حسینۂ عالم سے ایک ملاقات
بہت مشکل سے ملاقات کا وقت طے ہوا۔ اس لیے کہ اس حسینہ سے ملنا آسان نہ تھا۔ ایک تو حسن بے پناہ! رنگت جیسے مکھن میں سیندور ملا ہو! بال سنہری‘ نرم اور ریشمی‘ جن سے نکلتی ہوئی خوشبو قریب آنے والے کو بے سُدھ کر دے۔ چہرہ جاڑے کی دھوپ جیسا۔ دوسرے حسینہ کی مصروفیت! دنیا اس سے ملاقات کیلئے بے تاب اور قطار میں کھڑی ہوئی! کوئی برسوں سے اور کوئی مہینوں سے! جس محل میں وہ رہ رہی تھی اس کی وسعت اور طرزِ تعمیر کے کیا ہی کہنے!! کئی منزلہ عمارت! کئی کمرے‘ کئی حمام اور گاڑیوں کیلئے کئی اصطبل! غلام‘ حاجب‘ نقیب‘ چوبدار بے شمار! جس دن میری ملاقات طے تھی‘ میں صبح صبح حاضر ہو گیا۔ مگر مجھے بتایا گیا کہ حسینۂ عالم کی کچھ مصروفیات اچانک پیش آ گئیں اس لیے مجھے دس دن انتظار کرنا ہو گا۔ میں نے انتہائی بے بسی اور بے کسی سے عرض کیا کہ میں بہت دور سے آیا ہوں۔ اگر اپنے ملک واپس گیا اور پھر آیا تو اخراجات میری استطاعت سے باہر ہو جائیں گے۔ ملک میرا دور بھی بہت ہے۔ جنوبی ایشیا کا آخری کنارا! دلکش چہرے والی سیکرٹری مسکرائی۔ پھر اس نے بتایا کہ حسینۂ عالم کے احکام یہ ہیں کہ جو...