Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, May 31, 2018

خدا کے لیے تارکینِ وطن! خدا کے لیے

واشنگٹن کے مکان میں بیٹھ کر‘ ایک سرد‘ ٹھٹھرتی شام‘ راشد اور راشد کی بیگم نے فیصلہ کر دیا۔ 
ستر کا عشرہ تھا۔ راشد نے بینک کی ملازمت چھوڑی۔ امریکہ پہنچ گیا۔ ڈش واشنگ سے ہوتے ہوتے اخبارات و رسائل کا سٹال لگایا پھر شہریت مل گئی۔ پھر سرکاری نوکری! امریکی سرکار کی ملازمت! وارے نیارے ہو گئے۔ کئی سال اس کی فیملی پاکستان میں انتظار کرتی رہی۔ کبھی کبھی میں اس کے گھر والوں سے پوچھ لیتا کہ رقم کی ضرورت تو نہیں؟ ہمیشہ ایک یہ جواب ملتا کہ رقم تو امریکہ سے مسلسل آ رہی ہے رقم کا تو ایشو ہی نہیں! ایشو تو راشد کے پاس پہنچنا ہے۔ 
پھر فیملی بھی پہنچ گئی۔ تینوں بچے دس بارہ سال سے کم عمر کے تھے۔ امریکہ ہی میں جوان ہوئے۔ وہیں پڑھا جو کچھ بھی پڑھا۔ اب بیٹی جوان تھی! واشنگٹن کے مکان میں بیٹھ کر اُس سرد ٹھٹھرتی شام راشد اور راشد کی بیگم نے فیصلہ کیا کہ بیگم کی بہن جو پاکستان میں ہے‘ اس کے بیٹے کے ساتھ شادی کریں گے۔ بیٹا پاکستان میں سرکاری افسر تھا! وہ لڑکی جو بیس سال سے امریکہ میں رہ رہی تھی۔ جسے پاکستان میں گزارے ہوئے بچپن کے چند سال مشکل سے یاد تھے۔ دلہن بنا کر پاکستان پہنچا دی گئی۔ ہنی مون کا عرصہ ختم ہو گیا تو دلہن نے دیکھا کہ زمین بھی اور ہے‘ آسمان بھی مختلف ہے۔ ٹریفک سے لے کر بازار تک‘ گھر سے لے کر باہر تک‘ ہسپتالوں سے لے کر دفتروں تک‘ پانی سے لے کر کھانے تک ہر شے مختلف ہے۔ دنیا ہی اور ہے۔ دل اس کے سینے میں ڈوبنے لگا۔ جیسے سینہ دل کے لیے تنگ ہو رہا تھا۔ اس نے میاں سے تقاضا شروع کر دیا کہ امریکہ چلے۔ میاں نے کہا سرکاری نوکری ہے‘ پنشن ملے گی کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔ پھر ماں کااکلوتا بیٹا ہوں، بیوہ بہن کا واحد سہارا۔ دلہن نے اعلان کر دیا کہ پھر میں نہیں یہاں رہنے کی! دل کا جانا ٹھہر گیاہے صبح گیا کہ شام گیا۔ داماد نے امریکہ سسر سے بات کی! سسر کی عقل پر پڑا ہوا پردہ پہلے سے زیادہ دبیز ہو گیا۔ سبحان اللہ! کیا نکتہ بتایا’’میری بیٹی کا پاسپورٹ قبضے میں لے لو پھر کیسے آئے گی!‘‘ دلہن کے پاسپورٹ پر قبضہ کر لیا گیا۔ دلہن کو معلوم ہوا تو اُس نے میاں اور باپ دونوں کو للکارا اور دھمکی دی کہ پاسپورٹ واپس کرو ورنہ نتائج بھگتنے کیلئے تیار ہو جائو! دھمکی کارگر ہوئی۔ پاسپورٹ واپس مل گیا دلہن جہاز میں بیٹھی بحرِ اوقیانوس پار کیا واپس اپنی دنیا میں پہنچی۔ سجدۂ شکر ادا کیا! 
اب میاں کو بیوی کی جدائی دیمک کی طرح چاٹنے لگی! ایک دن اس نے بھی سرکاری ملازمت کو‘ ماں کو بیوہ بہن کو خیر باد کہا اور امریکہ پہنچ گیا۔ کچھ دن سسرال میں خاطر تواضع ہوئی۔ پھر اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پڑا۔ گرد بیٹھی‘ حو اس بحال ہوئے تو آنکھوں سے پردہ ہٹا! نفس نے ملامت کی۔ یہ تونے کیا کیا؟ ماں کو چھوڑ آئے! بیوہ بہن کا کیا بنے گا؟ اچھی بھلی افسری تھی! کیا حماقت کی! ‘‘ نوجوان کو اپنے کیے پر ندامت ہوئی۔ غصہ آیا۔ غصہ بیوی پر اتارا طلاق دے دی! 
یہ سو فیصد نہیں‘ ایک سو دس فیصد حقیقی زندگی کا ٹکڑا ہے! تین گھر برباد ہوئے! اس واقعہ کو بیس سال ہو چکے۔ ایسے کئی واقعات لکھنے والے کے ذاتی علم میں ہیں۔ ایک روتے ہوئے بوڑھے باپ سے پوچھا تم نے امریکہ میں رہنے والی لڑکی سے بیٹے کو کیوں بیاہا؟ روتا تھا اور کہے جاتا تھا۔ مجھے تو معلوم ہی نہیں اس نے کب شادی کی! 
تو کیا بیس سال بعد تارکین وطن نے کچھ سیکھا ہے؟ کچھ عقل آئی ہے؟ کیا لڑکیوں کی برآمد اور دامادوں کی درآمد کا سلسلہ رُکا ہے؟ کیا اتنی موٹی بات نہیں سمجھ میں آ رہی کہ جہاں خود رہ رہے ہو‘ وہاں اب بیٹی کو کیوں نہیں رہنے دیتے؟ یا برطانیہ اور امریکہ میں پلنے بڑھنے والی بیٹی کے لیے ایک ہونق‘ نیم تعلیم یافتہ‘ بھانجا یا احمق‘ گائودی‘ بھتیجا کیوں درآمد کرنے پر تُلے ہو؟ حقائق بتاتے ہیں کہ عشروں پر عشرے گزر رہے ہیں مگر ہمارے تارکین وطن اُسی ڈگر پر چلے جا رہے ہیں! 
تازہ ترین واقعہ نے تو پاکستان کا نام پورے برطانیہ بلکہ پوری دنیا میں ’’روشن‘‘ کر دیا! کیا تاریخ سازی ہے جو وجود میں آ رہی ہے! برطانیہ میں زبردستی شادی کے خلاف قانون2014ء میں پاس ہوا۔ اس قانون کے تحت پہلی سزا یافتہ مجرم ایک پاکستانی نژاد خاتون ہے! ع یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا! اس عورت کی بیٹی تیرہ برس کی تھی جب ماں نے پاکستان لے جا کر نکاح ایک ایسے شخص سے کر دیا جو عمرمیں سولہ سال بڑا تھا۔ تیرہ سالہ بچی حاملہ ہو گئی۔ واپس برطانیہ آ کر اسقاط کرایا گیا۔ لڑکی ذہنی تنائو میں مبتلا ہو کر نشہ کرنے لگی۔ پھر گزشتہ سال اٹھارہ برس کی ہوئی تو ماں نے ایک اور ڈرامہ کیا۔ تعطیلات کے بہانے پاکستان لے گئی وہاں زبردستی شادی کی۔ لڑکی نے سفارت خانے سے رابطہ کیا۔ حکومت برطانیہ کی مدد اور مداخلت سے لڑکی واپس برطانیہ پہنچی اور معاملہ عدالت میں لے گئی۔ عورت نے جھوٹا بیان دیا کہ شادی نہیں ہوئی۔ مگر لڑکی نے سسکتے ہوئے جیوری کو بتایا کہ کس طرح شادی کی تیاریاں اس کے انکار اور احتجاج کے باوجود کی گئیں۔ کس طرح زبردستی اس سے ’’ہاں‘‘ کہلوائی گئی۔ کس طرح اسے دھمکایا گیا کہ اس کا پاسپورٹ جلا دیا جائے گا۔ جج نے اس مقدمے کو نئی نوعیت کا مقدمہ قرار دیا۔ عورت کو جب جیل کی سزا سنائی گئی تو اس کی بیٹی عدالت کی گیلری میں بیٹھ کر یہ منظر دیکھ رہی تھی! یہ مئی کے آخری ہفتے کا واقعہ ہے!

برطانیہ میں تارکین وطن کے ساتھ ایک ظلم یہ ہوا۔ یا یہ ظلم اپنے ساتھ اور اپنی آئندہ نسلوں کے ساتھ انہوں نے خود کیا۔ کہ عامل‘ پیر فقیر‘جادو ٹونے کرنے والے اور فرقہ پرست مولوی بھی کثیر تعداد میں درآمد کر لیے۔ برمنگھم ‘ مانچسٹر اور بریڈ فورڈ میں بے شمار چھوٹے چھوٹے اور کہیں بڑے بڑے پاکستان ہیں جہاں یہ جادو ٹونے کرنے والے جعلی پیر‘ تعویذ فروش‘ اور فرقہ واریت پھیلانے والے نام نہاد عالم اپنے اپنے کاروبار چلا رہے ہیں۔ بھارتی تارکین وطن کی نئی نسل آگے بڑھ گئی۔ صحافت‘ وکالت‘ پروفیسری‘ سارے شعبوں میں خوب ترقی کی۔ ہمارے پاکستانیوں کی جوان نسل میں سے اچھی خاصی تعداد اب بھی ایتوار بازاروں میں ٹھیلے لگا رہی ہے! ایسا نہیں کہ سب نے یہی کچھ کیا۔ بہت سوں نے زندگی کے میدان میں کامیابیاں بھی حاصل کیں مگر اکثریت جہاں تھی وہیں رہی۔ ایک قصبے گلوسٹر میں چند ماہ رہنے کا اتفاق ہوا۔ باقاعدہ نوٹ کیا کہ پاکستانیوں کی اکثریت اقتصادی لحاظ سے نچلے طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی ملازمتیں‘ مزدوریاں‘ معمولی نوکریاں‘ اوپر سے جو واعظین کرام بھارت اور پاکستان سے آ کر وعظ فرماتے تھے وہ ان معمولی نوکریوں کو بھی دنیا پرستی کے کھاتے میں ڈالتے تھے۔ ایک واعظ سے اس قلم کار نے کہا کہ آپ ان مسلمان بھائیوں کو ترغیب کیوں نہیں دیتے کہ یہاں آئے ہیں تو محنت کر کے معاشی میدان میں ترقی کریں‘ اپنے اپنے شعبوں میں کسبِ کمال کریں پھر یہ دین کی بھی خدمت زیادہ موثر انداز میں کر پائیں گے۔ حضرت نے مجھے یوں دیکھا جیسے میں کسی صدیوں پرانی متروک بلکہ مردہ زبان میں بات کر رہا ہوں۔ کچھ دیر سے منہ کھولے بات کرنے والے کو دیکھتے رہے پھر ماشاء اللہ انشاء اللہ کی گردان کی اور کسی اور ملاقاتی کی طرف متوجہ ہو گئے۔

ان سارے عوامل نے پاکستانیوں کے مائنڈ سیٹ میں کوئی تبدیلی نہ آنے دی! یہ بات سمجھنے کے لیے راکٹ سائنس کا عالم ہونا یا پی ایچ ڈی ہونا ضروری نہیں کہ جو لڑکی ایک خاص ماحول میں پلی بڑھی، تعلیم حاصل کی جہاں اس کی دوستیاں اور واقفیت ہے‘ جہاں وہ اپنے آپ کو نارمل سمجھتی ہے‘ اُسے وہاں سے اکھاڑ کر دھوکے سے واپس لانا پھر زبردستی شادی کرانا ایک احمقانہ اقدام ہے! یہ ایک تناور درخت کو اکھاڑ کر گملے میں لگانے والی بات ہے! یہ سب آپ کو اس وقت سوچنا چاہیے تھا جب آپ نے برطانوی ویزا لیا تھا۔ جب پاسپورٹ ملنے پر جشن منایا تھا۔ جب پاکستان جا کر رشتہ داروں کو لندن اور برمنگھم کے اور مانچسٹر کے قصے سنا کر مرعوب کرتے تھے۔ اب جب بیٹی جوان ہوئی ہے تو آپ کو اس کا جینز پہننا بھی برا لگنے لگا ہے اور اپنی مرضی کی شادی کرنا بھی! خود تو اپنی جوانی آپ نے برطانیہ میں گزاری‘ اُس کی جوانی کو آپ پاکستان کے گلی محلوں میں مقید کرنا چاہتے ہیں اور اس مرد کے ساتھ باندھنا چاہتے ہیں جس کا علم جنرل نالج
Exposure
لڑکی کے مقابلے میں اگر صفر نہیں تو از حد کم ضرور ہے! واہ ! سبحان اللہ! گھوڑے کو آپ آگے سے ہٹا کر‘ تانگے کے پیچھے باندھنا چاہتے ہیں۔ 
حالیہ مقدمے سے‘ جو پوری دنیا کے میڈیا میں گردش کر رہا ہے‘ ہمارے تارکین وطن کو سبق سیکھنا چاہیے ورنہ وقت کا سیلِ رواں بہت بے رحم ہے!

I

Tuesday, May 29, 2018

خوبصورت بہت ہو تم لیکن


تعجب نہیں کہ وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی دانشور جب بھی پنجاب کا ذکر کرے گا تو اس کی مراد پنجاب سے وسطی پنجاب ہی ہو گا۔ اس میں شاید ہی کوئی استثنا ہو۔ حتیٰ کہ جناب سجاد میر جیسا منجھا ہوا جینوئن دانشور بھی پنجاب سے مراد وسطی پنجاب ہی لیتا ہے۔ اس بدقسمتی کا ایک مثبت پہلو بھی ہے۔ وہ ہے حقیقت پسندی کا۔ اس لیے کہ وسطی پنجاب والے کے لیے پنجاب کیا ہے‘ وسطی پنجاب ہی تو ہے! سجاد میر صاحب نے عمر عزیز کا ایک حصہ کراچی گزارا ہے۔ اس لیے وہ کراچی کا ذکر کرتے ہیں۔ وہاں کی سیاسی حرکیات سے اپنے پڑھنے والوں کو ایجوکیٹ کرتے ہیں وگرنہ لاہور کے دانشوروں کی بھاری اکثریت کا حال بقول شاعر اس سے زیادہ نہیں کہ ؎

مری داستانِ غم کی کوئی قید و حد نہیں ہے

ترے سنگِ آستاں سے ترے سنگ آستاں تک

معاف فرمائیے گا، یہ کہنا کہ نسل درنسل منتخب ہونا، اسے عصبیت کہیں یا غلامانہ ذہنیت‘ وسطی پنجاب میں کم ہے درست نہیں ہے۔ ایک تو وسطی پنجاب میں یہی عصبیت کیا کم ہے کہ جنوبی پنجاب‘ مغربی پنجاب اور شمالی پنجاب کو پنجاب صرف اس وقت سمجھا جاتا ہے جب پنجاب کو سب سے بڑا صوبہ ثابت کرنا ہو۔ یعنی جب گائے کو چارہ ڈالنا ہو۔ تاہم دودھ دوہتے وقت پنجاب سے مراد صرف وسطی پنجاب ہوتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت شریف خاندان کا طرز حکومت ہے۔ شریف خاندان کی حکومت فی الواقع وسطی پنجاب کی نمائندہ حکومت رہی ہے اور تادم تحریر ہے۔ خادم اعلیٰ کہلانے والے صاحب میانوالی، اٹک، چکوال، جھنگ، راولپنڈی، خانیوال اور بہاولپور جیسی جگہوں پر کتنی بار گئے ہیں؟ اور گوجرانوالہ، حافظ آباد، قصور فیصل آباد جیسے مقامات پر کتنی بار تشریف لے گئے؟جنوبی پنجاب کے حالیہ دوروں کا ذکر نہیں کیا جا رہا اس لیے کہ ان کا سبب سب کو معلوم ہے) پنجاب پبلک سروس کمیشن میں ممبران کی اکثریت کا تجزیہ کر کے دیکھ لیجیے‘ کہاں کے ہیں؟ مغربی ضلع کے دیہات کی منظور شدہ ڈسپنسری کو دس دس سال تک بیس لاکھ روپے کی گرانٹ نہیں ملتی۔ آپ نواز شریف صاحب کی کابینہ اور کچن کیبنٹ دونوں پر غور کر کے دیکھ لیجیے۔

وزیر خزانہ وسطی پنجاب

وزیر دفاع وسطی پنجاب

وزیر خارجہ وسطی پنجاب

وزیر ریلوے وسطی پنجاب

وزیر منصوبہ بندی وسطی پنجاب

وزیر صحت وسطی پنجاب

وزیر پانی و بجلی وسطی پنجاب

وزیر بنیادی حقوق وسطی پنجاب

وزیر تجارت وسطی پنجاب

وزیر امور کشمیر اور گلگت بلتستان وسطی پنجاب

وزیر قانون وسطی پنجاب

وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و مواصلات وسطی پنجاب

وزیر امور مذہبی امور وسطی پنجاب

یہی حال کچن کیبنٹ کا ہے۔ طلال چودھری اور دانیال عزیز کا تعلق بھی وسطی پنجاب ہی سے ہے۔ اس کچن کیبنٹ میں واحد استثنیٰ چودھری نثار علی خان کا تھا جو وسطی پنجاب سے نہیں ہیں۔اور ہمیشہ
 Odd Man-out
رہے، ہاں ایک دو چھینٹے مری اور راولپنڈی پر بھی پڑے ہیں۔

اس عصبیت کا یہ عالم ہے کہ 1999ء میں جب نواز شریف کی دوسری حکومت ختم ہوئی تو ایک معروف انگریزی روزنامے نے دو خبریں نمایاں طور پر شائع کیں۔ ایک یہ کہ وزیر اعظم نے تیس کے لگ بھگ افراد ایف آئی اے کے لیے بھرتی کیے جن میں سے 27یا 26ایک خاص علاقے سے تھے۔ دوسری یہ تھی کہ مرکز میں 44اعلیٰ افسروں کا تعلق، جو کلیدی مناصب پر فائز تھے ایک ہی شہر سے تھا! دکھ کی بات یہ ہے کہ وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے دانشور بالعموم اور لاہور سے تعلق رکھنے والے دانشور بالخصوص‘ ان پہلوئوں پر ہمیشہ صمٌ بکمٌ رہے۔ اس لیے کہ غالباً باہر کا ادراک ہی نہیں! یہاں ہم ان دانشوروں کا ذکر نہیں کر رہے جو وسطی پنجاب کے نہیں مگر باہر سے آ کر لاہور رہ رہے ہیں۔

اب اُس دوسری عصبیت کی یا تعصب کی یا قبائلی ذہنیت کی سُنیے جو وسطی پنجاب پر چھائی ہوئی ہے اور وہ ہے ذات پات اور برادری! سیاست اس سے مستثنیٰ ہرگز ہرگز نہیں‘ وسطی پنجاب میں آرائیں‘ کشمیری‘ جاٹ اور مغل برادری ازم کا زور ہے اور شدید زور ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ساری سیاست برادری ازم کے گرد گھومتی ہے۔ یہ عصبیت جنوبی پنجاب اور پنجاب کے مغربی اور شمالی اضلاع میں بھی یقینا موجود ہے مگر نسبتاً کم! کون نہیں جانتا کہ قاف لیگ کے عہد اقتدار میں پنجاب کی کس ذات کی پانچوں گھی میں تھیں اور شریف خاندان کے دور حکومت میں کس برادری کا سر کڑھائی میں تھا۔ بس نام کے ساتھ خواجہ یا وانی ہونا کافی تھا۔ یہ حقیقت بھی ہر خاص و عام کو معلوم ہے کہ دوسرے علاقوں کے لیے مختص شدہ بجٹ بار بار ایک مخصوص شہر کی طرف منتقل کیے جاتے رہے تاکہ اس مخصوص شہر میں ترقیاتی منصوبے بڑھ چڑھ کر کامیاب کیے جائیں۔

رہا مسئلہ فوج کا تو فوج کو بھی پنجاب سے اسی طرح منسوب کیا جاتا ہے جس طرح پنجاب کو سب سے بڑا صوبہ ثابت کرنے کے لیے جنوبی اور مغربی اضلاع پنجاب میں شامل کیے جاتے ہیں۔ فوج کے ساتھ عجیب 
Paradox
یہ ہے کہ غیر پنجابی صوبوں کے قومیت پرست اور صوبائیت نواز عناصر فوج کو پنجابی ہونے کا طعنہ دیتے ہیں حالانکہ پنجاب کے جس حصے کی ترقی انہیں چبھتی ہے وہاں سے فوج میں شمولیت برائے نام ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یوں تو فوج میں پورے پنجاب کی نفری شامل ہے مگربھاری۔ بہت بھاری۔ اکثریت میانوالی، اٹک، چکوال، جہلم اور راولپنڈی کے اضلاع سے ہے۔ چکوال پہلے جہلم کا حصہ تھا۔ تلہ گنگ پہلے اٹک میں شامل تھا۔ یہی وہ علاقے ہیں جہاں کارگل سیاچین مغربی اور مشرقی سرحدوں سے لاشیں زیادہ تعداد میں آتی ہیں۔ ان علاقوں سے بھرتی جاری رکھنے کے لیے انگریز سرکار نے ایک طرف ان اضلاع کو نہری نظام کا حصہ نہ بنا کر آب پاشی سے محروم رکھا دوسری طرف یہاں صنعتیں بھی نہ لگائیں۔لگنے بھی نہ دیں تاکہ جوانوں کو فوج کے علاوہ کوئی روزگار نظر ہی نہ آئے۔ یہ تو بھلا ہو دفاعی پیداوار کے محکموں کا جنہوں نے حویلیاں، واہ، کامرہ اور سنجوال میں فیکٹریاں لگائیں اور بھلا ہو فوجی فائونڈیشن کا جس نے راولپنڈی‘چکوال ‘ جہلم اور اٹک کے علاقوں میں کچھ فلاحی منصوبے پروان چڑھائے۔

پنجاب کے ان پانچ اضلاع کے بعد زیادہ فوجی بھرتی ایبٹ آباد نوشہرہ مردان اور کوہاٹ کے علاقوں سے ہیں۔ اسی لیے غور کریں تو معلوم ہو گا کہ آرمی کے سنٹرز انہی علاقوں میں اور انہی علاقوں کے اردگرد قائم کیے گئے۔ ایک سنٹر جوانوں کے لیے چار کام کرتا ہے۔ بھرتی‘ تربیت‘ ترقیاں اور تعیناتیاں اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن۔ اب ذرا ایک نظر سنٹرز پر ڈال لیجیے۔

آرٹلری سنٹر۔ اٹک

آزاد کشمیر رجمنٹ سنٹر مانسر(اٹک)

پنجاب رجمنٹ سنٹر(مردان)

آرمرڈ کور سنٹر نوشہرہ

انجینئرنگ کور سنٹر رسالپور

میڈیکل کور سنٹر ایبٹ آباد

ایف ایف سنٹر ایبٹ آباد

بلوچ سنٹر ایبٹ آباد

سگنل کور سنٹر کوہاٹ

ان مراکز کے محل وقوع میں ایک عامل یہ بھی ہے کہ اکثریت کو ان سنٹرز میں اپنے کاموں کے لیے آنے جانے میں دور دراز کا سفر نہ کرنا پڑے۔ کیوں کہ انہی علاقوں سے اور انہی علاقوں کے نواح سے بھاری تعداد فوج کے لیے خدمات پیش کرتی ہے۔

پنجاب میں نئے صوبوں کی تشکیل ناگزیر ہے اس تشکیل کو موخر تو کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل کے پردے سے کھُرچا نہیں جا سکتا۔

جنوبی پنجاب کا صوبہ سامنے نظر آ رہا ہے۔وسطی پنجاب اس پر چیں بہ جبیں ہے۔ مگر پانی سر سے گزر چکا ہے۔ یہی صورت احوال پنجاب کے جنوبی‘ مغربی اور شمالی اضلاع کی ہے۔ وسطی پنجاب از حد ترقی یافتہ حصہ ہے۔ اس کا اپنا فائدہ اس میں ہے کہ الگ صوبہ بنے۔ وسطی پنجاب کو ادراک ہے نہ علم کہ دوسرے حصوں کے ساتھ سوتیلا سلوک ہو رہا ہے۔

بھارت نے جہاں ملکیت زمین کا ڈھانچہ تبدیل کر کے اور زرعی اصلاحات بروقت نافذ کر کے پاکستان پر سبقت حاصل کر لی‘ اسی طرح عملیت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے نئے صوبے بنانے کے حوالے سے بھی پاکستان کی نسبت بھارت زیادہ عقل مند ثابت ہوا۔ بھارتی پنجاب میں تین صوبے بنے۔ آسام کو تین صوبوں میں بانٹ دیا گیا۔ بہار اور یوپی سے نئے صوبے نکلے۔ حال ہی میں آندھرا پردیش سے تلنگانہ کا صوبہ منہا کر دیا گیا۔ کوئی قیامت نہیں ٹوٹی۔ کوئی آسمان نہیں گرا۔ مرکز کو کوئی ہچکی نہیں لگی۔

جناب سجاد میر پنجاب کے کوفی یا غیر کوفی ہونے کے حوالے سے خوبصورت نکات سامنے لائے۔ وہ عسکری صاحب سے اور سلیم احمد سے فیض یاب ہوئے۔ کچھ موضوعات ایسے ہیں کہ سجاد میر بولیں تو ہم سنتے رہیں اور لکھیں تو ہم پڑھتے رہیں۔ یہ فقیر جب سی ایس ایس کر کے کراچی وارد ہوا تو سلیم صاحب کے درِ ادب پر ایک بار ہی حاضری نصیب ہوئی۔ ہاں قمر جمیل صاحب سے طویل نیاز مندی رہی گویا کہ ع

کعبہ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی

کوفی اور غیر کوفی کی بحث سے میں نے بصرہ کے مسائل نکالے جو اس کالم میں بیان ہوئے۔ جناب سجاد میر کی خدمت میں غالب کی زبانی التماس ہے کہ ؎

مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات

مقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے

اور ہاں! وسطی پنجاب کی خدمت میں ابن الحسن سید مرحوم کا یہ شعر عرض ہے کہ ؎

خوبصورت بہت ہو تم لیکن

دوسروں کا بھی کچھ خیال کرو

Sunday, May 27, 2018

SPY CHRONICLES کا وہ باب جو حافظ سعید کے بارے میں ہے


جنرل اسد درانی سابق چیف آئی ایس آئی اور اے ایس دُلت سابق سربراہ ’’را‘‘ نے جو مشترکہ کتاب تصنیف کی ہے وہ انٹرنیٹ پر موجود ہے اس وقت یقینا لاکھوں نہیں تو ہزاروں افراد پاکستان کے اندر اور باہر اسے پڑھ رہے ہوں گے۔ 
کتاب کا عنوان ہے 
SPY Chronicles- Raw-isi-and the Illusions of Peace. 
یہ کتاب اس مکالمے پر مشتمل ہے جو 2016ء میں دونوں سابق سربراہوں کے درمیان ہوا۔ معروف صحافی ادیتا سنہا نے ‘ جو دہلی میں رہتے ہیں اس مکالمے میں رہنمائی اور مدد کی۔ یہ مکالمے استانبول بنکاک اور کھٹمنڈو میں ہوئے۔ موضوعات میں کشمیر‘ حافظ سعید‘ کلبھوشن جادیو‘ اسامہ بن لادن وغیرہ شامل ہیں۔ 
کتاب سات حصوں اور 33ابواب پر مشتمل ہے۔ آخری باب کا عنوان ’’دیوانگی ختم‘‘ ہے! کتاب کا اکیسواں باب حافظ سعید کے متعلق ہے اس کا عنوان’’حافظ سعید اور 26/11‘‘ ہے یہاں اس باب کا انگریزی سے ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔

اسد درانی۔میں نہیں سمجھتا کہ کارگل اور بمبئی حملے کے درمیان کوئی شے مشترک تھی۔ اگر یہ فرض کیا جائے کہ دونوں واقعات سویلین حکومت کے دوران پیش آئے تب بھی! لوگ مختلف تھے۔

اے ایس دُلت۔ سر! پھر بمبئی(کا واقعہ) کیوں پیش آیا۔

درانی۔ بمبئی واحد واقعہ ہے جس کے حوالے سے میں نے فیصلہ کیا کہ کسی بھی بھارتی یا پاکستانی چینل کے لیے میں موجود ہوں گا۔ یہ بتانے کے لیے کہ جس نے بھی یہ کیا ہے‘ خواہ ریاست کی پشت پناہی سے‘ یا آئی ایس آئی یا ملٹری کی پشت پناہی سے‘ پکڑا جانا چاہیے اور سزا دینی چاہیے۔ یہ صرف 168افراد کی ہلاکت کی یا چار دن کے قتل عام وغیرہ کی بات نہیں‘ اس وقت پاکستان اس حالت میں نہیں تھا کہ اپنے مشرقی بارڈر پر جنگ میں پھنستا۔ مغرب کی طرف ہی کافی مسائل تھے اور ملک کے اندر بھی! مجھے نہیں معلوم یہ کس نے کیا لیکن جب ڈیوڈ ہیڈلے نے آئی ایس آئی کے ایک میجر کا نام لیا۔ اس سے ہمارے لیے مشکلات پیدا ہوئیں۔

دلت ۔ مگر کہانی یہ ہے کہ ہیڈلے نے حافظ سعید کے ساتھ تعاون کیا۔

درانی۔ چونکہ یہ ساری کہانیاں منظر پر آ گئی ہیں لوگ آگے بڑھ کر تفتیش کر سکتے ہیں آٹھ سال تک ہم دونوں نے مشترکہ تفتیش اور مشترکہ مقدمہ کی‘ انٹیلی جنس شیئر کرنے کی اور دہشت گردی کے خلاف میکانزم اختیار کرنے کی بات کی ہے‘ اس وجہ سے کہ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ اس وقت تک حافظ سعید ہوں یا آئی ایس آئی یا جیش محمد‘ اس بات کا امکان ہے کہ ان میں سے کسی نے کچھ نہیں کیا۔ ہو سکتا ہے کوئی تیسری یا چوتھی یا پانچویں پارٹی ملوث ہو!

سنہا۔ مسٹر دُلت! آپ نے اپنی گزشتہ کتاب میں لکھا ہے کہ جب تعلقات آگے نہ بڑھ رہے ہوں اور پاکستانی فوج کو محسوس ہو کہ بھارت کو ایک لات کی ضرورت ہے تو بمبئی کی طرح کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے۔

دُلت۔ بالکل درست! میری تھیوری یا یقین یہ بھی تھا کہ مشرف کو 26/11کے بارے میں علم ہو گا۔ 
درانی۔ مگر وہ اقتدار میں نہیں تھے اگست ستمبر 2008ء تک وہ جا چکے تھے۔

دُلت۔ ہاں! مگر جناب! منصوبہ بندی پہلے سے شروع ہوئی ہو گی۔ مشرف اس میں پارٹی بنے ہوں گے۔ میں نے جو کچھ کہا اس پر قائم ہوں کہ جب بھی پاکستان میں مایوسی ہوتی ہے۔ کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آتا ہے۔

سنہا۔ حال ہی میں حافظ سعید کو گھر میں نظر بندکیا گیا۔ بھارتی ٹی وی نیوز چینلز کا کہنا ہے یہ ٹرمپ کی وجہ سے ہوا۔

دُلت۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیا حافظ سعید ٹرمپ کے لیے اہم ہیں۔ یہ اتفاق بھی ہو سکتا ہے جنرل احسان کے مطابق وہ ایک تفتیش میں مطلوب تھے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ انہیں نظر بند کر دیا جائے۔

درانی۔ انہیں عدالتوں میں لے جایا گیا اگرچہ ان کے خلاف کچھ بھی(نیا) نہیں تھا۔ اب بھی ممکن ہے کہ انہیں اس لیے بند کیا گیا ہو کہ طوفان گزر جائے وہ چھ ماہ میں باہر آ سکتے ہیں!

سنہا۔ تو حافظ سعید کی نظر بندی بھی پہلے سے طے شدہ ہے؟

درانی۔ جہاں تک حافظ سعید کا تعلق ہے ‘ کیا کوئی مزید ثبوت میسر آیا ہے؟ توقع یہ ہے کہ حافظ سعید کے ساتھ انتظام طے شدہ ہے کیا اکثر اوقات ایسا ہی نہیں ہوتا؟ گجرات میں مودی جی! انکوائری رپورٹ انہیں بری الذمہ قرار نہیں دیتی مگر عدالت انہیں جانے دیتی ہے اور کوئی اس کے متعلق بات نہیں کرنا چاہتا۔ اس سے بھی بڑی مثال ٹونی بلیئر کی ہے۔ چل کوٹ رپورٹ اسے قصور وار ٹھہراتی ہے مگر اسے کچھ نہیں کہا گیا۔ اس پر الزام لگانے میں قانونی آرا منقسم ہیں۔ نائن الیون کی رپورٹ میں اٹھائیس صفحے غائب ہیں۔ اس کی وجہ حساس اطلاعات بھی ہو سکتی ہیں یا امریکی نااہلی بھی! ممکنہ سازش بھی اس کی وجہ ہو سکتی ہے کچھ افراد کو رہا کر دیا ہو گا کہ ان کے کاروباری تعلقات ہوں گے یا بش خاندان کے ساتھ ربط ہو گا! یوں امریکہ کو ایک نا خوشگوار ایکشن سے بچ نکلنے میں مدد مل جاتی ہے!

سنہا۔ تو پھر حافظ سعید کی نظر بندی میں بھارت پاکستان تعلقات کے لیے کوئی مثبت چیزیں نہیں ہیں؟

درانی۔ انڈیا پاکستان فرنٹ پر اس وقت بہت کم مثبت چیزیں ہیں۔ مگر اس سے ایک ملک کو جو مسلسل دبائو میں ہے سانس لینے کا موقع مل سکتا ہے!

دُلت ۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایسا بھارت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ مگر جیسا کہ جنرل صاحب کہہ رہے ہیں‘ اس سے یہ ہو سکتا ہے کہ جنرل جنجوعہ اجیت دوول کو فون کریں اور کہیں۔ دیکھیے! ہم نے ایکشن لیا ہے اور ان صاحب کو کم از کم چھ ماہ کے لیے بند کر دیا ہے‘ چنانچہ یہ آزار تو راستے سے ہٹا!

درانی۔ افغانستان میں ہم طالبان یا اشرف غنی یا امریکہ کی نسبت کم مجرم ہیں! حقانی نیٹ ورک کیوں ایک نیٹ ورک ہے؟ مجھے بھی نہیں معلوم! آپ مسلسل صورت حال پیدا کر سکتے ہیں جس میں پاکستان مجرم نظر آئے مگر وہ لوگ نہیں جنہوں نے پاکستان کے ساتھ اتنا کچھ غلط کیا اور نقصان پہنچایا یعنی امریکہ! گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران امریکیوں کی کوئی بھی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیجیے‘ بشمول آڈیٹر جنرل‘ جس میں احتساب کو دیکھا گیا ہو‘ یا خرچ شدہ رقم کو‘ یا سویلین یا فوجیوںکو جو قتل ہوئے‘ رپورٹیں یہ سارے حقائق بیان کرتی ہیں مگر چونکہ سزا دینے سے سیاسی طور پر شرمندگی ہوتی ہے اس لیے آخر میں نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ پاکستان ملوث ہے!

دُلت ۔ حافظ سعید کس طرح پاکستان کے لیے مفید ہیں؟

درانی۔ غالباً یہ بات بعد میں آئے گی! حافظ سعید کے حوالے سے پاکستان کیا کر سکتا ہے؟

دُلت۔ یہ ایک اور معاملہ ہے!

درانی۔ کیسے اور معاملہ ہے؟

دُلت۔ میں مانتا ہوں فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے مگر میرا سوال یہ ہے کہ حافظ سعید کی اہمیت کیا ہے۔

درانی۔ اگر آپ حافظ سعید کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہیں تو پہلا ردِ عمل یہ ہو گا کہ ایسا بھارت کے لیے کیا جا رہا ہے! انہیں پریشان کیا جا رہا ہے۔ وہ بے قصور ہیں وغیرہ! سیاسی خطرہ زیادہ ہے! اب!

دُلت۔ان کے ملوث ہونے کے علاوہ ان کی ایک طاقت پریشان کرنے کی بھی ہے کیونکہ وہ بھارت کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں مگر پاکستان کے لیے ان کی اہمیت کیا ہے؟

درانی۔ ان کے خلاف کارروائی کرنے کی قیمت بہت زیادہ ادا کرنا پڑے گی!


Saturday, May 26, 2018

عزتِ نفس! عزتِ نفس!!

میری لینڈ امریکہ میں چھ ایکڑ زمین،
 مختلف کمپنیوں میں شیئرز۔
 بھائی کو دو لاکھ ڈالر(دو کروڑ سے زائد) بیرون ملک بھجوائے۔
 نیو گارڈن ٹائون میں گھر۔ 
سرگودھا کے گائوں میں 272کنال زمین۔ 
کوٹ مومن میں 20کنال زمین۔ 
دو سو تولے سونا، 
ایل ڈی اے میں پلاٹ نمبر 701 ڈی
 بینک الفلاح سوسائٹی میں دو پلاٹ۔ 
حافظ آباد میں ایک سو چودہ کنال زمین
 ایمپلائز کواپریٹو ساسائٹی اسلام آباد میں پلاٹ۔
 کرباٹھ لاہور میں تین کنال زمین۔ 
کرباٹھ ہی میں چودہ کنال کا پلاٹ۔
 کرباٹھ ہی میں تین کنال 12مرلے کا ایک اور پلاٹ۔
 گائوں ٹھیرا میں آٹھ کنال زمین بھائی کے نام منتقل کی۔
 موضع ڈوھری میں 21کنال چار مرلے کی زمین۔ 
دو ٹریکٹر بھی نام پر ہیں۔
 اسلام آباد میں ہِل لاک ویو میں فلیٹ نمبر 1004ملکیت میں ہے۔
 ایف آئی اے سوسائٹی میں دو پلاٹ ہیں۔ 
اسلام آباد کی ایک اور سوسائٹی(ایف جی ای سی ایچ ہائوسنگ) میں دو پلاٹ بیگم کے نام پر۔ 
موضع جلکے میں 17کنال زمین۔
 زیڈیم ڈی ویلیپر میں دو پلاٹ۔ 
ایک کروڑ کی اَن رجسٹرڈ گاڑی پراڈو ملکیت میں،
 دو ہونڈا وی ٹی آئی اور دو ہونڈا سٹی اپنے نام بُک کروائی ہوئی ہیں۔
 دو آئل ٹینکر بھی ملکیت میں ہیں۔
 30
لاکھ کی سرمایہ کاری میوچل فنڈز میں کی ہوئی ہے

۔ یہ تفصیلات اُس نوجوان افسر کے حوالے سے مبینہ طور پر
 سامنے آئی ہیں جو اِن دنوں سلاخوں کے پیچھے ہے۔ شاید اُس کی کل سرکاری ملازمت کا عرصہ بیس سال بھی نہیں ہوا۔

 دقت یہ ہے کہ خادمِ اعلیٰ پنجاب سے یہ پوچھے کون کہ ان کے پسندیدہ ماتحت کے پاس یہ سارا مال، زمینیں، پلاٹ، گاڑیاں، ٹریکٹر، شیئر، کیسے آئے؟ کہاں سے آئے؟ دونوں شریف برادران کا ریکارڈ یہ ہے کہ کسی سوال کا جواب نہیں دیتے۔ یہ جو ہر روز زرداری کی دولت کے تذکرے کرتے ہیں تو اُن سے پوچھنا چاہیے کہ جب نواز شریف کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے زرداری کی گاڑی خود ڈرائیو کی اور ستر سے زیادہ پکوان پکائے گئے، کیا اُس وقت زرداری کی دولت ملک سے باہر نہیں تھی؟ میراسی جوا کھیل رہا تھا۔ پیسہ ختم ہوا تو مکان دائو پر لگا دیا۔ وہ بھی چلا گیا تو بیوی کو دائو پر لگا دیا۔ بیوی نے کہا ہار گئے تو یہ مجھے لے جائیں گے۔ میراسی بولا، کیسے لے جائیں گے؟ میں ہارمانوں گا تو جبھی لے جائیں گے نا! میں تو مانوں گا ہی نہیں! شہباز شریف کوئی بات مانتے ہی نہیں! بیورو کریسی کو دونوں بھائی دیمک کی طرح چاٹ گئے۔ افسروں سے یہاں تک کہ اہلکاروں سے بھی دوستیاں لگائیں اور کرپٹ کیا۔
 اب خادمِ اعلیٰ کے انتہائی قریبی عزیز کی سنیے۔ ان کے اکائونٹ میں کروڑوں روپے گئے۔ پاور ڈی ویلپمنٹ کمپنی کے بارہ کروڑ کسی معاہدے کے بغیر اکائونٹ میں منتقل ہوئے۔ 

پچھلے دنوں لاہور میں بیان دیا کہ ہم سکھائیں گے یونیورسٹیاں کیسے بناتے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ کتنی یونیورسٹیاں بنائی ہیں؟ ایک دو ہی کے نام بتا دیجیے۔ دوسری طرف بڑے میاں صاحب نے یہ کہہ کر کہ ان کی بیٹی کو عدالتوں میں گھسیٹا جا رہا ہے، اپنے آپ کو ایک اور گڑھے میں گرا دیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے خاص طور پر جواب آں
غزل کے طور پر بتایا ہے کہ خود نواز شریف صاحب بے نظیر بھٹو کو عدالتوں میں گھسیٹتے رہے۔ خود اپنے خاندان کی خواتین کے ساتھ ان بھائیوں نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ معروف کالم نگار انجم نیاز نے ایک واقعہ لکھا جو اُن کے ساتھ براہِ راست پیش آیا۔ 23مارچ 1990ء کو وزیر اعظم بے نظیربھٹو نے مینار پاکستان پر جلسے سے خطاب کرنا تھا۔ امریکہ سے تین خواتین صحافی بھی مدعو تھیں۔ یہ خواتین انجم کے ہمراہ جلسہ گاہ کی طرف جا رہی تھیں کہ پیچھے مردوں کا ایک جتھہ آ گیا جس نے غیر مناسب حرکتیں شروع کر دیں۔ پھر ان حرکتوں میں شدت آنے لگی۔ ان مردوں کے ہاتھ ہر سمت میں حرکت کر رہے تھے۔ اذیت کا یہ دورانیہ بیس منٹ جاری رہا۔ غیر ملکی خواتین چیخ چیخ کر انہیں اپنے سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ڈائس پر پہنچنے کے بعد یہ لوگ تتربتر ہوئے۔ جلسہ ختم ہوا تو یہ غنڈے پھر نمودار ہو گئے۔ مگر اُس وقت کے سیکرٹری اطلاعات نے اپنے ساتھیوں سمیت مہمان خواتین کے گرد حصار بنا لیا۔ انجم نیاز لکھتی ہیں کہ پریس سیکرٹری نے بتایا۔ ’’وہ لوگ پنجاب حکومت کے کرائے کے غنڈے تھے جنہیں اس مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا کہ وہ خواتین کے ساتھ بدسلوکی کر کے غیر ملکی مہمانوں کے سامنے وزیر اعظم کو شرمندہ کریں۔‘‘
 آج نواز شریف صاحب رونا روتے ہیں کہ ماضی کے وزرائے اعظم کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوا۔ مرکز میں جب پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور میاں صاحب پنجاب میں وزیر اعلیٰ تھے تو ہر ممکن عدم تعاون انہوں نے کیا۔ تیری پگ تے لگ گیا داغ۔ کا نعرہ لگا کر صوبائیت کو ہوا دی۔ کبھی پنجاب بنک کا ڈول ڈالا۔ کبھی اپنے الگ ٹی وی چینل کی بات کی۔ وزیر اعظم جس پروٹوکول کی مستحق تھیں، نہ دیا۔ ججوں کے ساتھ ان کی خفیہ گفتگو منظرِ عام پر آچکی ہے۔ کروڑوں افراد نے اس شرم ناک گفتگو کو سنا اور سن رہے ہیں۔ مگر میاں صاحب سے ان سب واقعات کے بارے میں، براہِ راست کسی پریس کانفرنس میں، یا کسی انٹرویو میں، کچھ پوچھنا ممکن ہی نہیں۔ ایک عام انسان حیرت میں گم ہو جاتا ہے یہ سوچ کر کہ جب نواز شریف صاحب اپنی بیٹی کی تکلیف کا ذکر کرتے ہیں تو کیا واقعی انہیں ماضی بالکل یاد نہیں رہتا؟ یا سب کچھ یاد رکھتے ہوئے بھی، اعصاب اس قدر مضبوط ہیں کہ ایسی گفتگو کیے جاتے ہیں؟ 
عزتِ نفس! عزتِ نفس!! ایک عام شہری یا دیہاتی پر یہ نوبت آتی ہے کہ عزتِ نفس کا مسئلہ درپیش ہو جائے تو وہ سب کچھ بھاڑ میں جھونک کر عزتِ نفس بچا لیتا ہے۔ ماں بیٹی بہن یا بیوی کو کچہری نہیں چڑھاتا۔ سب کچھ تج دیتا ہے۔ صلح کر لیتا ہے یا متنازع مال اسباب زمین زیور سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ مگر میاں صاحب کی تھیوری یہ ہے کہ چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے۔ پراپرٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا۔ دروغ گوئی تو کوئی مسئلہ ہی نہیں! گھر کی خواتین عدالتوں میں آتی جاتی رہیں، بس یہ ہے کہ دولت بچ جائے۔ کیا کوئی صحیح الدماغ شخص یہ سودا خریدے گا کہ بیٹوں کی جائیداد سے باپ کا کوئی تعلق نہیں؟ زرپرستی کا عالم یہ ہے کہ خاندان کا ایک ایک فرد جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہا ہے۔ کوئی عام شہری مقدموں کا سامنا کر رہا ہوتا تو اس کے بیٹے ایک ثانیہ بیرونِ ملک نہ بیٹھتے۔ واپس آ کر سیدھے عدالت میں آتے، اپنے آپ کو پیش کرتے اور کہتے کہ ہم حاضر ہیں۔ ہم مجرم ہیں۔ سب کچھ بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔ مگر ہمارے محترم والد کو کچھ نہ کہیے۔ ہمیں ان کی عزت عزیز ہے۔ عدالت میں ہم پیش ہوں گے۔ ازراہِ کرم انہیں اس معاملے میں نہ گھسیٹا جائے۔ مگر یہاں چشمِ فلک ایک عجیب منظر دیکھ رہی ہے۔ باپ اور بہن ہر روز پیشیاں بھگت رہے ہیں اور دونوں بھائی ہزاروں کوس دور لندن کی پرکیف فضا میں عیش کر رہے ہیں کہ ہم تو پاکستانی ہی نہیں! ہم پر پاکستانی قانون کا اطلاق ہی نہیں ہوتا۔ ہمارے والد اور ہماری بہن سے پوچھیے جو پوچھنا ہے۔ وہی بھگتیں گی! کون ہے جسے اس مقام پر وہ عبرت ناک لطیفہ یاد نہ آئے گا۔ بیٹا ہانپتا کانپتا گھر میں داخل ہوا کہ عزت بچا کر بھاگا ہوں۔ شکر ہے گھر پہنچ گیا۔ پچھلے چوک پر لوگ والد صاحب کو مار رہے ہیں! 
خود میاں صاحب بھی یہی کھیل کھیل رہے ہیں۔ سب کچھ اپنے مرحوم والد گرامی کے ذمے لگا رہے ہیں۔ آگے، اُن کے بیٹے، اپنے والد کے ساتھ یہی کچھ کر رہے ہیں۔ ایک کم ظرف نے بیٹے کو پرانا، پھٹا ہوا کمبل دیا کہ جائو دادا کو دے آئو۔ بیٹے نے قینچی سے کمبل کا ایک حصہ کاٹ کر رکھ لیا۔ باپ نے وجہ پوچھی تو یہ کہنے لگا۔ آپ کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔ 

زمانہ 1530ء کا تھا۔ مقام سنبھل تھا۔ ہمایوں بیمار پڑ گیا۔ بہت زیادہ بیمار۔ جان کے لالے پڑ گئے۔ اسے دارالحکومت آگرہ منتقل کیا گیا۔ وقت کے نامی گرامی ڈاکٹر حاضر کیے گئے مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ پھر ایک فقیر نے بابر سے کہا تم اپنی گراں بہا شے اللہ کے راستے میں قربان کرو۔ کیا خبر اللہ تعالیٰ شفا دے دے۔ بابر نے پوچھا مثلاً کیا؟ نیک شخص نے جواب دیا مثلاً کوہ نور ہیرا! مگر بابر کا استدلال تھا کہ ہیرا تو ہمایوں کی ملکیت ہے۔ اس کا ہے ہی نہیں! پھر بابر نے کہا کہ ساری دولت، ساری سلطنت سارا خزانہ بھی دے دوں تو قیمتی شے تو پھر بھی میرے پاس ہی رہے گی اور وہ میری جان ہے! میں اپنی جان کی قربانی دوں گا۔ پھر بابر نے بیمار بیٹے کے بستر کا طواف کیا اور پروردگار کے حضور اپنی جان پیش کی! کرنا خدا کا کیا ہوا، ہمایوں رُوبہ صحت ہونے لگا اور بابر بیمار پڑ گیا۔ خالقِ کائنات نے قربانی منظور فرمالی تھی!!
 آج میاں صاحب کی رفیقِ زندگی بیمار ہیں۔ ہر پاکستانی، سیاسی علائق سے قطعِ نظر۔ ان کی صحت کے لیے دعا گو ہے۔ ہم بھی دست بدعا ہیں کہ خداوندِ قدوس بیگم صاحبہ صاحبہ کو شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے اور وہ جلد صحت مند ہو کر اپنے خاندان کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزاریں! کیا ایسا ممکن نہیں کہ میاں صاحب پروردگار کے ساتھ عہد کریں کہ میں اپنی دولت کے ذرائع قوم کو اور عدالتوں کو بتانے کے لیے تیار ہوں۔ میں بیرون ملک سے سب کچھ سمیٹ کر واپس وطن لاتا ہوں۔ میں اپنے بیٹے کو بھی اپنے وطن کی خدمت میں پیش کرتا ہوں کہ ملک میں رہ کر ملک کی خدمت کریں۔ اس کے بدلے میں اے صحت اور بیماری کے مالک! میری اہلیہ کوصحت کی دولت سے نواز دے! آمین ثم آمین! قدرت کے خزانے میں کسی شے کی کمی نہیں! بابر بادشاہ تھا۔ قدرت نے اس کی قربانی منظور فرمالی! میاں صاحب بھی بادشاہ ہیں! کیا عجب قدرت ان کی یہ پیشکش قبول فرما لے!

Thursday, May 24, 2018

مادھوری گپتا اور بھارت کا گلا سڑا بدبودار نظام


یہ پہلا اور آخری موقع نہیں کہ بھارتی انٹیلی جنس کو خاک چاٹنا پڑی

… اُنی کرشنن انڈین پولیس سروس کا افسر تھا۔ وہ 1962ء میں 
مقابلے کا امتحان پاس کر کے بیوروکریسی کا حصہ بنا۔ اسی کے عشرے میں وہ سری لنکا میں تعینات ہوا۔ بیوی ساتھ نہیں تھی۔ ایک ایئرہوسٹس کے ساتھ ملوث ہو گیا۔ یہ تعلق اس کے لیے ’’شہد کا پھندا‘‘ ثابت ہوگیا۔ شہد کا پھندا یعنی ’’ہنی ٹریپ‘‘ جاسوسی کی دنیا کی مشہور اصطلاح ہے۔ جب راز حاصل کرنے کے لیے کسی کو خوبصورت عورت کے دام میں پھنسا کر بلیک میل کیا جائے تو اسے ’’ہنی ٹریپ‘‘ کہا جاتا ہے۔ امریکیوں نے انی کرشنن کی اس کمزوری کو معلوم کرلیا اور انتظار کرنے لگے کہ کب اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ 1985ء میں انی کرشنن ڈیپوٹیشن پر ’’را‘‘ میں تعینات کردیا گیا اور جنوبی بھارت میں را کی سرگرمیوں کا سربراہ مقرر ہوگیا۔ اب امریکیوں نے اسے بلیک میل کرنا شروع کردیا۔ انی کرشنن کی ایک کمزوری اور بھی تھی۔ اس کی بیٹی کو نشانہ بازی کا شوق تھا۔ چھرے اس زمانے میں بھارت میں عام ملتے نہیں تھے۔ سنگاپور سے منگوانے پڑتے تھے۔ یہ مہنگا شوق تھا۔ امریکی انٹیلی جنس نے اس کمزوری کا بھی فائدہ اٹھایا۔ ان دنوں بھارت سری لنکا کے تامل باغیوں کی بھرپور مدد کر رہا تھا۔ انی کرشنن یہ ساری حساس اطلاعات امریکیوں کو دیتا رہا۔ جب را پر راز کھلا تو بہت سارے منصوبے اور اسلحہ کی ترسیل کی تفصیلات امریکیوں کے پاس آ چکی تھیں۔ انی کرشنن کو سروس سے برطرف کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔

ایک مسلمان سکندر لال ملک نے بھی بھارتی انٹیلی جنس کو خوب چکمہ دیا۔ سکندر را کے بانی اور سربراہ رام ناتھ کائو کا سترہ سال تک ذاتی معاون رہا۔ اس کے پاس بے پناہ خفیہ اطلاعات تھیں۔ ان اطلاعات میں بنگلہ دیش کی علیحدگی کا منصوبہ بھی تھا۔ رام ناتھ کائو کے پاس ہر فائل سکندر کے ہاتھوں سے ہو کر جاتی تھی اور واپس بھی اسی کے ذریعے ہوتی تھی۔ اس کی تعیناتی نیویارک میں ہوگئی۔ وہاں اس نے دو سال کی توسیع لی اور اس اثنا میں غائب ہوگیا۔ امریکی خفیہ ایجنسی نے اس کی مدد کی تھی۔ را کے لیے یہ بہت بڑا دھچکا تھا۔

لیکن جس واقعہ نے را کو ہلا کر رکھ دیا تھا وہ رابندر سنگھ کا فرار تھا۔ رابندر سنگھ بھارتی فوج میں میجر تھا۔ وہاں سے را میں تعینات ہوا۔ نظروں میں یوں آیا کہ ’’غیر متعلقہ‘‘ دستاویزات کے حصول میں لگا رہتا تھا۔ را نے اسے زیرنگرانی رکھ لیا مگر را کی لیاقت کا راز طشت ازبام اس وقت ہوا جب رابندر سنگھ اپنی بیوی کے ساتھ نیپال کے راستے غائب ہوگیا۔ کھٹمنڈو کا را آفس نااہلی یا میل ملاپ کی وجہ سے دیکھتا رہ گیا۔ رابندر سنگھ ایک نئی شناخت کے ساتھ ان دنوں نیو جرسی میں مزے کی امریکی زندگی گزار رہا ہے۔

بھارت کا سرکاری نظام اس قدر تعفن زدہ ہے اور سرخ فیتہ اتنا عام ہے کہ سرکاری ملازم غیر مطمئن ہیں۔ بھارت کا دفاعی پیداوار کا پورا سسٹم کرپشن سے اٹا ہوا ہے۔ انڈین انٹیلی جنس (آئی بی) اور را کی باہمی مسابقت ہے اور حریفانہ رویہ ہے۔ ستر سے زیادہ نجی کمپنیاں بھارت کو اسلحہ سپلائی کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کے نمائندے جال لگا کر بھارت کے اطراف واکناف میں بیٹھے ہیں اور حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسر اس جال میں پھنستے جاتے ہیں۔

مشہور ترین واقعہ دو بھائیوں کا ہے جو اعلیٰ عہدوں پر تھے۔ ایک میجر جنرل ،دوسرا ایئر وائس مارشل۔ اس واقعہ نے بھارتی فوجی ماحول، بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی نالائقی اور بھارتی ٹھیکوں اور سپلائی کے مکروہ نظام کو واشگاف کر کے رکھ دیا ہے۔ بھارتی افسروں کی بے پناہ لالچ ایک اور فیکٹر ہے۔ یہ دو اینگلو انڈین بھائی ’’لارکن برادرز‘‘ کہلاتے تھے۔ فرینک لارکن 1972ء میں میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوا۔ دوسرا بھائی کینتھ لارکن آٹھ سال بعد 1980ء میں بطور ایئروائس مارشل ریٹائر ہوا۔ ایتوار کو دونوں بھائی دہلی گاف کلب میں دکھائی دیتے یا دوسرے کلبوں میں بیئر اور بریانی کی دعوتیں اڑاتے نظر آتے۔ کچھ افسروں کو معلوم تھا کہ یہ اسلحہ خریدتے اور بیچتے ہیں مگر جاسوسی کے حوالے سے کسی نے کبھی شک کیا نہ ادھر کسی کا دھیان گیا۔ تاہم ان کے دوستوں کا دائرہ بہت زیادہ وسیع تھا۔ اس دائرے میں اعلیٰ سول افسران تھے، سفارت کار تھے، مسلح افواج کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران تھے اور اونچے درجے کے بزنس مین تھے۔ فرینک لارکن خصوصی طور پر وسیع تر سماجی دائرہ رکھتا تھا کیونکہ اس کی آخری تعیناتی آرمی ہیڈ کوارٹرز دہلی میں ڈائریکٹر 
(Director Weapons and Equipment)
 کی تھی۔ اس کا واسطہ اسلحہ کی خرید اور اسلحہ بنانے والوں اور درآمد کرنے والوں کے ساتھ رہا تھا۔ فرینک کے پاس بلجیم کی مشہور کمپنی (فیبریک نیشنل) کی ایجنسی تھی۔ یہ کمپنی بندوق سازی میں دنیا بھر میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ وہ دہلی کی ایک مہنگی فیشن ایبل آبادی ’’وسنت وہار‘‘ کے ایک اپارٹمنٹ میں منتقل ہو گیا جہاں وہ پارٹیوں کی میزبانی اکثر کرتا۔ دوسرے بھائی نے ’’اوشا سروس‘‘ کمپنی میں ملازت کرلی۔ اکثر سینئر ریٹائرڈ فوجی افسران یہی کام کرتے تھے۔ اوشا سروس کمپنی آبدوزوں اور فوجی ہیلی کاپٹروں کی فروخت کر رہی تھی۔ دونوں بھائی امارت کے زینے پر چڑھے جا رہے تھے۔ دونوں بھائیوں کا معیار زندلگی بلند ہو کر اس قدر نمایاں ہوگیا کہ دوستوں کو غیر معمولی لگا۔ دوسوں سے بات دشمنوں تک پہنچی۔ دشمنوں سے خفیہ ایجنسیوں کو پتہ چلا اور دونوں بھائیوں کی نگرانی شروع ہوگئی۔ خفیہ والوں نے اسسٹنٹ چیف آف ایئر سٹاف (آپریشن) کے دفتر میں ایک گروپ کیپٹن جسجیت سنگھ کو تعینات کیا تاکہ ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) کینتھ لارکن کو موقع پر پکڑا جائے۔ گروپ کیپٹن جسجیت سنگھ کاانتخاب اس لیے کیا گیا تھا کہ وہ ایئر وائس مارشل لارکن کے نیچے کام کر چکا تھا۔ اس نے اپنے سابق باس کے سامنے رونا رویا کہ اس کے مالی حالات خراب ہیں اور وہ پریشان حال ہے۔ تیر نشانے پر بیٹھا۔ ایئر وائس مارشل لارکن نے جسجیت کو اعتماد میں لے کر فرمائش کی کہ روسی مگ طیاروں کے خفیہ کاغذات (مینوئل) مہیا کرے تو اسے تیس ہزار روپے بطور معاوضہ دیئے جائیں گے۔ جسجیت نے معاملہ فضائیہ کی ہائی کمان تک پہنچایا۔ وہاں سے وزیراعظم اور سیکرٹری کابینہ کو اطلاع دی گئی۔ جسجیت کو کہا گیا کہ وہ مگ 23 کے کاغذات (مینوئل) لارکن کو مہیا کردے۔ خفیہ والے لارکن کو اس وقت پکڑنا چاہتے تھے جب وہ یہ کاغذات امریکیوں کو دے رہا ہو۔ مگر جب معلوم ہوا کہ دونوں بھائی بیرون ملک جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں تو پکڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔ فرینک کو دہلی سے اور کینتھ کو لکھنو سے گرفتار کرلیا گیا۔ دونوں بھائیوں نے جو کچھ کر رہے تھے، اس کا اعتراف کرلیا اور اپنے ساتھیوں کے نام بھی بتا دیئے۔ ان ساتھیوں میں دو نام اہم تھے۔ ایک جسپال سنگھ گل جو تاجر تھا اور دوسرا ریٹائرڈ کرنل جسبیر سنگھ جو گل کا ملازم تھا۔ گل نے کاروبار کا آغاز تو چینی اور کھاد سے شروع کیا تھا مگر جب اسلحہ کے ماہر کرنل جسبیر سنگھ نے اس کی ملازمت اختیار کی تو گل کو اسلحہ کے کاروبار کا چسکا پڑ گیا۔ اس نے اسلحہ درآمد کرنے اور فروخت کرنے کی کمپنی تشکیل دی۔ دوسری طرف جسبیر سنگھ کی رشتہ داری جرنیلوں کے ساتھ تھی۔ پکڑے جانے کے بعد گل نے خفیہ والوں کو بتایا کہ وہ دفاع کے بہت سے ٹھیکوں میں اپنا ’’کردار‘‘ ادا کر رہا ہے۔ امریکیوں کو معلوم تھا کہ گل کی پہلی بیوی جرمن تھی۔ گل نے اسے طلاق دے دی تھی۔ اب وہ ایک امریکی عورت کے ساتھ رہ رہا تھا۔ بیٹی امریکہ میں رہ رہی تھی۔ یہ سارے حالات گل کو امریکیوں کے لیے بہترین شکار ثابت کر رہے تھے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے لارکن برادرز کو، گل کو اور کرنل جسبیر سنگھ کو پکڑ لیا اور جاسوسی اور کرپشن کے حصار کو توڑ ڈالا۔ ان سب کو (باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں) پکڑنے کے باوجود بھارتی انٹیلی جنس کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سوال یہ تھا کہ لارکن برادرز کا امریکیوں کے ساتھ رابطہ کس نے کرایا تھا؟ رابطہ کرانے و الا اور اس سارے حصار کا بانی ایک اور ایئر وائس مارشل تھا اور وہ پانچ مہینے پہلے بھارت چھوڑ کر بیرون ملک کسی محفوظ پناہ گاہ میں پہنچ چکا تھا۔ امریکی سفارت خانے نے سب سے پہلے اس فرار ہونے والے ایئروائس مارشل کو قابو کیا تھا جس نے بعد میں لارکن برادرز کو، گل کو اور کرنل جسبیر سنگھ کو خرید کر امریکیوں کے حوالے کیا تھا۔ بھارتی خفیہ والے ہاتھ ملنے کے علاوہ کچھ نہ کرسکے۔

یہ جو آج کل بھارت نے شور مچایا ہوا ہے کہ مادھوری گپتا سے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے راز حاصل کئے تو بھارت کی حکومت کو، بھارتی میڈیا کو اور بھارتی دانشوروں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ آئے دن بھارتی سرکار کے فوجی او رسول ملازمین اپنے نظام سے غیر مطمئن کیوں ہورہے ہیں؟ مادھوری گپتا نے بتایا ہے کہ وزارت خارجہ دہلی میں انڈین بیوروکریسی کس طرح اسے ذلیل کرتی تھی۔ اسے چھٹی نہ دی گئی۔ اسے سٹڈی تعطیل نہ دی گئی۔ مادھوری گپتا نے ایک مسلمان خاتون کو ٹیوٹر رکھا۔ اردو سیکھی اور پاکستان تعیناتی کرالی۔ وہ اپنے دوستوں کو بتاتی تھی کہ اسے پاکستان آ کر سکون ملتا ہے اور پاکستان گھر کی طرح لگتا ہے۔

بھارتی مرکزی حکومت کئی گروپوں اور کئی لابیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ پنجابی گروہ الگ ہے۔ بہاری الگ ہیں۔ جنوبی ہند سے تامل ناڈو کی اپنی مضبوط لابی ہے۔ مہارا شٹر والے کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ آسام، بنگال اور اڑیسہ والے اپنی محرومیوں کا رونا روتے ہیں۔ ذات پات کی لعنت میں مبتلا بھارت اپنے سرکاری ملازموں اور اپنے عوام کو کبھی بھی اطمینان و مسرت نہیں دے سکا۔ آئندہ بھی اس کا کوئی امکان نہیں۔


Sunday, May 20, 2018

کُھرچے ہوئے لفظوں کا وارث

یہ ایک اداس کرنے والی صبح تھی۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی مگر یوں لگتا تھا۔ جیسے دل کے اندر دن ڈھل رہا ہو اور سائے لمبے ہو رہے ہوں۔ ایک پارسل موصول ہوا یکدم فضا بدل گئی۔ یہ معین نظامی کی شعری کلیات تھی۔ پا کر‘ دیکھ کر اور ورق گردانی کر کے یوں لگا جیسے
 ؎

 بہت رونق ہے دل میں‘ بھاگتی پھرتی ہیں یادیں
حلب سے قافلہ جیسے روانہ ہو رہا ہے 
معین نظامی میرا پسندیدہ نظم گو ہے۔ معین نظامی‘ وحید احمد اور فرح یار۔ یہ جدید نظم کی تکون ہے اور کیا غضب کی تکون ہے! معین نظامی اورنٹیل کالج پنجاب یونیورسٹی میں فارسی کا صدر شعبہ رہا۔ سید علی ہجویریؒ چیئر کا بھی بھی سربراہ رہا۔ ان دنوں 
LUMS
میں علم و ادب کاشت کر رہا ہے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ’’دیوان سعید خان ملتانی‘‘ طبع ہوا تو اس کا انتساب اس نے مجھ بے بضاعت کے نام کیا۔1677ء میں وفات پانے والا سعید خان شاہ جہان اور اورنگزیب کے عہد کا شاعر اور سماجی‘ سیاسی اور ادبی شخصیت تھا۔ اس کی تعمیر کرائی ہوئی مسجد اور اس کا مقبرہ ملتان میں اب بھی اندرون دہلی گیٹ موجود ہیں۔ 
معین کی نظمیں ایک اور جہان میں لے جاتی ہیں۔ اس جہان میں ماضی بھی ہے اور مستقبل بھی۔ ہم انہیں پڑھتے ہیں تو حال میں‘ بیٹھے‘ ماضی اور مستقبل کو اپنے پاس‘ اپنے ساتھ‘ دیکھتے ہیں۔ قارئین کے ساتھ چند نظمیں شیئر کی جاتی ہیں!

نسب نامہ

مرے اجداد کے گرتے ہوئے حجرے کے 
/ محراب خمیدہ میں/
کسی صندل کے صندوقِ تبّرک میں
/ہرن کی کھال پر لکھا ہوا شجرہ بھی رکھا ہے/ 
کہ جس پر لاجوردی دائروں میں
/زعفرانی روشنانی سے/
مرے سارے اقارب کے مقدس نام لکھے ہیں/ 
مگر اک دائرہ ایسا بھی ہے/
جس میں سے لگتا ہے/
کہ کچھ کھرچا گیا ہے/ 
میں انہی کھرچے ہوئے لفظوں کا وارث ہوں

گندمی اداسی

تمہارا جسم/
اس دنیا میں نازل ہونے والے/
سب سے پہلے دانہ گندم کی/
لافانی اداسی ہے/
تمہارے خال و خد کی معتدل اندوہناکی کو/
نظر انداز کر دینا کسی کے بس میں ہوتا/
تو یقینا میں نظر انداز کر دیتا/
تمہارے ٹھہرے ٹھہرے حسن کے آگے/ 
ٹھہر جانا کسی کے بس میں ہوتا/
تو یقینا میں ٹھہر جاتا/
تمہاری گہری جھیلوں جیسی آنکھوں کی خموشی میں
/چمکتے سرخ ڈوروں کے شکنجے سے/
نکل جانا کسی کے بس میں ہوتا/
تو یقینا میں نکل جاتا/
تم ایسی گندمی افسردگی ہو/
جو مسلسل مجھ پہ طاری ہے

دار چینی 
چلو دار چینی کا قہوہ پیئیں/
اور کھٹے ڈکاروں کی باتیں کریں/
اس لیے کہ یہاں تو غباروں کے مانند/
پُھولے ہوئے پیٹ ہیں/
اور کم بخت سارے ہی مردوں کے ہیں
/میں مذاقاً نہیں کہہ رہا ہوں/
کسی خاندانی طبیب معمر سے/
تبخیر معدہ کا نسخہ ہی پوچھو/
بہ شرطیکہ نسخے کے اجزا بھی خالص کہیں سے ملیں تو
!/اگر ہضم کا نظم موزوں نہ ہو/ 
سنا ہے شکم کے بخارات/
دل اور سر کے علاقوں میں/
شب خون بھی مارتے ہیں
/یہ سچ ہے تو/
مال غنیمت کی خورجین میں/
کچھ نہ کچھ لے تو جاتے ہی ہوں گے /
بھلا خالی ہاتھ
/ایسے وحشی کہاں لوٹتے ہیں /
چلو!دار چینی کا قہوہ پیئیں/
جس کی ترکیب/
کل ایک تقریب میں
/ایک چاندی کے گلدان نے خود/
ہمیں لکھ کے دی تھی!

جادو

کسی دنیا کے نقشےپر /
کوئی اچھا بہت اچھا نگر ہے/
جس میں میں ہوں/
اُس بہت اچھے نگر میں/
کوئی اچھا سا بہت اچھا سا گھر ہے/ 
جس میں میں ہوں/
اُس بہت اچھے سے گھر میں/
اک بہت اچھا سا بُت ہے
/ جس میں میں ہوں
/اُس بہت اچھے سے بت کی/ 
سرخ ڈوروں والی آنکھوں میں
/کوئی اچھا سا تِل ہے/
جس میں میں ہوں

قطرہ قطرہ شبنم

زمستاں
/زمستاں کی بارش/
زمستاں کی بارش میں خوشبو/ 
زمستاں کی بارش میں خوشبو تمہاری 
/ خدا جانے یہ شام تم نے/
کہاں اور کیسے گزاری

تمہیں کچھ ہوا تو

تمہیں کچھ ہوا تو…/
مگر بات یہ ہے میرا دل یہ کہتا ہے
/اس کو کبھی کچھ نہ ہو گا
/تمہیں کچھ ہوا تو…/
مگر بات یہ ہے مرا دل کہتا ہے/
تم نے یہ سوچا ہی کیوں ہے/
تمہیں کچھ ہوا تو…/
مگر بات یہ ہے مرا دل یہ کہتا ہے/
آخر اسے کچھ بھی کیوں ہو/
تمہیں کچھ ہوا تو…/
مجھے اپنے دل کی طرف سے اجازت نہیں ہے/
کہ اس سلسلے میں میں کچھ اور سوچوں

موقف

محبت کے بارے میں/
اس ربع مسکوں میں
/جتنے بھی موقف مروج رہے ہیں
/میں ان سب پہ قائم رہا ہوں
/اور اب بھی تہہ دل سے قائم ہوں/ 
لیکن/محبت سے مجھ کو ہمیشہ یہ شکوہ رہا ہے
/کہ وہ دورِ آغاز ہی سے/
مرے سلسلے میں/
کسی خاص موقف پہ قائم نہیں ہے

گائوں

تیسرا دن ہے کہ ہر کھانے میں/
ساگ بنواتا ہوں/
بچے سارے/ 
ماں پہ برہم ہیں کہ کیوں مرا کہا مانتی ہے/ 
اور ادھر یہ ہے کہ/ 
مجھ سے کھانا/
ڈھنگ سے آج بھی کھایا نہ گیا
/یاد آتی ہے بہت ایک حویلی دل کو
/اور وہ تنور/
جو عرصے سے جلایا نہ گیا

فراغت کا خنک موسم

فراغت کے خنک موسم میں/
دل کی نیم تاریخی میں بیٹھا ہوں/
اکیلے پن
کی بے آرام کرسی پر/
میں بے ہنگام جھولے لے رہا ہوں/
اور کئی گھنٹوں سے میں نے اک/ 
شکن آلود بستر کی گواہی اوڑھ رکھی ہے/ 
کتاب عمر کے کچھ باب پڑھ کر/
تھک گیا تھا میں/ 
ابھی وحشت کے قہوے سے/
ذرا تسکین پائی ہے

کھوٹ

حسد کی امربیل کی زرد روئی/
درختِ محبت کے پتوں سے جھلکی/ 
تو حِسنِ رفاقت کے بدلے میں/
بُغض رقابت مرے ریشے ریشے میں اترا/
ذرا دیر کے بعد/
میں نے تہہ دل میں جھانکا/
وہاں کھوٹ ہی کھوٹ پایا

اسلام آباد میں

درختوں کے جوڑوں کی شہوت نے/
جنگل کو کتنا گھنا کر دیا ہے/
نمو کے حوالے سے/
اتنا ہوس ناک سبزہ
/کہیں میں نے دیکھا نہیں ہے/ 
کوئی پتّہ مسلے بنا/
تم کہیں سے گزرنے کے چکر میں ہو تو/
یہاں اس سڑک کے کنارے ہی ٹھہرو/
یہاں تک کہ اک دن/ 
تمہارے بدن سے بھی کچھ کونپلیں پھوٹ ُنکلیں

بیڈ شیٹ

بہت خوبصورت ہے یہ/
اور دیکھو ذرا اس پہ کیا پھول ہی پھول ہیں/ 
مسکرائے ہوئے/
چہچہاتے ہوئے/
خوش نما رنگ ہی رنگ ہیں
/اس نئی چادرِ خواب کو/
میرے بستر کی زینت بنانا/
تمہاری محبت کی خواہش ہے/ 
اور خوش نصیبی ہے میری
/مگر اپنے ہاتھوں/
اسے میرے دل میں بچھا دو/
کہ اس کے لیے دل سے بڑھ کر/
کوئی اور موزوں جگہ پورے گھر میں نہیں ہے!

یہ معین نظامی کی چند مختصر نظمیں تھیں۔ طویل نظموں کا اپنا ذائقہ ہے۔ اس کی شاعری پر ایک طویل مضمون لکھا تھا۔ یہاں اُس مضمون کی آخری چند سطور شیئر کی جا رہی ہیں۔

’’شاعری کی ایک قسم وہ بھی ہے جو لکڑی کے گودے سے بنے ہوئے کاغذ کے ساتھ ساتھ گوشت اور خون سے بنے ہوئے دلوں میں بھی زندہ رہتی ہے۔ وہ لائبریریوں کی گرد آلود شیلفوں ہی میں نہیں‘ سرہانے کے ساتھ رکھی ہوئی مطالعہ کی میزوں پر‘ عاشقوں کی بغل میں‘ معشوقوں کی معطر خواب گاہوں میں تکیوں کے نیچے‘ ریشمی بالوں اور سرخ ہونٹوں کو ملنے والے محبت ناموں میں اگر بتیوں کے دھوئیں سے بھری ہوئی خانقاہوں میں‘ مراقبہ کرنے والے درویشوں کے مختصر سامان میں‘ سیاحوں کے سفری تھیلوں میں اور نسل در نسل بیدار رہنے والی یادداشتوں میں بھی زندہ رہتی ہے۔ معین نظامی کی شاعری اسی قبیل سے ہے۔ یہ زندہ رہے گی۔ 
مطالعہ کی میزوں پر
تکیوں کے نیچے
خانقاہوں کے طاق پر
سفری تھیلوں میں
سرخ ہونٹوں پر 
روشنی دلوں اور بیدار یادداشتوں میں

شادباش اے عشقِ خوش سودائے ما

Saturday, May 19, 2018

تجھے دروازہ بند ہونے کی خبر ملتی ہے اور مجھے کھُلنے کی ……………………………………………………


وزارت عظمیٰ میاں محمد نواز شریف صاحب کے لیے کیا تھی؟ ایک پکنک!یا تفریحی تعطیل!!

آپ کلنٹن یا اوباما کی وہ تصاویر دیکھیے جب وہ صدارتی محل میں داخل ہوئے قابلِ رشک صحت! عرصۂ اقتدار کے بعد کی تصویریں ملاحظہ کیجیے۔ جوانیاں ڈھل گئیں۔ چہروں پر جھریاں پڑ گئیں۔ بال کہیں کھچڑی، کہیں سفید ہو گئے اس لیے کہ حکومت کرنا پھولوں کی سیج پر بیٹھنا نہیں، خاردار جھاڑیوں سے گزرنا ہے۔ صبح سے لے کر آدھی رات تک، ایک اجلاس کی صدارت پھر دوسرے کی، پھر تیسرے کی! پھر غیر ملکی حکمرانوں سے میز پر اپنی ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات۔ پھر ایک ایک فائل کو پڑھنا۔ اس پر فیصلہ لکھنا یا اپنے الفاظ میں لکھوانا! الفاظ کسی معاون کے ہوں تو انہیں پڑھ کر منظوری دینا یا ترمیم کرنا! کانگریس کے ایک ایک بل کو بغور پڑھنا!

آپ بجا طور پر اعتراض کر سکتے ہیں کہ یہ تو امریکی صدر ہے۔ اس کا پاکستانی وزیر اعظم سے موازنہ! وہ تو کرۂ ارض کا بادشاہ ہے! چلیے، مان لیتے ہیں! مودی کی مصروفیات دیکھ لیجیے۔ صبح چار بجے اس کا دن شروع ہوتا ہے۔ وہ ایک ایک فائل خود پڑھتا ہے۔ 2014ء میں مودی امریکہ گیا۔ اس کا چار دن کا پروگرام دیکھیے:

26ستمبر:نیویارک سٹی کے میئر بل ڈی بلاسیو سے ملاقات!

27ستمبر:- نیویارک سٹی کے سابق میئر سے ملاقات۔

:- نائن الیون یادگار پر حاضری۔

:- جنرل اسمبلی کے 69ویں اجلاس سے خطاب۔

:- نیویارک سنٹرل پارک میں عالمی شہریوں کی تقریب سے خطاب۔

:- ممتاز بھارتی نژاد افراد سے ملاقات۔

28ستمبر :- نیویارک کے مشہور زمانہ میڈیسن سکوائر گارڈن کے مقام پر اٹھارہ ہزار افراد سے خطاب۔

:- امریکہ اور کینیڈا کی سکھ برادری سے ملاقات۔

:- یہودی کمیونٹی سے ملاقات۔

:- بھارتی سفیر کی رہائش گاہ پر ڈنر کے دوران ممتاز بھارتیوں سے ملاقات۔

:- جنوبی کیرولینا کی گورنر سکھ نژاد نِکّی ہیلی سے ملاقات۔

29ستمبر :- گیارہ ٹاپ کلاس امریکی کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات۔ ان میں گوگل کا سربراہ پیپسی کمپنی کا سربراہ اور ماسٹر کارڈ کا سربراہ شامل تھا۔

:- چھ چیف ایگزیکٹو کے ساتھ ون ٹو ون، یعنی تنہائی میں ملاقات۔ یہ سربراہ مندرجہ ذیل تھے۔

:- بوئنگ کمپنی کا سربراہ۔

:- بلیک راک کا سربراہ(بلیک راک ایک بہت بڑا سرمایہ کار ادارہ ہے)

:- آئی بی ایم کا سربراہ

:- جنرل الیکٹرک کا سربراہ

:- گولڈ مین کا سربراہ(یہ بھی ایک بڑا بنک اور کمپنی ہے)

:- نیویارک سٹی میں کلنٹن اور بیگم کلنٹن سے ملاقات۔

30ستمبر :-لنکن میموریل اور مارٹن لوتھر کنگ میموریل پر حاضری۔

واشنگٹن میں گاندھی کے مجسمے پر حاضری۔

:- امریکی نائب صدر اور وزیر خارجہ کے ساتھ ظہرانہ۔

:- امریکہ، بھارت بزنس کونسل کے تین سو ارکان کے ساتھ واشنگٹن میں ملاقات۔

:- پارلیمنٹ کے سپیکر کے ساتھ ملاقات۔

:- صدر اوباما کے ساتھ ملاقات۔

میری لینڈ کے گورنر کے ساتھ ملاقات۔

میاں محمد نواز شریف صاحب کے لیے وزارت عظمیٰ کیا تھی! پکنک یا چار برسوں پر محیط لمبی تفریحی تعطیل! اس لیے کہ کام کوئی نہ تھا۔دوپہر مری کے بادلوں میں گزرتی اور شام کو لندن ہوتے۔ کابینہ کی میٹنگ مہینوں نہیں بلائی جاتی تھی۔ سینیٹ میں وہ ایک سال گئے ہی نہیں یہاں تک کہ سینیٹ کو اس ضمن میں قرارداد منظور کرنا پڑی کہ وہ ہفتے میں ایک دن آ کر سوالوں کے جواب دیں۔ اس قرارداد کو وزیر اعظم نے اتنی اہمیت بھی نہ دی جتنی جیب سے نکلے ہوئے استعمال شدہ ٹکٹ کو دی جاتی ہے۔ ای سی سی(اکنامک کوآرڈی نیشن کمیٹی) کے اجلاس کی ایک بار بھی صدارت نہ کی حالانکہ یہ کام ہی وزیر اعظم کا ہے۔ کوئی بریفنگ یا پریزنٹیشن لے ہی نہیں سکتے تھے۔ ٹی وی پر ایک واقف حال بتا رہے تھے کہ جب انہیں کارگل پر بریفنگ دی جا رہی تھی تو یہ سینڈوچ ہاتھ میں لے کر اسے دیکھے جا رہے تھے۔ کسی پریس کانفرنس میں انہوں نے نظام تعلیم زرعی اصلاحات، ٹیکس نیٹ، آبادی کا مسئلہ، درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی، وزارت خارجہ کے مسائل، کسی ایک قومی مسئلہ پر کبھی بھی بات نہیں کی! حالانکہ وزارت خارجہ کا قلم دان بھی اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔ یہ آج جن نان سٹیٹ ایکٹرز کی بات کر رہے ہیں، چار سالہ عہدِ اقتدار میں عسکری نمائندوں کے ساتھ اجلاس کر کے بحث مباحثہ کرتے اور اپنا نکتۂ نظر(اگر کوئی تھا تو) پیش منظر پر لاتے! یہ کسی جرنیل یا کسی غیر ملکی حکمران کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کر ہی نہیں سکتے۔ گفتگو کرنا ان کے لیے ناممکن نہیں تو ازحد مشکل ضرور ہے۔ مطالعہ صفر ہے۔ معروف صحافی حامد میر نے کچھ عرصہ پہلے اپنے کالم میں لکھا کہ سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ انہوں نے خود پڑھا ہی نہیں تھا۔ کہا کہ انہیں تو یہ بتایا گیا ہے! ایک سابق سفیر بتا رہے تھے کہ وہ کچھ عرصہ وزیر اعظم کے دفتر میں تعینات رہے۔ جب بھی فائل لے کر جاتے، وزیر اعظم کہتے کہ اچھا فلاں کو بریف کر دیجئے، فلاں سے بات کر لیجیے۔ یہ فلاں مکمل غیر متعلق شخص ہوتا!

آپ کا کیا خیال ہے کہ نواز شریف بھی بوئنگ یا بی ایم اے یا گوگل کے سربراہ سے ون ٹو ون ملاقات کرنے اور بات چیت کرنے کے اہل ہیں؟ کسی کو اگر میاں صاحب کی امریکہ کے کسی دورے کی روزانہ کے حساب سے مصروفیات کا علم ہوتو اہلِ پاکستان کو ضرور آگاہ کرے۔

2015ء میں جب روسی شہر اُوفا میں کانفرنس ہوئی جس میں مودی اور نواز شریف دونوں شریک ہوئے تو واپسی پر مودی نے چھ وسط ایشیائی ریاستوں کا طوفانی دورہ کیا۔ وہ ایک دارالحکومت سے، منزلوں پر منزلیں مارتا دوسرے، پھر تیسرے پھر چوتھے دارالحکومت میں گیا۔ بات چیت کی۔ معاہدے کیے۔ بھارت کے لیے بے پناہ فوائد حاصل کیے۔ نواز شریف صاحب اوفا سے سیدھے پاکستان پہنچے اور آتے ہی لاہور ایئرپورٹ کی مرمت کے سلسلے میں ایک ’’اہم‘‘ اجلاس کی صدارت بنفس نفیس فرمائی! مودی کو فارسی شاعری کا ذوق ہوتا تو ضرور کہتا ؎

ببین تفاوتِ رہ از کجاست تابہ کجا

تو بستنِ در و من فتحِ باب می شنوم

کہ تمہارے اور میرے راستے کا فرق کتنا واضح ہے۔ تجھے دروازہ بند ہونے کی خبر ملتی ہے اور مجھے کھُلنے کی!!

یہ تو تھی نواز شریف کی ریاست 

اور امورِ ریاست میں دلچسپی! رہی پارٹی کی فکر تو تعجب ہے اُن تجزیہ کاروں پر جو رونا رو رہے ہیں کہ پارٹی نواز شریف صاحب کو بچانے کی فکر میں ہے اور نواز شریف صاحب پارٹی کو توڑنے کے درپے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا 1999ء کی معزولی کے بعد نواز شریف صاحب نے پارٹی کی فکر کی تھی؟ کیا سعودی عرب جانے سے پہلے انہوں نے پارٹی سے مشورہ کیا تھا یا کسی کو اعتماد میں لیا تھا؟ وہ پارٹی کو مصیبت میں اور اپنے ساتھیوں کو جیل میں چھوڑ کر، درجنوں صندوق اور کئی باورچی لے کر ایک آرام دہ متعیشانہ زندگی گزارنے پاکستان سے باہر چلے گئے۔ پیچھے پارٹی پر کیا گزری، سب جانتے ہیں۔ آج ان کی پارٹی پنجاب میں اور شمال کے صوبوں میں برسراقتدار ہے۔ وفاق میں اُن کا ایک تابعِ فرمان وزیر اعظم ہے۔ تمام سرکاری مراعات اور پروٹوکول نواز شریف صاحب اور ان کے افرادِ خانہ کے لیے میسر ہیں مگر چونکہ وہ خود وزارتِ عظمیٰ کے تخت سے اتر گئے ہیں اس لیے دنیا ان کے لیے اندھیر ہو گئی ہے۔ انہیں پارٹی نظر آ رہی ہے نہ ریاست نہ حکومت! پارٹی ان کے لیے صرف اُس وقت تک کارآمد ہے جب تک وہ پارٹی کی وساطت سے اقتدار پر فائز ہیں یا اقتدار ملنے کا واضح امکان موجود ہے۔

اس کالم نگار کا اور اس کے خاندان کا پیپلزپارٹی سے دور کا تعلق بھی نہیں، مگر سچ یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی کی کوٹھری میں بھی ملکی سالمیت کے خلاف کچھ کہا نہ لکھا۔ اگر وہ جیل سے کتاب کا مسودہ باہر بھیج سکتے تھے تو خفیہ راز بھی افشا کر سکتے تھے۔ مگر ایسا نہ کیا! بے نظیر قتل کی گئیں تو آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔ آج زرداری صاحب نے شہید کرنل سہیل عابد کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ نواز شریف صاحب اور ان کی شعلہ بیان اور شعلہ بجان صاحبزادی کو اس کی توفیق نہیں ہوئی۔

اگر ہمیں سنگاپور کا لی کوان پیو اور ملائیشیا کا مہاتیر نہیں مل سکتا تو کوئی ایسا ہی مل جاتا جیسا مودی اپنے وطن کے لیے ملک ملک شہر شہر پھر رہا ہے!!…………

Thursday, May 17, 2018

مہمان کے لیے جان بھی حاضر ہے


مہمان گرامی کے لیے جان بھی حاضر ہے! 
جو مقدور میں ہے اس سے زیادہ کروں گا۔
 سب سے پہلے تو تمام احباب اور اعزہ و اقربا کو رمضان مبارک کا پیغام بھیجوں گا۔ اس نیک مقصد کے لیے وٹس ایپ‘ ٹوئٹر ‘ فیس بک‘ ایس ایم ایس‘ ای میل‘ تمام ممکنہ ذرائع کا استعمال پورا پورا ہو گا۔ اس کے بعد مہینے بھر کی افطاریوں کے لیے ایک گرینڈ ‘ عالی شان‘ بلند معیار‘ خریداری ہو گی مارکیٹ میں موجود تمام فروٹ کیا تازہ اور کیا خشک ہر قسم کی چاٹ کے اجزا‘ کھجور اور زیتون کی تمام اقسام اچار‘ مربے‘ چٹنیاں(ملکی اور برآمد شدہ) خریدی جائیں گی۔ پورا مہینہ رشتہ داروں‘ دوستوں اور دفتری و کاروباری رفقاء کار کو اپنی اپنی باری پر‘ ہر ایک کی حیثیت کے مطابق افطار ڈنر پر دعوت دی جائے گی۔
 ایسا نہیں کہ ان سوشل ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے میں حقوق اللہ سے غافل ہو جائوں گا۔ حاشا کلاّ ! اللہ نہ کرے پورا مہینہ عبادت میں گزارنے کا ارادہ ہے ۔ رات کو باقاعدگی کے ساتھ تراویح میں قیام ہو گا۔ اس کے بعد کچھ نیند۔ پھر تہجد کے لیے اٹھنا ہو گا۔ تہجد اور نماز فجر کے درمیان کا وقت ذکر اور ورد وظیفہ کے لیے نماز فجر کے بعد تلاوت قرآن پاک اور پھر کچھ دیر کے لیے آرام! 
ایسا بھی نہیں کہ میں محلے کی مسجد سے بے اعتنائی برتوں! تراویح پڑھانے والے حافظ صاحب ان کے سامع اور نماز پڑھانے والے مولوی صاحب کی خدمت میں نئے جوڑے پیش کروں گا۔ جس دن مسجد میں ختم قرآن کی تقریب ہو گی‘ اس دن مٹھائی خریدنے کے لیے سب سے زیادہ چندا میں ہی دوں گا! یہ سب کچھ کروں گا۔ استطاعت ہوئی تو اس سے بھی کچھ زیادہ انشاء اللہ! مہمان گرامی کے لیے جان بھی حاضر ہے! مگر دوسری طرف معزز مہمان کی خدمت میں کچھ گزارشات بھی ہیں! اتنا کچھ جو میں محض اور محض‘صرف اور صرف ‘ خالص اللہ کی رضا کے لیے کروں گا تو اس کے بدلے میں کچھ تقاضے بھی ہیں جو مجھے اپنے مکرم و محترم مہمان‘ رمضان المبارک سے کرنے ہیں! وہ یہ کہ مہمان میرے ذاتی‘ خاندانی‘ کاروباری‘ دفتری ‘ صنعتی‘ زرعی‘ تجارتی معاملات میں دخل نہیں دے گا اور عبادت کا یہ مہینہ عبادت تک ہی محدود رہے گا!
 اب میں مہمان کی سہولت کے لیے ان پہلوئوں کی تھوڑی تھوڑی تشریح کروں گا! ذاتی اور خاندانی معاملات سے مراد یہ ہے کہ میں اپنے ماتحتوں اور گاہکوں کے ساتھ کیسا پیش آتا ہوں‘ اس سے رمضان المبارک کو کچھ غرض نہیں ہو گی۔ ایسا نہیں ہو گا کہ میں اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر ناراض رشتہ داروں کو منانے چل پڑوں۔ یہ صلہ رحمی اور قطع رحمی کے مسائل سراسر ذاتی اور خاندانی ہیں! ان سے مہمان کو کچھ تعرض نہیں ہونا چاہیے۔ میں اپنی اولاد کو کیا سکھا رہا ہوں‘ کس نہج پر ڈال رہا ہوں وہ راہِ راست پر ہیں یا نہیں‘ اس ضمن میں میرے فرائض کیا ہیں۔ یہ سراسر ذاتی اور خاندانی مسئلہ ہو گا۔ اگر میں اپنے سسرال جا کر غرور و تکبر کا مظاہرہ کرتا ہوں یا بیوی کو جہیز کم لانے کا اور غریب خاندان سے ہونے کا طعنہ دیتا ہوں تو یہ بھی ذاتی اور خاندانی مسئلہ ہو گا۔ غریب رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتا ہوں یا نہیں‘ صدقات و خیرات دیتے وقت انہیں ترجیح دیتا ہوں یا نہیں‘ اس سے بھی رمضان کے مہینے کو کچھ علاقہ نہیں چاہیے۔ جن رشتہ 
داروں سے میری ناراضگیاں چل رہی ہیں‘ وہ غریب ہونے 
کے باوجود میرے صدقات سے محروم ہی رہیں گے۔ 

کاروباری معاملات سے مراد ہے کہ میں جس ڈھنگ سے کاروبار کر رہا ہوں‘ وہ ویسا ہی رہے گا۔ میں رمضان کے سارے حقوق ادا کروں گا۔ سحری سے لے کر افطاری تک‘ تراویح سے لے کر تہجد تک‘ اشراق سے لے کر چاشت کے نوافل تک‘ مسجد سے لے کر امام مسجد تک۔ مگر مجھ سے رمضان یہ توقع نہ رکھے کہ میں تولوں بھی پورا اور ماپوں بھی پورا۔ ملاوٹ بھی نہ کروں اور ٹیکس چوری سے بھی بچوں۔ میں نے اپنی دکان کے آگے سارے برآمدے پر اور آدھی سڑک پر اپنا مال اسباب رکھا ہوا ہے۔ مجھے آ کر یہ کوئی نہ کہے کہ یہ ناجائز تجاوزات میں شامل ہے اور مجھے اس کارِ حرام سے بچنا چاہیے اور ہاں! روزہ رکھ کر اگر میں مال فروخت کرنے کے لیے اور منافع زیادہ لینے کے لیے دروغ گوئی سے کام لوں اور خراب مال کو اعلیٰ کوالٹی کا کہہ کر بیچوں تو یہ میرا کاروباری معاملہ ہو گا جس سے روزے اور نماز کا کوئی لینا دینا نہ ہو گا۔ خاص طور پر اگر میرے کاروبار میں عروسی ملبوسات کی تیاری بھی شامل ہے تو واضح ہو کہ میں عورتوں کو بے وقوف بنانے کے لیے جو تاریخ بھی بتائوں گا ملبوسات اس تاریخ پر کبھی بھی تیار نہیں ہوں گے۔ انہیں پھیرے پہ پھیرا ڈالنا ہو گا۔ کاروبار کا یہی طریقہ چلا آ رہا ہے۔ اس پر وعدہ خلافی اور جھوٹ کا ٹھپہ لگانے کی کوئی ضرورت نہیں! اغوا برائے تاوان اور کاریں اور موٹر سائیکل چرانے کے کاروبار سے بھی رمضان کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ 
دفتری معاملات یوں ہیں کہ میں دفتر رمضان میں بھی دیر ہی سے پہنچوں گا۔ یہ جو حکومت کا مجھ سے معاہدہ ہے کہ میں آٹھ بجے سے چار بجے تک حاضر رہا کروں گا تو اس معاہدے کی پابندی لازم نہیں! رمضان کے احترام میں میں چھٹی سے ایک دو گھنٹے پہلے ہی دفتر چھوڑ کر گھر آ جایا کروں گا۔ رہے سائل‘ تو اگر میں کسی مصلحت یا دور اندیشی کی بنا پر فائلیں دیر سے نکالتا ہوں یا سائل کے اطمینان کے لیے اس سے کوئی تحفہ یا کچھ نقدی لیتا ہوں تو یہ تو معاشرتی تعلقات اور رسم و رواج کا حصہ ہے‘ اس میں رمضان المبارک کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہو گا۔ کسی قسم کی مداخلت کو اس ضمن میں میں خوش آمدید بھی نہیں کہوں گا۔ اسی طرح اگر میں اپنے سے اوپر والوں کو اپنی کمائی کا کچھ حصہ تحفے میں پیش کرتا ہوں تو یہ بھی خالص دفتری معاملہ ہو گا۔چھٹی لینے کے لیے جھوٹ بولنا اور جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنوانا اور پیش کرنا بھی ایک تکنیکی کارروائی ہے۔ اس کا اس مبارک مہینے میں منقطع کرنے کی بات کرنا ایک غیر منطقی حرکت تصور کی جائے گی۔ 
رہے صنعتی اور زرعی معاملات ! تو کارخانہ چلانے کے لیے بجلی چوری کرنا‘ متعلقہ محکموں کو رشوت پیش کرنا تاکہ وہ قانونی تقاضے پورے کرنے پر اصرار نہ کریں۔ گنا سپلائی کرنے والے کسانوں پر ظلم اور ان کا استحصال‘ ذخیرہ اندوزی‘ چور بازاری‘ ٹیکس سے بچنے کے لیے ہیر پھیر اور پی آر‘ منڈی میں مقابلہ کرنے والوں کے خلاف سازشیں‘ برآمد و درآمد کے سلسلے میں فائلوں کو پہیے لگانا۔ مزارعوں سے بدسلوکی‘ انہیں زمینوں اور رہائشی جھونپڑیوں سے بے دخل کر دینا‘ علاقے پر رعب طاری کرنے کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو مسلسل خوش رکھنا‘ قرضے معاف کرا لینا۔ یہ وہ سارے صنعتی اور زرعی مسائل ہیں جن سے رمضان المبارک مکمل لاتعلق رہے گا!
 گزشتہ ماہ رمضان میں میں نے مسجد کو پانچ لاکھ عطیہ کیے تھے اور ایک مدرسہ کو دس لاکھ۔ مگر مصلحتاً اپنے کاروباری رجسٹروں میں میں نے یہ رقوم بالترتیب تیس لاکھ اور ستر لاکھ لکھی ہیں۔ جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے‘ یہ سراسر کاروباری پیچیدگیاں ہیں۔ ان کا مذہبی معاملات سے کوئی تعلق نہیں!
 ایک احتیاط میں نے یہ کر رکھی ہے کہ علماء کرام کو اپنا طرف دار بنایا ہوا ہے۔ میں ان معزز حضرات کی خوب خوب خدمت کرتا ہوں۔ انہیں سواری کے لیے گاڑیاں پیش کرتا ہوں۔ میرے غریب خانے پر قیام کے دوران ان کے لیے میرے ریفریجریٹر شربتوں‘ کولڈ ڈرنکس پھلوں اور مٹھائیوں سے بھرے رہتے ہیں۔ میں ان کے مدارس کے لیے مسلسل چندہ دیتا ہوں یہی وجہ ہے کہ آپ نے کسی عالم کو کسی وعظ میں یا جمعہ کے کسی خطبہ میں مجھ پر تنقید کرتے نہیں سنا ہو گا۔ ناممکن ہے کہ وہ ٹیکس چوروں اور ناجائز تجاوزات کا جرم کرنے والوں کے خلاف کچھ کہیں‘ آپ اسے تاجر مُلاّ گٹھ جوڑ کا نام دیں تو دے دیں مگر میرے نزدیک یہ ایک سماجی بندھن ہے جس میں ہر دو طبقات محبت کی وجہ سے باہم پیوست ہیں۔ 

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایک بار پھر اس مقدس اور متبرک مہینے کو دیکھنے کا زندگی میں موقع ملا ہے۔ کیا خبر پھر ایسی مبارک گھڑی میّسر آئے نہ آئے۔ یہی تو وہ مہینہ ہے جس کا پہلا عشرہ رحمت‘ دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنّم کی آگ سے رہائی کا علمبردار ہے۔ آہ !کس قدر سیاہ بخت ہیں وہ نابکار جو اس بہتے دریا سے اپنے گناہوں کو نہیں دھوتے‘ رحمت اور مغفرت کے اس سمندر سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ یہ لیجیے‘ عصر کی اذان سنائی دے رہی ہے۔ میں چلاکیوں کے ہمیشہ کوششیں کرتا ہوں تکبیرِ اولیٰ سے محروم نہ رہوں!
  

Tuesday, May 15, 2018

بدبختی کی آخری حد

برصغیر کی تاریخ میں بڑے بڑے حادثے رونما ہوئے۔ نظام سقہ کا بادشاہ بننا اور محمد شاہ رنگیلے کا تخت نشین ہونا بڑے حادثے تھے۔ مگر دنیا کی عظیم اسلامی مملکت پر ایک ایسے شخص کی حکومت جو نیم تعلیم یافتہ تھا، جس نے کبھی کوئی فائل پڑھی نہ کسی فائل پر کچھ لکھا۔ جو کسی اجلاس میں کسی سنجیدہ ریاستی یا حکومتی مسئلے پر کچھ سمجھ سکتا تھا نہ بول سکتا تھا۔ اتنا بڑا حادثہ ہے کہ ماضی کا کوئی حادثہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

اس ملک کے خون سے ایک ایک قطرہ نچوڑ کر یہ شخص بیرون ملک لے گیا۔ اس نے فخر سے کہا کہ میرے بیٹے تو پاکستانی ہی نہیں۔ کیا یہ سب کچھ کم تھا کہ اس نے سلامتی کے حوالے سے ملک کی پیٹھ میں خنجر بھی بھونک دیا؟

مگر اس پر تعجب ہی کیا ہے۔ آثار تو ابتدا ہی سے نظر آ رہے تھے۔ کلبھوشن کے معاملے پر یہ شخص ایک لفظ نہ بولا۔

25 نومبر 2016ء کو بھارتی وزیراعظم نے بٹھنڈہ میں آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کا افتتاح کرتے ہوئے برملا اعلان کیا کہ ہم پاکستان کو پانی نہیں دیں گے۔

پھر جنوری 2017ء میں مودی نے بھارتی پنجاب آ کر اعلان کیا کہ ہم سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹر ٹریٹی) منسوخ کردیں گے (تاکہ پاکستان کو اس کے حصے کا پانی نہ ملے) اتنے کھلے اور واضح پیغام۔ مگر یہ شخص جو پاکستان میں وزیراعظم کے منصب پر فائز تھا، دم سا دھے بیٹھا رہا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ یہاں تک کہ اس کی کابینہ کے کسی رکن نے بھی کچھ نہ کہا۔

بھارت اور بھارتیوں کے ساتھ اس شخص کا قارورہ اس قدر ملتا ہے کہ سرکاری دورے پر، دہلی میں یہ سارے حکومتی اور ریاستی تقاضے بالائے طاق رکھ کر ایک بھارتی صنعتکار کو ملنے چلا گیا اور یہ تو حال ہی کی بات ہے کہ وزارت خارجہ کی مکمل لاعلمی میں بھارتی تاجر کو مری میں تن تنہا ملا اور آج تک نہیں بتا سکا کہ اس خفیہ ملاقات میں کیا طے پایا تھا۔ دنیا کے سینکڑوں ملکوں میں سے بھارت واحد ملک تھا جس کے وزیراعظم نے اس کی نواسی کی شادی میں شرکت کی۔ وہی شادی جس کا نکاح حرم شریف میں پڑھا گیا اور اس کھرب پتی شخص نے بے دردی سے قومی ایئرلائن کے جہازوں کو استعمال کیا جبکہ امریکہ میں مسافر جہاز کے انتظار میں بیٹھے رہے۔

ان کی عقلوں پر اتنے پتھر برس چکے ہیں کہ وہ پارہ پارہ ہو چکی ہیں۔ بیٹی کہہ رہی ہے کہ جو کچھ کہا ہے ملک کے بہترین مفاد میں کہا ہے۔ بھائی کہہ رہا ہے کہ ایسا کہا ہی کچھ نہیں۔ دروغ گو را حافظے نہ باشد۔ چور کے پائوں کہاں۔ بدحواسی کا یہ عالم ہے کہ خاندان کے اندر بھی طے نہیں کر پا رہے کہ کیا کہا ہے اور کیا نہیں کہا اور اب کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا۔

افسوس! مسلم لیگ(ن) غلاموں کے گروہ سے زیادہ کچھ نہیں۔ جب اس شخص نے کوئٹہ میں اعلان کیا کہ اس کا نظریہ وہی ہے جو اچکزئی کا ہے تو غلاموں کے اس گروہ میں کسی نے جھرجھری تک نہ لی۔ ایک چوہدری نثار علی خان نے اس پر اعتراض کیا مگر چھ ماہ بعد اور کل تو ایک ایسے محترم صحافی نے جو اس شخص کا پورا پورا ہمدرد ہے یہ بھی بتا دیا کہ اچکزئی کوئٹہ میں کہہ رہا ہے کہ دیکھا میں نے پنجابی سیاست دان کو پنجابی قوم سے لڑا دیا ہے۔

یہی نہیں کہ پارٹی کے اندر اس کا دست راست وہ شخص ہے جس نے آج تک قائداعظم کا نام نہیں لیا اور پاکستان کی تحریک ہی کا مخالف ہے اورپارٹی کے کناروں پر وہ صحافی اس کا چہیتا ہے جس کی شناخت ہی بھارت نوازی ہے۔ پارٹی کے باہر اس کے دائیں بائیں کون ہیں؟ اچکزئی جس کے افغان ایجنٹ ہونے کے ثبوت انٹرنیٹ پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں اور مولانا فضل الرحمن جنہوں نے بھارت جا کر کہا تھا کہ ایک عدد گول میز کانفرنس بلا کر پاک بھارت سرحد ختم کی جا سکتی ہے۔ یہ ہیں اس شخص کے سیاسی اتحادی۔ اس سے پاکستان کے ساتھ وفاداری کی امید رکھنا ایسے ہی ہے جیسے نیم اور اندرائن پر سیب لگنے کی توقع۔

بھارتیوں کے ساتھ اس شخص کے کس قدر گہرے اور گوڑھے تعلقات ہیں۔ اس کا اندازہ اس انکشاف سے کیا جا سکتا ہے جو بھارتی جنتا پارٹی کے سابق سربراہ نتن گرکری نے عین اس وقت کیا جب یہ شخص تیسری بار وزیراعظم بن رہا تھا۔ یہ مئی 2013ء کا قصہ ہے۔ ناگپور میں معروف بھارتی صحافی ایم جے اکبر کی کتاب کے ہندی ترجمہ کی تقریب رونمائی تھی۔ نتن گرکری نے بتایا کہ 2000ء میں صدر کلنٹن بھارت آئے تو بھارت کے ایک صنعتکار دھیرو بھائی امبانی نے کلنٹن سے ملاقات کی اور درخواست کی کہ کلنٹن جنرل مشرف سے مل کر نوازشریف کی مدد کریں کیونکہ نوازشریف ان کا یعنی امبانی کا دوست ہے۔ اس نے کلنٹن سے یہ بھی کہا کہ ’’نوازشریف ایسے ہی ہیں جیسے ان کے ہم وطن کیونکہ بھارت اور پاکستان تقسیم سے پہلے ایک ہی ملک تھا۔‘‘

کلنٹن پاکستان آئے۔ مشرف سے بات کی۔ نتن گرکری کا بیان ہے کہ کلنٹن نے پھر دھیروبھائی امبانی کو بتایا بھی۔

یہ ہے وہ فلسفہ جس کے تحت بھارتی اس شخص کے ساتھ ہیں اور یہ شخص ملک کی سلامتی سے کھیل کر بھارت کے حق میں بیان دے رہا ہے۔ فلسفہ کیا ہے؟ یہ کہ ہم ایک ہیں۔ تقسیم سے پہلے ہم ایک ہی تھے۔ اسی فلسفہ کے تحت اس شخص نے بھارت جا کر کہا تھا کہ ہم بھی آلو گوشت کھاتے ہیں اور آپ بھی۔ یعنی فرق ہی کیا ہے۔

اس نیم تعلیم یافتہ شخص نے اگر کوئی کتاب پڑھی ہوتی تو اسے معلوم ہوتا کہ قائداعظم نے ایک نہیں کئی بار زور ہی اس حقیقت پر دیا تھا کہ ہندوئوں اور مسلمانوں کا لباس، خوراک، ہر چیز الگ الگ جدا جدا ہے۔ اگر کچھ پڑھا ہوتا تو جانتا کہ تقسیم سے پہلے ریلوے اسٹیشنوں پر ’’ہندوپانی‘‘ الگ دیا جاتا اور ’’مسلمان پانی‘‘ الگ۔

اگر تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص کو یہ بھی نہیں معلوم کہ پاکستان بننے کی اور برصغیر کے بٹوارے کی وجہ کیا تھی تو اسے بدقسمتی اور بدبختی کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے۔

یہی شخص تو ہے جس نے آزادکشمیر کے جلسہ عام میں کہا تھا کہ کشمیریوں پر بھارتیوں نے اتنے ظلم نہیں کئے جتنے پاکستانی فوج نے کئے ہیں اور یہ بھی تو بھارتی سفیر نے ایک پاکستانی ہی سے کہا تھا کہ 

We are pleasantly surprised that mian sahib did not mention Indian army in his campaign.

’’کہ ہمیں خوشگوار حیرت ہوئی ہے اس بات پر کہ میاں صاحب نے اپنی مہم میں بھارتی فوج کا ذکر نہیں کیا۔‘‘

حب وطن کے لیے اولین شرط غیرت نفس کی ہے۔ جس میں غیرت نفس ہی نہیں، وہ حب الوطنی کہاں سے لے؟ کیا میر جعفر اور میر صادق کو عزت نفس کی دولت ملی تھی؟ غیرت  نفس ہوتی تو جس اخبار نے یہ لکھا کہ روایت ہے کہ بی اے کا امتحان اس شخص کے لیے کسی اور نے دیا تو اس اخبار پر مقدمہ دائر کرتا کہ اس نے میری عزت پر ہاتھ ڈالا۔ عزت نفس ہوتی تو ایک معروف صحافی کا یہ بیان کیا یہ شخص ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلیتا کہ ’’شریف برادران کے اہم پیام بر نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو اپنے منصب سے استعفیٰ کے عوض صدر پاکستان منتخب کرانے کی پیشکش کی اور اس مقصد کے لیے معتبر ضمانتوں کے علاوہ خانہ کعبہ میں حجر اسود پر ہاتھ رکھ کر حلف کی یقین دہانی کرائی۔‘‘

یہ اس دکاندار خاندان کا وتیرہ ہے۔ کبھی حجر اسود پر حلف اور کبھی کلام پاک کی قسم۔ چوہدری شجاعت حسین اپنی کتاب میں ایک اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ چھوٹا بھائی بار بار قرآن پر قسم اٹھانے کا کہتاتھا۔

افسوس! مسلم لیگ ن کے گروہ میں کوئی رجل رشید نہیں جو اس خاندان کی غلامی سے باہر نکلنے کی کوشش کرے۔ شاہد خاقان عباسی جو امریکہ کی یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے ہیں، چند روز کی وزارت عظمیٰ کی خاطر اپنے آپ کو ایک بے بضاعت اور حکم کا غلام شخص بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کا یہ گول مول بیان کہ نوازشریف نے بیان کی تردید کی ہے اور یہ کہ طویل انٹرویو میں صرف تین سطروں کو اچھالا گیا، عذر گناہ بدتراز گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ کیا وزیراعظم اتنا بھی نہیں سوچ سکتے کہ اس قسم کی تشریح پڑھ کر لوگ ہنسیں گے؟

مگر جب آنکھوں پر اقتدار کے لالچ کی پٹی بندھ جائے تو انسان کچھ بھی کہہ سکتا ہے، کچھ بھی کرسکتا ہے۔



 

powered by worldwanders.com