اشاعتیں

کالم

یورپی سمندروں میں ڈوبتے پاکستانی

ایک چراغ ہے جو شہر میں جل رہا ہے۔ روشنی بکھیر رہا ہے۔ اور وہ ہے آپا کشور ناہید کا وجود! جب بھی آپا کے دفتر میں جاتا ہوں دو چیزیں ضرور ملتی ہیں۔ عمدہ چائے اور ان کی شاعری کا تازہ مجموعہ!! علالت اور ضُعف کے باوجود ہر روز اپنی بوطیق میں ضرور آتی ہیں۔ ملاقاتیوں کیلئے یہ جگہ‘ ان کے گھر کی نسبت‘ آسان ہے۔ یہیں ان کے فین بھی آتے ہیں۔ ان کی تخلیقات پر کام کرنے والے طلبہ اور طالبات بھی اور ان کے دوست بھی! مجھ جیسے نیازمند بھی! سوچتا ہوں عمر کے جس حصے میں مَیں ہوں‘ مجھے تم کہہ کر مخاطب کرنے والے‘ ڈانٹنے والے کتنے رہ گئے ہیں!! ظفر اقبال صاحب کو فون کروں تو بسم اللہ کہہ کر جواب دیتے ہیں۔ دادی جان یاد آ جاتی ہیں۔ جب بھی گاؤں‘ گھر میں داخل ہوتے تھے‘ بسم اللہ بسم اللہ کہنا شروع کر دیتی تھیں۔ آپا کے دفتر میں جیسے ہی قدم رکھتا ہوں‘ کہتی ہیں ''تم نے تو پچھلے ہفتے آنا تھا‘ کہاں رہ گئے تھے؟‘‘۔ کھانے کا وقت ہو تو کھانے میں شریک کر تی ہیں۔ اب ان میں وہ ہمت نہیں رہی ورنہ اس شہر میں جتنی ضیافتیں ہم نے ان کی قیام گاہ پر اڑائی ہیں اور کہ...

ماچس، بزرگ اور کان

''اسلام آ باد (نیو ز ر پورٹر) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہفتہ کے روز رائیونڈ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی‘ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی موجود تھے‘ چاروں شخصیات نے ملاقات میں ملک کی مجموعی اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا‘‘۔ خبر آپ نے پڑھی۔ یقینا آپ بھی میری طرح الحمدللہ کہیں گے۔ اس لیے کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ چار بڑے جو ملک چلانے کے ذمہ دار ہیں‘ اپنے فرائض سے غافل نہیں۔ ہم عوام‘ گھوڑے بیچ کر سو سکتے ہیں۔ چاروں بڑوں میں مکمل اتحاد اور فکری ہم آہنگی ہے۔ اختلاف کا امکان ہے نہ گنجائش۔ یہ چاروں بڑے نہ صرف ایک ہی صوبے سے ہیں‘ نہ صرف ایک ہی شہر سے ہیں‘بلکہ ایک ہی خاندان سے ہیں۔ یہی وہ عامل ہے جو عوام کے دلوں کو تقویت پہنچاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب ملک پر ایک ہی خاندان کی حکومت ہو‘ اور حکومت کی کریم باپ بیٹی پر‘ بھائی بھائی پر‘ چچا بھتیجی پر اور سمدھی سمدھی پر مشتمل ہو تو یگانگت ملک ...

اللہ بس باقی ہوس

''میرے پاس وڈیوز آئیں۔ سوال کیا جا رہا ہے کہ ہم نے یعنی بھارتی پنجاب نے گیارہ سو کروڑ کا تھرمل پلانٹ خریدا۔ پاکستانی پنجاب کی مکھ منتری نے گیارہ سو کروڑ کا جہاز لیا۔ تو پھر فائدہ کس کو ہوا؟‘‘۔ یہ انتہائی احمقانہ سوال بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب بھگونت مان کا ہے۔ جواب بچے کو بھی معلوم ہے کہ فائدہ پاکستانی پنجاب کی مکھ منتری کو ہوا۔ عوام کو ترجیح دینا‘ دیانتداری‘ پبلک کی فلاح و بہبود‘ یہ سب کتابی باتیں ہیں۔ ہاں! کسی زمانے میں یہ درست تھا مگر اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب گیدڑ کی سو سالہ زندگی شیر کی ایک دن کی زندگی سے کئی گنا بہتر ہے۔ اب اصول اسے کہتے ہیں جس سے کچھ وصول ہو۔ عقل مندی اسی میں ہے کہ اقتدار اور اختیار ملے تو پہلے اپنے ذاتی آرام و آسائش کا خیال رکھو۔ پھر اپنے پیاروں کا۔ پھر خاندان بھر کا۔ اس کے بعد بھی قدرت موقع دیے رکھے اور رسی دراز رہے تو اپنے قبیلے‘ ذات برادری کا۔ عوام کی باری اس کے بعد آتی ہے۔ یہ بھارتی پنجاب کے مکھ منتری مجھے مکمل غیرعقل مند لگ رہے ہیں۔ ان کی حرکت دیکھیے کہ مکھ منتری بنتے ہی وی آئی پی کلچر پر حملہ کر دیا۔ 122س...

سیکرٹری داخلہ سے چیئرمین سی ڈی اے تک

یہ کہانی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے متعلق ہے۔ اس دردناک‘ عبرتناک‘ مضحکہ خیز اور حیران کن حقیقی کہانی سے آپ آسانی کے ساتھ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ریاست کہاں کھڑی ہے! کس طرف جا رہی ہے اور نوشتۂ دیوار کیا ہے! اس کہانی کو پورے ملک پر پھیلا کر دیکھیے!! اسلام آباد کے عین وسط میں سیکٹر جی سکس فور ہے۔ اس کے ایک طرف‘ چھ منٹ کی ڈرائیو پر معروف ترین فائیو سٹار ہوٹل ہے۔ دوسری طرف‘ چھ منٹ ڈرائیو پر ہی چیئرمین سی ڈی اے کا دفتر ہے۔ یہ سیکٹر شہر کا دل ہے۔ اس کی سٹریٹ پینسٹھ (65) میں‘ گھروں کے عین درمیان‘ مسجد کی بغل میں ایک چھوٹا سا خالی پلاٹ تھا۔ یہ پلاٹ ایک اوپن ایئر لیٹرین بنا ہوا تھا۔ یہاں کوڑا پھینکا جاتا تھا۔ بدبو کے بھبکے اٹھتے تھے۔ سی ڈی اے نے بدبو میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کیلئے یہاں ایک چھکڑا رکھ دیا تھا۔ اس کا ڈھکنا نہیں تھا۔ جب چھکڑا انسانی فضلے اور کوڑے سے بھر جاتا تو پورا پلاٹ کوڑے دان کے طور پر استعمال ہوتا۔ بدترین پہلو معاملے کا یہ تھا کہ مسجد جانے والے اس ''خوشبو‘‘ سے گزر کر مسجد پہنچتے تھے۔ کچھ بے بس افراد نے اس کالم نویس ...

ہمارے ساتھی! ہمارے غم خوار!!

صحن میں لگا ہوا وہ لسوڑے کا درخت کہاں گیا جس کے سائے میں‘ چارپائی بچھا کر‘ میں نے چارلس ڈکنز‘ سٹیون سن اور جونیتھن سوئفٹ کے ناول اور برنارڈ شا کے ڈرامے پڑھے؟ صحن کے کونے میں لگا ہوا‘ رنگا رنگ پھول کھلاتا‘ گل باسی (گلِ عباسی) کا وہ پودا کہاں گیا جسے دیکھ دیکھ کر میں بڑا ہوا۔ بیری اور انجیر کے درختوں کے لاتعداد جھنڈ جن کے نیچے ہم گرم‘ چلچلاتی دوپہریں گزارتے تھے‘ کہاں غائب ہو گئے۔ کَرِیں کے وہ تنہائی پسند‘ صوفی درخت کیوں نہیں نظر آتے جن کے سائے میں‘ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک سفر کرتے ہوئے‘ ہم چادر بچھا کر سستاتے تھے اور جن پر اکا دکا‘ بہت سرخ پھول لگتے تھے یا ڈیلی کے پھل!! وہی ڈیلی یا ڈیلیاں‘ جن کا اچار آج بھی معروف ہے۔ یہ ماتمی فقرے میرے دل سے اس لیے نکل رہے ہیں کہ میں نے ایک ماتمی خبر پڑھی ہے۔ خبر پڑھ کر دل میں درد کی لہر اٹھی جو کاغذ پر منتقل ہونا چاہتی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے راول جھیل کے ایریا میں درخت صرف پچاس فیصد رہ گئے ہیں۔ یہی لیل ونہار رہے تو بقیہ پچاس فیصد بھی مجرمانہ تغافل کی نذر ہو جائیں گے۔ ہم لوگ بھ...

بس کر دو یار! خدا کے لیے بس کر دو

میں پہلے مذہبی اور مسلکی مسائل علما سے سیکھتا تھا۔ میرے لیے تمام مکتب ہائے فکر کے علما قابلِ احترام تھے‘ اس لیے کہ ان کے پاس علم تھا۔ قوتِ برداشت تھی۔ نرم گفتار تھے۔ شفقت سے پیش آتے تھے۔ ان میں سنی تھے‘ شیعہ تھے‘ دیوبندی تھے‘ بریلوی تھے‘ اہلِ حدیث تھے۔ یہ ایسے لوگ تھے کہ اپنا مؤقف بیان کرتے مگر دوسروں پر تنقید کرتے نہ ان کی تنقیص کرتے‘ نہ ان کی تردید کرتے‘ نہ کسی پر حملہ کرنے کی ترغیب دیتے۔ میں نے دیکھا کہ یہ علما جب ایک دوسرے سے ملتے تو پورے احترام اور خلوص سے ملتے۔ لیکن اب مجھے مسلکی اور مذہبی مسائل زبردستی سکھائے اور پڑھائے جا رہے ہیں۔ میرے دونوں ہاتھ باندھ کر میرا منہ بزور کھول کر‘ مسائل میرے منہ میں ٹھونسے جا رہے ہیں۔ یہ سکھانے‘ پڑھانے اور ٹھونسنے والے کون ہیں؟ یہ عالم ہیں نہ علامے‘ مجتہد ہیں نہ آیت اللہ! ان میں کوئی دودھ بیچنے والا ہے‘ کوئی ریڑھی بان ہے‘ کوئی مستری ہے‘ کوئی مزدور۔ کسی نے چار کتابیں رٹ رکھی ہیں‘ کوئی بارہ جماعت فیل ہے‘ کوئی بیروزگار ہے اور وقت گزاری کے لیے فرقہ واریت پھیلا ...

وہ دو غیر ملکی خواتین۔ اصل کہانی

سینئر پولیس افسر نے پریس کانفرنس میں سچ بولا! مگر افسوس! سچ کا صرف تھوڑا سا حصہ بولا! شاید اس لیے کہ ملک کو نظر نہ لگ جائے۔ یہ سچ شاید کبھی باہر نہ آتا۔ وہ تو یوں ہوا کہ رضا ڈار والے معاملے میں وہ جو دو عورتیں تھیں‘ نیدرلینڈز کی Stephanie Adriana اور وینزویلا کی Astrid Robinson Bracho‘ اُن دونوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ یورپ ہی کے کسی ملک سے بول رہی تھیں۔ بہت دیر تو مجھے ان کی بات سمجھ ہی میں نہ آئی۔ دونوں خواتین زار و قطار رو رہی تھیں۔ یہ ٹیلی فون کال نہ تھی‘ سسکیوں‘ ہچکیوں اور آہوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ ایک کی تو گھگی بندھ رہی تھی۔ اتنے فاصلے پر‘ ٹیلیفون پر‘ کسی روتے ہوئے کو چُپ کرانا آسان نہیں۔ ایک کو چپ کراتا تھا تو دوسری رونے لگ جاتی تھی۔ خدا خدا کر کے خاموش ہوئیں تو میں نے پوچھا کہ رونا کس بات کا ہے؟ تم تو ہمارے ملک سے خوش خوش گئی تھیں۔ ہمارے سینئر پولیس افسر نے باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے اعلان کیا تھا کہ تم ہمارے نظام سے مطمئن تھیں‘ اور یہ کہ تم نے پاکستان کا پرچم منگوایا جسے تم ساتھ لے جانا چاہتی تھیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ ا...

ناجائز رزق سے پلی ہوئی اولاد …(2)

ناجائز آمدنی سے پلی بڑھی اولاد کبھی بھی اُس اولاد کی طرح نہیں ہو سکتی جس کی پرورش حلال اور طیب آمدنی سے ہوئی ہو! اس فرق کو جاننے اور جانچنے کیلئے چشمِ بینا‘ غور وفکر اور تحقیقی طرزِ فکر درکار ہے۔ ایک استاد کی تحقیق دیکھیے۔ رسول شاہ صاحب کا تعلق اصلاً قندھار سے ہے۔ کراچی میں 45 برس انہوں نے ایک تعلیمی ادارے میں پڑھایا۔ انہیں قدرت نے ایسا ذہن دیا کہ وہ طالب علم کے طور اطوار‘ مجلسی آداب‘ عادات‘ ذہانت اور کارکردگی دیکھ کر متجسس ہو جاتے تھے‘ اس کے والدین سے مل کر ان کی آمدنی کی نوعیت معلوم کرتے تھے اور پھر بچے کی شخصیت پر حلال یا حرام کے اثر پر غور کرتے تھے۔ انہی کی زبانی سنیے ''حرام کمائی کے بداثرات بچوں میں ضرور نظر آ جاتے ہیں۔ اب کچھ ایسے کیسز کی طرف آتے ہیں جہاں ہمارا نظریہ یا فارمولا کام نہیں کرتا۔ والد کی حرام کمائی کے باوجود بچے میں ایسے اوصاف پائے جاتے ہیں جو کہ حیران کن ہوتے ہیں۔ ایسے تمام واقعات میں دراصل کچھ اور عناصر کار فرما ہوتے ہیں جیسا کہ وقت‘ اندازِ تجزیہ اور دیگر جن کو ہم نظر انداز کرتے ہیں یا صحیح طور پر تجزیہ کرنے کی اہلیت...

ناجائز رزق سے پلی ہوئی اولاد

کوئی نہ مانے تو اس کی مرضی! کوئی مان لے تو اس کا اپنا فائدہ ہے!! مالِ حرام سے پرورش پانے والی اولاد کبھی بھی نیک نامی کا سبب نہیں بن سکتی۔ پروردگار چاہے تو کسی کو استثنا عطا کر دے! مگر صدیوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے۔ دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا‘ اکثر و بیشتر‘ دنیا میں بھی ملتی ہے۔ پہلا والدین کی نافرمانی!! میرے پرانے دوست پروفیسر راجہ یعقوب راوی ہیں کہ ان کے قصبے میں‘ جو کوہستانِ نمک کے قصبوں میں ایک قصبہ ہے‘ ایک بدبخت نے بیچ بازار‘ اپنے والد پر ہاتھ اٹھایا۔ وہاں ایک بوڑھا‘ بہت بوڑھا‘ شخص بیٹھا دیکھ رہا تھا۔ حیرت سے اس کی زبان گنگ ہو گئی۔ اس لیے نہیں کہ اس نے بیٹے کو والد پر ہاتھ اٹھاتے دیکھا۔ بلکہ اس لیے کہ اسے ایک واقعہ یاد آ گیا جو اُس نے اوائل شباب میں دیکھا تھا اور اس کی یادداشت پر ایک ڈراؤنے خواب کی طرح نقش تھا۔ اس نے بتایا کہ یہی جگہ تھی۔ بالکل یہی! اُس وقت بازار تھا نہ دکانیں۔ بس کھیت ہی کھیت تھے۔ مگر جگہ یہی تھی! یہیں پر اُس شخص نے‘ جس پر اس کے بیٹے نے ہاتھ اٹھایا‘ اپنے باپ کو مارا تھا۔ حکایت ہے کہ ایک اور بدبخت نے بیٹے کو پرا...

کیا ہم واقعی دیانت دار ہیں؟

دکاندار بہت نیک تھا۔ کسی سے ایک پیسہ بھی ناجائز نہ لیتا۔ سامان‘ سو فیصد درست تولتا۔ منافع جائز رکھتا۔ اس زمانے میں نقد روپیہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ گندم‘ خاص طور پر دیہات میں‘ روپیہ کے قائم مقام سمجھی جاتی تھی۔ خریدار گندم دکاندار کو دیتے اور اس کے بدلے میں سودا سلف حاصل کرتے۔ زیادہ سودا لینا ہوتا تو زیادہ گندم لائی جاتی۔ دکاندار گندم کو تولتا اور اپنے سٹاک میں ڈال دیتا۔ آج کے بچوں نے تو دو پلڑوں والا ترازو بھی نہیں دیکھا۔ قصہ مختصر‘ یہ نیک اور دیانتدار دکاندار دنیا سے رخصت ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد کسی کے خواب میں آیا۔ خواب والے نے پوچھا ''سناؤ کیسی گزری؟ تم تو دیانتدار تھے۔ فوراً کامیابی کا پروانہ مل گیا ہو گا‘‘۔ دکاندار نے کہا ''نہیں! بھئی! کیا پوچھتے ہو! ! یہاں تو رپَھڑ پڑ گیا‘‘۔ پوچھا: کیا رپھڑ؟ کہنے لگا: وہ گندم جو میں خریدار سے لے کر تولتا تھا‘ اُس میں سے کچھ دانے تولتے وقت ترازو کے پلڑوں سے زمین پر گر جاتے تھے۔ وہ میں غیر ارادی طور پر صفائی وغیرہ کرتے ہوئے‘ اپنی گندم میں ملا دیتا تھا۔ بس اس کی پوچھ گچھ ہو ر...