Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Wednesday, May 10, 2017

ستارے دیکھتا ہوں زائچے بناتا ہوں

یہ ایک خوبصورت وال کلاک تھا جو گھر والی کو پسند آیا۔ سنہری حروف پر موٹی 
موٹی سفید سوئیاں! پنڈولم بھی تھا جو باقاعدہ دائیں سے بائیں اور پھر بائیں سے دائیں جاتا تھا۔ کیوں نہ یہ میں اپنی چینی سہیلی کے لیے لے جائوں اس نے کہا اور وہ پھر ہم نے لے لیا۔
بیرون ملک پہنچے تو دوسرے دن ہی ہمارے چینی دوست ملنے آ گئے۔ یہ مشرقی روایت ان لوگوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ ملنے آنا دعوت پر مدعو کرنا سفر پر جانا ہو تو رخصت کرنا۔ دستر خوان ان کا وسیع ہوتا ہے۔ کئی اقسام کی اشیائے خورونوش! ہماری خاطر حلال گوشت کا اہتمام!
تحفہ پیش کیا گیا۔ یہ پیکٹ میں لپٹا لپٹایا تھا۔ گھر جا کر انہوں نے کھولا تو وال کلاک نکلا۔ اب یہ سوئِ اتفاق تھا یا حسن اتفاق کہ چینی سالِ نو کا ورود بھی انہی ایام میں تھا۔ دوسرے دن وال کلاک واپس مل گیا۔ ساتھ پیغام بھی کہ آپ کا بہت بہت شکریہ! مگر ہم چینی تحفے میں وال کلاک نہیں قبول کرتے کیونکہ یہ بدشگونی ہے۔ جو لفظ چینی زبان میں کلاک کے لیے استعمال ہوتا ہے جنازے کے لیے بھی اسی سے ملتا جلتا لفظ ہے۔
ہم خاموش رہے مگر اندر سے برا لگا۔ استعمال نہ کرتے رکھ تو لیتے لیکن بہت سے معاشروں میں نفاق ناپید ہے۔ جو بات ہے کھل کر کرلی جاتی ہے۔
کچھ دن بعد ایک اور دوست سے ملاقات ہوئی جن کے چینی کمیونٹی سے دیرینہ اور قریبی روابط تھے۔ واقعہ سنا تو ہنسے اور مزید تعلیم بھی دی۔ وہ یہ کہ کچھ اور اشیا بھی ہیں جو چینیوں کو تحفے میں نہیں دینی چاہئیں۔ خاص طور پر سال نو کے حوالے سے۔ ان میں سے ایک چھتری ہے۔ چھتری دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اسے سفر پر بھیجنا چاہتے ہیں۔ یہ بچھڑنے کی علامت ہے۔ قینچی بھی تحفے میں قبول نہیں کی جاتی۔ یہ قطع تعلقات کی نشانی ہے۔ چار کا ہندسہ بھی منحوس سمجھا جاتا ہے۔ دو دو جوڑوں میں کوئی تحفہ نہیں دینا چاہیے کیونکہ یہ چار ہو جاتے ہیں۔ جوتے تحفے میں دینا یا لینا بھی نحوست کی علامت ہے۔ اس پر پائوں پڑتے ہیں اور تحفے پر پائوں نہیں پڑنے چاہئیں۔ رومال (ہینڈکرچیف) خدا حافظ کہنے کی نشانی ہے۔ یہ بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ پھل بہت اچھا تحفہ ہیں سوائے ناشپاتی کے۔ غریب ناشپاتی کا قصور یہ ہے کہ چینی زبان میں جو لفظ ناشپاتی کے لیے بولا جاتا ہے جدائی کا لفظ اس سے ملتا جلتا ہے۔ آئینہ بھی بُرا تحفہ ہے کیوں کہ یہ ٹوٹ جاتا ہے حالانکہ کچھ روایات کی رو سے آئینہ ایجاد ہی چینیوں کی ہے۔ فارسی میں آئینۂ چینی کہتے ہیں۔ مشہور شعر ہے ؎
از قضا آئینۂ چینی شکست
خوب شد سامان خود بینی شکست
تقدیر کا لکھا یہی تھا کہ چینی آئینہ ٹوٹ گیا۔ اچھا ہوا اپنے آپ کو دیکھنے کے سامان سے جان چھوٹی۔
اس طویل فہرست میں ایک نمایاں آئٹم سفید اور سیاہ رنگ کا ہے۔ یہ دونوں رنگ چینی مرنے والے کی آخری رسوم میں استعمال کرتے ہیں۔ تحفہ اگر سفید یا سیاہ رنگ کے کاغذ میں پیک ہو گا تو نحوست کی نشانی ہے۔ سرخ رنگ کا پیکٹ خوشی خوشی قبول کیا جائے گا۔
انسان نے اپنی زندگی کے لیے کیا کیا مصیبتیں اپنے ذہن سے خود پیدا کی ہیں۔ آج اپنے کسی دوست سے آپ یہ کہہ دیجیے کہ ارے آج بدھ ہے اور تو نے سفید لباس پہنا ہوا ہے۔ یہ اچھا شگون نہیں ہے۔ وہ اس پر ہنسے گا مگر اگلے بدھ کے روز لباس تبدیل کرتے ہوئے آپ کا فقرہ اسے ضرور یاد آئے گا۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وہ سفید لباس سے پرہیز کرے گا اور اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دے گا کہ آخر دوسرے رنگوں کے ملبوسات بھی تو اپنے ہی ہیں۔ سفید آج نہ سہی کل پہن لیا جائے گا۔ یہ تصور رفتہ رفتہ اس کے اہل خانہ میں در آئے گا۔ پھر قریبی حلقے میں۔ کیا عجب کچھ عرصہ بعد یہ Myth یہ وہم بہت سے لوگوں میں عام ہو جائے!
اپنے ہاتھوں سے ایسے چشمے کھودے گئے جن سے پریشانی اور ذہنی دبائو کا پانی مسلسل رستا ہے۔ ایسا ہی ایک ذریعہ پراگندہ خاطری کا یہ ہے کہ مستقبل کا حال دریافت کیا جائے۔ کل کیا ہوگا؟ دولت کی دیوی کب درشن دے گی۔ اقتدار ملے گا یا نہیں؟ موت کن حالات میں واقع ہوگی؟ یہ سب کچھ جاننے کے لیے انسان مارا مارا پھر رہا ہے۔ نجومیوں کے پاس دست شناسوں کی تلاش میں زائچہ کھینچنے والوں کی خدمت میں۔ اب یہاں ایک باریک نکتہ ہے جو سمجھنا چاہیے۔ ان علوم کا کسی خاص مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ظنی علوم ہیں اور ہر مذہب کے ماننے والوں میں ان علوم کے ماہرین پائے جاتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ان علوم کے وجود سے انکار کا کوئی فائدہ نہیں! یہ ظنی یعنی اندازے اور تخمینے کے علوم باقاعدہ موجود ہیں۔ ان کا وجود حقیقت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان کو ان کا فائدہ ہے؟ ایک دست شناس یا ستارہ شناس یہ بتائے گا کہ میرے ماضی میں کیا ہوا تھا۔ یا یہ کہ 
مستقبل میں میرے لیے کیا لکھا ہے۔ مجھے ان دونوں کا ذرہ بھر فائدہ نہیں۔ اپنا ماضی 
تو مجھے پہلے ہی معلوم ہے۔ رہا مستقبل تو اگر مستقبل کا علم انسان کے مفاد میں ہوتا تو جس قدرت نے انسان کو حیران کن علوم پر دسترس بخشی اس قدرت کے لیے مستقبل بینی کا علم عطا کرنا کیا مشکل تھا! مستقبل کے علم کا ہونا فائدہ تو نہیں ہاں نقصان ضرور دے سکتا ہے۔ کسی شخص کو بتایا جائے کہ اس کی موت ہسپتال میں واقع ہوگی تو اس نے اگر بیس سال مزید زندہ رہنا ہے تو بیس سال ہسپتال سے خوف کھانے میں گزریں گے۔ انسان اپنی موت کے وقت کا تعین کرسکتا تو یہ کارخانۂ دنیا کیسے چلتا۔ اسے معلوم ہوتا کہ ایک سو بیس سال زندہ رہے گا تو ہر روز ایک دن کم ہونے کا ماتم کرتا۔
یہ حقیقت کہ یہ علوم کسی خاص مذہب سے وابستہ نہیں ناقابل تردید ہے۔ تنویر علی آغا جو 2007ء سے لے کر 2011ء تک پاکستان کے آڈیٹر جنرل رہے راوی ہیں کہ انہیں آئی اے عثمانی صاحب نے یہ واقعہ خود بتایا۔ آئی اے عثمانی بھی پاکستان کے آڈیٹر جنرل رہے۔ وہ بہت سینئر تھے۔ اس زمانے میں غالباً سول سروسز کی تربیت کے کچھ مراحل بیرون ملک بھی طے ہوتے تھے۔ عثمانی صاحب کے ایک بنگالی ساتھی تھے جو انہیں کے بیچ کے تھے۔ یہ دونوں لندن میں تھے۔ انہیں معلوم ہوا کہ ایک انگریز قسمت کا حال بتاتا ہے۔ یہ چلے گئے درمیان میں پردا تنا تھا۔ پردے کے پیچھے قسمت کا حال بتانے والا انگریز بیٹھا تھا۔ دوسری طرف کرسیوں پر یہ بیٹھ گئے۔ پلیٹ میں مطلوبہ مالیت کا سکہ ڈالا (گنی یا جو بھی تھا۔) اس نے جو بتانا تھا بتایا۔ کچھ سوال انہوں نے پوچھے۔ ان کے اس نے جوابات دیئے۔ بنگالی نے پوچھا کہ اسے یہ بتایا جائے کہ وہ کہاں اور کیسے مرے گا۔ انگریز نے انکار کردیا۔ اس نے کہا یہ میں نہیں بتائوں گا۔ بنگالی افسر کو غصہ آ گیا یا مشتعل کرنے کے لیے اس نے کوئی طعن آمیز بات کی جس میں طنز بھی تھا اور اس کے علم اور مہارت پر چوٹ بھی۔ انگریز یہ چوٹ اور طعنہ نہ برداشت کرسکا۔ وہ غصے میں پردے کے پیچھے سے نکل آیا اور کہا کہ میں بتا سکتا ہوں اور اب تمہیں بتا بھی دوں گا۔ میں اس لیے نہیں بتا رہا تھا کہ ایسے سوالوں کا جواب دینا میرے خیالات کی رو سے مناسب نہیں۔ پھر اس نے اپنا حساب کتاب جو بھی تھا کیا اور بتایا کہ وہ بنگالی افسر فلاں شہر میں مرے گا اور یہ موت طبعی نہیں ہوگی۔
ٹریننگ ختم ہو گئی۔ افسروں کی تعیناتیاں ہوگئیں۔ بنگالی افسر کو مشرقی پاکستان میں لگایا گیا۔ عثمانی صاحب مغربی پاکستان میں پوسٹ ہوئے۔ ایک مدت بیت گئی۔ ایک دن عثمانی صاحب کو (بقیہ صفحہ13پر ملاحظہ کریں)
بنگالی رفیق کار کا فون آیا: کیا تمہیں وہ انگریز یاد ہے جس نے پیش گوئی کی تھی کہ میں فلاں شہر میں مروں گا؟ عثمانی صاحب نے کہا ہاں یاد ہے! بنگالی نے بتایا کہ میں اچھا بھلا مشرقی پاکستان میں تعینات تھا نہ جانے کیا ہوا محکمے نے میری پوسٹنگ اسی شہر میں کردی ہے۔ عثمانی صاحب نے اسے تسلی دی اور کہا کہ ضروری نہیں اس کی پیش گوئی صداقت پر مبنی ہو۔ بہرطور تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ بنگالی اس شہر میں مردہ پایا گیا۔ اسے کسی نے قتل کر دیا تھا!
ان ظنّی علوم کو روحانیت یا تصوف کا نام دینا عقل اور مذہب دونوں کی رو سے درست نہیں ہے۔ ہندو نصرانی یہودی لامذہب سب اس قبیل کی پیش گوئیاں کرتے ہیں۔ بہت سی سچ نکلتی ہیں۔ بہت سی غلط ثابت ہوتی ہیں۔ انسان کی خودی اور عزت نفس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ دوسرے انسان کا محتاج نہ ہو۔ ہاتھ دکھانے کے لیے یا زائچہ بنوانے کے لیے یا مستقبل کا حال کسی اور ذریعہ سے معلوم کرنے کے لیے اچھے بھلے باعزت لوگ پہروں قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں۔ دھوپ اور سردی میں گھنٹوں بیٹھ کر بابا جی کے ہاں باریابی کا انتظار کرتے ہیں۔ کبھی فال نکلواتے ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص کو معلوم ہے کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے اسے کوئی نہیں ٹال سکتا۔ موت کب آئے گی کیسے آئے گی؟ کل کیا ہوگا؟ یہ سب کچھ جاننے کے لیے دھوڑ دھوپ کرنے سے کیا یہ بہتر نہیں کہ انسان ہر وقت اپنی موت کے لیے تیار رہے۔ جن کے حقوق اس نے سلب کیے ہیں انہیں واگزار کرے جن کے ساتھ زیادتی کی ہے ان سے معافی مانگے۔ اپنا قرض ادا کرنے کی کوشش کرے اور اپنے لواحقین کو ایسی باتوں سے بروقت آگاہ کرے۔ سفر پر روانہ تو ہونا ہی ہے اپنی پوٹلی وقت پر کیوں نہ تیار کرلی جائے!
ویسے شعرا نے اس موضوع پر کچھ الگ ہی زاویے دیکھے اور دکھائے ہیں۔اقبال نے کہا ؎
ستارہ کیا تری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخیٔ افلاک میں ہے خوار و زبوں
نظیری نیشا پوری نے کہا ؎
یک فال خواب راست نہ شدبر زبان ما
شومئی چُغد ثابت و یُمن ہُما غلط
ہماری تو ایک فال بھی درست نہ نکلی۔ الو کی نحوست ثابت ہو گئی اور ہما کی خوشی بختی غلط نکلی!
اور آخر میں اس فقیر کا شعر ؎
ستارے دیکھتا ہوں زائچے بناتا ہوں
میں وہم بیچتا ہوں وسوسے بناتا ہوں

Monday, May 08, 2017

گنگا بہہ رہی ہے

گنگا بہہ رہی ہے

کیا آپ کو یاد ہے کہ چند دن پہلے اسلام آباد ایئر پورٹ پر ناروے جانے والی دو مسافر خواتین کی کس طرح دھنائی ہوئی؟ سرکاری اہلکار عورتوں نے انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور مارا۔ متعلقہ ادارے نے پہلے تو مٹی ڈالنے کا کام کیا اور رپورٹ پیش کی کہ اصل میںمسافر خواتین نے بدتمیزی کی تھی۔ پھر جب وڈیو وائر ل ہوئی تو مرتا کیا نہ کرتا حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا۔ مجرم ثابت ہونے والی اہلکار کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
مگر یہ سارا بکھیڑا شروع کیسے ہوا؟ ہوا یوں کہ ناروے جانے والی مسافر خاتون واش روم میں گئی۔ وہاں ٹائلٹ پیپر نہیں تھا۔ اس نے باہر نکل کر اہلکار سے اس بارے میں پوچھا اہلکار نے غالباً کہا کہ یہ اس کے دائرۂ کار میں نہیں ہے۔ یہاں سے بات بڑھی مارکٹائی تک پہنچی اور آخر میں دست درازی کرنے والی اہلکار کو ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اس واقعہ کے بارہ دن بعد یہ کالم نگار اُسی ایئر پورٹ پر اُسی واش روم میں گیا۔ ٹائلٹ پیپر اب بھی نہیں تھا۔ باہر نکل کر پاس کھڑی اہلکار سے حیرت سے کہا کہ واش روم میں ٹائلٹ پیپر نہیں ہے۔ غنیمت ہے کہ اس نے آگے سے اتنا ہی کہا کہ ہاں! نہیں ہے!
یہ ہے اداروں کی کارکردگی! شایدقارئین کو یاد ہو کہ دو تین سال پہلے اسی ایئر پورٹ کو دنیا کا بدترین ایئر پورٹ قرار دیا گیا۔ اندازہ لگائیے جس کوتاہی کی بنا پر جھگڑا ہوادنیا بھر میں مارکٹائی والی ویڈیو دیکھی گئیخاتون اہلکار کو ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑےوہ کوتاہی بدستور موجود ہے! خاتون اہلکار کا یہ کہنا درست تھا کہ وہ تو ایف آئی اے کی ہے۔ یہ اس کا کام نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کام کس کا ہے؟ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا ہے؟ شہری ہوا بازی کی وزارت کا ہے؟ کیا ان محکموں کے سربراہوں نے ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈی جی نےہوا بازی کی وزارت کے وفاقی سیکرٹری نے بھیس بدل کر نہ سہی اچانک آ کر واش روم چیک کئے ایئر پورٹ پرمسافروں کی بے بسی کا جائزہ لیا؟
ادارے کیوں نہیں کام کر رہے؟ اس کی وجہ نااہلی اور احتساب کا نہ ہونا ہے۔ مگر جس ملک کا وزیر اعظم خود اپنی زبان سے کہے کہ 
پتہ نہیں ہمارے نظام اور محکموں کو کیا ہو گیا کہ دو سال میں مکمل ہونے والے منصوبوں پر بیس بیس سال لگ جاتے ہیں!
اُس ملک کا خدا ہی حافظ ہے! آپ تیسری بار وزیر اعظم بنے ہیں۔ آپ سے زیادہ حکومت کرنے کا اور حکومت میں رہنے کا تجربہ پورے ملک میں اور کسی شخص کو نہیں گزشتہ چار سال سے آپ حکومت کے سربراہ ہیں۔ تمام ادارے تمام محکمے آپ کی مٹھی میں ہیں مگر آپ قوم کے سامنے حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ پتہ نہیں ہمارے نظام اور محکموں کو کیا ہو گیا۔انا للہ و انا الیہ راجعون! 
واقعہ توعجیب سا ہے مگر یہاں بے اختیار یاد آ رہا ہے۔ ایک شہزادے کی پرورش حرم سرا کے زنانہ حصّے میں ہوئی۔ وہیں پلا بڑھایہاں تک کہ شباب آ پہنچا ۔ ایک دن محل میں سانپ نکل آیا۔ بیگمات اور کنیزوں نے شور مچایا کہ سانپ نکل آیا ہے کسی مرد کو بلائو نوجوان شہزادے نے بھی چیخ کر کہا کسی مرد کو بلائو۔پوری قوم وزیر اعظم سے پوچھ رہی ہے کہ ہمارے نظام اور ہمارے اداروں کو کیا ہوا ہے؟ وزیر اعظم بھی قوم کی آواز میں آواز ملا کر پوچھ رہے ہیں پتہ نہیں ہمارے نظام اور محکموں کو کیا ہو گیا! 
وزیر اعظم کو چاہیے کہ اقوامِ متحدہ سے مدد مانگیں اور وہ آ کر وزیر اعظم کے ملک میں معلوم کرے کہ نظام اور محکموں کو کیا ہو گیا۔ بھاری مینڈیٹ لے کر حکومت آپ کر رہے ہیں اور آپ کو چار سال میں یہی نہیں معلوم کہ نظام کو کیا ہوا ہے!
پھر اسی پر بس نہیں کرتے وزیر اعظم یہ فلسفہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ملک میں بہت گھپلے ہیں اگر ان کی تحقیقات میں لگ گئے تو سارا وقت اسی میں گزر جائے گا اور ترقیاتی کام رک جائیں گے۔کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ یہ بیان ایک ملک کا وزیر اعظم ایک حکومت کا سربراہ دے رہا ہے؟
اتنے گھپلے اور کرپشن کے سکینڈل ہیں کہ جتنا کہا جائے کم ہے
گویا کرپشن کرنے والوں کو صلائے عام ہے کہ جتنی کرپشن کرنا چاہتے ہو کر لو ہم نے تحقیقات تو کرنی ہی نہیں ہم تو ترقیاتی کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔
عالی جاہ! جان کی امان پائیں تو عرض کریں کہ ترقیاتی کام کرنے والے ادارے الگ ہیں اور گھپلوں اور کرپشن کی تحقیقات کرنے والے محکمے الگ ہیں اگر چھان بین اور احتساب کرنے والے ادارے اپنا کام کریں اور دیانت داری سے کریں تو گھپلوں کو اور کرپشن کو روکا جا سکتا ہے۔ اس کا ترقیاتی اداروں کے دائرہ کار سے کیا تعلّق!
مگر شاید وزیر اعظم کو اپنی حکومت اپنے ملک کے اداروں کا علم ہی نہیں! کیا وزیر اعظم کے سیکرٹریٹ میں ایک مخصوص برادری کے جو ستر ستر سال کے ریٹائرڈ بیورو کریٹ بیٹھے ہوئے ہیں وزیر اعظم کو اتنا بھی نہیں بتا سکتے کہ اگر کرپشن اور گھپلوں کو یہ کہہ کر کھلی چھٹی دے دی جائے کہ تحقیقات کا وقت نہیں تو ترقیاتی کام بھی کرپشن کی نذر ہو جائیں گے۔ کیا وہ اتنا بھی نہیں عرض کر سکتے کہ جہاں پناہ! ادارے اپنا اپنا کام کریں تو کرپشن کا انسداد بھی ممکن ہے اور بیک وقت ترقیاتی کام بھی ہو سکتے ہیں! مگر نوکریوں میں توسیع کے طلب گاروزیر اعظم کے سامنے سچ کبھی نہیں بولیں گے ۔انہیں معلوم ہے حکمران کے کان کیا سننا چاہتے ہیں! وہی بات کریں گے جو دل کو خوش کرے! بادشاہ کا دل بھی خوش ! اپنی نوکری بھی پکّی!
ایئر پورٹ کی بات ہو رہی تھی۔ امیگریشن کے لیے بے حد لمبی قطار تھی! خلقِ خدا بے بس بے کس کھڑی تھی جن میں عورتیں بوڑھے اور بچے بھی تھے۔ پی آئی اے کا ایک افسر پوچھنے لگا آپ وہی ہیں جو فلاں چینل پر آتے ہیں کہا نہیں!فلاں چینل پر نہیں 92چینل پر۔ اُس سے پوچھا کیا بوڑھوں کے لیے الگ قطار نہیں؟ افسر پھٹ پڑا کہنے لگا آپ نے آج یہ طویل قطاریں دیکھی ہیں ہم ہر روز دیکھتے ہیں۔ امیگریشن کے کم از کم دس کائونٹر ہونے چاہئیںیہاں مشکل سے پانچ ہیں۔ گرمی میں مسافر گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں۔ کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ واش روموں میں ٹائلٹ پیپرز تک نہیں! کوئی پوچھنے والا نہیں!
یہ ہے حکومت کی کارکردگی! حکومت کو کوئی بتائے کہ عوام کو صرف سڑکوں کی ضرورت نہیں ہوتی145 وہ ایک سسٹم چاہتے ہیں۔ ایک نظام چاہتے ہیں جس میں انہیں خوار نہ ہونا پڑے۔ ایئر پورٹوں پر بسوں کے اڈوں پرواپڈا گیس اور ٹیلی فون کے دفتروں میں ٹریفک کے اژدہام میں انہیں ایک سسٹم چاہیے تاکہ دھکے نہ کھانے پڑیں۔ پانچ پانچ سال تک درخواست دہندہ کو گیس کا کنکشن نہیں ملتا۔ پھر وہ مجبور ہو کر کسی اہلکار کو حرام کھلاتا ہے۔ شام سے پہلے اس کے گھر میں گیس رواں ہو جاتی ہے۔
عالی جاہ! آپ کس دنیا میں رہتے ہیں؟(باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں)
کل خدا کے سامنے آپ کیا یہ کہیں گے کہ پتہ نہیں نظام اور محکموں کو کیا ہوا تھا؟ کرپشن کے متعلق سوال ہو گا تو کیا آپ یہ جواب دیں گے کہ کرپشن اور گھپلوں کی تحقیقات کراتا تو ترقیاتی کام رک جاتے! عالی مرتبت ! آپ ہیلی کاپٹروں میں محوِ پرواز ہوتے ہیں اور نیچے مائوں کے بیٹے اُن ڈمپروں، ٹریکٹروں اور ٹرالیوں کے نیچے کچلے جاتے ہیں جن کو کنٹرول کرنا آپ کی حکومت کا اولین فریضہ ہے! آپ کو کیا خبر لوڈشیڈنگ کس عذاب کا نام ہے؟ آپ کو کیا پتہ لوگ پیٹ کاٹ کر یو پی ایس کس طرح خریدتے ہیں اور لاکھوں گھر تو یو پی ایس بھی نہیں خرید سکتے۔ حکومت کرنا آسان ہوتا تو عمر بن خطابؓ جیسا شخص یہ نہ کہتا کہ فرات کے کنارے مرنے والے کتے کا بھی مجھے حساب دینا ہو گا۔ ابوبکر صدیقؓ ایک تنکا پکڑ کر حسرت سے یہ نہ کہتے، کاش میں ایک تنکا ہوتا اور مجھ سے حساب کتاب نہ ہوتا۔
ہم عصر تاریخ میں، یا شاید ساری تاریخ میں کسی اور حکمران نے برملا یہ نہ کہا ہو گا کہ ملک میں اتنے گھپلے اور کرپشن سکینڈلز ہیں کہ جتنا کہا جائے کم ہے۔ لیکن اگر ہم تحقیقات کے چکر میں پڑ گئے تو سارا وقت اسی میں لگ جائے گا۔ گویا کرپشن کے لیے صلائے عام ہے! ؎
کھیتوں کو دے لو پانی اب بہہ رہی ہے گنگا
کچھ کر لو نوجوانو اٹھتی جوانیاں ہیں

Friday, May 05, 2017

ایک مہینہ اور اس کے اوپر ایک ہفتہ


ہر رات سونے سے پہلے جھگڑا ہوتا تھا پانچ سالہ حمزہ میرے بائیں طرف سونے 
پر اصرار کرتا۔ اس کی تھیوری یہ تھی کہ ابو کے ساتھ وہ سوئے گا اور چار سالہ زہرہ، اُس کے ساتھ ! زہرہ کا موقف یہ تھا کہ اس نے وہاں سونا ہے جہاں حمزہ سونا چاہتا ہے۔ اس کا حل یہ نکا لاجاتا کہ میں درمیان میں سوتا، ایک طرف حمزہ اور دوسری طرف زہرہ لیٹتے! اس پر حمزہ دھاندلی پر اتر آتا اور کہتا کہ زہرہ دوسری طرف بھی نہ سوئے، ابو کے ساتھ صرف اور صرف وہ سوئے۔ پھر اسے ڈانٹ پڑتی۔ اس ذہین بچے کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ دادا کی مصنوعی ڈانٹ ہے۔ ابا کی اصلی ڈانٹ نہیں ہے۔ چنانچہ ڈانٹ پڑنے پر وہ کھل کھلا کر ہنستا۔
ایک مہینہ اور اس کے اوپر ایک ہفتہ ، کل پانچ ہفتے یوں گزرے جیسے ایک پل گزرتا ہے ؎
مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیں
مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں
آتے ہی باپ نے اردو کی ٹیوشن لگوا دی۔ وہاں ، بحرالکاہل کے کنارے، جس ملک میں رہتے ہیں گھر میں فتح جنگ کی ٹھیٹھ پنجابی اور باہر ٹھیٹھ انگریزی بولتے ہیں۔ باپ کو فکر ہے اردو میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ چنانچہ آکسفورڈ یونیورسٹی کا درس اردو کا پورا سیٹ منگوایا۔ اب اردو پڑھنے لگا ہے مگر بول چال کے لئے پریکٹس لازم ہے۔ اس کے لئے وقفے وقفے سے پاکستان لایا جاتا ہے۔ ٹیوشن لگوائی تو چاچوں اور پھپھو نے مخالفت کی کہ بچے چند دن تعطیلات گزارنے آتے ہیں اور آدھا دن ٹیوٹر کی نذر ہو جاتا ہے۔ خدشہ یہ بھی تھا کہ ٹیوٹر صاحب ان سے انگریزی نہ بولنا شروع کر دیں۔
نواسی سے پروردگار نے نواز رکھا تھا۔ اسے تیسری بیٹی کہتا ہوں۔ یہ پہلا پوتا ہے جو مالک الملک نے خزانہ خاص سے عطا کیا۔ نواسی کا ورودہوا تو نانا نانی نے اوقیانوس عبور کیا اور استقبال کیلئے سمندر پار جا موجود ہوئے۔ پوتے صاحب نے کرئہ ارض کے دوسرے کنارے پر طلب کیا۔ استقبال کے لئے ہم اُس جزیرے میں گئے جو براعظم بھی ہے اور اتنا عجیب و غریب کہ لینڈ ڈائون انڈر کہلاتا ہے۔ جن دنوں یہاں چلچلاتی دھوپ پڑتی ہے وہاں کڑاکے کی سردی ہوتی ہے۔ درمیان میں صحرا، ساحلوںپر شہر، بڑا اتنا کہ نکلتے ہوئے چھ گھنٹے جہاز اُسی کے اوپر اڑتا رہتا ہے۔
چلنا شروع کیا تو ٹرالی بیگوں کا عاشق نکلا۔ بڑے سے بڑا ٹرالی بیگ خود سنبھالنے اور چلانے کی کوشش کرتا۔ ایئرپورٹوں پر، کسی بھی مسافر کا ٹرالی بیگ چلانا شروع کر دیتا۔ ایک دن ہم میاں بیوی نے سوچا کہ کیوں نہ اس کے لئے ایک کھلونا ٹائپ چھوٹے سائز کا ٹرالی بیگ خریدا جائے۔ ہم میلبورن کے بازاروں میں پھرتے رہے، ڈھونڈتے رہے مگر کسی دکان پر مل ہی نہیں رہا تھا۔ پھر کسی نے بتایا کہ Southern Cross
 ریلوے سٹیشن کے قریب ایک بڑا بازار ہے۔ شاید وہاں سے ملے۔ دادا دادی ٹرین پر سوار ہوئے اور اُس بازار میں پہنچ گئے ؎
ڈھونڈتے ڈھونڈتے ڈھونڈ لیں گے تجھے
گو نشاں ہے ترا بے نشاں بے نشاں
ایک دکان پر ایک ہی پڑاتھا، خوش قسمتی سے تھا بھی نیلے رنگ کا جو وہاں لڑکوں کا مخصوص رنگ سمجھا جاتا ہے۔ حمزہ ٹرالی بیگ کوپا کر اتنا خوش ہوا کہ بیان سے باہر ہے۔ اپنا کاٹھ کباڑ اس میں ڈالا زپ بند کی اور باہر چل پڑا۔ دادا پیچھے پیچھے! فٹ پاتھ پر جی بھر کر چلایا۔ اس کے بعد یہ اس کا جزو لاینفک بن گیا۔ گھر میں جہاں بھی ہوتا، یا جہاں بھی جاتا، کمرے سے لائونج میں، یا لائونج سے سٹڈی میں، یا باہر لان میں، ٹرالی بیگ ساتھ ہوتا۔ آدھی رات تک ہمارے کمرے میں ہوتا۔ کہانی سنتا! پھر اچانک اعلان کرتا کہ میں ممی اور ابا کے کمرے میں جارہا ہوں۔ ٹرالی بیگ چلاتے چلاتے ہی دوسرے کمرے میں جاتا۔ صبح اٹھ کر باہر آتا تو ٹرالی بیگ ساتھ ہوتا۔
ایک مہینہ اور اس کے اوپر ایک ہفتہ، کل پانچ ہفتے، گھر باغ بنا رہا، خوشبوئیں اڑتی رہیں، قہقہے بکھرتے رہے۔ ہر طرف کھلونوں کے سپیئر پارٹس اور چیزوں کی بے ترتیبی میں عجیب ترتیب تھی اور حسن! چلے گئے ہیں تو ترتیب اور صفائی، خاموشی اور سناٹا، کلیجے پر ضرب لگاتا ہے۔ وہ ہر طرف بکھرے کاغذ کتنے اچھے لگتے تھے۔ دیواروں پر ہر طرف چسپاں ہونے والی چٹیں دل کو بھاتی تھیں۔ درہم برہم ڈرائنگ روم زندگی کا نشان تھا۔ ایک دن دیکھا کہ قیمتی فائونٹین پین کی نب ٹوٹی ہوئی ہے۔ دونوں کو بلایا اور مسکراتے ہوئے پوچھا کہ جو بچہ بتائے گا کہ اس نے توڑی ہے اُسے پرائز ملے گا۔ زہرہ نے فوراً بتایا کہ پین اُس سے گرا ہے۔ پوچھنے لگی پرائز میں کیا ہو گا؟ بتایا چپس اور جُوس۔ حمزہ نے فوراً مطالبہ پیش کر دیا کہ پرائز اسے بھی ملنا چاہئے، پوچھا کس خوشی میں؟ اُس کی منطق سیدھی اور صاف تھی کہ زہرا کو ملے گا تو ظاہر ہے وہ بھی لے گا۔
دونوں کو ہر شے آپس میں شیئر کرنے کی تربیت دی گئی ہے۔ ایک کو کارٹون دیکھنے کے لئے آئی پیڈ یا لیپ ٹاپ ملتا تو دونوں مل کر دیکھتے یا دونوں کو پندرہ پندرہ منٹ کے لئے دیا جاتا۔ وقت کے تعین کے لئے الارم لگایا جاتا۔ جیسے ہی الارم بجتا، آکر، بھلے مانسوں کی طرح واپس کر دیتے مگر ساتھ ہی حمزہ پوچھنے لگ پڑتا کہ اب میں کیا کروں؟ بور ہو رہا ہوں !! شیئرکرنے کا سلسلہ ہر معاملے میں آن پڑتا ہے۔ کار میں بیٹھے کہیں جارہے تھے۔ حمزہ نے شیشہ نیچے کیا، ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اندر آیا، زہرہ سے کہنے لگا، کتنی ٹھنڈی ہوا لگ رہی ہے مجھے! زہرہ نے فوراً قانونی نکتہ نکالا، ٹھنڈی ہوا ہے تو میرے ساتھ شیئر کرو۔ اور آگے ہو کر کھڑکی کے سامنے ہو گئی!
بیمار، نحیف و نزار نواب نے بچپن کے بے تکلف دوست، موٹے تازے 
کسان کو مخاطب کرکے کہا  جہان خانا ! میں بادام اور چہار مغز کھاتا ہوں۔ پانی فلاں چشمے کا پیتا ہوں۔ پرندوں کا گوشت میرے دسترخوان کا مستقل جزو ہے۔ گھی اور مکھن سنبھالا نہیں جاتا، مگر صحت ہے کہ ٹھیک نہیں! تم ہٹے کٹے موٹے تازہ ہو حالانکہ تمہیں کھٹی لسی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔ آخر راز کیا ہے۔ جہان خان نے جواب دیا، نواب صاحبا! بادام اور چہار مغز؟ گھی اور مکھن؟ ہا ہا ! تم مٹی اور راکھ کھاتے ہو! ارے صحت مہنگے کھانوں سے نہیں بنتی۔ میں کھیتوں میں کام کرکے واپس لوٹتا ہوں تو میرے پوتے اور نواسے مجھ پر چھلانگیں لگاتے ہیں۔ پوتی میری داڑھی سے کھیلتی ہے۔ نواسہ میری پگڑی اتار کر اپنے سر پر باندھنے لگتا ہے۔ یہ وہ نعمتیں ہیں جن سے تم محروم ہو! یہی میری صحت کا راز ہے۔ سچ کہا ان پڑھ جہان خان نے ! کاش پڑھے لکھوں کو بھی یہ نکتہ سمجھ میں آجاتا ! نعمتوں کا احساس! نعمتوں کے وجود کو تسلیم کرنا اور پھر شکر ادا کرنا! مگر افسوس! انسان کی سرشت میں نعمتوں کو نظر انداز کرنا اور ناخوش رہنا لکھا ہے۔ جس کے پاس ماں باپ کے وجود کی صورت میںبے بہا دولت موجود ہے، وہ پیروں اور بزرگوں کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے۔ پیر تو گھر میں بیٹھے ہیں۔ آقاؐ نے فرما دیا کہ خدا کی رضا والد کی رضا میں ہے تو پھر بھٹکنے سے کیا حاصل! رومی نے کہا تھا معشوق ہمسائے میں رہ رہا ہے۔ دیوار سے دیوار جُڑی ہے اور تم دشت و جبل میں سرگرداں ہو! 
نعمت کیا شے ہے؟ کوئی اس سے پوچھے جس کے گردے جواب دے رہے ہیں، جس کی ٹانگ مصنوعی ہے، جو جگر کی پیوندکاری کے لئے ملکوں ملکوں پھر رہا ہے اور دولت کے انبار بھی کام نہیں آرہے۔ سعدی کے پاس جوتا نہ تھا۔ نالاں اور غم زدہ تھے، دیکھا کہ ایک شخص کا پائوں ہی نہیں ہے، ہوش ٹھکانے آگئے۔ صحت مند اور نارمل اولاد کی قدر ان سے پوچھو جن کے بچے ذہنی یا جسمانی طور پر روگ میں مبتلا ہیں۔ یہ نعمت کیا کم ہے کہ انسان اتنی زندگی حاصل کر لے کہ اولاد کی اولاد کے ساتھ کھیلنا کودنا میسر آجائے۔ یہ وہ دولت ہے جو زور سے ملتی ہے نہ زر سے! پودینے، سرخ مرچ اور لسی سے بنی چٹنی سے سوکھی روٹی کھانے والا جب پوتوں اور نواسوں کے درمیان نہال بیٹھتا ہے اور اس کے بیٹے اور بیٹیاں اس کی فرماں بردار ہیں تو وہ اُس آسودہ حال شخص کے مقابلے میں بادشاہ کی طرح ہے جس کی اولاد اس کے لئے سوہان روح ہے یا جو پوتوں اور نواسوں، نواسیوں اور پوتیوں سے محروم ہے! وہ تو ایک سوکھا درخت ہے جس کے سائے تلے کوئی بیٹھتا ہے نہ کوئی اُسے جھاڑتا ہے۔ خدا کے بندو! ان پر رشک نہ کرو جنہیں تم خوش قسمت سمجھتے ہو! یہ تمہاری بھول ہے۔ محلات میں رہنے والے،(باقی صفحہ13 پر ملاحظہ کریں)
جنہیں کبھی پاناما لیکس نہیں سونے دیتی کبھی سرے محل ڈرائونا سپنا بن کر خوف زدہ کرتا ہے، یہ کہاں کے خوش قسمت ہیں! خوش قسمت تو وہ ہے جو تندرست ہے، جو بچوں پوتوں نواسیوں میں گھرا ہے، جو گم نام ہے اور لوگ اس پر انگلیاں نہیں اٹھاتے، جسے نیب کا ڈر ہے نہ ایف آئی اے کا، پولیس کا نہ آئی بی کا ! جو اتنی دولت اور جائیداد اور کارخانے اور مربعے چھوڑ کر نہیں مرے گا کہ اولاد ایک دوسرے کے خون کی پیاسی ہو جائے اور کبھی بھول کر بھی ماں باپ کی قبر پر دعا کرنے نہ آئے، خوش بخت ہیں وہ جو وراثت میں صرف نیکی، صرف نیک نامی اور صرف نیک اولاد چھوڑتے ہیں۔ یہی وہ اولاد ہے جو ماں باپ کے مرنے کے بعد ایک دوسرے سے محبت کرتی ہے، ایک دوسرے کے کام آتی ہے، ماں باپ کے لئے رحمت مانگتی ہے، اُن کی قبروں پر اپنے ہاتھوں اور اپنے اُجلے رومالوں سے جھاڑو دیتی ہے!
ایک مہینہ اور اس کے اوپر ایک ہفتہ! کل پانچ ہفتے! صوفے پر بیٹھتا تو ننھی زہرہ پیچھے سے گلے میں چھوٹی چھوٹی پتلی پتلی باہیں حمائل کرکے پشت کے ساتھ لگ جاتی! دل چاہتا یہ لمحہ امر ہو جائے۔ ہم نے مارگلہ کے پہاڑوں کی سیر کی! پلے لینڈ میں کھیلے، پارکوں اور باغوں میں ایک دوسرے کو پکڑنے کے لئے دوڑتے پھرے۔ پھر وہ گہری ہوتی، سانپ کی طرح سرسراتی شام اُتری اور لوہے کا پرندہ میرے بچوں کو لے کر اُڑتا بنا! میں ہاتھ ہلا تارہ گیا۔ واپس گھر پہنچے تو میں نے بیوی کو اور بیوی نے مجھے دیکھا۔ دونوں کی آنکھوں میں خلا تھا۔
بے انت خلا، دور، کہیں دُور، لوہے کا پرندہ ہوا میں اُڑ رہا تھا!
یوں گزرا وہ ایک مہینہ
جیسے ایک ہی پل گزرا تھا
اب نہ وہ گھر نہ وہ شام کا تارا
اب نہ وہ رات نہ وہ سپنا تھا
پچھلی رات کی تیز ہوا میں
کورا کاغذ بول رہا تھا

Monday, May 01, 2017

آسیب نہیں تو پھر کیا ہے؟

منیر نیازی کب کا چلا گیامگر ہماری قسمت کا فیصلہ کر گیا ع
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
جو کچھ اس ملک کے ساتھ ہورہا ہے‘ اگر آسیب نہیں تو کیا ہے۔
جو ملک اسلام کے نام پر بنا تھا‘ کبھی پولیس سٹیٹ نظر آتا ہے اور کبھی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک بازی گاہ! ریاست کے اندر کئی ریاستیں بنی ہیں‘ ایجنسیوں کے اپنے اہداف ہیں‘ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ان کے اپنے بنائے ہوئے راستے ہیں‘ پولیس کا وجود ہی نہیں۔ جنوبی پنجاب میں کسی کو پکڑنا ہو تو فوج پکڑے۔ سندھ میں کچھ کرنا ہے تو رینجرز کریں۔ حکمرانوں نے ‘ کیا پنجاب اور کیا سندھ‘ پولیس کو اتنا بے توقیر کر رکھا ہے کہ عام شہری پولیس سے نفرت کرنے لگا ہے۔ رہے پولیس کے افسران‘ تو معدودے چند کو چھوڑ کر وہ کسی نہ کسی طاقت ور سیاستدان کے رکھیل بن جاتے ہیں! سارا عرصہ ملازمت‘ ’’سرپرست‘‘ کی خدمت میں گزرتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ کے لیے نوکری مل جاتی ہے۔ کوئی تحقیق کرے اور
 Case Studies 
جمع کرے اور چھاپ دے تو عوام کو معلوم ہو کہ ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جاتا رہا ہے۔
بیوروکریسی ایک الگ ریاست ہے‘ ریاست کے اندر ایک اور ریاست! ایک اقلیت کو چھوڑ کر‘ زیادہ تعداد طالع آزماؤں کی ہے۔ ان لوگوں کی زندگیوں کے مقاصد پر غور کیجیے تو ڈیپریشن کا ایسا دورہ آپ پر پڑے گا کہ خودکشی کرنے کو دل چاہے گا۔ جی او آر لاہور میں سرکاری رہائش گاہ لینا! پھر اسے ہر حال میں ریٹائرمنٹ تک اپنے قبضے میں رکھنا! فلاں ضلع میں حاکم بننا! بیرون ملک تعیناتی کرانا! دو سیاست دان‘ دو حکمران‘ چار ایم این اے‘ پانچ ایم پی اے سے تعلقات قائم کرنا‘ پھر قائم رکھنا! پینتیس چھتیس برس کی نوکری سے پیٹ نہ بھرنا! چنانچہ ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ برس مزید دست بستہ کھڑا ہونا اور جب بھی مفاد کا تقاضا ہو‘ طاقت ور کے سامنے رکوع میں جھک جانا!
مدارس کی اپنی ریاست ہے! اس ریاست میں ملک کا کوئی قانون نہیں چلتا۔ ایک طاقت ور گروہ اب منتخب اداروں میں اس ریاست در ریاست کا رکھوالا ہے۔ طلبہ اور اساتذہ کی اکثریت مدارس میں مظلوم ہے! از حد مظلوم! جو روکھی سوکھی کھا کر قال اللہ وقال الرسول کی آواز بلند رکھے ہوئے ہیں۔
مدارس کی دنیا عجیب ہے۔ جن کے پاس علم ہے اور تقویٰ‘ وہ وسائل سے محروم ہیں‘ اور جن کے پاس وسائل ہیں‘ ان کا علم اور تقویٰ سے دور کا بھی رشتہ نہیں! مذہب کے جو علمبردار سیاسی جلسوں میں‘ ٹی وی سکرین پر اور منتخب اداروں میں نظر آتے ہیں عوام کی نظروں میں وہی مذہب کے نمائندے ہیں۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ وہ مذہب کے نمائندے نہیں‘ وہ تو مذہب کے نام پر تجارت‘ سیاست اور پی آر کر رہے ہیں‘ مذہب کے حقیقی نمائندے تو گوشۂ گمنامی میں ہیں۔ چٹائیوں پر بیٹھے بیٹھے‘ عمریں گزار دیتے ہیں‘ پڑھاتے پڑھاتے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں! انہیں کوئی جانتا ہے نہ ان کا نام ہے نہ شہرہ! دنیا سے انہی بے غرض لوگوں کے بارے میں کہا گیا کہ مجلس میں بیٹھے ہوں تو کسی کی توجہ ان کی طرف نہ ہو اور غیر حاضر ہوں تو ان کی کمی نہ محسوس ہو‘ یہی لوگ معاشرے کی بھی کریم ہیں اور مدارس کا بھی مکھن ہیں!
اگر اس ملک پر آسیب کا سایہ نہیں تو عوام کو ان مسائل میں کیوں آئے دن الجھایا جارہا ہے جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں‘ ان کے معیار زندگی کو‘ ان کی کوائلٹی آف لائف کو ان مسائل سے ان مسائل کے حل سے‘ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پانامہ کے حوالے سے چند فلیٹ‘ اگر معجزہ برپا ہو‘ چھن بھی جائیں تو ان افراد کو کوئی فرق نہیں پڑے گا! سمندر سے پانی کے ہزار ڈول بھی نکال لیں تو کیا ہو جائے گا؟ پانامہ کے بعد اب ڈان لیکس کے بادل قوم کے آسمان کو ڈھانپنے لگے ہیں۔ کل ایک بچے کو دیکھا۔ پتلون کی بیلٹ ہاتھ میں اس طرح لٹکائے تھا کہ بیلٹ کا نیچے والا سرا زمین سے کافی اوپر تھا۔ بلی اچھل اچھل کر بیلٹ کے اس سرے کو پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی اور بچہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہورہا تھا۔ عوام یہ بلی ہی تو ہیں۔ طاقت ور طبقہ کبھی ہاتھ میں پانامہ کی بیلٹ پکڑ کر لہراتا ہے کبھی ڈان لیکس کی‘ عوام اسے پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور نادیدہ ہاتھ والا بچہ خوش ہوتا ہے! سچی بات یہ ہے کہ عوام اس پالتو بلی سے بھی بدتر ہیں۔ اس بلی کو خوراک تو اچھی ملتی ہے‘ پیکٹوں سے نکلی ہوئی‘ اس کی مالکن اس کے ناخن تراشتی ہے‘ طبیعت خراب ہو تو حیوانات کے ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہے‘ ریت سے بھرا ایک ٹرے اس کے لیے بیت الخلا کا کام دیتا ہے۔ ہر روز اس ٹرے کو صاف کیا جاتا ہے اور عوام! آہ عوام! ٹریفک کی لاقانونیت میں پھنسے ہوئے بے کس‘ بے بس عوام! دیہات ڈسپنسریوں سے محروم! ہسپتال کرپشن اور ڈاکٹروں کی بے نیازی کے نمونے‘ لاکھوں سرکاری سکولوں کی چھتیں ہیں نہ وہاں پینے کا صاف پانی! دانش سکولوں جیسے کتنے ہی تشہیری منصوبے آئے اور تاریخ کی خاک چاٹتے گزر گئے‘ عوام اسی حال میں ہیں جس میں تھے!
اگر آسیب کا سایہ نہیں تو پھر اس ملک کے مقدر میں ڈاکٹر عاصم اور ایان علی کیوں ہیں؟ پھر مریم نواز شریف کس حیثیت سے پیش منظر پر چھائی ہوئی ہیں؟ حمزہ شہباز کی تصویر ہر پوسٹر پر‘ ہر بینر پر‘ اخبار کے ہر اشتہار میں کس حوالے سے نظر آتی ہے؟
رہا عمران خان‘ تو اب اس کے نام سے ناصر کاظمی یاد آنے لگتا ہے ؂
بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارۂ شام بن کے آیا‘ برنگِ خوابِ سحر گیا وہ
نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یونہی ذرا سی کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ
کالم نگار آصف محمود پکارتا پھرتا ہے کہ کوئی ہے جو عمران خان کو عمران خان سے بچا سکے؟ عمران خان کے فدائی پوچھتے ہیں کہ عمران خان کس کس کا مقابلہ کرے‘ ڈاکٹر عاصم اور ایان علی کے رکھوالوں سے یا پانامہ جائیدادوں کے مالکان سے؟
مگر یہ تو عمران خان کا مسئلہ ہے‘ عوام تو یہ کہنے لگ پڑے ہیں کہ ؂
میں اپنا عقدہ دل تجھ کو سونپ دیتا ہوں
بڑا مزہ ہو اگر وا نہ کر سکے تو بھی
درست کہتا ہے اجمل شاہ دین جب سمجھاتا ہے کہ سیاست پر اور سیاسی بکھیڑوں پر نہ لکھو! پڑھنے والے سیاسی تبصروں اور تجزیوں سے اس قدر تنگ آ گئے ہیں کہ جب بھی کسی اور موضوع پر لکھا جیسے مختلف ملکوں کے کھانے‘ جیسے پوتوں کا ہجر‘ جیسے تارکین وطن کی ہجرت‘ جیسے گاؤں کے بچھڑے ہوئے شب و روز‘ تو فیڈ بیک چارگنا زیادہ آتا ہے! کوئی امریکہ میں بیٹھا‘ آنسو بہا کر لکھتا ہے کہ تمہارے کالم سے ماں یاد آ گئی‘ کوئی پیغام بھیجتا ہے کہ تم نے دنیا بھر کے نانا جانوں کی نمائندگی کر ڈالی!
کیا ہم اور کیا ہماری سیاست! پانی ہے کہ بلویا جارہا ہے۔ مکھن ہے کہ پانی پر آتا ہی نہیں! ہم اس ملک کے عوام وہ بدقسمت مسافر ہیں جنہوں نے سرشام خیمہ باغ میں نصب کیا۔ صبح اٹھے تو ہر طرف دشت ہی دشت تھا! ریت کے ٹیلے‘ خاردار جھاڑیاں! ہم وہ تیرہ بخت بھوکے ہیں جنہوں نے دیگچی چولہے پر رکھی اور آگ جلانے کے لیے لکڑیاں چننے نکلے ہیں۔ اندھیرا گہرا ہورہا ہے اور اب یہ نہیں معلوم ہورہا کہ کون سی لکڑی گیلی ہے اور کون سی خشک!!

 

powered by worldwanders.com