اشاعتیں

جون, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کالم

آنرایبل لارڈ کلائیو کا خواب میں آنا

پہلے یہ ہوتا تھا کہ کوئی جب گھر سے باہر جاتا تو گھر والے پریشان ہوتے تھے کہ اللہ کرے خیریت سے واپس آ جائے۔ باہر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ٹریفک کی لاقانونیت کسی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ پولیس والے پکڑ کر حوالات میں بند کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی جان لے سکتی ہے۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ شام پڑ جائے اور بچے واپس نہ پہنچیں تو گھر والے دروازے پر کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگ جاتے تھے۔ مگر اب معاملہ الٹ ہو گیا ہے۔ اب جو گھر سے باہر ہے‘ اسے فکر لاحق ہے کہ پیچھے گھر والوں پر کوئی افتاد نہ آ پڑے۔ اب گھر کے اندر بھی حادثہ ہو سکتا ہے۔ چاردیواری کے اندر رہ کر بھی آپ محفوظ نہیں۔ یہی گزشتہ ہفتے میرے ساتھ ہوا! میں اتوار بازار سے سودا سلف لے رہا تھا کہ بیٹے کا فون آیا۔ وہ سخت گھبرایا ہوا تھا۔ کہنے لگا: ابو! جلد گھر پہنچیں۔ ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ عجیب سی آواز آئی۔ جیسے کسی نے اس کے ہاتھ سے فون چھین لیا ہو۔ پھر اس کے چیخنے کی آوازیں آئیں۔ مجھے نہیں معلوم واپسی پر میں گاڑی چلا رہا تھا یا ہوا میں اُڑ رہا تھا۔ گھر کے قریب پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گھر کے سامنے جمع ہیں۔ اندر داخل ہوا تو عجیب وغریب من...

نو سالہ ہانیہ کا قتل

لکھ لیجیے کہ نو سالہ ہانیہ کے قاتل کو سزا نہیں ملے گی! اس لیے کہ بلی بچوں کے بجائے انڈے دے سکتی ہے۔ مردہ قبر سے نکل کر بھاگ سکتا ہے۔ سیب کے درخت پر تُنبے لگ سکتے ہیں۔ مگر مملکتِ خدادا میں کسی طاقتور قاتل کو پھانسی پر نہیں چڑھایا جا سکتا۔ چڑھایا گیا ہے نہ چڑھایا جائے گا۔ ہر بار دہرانا مناسب نہیں! کتنی ہی بار لکھا ہے کہ کوئٹہ‘ کراچی‘ لاہور‘ اسلام آباد میں طاقتوروں اور ان کی آل اولاد کو قتل کی کوئی سزا نہیں ملی۔ نام تک لوگوں کو یاد ہیں۔ ان میں ان کی بیٹیاں اور بیٹے بھی شامل ہیں‘ جو خود انصاف بانٹتے ہیں۔ ان طاقتوروں میں پولیس سرفہرست ہے۔ بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ پولیس اور حکمرانوں میں ایک غیر تحریری معاہدہ روبکار ہے۔ اس غیر تحریری معاہدے کی رو سے پولیس ریاست کی نہیں‘ حکومت کی نوکری کرے گی۔ ہر حکومت کی نوکری!! علاقے کے بڑے پولیس افسر کی تعیناتی اُس علاقے کے ایم این اے‘ ایم پی اے اور وزیر کی خوشی یا ناراضی پر منحصر ہو گی۔ حافظ آباد والا واقعہ تو چند دن پہلے کا ہے۔ پولیس افسر کو مکھی کی طرح نکال پھینکا گیا۔ عمران خان کے دور کی تو ابتدا ہی اس یاددہانی سے شر...

سات فیصد

یہ جو چلے جا رہا ہے‘ یہ کون ہے؟ مشکل سے پاؤں اٹھاتا ہے۔ اگلا قدم چلنے سے پہلے ہانپنے لگتا ہے۔ مکھیوں کو اڑانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے‘ کبھی جھرجھری لے کر‘ کبھی سر کو جھٹک کر‘ مگر رِستے ہوئے زخموں پر مکھیاں ٹوٹ پڑتی ہیں۔ اس ذی روح کیلئے راحت نام کی کوئی شے نہیں۔ صبح کی خنکی ہو یا گئی رات کا سناٹا‘ کڑکتی‘ چلچلاتی دوپہر کی اذیت ہو یا خون چوستے پسوؤں سے بھری شام‘ اس کیلئے ذرہ بھر سکون نہیں۔ اس بات کا کوئی امکان بھی نہیں کہ کوئی دور افتادہ راحت اس کے پاس سے گزر ے۔ یہ کون ہے جو چلے جا رہا ہے؟ کبھی اس کی کھال سے بیگ بناتے ہیں‘ کبھی جیکٹیں اور کبھی جوتوں کے تسمے! کبھی کوئی اس کی پشت پر بیٹھ کر ہانکنے لگتا ہے۔ کوئی ہل میں جوتتا ہے اور کانٹوں بھری قمچیاں مارتا ہے۔ کبھی چراگاہ میں لے بھی جائیں تو پشت پر ڈنڈا رسید کر کے گالی دیتے ہیں اور اس کا گوشت کھانے کی دھمکی دیتے ہیں۔ اس کے جگر اور گردے‘ جو کبھی صحیح سلامت تھے‘ ایک ایک کر کے ناکارہ ہونے لگے ہیں۔ خوراک حد درجہ کم ہو گئی ہے۔ جو تھوڑی بہت گھاس کھاتا بھی ہے‘ ہضم نہیں ہوتی۔ معدے سے...

چھولے پٹھورے اور دیگر حساس مسائل

سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہے؟ یہ پراٹھا بھی نہیں تھا! سائز پوری کا تھا مگر پوری بھی نہیں تھی۔ تھا بہت مزیدار! منہ میں جا کر گُھل جاتا تھا۔ اور ساتھ جو چھولے تھے! سبحان اللہ! منفرد ذائقہ! میزبان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے جو کھلا رہے ہو؟ کہنے لگا: سر جی کمال ہے۔ آپ کیسے پنجابی ہو جنہیں معلوم ہی نہیں کہ یہ پٹھورے ہیں! چھولے پٹھورے تو خاص پنجابی پکوان ہے! میں ٹھہرا اٹک کا! ہمارے علاقے میں گھروں میں مچھلی پکتی تھی نہ دال چاول! پٹھورے کون پکاتا۔ پھر پنڈی اسلام آباد آ گئے۔ یہاں بھی چھولے پٹھورے کا نام نہیں سنا۔ میلبورن میں یہ ایک انڈین پنجابی تھا جس کے ہاں ہماری دعوت تھی۔ جب اس نے کہا کہ آپ کیسے پنجابی ہو جسے پٹھوروں کا نہیں پتا! تو شرمندگی ہوئی۔ لاہور میں تو پھر ہونے چاہئیں! مگر لاہور میں بے شمار کھانے کھائے‘ دعوتوں میں شریک ہوئے‘ فوڈ سٹریٹوں میں گئے‘ کہیں پٹھوروں کا نام نہیں سنا۔ تجسس میں آسٹریلیا ہی سے عزیز گرامی یاسر پیرزادہ کو فون کھڑکایا۔ کہنے لگے: بالکل لاہور میں ہوتے ہیں! آپ آئیں گے تو کھلائیں گے آپ کو! مگر پھر یاسر کی تعیناتی اسلام آباد ہو گئی اور اسلام...

قانون اور چہیتے Gogetter

مجھے عزیز ِ گرامی رؤف کلاسرا سے اختلاف ہے! انہوں نے ایک سابق وزیراعظم کا ذکر کیا ہے جنہوں نے چین کے دورے میں ایک پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ انہیں ایسے سینئر افسران نہیں چاہئیں جو ہر بات پر قانون سمجھانے بیٹھ جائیں بلکہ انہیں ایسے نوجوان افسران درکار ہیں جو Go Getters ہوں۔ کلاسرا نے‘ جو اس پریس کانفرنس میں موجود تھے‘ قانون شکنی کے اس مائنڈ سیٹ اور اس رجحان کی مذمت کی ہے۔ کلاسرا ان پاکستانیوں میں سے ہیں جو قانون پر عمل درآمد چاہتے ہیں اور قانون کی حرمت کی بات کرتے ہیں! اسی بات سے تو مجھے اختلاف ہے۔ سابق وزیراعظم قانون‘ ضابطے‘ رُول‘ ریگولیشن کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔ یقین جانیے مجھے ٹریفک کی سرخ بتی سے نفرت ہے۔ سڑک کے بائیں طرف گاڑی چلانا مجھے ہرگز پسند نہیں۔ آخر ٹرینیں اور جہاز وقت ہی پر کیوں روانہ ہوں؟ جب بھی سابق وزیراعظم اور مجھ جیسا انارکسٹ بلکہ Nihilist حکم دے تو ٹرینیں چل پڑیں‘ جہاز لینڈ کریں‘ بازار بند ہو جائیں‘ سکول اتوار کو کھلیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ختم ہو جائیں۔ پنجابی میں کہتے ہیں: عقل نہ ہوو...

ہم اپنے آپ کو کھا رہے ہیں

تو کیا آپ نے اُس ظالم شخص کے بارے میں نہیں سنا جو اپنے جسم کے اعضا کھاتا تھا؟ اس نے ایک ایک کر کے اپنے بازو‘ ٹانگیں‘ پسلیاں‘ گردے اور دیگر حصے کھا لیے یہاں تک کہ صرف منہ اور معدہ رہ گیا اور آخر میں بھوک سے مر گیا۔ ہم بھی اُس ظالم شخص سے کم ظالم نہیں۔ وہ فرد تھا جبکہ ہم بطور قوم ظالم ہیں۔ اب تو ہم یہ بھی بھولتے جا رہے ہیں کہ پچپن سال پہلے ہم ملک کا ایک بازو ہی کھا گئے تھے۔ بازو ہڑپ کر کے ہم نے ڈکار تک نہ لیا اور ''با شرمی‘‘ کی حد یہ ہے کہ ہڑپ کرنے کا الزام آج تک دوسروں پر لگا رہے ہیں۔ اب ہم اپنی زمینیں‘ اپنے کھیت‘ اپنے جنگل‘ اپنی چراگاہیں‘ اپنے درخت اور اپنے باغات کھا رہے ہیں۔ یہ بھی جسم کے اعضا کھانے ہی کا مکروہ عمل ہے۔ مستقبل بینی کی صفت سے ہم مکمل طور پر عاری ہیں۔ لاہور کے پرانے باشندے بتاتے ہیں کہ شہر کی وہ فصیل جو گارے اور پتھروں سے بنی تھی بہت پہلے ٹوٹ گئی تھی۔ مگر اس کے بعد‘ ماضی قریب تک آموں کے باغات کی فصیل شہر کی حفاظت کرتی رہی۔ ایک باخبر شخص نے بتایا کہ شالامار باغ کا علاقہ آموں کے باغات سے اَٹا رہتا تھا ...

بابے جنہیں خود نوشت لازماً لکھنی چاہیے

خود نوشت کے حوالے سے اہم ترین بابے مجیب الرحمن شامی ہیں!! وہ جو فرنگی زبان میں کہتے ہیں In the middle of it‘ یعنی ہنگاموں کے درمیان رہنا‘ تو شامی صاحب کم از کم پچپن‘ ساٹھ برس سے صحافتی اور سیاسی ہنگاموں کے درمیان جی رہے ہیں۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ مجھے بھی ہے۔ خاص کر ضیا الحق کے عہد کے حوالے سے۔ ٹی وی ٹاک شوز میں اس موضوع پر ان سے کھل کر اختلاف کا اظہار کرتا رہا۔ دسترخوان کی طرح ان کا دل بھی بڑا ہے۔ اختلافِ رائے کو محبت اور مسکراہٹ کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ اختلاف کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بے شمار واقعات و حالات کے گواہ ہیں۔ ان کا مطالعہ اور معلومات حیران کن ہیں۔ جب بھی تاریخ اور سیاست کے ضمن میں مشکل پیش آئے تو ان سے پوچھتا ہوں اور وہ ایک سیکنڈ میں اس طرح رہنمائی کرتے ہیں جیسے اسی کی تیاری کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ زحمت انہیں رات گئے دیتا ہوں۔ شامی صاحب کی خود نوشت پاکستان کی تاریخ‘ سیاست اور شخصیات کا انسائیکلو پیڈیا ہو گی۔ اس میں بے پناہ معلومات ہوں گی۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں معتوب رہے۔ جنرل ضیا کا انہیں قرب حا...