Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Monday, November 13, 2017

کھڑکیاں سمندر کی طرف کھلتی ہیں


میں تو ایک جھیل ہوں ۔جاڑا آتا ہے تو کونجیں اترتی ہیں ،دور دور سے آئی ہوئی،سائبیریاسے،صحرائے گوبھی کے اس پار سے برف سے، مستقل ڈھکے پہاڑوں سے،آکر میرے کناروں پر بیٹھتی ہیں ، باتیں کرتی ہیں ۔میرے ترسے ہوئے نیلے پانیوں کو اپنی  ٹھنڈی چونچوں  سے بوسے دیتی ہیں ، پیاس بجھاتی ہیں۔پھر  رُت بدلتی ہے۔ وہ ڈاروں کی صورت اڑتی ہوئی واپسی کا راستہ لیتی ہیں ۔ میرے پانی، میرے کنارے انہیں جاتے ہوئے حسرت سے دیکھتے ہیں ،مگر روک نہیں پاتے۔بس پوچھتے ہیں ۔کیا تم سائبیریا واپس جا کر ہمیں یاد کرو گی؟"تم اگلےسرما ضرور آنا ہم یہیں تمھارا انتظار کریں گے"

میں تو ایک باغ ہوں اپنے فرش کو اس سبزے سے آراستہ کرتا ہوں جو مخمل  کی طرح ہے۔ روش روش  پھول کھلاتا ہوں  کنج کنج آراستہ کرتا ہوں ۔فوارے چلاتا ہوں ۔نہر کا پانی باغ کے راستوں سے گزارتا ہوں ۔پانی میں رنگین مچھلیاں  پالتا ہوں پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہوں  کہ نرم خنک ہوا چلے۔ٹہنیاں جھومیں  ۔پھول رقص کریں یہ سب کس لیے؟ان بچوں کے لیے جو دن چڑھے باغ میں آتے ہیں  ۔ان پرندو ں کے لیے جو مختلف  رنگوں کے ہیں اور  خوبصورت ہیں  اور میں سمجھتا ہوں  میں زمین کا نہیں آسمان کا ٹکڑا ہوں ۔ میں باغ ہوں مگرباغ  بہشت ہوں ۔ بچے میرے سبز مخمل پر دوڑتے ہیں تو میرے سینے میں توانائی بھر جاتی ہے۔

رنگین خوبصورت پرندے میرے درختوں کی ٹہنیوں  پر بیٹھ کر گیت گاتے ہیں  تو ابر پاروں کے اس پار  سے فرشتے اترتے ہیں  اور ان پرندوں اور ان بچوں کی حفاظت کرتے ہیں ،دن بھر چہکار اور مہکار رہتی ہے۔پرندے اور بچے،بچے اور پرندے،آنکھ مچولیاں کھیلتے ہیں پھول پودے درخت سبزہ اور پانی تالیاں بجاتے ہیں  !مگر آہ !جب شام ہونے لگتی ہے سب کوچ کرنے لگتے ہیں !پرندے اڑ جاتے ہیں بچے روشوں کو اداس ،پانی کو خاموش،پھولوں کو منہ بسورتا،پودوں کو دم بخود اور درختوں کو مغموم چھوڑ کر چلتے بنتے ہیں ۔باغ پر ویرانی چھاجاتی ہے۔اجاڑپن ہر شئےکو لپیٹ میں لے لیتا ہے۔پھر رات پڑتی ہےاندھیری،سرد،بے مہررات! لمبی رات!باغ رات تنہا گزارتا ہےان بچوں اور پھولوں کی یادیں جو دن بھر اس کے سینے پر کھیلتے بھاگتے گاتے اور پھدکتے رہے۔

میں تو ایک پارک ہوں ۔دن بھر لوگوں سے بھرا رہتا ہوں ۔بیٹھتے ہیں دھوپ کھاتے ہیں جب یخ زرد شام چھانے لگتی ہے توسب گھروں کو چل دیتے ہیں پھر رات بھر برف باری سے میں تنہا نمٹتا ہوں ۔

میرا حال تو میری دادی کا سا ہے۔گرمیوں کی چھٹیاں ہم سب ہمیشہ گاؤں میں ان کے ساتھ گزارتے تھے۔کوئی کہاں سے آتا تھا،کوئی کہاں سے،اپنے اپنے ٹھکانوں ،قصبوں اور شہروں سے!سب ایک گھر میں جمع ہوتے تھے دو اڑھائی ماہ مل کر رہتے تھے ۔دن ڈھلتے ہی صحن میں جھاڑو دیا جاتا تھا۔پھر پانی کا چھڑکاؤ ہوتا تھا۔گرد بیٹھتی تھی سوندھی سوندھی خوشبو سارےمیں پھیل جاتی تھی۔پھر چارپائیاں بچھتی تھیں۔ان پر سفید چھپے والی چادریں بچھائی جاتی تھی - تکیے  رکھے جاتے تھے۔رات کو چہل قدمی کے لیے سب باہر جاتے تھے۔صبح نو بجے صحنوں میں تنور سلگا دیے جاتے تھے۔گرم گرم روٹیوں  پر،انگلیوں کےساتھ،دادی گڑھے ڈالتی تھیں پھر مکھن کے بڑے بڑے پیڑے ان روٹیوں کے سینوں پر پگھل کر،ان گڑھوں  میں رچ بس جاتے تھے۔ ساتھ شکر ہوتی تھی اور دودھ جیسی میٹھی لسی!

ہم سب بچے باہر، اپنے کھیتوں میں جاکر بیلوں سے خود خربوزے توڑتے تھے۔موٹھ اور مونگ کی ادھ پکی پھلیاں کھانے کا اپنا مزہ تھا! خاندان کی خواتین سفر سے پہلے گھوڑیوں پر بیٹھتی تھیں تو گلی میں سے مردوں کا گزرنا روک دیا جاتا تھا۔

مگر یہ ستر اسی  دن اس قدر تیز رفتاری سے گزرتے تھے کہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔پھر وہ دن آتا تھا جب سب نے واپس جانا ہوتا تھا۔ اس د ن دادی صبح سے بولنا بند کردیتی  تھیں  بس خاموشی سے  بچوں کے  جانے کی تیاری کرتی رہتی تھیں سامان بندھ جاتا اٹیچی کیس ،صندوق تیار کئے جاتے بیگوں کی زپیں چلنے اور بند ہونے کی آوازیں آتیں ، پھر سب رخصت ہوتے تو دادی دروازے کے سامنے کھڑی ہوجاتیں  ۔جب تک جانے والے نظر آتے کھڑی رہتیں ۔پھر وہ سب سامنے مکانوں کی اوٹ سے ادھر  ہوتے تو دادی  پلٹ کر گھر کے اندر آتیں۔ اس قطرے کو جو رخساروں پر بہہ رہا ہوتا انگلی سے صاف کرتیں پھر خالی صحن اور بھائیں بھائیں  کرتے کمروں کو دیکھ کر ،صحن کے ایک طرف بیٹھ جاتیں۔

میرا حال بھی وہی ہے ہاں ، زمانے کی گردش نے ہجر اور وصال کے تلازمے تبدیل کردئیے ہیں ۔ پہلے مختلف شہروں اور قصبوں سے آتے تھے اب بچے مختلف ملکوں سے آتے ہیں ۔ اب کھیتوں  کھلیانوں  میں نہیں ،تعطیلات کے دوران پارکوں  کلبوں بازاروں اورمارکیٹوں  میں جاتے ہیں اب گھوڑیاں اور اونٹ نہیں ،جہازوں کے پیٹ انہیں اپنے اندر چھپا کر لے جاتے ہیں اور دور دیسوں میں جاکر اگل دیتے ہیں۔

ہجر اور وصال کے تلازمے بدلے مگر کرب اور درد کے اشاریے وہی ہیں  ۔صحن اسی طرح ویران ہوتے ہیں۔کمرے اسی طرح بھائیں بھائیں کرتے ہیں  ۔جو کھلونے ،چھوٹے چھوٹے جوتے اور ننھی منی قمیضیں  یا پتلونیں رہ جاتی ہیں  ۔وہ اُسی طرح رلاتی ہیں  ۔آنسو اب بھی رخساروں پر ڈھلکتے ہیں مگر ہوائی اڈوں پر! گھر میں  مُڑتی ہوئی سیڑھی اب بھی آہیں بھرتی ہے ۔دروازے اب بھی چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو یاد کرکے خاموش سسکیاں بھرتے ہیں  ۔گھوڑے ہوں یا ڈاچیاں  ،جہاز ہوں  یا کشتیاں  یا ہوائی اڈے ،درد کے سامان میں کمی نہیں آئی۔ انسان کے اندر کو کسی زمانے کسی ایجاد، کسی ترقی نے تبدیل نہیں کیا ۔آنسو روکنے کے لیے سائنس کچھ نہیں کرسکی ۔اب چند گھنٹوں  میں ویرانے سبزہ زار بنا دیے جاتے ہیں  ۔مگر سلگتے خالی  ویران سینوں کو آباد کرنے کا کوئی طریقہ دریافت نہیں ہوا ۔پہلے رخصت کرنے والے بندرگاہوں  پر روتے تھے پھر ریلوے اسٹیشنوں  پر۔ اب ہوائی اڈوں پر روتے،سسکتےاور بلکتے ہیں !جدائی ایک مستقل  قدر ہے ۔کوئی الجبرا،کوئی ریاضی ،کوئی فزکس اس قدر کو گھٹا نہیں سکی ۔راکٹ مریخ پر پہنچ جائیں  مگر ناصر کاظمی کا فرا ق کا گیت سدا ہرا بھرا رہے گا۔

؎پھر وہی گھر وہی شام کا تارا

 پھر وہی رات وہی سپنا تھا

 یوں گزرا وہ ایک مہینہ

جیسے ایک ہی پل گزرا تھا

 صبح کی چائے سے پہلے اس دن

 تو نے رختِ سفر باندھا تھا

 اب نہ وہ گھر نہ وہ رات کا تارا

اب نہ وہ  رات نہ وہ سپنا تھا

 آج وہ سیڑھی سانپ بنی تھی

 کل جہاں خوشبو کاپھیرا تھا

پچھلی شب کی تیز ہوا میں

کورا کاغذ بول رہا تھا!

پہلے حویلیاں  فراق کے نوحے پڑھتی تھیں  ۔اصطبلوں میں گھوڑے آنسو بہاتے تھے ۔اب پورچوں میں گاڑیاں ماتم کرتی ہیں ۔بیڈ روم  خالی ہوکر صدائیں  دیتے ہیں!انسان کے باہر سب کچھ بدل گیا۔اندر کچھ نہیں بدلے گا۔جب تک دل خون کا ٹکرا ہے۔ اس میں سے درد کے سوتے بہتے رہیں گے۔ جب تک آنسو بنتے رہیں گے ،آنکھوں  سے نکلتے اور رخساروں  پر لڑھکتے رہیں گے ۔بشیر بدر نے کہا تھا

؎گرم کپڑوں کا صندوق مت کھولنا ورنہ یادوں کی کافور جیسی مہک  


خون میں آگ بن کر اتر جائے گی یہ مکان صبح تک راکھ ہوجائے گا

اب تو جو گئے ہیں  انہیں پیچھے چھوڑے ہوئے گرم کپڑوں کے صندوقوں  کی فکر ہے نہ ضرورت!وہاں تو ان لباسوں کی ہی ضرورت نہیں !ہوائی جہاز  ایسا عفریت ہے جس نے ہجرتوں کے در کھول تو دیے ،بند کرنا اس کے بس کی بات نہیں!ہجرت ایسا عمل ہے جس کا ایک سرا نظر آتا ہے دوسرا کسی کو نہیں دکھائی دیتا۔ہجرت کرنے والی نسلوں کا اَن دیکھا نامعلوم مستقبل کسے نظر آسکتا ہے!ایک نسل ان رابطوں کو قائم کرنے کی جدوجہد کرتی ہے جدوجہد کرتے کرتے ٹھکانے لگ جاتی ہے۔دوسری نسل میں یہ تعلق کمزور ہونے لگتا ہےاس کے بعد کوئی گارنٹی ہے نہ پیش گوئی! پھر زمانہ جو چاہے کرے!پھر وقت اپنی رو میں جسے جدھر چاہے لے جائے!

؎ نے باگ ہاتھ ہر ہے نہ پا ہے رکاب میں

ہجرتیں جو بستیوں قریوں ڈھوکوں گوٹھوں سے شروع ہوئی تھیں ،نزدیک کے قصبوں اور شہروں تک لائیں  ۔پھر سمندر پار دوسرے ملکوں میں لے گئیں۔

پہلے زندگیاں  اس امید میں ختم ہوتی تھیں کہ گاؤں واپس جائیں گے۔اپنے کیکر اور اپنے شیشم کے نیچے بیٹھ بیٹھ کر،اپنے رہٹ کا پانی پئیں گے،کوئی گاؤں واپس نہ گیا۔شیشم،کیکر اور رہٹ انتظار کرتے رہے جو شہر میں آیا،وہیں کا ہوگیااب عمریں اس سراب میں کٹتی ہیں کہ سمندروں کو عبور کرکے واپس وطن جائیں گے۔مگر کوئی واپس نہیں آتا۔آتے بھی ہیں تو جانے کے لیے۔

سمندروں  کے کنارے خواب گاہیں بنی ہوئی ہیں ۔ان کی کھڑکیاں صرف اور صرف پانیوں کی طرف کھلتی ہیں ۔پانیوں کی طرف!سفینوں اور جہازوں کی طرف!کوئی کھڑکی واپسی کی طرف نہیں کھلتی!       


Friday, November 10, 2017

دو قومی نظریے پر کلیدی خطبہ گاندھی جی دیں گے


ہمارے دوست معروف دانشور  ،جناب خورشید ندیم تحریر میں کم خواب و پرنیاں جیسے الفاظ  استعمال کرتے ہیں ،گفتگو میں بھی نرم ہیں اور بعض اوقات امیدیں قائم کرنے میں بھی ضرورت سے زیادہ فیاض۔

دارالحکومت کی ایک یونیورسٹی کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ۔۔

"تدریجاً" یہ ادارہ ایک جدید  مدرسہ بنتا چلا گیا۔ زیادہ سے زیادہ مخصوص مذہبی  تعبیرات کا تبلیغی مرکزیا ایک مذہبی  سیاسی جماعت کے وابستگان کے لیے روزگار کا وسیلہ۔ علمی کم  مائیگی کی ایک وجہ  یہ رہی کہ یہاں علمی تحقیق کے لیے حوصلہ افزا فضا میسر نہ ہوسکی، ادارہ تحقیق  اسلامی کو  یونیورسٹی سے وابستہ کردیا گیا۔مگر ڈاکٹر فضل الرحمن کے ذکر پر پابندی  رہی،جن کی علمی وجاہت کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں  اب یونیورسٹی نے سر سید احمد خان کو دو روزہ کانفرنس کا موضوع بنایا  تو میرے لیے خوشگوار حیرت کا باعث تھا"

جس یونیورسٹی کو خورشید  ندیم صاحب جدید مدرسہ کہہ رہے ہیں ،وہ مدرسہ تو ہوسکتا ہے، جدید ہرگز نہیں ۔کئی دارالعلوم اکٹھے کئے جائیں تو  تنگ نظری  اور مخصوص مذہبی تعبیرات میں اس "یونیورسٹی" کی گرد کو نہ پہنچ سکیں ،سرسید کانفرنس کے انعقاد پر خوشگوار حیرت  خورشید ندیم صاحب کو نہ جانے کیسے ہوئی؟

اگر قائداعظم پر سیمینار ہو اور کلیدی خبطہ  مولانا حسین احمد مدنی  یا سردار ولبھ بھائی پٹیل سے دلوایا جائے تو حیرت کیسی؟

"یونیورسٹی" کی نیت صاف ہوتی تو سرسید کے خلاف روایتی ملائیت کو یکجا کرنے کے ساتھ ساتھ ان دانشوروں کو بھی مدعو کرتی جو سرسید کو گردن زنی نہیں ،محسن سمجھتے ہیں۔

چلیں جاوید  غامدی یا خورشید ندیم کو نہ بلاتے کہ یہ عامی ہیں ۔ بیچارے اردو میں پی ایچ ڈی ہیں ،نہ کسی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں ، مگر ڈاکٹر مہدی حسن کو بلا لیتے ۔اگر ڈاکٹر مہدی حسن کو تنظیم اسلامی والے اپنی تقریب میں بلا سکتے ہیں جہاں ڈاکٹر صاحب نے ثابت کیا تھا کہ ہر پیغمبرپر"روشن خیالی" کا الزام لگا تو "یونیورسٹی" کیوں نہیں بلاسکتی۔

ڈاکٹر ہود بھائی کو بلا لیتے پروفیسر  فتح محمد ملک تو اسلام آباد میں موجود تھے۔

خدا کے بندو! سرسید کے ناقدین ہی کو جمع کرنا تھا تو سجاد میر کو بلا لیتے۔ ڈھنگ سے بات کرتے ہیں ،گفتگو کا فن جانتے ہیں ۔ دلائل دیتے ہیں ،اور سنتے ہیں ۔ مگر ان میں سقم یقیناً یہ نظر آیا ہوگا کہ نہ ملا ہیں نہ  پیر۔

یہاں آنکھوں دیکھا،بلکہ بیتا واقعہ بیان کرنا اس نکتے کی وضاحت کرے گا کہ اس یونیورسٹی نما  دارالعلوم میں کس مائنڈ  سیٹ کے پروفیسرز اکٹھے کئےگئے ہیں ۔

غالباً دو سال پہلے کی بات ہے، پاکستان اکادمی ادبیات میں الطاف حسین حالی کے  حوالے سے ایک تقریب ہوئی۔ ایک خاتون نے اوراق خوانی کی،تاثر یہ دینے کی کوشش کی کہ بکسر کی شکست سے لے کر ،ٹیپو سلطان کی شہادت تک اور  1857 کی پسپائی سے لے کر جلیانوالہ باغ کی ہلاکتوں تک،ہر ناکامی کا ذمہ دار  یہی شخص تھا۔ جس کا نام حالی تھا۔۔ انگریزوں کا خادم ۔

اسلام آباد کے سب بڑے بڑے دماغ ،بڑے بڑے جسموں کےساتھ وہاں براجمان تھے۔ منہ میں سب کے گھگھنیاں تھیں ۔ اس طالب علم نے اپنی باری پر تصویر کا دوسرا رُخ دکھانے کی مقدور بھر سعی کی، یہ ہے وہ مائنڈ سیٹ جو "یونیورسٹی" میں طلبہ اور طالبات کے ذہنوں میں اپنا مخصوص نکتہ نظر ٹھونس رہا ہے۔ نظم و نسق ملائیت کے سپرد ہے ۔علاقہ مذہبی سیاسی جماعت کا مفتوحہ ہے۔

نہلے پر دہلا یہ ہوا کہ اقبال نے تینوں قاتل عناصر کا ذکر  الگ الگ کیا تھا۔

؎اے کشتہ ء سلطانی و ملائی و پیری

مگر سر سید کا دماغ ٹھکانے لگانے  کے لیے یونیورسٹی نے مُلائی اور پیری کا ایسا مہلک  امتزاج  


Lethal combination

کھڑا کیا کہ اس انتخاب پر داد نہ  دینا بدذوقی ہوگی۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ڈیڑھ سو سال سے سر سید پر مُلائیت حملہ آور ہے، اور زیادہ مشتعل اس لیے ہے کہ ایک مخصوص حلقے سے باہر اس کی کسی نے سنی نہیں۔
یہ حلقہ بھی مُلائیت کا اپنا ہے۔ یہ وہی مُلائیت ہے جس نے جہانگیر کو اور عثمانی خلیفہ کو پریس قبول کرنے سے روکا ۔جس نے مذہب کو زندگیوں سے نکال  کر ظاہری وضع قطع  اور لباس تک محدود کردیا۔ جس نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر اور ٹیلی ویژن حرام ہے اور پھر کہا حلال ہے۔ بلکہ اپنے اپنے چینل کھول لیے۔ یہ وہی مُلائیت ہے جو اب بھی مسلمان  نوجوانوں کو سائنس ،انجینئرنگ  اور  میڈیکل کی تعلیم ادھوری چھڑوا کر مدرسوں کی طرف بھیج رہی ہے۔

پیری مریدی کے راستے سیادت اور امارت کا حصول  تو عام تھا۔اب پیری مریدی کے راستے ادب فتح کیا جانے لگا ہے۔ایک صاحب کا دعویٰ  ہے کہ وہ علمی تصوف سے متعلق ہیں ۔فضا انہوں نے اپنے ارد گرد تقدس اور روحانیت کی باندھی ہے، اس فضا کا لامحالہ نتیجہ آمنا و صدقنا اور صم بکم عمی ہوتا ہے۔چنانچہ حلقہ بگوشوں میں  اختلاف کا رواج ہے  نہ ہمت!

کوئی استاذ العلماء  کہتا ہے تو کوئی مرشد۔

واقعہ یہ ہے کہ یہی راستہ حُب  جاہ اور عُجب کی طررف جاتا ہے بظاہر سادگی اور عجز مگر ایک حلقہ  تعظیم و اطاعت کرتا ہے۔ تو  مزا ہی آ جاتا ہے۔ دوسروں کی نظر میں استاذ العلماء اور مرشد ہونا ہی تو جاہ ہے۔ اسی سے ایک پگڈنڈی عُجب کی طرف جاتی ہے۔ حدیث میں ہے۔۔۔"رہے ملہلکات سو وہ  خواہش ہے جس کی پیروی کی جائے ،اور  بخل ہے جس کے موافق عمل کیا جائے، اور آدمی کا اپنے آپ کو  اچھا سمجھنا  (اعجاب المرءبنفسہ) اور  یہ سب سے بڑھ کر ہے"

جبھی تو ناصر کاظمی نے کہا تھا۔۔۔

سادگی سے تم نہ  سمجھے ترکِ دنیا کا سبب

ورنہ یہ درویش پردے میں تھے دنیا دار بھی!

اس مصیبت سے بچنے کے لیے ہی تو ملامتیہ نے اپنے آپ کو عاصی بنا کر پیش کیا کہ حب و جاہ  اور عُجب سے جان چھڑائی جائے۔اب جب پیری  مریدی کا نظام قائم ہوچکا  ،ہر بات  مرشد کی مستند سمجھی جانے لگی۔ تو ادب اور تاریخ  کی طرف  رُخ ہوا فضا وہی آمنا صدقنا کی ! پھر خاص قسم کے الفاظ اور  طویل فقرے۔ پھر لفظوں کو چبا چبا کر ایک مخصوص ادائیگی جس میں  نسائیت بھی جھلکتی ہے۔ بقول خؤرشید ندیم صاحب "غور و فکر کی صلاحیت کچھ دیر کے لیے سلب ہوجاتی ہے"مگر سب جھاگ!
سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انگریزی یا  کسی زبان میں ترجمہ کریں تو ہاتھ  کچھ نہ آئے، اسی لیے اوزار جو پکڑا گیا ہے، گفتگو  ہے تحریر نہیں ! تحریر میں آپ کو
 substance
دینا پڑتا ہے

ایک چڑیا گھر میں شیر لایا گیا، زبیرے نے اسے پہلی بار دیکھا تھا، اس کے پاس آیا پوچھا تم کون ہو ،کیا کرتے ہو؟

شیر نے  توجہ نہ دی ۔۔دوسرے  دن پھر آیا۔،پھر تیسرے دن،چوتھے دن آخر شیر تنگ آ  گیا، اس نے زبیرے سے کہا پہلے یہ دھاری دار چادر اتارو، پھر میرے ساتھ کشتی لڑو،تمھیں معلوم  ہوجائے گا، میں کون ہوں ،

بھائی! آپ پیری مریدی کی، تقدس کی ،مرشدیت کی دھاری دار چادر اتاریں ۔ عقیدت مندوں اور مریدوں  سے باہر نکلیں  اور ادب اور تاریخ  کے طالب علم(چلیے بہت بڑے سکالر) کے طور پر باہر  نکلیں تو آٹے دال کا بھاؤ  معلوم ہو!

پیر صاحب کے مفروضؤں  کو چیلنج کوئی مرید نہیں کرتا ، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب من جانب اللہ ہے۔ یہ محض  مفروضہ ہے کہ اینٹی تھیسس تھیسس ہی سے نکلتا ہے ۔یہ بھی مفروضہ ہے کہ سرسید کی جدو جہد کو صرف تعلیمی میدان تک محدود کرنا  فکری افلاس کی دلیل ہے ۔اس طائفے کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہے کہ  موجودہ نطام ِ تعلیم فکرِ  سرسید کی پیداوار ہے ۔چلیے یہ متنازعہ بات مان بھی لی جائے تو سوال یہ ہے کہ  ڈیڑھ سو برس ہوچکے ہیں ۔ جسے آپ درست سمجھتے ہیں  ؟

آپ سرسید کے عیوب کے بجائے ہمیں اپنے محاسن سے بھی تو مطلع فرمائیے ،

ضیا الحق کے اقتدار کے  پورے عشرے میں اس  مکتب فکر کی مکمل حکمرانی تھی۔ جسے سرسید سے خدا واسطے کا بیر ہے۔
حکومت کی طاقت بھی تھی،مذہبی جماعتوں اور "اصحاب رشد و ہدایت "کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں تھا۔ خزانوں کے منہ مشائخ کانفرنسوں کے لیے کھلے تھے، ملائیت کا رقص زور و شور سے جاری رہا،تو پھر آپ  سرسید کو پیش منظر سے ہٹا کر اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنا لیتے۔

مگر اصل مسئلہ دلائل کا نہیں ،نہ کلیدی خطبے کے مندرجات کا۔ اصل مسئلہ اس " حسنِ نیت"کا ہے جس نے سرسید پر سیمینار اس لیے کرایا کہ جانے پہچانے مخالفین کو مسند پر بٹھایا جائے۔، اور وہی اعتراضات دہرائے جائیں  جو سرسید پر ملائیت ڈیڑھ صدی سے کر رہی ہے۔

جیسا کہ اوپر مثال دی گئی ہے کہ قائداعظم پر سیمینار ہو اور کلیدی خطبہ مولانا حسین احمد مدنی یا کانگرسی زعما میں سے کوئی دے تو کیا  آپ اس خطبے کا جواب دینے بیٹھ جائیں گے ؟یا اس بدنیتی کا ماتم کریں گے جس نے قائداعظم کے دشمنوں کو کھلی چھٹی دی۔

ظلم یہ ہے کہ سر سید کے افکار  کی ہمہ جہتی اور ہمہ گیری سے ان دشنام طرازوں  کو مکمل آگاہی نہیں ۔سرسید اندھوں کے اس طائفہ کے لیے وہ ہاتھی ہے جس کا یہ  محض کان یا پاؤں ٹٹولتے پھر رہے ہیں ۔،

مکمل فکر اور عمل جو سر سید کا کارنامہ ہے،توجہ سے محروم ہے اور ذہنی بساط سے بھی۔مثلاً  اگر اس  درد سے واقف ہونا  ہو جو سر سید کے دل میں برصغیر کے ایک عام باشندے کے لیے تھا تو ان کی تصنیف "مسافر ان لندن "کا مطالعہ لازمی ہے ۔وہ اپنی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کے کتنے بڑےعَلم بردار تھے دیکھیے۔۔۔

"اس تمام ترقی کا باعث  انگلستان میں صرف یہ ہے کہ تمام چیزیں  تمام علوم تمام فن جو کچھ اس قوم  کی زبان میں ہے ،پس  جو لوگ حقیقت میں ہندوستان کی بھلائی  اور ترقی چاہنے والے ہیں وہ یہ جان لیں کہ  ہندوستان کی بھلائی صرف  اسی پر منحصر  ہے کہ تمام علوم  اعلیٰ سے لے کر ادنیٰ تک انہی کی زبان میں ان کو دیے جائیں ۔ ہمالیہ کی چوٹی پر یہ الفاظ  کھود دئیے جائیں کہ ہندوستان اسی  وقت ترقی کرسکتا ہے جب وہاں تعلیم اس کی اپنی زبان میں دی جائے"

موضؤع بہت طویل ہے    باتیں بہت سی ہیں  مگر مجھے جانا ہے، اسی یونیورسٹی نے دو قومی نظریے پر سیمینار منعقد کیا ہے ۔سنا ہے گاندھی جی کلیدی خطبہ دیں گے۔ میں اس سنہری موقع کو کھونا نہیں چاہتا،سو،خدا حافظ!

Wednesday, November 08, 2017

کتاب فروش اور میں !



کتاب فروش سے اردو کی بی اے کی کتابیں طلب کیں اور وضاحت کی کہ اردو کے مضمون کے لیے بی اے کی وہ کتابیں درکار ہیں جو خواتین کے لیے ہیں ،اس نے  کتابوں  کا  ایک  سیٹ دیا، اب اردو کی وہ کتابیں مانگیں جو بی اے میں مردوں کے لیے مخصوص ہیں ، اس نے کتابوں کا ایک اور سیٹ دیا۔دونوں کھول کردیکھے تو  ایک سے ہی تھے۔ وہی کتابیں اور اتنی ہی کتابیں ۔
اب ایم اے اردو خواتین کے لیے   کتابیں مانگیں  ،تو ایک سیٹ کاؤنٹر پر رکھ دیا گیا۔ پھر ایم اے اردو مردوں کے لیے کتابوں کا مطالبہ کیا۔ کتاب فروش  نے ایک اور سیٹ دے دیا۔ ان دونوں سیٹوں کو کھول کردیکھا تو  یہ بھی ایک جیسے ہی تھے۔

پوچھا ،خواتین اور مردوں کے لیے الگ الگ کتابیں کیوں نہیں ؟ ۔دنکاندار پڑھا لکھا تھا۔ عجیب دلیل دی۔

کہنے لگا  اردو شاعروں  ادیبوں  نے ادب  تخلیق کرتے وقت یہ تخصیص کب کی تھی کہ یہ تخلیق عورتوں کے لیے ہے اور  فلاں مردوں کے لیے؟۔ اب آپ بتائیے فسانہ ء  آزاد یا دیوان غالب یا باغ و بہار کیا  صرف مردوں کے لیے لکھے  گئے  ہیں ؟

یا صرف عورتوں کے لیے؟۔

اور آپ نے ابھی دو دو سیٹ  کتابوں کے مجھ سے نکلوائے ،پہلے یہ بتائیے کہ ادب میں یہ صنفی یا جنسی  تقسیم کب سے آئی؟بظاہر  آدمی آپ معقول لگتے ہیں ؟

حالات خراب ہوتے نظر آئے، کتاب فروش اب تقریباً غصے میں تھا،میں نے اس کی خوشامد کرتے ہوئے ایک واقعہ سنایا۔

ایک چرواہا ٹی وی چینلوں سے بہت بیزار  تھا، بات کا بتنگر  اور رائی کا پہاڑ  بنا کر، کھینچ تان کر ،معمولی سے واقعہ کو  "بریکنگ نیوز"بنا کر پیش کرتے ہیں ، اور پھر سارا دن یہ بریکنگ نیوز ناظرین کی آنکھیں  پھوڑتی رہتی ہے ،ایک دن وہ اپنے مویشی  چرا رہا تھا اور آرام سے درخت کے نیچے بیٹھا  بانسری بجا رہا تھا، کہ ایک اینکر اس کا انٹرویو کرنے کے لیے آدھمکا۔

اینکر چرواہے سے ،آپ بکروں کو کیا کھلاتے ہیں ؟

چرواہا۔     کالے کو یا سفید کو؟

اینکر۔     سفید کو۔

 چرواہا۔    ۔گھاس

اینکر      اور کالے کو؟

 چرواہا۔   ۔اسے بھی گھاس

اینکر     ۔انہیں باندھتے کہاں ہو؟

 چرواہا۔     کالے کو یا سفید کو؟

 اینکر۔    ۔سفید کو

چرواہا۔   ۔ کمرے میں

اینکر۔   اور کالے کو۔؟

چرواہا۔   ۔اسے بھی کمرے میں

 اینکر۔    ۔انہیں نہلاتے کیسے ہو؟

چرواہا۔   ؟کسے ؟ کالے کو یا سفیدکو ؟

اینکر ۔     سفید کو؟

چرواہا۔    ۔پانی سے

اینکر۔    اور کالے کو؟

چرواہا۔   ۔اسے بھی پانی سے

 اینکر۔    (غصے سے،) بد بخت، جاہل جب دونوں سے ایک جیسا سلوک کرتے ہو تو  پھر بار بار کیوں پوچھتے ہو کہ  کالے کو یا سفید کو؟

چرواہا۔   ۔کیوں کہ سفید بکرا میرا ہے۔

اینکر۔     ،اور کالا؟

چرواہا۔   ۔وہ بھی میرا ہے!

حماقت کی یہ داستاں سن کر کتاب فروش کے چہرے پر مسکراہٹ  آئی،اب اسے وہ دعوت نامہ دکھایا جو اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی نے بھیجا تھا۔ اس میں دنیا کی عجیب و غریب بات یہ تھی کہ اردو کے دو شعبے تھے،ایک کے آگے (F)۔دوسرے کے آگے ا(M) لکھا تھا۔

پہلے تو میں اور دکاندار سوچتے رہے کہ اس "ایف اور ایم "کا کیا مطلب ہوسکتا ہے، چونکہ "ایف" کے سامنے خاتون پروفیسر کا نام لکھا تھا۔اور "ایم"کے ساتھ مرد پروفیسر کا تو ہم نے اندازہ لگایا کہ ہو نہ ہو اس سے مراد  مرد اور عورت ہی ہے۔

اب یہ نہیں معلوم کہ  جو شعبہ اردو عورتوں  کے لیے ہے اس میں کون سی کتابیں  پڑھائی جاتی ہیں  اور جو شعبہ مردوں کے لیے ہے اس میں کون سی کتابیں پڑھائی جاتی ہوں گی، کافی دیر سوچنے کے بعد ہم اس  نتیجے پر پہنچے کہ عورتوں کے شعبہ اردو  میں بہشتی زیور او رحقوق الزوجین ضرور نصاب کا حصہ  ہوں گے ، مردوں کے لیے اردو ادب کے کورس میں موت کا منظر  اور حسن پرستوں کا انجام معہ ضمیمہ پڑھائی جاتی ہوں  گی۔

لیکن پریشانی کی بات یہ تھی کہ  کیا انگریزی ادب ،سائنس،معاشیات ،بین القوامی تعلقات، اور دیگر تمام مضامین کے شعبے بھی صنفی اور جنسی بنیادوں پر الگ الگ قائم کیے گئے ہیں ؟اور کیا  نصاب بھی الگ الگ ہیں ؟

 کچھ مشکلات  جو ہمارے ناپختہ ذہنوں  میں در آئیں  یہ تھیں کہ اکاؤنٹسی،کیمسٹری ،فزکس، اور اس قبیل کے دوسرے علوم کو مردوں اور عورتوں میں کس طرح تقسیم کیا گیا ہوگا؟مثلاً کون سے اجزاعلمِ فزکس کے یا اکاؤنٹنسی یا قتصادیات کے خواتین کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ؟

اکنامکس میں ،توازن تجارت" یا تامین  

protection

جیسے موضوعات  غالباً خواتین کو نہ پڑھائے جارہے ہوں  ا۔اس لیے کہ خواتین کو پروٹیکٹ کرنے کلے لیے کچھ یونیورسٹیوں میں باقاعدہ مسلح جتھے موجود ہوتے ہیں۔ یہ اور بات کہ اکنامکس میں تامین (پروٹیکشن) کا لڑائی جھگڑے  سے یا مرد عورت کی صنفی تقسیم سے کوئی تعلق نہیں ۔

کتاب فروش  کو اور مجھے اس سے بھی زیادہ پیچیدہ امر یہ درپیش  ہوا کہ سر سید  پر یونیورسٹی جو سیمینار کرا رہی تھی،اس میں  مردوں اور عورتوں  کی یہ تقسیم  ہوا میں تحلیل ہوکر رہ گئی تھی۔ مقالات پڑھنے والوں میں  مرد بھی تھے، اور عورتیں بھی۔،یہ تو  "اختلاطِ  مرد و زن " کا ارتکاب ہوا ،جس کا سدِ باب  کرنے لے لیے یونیورسٹی ایک عرصہ سے کام کرہی ہے،بلکہ  یہی کام کرہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دو سیمینار منعقد کیے جاتے ،ایک "مطالعہ،سرسید برانے خواتین"اور دوسرا  "مطالعہ ۔سرسید برائے مرد حضرات" ۔اگر اردو ادب  اس بنیاد پر دو  مختلف حصوں میں بٹ سکتا ہے تو سرسید کے مطالعے کی کیا جسارت  ہوسکتی ہے کہ بٹ جانے سے انکار کرے۔

دوسرا تکنیکی سوال یہ  پیدا ہوا کہ اگر سیمینار میں  عورتوں  اور مردوں کو اکٹھا کردیا گیا تو مقالہ پیش  کرنے والوں میں دونوں اصناف  نے شرکت کی اور گمان غالب ہے کہ سامعین میں سامعات بھی ہوں گی، اور اگر اس  دوران مملکت پاکستان پر کوئی  پہاڑ آن گرا نہ آسمان۔ اور سنان اور سننے والی خواتین ون پیس میں  شام کو اپنے اپنے گھروں میں پہنچ گئیں تو اردو شعبے  کو مردوں اور عورتوں کے لیے ایک کردینے میں ،سوائے چند  مذہبی دکانداروں کے،کسے نقصان ہوگا؟

مگر یہ تو کچھ بھی نہ تھا۔ اصل مشکل آگے پیش  آرہی تھی،کتاب فروش اور میں نے جب دعوت نامے کا بغور مطالعہ کیا تو خواتین کے بارے میں احساس کمتری کے علاوہ ایک اور  شدید نفسیاتی عارضہ بھی کارڈ سے قطرہ قطرہ نچڑ کر نیچے زمین میں جذب ہورہا تھا۔ وہ یہ تھا کہ  صاحب علم ہونے  کے لیے خاص طور پر سر سید احمد  کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے دو شرائط پر پورا اترنا  لازم نظر آیا۔

ایک یہ کہ مقرر پی ایچ ڈی یعنی ڈاکٹر ہو،دوسرے یہ کہ کسی نہ کسی یونیورسٹی میں پڑھاتا ہو۔ پچانوے فیصد مقررین کو اسی حوالے سے بلایا گیا تھا۔ کل ہی عطا الحق قاسمی صاحب نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ مشاعرہ ہال میں ایک سامع  دندناتا  ہوا داخل ہوا۔اسے منیر نیازی نظر آئے۔

ان سے پوچھا کیا آپ بھی شاعر ہیں ؟منیر نیازی نے کہا نہیں، میں قتیل شفائی ہوں  ۔

اب اگر اسی طرح کا کوئی حاطب اللیل کسی سیمینار میں گھس جائے اور کسی معززشخص سے جو معنک بھی ہو، کوٹ پتلون اور نکٹائی  میں بھی ملبوس ہو اور سیاہ جوتے جس کے پالش  سے چمک بھی رہے ہوں ، پوچھ  بیٹھے کہ کیا آپ بھی صاحب علم ہیں ؟ تو منیر نیازی کی طرح  جواب میں وہ یہ نہ کہہ دے کہ نہیں" میں تو "اردو میں پی ایچ ڈی ہوں "۔

ویسے ایک کھیپ پی ایچ ڈی کرنے والوں کی ایسی بھی نکلی جو فی الواقع  صاحبان علم پر مشتمل تھی ،داکٹر معین نظامی کو دیکھیے، ان کے شاگرد بھی کہاں  کہاں  پہنچ چکے ،ڈاکٹر  شعیب  احمد ہیں، ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر ہیں ، داکٹر ارشد ناشاد ہیں ،جو صیحٰح معنوں میں محقق کہلانے کے مستحق ہیں ۔ ڈاکٹر مرزا حامد بیگ ہیں ، ساری زندگی  پوری سنجیدگی سے کام کیا  اور تحقیق کا حق ادا کیا۔

ڈاکٹر عزیز  ابن الحسن ہیں ،جنہیں  پڑھ کر عسکری اور سلیم احمد یاد  آجاتے ہیں ، برخوردار  ارشد معراج ہیں  کہ تحقیق کے لیے طویل چھٹی لی۔ مالی مشکلات برداشت کیں ۔  مگر ڈاکٹریٹ  اس طرح کیا جیسے کرنا چاہیے  تھا۔ یہی صورتحال ڈاکٹر روش ندیم کی ہے۔ رہے ڈاکٹر شاہد صدیقی تو اردو ان کی تحقیق کا موضوع ہی نہ تھا۔، مگر جس  طرح اوپن یونیورسٹی کو آکر جگایا۔ منہ ہاتھ دھلا کر پوشاک بدلوا کر میدان میں اتارا  اور مردہ رگوں میں جان پیدا کی،انہی کا حصہ ہے ۔

اور بھی نام ہیں !  معتبر نام! مگر اوپر سے بالائی کی  یہ تہہ اتار دیں تو نیچے حالت پتلی ہے اور  بہت پتلی ہے۔ ہم جیسے عامی جو ڈاکٹریٹ نہیں رکھتے اور  کسی یونیورسٹی میں نہیں پڑھاتے ،سُو ء اتفاق  سے اسی ملک میں  رہتے ہیں ، اور ان لاتعداد طلبہ اور طالبات سے ملتے رہتے ہیں ،جو یونیورسٹیوں  ،میں  زیر تعلیم ہیں، پڑھانے والے بھی ہمارے حلقہ احباب میں ہیں ، اس سے کون کافر انکار کرے گا۔ کہ یونیورسٹی میں کرنٹ اور انڈر کرنٹ عجیب و غریب چلتے ہیں ، یعنی پانی کی سطح کے نیچے چلنے والی بحری رویں  -استاد کی نگاہِ حسن شناس  اگر کسی طالبہء علم پر ٹھہر گئی ہے اور اس طالبہ کو اکثر و بیشتر  اپنے کسی  کلاس فیلو لڑکے کے ساتھ دیکھا گیا ہے، تو پھر  اس لڑکے کی خیر نہیں ، اس کی ڈویژن ،اس کا تھیسس اور اس کا بہت کچھ خطرے کی زد میں آجائے گا اور ایسا "انتقام" عام  ہے۔

پی ایچ ڈی کرانا اب ان  یونیورسٹیوں میں ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔  اس انڈسٹری  کے لیے سرمایہ مطوب ہے۔ تعلقات درکارہیں ،کوئی ضامن یا گارنٹر ہو۔ پھر دیکھئے ڈگری ہاتھ آتی ہے یا نہیں۔

ہمارے ایک جاننے والے صاحب نے حال ہی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہے۔ کہتے ہیں ، سپر وائزر یعنی نگران پروفیسر  صاحب کو مقالے کا مسودہ بھیجا تو ایک عرصہ تک جواب ندارد آخر تنگ آکر فون  کیا تو فرمانے لگے ،بھائی! میں نے کیا دیکھنا اور بتانا ہے،بس آپ اپنے شعبے کے ماہر ہیں ،سب ٹھیک ہے۔

لیکن اس یونیورسٹی کے سیمینار میں جو سرسید خان پر تھا۔ خود سر سید پر کیا بیتی ؟یہ ایک الگ داستان ہے، طویل اور الم ناک !اور افسوس بے تصویر بھی۔

اگر  آپ کے اعصاب فولادی ہیں ،اگر آپ کا دل مضبوط ہے اگر آپ کی ساعد، محض ساعد سیمیں نہیں ،اور اگر آپ اس چند روزہ زندگی سے عاجز نہیں آچکے تو حواس  مجتمع رکھیے اور دل مضبوط  اس حادثہ ء فاجعہ کی کچھ تفصیل  اگلی نشست  میں بیان کرنے کی اپنی سی کوشش کی جائے گی، ابھی، اس وقت تو میں  اور کتاب فروش دونوں سر سید احمد خان کی تربت کی طرف دوڑے  جارہے ہیں ،کیوں کہ یونیورسٹی سیمینار ختم ہوتے ہی  وہا ں سے کچھ لوگ ایک پیر صاحب کی قیادت میں کدالیں اور پھاوڑے لے کر سر سید  کی قبر کی طرف جاتے دیکھے گئے ہیں۔خدا خیر کرے!          

       


Monday, November 06, 2017

وہ ماہِ کراچی مہِ کنعاں کی طرح تھا

​​





Muhammad Izhar ul Haq

http://www.izharulhaq.net










ایک بہشت نظیر شہر تھا جسے ہم نے اجاڑدیا،اپنے تعصبات کے ذریعے،اپنی باہمی لڑائیوں سے اور افسوس یہ ہے کہ اس اجڑنے کا افسوس بھی نہیں،
کچھ عرصہ بعد اب کے کراچی جانا ہوا تو ہوائی اڈے سے لے کر پسندیدہ سروسز میس تک، چالیس پچاس منٹ کے سفر میں کیا کچھ یاد نہ آیا،ستر کے عشرے کا آغاز تھا،جب وہاں تعیناتی ہوئی، تاج ہوٹل تھا،
Excelsior 
ہوٹل تھا۔ زندگی اپنی ساری دلچسپیوں اور خؤبصورتیوں کے ساتھ کراچی کے ہر کوچہ و بازار میں جلوہ فگن تھی۔ایمپریس مارکیٹ کے سامنے گلیوں میں ،بوہری بازار کے پیچھے پارسی او مسیحی برادریوں کی اکثریت تھی، عورتیں سائیکلیں چلاتی تھیں ، ان برادریوں کی تقریباً ساری خواتین ملازمت پیشہ تھیں ، چڑیا گھر ،گاندھی گارڈن کے سامنے سرکاری ہوسٹل میں قیام تھا۔ وہاں سے پیدل صدر تک جانا معمول کی سیر تھی۔،سکیورٹی کوئی ایشو نہ تھا، رات کے ایک بجے بہت آرام سے جیکب آباد لائنز بندو خان کی دکان میں جاکر کباب اور پراٹھے کھاتے تھے۔ ناظم آباد میں آغا کا جوس پیتے تھے۔ (اب آغا جوس کے نام سے ایک سیٹ اپ میلبورن آسٹریلیا میں بھی کام کررہا ہے) اریگل کی ایک دکان میں ٹھنڈے دودھ کی بوتلیں ہوا کرتی تھیں ، جو اکثر و بیشتر چڑھانا ہم دوستوں کا معمول تھا۔ ایمپریس مارکیٹ سے ریگل کی طرف آتے ہوئے بائیں طرف فرزند قلفی والا پڑتا تھا، برنس روڈ پر جاکر دھاگے والے کباب ،بھنا ہوا قیمہ اور تل والے نان کھائے بغیر چین نہ آتا تھا۔ شباب تھا ،جسم میں سکت تھی، گاؤں کی زندگی کے اثرات صحت پر ابھی بھی موجود تھے۔ معدے مضبوط تھے، سب کچھ کھا جاتے تھے،اور ڈکار تک نہ لیتے تھے۔
اس وقت دبئی اور بنکاک کو کوئی نہیں جانتا تھا، دنیا بھر کی ائیر لائنوں کے جہاز کراچی اترتے تھے مشرق بعید سے آئے ہوئے جہا ز،کراچی رک کر مغرب کی طرف جاتے تھے۔ اور یورپ کی طرف سے آئے ہوئے جہاز کراچی سے ہی مشرق بعید کی سواریاں ؛لیتے تھے۔ کراچی کیا تھا؟ امن و امان کا گہوارہ ،محبت کا صدر مقام، ایک ایسا شہر تھا جہاں رہنے کو بسنے کو دل کرتا تھا۔
یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جنرل ضیا الحق کی پالیسیوں کا کراچی کے زوال میں کتنا حصہ ہے، مگر ایک بات یقینی ہے کہ موصوف ہی کے عہد میں اس شہر کے تیور بدلنا شروع ہوئے تھے،اس کے بعدپھر زوال ہمہ گیر تھا اور مسلسل بھی،بدامنی نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا، پھر وہ وقت بھی آیا کہ گلیوں میں رکاوٹیں تن گئیں، گیٹ بن گئے ،ہر کوچہ ایک قلعہ تھا۔
الطاف بھائی نے اہلِ کراچی کو لکھنے پڑھنے سے روک دیا۔ کہا کہ ٹیلی ویژن بیچو اور اسلحہ خریدو،نوجوانوں کے ہاتھوں میں ریوالور دے دیے گئے۔ تعلیمی ،معاشی اور تہذیبی اعتبار سے الطاف بھائی کراچی کو سالہا سال پیچھے لے گئے۔
اب کراچی شہر نہیں ،لسانی ،نسلی اور مسلکی گروہوں کا ٹھکانہ ہے۔ شہر وہ ہوتا ہے جس کے مکینوں میں ہم آہنگی ہو، جس کا نظم و نسق سب مل کرچلائیں ، جس سے جذباتی وابستگی ہو،اب اگر یہاں رہ کر، یہاں پیدا ہو کر، یہاں پل بڑھ کر بھی آپ نے امروہہ سے باہر نکلنا ہے نہ مردان سے،تو شہر میں کیسے ہم آہنگی پیدا ہوسکتی ہے۔
سنگاپور یاد آرہا ہے، پچھلے دنوں ہمارے ایک دوست نے کالم میں لکھا اور بجا لکھا کہ سنگا پور کا موازنہ پاکستان سے کیسے کرسکتے ہیں ، ایک سٹی سٹیٹ کا مقابلہ کئی گنا بڑے ملک سے نہیں ہوسکتا، مگر ہم ایک شہر کو تو سنگا پور کے خطوط پر چلاسکتے ہیں ،سنگاپور میں کئی نسلی اورلسانی گروہ ہیں ،چینی ،جن کی اکثریت ہے۔ملے،جو ملائشیا کے قدیم اصل باشندے ہیں ،اور مسلمان ہیں اور تامل،انڈین، سنگاپور نےیہ کیا کہ شہر کے کسی ایک کونےمیں بھی کسی ایک گروہ کی اکثریت نہیں بسنے دی۔ ایک اپارٹمنٹ میں چینی خاندان رہ رہا ہے ،دوسرے میں ملے ہیں ۔ ان سے آگے انڈین فیملی ہے۔،
کاش ہم بھی اتنا وژن رکھتے۔،کراچی کے سب علاقوں میں سب لوگ مل کررہتے۔ اب حالات یہ ہیں کہ فلاں علاقہ پٹھانوں کا ہے فلاں بلوچوں کا،فلاں پنجابیوں کاہے -یہ تو پیوند ہیں جو اس شہر کو لگے ہوئے ہیں ، یہی حماقت ڈھاکہ میں ہوئی تھی۔ ہجرت کرکے جو آئے تھے، انہو ں نے محمد پور اور میر پور کے نام سے الگ آبادیاں بنا لی تھیں ، کوئی اور رہنا چاہتا تو اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی۔ پھر جب فساد شروع ہوئے تو فسادیوں کا کام آسان تھا۔ حملے ہوئے،لوٹ مار ہوئی، آبادیاں جلا دی گئیں ،
اس کا بہر طور یہ مطلب نہیں کہ اگر مختلف گروہوں کی مختلف حصوں میں اکثریت نہ ہو تو سب اچھا ہوگا، نہیں ایسا نہیں ۔۔یہ تو صرف ایک صفت ہے۔، جو ایک کثیر النسل شہر میں لازمی ہونی چاہیے، سب سے مقدم یہ کہ جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس سیاسی مداخلت سے پاک ہو،اگر پولیس ایک فورس کی بجائے مختلف گروہوں کی داشتہ بن کر رہے گی تو امن خاک ہوگا؟
کراچی پولیس سیاسی مداخلت کی لعنت سے بچی ہوتی تو رینجرز کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔، کسی نے کوشش کی بھی تو حشر وہی ہوا جو اےڈی خواجہ کا ہوا۔کراچی پولیس کی حالت اس شہر کی ہی ہے جس کا ذکر مولانا رومی نے مثنوی میں کیا ۔ ایک آدمی کندھے پر شیر کی تصویر گودوانے گیا۔ گودنے والے نے کام شروع کیا تو سوئیاں چبھیں ، درد ہوا ۔پوچھا کیا بنا رہے ہو،جواب دیا دم ۔کہنے لگا یار درد بہت ہورہا ہے، یوں کرو دم نہ بناؤ، آخر شیر کی دم ضروری بھی تو نہیں ، اب پھر کام شروع ہوا، سوئیاں چبھیں ، پھر درد ہوا، پوچھا کیا بنا رہے ہو، اس نے کہا کان ۔کہنے لگا کان رہنے دو، قصہ مختصر ہی رکھو، گودنے والے نے کان بنانا بھی چھوڑدیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر سوئیاں چبھیں ۔اب کے پیٹ بن رہا تھا۔ کہنے لگا پیٹ رہنے دو، اب گودنے والے کو غصہ آگیا۔ اس نے سوئی زمین پر پھینک دی اور کہا کہ ایسا شیر جس کا کان ہو نہ پیٹ نہ دم ،ایسا شیر تو خود خدا نے نہیں بنایا۔ کراچی پولیس کا حال یہی ہے،یہ مجرم چھوڑ دو کیوں کہ لیاری سے ہے، وہ بھی چھوڑ دو ،اردو بولتا ہے، فلاں بندہ پنجابی ہے،،فلاں سے چشم پوشی کرنا ،پٹھان ہے اور اپنا بندہ ہے ،فلاں پنجابی ہے،فلاں سندھی ہے۔انہیں کچھ نہیں کہنا، یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ دن رات کی سیاسی مداخلت ،دباؤ اور سفارش سے تنگ آکر پولیس بھی اپنی سوئی پٹخ کر زمین پر دے مارتی ہوگی۔
ستر کی دہائی کا کراچی اس لیے قابل رشک تھا کہ بہت سی آبادیاں جو بعد میں ابھریں ، تب نہیں تھیں ، شہرمیں پانی،بجلی، اور گیس کے وسائل آبادی کے لیے کافی تھے۔ ہم ہر کتاب میں لکھتے ہیں اور پڑھتے ہیں کہ مسولینی کو اقبال نے حدیث نبویﷺ کی تعلیم دیتے ہوئے کہا تھا کہ شہر ایک مخصوص حد سے زیادہ نہیں بڑھنا چاہیے، پھر اس کے بعد نئےشہر بسا لینے چاہییں ، مگر ہم خؤد اس پر عمل نہیں کرتے، کراچی کی آبادی اور تعمیراتی پھیلاؤ روکنے کے لیے نئے شہر بسانے چاہییں تھے۔، موجودہ کراچی میں سے جو شہر کم اور عفریت زیادہ ہے،کم از کم چار پانچ شہر بن سکتے تھے۔
کراچی اب اپنے رہنے والوں کے لیے اذیت کا ساماں ہے،بے پناہ ٹریفک اور ،ہر طرف گندگی کے ڈھیر، دکان نما ورکشاپیں ، پورے شہر میں پھیلی ہیں ، ہر طرف لوہا جس سے تیل نچڑ رہا ہے، میٹرو پول ہوٹل اور فریر ہال کا علاقہ سیر کے لیے مثالی ہواکرتا تھا۔ وہاں سے زینب مارکیٹ جاتے ہوئے اس قیامت سے گرز نہ ہوتا تھا۔ جس سے اب گذرنا پڑتا ہے الحفیظ الامان ۔زیب النسا سٹریٹ کراچی کا پر رونق اور باعزت حصہ تھا، اس میں ریستوران تھے،ااور کافی شاپس ،کتابوں کی دکانیں ، تھیں ،ہم شہروں ،عمارتوں، اور شاہراہوں کے نام تبدیل کردیتے ہیں اور پھر انہیں اس قدر خراب کردیتے ہیں کہ اصل نام کے ساتھ ہر اصل چیز چلی جاتی ہے۔ زیب النسا کا الفنٹسن سٹریٹ سے کیا تعلق تھا؟وہی جو شاہ فیصل کا لائل پور سے تھا۔ وہ جو کہا گیا ہے کہ
ہر بنائی کہنہ کاباد آن کنند
اول آن بنیاد را ویران کنند
پرانی یادگاروں کو اس وقت منہدم کرتے ہیں جب ان کی جگہ نئی یادگاریں اسی معیار اور اسی شان و شوکت کی بنانے کا ارادہ ہو، اور سکت بھی۔سجاد باقر رضوی یاد آرہے ہیں
جس کے لیے ایک عمر کنویں جھانکتے گزری
وہ ماہِ کراچی مہ کنعاں کی طرح تھا
کراچی کا چاند کنعان کے کنویں میں ڈوب چلا ہے، اسے پھر سے ابھارنا ہے،روشن کرنا ہے، کراچی کی روشنی پورے ملک کی روشنی ہے۔ کراچئی میں اندھیرا ہو تو پورے ملک میں ظلمت کا دود دورہ ہوگا۔


Friday, November 03, 2017

شوق کی تکمیل


ہاں تو داستان یہا ں تک پہنچی تھی کہ دہلی برباد ہوگئی،دہلی اجڑ گئی، کوچے ویران ہوگئے،گلیاں سنسان ہوگئیں ، مکان خرابے بن گئے، مسجدوں میں اذان دینے والا کوئی نہ رہا، مندروں کی گھنٹیاں خاموش ہوگئیں، قافلوں کے قافلے چالیس دن کی مسافت پر دولت آباد روانہ ہوگئے،کچھ راستے میں لقمئہ اجل بن گئے، کچھ نئے شہر پہنچ کر تبدیلی برداشت نہ کرسکے۔
آٹھ سال گزرے تھےکہ حکم ہوا واپس دلی چلو، کم ہی تھے جو پہنچ سکے دہلی اس طرح آباد نہ ہو سکا جیسا پہلے کبھی تھا۔
مگر محمد تغلق کے خونخوار اورخونریز تجربے کم نہ ہوئے۔ جلد اس نے ایک اور فیصلہ کیا کہ ساہیوال میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا سیٹ اپ لگایا جائے دوسری طرف دنیا کوئلے سے پیچھے ہٹ رہی تھی۔چین نے ایک سو تین ایسے منصوبوں پر خطِ تنسیخ پھیر دیا تھا۔ جن میں کوئلہ استعمال ہورہا تھا۔بھارت بھی کوئلہ سے بجلی بنانے کے منصوبے ترک کررہا تھا، اس کی ساری توجہ شمسی توانائی پر تھی۔ 
شہنشاہ کو بتایا گیا کہ آدھا پنجاب ٹی بی اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو جائے گا، مگر اس نے کسی اعتراض پر کان نہ دھرے ،درخت لاہور شہر میں پہلے ہی کاٹ دئیے گئے تھے، کچھ پلوں ،انڈر پاسوں اور شاہراہوں کی توسیع کی نذر ہوگئے۔ جو بچ گئے وہ اورنج ٹرین کو خوش آمدید کہنے کے لیے کلہاڑوں کی نذر ہوگئے، شہر پھر اسموگ میں چھپ گیا۔ خلقِ خدا کی آنکھیں جلنے لگیں ، سانس لینا دوبھر ہوگیا، پھیپھڑوں میں ورم آنے لگے۔ سینکڑوں افراد مریض بن گئے۔ ہسپتالوں میں جاپہنچے۔
پہلے ہی ایک ایک بستر پر دو دو مریض تھے۔ اب مریض برآمدوں میں فرش پر پڑ گئے۔ مرغیوں پر برڈ فلو نے حملہ کیا۔ ہزارووں مر گئیں ، ریستورانوں میں پہلے ہی مردہ جانوروں کا گوشت استعمال ہورہا تھا ،اب جو مرغیاں ہزاروں کی تعداد میں مریں تو ہوٹلوں کی ،کیا فائیو سٹار اور عام منجی بسترہ ہوٹل سب کی چاندی ہوگئی۔
درخت کٹنے سے بارش پہلے ہی بے حد کم ہوچکی تھی، آکسیجن مہیا کرنے والے ٹہنیوں کے پتے محمد تغلق کے لوہے کی نذر ہوگئے۔ یوں شہنشاہ کے نزدیک حکومت صرف سڑکیں بنانے کا نام تھا۔ طویل دور حکومت میں اس نے ٹریفک پر کوئی توجہ نہ دی ،خود باہر نکلتا ،یا حرم سرا سے کسی ملکہ نے سفر کرنا ہوتا تو عام ٹریفک بندی کردی جاتی سڑکیں پہلے ویران کی جاتیں ، پھر بادشاہ کو وہاں سے گزارا جاتا،اسے کوئی ادراک ہی نہ تھا، کہ جو گاڑیاں سڑک پر لانے کے قابل نہیں وہ لاکھوں کی تعداد میں چل رہی ہیں ، اس لیے کہ اسے تو شاہراہیں خالی ملتیں ، عام ٹریفک کی حالت دگر گوں تھی۔ رکشے ٹرک ،بسیں ، ویگنیں ، دھوئیں کے مہیب گہرے بادل فضا میں بکھیرتی گزرتیں ۔گاڑیوں کی فٹنس چیک کرنے کا کوئی نظارہ ہی نہ تھا۔ پھر لوگ ٹائر جلاتے تھے، اس سے بھی آلودگی بڑھی۔
محمد تغلق نے اس اسموگ زدہ شہر کی مسموم فضا سے بچنے کے لیے اپنے محلات پہلے ہی شہر سے کوسوں دور رائے ونڈ کے قریب تعمیر کرلیے، یہاں ماحول کا خؤب خیال رکھا گیا، شاہی خاندان کے اپنے کھیت تھےاور باغات بھی۔ درخت بھی تھے اور سبزہ و گل بھی۔
پھر دقتاً فوقتاً بادشاہ صاف ستھری فضا سے استفادہ کرنے اکثر و بیشتر برطانیہ چلاجاتا تھا ۔شاہی خاندان کے ہر فرد کا علاج انگلستان میں ہوتا تھا۔ کسی مقامی ہسپتال میں انہیں کبھی کسی نے نہیں دیکھا ۔ چشمِ فلک نے یہ مذاق بھی دیکھا کہ بادشاہ علاج کروانےلندن گیا، اور وہاں بیٹھ کر پنجاب کی صحت کی سہولیات کے بارے میں ویڈیو تقریریں کیں ،کسی کو پوچھنے کی ہمت یا توفیق نہ ہوئی کہ جہاں پناہ! اگر پنجاب کو صحت کے حوالے سے آپ نے اتنا ہی جنت نظیر بنا دیا ہے تو خود بار بار علاج کے لیے لندن کیوں آتے ہیں ؟
دہلی کے عوام کی طرح شہنشاہ کو لاہور کے عوام پر بھی غصہ تھا ،سردار ایاز صادق کے مخالف کو اہل لاہور نے 74 ہزار ووٹ دئیے تھے۔ سردار صاحب دو اڑھائی ہزار کے فرق سے جیت سکے۔ شاہی خاندان اہل لاہور کو سبق سکھانا چاہتا تھا۔ بڑی ملکہ کو بھی کم ووٹ پڑے تھے، چنانچہ طے ہوا کہ پرپل اور بلیو لائن میٹرو ٹرینوں کا اجرا کیا جائے، بلیو لائن کی لاگت کا تخمینہ ایک کھرب 25 ارب روپے لگایا گیا،پرپل لائن ٹرین کی متوقع لاگت ایک کھرب پچاس ارب روپے تھے
سارے شہر سے پودے ،درخت، جھاڑیاں ہر سبز شے ختم کردی گئی، شہر کو اوپر سے نیچے تک لوہے میں غرق کردیا گیا۔ راستے میں آئے ہوئے مکان منہدم کردئیے گئے۫، قبریں ہموار ہوگئیں
،سکول کالج ہسپتال جو رکاوٹ راستے میں پڑی،ہٹا دی گئی، بازار کدالوں کی نذر ہوگئے، کرینوں نے دکانوں کی دکانیں اٹھائیں اور پٹخ دیں ، زمین کے سینے پر لوہے کی پٹریاں بچھ گئیں ۔
دوسری طرف لوگ بیمار ہوتے گئے، سانس ناک کان گلے کی بیماریوں نے کسی کو تندرست نہ چھوڑا ۔، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز نرسیں کمپاؤنڈ ر خؤد بیمار پڑ گئے۔ سرخت سبزہ روئیدگی نہ ہونے سے شہر رہنے کے قابل نہ رہا، ماحولیات کے ماہرین نے وارننگ جاری کی کہ شہر خالی کردیا جائے اب لوگوں نے اپنے مریضؤں کی چارپائیاں اپنے کاندھوں پر رکھیں سامان چھکڑوں ریڑھوں ۔سوزوکیوں ،ویگنوں ،ٹرکوں ،پر لادا ،کوئی اپنے آبائی گاؤں کو جارہا تھا، کوئی کسی قبصے میں اپنے رشتہ داروں کے پاس، جن کاکوئی نہ تھا۔انہوں نے دوسرے شہروں قصبوں بستیوں اور قریوں میں جاکر خیمے تان لیے ،صوبہ مہاجرستان بن گیا۔
جس دن پرپل اور بلیو لائن ٹرینوں کے منصوبے مکمل ہوئے ۔اس دن شہر میں ہُو کا عالم تھا۔ ہر طرف چمگادڑوں ،ابابیلوں ،الوؤں ،کوؤں اور چیلوں کا ڈیرہ تھا۔ گلیوں میں آوارہ کتے تھے،یا بھاگتے ہوئے خؤفزدہ چوہے۔
شہنشاہ حسبِ معمول اس دن بھی لندن میں تھا۔ منصوبے کی تکمیل سے دو دن پہلے جہاں پناہ کو دو تین چھینکیں مسلسل آئیں اسی وقت چیک اپ کے لیے لندن چلے گئے،
فیصلہ کیا کہ افتتاح وہیں سے کریں گے، چنانچہ یہ “ویڈیو افتتاح “ تھا - ٹرین کے انجن کے پاس صرف چند انجینئر تھے جنہوں نے ناک پر ماسک باندھے ہوئے تھے،آنکھوں پر بھاری موٹی عینکیں ، کانوں میں روئی کے گولے دھنسے تھے، ویڈیو پر شہنشاہ نے پوچھا عوام کہاں ہیں ؟
بتایا گیا کہ شہر خالی ہے،بہت سے بیماریوں کی نذر ہوگئے۔، جو بچے وہ ہجرت کرگئے۔ شہنشاہ نے قہقہہ لگایا ،اسے دلی یاد آئی۔
دلی کے لوگوں سے انتقام لینے کے لیے اس نے بزور شمشیر خالی کرایا تھا، مگر اب کے گزشتہ تجربوں کی روشنی میں ایسا کچھ نہ کرنا پڑا۔ شہر کو جو باغوں کا شہر تھا، درختوں سے محروم کرکے لوہے اور سیمنٹ کا جنگل بنا دیا گیا۔تو عوام خؤد ہی شہر چھوڑ گئے۔
یہ لندن کی روشن، پر رونق دوپہر تھی۔ گرمیوں کا مزا شاہی خاندان کو ہمیشہ یہیں آتاتھا مگر اب کے مزا دوبالا ہو گیا تھا۔ شاہی خاندان کے افراد نے مل کر نعرہ لگایا، “ہم نہیں تو کوئی بھی نہیں ۔
مگر اذیت رسانی کی رگ پوری طرح کہاں مطمئن ہوئی تھی۔ شہنشاہ واپس آیا شہر پر ایک طائرانہ نظر ڈالی ،پورا شہر خالی تھا۔، اچانک ااس کی آنکھوں میں چمک آئی۔ تکمیل شوق کا ساماں کیا ہی انوکھا اور زبردست تھا او رسامنے قدموں میں پڑا تھا/
شہنشاہ نے حکم دیا کہ باقی ماندہ مکانات بھی گرا دئیے جائیں ، بازار ڈھا دئیے جائیں ، سکول ہسپتال مسمار اور ان کی زمینیں ہموار کردی جائیں ۔ پورے شہر پر ہل چلا دیاجائے، اس کے بعد ہرطرف سڑکوں انڈر پاسوں اور پلوں کا جال بچھا دیاجائے۔
یہ تاریخ کا پہلا شہر تھا، جس میں ذی نفس کوئی نہ تھا۔ پورا شہر صرف شاہراہوں پر مشتمل تھا۔

Wednesday, November 01, 2017

وہی لندن وہی انڈیا آفس!


دوسری صدی عیسوی میں یہ رومنوں کا صدر مقام تھا ،آبادی اس وقت ساٹھ ہزار تھی،صرف ساٹھ ہزار!
یہ لندن کے عہدِ اقتدار کا آغاز تھا،اس کے بعد دنیا نے دیکھا کہ لندن ہمیشہ حکومتوں کا مرکز رہا۔، پھر وہ وقت بھی آیا کہ ملکہ برطانیہ کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا ۔ نیوزی لینڈ میں غروب ہوتا تھا تو کینیڈا میں طلوع ہورہاہوتا تھا، انتہائے جنوب میں ساؤتھ افریقہ سے لے کر ملائشیا تک اور مصر و سوڈان تک لندن ہی کا اختیار اور اقتدار تھا۔
1857 میں ہندوستانی لڑے مگر آزادی حاصل کرنے میں ناکام رہے، ایسٹ انڈیا کمپنی نے زمام اقتدار ملکہ کو پیش کردی۔ "انڈیا آفس" وجود میں آیا تو اس کا کام ہندوستان کی انگریز حکومت کو کنڑول کرنا تھا۔ "انڈیا آفس " کا انچارج "وزیر ہند" تھا۔ وقتاً فوقتاً لندن کا "انڈیا آفس" دنیا کے دوسرے علاقوں کا بھی انچارج رہا۔
انیسویں صدی میں زنجبار،صومالیہ اور ایتھوپیا اس کے ماتحت تھے۔ عراق، ایران، خلیج، کی ریاستوں اور بحیرہ احمر پر بھی فرمانروائی کی۔نائجیریا اور سنگا پور پر لندن کی عملداری رہی۔یہ امریکہ جو آج کرہ ارض کا بادشاہ ہے،یہ بھی ایک زمانے میں لندن کا ہی غلام تھا۔
1919 اور 1935 کے ایکٹ آئے تو وائسرائے ہند کو کچھ اختیارات ملے، اب بھی وہ انڈیا آفس اور وزیر ہند کا محتاج تھا ،مگر کم !، سچ یہ ہے کہ وائسرائے لند ن کا اتنا دست ِ نگر نہ تھا جتنے پاکستان کے آج کے وزیر شاہد خاقان عباسی لندن کے محتاج ہیں ،
ذرا بھی اختیار ہوتا تو کم از کم ایسے وزیر خزانہ کو ضرور فارغ کردیتے جس کا بال بال کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات میں جکڑا ہوا ہے۔ اگر وزیر اعظم صحیح معنوں میں وزیر اعظم ہوتے تو معزول وزیراعظم کی بیٹی کو یہ ضرور کہتے کہ بی بی ! ہماری پارٹی کی حکومت ہے تو تم کس کے خلاف رات دن بیانات دے رہی ہواور کس کو للکارتی پھرتی ہو
لندن کی خؤش بختی دیکھیے کہ سترسال پہلے جس لندن سے قائداعظم نے رہائی دلوائی تھی، آج ایک شخص جو اپنے آپ کو قائداعظم ثانی سمجھتا اور کہلاتا ہےپھر پاکستان کو لندن کا غلام بنا رہا ہے۔، قائداعظم لندن میں رہے کوئی جائیداد نہ بنائی۔
واپس آگئے قائداعظم ثانی نے لندن میں جائیداد بنائی ،بیٹوں کو "مقیم" کیا وہاں کاروبار کیا،کرایا اور اب لندن بیٹھ کر پاکستانی حکومت کی باگیں کھینچ رہے ہیں ، !کبھی وزیراعظم کو طلب کرتے ہیں ،کبھی وفاقی وزراء کو !سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ ،جو بھائی بھی ہے۔ وہیں جاکر کورنش بجا لاتاہے۔
معزول نہ کردیے جاتے تو اب تک روغن قاز ملنے والوں کا گروہ دختر نیک اختر " کو مادرِ ملت ثانی"کا خطاب دے بیٹھا ہوتا،کوشش اب بھی جاری ہے۔
امریکہ کے پڑھے ہوئے اور ایک عسکری خاندان سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم لندن کی ماتحتی کیوں کر رہے ہیں ؟ ذہن میں وسوسے اٹھتے ہیں ۔پی آئی اے اپنے روٹ وزیراعظم کی ذاتی ائیرلائن کے سپرد کرتی جارہی ہے۔ تو پھر کیا حرج ہے،اگر لندن کی ماتحتی کی جاتی رہے؟ اپنا بزنس تو پھل پھول رہا ہے نا!
ابو بکر صدیق نے حکمرانی کا چارج سنبھالا ۔دوسرے دن حسبِ معمول کپڑے کا گٹھا اٹھایا اور تجارت کرنے لگے، عمر فاروق رض نے پوچھا "امیر المومنین !کہاں جارہے ہیں ،
جواب دیا تجارت کرنے،جو کرتا تھا، عمر فاروق رض نے اتنا ہی کہا کہ "حاکمِ وقت کپڑا فروخت کررہا ہوگا تو کوئی کسی اور سے کیوں خریدے گا"۔۔
صدیق اکبر رض نے گٹھر رکھ دیا، تب سے یہ اصول دنیا میں رائج اور راسخ ہےکہ حکمراں ،ریاست یا حکومت یا عوام کے مقابلے میں کاروبار نہیں کرے گا، ساری مہذب دنیا میں اس اصول پر عمل ہورہا ہے، سوائے اس مملکت خدادادمیں جو بہت سوں کے بقول اسلام کے نا م پر وجود میں آئی تھی۔
یہاں اس اسلامی اصول کے پرخچے اڑا کر رکھ دیے گئے۔، ایک کمرے میں وزیراعظم میزبان ملک کے سرمایہ کاروں کی منت کررہی ہوتی تھی کہ پاکستان آکر انوسٹمنٹ کرو، دوسرے کمرے میں شوہر پوچھ رہاہوتا تھا کہ وہ سرمایہ کاری میزبان ملک میں کرنا
چاہتا ہے۔یہ بھی اسی اسلامی جمہوریہ میں ہوا کہ ریاستی سٹیل مل ایڑیاں رگڑتی رہی اور حکمرانوں کا لوہے کا کاروبار زمین سے آسمان تک جاپہنچا ۔اور اب قومی ائیرلائن جاں بلب ہے۔سانس اکھڑ چکی ہے۔تیرہ ارب روپے کی آکسیجن دی جارہی ہے۔ تاکہ مردہ آنکھیں کھولے۔
دوسری طرف حکمران اعلیٰ کی ائیرلائن دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ جہا ں جہاں قومی ائیر لائن کی پروازیں موت سے ہم کنار ہورہی ہیں ، وہیں اپنی ائیرلائن کو نئی پروازیں مل رہی ہیں ۔
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو ایٹمی طاقت ہونے کا دعویدار ہے، مگر احتیاج اس قدر ہے کہ ہندو دیوتاؤں کی طرح دو نہیں ، درجنوں بازو اور ہاتھ ہیں اور ہر ہاتھ، ہاتھ نہیں ، دستِ سوال ہے۔ ایک ہاتھ سعودی عرب کے سامنے پھیلا ہوا ہے۔ تو دوسرا قطر کے سامنے، تیسرا یواے ای کے سامنے جو وفاقی وزیروں کو اور وزراء کو ملازمتیں مہیا کر رہا ہے۔ چوتھا ہاتھ امریکہ کےسامنے پھیلا ہے، پانچواں ہاتھ چین کے سامنے پھیلا ہے۔ چھٹا ترکی سے مانگنے میں مصروف ہے،سندھ حکومت دبئی سے چلائی جاتی ہے۔
وفاقی حکومت کا بازو لندن سے مروڑا جاتا ہے، آئی ایم ایف والوں نے کشکول میں کچھ ڈالنا ہوتو پاکستان آکر اجلاس تک نہیں منعقد کرتے۔ کسی دوسرے ملک میں منعقد کرتے ہیں ، اور گداگر کشاں کشاں جاتے ہیں ۔
وزیر خزانہ کھرب پتی ہے،معزول وزیراعظم کی دولت کا ذکرکرنے کے لیے"کھرب" کا لفظ ناکافی ہی نہیں مذاق ہے۔سابق صدر کی دولت کا اندازہ لگانے والا کمپیوٹر ابھی تک شاید ایجاد ہی نہیں ہوسکا۔
وزیراعظم اسمبلی میں کھڑے ہو کر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بزنس کرتے ہیں اور دھڑلے سے کرتے ہیں ،
وفاقی وزیر اقامے جیبوں میں لیے، دوسرے ملکوں میں ملازمتیں کررہے ہیں ، اگر کسی اور ملک میں یہ سب کچھ ہوتا ہو تو کوئی اس کانام بتائے،کہیں نہیں ہوتا،حمیت نام ہے جس کا وہ صرف تیمور کے گھر سے گئی ہے۔
ہمیں آقا بنانے اور غلام بننے کا اتنا شوق ہے کہ پہلے بادشاہوں کو تلور کا (غیر قانونی) شکار کراتے ہیں ،اب چینی بغیر کاغذات کے گاڑیاں ، چلاتے پھر رہے ہیں ۔پہلے امریکی ویزوں کے بغیر آکر دندناتے رہے۔ اب غلامی کی بھوک چینیوں کی دریوزہ گری اور چاکری کرکے مٹا رہے ہیں ۔
کچھ لکھاریوں کے لیے ممدوح کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔، تاکہ مداح کرنے کی رگ کو غذا ملتی رہے۔ بالکل اسی طرح ہم پاکستانی غلامی میں اتنے پختہ ہیں کہ ایک نہیں ،بیک
وقت کئی آقا درکار ہوتے ہیں ،ہم نے تو 
polyandry
کی مردہ رسم زندہ کرکے رکھ دی،یعنی ایک عورت اور کئی شوہر، یہ قبیح رسم پہلے صرف نیپال میں تھی ،اور اکا دکا بھارتی اور افریقی قبیلوں میں ۔مگر اب ہمارے دارالحکومت کے پتی اوقیانوس کے اس 
پار سے لے کر خلیج اور بحیرہء جاپان اور بحرِ مشرقی چین تک پھیلے ہوئے ہیں ۔
ہماری مثا ل تو اس ڈیرہ داران کی ہے جو چند عشرے قبل ایک مغرور مغلانی تھی مگر اب اس کی شان و شوکت ہوا ہوگئی، زمینیں بک گئیں تخت و تاج چھن گیا اب پپیٹ بھرنے کے لیے وہی کچھ کرتی ہے جو کرنا پڑتا ہے۔ جس ملک میں ہر بچہ اپنی ناف کٹوانے اور ماں کا دودھ پہلی مرتبہ پینے سے بھی پہلے ڈیڑھ دو لاکھ کا مقروض ہوچکا ہوتا ہے، وہ ملک غلام نہیں ہوگا تو کیا مالک ہوگا ۔ ہمارے تو جسم تک گروی رکھ دیے گئے ہیں ، انترڑیاں ،جگر، پھیپھڑے تک اپنی قیمت وصول کر چکے ہیں ، ہمیں شہبازوں اور اسحاق ڈاروں نے قطر سے لے کر بیجنگ تک رہن رکھ دیا ہے۔

ہماری مثال ان خاندانوں کی ہے جو اینٹوں کے بھٹے پر نسل در نسل کام کرتے ہیں اور مالک کی منشی گیری سے رہائی پاسکتے۔ ہمارے مالک سفید فام ہیں مگر ان کے منشی خلیج اور بحرِ قلزم کے ارد گرد بیٹھے ہیں ۔
ہمارے اخلاس کا کیا کہنا ! وفاقی وزیر ہیں مگر کسی کو صرف نارووال کی فکر ہے تو کوئی مری سے باہر نکلنے کو تیارنہیں ، مسلم لیگ ن کے ثقہ لیڈر خود کہہ رہے ہیں کہ ان کے قائد کو صرف اپنی ذات کی فکر ہے۔ اگر لیڈر اپنی ذات کے سوا کچھ نہیں سوچ سکتا تو اس کے پیروکار کیسے مختلف ہوسکتے ہیں ؟
ان میں سے ہر ایک کو صرف اور صرف یہ فکر ہے کہ اس کا بل اناج کے دانوں سے بھرا ہوا اور بھرا رہے۔ 
پہلے جہاز بھرے ہوئے دبئی جاتے تھے، کرایہ سندھ حکومت ادا کرتی تھی اب یہ مہنگے اڑن کھٹولے لندن جایا کریں گے، پانی کے قطرے سے لے کر روٹی کے نوالے تک ۔ہم ہر شئے پر ٹیکس ادا کرتے ہیں ، تاکہ لندن کے غلام لندن آتے جاتے رہیں

Monday, October 30, 2017

واہ !سردار مہتاب عباسی صاحب ،واہ!


یہ صبح ساڑھے تین بجے کا وقت تھا،ابو ظہبی کے ائیر پورٹ پر پاکستان کی قومی ائیر لائن کا  جہاز پشاور  جانے کے لیے پر تول رہا تھا،غالب تعداد ان پاکستانیوں کی تھی جو محنت مزدوری کرنے آئے تھے،ان کا تعلق خیبر پختونخوا کی بستیوں اور قریوں سے تھا۔۔

ساڑھے سات بجے جہاز پشاور کی سرزمین پر اترا ،مسافر باہر نکلے  ،جنگلے  کے اس طرف ان کے  ماں باپ بیوی بچے دوست  احباب  بے تابی سے انتظار کررہے تھے، گھومتی ہوئی پٹی پر سامان آجارہا تھا۔،لوگ اپنا اپنا آئٹم پہچانتے اور ،بیگ اس  صندوق  اٹیچی کیس  یا کسی  بھی اور شکل میں ، اٹھاتے ،ٹرالی پر رکھتے اور باہر کا رخ کرتے۔
پھر پٹی چلنی بند ہوگئی، سامان ختم ہوگیا، تاہم تقریباً  اٹھارہ بیس  مسافر اب بھی  اپنے سامان کا انتظار کررہے تھے، وہ کھڑے رہے، ایک دوسرے  سے پوچھتے رہے، سول ایوی ایشن کے کچھ  ورکر نظر آرہے تھے ،ان سے پوچھا مگر وہ کیا بتاتے، پھر ان میں سےایک  دو نے ہمت کی،پی آئی اے  کے ایک اہلکار سے پوچھا ،اس نے نہایت اطمینان  سے جواب دیا، بھائی یہ جہاز چھوٹا ہے،ہم اٹھارہ بیس مسافروں کا سامان  ابو ظہبی میں چھوڑ آئے ہیں ، وہ بعد میں آئے گا، پوچھا گیا کب آئے گا۔  پی آئی اے کے اہلکار نے ایک ادائے بے نیازی سے ،جس میں  تغافل بھی تھا اور  حقارت بھی، جواب دیا کہ یہ کچھ  نہیں کہا جاسکتا،آج یا کل یا کچھ دنوں بعد۔

 آپ کا کیا خیال ہے ان مسافروں کی حالت اس وقت کیا ہوگی؟۔۔۔۔ یہ مزدور تھے، اپنے وطن سے دور رہ کر کفیل سسٹم کے ظلم و ستم سہہ کر انہوں نے  جسمانی مشقت برداشت کی،سامان اٹھایا ،چوکیداریاں کرتے رہے، مشینیں چلائیں ،ریستورانوں میں برتن مانجھے، خود بھوکے رہے،بچت کرکے گھر والوں کے لیے کچھ نہ کچھ خریداری کی، کسی کی جوان بہن انتظار کررہی تھی کہ بھائی کچھ لائے گا، اس کے جہیز کے لیے، کسی کی بیوی جدائیاں  برداشت کرکے منتظر تھی کہ  میاں  آئے گا تو گھر  کےاستعمال کی فلاں فلاں  شئے لیتا آئے گا،بوڑھے ماں باپ انتظار کرہے تھے،بیٹے نے ان کے لیے کچھ تحفے خریدے تھے، بچے اپنے کھلونوں اور چاکلیٹوں کے منتظر تھے،یہ سب سامان پی آئی اے والے ابوظہبی میں چھوڑ آئے تھے،انہیں کسی کی کچھ پروانہ تھی۔

سردار مہتاب عباسی سول ایوی ایشن کے مشیر ہیں ، ان کا رتبہ  عہدہ اور مراعات  وفاقی وزیر کے برابر ہیں ، کیا انہیں معلوم ہے کہ یہ پشاور میں پہلی بار نہیں ہوا، ان بیس مسافروں میں دو تین  پاکستانی ایسے بھی تھے جو یورپ امیریکہ سے آئے تھے، اور ابوظہبی سے فلائیٹ بدلی تھی، عام طور پر اتحاد ائیر لائن والے ابو ظہبی پہنچ کر اپنے مسافر پی آئی اے والوں کے حؤالے کردیتے ہیں ، جہاں تک پشاور کا تعلق ہے، پی آئی اے کا معمول ہے کہ  سامان چھوڑ آتے ہیں ، مزدور قسم کے سادہ لوح  پاکستانی احتجاج  کرتے ہیں نہ شکایت،

پشاو رپی آئی اے کے ایک  سینٹر عہدیدار  نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر  تفصیل سے آگاہ کیا  کہ یہ ظلم  ایک عرصہ سے پشاور  اور ارد گرد  کے علاقوں میں ہورہا ہے، جہاز چھوٹے ہیں ، کرایہ کی لالچ میں مسافر بٹھا لیے جاتے ہیں ، ان کا سامان  جان بوجھ کر  ایک پالیسی کے تحت چھوڑ دیا جاتا ہے، چونکہ مسافر  زیادہ تر  مزدور ، ان پڑھ  نیم خؤاندہ ہوتے ہیں ، وہ تحریری احتجاج تو کر ہی نہیں سکتے۔ زبانی احتجاج  کرتے ہیں مگر  اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے، پی آئی اے والے ہنس کر  ،کبھی خاموشی  رہ کر ،کبھی ڈانٹ ڈپٹ کرکے  ان لوگوں کو چپ کروا دیتے ہیں ۔

پشاور کے اسٹیشن منیجر  ایاز خان  سے جو پورے  ہوائی اڈے  کے سب سے بڑے افسر ہیں ، ان کے فون نمبر  0333-9462411پر بات ہوئی، تعجب کی  انتہا یہ تھی کہ  سٹیشن منیجر کو بقول ان کے  اس پورے واقعے کا بلکہ المیے کا علم ہی نہیں تھا۔ ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے یہ پریکٹس ایک عرصہ سے چل رہی ہے، اور صرف پشاور میں ایسا ہو رہا ہے، انہوں نے ایسے لہجے میں ،جس کا  مطلب تھا کہ یہ کوئی خاص بات نہیں ہے،جواب دیا کہ  ہاں ہوجاتا ہے، ان سے پوچھا  کہ کیا  آپ کو معلوم ہے کہ  یہ لوگ  جو مزدوری کرکے واپس آتے ہیں  تین تین چار چار سال  بعد وطن واپس آتے ہیں ، ان کی بہنیں  ،بیوی بچے، ماں باپ، اپنے تحائف  کے منتظر ہوتے ہیں ، ایاز خان کے بقول  وہ اس قسم کے کسی  المیے سے  بے خبر تھے۔

اگر سٹیشن منیجر کی بات سچ تھی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ  ائیر پورٹ کے  نچلے درجے کے ملازمیں  او ر اہلکار  سٹیشن منیجر کو اصل صورتحال سے بے خبر رکھے ہوئے ہیں ،  مگر سٹیشن منیجر کی کارکردگی اور استعداد کار کا اندازہ لگائیے کہ جو کچھ اس کی ناک کے عین نیچے ہو رہا ہے ،اسے اس کا  پتہ ہی نہیں ، تو پھر کیا عجب کہ پی آتی اے دنیا کی ناکام ترین  ائیر لائنوں میں سے ہے۔

چیئر مین  پی آئ اے عرفان الہی صاحب سے  کمنٹ لینے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ان کے معاون  مسٹر اویس  نے کہا کہ انہیں  فون نمبر دینے کی اجازت نہیں ۔ انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ چیئرمین جو سول ایوی ایشن ڈویژن کے  سیکرٹری ہیں  ،پبلک سرونٹ بھی ہیں ، عوام کا حق ہے کہ ان تک رسائی ہو۔ تاکہ وہ انہیں صورتحال سے آگاہ کرسکیں ، مگر ان کا ہر بار ایک ہی جواب تھا  کہ عرفان صاحب کا حکم ہے کہ  ان کا فون نمبر کسی کو نہ دیا جائے،  سوال یہ ہے کہ کیا ان کا موبائل فون سرکاری نہیں ہے؟ کیا  اس کا بل حکومت کے خزانے سے ادا نہیں ہورہا ؟  پھر وہ اسے پردہ اخفاء میں کیسے اور کیوں رکھے ہوئے ہیں ۔

مگر اصل  ذمہ داری سردار مہتاب عباسی صاحب کی ہے جو مشیر  بمرتبہ وزیر ہیں ۔، وہ سیاستدان ہیں  ،بیوروکریٹ نہیں ، کیا انہیں معلوم نہیں کہ اہلِ پشاور کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ کیا یہ ظلم نہیں ؟ اب وہ بدعائیں سنیے جو اپنی حق حلال کی کمائی سے ،اپنے خؤن پسینے سے ۔خریدے ہوئے سامان سے محروم  ہونے والے دے رہے تھے 

اس کالم نگار کو بدقسمتی سے پشتو نہیں آتی،(یہ ایک المیہ ہے کہ ہمارے صوبوں میں دوسرے صوبے کی زبان پڑھائی اور نہ ہی سکھائی جارہی ہے۔) کچھ لوگ جو وہاں موجود تھے،ان کی محبت کہ ترجمہ کرکے بتاتے رہے۔۔۔

 خدا اس ائیر لائن کا بیڑہ غرق کرے،

 ان اہلکاروں کا ستیا ناس ہو،

 ان کے بیوی بچے بھی اسی طرح سامان کو ترسیں جیسے ہمارے ترسائے جارہے ہیں ،۔

یہ حرام خؤر کرایہ پورا لیتے ہیں ، مگر اپنا فرض  نہیں سر انجام دیتے۔

ایک نسبتاً پڑھے لکھے شخص  سے بات ہوئی جو دو سال  بعد  مشرقِ وسطیٰ سے واپس آرہا تھا۔ وہ اپنے بیمار ماں باپ کے لیے کچھ دوائیں  بھی لایا تھا، اس کا کہنا تھا کہ  اگر اس کے پاس آپشن ہوتا تو وہ کبھی اس نام نہاد ائیر لائن سے سفر نہ کرتا ۔
ان لوگوں میں ایک صاحب مشرق بعید سے آئے ہوئے تھے ،انہوں نے بتایا کہ تین چار سال پہلے بھی پشاور ائیر پورٹ   پر ان کے ساتھ یہی ڈرامہ کھیلا گیا تھا، اور سامان  انہیں کئی  دن بعد ملا تھا۔

سوال یہ ہے  کہ  سردار مہتاب عباسی صاحب اس  بدترین مذاق کو ختم کرسکتے  ہیں ؟اور کیا وہ چیئر مین صاحب  اور سیکٹری کو باور کراسکتے ہیں کہ وہ سات پردوں میں  چھپنے کی بجائے ان لوگوں کا سامنا کریں  جنہیں ان کی ائیر لائن زہر کے ساتھ ڈس رہی ہے۔ جن کی جیبوں  سے لاکھوں روپے نکال کر انہیں سامان کے بغیر بے یار و مدد گار  چھوڑدیا جاتا ہے۔ ؟

اگر سردار  صاحب اتنا  بھی نہیں کرسکتے تو  پھر یہی کہا جاسکتا ہے کہ  واہ ! سردار مہتاب عباسی صاحب۔  واہ!    


Friday, October 27, 2017

ہم کس عہد میں جی رہے ہیں !


دکھ کی بات تھی  اور دل میں خؤشی بھی انگڑائی لے رہی تھی، خؤشی اس لیے کہ  دوست گرامی رؤف کلاسرہ کا پرسوں والا کالم پڑھ کر  بے اختیار  اقبال کا شعر یاد  آگیا۔۔۔

گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں

یہاں اب میرے رازداں اور بھی ہیں !

پنجاب حکومت جس طرح  ٹامک ٹوئیاں  مار رہی  ہے،اس کی  وارننگ پہلی بار  اس کالم نگار نے اس وقت دی تھی  جب صوبے  کے حکمران اعلیٰ نے قصور ہسپتال  کا "معائنہ" کیا تھا۔ کچھ کو معطل  کیا،کچھ کو  جھڑکیاں دیں ، پھر کچھ عرصہ  بعد ایک  بار پھر "معائنہ "کیا ۔ مگر نتیجہ صفر نکلا۔ 13 اگست  2016 کو  ایک معروف  و مشہور انگریزی  معاصر  نے شہ سرخی جمائی۔

"قصور  ڈسٹرکٹ  ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ،چیف منسٹر کے  معائنوں  کے باوجود  کوئی تبدیلی نہ آئی"

 ملازموں نے بتایا کہ سٹاف مریضوں کو  پرائیویٹ ہسپتال جانے کا  مشورہ دیتا ہے،ٹریفک پولیس تک کے  مریض  کو اٹنڈ نہ کیا گیا، ڈاکٹر غائب رہتے ہیں ،محکمہ صحت  کے ای ڈی  او نے  خود  کہا کہ بھارت کی طرح  یہاں بھی نجی پریکٹس  ڈاکٹروں  کی ممنوع ہونی چاہیے،لیکن بھارت میں ایسا کرنے سے پہلے ڈاکٹروں کی تنخواہیں بڑھائی گئیں ، "معائنوں  "کے باوجود  ناکامی کی یہ ایک انتہائی مختصر داستان ہے، ورنہ  صفحوں  کے صفحے  بھر جائیں ۔

یہ سب اس لیے کہ وزیر اعلیٰ  کا طرزِحکومت شخصی  اور قبائلی ہے، وزیر سیکرٹری ساتھ ہوتے  اور معائنہ کے دوران  ذمہ داری  ان پر ڈالی جاتی ،سرزنش کی جاتی تو نتیجہ مختلف نکلتا ، سارے مسئلے کا لبِ لباب  کیا ہے؟

اصل معاملہ کیا ہے؟ وہ جسے انگریزی میں  
crux of the  matter


کہتے ہیں ۔

کیا ہے؟

 صرف اور صرف  یہ کہ وزیر اعلیٰ  صوبائی اسمبلی  کو کسی قابل نہیں سمجھتے  کابینہ عضوِ معطل ہے، پہاڑ سے لے کر رائی تک ہر فیصلہ خؤد کرتے ہیں اور ہاتھی سے لے کر چونٹی تک ہر ذی روح  صرف ان کے اشاروں کا محتاج ہے۔

مگر رؤف کلاسرہ نے کمال خؤبصورتی او جامعیت سے پنجاب  حکومت کی طرزِ بادشاہی کو بیان کیا ہے، اور بتایا ہے کہ بیوروکریسی کا ہر کل پرزہ  منتظر رہتا ہے، کہ وزیر اعلیٰ  "نوٹس" لیں تو  وہ حرکت کرے۔انگریزی  سے اردو صحافت میں آنے والے  رؤف کلاسرہ نے دکھا دیاہے کہ بغل میں ٹھوس مواد  ۔حقائق  اور دلائل ہوں تو لچھے  دار الفاظ اور مرصع  مرقع زبان  کے بغیر  سلیس اردو  میں بھی دلوں  کے اندر اترا جاسکتا ہے۔

92ٹی وی چینل پر اس شخص کو سن کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح  جرات و بے خؤفی سے  اور کس طرح قومی خزانے  کی تاخت و تاراج  کو کلاسرہ پبلک کی آنکھوں  کے سامنے یوں رکھ دیتا ہے، کہ اشتباہ کی گنجائش نہیں رہتی۔

اس پر آشوب  دور میں  جب بڑے بڑے ستون دیمک  زدہ ہوگئے، اور کرنسی  اور مراعات  کا ٹڈی  دل بڑے بڑے  دماغ چاٹ  گیا۔ رؤف کلاسرہ جیسے صحافیوں کا  وجود نعمت سے کم نہیں ، یہ انگلیوں  پر گنے جا سکنے والے افراد  ساری کمیونٹی کی طرف  سے فرض  کفایہ ادا کرہے ہیں ۔

 خؤشی کا ذکر تو ہوگیا۔ دکھ کیوں ہوا؟۔۔۔ اس لیے کہ اصل معاملہ دکھ کا ہی ہے۔ یہ طرزِ حکومت یہ جمہوریت کی عملی نفی ۔،یہ قبائلی سٹائل، یہ دکھ کی ہی بات ہے،

چھپن نام نہاد  کمپنیوں کی ناکامی  کا سکینڈل سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ حکم صادر ہوا  کہ "تھرڈ پارٹی جائزہ" لیا جائے۔ اور ناکام کمپنیوں کو بند کردیا جائے، مگر اسی ارب روپے سے زائد  کی بے ظابطگیاں  جو  ہوچکی ہیں ،ان کی ذمہ داری کون قبول کرے گا، صاف پانی کمپنی نے کتنے لوگوں کو  صاف پانی مہیا کیا؟۔۔۔ اصل کمپنیوں کو سونپے گئے کام  بلدیاتی اداروں نے کرنے تھے،  ایک طرف بلدیاتی ادروں کو فدنڈز نہ دے کر عدم  فعا ل رکھا گیا دوسری طرف  پسندیدہ افراد کو  لاکھوں کروڑوں روپے سے نوازا گیا۔ بورڈ آف  گورنرز  میں سیاست  دان تک شامل کرلیے گئے ،
صرف ایک مثال سے ان کمپنیوں  کی شفافیت کا اندازہ لگائیے ۔کہ ؛لاہور پارکنگ  کمپنی کا ٹھیکہ ایک ایسی فرم کو دیا گیا۔ جو بلیک لسٹ  تھی۔ حکومت کو ماہانہ پانچ کروڑ  کا نقصآن ہوتا رہا۔
 چودھویں صدی کے حکمران محمد تغلق  اور  پنجاب  حکومت میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔محمد  تغلق نے بڑے بڑے منصوبے شروع  کیے اور  کرائے۔ مگر مشورہ  کسی سے نہ کرتا  تھا۔ مثلاً ایک منصوبہ بنایا کہ بنجر زمینوں   کو قابلِ کاشت بنایا جائے اور کسانوں  کو مجبور کیا جائے کہ عام فصلوں کے بجائے "قیمتی" فصلیں بوئی جائیں ۔ حکم ہوا کہ  باجرے  کے بجائے گندم بوئی جائے، گندم جہاں بوئی  جاتی ہے وہاں گنا بویا جائے۔اور جہاں گنا بویا جارہا تھا ،وہاں انگور اور  کھجور کاشت کی جائے ۔

یہ منصوبہ جن افراد کو  سونپا گیا  وہ اسی قبیل کے تھے جنہیں ان چھپن کمپنیوں  کی بارشاہی  عطا کی گئی ہے۔ کچھ نے بادشاہ سے وعدہ کیا کہ ایک لاکھ بیگھہ  زمین کو آباد کرکے دکھائیں گے، کچھ نے کہا کہ ہزاروں گھڑسوار ان زمینوں کی آمدنی سے تیارکریں گے۔ منصوبہ بری طرح ناکام ہوا  امدادی رقوم  جن افسروں نے کسانوں میں تقسیم کرنا تھیں وہ بددیانت نکلے۔ دو سال کے عرصہ میں  ستر لاکھ ٹکا خزانے سے جاری ہوا مگر  اس کا ہزارواں حصہ بھی کسانوں تک نہ پہنچا۔

پھر محمد تغلق کے دماغ نے ایک  اور جھر جھری لی، لگان کو نیلام کردیا۔ یعنی جو زیادہ بولی  دے گا کہ میں فلاں علاقے سے اتنا لگان اکٹھا کرکے خزانے میں جمع  کراؤں گا   اسے وہ علاقہ  سونپ دیا گیا۔ یہ بولیاں  دینے والے ناتجربہ کار تھے، انہوں نے کسانوں کو لوٹنا شروع کردیا ، پھر بھی مطلوبہ رقوم اکٹھی نہ ہوئیں ۔ بادشاہ نے ان کے بازو مروڑے تو بغاوت ہوگئی، سکیم بری طرح ناکام ہوگئی۔

 پھر ایک اور سکیم آئی  چاندی کے سکوں  کی جگہ تانبے اور  پیتل کے سکے جاری کئے گئے ،سکیم  ناکام ہوگئی ،معیشت تباہ ہوگئی۔، پھر بادشاہ  نے اعلان کیاکہ لوگ پیتل کے سکے خزانے میں جمع  کرا کر سونے اور چاندی  کے سکے واپس لیں ۔

دارالحکومت میں پیتل کے سکون کے پہاڑ جمع ہو گئے ،رہا سہا خزانہ خالی ہوگیا۔ پھر بادشاہ  نے دارالحکومت دہلی سے دیواگری (موجودہ  مہاراشٹر صوبے میں ) منتقل کرنے کا حکم دیا۔ دیواگری کا  نام دولت آباد رکھا گیا۔ یہ دہلی سے تقریباً ایک ہزار کلو میٹر  دور تھا۔ فوائد ضرور تھے مگر  یہ منصوبہ  اس بری طرح ناکام ہوا کہ  محمد تغلق  کو تاریخ نے پڑھا  لکھا بے وقوف  کا خطاب دیا۔

وجہ یہ تھی کہ  یہ فیصلہ  اچانک کیا اور صرف بادشاہ  کا اپنا  فیصلہ تھا، کسی سے  مشورہ لیا نہ  منصوبے کے مختلف  پہلوؤں پر غؤر کیا گیا۔ ممکنہ نقصانات کا سوچا ہی نہ گیا۔ پھر حکم دہا کہ دہلی کی ساری کی ساری آبادی دولت نگر منتقل ہو۔ لوگ راضی نہ ہورہے تھے۔ صدیوں سے یہ خاندان  دہلی میں مقیم تھے۔ کیسے جاتے۔۔۔بادشاہ نے  سفر کے دوران  بھاری مراعات  کا اعلان کیا پھر بھی  لوگ راضی نہ ہوئے۔
پھر محمد تغلق نے شہر میں منادی  کرادی کہ تین  راتوں کے بعد شہر  میں کوئی نہ دکھائی دے۔ بہت سے لوگ چل پڑے ،کچھ چھپ گئے۔ شہر کی تلاشی لینے  کا حکم ہوا، ایک گلی میں ایک اندھا  اور ایک اپاہج ملا، اپاہج کے بارے حکم ہواکہ اسے  منجنیق میں ڈال کر اس طرح پھینکا جائے جیسے  پتھر پھینکتے ہیں ، اندھے کے بارے میں فیصلہ ہوا کہ اسے دہلی سے دولت آباد تک گھسیٹ کر لیجایا جائے۔، یہ فاصلہ چالیس دن کا تھا۔ اندھا بیچارہ جلد ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ دولت آباد اس کی صرف ایک ٹانگ ہی پہنچ پائی، ظفر اقبال نے شاید اسی کے بارے میں لکھا تھا۔۔۔

میں نے کب دعویٰ کیا ہے،سربسر باقی ہوں میں

پیش خڈمت ہوں تمھارے،جس قدر باقی ہوں میں !

اس سے دہشت اس قدر پھیلی کہ چھپے ہوئے لوگ بھی دولت آباد روانہ ہوگئے، بہت سے بیمار ہوکر راستے میں مرکھپ گئے، بہت سے نئی زمین،نئی آب و  ہوا ،نئی زبان  اور نئے ماحؤل سے سمجھوتہ نہ کرسکے ،ذہنی بیماریاں لاحق ہوگئیں ۔ آٹھ سال گزرے تھے کہ بادشاہ کو یہ ساری سکیم ناکام اور حماقت آمیز نظر آئی۔ اب حکم ہوا کہ سب واپس چلو۔ دہلی کو دوبارہ دارالحکومت قرار دے دیا گیا،اور رہی سہی کسر واپسی کے سفر نے پوری کردی۔

حکومت پنجاب  کی کچھ سکیموں  کے تو اب نام ہی سننے میں نہیں آتے۔ سستی روٹی، دانش سکول، آشیانہ ہاؤسنگ سکیم ۔صرف دانش سکولوں کا معاملہ چھان کر دیکھ لیجئے، اربوں روپے ان پر لگ گئے، دوسری طرف سرکاری سکولوں میں  63 ہزار  اساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں ، تیرہ سو سکولوں میں بیت الخلا کوئی نہیں ، پونے پانچ ہزار سکولوں کی عمارتیں مخدوش حالت میں ہیں ، ساڑھے پانچ ہزار سکولوں میں پینے کاپانی مفقود ہے۔ پونے تین ہزار سکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں  اور ڈیسک موجود نہیں ۔

اور اب چھپن کمپنیوں  کی سکیم  کی ناکامی، ہر طرف احتجاج کا شور اور مقدمہ بازی  ،ان کمپنیوں کے نام پڑھ کر انسان  فرطِ حیرت سے انگشت بدنداں  رہ جاتا ہے۔

اے ارض سیہ روز  !کوئی اور ہی سورج

 شاید کہ بد ل جائیں یہ ایام ہمارے!


Wednesday, October 25, 2017

میری کسی سے دشمنی ہے نہ رشتے داری۔



میری شرجیل میمن  صاحب سے کیا دشمنی ہوسکتی ہے، میں نے تو انہیں  دیکھا تک نہیںِ،میرا اور زرداری صاحب کا کیا مقابلہ، مگر میں جب کائرہ صاحب اور فرحت اللہ بابر جیسے   نسبتاً صاف ستھرے حضرات کو آنکھیں  بند کرکے مدافعت کرتے دیکھتا ہوں تو  افسوس ہوتا ہے کہ  ،کیا ایک پارٹی کی رکنیت  کا یہ مطلب  ہے کہ سفید کو سفید اور سیاہ کوسیاہ نہ کہا جائے؟۔

میرا مریم صفدر صاحبہ سے کوئی جھگڑا نہیں ۔ہماری رشتہ داری ہے نہ مشترکہ  جائیداد  کا تنازع۔ہمارے کھیت بھی ایک جگہ نہیں ، کہ درمیان میں پڑنے والی  پگڈنڈی  کا مسئلہ عدالت میں جائے۔ہماری حویلیاں ایک دوسرے سے متصل نہیں  کہ میرے پرنالے  کا پانی ان کے صحن میں یا ان کے پرنالے کا پانے   میرے آنگن میں گر رہا ہو۔ میرا ایسا کوئی  ارادہ  نہیں کہ  میاں نواز شریف  صاحب کے بعد پارٹی  کی زمام  سنبھال لوں یا وزیر اعظم  بننے کی کوشش کروں ۔

میں تو صرف یہ چاہتا ہوں  کہ وہ پاکستان  کا  بڑا بننے کی کوشش نہ کریں ، وہ جب نصیحت  کرتی ہیں کہ اداروں کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے تو  میں صرف یہ  پوچھنا چاہتا ہوں کہ  وہ یہ نصیحت اداروں کو کس حیثیت سے کررہی ہیں ؟ وہ پارٹی میں کس عہدے پر ہیں ؟۔ وہ تاحال  منتخب نمائندہ بھی نہیں ، پھر کیا وہ خود حدود کی خلاف ورزی نہیں کر رہیں ،؟  وزیراعظم  کا عہدہ  اور وزیراعظم  کا دفتر بھی  ایک ادارہ ہے۔ جب وہ وزیراعظم کی عدم موجودگی میں    کئی  ماہ حکومت  چلاتی رہیں ،غیرملکی سفیروں کو  ملتی رہیں ،وزراء کو احکام دیتی رہیں ،  تو کیا وہ خؤد  حدود کراس نہیں کررہی تھیں ۔ ؟

کیا سرکاری پروٹوکول  لینا حدود کی خلاف ورزی  نہیں ؟ آخر انہیں کیا حق  پہنچتا ہے  کہ جو وزرا  میرے ٹیکس سے تنخواہ  لیتے ہیں ، اور جو  پولیس و سرکاری  عہدیدار عوام کے دیے ہوئے  ٹیکسوں سے مشاہرے پارہے ہیں ۔، اور جو گاڑیاں  ان کی اپنی نہیں ، ریاست کی ملکیت  ہیں ، ان سب کو وہ  اپنے لیے استعمال  کریں ؟

کیا یہ سینہ زوری  ،یہ دھاندلی  ،دیکھ کر میرا دل نہیں کڑھتا ، ؟َکیا میں اس ملک کا شہری نہیں ؟۔ کیا میرےجذبات نہیں کھول سکتے؟تو کیا میں  ان سب معاملات سے لاتعلق ہوجاؤں ؟

 میں نے تو آج تک مریم صفدر صاحبہ اور ان کے  والد محترم  میاں محمد نواز شریف  صاحب کے منہ  سے  اس ملک کے مسائل  پر  کوئی  گفتگو نہیں سنیَ۔۔۔ انہوں نے  زرعی اصلاحات  پر اور تعلیمی  نظام کی فرسودگی پر کوئی بات نہیں کی کبھی،   آج تک معزول  وزیراعظم  نے اس بات پر تشویش  کا اظہار  نہیں کیا کہ  ٹیکس چوری  ہورہا یے اور  قرضے  بے تحاشا  بڑھ رہے ہیں ،

مریم صفدر صاحبہ کا موضؤع صرف اور صرف اپنے والدِ گرامی کی ذات ہے۔ وہ سوائے  اس کے کوئی بات ہی نہیں کرتیں ، کہ میاں صاحب  اب بھی دلوں پر حکمرانی  کرتے ہیں ان کے ساتھ زیادتی ہوئی  ،ان کے ساتھ یہ ہوا، وہ ہوا۔۔۔ کیاکسی نے  اس کے علاوہ ان کے منہ سے کوئی بات سنی ہے؟۔۔۔

آپ اس ملک کی بدبختی دیکھیے  کہ وزیر اعظم  خاقان عباسی کہہ رہے ہیں کہ  نواز شریف کےخلاف فیصلہ  عوام نے قبول نہیں کیا ،گویا  خود حکومت  کا سربراہ  عدلیہ کے خلاف ہے۔،تو پھر کیاعدالتیں بند کردی جائیں ؟۔۔۔۔

وزیر اعظم بتائیں  کہ آخر  عدالت کو کیا کرنا چاہیے تھا ؟۔۔ تو پھر کیا  ہر وہ شخص  یا فریق  جس کے خلاف  عدالت  فیصلہ  کرے۔یہی  موقف اپنائے  کہ فیصلہ  عوام قبول کریں گے تو مانا جائے گا۔؟تو پھر آئین  میں یہ لکھ دیجئے کہ  عدالتیں  فیصلے کرنے سے پہلے اس کے بارے  میں عوام سے رائے لیا کریں ۔

سیاست دانوں  کا مائنڈ سیٹ  ملاحظہ فرمائیے  کہ سینٹ  چیئرمین وزیر تعلیم  کو حکم دے رہے ہیں ، کہ قائداعظم  یونیورسٹی کے  گرفتار  طلبہ  کو فوراً رہا  کیا جائے۔ چیئرمین یہ پوچھنے کا تکلف نہیں  فرماتے کہ  گرفتاری کا سبب کیا  ہے؟۔۔۔

یونیورسٹی میں  "سابق  طلبہ  "کا کیا کام ؟اور سینٹ  کے ایک رکن طلبا کے احتجاجی جلوس میں کیا کررہے تھے۔

یونیورسٹی کے چانسلر صدر مملکت ہیں ، ان کےمحل سے  یونیورسٹی  کا فاصلہ  تین چار کلو میٹر  سے زیادہ  نہ ہوگا، مگر غالباً  کام کی "زیادتی
"کے باعث  انہیں یہ جاننے  کا موقع نہ ملا کہ  جس یونیورسٹی  کے وہ چانسلر  ہیں اس میں کیا ہورہا ہے؟۔۔۔

ایک تعلیمی ادارے میں نسلی اور لسانی  بنیادوں  پر گروہوں  کو منظم  کرنے کی کیا منطق  ہے،؟کیا پہلے کراچی  یونیورسٹی  میں یہ سب کھیل تماشے  ہم بھگت  نہیں  چکے؟

کیا پنجاب یونیورسٹی طلبہ کی سیاست کی وجہ سے  اصطبل نہیں بن چکی؟۔ ٹی وی پروگرام میں  ایچ ای سی (ہائر ایجوکیشن کمیشن) کے سربراہ  سے پوچھا  گیا  کہ یہ ہڑبونگ ،یہ ہڑتالیں ،یہ لسانی گروہ  بندی، یہ کلاسوں کا تعطل یہ سب کچھ پرائیویٹ  یونیورسٹیوں  میں کیوں  نہیں ہورہا  ؟تو جواب ملاحظہ فرمائیے

 فرمایا کہ  پرائیویٹ یونیورسٹیاں  تو اتنی بھاری  فیسیں لیتی ہیں ،یعنی ماروں گھٹنا ،پھوٹے آنکھ۔۔

 ارے بھائی فیسوں کی مقدار کا اس سے کیا تعلق،  اور پھر  پرائیویٹ  یونیورسٹیاں  ،سرکاری یونیورسٹیوں کی طرح قومی خزانے پر بوجھ  تو نہیں،جس سیاسی جماعت  نے مذہب  کے نام پر  پنجاب کی سب سے بڑی  سرکاری  یونیورسٹی  کو یرغمال بنا رکھا ہے، اس جماعت  کے اپنے  نجی تعلیمی  اداروں میں ایسی سرگرمیوں  کی اجازت ہی نہیں ۔  پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں کسی  کسی استاد کے بارے میں معلوم ہوجائے کہ وہ  طلبہ کوشہ دے رہا ہے، تو شام سے پہلے اسے نکال دیاجاتاہے۔

 مگر قائداعظم یونیورسٹی ،کراچی یونیورسٹی، اور پنجاب یونیورسٹی میں براجمان اساتذہ یا نام نہاد  اساتذہ کو معلوم  ہے کہ انہیں کوئی  نہیں نکالے گا۔ اس لیے وہ اپنے اپنے سیاسی ،مذہبی،اور مسلکی  نکتہ نظر  سے ہمیشہ طلبا کی حوصلی افزائی کرتے ہیں ، اور ڈٹ کر کرتے ہیں ، اور یہ خرابی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

 بات یونیورسٹیوں کی طرف چلی گئی، سیاست دانوں  کاتذکرہ  ہورہاتھا، اس ضمن  میں  ایک اور وضاحت یہ کرنی ہے ،کہ عمران خان سے بھی کوئی  رشتہ داری نہیں ،ہم ایک علاقے  سے ہیں ، نہ قبیلہ  ذات برادری کا تعلق ہے۔مجھ سے تو وہ  متعارف  تک نہیں ۔

 مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ  کے پی کے  کی پولیس  میں سیاسی  مداخلت  نہ ہونے کے برابر ہے، روایت ہے کہ اے ڈی خواجہ صاحب  نے کہا کہ  انہیں اہنے  صوبے میں  کے پی کے کا پولیس سسٹم چاہیے ،اگر  یہ روایت صحیح ہے تو  کیا یہ امر  قابل  تعریف  نہیں ؟

کرپشن کیخلاف ابھی تک اس کے علاوہ کس نے محاذ بنایا،اور پھر ڈٹ کر کھڑا ہوگیا؟۔۔۔ وہ فرشتہ نہیں ،غلطیوں کا پتلا ہے۔ انسان ہے۔ ولی نہیں ،نہ صوفی۔

جب اس نے ایک مخصوص  مدرسہ کو تیس کروڑ روپے دیے تو میں نے تنقید کی،شدید تنقید۔

کئی اور معاملات میں اختلاف  کیا،مگر اور کس سےامید رکھی جائے  ؟مولانا فضل الرحمن سے؟ اسفند یار ولی سے؟نواز شریف  صاحب سے؟۔زرداری صاحب سے،اچکزئی صاحب سے؟

میں تو اس ملک کا عام باشندہ ہوں ،میری وفاداری اس ملک کی مٹی سے ہے، میرے لیے وطن کی سرحدیں مقدس ہیں ،مجھے اس سے کیا غرض کہ سرحد پار کون آلو گوشت کھاتا ہے ،یا نہیں ؟۔۔۔۔۔میری وفاداریاں افغانستان سے ہیں نہ ایران سے، نہ سعودی

عرب سے،نہ کسی اور ملک سے۔ مجھے تو کسی خاندان سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ، میں اس غم میں اپنے آپ کو کیوں دبلا کروں کہ  کہیں بادشاہت نواز یا زرداری خاندان سے نکل نہ جائے۔،

میرا مسئلہ تو یہ ہے کہ  تمام صوبوں کو  اور تمام نسلوں کو اور ساری قومیتوں کو  برابری کی سطح پر  رکھاجائے۔

ایسا نہ ہو کہ  کچھ تو چھینک آنے پر لندن کا رخ  کریں او ر کچھ بچے  جنم دیں تو بچے کا بچھونا  زمین کا  فرش ہو۔

کچھ ملزم جرم ثابت ہوئے بغیر ،ساری زندگی جیل میں  گزار دیں  اور کچھ عدالت  میں پیش  ہوتے وقت  چالیس چالیس  گاڑیوں  کے جلوس میں بادشاہوں  کی طرح آئیں ۔مجھے انڈر پاسوں ،پلو ں، شاہراہوں ،میٹرو بسوں،اور ٹرینوں سے کیا  لینا دینا ۔جب میری  بستیوں اور قریوں میں خاک اڑ رہی ہے۔ میرے بچے سکوکوں میں بیٹھنے کے بجائے مویشی  چرا رہے ہیں ، ریستورانوں میں برتن مانجھ  رہے ہیں ، دوسروں کے گھروں میں جسمانی تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں ،اور ورکشاپوں میں کپڑے اور ہاتھ کالے کرکے چند سکے شام کو گھر لاتے ہیں ،

میرا مسئلہ تو وہ ہزاروں  سکول ہیں جن کی چھتیں نہیں اور نہ ہی چار دیواری۔جن میں سے بہت سے گودام اور بھینسوں کے باڑوں میں  تبدیل ہوچکے ہیں ،

بھائی میری کسی سے کوئی  کشمنی نہیں ، خاندانی  نہ مذہبی،نہ مسلکی نہ سیاسی، لیکن مجھے کوئی ان لوگوں سےتو نجات دلوا دے  جو اپنے  بچوں کو  شہزادے اور دوسروں کو رعایا سمجھتے ہیں س اور جن کے ہوم کنٹری برطانیہ اور یو اے ای ہیں ۔


 

powered by worldwanders.com