بجٹ، ڈھابہ اور بچہ
اچھی کہیں یا برُی‘ اپنی ایک عادت کا اعتراف مجھے کرنا چاہیے کہ جب کسی بیانیہ کا ایک بار قائل ہو جاتا ہوں تو پھر اُس بیانیہ کو ہر پاکستانی تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ حالیہ بجٹ پر بہت غور کیا۔ چونکہ سمجھ بوجھ کی کمی ہے اس لیے عام آدمی کے لیے ریلیف نہیں نظر آیا۔ سرکاری ملازموں کی تنخواہیں بڑھیں مگر اونٹ کے منہ میں زیرے جیسی۔ ان کے مقابلے میں منتخب اداروں کے ارکان‘ وزرا اور مشیران کرام بادشاہوں جیسی زندگی گزار رہے تھے۔ سب سے بڑا بیرو میٹر یہ تھا کہ ہمارے حکومتی ارکان اور اہلِ سیاست بشمول اپوزیشن‘ کبھی کسی بازار میں سودا سلف لیتے نظر نہیں آتے۔ اس کے برعکس‘ مغربی ملکوں میں حکمران اور اپوزیشن ارکان بازاروں‘ ٹرینوں‘ بسوں‘ ریستورانوں میں عوام کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں آٹے دال کا بھاؤ براہِ راست معلوم ہوتا ہے۔ بجٹ سے مایوس ہو کر ایک دوست کے پاس گیا۔ وہ انتہا درجے کا رجائیت پسند ہے۔ اس نے ایک ہی دلیل دی اور میری ساری دانشوری اور معیشت دانی ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ اس کی دلیل یہ تھی کہ جب عمائدینِ حکومت بجٹ کی تعریف کر رہے ہیں تو بجٹ یقینا لاجو...