اشاعتیں

اگست, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کالم

یورپی سمندروں میں ڈوبتے پاکستانی

ایک چراغ ہے جو شہر میں جل رہا ہے۔ روشنی بکھیر رہا ہے۔ اور وہ ہے آپا کشور ناہید کا وجود! جب بھی آپا کے دفتر میں جاتا ہوں دو چیزیں ضرور ملتی ہیں۔ عمدہ چائے اور ان کی شاعری کا تازہ مجموعہ!! علالت اور ضُعف کے باوجود ہر روز اپنی بوطیق میں ضرور آتی ہیں۔ ملاقاتیوں کیلئے یہ جگہ‘ ان کے گھر کی نسبت‘ آسان ہے۔ یہیں ان کے فین بھی آتے ہیں۔ ان کی تخلیقات پر کام کرنے والے طلبہ اور طالبات بھی اور ان کے دوست بھی! مجھ جیسے نیازمند بھی! سوچتا ہوں عمر کے جس حصے میں مَیں ہوں‘ مجھے تم کہہ کر مخاطب کرنے والے‘ ڈانٹنے والے کتنے رہ گئے ہیں!! ظفر اقبال صاحب کو فون کروں تو بسم اللہ کہہ کر جواب دیتے ہیں۔ دادی جان یاد آ جاتی ہیں۔ جب بھی گاؤں‘ گھر میں داخل ہوتے تھے‘ بسم اللہ بسم اللہ کہنا شروع کر دیتی تھیں۔ آپا کے دفتر میں جیسے ہی قدم رکھتا ہوں‘ کہتی ہیں ''تم نے تو پچھلے ہفتے آنا تھا‘ کہاں رہ گئے تھے؟‘‘۔ کھانے کا وقت ہو تو کھانے میں شریک کر تی ہیں۔ اب ان میں وہ ہمت نہیں رہی ورنہ اس شہر میں جتنی ضیافتیں ہم نے ان کی قیام گاہ پر اڑائی ہیں اور کہ...

ماچس، بزرگ اور کان

''اسلام آ باد (نیو ز ر پورٹر) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہفتہ کے روز رائیونڈ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی‘ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی موجود تھے‘ چاروں شخصیات نے ملاقات میں ملک کی مجموعی اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا‘‘۔ خبر آپ نے پڑھی۔ یقینا آپ بھی میری طرح الحمدللہ کہیں گے۔ اس لیے کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ چار بڑے جو ملک چلانے کے ذمہ دار ہیں‘ اپنے فرائض سے غافل نہیں۔ ہم عوام‘ گھوڑے بیچ کر سو سکتے ہیں۔ چاروں بڑوں میں مکمل اتحاد اور فکری ہم آہنگی ہے۔ اختلاف کا امکان ہے نہ گنجائش۔ یہ چاروں بڑے نہ صرف ایک ہی صوبے سے ہیں‘ نہ صرف ایک ہی شہر سے ہیں‘بلکہ ایک ہی خاندان سے ہیں۔ یہی وہ عامل ہے جو عوام کے دلوں کو تقویت پہنچاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب ملک پر ایک ہی خاندان کی حکومت ہو‘ اور حکومت کی کریم باپ بیٹی پر‘ بھائی بھائی پر‘ چچا بھتیجی پر اور سمدھی سمدھی پر مشتمل ہو تو یگانگت ملک ...