Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Friday, August 11, 2017

کتنے میجر علی سلمان؟کتنے سپاہی عبدالکریم؟


روشیں لہو سے بھر گئی ہیں! سفید گلاب کے تختے سرخ ہو گئے ہیں! باغ کے درمیان چلتی نہر کی تہہ میں سنگِ مر مر نہیں‘ گوشت کے لوتھڑے نظر آتے ہیں۔
ماتم کر کر کے تھک گئے ہیں! ہمارے نوجوان ہیں کہ شہید ہوئے جا رہے ہیں! مسلسل! مادرِ وطن لہو مانگے جا رہی ہے! مسلسل! خاک ہے کہ سرخ سے سرخ تر ہونا چاہتی ہے!
میجر علی سلمان کا جنازہ پرسوں شام اُس کے  دلگیر باپ نے پڑھا اور الحمد للہ کہا! حوالدار غلام نذیر‘ حوالدار اختر‘ سپاہی عبدالکریم کے بچے یتیم ہو گئے! مائیں کلیجوں پر پھول کاڑھ رہی ہیں! سہاگ اپر دیر کی مٹی میں مل گئے‘ شفق سرخ تھی۔ پھر یہ سرخی غائب ہو گئی۔افق پر زمین اور آسمان ایک ہو گئے۔ خاکِ وطن کی نہ مٹنے والی پیاس نے چار جوان عورتوں کو آن کی آن میں بوڑھا کر دیا! یہ سب کیوں؟ یہ سب کس لیے؟
کارگل اور سیاچین کی چوٹیوں پر‘ ان برفانی مقتلوں میں جہاں موت اپنا پرچم لہرائے کھڑی ہے‘ سفید برف کو دیکھ کر آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں۔ ہاتھ جھڑ جاتے ہیں! راتوں کو قیامت خیز طوفانی ہوائیں خیمے اکھاڑ لے جاتی ہیں! جوان وہاں قائم ہیں! پتھر کی سلوں کی طرح! خیرہ ہوتی آنکھوں اور جھڑے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ!کس لیے؟
وادی ¿ نیلم کے ساتھ‘ سرحدی مورچوں میں‘ آگ اور خون کے بستر بچھے ہیں جن پر بیٹے باپ‘ شوہر اور بھائی آرام کرتے ہیں! پتھروں کے تکیے ہیں۔ سلوں کے گدّے ہیں! غبار صورتیں تبدیل کر دیتا ہے! گولیوں کی بوچھاڑیں ہیں! کیوں؟کس کے لیے۔؟
اپردیر سے لے کر میران شاہ تک مہمند کی سرحد سے لے کر جنوبی وزیرستان کے سیاہ بنجر پہاڑوں تک سینے تنے
 ہوئے ہیں۔ گرد کے مرغولے اٹھتے ہیں! بگولے چکّی کی طرح گھومتے ہیں! دنیا کی پیچیدہ ترین‘ صعوبتوں سے بھری سرحد پر پاک فوج کے جوان زندگیاں بے آب و گیاہ پہاڑوں کے دامن میں بچھائے‘موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کب سے کھڑے ہیں! پاﺅں میں لرزش نہیں! آنکھیں جھپکتی نہیں! ثابت قدم! چٹانوں میں مل کر چٹان ہو گئے! بارود پھٹتا ہے! جسم گرتے ہیں! سبز پرچم خون مانگتا ہے! خون حاضر ہے! کیوں؟ کس کے لیے؟۔
ستر ہزار سے زیادہ عفت مآب خواتین مشرقی پنجاب میں رکھ لی گئیں! بیل گاڑیوں پر رینگتے قافلے لٹ گئے ٹرینیں لاشوں سے اٹ گئیں! بچے ماﺅں سے‘ بیویاں شوہروں سے‘ بچھڑ گئیں! کراچی کی بغل میں ماڑی پور کے ریتلے ٹیلوں کے پاس‘ مہاجرین کی حالت دیکھ کر قائد اعظمؒ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے! جاگیروں کے مالک ‘ زمینوں کے آقا ‘ نواب زادہ لیاقت خان نے آخری ہچکی لی۔ پنڈی کے کمپنی باغ میں پاکستان کو خدا کی حفاظت میں سونپا تو ملکیت میں مکان کوئی نہ تھا! اس شخص نے جس کی دیانت پر پٹیل جیسا خونخوار دشمن بھی انگلی نہ رکھ سکا‘ ایک ایک پائی کی حفاظت کی اپنی جان کو قوم خزانے سے الگ رکھا! کیوں؟ آخر کس لیے؟
پولیس کے سپاہی فرنٹ لائن پر ہیں! دہشت گردی کے سامنے تنی ہوئی فرنٹ لائن پر ! شہادتوں کا شمار مشکل ہے! ہمارے سکول بھک سے اڑ گئے، ہمارے مزار مٹ گئے‘ ہماری مسجدیں شہید ہو گئیں! ہمارے شہریوں کے پرخچے اڑ گئے! کیوں؟ کس کے لیے؟
قوم قربانیاں دے رہی ہے! دیئے جا رہی ہے! مگر کیوں؟کس کے لیے؟
کیا اس لیے کہ مورچوں کے اس طرف ‘ ملک کے اندر‘ لوٹ مار کا بازار گرم رہے؟ حکمران دبئی میں اقامت پذیر ہوں؟ مری میں نظاروں سے لطف اندوز ہوں‘ پھر لندن چلے جائیں ایک عید بھی خاک میں اٹے ہوئے جوانوں کے ساتھ نہ منا سکیں! ایک بھی شہید کی بیوہ کے سر پر ایک بھی یتیم بچے کے رخسار پر ہاتھ نہ رکھ سکیں! دولت کے شمار سے فرصت نہ ہو! آف شور کمپنیوں کے ڈھیر ! لندن! جدہ! نیو یارک! دبئی کے محلات!! ایک ایسا پُر تعیش طرزِ زندگی جسے مغربی ملکوں کے حکمران خواب میں بھی نہ دیکھ سکیں!!

بٹ چکا ہے۔ یہ ملک بٹ چکا ہے۔ قوم دو حصوں میں منقسم ہو چکی ہے! ایک طرف فوج کے جوان ہیں جو نپی تلی تنخواہ پر اپنے کنبوں کو پال رہے ہیں، ایک طرف شہیدوں کے خاندان ہیں جو محدود پنشنوں پر زندگی کی سیاہ رات کو پار کرنے کی تگ و دو میں لگے ہیں۔ کسان ہیں جو ان فصلوں کا بھی لگان دے رہے ہیں جو ابھی کٹی نہیں ہیں! بھٹوں پر کام کرنے والے کنبے ہیں جو نسل در نسل قرضوں میں بندھے ہوئے غلام ہیں! سرکاری سکولوں کے اساتذہ ہیں، مدارس میں پڑھانے والے علماءہیں جو قوتِ لایموت پر گزر بسر کر رہے ہیں۔ ذہین و فطین طلبہ ہیں جو وسائل نہ ہونے کے باعث اعلیٰ تعلیم کے خواب آنکھوں میں بسائے کلرک لگ جاتے ہیں! ایک اوسط پاکستانی کی ساری عمر۔ جی ہاں۔ ساری زندگی‘ ایک مکان۔ صرف ایک مکان بنانے کا سوچ سکتی ہے زندگی بھر کی کمائی اسی کی نذر ہو جاتی ہے!
دوسری طرف وہ طبقہ ہے جس کی پانچوں گھی میں اور سر کڑھائی میں ہے۔ اس طبقے میں سیاست دان اور حکمران سر فہرست ہیں! ایک ایک وزیر‘ ایک ایک منتخب نمائندہ قوم کو کروڑوں میں پڑتا ہے۔ سرکاری رہائش گاہیں! علاج معالجہ‘ اندرون ملک‘ اور بیرون ملک جہازوں کے ذریعے آمدو رفت‘ ہزاروں گاڑیاں ان میں جلنے والا ایندھن! سب کچھ سرکاری خزانے سے !! ایک ایک کی حفاظت پر متعین کئی کئی پولیس کے جوان اور ان کی موبائل گاڑیاں! ہر زوجہ کے لیے الگ محل‘ ہر محل کو سرکاری رہائش گاہ کا درجہ! پورے پورے خاندان قومی خزانے پر پرورش پا رہے ہیں! بیٹوں اور بیٹیوں کے لئے سرکاری پروٹوکول ! زکام ہوتا ہے تو چیک اپ کے لیے لندن کا رُخ کرتے ہیں! خدا کا اتنا خوف نہیں کہ بچوں کا نکاح حرم میں کرواتے ہیں تب بھی سرکاری جہازوں کے رُخ موڑ لیتے ہیں! ریاست اور ذات کے درمیان کوئی لکیر نہیں! یہاں تک کہ ایک مدہم مٹتی لکیر تک نہیں نظر آتی!
سابق وزیر اعظم نے ریلی میں چار حکومتوں کے وسائل جھونک دیئے ہیں۔ وفاق پر ان کے حلقہ بگوشوں کا قبضہ ہے۔ پنجاب اپنے خاندان کی مٹھی میں ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر وفاداروں کے پاس ہے!
میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ صرف دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے کے دو ہزار ملازمین اور سات سو گاڑیاں ریلی میں شامل ہیں۔ دوسرے وفاقی اور صوبائی محکموں کی خدمات کا اسی سے تخمینہ لگایا جا سکتا ہے! بازار بند کرا دیئے گئے ہیں۔ میٹرو بس معطل ہے! ملک کی عدلیہ کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے! آئین اور قانون کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں!
زرداری صاحب پانچ برس ایوانِ صدارت میں متمکن رہے۔ ایوان سے باہر دھماکے ہوتے رہے۔ جسموں کی بوٹیاں اُڑتی رہیں‘ خون بہتا رہا‘ ایک بار بھی باہر نہ نکلے۔ اندر بیٹھ کر ”سیاست“ کرتے رہے۔ سیاست کیا تھی‘ فلاں کو ساتھ ملا لو‘ فلاں کو دور کر دو‘ اس سے پہلے شوکت عزیز‘ پلاسٹک کا وزیر اعظم شہیدوں کے لہو پر پلتا رہا۔ بہادری کا یہ عالم تھا کہ سرکاری محل سے دارالحکومت پولیس کے سربراہ کو فون کیا کہ ایک ایسی پہاڑی بھی محل سے دکھائی دے رہی ہے جس پر بندوق بردار محافظ نہیں ہے! منصوبہ کراچی کا بھی ہوتا تو افتتاح ایوان وزیر اعظم میں کرتا! خاندانی ”وقار“ کا پاس اتنا تھا کہ ملک سے بھاگتے وقت وہ تحائف بھی ساتھ لے گیا جو سرکاری توشہ خانے کی ملکیت تھے!
کتنے علی سلمان‘ کتنے غلام نذیر‘ کتنے اختر کتنے سپاہی عبدالکریم خون دیں گے؟ کس کے لیے؟

Monday, August 07, 2017

ناپختگی صرف سیاسی تو نہیں!


کتنے ہی سال ہو گئے تھے جان فرانسس کو نیویارک میں رہتے ہوئے۔ ایک سیٹ روٹین تھا۔ مقررہ معمولات تھے۔ بیگم خوش تھی۔ بچے دنوں اپنی اپنی تعلیم میں مصروف تھے۔ ایک معتدل دوپہر تھی‘ سردی نہ گرمی‘ جب اسے اطلاع دی گئی کہ کمپنی نے اسے لاس اینجلز والے دفتر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گھر کا سامان اکٹھا کرنے اور پیک کرنے کا کام اس خاندان کے لیے ڈراﺅنا سپنا بالکل نہ ثابت ہوا۔ جان فرانسس ہمیشہ تین قمیضیں اور تین پتلونیں رکھتا۔ جب بھی چوتھی قمیض خریدتا‘ تین میں سے ایک ”سالویشن آرمی“ کو ہدیہ کردیتا۔ سالویشن آرمی بین الاقوامی خیراتی ادارہ ہے جسے چرچ چلاتا ہے۔ اسی طرح اس کی بیوی کے پاس بھی چار پانچ جوڑے تھے۔ کچھ کتابیں تھیں! ایک چھوٹا سا کارٹ (چھکڑا) انہوں نے اپنی گاڑی کے پیچھے باندھا۔ سامان رکھا اور چار ہزار کلومیٹر دور لاس اینجلز چل پڑے۔
ہاں! ان ملکوں میں یہ سہولت ہے کہ گھر جب کرائے پر لیتے ہیں تو اس میں ڈش واشر‘ کپڑے دھونے کی مشین‘ چارپائیاں اور دیگر ضروری سامان موجود ہوتا ہے۔ یوں بھی‘ سامان فروخت کرنا اور استعمال شدہ گھریلو سامان خریدنا چنداں مشکل نہیں۔ کچھ ماہ پہلے آسٹریلوی پارلیمنٹ کے حزب اختلاف کے رہنما نے ایک پرانا ریفریجریٹر اپنے گھر کے لیے خریدا۔ ”ایبے“ اور ”گم ٹری“ جیسی تنظیمیں سامان خریدنے اور فروخت کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ آپ نے شہر چھوڑنا ہے۔ ایبے یا گم ٹری میں اشتہار دیجیے۔ دیکھتے دیکھتے سامان بک جائے گا۔ نئے شہر میں اتریں تو خرید لیجیے۔
آپ کا کیا خیال ہے اوسط درجے کے ایک پاکستانی خاندان کو لاہور سے کراچی منتقل ہونا پڑے تو کیا سماں اور کیسا منظر ہوگا۔ پریشانی کا وہ عالم ہو گا کہ میاں بیوی لرز رہے ہوں گے۔ بچوں کو الگ مصیبت کا سامنا ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ گھر میں سامان ایک خاندان کے لیے نہیں‘ اتنا زیادہ ہے کہ کئی خاندانوں کی کفالت کے لیے کافی ہوگا۔ کراکری کے انبار‘ اکثر اب تک استعمال ہی نہیں ہوئے۔ میاں کے جوتوں کے سات تو بیوی کے دس بارہ پندرہ جوڑے۔ الماریاں ملبوسات سے بھری ہوئیں۔ پہلے تو نام نہاد سیل کی اطلاع اخبارات سے ملتی تھی اب خاتون خانہ کو ایس ایم ایس یا وٹس ایپ کے ذریعے معلوم ہو جاتا ہے اور خبر ملتے ہی وہ چل پڑتی ہے۔ وہاں ایک طویل قطار میں کھڑی ہو کر سیل سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ قطار میں آگے پیچھے سب وہ خواتین ہیں جنہیں مزید ملبوسات کی قطعاً ضرورت نہیں‘ مگر چونکہ سیل لگی ہوئی ہے اس لیے خریداری ضروری ہے۔ گھر کے کاٹھ کباڑ سے جان چھڑانے کا ہمارے ہاں رواج ہی نہیں۔ جو شے ٹوٹ جائے‘ اوپر ممٹی میں ذخیرہ کرلیجیے۔ ہو سکتا ہے سو دو سو برس بعد کام آ جائے۔ پلنگ پوشوں سے صندوق بھرے ہیں۔ فرنیچر زیادہ ہوتے ہوتے پورچ تک آ گیا ہے مگر کم نہیں ہوتا۔ دو تین صندوق تو جہیز کے سامان سے بھرے ہیں۔ نانی اور پرنانی کی چادریں یادگار پڑی ہیں۔ کیڑا لگ جائے یا وقت کی طوالت سے گل سڑ جائیں‘ کسی کو دینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ یہ ہے وہ سٹائل جس کی وجہ سے گھر کی شفٹنگ ڈراﺅنا خواب لگتا ہے۔ ٹرکوں پر ٹرک آتے ہیں۔ تھکاوٹ‘ عدم اطمینان‘ سراسیمگی‘ عشروں کے جمع شدہ سامان کے ٹوٹنے اور گم ہو جانے کا ڈر۔ آلام و افکار سے جان ہلکان ہو جاتی ہے۔ نئے شہر جا کر مزید سازوسامان اکٹھا کرنے کا جوش از سرنو بیدار ہوتا ہے۔
اب جب بچے کالج یونیورسٹی میں پہنچتے ہیں تو واویلا برپا ہوتا ہے کہ فیسیں زیادہ ہیں‘ تعلیم مہنگی ہے‘ کیا ہوگا‘ کمانے والا ایک ہے‘ اب وہ ٹانگے کے گھوڑے کی طرح ادھر ادھر دیکھے بغیر جت جاتا ہے۔ ڈبل شفٹ لگاتا ہے۔ بزنس میں ہے تو بزنس کو دوگنا کرنے کے لیے فکر مند ہوتا ہے۔ ملازمت میں ہے تو پارٹ ٹائم کچھ اور مصروفیات تلاش کرنے کے درپے ہے۔ بچت آپ نے کی نہیں‘ سیل کا اشتہار دیکھا تو چل پڑے۔ گھر میں ضرورت سے زیادہ سامان اتنا ہے کہ اس کی مالیت کا تخمینہ لگایا جائے تو کم از کم یونیورسٹی کی ساری پڑھائی جتنا ضرور ہوگا۔
چینی تمام ہی ایسے سگھڑ ہوں گے مگر کچھ دن ہانگ کانگ میں رہ کر دیکھا کہ وہاں کے چینی خاندان منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ہر منصوبے کے لیے بینک میں الگ اکاﺅنٹ کھول لیتے ہیں۔ مثلاً بچے کی تعلیم ایک پراجیکٹ ہے۔ اس کے لیے الگ اکاﺅنٹ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد کھول لیں گے۔ دنیا کی سیاحت (ورلڈ ٹور) کرنا ہے تو اس پراجیکٹ کاکاﺅنٹ الگ کھولا جائے گا۔ اپنا اپارٹمنٹ خریدنا ہے تو بیس سال پہلے منصوبہ بندی شروع کردیں گے۔ اس کے لیے الگ اکاﺅنٹ کھلے گا۔ پھرجیسے ہو سکا‘ جتنی استطاعت ہوئی‘ اس میں رقم ڈالتے گئے۔ قطرہ قطرہ بہم شود دریا۔
سابق برطانوی وزیراعظم جان میجر کے بارے میں خبر چھپی تھی کہ جوتوں کا ایک جوڑا اٹھارہ سال تک پہنچا۔ وضاحت نہیں تھی مگر تاثر خبر سے یہی ملا کہ ایک ہی جوڑا تھا۔ الہٰکم التکاثر کی عملی تفسیر جس قدر ہمارے ہاں نظر آتی ہے‘ کم ہی کہیں اور ہوگی۔ خواتین فخر سے بتاتی پھرتی ہیں کہ میرے گھر میں تو پچاس یا سو افراد کے کھانے کے برتن‘ کراکری اور سونے کے لیے بستر موجود ہیں۔ یہ پچاس یا سو لوگ زندگی میں کتنی بار اکٹھے ہوں گے؟ کسی بھی موقع کے لیے بازار سے کرائے پر ہر شے مل جاتی ہے۔ پہلے زمانوں میں براتیں آ کر رات کو قیام کرتی تھیں‘ اب وہ رواج بھی ختم ہو گیا ہے۔ تیز رفتار ذرائع آمدورفت نے اسی دن کی واپسی ممکن کردی ہے اور سہل بھی۔
تیس چالیس برس پہلے بچت کا اچھا خاصا رجحان تھا۔ بچے غلوں میں سکے اکٹھے کرتے تھے۔ مردوں پر کوئی افتاد پڑتی تھی‘ کوئی مقدمہ سر پر آ پڑتا تھا یا شادی کا موقع ہوتا تھا تو نانیاں دادیاں قرآن پاک کے غلاف سے جمع شدہ پونجی نکال کر مرد کے حوالے کردیتی تھیں جو اچھی خاصی ہوتی تھی۔ بچے اب اپنی ساری پاکٹ منی جَنک فوڈ پر ضائع کرتے ہیں۔ یہ شوق لڑکپن اور پھر جوانی میں بھی ساتھ رہتا ہے۔ گھر میں روٹی بھی ہے اور سالن بھی‘ دال بھی ریفریجریٹر میں رکھی ہے اور چاول بھی‘ مگر پیزا کا آرڈر دیا جاتا ہے۔ رات کے بارہ ایک بجے گھنٹی بجتی ہے۔ ایک نوجوان موٹرسائیکل پر ”ڈیلیوری“ کرنے دروازے پر کھڑا ہے۔ بچت خاک ہوگی؟
دنیا کی سیر تو دور کی بات ہے‘ اپنے ملک کی سیاحت کا بھی کبھی خیال نہیں آتا۔ لاہور اور اسلام آباد کے کتنے بچوں نے سمندر دیکھا ہے؟ کراچی اور حیدرآباد کے کتنے بچوں نے شمالی علاقوں کے پہاڑوں کی سیر کی ہے؟ پانچ یا دس فیصد سے زیادہ قطعاً نہیں۔ یہ ہماری ترجیحات ہی میں شامل نہیں۔ ساری زندگی اس فکر میں گُھل جاتی ہے کہ مکان عالی شان بنے اور گاڑی بڑی سے بڑی ہو۔
اپنے ملک کی سیاحت سے یہ جو غفلت ہے اس کی ذمہ داری کا بھاری حصہ حکومتوں اور حکومتی اداروں کے سر بھی پڑتا ہے۔ سیاحت وہ شعبہ ہے جس کی طرف کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ آپ مری ایبٹ آباد سے لے کر گلگت چترال تک کھوج لگا لیں‘ ڈھنگ کے ریستوران ہیں نہ ہوٹل نہ موٹل نہ وائی فائی کی سہولیات۔ نجی شعبہ بھی مردہ کا مردہ ہی رہا۔ کیا کبھی کوئی اشتہار کسی کمپنی کا نظر پڑا ہے؟ جس میں یہ ترغیب دلائی جا رہی ہو کہ کراچی آئیے‘ سمندر کی سیر کیجیے‘ شہر کے اہم مقامات دیکھیے‘ ٹھہرنے کے لیے فلاں فلاں سہولیات حاضر ہیں۔ کوئی ایک کمپنی بھی ایسی نہیں جس پر اعتماد کر کے سفر اور قیام کے جملہ انتظامات اسے سونپ دیئے جائیں اور بے فکری سے نکل کھڑے ہوں۔ بددیانتی‘ وعدہ خلافی اور دروغ گوئی کا یہ عالم ہے کہ مذہبی سفر بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ عمرے کے لیے یہاں جب پیشگی رقم لی جاتی ہے تو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ قیام و طعام اور حرم تک کا فاصلہ جو بتایا گیا تھا‘ حقیقت اس سے بالکل مختلف نکلی۔ احتجاج کریں تو کیسے؟ اور کس سے؟ شنوائی ہے نہ تلافی۔
یہ تو قدرت کا انعام ہے کہ سیاحت کے شعبے سے مکمل غفلت برتی گئی‘ مگر پھر بھی دنیا بھر سے کوہ پیما آتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ ان کی مجبوری ہے۔ سربفلک چوٹیاں جن ملکوں میں پائی جاتی ہیں‘ ان میں پاکستان سرفہرست ہے۔ اندازہ لگائیے کہ اگر بھرپور توجہ دی جاتی‘ سیاحت کو انڈسٹری کا مقام دیا جاتا‘ حکومتی سطح پر منصوبہ بندی ہوتی‘ نجی شعبے کو رعایتیں دے کر ساتھ ملایا جاتا تو سیاحت ہمارے زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہوتی۔ پاکستان کو شہرت اور عزت الگ ملتی۔
فرد ہے یا ادارہ‘ نجی شعبہ ہے یا حکومت‘ ہمارے رویے رجعت قہقری کا سبب ہیں۔ نظر دور تک دیکھنے سے قاصر ہے۔ ترجیحات طے کرتے وقت دوراندیشی سے کام لیا جاتا ہے نہ ہی وژن ہے۔ لگتا ہے سیاسی پختگی کی طرح سماجی پختگی کی منزل بھی دور ہے۔

Friday, August 04, 2017

پیش کر غافل!عمل کوئی اگر دفتر میں ہے!!


وہ بوڑھا یاد آ رہا ہے جو بہرا تھا۔ مگر اپنے مطلب کی بات ‘ کتنی ہی آہستہ کیوں نہ ہو‘ سن لیتا تھا!
اہلِ سیاست کو بوڑھے کی یہ ادا اس قدر بھائی کہ اسے اپنا ہی لیا۔ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑواکڑوا تُھو، ایک سیاست دان نے باقاعدہ آہ و فغاں کی ہے کہ پارلیمنٹ سب سے کمزور ادارہ ہے اور یہ کہ جس کا دل چاہتا ہے پارلیمان پر چڑھ دوڑتا ہے!
ہنسی آتی ہے! معصومیت پر نہیں! اس بہرے پن پر جو خوب موقع شناس ہے! سبحان اللہ! کیا انصاف ہے آپ کا! پاناما کا ہنگامہ ملک سے باہر شروع ہوا۔ عدالت نے وکیلوں کو سنا اور آرام و اطمینان سے سنا! پھر دو ججوں نے فیصلہ سنایا‘ تین نے مزید وقت دیا۔ اتنا وقت دیا کہ وکیلوں کے پاس مزید بات کرنے کو کچھ نہ رہا۔ پھر قانون کے مطابق نااہل قرار دیا۔ اس میں پارلیمان کی حق تلفی ہو گئی! کس طرح؟؟
ایک عرصہ سے جمہوریت اور پارلیمان کے لیے بزعمِ خود ”جہاد“ کر رہے ہیں۔ مگر وزیر اعظم آٹھ آٹھ ماہ پارلیمان میں نہ آئیں اور سینیٹ کو ایک برس سے بھی زیادہ عرصہ تشریف آوری سے نہ نوازیں تو بوڑھا بہرہ بنا رہتا ہے۔ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ‘ صوبائی اسمبلی کو پرِکاہ کی حیثیت نہیں دیتا۔ سال میں شاید ایک آدھ بار اُدھر کا رُخ کرتا ہے منتخب اداروں کی یہ توہین‘ یہ ناقدری‘ یہ عملی تضحیک کبھی نہیں نظر آتی۔ عدلیہ ایک مجرم کو سزا سنائے تو پارلیمان کی عصمت خطرے میں پڑ جاتی ہے!
کون سا اہم فیصلہ پارلیمان میں ہوا ہے؟ کیا پارلیمان کو معلوم ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں 35ارب ڈالر کا قرضہ ملک کی کُبڑی پیٹھ پر لاد دیا گیا ہے؟ کتنی دفعہ پارلیمان نے اس قرضے کی تفصیلات مانگی ہیں؟ نو ارب ڈالر اس میں سے مبینہ طور پر مل ہی نہیں رہے کہ کہاں گئے ہیں؟ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ کتنی بار پارلیمان میں موضوعِ بحث بنا ہے؟ خارجہ پالیسی پر پارلیمان نے گزشتہ ایک برس میں کتنی بار بحث کی ہے؟ سی پیک کا منصوبہ‘ اس کی اصل دستاویزات ‘ چین کے ساتھ معاہدہ‘ کیا یہ سب پارلیمان میں پڑھا اور دیکھا گیا؟ کیا اس پر شق وار بحث ہوئی۔ پارلیمان کو تو یہ تک نہیں معلوم کہ اورنج ٹرین لاہور کا منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے یا نہیں؟ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ ‘ جب ملک کے وزیر اعظم کے ہمراہ ملکوں ملکوں پھرتا رہا اور باقی وزرائے اعلیٰ کو گھاس تک نہ ڈالی گئی تو پارلیمان کہاں تھی؟ کیا کبھی سینیٹ نے‘ جس کے چیئرمین صوبوں کے حقوق کے بزعم خود‘ سب سے بڑے چیمپئن بنتے ہیں اس دھاندلی پر احتجاج کیا؟
کیا پارلیمان کو قطر کے ساتھ گیس کے کیے گئے معاہدے کا علم ہے؟ کیا پارلیمان میں اس پر بحث کی گئی ؟ کیا پارلیمان کو جرا ¿ت ہوئی کہ حکومت سے یہ معاہدہ مانگتی اور اس کی شفافیت یا کثافت پر گفتگو کرتی؟
اور یہ بھی بتا دیجیے کہ پارلیمان کے کتنے فیصد ارکان سال میں کتنی بار بولتے ہیں؟ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ملکی بجٹ پر دو فقرے ڈھنگ سے نہیں بول سکتے!جنہیں کیپیٹل اور ریونیو کا فرق نہیں معلوم!جنہیں یہ نہیں پتہ کہ گرانٹ کس چڑیا کو کہتے ہیں اور ترقیاتی بجٹ کون سا بجٹ ہے؟ یہ وہ حضرات ہیں جو یہ بجٹ”پاس“ کرتے ہیں!!
ان سے ذرا پوچھا جائے کہ زرعی اصلاحات اور زرعی آمدنی پر ٹیکس نہ لگائے جانے پر پارلیمان نے گزشتہ دو یا چار برس میں کتنی بار بحث کی ہے؟ آج آپ کو نظر آنے لگا ہے کہ ”ہر کوئی پارلیمان پر چڑھ دوڑتا ہے“ ! حکومت کا وزیر اعظم اور اس کے عمائدین کی ترجیحات میں پارلیمان کا لفظ ہی موجود نہیں! مگر یہ سب کچھ آپ کو نہیں معلوم کہ آپ بہرے ہیں!
آپ صوبوں کے حقوق کے مجاہد ہیں! آپ پارلیمنٹ میں جمہوریت کی خاطر روپڑنے کے لیے مشہور ہیں! آپ کا اپنا تعلق جس صوبے سے ہے‘ اس کا صدر مقام تو دبئی میں ہے! کیا اس پر آپ کو کچھ دُکھ نہیں ہوا؟ ابھی تو کل کے اخبارات نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ کو دبئی میں طلب کیا گیا ہے؟کیا یہ صوبائی خود مختاری ہے؟ کیا آپ اپنی مقدس پارلیمان کے ذریعے یہ استفسار کرنا پسند فرمائیں گے کہ گزشتہ چار برسوں میں دبئی آنے جانے پر حکومتی عمائدین نے صوبے کے خزانے سے کتنا روپیہ خرچ کیا ہے؟ کیا آپ میں اتنی ہمت اور جرا ¿ت ہے؟ کیا آپ ایک قرار داد میں اس ناروا خرچ کی مذمت کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کی پارلیمان حکم جاری کرے گی کہ صوبے کے معاملات غیر ملک سے نہیں‘ صوبے ہی کے کسی شہر سے چلائے جائیں؟ نہیں! آپ ایسا نہیں کریں گے؟ آپ ایسے تمام مواقع پر منقار زیر پر رہتے ہیں!
پوپ مسلمان ہونے کی آرزو کر سکتا ہے! ٹرمپ‘ اوباما کے ہاتھ پر بیعت کر سکتا ہے! بھارت مقبوضہ کشمیر سے دستبردار ہو سکتا ہے! کراچی کے ساحلوں سے ٹکرانے والا سمندر‘ اُٹھ کر‘ ہمالیہ سے ہوتا ہوا‘ سائبیریا کا رُخ کر سکتا ہے مگر ان کے دہن مبارک سے کرپشن کے خلاف ایک جملہ تو دور کی بات ہے‘ ایک لفظ تو معجزہ ہے‘ ایک اُونہہ بھی نہیں سنی جا سکتی! جب حجاج کے جسموں سے احرام نوچے گئے‘ جب ایفی ڈرین کے معاملات نے افق سے افق تک منظر نامے کو ڈھانپ لیا‘ جب ترکی کی خاتون اول کا سیلاب کے لیے دیا ہوا ہار ہڑپ کر لیا گیا اور ملک پر گھڑوں پانی پڑ گیا‘ تو یہ حضرت بہرے بنے رہے! پھر جب کرپشن کا منبع و مخرج ملتان سے گوجر خان منتقل ہوا اور سکینڈلوں سے اخبارات کے صفحے سیاہ ہو گئے اور الیکٹرانک میڈیا کی آوازوں سے فضائیں بھر گئیں تو اس جمہوریت کے رسیا سیاست دان نے کچھ سنا ہی نہیں!
جمہوریت’ اللہ اللہ! کیا یہ جمہوریت ہے کہ باپ کے بعد پارٹی وراثت میں بیٹی کو ملی انکل فارغ کر دیئے گئے۔ پھر یہ ورثہ داماد کو منتقل ہوا۔ داماد نے بہن کو آل اِن آل قرار دیا‘ اب سفید سروں اور سفید مونچھوں داڑھیوں والے عمر رسیدہ سیاست دان ایک طفلِ نوخیز کے سامنے دست بستہ ہیں! یہ حقیقت تاریخ میں ریکارڈ پر ہے کہ اس نو آموز بچے نے دبئی میں طلب کیا تو عمریں سیاست میں پگھلا دینے والے اور پارٹی کی خدمت کر کرکے کمر جُھکا دینے والے سیاست دان دُبئی چل پڑے! عالی جاہ! خدا کا نہیں تو خلقِ خدا ہی کا خیال کر لیجیے! جمہوریت ! صوبوں کے حقوق! پارلیمان کا تقدس!  
یہ گھڑی محشر کی ہے‘ تو عرصہ ¿ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
کس کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں آپ جب فرماتے ہیں کہ پارلیمان پر ہر کوئی چڑھ دوڑتا ہے؟تین دن پہلے جب دو ہزار غیر متعلقہ افراد‘ بغیر کسی پاس‘ کسی اجازت نامے کے‘ پارلیمان پر چڑھ دوڑے تو جناب کہاں تھے؟
پارلیمنٹ کی حرمت کے سلسلے میں آپ اتنے حساس ہیں تو برطانیہ‘ امریکہ اور دوسرے جمہوری ملکوں کے پارلیمنٹرین جیسے ارکان پیدا کریں۔ ایک ایک رکن پارلیمنٹ کا ریسرچ کا اپنا سیٹ اپ ہے جس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان رات دن‘ محنت شاقہ سے‘ مسائل کی جڑیں کھودتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے ارکان تعلیم و صحت سے لے کر بجٹ اور بچت تک اور خارجہ امور سے لے کر داخلی سکیورٹی تک‘ ہر موضوع پر انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ ملک کے صدر یا وزیر اعظم کو قانون کے خلاف ایک قدم نہیں چلنے دیتے!
کیا بات ہے ہماری پارلیمان کی!جس دن مراعات میں اضافے کا بِل پیش ہو‘ جوش و خروش دیدنی ہوتا ہے! ہاں!جس دن زرعی آمدنی پر ٹیکس کا سوال اُٹھے یا غیرت قتل کے خلاف کوئی مسودہ پیش ہو جائے تو اُس دن بھی غیرت بیدار ہو جاتی ہے۔

Wednesday, August 02, 2017

شُوہارن… 2


شُوہارن‘ وہ چمچ نما آلہ ہے جس کی مدد سے پائوں جوتے میں آسانی سے ڈالا 
جا سکتا ہے۔ یہ ایڑی والی سائڈ سے استعمال ہوتا ہے۔ بچپن میں ہم نے بزرگوں سے اس کا نام چمچ ہی سنا۔ یہ حضرات اس جیب میں ضرور رکھتے تھے۔ جوتا پہنتے وقت جیب سے نکالا۔ استعمال کیا۔ ایڑی جوتے کے اندر داخل ہوگئی۔ ’’چمچ‘‘ کو جیب میں  واپس ڈال لیا۔
اس تحریر کا عنوان شو ہارن (2) اس لے رکھا گیا ہے کہ چند برس پہلے بھی ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان شُوہارن تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ملک پر جرنیل صاحب کی حکومت تھی۔ ان کی جیب میں ایک نہیں‘ کئی شُوہارن تھے۔ کچھ مذہبی تھے۔ کچھ سیاسی اور کچھ مذہب اور سیاست کا مرکب۔ مختلف وقتوں میں مختلف شوہارن استعمال کرتے۔ کچھ شوہارن تو ایک طرف سے جوتے کے لیے اور دوسری طرف سے کھجلی کرنے کے لیے استعمال ہوتے۔ انہیں ’’کُھرکو‘‘ بھی کہا جاتا۔ جرنیل صاحب کا اقتدار ختم ہوا تو یہ شوہارن ان کی جیب سے نکل آئے۔ ان شوہارنوں نے چلنا شروع کیا۔ ادھر ادھر دیکھا اور میاں نوازشریف کی جیبوں میں گھس گئے۔ ایک شوہارن جو مذہب اور سیاست کا مرکب ہے‘ کمال کا شوہارن ہے۔ یہ ہر مقتدر شخص کی جیب میں پہنچ جاتا ہے۔ بوقت ضرورت پیٹھ بھی کھجلاتا ہے۔ ایڑی کے لیے تو استعمال ہونے کا ماہر ہے۔ اس شوہارن کا مقابلہ کوئی ماں کا لعل نہیں کر سکتا۔ یہ شوہارن سیاست‘ چالاکی‘ چابکدستی‘ چستی‘ موقع شناسی‘ موقع پرستی‘ ابن الوقتی کا باکمال مرکب ہے۔ یہ ایڑی پر گھوم جانے میں زبردست مہارت رکھتا ہے۔ مذہب کا استعمال‘ گزشتہ چودہ صدیوں میں جن درباری حضرات نے کیا ان میں اس کا نام نمایاں لکھا جائے گا۔
دنیا میں پہلا شوہارن کب وجود میں آیا؟ کچھ کہا نہیں جاسکتا! تاریخ یہ ضرور بتاتی ہے کہ انگلستان کی ملکہ الزبتھ نے 1560ء کے لگ بھگ اپنے موچی سے اٹھارہ شوہارن بنوائے۔ سات سال بعد اس نے مزید چار کا آرڈر دیا۔ قیاس ہے کہ گھر کے سب افراد ان سے متمتع ہوتے تھے۔ پھر شوہارنوں پر ان کے مالکوں کے نام کھدوانے کا رواج پڑ گیا۔ ڈیزائن‘ پھول پتے بھی کاڑھے جانے لگے۔
آج کے عہد میں جس شخص کے پاس شوہارنوں کی کثیر تعداد موجود ہے اس کا تعلق نیدر لینڈ (ہالینڈ) سے ہے! اس کا نام مارٹن توتاف ہے۔ مارٹن نے تقریباً سولہ سو شوہارن اکٹھے کئے ہیں۔ یہ شوق اسے 1977ء میں لاحق ہوا۔ شروع میں وہ صرف تین عدد شوہارنوں کا مالک تھے۔ پھر شوق کو مہمیز لگتی گئی۔ اس نے معلومات اکٹھی کیں۔ اس موضوع پر کتابیں پڑھیں۔ معلوم ہوا کہ شوہارن مختلف میٹریل سے بنائے جاتے رہے ہیں۔ مثلاً لکڑی‘ چمڑا‘ ہاتھی دانت‘ پلاسٹک اور کئی قسم کی دھاتیں! اس کے حلقہ احباب میں اس کا شوق مشہور ہوا تو دوستوں رشتہ داروں نے شوہارن تحفے میں دینے شروع کردیئے۔ پھر ایک مقامی اخبار نے اس پر فیچر لکھا۔ اب وہ جدھر سے گزرتا لوگ اسے شوہارنوں کے حوالے سے پہچان لیتے۔ شادی کی پچیسویں سالگرہ پر‘ اس کی بیگم نے چاندی کا شوہارن پیش کیا جو اسے سب سے زیادہ عزیز ہے!
یاد نہیں اس کالم نگار کو شوہارن جمع کرنے کا عارضہ کب لاحق ہوا۔ ایک حقیر سی تعداد بہرطور ملکیت میں ہے۔ جملہ حقوق اس کے محفوظ ہیں۔ 2007ء میں واشنگٹن سے چرچ کے جوتوں کا جوڑا سیل میں مل گیا۔ دکاندار نے ساتھ مفت میں شوہارن دیا۔ یہ سفید چمکدار سٹیل کا تھا۔ پھر ایک خوبصورت شوہارن لندن میں قدرے سستا مل گیا۔ میلبورن کی ایک گفٹ شاپ میں سٹیل کا ایک شوہارن پڑا ہے۔ جو تقریباً ایک فٹ لمبا ہے۔ قیمت پوچھی تو دو سو ڈالر سن کر ٹھٹھک گیا۔ بہرحال جب بھی وہاں سے گزر ہوتا اسے باہر سے ضرور دیکھتا اور اطمینان ہوتا کہ موجود ہے۔ ایک دن وہاں سیل کا بورڈ لگا تھا مگر چند ڈالر ہی کی تخفیف تھی۔ اس لیے بھی ضبط سے کام لے کر خریدنے سے گریز کیا کہ پہلے کی کتابیں اور فائونٹین پین خریدنے اور جمع کرنے کے شوق سے گھر والے‘ بیزار ہیں۔ ہمارے جیسا روایت پسند جب بھی ’’گھروالے‘‘ کہتا ہے تو مراد گھر والی ہی ہوتی ہے۔ کتابوں کی وجہ سے گھر میں نظم و ضبط کا مکمل فقدان ہے کیوں کہ احتجاج کے باوجود وہ ہر جگہ نظر آتی ہیں۔ کھانے والی میز سے لے کر چارپائیوں تک‘ صوفوں سے لے کر کرسیوں تک‘ سیڑھیوں سے لے کر الماریوں تک! اس بدنظمی پر احتجاج تین نسلوں سے تو خود اپنے کانوں سے سن رہا ہوں۔ دادی جان کتابوں اور رسالوں کو حقارت سے اور تمسخر سے ’’پھڑکے‘‘ کہتی تھیں ’’بھاگوان! جدھر سے آتا ہے‘ مزید پھڑکے لیے آتا ہے‘ پہلے ہی جگہ نہیں۔‘‘ پھر والدہ کا زمانہ آیا۔ ان کا احتجاج نسبتاً نرم تھا۔ اب کالم نگار کی اہلیہ کا فتویٰ یہ ہے کہ گھر میں ہزار الماریاں ہوں تب بھی ان میں کتابیں ہی نظر آئیں گی! فائونٹین پین جگہ تو نہیں گھیرتے مگر نسبتاً مہنگا شوق ہے۔ اس پر تفصیلی تحریر پھر کبھی!
ایک دن میلبورن کے آئکیا (Ikea) سٹور میں آوارہ گردی کر رہا تھا کہ پلاسٹک کے بنے ہوئے خوبصورت‘ شوہارن نظر آئے۔ تقریباً سوا فٹ لمبے۔ قیمت پوچھی تو کانوں پر یقین نہ آیا۔ ایک ڈالر! بعد میں ان کی قیمت بڑھی تو تین ڈالر ہو گئی۔ پاکستان میں ڈھونڈیں تو اصلی چمچ کی لمبائی کے بہت مل جاتے ہیں۔ مگر لمبے نہیں ملتے جو طویل قامت افراد کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔ چند دن پہلے دوست گرامی جنرل کمال اکبر نے‘ جو آئی سپیشلسٹ ہیں اور تینوں مسلح افواج کے سرجن جنرل بھی رہے ہیں‘ لکڑی کا بنا ہوا خوبصورت شوہارن عطا کیا۔ یہ برما (میانمار) کا بنا ہوا ہے۔ لکڑی بھی قیمتی ہے ساگوان ہے یا آبنوس! لمبائی ایک فٹ سے کہیں زیادہ ہے!
مگر غور کریں تو کیا ہے بے وقوفی ہے! کتابیں اور فائونٹین پین جمع کرنا۔ یا سازوسامان میں زیادہ سے زیادہ شوہارن۔ دو تین آبائی زمینیں! ایک آبائی برچھی!    ؎
کتاب اور شمشیر‘ زین اور عصا
یہی کچھ ہمارے مکانوں میں تھا
ہم جیسوں کو عقل ہوتی تو باپ دادا کی کتابیں‘ 
مسودے اور محظوطات سنبھالنے کے بجائے ان کی پیروی کرتے جن کا طوطی 
بول رہا ہے! کیا حماقت ہے کہ حکیم محمدسعید مرحوم نے گھڑی انعام میں دی تھی‘ ہزار دو ہزار روپے کی ہوگی‘ وہی حرز جاں بنا کر رکھی ہوئی ہے کہ حکیم صاحب کے دست شفقت سے ملی تھی! عقل ہوتی تو اڑھائی کروڑ روپے کی گھڑی کا بندوبست کرتے لندن سے لے کر جدہ تک اور قطر سے لے کر پاکستان تک فیکٹریاں محلات اپارٹمنٹ کاروبار‘ حصص‘ اقامے ہوتے! اور اتنے ہوتے کہ وکیلوں کے جمگھٹ بھی گن نہ پاتے۔ چار دانگ عالم میں شہرت ہوتی! جو بچے پیدا نہیں ہوئے‘ وہ بھی کھرب پتی ہوتے۔ طنطنہ ہوتا‘ جاہ و حشمت ہوتی‘ تزک و احتشام ہوتا۔ باقر خانیاں بنانے کے باورچی الگ ہوتے۔ ہریسہ پکانے والے الگ اور پلائو بنانے والے الگ۔
گوجرانوالہ کے ایک نواحی گائوں کوٹلی میں شہنشاہ اکبر کے قاضی القضاۃ شیخ عبدالنبی کا مقبرہ ہے جو پانچ ساڑھے پانچ سال پہلے لاکھوں کے اخراجات سے تعمیر کیا گیا تھا۔ سنگ مرمر بے تحاشا استعمال کیا گیا۔ دروازے جنوبی ہند کی بیش قیمت لکڑی سے بنوائے گئے تھے۔ تعمیر میں چونا‘ ماش کی دال اور کیمیائی مادوں کا آمیزہ لگا تھا۔ گنبدوں اور میناروں پر سونے چاندی کے کلس لگے تھے۔ یہ بھی مشہور تھا کہ زیریں حصے میں خزانے مدفون ہیں۔ یہ تین سال پہلے کی بات ہے کچھ لوگ اس بستی میں آئے اور بتایا کہ وہ محکمہ اوقاف کے افسر اور ملازمین ہیں اور مقبرے کی تعمیر نو اور آرائش کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے سریے اور ریت کی ٹرالیاں بھی منگوائیں۔ مگر پھر تمام منقش دروازے نقش و نگار والی ٹائلیں‘ گنبدوں اور میناروں کے کلس اور دیگر بیش قیمت سامان اتارا اور غائب ہو گئے۔ شیخ کی قبر بھی انہوں نے پائنتی کی طرف سے کھودی۔ جانے کچھ ملایا نہیں۔
مگر یہ چور‘ بہت سے دوسرے چوروں اور ڈاکوئوں سے بہتر تھے۔ کم از کم انہوں نے زندہ مخلوق کے حق پر تو ڈاکہ نہیں ڈالا۔ یہ چور ان ڈاکوئوں سے بہتر ہیں جو لاکھوں کروڑوں مریضوں کا حق مار کر‘ چھینک کا علاج بھی لندن سے کراتے ہیں۔ جو لاکھوں دختران وطن کا مال چرا کر اپنی بیٹیوں کو سونے چاندی سے لاد دیتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ سونے چاندی کا بوجھ اوپر لاد کر‘ ان بیٹیوں کی بدصورتی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
بھارت کی فلم ایکٹریس جے للیتا سیاست میں آئی۔ چیف منسٹر بنی۔ دولت کے انبار اکٹھے کئے۔ امیلدا مارکوس کی طرح اس کے پاس بھی جوتوں کے ہزاروں جوڑے تھے۔ ہزاروں ساریاں تھیں‘ تعجب یہ ہوا کہ کچھ عرصہ پہلے دنیا سے گئی تو جوتوں کا ایک جوڑا اور ایک ساری تک ساتھ نہ لے کر گئی۔ گاڑیوں کی بھی شوقین تھی۔ بنگلے اور فارم بھی بہت تھے مگر چتا میں اکیلی گئی۔
چتا میں جلنا ہو یا پھر لحد میں مدفون ہونا‘ ساتھ کچھ نہیں جاتا‘ پیچھے اگر کتابیں چھوڑی جائیں اور فائونٹین پین اور زیادہ سے زیادہ چند درجن شو ہارن‘ تو پس ماندگان جھگڑا کرنا چاہی

Sunday, July 30, 2017

کیا ماڈل ٹاﺅن کا قتلِ عام بھی نادرشاہ نے کرایا تھا؟

کئی عشروں کے بعد اقتدار کا خاتمہ تو ہونا ہی تھا۔ میاں محمد نواز شریف کا اندازِ حکمرانی تیونس کے زین العابدین اور مصر کے حسنی مبارک سے زیادہ مختلف نہ تھا۔ کروڑوں اربوں میں کھیل رہے تھے۔ ذوق کااندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کلائی پر گھڑی کروڑوں کی تھی۔ جس دن کراچی میں کئی افراد موت کے گھاٹ اتار دیے گئے‘ غالباً چیمبر آف کامرس والوں کے ہاں ظہرانہ تھا۔ وزیر اعظم نے لنچ کے ”کمزور“ ہونے کا شکوہ کیا۔ مشہور ہے کہ فائل خود کبھی نہیں پڑھی! اندازِ حکومت مکمل طور پر قبائلی تھا!
پاکستان کی خوش بختی کہ اس ”دولت انگیز“ اقتدار کا خاتمہ اس طرح نہ ہوا جیسے حسنی مبارک، قذافی اور زین العابدین کا ہوا۔ عدلیہ نے دولت کے انبار اکٹھے کرنے والے حکمرانوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ اور اقتدار سے فارغ کر دیا۔ یوں پاکستان ان ملکوں کی صف میں کھڑا ہو گیا جہاں قانون کی حکمرانی ہے جہاں قانون کا صرف ضعیف اور نحیف پر نہیں طاقت ور پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے بعد کا منظر نامہ دلچسپ ہے اور عبرت ناک بھی! زخم چاٹنے والوں میں وزراءکی فوج ظفر موج تو ہونا ہی تھی۔ ان کی تو پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں تھا۔ جنگل کا قانون تھا۔ کابینہ کا ایک وزیر قومی ایئر لائنز کے مقابلے میں اپنی نجی ایئر لائن چلا رہا تھا جو نفع میں تھی جبکہ قومی ایئر لائن خسارے میں تھی۔ وزیر خزانہ کے ذاتی اثاثے اقتدار میں آنے کے بعد اکانوے گنا بڑھے۔ ان حضرات کی عزاداری قابل فہم ہے۔
مگر آہ و زاری کی زیادہ دلخراش آوازیں دانشوروں‘ لکھاریوں اور صحافیوں کے اس چاپلوسی گروہ سے آ رہی ہیں جو خاندان کی پرستش کر رہا تھا۔ اس گروہ کو اگر ”خانوادہ پرست“ کا لقب دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ملک کی پروا تھی نہ قوم کی۔ یہ گروہ ہر وقت اس حساب کتاب میں لگا رہتا تھا کہ شہزادی وفاق میں جانشین ہو گی اور فلاں شہزادہ پنجاب کا مالک و مختار ہو گا! ایک ٹیلی ویژن چینل پر (92نیوز چینل نہیں!) ایک ایسا منظر دیکھا کہ حیرت سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں!
عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنے سے دو دن پہلے کی بات ہے۔ خانوادہ پرست گروہ کے چند معزز ارکان بساط جمائے بیٹھے تھے۔ بہت آرام و اطمینان سے مستقبل کی سلطنتیں یوں تقسیم کر رہے تھے جیسے نعوذ باللہ خدا تھے! بھائی وفاق میں چلا جائے گا۔ اس کا بیٹا صوبے پر حکمرانی کرے گا فلاں کو یہ عہدہ ملے گا۔ فلاں فلاں شے کا مالک ہو گا۔ ان کے نزدیک نااہل ہونے کے بعد ہر شے ساکت و جامد ہو جانا تھی۔ نون لیگ قائم و دائم رہنا تھی! خاندان کی پرستش رگ رگ میں یوں سمائی ہے کہ سابق شاہی خاندان ان کے نزدیک معصوم تھا۔ یہ تو صرف اسٹیبلشمنٹ تھی جو ان فرشتوں کے پیچھے پڑی تھی۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے ایسے ایسے دانشور دیکھے ہیں کہ پردہ ¿ سیمیں پر بالکل نارمل بیٹھے ہیں اچھی بھلی بامعنی گفتگو فرما رہے ہیں مگر جیسے ہی کسی نے حکومت پر یا خاندان کے کسی فرد پر تنقید کی‘ ان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ مٹھیاں بھنچ گئیں‘ رگیں تن گئیں‘ منہ سے جھاگ نکلنے لگ گئی۔ پھر اللہ دے اور بندہ لے! جو منہ میں آیا کہہ دیا!
جے آئی ٹی کے ارکان ہدف بن رہے تھے۔ جب سب ادارے جیب میں تھے تو ان ”ملازموں“ کی یہ جرا ¿ت کہ تفتیش کی اور بے لاگ کی! ان کو ”کیفر کردار“ تک پہنچانا ضروری ہو گیا تھا! بغاوت! وہ بھی شاہی خاندان سے! نجی جاسوسی اداروں کو مامور کیا گیا کہ ان کی اور ان کے خاندانوں کی چھان بین کریں! اس کالم نگار سے کسی نے تبصرہ کرنے کو کہا‘ جواب دیا کہ ایک نظام اور بھی ہے جو نظر نہیں آ رہا مگر مسلسل کام کر رہا ہے! تاریخ عبرت ناک حقائق سے بھری پڑی ہے کئی جابر اور قاہر حکمران ”نافرمانوں“ کو سزا دینے کے لیے اٹھے تو پھر بیٹھ نہ سکے! سچا واقعہ ہے کہ ایک نیک اور متقی بزرگ کو گاﺅں کے ایک گردن بلند نے دھمکی دی کہ کل تمہیں درست کروں گا! ان کے منہ سے نکلا کہ کل رہو گے تو تبھی درست کرو گے نا! دوسرے دن اس کی چارپائی کندھوں پر لاد کر لے جائی جا رہی تھی! جے آئی ٹی کے ارکان! ع
ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی!
کیا کیا پیش نہ کیا گیا ہو گا انہیں! اس خانوادے کے ہر فرد کو تربیت ہی یہ ملی تھی کہ جو شخص راستے میں آئے اسے خرید لو۔ یہ ہر فرد کو فروختنی سمجھتے تھے۔ سپہ سالار جنرل آصف نواز جنجوعہ کے بھائی شجاع نواز کی تصنیف ”کراسڈ سورڈز“Crossed Swordsکوئی نایاب کتاب نہیں! عام ملتی ہے۔ شجاع نواز خان ماشاءاللہ حیات ہیں۔ رقم طراز ہیں کہ جنرل کو معلوم ہوا کہ کور کمانڈروں اور ان کے قریبی اعزہ کو نئی بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کی پیشکشیں ہو رہی ہیں تو اس کا ماتھا ٹھنکا اسے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک کور کمانڈر کے بھائی کو ایک صنعتی یونٹ کا نفع آور لائسنس دیا گیا ہے۔ پھر ایک دن شہباز شریف آ گئے۔ جنرل کو بی ایم ڈبلیو کی چابی دی اور بتایا کہ ”اَبّا جی نے یہ تحفہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے“ یوں جنرل کو ذاتی تجربہ بھی ہو گیا۔ اس نے شکریہ کے ساتھ چابی واپس کر دی۔ مگر کوشش جاری رہی ! سبحان اللہ! اباجی کیا تربیت دے رہے تھے۔وزیر اعظم مری میں تھے تو جنرل آصف نواز وہاں انہیں ملے جب وہ رخصت ہو رہے تھے تو وزیر اعظم ان کے ساتھ ان کی گاڑی تک آئے“ آپ کے پاس کون سی گاڑی ہے؟“ وزیر اعظم نے پوچھا جنرل کی گاڑی ایک پرانی ٹیوٹا کراﺅن تھی۔ جنرل نے اس کی طرف اشارہ کیا۔ یہ گاڑی آپ کے شایان شان نہیں!“ پھر وزیر اعظم نے کسی کواشارہ کیا جو ایک نئی بی ایم ڈبلیو چلاتا واپس آیا صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ گاڑی ”انتظار“ میں تھی وزیر اعظم نے چابی سپہ سالار کی طرف بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ ہے وہ گاڑی جو آپ کے شایان شان ہے۔ شجاع نواز کتاب میں لکھتے ہیں کہ اس دیدہ دلیری پر جنرل آصف نواز جیسے منجمد ہو گیا۔ پھر اس نے چابی وزیر اعظم کو واپس کی۔”سر آپ کا شکریہ مگر میرے پاس جو ہے اس پر خوش ہوں“!
یہ ہے تاجرانہ‘ مائنڈ سیٹ‘ دکاندارانہ ذہنیت ! تعجب نہیں کہ خانوادہ پرست لکھاری اس کی بھی توجیہہ کریں اور اس سے بھی جمہوریت نکال لائیں۔ اس پس منظر میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جے آئی ٹی کے گوشت پوست کے بنے ہوئے ارکان کو کیا کیا پیش کش نہ ہوئی ہو گی! مگر وہ ثابت قدم رہے۔ ان میں سے ایک دو اسلام آبادکلب آئے(رپورٹ پیش کر دینے کے بعد) تو لوگوں نے ان کے ہاتھ چومے۔ یہ ہوتی ہے عزت! اس لیے کہ وہ فروختنی نہ تھے! احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا  
اگر ہو دور سویرا اگر گھنا ہو اندھیرا
تو یہ اصول ہے میرا کہ دل کے دیپ جلاﺅ
ادھر شراب کا رس ہے‘ اُدھر شباب کا مَس ہے
قدم قدم پہ قفس ہے ندیم دیکھتے جاﺅ
کالعدم کابینہ کے ارکان پریس کانفرنس میں عدالتی فیصلے پر حاشیہ آرائی کر رہے تھے۔ کانوں پر یقین نہ آیا جب ایک نے دعویٰ کیا کہ ”پاکستان ہم نے بنایا تھا“! یاد آیا کہ بھارت میں کچھ محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ تاج محل اصل میں ایک مندر تھا! کیا عجب قائد اعظمؒ نے نہیں‘ بلکہ میاں محمد نواز شریف کی کالعدم کابینہ کے ارکان یا ان کے آباﺅ اجداد نے پاکستان بنایا ہو! آخر میاں صاحب کو دریافت کرنے اور قوم کی خدمت میں پیش کرنے والے جنرل ضیاءالحق کو بھی تو قائد اعظمؒ کی ایک ڈائری مل گئی تھی!
ہم نے تو یہی سنا ہے کہ پاکستان قائد اعظمؒ نے بنایا تھا۔ لیکن یہ طے ہے کہ کچھ کام جو پاکستان کو مضبوط کرنے کے لیے لازم تھے۔ قائد اعظمؒ نے نہیں کئے۔ مثلاً انہوں نے نرسنگ ہوم چلانے والے کسی شخص کو سٹیٹ بنک کا ڈپٹی گورنر اور نیشنل بنک کا صدر نہ بنایا۔ انہوں نے ماڈل ٹاﺅن کیس کے شہرت یافتہ بیورو کریٹ کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں سفیر بنا کر نہ بھیجا‘ قائد اعظمؒ اس ذوق سے مکمل بیگانہ تھے، جو قائد اعظم ثانی کو قدرت نے ودیعت کیا تھا! اڑھائی کروڑ کی گھڑی قائد اعظمؒ کیا باندھتے‘ جرابیں مہنگی قرار دیں اور واپس کر دیں۔ کہا کہ کابینہ کے اجلاس سے پہلے ارکان گھر سے چائے پی کر آیا کریں۔ دعویٰ کرتے وقت خلقِ خدا کا نہیں تو خدا کا خوف ہی کر لینا چاہیے!
اس وقت تک درباری میاں شہباز شریف کو یقین دلا چکے ہوں گے کہ اب نجات دہندہ آپ ہی ہیں! صوبے کو شہزادے کے سپرد کیجیے اور خود وفاق کا تخت و تاج سنبھالیے۔ اگر پروردگار کو اس قوم پر رحم آ گیا تو وفاق میاں شہباز شریف سے بچ جائے گا۔ اگر گناہوں کی سزا باقی ہے تو پھر پورا پاکستان لاہور اور صرف لاہور سے عبارت ہو گا! صوبائی کابینہ میں رانا ثناءاللہ صاحب کے علاوہ کسی کا نام کسی کو معلوم نہیں! یہی کہانی‘ خدانخواستہ‘ وفاق میں دہرائی جائے گی! پھر صوبے کا نہیں‘ پورے ملک کا بجٹ ایک شہر پر صرف ہو گا! طالب علمی کا زمانہ تھا۔ راولپنڈی میں ایک شاعرہ تھیں۔ رابعہ نہاں! سوز میں ڈوبی ہوئی آواز تھی ۔ان کا شعر یاد آ رہا ہے 
ٹوٹے گی کوئی تازہ بلا جانِ نہاں پر
لو شمعِ حوادث کی ہے تھرائی ہوئی سی
ماڈل ٹاﺅن میں چودہ افراد کو دن دہاڑے سلاطین دہلی کے زمانے میں تو ہلاک نہیں کیا گیا تھا۔ یہ قتلِ عام نادرشاہ کے ذمّے لگائے جانے سے تو رہا! جسٹس باقر نقوی کی رپورٹ منظر عام پر آئے گی یا بقول حسرت موہانی  
رسمِ جفا کامیاب دیکھیے کب تک رہے
حبِّ وطن مستِ خواب دیکھیے کب تک رہے
تابہ کجا ہوں دراز سلسلہ ہائے فریب
ضبط کی لوگوں میں تاب دیکھیے کب تک رہے
پردہ ¿ اصلاح میں کوششیں تخریب کی
خلقِ خدا پر عذاب دیکھیے کب تک رہے
حسرتِ آزاد پر جورِ غلامانِ وقت
از رہِ بغض و عتاب دیکھیے کب تک رہے

Friday, July 28, 2017

کیا آپ کا تعلّق اقلّیت سے ہے؟ ................کون سی اقلیت؟


اسلم سومرو ایک مغربی ملک میں مقیم ہے۔ اکثریت اس ملک میں سفید فام باشندوں کی ہے۔ اسلم کا رنگ گندمی بلکہ ذرا سا مائل بہ سیاہی ہے۔ گویا رنگت کے اعتبار سے وہ اکثریت سے نہیں‘ اقلیت سے تعلق رکھتا ہے۔
مذہباً وہ مسلمان ہے۔ اس ملک میں مسلمانوں کی تعداد تین چار فیصد سے زیادہ نہیں۔ غالب اکثریت مسیحی مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔ اس حوالے سے بھی اسلم اقلیت کا رکن ہے۔
رنگ اور مذہب کو چھوڑ کر‘ اگر ثقافت کا پوچھا جائے تو اس پہلو سے بھی اسلم کا اکثریت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ ناچ گھر جاتا ہے نہ شراب پیتا ہے۔ سو ¿ر کا گوشت بھی نہیں کھاتا۔ گھر سے باہر کھانا کھانا ہو تو حلال ریستوران تلاش کرتا ہے یا کسی انڈین ریستوران میں دال سبزی کھا لیتا ہے۔ وہ اکثریت کے تہواروں سے بھی عملاً لاتعلق رہتا ہے۔ عیدین‘ محرّم اور میلاد اس کے ثقافتی مواقع ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس حوالے سے بھی وہ اقلیت میں ہے تو غلط نہ ہو گا۔
مگر حیرت ہے کہ اس کے باوجود اسلم کی شناخت اس ملک میں اقلیت کے حوالے سے نہیں! اسے کبھی کسی نے نہیں باور کرایا کہ تم یہاں اقلیت سے تعلق رکھتے ہو۔مذہب ‘ رنگ ثقافت ہر لحاظ سے اکثریت سے الگ ہونے کے باوجود کسی فارم ‘کسی شناختی کارڈ‘ کسی دستاویز‘ کسی کاغذ پر اسے اقلیت نہیں کہا جاتا۔ ا س کے وہی حقوق ہیں جو اکثریت کے ہیں۔ وہ ایک بڑی کمپنی میں اپنے شعبے کا سربراہ ہے۔ شہر کے اس حصے میں رہتا ہے جہاں رہائش گاہیں بڑی بڑی ہیں اور علاقہ امرا کا علاقہ کہلاتا ہے۔ یہاں اس کا اپنا مکان ہے!
اس کے مقابلے میں مسلمان ملکوں کے اندر بالکل مختلف رویّے دیکھنے میں آتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی مسلمان وسائل کے اعتبار سے خوشحال ریاستوں میں غیر ملکی مسلمانوں کو اقلیت تو نہیں کہا جاتا مگر عملاً سلوک ان کے ساتھ اس سے بھی بدتر کیا جاتا ہے۔وہ اپنے نام سے کوئی تجارتی سرگرمی دکھا سکتے ہیں نہ کوئی مکان دکان جائیداد ہی ان کے نام پر منتقل ہو سکتی ہے یہاں تک کہ ٹیکسی چلائیں تو وہ ٹیکسی بھی کسی مقامی کفیل کے نام پر رجسٹرڈ ہو گی!ان غیر ملکی مسلمانوں کے پاسپورٹ عام طور پر کفیل کے قبضے میں ہوتے ہیں۔لاتعداد ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ غیر ملکی مسلمان کا قریبی عزیز پیچھے وطن میں انتقال کر گیا مگر وہ اس کے جنازے پر پہنچ سکا نہ ہی تعزیت کے لیے آ سکا کیونکہ پاسپورٹ کفیل کے پاس تھا اور کفیل ملک سے باہر تھا!
پاکستان میں صورتِ حال زیادہ مختلف نہیں۔ یہاں کی غیر مسلم آبادی رنگ نسل اور ثقافت کے حساب سے اکثریت جیسی ہی ہے۔ زبان بھی وہی بولتی ہے۔ لباس بھی وہی ہے۔ کھانا بھی تقریباً ایک جیسا ہے۔ مگر چونکہ مذہب مختلف ہے اس لیے اس کے ماتھے پر اقلیت کا نشان کُھدا ہے۔ اسے جو الفاظ دن میں کئی بار سننے پڑتے ہیں وہ کچھ اس قبیل کے ہیں۔اقلیتوں کے حقوق‘ اقلیتوں کی تعداد‘ اقلیتوں کی حفاظت اور بہت سے دوسرے! یہ غیر مسلم‘ ووٹ بھی صرف اپنے ہم مذہب کو دینے کا پابند ہے! اس کے برعکس ‘ مغربی ملکوں میں رہنے والے مسلمان‘ غیر مسلم‘ سفید فام باشندوں کے ووٹ لے کر منتخب اداروں میں براجمان ہیں! برطانیہ میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے نتائج ‘ کسی بھی مسلمان ملک کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں یہ اور بات کہ آنکھیں کھولنے کے لیے آنکھوں کا ہونا ضروری ہے۔
حکومتی پارٹی کے ایک ممتاز رکن نے حال ہی میں عمران خان پر ”الزام“ لگایا ہے کہ اس نے رفاہی سرگرمیوں کے لیے ”غیر مسلموں“ سے چندہ لیا ہے! گویا آپ نے کوئی ہسپتال سکول یا فلاحی ادارہ قائم کرنا ہے تو غیر مسلم ”اقلیت“ کو اپنی مالی خدمات پیش کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے! خوب! بہت خوب! اس سے اگلا قدم یہ ہو گا کہ وہ ان فلاحی ہسپتالوں یا تعلیمی اداروں سے فائدہ اٹھانے کے اہل بھی نہیں! اس اندازِ فکر پر غور کیجئے! کیا اس سے زیادہ مضحکہ خیز اور بودی بات کوئی ہو سکتی ہے کہ اپنے ہی ملک کے شہری کو‘ جس کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ پر اس کی قومیت”پاکستانی“ درج ہے‘ ایک ہسپتال کی تعمیر کے لیے چندہ دینے سے روک دیا جائے۔ اُسے کبھی اقلیت کہا جائے کبھی غیر مسلم کا نام دیا جائے‘ اسے کبھی اقلیت کہا جائے کبھی غیر مسلم کا نام دیا جائے۔ کیا ترقی یافتہ ملکوں میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو کسی نے ”نان کرسچین“ یا غیر عیسائی کے نام سے پکارا ہے؟
حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں صرف دو اقلیتیں ہیں! پہلی اقلیت خوش نصیب ہے۔ یہ طبقہ ¿ بالا پر مشتمل ہے۔ اس میں جاگیردار‘ سردار‘ وڈیرے ‘ زمیندار‘ اور اربوں کھربوں میں کھیلنے والے صنعت کار شامل ہیں۔ یہی افراد سیاست میں دخیل ہیں۔ منتخب قومی اور صوبائی اداروں میں انہی کی اکثریت ہے۔ یہ مختلف سیاسی جماعتوں میں ہو کر بھی ایک دوسرے کے ساتھ رشتوں‘ قبیلوں اور خاندانوں کے اعتبار سے جُڑے ہوئے ہیں۔اسی اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد وزیر بنتے ہیں اور ہر حکومت میں عمائدین اور امرا میں شامل ہوتے ہیں۔ ہالہ کے مخدوم ہوں یا بلوچستان کے سردار‘ یا ملتان کے گدی نشین‘ یا جھنگ کے پیر یا کے پی کا سیف اللہ یا ولی خاندان‘ یا گجرات کے چوہدری‘ یا رائے ونڈ کے شریف یا جنوبی پنجاب کے لغاری‘ مزاری اور کھوسے‘ یہ سب اس اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں جو اس ملک پر ستر سال سے حکومت کر رہی ہے! وزارتوں اور اسمبلیوں پر قابض ہے۔ یہ اپوزیشن میں ہوں تب بھی عملی طور پر مقتدر ہی رہتے ہیں۔
بالائی طبقے پر مشتمل اس خوش بخت اقلیت میں دو مزید اکائیاں شامل ہو گئی ہیں۔ ایک وہ مذہبی رہنما جو سیاست میں ہیں اور مذہب کو سیاست کے لیے خوب خوب استعمال کر رہے ہیں۔ چنانچہ مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں کا طرزِ زندگی اور معیارِ حیات اتنا ہی شاہانہ اور مراعات یافتہ ہے جتنا اس طبقے کے دوسرے ارکان کا۔ دوسری اکائی اس طبقے میں تاجروں بنکاروں اور مخصوص میڈیا کی شامل ہوئی ہے یہ لوگ بھی اب مراعات یافتہ طبقے کے کندھے سے کندھا رگڑتے ہیں اور اقتدار کی راہداریوں میں مٹر گشت کرتے پھرتے ہیں۔ اس طبقے پر‘ اکثر و بیشتر‘ قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ تھانے ان کے سامنے دست بستہ کھڑے ہیں۔ شہر اور قصبے ہوں یا صوبائی اور وفاقی دارالحکومت ‘ یہ بادشاہوں کی طرح گھومتے پھرتے ہیں۔ ٹریفک کا ضابطہ اگر ان پر کوئی لاگو کرنے کی کوشش کرے تو منہ کی کھاتا ہے‘ ایئر پورٹوں پر جب عام شہری قطاروں میں کھڑے انتظار کر رہے ہوتے ہیں یہ‘ پروٹوکول افسروں کے جلو میں ‘ فرعونوں کی طرح اکڑ کر‘ وی آئی پی لاﺅنجوں سے گزرتے‘ باہر آ جاتے ہیں! اسلحہ کے قوانین ہوں یا ٹیکس کے یا درآمد برآمد کے‘ یا تعمیرات کے‘ ان پر کسی کا اطلاق نہیں ہوتا!
دوسری اقلیت اس ملک کی مڈل کلاس کا وہ بدقسمت طبقہ ہے جو اپنی ذہانت محنت اور دیانت داری کے طفیل‘ بالائی طبقہ کے نالائق اور بیساکھیوں پر چلنے والے سپوتوں کی نسبت کہیں زیادہ کامیاب ہے۔ یہ معزز پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر ہیں اور انجینئر‘ سائنس دان ہیں اور پروفیسر‘ وکیل ہیں اور بیرون ملک کی مشہور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نوجوان! انہی میں سی ایس ایس کے افسران بھی ہیں جو عام خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور صرف اور صرف مقابلے کی بنیاد پر اوپر آئے ہیں! مڈل کلاس کا یہ بدقسمت طبقہ جب اپنے حقوق‘ اپنی اہلیت کے تناسب سے مانگتا ہے تو اسے منہ کی کھانا پڑتی ہے کیونکہ حقوق دینے والے‘ اس اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں جو بالائی طبقے پر مشتمل ہے۔ یہ سفارش کے بغیر حق‘ حقدار کو نہیں دیتے۔ چنانچہ جو حق مڈل کلاس کا ہے‘ وہ یہ بالائی طبقہ اپنے طبقے کے بدشکلے اور بے عقلے نوجوانوں میں بانٹ دیتا ہے۔ اس ظلم اور دھاندلی سے تنگ آ کر‘ مڈل کلاس کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان دوسرے ملکوں کو ہجرت کر جاتے ہیں۔ جہاں انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے اگر وہ سارے پاکستانی جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں‘ ڈاکٹر ‘انجینئر ‘ سائنس دان اور پروفیسر ہیں‘ بیرون ملک سے واپس آ جائیں تو کیا اپنی اہلیت کی رو سے پذیرائی پائیں گے؟ نہیں! بالکل نہیں! کئی حب الوطنی کے شوق میں بیرونِ ملک سے واپس آئے۔ مگر سرخ فیتے اور پیچ در پیچ مکروہ سفارشی نظام سے اکتا کر‘ واپس چلے گئے۔
یہاں کے حکمران‘ اُن افراد کو ترجیح دیتے ہیں جو ”اپنے“ ہوں اور ان کے نام اُن چٹوں پر درج ہوں جو ان کی جیبوں میں رکھی ہوتی ہیں۔ اِس میرٹ کُشی میں‘ اس بندر بانٹ میں‘ نام نہاداپوزیشن کے سیاست دان بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ لین دین”بھاجی“ اور ”باہمی تعاون“ کے سوا کچھ نہیں!
آپ جے آئی ٹی کے ارکان پر غور کیجئے۔ سارے مڈل کلاس سے ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ! اب حکومت ان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہے کہ انہیں اپنے کئے کا مزا چکھایا جائے۔ اگر یہ حکمرانوں کے رشتہ دار ہوتے یا جاگیردار یا سردار‘ تو کوئی ان سے بدلہ لینے کا سوچ بھی نہ سکتا!
خدا کے بندو! چند گنے چنے غیر مسلموں کے پیچھے نہ پڑو! ان پر اقلیت کی چھاپ نہ لگاﺅ! اقلیتیں تمہارے ہاں صرف اور صرف دو ہیں! ایک وہ جو تمہاری گردنوں پر مسلّط ہے۔ دوسری وہ جو کچھ بیرون ملک جا چکی ہے اور کچھ ڈگریاں 
 لیے‘ غیر ملکی سفارت خانوں کے 
سامنے قطاروں میں کھڑے ہیں-

Wednesday, July 26, 2017

کوئی ہے؟ جو سمجھائے!


نظم و نسق پاتال تک جا پہنچا ہے۔ ریاست اداروں سے چلتی ہے۔ ادارے معطل اعضا کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ بے بس! کارکردگی صفر سے کم۔
پیمرا کے سربراہ کے متعلق پرسوں جو کچھ عدالت عالیہ نے کہا‘ کیا اس کے بعد بھی حکمرانوں کی دوست نوازی کا دفاع کیا جاسکتا ہے؟ نہیں۔ مگر پھر بھی دفاع کرنے والے موجود ہیں۔ دلیل کوئی نہیں۔ ”میں اتفاق نہیں کرتا“، یہی واحد دلیل ہے۔
کوئی دن ایسا نہیں طلوع ہوتا کہ ایک نہ ادارہ برسرعام برہنہ نہ ہو۔ ایک صاحب ولایت میں بوڑھوں کے لیے نرسنگ ہوم چلا رہے تھے‘ انہیں ریاست کے مرکزی بینک کا ڈپٹی گورنر لگا دیا گیا۔ کہا گیا کہ ان کے پاس فلاں ڈگری بھی ہے۔ کیا صرف ڈگری کی بنیاد پر مرکزی بینک کا دوسرا اہم ترین منصب دیا جاسکتا ہے؟ کیا تجربہ رکھنا ضروری نہیں۔ پھر نیشنل بینک آف پاکستان کا سربراہ بنا دیا گیا۔ ایس ای سی پی میں جو کچھ ہوا‘ سب کے سامنے ہے۔ یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے مگر اس سے زیادہ بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ دانشور صحافی‘ لکھاری اس بدترین نظم و نسق کو بھی بہترین قرار دے سکتے ہیں۔ ثابت کرسکتے ہیں کہ نیشنل بینک‘ ایس ای سی پی اور لاتعداد دوسرے ادارے دوستوں‘ فرماں برداروں کو نہیں‘ بلکہ کرہ ¿ ارض کے لائق ترین افراد کو سونپے گئے ہیں۔ ظفر اقبال نے کہا تھا 
درِ امید سے ہو کر نکلنے لگتا ہوں
تو یاس روزنِ زنداں سے آنکھ مارتی ہے
مگر یہاں معاملہ برعکس ہے۔ مایوسی نہیں‘ امید آنکھ مارتی ہے۔ تاریخ کے گزشتہ اوراق آنکھوں کے سامنے آتے ہیں اور پلٹتے ہیں۔ آخر کون سا زمانہ ہے جو شیخ مبارکوں سے خالی رہا۔ صفر کو ایک صد‘ شب تاریک کو روزِ روشن اور نحوست کو سعادت ثابت کرنے والے کب درباروں میں موجود نہ تھے۔ مگر امید پوچھتی ہے‘ وہ اب کہاں ہیں؟ اب کو تو چھوڑیے‘ اکبر کی آنکھ بند ہوتے ہی سب کچھ ختم ہوگیا۔
وہ ”مقدس“ دستاویز جس نے مذہبی معاملات میں شہنشاہ کو مجتہدین اور علماءکرام سے برتر اتھارٹی دی تھی‘ شیخ مبارک ہی نے لکھی تھی۔
”اب جبکہ ہندوستان امن اور حفاظت کا گہوارہ اور انصاف اور فیض رسانی کا گڑھ بن چکا ہے‘ ہم بڑے علماءنے قرآن پاک کی اس آیت پر بہت غور کیا ہے: ”اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی اور اولی الامر کی۔“ اور ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سلطان عادل کا مقام مجتہد سے برتر ہے۔ چنانچہ اگر مستقبل میں کسی مذہبی معاملے میں علما اور مجتہدین متفق نہ ہوئے تو شہنشاہ کو اختیار ہو گا کہ وہ اپنی رائے دے اور ہم فتویٰ دیتے ہیں کہ بادشاہ کی رائے پوری قوم کو قبول کرنا ہوگی۔“
یہ وہ وقت تھا جب ”اللہ اکبر“ کے نعرے کو سرکاری تقاریب میں خوب پذیرائی دی گئی اس لیے کہ یہ ذو معنیٰ تھا اور (نعوذ باللہ) اسے اکبر اور اس کے حواری‘ اکبر کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
اکبر گیا تو دین الٰہی بھی گیا اور شیخ مبارک کا نام تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک راتب خور‘ چاپلوس اور بے ضمیر دانشور کے سانچے میں فکس ہو گیا۔
حیرت و استعجاب اور ہنسی کے سوا کچھ نہیں بن پڑتا جب حکومتی عمائدین دعویٰ کرتے ہیں کہ ”ہم نے دہشت گردی کی کمر توڑ کر رکھ دی۔“ اگر پوچھا جائے کہ عساکر پاکستان نے جو کچھ کیا‘ اس کے علاوہ سول حکومت نے کیا کیا ایکشن لیے‘ ذرا نمبر وار گنوا دیجیے‘ تو آئیں بائیں شائیں ہونے لگتی ہے۔ کوئی ایک اقدام بھی سول حکومت کے دامن میں نہیں۔ وفاق میں جس ادارے نے وزارت داخلہ کے تحت کام کرنا تھا‘ وہ کہاں ہے؟ کیا کیا ہے اب تک؟ لاہور میں یہ عالم ہے کہ تازہ ترین اعداد و شمار کی رو سے ”سیف سٹی پراجیکٹ“ کا منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ ہی نہیں سکا۔ اب تک صرف پندرہ سو کیمرے لگ سکے۔ فیروز پور روڈ پر پرسوں جو دھماکہ ہوا وہاں موجود چار سی سی ٹی وی کیمرے کام ہی نہیں کر رہے تھے۔
مذہب کے حوالے سے قائم تعلیمی اداروں تک کسی ادارے کی رسائی نہیں۔ یہاں کون رہ رہا ہے‘ کون آیا‘ کون گیا‘ کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ دہشت گرد آسمان سے نہیں ٹپکتے‘ اسی زمین پر ہیں‘ دوسرے ملک سے آئیں جب بھی مقامی تعاون کے بغیر بے دست و پا ہیں۔ انہیں دست و پا فراہم کرنے والوں کو تلاش کرنا اور کیفر کردار تک پہنچانا‘ سول حکومت کا کام ہے۔ گلیوں‘ مکانوں‘ بازاروں‘ تعلیمی اداروں میں ٹینک اور توپیں نہیں داخل ہوسکتیں۔ یہ انٹیلی جنس کا مسئلہ ہے‘ خفیہ اداروں کا کار منصبی ہے۔
تین ہزار پولیس کے جوان‘ صوبائی دارالحکومت میں شاہی محلات پر پہرے دے رہے ہیں‘ سینکڑوں گاڑیوں کے ساتھ! پولیس کا صوبائی سربراہ ریٹائر ہوا‘ اس کی جگہ کسی کی تعیناتی نہیں کی گئی۔ عدالت نے دخل دیا تو ایسے افسر کو لگا کر‘ جو تین ماہ بعد ریٹائر ہورہا تھا‘ عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی۔ سربراہ کیوں نہیں تعینات کیا جاتا؟ اس لیے کہ خوش نیتی مفقود ہے۔ پولیس کا سربراہ نہیں‘ غلام چاہیے اور وفادار ترین غلام ڈھونڈنے میں وقت تو صرف ہوتا ہے۔ سندھ کی صوبائی حکومت نے پولیس کے صوبائی سربراہ کے اختیارات سلب کر کے پوری فورس کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ وفاق کا فرض تھا کہ اپنی اتھارٹی اجاگر کرتا اور اس حرکت پر حرکت میں آتا مگر خاموشی ہے‘ اس لیے کہ اگر سندھ حکومت کو کچھ کہے گا تو وہ پنجاب کی طرف اشارہ کرے گی کہ وہاں جو کچھ ہورہا ہے‘ کیا نظر نہیں آرہا؟ اس لیے خاموشی ہی حکومت کرنے کا اور وقت گزارنے کا بہترین اسلوب ہے۔ تم ہماری طرف انگلی نہ اٹھاﺅ‘ ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے۔ رہے عوام تو وہ اپنی حفاظت خود کریں۔
جس ملک کے اندر بدانتظامی عروج پر ہو‘ اسے ملک سے باہر کون اہمیت دے گا؟ پرکاہ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں۔ ترکی قطر کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے مگر سعودی عرب کی حکومت ترکی کے صدر کو پھر بھی سر آنکھوں پر بٹھا رہی ہے‘ اس لیے کہ ترک حکومت کے سربراہ پر کوئی مقدمہ نہیں چل رہا‘ اس نے دوران صدارت کسی دوسرے ملک سے اقامہ نہیں لیا‘ وہ ملزم نہیں! جس ملک کا وزیراعظم اور وزیراعظم کا پورا خاندان کٹہرے میں کھڑا ہو‘ الزامات کی بھرمار ہو‘ اس ملک کو اتنی ہی تکریم ملے گی جس کا وہ حقدار ہے۔
سربراہ مملکت کا اولین فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد اٹھتے بیٹھتے عمائدین و امرا میں سے درست مشورہ دینے والوں کا انتخاب کرے اور ان لوگوں سے احتراز کرے جو اس کی ہر بات پر آمنّا و صدّقنا کہتے ہیں۔
گیارہویں صدی عیسوی میں ایک ایرانی امیر نے اپنے فرزند گیلانی شاہ کے لیے ایک کتاب لکھی جس میں حکومت کرنے کے آداب تحریر کیے۔ اس نے اس کتاب کا عنوان قابوس نامہ رکھا۔ مشرقی ادب میں ایسی کئی تصانیف ہیں جو جہاں بانی کے طریقے سکھاتی ہیں۔ جو سربراہان مملکت ادراک اور شعور رکھتے ہیں اور معاملات کی گہرائی میں جاتے ہیں‘ وہ ہمیشہ ایسے نسخہ ہائے عقل کو اپنی میز پر اور اپنے تکیے کے نیچے رکھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ان کا مطالعہ کرتے ہیں۔ قابوس نامہ کا مصنف ایک جگہ پر ملک کے سربراہ کوکہتا ہے:
”ہر شخص کے لیے کوئی نہ کوئی کام پیدا کر۔ انہیں اپنے کاروبار پر جانے سے نہ روک تاکہ جو نفع کاروبار سے حاصل ہو اسے وہ قسطوں میں خزانہ عامرہ میں جمع کراسکیں اور بے خوف زندگی گزاریں۔ جو خزانہ داری کے قابل نہ ہو اسے خزانہ دار نہ بنا۔ ہر کام ہر شخص کو نہیں دینا چاہیے تاکہ طعن کرنے والے کی زبان تم پر نہ کھل سکے اور تیرے انتظام میں خلل نہ پیدا ہو‘ کیونکہ جب تو کسی کو کوئی منصب دینا چاہے گا تو وہ شخص خواہ کام نہ بھی جانتا ہو‘ منصب کے لالچ میں سچ نہیں کہے گا اور کام کرنا شروع کردے گا جس کا نتیجہ فساد کی صورت میں نکلے گا۔کام‘ کام کے مستحق کے سپرد کرتا کہ دردِ سر سے بچے۔“
اس کے بعد جو کچھ کہتا ہے‘ کاش ہمارے حکمران اسے سمجھ سکیں:
”اگر تو سمجھتا ہے کہ کسی خاص شخص پر عنایت کرنی چاہیے تو بغیر منصب بھی اسے نعمت و حشمت اور اعزاز دیا جاسکتاہے۔ یہ اس سے اچھا ہے کہ اسے ایک ایسا منصب دیا جائے جس کا وہ مستحق نہیں اور جس سے محض تیری نادانی کا اظہار ہو۔“
یعنی ہزار سال پہلے بھی لوگوں کو معلوم تھا کہ نااہل کو منصب دینے کا مطلب ہے منصب عطا کرنے والا نادان ہے۔ پھر اگر حکمران کے پاس اپنے کاروبار‘ کارخانوں‘ فیکٹریوں‘ جائیدادوں اور پراپرٹی کی وسیع و عریض ایمپائر ہو جو اندرون ملک سے لے کر دساور تک پھیلی ہوئی ہو‘ تو عنایت کرتے وقت نااہل کی تعیناتی وہاں کیوں نہیں کی جاتی؟ اسے ریاستی ادارہ ہی کیوں سونپا جاتا ہے؟ اگر کسی کے پاس نرسنگ ہوم چلانے کا تجربہ ہے تو حکمرانوں کی ذاتی ایمپائر میں ہسپتال بھی موجود ہیں‘ اسے وہاں مامور فرمائیے۔ خزانہ آپ کے تصرف میں ہے۔ بیوروکریسی موم کی ناک ہے‘ اعتراض نہیں کرے گی۔ نااہل کا منہ بے شک موتیوں سے بھر دیجیے۔ اسے چاندی یا سونے میں تلوا دیجیے مگر خدا کے لیے ایک بار! صرف ایک بار!! ریاستی ادارے پر اسے بٹھائیں گے تو گویا آپ نے ترازو اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ اب وہ دوسروں کو سونے چاندی میں تلواتا پھرے گا۔ خمیازہ آپ بھگتیں گے۔ یہاں نہیں تو کسی اور جگہ‘ اس لیے کہ یہ اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے: ”امانتیں ان کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں۔“

Monday, July 24, 2017

دو دن کی زندگانی میں کیا کیا کرے کوئی

تحریر میں کبھی کبھی کچھ تاریخی حوالے در آتے ہیں۔ ایسا غیر اختیاراتی طور 
پر ہوتا ہے۔ لکھتے ہوئے کوئی ایسا تاریخی واقعہ یا حوالہ ذہن میں کوندنے لگتا ہے جو رواں صورت حال سے مشابہ نظر آتا ہے۔ کچھ عرصہ سے قارئین‘ انفرادی ای میلوں اور سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع کے ذریعے تقاضا کر رہے ہیں کہ مطالعہ کے لیے کتابیں تجویز کی جائیں۔ شروع شروع میں کچھ حضرات کو جواب دیئے اور فرمائشوں کی تکمیل کی مگر لگتا ہے کہ یہ سلسلہ پھیلتا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ استفسارات کا فرداً فرداً جواب دینا ممکن نہیں رہا۔ چنانچہ کچھ گفتگو کتابوں کے ضمن میں کی جا رہی ہے۔
یہاں یہ وضاحت از حد ضروری ہے کہ کتابوں پر گفتگو کرنے اور کچھ موضوعات پر کتابیں تجویز کرنے کا مطلب کتاب دانی کا دعویٰ ہرگز نہیں۔ یہ سمندر ہے جس کا مکمل پیراک مشکل ہی سے ملے گا۔ بہت سے احباب کو اس سلسلے میں کالم نگار کی نسبت زیادہ اور کچھ کو بہت زیادہ معلومات حاصل ہوں گی۔ بہرطور‘ یہ تجاویز بہت سے قارئین کے لیے نئی بھی ہوں گی۔
برصغیر کی تاریخ کے حوالے سے ابراہام ایرالی نے خوب کام کیا ہے۔ ابراہام کیرالہ میں پیدا ہوا۔ مدراس (موجودہ چنائی) پڑھاتا رہا۔ کچھ عرصہ مغربی ممالک کی کچھ بڑی یونیورسٹیوں سے بھی وابستہ رہا۔ وصف یہ ہے کہ ہندوئوں کی طرف داری کرتا ہے نہ مسلمانوں کی۔ تحقیق اس نے بہت کی ہے اور جم کر گہرائی سے کی ہے۔ ’’مغل تھرون‘‘ اور ’’ہسٹری آف دہلی سلطانیٹ‘‘ اس کی معروف تصانیف ہیں۔ تاریخ یوں لکھتا ہے جیسے واقعات پڑھنے والے کی نظروں کے سامنے پیش آ رہے ہوں۔ تیسری کتاب جو اس کی پڑھنی چاہیے ’’انڈیا‘ پیوپل‘ پلیس‘ کلچر‘ ہسٹری‘‘ ہے۔ جس میں اجتماعی اور عمرانیاتی پہلوئوں پر اس نے خوب بحث کی ہے۔ جو حضرات زیادہ تفصیل میں جانا چاہتے ہیں وہ ایک تو ڈاکٹر برنیئر 
(Bernier)
 کا سفرنامہ ضرور پڑھیں۔ برنیئر فرانس کا ڈاکٹر تھا۔ پہلے داراشکوہ کا پرسنل فزیشن رہا پھر اورنگزیب سے وابستہ ہو گیا۔ 1665ء میں اورنگزیب کشمیر گیا تو برنیئر اس کے ساتھ تھا۔ دوسرے‘ اکبری دربار کے مشہور سکالر ابوالفضل نے فارسی زبان میں جو ’’اکبر نامہ‘‘ تصنیف کیا تھا‘ اس کا انگریزی ترجمہ چار جلدوں میں ’’مورتی کلاسیکل لائبریری آف انڈیا‘‘ نے شائع کر دیا ہے۔ اس میں فارسی متن بھی موجود ہے۔ شیر شاہ سوری پر جس قدر تحقیق ہندو مورخ کالکارنجن قانون گو نے کی ہے‘ کسی اور نے شاید ہی کی ہو۔ وہ معروف مورخ جادو ناتھ سرکار کا شاگرد خاص ہے اور اعتراف کرتا ہے کہ مسلم ہسٹری کی طرف اسے اس کے استاد پروفیسر ڈاکٹر سہروردی صاحب نے راغب کیا۔ انیس سال تحقیق کرنے کے بعد اس نے ’’شیرشاہ اینڈ ہز ٹائمز‘‘ لکھنے میں دس برس صرف کیے۔ انگریزی میں اصل کتاب اس کالم نگار کو تلاش کے باوجود نہیں ملی۔ اردو ترجمہ (شیر شاہ سوری اور اس کا عہد) میسر ہوگیا۔
برصغیر پاکستان و ہند کے حوالے سے دو مزید کتابیں بھی دلچسپ ہیں۔ پنجاب۔ اے ہسٹری فرام اورنگزیب ٹو مائونٹ بیٹن‘ مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی نے لکھی ہے۔ دوسری کتاب معروف بھارتی مصنف شاشی طرور کی ہے جس کا عنوان ’’این  ایرا آف ڈارک نس‘‘ ہے۔ اس کتاب کا موضوع وہ ظلم ہے جو برطانوی سامراج نے برصغیر کے ساتھ کیا۔ قیام پاکستان کے حوالے سے شاشی کا اپنا نکتہ نظر ہے جس سے اتفاق مشکل ہے۔ مگر جس طرح منظم انداز کے ساتھ اس نے انگریزی عہد کے استحصال اور خود غرضی کا ٹھوس حقائق کی مدد سے تجزیہ کیا ہے‘ وہ حد درجہ دلچسپ ہے اور قابل تحسین بھی! اس سے پہلے اس موضوع پر کالم نگار نے قابل ذکر کتاب جو پڑھی تھی‘ اس کا نام ’’کمپنی کی حکومت‘‘ ہے۔ یہ باری علیگ نے لکھی ہے۔ طالب علمی کے زمانے میں پڑھی تھی۔ اب بازار میں کہیں نہیں دکھائی دیتی۔ خواہش ہے کہ اپنی حقیر نام نہاد لائبریری میں ایک نسخہ اس کا بھی ہو۔
بیسویں صدی کے اوائل میں جس طرح سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا‘ پھر اردن‘ اسرائیل وغیرہ کی ریاستیں وجود میں آئیں‘ اس پر دو کتابیں مبسوط ہیں اور دوسرے ذرائع سے بے نیاز کردیتی ہیں۔ ایک سین مک میکن 
Sean Mcmeekin
 کی تصنیف ’’دی آٹو مان اینڈ گیم‘‘ ہے۔ یہ کتاب 2015ء میں چھپی ہے۔ دوسری کتاب نسبتاً پرانی ہے مگر معرکہ آرا کتاب ہے۔ یہ پولینڈ سے تعلق رکھنے والے جارج لینس زوسکی 
(Lenc Zow Ski) 
کی تصنیف ’’مڈل ایسٹ ان ورلڈ افیئرز‘‘ ہے۔ لینس زوسکی نے یہ 1952ء میں لکھی تھی۔ پھر وہ وقتاً فوقتاً تازہ ترین حقائق کے ساتھ اس پر نظرثانی کرتا رہا۔ یہاں تک کہ 2000ء میں امریکہ میں اس کا انتقال ہوگیا۔
ولیم ڈال ریمپل 
(William Dal Rymple)
 یاد آ گیا۔ وہ کبھی لندن رہتا ہے کبھی دہلی۔ اس کی کتاب وائٹ مغلز 
(Whit Mughals)
 بظاہر تو ایک انگریز افسر اور ایک حیدر آبادی مسلمان خاتون کے معاشے کی حقیقی کہانی ہے مگر اصل میں سیاست‘ معیشت اور سفارت کاری کے میدان میں انگریزوں نے جو سلوک مقامی حکمرانوں کے ساتھ کیا‘ اس کا تجزیہ بھی ہے۔ ’’دی لاسٹ مغل‘‘ میں ڈال ریمپل نے 1857ء کی جنگ آزادی اور مغل سلطنت کے خاتمے کا حال بیان کیا ہے اور اکثر و بیشتر حوالے مسلمانوں‘ ہندوئوں اور انگزیوں نے روزنامچوں سے لیے ہیں۔ تیسری اہم کتاب اس نے پہلی افغان برٹش لڑائی پر لکھی ہے۔ اس کا نام ’’ریٹرن آف اے کنگ‘‘ ہے۔ اس کے ذرائع اور منابع بھی ذاتی ڈائریوں پر مشتمل ہیں۔ افغان نفسیات کو سمجھنے میں یہ تحقیقی تصنیف بہت مدد فراہم کرتی ہے۔
فارسی شاعری کے حوالے سے بھی قارئین سوالات کرتے ہیں۔ اس میدان کے ماہر تو دوست گرامی پروفیسر ڈاکٹر معین نظامی ہیں جو اس سمندر کے شناور ہیں۔ پہلے پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں شعبہ فارسی کے سربراہ تھے۔ اب ان کی خدمات 
Lums
 نے حاصل کر لی ہیں۔ یہ کالم نگار تو فارسی شاعری کا ایک ادنیٰ طالب علم ہے۔ سکول کالج یونیورسٹی میں تو فارسی پڑھی نہیں۔ جد 
امجد اور والد گرامی کے دستر خوان سے بچے ہوئے چند ریزے اپنا کل سرمایہ ہیں۔ 
اب یہ احساس اذیت دیتا ہے اور مسلسل اذیت دیتا ہے کہ جب گھر میں دریا بہہ رہا تھا تو فیض کیوں نہ اٹھایا۔
رومی کی غزلیات (دیوان شمس تبریز) اور قا آنی کے قصائد مسلسل زیر مطالعہ رہتے ہیں۔ دیوان شمس تبریز کی غزلیات کا اپنا ذائقہ ہے جو دوسری دنیائوں کا پتہ دیتا ہے۔ قا آنی کے قصائد لغت کا دریا ہیں۔ ایسا دریا جس کا کنارا تاحد نظر نہیں دکھائی دیتا۔ فیضی کی غزلیات اب نایاب ہیں۔ کالم نگار کے پاس ایک فوٹو کاپی نسخہ ہے۔ فیضی میرے پسندیدہ شعرا میں سے ہے اور یہ بات ڈاکٹر معین نظامی کو ہرگز پسند نہیں۔ اپنے چوتھے شعری مجموعے ’’پانی پہ بچھا تخت‘‘ کے آغاز پر جب میں نے فیضی کا یہ شعر لکھا   ؎
من دفتر کون و مکان یک یک مفصل دیدہ ام
اوراق تقویم فلک جدول بہ جدول دیدہ ام
تو حضرت نے مذاق اڑایا‘ بدلہ لینے کی ایک ہی صورت ہے کہ بس چلے تو ایم اے فارسی کے نصاب میں فیضی کی ساری میسر تصانیف شامل کروا دی جائیں تاکہ نظامی صاحب کو پڑھانی پڑیں! جو اصحاب فارسی نہیں جانتے مگر فارسی ادب سے آشنائی کے خواہش مند ہیں  انہیں شبلی کی شعرالعجم کا مطالعہ کرنا چاہیے جو پانچ جلدوں میں ہے۔ چار جلدوں پر مشتمل‘ پروفیسر برائون کی تصنیف ’’لٹریری ہسٹری آف پرشیا‘‘ بھی فارسی ادب کا ذائقہ بہت حد تک چکھا دیتی ہے۔ برائون نے یہ کتاب لکھنے میں ربع صدی لگا دی۔ جا بجا شبلی (شعرالعجم) کے حوالے دیتا ہے۔ یہ اور بات کہ علامہ اقبال برائون سے متاثر نہیں تھے۔ یہ بات ڈاکٹر سید سلطان محمود حسین کی تصنیف ’’حیات اقبال عہد بہ عہد‘‘ پڑھ کر معلوم ہوئی۔
اب کچھ منتشر خیالات! یہ کالم نگار مولانا محمد حسین آزاد کا زبردست فین ہے۔ محب گرامی جناب اکرام چغتائی کا مجموعہ مقالات (مطالعہ آزاد) خاصے کی شے ہے۔ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ محمد حسین آزاد علم اور کتابوں کے کس قدر شائق تھے اور اس راستے میں کیا کیا تکلیفیں اٹھائیں۔ جناب اکرام چغتائی کا وجود طالبان علم کے لیے نعمت سے کم نہیں۔ وہ جرمن زبان کے ماہر ہیں۔ متعدد بار آسٹریا اور جرمنی جا چکے ہیں۔ انہیں آسٹریا کی حکومت نے اعزاز سے بھی نوازا ہے۔ لمحہ موجود میں وہ علامہ محمد اسد پر مستند اتھارٹی ہیں۔ اسد پر ان کی تصانیف نصف درجن کے قریب ہیں جن میں اہم ترین پانچ ہیں۔ محمد اسد بندۂ صحرائی (اردو)‘ محمد اسد ایک یورپین بدوی (اردو) ’’اسلام کی خدمت میں یورپ کا تحفہ‘‘ (دو جلدوں میں بزبان انگریزی)۔ ’’ہوم کمنگ آف دی ہارٹ‘‘ محمد اسد کی خودنوشت کا دوسرا حصہ ہے۔ (پہلا دی روڈ ٹو مکہ ہے)۔ اس دوسرے حصے کو چغتائی صاحب نے مرتب کیا ہے اور حواشی کا اضافہ کیا ہے۔ چغتائی صاحب تحقیق کے ان ثقہ علما میں سے ہیں جو خاموشی سے‘ کام کرتے رہتے ہیں۔ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا! ان کا ہر کام لائق تحسین اور علمی دنیا میں قابل قدر اضافہ ہے۔
’’امام ابو حنیفہؒ کی سیاسی زندگی‘‘ اس کالم نگار کی پسندیدہ کتاب ہے۔ یہ مولانا مناظر احسن گیلانی کی تصنیف ہے۔ اس میں امام ابو حنیفہؒ کو ان کے علم و تفقہ سے قطع نظر‘ اس عہد کی سیاست (باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں)
کے نکتہ نظر سے جانچا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں شبلی کی سیرت النعمان پڑھ کر تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔
حسین ہیکل کی تصنیف ’’عمرفاروق اعظمؓ ‘‘ کا جو ترجمہ حکیم حبیب اشعردہلوی نے کیا ہے وہ کمال کا ترجمہ ہے۔ ایسا ترجمہ جو طبع زاد سے بڑھ کر ہے۔ ادب کی چاشنی‘ اسلوب کی مٹھاس اور زبان پر حد درجہ مضبوط گرفت۔ اس ترجمہ کو اردو ادب کے نکتہ نظر سے بھی ضرور دیکھنا چاہیے۔ کتاب کا کچھ اور حضرات نے بھی ترجمہ کیا ہے مگر سخت پھیکا اور حوصلہ شکن۔
اس کالم نگار کو فکشن پڑھنے کا بھی شوق ہے مگر صرف وہ کتابیں جو شہکار ہیں۔ بورس پاسترناک کا ڈاکٹر زواگو کئی بار پڑھا۔ ہر بار نیا لطف آیا۔ پاستر ناک کی پچاس نظمیں درد میں ڈوبی ہوئی ہیں۔
گبرائیل گارسیا مارکوئز کا ناول 
Love in the Times of Cholera 
پڑھا تو ایک عرصہ ہانٹ کرتا رہا۔ انگریزی میں ترجمہ کمال کا تھا۔ مترجم کا نام یاد نہیں۔ ناولوں کا تذکرہ الگ مضمون چاہتا ہے۔
یہ ایسا راستہ ہے جس کی سمت ہے نہ کنارا۔ کیا کلاسیکل اور کیا جدید‘ ہر عہد کی تصانیف میں ایسے ایسے جواہر دبے پڑے ہیں کہ طالب علم کو عمر نوح چاہیے۔ اردو شاعری‘ تاریخ‘ پانچوں فقہ کا تقابلی مطالعہ‘ فارسی کی جدید‘ ہم عصر شاعری‘ بین الاقوامی تعلقات‘ ہر طرف چمنستان کھلے ہیں۔ حد ہے نہ انت! مگر بات یہ ہے کہ   ع
دو دن کی زندگانی میں کیا کیا کرے کوئی!

Sunday, July 23, 2017

یا نفاق! تیرا ہی آسرا

بھارتی نژاد سینو گپتا اپنے شوہر کے ساتھ لندن زیر زمین ریل میں سفر کر رہی تھی۔ گود میں تین ماہ کی بیٹی تھی۔ ریل ایک اسٹیشن پر رکی۔ ایک شخص سوار ہو کر‘ سینو گپتا کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اس نے عورت سے مخاطب ہو کر کہا ’’تمہاری بچی یقینا خوبصورت ہے۔‘‘ پھر وہ ذرا ہٹ کر دوسرے مسافروں کے ساتھ کھڑا رہا۔ ایک ہاتھ سے اس نے چھت کے قریب والے ڈنڈے کو پکڑ رکھا تھا۔ سینو گپتا نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے جو ہمارے بچے کی تعریف کر رہا تھا۔ شوہر نے بتایا کہ یہ برطانیہ کا وزیراعظم ہے۔ بیوی نے سمجھا مذاق کر رہا ہے۔ شوہر نے سنجیدگی سے کہا کہ واقعی یہ وزیراعظم ہے۔ اس پر سینو گپتا سے نہ رہا گیا۔ وہ وزیراعظم کیمرون کے پاس گئی اور پوچھا۔ معاف کیجیے‘ کیا آپ وزیراعظم ہیں؟ اس نے جواب دیا‘ ہاں! سینو گپتا کی ہنسی نکل گئی۔ پھر اس نے وزیراعظم سے سوال پوچھنے پر معذرت کی۔ جنوبی ایشیا میں کوئی وزیراعظم‘ ٹرین میں کھڑا ہو کر سفر نہیں کرتا۔ کیمرون نے وضاحت کی کہ اس کا ٹائم ٹیبل بہت سخت اور مصروفیت سے اٹا ہوا ہے۔ ٹرین میں اس لیے سفر کررہا ہے کہ کار کی نسبت یہ جلد پہنچا دے گی۔ ساتھ صرف ایک باڈی گارڈ تھا۔
ایک بار وزیراعظم کیمرون نے ایک سو چالیس میل کا سفر فوجی ہیلی کاپٹر سے کیا۔ اس پر وہ شور مچا جیسے برطانیہ کا خزانہ اس سفر سے خالی ہو گیا تھا۔ اس دن صبح سویرے کی ایک تصویر پہلے ہی وائرل ہو چکی تھی جس میں وزیراعظم نے اپنی بیٹی کو اٹھایا ہوا تھا اور اسے نرسری کلاس میں چھوڑنے جا رہے تھے۔ یہ ان کا روز کا معمول تھا۔ اس کے بعد وزیراعظم نے لنکن میں ایک فیکٹری کے مزدوروں سے ملاقات کرنا تھی۔ وہ ٹرین سے جانے کے بجائے فوجی ہیلی کاپٹر میں گئے۔ مگر میڈیا میں شدید اعتراضات ظاہر ہوئے۔ حساب کرکے بتایا گیا کہ ٹرین میں جاتے تو ایک گھنٹہ زیادہ صرف ہوتا اور کرایہ 67 پائونڈ لگتا۔ فرسٹ کلاس کا ٹکٹ 120 پائونڈ کا ہوتا۔ اس کے بجائے وزیراعظم ہیلی کاپٹر پر گئے جس پر بارہ ہزار پائونڈ خرچ ہو گئے۔ میڈیا نے طعنے دیئے کہ اگر اس دن گرمی زیادہ تھی تو دوسرے مسافر بھی تو ٹرین ہی میں سفر کر رہے تھے۔ اس پر وزیراعظم کے ترجمان کو لمبی چوڑی تشریح کرنا پڑی اور بہت سے تیکھے سوالوں کا سامنا کرنا پڑا۔
فرانس کے صدر ہولاندے ملک میں کہیں بھی جانا ہو‘ ٹرین استعمال کرتے رہے۔ جب یورپی سربراہوں کی کانفرنس اٹنڈ کرنے کے لیے انہیں پیرس سے برسلز جانا تھا‘ تب بھی ٹرین کے ذریعے گئے۔ برسلز کے اس سفر پر تقریباً چھ ہزار یورو صرف ہوئے۔ اس کے برعکس ہیلی کاپٹر پر جاتے تو ساٹھ ہزار یورو (یعنی دس گنا زیادہ) خرچ ہوتے۔
گزشتہ ہفتے ہمارے صدر مملکت نے بھی ٹرین کا سفر کیا۔ یہ کسی کانفرنس وغیرہ کے لیے نہیں تھا۔ ان کا مقصد فقط یہ تھا کہ’’لوگ ریلوے پر زیادہ سفر کریں۔‘‘ اس مالی نقصان کو تو چھوڑیے جو کئی بوگیوں میں بکنگ نہ کرنے سے ہوا۔ اس کرب کا اندازہ لگائیے جو مسافروں کو ہوا۔ ٹکٹوں کو فروخت بند کردی گئی۔ مین لابی میں مسافروں کا داخلہ ممنوع ہو گیا۔ ریلوے اسٹیشن کے اردگرد ٹریفک کا نظام اتھل پتھل ہو گیا۔ دو خاص سیلونوں کی حفاظت کے لیے بیس کمانڈوز اور تیس پولیس اہلکار متعین کیے گئے۔ راستے کے ہر اسٹیشن پر افسران کھڑے کئے گئے۔ میڈیا بتاتا ہے کہ لاہور ریلوے اسٹیشن پر بیسیوں اہلکار اور درجنوں افسر سارا دن کھڑے رہے‘ متعدد گاڑیاں گھنٹوں لیٹ ہوئیں۔
اس سب کچھ کے ساتھ اب صدر مملکت کا یہ ارشاد پڑھیے کہ … ’’پی آئی اے میں بھی عام لوگوں کے ساتھ سفر کرتا ہوں۔‘‘ صدر صاحب کا دوسرا ارشاد سن کر آپ کو مزید لطف اندوز ہونا پڑے گا… ’’ریلوے کا سفر آرام دہ اور بہتر ہورہا ہے۔‘‘
اس میں کیا شک ہے کہ اگر ٹریفک بند کردی جائے اور عام مسافروں کو ریلوے کے قریب بھی نہ بھٹکنے دیا جائے۔ راستے میں ہر اسٹیشن پر خدام ایستادہ ملیں‘ خلق خدا کو جتنا ممکن ہے‘ دور رکھا جائے تو ریلوے کا سفر یقینا آرام دہ اور بہتر ہوگا۔
عام لوگوں کے ساتھ سفر کرنے کا دعویٰ تھا تو لارڈ کرزن کی طرح سفر کرنے کے بجائے صدر صاحب پارلر میں دوسرے مسافروں کے ساتھ سفر کرتے۔ لاکھوں کروڑوں روپے عوامی خزانے سے خرچ کروانے کے بعد ریلوے کے سفر کو آرام دہ قرار دینا معصومیت کی آخری حد ہے۔ اس کے علاوہ اور کہا بھی کیا جاسکتا ہے۔
ہمارا قومی نعرہ ہونا چاہیے ’’یا نفاق! تیرا ہی آسرا‘‘ نفاق کا یہ عالم ہے کہ رات دن تقریروں‘ خطبوں‘ وعظوں میں تذکرے ہوتے ہیں کہ جب امیرالمومنین عمر فاروقؓ بیت المقدس گئے تو راستے میں وہ اور ان کا خادم باری باری اونٹ پر سوار ہوتے۔ روایت یہ ہے کہ جب شہر میں داخل ہوئے تو خادم سوار تھا اور آپ پیدل۔ اونٹ پر دو تھیلے تھے‘ ایک میں ستو‘ دوسرے میں کھجوریں۔ مسلمانوں کی فوج کے کمانڈر نے جو وہاں متعین تھے‘ عرض کی کہ بوسیدہ اور پیوند زدہ لباس اتار کر شاہانہ لباس زیب تن کرلیں مگر آپ کا جواب تھا نہیں! اسلام کی عزت ہی ہمارے لیے کافی ہے۔ بیت المقدس کے بڑے پادری نے سوچا تھا مسلمانوں کا ’’بادشاہ‘‘ ایک لشکر جرار کے جلو میں فاتحانہ شان کے ساتھ شہر میں داخل ہوگا مگر دیکھا کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہے اور دوسرا نکیل پکڑے آگے آگے چل رہا ہے۔ اس وقت آپ کے کرتے پر چودہ پیوند تھے۔
ایک بھی مسلمان سربراہ ملک‘ پورے عالم اسلام میں ایسا نہیں جو حضرت عمرؓ کی پیروی کر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے بادشاہوں کا تو کیا کہنا۔ ساحل کے ساحل بُک کرائے جاتے ہیں۔ ایک بادشاہ سلامت چند ماہ پہلے انڈونیشیا کے تفریحی جزیرے بالی تشریف لے گئے۔ پچیس شہزادے اور چودہ وزرا ساتھ تھے۔ دیگر شرکا سمیت وفد پندرہ سو افراد پر مشتمل تھا۔ چھ لگژی ہوٹل مکمل بک کرائے گئے تھے۔ گاڑیوں اور دیگر سازوسامان کا اندازہ اس سے لگائیے کہ کئی پروازوں کے بعد سارا سامان پہنچا۔ ایک محتاط اندازے کی رُو سے اس تفریحی خرچ پر تین کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم صرف ہوئی۔
پاکستان کے وزیراعظم لندن علاج کرانے کے لیے گئے تو انہیں واپس لانے کے لیے قومی ایئرلائن کا خالی جہاز گیا۔ دوسری پروازوں کو منسوخ یا تتر بتر کر دیا گیا۔ کل خرچ اس واپسی پر تقریباً چار لاکھ اسی ہزار ڈالر آیا۔ یعنی ساڑھے چار کروڑ روپے سے زیادہ۔
مگر خلفائے راشدینؓ کی اتباع کفار سربراہان مملکت کر رہے ہیں اور برابر کر رہے ہیں۔ صدر اوباما اپنے پالتو جانور کو ڈاکٹر کے پاس خود لے کر جاتے رہے۔ کھانا باہر سے کھانا پڑا تو قطار میں کھڑے ہو کر برگر خریدا۔ ان ملکوں کے صدر اور وزیراعظم پبلک بسوں اور ٹرینوں میں عام سفر کرتے پائے جاتے ہیں۔ ڈنمارک کی ملکہ اپنے گھر کے لیے سبزی خود بازار جا کر خریدتی ہے۔ ہالینڈ‘ ڈنمارک‘ جرمنی اور کئی دوسرے ملکوں کے رہنما سائیکلوں پر دفتر آتے جاتے ہیں۔ سرکاری دعوتوں میں کئی کورس نہیں ہوتے۔ پہلے سلاد کی پلیٹ‘ پھر اصل کھانا یعنی مرغی یا مچھلی‘ آخر میں چاکلیٹ یا پنیر کیک کی صورت میں ایک میٹھا۔ فرانس کے صدارتی محل میں دعوت ہو تو غیر ملکی مہمان کو بتا دیا جاتا ہے کہ چار یا پانچ افراد کی گنجائش ہے۔
کہنے کو یہاں ہر شخص تبلیغ میں مصروف ہے۔ صبح سویرے ہی فیس بک‘ ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع بروئے کار لانے شروع کردیئے جاتے ہیں۔ ہر پانچ منٹ بعد کوئی حدیث‘ کوئی آیت‘ اولیا کا کوئی قول زریں وصول ہوتا ہے۔ آخرت سے ڈرایا جاتا ہے اور ساتھ دھمکی دی جاتی ہے کہ اتنے افراد کو آگے نہ بھیجا تو تمہارے ساتھ یہ بھی ہوسکتا ہے اور وہ بھی۔ کسی کو فون کریں تو رنگ ٹون میں آیات قرآنی ہوں گی یا نعت۔ دوسری طرف صبح ہی سے جھوٹ‘ منافقت‘ وعدہ خلافی اور اَکل حرام کی کارروائیاں آغاز ہو جاتی ہیں۔ دکاندار گاہک سے‘ افسر ماتحتوں سے‘ ماں باپ بچوں سے‘ اساتذہ شاگردوں سے اور سیاست دان پبلک سے جھوٹ بولنا شروع کردیتے ہیں۔ کون سی برائی ہے جو روا نہیں رکھی جاتی۔ اگر وقت کو روپے میں ڈھالنا ممکن ہوتا تو معلوم ہوتا کہ ہر روز کھربوں روپے کا وقت ضائع کیا جارہا ہے۔ دفتروں کے چکر‘ میٹر لگوانے کے لیے چکر‘ درزی کے چکر‘ کوئی بھی مقررہ وقت پر کام ڈیلیور کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ذہنی طور پر یہ طے ہے کہ جو وعدہ کیا ہے‘ وہ تو محض بات تھی جو کر دی گئی۔ اس کا مفہوم یہ تھوڑی ہے کہ اس کے مطابق عمل بھی کیا جائے۔
اب اگر کسی دن صدر صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ ڈائیوو میں سفر کریں گے تو جو کچھ ہو گا‘ اس کا اندازہ کر لیجیے۔

Friday, July 21, 2017

الماریوں میں بند ڈرائونے ڈھانچے

اگر اسٹیبلشمنٹ اتنی طاقت ور ہے کہ وہی سب کچھ کر رہی ہے اور کرا رہی 
ہے، اگر یہاں پتہ بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہلتا تو پھر اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جو خاندان تیس سال سے برسرِاقتدار ہے، اس کی پشت پر یقینا اسٹیبلشمنٹ رہی ہے۔
تو پھر پانامہ لیکس بھی اسٹیبلشمنٹ ہی کا کارنامہ ہے۔
تو پھر دو ججوں نے وزیر اعظم کے خلاف کیوں فیصلہ دیا؟ کیا اس کی وجہ بھی یہی ہے؟
تو پھر یہ جو وکلاء برادری ہڑتال کر رہی ہے، کیا یہ اسٹیبلشمنٹ کرا رہی ہے؟
تو پھر لاکھوں کروڑوں عوام جو ٹیلی ویژن سیٹوں کے سامنے بیٹھے ہیں اور جنہیں مقتدر خاندان کی جائیدادوں کے اعداد و شمار تک حفظ ہو چکے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر بیٹھے ہیں؟
اگر اسٹیبلشمنٹ کا اثر، خدانخواستہ عدلیہ تک آ پہنچا ہے تو پھر یہ چیف جسٹس افتخار چوہدری نہیں کوئی اور تھا جو گھنٹوں آرمی ہائوس میں ڈٹا رہا۔
اب یہ ایک فیشن ہے کہ دلیل دیئے بغیر اسٹیبلشمنٹ کا نام لے دیں کہ سب کچھ وہی کرا رہی ہے۔ شہید بننے کے لیے ریت سے بنی ہوئی یہ بنیاد خوب ہے۔
معاملہ اور ہے۔ اقتدار کی پرستش کے کئی اسلوب اور کئی صورتیں ہیں۔ اقبالؔ نے کہا تھا    ؎
براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس سینوں میں چھپ چھپ کر بنا لیتی ہے تصویریں
اقتدار کی نظروں کو بھلا لگنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کرپشن کو یکسر نظر انداز کر دیا جائے اور تمام قوتِ تحریر و تقریر اس ایک نکتے پر صرف کر دی جائے کہ اصل میں فیصلہ ہو چکا ہے اور کہیں اور ہو چکا ہے۔
عسکری اقتدار کا زمانۂ عروج تھا جب شریف خاندان کو دریافت کیا گیا۔ یہ جنرل غلام جیلانی گورنر پنجاب کی دریافت تھی۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب صدر جنرل ضیاء الحق نے اپنی عمر میاں محمد نواز شریف کو پیش کر دی۔ جنرل حمید گل سے لے کر جنرل اسلم بیگ تک اسٹیبلشمنٹ کے سب بڑے بڑے ستونوں کے ساتھ میاں صاحب نے ٹیک لگائے رکھی۔ اصغر خان مقدمہ لے کر عدالت میں جا پہنچے۔ جنرل اسد درانی نے بیانات دیئے۔ رقوم تک بتا دی گئیں۔ اسٹیبلشمنٹ تو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی۔ آپ کی پشت پر رہی۔
کبھی بھٹو کے ساتھ موازنہ کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی خوب رہی۔ جیسے بھٹو بھی جیل سے باہر نکلنے کے لیے معاہدہ کر کے دساور چلا گیا تھا۔ جیسے اس پر بھی منی لانڈرنگ کے مقدمے بنے تھے۔ جیسے وہ بھی دبئی میں رہنے کے لیے اقامہ اٹھائے پھر رہا تھا۔ تشبیہہ دینے کے لیے کوئی ایک آدھ مشابہت تو ہونی چاہیے۔ چلیے، یہی بتا دیجیے کہ وزیر اعظم نے جیل میں کتنی کتابیں لکھیں؟
ہاں! اسٹیبلشمنٹ کا ذکر کرنا ہے تو اس اسٹیبلشمنٹ کا ذکر کیجیے جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ محمد علی جوہر کو انگریز مجسٹریٹ نے غنڈہ کہا تو جواب دیا ہاں! میں غنڈہ ہوں مگر اللہ میاں کا غنڈہ ہوں۔ ملکہ برطانیہ کا غنڈہ نہیں۔ ایک اسٹیبلشمنٹ اور بھی ہے جو اس کائنات کا نظم چلا رہی ہے۔ یہ وہی اسٹیبلشمنٹ ہے جو جابر و قاہر فاتحین کو چاروں شانے چت گرا دیتی ہے۔ تیمور نے دنیا زیر و زبر کر دی۔ سلطنتِ عثمانیہ کو بھی نہ بخشا۔ آج کا ترکی، شام، آرمینیا، آذر بائی جان، جارجیا، ترکمانستان، ازبکستان، کرغستان سب اس کی سلطنت کا حصہ تھے۔ قیاس ہے کہ ان مہمات میں دو کروڑ افراد ہلاک ہوئے جن کی زیادہ تعداد مفتوح قوموں سے تعلق رکھتی تھی۔ پھر اس نے چین کو زیرِ نگیں کرنے کا منصوبہ بنایا۔ نو مہینے دارالحکومت سمرقند سے نہ نکلا اور مسلسل تیاریاں کرتا رہا۔ ہمیشہ موسمِ بہار کی منصوبہ بندی کرنے والا یہ فاتح اب کے سرما میں پابہ رکاب ہوا۔ چین میں تب مِنگ خاندان برسرِ اقتدار تھا۔ تیمور نے ان کا سفیر اپنے پاس قید کر لیا۔ سیرِ دریا پار کیا کہ اُسے اُس بیماری نے آ پکڑا جو سرما کا تحفہ تھی۔ فاراب کے مقام پر، چین اور منگولیا کی فتح کا خواب بند آنکھوں میں لیے، چاروں شانے چت ہو گیا۔ چین کی سرحد ابھی بہت دور تھی کہ وہ ایک اور سرحد عبور کر گیا۔ اس کے پوتے خلیل سلطان نے چینی سفیروں کو رہا کر دیا۔ یہ ہے وہ اسٹیبلشمنٹ جس کی فکر کرنی چاہیے۔ افسوس! صد افسوس! اس کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔
خوشامد کا فن نیا نہیں! جب سے سرداری، بادشاہت، چوہدراہٹ، کھڑ پہنچی دنیا میں ظہور پذیر ہوئی، تب سے یہ فن بھی چل رہا ہے۔ سعدی نے کہا تھا    ؎
اگر شہ روز را گوید شب است این
بباید گفت اینک ماہ و پروین
کہ بادشاہ دن کو رات کہے تو کہنا چاہیے جہاں پناہ! وہ دیکھیے ستارے نکلے ہوئے ہیں! مگر کچھ تو انصاف کرنا چاہیے۔ تین عشروں سے زیادہ کا عرصہ ہو چلا ہے کہ ایک 
ہی خاندان برسرِاقتدار ہے۔ ادارے اس کی مٹھی میں بند ہیں۔ ایس ای سی پی 
کا حال دنیا نے دیکھ لیا۔ نیشنل بنک آف پاکستان کس کی تحویل میں دے دیا گیا۔ سارے کا سارا پنجاب ایک شہر میں سمٹ کر رہ گیا۔ تو کیا ہمیشہ یہی خاندان برسرِاقتدار رہے گا؟    ؎
تو کیا اِن اندھیرے مکانوں میں ہم
یونہی دن گزارے چلے جائیں گے؟
خاندانوں کی، برسرِاقتدار شجرہ ہائے نسب کی، ایک طبعی عمر بھی ہوتی ہے۔ تاریخ کا عمل بھی ہے۔ تدبیر کند بندہ! تقدیر زند خندہ! تدبیریں انسان بھی کرتا ہے۔ پروردگار بھی کرتا ہے اور پروردگار بہترین تدبیریں کرنے والا ہے۔ دخترِ نیک اختر کو جانشین مقرر کیا جا رہا تھا۔ فنِ خوشامد کے ماہرین اس پر مسلسل کام کر رہے تھے۔ پرنٹ میڈیا میں بھی اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی۔ مگر درمیان میں ایک اور افتاد آن پڑی جو اب سنبھالے سنبھل نہیں رہی۔
کیا ہی اچھا ہوتا جس دن پانامہ لیکس نے راز افشا کیا تھا، وزیر اعظم اس دن اقتدار کو خیر باد کہہ دیتے۔ ملک بھر میں ان کا نام عزت و وقار سے لیا جاتا۔ تاریخ میں ان کا صفحہ سنہری ہوتا۔ کہتے، جب تک یہ معاملہ صاف نہیں ہوتا، میں اقتدار سے الگ رہوں گا۔ پارٹی جسے چاہے میرا جانشین مقرر کر دے۔ یہی دوسرے ملکوں میں ہوا۔ مگر یہاں مشورہ دینے والے ’’خیر خواہ‘‘ ایک ہی بات بتاتے ہیں کہ آپ کو مینڈیٹ ملا ہے۔ آپ ووٹ لے کر آئے ہیں۔ ان سے کوئی پوچھے کہ جو سربراہانِ حکومت استعفیٰ دیتے ہیں کیا ان کی زنبیلوں میں ووٹ نہیں ہوتے؟ کیا مینڈیٹ ملنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب آپ قانون سے مبرا ہو گئے ہیں۔ جو چاہیں، کرتے پھریے؟
یہی مشورہ خود موجودہ وزیر اعظم نے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو دیا تھا کہ مقدمہ چل رہا ہے۔ الگ ہو جائو، بری ہو گئے تو واپس آ جانا۔ کیا ان کے اردگرد عمائدین اور امرا میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو انہیں صائب مشورہ دے سکے؟
اقتدار سے بعض اوقات انسان خوف کی وجہ سے بھی چمٹا رہتا ہے۔ اقتدار کو وہی لات مار سکتا ہے جس کا دامن صاف ہو۔ نیلسن منڈیلا کی طرح! مہاتیر محمد کی طرح! بے نیازی کے ساتھ وہی تخت و تاج کو خدا حافظ کہتا ہے جس کی الماری میں ماڈل ٹائون اور ڈان لیکس کے ڈرائونے ڈھانچے نہ ہوں۔ یہ ڈھانچے راتوں کی نیند حرام کر دیتے ہیں۔ شیر کی سواری اسی لیے خطرناک ہے۔ اترتے ہی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ جسٹس(ر) باقر نقوی کی رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے لیے بے تاب ہے۔
پنجاب کی الماریوں میں نہ جانے کتنے ڈھانچے کھڑے ہیں۔ قدِ آدم ڈھانچے!    ؎
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبدِ نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا

Thursday, July 20, 2017

تلاش ہے چلّو بھر پانی کی

کیا صنعت کار اپنی ذاتی فیکٹریاں اسی طرح چلاتے ہیں؟ نہیں! ایڈمنسٹریشن اور جدید تکنیک کا بہترین استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک ایک افسر، ایک ایک ورکر، ایک ایک مزدور کے آنے اور جانے کا وقت نوٹ کیا جاتا ہے۔ پیداوار کے پیمانے مقرر ہیں۔ روز کا حساب روز ہوتا ہے۔ کل پر کوئی کام نہیں ٹالا جاتا۔ یہ ناممکن ہے کہ کوئی منیجر، کوئی فورمین، کوئی اکائونٹنٹ ریٹائر ہو جائے تو مہینوں اس کا جانشین نہ مقرر ہو۔ آسمان گر سکتا ہے مگر تساہل کاروبار میں نہیں ہو سکتا۔ 
لیکن مجرمانہ رویہ اس وقت جائز ہے جب معاملہ ریاست کا ہو اور عوام کا ہو۔ حکومتیں یوں چلائی جا رہی ہیں جیسے مذاق ہو۔ بنانا ری پبلک؟ نہیں! بنانا ری پبلک کے پھر کچھ اصول ہوتے ہیں۔ صوبائی حکومت، عدالت کے حکم پر کس طرح عمل کرتی ہے؟ دھوکہ دینے کی پوری کوشش! ایک ایسے افسر کو صوبائی پولیس کا سربراہ مقرر کرتی ہے جو تین ماہ بعد ریٹائر ہو رہا ہے۔ عدالت نوٹیفکیشن معطل کرتی ہے۔ اسے بیک وقت عدالت کے ساتھ مذاق اور عدالت کی توہین قرار دیتی ہے۔ فرض کیجیے، صوبائی حکومت کے سربراہ کو عدالت اپنے حضور حاضر ہونے کا حکم دے اور وہ جب حاضر ہو تو پوچھے کہ ایسا کیوں کیا ہے؟ تو اس کا کیا جواب ہو گا۔
سٹیٹ بنک آف پاکستان کا گورنر ریٹائر ہوا۔ کسی کو نہ تعینات کیا گیا۔ پھر جب راتوں رات ڈالر مہنگا ہوا، کچھ افراد کی لاٹری نکلی تو دوسرے دن گورنر کی تعیناتی ہوئی۔ اس سے قطع نظر کہ کون لگایا گیا، اس سوال کا جواب کیا ہو گا کہ یہی کام وقت پر کیوں نہ کیا گیا؟
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آئینی اسامی مہینوں سے خالی پڑی ہے۔ ’’قائم مقام‘‘ سے کام چلایا جا رہا ہے! کیوں؟ کون پوچھے گا اور کون جواب دے گا؟ کوئی نہیں۔
ایس ای سی پی جیسے بڑے اور حساس ادارے کا سربراہ ضمانتیں کراتا پھر رہا ہے۔ اس کے کہنے پر اس کے ماتحتوں نے ریکارڈ میں ردوبدل کیا مگر وہ اپنے منصب پر تعینات ہے۔ کیا قانون پر چلنے والے کسی ملک میں ایسا ہو سکتا ہے؟
پہلے بھی عرض کیا کہ قبائلی نظمِ حکومت ہے جس کی بھینٹ یہ ملک چڑھایا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ کوئی نہیں! قطر کا وزیر خارجہ آتا ہے تو وزارت خارجہ اس کی آمد ہی سے لاعلم ہے، مقصد کا علم تو دور کی بات ہے۔پریس لکھتا ہے:
’’اس دورے کے حوالے سے دفتر خارجہ کو کچھ زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ اور یہ دورہ براہِ راست وزیر اعظم ہائوس سے طے کیا گیا تھا…‘‘
وزیر اعظم کے ریاستی فرائض کہاں ختم ہو رہے ہیں اور ذاتی، خاندانی، کاروباری سلسلے کہاں سے آغاز ہو رہے ہیں؟ کسی کو کچھ نہیں معلوم! سب کچھ وہ خود اور ان کا آفس طے کر رہے ہیں۔ ستر سال سے قائم وزارت خارجہ لا علم ہے! ایک بار پھر پریس کی طرف پلٹتے ہیں:
’’ذرائع کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں پانامہ کے حوالے سے جے آئی ٹی کی تحقیقات خاص طور پر قطری خط کے معاملہ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔‘‘
ایسا تو کسی قبائلی نظامِ حکومت میں بھی نہیں ہوتا! قبائلی سردار، قبائلی معاملات الگ خانے میں رکھتے ہیں اور ذاتی الگ۔
پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس ہوتا ہے۔ حکومتی رکن پھٹ پڑتا ہے…
’’چار سال میں وزارت خزانہ اور وزارتِ تجارت نے ملک کو تباہ کر دیا۔ وزیر خزانہ کی کامیابی صرف یہ ہے کہ ادھر ادھر سے قرض لیا۔ وہ اکانومسٹ نہیں، اکائونٹنٹ ہیں‘‘
خاتون حکومتی رکن اس پر گرہ لگاتی ہے:
’’وزارت تجارت کی کارکردگی سے مایوس ہو گئی ہوں۔ وزارت تجارت نے برآمدات بڑھانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔‘‘
ذاتی کاروبار میں دن دونا رات چوگنا اضافہ ہو رہا ہے۔ فیکٹریاں ایک سے دو، دو سے چار، چار سے آٹھ، آٹھ سے سولہ ہو رہی ہیں۔ ملک کی برآمدات کا رخ کھائی کی طرف ہے۔ قرضے آسمان کی طرف لپک رہے ہیں۔ لے دے کے ریاست کے پاس ایک سٹیل مل ہے۔ اس کی حالت ایسی ہے جیسے کٹے پھٹے ساحل کی ہوتی ہے۔ کوئی کشتی وہاں سے روانہ ہو سکتی ہے نہ لنگر انداز۔
امور طے کہاں ہو رہے ہیں؟ وزارت خارجہ میں نہ پارلیمنٹ میں! کسی لڑکے کو راستے میں پڑا پیڈل ملا تو خوش ہوا کہ اس میں سائیکل فٹ کرا لے گا۔ مسلم ملکوں کی اتحادی فوج کا نام و نشان کہیں نہیں۔ مگر سپہ سالار کو بھجوا دیا گیا، مشیر خارجہ سینیٹ میں کیا بیان دیتے ہیں۔ پڑھیے اور سر دھنیے:
’’سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف سعودی عرب میں تاحال کسی فوج کی قیادت نہیں کر رہے۔ اس وقت فوج بنی ہے اور نہ ہی ٹی او آر کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ ٹی او آر کو حتمی شکل دینے کے لیے رکن ممالک اور وزیر دفاع کے درمیان ملاقات ہونی تھی جو تاحال نہیں ہو سکی۔‘‘
اب یہ کون پوچھے کہ راحیل شریف کسی فوج کی قیادت نہیں کر رہے تو کیا کر رہے ہیں؟ بعد میں بننے والے ٹی او آر پاکستان کے مفاد سے متصادم ہوئے تو پاکستان کیا کرے گا؟ سپہ سالار کو تو پہلے ہی بھیج دیاگیا ہے۔
پارلیمنٹ عضو معطل نہ ہوتی تو یہ معاملات وہاں طے ہوتے۔ وہ تو بھلا ہو سینیٹ کے چیئرمین کا کہ یہ سب کچھ پوچھ لیا، آپ کا کیا خیال ہے سپیکر صاحب یہ سب کچھ پوچھتے؟
پارلیمنٹ کے جسم میں ریڑھ کی ہڈی ہوتی تو وہاں یہ بحث ہوتی کہ چودہ سو سال میں عالم اسلام کی متحدہ فوج نہیں بنی تو اب کیسے بنے گی؟ کون سی متحدہ فوج کی کمان کے لیے سابق سپہ سالار کو بھیجا جا رہا ہے؟ عالم اسلام کی متحدہ فوج؟ کیا کبھی ریزے جوڑ کر کسی نے آئینہ بنایا ہے؟ کیا کبھی زرد اُڑتے پتوں کو درخت کی شاخ پر سجایا گیا ہے؟ تین چار ملکوں کی فوج بن بھی گئی تو وہ عالم اسلام کی متحدہ فوج نہیں کہلا سکے گی۔ ترکی کی حالت یہ ہے کہ ایران کے معاملے میں وہ سعودی عرب کے ساتھ ہے اور قطر کے معاملے میں سعودی عرب کا مخالف! شام اور عراق کی دھجیاں اُڑ رہی ہیں۔ یمن کو ایک طرف سے سعودی عرب پکڑ کر کھینچ رہا ہے اور دوسری طرف سے ایران۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات سخت کشیدہ ہیں۔ کیا بنگلہ دیش اپنی فوج کے دستے ایک پاکستانی کی کمان میں بھیج دے گا؟ تاریخ میں اُس کنفیڈریشن کی صرف گرد باقی ہے جو شام اور مصر نے مل کر بنائی تھی۔ تڑق کر کے ٹوٹی۔ یوں کہ پھر کبھی نہ جُڑ سکی۔
عالم اسلام کی متحدہ فوج؟ یہاں تو علاقائی اتحادوں کا وجود نہیں! وسط ایشیا کی مسلمان ریاستوں میں باہمی رابطہ ہوتا بھی ہے تو روس کے حوالے سے۔ عملاً یہ ریاستیں اب بھی روس کے کھونٹے سے بندھی ہیں۔ شرق اوسط کے عرب، ایران کے مقابلے میں اسرائیل کو ترجیح دیں گے۔ جنوب مشرق میں تین مسلمان ملک ہیں۔ انڈونیشیا، ملائشیا اور برونائی! زبانیں ملتی جلتی ہیں۔ ساحل مشترکہ ہیں۔ نسل وہی ہے! مگر اتحاد کا نام و نشان نہیں۔ خوابوں میں زندگی گزارنے والے رومان پسند یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ امت کا تصور روحانی ہے۔ جسمانی نہیں۔ یعنی سیاسی اور عسکری نہیں۔ جو یہ بات نہیں(باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں)
 مانتا، عملاً امت کے تصور ہی کی نفی کرتا ہے۔ اگر امت سے مراد آپ سیاسی اتحاد لیتے ہیں تو اس کا تو کبھی وجود ہی نہیں رہا۔
اپنے اپنے انفرادی حالات بھی سدھار لیں تو غنیمت ہے۔ تعلیم کی پالیسی ہی درست کر لیں۔ زرعی اصلاحات کرنے سے کیا یہودو ہنود نے روکا ہوا ہے؟ سرداری نظام بلوچستان سے ختم کرنے سے کیا بھارت حملہ کر دے گا؟ لاکھوں ٹیکس چوروں کو کیوں نہیں پکڑ رہے؟ ملاوٹ کرنے والے، خوراک، ادویات اور بچوں کے دودھ کو حرام کاری کی نذر کرنے والے کیوں محفوظ ہیں؟ پورے ملک کی شاہراہیں، چھوٹی سڑکیں، کوچے گلیاں، دکانداروں کے ناجائز تصرف میں ہیں۔ انہیں مار کر پیچھے ہٹانے سے کیا اسرائیل چڑھ دوڑے گا؟ ٹریفک کا سسٹم جنگل کے قانون سے بدتر ہے! کیوں نہیں ٹھیک کرتے۔ یہ سب کچھ تو ہو نہیں رہا اور امت کے اتحاد کے خواب دیکھے اور دکھائے جا رہے ہیں۔ مشترکہ فوج بنائی جا رہی ہے۔ نالائقی، جمود اور ہڈ حرامی کی انتہا یہ ہے کہ ٹی او آر بنانے کے لیے جو میٹنگ ہونا تھی، وہی نہیں ہو رہی۔ جنرل صاحب وہاں مہینوں سے جانے کیا کر رہے ہیں۔
پاکستان واحد مسلمان ایٹمی طاقت بنا تو اسے ایک ماڈل مسلم ریاست بناتے۔ یہاں ٹیکس چوری، رشوت، وقت کے ضیاع، ملاوٹ، چور بازاری کا خاتمہ کیا جاتا۔ حکومت کا نظام صاف اور شفاف بنایا جاتا۔ تعلیم کا نظام مثالی ہوتا زرعی اصلاحات ایسی ہوتیں کہ پوری دنیا تعریف و تحسین کرتی۔ نظامِ تعلیم یوں ہوتا کہ مغرب مشرق کے ممالک اس کی تقلید کرتے۔ آپ اپنے ملک کو کمال تک پہنچاتے۔ پھر دوسرے ملکوں میں اپنے مشیر، ہنر مند، ماہرین بھیجتے۔ مسلمان ممالک آہستہ آہستہ قعر مذلت سے نکلتے۔ یہ ہوتا امت کے تصور کی طرف عملی سفر! مگر یہاں تو ابھی جوتے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ حکمران اپنی ہی عدالتوں کو فریب دے رہے ہیں۔ دوسرے ملک کے وزیر خارجہ سے ملک کا سربراہ اپنے کورٹ کے مسائل پر بات چیت کر رہا ہے۔
پستی! جس کا کوئی انت نہیں۔ بطور قوم ہم سب کے لیے شرم کا مقام ہے۔ آئیے ڈوبنے کے لیے چلو بھر پانی تلاش کریں۔

Monday, July 17, 2017

کہانی اور پس نوشت


بادشاہ کو حکومت کرتے برس ہا برس ہو گئے تو رعایا نے عرض کی کہ جہاں پناہ! 
اب آپ بوڑھے ہو گئے ہیں! چہرہ جھریوں سے اٹ گیا ہے! رخساروں پر کھال ڈھلک گئی ہے! ابرو سفید ہو گئے ہیں یوں لگتا ہے دو سفید چھجے آنکھوں پر دھرے ہیں! دو گز چلنا دوبھر ہے۔ کرم فرمائیے اب آرام کیجیے اور بادشاہت کا تاج کسی اور کے سر پر رکھ دیجیے۔
مگر بادشاہ کو کسی پر اعتبار ہی نہ تھا! وہ تو اپنے سائے سے بھی ڈرتا تھا۔ چاہتا تھا کہ جب تک اس کے دم میں دم ہے‘ وہی تخت و تاج کا مالک ہو!
رعایا صبر کر کے بیٹھ گئی! بادشاہ تخت پر براجمان رہا! زمانے گزر گئے!
پھر ایک دن عجیب واقعہ پیش آیا! دربار جانے کے لیے صبح صبح بادشاہ نے شاہی لباس پہنا۔ تلوار کمر سے لٹکائی۔ تاج سر پر رکھا۔ مگر تاج سر سے نیچے گر پڑا۔ بادشاہ نے تاج دوبارہ سر پر رکھا تاج پھر گر پڑا۔ بادشاہ نے ملکہ کو آواز دی۔ اس نے بھی تاج کئی بار شوہر کو پہنایا مگر ہر بار تاج سر سے گر جاتا۔یوں لگتا تھا کوئی غیبی طاقت‘ کوئی ان دیکھا ہاتھ‘ تاج کو سر سے اتارتا ہے اور نیچے پھینک دیتا ہے! بادشاہ کی عمر رسیدہ ماں نے بھی جسے سب بڑی ملکہ کہتے تھے‘ کوشش کی مگر کامیابی نہ ملی۔ تھک ہار کر بادشاہ ننگے سر ہی دربار چلا آیا۔ درباریوں کو تعجب ہوا مگر کچھ خوف کے مارے اور کچھ پاس ادب سے خاموش رہے۔ اب بادشاہ کا معمول ہو گیا کہ شاہی لباس پہنتا اور تاج کے بغیر باہر نکلتا۔
کئی زمانے سر کی اس برہنگی کو گزر گئے۔ پھر ایک دن ایک اور عجیب واقعہ پیش آ گیا۔ بادشاہ جوتے پہنتا تو جوتے پائوں سے اتر جاتے۔ جوتوں کے کئی جوڑے ٹرائی کیے گئے۔ موچیوں نے نئے جوتے بنائے۔ کئی بیرونی ملکوں سے منگوائے گئے۔ سب نوکروں نے پہنانے کی کوشش کی مگر کوئی جوتا پائوں پر نہ ٹھہرا۔ اُدھر دربار میں جانا لازم تھا۔بادشاہ کسی اور کو اپنی جگہ دربار میں بھیجنا اور تخت پر بٹھانا سخت ناپسند کرتا تھا۔ بالآخر وہ پائوں سے ننگا ہی دربار میں پہنچا۔ اب یہ معمول ہو گیا کہ جہاں بھی جاتا‘ بادشاہ سر اور پائوں سے ننگا ہوتا!
پھر ایک دن شاہی چُغے نے بغاوت کر دی۔ جیسے یہ بادشاہ ریشمی چُغہ پہنتا‘ چُغہ اتر جاتا اور کھٹ سے نیچے گر پڑتا۔ پھر ایک دن پاجامے نے بغاوت کر دی۔ پھر قمیض اتری۔ آخر میں زیر جامہ نے بھی بدن پر ٹھہرنے سے انکار کر دیا۔ اب بادشاہ الف ننگا ہو گیا۔ مجبوراً اسی طرح دربار میں جاتا۔ غیر ملکی وفود کو بھی اسی حالت میں ملتا۔ سیرو تفریح کا بہت شوق تھا۔ صحت افزا پہاڑی مقامات پر اکثر جاتا۔ محلات ہر جگہ بنے ہوئے تھے۔ جہاں بھی جاتا‘ بدن پر پوشاک نہ ہوتی! رعایا فرطِ ادب سے‘ اور مارے خوف کے چُپ رہی!
پھر ایک دن رعایا کی حیرت کی انتہا نہ رہی! پہلے تو بادشاہ صرف ننگا تھا‘ اُس دن اس کا سارا وجود شفاف اور 
Transparent
ہو گیا۔ دیکھنے والے بادشاہ کی انتڑیاں‘ گردے‘ پھیپھڑے سب اندرونی اعضا صاف صاف دیکھ رہے تھے! رعایا کونظر آ رہا تھا کہ کس طرح قسم قسم کی خوراک اُس کے معدے میں عملِ انہضام سے گزر رہی ہے۔ جگر‘ تِلی‘ پسلیاں سب نظر آنے لگیں! طبیب عاجز آ گئے۔ دوسرے ملکوں سے بھی اطبّا اور حکما آئے۔ نسخے آزمائے گئے‘ دم درود بھی کئے گئے۔ ایک اللہ والا تو باقاعدہ پیٹھ پر چھڑیاں مارتا تھا۔ مگر دوا دارو کام آیا نہ دم درود، نہ تعویز گنڈا نہ جادو ٹونہ!
دوسرے ملکوں کے بادشاہ آتے تو انہیں میزبان بادشاہ کو دیکھ کر ابکائی آ جاتی! وہ مخاطب ہوتے وقت اُس کی طرف دیکھتے تو انہیں گردے پھیپھڑے اور آنتیں نظر آتیں!
رعایا نے پھر منت و زاری کی، کہا اب بادشاہ اس حال کو پہنچ گیا ہے تو تخت چھوڑ ہی دے۔ کسی اور کو‘ بے شک اپنے خاندان ہی سے ‘ بادشاہت سونپ دے۔ مگر بادشاہ نے صاف انکار کر دیا۔’’میں آخری دم تک تخت نہیں چھوڑوں گا‘‘ اُس نے واضح اعلان کیا۔
مہینے گزرتے گئے۔ برس آتے اور جاتے رہے۔ بادشاہ اسی عبرت ناک حالت میں بادشاہت کرتا رہا۔ ایک دن دربار میں پہنچا تو درباریوں نے دیکھا کہ بادشاہ کے پیچھے پیچھے اس کی انتڑیاں گھسٹتی آ رہی تھیں‘ بڑے بڑے سرجن اور جراح آئے اور انتڑیوں کو جسم کے اندر دوبارہ فِٹ کرنے کی کوشش کی مگر یہ ان کے بس کی بات نہ تھی۔ پھر گردے نکل آئے۔ پھر پھیپھڑے ‘ پھر جگر اور تِلی سو‘ اب حالت یہ تھی کہ تخت کے ایک کونے میں بادشاہ بیٹھتا۔ تخت کے باقی حصے پر اس کے جسم کے اعضا‘ جو کبھی اندرونی تھے، دھرے ہوتے۔ غلام اِن انتڑیوں گردوں پھیپھڑوں پسلیوں کو کپڑے سے ڈھانپ دیتے۔ بادشاہ اُٹھ کر جانے لگتا تو یہ سب گھسٹے گھسٹے‘ اس کے پیچھے ہوتے! رعایا دیکھ کر عبرت پکڑتی‘ کانوں کو ہاتھ لگاتی! مگر خاموش رہتی! جو بولتا گرفتار کر لیا جاتا!
آخری خبریں آنے تک بادشاہ بدستور تخت پر فائز تھا! (اس کہانی کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں)
پس نوشت۔ جے آئی ٹی کے حوالے سے حکومت 
اور اپوزیشن میں جو کشمکش جاری ہے‘ اس میں بدقسمتی سے حکومتی کیمپ نے مذہب 
کو داخل کر لیا ہے۔ پہلے تو سوشل میڈیا پر مقتدر خاندان کے ایک فرد کے ضمن میں خاندانِ نبوت کی ایک مقدس ہستی کا ذکر کیا گیا۔ حالانکہ چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک!دنیا کے تمام بادشاہ بھی اکٹھے ہو جائیں تو خاندانِ نبوت کے غلاموں کی سواری کی گرد کے ایک ذرے سے بھی زیادہ حقیر ہیں!
اب ایک حکومتی عہدیدار نے وزیر اعظم کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ موازنہ کر ڈالا ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام جلیل القدر پیغمبر ہیں جن کا قرآن پاک میں پچیس مرتبہ (یا اس سے زیادہ بار) ذکرِ مبارک ہوا ہے۔ مسلمان ہونے کے لیے تمام پیغمبروں پر ایمان لانا فرض ہے۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان ہر مسلمان کے ایمان کا جزو لاینفک ہے۔ اس ضمن میں شیعہ سنی بریلوی دیو بندی اہلِ حدیث تمام مسالک کا مکمل اتفاق ہے!بڑے سے بڑا ولی‘ قطب اور ابدال بھی پیغمبر کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔
سیاسی حالات ہنگامی ہوتے ہیں! کبھی مستقل نہیں رہتے۔ آج کے اتحادی کل کے مخالف اور آج کے مخالف کل کے ہم نوا ہو سکتے ہیں۔ آج کل کے ماحول میں سیاست کثافت سے خالی نہیں! اس کے برعکس مذہبی شعائر مستقل اہمیت کے حامل ہیں۔ مقدس ہستیوں کی عزت و حرمت آج بھی وہی ہے جو سینکڑوں ہزاروں سال قبل تھی اور مستقبل میں بھی کم نہ ہو گی!
سیاست دانوں اور امرا و عمائدین کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ اپنے ’’فرائض‘‘کی انجام دہی میں بے شک افلاک کی بلندیوں تک پہنچ جائیں۔ قلابے ملانے پر وطن عزیز میں کوئی پابندی نہیں ! جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے! مگر مقدس ہستیوں کو خدا را درمیان میں نہ لائیے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ مذہبی معاملات میں عوام اور خواص سب حد درجہ حساس ہیں۔ ظاہر ہے حکومت کے حمایتی بھی اس سلسلے میں کسی سے پیچھے نہیں اور اتنے ہی پکے اور حساس مسلمان ہیں جتنا کوئی بھی ہو سکتا ہے! مگر احتیاط لازم ہے!
اس کا ایک پہلو بین الاقوامی بھی ہے۔پوری دنیا کے کیمرے پاکستان پر لگے ہیں۔ پاکستان سے باہر یہ تاثر کسی صورت میں نہیں جانا چاہیے کہ توہینِ مذہب کے قانون پر عملدرآمد میں امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور کہیں تو ایکشن فوراً لیا جاتا ہے اور کہیں معاملے کو کولڈ سٹوریج میں ڈال دیا جاتا ہیٖ! پہلے ہی ہمارا امیج مثبت نہیں! اسے مزید منفی کرنے میں ملک کا فائدہ ہے نہ قوم کا   ؎
ہم نیک و بد حضور کوسمجھائے دیتے ہیں
مانو نہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے!

 

powered by worldwanders.com