لائبریریاں یا پروٹوکول؟؟
عارف صادق پرانے دوست ہیں۔ ایک مدت سے سڈنی میں مقیم ہیں۔ آسٹریلیا کی سرکار میں اچھے عہدے پر کام کرتے رہے۔ گپ شپ کے دوران انہوں نے ایک بار قصہ سنایا کہ ان کے محکمے کے وزیر ان کے دفتر کے معائنے کیلئے تشریف لائے۔ وزیر صاحب اپنی گاڑی خود ہی چلا کر آئے۔ نیچے پارکنگ میں ان کے استقبال کیلئے بندہ بشر کوئی بھی نہ تھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئے۔ دروازہ کھولا اور عارف صادق صاحب کے دفتر میں آ گئے۔ کوئی ماتحت‘ کوئی معاون‘ کوئی سیکرٹری‘ کوئی چپڑاسی ہمراہ نہ تھا۔ دفتر میں بیٹھ کر جو بھی معاملات طے کرنے تھے‘ کیے۔ جو امور ایجنڈے پر تھے‘ ان پر بات چیت کی۔ کام ختم ہوا تو اٹھے‘ ہاتھ ملایا اور رخصت ہو گئے۔ وزیر صاحب اور عارف صادق صاحب کو فی الحال ان کے حال پر چھوڑتے ہیں۔ ذرا لائبریریوں کی بات کرتے ہیں۔ جیلانگ آسٹریلیا کا چھوٹا سا شہر ہے۔ اس کی ایک لائبریری میں جانا ہوا۔ پانچ منٹ میں ممبر شپ کارڈ بن گیا۔ لائبریرین نے بتایا کہ جیلانگ میں 19 لائبریریاں ہیں‘ آپ یہ کارڈ کسی بھی لائبریری میں استعمال کر سکتے ہیں۔ کسی ایک لائبریری سے لی ہوئی کتابیں کسی بھی دوسری لائبریری...