Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Tuesday, January 30, 2024

میں آٹھ فروری کا دن کیسے گزاروں گا ؟

الیکشن کی گہما گہمی ہے! شور و غوغاہے۔ ہنگامہ ہے! سڑکیں‘ راستے‘ گلیاں‘ کوچے‘ بینروں سے اَٹ گئے ہیں! بینروں پر تصویریں ہیں! کچھ چہرے نئے ہیں! کچھ جانے پہچانے ہیں! چہروں کے ساتھ دعوے ہیں اور وعدے ! وہی دعوے اور وہی وعدے جو ہر بار سنائی دیتے ہیں!
مگر مجھے 2018ء کا الیکشن یاد آرہا ہے جب میں نے اڑتالیس سال کے بعد پہلی بار ووٹ ڈالا تھا۔کتنا پُر جوش تھا میں! کتنا 

Excited 

تھا! میں اور بیگم دونوں مقررہ وقت سے بہت پہلے پولنگ سٹیشن پہنچ گئے تھے۔ لوگ باگ کھڑے تھے! جس سے بھی پوچھتے کہ کس کو ووٹ دینا ہے‘ وہ ہمارا ہی ہمنوا نکلتا ! چہروں پر چمک تھی! دلوں میں اطمینان تھا! جذبہ تھا۔ سامنے روشنی نظر آرہی تھی! ستّر برسوں کے بعد امید ہمارے سامنے جیتے جاگتے وجود میں کھڑی تھی! ہم عمران خان کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتے تھے۔ اس کے پاس پروگرام تھا۔ پلاننگ تھی! ہمارے دل اس کی آواز کے ساتھ دھڑکتے تھے! 
اُس نے اُن سیاستدانوں‘ اُن حکمرانوں کو ہمارے سامنے بے نقاب کر دیا تھا جو کئی دہائیوں سے ہمیں اُلو بنا رہے تھے! یہ سب اپنے اپنے خاندان کے لیے کام کر رہے تھے۔ کوئی بیٹی کو جانشین بنانا چاہتا تھا۔ کوئی بیٹے کو تخت پر بٹھانا چاہتا تھا! کسی کو توشہ خانے سے گاڑی درکار تھی! کوئی مشرقِ وسطیٰ کے تحائف پر نظر رکھتا تھا! یہ عمران خان تھا جس نے وعدہ کیا کہ اس کا کوئی ذاتی مفاد نہ تھا! ہم نے اسے ووٹ دیے اس لیے کہ جو وعدے اور جو دعوے اس نے کیے تھے ‘ ان کے بعد اسے ووٹ نہ دینا ملک دشمنی کے مترادف تھا! ہمیں یقین تھا کہ وہ عوام سے ہے اور عوام ہی کا رہے گا! اس نے ہمیں برطانیہ‘ امریکہ ‘ ناروے اور ڈنمارک کے حکمرانوں کی مثالیں دی تھیں! ہمیں یقین تھا کہ وہ ایک ایک پائی کا خیال رکھے گا۔ ہم اسے بازار میں بھی دیکھیں گے اور پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی! کیونکہ برطانیہ‘ ڈنمارک اور ناروے‘ سویڈن کے حکمران ایسے ہی ہوتے ہیں! اس نے کہا تھا کہ وہ ہر کام میرٹ پر کرے گا۔پولیس سیاسی مداخلت سے آزاد ہو جائے گی! کچہریوں میں رشوت کا خاتمہ ہو جائے گا۔یہ ملک سنگاپور اور جنوبی کوریا کی طرح اوپر اُٹھے گا اور دنیا حیران ہو گی! سبز پاسپورٹ کی رینکنگ بلند ہو جائے گی۔ روپے کی قدر ہمیں دنیا میں باعزت بنائے گی!
عمران خان آج بھی میرا ہیرو ہے! کون سا عمران خان؟ اگست 2018ء سے پہلے والا عمران خان! میں اُسے ڈھونڈ رہا ہوں! ہاتھ میں چراغ لے کر اسے ڈھونڈ رہا ہوں! شہر شہر! قریہ قریہ! گلی گلی!! میں نے گزشتہ53 برسوں میں سوائے عمران خان کے کسی کو ووٹ نہیں دیا! میں نے نصف صدی میں پہلی بار ووٹ ڈالا تھا! میں آج بھی کسی اور کو ووٹ نہیں دوں گا۔ مگر کیا میں اُسے بھی ووٹ دوں گا ؟ ہاں! میں آج بھی اسی کو ووٹ دینا چاہتا ہوں! مگر یہ پرچھائیاں‘ یہ ہیولے‘ یہ سائے کیا ہیں جو میرے سامنے آ رہے ہیں! کیا یہ بھوت ہیں ؟ کیا یہ جنات ہیں؟ کیا یہ چڑیلیں ہیں؟ کیا میں آسیب زدہ ہو گیا ہوں؟ دائیں طرف دیکھتا ہوں تو بزدار نظر آتا ہے! قہقہے لگاتا ہوا! کرسی پر بیٹھا ہوا! ٹانگ پر ٹانگ رکھے! میں اس سے پوچھتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے خان کہاں ہے؟ کیا تم اس سے ملاقات کرنے جیل میں گئے؟ کیا تم نے جا کر اُس سے پوچھا کیا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے ؟تمہیں کوئی جانتا نہ تھا! خان کی وجہ سے تم پوری دنیا میں جانے گئے اور تم اسے ملنے کے لیے ایک بار بھی نہ گئے! بزدار میرے کسی سوال کا جواب نہیں دیتا! وہ میری طرف دیکھ کر قہقہہ لگاتا ہے ! میں اسے پکڑنے کی کوشش کرتا ہوں مگر وہ غائب ہو جاتا ہے!! 
میں بائیں طرف دیکھتا ہوں تو مجھے گجر نظر آتا ہے۔ وہ ایک جہازی سائز کی گاڑی سے اُتر رہا ہے۔ مجھ پر اس کی نظر پڑتی ہے تو قہقہہ لگاتا ہے۔ بالکل ویسا ہی غصہ دلانے والا قہقہہ جو بزدار نے لگایا تھا۔ میں گجر سے پوچھتا ہوں تم کہاں ہو؟ ملک کیوں چھوڑ کر چلے گئے؟ کیا تمہیں معلوم ہے خان مشکل میں ہے؟ وہ زندان میں ہے؟ کیا تم اس کے پاس گئے؟ کیا تمہیں معلوم ہے خان نے وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی تمہاری بیگم کا دفاع کیا تھا؟ تم واپس آکر اس کی رہائی کے لیے جدو جہد کیوں نہیں کرتے؟ کیا تم پر اس کے احسانات نہیں؟ گجر ایک عجیب و غریب قہقہہ لگاتا ہے اور اِٹھلاتا ہوا‘ اِتراتا ہوا ‘ ایک طرف کو چل پڑتا ہے۔ میں اس کے پیچھے بھاگتا ہوں! پکڑنے لگتا ہوں تو وہ غائب ہو جاتا ہے!
ایک پاٹ دار قہقہہ اپنے پیچھے سنائی دیتا ہے! مُڑ کر دیکھتا ہوں تو زلفی بخاری نظر آتے ہیں۔ مجھے دیکھ کر مسکراتے ہیں! میں غضبناک ہو کر مخاطب ہوتا ہوں ! شاہ صاحب ! آپ تو سیّد بادشاہ ہیں! آپ بھی خان کو مشکل میں دیکھ کر بھاگ گئے؟ کیا آپ بھی صرف چُوری کھانے والے مجنوں تھے؟ آپ کو اقتدار کی جن بلندیوں پر خان نے پہنچایا‘ آپ ان کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے! مگر جیسے ہی خان پر ابتلا کا دور آیا آپ برطانیہ چلے گئے ! کیا کوئی اتنی بے وفائی ‘ اتنی بے اعتنائی بھی کر سکتا ہے؟ خان بھی تو ملک چھوڑ کر جا سکتا تھا! وہ نہیں گیا تو آپ اسے چھوڑ کر کیوں چلے گئے ؟ بخاری صاحب! واپس آئیے! خان کو اس کڑے وقت میں آپ کی ضرورت ہے! اس کے لیے‘ پارٹی کے لیے‘ عوام کے لیے‘ ملک کے لیے‘ قوم کے لیے قربانی دینے کا وقت ہے! بخاری صاحب ایک فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہیں! میں غصے سے ان کی طرف دیکھتا ہوں مگر وہ تو جیسے کبھی اس جگہ تھے ہی نہیں!! 
یہ میں کس کیفیت میں ہوں؟ کہاں ہوں؟ وقت کون سا ہے! کیا یہ 2018ء ہے؟ یا کوئی اور زمانہ ہے؟ اچانک میری نگاہوں کے سامنے توشہ خانے کی بلڈنگ پھرنے لگتی ہے! پھر مجھے عمران خان دکھائی دیتا ہے! میں اسے دیکھ کر روہانسا ہو جاتا ہوں! اس کا دامن پکڑ لیتا ہوں اور چیخ چیخ کر کہتا ہوں خان! یہ تم نے کیا کیا؟ تمہیں معلوم تھا گزشتہ حکمرانوں نے توشہ خانے میں منہ مارا تھا۔ تم نے اس سے اعراض کیوں نہ برتا؟ تم نے توشہ خانے کو اور اس کے مال اموال کو پاؤں کی ٹھوکر پر کیوں نہ رکھا؟ تمہارے پاس تو سب کچھ تھا! تم نے دنیا کے سارے مزے چکھے ہوئے تھے! تم پوری دنیا کے ہیرو رہے! تم نے توشہ خانے سے مکمل لاتعلقی کیوں نہ اختیار کی؟ تم کہتے ہو تم نے غلط کام کوئی نہیں کیا۔ مگر تم نے اس گند‘ اس غلاظت میں اپنے ہاتھ ڈالے ہی کیوں؟ تم اس سارے معاملے‘ اس سارے کاروبار سے بے نیاز کیوں نہ ہوئے؟ تم نے اپنے اوپر چھینٹے پڑنے ہی کیوں دیے؟ پھر پتہ نہیں کیا ہوتا ہے۔ توشہ خانے کی بلڈنگ غائب ہو جاتی ہے!
میں آٹھ فروری کو گھر سے باہر نہیں نکلوں گا! میں سیاہ لباس پہن کر‘ اُس دن اپنی آرزوؤں کا سوگ مناؤں گا! اپنے مرحوم خوابوں پر نوحے پڑھوں گا! میں اُن وعدوں اور اُن دعووں کا ماتم کروں گا جو خان نے اگست 2018ء سے پہلے کیے تھے! میں اپنے تار تار ووٹ کے پُرزے ڈھونڈ کر اسے پھر سے جوڑنے کی کوشش کروں گا اور ناکام رہوں گا!

Monday, January 29, 2024

سوچ سطحی ! احساس ِکمتری شدید !!


کتابیں ہر روز ہی موصول ہوتی ہیں۔ عام ڈاک سے بھی‘ کوریئر سے بھی! اس پیکٹ کو بھی میں کتاب ہی سمجھا۔ جِلد کافی مضبوط لگ رہی تھی۔ ہاں کتاب شاید پتلی سی تھی! کھولا تو یہ ایک شادی کا دعوتی کارڈ تھا!دو موٹے گتّوں کے اندر دعوت نامہ تھا۔یہ نہایت قیمتی ‘ کتاب نما‘ دعوت نامہ ایک لفافے میں بند تھا۔ لفافے کے منہ پر دو ڈوریاں لگی تھیں جن سے لفافہ ایک بیگ کی شکل اختیار کر گیا تھا جسے ڈوریوں کی مدد سے پکڑا یا لٹکایا جا سکتا تھا!
مجھے اس سے ‘ فی الحال‘ غرض نہیں کہ اس دعوت نامے پر لاگت کتنی آئی! چلیے ‘ ہم یوں کہہ لیتے ہیں کہ شادی پر جہاں بہت سے دیگر‘ جائز‘ ناجا ئز ‘ اخراجات آئے اور خواتین کھل کھیلیں‘ وہاں ایک مہنگا آئٹم دعوتی کارڈ بھی سہی! عام طور پر ہماری خواتین ‘ مردوں کے اعتراض کا جواب یہ دیتی ہیں کہ خوشی کا موقع ہے ‘ اور خوشی کے مواقع روز روز کہاں آتے ہیں! مہنگے دعوتی کارڈ کا بھی یہی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ اور بات کہ بہت سے لوگ اب کارڈ چھپواتے ہی نہیں! دیدہ زیب ڈیزائن بنواتے ہیں اور پھر اسے وٹس ایپ کے ذریعے بھیج دیتے ہیں! کبھی کبھی کچھ دوست یا عزیز فون کر کے گھر کا پتا پوچھتے ہیں کہ دعوت نامہ بھیجنا ہے۔ میں انہیں سختی سے منع کر دیتا ہوں اور عرض کرتا ہوں کہ وٹس ایپ پر جگہ‘ تاریخ اور وقت بتا دیجیے۔ مقصد اطلاع بھیجنا یا اطلاع وصول کرنا ہے! امید کرنی چاہیے کہ جس طرح سوشل میڈیا نے عید کارڈ کا رواج ختم کر دیا ہے‘ شادیوں کے دعوتی کارڈ چھپوانے کا سلسلہ بھی جلد ہی اپنے انجام کو پہنچے گا!

مگر مسئلہ تب پیدا ہؤا  جب کارڈ کو پڑھا! یہ انگریزی زبان میں تھا! کارڈ بھیجنے والے قریبی عزیز تھے۔ جب بھی ملتے‘ شستہ اور رواں اُردو میں بات کرتے! مجھے یقین ہے کہ انہوں نے انگریزی میں لکھا ہوا یہ کارڈ جس جس کو بھی بھیجا‘ اس سے بات انگریزی میں کبھی نہ کی ہو گی! اگر شادی کی اطلاع فون پر دیتے تو اُردو میں اطلاع دیتے! تو پھر انہوں نے کارڈ انگریزی میں کیوں لکھوایا؟ جن صاحب کی بات کر رہا ہوں ان سے تو نہیں پوچھ سکتا کہ خاندانی حساسیت اور نزاکتوں کا معاملہ ہے! مگر اکثر احباب سے پوچھتا ہوں! دو جواب ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ بچوں کا اصرار تھا کہ کارڈ انگریزی میں چھپیں! کوئی پوچھے کہ بچے آپ کے اپنے نہیں؟ آپ نے ان کی کیسی تربیت کی کہ وہ شادی کے دعوتی کارڈ بھی اُردو میں چھپوانا نہیں پسند کرتے؟ شرم کا مقام تو آپ کے لیے ہے! دوسرا جواب یہ ہوتا ہے کہ '' صاحب ! کیا کریں! رواج ہی یہی ہے !‘‘ اب کون کہے کہ خدا نے تو آپ کو آزاد پیدا کیا تھا! رواج نے آپ کے پاؤں میں زنجیر اور آپ کی ناک میں غلامی کی نکیل کب ڈالی؟ افسوس ہے آپ کی غلامانہ بے بسی اور بے کسی پر ! اور رحم آتا ہے آپ کی ابلہی اور سبک مغزی پر!!!
آپ اگر یہ شادی لندن یا نیویارک میں کر رہے ہیں اور متوقع مہمانوں میں انگریز یا امریکی شامل ہیں تو کارڈ انگریزی میں چھپوانے کی منطق سمجھ میں آتی ہے مگر تقریب آپ پاکستان میں کر رہے ہیں۔تقریب کے دوران آپ انگریزی نہیں بولیں گے! شادی ہال والوں سے بھی انگریزی میں بات نہیں کی مگر کارڈ انگریزی میں !! واہ! جناب ! واہ!
یہ احساسِ کمتری کب ہماری جان چھوڑے گا؟ حکومت سے شکوہ ہے کہ اُردو نافذ نہیں کرتی ! سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنے دائرۂ کار میں اردو نافذ کی ہے؟ کیا ہم شادی کے دعوتی کارڈ اُردو میں چھپوا رہے ہیں؟ کیا ہم چَیک اُردو میں لکھتے ہیں؟ کیا ہم پارسل پر اپنا اور دوسرے کا پتا اُردو میں لکھتے ہیں؟ کیا ہمارے گھر اور دفتر کے باہر ہمارا نام اُردو میں لکھا ہے؟ کیا ہماری دکان کے اوپر لگا ہوا بورڈ اُردو میں ہے؟ کیا ہم اپنا بزنس
( visiting ) 
کارڈ اُردو میں چھپواتے ہیں؟ اگر انگریزی میں ہے تو ساتھ اُردو میں کیوں نہیں؟ کیا ہماری دکان‘ یا کاروبار کی رسید‘ اُردو میں چھپی ہوئی ہے؟ کیا ہم سوشل میڈیا پر اُردو کو ذریعہ اظہار بنائے ہوئے ہیں؟ ہماری تو یہ حالت ہے کہ اُردو کو انگریزی حروف تہجی میں لکھتے ہیں اور پھر فخر سے اسے رومن اُردو کا نام دیتے ہیں! ڈوب مرنے کا مقام ہے! شلوار قمیض پر نکٹائی لگانے والی بات ہے! اُردو کی بورڈ عام ہے۔ یہ فقط دماغ کی کج روی ہے جو اُردو کو انگریزی حروف میں لکھوا رہی ہے! اُن بزرجمہروں پر تو حیرت کے ساتھ ساتھ رحم بھی آتا ہے جو کالم کے نیچے کمنٹ میں کالم نگاروں کو گالی بھی رومن اُردو میں دیتے ہیں اور تہمت بھی رومن اُردو میں! یعنی بُرا کام کرنا بھی ہے اور کرنا بھی بُرے انداز میں ہے! اگر آپ اُردو کی بورڈ استعمال کرنا جانتے نہیں تو یا تو آپ نالائق‘ غبی اور نا اہل ہیں یا آپ محض سبزی ہیں! ایسی سبزی جو سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہے!

ہمارے ادارے  اردو سے کیوں شرماتے ہیں؟ پی ٹی سی ایل کا ادارہ فون کا بل اُردو میں کیوں نہیں جاری کرتا؟ بجلی اور گیس کے بل انگریزی میں جاری کرنے کی کیا منطق ہے؟ سٹیٹ بینک‘ کمر شل بینکوں کو کیوں نہیں ہدایت جاری کر رہا کہ چیک بُک اُردو میں چھپوائیں؟ ریلوے اور ہوائی جہازوں کے ٹکٹ اُردو میں کیوں نہیں ہیں؟ یہاں بھاری اکثریت اُردو بھی نہیں پڑھ سکتی! آپ انگریزی کے گھوڑے سے اُترنے کا نام نہیں لے رہے!! کیوں؟ نرم ترین الفاظ میں بھی اسے بے حسی ہی کہا جا سکتا ہے!
اور یہ دلیل کتنی بودی ہے کہ انگریزی بین الاقوامی زبان ہے! اب انگریزی پڑھے بغیر گزارہ نہیں! ہم دنیا سے کٹ جائیں گے! چلیے ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ انگریزی واقعی بین الاقوامی زبان ہے! انگریزی پڑھے اور جانے بغیر گزارہ نہیں۔ مگر پاکستان کے اندر انگریزی کیوں لازم ہے؟ آپ امام دین کو انگریزی میں بِل کیوں بھیج رہے ہیں؟ آپ اگر بینکار ہیں تو آپ کے گاہکوں کی اکثریت انگریزی سے ناآشنا ہے۔ آپ چیک بُک اور دیگر کئی اقسام کے فارم انگریزی میں چھاپ کر کیوں ان کے سر پر تھوپ رہے ہیں؟ یہ سب کام وہ ہیں جن کے لیے حکومت کی منظوری لازم نہیں! اگر ہم خود اپنے اپنے دائرے میں اُردو کے ساتھ سوتیلا سلوک کر رہے ہیں تو حکومت سے شکوہ کیسے کر سکتے ہیں؟
اس پرانی تقریر کو بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں اور زندہ قومیں اپنی زبان ہی کو ذریعہ اظہار بناتی ہیں! بھائی! مسئلہ ضرورت کا ہے اور کامن سینس کا ! ایک شخص انگریزی پڑھ ہی نہیں سکتا ‘ آپ اسے وہ دستاویز‘ یا بِل‘ انگریزی میں مہیا کر رہے ہیں جو اس کے لیے ضروری بھی ہے ! آپ کی اُس سے آخرکیا دشمنی ہے؟ میرے ننھیالی گاؤں کا ایک آدمی نوکری کرنے کسی شہر چلا گیا۔ کچھ عرصہ بعد واپس آیا تو '' لُون ‘‘ کو نمک کہنے لگا! یہ وہ زمانہ تھا جب گاؤں میں سکول تھا نہ اخبار نہ فون نہ ٹی وی ! ماں کے فرشتوں کو بھی ''نمک‘‘کا پتا نہ تھا۔ اس سادہ لوح عورت نے میرے نانا جان سے شکایت کہ کہ میرا پتر تو اپنی زبان ہی بھول گیا ہے! نانا جان نے اس '' نو دولتیے‘‘ کو کہا کہ بے وقوف شخص! تیس سال تم گا ؤں میں رہے ہو اور ایک سال شہر میں اور گاؤں کی زبان بھول گئے ہو! یہ نخرے بند کرو!! ہمارے بھی یہ سارے نخرے ہیں! سوچ سطحی! شان و شوکت جھوٹی ! احساس کمتری شدید !
اے ارضِ سیہ روز! کوئی اور ہی سورج!
شاید کہ بدل جائیں یہ ایام ہمارے

Tuesday, January 23, 2024

تلخ نوائی ………آپا زہرا

تین دن قیام کرنے کے بعد‘ واپس آتے ہوئے‘ نوجوان ڈاکٹر سے الوداعی کلمات کہے تو ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ وہ بھی رونے لگا اور میں بھی!
اُس کی والدہ‘ اُسے چھوڑ کر اگلی منزل کی جانب روانہ ہو گئی تھیں! میں نے اُسے کہا کہ اب اُسے محتاط اور ہوشیار رہنا ہو گا کیونکہ جو حفاظتی حصار اس کے ارد گرد تھا‘ وہ اُٹھ گیا ہے اور یہ کہ اب 
He is on his own
۔ روایت ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نہ رہیں تو انہیں وارننگ دی گئی کہ اب ذرا سنبھل کر کہ معاملات پہلے جیسے نہیں! اب پشت پر ماں کی دعائیں نہیں رہیں!
ماں باپ کی قدر جیتے جی کم ہی ہوتی ہے! اس لیے کہ ہمارے پاس اُس زندگی کا تصور نہیں ہوتا جو اُن کے بغیر ہو سکتی ہے۔ وہ ہماری زندگی کا‘ ہماری ذات کا‘ ہمارے وجود کا ‘ یا ہم ان کے وجود کا حصہ ہوتے ہیں! ہم انہیں 
Taken for granted
 لیتے ہیں! بالکل اسی طرح جیسے ہم ہاتھوں یا آنکھوں کے بغیر اپنی زندگی کا تصور نہیں کر سکتے! ہاتھوں کی معذوری یا آنکھوں کی بے نوری کا احساس اسی کو ہوتا ہے جس سے یہ چیزیں چھِن جائیں! ہم آئے دن فقیروں کی صدا سنتے ہیں ''آنکھوں والو! آنکھیں بڑی نعمت ہیں‘‘ مگر کبھی اس جملے کی گہرائی پر غور نہیں کرتے! کر بھی نہیں سکتے! یہ تو تجربے کا معاملہ ہے! آنکھوں‘ ہاتھوں اور دیگر اعضائے بدن کی طرح ماں باپ بھی نعمت ہیں مگر ہم ادراک نہیں کر سکتے! ماں نعمت کے علاوہ ایک معجزہ بھی ہے! غور کیجیے! ہم تو بنتے ہی ماں کے پیٹ میں ہیں! وہیں ڈھلتے ہیں! وہیں صورت پذیر ہوتے ہیں! کوئی کسی بے سہارا کو چند دن بھی اپنے گھر میں رکھے تو وہ تا دمِ مرگ اس کا احسان مند رہتا ہے! اور ماں ہمیں اپنے گھر میں نہیں‘ اپنے کمرے میں نہیں‘ اپنے اندر‘ اپنے وجود کے اندر رکھتی ہے! کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی پناہ دے سکتا ہے! فرض کیجیے یہ بات آپ زندگی میں پہلی بار سن رہے ہیں! تو کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں؟ اور چند دن نہیں‘ چند ہفتے نہیں‘ نو ماہ اپنے اندر رکھتی ہے! دنیا کا کوئی مرد اُن تکالیف کا احساس نہیں کر سکتا جن کا ماں ان نو ماہ کے دوران سامنا کرتی ہے!وہ اپنی خوراک‘ اپنے پانی‘ اپنے خون‘ اپنی توانائی‘ اپنی سانسوں کا ایک حصہ اس بے سہارا‘ انسان کو دیتی ہے جس کی پوری دنیا میں ماں کے پیٹ کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں! ماں کے چہرے پر داغ پڑ جاتے ہیں! اس کا حُسن مرجھا جاتا ہے! کبھی وہ قے کرتی ہے کبھی اسے غش پڑتا ہے! کبھی وہ کچھ کھا نہیں سکتی! اس تکلیف کا تو بیان بھی انسان کے بس کی بات نہیں! اس تکلیف کو خدا ہی بیان کر سکتا تھا! یہ جو فرمایا گیا ہے ''وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ یعنی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر پیٹ میں رکھا تو عجیب ہی جامع اظہار ہے! کمزوری پر کمزوری! ہر روز‘ ہر ہفتے‘ ہر ماہ بڑھتی ہوئی کمزوری! علامہ اسد نے ''وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ‘‘ کا ترجمہ 
Strain upon strain 
کیا ہے! پھر جنم دینے کے بعد وہ اپنے خون کو دودھ بنا کر پلاتی ہے۔ فیضی کے اس شعر نے جو اس نے ماں کی وفات پر کہا تھا‘ مجھے مدتوں نڈھال رکھا :
خون کہ از مہرِ تُو شد شیر و بطفلی خوردم
باز خون گشتہ و از دیدہ برون می آید
تیری محبت سے جو خون دودھ بن گیا تھا اور میں نے بچپن میں پیا تھا‘ اب وہ دوبارہ خون بن کر میری آنکھوں سے باہر آرہا ہے!
اب یہ بے یار و مدد گار انسان ماں کے لیے ایک اور امتحان ہے! ہِل سکتا ہے نہ اُٹھ بیٹھ سکتا ہے! نہ بول ہی سکتا ہے! نہ بول و براز کا کوئی وقت مقرر ہے! ( اب تو ڈائپر آگئے ہیں! ہماری ماؤں نے‘ اور میری بیوی نے بھی‘ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر پوتڑے دھوئے تھے۔ یہ سہولت تو اب ہماری بیٹیوں اور بہوؤں کے دور میں آئی ہے!) جو ماں کے سامنے اکڑے‘ اُس تِیرہ بخت کو یاد کرنا چاہیے کہ وہ نو ماہ کس پوز اور کس پوزیشن میں کہاں پڑا رہا اور پیدائش کے بعد اس کی کیا حالت تھی!
آپا زہرہ سے میرا تعلق تقریباً بیس برس قبل قائم ہوا جب انہوں نے اپنے ڈاکٹر فرزند کے لیے میری بڑی بیٹی کا رشتہ لیا! وہ ایک عام عورت نہ تھیں! انہیں دیکھ کر‘ اُن کے پاس بیٹھ کر اور ان سے معاملات طے کر کے معلوم ہوتا تھا کہ خاندانی بیبیاں کیسی ہوتی ہیں! اعوان تھیں! شخصیت میں رعب تھا اور دبدبہ! قوتِ فیصلہ میں کئی مردوں سے آگے تھیں! میں وہ منظر نہیں بھول سکتا جب تقریب کے اختتام پر رخصتی کا وقت آیا تو میری بیٹی کے سر اور کندھوں پر پہلے انہوں نے چادر ڈالی! کبھی ایسا نہ ہوا کہ ہم گئے ہوں اور آتے ہوئے ہمارے ڈرائیور کو انہوں نے اچھی خاصی رقم نہ دی ہو! نصف درجن ملازم مستقلاً ان کے ہاں تین وقت کا کھانا کھاتے تھے اور کھانا بھی ایسا جیسے مہمانوں کے لیے ہوتا ہے! بے پناہ مہمان نواز تھیں! ملاقاتی کو یا مہمان کو تحائف دے کر رخصت کرتی تھیں! دو تعزیتی فقرے کبھی نہیں بھولتے۔ دادی جان کی وفات ہوئی تو میرے علاقے کی ایک بزرگ خاتون( بریگیڈیر زرین خٹک کی والدہ ) نے مجھے روتا دیکھ کر کہا '' رو کیوں رہے ہو؟ تو کیا اب ہم مَریں بھی نہیں ؟‘‘ جب والد گرامی نے کُوچ کیا تو آپا زہرہ نے مجھے جتلایا ''محروم ہو گئے نا؟ ‘‘ آج بھی یہ فقرہ یاد آتا ہے تو چشمہ اُبل پڑتا ہے!
مگر آپا زہرا کا اصل کام اور تھا! وہ بلند پایہ عالمہ تھیں! نہ صرف عالمہ بلکہ ایک لائق معلّمہ بھی! عالمہ فاضلہ ہونا اور بات ہے اور ساتھ معلّمہ ہونا یکسر مختلف! ساری زندگی قرآن کی تدریس کی! ہزاروں خواتین نے اکتسابِ فیض کیا! آپا کے بچے جہاں رہیں یا جہاں جائیں کوئی نہ کوئی خاتون انہیں ملتی ہے اور بتاتی ہے کہ اس نے قرآن کے رموز و اسرار ان کی امی جان سے سیکھے یا کوئی مرد بتاتا ہے کہ اس کی ماں یا بہن یا بیوی ان کی شاگرد تھی! ایک وقت وہ بھی تھا جب آپا زہرہ پچپن( 55) سکول چلا رہی تھیں اور ہر سکول کا معائنہ اور نگرانی خود کرتی تھیں! کئی ٹرسٹ اُن کی نگرانی میں چل رہے تھے! غیر مسلم خاتون نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تو اُسے اپنے گھر میں گھر کا فرد بنا کر رکھا۔ پھر شادی کی اور بہت کچھ دے دلا کر رخصت کیا! جنازے میں ان کی شاگرد خواتین کے شوہروں اور بیٹوں کا اژدہام تھا! مٹی ڈالنے کے بعد ‘ قبر پر‘ عموماً پیشہ ور حفاظ سے تلاوت کرائی جاتی ہے۔ آپا زہرا کے فرزندوں نے‘ جو دنیاوی اعتبار سے اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں اور فائز رہے ہیں‘ خود تلاوت کی ! انہیں ایسا ہی کرنا چاہیے تھا کیونکہ وہ آپا زہرا کے بیٹے تھے۔ مرحومہ نے بیٹیوں کو بھی اعلیٰ تعلیم دلائی! علم و ادب اس گھر کا سب سے بڑا اثاثہ تھا۔ ان کے مرحوم شوہر‘  عبد الوحید خان ،جو نسلاً یوپی کے روہیلہ پٹھانوں میں سے تھے‘ اپنے وقت کے سب سے بڑے روزنامے ''کوہستان‘‘ کے چیف ایڈیٹر تھے اور کئی کتابوں کے مصنف-!
مرنا تو سب نے ہے۔
آخر سب اپنی اپنی سنا کر ہوئے خموش
تھی داستاں طویل تو کیا‘ مختصر تو کیا
مگر جس طرح انسان اور انسان میں فرق ہے اسی طرح مرنے اور مرنے میں بھی فرق ہے! بعض کی موت سے لوگ سکون کا سانس لیتے ہیں اور خس کم جہاں پاک کا نعرہ لگاتے ہیں۔ بعض مرتے ہیں تو لا تعداد لوگ ان کی موت کو اپنا ذاتی نقصان سمجھتے ہیں! معلوم نہیں کس کا ہے مگر قطعہ بے مثال ہے:
یاد داری کہ وقتِ زادنِ تو / ہمہ خندان بُدند و تو گریان
آنچناں زی کہ وقت مُردنِ توُ/ ہمہ گریاں بوند و تو خندان
کالم کا دامن تمام ہوا۔ ترجمہ پھر کبھی!

Thursday, January 18, 2024

ناموں کی فہرست


میں جب اُٹھا ہوں تو زور کا چکر آیا اور گر پڑا! اپنے آپ کو سنبھال کر دوبارہ اُٹھا۔ سب لوگ ایک طرف کو رواں تھے۔ میں نے بھی اسی جانب چلنا شروع کر دیا۔
گرمی تھی اور بلا کی گرمی! ناقابلِ بیان حد تک! دور دور تک سایہ کہیں نہیں تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ سورج کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ لوگ چلتے جا رہے تھے۔ گروہوں کے گروہ! جماعتوں کی جماعتیں! طائفوں کے طائفے! قطاروں کی قطاریں‘ ان میں سفید فام بھی تھے‘ سیاہ رنگی بھی!! زرد رنگ والے بھی! گندمی رنگت والے بھی! سانولے سلونے بھی! طویل قامت بھی! پستہ قد بھی! مرد بھی‘ عورتیں بھی! جوان بھی‘ بوڑھے بھی! ادھیڑ عمر بھی! سب چلتے جا رہے تھے! چلتے چلتے گر پڑتے تھے اور اُٹھ کر دوبارہ چلنے لگتے تھے۔ 
ہم چلتے رہے۔ وقت کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ یہ بھی معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ صبح ہے یا شام یا دوپہر! رات کا دور دور تک نشان نہیں تھا۔ لگتا تھا یہ کوئی اور ہی نظام ہے۔ ہمارے والا نظامِ شمسی نہیں! یہ بھی اچنبھے کی بات تھی کہ اَن گنت انسان کیسے سمائے ہوئے تھے! اتنے میں ایک کڑک کی آواز سنائی دی۔ ایسی خوفناک کہ دل دہل گئے۔ یہ ویسی ہی کڑک تھی جس نے پہلے سوتوں کو اُٹھا دیا تھا۔ اب کے سب بے ہوش ہو گئے! بے ہوشی کا یہ زمانہ نہیں معلوم برسوں پر مشتمل تھا یا صدیوں پر! رات دن تو تھے نہیں کہ ہفتوں مہینوں کی بات ہو۔ کوئی اور ہی تقویم تھی!! کوئی انوکھا ہی کیلنڈر تھا۔ اُٹھے تو اور ہی سماں تھا۔ اب سب اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے۔ کب تک کھڑے رہے؟ کوئی اندازہ نہ تھا۔ پھر ایک عجیب سلسلہ شروع ہوا! ایک عجیب سی مخلوق آتی! پر اس کے اتنے بڑے کہ میلوں‘ کوسوں تک پھیلے ہوئے! یہ مخلوق ایک ایک کرکے آتی اور ایک ایک انسان کو ساتھ لے جاتی! کتنے زمانے گزر گئے۔ یہ سلسلہ جاری رہا! اس ساتھ لے جانے والی عجیب و غریب مخلوق کا کوئی شمار تھا نہ انسانوں کا جنہیں یہ مخلوق ساتھ لے جارہی تھی! میں نے اندازہ لگایا کہ جلد یا بدیر‘ مجھے بھی لے جایا جائے گا! اب تجسس دل میں ہول ڈالنے لگا کہ کہاں لے جا رہے ہیں! کیوں لے جا رہے ہیں؟ آخر کیا سلسلہ ہے! یہ بھی نوٹ کیا کہ کچھ کو احترام اور نرمی سے لے جایا جا رہا تھا اور کچھ کو درشتی سے یوں جیسے ہانک رہے ہوں! نہ جانے کتنا وقت‘ کتنے قرن‘ کتنے ہزار سال‘ کتنے زمانے‘ کتنے جُگ‘ کتنا عرصہ‘ کتنی مدتیں‘ کتنے ادوار بیت گئے! یہ سلسلہ جاری رہا۔ یہ بات بھی عجیب اور پُر اسرار تھی کہ جو جاتا‘ واپس نہ آتا۔ اس سے یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ اس میدان میں قیام عارضی تھا۔ مستقل ٹھکانہ کہیں اور تھا!
بالآخر پروں والی ایک مخلوق میرے قریب آئی۔ اس کی قربت کا عجب اثر تھا۔ پہلے مجھے سردی لگی! اتنی کہ ٹھٹھرنے لگا! پھر حرارت محسوس ہوئی جو بڑھتے بڑھتے اتنی زیادہ ہوئی کہ میں پسینے میں نہا گیا! اس کے چہرے پر انتہا درجہ کی سنجیدگی اور لاتعلقی تھی۔ اپنائیت اور نرمی کا کوئی نشان نہ تھا۔ اس نے اشارے سے مجھے چلنے کے لیے کہا اور جواب یا ردِ عمل کا انتظار کیے بغیر ایک طرف کو چل پڑا۔ میں اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا! ہر طرف حیرت انگیز مناظر تھے۔ کہیں کہیں کچھ لوگ سائے میں کھڑے تھے۔ ہمت کر کے پروں والی مخلوق سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ اس نے بتایا یہ وہ اہلِ ایمان ہیں جو دوسرے انسانوں کے حقوق کا خیال رکھتے تھے۔ آگے گئے تو کچھ لوگ سجدے میں پڑے تھے۔ پوچھا تو پروں والی مخلوق نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو حقوق اللہ کے مجرم ہیں۔ یہ معافی کے طلبگار ہو رہے ہیں! امید تو ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق کے معاملات معاف فرما دیں گے۔ اور آگے گئے تو کڑکتی دھوپ میں ایک جمِ غفیر پریشان کھڑا تھا۔ پیاس اور گرمی کی شدت سے سب کا بُرا حال تھا۔ پروں والی مخلوق نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن سے حقوق العباد میں گناہ سرزد ہوئے! میں نے بہت منطقی اور اپنی طرف سے دانشمندانہ سوال پوچھا کہ اگر ان لوگوں سے حقوق العباد میں کوتاہیاں ہوئی ہیں تو یہ بھی ان لوگوں کی طرح اللہ تعالی کے سامنے گڑ گڑاتے کیوں نہیں جو حقوق اللہ کے مجرم ہیں اور سجدہ کناں ہیں؟ اس پر پروں والی مخلوق پہلی بار مسکرائی اور کہا کہ حقوق العباد کا معاملہ مختلف ہے۔ جس انسان کا حق تلف کیا گیا‘ صرف وہی مجرم کو معاف کر سکتا ہے! یہ تمام لوگ ان افراد کی تلاش میں ہیں جن کے ساتھ انہوں نے زیادتیاں کی ہیں۔ جب تک وہ معاف نہیں کرتے‘ ان کی جان نہیں چھوٹے گی! پھر اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تمہاری جگہ بھی اسی گروہ میں ہے! مگر پہلے تم ان افراد سے ملو گے جنہوں نے تمہارے ساتھ ناانصافیاں کیں! یہاں سب کے ساتھ انصاف ہو گا۔ مظلوموں کے ساتھ بھی اور ظالموں کے ساتھ بھی! ہر ظالم مظلوم بھی ہے اور ہر مظلوم ظالم بھی! اور یہاں ہر انسان کی ہر حیثیت کو جانچا جا ئے گا! 
ہم دونوں‘ میں اور پروں والی مخلوق‘ ابھی وہیں کھڑے ہی تھے کہ ایک آدمی ہماری طرف بڑھا! وہ پریشان حال دکھائی دے رہا تھا۔ پسینہ سر سے پیروں تک بہہ رہا تھا۔ چہرا یوں لگ رہا تھا جیسے ٹوٹا ہوا ہو! عجیب سا! ڈراؤنا سا! میرا نام لے کر پوچھا کہ کیا یہ تم ہی ہو! میں نے اثبات میں جواب دیا تو گڑ گڑانے لگا کہ مجھے معاف کر دو! میں نے کہا کہ بھئی! میں تو تمہیں جانتا ہی نہیں اور پھر مجھے تو یہاں اپنی پڑی ہے! نہ جانے میرے ساتھ کیا ہو گا! اس نے میری قمیض کا دامن پکڑ لیا اور کہنے لگا: تم مجھے نہیں جانتے مگر میں تمہیں جانتا ہوں! میں تمہیں لفافہ کالم نگار کہتا تھا۔ یہ بھی الزام تم پر لگایا کہ تم مقتدر حلقوں کے لیے لکھتے ہو! تم نے تحریکِ انصاف پر تنقید کی تو میں نے تمہیں مسلم لیگ کا پروردہ کہا! تم نے مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے خلاف لکھا تو میں نے الزام لگایا کہ تم انصافیوں کے پے رول پر ہو۔ تم نے مجھے تنبیہ کی تھی کہ روزِ حشر ثبوت دینا پڑے گا! اس وقت میں یہ سُن کر ہنسا تھا! مگر آج پروں والی مخلوق مجھ سے ان الزامات کا ثبوت مانگ رہی ہے جو میں تم پر لگاتا رہا! خدا کے لیے مجھے معاف کر دو ورنہ مجھے شدید سزا دی جائے گی! مجھے اس پر رحم آیا اور اسے کہا: جاؤ! میں تمہیں معاف کرتا ہوں! وہ خوش خوش جدھر سے آیا تھا‘ ادھر واپس چلا گیا! 
میں پروں والی مخلوق کی طرف خوف زدہ ہو کر دیکھ رہا تھا کہ اب یہ میرے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا! اچانک کسی نے مجھے جھنجھوڑا! اٹھیے آج ڈرائیور نہیں آیا! جا کر سبزی لائیے کہ پکانے کے لیے گھر میں کچھ بھی نہیں! یہ میری بیوی تھی! میں نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں مگر میں سخت خوفزدہ تھا۔ بیوی نے رضائی ہٹائی تو مجھے دیکھ کر پریشان ہو گئی۔ ''آپ ٹھیک تو ہیں؟ رنگت ہلدی کی طرح زرد ہو رہی ہے! اس شدید سردی میں بھی آپ پسینے میں نہا رہے ہیں! کیا بات ہے؟ آپ کی طبیعت خراب لگ رہی ہے‘‘۔ مجھے بیوی کی آواز بہت دور سے آتی سنائی دی۔ اس کی باتوں کا جواب دیے بغیر میں نے کاغذ اور قلم لیا اور ان افراد کے ناموں کی فہرست بنانے لگ گیا جن کے ساتھ میں نے زیادتیاں اور ناانصافیاں کی تھیں!

Tuesday, January 16, 2024

افسوس ! صد افسوس! فور سٹار جنرل ‘ پرویز مشرف مرحوم کے دفاع کے لیے کوئی نہ آگے بڑھا! 

وہ سب جن کے لیے جنرل صاحب نے عاقبت کو داؤ پر لگا دیا‘ غائب تھے! ایک صاحب راولپنڈی میں '' سیّد پرویز مشرف‘‘ کا نام بہت ہی عقیدت سے لیتے تھے‘ کہیں دکھائی نہ دیے! پرویز الٰہی صاحب ‘ جن کا دعویٰ تھا کہ جنرل صاحب کو دس بار وردی میں '' منتخب‘‘ کرائیں گے‘ جیل میں تھے مگر کسی کو مامور تو کر سکتے تھے! انہوں نے بھی ایسا نہ کیا! کیا طنطنہ تھا جنرل صاحب کا ! اکبر بگتی کو مروا دیا! کسی نے چوں تک نہ کی! کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی تو اسلام آباد میں اس پر فخر کیا اور اسے اپنی طاقت کے طور پر پیش کیا! کتنوں ہی کے حقوق تلف کیے اور دوسروں کو دے دیے!کسی جرنیل کو پوسٹل کے محکمے کا سربراہ بنا دیا کسی کو سول سروس کے تربیتی ادارے کا سربراہ! مکمل شہنشاہ تھے! کوئی نہ تھا جو اُن کے کسی حکم کی تعمیل میں ایک دو دن کی تاخیر بھی کر سکتا! 
کم از کم شوکت عزیز کو ان کے دفاع میں ضرور عدالت میں آنا چاہیے تھا!مرحوم نے شوکت عزیز کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا تھا ! عین ممکن ہے کہ شوکت عزیز بیرونی طاقتوں کا گماشتہ ہو مگر اسے وزیر خزانہ‘ اور بعد میں وزیراعظم تو جنرل صاحب ہی نے بنایا تھا۔اقتدار کے سنگھاسن سے اترتے ہی شوکت عزیز نے قیمتی ‘ سرکاری ‘ تحائف کی بھاری گٹھڑی سر پر رکھی اور ملک سے فرار ہو گیا۔اس کے پاس مال و دولت کی کمی نہیں۔ چاہتا تو اپنے محسن کے لیے ایک بلند پایہ وکیل کر سکتا تھا۔ اُن کے احسانات کا بدلہ‘ سارا نہیں تو تھوڑا سا چکا سکتا تھا مگر:
اے رُو سیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا
المیے کی انتہا یہ ہے کہ جنرل مرحوم کی بیگم اور اُن کے بچوں نے بھی ان کا مقدمہ نہ لڑا۔ غالباً وہ بدستور پاکستان سے باہر ہیں! مرحوم کے دفاع کے لیے انہیں واپس آنے کی ضرورت بھی نہ تھی۔پاکستان میں ایک سے ایک اچھا وکیل موجود ہے‘ وہ باہر بیٹھ کر بھی ایک لائق وکیل کی خدمات حاصل کر سکتے تھے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ جنرل مرحوم کے دوستوں‘ نام نہاد جان نثاروں‘ احسان مندوں‘ ان کے ماتحت کام کرنے والے وزیروں‘ جرنیلوں اور سول افسروں سے کیا گلہ‘ خود اُن کے فرزند‘ اُن کی دختر نیک اختر اور ان کی رفیقۂ زندگی نے انہیں عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ رمق بھر پروا بھی نہ کی! کسی نے بھی ان کا دفاع نہ کیا۔ عدالت نے سزائے موت بر قرار رکھی ! جی ہاں! بعد از مرگ سزائے موت !! فاعتبروا یا اولی الابصار!! بقول منیر نیازی۔ 
فکر والوں کو پتے ہیں اس نشانی میں بہت 
یہ افسوسناک واقعہ ہمیں تین پہلوئوں پر غور و فکر کی دعوت دے رہا ہے۔ پہلا پہلو: غور کیجیے۔ یہ تو دنیا کی عدالت تھی۔ جن لوگوں پر جنرل مرحوم نے احسانات کیے تھے ان کی بھاری اکثریت مزے کی زندگی گزار رہی ہے۔وہ بہت آسانی سے ‘ اپنے آرام و راحت کو برقرار رکھ کر بھی جنرل صاحب کی مدد کو آسکتے تھے اور ان کی روح کو خوش کر سکتے تھے مگر کسی نے تنکا تک نہ توڑا۔ سب نے منہ موڑ لیا۔ مکمل اغماض برتا! اگر یہاں یہ حالت ہے تو وہاں‘ سب سے بڑی عدالت میں کیا ہو گا؟ اُس بڑی عدالت کے نقطہ نظر سے جنرل صاحب کے بجائے ہمیں اپنی فکر کرنی چاہیے۔ وہ جو بار بار بتا یا گیا ہے کہ وہاں بھائی بہن کام آئیں گے نہ اولاد حتیٰ کہ رفیقۂ حیات اور رفیقِ حیات بھی مدد کو نہ آئیں گے تو اس کی چھوٹی سی جھلک ہم نے دنیا میں اپنے سامنے ‘ جنرل مرحوم کے حوالے سے دیکھ ہی لی ہے۔ اس کے بعد قطمیر برابر شک کی بھی گنجائش نہیں رہنی چاہیے کہ جن پر دنیا میں تکیہ ہوتا ہے اور جن کے مفاد کے لیے ہم دوسروں پر ظلم کرتے ہیں وہ دنیا میں کام نہیں آتے تو اُس دن کیسے کام آئیں گے! وہ دن جو بہت ہی سخت دن ہو گا۔جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔جس دن سورج اور چاند کو ملا دیا جائے گا اور جس دن زمین کسی اور زمین سے تبدیل کر دی جائے گی۔
دوسرا پہلو غور کرنے کا یہ ہے کہ فرض کیجیے اگر بعد از مرگ کوئی مقدمہ کسی آمر کے بجائے کسی دانشور‘ کسی اہلِ قلم یا انسانوں کے کسی محسن پر چلایا گیا ہو تا تو کیا اسی طرح لوگ اسے بے یار و مدد گار‘ تنہا چھوڑ دیتے؟ فرض کیجیے‘ خدا نخواستہ آج ایدھی مرحوم کے خلاف مقدمہ چلتا ہے یا حکیم سعید صاحب یا فیض صاحب یا احمد ندیم قاسمی یا صادقین کے خلاف عدالتی کارروائی ہوتی ہے تو کیا تب بھی لوگ ان کے دفاع کے لیے نہیں اٹھیں گے؟ نہیں! اٹھیں گے اور اس طرح اٹھیں گے کہ ان کی گنتی مشکل ہو جائے گی! آمر یا حکمران اپنی جسمانی موت کے ساتھ مکمل طور پر مر جاتا ہے مگر ایک دانشور‘ ایک اہلِ قلم‘ ایک عوام کا خدمت گزار مر کر بھی زندہ رہتا ہے! آج اگر بادشاہوں کے نام زندہ ہیں تو اس لیے کہ سعدی‘ نظامی‘ امیر خسرو اور غالب نے اپنی شاعری میں ان بادشاہوں کے ناموں کا ذکر کیا ہے! ورنہ انہیں کون جانتا!
تیسرا پہلو اہم بھی ہے اور حساس بھی ! کیا آئین شکنی کا مجرم صرف جنرل پرویز مشرف تھا؟ کیا وہ پہلا آمر ہے جس نے اس ملک کو اپنی جاگیر سمجھا؟ کیا وہ پہلا غارت گر تھا جس نے جمہوریت کی بساط لپیٹی اور ہمیں برسوں نہیں دہائیوں پیچھے دھکیل دیا؟ نہیں ! جناب نہیں ! نہیں مائی لارڈ ! نہیں! انصاف کا تقاضا ابھی پورا نہیں ہوا! بعد از مرگ مقدمے کچھ اور لوگوں پر بھی چلنے چاہئیں! اور چلانے ہوں گے !! آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسوں چلیں گے اور ضرور چلیں گے! یہ پہلی بعد از مرگ سزائے موت ہے مگر یہ آخری بعد از مرگ سزائے موت نہیں! تاریخ کا پہیہ بہت ظالم ہے! جس نے پہلا مارشل لا ء لگایا اس پر بھی مقدمہ چلانا ہو گا! جس نے جس نے 1970ء کا انتخاب جیتنے والوں کو حکومت نہیں دی تھی اور اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ( بلکہ کینسل) کر دیا تھا اس پر بھی مقدمہ چلانا ہو گا! جس نے تیسرا مارشل لاء لگایا اُس پر بھی اور جس نے چوتھا لگایا اس پر بھی !! آج نہیں تو کل یہ مقدمے ضرور چلیں گے ! تاریخی عمل اور تاریخی ارتقا کا رُخ پیچھے کی طرف نہیں کیا جا سکتا! جو آج ہوا ہے اس کا ماضی میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا اور جو آج محال لگ رہا ہے وہ مستقبل میں ہو کر رہے گا ! کوئی ٹینک‘ کوئی بندوق‘ کوئی توپ‘ کوئی میزائل تاریخ کے پروسیس کو نہیں روک سکتا!! 
اور جنہوں نے ان آمروں کا ساتھ دے کر ان کے ہاتھ مضبوط کیے ‘ کیا انہیں چھوڑ دیا جائے؟ جن نام نہاد سیاستدانوں نے اور صحافیوں نے ان آمروں کے جوتے صاف کیے‘ وردیاں استری کیں ‘ کُھرکُو بن کر ان کی پیٹھوں پر کھجلی کرتے رہے ‘ ان کے سامنے لیٹ گئے اور سیڑھی کی طرح استعمال ہوئے‘ ان پر بھی مقدمے چلانے ہوں گے ! کس نے مشورہ دیا تھا کہ امیر المومنین کا لقب اختیار کیجیے؟ کون نام نہاد شوریٰ میں بیٹھ کر آمر کو مضبوط کرتے رہے؟ کون تھے جو غیر جماعتی انتخابات کے مشورے دیتے رہے ! کس کس نے وزارتیں قبول کیں؟ کون قصیدے لکھتے رہے ؟ کون اپنے نام نہاد اداروں اور انسٹیٹیوٹس کے لیے آمروں سے گرانٹیں وصول کر کے ان کے حق میں رطب اللسان رہے؟ کون مارشل لاء کی اے ٹیم ‘ بی ٹیم اور سی ٹیم بنے رہے! یہ سب مقدمے چلانے ہوں گے ! اس دودھ اور پانی نے الگ الگ ہونا ہی ہے !

سول ایوی ایشن اتھارٹی… ایک جھلک

آپ کسی عزیز یا مہمان کو رخصت کرنے اسلام آباد ایئر پورٹ جائیں تو مسافروں اور انہیں رخصت کرنے والوں کے ہجوم میں ایک شخص نظر آئے گا جو اپنے سامنے میز رکھے کرسی پر بیٹھا ہو گا۔اس کی میز کے آگے لکھا ہے کہ چار سو یا پانچ سو روپے فیس ادا کر کے آپ پورٹر ( قلی) لے سکتے ہیں۔ اگر سامان زیادہ ہو تو مسافر‘ خاص طور پر خواتین مسافروں کو مشکل پیش آتی ہے۔ پورٹر کی مدد سے مراحل ذرا سہولت سے طے ہو جاتے ہیں!

گزشتہ اڑھائی تین ماہ کے دوران‘ مہمانوں اور اعزہ کو رخصت کرنے کے لیے مجھے تقریباً دس بار ایئر پورٹ جانا پڑا۔ میز کرسی لگا کر بیٹھنے والے اہلکار سے ہر بار پورٹر کا تقاضا کیا۔ ہر بار اس کا ایک ہی جواب تھا کہ پورٹر دستیاب نہیں ہے۔ایک دو بار یہ بھی بتایا گیا کہ پورٹر ٹرالیوں کی قطار کو اندر لے جانے میں مصروف ہیں! یہ اور بات کہ ڈیپارچر والی سائڈ پر خالی ٹرالی حاصل کرنا بھی جوئے شِیر لانے کے برابر ہے۔ یہ سارے معاملات جس ادارے کے سپرد ہیں اس کا نام '' سول ایوی ایشن اتھارٹی‘‘ ہے ! 
گزشتہ ہفتے ایک بار پھر یہی تجربہ ہوا تو سوچا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی والوں سے بات کر کے پتہ چلا یا جائے کہ اس تکلیف دِہ صورت حال کا سبب کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے۔ چنانچہ ایئر پورٹ کے ٹیلی فون ایکسچینج پر فون کیا۔ایک خاتون نے فون اٹھایا۔پوچھا ایئر پورٹ پر سول ایوی ایشن اتھارٹی کا بڑا افسر کون ہوتا ہے؟ اس نے بتایا ''ڈیوٹی ٹرمینل مینجر‘‘ ( ڈی ٹی ایم ) ہوتا ہے۔ کہا‘ان سے بات کرائیے! کچھ دیر ایکسچینج والی خاتون جیسے زیر زمین غائب ہو گئیں۔ جب ابھریں تو خبر لائیں کہ ڈی ٹی ایم موجود نہیں! ان کی خدمت میں عرض کیا کہ کسی اور ذمہ دار افسر سے بات کرائیے۔ خاتون نے ایک صاحب کو لائن پر لیا۔ ان کا نام بھی بتایا اور ان کے عہدے کا نام بھی ! مگر یہاں ان کا نام اور ان کے عہدے کا نام نہیں لکھا جا رہا اس لیے کہ اعلیٰ حکام نظام کو درست کرنے کے بجائے اس افسر کے پیچھے پڑ جائیں گے کہ پاکستان میں یہی ہوتا ہے اور یہی ہوتا آیا ہے! بہر طور اس ذمہ دار افسر سے جو مکالمہ ہوا‘ آپ اس سے لطف اندوز ہوں :
٭ جناب ! '' روانگی‘‘ والی سائڈ پر پورٹر کبھی نہیں ملتا 
٭ ایسی بات نہیں ہے۔
٭ جناب ! ایسی ہی بات ہے۔ میں کئی بار گیا ہوں۔ پورٹر دلانے والے ڈیسک سے بھی پورٹر کبھی نہیں ملا۔ وہ ہر بات معذرت کر دیتے ہیں!
٭ کس نے معذرت کی ؟ اس کا نام بتائیے ! 
٭نام نہیں پوچھا۔ نام لے کر آپ کریں گے بھی کیا۔ آپ اپنا سسٹم ٹھیک کیجیے۔ مسافروں کو پورٹر دستیاب ہونے چاہئیں! 
٭پورٹر موجود ہوتے ہیں۔ 
٭ میں غلط نہیں کہہ رہا۔ کئی بار تجربہ ہوا ہے۔ کبھی نہیں میسر ہوا۔
٭ہو سکتا ہے رش میں ایک آدھ بار ایسا ہو گیا ہو۔ 
٭ نہیں جناب! ایک آدھ بار نہیں! آٹھ دس بار ایسا ہوا ہے! 
٭ میں نے کہا نا کہ رش میں ایسا ہوا ہو گا۔
٭جناب! جب بھی فلائٹ جانے والی ہو گی‘ رش ہی ہو گا! رش ہی کی بات کر رہا ہوں! جب رش نہیں ہو گا تو فلائٹ بھی نہیں ہو گی اور پورٹر کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ 
٭ ایسی بات نہیں ہے۔ پورٹر موجود ہوتے ہیں۔ 
٭کیا کبھی رش کے دوران آپ نے خود آکر صورت حال کا معائنہ کیا ہے ؟ 
٭ میں آپ کو بتا رہا ہوں ! پورٹر وہاں ہوتے ہیں۔ 
٭اگر ہوتے تو مجھے آپ کے نوٹس میں لانے کی اور شکایت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
٭ میں آپ کو بتا رہا ہوں۔ پورٹر موجود ہوتے ہیں۔
یہ ہے سرکاری اداروں کی کارکردگی کی ایک جھلک! اور عام شہری کی بات کی اہمیت! بجائے اس کے کہ حقیقت تسلیم کی جائے اور مسئلہ حل کیا جائے‘ شکایت کرنے والے کو جھٹلایا جاتا ہے۔ بیروزگاری ملک کے منہ کو آرہی ہے۔ پورٹر کم ہیں تو مزید بھرتی کرنے چاہئیں! مسافروں کو بھی سہولت ہو گی اور کچھ شہریوں کو روزگار بھی مل جائے گا۔ مگر آپ جب یہ تجویز دیں گے تو آگے سے بجٹ کا اور فنڈز کی کمی کا رونا رویا جائے گا۔ اپنی مراعات کی بات کوئی نہیں کرے گا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی جیسے ادارے سونے کی مرغی سے کم نہیں۔ اہلِ روابط ہی ان اداروں میں تعینات ہو سکتے ہیں۔ یہ ہری بھری‘ سر سبز و شاداب پُر کشش چراگاہیں ہیں! اعلیٰ افسران کی تنخواہوں اور مراعات کی تفصیل سن کر دماغ گھوم جاتا ہے! ادارے کے اصحابِ قضا و قدر کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ مسافر ہوائی اڈوں پر کن حالات کا سامنا کر رہے ہیں!! دو متوازی لکیریں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ کبھی آپس میں نہیں ملتیں! ایک طرف ایئر کنڈیشنڈ دفاتر ہیں اور رہنے کے لیے محلات! بڑی بڑی گاڑیاں! مفت پٹرول! مفت علاج! نوکروں کی فوج ظفر موج! دوسری طرف ایئر پورٹوں پر دھکے کھانے والے مسافر! یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کبھی کوئی شکایت نہیں آئی! بھئی! شکایت کرے گا کون؟ اول تو اس ملک میں شکایت کرنے کا اور اپنا حق مانگنے کا رواج ہی نہیں! یہاں تو یہ سکھایا جاتا ہے کہ مٹی پاؤ! روٹی شوٹی کھاؤ اور چلتے بنو! شکایت کوئی کرنا بھی چاہے تو متعلقہ افسر یا اہلکار کا فون نمبر یا ای میل ایڈریس ہی نہیں ملتا! مل جائے تو شکایت کرنے کا انجام اوپر دیے ہوئے مکالمے میں آپ دیکھ چکے ہیں!
یہ صرف ایک ادارے کی بات نہیں! ہر محکمے میں‘ ہر ادارے میں‘ ہر دفتر میں یہی چلن عام ہے! سائل کو اپنے حضور بلایا جاتا ہے۔ حکومت جس ٹیلی فون کا بل عوام کے ٹیکسوں سے ادا کرتی ہے‘ اُس ٹیلی فون کو عوام کی سہولت کے لیے کم ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ زیادہ کوشش یہ ہوتی ہے کہ سائل حاضر ہو‘ عرضی دے اور پھر چکر لگاتا رہے! ایک بزرگ بتا رہے تھے کہ ان کی کچھ رقم '' قومی بچت‘‘ کے ادارے میں جمع تھی۔ ایک ملک کا ویزا لینا تھا اور ویزا لینے کے لیے بتانا تھا کہ قومی بچت کے مرکز میں وہ اتنی رقم کے مالک ہیں! انہوں نے قومی بچت کی متعلقہ برانچ میں فون کیا اور افسر انچارج سے کہا کہ ایک سٹیٹمنٹ ان کے وٹس ایپ پر بھیج دیں ! افسر نے فوراً کہا کہ درخواست لے کر آئیے! انہوں نے متعلقہ وزارت سے فون کرایا تو مطلوبہ سٹیٹمنٹ وٹس ایپ پر چند منٹوں ہی میں موصول ہو گئی۔
ہمارے سرکاری محکموں کی بنیادی پالیسی یہ نہیں کہ عوام کو سہولت بہم پہنچانی ہے۔ غیر تحریری بنیادی پالیسی یہ ہے کہ اپنی اہمیت جتاؤ ! اپنی اہمیت جتانے کا بہترین نسخہ یہ ہے کہ لوگ حاضر ہوں! عرضی گزاریں! اس کے بعد چکر لگائیں! ترقی یافتہ دنیا میں انسانی رابطہ کم سے کم کر دیا گیا ہے۔ کام مشینوں پر ہو رہے ہیں۔ ای میل اور وٹس ایپ کو عوام کی راحت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ آپ ای میل پر‘ یا وٹس ایپ پر یا فون پر‘ متعلقہ اہلکار کو بتائیں کہ آپ اتنے بجے ایئر پورٹ پر پہنچیں گے۔ آپ کو پورٹر الاٹ کر دیا جائے اور اس کا فون نمبر دے دیا جائے۔ فیس آپ بینک میں آن لائن ٹرانسفر کر دیں اور رسید یعنی ثبوت‘ ادارے کو بھیج دیں۔ ایئر پورٹ پہنچ کر آپ فون کر کے پورٹر سے رابطہ کر لیں! دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں کام اسی طرح ہو رہے ہیں! مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ ! محنت ہم بہت کرتے ہیں مگر ذاتی فائدے کے لیے ! ملک‘ قوم اور عوام کے لیے محنت کرنے سے کیا حاصل ؟

Thursday, January 11, 2024

محض اتفاقات؟


یہ واقعات ایک دوست نے سنائے اور میں حیران ہوں کہ کتنا عجیب و غریب نظام ہے جو موجود ہے مگر نظر نہیں آتا۔
اس دوست نے بتایا کہ وہ ایک ایسے محکمے میں ملازمت کر رہا تھا جہاں طِبّی سہولتوں کا معقول بند و بست تھا۔ وہ ان سہولتوں کی بدولت اپنے والد کی طِبّی دیکھ بھال اچھی طرح کر لیتا تھا۔انہیں کئی تکالیف تھیں۔ آنکھوں کا معائنہ کرانا ہوتا تھا۔ پروسٹیٹ کی پیچیدگیاں۔ دل کے بھی مسائل تھے۔ خون وغیرہ کے ٹیسٹ بھی کرانے ہوتے تھے۔ کبھی کبھی لیبارٹری سے ٹیکنیشن کو گھر بھی بلایا جا سکتا تھا کہ خون کے نمونے لے جائے۔ غرض دیکھ بھال کا اطمینان بخش انتظام تھا۔ پھر یوں ہوا کہ اس کے والد اپنے دوسرے بیٹے کے پاس بیرونِ ملک چلے گئے۔ اُن کے جانے کے کچھ ماہ بعد اس کا تبادلہ ایک ایسے محکمے میں ہو گیا جہاں طبی سہولتیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اس کے بیوی بچوں کو ہسپتال کی طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا یا کسی پرائیویٹ کلینک کا رُخ کرنا پڑتا۔ اس نے کوشش شروع کر دی کہ اس کا تبادلہ کہیں اور ہو جائے۔مگر معلوم ہوا کہ یہاں سے نکلنا انتہائی مشکل کام ہے۔تگڑی‘ اونچی نسل کی سفارش درکار تھی جو اُس کے پاس نہیں تھی۔ بہت کوشش کی مگر کام نہ بنا۔ تھک ہار کر بیٹھ گیا۔
سال گزر گیا۔ ایک دن اس کے بھائی کا فون آیا کہ والد صاحب واپس آنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ نہ جانے کیوں اُسے یقین ہو گیا کہ اب اس کا تبادلہ یہاں سے ہو جائے گا اور ایسی جگہ ہو گا جہاں میڈیکل سہولتیں موجود ہوں گی! وہ کہتا ہے کہ اس اطمینان کا کوئی ظاہری سبب نہ تھا۔ منطق تھی نہ حالات کی تبدیلی مگر یقین اسے پختہ تھا۔ ایک دو بار دماغ نے سمجھانے کی کوشش بھی کہ اس اطمینان کا کوئی جواز نہیں۔ خواب نہ دیکھو! تم نے بارہا کوشش کی۔ کام نہ بنا۔ اب تمہارا دل کس برتے پر کہتا ہے کہ تم یہاں سے نکلنے والے ہو! مگر دل نے دماغ کی منطق اور دماغ کی سائنس کو بالکل ہی در خورِ اعتنا نہ گردانا! اطمینان میں کمی نہ آئی! دوسری طرف اس کے والد کی واپسی کی تاریخ نزدیک سے نزدیک تر ہو رہی تھی۔ پھر ایک دن اچانک اسے ایک محکمے کے بارے میں پتا چلا کہ ایک صاحب ترقی پا کر کہیں چلے گئے ہیں اور ان کی جگہ خالی ہے۔ ان صاحب کی ترقی کی خبر حیرت انگیز تھی کیونکہ بظاہر ان کی ترقی کے امکانات نحیف تھے۔ اس سے میرے دوست کا یقین پختہ تر ہو گیا کہ اس کا کام ہونے والا ہے۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ مجاز حاکم کے سامنے پیش ہوا اور عرض گزاری۔ یہ وہی حاکم تھا جو پہلے بات سننا بھی گوارا نہیں کرتا تھا۔ اس بار اس کا انداز بدلا ہوا تھا۔ اب وہ پتھر نہیں‘ موم تھا۔ بات بھی سُنی اور ہامی بھی بھری کہ وہ اس کا نام منظوری کے لیے اوپر بھیجے گا۔ نام بھیجا گیا۔ مقابلہ سخت تھا۔ سفارش نہ ہونے کے برابر تھی۔ مخالف بھی زور لگا رہے تھے۔ اس کے والد کی واپسی سے چند روز پہلے اس کا تبادلہ کر دیا گیا! جب تک والد زندہ رہے‘ ان کی طِبّی ضروریات بہ طریقِ احسن پوری ہوتی رہیں! 
یہ وا قعہ سُن کر میں حیران ہوا مگر میرے بھی دماغ نے دل پر اعتراض کر دیا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ یہ محض اتفاق بھی تو ہو سکتا ہے‘! یہ تمہاری توجیہ بھی تو ہو سکتی ہے۔ اگر تمہارے والد نہ واپس آتے اور ابھی بیرونِ ملک ہی ہوتے تو ممکن ہے کہ تمہارا تبادلہ پھر بھی ہو جاتا!اُس نے میری بات سُنی اور جواب دیا کہ اس کے ساتھ ایک اور واقعہ بھی پیش آیا۔ کیا وہ بھی محض اتفاق تھا۔ میں نے پوچھا وہ کیا واقعہ ہے؟ اُس نے کہا کہ ایک بار وہ ملک سے باہر گیا ہوا تھا۔ موسمِ گرما تھا۔ بیوی سے فون پر بات ہورہی تھی۔ کہنے لگی: بزرگوں کے ( یعنی میرے دوست کے والد کے ) کمرے میں ایئر کنڈیشنر نہیں ہے۔ تم واپس آؤ تو لگواؤ۔ اُس نے بیوی کو بتایا کہ وہ لگوانا چاہتا تھا مگر والد صاحب نے منع کر دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ انہیں اس سے سردی لگے گی! کمزور تو وہ تھے ہی! بیوی نے کہا کہ اب کے گرمی بہت زور وں کی پڑ رہی ہے۔ اب لگوانا چاہیے۔ وہ واپس آیا۔ بازار سے ایئر کنڈیشنر خریدا اور والد کے کمرے میں نصب کرا دیا۔ پانچ دس منٹ تک وہ لگا رہنے دیتے پھر بند کرا دیتے۔ کہنے لگا ٹھیک دو دن بعد اُس کے ایک دوست نے‘ جو اس کی نسبت کہیں زیادہ خوشحال تھا‘ فون کیا کہ یار! ایئر کنڈیشنر منگوائے تھے۔ کچھ ضرورت سے زائد آگئے۔ ایک تمہیں بھیج رہا ہوں۔ اُس نے بھیجا تو وہ اسی کمپنی کا‘ اور اسی ماڈل کا ایئر کنڈیشنر تھا جو اس نے والد کے کمرے میں لگوایا تھا! پھر میرا دوست یوں گویا ہوا کہ اگر اس واقعہ کو بھی میں محض اتفاق سمجھتا ہوں تو پھر میں ایک اور واقعہ کے بارے میں کیا کہوں گا جو بہت عرصہ پہلے اس کے ساتھ پیش آیا تھا۔ میں نے پوچھا وہ کیا واقعہ ہے؟ کہنے لگا بہت سال پہلے کی بات ہے۔ والدہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ فرما نے لگیں :کچھ ر وپوں کی ضرورت ہے۔ جیب میں کچھ سو روپے تھے۔ اُن کی خدمت میں پیش کر دیے۔ تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ ڈاکیا کھڑا تھا۔ کہنے لگا: آپ کا منی آرڈر آیا ہے۔
یہ رقم‘ جس نے بھی بھیجی تھی‘ ٹھیک اتنی ہی تھی جو میں نے والدہ کو دی تھی۔ اندر آکر میں نے وہ رقم انہیں پیش کر دی کہ یہ مزید آگئی ہے۔ انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ انہیں جتنی ضرورت تھی وہ لے چکی ہیں! یہ واقعہ سنانے کے بعد میرے دوست نے پوچھا کہ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جو کچھ تم والدین پر خرچ کرتے ہو‘ وہ تمہیں واپس دے دیا جاتا ہے! 
میں خاموش رہا! اُس نے مجھے متذبذب جانا اور کہا کہ کہنے والے تو کائنات کی پیدائش کو بھی اتفاق سمجھتے ہیں۔ پھر اُس نے وہ واقعہ سنایا جو امام ابو حنیفہؒ سے منسوب ہے۔ امام صاحب کی ایک ایسے شخص سے بحث طے تھی جو خدا کے وجود سے منکر تھا اور کائنات کی پیدائش کو اتفاقی حادثہ سمجھتا تھا۔ وہ مقررہ وقت پر بحث کے لیے پہنچ گیا۔ امام صاحب کا نام و نشان نہ تھا۔ ایک طویل انتظار کے بعد پہنچے اور کہنے لگے :ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ تاخیر بھی اسی سبب سے ہوئی۔ مد مقابل اور دیگر حاضرین نے پوچھا کیا ہوا؟ کہنے لگے: میں آرہا تھا کہ راستے میں دریا پڑا۔ ارد گرد دیکھا کوئی آدمی نہ آدم زاد! کوئی کشتی نہ جہاز! پریشان کھڑا رہا کہ دریا کیسے پار کروں! بہت دیر ہو گئی۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک درخت سے موٹی موٹی ٹہنیاں نیچے گر پڑیں! کچھ ہی دیر میں یہ ٹہنیاں‘ خود بخود‘ گھڑے گھڑائے ترشے ہوئے ہموار تختوں میں تبدیل ہو گئیں۔ پھر یہ تختے آپس میں خود بخود جُڑنے لگے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان سے ایک کشتی بن گئی۔ پھر چپو ظاہر ہوا۔ پھر دیکھا تو کشتی میں ملاح بھی بیٹھا ہوا تھا۔ اُس نے مجھے دریا پار کرایا اور یوں آپ کے پاس پہنچ پایا۔ مدِ مقابل ہنسا اور کہنے لگا: امام صاحب! آپ کسے بے وقوف بنا رہے ہیں؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ کشتی‘ کسی بنانے والے کے بغیر خود بخود بن جائے؟ اب امام صاحب کے ہنسنے کی باری تھی۔ کہا :ایک چھوٹی سی کشتی خود بخود نہیں بن سکتی تو اتنی بڑی کائنات خود بخود کیسے بن گئی؟

Tuesday, January 09, 2024

ماتم کا ایک اور زاویہ

یہ قصہ بھارتی شہر احمد آباد کا ہے۔ ایک عام سے محلے کے ایک عام سے گھر میں ایک بوڑھا رہتا تھا۔ یہ کرائے کا گھر تھا۔ ایک کمرے کے اس گھر میں بوڑھے کا کُل سامان ایک چارپائی‘ پلاسٹک کی ایک بالٹی اور ایلومینیم کے کچھ برتنوں پر مشتمل تھا۔ پانچ سو روپے ماہانہ اس کی پنشن تھی۔ بوڑھا برتن خود دھوتا تھا۔ گھر کی صفائی بھی خود کرتا تھا۔ اڑوس پڑوس کے لوگ اسے اپنے جیسا عام آدمی سمجھتے تھے جو انہی کی طرح اس غریب محلے میں رہتا تھا۔ایک بار مالک مکان کرایہ مانگنے آیا تو بوڑھے کے پاس کرایہ ادا کرنے کے لیے کچھ نہ تھا۔ مالک مکان کو غصہ آیا۔اس نے بوڑھے کا سامان اٹھایا اور باہر پھینک دیا۔ اب بوڑھا فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا بے یار و مددگار! محلے کے لوگوں نے مالک مکان کی منت کی اور اس نے اجازت دے دی۔ بوڑھا سامان اندر لے جا رہا تھا تو وہاں سے کسی اخبار کے نامہ نگار کا گزر ہوا۔ اسے یہ واقعہ دردناک لگا۔ اس نے اس کی خبر بنائی اور بوڑھے کی تصویر ساتھ لگا دی۔ جب اس کے ایڈیٹر نے تصویر دیکھی تو اس کے ہوش اُڑ گئے۔ اس نے نامہ نگار سے پوچھا کہ کیا وہ اس بوڑھے شخص کو جانتا ہے؟ نامہ نگار ہنسا۔ ایک غریب بوڑھے کو جان کر وہ کیا کرے گا۔ ایڈیٹر نے اسے بتایا کہ اس نوّے سالہ بوڑھے کا نام گلزاری لال نندہ ہے جو دوبار بھارت کا وزیر اعظم رہا اور وفاقی وزیر بھی رہا۔ دوسرے دن کے اخبار میں خبر چھپی تو جیسے دھماکہ ہو گیا۔ ریاستی وزرا‘ حکام اور وزیر اعظم کے نمائندے سب پہنچ گئے۔ سب نے منت کی کہ سابق وزیر اعظم اور مرکز کے سابق وزیر سرکاری گھر میں شفٹ ہو جائیں‘ ان کے لیے سرکاری مراعات اور سہولیات حاضر ہیں۔ مگر گلزاری لال نندہ نے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سرکاری مراعات استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں۔ وہ آخری دم تک وہیں رہے۔ 

گلزاری لال نندہ 1898ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ایف سی کالج میں پڑھے۔کئی بار پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے۔دو بار بھارت کے وزیر اعظم رہے۔ پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین رہے۔ کئی شعبوں کے وزیر رہے۔ وفات کے وقت کوئی مکان‘ کوئی جائداد‘ کوئی بینک بیلنس نہیں تھا! 
ہمارے پاس قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے سوا‘ اور شروع کے کچھ رہنماؤں کے سوا‘ ایسی کوئی مثال نہیں ۔ لگتا ہے کہ جس طرح مسلمان سائنس‘ ٹیکنالوجی‘ سرجری ‘میڈیکل علوم‘ ‘ سوشل سائنسز ‘ ایجادات اور دریافتوں میں پیچھے رہ گئے ہیں اسی طرح سادگی اور دیانت میں بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کا معیار ِزندگی شاید ہی دنیا میں اور کسی حکمران کا ہو! ہمارے حکمرانوں کی جائدادیں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ مغل بادشاہ ان کے سامنے بھکاری لگتے ہیں۔مغربی دنیا میں حکمرانوں کے گھر چھوٹے اور سادہ ہیں۔ یہ ٹرینوں اور سائیکلوں پر سفر کرتے ہیں۔ غیر ملکی سرکاری مہمانوں کی تواضع انتہائی سادگی سے کی جاتی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ان میں سے اکثر کوئی نہ کوئی کام روزی کمانے کے لیے ضرور کرتے ہیں۔ ان کے پاس محلات ہیں نہ گاڑیوں اور جہازوں کے فلیٹ! ان کے بچے عام شہریوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں! ان حکمرانوں سے پارلیمنٹ اور عوام ایک ایک پائی کا حساب لیتے ہیں۔
ایک بار پھر بھارت کی طرف چلتے ہیں! لال بہادر شاستری وزیر اعظم رہا اور وزیر اعظم بننے سے پہلے کئی وزارتوں کا بھی انچارج رہا۔ 1964ء میں اس نے پانچ ہزار روپے کا قرض لیا۔ یہ قرض فیئٹ کار خریدنے کے لیے تھا۔مانک سرکار‘ بھارت کی مشرقی ریاست تری پورہ کا اکیس سال ( 1998ء سے لے کر 2018ء تک ) مسلسل وزیر اعلیٰ رہا۔ اس کے بعد سالِ رواں کے آغاز تک ‘ چھ سال ‘ اپوزیشن لیڈر رہا۔گھر ہے نہ زمین‘ جائداد ۔ موبائل فون بھی نہیں رکھتا۔ ٹیکس ریٹرن کی نوبت ہی کبھی نہ آئی۔دو کمروں کے فلیٹ میں رہائش ہے۔چیف منسٹر کے طور پر تنخواہ پارٹی کو دے دیتا تھا۔ پھر پارٹی سے پانچ ہزار روپے گھر کے اخراجات کے لیے لیتا تھا۔ چیف منسٹری کے دوران بھی بیوی کے ساتھ زیادہ تر رکشا استعمال کرتا رہا! گوا کے چیف منسٹر منوہر پری کار پر اس کے مخالفین نے الزام لگایا کہ گارڈ آف آنر لیتے وقت چپل پہنے ہوئے تھا۔ اپنا بیگ خود اٹھاتا تھا۔مہنگی گاڑی سے کنارہ کش رہا۔مغربی بنگال کی چیف منسٹر مماتا بینر جی سادہ سفید ساڑی میں ملبوس رہتی ہے۔ بی جے پی کا ملک گیر سیلاب اسے نہ ہٹا سکا۔ شکستہ سے آبائی گھر میں رہتی ہے۔ پروٹوکول سے بے نیاز ہے۔ گلیوں میں عام چلتی پھرتی ہے۔ کورونا کے ایام میں گھر گھر جا کر لوگوں کی مدد کرتی رہی۔ 
سنگاپور کا معمار لی کوان یئو صرف ایک مکان کا مالک تھا۔ اس کی وصیت تھی کہ اس مکان کو منہدم کر دیا جائے تا کہ سرکاری خزانے پر اس کی دیکھ بھال کا بوجھ نہ پڑے۔گیارہ سال تک برطانیہ کی وزیر اعظم رہنے والی مارگریٹ تھیچر نے باورچی کبھی نہ رکھا۔ سرکاری فرائض سے فارغ ہو کر ‘ ہر روز اپنا اور اپنے میاں کا کھانا خود پکاتی بلکہ کبھی کبھی اپنی کابینہ کے وزرا کو بھی اپنا پکا ہوا کھانا کھلاتی۔ جب وہ جاپان میں ایک اجلاس میں شرکت کرنے گئی تو مہمانوں میں وہ واحد خاتون وزیر اعظم تھی۔ جاپانی حکومت نے اس کی حفاظت کے لیے بیس خواتین گارڈ مقرر کیں جو جوڈو کراٹے کی ماہر تھیں۔ مگر تھیچر نے اس خصوصی انتظام سے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ خاتون کے طور پر نہیں آئی بلکہ وزیر اعظم کی حیثیت سے آئی ہے۔جو سہولت دوسرے وزرائے اعظم کو نہیں دی جا رہی‘ وہ قبول نہیں کرے گی ! عارف صادق ایک پاکستانی تارک وطن ہیں۔ سڈنی میں رہ رہے ہیں۔ آسٹریلین گورنمنٹ میں اچھے عہدے پر فائز ہیں۔ مجھے بتا رہے تھے کہ متعلقہ وزیر نے ان کے دفتر کا معائنہ کرنا تھا۔ وہ دفتر میں کام کر رہے تھے کہ دروازہ کھلا اور وزیر صاحب‘ اپنا بیگ اٹھائے‘ کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کے ساتھ اور کوئی نہ تھا۔ پروٹو کول نہ اور کچھ! خود گاڑی چلا کر آئے۔ کسی نے استقبال نہیں کیا۔ 
طالبان کو چھوڑ کر‘ پوری مسلم دنیا میں ایسی مثالیں نہیں ملتیں! ہمارے پاس خلفائے راشدین کے بعد حکمرانوں کی سادگی شاید ہی کہیں دکھائی دے ! اُموی تھے یا عباسی‘ سلطنت عثمانیہ کے حکمران تھے یا مغل یا صفوی‘ سب نے عیش و عشرت کی زندگی گزاری۔ پاکستان کے حکمران (اور سیاستدان ) سپیشل جہازوں کے سوا پاؤں کہیں نہیں رکھتے! لاہور ہے یا رائے ونڈ‘ لاڑکانہ ہے یا کراچی‘ گجرات ہے یا پشاور ‘ یا بنی گالہ‘ ایسے ایسے محلات ہیں کہ عام پاکستانی خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتا۔ ان کا فرنیچر‘ ان کے خدام‘ ان کے باورچی خانے‘ ان کی زمینیں‘ ان کے کارخانے‘ ملک کے اندر اور ملک سے باہر ان کی جائدادیں‘ سب کچھ سوچ سے بھی ماورا ہے۔ دنیا ہزاروں سال کے تجربے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ جس ملک کے حکمران عیش و عشرت کی زندگی گزاریں‘ وہاں کے عوام مفلس ہوتے ہیں! اپنی جیب‘ اپنی تجوری‘ اپنے محلات بھرنے والے حکمران عوام کو سوائے فریب کے کچھ نہیں دے سکتے! کروڑوں کی گھڑیاں‘ لاکھوں کے ہینڈ بیگ‘ لندن اور دبئی میں رہائش مستقل اور اپنے ملک میں عارضی !! بچے ان کے پیدا ہونے سے پہلے ہی ارب پتی ہوتے ہیں! بیٹے بھی لندن میں اور نواسے بھی لندن میں رہتے ہیں!! جب تک ایسے رہنماؤں سے جان نہیں چھوٹتی‘ اس ملک کا مستقبل تاریک ہی رہے گا!

Monday, January 08, 2024

غلطیاں اور ان کے انڈے بچّے

عبد اللہ بن زبیر نے غلطی کی اور ایسی کہ حکومت بھی گئی اور جان بھی !یزید کی وفات کے بعد امویوں کے لیے حالات ناسازگار تھے۔اُس وقت نرمی کی ضرورت تھی مگر عبد اللہ بن زبیر شامیوں سے انتقام لینے پر تُلے ہوئے تھے۔ مروان بن حکم مدینہ میں تھا۔اسے انہوں نے شام کی طرف دھکیل دیا۔ '' کُبّے نوں لت لگ گئی‘‘ یعنی کبڑے کو لات لگی تو کُبڑا پن دور ہو گیا۔ مروان نے شام پہنچ کر بکھرے ہوؤں کو مجتمع کیا اور خود حکمران بن گیا۔ ابنِ زبیر غلطی نہ کرتے تو آج تاریخ کے صفحات مختلف ہوتے۔ حجاج نے ان کی میت کو کئی دن سولی پر لٹکائے رکھا۔ والدہ وہاں سے گزریں تو جو جملہ کہا اسے شبلی نعمانی نے نظم کیا ہے۔
اب بھی منبر سے نہ اُترا یہ خطیب 
اب بھی گھوڑے سے نہ اُترا یہ سوار 
شاہ جہاں نے غلطی کی۔ اس غلطی کا نتیجہ یہ نکلا کہ خود سالہا سال تک قید کا ٹی اور دارا کو اور اُس کے بیٹے کو اورنگ زیب نے مروا دیا۔ دارا کا شعبہ علم و دانش تھا اور اورنگ زیب مردِ میدان تھا۔ کیسا باپ تھا کہ بیٹوں کی طبیعتوں اور مزاج سے نابلد تھا اور کیسا حکمران تھا کہ جانتا نہیں تھا کہ کس کے پاس کون سا ہنر ہے! نتیجہ کیا نکلا ؟ ہزاروں لوگ مارے گئے اور شاہ جہاں کے تین بیٹے زمین کے پیٹ میں چلے گئے!خود اورنگ زیب نے دکن کی شیعہ ریاستوں کو ختم کر کے بہت بڑی غلطی کی! اتنی بڑی کہ پوری مغل ایمپائر کو یہ غلطی لے بیٹھی!گولکنڈہ اور بیجاپور کی ان ریاستوں نے مرہٹہ جِن کو بوتل میں بند کر رکھا تھا۔ ریاستیں ختم ہوئیں تو یہ جِن بوتل سے باہر نکل آیا۔پھر مرہٹوں نے اورنگزیب کو اتنا دوڑایا اتنا دوڑایا کہ ہانپتے ہانپتے ہی چل بسا۔ دفن بھی دکن ہی میں ہوا۔میں کہا کرتا ہوں کہ اورنگ زیب اپنے زمانے کا جنرل ضیا الحق تھا اور جنرل ضیا الحق اپنے زمانے کا اورنگزیب ! بظاہر لگتا ہے کہ دونوں کی اولین ترجیح اسلام تھا مگر اصل میں ایسا نہ تھا۔ اورنگ زیب کی اولین ترجیح سلطنت کی وسعت تھی اور جنرل ضیا الحق کی اولین ترجیح اقتدار کا دوام ! باپ کو تا دمِ مرگ قید میں رکھ کر اورنگ زیب نے قرآنی احکام کی صریح خلاف ورزی کی اور ضیا الحق نے نوے دن کا کئی بار کیا ہوا وعدہ ہوا میں اُڑا دیا۔ بھٹو صاحب بھی اپنی غلطی کی نذر ہوئے۔ میرٹ کو قتل کر کے ضیاالحق کو نیچے سے اوپر لائے۔ خود پھانسی چڑھے اور قوم کو ان کی غلطی کا خمیازہ گیارہ سال بھگتنا پڑا! عمران خان نے غلطیوں کے انبار لگا دیے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے ان کے وعدے اور دعوے سُن کر بہت سوں کو یقین تھا کہ پاکستان کے لیے مہاتیر ثابت ہوں گے یا لی کوان یئو ! مگر وہ دم درود اور تعویذ گنڈوں کی کُڑکّی میں ایسے پھنسے کہ مہاتیر یا لی تو کیا بنتے‘ محمد تغلق بن کر رہ گئے!
آج کی صورتحال یہ ہے کہ عمران خان کی مقبولیت پہلے سے کئی گنا زیادہ ہے! ان کا ووٹ بینک بڑھ چکا ہے! آزادانہ انتخابات ہوں تو تحریک انصاف کا پلڑا بھاری ہو گا۔ حریف ڈر کے مارے کانپ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو عمران خان مارچ 2022 ء میں عدم مقبولیت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا ہوا تھا‘ آج مقبولیت کے آسمان پر کیوں ہے ؟ اس حیرت انگیز تبدیلی کا کریڈٹ عمران خان کو نہیں‘ ان کے مخالفوں کو جاتا ہے جنہوں نے غلطیاں کیں اور یوں کیں کہ سیاسی کے بجائے یہ غلطیاں احمقانہ ہو گئیں! تحریک عدم اعتماد ایک مضحکہ خیز فیصلہ تھا۔پھر حکومت سنبھال لینا ایک اور حماقت تھی۔ پاکستان کی روایت یہ رہی ہے کہ جو حکومت میں آتا ہے‘ اس کی مقبولیت کی اُلٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔ پی ڈی ایم نے حکومت کے مزے تو لیے مگر یہ مزے مہنگے بہت پڑے! وہ جو کہتے ہیں کہ۔ '' ہُن کیوں روندی‘ چِٹے مکھانے تو کھادے‘‘۔ تو جوں جوں پی ڈی ایم کا وزن گھٹتا گیا‘ عمران خان کا بڑھتا رہا۔ ڈار صاحب کو وزارتِ خزانہ سونپنا ایک اور بڑی غلطی تھی ! جب مسلم لیگ (ن) کے اکثر رہنما جیلوں میں آجا رہے تھے‘ ڈار صاحب ولایت میں اپنے سمدھی کے ساتھ دنیا کے بلند ترین معیارِ زندگی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ واپسی کے بعد جس طرح ان کے مقدمے ایک ایک کر کے ختم ہوئے‘ اس سے عمران خان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ ڈار صاحب کی واپسی پر عمران خان نے کہا تھا کہ یہ واپسی ڈیل کا نتیجہ ہے۔جس رفتار سے مقدمے ختم ہوئے اس سے عمران خان کی ڈیل والی بات درست ثابت ہوئی! ڈار صاحب کے بارے میں محمد زبیر صاحب نے جو انکشاف کیا ہے وہ بھی حد درجہ افسوسناک ہے! 
2013ء اور 2018ء کے درمیانی عرصہ میں وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی۔ زبیر صاحب پرائیو یٹائزیشن کے وزیر تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دوران ڈار صاحب نے نقصان میں جانے والے سرکاری اداروں کو نجی شعبے میں جانے سے روکے رکھا۔ کابینہ کے اجلاس میں سٹیل مل کو نجی شعبے میں منتقل کرنے کی بات چیت آخری مرحلے میں پہنچ چکی تھی کہ ڈار صاحب نے یہ تجویز پیش کر دی کہ سٹیل مل کو پرائیویٹائز نہ کیا جائے بلکہ سندھ حکومت کے حوالے کر دیا جائے کیونکہ اُس وقت کے لیڈر آف اپوزیشن خورشید شاہ ایسا چاہتے تھے۔ زبیر صاحب کے بقول انہوں نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ ان کے بقول حکومتیں ایسے ادارے نہیں چلا سکتیں بلکہ وہ لوگ چلا سکتے ہیں جن کا یہ کام ہے۔ پہلے ہی حکومت اربوں کا نقصان اٹھا رہی تھی۔ بہر طور‘ کابینہ نے منظوری دے دی مگر سندھ حکومت نے اپنی شرائط رکھ دیں۔ دس ماہ اس خط و کتابت میں گزر گئے۔ آخر میں سندھ حکومت کو دینے کا فیصلہ ہی منسوخ کر دیا گیا! پی آئی اے کے حوالے سے بھی زبیر صاحب نے ڈار صاحب کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے! ان کے بقول پارلیمانی کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری طے کر دی تھی اور اس میں تمام جماعتوں کی رضامندی شامل تھی مگر آخری مرحلے میں ڈار صاحب نے منع کر دیا کہ اپوزیشن کے خیال میں یہ موقع پی آئی اے کی نجکاری کے لیے مناسب نہیں ہے۔ ان سفید ہاتھیوں کی نجکاری کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ حکومت میں آکر جو جماعتیں نجکاری کی حمایت کرتی ہیں‘ اپوزیشن میں جا کر وہی پارٹیاں مخالفت کرتی ہیں۔ یعنی‘ بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
عمران خان اور ان کی پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے لیے ان کی مخالف سیاسی جماعتوں اور دیگر متعلقین 

(stakeholders)‘

 سب نے اپنی اپنی توفیق کے مطابق خوب محنت کی ہے۔ عدالت کا جیل کے اندر لگنا اور پی ٹی آئی سے جُڑے ہوئے افراد کی ہر رہائی کے بعد پھر گرفتاری نے اس مقبولیت میں خوب خوب اضافہ کیا ہے! یہاں تک کہ چوہدری پرویز الٰہی بھی ہیرو کا درجہ حاصل کر چکے ہیں حالانکہ ان کی وجۂ شہرت اس سے پہلے ہمیشہ ڈرائنگ روم پالیٹکس رہی ہے یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مثبت تعلقات اور دولت ! 
پیپلز پارٹی کا ویژن

( Vision)

 بلاول کو وزیر اعظم بنانے سے آگے نہیں جا سکتا! مسلم لیگ (ن) کے افق پر مریم نواز چھائی ہوئی ہیں۔ ان خاندانی اجارہ داریوں سے لوگ اس قدر متنفر ہیں کہ انہیں ان جماعتوں کے بارے میں عمران خان کا مؤقف درست لگنے لگتا ہے۔
حکیم لقمان سے پوچھا گیا : ادب کس سے سیکھا؟ کہا: بے ادبوں سے! کہ جو کچھ وہ کرتے تھے‘ اس سے پرہیز کیا۔ جو کچھ یہ دونوں جماعتیں کرتی پھر رہی ہیں‘ اس سے پرہیز لازم ہے۔ یہی تو عمران خان کہتا ہے۔ ان جماعتوں کا طرزِ عمل ہی عمران خان کو مقبول سے مقبول تر بنا رہا ہے!!

Thursday, January 04, 2024

انفرا سٹرکچر ضروری ہے! مگر کون سا؟


ہمارے دوست خلیل کا بیٹا امریکہ سے بہت بڑی ڈگری لے کر آیا۔ قابلیت تو اس کی مسلّمہ ہے مگر اضافی کریڈٹ اسے یہ بھی جاتا ہے کہ باپ سے ایک پیسہ نہیں لیا‘ سوائے جاتے ہوئے یک طرفہ کرائے کے۔ پڑھائی بھی کرتا رہا اور ساتھ کام بھی! اگرچہ اکثر طلبہ اسی طرح کرتے ہیں لیکن پاکستان سے ناجائز آمدنی رکھنے والوں کے بچے وہاں کام نہیں کرتے اور پڑھائی اور دیگر تمام اخراجات والدِ محترم کے لامحدود وسائل ہی سے پورے ہوتے ہیں! فرزند کی کامیابی کی خوشی میں خلیل نے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ میں بھی مدعو تھا۔ بہت یادگار فنکشن تھا۔ پورا ہال بُک کرایا گیا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے شادی خانہ آبادی کی تقریب ہے۔ تقریب کے دوسرے دن میں اور خلیل کلب میں چائے پی رہے تھے۔ یہ ہم چند دوستوں کا معمول ہے کہ کوئی خاص مصروفیت نہ ہو تو شام کو مل بیٹھتے ہیں۔ باتوں باتوں میں خلیل نے تقریب کے حوالے سے بتایا کہ اسے حیرت بھی ہوئی اور دُکھ بھی! سوشل میڈیا کے اس زمانے میں جب رابطہ کرنا انتہائی سہل ہو چکا ہے‘ بہت سے لوگوں نے جو مدعو تھے‘ دعوتی پیغام کا جواب نہیں دیا۔ آج کل نرم یاد دہانی
 (Soft reminder) 
کا رواج چل پڑا ہے۔ خلیل کے بقول اس نے یاد دہانی بھی کرائی پھر بھی ایسے حضرات کی اچھی خاصی تعداد تھی جنہوں نے آخر وقت تک کنفرم کیا نہ معذرت کی‘ نہ شریک ہی ہوئے! 
جو تجربہ خلیل کو ہوا ہے‘ وہ مجھے بھی بارہا ہوا ہے۔ آپ کو بھی ہوا ہو گا! یہ ایک بیرومیٹر ہے جس سے ہم اپنے معاشرے کی ذہنی پختگی ماپ سکتے ہیں! ذہنی پختگی مختلف حصوں میں تقسیم کی جا سکتی ہے۔ مثلاً وقت کی پابندی‘ پیغام یا فون کال کا جواب‘ ٹریفک کے حوالے سے رویہ‘ قطار بندی‘ شکریہ ادا کرنا اور دیگر بہت سے معاملات! اصل سوال یہ ہے کہ شہری کے طور پر ایک پاکستانی کہاں کھڑا ہے؟ اگر فرد اپنے فرائض سرانجام نہیں دے رہا تو اسے کوئی حق نہیں کہ معاشرے کی شکایت کرے یا حکومت یا ریاست کا گلہ کرے! اس سے بھی بڑا ستم یہ ہے کہ ہم ذہنی ناپختگی کے ان مظاہر کو اہمیت ہی نہیں دیتے! آپ کسی سے شکوہ کریں کہ آپ نے دعوت نامے کا جواب دیا نہ ہی تشریف لائے تو وہ ہنس دے گا اور کسی مصروفیت کا بہانہ بنا دے گا مگر اسے ہر گز یہ احساس نہیں ہو گا کہ جواب نہ دے کر یا معذرت نہ کرکے اس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار شہری ہے نہ مہذب! ہم بطور فرد مکمل طور پر ناکام ہیں مگر بات ریاست کی کرتے ہیں‘ امریکہ کے خلاف دفترِ شکایات کھول بیٹھتے ہیں‘ اداروں پر تنقید کرتے ہیں‘ حکومت کی مذمت کرتے ہیں‘ سیاست دانوں پر تبرا کرتے ہیں اور بیورو کریسی کو برا بھلا کہتے ہیں! ایک انگلی دوسروں کی طرف ہو تو چار اپنی طرف ہوتی ہیں جنہیں دیکھنے سے ہم قاصر ہیں!
اس ذہنی عدم بلوغت یا ذہنی ناپختگی کی ذمہ داری دو اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ ایک ادارے کا نام ''گھر‘‘ ہے۔ دوسرے ادارے کا نام ''سکول‘‘ ہے! دونوں ادارے اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان اداروں کے چلانے والے خود ذہنی ناپختگی اور ذہنی عدم بلوغت کا شکار ہیں! ماں باپ بچوں کو وہ طور طریقے کیسے سکھا سکتے ہیں جن سے وہ خود نابلد ہیں؟ سکولوں کے اساتذہ بھی اسی کیٹیگری سے تعلق رکھتے ہیں! تعلیم جس معیار کی دی جا رہی ہے‘ سب جانتے ہیں مگر تربیت کا خانہ مکمل طور پر خالی ہے۔ باپ دفتر دیر سے جاتا ہے۔ استاد سکول دیر سے آتا ہے۔ بس چلے تو پیریڈ بھی گول کر جاتا ہے۔ بچے جو کچھ دیکھتے ہیں وہی کرتے ہیں۔ ہم ایک مجہول معاشرہ ہیں! مست! غیر سنجیدہ! اور بر خود غلط! آپ مستری کو یا چھت ڈالنے والے کو یا اپنے ڈرائیور کو دیر سے آنے پر مطعون کیسے کر سکتے ہیں! پورے معاشرے میں دیر سے آنے کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ جہاز اور ٹرین سے لے کر حکمرانوں تک سب دیر سے آتے ہیں! یہ صرف ایک مرض ہے۔ ان تمام امراض کا علاج ایک ہی ہے کہ ماں باپ اور اساتذہ پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کریں پھر بچوں کو ابتدا سے بتایا اور سکھایا جائے کہ انہوں نے ہر پیغام کا جواب دینا ہے‘ ہر جگہ وقت پر پہنچنا ہے‘ ہر مہربانی کا شکریہ ادا کرنا ہے‘ قطار بنانی ہے‘ اپنی باری کا انتظار کرنا ہے‘ دوسرے کے حق کا احترام کرنا ہے اور ٹریفک کے قواعد پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہے! سکھانے کا بہترین طریقہ عملی نمونہ پیش کرنا ہوتا ہے۔ ایک شخص نے امام جعفر صادق کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ تبلیغ کے لیے جا رہا ہے۔ آپ نے اسے نصیحت کی کہ دیکھنا کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں تبلیغ کرتے ہوئے زبان کا استعمال کرنا پڑے۔
ہم‘ بطور قوم‘ سفاک حد تک احمق‘ گاؤدی‘ بودے اور ہونّق ہیں۔ اس قدر کہ ہم خوشی منانے کا طریقہ بھی نہیں جانتے! بسنت مناتے ہیں تو لوگوں کے گلے کاٹ دیتے ہیں۔ تین دن پہلے کراچی میں جس طرح نیو ایئر نائٹ منائی گئی ہے‘ اس پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ تین سال کی ثانیہ اپنے گھر کے صحن میں‘ اپنے ماں باپ کے ساتھ سوئی ہوئی تھی۔ نئے سال کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کی گئی۔ گولی گھر کے اندر گئی۔ سوئی ہوئی ثانیہ کے سر میں لگی۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا۔ سرجن نے اسے بچانے کی پوری کوشش کی مگر ناکام رہی۔ یہ کیسی خوشی ہے؟ یہ کیسا جشن ہے؟ چار دیواری کی حرمت کہاں گئی؟ ایک تین سالہ بچی اپنے گھر میں سو رہی ہے۔ سر میں گولی لگتی ہے۔ وہ ہلاک ہو جاتی ہے۔ اس کے ماں باپ پر کیا گزر رہی ہے؟ کیا ایسا وحشیانہ جشن کسی اور ملک میں منایا جاتا ہے؟ ہو سکتا ہے افریقہ کے آدم خور قبیلوں میں ایسا ہوتا ہو۔ تیس چالیس افراد زخمی ہوئے۔ کراچی کے تینوں بڑے ہسپتال ان زخمیوں کی دیکھ بھال میں مصروف رہے! ایسا بھی ہوا ہے اور ایسا صرف پاکستان میں ہو سکتا ہے کہ شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ کی گئی اور گولی دلہا کو لگی جو جاں بحق ہو گیا اور دلہن سسرال جانے سے پہلے ہی بیوہ ہو گئی! اسی سال اگست میں وزیرستان میں دلہا نے اپنی شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ کی اور اپنے ہی تین بھتیجوں کو ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا۔ کچھ عرصہ پہلے کہوٹہ میں شادی کے موقع پر ہوائی فائرنگ میں دلہا کا والد اور چچی جاں بحق ہو گئے۔ ایک چودہ سالہ بچہ‘ جو مہمان تھا‘ زخمی ہو گیا! یہ تو چند واقعات ہیں۔ ایسی ہلاکتوں کی تعداد سینکڑوں سے کم کیا ہو گی۔ پولیس کیا کرے اور کہاں تک کرے! گرفتاریاں ہوتی ہیں مگر باز کوئی نہیں آتا۔ ہاں اگر پھانسیاں دی جائیں تو شاید یہ قتل و غارت رُک جائے۔ کم از کم تین سالہ ثانیہ کے قاتل کو تختۂ دار پر ضرور جھولنا چاہیے! 
فرد کا رویّہ کسی بھی قوم کی ترقی کا پہلا پڑاؤ ہے۔ شاہراہوں‘ ہوائی اڈوں‘ صنعتوں کا نمبر بعد میں آتا ہے۔ سب سے اہم انفراسٹرکچر فرد کی ذہنی بلوغت اور پختگی ہے۔ اچھے بھلے تعلیم یافتہ حضرات پوچھ رہے ہوتے ہیں ''آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟ ووٹ کسے دیں گے ؟ بچے نہیں ہیں‘ شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے؟ مکان کرائے کا ہے یا اپنا؟ گاڑی کب خرید رہے ہیں؟‘‘ جن ملکوں کو ہم ترقی یافتہ کہتے ہیں وہاں ایسے عجیب و غریب‘ ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا!

Tuesday, January 02, 2024

بس کردو ! خدا کیلئے بس کر دو

بس کردو! خدا کے بندو! بس کردو! خدا کیلئے بس کردو!
کب تک بیٹیوں کو مارتے رہو گے! کب تک ان کے گلے گھونٹتے رہو گے! تم تو مشرکینِ مکہ کو بھی مات کر رہے ہو! وہ پیدا ہوتے ہی مار دیتے تھے۔ تم پال پوس کر‘ جوان کر کے مارتے ہو! اپنی جوانی یورپ اور امریکہ میں اپنی مرضی سے گزارتے ہو! سارے کام کرتے ہو! عیاشیوں سے لطف اندوز ہوتے ہو اور جی بھر کر ہوتے ہو! پاکستان یاد آتا ہے نہ اپنی تہذیب نہ روایت! غیرت بھی سوئی رہتی ہے اور شرم بھی! جوانی ڈھلنے لگتی ہے تو بیٹی جوان ہو جاتی ہے۔ اب تم 180ڈگری کے زاویے پر گھوم جاتے ہو! غیرت‘ جو کنڈلی مار کر سوئی ہوئی تھی‘ جاگ اٹھتی ہے اور پھنکارنے لگتی ہے۔ پاکستان یاد آنے لگتا ہے۔ اب یہ خیال سوہانِ روح بن جاتا ہے کہ تمہارا تو اپنا کلچر ہے۔ تمہاری روایت کی رُو سے بیٹی اپنی پسند کی شادی نہیں کر سکتی۔ کر لے گی تو خاندان کی ناک کٹ جائے گی! کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گے! یہ سوچتے ہوئے تمہیں موت پڑتی ہے کہ کل خدا کو کیا جواب دو گے۔ اب بیٹی کا لباس بھی کَھلنے لگتا ہے۔ اس کی وہ آزادی بُری لگنے لگتی ہے جس میں ڈوب کر تم نے اپنی جوانی گزاری! اب تم پیچھے پاکستان میں ایک اَن پڑھ یا نیم خواندہ یا نیم تعلیم یافتہ بھانجے یا بھتیجے کو ڈھونڈتے ہو۔ پھر بیٹی کو کسی بہانے سے واپس وطن لاتے ہو۔ وطن‘ جو تمہارا وطن ہے‘ تمہاری بیٹی کا نہیں! یورپ میں پلی بڑھی‘ پڑھی لکھی بیٹی کو زبردستی اس بھانجے کے ساتھ باندھتے ہو۔ انکار پر اس کا گلا گھونٹ دیتے ہو! تم بیٹی کے بھی مجرم! خدا کے بھی مجرم! انسانیت کے بھی مجرم! 
جب تم کشاں کشاں یورپ گئے تھے تو کیا تمہیں نہیں معلوم تھا کہ وہاں کا رواج‘ کلچر‘ طور طریقہ کیا ہے؟ کیا اس وقت تم اندھے تھے؟ اُس وقت تم پر امیگریشن لینے کی دھُن سوار تھی! تم باؤلے ہو رہے تھے! تمہیں معلوم تھا کہ بیٹی وہاں پیدا ہو گی‘ یا وہاں پلے بڑھے گی تو جینز بھی پہنے گی۔ اپنی پسند کی شادی بھی کرے گی! مگر اس وقت تمہاری آنکھوں پر گورے پاسپورٹ کی‘ پونڈوں اور ڈالروں کی پٹی بندھی تھی۔ اُس وقت تم برادری سے مبارکبادیں وصول کر رہے تھے اور خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ 
سارہ نامی دس سالہ لڑکی جو انگلستان میں ماری گئی‘ جس کا باپ‘ چچا اور سوتیلی ماں بھاگ کر پاکستان آگئے‘ آکر چھپ گئے اور اب جنہیں واپس منگوا کر برطانوی پولیس نے گرفتار کیا ہے‘ اُس سارہ کا کیا قصور تھا؟ اسے کیوں مارا گیا؟ اسے خاموشی سے گھر کے اندر کیوں دفن کیا گیا؟ جب تم سفید چمڑی والی عورتوں سے شادیاں رچاتے ہو‘ کیا اس وقت نہیں سوچتے کہ کل یہ بچوں کو چرچ بھیجیں گی؟ پھر جب بچے ہو جاتے ہیں اور بڑے بھی ہو جاتے ہیں تو تمہیں سفید فام بیوی بھی بُری لگنے لگتی ہے اور اس کا بچوں کو چرچ بھیجنا بھی! کبھی تم بچوں کو چوری چھپے پاکستان لے آتے ہو۔ کبھی ان کی ماں کو طلاق دیتے ہو‘ کبھی بیٹی کو قتل کر دیتے ہو! آخر تم کیا چیز ہو؟ تم کبھی کچھ ہو تو کبھی کچھ! ایک جگہ ٹھہرتے ہو نہ ایک مؤقف اپناتے ہو! تمہاری جہالت‘ منافقت اور سفاکی نہ صرف تمہیں رسوا کرتی ہے بلکہ پوری پاکستانی کمیونٹی کو بدنام کرتی ہے! تم پاکستان کو چھوڑ جاتے ہو پھر بریڈفورڈ یا گلاسگو یا مانچسٹر یا لندن میں اپنے گھر میں ایک چھوٹا سا پاکستان بنانا چاہتے ہو! یعنی تمہیں برطانیہ کے مزے بھی ملیں اور پاکستان کے بھی! یہ کس طرح ممکن ہے؟ یورپ میں جوان ہونے والی کتنی ہی لڑکیاں پاکستان لائی گئیں۔ زبردستی کی شادی سے بچنے کے لیے انہوں نے یورپی ملک کے سفارت خانے کو مدد کے لیے پکارا۔ سفارت خانے نے انہیں اس شادی سے‘ یا شادی سے انکار کی صورت میں موت سے‘ بچا کر سفارت خانے میں پناہ دی اور پھر انہیں یورپ واپس بھیجا۔ ایسا ایک بار نہیں کئی بار ہوا مگر تم ہو کہ اسی ڈگر پر ڈٹے ہوئے ہو! 
مجھے اپنا وہ کلاس فیلو یاد آرہا ہے جو مرحوم ہو چکا! بچے بہت چھوٹے تھے جب اس نے ہجرت کی اور یورپ جا بسا! میں اُسے یورپ میں ملا بھی تھا۔ بہت خوش تھا کہ شہریت مل گئی۔ ایک اعلیٰ معیارِ زندگی سے وہ لطف اندوز ہو رہا تھا! بیٹی نے وہیں تعلیم حاصل کی۔ جوان ہوئی اور شادی کا وقت آیا تو مرحوم نے پاکستان میں اپنے ایک عزیز سے بیٹی کی شادی کردی اور بیٹی کو واپس بھیج دیا کہ پاکستان میں میاں کے ساتھ رہے! یہ نہ سوچا کہ ساری زندگی یورپ رہنے والی لڑکی پاکستان میں نہیں رہ سکے گی! کچھ عرصہ وہ رہی! ایک بچہ بھی ہو گیا۔ مگر کب تک! یہاں کے اجنبی اور مکمل طور پر مختلف ماحول سے وہ ہم آہنگ نہ ہو سکی اور واپس یورپ جانے کا مطالبہ کر دیا۔ باپ اور میاں نے کہا کہ یہیں رہنا ہو گا! باپ نے ایک اور حماقت کی۔ داماد کو کہا کہ اس کا پاسپورٹ قبضے میں لے لو! لڑکی نے جو میاں کی نسبت بہت زیادہ پڑھی لکھی تھی‘ الٹی میٹم دے دیا کہ پاسپورٹ دو ورنہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جاؤ! پاسپورٹ مل گیا۔ لڑکی نے بچے کو لیا اور واپس ''اپنے گھر‘‘ یورپ چلی گئی! یہاں سے واقعات نے ایک اور موڑ لیا! ایک درد ناک موڑ! باپ کو ننھے بچے کی یاد ستانے لگی۔ بیوی نے کہا یورپ آجاؤ! یورپ کیسے جاتا! بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا تھا۔ بیوہ بہن بھی گھر میں اسی کی دست نگر تھی۔ اُدھر بچہ یاد آتا‘ ادھر ماں اور بہن کو چھوڑنا مشکل تھا۔ آخر کار بچے کی محبت غالب آگئی! ملازمت‘ ماں‘ بہن‘ وطن‘ سب کچھ چھوڑ کر یورپ چلا گیا! وہاں جا کر احساسِ جرم گلے میں پھانس بن گیا کہ پیچھے ماں اور بہن کا کیا بنے گا! اس شدید ذہنی کشمکش کے نتیجے میں اور تو کچھ کر نہ سکا‘ بیوی ہی کو طلاق دے دی! اندازہ لگا لیجیے کتنے گھر برباد ہوئے‘ کتنے انسان اُجڑ گئے! بچہ الگ باپ کی شفقت سے محروم ہو گیا!! یہ صرف ایک واقعہ ہے۔ اسے سو سے‘ بلکہ ہزار سے ضرب دیجیے۔ کوئی سبق سیکھتا ہے نہ عبرت پکڑتا ہے!
مغربی ملکوں کو ہجرت کرتے ہو تو جہاز پر سوار ہونے سے پہلے فوائد اور نقصانات‘ دونوں کا کیوں نہیں سوچتے؟ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہجرت ایک پیکیج ڈیل ہے جس میں منفی اور مثبت دونوں پہلو شامل ہیں! مغربی معیارِ زندگی ملے گا۔ مالی آسودگی حاصل ہو گی۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ بچے پاکستانی نہیں‘ مغربی اقدار کو اپنائیں گے! پیکیج کے منفی اور مثبت دونوں حصوں کو قبول کرنا ہو گا۔ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو نہیں چلے گا۔ اوکھلی میں سر دو گے تو سر پر موسل بھی پڑے گا۔ خدا کے لیے داماد امپورٹ کرنا بند کرو! دو رنگی چھوڑ دو! یک رنگ ہو جاؤ! سراسر موم ہو جاؤ یا سنگ! ایک کشتی میں پاؤں رکھو! بیٹیوں کا قتل بند کرو! خدا سے ڈرو! دنیا تو خراب کر ہی رہے ہو‘ عاقبت بھی برباد کر رہے ہو۔ غیرت کے نام پر قتل پاکستان کا خاصہ ہے۔ اسے پیری فقیری اور جادو ٹونے کی طرح برآمد کرنا ضروری نہیں۔ ساری زندگی مغرب میں گزار کر آخر میں کارو کاری‘ ونی یا سوارہ ہی کرنا ہے تو افسوس ہے تم پر!!

Monday, January 01, 2024

ایک اور نیا سال!!!

ایک اور نیا سال ! دائرے کے اندر ایک اور سفر! 

حیرت ہوتی ہے جب نئے سال کیلئے نئے تخمینے لگائے جاتے ہیں۔نئی امیدیں باندھی جاتی ہیں!مگر کیوں؟ اکتیس دسمبر اور یکم جنوری کے درمیان آخر ایسی کون سی تبدیلی رونما ہوتی ہے کہ ہم پہلے سے بہتر ہو جائیں؟ ہمارے علاقے میں ایک محاورہ بولا جاتا ہے کہ '' جیڑھے اِتھے بھَیڑے ‘ او لاہور بھی بھیڑے‘‘ کہ جو یہاں برے ہیں وہ لاہور جیسے خوبصورت شہر جا کر بھی بُرے ہی رہیں گے۔ لاہور سے ایک اور دلچسپ بات یاد آئی۔ گاؤں میں ہماری ایک بزرگ تھیں۔ وہ اظہارِ افسوس کیا کرتی تھیں کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ گویا پیدا ہی نہیں ہوا۔ مگر جو لاہور دیکھے بغیر مر گئے ان کا کیا بنے گا؟ 
پرانا سال اور نیا سال! یہ سب ہماری تقویم کا حصہ ہے! خدا کی تقویم میں ایک دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ایک تقویم عشق کی بھی ہے کہ بقول اقبال :
عشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سوا 
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام 
رہی ہماری تقویم! تو ہم کیا اور ہماری تقویم کیا! بُڈھی کھوسٹ تقویم ٹوٹی ہوئی کھاٹ پر لیٹی ہے۔ کھانستی ہے اور بلغم تھوکتی ہے! کونے میں سال ‘ مہینے‘ ہفتے اور دن ‘ نڈھال پڑے ہیں! حال ہے نہ مستقبل! پچھتر برس پچھتر صدیوں کی طرح گزرے ہیں۔ بیرونی قرضے‘ دس دس برس پر محیط کئی آمرانہ ادوار! دہشت گردی کے جلو میں لاشیں‘ آگ اور دھواں! نقب زنی کی ملک گیر وارداتیں‘ چوریاں اور ڈاکے۔ منی لانڈرنگ! سرے محل۔ ایون فیلڈ۔بنی گالے۔ رائیونڈ۔ گجروں‘ بزداروں اور گوگیوں کے پھیلتے مہیب سائے۔گیٹ نمبر چار کے ساتھ تعلقات کی اُبکائی آور ڈینگیں! توشہ خانے۔ مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کی کامیاب کوششیں۔ جان لیوا گرانی ! یہ ہے ہماری پون صدی کی تاریخ! یہ ہے ہماری تقویم! یہ ہے ہمارا کیلنڈر جس کے ہر مہینے کی ہر تاریخ پر کانٹا ( کراس) لگا ہوا ہے! یہ ہے ہماری جنتری ! پہلے جنتریوں میں جعلی حکیموں کے اشتہار ہوتے تھے! ہماری جنتری میں جعلی رہنماؤں کے پتے درج ہیں! 
کون سا نیا سال ہے جس نے ہماری امیدوں کو بار آور کیا ہے ؟ ہماری معیشت کو آزاد کیا ہے؟ ہماری زراعت کو قابلِ رشک کیا ہے ؟ ہماری سیاست کوراست باز کیا ہے؟ ہماری برآمدات کو زیادہ اور درآمدات کو کم کیا ہے؟ ہماری جمہوریت کو خالص کیا ہے؟ ہمارے اداروں کو مضبوط کیا ہے؟ ہماری پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کیا ہے؟ ہماری بیورو کریسی کو عزت دار کیا ہے؟ ہماری سرحدوں کو سمگلنگ کی نحوست سے چھٹکارا دیا ہے؟ کسی سال بھی نہیں! نیا سال ایک دھوکے‘ ایک پرچھائیں ایک جھوٹے خواب کے سوا کچھ بھی نہیں! جب بھی دسمبر ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے‘ ہمیں نیا سال اُس پانی کی طرح دکھائی دیتا ہے جو ریگستان میں سفر کرنے والے پیاسے ساربان کو دکھائی دیتا ہے! پھر جیسے جیسے نیا سال ادھیڑ عمر کی طرف بڑھتا ہے‘ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو سراب تھا! وہی چٹیل‘ لق و دق صحرا! وہی ہڈیاں اور کاسہ ہائے سر ! ہم پچھتر سال سے ہر نئے سال کو پانی سمجھتے آئے ہیں ! ہر بار نیاسال سراب ثابت ہوتا ہے! مستقبل قریب میں کوئی تغیر رونما ہوتا نہیں نظر آرہا! 
یہی نیا سال ہمارے حریفوں اور حلیفوں کے لیے کلیدِ کامرانی بنتا چلا آ رہا ہے! بھارت میں اشیا و خدمات کی قیمتیں دیکھ لیجیے! زر مبادلہ کے ریزرو دیکھ لیجیے! ڈالر کی قیمت دیکھ لیجیے۔ بنگلہ دیش کے لیے ہر نیا سال مژدۂ جانفزا لے کر آتا ہے! کوریا‘ ویتنام‘ سنگا پور‘ تائیوان‘ ملا ئیشیا‘ یو اے ای‘ یہ سب ملک ہمارے زیر دست تھے۔ ہم ان سے آگے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ ہر نیا سال ہمیں پیچھے دھکیلتا رہا! آج ہم نشانِ عبرت ہیں! قوموں کی برادری میں ہماری عزت ہے نہ وقعت!ہمارے گاؤں ازمنۂ وسطیٰ سے بھی قدیم تر دکھا ئی دیتے ہیں! ہمارے شہر گندگی اور کثافت کے گڑھ بن چکے ہیں۔پانی کی قلت ہے! بجلی کا کال ہے! چوریاں ڈاکے اغوا عام ہے۔ روزانہ درجنوں گاڑیاں چوری ہوتی ہیں۔ سٹریٹ کرائم زوروں پر ہیں۔جانیں محفوظ ہیں نہ عزتیں نہ مال! بیورو کریسی عوام سے مکمل بے نیاز ہے اور احساسِ کمتری کے خول میں بند! سیاستدان پارٹیاں بدلنے میں مصروف ہیں! جرنیل اپنی دنیا میں رہ رہے ہیں جس میں گاف ہے اور مَیس ! اور عام پاکستانی سے کوسوں دور! طلبہ اور طالبات کو اندازہ ہی نہیں کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی رومانٹک دلکش زندگی کے بعد انہیں کس ہولناک بیروزگاری کا سامنا کرنا پڑے گا ! خواتینِ خانہ مہنگائی کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ میں ہیں! تاجر قوم کے درد سے بالکل لا تعلق! دن کے بارہ بجے بازار کھولتے ہیں اور رات کے بارہ بجے بند کرتے ہیں ! کسان بیج اور کھاد کی قیمتوں تلے کراہ رہا ہے۔ 
آپ باقی ساری باتیں چھوڑ دیجیے۔ صرف ٹریفک کا مسئلہ لے لیجیے۔ کیا کسی نئے سال نے ہماری ٹریفک کو مہذب دیکھا ہے ؟ اس میں کسی غیر ملکی مدد کی ‘ کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں! صرف ٹریفک پولیس کی دیانت داری اور فرض شناسی درکار ہے۔ مگر ہماری ٹریفک دنیا کی بدترین ٹریفک میں شمار ہوتی ہے۔ وحشت اور ہلاکت کا بے رحم کھیل ! سڑکوں پر گویا خانہ جنگی ہو رہی ہے! سول وار کی صورت حال ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو مار رہے ہیں! ڈمپر اور ٹریکٹر ٹرالیاں قتلِ عام کر رہی ہیں۔غیر ملکی دیکھتے ہیں تو کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ کروڑوں موٹر سائیکل وبا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ موٹر وے کی ٹریفک مثالی سمجھی جاتی تھی۔ اب وہ بھی تنزل پذیر ہو چکی ہے۔ لین کی پابندی ختم ہو رہی ہے! کسی حکومت کو توفیق نہیں ہوئی کہ ایک نیا سال اس کام کے لیے ہی وقف کر دے! کہیں سے تو اصلاح کا کام شروع ہو جائے! مگر ہر سال ٹریفک کی ہلاکتوں کی تعداد گزرے ہوئے سال سے زیادہ ہو رہی ہے۔ کراچی اور اسلام آباد میں زیر زمین ریلوے کے سوا چارہ نہیں۔ لاہور میں خدا خدا کر کے اورنج ٹرین چلی ہے۔ بھارت کی زیر زمین ریلوے پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ ایران کو بھی دیکھ لیجیے۔ اقتصادی پابندیوں کے باوجود تہران میں زیر زمین ریلوے کا منصوبہ کامیابی سے چل رہا ہے اور مزید وسیع ہو رہا ہے۔ تیس لاکھ مسافر روزانہ سفر کرتے ہیں۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا میٹرو سسٹم ہے۔اس کے مقابلے میں کراچی کی حالت کا اندازہ لگائیے! کراچی کی رگوں سے پیسہ خوب نچوڑا گیا ہے۔ دبئی سے لے کر ہیوسٹن اور لاس اینجلز تک کراچی کی دولت نے خوب خوب کرشمے دکھائے ہیں اور دکھائے جا رہی ہے۔ مگر خود کراچی ایک ایسی بیوہ ہے جس پر بُری نظریں تو سب کی ہیں لیکن بیچاری کا شوہر کوئی نہیں! ایک مفلوک الحال ‘ روتی پیٹتی بیوہ ! کیا کوئی پلان آپ کی نظروں سے گزرا ہے جس کے مطابق نیا سال کراچی کے لیے بہتر طرزِ زندگی کا نقیب ہو گا؟؟ 
ہر نیا سال ماتم کا سال ہے ‘ کفِ افسوس ملنے کا سال! ہر سال کے اختتام پر ہم وہیں کھڑے پائے جاتے ہیں جہاں سے چلے تھے۔ ایک شیطانی دائرہ

( vicious circle) 

ہے جس میں ہم پھنسے ہوئے ہیں! نہ جانے کب تک پھنسے رہیں گے! سال آتے اور جاتے رہیں گے! نیا سال مبارک کی آوازیں بھی آتی رہیں گی! حسب ِتوفیق نیو ایئر پارٹیاں بھی منائی جاتی رہیں گی! اس کالم نگار کی طرف سے بھی قارئین کو سالِ نو کی مبارک باد ! مگر جہاں تک معیشت‘ زراعت‘ صنعت‘ مواصلات ‘ تعلیم اور سرداری نظام کا تعلق ہے‘ سب کچھ وہی رہے گا اور وہیں رہے گا! 
نہ تم بدلے نہ دل بدلا نہ دل کی آرزو بدلی
میں کیسے اعتبارِ انقلابِ آسماں کر لوں

 

powered by worldwanders.com