اشاعتیں

کالم

سیالکوٹ یونیورسٹی برائے خواتین اور خواجہ صاحب

آخر خواجہ محمد آصف صاحب کا قصور کیا ہے؟ ڈاکا تو نہیں ڈالا‘ چوری تو نہیں کی ہے! خدا کے بندو! خواجہ صاحب نے صرف اتنا ہی کہا ہے نا کہ سیالکوٹ میں جس 200 ایکڑ زمین پر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی برائے خواتین قائم ہے اس میں سے 140 ایکڑ زمین یونیورسٹی سے لے لی جائے گی تو اس میں برائی ہی کیا ہے۔ خواجہ آصف صاحب کا تعلق سیالکوٹ ہی سے ہے۔ وہ سیالکوٹ کے پانی‘ سیالکوٹ کی دھوپ اور سیالکوٹ کی چاندنی ہی میں پلے بڑھے ہیں۔ وہ اپنی جنم بھومی سے‘ اپنی مٹی سے بے وفائی کیسے کر سکتے ہیں؟ اگر وہ یونیورسٹی سے اس کی 70 فیصد زمین لے لینا چاہتے ہیں تو اس میں سیالکوٹ اور اہلِ سیالکوٹ کا فائدہ ہی تو ہو گا۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ خواتین یونیورسٹی سے زمین کس مقصد کیلئے لی جا رہی ہے؟ یہ مقصد نیک ہے یا برا؟ تو یہ مقصد بھی محترم خواجہ صاحب نے بتا دیا ہے۔ سیالکوٹ کی واحد یونیورسٹی برائے خواتین کی 70 فیصد زمین اس لیے لی جا رہی ہے کہ اس پر عدالتیں‘ پولیس لائنز اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر بنائے جائیں۔ کیا اعتراض کرنے والے خواجہ صاحب کو بچہ سمجھ رہے ہیں؟ خواجہ صاحب ایک جہاندیدہ‘ باراں دیدہ‘ سرد و گر...

بحث نہ کرنے کے طریقے

چچا اور سگے بھتیجے میں بول چال بند ہے۔ دونوں مخالف سیاسی جماعتوں کے حامی ہیں۔ دونوں میں بحث ہوئی‘ لہجے تلخ ہونے لگ گئے۔ دونوں نے ایک دوسرے کے لیڈروں کو برا بھلا کہا۔ بھتیجا گستاخی پر اتر آیا۔ دونوں کی بول چال بند ہو گئی۔ دو سگی بہنیں مختلف مسلکوں کی پیروکار ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کرنے لگیں۔ بات بحث سے بڑھ کر جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔ پھر دونوں نے ایک دوسرے کو کافر کہا اور تعلقات ختم ہو گئے۔ دو پرانے دوست اس لیے دشمن بن گئے کہ ایک کہتا تھا رمضان کے چاند کو آنکھ سے دیکھنا لازم ہے‘ دوسرا کیلنڈر کی بات کرتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو قائل کرتے رہے‘ پھر ایک دوسرے کا تمسخر اڑانے لگے‘ پھر دشنام طرازی کی نوبت آ گئی اور آخری مرحلے میں دوستی عداوت میں تبدیل ہو گئی۔ بحث ہم پاکستانیوں کی پسندیدہ سرگرمی ہے۔ شادی بیاہ کا اجتماع ہو‘ کوئی افسوس کی محفل ہو‘ کہیں لنچ یا ڈنر کیلئے احباب اکٹھے ہوں‘ جو بھی موقع ہو‘ بحث ضرور ہو گی۔ خواہ سیاسی ہو یا مسلکی! انجام بحث کا دہانوں سے نکلتی جھاگ پر ہوتا ہے۔ بیرونِ ملک آباد پاکستانیوں کا بھی یہی حال ...

انڈا کس طرف سے توڑا جائے؟

جوناتھن سویفٹ (Jonathan Swift) 1667ء میں ڈبلن (آئر لینڈ) میں پیدا ہوا۔ تصانیف تو اس کی اور بھی ہیں مگر ایک ناول اس نے ایسا لکھا جس نے اسے شہرتِ دوام بخشی! اس ناول کا عنوان ہے Gulliver's Travels۔ یہ ایک علامتی کہانی ہے۔ سمندری سفر کے درمیان وہ ایک ایسے جزیرے میں جا پہنچتا ہے جہاں کے باشندے چھ انچ سے بھی کم قد کے مالک ہیں۔ یہ لوگ چھوٹی چھوٹی‘ بے معنی باتوں پر جھگڑتے ہیں۔ مثلاً اس بات پر کہ انڈا کس طرف سے توڑا جائے۔ اصل میں مصنف اُس زمانے کے برطانیہ پر طنز کر رہا تھا جہاں فضول باتوں پر مذہبی اور سیاسی جھگڑے ہوتے تھے۔ آج کل سوشل میڈیا پر جو کہرام برپا ہے وہ بھی ایسی ہی باتوں پر ہے۔ ہمارے پاس بھی کوئی جوناتھن سویفٹ ہوتا تو ایک لازوال ناول تخلیق کر دیتا۔ آدھی قوم اس غم میں بے حال ہو رہی ہے کہ شادی طمطراق سے ہوئی۔ کیوں ہوئی؟ بقیہ آدھی قوم اس طمطراق کا‘ اس تزک و احتشام کا‘ اس اسراف و تبذیر کا دفاع کر رہی ہے۔ دونوں فریق گتھم گتھا ہو رہے ہیں۔ گلوں کی رگیں سرخ ہو رہی ہیں۔ دہانوں سے جھاگ نکل رہی ہے۔ ایک دوسرے کے بزرگوں کے بارے میں نازیبا کلمات کہے جا رہے ہیں۔ کہیں صفحے کال...

اکادمی ادبیات کا انقلابی اقدام

یہ چھ بچیاں تھیں اور چودہ بچے! چلئے یوں کہہ لیتے ہیں کہ چھ خواتین تھیں اور چودہ حضرات!! یہ ملک کے اطراف و اکناف سے آئے تھے۔ ان کے رنگ مختلف تھے۔ زبانیں اپنی اپنی تھیں۔ سیاسی نظریات الگ الگ تھے۔ مگر تین چیزیں سب میں مشترک تھیں! پہلی یہ کہ سب پاکستانی تھے۔ دوسری یہ کہ سب لٹریچر سے وابستہ تھے۔ تیسری یہ کہ سب اردو بولتے تھے۔ پاکستان اکادمی ادبیات (پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز) کے جتنے بھی سربراہ آئے‘ سب نے اپنی طرف سے کوشش کی کہ ادب اور ادیبوں کی بہتری کیلئے کام کریں۔ سب کا اپنا اپنا طریقِ کار تھا۔ اپنی اپنی اپروچ تھی اور اپنی اپنی حکمت عملی تھی۔ پہلے سے جو کچھ موجود تھا‘ ہر ایک نے اس میں مثبت اضافہ ہی کیا۔ تاہم موجودہ سربراہ‘ ڈکٹر نجیبہ عارف نے ایک بالکل نئی جہت متعارف کرائی اور ایک ایسا کام کیا جو پہلے نہیں ہوا تھا۔ یہاں یہ عرض کرنا لازم ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ سے رشتہ داری ہے نہ ان سے کوئی کام نہ غرض! اکادمی ادبیات میں جانا بھی صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی تقریب کیلئے خصوصی دعوت دی گئی ہو۔ یہاں تو طارق نعیم کا شعر ہی اس لیے پسند ہے کہ مزاج پر صادق آتا ہے: یوں ہی تو کُنجِ قنا...

مستقبل کا وفاقی دارالحکومت

سیاحت کے دوران مسافر کا گزر ایک عجیب و غریب شہر سے ہوا! اس شہر میں محلات تھے۔ صاف ستھری شاہراہیں تھیں! خریداروں سے چھلکتے بازار تھے۔ فلک بوس پلازے تھے۔ ریستوران تھے۔ دفاتر تھے۔ تعلیمی ادارے تھے۔ دوسرے ملکوں کے سفارت خانے تھے‘ مگر پورے شہر میں درخت ایک بھی نہ تھا۔ کوئی پودا نظر نہیں آرہا تھا۔ کہیں کوئی پھول تھا نہ پتّا! یہاں تک کہ زمین کے کسی ٹکڑے پر گھاس بھی نہ تھی۔ روئیدگی کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ مسافر نے ایک نوجوان شہری سے پوچھا کہ تمہارے شہر میں درخت کیوں نہیں؟ اس نے حیرت سے کہا: درخت کیا ہوتا ہے؟ اس نے شاید پیدائش کے بعد درخت دیکھا ہی نہیں تھا۔ اس پر مسافر کو ایک اور واقعہ یاد آگیا۔ اسے ایک اور شہر میں ایسی بارش سے واسطہ پڑا تھا جو ہفتوں سے جاری تھی اور تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ مسافر نے ایک لڑکے سے پوچھا کیا یہاں بارش رکتی بھی ہے؟ لڑکے نے جواب دیا: مجھے کیا معلوم! میں تو ابھی صرف آٹھ سال کا ہوں! مسافر پریشان تھا۔ کئی ملکوں اور کئی براعظموں کی سیاحت کے دوران اسے پہلی بار ایسے شہر سے واسطہ پڑا تھا جو آباد تھا مگر بنجر تھا۔ کہیں کوئی گھاس تھی نہ درخت۔ یہاں تک کہ کوئی ...

سب سے بڑی حقیقت

گُل رُخ کی زندگی صرف ایک سبق سکھاتی ہے! صرف ایک سبق!! یہ کہ مقدر زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے! آپ اعتراض کر سکتے ہیں کہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت تو موت ہے! لیکن موت اور مقدر میں فرق ہے۔ موت ایک ہی بار وار کرتی ہے! فیصلہ کن وار!! مگر مقدر کئی جھٹکوں کا مجموعہ ہے! جھٹکے! بلندی پر لے جانے والے جھٹکے! جھٹکے! کھائی میں گرا دینے والے جھٹکے! تھوڑی بہت تشبیہ اگر مقدر کی کسی شے سے دی جا سکتی ہے تو وہ رولر کوسٹر ہے! گُل رخ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ چھوٹی ہونے کی وجہ سے لاڈلی بھی بہت تھی۔ خاندان میں سب اس کے ناز اٹھاتے تھے۔ شادی ایک متمول گھرانے میں ہوئی۔ لڑکے کا کاروبار دبئی میں تھا! زیورات اور جواہرات کا کاروبار! زیور بنانے والی مشینیں بھی کاروبار میں شامل تھیں! خوشحالی سی خوشحالی تھی! گل رخ اور اس کا میاں ہنی مون کے لیے ہسپانیہ‘ سوئٹزرلینڈ اور اٹلی گئے۔ پھر گُل رخ کی فرمائش پر آبائی قصبے میں میاں نے ایک فراخ اور خوبصورت گھر تعمیر کرایا! قدرت نے بچوں کی نعمت سے نوازا! ایک آئیڈیل زندگی تھی! مثالی زندگی! کبھی پاکستان میں‘ کبھی دبئی میں! پھر اچانک مقدر نے کریہہ المنظر عفری...

پی آئی اے۔ جان بچی سو لاکھوں پائے

پھر وہی ہم پاکستانی عوام اور وہی کئی بار کی سنی سنائی کہانی! جس میں ایک بابا ہوتا ہے‘ ایک اس کا پوتا اور ایک کھوتا! ابنِ انشا نے بچوں کیلئے کمال کی نظمیں کہی ہیں! ایک نظم میں کھوتا لفظ استعمال کر کے نیچے حاشیے میں لکھتے ہیں کہ کھوتا پنجابی کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب کسی پنجابی سے پوچھ لیجیے۔ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میں پنجابی ہوں اس لیے بتائے دیتا ہوں کہ کھوتا گدھے کو کہتے ہیں! کہانی میں دادا پوتا دونوں گدھے پر سوار ہوتے ہیں تو لوگ گدھے سے ہمدردی کرتے ہوئے دونوں کو ظالم کہتے ہیں۔ صرف دادا سوار ہوتا ہے تو لوگ پوتے سے ہمدردی کرتے ہیں۔ پوتا سوار ہوتا ہے تو پوتے کو سفاک کہتے ہیں کہ بوڑھے دادا کو پیدل چلا رہا ہے۔ تنگ آکر دادا پوتا گدھے کو اٹھا لیتے ہیں! اب انہیں بے وقوف کا خطاب ملتا ہے۔ پوری قوم بال کھول کر‘ پٹکے سے کمر باندھ کر‘ سینہ کوبی کر رہی تھی کہ قومی ایئر لائن سفید ہاتھی ہے‘ ہر روز کروڑوں کی امداد دینا پڑتی ہے‘ عوام کی خون پسینے کی کمائی اس بانجھ گائے پر خرچ ہو رہی ہے۔ اسے بیچو‘ سر سے یہ بوجھ اتارو! سب حکومت کو بے نقط سناتے تھے کہ جان بوجھ کر نہیں بیچ ...

کیا حکومت آب پارہ کو پاکستان آنے کی دعوت دے گی؟

آصف محمود نے اچھا نہیں کیا۔ اس نے میرے اصلی‘ پرانے‘ گمشدہ اسلام آباد کو میرے سامنے لا کھڑا کیا۔ میرا دل رو رہا ہے۔ اٹھارہ برس کا تھا جب میں اپنے کنبے کے ساتھ درختوں اور پھولوں بھرے اسلام آباد میں منتقل ہوا۔ کیا شہر تھا یہ اُس وقت! بس یوں سمجھیے شہروں میں ایک شہر تھا۔ پارکوں اور باغوں سے لدا ہوا! خزاں میں درختوں کے پتے سرخ ہو کر شہر کو دلہن بنا دیتے تھے۔ اور بہار تو پھر بہار تھی! ایک ایک شاہراہ‘ ایک ایک پگڈنڈی اقبال کے ساقی نامے کے اس شعر کی تصویر بن جاتی تھی۔ گل و نرگس و سوسن و نسترن شہیدِ ازل لالہ خونیں کفن! شہر کا گرین ایریا آنکھوں کی بینائی بڑھاتا تھا۔ سڑکیں سلامتی کی ضامن تھیں۔ گرد تھی نہ دھواں! سرکاری مکان تھے۔ صاف ستھرے! دُھلے دُھلے سے! سائیکلیں زیادہ تھیں اور گاڑیاں کم! میں آب پارہ سے لے کر زیرو پوائنٹ تک اور واپس آب پارہ تک سیر کرتا تھا۔ کیا توانائی بخش سیر تھی! پھر حکمرانوں نے اس شہر کو بے آبرو کرنا شروع کر دیا۔ ایک کے بعد ایک حکمران ایسا آیا جو گرین ایریا کو نوچنے اور بھنبھوڑنے لگ گیا! آغاز ایک آمر نے کیا۔ غلط بخشیوں کی انتہا کر دی۔ پھر نام نہاد منت...

نئی صدی کی نئی چوتھائی

آج صرف نئے سال کا پہلا دن نہیں‘ صدی کی دوسری چوتھائی کا بھی پہلا دن ہے۔ نئی صدی کے 25 برس گزر گئے‘ پہلی چوتھائی ختم ہو گئی۔ دوسری چوتھائی شروع ہو رہی ہے۔ یہ ختم ہو گی تو نصف صدی گزر چکی ہو گی۔ سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم صدی کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں؟ یا جہاں تھے وہیں کھڑے ہیں؟ یا جہاں تھے وہاں سے بھی پیچھے چلے گئے؟ 80 سال گزر چکے جب لندن پر ہر رات بمباری ہوتی تھی۔ کوئی رات ایسی نہ تھی جب آگ اور لوہا نہ برسا ہو۔ موسمِ سرما اسی طرح کٹا۔ پھر خزاں آئی اور چلی گئی۔ بمباری جاری رہی۔ ایک روایت کی رُو سے 70 ہزار عمارتوں کی اینٹ سے اینٹ بجی۔ 42 ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہو گئے۔ قیامت سی قیامت تھی۔ آٹھ مہینے جرمن جہاز برطانوی فضاؤں میں دندناتے رہے۔ فرانس پہلے ہی کھیت ہو چکا تھا۔ اس عالم میں جب یاس چادر کی طرح انگریزی آسمان پر تن چکی تھی‘ دل ڈوب رہے تھے اور امید کے دیے تیز ہواؤں کے سامنے لرز رہے تھے‘ وزیراعظم چرچل نے پوچھا ''کیا برطانیہ کی عدالتیں کام کر رہی ہیں؟‘‘ اسے بتایا گیا کہ ہاں! عدالتیں کام کر رہی ہیں! چرچل نے کہا ''خدا کا ...

اقلیت؟ کون سی اقلیت؟؟

اشتہار۔ یورپ‘ امریکہ‘ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں خاکروبوں کی ضرورت ہے۔ درخواستیں دینے والے لازماً پاکستانی مسلمان ہوں۔ معاوضہ معقول دیا جائے گا۔ ضروری اعلان۔ آج سے امریکہ‘ یورپ‘ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کو بالعموم‘ اور پاکستانی مسلمانوں کو بالخصوص اقلیت کہا اور سمجھا جائے گا۔ فرض کیجیے‘ ایسا اشتہار واقعی نشر کر دیا جائے اور ایسا اعلان بھی حقیقت کا روپ دھار لے تو ہم کیسا محسوس کریں گے؟ ابھی تک تو ان ملکوں میں مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو دوسرے شہریوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن اگر پاکستانی مسلمانوں کو اقلیت قرار دے دیا جائے اور اس پر پاکستانی تارکینِ وطن اعتراض کریں تو آپ کا کیا خیال ہے ان ملکوں کی حکومتوں اور عوام کا کیا ردِ عمل ہو گا؟ یہ مسئلہ ہم اس لیے اُٹھا رہے ہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاکروب کی اسامیوں کے اشتہار میں ''صرف مسیحی‘‘ لکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ جسٹس انعام امین منہاس نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ اشتہار میں ''صرف کرسچین‘‘ لکھنے کے بجائے ''صرف ش...