قانون اور چہیتے Gogetter
مجھے عزیز ِ گرامی رؤف کلاسرا سے اختلاف ہے! انہوں نے ایک سابق وزیراعظم کا ذکر کیا ہے جنہوں نے چین کے دورے میں ایک پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ انہیں ایسے سینئر افسران نہیں چاہئیں جو ہر بات پر قانون سمجھانے بیٹھ جائیں بلکہ انہیں ایسے نوجوان افسران درکار ہیں جو Go Getters ہوں۔ کلاسرا نے‘ جو اس پریس کانفرنس میں موجود تھے‘ قانون شکنی کے اس مائنڈ سیٹ اور اس رجحان کی مذمت کی ہے۔ کلاسرا ان پاکستانیوں میں سے ہیں جو قانون پر عمل درآمد چاہتے ہیں اور قانون کی حرمت کی بات کرتے ہیں! اسی بات سے تو مجھے اختلاف ہے۔ سابق وزیراعظم قانون‘ ضابطے‘ رُول‘ ریگولیشن کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔ یقین جانیے مجھے ٹریفک کی سرخ بتی سے نفرت ہے۔ سڑک کے بائیں طرف گاڑی چلانا مجھے ہرگز پسند نہیں۔ آخر ٹرینیں اور جہاز وقت ہی پر کیوں روانہ ہوں؟ جب بھی سابق وزیراعظم اور مجھ جیسا انارکسٹ بلکہ Nihilist حکم دے تو ٹرینیں چل پڑیں‘ جہاز لینڈ کریں‘ بازار بند ہو جائیں‘ سکول اتوار کو کھلیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ختم ہو جائیں۔ پنجابی میں کہتے ہیں: عقل نہ ہوو...