دانش کے ذخیرے
عزیز ِ گرامی رؤف کلاسرا نے وہ کام کر دکھایا جو ہمارے ملک کے فارسی دانوں کو کرنا چاہیے تھا۔ حالانکہ کلاسرا انگریزی ادب کے تیراک ہیں۔ میں نے جب کلاسرا کا کالم پڑھا جس میں انہوں نے ''کلیلہ و دمنہ‘‘ جیسے کلاسیکی شہکار کو متعارف کرایا تو خوشی ہوئی اور افسوس بھی!! خوشی اس لیے کہ آج کے قارئین کیلئے یہ ایک نادر وکمیاب تحفہ تھا۔ یہ ایک ایسا ماسٹر پیس ہے جسے شروع کرنے کے بعد چھوڑنا ممکن نہیں۔ فکشن ہے اور ایسا فکشن جس میں سبق ہی سبق ہیں۔ زندگی گزارنے کے طریقے‘ حکومت کرنے کے طریقے‘ غربت سہنے کے اسالیب اور امارت کے تقاضے۔ جیسا کہ کلاسرا صاحب نے بتایا‘ اس شہکار کی جائے پیدائش ہمارا اپنا برصغیر ہی ہے۔ افسوس اس لیے ہوا کہ ہمارے پاس دانش کے کیسے کیسے ذخیرے ہیں جن سے ہم محروم تو ہیں ہی‘ ناواقف بھی ہیں۔شکیب جلالی یاد آ گیا: ادھر سے بارہا گزرا مگر خبر نہ ہوئی کہ زیر سنگ خنک پانیوں کا چشمہ تھا دانش کے ان ذخیروں سے دنیا نے فائدہ اٹھایا اور ہم غافل رہے۔ یہ جو آج رومی کے حالات‘ شاعری اور حکایات کا چرچا ہے تو یہ بھی امریکہ ہی سے آغاز ہوا۔ یہ ہماری نفسیات کا...