اشاعتیں

2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کالم

نو سالہ ہانیہ کا قتل

لکھ لیجیے کہ نو سالہ ہانیہ کے قاتل کو سزا نہیں ملے گی! اس لیے کہ بلی بچوں کے بجائے انڈے دے سکتی ہے۔ مردہ قبر سے نکل کر بھاگ سکتا ہے۔ سیب کے درخت پر تُنبے لگ سکتے ہیں۔ مگر مملکتِ خدادا میں کسی طاقتور قاتل کو پھانسی پر نہیں چڑھایا جا سکتا۔ چڑھایا گیا ہے نہ چڑھایا جائے گا۔ ہر بار دہرانا مناسب نہیں! کتنی ہی بار لکھا ہے کہ کوئٹہ‘ کراچی‘ لاہور‘ اسلام آباد میں طاقتوروں اور ان کی آل اولاد کو قتل کی کوئی سزا نہیں ملی۔ نام تک لوگوں کو یاد ہیں۔ ان میں ان کی بیٹیاں اور بیٹے بھی شامل ہیں‘ جو خود انصاف بانٹتے ہیں۔ ان طاقتوروں میں پولیس سرفہرست ہے۔ بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ پولیس اور حکمرانوں میں ایک غیر تحریری معاہدہ روبکار ہے۔ اس غیر تحریری معاہدے کی رو سے پولیس ریاست کی نہیں‘ حکومت کی نوکری کرے گی۔ ہر حکومت کی نوکری!! علاقے کے بڑے پولیس افسر کی تعیناتی اُس علاقے کے ایم این اے‘ ایم پی اے اور وزیر کی خوشی یا ناراضی پر منحصر ہو گی۔ حافظ آباد والا واقعہ تو چند دن پہلے کا ہے۔ پولیس افسر کو مکھی کی طرح نکال پھینکا گیا۔ عمران خان کے دور کی تو ابتدا ہی اس یاددہانی سے شر...

سات فیصد

یہ جو چلے جا رہا ہے‘ یہ کون ہے؟ مشکل سے پاؤں اٹھاتا ہے۔ اگلا قدم چلنے سے پہلے ہانپنے لگتا ہے۔ مکھیوں کو اڑانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے‘ کبھی جھرجھری لے کر‘ کبھی سر کو جھٹک کر‘ مگر رِستے ہوئے زخموں پر مکھیاں ٹوٹ پڑتی ہیں۔ اس ذی روح کیلئے راحت نام کی کوئی شے نہیں۔ صبح کی خنکی ہو یا گئی رات کا سناٹا‘ کڑکتی‘ چلچلاتی دوپہر کی اذیت ہو یا خون چوستے پسوؤں سے بھری شام‘ اس کیلئے ذرہ بھر سکون نہیں۔ اس بات کا کوئی امکان بھی نہیں کہ کوئی دور افتادہ راحت اس کے پاس سے گزر ے۔ یہ کون ہے جو چلے جا رہا ہے؟ کبھی اس کی کھال سے بیگ بناتے ہیں‘ کبھی جیکٹیں اور کبھی جوتوں کے تسمے! کبھی کوئی اس کی پشت پر بیٹھ کر ہانکنے لگتا ہے۔ کوئی ہل میں جوتتا ہے اور کانٹوں بھری قمچیاں مارتا ہے۔ کبھی چراگاہ میں لے بھی جائیں تو پشت پر ڈنڈا رسید کر کے گالی دیتے ہیں اور اس کا گوشت کھانے کی دھمکی دیتے ہیں۔ اس کے جگر اور گردے‘ جو کبھی صحیح سلامت تھے‘ ایک ایک کر کے ناکارہ ہونے لگے ہیں۔ خوراک حد درجہ کم ہو گئی ہے۔ جو تھوڑی بہت گھاس کھاتا بھی ہے‘ ہضم نہیں ہوتی۔ معدے سے...

چھولے پٹھورے اور دیگر حساس مسائل

سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہے؟ یہ پراٹھا بھی نہیں تھا! سائز پوری کا تھا مگر پوری بھی نہیں تھی۔ تھا بہت مزیدار! منہ میں جا کر گُھل جاتا تھا۔ اور ساتھ جو چھولے تھے! سبحان اللہ! منفرد ذائقہ! میزبان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے جو کھلا رہے ہو؟ کہنے لگا: سر جی کمال ہے۔ آپ کیسے پنجابی ہو جنہیں معلوم ہی نہیں کہ یہ پٹھورے ہیں! چھولے پٹھورے تو خاص پنجابی پکوان ہے! میں ٹھہرا اٹک کا! ہمارے علاقے میں گھروں میں مچھلی پکتی تھی نہ دال چاول! پٹھورے کون پکاتا۔ پھر پنڈی اسلام آباد آ گئے۔ یہاں بھی چھولے پٹھورے کا نام نہیں سنا۔ میلبورن میں یہ ایک انڈین پنجابی تھا جس کے ہاں ہماری دعوت تھی۔ جب اس نے کہا کہ آپ کیسے پنجابی ہو جسے پٹھوروں کا نہیں پتا! تو شرمندگی ہوئی۔ لاہور میں تو پھر ہونے چاہئیں! مگر لاہور میں بے شمار کھانے کھائے‘ دعوتوں میں شریک ہوئے‘ فوڈ سٹریٹوں میں گئے‘ کہیں پٹھوروں کا نام نہیں سنا۔ تجسس میں آسٹریلیا ہی سے عزیز گرامی یاسر پیرزادہ کو فون کھڑکایا۔ کہنے لگے: بالکل لاہور میں ہوتے ہیں! آپ آئیں گے تو کھلائیں گے آپ کو! مگر پھر یاسر کی تعیناتی اسلام آباد ہو گئی اور اسلام...

قانون اور چہیتے Gogetter

مجھے عزیز ِ گرامی رؤف کلاسرا سے اختلاف ہے! انہوں نے ایک سابق وزیراعظم کا ذکر کیا ہے جنہوں نے چین کے دورے میں ایک پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ انہیں ایسے سینئر افسران نہیں چاہئیں جو ہر بات پر قانون سمجھانے بیٹھ جائیں بلکہ انہیں ایسے نوجوان افسران درکار ہیں جو Go Getters ہوں۔ کلاسرا نے‘ جو اس پریس کانفرنس میں موجود تھے‘ قانون شکنی کے اس مائنڈ سیٹ اور اس رجحان کی مذمت کی ہے۔ کلاسرا ان پاکستانیوں میں سے ہیں جو قانون پر عمل درآمد چاہتے ہیں اور قانون کی حرمت کی بات کرتے ہیں! اسی بات سے تو مجھے اختلاف ہے۔ سابق وزیراعظم قانون‘ ضابطے‘ رُول‘ ریگولیشن کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔ یقین جانیے مجھے ٹریفک کی سرخ بتی سے نفرت ہے۔ سڑک کے بائیں طرف گاڑی چلانا مجھے ہرگز پسند نہیں۔ آخر ٹرینیں اور جہاز وقت ہی پر کیوں روانہ ہوں؟ جب بھی سابق وزیراعظم اور مجھ جیسا انارکسٹ بلکہ Nihilist حکم دے تو ٹرینیں چل پڑیں‘ جہاز لینڈ کریں‘ بازار بند ہو جائیں‘ سکول اتوار کو کھلیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ختم ہو جائیں۔ پنجابی میں کہتے ہیں: عقل نہ ہوو...

ہم اپنے آپ کو کھا رہے ہیں

تو کیا آپ نے اُس ظالم شخص کے بارے میں نہیں سنا جو اپنے جسم کے اعضا کھاتا تھا؟ اس نے ایک ایک کر کے اپنے بازو‘ ٹانگیں‘ پسلیاں‘ گردے اور دیگر حصے کھا لیے یہاں تک کہ صرف منہ اور معدہ رہ گیا اور آخر میں بھوک سے مر گیا۔ ہم بھی اُس ظالم شخص سے کم ظالم نہیں۔ وہ فرد تھا جبکہ ہم بطور قوم ظالم ہیں۔ اب تو ہم یہ بھی بھولتے جا رہے ہیں کہ پچپن سال پہلے ہم ملک کا ایک بازو ہی کھا گئے تھے۔ بازو ہڑپ کر کے ہم نے ڈکار تک نہ لیا اور ''با شرمی‘‘ کی حد یہ ہے کہ ہڑپ کرنے کا الزام آج تک دوسروں پر لگا رہے ہیں۔ اب ہم اپنی زمینیں‘ اپنے کھیت‘ اپنے جنگل‘ اپنی چراگاہیں‘ اپنے درخت اور اپنے باغات کھا رہے ہیں۔ یہ بھی جسم کے اعضا کھانے ہی کا مکروہ عمل ہے۔ مستقبل بینی کی صفت سے ہم مکمل طور پر عاری ہیں۔ لاہور کے پرانے باشندے بتاتے ہیں کہ شہر کی وہ فصیل جو گارے اور پتھروں سے بنی تھی بہت پہلے ٹوٹ گئی تھی۔ مگر اس کے بعد‘ ماضی قریب تک آموں کے باغات کی فصیل شہر کی حفاظت کرتی رہی۔ ایک باخبر شخص نے بتایا کہ شالامار باغ کا علاقہ آموں کے باغات سے اَٹا رہتا تھا ...

بابے جنہیں خود نوشت لازماً لکھنی چاہیے

خود نوشت کے حوالے سے اہم ترین بابے مجیب الرحمن شامی ہیں!! وہ جو فرنگی زبان میں کہتے ہیں In the middle of it‘ یعنی ہنگاموں کے درمیان رہنا‘ تو شامی صاحب کم از کم پچپن‘ ساٹھ برس سے صحافتی اور سیاسی ہنگاموں کے درمیان جی رہے ہیں۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ مجھے بھی ہے۔ خاص کر ضیا الحق کے عہد کے حوالے سے۔ ٹی وی ٹاک شوز میں اس موضوع پر ان سے کھل کر اختلاف کا اظہار کرتا رہا۔ دسترخوان کی طرح ان کا دل بھی بڑا ہے۔ اختلافِ رائے کو محبت اور مسکراہٹ کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ اختلاف کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بے شمار واقعات و حالات کے گواہ ہیں۔ ان کا مطالعہ اور معلومات حیران کن ہیں۔ جب بھی تاریخ اور سیاست کے ضمن میں مشکل پیش آئے تو ان سے پوچھتا ہوں اور وہ ایک سیکنڈ میں اس طرح رہنمائی کرتے ہیں جیسے اسی کی تیاری کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ زحمت انہیں رات گئے دیتا ہوں۔ شامی صاحب کی خود نوشت پاکستان کی تاریخ‘ سیاست اور شخصیات کا انسائیکلو پیڈیا ہو گی۔ اس میں بے پناہ معلومات ہوں گی۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں معتوب رہے۔ جنرل ضیا کا انہیں قرب حا...

قیامت جو سوشل میڈیا ڈھا رہا ہے

ہمارے ایک دوست ہیں شہاب ہاشمی۔ پاکستان نیوی کے بلند منصب سے ریٹائر ہوئے۔ کچھ عرصہ فرانس میں رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اس حوالے سے انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان ہے ''آنکھوں دیکھا جھوٹ‘‘۔ یوں تو ساری کتاب ہی گدگدی کرنے والی ہے مگر ایک فقرہ بھولتا نہیں‘ جو کچھ اس طرح کا ہے کہ فرانس میں کوئی گاڑی ہارن نہیں بجاتی مگر جب بھی ہارن بجا کسی پاکستانی پر ہی بجا۔ یہ فقرہ آج پھر یوں یاد آ رہا ہے کہ مغرب نے جو جو ایجادات کیں‘ ان کے فائدے بھی ہیں مگر نقصانات جتنے بھی ہیں وہ پاکستان ہی میں ظاہر ہوئے۔ لاؤڈ سپیکر کی مثال لے لیجیے۔ کسی اور مسلم ملک میں لاؤڈ سپیکر اس طرح شتر بے مہار نہیں ثابت ہوا جس طرح پاکستان میں ہوا ہے۔ تفصیل اس کی ہم سب کو معلوم ہے۔ انٹرنیٹ اور یوٹیوب کے حوالے سے ہمارے ملک کو جو اعزاز بخشا گیا ہے اس پر سینہ کوبی کرنے کو جی چاہتا ہے۔ وہ یہ کہ نامناسب مواد دیکھنے میں پاکستان کا پہلا نمبر ہے۔ ہمارے اس انداز پر بھی فدا ہو نے کو جی چاہتا ہے کہ شروع میں تو ہم اکثر‘ نئی ایجاد کو ''نظریاتی‘‘ بنیاد پر رد کرتے ہیں پھر کچھ عرصہ بعد...

پنکی اور Whataboutism

وہ جو شاعرہ نے کہا تھا کہ ''بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے‘‘ تو اصل بات یہ ہے کہ بچے چالاک نہیں ہوئے‘ ہم سے زیادہ عقلمند ہو گئے ہیں۔ اب وہ دور چلا گیا جب بچوں کو سوال پوچھنے پر یا اختلاف کرنے پر ڈانٹ پڑتی تھی۔ آج کے بچوں کا وژن‘ پہلی نسل کے بزرگوں کے وژن سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ٹچ سکرین کا زمانہ ہے۔ بچے ایک ٹچ سے جان لیتے ہیں کہ سات سمندر پار کیا ہو رہا ہے۔ میں اپنی بیٹی سے بحث کر رہا تھا کہ پنکی بی بی کو یونہی پکڑ لیا گیا ہے‘ اسے سلطانی گواہ بنا کر ان لوگوں کے نام معلوم کریں جو اس کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ بیٹی کہنے لگی: پشت پناہی کرنے والے کبھی نہیں سامنے لائے جائیں گے کیونکہ عین ممکن ہے کہ پشت پناہی کرنے والوں کی سیاسی جماعتوں میں اعلیٰ پوزیشنیں ہوں یا وہ بلند مناصب پر ہوں۔ ایسے صاحبان کو سامنے لانے اور پکڑنے سے کسی پارٹی پر زد پڑ سکتی ہے‘ اقتدار کمزور ہو سکتا ہے‘ کسی کے ووٹ کم ہو سکتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ پنکی کو یونہی پکڑ لیا گیا ہے تو اسے بالکل صحیح پکڑا گیا ہے۔ اگر پشت پر کوئی اور تھا اور پنکی صرف آلۂ کار بنی تھی تواسے اس لیے کڑی سزا...

یہ ہمارے ساتھ ہوا کیا!

صدیوں سے ہم اپنی بکریوں‘ گایوں اور بھینسوں کا دودھ استعمال کر رہے تھے۔ گاؤں کی تو خیر کیا بات تھی‘ دودھ‘ دہی‘ مکھن اور لسی کے جیسے دریا بہتے تھے۔ شہر میں بھی کبھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ جب تک دادکا (دھدیال) آباد تھا‘ گاؤں سے دودھ بھری بوتلیں آتی رہتی تھیں۔ گھر گھر گوالے آتے تھے۔ ہاں! پانی ملے دودھ کی شکایت تھی‘ مگر خالص دودھ پھر بھی عام تھا۔ اس سے دہی بھی گھر ہی میں بنتا تھا۔ سرِشام حلوائی دودھ کے کڑاہ چولہوں پر رکھ کے بیٹھ جاتے تھے۔ لوگ آتے تھے‘ خوبصورت سبز پیالوں میں بالائی سے بھرا خالص دودھ پیتے تھے۔ صحت بھی بنتی تھی‘ لطف بھی آتا تھا۔ پھر اچانک میڈیا سے بتایا جانے لگا کہ گوالے انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں‘ ان کے دودھ میں جراثیم ہیں‘ ان کے برتن گندے ہوتے ہیں‘ اس دودھ سے بچے بیمار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہا گیا کہ اس دودھ سے ٹی بی ہوتی ہے‘ اور یہ کہ گوالے ہر روز بھینسوں کو ٹیکا لگاتے ہیں جو بہت خطرناک ہوتا ہے۔ یوں خلق خدا کی برین واشنگ کی گئی۔ گوالوں اور گوالوں کے دودھ کے متعلق ذہنوں میں زہر بھرا گیا۔ جب زمین ہموا...

کچھ آہ وزاری مزید

وہ جو اردو میں محاورہ ہے‘ زخموں پہ نمک چھڑکنا‘ فرنگیوں کا محاورہ اس مضمون میں شدید تر ہے‘ یعنی Adding insult to injury۔ ہمارے حکمران طبقہ سے اگر پوچھا جائے کہ دونوں زبانوں کے محاوروں میں سے کون سا پسند فرمائیں گے تو غالباً بلکہ یقینا دونوں میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑ پائیں گے!! ایک معزز سینیٹر نے‘ جو کسی زمانے میں بائیں بازو پر فریفتہ تھے‘ اور اب دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی حکمران پارٹی کے برگزیدہ ارکان میں شمار ہوتے ہیں اور شاہی خاندان کے بہت قریب ہیں‘ فرمایا ہے کہ ''مہنگائی صرف عوام کی نہیں‘ بلکہ ہم سب کی پریشانی ہے‘‘۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ ''حکومت اور عوام ایک ہی ہیں‘ اور دونوں اس پریشانی سے نجات چاہتے ہیں‘‘۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قومی اسمبلی کے ارکان الیکشن جیت کر آتے ہیں۔ اصل جمہوری ملکوں میں ایوانِ بالا کے ارکان سو فیصد میرٹ پر لیے جاتے ہیں۔ ان میں ٹیکنو کریٹ‘ دانشور اور صاحبانِ علم وفضل شامل ہوتے ہیں۔ بہت سے ایسے لائق فائق افراد کو حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں بزور ایوانِ بالا کا رکن بناتی ہیں...

چار سو پندرہ روپے فی لیٹر

مجھے غریبوں سے نفرت ہے۔ ہم غریب ہمیشہ رنگ میں بھنگ ڈالتے ہیں۔ ہم اَپر کلاس کی خوشیاں نہیں دیکھ سکتے۔ ہم حسد کرتے ہیں۔ ہم تُھڑ دِلے ہیں‘ ہمارے دل چھوٹے ہیں۔ ہم اپنے چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں پڑ کر بالائی طبقے کے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہیں اور پھر خوش ہوتے ہیں۔ محمد خان جونیجو صاحب نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران افسروں کو بڑی گاڑیوں سے نکال کر چھوٹی کاروں میں بٹھا دیا تھا۔ ایک وفاقی سیکرٹری کا نائب قاصد ہر روز پوچھتا کہ صاحب کے لیے چھوٹی کار کب آئے گی۔ پوچھا گیا تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ کہنے لگا: مجھے تو کبھی گاڑی ملنی نہیں‘ یہ چھوٹی میں بیٹھے گا تو خوشی ہو گی۔ ہماری تنگ دلی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ہم آج کل اُس طبقے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو پٹرول اپنی جیب سے نہیں ڈلواتا۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے پٹرول کی قیمت‘ آخرِکار‘ کن کے کندھوں پر آن پڑتی ہے۔ مفت پٹرول کے ''حقدار‘‘ معمولی لوگ نہیں۔ اگر میں ان لوگوں کی تفصیل بتاؤں تو میرے ایڈیٹر کی قینچی ایکشن لینے پر مجبور ہو جائے گی‘ اس لیے آپ تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں۔ آ ج کی نسل اس فقرے‘ یعنی...

خالد مسعود خان کا نقطۂ اعتراض

میر نے کہا تھا: مصائب اور تھے پر دل کا جانا عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے یہاں بھی آج کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ مسائل بہت سے ہیں اور گمبھیر!! ایک سے ایک بڑھ کر! پٹرول مہنگا ہو گیا۔ پڑوسی احسان کا بدلہ دہشت گردی کی صورت میں دے رہے ہیں۔ سولر کا معاملہ حکومت نے ایسا الجھایا ہے کہ ڈور کا سرا نہیں مل رہا۔ چلچلاتی دھوپ کا موسم آنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ یہ سارے مسائل اپنی جگہ مگر دوستِ دیرینہ خالد مسعود خان نے جو نقطۂ اعتراض اٹھایا ہے اس کی اہمیت بھی کچھ کم نہیں!! خالد مسعود خان میں دو خصوصیات ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ دوست ہے! اور دوست بھی ایسا کہ نعمتِ خداوندی سے کم نہیں!! برامکہ کا جن دنوں عباسی سلطنت میں طوطی بول رہا تھا‘ شاعر ان کے گُن گاتے تھے۔ یاد نہیں خالد برمکی تھا یا یحییٰ برمکی‘ ایک شاعر نے اس کے بارے میں کہا کہ احسان کر کے بھول جاتا ہے مگر وعدہ کر کے نہیں بھولتا۔ خالد مسعود بھی اس لحاظ سے برمکی ہی ہے۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت‘ دنیا کے کسی بھی حصے میں پایا جا سکتا ہے! اس لیے اسے فون کرنے کے بعد سب سے پہلے یہ پوچھنا پڑتا ہے کہ حضور کرۂ ارض کے کس گوشے میں ہیں؟ اس...

ایک خصوصی کمیٹی عوام کے لیے بھی!!

سب کی ایک ہی منزل تھی۔ اسلام آباد!! سب اسلام آباد جا رہے تھے۔ ٹرینوں پر‘ بسوں پر‘ اپنی گاڑیوں پر۔ لاکھوں پیدل ہی چل پڑے تھے۔ ٹرک‘ بسیں‘ ویگنیں‘ سوزوکیاں سب کا رخ اسلام آباد کی طرف تھا۔ یہاں تک کہ ٹریکٹر وں‘ ٹرالیوں اور ڈمپروں کا بھی!! ملک کے ہر صوبے سے‘ ہر شہر سے‘ ہر قصبے سے لوگ گھروں سے نکلے تھے اور اسلام آباد کی طرف چل پڑے تھے۔ کوئٹہ سے‘ خضدار سے‘ تربت سے‘ دادو سے‘ شکارپور سے‘ مانسہرہ سے‘ جہلم سے‘ ملتان سے‘ چترال سے! ان کی زبانیں مختلف تھیں‘ رنگ الگ الگ تھے۔ ان میں مسلمان بھی تھے‘ ہندو اور سکھ بھی‘ مسیحی بھی! نیک بھی بد بھی! سرکاری ملازم بھی‘ تاجر بھی‘ مزدور بھی‘ کسان بھی! ایک جمِّ غفیر تھا جو سیلِ رواں کی صورت اسلام آباد کی طرف رواں تھا۔ اسلام آباد پہنچ کر یہ کروڑوں پاکستانی شہر کے مشرقی کنارے کی طرف چل پڑے۔ آبپارہ کے سامنے سے ہوتے ہوئے‘ اسلام آباد کلب کے شمال سے گزرتے‘ کنونشن سنٹر کے پاس سے ہوتے یہ خلقت ایک بہت بلند عمارت کے سامنے رک...

مکھڈی حلوہ اور صدر ٹرمپ کی صاف گوئی

آج کل میں جہاں رہ رہا ہوں‘ وہ جگہ اُس مشہور ہوٹل سے بہت قریب ہے جہاں حساس نوعیت کے مذاکرات ہوتے رہے اور جہاں غیرملکی مہمان قیام پذیر رہے۔ اسی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کے اندرونی راستے بھی بند رہے۔ اسی ضمن میں صدر ٹرمپ کی بھی آمد آمد تھی۔ میں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ کچھ ذمہ داری ہماری بھی ہے۔ انہوں نے سوالیہ آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا کہ ہم ہوٹل کے نزدیک رہتے ہیں۔ یعنی صدر ٹرمپ آئیں گے تو ہمارے پڑوسی ہوں گے۔ ہمیں ان کی دعوت کرنی چاہیے۔اس پر اہلیہ نے فوراً یاد دلایا کہ کچھ دن پہلے انہوں نے دوست خواتین کی دعوت کی تھی تو میں نے کہا تھا کہ گرانی ہوشربا ہو چکی ہے اس لیے ان آئے روز کی دعوتوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اس پر بیگم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ ٹھیک ہے پھر آپ کے سابق‘ فائل زدہ رفقائے کار اور نیم بے ہوش شاعر دوست بھی نہیں آئیں گے جو مسلسل نازل ہوتے رہتے ہیں اور اٹھنے کا نام نہیں لیتے۔ اب بھی بیگم نے اسی حکم نامے بلکہ معاہدے کا ذکر کیا مگر میں نے انہیں سمجھایا کہ یہ قومی معاملہ ہے اور ملک کی عزت کا سوال ہے۔ صدر ٹرمپ پڑوس میں آکر رہیں اور ہم انہیں کھانے پر...

زخمی پرندہ اور ہارورڈ کا ایم بی اے

اُس دن میں نسبتاً فارغ تھا۔ فراغت ایک ایسی اصطلاح ہے جس کا مطلب بدلتا رہتا ہے۔ فرنگی ایسی اصطلاح کو Relative term کہتے ہیں۔ کبھی فراغت اس لیے حاصل ہو جاتی ہے کہ واقعی کوئی کام نہیں ہوتا۔ کبھی کام ہوتا ہے مگر اسے مؤخر کر کے ذہن سے وقتی طور پر بوجھ ہٹا دیا جاتا ہے۔ میں بھی اُس دن اصلاً فارغ نہیں تھا۔ ادب کا طالب علم کبھی فارغ ہوتا بھی نہیں۔ شہر کے مرکز میں ایک کام سے گیا۔ کام ہو چکا تو مرکز کا چکر لگانے کو دل چاہا۔ پرانی یادیں ذہن میں لَو دینے لگیں۔ دکانیں جو ہمارے عہدِ شباب میں آباد تھیں‘ اب تھیں ہی نہیں۔ سنیما گھر مرحوم ہو چکا تھا۔ ریستورانوں کی بھرمار تھی۔ لوگ باگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ دفعتاً یاد آیا کہ یہیں ایک بہت پرانے دوست کے بیٹے کی بھی دکان ہے۔ پتا کرتا کرتا وہاں پہنچ گیا۔ بیس اکیس برس کا ایک خوش وضع لڑکا کھڑا تھا۔ یہ میرے دوست کا پوتا تھا۔ اسے دیکھ کر اور اس سے بات کر کے دل خوش ہو گیا۔ کہنے لگا: ابو اندر دفتر میں بیٹھے ہیں۔ اندر گیا! یہ اس بہت بڑی دکان کا عقبی حصہ تھا‘ جسے ایک شاندار دفتر میں تبدیل کیا گیا تھا۔ میرے دوست کا بیٹا ماشاء اللہ‘ شان وشوک...

کاروکاری ’’ناقابلِ قبول‘‘ ہے!!

''صوبے میں کاروکاری کے واقعات قابلِ قبول نہیں۔ سندھ امن وسلامتی کی دھرتی ہے۔ کسی بھی بیٹی کو کاروکاری میں مارنا ناقابلِ قبول ہے۔ واقعے میں ملوث تمام افراد کو سزائیں دی جائیں گی۔ کسی کو بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف جرگے نہیں کرنے دیں گے۔ اس قسم کے واقعات کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں‘‘۔ یہ بے ضرر اور معصوم بیان سندھ کے ایک وزیر صاحب کا ہے۔ سر دھننے کو جی چاہتا ہے۔ ''کسی طور قابلِ قبول نہیں‘‘ سب سے زیادہ پامال شدہ‘ مضحکہ خیز‘ مہمل اور لاحاصل الفاظ ہیں‘ جن کی قدر وقیمت صفر سے بھی کم ہے۔ دہشت گردی کا واقعہ پیش آئے تو کہا جاتا ہے ''یہ ناقابلِ قبول ہے‘‘۔ اغوا کا جرم سرزد ہو تو وہ ناقابلِ قبول قرار دیا جاتا ہے۔ ان صاحبان سے کوئی پوچھے کہ اس ناقابلِ قبول ہونے کا مطلب کیا ہے؟ کیا جرم کرنے والے نے آپ سے استفسار فرمایا ہے کہ حضور! میں جرم کرنے لگا ہوں‘ فرمائیے کیا آپ کو قبول ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ مجرم کو بتائیے کہ یہ ناقابلِ قبول ہے۔ مگر مجرم تو آپ سے نہ صرف پوچھتا نہیں بلکہ آپ کو پرِکاہ اہمیت بھی نہیں ...