ہم کھرب پتی کیسے ہوئے؟
کس احمق نے یہ فارمولا گھڑا تھا کہ 40سال کی عمر تک اگر آپ امیر نہیں ہو سکے تو اس کے بعد امیر ہونے کا کوئی امکان نہیں! خوش بختی کا ستارہ کسی بھی وقت پیشانی پر جگمگا سکتا ہے۔ قدرت کیلئے چھپر پھاڑنا کون سا مشکل ہے۔ یہی ہمارے ساتھ ہوا۔ ہم میاں بیوی نے ساری زندگی تنخواہ کا بجٹ بناتے‘ کفایت کرتے اور اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کی ضروریات پوری کرتے گزار دی۔ پنڈی سے مری جانا کون سا مشکل ہے ‘ اس کیلئے بھی پلاننگ کرتے سال پر سال گزر جاتے تھے۔ بچوں کی فرمائشیں پوری نہ کر سکنے پر ہمارا کلیجہ کٹ کٹ جاتا تھا۔ ایک طرف سے ادھار چکاتے تو دوسری طرف چڑھ جاتا۔ یاد نہیں کہ کسی عید پر ہم میاں بیوی نے نیا لباس پہنا ہو۔ پھل خریدتے تو سبزی کیلئے کچھ نہ بچتا۔ سبزی لیتے تو پھل رہ جاتے۔ گوشت کیلئے بڑی عید کا انتظار رہتا۔ یہ تھے ہمارے حالات! ہر حال میں پروردگار کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ جسے تیسے بھی دن گزرے‘ الحمدللہ بچے پڑھ لکھ گئے۔ دو کمروں پر چھت بھی ڈال لی۔ اب جب ہم میاں بیوی ستر سے اوپر کے ہو گئے ہیں تو قسمت نے اچانک پلٹا کھایا ہے۔ یہ خوشخبری ایک دن صبح صبح ایک دوست نے فون پر دی۔ مجھے تو یقین ہی نہ آی...