دانش کے ذخیرے… (2)
خواجہ نظام الملک طوسی دو سلجوقی بادشاہوں (الپ ارسلان اور ملک شاہ) کے وزیراعظم رہے۔ ان کی وفات 1092ء میں ہوئی۔ سیاست نامہ ان کی مشہور کتاب ہے جو حکمرانوں کیلئے دستور العمل ہے۔ اس کتاب کے پہلے تیرہ باب یونیورسٹی آف بمبئی کے کورس میں شامل رہے۔ معروف پبلشر سلیم گاہندری نے لکھا ہے کہ ''برٹش گورنمنٹ کے زمانہ میں یہ کتاب سول سروس کے کورس میں داخل رہی ہے‘‘۔ صرف ابواب دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتاب حکمرانوں کیلئے رہنمائی کے بہترین ذریعوں میں سے ایک ہے۔ باب اول‘ گردشِ روزگار اور مدحِ ذات باری۔ باب دوم‘ حکمرانوں کا جذبۂ شکر۔ تیسرا باب‘ حکمرانوں کا عدل و انصاف۔ چوتھا‘ بیورو کریسی کا احتساب۔ پانچواں‘ اہلکاروں کے طرزِ کار کا جائزہ۔ چھٹا ‘ عدلیہ کی حدود اور اختیارات۔ ساتواں‘ انتظامیہ کے افسران۔ آٹھواں‘ شرعی امور میں غور وفکر۔ نواں‘ حکومت کے کارندوں کی کارکردگی۔ دسواں ‘ ایجنسیوں (مخبروں) کے فرائضِ انتظامی۔ گیارہواں‘ مرکزی حکومت کے احکام کی بجا آوری۔ بارہواں‘ سفیروں کی روانگی۔ تیرہواں‘ مخبروں ا...