اشاعتیں

جون, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کالم

چھولے پٹھورے اور دیگر حساس مسائل

سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہے؟ یہ پراٹھا بھی نہیں تھا! سائز پوری کا تھا مگر پوری بھی نہیں تھی۔ تھا بہت مزیدار! منہ میں جا کر گُھل جاتا تھا۔ اور ساتھ جو چھولے تھے! سبحان اللہ! منفرد ذائقہ! میزبان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے جو کھلا رہے ہو؟ کہنے لگا: سر جی کمال ہے۔ آپ کیسے پنجابی ہو جنہیں معلوم ہی نہیں کہ یہ پٹھورے ہیں! چھولے پٹھورے تو خاص پنجابی پکوان ہے! میں ٹھہرا اٹک کا! ہمارے علاقے میں گھروں میں مچھلی پکتی تھی نہ دال چاول! پٹھورے کون پکاتا۔ پھر پنڈی اسلام آباد آ گئے۔ یہاں بھی چھولے پٹھورے کا نام نہیں سنا۔ میلبورن میں یہ ایک انڈین پنجابی تھا جس کے ہاں ہماری دعوت تھی۔ جب اس نے کہا کہ آپ کیسے پنجابی ہو جسے پٹھوروں کا نہیں پتا! تو شرمندگی ہوئی۔ لاہور میں تو پھر ہونے چاہئیں! مگر لاہور میں بے شمار کھانے کھائے‘ دعوتوں میں شریک ہوئے‘ فوڈ سٹریٹوں میں گئے‘ کہیں پٹھوروں کا نام نہیں سنا۔ تجسس میں آسٹریلیا ہی سے عزیز گرامی یاسر پیرزادہ کو فون کھڑکایا۔ کہنے لگے: بالکل لاہور میں ہوتے ہیں! آپ آئیں گے تو کھلائیں گے آپ کو! مگر پھر یاسر کی تعیناتی اسلام آباد ہو گئی اور اسلام...

قانون اور چہیتے Gogetter

مجھے عزیز ِ گرامی رؤف کلاسرا سے اختلاف ہے! انہوں نے ایک سابق وزیراعظم کا ذکر کیا ہے جنہوں نے چین کے دورے میں ایک پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ انہیں ایسے سینئر افسران نہیں چاہئیں جو ہر بات پر قانون سمجھانے بیٹھ جائیں بلکہ انہیں ایسے نوجوان افسران درکار ہیں جو Go Getters ہوں۔ کلاسرا نے‘ جو اس پریس کانفرنس میں موجود تھے‘ قانون شکنی کے اس مائنڈ سیٹ اور اس رجحان کی مذمت کی ہے۔ کلاسرا ان پاکستانیوں میں سے ہیں جو قانون پر عمل درآمد چاہتے ہیں اور قانون کی حرمت کی بات کرتے ہیں! اسی بات سے تو مجھے اختلاف ہے۔ سابق وزیراعظم قانون‘ ضابطے‘ رُول‘ ریگولیشن کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔ یقین جانیے مجھے ٹریفک کی سرخ بتی سے نفرت ہے۔ سڑک کے بائیں طرف گاڑی چلانا مجھے ہرگز پسند نہیں۔ آخر ٹرینیں اور جہاز وقت ہی پر کیوں روانہ ہوں؟ جب بھی سابق وزیراعظم اور مجھ جیسا انارکسٹ بلکہ Nihilist حکم دے تو ٹرینیں چل پڑیں‘ جہاز لینڈ کریں‘ بازار بند ہو جائیں‘ سکول اتوار کو کھلیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ختم ہو جائیں۔ پنجابی میں کہتے ہیں: عقل نہ ہوو...

ہم اپنے آپ کو کھا رہے ہیں

تو کیا آپ نے اُس ظالم شخص کے بارے میں نہیں سنا جو اپنے جسم کے اعضا کھاتا تھا؟ اس نے ایک ایک کر کے اپنے بازو‘ ٹانگیں‘ پسلیاں‘ گردے اور دیگر حصے کھا لیے یہاں تک کہ صرف منہ اور معدہ رہ گیا اور آخر میں بھوک سے مر گیا۔ ہم بھی اُس ظالم شخص سے کم ظالم نہیں۔ وہ فرد تھا جبکہ ہم بطور قوم ظالم ہیں۔ اب تو ہم یہ بھی بھولتے جا رہے ہیں کہ پچپن سال پہلے ہم ملک کا ایک بازو ہی کھا گئے تھے۔ بازو ہڑپ کر کے ہم نے ڈکار تک نہ لیا اور ''با شرمی‘‘ کی حد یہ ہے کہ ہڑپ کرنے کا الزام آج تک دوسروں پر لگا رہے ہیں۔ اب ہم اپنی زمینیں‘ اپنے کھیت‘ اپنے جنگل‘ اپنی چراگاہیں‘ اپنے درخت اور اپنے باغات کھا رہے ہیں۔ یہ بھی جسم کے اعضا کھانے ہی کا مکروہ عمل ہے۔ مستقبل بینی کی صفت سے ہم مکمل طور پر عاری ہیں۔ لاہور کے پرانے باشندے بتاتے ہیں کہ شہر کی وہ فصیل جو گارے اور پتھروں سے بنی تھی بہت پہلے ٹوٹ گئی تھی۔ مگر اس کے بعد‘ ماضی قریب تک آموں کے باغات کی فصیل شہر کی حفاظت کرتی رہی۔ ایک باخبر شخص نے بتایا کہ شالامار باغ کا علاقہ آموں کے باغات سے اَٹا رہتا تھا ...

بابے جنہیں خود نوشت لازماً لکھنی چاہیے

خود نوشت کے حوالے سے اہم ترین بابے مجیب الرحمن شامی ہیں!! وہ جو فرنگی زبان میں کہتے ہیں In the middle of it‘ یعنی ہنگاموں کے درمیان رہنا‘ تو شامی صاحب کم از کم پچپن‘ ساٹھ برس سے صحافتی اور سیاسی ہنگاموں کے درمیان جی رہے ہیں۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ مجھے بھی ہے۔ خاص کر ضیا الحق کے عہد کے حوالے سے۔ ٹی وی ٹاک شوز میں اس موضوع پر ان سے کھل کر اختلاف کا اظہار کرتا رہا۔ دسترخوان کی طرح ان کا دل بھی بڑا ہے۔ اختلافِ رائے کو محبت اور مسکراہٹ کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ اختلاف کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بے شمار واقعات و حالات کے گواہ ہیں۔ ان کا مطالعہ اور معلومات حیران کن ہیں۔ جب بھی تاریخ اور سیاست کے ضمن میں مشکل پیش آئے تو ان سے پوچھتا ہوں اور وہ ایک سیکنڈ میں اس طرح رہنمائی کرتے ہیں جیسے اسی کی تیاری کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ زحمت انہیں رات گئے دیتا ہوں۔ شامی صاحب کی خود نوشت پاکستان کی تاریخ‘ سیاست اور شخصیات کا انسائیکلو پیڈیا ہو گی۔ اس میں بے پناہ معلومات ہوں گی۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں معتوب رہے۔ جنرل ضیا کا انہیں قرب حا...