Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Monday, April 19, 2021

اے جو بائیڈن ! اے صدرِ ریاستہائے متحدہ امریکہ


حکومت کیسے کی جائے ؟
یہ ہے وہ سوال جس کا جواب حاصل کرنے کے لیے فلسفیوں‘ دانشوروں اور پنڈتوں نے عمریں صرف کیں۔ حکمرانوں نے فاضل اور عالم لوگوں کو اپنے ساتھ رکھا تاکہ ان سے کامیاب حکومت کے گُر سیکھیں۔ یونان کے ارسطو اور ٹیکسلا کے چانکیہ کوٹلیا سے لے کر فلارنس کے میکیاولی تک ہر مفکر نے اپنی طرف سے نصیحتیں کیں اور بتایا کہ حکومت کیسے کی جائے۔ عروضی ثمرقندی نے اپنا شہرہ آفاق '' چہار مقالہ‘‘ تصنیف کیا جس میں بادشاہوں کو سکھایا کہ دربار میں دبیر‘ منجم ‘ شاعر اور طبیب کون کون سے رکھے جائیں۔ سعدی نے گلستان اور جامی نے بہارستان میں بادشاہوں کو مشورے دیے اور الگ باب باندھے۔ کیکاؤس بن سکندر نے جو خود بادشاہ تھا ‘ اپنے فرزند کے لیے قابوس نامہ تحریر کیا۔اس میں جہاں بانی کے اصول بتائے۔وزیر کیسے چُنے جائیں؟ سپہ سالار کیسا ہونا چاہیے؟ تجارت کو کیسے فروغ دیا جائے ؟ غلام خریدتے وقت کون کون سے پہلو پیشِ نظر ہونے چاہئیں ؟ ان سب سولات کے جواب قابوس نامہ میں موجود ہیں۔ پھر نظام الملک طوسی نے سیاست نامہ لکھا اور کمال کردیا۔ مخبروں کے فرائض‘ عمال کا حساب‘ لشکریوں کے اثاثے‘ عجلت پسندی سے گریز‘ سرکاری خزانے کے ضوابط‘ عدل کا قیام‘ محاسبہ ‘ میزانیہ‘ غرض حکومت کے ہر پہلو اور ہر مسئلے پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
مگر افسوس!
مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمالِ نے نوازی
کسی حکیم‘ کسی فلسفی‘ کسی دانشور‘ کسی بزرجمہر‘ کسی پنڈت‘ کسی مفکر کی کوئی تھیوری کام نہ آئی۔ ہر بادشاہ کی قسمت میں عدم استحکام ہی آیا۔ بغاوتیں‘ شورشیں‘ بیماریاں‘ قحط‘ جنگیں‘ سب کوکاتبِ تقدیرسے یہی کچھ ملا۔یہاں تک کہ علم ِسیاسیات کا سویا ہوا مقدر جاگا اور انگریز نے ہمیں اور پوری دنیا کو حکومت کرنے کا نسخہ کیمیابتایا! 1857ء سے پہلے ‘ غور کیجیے‘ توبرطانوی ہند کے پیش منظر پر جنگیں ہی چھائی رہیں۔ کبھی پلاسی کا میدان‘ کبھی فرانسیسیوں سے مقابلہ‘ کبھی ٹیپو کے ساتھ لڑائی‘ کبھی مرہٹوں کا طوفان‘ کبھی سکھوں کے ساتھ معرکہ آرائی! کبھی اوَدھ تو کبھی روہیلے! مگر جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد جس سکون‘ ٹھہراؤ اور امن وامان کے ساتھ انگریز بہادر نے بادشاہت کی اس کا کیا ہی کہنا! کوئی بغاوت نہ فوج کشی! اس کے بعد ہی تو شیر اور بکری کے ایک گھاٹ پر پانی پینے کا محاورہ وجود میں آیا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ جنگِ آزادی کے آس پاس انگریز سرکار نے ایسا کیا ایکشن لیا جس کے نتیجہ میں اسے مزے کی حکمرانی نصیب ہوئی؟ سو چئے اور دوبارہ سوچئے ! آپ ایک ہی نتیجے پر پہنچیں گے اور وہ ہے انتقام ! انتقام اور انتقام ! اس جنگ کے بعد‘ ہم جسے جنگ ِآزادی کہتے ہیں اور انگریز بغاوت‘ برطانوی سرکار نے انتقام کا ایسا ہولناک سلسلہ شروع کیا کہ باغیوں یعنی مجاہدین کی آنے والی نسلیں بھی اس انتقام کی بھینٹ چڑھ گئیں! انتقام کا یہ سلسلہ فاتح نے مفتوح بادشاہ سے آغاز کیا۔ پہلے تو شہزادوں کو قتل کیا۔ پھر ان کے سر کاٹے۔ پھر ٹرے میں رکھے۔ پھر انہیں خوبصورت کپڑے سے ڈھانکا۔ پھر یہ تحفہ بادشاہ کو پیش کیا۔ پھر بادشاہ اور اس کی عمر رسیدہ ملکہ کو رنگون جلا وطن کیا جہاں وہ ایک انگریز کیپٹن کے رحم و کرم پر رہے یہاں تک کہ موت نے انہیں اس بے یار و مدد گار زندگی سے رہائی دلوائی۔ دلی میں شاہی خاندان کے پس ماندگان کوڑی کوڑی کو محتاج کردیے گئے۔ شہزادیاں گھروں میں خادمائیں بننے پر مجبور ہو ئیں اور شہزادے چوراہوں پر بھیک مانگتے پائے گئے۔ خواجہ حسن نظامی نے اپنی تصانیف '' بیگمات کے آنسو ‘‘ اور ''غدر کے افسانے ‘‘ میں دل دہلا دینے والے واقعات نقل کئے ہیں۔ شاہی خاندان ہی پر بس نہیں کیا گیا‘ جس کا دور سے بھی مجاہدین سے کوئی تعلق ثابت ہوا‘ اسے سزا دی گئی۔ باغیوں کی حویلیوں اور جائیدادوں پر ہل چلوائے گئے۔دلی کے گرد و نواح میں کوئی درخت ایسا نہ تھا جس کی شاخوں کے ساتھ مردہ جسم نہ جھول رہے ہوں۔ ہزاروں کو کالے پانی بھیج دیا گیا۔ جنگ میں حصہ لینے والے مجاہدین کے خاندان ایک ایک نوالے کو ترسائے گئے۔دلی ماضی میں بھی کئی بار اجڑی تھی مگر اب کے ایسی اجڑی کہ بَین کرنے کے لیے بھی کوئی نہ بچا۔ہلاکو نے جو حشر بغداد کا کیا ‘ دہلی کا اس سے کم نہ کیا گیا۔ جاسوسوں کی ایک فوج ظفر موج تیار کی گئی جس نے چھپے ہوئے مجاہدین کا سراغ لگایا۔ کنیا کماری سے لے کر کشمیر تک اور تری پورہ سے لے کر جمرود تک چھپنے کی جگہ کوئی نہ رہی۔ بھائی بھائی سے اور پڑوسی پڑوسی سے خائف رہنے لگا۔ کچھ پتا نہیں چلتا تھا کہ مخلص کون ہے اور مخبر کون ؟
پس ثابت ہواکہ تاریخ کے اوراق پر نہ مٹنے والی روشنائی سے یہ سبق لکھ دیا گیا کہ میکیاولی سے لے کر چانکیہ تک کوئی دانشور اور قابوس نامہ سے لے کر سیاست نامۂ طوسی تک کو ئی ہدایت نامہ وہ تدبیر نہ بتا سکا جو انگریز سرکار نے دریافت کی اور آزمائی۔ اب سوال یہ ہے کہ آج کے حکمرانوں کو یہ سنہری اصول کون بتائے گا اور کون سکھائے گا؟المیہ یہ ہے کہ آج کے حکمران پرانے دانشوروں اور ان کی فرسودہ کتابوں میں گھسے ہوئے ہیں اور اس خیالِ خام میں ہیں کہ کامیاب حکومت کرنے کا راز پالیں گے۔ اگر اس کالم نگار کو یہ راز معلوم ہے تو اس پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ حکمرانوں کی رہنمائی کرے اور انہیں بتائے کہ کامیاب حکومت کی کلید صرف اور صرف انتقام ہے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ دنیا میں اس وقت کم و بیش دو سوکے لگ بھگ ملک ہیں اور اتنے ہی حکمران! اور اس کالم نگار کی ایک جان! تو کس کس کو نصیحت کی جائے۔ یک انار و صد بیمار والا معاملہ ہے۔ اس کا حل یہ سوچا ہے کہ کرۂ ارض کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ طاقتور حکمران کو یہ گُر بتایا جائے اور سکھایا جائے۔ ظاہر ہے سب سے بڑا اور سب سے زیادہ طاقتور حکمران امریکہ کے سوا کون ہو سکتا ہے ؟
پس اے جو بائیڈن ! اے صدرِ ریاست ہائے متحدہ امریکہ ! سُنو اور اس فقیر کالم نگار کی یہ بات پلّے باندھ لو کہ انتقام ہی تمہاری حکومت کو دوام بخش سکتا ہے اور انتقام ہی تمہیں تاریخ میں سرخرو کر سکتا ہے ! فوراً ٹرمپ کے بینک بیلنس معلوم کراؤ پھر ایک ایک پیسے کی منی ٹریل اُگلواؤ۔ اس نے تمہارے مقابلے میں الیکشن لڑنے کی گستاخی کی تھی۔ اسے ‘ اس کے بھائیوں کو ‘ بیٹوں اور بیٹیوں کو‘ دامادوں اور بھانجوں بھتیجوں کو جیل میں ڈالو۔ ایک ضمانت پر باہر نکلے تو دوسرے کو پکڑ لو۔ یہ جو ٹرمپ کے پلازے ہیں‘ یہ جس زمین پر بنے ہیں ‘ اس زمین کے کاغذات آرکائیوز سے نکلواؤ۔ زمین کی خریداری مشکوک ہو گی۔ پھر اسی بنیاد پر اس کے پلازوں اور اس کے مکانات کو مسمار کر دینے کا حکم جاری کرو۔ اس کے ساتھیوں پر منشیات کے مقدمے قائم کرو۔ کچھ کو دہشت گردی کے جرم میں پکڑو۔ خاص طور پر ‘ ہر تقریر میں اس کے جرائم کا ذکر ضرور کرو۔ اپنے عمائدین اور وزرا کو ہدایت کرو کہ وہ بھی رات دن اس کے اور اس کے ساتھیوں کے خلاف بیانات دیں۔ یاد رکھو! انتقام اور صرف انتقام ہی حکومت کرنے کا بہترین فارمولا ہے۔ معیشت کا کیا حال ہے؟ امن و امان کیسا ہے ؟ عوام کے حقیقی مسائل کیا ہیں ؟ یہ سب باتیں فضول ہیں۔ بس مخالف کا جینا محال کر دو۔ اور ہاں ! اب اپنے دفتر کی دیوار سے میکیاولی اورچانکیہ کی تصویریں اتار پھینکو اور اس کالم نگار کی رنگین فوٹو آویزاں کرو!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, April 15, 2021

اپنی درخشاں روایات کا کچھ تو خیال کرنا چاہیے



رِک پیری ریاستِ ٹیکساس کا گورنر تھا۔ اس دن وہ بہت جلدی میں تھا۔ ایک سرکاری اجلاس میں شرکت کرنا تھی اور تاخیر ہو رہی تھی۔ اس نے دو بار راستہ بدلا اور شارٹ کٹ کا سہارا لیا۔ ہائی وے پر اس کا ڈرائیور حدِ رفتار عبور کر کے گاڑی بہت زیادہ تیز چلا رہا تھا کہ ٹریفک پولیس نے گاڑی روک لی۔ ڈرائیور باہر نکلا اور خاتون انسپکٹر کو قائل کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ اتنے میں گورنر خود گاڑی سے باہر نکل آیا اور انسپکٹر کو اپنا منصب بتا کر صورت حال کی وضاحت کرنے لگا۔انسپکٹر قائل نہ ہوئی اس لیے کہ اوور سپیڈنگ، بہر حال جرم تھا۔ آخر کار گورنر نے انسپکٹر سے کہا کہ جو کچھ کرنا ہے جلد کرو کہ میں لیٹ ہو رہا ہوں۔ انسپکٹر کا جواب تھا کہ میں ہر حال میں اپنا کام مکمل کروں گی۔ مگر معاملہ یہاں ختم نہ ہوا۔ بات میڈیا تک پہنچ گئی۔ میڈیا نے گورنر پر الزام لگایا کہ اس نے انسپکٹر پر اپنے منصب کے حوالے سے اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ آخر کار گورنر کو میڈیا کے سامنے معذرت کرنا پڑی ۔ اس نے تسلیم کیا کہ اسے گاڑی سے باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا۔
دوسرا واقعہ سنیے۔ ڈیوڈ کیمرون جب برطانیہ کا وزیر اعظم تھا، ایک مریض کو دیکھنے ہسپتال گیا۔ جب وہ وارڈ میں تھا تو اوپر سے متعلقہ سرجن آ گیا۔ وزیر اعظم اور اس کی میڈیا ٹیم کو دیکھ کر سرجن ناراض ہوا۔ اس نے کہا: یہاں میں انچارج ہوں۔ وزیر اعظم کو فوراً وہاں سے جانا پڑا۔ بعد میں وزیر اعظم نے خود کہا کہ سرجن کو وزیر اعظم کے آنے کا پہلے سے علم نہیں تھا۔ مزید یہ کہ اسے ہائی جِین کے حوالے سے بھی تشویش ہو گی۔
اب تیسرا واقعہ سنیے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کے سربراہ کے خلاف ایک تحریک استحقاق پیش کی گئی ہے۔ الزام یہ ہے کہ عزت مآب سپیکر قومی اسمبلی کے حکم پر کورونا کے ایک مریض کو ہسپتال میں داخل نہیں کیا گیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ جب ہسپتال کے سربراہ کو ایک میٹنگ، جس کی صدارت عزت مآب سپیکر نے کرنا تھی، میں حاضر ہونے کے لیے کہا گیا تو وہ حاضر نہ ہوئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، ہسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ دو اپریل کو سپیکر کے دفتر سے فون آیا‘ جس میں ہسپتال کو ہدایت کی گئی کہ ایک مریض کے لیے وی آئی پی کمرہ خالی کرایا جائے۔ ٹیلی فون کرنے والے صاحب کو بتایا گیا کہ پرائیویٹ کمروں ہی کو وی آئی پی کمروں میں تبدیل کیا جاتا ہے اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ تمام کمروں کو کورونا وارڈوں میں بدلا جا چکا ہے جہاں سے کسی مریض کو نکالنا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر نے مزید بتایا کہ اس جواب سے سپیکر کا دفتر نا خوش ہوا۔ اس کے بعد ایک اور فون آیا۔ اب کے ہسپتال کے سربراہ کو سپیکر کی قیام گاہ پر بلایا گیا تھا جہاں ایک میٹنگ کا انعقاد ہونا تھا۔ چونکہ سربراہ کی فیملی میں کورونا کے دو مریض تھے اس لیے مناسب یہ سمجھا گیا کہ وہ میٹنگ میں نہ جائیں اور ان کے نائب میٹنگ اٹنڈ کریں؛ تاہم سپیکر کے دفتر کا اصرار تھا کہ سربراہ ذاتی طور پر آئیں۔ تحریک استحقاق لانے والے ایم این اے نے‘ جن کا تعلق حکومتی پارٹی سے ہے، ہسپتال کے موقف کی تردید کی ہے۔ ان کے بقول اس دعوے میں، کہ وی آئی پی کمرے کا مطالبہ کیا گیا تھا، کوئی صداقت نہیں۔ بات صرف مریض کو داخل کرنے کی تھی‘ مگر ہسپتال انتظامیہ نے یہ کہہ کر کہ بیڈ دستیاب نہیں، داخل کرنے سے انکار کر دیا۔ فریقین کے موقف میں فرق ہے!بہت زیادہ فرق!بقول فراق گورکھپوری
کس کا یقین کیجیے، کس کا یقیں نہ کیجیے
لائے ہیں بزم ناز سے یار خبر الگ الگ
مگر فرض کیجیے ہسپتال کا یہ دعویٰ کہ مطالبہ وی آئی پی کمرے کا تھا، مبنی بر صداقت ہے تو اس میں برائی ہی کیا تھی۔ کیا اتنی اہم شخصیت کو اتنا حق بھی نہیں پہنچتا کہ اپنے کسی جاننے والے کے لیے وی آئی پی کمرہ خالی کرا سکیں۔ اگر کورونا کا ایک یا کچھ مریض کمرے سے نکال کر اپنے اپنے گھر بھیج دیے جاتے تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا‘ اور اگر کوٹھی میں طلب کیا گیا تو بڑے ڈاکٹر صاحب کو وہاں بالکل حاضر ہونا چاہیے تھا۔ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور ماتحت ماتحت!
اصل میں ہماری قوم کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ مغرب کی نقالی میں ہم اپنی روایات بھولتے جا رہے ہیں۔ طبقاتی فرق کا کچھ خیال ہی نہیں کیا جا رہا۔ کالم کے شروع میں جو دو واقعات بیان کیے ہیں، ایسے واقعات ہی سے ہمارے اخلاق پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ گورنر کی تیز رفتار سواری کو پاکستان میں، بفرض محال، روک بھی لیا جاتا تو روکنے والی انسپکٹر کو ایسا سبق سکھایا جاتا کہ اس کی آئندہ نسلیں بھی یاد رکھتیں۔ رہا وہ بد تمیز ڈاکٹر جس نے برطانوی وزیر اعظم کو وارڈ سے نکال باہر کیا، ہمارے ملک میں ہوتا تو ایسی گستاخی کا سوچ بھی نہ سکتا بلکہ وزیر اعظم کے سامنے دست بستہ کھڑا ہو جاتا۔ انگریزوں اور امریکیوں کو کیا پتا کہ ہماری روایات کس قدر درخشاں ہیں۔ ہمارے جاگیردار تو عید کے دن اونچے طرے باندھ کر، اچکنوں میں ملبوس، نماز عید ادا کرنے کے فوراً بعد انگریز ڈپٹی کمشنر کی کوٹھی کے لان میں جمع ہو جاتے تھے اور صاحب بہادر کے نوکروں کو بتاتے تھے کہ عید مبارک کہنے حاضر ہوئے ہیں۔ کئی گھنٹے کھڑے رہتے۔ پھر ایک نوکر آ کر اعلان کرتا کہ صاحب نے مبارک قبول کر لی ہے۔ اس پر تمام جاگیر دار ایک دوسرے سے گلے ملتے اور اظہارِ مسرت کرتے کہ صاحب نے اندر سے توجہ اور عنایت دے بھیجی ہے۔ یہ ہیں ہماری روایات! انگریز آقائوں کے جانے کے بعد بھی ہم نے ان روایات کا چراغ روشن رکھا۔ جبھی تو مغربی پاکستان کے گورنر نے میڈیکل کالج کے ایک نافرمان پرنسپل کو تھپڑ رسید کیا تھا! اور یہ تو چودہ پندرہ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ ایک مرحوم وزیر دفاع نے ایک سینئر پولیس افسر کو تھپڑ مارا تھا۔ بڑے لوگوں کی گاڑیوں کا چالان کرنے کی کوشش کرنے والے بد دماغ کانسٹیبلوں کو ہمیشہ معافی مانگنا پڑی! فرقِ مراتب ہی میں ہمارے لیے راہِ نجات ہے۔ ہسپتال کے سربراہ کو قرار واقعی سزا دے کر نشان عبرت بنانا چاہیے کہ دوسروں کو سبق حاصل ہو اور آئندہ کوئی سر پھرا روایات کے خلاف چلنے کا سوچ بھی نہ سکے۔ کچھ عرصہ پہلے جب ایک نوجوان کو معصوم سرکاری اہلکاروں نے گولیوں کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتاردیا تو مقتول کے باپ کو انہی روایات کے تسلسل ہی میں ہمارے سربراہ حکومت نے اپنے محل میں طلب کیا تھا تا کہ اس سے تعزیت فرمائیں۔ کسی مغربی ملک کا کافر حکمران ہوتا تو مقتول کے گھر جا پہنچتا۔ ان سفید چمڑی والوں کو کیا علم کہ مقتدر شخصیات کی شان و شوکت کیا ہوتی ہے اور طمطراق کسے کہتے ہیں۔
ہم تو یہاں تک عرض کریں گے کہ ہسپتالوں میں اہم سرکاری شخصیات کا کوٹہ مقرر کر دیا جائے۔ مثال کے طور پر ہر وزیر کے پانچ مریض۔ ہر ایم این اے کے دو مریض۔ عزت مآب سپیکر اور عزت مآب چیئرمین سینیٹ کے دس دس مریض! یہ بیڈ ہمیشہ خالی رکھے جائیں۔ جیسے ہی کسی اہم سرکاری شخصیت یا ایم این اے کا کوئی جاننے والا بیمار پڑے، اس کے کوٹے کا بیڈ فوراً پیش خدمت کیا جائے۔ یہ اہم شخصیات ہی تو ہمارا سرمایہ ہیں۔ اگر عام مریض ان پر قربان ہو جائیں تو گھاٹے کا سودا نہیں۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, April 13, 2021



اس کے بازو کٹ گئے پھر بھی وہ موجود تھا۔
پھر اس کی ٹانگیں کٹ گئیں‘ پھر بھی وہ وجود رکھتا تھا۔ پھر اس نے اپنے جسم کو چھوڑا اور کہیں اور جا بسا۔معلوم ہوا جسم محض ایک فریم تھا۔یہ فریم رہے نہ رہے‘ اس کے وجود کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ ایک بچے کو دیکھتے ہیں۔ پانچ یا آٹھ دس سالہ بچے کو! سرسبز و شاداب ! سرخ رخسار‘ گھنے سیاہ بال۔پیاری پیاری موٹی آنکھیں۔پھر اس بچے کو آپ ساٹھ سال بعد دیکھتے ہیں۔ رنگت سیاہ ہو چکی ہے۔ آنکھوں پر موٹے شیشوں کی عینک ہے جس میں سے اندر دھنسی ہوئی آنکھیں جھانکتی ہیں۔سر چٹیل میدان بنا ہے۔ سفید لمبی داڑھی ہے۔ آپ پہچان نہیں پا رہے۔تعارف ہوا تو آپ کو یقین نہیں آرہا کہ یہ وہی بچہ ہے۔حالانکہ صرف فریم تبدیل ہوا ہے۔ فریم کے اندر وہ بچہ اب بھی اپنا الگ وجود رکھتا ہے۔اس کے وجود کا اس جسم سے تعلق عارضی ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ وہ اس بوسیدہ جسم کو بھی چھوڑ دے گا اور کسی اور فریم میں فِٹ کر دیا جائے گا۔
کچھ اس سے ملتی جلتی صورتحال کتاب کی بھی ہے۔ کتابوں کو پسند کرنے والے لوگ گھبرائے ہوئے ہیں۔ ''کتاب کلچر ختم ہو رہا ہے۔کمپیوٹر کتابوں کو کھا گیا۔ اب کتابیں کون پڑھے گا۔ وغیرہ‘‘۔ خطرے کی یہ گھنٹیاں بجتی ہوئی آپ نے بھی سنی ہوں گی۔ کل ہی ایک بہت پڑھے لکھے صاحب‘ لاہور سے ‘ فون پر یہی رونا رو رہے تھے۔
یہ خوف اس وجہ سے پھیل رہا ہے کہ ہم کاغذ ‘ روشنائی اور جِلد کے مجموعے کو کتاب سمجھ رہے ہیں حالانکہ کتاب وہ ہے جو اس نام نہاد کتاب کے اندر ہے۔ہم کتاب اسے سمجھ رہے ہیں جس کی کتابت کسی انسان نے یا جس کی کمپوزنگ کسی کمپیوٹر نے کی ہو۔ پھر کاغذ خرید کر چھاپہ خانے میں اسے طبع کیا گیا ہو۔ پھر جلد ساز نے اسے جلد کیا ہو۔ پھر کتاب فروش سے اسے خریدا گیا ہو۔ مگر ایسا ہر گز نہیں! ہمیں معلوم ہے کہ چار آسمانی کتابیں اُتری ہیں۔ کیا وہ کاغذ‘ روشنائی اور جلد پر مشتمل تھیں؟ قران مجید نے اپنے آپ کو کئی مقامات پر '' کتاب‘‘ قرار دیا ہے۔ بچے بچے کو یہ الفاظ یاد ہیں:ذلک الکتاب لا ریب فیہ مگر جسے ہم کتاب کہتے ہیں وہ تو اُس وقت کہیں نہیں تھی۔ کلام پاک ہڈیوں‘ چمڑے کے ٹکڑوں‘درختوں کی چھال اور پتھر کی تختیوں پر لکھا جا رہا تھا۔قرانِ پاک کو حفظ کرنے والا اس کتاب کو اپنی یاد داشت میں محفوظ کر لیتا ہے۔اس کے حافظے میں کتاب ہے مگر کاغذ ہیں نہ چمڑے کے ٹکڑے نہ درختوں کی چھال نہ سی ڈی! کلامِ پاک میں اعمال نامے کے لیے بھی جو روزِ حشر دائیں یا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا‘ کتاب کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ہمیں علم ہے نہ اندازہ کہ یہ کتاب کس شکل میں ہو گی۔جس میموری سے یہ نکالی جائے گی وہ کیسی ہو گی ؟ کون سی لغت ہو گی؟ الفاظ بھی ہوں گے یا کوئی اور ہی سلسلہ ہوگا۔
پس ثابت ہوا کہ کتاب کا انحصار کاغذ اور روشنائی پر ہے نہ جلد اور چھاپہ خانے پر‘ نہ خطاط پر! کتاب کی شکل زمانے کے ساتھ بدلتی رہی ہے اور آئندہ بھی بدلتی رہے گی۔ پتھروں ‘ ہڈیوں‘ چھال‘ اور چرم سے یہ کاغذ پر آئی۔پہلے ایک ایک کتاب ہاتھ سے لکھی جاتی تھی۔ باد شاہ اور امیر شائقینِ علم کئی کئی خطاط رکھتے تھے جو کتابوں کی نقول تیار کرتے تھے۔ پھر پریس آگیا اور ایک ہی کتاب کے کئی کئی نسخے بہت کم وقت میں تیار ہونے لگے۔ آج کتاب کا سفر ایک اور سنگ میل کے سامنے کھڑا ہے۔ کتاب کاغذ کو بھی چھوڑ کر آگے روانہ ہورہی ہے۔
تھک تھک کر اس راہ میں آخر اک اک ساتھی چھوٹ گیا۔
اب وہ کمپیوٹر کے فریم میں فِٹ ہو رہی ہے۔ ای ریڈر آگیا ہے۔ آئی پیڈ پر کتابیں پڑھی جا رہی ہیں۔ بے شمار لوگ اخبارات کی ہارڈ کاپی پڑھنا چھوڑ چکے ہیں۔ اس کالم نگار کے آئی پیڈ میں محمد اسد کا کلام پاک کا انگریزی ترجمہ ( میسج آف قرآن )‘ براؤن کی لٹریری ہسٹری آف پرشیا ( چار وں حصے )‘ شبلی کی شعر العجم ( چاروں حصے ) ‘ پنجاب میں اُردو از محمود شیرانی ‘ برنئیر کا سفرنامہ‘مآثر رحیمی‘دیوانِ حافظ‘ گلستانِ سعدی‘ منطق الطیر‘ ڈاکٹر ژواگو‘ کے علاوہ‘ ابراہام ایرالی‘ پی جی وڈ ہاؤس‘ مارک ٹوئن‘ ڈلرمپل، کرسچین وولمر‘ پران ناتھ چوپڑہ‘ گارسیا مارکوئیز ‘ شفیق الرحمن اورناصر کاظمی کی متعدد تصانیف کے ساتھ ساتھ کئی اور کتابیں بھی محفوظ ہیں۔ کچھ ریفرنس کیلئے ہمہ وقت موجود رہتی ہیں۔ کچھ پڑھنے کے بعد ڈیلیٹ کر دی جاتی ہیں۔ ایرانیوں کی ویب سائٹ '' گنجور ‘‘ پر تمام مشہور شعرا کا کلام کسی بھی وقت میسر آ سکتا ہے۔ بے شمار لوگوں نے اپنے اپنے ذوق کے لحاظ سے کتابیں لیپ ٹاپ‘ یا آئی پیڈ‘ یا موبائل فون‘ یا ای ریڈر ‘پر محفوظ کی ہوئی ہیں۔ پڑھتے ہوئے جو سطور یا پیرا گراف نشان زد (ہائی لائٹ) کرنا ہوں‘ کیے جا سکتے ہیں۔
رہا معاملہ ہمارے اپنے ملک میں کتاب کی ناقدری کا ‘ تو یہ معاملہ باقی دنیا سے الگ ہے۔ ہماری شرح خواندگی بھارت‘ بنگلہ دیش اور سری لنکا سے کم ہے۔ کروڑوں بچے سکول سے باہر ہیں۔ ہماری مخصوص مقامی ثقافتیں ‘ ہماری ذہنیت‘ ہمارے دماغوں کی کجی اور مذہب کی ہماری خود ساختہ تعبیر‘ آج تک تعلیم ِ نسواں کو دل سے قبول نہیں کر سکی۔ لائبریری کلچر جو تھوڑا بہت تھا وہ بھی ملیا میٹ کر دیا گیا۔ ایسے میں قصور کمپیوٹر کا نہیں‘ ہمارے مخصوص حالات کا ہے۔ آپ بین الاقوامی سفر کر کے دیکھ لیجیے۔ فضا میں اُڑتے جہاز ہو ں یا ہوائی اڈوں کے لاؤنج ‘ چینی‘ جاپانی‘ کورین‘ تھائی‘ سفید فام‘ یہاں تک کہ افریقی اور بھارتی بھی ‘ لیپ ٹاپ یا ای ریڈر یا آئی پیڈ کھولے محوِ مطالعہ ہوں گے! فارغ بیٹھے ہوں گے تو ہم پاکستانی یا ہمارے عرب بھائی‘ اِلّا ماشاء اللہ !
جس طرح ہمیں یہ وہم ہے کہ دنیا ہمارے خلاف سازش کر رہی ہے یعنی ستائے جانے کا وہم(Persecution Comple ) اسی طرح ہمیں دیگر حوالوں سے بھی کئی قسم کے اوہام نے گھیر رکھا ہے۔ کبھی ہمیں مذہب خطرے میں دکھائی دیتا ہے‘ کبھی ملک! کبھی ہمیں اردو کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے کبھی پنجابی کا ! کبھی ہم رو رہے ہوتے ہیں کہ کمپیوٹر کے زمانے میں شاعری کا کیا بنے گا ‘ کبھی انگریزی سے خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جو حقیقی خطرات ہمارے سر پر منڈلا رہے ہیں جیسے تیزی سے گرتی معیشت ‘ ناخواندگی‘ سیاسی عدم استحکام‘ دیہات اور قصبات میں عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور کئی قسم کی ناانصافیاں‘ وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتیں یا دیکھیں تو کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں ! کتاب کلچر کہیں نہیں جا رہا۔ خاطر جمع رکھیے۔ ہاں کتابیں ڈیجیٹل ہوں گی اور لائبریریاں بھی! اس تبدیلی سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ جتنا جلدی اس تبدیلی سے سمجھوتہ کرلیں‘ ہمارے حق میں بہتر ہے۔اکبر الہ آبادی روئے تھے ؎
پانی پینا پڑا ہے پائپ کا
حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا
پائپ ختم ہوا نہ ٹائپ کا لفظ ! اب تو یہ حال ہے کہ مختاریا ! گل ودھ گئی اے۔( بات بہت آگے نکل گئی ہے )۔ اقبال آج بھی وارننگ دے رہے ہیں ؎
آئینِ نو سے ڈرنا‘ طرزِ کہن پہ اَڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, April 12, 2021

ایک اور عظیم دریافت

یہ سولہویں صدی عیسوی تھی۔ جنوبی امریکہ کے ملک پیرو میں ایک کسان کو بخار تھا۔ تیز بخار! کسی کھیت کے کنارے‘ جنگلی‘ خود رو پودوں کے درمیان پڑا کراہ رہا تھا۔ نیم خوابیدہ! کبھی غنودگی چھا جاتی‘ کبھی آنکھیں کھول لیتا! بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ اسے قریب کے ایک پودے کے ساتھ کچھ لگا ہوا نظر آیا۔ پتا نہیں کون سا پھل تھا؟ کیا نام تھا؟ بھوک اور نیند کے سامنے انسان بے بس ہو جاتا ہے۔ تپتے‘ سلگتے بدن کو اس نے گھسیٹا اور جھاڑی سے پھل توڑ توڑ کر کھانے لگا۔ بد ذائقہ ! تلخ ! پھر غنودگی کی ایک اور لہر آئی۔ کتنے ہی پہر گزرے۔ اسے ہوش آیا تو بدن ہلکا محسوس ہوا۔ اس نے ہاتھ لگایا تو پیشانی جو پہلے تپ رہی تھی‘ اب نارمل لگ رہی تھی۔ وہ حیران ہوا اور پھر ایک خیال بجلی کی طرح اس کے ذہن میں کوندا۔ ہو نہ ہو یہ اسی جنگلی پودے کے بے نام پھل کا اثر ہے! یہ تھا وہ حادثہ جس کے نتیجے میں کونین دریافت ہوئی اور سینکڑوں برس سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے ملیریا کو کنٹرول کیا جانے لگا۔
اب ہم جنوبی امریکہ کو وہیں چھوڑ کر بحر اوقیانوس پار کرتے ہیں اور برطانیہ کے ساحل پر اترتے ہیں۔ 1666ء کا زمانہ تھا۔ طاعون نے برطانیہ کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ سرکاری عمارتیں بند کی جا رہی تھیں۔ اجلاس وغیرہ سب ملتوی کئے جا رہے تھے۔ پروفیسر نے سامان اٹھایا اور کیمبرج سے نکل کر لنکا شائر کا رخ کیا جہاں اس کا آبائی مکان تھا۔ یہ خوش گوار حادثہ وہیں پیش آیا۔ وہ اس دن اپنی والدہ کے ساتھ باغ میں بیٹھا ہوا تھا اور اُس پروجیکٹ کے بارے میں سوچ رہا تھا جس پر وہ کیمبرج یونیورسٹی میں کام کر رہا تھا۔ اس کے سامنے ایک پیڑ سے سیب گرا اور سیدھا‘ منہ کے بل‘ زمین پر آ گرا۔ اس نے سوچا یہ سیب نیچے آنے کے بجائے اوپر کیوں نہیں گیا‘ اور دائیں بائیں مڑنے کے بجائے‘ سیدھا کیوں گرا؟ یہ نیوٹن تھا اور یہ تھا وہ حادثہ جس نے کششِ ثقل کے حوالے سے نیوٹن کی سوچ کو مہمیز کیا اور اس نے اپنی شہرہ آفاق تھیوری پیش کی۔
اب ہم برطانیہ سے رخصت ہوتے ہیں اور ایک بار پھر اٹلانٹک‘ یعنی‘ بحر اوقیانوس کو پار کرتے ہیں مگر اس بار جنوبی امریکہ نہیں‘ شمالی امریکہ کا رُخ کرتے ہیں جہاں ریاست ہائے متحدہ امریکہ واقع ہے۔ یہ امریکہ کا ایک ہسپتال ہے۔ ایک معروف پاکستانی اداکارہ‘ جس کی وجہ شہرت‘ اور چیزوں کے علاوہ‘ انگریزی زبان کی ''اصلاح‘‘ بھی ہے‘ مبینہ طور پر‘ ڈاکٹر سے بحث کر رہی ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ اسے وی آئی پی درجہ دے کر شایانِ شان پروٹوکول دیا جائے۔ اس پروٹوکول کے لیے وہ دو دلیلیں پیش کرتی ہے۔ پہلی یہ کہ اس کے اپنے ملک میں وزیر اعظم صاحب خود اسے پروٹوکول دیتے ہیں۔ دوسری یہ کہ موجودہ حکومتی پارٹی نے اسے سینیٹ کی ممبر شپ کی پیشکش کی ہے۔ اداکارہ کا اصرار جب پروٹوکول کے لیے بڑھا تو ڈاکٹر نے اسے پاگل قرار دیتے ہوئے دماغی امراض کے ہسپتال میں بھیج دیا جسے عرفِ عام میں پاگل خانہ کہتے ہیں۔ یہ ایک اور عظیم طِبّی دریافت (میڈیکل ڈسکَوری) ہے‘ جو اس حادثے کے نتیجے میں ہوئی ہے اور وہ یہ کہ پروٹوکول کی خواہش رکھنے والے اور اس پر اصرار کرنے والے لوگ ذہنی مریض ہوتے ہیں۔
یہاں دو ضمنی پہلو غور طلب ہیں۔ اگر اداکارہ کے دونوں دعوے درست ہیں تو ایک تو یہ کہ پاکستانی عوام کے لیے یہ خبر بہت دلچسپ اور معنی خیز ہونی چاہیے کہ ان کی حکومت کا سربراہ اس اداکارہ کو پروٹوکول دیتا ہے۔ دوسرے یہ کہ کم از کم سینیٹ کے حکومتی ارکان کو اپنی پارٹی سے ضرور پوچھنا چاہیے کہ کیا اب سینیٹ کا لیول‘ معیار اور وقار یہ رہ گیا ہے؟ اگر اداکارہ کے یہ دونوں دعوے جھوٹے ہیں تو اس سے باقاعدہ پوچھ گچھ ہونی چاہیے کہ اس نے وزیر اعظم پر پروٹوکول دینے کی تہمت کیوں لگائی اور پاکستانی سینیٹ کی‘ ملک سے باہر کھڑے ہو کر‘ بے توقیری کیوں کی؟ مگر اس وقت‘ شرمسار کرنے والے یہ دونوں پہلو ہمارا دردِ سر نہیں! جن کا یہ مسئلہ ہے‘ ان کے جسموں میں اگر ریڑھ کی ہڈیاں موجود ہیں تو خود نمٹ لیں گے!
خدا کے بندو! غور کرو! سوچو! یہ کتنی بڑی دریافت ہے! حیرت انگیز دریافت! کہ پروٹوکول کے خواہش مند‘ فاتر العقل ہوتے ہیں۔ امریکی ڈاکٹر کو مشرقی زبانوں سے آگاہی ہوتی تو ایسے بیماروں کو مراقی کہتا یا مالیخولیا کے مریض! دوبارہ غور کرو! دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ چاند کے بعد اب دور تر سیاروں پر کمندیں پھینکنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ کمپیوٹر نے انسانی دماغ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ انٹرنیٹ نے کرۂ ارض کو مٹھی میں بند کر دیا ہے۔ طیارے آواز کا بیریئر توڑ چکے۔ مگر اس ساری‘ حیران کُن ترقی کے باوجود‘ پروٹوکول کے مرض کی تشخیص نہیں ہو رہی تھی۔ کوئی اسے دل کی بیماری بتاتا‘ کوئی سوء ہضم کا شاخسانہ قرار دیتا۔ کوئی اسے اندر کے اندھے پن کا نام دیتا۔ آفرین ہے اس امریکی ڈاکٹر پر جس نے بالآخر دریافت کر لیا کہ پروٹوکول کی خواہش کا براہ راست تعلق دماغی مرض سے ہے۔ ہمارے ملک کا نام بھی میڈیکل ہسٹری میں ہمیشہ تابندہ رہے گا کہ جس مریضہ کی بدولت یہ عظیم الشان دریافت ہوئی‘ اس کا تعلق ہمارے ملک سے تھا! یہ بھی عجیب درد ناک اتفاق ہے کہ پروٹوکول کی بیماری ہمارے جیسے ملکوں ہی میں ہے۔ سالہا سال جمہوری (اصلی جمہوری) ملکوں میں رہنے والوں نے کبھی ہٹو بچو کا غوغا یا سڑکوں پر روٹ لگتے نہیں دیکھا۔ ان ملکوں کے سربراہ‘ گورنر‘ چیف منسٹرز‘ اور دیگر اہم شخصیات تزک و احتشام‘ شان و شوکت‘ جاہ و جلال اور طمطراق سے بے نیاز ہوتی ہیں۔ منسٹر اپنی گاڑیاں‘ اکثر و بیشتر‘ خود ڈرائیو کرتے ہیں۔ (ہاں سکیورٹی ایک الگ ایشو ہے۔ اس کا پروٹوکول یا رعب داب سے کوئی تعلق نہیں)۔ ٹرین میں کھڑے ہو کر سفر کرنا یا سائیکل پر سوار ہو کر دفتر پہنچنا عام ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی پیغمبر‘ کسی صحابی‘ کسی امام‘ کسی خلیفہ راشد‘ کسی ولی اللہ نے پروٹوکول چاہا نہ برداشت کیا نہ اس کی اجازت ہی دی۔
پروٹوکول کی خواہش‘ اصلاً احساسِ کمتری کا نتیجہ ہے جو ایک خطرناک نفسیاتی مرض ہے اور ضروری نہیں کہ یہ مرض صرف حکمرانوں میں ہو۔ اب تو ایسے ایسے عالم دیکھنے میں آ رہے ہیں کہ خود اپنے نام کے ساتھ مولانا لکھتے ہیں جیسے یہ ان کے نام کا حصہ ہو۔ قیمتی گاڑی رکھنا کوئی برائی نہیں۔ ہر صاحبِ استطاعت کا حق ہے‘ مگر زرِ کثیر خرچ کر کے خصوصی نمبر پلیٹ لگوانا‘ خود نمائی کے سوا کیا ہے؟ اگر ایسا کام کوئی شاگرد یا عقیدت مند بھی کرے تو لازم ہے کہ اسے سختی سے منع کیا جائے اور ایسی حرکت کالعدم کرائی جائے۔ نادان دوستوں کی طرح نادان مرید بھی ضرر رساں ہوتے ہیں۔
پروٹوکول اور عقیدت کے رد عمل میں فرقہ ملامتیہ وجود میں آیا۔ یہ حضرات آؤ بھگت اور ہٹو بچو سے بیزار تھے۔ ایسی حرکتوں سے انہیں شدید کوفت ہوتی تھی۔ اس کا علاج انہوں نے یہ کیا کہ اپنی عبادات‘ کرامات اور کمالات پوشیدہ رکھے اور ظاہر میں اپنے آپ کو گنہگار بنا کر پیش کیا۔ یہ دوسری انتہا تھی مگر رد عمل ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ ایک صحیح الدماغ انسان‘ مرد ہو یا عورت‘ پروٹو کول لے کر‘ نظروں کا محور بننا کبھی پسند نہیں کرتا۔ لوگوں کا دست بستہ کھڑا رہنا‘ ہاتھ چومنا‘ پاؤں چھونا ‘ خوشامد کرنا اسے برا لگتا ہے۔ جسے اپنے اوپر اعتماد ہو وہ پروٹوکول کا سہارا نہیں لیتا۔ حکمران ہو یا کوئی اور!

Thursday, April 08, 2021

خوشحال گھرانوں کے بچوں پر بھی رحم کھائیے



میں نے تیرہ سالہ خوش لباس بچے کو دیکھا اور مجھے اس پر ترس آیا!
مزدوری کرنے والے، کُوڑے کے ڈھیر سے پرانے کاغذ چننے والے، بھیک مانگنے والے اور گاڑی کا شیشہ صاف کرنے والے بچوں پر تو سب کو ترس آتا ہے مگر خوش حال گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کا کیا ہو گا؟ وہ بھی تو رحم کے مستحق ہیں!
اسے سامنے بٹھایا اور اس سے پوچھا: کیا آپ نے رات کو ستاروں بھرا آسمان دیکھا ہے؟ آپ کے گھر کے ارد گرد کون کون سے درخت ہیں؟ کبھی غور سے دیکھا ہے کہ بادل شکلیں کیا کیا بناتے ہیں؟ آخری بار دھنک کب دیکھی تھی؟ ہر روز پیدل کتنا چلتے ہیں؟ کبھی برستی بارش میں نہائے؟ سورج کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھا؟غروب سے پہلے شفق میں کون کون سے رنگ ہوتے ہیں؟ موٹر وے پر سفر کرتے ہیں تو کیا باہر، مالٹے کے باغوں، کھیتوں میں اُگی فصلوں، جوہڑوں میں نہاتی بھینسوں اور آسمان پر اڑتے پرندوں کو غور سے دیکھتے ہیں؟ کیا فاختہ کو پہچان لیں گے؟ سچ مچ کے زندہ، جیتے جاگتے خرگوش کو کبھی دیکھا ہے؟ شاید ہی کسی سوال کا جواب اس نے اثبات میں دیا ہو! اور یہ تو وہ سوال ہیں جو شہر میں رہنے والے بچوں کے لیے بہت زیادہ مشکل نہیں۔ میں نے اسے دوبارہ غور سے دیکھا۔ مجھے اور بھی ترس آیا! بہت سے سوال تو اس بچے سے پوچھے ہی نہیں جا سکتے۔ اس سے اگر یہ پوچھا جائے کہ گرمیوں میں رات کو کبھی چھت پر، یا صحن میں سوئے تو حیرت سے اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ جائے گا۔ اور یہ پوچھنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ گندم اور جَو کے پودے میں اور جوار اور باجرے کے پودے میں کیا فرق ہے؟ گائے اور بھینس کی خوراک کیا ہے؟ کبھی بکری کے میمنے کو چوما ہے؟ صبح نو دس بجے بستی کے ہر گھر سے دھواں کیوں اٹھتا ہے؟ تنور میں ڈالے گئے ایندھن کو لکڑی کے جس ڈنڈے سے ہِلایا جاتا ہے، اسے کیا کہتے ہیں؟ سردی میں باہر نکلتے وقت کھیس یا گرم چادر کیسے اوڑھتے ہیں؟ لالٹین کیا ہوتی ہے؟ مٹی کا دیا کس شکل کا ہوتا ہے؟ مسجد میں ٹھہرے ہوئے مسافر کو، مغرب کی نماز کے بعد، کھانا پہنچانے کبھی گئے؟ گھروں میں جو بیل‘ بھینسیں‘ گھوڑے رکھے جاتے ہیں ان کے پانی پینے کا کیا بندوبست ہوتا ہے؟ اور تو اور یہی پوچھ لیجیے کہ دہی کیسے بنتا ہے، مکھن کہاں سے آتا ہے اور خالص گھی کس چیز سے بنتا ہے تو شاید ہی بتا سکیں!
کس قدر قابل رحم ہیں یہ بچے جو ڈبل روٹی کے جھاگ نما ٹکڑوں پر، پیزا کے نقصان دہ میدے پر‘ اور آدھے پکّے آدھے کچّے برگروں پر زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔ انہوں نے چشموں کا پانی پیا نہ کنوئوں کا! یہ تو بوتلوں میں بھرا ہوا پانی پیتے ہیں جس کے ایک ایک گلاس، بلکہ ایک ایک گھونٹ کی قیمت، بیرون ملک، دوسروں کے خزانوں میں جمع ہو رہی ہے۔ افسوس! ان کو ماں باپ بھی فیس بک، ٹویٹر، وٹس ایپ اور انسٹا گرام زمانے کے ملے۔ والدین کے پاس وقت ہے نہ دماغ کہ صبح کے ناشتے میں انہیں پراٹھے، گھر کا مکھن اور خالص دودھ مہیا کریں۔ آج کے بچے کا موازنہ چار پانچ عشرے پہلے کے بچے سے کر کے دیکھیے۔ گاؤں یا قصبے کو تو ایک طرف رکھیے۔ شہر کی بات کر لیتے ہیں۔ بچہ صبح سکول پیدل جاتا تھا۔ نسبتاً خوش حال بچے کی اپنی بائی سائیکل ہوتی تھی۔ کچھ بچے بس پر جاتے تھے۔ مگر جس طرح بھی جاتے تھے، سکیورٹی کا کوئی ایشو دامن گیر نہیں ہوتا تھا! اُس زمانے کے سکول مکانوں اور کوٹھیوں میں نہیں ہوتے تھے۔ یہ خصوصی عمارتیں تھیں جن میں کھیلنے کے لیے بڑے بڑے گراؤنڈ ہوتے تھے۔ جسمانی فِٹ نس کے پیریڈ آج کی طرح ہفتے میں صرف دو دن نہیں، ہر روز ہوتے تھے۔ یہ بچے سکول سے آ کر، ہوم ورک کرتے تھے۔ ماں یا بہن کو محلے کی دکان سے سودا سلف بھی لا کر دیتے تھے۔ ہوم ورک کرنے کے بعد، عصر کے لگ بھگ، محلے کی نزدیک ترین گراؤنڈ میں پہنچ جاتے تھے‘ جہاں گلی ڈنڈا سے لے کر ہاکی، والی بال اور فٹ بال تک سبھی کھیل کھیلے جاتے تھے۔ اِدھر مغرب کی اذان ہوتی، اُدھر سب بچے کھیل چھوڑ کر گھر کو چل پڑتے۔ مغرب کے بعد گھر سے باہر رہنے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ سالگرہ منانے کی بدعت ابھی عام نہیں ہوئی تھی۔ ٹیلی ویژن آ چکا تھا مگر اس کے مخصوص اوقات تھے۔ شام کو کھیلنے اور بھاگنے دوڑنے کی وجہ سے یہ بچے رات کو جلد نیند کی آغوش میں چلے جاتے تھے۔ سحر خیزی آج کی طرح خال خال نہیں تھی۔ عام تھی۔ جنک فوڈ کی مصیبت نہیں آئی تھی۔ گنڈیریاں اور مالٹے غریب امیر سب کی خوراک کا حصہ تھے۔ آج کے بچے کے راستے میں سب سے بڑا اور خوفناک گڑھا جگراتا ہے۔ بہت کم والدین ایسے ہیں جو بچوں کو وقت پر سلانے میں کامیاب ہیں۔ ٹیلی ویژن تو تھا ہی، انٹرنیٹ اور انٹرنیٹ کی اولاد، سوشل میڈیا، ان بچوں کو انسان سے چوہا بنانے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ ایک طرف کھیل کے میدان جُوع الارض (لینڈ ہنگر) کی نذر ہو گئے، دوسری طرف لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور موبائل فون نے بچوں کو ذہنی طور پر اپاہج اور جسمانی طور پر بُھربُھرا کر دیا ہے۔ جسمانی نشوونما میں کمی صاف نظر آ رہی ہے۔ دس دس گیارہ گیارہ سال کے بچے نظر کے چشمے لگائے پھر رہے ہیں۔ ہر بچہ اپنی الگ دنیا میں مقیّد ہے۔ یہ دنیا صرف ایک سکرین پر مشتمل ہے۔ اس بچے کی پڑھائی، کھیل، تفریح، آرام، سب کچھ اس سکرین کے اندر ہے۔ وہ گھنٹوں نظریں سکرین پر جمائے ایک جگہ، ساکت و ساکن بیٹھا رہتا ہے۔ اس کے قویٰ کمزور ہو رہے ہیں۔ چلنا پھرنا برائے نام ہے۔ اسے اگر کہا جائے کہ کمرے سے نکلو‘ اور تھوڑی دیر ہی کے لیے سہی، باہر لان یا صحن میں جا بیٹھو تو اس کا جواب ہو گا کہ وہاں وائی فائی نہیں آ رہا۔
نہلے پر دہلا خوراک کا ایک اور تاریک پہلو ہے۔ ایک تاریک پہلو کا ذکر تو اوپر کیا جا چکا یعنی خوراک کے اجزا کی بد حالی۔ دوسرا پہلو جو بد تر اور زیادہ مُضر ہے وہ کھانے کے بے ہنگم اوقات ہیں۔ جب گھروں میں کھانے کے ٹیبل نہیں تھے اور دستر خوان فرش پر بچھتے تھے تو گھر کے تمام افراد حاضر ہوتے تھے۔ دستر خوان تربیت گاہ کا کام بھی کرتا تھا۔ یہیں بچوں کو آداب سکھائے جاتے تھے۔ بڑے چھوٹے کی تمیز اور تقدیم و تاخیر کے اصول بتائے جاتے تھے۔ اب قیمتی ڈائننگ ٹیبل آ گئے‘ مگر ہر کوئی الگ وقت پر کھانا کھاتا ہے۔ گردشِ فلک نے یہ دن بھی دکھائے کہ ایک ہی گھر میں کچھ افراد ظہرانہ، تو کچھ افراد، عین اُسی وقت، ناشتہ کر رہے ہوتے ہیں۔ مشاغل ایسے ہو گئے کہ راتوں کو جاگا جاتا ہے۔ جب جاگتے ہیں تو بھوک لگتی ہے۔ ایسے میں فُوڈ والوں کی چاندی ہو گئی۔ خاص طور پر فاسٹ فوڈ والوں کی۔ رات رات بھر گھروں میں کھانا پہنچایا جاتا ہے۔ گھر کے بڑے سو جاتے ہیں۔ بارہ ایک بجے، بچے فون پر آرڈر دیتے ہیں اور طعامِ شبینہ حاضر کر دیا جاتا ہے۔ کون سی پابندیٔ اوقات اور کہاں کی سحر خیزی!! رہی سہی کسر آن لائن کلاسوں نے پوری کر دی۔ یہ مجبوری ہے مگر مکروہ مجبوری! اب صبح اٹھ کر نہانے دھونے، کپڑے بدلنے اور ناشتہ کرنے کی پابندی سے بھی نجات مل گئی۔ بس صرف آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے۔ لیٹے ہوئے ہی، پیٹ پر رکھ کر لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ کھولیے۔ لیجیے پیریڈ شروع ہو گیا!
کوئی ہے جو ان بچوں پر ترس کھائے!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, April 06, 2021

ایک اور مافیا



گزشتہ دو اڑھائی برسوں کے درمیان آپ نے مافیا کا لفظ بار بار سنا ہو گا۔ موجودہ حکومت‘ غالباً دنیا کی پہلی اور شاید آخری حکومت ہے جو مافیاز کا قلع قمع کرنے کے بجائے اپنے عوام کے سامنے ہر آئے دن مافیا کا ذکر بے بسی کے ساتھ کرتی ہے اور اپنی شکست خوردگی کا احساس دلاتی ہے۔اس سے وہی لطیفہ نما واقعہ یاد آگیا جو ہو سکتا ہے آپ نے پہلے بھی سنا ہو۔ مغلوں کے عہدِ زوال میں ایک شہزادے کی پرورش حرم سرا میں ہو ئی تھی۔کنیزوں‘ شہزادیوں‘ خادماؤں اور بیگمات کے سوا کسی سے سابقہ ہی نہیں پڑا تھا۔ اسی ماحول میں عنفوانِ شباب کا مرحلہ آگیا۔ایک دن حرم سرا میں کہیں سے سانپ آگیا۔ سب عورتوں نے شور مچایا کہ '' کسی مرد کو بلاؤ‘‘۔ ان میں سب سے بلند آواز اسی شہزادے کی تھی!!عوام مافیا مافیا کا شور مچاتے ہیں تو حکومت ان سے بھی زیادہ مافیا مافیا کا شور کرتی ہے۔ مگر اب تک کسی مافیا کا انسداد نہیں کر سکی۔
چینی مافیا‘ آٹا مافیا‘ پٹرول مافیا‘پانی کا ٹینکر مافیا‘ دل میں ڈالے جانے والے سٹنٹس کا مافیا۔ زمین پر ناجائز قبضہ کرنے اور کرانے والوں کا مافیا‘ گاڑیوں کی چوری کا مافیا‘ اغوا برائے تاوان کا مافیا۔ٹمبر (جنگلات کی چوری کا) مافیا۔سمگلنگ مافیا‘ ہیومن ٹریفک مافیا‘ بوٹی مافیا‘ کچہریوں میں زمین اور جائداد کے انتقال پر رشوت کھانے والوں کا مافیا‘ اور نہ جانے اور کون کون سے مافیا‘ عوام کے جسموں سے گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے ہیں اور خون چوس رہے ہیں۔ کوئی والی وارث نہیں جو بے بس پاکستانیوں کو ان مہیب آدم خوروں سے بچا سکے۔صرف اندرونی مافیا ہی نہیں‘ بیرونی کمپنیاں بھی پاکستانیوں کو دونوں ہاتھوں سے لُوٹ رہی ہیں۔ اگر پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے جسم میں ریڑھ کی ہڈی ہوتی تو حکومت سے پوچھتی کہ موبائل کمپنیاں ہر سال‘ پاکستانیوں کی جیبوں سے کتنے ارب کتنے کھرب روپے نکال کر‘ اپنے اپنے ملکوں کو بھیجتی ہیں؟ آج کا تو نہیں پتا‘ مگر کچھ عرصہ پہلے شرق اوسط کی ایک ایئر لائن کا یہ معمول تھا کہ پشاور کیلئے چھوٹا جہاز بھیجتی‘اور آدھے مسافروں کا سامان مشرق وسطیٰ ہی میں چھوڑ آتی جو کئی روز کے بعد مسافروں کو دھکے کھا کھا کر ملتا۔ کوئی عوام کا ضامن ہوتا تو ایئر لائن ایسی سفاکی کا سوچ بھی نہ سکتی۔ مگر ایئر لائنیں ہیں یا فون کمپنیاں‘ سب کو معلوم ہے کہ پاکستانی بے یار و مددگار ہیں۔ ان کے کپڑے اتاریں‘ جیبیں کاٹیں یا گردے اور انتڑیاں نکال کر تار پر لٹکا دیں‘ کسی کان پر جوں نہیں رینگے گی‘ کسی پیشانی پر بل نہیں پڑے گا اور عزتِ نفس کے تالاب میں گرنے والا کوئی کنکر ارتعاش نہیں پیدا کرے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ عزتِ نفس کا تالاب مدتیں ہوئیں‘ سوکھ چکا ہے۔ اب تو وہ تالاب کم اور عزتِ نفس کا گورستان زیادہ ہے۔
صرف اس ایک بات پر غور فرما کر دیکھیے کہ پوری مہذب دنیا میں ڈاکٹر حضرات‘ دوائیں‘ جنرک ناموں سے تجویز کرتے ہیں۔ مریض اپنی مرضی سے کسی بھی کمپنی کی‘ کسی بھی برانڈ کی‘ دوا خرید سکتا ہے۔ مگر پاکستان میں ڈاکٹر برانڈ ناموں سے ادویات تجویز کرتے ہیں تا کہ مخصوص کمپنیوں کی بنی ہوئی ادویات فروخت ہو سکیں۔ یہ کمپنیاں ڈاکٹروں کو '' خوش‘‘ کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرتی ہیں۔ ہوائی سفر کے ٹکٹ‘ غیر ملکی دورے‘ نئی گاڑیاں اور نہ جانے کیا کیا۔ ایک مثال سے مسئلہ واضح ہو جائے گا۔ ذہنی دباؤ ( ڈپریشن ) کے لیے جو دوا تجویز کی جاتی ہے اس کا جنرک نام‘‘ ایسّائی ٹیلو پرام‘‘ ہے۔اب اس دوا کو کئی کمپنیاں بناتی ہیں۔ ہر کمپنی کی بنائی ہوئی دوا‘ اصل میں ''ایسائی ٹیلوپرام'' ہی ہو گی۔ مگر ہر کمپنی اپنی پہچان کے لیے نام الگ رکھے کی۔ یہ نام برانڈ نام کہلائے گا۔ ہر کمپنی مختلف قیمت رکھے گی۔یہ دوائی دس سے زیادہ کمپنیاں بنا رہی ہیں۔ سب مختلف نام رکھ رہی ہیں۔ فرض کیجیے کمپنیوں کے رکھے ہوئے نام ہیں۔ الف‘ بے‘ پے‘ جیم وغیرہ۔ یہ سب ایسائی ٹیلو پرام ہیں۔ دوسرے ملکوں میں ڈاکٹر مریض کو نسخے پر ایسائی ٹیلو پرام لکھ کر دے گا مگر پاکستان میں ڈاکٹر الف یا بے یا پے یا جیم لکھ کر دے گا کیونکہ اس نے کمپنی کو نوازنا ہے۔ ایک کمپنی کی گولی چھیاسٹھ روپے میں مل رہی ہے۔ ایک اور کمپنی یہی دوا بیس روپے فی گولی بیچ رہی ہے۔ ڈاکٹر مہنگی والی کمپنی کی دوا تجویز کرے گا کیونکہ کمپنی کے ساتھ مُک مُکا ہو چکا ہے۔ اگر حکومت عوام کی ہمدرد ہو تو وہ حکم جاری کر سکتی ہے کہ جنرک نام تجویز کیے جائیں تاکہ مریض اپنی مرضی کی کمپنی کی بنی ہوئی دوا لے سکے۔ مگر حکومت کو کیا پڑی ہے کہ عوام کے فائدے کے لیے یہ اقدام اُٹھائے۔ اسے تو کمپنیوں اور ڈاکٹروں کی رضا مطلوب ہے۔
موجودہ حکومت کے عہدِ ہمایونی میں‘ ایک اور مافیا‘ نئی گاڑیوں کا مافیا‘بھی عوام کے جسم سے بوٹیاں کاٹ کر‘ سیخوں میں پرو کر‘ آگ پر بھون کر تناول کر رہا ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی ملک میں چلے جائیں‘ قیمت ادا کریں اور شو روم سے گاڑی خرید لیں۔ مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ آپ رقم لے کر شو روم میں جائیں۔ آپ کو گاڑی نہیں‘ محض گاڑی کی بُکنگ ملے گی۔ آپ دس یا پندرہ لاکھ روپے جمع کرائیں۔ اس کے بعد مہینوں انتظار کیجیے۔ چار پانچ ماہ نہیں‘ آٹھ آٹھ‘ نو نو ماہ تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ آپ اتنا انتظار نہیں کر سکتے تو کسی ''سرمایہ کار‘‘ سے خرید لیجیے۔ وہ اسی وقت آپ کو گاڑی دے دے گا مگر اصل قیمت سے تین یا چار لاکھ روپے زیادہ۔ اس مکروہ دھندے کو Ownکہتے ہیں۔ یہ شو روم والے کا اور کار کمپنی کا متحدہ مافیا ہے۔کوئی بیرونِ ملک سے آیا ہے۔ انتظار نہیں کر سکتا‘ کسی نے بچوں کو سکول لے جانا اور واپس لانا ہے۔ ہزار وجوہ ہو سکتی ہیں۔ گاڑی فوراً درکار ہے مگر دستیاب نہیں ! دستیاب ہے بھی تو اس شرط پر کہ تین یا چار لاکھ روپے جگا ٹیکس دیں !
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ گاہک کے جسم سے گوشت کاٹنے کے اس مکروہ عمل کے دوران‘ حکومت کیا کر رہی ہے؟ تو جناب! حکومت خشخاش یعنی پوست پی کر سو رہی ہے۔ وفاق میں ایک وزارتِ صنعت ہے۔ اس میںوزیر کے نیچے گریڈ بائیس کا وفاقی سیکرٹری تعینات ہے۔ اس کے نیچے ایڈیشنل سیکرٹریوں‘ جوائنٹ سیکرٹریوں‘ ڈپٹی سیکرٹریوں‘ سیکشن افسروں اور انواع و اقسام کے اہلکاروں کی پوری فوج ظفر موج ہے۔ گاڑیاں ہیں یا خطیر کار الاؤنس‘ سرکاری ٹیلی فون ہیں‘ دورے ہیں اور رنگ رنگ کی مراعات اور الاؤنس ہیں‘ کروڑوں اربوں کے سالانہ اخراجات ہیں جو عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے ادا کر رہے ہیں‘ مگر اس وزارتِ صنعت سے اتنا نہیں ہوتا کہ کاریں بنانے والی صنعت کو اس مافیا گیری سے روکے اور حکم دے کہ متوقع ڈیمانڈ کا کم از کم ستر اسّی فیصد حصہ شو روم میں ہر وقت حاضر رکھے تا کہ گاہک آئے‘ قیمت ادا کرے اور گاڑی اسی وقت وصول کر لے اور سرمایہ کار یعنی شوروم مافیا‘ اون کے نام پر جگاٹیکس نہ وصول کرے۔اور اگر صنعت کے نجی شعبے نے کسی کنٹرول‘ کسی ریگولیشن‘ کسی چیک اور بیلنس کے بغیر‘ مافیا سے مل کر‘ صارفین کی کمائی کے ساتھ ہولی کھیلنی ہے تو قوم کو بتایا جائے کہ وزارتِ صنعت کا کیا فائدہ ہے ؟

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, April 05, 2021

ایک سابق سفیر کی یادداشتیں



واجد شمس الحسن انگریزی زبان کے صحافی ہیں۔ بھٹو خاندان سے ان کا قریبی تعلق رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے دور حکومت میں انہیں برطانیہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا۔ حال ہی میں ان کی تصنیف ''بھٹو خاندان میری یادوں میں‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس میں سے کچھ اقتباسات قارئین سے شیئر کیے جا رہے ہیں۔
شملہ روانگی سے پہلے لاہور ایئر پورٹ سے جب جہاز انڈیا کے شہر چندی گڑھ جانے کے لیے اُڑا تو کچھ دیر بعد بھٹو صاحب جہاز میں موجود صحافیوں اور دیگر سرکاری افسران کے پاس آئے۔ انہوں نے سب کو مخاطب کر کے کہا کہ ہم ہندوستان جا رہے ہیں۔ ہمارے نوّے ہزار فوجی وہاں قید ہیں۔ پاکستان ٹوٹ گیا ہے۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا ہے۔ بھٹو صاحب کے ساتھ جانے والے وفد میں زیادہ تر صحافیوں اور آفیشلز کا تعلق پنجاب سے تھا۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ آپ کا تعلق زندہ دلان پنجاب سے ہے۔ آپ جہاز سے اترنے کے بعد وہاں لوگوں سے جپھیاں نہیں مارو گے‘ میں نہیں چاہتا کہ آپ کے چہروں سے یہ ظاہر ہو کہ آپ بڑے خوش ہیں یا آپ کو کوئی شرمندگی ہے۔ آپ کے ملنے کے انداز اور گفتگو سے یہ تاثر پیدا ہونا چاہیے کہ آپ ان سے ناراض ہیں۔ آپ انڈیا کے لوگوں سے ملتے وقت جوش و خروش نہیں دکھائیں گے۔ آپ کی کسی بات سے یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ آپ ان کے آگے جُھک گئے ہیں اور آپ نے شکست تسلیم کر لی ہے۔ دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ مجھے معلوم ہے آپ میں سے اکثریت کی بیگمات نے انڈین ساڑھی کی فرمائش کی ہو گی‘ میں نہیں چاہتا کہ کوئی ایک بھی شخص وہاں سے انڈیا کی ساڑھی لے کر آئے۔ میں چاہوں گا کہ 1971 کی جنگ اور بنگلہ دیش کے حوالے سے جو بھی کتابیں ملیں وہ خرید لیں۔ کسی کو کتابیں خریدنے کے لیے پیسے چاہییں تو مجھ سے لے لیں۔ انڈیا میں اس جنگ کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ آپ کو جو بھی کتاب انڈیا اور پاکستان کی جنگ کے حوالے سے ملے یا بنگلہ دیش میں کیا ہوا اور کیوں ہوا، وہ کتابیں ضرور خریدیں۔ واپسی پر آپ اپنے ساتھ صرف کتابیں لا سکتے ہیں۔ میں نے لاہور ایئر پورٹ پر ہدایت کر دی ہے کہ جو لوگ میرے ساتھ واپس آئیں، ہر مسافر کے سامان کی تلاشی لی جائے۔ مجھے پتہ چل جائے گا کہ کون کیا چیز لایا ہے۔ آپ جہاں ٹھہریں گے، ہر کمرے میں کیمرہ ہو گا۔ ایسی کوئی بات مت کیجیے گا جس سے ملک کی بدنامی ہو۔ ایسی کوئی حرکت مت کیجیے گا جس سے آپ کی عدم سنجیدگی ظاہر ہو، اگر کوئی اہم بات کرنی ہو تو اپنے کمرے سے باہر آئیے گا اور لان میں ٹہلتے ہوئے بات کیجیے گا۔ کمرے میں ضروری بات کرنی ہو تو لکھ کر بات کیجیے گا۔
.........
میں سمجھتا ہوں حسین شہید سہروردی کے ساتھ ہم نے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا۔ ہم نے ان کے ساتھ زیادتی کی۔ ایوب خان نے انہیں گرفتار کر کے کراچی سنٹرل جیل میں قید کر دیا تھا۔ سہروردی صاحب نے ایوب خان کو جیل سے خط لکھا کہ تم نے مجھے گرفتار کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ مجھے گرفتار کر کے تم ملک کو نقصان پہنچا رہے ہو۔ میں آخری لیڈر ہوں جو مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان پُل کا کردار ادا کر سکتا ہوں۔ مشرقی پاکستان کے لوگ میری بات مانتے ہیں۔ اگر تم نے مجھے مار دیا تو پاکستان کا بچنا مشکل ہو جائے گا۔ ایوب خان نے سہروردی کی بات پر کوئی توجہ نہ دی بلکہ انہیں علاج کی غرض سے زبردستی بیرون ملک بھیج دیا جہاں وہ بیروت میں اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔
.........
شیخ مجیب کے چھ نکات کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں‘ لیکن ایک اہم وجہ 1965 کی جنگ تھی۔ اس جنگ کے دوران شیخ مجیب اور دیگر بنگالی لیڈروں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ بے یارومددگار ہیں۔ ان کا کوئی دفاع کرنے والا نہیں تھا۔ مشرقی پاکستان لا وارث تھا۔ اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے چھ نکات وضع کیے۔ 1962 میں اس وقت کے چیف جسٹس منیر
نے مشرقی پاکستان سے واپس آنے کے بعد ایوب خان سے کہا کہ ہمارا فیڈریشن اس شکل میں نہیں چل سکتا... ‘ایوب خان نے کہا کہ آپ بنگالی لیڈروں سے بات کریں۔ انہوں نے مولانا تمیزالدین سمیت مشرقی پاکستان کے سینئر لیڈروں سے بات کی۔ بنگالی رہنماؤں نے بڑے تلخ لہجے میں چیف جسٹس منیر کو جواب دیا کہ ہم اکثریت میں ہیں۔ اگر آپ الگ ہونا چاہتے ہیں تو الگ ہو جائیں۔ یہ سارا واقعہ انہوں نے اپنی کتاب Jinnah to Zia میں لکھا ہے۔
.........
 
اس جنگ میں امریکی صدر نکسن کا بڑا منفی کردار تھا۔ اگر امریکہ چاہتا تو وہ یحییٰ خان کو مجبور کر سکتا تھا کہ وہ اقتدار مجیب الرحمن کے سپرد کر دے۔ اس وقت یحییٰ خان امریکہ کے لیے بہت اہم رول ادا کر رہے تھے۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر جب پہلی بار چین گئے تو پاکستان سے ہو کر گئے تھے۔ یہ دورہ بہت خفیہ رکھا گیا تھا۔ ان باتوں کی وجہ سے امریکہ نے یحییٰ خان کو سب کچھ کرنے کی کھلی چھٹی دی ہوئی تھی۔ جس کے نتیجہ میں ملک دولخت ہو گیا۔
.........
امریکی صدر ریگن پاکستان میں جنرل ضیاالحق کے مارشل لا کی حمایت کرتے تھے اور چلی میں جنرل Pinochet کی مخالفت کرتے تھے۔ ریگن نے چلی میں مارشل لا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا:
Martial law is war against people
ہم نے اسے اخبار کی سرخی بنایا جس پر بڑا ہنگامہ ہوا۔ انفارمیشن والے سمجھے کہ یہ ہم نے جنرل ضیاالحق کے لیے لکھا ہے۔ ہم نے کہا کہ ہم نے چلی کے مارشل لا کے بارے میں لکھا ہے۔ بہت بحث ہوئی۔ انفارمیشن والے سمجھ گئے تھے کہ ہم نے شرارت کی ہے۔ انہوں نے چلی کی اور جنرل پنوشے کی خبریں فرنٹ پیج پر چھاپنے پر پابندی لگا دی اور کہا کہ اندر کے صفحات پر سنگل کالم خبر لگا کرے گی۔
.........
سکاٹ لینڈ یارڈ والے قاتل کو پکڑنے، قتل کی تحقیقات کرنے کے بجائے اس بات کی تحقیق کرتے رہے کہ بے نظیر بھٹو کا قتل کس ہتھیار سے ہوا ہے۔ میں نے ایس کے وائی ٹیلیوژن پر کہا کہ میں اس انکوائری کو نہیں مانتا۔ کچھ دیر بعد رحمن ملک کا فون آیا کہ سر آپ کیا باتیں کر رہے ہیں‘ آپ یہ باتیں نہ کریں۔ آصف زرداری صاحب نے کہا ہے کہ میں آپ سے اس سلسلے میں بات کروں۔ رحمن ملک کے فون کے کچھ دیر بعد آصف زرداری کا فون آیا۔ میں نے ان سے کہا کہ میں نے رحمن ملک کو وہی جواب دیا جو میں بہتر سمجھتا ہوں‘ کسی کے منع کرنے سے نہیں رکوں گا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ کو میں نہیں مانتا۔ آصف زرداری نے کہا کہ مجھے بھی یہ تحقیقات قبول نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ رحمن ملک نے مجھ سے کہا ہے کہ آپ سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات کے بارے میں کوئی تبصرہ نہ کریں۔ آصف زرداری نے کہا کہ واجد بھائی! آپ کب سے رحمن ملک کی بات سننے لگے۔ میں نے کہا: آپ بھی منع کریں گے تب بھی میں اپنی بات کروں گا۔ آصف زرداری نے کہا : میں کیوں منع کروں گا‘ میں تو چاہتا ہوں کہ محترمہ کے قاتلوں کی تہہ تک پہنچا جائے
.........
میں سمجھتا ہوں کہ ہماری طرف سے کوتاہی ہوئی ہے۔ پاکستان میں جب ہماری حکومت تھی تو محترمہ کے قتل کی فوری طور پر تحقیقات ہونی چاہیے تھی۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, April 01, 2021

شارٹ کٹ



“ میری اپنی زمین ہے، میری اپنی گاڑی ہے اور (گاڑی چلانے والا بچہ) میرا اپنا  بیٹا ہے…………… تنقید کرنے والے …………اپنے کام سےکام رکھیں 
پیپلز پارٹی یانون لیگ کا نہیں، یہ بیان ایک ایسی جماعت کی ایک اہم  شخصیت کا  ہے   جس نے اقتدار میں آنے سے پہلے وعدہ کیا تھا اور دعویٰ بھی کہ  وہ قانون کی  رِٹ قائم کرے گی۔  اس جماعت کے سربراہ  ، جو اب حکومت کے بھی سربراہ ہیں، مغربی ممالک کی مثالیں دیا کرتے تھے کہ وہاں کس طرح  بڑے سے بڑا شخص قانون کے سامنے  دوسروں کے برابر ہے۔ 
{
نہیں معلوم  اس عبرت ناک بیان پر اس پارٹی کا یا  اربابِ اختیار کا کیا ردّ عمل ہو گا ؟ ہوگا بھی  یا نہیں ؟  کوئی نوٹس لے گا بھی یا نہیں ؟ مگر اصل مسئلہ حکومت یا سیاسی جماعتوں کی سطح سے اوپر کا ہے ! بہت اوپر کا ! 
کوئی لیڈر مغربی ملکوں میں رائج قانون پر عملداری کی لاکھ مثالیں دے، محض مثالیں دینے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ مسئلے کی جڑیں گہری ہیں۔ یہ جڑیں ہماری معاشرت ، ہمارے کلچر  اور ہماری ذہنیت میں پیوست ہیں۔ہم نے ظاہر میں نظر آنے والی، مادّی ،  چیزیں تو مغرب سے لے لیں  مگر جن قدروں  نے  ان کے معاشرے  کو  اس قابل بنایا کہ کروڑوں مسلمان ہجرت کر کے  آج وہاں رہ رہے ہیں اور کروڑوں وہاں مقیم  ہونے کے لیے کوشاں ہیں،اُن قدروں سے ہم نہ صرف نا آشنا ہیں بلکہ صدیوں کی مسافت پر ہیں۔ یہاں ایک اور پہلو کی وضاحت بہت ضروری ہے۔  ہم یہ کہتے نہیں تھکتے کہ قرونِ  اُولیٰ   میں ہمارے حکمران عدالتوں کے حضور پیش ہوتے تھے، غلام اور خلیفہ باری باری سواری استعمال کرتے تھے،گورنروں کے اثاثے چیک کیے جاتے تھے،  وغیرہ۔مگر ان مثالوں سے جُڑی ہو ئی دو حقیقتیں ہم مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔صرف یہی نہیں، نظر انداز کرتے وقت بالکل معصوم بھی بن جاتے ہیں جیسے ہمیں کچھ معلوم ہی نہیں۔ تجاہل عارفانہ کی یہ بدترین  قِسم ہے ! نفاق بھری قِسم ! پہلی حقیقت یہ کہ قرون اولیٰ کی یہ مثالیں آج  ، کم و بیش، تمام  مسلمان معاشروں میں عنقا ہیں ! دوسری حقیقت یہ کہ  آج کی دنیا میں اگر ان کی کوئی عملی تصویر نظر آتی ہے تو مغربی ملکوں   میں  !
“ مغربی” کا لفظ ہم لغوی معنی میں نہیں ،  اصطلاحی معنی میں استعمال کر رہے ہیں، ورنہ جاپان ، ہانگ کانگ، سنگاپور، آسٹریلیا وغیرہ، جغرافیائی حوالے سے مغرب میں نہیں، مشرق میں واقع ہیں۔مگر قانون کی  عملداری کے اعتبار سے وہ مغرب ہی کا حصہ ہیں۔  

سترہویں صدی کا پہلا ربع ہے۔ہمارے خطے کا بادشاہِ وقت اپنی پسندیدہ  بیگم  کے ساتھ، ایک خوشگوار شام منانے کے لیے “  آؤٹنگ”  کرنا چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ بیگم کے علاوہ اور کوئی بھی ساتھ نہ ہو ! وہ ملکہ کو  بیل گاڑی میں  بٹھاتا ہے۔ کو چوان کی نشست پر خود بیٹھتا ہے۔ اور  سیر کے لیے نکل جاتا ہے۔برطانوی ایلچی ، سر طامس راؤ، بتاتا ہے کہ شاہی جوڑا جب اس رومانی  آؤٹنگ سے   واپس آیا تو   شام کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔حکم ہؤا کہ روشنیاں بجھا دی جائیں کہ ملکہ چھکڑے سے  اترے تو کسی کی نگاہ نہ پڑے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ اُس وقت اس طاقتور  باشاہ  کو اگر ستر سی سی کا موٹر سائیکل ہی  مل جاتا یا چھ سو ساٹھ سی سی کی پرانی کھٹارہ ٹائپ کارہی  مل جاتی تو  وہ اسے  ہچکولے کھاتی بیل گاڑی پر ترجیح نہ دیتا؟ مصر کے فراعنہ سے لے کر ہندوستان کے شہنشاہوں تک ،  اُس زمانے کے سب حکمران“ تختِ رواں  “  کی سواری استعمال کرتے تھے۔ یہ ایک قسم کا چھوٹا سا گھر ہوتا تھا، یا ایک بہت بڑا کمرہ، جو لکڑی کے بہت بڑے تخت  پر بنا ہوتا تھا۔ اس تخت کو درجنوں یا بیسیوں کہار اٹھا کر چلتے تھے۔ ایک عام شہری تخت رواں کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ مگر آج مزدور بھی شمالی علاقوں سے کراچی جانے کے لیے ، یا مشرق وسطیٰ کے سفر کے لیے، تخت رواں استعمال کرتا ہے جسے عرف عام میں ہوائی  جہاز کہتے ہیں۔ آج ایک معمولی آمدنی  والا شخص بھی بیوی کے ساتھ موٹرسائیکل یا گاڑی پر بیٹھ کر باہر جا سکتا ہے ۔ہم میں سے ہر شخص سہولیات اور مراعات کے اعتبار سے سترہویں یا اٹھارہویں صدی یا اس سے پہلے کے فرما ں رواؤں کی نسبت کئی گنا زیادہ خوش بخت ہے۔بجلی کے چراغ سے لے کر ائر کنڈیشنر تک، گاڑی سےلے کر جہاز تک، ٹی وی سے لے کر فون اور انٹر نیٹ تک ، لائف سیونگ ادیات سے لے کر سرجری کے عجائبات تک، بلڈ ٹیسٹ سے لے کر الٹرا ساؤنڈ اور  سکیننگ تک، آج ہم ہر سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح ایک امریکی یا یورپین یا آسٹریلیوی اٹھا رہا ہے مگر ہم میں اور ان میں دو بنیادی فرق ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سہولتیں اہل مغرب  نے خود ایجاد  یا دریافت کیں جبکہ ہم نے ان  سے خریدیں یا ان کے  عطا کردہ نمونوں کی نقل کر کے بنائیں۔ دوسرے یہ کہ اہل مغرب  نے جس طرح گذشتہ دو اڑھائی سو سال کے دوران مادّی اور ظاہری ترقی کی، اسی تناسب سے   اس عرصہ کے دوران کچھ اخلاقی  قدروں کو بھی  پختہ  کرتے رہے اور ساتھ ساتھ قانون کی عملداری کو بھی  اپنے نظام کا جُزوِ لازم بناتے رہے۔ چنانچہ آج ان کے معاشرے میں پابندئ وقت، صفائی، معاملات میں شفافیت، ایفائے عہد، تجارتی مراحل میں پاکبازی اور  دروغ گوئی سے گریز  واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قانون  اور احتساب کی نظر میں  کمزور اور طاقتور کی برابری کو بھی انہوں نے، کم و بیش، اسی طرح رائج کر دکھایا جس طرح مسلمانوں کے ہاں  قرن اول میں موجود تھا ۔ اس فرق کا ایک ہی نتیجہ نکلنا تھا جو نکلا ۔آج ہم مادی طور پر،  ظا ہر کے لحاظ سے، ان کے نقال ہیں یا خریدار ! جب کہ  معاملات میں ہم غیر شفافیت کے لیے دنیا بھر میں  مشہور ہیں اور قوانین ہمارے ہاں طاقتور کے لیے عاجز اور کمزور کے لیے سفاک ہیں!  طاقور اگر کبھی پکڑا بھی جاتا ہے تو اس وقت جب وہ حکومتِ وقت کا مخالف ہو! رہے حکومتی ارکان تو ان کی گرفت نہ ہونے کے برابر ہے ! فیوڈل سیٹ اپ اس پر مستزاد ہے۔ کوئٹہ میں ٹریفک کے سپاہی  کو گاڑی نے روند ڈالا۔کراچی میں جاگیردار خاندان  کے بیٹے نے نوجوان  کو ہلاک کر دیا۔ اسلام آباد میں سرکاری اہلکاروں نے ایک بے گناہ نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پھر طاقتور طبقے  سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کی گاڑی نے  چار نوخیز نوجوانوں کوکچل دیا۔ ان میں سے کسی مجرم کو تا دم تحریر سزا نہیں دی گئی۔ کوئی امکان بھی نہیں دکھائی دے رہا۔

 
تو پھر تعجب ہی کیا ہے اگر طاقتور طبقے کا ایک رکن  برملا اعلان کرتا ہے کہ اگر چھوٹا بچہ گاڑی چلا رہا ہے تو کیا ہؤا! زمینُ میری ہے! گاڑی میری ہے ! اور بچہ میرا ہے ! اور یہ کہ  تم لوگ اپنے کام سے کام رکھو! غور کیجیے۔ ہم اہل مغرب سے گاڑی بھی  مانگ لائے،بچے کی ڈرائیونگ کی وڈیو  بنانے کے لیے فون اور کیمرہ بھی وہاں سے  منگوا لیا مگر گاڑی چلانے کے ضمن میں جو قانون اہل مغرب کے ہاں رائج ہے اور جس سے کسی کو استثنا نہیں ملتا، اُس  قانون  سے ہم بے بہرہ ہیں! نقل کے لیے عقل چاہیے ! افسوس ! ہم نے نقل کی مگر عقل کو بروئے کار نہ لا سکے! ابھی ہم ان سے صدیوں پیچھے ہیں۔ ہاں ! ایک شارٹ کٹ ہے اور وہ یہ  کہ  ہجرت کر کے وہیں جا بسنا ! جن کا بس چل رہا ہے ، وہ یہ شارٹ کٹ استعمال کر رہے ہیں۔ 
………………………………………………………
بشکریہ  روزنامہ دنیا

Tuesday, March 30, 2021

صدارتی ایوارڈ ؟ مولانا کو ؟؟


مہنگائی اپنی جگہ‘ اپوزیشن اور حزبِ اقتدار کی باہمی کشمکش اپنی جگہ‘پی ڈی ایم کا انتشار اپنی جگہ‘ اصل مسئلہ جو اس وقت مملکت کو درپیش ہے یہ ہے کہ مولانا کو تمغۂ حسن کار کردگی دے دیا گیا ہے۔آدھی سے زیادہ قوم اس پر پریشان ہے۔ دلوں میں اضطراب پَل رہا ہے۔ جسموں کے اندر روحیں بے چین ہیں کہ یہ کیا نئی بات ہو گئی۔ ایک مولانا کو ‘ ایک صاحبِ دستار و ریش کو‘ جس کا لباس ٹخنوں سے اوپر ہے‘ اتنا بڑا ایوارڈ مل گیا ہے!! حد ہو گئی!! اس سے پہلے بھی مولانا بہت سوں کی دل آزاری کا سبب بنے ہیں۔ ایک فاؤنڈیشن بنا ڈالی تاکہ اس کی آمدنی سے مدارس چل سکیں اور چندہ نہ مانگیں۔ اس پر بھی بہت سوں نے دانتوں میں انگلیاں دبا لیں۔ تو کیا مدرسے اب ہمارے چندوں کے بغیر چلیں گے ؟ چندہ دینے والوں کا سٹیٹس جیسے اس سے مجروح ہو نے کا خدشہ تھا۔ صرف یہی نہیں ‘ ایک دوبار مولانا کسی لینڈ کروز سے اترتے دکھائی دیے۔اس سے بھی بہت سے دل دُکھے۔ بہت طبیعتیں رنجیدہ ہوئیں۔ بہت پیشانیوں پر لکیریں پڑیں!
سچ پوچھئے تو یہ کالم نگار بھی ناخوش ہے! تو کیا اب اس ملک میں مولانا حضرات کی بھی عزت افزائی ہو گی؟ ارے ہم تو انگریز آقاؤں کے وارث ہیں! انہوں نے ہمیں جو کچھ سکھایا تو کیا ہم اسے بھول جائیں ؟ انگریز تو ہمیں یہ سبق پکّا پکّا یاد کرا کر گئے تھے کہ ہمارے علما‘ ہمارے خطیب‘ ہماری مسجدوں کے امام‘ ہمارے فقیہ‘ ہمارے مجتہد‘ معاشرے کے نچلے طبقوں میں سے ہیں۔ انگریز تو انہیں کوڑی کوڑی کا محتاج کر کے گئے تھے۔ روٹی کھائیں تو محلے والوںکارپوریشطع سے مانگ کر! تنخواہ لیں تو چندوں کی بنیاد پر! ہر لمحہ ہمارے محتاج ہوں! تو کیا ہم اپنے آقاؤں کا یہ سبق فراموش کر رہے ہیں ؟ کتنی محنت کی تھی ہمارے انگریز مالکوں نے! ہمیں ذلیل و رسوا کرنے کے کتنے طریقے نکالے تھے انہوں نے ؟ ہمارے شعائر کو‘ ہماری قدروں کو‘ہماری ثقافتی علامتوں کو‘ ہمارے ہر لقب اورہر خطاب کو کس طرح گھسیٹ کر نیچے لائے تھے وہ! ہمارے عہدوں کے نام کس طرح اپنے پاؤں کے نیچے روند ڈالے تھے ہمارے آقاؤں نے! صوبیدار جو گورنر تھا‘ کیسے اسے ایک لفٹین کا ماتحت کیا! رسالدار اور جمعدار جو بڑے عہدے تھے ‘ کیسے ان کی بے حرمتی کی۔ خانِ سامان جو ٹیپو کی حکومت میں سپلائی اور اجناس (provisions) کا وزیر ہوتا تھا‘کیسے اسے خانساماں بنا کر باورچی کر ڈالا‘ خلیفہ کا لقب حجام کو دے ڈالا اور آفرین ہے ہم پر کہ ہم ابھی تک اپنی عزت کے ان نشانوں کی تذلیل کیے جا رہے ہیں۔انگریز نے جوشِ انتقام میں اندھا ہو کر اپنے ویٹروں‘ بٹلروں‘ کو چوانوں اور چوبداروں کو ہمارے بلند مرتبہ عمائدین کا لباس پہنا دیا۔ ہمارے اسلاف‘ ہمارے سکالر‘ ہمارے حکمران ‘ ہمارے اشراف ‘ سر پر پگڑیاں باندھتے تھے۔ شیروانیاں اور واسکٹیں زیب تن کرتے تھے‘ انگریزوں نے یہ لباس نوکروں کو پہنا کر اپنی اَنا کو گنّے کا رس پلایا۔ مگر آفرین ہے ہم پر! ہمارے ایوانِ صدر میں‘ ہمارے حکمرانوں کے دفاتر اور محلات میں ‘ آج تک ہم اپنی تذلیل کیے جا رہے ہیں۔ آج بھی ہمارے ملازم پگڑی واسکٹ اور شیروانی پہن کر غیر ملکی اور ملکی مہمانوں کے لیے دروازے کھولتے ہیں‘ جھُک کر سلام کرتے ہیں۔چائے اورکھانا پیش کرتے ہیں۔اس سے الحمدللہ ٹیپو‘ سراج الدولہ‘ جنرل بخت خان‘ حافظ رحمت خان روہیلہ اور دوسرے لیڈروں کی روحیں خوب تڑپتی ہوں گی اور کلائیو‘ ڈلہوزی اور جنرل اوڈوائر کو سکون ملتا ہو گا۔
مگر انگریز کا سب سے بڑا ٹارگٹ '' مُلّا‘‘ تھا۔ مُلّاکا لفظ جو مسلمانوں کے ہاں عزت و وقار کی علامت تھا! مُلّا کا لفظ جو علم کی نشانی تھا! مُلّا کا لفظ جو بہت بڑا منصب تھا! مسلمانوں کے معاشرے میں ممتاز ترین علما‘ مدرّسین اور سکالرز کومُلّا کہا جاتا تھا۔ ایران‘ ترکی ‘ وسط ایشیا‘ ہندوستان ہر جگہ ایسا ہی تھا۔ مُلّا صدرہ شیرازی کا فلسفہ آج تک نصاب میں شامل ہے۔مُلّا تفتا زانی‘ مُلّا فیض کاشانی‘مُلّاعلی قاری‘ اور کئی دوسرے مشہور سْنّی اور شیعہ علما مُلّاا کہلاتے تھے۔ شاہجہان کے عہد میںمُلّاعبدالحکیم سیالکوٹی کی شہرت مشرقِ وسطیٰ تک پہنچی ہوئی تھی۔ دو بار بادشاہ نے انہیں چاندی میں تولا۔ آگرہ اور لاہور کی یونیورسٹیوں کے وہ وائس چانسلر رہے۔انگریز کو بہت اچھی طرح معلوم تھا کہ عسکری ‘ علمی اور ثقافتی مزاحمت کا سب سے بڑا منبع ''مُلّا‘‘ہے چنانچہ اس نے ایک پلاننگ کے تحت مُلّاکے لفظ کو تمسخر اور استہزا کا نشانہ بنایا۔اس کی تضحیک اور توہین کی۔ دو سو سال تک مسلسل بر صغیر کے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جاتی رہی کہ مُلّا تمہارا ملازم ہے اور سٹیٹس میں اس کا درجہ سب سے نیچے ہے۔ مدارس اور مساجد کے ساتھ مسلمان حکمرانوں نے جن جاگیر وں کا الحاق کیا ہوا تھا‘ وہ انگریز سرکار نے چھین لیں یہاں تک کہ مدرسے اور علما چندوں اور عطیات کے محتاج ہو گئے۔ آپ خود غور کیجیے آج محلے میں مسجد کمیٹی کے ارکان خطیب اور امام کو کیا سمجھتے ہیں اور کیا رویہ رکھتے ہیں!
توپھر تعجب ہی کیا ہے اگر آج ایک عالم ِدین کو صدارتی ایوارڈ ملا ہے اور ہم اس پر گردابِ حیرت میں غوطے کھا رہے ہیں! ہم میں سے کچھ کو تو اس سے بہت ذہنی اذیت ہوئی ہے۔ کچھ تو باقاعدہ دردِ قولنج میں مبتلا ہیں! ہم تو اداکاروں‘ کھلاڑیوں‘ موسیقاروں اور صداکاروں ہی کو ان اعزازات کا مستحق سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہیرو تو وہ جینئس ہیں جو کبھی موٹر سائیکل '' جیتنے‘‘ کے لیے اچھے بھلے شریف لوگوں کو اپنے چہروں پر کیک کی کریم تھوپنے کا حکم دیتے ہیں اور کبھی ایک ریفریجریٹر کے لیے کسی بھی مرد یا خاتون کو مسخرہ بننے پر آمادہ کر تے ہیں۔ ہم تو گویّوں کو ایوارڈ دیتے یا دلوا تے وقت یہ بھی نہیں دیکھتے کہ اس نے گیت نئے گائے ہیں یا پہلے سے گائے ہوئے نغموں کی دیدہ دلیری سے جگالی کی ہے۔لیکن ایک عالم ِدین‘ ایک مقرر‘ ایک مبلّغ اور فرقہ واریت کے خلاف جدو جہد کرنے والے ایک سماجی رہنما کو ایوارڈ ملے تو پوچھتے ہیں کہ کیوں ملا ہے ؟ پھر فتویٰ دے دیتے ہیں کہ مولانا کو ایوارڈ وصول ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔
بجا! بالکل درست! مولانا کو کیا‘ کسی بھی عالمِ دین کو کوئی ایوارڈ نہیں ملنا چاہیے! کسی باعزت سواری پر بیٹھنے کا انہیں کوئی حق نہیں!ان حضرات کو تو لباس بھی پرانا اور میلا پہننا چاہیے۔انہیں کسی قسم کی فاؤنڈیشن بنانے کا‘ بزنس کرنے کا ‘ عطیات سے بے نیاز ہونے کا کوئی حق نہیں۔ ان مراعات پر‘ اس معیار ِزندگی پر ‘ ان قال اللہ اور قال الرسولؐ پڑھنے اور پڑھانے والوں کا کیا حق؟ ان پر تو ہارورڈ اور برکلے پلٹ‘ مسٹر حضرات کا حق ہے جنہوں نے ریشمی نکٹائیاں لگا کر‘ ایک ایک فُٹ لمبے سگار پیتے ہوئے‘ مغربی علم اقتصاد کا آنکھیں بند کرکے اس ملک پر اطلاق کیا اور اسے اس حال تک پہنچا یا کہ آج یہ صومالیہ کے برابر کھڑا ہے! جو ایئر کنڈیشنڈ دفتروں میں بیٹھ کر ‘ کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے‘ خوراک کی پالیسیاں وضع کرتے ہیں اور پھر پوچھتے ہیں کہ گندم کا درخت کتنا بڑا ہوتا ہے۔ جو مولوی پر حلوہ کھانے کا الزام عائد کرتے ہیں اور خود‘ چھری کانٹا استعمال کرتے ہوئے ‘ سینڈوچ اور پیسٹری کے ساتھ ‘ آدھا ملک بھی کھا جاتے ہیں! بقول ظفر اقبال ؎
دیکھ رہ جائے نہ حسرت کوئی دل میں تیرے
شور کر اور بہت خاک اُڑا اور بہت

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, March 29, 2021

ہر سو سال بعد… (آخری حصہ



''سات اکتوبر کی شام چند مرکزی وزیر قصر صدارت میں جمع تھے اور وہسکی کے ساتھ شغل فرما رہے تھے۔ صدر سکندر مرزا ان کا ساتھ بھی دے رہے تھے اور بار بار گھڑی کی جانب بھی دیکھ رہے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ تھوڑی دیر میں فوجی دستے اپنے اپنے مقام سنبھالنے کے لیے روانہ ہونے والے ہیں۔ خدا خدا کر کے مہمان آٹھ بجے کے قریب رخصت ہوئے۔ ساڑھے آٹھ بجے کے قریب فوجی دستوں کا مارچ شروع ہوا اور ایک گھنٹے کے اندر انہوں نے اپنے اپنے مقررہ مقام سنبھال لیے۔ بارہ بجے شب سے تھوڑی دیر بعد صدر سکندر مرزا کی جانب سے آئین کی منسوخی‘ مارشل لا کے نفاذ اور مارشل لا کے ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے جنرل ایوب خان کے تقرر کا اعلان ہو گیا اور وزارتیں اور اسمبلیاں حرف غلط کی طرح مٹ گئیں‘‘ ( کتاب: مارشل لا سے مارشل تک‘ مرتبہ: سید نور احمد)
میر جعفر نے پلاسی کے میدان میں غداری کی اور بر صغیر پر انگریزوں کو مسلط کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اسی کی ذریت سے یہ سکندر مرزا تھا جس نے 1857 کی ناکام جنگ آزادی کے سو سال بعد 1956-57-58 میں اس ملک کو ایک نئے عذاب سے دوچار کیا اور جمہوریت کے عدم استحکام اور پہلے مارشل لا کے نفاذ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ میر جعفر کو بنگال کا حکمران بننے کا لالچ تھا۔ اسی لالچ میں اس نے ہندوستان پلیٹ میں رکھ کر انگریزوں کو پیش کر دیا۔ یہ لالچ اس خاندان کے اندر سے کبھی نہ نکلا۔
سکندر مرزا 1899 میں بنگال میں پیدا ہوا۔ خاندان استعماری حکومت کا پسندیدہ تھا اور مراعات یافتہ! انگریز اپنے محسنوں کا خوب خیال رکھتے تھے۔ اپنے وفادار خانوادوں کی اولاد کے لیے انہوں نے مخصوص تعلیمی ادارے بنائے تھے‘ جیسے میو کالج اجمیراور راج کوٹ کالج کاٹھیاواڑ ۔ بر صغیر کے دیگر علاقوں میں بھی ایسے ہی ادارے بنائے گئے۔ کچھ میں تو ہوسٹل کے بجائے نوابوں اور مہاراجوں کے صاحب زادوں کے لیے کوٹھیاں بنائی گئیں جہاں ان کے خدام‘ گھوڑے اور ہاتھی بھی رہ سکتے تھے۔ لاہور کے ایچی سن کالج کا اصل نام چیفس کالج تھا یعنی پنجاب کے حکمران خانوادوں کے لیے! ان اداروں کا مقصد عوام کی فلاح تھی نہ تعلیم کا پھیلاؤ۔ مقصد تھا اپنے وفادار خاندانوں کی دیکھ بھال اور ان کی ذریت کو خوئے غلامی میں پختہ تر کرنا! سکندر مرزا نے بھی بمبئی کے ایک ایسے ہی کالج میں تعلیم پائی۔ پھر اسے انڈین برطانوی فوج میں کمیشن دیا گیا۔ (آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ کمیشن میرٹ پر دیا گیا تھا؟) سکندر مرزا اپنے آقاؤں کی گُڈ بُکس میں رہنے کی بدولت ترقی کے مدارج طے کرتا رہا یہاں تک کہ وزارت دفاع دہلی میں جوائنٹ سیکرٹری تعینات ہو گیا۔
ہندوستان تقسیم ہوا تو مرزا پاکستان کے حصے میں آیا۔ اسے وزارت دفاع کا سیکرٹری لگایا گیا جہاں اس نے پاکستانی فوج میں اپنی پی آر کا ڈول ڈالا۔ بیوروکریسی کے گھنے جنگل میں یہ شاطر راستہ بناتا‘ 1954 میں مشرقی پاکستان کا گورنر لگ گیا۔ جاتے ہی مولانا بھاشانی کو گولی مارنے کی دھمکی دی۔ صوبائی اسمبلی برطرف کر کے مارشل لا لگا دیا۔ سیاسی ورکروں اور سیاست دانوں کر گرفتار کرانا شروع کر دیا یہاں تک کہ گرفتار شدگان کی تعداد ایک ہزار سے بھی بڑھ گئی‘ جن میں شیخ مجیب‘ اسمبلی کے ارکان اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر بھی شامل تھے۔ میر جعفر کے اس سپوت نے نفرت کے بیج بونے کی وہاں پوری پوری کوشش کی۔ پھر واپس بلا لیا گیا۔ اس ملک کی بد بختی دیکھیے کہ وزیر داخلہ بنا دیا گیا اور پھر پاکستان کا صدر! آئین کی رُو سے صدر صرف رسمی (ceremonial) سربراہِ ریاست تھا اور ایگزیکٹو طاقت وزیر اعظم کے پاس تھی‘ مگر مرزا نے حکومت میں مداخلت شروع کر دی اور ریشہ دوانیاں‘ سازشیں اور غیر آئینی اقدامات! ناکام جنگ آزادی کے پورے سو سال بعد 1957 میں صدر سکندر مرزا نے وزیر اعظم سہروردی کو اتنا زچ کیا اور آئے دن کی مداخلت سے کارِ سرکار میں اس قدر رخنے ڈالے کہ سہروردی نے اکتوبر میں استعفا دے دیا۔
اب وزارت عظمیٰ کا ہما آئی آئی چندریگر کے سر پر بیٹھا‘ مگر صدر مرزا نے دو ماہ کے بعد ان سے بھی استعفا لے لیا۔ پھر فیروز خان نون وزیر اعظم بنے۔ انہوں نے گوادر کو سلطنت عمان سے خریدا اور پاکستان میں شامل کیا۔ سکندر مرزا پارلیمانی جمہوریت کی قدروں سے عاری تھا‘ جب ایک اور ٹرم صدارت کی نا ممکن نظر آئی تو آئین منسوخ کر کے اسمبلیاں برطرف کر دیں اور مارشل لگا کر جنرل ایوب خان کو اپنے ساتھ شریک اقتدار کر لیا۔ مرزا کا یہ اقدام سو فی صد ذاتی غرض کے لیے تھا کیونکہ تمام سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی گروپوں میں مکمل ہم آہنگی تھی اور وہ سکندر مرزا کی صدارت جاری رکھنے کے حق میں نہیں تھے۔ ایوب خان نے مرزا کے ساتھ کیا سلوک کیا اور مرزا کا انجام کیا ہوا‘ یہ اس کالم کے سکوپ سے باہر ہے۔
سکندر مرزا نے پہلا مارشل لا لگا کر اس ملک کو جو زخم دیا وہ آج تک رِس رہا ہے۔ اس مکروہ اور ظالمانہ اقدام نے پاکستان کو قوموں کی قطار میں سب سے پیچھے لا کھڑا کیا۔ عسکری حوالے سے اس نے ایک ایسی روایت قائم کی جس نے آگے چل کر ملک کے لیے بہت مسائل پیدا کیے۔ اس کے بعد ہماری تاریخ نے کم از کم تین مزید مارشل لا دیکھے۔ جن میں سے دو ایک ایک دہائی تک جاری رہے۔ ایوب خان کے دور اقتدار کے اقدامات کا سب سے بڑا اور سب سے بُرا نتیجہ جو ہم نے بھگتا وہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی تھی۔
یہ کالم نگار جب ڈھاکہ یونیورسٹی کا طالب علم تھا اس وقت ایوب خان کی ڈکٹیٹرشپ کو پورا عشرہ گزر چکا تھا۔ بنگالی دوستوں کے اس سوال کا کوئی جواب ممکن نہ تھا کہ اگر دس دس سال تک ایک آمر حکومت کرے گا تو کسی مشرقی پاکستانی کی باری کب آئے گی جب کہ کوئی بنگالی اس رینک تک پہنچ بھی نہیں رہا تھا؟ ایوب خان نے عبدالمنعم جیسے اوسط سے کم ذہانت والے خوشامدی کو وہاں کا گورنر بنایا تاکہ وہ 'جی ہاں جی ہاں‘ کہتا رہے۔ چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو غدار کہا گیا۔ الیکشن میں وہ ایوب خان کے مقابلے میں مشرقی پاکستان اور کراچی میں جیت گئی تھیں۔ اس کی پاداش میں کراچی میں لسانی فسادات کا آغاز کیا گیا۔ یہ بیج تھا جو بویا گیا اور پھر جب یہ درخت بنا تو اس کا کڑوا پھل پورے ملک کو کھانا پڑا۔
جمہوریت اور جدید نظام حکومت کے حوالے سے ہم بدستور قطار میں سب سے پیچھے ہیں اور معاشی طور پر عالمی اداروں کی بد ترین غلامی میں گرفتار! ہم آج بھی پلاسی کے‘ ناکام جنگ آزادی کے اور سکندر مرزا کے مسلط کردہ پہلے مارشل لا کے نتائج بھگت رہے ہیں اور نہ جانے کب تک بھگتتے رہیں گے۔کون جانے 2057 میں کیا ہو گا؟ ہم میں سے بہت سے لوگ اس وقت نہیں ہوں گے۔ کیا عجب اس بار کوئی مصیبت نہ ٹوٹے!
ہمارے دور میں ڈالیں خرد نے الجھنیں لاکھوں
جنوں کی مشکلیں جب ہوں گی آساں‘ ہم نہیں ہوں گے

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, March 25, 2021

ہر سو سال بعد …(2



1657ء میں مغلوں کی ہولناک جنگِ تخت نشینی شروع ہوئی۔دو سال تک یہ خونریزی جاری رہی جس نے ہندوستان کے مستقبل پر گہرا اثر ڈالا۔ ٹھیک ایک سو سال بعدایک اور افتاد آ پڑی۔لارڈ کلائیو اور سراج الدولہ کے مابین لڑائی ہوئی جسے ہم سب جنگِ پلاسی کے نام سے جانتے ہیں۔میر جعفر نے غداری کی۔اس کا نام آج بھی ایک گالی ہے۔ اقبال کا یہ شعر ضرب المثل بن چکا ہے ؎
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ ملّت‘ ننگِ دیں‘ ننگِ وطن
میر جعفر اور اس کے جانشینوں کا جو حشر ہوا تاریخ کے صفحوں پر موجود ہے۔اس لڑائی کی تفصیلات میں جائے بغیر ہم اس کے خوفناک نتائج کا ذکر کریں گے۔پلاسی نے لوٹ مار کا ایک دروازہ کھولا جس میں پہلے بنگال کو اور پھر پورے برصغیر کو انگریزوں نے بھنبھوڑ ڈالا اور ہڈیاں تک چبا گئے۔اگلے آٹھ سالوں میں میر جعفر اور اس کی جانشین کٹھ پتلیوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو ( اُس وقت کے ) پچیس لاکھ پاؤنڈ دیے۔ کلائیو کی ذاتی دولت آج کے حساب سے اربوں تک پہنچ گئی مگر بد ترین نتیجہ پلاسی کی جنگ کا یہ نکلا کہ ایک تجارتی کمپنی عسکری اور سیاسی طاقت میں تبدیل ہو گئی۔ اب ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان کے باقاعدہ حکمرانوں میں شامل ہو گئی۔ مستقبل کی اکھاڑ پچھاڑ میں اس نے کبھی ایک مقامی حکمران کا ساتھ دیا کبھی دوسرے کا۔ پلاسی کی فتح کے بعد انگریز جان گئے کہ اگر وہ ایک منظم فوج رکھیں تو ہندوستان کو براہ راست تسخیر کر لیں گے یا کٹھ پتلیوں کے ذریعے بالواسطہ حکومت کر سکیں گے۔ پلاسی کے بعد یہ معمول بن گیا کہ جو مقامی حکمران کمزور پڑتا وہ اپنے مقامی حریف کو زیر کرنے کے لیے کمپنی کی مدد مانگتا اور آخر کار خود بھی کمپنی کے جبڑوں میں آجاتا۔پلاسی کے بعد پورے ہندوستان کو معلوم ہو گیا کہ مغل بادشاہ اور دیگر نواب اور راجے کمپنی کی منظم فوج اور سازشوں کے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتے؛ چنانچہ سپاہی‘سول سرونٹ‘ بینک کار‘ آرٹسٹ‘ تاجر‘ معمار اور دیگر شعبوں کے ماہرین ایسٹ انڈیا کمپنی کو ایک طاقتور آجر کے طور پر دیکھنے لگے۔ ایک فقرے میں بات کہنی ہو تو یوں سمجھیے کہ پلاسی کے بعد انگریزوں کی خود اعتمادی میں کئی ہزار گنا اضافہ ہوا اور مقامی حکمران شکست خوردہ ذہنیت کا شکار ہو گئے۔
پلاسی کے بیالیس سال بعد کمپنی نے سلطان ٹیپو کو شکست دی۔ چار سال مزید گزرے تو کمپنی کا نمائندہ دہلی میں آموجود ہوا اور مغل بادشاہ شاہِ شطرنج میں تبدیل ہو گیا۔ رنجیت سنگھ پنجاب میں آخری رکاوٹ تھا۔1849ء میں پنجاب استعمار کے سامنے دم توڑ گیا۔اب ٹھہراؤ آچلا تھا۔کمپنی ایک نظام کے تحت حکمرانی کر رہی تھی مگرجیسے ہی جنگِ پلاسی کو سوسال ہوئے تو روایت کے مطابق ایک نیا عذاب آ گیا۔
185ء میں میرٹھ میں چنگاری بھڑکی اور چند سپاہیوں کی بغاوت سے جو معاملہ شروع ہوا وہ پورے شمالی اور وسطی ہند میں آگ بن کر پھیل گیا۔ حکمرانوں کی نظر میں یہ بغاوت تھی اور محکوم اسے جنگِ آزادی سمجھ کر لڑ رہے تھے‘ مگر انگریز ایک سنٹرل کمانڈ کے نیچے منظم تھے جبکہ ہندوستانی مجاہدین کئی گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ کوئی ترتیب تھی نہ تنظیم۔ مغل بادشاہ کمزور تھا اور ہمت اور جذبے سے محروم۔ انگریز جیت گئے۔ اس کے بعد جو کچھ اہلِ ہندوستان کے ساتھ ہوااور جس طرح انتقام لیا گیا اس کی مثال شاید ہی ملے۔ مسلمان خاص طور پر نشانہ بنے۔ ہر درخت صلیب بن گیا۔ گھروں‘ حویلیوں‘ محلات بلکہ پورے پورے محلوں کو کھود کر ان پر ہل چلادیا گیا۔ کچھ کو توپوں کے دہانوں کے ساتھ باندھ کر اڑایا گیا‘ بہت سے گولیوں کی نذر ہوئے۔ ہزاروں کو کالے پانی بھیج دیا گیا۔ اُمرا‘ شرفا اور عمائدین راتوں رات قلاش ہوگئے‘ جنہوں نے غداریاں کیں وہ نوازے گئے۔ انہیں جاگیریں دی گئیں‘مناصب عطا ہوئے۔ انکی موجودہ نسلیں آج بھی پاکستان کے طاقتور طبقات میں شمار ہوتی‘ اور ہر حکومت میں جگہ پاتی ہیں!
ناکام جنگ ِآزادی کا سارا ملبہ مسلمانوں پر پڑا۔ اس کی دو وجوہ تھیں‘ ایک تو حکومت ان سے چھینی گئی تھی۔ یہ دشمنی کا ایک بڑا اور منطقی سبب تھا۔غاصب قوت کی ہر ممکن پلاننگ اور کوشش تھی کہ کسی طور بھی مسلمان منظم ہو پائیں نہ انگریزی تعلیم حاصل کریں نہ کسی اور شعبے میں آگے بڑھیں۔ اب وہ صرف نفرت اور حقارت کے مستحق سمجھے گئے۔ قدرتی طور پر‘ ان کے مقابلے میں ہندو ؤں کو ترجیح دی گئی۔ انہیں سہولیات زیادہ دی گئیں‘ ملازمتوں میں انہیں اولیت دی جاتی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ'' غدر‘‘ کا زیادہ الزام مسلمانوں پر لگا؛ چنانچہ انتقام کا نشانہ زیادہ انہی کو بنایا گیا۔ یہاں تک کہ ان کی نسلوں کو بھی یہ انتقام بھگتنا پڑا۔ حالی ''حیات ِجاوید ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ناکام جنگ ِآزادی کے بیس برس بعد حالت یہ تھی کہ پورے برصغیر میں ہندو گریجو ایٹ سات آٹھ سو تھے اور مسلمان گریجوایٹس کی تعداد مشکل سے بیس تھی۔
1857 ء کی اس مصیبت کا ایک منفی اثر مسلمانوں پر یہ ہوا کہ ان میں مایوسی اور دل شکستگی بڑھ گئی۔ وہ دروں بینی کا شکار ہو کر introvertہو گئے۔ منفی رد عمل ان پر حاوی ہو گیا۔وہ اپنی مسجدوں‘ مدرسوں اور خانقاہوں کے اندر بیٹھ گئے اور اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ ان کے ذ ہنوں سے یہ بات نکل نہیں رہی تھی کہ وہ آٹھ سو سال تک یہاں کے حکمران رہے تھے۔ انہوں نے انگریزی زبان نہ سیکھنے کا تہیہ کر لیا۔ تاریخی اعتبار سے بھی مسلمانوں نے کبھی کسی غیر زبان کو نہیں سیکھا تھا۔ ہسپانیہ تھا یا شمالی افریقہ یا ہندوستان‘ وہ ہر جگہ اپنی زبان ساتھ لے کر گئے تھے۔ اب وہ کیوں انگریزی سیکھتے؟ دوسری طرف ہندو ‘مسلمان حکومتوں کی ملازمت میں رہ کر فارسی اور عربی سیکھتے رہے تھے اور بیرونی زبانیں سیکھنے کی انہیں پریکٹس اورمہارت حاصل تھی۔ ایک مثال سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے رویوں کا فرق جانچا جا سکتا ہے‘ کلکتہ میں جب انگریز حکومت نے سنسکرت کالج قائم کیا تو ہندوؤں نے مطالبہ کیا کہ ہمیں سنسکرت کی نہیں انگریزی تعلیم کی ضرورت ہے۔ اس کے برعکس جب انگریزی تعلیم متعارف کرائی گئی تو کلکتہ کے مسلمانوں نے احتجاجی عرضی دی کہ حکومت کا ارادہ ہندوستانیوں کو عیسائی بنانے کا ہے۔بظاہر ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کا مستقبل تاریک نظر آرہا تھا۔ یہ سرسید احمد خان تھے جنہوں نے اس صورت حال کو بھانپا اور پھر تن من دھن سے اسے تبدیل کرنے پر کمر بستہ ہو گئے۔ سائنٹفک سوسائٹی تشکیل دی۔ اخبار نکالا۔ رسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا۔ ایجوکیشنل کانفرنس قائم کی۔ پھر محمدن سول سروس فنڈ قائم کیا کہ جو لائق مسلمان مالی استطاعت نہیں رکھتے‘ لندن جا کر مقابلے کا امتحان دے سکیں جو اُس وقت صرف لندن میں دیا جا سکتا تھا۔ پھر گھر بار بیچ کر برطانیہ کا سفر کیا‘ انگریزوں کی معاشرت‘ اقتصاد اور تعلیم کا مطالعہ کیا۔ ولیم میور کی گستاخانہ کتاب کا جواب لکھ کر شانِ رسالت کا دفاع کیا اور سب سے بڑا کام یہ کیا کہ علیگڑھ کالج قائم کیا جو بعد میں مسلم یونیورسٹی بنی۔اس کالج کے قیام کے لیے انہیں کیا کیا جتن کرنے پڑے‘ یہ ایک الگ داستان ہے!
آپ نے دیکھا کہ 1657ء میں ایک مصیبت ٹوٹی۔ اس کے سوسال بعد جنگ پلاسی کی قیامت برپا ہوئی۔ مزید ایک سو سال گزرے تو1857ء میں ایک اور تباہی آئی۔ اگلی نشست میں دیکھیں گے کہ اس کے ایک سو سال بعد کیا ہوا؟

بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, March 23, 2021

ہر سَو سال بعد



بادل قسم قسم کی شکلیں بناتے ہیں۔کبھی ہاتھی تو کبھی عفریت بن کر چلنے لگتے ہیں۔ کبھی یوں لگتا ہے گھوڑے دوڑ رہے ہیں۔ کبھی کشتیوں کی طرح تیرتے ہیں۔ کبھی پہاڑ بن جاتے ہیں۔ تاریخ بھی بادلوں کی مثال ہے۔ کئی شکلیں بناتی ہے۔ کئی پیٹرن بُنتی ہے۔ کئی سانچے ڈھالتی ہے۔ پھر ان سانچوں میں مستقبل کو فِٹ کرتی ہے۔
ہماری تاریخ نے ایک المناک شکل اختیار کی ہے اور وہ یہ کہ ہر سَو سال کے بعد بر صغیر کے باشندوں پر بالعموم اور مسلمانوں پر بالخصوص کوئی نہ کوئی بھاری افتاد پڑتی ہے اور ایسا گزشتہ چار سو سال سے ہو رہا ہے۔ جب بھی صدی ستاون سال گزار چکتی ہے‘ تو ایک نہ ایک آفت ٹوٹ پڑتی ہے۔ 1657 ء کو دیکھ لیجیے۔ شاہ جہان کا دور نسبتاً استحکام کا دور تھا۔ اچھے بھلے پُر امن دن گزر رہے تھے۔1657ء ہی میں اس کے اقتدار کا تیس سالہ جشن منایا گیا مگر مغلوں کی جھروکہ درشن والی رسم اسے لے بیٹھی۔بادشاہ کے لیے ہر صبح جھروکے میں بیٹھ کر عوام کو اپنا دیدار کرانا لازم تھا۔جہانگیر کی راتیں جن مشاغل میں گزرتی تھیں‘ ان کے پیش نظر اس کے لیے صبح سویرے یہ ڈیوٹی بجا لانا آسان نہ تھا پھر بھی اسے درشن دینا پڑتا تھا۔ یہ ایک طرح کی یقین دہانی تھی جس کا مطلب تھا کہ بادشاہ زندہ و سلامت ہے اور ملک کا نظام اس کے کنٹرول میں ہے۔ بد قسمتی سے ستمبر میں شاہجہاں شدید بیمار پڑ گیا۔ ٹانگیں سوج گئیں۔ بخار شدت اختیار کر گیا۔ ایک ہفتہ کچھ بھی نہ کھا سکا۔ جھروکے میں بیٹھنا ممکن نہ رہا۔ بیماری کو چھپایا گیا؛ تاہم افواہ پھیل گئی کہ بادشاہ مر چکا۔ کچھ نے کہا دارا نے زہر دے دیا۔ سراسیمگی پھیل گئی۔ فسادات کے ڈر سے دارالحکومت میں بازار بند ہو گئے۔ پھر یہ افواہ‘ صوبوں تک پھیل گئی۔ سلطنت کی بنیاد لرزنے لگ گئی۔کسانوں نے لگان دینا بند کر دیا۔ زمیندار افسروں سے جھگڑنے لگے۔ شرپسند عناصر اُٹھ کھڑے ہوئے۔ کچھ ہفتوں بعد شاہجہان کی طبیعت سنبھلی تو وہ جھروکے میں ظاہر ہوا۔ عوام محل کی دیواروں کے نیچے جمع تھے مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ نئی افواہ یہ پھیلی کہ کسی اور کو شاہجہان کے حلیے میں بٹھایا گیا ہے۔
شاہجہاںکے چار بیٹے تھے۔اس نے چاروں کو ایک دوسرے سے فاصلے پر رکھا ہوا تھا تا کہ مناقشت کا امکان ہی نہ رہے۔ دارا سب سے بڑا اور باپ کے دل کے قریب تھا۔ گورنری اس کے پاس ملتان اور کابل کی تھی مگر رہتا دارالحکومت میں تھا۔اس کے مراتب بلند تھے۔ دربار میں بیٹھنے کی اجازت صرف اسے ہی تھی۔ ہر کسی کو معلوم تھا کہ جانشینی اسی کو ملے گی۔ اس سے چھوٹا شجاع تھا‘ بنگال کا حاکم۔ تیسرے نمبر پر اورنگزیب تھا۔ دکن کا گورنر! سب بھائیوں میں زیادہ ذہین اور گہرا۔ مذہبی رجحان غالب تھا۔ فنِ سپہ گری میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا۔ جنگی چالیں اس پر ختم تھیں۔ بلخ کی مہم میں جب مراد ناکام ہوا تو یہ اورنگزیب ہی تھا جو مغل افواج کو دانائی سے بچا کر واپس نکال لایا تھا۔ شاہجہان کو بھی نہاں خانۂ دل میں معلوم تھا کہ اورنگ زیب کے مقابلے میں کوئی بھائی نہیں ٹھہر سکے گا۔ سب سے چھوٹا مراد تھا۔ بہادر ‘ جری مگر شراب و شباب کا رسیا۔ وہ گجرات کا گورنر تھا۔ بادشاہ کی بیماری اور پھر موت کی خبر پھیلی تو چاروں بھائیوں نے تلواریں اٹھا لیں۔ سب کو معلوم تھا کہ بادشاہ جو بھی بنا‘ باقی تین زندہ نہیں رہیں گے۔ گویا قبریں تین تھیں اور اشخاص چار؛ چنانچہ چاروں نے ''یا تخت یا تابوت ‘‘ کا نعرہ لگایا اور تخت نشینی کی جنگ میں کود پڑے۔ تخت نشینی کی بدترین جنگ! جس کی کوئی نظیر ہندوستان کی تاریخ میں موجود نہیں۔ یہ ہولناک جنگ تقریباً دو سال جاری رہی۔ نصف درجن کے قریب ہولناک لڑائیاں لڑی گئیں۔ ہزاروں افراد مارے گئے۔چھ ہزار تو دریائے نربدہ کے کنارے قتل ہوئے۔ سامو گڑھ کی فیصلہ کن لڑائی میں صرف دارا ہی کے دس ہزار لشکری کام آئے۔ راجپوتوں نے وہ وفاداری دکھائی کہ زمین ان کے خون سے سرخ ہو گئی۔ پوری مغل ایمپائر لہو میں نہا گئی۔اورنگ زیب نے تینوں بھائیوں ( اور بھتیجوں کو بھی ) راستے سے ہٹا دیا۔ باپ کو سات سال قلعے میں نظر بند رکھا۔ انچاس برس حکومت کی اور 1707 ء میں اٹھاسی سال کی عمر پاکر دنیا سے رخصت ہؤا۔
مگر معاملہ اتنا سادہ نہیں ! اورنگ زیب کی فتح کے اثرات ابھی تک چل رہے ہیں۔ آج بھی دنیا بھر میں ‘ خاص طور پر ‘ بھارت میں اس موضوع پر کتابوں کی کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ اور نگ زیب مجموعۂ اضداد تھا۔ سخت پرہیز گار ! مگر اقتدار حاصل کرنے اور پھر بچانے کی خاطر کسی کی بھی جان لینا اس کے لیے روٹین کا کام تھا۔ اس کا عہد آج تک متنازعہ چلا آرہا ہے۔ مسلمان اسے ولی اور ہندو دشمن قرار دیتے ہیں۔ یہ اور بات کہ خود ہندو مورخ لکھتے ہیں کہ ہندو دشمنی کا الزام اس پر غلط ہے۔ حال ہی میں امریکی مصنفہ Audrey Truschke نے اس کے دفاع میں کتاب تصنیف کی ہے جس پر بھارت میں کافی لے دے ہو رہی ہے۔اس کالم نگار کا نقطۂ نظر مختلف ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہندؤوں کے ساتھ اورنگ زیب نے کوئی دشمنی نہیں برتی۔ ہاں سیاسی اقدامات کو مذہبی رنگ دے دیا جاتا ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اورنگ زیب کا نصف صدی دورِ حکومت سب سے زیادہ خود مغل سلطنت کے لیے اور اس کے بعد مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ اول، اس نے آخری پچیس برس جنوبی ہند میں گزار دیے جبکہ سلطنت کی بنیادیں شمال میں تھیں۔ بنگال‘ بہار‘ پنجاب‘ شمالی ہند‘ کابل‘ موجودہ پاکستان کے علاقے‘ کشمیر‘ سب ''پراکسی ‘‘کے زور پر چلائے جاتے رہے۔ گورنر خود مختار ہو گئے۔ بیوروکریسی منہ زور ہو گئی۔ بادشاہ عوام سے عملی طور پر لا تعلق ہو گیا۔ سلطنت بظاہر عروج پر پہنچ گئی مگر اندر سے کھوکھلی ہو گئی اور اورنگ زیب کی وفات کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے ریزہ ریزہ ہو گئی۔ اس سے بھی بڑھ کر ایک کام جو اورنگ زیب نے کیا وہ سراسر تباہ کُن تھا۔ اس نے جنوبی ہند کی تین طاقتور مسلمان ریاستوں( احمد نگر‘ بیجاپور‘ گولکنڈہ ) کو ختم کر کے سلطنت تو وسیع کر لی مگر ان ریاستوں کے انہدام سے مرہٹے ایک خطرناک جِن کی صورت میں بوتل سے باہر آگئے۔ یہ کہنا کہ یہ ریاستیں شیعہ تھیں اس لیے اورنگ زیب نے انہیں ختم کیا‘ درست نہیں اس لیے کہ اورنگ زیب جس طرح سلطنت کی وسعت پر کمر بستہ تھا ‘ اگر یہ ریاستیں سْنّی ہوتیں تب بھی اس نے انہیں چھوڑنا نہیں تھا۔ ان ریاستوں نے مرہٹوں کو قابو میں رکھا ہوا تھا۔ ملازمتیں بھی دی ہوئی تھیں اور زیر بھی کر رکھا تھا۔اب یہ ایک فورس بن گئے۔ مرہٹوں نے اورنگ زیب کو آخری عمر میں ناکوں چنے چبوا دیے۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب دہلی کا مغل حکمران مرہٹوں کے رحم و کرم پر تھا۔ ایک نقطۂ نظر یہ بھی ہے کہ اگر بادشاہت دارا کو ملتی تو وہ اکبر کی پالیسیوں کو از سرِ نو جاری کر کے ایک مضبوط ہندوستان وجود میں لاتا جس میں ہندو برابر کے شریک ہوتے‘ یوں ایسٹ انڈیا کمپنی کو میدان خالی نہ ملتا اور تاریخ مختلف ہوتی! معروف مورخ سٹینلے لین پول بھی یہی رائے رکھتا تھا۔
تخت نشینی کی اس دور رس نتائج رکھنے والی جنگ کے پورے ایک سو سال بعد ایک نئی مصیبت آئی جس نے بر صغیر کا ناک نقشہ نہ صرف تبدیل کر کے رکھ دیا بلکہ مسخ بھی کر دیا۔ اس کا تذکرہ ہم اگلی نشست میں کریں گے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, March 22, 2021

منزل‘ اگر کہیں ہے تو‘ بہت دور ہے


پی ڈی ایم کا کانٹا نکل گیا۔ راستہ صاف ہو گیا! مگر کیا واقعی راستہ صاف ہو گیا؟
یونیورسٹی آف مالاکنڈ کے نئے بلاک کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ایک بار پھر شریف اور زرداری خاندان اور ان کی اولاد کا بھرپور تذکرہ کیا۔ یوں لگتا ہے کہ تاریخ میں ان دونوں خاندانوں کو اَمر کرنے کا تہیہ جنابِ وزیر اعظم ہی نے کر رکھا ہے۔ اڑھائی تین سال کے دوران جتنی کوریج حکومت کے طفیل ان خاندانوں کو ملی ہے اتنی شاید تب بھی نہ ملتی اگر یہ دونوں خاندان کسی مشہور بین الاقوامی میڈیا کمپنی کو ہائر کرتے۔ اب تو عالم یہ ہے کہ ان خاندانوں کے بد ترین مخالف بھی دل میں ان کے لیے نرم گوشہ رکھنے لگے ہیں کیونکہ مسلسل ایک ہی بات سن سن کو لوگ چڑنے لگے ہیں۔ ہر تذکرے کی ایک حد ہوتی ہے اور جب وہ حد‘ بے حد ہو جائے تو اثر الٹا ہونے لگتا ہے۔ کامیابی دوسروں کی برائیاں کرنے سے حاصل ہوتی ہے یا خود کچھ کر کے دکھانے سے؟ شیر شاہ سوری کو کُل پانچ سال ملے۔ کیا یہ پانچ برس اس نے مغلوں کی برائیاں کرنے میں گزار دیے؟ بابر اگر لودھیوں کی مذمت ہی میں لگا رہتا تو چند ہفتوں میں بھاگ کر کابل پناہ لینا پڑتی۔
پی ڈی ایم کا کانٹا نکل گیا مگر یہ مسائل کا حل نہیں۔ اس سے اربابِ حکومت کو تو اطمینان حاصل ہو سکتا ہے‘ عوام کو نہیں۔ اڑھائی سال باقی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اس بقیہ مدت کے ایک ایک دن‘ ایک ایک گھنٹے ‘ ایک ایک لمحے سے فائدہ اٹھائے۔ عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرے۔ مہنگائی کو کنٹرول کرے۔ بیوروکریسی کی مُشکیں کسے۔ تاجروں کے خلاف سخت ایکشن لے اور ان کی بلیک میلنگ کو ہرگز خاطر میں نہ لائے۔ وزرا کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھے‘ اور جو وزرا ڈلیور نہیں کر پا رہے ان کے محض قلمدان تبدیل نہ کرے بلکہ انہیں بیک بینی و دو گوش نکال باہر کرے۔ سب سے بڑا صوبہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے اور حکومت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کون سا اقدام ضروری ہے۔ اب بھی اگر مصلحتیں آڑے آتی رہیں تو بقیہ اڑھائی سال کی مدت بھی اسی طرح گزر جائے گی۔
حکومت کا رویہ اگر منفی ہے اور وہ صرف دو خاندانوں کا تعاقب کر رہی ہے تو اپوزیشن کا طرزِ فکر اس سے بھی زیادہ تخریبی ہے۔ پی ڈی ایم کا ون لائن ایجنڈا موجودہ حکومت کا انہدام ہے۔ وزیر اعظم کہہ سکتے ہیں کہ؎
یہ اتفاق مبارک ہو مومنوں کے لیے
کہ یک زباں ہیں فقیہانِ شہر میرے خلاف
مگر پی ڈی ایم سے کوئی پوچھے کہ اس کے بعد کا پلان کیا ہے؟ کیا اس کے بعد بھی یہ اتحاد قائم رہے گا یا وہی صورت حال ہو گی جو روسیوں کے انخلا کے بعد افغانستان کی ہوئی تھی؟ اس ساری تحریک کے دوران پی ڈی ایم مرحوم و مغفور نے وزیر اعظم پر تنقید تو کی اور حکومتی اقدامات کی مخالفت تو کی مگر کوئی متبادل منصوبہ پیش نہیں کیا۔ یہ تو سب کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم نے خود کُشی کی بات کی تھی مگر اس کے باوجود آئی ایم ایف کے پاس گئے‘ لیکن کیا پی ڈی ایم نے کوئی ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جس پر عمل کرنے سے آئی ایم ایف سے جان چھوٹ جائے؟ آپ ہوتے تو کیا کرتے؟ صرف یہی نہیں‘ بلکہ کسی بھی شعبے کے لیے پی ڈی ایم نے کوئی تعمیری پلان نہیں پیش کیا۔ اسے بتانا چاہیے تھا کہ برسر اقتدار آکر گرانی کے عفریت سے کیسے نمٹے گی؟ بیروزگاری کو کس طرح کم کرے گی؟ خارجہ امور کے حوالے سے اس کی پٹاری میں کیا ہے؟ اب تو خیر قصہ ہی تمام ہو چکا۔ مال تقسیم ہونے سے پہلے ہی جھگڑا ہو گیا اور اتحاد اُس انجام کو پہنچ چکا جو ابتدا ہی سے نوشتۂ دیوار تھا۔
پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن) اور دوسری پارٹیوں پر وزیر اعظم کا اور عوام کی کثیر تعداد کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ ان کی قیادتیں موروثی ہیں۔ اس اعتراض کو یہ پارٹیاں اپنے عمل سے آئے دن درست ثابت کر رہی ہیں۔ مریم نواز نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ گرفتار ہوئیں تو میاں صاحب لندن سے تحریک کی کوچوانی کریں گے۔ یہی تو اصل بیماری ہے۔ یعنی لگام خاندان ہی کے ہاتھ میں رہے گا۔ دوسرے لفظوں میں شاہد خاقان عباسی‘ رانا ثناء اللہ‘ احسن اقبال‘ سعد رفیق بال سفید کرنے کے باوجود ورکر کے ورکر ہی رہیں گے۔ یہی حال پی پی پی کا ہے۔ عنفوانِ شباب کے اسپِِ تازی پر سوار بلاول جب تقریر کرتے ہیں یا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہیں تو ان کے یمین و یسار پر بیٹھے اور ان کی پشت پر کھڑے عمر رسیدہ حضرات کو دیکھ کر نصرت بھٹو کا یہ قولِ زریں یاد آتا ہے کہ Bhuttos are born to rule کہ بھٹو خاندان کے افراد حکمرانی کرنے کے لیے ہی تو پیدا ہوتے ہیں۔ شاید شاہ پرستی ہماری سرشت میں رچی بسی ہے یعنی؎
رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے عجز صدیوں کا
رعیت آج بھی اِک بادشاہ مانگتی ہے
تحریک انصاف بھی اس رجحان سے نجات کہاں پا سکی! رُبع صدی ہونے کو ہے کہ تحریک کی قیادت جن ہاتھوں میں تھی‘ انہی ہاتھوں میں ہے۔ مستقبل میں بھی کوئی امکان نہیں کہ یہ جماعت یورپ‘ امریکہ یا دوسرے جمہوری ملکوں کی طرح‘ پارٹی کے سربراہ کو تبدیل کر سکے حالانکہ وعدے وعید اور بیان کردہ عزائم اسی قبیل کے تھے۔ صرف جماعت اسلامی ہی ہے جس کی قیادت موروثی نہیں اور انتخابات کے ذریعے تبدیل ہوتی ہے مگر ملکی سیاست میں جماعت کوئی فیصلہ کُن کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ اس کی وجوہ کیا بیان کی جائیں۔ کالم کی تنگ دامانی آڑے آتی ہے۔ جماعت کے اصحابِ قضا و قدر‘ وجوہ سننے کی تاب بھی کہاں رکھتے ہیں!
جمہوریت کا دعویٰ تو ہے مگر جمہوریت کی منزل دور ہے‘ بہت دور! اتنی دور کہ حدِ نگاہ تک کسی بستی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ ایک دلیل خاندانی تسلط کی یہ دی جاتی ہے کہ ارکان کو صرف شریف خاندان یا زرداری صاحب یا چودھری یا باچا خان کی اولاد ہی متحد رکھ سکتی ہے ورنہ تتر بتر ہو جائیں! یہ دلیل ہی غیر جمہوری مائنڈ سیٹ کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ وہ جماعت ہی کیا جو ایک خاندان کی گَلّہ بانی کی محتاج ہو! یہ تو بھیڑ بکریاں ہوئیں جنہیں لیڈر نہیں‘ گڈریا درکار ہے۔ مائنڈ سیٹ کے اعتبار سے سب سیاسی جماعتیں ایک جیسی ہیں خواہ اقتدار میں ہیں یا اقتدار سے باہر! لیڈر سے برملا اختلاف کی کسی میں جرأت نہیں۔ سب کا منشور آمنّا و صدّقنا ہے۔ جو کچھ پی ڈی ایم کہہ رہی ہے یا جو نکات میڈیا اٹھا رہا ہے ان میں سے کچھ‘ اگر کابینہ یا پارٹی کے ارکان‘ اپنے لیڈر سے کہہ دیتے تو اصلاحِ احوال ہو چکی ہوتی۔ ہمارے ہاں کی جمہوریت ذرا مختلف ہے۔ یہاں بندوں کو صرف گننے سے کام نہیں چلتا‘ ان کی نگرانی بھی کرنا پڑتی ہے۔ انہیں کمروں‘ گیسٹ ہاؤسوں‘ کنٹینروں اور ہوٹلوں میں مقفل بھی رکھنا پڑتا ہے۔ ان پر پہرے بھی بٹھانے پڑتے ہیں۔ ان کے ''اعمال‘‘ کو محفوظ رکھنے کے لیے خفیہ کیمرے بھی لگانے پڑتے ہیں۔ اتنا کڑا پہرا قیدیوں پر بھی نہیں دیا جاتا۔ پھر یہ حضرات اپنے چرواہوں کے سامنے قسمیں بھی کھاتے ہیں۔ یقین دہانیاں بھی کرتے ہیں۔ صفائیاں بھی پیش کرتے ہیں! اس ساری ''عزت افزائی‘‘ کے باوجود یہ حضرات معززین میں شمار ہوتے ہیں۔ کس کی مجال ہے کہ اوقات یاد دلائے۔
منزل‘ اگر کہیں ہے تو‘ بہت دور ہے!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, March 18, 2021

دہلی سے لاہور تک



''ابھی ہم ڈیوڑھی میں کھڑے مولانا کا کمرہ دیکھ ہی رہے تھے کہ چبوترے سے ایک خاتون بی بی کی آواز آئی۔ میاں کچھ کام ہے؟ ہم نے عرض کیا‘ بی بی! ہم مولانا محمد حسین آزاد کا گھر دیکھنے آئے ہیں‘ وہم نہ کیجیے‘ دیکھ کر چلے جائیں گے۔ اللہ بھلا کرے اس بی بی کا۔ کہنے لگی‘ میاں چائے پیو گے؟ ہم نے کہا‘ کیوں نہ پئیں گے! لیجیے صاحبو! تھوڑی دیر میں ایک نیک دل آدمی تین کپ چائے لے کر زینوں سے اتر آئے۔ واللہ! ہم نے وہ چائے مولانا آزاد کی طرف سے سمجھ کے پی! دیکھیے کیسے مولانا نے تواضع کی۔‘‘
یہ اقتباس علی اکبر ناطق کی تازہ تصنیف 'فقیر بستی میں تھا‘ سے ہے۔ ناطق نے فکشن بھی لکھا ہے‘ شاعری کے مجموعے بھی اُس کے کریڈٹ پر ہیں مگر اس کالم نگار کی رائے میں معرکے کا کام اس کا یہی ہے۔ اس لیے کہ اردو کے بہت بڑے محسن، مولانا محمد حسین آزاد کو ہم بُھلا بیٹھے ہیں۔ نئی نسل تو ان کے نام اور کارناموں سے یکسر بے خبر ہے۔ ہم عصر ادیبوں اور محققین نے بھی ان کی طرف توجہ نہیں کی سوائے جناب اکرام چغتائی کے جن کا مجموعۂ مقالات مطالعۂ آزاد کے عنوان سے 2010 میں شائع ہوا۔ یہ آزاد کے حوالے سے تحقیقی مضامین پر مشتمل ہے۔ اس کی بھی مارکیٹنگ اس طرح نہیں ہوئی کہ یہ ہر متلاشی تک پہنچتا۔ علی اکبر ناطق کی تصنیف ایک مختلف انداز کی ہے۔ اسے ناول اور سوانح کا آمیزہ کہا جا سکتا ہے۔ ایک کمال ناطق نے اس میں یہ دکھایا ہے کہ آزاد کے رنگ ہی میں نثر لکھنے کی کوشش کی۔ یوں تو آزاد کے انداز میں کون لکھ سکتا ہے! ایک نمونہ اس سٹائل کا دیکھیے جو ناطق نے قلم بند کیا ہے:
محل کے دائیں جانب جمنا کی طرف سنگ مرمر کی جالیاں اور جھروکے تھے جن کے اوپر شہزادوں کے سفید کبوتر محل کے جھروکوں سے جمنا اور جمنا سے جھروکوں تک پھریریاں لے کر اڈاریاں بھرتے اور ہم مزاجوں کو سبز باغوں کے سفید پھول دکھاتے۔ انہی جھروکوں سے جمنا کی ہوائیں چھن چھن کر اندر آتیں۔ جاڑے کے دنوں میں نہر بہشت بند کر دی جاتی اور اس میں پانی کی جگہ پارے کے بڑے بڑے طشت رکھے جاتے تھے۔ خواب گاہ کے ساتھ ایک بڑا مسقف دالان تھا... اسی نہر والے محل میں ہی جہاں پناہ خاص خاص لوگوں سے اور شہزادوں سے ملاقات فرماتے تھے۔ جیسے میرزا فخرو، حکیم احسن اللہ خان، یا استاد ذوق اور مولوی محمد باقر۔ بعد میں کچھ دنوں کے لیے میرزا نوشہ نے بھی یہاں کی حاضری دی اور بادشاہ کی اقبال مندی کا قصیدہ کہا۔
محمد حسین آزاد مجموعۂ کمالات تھے۔ کوئی ایک میدان نہ تھا! ان کی شخصیت اور فن کے کتنے ہی پہلو ہیں اور ہر پہلو دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ جدید تنقید، جدید شاعری، نثر نگاری کا اچھوتا اسلوب، پھر ادبی تحقیق، خاکہ نگاری، الفاظ کی اصل اور نسل کے لیے بے پناہ محنت، ان سب سے بڑھ کر صرف ایک کتاب ہی ان کے نام کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔ اور وہ ہے دربارِ اکبری! کتنی ہی راتوں کو انہوں نے اپنی آنکھوں کے چراغ اس کتاب کی تصنیف کے لیے جلائے، جگر کا خون دیا، روکھی سوکھی کھائی، عیش و آرام تج دیا اور ایک ایسا شہکار تصنیف کیا جو مغلوں کی تاریخ کے طالب علموں کے لیے ایک بیش قیمت خزانے سے کم نہیں‘ اور ہر محقق کے لیے بہترین ریفرنس بُک ہے! نو سو صفحات کی یہ کتاب تاریخ، ثقافت، ادب، شاعری، تحقیق اور تنقید کا ایک ایسا گل دستہ ہے جس میں رنگوں کی قوس قزح اور خوشبوؤں کے جھکورے آزاد کی عظمت کو دوام بخشتے ہیں۔
مولانا محمد حسین آزاد کی ساری زندگی، آلام، کرب، فقر، درویشی اور مشقت سے عبارت ہے۔ آغاز اتنا درد ناک کہ لڑکپن میں والد کو گولیوں کا نشانہ بنتے دیکھا۔ انجام ایسا تکلیف دہ کہ عمر عزیز کے آخری بیس سال عالم وارفتگی میں گزارے۔ اپنا ہوش تھا نہ علائق و متعلقین کا۔ یہ اور بات کہ اس عالم میں بھی تصنیف و تالیف کا فرض، جو قدرت نے ایک عالی شان دماغ دے کر سونپا تھا، سرانجام دیتے رہے۔ 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد مسلمانوں پر قیامت ٹوٹی۔ آزاد کے والد مولوی محمد باقر کو گولی مار دی گئی تھی۔ آخری ملاقات باپ بیٹے کی علی اکبر ناطق کی زبانی سنیے... آزاد سائیس کا لباس پہنے جرنیل سنگھ کے گھوڑے کے ساتھ ساتھ چلے اور آخر اس مقام تک پہنچے جہاں باغی قیدی زندگی کی آخری سانسیں گن رہے تھے۔ کوئی بھوک پیاس سے رو رہا تھا۔ کسی کو موت اور بربادی کا الم نیم جان کیے تھا۔ انہی میں ایک طرف ایک مرد خدا خلوصِ دل میں عبادت میں مصروف تھا، یہ آزاد کے والد مولوی محمد باقر تھے۔ بہت دیر کے بعد نظر اٹھائی تو تھوڑے فاصلے پر اپنا پیارا لاڈوں کا پالا جگر گوشہ سائیس کے لباس میں کھڑا نظر آیا۔ ایک دم چہرے پر پریشانی کے آثار ظاہر ہوئے اور آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔ ادھر یہی حالت بیٹے پر گزری۔ جب نظر نے یاوری کی تو دیکھا کہ ہاتھ کے اشارے سے مولوی محمد باقر اپنے بیٹے آزاد سے کہہ رہے ہیں کہ بس آخری ملاقات ہو گئی اب رخصت ہو اور دیر نہ کرو۔
اس درد ناک ملاقات کا اثر زندگی بھر آزاد کی طبیعت پر رہا۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اسی پُر ہول یاد کا شاخسانہ تھا کہ آخری بیس سال ناگفتنی حالت میں گزرے۔ باپ کے گولیوں کا نشانہ بننے کے بعد ایک طویل عرصہ انگریزوں کی نظر سے بچتے رہے۔ ایک پُر خطر زندگی گزاری۔ پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر لگے تو ڈاکٹر جی ڈبلیو لائیٹنر، جو بظاہر مربّی تھا، بلیک میل کرتا رہا اور استحصال بھی۔ جو حضرات آزاد کے وسط ایشیا کے سفر پر جاسوسی کا لیبل لگا کر اعتراض کرتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ آزاد ایسا نہ کرتے تو مار دیے جاتے۔
اور پھر ایران کا سفر! اللہ اللہ! افلاس، زاد راہ کی کمی اور ساتھ ہی کتابیں خریدنے کا بے انتہا شوق جسے خبط ہی کہنا چاہیے! کبھی کتابیں بیل گاڑی پر لادیں اور کپڑا بچھا کر خود اوپر بیٹھ گئے۔ علی اکبر ناطق کے بقول قندھار سے کوئٹہ کا سفر صرف پانچ روز کا تھا لیکن آزاد نے یہ راستہ گیارہ روز میں طے کیا۔ ہر جگہ کتابیں ان کی جان کے ساتھ تھیں۔ ایک مقام پر بہت زور کی بارش ہوئی۔ زمین ایسی خراب تھی کہ اونٹ پھسلنے لگے۔ قافلہ ایک میدان میں اتر پڑا۔ آزاد نے سب سے پہلے کتابوں کو بچایا۔ ان پر موٹے موٹے گدیلے ڈال دیے اور خود توکل بخدا بیٹھ گئے۔
آزاد کی وفات کے بعد ان کی عظیم الشان نجی لائبریری پر کیا گزری یہ ایک اور طویل داستان ہے۔ اس داستان میں آنسوئوں کے سیلاب ہیں اور آہوں کے طوفان! کئی جانکاہ مراحل، اور ایک طویل خط و کتابت کے بعد، بچی کھچی، زخموں سے چور، یہ لائبریری پنجاب یونیورسٹی لائبریری کو منتقل کر دی گئی۔
دہلی دروازے کے اندر، آزاد کا اکبری منڈی والا مکان دیکھا ہے۔ کیا کوچے تھے جن میں یہ نابغہ چلتا ہو گا۔ گورنمنٹ کالج میں پڑھانے آتے تو گھوڑے پر سوار ہوتے۔ ارد گرد شاگرد کتابیں کھولے چل رہے ہوتے اور تدریس کا سلسلہ جاری رہتا۔ دہلی کا یہ سپوت لاہور کی خاک میں پیوند ہوا۔ ان کی وفات کو حالی نے اردو ادب کا خاتمہ قرار دیا۔ کربلا گامے شاہ میں محوِ استراحت ہیں۔ علی اکبر ناطق نے اچھا کیا کہ آزاد کی یاد تازہ کی اور یوں اپنا نام آزاد کے عشّاق میں لکھوا لیا
بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, March 16, 2021

تاجروں کی حمایت میں



تاجر برادری نے ایک بار پھر قوم کے دل جیت لیے ہیں۔
اللہ اللہ۔ افراتفری اور نفسا نفسی کے اس دور میں ‘ مادہ پرستی کے اس چیختے ‘ چنگھاڑتے‘ بھنبھوڑتے زمانے میں‘ ایسے بے غرض افراد ‘ ایسے دھُن کے پکے لوگ! ایسا پُر عزم طبقہ !
ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی!
اقبال نے کہا تھا۔ یقیں محکم ‘ عمل پیہم ! قائد اعظم کی تلقین تھی اتحاد اور ایمان ! پوری قوم میں سے کوئی تو ہے جو اقبال اور قائد کے ان زریں اصولوں پر عمل کر رہا ہے! خدا خوش رکھے تاجر برادری کو ! سب غافل ہیں اور یہ خوش بخت سب کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں !
اپنے ٹارگٹ کو یہ برادری کبھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی! ٹارگٹ کیا ہے ؟ پیسہ کمانا! زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنا ! اس ٹارگٹ کو پورا کرنے کے لیے یہ یکسو ہیں۔ یقین ان کا محکم ہے! عمل ان کا پیہم ہے ! اس کے لیے وہ متحد ہیں ! اسی پر ان کا فیتھ ہے! سبحان اللہ! سبحان اللہ ! یونیٹی ! فیتھ اینڈ ڈسپلن ! اتحاد‘ ایمان اور تنظیم ! اللہ اکبر ! جیسے ہی حکومت نے کہا کہ چھ بجے کاروبار بند کرنا ہو گا ‘ تاجر سیسہ پلائی دیوار بن گئے! اُٹھ کھڑے ہوئے ! احتجاج کیا!حکومت کا یہ حکم ان کے ٹارگٹ کے راستے میں رکاوٹ بنے گا! پیسہ کمانے کے نصب العین میں مزاحم ہو گا ! ناقابلِ برداشت! سر بکف ہو کر نکلیں گے! ہر دیوار کو گرا دیں گے ! پیسہ ! پیسہ اور پیسہ ! یقیں محکم ! عمل پیہم ! منافع ! منافع!اور منافع ! اتحاد ! ایمان ! تنظیم !
صراطِ مستقیم سے ہٹانے کی بہت کوششیں گزشتہ حکومتوں نے بھی کیں ! موجودہ حکومت بھی شوق پورا کر لے ! کیا کہا حکومت نے ؟ کہ ترقی یافتہ ملکوں میں بازار پانچ بجے بند ہو جاتے ہیں اور صبح نو بجے کھل جاتے ہیں ! توبہ کیجیے ! توبہ ! ہمیں کفار کے ملکوں کا تتبع کرنے کا کہا جا رہا ہے ! استغفار! استغفار! ہم تاجر تو دیگیں تقسیم کرتے ہیں‘ حج اور عمرے کرتے ہیں! با جماعت نمازیں ادا کرتے ہیں ! ہم اور کفار کی پیروی ؟ ناممکن ! نا ممکن! ہم دکانیں چھ بجے نہیں بند کریں گے ! کورونا یا نو کورونا ! کورونا تو اب آیا ہے سال ڈیڑھ سال ہوا ! یہ حکومتیں اس سے بھی پہلے سے ہمارے پیچھے لگی ہیں۔ کہتی ہیں بازار سرِشام بند کیجئے اور صبح جلد کھو لئے! اس سے توانائی کی بچت ہو گی ! بھلا یہ بھی کوئی بات ہے ! توانائی کی بچت ہو گی تو ملک کا فائدہ ہو گا نا ! ارے بھائی! ہم تاجروں کا فائدہ تو نہیں ہو گا! خود سوچو! پیسہ کمانے کا ‘ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کا ٹارگٹ متاثر ہوا تو یقیں محکم ‘ عمل پیہم کا اصول تو ٹوٹ گیا نا!
میں تاجر برادری کے اس عزمِ صمیم کی داد دیتا ہوں! میں امریکہ سے لے کر نیوزی لینڈ تک ‘ ناروے سے لے کر اٹلی تک‘ کوریا سے لے کر سنگا پور تک‘ ہانگ کانگ سے لے کر ملا ئیشیا تک بازار گھوما ہوں۔ ہر جگہ تاجروں سے بات کی ہے۔ تمام دکانداروں سے بحث کی ہے۔انہیں قائل کرنے کی کوشش بھی کی کہ میرے ملک کے تاجروں کا اصول اپناؤ۔ دن کے بارہ ایک بجے دکانیں‘ سٹور کھولو۔ رات کو بارہ بجے تک بازار کھلے رکھو۔ واہ! کیا منظر ہوتا ہے رات کو! ایک ایک دکان میں دس دس ٹیوب لائٹیں‘ پانچ پانچ فانوس‘ بازار بقعۂ نور! جگمگ جگمگ روشنیاں! نور میں نہائے سٹور ! آ کر پاکستان کے بازار دیکھو تو سہی! رات کو ہمارے تاجر دن بنا دیتے ہیں! مگر افسوس! ان تاجروں پر کوئی اثر نہ ہوا! جواب میں ایک ہی رٹ لگا ئے رکھی کہ حکومت کے جاری کردہ قوانین پر عمل کریں گے! کہ ملک کا لاء سپریم ہے ! کہ اپنا ملک ہے !کہ اپنی حکومت ہے ! کہ تعاون کریں گے۔ سر شام بازار بند کریں گے‘ صبح جلد کھولیں گے۔ حد یہ ہوئی کہ ان تاجروں نے میرے ملک کے تاجروں کی شان میں نازیبا کلمات کہہ ڈالے ! کسی نے خود غرض کہا! کسی نے لالچی ! کوئی بولا تمہارے ملک کی تاجر برادری کو حکومت کی جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے کیونکہ اسی میں سب کا فائدہ ہے! میں یہ فضول باتیں سنتا رہا۔ مگر متاثر نہ ہوا کیونکہ میرے ملک کے تاجر ‘ زیادہ عقل مند‘ زیادہ مخلص اور زیادہ دیانت دار ہیں !
میرا یہ بھی پختہ یقین ہے کہ ان ملکوں کے بیوقوف تاجروں کو میرے ملک میں آکر ‘ یہاں کی تاجر برادری سے کاروبار کے سنہری اصول سیکھنے چاہئیں ! ٹارگٹ پیسہ کمانا ہے تو پھر رَج کر کمائیں۔ کم از کم چھ ضابطے ایسے ہیں جو میرے ملک کی تاجر برادری ‘ ان ممالک کے تاجروں کو سکھا سکتی ہے۔ ان ضابطوں کو آپ ٹیکنیکس بھی کہہ سکتے ہیں۔ مگر جو کچھ بھی کہیں‘ کوئی سا نام دے دیں‘ اصول کہیں یا ضوابط‘ ہیں یہ سب سنہری ! پہلا اصول یہ ہے کہ صرف دکان کے ایریا پر قناعت نہیں کرنی! فٹ پاتھ اور سامنے والی ساری جگہ اپنے استعمال میں لانی ہے۔اگر دکان کے سامنے سرکاری زمین وافر ہے تو ریڑھی والوں سے کرایہ لے کر وہاں دو تین ریڑھیوں کو کاروبار میں لگا دیں۔ بلکہ ہو سکے تو سامنے جو پکی سڑک ہے ‘ اس کا بھی کچھ حصہ قابو کر لیں! کچھ لوگ یاوہ گوئی کریں کے کہ یہ تجاوزات ناجائز ہیں‘ ان کی باتوں پر کان دھرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ آوازِ سگاں کم نہ کند رزق گدا را! دوسرا اصول یہ ہے کہ ٹیکس دینے سے بچئے۔ اس محکمے سے کوئی اہلکار آئے تو اسے کرپٹ کرنے کی پوری کوشش کی جائے۔ ٹیکس دینے کے بجائے مخصوص حلقوں کو چندے دیجئے کیونکہ یہ حلقے جو چندے وصول کرتے ہیں آپ کے قدرتی ہم نوا ہیں ! یہ ہمیشہ آپ ہی کے موقف کی حمایت کریں گے خواہ یہ حمایت خاموش ہی کیوں نہ ہو ! تیسرا زریں اصول ہے کہ گاہک کو الجھائے رکھیں‘ سچ نہ بولیں۔شے میں نقص ہے تو ہر گز نہ بتائیے! گاہک کی مطلوبہ شے آپ کے پاس نہیں تو اسے نہ بتائیے بلکہ کوئی اور شے ‘اپنی پسند کی‘ دکھائیے اور اصرار کیجیے کہ یہ زیادہ بہتر ہے۔ گاہک کو کنفیوز کیجئے۔ یہاں تک کہ وہ آپ کی باتیں ماننے پر مجبور ہو جائے۔ چہارم یہ کہ ریفنڈپالیسی نہ رکھئے۔ بڑے سے بورڈ پر یہ عبارت کہ '' خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہ ہو گا‘‘لکھ کر لگا دیجئے تا کہ کوئی احمق آپ کو شے واپس کر کے ریفنڈ نہ مانگتا پھرے ! پانچواں سنہری اصول یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کا ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے مذہب کو ضرور استعمال میں لائیے۔ بے شک دکان کا نام کسی مقدس ہستی کے نام پر رکھیں مگر کاروباری معاملات میں وہی کچھ کرتے رہیں جس  سے منع کیا گیا ہے۔ یاد رکھئے مذہب کے نام پر پاکستانی صارف کا استحصال دنیا کا سہل ترین کام ہے۔ اس دُکھتی رگ سے ضرور فائدہ اٹھائیے۔ چھٹا اور آخری اصول ہے اپنی برادری کی ہر جائز ناجائز بات پر حمایت کرنا۔ کسی تاجر نے کوئی جرم کیا ہے اور قانون اسے اپنے دائر ے میں لانے کی کوشش کرتا ہے تو اپنے مجرم بھائی کا پورا پورا ساتھ دیجئے۔ ہڑتال کیجئے۔ جلوس نکالئے! اور ہاں! یاد رکھئے علم آپ کا سب سے بڑا دشمن ہے اس لیے کتابوں کا بزنس کبھی نہ کیجئے۔ جو تھوڑے سے تاجر کتابوں کے اس ملک میں رہ گئے ہیں انہیں اپنی برادری سے خارج کرکے کوشش کیجئے کہ ان کی جگہ ٹائروں‘ یا ہارڈ ویئر‘ یا چکن کڑاہی والے تاجر آجائیں !
بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, March 15, 2021

ہاتھ پر ہاتھ دھرے



 معروف ازبک ادیب اور صحافی ،دادا خان نوری ،   اس کالم نگار کے مہمان تھے۔ صبح اٹھا تو سیر کے لیے جا چکے تھے۔  واپس آئے تو سخت برہم !  دادا خان اردو میں کام چلا لیتے ہیں۔ تاشقند یونیورسٹی میں ہندی زبان کا بہت بڑا شعبہ ہے۔ وہیں ہندی سیکھی۔ اس لحاظ سے اردو بھی بول لیتے ہیں، اگرچہ  اردو لکھ پڑھ نہیں سکتے! کہنے لگے “ آپ پاکستانی عجیب ہیں! ہر گھر کے سامنے ،  پیچھے ، دائیں ، بائیں زمین ہے اور بیکار پڑی ہے ۔ ثمر دار پودے نظر آئے نہ سبزیاں۔  ساری زمین بیکار جا رہی ہے۔ آپ کیسے لوگ ہیں ؟”   ان کی خدمت میں عرض  کیا   کہ حضور!   ہم ایسے ہی ہیں۔ اور ہماری اس “ صفت” کا ذکر  آپ کے ہم وطن ظہیرالدین بابر صاحب بھی کرتے تھے۔  

دادا خان کو اچنبھا ہوناہی تھا۔ غصہ بھی ان کا بجا تھا۔  ان کے ہاں ، بلکہ ساری وسط ایشیائی ریاستوں میں ، تقریبا” ہر گھر پھلوں میں خود کفیل ہے۔ گھر کے درمیان واقع صحن درختوں اور پودوں سے بھرا ہوتا ہے۔ ، جسے حَولی کہتے ہیں۔ اخروٹ، سیب، آڑو ،خوبانی ، کے درخت لازم ہیں۔ سیب اور اخروٹ  ، عام طور پر، ناشتے کا جزو ہیں۔ہماری نالائقی اس حوالے سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہاں ہم ٹوٹل فروٹ پروڈکشن کی بات نہیں  کر رہے ،  نہ   کمرشیل پیدا وار کی اور نہ ہی  کنو، مالٹے اور آم کی، جس کے لیے پاکستان معروف ہے۔ نالائقی اور کم ہمتی کی بات  گھروں کے ضمن میں کی جا رہی ہے۔خال خال ایسے مکان ہیں جن کے مالک ، یا مالکنیں ،     گھروں  میں سبزیاں اور پھل اگا رہی ہیں۔ جن کو شوق ہے اورسرگرم و سخت کوش ہیں وہ پانچ مرلے کے مکان میں بھی   یہ کام بخوبی کر رہے ہیں اور جو اس میدان میں کورے ہیں یا غافل اور بے نیاز وہ کنال  کنال اور دو دو کنال کے گھروں میں بھی  کچھ نہیں اگا رہے۔ کورڈ 
( (covered
 ایریا کی بڑھتی ہوئی  بھوک بھی اپنا منفی کردار ادا کر رہی ہے۔ مثلا” وفاقی دارالحکومت کے ابتدائی چند عشروں میں یہ پابندی تھی کہ کورڈ ایریا، پلاٹ کے کُل ایریا کے   ستر فی صد سے زیادہ نہ ہو۔  یوں دس اور بارہ مرلے کے مکان میں لان ( بیرونی صحن) کے لیے اچھی خاصی وسیع جگہ مل جاتی تھی جو سبزیوں اور پھلوں کی گھریلو ڈیمانڈ پورا کرنے کے لیے مناسب  تھی۔ بعد میں   رُول یہ بنا دیا گیا کہ کورڈ ایریا   نوّے فی صد تک ہو سکتا ہے۔ اس طرح اب پانچ سو مربع گز کے گھر میں بھی لان کی جگہ بہت کم رہ جاتی ہے۔ بہر طور  جو مکین،  شہری  ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہیں وہ ، گھر کے سائز سے قطع نظر، سبزیاں اور پھل اگا رہے ہیں۔  چھتوں کو بھی اس  مقصد  کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔  مگر یہ تعداد بہت کم ہے۔ مہنگائی کا رونا رونے کے بجائے، اگر گھروں میں اپنی ضرورت کی سبزیاں اور پھل  اگالیے  جائیں تو  معاشی بوجھ ہلکا کیا جا سکتا ہے۔ اب انگور کی بیل لگانے کے لیے تو رقبہ بھی نہیں درکار۔ چھت تو ہر گھر  کو میسر ہے۔  ولائتی کھاد کے نقصان کا جو اندیشہ ہم نے ، بجا طور پر، یا غلط طور پر ، پالا ہؤا ہے اس سے بھی نجات مل سکتی ہے کیونکہ جو سبزیاں گھروں میں اگائی جائیں گی وہ دیسی  ( آرگینک) ہوں گی۔ جاپانیوں نے دوسرے شعبوں کی طرح اس میدان میں بھی حیران کُن کارنامے انجام دیے ہیں۔ ثمردار پودے  گملوں   میں لگا رہے ہیں۔  کئی قسم  کی  نئی تکنیکیں متعارف کرا رہے ہیں۔ بڑے درخت کی شاخ ، گملے میں یوں لگاتے ہیں کہ گملے والے چھوٹے پودے کی پیداوار ، عمر کے لحاظ سے ،  بڑے درخت  کے برابر ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ شوق اور ذوق اس معاملے میں اہم ہے مگر گرانی کی جو رفتار، خطرے کی طرح،  ہمارے سروں پر منڈلا  رہی ہے اور بڑھتی ہوئی  آبادی کا عفریت  جس طرح  دہانہ کھولے، چنگھاڑ رہا ہے، اس کے پیش نظر یہ کام، اب شوق کا نہیں  مجبوری کا ہے۔ میسّر اعداد و شمار کے  مطابق ملک میں   رہائشی یونٹس، یعنی گھروں کی تعداد 32.21  ملین ہے۔    اگر ہر  ، رہائشی یونٹ،  اس حوالے سے مستعد  ہو جائے تو مجموعی طور پر لاکھوں  ایکڑ رقبہ بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔آبادی کے بہت کم حصے کو پھل میسر ہیں۔ یوں  یہ تعداد بھی بڑھائی جا سکے گی۔

اور  یہ جو پانی کی قلت خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے اور بجائے جا رہی ہے ، تو کیا اس سلسلے میں  ہمارے ہاں فرد اپنی شہری   ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے؟  نہیں ! بالکل نہیں ! سب سے پہلے  بارش کے پانی کو لیجیے۔ جرمنی، آسٹریلیا اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں  بارش کا پانی ٹینکیوں میں جمع کر لیا جاتا ہے۔ اس کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ ہم بھی کر سکتے ہیں مگر اس کے لیے سائنس اور ٹیکنیک سے زیادہ دھیان اور وژن کی ضرورت ہے۔ چھتوں سے پانی براہ راست انڈر گراؤنڈ  ٹینکی میں اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔اندازہ لگائیے اس وقت کتنا پانی فلش کی ٹینکیوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ بارش کا پانی اس کا متبادل ہے۔  گاڑیاں اور موٹر سائیکل دھونے کے لیے اور گھاس  اور پودے سینچنے کے لیے بھی بارش کا پانی استعمال کیا جانا چاہیے۔ پالتو جانوروں کو اس سے نہلایا جا سکتا ہے۔ پورچ اور فرش دھونے کے بھی کام آسکتا ہے۔  جس طرح ملکی سطح پر ہم نے ڈیم نہیں بنائے اور مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا ہے بالکل  اسی طرح، انفرادی سطح پر بھی  ہم    پانی کے ہولناک ضیاع کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ایک بار پھر وفاقی دالحکومت کی  مثال لیجیے۔  بارہ مرلے کا پلاٹ بھی کروڑوں  کی قیمت کا ہے۔ تعمیر پر مزید کروڑوں کا خرچ! ترقیاتی ادارہ اس مکان پر ٹیکس لے گا مگر پانی فراہم نہیں کرے گا۔مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے کر بھی نہیں سکتا!۔ٹینکر مافیا الگ  غارت گری کر رہا ہے۔   بور کر کر کے دھرتی کا سینہ زخمی کیا جا رہا ہے مگر زیر زمین پانی کی سطح  تحت الثریٰ کی طرف جا رہی ہے ! ایسے میں بارش کا پانی مسئلے کا جزوی حل ہے اور بہت ہی مناسب حل !  مسلمان ملکوں کو تو وضو کے پانی کا بھی کچھ کرنا چاہیے۔ جو پانی  وضو کے لیے استعمال ہو چکا ہے،   کیا وہ  گلیاں دھونے کے لیے اور پودوں کی آبیاری کے لیے  دوبارہ استعمال  نہیں ہو سکتا؟ اس پر غور ہونا چاہیے۔ مساجد کی تعداد کا اندازہ لگائیے۔ پھر اس پانی کا جو پانچ وقت وضو کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ نماز کا پابند شخص، عمومی طور پر صاف ستھرا ہوتا ہے۔ جس پانی سے اس نے چہرا،  ہاتھ، بازو اور  پاؤں دھوئے ہیں وہ پانی، جمع کر کے،  کئی مقاصد کے لیے  دوبارہ استعمال میں  لایا جا سکتا ہے۔ کئی ممالک تو سیورج کا پانی “ ری  سائیکل 
کر کے دوبارہ کار آمد کر رہے ہیں۔ پارکوں، گالف کے میدانوں، مِلوں ۔ فیکٹریوں  اور تعمیراتی  سر گرمیوں کو  یہی پانی دیا جارہا ہے۔ ہمارے ہاں پانی  جس بے دردی سے  ضائع  کیا جارہا ہے،اس کی مثال دنیا میں  کم ہی  ملے گی!بہت کچھ کیا جاسکتا ہے جو ہم نہیں کر رہے یا کرنا نہیں چاہتے! حکومت کی طرف سے ترغیب ہے نہ تعلیم نہ تربیت نہ فکر نہ ہی دلچسپی! اس کی  ترجیہات اور ہیں! اس کی نظر عوام پر نہیں، کہیں اور ہے۔ اور یہ بھی نہیں معلوم نظر،  صحت مند ہے یا اس میں  کم فہمی ، یا  حماقت کا موتیا اترا ہؤا ہے۔ رہے ہم عوام !  تو ہماری کیا بات ہے !  ہم حکومت سے بھی دو قدم آگے ہیں۔صرف   دور  کی نہیں ہماری تو  نزدیک کی نظر بھی کمزور ہے۔ بس بیٹھے ہیں اور ۔؏
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہیں !
………………………………………………………………بشکریہ روزنامہ دنیا
 

powered by worldwanders.com