قانون اور چہیتے Gogetter
مجھے عزیز ِ گرامی رؤف کلاسرا سے اختلاف ہے!
انہوں نے ایک سابق وزیراعظم کا ذکر کیا ہے جنہوں نے چین کے دورے میں ایک پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ انہیں ایسے سینئر افسران نہیں چاہئیں جو ہر بات پر قانون سمجھانے بیٹھ جائیں بلکہ انہیں ایسے نوجوان افسران درکار ہیں جو Go Getters ہوں۔ کلاسرا نے‘ جو اس پریس کانفرنس میں موجود تھے‘ قانون شکنی کے اس مائنڈ سیٹ اور اس رجحان کی مذمت کی ہے۔ کلاسرا ان پاکستانیوں میں سے ہیں جو قانون پر عمل درآمد چاہتے ہیں اور قانون کی حرمت کی بات کرتے ہیں! اسی بات سے تو مجھے اختلاف ہے۔ سابق وزیراعظم قانون‘ ضابطے‘ رُول‘ ریگولیشن کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔ یقین جانیے مجھے ٹریفک کی سرخ بتی سے نفرت ہے۔ سڑک کے بائیں طرف گاڑی چلانا مجھے ہرگز پسند نہیں۔ آخر ٹرینیں اور جہاز وقت ہی پر کیوں روانہ ہوں؟ جب بھی سابق وزیراعظم اور مجھ جیسا انارکسٹ بلکہ Nihilist حکم دے تو ٹرینیں چل پڑیں‘ جہاز لینڈ کریں‘ بازار بند ہو جائیں‘ سکول اتوار کو کھلیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ختم ہو جائیں۔ پنجابی میں کہتے ہیں: عقل نہ ہووے تے موجاں ای موجاں۔ یہ محاورہ یکسر غلط ہے۔ اصل محاورہ ہے: قانون نہ ہووے تے موجاں ای موجاں۔ بلکہ قانون ہو بھی تو یہی سمجھنا چاہیے کہ قانون کا کوئی وجود نہیں‘ بس مزے ہی مزے ہیں‘ جو چاہیں کیجیے۔ باتھ روم پر سرکاری خزانے سے لاکھوں لگا دیجیے۔ محلات کی چار دیواریاں بیت المال سے بنوائیے۔ قومی ایئر لائن کا جہاز ہفتوں لندن میں منتظر رکھیے۔ وزارتِ عظمیٰ کے دوران بے تحاشا بیرونی دورے کیجیے۔ مہینوں اسمبلی میں رونمائی فرمائیے نہ کابینہ اجلاس ہی طلب کیجیے۔ جی چاہے تو ہر روز ایف بی آر کے نئے ایس آر او جاری کروائیے اور دو دن کے بعد منسوخ کرا دیجیے۔ بقول ظفر اقبال:
دیکھ رہ جائے نہ حسرت کوئی دل میں تیرے
شور کر اور بہت خاک اُڑا اور بہت
بنی غسّان کی سلطنت عرب کی شمالی سرحد پر واقع تھی اور قیصرِ روم کی باجگزار تھی۔ جبلہ بن ایہم اس ریاست کا آخری بادشاہ تھا۔ مسلمانوں کی پے درپے فتوحات دیکھ کر اس نے دور اندیشی سے کام لیا اور مسلمان ہو جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ بہت کروفر اور پروٹوکول کے ساتھ مدینہ منورہ آیا۔ بہت سے سوار ساتھ تھے جو بہترین لباس پہنے تھے۔ یہ امیر المومنین عمر فاروقؓ کا دور تھا۔ ان کے ہاتھ پر وہ مسلمان ہوا۔ یہ حج کا موسم تھا۔ اس نے بھی امیر المومنین کے ساتھ مکہ کا سفر کیا اور حج کیا۔ عرب کے متکبر اور گردن بلند سرداروں کی طرح اس کے قیمتی تہمد کے آخری کنارے زمین کو چھو رہے تھے۔ طواف کے دوران ایک بدو کا پاؤں اس کے تہمد پر آ گیا۔ جبلہ بن ایہم جلال میں آ گیا۔ اس نے بدھو کو اتنے زور سے چانٹا مارا کہ بدو کا دانت ٹوٹ گیا۔ کچھ روایات میں ہے کہ اس کی نکسیر پھوٹ پڑی۔ بدو نے امیر المومنین کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ آپؓ نے اسے طلب کیا اور پوچھ گچھ کی۔ اس نے کہا: ہاں میں نے تھپڑ مارا کیونکہ میں بادشاہ ہوں اور وہ ایک عامی!! امیر المومنین نے فرمایا: مسلمان ہونے کے بعد تم اور بدو برابر ہو۔ یہاں برتری صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ اب یا تو وہ بدو تمہیں معاف کرے یا تمہیں ویسا ہی تھپڑ مارے! اس نے جواب دیا کہ ایسا ہے تو میں اسلام ترک کر کے دوبارہ عیسائی ہو جاؤں گا۔ آپؓ نے فرمایا: ایسا کروگے تو ارتداد کے جرم میں تمہاری گردن اڑا دی جائے گی۔ یہ سن کر جبلہ کے ہوش اڑ گئے۔ اس نے سوچنے کے لیے مہلت مانگی۔ آپ نے بدو کی اجازت سے اسے رات کی مہلت دی۔ وہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ راتوں رات فرار ہو گیا اور رومیوں کے پاس جا کر دوبارہ عیسائی ہو گیا۔ کاش اس وقت ہمارے سابق وزیراعظم کی رائے کے مطابق وہاں کوئی نوجوان بیورو کریٹ موجود ہوتا تو امیر المومنین کی خدمت میں عرض کرتا کہ اتنی بڑی سلطنت کا بادشاہ ہمارے ہاتھ آیا ہے‘ قانون کو چھوڑیے اور معاملے کو دبا دیجیے۔ خود نبی اکرمﷺ قانون کے سامنے کسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بہت بڑے معزز‘ ایلیٹ قبیلے کی خاتون نے چوری کی جس کی سزا ہاتھ کاٹنا تھا۔ بہت سفارشیں آئیں۔ سیاسی دباؤ پڑا مگر آپﷺ نے فرمایا کہ فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو ضرور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا۔ اور امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے تو قانون کی پاسداری میں بہت بڑے نقصان کی پروا نہ کی۔ یہ زمانہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لیے بڑا ہی سخت اور آزمائشوں والا تھا۔ ہر طرف سے دشمنوں سے گھرے ہوئے تھے۔ اپنے چچا زاد بھائی ابن عباسؓ کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا۔ انہوں نے بیت المال سے رقم لی اور پھر واپس نہیں کر رہے تھے۔ ابو الاسود نے جو مالیات کے انچارج تھے‘ امیر المومنین کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ اگر کوئی ''نوجوان Gogetter افسر‘‘ اس وقت امیر المومنین کا پرنسپل سیکرٹری ہوتا تو مشورہ دیتا کہ امیر المومنین!! قانون کو چھوڑیے‘ حالات خراب ہیں‘ شام کی حکومت آپ کے اقتدار کے درپے ہے۔ ایسے میں حامیوں کی آپ کو سخت ضرورت ہے۔ مگر امیر المومنین کے لیے قانون کی عملداری ان کی حکومت سے زیادہ اہم تھی۔ آپؓ نے اپنے چچا زاد کا اتنا کڑا محاسبہ کیا کہ وہ بیت المال سے بہت کچھ لے کر‘ گورنری چھوڑ کر‘ بلا اجازت مکہ چلے گئے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے ڈاکٹر طہٰ حسین کی تصنیف‘ حضرت علیؓ تاریخ وسیاست کی روشنی میں)
یہ تو عہدِ رسالت اور عہدِ خلافت راشدہ کی باتیں ہیں۔ قائداعظم قانون کو کتنی اہمیت دیتے تھے؟ کاش حکمران قائداعظم کی سوانح حیات ہی پڑھ لیتے! زیارت میں جو نرس ان کی خدمت پر مامور تھی‘ اس نے استدعا کی کہ اس کا تبادلہ فلاں جگہ کرایا جائے۔ ہائے افسوس!! نہ ہوا اُس وقت کوئیGogetter قائداعظم کے پاس! کہتا: سر! آپ بس اشارہ کیجیے‘ تبادلہ ہو جائے گا۔ مگر قائد نے صاف کہہ دیا کہ یہ وزارتِ صحت کا دائرہ اختیار ہے۔ آپ نے مرض الموت میں بھی قانون توڑنے سے انکار کر دیا۔ وہ قانون کے کتنے شدید پابند تھے‘ اس کا اندازہ جس نے لگانا ہو امریکہ میں پاکستان کے سفیر مرزا ابو الحسن اصفہانی سے قائداعظم کی مراسلت اُس جہاز کی خریداری کے متعلق پڑھ لے جو حکومت کو مشرقی پاکستان آنے جانے کے لیے مجبوراً خریدنا تھا۔ یہ مراسلت حیران کن ہے۔ قائداعظم کی پوری کوشش تھی کہ جہاز پر کم سے کم پیسہ خرچ ہو۔ وہ ایک ایک بات کی تفصیل پوچھتے ہیں۔ ان کے لیے سرکاری خزانے سے رقم خرچ کرنا ایک آزمائش سے کم نہ تھا۔ اس کے مقابلے میں آج ایک صوبائی حکومت انتہائی قیمتی‘ پُرتعیش اور پُرشکوہ جہاز خریدتی ہے۔ زیارت ہی میں قائداعظم کی حالت کم خوری کی وجہ سے بگڑتی جا رہی ہے۔ ان کے لیے پنجاب سے وہ باورچی منگوایا جاتا ہے جو بمبئی میں ان کے ہاں کام کرتا تھا۔ اس کا تیار کیا ہوا کھانا وہ رغبت سے کھاتے ہیں‘ کھانے کے بعد پوچھتے ہیں کہ یہ کھانا کس نے بنایا ہے؟ ان کی بہن بتاتی ہیں کہ پنجاب سے بلائے گئے ان کے پسندیدہ باورچی نے! جب بتایا جاتا ہے کہ باورچی کے آنے کے اخراجات پنجاب حکومت نے اٹھائے ہیں تو وہ ناراض ہوتے ہیں۔ متعلقہ فائل منگوا کر اس پر لکھتے ہیں ''گورنر جنرل کی پسند کا باورچی اور کھانا فراہم کرنا حکومت کے کسی ادارے کا کام نہیں ہے‘‘۔ پھر وہ اپنی جیب سے اخراجات کی رقم ادا کر کے باورچی کو واپس بھیج دیتے ہیں!! کتنا فرق ہے قائد اور آج کے بے پروا‘عاقبت نااندیش حکمرانوں کے درمیان!! جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے!
انہوں نے ایک سابق وزیراعظم کا ذکر کیا ہے جنہوں نے چین کے دورے میں ایک پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ انہیں ایسے سینئر افسران نہیں چاہئیں جو ہر بات پر قانون سمجھانے بیٹھ جائیں بلکہ انہیں ایسے نوجوان افسران درکار ہیں جو Go Getters ہوں۔ کلاسرا نے‘ جو اس پریس کانفرنس میں موجود تھے‘ قانون شکنی کے اس مائنڈ سیٹ اور اس رجحان کی مذمت کی ہے۔ کلاسرا ان پاکستانیوں میں سے ہیں جو قانون پر عمل درآمد چاہتے ہیں اور قانون کی حرمت کی بات کرتے ہیں! اسی بات سے تو مجھے اختلاف ہے۔ سابق وزیراعظم قانون‘ ضابطے‘ رُول‘ ریگولیشن کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔ یقین جانیے مجھے ٹریفک کی سرخ بتی سے نفرت ہے۔ سڑک کے بائیں طرف گاڑی چلانا مجھے ہرگز پسند نہیں۔ آخر ٹرینیں اور جہاز وقت ہی پر کیوں روانہ ہوں؟ جب بھی سابق وزیراعظم اور مجھ جیسا انارکسٹ بلکہ Nihilist حکم دے تو ٹرینیں چل پڑیں‘ جہاز لینڈ کریں‘ بازار بند ہو جائیں‘ سکول اتوار کو کھلیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ختم ہو جائیں۔ پنجابی میں کہتے ہیں: عقل نہ ہووے تے موجاں ای موجاں۔ یہ محاورہ یکسر غلط ہے۔ اصل محاورہ ہے: قانون نہ ہووے تے موجاں ای موجاں۔ بلکہ قانون ہو بھی تو یہی سمجھنا چاہیے کہ قانون کا کوئی وجود نہیں‘ بس مزے ہی مزے ہیں‘ جو چاہیں کیجیے۔ باتھ روم پر سرکاری خزانے سے لاکھوں لگا دیجیے۔ محلات کی چار دیواریاں بیت المال سے بنوائیے۔ قومی ایئر لائن کا جہاز ہفتوں لندن میں منتظر رکھیے۔ وزارتِ عظمیٰ کے دوران بے تحاشا بیرونی دورے کیجیے۔ مہینوں اسمبلی میں رونمائی فرمائیے نہ کابینہ اجلاس ہی طلب کیجیے۔ جی چاہے تو ہر روز ایف بی آر کے نئے ایس آر او جاری کروائیے اور دو دن کے بعد منسوخ کرا دیجیے۔ بقول ظفر اقبال:
دیکھ رہ جائے نہ حسرت کوئی دل میں تیرے
شور کر اور بہت خاک اُڑا اور بہت
بنی غسّان کی سلطنت عرب کی شمالی سرحد پر واقع تھی اور قیصرِ روم کی باجگزار تھی۔ جبلہ بن ایہم اس ریاست کا آخری بادشاہ تھا۔ مسلمانوں کی پے درپے فتوحات دیکھ کر اس نے دور اندیشی سے کام لیا اور مسلمان ہو جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ بہت کروفر اور پروٹوکول کے ساتھ مدینہ منورہ آیا۔ بہت سے سوار ساتھ تھے جو بہترین لباس پہنے تھے۔ یہ امیر المومنین عمر فاروقؓ کا دور تھا۔ ان کے ہاتھ پر وہ مسلمان ہوا۔ یہ حج کا موسم تھا۔ اس نے بھی امیر المومنین کے ساتھ مکہ کا سفر کیا اور حج کیا۔ عرب کے متکبر اور گردن بلند سرداروں کی طرح اس کے قیمتی تہمد کے آخری کنارے زمین کو چھو رہے تھے۔ طواف کے دوران ایک بدو کا پاؤں اس کے تہمد پر آ گیا۔ جبلہ بن ایہم جلال میں آ گیا۔ اس نے بدھو کو اتنے زور سے چانٹا مارا کہ بدو کا دانت ٹوٹ گیا۔ کچھ روایات میں ہے کہ اس کی نکسیر پھوٹ پڑی۔ بدو نے امیر المومنین کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ آپؓ نے اسے طلب کیا اور پوچھ گچھ کی۔ اس نے کہا: ہاں میں نے تھپڑ مارا کیونکہ میں بادشاہ ہوں اور وہ ایک عامی!! امیر المومنین نے فرمایا: مسلمان ہونے کے بعد تم اور بدو برابر ہو۔ یہاں برتری صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ اب یا تو وہ بدو تمہیں معاف کرے یا تمہیں ویسا ہی تھپڑ مارے! اس نے جواب دیا کہ ایسا ہے تو میں اسلام ترک کر کے دوبارہ عیسائی ہو جاؤں گا۔ آپؓ نے فرمایا: ایسا کروگے تو ارتداد کے جرم میں تمہاری گردن اڑا دی جائے گی۔ یہ سن کر جبلہ کے ہوش اڑ گئے۔ اس نے سوچنے کے لیے مہلت مانگی۔ آپ نے بدو کی اجازت سے اسے رات کی مہلت دی۔ وہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ راتوں رات فرار ہو گیا اور رومیوں کے پاس جا کر دوبارہ عیسائی ہو گیا۔ کاش اس وقت ہمارے سابق وزیراعظم کی رائے کے مطابق وہاں کوئی نوجوان بیورو کریٹ موجود ہوتا تو امیر المومنین کی خدمت میں عرض کرتا کہ اتنی بڑی سلطنت کا بادشاہ ہمارے ہاتھ آیا ہے‘ قانون کو چھوڑیے اور معاملے کو دبا دیجیے۔ خود نبی اکرمﷺ قانون کے سامنے کسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بہت بڑے معزز‘ ایلیٹ قبیلے کی خاتون نے چوری کی جس کی سزا ہاتھ کاٹنا تھا۔ بہت سفارشیں آئیں۔ سیاسی دباؤ پڑا مگر آپﷺ نے فرمایا کہ فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو ضرور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا۔ اور امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے تو قانون کی پاسداری میں بہت بڑے نقصان کی پروا نہ کی۔ یہ زمانہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لیے بڑا ہی سخت اور آزمائشوں والا تھا۔ ہر طرف سے دشمنوں سے گھرے ہوئے تھے۔ اپنے چچا زاد بھائی ابن عباسؓ کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا۔ انہوں نے بیت المال سے رقم لی اور پھر واپس نہیں کر رہے تھے۔ ابو الاسود نے جو مالیات کے انچارج تھے‘ امیر المومنین کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ اگر کوئی ''نوجوان Gogetter افسر‘‘ اس وقت امیر المومنین کا پرنسپل سیکرٹری ہوتا تو مشورہ دیتا کہ امیر المومنین!! قانون کو چھوڑیے‘ حالات خراب ہیں‘ شام کی حکومت آپ کے اقتدار کے درپے ہے۔ ایسے میں حامیوں کی آپ کو سخت ضرورت ہے۔ مگر امیر المومنین کے لیے قانون کی عملداری ان کی حکومت سے زیادہ اہم تھی۔ آپؓ نے اپنے چچا زاد کا اتنا کڑا محاسبہ کیا کہ وہ بیت المال سے بہت کچھ لے کر‘ گورنری چھوڑ کر‘ بلا اجازت مکہ چلے گئے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے ڈاکٹر طہٰ حسین کی تصنیف‘ حضرت علیؓ تاریخ وسیاست کی روشنی میں)
یہ تو عہدِ رسالت اور عہدِ خلافت راشدہ کی باتیں ہیں۔ قائداعظم قانون کو کتنی اہمیت دیتے تھے؟ کاش حکمران قائداعظم کی سوانح حیات ہی پڑھ لیتے! زیارت میں جو نرس ان کی خدمت پر مامور تھی‘ اس نے استدعا کی کہ اس کا تبادلہ فلاں جگہ کرایا جائے۔ ہائے افسوس!! نہ ہوا اُس وقت کوئیGogetter قائداعظم کے پاس! کہتا: سر! آپ بس اشارہ کیجیے‘ تبادلہ ہو جائے گا۔ مگر قائد نے صاف کہہ دیا کہ یہ وزارتِ صحت کا دائرہ اختیار ہے۔ آپ نے مرض الموت میں بھی قانون توڑنے سے انکار کر دیا۔ وہ قانون کے کتنے شدید پابند تھے‘ اس کا اندازہ جس نے لگانا ہو امریکہ میں پاکستان کے سفیر مرزا ابو الحسن اصفہانی سے قائداعظم کی مراسلت اُس جہاز کی خریداری کے متعلق پڑھ لے جو حکومت کو مشرقی پاکستان آنے جانے کے لیے مجبوراً خریدنا تھا۔ یہ مراسلت حیران کن ہے۔ قائداعظم کی پوری کوشش تھی کہ جہاز پر کم سے کم پیسہ خرچ ہو۔ وہ ایک ایک بات کی تفصیل پوچھتے ہیں۔ ان کے لیے سرکاری خزانے سے رقم خرچ کرنا ایک آزمائش سے کم نہ تھا۔ اس کے مقابلے میں آج ایک صوبائی حکومت انتہائی قیمتی‘ پُرتعیش اور پُرشکوہ جہاز خریدتی ہے۔ زیارت ہی میں قائداعظم کی حالت کم خوری کی وجہ سے بگڑتی جا رہی ہے۔ ان کے لیے پنجاب سے وہ باورچی منگوایا جاتا ہے جو بمبئی میں ان کے ہاں کام کرتا تھا۔ اس کا تیار کیا ہوا کھانا وہ رغبت سے کھاتے ہیں‘ کھانے کے بعد پوچھتے ہیں کہ یہ کھانا کس نے بنایا ہے؟ ان کی بہن بتاتی ہیں کہ پنجاب سے بلائے گئے ان کے پسندیدہ باورچی نے! جب بتایا جاتا ہے کہ باورچی کے آنے کے اخراجات پنجاب حکومت نے اٹھائے ہیں تو وہ ناراض ہوتے ہیں۔ متعلقہ فائل منگوا کر اس پر لکھتے ہیں ''گورنر جنرل کی پسند کا باورچی اور کھانا فراہم کرنا حکومت کے کسی ادارے کا کام نہیں ہے‘‘۔ پھر وہ اپنی جیب سے اخراجات کی رقم ادا کر کے باورچی کو واپس بھیج دیتے ہیں!! کتنا فرق ہے قائد اور آج کے بے پروا‘عاقبت نااندیش حکمرانوں کے درمیان!! جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے!