سیکرٹری داخلہ سے چیئرمین سی ڈی اے تک
یہ کہانی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے متعلق ہے۔ اس دردناک‘ عبرتناک‘ مضحکہ خیز اور حیران کن حقیقی کہانی سے آپ آسانی کے ساتھ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ریاست کہاں کھڑی ہے! کس طرف جا رہی ہے اور نوشتۂ دیوار کیا ہے! اس کہانی کو پورے ملک پر پھیلا کر دیکھیے!! اسلام آباد کے عین وسط میں سیکٹر جی سکس فور ہے۔ اس کے ایک طرف‘ چھ منٹ کی ڈرائیو پر معروف ترین فائیو سٹار ہوٹل ہے۔ دوسری طرف‘ چھ منٹ ڈرائیو پر ہی چیئرمین سی ڈی اے کا دفتر ہے۔ یہ سیکٹر شہر کا دل ہے۔ اس کی سٹریٹ پینسٹھ (65) میں‘ گھروں کے عین درمیان‘ مسجد کی بغل میں ایک چھوٹا سا خالی پلاٹ تھا۔ یہ پلاٹ ایک اوپن ایئر لیٹرین بنا ہوا تھا۔ یہاں کوڑا پھینکا جاتا تھا۔ بدبو کے بھبکے اٹھتے تھے۔ سی ڈی اے نے بدبو میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کیلئے یہاں ایک چھکڑا رکھ دیا تھا۔ اس کا ڈھکنا نہیں تھا۔ جب چھکڑا انسانی فضلے اور کوڑے سے بھر جاتا تو پورا پلاٹ کوڑے دان کے طور پر استعمال ہوتا۔ بدترین پہلو معاملے کا یہ تھا کہ مسجد جانے والے اس ''خوشبو‘‘ سے گزر کر مسجد پہنچتے تھے۔ کچھ بے بس افراد نے اس کالم نویس ...