Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, August 31, 2023

کب تک ؟ آخر کب تک ؟


فرعون کیا کرتا تھا؟
یہی کہ اس کے سامنے کوئی بات نہیں کر سکتا تھا۔ یہی کہ اس سے کوئی سوال نہیں پوچھا جا سکتا تھا۔ یہی کہ اس کے کہے کو چیلنج کوئی نہیں کر سکتا تھا۔ یہی کہ وہ نوزائیدہ بچے مروا دیتا تھا۔
آپ کا کیا خیال ہے‘ آج کا فرعون کون ہے؟ کون ہے جس کے سامنے کوئی بات نہیں کر سکتا؟ کون ہے جس سے کچھ پوچھا نہیں جا سکتا؟ کون ہے جو بچے تو بچے‘ بڑوں کو بھی مروا رہا ہے؟ یہ فرعون‘ آج کا فرعون‘ کوئی انسان نہیں‘ یہ ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے جو فرعون بنا ہوا ہے! اس کاغذ کے ٹکڑے کے کہے کو بدلا جا سکتا ہے نہ چیلنج کیا جا سکتا ہے! یہ بجلی کا بل ہے! کتنے ہی اس کی وجہ سے خود کُشی کر چکے! کتنے ہی خانماں برباد ہو گئے۔ اس فرعون سے کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ نام نہاد سرکاری ٹیلی ویژن کے نام پر بجلی کے بل میں ہر ماہ‘ ہر گھر سے‘ 35روپے کیوں وصول کیے جا رہے ہیں؟ اس فرعون سے کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ بجلی کا سرکاری ٹی وی سے کون سا جائز یا ناجائز تعلق ہے؟ سرکاری ٹی وی تو دیکھتا ہی کوئی نہیں۔ عمران خان واحد اپوزیشن رہنما تھا جس نے اس جگا ٹیکس کو چیلنج کیا تھا اور سرکاری ٹی وی کو للکارا تھا۔ جسے شک ہو اُس زمانے کی وڈیو دیکھ لے۔ مگر بجلی کا یہ بل‘ یہ فرعون‘ اتنا ظالم اور اس قدر دہشت ناک ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان جیسا بہادر شخص بھی کچھ نہ کر سکا‘ اپنے تین چار سالہ دورِ حکومت میں انہیں اس مسئلے کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ ہوئی۔ رہے باقی سیاستدان تو انہوں نے کبھی اس ظلم کا ذکر تک نہیں کیا۔ اس فرعون سے کون پوچھے کہ نیلم جہلم منصوبے کے نام پر کیوں زبردستی چندہ لیا جا رہا ہے؟ اس کا کوئی حساب کتاب بھی ہے کہ کتنا جمع ہوا‘ کہاں خرچ ہوا؟ سرچارج کے نام پر‘ ایڈجسٹمنٹ کے نام پر‘ ایکسٹرا چارجز کے نام پر‘ کاسٹ چارجنگ کے نام پر‘ ان کے علاوہ بھی کسی نہ کسی نام سے بیسیوں ٹیکس اور محصول لیے جا رہے ہیں! اس فرعون سے کسی چیز کا جواز پوچھا جا سکتا ہے نہ حساب! جس طرح فرعون کے سپاہی تلواریں لے کر لوگوں کے سر قلم کرتے تھے‘ اسی طرح اس موجودہ ظالم کے کارندے آکر بجلی کاٹ جاتے ہیں! دہشت کا یہ عالم ہے کہ لوگ ادھار لے کر‘ بھیک مانگ کر‘ گھر کا سامان بیچ کر بجلی کا بل ادا کر رہے ہیں تاکہ یہ کارندے نہ آن گھُسیں! بربریت کی انتہا یہ ہے کہ ان کارندوں کی ملی بھگت سے اربوں کی جو بجلی چوری ہو رہی ہے‘ اس کی سزا ان کارندوں کو نہیں مل رہی بلکہ اُن صارفین کو دی جا رہی ہے جو بل باقاعدگی سے ادا کررہے ہیں۔ ناجائز‘ غیر منظور شدہ کنکشن ان کارندوں کے ملوث ہوئے بغیر وجود میں آہی نہیں سکتے! فرعونیت کی حد یہ ہے کہ اس محکمے کے افسر اور کارندے بجلی خوب استعمال کرتے ہیں اور مفت استعمال کرتے ہیں۔ یعنی:
وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا
وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے کچے گھروں کو پلٹیں۔ کونوں کھُدروں میں رکھی لالٹینوں کو اٹھائیں‘ انہیں صاف کریں‘ ان کے شیشے چمکائیں‘ ان کی لوؤں کو اونچا کریں اور انہیں جلا کر اپنے کمروں‘ لاؤنجوں اور رسوئیوں میں لٹکا دیں! وقت آگیا ہے کہ کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی دستی پنکھیوں کو پھر سے ڈھونڈیں۔ انہیں جھالروں کے حاشیوں سے آراستہ کریں اور ان سے اپنی گرمی کا علاج کریں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم بان سے بَنی ہوئی کھردری چارپائیاں پھر چھتوں پر چڑھائیں‘ ان پر مچھردانیاں تانیں‘ ان کے اندر سوئیں اور صبح جب بیدار ہوں تو اوس نے چارپائیوں پر بچھی ہوئی دریوں کو کچھ کچھ گیلا کر دیا ہو۔ ہمارے بزرگوں نے یہ سب کچھ کیا تھا۔ ہماری عمر کے لوگوں نے بھی یہ سب کچھ کیا ہے اور دیکھا ہے۔ اُس وقت ہم آئی ایم ایف کے غلام نہیں تھے۔ کسی فرعون میں یہ جرأت نہ تھی کہ ہماری زندگیوں کو جہنم بنائے۔ لالٹینوں کی روشنی میں جیتے تھے۔ ہاتھوں سے پنکھیاں ہلا ہلا کر اپنے آپ کو ہوا پہنچاتے تھے۔ خوش تھے۔ آج ہم اے سی‘ پنکھوں اور برقی قمقموں کے غلام ہیں اور آئی ایم ایف کے آگے ناک رگڑ رہے ہیں۔
ماتم تو یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور ہمارے طاقتور طبقات‘ ہمارے دکھ نہیں سمجھ سکتے۔ اس لیے کہ وہ بجلی کے ضمن میں مفت خورے ہیں۔ جو بجلی وہ استعمال کرتے ہیں اس کی قیمت پِسے ہوئے طبقات ادا کرتے ہیں۔ مغرب نے جب دھمکی دی تھی تو شاہ فیصل بن عبد العزیز نے کہا تھا کہ ہم اونٹوں پر سوار ہو کر اپنے خیموں میں واپس چلے جائیں گے! آج بجلی مفت استعمال کرنے والے طاقتور طبقات آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر ہمیں کچلنے کے درپے ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ لالٹینیں جلا کر اپنے کچے گھروں اور اپنی ہوادار چھتوں کو واپس چلے جائیں۔ ٹی وی نہ دیکھا تو نہیں مریں گے مگر یہ بِل‘ ان بلوں کی فرعونیت اور بربریت ہمیں ضرور مار دے گی۔ ہمارے حکمران اور ہمارے طاقتور طبقات ہمارے ساتھ نہیں! ہمیں جو کچھ کرنا ہو گا‘ ان کے بغیر کرنا ہو گا! 
ظلم در ظلم در ظلم یہ کہ سولر پینل بھی مافیا کے قبضے میں ہے۔ سورج پیدا کرنے والے نے سورج کی شعائیں سب کے لیے عام کی ہیں مگر اس مافیا نے ان کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دی ہیں! یہ ہزاروں کا نہیں لاکھوں کا معاملہ ہے۔ کیا عجب کل اقرا سرچارج اور سرکاری ٹی وی جگا ٹیکس کے ساتھ سولر سرچارج بھی ہمیں اپنے جبڑوں میں لے لے۔ خدا کی قسم ! ان ظالموں کا بس چلے تو آکسیجن پر بھی سرچارج لگا دیں! یہ تو ہوا بھی فروخت کرنے پر تیار ہوں گے۔ کل دھوپ پر بھی ٹیکس لگ سکتا ہے۔ چاندنی پر بھی مکروہ ''ایڈجسٹمنٹ‘‘ نافذ کر سکتے ہیں! یہ بقول حسن نثار اپنے ''بد شکلے اور بے عقلے‘‘ بچوں کی اندرون اور بیرون ملک عیاشیوں کی قیمت چکانے کے لیے غریب بچوں کی ذہانت پر بھی ٹیکس لگا سکتے ہیں۔ یہ کل کو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تمہارے بچے نے ٹاپ کیا ہے اس لیے اتنا ٹیکس مزید دو! اگر آج ہمارا صدر‘ ہمارا وزیراعظم‘ ہمارے گورنر‘ ہمارے وزرائے اعلیٰ‘ ہمارے وزیر بجلی کے بل اسی طرح بھر رہے ہوتے جس طرح عام لوگ بھر رہے ہیں تو عوام کو اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ کاٹنے پر دُکھ نہ ہوتا۔ مگر یہ سب طاقتور اور زورمند افراد‘ یہ سارے صاحبانِ قوت و قدرت‘ ہماری کشتی میں سوار ہی نہیں!
We are not in the same boat! 
ہمارے طبقے الگ الگ ہیں۔ ہماری قسمتیں مختلف ہیں۔ ہم باڑ کے اس طرف ہیں۔ یہ مفت بجلی کھانے والے باڑ کے اُس طرف ہیں۔ ہماری خوشیاں ان کی خوشیاں نہیں اور ہمارے غم بانٹنے کو یہ تیار نہیں! ہم وہ مجبور‘ مظلوم اور مقہور ہیں جو اپنی بجلی کی قیمت بھی ادا کرتے ہیں اور ان طاقتوروں کی بجلی کے دام بھی چکاتے ہیں! تو پھر ہم سب ایکا کیوں نہیں کرتے اور اپنی لالٹینیں‘ دیے اور موم بتیاں جلا کر ان کے پَیروں کے نیچے سے زمین کیوں نہیں سرکاتے! کیا ہم تا ابد اُن کا بوجھ اٹھاتے پھریں گے؟ کیا ہم ہمیشہ ان کی کفالت اور پرورش کرتے رہیں گے؟
آج ایران میں بجلی سستی ہے۔ انڈیا اور بنگلہ دیش میں سستی ہے۔ ازبکستان اور دوسری وسط ایشیائی ریاستوں میں سستی ہے۔ آسودگی کے اس سمندر میں صرف پاکستان ایک ایسا جزیرہ ہے جس میں آدم خور بستے ہیں۔ جہاں عوام خون تھوک رہے ہیں! جہاں چند خاندان پھولوں کی سیج پر رقص کر رہے ہیں اور عوام کانٹوں پر چل رہے ہیں! کب تک؟ آخر کب تک؟

Tuesday, August 29, 2023


مہنگائی کا ہولناک طوفان ہے۔ بجلی کے بلوں نے لوگوں کو سول نافرمانی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ دہشت گردی گردن پر سوار ہے۔ دوسرے ملکوں کو ہجرتیں زوروں پر ہیں۔ بھارت چاند پر اُتر چکا! مگر ان میں سے کوئی مسئلہ بھی اہم نہیں! 

اہم مسئلہ‘ نازک ترین مسئلہ‘ جو اس وقت درپیش ہے‘ میاں نواز شریف صاحب کی واپسی ہے۔ میاں صاحب ستمبر میں واپس آئیں گے۔ میاں صاحب اکتوبر میں واپس آئیں گے۔ شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں میاں صاحب کی واپسی کا جاوید لطیف سے پوچھ لیں۔ عطا تارڑ فرماتے ہیں نواز شریف کی واپسی کی حتمی تاریخ کا اعلان قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا! شہباز شریف اسی دن فرماتے ہیں میاں صاحب اکتوبر میں آئیں گے۔ کیا جدید جمہوری تاریخ میں اس نزاکت کی‘ اس نخرے کی‘ اس مذاق کی کوئی مثال ہے؟ چلئے‘ عمران خان کے عہدِ اقتدار میں تو دشمنی کا خطرہ تھا۔ جب آپ کا سگا بھائی حکمرانِ اعلیٰ تھا تو تب کیا مسئلہ تھا؟ اب نگران حکومت کی آپ سے کیا دشمنی ہے؟
کوئی مانے یا نہ مانے‘ بے شک کسی کو بُرا لگے:
بارہا گفتہ ام و بارِ دگر می گویم 
پہلے بھی کہا ہے‘ میاں صاحب لندن کی طربناک زندگی نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ دعویٰ ہے اور اس دعوے کی دلیل موجود ہے! جب میاں صاحب مقتدر تھے تو کیا ہر عید لندن میں نہیں مناتے تھے؟ آپ کا کیا خیال ہے‘ تازہ ترین یعنی آخری دورِ حکمرانی میں انہوں نے لندن کے کتنے دورے کیے؟ جون 2013ء سے لے کر فروری 2016ء تک‘ یعنی دو سال آٹھ مہینوں میں میاں صاحب نے لندن کے سترہ دورے کیے! یعنی اوسطاً ہر پونے دو ماہ بعد ایک ٹرپ لندن کا!! اس عرصے میں وہ قومی اسمبلی کتنی بار تشریف لائے؟ سینیٹ کو کتنی بار شرف بخشا؟ کابینہ کے کتنے اجلاس منعقد کیے؟ سچ یہ ہے کہ وہ ایک مخصوص طرزِ زندگی‘ ایک خاص معیارِ زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں! ایون فیلڈ کے اپارٹمنٹ نما محلات‘ ہائیڈ پارک‘ صاحبزادوں کے شاہانہ دفاتر‘ لندن کے شاپنگ سنٹر‘ لندن کے ریستوران! پاکستان میں جتنی بھی تعیشانہ زندگی ہو‘ لندن کے اس بلند معیار کا مقابلہ تو نہیں کر سکتی! پھر معاملے کو ایک اور زاویے سے دیکھیں۔ یہاں کی مہنگائی‘ یہاں کے بجلی کے بل‘ یہاں کی ٹریفک‘ یہاں کی پانی کی کمی‘ پاکستانی عوام کی مصیبتوں بھری زندگی‘ اس سب کچھ کا احساس لندن میں رہ کر کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ لطیفہ شاید عطا الحق قاسمی صاحب نے لکھا تھا کہ ایک ہوائی جہاز‘ دورانِ پرواز ہچکولے کھا رہا تھا۔ آثار خوف زدہ کرنے والے تھے۔ مسافر چیخ رہے تھے۔ ڈر تھا کہ بس اب جہاز گرا۔ اچانک مائیک سے آواز آئی۔ عزیز مسافرو! گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ پرواز کو کوئی خطرہ نہیں۔ اگر آپ نیچے دیکھیں تو آپ کو خوبصورت نیلا سمندر دکھائی دے گا۔ اس میں ایک دیدہ زیب کشتی چل رہی ہے۔ ہم اسی کشتی سے بول رہے ہیں! حافظ شیرازی کا یہ شعر تو ضرب المثل ہے۔
شبِ تاریک و بیمِ موج و گردابی چنین ہائل 
کجا دانند حالِ ما سبکسارانِ ساحل ہا 
ساحلوں پر مزے لُوٹنے والوں کو کیا خبر کہ کالی رات‘ بھنور اور موجوں کے درمیان انسان کی کیا حالت ہوتی ہے۔
آخر عمران خان کی بے شمار غلطیوں کے باوجود آج بھی پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد عمران خان کا ساتھ کیوں دے رہی ہے؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور اشد ضرورت ہے۔ عمران خان نے پنجاب کو تین خاندانوں کے سپرد کر دیا۔ گجر فیملی‘ مانیکا فیملی اور یادش بخیر بزدار صاحب! پہلی بار سول سروس کے باوقار اور باعزت مناصب فروخت ہوئے۔ یہ سب کچھ عمران خان کے علم میں تھا۔ اس نے کاروبارِ مملکت توہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی کو سونپ دیا۔ منتقم پرستی کی انتہا نے اسے نارمل رہنے ہی نہ دیا! اس کے باوجود لوگ اس کے ساتھ ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ لوگ ان دو خاندانوں سے عاجز آ چکے ہیں۔ آخر زرداریوں اور شریفوں کا لائف سٹائل قلاش اور مقروض پاکستان سے کیا مناسبت رکھتا ہے؟ زرداری صاحب دبئی جاتے ہیں تو سپیشل جہاز پر جاتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ ملے جو عمران خان کو ناپسند کرتے ہیں مگر وہ ان دو خاندانوں کو قبول نہیں کر سکتے۔ جب بھی غلامانہ ذہنیت اعلان کرتی ہے کہ میاں صاحب چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے تو بخدا مسلم لیگ نون کے ووٹ پہلے سے کم ہو جاتے ہیں! جب بھی زرداری صاحب کہتے ہیں کہ وہ بلاول کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں‘ لوگ دانتوں میں انگلیاں داب لیتے ہیں! کوئی ان دو خاندانوں کو باور کرائے کہ خدا اور رسول کے لیے اپنے خونی رشتہ داروں کے دائرے سے باہر نکلیں۔ رضا ربانی یا قمر زمان کائرہ کیوں نہیں وزیراعظم ہو سکتے؟ شیری رحمان میں کیا کمی ہے؟ پنجاب کی چیف منسٹری خاندان سے باہر کیوں نہیں نکل سکتی؟ سعد رفیق‘ احسن اقبال اور خواجہ آصف وزارتِ عظمیٰ کے اہل کیوں نہیں؟ ان حضرات کے بال دھوپ میں تو سفید نہیں ہوئے۔ انہوں نے بھی جیلیں کاٹی ہیں۔ ان کا بھی سیاست میں تین تین چار چار عشروں کا تجربہ ہے! یہ بات پتھر پر لکیر ہے کہ جب تک یہ دو خاندان اقتدار کے طلبگار رہیں گے یا اقتدار پر متمکن رہیں گے‘ عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ تو ہو سکتا ہے‘ کمی نہیں ہو گی! میرے مستقل قارئین کو معلوم ہے کہ میں 2018ء سے پہلے کی حکومتوں کا ناقد تھا۔ ان حکومتوں سے مایوس ہو کر‘ کروڑوں دوسرے لوگوں کی طرح‘ عمران خان کی طرف لپکا۔ پہلی بار ووٹ دیا اور عمران خان کے امیدوار کو دیا۔ مگر عمران خان نے جب پنجاب تین خاندانوں کے سپرد کر دیا‘ سالہا سال کے آزمائے ہوئے خود غرض سیاستدانوں کو اپنے ساتھ ملا لیا‘ جنہیں عمران خود اپنی زبان سے پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کا لقب دیتا تھا‘ انہی کو ساتھ کھڑا کر لیا تو تحریک انصاف کی مخالفت ناگزیر ہو گئی؟ ہم جیسے لوگ اب کیا کریں! پہلے دو جماعتوں کو ووٹ نہیں دیتے تھے! اب تین کو نہیں دیں گے!!!
یہ سطور لکھ رہا تھا کہ ابھی ابھی ایک عزیز دوست کا‘ جو بہت بڑے منصب سے ریٹائر ہوئے‘ فون آیا۔ انہوں نے ایک عجیب و غریب مطالبہ کر دیا۔ ایسا مطالبہ زندگی میں کم از کم میں نے پہلے نہیں سنا۔ کہنے لگے ''یار! اے جی پی آر سے معلوم کر دو کہ میرے بعد میری اہلیہ کو فیملی پنشن کتنی ملے گی؟‘‘ میں دم بخود رہ گیا۔ پھر کہا کہ اللہ آپ کو صحت کے ساتھ لمبی عمر دے‘ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں! کہنے لگے: یار! جانا تو ہے ہی! تو معلوم کرنے میں کیا مضائقہ ہے؟ میں اس وقت سے سوچ رہا ہوں ہم میں سے کتنے ہیں جو سوچتے ہیں کہ جانا تو ہے! زرق برق زندگی کہاں سوچنے دیتی ہے! کون سبق سیکھتا ہے کہ طلسماتی محلات میں زندگی گزارنے والوں کو کفن ایدھی کا نصیب ہوتا ہے! وہ بھی خوش قسمتی ہے کہ نصیب تو ہو جاتا ہے! یہاں تو کتنے ہی بادشاہ‘ کتنے ہی کج کلاہ بے گورو کفن گئے! کون سمجھائے اور کون سمجھے! اچانک صادقین یاد آتا ہے۔ آدھی رات ایک طرف ہے اور آدھی دوسری طرف! بالائی منزل پر جاتا ہوں۔ لائبریری سے صادقین کی رباعیات نکالتا ہوں! دوسرے صفحے پر خریداری کی تاریخ درج ہے‘ ستمبر 1973ء۔ یہ طباعت دوم ہے‘ ستمبر 1971ء۔ کتابت اور مصوری صادقین کی اپنی ہے۔ لرزتے ہونٹوں سے اس کی رباعی پڑھتا ہوں 
شہزادی جو کل کرتی چھنا چھن نکلی 
شاہوں میں رقابت ہوئی‘ اَن بن نکلی 
آج اس کی ہی کھوپڑی میں انڈے دے کر 
اک آنکھ کے دائرے سے ناگن نکلی

Monday, August 28, 2023

کیوں‘‘کا استعمال سیکھئے

ذرا مارکیٹ جائیے اور پالک اور سبز دھنیا لا دیجیے۔
میں نے بیگم کو نہایت معقول تجویز پیش کی کہ ڈرائیور کے ساتھ جا کر خود لے آئیں اور پھر مجھے اچھی اور خراب پالک کی پہچان بھی تو نہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ ڈرائیور کو خود میں نے ہی چھٹی دی ہے کہ اس کے والد کی آج برسی ہے۔ میں اُس وقت اپنے آئی پیڈ پر ریسلنگ دیکھ رہا تھا۔ ( ہاں یہ شوق بھی پالا ہوا ہے) جندر محل اور اے جے سٹائل کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ جنوبی ایشیا کی عزت کا سوال تھا۔ جندر محل کا اصل نام یوراج سنگھ ہے۔ پیدائش کینیڈا کی ہے مگر ہے تو برصغیر نژاد ! جبکہ اے جے سٹائل خالص امریکی ہے۔
پالک کی ایک گڈی اسّی روپے کی تھی۔ سبزی فروش نے سبز دھنیا دیا تو میں نے کہا کہ یار! دھنیاتو ساتھ مفت ملتا تھا۔ کہنے لگا: سر! کس زمانے کی بات کر رہے ہیں؟ یہ چالیس روپے کا ہے! بالکل ذرا سا دھنیا تھا! دل میں ایک ہُوک سی اٹھی! لڑکپن یاد آگیا۔ پنڈی گھیب میں ایک بڑا سا احاطہ تھا جو سبزی منڈی کا کام کرتا تھا۔ مقامی زبان میں اُسے '' ملیاریاں نی کھاریاں‘‘ کہتے تھے۔ ملیار ( اس کی مؤنث ملیارن) ہمارے علاقے میں سبزی اگانے والے اور سبزی بیچنے والے کو کہتے ہیں!کھاری سرکنڈے سے بنی ہوئی بڑی سی گول ٹوکری کو کہتے ہیں۔ '' ملیاراں نی کھاریاں‘‘ یعنی وہ جگہ جہاں ملیار بڑی بڑی ٹوکریوں میں سبزیاں رکھ کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ اُس وقت ہر سبزی خریدنے والے کو سبز دھنیا اور ہری مرچیں ساتھ مفت ملتی تھیں! کنوؤں کے پانی سے اُگی ہوئی پنڈی گھیب کی اس سبزی کا اپنا ہی مزا تھا۔ مٹھی بھر سبز دھنیے کے لیے چالیس روپے دیتے وقت میں کیا سوچ رہا تھا‘ سبزی فروش کو اس کا بالکل اندازہ نہیں تھا! 
بیگم صاحبہ نے سبزی کے علاوہ'' سوموجل‘‘ ٹیوب کے لیے بھی کہا تھا۔ کیمسٹ سے قیمت پوچھی تو اس نے نوّے روپے بتائی۔ پھر اس نے کمپیوٹر سے رسید نکالی اور مجھے دے کر بتایا کہ یہ رسید کاؤنٹر پر لے جائیے‘ ٹیوب وہاں پہنچ رہی ہے۔ رسید کو دیکھا تو اس پر قیمت اٹھاسی روپے درج تھی۔ پاکستان میں اب تاجروں اور دکانداروں کے لیے دو تین یا پانچ روپوں کی کوئی اہمیت نہیں بشرطیکہ یہ دو تین یا پانچ روپے گاہک کو دینے ہوں۔گاہک سے دوتین روپے کیا‘ یہ حضرات ایک پیسہ بھی نہیں چھوڑتے۔ ہاں اگر آپ ادائیگی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کر رہے ہیں تو پھر دکاندار آپ کے یہ دو تین یا پانچ دس روپے نہیں مار سکتا۔ میں نے کاؤنٹر والے سے ٹیوب لی اور اسے سو کا نوٹ دیا۔ اس نے دس روپے واپس کیے۔ میں نے مسکراتے ہوئے اسے یاد دلایا کہ اس نے دو روپے مجھے اور دینے ہیں۔ ساتھ ایک صاحب کھڑے تھے۔ چوڑے چہرے پر چھوٹی چھوٹی داڑھی جال کی طرح بہت سے علاقے پر پھیلی تھی۔ مجھے کہنے لگے: ارے صاحب دو روپے چھوڑ ہی دیجیے۔ میں نے ان سے پوچھا: کیوں؟ اس پر وہ خاموش رہے۔دوسروں کے معاملات میں چمچہ مارنا بھی ہمارے کلچر کا عجیب و غریب حصہ ہے۔ کاؤنٹر والے نے میری طرف دیکھا۔ اس دیکھنے میں تھوڑا سا عنصر غصے کا بھی تھا۔پھر اس نے زیادہ غصے سے مجھے دس روپے کا نوٹ دیا اور تلخ لہجے میں بتایا کہ دو روپے نہیں ہیں! میں اسی سٹور کے گراؤنڈ فلور پر آیا۔ وہاں کے کاؤنٹر والے سے دس کے نوٹ کے بدلے میں دو دو روپے کے سکے لیے۔ پھر بالائی منزل پر جا کر آٹھ روپے واپس کیے۔ یہ تجربہ اس کے لیے شاید نیا تھا۔ اب اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ کہنے لگا: سر رہنے دیتے۔ میں نے پوچھا :کیوں؟ اس پر وہ مزید مسکرایا۔ یہ جو '' کیوں‘‘ ہے یہ بھی بہت مفید اوزار ہے! اس کا دروازہ منطق کی طرف کھلتا ہے اور اکثر و بیشتر مخاطب کو خاموش کرا دیتا ہے۔ اس ''کیوں‘‘ کا استعمال میں نے ایک امریکی بڑھیا سے سیکھا تھا۔ یہ 2005ء کی بات ہے اور واقعہ امریکی ریاست مِنی سوٹا کے ایک قصبے راچسٹر کے مشہور زمانہ میو کلینک کا ہے جہاں میری پہلی Grandchild زینب کی ولادت تھی اور ہم اس کے استقبال کے لیے وہاں موجود تھے۔ انگریزی میں خوبیاں بھی ہیں۔ آخر سانپ اور بچھو کے بھی تو فوائد ہیں۔ اگر آپ'' گرینڈ چائلڈ‘‘ کہتے ہیں تو اس سے مراد پوتا پوتی نواسی نواسا کوئی بھی ہو سکتا ہے جبکہ اردو ( اور پنجابی ) میں ایسا جامع لفظ مفقود ہے۔ہسپتال کے اندر ہی پہلی منزل پر بہت بڑا سپر سٹور تھا۔میں کچھ خرید کر وہاں سے نکل رہا تھا کہ ایک سفید فام بوڑھی عورت کو دیکھا جو خریداری سے لبا لب بھری‘ بھاری سی‘ ٹرالی کو دھکیلے جا رہی تھی! فی الواقع وہ بہت بوڑھی تھی۔ یوں تو زرد فاموں کی طرح سفید فاموں کی عمر کا بھی پتہ نہیں چلتا مگر وہ یقینا نوّے سے اوپر کی ہو گی۔ میرے قریب سے گزری تو میں نے اسے کہا: کیا میں آپ کی مدد کروں ؟ بڑھیا نے ٹرالی روک دی۔ میری طرف غور سے دیکھا‘ پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا: ''کیوں‘‘ ؟ اس کیوں کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا سوائے جھینپ جانے کے ! جب تک دم میں دم ہے‘ یہ لوگ اپنا کام خود کرتے ہیں۔ چلنے کے قابل نہ رہیں تو ویل چیئر کے ساتھ موٹر لگوا لیتے ہیں اور اپنا سودا سلف خود خریدتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی بیٹے کو یا بیٹی کو یا بیوی کو نہیں کہتا کہ پانی پلا دو یا چائے بنا دو۔مسلسل حرکت میں رہنے کی وجہ سے ان کی صحت بھی اطمینان بخش رہتی ہے۔ چست رہتے ہیں۔ وہاں کے دفتروں میں نائب قاصد ( چپڑاسی) کا وجود ہی نہیں۔ ہم تو ملازم کی اور اپنے بچوں کی بھی‘ زندگیاں اجیرن کر دیتے ہیں۔پانی پلاؤ۔ قمیض استری کر دو‘ چارجر پکڑاؤ‘ اوپر کی منزل سے فلاں کتاب لا دو۔ ریفریجریٹر سے دوا نکال کر دو۔ذرا پنکھا چلاتے جانا۔ پنکھا ذرا بند کردو! میرا فون کمرے میں پڑا ہے وہ لا دو۔ ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول پکڑاؤ۔یوپی ایس کی بیٹری کا پانی چیک کرو! فون گاڑی میں رہ گیا ہے‘ ذرا نکال لاؤ! خود بڑے میاں جہاں بیٹھے ہیں وہاں سے ہِل نہیں رہے۔ زمیں جنبد‘ نہ جنبد گل محمد ! اگر بڑے میاں ( ان میں مَیں خود بھی شامل ہوں) یہ سارے کام خود کریں تو خود کار طریقے سے تھوڑی بہت ورزش ہوتی رہے اور چاق و چوبند رہنے میں مدد ملے !
اوپر میو کلینک کا ذکر ہوا ہے جو امریکی ریاست منی سوٹا کے قصبے راچسٹر میں واقع ہے۔ اس کلینک میں ایک بڑی سی مشین دیکھی جس کے بارے میں بتایا گیا کہ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اس پر ہوا تھا۔ اُس وقت یہ مشین منی سوٹا کے بڑے شہر منی ایپلز میں تھی۔ پہلے تین بائی پاس آپریشن منی ایپلز میں ہوئے جو ناکام ٹھہرے۔ تینوں مریض بچ نہ سکے۔ یہ 1952ء اور 1954ء کے درمیان کا زمانہ تھا۔اس کے بعد یہ مشین راچسٹر میں واقع میو کلینک نے حاصل کر لی۔ میو کلینک نے اس پر آٹھ بائی پاس آپریشن کیے جن میں سے پانچ کامیاب ہوئے۔ جنہیں ہم کفار کہتے ہیں ان کے کیا ہی کہنے ! انہی کے طفیل آج پاکستان میں بھی‘ شہر شہر‘ دل کے بائی پاس ہو رہے ہیں ! گردوں کی پیوند کاری ہو رہی ہے۔آنکھوں کی بھی !! میڈیکل کے یہ معجزے ہمارے ڈاکٹر امریکہ‘ یورپ اور آسٹریلیا سے سیکھ کر آ رہے ہیں۔ کوئی بھی عرب‘ ایران‘ شام‘ مصر‘ یا رباط نہیں جاتا! مگر ہم وہ کام کر رہے ہیں جو کفار نہیں کر رہے۔ ہم یہ فیصلے کر رہے ہیں کہ جنتی کون ہے اور جہنمی کون ہے۔ صباحت عاصم واسطی کا شعر یاد آگیا :
دینے لگا ہوں جنت و دوزخ کا حکم بھی 
پروردگار! روک خدا ہو رہا ہوں میں

Thursday, August 24, 2023

مگر مجرم کہاں ہیں؟ کون ہیں؟

اسے کہتے ہیں آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔
پہلے تو جڑانوالہ کی مسیحی برادری پر یہ مصیبت آئی کہ ان کے گھر جلائے گئے‘ ان کی عبادت گاہوں کو برباد کیا گیا‘ انہیں دہشت زدہ اور ہراساں کیا گیا‘ ایک بے کراں ہجوم ان پر چڑھ دوڑا۔ بچوں‘ عورتوں اور بوڑھوں نے رات اور نہ جانے کتنی راتیں‘ کھیتوں میں کھلے آسمان تلے گزاریں! ظلم کی انتہا یہ ہوئی کہ جلانے کے علاوہ لوٹ مار بھی کی گئی۔ میڈیا کے ایک نمائندے کو ایک غمزدہ باپ اپنی بیٹی کی جلی ہوئی کتاب دکھا رہا تھا۔ جہیز جلا دیے گئے‘ کچھ لوٹ لیے گئے۔ دوسری مصیبت یہ اُتری کہ ہر روز انہیں اکٹھا کرکے اُن بڑی‘ معزز اور مقتدر شخصیات کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جو فوٹو گرافروں کے ہمراہ جڑانوالہ کا دورہ کرنے آتی ہیں۔ جیسے گئے زمانوں میں گھوڑوں کے خریدار آتے تھے اور گھوڑوں کو نمائش کے لیے ان کے سامنے پیش کیا جاتا تھا! جڑانوالہ کے مصیبت زدگان دل میں کیا کہتے ہوں گے!
غرض دو گونہ عذاب است جانِ مجنوں را 
بلائے صحبتِ لیلیٰ و فرقتِ لیلیٰ
مجنوں کی جان پر دہری مصیبت ہے۔ لیلیٰ کے وصال کی مصیبت الگ اور لیلیٰ کے فراق کا عذاب الگ! 
ہر روز کوئی نہ کوئی بڑی شخصیت ان دل زدگاں کو ملنے اور ہمدردی کا اظہار کرنے آتی ہے۔ نامزد چیف جسٹس تشریف لائے۔ پھر والی ٔ پنجاب نے دورہ کیا۔ کابینہ کا اجلاس متاثرہ چرچ میں منعقد ہوا۔ پھر صوبے کے کوتوالِ اعلیٰ کا دورہ ہوا۔ پھر وزیراعظم کی تشریف آوری ہوئی۔ اب خبر آئی ہے کہ سراج الحق صاحب وہاں گئے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ ہر روز ان بڑے لوگوں کی تصویریں چھپتی ہیں۔
یہ کوئی نیا منظر نہیں! ہر بار یہی ہوتا ہے۔ روک تھام کا بندوبست کوئی نہیں۔ جب سانحہ رونما ہو جاتا ہے اس کے بعد ساری ریاستی اور حکومتی مشینری حرکت میں آجاتی ہے۔ یہ حرکت کوئی معمولی حرکت نہیں ہوتی! زبردست ہوتی ہے۔ وہ جو سبط علی صبا نے کہا تھا: 
دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی 
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے 
جلے ہوئے گھروں‘ گری ہوئی دیواروں‘ ٹوٹے ہوئے دروازوں اور خاکستر شدہ بستوں کے درمیان معززین کی تشریف آوری اس قدر ہوئی اور فوٹو گرافروں اور پروٹوکول والوں کی بھاگ دوڑ اتنی زیادہ ہوئی کہ صحنوں میں رستے بن گئے۔ ہر بار یہی ہوتا ہے۔ ہر بار ہم سنتے ہیں کہ حملہ کرنے والوں کو کٹہرے میں لائیں گے۔ دوبارہ ایسا واقعہ رونما نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ تشدد اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ریاست اپنی اقلیتوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہو گی۔ اگر کسی شر پسند نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو اسے نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا وغیرہ۔ کچھ عرصہ گزرتا ہے۔ پھر یہ فلم دوبارہ سکرین پر نمودار ہوتی ہے۔ پھر کوئی نیا سیالکوٹ‘ کوئی نیا گوجرہ‘ کوئی نئی جوزف کالونی کوئی نیا جڑانوالہ ظہور پذیر ہوتا ہے۔ پھر بڑے لوگوں کے دورے۔ پھر فوٹوگرافروں کی بھاگ دوڑ۔ پھر وعدے‘ دعوے‘ تسلیاں! واقعات کا لامتناہی سلسلہ! یہی ہوتا آیا ہے۔ یہی ہوتا رہے گا! 
ان ساری قیامت خیز سرگرمیوں کے باوجود مجرموں کا کوئی ذکر نہیں! ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آج جڑانوالہ کے مجرموں کے نام بچے بچے کو یاد ہو چکے ہوتے! ان کی اس قدر تشہیر کی جاتی اور ان کی تصویریں الیکٹرانک میڈیا پر اس قدر اچھالی جاتیں کہ ان کی زندگیاں اجیرن ہو جاتیں اور ان کی نسلوں میں سے بھی کوئی ایسی حرکت کرنے کی جرأت نہ کرتا! وہ کون ہے جس نے لاؤڈ سپیکر پر لوگوں کو مشتعل کیا تھا؟ اس کا کیا نام ہے؟ مگر اس سارے قصے میں اگر کسی کا ذکر نہیں تو مجرموں کا ذکر نہیں۔ سیالکوٹ میں سری لنکا والے فیکٹری منیجر کے ساتھ وحشیانہ درندگی برتی گئی تھی‘ کیا آپ کو وہاں کے دو تین بڑے اور اصل مجرموں کے نام یاد ہیں؟ کیا آپ کو معلوم ہے انہیں کیا سزا دی گئی؟ کوئی نہیں جانتا! جانے گا بھی نہیں! مجرموں کو نشانِ عبرت بنانا ہمارے سسٹم کی‘ ہماری ریاست کی‘ ہماری حکومتوں کی ترجیحات ہی میں نہیں! اگر ہم یہ کہیں کہ مجرموں کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی تو ہم حق بجانب ہوں گے۔ سیالکوٹ والے مجرموں کو کیا سزا دی گئی؟ حافظ طاہر اشرفی صاحب کا یہ بیان ایک بار پھر نقل کرنا پڑ رہا ہے۔ اس بیان میں ہمارا سارا سسٹم کوزے میں دریا کی طرح بند ہو گیا ہے۔''جڑانوالہ واقعے کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی خواہش تو ہے لیکن مجھے لگتا نہیں ہے۔ پولیس مجرموں کو گرفتار کر لے گی‘ بڑا اچھا کیس بھی بنا لے گی‘ عدلیہ سے فیصلے کون کرائے گا؟ لاہور میں پوری جوزف کالونی جلی تھی اور جلانے والوں کو کہا گیا کہ گھر جائیے۔ اور جس مسیحی بچے کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا وہ سات سال بعد بری کیا‘‘۔
دنیا میں جرم سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں۔ پہلا طریقہ پیش بندی کا ہے یعنی Preventive حفظِ ما تقدم۔ روک تھام۔ نقصان ہونے سے پہلے اس کے آگے بند باندھ دینا۔ اس طریقے کی تابناک مثال سنگاپور ہے۔ سنگاپور میں لائسنس کا اور اسلحہ کا حصول اتنا مشکل ہے کہ لوگ اس شیطان کی آنت جتنے لمبے چکر میں پڑنا ہی نہیں چاہتے۔ اور اگر یہ پہاڑ جتنی Formalities طے کر کے لائسنس مل بھی گیا تو یہ صرف ایک سال کے لیے ہوگا۔ اگلے سال تمام مراحل سے دوبارہ گزرنا پڑے گا۔ گَن حاصل کرنے کے لیے لازم ہے کہ آپ کسی گن کلب کے ممبر بنیں۔ شوٹنگ کی مشق کے بعد گن کلب ہی میں رہے گی۔ گھر میں اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں۔ اس پر مستزاد‘ کمال کا قانون یہ ہے کہ سنگا پور میں اگر کسی نے اسلحہ سے فائر کیا‘ اس فائر سے کوئی قتل ہوا نہ زخمی‘ مگر اس کے باوجود فائر کرنے والے کو سزائے موت دی جائے گی۔ امریکیوں نے اس ''ظالمانہ‘‘ قانون پر اعتراض کیا تو سنگاپور کے معمار‘ عظیم انسان‘ لی کوان یو نے جواب دیا کہ جس مجرم کو قتل کرنے کی سزا آپ قتل کے بعد دیتے ہیں‘ ہم اسے قتل کرنے سے پہلے ہی دے دیتے ہیں۔ جرم کے انسداد کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مجرم کو ہر حال میں پکڑا جائے اور سزا دی جائے۔ کسی صورت نہ چھوڑا جائے۔ اس کی سب سے بڑی مثال امریکہ ہے۔ امریکہ میں جب تک مجرم پکڑا نہیں جاتا‘ کیس کی فائل بند نہیں ہوتی۔ دس دس‘ پندرہ پندرہ سال کے بعد بھی مجرم پکڑے گئے۔ سیریل قاتلوں کو پکڑنے کے ضمن میں مشہورِ زمانہ ''پروفائل تھیوری‘‘ امریکی پولیس ہی نے ایجاد کی۔ دبئی بھی اس حوالے سے ایک کامیاب ملک ہے جس میں جرم سرزد کرنے والے کا بچ نکلنا محال ہے۔ ہماری بدقسمتی دیکھیے کہ یہ دونوں طریقے ہمارے ہاں مکمل طور پر مفقود ہیں! جرم کی پیش بندی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ جو کچھ جڑانوالہ میں ہوا‘ آخری بار نہیں ہوا۔ ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ رہی سزا تو وہ بھی کہاں ملتی ہے! کیا سیالکوٹ کے مجرموں کو پھانسی دی گئی؟ آخر جڑانوالہ کے مجرموں کے نام اخفا میں کیوں رکھے جا رہے ہیں؟ جو کچھ حافظ طاہر اشرفی صاحب نے کہا ہے‘ متعلقہ ادارے اس کا جواب کیوں نہیں دے رہے؟ جس نظامِ انصاف میں جیل میں مر جانے والے کو اس کی موت کے بعد بے گناہ قرار دیا جائے‘ اس نظام سے سیالکوٹ اور جڑانوالہ کے مجرموں کو سزا دینے کی امید ہی سادہ لوحی ہے۔
اور آخری بات! یہ اقلیت کیا چیز ہے؟ ایک پاکستانی کے گلے میں اقلیت کا بورڈ کیوں لٹکایا جاتا ہے؟ مسیحی پاکستانیوں اور دیگر غیرمسلم پاکستانیوں کو اقلیت کیوں کہا جاتا ہے؟ کیا امریکہ‘ برطانیہ‘ ناروے‘ سپین‘ آسٹریلیا اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں بسنے والے پاکستانیوں کو اقلیت کہا جاتا ہے؟ اگر نہیں‘ تو ہمیں شرم کب آئے گی؟؟

Tuesday, August 22, 2023

سَر جی ! گَل ای کوئی نئیں


سیموئل کی پہلی ناکامی کا احوال قارئین میرے پندرہ اگست کے کالم میں پڑھ چکے ہیں۔ جن احباب کی نظر سے یہ تحریر نہیں گزری ان کی اطلاع کے لیے مختصراً عرض ہے کہ سیموئل میرا ذاتی معاون ہے اور حیران کن صلاحیتوں کا مالک ہے۔ گھر کی مرمت سے لے کر‘ کپڑے استری کرنے تک اور جنات سے نمٹنے سے لے کر قسمت کا حال بتانے تک ہر کام کر سکتا ہے۔ ایک برخوردار جو کچھ عرصہ میری گاڑی کا کوچوان رہا‘ اچانک پریشان دکھائی دینے لگا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس کی بیوی پر کسی جن کا قبضہ ہے۔ اس جن کی وجہ سے وہ اپنے میاں سے بدسلوکی کرتی ہے‘ میاں کی ماں کو گھر سے نکالنا چاہتی ہے اور کہتی ہے کہ اگر ایسا نہ کیا تو جن بچوں کو نقصان پہنچائے گا۔ یہ کیس سیموئل کو دیا گیا۔ اس نے عملیات اور مراقبے کے بعد یہ تشخیص کی کہ اصل میں جنات کا سایہ کوچوان کی ساس پر ہے۔ وہاں سے یہ سایہ سفر کرتے کرتے اس کی بیٹی‘ یعنی کوچوان کی بیوی پر پڑ گیا۔ علاج سیموئل نے یہ تجویز کیا کہ کوچوان کی ساس کو سات راتیں اندھیرے قبرستان میں گزارنا پڑیں گی اور سات دن صرف مسور کی دال اور ایک چپاتی پر گزارہ کرنا ہوگا۔ چائے اس اثنا میں منع ہو گی۔ جیسے ہی کوچوان کی بیوی کو معلوم ہوا کہ اس کی ماں کے لیے یہ علاج تجویز ہوا ہے‘ وہ فوراً تندرست ہو گئی۔ اب اس نے اپنی ساس کو اپنے پاس ہی رکھا ہوا ہے۔
پہلی ناکامی سیموئل کی یہ تھی کہ میں نے اسے کہا تھا کہ کسی طرح مجھے نگران وزیر اعظم لگوائے۔ یہ کام اس کی محیّر العقول صلاحیتوں کے سامنے کچھ بھی نہ تھا۔ کام تقریباً ہو بھی چکا تھا مگر یقینا قدرت نے مجھ سے کوئی کام اس سے بھی بڑا لینا ہو گا اس لیے سیموئل ناکام ہو گیا۔ ویسے عام طور پر ایسے ہوتا نہیں!
جلد ہی نگران کابینہ کی تشکیل کا مرحلہ آگیا۔ مجھے احساس ہوا کہ اصل کام تو وزرا کرتے ہیں۔ وزیراعظم تو صرف نگرانی کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مجھے نگران وزیر بننا چاہیے۔ میں نے سیموئل کو طلب کیا۔ وہ میرے گھر کی چھت کی مرمت کروانے کے بعد‘ میرے ہی ایک کیس کے سلسلے میں چیف کمشنر صاحب کے پاس گیا ہوا تھا۔ ( اسے سینئر حکام کے ساتھ بات کرنے کا ڈھنگ خوب آتا ہے!) ادھر میں اُس کا بے تابی سے انتظار کر رہا تھا‘ اُدھر چیف کمشنر صاحب اُس سے اپنے محکمہ جاتی مسائل ڈسکس کرنے لگ پڑے۔ وہ تو اسے ایک بار ترقیاتی ادارے کا ممبر (پلاننگ) تعینات کرنا چاہتے تھے مگر المیہ یہ ہوا کہ سیموئل کے پاس ڈگری صرف پانچ جماعتوں کی تھی۔ افسوس! ایک جوہرِقابل کی خدمت سے ملک اور قوم محروم رہ گئے صرف اس لیے کہ اس جینیس کے پاس کاغذ کی ڈگری نہیں تھی! میں نے سیموئل کو ڈانٹا کہ تمہارے پاس بڑی ڈگری کیوں نہیں۔ وہ حسبِ معمول ہنسا اور کہنے لگا: سر جی! شہنشاہ اکبر کے پاس کون سی ڈگری تھی؟ وہ تو پانچ بھی نہیں پڑھا ہوا تھا۔ اور وہ جو محمد تغلق بہت پڑھا لکھا تھا‘ اس کا نام تاریخ دانوں نے ''پڑھا لکھا بے وقوف‘‘ رکھا ہوا ہے! (تاریخ پر سیموئل کی گہری نظر ہے)۔
ہم موضوع سے دور جا رہے ہیں! میں نے اسے کہا: تمہارے لیے اپنی ساحری دکھانے کا ایک اور موقع ہے۔ تم مجھے نگران وزیراعظم نہ بنوا سکے‘ اس میں یقینا قدرت کی مصلحت تھی۔ اب جب نگران وزرا تلاش کیے جا رہے ہیں تو تم مجھے نگران وزیر لگوا دو۔ تم اگر صدقِ دل اور خلوصِ نیت سے کوشش کرو تو یہ کام تمہاری غیر معمولی اور ناقابلِ یقین صلاحیتوں کے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔ سیموئل ہنسا اور کہا: سر جی! گل ای کوئی نئیں! نگران وزیر آپ نہیں بنیں گے تو آخر کون بنے گا! پاکستانیوں ہی نے بننا ہے! اب امریکہ سے تو بندے آنے نہیں!
چار دن گزر گئے۔ پانچویں دن سیموئل آیا تو اس کا چہرا اُترا ہوا تھا۔ آنکھیں سرخ تھیں۔ لگتا تھا وہ رات کو سویا نہیں۔ اس ہنس مُکھ انسان کو اس دگرگوں حالت میں مَیں نے پہلی بار دیکھا۔ کہنے لگا: سر جی آپ کو یاد ہے؟ آج سے بیس سال پہلے میں نے آپ کو کیا مشورہ دیا تھا؟ میں نے کہا: نہیں! مجھے نہیں یاد! سیموئل کا لہجہ انتہائی درد ناک ہو رہا تھا۔ کہنے لگا: آپ بھول گئے۔ میں نے اصرار کیا تھا کہ آپ سارے کام چھوڑ کر اینکر بن جائیے۔ مگر آپ نے میرا مشورہ ہنسی میں اُڑا دیا۔ آپ کا کمنٹ یہ تھا کہ اینکر ہونے کی نسبت لکھنے پڑھنے کا کام زیادہ اہم ہے۔ کمپیئر نگ یا نظامت تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ بات کیا ہے؟ کہنے لگا: نگران وزیر کے لیے انہوں نے جو مختلف معیار رکھے ہیں ان میں سے کسی پر بھی آپ پورے نہیں اُترتے۔ ایک معیار یہ ہے کہ آپ کسی گزشتہ حکومت کا حصہ رہے ہوں اور نکال دیے گئے ہوں۔ ایک معیار یہ ہے کہ آپ کسی گزشتہ حکومت کا حصہ رہے ہوں اور ناکام رہے ہوں۔ ایک معیار یہ ہے کہ آپ اینکر ہوں اور اینکر ہونے کی وجہ سے آپ مشہور ہوں! میں نے اسے تسلی دی کہ وہ اپنی پریشانی دور کرے اور حواس مجتمع کرے! نگران وزیر بننے کے لیے جو معیار فکس کیا گیا ہے اگر میں اس پر پورا نہیں اُتر رہا تو کوئی قیامت نہیں ٹوٹ رہی! میں نے اس کے لیے ٹھنڈا پانی اور پھر چائے منگوائی! کہنے لگا: میں نے اصحابِ قضا و قدر سے باقاعدہ پوچھا کہ ایک مرد یا خاتون اگر اینکر ہونے کی وجہ مشہور ہے اور اگر اس کا چہرا جانا پہچانا ہے تو اس سے یہ نتیجہ کیسے نکلتا ہے کہ وہ وزارت بھی چلا لے گا‘ وہ بیورو کریسی کو بھی سنبھال لے گا اور کارو بارِ مملکت کو بھی سمجھتا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے عوام کو خوش کرنا ہے۔ جن صورتوں سے وہ آشنا ہیں انہیں کابینہ میں دیکھ کر انہیں ایک قسم کا اطمینان ہو گا۔
میں نے سیموئل سے پوچھا کہ کچھ افراد کو ایڈوائزر بھی تو لگایا گیا ہے۔ یہ تقریباً ہر حکومت میں ایڈوائزر رہے ہیں۔ اس پر سیموئل کی پرانی ہنسی لوٹ آئی۔ کہنے لگا: میرا ایک دوست ایسے ہی ایک ایڈوائزر سے ملانے مجھے لے گیا۔ مجھے جہاں بٹھایا گیا وہاں سے میں ایڈوائزر کو دفتر جانے کی تیاری کرتے دیکھ سکتا تھا۔ اس کے تین چار ملازم اسے تیار کر رہے تھے۔ پہلے اسے مصنوعی بازو لگائے گئے۔ پھر ٹانگیں۔ اب یہ نہیں معلوم کہ یہ بازو اور ٹانگیں پلاسٹک کے تھے یا لکڑی کے یا ہارڈ بورڈ کے۔ پھر اس کے دونوں کانوں میں آلہ ہائے سماعت نصب کیے گئے۔ پھر ان کی آنکھوں پر بہت بھاری عینکیں لگائی گئیں۔ پھر یہ سارے ملازم اسے سہارا دے کر گاڑی تک لے گئے۔ میں نے سیموئل کی سرزنش کی کہ اسے اس طرح چھپ کر نہیں دیکھنا چاہیے تھا اور بزرگ خواہ اس صدی کے ہوں یا بیسویں صدی کے یا انیسویں یا اٹھارہویں صدی کے‘ ہم پر ان کا احترام لازم ہے۔ سیموئل خاموشی سے میری بات سنتا رہا۔ جاتے ہوئے کہنے لگا: سر جی! ایک بات ضرور کہوں گا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا میں نے بہت سنجیدگی سے اور تنبیہ کے انداز میں اسے کہا کہ نگران کابینہ کے بارے میں اسے کوئی منفی بات نہیں کرنی چاہیے۔ یہ سب قابل لوگ ہیں۔ ان میں سے کچھ میرے ذاتی دوست بھی ہیں۔ ہمیں ہمیشہ نئے چہروں کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔ ان کی کامرانی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ اگر نگران کابینہ دیانتداری سے ڈِلیور کرتی ہے تو ہمیں اور کیا چاہیے! سیموئل مسکرایا اور اپنا سدا بہار فقرہ ''سر جی گل ای کوئی نئیں‘‘ کہہ کر چلا گیا۔

Monday, August 21, 2023

جڑانوالہ… جڑیں گہری ہیں

یہ قول فیض صاحب سے منسوب ہے۔
وہ اپنے کچھ احباب کے ساتھ بیٹھے تھے۔گفتگو پاکستان کے مستقبل کے بارے میں ہو رہی تھی۔ کسی نے پیشگوئی کی کہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔ کسی نے کہا کہ بدتر ہو جائیں گے۔ کسی نے کہاکہ ملک خدا نخواستہ کئی ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔کسی نے افغانستان کی متوقع جارحیت کے خدشے کا اظہار کیا۔ فیض صاحب نے کہا کہ مجھے جو اندیشہ ہے‘ وہ ان سب پیشگوئیوں سے زیادہ ہولناک ہے اور وہ یہ کہ یہ ملک ایسے ہی چلتا رہے گا! ( واقعے کا مفہوم یہی ہے۔ الفاظ کالم نگار کے ہیں )۔ فیض صاحب کا یہ قول اس لیے یاد آیا کہ جب بھی جڑانوالہ جیسا سانحہ پیش آتا ہے‘ مذہبی عمائدین مذمت کرتے ہیں اور حکومتی عمائدین یقین دلاتے ہیں کہ مجرموں کو کڑی سزائیں دی جائیں گی۔ لیکن ماضی اور حال بتاتے ہیں کہ مستقبل بھی اس ضمن میں ایسا ہی ہو گا۔ 
مسئلہ یہ ہے کہ علما اور سول سوسائٹی تو مذمت کرتے ہیں۔ مولانا تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے مذمت کی ہے۔ اور بجا طور پر کہا ہے کہ اسلام اس بد سلوکی کی اجازت ہر گز نہیں دیتا۔ مگر علما کے پاس‘ نہ ہی سول سوسائٹی کے پاس‘ ایگزیکٹو اتھارٹی ہے۔ اتھارٹی اور عملدرآمد کے اختیارات تو ریاست کے اداروں کے پاس ہیں۔ خاص طور پر پولیس‘ ضلعی انتظامیہ اور عدلیہ کے پاس! جو بات مولانا طاہر اشرفی نے کی ہے وہ قابلِ غور ہے۔ انہوں نے کہا ہے جڑانوالہ واقعے کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی خواہش تو ہے لیکن مجھے لگتا نہیں ہے۔پولیس مجرموں کو گرفتار کر لے گی‘ بڑا اچھا کیس بھی بنا لے گی‘ عدلیہ سے فیصلے کون کرائے گا؟ لاہور میں پوری جوزف کالونی جلی تھی اور جلانے والوں کو عدالت نے کہا گھر جائیے۔اور جس مسیحی بچے کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا وہ سات سال بعد بری کیا۔
مولانا طاہر اشرفی نے ہاتھ جوڑ کر مسیحی برادری کے بڑوں سے معافی مانگی۔ یہ معافی اصل میں حکومت کو مانگنی چاہیے تھی جس کا بنیادی فرض لوگوں کی جان مال اور عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت ہے۔رہی یہ تجویز کہ علما چندہ کر کے تباہ شدہ کلیساؤں کی تعمیرِ نو کریں تو یہ کام علما کا نہیں‘ حکومت کا ہے۔حکومت ان عبادت گاہوں کو حملہ آوروں سے نہ بچا سکی۔اسی کا فرض ہے کہ اپنی ناکامی کی تلافی کرے! 
اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ ماضی میں اس طرح کے جو واقعات رونما ہوئے ان میں ملوث مجرموں کو عبرتناک سزائیں نہیں دی گئیں۔ بظاہر تو ایسا ہی ہے۔ انصاف اگر ہوا بھی تو ہوتا نظر نہیں آیا! نو مئی کو جب حساس تنصیبات پر حملے ہوئے تو اس شرانگیزی میں ملوث ایک ایک فرد کو پکڑا گیا۔ کم و بیش ہر ایک گرفتاری کو ہائی لائٹ بھی کیا گیا۔یہ انہی اقدامات کا اثر تھا کہ کہ خان صاحب کی دوبارہ گرفتاری پر ایسی کوئی واردات نہیں ہوئی! اس سے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ریاست اور حکومت چاہے تو یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شرانگیزی دوبارہ رونما نہ ہو! بین الاقوامی سطح پر اب کے جو شرمندگی اٹھانا پڑی اس کی بھی ماضی میں کوئی نظیر نہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھنا ہو گی کہ ان عبادت گاہوں کی اہمیت حساس تنصیبات کی اہمیت سے کم درجے کی نہیں۔منطقی نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کہ جس طرح نو مئی کے بعد ایکشن لیا گیا‘ جڑانوالہ سانحے کے معاملے میں بھی بالکل ویسا ہی ایکشن لینا ہو گا! ورنہ فیض صاحب کے بقول معاملات اسی ڈگر پر چلتے رہیں گے!! وڈیو کلپس کے اس زمانے میں اصل مجرموں کو پکڑنا مشکل نہیں! ریاست اور حکومت چاہے تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔ جہاں ریاست اور حکومت کی مرضی ہوتی ہے وہاں سب کچھ ہو بھی جاتا ہے۔
جب بھی ایسا سانحہ رونما ہوتا ہے‘ خبر کا ایک حصہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ عوام کو لاؤد سپیکر کے ذریعے مشتعل کیا گیا۔ ضروری نہیں کہ یہ کام مسجد کے مولوی صاحب ہی نے کیا ہو۔ جڑانوالہ سانحہ کی خبر سے جو تاثر ملا ہے وہ یہ ہے کہ لاؤڈ سپیکر کا یہ مہلک استعمال کسی اور شخص نے کیا۔ سوال یہ ہے کہ مسجد میں لاؤڈ سپیکر کا انچارج کون ہوتا ہے؟ آخر ایسا کیوں ہے کہ کوئی بھی ماجھا گاما آتا ہے اور لاؤڈ سپیکر پر لوگوں کو اکسانے لگتا ہے؟ حکومت اگر چاہے تو لاؤڈ سپیکر کے حوالے سے قانون سازی کر سکتی ہے۔ مگر کیا وہ کرے گی ؟ مسجد کے مولوی صاحب یا مؤذن یا مسجد کمیٹی‘ کسی کو تو اس ضمن میں جوابدہ ہونا چاہیے۔ ایسا ناممکن بھی نہیں۔ ملک میں کئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں مساجد نجی شعبے میں نہیں‘ بلکہ سوسائٹی کے زیر انتظام ہیں۔ لاؤڈ سپیکر صرف اذان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جمعہ کی تقریر اور خطبہ کے لیے لاؤڈ سپیکر استعمال ہوتا ہے مگر یوں کہ آواز مسجد کے اندر ہی رہتی ہے۔ کچھ آبادیوں میں تو پکا ہوا تین وقت کا کھانا بھی خطیب اور مؤذن کو انتظامیہ کی طرف سے مہیا کیا جاتا ہے۔ ایک مناسب عرصہ کے بعد تبادلہ کر کے دونوں حضرات کو کسی دوسری مسجد میں تعینات کر دیا جاتا ہے۔ یوں کوئی پارٹی بازی یا گروہ بندی وجود میں نہیں آسکتی! سنگاپور اور ملا ئیشیا میں بھی دیکھا ہے کہ لاؤڈ سپیکر کی آواز مسجد میں موجود نمازیوں تک ہی محدود رہتی ہے۔ حاصلِ کلام یہ کہ حکومت کو یہ امر یقینی بنانا پڑے گا کہ کسی مسجد کا لاؤڈ سپیکر عوام کو مشتعل کرنے کے لیے اور تشدد اور قتل و غارت پر ابھارنے کے لیے استعمال نہ ہو۔ایک معروف رپورٹر‘ جو ایک وی لاگر بھی ہیں‘ کل پرسوں بتا رہے تھے کہ قیام پاکستان کے بعد غیر مسلموں کی تعداد ملک کی کل آبادی کا 23فیصد تھی جو اب تین فیصد ہے۔ نہیں معلوم ان اعداد و شمار کا ماخذ کیا ہے مگر یہ غیر حقیقی بالکل نہیں لگتے۔ اس لکھنے والے نے ملازمت کا آغاز بھٹو صاحب کے دورِ اقتدار میں کراچی سے کیا تھا۔ اُس وقت ایمپریس مارکیٹ کے سامنے کی تقریباً ساری گلیوں‘ یعنی بوہری بازار کے ارد گرد کے علاقوں میں غیر مسلم آباد تھے۔ سرکاری محکموں میں غیر مسلموں کی تعداد اچھی خاصی تھی۔ اینگلو انڈین بھی تھے۔پھر مردِ مومن مردِ حق کا عہدِ ہمایونی آیا اور سب کچھ بدل گیا۔ باقی تاریخ ہے۔ مزید کچھ کہنا لاحاصل ہے۔ بقول ناصر کاظمی
اُڑ گئے شاخوں سے یہ کہہ کر طیور
اس گلستاں کی ہوا میں زہر ہے 
ہم ایک بند گلی میں کھڑے ہیں! آبادی بے تحاشا بڑھ رہی ہے۔ ناخواندگی خوفناک سطح پر ہے۔ ہم جسے خواندگی کہہ کر اعداد و شمار کا پیٹ بھر رہے ہیں وہ محض سراب ہے۔ تنگ نظری میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے۔برداشت عنقا ہے۔سچی بات کہتے ہوئے جان کا خوف ہے اور جان ہتھیلی پر رکھ کر سچی بات کوئی کہے تو سننے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ دنیا ہم پر ہنس رہی ہے۔ کرۂ ارض کا کون سا ایئر پورٹ ہے جہاں پاکستانی پاسپورٹ کی '' عزت افزائی‘‘ نہ ہوتی ہو۔ پاکستانی روپے کی قدر اس تیزی سے گھٹ رہی ہے جیسے برف کا ٹکڑا دھوپ میں پڑا ہے اور پگھلتا جا رہا ہے۔ سرحدوں سے کوئی بھی اندر آسکتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ترجیحات ہماری عجیب و غریب ہیں اور ناقابل ِفہم ! شہرت کا جو تھیلا کندھے سے لٹکا کر ہم دنیا میں نکلتے ہیں اُس تھیلے سے نکلتا کیا ہے ؟ گوجرہ‘ سیالکوٹ‘ جوزف کالونی اور اب جڑانوالہ ! حدِ نظر تک تاریکی ہے۔ کسی روزن سے رو شنی کی کرن نہیں دکھائی دے رہی! اور المیہ در المیہ یہ ہے کہ روزن ہی کوئی نہیں!!
دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو!

Thursday, August 17, 2023

ایک نئی خود نوشت ! جو پرانی ہے !




—“ رات کے دس بجے ایک ملازم نے دروازہ کھٹکھٹایا  اور بتایا کہ  کچھ جرنیل ملنا چاہتے ہیں۔میں نے فوراڈریسنگ گاؤن پہنا اور کمرے سے باہر نکلا۔میں یہ دیکھ کر حیران ہؤا کہ باغ اور برآمدوں میں بہت سے فوجی سٹین گنیں اور ریوالور لیے گھوم رہے ہیں۔کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ  یہ سب کیا ہے۔میں گراؤنڈ فلور پر گیا تو وہاں تین جرنیل کھڑے تھے۔ شیخ، اعظم خان اور برکی۔میجر جنرل شیر بہادر بھی موجود تھا۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ ایک نازک مسئلے پر بات کرنے آئے ہیں اور یہ کہ  مجھے پاکستان چھوڑنا ہو گا۔میں نے پوچھاکیوں؟  ان کا جواب تھا کہ یہی ملک کے مفاد میں ہے۔دل تو  چاہا کہ انہیں کہوں جہنم میں جاؤ لیکن میرے پاس کوئی پرائیویٹ آرمی تو تھی نہیں۔میں اپنی اہلیہ کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ان کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔  دوسرے دن کے اخبارات میں دو خبریں چھپیں۔ ایک یہ کہ نئی کابینہ میں  جنرل ایوب خان نے وزیر اعظم کا منصب قبول کر لیا ہے۔ دوسری یہ کہ میں مستعفی ہو گیا ہوں اور صدارت کا عہدہ  جنرل ایوب خان نے سنبھال لیا ہے۔  اس  تضاد سے دنیا والوں نے نہ جانے کیا نتیجہ نکالا ہو گا۔بندوق کی نوک پر میرا استعفی لینے کے بعد جرنیل چلے گئے اور باقی کا گندا کام شیر بہادر کے سپرد کر گئے جو بہت بداخلاق تھا۔اس نے  ایوان صدر ہم سے خالی کرانے کے لیے افرا تفری مچا دی۔میری اہلیہ کو ڈرانے کے لیے اسلحہ کی خوب نمائش کی گئی مگر وہ بالکل خوفزدہ نہ ہوئی۔  ہم نے ایک گھنٹے کے اندر اندر سامان باندھ لیا۔فوجی گاڑیوں کا ایک قافلہ ہمیں ائرپورٹ لے گیا۔وہاں میری ملاقات امریکی سفیر ، مسٹر لانگ لے سے ہوئی جو میرے ذاتی دوست تھے۔وہ پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ائر کموڈور اصغر خان بھی موجود تھے اور دُکھی دکھائی دے رہے تھے۔ ایک ٹرانسپورٹ طیارے کے ذریعے ہمیں کوئٹہ پہنچایا گیا جہاں ہمیں  مقامی  انتظامیہ کے سربراہ کے گھر  رکھا گیا۔ وہاں ہمارا قیام  پانچ یا چھ دن  کے لیے تھا۔ مسلح فوجی افسر وہاں موجود رہے۔ اسلحہ کی نمائش سے میری بیگم کو اس قدر غصہ آیا کہ اس نے شیر بہادر کو ڈانٹا کہ وہ دھمکا کیوں رہا ہے۔ میری اہلیہ نے اسے  یاد دلایا کہ اس کے ( یعنی میری اہلیہ کےبزرگ فاتح کی حیثیت سے   آئے  تھے۔ اس کے بعد بندوقیں ذرا کم دکھائی دیں ! آخر کار ہمیں بتایا گیا کہ اگلے دن ، یعنی دو نومبر کو، ہم کراچی سےانگلینڈ کے لیے روانہ ہوں گے۔ کوئٹہ سے روانہ ہونے سے پہلے میں نے اس خواہش کا اظہار کیا  کہ دو افراد مجھے کراچی ائر پورٹ پر ملیں ۔میرا داماد محمود مرزا اور حسن اصفہانی۔میری اس خواہش کی انہوں نے کوئی پرواہ نہ کی۔ تاہم خوش قسمتی سے ، انگلینڈ روانگی سے پہلے دونوں سے ہماری ملاقات ہو گئی۔ میرا داماد پی آئی اے میں ملازم تھا اور اُس وقت ڈیوٹی کے  لئے ائر پورٹ پر تھا جب کہ اصفہانی اور ان کی بیگم اپنی بیٹی کے استقبال کے لیے آئے ہوئے تھے جو لندن سے آرہی تھی۔ ہمیں ائرپورٹ پر سات گھنٹے انتظار کرنا پڑا کیونکہ بی او اے سی کے طیارے کے انجن میں کوئی مسئلہ تھا۔ بالآخر ہم کے ایل ایم کے طیارے میں سوار ہوئے جس نے ہمیں ایمسٹرڈم پہنچایا۔  ایمسٹرڈم سے ہم لندن آئے ۔  مناسب گھر تلاش کرنے  تک ہمیں  کچھ دن ہوٹل میں ٹھہرنا پڑا۔ اگر ہمارے دوست ہماری مدد نہ کرتے تو   ہمیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ پاکستان چھوڑنے سے پہلے ہمارے پاس جو کچھ تھا، روپیہ پیسہ اور دیگر قیمتی اشیا، سب کچھ ضبط کر لیا گیا۔میرے ذاتی کاغذات اور ڈائریاں بھی چھین لی گئیں ۔سو، اس طرح میرے ملک کے لیے میری خدمات کا خاتمہ کیا گیا یعنی جلاوطنی کسی  وارننگ کے بغیرجس آرمی کو ایک زبردست فورس بنانے میں میں نے مدد کی تھی ، اسی نے مجھے گارڈ آف آنر دینے  کے بجائے قیدی کے طور پر رخصت  کیا۔” ) صفحات ۱۷۷-(۱۷۸


یہ اقتباس پاکستان کے پہلے صدر سکندر مرزا  کی خود نوشت سے ہے۔ان کی وفات لندن میں تیرہ نومبر 

1969 

کو ہوئی۔ اس خود نوشت کے دیباچے میں سید خاور مہدی نے لکھا ہے کہ وفات سے ایک سال پہلے سکندر مرزا نے جنرل یحی خان  سے درخوست کی تھی کہ انہیں پاکستان واپس آنے کی اجازت دی جائے  مگر  یحیٰ خان نے انکار کر دیا۔ بعد میں سکندر مرزا کی بیٹی تاج امام نے بھی کوشش کی مگر  کامیاب نہ ہوئی۔ سکندر مرزا کی تدفین تہران میں ہوئی جہاں شاہ ایران کی حکومت نے پورے ملٹری پروٹوکول کے ساتھ سرکاری سطح پر تدفین کی۔


یہ خود نوشت جو اس سال 


( 2023) 

میں شائع ہوئی ہے، نصف صدی سے زیادہ عرصہ اخفا میں رہی۔ یوں یہ جتنی پرانی ہے، اتنی ہی نئی ہے۔  اس کا نام ہے 


Iskinder Mirza Pakistani’s First Elected President ‘s Memoirs from Exile  



تاریخِ پاکستان کے طالب  علموں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے کیونکہ سکندر مرزا کے خلاف زیادہ تر  یک طرفہ پروپیگنڈا ہی پیش منظر پر رہا۔  سکندر مرزا کو نکالنے والے جنرل ایوب خان ایک عشرے تک سیاہ و سفید کے مالک رہے ۔ اُس دور میں سکندر مرزا کی بات کون سنتا؟ اب جب  سکندر مرزا  کا موقف تفصیل سے سامنے آیا ہے تو غیر جانبدار مؤرخین کا فرض ہے کہ تاریخ کا یہ افسوسناک باب از سر نو لکھیں

{

کتاب میں سکندر مرزا نے اپنی پیدائش سے لے کر جلاوطنی تک کے حالات تفصیل سے لکھے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ مارشل لا لگانے کے ذمہ دار وہ خود تھے۔ وہ لکھتے ہیں —-“ مارشل لا لگانے کے لیے مجھ پر آرمی کی طرف سے کوئی دباؤ نہ تھا۔مارشل لا کا اعلامیہ میں نے اپنے ہاتھ سے کسی کی مدد کے بغیر لکھا ۔اسے جاری  ہونے سے چند گھنٹے پہلے ہی ٹائپ کیا گیا۔”   اس کے بعد سکندر مرزا نے پورا اعلامیہ نقل کیا ہے جو پانچ صفحات پر مشتمل ہے۔  اعلامیہ کا آخری حصہ یوں ہے :

 اے۔ ۲۳ مارچ ۱۹۵۶ کا آئین  منسوخ کیا جاتا ہے۔

بی۔مرکزی اور صوبائی حکومتیں فی الفور بر طرف کی جاتی ہیں۔

سی۔قومی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں  تحلیل کی جاتی ہیں۔ 

ڈی۔ تمام سیاسی جماعتیں ختم کی جاتی ہیں۔ 

ای۔  جب تک متبادل انتظامات  نہیں کر دیے جاتے، پاکستان میں مارشل لا نافذ رہے گا۔ میں جنرل محمد ایوب خان کمانڈر انچیف پاکستان آرمی کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر  مقرر کرتا ہوں اور پاکستان کی تمام مسلح افواج کو اس کی کمانڈ میں دیتا ہوں۔


سکندر مرزا نے اپنی ان یادداشتوں میں   لیاقت علی  خان کی تعریف کی ہے مگر ان کی لائ ہوئی قرارداد مقاصد پر تنقید بھی کی ہے۔  ان کی دلیل یہ ہے کہ اس سے مذہبی طبقات طاقتور ہوئے۔ ون یونٹ کے بارے میں لکھتے ہیں  —- “ ہر کسی پر یہ بات ظاہر تھی کہ  ون یونٹ سے سب سے زیادہ فائدہ پنجابیوں نے اٹھایا۔  ان کا دارالحکومت ، لاہور،سیاسی مرکز بن گیا۔ اسمبلی پر ان کا غلبہ تھا  اور سول سروسز پر بھیپٹھان،  اپنی آزاد طبیعت کے سبب، اس نئے سیٹ اپ سے سمجھوتہ نہ کر سکے۔ عبد الغفار خان نے سندھی لیڈر جی ایم سید کے ساتھ ایکا کر لیا تا کہ ون یونٹ کو ختم کر نے کے لیے عوامی تحریک چلائی جا سکے۔




سکندر مرزا نے کچھ ایسی باتیں بھی لکھی ہیں جو آج کے پاکستان میں شاید ہضم نہ کی جا سکیں۔ مگر یہ باتیں غور و فکر کو دعوت دیتی ہیں۔ آج ہم جس انتہا پسندی کا سامنا کر رہے ہیں اس کی ابتدا کب ہوئی اور کن کے ہاتھوں ہوئی؟ اس کا کچھ  سراغ  اس خود نوشت میں ملتا ہے۔سکندر مرزا فرشتہ تھے نہ جنرل ایوب خان! مگر ایک مستحکم پاکستان کے لیے لازم ہے کہ تاریخ کا  تجزیہ بے لاگ اور سفاک غیر جانبداری کے ساتھ کیا جائے۔تاریخ میں اہمیت شخصیات کی نہیں، ان کے کاموں اور رویّوں کی ہوتی ہے۔ 

…………………………………………………………………


 

powered by worldwanders.com