اشاعتیں

کالم

مکھڈی حلوہ اور صدر ٹرمپ کی صاف گوئی

آج کل میں جہاں رہ رہا ہوں‘ وہ جگہ اُس مشہور ہوٹل سے بہت قریب ہے جہاں حساس نوعیت کے مذاکرات ہوتے رہے اور جہاں غیرملکی مہمان قیام پذیر رہے۔ اسی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کے اندرونی راستے بھی بند رہے۔ اسی ضمن میں صدر ٹرمپ کی بھی آمد آمد تھی۔ میں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ کچھ ذمہ داری ہماری بھی ہے۔ انہوں نے سوالیہ آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا کہ ہم ہوٹل کے نزدیک رہتے ہیں۔ یعنی صدر ٹرمپ آئیں گے تو ہمارے پڑوسی ہوں گے۔ ہمیں ان کی دعوت کرنی چاہیے۔اس پر اہلیہ نے فوراً یاد دلایا کہ کچھ دن پہلے انہوں نے دوست خواتین کی دعوت کی تھی تو میں نے کہا تھا کہ گرانی ہوشربا ہو چکی ہے اس لیے ان آئے روز کی دعوتوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اس پر بیگم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ ٹھیک ہے پھر آپ کے سابق‘ فائل زدہ رفقائے کار اور نیم بے ہوش شاعر دوست بھی نہیں آئیں گے جو مسلسل نازل ہوتے رہتے ہیں اور اٹھنے کا نام نہیں لیتے۔ اب بھی بیگم نے اسی حکم نامے بلکہ معاہدے کا ذکر کیا مگر میں نے انہیں سمجھایا کہ یہ قومی معاملہ ہے اور ملک کی عزت کا سوال ہے۔ صدر ٹرمپ پڑوس میں آکر رہیں اور ہم انہیں کھانے پر...

زخمی پرندہ اور ہارورڈ کا ایم بی اے

اُس دن میں نسبتاً فارغ تھا۔ فراغت ایک ایسی اصطلاح ہے جس کا مطلب بدلتا رہتا ہے۔ فرنگی ایسی اصطلاح کو Relative term کہتے ہیں۔ کبھی فراغت اس لیے حاصل ہو جاتی ہے کہ واقعی کوئی کام نہیں ہوتا۔ کبھی کام ہوتا ہے مگر اسے مؤخر کر کے ذہن سے وقتی طور پر بوجھ ہٹا دیا جاتا ہے۔ میں بھی اُس دن اصلاً فارغ نہیں تھا۔ ادب کا طالب علم کبھی فارغ ہوتا بھی نہیں۔ شہر کے مرکز میں ایک کام سے گیا۔ کام ہو چکا تو مرکز کا چکر لگانے کو دل چاہا۔ پرانی یادیں ذہن میں لَو دینے لگیں۔ دکانیں جو ہمارے عہدِ شباب میں آباد تھیں‘ اب تھیں ہی نہیں۔ سنیما گھر مرحوم ہو چکا تھا۔ ریستورانوں کی بھرمار تھی۔ لوگ باگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ دفعتاً یاد آیا کہ یہیں ایک بہت پرانے دوست کے بیٹے کی بھی دکان ہے۔ پتا کرتا کرتا وہاں پہنچ گیا۔ بیس اکیس برس کا ایک خوش وضع لڑکا کھڑا تھا۔ یہ میرے دوست کا پوتا تھا۔ اسے دیکھ کر اور اس سے بات کر کے دل خوش ہو گیا۔ کہنے لگا: ابو اندر دفتر میں بیٹھے ہیں۔ اندر گیا! یہ اس بہت بڑی دکان کا عقبی حصہ تھا‘ جسے ایک شاندار دفتر میں تبدیل کیا گیا تھا۔ میرے دوست کا بیٹا ماشاء اللہ‘ شان وشوک...

کاروکاری ’’ناقابلِ قبول‘‘ ہے!!

''صوبے میں کاروکاری کے واقعات قابلِ قبول نہیں۔ سندھ امن وسلامتی کی دھرتی ہے۔ کسی بھی بیٹی کو کاروکاری میں مارنا ناقابلِ قبول ہے۔ واقعے میں ملوث تمام افراد کو سزائیں دی جائیں گی۔ کسی کو بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف جرگے نہیں کرنے دیں گے۔ اس قسم کے واقعات کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں‘‘۔ یہ بے ضرر اور معصوم بیان سندھ کے ایک وزیر صاحب کا ہے۔ سر دھننے کو جی چاہتا ہے۔ ''کسی طور قابلِ قبول نہیں‘‘ سب سے زیادہ پامال شدہ‘ مضحکہ خیز‘ مہمل اور لاحاصل الفاظ ہیں‘ جن کی قدر وقیمت صفر سے بھی کم ہے۔ دہشت گردی کا واقعہ پیش آئے تو کہا جاتا ہے ''یہ ناقابلِ قبول ہے‘‘۔ اغوا کا جرم سرزد ہو تو وہ ناقابلِ قبول قرار دیا جاتا ہے۔ ان صاحبان سے کوئی پوچھے کہ اس ناقابلِ قبول ہونے کا مطلب کیا ہے؟ کیا جرم کرنے والے نے آپ سے استفسار فرمایا ہے کہ حضور! میں جرم کرنے لگا ہوں‘ فرمائیے کیا آپ کو قبول ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ مجرم کو بتائیے کہ یہ ناقابلِ قبول ہے۔ مگر مجرم تو آپ سے نہ صرف پوچھتا نہیں بلکہ آپ کو پرِکاہ اہمیت بھی نہیں ...

بے دین ولد الف دین اور طبیب

ایسا نہیں تھا کہ وہ دیندار نہیں تھے۔ اصل میں ان کے والد صاحب کا اسم گرامی الف دین تھا۔ چونکہ الف کے بعد ''بے‘‘ کا حرف آتا ہے اس لیے ان کا نام بے دین رکھا گیا۔ اچھے بھلے تھے۔ چند ہفتے پہلے پیٹ میں درد ہوا۔ طبیب کے پاس لے جائے گئے۔ اس نے تشخیص کی کہ دردِ قولنج ہے۔ دوا دی مگر ساتھ ہی بتایا کہ ذہنی دباؤ (سٹریس) میں ہیں۔ شاید کوئی صدمہ پہنچا ہے۔ گھر والے حیران تھے کہ کیسا صدمہ؟ کون سا صدمہ؟ بے دین صاحب کی زندگی تو ایک آئیڈیل زندگی تھی۔ قدرت نے سب کچھ دیا تھا اور چھپڑ پھاڑ کر دیا تھا۔ بے دین صاحب تو ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پاکستان سے خوب خوب فائدہ اٹھایا تھا۔ مٹی کو ایسی کمال بددیانتی سے ہاتھ لگاتے تھے کہ سونا بن جاتی تھی۔ سرکاری محکموں سے ٹھیکے لینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ ٹھیکہ جس کام کیلئے لیتے تھے‘ وہ کام ہو نہ ہو‘ بِل سر کار کو لحیم شحیم قسم کا بھیجتے تھے۔ بیسیوں ان کے کاروبار تھے۔ ہر کاروبار جیسے سونے کی کان تھا اور ہر کاروبار میں دیانتداری سے پرہیز کرتے تھے۔ کسی شے کی زندگی میں کمی نہ تھی۔ فکر تھا نہ فاقہ! طبیب نے جب سٹریس کا بتایا تو گھر و...

عبد الحلیم شرر کے خلاف مقدمہ چلائیے

بحث اس وقت شروع ہوئی جب چنے والے چاولوں کو ''چنا پلاؤ‘‘ کہہ کر پکارا گیا۔ بیٹی سے کہا کہ بیٹے دیکھو! ایک نیم تعلیم یافتہ جاٹ کو پروفیسر کیسے کہہ سکتے ہیں؟ آخر حفظِ مراتب بھی کوئی شے ہے یا نہیں؟ لفٹین کے کندھے پر جرنیل کے ستارے لگ سکتے ہیں نہ کانسٹیبل کو ایس پی کہہ کر پکارا جا سکتا ہے۔ پلاؤ کا ایک خاص مقام ہے جو صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ پلاؤ کی جائے پیدائش وسط ایشیا ہے اور اس میں بھی ازبکستان! اور کیا پروٹوکول ہے صاحب پلاؤ کا! ایک تو یہ کہ مہمان آئیں تو گھر کا مرد پلاؤ پکاتا ہے‘ جب تیار ہو جاتا ہے تو سب بیٹھتے ہیں۔ درمیان میں پلاؤ کا برتن رکھا جاتا ہے۔ پلاؤ کی چوٹی کے عین اوپر پکے یا بھُنے ہوئے گوشت کا بہت بڑا ٹکڑا رکھا ہوتا ہے۔ خاندان کا بزرگ ترین شخص اس سے گوشت کاٹ کاٹ کر سب میں تقسیم کرتا ہے۔ پلاؤ کے ساتھ صرف سلاد ہوتا ہے اور نان۔ پلاؤ کھاتے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ روٹی کا نوالہ بھی! بڑی بڑی دعوتوں میں وہاں شرکت کرنے کا موقع ملا جن میں ملک کے اس وقت کے صدر اسلام کریموف بھی موجود تھے۔ سب سے پہلے پھل رکھے جاتے ہیں۔ خشک بھی اور تازہ بھی! (ٹماٹر کو بھی وہ...

بھارت کے مسلمان اور پاکستان کی ذمہ داری

''صرف بی جے پی آسام کو مسلمانوں سے پاک کر سکتی ہے۔ ہر مسلم کو نشاندہی کر کے نکالا جائے گا۔ اب یو پی میں کوئی سڑکوں پر نماز نہیں پڑھ سکتا اور نہ ہی کسی عبادت گاہ سے بلند آواز کی اجازت ہو گی‘‘۔ یہ تازہ پھنکار ہے اور اُس سانپ کی ہے جو سب سے زیادہ موذی ہے۔ زہر کی اس گٹھڑی کا نام ادتیا ناتھ ہے جو یو پی کا وزیراعلیٰ ہے۔ دنیا میں شاید ہی کسی کا ذہن اتنا تنگ ہو جتنا بی جے پی سے تعلق رکھنے والے بھارتیوں کا تنگ ہے۔ اتنے وسیع و عریض ملک میں انہیں مسلمانوں کا وجود کھٹکتا ہے جن کی آبادی پورے بھارت میں مشکل سے چودہ فیصد ہے۔ ان کی سوچ گائے کی تقدیس سے آگے نہیں جاتی۔ ہر ہندو کو گائے کی تقدیس کا حق ہے۔ ہم پاکستانی کسی کو اس کے مذہبی رسوم وعبادات سے نہیں روکتے۔ مگر گائے کے نام پر مسلمانوں کی زندگی جہنم بنانے کا کارنامہ صرف بی جے پی نے سرانجام دیا ہے۔ پاکستانی سیاستدانوں اور حکمرانوں نے الیکشن میں بھارت کو کبھی موضوعِ سخن نہیں بنایا۔ مگر بھارت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے اعصاب پر پاکستان اس قدر چھایا ہوا ہے کہ ہر الیکشن میں پاکستان کے خلاف زہر اُگل کر ووٹ حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح اپ...

گگو منڈی سے تحصیل ہسپتال بوریوالہ تک

چک 249۔ ای بی کے باشندے منور سیال ولد اللہ دتہ کا قصور کیا تھا؟ اس کا سب سے بڑا‘ ناقابلِ معافی‘ قصور یہ تھا کہ وہ ایک عام آدمی تھا۔ پاکستان میں عام آدمی ہونا گناہ ہے‘ ایسا گناہ جو کبھی معاف نہیں ہوتا۔ آپ سو قتل کریں‘ بچ جائیں گے۔ آپ بندے اغوا کریں‘ آپ کو ہاتھ کوئی نہیں لگا سکتا۔ آپ گاڑی اٹھا لیں‘ پھر علاقہ غیر جا کر گاڑی کے مالک کو بلائیں۔ پھر مسجد میں بیٹھ کر اس سے لاکھوں روپے لے کر اس کی اپنی گاڑی اسے واپس کریں۔ وہ اعتراض کرے تو اس بدبخت کو بتائیں کہ یہ آپ کے بچوں کی محنت کا ثمر ہے۔ اس کے بعد آپ حاجی صاحب بن کر سارا ملک گھوم آئیں۔ آپ کا بال بیکا کوئی نہیں کر سکتا۔ آپ بینک سے کروڑوں روپے کا قرض لے کر واپس دینے سے انکار کر دیں‘ یا معاف کرا لیں‘ کسی ادارے میں ہمت نہیں کہ سزا تو دور کی بات ہے‘ آپ کا نام ہی ظاہر کرے۔ آپ ٹیکس چوری کریں‘ آپ کی عزت میں اضافہ تو ہو سکتا ہے‘ کمی نہیں ہو گی۔ آپ چینی مافیا کا حصہ بن کر راتوں رات اربوں کما لیں‘ آپ کو ہاتھ تو کوئی کیا لگائے گا‘ الٹا نئی کابینہ میں آپ وزار...

ایک عبرتناک تصویر

کہنے کو یہ محض ایک تصویر ہے! محض ایک فوٹو گراف!! لیکن یہ تصویر ملک کی نامرادی‘ تیرہ بختی اور بدنصیبی کی تفصیل ہے۔ ایسی تفصیل جو کئی صفحوں پر نہیں‘ کئی داستانوں پر نہیں‘ کئی کتابوں پر مشتمل ہے۔ کتابیں بھی ایسی جو کئی جلدوں میں‘ کئی حصوں میں ہوں! اس شرمناک تصویر میں ایک نوجوان‘ جو ایک سیاسی پارٹی کا سربراہ ہے‘ ایک معروف‘ عمر رسیدہ‘ سیاستدان سے مصافحہ کر رہا ہے۔ یہاں تک تو سب اچھا ہے۔ مصافحہ کرنے پر کوئی پابندی ہے نہ یہ ایسا فعل ہے جس پر معترض ہوا جائے۔ بلکہ مصافحہ عالمی کلچر کا ایک جزو ہے۔ لاس اینجلس سے لے کر یورپ‘ ایشیا اور افریقہ سے ہوتے ہوئے ٹوکیو تک سب ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں۔ تاہم تصویر صرف مصافحے پر مشتمل نہیں‘ اس میں کچھ اور بھی ہے اور یہ ''کچھ اور‘‘ ہی ہے جو سب کچھ ہے۔ تصویر میں نوجوان سربراہ کے ہمراہ دو معمر سیاستدان ہیں۔ ایک کی عمر 74 برس ہے۔ وہ کھڑا ہے‘ ہاتھ اس طرح باندھ رکھے ہیں جیسے نماز میں قیام کے دوران باندھے جاتے ہیں۔ دوسرا سیاستدان 76 سال کا ہے۔ اس نے ہاتھ تو نہیں باندھے ہوئے...

امن و امان کا چوتھا مثالی دور

موجودہ حکومت کا امن و امان کا دور برصغیر کی تاریخ کا چوتھا مثالی دور ہے۔ پہلا مثالی دور علاء الدین خلجی کا تھا۔ اُس کے زمانے میں قانون کی عملداری کمال کی تھی‘ خفیہ پولیس اسے ملک کے اطراف و اکناف سے پل پل کی خبر دیتی تھی۔ گندم سے لے کر سوئی تک ہر شے کی قیمت مقرر تھی۔ کم تولنے والے کے جسم سے گوشت کاٹ لیا جاتا تھا۔ چور‘ ڈاکو اور قاتل ختم ہو گئے تھے۔ دوسرا مثالی دور شیر شاہ سوری کا تھا۔ قاتل نہ پکڑا جاتا تو متعلقہ نمبردار یا پولیس افسر کو پھانسی دے دی جاتی۔ شیر شاہ سوری کے ایک لشکری نے ایک کھیت کو لوٹا تو اس کا کان کاٹ کر اسے پورے لشکر میں پھرایا گیا۔ تیسرا مثالی دور انگریز کا عہد تھا۔ درست کہ وہ جارح تھے‘ غاصب اور سامراجی تھے مگر فوائد بچھو اور سانپ کے بھی ہیں۔ انگریز قتل اور ڈاکے کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ جس گاؤں میں قتل ہوتا‘ انگریز پولیس افسر وہاں خیمہ زن ہو جاتا اور جب تک قاتل پکڑا نہ جاتا وہیں رہتا۔ انگریزی دور کے پولیس افسروں کی ڈائریاں اور آپ بیتیاں پڑھ لیجیے۔ عادی مجرموں کو کالے پانی (دریائے شور) بھیج دیا جاتا۔ برصغیر سے ٹھگی کی لعنت کو انگریز سرکار ہی نے خ...

جے شنکر کی بد زبانی

قد چھ فٹ سے زیادہ! جسم مضبوط اور متناسب! دیکھنے میں شخصیت وجیہ‘ رعب دار اور دلکش! مگر موصوف جب بولتے تو سننے والا افسوس کرتا کہ کاش نہ بولتے۔ اتنی بے اثر اور فضول گفتگو کرتے کہ سارا تاثر زائل ہو جاتا۔ جو بات بھی کرتے‘ احمقانہ کرتے۔ سب نے ان کا نام گِٹّے شاہ رکھ دیا۔ گِٹّا پنجابی میں ٹخنے کو کہتے ہیں۔ بیوقوف آدمی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عقل اس کے گِٹّے میں بھی نہیں۔ اسی وجہ سے ان کا نام گِٹّے شاہ پڑ گیا۔ غور کریں تو بھارت آپ کو گِٹے شاہ لگے گا۔ اس کا نقشہ دیکھیں تو انسان حیران ہوتا ہے اور متاثر!! کہاں کیرالہ اور تامل ناڈو اور کہاں ہما چل پردیش اور آسام! رقبہ 32 لاکھ 87 ہزار مربع کلو میٹر سے زیادہ! یعنی پاکستان کے رقبے سے چار گنا بڑھ کر! جنوب میں بھارت کا آخری شہر کنیا کماری ہے۔ یہ ریاست تامل ناڈو میں ہے۔ شمال میں بھارت کا آخری شہر لیہہ (Leh) ہے جو لداخ میں واقع ہے۔ ان دونوں‘ یعنی انتہائی جنوبی اور انتہائی شمالی شہروں کا درمیانی فاصلہ تین ہزار آٹھ سو کلو میٹر ہے۔ بھارت کا انتہائی مشرقی شہر کبیتو (Kibithu) ہے جو اروناچل پردیش کا حصہ ہے۔ اندازہ لگائیے‘ کنیاک...