اشاعتیں

مئی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کالم

کچھ آہ وزاری مزید

وہ جو اردو میں محاورہ ہے‘ زخموں پہ نمک چھڑکنا‘ فرنگیوں کا محاورہ اس مضمون میں شدید تر ہے‘ یعنی Adding insult to injury۔ ہمارے حکمران طبقہ سے اگر پوچھا جائے کہ دونوں زبانوں کے محاوروں میں سے کون سا پسند فرمائیں گے تو غالباً بلکہ یقینا دونوں میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑ پائیں گے!! ایک معزز سینیٹر نے‘ جو کسی زمانے میں بائیں بازو پر فریفتہ تھے‘ اور اب دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی حکمران پارٹی کے برگزیدہ ارکان میں شمار ہوتے ہیں اور شاہی خاندان کے بہت قریب ہیں‘ فرمایا ہے کہ ''مہنگائی صرف عوام کی نہیں‘ بلکہ ہم سب کی پریشانی ہے‘‘۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ ''حکومت اور عوام ایک ہی ہیں‘ اور دونوں اس پریشانی سے نجات چاہتے ہیں‘‘۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قومی اسمبلی کے ارکان الیکشن جیت کر آتے ہیں۔ اصل جمہوری ملکوں میں ایوانِ بالا کے ارکان سو فیصد میرٹ پر لیے جاتے ہیں۔ ان میں ٹیکنو کریٹ‘ دانشور اور صاحبانِ علم وفضل شامل ہوتے ہیں۔ بہت سے ایسے لائق فائق افراد کو حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں بزور ایوانِ بالا کا رکن بناتی ہیں...

چار سو پندرہ روپے فی لیٹر

مجھے غریبوں سے نفرت ہے۔ ہم غریب ہمیشہ رنگ میں بھنگ ڈالتے ہیں۔ ہم اَپر کلاس کی خوشیاں نہیں دیکھ سکتے۔ ہم حسد کرتے ہیں۔ ہم تُھڑ دِلے ہیں‘ ہمارے دل چھوٹے ہیں۔ ہم اپنے چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں پڑ کر بالائی طبقے کے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہیں اور پھر خوش ہوتے ہیں۔ محمد خان جونیجو صاحب نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران افسروں کو بڑی گاڑیوں سے نکال کر چھوٹی کاروں میں بٹھا دیا تھا۔ ایک وفاقی سیکرٹری کا نائب قاصد ہر روز پوچھتا کہ صاحب کے لیے چھوٹی کار کب آئے گی۔ پوچھا گیا تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ کہنے لگا: مجھے تو کبھی گاڑی ملنی نہیں‘ یہ چھوٹی میں بیٹھے گا تو خوشی ہو گی۔ ہماری تنگ دلی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ہم آج کل اُس طبقے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو پٹرول اپنی جیب سے نہیں ڈلواتا۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے پٹرول کی قیمت‘ آخرِکار‘ کن کے کندھوں پر آن پڑتی ہے۔ مفت پٹرول کے ''حقدار‘‘ معمولی لوگ نہیں۔ اگر میں ان لوگوں کی تفصیل بتاؤں تو میرے ایڈیٹر کی قینچی ایکشن لینے پر مجبور ہو جائے گی‘ اس لیے آپ تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں۔ آ ج کی نسل اس فقرے‘ یعنی...

خالد مسعود خان کا نقطۂ اعتراض

میر نے کہا تھا: مصائب اور تھے پر دل کا جانا عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے یہاں بھی آج کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ مسائل بہت سے ہیں اور گمبھیر!! ایک سے ایک بڑھ کر! پٹرول مہنگا ہو گیا۔ پڑوسی احسان کا بدلہ دہشت گردی کی صورت میں دے رہے ہیں۔ سولر کا معاملہ حکومت نے ایسا الجھایا ہے کہ ڈور کا سرا نہیں مل رہا۔ چلچلاتی دھوپ کا موسم آنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ یہ سارے مسائل اپنی جگہ مگر دوستِ دیرینہ خالد مسعود خان نے جو نقطۂ اعتراض اٹھایا ہے اس کی اہمیت بھی کچھ کم نہیں!! خالد مسعود خان میں دو خصوصیات ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ دوست ہے! اور دوست بھی ایسا کہ نعمتِ خداوندی سے کم نہیں!! برامکہ کا جن دنوں عباسی سلطنت میں طوطی بول رہا تھا‘ شاعر ان کے گُن گاتے تھے۔ یاد نہیں خالد برمکی تھا یا یحییٰ برمکی‘ ایک شاعر نے اس کے بارے میں کہا کہ احسان کر کے بھول جاتا ہے مگر وعدہ کر کے نہیں بھولتا۔ خالد مسعود بھی اس لحاظ سے برمکی ہی ہے۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت‘ دنیا کے کسی بھی حصے میں پایا جا سکتا ہے! اس لیے اسے فون کرنے کے بعد سب سے پہلے یہ پوچھنا پڑتا ہے کہ حضور کرۂ ارض کے کس گوشے میں ہیں؟ اس...

ایک خصوصی کمیٹی عوام کے لیے بھی!!

سب کی ایک ہی منزل تھی۔ اسلام آباد!! سب اسلام آباد جا رہے تھے۔ ٹرینوں پر‘ بسوں پر‘ اپنی گاڑیوں پر۔ لاکھوں پیدل ہی چل پڑے تھے۔ ٹرک‘ بسیں‘ ویگنیں‘ سوزوکیاں سب کا رخ اسلام آباد کی طرف تھا۔ یہاں تک کہ ٹریکٹر وں‘ ٹرالیوں اور ڈمپروں کا بھی!! ملک کے ہر صوبے سے‘ ہر شہر سے‘ ہر قصبے سے لوگ گھروں سے نکلے تھے اور اسلام آباد کی طرف چل پڑے تھے۔ کوئٹہ سے‘ خضدار سے‘ تربت سے‘ دادو سے‘ شکارپور سے‘ مانسہرہ سے‘ جہلم سے‘ ملتان سے‘ چترال سے! ان کی زبانیں مختلف تھیں‘ رنگ الگ الگ تھے۔ ان میں مسلمان بھی تھے‘ ہندو اور سکھ بھی‘ مسیحی بھی! نیک بھی بد بھی! سرکاری ملازم بھی‘ تاجر بھی‘ مزدور بھی‘ کسان بھی! ایک جمِّ غفیر تھا جو سیلِ رواں کی صورت اسلام آباد کی طرف رواں تھا۔ اسلام آباد پہنچ کر یہ کروڑوں پاکستانی شہر کے مشرقی کنارے کی طرف چل پڑے۔ آبپارہ کے سامنے سے ہوتے ہوئے‘ اسلام آباد کلب کے شمال سے گزرتے‘ کنونشن سنٹر کے پاس سے ہوتے یہ خلقت ایک بہت بلند عمارت کے سامنے رک...