Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Monday, January 30, 2017

گھوڑے، حشم، حویلیاں، شملے، زمین، زر

پاکستان کو اپنے روایتی حریف بھارت پر جہاں دیگر بہت سے معاملات میں برتری حاصل ہے وہاں جاگیرداری کے ضمن میں بھی پاکستان زیادہ خوش قسمت واقع ہؤا ہے۔ ہائے! کیا رومانس ہے۔ زمینداری، گھوڑے، زمینیں، مزارع، ہاری، خادمائیں، حویلیاں، بندوقیں اور قتل!
خدا سلامت رکھے ہمارے قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید احمد شاہ کو، دل خوش کر دیا انہوں نے! خبر آئی ہے کہ اپنی زمینوں کا معائنہ کرتے ہوئے آپ گھوڑے سے گر گئے اور چوٹ آئی!
یہ دل خوش کن خبریں، یہ جاگیرداری کی باتیں، یہ گھڑ سواری، یہ زمینوں کے معائنے! واہ واہ! اس گئے گزرے زمانے میں بھی ہمارے پاس یہ نعمتیں موجود ہیں۔ بھارت نے دور اندیشی سے کام نہیں لیا۔ تقسیم کے فوراً بعد زرعی اصلاحات کا ڈول ڈالا۔ نوابیاں، راجواڑے، جاگیرداریاں سب بیک جنبشِ قلم ختم کر ڈالیں۔ کچھ راجے مہاراجے نواب ملک چھوڑ گئے۔ کچھ نے اپنے محلات میں ہوٹل کھول لیے۔ پھر بھارت نے زرعی ملکیت کی حد بھی مقرر کر ڈالی! پاکستان نے ایسی کوتاہ اندیشی کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔ گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں نہ جانے آج تک کیوں ہمارا نام نہ آسکا۔ جس قبیل کی سرداری اور جس نوع کی جاگیرداری ہمارے ہاں اِس زمانے میں رائج ہے، اس کا باقی دنیا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ نام نہاد منتخب اداروں میں نسل در نسل موروثی نشستیں برقرار ہیں۔ ستر ستر اسّی اسّی سال سے، یعنی تقسیم سے قبل کی سیاسی وراثتیں اس طرح محفوظ ہیں جیسے بتیس دانتوں میں زبان! قریشی، مخدوم، کھر، لغاری، مزاری، جتوئی اور دیگر بہت سے سابقے اور لاحقے بدستور اپنا طمطراق دکھا رہے ہیں۔ ساری سیاسی پارٹیوں نے اس نعمت سے برابر کا حصہ پایا ہے۔ شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی میں ہیں تو گیلانی صاحب اور ہالہ کے مخدوم پیپلز پارٹی میں ہیں۔ جنوبی پنجاب کے کھوسے کبھی مسلم لیگ نون میں بہت ’’اِن‘‘ تھے، بعد میں تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ مگر کئی اور جدی پشتی جاگیردار مسلم لیگ نون کی زنبیل میں موجود ہیں۔ رائیونڈ میں پارٹی کے سربراہ نے اپنی جاگیر الگ قائم کر لی ہے۔ جاگیر بھی! حویلیاں بھی اور سیاست میں موروثی موجودگی بھی!
مغلوں کے زمانے میں جاگیر دی جاتی تھی۔ اس کے بدلے میں جاگیردار، جنگ کے موقع پر سپاہیوں کی شکل میں ایندھن مہیا کرتا تھا مگر مغل سیانے تھے‘ جب جاگیردار مرتا تو بادشاہ زمین واپس لیے لیتا۔ انگریز آئے تو انہوں نے واپسی کا جھنجٹ ختم کر ڈالا۔ جاگیریں دیں تو وارثوں کا حق محفوظ رکھا۔ 1857ء میں جن جن جاں نثاروں نے ملکہ کی سلطنت کا دفاع کیا اور جنگِ آزادی لڑنے والے مجاہدین کا مقابلہ کر کے سفید فام آقاؤں کی مدد کی، ان کے نام باقاعدہ سرکاری کاغذات میں لکھے گئے۔ دو قسم کی کاروائیاں بیک وقت ہو رہی تھیں۔ ایک طرف جنگِ آزادی میں حصہ لینے والے مجاہدوں اور غازیوں کے ناموں کی فہرستیں بن ر ہی تھیں۔ دوسری طرف وفاداروں جاں نثاروں کے نام محفوظ کیے جا رہے تھے۔ پہلی فہرست میں جو خوش قسمت شامل تھے، انہیں پھانسیاں دی گئیں، تختہ ہائے دار کم پڑے تو درختوں کے ساتھ لٹکایا گیا۔ ان کے وارثوں کو قلاش رکھنے کے لیے پورا سامان کیا گیا۔ دوسری طرف وفاداروں کو آنریری مجسٹریٹ کے عہدے انعام میں دیے گئے۔ جاگیریں دی گئیں، خطابات سے نوازا گیا۔ ایک انگریز نے تو 1857ء میں مرتے ہوئے قلم میسر نہ آیا تو اپنے خون سے لکھا کہ ’’فلاں‘‘ نے بہت خدمت کی یعنی Did Well۔ ان خاندانوں کو کونسل کی ممبریاں، گورنریاں، وزارتیں ملیں وزارتِ اعلیٰ کے منصب دیے گئے۔ یہ خاندان آج بھی سیاست میں سرگرم ہیں۔ جاگیریں جوں کی توں قائم ہیں۔ اس موضوع پر کام بہت ہؤا ہے۔ کسی بھی اچھی لائبریری میں ایسی کتابیں ضرور موجود ہوں گی جن میں ان خاندانوں کی ابتدا، ارتقا اور سیاست میں عمل دخل کے تذکرے محفوظ ہیں۔ چونکہ زرعی اصلاحات کا کوئی امکان مستقبل قریب یا بعید میں موجود نہیں، اس لیے ان خاندانوں کا حقِ حکومت محفوظ ہے!
کچھ حضرات کندھے اچک کر بے نیازی سے کہتے ہیں کہ پاکستان میں فیوڈلزم کا کوئی وجود نہیں! یہ وہ حضرات ہیں جن کی اکثریت شہروں میں پیدا ہوئی، وہیں پلی بڑھی، وہیں رہی، کچھ خوش بخت یورپ امریکہ سے ہو آئے یہ اور بات کہ اگر پوچھیں کہ کے پی یا سندھ یا بلوچستان کے اضلاع کتنے ہیں اور کون کون سے ہیں یا قلعہ سیف اللہ یا موسیٰ خان کہاں واقع ہیں یا کوٹ ادو لاہور سے کتنا دور ہے تو بغلیں جھانکنے لگیں گے۔ ایسے ہی ایک صاحب تھے جنہوں نے عشروں پہلے پوچھا کہ گندم کا درخت کتنا بڑا ہوتا ہے۔ روایت ہے کہ وفاقی سیکرٹریٹ میں ایک صاحب طویل عرصہ تک کاٹن پالیسی بناتے رہے اور حالت یہ تھی کہ اپنی زندگی میں کپاس کا پودا نہیں دیکھا تھا۔ بات دور نکل گئی۔ بہر طور کوئی ’’ثقافتی انقلاب‘‘ پاکستان میں آتا تو اِن شہری بابوؤں کو ضرور جاگیروں پر بھیجا جاتا۔ تب پائپ پینے والے اِن تھری پیس سوٹ پوشوں کو معلوم ہوتا کہ فیوڈلزم ہے یا نہیں! جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ اگر فیوڈلزم موجود نہیں تو پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مودی احرام میں ملبوس پائے گئے! اس کالم نگار کو ایک زمیندارنی نے بتایا کہ ووٹ ڈالنے سے پہلے عورتوں کو حویلی میں طلب کیا جاتا ہے۔ پھر انہیں اچھی طرح یاد کرایا جاتا ہے کہ ٹھپہ کہاں لگانا ہے۔ کچھ تو حویلی کے دروازے سے باہر جا کر پلٹ آتی ہیں اور دوبارہ پوچھتی ہیں کہ بی بی جی، آپ نے کیا بتایا تھا ٹھپہ کس پر لگانا ہے۔ اس پر بی بی جی دوبارہ بتاتی ہیں اور ساتھ دماغ بھی درست کرتی ہیں!
جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کے جاگیردارانہ نظام کو دس سے ضرب دیں تو جو جواب آئے گا وہ بلوچستان کا سرداری نظام ہو گا! گذشتہ ستر برسوں میں اس نظام میں ذرا سی تبدیلی بھی نہیں آئی۔ یہ جوں کا توں قائم ہے۔ سچ اور جھوٹ کا پتہ چلانے کے لیے آج بھی سردار کے حکم سے ملزموں کو جلتے کوئلوں پر چلایا جاتا ہے۔ مائنڈ سیٹ کا یہ عالم ہے کہ کچھ عرصہ پہلے صوبے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ پر مشتمل ایک گروہ کے سامنے اِس رسم کی مذمت کی گئی تو اکثر شرکا نے بُرا منایا کہ سردار کے خلاف کیوں بات کی گئی ہے۔ ایک بلوچ سردار نے تقریباً دو اڑھائی سال پیشتر لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس رسم کا باقاعدہ دفاع یہ کہہ کر کیا کہ یہ ہماری روایت ہے۔ سرداری نظام اپنی تمام روایات کے ساتھ زندہ سلامت ہے۔ قبیلے کا سردار، قبیلے کے ارکان کے گھریلو معاملات میں بھی فیصلے کرنے کا مجاز ہے۔ وہ کسی کو کسی وقت قتل کر یا کرا سکتا ہے۔ سرداروں کے علاقوں میں سکولوں اور کالجوں کی سرکاری عمارتیں غلہ گودام بنی ہوئی ہیں یا مویشی خانے! پاکستان کی تاریخ میں ڈاکٹر عبدالمالک پہلے اور اب تک آخری وزیراعلیٰ ہیں جو سردار نہیں ’’رعیت‘‘ سے تھے! پھر جلد ہی سجدۂ سہو کرتے ہوئے انہیں وزارت اعلیٰ سے بے دخل کیا گیا اور حق ’’حقدار‘‘ کو واپس دیا گیا!
معلوم نہیں جناب خورشید شاہ جس زمین کا معائنہ گھوڑے پر سوار ہو کر کر رہے تھے وہ 1857ء سے چلی آرہی ہے یا اُن کے اپنے زورِ بازو کا پھل ہے، بہرطور ان کی صحت یابی کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ شاہ صاحب مجسم ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ ہیں! وہ کیرم بورڈ کھیلتے وقت ہدف اپنی گوٹی کو بناتے مگر پاکٹ مسلم لیگ نون کی گوٹی ہوتی ہے۔ 
قلیل المیعاد حوالے سے بات کی جائے تو مسلم لیگ نون کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔ رہا طویل المیعاد قصہ تو خاطر جمع ہو کہ سرداروں اور جاگیرداروں کا مستقبل محفوظ ہے۔ ہاں! ایک اور عدالت ایک اور جگہ ضرور لگنی ہے؎
گھوڑے، حشم، حویلیاں، شملے، زمین،زر
میں دم بخود کھڑا رہا کتبوں کے سامنے

Friday, January 27, 2017

ایک دن بھیس بدل کر سفر کیجیے

تیر کی طرح ایک ہرن درختوں کے جھنڈ سے نکلا اور بھاگ کھڑا ہوا۔ 
بادشاہ نے جب گھوڑے کو مہمیز لگائی تو ہرن کافی دور جا چکا تھا۔ بہرطور بادشاہ اس کا تعاقب کرنے لگا ہرن کی خوش قسمتی کہ فاصلہ اتنا کم نہ ہو پایا کہ بادشاہ تیر چلاتا۔ گھوڑا بگٹٹ بھاگ رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں محافظ‘ عمائدین ‘ شہزادے‘ لشکری سب پیچھے رہ گئے ۔سیاہ ابر پہلے سے موجود تھے۔ بارش شروع ہوئی اور پھراس قدر موسلا دھار کہ بادشاہ نے جائے پناہ کے لیے ادھر ادھر دیکھا۔ ایک طرف ایک جھونپڑاتھا کچی کوٹھری نظر پڑی۔ اسی طرف رُخ کر لیا آواز سن کر اندر سے ایک بوڑھا کسان نکلا اور مہمان کو اندر لے گیا۔ واحد چارپائی جس پر بیوی بچے بیٹھے ہوئے تھے خالی کرائی اور اُس کونے میں رکھی جہاں چھت ٹپک نہیں رہی تھی۔ بادشاہ چارپائی پر بیٹھا۔ پھر ادھر ادھر دیکھا۔ کونے میں کسان کی بیوی سمٹی بیٹھی تھی۔ ساتھ بچے‘ ٹپکتی چھت سے پانی کے قطرے ان کے قریب ہی گر رہے تھے۔ بارش رکی تو مسافر اٹھا اور چلا گیا۔ 
دوسرے دن ہرکارے آئے اور کسان کو اٹھا کر دربار لے آئے۔ بادشاہ نے رقم سے بھری تھیلی دی کہ جھونپڑی کو پکّے کمرے کی شکل دے دے۔ کسان نے تھیلی واپس کر دی اور گویا ہوا کہ جہاں پناہ! عمر اسی ٹپکتی چھت کے نیچے گزری۔ آپ کو اس لیے زحمت ہوئی کہ کبھی یہ تکلیف دیکھی نہ تھی! ہم عادی ہیں۔ پھر ایک میں تو نہیں‘ اُس نواح میں اور بھی جھونپڑیاں ہیں!
کسان صاحبِ ذوق نہیں تھا۔ ورنہ بادشاہ کو یہ شعر ضرور سناتا   ؎
اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح
ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح
ہمارے وزیر اعظم بھی بادشاہ ہیں۔ اقبال نے کہا تھا    ؎
سوادِ رومتہ الکبریٰ میں دلّی یاد آتی ہے 
وہی عظمت ‘وہی ہیبت ‘وہی شانِ دلآویزی
عام آدمی کے لیے وزیر اعظم اسی طرح پریشان ہو جاتے ہیں جس طرح بادشاہ سونے کے تخت پر بیٹھ کر‘ ریشم و قاقم میں ملبوس‘ محلات کے اندر‘ غم زدہ ہوتے تھے! شفیق الرحمن نے لکھا ہے کہ فلاں کے آنسو پیسٹریوں پر ٹپ ٹپ گر رہے تھے!
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ پرسوں وزیر اعظم تختِ رواں یعنی ہیلی کاپٹر پر سوار‘ ایوان وزیر اعظم سے ایئر بیس چکلالہ تشریف لے جا رہے تھے بارش ہو رہی تھی۔ہیلی کاپٹر ایکسپریس وے پر اُڑ رہا تھا۔ وزیر اعظم نے نیچے دیکھا تو ٹریفک جام تھا۔ گاڑیوں کی طویل قطار کھڑی تھی۔ راوی لکھتا ہے کہ اس پر وزیر اعظم پریشان ہو گئے۔ فوراً ہدایت کی کہ دارالحکومت کی انتظامیہ ٹریفک کے اس ازدحام کی روک تھام کرے اور ٹریفک جام نہ ہونے پائے۔ خبر کا دلچسپ ترین بلکہ مضحکہ خیز حصّہ یہ ہے کہ ’’وزیر اعظم کے ہوائی اڈے پر پہنچتے ہی انہیں اطلاع دی گئی کہ ہدایات پر عمل ہو گیا ہے‘‘ گویا جیسے ہی وزیر اعظم نے ہدایت جاری کی‘ انتظامیہ نے ’’کھل جا سم سم ‘‘ کہا‘ بس پھر کیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے سڑکیں چوڑی ہو گئیں‘ انڈر پاس اور اوور ہیڈ پُل بن گئے۔ راستے کُھل گئے اور ٹریفک رواں ہو گئی! اس بات پر دل کرتا ہے پہلے ہنسا جائے‘ پھر رویا جائے اگر کوئی پوچھے کہ اے شیخ! ہنسے کیوں ہو اور پھر گر یہ کیوں کیا ہے؟ تو بتایا جائے کہ ہنسی اس لیے آئی کہ قوم کو ایسی خبروں سے بے وقوف بنانے کی ناکام کوشش ہوتی ہی رہتی ہے۔ رہا رونے کا سبب! تو اس بدقسمتی پر رویا ہی جا سکتا ہے کہ بادشاہ سلامت یہ تو پوچھتے کہ ٹریفک ازدحام کا سبب کیا ہے! کون کون سی شاہراہیں اس کا باعث بن رہی ہیں اب تک انہیں کُھلا نہ کرنے کی ذمہ داری کس پر عاید ہوگی اور سزا کس کس کو دینا ہو گی!
پہلے تو جناب وزیر اعظم کی خدمت میں یہی عرض کیا جانا چاہیے کہ   ؎
اے شمع!تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح
ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح
بندہ پرور! آپ نے ایکسپریس وے صرف ایک دن ملاحظہ فرمائی اور پریشان ہو گئے۔ آپ کے محبوب عوام تو برسوں سے اس بدقسمت شاہراہ پر ذلیل و خوار ہو رہے ہیںیہ بدقسمت شاہراہ‘ انگریزی نام جس کا ایکسپریس وے ہے۔ اور جس پر بادشاہ کی‘ یعنی جناب وزیر اعظم کی نظر پڑی‘ وہی شاہراہ ہے جو لاہور سے جہلم تک اور چکوال دینہ ‘سوہاوہ منگلا ‘گوجر خان‘ مندرہ ‘روات‘ سہالہ اور درجنوں دوسری بستیوں کے مسافروں کو دارالحکومت لانے کا واحد ذریعہ ہے۔
خود اس ایکسپریس وے پردرجنوں آبادیاں ہیں۔ اسلام آباد کا بیشتر حصہ اب اسی شاہراہ کے کناروں پر آباد ہے۔ جب اس شاہراہ کو سگنل فری کرنے کا کام شروع ہوا تو عقل اور منطق کہتی تھی کہ آغاز روات چوک سے ہونا چاہیے۔ مگر عقل اور منطق شکست کھا گئیں اور آغاز زیرو پوائنٹ سے ہوا جو پہلے ہی نسبتاً آسودہ حال تھا!
جناب وزیر اعظم! جس نے بھی آپ کو اطلاع دی کہ ’’ہدایات پر عمل ہو گیا ہے‘‘ وہ نوکر شاہی کا مرتکب ہوا ہے۔ وزیر اعظم ایک دن بھیس بدل کر ڈرائیوکر لیں اور زیرو پوائنٹ سے روات چوک تک تشریف لے جائیں۔ وزیر اعظم دیکھیں گے کہ گلبرگ چوک سے آگے شاہراہ حد سے زیادہ تنگ ہے۔ اس پر مستزاد سینکڑوں ٹرک ہیں جو پوری شاہراہ کو باپ کی جاگیر سمجھتے ہیں۔ وزیر اعظم یہ بھی دیکھیں گے کہ اُس جگہ سے‘ جہاں سڑک کے کنارے قائدِ اعظم کی تصویر لگی ہے‘ ٹریفک ازدحام شروع ہوتا ہے اور وہاں سے لے کر روات چوک تک کبھی گھنٹہ ‘ کبھی ڈیڑھ اور کبھی دو اڑھائی گھنٹے لگ جاتے ہیں!
اس شاہراہ پر ٹریفک کا جتنا دبائو ہے مری روڈ پر اس سے کہیں کم ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ میٹرو بس کے پہلے منصوبے کی مستحق یہی شاہراہ تھی! یہاں ایک بار پھر یہ بتانا از حد لازم ہے کہ جو چاہیں کرتے پھریں‘ آبادی کے نیچے پستے ہوئے ان شہروں کی ٹریفک کا واحد علاج زیر زمین ریلوے ہے۔ یہی علاج بھارتی شہروں میں ہوا اب تو وہاں دوسرے صف کے ‘ نسبتاً چھوٹے شہروں کے لیے بھی زیر زمین ریلوے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے تاشقند سے لے کر تہران تک‘ ہر جگہ یہی علاج کارفرما ہے! آخر ‘ یہی کرنا پڑے گا مگر    ؎
آنچہ دانا کند‘ کند نادان
لیک بعداز خرابیٔ بسیار
کام تو نادان بھی وہی کرتا ہے جو دانا کرتا ہے مگرسو کوڑے اور سو پیاز کھانے کے بعد!
کاش لندن کے عالی شان سپر سٹور ہیرڈ میں وژن بھی دستیاب ہوتا! کاش!ہمارے حکمران‘ ہمارے پالیسی ساز‘ ہمارے ٹاپ کے بیورو کریٹ‘ دنیا بھر کے عالی شان بازاروں میں شاپنگ کرتے ہوئے‘ ایک چھٹانک وژن بھی کہیں سے خرید لیتے! وہ ممالک بھی اس سیارے پر بستے ہیں ‘جو شاہراہیں بناتے وقت آنے والے پچاس نہیں‘ سو سالوں کی ضرورت سامنے رکھتے ہیں! ہمارا ہر کام ایڈہاک‘ وقتی یعنی ڈنگ ٹپائو ہوتا ہے۔ شاہراہیں نہیں‘ ان شاہراہوں کے ذریعے خاندان پرورش پاتے ہیں! دِلِّی میں زیر زمین ریلوے کا منصوبہ بنا تو بین الاقوامی کنسورشیم بنایا گیا اور طے شدہ وقت سے پہلے منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ ہم بھی یہی کچھ کریں گے مگر بعداز خرابیٔ بسیار!اس لیے کہ کراچی لاہور اور اسلام آباد پنڈی کی ٹریفک کا سوائے زیر زمین ریلوے کے‘ کوئی حل مسئلے کو حل نہیں کرے گا!
وزیر اعظم کا شکریہ کہ عوام کی تکلیف دیکھ کر انہیں پریشانی ہوئی اور احکام جاری کیے۔ اب کرم فرمائیں اور ایک دن راستہ بھول کر جھونپڑی کے اندر بھی قدم رنجہ فرمائیں! اس شاہراہ پر‘ حاجبوں اور دربانوں کی ہٹو بچو بغیر‘ سفر کر کے دیکھیں!

Wednesday, January 25, 2017

حکومت برطانیہ کی خدمت میں ایک عرضداشت

عالی قدر، گرامی مرتبت، غریب نواز محترمہ تھریسامے، وزیراعظم سلطنت برطانیہ اعلیٰ اللہ مقامہا!
جیسا کہ جناب آگاہ ہیں‘ ہم درخواست گزاروں کا تعلق مملکت پاکستان سے ہے۔ حضور اس حقیقت سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ مملکت پاکستان‘ برصغیر کا حصہ ہے اور برصغیر پر 1947ء تک برطانیہ کی حکومتی رہی ہے۔ جب اگست 1947ء کو حکومت برطانیہ ہم عوام کی رضا و منشا کے برخلاف برصغیر سے رخصت ہوئی تو یہ علاقہ دو آزاد ملکوں میں منقسم ہو گیا۔ جناب وزیراعظم! ہم درخواست گزار، مملکت پاکستان کے باشندے ہیں اور آج بھی حکومت برطانیہ کے کارنامے اور انصاف یاد کرتے ہیں۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ گورا بہادر کی حکومت میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ رخصت ہوتے وقت حضور کی حکومت وہ گھاٹ اپنے ساتھ ہی لے گئی اور شیر و بکری کو چھوڑ گئی!
عالی قدر وزیراعظم کو یاد ہو گا کہ انیسویں صدی کا تقریباً وسط تھا جب پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد میں ملکہ برطانیہ کی حکومت نے برصغیر میں ریلوے کا ڈول ڈالا۔ بنیادی طور پر ریلوے قائم کرنے کے دو مقاصد تھے۔ سرکاری فوج کی نقل و حرکت اور برصغیر کے اطراف و اکناف سے کاٹن اکٹھی کر کے بندرگاہوں تک پہنچانا تاکہ اس کاٹن کو برطانوی فیکٹریوں تک پہنچایا جائے۔ عالی مرتبت وزیراعظم کو یہ بھی معلوم ہی ہو گا کہ ریلوے کی تعمیر‘ سامراجی لُوٹ کا بدترین مظاہرہ تھا۔ ریلوے کمپنیاں لندن میں تھیں۔ ٹھیکے انہی کو ملتے تھے۔ یہ من مانی قیمتیں لگاتی تھیں۔ منافع برطانیہ میں بیٹھے شیئر ہولڈروں (حصہ داروں) کو ملتا تھا۔ اب تو یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ 1850ء اور 1860ء کی دہائیوں میں ریلوے کے ہر ایک میل پر لاگت اٹھارہ ہزار پونڈ آئی جبکہ اُسی عرصہ کے دوران امریکہ میں یہ لاگت دو ہزار پونڈ فی میل آئی‘ یہ تمام اخراجات برصغیر کے عوام سے ٹیکسوں کے ذریعے وصول کئے گئے۔
خیر‘ یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا جو درمیان میں آ گیا۔ ہم پاکستانی عوام عرض یہ کرنا چاہتے ہیں کہ ایک لائق فائق انجینئر کو جس کا نام رابرٹ میٹ لینڈ بیریٹن تھا‘ 1857ء میں ہندوستان طلب کیا گیا۔ عالی مرتبت وزیر اعظم کی اطلاع کے لیے مختصراً بیان کیا جاتا ہے کہ بیریٹن برطانوی علاقے نارفوک میں پیدا ہوا تھا۔ یہ خاندان یوں بھی انجینئروں کے لیے مشہور تھا۔ لندن کے معروف پیڈنگٹن سٹیشن کی تعمیر میں بھی رابرٹ ہی کا حصہ تھا۔
اُس وقت فوری مقصد ایسٹ انڈیا کمپنی کا اور بعد میں ملکہ کی حکومت کا یہ تھا کہ بمبئی اور کلکتہ و مدراس کو ریل کے ذریعے ملایا جائے۔ یہ ریلوے لائن پورے منصوبے کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئی۔ رابرٹ میٹ لینڈ بیریٹن نے رات دن محنت کی۔ دو بار بھیل قوم کے قبائلیوں نے اُس کے پڑائو پر لوٹ مار کے لیے حملہ بھی کیا مگر دونوں بار وہ موت کے منہ میں جاتے جاتے بچ گیا۔ رابرٹ کی کارکردگی سراہتے ہوئے حکومت نے بعد میں اُسے پوری ہندوستانی ریلوے کی تعمیر کا چیف انجینئر تعینات کیا۔ منصوبے کا نام گرانڈ انڈین ریلوے تھا۔ حکومت نے جو وقت مقرر کیا رابرٹ نے اس سے پہلے ہی منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا دیا (بعد میں رابرٹ کو آب پاشی کا ایک منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے امریکی حکومت نے بلا لیا۔) جب ریلوے لائن کا وائسرائے نے افتتاح کیا تو اس تقریب میں انگریز عمائدین کے ساتھ مقامی نواب اور راجے بھی مدعو کئے گئے۔ نظام حیدر آباد کی نمائندگی اس کے وزیر سالار جنگ نے کی جو پہلی مرتبہ حیدرآباد سے باہر نکلے۔
عالی مرتبت وزیراعظم! اس عرضداشت کا مقصد یہ ہے کہ جناب کرم فرماتے ہوئے رابرٹ میٹ لینڈ بیریٹن کے کسی پڑپوتے یا اس کے پوتے کے کسی پوتے کو کچھ عرصہ کے لیے پاکستان بھیجیں کیونکہ ہم ایک عذاب میں مبتلا ہیں اور لگتا ہے کہ ہماری حکومتوں کے بس میں اس عذاب سے رہائی دلانا ممکن نہیں! رابرٹ کا کوئی جانشین ہی ہماری مدد کر سکتا ہے!
محترمہ وزیراعظم برطانیہ! ایک سابق کالونی ہونے کی حیثیت سے ہم آپ کی ہمدردی اور التفات کے مستحق ہیں! ریلوے کی کراسنگ جو آپ کے زمانے میں بنی تھیں‘ اُن پر باقاعدہ پھاٹک لگے تھے۔ یہ پھاٹک ریل کے گزرنے پر بند کر دیے جاتے تھے۔ یوں حادثوں سے بچت ہو جاتی تھی۔ مگر اب اکثر کراسنگ بے یارومددگار پڑے ہیں۔ اس وقت تقریباً اڑھائی ہزار ریلوے کراسنگ پر کوئی چوکیدار‘ کوئی ملازم موجود نہیں۔ گزشتہ تین یا چار برسوں کے دوران اسّی پاکستانی ان کراسنگ پر ہلاک ہو چکے ہیں۔ دو دن پہلے گوجرہ کے مقام پر ریل نے ایک ہی خاندان کے چھ افراد کو کچل دیا۔ ریل آئی تو یہ کراسنگ موت کے دروازے کی طرح کھلی تھی۔ دردناک پہلو اس قتل عام کا یہ ہے کہ ان چھ میں ایک فالج کا مریض بھی تھا جسے علاج کے لیے کہیں لے جایا جا رہا تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ضلع میں 42 ریلوے کراسنگ ہیں جن میں سے 29 پر کوئی آدم زاد مامور نہیں اور حادثے اکثر و بیشتر ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال اس ایک ضلع میں بارہ افراد ان کراسنگ کی بھینٹ چڑھے۔
جناب وزیراعظم! جب جناب اپنا قیمتی وقت عنایت کرتے ہوئے رابرٹ کے کسی پڑپوتے کو اس کارِ خیر کی تکمیل کے لیے مامور فرمائیں تو اسے یہ ہدایت ضرور دیجیے کہ کچھ وقت ہماری مرکزی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان جھگڑے چکانے کے لیے ضرور نکالے۔ ہماری مرکزی وزارت ریلوے ان کراسنگ کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر ڈالتی ہے؛ حالانکہ بچے بچے کو معلوم ہے کہ ریلوے ایک وفاقی محکمہ ہے اور پھاٹک لگوانا اور ان پھاٹکوں پر ملازمین تعینات کرنا ریلوے کے محکمے کی ذمہ داری ہے۔
حضور! بندہ پرور! ہمیں آپ کی مصروفیات کا احساس ہے۔ مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ریلوے وزیر پاناما کی جنگ میں پہلی صف میں کھڑے ہو کر لڑ رہے ہیں۔ پاناما کے جرنیلوں میں آپ کا مقام ممتاز ہے۔ اگر ریلوے کا کام رابرٹ کا پڑپوتا سنبھال لے تو اس میں خیر کا ایک پہلو یہ بھی نکلے گا کہ ریلوے وزیر مکمل توجہ پاناما کی جنگ جیتنے پر دے سکیں گے!
لگے ہاتھوں ہم ایک اور التماس بھی کر دیں! ہمارے دو بڑے شہروں لاہور اور راولپنڈی کے ریلوے اسٹیشنوں پر رابرٹ کی بنائی ہوئی سیڑھیاں ابھی تک استعمال ہو رہی ہیں۔ آپ اتفاق کریں گی کہ رابرٹ کے زمانے اور آج کے زمانے میں بہت فرق ہے۔ اُس وقت لوگ خالص دودھ‘ گھی‘ آٹا اور خالص مرچیں استعمال کرتے تھے اور صحت مند ہوتے تھے۔ اب ان سیڑھیوں پر سامان اٹھا کر چڑھنا‘ اترنا مشکل ہے، خاص طور پر خواتین بچوں اور بوڑھوں کو شدید دقت کا سامنا ہے۔ اگر رابرٹ کا پڑپوتا کسی طور یہاں برقی سیڑھیاں لگوا دے تو یہ ملکہ کی حکومت کا ہم سابق غلاموں پر ایک احسانِ عظیم ہو گا!
ضرورت تو مداخلت کی بہت سے شعبوں میں ہے مگر جناب کی بے پناہ مصروفیات کے پیش نظر ہم اسی جرأت پر اکتفا کرتے ہیں۔

Saturday, January 21, 2017

وزارتِ خارجہ کا قلمدان

کل ہم زخم چاٹ رہے تھے کہ پاسپورٹ کی رینکنگ میں ہم سب سے آخر میں ہیں سوائے ایک ملک کے جس کا نام افغانستان ہے۔ آج ایک اور سیاپا پڑ گیا ہے!
یوں تو صدمے برداشت کرنا ہماری عادت ثانیہ ہو چکا ہے۔ مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں! مرحوم اظہر سہیل ایک فقرہ کہا کرتے تھے کہ بات کر کے دیکھ لیتے ہیں‘ مانی گئی تو ٹھیک ورنہ ہماری کون سی پہلی بار بے عزتی ہو گی!
صدر اوباما رخصت ہوئے۔ جاتے وقت وہ اپنی دوستیوں کو مستحکم کر رہے تھے۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کو الوداعی ٹیلی فون کیا۔ شکریہ ادا کیا کہ بھارت امریکہ تعلقات کی گرم جوشی میں اضافہ کرنے کے لیے مودی صاحب نے اہم کردار ادا کیا اور امریکہ سے تعاون کیا۔
آپ کا کیا خیال ہے‘ مودی کے علاوہ اوباما نے کسے فون کیا ہو گا؟ وزیراعظم پاکستان کو؟ نہیں! آپ کا خیال محض آپ کی خوش فہمی ہے۔ اوباما نے اس خطے میں صرف ایک اور ’’طاقت‘‘ کو اس قابل سمجھا کہ الوداعی فون کریں اور وہ طاقت افغانستان ہے! اوباما نے صدر اشرف غنی کو فون کر کے دو امور کا شکریہ ادا کیا۔ اوّل یہ کہ اوباما کے عہد میں افغانستان نے ترقیاتی منصوبوں پر خوب کام کیا۔ دوم یہ کہ دہشت گردی کو کم کر کے امن کو آگے بڑھانے میں افغانستان نے اپنا کردار ادا کیا!
ترقیاتی منصوبوں کی حقیقت دنیا بھر پر واضح ہے سوائے صدر اوباما کے۔ افغانستان آج بھی پتھر کے زمانے میں رہ رہا ہے۔ شاہراہیں ہیں نہ عمارتیں۔ ہاں پاکستان کے دشمنوں کو‘ جو افغانستان میں مقیم ہیں‘ عمارتوں سے لے کر انٹرنیٹ تک ساری سہولتیں میسر ہیں! رہی یہ بات کہ افغانستان نے دہشت گردی کم کر کے امن بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے‘ تو یہ کردار بھی ڈھکا چھپا نہیں! اگر افغانستان میں امن ہے تو پھر مریخ پر ہزاروں انسان بھی بس رہے ہیں۔ پھر ویٹی کن میں ہزاروں مسجدیں بھی آباد ہیں اور برطانیہ کی ملکہ کی عمر بیس سال بھی ہے!
جب سے پاکستان بنا ہے ہم امریکہ کی خوشامد میں مصروف ہیں۔ جانے درست ہے یا نہیں مگر مشہور یہی ہے کہ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد روس نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا تو اُس وقت کے وزیراعظم نے وہ ہاتھ جھٹک دیا اور امریکہ کی یاترا کرنے کا فیصلہ کیا‘ پھر ہم نے سیٹو اور سنٹو کے معاہدوں میں شمولیت اختیار کر لی‘ پھر ہم نے شرم و حیا کو بالائے طاق رکھا اور تن من دھن سے امریکہ کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔ گویا بقول سعدی کمر کے ساتھ سنہری پیٹی باندھی اور ہاتھ باندھ کے حضوری میں کھڑے ہو گئے۔ یہ حقیقت تو سب کو معلوم ہے کہ امریکہ کے جاسوسی طیارے پشاور کی ایئربیس بڈھا بیر سے اُڑتے تھے‘ پھر وہاں سے اُڑنے والے ’’یُو ٹو‘‘ طیارے کو روسیوں نے گرا لیا اور وزیراعظم خروشچیف نے اپنے سامنے رکھے ہوئے نقشے پر پشاور کے گرد سُرخ دائرہ کھینچا۔ مگر اب امریکیوں نے ہماری دیگر خدمات بھی‘ جو ازحد خفیہ تھیں‘ دنیا کو بتانا شروع کر دی ہیں۔ اب انہوں نے کتابیں لکھ کر یہ راز بھی کھول دیا ہے کہ تبت پر چین کا قبضہ ہوا تو امریکہ نے ’’مزاحمت‘‘ کا پروگرام ترتیب دیا۔ چین کے مخالف طبقات کو تربیت دی گئی۔ اس سارے ’’مزاحمتی‘‘ پروگرام میں مشرقی پاکستان کو خوب خوب استعمال کیا گیا اور وہاں کے ہوائی اڈوں کی سہولیات امریکہ کے خفیہ اداروں کو میسر کی گئیں۔
چین کے ساتھ امریکہ کے ابتدائی تعلقات بھی‘ جسے ’’بریک تھرو‘‘ کہا جاتا ہے‘ پاکستان کے ذریعے قائم ہوئے۔ کون جانے اس کردار میں چین کی محبت کام کر رہی تھی یا امریکہ کی نوکری!
روس نے افغانستان میں مداخلت کی تو ہم نے ’’گرم پانیوں‘‘ کا نظریہ دریافت کر کے خون‘ لوہے اور بارود کے سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ امریکی ڈالر بوریوں میں بھر بھر کر وصول کیے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد کی لکیر مٹ گئی۔ من تو شدم تو من شدی۔ قاضی حسین احمد مرحوم کے مضامین‘ جو ایک معروف اخبار میں ان کی وفات سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوئے‘ گواہ ہیں کہ جنرل ضیاء کی حکومت نے اور اس ’’جہاد‘‘ کے علمبرداروں نے اپنے ہی ملک کے قوانین پیروں تلے روندے۔ پاسپورٹ‘ ویزوں کے بغیر غیر ملکی آئے۔ انہیں کبھی چھپا کر رکھا گیا‘ کبھی سہولیات پلیٹ میں رکھ کر پیش کی گئیں۔ ایران نے افغان مہاجرین کو کیمپوں سے باہر نہ نکلنے دیا مگر ہم نے اپنے ملک کے شہریوں کو‘ ایک لحاظ سے محصور کر کے افغانوں کو ملک کے طول و عرض اور اطراف و اکناف میں پھیلا دیا۔ کے پی کا صوبہ تو عملاً افغانوں ہی کا ہو کر رہ گیا۔ باقی ملک میں بھی ان کی تجارت‘ ٹرانسپورٹ کے کاروبار اور جائیداد کی خریدوفروخت کا سلسلہ خوب پھولا پھلا۔ اس کے نتائج آج بھی پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں۔ لاکھوں افغان کاروبار پر قابض ہیں۔ اٹک ہو یا لاہور‘ مقامی تاجروں کو یہ لوگ قتل کر دیتے ہیں۔ انتہا یہ ہے کہ نادرہ جیسے حساس قومی ادارے میں افغان ملازمت کرتے ہوئے پائے گئے۔
پھر جنرل مشرف نے امریکہ کی ایک فون کال پر سنہری بیلٹ دوبارہ کسی اور ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ عافیہ صدیقی کا معاملہ صرف ایک ہے جو بہت مشہور ہوا ورنہ خود صدر مشرف صاحب نے اپنی تصنیف میں اعتراف کیا کہ ڈالر لے کر ’’مطلوبہ‘‘ افراد امریکہ کے سپرد کیے جاتے رہے۔ شمالی اتحاد تو دشمن تھا ہی‘ جنوب اور مشرق کے پختونوں کو بھی ہم نے دشمن بنا لیا۔ 
پاکستان کی قسمت پر آنسو بہائیے کہ دہشت گردی کو کم کرنے کے لیے ہم نے ہزاروں فوجی اور سول جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ہمارے پھول سے بچے مارے گئے۔ ہماری مائوں کی زندگیاں دُکھ سے بھر گئیں۔ بچے یتیم ہو گئے۔ بوڑھے بے سہارا رہ گئے۔ صرف کراچی کے حالات بہتر کرنے کے لیے بے پناہ قربانیاں دی گئیں مگر صدر اوباما ٹیلی فون اشرف غنی کو کر کے دہشت گردی کم کرنے کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔
شیخ ابوسعید ابوالخیر کی رباعی یاد آ رہی ہے   ؎
گفتی کہ فلاں زِیادِ ما خاموش است
از بادہء عشقِ دیگراں مدہوش است
شرمت بادا ہنوزِ خاکِ درِ تو
از گرمئی خونِ دلِ من در جوش است
تُم نے کہا کہ فلاں تمہاری یاد سے غافل ہے اور دوسروں کے بادۂ عشق سے مدہوش ہے! تمہیں شرم آنی چاہیے! ابھی تو تمہارے دروازے کی مٹی میرے خونِ دل کی گرمی سے اُبل رہی ہے!
آخر اوباما نے وزیراعظم پاکستان کو ٹیلی فون کیوں نہیں کیا؟ ماضی قریب میں‘ اور حال میں بھی‘ امریکی پاکستان کی اُس جدوجہد کا اعتراف کرتے رہے ہیں جس کے نتیجہ میں دہشت گردی پر قابو پایا گیا تو پھر کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ پاناما کیس کی وجہ سے ہمارے ملک کا امیج خراب سے خراب تر ہو گیا ہو! آخرکار اس مقدمے کی جو رپورٹیں پاکستانی اخبارات میں شائع ہو رہی ہیں اور میڈیا سے نشر ہو رہی ہیں‘ وہ غیر ملکی سفارت خانے باقاعدگی سے پڑھتے اور دیکھتے ہیں‘ پھر اپنے اپنے ملکوں کو اطلاعات ارسال کرتے ہیں۔ ساری دنیا کے سیاسی رہنمائوں کو معلوم ہے کہ پاکستانی وزیرِ اعظم ایک ایسے مقدمے میں پھنسے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے خاندان کے کم و بیش تمام افراد زیرِ بحث آ رہے ہیں اور اس طرح زیرِ بحث آ رہے ہیں کہ نیک نامی کم اور ’’شہرت‘‘ زیادہ ہو رہی ہے!
مگر یہ تو وزیراعظم کا شخصی معاملہ ہے۔ پاکستان‘ ایک ملک کے طور پر‘ اپنا الگ تشخص رکھتا ہے! حکمران آتے جاتے رہتے ہیں‘ تو پھر اگر امریکہ‘ جس کی دوستی اور وفاداری کا ہم نے ہمیشہ دم بھرا‘ کا صدر الوداعی فون مودی کو کرتا ہے اور اشرف غنی کو بھی‘ اور پاکستان کے وزیر اعظم کو نہیں کرتا تو پھر کہیں یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی تو نہیں؟
اگر ایسا ہے تو پھر آپ کو یہ بھی معلوم ہی ہو گا کہ وزارتِ خارجہ کا قلم دان کس کے پاس ہے؟

Friday, January 20, 2017

غیر ملکی شکاری اور ہمارے اپنے مسیحا

غیر ملکی حکمران ضلع چاغی کے ہیڈ کوارٹر دال بندین پہنچا تو کیا آپ کو معلوم ہے اس کے استقبال کے لیے کون کون چشم براہ تھا؟ وزیر اعلیٰ کا مشیر برائے جنگلی حیات! مشیر برائے ٹیکس و ایکسائز! صوبائی سیکرٹری داخلہ اور چاغی کا ڈپٹی کمشنر!
مشیر برائے جنگلی حیات کا منصب یہ ہے کہ وہ پرندوں اور جانوروں کی حفاظت کرے‘ مگر وہ تو شکاری کا استقبال کر رہا تھا! ستم ظریفی کی انتہا ملاحظہ ہو کہ جس وزیر نے یہ دیکھنا ہے کہ ٹیکس ضرور ادا کیا جائے، وہ غیر ملکیوں سے ایک پائی وصول کیے بغیر انہیں خوش آمدید کہتا ہے۔ سیکرٹری داخلہ کا کام صوبے کی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ ڈپٹی کمشنر ضلع کا محافظ ہے! صرف یہی نہیں، ایف سی والے، پولیس والے اور لیوی والے دستوں کی شکل میں غیر ملکی شکاریوں کے جلو میں تھے!
چاغی، خاران اور دوسرے ملحقہ علاقے نادر و نایاب پرندوں کے لیے مشہور ہیں۔ یہاں سائبیریا سے آئے ہوئے مہاجر پرندے بھی ہیں۔ مہمانوں کو ہم فروخت کرتے رہے ہیں۔ ملّا عبدالسلام ضعیف کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ وہ تو پرندہ نہیں تھا! انسان تھا! اگر سائبیریا کے مہاجر پرندوں کے ہاتھ میں قلم اور منہ میں زبان ہوتی تو دنیا پڑھتی اور سنتی کہ ہم کتنے وفادار اور کس قدر غیرت مند ہیں!
عزتِ نفس کی انتہا تو ابھی آپ نے دیکھی ہی نہیں! صوبائی مشیر برائے جنگلی حیات و جنگلات، غیر ملکی سفیر سے درخواست کرتا ہے کہ حضور! اِس علاقے میں، جسے آپ تاخت و تاراج کر رہے ہیں، کچھ ترقیاتی سکیمیں بھی تو آغاز کیجیے! آپ کا کیا خیال ہے سفیر کا ردِ عمل کیا تھا؟ کیا اس نے مسکرا کر کہا ’’ضرور! یہ تو ہمارا فرض ہے!‘‘
نہیں! ہر گز نہیں! سفیر نے کہا ’’تمہاری حکومت کو چاہیے کہ ہمارے سفارت خانے کو سرکاری چٹھی لکھے۔‘‘ پھر مشیر فخر سے بتاتا ہے کہ ’’میری وزارت سفیر کو خط لکھ کر التجا کرے گی کہ علاقے میں ترقیاتی سکیم شروع کرائے‘‘۔
تو کیا سفیر کے ملک نے حکومتِ پاکستان کو سرکاری خط کے ذریعے ’’التجا‘‘ کی تھی کہ ممنوعہ شکار کی اجازت دی جائے؟ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک نہیں، شرقِ اوسط کے چار ملکوں کے حکمرانوں کو شکار کھیلنے کے لائسنس جاری کیے ہیں! کیا وزارتِ خارجہ نے جنگلی حیات کے محکموں سے پوچھا؟ کیا وزارتِ خارجہ کو بھی ان ملکوں کی طرف سے تحریری درخواستیں اسی طرح موصول ہوئیں جس طرح بلوچستان حکومت کو کہا جا رہا ہے کہ ’’ہمارے سفارت خانے کو سرکاری چٹھی لکھو‘‘۔ اگر کوئی تحریری عرضداشت ’’برائے اجازت شکار‘‘ موصول ہوئی ہے تو وزارتِ خارجہ کو چاہیے کہ عوام کی اطلاع کے لیے اسے ظاہر کرے تا کہ قومی عزتِ نفس کا گراف ‘جو صفر سے نیچے آ چکا ہے، کم از کم ایک یا دو تک تو اُٹھ سکے!
کیا ان ملکوں میں سے کوئی ملک، ہمارے کسی حکمران کو اس طرح کھلی چھٹی دے سکتا ہے؟ ہماری عزت تو اس طرح کی جاتی ہے کہ بوڑھی حاجن کے پیروں سے جوتے اتروا کر ٹوکے سے ان جوتوں کے چار ٹکڑے کیے گئے اور پھر پھینک دیے گئے، بوڑھی حاجن برہنہ پا چلتی رہی اور سبحان اللہ کہہ کر فخر کرتی رہی۔
تو پھر تعجب ہی کیا ہے اگر ہمارے ملک کے پاسپورٹ کو دنیا کا دوسرا بدترین پاسپورٹ قرار دیا گیا ہے! ہمارے پاسپورٹ سے بدتر صرف ایک پاسپورٹ ہے‘ افغانستان کا! فہرست میں پاکستان کا نمبر 198 ہے۔ آپ یہ پڑھ کر اپنے آپ کو خلا میں اُڑتا محسوس کریں گے کہ جن ملکوں کا سفر کرنے کے لیے پاکستانیوں کو ویزے کی ضرورت ہے، ان ملکوں میں افغانستان بھی شامل ہے! دنیا کے جن چھ ملکوں میں داخل ہونے کے لیے پاکستانیوں کو ویزے کی ضرورت نہیں، ان ملکوں کے نام آپ نے کبھی نہیں سنے ہوں گے مثلاً ڈومینیکا، مائیکرونیشیا، وانو آتو وغیرہ! یہ پڑھ کر بھی آپ کو افاقہ ہو گا کہ عراق کا پاسپورٹ رینکنگ میں پاکستان سے اوپر ہے۔ دنیا کے 28 ممالک عراقیوں کو ویزے کے بغیر خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہیں!
اس صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے؟ کون ہے جو ملک کو ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں اسفل السافلین سے نیچے لے جا رہا ہے؟ حکومت؟ سیاست دان؟ بیورو کریسی؟ نہیں! یہ سب اور ان سب سے بڑھ کر عوام خود! 
ہمارے سفلہ پن کی، ہماری بدطینتی کی، ہماری کمینگی کی اس سے بدتر مثال کیا ہو گی کہ وہ ڈاکٹر جنہیں ہم مسیحا کہتے اور سمجھتے ہیں، ہمارے ساتھ بدترین پیشہ ورانہ بددیانتی کے مرتکب ہو رہے ہیں! سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لینا پڑا ہے۔ عزت مآب چیف جسٹس نے ایف آئی اے سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ اُن مریضوں کے جسموں میں بھی سٹنٹ 
(Stents) 
ٹھونسے جا رہے ہیں جنہیں سٹنٹ کی ضرورت نہیں! کیوں؟ چند سکوں کی خاطر! اور جنہیں ضرورت ہے، ان سے ایک ایک سٹنٹ کے دو دو لاکھ روپے بٹورے جا رہے ہیں جبکہ سٹنٹ کی اصل قیمت چند ہزار روپے سے زیادہ نہیں! اِس کارِ خیر میں دیگر ہسپتالوں کے علاوہ لاہور کے مشہور و معروف سرکاری میو ہسپتال کا نام بھی شامل ہے جو خادمِ اعلیٰ کی ناک کے عین نیچے واقع ہوا ہے!
سپریم کورٹ کو یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ جعلی اینجیوپلاسٹی ظاہر کرکے مریضوں کو لوٹا جا رہا ہے جبکہ سٹنٹ حقیقت میں ڈالا ہی نہیں جاتا! اور کیا آپ یقین کریں گے کہ آپریشن تھیٹروں کے باہر، دوائیں فروخت کرنے والی کمپنیوں کے سیلز ایجنٹ کھڑے ہیں‘ جو سٹنٹ بیچتے پھر رہے ہیں۔ ڈاکٹر آپریشن شروع کرنے کے بعد لواحقین سے کہتے ہیں کہ جا کر بازار سے سٹنٹ خرید کر لاؤ۔ اس وقت جب مریض موت و حیات کے درمیان لٹک رہا ہوتا ہے، لواحقین کی جان پر بنی ہوتی ہے۔ وہ مجبوراً اُنہی ایجنٹوں سے خریدتے ہیں جو اردگرد گھوم رہے ہوتے ہیں۔ کیا عجب کل کو آپریشن تھیٹروں کے باہر یہ ایجنٹ ٹھیلے لگا کر آوازیں دے رہے ہوں کہ ہم ہی ہیں اِس ڈاکٹر کے منظورِ منظر! آؤ ہم سے خریدو!!
یہ ڈاکٹر اور یہ ایجنٹ سیاست دان ہیں نہ حکمران! بیوروکریٹ نہ جرنیل! یہ تو عوام میں سے ہیں! پھر عوام کس طرح صرف حکمرانوں‘ صرف نوکر شاہی، صرف فوج پر تباہی کا الزام لگا سکتے ہیں!!
دنیا بے وقوف نہیں! دنیا نوالہ کان میں نہیں، منہ میں ڈالتی ہے! دنیا کو معلوم ہے کون سی قوم کتنے پانی میں ہے؟ کون عزت کی مستحق ہے اور کس کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگا ہے! ہمیں دنیا اب قطار میں عراق اور صومالیہ سے بھی پیچھے رکھ رہی ہے! صرف افغانستان ہم سے پیچھے ہے۔ تادمِ تحریر افغانستان نے احتجاج نہیں کیا۔ اگلی رینکنگ کا انتظار کیجیے!

Monday, January 16, 2017

متوازی ۔۔۔۔ سب کچھ متوازی

عزت مآب ہز ایکسی لینسی جناب رانا ثناء اللہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر قانون ہیں۔ پنجاب یوں سمجھیے ملک کا 75 فیصد حصّہ ہے۔ اس طرح عزت مآب رانا صاحب ملک کے 75 فیصد حصّے کے وزیر قانون ہیں۔
یہ خبر وحشت ناک تھی۔ خبر کا عزت مآب رانا صاحب کے قلمدانِ وزارت سے براہ راست تعلق تھا مگر عزت مآب رانا صاحب ایک طویل عرصہ سے جوڈیشل سسٹم کو ’’موثر‘‘ بنانے میں مصروف ہیں۔ جوڈیشل سسٹم کو ’’مضبوط‘‘ بنانے کے علاوہ عزت مآب رانا صاحب پراسیکیوشن کو بھی ’’موثر‘‘ بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ عزت مآب رانا صاحب کا اوڑھنا بچھونا قانون کا نفاذ اور قانون کی حکمرانی ہے! یہ مصروفیات ہمہ گیر ہیں اور عزت مآب رانا صاحب ان مصروفیات کے کیچڑ میں کمر تک نہیں‘ گلے تک دھنسے ہوئے ہیں۔ بس یہ مجبوری ہے، جس کی وجہ سے یہ وحشت ناک خبر رانا صاحب تک نہیں پہنچ سکی۔
ہماری قابلِ صد احترام عدلیہ انصاف کو عوام کے دروازے تک پہنچانے میں رات دن مصروف ہے۔ اس مصروفیت کا نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں لوگ جُرم کے ثبوت کے بغیر زندانوں میں بند ہیں۔ عدلیہ کے انصاف کی وجہ سے کچھ لوگ پھانسی چڑھ گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بے گناہ تھے۔ عدلیہ نے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایک زندانی کو بے گناہ قرار دیا۔ معلوم ہوا کہ اُس بد بخت نے عدلیہ کی مصروفیت کو اہمیت نہ دیتے ہوئے زندان ہی میں موت کو بلا لیا۔ ان تمام مصروفیات کی وجہ سے یہ وحشت ناک‘ ہولناک اور رونگٹے کھڑی کر دینے والی خبر عدلیہ تک نہ پہنچ سکی۔ یوں بھی پچھلے سات سال سے ہماری قابلِ صد احترام عدلیہ عتیقہ اوڈھو کی دو عدد شراب کی بوتلوں والے مقدمے کو انصاف کی دہلیز تک لانے میں مصروف ہے‘ یہ مقدمہ بکرا بن گیا ہے۔ اس کے گلے میں انصاف کی رسّی ہے۔ عدلیہ اس رسّی کو کھینچ کر دہلیز تک لانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ دو دن پیشتر اس مقدمے کی سماعت 18 جنوری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ 18 جنوری سے مراد 18 جنوری 2018ء نہیں بلکہ 18 جنوری 2017ء ہے۔ گزشتہ روز ایک گواہ کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا۔ جرح آئندہ تاریخ پر ہوگی۔ جو جانتے ہیں وہ جانتے ہیں، جو نہیں جانتے ان کی اطلاع کے لیے یہ بتا دینا برمحل ہو گا کہ یہ مقدمہ جس میں عدلیہ مصروف ہے‘ شراب کی دو بوتلوں کو‘ نصف جن کا ایک بوتل ہوتی ہے‘ مقامی پرواز کے ذریعے کراچی لے جانے کی کوشش پر قائم ہوا تھا! جس وحشت ناک خبر کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے‘ اُس خبر کی بدقسمتی یہ ہے کہ شراب کی ان دو بوتلوں کا مقدمہ ختم ہونے سے پہلے سرزد ہو گئی۔ اگر یہ مقدمہ ختم ہو گیا ہوتا‘ اور پھر یہ وحشت ناک خبر اُٹھی ہوتی تو انصاف قائم ہونے میں ذرا دیر نہ لگتی۔
یہ وحشت ناک خبر جو اسلام کے اس قلعے کے رخسار پر ایک طمانچہ ہے‘ اُن عَلَم برادران اسلام تک بھی ابھی تک نہیں پہنچی جو اس مملکت خدا داد میں اسلام کے کنٹریکٹر یعنی ٹھیکیدار ہیں! اصل میں وہ مصروف ہیں۔ ابھی وہ اسلام کی بنیادی ذمہ داریاں نبھانے میں گھٹنوں گھٹنوں دھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی اس ملک کی کثیر آبادی اللہ تعالیٰ کو خدا‘ سائیں‘ راکھا کے ناموں سے پکارتی ہے۔ کچھ گستاخ اللہ تعالیٰ کو یہاں ’’اللہ جی‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں جبکہ ’’جی‘‘ عربی زبان کا نہیں بلکہ مقامی زبان کا لفظ ہے۔
ان سب مادر زاد اندھوں کو روشنی دکھانے کا کام ابھی باقی ہے۔ ابھی تو یہ بھی نہیں طے ہوا کہ نیل پالش سے وضو ہوتا ہے یا نہیں‘ جرابوں پر مسح کرنا ہے یا نہیں‘ دستار کس رنگ کی زیادہ اجر و ثواب کی مستحق ہے۔ ابھی یہ بھی طے کرنا باقی ہے کہ کون سی مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے اور کس سے پیچھے نماز نہ پڑھنا تقرّب اِلَی اللہ کا بہترین طریقہ ہے۔ ابھی گلی گلی پھر کر‘ در در دستک دے کر لوگوں کو یہ بھی بتانا ہے کہ وعدہ خلافی ہو جائے تو یہ کہو اور یہ سمجھو کہ وعدہ کیا ہی کہاں تھا! وہ تو بس ایک بات کہہ دی تھی! ابھی ہمارے علماء کرام، ان کا سایہ تا حشر ہمارے سروں پر سلامت رہے، اس ٹوہ میں لگے ہیں کہ اِس ملک میں یہودیوں کے ایجنٹ کون کون ہیں! اگرچہ ہمارے مقدس‘ مکرّم اور محترم علماء کرام مغرب کی ساری ایجادات سے بدرجہ اُتم فائدہ اٹھاتے ہیں‘ گھڑیاں باندھتے ہیں‘ دو دو تین موبائل فون رکھتے ہیں۔ ایک جہاز سے اترتے ہیں تو دوسرے پر بیٹھ جاتے ہیں۔ سفر کرتے وقت کافروں کی بنائی ہوئی نصف درجن گاڑیاں آگے تو نصف درجن پیچھے رکھتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود اُن لوگوں کی بیخ کنی میں مصروف ہیں جو ’’مغربی طرزِ زندگی‘‘ اپنا رہے ہیں۔ اگر دین کے نگہبان ان تمام فرائض کی سرانجام دہی میں مصروف نہ ہوتے تو اس وحشت ناک خبر پر ضرور ایکشن لیتے اور دنیا کو بتاتے کہ اس کا اسلام سے اور اسلام کے اِس ناقابلِ تسخیر قلعے سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے! 
اِس وحشت ناک خبر پر ایکشن لینا سب سے زیادہ ہماری ریاست اور حکومت کے سربراہوں پر لازم آتا ہے، مگر افسوس! وہ بھی ازحد مصروف ہیں۔ ریاست کے سربراہِ عالی مرتبت‘ گرامی قدر جنابِ صدر‘ قصرِ صدارت میں صدارتی ذمہ داریوں میں سخت مصروف ہیں اور دنیا و مافیہا سے بے خبر ہیں۔ رہے حکومت کے سربراہ جناب وزیر اعظم تو آپ رات دن شیرشاہ سوری کے حالات زندگی پڑھنے میں مشغول ہیں اور یہ جاننے میں کہ اُس بادشاہ نے شاہراہیں کہاں کہاں بنوائی تھیں۔ رات دن ایک کئے ہوئے ہیں۔ جس دن جناب وزیر اعظم کی تعمیر کردہ شاہراہوں کی لمبائی اور کُل چوڑائی‘ شیرشاہ سوری کی بنائی ہوئی سڑکوں کی لمبائی اور کل چوڑائی سے زیادہ ہو گئی تو عالی وقار صرف اُس دن اطمینان کا سانس 
لے سکیں گے۔ اس کے علاوہ ہمارے وزیر اعظم کو حال ہی میں عدالتی کارروائی کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ ان کے لخت ہائے جگر ولایت میں کچھ جائیدادوں کے مالک ہیں۔ جناب وزیر اعظم کی ایک بڑی مصروفیت یہ بھی ہے کہ ان جائیدادوں کا اتہ پتہ معلوم کریں جن کے بارے میں حاشا و کلّا انہیں کچھ معلوم نہ تھا۔ اگر یہ سب مصروفیات‘ جن میں وہ صرف اور صرف غریب عوام کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں‘ نہ ہوتیں تو خدا کی قسم! جناب وزیر اعظم خبر سنتے ہی بنی پور پہنچ جاتے اور جب تک ملزموں کو کیفرکردار تک نہ پہنچایا جاتا‘ تب تک دارالحکومت عارضی طور پر بنی پور منتقل کر دیتے!
بنی پور (رحیم یار خان) کے ماجد اور زلیخا نے پسند کی شادی کی۔ اس پر زلیخا کے رشتہ داروں نے پنچایت قائم کی! اس پنچایت نے فیصلہ سنایا کہ دولہا اور دلہن کو گولی مار دی جائے۔ دولہا اور دلہن کے پانچ رشتہ داروں کو بھی گولی مارنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پنچایت نے یہ بھی حکم دیا کہ قتل کرنے کے بعد ان تمام افراد کے مردہ جسموں سے ان کے ناک اور ٹانگیں کاٹ دی جائیں! پنچایت نے یہ بھی فیصلہ سنایا کہ دولہا کے خاندان کی خواتین کو اغوا بھی کیا جائے! ماجد‘ اس کی دلہن اور اس کے رشتہ دار گھر بار چھوڑ کر اِدھر اُدھر بھاگ گئے ہیں!
اس جدید زمانے میں متوازی نظام انصاف (یعنی پنچایتوں اور جرگوں) کی سہولت صرف پاکستان میں دستیاب ہے! کیا ہی اچھا ہو اگر ایک متوازی‘ یعنی نجی، پولیس فورس بھی ہو! متوازی وزیراعلیٰ اور متوازی گورنر بھی ہوں! متوازی لشکر یعنی فوج تو موجود ہی ہے!!!

Wednesday, January 11, 2017

محبت پاس سے گزرے تو کہُنی مار دینا

چوتھی بین الاقوامی کانفرنس کا یہ میلہ اسلام آباد میں برپا ہوا۔ چار دن خوب گہما گہمی رہی۔ ملک بھر کے ادیبوں اور شاعروں کو ایک جگہ جمع ہو کر کچھ کہنے اور کچھ سُننے کے مواقع ملے۔ اس موقع پر جنہیں نہیں بلایا گیا یا نہیں بلایا جا سکا‘ وہ اپنے اپنے مقام پر غم و غصّہ اتارتے رہے۔ جنہیں بلایا گیا‘ ان میں سے بھی کچھ ایسے تھے جو انتظامات پر تنقید کرتے رہے۔ شاید انسانی فطرت ہے کہ خوش مشکل سے ہوتی ہے  ؎
نہ مطمئن ہے فقیہِ حرم نہ رندِ خراب
اِسے سزا کا ہے دھڑکا‘ اُسے جزا معلوم!
ایک ادبی میلہ آرٹس کونسل کراچی والے بھی سال بہ سال منعقد کرتے ہیں۔ اس میں مگر فیصلے فردِ واحد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ ایک ہی صاحب طے کرتے ہیں کہ کون شاعر ہے اور کون نا شاعر‘ اور کون ادیب ہے اور کون غیر ادیب! اکادمی ادبیات کا میلہ اس لحاظ سے غنیمت ہے کہ اس میں فیصلے فردِ واحد کے ہاتھ میں نہیں! اب کے متعلقہ وزارت کا قلم دان عرفان صدیقی کے پاس تھا۔ وہ خود کم و بیش اسی کوچے کے پرانے راہرو ہیں۔ تمام ممتاز اہل قلم سے ذاتی حوالے سے شناسائی رکھتے ہیں۔ ہر ایک سے ملتے ہیں، بات سنتے ہیں۔ ان کی سیاسی وابستگی اپنی جگہ‘ مگر بنیادی طور پر تعلق اہلِ قلم سے ہے۔
اکادمی ادبیات کے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بگھیو ایک وضعدار اور خوش اخلاق شخص ہیں  ؎
بہت جی خوش ہوا اے ہم نشیں کل جوش سے مل کر
ابھی اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں
ان کی خوش قسمتی دوچند اس حوالے سے ہوئی کہ ان کے پاس کام کرنے والے نوجوان خود شعر و ادب کی وادی کے مسافر ہیں۔ اختر رضا سلیمی آغازِ شباب ہی میں اقلیم شعر پر دھاک بٹھا چکا ہے۔ اس کا ایک شعر تو ضرب المثل ہی بنتا جا رہا ہے  ؎
پھر اس کے بعد گر گیا سونے کا بھائو بھی
اک شام اس نے کان سے جھُمکا اتارا تھا
مگر سلیمی کا اصل کارنامہ اس کا ناول ’’جاگے تھے خواب میں‘‘ ہے۔ اسلام آباد اور اٹک کے درمیان بہتا دریائے ہرو اس کا لینڈ سکیپ ہے۔ زمان و مکان سے ماورا ہو کر اس نے نیا تجربہ کیا ہے اور ناول کے تالاب میں وہ کنکر پھینکا ہے کہ ارتعاش تھم ہی نہیں رہا! عاصم بٹ‘ جو اکادمی ادبیات کے لاہور آفس کا مدارالمہام ہے فکشن اور تراجم کے میدان میں نام پیدا کر چکا ہے۔ افسانوں کے متعدد مجموعوں کے علاوہ ’’دائرہ‘‘ اور ’’ناتمام‘‘ کے عنوان سے ناول تصنیف کر چکا ہے۔ نوجوان افسر علی یاسر کا تازہ مجموعۂ کلام ’’غزل بتائے گی‘‘ اس کی شاعری کی صلاحیتوں کے ضمن میں بہت کچھ بتاتا ہے! ایک خوش آیند اقدام اکادمی کے چیئرمین نے اب کے یہ کیا کہ ڈائریکٹر جنرل کی مسند کے لیے حسبِ سابق سرکار سے کوئی گردن بلند بیورو کریٹ ادھار نہیں لیا بلکہ ڈاکٹر راشد حمید کو تعینات کیا ہے، جس کا تعلق لکھنے پڑھنے کی دنیا سے ہے اور اکادمی ادبیات میں پہلے ہی اس نے اچھا اور کامیاب وقت گزارا ہے! اس ٹیم کی موجودگی‘ چیئرمین ڈاکٹر قاسم بگھیو کے لیے نعمت ثابت ہوئی۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ سارے نوجوان حفظِ مراتب سے آگاہ ہیں‘ مودََّب ہیں اور شعرا اور ادیبوں کی حساسیت سے بخوبی واقف ہیں! اِن پوسٹوں پر اگر روایتی بیوور کریٹ قابض ہوتے تو وہ تھری پیس سوٹ پہن کر سگار کے لمبے لمبے کش تو لے لیتے مگر انہیں یہ نہ معلوم ہوتا کہ کون ادیب کتنے پانی میں ہے‘ کس کی آئو بھگت کرنی ہے اور کس کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے۔ بیورو کریٹ عام طور پر شاعروں اور ادیبوں کو نظر انداز کر کے‘ اپنے شدید احساس کمتری کو تسکین دیتا ہے۔ اس میں مستثنیات یقیناً ہیں، کچھ بیورو کریٹ پڑھے لکھے بھی ہوتے ہیں۔ اس قدر کہ بیورو کریٹ لگتے ہی نہیں!
شاعر اور ادیب بظاہر منکسر المزاج ہوتے ہیں مگر سچ یہ ہے کہ وہ بہت حساب ہوتے ہیں۔ ان کے دل آبگینے ہوتے ہیں جنہیں ٹھیس بہت جلد لگتی ہے۔ وہ اس معاملے میں نازک دل ہوتے ہیں کہ انہیں ان کا وہی مقام دلوایا جائے جس کا وہ استحقاق رکھتے ہیں۔ لٹریچر سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی ایک معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں۔ وہ جو مجید امجد نے گلاب کے پھولوں کے بارے میں کہا تھا کہ  ؎
سلگتے رہتے ہیں چپ چاپ‘ ہنستے رہتے ہیں
مثالِ چہرۂ پیغمبراں گلاب کے پھول
تو یہ شاعروں اور ادیبوں پر بھی صادق آتا ہے۔ محمود غزنوی نے فردوسی کا دل توڑا تو فردوسی نے اس پر جو اشعار کہے‘ قلم توڑ کے رکھ دیا۔ محمود غزنوی کی ایسی تصویر کھینچی کہ اس کی ساری فتوحات اور انتظامی کامرانیوں پر پانی پھیر دیا!  ؎
شنیدم کہ شہ مطبخی زادہ است
بجائی طلا نقرہ ام دادہ است
کہ سنتے ہیں بادشاہ ایک باورچی کی اولاد ہے، جبھی تو سونے کے بجائے مجھے چاندی دی!
ایسی کانفرنسوں کا اصل چارم ادب سے تعلق رکھنے والے نوجوان دلدادگان کے لیے یہ ہوتا ہے کہ وہ سینئر شاعروں اور ادیبوں کو جیتی جاگتی صورت میں دیکھ لیتے ہیں۔ ان کی تصانیف کو خریدنے والے‘ انہیں شوق سے پڑھنے والے اور اپنی لائبریریوں میں سجا سجا کر رکھنے والوں کے لیے کیا یہ کم انعام ہے کہ وہ ان شخصیات کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔ ان سے بات چیت کر سکتے ہیں‘ انہیں سُن سکتے ہیں۔ کہیں کشور ناہید اپنے مداحوں میں گھری ہیں اور بے باک گفتگو سے ان کے دل موہ رہی ہیں۔ وہ دیکھیے‘ مستنصر حسین تارڑ ایک ہجوم کے درمیان سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔ ایک پرستار بتا رہی ہے کہ اس نے اعتکاف کے دوران ان کی تصنیف ’’غارِ حرا میں ایک رات‘‘ پڑھی۔ وہاں عطاء الحق قاسمی اپنے وابستگان کو اپنی تصانیف کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ پھلجھڑیاں بھی چھوڑ رہے ہیں۔ قہقہے ہیں کہ چاندی کی طرح چمکتے ہیں۔ کالم نگاری کو ادب کے ساتھ اس بابے نے ایسا آمیز کیا ہے کہ بس اسی کا حصّہ ہے۔ کچھ نوجوان انور شعور کو گھیرے کھڑے ہیں۔ وہاں سحر انصاری بیٹھے ہیں اور گفتگو کر رہے ہیں۔ سننے والے ہمہ تن گوش ہیں۔ عقیل عباس جعفری سے لے کر فاطمہ حسن تک‘ ڈاکٹر مرزا حامد بیگ سے لے کر سعود عثمانی تک‘ ڈاکٹر ابرار احمد سے لے کر صابر ظفر تک‘ سب کو ایک ہی چھت تلے دیکھا جا سکتا ہے! اس لحاظ سے ایسی کانفرنسوں تک رسائی رکھنے والے قارئین خوش بخت ہیں۔ ورنہ پڑھنے والا بعض اوقات‘ زندگی بھر‘ اپنے پسندیدہ ادیبوں اور شاعروں کو ملنے اور دیکھنے کی حسرت پوری نہیں کر پاتا  ؎
سنے ہیں تذکرے اُس کے مگر دیکھی نہیں ہے
محبت پاس سے گزرے تو کہنی مار دینا
پہلو مگر اس قضیے میں ایک اور بھی ہے۔ یہ بڑے بڑے شاعر‘ یہ نامور ادیب‘ اتنے تنک مزاج‘ اتنے سیماب صفت اور اس قدر لا ابالی ہوتے ہیں کہ بس ان کی صحبت‘ تھوڑی دیر ہی کے لیے روا رکھنی چاہیے۔ ان کے مزاجوں کا کچھ پتا نہیں ہوتا! ان میں سے اکثر کا یہ عالم ہے کہ  ؎
تلخ کر لیتا ہوں ہر لذت کی شیرینی کو میں 
کیوں نگہ میری نگاہِ دُور بیں رکھی گئی
کہیں پڑھا تھا کہ جس زمانے میں ہوائی جہاز نہیں تھے یعنی انیسویں صدی میں‘ فرانسیسی ادب کی ایک دلدادہ خاتون نیو یارک میں رہتی تھی۔ اس کا اوڑھنا بچھونا فرانسیسی ادب تھا۔ ایک ایک شاعر اور ادیب کے بارے میں اتنی معلومات رکھتی تھی گویا انسائیکلو پیڈیا تھی! جب پڑھا کہ یہ سارے اس کے پسندیدہ بڑے بڑے ادیب شاعر پیرس کے کافی ہائوسوں اور چائے خانوں میں بیٹھتے ہیں تو ان سے ملنے کا شوق چرایا۔ بحری جہاز میں بیٹھی‘ بحرِاوقیانوس پار کیا اور پیرس پہنچ گئی۔ مگر جب ان بڑے بڑے اہلِ قلم سے ملنا جلنا شروع کیا‘ انہیں نزدیک سے دیکھا تو سخت دلبرداشتہ ہوئی۔ بطور انسان‘ یہ لوگ اُس بلندی کے حامل نہیں تھے‘ جسے اپنی تحریروں میں شد و مد سے پیش کرتے تھے۔ ناقابلِ اعتبار ‘ پارے کی طرح تغیر پذیر‘ بعض اوقات جذبات سے بھی عاری‘ اپنے آپ میں گم‘ کبھی اپنے آپ سے بھی نالاں ‘ چنانچہ خاتون نے کتابیں دریا برد کیں‘ دوبارہ بحری جہاز میں بیٹھی اور ادب اور ادیب دونوں سے توبہ کی! مگر یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ عظیم تخلیقی کارنامے سرانجام دینے والے لوگ نارمل ہو بھی نہیں سکتے۔ ایک نارمل شخص نوکری کرتا ہے‘ شام کو سبزی، گوشت، دال خریدتا ہے، سوتا ہے اور بس! بقول اکبر الہ آبادی  ؎
ہم کیا کہیں احباب کیا کارِ نمایاں کر گئے
بی اے کیا نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئے
راتوں کو جاگنے والے‘ سوچنے والے‘ لکھنے والے‘ شمعوں کی جگہ آنکھیں جلانے والے‘ کائنات سے لے کر زندگی تک کے اسرار و رموز پر غور کرنے والے نارمل کیسے ہو سکتے ہیں! ادیب اور شاعر تو اہلِ طریقت کی طرح ہوتے ہیں  ؎
گہی برطارِم اعلیٰ نشینیم
گہی بر پشتِ پائی خود نہ بینیم
کبھی تو ناقابل بیان بلندیوں پر ہوتے ہیں اور کبھی یہ عالم ہوتا ہے کہ اپنے ہی پائوں کا اوپر کا حصّہ نہیں نظر آتا۔
کانفرنس کی رونمائی یعنی افتتاح جناب وزیر اعظم پاکستان نے کیا۔ ادیبوں اور شاعروں کو شکوہ ہے کہ وہ اگر ان کے ساتھ چائے بھی پی لیتے‘ ’’عوام‘‘ میں کچھ دیر گھل مل بھی جاتے ‘ تو کیا ہی اچھا ہوتا! معروف شاعر نصیر احمد ناصر نے بہت بر محل کمنٹ دیا ہے:
’’وزیر اعظم تقریر ختم کر کے ڈائس سے ہی فوراً واپس چلے گئے۔ کتنا اچھا ہوتا اگر وہ چند منٹ چائے پر ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ گزار لیتے۔ کسی سے ہاتھ ملاتے‘ کسی سے ہیلو ہائے کرتے‘ تھوڑی مسکراہٹ اچھالتے۔ دو چار گھونٹ چائے کے بھرتے، ایک آدھ مِنی پیسٹری کھاتے، آخر دور و نزدیک سے آئے سینکڑوں ادیب و شاعر اسی ملک کے شہری اور انسان ہیں جس کے وہ سربراہ ہیں۔ اس طرح غیر ملکی مندوبین کے سامنے ملک کا جمہوری اور سافٹ امیج بھی بنتا۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ حقیقی جمہوری اور ترقی یافتہ ملکوں میں تو یہ ایک عام سی بات ہے‘‘۔

Saturday, January 07, 2017

سی پیک معاہدے میں کچھ مزید شقیں ڈالنا ہوں گی


کبھی گملوں میں بھی باغ لگتے ہیں؟
کیا ترقی کی رفعتیں‘ دوسروں کے کاندھوں پر بیٹھ کر حاصل ہوتی ہیں؟
کیا سی پیک ہمارے رویوں کو بھی بدل ڈالے گا؟
کیا سی پیک ہماری شرح خواندگی کو بڑھا سکے گا؟
کیا ہماری نیتیں درست ہو جائیں گی؟
کیا سی پیک مکمل ہونے کے بعد‘ ایک گھنٹے کے اندر اندر ہم ایک دیانتدار قوم بن جائیں گے؟
کیا ہمارے پارلیمانی لیڈر‘ ہمارے سیاست دان‘ سی پیک کی تکمیل کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ بنے اور وہ قانون پسند ہو جائیں ۔
کیا سی پیک مکمل ہو جانے کے بعد ہمارے بیورو کریٹ غلط احکام ماننے سے انکار کر دیں گے کہ جناب! اب نہیں! اب سی پیک بن گیا ہے!
آج ہی روزنامہ دنیا نے خبر دی ہے کہ جنوبی پنجاب کی 163 ترقیاتی سکیموں کے لیے رکھے گئے دو ارب روپے‘ لاہور کینال روڈ کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔ منتقل اس لیے کئے گئے ہیں کہ لاہور کی سڑکوں کو وسعت… یعنی مزید وسعت… دی جائے۔ رولز ریلیکس کئے گئے۔ بنیادی طور پر یہ فنڈز جنوبی پنجاب کے اضلاع لیہ‘ ڈی جی خان‘ بہاول نگر‘ وہاڑی‘ خانیوال‘ راجن پور وغیرہ کے دیہی و شہری علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت‘ سکولوں ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی‘ سیوریج کے بندوبست اور دیگر 64 ترقیاتی سکیموں کے لیے بجٹ کئے گئے تھے۔ 
کیا یہ روّیے سی پیک کے بعد بدل جائیں گے؟
تین ساڑھے تین سو برس پہلے جب ہم نے پرتگالیوں‘ فرانسیسیوں اور انگریزوں کو اپنے ساحلوں پر تجارتی کوٹھیاں تعمیر کرنے کی اجازت دی تھی تو کیا اس کے بعد ہمارے طور اطوار بدل گئے تھے؟ چلیے‘ نہیں بدلے تھے۔ مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا‘ کیا اس سے ہم نے کچھ سیکھا ہے؟ 
یہ محض اخلاقیات کا قصّہ نہیں! یہ محض دیانت اور خوش نیتی کا مسئلہ نہیں‘ صرف اور صرف اقتصادی نقطۂ نظرسے بھی سی پیک ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ اس لیے کہ گملوں میں باغات نہیں لگا کرتے!
دنیا میں آج تک کسی ملک نے سوشل سیکٹرز کی ترقی کے بغیر‘ مجموعی ترقی نہیں کی! سوشل سیکٹرز کیا ہیں؟ افرادی قوت! تعلیم! صحت! دوسرے الفاظ میں انسانوں پر سرمایہ کاری!
اقتصادی ترقی کے جتنے نظریات ہیں‘ ان سب کا مرکزی نکتہ سوشل سیکٹروں کی ترقی ہے۔ ماضی قریب سے لے کر اب تک ڈبلیو ڈبلیو روسٹو
 (ROSTOW) 
کا معاشی نظریہ دنیا بھر کی درسگاہوں پر غالب رہا۔ روسٹو صدر لنڈن بی جانسن کا مشیر تھا۔ اس کی کتاب ’’معاشی ترقی کے مراحل‘‘ اقتصادیات کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی داخل نصاب رہی۔ معیشت کے ’’ٹیک آف‘‘ کے لیے اس نے جو شرائط لگائیں‘ ان میں سوشل ڈھانچے کی تبدیلی کو مرکزی اہمیت دی۔ یعنی آپ ’’انسان‘‘ پر کتنی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور کیسے کرتے ہیں۔ ٹیک آف کے لیے اگرچہ اور شرطیں بھی ہیں۔ جیسے خام مال کی زیادہ سے زیادہ برآمد‘ جیسے زرعی اجناس کی برآمد‘ جیسے ٹیکنالوجی کی ترقی‘ مگر یہ سب بیکار ہے اگر تعلیم اور صحت پر توجہ نہ دی جائے تو! سوشل شعبوں پر یعنی صحت اور تعلیم پر زور دینے سے کیا تبدیلیاں حاصل ہوتی ہیں؟ اوّل : آبادیاں قصبوں اور شہروں کا رُخ کرتی ہیں۔ دیہات سکڑ جاتے ہیں۔ دوم : زرعی شعبے سے توجہ ہٹ کر صنعتی شعبے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ سوم : آبادی کا نقطۂ نظر تبدیل ہو جاتا ہے‘ یہ نقطۂ نظر ہی ترقی کا مرکزی پوائنٹ ہے۔ یعنی مائنڈ سیٹ کی تبدیلی۔ اب ہر فرد کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس نے اپنے سماجی ڈھانچے کو توڑ کر عمودی رُخ پر ترقی کرنی ہے۔ اب افقی سمت پر حرکت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں! بڑھئی کا بیٹا اگر بڑھئی ہی رہا خواہ جہاں بھی رہا‘ یہ افقی حرکت پذیری ہوگی! عمودی ترقی کا مطلب ہے وہ چارٹرڈ اکائونٹنٹ بن جائے۔ اور بڑھئی ہی رہنا ہے تو پھر کارخانہ لگائے اور تین چار سو ملازمین بھرتی کرے۔ یہ صرف اُس وقت ہو گا جب مائنڈ سیٹ تبدیل ہو گا! یہ سرداری نظام کی موجودگی میں نہیں ہو سکتا!
نہیں! جناب! نہیں! سی پیک سے اتنی ہی امیدیں لگائیے جتنی مناسب ہیں۔ اس گملے میں آپ پودا لگا سکتے ہیں! باغ نہیں! آپ کو بلوچستان کا سرداری نظام تبدیل کرنا ہو گا۔ لوگ اگر آنکھیں بند کر کے جلتے کوئلوں پر چلتے رہے کہ اپنے آپ کو چور اور بے گناہ ثابت کریں تو سی پیک ایک نہیں‘ پندرہ سو لے آئیے‘ سردار ہی حکمران رہے گا! ہاری اور اس کی بیوی ووٹ مخدوم صاحب ہی کو دیں گے! ہاری کی بیوی حویلی سے نکلتے نکلتے بھی بڑی بی بی صاحبہ کو سبق سناتی جائے گی کہ ٹھپّہ اس نے تیر پر یا سائیکل پر یا فلاں نشان پر لگانا ہے۔
کوئی غیر ملکی طاقت ہمارے سوشل سیکٹروں پر سرمایہ کاری نہیں کرے گی! اس لیے کہ اس میں اس کا فائدہ نہیں ہو گا۔ چین ہماری شاہراہوں کی تعمیر میں‘ اقتصادی راہداری میں‘ دلچسپی اس لیے نہیں لے رہا کہ ایسا کرنے کے لیے کنفیوشس نے کہا تھا۔ اس لیے کہ اس میں چین کا اپنا فائدہ بھی ہے‘ جو ظاہر ہے اس کی اوّلین ترجیح ہے! مگر وہ ہمارے سرکاری ہسپتالوں کو مذبح خانوں سے بدل کر شفاخانے کیوں بنائے؟ ہمارے بے چھت کے سرکاری سکولوں کو وہ مویشی خانوں اور گوداموں سے بدل کر تعلیمی اداروں کی شکل کیوں دے؟ اسے اس میں کتنے نفلوں کا ثواب ہو گا؟
کیا سی پیک ہمارے پولیس سسٹم کو غیر سیاسی کر دے گا؟ ابھی کل ہی رئوف کلاسرا ماتم کناں تھے کہ ایک ضلع کے ڈی پی او کو اس لیے صوبہ بدر کر دیا گیا کہ اس نے ایک ایم این اے کے گھر کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔ پولیس کے افسروں کو دو اقسام میں بانٹ کر رکھ دیا گیا ہے۔ وہ جو اپنے ہیں‘ ’’قابل اعتماد‘‘ ہیں اور وہ جو اپنے نہیں ہیں۔ یعنی اگر کوئی دیانتدار ہے اور سفارش نہیں مانتا تو اس کا‘ خدا کے سوا اور کوئی نہیں! عبرت کے لیے دیکھیے سندھ کے آئی جی کو!
ایک ہی طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ سی پیک کے معاہدے میں کچھ خصوصی شقوں کا اضافہ کیا جائے۔ ان شقوں کی رُو سے چین ہمارے سرکاری سکولوں اور سرکاری ہسپتالوں کا انتظام سنبھال لے۔ ہمارے بجٹ کی نگرانی کرے کہ دوسرے شہروں کی رقوم ایک ہی شہر کی طرف منتقل نہ ہوتی رہیں۔ بلوچستان میں سرداری نظام ختم کرے۔ جنوبی پنجاب اور سندھ میں زرعی اصلاحات کا ڈول ڈالے۔ کراچی اور پنجاب کی پولیس میں سیاسی مداخلت ختم کرا دے۔ تعیناتیاں‘ بالخصوص بیرونِ ملک تعیناتیاں سفارش پر نہ کرنے دے۔
ایک مزید خصوصی شق بھی ڈالنا ہو گی۔
ڈاکوئوں اور کار چوروں کے سدِّباب کے لیے چین کچھ کرے۔
پھر ہم دعویٰ کر سکیں گے کہ سی پیک تبدیلی کا دروازہ ہو گا!

Friday, January 06, 2017

اگر پوری قوم انگریز بن جائے!!

عاصمہ جہانگیر مشہور خاتون اوروکیل ہیں۔ سیاسی اور سماجی حوالے سے
 Activist
بھی ہیں ۔ سپریم کورٹ بار کی سیاست میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ وکلاء برادری میں ان کا اپنا ایک گروپ ہے۔
مشہور ہونے کے ساتھ وہ متنازع بھی ہیں۔ ان کے مخالفین وکلاء میں بھی موجود ہیں اور اہلِ سیاست میں بھی! بھارت کی طرف جھکائو رکھتی ہیں۔ مسلح افواج کے لیے بھی ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں۔ جو طبقہ خواتین کے ہاتھ پائوں باندھ رکھنا چاہتا ہے وہ بھی ان پر تنقید کرتا رہتا ہے۔ مذہبی حوالے سے جب کچھ نازک موضوعات پر بات چھڑے تو اُس وقت بھی اُن کا ذکر ہوتا ہے۔
جوڈیشل مارشل لاء کے ضمن میں جو کچھ چند دن پہلے مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا‘ اس پر کمنٹ دیتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ اس بیان میں کوئی صداقت نہیں!انہوں نے صاف صاف کہا کہ رواں منظر نامے میں آمریت کی حمایت کرنے والا کوئی جج نہیں۔ اس بیان میں چیف جسٹس ناصر الملک کے بارے میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ وہ کسی کا دبائو نہیں لیتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ انگریز جج تھے۔
غور کیجیے کہ کثیر تعداد میں مخالفین ہونے کے باوجود‘ عاصمہ جہانگیر پر کسی نے تنقید کی نہ ان کے بیان کی مخالفت! کسی نے بھی جواب میں یہ نہیں کہا کہ دبائو نہ قبول کرنے والا جج انگریز جج کیسے ہو گیا؟ وہ تو مسلمان جج یا پاکستانی جج کہلانا چاہیے‘ بھارت مخالف لابی سے لے کر پرو آرمی طبقات تک‘ وکلاء برادری سے لے کر مذہبی مخالفین تک کسی طرف سے عاصمہ کے اس بیان پر تنقید نہیں ہوئی۔ کسی نے اس بیان کو اینٹی پاکستان یا اینٹی اسلام قرار نہیں دیا۔ کوئی احتجاج ہوا نہ جلوس نکالا گیا۔ پتلا جلایا گیا نہ مذمت کی گئی۔
وجہ یہ ہے کہ بیس کروڑ پاکستانی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ اب دیانت یا غیر جانب داری کا تذکرہ ہو تو مثال پاکستانیوں کی یا مسلمانوں کی نہیں دی جاتی بلکہ انگریز کی دی جاتی ہے! آپ اپنے اردگرد‘ دیکھ لیجیے‘ اگر کوئی شخص وقت کا پابند ہو گا‘ وعدہ پورا کرے گا‘ اصول پرست ہو گا تو ہم سب اُسے گورا صاحب کہیں گے یا یہ کہ وہ خاصا انگریز واقع ہوا ہے۔
کیا کبھی غیر مسلم یا غیر پاکستانی معاشرے میں ایسے دیانت دار اور اصول پرست انسان کا نام ’’مسلمان‘‘ یا ’’پاکستانی‘‘ پڑا ہے؟ کبھی نہیں! وہ لطیفہ آپ نے ضرور سنا ہو گا کہ پولیس افسر شہریوں کو سمجھا رہا ہے کہ اردگرد کوئی مشکوک شخص دکھائی دے تو پولیس کو رپورٹ کیجیے‘ اس پر شہری اسے بتاتا ہے کہ میرے پڑوسی کو چیک کیجیے‘ وہ وقت پر دفتر جاتا ہے‘ کام ایمانداری سے کرتا ہے‘ رشوت نہیں لیتا۔ جھوٹ نہیں بولتا۔ ٹریفک کے اصولوں کی پابندی کرتا ہے ! وہ پاکستانی نہیں لگتا۔
معاشرہ بیک وقت نفاق اور سچائی کا شکار ہے! اس سے بڑا نفاق کیا ہو گا کہ ہم اپنے آپ کو ’’خیر امّت‘‘ کہلوائیں‘ رات دن تذکرہ کریں کہ ہمارے پیغمبر صادق اور امین تھے‘ دبائو ڈالا گیا تو فرمایا کہ فاطمہ ؓ بنت محمدؐ بھی چوری کرے گی تو ہاتھ کاٹ دیا جائے گا مگر کوئی ایک آدھ جج دبائو قبول نہ کرنے والا‘ وقت کا پابند اور اصول پسند نکل آئے تو ہم سچّے اس قدر ہیں کہ اسے انگریز جج کہیں اور اعتراف کر لیں کہ ایسا شخص انگریز تو ہو سکتا ہے‘ پاکستانی یا مسلمان نہیں ہو سکتا!! یہ بات عاصمہ جہانگیر جیسی متنازع شخصیت کے منہ سے نکلے تب بھی سب پی جائیں۔! اس لیے کہ وہ ناقابل تردید سچائی ہے جو ہم اپنے دل کے نہاں خانے میں تسلیم کر رہے ہیں!
پستی‘ دیدہ دلیری‘ خیانت اورمُردنی کی اس سے زیادہ ہولناک مثال کیا ہو سکتا ہے کہ ملک کے بلند ترین ادارے میں دن دہاڑے سرقہ ہوتا ہے‘ دھاندلی ہوتی ہے اور اس بلند ترین ادارے کے خلاف ایک متاثرہ بچّے کو ‘ جی ہاں! بچّے کو‘ عدالت جانا پڑتا ہے۔ گیارہ سالہ طالب علم نے اپنے وکیل کے ذریعے دارالحکومت کی ہائی کورٹ میں
 درخواست دائر کی ہے کہ ایوان صدر میں یوم قائد کی تقریب کے لیے اس کی تقریر کا مسودہ چرا کر کسی اور طالب علم کو دے دیا گیا۔ تقریب کی ریہرسل کے لیے مجوزہ شیڈول کے مطابق جب وہ 22دسمبر کو ایوان صدر پہنچا تو ایوان صدر کی ایڈیشنل سیکرٹری نے یہ کہتے ہوئے تقریر سے روک دیا کہ سیکرٹری صاحب کا حکم ہے کہ یوم قائد پر فلاں لڑکی تقریر کرے گی۔ سہیل حیدر نے اپنی درخواست میں بیان کیا کہ جب انہوں نے اس لڑکی کی تقریر سنی تو وہ ان کا چرایا ہوا سکرپٹ تھا اس گیارہ سالہ بچے نے خود اپنی تقریر کا سکرپٹ تیار کیا۔ پھر یہ سکرپٹ‘ اس کی اجازت کے بغیر کسی اور کو دے دیا گیا۔
عدالت کیا فیصلہ دیتی ہے‘ یہ تو نہیں معلوم لیکن اس ایک مثال ہی سے ہمارے اُس رویے کا سراغ مل جاتا ہے جس کی وجہ سے ہم دنیا میں چوروں‘ اٹھائی گیروں‘ دروغ گوئوں اور بددیانتوں کے گروہ کے طور پر جانے اور مانے جا رہے ہیں! بلند ترین ادارے میں جو کچھ ہو رہا ہے‘ اُس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نیچے کیا کچھ نہیں ہو رہا ہو گا۔ وہ بچہ جس کا سکرپٹ کسی اور کو دے کر‘ اسے تقریر سے روکا گیا‘ زندگی بھر کے لیے ایوانِ صدر سے متنفر ہو گیا۔ وہ اپنے ملک کے مستقبل اور اس ملک میں اپنے مستقبل کے بارے میں کیا جذبات و توقعات رکھے گا! جس لڑکی کو! بیٹھے بٹھائے‘ دوسرے کا تیار کردہ سکرپٹ مل گیا‘ اس میں ’’جواں ہمتی‘‘ اور ’’خود انحصاری‘‘ کے کیسے کیسے ’’ارفع‘‘ حوصلے بیدار ہوں گے!!
اگر اس بچے کی شنوائی ایوان صدر میں ہو جاتی تو اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ عدالت جاتا‘ وکیل کرتا اور مقدمہ دائر کرتا!پھر سوچیے‘ اگر عدالت میں دیا جانے والا بیان سچ ہے کہ یہ سیکرٹری کا حکم تھا تو اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مبینہ مطلب اس کے سوا کیا نکل سکتا ہے کہ یہ ناانصافی‘ بلند ترین ادارے کے بلند ترین‘ اہلکار نے کی جس کے خلاف گیارہ سالہ بچہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوا! یہ صرف ایک مثال ہے جو میڈیا میں آ گئی  ع
قیاس کُن ز گلستانِ من‘ بہارِ مرا
تو پھر ہم بے شک دعویٰ کرتے رہیں کہ ہم اسلام کا قلعہ ہیں‘ یہ ملک ستائیسویں رمضان کی شب (لیلتہ القدر)کو وجود میں آیا تھا ہم نے وائٹ ہائوس سے لے کر لال قلعے تک پرچم لہرانا ہے‘ ہمارے پیغمبر ﷺ کو صادق اور امین کہا جاتا تھا۔ ان سب دعووں کے ساتھ ساتھ‘ اگر کوئی اصول پسند‘ صدق گو‘ غیر جانبدار‘ وقت کا پابند پاکستانی مسلمان نظر پڑ جائے تو ہم اسے انگریز کہیں اور پوری قوم اس حقیقت کو تسلیم بھی کرے! واہ کیا بات ہے ہماری! حالیؔ نے مسدس کے آغاز میں ایک رباعی لکھی تھی۔ یاد آ رہی ہے  

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کر نہ ابھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے

Wednesday, January 04, 2017

ہماری زندگیاں ڈکٹیٹ نہ کیجئے

چرواہا‘ اردگرد سے بے نیاز‘ اپنے پروردگار سے ہم کلام تھا۔
''تو کہاں ہے؟ میرے پاس آ کہ چاکری کروں۔ تیرے سر میں کنگھی کروں۔ تیرے ہاتھ چوموں۔ پائوں ملوں‘ سونے کا وقت آئے تو بستر بچھا دوں۔ اے میرے خدا! میری جان تجھ پر قربان‘ میری آل اولاد اور مال و دولت تجھ پر نثار۔ میں ساری بکریاں تجھ پر قربان کر دوں۔ تو بیمار پڑے تو غم خواری کروں‘‘۔
موسیٰ علیہ السلام نے یہ سب باتیں سنیں تو ناراض ہوئے، فرمایا : کیا کفر بک رہے ہو۔ منہ میں روئی ٹھونسو۔ چرواہا پریشان ہو گیا، کہنے لگا، موسیٰ آپ نے میرا منہ تو سی ہی دیا‘ شرمندگی سے میری جان بھی خاکستر کر دی‘ یہ کہہ کر گڈریے نے کپڑے پھاڑے اور روتا پیٹتا جنگل میں گم ہو گیا۔ اس پر حضرت موسیٰ کو وحی آئی کہ ہمارے بندے کو توُ نے ہم سے جدا کر دیا ؎
تو برائے وصل کردن آمدی
نے برائے فصل کردن آمدی
تُو ملانے کے لیے مبعوث ہوا نہ کہ جدائیاں ڈالنے کے لیے۔ ہم اندر باہر کا سب حال جانتے ہیں۔ پھر حضرت موسیٰ نے اس گڈریے کو ڈھونڈا اور صورتِ حال سے آگاہ فرمایا۔ 
گڈریا خوش قسمت تھا کہ پیغمبر وقت پر وحی اتری اور وہ باعزت بری ہو گیا۔ آج کے زمانے میں ہوتا تو کیا کرتا! وحی تو کسی پر اترنی نہیں! ہاں یہ ممکن ہے کہ تختۂ دار پر لٹکا دیا جاتا یا کسی ''باغیرت‘‘ مجاہد کی گولی کا نشانہ بن جاتا۔
پہلی بار یہ بات کالم نگار نے دو تین برس قبل بیرون ملک سُنی۔ وہ بات نہیں‘ جس کا تذکرہ اوپر ہوا ہے، بلکہ وہ بات جو آگے بیان ہو گی۔ فاروق نصیر کی باتیں سنجیدگی سے کبھی لی ہی نہ تھیں۔ اس لیے جس دن اس نے بڑے فخر سے بتایا کہ کلاس میں اس نے ''سٹینڈ‘‘ لیا کہ وہ GOD کا لفظ استعمال نہیں کرے گا اور صرف اللہ کہے گا تو اس کی بات روا روی میں آئی اور ٹل گئی۔
پھر ای میل ملنا شروع ہو گئیں۔ کچھ قارئین کو کالم نگار کے ایمان کی سلامتی کی فکر تھی۔ ان کا اصرار تھا کہ ''خدا‘‘ کا لفظ استعمال کرنا جائز نہیں! کچھ کو جواب دیا کچھ کو نظرانداز کیا۔
مگر ماتھا اس وقت ٹھنکا جب ایک مقبول خاص و عام مولانا صاحب کو یو ٹیوب پر سُنا۔ بار بار کہہ رہے تھے اور ٹھوک بجا کر کہہ رہے تھے کہ خدا کہنا درست نہیں! صرف اللہ ہی کہا جا سکتا ہے!
گویا ہزار ڈیڑھ ہزار سال کا دینی‘ متصوفانہ اور اخلاقی ادب حضرت کے ایک فرمان سے دریا برد ہو گیا! اقبال کو تو چھوڑیے کے اِس زمانے کے ہیں۔ رومی‘ سعدی‘ ثنائی اور عطار کا کیا کریں گے؟ کیا لاکھوں کروڑوں صفحات پر پھیلے ہوئے الفاظ میں سے خدا کا لفظ جہاں جہاں آیا ہے‘ کاٹ دیں گے؟
اب تو مدارس سے فارسی کو بیک بینی دوگوش نکال باہر کر دیا گیا ہے۔ شاید یہ اہم خبر وہاں پہنچ گئی کہ یہ آتش پرستوں کی زبان ہے۔ بہرطور ہزار سال سے زیادہ فارسی مدارس میں پڑھائی جاتی رہی۔ بوستانِ سعدی اور گلستانِ سعدی اب بھی پڑھائی جاتی ہیں۔ گلستانِ سعدی کا پہلا فقرہ ہی ''غیر اسلامی‘‘ ہے، یعنی ''منّت خدای را عزّ و جل‘‘
بوستان سعدی کا آغاز یوں ہوتا ہے ؎
بہ نام خدا وند جان آفرین
حکیم سخن در زبان آفرین
مثنوی رومی کی جس حکایت سے کالم کا آغاز کیا گیا ہے‘ صرف اسی میں رومی نے خدا کا مقدس لفظ چار بار استعمال کیا ہے۔
سامنے مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم کی مشہور تفسیر ''معارف القرآن‘‘ پڑی ہے۔ صرف ایک جلد اٹھاتا ہوں، یہ تیسری جلد ہے۔ اکتوبر 1981ء کی مطبوعہ ہے۔ یوں ہی ایک صفحہ کھولتا ہوں۔ یہ کون سا صفحہ ہے؟ یہ 103 ہے ''خدائے عزّ و جل‘‘ کا لفظ دو بار استعمال ہوا ہے۔ صفحہ 204 پر لکھا ہے ''خدا نے توبہ قبول کی‘‘۔ بغیر کسی ترتیب کے صفحات الٹتا ہوں۔ 379 صفحہ پر خدا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ 399 پر بھی مفتی صاحب نے یہ ''غیر اسلامی‘‘ نام استعمال کیا ہے۔ حضرت مفتی صاحب دیوبند میں پڑھے‘ وہاں پڑھایا‘ پھر پاکستان کے مفتی اعظم رہے لیکن اصل مسئلہ سے ''بے خبر‘‘ ہی رہے! حیرت ہے کہ سینکڑوں سال گزرے، مگر یہ زندگی اور موت کا ''نازک‘‘ مسئلہ صرف آج کے مولوی صاحبان پر منکشف ہوا ؎
سرِّ خدا کہ عابد و زاہد کسی نہ گفت
در حیرتم کہ بادہ فروش از کجا شنید
عابد و زاہد تو گزر گئے؟ اب بادہ فروش مسائل سمجھائیں گے! 
غور کیجئے‘ ہماری روزمرہ کی گفتگو میں خدا کا پاک نام ہم کتنی بار استعمال کرتے ہیں۔ ان پڑھ سے ان پڑھ شخص کو یہ تو یاد ہی ہے کہ ع
بعد از خدا بزرگ توئی‘ قصّہ مختصر!
یا یہ کہ ؎
خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
اب یہ شعر بھی بدلنا ہو گا ؎
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورتِ ہو خدایا میری
اس پر بھی پابندی لگا دیجیے ع
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ظفر علی خان کا یہ شعر تو لاکھوں لوگوں کو یاد ہو گا ؎
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
سینکڑوں ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ مگر اصل بیماری یہ ہے کہ ایک طبقہ ہماری زندگیوں پر تصرّف چاہتا ہے۔ ہم سانس بھی اس کی مرضی کا لیں۔ لباس بھی اس کی خواہش کا پہنیں۔ اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ اپنے پروردگار کو پکارتے وقت بھی صرف اُس کے محدود علم کا خیال رکھیں۔
حضرت! ہم آپ کے آگے ہاتھ جوڑتے ہیں! خدا کے لیے ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیجیے۔ ہماری زندگیوں میں زہر نہ گھولیے۔ ہمیں ڈکٹیٹ نہ کیجیے۔ 
Non-Issues
 کو ہماری زندگیوں کا مقصد و محور نہ بنائیے۔ ابھی ملائیشیا میں آپ نے فیصلہ کیا کہ اللہ کا لفظ غیر مسلم استعمال نہیں کر سکتے۔ انہیں یہ لفظ استعمال کرنے سے پہلے عہد رسالت میں بھی نہ روکا گیا۔ دیکھیے، سورۃ یونس: 
''تو پوچھ کون روزی دیتا ہے تُم کو آسمان سے اور زمین سے یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور کون تدبیر کرتا ہے کاموں کی سو بول اٹھیں گے کہ اللہ!‘‘
پھر آپ نے بنگلہ دیش میں فتویٰ دیا کہ مسجد میں کرسی کا استعمال جائز نہیں! سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ کی کس مسجد میں کرسیاں نہیں رکھی ہوئیں‘ جدہ کی ایک مسجد میں باقاعدہ صوفے پڑے ہوئے دیکھے۔ ایک مسلمان جو بوڑھا ہے‘ معذور ہے‘ کیا کرے؟ کیا وہ نماز پڑھنا چھوڑ دے اور اس لیے کہ آپ خوش ہو جائیں! آپ بغلیں بجا سکیں کہ ہم ہیں ان کی زندگیوں کے مالک!
اب پاکستان میں آپ یہ نیا مسئلہ کھڑا کر رہے ہیں کہ خدا کا لفظ استعمال نہ کرو! ایک ہزار سال کا دینی ادب جو ایران‘ ترکی‘ وسط ایشیا اور برصغیر میں تخلیق ہوا‘ آپ کی بے دلیل خواہش کی بھینٹ چڑھا کر نذر آتش کر دیں؟ کچھ تو خدا کا خوف کیجیے۔ آپ اس مفلوک الحال بھوکی‘ ننگی‘ کرپشن کی ماری ہوئی قوم سے اس کا خدا بھی چھین لینا چاہتے ہیں۔
پہلے آپ نے فرمایا کہ ٹیلی ویژن حرام ہے۔ جھگڑے ہوئے۔ میاں کے بیوی سے‘ بیوی کے میاں سے‘ اولاد کے والدین سے‘ والدین کے اولاد سے‘ تعلقات خراب ہوئے‘ گھر اجڑے‘ طلاقیں ہوئیں‘ پھر ایک دن ٹیلی ویژن ''مسلمان‘‘ ہو گیا۔ بس ایک خاص طبقے کو پروگرام ملنے کی دیر تھی۔ کبھی کہا گیا کہ میز کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھانا بدعت ہے! یہ کرسی پارلیمنٹ میں بھی جائز ہے‘ وزارت میں بھی روا ہے۔ اسلامک ایڈوائزری کونسل میں بھی ''اسلامی‘‘ ہے۔ صرف مدارس کے طلبہ کے لیے ''غیر اسلامی‘‘ ہے! کیونکہ ان کی ننھی منی معصوم زندگیوں پر آپ کو مکمل اختیار ہے! 
بارش ہو رہی تھی۔ ایک صاحب بھیگتے جا رہے تھے۔ ایک مولانا چھتری لیے اُسی راستے پر گامزن تھے۔ انہوں نے کرم کیا اور چھتری کا ایک حصّہ اُن صاحب کے سر پہ کر دیا۔ ان صاحب نے اِس ''لفٹ‘‘ کا باقاعدہ شکریہ بھی ادا کیا۔ ایک ہفتہ بعد وہ صاحب ایک ریستوران میں اپنے مہمانوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ کہیں سے مولانا نمودار ہوئے اور کہنے لگے‘ جناب اُس دن میں چھتری مہیا نہ کرتا تو آپ بھیگ جاتے۔ اُن صاحب نے پھر شکریہ ادا کیا۔ لیکن اب مولانا کا یہ معمول ہو گیا کہ وہ جہاں کہیں ان صاحب کو دیکھتے‘ احسان جتاتے۔ وہ شخص تنگ آ گیا۔ ایک دن وہ ساحلِ سمندر پر سیر کر رہا تھا۔ مولانا بھی وہیں تھے‘ اس سے پہلے کہ وہ ایک بار پھر جتاتے‘ اس شخص نے کپڑوں سمیت سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ غوطے کھائے‘ سانس بند کر کے پانی کے اندر چلا گیا‘ پھر باہر نکلا اور کہا، حضرت! اِس سے زیادہ تو نہ بھیگتا! 
چنانچہ درخواست ہے کہ آپ اپنی چھتری ہمارے سر سے بے شک ہٹا لیجیے۔ اسلام پر صرف آپ کی اجارہ داری نہیں‘ جنہیں آپ تکبر سے اور حقارت سے دیکھ رہے ہیں‘ وہ بھی خدا ہی کے بندے ہیں اور چار حرف انہوں نے بھی پڑھ رکھے ہیں۔
مگر ٹھہریے! آپ کے پاس تو اپنی چھتری ہی نہیں! یہ چھتری جو آپ نے تان رکھی ہے‘ یہ تو آپ نے خود کہیں سے مانگی ہے!

 

powered by worldwanders.com