پمز! ایسا ہی رہے گا!
''آپ کو حیرت نہیں ہوئی۔ پمز میں کسی ڈاکٹر کی انگلی نہیں کٹی‘ کوئی نرس زخمی نہیں ہوئی‘ کسی فائر مین کو آگ نہیں لگی‘ اور چودہ بچے جاں بحق ہو گئے۔ کہاں تھے یہ لوگ؟ کیا سروس ڈِلیوری ہوئی؟ یہ تو فکس ہو گا۔ اسے فکس کیے بغیر اب اور گفتگو نہیں ہو گی‘‘۔ یہ دلگیر بیان وفاقی وزیر جناب مصدق ملک کا ہے۔ اب جناب پرویز رشید کی تجویز دیکھیے: ''سی ایم ایچ ہسپتال کی کبھی آپ نے شکایت نہیں سنی ہو گی‘ کیونکہ فوج کے سپاہی سے جنرل تک سی ایم ایچ سے اپنا علاج کرواتے ہیں۔ یہ قانون بنائیں کہ حکومت سے تنخواہ اور مراعات لینے والوں اور ان کے اہلِ خانہ کا علاج سرکاری ہسپتال میں ہو گا اور بچے سرکاری سکولز میں جائیں گے تو دنوں میں ہسپتال اور سکول عالمی معیار کے ہو جائیں گے‘‘۔ کیسی مخلصانہ اور دردمند تشویش لاحق ہے ان دونوں صاحبان کو۔ دل سے ان کیلئے واہ واہ بھی اٹھتی ہے اور دعا بھی! آگے چلنے سے پہلے ایک لطیفہ‘ بلکہ ظریفانہ حکایت سن لیجیے جو مولانا احتشام الحق تھانوی مرحوم سنایا کرتے تھے۔ مغلوں کے عہدِ زوال کا واقعہ ہے۔ ایک شہزادہ پیدائش کے بعد حرم س...