بس کر دو یار! خدا کے لیے بس کر دو
میں پہلے مذہبی اور مسلکی مسائل علما سے سیکھتا تھا۔ میرے لیے تمام مکتب ہائے فکر کے علما قابلِ احترام تھے‘ اس لیے کہ ان کے پاس علم تھا۔ قوتِ برداشت تھی۔ نرم گفتار تھے۔ شفقت سے پیش آتے تھے۔ ان میں سنی تھے‘ شیعہ تھے‘ دیوبندی تھے‘ بریلوی تھے‘ اہلِ حدیث تھے۔ یہ ایسے لوگ تھے کہ اپنا مؤقف بیان کرتے مگر دوسروں پر تنقید کرتے نہ ان کی تنقیص کرتے‘ نہ ان کی تردید کرتے‘ نہ کسی پر حملہ کرنے کی ترغیب دیتے۔ میں نے دیکھا کہ یہ علما جب ایک دوسرے سے ملتے تو پورے احترام اور خلوص سے ملتے۔ لیکن اب مجھے مسلکی اور مذہبی مسائل زبردستی سکھائے اور پڑھائے جا رہے ہیں۔ میرے دونوں ہاتھ باندھ کر میرا منہ بزور کھول کر‘ مسائل میرے منہ میں ٹھونسے جا رہے ہیں۔ یہ سکھانے‘ پڑھانے اور ٹھونسنے والے کون ہیں؟ یہ عالم ہیں نہ علامے‘ مجتہد ہیں نہ آیت اللہ! ان میں کوئی دودھ بیچنے والا ہے‘ کوئی ریڑھی بان ہے‘ کوئی مستری ہے‘ کوئی مزدور۔ کسی نے چار کتابیں رٹ رکھی ہیں‘ کوئی بارہ جماعت فیل ہے‘ کوئی بیروزگار ہے اور وقت گزاری کے لیے فرقہ واریت پھیلا ...