موذی سانپ کی پھنکار یں
نہیں معلوم یو پی کے وزیراعلیٰ ادتیا ناتھ کو بھارتی مسلمانوں کا دشمن نمبر ایک کہا جا سکتا ہے یا نہیں‘ ہو سکتا ہے مودی یا امیت شاہ یا کوئی اور درندہ ادتیا ناتھ سے بھی بڑا مسلمان دشمن ہو مگر یہ طے ہے کہ اگر ادتیا ناتھ کا بس چلے تو بھارت میں کوئی مسلمان زندہ بچے‘ نہ کوئی مسجد۔ یہ موذی‘ زہریلا سانپ مسلمانوں کو مسلسل ڈس رہا ہے۔ چار دن پہلے‘ چھ ستمبر کو‘ ایک اور مسجد شہید کر دی گئی۔ یہ ظلم سہارنپور میں ہوا۔ واقعہ کی تفصیلات پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ یہ انہدام ادتیا ناتھ کے خصوصی احکام پر ہوا۔ سہارنپور کی یہ مسجد 1911ء میں تعمیر ہوئی۔ کانگرس کے ممبر پارلیمنٹ عمران مسعود نے مسجد کی شہادت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں خسرہ نمبر اور دیگر دستاویزات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مسجد ایک مسلمان زمیندار خاندان کی زمین میں بنائی گئی۔ اس خاندان کے سربراہ وحید خان اور یعقوب خان تھے۔ یہ زمین مسجد کیلئے وقف کی گئی تھی اور اس ضمن میں تمام قانونی کارروائی مکمل کی گئی تھی۔ جب مسجد بنی‘ اس وقت کسی سرکاری دفتر کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔ بہت عرصہ بعد اسی مسلم خاندان نے مسج...