ہمارے ساتھی! ہمارے غم خوار!!
صحن میں لگا ہوا وہ لسوڑے کا درخت کہاں گیا جس کے سائے میں‘ چارپائی بچھا کر‘ میں نے چارلس ڈکنز‘ سٹیون سن اور جونیتھن سوئفٹ کے ناول اور برنارڈ شا کے ڈرامے پڑھے؟ صحن کے کونے میں لگا ہوا‘ رنگا رنگ پھول کھلاتا‘ گل باسی (گلِ عباسی) کا وہ پودا کہاں گیا جسے دیکھ دیکھ کر میں بڑا ہوا۔ بیری اور انجیر کے درختوں کے لاتعداد جھنڈ جن کے نیچے ہم گرم‘ چلچلاتی دوپہریں گزارتے تھے‘ کہاں غائب ہو گئے۔ کَرِیں کے وہ تنہائی پسند‘ صوفی درخت کیوں نہیں نظر آتے جن کے سائے میں‘ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک سفر کرتے ہوئے‘ ہم چادر بچھا کر سستاتے تھے اور جن پر اکا دکا‘ بہت سرخ پھول لگتے تھے یا ڈیلی کے پھل!! وہی ڈیلی یا ڈیلیاں‘ جن کا اچار آج بھی معروف ہے۔ یہ ماتمی فقرے میرے دل سے اس لیے نکل رہے ہیں کہ میں نے ایک ماتمی خبر پڑھی ہے۔ خبر پڑھ کر دل میں درد کی لہر اٹھی جو کاغذ پر منتقل ہونا چاہتی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے راول جھیل کے ایریا میں درخت صرف پچاس فیصد رہ گئے ہیں۔ یہی لیل ونہار رہے تو بقیہ پچاس فیصد بھی مجرمانہ تغافل کی نذر ہو جائیں گے۔ ہم لوگ بھ...