Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, January 27, 2022

برداشت؟ یہ کس چڑیا کا نام ہے؟



یہ کورس کا پہلا دن تھا۔ اس گروپ میں ہم دس بارہ افراد تھے۔ پہلے دن ہمیں کہا گیا کہ ایک کاغذ پر اپنی شخصیت کا جائزہ لیں‘ اور یہ کہ ہم دس میں سے اپنے آپ کو کتنے نمبر دیں گے۔ ہم میں سے کسی نے اپنے آپ کو دس میں سے نو نمبر دیے، کسی نے آٹھ اور کسی نے دس میں سے دس! آٹھ سے کم نمبر دینے پر کوئی نہ تیار ہوا۔
اس کے بعد کورس شروع ہوا۔ سات دن اور سات راتیں ہمیں خوب رگڑا دیا گیا۔ سونے کے لیے بس چند گھنٹے ملتے۔ ایک مشق، اس کے بعد ایک اور، پھر ایک اور، کبھی ایک کتاب دی جاتی اور کہا جاتا اس کے اتنے صفحات پڑھ کر آؤ۔ پھر مزید مشقیں! ہم میں سے ہر ایک کو اپنی اصل شخصیت کا روپ دکھایا گیا۔ ایک ایک فرد کو کئی کئی بار اپنے بارے میں اپنے گروپ کی آرا سنوائی گئیں۔ سات دن کی لگاتار بے پناہ مشقت کے بعد ہمیں دوبارہ وہی کہا گیا کہ اپنی شخصیت کا جائزہ لو اور یہ کہ دس میں سے اپنے آپ کو ہم کتنے نمبر دیں گے۔ یقین کیجیے ہم میں سے کسی نے اپنے آپ کو تین نمبر دیے کسی نے چار۔ اپنے آپ کو پانچ یا چھ سے زیادہ نمبر دینے پر کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ ایسا اس لیے ہوا کہ گروپ کے ہر ممبر نے اپنی شخصیت کے کمزور پہلو صبر کے ساتھ سنے۔ ایسے پہلو جن پر اس نے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا۔ صرف ایک مشق کی جھلک ملاحظہ کیجیے۔ فرض کیجیے گروپ کے ایک ممبر کا نام مسٹر الف تھا۔ مسٹر الف کو چاک پکڑا کر بلیک بورڈ کے پاس کھڑا کر دیا گیا۔ اس کا کام یہ تھا کہ دوسرے ممبر جو نکات بیان کریں، خاموشی سے لکھتا جائے۔ اس کے بعد گروپ کے ارکان کو کہا گیا کہ مسٹر الف کے بارے میں اپنی رائے، کسی رعایت، کسی جھجک، کے بغیر دیں۔ ہر ممبر نے اپنی رائے دی۔ منفی یا مثبت۔ مسٹر الف چپ کر کے لکھتا گیا۔ اس کے ساتھیوں نے اس کی شخصیت کی ایک ایک پرت کھول کر رکھ دی۔
ایسے کورس، سینئر بیوروکریسی کو، بڑی بڑی کمپنیوں اور ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کے سینئر ایگزیکٹوز کو کرائے جاتے ہیں‘ مگر انصاف کی بات یہ ہے کہ ایسا کوئی کورس ہمارے جیسے ملکوں کے حکمرانوں کو ضرور کرایا جانا چاہیے تاکہ اپنی ذات اور اپنی پالیسیوں کے حوالے سے ان کی خوش فہمیاں یا غلط فہمیاں دور ہو جائیں! جن ملکوں میں اصل جمہوریت رائج ہے وہاں یہ کام پارلیمنٹ میں ہوتا ہے۔ وزرائے اعظم پارلیمنٹ میں باقاعدگی سے جاتے ہیں۔ وہاں وہ حزب مخالف کی تنقید صبر اور حوصلے سے سنتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ہمارے ہاں کی طرح خود تقریر کرکے باہر نکل جائیں۔ یوں حکمرانوں کو اپنی پالیسیوں کے منفی پہلو معلوم ہو جاتے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ہفتے میں ایک مخصوص دن ارکان کے سوالوں کے جواب دیتا ہے اور بنفس نفیس دیتا ہے۔ امریکہ میں کانگرس صدر کو تیر کی طرح سیدھا رکھتی ہے۔ اگر صدر کانگرس کی طرف سے آیا ہوا بل ویٹو کر دے تو کانگرس دو تہائی اکثریت سے ویٹو کو بے اثر کر دیتی ہے۔ غور کیجیے! کیا ہمارے وزیر اعظم کو حکومتی پالیسیوں کے کمزور پہلو بتائے جا سکتے ہیں؟ نہیں! بالکل نہیں! نواز شریف پارلیمنٹ میں آتے ہی نہیں تھے۔ یہی حال موجودہ وزیر اعظم کا ہے۔ جس دن اسمبلی میں آتے ہیں تو یہ ایک باقاعدہ خبر ہوتی ہے۔ معمول کی کارروائی کا حصہ وہ کبھی نہیں بنتے۔ رہی کابینہ تو بھاری اکثریت کابینہ کے ارکان کی آمنّا و صدّقنا کے علاوہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی! کچن کابینہ ہو یا اصل کابینہ، لوگ وہی بات کرتے ہیں جو وزیر اعظم سننا چاہتے ہیں۔ اگر وزیر اعظم، جسٹس وجیہ الدین، اکبر ایس بابر اور احمد جواد جیسے لوگوں کی باتیں تحمل سے سنتے اور پارٹی کے اندر، اور حکومت کے اندر، اوپن ڈائیلاگ کی روایت پنپنے دیتے تو آج انہیں یہ نہ کہنا پڑتا کہ مجھے نکالا گیا تو زیادہ خطرناک ثابت ہوں گا‘ نہ ہی ان منحرف ہونے والوں کو یہ موقع ملتا کہ وہ سر عام بہت سے راز طشت از بام کریں!
جمہوریت کی بنیاد کیا ہے؟ سوال کا جواب دینا! جوابدہی کا نظام! اعتراض کو برداشت کرنا! اعتراض اگر درست ہے تو اس پر ایکشن لینا! جمہوریت تو آج جوابدہی کے نظام کی بات کر رہی ہے مگر ریاست مدینہ میں جوابدہی کا نظام اُس وقت بھی موجود تھا۔ بھرے مجمع میں حکمران پر اعتراض کیا جا سکتا تھا جس کا وہ تحمل کے ساتھ اور دلیل کے ساتھ جواب دینے کا پابند تھا! سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اندر کے لوگ، جو باتیں آج باہر آکر کر رہے ہیں، کیا یہ باتیں اندر رہ کر کی گئی تھیں؟ اگر ان منحرفین نے اُس وقت نہیں کیں تو آج بھی انہیں حق نہیں پہنچتا لیکن اگر اُس وقت یہ باتیں، لیڈر کے سامنے کی گئیں اور لیڈر نے کوئی ایکشن نہیں لیا تو یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے! اسی طرح احمد جواد جو باتیں کے پی ٹی کے حوالے سے کر رہے ہیں اگر درست ہیں اور اُس وقت احمد جواد صاحب نے واقعی ٹاپ لیڈر شپ کی توجہ اس طرف مبذول کرنے کی کوشش کی اور اس کے باوجود کوئی ایکشن نہ لیا گیا تو یہ تشویش کی بات ہے!
اس ضمن میں اپوزیشن کا کردار بھی مکمل طور پر غیر تعمیری ہے اور ناپختہ! فرض کیجیے وزیر اعظم باقاعدگی سے اسمبلی میں آتے ہیں تو کیا وہاں اپوزیشن کے ارکان کوئی ٹھوس بات کریں گے؟ اپوزیشن کے پاس تو جمہوری روایات کے مطابق شیڈو کابینہ ہی نہیں! اپوزیشن سے پوچھیے ان کا شیڈو وزیر خارجہ کون ہے، شیڈو وزیر تعلیم کون ہے اور شیڈو وزیر خزانہ کون ہے؟ تجارت کے امور کون سا اپوزیشن ممبر دیکھ رہا ہے اور صنعت کا شیڈو قلم دان کس کے پاس ہے؟ ایوان میں ہڑبونگ مچانے کا الزام حزب مخالف اور حزب اقتدار دونوں پر یکساں عائد ہوتا ہے۔ اسی لیے قانون سازی، جو اصل کام ہے، نہ ہونے کے برابر ہے! دونوں طرف کے مقرر طعن و تشنیع سے کام لیتے ہیں۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔ الزام در الزام کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ کوئی سنجیدہ کام ہونے ہی نہیں دیتا!
سوال کرنے، سوال کو برداشت کرنے اور دلیل سے جواب دینے کی روایت ہماری سیاست میں سرے سے موجود ہی نہیں! کیا پیپلز پارٹی، نون لیگ اور جے یو آئی میں ایسے اجلاس ہوتے ہیں جن میں ارکان کو کھل کر تنقید کرنے کی دعوت دی جاتی ہے؟ کیا ہمارے سینئر سیاستدان دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ وہ پارٹی کے اجلاسوں میں پارٹی لیڈر شپ سے کھل کر اختلاف کرتے ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ سوال کرنے کا سلسلہ ہمارے گھروں ہی میں حوصلہ شکنی کا شکار ہو جاتا ہے! بچے کو تھپڑ پہلے پڑتا ہے اور بات بعد میں پوچھی یا کی جاتی ہے۔ افسر ماتحت کی آزادانہ رائے کو برداشت نہیں کرتا۔ مذہبی اور روحانی رہنماؤں پر تو تنقید کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ عدم برداشت کا کلچر رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہا ہے۔ سیاسی اختلافات کی و جہ سے خاندانی تعلقات میں دراڑیں پڑنا عام ہے۔ مکالمے کا رواج پڑا ہی نہیں! یہی وجہ ہے کہ بحث سیاسی ہو یا مذہبی، اس کا اختتام جھگڑے پر ہوتا ہے اور جھگڑا لڑائی کی صورت اختیار لیتا ہے۔ سارے دعووں کے باوجود تحریک انصاف کی لیڈرشپ آخر اسی قوم کا حصہ ہے!

بشکریہ روزنامہ دنیا
 

powered by worldwanders.com