امن و امان کا چوتھا مثالی دور
موجودہ حکومت کا امن و امان کا دور برصغیر کی تاریخ کا چوتھا مثالی دور ہے۔ پہلا مثالی دور علاء الدین خلجی کا تھا۔ اُس کے زمانے میں قانون کی عملداری کمال کی تھی‘ خفیہ پولیس اسے ملک کے اطراف و اکناف سے پل پل کی خبر دیتی تھی۔ گندم سے لے کر سوئی تک ہر شے کی قیمت مقرر تھی۔ کم تولنے والے کے جسم سے گوشت کاٹ لیا جاتا تھا۔ چور‘ ڈاکو اور قاتل ختم ہو گئے تھے۔ دوسرا مثالی دور شیر شاہ سوری کا تھا۔ قاتل نہ پکڑا جاتا تو متعلقہ نمبردار یا پولیس افسر کو پھانسی دے دی جاتی۔ شیر شاہ سوری کے ایک لشکری نے ایک کھیت کو لوٹا تو اس کا کان کاٹ کر اسے پورے لشکر میں پھرایا گیا۔ تیسرا مثالی دور انگریز کا عہد تھا۔ درست کہ وہ جارح تھے‘ غاصب اور سامراجی تھے مگر فوائد بچھو اور سانپ کے بھی ہیں۔ انگریز قتل اور ڈاکے کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ جس گاؤں میں قتل ہوتا‘ انگریز پولیس افسر وہاں خیمہ زن ہو جاتا اور جب تک قاتل پکڑا نہ جاتا وہیں رہتا۔ انگریزی دور کے پولیس افسروں کی ڈائریاں اور آپ بیتیاں پڑھ لیجیے۔ عادی مجرموں کو کالے پانی (دریائے شور) بھیج دیا جاتا۔ برصغیر سے ٹھگی کی لعنت کو انگریز سرکار ہی نے خ...