Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Tuesday, October 31, 2023

بڑا شکاری، چھوٹے شکاری اور شکارگاہیں! ……………


……………………………………



مغربی ایشیا کی ایک بادشاہت کے سربراہ اور ان کے ولی عہد ہم غریبوں کے ہاں  تشریف لارہے ہیں! وفاقی کابینہ نے پانچ اضلاع کو ، عملا، ان کی خاطر شکار گاہ قرار  دے دیا ہے۔ یہ خوش قسمت اضلاع راجن پور، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور،  بہاولنگر اور رحیم یار خان ہیں۔ ان کے مبارک اور پُر مسرت قیام کے دوران  رینجرز کی تین کمپنیاں بھی ان اضلاع میں تعینات رہیں گی۔   رینجرز کی یہ تین کمپنیاں  انسداد دہشت گردی ایکٹ کے  تحت تعینات کی جا رہی ہیں۔ 




بادشاہوں کی اس خدمت پر آخر کیا اعتراض ہو سکتا ہےہماری تو ساری تاریخ بادشاہ پرستی سے اَٹی پڑی  ہے! ہمارے دلوں میں شاہ پرستی اس قدر کوٹ کوٹ کر 

بھری ہے کہ بابر سے لے کر احمد شاہ ابدالی  اور  نادر شاہ درانی تک ہم نے سب کو جھُک جھُک کر سلام کیا۔ بابر سے پہلے بھی یہی کچھ ہؤا۔ ملک آزاد ہؤا تو بادشاہت سے محبت بھی ورثے میں ساتھ ہی آگئی۔ ایوب خان سے لے کر  ضیا الحق تک ہر حکمران کو  مخلصین  نے یہی مشورہ دیا کہ امیر المومنین بن جائیے! نواز شریف صاحب کا آئیڈیل بھی  سعودی بادشاہت   تھی۔   فرماتے تھے پاکستان میں ٹیکس کا نفاذ ہے۔ اس پر میاں صاحب  بہت  کُڑھتے تھے۔  ایک بار سعودیہ کی مثال  دی کہ وہاں ٹیکس نہیں ہوتا۔   عمران خان صاحب بھی  کچھ کچھ ایسا ہی سوچتے تھے۔ کچھ اس قسم کا ارشاد ان کا مشہور ہے کہ وہاں  ایم بی ایس کے کسی حکم کو بھی  ٹالا نہیں جاتاخان صاحب ایم بی ایس پر رشک کرتے تھے۔



بد قسمتی سے ایسی بادشاہت سے پاکستان محروم رہا جیسی عرب ملکوں میں  ہے اور جیسی ایران میں تھی۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ  ۔؏


گندم اگر بہم نہ رسد بھُس غنیمت است 


تو ہم نے پاکستان میں سیاسی پارٹیوں کو بادشاہتوں کا درجہ دے دیا۔  کوئی مانے یا نہ مانے، ہر سیاسی پارٹی ایک بادشاہت ہے۔ ریاست کے اندر ایک ریاست ہے۔ سیاسی پارٹیوں کی یہ بادشاہتیں موروثی ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے خلجیوں کی ، اور تغلقوں کی اور لودھیوں کی اور مغلوں کی بادشاہتیں تھیںزرداری خاندان ، شریف خاندان، مفتی محمود صاحب کی اولاد، باچاخان کی اولاد، گجرات کے چوہدری! یہ سب بادشاہتیں ہی تو ہیں! عمران خان صاحب بھی پچیس سال سے خود ہی پارٹی کی امارت پر فائز ہیں! اور خدا انہیں صحت اور طویل عمر عطا فرمائے، فائز رہیں گے




یہ بادشاہت کی بات تو ضمناچھِڑ گئی! اصل موضوع تو شکار گاہ  کے حوالے سے تھا۔ ویسے صرف پانچ اضلاع کو شکار کے لیے مخصوص کرنا مضحکہ خیز حرکت لگ رہی ہے۔ارے بھئی! پورا پاکستان ہی شکار گاہ ہے! ہم عوام، انسان نہیں، ہم مارخور، نیل گائیں، ہرن،  خرگوش اور تیتر بٹیر   ہیں! ہمارے چاروں طرف شکاری ہی شکاری ہیں! کچھ شکاری بیورو کریسی کی شکل میں ، کچھ اداروں کے لبادوں میں، کچھ انصاف مہیا کرنے کے بہانے، کچھ حکومت کرنے کے نام پر ،  کچھمنتخبایوانوں  میں بیٹھ کرمگر مشترک ان سب میں یہ ہے کہ یہ شکاری ہیں اور ہم عوام شکار ہیں ! “   منتخب  “ کا لفظ میں نے واوین میں لکھا ہے! سمجھ تو آپ گئے ہوں گے  کہ واوین میں کیوں لکھا ہے! ایک طوطا جو پالتو تھا، اپنے مالک کے ایک دوست کو گالیاں دیتا تھا۔ دوست نے طوطے کے مالک سے شکایت کی۔ مالک نے طوطے کو سخت وارننگ دی کہ اس کے بعد اس کے دوست کو گالی دی تو گردن مروڑ دی جائے گی! وارننگ کے بعد مالک کا  دوست آیا تو طوطا زور سے ہنسا۔ اور ہنسنے کے بعد  مالک کے دوست سے کہا کہ تم  سمجھ تو گئے  ہو گے !! تو آپ بھی سمجھ تو  گئے ہوں گے کہ”  منتخب”  کو واوین میں کیوں لکھا ہے




پاکستان کے حوالے سے ہم نے جن شکاریوں کا ذکر کیا ہے، اصل میں یہ چھوٹے شکاری ہیںیہ چھوٹے شکاری ایک بڑے شکاری کے ماتحت ہیںان چھوٹے شکاریوں کی نامزدگی،  تعیناتی ، ترقی، تبادلے وغیرہ سب اس  بڑے شکاری کے ہاتھ میں  ہے۔ روئے زمین  کا یہ سب سے بڑا شکاری اور تمام چھوٹے شکاریوں کا مالک و مربّی، بحرِ اوقیانوس کے پار رہتا ہے۔  وہ جس خطۂ زمین کو چاہے، شکار گاہ قرار دے دیتا ہے۔ پھر اس کے نامزد چھوٹے چھوٹے شکاری اس شکار گاہ پر  پل پڑتے ہیں! اس بڑے شکاری کا تازہ ترین کارنامہ دیکھیے! اس نے غزہ کی پٹی کو شکار گاہ قرار دیا ہے اور چھوٹے شکاری کُتوں کی طرح غزہ پر جا پڑے ہیں۔ یہ نہتے مَردوں  اور عورتوں کو چیر پھاڑ رہے ہیں ۔ یہاں  تک کہ  معصوم  بچوں کو بھنبھوڑ رہے ہیں۔ بڑا شکاری اٹلانٹک کے اُس پار سے ان  چھوٹے شکاریوں کو شہ دے رہا ہے۔ یہ چھوٹے شکاری صرف غزہ کے مشرق  اور جنوب میں نہیں ہیں بلکہ غزہ کے چاروں طرف ، سب چھوٹے شکاری ہی ہیں! اس لیے کہ جو بظاہر شکاری نہیں، اور بظاہر   غزہ  کے ہمدرد دکھائی دے رہے ہیں اندر سے وہ بھی بڑے شکاری کے ماتحت ہی ہیں




 ایک اور   شکار گاہ کا نام  کشمیر  ہے! پچھتر سال سے یہ شکاریوں کی بندوقوں کی زد میں ہے۔  یہاں بھی بچوں اور عورتوں سمیت، نہتے لوگوں کو جانور سمجھ کر ان پر گولیاں چلائی جاتی ہیں! اگر بڑا شکاری چاہے تو اس شکار گاہ کو تاراج کرنے والے چھوٹے شکاریوں کو روک کر  اس شکار گاہ کو آزادی دلوا سکتا ہے مگر وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا۔ اس لیے بھی تا کہ اس کے اور اس کے ساتھیوں کے بنے ہوئے ہتھیار بکتے رہیں! اگر دنیا سے شکار کا خاتمہ ہو جائے تو بڑے شکاری کو لہو بہانے اور لہو پینے کی لذت  کیسے ملے!    اصل حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ شکار گاہیں اور شکاری ! افریقہ اور ایشیا کے بیشتر حصے شکار گاہوں پر مشتمل ہیں! انسان بھوک  اور پیاس سے مر رہے ہیں۔  کتنی ہی ریاستیں قحط میں مبتلا ہیں۔  دوسری طرف امریکہ اور یورپ شکاریوں کے وطن ہیں۔ جو پانی افریقہ اور ایشیا کے لوگ پی رہے ہیں اور جو خوراک افریقہ اور ایشیا کے لوگ کھا رہے ہیں، وہ پانی اور وہ خوراک امریکہ اور یورپ کی گائیں بکریاں کُتے اور سؤر بھی نہ پییں اور نہ کھائیں! اور اگر پی لیں اور کھا لیں تو مر ہی جائیں! لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بڑے شکاری نے  جن چھوٹے شکاریوں کو  افریقہ اور ایشیا میں مقرر کیا ہؤا ہے وہ بھی یہی پانی پی رہے ہیں اور یہی خوراک کھا رہے ہیں! نہ بابا نہ ! ایسا ہو تو پھر چھوٹے شکاریوں کو بڑے شکاری کی نوکری کرنے کا کیا فائدہ!! یہ جو چھوٹے شکاری ہیں ان کا پانی، ان کی خوراک، ان کی قیام گاہیں، ان کے بازار، ان کے بچوں کی درسگاہیں، ان کے شفاخانے سب الگ ہیں اور بہترین ہیں ! ان چھوٹے شکاریوں نے اپنی قیام گاہیں امریکہ اور یورپ میں بھی بنا رکھی ہیں! یہ زیادہ وقت وہیں گذارتے ہیں۔ جو چھوٹے  شکاری  ، بظاہر، اپنی اپنی سرکار اور اپنی اپنی ریاستوں کے  ملازم ہیں ، وہ ریٹائر منٹ کے بعد  امریکہ اور یورپ جا بستے ہیں! یوں بھی رباط سے لے کر جکارتہ تک،  چھوٹے شکاریوں نے   ان شکار گاہوں میں  اپنے لیے چھوٹے چھوٹے امریکہ اور یورپ بنائے ہوئے ہیںآپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بڑا  شکا ری یہ شکار گاہیں، چھوٹے شکاریوں کو ٹھیکے پر  دیتا ہے۔ اس کا فرمان  ہے کہ  شکار کرو! خود بھی کھاؤ اور مجھے بھی کھلاؤ


صرف پانچ اضلاعوہ بھی باہر سے آنے والے شکاریوں کے لیے !! تعجب ہے! مقامی شکاریوں کے لیے تو پورا ملک پہلے ہی شکارگاہ ہے!! 

………………………………………………………………………………… 

Monday, October 30, 2023

وہ جو دوبارہ نہیں ملتے

یہ ایک چھوٹا سا پارک ہے۔ چھوٹا سا مگر خوبصورت !
علاقہ لاہور کا ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کا ہے! فیز چار ہے اور سیکٹر ڈبل ای ہے۔ یہاں کا مشہور لینڈ مارک واپڈا کا( یعنی لیسکو کا) دفتر ہے۔ اس وقت لاہور میں کتابوں کی جو معروف ترین دکان ہے اس کی ایک شاخ بھی اس علاقے میں ہے۔ بس! یہ چھوٹا سا‘ من موہنا سا‘ پارک اسی علاقے میں ہے۔ 
یہ کوئی تین سال پہلے کی بات ہے۔ اسی علاقے میں میرے ایک بہت قریبی عزیز رہتے تھے۔ لاہور آتا تو انہی کے ہاں قیام کرتا۔ اُس دن بھی وہیں تھا۔ یہ جاتی سردیوں کے دن تھے۔ لاہور میں پنڈی اسلام آباد کی نسبت سرما کی رخصتی جلد ہوتی ہے اور گرمیاں ذرا زیادہ بے تکلفی کے ساتھ دروازہ کھول کر اندر آجاتی ہیں۔ عصر کے بعد کا وقت تھا۔ میں نے جاگرز پہنے اور پیدل چلتا ہوا‘ چند گلیاں پار کرتا‘ پارک میں پہنچ گیا۔ چاروں طرف سیر کرنے کے لیے بہت اچھا ٹریک بنا ہوا تھا۔ 
واک شروع کردی۔ کچھ سوچتا‘ کچھ گنگناتا‘ چکر مکمل کرتا رہا۔ اب گرمی زیادہ محسوس ہونے لگی تھی۔ میں نے بغیر آستینوں کا سویٹر اتار کر کاندھے پر ڈال لیا۔ دفعتاً یاد آیا کہ گاؤں میں مرد کاندھے پر چادر ضرور رکھتے تھے۔ چونکہ ہمارا ضلع‘ مغربی سمت‘ پنجاب کا آخری ضلع ہے اس لیے خیبر پختونخوا کی ثقافت کے کچھ اجزا ہمارے ہاں بھی در آئے ہیں۔ ہمارے ہاں وہ حقہ نہیں پیا جاتا جس کا رواج سنٹرل پنجاب میں ہے۔ ہمارے ہاں '' چلم‘‘ پی جاتی ہے جو بالکل سیدھی اور عمودی ہوتی ہے۔ اسی طرح کاندھے پر مردوں کا چادر رکھنا بھی ہمارا اور کے پی کا مشترکہ ورثہ ہے۔ میں نے سویٹر اتار کر کاندھے پر رکھا اور چادر کو یاد کرنے لگا۔ دفعتاً نوٹ کیا کہ میرے آگے آٹھ دس سال کا ایک بچہ واک کر رہا ہے۔ جس چیز نے مجھے اس کی طرف متوجہ کیا اس کے چلنے کا انداز تھا۔ وہ کسی فوجی افسر کی طرح بازو ہلا ہلا کر چل رہا تھا۔ اس کے قدم بالکل مارچ کی طرح تو نہیں پڑ رہے تھے‘ مگر ان میں ایک خاص وقار اور سنجیدگی کی جھلک نظر آرہی تھی۔ پیچھے سے اس کا ڈیل ڈول مجھے اپنے آسٹریلیا والے پوتے حمزہ جیسا لگا۔ ہو سکتا ہے وہ حمزہ سے چند ماہ یا ایک آدھ سال بڑا ہو۔ میں اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔ اس کے چلنے کے انداز اور میرے پوتے کے ساتھ اس کی مماثلت نے میری توجہ پوری طرح اُس پر مرکوز کر دی تھی۔ اچانک‘ غیر اردای طور پر میں نے چند گام لمبے بھرے اور اس کے برابر چلنے لگا۔ اس عمر کا کوئی اور بچہ ہوتا تو یقیناً میری طرف دیکھتا مگر اس نے میری طرف کوئی توجہ نہ دی اور ایک پختہ مرد کی طرح ادھر ادھر دیکھے بغیر چلتا رہا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے اسے سلام کیا۔ تب اس نے مجھ پر نظر ڈالی اور سلام کا جواب دیا۔
چند منٹ بعد ہم دوستوں کی طرح باتیں کر رہے تھے۔ اس کا نام جواد تھا۔ پشاور سے اپنے ننھیال آیا ہوا تھا جن کا گھر پارک کے ساتھ ہی تھا۔ اصلاً وہ اسلام آباد سے تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ اسے دیکھ کر مجھے اپنا پوتا یاد آرہا ہے جو‘ کم و بیش‘ اسی جتنا ہے۔اس نے بہت دلچسپی سے پوچھا کہ میں پوتے کو اپنے ساتھ پارک میں کیوں نہیں لایا۔ اسے بتایا کہ وہ ملک سے باہر رہتا ہے۔ ہم نے بہت سی باتیں کیں۔ اچانک میں نے دیکھا کہ میری بیگم‘ ہماری میزبان خاتون اور اس کے بچوں کے ساتھ پارک میں داخل ہوئیں۔ یہ پارٹی سیر کرنے کے بجائے بنچ پر بیٹھ گئی۔ میں اور جواد جب ان کے قریب پہنچے تو میں نے اس کا تعارف اپنی بیگم اور میزبان خاتون سے یہ کہہ کر کرایا کہ یہ میرے دوست جواد ہیں اور پشاور سے آئے ہوئے ہیں۔ سب بہت گرم جوشی کے ساتھ اسے ملے۔ میں نے جواد کے ساتھ ایک چکر اور پورا کیا۔پھر اسے سلام کر کے بیگم اور میزبانوں کے پاس آگیا۔تھوڑی دیر ہم وہاں بیٹھے رہے۔ پھر واپس قیام گاہ پر آگئے۔
وجہ نہیں معلوم مگر جب رات کو بستر پر لیٹا تو جواد یاد آگیا۔ اس کا باوقار‘ مارچ جیسا سٹائل آنکھوں کے سامنے پھرنے لگا۔ پھر اس کا چہرا نظروں کے سامنے آگیا۔ ساتھ ہی حمزہ کا چہرا یاد آگیا۔ کچھ دیر تک دونوں چہرے الگ الگ نظروں کے سامنے رہے۔ پھر انہوں نے آپس میں گڈ مڈ ہونا شروع کر دیا۔ حمزہ کا خیال آتا تو چہرا جواد کا سامنے آجاتا اور جواد یاد آتا تو چہرا حمزہ کا دکھائی دیتا۔ پھر دونوں کا ایک مشترکہ چہرا اُبھرا۔ اسی خیالی فریبِ نظر ( Hallucination ) میں تَیرتے تَیرتے نہ جانے کس وقت نیند آگئی۔ دوسرے دن بہت مصروفیت تھی۔ اس کے باوجود جواد کئی بار یاد آیا۔ وڈیو کال کے ذیعے حمزہ سے بھی بات کی۔ شام ہوئی تو پارک میں گیا۔ حسبِ معمول پون گھنٹہ سیر کی۔ غیر ارادی طور پر جواد کا انتظار رہا۔ دو دن کے بعد ہم اسلام آباد واپس آگئے۔ میں نے بچوں کو جواد کے بارے میں بتایا کہ وہ میرا دوست ہے۔ بیٹیاں خوب ہنسیں کہ ایک دوست ستر کے پیٹے میں اور دوسرا دس گیارہ برس کا! نظامی گنجوی نے اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے کہا تھا 
مرا ہفتاد سال است و ترا ہفت
ترا اقبال می آید‘ مرا رفت 
کہ میں ستر کا ہوں اور تم سات کے! میری خوش بختی رخصت ہو رہی ہے اور تمہاری شروع ہو رہی ہے۔ 
سفید ریش دوست اس کے بارے میں سوچتا ہے ؟ یہ بھی عجیب معاملہ ہے کہ کسی کے بارے میں آپ سوچتے ہیں اور اسے کبھی بھی معلوم نہیں ہوتا ! یارِ عزیز شعیب بن عزیز کو ایک بار غزل سنا رہا تھا۔ جب یہ شعر پڑھا ؎
مرے بلخ‘ میرے ہرات شاد رہیں سدا 
مرے کُوزہ گر‘ مرے زین ساز سدا رہیں 
تو شعیب نے کہا کہ بلخ اور ہرات کس قدر نزدیک ہیں ! اس کے باوجود وہاں کے لوگوں کو خبر ہی نہیں کہ ہم ان کے حوالے سے شاعری کر رہے ہیں ! لوگ ملتے ہیں!ملک میں بھی ! بیرون ملک بھی ! ٹرینوں میں! ہوائی جہازوں میں‘ انتظار گاہوں میں! سیر گاہوں میں! ہسپتالوں میں! بازاروں میں! ریستورانوں میں! پھر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو جاتے ہیں! دوبارہ ملنے کا کوئی امکان ہی نہیں رہتا! مگر یاد کے دھاگے ان کے ساتھ بندھے رہتے ہیں!! پرائمری سکول سے لے کر یونیورسٹی تک‘ اور بیرون ملک درسگاہوں تک‘ کتنے ہی ہم جماعت ہیں جن سے دوبارہ کبھی ملاقات ہی نہیں ہوئی! ڈھاکہ یونیورسٹی میں جو بنگالی دوست ساتھ تھے‘ کیسے ملیں گے! فیس بک کے ذریعے کچھ کا سراغ ملا۔ رابطہ ہوا! مگر اکثر ہمیشہ کے لیے گم ہو چکے! ہوسٹل میں آدم صفی اللہ میرے کمرے سے دو کمرے چھوڑ کر رہتا تھا۔ اسے ڈھونڈ لیا! مگر کب ؟ اس کی موت کے دو سال بعد! وہ چٹا گانگ یونیورسٹی میں فزکس کا ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھا۔ کینسر کی بھینٹ چڑھ گیا! سجاد کریم بہت اچھا دوست تھا۔ ہوسٹل میں میرا پڑوسی تھا۔ بنگلہ دیش اٹامک انرجی کمیشن کا سربراہ رہا۔ عبوری حکومت میں وزیر بھی تھا۔ سراغ لگا تو زیر زمین جا چکا تھا! ہاں ! قاضی خلیل الرحمان سے رابطہ قائم ہو گیا۔ وہ اس سال حج بھی کر آیا ہے۔ ہم کلاس فیلو تھے۔ کتنی ہی بار ڈھاکہ یونیورسٹی کی شہرہ آفاق مادھو کینٹین میں ہم نے اکٹھی چائے پی۔ اس کا آبائی گاؤں '' گھوڑا سال‘‘ ڈھاکہ شہر سے زیادہ دور نہ تھا۔ وہاں کے رس گلے پورے بنگال میں مشہور تھے۔ خلیل نے اپنی دادی سے میرا تعارف یوں کرا یا تھا '' یہ ایوب خان کے دیس سے آیا ہے‘‘ !

Thursday, October 26, 2023

ایوارڈ اور کمالِ فن

ظفر اقبال کو اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے کمالِ فن 
(Lifetime achievement)
ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے ! یہ اور بات کہ ظفر اقبال کو کمالِ فن ایوارڈ مدتوں پہلے مل چکا۔ یہ ایوارڈ اس کے پڑھنے والوں‘ اس کے چاہنے والوں اور اس کے نہ چاہنے والوں نے دیا ہے۔ یہ لطیفہ ہے نہ مبالغہ‘ نہ محض عبارت آرائی کہ جہاں جہاں اُردو شاعری پڑھنے والے‘ اور اُردو شاعری کا ذوق رکھنے والے موجود ہیں‘ وہاں ظفر اقبال کے حامی اور مخالف دونوں پائے جاتے ہیں! ایک مرحوم ادیب کے بارے میں سنا کہ وہ دوسروں کی منت سماجت کر کے اپنے خلاف مضامین لکھواتے تھے کہ متنازع ٹھہریں اور یوں شہرت کے گھوڑے کو مہمیز لگے۔ ظفر اقبال کو یہ مقام بغیر کہے مل گیا۔ شورش کاشمیری نے کہا تھا؎ 
شورشؔ ترے خلاف زمانہ ہوا تو کیا 
کچھ لوگ اس جہاں میں خدا کے خلاف ہیں
ظفر اقبال کی خوش بختی ہے کہ اس کے حق میں تو بہت سوں نے لکھا مگر اس کے قد کو چھوٹا کرنے کیلئے اور اس کی تخفیف اور تقلیل کیلئے بھی بہت زور لگایا گیا یہاں تک کہ خود ظفر اقبال کو کہنا پڑا ؎
دیکھ رہ جائے نہ حسرت کوئی دل میں تیرے 
شور کر اور بہت‘ خاک اُڑا اور بہت
بہت شور مچایا گیا اور بہت خاک اُڑائی گئی۔ اس کی شاعری کی چھت پر خورد بینیں نصب کی گئیں۔ اغلاط تلاش کر تے کرتے بصارتیں ضعف کا شکار ہو گئیں ‘ دماغ شل ہو گئے مگر ظفر اقبال کی شاعری خوشبو کی طرح اُردو دنیا میں پھیلتی ہی گئی۔ سقم سے مکمل پاک صرف اللہ کا کلام ہے۔ کسی بھی انسان کے کلام میں غلطی کا امکان موجود ہے۔ ظفر اقبال کے کلام میں بھی کمزوریاں ہیں۔ اس لئے کہ ہر چمنستان میں پھولوں کیساتھ کانٹے موجود ہیں! اب یہ چمنستان کی سیر کرنیوالے کے ذوق‘تربیت اور ظرف پر منحصر ہے کہ وہ پھولوں پر ہاتھ رکھتا ہے یا کانٹوں کا انتخاب کرتا ہے۔ بقول شاعر 
تفاوت است میانِ شنیدنِ من و تُو 
تُو بستنِ در و من فتحِ باب می شنوم 
آپ کے سننے اور میرے سننے میں فرق ہے۔ آپ کو دروازہ بند ہونے کی اور مجھے کھلنے کی خبر ملتی ہے۔ 
یوں بھی ظفر اقبال نے کبھی برتری کا دعویٰ نہیں کیا۔شاعری کی روایت میں بڑے بڑے مدعی گزرے ہیں۔ ''در مدحِ خود‘‘ اور ''درستائشِ خویشتن‘‘ سے بڑے شعرا کے دیوان اَٹے پڑے ہیں۔فیضی کا دعویٰ دیکھیے ؎
ز نوکِ خامہ من نیم نقطہ بیرون نیست 
شروحِ انفس و آفاق در متونِ من است
میرے قلم کی نوک سے آدھا نقطہ بھی باہر نہیں۔ میری تحریروں میں انفس و آفاق کی تشریحات ملتی ہیں۔ مومنؔ نے دعویٰ کیا کہ
مومنؔ اسی نے مجھ پر دی برتری کسی کو 
جو پست فہم میرے اشعار تک نہ پہنچا 
اقبالؔ نے بھی کہا 
حلقہ گردِ من زنید اے پیکرانِ آب و گِل 
آتشی در سینہ دارم از نیاگانِ شما 
(اے وہ کہ تمہارے وجود پانی اور مٹی سے بنے ہوئے ہیں! میرے گرد جمع ہو جاؤ!میرے سینے میں جو آگ جل رہی ہے وہ میں نے تمہارے ہی اجداد سے لی ہے)۔ ظفر اقبال نے بھی دعویٰ کیا کہ اس نے پرانے کوچہ بازار کو خیر باد کہہ کر نئے راستے اختیار کیے مگر اس نے اپنے بعد آنے والوں کو خوش آمدید بھی کہا۔ اس نے انکسار سے بھی کام لیا اور تسلیم کیا کہ ؎
میں نے کب دعویٰ کیا ہے سر بہ سر باقی ہوں میں 
پیشِ خدمت ہوں تمہارے جس قدر باقی ہوں میں 
اُردو شاعری میں ظفر اقبال کا مقام کسی کے اعتراف کا محتاج ہے نہ کسی کی تنقیص یا انکار سے کم ہو گا ! اسکی شاعری ایک وسیع و عریض سرسبز و شاداب وادی ہے جس میں فضائیں آزاد ہیں اور ہوائیں عطر بیز! اسنے بے جا بندشوں اور ناروا پابندیوں سے طائرِ شعر کو آزاد کیا۔ غزل کی ہیئت کو قدامت سے چھڑایا اور مضامینِ تازہ کے تو انبار لگا دیے۔ غزل کو وہ جدھر چاہتا موڑ کر لے جاتا ہے۔ اسی لیے قدامت پرستی نے مخالفت کی۔ اسنے نئے تلازمے برتے۔ کئی اسالیب کو و جود میں لایا۔ ایسی شاعری غزل میں پہلے کہاں تھی
٭گر کر ٹھنڈا ہو گیا ہلتا ہاتھ فقیر کا
جیبوں ہی میں رہ گئیں سب کی نیک کمائیاں 
٭زندگی کے گھپ اندھیروں میں کہیں پر تھوڑی تھوڑی
تیرے ہونٹوں کی چمک سے روشنی ہونے لگی ہے 
٭دل نے خود پہلی محبت کو سبوتاژ کیا 
دوسری کے لیے‘ اور دوسری ہے بھی کہ نہیں 
٭ہوا کے ہاتھ پہ رکھا ہوا معاملہ ہے 
تو یہ ہمارا تمہارا بھی کیا معاملہ ہے 
٭لوہے کی لاٹھ بن کے رہے عمر بھر تو ہم 
اب ٹوٹنے لگے تو سرہوں کی گندل ہوئے 
ظفر اقبال واحد سینئر شاعر ہے جس نے جونیئرادیبوں اور شاعروں کو اپنی شاعری پر لکھنے کی دعوت دی اور جنہوں نے کڑی تنقیدکی ان کی بھی حوصلہ افزائی کی! اس کی کلیات میں ان سب کی تحریریں شامل ہیں۔ یہ اعزاز مجھے بھی حاصل ہے اور یہ اعزاز بہت بڑا اعزاز ہے۔ '' آبِ رواں‘‘ اس کا پہلا مجموعہ چھپا تو میں سکول کا طالبعلم تھا۔ پھر وہ وقت آیا کہ اس نے مجھے حکم دیا کہ اس کے نئے ایڈیشن کیلئے فلیپ لکھوں۔ کہاں میں! اور کہاں ''آبِ رواں‘‘ کیلئے فلیپ! ہاتھ جوڑ دیے مگر حکم نہ ٹلا۔ نئے ایڈیشن میں اس نے اپنا لکھا ہوا فلیپ ہٹا دیا اور میری تحریر لگا ئی۔ تحدیثِ نعمت کے طور پر یہ فلیپ نقل کر رہا ہوں ''دیو سائی دنیا کا بلند ترین میدان ہے۔ میلوں لمبا اور کوسوں چوڑا۔ جولائی اور اگست میں یہاں پھول کھلتے ہیں۔فرسنگ در فرسنگ ہر رنگ کے پھولوں کے قالین بچھ جاتے ہیں۔اُس میدان میں ندیاں ہیں اور جھیلیں! خوبصورت پرندے ہیں اور لہکتے ہوئے ٹیلے۔ ہواؤں کے تخت ہیں اور بادلوں کے محل۔آسمان پر دریچے ہیں اور فضا میں اَن دیکھے دیاروں کی خوشبو اور ہر طرف دلگیر آہٹیں۔ بس یہی ظفراقبال کی شاعری ہے ! اور جب وہ کہتا ہے کہ دھندلکے اور دھندلاہٹیں اور ابر آلود تصویریں اور الجھے سیدھے مناظر اس نے ہواؤں پرلکھے ہوئے دیکھے ہیں اور دوسروں کو دکھانے چلا ہے تو اصل بات ہی یہ ہے کہ دکھانے کی اس مہم میں جو جان جوکھوں کا کام تھا‘وہ سراسر کامیاب رہا ہے۔ بہت سوں نے شعری سفر اس کے ساتھ شروع کیا اور اب وہ متروکاتِ سخن کی طرح تاریخِ ادب کا حصہ ہیں۔ بہت سے اس کے بعدآئے اور ان کا کہیں نشان بھی نہیں نظر آتا لیکن ظفر اقبال پیش منظر پر اسی طرح چھایا ہوا ہے جس طرح کہ تھا۔ اس نے یکے بعددیگرے کئی نسلوں کو متاثر کیا ہے اور کر رہا ہے۔اور مقدار کا یہ عالم ہے کہ اس کا کیسہ بھرا ہوا ہے ‘ اس قدر کہ ہمعصر اُردوشاعری میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ا س گئے گزرے دور میں اُس نے نظامی‘ خسرو اور جامی کے خمسوں اور رومی اور بیدل کے دواوین کی یاد تازہ کر دی ہے۔ 
'' آبِ رواں ‘‘ پہلی محبت کی طرح ہے۔ بعد کی محبتیں جتنی بھی ہنگامہ خیز ہوں پہلی محبت کی تازگی اور مٹھاس اور کسک جوں کی توں رہتی ہے۔'' آب ِرواں ‘‘ کے کتنے ہی اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں۔آغاز اور پختگی کا یہ سنگم اُردو شاعری سے پیار کرنے والوں کے دلوں میں جا گزین ہے۔
ناچیز ہے صد مہرِ سلیماں مرے نزدیک 
بلقیس کے ہونٹوں کا نگیں ہے مرے دل میں

Tuesday, October 24, 2023

بیورو کریسی…تب اور اب

کالم نگاری کے 32سالہ عرصہ میں پوری کوشش کی کہ سول سروس کے جن مناصب پر کام کرنے کا موقع ملا اُن کا حوالہ نہ دینا پڑے کہ اسے خود ستائی پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ یوں بھی سول سروس ہو یا کوئی اور پیشہ‘ بنیادی مقصد دو ہیں: ترقی کی اجتماعی کوشش میں اپنا حصہ ڈالنا اور رزقِ حلال کا حصول! اس میں کلرک‘ نائب قاصد‘ افسر سب برابر ہیں۔ تاہم آج کی بیورو کریسی کا جو رویّہ ہے اور مائنڈ سیٹ ہے ‘ اسے دیکھتے ہوئے ذاتی تجربوں کی بھری بھرائی زنبیل میں سے ایک تجربہ شیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس قبیل کی کچھ تفصیلات زیر تعمیر خود نوشت میں لانے کا پروگرام ہے جس کی جلد تکمیل کے لیے دعاؤں کی ضرورت ہے! 
یہ سترہ اٹھارہ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ بڑی بیٹی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں زیر تعلیم تھی۔ ''اصول الدین‘‘ میں ایم اے کر رہی تھی۔ اُن دنوں یونیورسٹی میں تعطیلات تھیں۔ اُس کا سکالر شپ کا چیک یونیورسٹی کے دفترِ مالیات میں پڑا تھا۔ یونیورسٹی کے حصۂ طالبات کا محل وقوع عجیب و غریب تھا۔ اسلام آباد سے کوسوں دور ‘ پشاور روڈ کے اُس پار‘ مدینۃ الحجاج سے کہیں آگے‘ واقع تھا۔ درمیان میں محلے اور گنجان آبادیاں پڑتی تھیں۔ طالبات وہاں جانے میں کوفت محسوس کرتی تھیں۔ خاص طور پر تعطیلات کے دوران! بیٹی نے حکم دیا کہ ابّو ! میرا چیک منگوا دیجیے۔ اُسے بتایا کہ چیک اسی کو ملتا ہے جس کے نام ہو۔ اس معاملے میں بابو بہت سخت ہوتے ہیں۔ مگر ہر بیٹی یہی سمجھتی ہے کہ اس کا باپ اس کے لیے سب کچھ کر سکتا ہے۔ پھر اُس نے وہ لطیفہ نما بات بھی کہہ دی جو ہمارے گھر میں مشہور تھی۔ کہ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں یہاں تک کہ ''فیکٹریوں میں بھی آپ کا ہاتھ ہے ‘‘۔ اس لطیفے کا ایک مخصوص پس منظر تھا۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ انگریز حکومت کی یہ سوچی سمجھی پالیسی تھی کہ جن علاقوں سے فوجی بھرتی زیادہ ہوتی ہے‘ وہاں دو کام بالکل نہیں ہوں گے۔ایک آبپاشی کے لیے نہریں نہیں نکالی جائیں گی۔ ورنہ جس طرح سنٹرل پنجاب میں نہروں کا جال بچھایا گیا تھا‘ اسی طرح ضلع اٹک کے لیے بھی دریائے سندھ سے نہریں نکالی جا سکتی تھیں۔ دوسرے‘ ان اضلاع میں کوئی کارخانہ‘ کوئی صنعت ‘ نہیں لگائیں گے۔ آبپاشی اور صنعت سے محروم رکھنے کا واحد مقصد یہ تھا کہ جنگ کی آگ کے لیے انسانی ایندھن ملتا رہے۔ اگر آبپاشی کا بند و بست ہو جاتا یا کارخانے لگ جاتے تو فوجی بھرتی جوانوں کی اولین ترجیح نہ ہوتی! حویلیاں‘ واہ اور سنجوال میں دفاعی فیکٹریاں قائم ہوئیں تو یہ صنعت کی طرف اس علاقے میں اولین قدم تھا۔ لوگوں نے نوکریوں کے لیے ان فیکٹریوں کا رُخ کیا۔ جن دنوں میں پاکستان آرڈیننس فیکٹریز ( پی او ایف ) کے مالیات کا سربراہ ( ممبر فنانس) تھا‘ علاقے سے لوگ ملازمت کی خاطر کچھ زیادہ ہی آتے تھے۔ایک بار گاؤں سے ایک برخوردار آیا اور فرمائش کی کہ فوراً سے پیشتر اس کی ملازمت کا بند و بست کیا جائے۔ اُسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اتنا جلدی ممکن نہیں! اس پر اُس نے وہ فقرہ کہا جو بچوں کے لیے آج بھی تفننِ طبع کا ذریعہ ہے۔ اُس نے کہا کہ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں '' آپ کا فیکٹریوں میں بھی ہاتھ ہے‘‘۔ یہاں ایک اور بات کا ذکر ہو جائے جو شہر ی لوگ بالکل نہیں سمجھ سکتے! اگر آپ گاؤں سے ہیں اور کسی اچھے عہدے پر فائز ہیں تو گاؤں کے لوگوں کا آپ پر حق ہے۔ اس کے لیے ''داعیہ‘‘ کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آپ نے اس کا مان رکھنا ہے۔ آپ کو تعلیم آپ کے ماں باپ نے دلائی مگر دعویدار پورا گاؤں ہوتا ہے کہ '' ہم نے پڑھا لکھا کر اس قابل کیا‘‘۔ددھیال کے گاؤں کے ہر مرد اور ہر عورت کے آپ بھتیجے ہیں۔ ننھیالی گاؤں کے ہر مرد اور ہر عورت کے آپ بھانجے ہیں۔ وہ آپ کے منصب کی بلندی سے ہر گز مرعوب نہیں ہوتے بلکہ کام کرانا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اٹک کا ضلع غریب ہے۔ مرد فوج میں بھرتی ہوتے ہیں مگر پھر ریٹائرمنٹ کی عمر سے پہلے فوج سے فارغ بھی ہونا چاہتے ہیں تاکہ کچھ رقم مل جائے اور گھر کے کام آئے۔ یعنی پہلے بھرتی کرائیے۔ پھر فوج سے Releaseدلوائیے۔ اس کے بعد پھر کہیں اور نوکری کا بندو بست کیجیے۔ ایک بار گاؤں کا ایک برخوردار فوج سے فراغت کے بعد نوکری کے لیے آیا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ لوگ اچھے خاصے زمیندار ہیں؛ چنانچہ سمجھایا کہ زمین پر توجہ دو۔ ڈیم تعمیر کرو۔ مچھلیوں کا تالاب بنواؤ یا پولٹری کا کام کرو۔ وہ چلا گیا مگر اس کے بعد میں جب گاؤں گیا تو ہر شخص طعنہ زن تھا کہ '' بچہ‘‘ نوکری کے لیے گیا تھا‘ آپ نے لیکچر پلا دیا۔ 
بیٹی نے کہا: آپ چیک منگوا سکتے ہیں کیونکہ '' فیکٹریوں میں بھی آپ کا ہاتھ ہے‘‘۔ اُن دنوں میں وفاقی وزارتِ خزانہ میں ایڈیشنل سیکرٹری برائے دفاع تھا۔ اتھارٹی لیٹر دے کر ذاتی معاون کو یونیورسٹی بھیجا۔ یونیورسٹی کے حصۂ طالبات میں مردوں کا داخلہ ممنوع تھا۔ گیٹ کے سنتری نے خصوصی مہربانی فرمائی اور معاون صاحب کو اندر جانے دیا۔ اتھارٹی لیٹر ایک قانونی دستاویز ہے جس کی بنا پر چیک دیا جا سکتا ہے مگر یونیورسٹی کے شعبہ ٔمالیات کے کارپرداز بادشاہ تھے۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ معاون صاحب واپس یونیورسٹی گیٹ پر پہنچے تو کچھ مایوس تھے اور کچھ غصے میں۔ دردِ دل سنتری کو سنایا۔ باتوں باتوں میں میرا نام لیا کہ ان کی بیٹی کا چیک ہے۔ نام سن کر سنتری کے کان کھڑے ہو گئے۔ وہ بندۂ خدا سابق فوجی تھا۔ اس نے پوچھا کہ کیا یہ اظہارالحق وہی ہے جو پہلے چیف کنٹرولر ملٹری اکاؤنٹس تھا ؟ معاون صاحب نے کہا کہ ہاں وہی ہے۔ سنتری اُٹھا۔ معاون صاحب کے ہاتھ سے اتھارٹی لیٹر لیا اور اندر چلا گیا۔ اندر جا کر نہ جانے اس نے کیا جادو کیا کہ واپس آیا تو چیک اُس کے ہاتھ میں تھا۔ معاون صاحب نے پوچھا کہ تم اظہار صاحب کو کیسے جانتے ہو۔ اس نے کہا :میں انہیں کبھی نہیں ملا مگر جب ریٹائر ہوا تو بہت مسائل تھے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ براہِ راست ان کے نام چٹھی لکھو۔ میں نے چٹھی لکھ دی۔ انہوں نے کام کرا کے‘ ذاتی طور پر خط کا جواب میرے گاؤں کے ایڈریس پر بھیجا۔ 
اس قسم کی فیڈ بیک براہِ راست ملتی تھی تو اس کی بنیاد پر نظام درست کرنے کی کوشش بھی کی جاتی تھی تا کہ خط لکھے بغیر کام ہو جائیں۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد فقط یہ واضح کرنا ہے کہ یہی بیورو کریسی تب کیا تھی اور آج کیا ہے۔ پچاس سال پہلے جب ہم مقابلے کا امتحان پاس کر کے سروس میں آئے تو ہمارے سینئرز نے ہمیں نصیحت کی تھی کہ ( 1) ہر خط کا جواب جانا چاہیے۔ ( 2) ہر ٹیلی فون کال کا جواب دینا چاہیے۔ ( 3 ) کوشش کرو کہ ہر سائل کو خود ملو تا کہ فیڈ بیک لے سکو اور ( 4) ہر روز کی ڈاک خود دیکھو‘ خاص طور پر یاد دہانیاں یعنی ریمائنڈرز کہ یہ دفتر یا محکمے کی کارکردگی جانچنے کا ایک اچھا بیرو میٹر ہے۔ بیورو کریسی کی اُس نسل نے جو ہم سے پہلے تھی یا ہمارے ساتھ کی تھی‘ ان اصولوں پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس کے بر عکس آج کی بیورو کریسی کے تین خصائص ہیں۔ اصل میں یہ خصائص نہیں‘ رذائل ہیں۔ (1) کسی خط کا جواب نہ دو (2)کسی کی فون کال کا جواب نہ دو (3) ہر ممکن کوشش کرو کہ کسی سائل سے ملنا نہ پڑے۔ اپنے گرد سٹاف کا اور پروٹوکول کا ایسا مضبوط حصار تعمیر کرو کہ کوئی سائل تم تک پہنچ نہ سکے۔ یہ احساس ِکمتری کے شاخسانے ہیں! اور تشخیص وہی ہے جو فردوسی نے محمود غزنوی کی ہجو میں کی تھی!!

 

powered by worldwanders.com