Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Sunday, April 16, 2017

فراز! راحت جاں بھی وہی ہے! کیا کیجے



یورپی ملکوں کے سفیروں کو شاہ عباس صفوی کے دربار میں ایک بڑا مسئلہ یہ درپیش 
تھا کہ وہ گھنٹوں، قالین پر، آلتی پالتی مار کر، نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ دربار میں سلطنت عثمانیہ کا سفیر بھی موجود تھا۔ اس نے ایرانی بادشاہ کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ قسطنطنیہ میں یورپی تاجروں کے گھروں میں جاتا رہتا ہے اور وہاں اس نے یہ نوٹ کیا ہے کہ انگریز سٹول پر بیٹھتے ہیں۔ بادشاہ نے یورپی سفیروں کو دربار میں سٹول پر بیٹھنے کی اجازت تو دے دی مگر ترک سفیر کی مداخلت اسے پسند نہ آئی۔ یوں بھی وہ ترک سفیر کے سامنے سلطنت عثمانیہ کی تضحیک کا کوئی موقع گنواتا نہ تھا۔ یورپی سفیروں کو جام صحت تجویز کرتے ہوئے اس نے کہا میں ایک نصرانی کے جوتے کی بھی بہترین ترک کی نسبت زیادہ عزت کرتا ہوں۔
شاہ عباس اول کا عہد حکومت ء سے ء تک رہا۔ یہ زمانہ ہندوستان میں اکبر اور جہاں گیر کا تھا۔ شاہ عباس تاریخ میں مضبوط عہد حکومت اور اصلاحات کی وجہ سے عباس اعظم (عباس بزرگ) کے طور پر جانا جاتا ہے مگر تین کام اس نے اور بھی کئے۔ اول۔ مسلک کو سرکاری طور پر اپنایا اور سنیوں کی کثیر تعداد کو اپنے مسلک پر، جیسے بھی، جس طرح بھی، لا کر رہا۔ دوم۔ مغرب میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف اور شمال میں ازبکوں کے خلاف مسلسل برسر پیکار رہا۔ قتدھار کی وجہ سے مغلوں سے بھی ان بن ہی رہی۔ یہ تینوں طاقتیں (ترک، ازبک اور مغل) سنی تھے! سوم۔ اس نے سالہا سال تک یورپی طاقتوں سے صرف اس مسئلے پر ایلچیوں کا تبادلہ کیا کہ وہ سلطنت عثمانیہ کے خلاف اس کی مدد کریں۔ وہ اپنے سارے عہد اقتدار میں یہی خواب دیکھتا رہا کہ ہسپانیہ اور دوسری یورپی سلطنتیں مغرب سے ترکوں پر حملہ کریں تو ایران مشرق سے حملہ کر کے ترکوں کو نیست و نابود کردے۔
معروف پرتگالی پادری ڈی گُوو، یا  کئی بار پوپ کی طرف سے سفارت لے کر شاہ عباس کے پاس گیا۔ ہندوستان کے جنوب مغربی ساحل کے علاقے گوا پر اس وقت تک پرتگالی قابض ہو چکے تھے۔ گوا کے وائسرائے نے اس نامہ و پیام میں اور ترکوں کے خلاف ایران اور یورپ کے اتحاد میں اہم کردار ادا کیا۔ پرتگال اور ہسپانیہ کی طرف سے ایلچی گوا ہی سے جاتے تھے۔ شاہ عباس نے بے صبری میں یکے بعد دیگرے کئی ایلچی ہسپانیہ بھیج ڈالے۔ ڈی گوویا نے وجہ پوچھی تو شاہ عباس کا جواب تھا کہ وہ عیسائی بادشاہوں پر دبائو ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ ترکوں پر جلد از جلد حملہ کریں۔ اس نے یورپی تاجروں اور سفیروں کو جید شیعہ علماء کی موجودگی میں شراب بھی پیش کروائی۔ علماء نے مخالفت کی مگر شاہ کے نزدیک یورپی عمائدین کو خوش کرنا اس لئے ضروری تھا کہ وہ ترکوں کے خلاف، شاہ کے حلیف ہیں۔ حالانکہ ان دنوں رمضان کا مہینہ بھی تھا۔ پھر اسی نے ڈی گوویا کو ہدایت کی کہ شاہ کی ان خدمات کا پوپ سے ضرور تذکرہ کیا جائے۔
شاہ عباس کا خصوصی سفیر زینل بیگ چھ سال تک یورپی بادشاہوں کے درباروں میں پھرتا رہا۔ آخر تنگ آ کر اس نے اپنے بادشاہ کو صاف صاف لکھ بھیجا کہ عیسائی طاقتیں ایرانی بادشاہ کو جھوٹے دلاسے دے رہی ہیں اور غیر سنجیدہ وعدے کر رہی ہیں۔ زینل بیگ نے یہ بھی بتایا کہ یورپی ملک چاہتے ہیں کہ ایرانی اور ترکی آپس میں لڑ کر تباہ ہو جائیں تاکہ مسلمانوں کا قصہ ہی تمام ہو جائے۔ مگر زینل بیگ کی اس صاف گوئی کا کوئی اثر شاہ عباس پر نہ پڑا۔ اس نے پوپ کو خط لکھا کہ وہ حلب پر حملہ کرے جو ترکوں کے پاس تھا۔ پوپ کا جوابی خط پڑھا گیا تو شاہ عباس نے سارے سفارتی آداب بالائے طاق رکھ کر سفیروں کے سامنے غیض و غضب کا اظہار کیا کہ پوپ صرف الفاظ کے تحفے بھیج رہا ہے اور ترکوں پر اس نے ابھی تک حملہ نہیں کیا۔ پھر اس نے پوپ پر ایک اور دانہ ڈالا تم ترکوں پر حملہ کرو تو میں بیت المقدس ان سے چھین کر تمہارے حوالے کردوں گا۔میں اس نے روس، پولینڈ اور اٹلی کے درباروں میں سفارتیں بھیجیں کہ وہ ترکوں پر حملہ کریں مگر اس کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا!
یہ ہے وہ پس منظر جس میں عزیر بلوچ کے معاملے پر غور کرنا چاہیے۔ حاجی ناصر نے عزیر بلوچ کی ایرانی حکام سے ملاقات کرائی تو انہوں نے عزیر کو ایرانی شہریت کی پیش کش کی بشرطیکہ عزیر ایرانی خفیہ ایجنسیوں کو کراچی کی سکیورٹی اور عسکری عہدیداروں کے حوالے سے اہم معلومات اور نقشے مہیا کرے۔ ہم پاکستانی یہ کہتے ہوئے تھکتے نہیں کہ ایران ہمارا دوست ملک ہے۔ مگر کیا دوست ملک اس قسم کے خفیہ آپریشن، ایک دوست ملک کے خلاف کرتے ہیں؟؟
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
عدو کے ہولیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
کیا ہم تصور کرسکتے ہیں کہ ترکی، سعودی عرب یا چین ہمارے ساتھ یہ حسن سلوک کریں گے؟
کلبھوشن یادیو پکڑا گیا تو معلوم ہوا اس کا مستقر چاہ 
بہار تھا۔ ہم نے خوش گمانی کو غنیمت جانا کہ یہ سب کچھ ایرانی حکومت کے علم میں نہ 
ہوگا۔ مگر خوش گمانیاں کب تک؟ اگر ایک ملک ہماری سکیورٹی کی اطلاعات، خفیہ اور انتہائی ناجائز طریقے سے حاصل کرسکتا ہے تو وہ کلبھوشن جیسے جاسوسوں کی سرپرستی کیوں نہیں کرسکتا! مگر ہمیں چاہیے کہ ہم خوش گمانی کو اب بھی رد نہ کریں۔ خُدا کرے حقیقت یہی ہو کہ کلبھوشن کے معاملے کا ایرانی حکام کو علم نہ تھا!
جنرل راحیل شریف کی سعودی عرب میں تعیناتی پر اسی حوالے سے غور کرنا چاہیے۔ عزیز بلوچ کے انکشاف سے دو ہفتے پہلے ٹیلی ویژن پر جب یہ بحث چھڑی تو اس کالم نگار نے پوچھا کہ اگر ہم جنرل راحیل شریف کو اس تعیناتی پر نہ بھیجیں تو کیا ایران کا جھکائو بھارت کی طرف کم ہو جائے گا؟ مگر اس کے جواب میں وہی اسلامی اخوت والی کہانی سنائی گئی اور اس بات کی نفی کی گئی کہ ایران کا جھکائو بھارت کی طرف ہے۔ لاعلمی نعمت ہے اور کلفت کا باعث بھی ہے۔ کسی کوشک ہو تو دہلی میں ایرانی سفارت خانے کی مطبوعات دیکھے اور اندازہ لگائے کہ ایران اور بھارت کی قربت کس درجے کی ہے۔ ایرانی مطبوعات مغلوں کے کلچر، آرٹ، زبان اور تعمیرات کی جانشینی کا سہرا بھارت کے سرباندھتی ہیں، یہ اعزاز پاکستان کو نہیں دیتیں۔ بھارت، ہندوستان کے مسلم عہد کا کیسا جانشین ہے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے کہ دو سال پیشتر، بھارتی قوم جمہوریہ پر کرناٹک کے صوبے نے، اپنے فلوٹ پر سلطان ٹیپو شہید کا مجسمہ لگایا۔ اس پر وہ احتجاج ہوا کہ الامان والحفیظ! چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر لاکھوں بھارتیوں نے احتجاج کیا حالانکہ کرناٹک کی حکومت ہندو ہے۔ چونکہ میسور اب کرناٹک کا حصہ ہے اس لئے انہوں نے ایک تاریخی حقیقت کا اعتراف کیا مگر ان کی اکثریت اسے گوارا نہ کرسکی۔
مسلمان ملکوں کی متحدہ سپاہ کا رخ اگر ایران یا کسی اور مسلمان ملک کی طرف ہو گا تو پاکستان ہرگز ہرگز اپنے کسی جرنیل کو اس سپاہ میں تعینات نہیں کرے گا۔ جنرل راحیل شریف ایک متوازن طاقت کا کردار ادا کریں گے۔ عربوں اور ایرانیوں کا باہمی فاصلہ کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ مگر سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایران کی خوشنودی کی خاطر پاکستان اپنے جرنیل کو اس سپاہ میں نہیں بھیجتا تو کیا ایران کشمیر کے معاملے میں ہمارا کھل کر ساتھ دے گا؟ اور کیا وہ بھارت کی طرف اپنا واضح جھکائو کم کرے گا؟
ایران سے ہمارا صدیوں کا رشتہ ہے۔ ہم ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے ؎
بامن آویزشِ اُو الفت موج است و کنار
دمبدم بامن و ہرلحظہ گریزان از من
ہمارا اور ایران کا تعلق وہی ہے جو موج کا ساحل کے ساتھ ہوتا ہے۔ ابھی گلے مل رہے ہیں اور ابھی دور دور ہیں! شاہ طہماسپ نے (باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں)
ہمایوں کی میزبانی کی اور مدد بھی۔ مغل بادشاہوں کے دربار میں ملک الشعراء ہمیشہ ایرانی شاعر ہوتے تھے۔ نظیری نیشا پوری، ابو طالب کلیم، طالب آملی، صائب، یہ تو چند نام ہیں۔ پورے مغل عہد اور پھر سلطنت آصفیہ کے زمانے میں ایران سے شاعروں، ادیبوں، علماء، تاجروں اور جرنیلوں کا تانتا بندھا رہا۔ حیدر آباد دکن میں ایرانی گلی کے نام سے پورا محلہ ایرانیوں کا تھا! ہم ایران سے133 فارسی بولنے والے ایران سے133 دور کیسے ہو سکتے ہیں؟ افسوس! ہم آج خسرو، بیدل، نظیری، فیضی، ابوالفضل،غالب اور اقبال کے فارسی کلام سے ناآشنا ہیں۔ ان سب کو ایرانی سر آنکھوں پر رکھتا ہے۔ ہمیں ایران کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اپنی جس ادبی اور ثقافتی میراث سے ہم منہ موڑ چکے ہیں، ایران نے اسے سنبھالا ہوا ہے اور اس کی حفاظت کر رہا ہے ؎
فراز راحت جاں بھی وہی ہے کیا کیجئے
وہ جس کے ہاتھ سے سینہ فگار اپنا ہے
مگر ملکی سالمیت کے تقاضے اور ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ایران رفتہ کو گزشتہ جان کر ہمارے ساتھ تجدید عہد کرے گا۔ یوں بھی ایران کو معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت کبھی بھی اس کا خیر اندیش نہیں ہو سکتا!
اور ہاں! یہ غلط فہمی بھی کسی کو نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستانی مسلک کی بنیاد پر اپنے ملک کے بجائے کسی اور کی طرف داری کریں گے۔ حاشا و کلاّ۔ پاکستانی، جس مسلک کا بھی ہو، اس کی اولین وفاداری اپنے ملک کے ساتھ ہے! کسی پڑوسی ملک کے ساتھ ہے نہ مشرق وسطیٰ کے کسی ملک کے ساتھ! پاکستانی بڑی سے بڑی غلطی کر سکتا ہے مگر اپنی مٹی سے بے وفائی نہیں کر سکتا!

Monday, March 06, 2017

یہ لوگ تھے اس سے پہلے خوشحال

           چوری نہ جانے کس نے کی تھی لیکن شک ملازمہ پر تھا۔ بیگم صاحبہ نے ماضی میں بھی کئی بار ملازمہ پر چوری کا الزام لگایا تھا۔ ایک بار انگوٹھی گم ہوئی، ملازمہ سے خوب پوچھ گچھ ہوئی اور یہ طے کر لیا گیا کہ وہی چور ہے، یہ اور بات کہ تین ماہ بعد انگوٹھی الماری میں رکھے کپڑوں سے ملی۔
اب کے معاملہ زیادہ گمبھیر تھا۔ سونے کا پورا سیٹ غائب تھا۔ بیگم صاحبہ کا ایک بیٹا ہیروئن کے نرغے میں تھا۔ اس پر کسی نے شک نہیں کیا! تھانے والے آئے‘ گھر کا رائونڈ لیا اور ملازمہ کو لے گئے۔ اس کے ایک کمرے والے گھر کی کئی بار تلاشی لی گئی۔ وہاں ہوتا تو ملتا۔ پولیس نے مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیا۔ رات کو سونے دیا جاتا نہ دن کو روشنی نصیب ہوتی۔ کبھی کبھی بس پانی کے دو گھونٹ اور مٹی والے آٹے کی روٹی کے چند نوالے۔
اُس دن صبح صبح اُسے تھانے کی ڈیوڑھی میں بٹھا دیا گیا۔ تھانے والوں کا خیال تھا کہ کھلی ہوا میں شاید اس کی چیخ و پکار کم ہو جائے۔ اُسی وقت مولوی صاحب تھانیدار کو ملنے آ گئے۔ ہاتھ میں تسبیح‘ سر پر دستار‘ شلوار ٹخنوں سے اونچی۔ اس قدر کہ پنڈلیاں آدھی کھلی ہوئیں۔ ملازمہ ان کے راستے میں بیٹھی تھی۔ چہرہ زخموں سے بدحال‘ صورت مسخ‘ آنکھوں کے اردگرد نیل‘ ناک سے اُس وقت بھی خون بہہ رہا تھا۔ شاید ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔ سلگتے سگریٹ سے داغی ہوئی ہتھیلیوں کی پشت سے کھال اُدھڑی اُدھڑی سی لگ رہی تھی۔ مولوی صاحب نے دیکھا‘ دیکھتے ہی ان کی پیشانی شکنوں سے اٹ گئی۔ لاحول ولا قوۃ۔ اس کے پاس آئے ’’بدبخت! سر تمہارا ننگا ہے۔ تمہیں آخرت کا کچھ خیال نہیں‘ معلوم ہے ننگے سر بیٹھنا کتنا سخت گناہ ہے؟ شیطان حاوی ہو جاتا ہے‘ فرشتے دور ہو جاتے ہیں‘‘۔ ملازمہ کی چیتھڑا نما اوڑھنی خون میں لت پت ہو چکی تھی۔
اس واقعہ کا مرکزی خیال نجم حسین سید کے ایک پنجابی ڈرامے کا موضوع ہے۔ مولوی صاحب کو اس سے کیا غرض کہ مظلوم پر کیا بیت رہی ہے۔ مذہب کے حوالے سے ان کا سارا فہم اوڑھنی سے شروع ہوتا تھا اور ننگے سر پر ختم ہو جاتا تھا۔
ایسا ہی ایک واقعہ کسی زمانے میں حرم کعبہ میں پیش آیا۔ ایک کوفی حالت احرام میں تھا۔ اُس سے ایک مچھر مر گیا۔ مفتی صاحب کے پاس حاضر ہوا اور مسئلہ پوچھا۔ مفتی صاحب نے فرمایا‘ خدا تمہیں ہدایت دے۔ تم کوفیوں نے سبط رسولؐ کو شہید کر دیا۔ اُس وقت شریعت کا خیال نہ آیا، مچھر مرنے پر تمہارا اسلام بیدار ہو گیا ہے!
شاید اسی سے وہ محاورہ بنا۔۔۔۔ مچھروں کو چھاننا اور اونٹوں کو نگلنا! ایک بادشاہ ان دنوں انڈونیشیا کے دورے پر ہیں۔ انڈونیشیا مسلمان ملک ہے مگر اس کے جزیرہ بالی میں ہندوئوں کی اکثریت ہے۔ بالی ایک خوبصورت‘ سحر آگیں‘ دلکش جزیرہ ہے۔ دنیا بھر کے سیاح یہاں آتے ہیں اور سیر کرتے ہیں۔ میڈ مانگ کُو پاستیکا جزیرے کا منتخب گورنر ہے۔ بادشاہ سلامت نے ایک ہفتہ بالی میں گزارنا ہے۔ ان کا سامان پانچ سو ٹن پر مشتمل ہے۔ ساتھ وزیروں اور شاہی خاندان کے افراد پر مشتمل پندرہ سوکا وفد ہے۔ بالی کے خوبصورت ترین اور گراں ترین حصے میں قیام کے لیے پانچ لگژری ہوٹل بُک کیے گئے ہیں۔ جہاز سے اترنے اور چڑھنے کے لیے سیڑھی ساتھ لائی گئی ہے جو سنہری رنگ کی ہے۔ دو ہوائی جہاز صرف سامان ڈھونے کے لیے مختص ہیں۔ کراکری‘ قالین اور صوفے ساتھ ہیں۔ دو بلٹ پروف مرسڈیز ہمراہ ہیں۔ اسّی انچ سکرین کا ٹیلی ویژن سیٹ ساتھ لائے ہیں۔ دوران قیام تین سو ساٹھ گاڑیاں استعمال میں رہیں گی۔ سارے قافلے اور سامان کو جکارتہ پہنچانے کے لیے ستائیس پروازیں اڑیں گی اور نو ہوائی جہاز بالی پہنچانے کے لیے استعمال ہوں گے۔
اس طرز زندگی کے بارے میں اسلام کا رویہ کیا ہے؟ اسلامی احکام کیا ہیں؟ یہ ساری دولت اگر ملکی وسائل سے آئی ہے تو کیا اسلام ایک فرد کو یا اس کے خاندان کو ان کے عیاشانہ استعمال کی اجازت دیتا ہے؟ کیا زمین سے نکلنے والی معدنیات (سونا، چاندی، تیل) ایک فرد‘ ایک خاندان کی ملکیت ہوں گی یا ریاست کے ذریعے تمام باشندوں کا ان پر حق ہو گا؟ کیا بادشاہ سلامت کی مُتعیِّشانہ طرز زندگی تبذیر کے احکام میں آئے گی؟ اسلامی فقہ میں ایک قانون‘ قانون تحدید (Limitation)
 بھی ہے جس کی رُو سے ریاست ملکیت کی حد مقرر کر سکتی ہے۔ پھر دولت کا بے تحاشا استعمال عام افراد کی نفسیات پر حوصلہ شکن اثرات ڈالے تو ریاست اس پر قبضہ بھی کر سکتی ہے۔ فقہ میں ایک قانون حجر بھی ہے۔ اس کا مطلب ہے انسانوں کو اُن کا اپنا مال خرچ کرنے سے اُس وقت روک دینا جب سوسائٹی کو نقصان ہو رہا ہو۔ فقہ کی معروف کتاب ’ہدایہ‘ کے شارح سید جلال الدین خوارزمی نے ’’اُڑنے والے کبوتروں کو بھاری قیمت دے کر خریدنے‘‘ کو بھی سفہ میں شامل کیا ہے۔ سفہ کا مطلب ’’مالی فساد‘‘ ہے (آج کل جیسے مشرق وسطیٰ میں باز اور عقاب کی خریداری ہے۔) مالکی فقہ کی رُو سے اگر مالدار تبذیر پر اتر آئے تو اس پر حجر کیا جا سکتا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت‘ یعنی اسے اپنا مال خرچ کرنے سے منع کیا جا سکتا ہے۔ اپنے مال کو غلط استعمال کرنے والا سفیہہ اور اور مُفسد قرار دیا جائے گا۔ اس کے خرید و فروخت اور انتقال ملکیت کے حق پر پابندی عائد کی جائے گی۔ چاروں فقہی مکاتب اس پر متفق ہیں۔ امیر المومنین عمر فاروقؓ نے کوفہ بستے وقت حکم دیا کہ کوئی ایک فرد تین سے زیادہ مکان تعمیر نہ کرے۔
حد سے زیادہ تبذیر کی فکر تو کسی کو نہ ہوئی مگر یہ فرمائش کی گئی کہ بالی کے گلی کوچوں، شاہراہوں اور چورستوں پر جو مجسمے اور بُت نصب ہیں‘ انہیں ڈھانپ دیا جائے! جب اونٹ نگلے جا رہے ہوں تو مچھروں کو چھاننا ضروری ہو جاتا ہے! آخر تقویٰ بھی کوئی شے ہے یا نہیں! مگر۔۔۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! بالی کے گورنر یاستیکا نے یہ ’’فرمائش‘‘ ماننے سے انکار کر دیا۔ 
’’بالی اس لیے مشہور ہے کہ یہاں آرام میسر ہے‘ محفوظ ہے اور یہاں برداشت پائی جاتی ہے! چنانچہ ہم مجسموں کو نہیں ڈھانکیں گے‘‘ گورنر نے بیان جاری کیا۔
بعض لوگ  یہ نتیجہ ہرگز نہ نکالیں کہ ہم مجسموں کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ مجسموں اور بتوں کے حوالے سے اسلام کے اپنے احکام ہیں جن پر ضرور عمل پیرا ہونا چاہیے۔ تاہم یہاں جس پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ یہ ہے کہ ’’میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھُو‘‘ کی پالیسی کو اسلام بلکہ کوئی مذہب بھی برداشت نہیں کرتا۔ اسلام نے تو واضح طور پر کہہ دیا کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو۔ مجسمے ناجائز ہیں مگر تبذیر اور حد سے زیادہ اسراف بھی تو ناجائز ہیں۔ ایسا معیار زندگی جسے دیکھ کر لوگوں کو دُکھ ہو‘ وہ بھی ریاست کے وسائل سے! عوام کے مال سے! ایسے معیار زندگی کا کیا جواز ہے؟
’’اور بائیں بازو والے! بائیں بازو والوں کی بدنصیبی کا کیا پوچھنا! تیز بھاپ میں‘ اور جلتے پانی میں‘ اور دھوئیں کے سائے میں! جو ٹھنڈا ہو گا نہ آرام دہ! یہ لوگ تھے اس سے پہلے خوشحال!!‘‘

Saturday, March 04, 2017

لکڑی کا پاؤں سخت بے وقعت ہوتا ہے


تو پھر کرکٹ کا میچ بھی نہ ہو کہ دہشت گردی کا خطرہ ہے!

دہشت گردی کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا عوام ذمہ دار ہیں؟ اسّی ہزار غیر ملکی۔۔۔۔ مسلّح غیر ملکی۔۔۔۔ صوبائی دارالحکومت میں بس گئے۔ حکومت دیکھتی رہی۔ تو پھر کیا عوام اس لیے کرکٹ کو طلاق دے دیں کہ حکومت اپنے فرائض سرانجام نہیں دے رہی؟
فیروز والہ منشیات کا مرکز بن چکا ہے۔ حکومت بے خبر ہے۔ تو پھر سزا عوام کاٹیں؟
دہشت گردی اس وقت تک رہے گی جب تک انحصار فوجی ایکشن پر ہے اور سول ادارے نااہلی اور کرپشن کا گڑھ ہیں۔ یہ دہشت گردی پانچ سال بھی رہ سکتی ہے اور یہی لچھن رہے تو خدانخواستہ بیس برس بھی رہ سکتی ہے تو پھر کیا بیس برس کرکٹ کے میچ نہیں ہوں گے؟
اس سے بڑھ کر حکومتوں کی نااہلی کیا ہو گی کہ ہزاروں نہیں لاکھوں غیر ملکی ملک کے اطراف و اکناف میں جائدادیں خرید کر اور کاروبار پھیلا کر بے خوف و خطر بیٹھے ہیں اور حکومت کو ہوش ہی نہیں! لاکھوں تعلیمی اداروں کی اقامت گاہوں میں حکومت کا نہ ہی ریاست کا عمل دخل ہے کہ راتوں کو وہاں کون قیام کرتا ہے۔ جس حکومت کے بس میں اتنا نہ ہو کہ وہ یونیورسٹیوں کے کیمپوں اور ہوسٹلوں کو سیاسی پارٹیوں کا مرکز نہ بننے دے‘ وہ حکومت دہشت گردی سے کیا لڑے گی؟ تو پھر کیا اس لامتناہی نااہلیت کا جرم عوام بھگتتے رہیں گے؟
رہی یہ دلیل کہ کرفیو لگا کر تو شام اور عراق میں بھی میچ کھیلا جا سکتا ہے تو یہ ایک بودی دلیل ہے    ؎
پائے استدلالیاں چوبیں بود
پائے چوبیں سخت بے تمکیں بود
دلیلیں لانے والوں کا پائوں لکڑی کا ہوتا ہے اور لکڑی کا پائوں سخت کمزور اور بے وقعت ہوتا ہے۔
میچ کی مخالفت کر کے آپ ایک بار پھر ان کی ہم نوائی کر رہے ہیں جنہوں نے مذاکرات میں آپ کو اپنا نمائندہ نامزد کیا تھا‘ جن کے خلاف سوات میں آرمی ایکشن ہوا‘ تو آپ نے مخالفت کی اور جنہیں آپ اپنے صوبے میں دفاتر مہیا کرنے چاہتے تھے۔ کوئی برا مانے یا پائوں زور سے زمین پر مارے، سچ یہ ہے کہ دہشت گردوں اور دہشت گردی کے بارے میں عمران خان کے تصورات 
(Concepts)
 ابہام کا شکار ہیں۔ وہ سخت لاعلمی میں گھرے ہیں۔ تیس کروڑ روپے ایسے مدرسہ کو دیے جس کے سربراہ بابائے طالبان کہلاتے ہیں  اور لکڑی کی دلیل یہ دی گئی کہ مدارس کو مین سٹریم میں لائیں گے۔ آج تک خان صاحب اس سوال کا جواب نہیں دے سکے کہ مین سٹریم سے ان کی کیا مراد ہے؟ اس کی تعریف ہی کر دیتے! اور پھر ایک خاص مدرسہ کا انتخاب! ایک خاص مسلک کے مدرسہ کا انتخاب! کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں آپ؟ عوام تو بننے سے رہے!
یہی تو دہشت گرد چاہتے ہیں کہ عوام نفسیاتی طور پر ٹوٹ جائیں۔ شکست و ریخت کا شکار ہو جائیں۔ یاس کی چادر پورے ملک پر تن جائے اور قائد اعظم کو آج بھی جناح صاحب کہنے والوں کی باچھیں کِھل جائیں! ’’مین سٹریم‘‘ کی تسبیح کرنے والے عمران خان صاحب صرف اتنا ہی کر دکھائیں کہ جس تعلیمی ادارے کو تیس کروڑ کی خطیر رقم عوام کے خون پسینے کی کمائی سے مہیا کی ہے‘ وہاں کے نصاب میں ایک باب قائد اعظم کے حالات پر شامل کرا دیں! کبھی نہیں کرا سکیں گے!
اس سے پہلے بسنت پر پابندی لگا دی گئی۔ اس لیے کہ لوگوں کے گلے کٹتے ہیں۔ تو پھر گاڑیوں پر پابندی لگا دیجیے کہ حادثات ہوتے ہیں! ہسپتالوں کو ختم کر دیجیے کہ یہاں مریض مر جاتے ہیں۔ ہوائی سفر کرنے والے کو حوالہ زنداں کر دیجیے کہ جہاز تو گر پڑتے ہیں! ارے بھائی! گلے کٹتے ہیں تو حکومت کا کیا کردار ہے؟ پولیس کے ہزاروں نوجوانوں کو شاہی محلات کی حفاظت سے ہٹا کر یہ ڈیوٹی دیجیے کہ وہ قاتل ڈور تیار کرنے والوں کو پکڑیں۔ ٹوپی چھوٹی ہو تو سر کاٹ کر چھوٹا نہیں کرتے بلکہ ٹوپی کو بڑا کرتے ہیں۔
شام اور عراق سے تشبیہ دنیا ہی غلط ہے۔ الحمد للہ پاکستان کے پاس جو مسلح افواج ہیں‘ ان کا شام اور عراق میں تصوّر ہی نہیں! ہاں اگر یہ بات مان لی جائے کہ فوج کوئی ایکشن نہ کرے اور اگر ایک خاص قبیل کے باقی تعلیمی اداروں کو بھی تیس تیس کروڑ دیے جائیں تو پھر میرے منہ میں خاک۔۔۔۔ شام اور عراق بننے میں دیر نہیں لگے گی!
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے! پانچ سال بعد ہی سہی‘ یہ فیصلہ تو ہوا کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے یہ فیصلہ کر کے تاریخ کا کم از کم ایک صفحہ اپنے لیے ضرور ریزرو کرا لیا ہے! دیر آید درست آید! یہ کام عشروں پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ قبائلی علاقوں کو الگ تھلگ‘اچھوت بنا کر رکھنا برطانوی استعمار کی ضرورت تھی اور مجبوری! بدقسمتی سے یہ استعمار‘ پولیٹیکل ایجنٹوں کی شکل میں تقسیم کے بعد بھی جاری رہا۔ یہ پولیٹیکل ایجنٹ چند چیدہ چیدہ ملکوں اور خانوں کی جیبوں میں رقوم ڈالتے تھے۔ کوئی حساب کتاب تھا نہ آڈٹ نہ اکائونٹنگ! عام قبائلی پستا ہی رہا۔ ضم ہونے کے بعد کم از کم صوبے کے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر سہولیات پر قبائلی عوام کا قانونی حق تو ہو گا۔
جو سیاسی قوتیں اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں‘ وہ کتنی ثقہ ہیں اور کتنے پانی میں ہیں؟ عوام اچھی طرح جانتے ہیں! مولانا نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ کر کے عوام سے دھوکا کیا گیا ہے۔ کیا دھوکا کیا گیا ہے؟ اس کی تفصیل ان کے پاس نہیں ہے۔ ان کا تو فاٹا سے تعلق ہی نہیں۔ فاٹا کے منتخب نمائندے اس فیصلے کے حق میں ہیں۔ فاٹا کے ان خود ساختہ خیر خواہوں نے آج تک فاٹا کی تعلیم‘ زراعت اور صنعت و حرفت کے لیے آواز نہیں بلند کی! یہ قوتیں چاہتی ہیں کہ قبائل کے عوام پس ماندگی کے کنوئیں سے باہر نہ نکلیں اور ووٹ ان قوتوں ہی کو دیتی رہیں۔ ان قوتوں کا چراغ غربت، ناخواندگی اور معاشی پس ماندگی میں جلتا ہے۔ فاٹا میں کالج اور یونیورسٹیاں بن گئیں‘ کارخانے لگ گئے‘ ٹریکٹر اور مشینیں زراعت کو جدید کرنا شروع ہو گئیں‘ شاپنگ مال بن گئے، لائبریریاں قائم ہو گئیں تو مولانا صاحب اور اچکزئی صاحب کو کون پوچھے گا؟
قبائلی عوام کا بہت استحصال ہوا ہے۔ معاشی استحصال‘ سیاسی استحصال ‘ نسلی استحصال‘ لسانی استحصال اور جذباتی استحصال! سینکڑوں برس ہو گئے، یہ استحصال ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ پہلے انگریزوں نے ان تمام تبدیلیوں سے انہیں محروم رکھا جو برصغیر میں ہوئیں۔ بدقسمتی سے پاکستان بننے کے بعد بھی یہی پالیسیاں جاری رہیں۔ جنوبی وزیرستان سے لے کر باجوڑ تک ستر برسوں میں کوئی کالج، کوئی یونیورسٹی نہ بنی۔ کوئی صنعتی یونٹ نہ لگا۔ پشتون قومیت فروخت کرنے والے چادر پوشوں کو اس پسماندگی سے کوئی غرض نہیں ۔ یہ چادر پوش، یہ دستار پوش صرف اور صرف اپنا الّو سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ صرف دکانیں چمکانا چاہتے ہیں، یہ صرف پارلیمنٹ میں پہنچ کر اپنی پسندیدہ وزارتوں پر اپنے گماشتے نصب کرنا چاہتے ہیں۔ یہ فقط مراعات کے طلب گار ہیں۔ یہ پروٹوکول کے بھوکے ہیں۔ یہ اقتدار کے برآمدوں میں طاقت کے کندھوں کے ساتھ اپنے کندھے رگڑنا چاہتے ہیں۔ یہ اپنے بھائیوں‘ برادر زادوں‘ اقربا اور اعزہ کو فائدے پہنچانا چاہتے ہیں۔ ان سے تو عام پختون ہفتوں مہینوں کوشش کرتا رہے ملاقات تک نہیں کر سکتا۔
فاٹا کا انضمام اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن ہے۔ ہر بالغ نظر پاکستانی اس کا استقبال کرتا ہے۔

Friday, February 24, 2017

دو پاکستان

پرندہ تب پنجرے میں بند نہ تھا!
یہ وہ زمانہ تھا جب وہ آزاد تھا۔ کھلی فضائوں میں اڑتا تھا۔ باغ تب ہرا بھرا تھا۔ کوئی صید تھا نہ صیّاد! درخت سرسبز تھے۔ فرش مخملیں تھا۔ آبِ رواں کے ہر طرف نظارے تھے۔ چہکار تھی اور مہکار ! فضا میں خوف نہ تھا۔ اعتماد تھا اور سکون!
وہ زمانہ خواب و خیال ہو گیا۔ اب پرندہ پنجرے میں بند ہے۔ وہی باغ ہے مگر پرندے کی آنکھوں کے سامنے ہر روز کوئی نہ کوئی پنجرہ کھلتا ہے ۔ کسی پرندے کی گردن مروڑی جاتی ہے اور اس کی لاش باغ کے اس فرش پر پھینک دی جاتی ہے جو کبھی ریشم کا لگتا تھا اور اب کھردرا اور ویران ہے! ہر روز پرندے کو یوں لگتا ہے کہ آج اس کی باری ہو گی اور یہ دن اس کا آخری دن ہے۔ روشیں دلدل میں بدل گئی ہیں۔ درخت ٹنڈ منڈ ہیں جیسے نوحے پڑھ رہے ہوں۔ پھولوں کا نشان تک باقی نہیں۔ ہر طرف جھاڑ جھنکاڑ‘ کانٹوں اور بدنما جھاڑیوں کا منظر ہے۔ باغ میں مکروہ چہروں والے بندوقچی ادھر ادھر دندناتے پھرتے ہیں۔ یہ بندوقچی ہر اس شے کے دشمن ہیں جو زندگی کی علامت ہو۔ درختوں کے سبز پتے‘ پھول‘ سبزہ‘ پرندے‘ گیت‘ خوشبو‘ پانی‘ یہاں تک کہ خنک ہوا کا اِکاّ دکاّ جھونکا بھی انہیں گوارا نہیں! آئے دن بندوق چلنے کی گرجدار‘ ہولناک آواز سنائی دیتی ہے۔ پھر کسی پرندے کی چیخ‘ پھر دوڑتے قدموں کی آواز اور پھر موت کا رقص!
یہ رُوداد کسی خیالی باغ کی نہیں! یہ سب کچھ اس باغ کے ساتھ ہوا جس کا نام پاکستان ہے۔ ہاں! جو کبھی باغ تھا اور اب وحشیوں کی شکار گاہ! یہ پاکستان افغان’’جہاد‘‘ کے بعد کا پاکستان ہے۔
ایک پاکستان افغان’’جہاد‘‘ سے پہلے کا پاکستان تھا! درست ہے شہد اور دودھ کی نہریں نہیں بہتی تھیں مگر خون کے چھینٹے بھی ہر طرف دیواروں پر نہیں تھے۔ یہ وہ پاکستان تھا جب صبح نوکری پر جاتے ہوئے ایک عام پاکستانی ماں کے قدموں پر گر کر غلطیاں معاف نہیں کراتا تھا اور بیوی سے یہ نہیں کہتا تھا کہ خیریت سے واپس آ گیا تو ملاقات ہو گی ورنہ بچوں کا خیال رکھنا! یہ وہ پاکستان تھا جب والدین بچوں کے سکول سے واپس آنے تک گھر کے دروازے پر نہیں کھڑے رہتے تھے۔ بچے بھی محفوظ تھے ‘ بڑے بھی! جب لوگوں کو یہ وارننگ نہیں دی جاتی تھی کہ پُررونق مقامات پر جانے سے احتراز کرو! سخت ضرورت کے بغیر باہر نہ جائو۔
یہ وہ پاکستان تھا جس میں منشیات کی ریل پیل نہیں تھی! والدین کو ہر وقت یہ دھڑکا نہیں لگا رہتا تھا کہ ان کے بچے کالج یا یونیورسٹی میں نشے کا شکار ہو جائیں گے۔ نہ ہی یہ خوف تھا کہ کوئی ان کے نوعمر بیٹے کو حوروں کی لالچ میں ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا کر دے گا۔ اُس پاکستان میں موت کے وہ سوداگر نہیں تھے جو آج گلی کوچوں میں جنت کے بدلے خون میں پھڑکتے اعضا بیچ رہے ہیں۔ اُس پاکستان میں بھتہ بھی ایک انجانا لفظ تھا۔ گاڑیاں چوری ہوتی تھیں مگر خال خال! اُس زمانے میں وفاقی دارالحکومت سے ہر روز اوسطاً تین گاڑیاں نہیں چوری ہوتی تھیں‘ اغوا برائے تاوان‘ انڈسٹری نہیں تھی!
یہ وہ پاکستان تھاجس میں کوئی کسی کو شاید ہی کافر کہتا ہو! مسجدوں پر پہرے نہیں تھے۔ رمضان میں لوگ روزے رکھتے تھے مگر یہ نہیں ہوتا تھا کہ بیمار اور مسافر بھوک سے نڈھال ہو جائیں۔ انہیں دن کو کھانا میسر آتا تھا۔ اور انہیں یہ ڈر نہیں ہوتا تھا کہ کوئی انہیں کھاتا دیکھ کر گولی سے بھون دے گا یا گلا دبا دے گا تب ہجوم کی جرأت نہیں ہوتی تھی کہ کسی کو مار دے یا پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ قانون اتنا بے بس نہیں تھا۔
 کیا آج کوئی یقین کرے گا کہ اس وقت کے پاکستان کا پاسپورٹ دنیا بھر میں عزت و تکریم کا باعث تھا۔ کوئی پاکستانی پاسپورٹ دکھاتے وقت احساسِ کمتری کا شکار ہوتا تھا نہ اس کا کلیجہ خوف کے مارے حلق کو آتا تھا۔ 
کراچی کا وہی مقام تھا جو آج کے ہوائی سفر میں بنکاک کا ہے! برٹش ایئر ویز سے لے کر کے ایل ایم تک دنیا کی ہر بڑی ایئر لائن کے جہاز وہاں اترتے تھے۔ امن و امان کی یہ کیفیت تھی کہ رات گئے لوگ باگ گھروں سے اٹھ کر‘ بندو خان کی دکان پر پراٹھے اور کباب کھانے آتے تھے۔ دھماکہ ہوتا تھا نہ کوئی کسی کو چھرا گھونپتا تھا۔ مغربی ملکوں کے سفارت کار ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی مقیم ہونا پسند کرتے تھے۔
پھر افغان ’’جہاد‘‘ آ گیا اور سب کچھ بدل گیا۔ سفید سیاہ اور سیاہ سفید ہو گیا۔ پچاس لاکھ کے لگ بھگ غیر ملکی ‘ سرحدوں کا تقدس پامال کرتے ہوئے در انداز ہوئے۔ وقت کے حکمران نے انہیں خوش آمدید کہا۔ انہیں ان کے ہتھیاروں اور منشیات سمیت ملک کے اطراف و اکناف میں پھیلا دیا۔ قانون ‘ پاسپورٹ‘ ویزا‘ سب کچھ مٹی میں مل گیا۔ ٹرانسپورٹ سے لے کر جائداد تک‘ تجارت سے لے کر عام مزدوری تک ہر قومی سرگرمی میں یہ غیر ملکی دخیل ہو گئے۔ پھر ان کے شناختی کارڈ بننے لگے۔ پھر انہیں پاسپورٹ دیے جانے لگے اور حالت یہ تھی کہ صدیوں سے اس سرزمین پر رہنے والے اصل باشندے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے لیے دھکے کھاتے تھے اور پریشان ہوتے تھے۔
 پھر غیر ملکی جنگ جوئوں کو خاص علاقوں میں مقیم کر کے ان کے رشتے ناتے کرائے گئے۔ آج یہ ملک‘ ملک کم اور پنجروں کا مجموعہ زیادہ ہے۔ سکولوں میں پھول سے بچے بھون دیے گئے۔ مزار‘امام بارگاہیں بازار‘ گلشن گلزاراور مساجدآگ اور خون کی زد پر ہیں۔ ہمارے فوجی افسر اور جوان ہزاروں کی تعداد میں شہید ہو گئے ہماری پولیس والوں نے لہو دے دے کر دھرتی کو اندر تک سرخ کر دیا مگر مکروہ چہروں والے بندوقچی ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہے! شتروگھن کوفرزند بنانے والے مردِ مومن کا سایہ ہے کہ لمبا ہی ہوتا جا رہا ہے! قدرت کا انتقام عجیب و غریب ہوتا ہے۔ جس شخص نے مذہب کے نام پر ملک کودوزخ بنا دیا‘ اس کا فرزند مذہب کے نام پر نہیں‘ ایک دور افتادہ علاقے سے ذات برادری کے نام پر ووٹ لیتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو گا اس حقیقت کا کہ مذہب کا استعمال خالص ایک سو ایک فی صد ذاتی مفاد کے لیے تھا!! فاعتبروا یا اولیِ الابصار! عبرت پکڑو اے آنکھ والو!
آج ہم کس سے کہیں کہ ہمارا پہلے والا ملک ہمیں واپس دے دو! ہاں! وہی ملک جس میں ہم راتوں کو بلا کھٹکے گھروں سے باہر نکلتے تھے۔ ہمارے بچے محفوظ تھے۔ ہماری عورتیں اغوا ہو کر افغانستان نہیں پہنچتی تھیں۔ جلال آباد سے ہماری اعلیٰ عدلیہ کے معزز ججوں کو بھتے کی کالیں نہیں وصول ہوتی تھیں۔ لاہور پر اسّی ہزار غیر ملکی قابض نہیں تھے کراچی میں سہراب گوٹھیں نہیں تھیں۔ وفاقی دارالحکومت عملاً محصور نہیں تھا! دنیا میں ہم معزز تھے ۔تکفیر ہمارے ہاں اتنی ارزاں نہیں تھی کہ روپے میں پانچ کلو فروخت ہو!
اب یہی ہے کہ آمر کی روح کے آگے ہاتھ جوڑ کر فیض صاحب کے الفاظ میں زاری کی جائے      ؎
مجھ کو شکوہ ہے مرے بھائی کہ تم جاتے ہوئے
لے گئے ساتھ مری عمرِ گزشتہ کی کتاب
اس میں تو میری بہت قیمتی تصویریں تھیں
اس میں بچپن تھا مرا اور مرا عہدِ شباب
……………………
مجھ کو لوٹا دو مری عمرِ گزشتہ کی کتاب

Wednesday, February 22, 2017

کیا اب اونٹ کو خیمے سے نکالا جا سکے گا؟

تھائی لینڈ ملائشیا کے شمال میں واقع ہے۔ سمگلنگ دونوں ملکوں کے لیے مسئلہ بنا ہوا تھا۔ 1970ء کے عشرے میں دونوں ملکوں نے اپنی اپنی سرحد پر دیواریں تعمیر کر دیں‘ یہ دیواریں کنکریٹ اور لوہے سے بنائی گئیں ‘اوپر خار دار تار لگائی گئی۔ کہیں کہیں لوہے کی باڑ بھی تھی۔ دونوں دیواروں کے بیچ میں جو فاصلہ رہ گیا تھا‘ سمگلروں اور منشیات کے سوداگروں نے وہاں ڈیرے ڈال دیے۔2001ء میں دونوں ملک پھر سر جوڑ کر بیٹھے۔ اب کے یہ طے ہوا کہ صرف ایک دیوار ہو گی اور وہ تھائی لینڈ کی زمین پر تعمیر ہو گی ۔ اڑھائی میٹر بلند یہ دیوار‘ نیچے سے کنکریٹ کی ہے اور اوپر سے لوہے کی ۔ دیوار بنانے کی جو وجہ بتائی گئی وہ سمگلنگ کا انسداد تھا مگر 1990ء اور 2000ء کے عشروں کے دوران جنوبی تھائی لینڈ میں بغاوت کی ہلچل تھی‘ چنانچہ سیکورٹی بھی ایک بڑا سبب تھا!
دنیا کے بیسیوں ممالک ایسے ہیں جنہوں نے بارڈر پر دیواریں بنائی ہوئی ہیں یا لوہے اور تاروں کی ناقابل عبور باڑ لگا دی ہے۔ ارجنٹائن اور پیراگوئے کے درمیان دیوار زیر تعمیر ہے بوٹسوانا اور زمبابوے کے درمیان پانچ سو کلو میٹر لمبی دیوار بنائی گئی ہے چین اور شمالی کوریا کے درمیان ڈیڑھ ہزار کلو میٹر لمبی دیوار زیر تعمیر ہے۔ ہنگری اور سربیا کے درمیان ایک سو پچھتر میل لمبی دیوار ہے۔ یو کرین اور روس کے درمیان دو ہزار کلو میٹر لمبی دیوار بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ بہت سے دوسرے ملکوں کی سرحدوں پر بھی بیریئر بنائے جا رہے ہیں۔
سمگلنگ ‘ غیر قانونی آمدو رفت اور ناپسندیدہ عناصر کو روکنے کے لیے سرحدوں پر دیوار تعمیر کرنا کوئی آج کی جدت نہیں قدیم زمانے میں دیوارِ چین اسی وجہ سے بنائی گئی تھی۔ افغان بارڈر پاکستان کے لیے ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی حل ممکن نہیں ‘سوائے اس کے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ناقابل عبور دیوار تعمیر کر دی جائے خواہ اسے بنانے میں دس سال لگیں یا تیس سال لگ جائیں یہ بارڈر اول دن سے پاکستان کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ پولیو پیدائشی نہیں ہوتا مگر یہ بارڈر ایسا پیدائشی پولیوہے جس نے پاکستانی ریاست کو لولا لنگڑا کیا ہوا ہے ۔ہزاروں افراد ہر روز آتے اور جاتے ہیں اگر پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں بنانے والے حکمرانوں میں ذرہ بھر بھی وژن ہو تو وہ آج ہی سے اس دیوار کو اٹھانے کی تیاریاں شروع کر دیں ۔ افغانستان اس کی بھر پور مخالفت کرے گا مگر وہ اپنے مفادات کی بنا پر مخالفت کرے گا۔ پاکستان کے مفادات کے تقاضے مختلف ہیں۔ پاکستان یہ دیوار بزور بنائے یا مذاکرات کے ذریعے باہمی رضا مندی سے‘ بہر طور پہ اس کی سکیورٹی کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔
تاہم سو ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پالیسی سازوں میں وژن نام کی کوئی شے موجود ہے؟ آپ مضحکہ خیز صورت احوال ملاحظہ فرمائیے کہ دہشت گردی کی حالیہ خوفناک لہر کے بعد کے پی کے گورنر نے جو فاٹا کے بے تاج بادشاہ ہیں کہا ہے کہ پاکستان نے افغان بھائیوں کی تیس سال تک خدمت کی ہے انہیں پناہ دی ہے اور اب ان کی حدود سے ہم پر حملے ہو رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کار افغان مہاجرین ہیں! جب یہ طے ہے کہ افغان مہاجر سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں تو انہیں پورے ملک میں آزادانہ گھومنے پھرنے سے منع کیوں نہیں کر دیا جاتا؟ 
آج نہیں تو کل‘ کل نہیں تو پرسوں‘ پاکستان کو سرکاری سطح پر اعتراف کرنا پڑے گا کہ افغان مہاجرین کو ملک کے اندر کیمپوں میں محصور نہ کر کے تاریخی غلطی کی ہے ۔ اس مہلک غلطی کا سہرا جنرل ضیاء الحق کے سر ہے! افغان مہاجرین کی بات کی جائے تو کچھ حلقے افغان جہاد کا ذکر چھیڑ دیتے ہیں حالانکہ یہ دونوں مسئلے الگ الگ ہیں ایک کا دوسرے سے کوئی تعلق نہیں! افغان مجاہدین کو امریکی امداد پہنچانے کا یہ مطلب کہاں سے اخذ ہوتا ہے کہ مہاجرین کو مہاجرین کی طرح نہ رکھا جائے؟ اس ملک پر ظلم کیا گیا۔ عوام کے حقوق پر شب خون مارا گیا۔ بارڈر کی تمیز ختم کر دی گئی۔ ریاست اور ریاست کے ساتھ وابستہ مذہبی جماعتوں نے ملک کے وسائل غیر ملکیوں کے ہاتھ میں دے دیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج گورنر کے پی سے لے کر وزیر داخلہ تک اعتراف کر رہے ہیں کہ یہ مہاجرین دہشت گردوں کی مدد کر رہے ہیں۔ آج قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے شہروں سے بڑی تعداد میں افغان باشندے پکڑے گئے۔ سوال یہ ہے کہ افغان باشندے ان تمام شہروں میں کیسے پہنچ گئے؟ انہیں روکنے کی ذمہ داری کس کی تھی؟
کل ایک پاکستانی دکھ کے ساتھ بتا رہا تھا کہ اس کی غیر ملکی بیوی کو نادرا پاکستانی شہریت دینے کے لیے تیار نہیں حالانکہ نادرا نے فیس وصول کر لی ہے مگر لاکھوں افغان مہاجرین کو پاکستانی شناختی کارڈ اور پاکستانی پاسپورٹ پلیٹ میں رکھ کر دیے گئے یہاں تک کہ نادرا جیسے حساس محکمے میں افغان شہری ملازمت کرتے ہوئے بھی پائے گئے۔
روزنامہ دنیا کی اطلاع کے مطابق لاہورشہر میں 80 ہزار افغان دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ کر رہے ہیں۔ گاڑیوں کی چوری میں بھی یہی عناصر ملوث ہیں۔ راوی روڈ کے اسلحہ ڈیلر ان افغانوں ہی کی وساطت سے اسلحہ منگوا رہے ہیں۔ لاہور میں پختون مارکیٹ اوریگا سنٹر سمیت جہاں جہاں افغان بیٹھے ہیں وہیں سے منشیات پورے شہر میں پھیلائی جا رہی ہیں۔ فیروز والا کے قریب موجود افغان بستی منشیات فروشی سب سے بڑا مرکز ہے۔
کیا یہ وہ ’’پنجاب سپیڈ‘‘ ہے جس کے بارے میں فخر سے بتایا جاتا ہے کہ چین تک میں مشہور ہے؟ اس کالم نگار نے گزشتہ تین برس کے دوران درجنوں کالموں میں ان افغان بستیوں سے خبردار کیا ہے جو صوبائی دارالحکومت کے اندر اور اردگرد قائم ہیں مگر انگلی لہرانے والے حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی! تو پھر کون ذمہ دار ہے ان اسی ہزار غیر ملکیوں کی موجودگی کا اور ان کی Pocketsکا؟ بار بار متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر ان غیر ملکیوں کو نکالا نہ گیا اور اگر لسانی بنیادوں پر الگ آبادیوں کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو لاہور کا انجام کراچی سے مختلف نہ ہو گا مگر اس ضمن میں کوئی پالیسی وضع کی گئی نہ روک تھام کی گئی۔ آج حالت یہ ہے کہ پانی سر سے گزر گیا ہے‘ اٹک سے لے کر جنوبی پنجاب تک لاکھوں غیر ملکی دندناتے پھر رہے ہیں جب صوبے کے شہر اور قصبے غیر ملکیوں سے اٹے پڑے ہوں تو وحشت کی اس فضاء میں شاہراہوں‘ پلوں‘ میٹرو بسوں اور اورنج ٹرینوں کا کیا فائدہ؟ کیا حکمران قوم کے سامنے اعتراف کریں گے کہ عین ان کی ناک کے نیچے غیر ملکی اپنے پائوں جما چکے ہیں؟۔
یہ غیر ملکی مسلح ہیں اور ’’ریاست کے اندر ریاست‘‘ بنے ہوئے ہیں یہ اپنی بستیوں میں کسی مقامی تاجر کو برداشت نہیں کرتے۔ اٹک اور کئی دوسرے شہروں میں مقامی تاجر قتل کیے گئے ہیں۔ کچھ ماہ قبل دارالحکومت کے ایک نواحی قصبے میں بچوں کے جھگڑے کے نتیجے میں یہ غیر ملکی بندوقیں اٹھا کر پہنچ گئے اور مقامی باشندوں کو ہراساں کیا۔
اور تو اور وفاقی دارالحکومت تک انتہائی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر سے پندرہ منٹ کی مسافت پر بارہ کہو غیر ملکیوں سے بھراپڑا ہے یہی حال شہر کے دوسرے کنارے پر ترنول کا ہے۔ دارالحکومت کے وسط میں جی12کا سیکٹر عملاً دارالحکومت کا حصہ نہیں! اس کے تنگ‘ بے ترتیب گلی کوچوں میں کون کون لوگ رہ رہے ہیں؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں!
سہراب گوٹھ آسمان سے نہیں اترا تھا۔ سندھ کے حکام کی آنکھوں کے سامنے بنا تھا۔ کیا یہی کہانی پنجاب میں دہرائی جانے کو ہے؟

Saturday, February 18, 2017

لاہور ہائیکورٹ کا حکم اور سی ایس ایس کا امتحان


لاہور ہائیکورٹ نے 2018ء سے سی ایس ایس کے امتحانات اُردو میں لینے کا حکم دیا ہے۔
اس حکم پر تکنیکی اور ماہرانہ رائے تو ان اداروں کو دینا چاہیے تھی جو اُردو زبان کے نفاذ اور ترویج کے لیے تقریباً نصف صدی سے قائم ہیں‘ مگر ان کی طرف سے اس حکم کے قابلِ عمل ہونے یا نہ ہونے کے متعلق گہرا سکوت ہے۔ مقتدرہ قومی زبان اسی مقصد کے لیے وجود میں لایا گیا تھا لیکن تاحال یہ ادارہ تراجم اور وضعِ اصطلاحات سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ شاید اسی لیے حکومت کو اس کا نام بدلنا پڑا۔ اس میں کیا شک ہے کہ تراجم اور وضعِ اصطلاحات کا کام‘ نفاذ اُردو کے راستے میں اہم سنگ میل کا مرتبہ رکھتا ہے مگر اصل کام اس سے آگے کا ہے!
کیا فوراً سی سی ایس کے امتحانات اُردو میں لیے جا سکتے ہیں؟ کیا متعلقہ ادارے‘ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن‘ اس کے لیے تیار ہیں؟ ان سوالات کا حقیقت پسندانہ جواب ملنا ضروری ہے۔ پھر یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ اگر سی ایس ایس کے امتحانات اُردو میں شروع ہو گئے تو انگریزی کی کیا حیثیت ہو گی؟ کیا اسے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا یا بین الاقوامی اہمیت کے پیشِ نظر اسے اہم کردار سونپنا ہو گا؟
اِس وقت سی ایس ایس کے چھ پرچے لازمی ہیں‘ جن میں انگریزی زبان‘ انگریزی مضمون
 (essay)
‘ حالاتِ حاضرہ‘ پاکستان کے امور‘ بنیادی سائنس اور بنیادی اسلامیات شامل ہیں۔
چھ سو نمبر کے پرچے ان لازمی پرچوں کے علاوہ ہیں‘ جو اختیاری ہیں۔ ان کا دائرہ زبانوں سے لے کر سائنس تک اور سوشل سائنسز سے لے کر ریاضی‘ قانون اور تاریخ تک پھیلا ہوا ہے۔ تین سو نمبر کے زبانی اور نفسیاتی امتحانات اس کے علاوہ ہیں۔
کامن سینس کیا کہتا ہے؟ عقل کا اور منطق کا تقاضا یہ ہے کہ یہ کام آہستہ آہستہ‘ مرحلہ وار‘ درجہ بہ درجہ ہونا چاہیے۔ پوری ریاستی مشینری ایک ہی بار انگریزی سے اُردو قالب میں نہیں ڈھل سکتی۔ ایسا کیا گیا تو یہ گاڑی کو گھوڑے کے آگے جوتنے کے مترادف ہو گا اور نتیجہ منفی نکلے گا!
2008ء کا غالباً وسط تھا‘ جب مقتدر قومی زبان کے اُس وقت کے سربراہ پروفیسر فتح محمد ملک صاحب نے فون پر بتایا کہ وہ غربت کدے پر تشریف لانا چاہتے ہیں۔ 1965ء سے 1967ء تک کے عرصہ میں جب یہ کالم نگار گورنمنٹ کالج اصغر مال راولپنڈی میں بی اے کا طالب علم تھا تو محترم ملک صاحب اُسی کالج میں اُردو زبان و ادب کے پروفیسر تھے۔ اگرچہ اُن کی کلاس میں ہونے کا اعزاز نصیب نہ ہو سکا‘ تاہم انہیں ہمیشہ اساتذہ اور بزرگوں کی صف میں گردانا۔ بہرطور ملک صاحب تشریف لائے۔ اُن دنوں میں گریڈ 22 میں سول سروس سے ریٹائرڈ ہو کر گھر ہی میں ہوتا تھا۔ والدِ گرامی بسترِ علالت پر تھے۔ اپنی میز کرسی میں نے ان کے کمرے ہی میں رکھ لی تھی‘ اُن دنوں ڈھاکہ یونیورسٹی میں اپنے قیام کے حوالے سے ’’دی بنگلہ دیش ٹوڈے‘‘ میں مضامین لکھا کرتا تھا۔
ملک صاحب نے فرمایا کہ وہ ریکٹر کی حیثیت سے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی تشریف لے جا رہے ہیں۔ اپنے جانشین کے طور پر‘ یعنی مقتدرہ قومی زبان کی سربراہی کے لیے وہ ایک پینل وزیراعظم کی خدمت میں بھیج رہے ہیں‘ اس پینل میں ایک نام میرا بھی ہو گا۔ ملک صاحب نے ساتھ تفصیل سے بتایا کہ بنیادی کام ہو چکا ہے۔ اب نفاذ کا مرحلہ ہے جس کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن‘ وزیراعظم آفس اور فیڈرل پبلک سروس کمشن میں بیٹھے‘ منجھے ہوئے بیورو کریٹ صاحبان سے معرکہ آرائی کی ضرورت ہے۔ یہ کام وہی شخص کر سکتا ہے جو خود بیورو کریسی سے تعلق رکھتا ہو۔ اس کے لیے ملک صاحب پینل میں میرا نام ڈال رہے تھے۔ یہ ملک صاحب کی قدر دانی تھی۔ چنانچہ پینل میں نام ڈال کر انہوں نے اُوپر بھجوا دیا۔
پھر کیا ہوا؟ یہ ایک الگ کہانی ہے جس کی تفصیل غالباً خودنوشت میں آ رہی ہے۔ مختصراً یہ کہ ایک دوست جمال ناصر عثمانی کی دخترِ نیک اختر کی شادی کی تقریب تھی۔ وہیں ایک برخوردار‘ جو اُن دنوں وزیراعظم سیکرٹریٹ میں اعلیٰ عہدے پر تعینات تھے‘ ملے۔ ان سے پینل کے ضمن میں پراگرس کا پوچھا تو مسکرا کر بتایا کہ ’’اُوپر سے احکام آئے ہیں کہ آپ کے ایک بزرگ دوست کو‘ جو پہلے بھی مقتدرہ میں رہے ہیں‘ پھر سے چیئرمین لگایا جائے‘‘۔
جو روڈ میپ اس کالم نگار نے ذہن میں ترتیب دیا تھا‘ وہ یہ تھا کہ اُردو کے نفاذ کے لیے تین مراحل میں کام کرنا ہو گا۔ پہلے مرحلے میں سی ایس ایس کا امتحان انگریزی ہی میں جاری رہے گا مگر دو سو نمبر کے اُردو کے دو پرچے لازمی قرار دیئے جائیں گے۔
دوسرے مرحلے پر دونوں آپشن دیئے جائیں گے کہ چاہیں تو اُردو میں جوابات دیجئے‘ چاہیں تو انگریزی میں۔ مگر انگریزی کی اہلیت جانچنے کے لیے لازمی انگریزی کے پرچے بدستور رہیں گے۔
تیسرے مرحلے میں آخری اور فائنل اقدام کیا جائے گا۔ انگریزی زبان کے پرچے بدستور لازمی ہوں گے مگر باقی تمام امتحان صرف اور صرف اُردو میں ہو گا۔ یہ بھی طے کر لیا تھا کہ اگر ایک برس کے دوران پہلا مرحلہ سر نہ ہو سکا تو استعفیٰ دے دیا جائے گا۔
   اِن درجہ بہ درجہ مراحل کے علاوہ کوئی اور راستہ نفاذِ اُردو کا قابلِ عمل نہیں! یہ کام صرف اور صرف مرحلہ وار ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن‘ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزیراعظم آفس کی بیورو کریسی کو قائل بھی کرنا پڑے گا اور موم بھی کرنا ہو گا! یہ کام کوئی بیورو کریٹ ہی کر سکتا ہے۔ الحمدللہ اس وقت بیورو کریسی میں ایسے ایسے نوجوان افسران موجود ہیں جو اُردو سے گہرا قریبی اور قلبی تعلق رکھتے ہیں اور حکومتی حساسیت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ ان میں یاسر پیرزادہ ہیں جو اُردو کے مانے ہوئے ادیب ہیں۔ ڈاکٹر وحید احمد اور شکیل جاذب جیسے منجھے ہوئے بیورو کریٹ حکومت کے پاس موجود ہیں جنہوں نے کئی سرکاری اداروں میں کام کر کے گھاٹ گھاٹ کا تجربہ حاصل کیا ہوا ہے‘ اور اُردو شعر و ادب میں بلند مقام رکھتے ہیں۔ کوئٹہ میں محفوظ علی خان بیٹھے ہیں جو نیپا
(NIPA)
 کوئٹہ کے سربراہ رہے اور کئی سال صوبائی سیکرٹری خزانہ کے طور پر کام کیا۔ محفوظ کو پشتو‘ فارسی‘ بلوچی‘ براہوی سمیت تمام پاکستانی زبانوں پر عبور حاصل ہے اور دفتری امور سے نمٹنا جانتے ہیں۔
رہے ہمارے بزرگ شاعر اور ادیب‘ تو ہم ان کا بہت احترام کرتے ہیں۔ انہیں کوئی بھی علامتی منصب دے کر کہیں بھی فائز کیا جا سکتا ہے۔ مگر جہاں تک حکومتی سطح پر نفاذِ اُردو کا تعلق ہے تو اس کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ افسر شاہی کے کسی رکن ہی کو یہ کام سونپا جائے۔ ایسا رکن جو اُردو سے علمی اور فنی لحاظ سے خوب آشنا ہو اور اُردو سے محبت بھی رکھتا ہو۔ عربی کا مقولہ ہے کہ ’’لِکُل فَنّ رِجال‘‘ ہر کام کے لیے اُس کام کے ماہرین کی ضرورت ہے! اداروں کا وجود اس لیے نہیں کہ ان میں شخصیات کو سمویا جائے اور محض
 (ACCOMODATE)
 کیا جائے۔ شخصیات ایسی تلاش کرنا ہوں گی جو اِن اداروں کا اصل مقصد پورا کریں اور عملی اعتبار سے کچھ حاصل کریں!
لاہور ہائی کورٹ کا حکم اس راستے میں اہم سنگِ میل ثابت ہو گا۔ بشرطیکہ مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔
اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ کام مرحلہ وار ہی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے۔

Friday, February 17, 2017

اپیل، وکیل نہ دلیل

گائوں میں قتل ہوتا تھا تو تھانیدار وہاں ڈیرہ ڈال لیتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ انگریز ایس پی اس کی کڑی نگرانی کر رہا ہے۔ ہم نے یہ ’’انگریزی‘‘ روایت ختم کر دی۔ پاکستان میں سینکڑوں نہیں ہزاروں قتل پولیس کی کتابوں میں ’’نامعلوم‘‘ قاتلوں کے ساتھ درج ہیں۔
ریلوے کو دیکھیے‘ کس حالت میں سفید چمڑی والا سامراج چھوڑ کر گیا تھا۔ ہم سے پٹریوں کا لوہا تک بیچ کھایا۔حویلیاں تک انگریز ریلوے دے گئے تھے۔ ایبٹ آباد وہاں سے صرف دس بارہ میل ہے۔ جہاں تھی ریلوے لائن اب بھی وہیں تک ہے۔ ان دعووں پرنہ جائیے کہ ریلوے خنجراب تک یا چترال تک جائے گی! پنڈی سے مری تک بھی چلی جائے تو مٹھائی بانٹیے گا اور بکرا ذبح کیجیے گا!
قانون کی عملداری پر غور فرمائیے۔ پاکستان بنا تو اس وقت… اور اس کے بعد بھی کئی عشروں تک‘ قانون کی حرمت قائم تھی۔ ملازمت کے لیے اگر عمر کی حد معین تھی تو بس معین تھی۔ اسے کوئی ہٹا نہیں سکتا تھا۔ مگر پھرہم نے اس میں پاکستانیت داخل کی۔ اب سائل’’اوپر‘‘ پہنچتا ہے اور خصوصی حکم لا کر افسر کے منہ پر مارتا ہے!
مگر افسوس انگریزوں کی چھوڑی ہوئی جو شے تبدیل کرنی چاہیے تھے‘ وہ وہیں کی وہیں رہی۔ گویا پطرس کے بقول‘ سائیکل کا ہر پرزہ بجنے لگا سوائے گھنٹی کے! قبائلی علاقوں کو مٹھی میں پکڑ کر بھینچنے کے لیے انگریز سرکار نے 1901ء میں ایف سی آر(فرنٹیر کرائمز ریگولیشن) نافذ کیا تھا۔ افسوس ! صد افسوس! یہ جوں کا توں موجود ہے!
یہ قانون نافذ کرکے انگریز سامراج نے قبائلی علاقوں کو اپیل وکیل اور دلیل سے محروم کر دیا تھا۔ جرگہ سزا دے تواس کے خلاف کوئی اپیل نہیں۔ پورا خاندان سزا پائے گا۔ مکانوں کو مسمار کر دیا جائے گا۔ بغیر کچھ بتائے پکڑا جا سکے گا۔
آپ پڑھے لکھے ہیں۔ پاکستان کا آئین اٹھائیے‘ شق247پڑھیے اور سر پیٹیے۔ لکھا ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ کا کوئی قانون قبائلی علاقوں پر نافذ نہیں ہو سکے گا۔ کوئی پوچھے کہ پھر قبائلی علاقوں کے منتخب نمائندے اس پارلیمنٹ میں کیوں بیٹھے ہیں؟
قبائلی علاقے اس ظلم کا شکارکیوں ہوئے؟ اس کی وجہ وہ ’’گریٹ گیم تھی جو روس اور برطانوی ہند کے درمیان ڈیڑھ دو سال تک کھیلی جاتی رہی۔ روس آہستہ آہستہ جنوب کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس نے خیوا‘ پھر تاشقند‘ سمر قند‘ بخارا اور قوقند پر قبضہ کیا۔ ہندوستان پر حکومت کرنے والے انگریز دیکھ رہے تھے کہ اب اس کے بعد افغانستان کی باری ہے۔ انگریزوں نے افغانستان پر قبضہ کرنے کے لیے کئی جنگیں لڑیں مگر کامیابی نہ ہوئی۔ پھرروس ترمذ کے کنارے دریائے آمو پررک گیا۔ افغانستان دونوں سلطنتوں کے درمیان بفر زون بن گیا۔ مگر انگریز پھر بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھ رہے تھے۔ اپنی حفاظت کو آخری درجے تک پہنچانے کے لیے انہوں نے ہندوستان اور افغانستان کے درمیان ایک اور بفر زون قائم کیا۔ یہ بفر زون قبائلی علاقوں(فاٹا) پر مشتمل تھا۔طے یہ ہوا کہ ہندوستانی سرکار کا کوئی قانون قبائلی علاقوں پر نافذ نہ ہو گا۔ قبائلی کیا کرتے ہیں‘ کیا نہیں کرتے اس سے انگریز سرکار کا کوئی سروکارنہ ہو گا۔ ان کا طرز زندگی‘ معاشرت‘ ثقافت سب کچھ ان کے ہاتھ میں رہے گا۔ بدلے میں جنگ کی صورت میں وہ انگریز کا ساتھ دیں گے اور جو سڑکیں افغانستان تک پہنچنے کے لیے بنائی جائیں گی‘ ان کی حفاظت کریں گے۔
کوتاہ نظری بلکہ اندھا پن ملاحظہ ہو کہ یہ ایف سی آر‘ یہ قبائلی علاقوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا‘ انہیں جدید دنیا کی ہوا نہ لگنے دینا۔ یہ سب کچھ پاکستان کے بعد بھی اسی طرح رہا۔ چنانچہ ستر سالوں میں وہاں کالج بنا نہ یونیورسٹی‘ زراعت جدید ہوئی نہ کارخانے لگے۔ پولیٹیکل ایجنٹ… جو ایک سو ایک فی صد انگریز سامراج کا تسلسل ہے… اب بھی وہاں حکومت کرتا ہے۔ وہ مَلکوں اور خانوں کو بھاری رقوم دیتا ہے۔ یہ رقوم عام قبائلی تک نہیں پہنچتیں۔ سمگلنگ خوب ہوتی ہے‘ چوری شدہ کاریں‘ اغوا شدہ افراد‘ سب ان علاقوں میں رکھتے جاتے ہیں‘ اس لیے کہ قانون وہاں موجود ہی نہیں۔ اس کالم نگار نے پہلے بھی لکھا ہے کہ ستر سالوں میں جو رقوم سرکاری خزانے سے لے کر پولیٹیکل ایجنٹوں کے ذریعے ان سرداروں اور مَلکوں کو دی گئی ہیں‘ قوم کو ان کی تفصیل بتائی جائے!
پھر ان علاقوں پر ایک اور افتاد آ پڑی۔ یہ افغان ’’جہاد‘‘ کے لیے قربانی کے بکرے بنائے گئے۔ ان علاقوں میں دنیا بھر کے خونخوار جنگ جُو آ کر بس گئے۔ ان خونخوار جنگ جُوئوں کی سرپرستی صدر ضیاء الحق کی حکومت نے کی اور ان مذہبی جماعتوں نے بھی جو صدر ضیاء الحق کی حکومت سے کسی نہ کسی صورت میں فائدے حاصل کر رہی تھیں۔ جن مفاد پرستوں نے اپنے بچوں کو امریکہ میں تعلیم دلوائی اور ان کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ اور قلم دیے‘ انہوں نے قبائلی بچوں کے ہاتھوں میں بندوقیں پکڑائیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ شہادت کے عظیم مرتبے پر یہ طالع آزما خود نہ فائز ہوئے۔ قبائلیوں کو ایندھن بنایا گیا۔ آج قبائلی علاقے میں شاہراہیں ناپید ہیں۔ بے گھروں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ جدید دنیا سے کوسوں دور! ایک اور ہی دنیا ہے جس میں تعلیم کا گزر ہے نہ طبی سہولتوں کا!
خدا خدا کر کے معاملہ یہاں تک پہنچا کہ ان علاقوں کو خیبر پختون خوا کے صوبے میں ضم کرنے کی بات شروع ہوئی۔ مگر افسوس! طالع آزما پھر جیت گئے۔ تازہ ترین بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ مسلم لیگ نون کی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے درمیان مک مکا ہو گیا ہے۔ مولانا نے پریس کانفرنس میں کل بتایا ہے کہ ’’فاٹا میں پانچ سال تک اصلاحات اور تعمیر و بحالی کے کام ہوں گے۔ اس کے بعد خیبر پختون خوا میں انضمام یا الگ صوبہ کے بارے میں قبائلی عوام کی رائے لی جائے گی‘‘
اس سے چند روز پہلے‘ انضمام کا مسئلہ ایک وفاقی وزیر کے کہنے پر‘ کابینہ کے ایجنڈے سے نکال دیا گیا!
یعنی قبائلی عوام کو اسی حال میں رکھا جائے گا۔ انضمام کی صورت میں صوبے کے ہسپتال ‘ تعلیمی ادارے اور دیگر سہولیات ان کی دسترس میں ہوتیں۔ اب وہ ان سے محروم ہی رہیں گے۔ حیرت اس امر پر ہے کہ قبائلی خاندان آدھے آدھے اب بھی خیبر پختون خوا کے شہروں میں ہیں۔ گویا خاندان تقسیم ہی رہیں گے!
جو سیاسی قوتیں قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی مخالفت کر رہی ہیں‘ ان کا تعلق قبائلی علاقوں سے نہیں ہے۔ ہر شخص ان کی شہرت اور کردار سے بخوبی آگاہ ہے۔ پاکستانی عوام کی بھاری اکثریت ان سیاسی قوتوں کو کس نظر سے دیکھتی ہے اس بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں! غالب نے کہا تھا   ؎
بھرم کھل جائے ظالم ! تیرے قامت کی درازی کا
اگر اس طرّۂ پُر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
ان سیاسی قوتوں کی شہرت سودا کرنے کے حوالے سے خوب ہے۔ سیاست کو کاروباراس ملک میں انہی قوتوں نے بنایا ہے۔ خیبر پختونخوا میں قبائلی علاقے ضم نہ ہونے کی صورت میں کس کو کیا فائدہ ہو گا؟ یہ بھی عوام خوب سمجھتے ہیں۔ ان قوتوں نے آج تک ایف سی آر ختم کرنے کے لیے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ قبائلی علاقوں میں تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں یا صنعت و حرفت کے دروازے کھولے جائیں یا زراعت کو مستثنیٰ کیا جائے۔
افق پر جو ایک ستارہ دکھائی دیتا تھا‘ چُھپ چکا ہے۔ روشنی کی کرنوں کو اندھیرے نے ڈھانپ لیا ہے۔ قبائلی بچوں کی قسمت میں غلیلیں اور بندوقیں ہی رہیں گی۔ ان کے شہر پشاور‘ اسلام آباد‘ کراچی اور لاہور جیسے نہیں بن سکیں گے۔ بنجر خوفناک پہاڑوں میں سمگلنگ ہوتی رہے گی۔ پولیٹیکل ایجنٹ‘ چند مخصوص سرداروں‘ مَلکوں اور خانوں کو نوازتے رہیں گے۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے فاٹا کے نمائندے اپنے علاقوں کے حوالے سے بے بس تماشائی بنے رہیں گے۔
مفادات جیت رہے ہیں قومی تقاضے شکست کھا رہے ہیں۔ طالع آزما‘ حکمرانوں کی پشت پناہی میں‘ چہروں پر فاتحانہ مسکراہٹ سجا چکے ہیں۔
تو پھر تعجب ہی کیا ہے اگر عام قبائلی بندوق اٹھا کر کبھی منگل باغ کی پناہ میں آ جاتا ہے اورکبھی کسی بیت اللہ محسود کے پاس جانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ آخر اس کے پاس کون سا متبادل ہے؟ دوسرا راستہ تو کُھلنے سے پہلے ہی مسدود کیا جا رہا ہے!!

Wednesday, February 15, 2017

نوحہ

پھول بانٹنے پر پابندی ہے۔ لہو بہانے کی آزادی ہے    ع
اے مری قوم! ترے حُسنِ کمالات کی خیر!
جوان مارے جا چکے۔ زمین ہے کہ اس کی پیاس نہیں بجھتی۔ چار ہزار کے لگ بھگ پولیس کے جوان اور افسر اپنے آپ کو نچھاور کر چکے۔ ہزاروں سویلین شہید ہو چکے۔ ہزاروں فوجی مائوں کو بے آسرا اور بچوں کو یتیم چھوڑ گئے۔ اے ارضِ وطن! اب اور کیا چاہیے؟
اے سرزمینِ وطن! تیری تو اپنی قسمت خراب ہے۔ ایسے ایسے تیرے فرزند تیرے سینے پر چل رہے ہیں جو تجھے ماں ہی نہیں مانتے۔ وہ گیہوں تیری کھاتے ہیں۔ پانی تیرا پیتے ہیں تیری چاندنی سے آنکھوں کی بینائی تیز کرتے ہیں۔ تیرے درختوں کی چھائوں میں‘ میٹھی ٹھنڈی چھائوں میں‘ بیٹھ کر مزے لیتے ہیں مگر جب تیرے سینے میں خنجر گھونپنے والوں کا ذکر آ جائے تو نفرین بھیجنے کے بجائے ادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں۔ آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں۔ اگر‘ مگر ‘ اِف اور بَٹ لگاتے ہیں۔ تیرے دشمنوں کواپنے بچے کہتے ہیں۔ دودھ دیتے ہیں مگر مینگنیاں ڈال کر!
اے تیرہ بخت سرزمینِ وطن! تیرے فرزند ساری دنیا سے انوکھے ہیں۔ امریکہ میں نائن الیون برپا ہوا۔ ایک امریکی بھی ایسا نہیں جو ہلاکت برپا کرنے والوں کا حامی ہو یا ان کے فعل کا جواز پیش کرے! سب بیک زبان انہیں دشمن سمجھتے ہیں اور برملا کہتے ہیں! کسی اور ایسے حادثے سے بچنے کے لیے امریکیوں کی آزادی سلب کر لی گئی۔ کسی نے اُف تک نہ کی! ان کی اولین ترجیح امریکی سرزمین کی تقدیس ہے۔ انگلستان میں سیون سیون کی دہشت گردی ہوئی۔ کوئی ایک انگریز‘ کوئی ایک سکاٹ لینڈ کا رہنے والا‘ کوئی ایک ویلز کا باشندہ ایسا نہیں جس نے قاتلوں کی حمایت کی ہو۔ مگر آہ؟ اے خاکِ وطن! تو اندر تک سرخ ہو چکی ہے۔ آنسوئوں کے دریا بہہ چکے ہیں۔ آہیں ایک نیا آسمان بُن چکی ہیں۔ شہیدوں کے لاشے اٹھانے والے کاندھے تھک گئے ہیں۔ سکول بموں سے اڑا دیے گئے ہیں۔ بازار‘ مزار‘ باغ اور گلزار انسانی اعضا سے اٹ چکے ہیں۔ پھول سے بچوں کے سینوں میں گولیاں اتار دی گئی ہیں۔ مگر ایک دو نہیں‘ چار پانچ سو نہیں‘ تین چار ہزار نہیں تیرے لاکھوں باشندے مظلوموں کے ساتھ نہیں ظالموں کے ساتھ ہیں! افسوس ! یہ اب بھی تیرے سینے پر چل پھر رہے ہیں!
دہشت گردوں کے سہولت کار اس طرح محفوظ ہیں جیسے بتیس دانتوں کے درمیان زبان! ہمیں بتایا گیا کہ فلاں طالبان کا سربراہ فلاں طالبان کے سربراہ کی اشیر باد سے تعینات ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ہزاروں باشندوں کے قاتل کو سربراہ تعینات کیا گیا۔ کس کی اشیر باد سے؟ وہ کس کے سایہء عاطفت میں رہ رہا ہے؟ اسے کیوں کچھ نہیں کہا جاتا؟
تباہی انتہا تک پہنچ گئی اور یہاں یہ بحث ہوتی رہی کہ جنگ کس کی ہے؟ اے خاکِ وطن! بیٹے تیرے لہو میں نہاتے رہے اور جنگ کو کسی اور کی جنگ کہا جاتا رہا! اے وطن کی مٹی! تجھ پر قربان ہونے والے قومی عساکر کو شہید کہنے سے انکار کیا گیا! افسوس! زمین دھنسی نہ آسمان ٹوٹا!
کوئی قوم… دنیا کی کوئی قوم… اپنی حفاظت نہیں کر سکتی جب تک اس میں نظریاتی ہم آہنگی نہ ہو! جب تک وہ دشمن کو دشمن کہنے کے لیے ہم زبان نہ ہو! یہ کالم نگار بارہا چیخ چیخ کر بتا چکا کہ قوم تقسیم ہو چکی ہے! ہوش کے ناخن لو! دو طبقات ‘ الگ الگ وجود میں آ چکے ہیں! ان کی کوئی چیز آپس میں مطابقت نہیں رکھتی! ان کے لباس الگ ہیں۔ ان کا پڑھا پڑھایا جانے والا لٹریچر الگ الگ ہے۔ ان کے تعلیمی ادارے الگ الگ ہیں دونوں کے نصابوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ تہذیبوں میں تفاوت ہے۔ ایک گروہ دوسرے کو کافر کہتا ہے کہ وہ فلاں لباس پہنتا ہے۔ دوسرا پہلے کی تضحیک کرتا ہے۔ نماز قائم کرنے والوں‘ اکلِ حلال کا التزام کرنے والوں اور خدا سے ڈرنے والوں کو فاسق کا خطاب دیا جاتا ہے۔ کوئی دستار کی توہین کرتا ہے کوئی پتلون پر پھبتی کستا ہے۔ یہ دو طبقے آپس میں رشتے ناتے تک نہیں کرتے۔ یہ دو متوازی لکیریں کوس در کوس‘ فرسنگ در فرسنگ آمنے سامنے چلتی جاتی ہیں‘ مگر کوئی نقطۂ اتصال نہیں ہے! ایک کے ہیرو دوسرے کے ولن ہیں۔ ایک جسے قائد اعظم اور بانیٔ وطن کہتا ہے‘ دوسرا اس کے نام تک سے بھاگتا ہے۔ آٹھ آٹھ دس دس سال کے نصابوں میں پاکستان کا نام آتا ہے نہ اس کے بنانے والے کا!
یہ خلیج کون پاٹے گا؟ کس طرح پاٹے گا؟ یہ خلیج ہی تو فساد کا سبب ہے۔ مسئلہ دہشت گردی سے زیادہ سہولت کاری کا ہے مسئلہ ذہن سازی کا ہے! کیا کچھ گروہوں کے کرتا دھرتا خود اس فکر میں نہیں مبتلا کہ ان کے وابستگان فلاں گروپ سے نہ جا ملیں؟ یہ نرسریاں کب تک پھولیں پھلیں گی؟ یہ نظریاتی سپلائی لائن کب تک قائم رہے گی؟ اس میں کیا شک ہے کہ بہت سے دہشت گرد جدید تعلیمی اداروں سے پڑھ کر اُٹھے ۔ لیکن اگر یہ ذہن سازی جدید تعلیمی اداروں میں ہوتی تو چند نہیں‘ لاکھوں نوجوان دہشت گرد ہوتے! یہ مائنڈ سیٹ کہیں اور ترویج پا رہا ہے!
حکمران کہتے ہیں ہم اپنے بہادر سپوتوں کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے اور جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے! فرماتے ہیں’’جن سفاک درندوں نے معصوم لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہیں وہ اور ان کے سہولت کار عبرت ناک انجام کو پہنچیں گے‘‘ آپ انہیں اور ان کے سہولت کاروں کو عبرت ناک انجام تک تبھی پہنچا سکیں گے جب آپ ان کی شناخت کر سکتے ہوں ! تو پھر قوم کو بھی بتائیے کہ وہ کون ہیں اور ان کے سہولت کار کون ہیں؟ قوم سے یہ حقائق خفیہ کیوں رکھے جا رہے ہیں؟ آپ خون کا بدلہ ضرور لیں گے! اب تک جو بدلہ یا بدلے لیے ہیں‘ ان کا بھی بتا دیجیے۔ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپ چین سے نہیں بیٹھیں گے! عالی جاہ! آپ کو آخری تو کیا‘ پہلے دہشت گرد کا بھی اتا پتا کچھ معلوم نہیں! آپ قوم کے زخموں پر نمک کیوں چھڑکتے ہیں؟
حکومت کی ایک ذمہ دار شخصیت نے کہا کہ ملک میں دس فیصد سے بھی کم مدارس دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ اس پر علمائے کرام نے اور مدارس چلانے والے بزرگوں نے بار بار پوچھا کہ دس فیصد سے کم وہ کون کون سے مدارس ہیں؟ ان کی تخصیص کی جائے۔ مگر قوم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ آخر سب مدارس کو کیوں بدنام کیا جا رہا ہے؟ اس میں کوئی اشتباہ نہیں کہ مدارس کی اکثریت ایسی وطن دشمن سرگرمیوں میں ہرگز ملوث نہیں۔ بھاری اکثریت مدارس کی ایسی ہے جہاں پڑھانے اور پڑھنے والے اتنے ہی محبِ وطن ہیں‘ جتنا کوئی اور پاکستانی! پھر اس قسم کے پراسراربیانات دے کر سب مدارس کو مشکوک کیوں کیا جا رہا ہے۔ کالی بھیڑوں کی نشان دہی نہ کرنے کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ سفید بھیڑوں کے آگے بھی سوالیہ نشان لگا دیا جائے!
سیسہ پلائی ہوئی دیوار!! یہ محاورہ ہمارے رہنما بہت استعمال کرتے ہیں! جب کہ حقیقت یہ ہے کہ نہ سیسہ پلائی ہوئی ہے اور نہ ہی دیوار کا وجود ہے!قوم فرقوں‘ گروہوں‘ طبقوں‘ نسلوں اور زبانوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ہر ایک کا منہ دوسری طرف ہے۔ لیڈر شپ کو ادراک ہی نہیں کہ ہم آہنگی مفقود ہے۔ ادراک ہو جائے تو شاید اقدامات بھی کر لیے جائیں مگر ادراک کیسے ہو؟ یہاں تو ترجیحات ہی اور ہیں    ؎
وہ شاخِ گُل پہ زمزموں کی دُھن تراشتے رہے
نشیمنوں سے بجلیوں کا کارواں گزر گیا

Monday, February 13, 2017

تعلیمی ادارے یا اکھا ڑے


سنگاپور میں تین قومیتیں آباد ہیں؛ چینی، مَلے (ملائیشیا کے اصل باشندے) اور انڈین۔ چینی تعداد میں سب سے زیادہ ہیں۔ دوسرے نمبر پر مَلے اور اس کے بعد انڈین۔ انڈین تقریباً تمام تامل ہیں۔ سنگاپور کا پہلا صدر ایک مَلے تھا۔ یوسف بن اسحاق جو 1965ء سے 1970ء تک صدارت پر فائز رہا۔ چھٹا صدر انڈین تامل تھا، ایس آر ناتھن!
آپ پورا سنگاپور گھوم جائیے، کوئی علاقہ، کوئی محلہ، کوئی سیکٹر ایسا نہیں ملے گا جہاں کسی ایک قومیت کے ماننے والے بھاری اکثریت میں ہوں۔ دوسرے لفظوں میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں علاقہ چینیوں کا گڑھ ہے، فلاں محلے میں مَلے رہتے ہیں اور انڈین لوگوں کی پاکٹ فلاں جگہ ہے۔ سنگاپور حکومت کی رہائشی پالیسی دنیا کی کامیاب ترین رہائشی پالیسیوں میں شمار ہوتی ہے۔ کسی بھی نئی آبادی کی منصوبہ بندی ہو تو وہاں تینوں قومیتوں کو سمویا جاتا ہے۔ نئے اپارٹمنٹوں پر مشتمل رہائشی بلاک زیر تعمیر ہوں تو ہر قومیت کے گھروں کی تعداد پہلے سے مقرر ہوگی۔ یعنی یہاں اتنے گھر چینیوں کے ہوں گے اور اتنے مَلے کے اور اتنے انڈین کے۔ اس پالیسی کے کئی فوائد ہیں۔ فسادات کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے کہ آبادی ہر جگہ مکسڈ ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے قریب آنے کے مواقع تینوں قومیتوں کو خوب ملتے ہیں۔ رہائشی اپارٹمنٹوں میں ایک دوسرے کے ساتھ ہونے کی وجہ سے وہ کھیل کے میدانوں میں اور سنٹرز میں ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ اس سے تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوتی ہے اور باہمی شادیاں بھی ہوتی ہیں۔
مشرقی پاکستان میں اردو بولنے والے مہاجرین سے ایک غلطی یہ بھی ہوئی کہ وہ اپنی الگ آبادیاں بسا بیٹھے۔ میر پور اور محمد پور میں غیر بنگالی نہ ہونے کے برابر تھے۔ فسادات ہوئے تو ان آبادیوں پر حملہ کرنا آسان تھا۔ بنگالی اور غیر بنگالی اسی سبب سے ایک دوسرے سے قریب بھی نہ ہوسکے۔ یہی صورت حال اب کراچی میں ہے۔ نسلی اور لسانی بنیادوں پر آبادیاں الگ الگ ہیں۔ یہ علاقہ پٹھانوں کا ہے تو وہ ہزارہ وال لوگوں کا، فلاں پاکٹ بلوچیوں کی ہے تو فلاں محلے اردو بولنے والوں کے۔ لاہور میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ لاہور کے مقتدر حلقوں میں وژن مفقود ہے ورنہ انہیں معلوم ہوتا کہ نسلی اور لسانی بنیادوں پر جو آبادیاں ابھر رہی ہیں کل وہ قیامت ڈھائیں گی۔ اور تو اور، غیر ملکی اپنی الگ بستیاں بسائے جا رہے ہیں!
ڈھاکہ ،کراچی اور لاہورجیسے بڑے شہروں کا کیا رونا! یہاں تو ایک یونیورسٹی کے چند ہوسٹلوں میں طلبہ کو کمرے اس وژن کے ساتھ نہیں الاٹ کیے جاسکتے کہ ان میں ہم آہنگی پیدا ہو۔ تین دن پیشتر لاہور میں جوفساد ہوا اور جس طرح طلبہ کے مختلف گروہ آپس میں برسر پیکار ہوئے اس کا احوال پڑھ کر یونیورسٹی انتظامیہ کی کوتاہ بینی پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگر انتظامیہ میں وژن ہوتا تو وہ مختلف ہوسٹلوں کو مختلف گروہوں کے گڑھ نہ بننے دیتی۔ نسلی بنیادوں پر نہ لسانی حوالے سے اور نہ ہی مذہبی یا سیاسی  پارٹیوں کے نکتہ نظر سے۔ اب اگر ایک ہوسٹل ایک مذہبی تنظیم کا گڑھ ہے اور دوسرے میں ایک خاص علاقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی اکثریت ہے تو اس عدم توازن کی ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ کے ضعف بصیرت اور ضعف بصارت پر ہے۔ خدا کے بندو! عقل کے ناخن لو۔ کسی ایک ہوسٹل کو کسی ایک گروہ کا گڑھ نہ بننے دو۔ کمروں کی الاٹمنٹ کرتے وقت ایسی عینک لگائو کہ دس فٹ دور نہیں تو چار فٹ دور تک تو دیکھ سکو۔
اس کالم نگار کی اور اس روزنامے کی، طلبہ کے کسی گروہ سے، خواہ وہ مذہبی ہے یا لسانی یا علاقائی، کوئی مخالفت ہے نہ مخاصمت! ہمارے نزدیک ہر پاکستانی قابل احترام ہے اور محبت کیے جانے کے قابل! یونیورسٹیاں ہماری نظر میں مقدس ہیں اس لیے کہ وہ علم کے حوالے سے ہماری مائیں ہیں۔ اسی لئے تو انہیں’’الما میٹر‘‘
(ALMA MATAR) 
کہا جاتا ہے۔ قدیم لاطینی میں’’الما‘‘ مہربان کو کہا جاتا ہے اور میٹر کا لفظ ماں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یعنی مادر مہرباں! اصلاً  یہ لفظ دیوی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یونیورسٹی کے لیے پہلی بار اس کا اطلاق بولونا یونیورسٹی پر ہوا۔ شمالی اٹلی کی یہ یونیورسٹی 1088ء میں بنی۔ اسے
ALMA-MATER-STUDIORUM
 کا نام دیا گیا۔ یعنی تعلیم کی مادر مشفق! الماہی سے آلمنائی کا لفظ ہے جو ان دنوں کسی ادارے کے سابق طلبہ اپنی انجمن کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
رہے طلبہ تو وہ جس مذہبی تنظیم سے بھی تعلق رکھتے ہوں، جس علاقے سے بھی ہوں، جو زبان بھی بولتے ہوں، جو نسل بھی ان کی شناخت ہو، جس سیاسی نظریے کے بھی وہ علمبردار ہوں، ہمارے لیے وہ پاکستان کے مستقبل کی روشن علامت ہیں! وہ ہمارے بچے ہیں، ہماری آنکھوں کے تارے اور لخت ہائے جگر ہیں! ان کی سلامتی تمام مصلحتوں پر بھاری ہے!
یونیورسٹیوں کی تقدیس اور طلبہ کی سلامتی۔۔۔۔ یہ دو پہلو ہیں جو بنیادی ہیں۔ یہ دونوں پہلو کسی اور شے پر قربان کر دیے گئے تو یونیورسٹی، یونیورسٹی نہیں رہے گی اور طلبہ کی سلامتی خطرے میںپڑ جائے گی۔ اس لیے یونیورسٹی انتظامیہ کا یہ کہنا کہ چونکہ فلاں تنظیم نے تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے وعدہ کیا ہے اس لیے اس کے بدلے میںاس کے خلاف کوئی سخت ایکشن نہیں لیا جائے گا، ایک ایسی بات ہے جو متاثر نہیں کرتی۔ یونیورسٹی کے اندر تعلیمی سرگرمیوں کا فروغ، طلبہ کی کسی تنظیم کی نہیں، یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے۔ فرض کیجئے، یونیورسٹی میں طلبہ کی دس مذہبی تنظیمیں ہوں اور ہر تنظیم اپنے طور پر تعلیمی سرگرمیوں کا فروغ چاہے تو یونیورسٹی کی حالت کیا ہو جائے گی؟ اس لیے کہ ہر مذہبی تنظیم کا تعلیم کے بارے میں اپنا مخصوص نکتہ نظر ہے۔ یہ نکتہ نظر، دوسری تنظیم کے نکتہ نظر سے متحارب بھی ہو سکتا ہے۔ نتیجہ معاصرت، مخاصمت اور جنگ و جدل کے سوا کچھ اور نکل ہی نہیں سکتا! پھر کسی بھی خاص تنظیم کے لوگو
 (LOGO) 
اور جھنڈے، یونیورسٹی کے درودیوار پر غالب کیوں نظر آئیں؟ آخر ایک یونیورسٹی کتنے 
LOGO
 اور کتنے جھنڈے برداشت کرسکتی ہے؟ اگر یونیورسٹی ماں ہے تو اس کے نزدیک سب بچے یکساں سلوک کے مستحق ہونے چاہئیں۔ یونیورسٹی کسی ایک گروہ کو کیسے یہ اختیار دے سکتی ہے کہ وہ طلبہ کی زندگیوں کو کنٹرول کرے؟ اور فیصلہ کرے کہ ایک طالب علم کس سے بات کرسکتا ہے اور کس سے نہیں۔ حد درجہ بودی اور ضعیف ہے وہ انتظامیہ جو طلبہ کوکسی ایک گروہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دے اور اپنے وجود کو بے اثر کردے! کوئی گروہ، کوئی تنظیم یہ حق نہیں رکھتی کہ اپنا نکتہ نظر دوسروں پر مسلط کرے۔ پھر تسلط کی اس کوشش میں اگر طاقت کا بے رحم استعمال بھی شامل ہو جائے تو صورتحال ازحد مایوس کن ہے! ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادارے کی انتظامیہ صرف تماشائی ہے؟ افسوس ہے ایسے تعلیمی ادارے پر جس کے اندر پولیس کو آنا پڑے۔
مذاکرات حریفوں سے ہوتے ہیں، اپنے بچوں سے نہیں ہوتے۔ مذاکرات دو برابر فریقوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی کے اساتذہ طلبہ کے برابر کیسے ہوسکتے ہیں؟ ایک استاد باپ کا درجہ رکھتا ہے۔ طالب علم اس کا فرزند ہے۔ فرزند کی سعادت اس میں ہے کہ وہ اپنے استاد کا، جو اس کا روحانی باپ ہے، ہر حال میں حکم مانے اور بلاچون و چرا مانے۔ اگر ایسا نہیں کرے گا تو علم اس سے روٹھ جائے گا! علم سیکھنے کے لیے لازم ہے کہ استاد کو برتر اور مقدس مانا جائے۔ اس کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کیا جائے۔ ہاں علمی موضوع پر بحث مباحثہ اور چیز ہے۔ یہ تعلیمی عمل کا حصہ ہے!
آخر ایک یونیورسٹی میں علاقوں اور صوبوں کے حوالے سے تنظیموں کا کیا کام ہے؟ تعلیمی ترقی کی تحریک 
(Educational Development Movement)
 خواہ وہ پنجابی ہو یا سندھی یا بلوچی یا پختون یا سرائیکی یا کشمیری، ایک جامعہ میں قائم ہی کیوں کی جائے؟ یونیورسٹی تو خود تعلیمی ترقی کی تحریک ہے! تحریک کے اندر ایک اور تحریک کا کیا مطلب؟ علم کسی صوبے یا کسی زبان کو نہیں مانتا۔ وہ سب کو ایک آنکھ سے دیکھتا ہے۔ اگر کسی خاص علاقے یا زبان کے حوالے سے کوئی تنظیم بنے گی تو اس کا مطلب واضح ہے کہ اس میں سارے طلبہ شامل نہیں ہو سکتے۔ صرف وہ خاص زبان بولنے والے یا اس خاص علاقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ ہی اس کے رکن بن سکتے ہیں۔ نہیںٖ! ایسی دیواریں کھڑی کرنا علم کے چاہنے والوں کو زیب نہیں دیتا۔ اگر انتظامیہ ایسی دیواریں کھڑی کرنے کی اور ایسی Pockets بنانے کی اجازت دیتی ہے تو ہمدردی کی مستحق ہے ایسی انتظامیہ! پھر تو کار طفلاں تمام خواہد شد! سنور چکا طلبہ کا مستقبل!!
ہم کیمبرج، آکسفورڈ اور ہارورڈ تو بنانے سے رہے، کم از کم جو بری بھلی یونیورسٹیاں موجود ہیں انہیں تو یونیورسٹیاں رہنے دیں! اکھاڑے نہ بنائیں!!

Saturday, February 11, 2017

ہم 1861ء میں جی رہے ہیں

بنیادی سوال یہ ہے کہ پولیس خدمت کے لیے ہے یا حکمرانی کے لیے؟
جن ملکوں میں پولیس کا کردار عوامی اور جمہوری ہے وہاں پولیس خود سائل کے پاس آتی ہے۔ ہمارے ہاں سائل کو تھانے جانا پڑتا ہے۔
1857ء میں ہندوستان نے انگڑائی لی مگر بات نہ بنی۔ جنگ آزادی کی رہنمائی کے لیے کوئی مرکزی کمانڈ نہ تھی۔ مختلف محاذ کھلے ہوئے تھے جن کے اپنے اپنے کمانڈر تھے۔ دوسری طرف انگریزی حکومت ایک نظام‘ ایک مرکزی اتھارٹی کے تحت باغیوں کا مقابلہ کر رہی تھی۔ باغی شکست کھا گئے۔ پھر داروگیر کا طویل سلسلہ چلا۔ پھانسیاں دی گئیں۔ جائیدادوں پر ہل چلائے گئے۔ قید و بند کے سلسلے شروع ہوئے۔ چار سال بعد انگریزی حکومت نے پولیس کا 1861ء ایکٹ پاس کیا جس میں پولیس کو سامراج کی خدمت کا کردار دیا گیا۔ اس کا کام تھا مخبری کا نظام قائم کر کے مخالفین کو کچلنا۔ اس ایکٹ کے سیکشن 23 میں پولیس کے جن فرائض کا ذکر ہے، اس میں یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ بغیر وارنٹ کے کسی بھی چار دیواری میں داخل ہو سکتی ہے۔ اسے اوپر سے موصول شدہ تمام احکام کو ماننا ہو گا اور خفیہ اطلاعات (انٹیلی جنس) کو جمع کرنا ہو گا۔ آج اگر پولیس کہے کہ اس کے علاوہ اس کے فرائض میں کچھ نہیں تو حق بجانب ہے۔ اس کے فرائض (ڈیوٹی)کے چارٹر میں جب تک توسیع نہ ہو گی وہ صرف حکومت کی خدمت میں لگی رہے گی۔
عوام کو پولیس پراعتماد بالکل نہیں! بے شمار متاثرین اس خوف کے مارے پولیس کے پاس نہیں جاتے کہ ان کے مسائل اور مصائب میں اضافہ ہو گا۔1861ء کے ایکٹ کا سب سے بڑا سقم یہ ہے کہ پولیس کو عوام سے رابطہ کرنے کا پابند نہیں کیا گیا۔ الٹا عوام کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ پولیس کے احکام کی اطاعت کریں، سزا ہر حال میں کمیونٹی ہی کو ملتی ہے۔ ایک بچے کو بھی معلوم ہے کہ 1861ء میں کیا حالات تھے اور اب کیا ہیں۔ اب جمہوریت کا نظام ہے، عوام اپنے حکمرانوں کو خود منتخب کرتے ہیں، اس بدلی ہوئی صورتِ حال میں پولیس کے حوالے سے بھی عوام کو اختیار حاصل ہونا چاہیے۔ دوسرے ملکوں میں یہی ہو رہا ہے۔ جنوبی افریقہ کے آئین میں یہ شق رکھی گئی ہے کہ ہر صوبے کی یہ باقاعدہ ’’سیاسی ذمہ داری‘‘ ہے کہ پولیس اور کمیونٹی کے درمیان اچھے تعلقات قائم کرے۔ اگر ان تعلقات میں رخنہ پیدا ہو تو باقاعدہ ایک کمیشن بنایا جائے گا جو اسباب کا کھوج لگائے گا۔ 1995ء میں ’’سائوتھ افریقہ پولیس ایکٹ‘‘ پاس کیا گیا جس کی رُو سے ہر تھانے میں ’’عوامی پولیس فورم‘‘ قائم کیا گیا ہے۔ یہ فورم عوام اور پولیس کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔ اس فورم کے ذریعے پولیس اپنے علاقے کے عوام کو جواب دہ ہے اور امن و امان کا کام ’’شراکت داری‘‘ کی صورت میں سرانجام دیا جاتا ہے۔ یعنی دونوں برابر کے پارٹنر ہیں! پھر یہ جو ہر تھانے میں فورم کام کرتے ہیں ان کے نمائندے ’’ایریا بورڈ‘‘ میں جاتے ہیں۔ وہاں بحث و تمحیص ہوتی ہے اور پولیس اور عوامی نمائندے مل کر لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔ پھر ان بورڈز کے نمائندے صوبائی ہیڈ کوارٹر کے بورڈ میں شرکت کرتے ہیں۔ یوں درجہ بہ درجہ تھانے سے لے کر ضلع اور ڈویژن تک اور پھر صوبائی دارالحکومت تک ہر جگہ پولیس کو عوام کے ساتھ مل کر کام کرنا پڑتا ہے۔ فورم اور بورڈ کے اجلاسوں میں عوام کے نمائندے پولیس کی کارکردگی پر اور رویے پر کھل کر تنقید کرتے ہیں۔ پولیس یہ سب کچھ سنتی ہے۔ اس تنقید کی روشنی میں اپنی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے اور رویے کو مزید مثبت کرتی ہے!
برطانیہ کو لے لیجیے۔ وہاں بھی قانون پولیس کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی عوام کا نکتہ نظر معلوم کرے۔ یہ پولیس کا فرض ہے کہ وہ جرائم کی روک تھام میں عوام کا تعاون حاصل کرے۔
2002ء میں برطانیہ میں ایک بالکل نئی قسم کا قانون پاس کیا گیا۔ اس کی رو سے پولیس کے کچھ اختیارات عوام کو سونپے گئے ہیں۔ پولیس کا سربراہ شہریوں میں سے کچھ حضرات کو ’’مدد گار سٹاف‘‘ کے طور پر باقاعدہ تعینات کرتا ہے۔ اس سول سٹاف کو اختیار ہے کہ وہ غلط کردار رکھنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ سول کے یہ افراد مخصوص حالات میں شراب اور تمباکو ضبط کر سکتے ہیں۔ گاڑیوں کو پکڑ سکتے ہیں اور ٹریفک کا نظام اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔
یہی صورت حال کینیڈا میں ہے۔ قانون پولیس کو پابند کرتا ہے کہ وہ شہریوں کو کام میں شریک کریں۔ ’’برٹش کولمبیا‘‘ کینیڈا کا وہ صوبہ ہے جو بحرالکاہل کے ساحل پر واقع ہے۔ یہ کینیڈا کا مغربی حصہ ہے۔ خوبصورتی میں یہ جنت نظیر ہے۔ اس قدر کہ اسے بی بی سی یعنی ’’بیوٹی فل برٹش کولمبیا‘‘ کہتے ہیں۔ اس کا صدر مقام وکٹوریہ ایک چھوٹ سا جزیرہ ہے تاہم وینکوور بڑا شہر ہے۔ کئی سال تک وینکوور دنیا کے بہترین رہائشی شہروں 
(Best - Liveable-Places)
میں پہلے نمبر پر آتا رہا۔اب کچھ عرصہ سے یہ امتیاز میبلورن نے حاصل کر لیا ہے۔ ویانا بھی پہلے یا دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس صوبے میں باقاعدہ ’’پولیس  کمیٹیاں‘‘ بنتی ہیں۔ ان کمیٹیوں کا کام ہی یہ ہے کہ وہ شہریوں اور پولیس کے درمیان پل کا کردار ادا کریں اور شہریوں کو پولیس کی کارکردگی سے باخبر رکھیں۔ ان کمیٹیوں میں شہریوں کو باقاعدہ رکن بنایا جاتا ہے اور ان کا انتخاب میونسپل کونسلیں کرتی ہیں۔ ان کمیٹیوں کی کارکردگی سے متعلقہ وزیر کو باخبر رکھاجاتا ہے اور اسے یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ شہریوں کی امیدیں کیا ہیں‘ وہ مطالبات کیا کیا کر رہے ہیں اور یہ امیدیں اور مطالبات کہاں تک پورے کیے جا چکے ہیں۔
ان مہذب ترقی یافتہ ملکوں میں پولیس کے سربراہ کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنی تعیناتی کی مدت پوری کرے گا۔ اسے کسی وزیر اعلیٰ کے ذہن میں اٹھنے والی اتفاقی لہر کے نتیجے میں نہیں ہٹایا جا سکتا۔ اس کے کام میں سیاسی مداخلت نہیں ہوتی۔ تھانے نہیں بکتے نہ ہی تھانیدار اوپر سے احکام لے کر اپنے افسر کے سامنے اکڑ کر چل سکتا ہے!
بجا کہ پولیس کا سربراہ صوبائی حکومت کے تحت کام کرتا ہے۔ مگر کیا صوبائی حکومت اس ضمن میں من مانی کرے گی؟ جی ہاں! پاکستان میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ پولیس کا صوبائی سربراہ وزیر اعلیٰ کی انگلی کے ایک اشارے کا اسیر ہے۔
بھارت میں 1979ء میں ایک ’’نیشنل پولیس کمیشن‘‘ بنایا گیا جس نے ایک ’’ماڈل ایکٹ‘‘ پیش کیا۔ بھارت کی بہت سی ریاستوں نے اس کمیشن کی تجاویز سے فائدہ اٹھایا اور 1861ء کے ایکٹ میں مناسب ترامیم کیں۔ تاہم یہ کہنا درست نہ ہو گا کہ بھارت1861ء کے ایکٹ سے پوری طرح جان چھڑا چکا ہے۔ اس کمیشن نے پولیس کے صوبائی سربراہ کو صوبائی حکومت کی ’’آمریت‘‘ سے بچانے کے لیے ایک قانونی ادارہ (باڈی) تجویز کیا جسے ریاستی یعنی ’’صوبائی سکیورٹی کمیشن‘‘ کا نام دیا گیا۔ صوبائی حکمران اعلیٰ کے بجائے یہ ادارہ پولیس کی نگرانی کرے گا۔ متعلقہ صوبائی وزیر (یعنی وزیر داخلہ) اس باڈی کا چیئرمین ہو گا۔ دو ارکان صوبائی اسمبلی سے لیے جائیں گے۔ ایک حزب اقتدار سے اور دوسرا حزب اختلاف سے! چار ارکان‘ صوبائی وزیر اعلیٰ‘ صوبائی اسمبلی کی منظوری سے نامزد کرے گا۔ یہ چار ارکان ریٹائرڈ ججوں سے‘ بیورو کریسی سے یا معاشرے کے تعلیم یافتہ افراد سے ہوں گے۔ یہ ادارہ پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔ ایس پی اور اس سے اوپر کے پولیس افسران اِس ادارے کے پاس جا کر فریاد کر سکیں گے کہ ان پر حکومت کی طرف سے ناجائز دبائو ڈالا جا رہا ہے۔
اس پولیس کمیشن نے یہ بھی سفارش کی کہ پولیس کا صوبائی سربراہ تعینات کرتے وقت فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو‘ وفاقی سیکرٹری داخلہ کو، صوبائی چیف سیکرٹری کو اور موجودہ پولیس چیف کو فیصلے میں شریک کیا جائے۔
انصاف کی بات یہ ہے کہ ہماری پولیس مظلوم ہے۔ افسر سیاسی حکومت کے سامنے بے بس ہیں اور جوان افسروں کے سامنے بے بس! گزشتہ برس سرکاری پارٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے لشکر نما جتھہ لے کر ایک تھانے پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں عتاب کا نشانہ تھانیدار ہی بنا! پولیس کے سینکڑوں جوان افسروں کی رہائش گاہوں کے سامنے خیمے لگا کر حالتِ جنگ میں رہ رہے ہیں۔ چوبیس گھنٹے شفٹیں چلتیں ہیں۔ یہ خیمے حاضر پولیس افسروں کے محلات کے سامنے تو ہیں ہی‘ ریٹائرڈ پولیس افسران اور وہ بھی جو پولیس کے محکمے سے دوسرے محکموں میں چلے گئے ہیں‘ اس ’’خیمہ پہریداری‘‘ سے مستفید ہو رہے ہیں۔ وی آئی پی نقل و حرکت کے دوران پولیس کے یہ جوان گھنٹوں نہیں پہروں دو پائوں پر شاہراہوں کے کنارے نصب رہتے ہیں۔ ان کے کھانے پینے کی کسی کو پروا نہیں! ڈیوٹی ختم ہونے پر یہ پبلک سے لفٹ لے کر واپس ٹھکانے پر پہنچتے ہیں۔
ملک بھر میں پولیس کے ہزاروں جوان اور افسر حکمرانوں اور ان کے رشتہ داروں کے محلات پر ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ لاتعداد سیاست دان ان سرکاری پہریداروں سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پولیس کو فرائض کی سرانجام دہی میں آزادی بالکل حاصل نہیںٖ! سیاسی مداخلت بھر پور ہے۔ عوام ان سے نفرت کرتے ہیں۔ ناکوں پر انہیں برا بھلا کہا جاتا ہے۔ اس سے پولیس میں مایوسی اور بد دلی پھیلی ہوئی ہے۔ اگر پولیس مجرموں کے ساتھ مل جاتی ہے اور کار چوروں کے ساتھ اتحاد کر لیتی ہے تو یہ اس مایوسی اور بددلی کا ردِ عمل ہے۔ ہر عمل کا ایک ردِ عمل ہوتا ہے۔ جو کچھ پولیس کے ساتھ حکومت اور معاشرہ کر رہا ہے‘ پولیس اس کے ردِ عمل میں شعوری یا غیر شعوری طور پر انتقام لے سکتی ہے اور لیتی ہے۔ پولیس پتھروں پر نہیں‘ گوشت پوست کے انسانوں پر مشتمل ہے۔

Thursday, February 09, 2017

سٹیٹس کو! سٹیٹس کو!

وارن ہیسٹنگز  ہندوستان کا پہلا باقاعدہ انگریز گورنر تھا۔ وہ 1772ء سے 1785ء تک اس منصب پر فائز رہا۔ آخری انگریز حکمران مائونٹ بیٹن تھا جس کے عہد میں بّرِصغیر تقسیم ہوا اور پاکستان اور بھارت دو الگ الگ ملک وجود میں آئے۔
وارن ہیسٹنگز سے لے کر مائونٹ بیٹن تک کل 44 انگریزوں نے ہندوستان پر حکومت کی۔ ان 44 حکمرانوں میں کیا قدرِ مشترک تھی؟ سفید چمڑی رکھنے اور برطانوی ہونے کے علاوہ ان سب میں ایک صفت مشترک تھی۔ یہ سب ہندوستان میں صرف حکومت کرنے کے لیے آئے تھے۔ اس کے علاوہ بّرِصغیر میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کی جائیدادیں‘ ان کا کاروبار‘ ان کے گھر‘ ان کے خاندان سب برطانیہ میں تھے۔ یہ ملکہ سے حکومت کرنے کا پروانہ وصول کرتے۔ بحری جہاز میں بیٹھتے‘ کلکتہ‘ ہگلی یا مدراس آ کر اترتے۔ دارالحکومت پہنچ کر چارج لیتے۔چند برس حکومت کرتے۔ پھر زمامِ اقتدار جانشین کے حوالے کرتے‘ جہاز میں بیٹھتے اور واپس برطانیہ پہنچ کر دم لیتے۔
ایک اور قدرِ مشترک یہ تھی کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بّرِصغیر میں ان کا قیام عارضی ہے‘ ان حکمرانوں نے دل لگا کر کام کیا۔ خوب محنت کی۔ رات دن ایک کیا اور ملکہ سے اور برطانوی پرچم سے وفاداری ثابت کرکے دکھائی۔ جنگی فتوحات حاصل کیں۔ نظم و نسق میں نئے تصورات کو بروئے کار لائے۔ روس اور افغانستان سے معاملات طے کیے۔ ٹھگی کا انسداد کیا۔ ریلوے کا سسٹم قائم کیا۔ ڈاک خانے بنائے۔ ایک مستحکم مالیاتی نظام دیا۔ ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جس نے اپنے جانشین کو چارج دینے میں پس و پیش کیا ہو۔
تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ آج پھر ہمارے پاس ایک پوری کھیپ ایسے لیڈروں کی ہے جن کی پاکستان میں دلچسپی صرف اور صرف حکومت میں رہنے سے اور حکومت کرنے سے ہے۔ ان حضرات کی جائیدادیں‘ بینک بیلنس‘ کاروبار‘ رہائش گاہیں سب دساور میں ہیں۔ ان کی سرگرمیاں لندن سے لے کر نیو یارک تک اور دبئی سے لے کر جدّہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ الطاف حسین کا نام ان میں سرِ فہرست ہے مگر کئی لحاظ سے ان کا معاملہ مختلف ہے۔ دو عشروں سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے کہ وہ لندن میں مقیم ہیں۔ ان کی جائیداد وہیں ہے۔ وہیں سے انہوں نے ایک طاقت ور سیاسی پارٹی کو کنٹرول کیا جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا طویل عرصہ تک حصّہ رہی۔ اختلاف کی گنجائش سو فیصد موجود ہے مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کا ووٹ بینک یہاں مضبوط تھا۔ بُرا یا بھلا‘ ان کا ایک نظریہ بھی تھا۔ بہر طور پر اب وہ تاریخ کی گرد میں چُھپ چکے ہیں۔ بظاہر ان کی سیاسی سرگرمیوں کا احیا ممکن نہیں لگ رہا!
اس کھیپ میں آصف علی زرداری‘ جنرل پرویز مشرف اور عشرت العباد کے نام نمایاں ہیں۔ آپ چاہیں تو اس فہرست میں سربراہ حکومت کا نام بھی شامل کر سکتے ہیں۔ آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ اگر کبھی وہ اقتدار کی بلندی سے نیچے اترے تو لندن ہی کو اپنا مسکن بنائیں گے۔ رہائش گاہوں سے لے کر کاروبار تک ان کا اور ان کے خاندان کا ہیڈ کوارٹر لندن ہی نظر آتا ہے۔
ان سب حضرات میں ایک قدر مشترک اور بھی ہے۔ ان کا کوئی نظریہ نہیں سوائے اس کے کہ کسی نہ کسی طور پر وہ حکومت میں آ جائیں۔ ان کے ذہنوں میں ملکی ترقی کا کوئی پروگرام نہیں۔ ملک افرادی قوت کے اعتبار سے کیسے ترقی کرے گا؟ صحت اور تعلیم کے سوشل سیکٹرز میں انقلاب کیسے لایا جائے گا؟ زرعی اصلاحات کیا ہوں گی؟ کیسے نافذ ہوں گی؟ زراعت کو جدید ترین شکل کس طرح دی جائے گی؟ ملک میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور عوام میں عدم تحفظ کا روز افزوں احساس کیسے ختم کیا جائے گا؟ غیر ملکی قرضوں کے مہیب چُنگل سے کیسے باہر نکلا جا سکے گا؟ پنچایتوں اور جرگوں کے فرسودہ دور سے ملک کو کیسے باہر نکالا جائے گا؟ قبائلی علاقوں کو تعلیم اور صنعت و حرفت کے حوالے سے نئے دور میں کیسے داخل کیا جا سکے گا؟ یہ اور اس قبیل کے بہت سے اور سوالات ہیں جن کا ان لیڈروں کے پاس کوئی جواب نہیں۔ ان حضرات کی ذہنی سطح اتنی گہرائی کی متحمل ہی نہیں ہو سکتی!
آپ قوم کی بدقسمتی کا انداز اس خبر سے لگائیے جو دبئی میں ہونے والی ’’سیاسی ہلچل‘‘ کا تذکرہ کر رہی ہے!’’آل پاکستان مسلم لیگ‘‘ کے ’’سربراہ‘‘ پرویز مشرف سے چوہدری شجاعت اور پیر پگاڑا نے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔ یہ مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کو یکجا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ حکومت مخالف گرینڈ اتحاد بنانا چاہتے ہیں۔ سابق صدر جنرل مشرف نے چوہدری شجاعت کو ایک راز کی بات بھی بتائی کہ ان کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔ ان سے کوئی پوچھے کہ جی تو آپ پاکستان سے باہر رہے ہیں۔ مرنے کے بعد ملک کے کس کام آئیں گے؟ اس خبر کا دوسرا حصّہ پہلے سے بھی زیادہ مضحکہ خیز ہے۔ پیر پگاڑا اور سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے درمیان بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ چوہدری شجاعت پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے۔
یہ سب حضرات سالہا سال برسرِ اقتدار رہے۔ پیپلز پارٹی کئی عشروں سے سندھ پر حکومت کر رہی ہے۔ زرداری صاحب پورے پانچ سال ریاست کے سربراہ رہے۔ چوہدری شجاعت کچھ عرصہ وزیر اعظم رہنے کے علاوہ بارہا وفاقی وزیر رہے۔ جنرل پرویز مشرف کے پورے عہدِ اقتدار میں چوہدری صاحب ان کے دستِ راست رہے۔ عشرت العباد نے طویل ترین مدت تک گورنر رہنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ پیر پگاڑا کنگ میکر ہیں۔ مگر ان سب حضرات نے کوئی ایک بھی ایسا قابلِ ذکر کارنامہ انجام نہیں دیا کہ تاریخ ان کا تذکرہ چند سطروں کے علاوہ کر سکے۔ تاریخ ان حضرات میں سے کسی کو بھی مہاتیر یا لی کوان پیو کا درجہ نہیں دے گی۔ کیا ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا ہے جو پڑھی لکھی مڈل کلاس کے لیے کشش رکھتا ہو؟ کیا ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا ہے جو جدید دور میں رہنے والے تارکینِ وطن کے لیے امید کا سہارا بن سکے؟ جنرل پرویز مشرف ایک عشرے تک سیاہ و سفید کے مالک رہے کوئی ایک کارنامہ بھی ان کے نامۂ اعمال میں نہیں۔ ڈپٹی کمشنر کے فرسودہ نظام کو بدلنے کی کوشش کی مگر اتنی کچی بنیاد پر کہ بعد میں آنے والوں نے ایک اینٹ ہٹائی تو نیا نظام دھڑام سے زمین پر آ گرا۔ اب کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کادو سو سال پراناطوق پھر عوام کی گردن میں ڈال دیا گیا ہے۔
اس کے باوجود اس قسم کے گرینڈ اتحاد کی کامیابی کا امکان خارج از امکان نہیں کیوں کہ انتخابات میں برادریوں‘ دوستیوں رشتہ داریوں کا کردار کسی بھی دوسرے محرک سے کہیں زیادہ ہے۔ مسلم لیگ قاف‘ جاٹ برادری کے ووٹ آسانی سے حاصل کر سکتی ہے۔ مسلم لیگ نون کے ساتھ کشمیری برادری کا نام آتا ہے۔ اور تو اور اعجاز الحق صاحب بھی اس حلقے سے انتخاب جیت جاتے ہیں جہاں ارائیں برادری کا زور ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی برادری مدارس اور اہلِ مدارس پر مشتمل ہے۔ یہ ایک حد درجہ مضبوط برادری ہے‘ جس کی فصیل کو بظاہر کسی کمند سے زیر نہیں کیا جا سکتا! اسفند یار ولی کی ساری کائنات نسلی اور لسانی سیاست کے ایک بلبلے میں بند ہے۔ ان کی زبان سے آج تک اصلاحات یا ترقی کے کسی پروگرام کا ذکر نہیں سنا گیا! پیر پگاڑا کے مرید ان کے ایک اشارے پر جان قربان کرنے کو تیار ہیں‘ ووٹ ان کے حکم سے کسی کو دینا تو معمولی بات ہے۔ اس میں مریدوں کی سوچ سمجھ کا کوئی کردار نہیں! یہ تمام لیڈر سٹیٹس کو کے علم بردار ہیں! 
لے دے کر پیش منظر پر عمران خان کے سوا کوئی اور لیڈر ایسا نہیں نظر آتا جو اصلاحات لا سکے۔ یہ الگ بات کہ زرعی اصلاحات کا تذکرہ عمران خان نے بھی آج تک نہیں کیا۔ جنوب میں مصطفی کمال امید کی ایک شمع بن کر جلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس میں سٹیٹس کو سے لڑنے کے آثار دکھائی دیتے ہیں اگر وہ کچھ وقت جنوبی سندھ کے علاوہ دوسرے صوبوں کو دے تو کیا عجب کہ تبدیلی کی خواہش رکھنے والے عوام میں مقبول ہو جائے ! کیا عجب وہ کراچی کی سیاسی حرکیات
(Dynamics)
کو کچھ دیر بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی سطح پر سوچے اور عمران خان کے ساتھ اتحاد کر لے    ؎
فَلک کو بار بار اہلِ زمیں یوں دیکھتے ہیں
کہ جیسے غیب سے کوئی سوار آنے لگا ہے

Monday, February 06, 2017

دُنیا میں سب سے بڑی تسلّی کیا ہے؟


دونوں لڑکوں نے ایک ہی بات کہی کہ بچوں کے لیے کھلونے لانے کی کوئی ضرورت نہیں! دلیل دونوں کی الگ الگ تھی۔ بڑے کا کہنا تھا کہ کھلونے گھر میں بہت ہیں۔ کمرے بھرے پڑے ہیں۔ بچوں کے نزدیک کھلونوں کی کوئی وقعت نہیں۔ آدھ گھنٹہ کھیلنے کے بعد بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مہنگے ہیں اور کوالٹی بھی مشکوک۔ اس کا خیال تھا کہ وہ خرید کر ایئرپورٹ لے آئے گا اور ہم پہنچیں گے تو ہمیں دے دے گا، گویا کہ ہم لائے ہیں۔ مگر دادا نے کہ گرم و سرد چشیدہ تھا‘ بات نہ مانی! کھلونے پاکستان سے خریدے۔ چاروں کے ایک جیسے! حمزہ نے فرمائش کی تھی کہ کالے رنگ کی گاڑی ہو اور ریموٹ کنٹرول والی ہو۔ چنانچہ چاروں کے لیے گاڑیاں ہی لی گئیں۔ ہاں، رنگ مختلف تھے۔ حمزہ باپ اور ماں کے ساتھ ایئرپورٹ آیا ہوا تھا۔ تیمور اور اس کا باپ میلبورن سے ڈیڑھ گھنٹہ کی مسافت پر تھے اور ابھی راستے میں تھے۔ پھر وہی ہوا جو دادا کو معلوم تھا۔ پانچ منٹ صبر کرنے کے بعد حمزہ نے پوچھا: ’’میری کالی کار کہاں ہے؟‘‘۔ اُسے بتایا کہ سلیٹی رنگ کے اٹیچی کیس میں پڑی ہے۔ وہ اٹیچی کیس کے پاس گیا اور اسے ہاتھ لگایا۔
’’گھر پہنچ کر اُسے چلاتے ہیں‘‘۔ دادا نے کہا۔
شادابی اس کے معصوم چہرے پر پھیل گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ گھر پہنچے تو وہ گاڑی میں سو چکا تھا۔ صبح اُٹھ کر سب سے پہلے اس نے گاڑی کا پوچھا۔
بچے دنیا میں دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ خوش بخت جن کے نانا‘ نانی‘ دادا‘ دادی حیات ہوتے ہیں اور ان بچوں کو ان کے پاس یا قریب رہنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جو اس ناقابلِ بیان نعمت سے محروم ہوتے ہیں یا محروم رہ جاتے ہیں۔ دوسری طرف کا معاملہ ذرا سا پیچیدہ ہے۔ جن کے پوتے‘ پوتیاں‘ نواسے‘ نواسیاں نہیں ہوتے‘ وہ جانتے ہی نہیں کہ یہ پھل کیسا ہے‘ اس کی مٹھاس کتنی آسمانی ہے اور اس کا ذائقہ کتنا بہشتی ہے۔ جس طرح ماں کے پیٹ میں مقید بچے کو سمجھانا ناممکن ہے کہ دُنیا میں درخت کیسے ہیں اور جہاز اور ٹرین کیسی ہے‘ اسی طرح، بالکل اسی طرح‘ جو دادا یا نانا نہیں ہے‘ اسے یہ باور کرانا ممکن ہی نہیں! وہ جنہیں زندگی اتنی مہلت دے دیتی ہے کہ وہ اِس پھل کو دیکھیں اور چکھیں‘ خوش قسمت ہیں! دُنیا میں جتنی بھی فرحت بخش نعمتیں ہیں جیسے کڑکتی‘ چلچلاتی دُھوپ میں خنک سایہ‘ جیسے شدت کی پیاس میں ٹھنڈا میٹھا پانی‘ جیسے مہینوں کے سمندری سفر کے بعد کنارے کا نظر آنا‘ ان سب نعمتوں میں بچوں کے بچوں کا ہونا اور ان کی قربت سرِفہرست ہے۔ شہنشاہ اکبر نے بیربل سے پوچھا تھا: ’’مجھے بتائو‘ دنیا میں انسان کے لیے سب سے بڑی تسلّی کیا ہے؟‘‘ بیربل نے ایک لمبی سرد آہ بھر کر جواب دیا تھا کہ جہاں پناہ! یہ اس وقت ہاتھ آتی ہے جب ایک باپ اولاد سے بغل گیر ہوتا ہے! اس اولاد کی اولاد سے بغل گیر ہونا‘ اس سے بھی بڑی تسلّی ہے۔ یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا نعم البدل دولت ہے نہ مرغّن کھانے نہ اقتدار! ایک نواب نے اپنے ایک بچپن کے دوست سے‘ جو غریب کسان تھا‘ پوچھا کہ بدبخت! تمہاری صحت کا راز آخر کیا ہے۔ میں بادام اور چہار مغز کھاتا ہوں‘ مربّے اور انواع و اقسام کی شیرینیاں اور پھل تناول کرتا ہوں، مصفیٰ پانی میرے لیے فلاں چشمے سے آتا ہے، پھر بھی صحت ہے کہ پُھس پُھسی ہی رہتی ہے۔ اِدھر تُم ہو کہ کھٹی لسّی تمہیں مشکل سے میسّر ہے مگر ہٹے کٹے تنومند ہو۔ کسان نے کہا نواب صاحب! آپ کیا کھاتے ہیں؟ مٹی اور راکھ! میں جب کھیتوں میں ہل چلا کر گھر آتا ہوں تو میرے پوتے اور نواسے میرے اُوپر چھلانگیں لگاتے ہیں۔ کوئی چومتا ہے‘ کوئی داڑھی کھینچتا ہے‘ پھر وہ مجھے کھینچ کر دکان پر لے جاتے ہیں جہاں میں انہیں ریوڑیاں، بتاشے‘ نُگدی اور مکھانے خرید کر دیتا ہوں۔ انہیں کھاتا دیکھتا ہوں تو سیروں خون بڑھتا ہے‘ یہ ہے صحت کا راز! تمہارے پاس چوراسی دیہات پر مشتمل جاگیر تو ہے مگر اولاد ہے نہ اولاد کے بچے!
پھر جن کی اولاد اور اولاد کے بچے ان کے پاس ہیں‘ وہ دوسروں سے زیادہ خوش بخت ہیں۔ اس کی شہادت کلام پاک میں بھی ملتی ہے۔ سورۃ مدثر میں اللہ تعالیٰ ایک دشمن رسولؐ کا ذکر کرتے ہوئے‘ وہ نعمتیں گنواتے ہیں جو اس بدبخت کو ملیں۔ بہت سا مال اور اس کے ساتھ حاضر (موجود) رہنے والے بیٹے!! گویا اولاد کا ہونا نعمت ہے اور اس کا پاس یا قریب رہنا اضافی نعمت ہے!
بات کھلونوں سے شروع ہوئی تھی۔ جیسے ہی بچوں کو خبر ملتی ہے کہ دادا‘ دادی یا نانا‘ نانی آ رہے ہیں تو ان کے دلوں میں اُمید کے باغ کھل اُٹھتے ہیں۔ وہ اُن کھانے والی اور کھیلنے والی چیزوں کا تصّور کرتے ہیں جو وہ لائیں گے۔ اس خوشی کا کوئی جواب نہیں! کون سا کھلونا ہے جو ان کے پاس پہلے سے نہیں ہوتا اور کھانے کی کون سی چیز ہے جو انہیں میسر نہیں! مگر پدر بزرگ اور مادر بزرگ جو کچھ لاتے ہیں اس کا مزہ ہی اور ہے۔ ماں باپ کو منع کرنے والے لڑکے اپنا زمانہ بھول گئے کیا؟ والدہ مرحومہ جب بھی آتی تھیں سوجی کا کہّار (میٹھا سفوف) بنا کر ضرور لاتی تھیں‘ جسے یہ بچے جو اب باپ ہیں‘ اس قدر رغبت سے کھاتے تھے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔ یہ نسل یوں بھی قسمت کی اتنی دھنی نہیں جتنی ہماری تھی۔ ان کے بزرگ شہروں سے آتے ہیں۔ چاکلیٹس‘ مٹھائیاں‘ کیک اور پیسٹریاں لاتے ہیں۔ ہمارے بزرگ گائوں سے تشریف لاتے تھے۔ باجرے کا میٹھا آٹا لاتے تھے اور چاول‘ مکئی اور جوار کے مرونڈے اور تنور میں نرم کئے ہوئے سبز چنے اور گندم کے کرسپی چٹختے دانے جنہیں ہم اٹک چکوال کے علاقے میں بھُوٹی کہتے تھے اور منوں کے حساب سے خربوزے جو آج کل کے شیور کے خربوزوں کی طرح گنجے اور بے رنگ نہیں ہوتے تھے بلکہ پیلے سبز اور ارغوانی اور کئی رنگوں کے‘ اور موٹھ کی پھلیاں ہوتی تھیں اور دودھ سے بھری بوتلیں اور دہی اور لسّی کی پوری پوری چاٹیاں! اور ستّو جنہیں بڑی عمر کے لوگ پانی میں گھول کر پیتے تھے مگر بچوں کو خشک ستّو گھی اور شکر کے ساتھ ملا کر دیئے جاتے تھے۔ گھی تب گھی ہوتا تھا! ہائیڈروجن کی ماری ہوئی گریس نما شے نہیں ہوتی تھی!
وہ بچے ہی کیا جو کھلونوں سے جلد اکتا نہ جائیں! یہی تو بچپن ہے اور بچپن کی معصومیت! اس کی تہہ میں وہ دانائی ہے جو بچوں کے پاس ہے مگر افسوس! بڑوں کے پاس نہیں! یعنی چیزوں سے دل نہ لگانا۔ حقِ ملکیت نہ جتانا! کتنا ہی قیمتی کھلونا کیوں نہ ہو‘ بچے کا دل اس سے اچاٹ ہو جاتا ہے۔ کئی برس گزرے‘ غالباً ڈاکٹر وزیر آغا کا ’’اوراق‘‘ تھا جس میں بلراج کومل کی نظر پڑھی تھی۔ آخری چند سطریں حافظے پر کھُد گئیں۔ بچہ ماں باپ سے ریڈیو کا تقاضا کرتا ہے۔ غریب ماں باپ پیسہ پیسہ بچا کر، جوڑ کر اسے ریڈیو خرید دیتے ہیں۔ ایک ہفتے بعد بچہ ریڈیو سے اکتا جاتا ہے۔ نظم کی آخری سطریں دیکھیے:
یہ ایک ہفتے کی بات ہے اور کل سے مُناّ یہ کہہ رہا ہے / یہ جانور صبح و شام بیکار بولتا ہے / مہیب خبروں کا زہر گیتوں میں گھولتا ہے / گلی میں کوئی فقیر آئے تو اس کو دے دو / مجھے اکنّی کا مور لے دو!
بچوں کی ایک قسم وہ ہے جو دیہات میں رہتی ہے۔ شہروں میں نوکریاں کرنے والے بھائی‘ ابو‘ چاچے‘ مامے جب چھٹی پر آتے ہیں تو شہر سے پھل اور کھلونے لاتے ہیں۔ سامان اترتے ہی پھلوں کی خوشبو ٹوکروں سے چھن چھن کر باہر آنے لگتی ہے‘ یہ وہ چیزیں ہیں جو گائوں میں نہیں ملتیں! اپنا اپنا پیکج ہے۔ کچھ فائدے اور نقصانات گائوں والے پیکج میں ہیں اور کچھ شہر والے پیکج میں! سول سروس میں شامل ہوئے چند ماہ ہی گزرے تھے۔ کراچی کے گورنمنٹ ہوسٹل میں جو چڑیا گھر کے بالمقابل ہے‘ قیام تھا! ایک رات سوتے ہوئے اچانک آنکھ کھُلی۔ نہ جانے کہاں سے اور کیسے گائوں کی خوشبو کمرے میں داخل ہوئی! دل و جان معطر ہو گئے مگر ساتھ ہی کرب کا کانٹا روح میں چبھا۔ نہ معلوم کیسے اُتری مگر نظم تھی کہ کاغذ پر اترتی رہی‘ پھر رات کے ساتھ ساتھ ڈھلتی رہی:     
گھنے پیٹر‘ شاخوں پر بُور اور اونچے پہاڑ/ ہری جھاڑیاں اور سبزے کی موٹی تہیں/ سڑک کے کناروں پہ کھمبوں کے تار/ ہوا سے ہلیں سر سرائیں/ رسیلے جھکوروں میں وہ تیز نشہ کہ بس سو ہی جائیں / کسی ایک کو پیاس لگ جائے تو سب کے سب / کھیلتے مسکراتے / نشیبی چٹانوں میں بہتے ہوئے میٹھے جھرنے کی جانب چلیں / اور ہاتھوں کے پیالوں کو اک دوسرے کے لبوں سے لگا دیں / کبھی کوئی بس آئے اور جو بھی اترے / محبت سے احوال پرسی کرے اور اسباب سر پر دھرے / گائوں کا راستہ لے / کبھی کوئی چرواہا کندھے پر لاٹھی رکھے اور ہاتھوں کو لاٹھی پہ لٹکائے / آہستہ آہستہ ریوڑ لیے گزرے / اور پوچھتا جائے ’’کیوں جی کہاں جا رہے ہو؟‘‘ / کبھی دور کے کھیت سے اک مدھر تان اٹھے اور سب بھول جائیں / کہ کیا کہہ رہے تھے / پھر اک بس رُکے اور ابّا نظر آئیں اور / کنکروں اور لکیروں کی دلچسپ معصوم بازی کو سب بھول جائیں / کوئی زین گھوڑے پہ کسنے لگے کوئی سامان اٹھائے / شہر سے آنے والے پھلوں کی مہک ہر طرف پھیل جائے / کھلونوں کی جھنکار دل میں عجب گدگدی سی مچائے/ حویلی کے چوبی منقش بڑے در پہ دادی کھڑی منتظر ہوں…آٹھ بجنے کو ہیں/ ناشتہ کب سے تیار ہے / آج آفس نہیں جائیں گے کیا؟

Saturday, February 04, 2017

ہمارے حال پر نئی مسدّس لکھی جائے!

یہ سیاپا ایک دن کا نہیں! آئے دن وہاں سے گزرنا ہے۔ جب بھی گزرنا ہے‘ زخم ہرا ہونا ہے۔ بنکاک ایئرپورٹ پر ذہنی تنائو اس قدر اذیت دیتا ہے جیسے ابھی سر پھٹ جائے گا۔ ہر بار ایک ہی سوال کیا ہم ایسا ایئر پورٹ کبھی نہیں بنا سکیں گے؟
چار چاربالشت کے تھائی باشندے ! انگریزی سے تقریباً نابلد! ایشیا کا چھٹا مصروف ترین ہوائی اڈّہ چلا رہے ہیں اور ہر گھنٹے میں لاکھوں کروڑوں ڈالر کما رہے ہیں۔ اس ہوائی اڈے نے تھائی لینڈ کو دروازہ بنا دیا ہے۔ مشرقِ بعید کا دروازہ ‘ دنیا کے جنوب مشرقی حصّے کا دروازہ‘ چین اور ہانگ کانگ کے لیے‘ کوریا اور فلپائن کے لیے ڈیوڑھی ! گزشتہ برس ساڑھے پانچ کروڑ مسافروں نے اس ایئر پورٹ سے استفادہ کیا جن میں پونے پانچ کروڑ غیر ملکی تھے تیس لاکھ ٹن کارگو آیا اور گیا۔ ٹرمینل بلڈنگ دنیا کا چوتھا بڑا ٹرمینل ہے۔ (ہانگ کانگ‘ بیجنگ اور دبئی دیگر تین بڑے ٹرمینل ہیں) اس کا ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور دنیا کا سب سے اونچا کنٹرول ٹاور ہے! دو سال پہلے کے اعداد و شمار کی رُو سے اس ایئر پورٹ پر ایک دن میں آٹھ سو پروازیں اترتی ہیں یا روانہ ہوتی ہیں۔
شاید ہی دنیا کی کوئی ایسی ایئر لائن ہو گی جس کا جہاز یہاں نہ آتا ہو۔ چلتے چلے مسافر تھک جاتے ہیں مگر ایئر پورٹ ٹرمینل ختم نہیں ہوتا۔ جا بجا متحرک برقی راستے‘ جگہ جگہ آرام کرنے کے لیے صوفے‘ موبائل فون اور لیپ ٹاپ چارج کرنے کا وافر بندوبست‘ بازار کے بازار‘ انواع و اقسام کا مال فروخت کرتے ہوئے‘ ہر مذہب کے پیروکاروں کے لیے عبادت خانہ! فرش پر تنکا تک نظر آتا ہے نہ کسی دیوار پر کوئی نشان۔ دنیا کی ہر بڑی ایئر لائن کا اپنا الگ لائونج۔ نہیں نام نظر آتا تو اپنی ائیر لائن کا     ؎
انجمؔ غریب شہر تھے‘ اب تک اسیر ہیں
سارے ضمانتوں پر رہا کر دیے گئے
دل کیوں نہ بیٹھے ؟ ذہنی تنائو بے حال کیوں نہ کرے؟ ہم اتنے نالائق ہیں کہ ستر سال میں ہم سے بین الاقوامی معیار کا ایک ہوائی اڈہ نہ بن سکا۔ دارالحکومت کے ایئر پورٹ پر کام2007ء میں آغاز ہوا۔ پانچ برس پیپلز پارٹی کی حکومت رہی۔ کیا کام ہوا وہاں؟ کیا پراگرس رہی؟
 کون پوچھے اور کس سے پوچھے؟ اب 2017ء ہے۔ دس سال۔ پورے دس سال گزر چکے۔ مستقبل قریب میں تکمیل کا نام و نشان نہیں۔ دس برس کے عرصہ میں چین نے شنگھائی سے لے کر بیجنگ تک سینکڑوں کثیر المنزلہ عمارتیں کھڑی کر دیں۔ یہاں پورا عشرہ گزرنے پر ایک ایئر پورٹ نہیں بن سکا۔ سبب کیا ہے؟ اسباب کون کون سے ہیں؟ ذمہ دار کون ہیں؟ کیا کبھی ذمہ داروں کا تعین ہو گا؟ یا لاگت بڑھتی جائے گی اور ٹھیکوں کی تجدید ہوتی رہے گی؟
یہ یتیم‘ مفلوک الحال‘ بے بس بے کس قوم کس کا دامن پکڑے؟ ستّر سال۔ اور ایک جدید ریلوے اسٹیشن نہ بن سکا۔ لاہور اور راولپنڈی کے ریلوے اسٹیشنوں پر جا کر کوئی دیکھے۔ خستہ شکستہ تکلیف دہ سیڑھیوں پر‘ تھکے ہارے مسافر سروں پر پوٹلیاں اور ہاتھوں میں اٹیچی کیس پکڑے کس اذیت سے اترتے اور چڑھتے ہیں۔ تقسیم کے وقت کے لٹے پٹے قافلے یاد آ جاتے ہیں۔ ریلوے نے دعویٰ کیا کہ آن لائن بکنگ ہو گی! منصوبہ مکمل ناکام رہا!
کیا بیماری ہے ہمیں؟ کوئی ہے جو تشخیص کرے؟   ع
منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
عراق کو امیر المومنین علی المرتضیٰؓ کی بددعا ہے۔ اس خطۂ پاک کو کس کی بددعا ہے؟ ٹریفک کی ہلاکتوں میں سرِفہرست! خوراک اور ادویات کی ملاوٹ میں ممتاز! وعدہ خلافی اور دروغ گوئی میں بے مثال! کسی تاجر پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی سیاست دان قابلِ اعتبار نہیں! وکیل ہیں کہ منصفوں کو تھپڑ مارتے ہیں اور انہیں کمرہ ہائے عدالت میں مقفل کر دیتے ہیں! اساتذہ ہیں کہ کلاس روموں کے سوا ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ طلبہ ہیں کہ ایک دوسرے کو قتل کرتے پھرتے ہیں اور مقتولوں کے جنازے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے سربراہ پڑھا رہے ہیں۔ خواندگی ہے کہ غربت کی لکیر کی طرح نیچے ہی نیچے جا رہی ہے۔ شفاخانے مقتل ہیں اور سکولوں کالجوں کی عمارتیں مویشی خانے اور غلّوں کے گودام!
کس کس زخم پر پھاہا رکھا جائے؟
بڑے شہروں سے چند میل دور‘ کسی قصبے کے بسوں کے اڈے پر جا کر دیکھیے اور حیرت میں گم ہو جائیے کہ اتنی آبادی اور اکثریت غیر تعلیم یافتہ ناخواندہ! اپنے حقوق سے اور فرائض سے بے بہرہ! مزاروں پر خاک پھانکتی عورتیں‘ توہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی عروج پر! حکمران بے نیاز! اسمبلیاں ربڑ کی مہریں! بیورو کریسی اپنے مفادات میں انگ انگ جکڑی ہوئی!!
تو پھر کیا بیانیہ غلط ملا؟ قرار دادِ مقاصد پر جھگڑے ہوئے‘ سر پھٹول تک ہوا‘ کفرو اسلام کا مسئلہ بن گیا۔ تاہم آغاز سے اب تک قرار دادِ مقاصد ہمارے آئین کا جزوِ لاینفک ہے۔ غیر مسلموں کو ہم چار فٹ سے زیادہ اونچا نہیں ہونے دیتے۔ مگر حاصل کیا ہے؟
قراردادِ مقاصد کی موجودگی میں ہمارا یہ حال ہُوا ہے! درست! اس کی ذمہ داری قرار دادِ مقاصد پر نہیں ڈال سکتے مگر اس کا فائدہ کیا ہوا؟ قرار دادِ مقاصد ہمیں جھوٹ بولنے سے‘ وعدہ خلافی کرنے سے‘ بچوں کے دودھ میں ملاوٹ کرنے سے‘ ٹیکس چوری سے‘ ناقص عمارتیں بنانے سے کیوں نہ روک سکی؟ قرار دادِ مقاصد کا کیا فائدہ جب ریاست کا سربراہ کہے کہ وعدے کوئی قرآن حدیث تھوڑی ہی ہوتے ہیں؟
پھر ایک اوربیانیہ ملا کہ اسلام نظامِ حیات ہے۔ اسلامی حکومت کا خواب دکھایا گیا جامعات یرغمال بن گئیں۔ اخلاق کا جنازہ نکل گیا۔ کنٹینوں کے مالک خوف کے مارے پیسے نہیں مانگ پاتے۔ نظام اسلامی نہ ہوا‘ ہاں پراپرٹی کا کاروبار خوب پھلا پھولا۔
پھر ایک اور بیانیہ اترا۔ جہاد کا بیانیہ۔ کاروبار‘ جائیدادیں‘ مزدوری‘ یہاں تک کہ نادرا کی نوکریاں تک‘ غیر ملکیوں کو مل گئیں۔ وطن کا دفاع کرنے والے غیر شہید اور بچوں عورتوں اور بوڑھوں کو مارنے والے عمارتیں جلانے والے‘ درس گاہوں کو اڑانے والے شہید قرار دے دیے گئے۔
تعلیم نے تعمیر کے بجائے معاشرے کو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ متحارب گروہ! ایک دوسرے کے خلاف صف آرا گروہ! یہاں تک کہ طرزِ زندگی الگ الگ ہو گیا۔ شاید ہی کوئی ایم بی اے یا ڈاکٹر یا انجینئر لڑکی‘ مدرسہ کے پڑھے ہوئے کسی نوجوان سے شادی پر رضا مند ہو۔ شاید ہی مدرسہ کا فارغ التحصیل کوئی لڑکا‘ کسی انگریزی ادب کی استاد یا سی ایس ایس کی لڑکی سے ازدواج کرنے پر تیار ہو۔ اکاّ دکاّ مستثنیات کی اور بات ہے۔ مجموعی طور پر معاشرہ گروہوں میں بٹ گیا ہے۔ شیعہ سنی بریلوی دیو بندی اہل حدیث یہ سب مذہبی گروہ ہیں۔ یہ بھی عموماًآپس میں رشتے ناتے نہیں کرتے۔ نمازیں الگ۔ مسجدیں الگ۔ عملی زندگیاں الگ الگ!
ان سب بیانیوں کے اوپر‘ ایک اور بیانیہ بلور کے خوبصورت ساغروں میں بھر بھر کر خوب خوب ہلایا گیا۔ یہ جمہوریت کا بیانیہ تھا۔ اس کا مطلب تھا‘ منتخب اداروں میں بیٹھے ہوئے اشرافیہ کے رکن ہر قسم کے قانون سے ماورا ہیں۔ وزیر اعظم اور صوبے کا وزیر اعلیٰ اسمبلی سے برگشتہ! کابینہ کا عملاً وجود ہے بھی اور نہیں بھی! فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ وفاق کے سرکاری اجلاسوں میں دختر نیک اختر اور سندھ کے سرکاری اجلاسوں میں فرزندِ گرامی بیٹھتے ہیں؟ کس حیثیت سے؟ مت پوچھیے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو جائے گا! کرپشن کا نام نہ لیجیے‘ جمہوریت کے آبگینے کو ٹھیس لگ جائے گی!سرکاری دوروں میں صرف ایک صوبے کا حکمران‘ وفاقی سربراہ کے ہمراہ ہوتا ہے! کیوں؟ خاموش رہیے! کہیں جمہوریت کی نازک پیشانی پر شکن نہ پڑ جائے!
مادی ترقی ہوئی نہ اخلاقی! ہم کہیں نہ رہے! ایک طرف لیاقت یہ ہے کہ ہوائی اڈہ نہیں بن پا رہا۔ ریلوے اسٹیشن سو سال پرانا منظر پیش کر رہے ہیں۔ قصبے‘ بستیاں اور قریے پتھر کے زمانے کے لگ رہے ہیں۔ دوسری طرف ہم اتنے جھوٹے‘ عہد شکن اور ناقابلِ اعتبار ہیں کہ دنیا تو دُور ہے‘ ہم خود ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کرتے۔ جو وعدہ کرتا ہے اسے معلوم ہے کہ وہ پورا نہیں کرے گا۔ جس سے وعدہ ہو رہا ہے وہ ذہنی طور پر وعدہ خلافی کے لیے تیار ہے! بے شمار بظاہر مذہبی افراد سے یہ تاویل سننے میں آتی ہے کہ وعدہ کہاں کیا تھا؟ وہ تو ایک بات کہی تھی!!
کیسے اٹھیں گے؟ کس سے پوچھیں ؟ کس کی دہائی دیں؟ کوئی سر سیّد ہوتا تو کسی حالی سے تنزّل کی اس انتہا پر نئی مسدّس لکھواتا! نئی مسدّس!  صرف اہلِ پاکستان کے لیے!!

 

powered by worldwanders.com