Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, April 18, 2024

کیا جناب چیف جسٹس ملک کی اس بدنامی کا نوٹس لیں گے؟؟

وفاقی دارالحکومت کے وسطی بازار میں ایک دکان ہے جہاں خالص چمڑے کی مصنوعات دستیاب ہیں۔ یہ لوگ اِس گئے گزرے زمانے میں بھی زینیں بناتے ہیں۔ بچپن کی یادیں تازہ کرنے کے لیے کبھی کبھی وہاں جانا ہوتا ہے اور ان لوگوں سے گپ شپ ہوتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ہمارے شہروں میں زین ساز‘ شمشیر ساز‘ ظروف ساز اور کئی طرح کے اہلِ حرفہ ہوتے تھے۔ 

مرے بلخ‘ میرے ہرات شاد رہیں سدا
مرے کوزہ گر‘ مرے زین ساز سدا رہیں 
بزرگوں سے سنا ہے کہ پہلے زمانوں میں جو بھی دارالحکومت ہوتا تھا اس میں 32 ذاتیں‘ یعنی 32 پیشے ہوتے تھے تاکہ بادشاہ‘ اس کے عمائدین اور اس کی فوج کی تمام ضروریات پوری ہو سکیں۔ جولاہے‘ درزی‘ کفش ساز‘ رنگ ساز‘ کوزہ گر‘ قالین باف‘ مٹھائیاں بنانے والے‘ اسپ فروش‘ نعل لگانے والے‘ سبزی اگانے والے‘ جلدساز اور کئی دیگر کاریگر ہوتے تھے۔ ہر پیشے کا اپنا الگ محلہ ہوتا تھا۔ شاہ اور شاہی محل کے مکینوں کی خدمت ان پیشوں کا اولین مقصد تھا۔ جیسے ترکی میں آج جو کرسٹل (بلور) عام بکتا ہے‘ کسی زمانے میں اس کرسٹل کے کارخانے صرف عثمانی سلاطین کے لیے کام کرتے تھے۔
کل بھی میں اس چرم ساز کے پاس بیٹھا تھا اور اسے بتا رہا تھا کہ ہمارے خاندان کی زینیں‘ جو پشت در پشت چلی آرہی تھیں‘ کس حال میں ہیں اور یہ کہ ہندوستانی زینوں اور انگریزی زینوں میں کیا فرق تھا۔ ایک سفید فام آدمی دکان میں داخل ہوا۔ جس طرح چرم ساز نے اس کی آؤ بھگت کی اس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اس کا پرانا گاہک ہے۔ وہ ایک خاص قسم کے چمڑے کے جوتے بنوانا چاہتا تھا جو اس کی پنڈلیوں کے نصف تک ہوں۔ ان سفید فاموں کے بھی کیا کیا شوق ہیں! ہم پاکستانی اور بھارتی زندگی بھر کی جو پونجی اولاد کے لیے چھوڑ جاتے ہیں‘ یہ سفید فام اس پونجی کو اپنی زندگی میں بروئے کار لاتے ہوئے دنیا کی سیر کرتے ہیں۔ چرم ساز نے اس سے میرا تعارف کرایا اور یہ بات خاص طور پر بتائی کہ اس کے پاس سو سال سے بھی زیادہ پرانی اس کی خاندانی زینیں ہیں۔ یہ سننا تھا کہ سفید فام آدمی کی آنکھوں میں مسرت اور تجسس کی چمک آئی۔ اس نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے۔ اسے پرانی زینوں میں بہت دلچسپی تھی۔ اس نے چترال کے بازار سے ایک بہت پرانی اور نادر زین خریدی تھی۔ اس نے چرم ساز سے کوئی بات کی مگر اس قدر آہستہ کہ میں سن نہ سکا۔ چرم ساز میری طرف متوجہ ہوا۔ کہنے لگا ''وِلیم آپ کے گھر جا کر زینیں دیکھنا چاہتا ہے‘‘۔ میں نے کہا کہ بصد شوق مگر ایک بات اسے بتا دو کہ یہ زینیں بیچی نہیں جا سکتیں۔ یہ پیشگی احتیاط میں نے اس لیے کی کہ پہلے ایک ناخوشگوار تجربہ ہو چکا ہے۔ ایک صاحب نے اصرار کے ساتھ (ایک دوست کی سفارش تھی) میری لائبریری دیکھی جس میں آبائی مجموعے کا بھی ایک حصہ پڑا ہے۔ شاہجہان کے زمانے کا ایک قلمی نسخہ دیکھا تو اس پر لٹو ہو گئے اور خریدنے پر اصرار کرنے لگے۔ پوچھا اس میں آپ کی دلچسپی کی کیا وجہ ہے؟ کہنے لگے کہ یورپ کی کسی لائبریری کو بیچ دوں گا کہ وہاں ایسے نوادرات کے منہ مانگے دام ملتے ہیں۔ بہت مشکل سے جان چھڑائی۔
ولیم کو میں گھر لے آیا۔ زینوں کو اس نے دلچسپی کے ساتھ دیکھا۔ کئی سوال پوچھے۔ معلوم ہوا چرم اور چرم کی مصنوعات کے حوالے سے اس کی معلومات بہت تھیں۔ کیا پتا یہی اس کا کاروبار ہو۔ یہ لوگ ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھتے ہیں نہ پوچھنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔ ہم نے چائے پی۔ باتوں باتوں میں اس نے ایک عجیب بات کہی۔ کہنے لگا :یہ تو ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا گڑھ ہے مگر کیا یہ لازم ہے کہ تم لوگ خود بھی دنیا کو بتاؤ کہ پاکستان دہشت گردی کا گڑھ ہے؟؟ اس اچانک سوال پر ایک لمحے کے لیے میں گڑبڑایا مگر فوراً سنبھل گیا۔ میں نے کہا: پاکستان دہشت گردی کا گڑھ نہیں‘ دہشت گردی کا شکار ہے۔ اس پر ولیم ہنسا۔ کہنے لگا: ایک ہی بات ہے۔ دونوں کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔ وہ یہ کہ یہ ملک محفوظ نہیں!! اور تم ساری دنیا کو چیخ چیخ کر بتا رہے ہو کہ پاکستان ایک خطرناک جگہ ہے! غیر محفوظ ہے! یہاں مت آؤ! یہاں سرمایہ کاری نہ کرو! یہاں سیاحت کے لیے نہ آؤ۔ میں نے پوچھا کہ یہ بات تم کیسے کہہ سکتے ہو؟ ولیم پھر ہنسا۔ کہنے لگا کہ میں عینی شاہد ہوں۔ تمہیں معلوم ہے اسلام آباد میں صرف دو فائیو سٹار ہوٹل ہیں۔ ایک تو شہر کے شمال میں ہے۔ مگر دوسرا ہوٹل شہر کے بالکل وسط میں ہے۔ شہر کی تمام مصروف اور بڑی شاہراہیں اس دوسرے ہوٹل کے سامنے سے گزرتی ہیں۔ ایک طرف ڈپلومیٹک انکلیو ہے۔ دوسری طرف مری اور بارہ کہو جانے والی بڑی شاہراہ ہے‘ تیسری طرف شہر کا سب سے بڑا بازار ہے۔ چوتھی طرف شاہراہِ دستور ہے جس پر سپریم کورٹ واقع ہے‘ قومی اسمبلی ہے اور صدر اور وزیراعظم کے دفاتر اور قیام گاہیں ہیں! اس شاہراہِ دستور کو جانے والا راستہ اسی ہوٹل کے سامنے سے گزرتا ہے۔ تم لوگوں نے اس ہوٹل میں کرکٹ ٹیموں کو ٹھہرایا ہوا ہے۔ اور ان ٹیموں کی حفاظت کے نام پر یہ تمام بڑی بڑی شاہراہیں بند کی ہوئی ہیں! میں اور میری بیوی بھی اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ہوٹل سے نکل کر کہیں جانا اور واپس ہوٹل میں آنا ایک عذاب سے کم نہیں! آج صبح ناشتے پر ہم غیرملکی ہنس رہے تھے کہ پاکستانی بھی عجیب قوم ہیں۔ پہلے شاہراہِ عام (Thoroughfare) پر کرکٹ ٹیم کو ٹھہرایا۔ پھر شاہراہِ عام بند کر دی! ہے نہ حماقت کی انتہا!!
ولیم چائے پی کر ہماری قومی بے وقوفی پر ہنس کر چلا گیا۔ مگر میں اُس وقت سے سوچ رہا ہوں کہ یہ حماقت ہے یا سازش؟؟ جس نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے کہ کرکٹ ٹیموں کو شہر کے وسط میں ٹھہراؤ اور پھر ان کی حفاظت کے نام پر تمام بڑی شاہراہوں کو بند کردو‘ اس نے وزیراعظم سے بھی دشمنی کی ہے‘ حکومت سے بھی اور عوام سے بھی!! لوگ تو عذاب میں ہیں ہی‘ دنیا بھر کو یہ پیغام بھی جا رہا ہے کہ پاکستان خطرناک ملک ہے۔ پاکستان غیرمحفوظ ہے۔ یہاں کرکٹ ٹیموں کی حفاظت کے لیے بھی شہر کو بند کرنا پڑتا ہے۔ یہاں سرمایہ کاری کیسے محفوظ رہ سکتی ہے؟
کوئی ہے جو اس حماقت کا نوٹس لے؟ کوئی ہے جو اس سازش کا سد باب کرے؟ کیا وزیراعظم کو معلوم ہے کہ ان کے دفتر سے ایک ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلے پر غدر مچا ہوا ہے؟ لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر راستے بند کرنے والوں کو بد دعائیں دے رہے ہیں! شہر کے اس سب سے بڑے ہوٹل میں ٹھہرنے والے تمام غیرملکی پریشان بھی ہیں اور پاکستانیوں کی عقل پر ماتم کناں بھی!! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کو گھُن کی طرح کھانے والے حکومت کے اندر ہی موجود ہیں۔ اندر سے حکومت کی جڑوں کو کاٹ رہے ہیں۔ مگر یہ سازش صرف حکومت کے خلاف نہیں‘ ملک کے بھی خلاف ہے! یہ بدنامی ریاست کی بدنامی ہے! ارے کم عقلو! بجائے اس کے کہ کرکٹ ٹیموں کو ایسی جگہ ٹھہراؤ جہاں ہر کسی کی نظر ہی نہ پڑے‘ انہیں شہر کے وسط میں‘ شاہراہِ عام کے کنارے ٹھہرا دیا ہے اور پھر تمام راستے بند کرکے اعلان عام کر رہے ہو کہ ٹیمیں یہاں ٹھہری ہوئی ہیں!! تم تو اُس گاؤدی کی طرح ہو جو بینک سے رقم نکلوا کر بیگ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے‘ سینے سے لگائے‘ کبھی دائیں طرف دیکھتا ہے کبھی بائیں طرف! بچہ بھی جان سکتا ہے کہ اس کے پاس رقم ہے! اور بیگ چھینا جا سکتا ہے!!
کیا عالی قدر چیف جسٹس ریاست کو بدنام کرنے کی اس سازش کا نوٹس لیں گے؟؟

Tuesday, April 16, 2024

وزیراعظم کے اصل مخالف


ہمارے جیسے ملکوں میں سب سے زیادہ بے خبر شخص کون ہوتا ہے؟ حکومت کا سربراہ!
روایت ہے کہ صدر ایوب کے ملاحظہ کے لیے ایک خصوصی اخبار چھاپا جاتا تھا جس کے واحد قاری وہ خود ہوتے تھے۔ اس میں ''سب اچھا ہے‘‘ کی تفصیل دلکش انداز میں بیان کی جاتی تھی۔ خصوصی اخبار یہ بھی بتاتا تھا کہ ایوب خان ملک کے محبوب ترین لیڈر ہیں اور ہر مرد و زَن معترف ہے کہ پاکستان کو انہوں نے پاتال سے اٹھا کر بامِ ثریا تک پہنچا دیا! سنا ہے کہ اقتدار کے آخری ایام میں کار کی کھڑکی سے ہاتھ باہر نکال کر اُس وقت بھی لہراتے رہتے جب باہر کوئی بھی نہیں ہوتا تھا۔ یہ روایت بھی سنی ہے کہ جب یحییٰ خان کو معلوم ہوا کہ لوگ اسے برُا بھلا کہتے ہیں‘ یہاں تک کہ دشنام دہی سے بھی باز نہیں آ رہے تو اس نے حیران ہو کر پوچھا ''کیوں؟ میں نے کیا کیا ہے؟‘‘
صدیوں کے تجربے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ حکمران ''اپنوں‘‘ کا جو حصار اپنے اردگرد باندھتا ہے‘ اسی حصار سے حکمران کے خلاف سازشوں کا جال پھیلتا ہے۔ اس حصار کے اکثر اراکین ان سازشوں سے آگاہ ہوتے ہیں۔ اگر نہیں آگاہ ہوتا تو تخت پر بیٹھا حکمران! جنرل ایوب خان نے جب‘ الطاف گوہر اینڈ کمپنی کی ''مہربانی‘‘ سے عشرۂ ترقی کا شور مچایا تھا تو لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے والی بات تھی۔ مشرقی پاکستان کے دریاؤں میں چلنے والی غریب مانجھیوں کی کشتیوں پر ''عشرۂ ترقی‘‘ کے بینر لگا دیے گئے تھے جو ہوا میں پھڑپھڑاتے تھے۔ اس کے جلد ہی بعد جنرل ایوب کی حکومت بھی پھڑپھڑانے لگ گئی۔ تازہ مثال دیکھیے۔ آٹے کے تھیلے پر بڑے میاں صاحب کی تصویر!! سبحان اللہ! یقینا میاں صاحب نے ایسا کرنے کو نہیں کہا ہو گا! یہ نادان دوستوں کا کارنامہ ہے۔ وہ بھی تو دوست تھا جس نے سوئے ہوئے دوست کے چہرے پر سے مکھی ہٹانے کے لیے چہرے پر پتھر مارا تھا! ارے بھئی! تصویر تو تب لگائیں جب تصویر والے نے آٹے کے یہ تھیلے اپنی جیب سے دیے ہوں۔ اگر یہ حکومتِ پنجاب کی جیب سے دیے جا رہے ہیں تو اس پر حکومت پنجاب کی مہر لگائیے۔ کسی شخصیت کا اس سے کیا لینا دینا! اب یہ کون سمجھائے کہ تصویر دیکھ کر نفرت بڑھتی ہے۔ اب مفلس اور قلاش بھی جانتا ہے کہ امیر کیوں امیر ہے اور غریب کیوں غریب ہے!!
اب اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف ان کے ''اپنے‘‘ جو زہر پھیلا رہے ہیں‘ ان سے پورا ملک واقف ہے سوائے خود وزیراعظم کے۔ لوگ ہنس رہے ہیں۔ لوگ قہقہے لگا رہے ہیں۔ لوگ ٹھٹھا اڑا رہے ہیں۔ لوگ تضحیک کر رہے ہیں۔ لوگ سوشل میڈیا پر شیئر کر کرکے مزے لے رہے ہیں۔ پہلا کارنامہ وزیراعظم کے ساتھیوں کا جس سے ان کی حکومت نَکّو بنی ایچی سن والا سانحہ تھا۔ یہ اتنا واضح کیس تھا کہ پورے ملک میں جگ ہنسائی ہوئی۔ اس پر وی لاگ ہوئے۔ تبصرے ہوئے۔ ٹی وی پروگرام ہوئے۔ مضامین لکھے گئے۔ سب کو صاف دکھائی دے رہا تھا کہ کون زیادتی کر رہا ہے سوائے جنابِ وزیراعظم کے۔ گورنر صاحب سے لے کر پنجاب حکومت کے ایک وزیر تک سب نے اپنی اپنی توفیق کے مطابق وفاقی حکومت کی پوزیشن کمزور سے کمزور تر کی۔ بات صرف اتنی تھی کہ وزیراعظم اپنے وفاقی وزیر کو بلاتے اور کہتے کہ بھئی! تمہارے تو اعلان کیے گئے اثاثے ماشاء اللہ اتنے ہیں۔ تم نے یہ کیا تنازع کھڑا کیا ہے۔ ختم کرو یہ مذاق!! آپ اندازہ لگائیے کوتاہ نظری کا کہ ایچی سن کالج کا پرنسپل پاکستان چھوڑ کر چلا گیا اور ایک صوبائی وزیر صاحب اس کے جانے کے بعد اس پر اور اس کی بیوی پر الزامات لگا رہے ہیں۔
دوسرا سانحہ جس نے وفاقی اور پنجاب‘ دونوں حکومتوں کو ایکسپوز کر دیا بہاول نگر کا واقعہ ہے۔ فوج نے تو آئی ایس پی آر کے ذریعے اپنا مؤقف بیان کر دیا۔ حکومت کا مؤقف کہاں ہے؟ وزیراعظم‘ وفاقی وزیر اطلاعات‘ وزیراعلیٰ‘ صوبائی وزیر اطلاعات‘ وزیر داخلہ‘ سب مُہر بلب ہیں! پنجاب پولیس کے سربراہ نے جو وڈیو بیان دیا وہ ایک کمزور اور لِسّا بیان تھا۔ مُذَبذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ لَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآئِ وَلَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآئِ۔ پورے اس طرف نہ پورے اُس طرف!! دونوں ادارے اپنے ہیں۔ دونوں ادارے قومی ہیں۔ دونوں کی قوم کے لیے قربانیاں ہیں۔ دونوں نے شہیدوں کا خون قوم کی نذر کیا ہے۔ دونوں ملکی جسد کے اعضائے رئیسہ میں سے ہیں۔ وزیراعظم کی طرف سے بیان آنا ضروری تھا۔ خم ٹھونک کر سامنے آنا لازم نہ تھا۔ آپ مملکت کے بڑے ہیں۔ آپ کی طرف سے ایسا بیان‘ ایسا مؤقف آنا چاہیے تھا جو دونوں فریقوں کو مطمئن کر دیتا۔ آپ خود نہ بھی کچھ کہتے تو آپ کے وزیر اطلاعات یا وزیر داخلہ آپ کی حکومت کا مؤقف بیان کر دیتے۔ ایسے ہی مواقع ہوتے ہیں جب حکمران کی دانائی‘ حکمت‘ دور اندیشی‘ فراست‘ ژرف نگاہی اور سوجھ بوجھ ظاہر ہوتی ہے اور عوام قائل ہو جاتے ہیں کہ صورتحال ہمارے حکمران کے کنٹرول میں ہے۔ پہلے زمانے کے حکمران کاروبارِ مملکت سیکھنے کے لیے اپنے اردگرد دانا افراد اکٹھے کرتے تھے۔ راتوں کو گلستانِ سعدی‘ سیاست نامہ طوسی اور قابوس نامہ جیسے شاہکار سنا کرتے تھے۔ یہ جو ناخواندہ اکبر‘ دنیا بھر میں اکبر اعظم بن کر چمکا‘ کسی جادو یا ٹونے کے سبب نہیں چمکا۔ سبب یہ تھا کہ اس نے اپنے اردگرد مملکت کے دانا ترین افراد جمع کیے تھے۔ اس کی کامیابی اُن پالیسیوں کی وجہ سے تھی جن کا تصور راجہ ٹوڈر مل‘ راجہ مان سنگھ‘ بیرم خان‘ عبد الرحیم خانخاناں‘ ابو الفضل‘ فیضی اور مرزا عزیز کوکلتاش اکبر کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ یہ عقل مند لوگ تھے۔ سمدھی اور بھتیجے نہیں تھے۔
وزیراعظم کو تیسرا بڑا نقصان اُن افلاطونوں اور ارسطوؤں نے پہنچایا ہے جنہوں نے جہاز کو پہلے جدہ کے بجائے مدینہ منورہ اُترنے پر مجبور کیا اور پھر اسلام آباد جانے کے بجائے اسے لاہور لے گئے۔ ان بزرجمہروں نے مسافروں کو پہلے جدہ میں دو گھنٹے انتظار کرنے پر مجبور کیا اور پھر یہی اذیت لاہور ہوائی اڈے پر دی! کون تھا یہ ذات شریف جسے یہ نادر خیال آیا؟ بدنام تو وزیراعظم ہوئے اور وزیراعلیٰ!! کھایا پیا سب نے اور گلاس توڑنے کے بارہ آنے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے سر پڑے!! 
مصائب دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اُن حالات کے سبب آتے ہیں جو اپنے اختیار میں نہیں ہوتے۔ دوسرے وہ جو اپنے ہاتھوں کی پیداوار ہوتے ہیں۔ اپنی حماقتوں‘ کوتاہ اندیشی اور کور چشمی کا شاخسانہ ہوتے ہیں۔ یہ کیسے لوگ اکٹھے کیے ہیں جناب وزیراعظم نے اپنے اردگرد؟ ان میں کتنے پی ایچ ڈی ہیں؟ ان میں سے کتنے ہیں جو کسی نہ کسی کارنامے کے لیے مشہور ہیں؟ معاف کیجیے گا۔ یہ اوسط سے کم درجے کے لوگ ہیں۔ اس کالم نگار کی سعد رفیق سے ملاقات ہے نہ تعارف نہ کوئی غرض! مگر جب انہوں نے ریلوے کا چارج لیا تھا تو ریلوے کے منہ کے راستے پانی پیٹ میں پہنچ چکا تھا اور ریلوے ڈوب رہی تھی۔ سعد رفیق نے دن رات محنت کی اور اسے نئی زندگی بخشی۔ یہ مجھے ذاتی طور پر اس لیے معلوم ہے کہ اس وقت میرے کچھ برخوردار ریلوے کی ٹاپ بیورو کریسی میں تھے اور رات گئے بھی وہ سعد رفیق کے ساتھ میٹنگ میں بیٹھے ہوتے تھے۔ جبھی پی آئی اے کے چند درد مندوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہوا بازی کی وزارت بھی سعد رفیق کو دی جائے۔ 
آدمی اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے اور حکمران اپنے وزیروں اور مشیروں سے!!

Monday, April 15, 2024

نہیں! جناب وزیراعظم! نہیں!

بنانا ری پبلک؟؟ 

نہیں! بنانا ری پبلک میں تو ری پبلک کا لفظ آتا ہے! یہ صرف بنانا ہے! آکسفورڈ لغت کی رُو سے ری پبلک وہ ریاست ہوتی ہے جس میں اختیار عوام کے پاس ہوتا ہے یا اُن کے منتخب نمائندوں کے پاس!! جس ریاست میں ہم رہ رہے ہیں وہاں عوام کے ساتھ وہی سلوک ہوتا ہے جو حکمرانوں نے مدینہ‘ جدہ اور پھر لاہور میں کیا!! رہے منتخب نمائندے تو ان کی طاقت کا مرکز پارلیمنٹ ہے!! ایک ری پبلک میں پارلیمنٹ حکومت کو گرا سکتی ہے اور بنا سکتی ہے مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے جسم میں ریڑھ کی ہڈی ہو!
یہ ری پبلک نہیں! خدا کی قسم ! یہ ری پبلک نہیں! یہ ری پبلک ہوتی تو جہاز کا پائلٹ اور نام نہاد قومی ایئر لائن کا سربراہ دونوں برطرف ہو چکے ہوتے! جس جہاز نے جدہ اترنا تھا اسے‘ مبیّنہ طور پر‘ مدینہ منورہ اُتارا گیا۔ خبر کی رُو سے‘ مدینہ جہاز اتارنے والے حکمرانوں نے مسجد نبوی میں نوافل ادا کیے۔ واپسی پر جدہ ایئر پورٹ پر جہاز میں سوار مسافروں کو دو گھنٹے انتظار کرنا پڑا کیونکہ ''سرکاری‘‘ وفد نے سوار ہونا تھا اور انہیں اس بات کی مطلق فکر تھی نہ پروا کہ سینکڑوں مسافر جہاز میں دو گھنٹے سے بیٹھے ہیں۔ سرکاری پوزیشن کے ذریعے عوام کو اذیت دینے کا یہ سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ جہاز نے اسلام آباد جانا تھا۔ مگر اسے لاہور لے جایا گیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ سرکاری وفد نے لاہور جانا تھا اور سرکاری وفد کو اس بات کی فکر تھی نہ پروا‘ نہ احساس کہ سینکڑوں لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ اس وفد میں وزیراعظم تھے اور پنجاب کی چیف منسٹر!! دیگر متعلقین‘ وزرا اور عمائدین بھی شامل تھے۔ اذیت کا سلسلہ یہاں بھی ختم نہ ہوا۔ اس وفد کے‘ جو قانون سے بالا تھا‘ اُتر جانے کے بعد بھی جہاز کئی گھنٹے رکا رہا۔ سنا ہے مسافروں نے احتجاج کیا۔ وڈیو کلپ اس احتجاج کے وائرل ہوئے۔
کیا یہ معمولی واقعہ ہے؟ ہاں! پاکستان جیسے ملک میں یہ واقعہ معمولی ہے۔ اخبارات نے آخری صفحے پر یک کالمی خبر دی۔ ایسا واقعہ اگر امریکہ‘ برطانیہ یا کسی مہذب ملک میں رونما ہوا ہوتا تو طوفان آ جاتا۔ اخبارات کے پہلے صفحے پر جلی سرخی ہوتی۔ جس شخص نے جہاز کا رُخ موڑنے کا حکم دیا ہوتا اس کا نام میڈیا میں آتا۔ اُسے سزا دی جاتی۔ مگر ان ملکوں میں ایسی دھاندلی‘ ایسی لاقانونیت‘ ایسی سنگدلی‘ ایسی رعونت‘ ایسے تکبر اور ایسی آمریت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا!
ترقی انفراسٹرکچر کا یا جہازوں کا یا کارخانوں کا یا موٹرویز کا نام نہیں! ایسا ہوتا تو مشرق وسطیٰ کے ممالک آج ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہوتے۔ انہیں ''فرسٹ ورلڈ‘‘ میں شامل کیا جاتا۔ ترقی یافتہ ملک وہ ہیں جہاں چند مراعات یافتہ افراد کی خاطر جہازوں کا رُخ نہیں موڑا جاتا۔ جہاں تین چار سو افراد کو زبردستی جہاز کے اندر حبسِ بے جا میں نہیں رکھا جاتا۔ جہاں ایسا واقعہ رونما ہو بھی جائے تو عوام سے معافی مانگی جاتی ہے! رومی نے کہا تھا کہ سنائی کی رحلت کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ وہ تنکا نہیں تھا کہ ہوا اسے اُڑا لے جاتی نہ پانی تھا کہ سردی میں جم جاتا۔ وہ کنگھی نہیں تھا کہ بالوں میں کرنے سے ٹوٹ جاتی نہ ہی وہ دانہ تھا جو زمین میں چلا جاتا!
یہ جہاز والا واقعہ بھی کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ تین چار سو مسافر انسان تھے۔ آزاد انسان! انہوں نے کرایہ ادا کیا تھا۔ ان کا ایئر لائن سے معاہدہ تھا کہ وہ جدہ اتارے گی اور جدہ سے فلاں وقت روانہ ہو کر سیدھی اسلام آباد آئے گی۔ یہ تین چار سو آزاد شہری آپ کے غلام تھے نہ ماتحت! آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا تھا کہ آپ ان سے اجازت لیے بغیر‘ انہیں باخبر رکھے بغیر ‘ پہلے جدہ میں دو گھنٹے جہاز میں بیٹھ کر انتظار کرنے پر مجبور کرتے اور پھر طاقت کے زور پر ان کی پرواز کو اسلام آباد کے بجائے لاہور لے جاتے اور وہاں پھر گھنٹوں انتظار کراتے۔ ان میں خیبر پختونخوا‘ کشمیر اور پنجاب کے دور دراز علاقوں کے لوگ تھے۔ کسی کو اسلام آباد اُتر کر چترال جانا تھا کسی کو بنوں‘ کسی کو وزیرستان‘ کسی کو راولا کوٹ اور کسی کو مظفر آباد۔ آپ نے اُن کے ساتھ زیادتی کی۔ آپ نے انہیں اذیت میں مبتلا کیا۔ ان میں بچے تھے‘ بوڑھے بھی اور عورتیں بھی! انہیں عید کے موقع پر اپنے اپنے گھروں میں پہنچنا تھا۔ اس سب کچھ کے علاوہ‘ سب سے زیادہ افسوسناک حقیقت یہ کہ آپ نے انہیں احساس دلایا کہ وہ محکوم ہیں! وہ بے بس ہیں! آپ نے اُن کی عزتِ نفس کو مجروح کیا۔ آپ نے ثابت کیا کہ آپ قانون کو‘ ضابطے کو‘ طے شدہ پروگرام کو‘ اقتدار کے پاؤں کے نیچے روند سکتے ہیں! آپ کو دوسروں کے حقوق کا احساس ہے نہ جذبات کا۔ آپ کو یہ پروا بھی نہیں کہ لوگ کیا کہیں گے‘ عوام کا ردعمل کیا ہو گا۔ یہ بے حسی ہے۔ بے رحمی ہے۔ کٹھور پن ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ غیر قانونی ہے۔ قومی ایئر لائن قوم کی ملکیت ہے۔ یہ کسی کی جاگیر نہیں۔ کسی چچا بھتیجی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اسے ذاتی جہاز کی طرح جہاں چاہیں لے جائیں اور جب چاہیں جہاز کا رُخ تبدیل کر دیں!
یہ چوبیس مئی 2023ء کی بات ہے۔ امریکن ایئر لائنز کی پرواز ایریزونا سے میکسیکو جا رہی تھی۔ پرواز دیر سے روانہ ہوئی تھی۔ دورانِ پرواز پائلٹ اپنے کیبن سے باہر نکلا۔ مسافروں کے درمیان کھڑے ہو کر اس نے تاخیر پر معافی مانگی اور مسافروں کو خوش کرنے کے لیے مفت مشروب پیش کیا گیا۔ اور جاپان میں کیا ہوا؟ یہ 2017ء کا واقعہ ہے۔ ٹرین مقررہ وقت سے بیس سیکنڈ پہلے چلا دی گئی۔ ریل کمپنی نے مسافروں سے معافی مانگی! جاپان ہی میں اگر ریل چلنے یا پہنچنے میں تاخیر واقع ہو تو ہر مسافر کو ایک سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے۔ اس پر لکھا ہوتا ہے کہ تاخیر کی ذمہ داری ریلوے پر ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ مسافر اپنے باس کو‘ یا ممتحن کو یا ایڈمنسٹریٹر کو دیتا ہے۔ کیا ہماری ایئر لائن کا پائلٹ یا سربراہ مسافروں سے معافی مانگے گا؟ نہیں! کبھی نہیں! کیا ایئر لائن کے سربراہ نے پائلٹ سے جواب طلبی کی؟ کیا اسے قانون شکنی اور مسافروں کو اذیت دینے کے جرم میں سزا دی گئی؟ آپ کبھی شمالی علاقوں کے لوگوں سے پوچھیے کہ ان کے ساتھ کیا کیا ستم ہوتے ہیں۔ کئی کئی دن پروازیں نہیں جاتیں۔ جہازوں کو دوسری منزلوں کی طرف روانہ کر دیا جاتا ہے اور بہانہ موسم کی خرابی کا بنایا جاتا ہے۔ ہماری قومی ایئر لائن کی کارکردگی بدترین ہے۔ فی جہاز ملازمین کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے یا دوسرے نمبر پر ہے۔ ہر سال عوام کے خون پسینے کی کمائی سے اربوں روپے خسارے میں جانے والی اس ایئر لائن کے دہانے میں ڈالے جاتے ہیں۔ بے شمار پاکستانی اس کے جہازوں میں سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
مسافروں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے اس واقعے پر غم اور غصے کا اظہار کیا ہے کیونکہ یہ سب کچھ اُن کے حکم سے نہیں ہوا! نہیں! جناب وزیراعظم! نہیں!! سوال یہ ہے کہ کسی نے تو یہ فیصلہ کیا ہو گا! کسی نے تو پائلٹ کو اس غیر قانونی کام کا حکم دیا ہو گا! اس کا نام کیوں نہیں بتایا جا رہا؟ اس کے خلاف ایکشن کیا لیا جا رہا ہے؟ وزیراعظم کو حبیب جالب کے باغیانہ اشعار پسند ہیں۔ وہ ترنم سے یہ اشعار سناتے ہیں۔ مگر کیا انہوں نے اقبال کا یہ شعر بھی پڑھا یا سنا ہے؟
فلک نے اُن کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے

Tuesday, April 09, 2024

پُر اسرار خطوط کون بھیج رہا تھا؟


لے دے کر ایک‘ دور دراز رشتے کی چاچی رہ گئی ہے جو اصلی مکھڈی حلوہ پکاتی ہے۔ دور دراز رشتے کی یوں کہ وہ میرے والد صاحب مرحوم کے تھرڈ کزن کی بیگم ہے۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ تھرڈ کزن کو اردو میں کیا کہتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ہم اردو الفاظ کے انگریزی متبادل ڈھونڈتے تھے۔ اب یہ وقت ہے کہ انگریزی لفظوں کی اردو پوچھتے ہیں۔ اصلی اور خالص مکھڈی حلوہ پکانا ذرا مشکل کام ہے۔ اس کے لیے رات کو گندم کا آٹا بھگو کر رکھنا ہوتا ہے۔ پھر صبح صبح اس کا عرق نکالنا ہوتا ہے جسے ''دودھی‘‘ کہتے ہیں یعنی نشاستہ! اس حلوے کا آبائی وطن ضلع اٹک اور ضلع میانوالی کے علاقے ہیں۔ آج کی نسل گندم کے آٹے کا عرق نہیں نکالتی۔ اب ہر شے ''میڈ ایزی‘‘ ہے۔ سوجی کو پانی میں گھولیے۔ لیجیے نشاستہ یا نام نہاد نشاستہ تیار ہے۔ مگر ہماری رشتے کی چاچی ضعیف اور نحیف ہونے کے باوجود آٹے کا عرق نکالتی ہے۔ اسی لیے ہم کبھی کبھار گاؤں جا کر اس سے اصلی اور خالص مکھڈی حلوے کی فرمائش کرتے ہیں!
کچھ عرصہ پہلے اس چاچی کے بیٹے نے ایک عجیب حرکت کی! میرے ایک کھیت پر قبضہ کر لیا۔ اس نے اس میں مونگ پھلی بو دی اور گاؤں میں مشہور کر دیا کہ زمین کا یہ ٹکڑا اصل میں اس کی ملکیت ہے اور یہ کہ غلطی سے میرے حصے میں سمجھا جا رہا تھا۔ گاؤں والوں نے مجھے اطلاع کی کہ فوراً پہنچو اور آ کر معاملے کو سنبھالو! مجھے معلوم تھا کہ میں گاؤں گیا تو فساد ہو گا۔ چاچی کے بیٹے نے بات سننی ہے نہ ماننی ہے۔ عزیز‘ رشتہ دار اور گاؤں کے دوسرے لوگ دو دھڑوں میں بٹ جائیں گے۔ بستی کی اجتماعی زندگی پر منفی اثر پڑے گا۔ یہ بات مجھے پسند نہ تھی۔ میں نے جدید اسلوبِ جنگ پر عمل کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اسے پروپیگنڈے کی مار دوں گا۔ چنانچہ تمام رشتہ داروں کو اطلاع دی کہ چاچے کے بیٹے نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے۔ ہمارا خاندان بہت بڑا ہے۔ کئی گاؤں‘ کئی قصبوں اور کئی شہروں پر پھیلا ہوا ہے۔ چاچے‘ مامے‘ تائے‘ پھپھیاں‘ ماسیاں‘ بہنیں‘ بھائی‘ پھر ان کے بچے‘ پھر آگے ان کے بچے‘ غرض ایک لمبا سلسلہ ہے۔ بس ایک پورا قبیلہ ہی سمجھیے۔ جب سب کو معلوم ہوا کہ فلاں نے میرا کھیت ہڑپ کر لیا ہے تو جیسے بھونچال آ گیا۔ پورے قبیلے میں ہر وقت یہی بات ہونے لگی۔ اظہارِ ہمدردی کے لیے آنے والے اعزّہ کا تانتا بندھ گیا۔ چاچے کے بیٹے کو جو بھی ملتا‘ لعن طعن کرتا۔ وہ سودا سلف لینے قریب کے قصبے میں جاتا تو رشتہ دار وہاں بھی اس سے یہی پوچھتے کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہے۔ کچھ لوگ تو اس کے پاس جا جا کر اسے سمجھانے لگے۔ اب وہ گھر سے کم ہی نکلتا۔ یہ بھی سنا کہ چڑچڑا رہنے لگا تھا۔
میں خوش تھا کہ جدید‘ نفسیاتی اسلحہ استعمال کر کے مخالف کو زچ کر دیا ہے۔ امید قوی تھی کہ طعنے اور نصیحتیں سُن سُن کر وہ خود ہی کھیت پر سے قبضہ ختم کر دے گا۔ انہی فاتحانہ خیالات میں ڈوبا ہوا ایک دن گھر بیٹھا تھا کہ ملازم نے ایک لفافہ لا کر دیا۔ یہ ایک عام سا لفافہ تھا جو کسی بھی ڈاکخانے سے مل جاتا ہے۔ ملازم سے پوچھا کون دینے آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ ڈاکیا تھا۔ لفافہ کھولا تو اندر سے صرف سادہ کاغذ نکلا جس کے دونوں طرف عجیب سا مواد لگا ہوا تھا۔ سونگھا تو عجیب سی بو آ رہی تھی۔ تھوڑا سا ٹچ‘ بہت تھوڑا سا‘ اس بُو میں جانا پہچانا تھا مگر بہت کم۔ بیگم اور بچوں کو یہ کاغذ دکھایا تو وہ بھی حیران سے ہو گئے۔ سچی بات یہ تھی کہ ہم سب گھر والے ڈر سے گئے تھے۔ ایک عجیب سا خوف تھا جو گھر کے در و دیوار سے جیسے چمٹ گیا تھا۔ بچے تو پھر بھی اپنی دلچسپیوں میں لگ کر خط کو بھول گئے مگر میری اور اہلیہ کی راتوں کی نیند اُڑ گئی۔ ابھی ہم اس خط کو ہضم کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ اسی رنگ کا ایک اور لفافہ ملا۔ لرزتے ہاتھوں سے اسے کھولا تو ویسا ہی کاغذ اور اس کے دونوں طرف ویسا ہی مواد جو خشک ہو چکا تھا۔ اب دہشت کے سائے مزید دراز ہو گئے۔ یوں لگتا تھا کوئی دشمن ہمارے پیچھے لگا ہوا ہے۔ اسی دن میری بہن کا فون آ گیا۔ اہلیہ نے ان سے صورتِ حال کا ذکر کیا۔ بس پھر کیا تھا‘ آن کی آن میں یہ خبر تمام اعزہ و اقارب میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ ساری بستیوں اور سارے قصبوں اور سارے شہروں میں جتنے بھی رشتہ دار تھے‘ فون کر کے‘ اور بعض خود آکر‘ خیریت پوچھنے لگے اور تشویش کا اظہار کرنے لگے۔ اب پورے قبیلے میں ہر کوئی ان خطوں ہی کی بات کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ اور کوئی موضوع ہی نہ رہا تھا۔
ایک دن ایک دور کے عزیز اسی سلسلے میں ہمدردی کے لیے تشریف لائے۔ کہنے لگے: ان کا فرزند ایک بہت اچھی لیبارٹری میں ملازم ہے۔ کیوں نہ ان کاغذوں پر لگے مواد کو چیک کرایا جائے کہ آخر یہ کیا چیز ہے۔ بیوی سے مشورہ کیا تو اس نے بھی یہی رائے دی۔ دونوں کاغذ انہیں دے دیے۔ اب ذہنی تناؤمیں اضافہ ہو گیا۔ یہ فکر بھی لاحق ہو گئی کہ لیبارٹری والے کیا بتاتے ہیں۔کئی دن اسی سسپنس میں گزرے۔ بالآخر اُن صاحب کا فون آ گیا۔ کہنے لگے کہ لیبارٹری والوں نے عجیب بے تُکی سی بات بتائی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سوکھا ہوا مکھڈی حلوہ ہے۔ یہ سن کر میری اور سب گھر والوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ اچانک ایک خیال میرے ذہن میں بجلی کی طرح کوندا۔ میں نے اُن عزیز سے کہا کہ ازراہِ کرم لیبارٹری سے یہ چیک کرا دیں کہ یہ حلوہ گندم کے نشاستے سے بنا تھا یا عام سُوجی سے؟ دو دن بعد بتایا گیا کہ تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ اس حلوے میں نشاستہ تھا۔
اب یہ دو جمع دو چار والی بات تھی۔ نشاستے والا اصل حلوہ تو اُسی چاچی کے ہاں پکتا تھا جس کے بیٹے نے میرے کھیت پر ناروا قبضہ کیا تھا۔ ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ اسے کیا پڑی تھی یہ پُراسرار کام کرنے کی۔ کھیت پر قبضہ اس نے کر لیا تھا۔ میں نے واپس لینے کے لیے کوئی اقدام کیا نہ ہی ایسا سوچا۔ بالآخر میں نے اسے ملنے کا فیصلہ کیا۔ ایک معتدل موسم کی شام تھی‘ گرم نہ سرد‘ جب میں گاؤں میں اس کے گھر پہنچا۔ چاچی کو آداب بجا لینے کے بعد ہم دونوں مرد الگ کمرے میں جا بیٹھے۔ میں نے دونوں کاغذ نکال کر اس کے سامنے رکھے اور بغیر کسی تمہید کے کہا کہ اب وہ خدا کے لیے جھوٹ نہ بولے اور بتائے کہ یہ کام اس نے کیوں کیا۔ میں نے یہ بھی بتایا کہ مجھے ایک سو ایک فیصد یقین ہے کہ یہ اسی کی کارستانی ہے۔ اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔ بالکل لکڑی کی طرح۔ وہ کافی دیر خاموش رہا۔ پھر کہنے لگا ''بھائی! آپ نے کھیت واپس لینے کی کوشش کی نہ عدالت میں گئے مگر پورے قبیلے میں آپ نے میری پوزیشن صفر کر دی۔ میں بدنام ہو گیا یہاں تک کہ گھر سے نکلنا دوبھر ہو گیا۔ زندگی جہنم بن گئی۔ بہت سوچ بچار کے بعد مجھے مشکل کا حل یہ نظر آیا کہ سب کی توجہ اپنے سے ہٹا کر کسی اور طرف لے جاؤں۔ اس کے لیے سنسنی پھیلانا ضروری تھا۔ چنانچہ آپ کو یہ پُراسرار خط بھیجے۔ تیر نشانے پر بیٹھا۔ قبیلہ مجھے بھول کر اس خطرے کے پیچھے لگ گیا۔ یوں لوگوں کی توجہ مجھ سے ہٹ گئی بلکہ کھیت پر قبضے ہی کو لوگ بھول گئے۔
میں ہنستے ہوئے اس سے رخصت ہوا۔ کسی ایشو سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ نسخہ‘ واقعی‘ تیر بہدف تھا!

Monday, April 08, 2024

سو سال بعد بھی یہی حال ہو گا

''ایک صاحب انتیس رمضان کو فلاں بزرگ کے پاس گئے۔ اُن کے گھر سے ایک بہت خوبصورت نوجوان‘ بڑی سج دھج کے ساتھ‘ خوش خوش! باہر نکل کر جا رہا تھا۔ یہ صاحب اندر گئے اور بزرگ سے پوچھا: حضرت! یہ اتنا خوبصورت نوجوان جو بہت خوش دکھائی دے رہا تھا‘ کون تھا؟ بزرگ نے فرمایا: یہ انسان نہیں تھا۔ یہ عید کا چاند تھا! اور پوچھنے آیا تھا کہ حضرت! انتیس کو نکلوں یا تیس کو؟؟‘‘
اس نام نہاد واقعے پر مشتمل وڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ ایک شخص یہ کہانی سنا رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس کے سامنے بیٹھے ہوئے سینکڑوں لوگ سن کر اَش اَش کر رہے ہیں۔ داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔ سبحان اللہ! سبحان اللہ! کے نعرے لگا رہے ہیں۔ اور ایسے لوگ اس ملک میں کروڑوں کی تعداد میں ہیں! ان میں اَن پڑھ بھی ہیں۔ نیم تعلیم یافتہ بھی ہیں۔ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں! ایسے بھی ہیں جو ہر سال فلاں صاحب کا درشن کرتے ہیں‘ اس یقین کے ساتھ کہ اندھوں کو بینائی مل جاتی ہے۔ ہم چند عمر رسیدہ‘ پرانے دوست‘ ایک دن کلب میں بیٹھے ہوئے‘ بیماریوں اور ڈاکٹروں کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ ہم میں سے ایک‘ جو ہم میں سے کسی سے بھی کم پڑھا لکھا نہیں تھا‘ گویا ہوا کہ اس کا پوتا بیمار ہوا تو وہ اسے فلاں مزار پر لے گیا اور وہ تندرست ہو گیا۔ آپ میں سے بہت سے حضرات اسے 

Placebo 

کہہ کر آگے بڑھ جائیں گے مگر آپ ان ہزاروں‘ لاکھوں‘ کروڑوں لوگوں کا کیا کریں گے جو چاند والی داستان کو سچ سمجھتے ہیں! اور ایسی لاتعداد داستانوں پر ایمان رکھتے ہیں!
میں کوئی محقق ہوں نہ سائنسدان نہ فلسفی نہ عالم فاضل! مگر ایک اوسط درجے کا‘ کچھ کچھ پڑھا لکھا آدمی ضرور ہوں! اس صورتحال پر جتنا غور کیا ہے‘ ایک ہی نتیجے پر پہنچا ہوں۔ وہ یہ کہ ہمیں گھر سے‘ نہ سکول کالج یا یونیورسٹی سے‘ نہ مدرسہ سے‘ یہ ٹریننگ دی جاتی ہے کہ ہم دعویٰ کرنے والے سے ثبوت مانگیں! ہمیں یہ بھی نہیں سکھایا جاتا کہ ہماری معلومات غلط ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت پیش کرتا ہے تو ہم اپنی غلطی تسلیم کر کے‘ ثبوت مان لیں! ماننا تو دور کی بات ہے‘ ہم ثبوت دیکھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے کہ جو بات ذہن میں بٹھا لی ہے‘ اس سے پھسل نہ جائیں!! یہ رویہ ہماری پوری زندگی کو قبضے میں لیے ہوئے ہے۔ گھر سے لے کر باہر تک۔ عقیدے سے لے کر علاج تک‘ معاشرت سے لے کر سیاست تک‘ ہر شعبے میں‘ ہر میدان میں‘ ہم دعویٰ کرنے والے سے ثبوت نہیں مانگتے۔ یہ ہمارے ڈی این اے ہی میں نہیں ہے۔ ہمیں صرف آمنّا و صدقنا کہنا سکھایا گیا ہے۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے‘ اس تشخیص کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ہمارے دعوے یا ہمارے یقین کے رد میں کوئی ثبوت پیش کرے تو ہم اس ثبوت کو دیکھتے ہیں نہ مانتے ہیں!
اس رویے کا سب سے بڑا شکار مذہب ہے! یہ اس لیے کہ ہم مذہب واعظ سے سیکھتے ہیں۔ استاد سے نہیں! استاد سوال پوچھنے پر اُکساتا ہے جبکہ واعظ سے کچھ پوچھنا ممکن ہی نہیں! وہ تو وعظ کر کے یہ جا وہ جا!! اسی لیے اگر واعظ کہتا ہے کہ حوریں اسّی اسّی فٹ لمبی ہوں گی تو اول تو اس دعوے کے حق میں ثبوت مانگنے کے لیے کوئی تیار ہی نہیں ہوتا۔ سب آنکھیں بند کر کے مان لیتے ہیں! اور اگر ایک لاکھ میں ایک شخص ثبوت مانگنا بھی چاہے تو واعظ تک اس کی رسائی ہی نہیں۔ اگر وہ وعظ کے دوران اُٹھ کر پوچھتا ہے تو اس کی زندگی کو خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے!! یہی وجہ ہے کہ ہمارے بہت سے مذہبی خیالات‘ یہاں تک کہ عقائد بھی‘ قرآن پاک یا صحیح احادیث پر نہیں‘ سنی سنائی باتوں‘ داستانوں اور قصوں پر مشتمل ہیں۔
اس صورتحال کا سب سے مہلک شاخسانہ شخصیت پرستی ہے۔ ہم جس شخصیت کو بھی پسند کرتے ہیں‘ اس کی کسی بات کو چیلنج کرنا تو دور کی بات ہے‘ اس پر شک تک نہیں کرتے۔ بلکہ اس کے دفاع میں کٹنے مرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ شخصیت پرستی کی بیماری جب مذہبی دائرے میں داخل ہوتی ہے تو اس کا نام ''اکابر پرستی‘‘ ہو جاتا ہے۔ افسوس کی بات ہے مگر حقیقت ہے کہ اکابر کی عبارتوں اور دعاوی کے دفاع میں زندگیاں گزر جاتی ہیں اور نسلیں خرچ ہو جاتی ہیں! 
ثبوت ایک ایسی چڑیا ہے جس کا سیاست کے شعبے میں بھی گزر نہیں! چند دن پہلے ہی الزام لگا کہ ایک وزیراعلیٰ کے لیے نیا ہیلی کاپٹر خریدا جا رہا ہے! اس کے جواب میں متعلقہ وزیر نے دعویٰ کیا کہ یہ ہیلی کاپٹر مریضوں کے لیے خریدا جا رہا ہے۔ پارٹی کے اندھے مقلد اس دعویٰ کو سچ مان لیں تو کوئی تعجب نہیں۔ مگر اس دعویٰ کا ثبوت کیا ہے؟ کیا اس خریداری کا مطالبہ محکمہ صحت نے یا کسی ہسپتال نے یا ڈاکٹروں کی کسی باڈی نے یا مریضوں نے کیا ہے؟ کیا یہ خریداری محکمہ صحت کے بجٹ سے کی جا رہی ہے؟ کیا سڑکوں پر چلنے والی ایمبولینسوں کی تعداد صوبے میں تسلی بخش ہے کہ اب صرف ہیلی کاپٹر کی کمی ہے؟ اور سب سے بڑا سوال یہ کہ جو ہیلی کاپٹر مریضوں کے لیے ہوتا ہے اسے ایئر ایمبولنس کہتے ہیں! اس میں میڈیکل آلات نصب ہوتے ہیں۔ ابتدائی طبی امداد اور ٹیسٹوں کے لیے سہولتیں موجود ہوتی ہیں۔ اس میں ای سی جی‘ پیس میکر‘ آکسیجن اور دیگر متعلقہ سروسز ہوتی ہیں۔ وزیر سے کسی نے نہیں پوچھا کہ اگر ہیلی کاپٹر حاکم کے لیے نہیں‘ بلکہ بقول ان کے‘ مریضوں کے لیے منگوایا جا رہا ہے تو کیا یہ ایئر ایمبولنس ہے؟
بدقسمتی سے ہمارے تارکینِ وطن بھی‘ جن کی بھاری اکثریت ترقی یافتہ ملکوں میں مقیم ہے‘ شخصیت پرستی کا شکار ہیں۔ حالانکہ ان ملکوں میں بات بات پر ثبوت مانگا جاتا ہے۔ ایک گیارہ سالہ بچے کو‘ جو آسٹریلیا میں رہتا ہے‘ میں نے ایک بات بتائی۔ اس نے سن کر پوچھا ''اس کاEvidence کیا ہے؟‘‘ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ تارک وطن کو ایک سیاسی لیڈر کی کرپشن کے بارے میں ثبوت دیا تو ان کا ایک ہی جواب تھا کہ یہ ناممکن ہے۔ اسے تو پیسے کی ضرورت ہی نہیں!! یہ حیرت انگیز بلکہ دردناک حقیقت ہے کہ ہمارے تارکین وطن ''ہیرو ورشپ‘‘ میں ہم لوگوں کی نسبت جو پاکستان میں رہتے ہیں‘ بہت آگے ہیں!
اندھا اعتقاد اور ثبوت نہ مانگنا ایک ناسور ہے جس نے ہمارے معاشرے کو ذہنی طور پر اپاہج کر رکھا ہے۔ یہاں بابوں‘ تعویذ فروشوں‘ جن نکالنے والوں اور میٹھے سے شوگر کی بیماری کا علاج کرنے والوں کا راج ہے۔ آپ کو ترقی یافتہ ملکوں میں کوئی ایسا کلینک نہیں ملے گا جس پر بورڈ لگا ہو کہ ''یہاں تمام دائمی امراض کا تیر بہدف علاج کیا جاتا ہے‘‘۔ آپ کو وہاں مسیحی یا یہودی شہد کے اشتہار بھی نہیں نظر آئیں گے۔ خوابوں کا کاروبار بھی وہاں عنقا ہے۔ کروڑوں اربوں روپوں کی پیری مریدی کی انڈسٹری بھی صرف ہمارے ہاں ہی پائی جاتی ہے۔ ایسی انڈسٹری کہ جس پر ٹیکس بھی نہیں لگتا! سو سال پہلے بھی یہی حال تھا۔ جبھی تو اقبال نے کہا تھا:
ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
شہری ہو دہاتی ہو‘ مسلمان ہے سادہ
مانندِ بُتاں پُجتے ہیں کعبے کے برہمن 
نذرانہ نہیں سود ہے پیرانِ حرم کا
ہر خرقۂ سالوس کے اندر ہے مہاجن
یقین کیجیے کہ سو سال بعد بھی یہی حال ہو گا!!

Thursday, April 04, 2024

پاکستان اور افغانستان …جان اور جانان


''جب تک افغانستان ٹی ٹی پی کے ٹریننگ کیمپس‘ پناہ گاہیں اور سہولت کاری نہیں چھوڑے گا تب تک سلسلہ چلتا رہے گا۔ افغان حکومت کے روز بروز بدلتے رویے سے ہمارے پاس ان کے لیے آپشن محدود ہو رہے ہیں۔ جس طرح ساری دنیا میں بارڈر ہیں‘ پاک افغان بارڈر کو بھی ویسا ہونا چاہیے۔ لوگ ویزا لے کر پاکستان آئیں اور کاروبار کریں۔ فری کھاتے میں جو لوگ بارڈر کراس کرتے ہیں اس میں دہشت گرد آتے ہیں۔ بارڈر کی جو بین الاقوامی حیثیت ہوتی ہے‘ اس وقت اس کا احترام نہیں کیا جا رہا۔ ہم نے افغانستان کا سامان بھارت بھیجنے کی اجازت دی ہے۔ ہم نے افغانستان کے لیے جنگیں لڑیں۔ قربانیاں دیں۔ افغانستان سے دہشت گردی اور سمگل شدہ چیزیں آتی ہیں‘‘۔
یہ بیان ہمارے محترم وزیر دفاع کا ہے اور کل یا پرسوں کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو کچھ وزیر دفاع نے کہا ہے‘ اس میں سے کون سی بات ہے جو نئی ہے اور پہلے سے معلوم نہیں تھی؟ کیا اس میں دو آرا ہو سکتی ہیں کہ افغان بارڈر پر انہی بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کا اطلاق ہونا چاہیے جو ساری دنیا میں نافذ ہیں؟ کیا بچے بچے کو نہیں معلوم کہ یہ جو افغان بارڈر پر کھلا کھاتہ چل رہا ہے‘ یہ دہشت گردوں کے لیے بہترین سہولت کاری ہے؟ بارڈر آپ کا ہے! آپ اس پر ویزے کی پابندی نافذ کیجئے۔ آپ کو روکا کس نے ہے؟ مگر المیہ یہ ہے اختیارات ہمارے وزیروں اور حکومتوں کے پاس تھے کب؟؟ فراق گورکھپوری کی یاد آ گئی؛
دلِ آزاد کا خیال آیا ؍ اپنے ہر اختیار کو دیکھا
میر تقی میر کو بھی ہماری حکومتوں سے کافی ہمدردی ہے۔ حکومتوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
یہ درست ہے کہ افغانوں کے لیے ہم نے جنگیں لڑیں اور قربانیاں دیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا افغانوں نے ہماری منت کی تھی؟ سارے فیصلے پاکستان کے اپنے تھے۔ کیا کبھی ہم نے عام افغان کے مؤقف پر بھی غور کیا ہے؟ افغان کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم کرتے رہے‘ امریکی ڈالروں کے لیے کرتے رہے۔ ان کا دوسرا پوائنٹ یہ ہے کہ ہم ان کے اندرونی معاملات میں دخل دیتے ہیں۔ یہ بات بھی عام کہی جاتی ہے کہ پاکستان افغانستان کو اپنا پانچواں صوبہ سمجھتا ہے۔ ہم ان الزامات کو تسلیم کریں یا نہ کریں‘ افغانوں کے مؤقف کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔
افغانستان کے مسئلے کی جڑ ضیاء الحق کے عہد میں ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ افغان ایشو پر بات ہو اور اس مردِ مومن مردِ حق کا 'ذکرِ خیر‘ نہ ہو! اب تو اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ یہ امریکی جنگ تھی! اگر امریکی جنگ نہیں تھی تو کیا اربوں ڈالر امریکہ نے اسلام کی اشاعت کے لیے دیے تھے؟ ضیا کی باقیات آج بھی کہے جا رہی ہیں کہ افغانستان کے بعد سوویت یونین نے پاکستان میں آ جانا تھا۔ جیسے پاکستان کوئی ترنوالہ ہو!! جیسے پاکستان کے بعد اس نے بھارت برما اور تھائی لینڈ میں بھی جانا تھا۔ چلیے ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ روس کا مقابلہ افغانستان ہی میں کرنا تھا ورنہ اس کی اگلی منزل پاکستان ہوتی۔ مگر یہ کہاں کا اصول اور کون سی حب الوطنی تھی کہ ہم اپنے ویزا سسٹم کا گلا گھونٹ دیں۔ سرحدوں کو مٹا دیں! دنیا بھر کے جنگجو پاکستان میں لا بسائیں اور افغان مہاجرین کو پورے ملک میں پھیلا کر انہیں پاکستان کا باپ دادا بنا دیں؟ یہ ضیاء الحق اور اس کے ہمنواؤں کا وہ ظلم ہے جس کی قیمت پاکستان آج بھی ادا کر رہا ہے اور بھاری قیمت ادا کر رہا ہے! آپ اندازہ لگائیے کہ یہ غیر ملکی نادرا میں بھی جا گھسے تھے اور وزیر دفاع نے یہ انکشاف تو حال ہی میں کیا ہے کہ ایسے دو غیر ملکی ہماری فوج میں بھی پائے گئے تھے! امریکی جنگ میں شریک ہو کر ضیاء الحق کو یہ فائدہ بھی ہوا کہ اس کی ناروا آمریت کو مغرب کی اشیرباد حاصل ہو گئی۔
دیگر افغانوں کی طرح طالبان لیڈروں نے بھی پاکستان میں بہت وقت گزارا۔ ان کی شوریٰ کا تو نام ہی کوئٹہ شوریٰ تھا۔ طالبان رہنماؤں نے اپنے خاندانوں کو پاکستان میں رکھا۔ ملا اختر منصور کی کراچی میں پانچ جائدادیں تھیں۔ پاکستان نے طالبان کے حکومت سنبھالنے پر خوشی بھی بہت منائی۔ اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے باقاعدہ بیان دیا کہ طالبان نے غلامی کی زنجیریں توڑ ڈالیں۔ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر طالبان کے لیے بہت کام کیا مگر طالبان کی حکومت‘ ماضی کی افغان حکومتوں کی طرح‘ پاکستان کے ساتھ سرد مہری ہی برت رہی ہے۔ طالبان بھی ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کر رہے۔ پاکستان نے کروڑوں روپے خرچ کر کے سرحد پر جو باڑ لگائی تھی‘ اسے جگہ جگہ نوچ کر اکھاڑ پھینکا گیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں قتل و غارت کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع نے جو کچھ کہا ہے‘ درست کہا ہے۔ ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کا بیان پوری حکومت کی طرف سے ہے۔ اب وہ صرف ایک کام کریں کہ اپنے بیان کو عملی جامہ بھی پہنا دیں۔ وہ حکومت اور مقتدرہ کے درمیان اس سلسلے میں پُل کا کردار ادا کر سکتے ہیں اور افغان بارڈر کو مستحکم کرنے میں حکومت اور مقتدرہ کو ایک ہی صفحے پر لا سکتے ہیں۔ افغانوں کو اگر یہ شکوہ ہے کہ پاکستان ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے تو افغانوں کو تو خود بارڈر پر ویزا اور پاسپورٹ کے سسٹم کو مضبوط کرنا چاہیے اور اس ضمن میں پاکستان کے ساتھ مل کر سرحدی قوانین کو نافذ کرنا چاہیے۔
پاکستان کے اور بھی پڑوسی ہیں۔ چین‘ بھارت اور ایران ہے۔ جنوب میں سمندر ہے۔ چین کے ساتھ تو پاکستان کی بے مثال دوستی ہے۔ کیا ان ملکوں سے آنے والے ویزے کے بغیر آتے ہیں؟ کیا ایران کا بارڈر افغان بارڈر کی طرح شاہراہِ عام بنا ہوا ہے؟ یہ کون سا انصاف ہے کہ افغانستان ایک آزاد ملک ہے مگر اس کے باشندے پاکستان میں اس طرح آتے جاتے رہیں جیسے افغانستان‘ پاکستان کا حصہ ہے؟ پھر‘ افغان پناہ گزینوں کو اپنے ملک واپس بھیجنے کی بات ہو تو احتجاج کیوں ہوتا ہے؟ ساری دنیا جانتی ہے کہ افغان ایک غیرتمند قوم ہے اور عزتِ نفس کے لحاظ سے بہت حساس ہے۔ طالبان حکومت اگر افغانستان کی نمائندہ اور جائز حکومت ہے تو خود طالبان حکومت کو چاہیے تھا کہ پاکستان میں پناہ لینے والے افغانوں کو واپس بلاتے اور کہتے کہ ملک آزاد ہو گیا ہے‘ آؤ! ہم سب مل کر ملک کی ترقی کیلئے مل کر کام کریں!
افغانستان کے ساتھ ہمارا مذہبی‘ ثقافتی اور ادبی رشتہ صدیوں سے ہے۔ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنا ہو گا اور سرحدوں پر بین الاقوامی قوانین کا نفاذ کرنا ہو گا۔ ساتھ ہی پاکستان پر لازم ہے کہ افغانستان کے جائز شکوؤں کو دور کرے۔ افغان مریضوں اور سٹو ڈنٹس کو ویزا آسانی سے حاصل ہونے کی سہولت مہیا ہونی چاہیے۔ افغان مہاجرین نے پاکستان میں جو کچھ کمایا ہے اسے ساتھ لے جانے کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں ان کی پوری مدد کرنی چاہیے۔ افغان حکومت بھی‘ امید ہے‘ پاکستان کی گزارشات پر دھیان دے گی۔ فارسی افغانوں کی اپنی زبان ہے۔ وہ صائب کے اس شعر کو اچھی طرح سمجھتے ہیں:
گر چہ جان ما بہ ظاہر ہست از جانان جدا
موج را نتوان شمرد از بحر بی پایان جدا
پاکستان اور افغانستان کا تعلق وہی ہے جو جان اور جانان کا ہے!! وما علینا الا البلاغ

Tuesday, April 02, 2024

بابے …(2)


اس عنوان کی پہلی قسط چھ فروری2016ء کو اسی صفحے پر ظاہر ہوئی تھی۔ ایک بار پھر اس بات کا اعلان لازم ہے کہ میں بابوں کو مانتا ہوں۔یہ جو ڈِس انفارمیشن ہے کہ میں فلاں خاندان سے ہوں اورفلاں مسلک کی وجہ سے بابوں کو نہیں مانتا ‘ یہ ڈِس زیادہ ہے اور انفار میشن کم ! میرے باپ دادا بابوں کے بہت بڑے معتقد تھے۔ وہ رومی‘ سعدی‘عطار‘ نظامی‘ امیر خسرو اور جامی کے معتقد تھے۔ ان سے بڑے بابے کون ہوں گے! وہ میر‘ غالب اور بیدل کے ارادت مند تھے۔ میں بھی ‘ اپنے آبا ؤ اجداد کی تقلید میں‘ اپنے زمانے کے بابوں کا شیدائی ہوں! فرق صرف یہ ہے کہ بابے ‘ جنہیں میں مانتا ہوں‘سبز چولے پہنتے ہیں نہ مالائیں! وہ بالکل عام لوگوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ وہ زبردست دماغی قوتوں کے مالک ہیں اور قلم جب ان کے ہاتھ میں آتا ہے تو اس میں کیسے مافوق الفطرت طاقت بھر جاتی ہے۔ اصل بابا ہوتا ہی وہی ہے جو اپنے بابا ہونے کا اعلان خود نہ کرے۔ لاہور ہی کو دیکھ لیجیے۔ اس شہر میں سب سے بڑا بابا ظفر اقبال ہے۔ اب وہ ماشاء اللہ نوّے سے اوپر ہے مگر شعر گوئی کی رفتار میں کمی آئی نہ کوالٹی میں! چند ہفتے پہلے تک روزانہ کے حساب سے کالم بھی لکھ رہا تھا۔ اس کے پاس ایسا اسم ہے اور ایسا طلسم ہے کہ غزل کو جس طرف چاہے موڑ دے۔ اس میں کیا شک ہے کہ اس وقت اُردو غزل میں اس کا کوئی ثانی ہے نہ حریف! اختلاف کرنے والوں کا حق ہے کہ اختلاف کریں۔ ظفر اقبال نے تو خود ہی معاملہ وقت پر چھوڑ دیا ہے۔
ظفرؔ یہ وقت ہی بتلائے گا کہ آخر ہم
بگاڑتے ہیں زباں یا زباں بناتے ہیں
ظفر اقبال نے اُردو شاعری میں گونگے لفظوں کو زبان دی۔ایسے ایسے مضامین غزل میں باندھے جو نظم میں باندھنے سے بھی شعرا ہچکچاتے تھے۔ یہ بابا اپنے مریدوں سے بے حد پیار کرتا ہے۔ اس وقت آبِ رواں کا جو ایڈیشن بازار میں دستیاب ہے‘ اس کا فلیپ اس حقیر مرید کا لکھا ہوا ہے جو بابے نے حکم دے کر لکھوایا۔ سرتابی کی مجال نہ تھی۔ بابا واحد بڑا شاعر ہے جو جونیئر اور نئے شعرا کو پڑھتا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔'' اب تک ‘‘ اس کی کلیات کا نام ہے جس کی چھ جلدیں چھپ چکی ہیں۔ اُردو ادب کے شائقین کو آج بآسانی دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پرو ظفر اقبال اور اینٹی ظفر اقبال یعنی ظفر اقبال کے حامی اور ظفر اقبال کے مخالف۔ یہ جرأت صرف ظفر اقبال ہی میں ہے کہ اپنی شاعری پر خود تنقید کرتا ہے اور اپنے سے آگے بڑھ جانے والے کا شوق اور بے تابی سے منتظر بھی ہے۔ کس میں ہمت ہے کہ ایسا شعر کہہ سکے 
مجھے غَسّال ہی نہلائیں گے اب 
بہت میلا کچیلا ہو گیا ہوں
ظفر اقبال کی خدمت میں حاضری کا نذرانہ پیش کر کے میں لاہور کے ایک اور بڑے بابے کے آستانے پر حاضر ہوتا ہوں۔ یہ بابا عطا الحق قاسمی ہے۔ اس کی بقچیوں میں ہر وضع کے ساغر موجود ہیں۔ رُلا بھی سکتا ہے۔ ہنسا بھی سکتا ہے۔ دو ایسی حقیقتیں ہیں جن سے شاید ہی کوئی انکار کرے۔ اُردو اخبارات میں ادبی صفحے کا آغاز اسی نے کیا۔ اس کے بعد پھر لائنیں لگ گئیں۔ لگنی ہی تھیں کہ اس سے اخبارات کے عام قار ئین تک بھی ادب پہنچ سکا اور وہ بھاری بھرکم ادبی جریدوں سے بچ کر بھی ادب سے روشناس ہونے لگ گئے۔ اس بابے کا دوسرا کمال یہ ہے کہ کالم کو اس نے ادب کی صنف میں شامل کرایا۔ اس سے پہلے ادب اور کالم کے درمیان خلیج حائل تھی۔ اس نے ادب پارے لکھے جو کالم تھے اور کالم لکھے جو ادب پارے تھے۔ تعزیت نامے لکھ کر ایک اور باب وا کیا۔ سفرنامے لکھے۔ ٹی وی کے ایسے ڈرامے لکھے جو یادگار ہیں۔ معاصر کے عنوان سے ایک وقیع ادبی جریدے کی بنیاد رکھی۔ یہ اور بات کہ اب بابے کی صحت ادبی پرچے کے تھینک لیس کام کی متحمل نہیں ہو سکتی !
پھر میں لاہور ہی میں بابے مستنصر حسین تارڑ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہوں۔ اس بابے کی کرامتوں کے کیا ہی کہنے ! اتنے سفر نامے لکھے اور اتنے ناول کہ عجب نہیں خود اسے بھی سب کے نام نہ یاد آئیں۔ بابے کا دروازہ سب زائرین کے لیے کہاں کھلتا ہے بس ہم جیسے قسمت کے دھنی اس سے مل لیتے ہیں۔بابے کو پاکستان کے شمالی علاقوں سے عشق ہے۔ اس عشق کو اس نے اپنے سفرناموں کے ذریعے متعدی مرض کی طرح پھیلایا اور ان علاقوں کو مشہور کیا۔ جب تک صحت اجازت دیتی رہی‘ بابا ہر سال شمالی علاقوں کے سفر کے سختیاں برداشت کرتا رہا۔
دل تو چاہتا ہے کہ مجیب الرحمان شامی صاحب کو بھی لاہور کے بابوں میں شامل کروں مگر وہ‘ ماشاء اللہ ‘ اتنے متحرک اور ایکٹو ہیں کہ بابے کی اصطلاح کا اطلاق ان پر منطقی لحاظ سے ہو نہیں سکتا۔ وہ ایک روزنامہ نکالتے ہیں۔ ٹی وی پر ہفتے میں پانچ دن پروگرام کرتے ہیں۔ یہ کام ایک جوان شخص ہی کر سکتا ہے۔ چشم بد دور!!
اب میں اسلام آباد کا رُخ کرتا ہوں۔ یہاں افتخار عارف ہے۔ ایک بڑا بابا!! اس کا آستانہ ہر بڑے چھوٹے کے لیے ہر وقت کھلا ہے۔ صحت کی خرابی کے باوجود کسی کی عرضی نا منظور نہیں کرتا اور آنے جانے کی ‘ اور سفر کی کلفت برداشت کرتا ہے۔ غزل کا بڑا شاعر تو وہ ہے مگر نعت کواس نے جو جو رنگ دیے ہیں‘ اسی کا حصہ ہے۔ 
یہ سر اٹھا ئے جو میں جا رہا ہوں جانبِ خُلد
مرے لیے مرے آقا نے بات کی ہوئی ہے
اور
درود پہلے بھی پڑھتا ہوں اور بعد میں بھی
اسی لیے تو اَثر بھی دعا میں رہتا ہے
ایک ڈھارس مجھ جیسے ساکنانِ اسلام آباد کے دل کو رہتی ہے کہ بابا افتخار عارف شہر میں موجود ہے۔ ضمیر جعفری نے کہا تھا کہ شہروں کی بڑائی ان کے میناروں میں ہوتی ہے۔ بابا افتخار عارف اس شہر کا مینار ہے۔اختلاف کرنے والوں سے بھی پیار کرتا ہے!!
افتخار عارف کے گھر کے قریب ہی ایک اور بابا رہتا ہے۔ بڑا ہی باکمال ! بابا انور مسعود! بابا ابھی بی اے میں پڑھ رہا تھا کہ پنجابی کی نظم ''پنچایت‘‘ لکھی اور پیش منظر پر چھا گیا! وہ دن اور آج کا دن! وہ پنجابی شاعری کو مزاح سے ‘ نئی امیجری سے‘ اچھوتے موضوعات سے اور انوکھی بُنت سے مسلسل مالا مال کر رہا ہے۔ پہلے شاعری سنانے میں گھن گرج زیادہ تھی۔ اب مسکراہٹ زیادہ ہے۔ بے شمار نظمیں ضرب المثل کا درجہ حاصل کر چکی ہیں۔ ان نظموں کے عنوانات بھی زبان زد خاص و عام ہیں! یہ اور بات کہ اس نے سنجیدہ اشعاربھی کمال کے کہے 
مطمئن مجھ سے نہیں ہے جو رعیت میری
یہ مرا تاج رکھا ہے یہ قبا رکھی ہے
کیا بابا کے مقابلے میں بابی کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے ؟ مجھے نہیں معلوم! تو کیا میں کشور ناہید کو بابی کہوں ؟ ویسے میں اسے آپا کہتا ہوں! جب تک آپا کی صحت ٹھیک رہی‘ اس کا گھر دعوتوں کا مرکز رہا۔ اب طبیعت مضمحل زیادہ رہتی ہے۔ وہ بھی دن تھے جب آپا ماہ نو کی ایڈیٹر تھیں۔ خوب ڈانٹ ڈپٹ کر کے ہم سے کام کراتی تھیں۔ ترجمے کرائے۔ نظمیں کہلوائیں۔ ایسے ایسے نمبر ماہ نو کے نکالے کہ تاریخِ ادب کا حصہ ہیں۔ اب صرف ڈانٹ ڈپٹ کرتی ہیں۔ یہ بھی اپنائیت اور پیار کی شکل ہے۔ اور آخری بات یہ کہ میں خود بھی اب چھوٹا موٹا بابا ہوں۔ اس کی تفصیل پھر کبھی!!

Monday, April 01, 2024

سیاست سے ذرا ہٹ کر


کالم تو ایک اور موضوع پر لکھنا تھا۔ وزیر خارجہ کا دل اپنی وزارت میں لگ نہیں رہا۔ کابینہ کی کمیٹی جو نجکاری کے لیے بنائی گئی ہے‘ اس کی صدارت وزیر خارجہ کو دے دی گئی ہے۔ ایک اور طرفہ تماشا یہ ہوا ہے کہ مشترکہ مفادات کی کونسل 

(Council of Common Interests)

یعنی 

CCI 

میں سے وزیر خزانہ کو باہر نکال دیا گیا ہے اور وزیر خارجہ کو شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ کونسل صوبوں کے درمیان متنازع مسائل حل کرنے کے لیے ہے۔ یہ مسائل‘ زیادہ تر‘ مالیات سے متعلق ہوتے ہیں۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ یہ وزیراعظم کی صوابدید ہے کہ جسے بھی کونسل کا رُکن بنائیں۔ ارے بھئی! صوابدید کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ مچھلیوں کو دریا سے نکال کر درختوں پر آباد کر دیا جائے۔ صوابدیدی اختیارات کے لیے شرط ہے کہ عاقلانہ اور مدبرانہ طور پر 

Judiciously 

استعمال کیے جائیں گے۔ ارادہ تھا کہ کالم میں جناب وزیراعظم کی خدمت میں تفصیل سے یہ تجویز پیش کروں کہ جہاں پناہ! وزیر خزانہ کی اسامی کو ختم کر دیا جائے اور وزیر خزانہ کا قلمدان بھی وزیر خارجہ کے سپرد کر دیا جائے تا کہ یہ کہا جا سکے کہ حق بحقدار رسید!! 
مگر راستے میں دوراہا آ گیا اور میں مُڑ گیا۔ ایک وڈیو کلپ دیکھا۔ ہمارے دوست شعیب بن عزیز پلنگ پر دراز ہیں اور اُن کی نواسی اور نواسا اُن پر چھلانگیں لگا رہے ہیں۔ اس سے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ یہ واقعہ میری کتاب ''عاشق مست جلالی‘‘ میں درج ہے مگر چونکہ اس کا تعلق براہِ راست اس وڈیو کلپ سے ہے اس لیے یہاں بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ نواب آف کوٹ فتح خان سے منسوب ہے۔ کوٹ فتح خان کے نواب کی ریاست فتح جنگ کے مغرب اور جنوب میں واقع تھی۔ اس میں چوراسی گاؤں شامل تھے۔ ایک مفلس کسان نواب کا بچپن کا بے تکلف دوست تھا۔ کسان کی صحت اچھی تھی جبکہ نواب صاحب کی ڈانواں ڈول رہتی تھی۔ ایک دن نواب نے اپنے کسان دوست سے کہا کہ میں بہترین خوراک کھاتا ہوں۔ دسترخوان پر پچاس اقسام کی نعمتیں ہوتی ہیں۔ تمہیں کھٹی لسّی بھی مشکل سے ملتی ہے۔ سوکھی روٹی اور دال تمہاری غذا ہے۔ پھر بھی حیرت ہے کہ تم ہٹے کٹے ہو اور میں رنجور! کسان یہ سُن کر ہنسا! کہنے لگا: سردارا! (اس علاقے میں بے تکلفی سے اسی طرح مخاطب ہوا جاتا ہے) تم کیا بہترین غذا کھاتے ہو؟ مٹی اور راکھ! میں جب کھیتوں میں کام کر کے واپس گھر آتا ہوں تو میرے پوتے اور نواسے میرے اوپر کودتے ہیں۔ چھلانگیں لگاتے ہیں۔ کوئی سر پر سوار ہوتا ہے‘ کوئی کندھوں پر چڑھائی کرتا ہے۔ پھر وہ مجھے کھینچ کھانچ کر ہٹی پر لے جاتے ہیں جہاں میں انہیں بتاشے‘ ریوڑیاں‘ مکھانے اور نُگدی خرید کر دیتا ہوں۔ انہیں کھاتا اور لطف اندوزہوتا دیکھ کر مجھ میں سیروں خون بڑھتا ہے۔ یہی میری اچھی صحت کا راز ہے۔
مستقل قارئین جانتے ہیں کہ اس کالم نگار نے نواسوں‘ نواسیوں‘ پوتوں‘ پوتیوں‘ نانیوں‘ دادیوں‘ دادوں‘ نانوں پر تواتر سے لکھا ہے۔ انٹرنیٹ کا دور ہے۔ یہ موضوعات دنیا بھر میں پسند کیے گئے۔ خاص طور پر تارکینِ وطن کو ان تحریروں میں و طن کی اور گزرے ایام کی خوشبو آئی اور وہ خوش بھی ہوئے اور مضطرب بھی! ایک صاحب نے ایک کالم پڑھ کر امریکہ سے لکھا کہ جب سے کالم پڑھا ہے‘ ماں یاد آرہی ہے اور روئے جا رہا ہوں! کچھ بوڑھوں نے لکھا کہ ان کالموں میں دنیا بھر کے نانا اور دادا کی نمائندگی کی جا رہی ہے۔ دیہی زندگی پر لکھے گئے کالم بھی بہت پسند کیے گئے۔ ایک زمانہ تھا جو دیکھتے دیکھتے ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ جن لوگوں نے اس زمانے کو دیکھا تھا‘ اس کا ذکر پڑھتے ہیں تو تسکین حاصل کرتے ہیں۔
سیاسی اور حالاتِ حاضرہ کے کالموں سے قاری بعض اوقات اُکتا جاتے ہیں!! کیوں؟ اس لیے کہ سب کالم کم و بیش ایک ہی‘ یا زیادہ سے زیادہ دو موضوعات پر ہوتے ہیں۔ جیسے آج کل چھ ججوں کا موضوع ہے۔ اب کالم نگاروں کی مجبوری ہے کہ اس تازہ ترین‘ سلگتے موضوع کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ مگر پڑھنے والا اس ایک موضوع پر کتنی تحریریں پڑھے گا؟ (یہی حال وی لاگرز کا بھی ہے۔ سب کے ٹاپک یکساں ہوتے ہیں)۔ جب قاری کسی ایسے موضوع پر تحریر دیکھتا ہے جو گھسے پٹے سیاسی موضوع پر نہ ہو تو وہ اس کی طرف لپکتا ہے‘ اسے پڑھتا ہے اور فرحت پاتا ہے! اس کالم نگار نے پِزے اور برگر پر لکھا۔ شو ہارن کو موضوع بنایا۔ لاٹھی پر لکھا۔ لسی پر لکھا۔ اس موضوع پر لکھا کہ چائے پیالیوں سے ہٹ کر مگ میں منتقل ہو گئی۔ دوسرے ملکوں کی خوراک پر لکھا۔ پرانے ہَل اور نئے تھریشر پر لکھا۔ عید اور دیگر تہواروں کے اُس کلچر پر لکھا جو اب غائب ہو گیا ہے۔ اُن سردیوں کا نوحہ لکھاجو اب کبھی نہیں پلٹیں گی!! چرخے پر‘ گھر کی کپاس سے کھڈی پر بُنے ہوئے کھیس پر‘ ادوائن والی بان کی چارپائیوں پر‘ دیواروں پر لگے اُپلوں پر‘ کوئلوں سے دہکتی انگیٹھیوں پر‘ اونٹوں کے کجاووں پر‘ غرض بے شمار ایسے موضوعات پر لکھا جن پر شاید ہی کوئی لکھنے والا توجہ دیتا تھا۔ پھر ان غیر سیاسی تحریوں کو‘ جو سراسر ثقافتی موضوعات پر تھیں‘ کتابوں کی صورت میں یکجا کیا۔ ان کتابوں کو بہت پسند کیا گیا کیونکہ ہر شخص کو ان میں اپنی گم ہوتی ثقافت دکھائی دے رہی تھی اور اپنا گُم شدہ ماضی نظر آ رہا تھا۔ کچھ تحریروں کو نصابی کتابوںمیں بھی شامل کیا گیا۔
پنجاب کے کچھ علاقوں میں پوتے کو اپنا خون اور نواسے کو '' پرایا‘‘ خون گردانا جاتا ہے۔ ایک قصہ نما کہاوت بھی ہے کہ ایک شخص اپنے نواسے کو کندھے پر بٹھائے جا رہا تھا۔ پوتا ساتھ پیدل آ رہا تھا۔ راستے میں کتا آ گیا جو ذرا بپھرا ہوا تھا۔ کندھے پر بیٹھے نواسے نے کتے سے کہا کہ آئو! میرے بابا کو کاٹ لو۔ پیدل چلتے پوتے نے پتھر اٹھا لیا اور کتے کو کہا خبردار! میرے بابا کے نزدیک نہ آنا! اس کلچر اور اس مائنڈسیٹ کی پشت پر وہی جاہلی تصور ہے کہ بیٹی بیٹے سے کم تر ہے۔ جائداد کا حصہ بھی بیٹی کو نہیں دیا جاتا کہ زمین ''غیروں‘‘ کو چلی جائے گی! اسی طرزِ فکر سے وہ مضحکہ خیز اور ظالمانہ رسم نکلی کہ بیٹی کی شادی (نعوذ باللہ) قرآن پاک سے کر دی اور وہ ساری زندگی ماں باپ کے گھر بیٹھی رہی۔ کلام پاک میں بیٹیوں کو ناپسند کرنے والوں یا کمتر سمجھنے والوں کی مذمت کی گئی ہے۔ ''جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ بس خون کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ اس برُی خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے۔ سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لیے رہے یامٹی میں دبا دے‘‘۔ یہ مائنڈ سیٹ کسی نہ کسی شکل میں آج بھی موجود ہے۔ اور اس کے لیے جاہل یا ان پڑھ ہونا لازم نہیں۔ اس میں تمام طبقات کی نمائندگی موجود ہے۔ کیا جُبے اور عمامے‘ اور کیا سوٹ اور نکٹائیاں‘ بیٹیوں‘ بہنوں کو وراثت میں حصہ دیتے ہوئے قولنج کا درد اٹھتا ہے اور موت پڑتی ہے۔ جس طرح بیٹی اور بیٹے میں کوئی فرق نئیں اسی طرح پوتے اور نواسے اور پوتی اور نواسی میں کوئی فرق نہیں۔ سب جگر کے ٹکڑے ہیں۔ ہمارے پیغمبر کی تو مقدس نسل ہی بیٹی اور نواسوں سے چلی! یہ نواسے ہی کا غم ہے جو آج بھی رُلا رہا ہے۔
لہو روتا ہوں‘ تڑپتا ہوں‘ جو یہ سوچتا ہوں
کس قدر ہے مجھے محبوب نواسا میرا!!

Thursday, March 28, 2024

استعفیٰ؟ مگر کس کا؟؟



 
عمران خان کی ساری غلطیوں‘ ساری حماقتوں‘ ساری جلد بازیوں‘ بے پناہ منتقم مزاجی اور تکبر کے باوجود خلقِ خدا اس کے ساتھ کیوں ہے؟
اس لیے کہ ان دونوں خاندانوں کی دوست نوازی اور کرونی ازم حد سے بڑھ گیا ہے! ذاتی وفاداری واحد معیار ہے۔ اور ذاتی وفاداری کا صلہ قومی خزانے سے دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کی اپنی دولت‘ اپنی جائیدادوں‘ اپنے کارخانوں‘ اپنے محلات اور اپنے فلیٹوں کے سلسلے لامتناہی ہیں۔ اندرونِ ملک بھی! بیرونِ ملک بھی! آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق کرونی ازم کا مطلب ہے دوستوں کو اعلیٰ مناصب پر ان کی اہلیت کے بغیر تعینات کرنا!! کرونی ازم‘ میرٹ پسندی کی ضِد ہے! یہ جو ایچی سن کالج کے پرنسپل کے استعفے کا سیاپا پڑا ہے‘ یہ کرونی ازم ہی کا شاخسانہ ہے۔ کیسے؟ یہ ہم آگے چل کر عرض کرتے ہیں۔
اس رسوائے زمانہ جنجال کے پانچ پہلو ہیں۔ پانچوں ہی دردناک ہیں! اور شرمناک بھی!!
پہلا یہ کہ جیسے ہی پرنسپل نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا‘ حکومت کی داڑھی میں تنکا صاف نظر آنے لگا! وزیر‘ امیر سب ایک ایک کرکے اُس سابق بیوروکریٹ اور حال وزیر کا دفاع کرنے لگ گئے جو بکھیڑے کا مرکزی کردار تھا۔ یہ سلسلہ اتنا مضحکہ خیز تھا کہ باقاعدہ ہنسانے والا تھا۔ بکھیڑے کا مرکزی کردار بادشاہ کی پسندیدہ شخصیت تھا اس لیے اس کا دفاع کرنے میں ہزار مصلحتیں تھیں۔ درباری کلچر کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں جنہیں ہم آپ جیسے عامی نہیں سمجھ سکتے!! منتخب حضرات ایک غیرمنتخب کردار کے دفاع پر کمر بستہ ہو گئے۔ دوسرا یہ کہ دروغ گوئی پر کمر باندھ لی گئی۔ یہ کہا جانے لگا کہ فیس نہ دینے کی رعایت صرف سابق بیورو کریٹ کے بچوں کے لیے نہیں‘ سب کے لیے ہے۔ لوگوں کو بے وقوف بنانے والے خود عقل سے بے بہرہ ہو جاتے ہیں۔ یہ دہائیوں کے بعد ''سب‘‘ کے فائدے کا دورہ آج ہی پڑنا تھا جب ایک مخصوص شخصیت کے بچوں کو فائدہ پہنچانا تھا؟ یہ جو قواعد میں تبدیلی کی گئی‘ کیا اس لیے نہیں کی گئی کہ دو مخصوص بچوں کی فکر تھی؟ حیرت ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات کہہ رہے ہیں کہ ''قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ جب وہاں پڑھ نہیں رہے تو پھر نہ پڑھنے کی فیس تو نہیں ادا کی جاتی‘‘۔ کوئی پوچھے کہ یہ قانون کب بنا ہے؟ یہ قانون تو آپ نے اسی خاص کیس میں بنایا ہے! تیسرا پہلو اس معاملے کا یہ ہے کہ کیا گورنر صاحب کسی اور بچے کے لیے بھی اتنی کوشش کرتے؟ اتنا آؤٹ آف وے جاتے؟ کیا کسی اور بچے کی خاطر بھی بورڈ آف گورنرز کا اجلاس اپنے دفتر میں بلاتے؟ جبکہ یہ اجلاس ہمیشہ کالج میں ہوا کرتا ہے! کیا کسی اور بچے کے لیے بھی پرنسپل کو اپنے دفتر میں‘ اپنے حضور‘ طلب کرتے؟ ایک استاد کو‘ ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کو‘ حاکم کا اپنے دفتر میں طلب کرنا!!یہ کیا مائنڈ سیٹ ہے؟ اور استاد بھی وہ جسے آپ باہر سے لائے ہیں۔ جس کی بے مثال کارکردگی کی گواہی بابر علی جیسے سنجیدہ‘ قابلِ اعتبار‘ باعزت‘ بزرگ دے رہے ہیں! ایسا تو بادشاہوں کے زمانے میں بھی نہیں ہوتا تھا۔ ہارون الرشید کے بیٹے اپنے استاد کے قدموں کے آگے ان کے جوتے رکھتے تھے اور اس کے لیے دونوں شہزادے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ چوتھا پہلو‘ پرنسپل کے خلاف چلائی جانے والی مہم نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ شرمناک بھی ہے۔ معلوم نہیں ہماری حکومتیں کب سبق سیکھیں گی؟ شاید بھٹو صاحب کا زمانہ تھا جب چودھری ظہور الٰہی کے خلاف بھینس چوری کا پرچہ کاٹا گیا تھا۔ یہ کہنا کہ پرنسپل اس لیے استعفیٰ دے کر جا رہا ہے کہ اس کی تنخواہ کا آڈٹ کیا جانا ہے اور یہ کہ وہ چالیس لاکھ تنخواہ لیتا ہے اور سال میں سو چھٹیاں کرتا ہے‘ آپ کے اُس مقام سے بہت نیچے کی بات ہے جس پر آپ فائز ہیں!! پرنسپل نے آپ کا ناروا حکم نہیں مانا تو آپ نے گہرے سمندر میں غوطہ لگایا اور اس کے خلاف کیا موتیوں جیسے الزامات نکال کر لائے! سبحان اللہ! سبحان اللہ! کیا کہنے! کیا کہنے! کیا چالیس لاکھ تنخواہ وہ آپ سے گَن پوائنٹ پر لیتا رہا ہے؟ کیا آڈٹ کریں گے اس کی تنخواہ کا آپ؟ کہ اس نے اپنی تنخواہ کہاں اور کیسے خرچ کی؟ رہا 100چھٹیوں کا معاملہ تو پرسوں جب گورنر ہاؤس کے سامنے طلبہ اور ان کے والدین احتجاج کر رہے تھے تو ایک طالب علم سے کسی ٹی وی والے نے پرنسپل کی سو چھٹیوں والے معاملے کا پوچھا۔ طالب علم ہنس دیا کہ گرما‘ سرما‘ عید‘ کرسمس اور کئی دوسری چھٹیاں ملا کر تمام تعلیمی اداروں میں سو کے قریب چھٹیاں تو معمول کی بات ہے! وہ تو غنیمت ہے کہ آپ نے پرنسپل پر یہ الزام نہیں لگایا کہ وہ دفتر میں میز کرسی پر بیٹھتا ہے اور جوتے پہننے سے پہلے جرابیں پہنتا ہے! کسی نے خوب کہا ہے ؎
سکھر کا پُل‘ جہلم کا دریا دونوں ہو گئے چوری
مال گودام سے لے گئی چیونٹی گندم کی اک بوری
پانچواں پہلو اس سارے ہنگامے کی اصل وجہ ہے اور فساد کی جڑ ہے۔ اور وہ ہے کرونی ازم! یہ کرونی ازم ہے جس نے معاملے کو اس نامناسب حد تک پہنچا دیا۔ شاہی خاندانوں کی یہ روایت رہی ہے کہ یہ اپنے ذاتی وفاداروں کو نوازتے ہیں اور نوازتے بھی شاہی خزانے سے ہیں! پہلے یہ ہوتا تھا کہ کسی کا منہ موتیوں سے بھر دیا جاتا۔ کسی کو سونے یا چاندی میں تُلوا دیا جاتا تھا۔ کسی کو جاگیر عطا کی جاتی تھی۔ کسی کو ہاتھی گھوڑے اور خلعت سے سرفراز کیا جاتا تھا۔ اب زمانہ ماڈرن ہے۔ شاہی خاندانوں کے اطوار بھی زمانے کے ساتھ بدل گئے ہیں۔ کوئی افسر ماڈل ٹاؤن فیم ہے تو اسے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ( W.T.O) میں سفیر بنا کر بھیج دیا جاتا ہے۔ وہ اگر ضلعی انتظامیہ سے ہے اور ورلڈ ٹریڈ سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا تو کیا ہوا! پھر اُسی کو ایک بار پھر نوازنا ہو تو ورلڈ بینک میں بھیج دیا جاتا ہے۔ طریقِ واردات یہ تھا کہ جونیئر افسروں کو سینئر پوزیشنوں پر لگا دیا جاتا تھا اور سینئرز کو کُھڈے لائن! وفاداری خریدنے کا یہ بہترین فارمولا تھا۔ اب اگر کسی نے جیل میں مخالفانہ گواہی نہیں دی تو پھر تو اسے عوام کے جمع شدہ ٹیکسوں سے نوازنا فرضِ عین ہو گیا۔ پہلے ایک حکومت میں وزیر بنایا۔ الیکشن کمیشن نے اسے نکلوا دیا۔ اب پھر اپنی حکومت آ گئی۔ فوراً سے پیشتر وزارت کی خلعت زیبِ تن کروائی گئی۔ پیچھے پیچھے سینیٹ کی رکنیت دست بستہ چلی آ رہی ہے! اتنا دم خم کسی میں نہیں کہ پوچھے جناب! ان صاحب کا پارٹی سے کیا تعلق ہے؟ پوچھنا تو در کنار‘ کوئی چوں بھی نہیں کرے گا۔ اب جب یہ ایچی سن کا معاملہ آیا تو شاہی وفادار کے ساتھ وفاداری نبھانے میں ع
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے!!
پرنسپل جس معاشرے سے آیا تھا وہاں وزیراعظم بھی استاد کو اپنے دفتر نہیں بلا سکتا۔ گورے نے صرف اور صرف اس لیے ترقی کی کہ وہاں قانون‘ قانون ہے۔ کسی کے لیے بھی قانون تبدیل نہیں کیا جائے گا! ہم اسی لیے پستی اور غربت میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں کہ استاد کو ہم ذاتی ملازم سمجھتے ہیں اور ڈاکٹر کو ڈی سی کے گھر جانا پڑتا ہے! پھر کیا ہوتا ہے؟ ڈاکٹر اُس ڈاکٹری پر لات مارتا ہے جس پر قوم کے لاکھوں روپے خرچ ہوئے تھے۔ استاد طالب علموں کو خدا حافظ کہتا ہے۔ استاد اور ڈاکٹر دونوں سی ایس ایس کر کے خود حاکم بن جاتے ہیں کہ ایسا ہے تو پھر ایسا ہی سہی!!
کوئی ترقی یافتہ ملک ہوتا تو گورنر صاحب کو بھی مستعفی ہونا پڑتا اور وزیر صاحب کو بھی! مگر یہاں پرنسپل استعفیٰ دیتا ہے! افسوس! ہزار افسوس! ؎
وہ شاخِ گُل پہ زمزموں کی دھُن تراشتے رہے
نشیمنوں سے بجلیوں کا کارواں گزر گیا!!

Tuesday, March 26, 2024

پاکستان، بھارت اور تجارت


وزیر خارجہ اسحاق ڈار صاحب نے کہا ہے کہ پاکستانی تاجر بھارت سے تجارت کرنے کے خواہاں ہیں۔ اور یہ کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تجارت بحال کرنے سے متعلق جائزہ لے گا۔ یہ تعلقات پانچ برس پہلے اُس وقت ختم کیے گئے تھے جب مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ ہم اور تو کچھ کر نہیں سکے‘ تجارتی تعلقات پر کلہاڑا چلا دیا۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح ہمارے قصباتی کلچر میں بات بات پر قطع کلامی کر لی جاتی ہے۔ تجارتی تعلقات ختم کرنے سے مقبوضہ کشمیر کو کیا فائدہ ہوا؟ یا پاکستان نے کیا حاصل کیا؟ کیا بھارت نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا؟ کیا کسی نے ہماری منت سماجت کی کہ جناب! کرم کیجیے! تجارتی تعلقات بحال کر دیجیے۔ پانچ سال کے بعد ہم خود ہی بحال کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں!
چین اور تائیوان کی باہمی دشمنی سے زیادہ آخر کیا دشمنی ہو گی۔ چین تائیوان کو ایک الگ ملک کی حیثیت سے تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اس کا مؤقف ہے کہ یہ چین کا حصہ ہے۔ مگر دونوں کے درمیان تجارت بالکل نارمل انداز میں ہو رہی ہے۔ 2022ء کے اعداد و شمار کی رُو سے چین تائیوان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ چین کے ساتھ تجارت تائیوان کی کُل تجارت کا 23 فیصد ہے جبکہ جاپان کے ساتھ 9.7 فیصد۔ ہانگ کانگ کے ساتھ 7.3 فیصد اور جنوبی کوریا کے ساتھ 6.2 فیصد ہے۔ بھارت اور چین کی مخالفت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ بھارت کے شمال مغربی اور شمال مشرقی‘ دونوں کونے‘ چین کے مؤقف کی رُو سے متنازع ہیں۔ حال ہی میں وزیراعظم مودی نے شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کا دورہ کیا تو چین نے احتجاج کیا۔ چین کا مؤقف یہ ہے کہ اروناچل تبت‘ یعنی چین کا حصہ ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان سرحدی جھڑپیں بھی ہو جاتی ہیں۔ اس کے باوجود دونوں ملکوں میں تجارت روز افزوں ہے۔ گزشتہ ماہ نئے چینی سال کے موقع پر نئی دہلی میں واقع چینی سفارتخانے کی ناظم الامور نے بہت نمایاں انداز سے بتایا کہ 2023ء میں بھارت اور چین کی باہمی تجارت بڑھتے بڑھتے 136.2ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ اُس سے ایک سال پہلے یہ تجارت 135.98 ارب ڈالر تھی۔ بھارت چین سے الیکٹرانکس‘ ٹیلی کمیونیکیشنز‘ مشینری‘ ایٹمی ری ایکٹرز‘ بوائلرز‘ نامیاتی کیمیکل‘ پلاسٹک‘ کھادیں‘ میڈیکل‘ ٹیکنیکل‘ آپٹیکل آلات‘ فوٹو گرافی کے آلات‘ لوہا‘ سٹیل اور گاڑیاں درآمد کرتا ہے جبکہ چین کو صاف شدہ پٹرول‘ خام لوہا اور سمندری خوراک بھیجتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ بھارت اپنی دانست میں چین اور پاکستان‘ دونوں کو مخالف گردانتا ہے۔ ایک کے ساتھ اس کی سالانہ تجارت اربوں ڈالر کی ہے۔ دوسرے کے ساتھ صفر ہے۔ جہاں تک تنازعوں کا تعلق ہے‘ تجارت کے باوجود چین نے اپنا مؤقف بدلا نہ بھارت نے!
اب ذرا چین اور امریکہ کی بات بھی کر لیتے ہیں۔ امریکہ پوری دنیا میں چین کو اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتا ہے۔ لیکن تجارت دونوں کے درمیان زور و شور سے ہوتی ہے۔ عام امریکی سستی چینی اشیا سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ دوسری طرف امریکی کمپنیوں کیلئے چین ایک وسیع و عریض منڈی کا کام دے رہا ہے۔ 2022ء میں دونوں ملکوں کے درمیان 690 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی۔ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بھی تجارت ہو رہی ہے اور خوب ہو رہی ہے۔ ایک طرف ترکیہ حماس کی حمایت کرتا ہے۔ دوسری طرف تجارت اسرائیل سے ہو رہی ہے۔ 1995ء میں ترکی کی برآمدات اسرائیل کو 28 کروڑ ڈالر کی تھیں۔ ستائیس سال بعد 2022ء میں یہ تجارت سات ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد ترکیہ نے یہ اعلان ضرور کیا ہے کہ جو ترک کمپنیاں اسرائیل کے ساتھ تجارت کریں گی‘ پیچیدگی اور مشکلات کی صورت میں ترکیہ کی حکومت ان کی کوئی مدد نہیں کرے گی۔ پابندی نہیں لگائی۔
یہ ہے بین الاقوامی صورتِ حال۔ سیاسی محاذ پر یہ ممالک اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ سفارتی محاذ پر مخالفتیں برپا کر رہے ہیں مگر ساتھ ساتھ اپنے اپنے ملک کے مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں! ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ خواندگی کی شرح خطرناک حد تک کم ہے۔ عوام جذباتی ہیں۔ ایسی جماعتوں کی کمی نہیں جن کا وجود صرف اور صرف تقریروں کا مرہونِ منت ہے۔ اقتدار میں وہ کبھی آئیں نہیں۔ حکومتی مشکلات سے مکمل نا آشنا ہیں۔ بجٹ کی پیچیدگیوں سے کبھی پالا نہیں پڑا۔ نہ معلوم ہے کہ توازنِ ادائیگی کس چڑیا کا نام ہے نہ یہ معلوم ہے کہ توازنِ تجارت کیا ہوتا ہے۔ ان کی بقا صرف اور صرف اس میں ہے کہ عوام کے جذبات سے کھیلا جائے اور جذباتی نعروں کی مدد سے اپنے وجود کو زندہ رکھا جائے۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ملک کا فائدہ کہاں ہے اور عوام کو تکالیف سے کیسے بچایا جائے۔ بھارت کے ساتھ تجارت کھولنے کا زیادہ فائدہ پاکستان کو ہو گا نہ کہ بھارت کو۔ بھارت ایک بہت بڑی‘ وسیع و عریض منڈی ہے جو پاکستانی بر آمد کنندگان کو ملے گی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان چھوٹی منڈی ہے جو بھارتی برآمد کنندگان کو میسر آئے گی۔ لدھیانہ میں ایک خاتون نے خواتین کیلئے پاکستانی کپڑوں کا کاروبار شروع کیا ہے۔ اسے پورے بھارت سے دھڑا دھڑ آرڈر موصول ہو رہے ہیں۔ ملبوسات اور کپڑے کے پاکستانی برانڈز کو اگر بھارتی منڈی تک براہِ راست رسائی مل جائے تو کسی شک و شبہ کے بغیر وہ بھارت پر چھا جائیں گے۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ پاکستان اتنا بھی نحیف و نزار نہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارت کھلے تو موم کی طرح پگھل جائے گا۔اس وقت بھارت اور پاکستان کے درمیان کتابوں اور رسالوں کا لین دین بند ہے۔ بھارت میں کسی کو کوئی کتاب بھیجی جائے تو اول تو اسے ملتی ہی نہیں‘ اور اگر مل بھی جائے تو مہینوں بعد ملتی ہے۔ سب سے زیادہ زَد ادبی کتب و جرائد پر پڑ رہی ہے۔ بھارت میں کئی بین الاقوامی پبلشر بیٹھے ہیں جیسے پین گوئن‘ ہارپر کولنز اور پَین میکملنز۔ ان کی بھارت میں چھپی ہوئی کتابیں پاکستانیوں کو اُن کتابوں کی نسبت ارزاں پڑتی ہیں جو یہی کمپنیاں برطانیہ اور امریکہ میں شائع کرتی ہیں۔ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ پبلشر پاکستان میں اپنی شاخیں کیوں نہیں کھولتے۔ اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے۔ سویڈن کی مشہور عالم کمپنی 
''IKEA‘‘
 کی بھارت میں پانچ برانچیں ہیں اور پاکستان میں ایک بھی نہیں۔ کیوں؟ اس کا جواب بھی حکومت کو دینا چاہیے۔ بھارت اس وقت آئی ٹی کی دنیا کا بادشاہ ہے۔ اگر تجارتی اور دیگر معاشی حالات دونوں ملکوں کے درمیان نارمل ہو جائیں تو پاکستانیوں کو گھر بیٹھے حیدر آباد‘ چنائی اور بنگلور کی آئی ٹی کمپنیوں سے ملازمتیں مل سکتی ہیں!
امریکہ دنیا پر حکومت کر رہا ہے صرف اور صرف علم کی وجہ سے! چین نے دنیا کو اپنی برآمدات کے ذریعے فتح کر لیا ہے۔ بھارت چین سے آگے بڑھنے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے۔ ہم اِس زمانے میں بھی دنیا کو تلوار اور تیر و تفنگ کی مددسے فتح کرنا چاہتے ہیں۔ لال قلعہ سے لے کر وائٹ ہاؤس تک تمام عمارتوں پر ہم سبز ہلالی پرچم لہرانا چاہتے ہیں۔ ترقی کی شرح ہماری دو فیصد ہے، آئی ایم ایف کے سامنے ہم رکوع میں کھڑے ہیں۔ نعرے اور تقریریں ہماری کوئی سنے تو اسے لگتا ہے ترقی یافتہ ممالک ہمارے سامنے ذرّے سے بھی کمتر ہیں!! ہم یہ حقیقت ماننے کیلئے تیار ہی نہیں کہ مضبوط معیشت کے بغیر کوئی نعرہ کام آتا ہے نہ کوئی نظریہ! یہ جو بھارت نے سفارتی محاذ پر مشرقِ وسطیٰ کو فتح کر لیا ہے تو وجہ اس کی مضبوط معیشت ہے! سات سے زیادہ دورے وزیراعظم مودی نے متحدہ عرب امارات کے کیے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے اہم ترین ملک نے اپنا بلند ترین سول ایوارڈ وزیراعظم مودی کو دیا ہے۔ زمانے کی گاڑی کو نعرے چلاتے ہیں نہ جذباتی تقریریں! زمانے کی گاڑی کو روپیہ چلاتا ہے! صرف روپیہ!!

Monday, March 25, 2024

معصوم‘ بے گناہ قیدی


راولپنڈی کچہری چوک سے ہم نے گاڑی جی ٹی روڈ پر ڈالی اور روات کا رُخ کیا۔ سؤاں کیمپ سے ذرا آگے گئے تو بائیں طرف ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا قوی ہیکل‘ عظیم الجثہ گیٹ تھا۔ اس کے پاس ایک شخص کھڑا تھا جس کے کاندھے پر لمبا سا ڈنڈا افقی لحاظ سے رکھا تھا۔ڈنڈے کے دونوں کناروں پر دو پنجرے لٹک رہے تھے۔ان میں چڑیاں قید تھیں۔میں نے گاڑی رکوائی۔ اسے بلایا اور پوچھا کہ ان بے گناہ چڑیوں کو کیوں قید کیا ہوا ہے۔ اس نے کہا :آپ پیسے دے کر انہیں آزاد کرادیں! یہ بات اس نے اتنے عجیب اور طنزیہ لہجے میں کی کہ میں دم بخود رہ گیا۔پوچھا: کتنے پیسے لو گے۔اس نے بتایا کہ ایک پنجرے کی چڑیوں کو چھڑوانے کی یہ قیمت ہے اور دونوں پنجروں کی یہ! میرے پاس اتنی کیش نہیں تھی۔اسے کہا کہ چڑیوں کو چھوڑ دو اور میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھو‘ گھر جا کر تمہیں پیسے دیتا ہوں۔اس نے پہلے ایک پنجرے کا دروازہ کھولا۔ ننھی ننھی چھوٹی چھوٹی چڑیاں ایک ایک کر کے‘ پُھر پُھر کر تی‘ کھلی فضا میں اُڑ گئیں۔پھر اُس نے دوسرا پنجرہ کھولا۔ اس سے بھی اُڑ گئیں۔ میں گاڑی میں ہی بیٹھا ہوا تھا۔وہ نزدیک آیا تو میں نے اسے کہا: تمہارا علاج تو یہ ہے کہ میں تمہیں یہیں چھوڑ کر چلا جاؤں مگر چونکہ وعدہ کیا ہوا ہے اس لیے اب بیٹھو گاڑی میں۔ گھر پہنچنے تک اس سے باتیں ہوتی رہیں۔ پوچھا یہ چڑیاں کہاں سے لیتے ہو۔ کہنے لگا: سرگودھا اور اس کے نواح میں اس کام کا نیٹ ورک ہے۔ وہ لوگ شکاریوں سے خریدتے ہیں۔ پھر ہمیں دیتے ہیں۔ پوچھا: یہ کام کیوں کرتے ہو؟ کہنے لگا :اور کیا کروں؟ کہا :پھلوں کا ٹھیلہ لگا لو یا سبزی منڈی جاؤ وہاں بہت کام مل جاتا ہے۔ نہیں معلوم اس پر کچھ اثر ہوا یا نہیں۔ مگر حیرت ہے کہ یہ عجیب و غریب کاروبار یہاں ہو رہا ہے۔ جن لوگوں کا دل ان بے زبان معصوم قیدیوں کو دیکھ کر پسیج جاتا ہے‘ ان پر ایک قسم کا نفسیاتی حملہ ہے۔ وہ انہیں نہ چھڑوائیں تو بے چین رہیں گے۔ دوسری طرف چھڑوانے سے یہ قبیح کاروبار مزید چمکے گا۔ عجیب دو دھاری تلوار ہے۔ ان سخت دل لوگوں پر حیرت ہے جو یہ بیوپار کر رہے ہیں۔ اگر انہیں چھڑوانا کارِ ثواب ہے تو منطقی بات یہی ہے کہ پھر پکڑنا گناہ ہے۔ تو گناہ کا یہ کام کیوں ہو رہا ہے؟ یہ کیسا ملک ہے؟ پولیس اگر پارکوں اور سیرگاہوں میں بیٹھے جوڑوں سے نکاح نامے طلب کر سکتی ہے تو چڑیاں پکڑ اور خرید کر پنجروں میں بند کرنے والوں کو کیوں نہیں پکڑتی ؟ یہ گھٹیا کاروبار کیوں ہو رہا ہے؟ ان سنگدل انسان نما جانوروں کا بس چلے تو چیونٹیاں اور مکھیاں بھی قید کر کے پیسہ کمائیں!
اب جو بات میں کرنے لگا ہوں بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آئے گی۔ پسند نہ کرنے والوں میں میرے قریبی اعزہ بھی شامل ہوں گے! ایک غریب طوطے کو پنجرے میں بند کر کے گھر میں رکھنے سے کون سی خوشی حاصل ہوتی ہے؟ پالتو جانور رکھنے کی اور بات ہے۔ بلی رکھی جاتی ہے۔ کتا پالا جاتا ہے۔ مگر انہیں پنجروں میں قید نہیں کیا جاتا۔ بلی گھر بھر میں دندناتی پھرتی ہے۔ کتے کو تو سیر بھی کرائی جاتی ہے۔پچاس ساٹھ سال پہلے کبوتر رکھنے کا عام رواج تھا۔ علامہ اقبال کو بھی یہ شوق تھا۔میرے گاؤں میں درجنوں لوگ تھے جن کے پاس کبوتر تھے۔ تب پکانے کے لیے ایک کبوتر ایک روپے میں مل جاتا تھا۔ مگر ان کبوتروں کو بھی پنجروں میں قید نہیں کیا جاتا تھا۔ ایک کنواں نما چیز کھودی جاتی تھی۔اسے ہماری مقامی زبان میں کُھڈی کہتے تھے۔اس میں خانے بنے ہوتے تھے۔ ہر کبوتر کا ایک خانہ ہوتا تھا۔یہ اس کا گھر ہوتا تھاجسے وہ کبھی نہیں بھولتا تھا۔ مالک ان کبوتروں کو اڑاتے تھے۔یہ اُڑ کر دور دور چلے جاتے تھے اور پھر خود ہی اپنے ٹھکانوں کو واپس آ جاتے تھے۔ یہ ظلم جو طوطوں کے ساتھ ہو رہا ہے‘ میرے ادھورے علم کی رُو سے کسی جانور یا پرندے کے ساتھ نہیں ہو رہا۔ بعض اہلِ مذہب سے منقول ہے کہ اگر پرندے کو ایذا نہ دی جائے اور اس کے دانے پانی کا خیال رکھا جائے تواسے پنجرے میں بند کر کے رکھا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسے قید کرنا ایذا نہیں ہے؟ یہی تو ایذا ہے!! اسے اس قید سے اذیت ہوتی ہے۔ وہ تکلیف میں ہے۔ اسے قید و بند کی اذیت دے کر خوش ہونا یا اپنے بچوں کو خوش کرنا ایسا کام ہے جو کسی بھی نرم دل اور رحم دل انسان کے لیے قابلِ قبول نہیں! ہم علامہ اقبال کی وہ دلگداز نظم شاید بھول چکے ہیں جس میں ایک قیدی پرندہ یوں فریاد کر تا ہے۔ 
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی؍ اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا؍ لگتی ہے چوٹ دل پر آتا ہے یاد جس دم؍ شبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مسکرانا؍ وہ پیاری پیاری صورت وہ کامنی سی مورت؍ آباد جس کے دم سے تھا میرا آشیانا؍ آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میں؍ ہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں؍ کیا بد نصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوں؍ ساتھی تو ہیں وطن میں میں قید میں پڑا ہوں؍ آئی بہار کلیاں پھولوں کی ہنس رہی ہیں؍ میں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوں؍ اس قید کا الٰہی دکھڑا کسے سناؤں؍ ڈر ہے یہیں قفس میں میں غم سے مر نہ جاؤں؍ جب سے چمن چُھٹا ہے یہ حال ہو گیا ہے؍ دل غم کو کھا رہا ہے غم دل کو کھا رہا ہے؍ گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے؍ دکھتے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے؍ آزاد مجھ کو کر دے او قید کرنے والے؍ میں بے زباں ہوں قیدی تو چھوڑ کر دعا لے 
بچپن میں ایک کہانی سنی تھی۔ ایک تاجر نے طوطا قید کر رکھا تھا۔ دور دراز کے تجارتی سفر پر جانے لگا تو طوطے کو خدا حافظ کہا۔ طوطے نے کہا: مالک ! میرا ایک کام کر دیجیے گا۔ فلاں ملک کے فلاں جنگل میں فلاں درخت پر میرے قبیلے سے تعلق رکھنے والے طوطے بیٹھے ہوں گے۔ جب آپ کا وہاں سے گزر ہو تو انہیں میرا سلام پہنچا دیجیے گا۔ تاجر نے وعدہ کیا کہ وہ خاص طور پر وہاں جا کر یہ کام کرے گا۔ وہاں پہنچ کر اس نے طوطوں کو اُن کے بچھڑے ہوئے بھائی کا پیغام دیا۔ طوطوں نے تفصیل پوچھی۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ قید میں ہے تو سب کے سب درخت کی شاخوں سے نیچے گرے اور مر گئے۔ تاجر یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ واپس آکر اس نے طوطے کو سارا واقعہ سنایا۔سُن کر طوطا بھی پنجرے میں گرا اور مر گیا۔ مالک نے اسے بیکار سمجھ کر باہر پھینک دیا۔ طوطے نے اڈاری بھری اور درخت کی شاخ پر جا بیٹھا۔ اس نے مالک سے کہا کہ وہ طوطے مرے نہیں تھے۔ انہوں نے مجھے یہ ترکیب بتائی تھی کہ مرنے کا ڈراما کرو تاکہ اس ظالم کی قید سے رہائی ملے۔ جب تم نے سارا واقعہ سنایا تو میں اس خفیہ پیغام کو سمجھ گیا اور جھوٹ موٹ مر گیا!!
انسان نے انسانوں کا تو خون بہایا۔ کبھی مذہب کے بہانے‘ کبھی وطنیت کے نام پر۔ کبھی مال وزر کی لالچ میں اور کبھی سلطنتوں کو وسیع کرنے کے لیے!! افسوس! اس کے ظلم سے پرندے اور جانور بھی نہ بچ سکے!!

Thursday, March 21, 2024

بُلھے شاہ! اساں مرنا ناہیں


وہ تو اچھا ہوا عزت رہ گئی! ورنہ ڈر تھا کہ وہ جو ہماری روایت ہے رُول آف لاء پر چلنے کی‘ جس کے لیے ہم دنیا میں مشہور ہیں‘ کہیں اس حوالے سے ہماری شہرت پر زد نہ پڑے!
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 2010ء میں جب توسیع دی تو عمران خان صاحب نے اس کی مخالفت کی۔ یہاں یہ وضاحت کر دوں کہ توسیع کو ہمارے سابق آقا اپنی زبان میں 

Extension 

کہتے ہیں۔ تو جب عمران خان صاحب نے اس کی مخالفت کی تو میرا تو دل ہی بیٹھ گیا۔ مجھے خان کا یہ اعتراض قطعاً پسند نہیں آیا تھا۔ ارے بھئی! جب ہم قانون کی پیروی کر رہے ہیں اور اپنے معروف اور مشہورِ زمانہ قواعد و ضوابط کے مطابق چل رہے ہیں تو آپ اعتراض کر کے ہمیں سیدھے راستے سے کیوں ہٹانا چاہتے ہیں؟ کچھ عرصہ گزرا تو عمران خان خود سریر آرائے سلطنت ہوئے۔ تب انہوں نے بھی 2019ء میں توسیع کا حکم دیا۔ تب مجھے یک گونہ اطمینان ہوا اور میں نے خدائے بزرگ و برتر کا شکر ادا کیا کہ وہ جو ہماری رول آف لاء پر چلنے کی روایت تھی‘ اسے خان نے برقرار رکھا۔ اس موقع پر ایک خوشگوار اتفاق یہ بھی ہوا کہ اپوزیشن نے‘ بشمول (ن) لیگ‘ خان کی حمایت کی اور توسیع دینے کی زبردست قانونی روایت کو زندہ رکھنے میں اپنا حصہ ڈالا!
اب جب نئے وزیراعظم نے‘ اللہ انہیں سلامت رکھے اور ان کے فیروزیٔ اقتدار کو عمرِ نوح عطا کرے‘ تخت و تاج سنبھالا تو مجھے ایک خدشہ لاحق ہوا۔ یہاں برسبیلِ تذکرہ وضاحت کرتا چلوں کہ یہ جو میں نے اوپر فیروزی کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس سے مراد کامیابی اور ظفرمندی ہے۔ ہماری خواتین کی لغت میں فیروزی ایک رنگ کا نام ہے مثلاً جب وہ ملبوسات کی دکانوں میں جاتی ہیں‘ جہاں سیل کے مواقع پر انہیں آپس میں گتھم گتھا بھی ہو جانا پڑتا ہے‘ تو وہ سیلزمین کو کہتی ہیں ''بھیا! ذرا فیروزی رنگ کی پوشاک دکھاؤ!‘‘ یہ تناقض اس لیے پیدا ہوا کہ فیروزہ ایک قیمتی پتھر کا نام ہے۔ اس کے رنگ کو اُردو میں فیروزی رنگ کہا جانے لگا! عبد العزیز فطرت کا شعر یاد آ رہا ہے ؎
ہم نے پھر اقلیمِ غم تسخیر کی
اس خوشی میں جشنِ فیروزی رہے
یہاں جشنِ فیروزی سے مراد فتح کا جشن ہے!
تو نئے وزیراعظم کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مجھے خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں وہ رول آف لاء کو نظر انداز فرما کر بے ضابطگی پر نہ اُتر آئیں۔ دل میں یہ ڈر پیدا ہو گیا کہ‘ میرے منہ میں خاک‘ کہیں وہ اس صحت مند روایت کو توڑ نہ دیں۔ جب انہوں نے تین مارچ کو وزارتِ عظمیٰ کا چارج سنبھالا تو اسی وقت سے میں مضطرب اور بیقرار رہنے لگا۔ جیسے جیسے وقت گزرنے لگا میری حالت خراب سے خراب تر ہو نے لگی! پہلے گھنٹے اور پھر دن گننے لگا! انہیں تخت و تاج سنبھالے پورے تیرہ دن ہو گئے! میں نے منہ سر پیٹ لیا! غضب خدا کا دو ہفتے ہونے کو ہیں اور ابھی تک کسی کو توسیع نہیں دی! فشارِ خون بلند ہونے لگا۔ کمرے سے لاؤنج کی طرف جا رہا تھا کہ دھڑام سے گر پڑا۔ بس نیم بے ہوشی کی کیفیت تھی۔ بیٹی‘ بہو اور بیگم میرے ہاتھوں کو مَلنے بیٹھ گئیں۔ بیٹوں کو‘ جو دوسرے شہروں میں مقیم تھے‘ اطلاع دی گئی۔ کافی دیر بعد حالت سنبھلی۔ گھر والے ہسپتال لے جانے پر مُصر تھے مگر میں نے انکار کر دیا۔ مجھے معلوم تھا کہ طبیعت کی خرابی کا اصل سبب کیا ہے۔ اس عارضے کا علاج کسی ڈاکٹر‘ کسی طبیب‘ کسی پیر‘ کسی فقیر کے پاس نہیں تھا۔ مجھے صرف اور صرف وزیراعظم کا ایک اعلان شفا بخش سکتا تھا۔ رات بے چینی میں گزری۔ خبروں کے لیے بار بار چینل بدلتا۔ مگر دلی مقصود پورا نہیں ہو رہا تھا۔ پھر مجھے خواب آور گولی دے گئی اور میں نیند کی وادی میں اُتر گیا۔ خدا خدا کرکے اٹھارہ مار چ کی صبح ہوئی۔ بچوں نے اخبارات لا کر سامنے رکھ دیے۔ ہائیں! یا الٰہی! یہ کیا معجزہ ہو گیا۔ بالآخر جناب وزیراعظم نے توسیع عنایت کر دی تھی۔ بے اختیار میرے منہ سے وزیراعظم کے لیے تحسین و آفرین کے کلمات نکلے۔ ع
ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند
جتنا شکر پروردگار کا ادا کیا جائے‘ کم ہے۔ میں نے شکرانے میں دو بکروں کا صدقہ دیا۔ خدا کا لاکھ لاکھ احسان ہے۔ قوموں کی برادری میں ہمارے وقار کو دھچکا نہیں لگا! ہم نے اپنی رول آف لاء پر چلنے کی روایت کو برقرار رکھا اور قانون کی پابندی کرتے ہوئے توسیع دے دی! زندہ اقوام کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماضی کی روایات کو تابندہ رکھتی ہیں۔ ہمارے ایک مردِ مومن مردِ حق تھے جو توسیع پر توسیع دیتے گئے۔ جب توسیع دیتے دیتے تھک گئے اور ہانپنے لگ گئے تو توسیع پر توسیع لینے والے صاحب کو کینیڈا تعینات کر دیا۔ کینیڈا کو اس جوہرِ قابل کی قدر کرنا نہ آئی۔ اندھا کیا جانے بسنت کی بہار! فضول قسم کے اعتراضات لگا کر تعیناتی قبول کرنے سے انکار کر دیا!
تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو!!
اور اے عزیزانِ گرامی! سمجھنا چاہیے کہ توسیع محض ایک حکم نامہ نہیں ہوتا بلکہ بہت سے خوش آئند واقعات اور تبدیلیوں کا مبارک پیش خیمہ ہوتا ہے! اس سے ردِعمل کا ایک سلسلہ 

(Chain Reaction)

 پھوٹتا ہے جو خوشگوار حد تک پھیلتا چلا جاتا ہے۔ اہم ترین ردِعمل یہ ہوتا ہے کہ جس شخصیت کو توسیع دی جاتی ہے‘ اس کے نیچے کام کرنے والوں کا مورال بہت ہائی ہو جاتا ہے۔ ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے بغل گیر ہو ہو کر ایک دوسرے کو مبارک دیتے ہیں۔ مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں۔ وجہ ظاہر ہے۔ جب توسیع دی جاتی ہے تو ماتحتوں کی ترقی کے نئے راستے کھلتے ہیں اور پرانے راستے کشادہ ہوتے ہیں! سارے سیٹ اَپ میں مسرت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ نئے امکانات کے در وا ہوتے ہیں! یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ جس شخصیت کو توسیع دی جاتی ہے اس کی قدر و منزلت اور عزت میں کروڑوں گنا اضافہ ہو جاتا ہے‘ اس کے نیچے کام کرنے والوں کے دلوں میں اس کے لیے محبت کے سوتے پھوٹ پڑتے ہیں۔ وہ اس کی صحت اور طوالتِ عمر کے لیے راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر دعائیں مانگتے ہیں!!
توسیع دینے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ اقدام ایک صحت مند نظیر کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس سے دوسرے لوگوں کے دلوں میں بھی اُمید کے چراغ جل اٹھتے ہیں۔ انہیں بھی یقین ہو جاتا ہے کہ وہ بھی ناگزیر ہیں اور یہ کہ انہیں بھی توسیع مل سکتی ہے اور ملنی چاہیے۔ توسیع سے یہ مبارک خیال ذہنوں میں پختہ ہو جاتا ہے کہ ادارے نہیں‘ شخصیات اہم ہوتی ہیں! یہی ہماری بے مثال ترقی کا راز ہے جس پر جاپان سے لے کر امریکہ تک سب ممالک ہم پر رشک کرتے ہیں! حقیقت بھی یہی ہے کہ ادارے آنی جانی چیز ہیں۔ اداروں کی آخر اہمیت ہی کیا ہے! اصل سرمایہ تو شخصیات ہیں! وہ جو ایک جعلی قسم کا فضول محاورہ ہے کہ قبرستان ناگزیر لوگوں سے بھرے پڑے ہیں‘ تو وہ بالکل غلط محاورہ ہے۔ شخصیات کو آخری دم تک اداروں ہی میں رہنا چاہیے! کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے جانے سے ادارے ختم ہو جائیں! ترقی یافتہ ممالک تو سوچ رہے ہیں کہ ملک الموت سے بھی توسیع کا تقاضا کرنا چاہیے اور کم از کم بھی ہزار یا پانچ سو سال کی توسیع کے لیے اپلائی کرنا چاہیے!
بلّھے شاہ! اساں مرنا ناہیں‘ گور پیا کوئی ہور

Tuesday, March 19, 2024

میری دنیا اور اُن کی دنیا


بہت بڑے ڈاکٹر ہیں۔ بہت بڑے منصب پر فائز رہے! اتنے بڑے منصب پر کہ انہیں دیکھتے ہوئے ٹوپی سر کے پیچھے گرنے کا اندیشہ ہو تا تھا! مگر مزاج میں عجیب معصومیت بھری تھی۔ مریضوں کو عجیب و غریب چھوٹے چھوٹے تحفے دیتے۔ جیسے پلاسٹک کی بطخ جو کبھی دائیں طرف حرکت کرتی تو کبھی بائیں طرف! مریض اسے دلچسپی سے دیکھتا رہتا اور اس کا دل بہلا رہتا! اتوار کو وہ پانی کی بوتل پکڑتے‘ بیگ کاندھے سے لٹکاتے اور چھوٹی سی گاڑی ڈرائیو کرتے راجہ بازار جا نکلتے! پلاسٹک کی کسی دکان سے کوئی نئی شے خریدتے۔ سستی گھڑیاں تلاش کرتے۔ درجنوں کے حساب سے بال پین خریدتے جو سٹاف کو دیتے رہتے۔ ایک بار میں سنگاپور جا رہا تھا۔ مجھے بتایا کہ جب سنگاپور کے جنوبی جزیرے سنتوسا میں جاؤ گے تو ظاہر ہے وہاں چیئرلفٹ پر بھی سواری کرو گے۔ جہاں چیئرلفٹ اتارے گی وہاں‘ سیڑھیاں چڑھ کر ایک دکان ملے گی۔ اس دکان میں ایک ایسی ٹوپی ہے جس پر ماتھے والی سمت بلب لگا ہے‘ جو رات کو پڑھنے کے لیے روشن کیا جا سکتا ہے۔ ان کی یہ ہدایت‘ آج بھی یاد کرتا ہوں تو دلکش لگتی ہے اور وہ طلسمی کہانی یاد آ جاتی ہے جس میں فقیر شہزادے کو اسی قسم کی ہدایات دیتا ہے کہ فلاں پہاڑ کے دامن میں جھونپڑی ہو گی جس میں ایک بوڑھا بیٹھا ہو گا جو تمہاری مدد کرے گا‘ وغیرہ وغیرہ! ایک بار میں بیرونِ ملک سے ان کے لیے ایک لمبا سا شو ہارن لایا۔ ان کی خدمت میں پیش کرنے ان کے گھر گیا۔ فوراً اندر سے میرے لیے بھی ایک شو ہارن لے لائے جو برما کی قیمتی لکڑی ٹِیک سے بنا ہوا تھا اور جو میرے شو ہارن کے ذخیرے میں ایک زبردست اضافہ تھا!
جب بھی شام کو سیر کے لیے نکلتا ہوں‘ ڈاکٹر صاحب یاد آ جاتے ہیں۔ تب میں اپنا رُخ شہر کے گنجان بازار کی طرف کر لیتا ہوں۔ مجھے اُن کی طرح عجیب و غریب اشیا خریدنے کا شوق تو نہیں مگر ان عوامی بازاروں میں مجھے زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ایک چیز جو ہمیشہ نوٹ کی‘ یہ ہے کہ زندگی بیورو کریسی کے کوچہ و بازار میں کٹی مگر ان گنجان‘ عوامی بازاروں میں کبھی کوئی اپنے ساتھ کا یا کوئی جاننے والا‘ بیورو کریٹ کبھی نہیں ملا۔ یہ اصحاب بڑے بڑے فیشن ایبل مالز میں جاتے ہوں گے یا ان کا سودا سلف ان کے خدام لاتے ہوں گے! مغربی ملکوں میں حکمران اور بادشاہ بھی بازاروں‘ عام ریستورانوں‘ بسوں اور ٹرینوں میں نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں جو بارہ جماعتیں پاس کر لے‘ اپنا سامان اٹھانے میں اسے شرم آنے لگتی ہے۔ افسروں اور وزیروں کے دفتروں کے باہر صبح نائب قاصد اور پی اے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ صاحب آئیں تو ان کی گاڑی کا دروازہ کھولیں اور لپک کر بریف کیس پکڑ لیں! گویا صاحب نہ ہوا‘ اپاہج ہو گیا! چو این لائی سے لے کر ہنری کسنجر تک‘ سب نے اپنے بریف کیس خود اٹھائے اور اپنے ملکوں کو ستاروں کی طرح روشن کر دیا! اس بات میں ذرہ بھر مبالغہ نہیں کہ پاکستان کے حکمرانوں اور بیورو کریسی (سول اور خاکی دونوں) کا معیارِ زندگی اور طرزِ زیست ایسا ہے کہ نہ صرف ترقی یافتہ ملکوں کے حکمران اس کا نہیں سوچ سکتے بلکہ شاہجہان‘ جہانگیر‘ اور اودھ کے نواب واجد علی شاہ بھی دیکھیں تو رشک سے مر جائیں! مسئلہ یہ بھی ہے کہ بیروزگاری اس قدر ہے کہ بارہ جماعتیں تو بارہ ہیں‘ دس پڑھے ہوئے کو بھی سامان اٹھانے والا مل جاتا ہے!
واکنگ سٹک پکڑے‘ سر پر ٹوپی اوڑھے‘ کئی موسموں اور کئی برسوں سے گزری ہوئی جیکٹ پہنے‘ جب اس گنجان بازار یا ہفتہ وار اتوار بازار کا چکر لگاتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں اپنے ملک سے اور اپنے لوگوں سے بغل گیر ہو رہا ہوں۔ جیسے یہ سب دکاندار اور یہ سب گاہک اور بازار کی گلیوں اور برآمدوں میں یہ سب چلنے والے میرے پرانے ساتھی ہیں۔ ادھیڑ عمر حاجی نما شخص جو مشین سامنے رکھے چھریاں اور قینچیاں تیز کر رہا ہے۔ پھلوں کا رس بیچنے والا جو گاہکوں کی بھیڑ سے نمٹ رہا ہے۔ ٹوکرے میں کچھ پھل رکھے‘ بوڑھا جو گزرتے گاہکوں کو دیکھے جا رہا ہے۔ قصاب جو بکرے لٹکائے‘ خریداروں سے بحث کر رہے ہیں۔ ریستوران سے باہر بیٹھا لڑکا جو آلو چھیلے جا رہا ہے۔ کباڑیا جو دکان میں پرانے لوہے کے مال و اسباب میں گھرا‘ ردی تول رہا ہے۔ تنگ سی گلی کی چھوٹی چھوٹی ڈربہ نما دکانوں میں‘ قطار اندر قطار بیٹھے درزی جو سر جھکائے سلائی مشینیں چلائے جا رہے ہیں۔ فریموں کی دکان کے اندر‘ تصویروں کو شیشوں کے نیچے فِٹ کرتا نوجوان۔ اے ٹی ایم کے سامنے لائن میں لگے لوگ۔ کھولتے پانی والی کڑاہی میں دوپٹوں کو بھگوتا رنگ ساز۔ خشک میووں کی دکان میں کھڑا بَلتی۔ مخصوص قینچی نما اوزار سے گنڈیریاں کاٹتا ریڑھی بان۔ کونے میں جوتے گانٹھتا موچی‘ بوٹ پالش کرتا سرخ رخساروں والا خوبصورت پیارا سا معصوم بچہ۔ چاٹ کی دکان پر چاٹ اڑاتی لڑکیاں۔ سبزی خریدتے‘ کوٹ پتلون میں ملبوس‘ دفتری بابو۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جن کے دم سے پاکستان آباد ہے۔ ان سب لوگوں میں ایک وصف مشترک ہے۔ وہ یہ کہ اس ملک کو اُس حالت تک‘ جس میں یہ ہے‘ پہنچانے میں ان لوگوں کا ہاتھ نہیں ہے۔ اب میں موبائل کی دکانوں کے بیچ سے گزر رہا ہوں۔ یہاں مڈل کلاس سے لے کر مزدوروں تک‘ سب موجود ہیں۔ ساتھ تِکوں کی خوشبو آ رہی ہے۔ کوئلوں پر مرغیوں کے ٹکڑے رکھے ہیں۔ سڑک کنارے کرسیوں پر بیٹھے لوگ کھانا کھا رہے ہیں! واپسی کے لیے لمبا راستہ اختیار کرتا ہوں اور اتوار بازار کے بیچ سے گزرتا ہوں۔ ہر طرف ازدحام ہے۔ کھوے سے کھوا چھل رہا ہے۔ سموسوں اور پکوڑوں کے سٹالوں پر خوب رش ہے۔ پھلوں کے انبار لگے ہیں۔ بازار کئی حصوں میں منقسم ہے۔ کریانہ‘ گارمنٹس‘ قالینیں‘ پردے‘ جوتے‘ ہاؤزری‘ برتن‘ کانچ اور پلاسٹک کے‘ سٹیل اور ایلومینیم کے! کاش کبھی اس بازار میں ہمارے وزیراعظم‘ ہمارے وزیر خزانہ چلیں‘ ہمارے سی ڈی اے کے سربراہ ہی تشریف لے آئیں اور لوگوں کے ساتھ سودا سلف خریدیں۔ مگر ترقی اور پختگی کی اُس سطح تک پہنچنے میں کئی سو سال لگیں گے۔ احساسِ برتری میں چھپا ہوا احساسِ کمتری رفع ہونے میں صدیاں لگتی ہیں! یہ ہیلی کاپٹروں میں اُڑتے حکمران! جن کے لیے راستے بند کر دیے جاتے ہیں! جن کی دنیا ہی الگ ہے‘ جن کے ککڑ اور بلیاں بھی کھرب پتی ہیں‘ وہ ان عوامی بازاروں میں کیوں آئیں گے!
واکنگ سٹک لہراتا‘ ٹوپی سنبھالتا‘ اتوار بازار کے عقبی دروازے سے باہر سڑک پر نکلتا ہوں۔ لوگ باگ شاپنگ بیگ اٹھائے گھروں کو جا رہے ہیں۔ کچھ موٹر سائیکلوں پر ہیں‘ کچھ گاڑیوں پر! بائیکوں اور ٹیکسیوں والے پُرامید نظروں سے‘ بازار سے باہر آتے لوگوں کو دیکھ رہے ہیں۔ مانگنے والے دو رویہ کھڑے ہیں! یہی میرا پاکستان ہے۔ یہی میری دنیا ہے۔ میں نے اسی میں جینا ہے‘ اسی میں مرنا ہے۔ مجھے کیا غرض کہ رائے ونڈ کے محلات کتنے رقبے میں ہیں؟ ملک میں بلاول ہاؤس کتنے ہیں؟ بنی گالا کا گھر کتنے کنال کا ہے۔ چودھریوں کے کتنے کارخانے ہیں اور شوگر مافیا کتنا طاقتور ہے؟ میری اور اُن کی دنیائیں الگ الگ ہیں! درمیان میں گہری خلیجیں ہیں! ان خلیجوں میں ایسی لہریں ہیں جنہیں میری دنیا والے پار کر سکتے ہیں نہ اُن کی دنیا والے! میں اپنی دنیا میں خوش ہوں! مجھے اُن کی دنیا سے کوئی غرض نہیں اور اُنہیں میری دنیا سے کوئی تعلق نہیں! اس لیے کہ بقول افتخار عارف:
مجھے تو اپنے سمندر کی ریت کافی ہے
تُو اپنے چشمۂ بے فیض کو سنبھال کے رکھ

Monday, March 18, 2024

حماقتوں کی پریڈ



باربرا ٹچ مین مشہور امریکی تاریخ دان تھی۔ 1989ء میں اس کا انتقال ہوا۔ اس کا نانا سلطنت عثمانیہ میں امریکی سفیر تھا۔ باربرا ٹچ مین نے تاریخ کی کتابیں اس انداز سے لکھیں کہ انہیں پڑھ کر عام قاری کو بھی تاریخ میں دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا اسلوب ادبی ہے
 The March of Folly 
(حماقتوں کی پریڈ) اس کی مشہور ترین تصنیف ہے۔ اس میں اس نے اپنا مشہور نظریہ پیش کیا ہے۔ نظریہ یہ ہے کہ عام آدمی اپنے کام سوچ سمجھ کر کرتا ہے۔ اس نے جو کام بھی سرانجام دینا ہو‘ مکان بنانا ہو‘ بچوں کی تعلیم اور شادیوں کے فرائض سرانجام دینے ہوں‘ فیکٹری لگانی ہو‘ ملازم بھرتی کرنے ہوں‘ ہر کام عقل مندی سے کرے گا۔ اس کے مقابلے میں حکومتوں کے کام احمقانہ ہوتے ہیں! اتنے احمقانہ کہ عام آدمی کو بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ حکومت کا یہ کام‘ یا یہ پالیسی غلط ہے اور اس کے نتائج مثبت نہیں نکلیں گے! اس نظریے کے حق میں باربرا نے تاریخ سے کئی مثالیں پیش کیں۔ مثلاً لکڑی کا وہ گھوڑا جو یونانی‘ ٹرائے کے شہر کی فصیل کے باہر رکھ گئے تھے۔ طویل محاصرے کے باوجود جب یونانی شہر کو فتح نہ کر سکے تو انہوں نے یہ چال چلی۔ لکڑی کے اس بڑے سے گھوڑے کے اندر مسلح سپاہی چھپے تھے۔ کئی لوگوں نے سٹی کونسل (یعنی حکومت) کو منع کیا کہ گھوڑا شہر کے اندر لے کر نہ جائیں۔ مگر حکومت نہ مانی۔ گھوڑا شہر کے اندر لے گئے۔ رات کو سپاہی گھوڑے سے باہر نکلے اور شہر کے دروازے کھول دیے۔ شہر پر یونانیوں نے قبضہ کر لیا۔ اس کے علاوہ بھی باربرا نے اس نظریے کے حق میں تاریخ سے کئی ثبوت پیش کیے ہیں۔
یہ نظریہ کہیں اور منطبق ہو نہ ہو‘ ہم پر ضرور منطبق ہو رہا ہے۔ پاکستانی حکومتیں (نظر آنے والی اور نظر نہ آنے والی بھی) پے درپے ایسے ایسے احمقانہ اقدامات کرتی رہی ہیں اور اتنی غلط پالیسیاں تشکیل دیتی رہی ہیں کہ خدا کی پناہ! ان غلط پالیسیوں اور ان احمقانہ اقدامات پر ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ ہم صرف موجودہ حکومت کی‘ جس کو بنے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں‘ حماقتوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
ارسا 
(Indus River System Authority)
 کا ادارہ 1992ء میں پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے وجود میں آیا تھا۔ اس کا کام دریائے سندھ کے آبی نظام کو صوبوں میں تقسیم کرنا ہے۔ ہر صوبے کی نمائندگی ایک ممبر کرتا ہے۔ فیصلہ ووٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ادارے کا چیئرمین باری باری ہر صوبے سے منتخب ہوتا ہے۔ کاکڑ نگران حکومت نے ایک آرڈیننس کا مسودہ صدرِ پاکستان کو بھیجا۔ یہ آرڈیننس ادارے میں بنیادی تبدیلیاں کرنا چاہتا تھا۔ چیئرمین کی تعیناتی کا اختیار وزیراعظم کو دیا جا رہا تھا۔ صوبوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ اصولی طور پر نگران حکومت اس نوع کی بنیادی تبدیلیاں کرنے کی مُجاز ہی نہیں تھی۔ ایسے کام ایک منتخب حکومت ہی کر سکتی ہے۔ بہرطور صدرِ پاکستان نے اس مسودے کو منظور کرنے سے‘ بجا طور پر‘ انکار کر دیا۔ موجودہ وزیراعظم نے اس نامنظور آرڈیننس پر عمل کرتے ہوئے‘ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ کو چیئرمین مقرر کر دیا۔ یہ ایک انتہائی غیر دانشمندانہ اقدام تھا اور ایک بچہ بھی سمجھ سکتا تھا کہ صوبے اس غیر متوازن حکم کو قبول نہیں کریں گے۔ یہی ہوا۔ سندھ نے پُرزور اعتراض کیا اور احتجاج بھی! اخبارات نے اس کے خلاف اداریے لکھے۔ بالآخر وزیراعظم کو یہ فیصلہ واپس لینا پڑا! ظاہر ہے سُبکی ہوئی! اب یہ وزیراعظم کا کام ہے کہ غور فرمائیں اس مشورے‘ یا تجویز کی پشت پر کون خیر خواہ تھے؟
دوسری مثال لیجیے۔ ذرا وفاقی کابینہ کی کمپوزیشن پر غور کیجیے۔ یہ اُنیس رکنی کابینہ ہے۔ انیس میں سے چودہ وزیر‘ جی ہاں چودہ! لاہور اور لاہور کے نواحی اضلاع (سیالکوٹ‘ نارووال‘ شیخوپورہ‘ حافظ آباد‘ گجرات) سے ہیں۔ ایک وزیر کے پی سے ہے۔ ایک بلوچستان سے اور ایک کراچی (ایم کیو ایم) سے ہے۔ دو جنوبی پنجاب سے ہیں! دوسرے لفظوں میں 73.6 فیصد لاہور اور نواحِ لاہور سے ہیں! باقی ملک کا حصہ 26.4 ہے۔ مغربی پنجاب (اٹک‘ میانوالی‘ چکوال‘ جہلم‘ راولپنڈی) کی نمائندگی صفر ہے۔ اسی طرح سندھ کی نمائندگی بھی صفر ہے۔ ایک سابق بیورو کریٹ کو وزیر بنایا گیا ہے جو غیر منتخب ہیں۔ یہ وہی صاحب ہیں جو نگران حکومت میں بھی شامل کیے گئے تھے مگر بعد میں الیکشن کمیشن کے حکم سے فارغ کر دیے گئے تھے۔ یہ بھی نواحِ لاہور سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر جناب وزیراعظم دور اندیشی سے کام لیتے اور وسعتِ نظر کو بروئے کار لاتے تو غیر منتخب شخص کو وزیر بنانا ہی تھا تو اندرونِ سندھ سے کسی کو بناتے!! اس اقدام سے کابینہ میں ایک خوبصورت اور صحت مند توازن پیدا ہو جاتا! مگر انہوں نے ذاتی وفاداری کو زیادہ اہمیت دی!
تیسری مثال! جناب اسحاق ڈار کو وزارتِ خارجہ کا قلمدان دیا گیا ہے۔ وہ ایک لائق اور محنتی شخص ہیں۔ ان کے پاس چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی ڈگری ہے۔ ان کا سارا کیریئر مالیات (فنانس) سے متعلق رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے حوالے سے ان کا کوئی ایکسپوژر نہیں ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے بھارت کا وزیر خارجہ کون ہے؟ ان صاحب کا نام جے شنکر ہے اور ان کا خارجہ امور کا تجربہ 47 برس پر محیط ہے۔ یہ بین الاقوامی تعلقات کے مضمون میں پی ایچ ڈی بھی ہیں۔ انہوں نے سری لنکا‘ ہنگری‘ جاپان‘ سنگاپور‘ چین اور امریکہ میں سفارتکاری کے فرائض سرانجام دیے۔ پھر فارن سیکرٹری رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں آئے۔ اب ممبر پارلیمنٹ ہیں اور پانچ سال سے وزیر خارجہ ہیں۔ باقی حساب کتاب آپ خود کر لیجیے کہ اس کالم نگار کا پوائنٹ کیا ہے؟ جناب اسحاق ڈار کی خدمات کے حوالے سے انہیں کابینہ میں لینا ہے تو ان کی مہارت اور تجربے کی مناسبت سے انہیں کوئی اکنامک منسٹری دینی چاہیے تھی۔ تجارت‘ پٹرولیم اور اکنامک افیئرز جیسی وزارتوں میں ان کے معاشی پس منظر سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہیں وزارتِ خارجہ میں لگانا ان کے ساتھ بھی زیادتی ہے اور خارجہ امور کے ساتھ بھی۔ ایسی تعیناتی کو نرم ترین الفاظ میں بھی 
Human Resource Misallocation 
ہی کہا جا سکتا ہے۔ یعنی افرادی قوت کا غلط استعمال۔ ہر فن کے ماہرین الگ ہوتے ہیں! مگر ہمارے ہاں معیار کچھ اور ہے۔ کیا عجب کل جلیل عباس جیلانی صاحب کو وزیر خزانہ لگا دیا جائے اور طارق فاطمی صاحب زراعت کے منسٹر لگے ہوئے ہوں!
اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ باربرا ٹچ مین کی تھیوری کیا ہے۔ حکمرانوں نے جب اپنے کاروبار اور اپنی فیکٹریوں میں افرادی قوت لگانی ہو تو بہترین افراد کا انتخاب کرتے ہیں۔ خوب چھان پھٹک کرتے ہیں۔ وہاں یہ پروڈکشن کے ماہر کو مارکیٹنگ میں کبھی نہیں لگائیں گے! مارکیٹنگ کے ماہر کو مارکیٹنگ ہی میں لگائیں گے۔ ان کے بچوں اور پوتوں کو بھی بخوبی علم ہے کہ کون سا آدمی کاروبار میں کہاں لگانا ہے! رہی حکومت! رہا ملک! رہی ریاست!! تو جسے نوازنا ہو اسے کہیں بھی لگا دیجیے۔ نقصان ہو گا تو ملک کا ہو گا۔ ذاتی نقصان تو نہیں ہو گا! وہ لطیفہ نما واقعہ آپ نے سنا ہی ہو گا۔ نہ جانے پٹیالہ کی ریاست تھی کہ کوئی اور ریاست‘ وزیر خزانہ چھٹی پر گئے تو ان کا چارج چیف میڈیکل افسر کو دے دیا گیا۔ وزیر خزانہ چھٹی سے واپس آئے تو چیف انجینئر کی پوسٹ خالی تھی‘ انہیں وہاں تعینات کر دیا گیا! ہم بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ ہمالیہ کو بحر الکاہل کے درمیان دکھاتے ہیں۔ برازیل کو ایشیا کے ماتھے کا جھومر بتاتے ہیں!! ہمارے کوتوال نابینا ہیں۔ لکنت زدہ کو ہم داستان گو مقرر کرتے ہیں!
 

powered by worldwanders.com