ثقافت کا نقصان اور ملکیت کا جھگڑا
گھر کے پچھلے حصے میں ‘ ایک کمرہ بقیہ مکان سے الگ تھلگ ہے۔اس کمرے میں ایک طرف رائٹنگ ٹیبل ہے جس کے سامنے کرسی ہے۔ اس پر فرزند ارجمند بیٹھ کر اپنا کام کرتے ہیں۔ دوسری طرف ایک صوفہ ہے۔ دو نشستوں والا جسے ‘ فرنگی لغت میںTwo seater کہا جاتا ہے۔ یہ ٹُو سیٹر صوفہ اس فقیر کا رائٹنگ ٹیبل بھی ہے اور کرسی بھی۔ اس کے ساتھ میز کی ضرورت کبھی نہیں پڑی۔ کاغذ قلم بھی صوفے پر ہی رکھ دیے جاتے ہیں۔ ویسے اگر اس صوفے کے سامنے میز ہو بھی تو خالی کہاں رہے گا! یہی تو اہلیہ محترمہ کو شکوہ ہے کہ کوئی میز ہو ‘ الماری ہو‘ کافی ٹیبل ہو‘شیلف ہو‘ دیوان ہو‘ دیکھتے ہی دیکھتے کتابوں سے لد جاتا ہے اور پھر خالی کبھی نہیں ہوتا۔ یہ شکوہ کم از کم میں‘ بذات خود‘ بنفس نفیس‘ تین نسلوں سے سُن رہا ہوں۔ دادی جان یہی شکوہ ذرا کھردرے لفظوں میں کرتی تھیں۔ کتابوں اور رسالو ں کے لیے وہ ''پھڑکے‘‘ کا لفظ اور دادا جان کے لیے ''بھاگوان‘‘ کا لفظ استعمال کرتی تھیں۔ ''بھاگوان جدھروں آنا‘ پھڑکے گھِدی آنا‘‘ یعنی جدھر سے...