اچکزئی صاحب کی خدمت میں احترام کے ساتھ
ہم بیرونِ ملک تھے اور ایک پٹھان دوست کے گھر مدعو تھے۔ اس کے والد صاحب بھی‘ جو کچھ دنوں کیلئے پاکستان سے تشریف لائے ہوئے تھے‘ محفل میں موجود تھے۔ کمال کی دعوت تھی۔ پٹھانوں کی دعوت تو پھر دعوت ہوتی ہے۔ سول سروس کے میرے ایک بیچ میٹ‘ ضیا الدین محسود‘ جن کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے‘ ایک زمانے میں پی او ایف واہ میں مشیر مالیات تھے۔ انہوں نے ہم دوستوں کی دعوت کی۔ جب ہم کمرۂ طعام میں داخل ہوئے تو ٹھٹھک گئے۔ ایک طویل ڈائننگ ٹیبل پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک گوشت کے مختلف پکوان سجے تھے۔ چکن‘ مٹن اور بیف کی طرح طرح کی ڈشیں رکھی تھیں۔ قسم قسم کے تکے‘ کباب‘ روسٹ رانیں‘ چانپیں‘ پائے‘ مغز اور بہت کچھ اور بھی۔ اتفاق سے مہمانوں میں ایک صاحب سبزی خور (Vegetarian) تھے۔ گوشت کے انبار اور اقسام دیکھ کر ان پر کپکپی طاری ہو گئی۔ واپس اُس دعوت کی طرف چلتے ہیں جو بیرون ملک‘ پٹھان دوست کے گھر تھی۔ پاکستان کی اندرونی سیاست پر باتیں ہو رہی تھیں۔ ایک پاکستانی تارکِ وطن نے پاکستان کے حوالے سے ایک بات ایسی کہہ دی جو غلط تھی اور نازیبا تھی۔ ہم سب ...