ایک عبرتناک تصویر
کہنے کو یہ محض ایک تصویر ہے! محض ایک فوٹو گراف!! لیکن یہ تصویر ملک کی نامرادی‘ تیرہ بختی اور بدنصیبی کی تفصیل ہے۔ ایسی تفصیل جو کئی صفحوں پر نہیں‘ کئی داستانوں پر نہیں‘ کئی کتابوں پر مشتمل ہے۔ کتابیں بھی ایسی جو کئی جلدوں میں‘ کئی حصوں میں ہوں! اس شرمناک تصویر میں ایک نوجوان‘ جو ایک سیاسی پارٹی کا سربراہ ہے‘ ایک معروف‘ عمر رسیدہ‘ سیاستدان سے مصافحہ کر رہا ہے۔ یہاں تک تو سب اچھا ہے۔ مصافحہ کرنے پر کوئی پابندی ہے نہ یہ ایسا فعل ہے جس پر معترض ہوا جائے۔ بلکہ مصافحہ عالمی کلچر کا ایک جزو ہے۔ لاس اینجلس سے لے کر یورپ‘ ایشیا اور افریقہ سے ہوتے ہوئے ٹوکیو تک سب ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں۔ تاہم تصویر صرف مصافحے پر مشتمل نہیں‘ اس میں کچھ اور بھی ہے اور یہ ''کچھ اور‘‘ ہی ہے جو سب کچھ ہے۔ تصویر میں نوجوان سربراہ کے ہمراہ دو معمر سیاستدان ہیں۔ ایک کی عمر 74 برس ہے۔ وہ کھڑا ہے‘ ہاتھ اس طرح باندھ رکھے ہیں جیسے نماز میں قیام کے دوران باندھے جاتے ہیں۔ دوسرا سیاستدان 76 سال کا ہے۔ اس نے ہاتھ تو نہیں باندھے ہوئے...