قیامت جو سوشل میڈیا ڈھا رہا ہے
ہمارے ایک دوست ہیں شہاب ہاشمی۔ پاکستان نیوی کے بلند منصب سے ریٹائر ہوئے۔ کچھ عرصہ فرانس میں رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اس حوالے سے انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان ہے ''آنکھوں دیکھا جھوٹ‘‘۔ یوں تو ساری کتاب ہی گدگدی کرنے والی ہے مگر ایک فقرہ بھولتا نہیں‘ جو کچھ اس طرح کا ہے کہ فرانس میں کوئی گاڑی ہارن نہیں بجاتی مگر جب بھی ہارن بجا کسی پاکستانی پر ہی بجا۔ یہ فقرہ آج پھر یوں یاد آ رہا ہے کہ مغرب نے جو جو ایجادات کیں‘ ان کے فائدے بھی ہیں مگر نقصانات جتنے بھی ہیں وہ پاکستان ہی میں ظاہر ہوئے۔ لاؤڈ سپیکر کی مثال لے لیجیے۔ کسی اور مسلم ملک میں لاؤڈ سپیکر اس طرح شتر بے مہار نہیں ثابت ہوا جس طرح پاکستان میں ہوا ہے۔ تفصیل اس کی ہم سب کو معلوم ہے۔ انٹرنیٹ اور یوٹیوب کے حوالے سے ہمارے ملک کو جو اعزاز بخشا گیا ہے اس پر سینہ کوبی کرنے کو جی چاہتا ہے۔ وہ یہ کہ نامناسب مواد دیکھنے میں پاکستان کا پہلا نمبر ہے۔ ہمارے اس انداز پر بھی فدا ہو نے کو جی چاہتا ہے کہ شروع میں تو ہم اکثر‘ نئی ایجاد کو ''نظریاتی‘‘ بنیاد پر رد کرتے ہیں پھر کچھ عرصہ بعد...