اشاعتیں

جولائی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کالم

کیا ہم واقعی دیانت دار ہیں؟

دکاندار بہت نیک تھا۔ کسی سے ایک پیسہ بھی ناجائز نہ لیتا۔ سامان‘ سو فیصد درست تولتا۔ منافع جائز رکھتا۔ اس زمانے میں نقد روپیہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ گندم‘ خاص طور پر دیہات میں‘ روپیہ کے قائم مقام سمجھی جاتی تھی۔ خریدار گندم دکاندار کو دیتے اور اس کے بدلے میں سودا سلف حاصل کرتے۔ زیادہ سودا لینا ہوتا تو زیادہ گندم لائی جاتی۔ دکاندار گندم کو تولتا اور اپنے سٹاک میں ڈال دیتا۔ آج کے بچوں نے تو دو پلڑوں والا ترازو بھی نہیں دیکھا۔ قصہ مختصر‘ یہ نیک اور دیانتدار دکاندار دنیا سے رخصت ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد کسی کے خواب میں آیا۔ خواب والے نے پوچھا ''سناؤ کیسی گزری؟ تم تو دیانتدار تھے۔ فوراً کامیابی کا پروانہ مل گیا ہو گا‘‘۔ دکاندار نے کہا ''نہیں! بھئی! کیا پوچھتے ہو! ! یہاں تو رپَھڑ پڑ گیا‘‘۔ پوچھا: کیا رپھڑ؟ کہنے لگا: وہ گندم جو میں خریدار سے لے کر تولتا تھا‘ اُس میں سے کچھ دانے تولتے وقت ترازو کے پلڑوں سے زمین پر گر جاتے تھے۔ وہ میں غیر ارادی طور پر صفائی وغیرہ کرتے ہوئے‘ اپنی گندم میں ملا دیتا تھا۔ بس اس کی پوچھ گچھ ہو ر...