اشاعتیں

کالم

فریاد! کہ ہم مارے گئے!

وحشت کے اس زمانے میں بھی ایک اچھی خبر مل گئی۔ مگر افسوس! ساتھ ہی ایک غمزدہ کرنے والی خبر بھی ہے۔ شاید یہ نظر بٹو ہے تاکہ نظر نہ لگے! اچھی خبر یہ ہے کہ ڈپٹی وزیراعظم جناب اسحاق ڈار کے فرزند ارجمند جناب علی مصطفی ڈار کو وزیراعلیٰ پنجاب کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جناب علی مصطفی ڈار صوبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال‘ ڈیجیٹل گورننس کے فروغ اور خصوصی ترقیاتی منصوبوں میں وزیراعلیٰ کو مشاورت فراہم کریں گے۔ ماشاء اللہ! حق بحقدار رسید!! شریف خاندان کا ایک خاص وصف مجھے اور ساری قوم کو بہت پسند ہے۔ وہ یہ کہ یہ خاندان میرٹ سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کرتا۔ ابھی حال ہی میں بڑے میاں صاحب کے ایک پرانے‘ وفادار ساتھی کا انتقال ہوا تو ان کے فرزند ارجمند کو بھی پنجاب حکومت کا مشیر لگایا گیا۔ افسوس کی بات ہے کہ اس وقت صرف پنجاب حکومت بڑے میاں صاحب کی میرٹ افزا فرمائشیں پوری کر نے میں لگی ہے۔ یہ ناانصافی ہے! میاں صاحب پورے ملک کے حکمرانِ اعلیٰ رہے ہیں۔ ایک بار نہیں‘ دو بار نہیں‘ تین بار! ان کا حق آج بھی پورے ملک پر ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ‘ کے...

پاکستان 2050ء

ایک زمانہ تھا کہ جب کوئی لشکر دشمن پر فتح پاتا تو وہ شہروں کو ملیا میٹ کرتا‘ آبادیوں کو تہس نہس کرتا‘ کھیتوں اور باغوں کو تاراج کرتا‘ تہذیبی آثار منہدم کرتا‘ ہر طرف بربادی پھیلاتا جاتا تھا۔ ہر زمانے میں‘ ہر قوم نے‘ ہر مذہب کے پیروکاروں نے فتح کے بعد یہی کچھ کیا۔ آپ کا کیا خیال ہے وہ زمانہ گزر گیا؟ کیا اب سرحدیں مکمل طور پر مؤثر ہیں؟ کیا اب اقوام متحدہ ملکوں اور قوموں کی حفاظت کرتی ہے؟ کیا آج کی جنگ محض ہوائی جہازوں سے لڑی جاتی ہے؟ کیا اپنے اپنے ملک کے اندر ہی سے دشمنوں پر حملے کیے جاتے ہیں؟ نہیں! ایسا نہیں! بالکل نہیں! مسئلہ یہ ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی غلط فہمی کا شکار ہیں! آپ سمجھ رہے ہیں کہ بربادی لانے والے لشکر صرف انسانوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بربادی لانے والے لشکر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو قدرت کی طرف سے آتے ہیں۔ سیلاب! طوفان! آندھیاں! گزشتہ قوموں پر خون‘ ٹڈیاں‘ جوئیں اور مینڈک برسائے گئے۔ یہ سب تاریخ کی باتیں ہیں یا صحیفوں کی۔ دوسرے تباہ کُن لشکر وہ ہیں جو معاشرے کے کچھ طاقتور اور بااختیار افراد تیار کرتے ہیں اور پھر عوام پر چ...

خود نوشت یا ہماری تاریخ کا ایک معتبر ورق!!!

''اُس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ کے چیف آف سٹاف نے اپنے ایک قریبی دوست کو بتایا کہ فیصلے سے چند روز پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کا فون آیا کہ وہ آرمی چیف سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ جنرل وحید کاکڑ ایک پروفیشنل سولجر تھے اور سیاست میں مداخلت کے خلاف تھے اس لیے انہوں نے ایک حساس فیصلے سے پہلے چیف جسٹس سے بات کرنے سے گریز کیا۔ فیصلے سے ایک دو روز پہلے جب چیف جسٹس کے بار بار فون آئے تو آرمی چیف نے اپنے سٹاف افسر سے کہا: چیف جسٹس سے پوچھ لیں کہ وہ کس سلسلے میں بات کرنا چاہتے ہیں؟ آرمی چیف کا یہ پیغام سننے کے بعد بھی شاہ صاحب نے عزتِ سادات بچانا مناسب نہ سمجھا اور دل کی بات کہہ دی کہ کل ہم نے حکومت کو بحال کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ سنانا ہے۔ اس سلسلے میں آرمی چیف صاحب کیا چاہتے ہیں؟ آرمی چیف نے یہ پیغام سن کر عدالت عظمیٰ کے سربراہ کو یہ پیغام بھیجا کہ ہم کیسوں میں دخل دینا پسند نہیں کرتے۔ آپ اپنی مرضی سے فیصلہ کریں‘‘۔ ہماری تاریخ کا یہ عبرتناک واقعہ معروف‘ نیک نام‘ ریٹائرڈ اعلیٰ پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ نے اپنی خود نوشت ''جہدِ مسلسل...

سیالکوٹ یونیورسٹی برائے خواتین اور خواجہ صاحب

آخر خواجہ محمد آصف صاحب کا قصور کیا ہے؟ ڈاکا تو نہیں ڈالا‘ چوری تو نہیں کی ہے! خدا کے بندو! خواجہ صاحب نے صرف اتنا ہی کہا ہے نا کہ سیالکوٹ میں جس 200 ایکڑ زمین پر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی برائے خواتین قائم ہے اس میں سے 140 ایکڑ زمین یونیورسٹی سے لے لی جائے گی تو اس میں برائی ہی کیا ہے۔ خواجہ آصف صاحب کا تعلق سیالکوٹ ہی سے ہے۔ وہ سیالکوٹ کے پانی‘ سیالکوٹ کی دھوپ اور سیالکوٹ کی چاندنی ہی میں پلے بڑھے ہیں۔ وہ اپنی جنم بھومی سے‘ اپنی مٹی سے بے وفائی کیسے کر سکتے ہیں؟ اگر وہ یونیورسٹی سے اس کی 70 فیصد زمین لے لینا چاہتے ہیں تو اس میں سیالکوٹ اور اہلِ سیالکوٹ کا فائدہ ہی تو ہو گا۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ خواتین یونیورسٹی سے زمین کس مقصد کیلئے لی جا رہی ہے؟ یہ مقصد نیک ہے یا برا؟ تو یہ مقصد بھی محترم خواجہ صاحب نے بتا دیا ہے۔ سیالکوٹ کی واحد یونیورسٹی برائے خواتین کی 70 فیصد زمین اس لیے لی جا رہی ہے کہ اس پر عدالتیں‘ پولیس لائنز اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر بنائے جائیں۔ کیا اعتراض کرنے والے خواجہ صاحب کو بچہ سمجھ رہے ہیں؟ خواجہ صاحب ایک جہاندیدہ‘ باراں دیدہ‘ سرد و گر...

بحث نہ کرنے کے طریقے

چچا اور سگے بھتیجے میں بول چال بند ہے۔ دونوں مخالف سیاسی جماعتوں کے حامی ہیں۔ دونوں میں بحث ہوئی‘ لہجے تلخ ہونے لگ گئے۔ دونوں نے ایک دوسرے کے لیڈروں کو برا بھلا کہا۔ بھتیجا گستاخی پر اتر آیا۔ دونوں کی بول چال بند ہو گئی۔ دو سگی بہنیں مختلف مسلکوں کی پیروکار ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کرنے لگیں۔ بات بحث سے بڑھ کر جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔ پھر دونوں نے ایک دوسرے کو کافر کہا اور تعلقات ختم ہو گئے۔ دو پرانے دوست اس لیے دشمن بن گئے کہ ایک کہتا تھا رمضان کے چاند کو آنکھ سے دیکھنا لازم ہے‘ دوسرا کیلنڈر کی بات کرتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو قائل کرتے رہے‘ پھر ایک دوسرے کا تمسخر اڑانے لگے‘ پھر دشنام طرازی کی نوبت آ گئی اور آخری مرحلے میں دوستی عداوت میں تبدیل ہو گئی۔ بحث ہم پاکستانیوں کی پسندیدہ سرگرمی ہے۔ شادی بیاہ کا اجتماع ہو‘ کوئی افسوس کی محفل ہو‘ کہیں لنچ یا ڈنر کیلئے احباب اکٹھے ہوں‘ جو بھی موقع ہو‘ بحث ضرور ہو گی۔ خواہ سیاسی ہو یا مسلکی! انجام بحث کا دہانوں سے نکلتی جھاگ پر ہوتا ہے۔ بیرونِ ملک آباد پاکستانیوں کا بھی یہی حال ...

انڈا کس طرف سے توڑا جائے؟

جوناتھن سویفٹ (Jonathan Swift) 1667ء میں ڈبلن (آئر لینڈ) میں پیدا ہوا۔ تصانیف تو اس کی اور بھی ہیں مگر ایک ناول اس نے ایسا لکھا جس نے اسے شہرتِ دوام بخشی! اس ناول کا عنوان ہے Gulliver's Travels۔ یہ ایک علامتی کہانی ہے۔ سمندری سفر کے درمیان وہ ایک ایسے جزیرے میں جا پہنچتا ہے جہاں کے باشندے چھ انچ سے بھی کم قد کے مالک ہیں۔ یہ لوگ چھوٹی چھوٹی‘ بے معنی باتوں پر جھگڑتے ہیں۔ مثلاً اس بات پر کہ انڈا کس طرف سے توڑا جائے۔ اصل میں مصنف اُس زمانے کے برطانیہ پر طنز کر رہا تھا جہاں فضول باتوں پر مذہبی اور سیاسی جھگڑے ہوتے تھے۔ آج کل سوشل میڈیا پر جو کہرام برپا ہے وہ بھی ایسی ہی باتوں پر ہے۔ ہمارے پاس بھی کوئی جوناتھن سویفٹ ہوتا تو ایک لازوال ناول تخلیق کر دیتا۔ آدھی قوم اس غم میں بے حال ہو رہی ہے کہ شادی طمطراق سے ہوئی۔ کیوں ہوئی؟ بقیہ آدھی قوم اس طمطراق کا‘ اس تزک و احتشام کا‘ اس اسراف و تبذیر کا دفاع کر رہی ہے۔ دونوں فریق گتھم گتھا ہو رہے ہیں۔ گلوں کی رگیں سرخ ہو رہی ہیں۔ دہانوں سے جھاگ نکل رہی ہے۔ ایک دوسرے کے بزرگوں کے بارے میں نازیبا کلمات کہے جا رہے ہیں۔ کہیں صفحے کال...

اکادمی ادبیات کا انقلابی اقدام

یہ چھ بچیاں تھیں اور چودہ بچے! چلئے یوں کہہ لیتے ہیں کہ چھ خواتین تھیں اور چودہ حضرات!! یہ ملک کے اطراف و اکناف سے آئے تھے۔ ان کے رنگ مختلف تھے۔ زبانیں اپنی اپنی تھیں۔ سیاسی نظریات الگ الگ تھے۔ مگر تین چیزیں سب میں مشترک تھیں! پہلی یہ کہ سب پاکستانی تھے۔ دوسری یہ کہ سب لٹریچر سے وابستہ تھے۔ تیسری یہ کہ سب اردو بولتے تھے۔ پاکستان اکادمی ادبیات (پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز) کے جتنے بھی سربراہ آئے‘ سب نے اپنی طرف سے کوشش کی کہ ادب اور ادیبوں کی بہتری کیلئے کام کریں۔ سب کا اپنا اپنا طریقِ کار تھا۔ اپنی اپنی اپروچ تھی اور اپنی اپنی حکمت عملی تھی۔ پہلے سے جو کچھ موجود تھا‘ ہر ایک نے اس میں مثبت اضافہ ہی کیا۔ تاہم موجودہ سربراہ‘ ڈکٹر نجیبہ عارف نے ایک بالکل نئی جہت متعارف کرائی اور ایک ایسا کام کیا جو پہلے نہیں ہوا تھا۔ یہاں یہ عرض کرنا لازم ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ سے رشتہ داری ہے نہ ان سے کوئی کام نہ غرض! اکادمی ادبیات میں جانا بھی صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی تقریب کیلئے خصوصی دعوت دی گئی ہو۔ یہاں تو طارق نعیم کا شعر ہی اس لیے پسند ہے کہ مزاج پر صادق آتا ہے: یوں ہی تو کُنجِ قنا...

مستقبل کا وفاقی دارالحکومت

سیاحت کے دوران مسافر کا گزر ایک عجیب و غریب شہر سے ہوا! اس شہر میں محلات تھے۔ صاف ستھری شاہراہیں تھیں! خریداروں سے چھلکتے بازار تھے۔ فلک بوس پلازے تھے۔ ریستوران تھے۔ دفاتر تھے۔ تعلیمی ادارے تھے۔ دوسرے ملکوں کے سفارت خانے تھے‘ مگر پورے شہر میں درخت ایک بھی نہ تھا۔ کوئی پودا نظر نہیں آرہا تھا۔ کہیں کوئی پھول تھا نہ پتّا! یہاں تک کہ زمین کے کسی ٹکڑے پر گھاس بھی نہ تھی۔ روئیدگی کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ مسافر نے ایک نوجوان شہری سے پوچھا کہ تمہارے شہر میں درخت کیوں نہیں؟ اس نے حیرت سے کہا: درخت کیا ہوتا ہے؟ اس نے شاید پیدائش کے بعد درخت دیکھا ہی نہیں تھا۔ اس پر مسافر کو ایک اور واقعہ یاد آگیا۔ اسے ایک اور شہر میں ایسی بارش سے واسطہ پڑا تھا جو ہفتوں سے جاری تھی اور تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ مسافر نے ایک لڑکے سے پوچھا کیا یہاں بارش رکتی بھی ہے؟ لڑکے نے جواب دیا: مجھے کیا معلوم! میں تو ابھی صرف آٹھ سال کا ہوں! مسافر پریشان تھا۔ کئی ملکوں اور کئی براعظموں کی سیاحت کے دوران اسے پہلی بار ایسے شہر سے واسطہ پڑا تھا جو آباد تھا مگر بنجر تھا۔ کہیں کوئی گھاس تھی نہ درخت۔ یہاں تک کہ کوئی ...

سب سے بڑی حقیقت

گُل رُخ کی زندگی صرف ایک سبق سکھاتی ہے! صرف ایک سبق!! یہ کہ مقدر زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے! آپ اعتراض کر سکتے ہیں کہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت تو موت ہے! لیکن موت اور مقدر میں فرق ہے۔ موت ایک ہی بار وار کرتی ہے! فیصلہ کن وار!! مگر مقدر کئی جھٹکوں کا مجموعہ ہے! جھٹکے! بلندی پر لے جانے والے جھٹکے! جھٹکے! کھائی میں گرا دینے والے جھٹکے! تھوڑی بہت تشبیہ اگر مقدر کی کسی شے سے دی جا سکتی ہے تو وہ رولر کوسٹر ہے! گُل رخ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ چھوٹی ہونے کی وجہ سے لاڈلی بھی بہت تھی۔ خاندان میں سب اس کے ناز اٹھاتے تھے۔ شادی ایک متمول گھرانے میں ہوئی۔ لڑکے کا کاروبار دبئی میں تھا! زیورات اور جواہرات کا کاروبار! زیور بنانے والی مشینیں بھی کاروبار میں شامل تھیں! خوشحالی سی خوشحالی تھی! گل رخ اور اس کا میاں ہنی مون کے لیے ہسپانیہ‘ سوئٹزرلینڈ اور اٹلی گئے۔ پھر گُل رخ کی فرمائش پر آبائی قصبے میں میاں نے ایک فراخ اور خوبصورت گھر تعمیر کرایا! قدرت نے بچوں کی نعمت سے نوازا! ایک آئیڈیل زندگی تھی! مثالی زندگی! کبھی پاکستان میں‘ کبھی دبئی میں! پھر اچانک مقدر نے کریہہ المنظر عفری...

پی آئی اے۔ جان بچی سو لاکھوں پائے

پھر وہی ہم پاکستانی عوام اور وہی کئی بار کی سنی سنائی کہانی! جس میں ایک بابا ہوتا ہے‘ ایک اس کا پوتا اور ایک کھوتا! ابنِ انشا نے بچوں کیلئے کمال کی نظمیں کہی ہیں! ایک نظم میں کھوتا لفظ استعمال کر کے نیچے حاشیے میں لکھتے ہیں کہ کھوتا پنجابی کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب کسی پنجابی سے پوچھ لیجیے۔ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میں پنجابی ہوں اس لیے بتائے دیتا ہوں کہ کھوتا گدھے کو کہتے ہیں! کہانی میں دادا پوتا دونوں گدھے پر سوار ہوتے ہیں تو لوگ گدھے سے ہمدردی کرتے ہوئے دونوں کو ظالم کہتے ہیں۔ صرف دادا سوار ہوتا ہے تو لوگ پوتے سے ہمدردی کرتے ہیں۔ پوتا سوار ہوتا ہے تو پوتے کو سفاک کہتے ہیں کہ بوڑھے دادا کو پیدل چلا رہا ہے۔ تنگ آکر دادا پوتا گدھے کو اٹھا لیتے ہیں! اب انہیں بے وقوف کا خطاب ملتا ہے۔ پوری قوم بال کھول کر‘ پٹکے سے کمر باندھ کر‘ سینہ کوبی کر رہی تھی کہ قومی ایئر لائن سفید ہاتھی ہے‘ ہر روز کروڑوں کی امداد دینا پڑتی ہے‘ عوام کی خون پسینے کی کمائی اس بانجھ گائے پر خرچ ہو رہی ہے۔ اسے بیچو‘ سر سے یہ بوجھ اتارو! سب حکومت کو بے نقط سناتے تھے کہ جان بوجھ کر نہیں بیچ ...