Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Sunday, December 10, 2017

آخر آرمی چیف ہی کو کہنا پڑا


آرمی چیف کی بات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

پہلے مگر یہ ماتم ہوجائے کہ جو کچھ آرمی چیف نے کہا' افسوس اس کا ادراک حکومت کے سربراہ کو ہے نہ ریاست کے صدر کو۔ جو سیاستدان گزشتہ چار سال حکومت کا سرخیل رہا' اس کی فہم و فراست کا کیا ہی کہنا ۔ جس کے نزدیک ترقی کا مطلب صرف اور صرف شاہراہوں کی تعمیر ہے' جس کے بارے میں عقلمندوں کو یقین ہے کہ عدالتوں کے وہ فیصلے بھی خود نہیں پڑھتا جو اس کی قسمت کو بناتے یا بگاڑتے ہیں۔ جو کوئی سنجیدہ اجلاس اٹینڈ نہیں کرسکتا۔ اور جس کے متعلق ایک معروف کالم نگار نے چند دن پہلے کمنٹ کیا ہے کہ وہ نیم خواندہ ہے اور کہا جاتا ہے کہ کالج میں ' دوران تعلیم ' اس کی جگہ امتحان کوئی اور ہی دیا کرتا تھا۔ کیا اہل ِ پاکستان نے کبھی سوچا ہے کہ تاریخ کا استعجاب کتنا گہرا ہوگا ؟ فرض کیجئے ' نظام سقہ' ایک دن کے بجائے' تین بار بادشاہ بنتا اور سالہا سال حکمرانی کرتا تو آج ہم تاریخ میں کیا پڑھ رہے ہوتے ؟

مگر افسوس! صد افسوس! موجودہ وزیراعظم بھی گہرائی سے دور ہیں ۔ کوسوں دور۔ گمان غالب یہ ہے کہ فزیکل انفراسٹرکچر کے علاوہ وہ بھی کچھ نہیں سوچتے ورنہ جو نکتہ آرمی چیف نے اٹھایا ہے ' وہ نکتہ حکومتی سربراہ کے فرائض منصبی میں سرِ فہرست ہونا چاہیے تھا۔ ہمارے حکمرانوں کو احساس ہے نہ ادراک کہ تعلیمی نظام ' زرعی اصلاحات اور سرداری نظام کا بتدریج خاتمہ ' ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔  یہی لیل و نہار رہے' سیاستدانوں کی سوچ اسی طرح غیر متوازن رہی اور مسائل پر ان کی اپروچ اسی طرح لولی لنگڑی اپاہج رہی توکل کسی آرمی چیف کو زرعی اصلاحات  'فیوڈل سسٹم کے خاتمے اور اقتصادی ترجیحات پر بھی بات کرنا پڑے گی۔ ارباب حکومت سوچیں نہ لائحہ عمل دیں ' کوئی اور بولے تو فریاد کریں کہ دخل  در معقولات ہے۔ عجب دھاندلی ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ وہ دینی مدارس  کے خلاف بالکل نہیں  ۔ تاہم صرف مذہبی تعلیم کی وجہ سے وہ ترقی کی دوڑ میں  پیچھے رہتے جارہے ہیں ۔ رائٹر کے مطابق آرمی چیف نے یہ بھی کہا ہے کہ پچیس لاکھ طلبہ  مدارس میں زیر تعلیم ہیں ۔ تو وہ کیا بنیں گے ؟ مولوی یا دہشت گرد؟ کیونکہ اس قدر بھاری تعداد کو کھپانے کے لیے نئی مسجدیں بنانا تو ممکن ہی نہیں ۔ انہیں صرف دینیات پڑھائی جارہی ہے۔ ان کے لیے کیا امکانات ہیں ؟ ان کا مستقبل کیا ہے؟

یہ وہ سوالات ہیں جن سے مفر نہیں ۔ آج اگر ان سوالات کے جواب نہ ڈھونڈے  گئے اور آنکھیں بند کرلی گئیں تو کل یہ زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ ان کے مضمرات کہیں  زیادہ دور رس ہوں گے۔

سب سے  بڑی اور پہلی ذمہ داری تو خود مدارس کے ارباب قضاد قدر کی ہے کہ ان سوالوں کے جواب تلاش کریں  ۔ ہر مسلک کے مدارس کا اپنابورڈ ہے۔ پھر ان کے اوپر بھی ایک  باڈی ہے ۔ کیا ان بورڈز یا اس باڈی  کے  پاس اعداد و شمار موجود ہیں جو بتا سکیں کہ ہر سال مدارس سے کتنے طلبہ فارغ التحصیل ہوکر نکلتے ہیں اور کن کن شعبوں میں ان کی کھپت ہوتی ہے ؟ کیا گزشتہ دس یا پندرہ یا پانچ سال کا ڈیٹا اس حوالے سے موجود ہے ؟ مدارس کے بڑے صاحبان نے کیا اس موضوع  پر کوئی اجلاس ' کوئی سیمینار ' کوئی ورکشاپس کبھی کی ہیں ؟

 مدارس کے بعد تعلیم کی  وفاقی اور صوبائی وزارتوں کا فرض تھا کہ اس معاملے کو سلجھائیں اور اس پر ایک واضح  پالیسی بنائیں ۔ اٹھارویں  ترمیم کے بعد تعلیم صوبوں کی جھولی میں ڈال دی گئی ہے۔ کیا ہر صوبے کو معلوم  ہے کہ اس کی حدود میں کتنے مدارس  نئے بن رہے ہیں ؟ پرانے کتنے ہیں اور طلبہ کی کھپت کہاں کہاں ہورہی ہے؟

یہ جو آرمی چیف  نے کہا ہے کہ وہ دینی مدارس کیخلاف نہیں ۔ تو حقیقت یہ ہے کہ کوئی معقول متوازن پاکستانی دینی مدارس کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ صرف وہی طبقہ مدارس کے خلاف ہے جو سوچنے سمجھنے سے عاری ہے اور مضمرات سمجھے بغیر لاٹھی چلا دیتا ہے۔ خلاف تو لوگ یہاں پاکستان کے بھی ہیں جس کا کھا رہے ہیں ۔

شورش! تیرے خلاف زمانہ ہوا تو کیا

کچھ لوگ اس جہاں میں خدا کے خلاف ہیں ۔

مدارس میں زیر تعلیم بچے ہمارے ہی  بچے ہیں ۔ ہم مدارس کے خلاف کیسے ہوسکتے ہیں؟ہاں ! اگر کوئی مدارس کے ضمن میں بنیادی سوالات اٹھاتا ہے ،جیسےآرمی چیف نے اٹھائے ہیں' تو ایسے سوالات اٹھانے والے کو مخالف نہیں سمجھنا چاہیے' نصاب کے پہلو کو چھوڑئیے' کچھ دیگر معاملات ہیں جن پر اہل مدارس کو اپنی پالیسی ' اپنی سوچ اور اپنی منصوبہ بندی واضح کرنی چاہیے۔نازک ترین پہلو اساتذہ کا ہے۔ مدارس میں تین طبقے مصروف کار ہیں ۔مالکان یا انتظامیہ !دوم طلبہ'سوم اساتذہ۔غالباً  سب سے زیادہ محروم  توجہ اساتذہ کا طبقہ ہے۔ ان کی تنخواہیں  قوت لایموت سے بھی نیچے ہیں ۔ مدارس کی اکثریت اساتذہ کے لیے کسی رہائشی  پالیسی سے نابلد ہے۔ ان کی پنشن کا کوئی بندوبست نہیں ۔ جی پی فنڈ یا کنٹری بیوٹری فنڈ کا سسٹم ناپید ہے۔ علاج معالجہ الاؤنس ہے نہ انتظام ۔ کم سے کم تنخواہ کا  تصو رہی نہیں ۔ کیا مدارس کے مالکان اور منتظمین نے کبھی اساتذہ کی تنخواہوں کے سکیل بنائے ہیں ؟ کیا سالانہ ترقی کا سلسلہ اطمینان  بخش ہے؟ کیا ان اساتذہ کے مالی تحفظ کے لیے انہیں  مختلف کیڈرز میں تقسیم کیا گیا ہے؟

رہے طلبہ'تو سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مدارس عطیات پر چلتے ہیں ۔ کیا عطیات کا معتدبہ حصہ طلبہ ہی پر خرچ ہوتا ہے؟ کیا کوئی ادارہ ایسا ہے جو طلبہ کو فراہم کی جانے والی خوراک کا معیار چیک کرے؟ آخر ان طلبہ کو سونے کے لیے پلنگ اور کلاس روموں میں میز کرسی مہیا کرنے میں کیا مانع ہے؟ اس ضمن میں "بزرگوں"کا مائنڈ سیٹ بھی انتہائی اذیت ناک ہے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ امریکہ میں قائم ایک دینی مدرسہ کے طلبہ کلاس روموں میں میز کرسی پر بیٹھتے ہیں ۔ایک پاکستانی "بزرگ"وہاں گئے تو یہ ریمارک دیا کہ اس میں برکت نہیں ۔ کیا سعودی عرب کی اسلامی یونیورسٹیوں میں طلبہ فرش پر بیٹھتے ہیں ؟ کیا ام القریٰ یونیورسٹی برکت سے محروم ہے؟ آخر مدارس کے مالکان  نے اپنے دفتروں اور  دیوان خانوں میں صوفے بھی تو رکھے ہوئے ہیں ۔

مدارس کے طلبہ کا ایک بہت بڑا سماجی مسئلہ یہ ہے کہ وہ آٹھ سال تک ایک بند ماحول میں رہتے ہیں اس عرصہ میں ان کا میل جول کسی  دوسرے مکتب فکر کے اساتذہ یا طلبہ سے نہیں ہوتا۔ ہر مدرسہ  کے ساتھ ملحق مسجد بھی 'ظاہر ہے اسی مکتبِ فکر کی ہوتی ہے۔ اس کا ایک فوری حل یہ ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر کے مدارس کے درمیان کھیلوں کے مقابلے ہوں اور اکثر و بیشتر ہوں ۔ یوں ان طلبہ میں برداشت کا مادہ بھی پیدا ہوگا اور انہیں یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ دنیا میں ان کے مکتب فکر  کے علاوہ دوسرے سلسلے موجود ہیں اور سب کو مل جل کر اسی ملک میں زندہ رہنا ہے۔

 یہی مدارس تھے جن میں ستر اسی سال پہلے ہر مکتب فکر ' دوسرے مکتب فکر کو محبت سے برداشت کرتا تھا ۔ جب درس کا سلسلہ انفرادی اساتذہ سے عبارت تھا تو مکاتب فکر اور فرقوں کی باہمی تقسیم اس قدر شدید نہ تھی ' اگر ایک شیعہ عالم دین ' صرف  نحو کا ماہر تھا تو غیر شیعہ طلبہ بھی اس کے پاس آکر علم کی پیاس  بجھاتے تھے۔ اگر فلسفہ پڑھانے کے لیے کوئی دیو بندی یا بریلوی عالم معروف تھا تو اس کے پاس دوسرے مسالک کے طلبہ بلا کھٹکے آکر پڑھتے تھے' رہتے تھے' معاشرتی چادر میں کوئی سوراخ نہ تھا ۔جون ایلیا جو خاندانی اعتبار سے شیعہ تھے' اپنے مجموعہ کلام "شاید" کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ انہو ں نے فلسفہ دیوبندی اساتذہ سے پڑھا۔ یہ جو آج ریل کے ڈبوں میں اس قدر شدید درجہ بندی ہے کہ ایک ڈبے کا مسافر دوسرے ڈبے کے پائیدان پر پاؤں تک نہیں رکھ سکتا تو ڈبوں کے منتظمین کو سوچنا چاہیے کہ انجن تمام ڈبوں کے آگے ایک ہی لگا  ہوا ہے۔ اور منزل بھی ایک ہی ہے۔

نازک ترین مسئلہ مدارس کی فنڈنگ کا ہے۔ حساس!حد درجہ حساس! کیونکہ اس میں مدارس کی پرورش و کفالت کے علاوہ بھی "بہت کچھ " شامل ہے ۔ یہاں ایک اصولی بات سمجھ لینی چاہیے ' جس پر غور کرنے کے لیے مدارس کے مالکان کبھی تیار نہیں  ہوتے۔ وہ یہ کہ جب مدارس  کے لیے عطیات مانگے جاتے ہیں تو عطیات دینے  والوں  پر یہ واضح نہیں کیا جاتا کہ مالکان کے ذاتی اور خانگی مصارف بھی انہی عطیات سے پورے ہوں گے۔ یقیناً ایسے مدارس موجود ہیں جن کے مالکان ذاتی اور خانگی مصارف عطیات سے نہیں پورے کرتے۔ ان کے اپنے کاروبار ہیں اور مختلف ذرائع آمدنی ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے مالکان جن کی ذات عطیات سے  بے نیاز ہے' کم ہیں ۔ بہت کم۔

یہاں ایک گزارش اور کرنی لازم ہے۔ جب مدارس کے ہم جیسے خیرخواہ 'کچھ سوالات اٹھاتے ہیں تو آگے سے الزامی جواب آتا ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی خبر لو۔ کیا وہاں سب ٹھیک ہے؟ایسا الزامی جواب مدارس اور اہلِ مدارس  کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ یہ بھی تو دیکھیےکہ کالجوں 'یونیورسٹیوں سے نکلے ہوئے نوجوان مسجدوں کے چکر میں نہیں پڑتے۔

یہ آٹھ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ دارالحکومت کے ایک ایسے سیکٹر میں کرائے کا مکان ملا جو خوشحالی کے لیے معروف تھا اور وی وی آئی پی سیکٹر کہلاتا تھا۔نماز کے لیے سیکٹر کے مرکز میں واقع خوبصورت عالی شان مسجد میں جانا ہوتا تھا۔ ایک دن  ایک صاحب نے بتایا کہ آپ چھ سات منٹ کی مسافت پر کیوں جاتے ہیں ۔ آپ کی سٹریٹ کے آخر میں ایک مسجد ہے جو ایک ڈیڑھ منٹ کی مسافت پر ہے۔ اس مسجد میں گئے۔ یہ مسجد ایک گندے نالے کے اوپر ایسی جگہ پر بنائی گئی تھی جہاں تعمیر کی اجازت نہ تھی۔ کچا ڈھانچہ تھا۔ ساتھ ہی دو کمروں کے کچے ڈھانچے تھےجن میں "مدرسہ"قائم کیا گیا تھا۔مسجد کے صحن میں نماز پڑھی۔نماز پڑھنے کے دوران گندے نالے سے جو بدبو  آ رہی تھی' اسے یاد کرنے سے اب بھی دماغ میں ناخوشگوار لہر اٹھتی ہے۔ رہا ترقیاتی  ادارہ تو مرتا کیا نہ کرتا ' کچھ عرصہ بعد اسے "منظوری"دینا پڑی' اس لیے کہ مسجد بن گئی  تو بن گئی۔

مگر جن مولوی صاحب نے اس زمین پر مسجد بنائی یا بنوائی

'انہیں  مطعون کرنا ناانصافی ہوگی۔اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جنہوں نے نوجوان مولوی کو سالہا سال تک اپنی تحویل میں رکھا اور اس قابل چھوڑا ہی نہیں  کہ وہ مسجد کو ذریعہ معاش بنانے کے علاوہ بھی کچھ کرسکے۔



No comments:

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com