Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Wednesday, June 21, 2017

تم بھی انتظار کرو ہم بھی کرتے ہیں

قسمت کا دھنی اور مقدر کا سکندر کون ہے؟ اس کا فیصلہ وقت کرے گا! ہم کون ہیں 
کرنے والے! اور آپ کس طرح کر سکتے ہیں؟
خوش قسمتی کی تعریف کیا ہے؟ معیار کیا ہے؟ کیا اقتدار کی طوالت خوش نصیبی کی علامت ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر معمر قذافی اور حسنی مبارک سے زیادہ خوش قسمت کون ہے!
عوام کو ان پڑھ رکھیے۔ اداروں کو طاعون زدہ کر دیجیے۔ پولیس کو گھر کی باندی کے طور پر استعمال کیجیے یوں کہ آئی جی آپ کے ذاتی ملازم کی طرح انگلی کے اشارے کا غلام ہو، خزانے کا منہ کھول کر صحافیوں، دانشوروں، اخبار نویسوں، رائے سازوں اور تشہیر کنندگان کو خرید لیجیے، کوئی آپ کا راستہ روکنے والا نہ رہے۔ کوئی چیلنج کرنے والا نہ رہے۔ اقتدار طویل سے طویل تر ہوتا رہے، اگر یہی خوش نصیبی ہے تو پھر تو تاریخ خوش نصیبوں سے بھری پڑی ہے۔ 
پھر تو ابوحنیفہ اور احمد بن حنبل کی قسمت خراب تھی اور ان بادشاہوں کی اچھی تھی جنہوں نے انہیں کوڑے مارے، جسمانی اذیتیں دیں، یہاں تک کہ شہید ہی ہو گئے۔ اس وقت بھی درباریوں نے یہی کہا ہو گا کہ جہاں پناہ! مقدر آپ کے ساتھ ہے، یہ حاسد، یہ کیڑے نکالنے والے، یہ نام نہاد فقیہہ، زندگی ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے اور آپ کو خدا نے سلامت رکھا ہوا ہے۔
طوالتِ اقتدار ہی خوش بختی کا معیار ہے تو پھر تو عمر بن عبدالعزیز کی قسمت قابل رحم ہے۔ صرف اڑھائی برس، اور اس کے مقابلے میں حجاج بن یوسف بیس سال عراق کے سیاہ و سفید کا مالک رہا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ اس نے ایک لاکھ افراد کو قتل کیا جن میں اصحابِ رسول بھی تھے۔
پھر تو کامیاب ترین ہندوستانی فرماں روا شیر شاہ سوری صرف پانچ سال حکومت کر سکا۔ بیچارہ، بدنصیب، تاریخ اسے لاکھ کامیاب ترین خوش بخت اور قسمت کا دھنی قرار دیتی رہے، مگر صرف پانچ برس، یہ الگ بات کہ ان پانچ برسوں میں ایسی شاہراہیں بنوائیں جو آج تک استعمال ہو رہی ہیں اور زراعت اور انصاف میں ایسی اصلاحات کیں جو مغلوں نے تو کیا، انگریزوں نے بھی جاری رکھیں اور اپنائیں۔ 
قائد اعظم کہاں خوش قسمت تھے۔ بھئی! وہ تو دوسال بھی حکومت نہ کر سکے۔ اس کے مقابلے میں جنرل ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف دس دس سال اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ قسمت کے دھنی، مقدر کے سکندر!
چنگیز خان سے زیادہ خوش قسمت پھر کون ہو گا؟ جو اس کے راستے میں آتا، ریت کی دیوار ثابت ہوتا۔ بستیوں کو جلاتا، شہروں کو راکھ میں بدلتا، ہزاروں، لاکھوں انسانوں کو قتل کرتا، عالموں، مصنفوں، ایلچیوں، کو میناروں سے نیچے گراتا، خوش بخت چنگیز خان آگے ہی آگے بڑھتا رہا، کیا مقدر تھا اور کیا ہی قسمت تھی۔ رشک آتا ہے۔
اور یہ سلطان ٹیپو کو کیا سوجھی تھی؟ کتنی غلط بات کہہ گئے سلطان شہید! کہ گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔ کہاں زندگی کے مزے۔ کہاں موت! میر جعفر اور میر صادق عقل مند تھے اور خوش قسمت بھی۔ بھٹو کی قسمت خراب تھی، معافی مانگی نہ جلاوطنی کا انتخاب کیا۔ خوش بخت ہوتے تو جیل کی کالی کوٹھڑی میں سڑتے نہ رہتے!کسی بادشاہ کی مدد طلب کرتے۔ معاہدہ پر دستخط کرتے اور سامان سے بھرے چالیس صندوق اور باورچیوں کو ہمراہ لیتے، دور کی کسی مملکت پہنچ کر کسی محل میں فروکش ہو جاتے۔!
خوش بختی کے راستے کا سنگِ مل یہ ہے کہ اپنی برادری پر انحصار کیجیے۔ اپنی ذات، اپنے قبیلے کو ترجیح دیجیے۔ اگر برادری کا آرمی چیف چل جاتا تو خوش بختی اور بھی زیادہ تابندہ ہوتی۔ یہی اصول یوگنڈا کے عدی امین نے اپنایا اور قسمت کا دھنی ثابت ہوا۔ بیورو کریسی سے لے کر فوج تک، ہر جگہ اپنے قبیلے کے افراد کو داخل کیا۔ پھر جنوبی سوڈان سے لوگ منگوائے۔ کابینہ کا پچہتر فیصد اور ٹاپ جرنیلوں کا ساٹھ فیصد اس کے اپنے قبیلے کے افراد اور جنوبی سوڈانیوں پر مشتمل تھا۔ فوج میں سوڈان اور کانگو کے کرائے کے فوجی بھرتی کیے صرف ایک چوتھائی فوجی یوگنڈا کے تھے۔ یوں یوگنڈا کی عدالتیں، الیکشن کمیشن، سیکرٹریٹ، پولیس، وہاں کی ایف آئی اے، سب ادارے اس کی برادری اور اس کے علاقے کے لوگوں سے اٹ گئے۔ اب خوش قسمتی کا راستہ کھلا تھا۔آٹھ بغاوتیں ہوئیں اور سب ناکام! اس کے حامیوں نے اسے ضرور خوش بخت قرار دیا ہو گا۔ پھر قسمت کا عروج دیکھیے کہ لاکھوں افراد قتل کرنے والے اس قاتل کو سرزمینِ حجاز سے بلاوا آگیا۔ ہیلی کاپٹر پر بھاگا تو پہلے لیبیا گیا۔ پھر سعودی عرب! جدہ کے بہترین ہوٹل میں پوری دو منزلیں اس کے لیے مختص ہو گئیں۔ مرسڈیز گاڑیاں حاضر تھیں۔ پھر ایک دن آیا کہ وہ کوما میں چلا گیا۔ اس کی بیگمات میں سے ایک نے یوگنڈا کے حکمران سے واپسی کی بھیک مانگی جو قبول نہ ہوئی۔ آخر کار عدی امین کی اپنی فیملی ہی نے اسے زندہ رکھنے والا وینٹی لیٹر ہٹا دیا اور یوں یہ خوش بخت حکمران انجام کو پہنچا۔ کسی کو معلوم نہیں کہ ایک سادہ سی قبر جدہ کے قبرستان میں اس کی بھی ہے۔!! 
اقتدار خوش بختی کی علامت ہوتا تو قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں صفحۂ ہستی سے مٹا دینے والے خلفائِ راشدین یہ حسرت نہ کرتے کہ کاش وہ تنکا ہوتے اور ان کا حساب کتاب نہ ہوتا۔ ایک تعزیت کے موقع پر ایک بزرگ نے کیا فکر انگیز بات کی کہ سب کو پس ماندگان کی فکر ہے کہ اولاد کا کیا بنے گا، بیوہ کو کون سنبھالے گا، کاروبار کیسے چلے گا، مگر آہ! جانے والے کی کسی کو پرواہ نہیں کہ اس کے ساتھ کیا سلوک ہو گا؟ بیس کروڑ افراد کی ذمہ داری حکمران اعلیٰ کے سر پر ہے! فرمایا گیا ہے کہ تم میں سے ہر شخص کا دائرۂ اختیار ہے اور اس سے اس دائرۂ اختیار کے حساب سے پوچھ گچھ ہو گی۔ یہ دائرۂ اختیار جتنا پھیلا ہوا ہو گا، جواب دہی اُسی تناسب سے ہو گی۔ پانچ ما تحت ہیں تو ان کے حساب سے، ایک محکمہ ہے تو اس کے حساب سے، ایک پورا ملک ہے تو اس کے لحاظ سے! وہ حکمران جس نے کہا تھا کہ فرات کے کنارے کتا مر گیا تو اس کی بھی ذمہ داری مجھ پر ہو گی، کیا عقل سے بے بہرہ تھا؟ چھینک آنے پر ولایت سدھار جانے والوں سے پوچھا جائے گا کہ 
ہسپتالوں میں خلقِ خدا بے سہارا مرتی رہی، تم کہاں تھے؟ اپنی آمد و رفت کے 
لیے شاہراہوں کو سنسان کر دینے والے گردن بلندوں سے پوچھا جائے گا کہ لاکھوں انسان ٹریفک کی لاقانونیت کا شکار ہو گئے، تم اپنے لیے تو رُوٹ لگواتے رہے، اُن کی فکر کیوں نہ کی؟ لکھنے والوں نے درجنوں بار ان حکمرانوں کی توجہ اس طرف دلائی کہ ٹرالیاں، ڈمپر اور ٹریکٹر خلقِ خدا کو دن رات کچل رہے ہیں۔ ریاست غائب ہے، مگر ان حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ان کے ملازم صبح چھ بجے اخبارات کھنگال کر ان کے لیے سمریاں تیار کرتے ہیں۔ خبروں کی کٹنگز، کلپس، پیشِ خدمت کرتے ہیں مگر یہ اس غرّے میں ہیں کہ ان کے حواری انہیں قسمت کا دھنی قرار دے رہے ہیں۔ آخر کچھ کمال تو ان میں ہے وگرنہ کیا یہ سب لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔ جھوٹ تو وہ بھی نہیں بول رہے تھے جو بادشاہ سلامت کے ’’لباس‘‘ کی تعریف کر رہے تھے۔ جھوٹ تو وہ نامعقول بچہ بول رہا تھا جو کہہ اٹھا کے بادشاہ ننگا ہے۔
کون خوش قسمت ہے اور کون نہیں، خدا کے بندو! خدا سے ڈرو! اس کا فیصلہ وقت کرے گا اور تاریخ کرے گی اور روزِ حشر کرے گا۔ ہاں! آج فیصلہ لینا ہے تو خلقِ خدا کی طرف رجوع کرو۔ سوشل میڈیا ہی کو دیکھ لو! لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ روایت ہے کہ ایوب خان نے ایک بچے کے منہ سے اپنے خلاف نعرہ سنا تو اقتدار چھوڑ دیا۔ آج سوشل میڈیا پر عوام جو کچھ کہہ رہے ہیں۔ دیکھتا تو نہ جانے اس خوش قامت اور وجیہہ خان کا کیا حال ہوتا۔
آہ! تقدیر کا فیصلہ یہی ہے کہ حکمران اعلیٰ ہی سب سے زیادہ بے خبر ہوتا ہے۔ اُسے اردگرد کا کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ اس کے گرد ایک حصار کے بعد دوسرا حصار اور دوسرے کے بعد تیسرا حصار یوں تناہوتا ہے کہ وہ اس کے پار کچھ دیکھنے سے قاصر ہوتا ہے۔ حواری اور درباری اس کے بخت کو سلام کہہ رہے ہوتے ہیں اور وہ اس پر یقین کر لیتا ہے۔ بھائی ہیرو کہتا ہے۔ بیٹی عظیم انسان کا خطاب دیتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو عظیم سمجھنے لگتا ہے۔ بیس کروڑ عوام تو دور کی بات ہے، کابینہ کے ارکان جو کچھ اس کے نام پر اور اس کے دیئے ہوئے اختیارات کے وسیلے سے کر رہے ہیں، اسی کا حساب دینا کارے وارد ہو گا۔ قیامتیں ہیں کہ عوام پر ڈھائی جا رہی ہیں۔ وزیر صاحبان ہفتے میں ایک بار مشکل سے دفتر آتے ہیں۔ عرضیوں کے انبار لگے ہیں۔ سائلین کا ہجوم ہے۔ کوئی زنجیرِ عدل نہیں کہ کھینچیں اور حکمران اعلیٰ کے کانوں تک آواز پہنچے۔ کاش کوئی بتاتا کہ عمر ے نہیں بچا سکتے، انسانوں کے حقوق انسان خود ہی معاف کریں گے تو جان چھوٹے گی۔ خاک اڑاتے قریے حکمرانوں کو دن رات بد دعائیں دے رہے ہیں۔ بارہ سال پہلے جو ڈسپنسری منظور ہوئی، اس کے قیام کے لیے چند لاکھ روپے خزانے سے نہیں دیئے جا سکتے مگر اپنی حفاظت پر، اپنے اہل و عیال حتیٰ کہ متعلقین کی پہریداری پر، اپنے علاج معالجے پر، اپنی آمدورفت پر، کروڑوں اربوں روپے دن رات پانی کی طرح بہائے جا رہے ہیں۔ 
کون خوش قسمت ہے؟ تم بھی انتظار کرو! ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ فیصلہ ہو گا تو سب دیکھ لیں گے۔

 

powered by worldwanders.com