ہے نا تماشے والی بات؟؟
اس جنگ میں کئی فریق ہیں۔ دو بڑے فریق تو ظاہر ہے وہ دو پارٹیاں ہیں جو جنگ لڑ رہی ہیں۔ ایک طرف ایران ہے جس پر حملہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل ہے اور امریکی حکومت‘ جو حملہ آور ہیں۔ امریکی حکومت اور اسرائیل ایک ہی فریق ہیں۔ یہ ایکتا ایسی حقیقت ہے جس سے اسرائیل انکار کرتا ہے نہ امریکی حکومت۔ بلکہ یہ کہنا مشکل ہے کہ حملہ امریکہ نے کیا ہے اور اسرائیل اس کا معاون ہے یا حملہ اسرائیل نے کیا ہے اور امریکہ اس کی پشتیبانی کر رہا ہے۔ گویا: پا بدستِ دگری‘ دست بدستِ دگری۔ یا انور مسعود صاحب کے بقول: تری باہیں مری باہیں‘ مری باہیں تری باہیں۔ تیسرا فریق اس جنگ میں شرقِ اوسط کی عرب حکومتیں ہیں جو اس جنگ کے دوران بری طرح پھنسی ہوئی ہیں۔ یہ حکومتیں امریکہ کی اتحادی ہیں۔ اس اتحاد کی متعدد وجوہ ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان ریاستوں نے تعلیم اور سائنس کی طرف توجہ نہیں دی۔ چونکہ دولت بہت تھی اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ دفاع بھی خریدا جائے۔ دوسری وجہ امریکہ کا سہارا لینے کی وہ پالیسی تھی جو ایران نے انقلاب کے حوالے سے اپنائی۔ یہ ایک جارحانہ پالیسی تھی کہ انقلاب کو بر آمد کیا جائے گا۔ جنر...