھوں میں بینر تھے جن پر مطالبات درج تھے اور بد دعائیں! وہ مرنے والے کو کوس رہے تھے۔ اپنی ڈوبی ہوئی رقوم مانگ رہے تھے‘ مگر وہ جو، ان کا مجرم تھا وہ تو اب خالی ہاتھ تھا۔ اس کے کفن میں کوئی جیب نہ تھی۔ افسوس وہ کچھ بھی نہ ساتھ لے جا سکا۔ سب کچھ پیچھے رہ گیا اور یہ سب کچھ جو پیچھے رہ گیا، دوسروں کے قبضے میں چلا گیا۔ اُس کی چَیک بُکیں، اُس کے لاکر، اُس کی تجوریاں، اس کی ملکیتی دستاویزات، اس کی کرنسیوں کے ڈھیر، سب اس کی آنکھیں بند ہونے کے بعد ایک ثانیے کے اندر اندر، اس کے نہ رہے۔ ہو سکتا ہے موت کے بعد وہ یہ مطالبات، یہ بد دعائیں، یہ وحشت ناک کوسنے سُن رہا ہو، ہو سکتا ہے وہ یہ بینر پڑھ رہا ہو مگر ایک تہی دست ، قلاش، کنگال، مفلوک الحال ، خراب و خوار شخص کسی کو کیا دے سکتا ہے۔ جب اس کا جنازہ پڑھا جا رہا تھا، جب اسے لحد میں اتارا جا رہا تھا، جب اس کے بدن سے کچھ اِنچ اوپر، پتھر کی سِلیں رکھی جا رہی تھیں، جب ان سلوں کے درمیان نظر آنے والے گَیپ گارے سے بھرے جا رہے تھے، جب منوں مٹی ڈالی جا رہی تھی، جب مٹی کا یہ ڈھیر قبر کی صورت اختیار کر رہا تھا تو یہ سارا وقت اس کے ہاتھوں زخمائے لوگ مسلسل مطالبے کر رہے تھے ، بد دعائیں دے رہے تھے اور جھولیاں اُٹھا اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔
مگر یہ کہانی پوری نہیں ہوئی۔ اس کہانی کا ایک حصہ رہتا ہے۔ جب یہ معاملہ اُس وقت کے چیف جسٹس کے پاس گیا تھا تو انصاف یوں ظہور پذیر ہوا تھا کہ ملزم کا بیٹا  چیف جسٹس کی دختر کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں بندھ گیا تھا۔ سو، کہانی ابھی نامکمل ہے۔ کہانی منتظر ہے۔ کہانی اپنا انجام دیکھنے کے لیے ساعتیں گِن رہی ہے۔
یاد نہیں مرزا فرحت اللہ بیگ نے یہ قصہ اپنے اوپر چسپاں کیا ہے یا کسی اور کردار پر۔ بہر حال قصہ یوں ہے کہ قانون کے امتحان میں سوال آیا کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو قتل کر دیا۔ قتل کے دو گواہ موجود ہیں۔ مقتول کے پسماندگان میں بیوہ اور دو بچے ہیں۔ کیس کا فیصلہ کرو۔ ہونہار امیدوار نے فیصلہ کیا کہ دونوں بچوں کو یتیم خانے میں داخل کرا دیا جائے۔ گواہوں کو سیدھا جیل میں بند کر دیا جائے۔ رہے قاتل اور مقتول کی بیوہ، تو ان دونوں کی شادی کر دی جائے! انصاف کی بھی کیا کیا صورتیں ہیں! اندھے کوتوال لگ جاتے ہیں۔ توتلے داستان گو بن جاتے ہیں ۔ حکم ہوتا ہے کہ آئندہ نائیجیریا، زیمبیا اور چاڈ، یورپ کا حصہ سمجھے جائیں گے۔ نقشے میں ہمالہ کو بحرالکاہل کے درمیان دکھایا جائے گا۔ دنیا کا گرم ترین مقام الاسکا ہو گا اور سرد ترین جیکب آباد! جس وقت پُل منہدم ہوا اُس وقت پُل پر سے ہاتھی گزر رہا تھا۔ عین اُسی وقت چیونٹی بھی پُل پر چل رہی تھی۔ چنانچہ پُل گرانے کی فرد جرم چیونٹی پر عائد کی گئی۔ پرانی بات ہے۔ ہمارے دوست اجمل نیازی صاحب نے اخبار میں لکھا کہ اُس وقت کا پنڈی کا کمشنر چونسٹھ پلاٹوں کا مالک ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تریسٹھ بھی نہیں پورے چونسٹھ! اس کے فوراً بعد کمشنر صاحب کا درجہ بلند تر کر کے انہیں پی ٹی وی کا سربراہ بنا دیا گیا۔ یہ عجائبات کی سرزمین ہے۔ یہاں سب کچھ ممکن ہے۔ ماشکی بادشاہ بن سکتا ہے۔ کینیڈا کا طبیب آئل منسٹر لگ سکتا ہے اور قاضیٔ شہر ملزم کا سمدھی بن سکتا ہے!
 

powered by worldwanders.com