اشاعتیں

مارچ, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کالم

گھر اپنا، چوکیاں کسی اور کی!!

دبئی ایک طرب گاہ تھی۔ دبئی ایک پناگاہ تھی۔ دبئی ایک سیر گاہ تھی۔ دبئی ایک پکنک سپاٹ تھا۔ دبئی ایک ٹکسال تھا جہاں سونے اور چاندی کے سکے ڈھلتے تھے۔ دبئی ایک ارضِ موعود (Promised Land) تھا جہاں گورے‘ کالے‘ گندمی‘ زرد سب رہ رہے تھے اور آئے جا رہے تھے۔ دبئی ایک جنکشن تھا جہاں منٹ منٹ جہاز اترتے تھے اور لمحہ لمحہ جہاں سے اڑتے تھے۔ دبئی دنیا کا جغرافیائی مرکز نہ سہی‘ سنہری مواقع کا مرکز تھا۔ مگر آج وہی دبئی ایک ہولناک صحرا میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جگہ جگہ سے دھواں اُٹھ رہا ہے‘ لوگ وہاں سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ کل کی دلربا نازنین آج چڑیل دکھائی دے رہی ہے۔ خوبصورت زلف سانپ بن چکی ہے۔ شہد زہر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جہاں ہُن برستا تھا وہاں آگ اور نوکیلا لوہا برس رہا ہے۔ جو آسمان ہر وقت دھنک دکھاتا تھا اب میزائلوں سے بھرا ہے۔ ''اور باقی صرف تمہارے پروردگار کی ذات رہے گی جو بڑی شان اور عظمت والا ہے‘‘۔ یہ لکھنے والا ایک بار یورپ سے پاکستان واپس آرہا تھا۔ جہاز کی منزل دبئی تھی جہاں سے دوسرے جہاز میں بیٹھنا تھا۔ جہاز میں مسافروں ک...

پیرِ تسمہ پا

رشید امریکہ میں رہتا ہے۔ وہ لبنانی نژاد ہے۔ امریکہ میں اس کا کاروبار وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کا بیٹا امریکی پولیس میں ملازم ہے اور بیٹی امریکی وزارتِ تعلیم میں کام کرتی ہے۔ شکیل کا تعلق پاکستان سے ہے۔ اسے برطانیہ میں مقیم ہوئے پچیس برس ہو چکے ہیں۔ وہ ایک اعلیٰ سرکاری پوسٹ پر کام کر رہا ہے۔ بیٹا لندن کے ایک کالج میں لیکچرر ہے۔ بیٹی مانچسٹر میں وکالت کرتی ہے اور مقامی سیاست میں فعال ہے۔ سلیمان ترکی سے ہے اور آسٹریلیا میں رہ رہا ہے۔ بیس برس پہلے آکر اس نے شہریت حاصل کر لی۔ وہ ترکی سے سنگ مرمر درآمد کرتا ہے۔ اس کے بیٹے اسی کاروبار سے منسلک ہیں اور کامیاب ہیں۔ ان تین افراد کا آپس میں کوئی تعارف‘ کوئی تعلق نہیں۔ تینوں اپنی اپنی دنیا میں مگن ہیں۔ تاہم تینوں میں دو قدریں مشترک ہیں۔ پہلی یہ کہ تینوں مسلمان ہیں۔ دوسری یہ کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل نے جو مشترکہ حملہ کیا ہے‘ جس کے نتیجے میں ایران کے لیڈر خامنہ ای شہید ہو گئے ہیں‘ تینوں کو اس پر شدید رنج ہے۔ مگر خون کے گھونٹ پینے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ مسلمان‘ کسی مسلک کا ہو‘ کہیں بھی رہتا ہو‘ اس...