کالم

دانش کے ذخیرے

عزیز ِ گرامی رؤف کلاسرا نے وہ کام کر دکھایا جو ہمارے ملک کے فارسی دانوں کو کرنا چاہیے تھا۔ حالانکہ کلاسرا انگریزی ادب کے تیراک ہیں۔
میں نے جب کلاسرا کا کالم پڑھا جس میں انہوں نے ''کلیلہ و دمنہ‘‘ جیسے کلاسیکی شہکار کو متعارف کرایا تو خوشی ہوئی اور افسوس بھی!! خوشی اس لیے کہ آج کے قارئین کیلئے یہ ایک نادر وکمیاب تحفہ تھا۔ یہ ایک ایسا ماسٹر پیس ہے جسے شروع کرنے کے بعد چھوڑنا ممکن نہیں۔ فکشن ہے اور ایسا فکشن جس میں سبق ہی سبق ہیں۔ زندگی گزارنے کے طریقے‘ حکومت کرنے کے طریقے‘ غربت سہنے کے اسالیب اور امارت کے تقاضے۔ جیسا کہ کلاسرا صاحب نے بتایا‘ اس شہکار کی جائے پیدائش ہمارا اپنا برصغیر ہی ہے۔ افسوس اس لیے ہوا کہ ہمارے پاس دانش کے کیسے کیسے ذخیرے ہیں جن سے ہم محروم تو ہیں ہی‘ ناواقف بھی ہیں۔شکیب جلالی یاد آ گیا:
ادھر سے بارہا گزرا مگر خبر نہ ہوئی
کہ زیر سنگ خنک پانیوں کا چشمہ تھا
دانش کے ان ذخیروں سے دنیا نے فائدہ اٹھایا اور ہم غافل رہے۔ یہ جو آج رومی کے حالات‘ شاعری اور حکایات کا چرچا ہے تو یہ بھی امریکہ ہی سے آغاز ہوا۔ یہ ہماری نفسیات کا حصہ بن گیا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں ہمیں امپورٹڈ مال چاہیے۔ ملبوسات ہوں یا مصنوعات‘ لٹریچر ہو یا کچھ اور‘ وہی شے بھاتی ہے جو باہر سے آئے۔ پہلے تو ہمیں انگریز آقا نے الو بنایا۔ خام مال برصغیر سے لوٹا اور اپنے کارخانوں کا اس سے پیٹ بھرا۔ اس مقصد کے لیے یہاں سڑکیں بنائیں۔ ریلوے قائم کی۔ یہ ریلوے بہت مہنگی پڑی اور سارا خرچ ہندوستانیوں کے سر ڈالا گیا۔ ششی تھرور کی تصنیف The Era of Darkness جنوبی ایشیا کے ہر فرد کو پڑھنی چاہیے۔ جس زمانے میں سفید فام سامراج نے ہمارے ہاں ریلوے کو کئی کروڑ روپے فی کلومیٹر کے خرچ پر قائم کیا‘ ٹھیک اسی زمانے میں امریکہ میں بھی ریلوے قائم ہوئی جس کا خرچ کئی گنا کم پڑا۔
بات یہ ہو رہی تھی کہ مصنوعات کی طرح اپنا لٹریچر بھی ہم وہی پڑھتے ہیں جسے ''فارن‘‘ کا تڑکا لگا ہو۔ ہمارے کلاسیکی شہکار دنیا میں بے مثال ہیں۔ افسوس ہم Tales from Shakespeare بچوں کو پڑھاتے ہیں مگر گلستاں اور بوستاں کی کہانیاں نہیں پڑھاتے۔ بچوں کے لیے جو شاعری اسماعیل میرٹھی‘ علامہ اقبال‘ صوفی تبسم‘ قیوم نظر‘ شہلا شبلی اور ابصار عبد العلی نے کی ہے وہ بے مثال ہے۔ کیا آپ نے اپنے بچوں اور ان کے بچوں کو یہ شاعری پڑھائی ہے؟ الف لیلہ‘ امیر حمزہ اور سندباد کی کہانیاں پڑھائی اور سنائی ہیں؟ دانش کے ذخیروں کی طرف لوٹتے ہیں۔ سعدی کی گلستان کے ابواب دیکھیے۔ حکمت اور دانائی کا‘ جو اس کتاب میں بھری ہے‘ اندازہ ان ابواب کی فہرست ہی سے لگا لیجیے۔ پہلا باب حکمرانوں کی سیرت اور عادات ۔دوسرا باب درویشوں کا اخلاق۔ تیسرا باب قناعت کے فوائد۔ چوتھا باب خاموشی کے فوائد۔ پانچواں باب محبت اور شباب۔ چھٹا باب بڑھاپے کا ضُعف۔ ساتواں باب تربیت کا اثر۔ آٹھواں باب صحبت کے آداب۔ اس فہرست پر غور کیجیے۔ حکمرانی‘ حکمت‘ دانائی‘ صبر‘ تربیت‘ سارے دریا اس کوزے میں بند ہیں اور اس سب کچھ میں وعظ و نصیحت کی بوریت نہیں ہے بلکہ دلچسپ کہانیوں کی مٹھاس ہے۔ کاش گلستانِ سعدی کا پہلا باب جو حکمرانوں کے بارے میں ہے‘ کوئی ہمارے حکمرانوں کو پڑھ کر سنائے۔ ایک حکایت میں سعدی کہتے ہیں کہ کسی نے محمود غزنوی کی موت کے بعد اسے خواب میں دیکھا کہ جسم تو اس کا مٹی میں مل کر مٹی ہو چکا تھا مگر آنکھیں ٹھیک تھیں اور چشم خانے میں ادھر ادھر دیکھ رہی تھیں۔ تعبیر پوچھی گئی تو کوئی نہ بتا سکا۔ آخر ایک فقیر نے تعبیر بتائی کہ بادشاہ مر کر بھی دیکھ رہا ہے کہ اس کی سلطنت دوسروں کے قبضے میں ہے۔ اپنی سلطنت‘ اپنا مال و دولت کسی اور کے تصرف میں دیکھنا کتنا اذیتناک ہے۔ سبق اس سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ حکمران کو ہر وقت اپنا انجام سامنے رکھنا چاہیے اور اس حقیقت کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ سارا تزک و احتشام‘ یہ سب ہٹو بچو‘ یہ طمطراق اور جاہ وجلال چند لمحوں کی جادوگری ہے۔ نیا حکمران آیا تو تمہارا نام بھی کسی نے نہیں لینا! ایک اور حکایت میں فرماتے ہیں کہ ایک ظالم حکمران نے کسی پارسا سے پوچھا کہ کون سی عبادت بہترین ہے۔ اس نے کہا تمہارے لیے تو دن کو سو جانا بہترین عبادت ہے کہ جتنی دیر سوئے رہو گے‘ خلق خدا تمہاری ناانصافیوں سے بچی رہے گی۔ سعدی کی گلستاں کے جواب میں بڑے بڑے نامور ادیبوں نے کتابیں لکھیں مگر جو دائمی اور بین الاقوامی شہرت گلستاں کو ملی‘ کسی کو نصیب نہ ہوئی۔ ہاں ! مولانا عبدالرحمن جامی کی ''بہارستانِ جامی‘‘ قابلِ ذکر ہے۔ گلستاں کے دیباچے میں سعدی کہتے ہیں کہ ''ہر وہ سانس جو اندر جاتا ہے‘ زندگی بڑھاتا ہے اور جب باہر آتا ہے تو فرحت بخشتا ہے؛ چنانچہ ہر سانس میں دو نعمتیں موجود ہیں‘‘۔ ہمارے دوست‘ نامور فارسی دان پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر کو جہاں فارسی کے سینکڑوں اشعار یاد ہیں وہاں گلستان سعدی کا دیباچہ بھی حیرت انگیز طور پر حفظ ہے۔ سعدی کا دوسرا شہکار بوستانِ سعدی ہے جو مثنوی کی صورت میں ہے۔ اس کا پہلا باب بھی عدل اور حکمرانی کے طریقوں کے بارے میں ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو فکر ہے کہ ان کے بعد ان کی اولاد حکمرانی کرے۔ کیا کیا خام خیالیاں ہیں۔ بوستاں میں سعدی لکھتے ہیں کہ رُوم کا بادشاہ ایک فقیر کی درگاہ میں حاضر ہوا اور رو پڑا۔ کہنے لگا میری سلطنت کا اکثر حصہ دشمن لے اُڑے۔ اب میرے پاس سوائے ایک قلعہ اور ایک آدھ شہر کے‘ کچھ نہیں بچا۔ بڑی جدوجہد کی کہ میرے بعد میرے بیٹے کو سلطنت ملے مگر ناکامی ہوئی۔ اس غم نے میرے جسم اور جان کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ فقیر کو یہ سن کر غصہ آیا۔ یہاں سعدی نے جو مصرع کہا وہ ضرب المثل بن چکا ہے۔ بر این عقل و دانش بباید گریست! اس عقل و دانش کا تو ماتم ہی کرنا چاہیے! فقیر نے کہا‘ اولاد کی نہیں اپنی فکر کر۔ جو تمہارے بعد آئے گا اپنا بندوبست خود کر لے گا۔
دانش کا ایک اور بے بہا ذخیرہ سیاست نامہ طوسی ہے۔ یہ کتاب سلجوقی عہد کے معروف وزیراعظم نظام الملک طوسی کی تصنیف ہے۔ روایت ہے کہ تین مشہور اشخاص تعلیم حاصل کرتے وقت ہم جماعت تھے۔ عمر خیام‘ نظام الملک طوسی اور حسن بن صباح! لیکن تاریخ کے تجزیہ نگاروں نے اس روایت کو مسترد کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب عمر خیام اور حسن بن صباح پیدا ہوئے‘ اُس وقت طوسی کی عمر تیس برس کی تھی۔ سیاست نامہ کے اکیاون ابواب ہیں۔ ایک حکمران کی زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا پہلو ہو جس کے بارے میں طوسی نے سیاست نامہ میں فیصلہ کن ہدایات نہ دی ہوں۔ اس بات پر بھی غور کیجیے کہ اگلے وقتوں کے حکمران کیسے کیسے اربابِ دانش وعقل کو اپنا مشیر بناتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب چاپلوسی‘ خوشامد اور لجاجت کا حکمرانی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ مسخرے اور لطیفہ گو اس وقت بھی درباروں تک پہنچ جاتے تھے لیکن انہیں وہی مقام دیا جاتا تھا جس کے وہ اہل ہوں۔ حکومت چلانے کے لیے بادشاہ‘ مالش کرنے والوں سے مشورے نہیں لیتے تھے۔ نہ ہی ان حکمرانوں کا ذوق پست تھا۔ مصری صدر انور السادات کے حوالے سے کہتے ہیں کہ دورے پر فرانس گیا تو ایک ایسا شخص بھی ہمراہ تھا جس کے بارے میں میزبانوں کو علم تھا نہ وفد کے اکثر شرکا کو کہ کون ہے۔ کھانے کی میز پر وہ صدر انور السادات کے ساتھ بیٹھتا تھا۔ معلوم ہوا کہ وہ صدر صاحب کا مالشیا ہے۔ (جاری)

مقبول کالم

کراچی کے گڈریے

خضاب کے رنگ دھنک پر

مرا ہاتھ دیکھ برہمنا