مکھڈی حلوہ اور صدر ٹرمپ کی صاف گوئی
آج کل میں جہاں رہ رہا ہوں‘ وہ جگہ اُس مشہور ہوٹل سے بہت قریب ہے جہاں حساس نوعیت کے مذاکرات ہوتے رہے اور جہاں غیرملکی مہمان قیام پذیر رہے۔ اسی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کے اندرونی راستے بھی بند رہے۔ اسی ضمن میں صدر ٹرمپ کی بھی آمد آمد تھی۔ میں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ کچھ ذمہ داری ہماری بھی ہے۔ انہوں نے سوالیہ آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا کہ ہم ہوٹل کے نزدیک رہتے ہیں۔ یعنی صدر ٹرمپ آئیں گے تو ہمارے پڑوسی ہوں گے۔ ہمیں ان کی دعوت کرنی چاہیے۔اس پر اہلیہ نے فوراً یاد دلایا کہ کچھ دن پہلے انہوں نے دوست خواتین کی دعوت کی تھی تو میں نے کہا تھا کہ گرانی ہوشربا ہو چکی ہے اس لیے ان آئے روز کی دعوتوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اس پر بیگم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ ٹھیک ہے پھر آپ کے سابق‘ فائل زدہ رفقائے کار اور نیم بے ہوش شاعر دوست بھی نہیں آئیں گے جو مسلسل نازل ہوتے رہتے ہیں اور اٹھنے کا نام نہیں لیتے۔ اب بھی بیگم نے اسی حکم نامے بلکہ معاہدے کا ذکر کیا مگر میں نے انہیں سمجھایا کہ یہ قومی معاملہ ہے اور ملک کی عزت کا سوال ہے۔ صدر ٹرمپ پڑوس میں آکر رہیں اور ہم انہیں کھانے پر...