سات فیصد
یہ جو چلے جا رہا ہے‘ یہ کون ہے؟ مشکل سے پاؤں اٹھاتا ہے۔ اگلا قدم چلنے سے پہلے ہانپنے لگتا ہے۔ مکھیوں کو اڑانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے‘ کبھی جھرجھری لے کر‘ کبھی سر کو جھٹک کر‘ مگر رِستے ہوئے زخموں پر مکھیاں ٹوٹ پڑتی ہیں۔ اس ذی روح کیلئے راحت نام کی کوئی شے نہیں۔ صبح کی خنکی ہو یا گئی رات کا سناٹا‘ کڑکتی‘ چلچلاتی دوپہر کی اذیت ہو یا خون چوستے پسوؤں سے بھری شام‘ اس کیلئے ذرہ بھر سکون نہیں۔ اس بات کا کوئی امکان بھی نہیں کہ کوئی دور افتادہ راحت اس کے پاس سے گزر ے۔ یہ کون ہے جو چلے جا رہا ہے؟ کبھی اس کی کھال سے بیگ بناتے ہیں‘ کبھی جیکٹیں اور کبھی جوتوں کے تسمے! کبھی کوئی اس کی پشت پر بیٹھ کر ہانکنے لگتا ہے۔ کوئی ہل میں جوتتا ہے اور کانٹوں بھری قمچیاں مارتا ہے۔ کبھی چراگاہ میں لے بھی جائیں تو پشت پر ڈنڈا رسید کر کے گالی دیتے ہیں اور اس کا گوشت کھانے کی دھمکی دیتے ہیں۔ اس کے جگر اور گردے‘ جو کبھی صحیح سلامت تھے‘ ایک ایک کر کے ناکارہ ہونے لگے ہیں۔ خوراک حد درجہ کم ہو گئی ہے۔ جو تھوڑی بہت گھاس کھاتا بھی ہے‘ ہضم نہیں ہوتی۔ معدے سے...