ناجائز رزق سے پلی ہوئی اولاد …(2)
ناجائز آمدنی سے پلی بڑھی اولاد کبھی بھی اُس اولاد کی طرح نہیں ہو سکتی جس کی پرورش حلال اور طیب آمدنی سے ہوئی ہو! اس فرق کو جاننے اور جانچنے کیلئے چشمِ بینا‘ غور وفکر اور تحقیقی طرزِ فکر درکار ہے۔ ایک استاد کی تحقیق دیکھیے۔ رسول شاہ صاحب کا تعلق اصلاً قندھار سے ہے۔ کراچی میں 45 برس انہوں نے ایک تعلیمی ادارے میں پڑھایا۔ انہیں قدرت نے ایسا ذہن دیا کہ وہ طالب علم کے طور اطوار‘ مجلسی آداب‘ عادات‘ ذہانت اور کارکردگی دیکھ کر متجسس ہو جاتے تھے‘ اس کے والدین سے مل کر ان کی آمدنی کی نوعیت معلوم کرتے تھے اور پھر بچے کی شخصیت پر حلال یا حرام کے اثر پر غور کرتے تھے۔ انہی کی زبانی سنیے ''حرام کمائی کے بداثرات بچوں میں ضرور نظر آ جاتے ہیں۔ اب کچھ ایسے کیسز کی طرف آتے ہیں جہاں ہمارا نظریہ یا فارمولا کام نہیں کرتا۔ والد کی حرام کمائی کے باوجود بچے میں ایسے اوصاف پائے جاتے ہیں جو کہ حیران کن ہوتے ہیں۔ ایسے تمام واقعات میں دراصل کچھ اور عناصر کار فرما ہوتے ہیں جیسا کہ وقت‘ اندازِ تجزیہ اور دیگر جن کو ہم نظر انداز کرتے ہیں یا صحیح طور پر تجزیہ کرنے کی اہلیت...