اشاعتیں

فروری, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کالم

فریاد! کہ ہم مارے گئے!

وحشت کے اس زمانے میں بھی ایک اچھی خبر مل گئی۔ مگر افسوس! ساتھ ہی ایک غمزدہ کرنے والی خبر بھی ہے۔ شاید یہ نظر بٹو ہے تاکہ نظر نہ لگے! اچھی خبر یہ ہے کہ ڈپٹی وزیراعظم جناب اسحاق ڈار کے فرزند ارجمند جناب علی مصطفی ڈار کو وزیراعلیٰ پنجاب کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جناب علی مصطفی ڈار صوبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال‘ ڈیجیٹل گورننس کے فروغ اور خصوصی ترقیاتی منصوبوں میں وزیراعلیٰ کو مشاورت فراہم کریں گے۔ ماشاء اللہ! حق بحقدار رسید!! شریف خاندان کا ایک خاص وصف مجھے اور ساری قوم کو بہت پسند ہے۔ وہ یہ کہ یہ خاندان میرٹ سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کرتا۔ ابھی حال ہی میں بڑے میاں صاحب کے ایک پرانے‘ وفادار ساتھی کا انتقال ہوا تو ان کے فرزند ارجمند کو بھی پنجاب حکومت کا مشیر لگایا گیا۔ افسوس کی بات ہے کہ اس وقت صرف پنجاب حکومت بڑے میاں صاحب کی میرٹ افزا فرمائشیں پوری کر نے میں لگی ہے۔ یہ ناانصافی ہے! میاں صاحب پورے ملک کے حکمرانِ اعلیٰ رہے ہیں۔ ایک بار نہیں‘ دو بار نہیں‘ تین بار! ان کا حق آج بھی پورے ملک پر ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ‘ کے...

پاکستان 2050ء

ایک زمانہ تھا کہ جب کوئی لشکر دشمن پر فتح پاتا تو وہ شہروں کو ملیا میٹ کرتا‘ آبادیوں کو تہس نہس کرتا‘ کھیتوں اور باغوں کو تاراج کرتا‘ تہذیبی آثار منہدم کرتا‘ ہر طرف بربادی پھیلاتا جاتا تھا۔ ہر زمانے میں‘ ہر قوم نے‘ ہر مذہب کے پیروکاروں نے فتح کے بعد یہی کچھ کیا۔ آپ کا کیا خیال ہے وہ زمانہ گزر گیا؟ کیا اب سرحدیں مکمل طور پر مؤثر ہیں؟ کیا اب اقوام متحدہ ملکوں اور قوموں کی حفاظت کرتی ہے؟ کیا آج کی جنگ محض ہوائی جہازوں سے لڑی جاتی ہے؟ کیا اپنے اپنے ملک کے اندر ہی سے دشمنوں پر حملے کیے جاتے ہیں؟ نہیں! ایسا نہیں! بالکل نہیں! مسئلہ یہ ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی غلط فہمی کا شکار ہیں! آپ سمجھ رہے ہیں کہ بربادی لانے والے لشکر صرف انسانوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بربادی لانے والے لشکر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو قدرت کی طرف سے آتے ہیں۔ سیلاب! طوفان! آندھیاں! گزشتہ قوموں پر خون‘ ٹڈیاں‘ جوئیں اور مینڈک برسائے گئے۔ یہ سب تاریخ کی باتیں ہیں یا صحیفوں کی۔ دوسرے تباہ کُن لشکر وہ ہیں جو معاشرے کے کچھ طاقتور اور بااختیار افراد تیار کرتے ہیں اور پھر عوام پر چ...

خود نوشت یا ہماری تاریخ کا ایک معتبر ورق!!!

''اُس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ کے چیف آف سٹاف نے اپنے ایک قریبی دوست کو بتایا کہ فیصلے سے چند روز پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کا فون آیا کہ وہ آرمی چیف سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ جنرل وحید کاکڑ ایک پروفیشنل سولجر تھے اور سیاست میں مداخلت کے خلاف تھے اس لیے انہوں نے ایک حساس فیصلے سے پہلے چیف جسٹس سے بات کرنے سے گریز کیا۔ فیصلے سے ایک دو روز پہلے جب چیف جسٹس کے بار بار فون آئے تو آرمی چیف نے اپنے سٹاف افسر سے کہا: چیف جسٹس سے پوچھ لیں کہ وہ کس سلسلے میں بات کرنا چاہتے ہیں؟ آرمی چیف کا یہ پیغام سننے کے بعد بھی شاہ صاحب نے عزتِ سادات بچانا مناسب نہ سمجھا اور دل کی بات کہہ دی کہ کل ہم نے حکومت کو بحال کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ سنانا ہے۔ اس سلسلے میں آرمی چیف صاحب کیا چاہتے ہیں؟ آرمی چیف نے یہ پیغام سن کر عدالت عظمیٰ کے سربراہ کو یہ پیغام بھیجا کہ ہم کیسوں میں دخل دینا پسند نہیں کرتے۔ آپ اپنی مرضی سے فیصلہ کریں‘‘۔ ہماری تاریخ کا یہ عبرتناک واقعہ معروف‘ نیک نام‘ ریٹائرڈ اعلیٰ پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ نے اپنی خود نوشت ''جہدِ مسلسل...

سیالکوٹ یونیورسٹی برائے خواتین اور خواجہ صاحب

آخر خواجہ محمد آصف صاحب کا قصور کیا ہے؟ ڈاکا تو نہیں ڈالا‘ چوری تو نہیں کی ہے! خدا کے بندو! خواجہ صاحب نے صرف اتنا ہی کہا ہے نا کہ سیالکوٹ میں جس 200 ایکڑ زمین پر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی برائے خواتین قائم ہے اس میں سے 140 ایکڑ زمین یونیورسٹی سے لے لی جائے گی تو اس میں برائی ہی کیا ہے۔ خواجہ آصف صاحب کا تعلق سیالکوٹ ہی سے ہے۔ وہ سیالکوٹ کے پانی‘ سیالکوٹ کی دھوپ اور سیالکوٹ کی چاندنی ہی میں پلے بڑھے ہیں۔ وہ اپنی جنم بھومی سے‘ اپنی مٹی سے بے وفائی کیسے کر سکتے ہیں؟ اگر وہ یونیورسٹی سے اس کی 70 فیصد زمین لے لینا چاہتے ہیں تو اس میں سیالکوٹ اور اہلِ سیالکوٹ کا فائدہ ہی تو ہو گا۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ خواتین یونیورسٹی سے زمین کس مقصد کیلئے لی جا رہی ہے؟ یہ مقصد نیک ہے یا برا؟ تو یہ مقصد بھی محترم خواجہ صاحب نے بتا دیا ہے۔ سیالکوٹ کی واحد یونیورسٹی برائے خواتین کی 70 فیصد زمین اس لیے لی جا رہی ہے کہ اس پر عدالتیں‘ پولیس لائنز اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر بنائے جائیں۔ کیا اعتراض کرنے والے خواجہ صاحب کو بچہ سمجھ رہے ہیں؟ خواجہ صاحب ایک جہاندیدہ‘ باراں دیدہ‘ سرد و گر...