Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Wednesday, May 10, 2017

ستارے دیکھتا ہوں زائچے بناتا ہوں

یہ ایک خوبصورت وال کلاک تھا جو گھر والی کو پسند آیا۔ سنہری حروف پر موٹی 
موٹی سفید سوئیاں! پنڈولم بھی تھا جو باقاعدہ دائیں سے بائیں اور پھر بائیں سے دائیں جاتا تھا۔ کیوں نہ یہ میں اپنی چینی سہیلی کے لیے لے جائوں اس نے کہا اور وہ پھر ہم نے لے لیا۔
بیرون ملک پہنچے تو دوسرے دن ہی ہمارے چینی دوست ملنے آ گئے۔ یہ مشرقی روایت ان لوگوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ ملنے آنا دعوت پر مدعو کرنا سفر پر جانا ہو تو رخصت کرنا۔ دستر خوان ان کا وسیع ہوتا ہے۔ کئی اقسام کی اشیائے خورونوش! ہماری خاطر حلال گوشت کا اہتمام!
تحفہ پیش کیا گیا۔ یہ پیکٹ میں لپٹا لپٹایا تھا۔ گھر جا کر انہوں نے کھولا تو وال کلاک نکلا۔ اب یہ سوئِ اتفاق تھا یا حسن اتفاق کہ چینی سالِ نو کا ورود بھی انہی ایام میں تھا۔ دوسرے دن وال کلاک واپس مل گیا۔ ساتھ پیغام بھی کہ آپ کا بہت بہت شکریہ! مگر ہم چینی تحفے میں وال کلاک نہیں قبول کرتے کیونکہ یہ بدشگونی ہے۔ جو لفظ چینی زبان میں کلاک کے لیے استعمال ہوتا ہے جنازے کے لیے بھی اسی سے ملتا جلتا لفظ ہے۔
ہم خاموش رہے مگر اندر سے برا لگا۔ استعمال نہ کرتے رکھ تو لیتے لیکن بہت سے معاشروں میں نفاق ناپید ہے۔ جو بات ہے کھل کر کرلی جاتی ہے۔
کچھ دن بعد ایک اور دوست سے ملاقات ہوئی جن کے چینی کمیونٹی سے دیرینہ اور قریبی روابط تھے۔ واقعہ سنا تو ہنسے اور مزید تعلیم بھی دی۔ وہ یہ کہ کچھ اور اشیا بھی ہیں جو چینیوں کو تحفے میں نہیں دینی چاہئیں۔ خاص طور پر سال نو کے حوالے سے۔ ان میں سے ایک چھتری ہے۔ چھتری دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اسے سفر پر بھیجنا چاہتے ہیں۔ یہ بچھڑنے کی علامت ہے۔ قینچی بھی تحفے میں قبول نہیں کی جاتی۔ یہ قطع تعلقات کی نشانی ہے۔ چار کا ہندسہ بھی منحوس سمجھا جاتا ہے۔ دو دو جوڑوں میں کوئی تحفہ نہیں دینا چاہیے کیونکہ یہ چار ہو جاتے ہیں۔ جوتے تحفے میں دینا یا لینا بھی نحوست کی علامت ہے۔ اس پر پائوں پڑتے ہیں اور تحفے پر پائوں نہیں پڑنے چاہئیں۔ رومال (ہینڈکرچیف) خدا حافظ کہنے کی نشانی ہے۔ یہ بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ پھل بہت اچھا تحفہ ہیں سوائے ناشپاتی کے۔ غریب ناشپاتی کا قصور یہ ہے کہ چینی زبان میں جو لفظ ناشپاتی کے لیے بولا جاتا ہے جدائی کا لفظ اس سے ملتا جلتا ہے۔ آئینہ بھی بُرا تحفہ ہے کیوں کہ یہ ٹوٹ جاتا ہے حالانکہ کچھ روایات کی رو سے آئینہ ایجاد ہی چینیوں کی ہے۔ فارسی میں آئینۂ چینی کہتے ہیں۔ مشہور شعر ہے ؎
از قضا آئینۂ چینی شکست
خوب شد سامان خود بینی شکست
تقدیر کا لکھا یہی تھا کہ چینی آئینہ ٹوٹ گیا۔ اچھا ہوا اپنے آپ کو دیکھنے کے سامان سے جان چھوٹی۔
اس طویل فہرست میں ایک نمایاں آئٹم سفید اور سیاہ رنگ کا ہے۔ یہ دونوں رنگ چینی مرنے والے کی آخری رسوم میں استعمال کرتے ہیں۔ تحفہ اگر سفید یا سیاہ رنگ کے کاغذ میں پیک ہو گا تو نحوست کی نشانی ہے۔ سرخ رنگ کا پیکٹ خوشی خوشی قبول کیا جائے گا۔
انسان نے اپنی زندگی کے لیے کیا کیا مصیبتیں اپنے ذہن سے خود پیدا کی ہیں۔ آج اپنے کسی دوست سے آپ یہ کہہ دیجیے کہ ارے آج بدھ ہے اور تو نے سفید لباس پہنا ہوا ہے۔ یہ اچھا شگون نہیں ہے۔ وہ اس پر ہنسے گا مگر اگلے بدھ کے روز لباس تبدیل کرتے ہوئے آپ کا فقرہ اسے ضرور یاد آئے گا۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وہ سفید لباس سے پرہیز کرے گا اور اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دے گا کہ آخر دوسرے رنگوں کے ملبوسات بھی تو اپنے ہی ہیں۔ سفید آج نہ سہی کل پہن لیا جائے گا۔ یہ تصور رفتہ رفتہ اس کے اہل خانہ میں در آئے گا۔ پھر قریبی حلقے میں۔ کیا عجب کچھ عرصہ بعد یہ Myth یہ وہم بہت سے لوگوں میں عام ہو جائے!
اپنے ہاتھوں سے ایسے چشمے کھودے گئے جن سے پریشانی اور ذہنی دبائو کا پانی مسلسل رستا ہے۔ ایسا ہی ایک ذریعہ پراگندہ خاطری کا یہ ہے کہ مستقبل کا حال دریافت کیا جائے۔ کل کیا ہوگا؟ دولت کی دیوی کب درشن دے گی۔ اقتدار ملے گا یا نہیں؟ موت کن حالات میں واقع ہوگی؟ یہ سب کچھ جاننے کے لیے انسان مارا مارا پھر رہا ہے۔ نجومیوں کے پاس دست شناسوں کی تلاش میں زائچہ کھینچنے والوں کی خدمت میں۔ اب یہاں ایک باریک نکتہ ہے جو سمجھنا چاہیے۔ ان علوم کا کسی خاص مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ظنی علوم ہیں اور ہر مذہب کے ماننے والوں میں ان علوم کے ماہرین پائے جاتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ان علوم کے وجود سے انکار کا کوئی فائدہ نہیں! یہ ظنی یعنی اندازے اور تخمینے کے علوم باقاعدہ موجود ہیں۔ ان کا وجود حقیقت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان کو ان کا فائدہ ہے؟ ایک دست شناس یا ستارہ شناس یہ بتائے گا کہ میرے ماضی میں کیا ہوا تھا۔ یا یہ کہ 
مستقبل میں میرے لیے کیا لکھا ہے۔ مجھے ان دونوں کا ذرہ بھر فائدہ نہیں۔ اپنا ماضی 
تو مجھے پہلے ہی معلوم ہے۔ رہا مستقبل تو اگر مستقبل کا علم انسان کے مفاد میں ہوتا تو جس قدرت نے انسان کو حیران کن علوم پر دسترس بخشی اس قدرت کے لیے مستقبل بینی کا علم عطا کرنا کیا مشکل تھا! مستقبل کے علم کا ہونا فائدہ تو نہیں ہاں نقصان ضرور دے سکتا ہے۔ کسی شخص کو بتایا جائے کہ اس کی موت ہسپتال میں واقع ہوگی تو اس نے اگر بیس سال مزید زندہ رہنا ہے تو بیس سال ہسپتال سے خوف کھانے میں گزریں گے۔ انسان اپنی موت کے وقت کا تعین کرسکتا تو یہ کارخانۂ دنیا کیسے چلتا۔ اسے معلوم ہوتا کہ ایک سو بیس سال زندہ رہے گا تو ہر روز ایک دن کم ہونے کا ماتم کرتا۔
یہ حقیقت کہ یہ علوم کسی خاص مذہب سے وابستہ نہیں ناقابل تردید ہے۔ تنویر علی آغا جو 2007ء سے لے کر 2011ء تک پاکستان کے آڈیٹر جنرل رہے راوی ہیں کہ انہیں آئی اے عثمانی صاحب نے یہ واقعہ خود بتایا۔ آئی اے عثمانی بھی پاکستان کے آڈیٹر جنرل رہے۔ وہ بہت سینئر تھے۔ اس زمانے میں غالباً سول سروسز کی تربیت کے کچھ مراحل بیرون ملک بھی طے ہوتے تھے۔ عثمانی صاحب کے ایک بنگالی ساتھی تھے جو انہیں کے بیچ کے تھے۔ یہ دونوں لندن میں تھے۔ انہیں معلوم ہوا کہ ایک انگریز قسمت کا حال بتاتا ہے۔ یہ چلے گئے درمیان میں پردا تنا تھا۔ پردے کے پیچھے قسمت کا حال بتانے والا انگریز بیٹھا تھا۔ دوسری طرف کرسیوں پر یہ بیٹھ گئے۔ پلیٹ میں مطلوبہ مالیت کا سکہ ڈالا (گنی یا جو بھی تھا۔) اس نے جو بتانا تھا بتایا۔ کچھ سوال انہوں نے پوچھے۔ ان کے اس نے جوابات دیئے۔ بنگالی نے پوچھا کہ اسے یہ بتایا جائے کہ وہ کہاں اور کیسے مرے گا۔ انگریز نے انکار کردیا۔ اس نے کہا یہ میں نہیں بتائوں گا۔ بنگالی افسر کو غصہ آ گیا یا مشتعل کرنے کے لیے اس نے کوئی طعن آمیز بات کی جس میں طنز بھی تھا اور اس کے علم اور مہارت پر چوٹ بھی۔ انگریز یہ چوٹ اور طعنہ نہ برداشت کرسکا۔ وہ غصے میں پردے کے پیچھے سے نکل آیا اور کہا کہ میں بتا سکتا ہوں اور اب تمہیں بتا بھی دوں گا۔ میں اس لیے نہیں بتا رہا تھا کہ ایسے سوالوں کا جواب دینا میرے خیالات کی رو سے مناسب نہیں۔ پھر اس نے اپنا حساب کتاب جو بھی تھا کیا اور بتایا کہ وہ بنگالی افسر فلاں شہر میں مرے گا اور یہ موت طبعی نہیں ہوگی۔
ٹریننگ ختم ہو گئی۔ افسروں کی تعیناتیاں ہوگئیں۔ بنگالی افسر کو مشرقی پاکستان میں لگایا گیا۔ عثمانی صاحب مغربی پاکستان میں پوسٹ ہوئے۔ ایک مدت بیت گئی۔ ایک دن عثمانی صاحب کو (بقیہ صفحہ13پر ملاحظہ کریں)
بنگالی رفیق کار کا فون آیا: کیا تمہیں وہ انگریز یاد ہے جس نے پیش گوئی کی تھی کہ میں فلاں شہر میں مروں گا؟ عثمانی صاحب نے کہا ہاں یاد ہے! بنگالی نے بتایا کہ میں اچھا بھلا مشرقی پاکستان میں تعینات تھا نہ جانے کیا ہوا محکمے نے میری پوسٹنگ اسی شہر میں کردی ہے۔ عثمانی صاحب نے اسے تسلی دی اور کہا کہ ضروری نہیں اس کی پیش گوئی صداقت پر مبنی ہو۔ بہرطور تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ بنگالی اس شہر میں مردہ پایا گیا۔ اسے کسی نے قتل کر دیا تھا!
ان ظنّی علوم کو روحانیت یا تصوف کا نام دینا عقل اور مذہب دونوں کی رو سے درست نہیں ہے۔ ہندو نصرانی یہودی لامذہب سب اس قبیل کی پیش گوئیاں کرتے ہیں۔ بہت سی سچ نکلتی ہیں۔ بہت سی غلط ثابت ہوتی ہیں۔ انسان کی خودی اور عزت نفس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ دوسرے انسان کا محتاج نہ ہو۔ ہاتھ دکھانے کے لیے یا زائچہ بنوانے کے لیے یا مستقبل کا حال کسی اور ذریعہ سے معلوم کرنے کے لیے اچھے بھلے باعزت لوگ پہروں قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں۔ دھوپ اور سردی میں گھنٹوں بیٹھ کر بابا جی کے ہاں باریابی کا انتظار کرتے ہیں۔ کبھی فال نکلواتے ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص کو معلوم ہے کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے اسے کوئی نہیں ٹال سکتا۔ موت کب آئے گی کیسے آئے گی؟ کل کیا ہوگا؟ یہ سب کچھ جاننے کے لیے دھوڑ دھوپ کرنے سے کیا یہ بہتر نہیں کہ انسان ہر وقت اپنی موت کے لیے تیار رہے۔ جن کے حقوق اس نے سلب کیے ہیں انہیں واگزار کرے جن کے ساتھ زیادتی کی ہے ان سے معافی مانگے۔ اپنا قرض ادا کرنے کی کوشش کرے اور اپنے لواحقین کو ایسی باتوں سے بروقت آگاہ کرے۔ سفر پر روانہ تو ہونا ہی ہے اپنی پوٹلی وقت پر کیوں نہ تیار کرلی جائے!
ویسے شعرا نے اس موضوع پر کچھ الگ ہی زاویے دیکھے اور دکھائے ہیں۔اقبال نے کہا ؎
ستارہ کیا تری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخیٔ افلاک میں ہے خوار و زبوں
نظیری نیشا پوری نے کہا ؎
یک فال خواب راست نہ شدبر زبان ما
شومئی چُغد ثابت و یُمن ہُما غلط
ہماری تو ایک فال بھی درست نہ نکلی۔ الو کی نحوست ثابت ہو گئی اور ہما کی خوشی بختی غلط نکلی!
اور آخر میں اس فقیر کا شعر ؎
ستارے دیکھتا ہوں زائچے بناتا ہوں
میں وہم بیچتا ہوں وسوسے بناتا ہوں

Monday, May 08, 2017

گنگا بہہ رہی ہے

گنگا بہہ رہی ہے

کیا آپ کو یاد ہے کہ چند دن پہلے اسلام آباد ایئر پورٹ پر ناروے جانے والی دو مسافر خواتین کی کس طرح دھنائی ہوئی؟ سرکاری اہلکار عورتوں نے انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور مارا۔ متعلقہ ادارے نے پہلے تو مٹی ڈالنے کا کام کیا اور رپورٹ پیش کی کہ اصل میںمسافر خواتین نے بدتمیزی کی تھی۔ پھر جب وڈیو وائر ل ہوئی تو مرتا کیا نہ کرتا حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا۔ مجرم ثابت ہونے والی اہلکار کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
مگر یہ سارا بکھیڑا شروع کیسے ہوا؟ ہوا یوں کہ ناروے جانے والی مسافر خاتون واش روم میں گئی۔ وہاں ٹائلٹ پیپر نہیں تھا۔ اس نے باہر نکل کر اہلکار سے اس بارے میں پوچھا اہلکار نے غالباً کہا کہ یہ اس کے دائرۂ کار میں نہیں ہے۔ یہاں سے بات بڑھی مارکٹائی تک پہنچی اور آخر میں دست درازی کرنے والی اہلکار کو ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اس واقعہ کے بارہ دن بعد یہ کالم نگار اُسی ایئر پورٹ پر اُسی واش روم میں گیا۔ ٹائلٹ پیپر اب بھی نہیں تھا۔ باہر نکل کر پاس کھڑی اہلکار سے حیرت سے کہا کہ واش روم میں ٹائلٹ پیپر نہیں ہے۔ غنیمت ہے کہ اس نے آگے سے اتنا ہی کہا کہ ہاں! نہیں ہے!
یہ ہے اداروں کی کارکردگی! شایدقارئین کو یاد ہو کہ دو تین سال پہلے اسی ایئر پورٹ کو دنیا کا بدترین ایئر پورٹ قرار دیا گیا۔ اندازہ لگائیے جس کوتاہی کی بنا پر جھگڑا ہوادنیا بھر میں مارکٹائی والی ویڈیو دیکھی گئیخاتون اہلکار کو ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑےوہ کوتاہی بدستور موجود ہے! خاتون اہلکار کا یہ کہنا درست تھا کہ وہ تو ایف آئی اے کی ہے۔ یہ اس کا کام نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کام کس کا ہے؟ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا ہے؟ شہری ہوا بازی کی وزارت کا ہے؟ کیا ان محکموں کے سربراہوں نے ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈی جی نےہوا بازی کی وزارت کے وفاقی سیکرٹری نے بھیس بدل کر نہ سہی اچانک آ کر واش روم چیک کئے ایئر پورٹ پرمسافروں کی بے بسی کا جائزہ لیا؟
ادارے کیوں نہیں کام کر رہے؟ اس کی وجہ نااہلی اور احتساب کا نہ ہونا ہے۔ مگر جس ملک کا وزیر اعظم خود اپنی زبان سے کہے کہ 
پتہ نہیں ہمارے نظام اور محکموں کو کیا ہو گیا کہ دو سال میں مکمل ہونے والے منصوبوں پر بیس بیس سال لگ جاتے ہیں!
اُس ملک کا خدا ہی حافظ ہے! آپ تیسری بار وزیر اعظم بنے ہیں۔ آپ سے زیادہ حکومت کرنے کا اور حکومت میں رہنے کا تجربہ پورے ملک میں اور کسی شخص کو نہیں گزشتہ چار سال سے آپ حکومت کے سربراہ ہیں۔ تمام ادارے تمام محکمے آپ کی مٹھی میں ہیں مگر آپ قوم کے سامنے حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ پتہ نہیں ہمارے نظام اور محکموں کو کیا ہو گیا۔انا للہ و انا الیہ راجعون! 
واقعہ توعجیب سا ہے مگر یہاں بے اختیار یاد آ رہا ہے۔ ایک شہزادے کی پرورش حرم سرا کے زنانہ حصّے میں ہوئی۔ وہیں پلا بڑھایہاں تک کہ شباب آ پہنچا ۔ ایک دن محل میں سانپ نکل آیا۔ بیگمات اور کنیزوں نے شور مچایا کہ سانپ نکل آیا ہے کسی مرد کو بلائو نوجوان شہزادے نے بھی چیخ کر کہا کسی مرد کو بلائو۔پوری قوم وزیر اعظم سے پوچھ رہی ہے کہ ہمارے نظام اور ہمارے اداروں کو کیا ہوا ہے؟ وزیر اعظم بھی قوم کی آواز میں آواز ملا کر پوچھ رہے ہیں پتہ نہیں ہمارے نظام اور محکموں کو کیا ہو گیا! 
وزیر اعظم کو چاہیے کہ اقوامِ متحدہ سے مدد مانگیں اور وہ آ کر وزیر اعظم کے ملک میں معلوم کرے کہ نظام اور محکموں کو کیا ہو گیا۔ بھاری مینڈیٹ لے کر حکومت آپ کر رہے ہیں اور آپ کو چار سال میں یہی نہیں معلوم کہ نظام کو کیا ہوا ہے!
پھر اسی پر بس نہیں کرتے وزیر اعظم یہ فلسفہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ملک میں بہت گھپلے ہیں اگر ان کی تحقیقات میں لگ گئے تو سارا وقت اسی میں گزر جائے گا اور ترقیاتی کام رک جائیں گے۔کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ یہ بیان ایک ملک کا وزیر اعظم ایک حکومت کا سربراہ دے رہا ہے؟
اتنے گھپلے اور کرپشن کے سکینڈل ہیں کہ جتنا کہا جائے کم ہے
گویا کرپشن کرنے والوں کو صلائے عام ہے کہ جتنی کرپشن کرنا چاہتے ہو کر لو ہم نے تحقیقات تو کرنی ہی نہیں ہم تو ترقیاتی کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔
عالی جاہ! جان کی امان پائیں تو عرض کریں کہ ترقیاتی کام کرنے والے ادارے الگ ہیں اور گھپلوں اور کرپشن کی تحقیقات کرنے والے محکمے الگ ہیں اگر چھان بین اور احتساب کرنے والے ادارے اپنا کام کریں اور دیانت داری سے کریں تو گھپلوں کو اور کرپشن کو روکا جا سکتا ہے۔ اس کا ترقیاتی اداروں کے دائرہ کار سے کیا تعلّق!
مگر شاید وزیر اعظم کو اپنی حکومت اپنے ملک کے اداروں کا علم ہی نہیں! کیا وزیر اعظم کے سیکرٹریٹ میں ایک مخصوص برادری کے جو ستر ستر سال کے ریٹائرڈ بیورو کریٹ بیٹھے ہوئے ہیں وزیر اعظم کو اتنا بھی نہیں بتا سکتے کہ اگر کرپشن اور گھپلوں کو یہ کہہ کر کھلی چھٹی دے دی جائے کہ تحقیقات کا وقت نہیں تو ترقیاتی کام بھی کرپشن کی نذر ہو جائیں گے۔ کیا وہ اتنا بھی نہیں عرض کر سکتے کہ جہاں پناہ! ادارے اپنا اپنا کام کریں تو کرپشن کا انسداد بھی ممکن ہے اور بیک وقت ترقیاتی کام بھی ہو سکتے ہیں! مگر نوکریوں میں توسیع کے طلب گاروزیر اعظم کے سامنے سچ کبھی نہیں بولیں گے ۔انہیں معلوم ہے حکمران کے کان کیا سننا چاہتے ہیں! وہی بات کریں گے جو دل کو خوش کرے! بادشاہ کا دل بھی خوش ! اپنی نوکری بھی پکّی!
ایئر پورٹ کی بات ہو رہی تھی۔ امیگریشن کے لیے بے حد لمبی قطار تھی! خلقِ خدا بے بس بے کس کھڑی تھی جن میں عورتیں بوڑھے اور بچے بھی تھے۔ پی آئی اے کا ایک افسر پوچھنے لگا آپ وہی ہیں جو فلاں چینل پر آتے ہیں کہا نہیں!فلاں چینل پر نہیں 92چینل پر۔ اُس سے پوچھا کیا بوڑھوں کے لیے الگ قطار نہیں؟ افسر پھٹ پڑا کہنے لگا آپ نے آج یہ طویل قطاریں دیکھی ہیں ہم ہر روز دیکھتے ہیں۔ امیگریشن کے کم از کم دس کائونٹر ہونے چاہئیںیہاں مشکل سے پانچ ہیں۔ گرمی میں مسافر گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں۔ کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ واش روموں میں ٹائلٹ پیپرز تک نہیں! کوئی پوچھنے والا نہیں!
یہ ہے حکومت کی کارکردگی! حکومت کو کوئی بتائے کہ عوام کو صرف سڑکوں کی ضرورت نہیں ہوتی145 وہ ایک سسٹم چاہتے ہیں۔ ایک نظام چاہتے ہیں جس میں انہیں خوار نہ ہونا پڑے۔ ایئر پورٹوں پر بسوں کے اڈوں پرواپڈا گیس اور ٹیلی فون کے دفتروں میں ٹریفک کے اژدہام میں انہیں ایک سسٹم چاہیے تاکہ دھکے نہ کھانے پڑیں۔ پانچ پانچ سال تک درخواست دہندہ کو گیس کا کنکشن نہیں ملتا۔ پھر وہ مجبور ہو کر کسی اہلکار کو حرام کھلاتا ہے۔ شام سے پہلے اس کے گھر میں گیس رواں ہو جاتی ہے۔
عالی جاہ! آپ کس دنیا میں رہتے ہیں؟(باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں)
کل خدا کے سامنے آپ کیا یہ کہیں گے کہ پتہ نہیں نظام اور محکموں کو کیا ہوا تھا؟ کرپشن کے متعلق سوال ہو گا تو کیا آپ یہ جواب دیں گے کہ کرپشن اور گھپلوں کی تحقیقات کراتا تو ترقیاتی کام رک جاتے! عالی مرتبت ! آپ ہیلی کاپٹروں میں محوِ پرواز ہوتے ہیں اور نیچے مائوں کے بیٹے اُن ڈمپروں، ٹریکٹروں اور ٹرالیوں کے نیچے کچلے جاتے ہیں جن کو کنٹرول کرنا آپ کی حکومت کا اولین فریضہ ہے! آپ کو کیا خبر لوڈشیڈنگ کس عذاب کا نام ہے؟ آپ کو کیا پتہ لوگ پیٹ کاٹ کر یو پی ایس کس طرح خریدتے ہیں اور لاکھوں گھر تو یو پی ایس بھی نہیں خرید سکتے۔ حکومت کرنا آسان ہوتا تو عمر بن خطابؓ جیسا شخص یہ نہ کہتا کہ فرات کے کنارے مرنے والے کتے کا بھی مجھے حساب دینا ہو گا۔ ابوبکر صدیقؓ ایک تنکا پکڑ کر حسرت سے یہ نہ کہتے، کاش میں ایک تنکا ہوتا اور مجھ سے حساب کتاب نہ ہوتا۔
ہم عصر تاریخ میں، یا شاید ساری تاریخ میں کسی اور حکمران نے برملا یہ نہ کہا ہو گا کہ ملک میں اتنے گھپلے اور کرپشن سکینڈلز ہیں کہ جتنا کہا جائے کم ہے۔ لیکن اگر ہم تحقیقات کے چکر میں پڑ گئے تو سارا وقت اسی میں لگ جائے گا۔ گویا کرپشن کے لیے صلائے عام ہے! ؎
کھیتوں کو دے لو پانی اب بہہ رہی ہے گنگا
کچھ کر لو نوجوانو اٹھتی جوانیاں ہیں

Friday, May 05, 2017

ایک مہینہ اور اس کے اوپر ایک ہفتہ


ہر رات سونے سے پہلے جھگڑا ہوتا تھا پانچ سالہ حمزہ میرے بائیں طرف سونے 
پر اصرار کرتا۔ اس کی تھیوری یہ تھی کہ ابو کے ساتھ وہ سوئے گا اور چار سالہ زہرہ، اُس کے ساتھ ! زہرہ کا موقف یہ تھا کہ اس نے وہاں سونا ہے جہاں حمزہ سونا چاہتا ہے۔ اس کا حل یہ نکا لاجاتا کہ میں درمیان میں سوتا، ایک طرف حمزہ اور دوسری طرف زہرہ لیٹتے! اس پر حمزہ دھاندلی پر اتر آتا اور کہتا کہ زہرہ دوسری طرف بھی نہ سوئے، ابو کے ساتھ صرف اور صرف وہ سوئے۔ پھر اسے ڈانٹ پڑتی۔ اس ذہین بچے کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ دادا کی مصنوعی ڈانٹ ہے۔ ابا کی اصلی ڈانٹ نہیں ہے۔ چنانچہ ڈانٹ پڑنے پر وہ کھل کھلا کر ہنستا۔
ایک مہینہ اور اس کے اوپر ایک ہفتہ ، کل پانچ ہفتے یوں گزرے جیسے ایک پل گزرتا ہے ؎
مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیں
مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں
آتے ہی باپ نے اردو کی ٹیوشن لگوا دی۔ وہاں ، بحرالکاہل کے کنارے، جس ملک میں رہتے ہیں گھر میں فتح جنگ کی ٹھیٹھ پنجابی اور باہر ٹھیٹھ انگریزی بولتے ہیں۔ باپ کو فکر ہے اردو میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ چنانچہ آکسفورڈ یونیورسٹی کا درس اردو کا پورا سیٹ منگوایا۔ اب اردو پڑھنے لگا ہے مگر بول چال کے لئے پریکٹس لازم ہے۔ اس کے لئے وقفے وقفے سے پاکستان لایا جاتا ہے۔ ٹیوشن لگوائی تو چاچوں اور پھپھو نے مخالفت کی کہ بچے چند دن تعطیلات گزارنے آتے ہیں اور آدھا دن ٹیوٹر کی نذر ہو جاتا ہے۔ خدشہ یہ بھی تھا کہ ٹیوٹر صاحب ان سے انگریزی نہ بولنا شروع کر دیں۔
نواسی سے پروردگار نے نواز رکھا تھا۔ اسے تیسری بیٹی کہتا ہوں۔ یہ پہلا پوتا ہے جو مالک الملک نے خزانہ خاص سے عطا کیا۔ نواسی کا ورودہوا تو نانا نانی نے اوقیانوس عبور کیا اور استقبال کیلئے سمندر پار جا موجود ہوئے۔ پوتے صاحب نے کرئہ ارض کے دوسرے کنارے پر طلب کیا۔ استقبال کے لئے ہم اُس جزیرے میں گئے جو براعظم بھی ہے اور اتنا عجیب و غریب کہ لینڈ ڈائون انڈر کہلاتا ہے۔ جن دنوں یہاں چلچلاتی دھوپ پڑتی ہے وہاں کڑاکے کی سردی ہوتی ہے۔ درمیان میں صحرا، ساحلوںپر شہر، بڑا اتنا کہ نکلتے ہوئے چھ گھنٹے جہاز اُسی کے اوپر اڑتا رہتا ہے۔
چلنا شروع کیا تو ٹرالی بیگوں کا عاشق نکلا۔ بڑے سے بڑا ٹرالی بیگ خود سنبھالنے اور چلانے کی کوشش کرتا۔ ایئرپورٹوں پر، کسی بھی مسافر کا ٹرالی بیگ چلانا شروع کر دیتا۔ ایک دن ہم میاں بیوی نے سوچا کہ کیوں نہ اس کے لئے ایک کھلونا ٹائپ چھوٹے سائز کا ٹرالی بیگ خریدا جائے۔ ہم میلبورن کے بازاروں میں پھرتے رہے، ڈھونڈتے رہے مگر کسی دکان پر مل ہی نہیں رہا تھا۔ پھر کسی نے بتایا کہ Southern Cross
 ریلوے سٹیشن کے قریب ایک بڑا بازار ہے۔ شاید وہاں سے ملے۔ دادا دادی ٹرین پر سوار ہوئے اور اُس بازار میں پہنچ گئے ؎
ڈھونڈتے ڈھونڈتے ڈھونڈ لیں گے تجھے
گو نشاں ہے ترا بے نشاں بے نشاں
ایک دکان پر ایک ہی پڑاتھا، خوش قسمتی سے تھا بھی نیلے رنگ کا جو وہاں لڑکوں کا مخصوص رنگ سمجھا جاتا ہے۔ حمزہ ٹرالی بیگ کوپا کر اتنا خوش ہوا کہ بیان سے باہر ہے۔ اپنا کاٹھ کباڑ اس میں ڈالا زپ بند کی اور باہر چل پڑا۔ دادا پیچھے پیچھے! فٹ پاتھ پر جی بھر کر چلایا۔ اس کے بعد یہ اس کا جزو لاینفک بن گیا۔ گھر میں جہاں بھی ہوتا، یا جہاں بھی جاتا، کمرے سے لائونج میں، یا لائونج سے سٹڈی میں، یا باہر لان میں، ٹرالی بیگ ساتھ ہوتا۔ آدھی رات تک ہمارے کمرے میں ہوتا۔ کہانی سنتا! پھر اچانک اعلان کرتا کہ میں ممی اور ابا کے کمرے میں جارہا ہوں۔ ٹرالی بیگ چلاتے چلاتے ہی دوسرے کمرے میں جاتا۔ صبح اٹھ کر باہر آتا تو ٹرالی بیگ ساتھ ہوتا۔
ایک مہینہ اور اس کے اوپر ایک ہفتہ، کل پانچ ہفتے، گھر باغ بنا رہا، خوشبوئیں اڑتی رہیں، قہقہے بکھرتے رہے۔ ہر طرف کھلونوں کے سپیئر پارٹس اور چیزوں کی بے ترتیبی میں عجیب ترتیب تھی اور حسن! چلے گئے ہیں تو ترتیب اور صفائی، خاموشی اور سناٹا، کلیجے پر ضرب لگاتا ہے۔ وہ ہر طرف بکھرے کاغذ کتنے اچھے لگتے تھے۔ دیواروں پر ہر طرف چسپاں ہونے والی چٹیں دل کو بھاتی تھیں۔ درہم برہم ڈرائنگ روم زندگی کا نشان تھا۔ ایک دن دیکھا کہ قیمتی فائونٹین پین کی نب ٹوٹی ہوئی ہے۔ دونوں کو بلایا اور مسکراتے ہوئے پوچھا کہ جو بچہ بتائے گا کہ اس نے توڑی ہے اُسے پرائز ملے گا۔ زہرہ نے فوراً بتایا کہ پین اُس سے گرا ہے۔ پوچھنے لگی پرائز میں کیا ہو گا؟ بتایا چپس اور جُوس۔ حمزہ نے فوراً مطالبہ پیش کر دیا کہ پرائز اسے بھی ملنا چاہئے، پوچھا کس خوشی میں؟ اُس کی منطق سیدھی اور صاف تھی کہ زہرا کو ملے گا تو ظاہر ہے وہ بھی لے گا۔
دونوں کو ہر شے آپس میں شیئر کرنے کی تربیت دی گئی ہے۔ ایک کو کارٹون دیکھنے کے لئے آئی پیڈ یا لیپ ٹاپ ملتا تو دونوں مل کر دیکھتے یا دونوں کو پندرہ پندرہ منٹ کے لئے دیا جاتا۔ وقت کے تعین کے لئے الارم لگایا جاتا۔ جیسے ہی الارم بجتا، آکر، بھلے مانسوں کی طرح واپس کر دیتے مگر ساتھ ہی حمزہ پوچھنے لگ پڑتا کہ اب میں کیا کروں؟ بور ہو رہا ہوں !! شیئرکرنے کا سلسلہ ہر معاملے میں آن پڑتا ہے۔ کار میں بیٹھے کہیں جارہے تھے۔ حمزہ نے شیشہ نیچے کیا، ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اندر آیا، زہرہ سے کہنے لگا، کتنی ٹھنڈی ہوا لگ رہی ہے مجھے! زہرہ نے فوراً قانونی نکتہ نکالا، ٹھنڈی ہوا ہے تو میرے ساتھ شیئر کرو۔ اور آگے ہو کر کھڑکی کے سامنے ہو گئی!
بیمار، نحیف و نزار نواب نے بچپن کے بے تکلف دوست، موٹے تازے 
کسان کو مخاطب کرکے کہا  جہان خانا ! میں بادام اور چہار مغز کھاتا ہوں۔ پانی فلاں چشمے کا پیتا ہوں۔ پرندوں کا گوشت میرے دسترخوان کا مستقل جزو ہے۔ گھی اور مکھن سنبھالا نہیں جاتا، مگر صحت ہے کہ ٹھیک نہیں! تم ہٹے کٹے موٹے تازہ ہو حالانکہ تمہیں کھٹی لسی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔ آخر راز کیا ہے۔ جہان خان نے جواب دیا، نواب صاحبا! بادام اور چہار مغز؟ گھی اور مکھن؟ ہا ہا ! تم مٹی اور راکھ کھاتے ہو! ارے صحت مہنگے کھانوں سے نہیں بنتی۔ میں کھیتوں میں کام کرکے واپس لوٹتا ہوں تو میرے پوتے اور نواسے مجھ پر چھلانگیں لگاتے ہیں۔ پوتی میری داڑھی سے کھیلتی ہے۔ نواسہ میری پگڑی اتار کر اپنے سر پر باندھنے لگتا ہے۔ یہ وہ نعمتیں ہیں جن سے تم محروم ہو! یہی میری صحت کا راز ہے۔ سچ کہا ان پڑھ جہان خان نے ! کاش پڑھے لکھوں کو بھی یہ نکتہ سمجھ میں آجاتا ! نعمتوں کا احساس! نعمتوں کے وجود کو تسلیم کرنا اور پھر شکر ادا کرنا! مگر افسوس! انسان کی سرشت میں نعمتوں کو نظر انداز کرنا اور ناخوش رہنا لکھا ہے۔ جس کے پاس ماں باپ کے وجود کی صورت میںبے بہا دولت موجود ہے، وہ پیروں اور بزرگوں کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے۔ پیر تو گھر میں بیٹھے ہیں۔ آقاؐ نے فرما دیا کہ خدا کی رضا والد کی رضا میں ہے تو پھر بھٹکنے سے کیا حاصل! رومی نے کہا تھا معشوق ہمسائے میں رہ رہا ہے۔ دیوار سے دیوار جُڑی ہے اور تم دشت و جبل میں سرگرداں ہو! 
نعمت کیا شے ہے؟ کوئی اس سے پوچھے جس کے گردے جواب دے رہے ہیں، جس کی ٹانگ مصنوعی ہے، جو جگر کی پیوندکاری کے لئے ملکوں ملکوں پھر رہا ہے اور دولت کے انبار بھی کام نہیں آرہے۔ سعدی کے پاس جوتا نہ تھا۔ نالاں اور غم زدہ تھے، دیکھا کہ ایک شخص کا پائوں ہی نہیں ہے، ہوش ٹھکانے آگئے۔ صحت مند اور نارمل اولاد کی قدر ان سے پوچھو جن کے بچے ذہنی یا جسمانی طور پر روگ میں مبتلا ہیں۔ یہ نعمت کیا کم ہے کہ انسان اتنی زندگی حاصل کر لے کہ اولاد کی اولاد کے ساتھ کھیلنا کودنا میسر آجائے۔ یہ وہ دولت ہے جو زور سے ملتی ہے نہ زر سے! پودینے، سرخ مرچ اور لسی سے بنی چٹنی سے سوکھی روٹی کھانے والا جب پوتوں اور نواسوں کے درمیان نہال بیٹھتا ہے اور اس کے بیٹے اور بیٹیاں اس کی فرماں بردار ہیں تو وہ اُس آسودہ حال شخص کے مقابلے میں بادشاہ کی طرح ہے جس کی اولاد اس کے لئے سوہان روح ہے یا جو پوتوں اور نواسوں، نواسیوں اور پوتیوں سے محروم ہے! وہ تو ایک سوکھا درخت ہے جس کے سائے تلے کوئی بیٹھتا ہے نہ کوئی اُسے جھاڑتا ہے۔ خدا کے بندو! ان پر رشک نہ کرو جنہیں تم خوش قسمت سمجھتے ہو! یہ تمہاری بھول ہے۔ محلات میں رہنے والے،(باقی صفحہ13 پر ملاحظہ کریں)
جنہیں کبھی پاناما لیکس نہیں سونے دیتی کبھی سرے محل ڈرائونا سپنا بن کر خوف زدہ کرتا ہے، یہ کہاں کے خوش قسمت ہیں! خوش قسمت تو وہ ہے جو تندرست ہے، جو بچوں پوتوں نواسیوں میں گھرا ہے، جو گم نام ہے اور لوگ اس پر انگلیاں نہیں اٹھاتے، جسے نیب کا ڈر ہے نہ ایف آئی اے کا، پولیس کا نہ آئی بی کا ! جو اتنی دولت اور جائیداد اور کارخانے اور مربعے چھوڑ کر نہیں مرے گا کہ اولاد ایک دوسرے کے خون کی پیاسی ہو جائے اور کبھی بھول کر بھی ماں باپ کی قبر پر دعا کرنے نہ آئے، خوش بخت ہیں وہ جو وراثت میں صرف نیکی، صرف نیک نامی اور صرف نیک اولاد چھوڑتے ہیں۔ یہی وہ اولاد ہے جو ماں باپ کے مرنے کے بعد ایک دوسرے سے محبت کرتی ہے، ایک دوسرے کے کام آتی ہے، ماں باپ کے لئے رحمت مانگتی ہے، اُن کی قبروں پر اپنے ہاتھوں اور اپنے اُجلے رومالوں سے جھاڑو دیتی ہے!
ایک مہینہ اور اس کے اوپر ایک ہفتہ! کل پانچ ہفتے! صوفے پر بیٹھتا تو ننھی زہرہ پیچھے سے گلے میں چھوٹی چھوٹی پتلی پتلی باہیں حمائل کرکے پشت کے ساتھ لگ جاتی! دل چاہتا یہ لمحہ امر ہو جائے۔ ہم نے مارگلہ کے پہاڑوں کی سیر کی! پلے لینڈ میں کھیلے، پارکوں اور باغوں میں ایک دوسرے کو پکڑنے کے لئے دوڑتے پھرے۔ پھر وہ گہری ہوتی، سانپ کی طرح سرسراتی شام اُتری اور لوہے کا پرندہ میرے بچوں کو لے کر اُڑتا بنا! میں ہاتھ ہلا تارہ گیا۔ واپس گھر پہنچے تو میں نے بیوی کو اور بیوی نے مجھے دیکھا۔ دونوں کی آنکھوں میں خلا تھا۔
بے انت خلا، دور، کہیں دُور، لوہے کا پرندہ ہوا میں اُڑ رہا تھا!
یوں گزرا وہ ایک مہینہ
جیسے ایک ہی پل گزرا تھا
اب نہ وہ گھر نہ وہ شام کا تارا
اب نہ وہ رات نہ وہ سپنا تھا
پچھلی رات کی تیز ہوا میں
کورا کاغذ بول رہا تھا

Monday, May 01, 2017

آسیب نہیں تو پھر کیا ہے؟

منیر نیازی کب کا چلا گیامگر ہماری قسمت کا فیصلہ کر گیا ع
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
جو کچھ اس ملک کے ساتھ ہورہا ہے‘ اگر آسیب نہیں تو کیا ہے۔
جو ملک اسلام کے نام پر بنا تھا‘ کبھی پولیس سٹیٹ نظر آتا ہے اور کبھی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک بازی گاہ! ریاست کے اندر کئی ریاستیں بنی ہیں‘ ایجنسیوں کے اپنے اہداف ہیں‘ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ان کے اپنے بنائے ہوئے راستے ہیں‘ پولیس کا وجود ہی نہیں۔ جنوبی پنجاب میں کسی کو پکڑنا ہو تو فوج پکڑے۔ سندھ میں کچھ کرنا ہے تو رینجرز کریں۔ حکمرانوں نے ‘ کیا پنجاب اور کیا سندھ‘ پولیس کو اتنا بے توقیر کر رکھا ہے کہ عام شہری پولیس سے نفرت کرنے لگا ہے۔ رہے پولیس کے افسران‘ تو معدودے چند کو چھوڑ کر وہ کسی نہ کسی طاقت ور سیاستدان کے رکھیل بن جاتے ہیں! سارا عرصہ ملازمت‘ ’’سرپرست‘‘ کی خدمت میں گزرتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ کے لیے نوکری مل جاتی ہے۔ کوئی تحقیق کرے اور
 Case Studies 
جمع کرے اور چھاپ دے تو عوام کو معلوم ہو کہ ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جاتا رہا ہے۔
بیوروکریسی ایک الگ ریاست ہے‘ ریاست کے اندر ایک اور ریاست! ایک اقلیت کو چھوڑ کر‘ زیادہ تعداد طالع آزماؤں کی ہے۔ ان لوگوں کی زندگیوں کے مقاصد پر غور کیجیے تو ڈیپریشن کا ایسا دورہ آپ پر پڑے گا کہ خودکشی کرنے کو دل چاہے گا۔ جی او آر لاہور میں سرکاری رہائش گاہ لینا! پھر اسے ہر حال میں ریٹائرمنٹ تک اپنے قبضے میں رکھنا! فلاں ضلع میں حاکم بننا! بیرون ملک تعیناتی کرانا! دو سیاست دان‘ دو حکمران‘ چار ایم این اے‘ پانچ ایم پی اے سے تعلقات قائم کرنا‘ پھر قائم رکھنا! پینتیس چھتیس برس کی نوکری سے پیٹ نہ بھرنا! چنانچہ ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ برس مزید دست بستہ کھڑا ہونا اور جب بھی مفاد کا تقاضا ہو‘ طاقت ور کے سامنے رکوع میں جھک جانا!
مدارس کی اپنی ریاست ہے! اس ریاست میں ملک کا کوئی قانون نہیں چلتا۔ ایک طاقت ور گروہ اب منتخب اداروں میں اس ریاست در ریاست کا رکھوالا ہے۔ طلبہ اور اساتذہ کی اکثریت مدارس میں مظلوم ہے! از حد مظلوم! جو روکھی سوکھی کھا کر قال اللہ وقال الرسول کی آواز بلند رکھے ہوئے ہیں۔
مدارس کی دنیا عجیب ہے۔ جن کے پاس علم ہے اور تقویٰ‘ وہ وسائل سے محروم ہیں‘ اور جن کے پاس وسائل ہیں‘ ان کا علم اور تقویٰ سے دور کا بھی رشتہ نہیں! مذہب کے جو علمبردار سیاسی جلسوں میں‘ ٹی وی سکرین پر اور منتخب اداروں میں نظر آتے ہیں عوام کی نظروں میں وہی مذہب کے نمائندے ہیں۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ وہ مذہب کے نمائندے نہیں‘ وہ تو مذہب کے نام پر تجارت‘ سیاست اور پی آر کر رہے ہیں‘ مذہب کے حقیقی نمائندے تو گوشۂ گمنامی میں ہیں۔ چٹائیوں پر بیٹھے بیٹھے‘ عمریں گزار دیتے ہیں‘ پڑھاتے پڑھاتے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں! انہیں کوئی جانتا ہے نہ ان کا نام ہے نہ شہرہ! دنیا سے انہی بے غرض لوگوں کے بارے میں کہا گیا کہ مجلس میں بیٹھے ہوں تو کسی کی توجہ ان کی طرف نہ ہو اور غیر حاضر ہوں تو ان کی کمی نہ محسوس ہو‘ یہی لوگ معاشرے کی بھی کریم ہیں اور مدارس کا بھی مکھن ہیں!
اگر اس ملک پر آسیب کا سایہ نہیں تو عوام کو ان مسائل میں کیوں آئے دن الجھایا جارہا ہے جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں‘ ان کے معیار زندگی کو‘ ان کی کوائلٹی آف لائف کو ان مسائل سے ان مسائل کے حل سے‘ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پانامہ کے حوالے سے چند فلیٹ‘ اگر معجزہ برپا ہو‘ چھن بھی جائیں تو ان افراد کو کوئی فرق نہیں پڑے گا! سمندر سے پانی کے ہزار ڈول بھی نکال لیں تو کیا ہو جائے گا؟ پانامہ کے بعد اب ڈان لیکس کے بادل قوم کے آسمان کو ڈھانپنے لگے ہیں۔ کل ایک بچے کو دیکھا۔ پتلون کی بیلٹ ہاتھ میں اس طرح لٹکائے تھا کہ بیلٹ کا نیچے والا سرا زمین سے کافی اوپر تھا۔ بلی اچھل اچھل کر بیلٹ کے اس سرے کو پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی اور بچہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہورہا تھا۔ عوام یہ بلی ہی تو ہیں۔ طاقت ور طبقہ کبھی ہاتھ میں پانامہ کی بیلٹ پکڑ کر لہراتا ہے کبھی ڈان لیکس کی‘ عوام اسے پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور نادیدہ ہاتھ والا بچہ خوش ہوتا ہے! سچی بات یہ ہے کہ عوام اس پالتو بلی سے بھی بدتر ہیں۔ اس بلی کو خوراک تو اچھی ملتی ہے‘ پیکٹوں سے نکلی ہوئی‘ اس کی مالکن اس کے ناخن تراشتی ہے‘ طبیعت خراب ہو تو حیوانات کے ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہے‘ ریت سے بھرا ایک ٹرے اس کے لیے بیت الخلا کا کام دیتا ہے۔ ہر روز اس ٹرے کو صاف کیا جاتا ہے اور عوام! آہ عوام! ٹریفک کی لاقانونیت میں پھنسے ہوئے بے کس‘ بے بس عوام! دیہات ڈسپنسریوں سے محروم! ہسپتال کرپشن اور ڈاکٹروں کی بے نیازی کے نمونے‘ لاکھوں سرکاری سکولوں کی چھتیں ہیں نہ وہاں پینے کا صاف پانی! دانش سکولوں جیسے کتنے ہی تشہیری منصوبے آئے اور تاریخ کی خاک چاٹتے گزر گئے‘ عوام اسی حال میں ہیں جس میں تھے!
اگر آسیب کا سایہ نہیں تو پھر اس ملک کے مقدر میں ڈاکٹر عاصم اور ایان علی کیوں ہیں؟ پھر مریم نواز شریف کس حیثیت سے پیش منظر پر چھائی ہوئی ہیں؟ حمزہ شہباز کی تصویر ہر پوسٹر پر‘ ہر بینر پر‘ اخبار کے ہر اشتہار میں کس حوالے سے نظر آتی ہے؟
رہا عمران خان‘ تو اب اس کے نام سے ناصر کاظمی یاد آنے لگتا ہے ؂
بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارۂ شام بن کے آیا‘ برنگِ خوابِ سحر گیا وہ
نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یونہی ذرا سی کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ
کالم نگار آصف محمود پکارتا پھرتا ہے کہ کوئی ہے جو عمران خان کو عمران خان سے بچا سکے؟ عمران خان کے فدائی پوچھتے ہیں کہ عمران خان کس کس کا مقابلہ کرے‘ ڈاکٹر عاصم اور ایان علی کے رکھوالوں سے یا پانامہ جائیدادوں کے مالکان سے؟
مگر یہ تو عمران خان کا مسئلہ ہے‘ عوام تو یہ کہنے لگ پڑے ہیں کہ ؂
میں اپنا عقدہ دل تجھ کو سونپ دیتا ہوں
بڑا مزہ ہو اگر وا نہ کر سکے تو بھی
درست کہتا ہے اجمل شاہ دین جب سمجھاتا ہے کہ سیاست پر اور سیاسی بکھیڑوں پر نہ لکھو! پڑھنے والے سیاسی تبصروں اور تجزیوں سے اس قدر تنگ آ گئے ہیں کہ جب بھی کسی اور موضوع پر لکھا جیسے مختلف ملکوں کے کھانے‘ جیسے پوتوں کا ہجر‘ جیسے تارکین وطن کی ہجرت‘ جیسے گاؤں کے بچھڑے ہوئے شب و روز‘ تو فیڈ بیک چارگنا زیادہ آتا ہے! کوئی امریکہ میں بیٹھا‘ آنسو بہا کر لکھتا ہے کہ تمہارے کالم سے ماں یاد آ گئی‘ کوئی پیغام بھیجتا ہے کہ تم نے دنیا بھر کے نانا جانوں کی نمائندگی کر ڈالی!
کیا ہم اور کیا ہماری سیاست! پانی ہے کہ بلویا جارہا ہے۔ مکھن ہے کہ پانی پر آتا ہی نہیں! ہم اس ملک کے عوام وہ بدقسمت مسافر ہیں جنہوں نے سرشام خیمہ باغ میں نصب کیا۔ صبح اٹھے تو ہر طرف دشت ہی دشت تھا! ریت کے ٹیلے‘ خاردار جھاڑیاں! ہم وہ تیرہ بخت بھوکے ہیں جنہوں نے دیگچی چولہے پر رکھی اور آگ جلانے کے لیے لکڑیاں چننے نکلے ہیں۔ اندھیرا گہرا ہورہا ہے اور اب یہ نہیں معلوم ہورہا کہ کون سی لکڑی گیلی ہے اور کون سی خشک!!

Friday, April 28, 2017

اسلام کے قلعہ میں انسانی جان کی قدر و قیمت

یہ ایک احاطہ تھا۔ تین اطراف میں دکانیں تھیں۔ ایک طرف سے باہر آنے 
جانے کا راستہ تھا۔ صفدر ایک سٹور سے خریداری کر کے نکلا اور اپنی گاڑی کی ڈگی میں سامان رکھنے لگا۔ اچانک اُسے پیچھے سے کمر پر دھکا لگا۔ مڑ کر دیکھا تو ایک صاحب گاڑی ریورس کر رہے تھے۔ ریورس کرتے کرتے انہوں نے گاڑی کے عقبی حصے کو صفدر کی کمر کے ساتھ جا لگایا تھا۔ درد تو ہوا مگر کچھ ہی دیر میں صفدر کو محسوس ہوا کہ درد غائب ہو چکا ہے۔ اتنی دیر میں گاڑی والا شخص، سفید فام امریکی، گاڑی سے اُتر کر صفدر کے پاس پہنچ چکا تھا اور اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معذرت کر رہا تھا۔ صفدر نے خوش دلی سے بتایا کہ کوئی بات نہیں۔ بس معمولی سا دھکا لگا ہے۔ سفید فام شخص ہاتھ ملا کر رخصت ہو گیا۔ صفدر نے غیر شعوری طور پر نوٹ کیا کہ وہ اُسی سٹور میں داخل ہو گیا جہاں سے ابھی صفدر خریداری کر کے نکلا تھا۔
صبح بیدار ہوا تو صفدر کی کمر میں شدید درد تھا۔ حرکت بھی نہیں کی جا سکتی تھی۔ ڈاکٹر کے پاس گیا۔ ٹیسٹ ہوئے، معلوم ہوا کہ مسئلہ ٹیڑھا ہے اور علاج میں وقت لگے گا۔ اخراجات کا معلوم ہوا تو صفدر پریشان ہو گیا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ اخراجات اُس شخص کو ادا کرنے چاہئیں جس کی غیر محتاط ڈرائیونگ سے یہ سب کچھ ہوا۔ مسئلہ یہ تھا کہ اُس شخص کو کیسے تلاش کیا جائے۔ نام معلوم تھا نہ پتہ۔ صفدر اُس سٹور میں گیا۔ اس شخص کا حلیہ بتایا تو معلوم ہوا ان کا پرانا گاہک ہے۔ نام معلوم ہو گیا۔ پتہ بھی، اُس نے علاج کے اخراجات ادا کر دیئے۔ نہ کرتا تو مقدمہ چلتا اور ہر حال میں ادا کرنے پڑتے۔ یہ بھاری اخراجات اُس کی انشورنس کمپنی نے ادا کیے۔
یہ واقعہ صفدر نے، جب میں کچھ عرصہ قبل واشنگٹن ڈی سی میں اس کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا، خود سنایا۔
کفار کے اِن ملکوں میں انسانی جان کی قدر وقیمت کیا ہے؟ اس کا اندازہ اُس مشہور واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں 79سالہ معمر خاتون، سٹیلا، پر میکڈانلڈ کی گرم کافی گری تھی اور اس کے جسم کے کچھ حصے جل گئے تھے۔ سٹیلا کو علاج پر بیس ہزار ڈالر خرچ کرنے پڑے۔ اس نے میکڈانلڈ سے یہ رقم مانگی۔ میکڈانلڈ نے انکار کر دیا، کمپنی کا مؤقف تھا گاہک کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ کافی گرم تھی۔ سٹیلا عدالت چلی گئی۔ اس کے وکیل نے ثابت کیا کہ عام طور پر کافی جب گھر میں بنائی جاتی ہے تو وہ 140ڈگری تک گرم ہوتی ہے۔ مگر یہ فاسٹ فوڈ کمپنی(میکڈانلڈ) اپنی کافی کو 185ڈگری پر رکھ کر فروخت کرتی ہے تا کہ خاص ذائقہ برقرار رہے۔ اس درجہ کی گرم کافی انسانی استعمال کے لیے فِٹ ہی نہیں ہے کیوں کہ اس سے ہونٹ جل جاتے ہیں اور گرنے سے جلد بچ ہی نہیں سکتی۔ قصہ مختصر، عدالت نے کمپنی کو حکم دیا کہ متاثرہ خاتون گاہک کو دو لاکھ ڈالر دے۔ ہرجانے میں اس کے علاوہ بھی پونے پانچ لاکھ ڈالر دینے کا حکم ہوا۔ ججوں نے کمپنی کو لاپرواہ اور سخت دل قرار دیا۔ بعد میں کمپنی نے سٹیلا سے عدالت سے باہر سمجھوتہ کیا جس کی تفصیلات کسی کو معلوم نہ ہوئیں مگر یہ واضح ہے کہ امریکی نظامِ انصاف نے خود سر اور متکبر کمپنی کے کس بل نکال دیئے۔
اب آئیے، انسانی جان کی قدروقیمت اُس ملک میں دیکھتے ہیں جو اسلام کے نام پر بنا۔ اس اسلام کے نام پر جس نے ایک طرف تو یہ کہا کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا، اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا اور دوسری طرف یہ اصول طے کیا کہ قصاص در اصل زندگی ہے! گزشتہ ہفتے دارالحکومت میں ایک سرکاری ادارے نے کتاب میلہ منعقد کیا۔ اس میں ادیبوں، شاعروں، وزیروں اور سرکاری عمائدین کو مدعو کیا گیا۔ اس سہ روزہ میلے میں کیا کچھ ہوا، کیا کچھ نہیں ہوا، اور جو کچھ ہوا وہ کیسے ہوا، یہ ایک الگ موضوع ہے۔ سوشل میڈیا پر تفصیلات آ چکی ہیں۔ یہاں تو فقط اِس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ انسانی جان کی حرمت اسلام کے اس قلعہ میں کتنی ہے۔ تقریب میں مرکزی سٹیج، روایات کی رُو سے، بارہ فٹ بلند تھا۔ حاضرین کی نشستوں اور سٹیج کے درمیان ایک خندق نما نشیب تھا جس کی گہرائی نو فٹ بتائی جا رہی ہے۔ کچھ کہتے 
ہیں یہ وہ پِٹ
(PIT)
ہے جو مغربی ملکوں میں آرکسٹرا بجانے والوں کے لیے بنائی(یا کھودی) جاتی ہے۔ کچھ بتاتے ہیں کہ یہ سکیورٹی کے نکتۂ نظر سے بنائی گئی تھی کہ سٹیج کے عمائدین اور حاضرینِ محفل کے درمیان فاصلہ رکھے اور حاضرین سٹیج کی طرف نہ جا سکیں۔ بہر طور جو کچھ بھی تھا بہت لوگ اِس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ ماضی میں بھی اِس خندق کی وجہ سے حادثے ہوتے رہے ہیں اور اگرچہ جان سے کوئی نہیں گیا؛تاہم بازو وغیرہ ٹوٹے ہیں۔
غالباً آخری دن تھا، یا تقاریب میں سے آخری تقریب تھی۔ سٹیج پر بہت لوگ تھے۔ ان میں ایک نوجوان شاعرہ فرزانہ ناز بھی تھی۔ وہ بارہ فٹ بلند سٹیج سے خندق میں سر کے بل گری۔ گردن اور کمر پر شدید چوٹیں آئیں۔ ہسپتال لے جائی گئی۔ دو دن موت و حیات کی کشمکش میں 
رہی اور بالآخر، حیران، مبہوت، دہشت زدہ میاں اور دو چھوٹے چھوٹے بچوں 
کو چھوڑ کر اُس عدالت میں حاضر ہو گئی جہاں پی آر کام آتی ہے نہ وزیروں کی کاسہ لیسی!
آپ کا کیا خیال ہے ایسا واقعہ اگر کسی ایسے ملک میں رونما ہوتا جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی تو کیا اِس عمارت کے بنانے والے، عمارت کی دیکھ بھال کرنے والے اور اِس مہلک عمارت میں میلے سجانے والے، آ زاد پھر رہے ہوتے؟ نہیں! کبھی نہیں! پہلے تو اُن افراد کو قانون کی حراست میں لیا جاتا جنہوں نے حادثے رونما ہونے کے باوجود اس خندق کو، یا ڈیزائن کے اس نقص کو دور نہیں کیا۔ پھر میلہ سجانے والے محکمے اور اس کے بڑوں کو کٹہرے میں کھڑا کر کے پوچھا جاتا کہ اِس قاتل عمارت میں یہ تقریب کیوں منعقد کی؟ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں، لیکن اگر فرزانہ ناز کسی ایسے معاشرے کی فرد ہوتی جس میں پی آر اور خود نمائی کے بجائے قانون کا دور دورہ ہوتا تو ذمہ دار، عدالت کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوتے اور فرزانہ کے پس ماندگان کو کروڑوں روپے ہر جانے میں ادا کرتے۔
مگر یہ پاکستان ہے۔ یہاں خندقیں اسی طرح رہیں گی۔ میلوں پر ٹیکس دہندگان کے کروڑوں اربوں اسی طرح بے دردی سے لٹا کر نوکریاں پکی ہوتی رہیں گی۔ لوگ اپاہج ہوتے رہیں گے۔ مرتے رہیں گے۔ اور سب کچھ تقدیر کے کھاتے میں ڈالا جاتا رہے گا۔
حال ہی میں ایشیائی ترقیاتی بنک نے پاکستان کے ٹرانسپورٹ نظام کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔ بنک کی رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ کا یہ گلا سڑا نظام سالانہ تیس(30) ہزار اموات کا باعث بن رہا ہے۔ یہ شاہراہوں پر ہونے والے حادثات اور اموات کے وہ اعداد و شمار ہیں جو حساب کتاب میں آ گئے، ورنہ اصل تعداد اس سے دو گنا ضرور ہو گی۔
آج اگر شاہی سواریوں کے گزرتے وقت رُوٹ لگنے بند ہو جائیں اور حکمران، عام ٹریفک میں سفر کریں تو یہ مہلک نظام، دیکھتے ہی دیکھتے درست ہو جائے۔ مگر چونکہ تکبر مآب حکمران، سڑکوں سے گزرتے وقت، عوام کو جانور سمجھتے ہوئے، جہاں ہیں، جیسے ہیں کی بنیاد پر کھڑا کر دیتے ہیں، اس لیے ٹرانسپورٹ کے نظام کی انہیں خبر ہے نہ پرواہ! کس قدر شرم کی بات ہے کہ میٹروبسوں اور ٹرینوں کے احسانات قوم کو ہروقت جتانے والے حکمرانوں پر، بین الاقوامی بنک کی یہ رپورٹ کوڑے کی طرح ضرب لگا رہی ہے۔مگر جلد موٹی ہو تو کوڑا بھی کچھ نہیں کرتا۔
عوام کو قتل ہونے کے لیے 
شاہراہوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ چند ماہ پہلے بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کے اردو ادب کے صدر شعبہ پروفیسر ڈاکٹر منیر کی گاڑی ایک ڈمپر کے نیچے آ کر کچلی گئی۔ طیب منیر اگر رِنگ روڈ بنانے والا ٹھیکیدار ہوتا تو بڑے لوگ تعزیت کے لیے اس کے گھر جاتے اور ڈمپر چلانے والا قاتل بھی پکڑ لیا جاتا مگر وہ تو ایک پروفیسر تھا۔ دو ماہ پہلے ریکارڈ قائم کرنے والی قومی سطح کی اتھلیٹ خاتون نادیہ نذیر ساہیوال کے نزدیک ایک ٹریکٹر ٹرالی کی ٹکر سے جاں بحق ہو گئی۔ پانچ سالہ بچہ بھی چل بسا۔ حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ لاکھوں ٹرالیاں، ٹریکٹر، ڈمپر، وحشیوں کی طرح شاہراہوں پر دندناتے پھر رہے ہیں۔ ہزاروں شہری ان وحشیوں کی نذر ہو کر زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں مگر ٹریفک بند کر کے گزرنے والے حکمرانوں کو ادراک ہی نہیں کہ یہ بھی کوئی مسئلہ ہے اور اسے حل بھی کیا جا سکتا ہے۔ کیا اِن مقتولوں کے پس ماندگان گڑ گڑا کر دعائیں نہ کرتے ہوں گے کہ کاش، کوئی ڈمپر، کوئی ٹرالی، کوئی ٹریکٹر، حکمرانوں کی برق رفتار سواریوں سے بھی ٹکرائے۔
نہ جانے کتنی نادیہ نذیر، کتنے طیب منیر اس جنگل میں جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ نہ جانے کتنی فرزانہ ناز مجرمانہ نا اہلی کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔ انسانی جان کی قدر و قیمت کفار کے ملکوں میں تو ہے، اسلام کے قلعہ میں نہیں ہے ؎
نہ مدعی نہ شہادت، حساب پاک ہوا
یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا

Monday, April 24, 2017

تو پھر شہزادی بھی ہم پر حکومت کرکے دیکھ لے !!


2000
ء تک واضح ہو چکا تھا کہ جمال مبارک اپنے باپ کا جانشین ہو گا۔ نائب صدر کا عہدہ موجود ہی نہیں تھا۔ عملاً جمال ہی نائب صدر تھا۔ سرکاری جماعت نیشنل ڈیموکرٹیک پارٹی55 کا ڈپٹی سیکرٹری جنرل وہی تھا اور پالیسی کمیٹی55 کا طاقت ور منصب بھی اُسی کی جیب میں تھا۔ حُسنی مبارک نے ربڑ نما پارلیمنٹ سے آئین میں ترمیم بھی کروائی کہ جمال کا راستہ صاف ہو جائے اور وہ اگلا حکمران بنے۔ مگر ساری ترکیبیں، سارے منصوبے دھرے رہ گئے۔ تختہ الٹ دیا گیا۔ پھر کرپشن کے الزامات لگے۔ جیل کی سلاخیں، فوٹو گرافروں کے چبھتے کیمرے، دنیا بھر کے میڈیا میں تذلیل ! کوئی ہے جو عبرت پکڑے۔ کہاں ہے حسنی مبارک اور کہاں ہے ولی عہد جمال مبارک ؟؟
2012ء کا موسم گرما قذافی کے بیٹے محمد قذافی نے لندن کی خنک ہوائوں میں گزارنا تھا مگر بھاگ کر الجزائر میں چھپنا پڑا۔ سیف الاسلام ، قذافی کے دوسرے بیٹے کو جیل جانا پڑا۔ تیسرے بیٹے موسیٰ کو نائجر میں پناہ لینا پڑی۔ نائجر، جہاں اس کے جانور بھی رہنا پسند نہ کرتے۔ ہنی بال، ایک اور بیٹا، جو پیرس کی شاہراہوں پر نشے میں دھند کاریں چلاتا تھا آج کسی کو نہیں معلوم ، نہ پرواہ ہے، کہ کہاں ہے؟
یہ مثالیں، ہمارے سامنے مثالیں کیا بتاتی ہیں؟ یہ واقعات اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ جانشینی کے خواب بکھر جایا کرتے ہیں۔ ملکوں کو جاگیر اور رعایا کو غلام سمجھنے والے، ایک نہ ایک دن ضرور مٹی چاٹتے ہیں! جس خاک کو وہ پیروں تلے پامال کرنے کے عادی ہوتے ہیں، وہی خاک لوہا بن کر ان کی کلائیوں کے لئے ہتھکڑی ہو جاتی ہے۔
ایک گروہ اگر یہ سمجھ رہا ہے کہ بادشاہ کے بعد شہزادی اقتدار سنبھالے گی تو وہ اُن طاقتوں سے آگاہ نہیں، جو مستقبل میں پوشیدہ ہیں! کسی کو نہیں معلوم کہ شہزادی، جو سارے مقدمے کا مرکزی کردار تھی، محفوظ کیسے قرار دے دی گئی!اور اب اس منصوبے پر کام شروع ہو گیا ہے کہ تخت کی وارث وہ ہو گی!
نہیں ! ایسا نہیں ہو گا! جس خاندان کے سربراہ کو دو منصفوں نے نااہل اور دروغ گو قرار دیا ہے اور تین منصفوں نے عدم اطمینان کا اظہار کرکے مزید تفتیش کا حکم دیا ہے، اس خاندان کے دوسرے افراد کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط ہونے کا حق نہیں دیا جاسکتا! اگر ایسا ہو گیا تو یہ قائد اعظم کے بنائے ہوئے ملک کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔ پناہ مانگنی چاہئے خدا کی ! وہ یہ دن کبھی نہ دکھائے!
نہیں! یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں! شاہی خاندان کا جانا ٹھہر گیا ہے! صبح گیا یا شام گیا! یہ تو غیر ملکی ہیں جو کلائیو، کرزن اور ولزلے کی طرح باہر سے ہم پر حکومت کرنے آتے ہیں! ان کا اس وطن سے، اس وطن کی مٹی سے، اس وطن کی کچی گلیوں میں اڑتی گرد سے، تعلق ہی کیا ہے! انہوں نے تو اپنے محلات کے جھنڈ کا نام تک بھارت کی اس بستی کے نام پر رکھا ہے جسے یہ چھوڑ آئے مگر چھوڑ نہیں سکتے!
حجاز میں رہنے والے ہر پاکستانی کو معلوم ہے اور سب گواہی دیتے ہیں کہ وہاں ان کے کارخانوں میں ترجیح کس ملک کے باشندوں کو دی جاتی ہے اور پاکستانیوں کو درخور اعتنا نہیں گردانا جاتا! آصف زرداری، دولت جمع کرنے میں، اس خاندان سے ذرا سا ہی آگے پیچھے ہو گا مگر ایک معاملے میں وہ جاتی امرا کے حکمرانوں سے بازی لے گیا۔چند دن پہلے اُس نے بلوچستان کے عوام کو بھارت کا اصل چہرہ دکھایا۔55جو بلوچ بھائی بھارتی بہکاوے میں آکر آزادی کی باتیں کر رہے ہیں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ انٹرنیٹ پر بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار دیکھ لیں۔ وہاں گائے ذبح کرنے پر پھانسی دی جاتی ہے۔ کیا ہم نے بھی بیل کاٹنے پر پھانسی چڑھنا ہے؟ بنیا کہتا ہے پانی بند کردوں گا! بنیے کو کہتا ہوں تم ہمارا پانی بند نہیں کر سکتے۔
بحرالکاہل سکڑ کر ایک جوہڑ تو بن سکتا ہے، مائونٹ ایورسٹ، عرب کے صحرا میں تو منتقل ہو سکتی ہے مگر جاتی امرا کے بادشاہ، بھارت کے بارے میں ایسی بات کبھی نہیں کر سکتے! انہیں تو اس بات پر فخر ہے کہ بھارتی پنجاب میں بھی آلو گوشت کھایا جاتا ہے اور پاکستان میں بھی !! سبحان اللہ ! کیا فلسفہ ہے جو اشیائے خورد و نوش کے گرد ہی گھومتا ہے!
یہ ملک ہمارا ہے! انہیں کیا معلوم اس ملک کی سرحد کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں تک جاتی ہے۔ پانچ اضلاع سے باہر نہ نکلنے والوں کو کیا معلوم کہ سندھ کے صحرائوں میں کیا ہو رہا ہے اور بولان کے باسی کس حال میں ہیں، انہیں تو یہ بھی معلوم نہ ہو گا کہ وزیرستان سے لے کر باجوڑ تک خلق خدا کس طرح رہ رہی ہے!
یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم نے کراچی کے ساحلوں سے لے کر خنجراب کے پتھروں تک اسے اپنایا ہے۔ ہم اس وطن کے رہنے والے ہیں۔ ہماری دولت جدہ میں نہیں پڑی ہوئی۔ہماری جائیدادیں لندن میں نہیں بکھری ہوئیں! ہماری کلائیوں پر تین تین کروڑ کی گھڑیاں ہیں نہ ہمارے پینے کا پانی فرانس کے چشموں سے آتا ہے۔ ہمارے جسموں پر اسی وطن کی دھول ہے۔ ہم اس کے کھیتوں میں چلتے ہیں۔ ہم وہ نہیں جو اقتدار ختم ہو تو کلائیو، کرزن اور ولزلی کی طرح جہاز پر بیٹھ کر اپنے اصلی 55 وطن کو لوٹ جاتے ہیں!
کیا اس ملک میں کبھی کوئی پختون وزیر اعظم نہیں بنے گا؟ کیا یہاں سندھی وزیر اعظم پھانسیوں پر لٹکتے رہیں گے، گولیاں کھا کر گرتے رہیں گے اور پنجابی وزیر اعظم ہمیشہ انصاف کی بارگاہوں سے ریلیف پاتے رہیں گے؟ کیا اقتدار پر صرف ایک مخصوص پٹی کے مخصوص خاندان کی اجارہ داری رہے گی؟ کیا کراچی اور بلوچستان، کیا گلگت بلتستان سے کبھی کوئی حکمران نہیں بنے گا؟
کیا اس ملک میں قہقہے ہمیشہ محلات سے بلند ہوں گے؟ کیا محنت کشوں کے خون سے بھرے ہوئے ساغر چند خاندان ہی نوش کرتے رہیں گے؟ یہ نازک کلائیاں کب تک بچیں گی؟ یہ سر سے لے کر گردن تک اور ہاتھ سے لے کر پائوں تک زیورات میں لدی شہزادیاں کب تک اپنی وراثت کی دھونس جماتی رہیں گی؟ آخر ہماری ہڈیاں کب تک ان کے محلات کی بنیادوں میں اینٹوں کا کام دیں گی؟
اَلَیْسُ الصبح بقریب ؟ کیا صبح قریب نہیں آچکی!کیا سوہار تو کا خاندان، جو سارے کا سارا حکمران تھا، تاریخ کے کوڑے دان میں نہیں پھینک دیا گیا۔ کیا تیس برس کا عرصہ ایک خاندان کے کلی اقتدار کے لئے کم ہوتا ہے؟ کیا کم و بیش اتنا ہی عرصہ نہیں تھا جس کے بعد قذافی، حسنی مبارک کئی اور غروب ہو گئے! کیا رومانیہ کاچی شسکو تاحیات صدر رہ سکا!
مجید امجد نے کہا تھا ؎
سیل زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی
قصرو کلاہ و تخت کے سب سلسلے گئے
غرور و تکبر سے لتھڑے ہوئے خاندان دائمی اقتدار کے منصوبے باندھتے ہیں مگر ہوا اپنا رخ تبدیل کر لیتی 
ہے سب کچھ دھرا رہ جاتا ہے۔ وہ تدبیریں کرتے ہیں اور اللہ بھی تدبیریں کرتا ہے اور اللہ کی تدبیریں، ان کی تدبیروں پر حاوی ہو جاتی ہے!
اس قوم نے کوئی ایسا گناہ نہیں کیا کہ اسے ایسے حکمران کبھی نہ ملیں جو دولت سمیٹنے کی خواہش نہیں رکھتے! بھارتی صدر عبدالکلام جن دو ٹرالی بیگوں کے ساتھ ایوان صدر میں داخل ہوا تھا انہی کے ساتھ نکلا۔ سنگاپور کالیؔ قرا تو وصیت کر گیا کہ اس کا مکان، جو اس کا واحد اثاثہ تھا، منہدم کر دیا جائے تاکہ اس کی نگہداشت پر قوم کا خزانہ نہ خرچ ہو۔ من موہنی سنگھ وزارت عظمیٰ سے ہٹتا ہے تو اس کی الماری سے کپڑوں کے دو جوڑے برآمد ہوتے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم اپنی بیوی کے لئے پرانی گاڑی خریدتا ہے اور ٹیکس ، ڈاکخانے کی کھڑکی میں خود کھڑا ہو کر ادا کرتا ہے۔ وزارت عظمیٰ ختم ہوتی ہے تو اپنا سامان خود پیک کرتا ہے۔ اوبامہ قطار میں کھڑا ہو کر برگر خریدتا ہے(جی ہاں! کچھ حکمران ایسے بھی اس کرہ ارض پر پائے جاتے ہیں جو کھانے میں صرف ایک برگر یا اتنی ہی مقدار کی کوئی اور شے کھانے پر اکتفا کرتے ہیں!)
کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ اس ملک میں، جہاں جمہوریت، خاندانوں کی کنیز ہے، وقت کے وزیر اعظم کو ایک نہیں ، دو جج معزول کرنے کا حکم دیں گے اور بآواز بلند کہیں گے کہ یہ صادق ہے نہ امین! 
تو اگر یہ ہو سکتا ہے تو پھر شہزادی بھی ہم پر حکومت کرکے دیکھ لے!! ؎
وادی قیس سلامت ہے تو انشاء اللہ
سربکف ہو کے جوانانِ وطن نکلیں گے

Sunday, April 16, 2017

فراز! راحت جاں بھی وہی ہے! کیا کیجے



یورپی ملکوں کے سفیروں کو شاہ عباس صفوی کے دربار میں ایک بڑا مسئلہ یہ درپیش 
تھا کہ وہ گھنٹوں، قالین پر، آلتی پالتی مار کر، نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ دربار میں سلطنت عثمانیہ کا سفیر بھی موجود تھا۔ اس نے ایرانی بادشاہ کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ قسطنطنیہ میں یورپی تاجروں کے گھروں میں جاتا رہتا ہے اور وہاں اس نے یہ نوٹ کیا ہے کہ انگریز سٹول پر بیٹھتے ہیں۔ بادشاہ نے یورپی سفیروں کو دربار میں سٹول پر بیٹھنے کی اجازت تو دے دی مگر ترک سفیر کی مداخلت اسے پسند نہ آئی۔ یوں بھی وہ ترک سفیر کے سامنے سلطنت عثمانیہ کی تضحیک کا کوئی موقع گنواتا نہ تھا۔ یورپی سفیروں کو جام صحت تجویز کرتے ہوئے اس نے کہا میں ایک نصرانی کے جوتے کی بھی بہترین ترک کی نسبت زیادہ عزت کرتا ہوں۔
شاہ عباس اول کا عہد حکومت ء سے ء تک رہا۔ یہ زمانہ ہندوستان میں اکبر اور جہاں گیر کا تھا۔ شاہ عباس تاریخ میں مضبوط عہد حکومت اور اصلاحات کی وجہ سے عباس اعظم (عباس بزرگ) کے طور پر جانا جاتا ہے مگر تین کام اس نے اور بھی کئے۔ اول۔ مسلک کو سرکاری طور پر اپنایا اور سنیوں کی کثیر تعداد کو اپنے مسلک پر، جیسے بھی، جس طرح بھی، لا کر رہا۔ دوم۔ مغرب میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف اور شمال میں ازبکوں کے خلاف مسلسل برسر پیکار رہا۔ قتدھار کی وجہ سے مغلوں سے بھی ان بن ہی رہی۔ یہ تینوں طاقتیں (ترک، ازبک اور مغل) سنی تھے! سوم۔ اس نے سالہا سال تک یورپی طاقتوں سے صرف اس مسئلے پر ایلچیوں کا تبادلہ کیا کہ وہ سلطنت عثمانیہ کے خلاف اس کی مدد کریں۔ وہ اپنے سارے عہد اقتدار میں یہی خواب دیکھتا رہا کہ ہسپانیہ اور دوسری یورپی سلطنتیں مغرب سے ترکوں پر حملہ کریں تو ایران مشرق سے حملہ کر کے ترکوں کو نیست و نابود کردے۔
معروف پرتگالی پادری ڈی گُوو، یا  کئی بار پوپ کی طرف سے سفارت لے کر شاہ عباس کے پاس گیا۔ ہندوستان کے جنوب مغربی ساحل کے علاقے گوا پر اس وقت تک پرتگالی قابض ہو چکے تھے۔ گوا کے وائسرائے نے اس نامہ و پیام میں اور ترکوں کے خلاف ایران اور یورپ کے اتحاد میں اہم کردار ادا کیا۔ پرتگال اور ہسپانیہ کی طرف سے ایلچی گوا ہی سے جاتے تھے۔ شاہ عباس نے بے صبری میں یکے بعد دیگرے کئی ایلچی ہسپانیہ بھیج ڈالے۔ ڈی گوویا نے وجہ پوچھی تو شاہ عباس کا جواب تھا کہ وہ عیسائی بادشاہوں پر دبائو ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ ترکوں پر جلد از جلد حملہ کریں۔ اس نے یورپی تاجروں اور سفیروں کو جید شیعہ علماء کی موجودگی میں شراب بھی پیش کروائی۔ علماء نے مخالفت کی مگر شاہ کے نزدیک یورپی عمائدین کو خوش کرنا اس لئے ضروری تھا کہ وہ ترکوں کے خلاف، شاہ کے حلیف ہیں۔ حالانکہ ان دنوں رمضان کا مہینہ بھی تھا۔ پھر اسی نے ڈی گوویا کو ہدایت کی کہ شاہ کی ان خدمات کا پوپ سے ضرور تذکرہ کیا جائے۔
شاہ عباس کا خصوصی سفیر زینل بیگ چھ سال تک یورپی بادشاہوں کے درباروں میں پھرتا رہا۔ آخر تنگ آ کر اس نے اپنے بادشاہ کو صاف صاف لکھ بھیجا کہ عیسائی طاقتیں ایرانی بادشاہ کو جھوٹے دلاسے دے رہی ہیں اور غیر سنجیدہ وعدے کر رہی ہیں۔ زینل بیگ نے یہ بھی بتایا کہ یورپی ملک چاہتے ہیں کہ ایرانی اور ترکی آپس میں لڑ کر تباہ ہو جائیں تاکہ مسلمانوں کا قصہ ہی تمام ہو جائے۔ مگر زینل بیگ کی اس صاف گوئی کا کوئی اثر شاہ عباس پر نہ پڑا۔ اس نے پوپ کو خط لکھا کہ وہ حلب پر حملہ کرے جو ترکوں کے پاس تھا۔ پوپ کا جوابی خط پڑھا گیا تو شاہ عباس نے سارے سفارتی آداب بالائے طاق رکھ کر سفیروں کے سامنے غیض و غضب کا اظہار کیا کہ پوپ صرف الفاظ کے تحفے بھیج رہا ہے اور ترکوں پر اس نے ابھی تک حملہ نہیں کیا۔ پھر اس نے پوپ پر ایک اور دانہ ڈالا تم ترکوں پر حملہ کرو تو میں بیت المقدس ان سے چھین کر تمہارے حوالے کردوں گا۔میں اس نے روس، پولینڈ اور اٹلی کے درباروں میں سفارتیں بھیجیں کہ وہ ترکوں پر حملہ کریں مگر اس کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا!
یہ ہے وہ پس منظر جس میں عزیر بلوچ کے معاملے پر غور کرنا چاہیے۔ حاجی ناصر نے عزیر بلوچ کی ایرانی حکام سے ملاقات کرائی تو انہوں نے عزیر کو ایرانی شہریت کی پیش کش کی بشرطیکہ عزیر ایرانی خفیہ ایجنسیوں کو کراچی کی سکیورٹی اور عسکری عہدیداروں کے حوالے سے اہم معلومات اور نقشے مہیا کرے۔ ہم پاکستانی یہ کہتے ہوئے تھکتے نہیں کہ ایران ہمارا دوست ملک ہے۔ مگر کیا دوست ملک اس قسم کے خفیہ آپریشن، ایک دوست ملک کے خلاف کرتے ہیں؟؟
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
عدو کے ہولیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
کیا ہم تصور کرسکتے ہیں کہ ترکی، سعودی عرب یا چین ہمارے ساتھ یہ حسن سلوک کریں گے؟
کلبھوشن یادیو پکڑا گیا تو معلوم ہوا اس کا مستقر چاہ 
بہار تھا۔ ہم نے خوش گمانی کو غنیمت جانا کہ یہ سب کچھ ایرانی حکومت کے علم میں نہ 
ہوگا۔ مگر خوش گمانیاں کب تک؟ اگر ایک ملک ہماری سکیورٹی کی اطلاعات، خفیہ اور انتہائی ناجائز طریقے سے حاصل کرسکتا ہے تو وہ کلبھوشن جیسے جاسوسوں کی سرپرستی کیوں نہیں کرسکتا! مگر ہمیں چاہیے کہ ہم خوش گمانی کو اب بھی رد نہ کریں۔ خُدا کرے حقیقت یہی ہو کہ کلبھوشن کے معاملے کا ایرانی حکام کو علم نہ تھا!
جنرل راحیل شریف کی سعودی عرب میں تعیناتی پر اسی حوالے سے غور کرنا چاہیے۔ عزیز بلوچ کے انکشاف سے دو ہفتے پہلے ٹیلی ویژن پر جب یہ بحث چھڑی تو اس کالم نگار نے پوچھا کہ اگر ہم جنرل راحیل شریف کو اس تعیناتی پر نہ بھیجیں تو کیا ایران کا جھکائو بھارت کی طرف کم ہو جائے گا؟ مگر اس کے جواب میں وہی اسلامی اخوت والی کہانی سنائی گئی اور اس بات کی نفی کی گئی کہ ایران کا جھکائو بھارت کی طرف ہے۔ لاعلمی نعمت ہے اور کلفت کا باعث بھی ہے۔ کسی کوشک ہو تو دہلی میں ایرانی سفارت خانے کی مطبوعات دیکھے اور اندازہ لگائے کہ ایران اور بھارت کی قربت کس درجے کی ہے۔ ایرانی مطبوعات مغلوں کے کلچر، آرٹ، زبان اور تعمیرات کی جانشینی کا سہرا بھارت کے سرباندھتی ہیں، یہ اعزاز پاکستان کو نہیں دیتیں۔ بھارت، ہندوستان کے مسلم عہد کا کیسا جانشین ہے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے کہ دو سال پیشتر، بھارتی قوم جمہوریہ پر کرناٹک کے صوبے نے، اپنے فلوٹ پر سلطان ٹیپو شہید کا مجسمہ لگایا۔ اس پر وہ احتجاج ہوا کہ الامان والحفیظ! چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر لاکھوں بھارتیوں نے احتجاج کیا حالانکہ کرناٹک کی حکومت ہندو ہے۔ چونکہ میسور اب کرناٹک کا حصہ ہے اس لئے انہوں نے ایک تاریخی حقیقت کا اعتراف کیا مگر ان کی اکثریت اسے گوارا نہ کرسکی۔
مسلمان ملکوں کی متحدہ سپاہ کا رخ اگر ایران یا کسی اور مسلمان ملک کی طرف ہو گا تو پاکستان ہرگز ہرگز اپنے کسی جرنیل کو اس سپاہ میں تعینات نہیں کرے گا۔ جنرل راحیل شریف ایک متوازن طاقت کا کردار ادا کریں گے۔ عربوں اور ایرانیوں کا باہمی فاصلہ کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ مگر سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایران کی خوشنودی کی خاطر پاکستان اپنے جرنیل کو اس سپاہ میں نہیں بھیجتا تو کیا ایران کشمیر کے معاملے میں ہمارا کھل کر ساتھ دے گا؟ اور کیا وہ بھارت کی طرف اپنا واضح جھکائو کم کرے گا؟
ایران سے ہمارا صدیوں کا رشتہ ہے۔ ہم ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے ؎
بامن آویزشِ اُو الفت موج است و کنار
دمبدم بامن و ہرلحظہ گریزان از من
ہمارا اور ایران کا تعلق وہی ہے جو موج کا ساحل کے ساتھ ہوتا ہے۔ ابھی گلے مل رہے ہیں اور ابھی دور دور ہیں! شاہ طہماسپ نے (باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں)
ہمایوں کی میزبانی کی اور مدد بھی۔ مغل بادشاہوں کے دربار میں ملک الشعراء ہمیشہ ایرانی شاعر ہوتے تھے۔ نظیری نیشا پوری، ابو طالب کلیم، طالب آملی، صائب، یہ تو چند نام ہیں۔ پورے مغل عہد اور پھر سلطنت آصفیہ کے زمانے میں ایران سے شاعروں، ادیبوں، علماء، تاجروں اور جرنیلوں کا تانتا بندھا رہا۔ حیدر آباد دکن میں ایرانی گلی کے نام سے پورا محلہ ایرانیوں کا تھا! ہم ایران سے133 فارسی بولنے والے ایران سے133 دور کیسے ہو سکتے ہیں؟ افسوس! ہم آج خسرو، بیدل، نظیری، فیضی، ابوالفضل،غالب اور اقبال کے فارسی کلام سے ناآشنا ہیں۔ ان سب کو ایرانی سر آنکھوں پر رکھتا ہے۔ ہمیں ایران کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اپنی جس ادبی اور ثقافتی میراث سے ہم منہ موڑ چکے ہیں، ایران نے اسے سنبھالا ہوا ہے اور اس کی حفاظت کر رہا ہے ؎
فراز راحت جاں بھی وہی ہے کیا کیجئے
وہ جس کے ہاتھ سے سینہ فگار اپنا ہے
مگر ملکی سالمیت کے تقاضے اور ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ایران رفتہ کو گزشتہ جان کر ہمارے ساتھ تجدید عہد کرے گا۔ یوں بھی ایران کو معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت کبھی بھی اس کا خیر اندیش نہیں ہو سکتا!
اور ہاں! یہ غلط فہمی بھی کسی کو نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستانی مسلک کی بنیاد پر اپنے ملک کے بجائے کسی اور کی طرف داری کریں گے۔ حاشا و کلاّ۔ پاکستانی، جس مسلک کا بھی ہو، اس کی اولین وفاداری اپنے ملک کے ساتھ ہے! کسی پڑوسی ملک کے ساتھ ہے نہ مشرق وسطیٰ کے کسی ملک کے ساتھ! پاکستانی بڑی سے بڑی غلطی کر سکتا ہے مگر اپنی مٹی سے بے وفائی نہیں کر سکتا!

Monday, March 06, 2017

یہ لوگ تھے اس سے پہلے خوشحال

           چوری نہ جانے کس نے کی تھی لیکن شک ملازمہ پر تھا۔ بیگم صاحبہ نے ماضی میں بھی کئی بار ملازمہ پر چوری کا الزام لگایا تھا۔ ایک بار انگوٹھی گم ہوئی، ملازمہ سے خوب پوچھ گچھ ہوئی اور یہ طے کر لیا گیا کہ وہی چور ہے، یہ اور بات کہ تین ماہ بعد انگوٹھی الماری میں رکھے کپڑوں سے ملی۔
اب کے معاملہ زیادہ گمبھیر تھا۔ سونے کا پورا سیٹ غائب تھا۔ بیگم صاحبہ کا ایک بیٹا ہیروئن کے نرغے میں تھا۔ اس پر کسی نے شک نہیں کیا! تھانے والے آئے‘ گھر کا رائونڈ لیا اور ملازمہ کو لے گئے۔ اس کے ایک کمرے والے گھر کی کئی بار تلاشی لی گئی۔ وہاں ہوتا تو ملتا۔ پولیس نے مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیا۔ رات کو سونے دیا جاتا نہ دن کو روشنی نصیب ہوتی۔ کبھی کبھی بس پانی کے دو گھونٹ اور مٹی والے آٹے کی روٹی کے چند نوالے۔
اُس دن صبح صبح اُسے تھانے کی ڈیوڑھی میں بٹھا دیا گیا۔ تھانے والوں کا خیال تھا کہ کھلی ہوا میں شاید اس کی چیخ و پکار کم ہو جائے۔ اُسی وقت مولوی صاحب تھانیدار کو ملنے آ گئے۔ ہاتھ میں تسبیح‘ سر پر دستار‘ شلوار ٹخنوں سے اونچی۔ اس قدر کہ پنڈلیاں آدھی کھلی ہوئیں۔ ملازمہ ان کے راستے میں بیٹھی تھی۔ چہرہ زخموں سے بدحال‘ صورت مسخ‘ آنکھوں کے اردگرد نیل‘ ناک سے اُس وقت بھی خون بہہ رہا تھا۔ شاید ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔ سلگتے سگریٹ سے داغی ہوئی ہتھیلیوں کی پشت سے کھال اُدھڑی اُدھڑی سی لگ رہی تھی۔ مولوی صاحب نے دیکھا‘ دیکھتے ہی ان کی پیشانی شکنوں سے اٹ گئی۔ لاحول ولا قوۃ۔ اس کے پاس آئے ’’بدبخت! سر تمہارا ننگا ہے۔ تمہیں آخرت کا کچھ خیال نہیں‘ معلوم ہے ننگے سر بیٹھنا کتنا سخت گناہ ہے؟ شیطان حاوی ہو جاتا ہے‘ فرشتے دور ہو جاتے ہیں‘‘۔ ملازمہ کی چیتھڑا نما اوڑھنی خون میں لت پت ہو چکی تھی۔
اس واقعہ کا مرکزی خیال نجم حسین سید کے ایک پنجابی ڈرامے کا موضوع ہے۔ مولوی صاحب کو اس سے کیا غرض کہ مظلوم پر کیا بیت رہی ہے۔ مذہب کے حوالے سے ان کا سارا فہم اوڑھنی سے شروع ہوتا تھا اور ننگے سر پر ختم ہو جاتا تھا۔
ایسا ہی ایک واقعہ کسی زمانے میں حرم کعبہ میں پیش آیا۔ ایک کوفی حالت احرام میں تھا۔ اُس سے ایک مچھر مر گیا۔ مفتی صاحب کے پاس حاضر ہوا اور مسئلہ پوچھا۔ مفتی صاحب نے فرمایا‘ خدا تمہیں ہدایت دے۔ تم کوفیوں نے سبط رسولؐ کو شہید کر دیا۔ اُس وقت شریعت کا خیال نہ آیا، مچھر مرنے پر تمہارا اسلام بیدار ہو گیا ہے!
شاید اسی سے وہ محاورہ بنا۔۔۔۔ مچھروں کو چھاننا اور اونٹوں کو نگلنا! ایک بادشاہ ان دنوں انڈونیشیا کے دورے پر ہیں۔ انڈونیشیا مسلمان ملک ہے مگر اس کے جزیرہ بالی میں ہندوئوں کی اکثریت ہے۔ بالی ایک خوبصورت‘ سحر آگیں‘ دلکش جزیرہ ہے۔ دنیا بھر کے سیاح یہاں آتے ہیں اور سیر کرتے ہیں۔ میڈ مانگ کُو پاستیکا جزیرے کا منتخب گورنر ہے۔ بادشاہ سلامت نے ایک ہفتہ بالی میں گزارنا ہے۔ ان کا سامان پانچ سو ٹن پر مشتمل ہے۔ ساتھ وزیروں اور شاہی خاندان کے افراد پر مشتمل پندرہ سوکا وفد ہے۔ بالی کے خوبصورت ترین اور گراں ترین حصے میں قیام کے لیے پانچ لگژری ہوٹل بُک کیے گئے ہیں۔ جہاز سے اترنے اور چڑھنے کے لیے سیڑھی ساتھ لائی گئی ہے جو سنہری رنگ کی ہے۔ دو ہوائی جہاز صرف سامان ڈھونے کے لیے مختص ہیں۔ کراکری‘ قالین اور صوفے ساتھ ہیں۔ دو بلٹ پروف مرسڈیز ہمراہ ہیں۔ اسّی انچ سکرین کا ٹیلی ویژن سیٹ ساتھ لائے ہیں۔ دوران قیام تین سو ساٹھ گاڑیاں استعمال میں رہیں گی۔ سارے قافلے اور سامان کو جکارتہ پہنچانے کے لیے ستائیس پروازیں اڑیں گی اور نو ہوائی جہاز بالی پہنچانے کے لیے استعمال ہوں گے۔
اس طرز زندگی کے بارے میں اسلام کا رویہ کیا ہے؟ اسلامی احکام کیا ہیں؟ یہ ساری دولت اگر ملکی وسائل سے آئی ہے تو کیا اسلام ایک فرد کو یا اس کے خاندان کو ان کے عیاشانہ استعمال کی اجازت دیتا ہے؟ کیا زمین سے نکلنے والی معدنیات (سونا، چاندی، تیل) ایک فرد‘ ایک خاندان کی ملکیت ہوں گی یا ریاست کے ذریعے تمام باشندوں کا ان پر حق ہو گا؟ کیا بادشاہ سلامت کی مُتعیِّشانہ طرز زندگی تبذیر کے احکام میں آئے گی؟ اسلامی فقہ میں ایک قانون‘ قانون تحدید (Limitation)
 بھی ہے جس کی رُو سے ریاست ملکیت کی حد مقرر کر سکتی ہے۔ پھر دولت کا بے تحاشا استعمال عام افراد کی نفسیات پر حوصلہ شکن اثرات ڈالے تو ریاست اس پر قبضہ بھی کر سکتی ہے۔ فقہ میں ایک قانون حجر بھی ہے۔ اس کا مطلب ہے انسانوں کو اُن کا اپنا مال خرچ کرنے سے اُس وقت روک دینا جب سوسائٹی کو نقصان ہو رہا ہو۔ فقہ کی معروف کتاب ’ہدایہ‘ کے شارح سید جلال الدین خوارزمی نے ’’اُڑنے والے کبوتروں کو بھاری قیمت دے کر خریدنے‘‘ کو بھی سفہ میں شامل کیا ہے۔ سفہ کا مطلب ’’مالی فساد‘‘ ہے (آج کل جیسے مشرق وسطیٰ میں باز اور عقاب کی خریداری ہے۔) مالکی فقہ کی رُو سے اگر مالدار تبذیر پر اتر آئے تو اس پر حجر کیا جا سکتا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت‘ یعنی اسے اپنا مال خرچ کرنے سے منع کیا جا سکتا ہے۔ اپنے مال کو غلط استعمال کرنے والا سفیہہ اور اور مُفسد قرار دیا جائے گا۔ اس کے خرید و فروخت اور انتقال ملکیت کے حق پر پابندی عائد کی جائے گی۔ چاروں فقہی مکاتب اس پر متفق ہیں۔ امیر المومنین عمر فاروقؓ نے کوفہ بستے وقت حکم دیا کہ کوئی ایک فرد تین سے زیادہ مکان تعمیر نہ کرے۔
حد سے زیادہ تبذیر کی فکر تو کسی کو نہ ہوئی مگر یہ فرمائش کی گئی کہ بالی کے گلی کوچوں، شاہراہوں اور چورستوں پر جو مجسمے اور بُت نصب ہیں‘ انہیں ڈھانپ دیا جائے! جب اونٹ نگلے جا رہے ہوں تو مچھروں کو چھاننا ضروری ہو جاتا ہے! آخر تقویٰ بھی کوئی شے ہے یا نہیں! مگر۔۔۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! بالی کے گورنر یاستیکا نے یہ ’’فرمائش‘‘ ماننے سے انکار کر دیا۔ 
’’بالی اس لیے مشہور ہے کہ یہاں آرام میسر ہے‘ محفوظ ہے اور یہاں برداشت پائی جاتی ہے! چنانچہ ہم مجسموں کو نہیں ڈھانکیں گے‘‘ گورنر نے بیان جاری کیا۔
بعض لوگ  یہ نتیجہ ہرگز نہ نکالیں کہ ہم مجسموں کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ مجسموں اور بتوں کے حوالے سے اسلام کے اپنے احکام ہیں جن پر ضرور عمل پیرا ہونا چاہیے۔ تاہم یہاں جس پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ یہ ہے کہ ’’میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھُو‘‘ کی پالیسی کو اسلام بلکہ کوئی مذہب بھی برداشت نہیں کرتا۔ اسلام نے تو واضح طور پر کہہ دیا کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو۔ مجسمے ناجائز ہیں مگر تبذیر اور حد سے زیادہ اسراف بھی تو ناجائز ہیں۔ ایسا معیار زندگی جسے دیکھ کر لوگوں کو دُکھ ہو‘ وہ بھی ریاست کے وسائل سے! عوام کے مال سے! ایسے معیار زندگی کا کیا جواز ہے؟
’’اور بائیں بازو والے! بائیں بازو والوں کی بدنصیبی کا کیا پوچھنا! تیز بھاپ میں‘ اور جلتے پانی میں‘ اور دھوئیں کے سائے میں! جو ٹھنڈا ہو گا نہ آرام دہ! یہ لوگ تھے اس سے پہلے خوشحال!!‘‘

Saturday, March 04, 2017

لکڑی کا پاؤں سخت بے وقعت ہوتا ہے


تو پھر کرکٹ کا میچ بھی نہ ہو کہ دہشت گردی کا خطرہ ہے!

دہشت گردی کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا عوام ذمہ دار ہیں؟ اسّی ہزار غیر ملکی۔۔۔۔ مسلّح غیر ملکی۔۔۔۔ صوبائی دارالحکومت میں بس گئے۔ حکومت دیکھتی رہی۔ تو پھر کیا عوام اس لیے کرکٹ کو طلاق دے دیں کہ حکومت اپنے فرائض سرانجام نہیں دے رہی؟
فیروز والہ منشیات کا مرکز بن چکا ہے۔ حکومت بے خبر ہے۔ تو پھر سزا عوام کاٹیں؟
دہشت گردی اس وقت تک رہے گی جب تک انحصار فوجی ایکشن پر ہے اور سول ادارے نااہلی اور کرپشن کا گڑھ ہیں۔ یہ دہشت گردی پانچ سال بھی رہ سکتی ہے اور یہی لچھن رہے تو خدانخواستہ بیس برس بھی رہ سکتی ہے تو پھر کیا بیس برس کرکٹ کے میچ نہیں ہوں گے؟
اس سے بڑھ کر حکومتوں کی نااہلی کیا ہو گی کہ ہزاروں نہیں لاکھوں غیر ملکی ملک کے اطراف و اکناف میں جائدادیں خرید کر اور کاروبار پھیلا کر بے خوف و خطر بیٹھے ہیں اور حکومت کو ہوش ہی نہیں! لاکھوں تعلیمی اداروں کی اقامت گاہوں میں حکومت کا نہ ہی ریاست کا عمل دخل ہے کہ راتوں کو وہاں کون قیام کرتا ہے۔ جس حکومت کے بس میں اتنا نہ ہو کہ وہ یونیورسٹیوں کے کیمپوں اور ہوسٹلوں کو سیاسی پارٹیوں کا مرکز نہ بننے دے‘ وہ حکومت دہشت گردی سے کیا لڑے گی؟ تو پھر کیا اس لامتناہی نااہلیت کا جرم عوام بھگتتے رہیں گے؟
رہی یہ دلیل کہ کرفیو لگا کر تو شام اور عراق میں بھی میچ کھیلا جا سکتا ہے تو یہ ایک بودی دلیل ہے    ؎
پائے استدلالیاں چوبیں بود
پائے چوبیں سخت بے تمکیں بود
دلیلیں لانے والوں کا پائوں لکڑی کا ہوتا ہے اور لکڑی کا پائوں سخت کمزور اور بے وقعت ہوتا ہے۔
میچ کی مخالفت کر کے آپ ایک بار پھر ان کی ہم نوائی کر رہے ہیں جنہوں نے مذاکرات میں آپ کو اپنا نمائندہ نامزد کیا تھا‘ جن کے خلاف سوات میں آرمی ایکشن ہوا‘ تو آپ نے مخالفت کی اور جنہیں آپ اپنے صوبے میں دفاتر مہیا کرنے چاہتے تھے۔ کوئی برا مانے یا پائوں زور سے زمین پر مارے، سچ یہ ہے کہ دہشت گردوں اور دہشت گردی کے بارے میں عمران خان کے تصورات 
(Concepts)
 ابہام کا شکار ہیں۔ وہ سخت لاعلمی میں گھرے ہیں۔ تیس کروڑ روپے ایسے مدرسہ کو دیے جس کے سربراہ بابائے طالبان کہلاتے ہیں  اور لکڑی کی دلیل یہ دی گئی کہ مدارس کو مین سٹریم میں لائیں گے۔ آج تک خان صاحب اس سوال کا جواب نہیں دے سکے کہ مین سٹریم سے ان کی کیا مراد ہے؟ اس کی تعریف ہی کر دیتے! اور پھر ایک خاص مدرسہ کا انتخاب! ایک خاص مسلک کے مدرسہ کا انتخاب! کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں آپ؟ عوام تو بننے سے رہے!
یہی تو دہشت گرد چاہتے ہیں کہ عوام نفسیاتی طور پر ٹوٹ جائیں۔ شکست و ریخت کا شکار ہو جائیں۔ یاس کی چادر پورے ملک پر تن جائے اور قائد اعظم کو آج بھی جناح صاحب کہنے والوں کی باچھیں کِھل جائیں! ’’مین سٹریم‘‘ کی تسبیح کرنے والے عمران خان صاحب صرف اتنا ہی کر دکھائیں کہ جس تعلیمی ادارے کو تیس کروڑ کی خطیر رقم عوام کے خون پسینے کی کمائی سے مہیا کی ہے‘ وہاں کے نصاب میں ایک باب قائد اعظم کے حالات پر شامل کرا دیں! کبھی نہیں کرا سکیں گے!
اس سے پہلے بسنت پر پابندی لگا دی گئی۔ اس لیے کہ لوگوں کے گلے کٹتے ہیں۔ تو پھر گاڑیوں پر پابندی لگا دیجیے کہ حادثات ہوتے ہیں! ہسپتالوں کو ختم کر دیجیے کہ یہاں مریض مر جاتے ہیں۔ ہوائی سفر کرنے والے کو حوالہ زنداں کر دیجیے کہ جہاز تو گر پڑتے ہیں! ارے بھائی! گلے کٹتے ہیں تو حکومت کا کیا کردار ہے؟ پولیس کے ہزاروں نوجوانوں کو شاہی محلات کی حفاظت سے ہٹا کر یہ ڈیوٹی دیجیے کہ وہ قاتل ڈور تیار کرنے والوں کو پکڑیں۔ ٹوپی چھوٹی ہو تو سر کاٹ کر چھوٹا نہیں کرتے بلکہ ٹوپی کو بڑا کرتے ہیں۔
شام اور عراق سے تشبیہ دنیا ہی غلط ہے۔ الحمد للہ پاکستان کے پاس جو مسلح افواج ہیں‘ ان کا شام اور عراق میں تصوّر ہی نہیں! ہاں اگر یہ بات مان لی جائے کہ فوج کوئی ایکشن نہ کرے اور اگر ایک خاص قبیل کے باقی تعلیمی اداروں کو بھی تیس تیس کروڑ دیے جائیں تو پھر میرے منہ میں خاک۔۔۔۔ شام اور عراق بننے میں دیر نہیں لگے گی!
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے! پانچ سال بعد ہی سہی‘ یہ فیصلہ تو ہوا کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے یہ فیصلہ کر کے تاریخ کا کم از کم ایک صفحہ اپنے لیے ضرور ریزرو کرا لیا ہے! دیر آید درست آید! یہ کام عشروں پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ قبائلی علاقوں کو الگ تھلگ‘اچھوت بنا کر رکھنا برطانوی استعمار کی ضرورت تھی اور مجبوری! بدقسمتی سے یہ استعمار‘ پولیٹیکل ایجنٹوں کی شکل میں تقسیم کے بعد بھی جاری رہا۔ یہ پولیٹیکل ایجنٹ چند چیدہ چیدہ ملکوں اور خانوں کی جیبوں میں رقوم ڈالتے تھے۔ کوئی حساب کتاب تھا نہ آڈٹ نہ اکائونٹنگ! عام قبائلی پستا ہی رہا۔ ضم ہونے کے بعد کم از کم صوبے کے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر سہولیات پر قبائلی عوام کا قانونی حق تو ہو گا۔
جو سیاسی قوتیں اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں‘ وہ کتنی ثقہ ہیں اور کتنے پانی میں ہیں؟ عوام اچھی طرح جانتے ہیں! مولانا نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ کر کے عوام سے دھوکا کیا گیا ہے۔ کیا دھوکا کیا گیا ہے؟ اس کی تفصیل ان کے پاس نہیں ہے۔ ان کا تو فاٹا سے تعلق ہی نہیں۔ فاٹا کے منتخب نمائندے اس فیصلے کے حق میں ہیں۔ فاٹا کے ان خود ساختہ خیر خواہوں نے آج تک فاٹا کی تعلیم‘ زراعت اور صنعت و حرفت کے لیے آواز نہیں بلند کی! یہ قوتیں چاہتی ہیں کہ قبائل کے عوام پس ماندگی کے کنوئیں سے باہر نہ نکلیں اور ووٹ ان قوتوں ہی کو دیتی رہیں۔ ان قوتوں کا چراغ غربت، ناخواندگی اور معاشی پس ماندگی میں جلتا ہے۔ فاٹا میں کالج اور یونیورسٹیاں بن گئیں‘ کارخانے لگ گئے‘ ٹریکٹر اور مشینیں زراعت کو جدید کرنا شروع ہو گئیں‘ شاپنگ مال بن گئے، لائبریریاں قائم ہو گئیں تو مولانا صاحب اور اچکزئی صاحب کو کون پوچھے گا؟
قبائلی عوام کا بہت استحصال ہوا ہے۔ معاشی استحصال‘ سیاسی استحصال ‘ نسلی استحصال‘ لسانی استحصال اور جذباتی استحصال! سینکڑوں برس ہو گئے، یہ استحصال ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ پہلے انگریزوں نے ان تمام تبدیلیوں سے انہیں محروم رکھا جو برصغیر میں ہوئیں۔ بدقسمتی سے پاکستان بننے کے بعد بھی یہی پالیسیاں جاری رہیں۔ جنوبی وزیرستان سے لے کر باجوڑ تک ستر برسوں میں کوئی کالج، کوئی یونیورسٹی نہ بنی۔ کوئی صنعتی یونٹ نہ لگا۔ پشتون قومیت فروخت کرنے والے چادر پوشوں کو اس پسماندگی سے کوئی غرض نہیں ۔ یہ چادر پوش، یہ دستار پوش صرف اور صرف اپنا الّو سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ صرف دکانیں چمکانا چاہتے ہیں، یہ صرف پارلیمنٹ میں پہنچ کر اپنی پسندیدہ وزارتوں پر اپنے گماشتے نصب کرنا چاہتے ہیں۔ یہ فقط مراعات کے طلب گار ہیں۔ یہ پروٹوکول کے بھوکے ہیں۔ یہ اقتدار کے برآمدوں میں طاقت کے کندھوں کے ساتھ اپنے کندھے رگڑنا چاہتے ہیں۔ یہ اپنے بھائیوں‘ برادر زادوں‘ اقربا اور اعزہ کو فائدے پہنچانا چاہتے ہیں۔ ان سے تو عام پختون ہفتوں مہینوں کوشش کرتا رہے ملاقات تک نہیں کر سکتا۔
فاٹا کا انضمام اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن ہے۔ ہر بالغ نظر پاکستانی اس کا استقبال کرتا ہے۔

Friday, February 24, 2017

دو پاکستان

پرندہ تب پنجرے میں بند نہ تھا!
یہ وہ زمانہ تھا جب وہ آزاد تھا۔ کھلی فضائوں میں اڑتا تھا۔ باغ تب ہرا بھرا تھا۔ کوئی صید تھا نہ صیّاد! درخت سرسبز تھے۔ فرش مخملیں تھا۔ آبِ رواں کے ہر طرف نظارے تھے۔ چہکار تھی اور مہکار ! فضا میں خوف نہ تھا۔ اعتماد تھا اور سکون!
وہ زمانہ خواب و خیال ہو گیا۔ اب پرندہ پنجرے میں بند ہے۔ وہی باغ ہے مگر پرندے کی آنکھوں کے سامنے ہر روز کوئی نہ کوئی پنجرہ کھلتا ہے ۔ کسی پرندے کی گردن مروڑی جاتی ہے اور اس کی لاش باغ کے اس فرش پر پھینک دی جاتی ہے جو کبھی ریشم کا لگتا تھا اور اب کھردرا اور ویران ہے! ہر روز پرندے کو یوں لگتا ہے کہ آج اس کی باری ہو گی اور یہ دن اس کا آخری دن ہے۔ روشیں دلدل میں بدل گئی ہیں۔ درخت ٹنڈ منڈ ہیں جیسے نوحے پڑھ رہے ہوں۔ پھولوں کا نشان تک باقی نہیں۔ ہر طرف جھاڑ جھنکاڑ‘ کانٹوں اور بدنما جھاڑیوں کا منظر ہے۔ باغ میں مکروہ چہروں والے بندوقچی ادھر ادھر دندناتے پھرتے ہیں۔ یہ بندوقچی ہر اس شے کے دشمن ہیں جو زندگی کی علامت ہو۔ درختوں کے سبز پتے‘ پھول‘ سبزہ‘ پرندے‘ گیت‘ خوشبو‘ پانی‘ یہاں تک کہ خنک ہوا کا اِکاّ دکاّ جھونکا بھی انہیں گوارا نہیں! آئے دن بندوق چلنے کی گرجدار‘ ہولناک آواز سنائی دیتی ہے۔ پھر کسی پرندے کی چیخ‘ پھر دوڑتے قدموں کی آواز اور پھر موت کا رقص!
یہ رُوداد کسی خیالی باغ کی نہیں! یہ سب کچھ اس باغ کے ساتھ ہوا جس کا نام پاکستان ہے۔ ہاں! جو کبھی باغ تھا اور اب وحشیوں کی شکار گاہ! یہ پاکستان افغان’’جہاد‘‘ کے بعد کا پاکستان ہے۔
ایک پاکستان افغان’’جہاد‘‘ سے پہلے کا پاکستان تھا! درست ہے شہد اور دودھ کی نہریں نہیں بہتی تھیں مگر خون کے چھینٹے بھی ہر طرف دیواروں پر نہیں تھے۔ یہ وہ پاکستان تھا جب صبح نوکری پر جاتے ہوئے ایک عام پاکستانی ماں کے قدموں پر گر کر غلطیاں معاف نہیں کراتا تھا اور بیوی سے یہ نہیں کہتا تھا کہ خیریت سے واپس آ گیا تو ملاقات ہو گی ورنہ بچوں کا خیال رکھنا! یہ وہ پاکستان تھا جب والدین بچوں کے سکول سے واپس آنے تک گھر کے دروازے پر نہیں کھڑے رہتے تھے۔ بچے بھی محفوظ تھے ‘ بڑے بھی! جب لوگوں کو یہ وارننگ نہیں دی جاتی تھی کہ پُررونق مقامات پر جانے سے احتراز کرو! سخت ضرورت کے بغیر باہر نہ جائو۔
یہ وہ پاکستان تھا جس میں منشیات کی ریل پیل نہیں تھی! والدین کو ہر وقت یہ دھڑکا نہیں لگا رہتا تھا کہ ان کے بچے کالج یا یونیورسٹی میں نشے کا شکار ہو جائیں گے۔ نہ ہی یہ خوف تھا کہ کوئی ان کے نوعمر بیٹے کو حوروں کی لالچ میں ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا کر دے گا۔ اُس پاکستان میں موت کے وہ سوداگر نہیں تھے جو آج گلی کوچوں میں جنت کے بدلے خون میں پھڑکتے اعضا بیچ رہے ہیں۔ اُس پاکستان میں بھتہ بھی ایک انجانا لفظ تھا۔ گاڑیاں چوری ہوتی تھیں مگر خال خال! اُس زمانے میں وفاقی دارالحکومت سے ہر روز اوسطاً تین گاڑیاں نہیں چوری ہوتی تھیں‘ اغوا برائے تاوان‘ انڈسٹری نہیں تھی!
یہ وہ پاکستان تھاجس میں کوئی کسی کو شاید ہی کافر کہتا ہو! مسجدوں پر پہرے نہیں تھے۔ رمضان میں لوگ روزے رکھتے تھے مگر یہ نہیں ہوتا تھا کہ بیمار اور مسافر بھوک سے نڈھال ہو جائیں۔ انہیں دن کو کھانا میسر آتا تھا۔ اور انہیں یہ ڈر نہیں ہوتا تھا کہ کوئی انہیں کھاتا دیکھ کر گولی سے بھون دے گا یا گلا دبا دے گا تب ہجوم کی جرأت نہیں ہوتی تھی کہ کسی کو مار دے یا پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ قانون اتنا بے بس نہیں تھا۔
 کیا آج کوئی یقین کرے گا کہ اس وقت کے پاکستان کا پاسپورٹ دنیا بھر میں عزت و تکریم کا باعث تھا۔ کوئی پاکستانی پاسپورٹ دکھاتے وقت احساسِ کمتری کا شکار ہوتا تھا نہ اس کا کلیجہ خوف کے مارے حلق کو آتا تھا۔ 
کراچی کا وہی مقام تھا جو آج کے ہوائی سفر میں بنکاک کا ہے! برٹش ایئر ویز سے لے کر کے ایل ایم تک دنیا کی ہر بڑی ایئر لائن کے جہاز وہاں اترتے تھے۔ امن و امان کی یہ کیفیت تھی کہ رات گئے لوگ باگ گھروں سے اٹھ کر‘ بندو خان کی دکان پر پراٹھے اور کباب کھانے آتے تھے۔ دھماکہ ہوتا تھا نہ کوئی کسی کو چھرا گھونپتا تھا۔ مغربی ملکوں کے سفارت کار ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی مقیم ہونا پسند کرتے تھے۔
پھر افغان ’’جہاد‘‘ آ گیا اور سب کچھ بدل گیا۔ سفید سیاہ اور سیاہ سفید ہو گیا۔ پچاس لاکھ کے لگ بھگ غیر ملکی ‘ سرحدوں کا تقدس پامال کرتے ہوئے در انداز ہوئے۔ وقت کے حکمران نے انہیں خوش آمدید کہا۔ انہیں ان کے ہتھیاروں اور منشیات سمیت ملک کے اطراف و اکناف میں پھیلا دیا۔ قانون ‘ پاسپورٹ‘ ویزا‘ سب کچھ مٹی میں مل گیا۔ ٹرانسپورٹ سے لے کر جائداد تک‘ تجارت سے لے کر عام مزدوری تک ہر قومی سرگرمی میں یہ غیر ملکی دخیل ہو گئے۔ پھر ان کے شناختی کارڈ بننے لگے۔ پھر انہیں پاسپورٹ دیے جانے لگے اور حالت یہ تھی کہ صدیوں سے اس سرزمین پر رہنے والے اصل باشندے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے لیے دھکے کھاتے تھے اور پریشان ہوتے تھے۔
 پھر غیر ملکی جنگ جوئوں کو خاص علاقوں میں مقیم کر کے ان کے رشتے ناتے کرائے گئے۔ آج یہ ملک‘ ملک کم اور پنجروں کا مجموعہ زیادہ ہے۔ سکولوں میں پھول سے بچے بھون دیے گئے۔ مزار‘امام بارگاہیں بازار‘ گلشن گلزاراور مساجدآگ اور خون کی زد پر ہیں۔ ہمارے فوجی افسر اور جوان ہزاروں کی تعداد میں شہید ہو گئے ہماری پولیس والوں نے لہو دے دے کر دھرتی کو اندر تک سرخ کر دیا مگر مکروہ چہروں والے بندوقچی ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہے! شتروگھن کوفرزند بنانے والے مردِ مومن کا سایہ ہے کہ لمبا ہی ہوتا جا رہا ہے! قدرت کا انتقام عجیب و غریب ہوتا ہے۔ جس شخص نے مذہب کے نام پر ملک کودوزخ بنا دیا‘ اس کا فرزند مذہب کے نام پر نہیں‘ ایک دور افتادہ علاقے سے ذات برادری کے نام پر ووٹ لیتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو گا اس حقیقت کا کہ مذہب کا استعمال خالص ایک سو ایک فی صد ذاتی مفاد کے لیے تھا!! فاعتبروا یا اولیِ الابصار! عبرت پکڑو اے آنکھ والو!
آج ہم کس سے کہیں کہ ہمارا پہلے والا ملک ہمیں واپس دے دو! ہاں! وہی ملک جس میں ہم راتوں کو بلا کھٹکے گھروں سے باہر نکلتے تھے۔ ہمارے بچے محفوظ تھے۔ ہماری عورتیں اغوا ہو کر افغانستان نہیں پہنچتی تھیں۔ جلال آباد سے ہماری اعلیٰ عدلیہ کے معزز ججوں کو بھتے کی کالیں نہیں وصول ہوتی تھیں۔ لاہور پر اسّی ہزار غیر ملکی قابض نہیں تھے کراچی میں سہراب گوٹھیں نہیں تھیں۔ وفاقی دارالحکومت عملاً محصور نہیں تھا! دنیا میں ہم معزز تھے ۔تکفیر ہمارے ہاں اتنی ارزاں نہیں تھی کہ روپے میں پانچ کلو فروخت ہو!
اب یہی ہے کہ آمر کی روح کے آگے ہاتھ جوڑ کر فیض صاحب کے الفاظ میں زاری کی جائے      ؎
مجھ کو شکوہ ہے مرے بھائی کہ تم جاتے ہوئے
لے گئے ساتھ مری عمرِ گزشتہ کی کتاب
اس میں تو میری بہت قیمتی تصویریں تھیں
اس میں بچپن تھا مرا اور مرا عہدِ شباب
……………………
مجھ کو لوٹا دو مری عمرِ گزشتہ کی کتاب

Wednesday, February 22, 2017

کیا اب اونٹ کو خیمے سے نکالا جا سکے گا؟

تھائی لینڈ ملائشیا کے شمال میں واقع ہے۔ سمگلنگ دونوں ملکوں کے لیے مسئلہ بنا ہوا تھا۔ 1970ء کے عشرے میں دونوں ملکوں نے اپنی اپنی سرحد پر دیواریں تعمیر کر دیں‘ یہ دیواریں کنکریٹ اور لوہے سے بنائی گئیں ‘اوپر خار دار تار لگائی گئی۔ کہیں کہیں لوہے کی باڑ بھی تھی۔ دونوں دیواروں کے بیچ میں جو فاصلہ رہ گیا تھا‘ سمگلروں اور منشیات کے سوداگروں نے وہاں ڈیرے ڈال دیے۔2001ء میں دونوں ملک پھر سر جوڑ کر بیٹھے۔ اب کے یہ طے ہوا کہ صرف ایک دیوار ہو گی اور وہ تھائی لینڈ کی زمین پر تعمیر ہو گی ۔ اڑھائی میٹر بلند یہ دیوار‘ نیچے سے کنکریٹ کی ہے اور اوپر سے لوہے کی ۔ دیوار بنانے کی جو وجہ بتائی گئی وہ سمگلنگ کا انسداد تھا مگر 1990ء اور 2000ء کے عشروں کے دوران جنوبی تھائی لینڈ میں بغاوت کی ہلچل تھی‘ چنانچہ سیکورٹی بھی ایک بڑا سبب تھا!
دنیا کے بیسیوں ممالک ایسے ہیں جنہوں نے بارڈر پر دیواریں بنائی ہوئی ہیں یا لوہے اور تاروں کی ناقابل عبور باڑ لگا دی ہے۔ ارجنٹائن اور پیراگوئے کے درمیان دیوار زیر تعمیر ہے بوٹسوانا اور زمبابوے کے درمیان پانچ سو کلو میٹر لمبی دیوار بنائی گئی ہے چین اور شمالی کوریا کے درمیان ڈیڑھ ہزار کلو میٹر لمبی دیوار زیر تعمیر ہے۔ ہنگری اور سربیا کے درمیان ایک سو پچھتر میل لمبی دیوار ہے۔ یو کرین اور روس کے درمیان دو ہزار کلو میٹر لمبی دیوار بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ بہت سے دوسرے ملکوں کی سرحدوں پر بھی بیریئر بنائے جا رہے ہیں۔
سمگلنگ ‘ غیر قانونی آمدو رفت اور ناپسندیدہ عناصر کو روکنے کے لیے سرحدوں پر دیوار تعمیر کرنا کوئی آج کی جدت نہیں قدیم زمانے میں دیوارِ چین اسی وجہ سے بنائی گئی تھی۔ افغان بارڈر پاکستان کے لیے ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی حل ممکن نہیں ‘سوائے اس کے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ناقابل عبور دیوار تعمیر کر دی جائے خواہ اسے بنانے میں دس سال لگیں یا تیس سال لگ جائیں یہ بارڈر اول دن سے پاکستان کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ پولیو پیدائشی نہیں ہوتا مگر یہ بارڈر ایسا پیدائشی پولیوہے جس نے پاکستانی ریاست کو لولا لنگڑا کیا ہوا ہے ۔ہزاروں افراد ہر روز آتے اور جاتے ہیں اگر پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں بنانے والے حکمرانوں میں ذرہ بھر بھی وژن ہو تو وہ آج ہی سے اس دیوار کو اٹھانے کی تیاریاں شروع کر دیں ۔ افغانستان اس کی بھر پور مخالفت کرے گا مگر وہ اپنے مفادات کی بنا پر مخالفت کرے گا۔ پاکستان کے مفادات کے تقاضے مختلف ہیں۔ پاکستان یہ دیوار بزور بنائے یا مذاکرات کے ذریعے باہمی رضا مندی سے‘ بہر طور پہ اس کی سکیورٹی کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔
تاہم سو ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پالیسی سازوں میں وژن نام کی کوئی شے موجود ہے؟ آپ مضحکہ خیز صورت احوال ملاحظہ فرمائیے کہ دہشت گردی کی حالیہ خوفناک لہر کے بعد کے پی کے گورنر نے جو فاٹا کے بے تاج بادشاہ ہیں کہا ہے کہ پاکستان نے افغان بھائیوں کی تیس سال تک خدمت کی ہے انہیں پناہ دی ہے اور اب ان کی حدود سے ہم پر حملے ہو رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کار افغان مہاجرین ہیں! جب یہ طے ہے کہ افغان مہاجر سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں تو انہیں پورے ملک میں آزادانہ گھومنے پھرنے سے منع کیوں نہیں کر دیا جاتا؟ 
آج نہیں تو کل‘ کل نہیں تو پرسوں‘ پاکستان کو سرکاری سطح پر اعتراف کرنا پڑے گا کہ افغان مہاجرین کو ملک کے اندر کیمپوں میں محصور نہ کر کے تاریخی غلطی کی ہے ۔ اس مہلک غلطی کا سہرا جنرل ضیاء الحق کے سر ہے! افغان مہاجرین کی بات کی جائے تو کچھ حلقے افغان جہاد کا ذکر چھیڑ دیتے ہیں حالانکہ یہ دونوں مسئلے الگ الگ ہیں ایک کا دوسرے سے کوئی تعلق نہیں! افغان مجاہدین کو امریکی امداد پہنچانے کا یہ مطلب کہاں سے اخذ ہوتا ہے کہ مہاجرین کو مہاجرین کی طرح نہ رکھا جائے؟ اس ملک پر ظلم کیا گیا۔ عوام کے حقوق پر شب خون مارا گیا۔ بارڈر کی تمیز ختم کر دی گئی۔ ریاست اور ریاست کے ساتھ وابستہ مذہبی جماعتوں نے ملک کے وسائل غیر ملکیوں کے ہاتھ میں دے دیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج گورنر کے پی سے لے کر وزیر داخلہ تک اعتراف کر رہے ہیں کہ یہ مہاجرین دہشت گردوں کی مدد کر رہے ہیں۔ آج قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے شہروں سے بڑی تعداد میں افغان باشندے پکڑے گئے۔ سوال یہ ہے کہ افغان باشندے ان تمام شہروں میں کیسے پہنچ گئے؟ انہیں روکنے کی ذمہ داری کس کی تھی؟
کل ایک پاکستانی دکھ کے ساتھ بتا رہا تھا کہ اس کی غیر ملکی بیوی کو نادرا پاکستانی شہریت دینے کے لیے تیار نہیں حالانکہ نادرا نے فیس وصول کر لی ہے مگر لاکھوں افغان مہاجرین کو پاکستانی شناختی کارڈ اور پاکستانی پاسپورٹ پلیٹ میں رکھ کر دیے گئے یہاں تک کہ نادرا جیسے حساس محکمے میں افغان شہری ملازمت کرتے ہوئے بھی پائے گئے۔
روزنامہ دنیا کی اطلاع کے مطابق لاہورشہر میں 80 ہزار افغان دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ کر رہے ہیں۔ گاڑیوں کی چوری میں بھی یہی عناصر ملوث ہیں۔ راوی روڈ کے اسلحہ ڈیلر ان افغانوں ہی کی وساطت سے اسلحہ منگوا رہے ہیں۔ لاہور میں پختون مارکیٹ اوریگا سنٹر سمیت جہاں جہاں افغان بیٹھے ہیں وہیں سے منشیات پورے شہر میں پھیلائی جا رہی ہیں۔ فیروز والا کے قریب موجود افغان بستی منشیات فروشی سب سے بڑا مرکز ہے۔
کیا یہ وہ ’’پنجاب سپیڈ‘‘ ہے جس کے بارے میں فخر سے بتایا جاتا ہے کہ چین تک میں مشہور ہے؟ اس کالم نگار نے گزشتہ تین برس کے دوران درجنوں کالموں میں ان افغان بستیوں سے خبردار کیا ہے جو صوبائی دارالحکومت کے اندر اور اردگرد قائم ہیں مگر انگلی لہرانے والے حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی! تو پھر کون ذمہ دار ہے ان اسی ہزار غیر ملکیوں کی موجودگی کا اور ان کی Pocketsکا؟ بار بار متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر ان غیر ملکیوں کو نکالا نہ گیا اور اگر لسانی بنیادوں پر الگ آبادیوں کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو لاہور کا انجام کراچی سے مختلف نہ ہو گا مگر اس ضمن میں کوئی پالیسی وضع کی گئی نہ روک تھام کی گئی۔ آج حالت یہ ہے کہ پانی سر سے گزر گیا ہے‘ اٹک سے لے کر جنوبی پنجاب تک لاکھوں غیر ملکی دندناتے پھر رہے ہیں جب صوبے کے شہر اور قصبے غیر ملکیوں سے اٹے پڑے ہوں تو وحشت کی اس فضاء میں شاہراہوں‘ پلوں‘ میٹرو بسوں اور اورنج ٹرینوں کا کیا فائدہ؟ کیا حکمران قوم کے سامنے اعتراف کریں گے کہ عین ان کی ناک کے نیچے غیر ملکی اپنے پائوں جما چکے ہیں؟۔
یہ غیر ملکی مسلح ہیں اور ’’ریاست کے اندر ریاست‘‘ بنے ہوئے ہیں یہ اپنی بستیوں میں کسی مقامی تاجر کو برداشت نہیں کرتے۔ اٹک اور کئی دوسرے شہروں میں مقامی تاجر قتل کیے گئے ہیں۔ کچھ ماہ قبل دارالحکومت کے ایک نواحی قصبے میں بچوں کے جھگڑے کے نتیجے میں یہ غیر ملکی بندوقیں اٹھا کر پہنچ گئے اور مقامی باشندوں کو ہراساں کیا۔
اور تو اور وفاقی دارالحکومت تک انتہائی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر سے پندرہ منٹ کی مسافت پر بارہ کہو غیر ملکیوں سے بھراپڑا ہے یہی حال شہر کے دوسرے کنارے پر ترنول کا ہے۔ دارالحکومت کے وسط میں جی12کا سیکٹر عملاً دارالحکومت کا حصہ نہیں! اس کے تنگ‘ بے ترتیب گلی کوچوں میں کون کون لوگ رہ رہے ہیں؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں!
سہراب گوٹھ آسمان سے نہیں اترا تھا۔ سندھ کے حکام کی آنکھوں کے سامنے بنا تھا۔ کیا یہی کہانی پنجاب میں دہرائی جانے کو ہے؟

Saturday, February 18, 2017

لاہور ہائیکورٹ کا حکم اور سی ایس ایس کا امتحان


لاہور ہائیکورٹ نے 2018ء سے سی ایس ایس کے امتحانات اُردو میں لینے کا حکم دیا ہے۔
اس حکم پر تکنیکی اور ماہرانہ رائے تو ان اداروں کو دینا چاہیے تھی جو اُردو زبان کے نفاذ اور ترویج کے لیے تقریباً نصف صدی سے قائم ہیں‘ مگر ان کی طرف سے اس حکم کے قابلِ عمل ہونے یا نہ ہونے کے متعلق گہرا سکوت ہے۔ مقتدرہ قومی زبان اسی مقصد کے لیے وجود میں لایا گیا تھا لیکن تاحال یہ ادارہ تراجم اور وضعِ اصطلاحات سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ شاید اسی لیے حکومت کو اس کا نام بدلنا پڑا۔ اس میں کیا شک ہے کہ تراجم اور وضعِ اصطلاحات کا کام‘ نفاذ اُردو کے راستے میں اہم سنگ میل کا مرتبہ رکھتا ہے مگر اصل کام اس سے آگے کا ہے!
کیا فوراً سی سی ایس کے امتحانات اُردو میں لیے جا سکتے ہیں؟ کیا متعلقہ ادارے‘ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن‘ اس کے لیے تیار ہیں؟ ان سوالات کا حقیقت پسندانہ جواب ملنا ضروری ہے۔ پھر یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ اگر سی ایس ایس کے امتحانات اُردو میں شروع ہو گئے تو انگریزی کی کیا حیثیت ہو گی؟ کیا اسے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا یا بین الاقوامی اہمیت کے پیشِ نظر اسے اہم کردار سونپنا ہو گا؟
اِس وقت سی ایس ایس کے چھ پرچے لازمی ہیں‘ جن میں انگریزی زبان‘ انگریزی مضمون
 (essay)
‘ حالاتِ حاضرہ‘ پاکستان کے امور‘ بنیادی سائنس اور بنیادی اسلامیات شامل ہیں۔
چھ سو نمبر کے پرچے ان لازمی پرچوں کے علاوہ ہیں‘ جو اختیاری ہیں۔ ان کا دائرہ زبانوں سے لے کر سائنس تک اور سوشل سائنسز سے لے کر ریاضی‘ قانون اور تاریخ تک پھیلا ہوا ہے۔ تین سو نمبر کے زبانی اور نفسیاتی امتحانات اس کے علاوہ ہیں۔
کامن سینس کیا کہتا ہے؟ عقل کا اور منطق کا تقاضا یہ ہے کہ یہ کام آہستہ آہستہ‘ مرحلہ وار‘ درجہ بہ درجہ ہونا چاہیے۔ پوری ریاستی مشینری ایک ہی بار انگریزی سے اُردو قالب میں نہیں ڈھل سکتی۔ ایسا کیا گیا تو یہ گاڑی کو گھوڑے کے آگے جوتنے کے مترادف ہو گا اور نتیجہ منفی نکلے گا!
2008ء کا غالباً وسط تھا‘ جب مقتدر قومی زبان کے اُس وقت کے سربراہ پروفیسر فتح محمد ملک صاحب نے فون پر بتایا کہ وہ غربت کدے پر تشریف لانا چاہتے ہیں۔ 1965ء سے 1967ء تک کے عرصہ میں جب یہ کالم نگار گورنمنٹ کالج اصغر مال راولپنڈی میں بی اے کا طالب علم تھا تو محترم ملک صاحب اُسی کالج میں اُردو زبان و ادب کے پروفیسر تھے۔ اگرچہ اُن کی کلاس میں ہونے کا اعزاز نصیب نہ ہو سکا‘ تاہم انہیں ہمیشہ اساتذہ اور بزرگوں کی صف میں گردانا۔ بہرطور ملک صاحب تشریف لائے۔ اُن دنوں میں گریڈ 22 میں سول سروس سے ریٹائرڈ ہو کر گھر ہی میں ہوتا تھا۔ والدِ گرامی بسترِ علالت پر تھے۔ اپنی میز کرسی میں نے ان کے کمرے ہی میں رکھ لی تھی‘ اُن دنوں ڈھاکہ یونیورسٹی میں اپنے قیام کے حوالے سے ’’دی بنگلہ دیش ٹوڈے‘‘ میں مضامین لکھا کرتا تھا۔
ملک صاحب نے فرمایا کہ وہ ریکٹر کی حیثیت سے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی تشریف لے جا رہے ہیں۔ اپنے جانشین کے طور پر‘ یعنی مقتدرہ قومی زبان کی سربراہی کے لیے وہ ایک پینل وزیراعظم کی خدمت میں بھیج رہے ہیں‘ اس پینل میں ایک نام میرا بھی ہو گا۔ ملک صاحب نے ساتھ تفصیل سے بتایا کہ بنیادی کام ہو چکا ہے۔ اب نفاذ کا مرحلہ ہے جس کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن‘ وزیراعظم آفس اور فیڈرل پبلک سروس کمشن میں بیٹھے‘ منجھے ہوئے بیورو کریٹ صاحبان سے معرکہ آرائی کی ضرورت ہے۔ یہ کام وہی شخص کر سکتا ہے جو خود بیورو کریسی سے تعلق رکھتا ہو۔ اس کے لیے ملک صاحب پینل میں میرا نام ڈال رہے تھے۔ یہ ملک صاحب کی قدر دانی تھی۔ چنانچہ پینل میں نام ڈال کر انہوں نے اُوپر بھجوا دیا۔
پھر کیا ہوا؟ یہ ایک الگ کہانی ہے جس کی تفصیل غالباً خودنوشت میں آ رہی ہے۔ مختصراً یہ کہ ایک دوست جمال ناصر عثمانی کی دخترِ نیک اختر کی شادی کی تقریب تھی۔ وہیں ایک برخوردار‘ جو اُن دنوں وزیراعظم سیکرٹریٹ میں اعلیٰ عہدے پر تعینات تھے‘ ملے۔ ان سے پینل کے ضمن میں پراگرس کا پوچھا تو مسکرا کر بتایا کہ ’’اُوپر سے احکام آئے ہیں کہ آپ کے ایک بزرگ دوست کو‘ جو پہلے بھی مقتدرہ میں رہے ہیں‘ پھر سے چیئرمین لگایا جائے‘‘۔
جو روڈ میپ اس کالم نگار نے ذہن میں ترتیب دیا تھا‘ وہ یہ تھا کہ اُردو کے نفاذ کے لیے تین مراحل میں کام کرنا ہو گا۔ پہلے مرحلے میں سی ایس ایس کا امتحان انگریزی ہی میں جاری رہے گا مگر دو سو نمبر کے اُردو کے دو پرچے لازمی قرار دیئے جائیں گے۔
دوسرے مرحلے پر دونوں آپشن دیئے جائیں گے کہ چاہیں تو اُردو میں جوابات دیجئے‘ چاہیں تو انگریزی میں۔ مگر انگریزی کی اہلیت جانچنے کے لیے لازمی انگریزی کے پرچے بدستور رہیں گے۔
تیسرے مرحلے میں آخری اور فائنل اقدام کیا جائے گا۔ انگریزی زبان کے پرچے بدستور لازمی ہوں گے مگر باقی تمام امتحان صرف اور صرف اُردو میں ہو گا۔ یہ بھی طے کر لیا تھا کہ اگر ایک برس کے دوران پہلا مرحلہ سر نہ ہو سکا تو استعفیٰ دے دیا جائے گا۔
   اِن درجہ بہ درجہ مراحل کے علاوہ کوئی اور راستہ نفاذِ اُردو کا قابلِ عمل نہیں! یہ کام صرف اور صرف مرحلہ وار ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن‘ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزیراعظم آفس کی بیورو کریسی کو قائل بھی کرنا پڑے گا اور موم بھی کرنا ہو گا! یہ کام کوئی بیورو کریٹ ہی کر سکتا ہے۔ الحمدللہ اس وقت بیورو کریسی میں ایسے ایسے نوجوان افسران موجود ہیں جو اُردو سے گہرا قریبی اور قلبی تعلق رکھتے ہیں اور حکومتی حساسیت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ ان میں یاسر پیرزادہ ہیں جو اُردو کے مانے ہوئے ادیب ہیں۔ ڈاکٹر وحید احمد اور شکیل جاذب جیسے منجھے ہوئے بیورو کریٹ حکومت کے پاس موجود ہیں جنہوں نے کئی سرکاری اداروں میں کام کر کے گھاٹ گھاٹ کا تجربہ حاصل کیا ہوا ہے‘ اور اُردو شعر و ادب میں بلند مقام رکھتے ہیں۔ کوئٹہ میں محفوظ علی خان بیٹھے ہیں جو نیپا
(NIPA)
 کوئٹہ کے سربراہ رہے اور کئی سال صوبائی سیکرٹری خزانہ کے طور پر کام کیا۔ محفوظ کو پشتو‘ فارسی‘ بلوچی‘ براہوی سمیت تمام پاکستانی زبانوں پر عبور حاصل ہے اور دفتری امور سے نمٹنا جانتے ہیں۔
رہے ہمارے بزرگ شاعر اور ادیب‘ تو ہم ان کا بہت احترام کرتے ہیں۔ انہیں کوئی بھی علامتی منصب دے کر کہیں بھی فائز کیا جا سکتا ہے۔ مگر جہاں تک حکومتی سطح پر نفاذِ اُردو کا تعلق ہے تو اس کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ افسر شاہی کے کسی رکن ہی کو یہ کام سونپا جائے۔ ایسا رکن جو اُردو سے علمی اور فنی لحاظ سے خوب آشنا ہو اور اُردو سے محبت بھی رکھتا ہو۔ عربی کا مقولہ ہے کہ ’’لِکُل فَنّ رِجال‘‘ ہر کام کے لیے اُس کام کے ماہرین کی ضرورت ہے! اداروں کا وجود اس لیے نہیں کہ ان میں شخصیات کو سمویا جائے اور محض
 (ACCOMODATE)
 کیا جائے۔ شخصیات ایسی تلاش کرنا ہوں گی جو اِن اداروں کا اصل مقصد پورا کریں اور عملی اعتبار سے کچھ حاصل کریں!
لاہور ہائی کورٹ کا حکم اس راستے میں اہم سنگِ میل ثابت ہو گا۔ بشرطیکہ مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔
اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ کام مرحلہ وار ہی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے۔

 

powered by worldwanders.com