Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Sunday, April 16, 2017

فراز! راحت جاں بھی وہی ہے! کیا کیجے



یورپی ملکوں کے سفیروں کو شاہ عباس صفوی کے دربار میں ایک بڑا مسئلہ یہ درپیش 
تھا کہ وہ گھنٹوں، قالین پر، آلتی پالتی مار کر، نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ دربار میں سلطنت عثمانیہ کا سفیر بھی موجود تھا۔ اس نے ایرانی بادشاہ کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ قسطنطنیہ میں یورپی تاجروں کے گھروں میں جاتا رہتا ہے اور وہاں اس نے یہ نوٹ کیا ہے کہ انگریز سٹول پر بیٹھتے ہیں۔ بادشاہ نے یورپی سفیروں کو دربار میں سٹول پر بیٹھنے کی اجازت تو دے دی مگر ترک سفیر کی مداخلت اسے پسند نہ آئی۔ یوں بھی وہ ترک سفیر کے سامنے سلطنت عثمانیہ کی تضحیک کا کوئی موقع گنواتا نہ تھا۔ یورپی سفیروں کو جام صحت تجویز کرتے ہوئے اس نے کہا میں ایک نصرانی کے جوتے کی بھی بہترین ترک کی نسبت زیادہ عزت کرتا ہوں۔
شاہ عباس اول کا عہد حکومت ء سے ء تک رہا۔ یہ زمانہ ہندوستان میں اکبر اور جہاں گیر کا تھا۔ شاہ عباس تاریخ میں مضبوط عہد حکومت اور اصلاحات کی وجہ سے عباس اعظم (عباس بزرگ) کے طور پر جانا جاتا ہے مگر تین کام اس نے اور بھی کئے۔ اول۔ مسلک کو سرکاری طور پر اپنایا اور سنیوں کی کثیر تعداد کو اپنے مسلک پر، جیسے بھی، جس طرح بھی، لا کر رہا۔ دوم۔ مغرب میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف اور شمال میں ازبکوں کے خلاف مسلسل برسر پیکار رہا۔ قتدھار کی وجہ سے مغلوں سے بھی ان بن ہی رہی۔ یہ تینوں طاقتیں (ترک، ازبک اور مغل) سنی تھے! سوم۔ اس نے سالہا سال تک یورپی طاقتوں سے صرف اس مسئلے پر ایلچیوں کا تبادلہ کیا کہ وہ سلطنت عثمانیہ کے خلاف اس کی مدد کریں۔ وہ اپنے سارے عہد اقتدار میں یہی خواب دیکھتا رہا کہ ہسپانیہ اور دوسری یورپی سلطنتیں مغرب سے ترکوں پر حملہ کریں تو ایران مشرق سے حملہ کر کے ترکوں کو نیست و نابود کردے۔
معروف پرتگالی پادری ڈی گُوو، یا  کئی بار پوپ کی طرف سے سفارت لے کر شاہ عباس کے پاس گیا۔ ہندوستان کے جنوب مغربی ساحل کے علاقے گوا پر اس وقت تک پرتگالی قابض ہو چکے تھے۔ گوا کے وائسرائے نے اس نامہ و پیام میں اور ترکوں کے خلاف ایران اور یورپ کے اتحاد میں اہم کردار ادا کیا۔ پرتگال اور ہسپانیہ کی طرف سے ایلچی گوا ہی سے جاتے تھے۔ شاہ عباس نے بے صبری میں یکے بعد دیگرے کئی ایلچی ہسپانیہ بھیج ڈالے۔ ڈی گوویا نے وجہ پوچھی تو شاہ عباس کا جواب تھا کہ وہ عیسائی بادشاہوں پر دبائو ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ ترکوں پر جلد از جلد حملہ کریں۔ اس نے یورپی تاجروں اور سفیروں کو جید شیعہ علماء کی موجودگی میں شراب بھی پیش کروائی۔ علماء نے مخالفت کی مگر شاہ کے نزدیک یورپی عمائدین کو خوش کرنا اس لئے ضروری تھا کہ وہ ترکوں کے خلاف، شاہ کے حلیف ہیں۔ حالانکہ ان دنوں رمضان کا مہینہ بھی تھا۔ پھر اسی نے ڈی گوویا کو ہدایت کی کہ شاہ کی ان خدمات کا پوپ سے ضرور تذکرہ کیا جائے۔
شاہ عباس کا خصوصی سفیر زینل بیگ چھ سال تک یورپی بادشاہوں کے درباروں میں پھرتا رہا۔ آخر تنگ آ کر اس نے اپنے بادشاہ کو صاف صاف لکھ بھیجا کہ عیسائی طاقتیں ایرانی بادشاہ کو جھوٹے دلاسے دے رہی ہیں اور غیر سنجیدہ وعدے کر رہی ہیں۔ زینل بیگ نے یہ بھی بتایا کہ یورپی ملک چاہتے ہیں کہ ایرانی اور ترکی آپس میں لڑ کر تباہ ہو جائیں تاکہ مسلمانوں کا قصہ ہی تمام ہو جائے۔ مگر زینل بیگ کی اس صاف گوئی کا کوئی اثر شاہ عباس پر نہ پڑا۔ اس نے پوپ کو خط لکھا کہ وہ حلب پر حملہ کرے جو ترکوں کے پاس تھا۔ پوپ کا جوابی خط پڑھا گیا تو شاہ عباس نے سارے سفارتی آداب بالائے طاق رکھ کر سفیروں کے سامنے غیض و غضب کا اظہار کیا کہ پوپ صرف الفاظ کے تحفے بھیج رہا ہے اور ترکوں پر اس نے ابھی تک حملہ نہیں کیا۔ پھر اس نے پوپ پر ایک اور دانہ ڈالا تم ترکوں پر حملہ کرو تو میں بیت المقدس ان سے چھین کر تمہارے حوالے کردوں گا۔میں اس نے روس، پولینڈ اور اٹلی کے درباروں میں سفارتیں بھیجیں کہ وہ ترکوں پر حملہ کریں مگر اس کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا!
یہ ہے وہ پس منظر جس میں عزیر بلوچ کے معاملے پر غور کرنا چاہیے۔ حاجی ناصر نے عزیر بلوچ کی ایرانی حکام سے ملاقات کرائی تو انہوں نے عزیر کو ایرانی شہریت کی پیش کش کی بشرطیکہ عزیر ایرانی خفیہ ایجنسیوں کو کراچی کی سکیورٹی اور عسکری عہدیداروں کے حوالے سے اہم معلومات اور نقشے مہیا کرے۔ ہم پاکستانی یہ کہتے ہوئے تھکتے نہیں کہ ایران ہمارا دوست ملک ہے۔ مگر کیا دوست ملک اس قسم کے خفیہ آپریشن، ایک دوست ملک کے خلاف کرتے ہیں؟؟
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
عدو کے ہولیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
کیا ہم تصور کرسکتے ہیں کہ ترکی، سعودی عرب یا چین ہمارے ساتھ یہ حسن سلوک کریں گے؟
کلبھوشن یادیو پکڑا گیا تو معلوم ہوا اس کا مستقر چاہ 
بہار تھا۔ ہم نے خوش گمانی کو غنیمت جانا کہ یہ سب کچھ ایرانی حکومت کے علم میں نہ 
ہوگا۔ مگر خوش گمانیاں کب تک؟ اگر ایک ملک ہماری سکیورٹی کی اطلاعات، خفیہ اور انتہائی ناجائز طریقے سے حاصل کرسکتا ہے تو وہ کلبھوشن جیسے جاسوسوں کی سرپرستی کیوں نہیں کرسکتا! مگر ہمیں چاہیے کہ ہم خوش گمانی کو اب بھی رد نہ کریں۔ خُدا کرے حقیقت یہی ہو کہ کلبھوشن کے معاملے کا ایرانی حکام کو علم نہ تھا!
جنرل راحیل شریف کی سعودی عرب میں تعیناتی پر اسی حوالے سے غور کرنا چاہیے۔ عزیز بلوچ کے انکشاف سے دو ہفتے پہلے ٹیلی ویژن پر جب یہ بحث چھڑی تو اس کالم نگار نے پوچھا کہ اگر ہم جنرل راحیل شریف کو اس تعیناتی پر نہ بھیجیں تو کیا ایران کا جھکائو بھارت کی طرف کم ہو جائے گا؟ مگر اس کے جواب میں وہی اسلامی اخوت والی کہانی سنائی گئی اور اس بات کی نفی کی گئی کہ ایران کا جھکائو بھارت کی طرف ہے۔ لاعلمی نعمت ہے اور کلفت کا باعث بھی ہے۔ کسی کوشک ہو تو دہلی میں ایرانی سفارت خانے کی مطبوعات دیکھے اور اندازہ لگائے کہ ایران اور بھارت کی قربت کس درجے کی ہے۔ ایرانی مطبوعات مغلوں کے کلچر، آرٹ، زبان اور تعمیرات کی جانشینی کا سہرا بھارت کے سرباندھتی ہیں، یہ اعزاز پاکستان کو نہیں دیتیں۔ بھارت، ہندوستان کے مسلم عہد کا کیسا جانشین ہے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے کہ دو سال پیشتر، بھارتی قوم جمہوریہ پر کرناٹک کے صوبے نے، اپنے فلوٹ پر سلطان ٹیپو شہید کا مجسمہ لگایا۔ اس پر وہ احتجاج ہوا کہ الامان والحفیظ! چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر لاکھوں بھارتیوں نے احتجاج کیا حالانکہ کرناٹک کی حکومت ہندو ہے۔ چونکہ میسور اب کرناٹک کا حصہ ہے اس لئے انہوں نے ایک تاریخی حقیقت کا اعتراف کیا مگر ان کی اکثریت اسے گوارا نہ کرسکی۔
مسلمان ملکوں کی متحدہ سپاہ کا رخ اگر ایران یا کسی اور مسلمان ملک کی طرف ہو گا تو پاکستان ہرگز ہرگز اپنے کسی جرنیل کو اس سپاہ میں تعینات نہیں کرے گا۔ جنرل راحیل شریف ایک متوازن طاقت کا کردار ادا کریں گے۔ عربوں اور ایرانیوں کا باہمی فاصلہ کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ مگر سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایران کی خوشنودی کی خاطر پاکستان اپنے جرنیل کو اس سپاہ میں نہیں بھیجتا تو کیا ایران کشمیر کے معاملے میں ہمارا کھل کر ساتھ دے گا؟ اور کیا وہ بھارت کی طرف اپنا واضح جھکائو کم کرے گا؟
ایران سے ہمارا صدیوں کا رشتہ ہے۔ ہم ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے ؎
بامن آویزشِ اُو الفت موج است و کنار
دمبدم بامن و ہرلحظہ گریزان از من
ہمارا اور ایران کا تعلق وہی ہے جو موج کا ساحل کے ساتھ ہوتا ہے۔ ابھی گلے مل رہے ہیں اور ابھی دور دور ہیں! شاہ طہماسپ نے (باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں)
ہمایوں کی میزبانی کی اور مدد بھی۔ مغل بادشاہوں کے دربار میں ملک الشعراء ہمیشہ ایرانی شاعر ہوتے تھے۔ نظیری نیشا پوری، ابو طالب کلیم، طالب آملی، صائب، یہ تو چند نام ہیں۔ پورے مغل عہد اور پھر سلطنت آصفیہ کے زمانے میں ایران سے شاعروں، ادیبوں، علماء، تاجروں اور جرنیلوں کا تانتا بندھا رہا۔ حیدر آباد دکن میں ایرانی گلی کے نام سے پورا محلہ ایرانیوں کا تھا! ہم ایران سے133 فارسی بولنے والے ایران سے133 دور کیسے ہو سکتے ہیں؟ افسوس! ہم آج خسرو، بیدل، نظیری، فیضی، ابوالفضل،غالب اور اقبال کے فارسی کلام سے ناآشنا ہیں۔ ان سب کو ایرانی سر آنکھوں پر رکھتا ہے۔ ہمیں ایران کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اپنی جس ادبی اور ثقافتی میراث سے ہم منہ موڑ چکے ہیں، ایران نے اسے سنبھالا ہوا ہے اور اس کی حفاظت کر رہا ہے ؎
فراز راحت جاں بھی وہی ہے کیا کیجئے
وہ جس کے ہاتھ سے سینہ فگار اپنا ہے
مگر ملکی سالمیت کے تقاضے اور ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ایران رفتہ کو گزشتہ جان کر ہمارے ساتھ تجدید عہد کرے گا۔ یوں بھی ایران کو معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت کبھی بھی اس کا خیر اندیش نہیں ہو سکتا!
اور ہاں! یہ غلط فہمی بھی کسی کو نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستانی مسلک کی بنیاد پر اپنے ملک کے بجائے کسی اور کی طرف داری کریں گے۔ حاشا و کلاّ۔ پاکستانی، جس مسلک کا بھی ہو، اس کی اولین وفاداری اپنے ملک کے ساتھ ہے! کسی پڑوسی ملک کے ساتھ ہے نہ مشرق وسطیٰ کے کسی ملک کے ساتھ! پاکستانی بڑی سے بڑی غلطی کر سکتا ہے مگر اپنی مٹی سے بے وفائی نہیں کر سکتا!

 

powered by worldwanders.com