اشاعتیں

جون, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کالم

ہم اپنے آپ کو کھا رہے ہیں

تو کیا آپ نے اُس ظالم شخص کے بارے میں نہیں سنا جو اپنے جسم کے اعضا کھاتا تھا؟ اس نے ایک ایک کر کے اپنے بازو‘ ٹانگیں‘ پسلیاں‘ گردے اور دیگر حصے کھا لیے یہاں تک کہ صرف منہ اور معدہ رہ گیا اور آخر میں بھوک سے مر گیا۔ ہم بھی اُس ظالم شخص سے کم ظالم نہیں۔ وہ فرد تھا جبکہ ہم بطور قوم ظالم ہیں۔ اب تو ہم یہ بھی بھولتے جا رہے ہیں کہ پچپن سال پہلے ہم ملک کا ایک بازو ہی کھا گئے تھے۔ بازو ہڑپ کر کے ہم نے ڈکار تک نہ لیا اور ''با شرمی‘‘ کی حد یہ ہے کہ ہڑپ کرنے کا الزام آج تک دوسروں پر لگا رہے ہیں۔ اب ہم اپنی زمینیں‘ اپنے کھیت‘ اپنے جنگل‘ اپنی چراگاہیں‘ اپنے درخت اور اپنے باغات کھا رہے ہیں۔ یہ بھی جسم کے اعضا کھانے ہی کا مکروہ عمل ہے۔ مستقبل بینی کی صفت سے ہم مکمل طور پر عاری ہیں۔ لاہور کے پرانے باشندے بتاتے ہیں کہ شہر کی وہ فصیل جو گارے اور پتھروں سے بنی تھی بہت پہلے ٹوٹ گئی تھی۔ مگر اس کے بعد‘ ماضی قریب تک آموں کے باغات کی فصیل شہر کی حفاظت کرتی رہی۔ ایک باخبر شخص نے بتایا کہ شالامار باغ کا علاقہ آموں کے باغات سے اَٹا رہتا تھا ...

بابے جنہیں خود نوشت لازماً لکھنی چاہیے

خود نوشت کے حوالے سے اہم ترین بابے مجیب الرحمن شامی ہیں!! وہ جو فرنگی زبان میں کہتے ہیں In the middle of it‘ یعنی ہنگاموں کے درمیان رہنا‘ تو شامی صاحب کم از کم پچپن‘ ساٹھ برس سے صحافتی اور سیاسی ہنگاموں کے درمیان جی رہے ہیں۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ مجھے بھی ہے۔ خاص کر ضیا الحق کے عہد کے حوالے سے۔ ٹی وی ٹاک شوز میں اس موضوع پر ان سے کھل کر اختلاف کا اظہار کرتا رہا۔ دسترخوان کی طرح ان کا دل بھی بڑا ہے۔ اختلافِ رائے کو محبت اور مسکراہٹ کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ اختلاف کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بے شمار واقعات و حالات کے گواہ ہیں۔ ان کا مطالعہ اور معلومات حیران کن ہیں۔ جب بھی تاریخ اور سیاست کے ضمن میں مشکل پیش آئے تو ان سے پوچھتا ہوں اور وہ ایک سیکنڈ میں اس طرح رہنمائی کرتے ہیں جیسے اسی کی تیاری کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ زحمت انہیں رات گئے دیتا ہوں۔ شامی صاحب کی خود نوشت پاکستان کی تاریخ‘ سیاست اور شخصیات کا انسائیکلو پیڈیا ہو گی۔ اس میں بے پناہ معلومات ہوں گی۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں معتوب رہے۔ جنرل ضیا کا انہیں قرب حا...