پاکستان 2050ء
ایک زمانہ تھا کہ جب کوئی لشکر دشمن پر فتح پاتا تو وہ شہروں کو ملیا میٹ کرتا‘ آبادیوں کو تہس نہس کرتا‘ کھیتوں اور باغوں کو تاراج کرتا‘ تہذیبی آثار منہدم کرتا‘ ہر طرف بربادی پھیلاتا جاتا تھا۔ ہر زمانے میں‘ ہر قوم نے‘ ہر مذہب کے پیروکاروں نے فتح کے بعد یہی کچھ کیا۔ آپ کا کیا خیال ہے وہ زمانہ گزر گیا؟ کیا اب سرحدیں مکمل طور پر مؤثر ہیں؟ کیا اب اقوام متحدہ ملکوں اور قوموں کی حفاظت کرتی ہے؟ کیا آج کی جنگ محض ہوائی جہازوں سے لڑی جاتی ہے؟ کیا اپنے اپنے ملک کے اندر ہی سے دشمنوں پر حملے کیے جاتے ہیں؟ نہیں! ایسا نہیں! بالکل نہیں! مسئلہ یہ ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی غلط فہمی کا شکار ہیں! آپ سمجھ رہے ہیں کہ بربادی لانے والے لشکر صرف انسانوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بربادی لانے والے لشکر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو قدرت کی طرف سے آتے ہیں۔ سیلاب! طوفان! آندھیاں! گزشتہ قوموں پر خون‘ ٹڈیاں‘ جوئیں اور مینڈک برسائے گئے۔ یہ سب تاریخ کی باتیں ہیں یا صحیفوں کی۔ دوسرے تباہ کُن لشکر وہ ہیں جو معاشرے کے کچھ طاقتور اور بااختیار افراد تیار کرتے ہیں اور پھر عوام پر چ...