Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Tuesday, October 20, 2020

مگسی صاحب

فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف مگسی صاحب تھے۔ اسلم خان مگسی!فرمانے لگے : ''میں آج اسّی برس کا ہو گیا ہوں‘‘۔ محمد اسلم خان مگسی کے بزرگوں میں نواب حیدر خان مگسی اور نواب بر خوردار خان مگسی جیسے بڑے نام ہیں۔ مگسی قبیلے کے موجودہ سردار‘ نواب ذوالفقار خان مگسی‘ جو بلوچستان کے وزیر اعلیٰ بھی رہے‘ دورانِ تعلیم خانیوال میں اسلم خان مگسی کے گھر قیام پذیر رہے۔جھل مگسی اس قبیلے کا صدر مقام ہے۔ ماضی میں یہ قبیلہ بھی‘ دوسرے بلوچ قبائل کی طرح‘ اپنی بقا کے لیے جنگ و جدل میں مصروف رہا۔ 1829 ء میں مگسی اور رند قبیلے میں خوفناک لڑائی ہوئی۔رند تعداد اور طاقت میں زیادہ تھے۔مگسیوں نے لڑائی سے بچنا چاہا۔ صلح کی پیشکش کی مگر رند نہ مانے۔ زبانی روایت یہ چلی آرہا ہے کہ مگسیوں کی طرف سے ایک سید زادی تشریف لے گئیں جنہوں نے لڑائی سے منع کیا۔ رند پھر بھی اڑے رہے۔بالآخر سید زادی یہ کہہ کر واپس تشریف لے آئیں کہ ٹھیک ہے پھر تم گھاس ہو اور مگسی درانتی۔ یہی ہوا۔تعداد میں کم ہونے کے باوجود مگسی فاتح رہے۔
اسلم خان مگسی ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان رہے۔ یعنی تینوں مسلح افواج کے باوردی افسروں اور جوانوں اور سول افسروں اور اہلکاروں کی تنخواہیں‘ پنشن‘ دفاعی پیداوار کی صنعت‘ سپلائی‘ تعمیرات‘ ادویات‘ راشن‘ اسلحہ‘ ہسپتال‘ تعلیمی ادارے‘ غرض تمام اقسام کی مالی ادائیگیوں‘ اکاؤنٹنگ اور آڈٹ کے سب سے بڑے باس!
ملٹری اکاؤنٹس کا محکمہ برٹش انڈیا کا سب سے پرانا محکمہ ہے۔ ہمارے بادشاہوں کے ہاں بیت المال ان کا ذاتی خزانہ ہوتا تھا‘ جس کو چاہتے سونے یا چاندی میں تلوادیتے۔ کبھی موتیوں سے منہ بھر دیتے۔ مشہور سکالر مُلاّعبدالحکیم سیالکوٹی کو شاہجہان نے دو بار چاندی میں تلوایا‘جس کا مطلب یہ ہے کہ چاندی انہی کی ہو گئی۔ مگر انگریز بہادر پہلے دن ہی سے آڈٹ اور اکاؤنٹ کے نگہدار ساتھ لائے تھے۔ اسکندر مرزا کے فرزند ہمایوں مرزا نے '' فرام پلاسی ٹو پاکستان‘‘ میں لکھا ہے کہ انگریز ریذیڈنٹ جب میر جعفر کے جانشینوں یعنی بنگال کے نوابوں کی پنشن میں اضافے کی سفارش ایسٹ انڈیاکمپنی کے ہیڈ آفس کو بھیجتے تھے تو سفارش کے باوجود‘ افسرِ حسابات کی رائے کو فوقیت دی جاتی تھی۔ ملٹری اکاؤنٹس کے ادارے کی بنیاد اڑھائی سو برس پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی نے1750ء میں رکھی۔1757ء میں اسی ادارے کے انگریز افسروں نے کرنل کلائیو کو مدراس کی فوج کیلئے ایک لاکھ روپے کی ایڈ وانس ادائیگی کی۔ 1857ء کی ناکام جنگِ آزادی کے بعد جب ملکہ نے ہندوستان کا اقتدار براہ راست سنبھالا تو مدراس‘ بمبئی اور کلکتہ کے تین الگ الگ ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل تھے۔ نئے انتظام کے تحت پورے ہندوستان کیلئے ایک ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل مقرر کیا گیا۔ 1914 ء میں اس کی تنخواہ پچیس سو روپے ماہانہ تھی۔ اس کا نائب بائیس سو روپے لے رہا تھا اور عام کلاس ون افسر کی تنخواہ سولہ سو روپے تھی۔ پہلا مقامی یعنی ہندوستانی کنٹرولر آف ملٹری اکاؤنٹس 1922 ء میں بنایا گیا۔ یہ راؤ بہادر وَینگو ایار تھا۔ ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل دلی میں بیٹھتا تھا۔ تاہم شمالی اور شمال مغربی علاقوں کاہیڈ کوارٹر راولپنڈی تھا۔ اس ادارے میں زیادہ تعداد بنگالی بابوؤں کی تھی۔ راولپنڈی صدر میں واقع بابو بازار کی وجہ تسمیہ انہی بابوؤں کا قیام تھا۔ جس تاریخی عمارت میں ملٹری اکاؤنٹس کے دفاتر تھے‘ اسے کلکتہ دفتر کہتے تھے۔ تقسیم کے بعد یہی عمارت ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کا دفتر بنی۔ جب دارالحکومت کراچی سے منتقل ہوا تو یہ عمارت وزارتِ دفاع کو دے دی گئی۔ تقسیم کے بعد بھارت میں ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کا نام بدل کر کنٹرولر جنرل ڈیفنس اکاؤنٹس رکھ دیا گیا۔ دونوں ملکوں میں یہ منصب سی ایس ایس کے افسر کو تفویض کیا جاتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ بھارت میں آرڈیننس فیکٹریز کا انتظام اور آرڈیننس فیکٹریز بورڈ کی سربراہی بھی سی ایس ایس کے افسروں کی تحویل میں ہے۔ اسی طرح سی ایس ڈی کا حساب کتاب اور آڈٹ بھی وہاں ملٹری اکاؤنٹس کے پاس ہے۔پاکستان ملٹری اکاؤنٹس سروس کے حوالے سے بڑے بڑے نام ہیں۔ محمد شعیب جو وزیر خزانہ رہے‘ اسی سروس سے تھے۔ کئی کتابوں کے مصنف اور اقوام متحدہ کے مانے ہوئے امورِ خوراک کے ماہر سرتاج عزیزاسی سروس سے ہیں۔ ہم جب سی ایس ایس کا امتحان دے کر ملازمت میں آئے تو ایس ایس اقبال حسین اقتصادی امور کے وفاقی سیکرٹری تھے۔پھر انہیں انڈونیشیا میں سفیر مقرر کیا گیا۔ وہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے سسر بھی تھے۔ وہ بھی اسی سروس کے رکن تھے۔ ایم اے جی ایم اختر بھی اسی سروس سے تھے۔ سابق گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر‘ ان کی صاحبزادی ہیں۔ معروف شاعر اور دانشور ابن الحسن بھی اسی سروس سے تھے۔ ان کے دو شعر دیکھئے۔
خوبصورت بہت ہو تم لیکن؍ دوسروں کا بھی کچھ خیال کرو
جی لیے ہو پچاس سال حسنؔ؍ جائے عبرت ہے‘ انتقال کرو
اسلم خان مگسی‘سول سروس کے اسی قدیم ترین گروپ کی صحت مند روایات کے امین رہے۔ مجسم شرافت‘ سراپا حلم‘ نائب قاصد سے بھی ایسا سلوک کرتے جیسے وہ ان کے برابر کا ہو۔ ہم نے پچیس سالہ رفاقتِ کار میں ان سے بہت کچھ سیکھا۔ ہم نے ان سے سیکھا کہ عزت‘ عجزو انکسار میں ہوتی ہے‘ خدمت میں ہوتی ہے۔افسر ی کے زعم میں نہیں ہوتی۔ مگسی صاحب ایک دن عام سے لباس میں ملبوس‘ گھر کے صحن میں‘ زمین پر بیٹھے‘ کھرپا ہاتھ میں لیے‘ پودوں کی گوڈی کر رہے تھے۔ ایک سائل‘ محکمے کا ملازم‘ جو کسی دور دراز جگہ سے آیا تھا‘ گھر میں داخل ہوا۔ اس نے پوچھا: بڑے صاحب ہیں؟ ان سے ملنا ہے ! مگسی صاحب نے کہا: فرمائیے کیا کام ہے؟ وہ مالی کو اپنا کام کیا بتاتا‘ ڈانٹ کر بولا: تم کیوں پوچھ رہے ہو‘ میں نے کہا نا صاحب سے ملنا ہے۔ مگسی صاحب خاموشی سے اٹھے‘ اندر گئے‘ پھر مہمان خانے کا دروازہ کھول کر باہر نکلے۔ اسے اندر بٹھایا۔ پھر انتہائی ملائمت سے بتایا کہ میں ہی ہوں جس سے آپ ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے معذرت کی تو کہا: کوئی بات نہیں‘ آپ مجھے پہچانتے نہیں تھے۔ رات ہو یا دن‘ چھٹی ہو یا ڈیوٹی کا وقت۔ دفتر ہو یا گھر‘ دورے پر ہوں یا ہیڈ کوارٹر میں‘ علیل ہوں یا تندرست‘ ان کا دروازہ ہر وقت ماتحتوں کے لیے کھلا ہوتا۔ ہر ممکن کوشش کرتے کہ ہر ملاقاتی اپنا کام کرا کے جائے۔ کوئی کام‘ قانونی رکاوٹ کی وجہ سے نہ ہو سکتا تو کسی ماتحت سے کہتے کہ میں انکار میں جواب نہیں دے سکتا‘ آپ انہیں سمجھا دیجئے کہ اس مجبوری یا رکاوٹ کی وجہ سے کام نہیں ہو سکتا۔ ایک بار میں ان کے دفتر میں داخل ہوا تو کمرہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ سب باری باری انہیں مل رہے تھے۔ معلوم ہوا محکمے میں نئی بھرتی ہورہی ہے اور یہ سب امیدوار ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ سر! آپ نے تو بھرتی نہیں کرنی۔ انہیں متعلقہ افسروں کے پاس بھیجئے۔ مسکرائے اور کہا کہ میں انہیں ملازمت تو نہیں دے سکتا‘وہ تو قاعدے قانون کے مطابق ہی ملے گی مگر ادارے کے سربراہ کے طور پر انہیں مل کر تسلی تو دے سکتا ہوں! غبن اور مالی خیانت کے مجرموں کو سزا دیتے مگر اس کے علاوہ ان کی کوشش ہوتی کہ تنبیہ کر کے چھوڑ دیا جائے۔ ملازمین کی فلاح و بہبود کے جتنے کام ممکن تھے‘ کئے۔ یونین کے ساتھ ہمیشہ شفقت اور وسیع القلبی سے معاملات سلجھائے۔ ملازمین کیلئے کراچی سے لے کر پنڈی اور پشاور تک‘ جہاں بھی ممکن ہوا‘ سرکاری رہائشگاہیں تعمیر کرائیں۔ کھیلوں کی روایت اس محکمے میں ہمیشہ سے رہی ہے مگر جو آل پاکستان ٹورنامنٹس مگسی صاحب کے دور میں منعقد ہوئے‘ ان کی مثال کم ہی ملے گی۔
کالم کا دامن تنگ ہے اور ذکرِ دوست طویل۔ مگسی صاحب کو 80ویں سالگرہ مبارک  ہو۔۔۔۔ تم سلامت رہو ہزار برس  
 

powered by worldwanders.com