خود نوشت یا ہماری تاریخ کا ایک معتبر ورق!!!
''اُس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ کے چیف آف سٹاف نے اپنے ایک قریبی دوست کو بتایا کہ فیصلے سے چند روز پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کا فون آیا کہ وہ آرمی چیف سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ جنرل وحید کاکڑ ایک پروفیشنل سولجر تھے اور سیاست میں مداخلت کے خلاف تھے اس لیے انہوں نے ایک حساس فیصلے سے پہلے چیف جسٹس سے بات کرنے سے گریز کیا۔ فیصلے سے ایک دو روز پہلے جب چیف جسٹس کے بار بار فون آئے تو آرمی چیف نے اپنے سٹاف افسر سے کہا: چیف جسٹس سے پوچھ لیں کہ وہ کس سلسلے میں بات کرنا چاہتے ہیں؟ آرمی چیف کا یہ پیغام سننے کے بعد بھی شاہ صاحب نے عزتِ سادات بچانا مناسب نہ سمجھا اور دل کی بات کہہ دی کہ کل ہم نے حکومت کو بحال کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ سنانا ہے۔ اس سلسلے میں آرمی چیف صاحب کیا چاہتے ہیں؟ آرمی چیف نے یہ پیغام سن کر عدالت عظمیٰ کے سربراہ کو یہ پیغام بھیجا کہ ہم کیسوں میں دخل دینا پسند نہیں کرتے۔ آپ اپنی مرضی سے فیصلہ کریں‘‘۔ ہماری تاریخ کا یہ عبرتناک واقعہ معروف‘ نیک نام‘ ریٹائرڈ اعلیٰ پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ نے اپنی خود نوشت ''جہدِ مسلسل...