نو سالہ ہانیہ کا قتل
لکھ لیجیے کہ نو سالہ ہانیہ کے قاتل کو سزا نہیں ملے گی! اس لیے کہ بلی بچوں کے بجائے انڈے دے سکتی ہے۔ مردہ قبر سے نکل کر بھاگ سکتا ہے۔ سیب کے درخت پر تُنبے لگ سکتے ہیں۔ مگر مملکتِ خدادا میں کسی طاقتور قاتل کو پھانسی پر نہیں چڑھایا جا سکتا۔ چڑھایا گیا ہے نہ چڑھایا جائے گا۔ ہر بار دہرانا مناسب نہیں! کتنی ہی بار لکھا ہے کہ کوئٹہ‘ کراچی‘ لاہور‘ اسلام آباد میں طاقتوروں اور ان کی آل اولاد کو قتل کی کوئی سزا نہیں ملی۔ نام تک لوگوں کو یاد ہیں۔ ان میں ان کی بیٹیاں اور بیٹے بھی شامل ہیں‘ جو خود انصاف بانٹتے ہیں۔ ان طاقتوروں میں پولیس سرفہرست ہے۔ بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ پولیس اور حکمرانوں میں ایک غیر تحریری معاہدہ روبکار ہے۔ اس غیر تحریری معاہدے کی رو سے پولیس ریاست کی نہیں‘ حکومت کی نوکری کرے گی۔ ہر حکومت کی نوکری!! علاقے کے بڑے پولیس افسر کی تعیناتی اُس علاقے کے ایم این اے‘ ایم پی اے اور وزیر کی خوشی یا ناراضی پر منحصر ہو گی۔ حافظ آباد والا واقعہ تو چند دن پہلے کا ہے۔ پولیس افسر کو مکھی کی طرح نکال پھینکا گیا۔ عمران خان کے دور کی تو ابتدا ہی اس یاددہانی سے شر...