مسائل کیوں نہیں حل ہو رہے؟
مسئلہ یہ نہیں کہ کس کی حکومت ہے اور کس کی حکومت ہو گی؟ مسئلہ یہ نہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے یا پیپلز پارٹی کی یا عمران خان کی! یا کسی اور کی! مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جن مصیبتوں میں پھنسا ہے اور جس دلدل میں گلے تک دھنس چکا ہے‘ اُن مصیبتوں سے نکالنا ان میں سے کسی کے بس کی بات نہیں! اس لیے کہ ان میں سے کسی کو اُن مصیبتوں کا ادراک ہی نہیں! ادراک کیسے ہو! ادراک اُن حکمرانوں کو ہوتا ہے جنہیں قوم کے غم میں راتوں کو نیند نہیں آتی! جو بے لوث ہوتے ہیں۔ بے غرض ہوتے ہیں۔ جو اقربا پرور نہیں ہوتے۔ جو دوست نوازی (Cronyism) سے بچتے ہیں۔ جو مہاتیر کی طرح ہوتے ہیں۔ جو سنگاپور کے لی کی طرح ہوتے ہیں‘ جن کی نگاہیں دور تک دیکھتی ہیں۔ جو پچاس‘ سو سال آگے دیکھتے ہیں۔ لیڈر شپ قربانی مانگتی ہے۔ ہمیں قربانی دینے والا لیڈر قائداعظم کے بعد کوئی نہیں ملا۔ کیا جذبہ تھا اور کیا اعصاب تھے! جان لیوا مرض کو چھپا کر رکھا اور پہاڑ جیسی ثابت قدمی سے ایک ملک بنایا۔ ایک قوم پیدا کی! تاریخ میں قائداعظم محمد علی جناح کا مقام بلند ہے۔ وہ پورے قد کے ساتھ کھڑے ہیں! رہے مخالفین! تو شورش کاشمیری نے کہا تھا: شو...