کالم

وہ دو غیر ملکی خواتین۔ اصل کہانی

سینئر پولیس افسر نے پریس کانفرنس میں سچ بولا! مگر افسوس! سچ کا صرف تھوڑا سا حصہ بولا! شاید اس لیے کہ ملک کو نظر نہ لگ جائے۔
یہ سچ شاید کبھی باہر نہ آتا۔ وہ تو یوں ہوا کہ رضا ڈار والے معاملے میں وہ جو دو عورتیں تھیں‘ نیدرلینڈز کی Stephanie Adriana اور وینزویلا کی Astrid Robinson Bracho‘ اُن دونوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ یورپ ہی کے کسی ملک سے بول رہی تھیں۔ بہت دیر تو مجھے ان کی بات سمجھ ہی میں نہ آئی۔ دونوں خواتین زار و قطار رو رہی تھیں۔ یہ ٹیلی فون کال نہ تھی‘ سسکیوں‘ ہچکیوں اور آہوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ ایک کی تو گھگی بندھ رہی تھی۔ اتنے فاصلے پر‘ ٹیلیفون پر‘ کسی روتے ہوئے کو چُپ کرانا آسان نہیں۔ ایک کو چپ کراتا تھا تو دوسری رونے لگ جاتی تھی۔ خدا خدا کر کے خاموش ہوئیں تو میں نے پوچھا کہ رونا کس بات کا ہے؟ تم تو ہمارے ملک سے خوش خوش گئی تھیں۔ ہمارے سینئر پولیس افسر نے باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے اعلان کیا تھا کہ تم ہمارے نظام سے مطمئن تھیں‘ اور یہ کہ تم نے پاکستان کا پرچم منگوایا جسے تم ساتھ لے جانا چاہتی تھیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اسی بات پر تو رو رہی ہیں۔ پولیس افسر نے پوری بات نہ بتا کر ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ میں حیران ہوا کہ آخر ایسی کون سی بات تھی جو پولیس افسر نے نہیں بتائی اور اس کی وجہ سے رو رو کر ان کی حالت خراب ہو رہی ہے۔ جب ان کی سسکیاں اور ہچکیاں ختم ہوئیں اور وہ اس قابل ہوئیں کہ بات کر سکیں‘ تو انہوں نے تفصیل سے بات کی۔ یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ بہرطور میں بے حد اختصار کے ساتھ قارئین کی خدمت میں دونوں خواتین کا مشترکہ ورژن پہنچا دیتا ہوں۔
وہ پاکستان سے جانا ہی نہیں چاہتی تھیں۔ ساری دنیا گھومی ہوئی تھیں مگر پاکستان انہیں اتنا بھایا کہ وہ اس پر عاشق ہی ہو گئیں۔ جن پاکستانیوں کی بظاہر قید میں تھیں‘ دراصل وہ قید تو تھی ہی نہیں۔ انہیں اس قدر آرام اور عزت کے ساتھ رکھا گیاکہ وہ از حد متاثر ہوئیں۔ کسی نے ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا نہ انہیں ہاتھ لگایا۔ سب مرد انتہائی احترام سے پیش آتے۔ وہ ان پاکستانی مردوں کے اخلاق سے بس گھائل ہو گئیں۔ کھانا دینے آتے تو نظریں نیچی رکھتے۔ آدھی رات کو اٹھتے‘ وضو کرتے اور صبح تک عبادت میں مصروف رہتے۔ جب پولیس والے انہیں ایئر پورٹ لے جا رہے تھے تو دونوں نے ان کی بہت منت سماجت کی کہ وہ پاکستان چھوڑ کر نہیں جانا چاہتیں۔ وہ پاکستان ہی کو اب اپنا وطن بنانا چاہتی تھیں۔ ان کا ارادہ تو یہ تھا کہ وہ اپنے اپنے اعزہ و اقارب کو بھی پاکستان میں بلا کر یہیں مستقل آباد کرتیں۔ مگر پولیس والوں نے ان کی ایک نہ سنی۔ انہیں زبردستی جہاز میں بٹھا دیا۔ یہ جو پولیس افسر نے کہا کہ وہ پاکستان کا جھنڈا ساتھ لے گئیں تو انہوں نے تو پاکستان کی مٹی بھی مانگی تھی کہ راستے میں مٹی کو آنکھوں سے لگاتی جاتیں اور چومتی جاتیں۔
یہ جو پولیس افسر نے کہا تھا کہ وہ ہمارے نظام سے مطمئن ہو کر گئیں تو اس کی بھی انہوں نے وضاحت کی۔ انہیں پاکستان کا نظام انصاف‘ نظام معیشت‘ نظام تعلیم‘ الغرض تمام نظام مثالی نظر آئے۔ پاکستان کے نظام انصاف کی چمک سے تو ان کی آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔ سب سے نمایاں بات نظام انصاف کی انہیں یہ لگی کہ پاکستان میں امیر غریب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔ جرم کرنے والا طاقتور سے طاقتور کیوں نہ ہو‘ سزا اسے مل کر رہتی ہے۔ کسی وزیر‘ امیر‘ سفیر کا بیٹا ہو یا نواسہ‘ اس کے ساتھ وہی سلوک ہوتا ہے جو عام مجرم کے ساتھ ہو تا ہے۔ مثلاً اگر چوری کرنے والے‘ ڈاکا ڈالنے والے یا عورت کی آبرو ریزی کرنے والے عام شہری کو کو سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) کیفر کردار تک پہنچاتا ہے تو یہ سی سی ڈی امیر زادے‘ وزیر زادے اور شاہ زادے کا زن بچہ بھی فوراً کولہو میں پِلوا دیتا ہے۔ شاہ اور گدا پاکستان کے نظام انصاف میں ایک جیسے سلوک کے مستحق سمجھے جاتے ہیں۔ مارنے والا وڈیرہ ہو یا بڑے سے بڑے جج کا بیٹا یا بیٹی‘ سزا ضرور پاتے ہیں۔ اس نظام کا ایک اور پہلو جسے جان کر دونوں خواتین کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں یہ ہے کہ اگر مقتول غریب ہو اور قاتل امیر ہو تو امیر قاتل کے اہلِ خانہ کو یہ اجازت ہرگز نہیں حاصل کہ وہ غریب خاندان کے پاس جا کر انہیں مقدمے سے دستبردار ہو نے کے لیے مجبور کرے‘ یا کوئی لالچ دے یا دھمکی دے۔ اگر کسی نے ایسا کیا بھی تو اعلیٰ عدلیہ ایسے افراد کو قطعاً معاف نہیں کرتی‘ اگرچہ وہ ان کی اپنی صفوں میں سے ہی کیوں نہ ہو۔
ان دونوں غیر ملکی خواتین کو ہماری پولیس کا نظام بھی بہت اچھا لگا۔ پولیس کسی بھی پریس کانفرنس میں جھوٹ بالکل نہیں بولتی۔ سچ‘ کھرا اور برہنہ سچ ہماری پولیس کا طرۂ امتیاز ہے۔ یہ جو کچھ ملکوں میں پولیس ہر حکومت کی کنیز بن جاتی ہے تو پاکستانی پولیس ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی! یہ سیاسی معاملات میں ہرگز دخل نہیں دیتی۔ جب ان خواتین کو معلوم ہوا کہ پاکستانی ریاست پولیس پر بہت بھاری رقوم خرچ کرتی ہے‘ اعلیٰ ترین گاڑیاں مہیا کی جاتی ہیں‘ رہنے کے لیے بہترین گھر دیے جاتے ہیں اور ان سب کے بدلے میں پولیس ملک بھر میں ایک قتل‘ ایک چوری‘ ایک ڈاکا اور ایک اغوا بھی نہیں ہونے دیتی تو ان خواتین کے منہ سے بے اختیار آفرین آفرین کے الفاظ نکلے۔ گاڑی یا موٹر سائیکل چوری ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ کراچی‘ لاہور‘ پشاور‘ ملتان‘ اسلام آباد‘ فیصل آباد میں چوری ڈاکے اور اغوا کے نام تک سے شہری ناواقف ہیں۔ تنہا عورت زیورات کی پوٹلی اٹھائے رات بھر‘ تن تنہا‘ سفر کرے تو کسی کی مجال نہیں کہ اسے چھو بھی سکے۔ پولیس تنخواہ کا ایک ایک پیسہ حلال کرتی ہے۔ دونوں خواتین پاکستان کے اہلِ اقتدار سے بھی بہت متاثر ہوئیں۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ کسی وزیر یا امیر کا قریبی رشتہ دار جرم میں ملوث ہو تو وہ وزیر یا امیر فوراً اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیتا ہے اور جب تک عدالت ملزم کو باعزت بری نہ کر دے‘ اقتدار سے دور رہتا ہے‘ تو حیران ہوئیں اور حد درجہ متاثر۔ ملکوں کی بین الاقوامی ریٹنگ کرنے والے عالمی اداروں سے دونوں خواتین کو شکوہ ہے۔ یہ عالمی ادارے عام طور پر آئرلینڈ‘ ناروے‘ ڈنمارک‘ فن لینڈ‘ سنگاپور‘ جاپان اور نیوزی لینڈ کو نظام کے لحاظ سے بہترین ملک قرار دیتے ہیں۔ مگر دونوں خواتین اس سے متفق نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اول نمبر پر پاکستان آتا ہے۔ آئرلینڈ‘ فن لینڈ وغیرہ پاکستان کے مقابلے میں ہیچ ہیں۔
آپ نے دونوں خواتین کا مؤقف پڑھ لیا۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ دونوں خواتین نے مجھ پر بھاری ذمہ داریاں ڈال دی ہیں۔ دونوں‘ پاکستانیوں سے شادی کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاکستان میں رہنا چاہتی ہیں۔ جب پوچھا کہ کس قسم کے مردوں کو وہ شادی کے لیے آئیڈیل گردانتی ہیں تو انہوں نے صرف دو چوائس دیے۔ وہ کسی پاکستانی پولیس افسر سے شادی کریں گی یا پاکستان کی کسی مقتدر ہستی کے پوتے یا نواسے سے! طویل گفتگو کے آخر میں‘ رخصت ہوتے وقت دونوں نے پاکستان کا قومی ترانہ مل کر گایا۔ جب اس سطر کو پہنچیں ''پاک سرزمین کا نظام‘‘ تو فرطِ جذبات سے ان کی آواز بھرّا گئی۔ گلا جیسے رندھ گیا۔ قارئین سے دعا کی التماس ہے کہ میں ان خواتین کو ان کی خواہش کے مطابق پاکستانی شہریت اور پاکستانی پاسپورٹ دلوا سکوں۔ اور دو دُلہے بھی ان کی شرائط کے مطابق تلاش کر سکوں! اور ہاں! ان کے مستقل قیام کے لیے لاہور سے بہتر کوئی شہر نہیں! آپ کا کیا خیال ہے؟؟

مقبول کالم

کراچی کے گڈریے

خضاب کے رنگ دھنک پر

فرانس سے ایک خط