Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Monday, September 20, 2021

who Bothers!!



وہ تو بھلا ہو رضاربانی کا کہ انہوں نے امریکی ارکان کانگرس کی یاوہ گوئی کا بھرپور جواب دیا۔
جس تکبر سے اور جس لہجے میں ان ارکان کانگرس نے پاکستان کے بارے میں بات کی، اس کا فوری نوٹس وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کو لینا چاہیے تھا۔ ان ارکان نے اپنی حکومت سے کہا کہ پاکستان کے خلاف سخت رویہ اپنائے کیونکہ افغانستان میں، بقول ان کے، پاکستان کا کردار دُہرا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعاون بھی کیا اور طالبان کو، بشمول حقانی نیٹ ورک، پناہ بھی دی۔ اس ہرزہ سرائی کا جواب جناب رضا ربانی نے دیا کہ پاکستان امریکی ریاست نہیں‘ ایک خود مختار ملک ہے۔ انہوں نے امریکہ کو یاد دلایا کہ وہ خود افغانستان میں دوغلا کردار ادا کرتا رہا ہے اور دنیا بھر میں اپنے مفاد کے لیے آمروں کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔ اُدھر تو یہ سب کچھ ہو رہا تھا اِدھر، ہمارے وزیر خارجہ مریدوں کے سروں پر دست شفقت پھیر رہے تھے اور وزیر اعظم پنجاب کے آئی جی اور چیف سیکرٹری کے ساتھ میٹنگ کر رہے تھے۔ اس میٹنگ میں ما شاء اللہ وزیر اعلیٰ پنجاب بھی شامل تھے۔ آئی جی اور چیف سیکرٹری‘ دونوں وزیر اعلیٰ کے ماتحت ہیں۔ وزیر اعظم کو صوبے کے افسروں کے ساتھ براہ راست میٹنگ کرنا پڑے تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ صوبے کے حکومتی سربراہ اپنے ماتحتوں سے خود کام لینے کا ہنر نہیں جانتے! جس صاحبِ اختیار کے جسم میں ریڑھ کی ہڈی ہو گی وہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ وزیر اعظم سے کیوں ملے گا؟ وہ تو عرض کرے گا کہ حضور! آپ مجھے حکم دیجیے! حکم کی تعمیل میں کس طرح کرتا ہوں اور کراتا ہوں، یہ میرا کام ہے‘ جناب کا نہیں ! مگر ایسی بات کہنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا ہونا لازم ہے۔ ویسے کسے نہیں معلوم کہ پنجاب کی حکومت کہاں سے چلائی جا رہی ہے اور کون چلا رہا ہے ! عضو معطل کون ہے اور سرگرمی کہاں سے پھوٹتی ہے۔ مگر فرنگی محاورہ ہے: Who bothers!‘ ہم پنجابی شاید ایسے ہی مواقع پر یاس کا اظہار یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ مٹی تے سواہ! یا مٹی تے گھٹّا۔
جناب وزیر اعظم نے نتھیا گلی میں فائیو سٹار ہوٹل کا افتتاح کیا ہے۔ اچھی بات ہے۔ آگے کی طرف پیش رفت ہے۔ مگر پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن ( پی ٹی ڈی سی ) کے تیس سے زیادہ موٹل اور ریستوران تقریباً دو پونے دو سال سے‘ یعنی نومبر 2019ء سے ٹھپ پڑے ہیں۔ پی ٹی ڈی سی چوالیس سال پہلے منافع کے لیے تشکیل نہیں دی گئی تھی بلکہ اس کا مقصد سیاحت کا فروغ تھا۔ یہ موٹل ایسی ایسی جگہوں پر بنائے گئے تھے جہاں نجی شعبہ کے سرمایہ کاری کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ یہ موٹل خپلو، ناران، گلگت، بالا کوٹ، بمبریٹ (کیلاش وادی) سکردو، بشام، کالام، سست، اور دیگر کئی مشکل مقامات پر بنائے گئے تھے۔ کچھ ان میں سے کروڑوں روپے کما رہے تھے اور حکومت کو ٹیکس بھی ادا کر رہے تھے۔ قارئین میں سے اکثر و بیشتر ان موٹلوں میں ٹھہرے بھی ہوں گے۔ ایک سال دس ماہ پہلے ان تمام موٹلوں اور ریستورانوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ کہا یہ گیا کہ یہ گھاٹے میں جا رہے تھے۔ یہ اور بات کہ اعداد و شمار پیش نہیں کیے گئے کیونکہ سلطانی احکام جاری کرتے وقت ثبوت یا منطق یا دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اتنے عظیم الشان ادارے کی بندش کے مدارالمہام وزیر اعظم کے ایک قریبی دوست تھے۔ یہ وہی دوست تھے جن کا نام وزیر اعظم نے الیکشن جیتنے کے بعد، ایئر پورٹ پر بیٹھے بیٹھے ای سی ایل سے نکلوایا تھا۔ اللہ ہی جانے وہ ان موٹلوں کو بند کر کے کیا کرنا چاہتے تھے مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتے، رنگ روڈ سکینڈل کی نذر ہو گئے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ تیس سے زیادہ، یعنی تمام کے تمام، موٹل بند ہیں۔ ان کا کروڑوں کا ساز و سامان بیکار پڑا ہے۔ دیمک، کیڑوں اور پھپھوندی کے وارے نیارے ہیں۔ ملازمین بر طرفی کے بعد عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔ سیاحوں کے قیام کا کوئی بندوبست نہیں۔ یہ ہے ٹورازم کا فروغ جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ بقول شاعر:
تم ہمیں کیا نئی منزل کی بشارت دو گے
تم تو رستہ نہیں دیتے ہمیں چلنے کے لیے
بات پھر وہی ریڑھ کی ہڈی کی آ جاتی ہے۔ پارلیمنٹ کے جسدِ ضعیف میں جان ہوتی تو اس المناک نقصانِ عظیم پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتی۔
اب آئیے ایک اور معاملے کی طرف جس کا ذکر ہیڈ لائنز میں ہو رہا ہے۔ معروف کامیڈین عمر شریف بیمار ہیں۔ ہم دست بدعا ہیں کہ خالقِ کائنات انہیں صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور وہ پھر سے اپنے ناظرین اور سامعین کو محظوظ کر سکیں۔ سندھ حکومت نے چار کروڑ روپے انہیں علاج کی غرض سے دیے ہیں۔ ایئر ایمبولینس کا انتظام اس کے علاوہ کیا جا رہا ہے۔ ایئر ایمبولینس اس طرح کی وین نہیں ہوتی جیسے ایدھی والوں کی ہوتی ہے۔ یہ چھوٹے فاصلوں کے لیے ہیلی کاپٹر اور طویل فاصلوں کے لیے ہوائی جہاز ہوتا ہے۔ عمر شریف نے امریکہ جانا ہے اس لیے ان کی ایئر ایمبولینس ہوائی جہاز ہو گا۔ ایئر ایمبولینس پر کتنے اخراجات آتے ہیں؟ اس کا دار و مدار مندرجہ ذیل عوامل پر ہے۔ اوّل‘ فلائٹ کا رُوٹ یعنی کل فاصلہ کتنا ہے۔ دوم‘ مریض کی حالت، یعنی کون کون سے میڈیکل آلات کی راستے میں ضرورت پڑ سکتی ہے، طبّی عملہ کن افراد اور کتنے افراد پر مشتمل ہو گا؟ سوم‘ مریض کے ساتھ جانے والی لواحقین کی تعداد کیا ہو گی؟ اگر ایک سے زیادہ افراد ہیں تو جہاز بڑا ہو گا۔ کچھ کمپنیاں جائے رہائش سے لے کر ہوائی اڈے تک اور اترتے وقت ہوائی اڈے سے لے کر ہسپتال تک کا فاصلہ بھی مدِ نظر رکھتی ہیں۔ قصہ کوتاہ ایئر ایمبولینس کے اخراجات بھی حکومت ادا کرے گی۔ اب اس سارے معاملے کو ایک اور نقطہ نظر سے دیکھیے۔ کامیڈین ہونا عمر شریف کا پیشہ تھا۔ کیا یہ کام وہ مفت کرتے تھے؟ یا فی سبیل اللہ کرتے تھے؟ نہیں! یہ پیشہ ان کا ذریعۂ معاش تھا۔ وہ ہر پروگرام کا، اندرون ملک بھی اور بیرون ملک بھی، خطیر معاوضہ لیتے تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قومی خزانے سے ایک نامور شہری کا علاج، وہ بھی اتنا مہنگا، کیا روا ہے؟ یہ قومی خزانہ عوام کے ٹیکسوں سے بھرا جاتا ہے۔ ٹیکس ادا کرنے والے یہ عوام خود اپنا علاج، اپنی جیب سے کراتے ہیں۔ نہ کرا سکیں تو حکومت کراتی ہے‘ نہ پوچھتی ہے۔ اس ملک کے سب سے بڑے محسن اساتذہ ہیں۔ کیا ایک استاد کا علاج سرکار کراتی ہے؟ ڈاکٹروں سے بڑا محسن کون ہے! کورونا جب سے آیا ہے درجنوں ڈاکٹر اپنی جان کی قربانی دے چکے ہیں۔ کیا ڈاکٹروں کا علاج حکومتی خزانے سے ہوتا ہے؟ ایک خاص شہری کے علاج پر کروڑوں روپے کس قانون کے تحت صرف کیے جا رہے ہیں؟ ہمارے فنکار ساری زندگی کماتے ہیں اور معاف کیجیے گا‘ ان میں سے اکثر اللوں تللوں پر روپیہ اڑا دیتے ہیں۔ ایک زمانے میں یہ کالم نگار وزارت ثقافت میں مزدوری کرتا تھا۔ ڈیوٹی میں فنکاروں کو بیرون ملک دورے کرنے کے لیے این او سی جاری کرنا بھی شامل تھا۔ ایک بہت مشہور فنکار کے بیرون ملک جانے پر سرکار نے پابندی عائد کر رکھی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ایک ملک میں، جو ہمارے مشرق میں واقع ہے، انہوں نے نشے میں دُھت، ایک عالی مرتبہ خاتون کو چھیڑا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایک اور ملک میں جو ہمارے مغرب میں واقع ہے انہوں نے سٹیج پر، عالم وارفتگی میں شاشیدن مصدر کی گردان شروع کر دی تھی۔ شاشیدن کا معنی کسی فارسی لغت میں آپ خود دیکھ لیجیے!
بشکریہ روزنامہ  دنیا

Thursday, September 16, 2021

قائدِ اعظم کا ایک سپاہی رخصت ہو گیا



فرزندِ اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال کی رحلت کے بعد دوسرا بڑا سانحہ ڈاکٹر صفدر محمود کی وفات ہے۔

قائد اعظم کا یہ سپاہی، یہ نظریاتی باڈی گارڈ، تحریک پاکستان کا یہ مجاہد تیرہ ستمبر کو اپنی آبائی بستی ڈنگہ ضلع گجرات میں سپرد خاک ہو گیا۔ تحریک پاکستان کے مجاہد وہ اس طرح تھے کہ اس تحریک پر آج تک برابر حملے ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر صفدر محمود ان حملوں کا دفاع کرتے ہوئے ہمیشہ اگلی صفوں میں رہے! عرب شاعر نے کہا تھا:

أضاعُونی وأیَّ فَتیً أضاعوا 
لیومِ کریہۃٍ وسدادِ ثَغــرِ

مجھے کھو دیا! اور جنگ کے دن کے لیے اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے کیسا زبردست جوان کھو دیا!
ڈاکٹر صاحب کی وفات پر زیادہ زور اس ذکر پر دیا جا رہا ہے کہ وہ وفاقی سیکرٹری رہے اور کالم نگار! اقبال نے دربار رسالت میں فریاد کی تھی کہ انصاف فرمائیے! مجھے لوگ غزل گو سمجھ بیٹھے ہیں!
من ای میرِ امم داد از تو خواہم
مرا یاران غزل خوانی شمردند
وفاقی سیکرٹری ایک اینٹ اکھاڑیے تو نیچے سے تین نکلتے ہیں۔ بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے۔ کالم نگار بھی بہت ہیں! مگر صفدر محمود مؤرخ تھے! چوٹی کے محقق! بیسیوں کتابوں کے مصنف اور کتابیں بھی ایسی کہ عرق ریزی اور مشقت کا حاصل! کئی زبانوں میں ان کے ترجمے ہوئے۔ کئی بار انہوں نے لندن جا کر انڈیا آفس کو کھنگالا۔ واشنگٹن جا کر آرکائیوز کا مطالعہ کیا۔ پاکستان کیوں ٹوٹا؟ پاکستان، تاریخ و سیاست۔ مسلم لیگ کا دورِ حکومت۔ آئینِ پاکستان۔ یہ تو چند کتابوں کے عنوانات ہیں۔ ان کی تصانیف اور بھی ہیں۔ اردو میں بھی، انگریزی میں بھی۔
ڈاکٹر صفدر محمود کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ پاکستان، تحریکِ پاکستان اور قائد اعظم کے بارے میں جو بے اصل، غلط اور جھوٹی باتیں پھیلائی گئیں یا پھیل گئیں، ڈاکٹر صاحب نے بہت محنت کرکے ان کی اصلیت کو واضح کیا۔ اس کے لیے وہ ہر اس شخصیت سے ملے جس کا قائد اعظم سے تعلق رہا یا جو واقفِ حال تھا۔ ایک ایک سورس، ایک ایک ذریعہ تلاش کیا۔ کڑی مشقت کے بعد سچ دنیا کے سامنے لائے۔ پاکستان کے کئی بدخواہ ان کی تحقیق اور ان کے لائے ہوئے سچ کا جواب نہ دے سکے۔ کچھ نے اپنی غلطی تسلیم کی۔ یہ اور بات کہ جہاں جہاں نیت کا فتور تھا، وہاں ہٹ دھرمی قائم رہی! کچھ مغالطے جو عام ہیں یا عام کیے گئے اور جن کے بارے میں ڈاکٹر صاحب نے تحقیق کرکے حقیقت واضح کی، مندرجہ ذیل ہیں:
٭ قراردادِ پاکستان وائسرائے نے قائد اعظم کو دی اور انہوں نے مسلم لیگ کے اجلاس سے منظور کروالی۔ ٭ حلف برداری کے لیے قائد اعظم آتے ہی کرسی پر بیٹھ گئے جس پر چیف جسٹس میاں عبدالرشید نے اعتراض کیا۔ ٭ پرچم کشائی مولانا شبیر احمد عثمانی سے کروائی گئی۔ ٭ ریڈ کلف ایوارڈ اور خاص طور پر پنجاب کی تقسیم مسلم لیگ کے مطالبات کے عین مطابق تھی۔ ٭1935 ء میں قائد اعظم کی ہندوستان واپسی ایک خواب کا نتیجہ تھی۔ ٭ علامہ اقبال نے خطوط لکھ کر قائد اعظم کو لندن سے واپسی پر آمادہ کیا۔ ٭ قائد اعظم سے منسوب یہ بیان کہ پاکستان میں نے اور میرے ٹائپ رائٹر نے بنایا۔ ٭ قائد اعظم سے منسوب یہ فقرہ کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ڈال دیے گئے ہیں۔ ٭ کراچی میں ایمبولنس کی خرابی سازش تھی۔ ٭ زیارت سے لے کر کراچی آمد تک لیاقت علی خان کے حوالے سے تراشے گئے بدگمانیوں کے افسانے۔
ڈاکٹر صفدر محمود نے یہ سب مفروضے اور جھوٹ غلط ثابت کیے۔ انہوں نے دلائل کے انبار لگا دیے۔ گواہیاں پیش کیں۔ حوالے دیے۔ ریفرنسز دکھائے۔ عینی شاہدوں سے ملے۔ حلف برداری کی تقریب کی وڈیو ڈھونڈی اور دیکھی۔ یہ جو آج پوری دنیا میں تحریک پاکستان کی تاریخ کے طالب علم اور قائد اعظم کے شیدائی ڈاکٹر صفدر محمود کی وفات پر غم زدہ ہیں تو اس کا سبب مرحوم کی یہ محنت اور مشقت ہی تو ہے۔ انہوں نے تن تنہا اتنا کام کیا جتنا بڑے بڑے ادارے کرتے ہیں۔ کوئی مالی امداد ان کی پشت پر نہ تھی۔ کسی ادارے کا تعاون حاصل نہ تھا۔ ہم جیسے طالبان علم کے لیے ان کے دروازے ہمہ وقت کھلے تھے۔ جب بھی ان موضوعات پر کوئی مشکل پیش آتی، رہنمائی فرماتے۔ کتاب پاس ہوتی تو ارسال فرما دیتے‘ ورنہ بتاتے کہ کون سا حوالہ ہے اور کہاں ملے گا۔ اس کالم نگار پر ہمیشہ شفقت فرماتے اور اس قابل سمجھتے کہ کسی مسئلے پر تشویش ہو تو شیئر کریں۔
ڈاکٹر صاحب کس طرح مسئلے کی تہہ تک پہنچتے تھے، اس کی صرف ایک مثال قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے: یہ جھوٹ کچھ حلقوں نے تواتر کے ساتھ پھیلایا کہ قائد اعظم نے قیام پاکستان سے قبل جگن ناتھ آزاد کو پاکستان کا قومی ترانہ لکھنے کو کہا۔ انہوں نے ترانہ لکھا جو قائد نے منظور کیا اور پھر یہ ترانہ اٹھارہ ماہ تک گایا جاتا رہا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس جھوٹ کے رد میں عقلی اور نقلی بارہ دلائل دیے۔ 

ایک: قائد کی قانونی اور آئینی شخصیت کے لیے ناممکن تھا کہ کابینہ، حکومت اور ماہرین کی رائے کے بغیر ترانہ خود ہی منظور کر لیتے جبکہ انہیں اردو اور فارسی سے واجبی سا تعلق تھا۔ 

دو: قائد اس وقت 71 سال کے تھے۔ جگن ناتھ آزاد اس وقت29 برس کا ایک غیر معروف نوجوان تھا۔ لاہور میں اس کا قیام تھا اور اینٹی پاکستان اخبار 'جئے ہند‘ میں ملازم تھا۔ دوستی تو کجا، قائد سے اس کا تعارف بھی ناممکن تھا۔ 

تین: پروفیسر سعید کی کتاب میں 25اپریل 1948 تک کے قائد کے ملاقاتیوں کی مکمل لسٹ ہے۔ اس میں جگن ناتھ نام کا کوئی ملاقاتی نہیں۔ 

چار: انصار ناصری نے قائد کے کراچی آنے کے بعد کی مصروفیات پر ایک مبسوط کتاب لکھی ہے‘ اس میں بھی جگن ناتھ آزاد کا کوئی ذکر نہیں۔

 پانچ: ڈاکٹر صفدر محمود، عطا ربانی سے‘ جو قائد کے اے ڈی سی تھے، ملے۔ یہ ملاقات کافی جدوجہد کے بعد مجید نظامی کی مدد سے ممکن ہوئی۔ عطا ربانی کا صاف سیدھا جواب تھاکہ اس نام کا کوئی شخص قائد سے ملا نہ قائد سے انہوں نے یہ نام کبھی سنا۔

 چھ: جگن ناتھ آزاد نے اپنی وفات تک خود یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا۔ 

سات: ڈاکٹر صفدر محمود نے ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز چھان مارے۔ ان میں بھی ایسا کوئی ذکر نہیں۔ 

آٹھ: ڈاکٹر صاحب نے اگست 1947 کے اخبارات چھان مارے۔ جگن ناتھ کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔ 

نو: ڈاکٹر صاحب نے خالد شیرازی سے ملاقات کی جنہوں نے اگست1947 کے ریڈیو پروگراموں کا چارٹ بنایا تھا۔ انہوں نے بھی اس دعوے کی نفی کی۔ 

دس: ریڈیو پاکستان کے رسالہ 'آہنگ‘ میں ایک ایک پروگرام کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس میں بھی جگن ناتھ کے ترانے کا کوئی ذکر نہیں۔ 

گیارہ: جگن ناتھ آزاد نے اپنی کتاب ''آنکھیں ترستیاں ہیں‘‘ میں صرف یہ لکھا کہ اس نے ریڈیو لاہور سے اپنا ملی نغمہ سنا۔ اس نے قائدِ اعظم کا ذکر کیا نہ ترانے کا۔ 

بارہ: ایک بھارتی سکالر منظور عالم نے جگن ناتھ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا‘ جس میں جگن ناتھ کا انٹرویو ہے جس میں انہوں نے ان مشاہیر کا ذکر کیا‘ جن سے وہ ملے۔ ان میں قائد اعظم کا ذکر نہیں، اگر ملے ہوتے تو یقیناً ذکر کرتے۔

یہ صرف ایک مثال ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہر ایشو پر اسی طرح مکمل تحقیق کی اور کوئی گوشہ تشنہ نہ چھوڑا۔ ان کی دو کتابیں ''سچ تو یہ ہے‘‘ اور ''اقبال، جناح اور پاکستان‘‘ تاریخِ پاکستان کے ہر شائق کو ضرور پڑھنی چاہئیں۔ ان کی بعض آرا سے اختلاف بھی ہے‘ مگر اس کا یہ موقع نہیں۔ خداوند قدوس ان کی لغزشوں سے درگزر کرے اور ان کی نیکیوں اور قومی خدمات کو قبول کرے

بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, September 14, 2021

نئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تقرری



دو دن پہلے صدر پاکستان نے‘ وزیر اعظم کی تجویز پر‘ محمد اجمل گوندل کو نیا آڈیٹر جنرل آف پاکستان مقرر کیا ہے۔
یہ تقرری دو لحاظ سے خوش آئند ہے۔ ایک اس لیے کہ اس آئینی پوسٹ کے لیے ایسے افسر کو منتخب کیا گیا ہے جو آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کے محکمے کے اندر موجود تھا اور باقاعدہ ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔ دوسرا اس لیے کہ یہ افسر سب سے زیادہ سینئر تھا۔ اور میرٹ پر اسی کا حق بنتا تھا۔ اس سے پہلے کچھ آڈیٹر جنرل ایسے بھی مقرر کیے گئے جو ریٹائر ہو کر گھر بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ وہ تھے جو محکمے سے باہر تھے۔ اور محکمے کی افرادی قوت سے براہِ راست آشنائی نہیں رکھتے تھے۔ اگرچہ ان میں منظور حسین اور تنویر آغا مرحوم جیسے مردم شناس اور قابل آڈیٹر جنرل بھی ہو گزرے ہیں جو اگرچہ ایک مدت محکمے سے باہر رہے مگر کارکردگی اور سیاسی دباؤ کا مقابلہ کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ منظور حسین نے اپنے عہد میں بدعنوان افسران کو نکال باہر پھینکا۔ یہ اور بات کہ ان کے جانے کے بعد یہ نکالے گئے لوگ‘ سسٹم کی مہربانی سے‘ ایک ایک کر کے واپس آموجود ہوئے۔
جب ہم کہتے ہیں کہ اجمل گوندل سب سے زیادہ سینئر تھے اس لیے ان کے حق میں جو فیصلہ ہوا ہے‘ وہ خالص میرٹ پر ہوا ہے‘ تو اس میں ایک نکتہ ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ ایک لفظ جسے فرنگی Discretion کہتے ہیں‘ اور ہم اردو والے'' صوابدید‘‘ کہتے ہیں‘ ہمارے ہاں بہت ہی رگیدا گیا ہے۔ اس رگیدنے کا بھی سن لیجیے کہ فرنگی اسے یعنی رگیدنے کو Misuseکرنا کہتے ہیں۔ جب سب سے زیادہ سینئر افسر کے بجائے اس کے جونیئرکو نوازنا ہو تو کہتے ہیں کہ حکومت کی‘‘ صوابدید‘‘ ہے۔ یہ ملمع کاری کی ایک شکل ہے۔ اصول یہ ہے کہ اگر سینئر کو ترقی نہیں دے رہے تو فائل پر اس کی وجوہ لکھئے مگر یہاں صوابدیدی اختیار کو ذاتی پسند ناپسند کے حوالے سے استعمال کیا جاتا ہے جو صریح ناانصافی ہے اور ہمارے دو حکمران اس ناانصافی کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سینئر جرنیلوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے جنرل ضیاء الحق کو عساکر کا سربراہ نامزد کیا۔ بھٹو صاحب فدویانہ ناز و انداز سے گھائل ہو گئے تھے مگر قدرت کا اپنا نظام ہے۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچا دو‘ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو‘ تو یہ اس لیے نہیں فرمایا گیا کہ حکمران من مانیاں کرتے پھریں اور انہیں سزا نہ ملے۔ آپ حقدار کو محروم کر کے غیر حقدار کو نواز یں گے تو آپ کو قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ بھٹو صاحب کو اسی جنرل ضیا نے تختۂ دار پر لٹکایا۔ یہی غلطی میاں نواز شریف نے کی اور جسے نیچے سے اوپر لائے‘ اس نے انہیں ناکوں چنے چبوائے۔ خود جنرل پرویز مشرف کا عہد ایسی ناانصافیوں سے بھرا پڑا ہے۔ اب خاکِ وطن کو ترس رہے ہیں۔ اگر اندر کی آنکھ وا ہو تو انسان یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ قدرت حقدار کی حق تلفی برداشت نہیں کرتی اور آخرت کے علاوہ‘ اس جرم کی سزا دنیا میں بھی دیتی ہے۔
اجمل گوندل گریڈ بائیس کے افسر تھے۔ ان کے علاوہ جن دو دوسرے افسروں کے نام اوپر بھیجے گئے تھے‘ فرخ حامدی اور ڈاکٹر غلام محمد‘ وہ بھی گریڈ بائیس میں ہیں اور لائق اور اچھی شہرت کے مالک ہیں مگر سنیارٹی لسٹ میں گو ندل کا نام ٹاپ پر تھا اس لیے مقامِ شکر ہے کہ یہ فیصلہ درست ہوا اور کسی کی حق تلفی نہیں ہوئی۔ اجمل گوندل ایک محنتی اور فرض شناس افسر ہیں۔ متین اور نجیب! امید کرنی چاہیے کہ وہ اُن محرومیوں کو دور کریں گے جو اس آئینی محکمے کو لاحق ہیں‘میرٹ کا بول بالا کریں گے اور ایک سیاسی خاندان کا حصہ ہونے کے باوجود سیاسی دباؤ کا مقابلہ جرأت اور دانشمندی سے کریں گے۔ بالخصوص سفارت خانوں کے آڈٹ کے لیے جن افسروں اور اہلکاروں کو بیرونِ ملک بھیجا جاتا ہے اس میں میرٹ اور انصاف کی سخت ضرورت ہے۔ آڈیٹر جنرل کے محکمے کی کچھ اسامیاں برطانیہ‘ امریکہ اور دوسرے ملکوں میں بھی موجود ہیں جن کے لیے ماضی میں جوڑ توڑ اور دوڑ دھوپ کی جاتی رہی۔ ان میں بھی انصاف کرنا ہو گا۔ بلند مناصب قدرت کی طرف سے انعام بھی ہوتے ہیں اور امتحان بھی۔ نیک نامی بھی کمائی جا سکتی ہے اور خدا نخواستہ سفید لباس پر داغ بھی لگ سکتا ہے۔ سعدی نے کمال کی نصیحت کی ہے:
خیری کُن ای فلان و غنیمت شمار عمر /زان پیشتر کہ بانگ بر آید فلاں نماند
ارے صاحب ! نیکی کیجیے اور وقت کو غنیمت جانیے اس سے پہلے کہ لوگ کہیں کہ آپ کے منصب کی مدت ختم ہو گئی!
آڈیٹر جنرل کا عہدہ‘اور ادارہ‘انگریز بہادر نے قائم کیا۔ ہمارے اپنے بادشاہ آڈٹ کو پسند نہیں کرتے تھے۔ کبھی کسی کا منہ موتیوں سے بھر دیا۔ کبھی کسی کو سونے میں تلوا دیا۔ کبھی کسی کو پورا ضلع جاگیر میں دے دیا۔ سرکاری خزانہ بادشاہ کا ذاتی خزانہ تھا۔ شاہ جہان کا تخت ِ طاؤس سات سال میں بنا۔ کروڑوں روپے خرچ ہوئے اور یہ وہ زمانہ تھا جب ایک روپے میں چار یا پانچ بکریاں ملتی تھیں۔ وہ پانچ کروڑ روپے کے زیورات کا مالک تھا اور ایک ایک ہار‘ جو گلے میں پہنتا تھا‘ آٹھ آٹھ لاکھ روپے کا تھا۔ آج کے مسلمان بادشاہوں کے ہاں بھی یہی نظام کار فرما ہے۔ 1857 ء کی جنگ ِ آزادی کے بعد جب برطانیہ نے برصغیر کی حکومت براہِ راست سنبھالی تو ہندوستان میں آڈیٹر جنرل بھی مقرر کیا جس کی منظوری کے بغیر مالیات میں کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتاتھا۔ ملٹری اکاؤنٹس اور آڈٹ کی بنیاد ایسٹ انڈیا کمپنی اس سے بھی ایک سو سال پہلے رکھ چکی تھی۔ کلائیو نے مدراس کی فوج کے لیے ایک لاکھ روپے کا ایڈوانس ملٹری اکاؤنٹس سے لیا تھا جس کا ریکارڈ‘ غالباً آج بھی موجود ہو گا۔ اسی رقم سے پلاسی کی جنگ لڑی اور جیتی گئی۔
ذوالفقار علی بھٹو نے1973ء میں دو کام ایسے کیے جن کے عواقب ملک آج تک بھگت رہا ہے۔ ایک تو بیورو کریسی کے سر سے آئینی حفاظت کی چھتری ہٹا دی۔اس کے بعدافسر شاہی‘ ریاست کی نہیں‘ حکومت کی ملازم ہو گئی۔ اس کا درجہ کنیز کا ہو گیا۔پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ2005ء میں ایک وفاقی وزیر نے ایک سینئر بیورو کریٹ کو تھپڑ دے مارا۔ اس وقت پلاسٹک کے وزیر اعظم شوکت عزیز کے چرمی دام چل رہے تھے۔ اس نے وزیر کو کچھ بھی نہ کہا۔ وزیر اعلیٰ بھی اپنے افسر کی داد رسی نہ کر سکا۔ 
دوسرا کام بھٹو نے یہ کیا کہ بیورو کریسی کو سیاسی تقرریوں کی نذر کر دیا۔ اس سے پہلے مقابلے کا امتحان پاس کر کے آنے والے افسر اپنے نام کے ساتھ اپنے اپنے شعبے کا نام لکھتے تھے۔ جیسے پی ایس پی یعنی پولیس سروس آف پاکستان یا پی اے اینڈ پی ایس۔( PA&AS)یعنی پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس مگر سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر آنے والے ایسا نہیں لکھ سکتے تھے۔ وہ تو چھلنی سے گزر کر نہیں‘ بلکہ '' اوپر‘‘ سے آتے تھے اس لیے فیصلہ ہوا کہ نام کے ساتھ سروس کا لاحقہ کوئی بھی نہیں لگائے گا یعنی کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے۔وزارتِ خزانہ کے منہ سے دانت ہی نکل گئے۔ جنرل ضیا الحق ترکی میں تھے۔ کوئی فنکار تھا یا کھلاڑی‘ ترک صدر نے بتایا کہ یہ بیمار ہے‘ میں اسے علاج کے لیے امریکہ بھیجنا چاہتا ہوں مگر وزارتِ خزانہ مانتی نہیں۔ پاکستانی صدر نے وہیں پر اس کے بیرونِ ملک علاج کی منظوری دے دی۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔
( یہ واقعہ ارشاد احمد حقانی مرحوم نے اپنے کالم میں لکھا تھا)

بشکریہ روزننامہ دنیا

Thursday, September 09, 2021

چاندنی اور دھوپ کو کبھی کوئی روک پایا ہے؟



عربوں کی کہاوت ہے کہ انسان دو طرح کے ہوتے ہیں: فیاض اور بخیل! ایک کہاوت ہمارے ہاں بھی ہونی چاہیے تھی۔ وہ یہ کہ مجاہد اور غازی دو طرح کے ہوتے ہیں۔
ایک قسم مجاہدوں اور غازیوں کی وہ ہے جو اپنے اوپر ایک خراش تک نہیں آنے دیتے‘ دوسروں کے جگر گوشوں کو میدانِ وغا میں بھیجتے ہیں اور اپنے لخت ہائے جگر کو ایٹلانٹک کے اُس پار، نئی دنیا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے بھیجتے ہیں۔ ( اس اثنا میں مغربی تعلیم کی تنقیص جاری رکھتے ہیں۔) واپس آ کر ان مجاہدوں اور غازیوں کے یہ فرزندانِ کرام بزنس کرتے ہیں‘ پھلتے پھولتے ہیں‘ دھن دولت کماتے ہیں۔ یہ مجاہد اور غازی ہر وہ کارنامہ سرانجام دیتے ہیں جس میں کسی مالی یا جانی قربانی کا دور دور تک کوئی امکان نہ ہو۔ کاروبار کرتے ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنتی ہیں۔ کشمیر کمیٹیاں تشکیل پاتی ہیں۔ ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکڑی! انگلی تو انگلی ہے ، ناخن تک شہید نہیں ہونے دیتے۔ پانچوں گھی میں سر کڑاہی میں رکھتے ہیں۔ مجاہد اور غازی بھی کہلواتے ہیں۔
دوسری قسم ان سر فروشوں کی ہے جن کو دنیا سے اتنی ہی غرض ہوتی ہے جتنی مسافر کو سرائے سے۔ یہ دوسروں کو قربانی کے لیے بھیجنے سے پہلے خود میدان میں اترتے ہیں۔ تاریک راتوں میں ان کے ہاتھوں میں چراغ نہ ہوں تو یہ اپنے سروں سے مشعلوں کا کام لیتے ہیں۔ یہ دولت کے انبار نہیں اکٹھے کرتے، زر و سیم اور جاہ و حشم کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔ یہ نام کے مجاہد نہیں ہوتے، سچے اور اصل مجاہد ہوتے ہیں۔ یہ زندگی کو سنبھال سنبھال کر نہیں رکھتے بلکہ اپنے مقصد کے لیے جان ہر وقت ہتھیلی پر رکھتے ہیں۔ سید علی گیلانی اس دوسری قسم سے تعلق رکھتے تھے۔
علی گیلانی چاہتے تو خود پیچھے رہ کر بھی تحریک برپا کر سکتے تھے۔ چندے اکٹھے کر کے ایک آسان زندگی گزار سکتے تھے۔ لگژری سے بھرپور زندگی! کشمیر اور آزادیٔ کشمیر کے نام پر دورے کر سکتے تھے۔ بزنس کی ایمپائر کھڑی کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے وہ راستہ چنا جو ٹیپو سلطان نے چنا تھا۔ جو امام شامل نے چنا تھا۔ جو نیلسن منڈیلا نے چنا تھا۔ انہوں نے وہ راستہ چنا جو ان کے آبائواجداد نے امویوں اور عباسیوں کے عہد میں چنا! وہ سید تھے۔ سادات کے راستے پر چلے! سادات کا راستہ زنداں کا راستہ ہے یا شہادت کا! کربلا تو محض آغاز تھا! اس کے بعد کیا کیا نہیں ہوا۔ امام حسنؓ کے پوتے امام عبداللہؒ کا انتقال جیل میں ہوا۔ حافظ ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ آپ کی موت زنداں میں طبعی نہیں تھی! امام نفس ذکیہؒ کے ایک درجن سے زیادہ قریبی اعزہ کو محبوس رکھا گیا، شہادت کے بعد آپ کا سرِ مبارک کاٹ کر عباسی حکمران کو بھیجا گیا۔ امام ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ نے امام نفس ذکیہؒ کی حمایت کی تھی۔ امام باقرؒ کو امویوں نے جیل میں ڈالا۔ جب قیدی آپ سے متاثر ہونے لگے تو رہا کر دیا مگر ان کے راستے میں پڑنے والے شہروں کے بازار بند کرا دیے تا کہ اشیائے خور و نوش نہ خرید سکیں۔ امام موسیٰ کاظمؒ کا انتقال جیل میں ہوا۔
علی گیلانی سیّد تھے۔ انہوں نے سیّد ہونے کا حق ادا کیا۔ انہوں نے تخت کا نہیں تختے کا راستہ چنا۔ لوگ سادات سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں مگر سادات کی اتباع نہیں کرتے‘ اس لیے کہ سادات کی سنت سر جھکانا نہیں، سر کٹانا ہے۔ آخری گیارہ سال تو سید علی گیلانی مستقل نظر بند رہے۔ا س سے پہلے بارہا قید رہے۔ ان کی قید اور نظر بندی کا کُل عرصہ انتیس سال پر محیط ہے۔ ایک سال کم تیس سال! نیلسن منڈیلا کا عرصۂ اسیری ستائیس برس بنتا ہے۔ منڈیلا کے لیے ایک دنیا نے شور برپا کیا۔ سید علی گیلانی مسلمان تھے، کشمیری تھے! اس لیے دنیا نے اغماض برتا! بانوے سال کے ضعیف اور نحیف انسان کو بھارتی استعمار نے ہر اس سہولت سے محروم رکھا جو کسی بھی انسان کا بنیادی حق ہے۔ پوتوں اور نواسوں، پوتیوں اور نواسیوں سے نہ ملنے دیا۔ پاسپورٹ معطل رکھا، مواصلات سے، رسل و رسائل سے، ملنے ملانے سے، احباب اور متعلقین سے، غرض پوری دنیا سے کاٹ کر رکھا! یہاں تک کہ فرشتے آئے اور سعید روح کو حفاظت سے لے گئے۔
فرشتے لے چلے سوئے حرم تابوت میرا
کفِ افسوس ملتے رہ گئے بد خواہ میرے
غاصب بھارتی حکومت کے ہاتھ ان کا جسد خاکی لگا۔ رات کے اندھیرے میں تدفین کر دی۔ اعزہ و اقارب کو شریک نہ ہونے دیا۔ جتنے راستے ان کے گھر کو جاتے تھے، سب پر پہرے اور ناکے لگا دیے۔ وفات کے بعد بھی بھارتی حکومت کے خوف کا یہ عالم تھا کہ فوج کی پلٹنوں کی پلٹنیں کھڑی کر دیں۔ اس بزدلانہ حرکت کو علی گیلانی آسمانوں سے دیکھ کر مسکر ائے ہوں گے۔
ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے
سید علی گیلانی اقبال کے شیدائیوں میں سے تھے۔ اقبال کبھی نہ بھولے کہ وہ اصلاً کشمیر سے تھے۔
تنم گُلی زخیابانِ جنت کشمیر
دلم ز خاکِ حجاز و نوا، زشیراز است
کہ میرا وجود چمنستانِ کشمیر کا ایک پھول ہے۔ دل حجاز کی مٹی سے اور آواز شیراز سے ہے۔
کشمیر کے بارے میں علامہ کی تشویش اور فکر ایک الگ موضوع ہے۔ یہاں ہم اُس نظم کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں جس کا عنوان ہے ''ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام‘‘۔ روایت ہے کہ یہ اشعار پطرس بخاری کے حوالے سے کہے گئے مگر درمیان کے دو اشعار یوں لگتا ہے علامہ نے سید علی گیلانی کو مخاطب کر کے کہے۔
میں اصل کا خاص سومناتی/ آبا مرے لاتی و مناتی
تو سیدِ ہاشمی کی اولاد/ میری کفِ خاک برہمن زاد
جس کشمیر کا نقشہ علامہ نے پیش کیا ہے وہ یہ کشمیر نہیں جو آگ میں جل رہا ہے اور سنگینوں کی زد میں ہے۔
رخت بہ کاشمر کشا، کوہ و تل و دمن نگر
سبزہ جہان جھان ببین، لالہ چمن چمن نگر
باد بہار موج موج، مرغ بہار فوج فوج
صلصل و سار، زوج زوج، بر سر نارون نگر
رخت سفر کشمیر کے لیے باندھ، پہاڑ‘ ٹیلے اور وادیاں دیکھ! ہر طرف سبزہ زار اور ہر باغ گُلِ لالہ سے بھرا ہوا! کیا بادِ بہاری کی لہریں ہیں اور کیا ہی خوبصورت پرندوں کی ڈاریں ہیں! انار کے درختوں پر فاختائیں اور مینا جوڑوں کی صورت میں دیکھ!
سید علی گیلانی کی طویل قید اور قید میں بے بسی کی موت رائیگاں نہیں جائے گی۔ یہ خدا کی سنت ہے۔ اس کے ہاں قربانی اور ایثار کا حساب رکھا جاتا ہے۔ کشمیر پر برستی ہوئی آگ ایک دن پھولوں میں تبدیل ہو گی۔ سیب اور انار کے درخت اُس آنے والے دن جو پھل دیں گے‘ اُن پھلوں تک غاصب بھارتی حکومت کے ہاتھ نہیں پہنچ سکیں گے۔ یہ ہاتھ آج طاقت ور اور لمبے دکھائی دے رہے ہیں مگر یہ ہاتھ ٹوٹ جائیں گے۔ کنول کے خوبصورت پھول کشمیر کی جھیلوں کو ڈھانپ لیں گے۔ انگور کے خوشوں تک صرف کشمیریوں کے ہاتھ پہنچیں گے۔ بنفشی اور ارغوانی رنگ کشمیر کے مہکتے باغوں کو بہشت میں تبدیل کر دیں گے۔ علی گیلانی کی قبر پر پھول کھلیں گے۔ جگنو دیے جلائیں گے۔ کرنیں اتریں گی۔ تتلیاں قبر کا طواف کریں گی۔ آسمان پر لگے ہوئے دریچوں سے علی گیلانی کشمیر کو آزاد ہوتا دیکھیں گے!
چاندنی اور دھوپ کو کبھی کوئی روک پایا ہے؟
خوشبو کو کبھی کوئی ختم کر سکا ہے؟

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, September 06, 2021

افغانستان … چند معروضات



اتنا سہل نہیں جتنا نظر آتا ہے۔ اسلام کے حوالے سے ایک ملک چلانا بہت بڑا کام ہے۔ چیلنج کرنے والا! ساری دنیا کی نظریں آپ پر لگی ہیں!
وژن چاہیے۔ ایسا وژن جس کی راہ میں آشوب چشم حائل ہو نہ ککرے! سفید موتیا نہ کالا موتیا! شفاف ‘ صحت مند نظر درکار ہے! ایسی نظر جو مسلکوں کے پار دیکھ سکے اور مکاتب فکر اُسے پار دیکھنے سے روک نہ سکیں! طالبان کی خدا مدد کرے اور انہیں مسلک سے اُوپر ہو کر دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے! اگر وہ مملکت کا کاروبار چلانے میں‘ خدانخواستہ‘ خدانخواستہ‘ کامیاب نہ ہو سکے تو الزام اُن پر نہیں آئے گا! میرے منہ میں خاک! اسلام پر آئے گا!
سب سے پہلے انہیں طے کرنا ہو گا کہ انکے ستر اسی ہزار جنگجو باقاعدہ فوج میں ضم ہوں گے یا معاشرے میں پھیل کر اپنے اور اپنے خاندانوں کیلئے معاش کا انتظام کریں گے! بیس سال سے جو چھاپہ مار فوج کاحصہ رہے ہوں ان کیلئے دونوں کام آسان نہ ہوں گے! باقاعدہ فوج کی تربیت ایک الگ سائنس ہے اور اس سے بھی بڑی سائنس یہ ہے کہ زمانۂ امن میں اس فوج کو کس طرح مصروف اور تنظیم کا پابند رکھا جائے۔ رہا معاشرے میں پھیل کر معاشی سرگرمی کا حصہ بننا تو یہ اور بھی مشکل ہے‘ اس لیے کہ انہوں نے کوئی کام بھی نہیں کیا۔ کھیت کارخانہ‘ دکانداری‘ سب کچھ ان کیلئے اجنبی ہے۔
اگر ایک طرف خواہش یا پالیسی یہ ہو کہ مریض عورتوں کا علاج صرف خواتین ڈاکٹر اور خواتین نرسیں کریں اور لڑکیوں کو صرف خواتین اساتذہ پڑھائیں اور دوسری طرف عورتوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے میں بہت سے اگر مگر اور بہت سے اِفس اور بَٹس سے کام لیا جائے اور اجازت فراخ دلی اور خندہ پیشانی سے نہ دی جائے تو یہ ایسے ہی ہو گا جیسے گاڑی چلاتے وقت بریک اور ایکسی لیریٹر‘ دونوں پر بیک وقت پاؤں رکھ کر دبایا جائے۔ اگر مخلوط تعلیم نہیں پسند تو کوئی مضائقہ نہیں مگر پھر خواتین کے لیے میڈیکل کالج‘ انجینئر نگ کالج‘ ہوم اکنامکس کالج‘ ٹیچرز ٹریننگ کالج ‘ کامرس اور آئی ٹی پڑھانے والے ادارے الگ بنانے ہوں گے اور مردوں کے لیے الگ! اس اعلان نے کہ کابینہ میں خواتین کی شمولیت خارج از امکان ہے‘ پوری دنیا میں سگنلز بھیجے ہیں! ایسے سگنلز جو آنے والے دنوں کا احوال بتاتے ہیں!
نئی حکومت کو فارن سروس‘ پولیس سروس اور ضلعی انتظامیہ کے شعبے تشکیل دینے ہوں گے! ایف بی آر قائم کرنا ہو گا! قومی خزانے سے ادائیگیاں کرنے کے لیے وفاق اور ولایتوں میں اکاؤنٹس کے سیٹ اپ تشکیل دینے ہوں گے۔ ان ادائیگیوں کا آڈٹ کرنے کے لیے آڈیٹر جنرل کا محکمہ قائم کرنا ہو گا۔ تجارت کے فروغ کے لیے مردانِ کار ضرورت ہوں گے جنہیں کم از کم توازنِ ادائیگی (Balance of payment) اور توازنِ تجارت (Balance of trade) کے بارے میں علم ہو۔ مالیات کے ماہرین کی ضروت ہو گی جو افراطِ زر اور بیروزگاری کے باہمی تعلق کو بخوبی جانتے ہوں! ٹیکس عائد کرنے کے لیے ایک متناسب اور عادلانہ نظام بنانا ہو گا! بیرونی ممالک میں ان لوگوں کو سفیر بنا کر بھیجنا ہو گا جو میزبان ملکوں کی ترقی کو تنقیدی نہیں بلکہ مثبت نظر سے دیکھیں اور کار آمد پالیسیوں کا اپنے ملک میں تتبع کروائیں! خذ ما صفا ودع ما کدر!
مگر افغانستان کی شہ رگ اگر محفوظ رکھنی ہے تو سب سے اہم کام صنعت (مینو فیکچرنگ) سیکٹر کا قیام ہو گا تا کہ کم از کم بنیادی ضرورت کی اشیا مثلاً چینی‘ گھی‘ آٹا‘ سیمنٹ‘ سٹیل‘ جوتے‘ کپڑا‘ بنیادی ادویات‘ کتابیں‘ کاپیاں‘ پنسلیں‘ سکول بیگ اور دیگر سخت ضرورت کی اشیا ملک کے اندر ہی بنیں اور پڑوسی ملکوں سے چور دروازے یعنی سمگلنگ کے ذریعے نہ لانا پڑیں۔ زمانے ہو گئے افغانستان کی بنی ہوئی کوئی شے کبھی نظر نہیں آئی۔ یہاں تک کہ جراب بھی نہیں! افغانستان کو اس ناقابل رشک احتیاج سے نکلنا ہو گا۔
افغانستان پھلوں کے سلسلے میں خوش قسمت واقع ہوا ہے۔ آپ نے بازار میں تھائی لینڈ‘ فلپائن اور ملائیشیا کا انناس بند ڈبوں میں دیکھا ہو گا اور خرید کے کھایا بھی ہو گا۔ 2018ء میں صرف تھائی لینڈ نے چالیس کروڑ ڈالر کا ڈبوں میں بند انناس فروخت کیا۔ فلپائن بھی اس مد میں کروڑوں کما رہا ہے۔ اگر افغانستان اپنا خربوزہ‘ سیب‘ انار‘ خوبانی اور دوسرے پھل ڈبوں میں بند کر کے بین الاقوامی منڈی میں لائے تو کروڑوں کما سکتا ہے مگر اس کے لیے ماہرین کو بلا کر پُر کشش مراعات کی پیشکش کرنا ہو گی تا کہ وہ راغب ہو کر افغانستان کے مختلف حصوں میں پھلوں کو Process کرنے اور ڈبوں میں بند کرنے کا کام کریں! قالین افغانستان کی برآمد کا بڑا آئٹم بن سکتے ہیں بشرطیکہ مارکیٹنگ کا صدیوں پرانا نظام ترک کر کے جدید طریقے اپنائے جائیں۔
ایک جدید اسلامی مملکت صرف دُرِّ مختار‘ فتاویٰ عالمگیری‘ فتاویٰ قاضی خان‘ ہدایہ اور کنزالدقائق جیسے منابع سے نہیں چل سکتی ! انہیں شرق اوسط‘ شمالی افریقہ (المغرب) ‘ ترکی ‘ ملائیشیا‘ برونائی اور انڈونیشیا کے علما سے تبادلہ خیالات کرنا ہو گا تاکہ سوچ کا افق وسیع تر ہو اور مسائل کے متبادل حل ہاتھ آ سکیں ! یہ سب کتب بہت قیمتی اور ہمارا بہت بڑا سرمایہ ہیں مگر جو مسائل آج کی طالبان حکومت کو درپیش ہوں گے ان کے حل ان کتابوں میں نہیں ملیں گے۔ یہ کتابیں اُس وقت ترتیب دی گئی تھیں جب مسلمان دنیا کی سپر پاور تھے۔ آج کروڑوں مسلمان غیر مسلم ترقی یافتہ ملکوں میں جانے کے لیے ہاتھوں میں عرضیاں لیے کھڑے ہیں اور ہوائی جہازوں کے ساتھ چمٹ کر‘ لٹک کر‘ جانے کے لیے تیار ہیں۔ آج کے مسائل نئے ہیں‘ اس قدر نئے کہ سینکڑوں سال تو کیا‘ پچاس سال پہلے کی پالیسیاں بھی از کارِ رفتہ ہو چکیں۔ ایک مثال دیکھیے۔ اکرم خان ماہر اقتصادیات ہیں اور بین الاقوامی شہرت کے مالک۔ اگرچہ چراغ تلے اندھیرا ہے کہ اپنے ملک میں انہیں کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ ان کی شہرہ آفاق تحقیقی تصنیف: What is Wrong with Islamic Economics? کا ترجمہ عربی‘ ترکی اور انڈونیشیا کی زبان ''بھاشا‘‘ میں ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس کے دیباچے میں ایک فکر انگیز نکتہ اٹھایا ہے۔ اب تک اس بات پر تقریباً اجماع رہا ہے کہ اگر غیر مسلم میاں بیوی میں سے بیوی اسلام قبول کرتی ہے تو اس کا نکاح فسخ ہو جائے گا۔ اب وہ غیر مسلم میاں کے ساتھ نہیں رہ سکتی مگر مشہور و معروف فقیہ علامہ یوسف قرضاوی‘ سوڈانی عالم حسن ترابی اور کئی دیگر علما کے نزدیک اس زمانے میں ایسا کرنے سے مغربی ملکوں میں دوسری غیر مسلم عورتیں اسلام قبول کرنے سے احتراز کریں گی اور اُس عورت کے میاں کے مسلمان ہونے کا امکان بھی ختم ہو جائے گا۔ یورپی کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ کا موقف بھی یہی ہے‘ اس مسئلے پر اور اس قبیل کے دوسرے نئے مسائل پر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے اپنی تصنیف ''مقاصد شریعت‘‘ میں تفصیل سے لکھا ہے۔ یہ انتہائی اہم کتاب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ادارہ تحقیق اسلامی نے شائع کی ہے۔
افغانستان کا ایک ایشو یہ بھی رہا ہے کہ مقامی ثقافت‘ جیسے پشتون ولی کی روایات کو اسلام کے ساتھ خلط ملط کر دیا گیا ہے۔ افغانوں کو ‘ خواہ وہ طالبان ہیں یا غیر طالبان‘ اپنا قومی یا علاقائی لباس پہننے کا پورا حق حاصل ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے پاکستانیوں یا بنگالیوں یا سوڈانیوں کو یہ حق حاصل ہے۔ مگر کوئی پاکستانی یا بنگالی یا افغان یا سوڈانی یہ دعویٰ کیسے کر سکتا ہے کہ اس کا لباس اسلامی ہے؟ اس سیاق و سباق میں کچھ لطیفہ نما واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔ کل کی نشست میں اس پر مزید بات ہو گی!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, September 02, 2021

کہانی ابھی نامکمل ہے



اس کا انجام ساری دنیا نے دیکھ لیا۔ جگر کے جن ٹکڑوں کے لیے اللہ کی مخلوق کی گردن پر پاؤں رکھ کر اللہ کی مخلوق کو نچوڑتا رہا، خون پیتا رہا‘ جگر کے ان ٹکڑوں میں سے کوئی کام نہ آیا۔ وہ سب بحر اوقیانوس پار کر گئے اور ایک عشرت بھری لگژری سے بھرپور زندگی گزارنے میں مصروف ہو گئے۔
جن لوگوں کا خون چوستا رہا، وہ اپنی زندگی بھر کی خون پسینے کی کمائی کے پیچھے بھاگتے رہے، پامال ہوتے رہے، ٹھوکریں کھاتے رہے۔ ان کی حیثیت اُس مٹی کی تھی جو پاؤں کے نیچے آتی رہتی ہے۔ کبھی اس مٹی پر بوٹوں والے چلتے ہیں کبھی ڈھور ڈنگر! کبھی اس مٹی کو پانی بہا لے جاتا ہے اور یہ کسی گہرے گڑھے میں جا گرتی ہے‘ لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس مٹی کا کوئی پرسان حال کبھی بھی نہیں ہو گا، تو وہ اندھا ہے یا احمق یا مجنون !
اس نے گھر بنایا تو ایسا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لاٹ صاحب کا کلکتہ والا گھر اس گھر کے سامنے چمار گھر لگتا تھا۔ سالہا سال یہ گھر بنتا رہا۔ لوگ اس گھر کو بنتا، اوپر جاتا، چوڑا ہوتا دیکھتے رہے۔ دیکھنے والوں کو اس گھر کے سامنے اپنی بے بضاعتی کا احساس ہوتا۔ انہیں یوں محسوس ہوتا جیسے وہ اس قصر کے سامنے زمین پر رینگنے والے کیڑے ہیں۔ راج، معمار، مزدور، بڑھئی، لوہار، نقاش، ہنر مند، روبوٹ بن کر کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ شداد کی یہ جنت مکمل ہو گئی۔
پھر حساب کے دن کا آغاز ہو گیا۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ صبح سب کے لیے روشنی کا پیغام نہیں لاتی۔ یہ کچھ کے لیے نجات کا سبب بنتی ہے تو کچھ کے لیے عذاب کا۔ پو پھٹے غنچے کھل کر پھولوں کا روپ دھارتے ہیں اور یہ تڑکے کا وقت ہوتا ہے جب قیدی کو دار پر چڑھایا جاتا ہے! اِنَّ مَوْعِدَہُمُ الصُّبْحُ -اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْب۔ ہائے وعدے کا وقت صبح ہے اور صبح ہونے میں دیر ہی کتنی ہے! اسے بیماری لگ گئی! ایسی جس کا علاج روئے زمین پر نہ تھا۔ اربوں کھربوں کے اس مالک کو کوئی ایسا طبیب، کوئی جراح، کوئی وید، کوئی سنیاسی کوئی جوگی، نہ ملا جو تندرست ہونے میں اس کی مدد کرتا۔ ظاہر ہے کہ روحانی علاج بھی کیا گیا ہو گا۔ دعائیں، تعو یذ‘ پانی جس پر آیاتِ شفا پڑھ کر پُھونکی گئیں، کیا کچھ نہ ہوا۔ ایوب نبی بیمار ہوئے تھے تو پکار اٹھے میرے رب! مجھے لگ گئی بیماری ! اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ وہ پیغمبر تھے ۔ پیغمبر کے دامن کی شفافیت کا کیا ہی کہنا! کچھ بزرگ بیماری میں دعائے ایوب پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ نہیں پوچھتے کہ کسی کا حق تو نہیں مارا؟ کسی غریب کا مال تو نہیں ہڑپ کیا؟ کسی مزدور کی مزدوری تو تمہارے ذمہ نہیں؟ کسی رشتہ دار سے تعلق تو نہیں قطع کیا؟ کسی کی زمین، کسی کی پگڈنڈی، کسی کا کھیت تو نہیں دبایا ہوا؟ کسی کے مقروض تو نہیں؟ بہر طور کوئی دوا کارگر نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ اربوں کھربوں روپوں اور ڈالروں کی موجودگی میں اس کے سانسوں کی میعاد بڑھ نہ سکی۔ اب یہاں یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ پُر اسرار ، لا علاج بیماری کا سبب وہ چیخیں اور آہیں کیسے ہو گئیں جو فلک کے اُس پار پہنچیں! بجا فرمایا۔ کوئی ثبوت نہیں! کوئی گواہی نہیں! مگر اس امر کے شواہد بھی تو ناپید ہیں کہ پُراسرار ، لا علاج بیماری کا کوئی تعلق، کوئی کنکشن، چیخوں اور آہوں سے نہیں! ہاں تجربہ کرنے میں کوئی حرج نہیں! صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے ! جو سمجھتا ہے کہ دونوں چیزوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تو وہ خلق خدا کے ساتھ وہی کچھ کر کے دیکھے جو اس شخص نے کیا۔ پھر اگر اس کا انجام خوشگوار اور قابلِ رشک ہوا تو وہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب شمار ہو گا!
موت کا سُن کر لوگ جوق در جوق پہنچے۔ ان کے ہاتھوں میں پنج سورے تھے نہ تسبیحیں! وہ دعائے مغفرت کرنے آرہے تھے نہ پس ماندگان سے اظہار افسوس کے لیے۔ ان کے ہاتھوں میں بینر تھے جن پر مطالبات درج تھے اور بد دعائیں! وہ مرنے والے کو کوس رہے تھے۔ اپنی ڈوبی ہوئی رقوم مانگ رہے تھے‘ مگر وہ جو، ان کا مجرم تھا وہ تو اب خالی ہاتھ تھا۔ اس کے کفن میں کوئی جیب نہ تھی۔ افسوس وہ کچھ بھی نہ ساتھ لے جا سکا۔ سب کچھ پیچھے رہ گیا اور یہ سب کچھ جو پیچھے رہ گیا، دوسروں کے قبضے میں چلا گیا۔ اُس کی چَیک بُکیں، اُس کے لاکر، اُس کی تجوریاں، اس کی ملکیتی دستاویزات، اس کی کرنسیوں کے ڈھیر، سب اس کی آنکھیں بند ہونے کے بعد ایک ثانیے کے اندر اندر، اس کے نہ رہے۔ ہو سکتا ہے موت کے بعد وہ یہ مطالبات، یہ بد دعائیں، یہ وحشت ناک کوسنے سُن رہا ہو، ہو سکتا ہے وہ یہ بینر پڑھ رہا ہو مگر ایک تہی دست ، قلاش، کنگال، مفلوک الحال ، خراب و خوار شخص کسی کو کیا دے سکتا ہے۔ جب اس کا جنازہ پڑھا جا رہا تھا، جب اسے لحد میں اتارا جا رہا تھا، جب اس کے بدن سے کچھ اِنچ اوپر، پتھر کی سِلیں رکھی جا رہی تھیں، جب ان سلوں کے درمیان نظر آنے والے گَیپ گارے سے بھرے جا رہے تھے، جب منوں مٹی ڈالی جا رہی تھی، جب مٹی کا یہ ڈھیر قبر کی صورت اختیار کر رہا تھا تو یہ سارا وقت اس کے ہاتھوں زخمائے لوگ مسلسل مطالبے کر رہے تھے ، بد دعائیں دے رہے تھے اور جھولیاں اُٹھا اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔
مگر یہ کہانی پوری نہیں ہوئی۔ اس کہانی کا ایک حصہ رہتا ہے۔ جب یہ معاملہ اُس وقت کے چیف جسٹس کے پاس گیا تھا تو انصاف یوں ظہور پذیر ہوا تھا کہ ملزم کا بیٹا  چیف جسٹس کی دختر کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں بندھ گیا تھا۔ سو، کہانی ابھی نامکمل ہے۔ کہانی منتظر ہے۔ کہانی اپنا انجام دیکھنے کے لیے ساعتیں گِن رہی ہے۔
یاد نہیں مرزا فرحت اللہ بیگ نے یہ قصہ اپنے اوپر چسپاں کیا ہے یا کسی اور کردار پر۔ بہر حال قصہ یوں ہے کہ قانون کے امتحان میں سوال آیا کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو قتل کر دیا۔ قتل کے دو گواہ موجود ہیں۔ مقتول کے پسماندگان میں بیوہ اور دو بچے ہیں۔ کیس کا فیصلہ کرو۔ ہونہار امیدوار نے فیصلہ کیا کہ دونوں بچوں کو یتیم خانے میں داخل کرا دیا جائے۔ گواہوں کو سیدھا جیل میں بند کر دیا جائے۔ رہے قاتل اور مقتول کی بیوہ، تو ان دونوں کی شادی کر دی جائے! انصاف کی بھی کیا کیا صورتیں ہیں! اندھے کوتوال لگ جاتے ہیں۔ توتلے داستان گو بن جاتے ہیں ۔ حکم ہوتا ہے کہ آئندہ نائیجیریا، زیمبیا اور چاڈ، یورپ کا حصہ سمجھے جائیں گے۔ نقشے میں ہمالہ کو بحرالکاہل کے درمیان دکھایا جائے گا۔ دنیا کا گرم ترین مقام الاسکا ہو گا اور سرد ترین جیکب آباد! جس وقت پُل منہدم ہوا اُس وقت پُل پر سے ہاتھی گزر رہا تھا۔ عین اُسی وقت چیونٹی بھی پُل پر چل رہی تھی۔ چنانچہ پُل گرانے کی فرد جرم چیونٹی پر عائد کی گئی۔ پرانی بات ہے۔ ہمارے دوست اجمل نیازی صاحب نے اخبار میں لکھا کہ اُس وقت کا پنڈی کا کمشنر چونسٹھ پلاٹوں کا مالک ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تریسٹھ بھی نہیں پورے چونسٹھ! اس کے فوراً بعد کمشنر صاحب کا درجہ بلند تر کر کے انہیں پی ٹی وی کا سربراہ بنا دیا گیا۔ یہ عجائبات کی سرزمین ہے۔ یہاں سب کچھ ممکن ہے۔ ماشکی بادشاہ بن سکتا ہے۔ کینیڈا کا طبیب آئل منسٹر لگ سکتا ہے اور قاضیٔ شہر ملزم کا سمدھی بن سکتا ہے!

Tuesday, August 31, 2021

مکمل کنفیوژن



افغانستان سے انخلا کے مسئلے میں پاکستان نے جس طرح اپنے آپ کو شامل(Involve )کیا ہے یا جس طرح اسے شامل کیا گیا ہے‘اس کے حوالے سے معاملہ تاحال پیچیدہ اور مبہم ہے۔یوں لگتا ہے کہ حکومت خود بھی واضح نہیں ہے۔ وزارت ِداخلہ کچھ اور کہہ رہی ہے اور وزیر داخلہ کا بیان کسی اور سمت جا رہا ہے۔ رونامہ دنیا کے مطابق‘ وزارتِ داخلہ نے تحریری طور پر قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا ہے ''نئے مہاجرین اور غیر قانونی افغان باشندے پاکستان کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں‘‘۔ وفاقی وزیر داخلہ نے اگرچہ یہ کہا ہے کہ افغانستان سے آنے والوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہو گی مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انخلا کے بعد پاکستان آنے والوں کی تعداد کا انحصار امریکہ اور دیگر ممالک پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ '' امریکہ اور اتحادی جتنے مرضی چاہیں افغان اور دیگر ممالک کے شہریوں کے لیے پاکستان میں ٹرانزٹ کی سہولت سے استفادہ کر سکیں گے۔اس معاملے میں تعداد کو سامنے نہیں رکھا جائے گا۔اتحادی جتنے مسافروں کو ٹرانزٹ دینے کی درخواست کریں گے‘ انہیں ویزے جاری کر دیے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کے لیے پاکستان آنے والوں کو تیس دن کا ٹرانزٹ ویزا جاری کیا جائے گا۔‘‘ ( روزنامہ دنیا۔29اگست)۔
نوٹ کرنے والا پوائنٹ یہ ہے کہ وزارتِ داخلہ نے قائمہ کمیٹی کو بھیجے گئے تحریری جواب میں جس خطرے کا اظہار کیا ہے‘ وزیر داخلہ کے انٹرویو میں اس کا کوئی شائبہ تک نظر نہیں آرہا۔ بلکہ انہوں نے تو تعداد کے حوالے سے امریکہ اور اتحادیوں کو بلینک چیک دے دیا ہے۔ساتھ ہی ٹرانزٹ ویزا کے سلسلے میں تیس دن کی اطلاع بھی دی ہے۔
حسب ِمعمول حکومت نے اس انتہائی حساس ایشو پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا۔ یوں تو اپوزیشن کو بھی ساتھ بٹھا کر یہ معاملہ طے کرنا چاہیے تھا مگر خیر‘ جیساکہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں‘ موجودہ وزیر اعظم اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے یا بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سابق سربراہ سینیٹ جناب رضا ربانی نے حکومت سے کچھ سوال پوچھے ہیں۔ اول:پاکستان کو کس چیز نے مجبور کیا کہ وہ افغانستان سے نکلنے والوں کے لیے ٹرانزٹ سٹیشن کا کردار ادا کرے ؟ دوم:ان لوگوں کی‘ جنہیں ویزے دیے جا رہے ہیں‘ قومیتیں کیا کیا ہیں ؟ سوم:ان کا قیام کتنا ہو گا اور ویزا جو دیا جارہا ہے‘ کس ٹائپ کا ہے؟ چہارم: یہ امر یقینی بنانے کے لیے کہ یہ لوگ پاکستان سے چلے جائیں گے اور مقامی آبادی میں مکس نہیں ہوں گے‘ حکومت کیا احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہے؟ پنجم: رضا ربانی نے ویزے دینے کی اس پا لیسی کو '' لبرل‘‘ قرار دیتے ہوئے یہ بھی پوچھا کہ حکومت نے داعش اور اسلامک سٹیٹ کے عسکریت پسندوں کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ کیونکہ آنے والوں میں وہ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ رضا ربانی نے کہا کہ یہ سب بنیادی سوالات ہیں۔عوام کو ان کے جوابات حاصل کرنے کا حق اس لیے بھی ہے کہ یہ مسئلہ ان کی زندگیوں کو متاثر کرے گا اورسوال ملک کی سکیورٹی کا بھی ہے۔ مسلم لیگ نون کے جناب احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت کو‘ انخلا کے بعد آنے والوں کا ٹریک ریکارڈ رکھنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ یہ لوگ پاکستان چھوڑ کر چلے جائیں۔
دلچسپ بیان جماعت اسلامی کا ہے جو ماضی میں‘ خاص طور پر‘ جنرل ضیا ء الحق کے عہد میں‘ حکومت کی افغان پالیسی کی بہت بڑی حامی رہی ہے۔ قاضی حسین احمد مرحوم ایک اردو روزنامے میں شائع ہونے والے اپنے مضامین میں انکشاف کیا کرتے تھے کہ کس طرح اور کن کن جہادی رہنماؤں کو خفیہ طور پر لایا اور رکھا جاتا تھا۔ قاضی صاحب کے فرزند‘ جناب آصف لقمان قاضی نے‘ جو جماعت کے امورِ خارجہ ونگ کے سربراہ ہیں‘ حالیہ انخلا کے حوالے سے بہت منطقی سوالات اٹھائے ہیں۔ مثلاً یہ کہ جن افراد کو ایک ماہ ٹھہرنے کے لیے ویزے دیے جا رہے ہیں‘ حکومت ان کے کوائف مہیا کرے!یہ کہ کس فورم پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اتنے ہزار لوگوں کو ملک میں آنے دیا جائے گا؟ اور یہ کہ اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ یہ غیر ملکی پاکستان کی سکیورٹی کے لیے خطرہ نہیں ثابت ہوں گے جیسا کہ ریمنڈ ڈیوس ثابت ہوا تھا؟ جماعت اسلامی کے رہنما نے اس کے بعد ایک سوال ایسا پوچھا ہے جس پر ہمارے پالیسی سازوں کو بالخصوس خارجہ امور کی گتھیاں سلجھانے والوں کو ضرور غور کرنا چاہیے۔ وہ یہ کہ کیا امریکہ نے بھارت کے ساتھ بھی‘ جو اس کاStrategic partnerہے‘ ایسے ہی انتظامات کیے ہیں؟ دوسرے لفظوں میں سوال یہ اٹھتاہے کہ امریکہ جس طرح پاکستان کو انخلا کے حوالے سے استعمال کر رہا ہے‘ بھارت کو کیوں نہیں کر رہا ؟
عملی طور پر کتنے افراد آتے ہیں اور کتنا قیام کرتے ہیں ؟اس سوال کا جواب‘ لمحہ موجود میں‘ شاید کوئی بھی نہ دے سکے۔اب تک‘ وفاقی وزیر داخلہ کے بیان کی رُو سے‘ ساڑھے تین ہزار افراد پاکستان آئے ہیں۔ان میں وہ چودہ سو بھی شامل ہیں جو سڑک کے ذریعے پہنچے ہیں۔ تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اگر موجودہ حکومت کے اصحابِ قضا و قدر اس وقت اپوزیشن میں ہوتے تو کیا عجب ان کا موقف اس سے بھی زیادہ سخت ہوتا اور یہ سارے سوالات یقینا وہ بھی پوچھتے۔پاکستان نے ماضی میں افغانستان سے آنے والوں کی وجہ سے بے پناہ جانی اور مالی نقصانات اٹھائے ہیں۔ یہ درست ہے کہ مہاجرین کی غالب اکثریت خطرناک نہیں تھی مگر لاکھوں افراد آرہے ہوں اور پھر سالہا سال‘ بلکہ دہائیوں تک قیام بھی کر رہے ہوں تو ان میں کئی ناپسندیدہ عناصر کا شامل ہو جانا ناممکن نہیں اور ایسا ہوتا رہا۔ اس ضمن میں یہ پالیسی کہ ان مہاجرین کو کیمپوں تک محدود رکھنے کے بجائے کھلا چھوڑ دیا جائے‘ ازحد نقصان دہ ثابت ہوئی۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ ایک انتہائی احمقانہ پالیسی تھی جس کا دور اندیشی سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔گھر میں معزز ترین مہمان بھی آ کر قیام کرے تو آپ اسے گھر کے تمام کمروں اور حصوں تک رسائی نہیں دے سکتے۔
انخلا میں پاکستان جو کردار ادا کر رہا ہے‘ یا‘ جو کردار ادا کرنے کے لیے‘ شاید‘ اسے مجبور کیا گیا ہے‘ اس کا پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟ آج کل کی دنیا میں کوئی ملک کسی کے لیے کچھ نہیں کرتا جب تک اس کا اپنا مفاد شامل نہ ہو۔ امریکی تو اس رویے کے لیے خاص طور پر مشہور ہیں۔ یہ محاورہ کہ ''مفت میں لنچ کوئی نہیں کھلاتا‘‘ امریکہ ہی سے نکلا ہے۔ تو کیا پاکستان کو اتنا بڑا کردار ادا کر کے‘ اور اتنا بڑا خطرہ اپنی سکیورٹی کے ضمن میں لے کر‘ کچھ مالی اور دفاعی فوائد حاصل ہوں گے؟ اس سوال کا جواب عوام جاننا چاہتے ہیں۔ بات پھر وہی آجاتی ہے کہ اس سارے ایشو پر پارلیمان میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے تھی۔ وزیر اعظم خود وہاں اپنی پالیسی کی وضاحت کرتے اور عوام کو اعتماد میں لیتے۔ اپوزیشن ارکان سوالات اٹھاتے۔ متعلقہ وزرا جواب دیتے۔ یوں مسئلے کے مختلف پہلو سامنے آتے اور حکومت کو فیصلہ کرنے میں آسانی بھی رہتی اور اس الزام سے بھی بچ جاتی کہ فیصلہ کرنے میں عوام شامل ہیں نہ پارلیمان نہ اپوزیشن! یہ طرفہ تماشا ہے کہ حکومت میاں نواز شریف صاحب کی ہو یا عمران خان صاحب کی‘ اس بات پرعملاً دونوں متفق ہیں کہ پارلیمان کی کوئی اہمیت نہیں۔ جمہوریت میں یہ پارلیمان ہوتی ہے جو حکومت کی رہنمائی کرتی ہے۔ دیکھیے ہمارے ہاں یہ اصلی جمہوریت کب آتی ہے؟

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, August 30, 2021

بیگانی شادی میں عبداللہ —ایک بار پھر—دیوانہ



یہ چھ سال پہلے کی بات ہے۔ شرقِ اوسط کے ایک طاقت ور حکمران نے فرانس میں تعطیلات گزارنے کا پروگرام بنایا۔ اس کے لیے تین ہفتوں کے قیام کا پلان بنا۔ جیسا کہ ان حضرات کا سٹائل ہے، ایک ہزار قریبی افراد، خاندان کے علاوہ، ساتھ تھے۔ اعلیٰ معیار کے ہوائی جہاز، گراں ترین گاڑیاں، اور دیگر لوازمات، جیسے جہاز سے اترنے کے لیے سنہری سیڑھیاں، سب ساز و سامان ساتھ تھا۔ خاص اور غیر معمولی بندوبست یہ تھا کہ مہمان کی خواہش کے مطابق، بیچ (ساحل) کا ایک بڑا حصہ عام پبلک کے لیے بند کر دیا گیا تاکہ مہمان کی پرائیویسی میں خلل نہ پڑے۔ بزنس کمیونٹی خوش تھی کیونکہ ان کھرب در کھرب پتی مہمانوں نے لاکھوں ڈالر فرانس میں خرچ کرنے تھے۔ پروگرام کے مطابق مہمان پہنچ گئے مگر ساتھ ہی ایک اور سلسلہ شروع ہو گیا۔ فرانسیسی سول سوسائٹی نے شدید احتجاج شروع کر دیا کہ بیچ‘ جو ملکیوں غیر ملکیوں سب کے لیے ہے، فرد واحد کی خاطر بند کیوں کر دیا گیا ہے۔ ڈیڑھ لاکھ شہریوں نے فرانسیسی صدر کو احتجاجی خط بھیجا۔ بالآخر مہمان اور میزبان‘ دونوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ مہمان آٹھ دن کے بعد اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ مراکش چلا گیا۔ میزبان حکومت نے بیچ کی بندش کا حکم واپس لے لیا۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ فرانس ایک آزاد ملک ہے!
سنگا پور کا واقعہ قارئین کو پہلے بتایا تھا۔ وہاں رہنے والے ایک امریکی لڑکے کو ایک جرم میں کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔ امریکہ میں تو جیسے آگ ہی لگ گئی۔ احتجاج اور ہر سطح پر احتجاج! امریکی کانگریس کے ارکان نے سنگا پور پارلیمنٹ کو خط لکھا۔ امریکہ کے صدر نے سنگا پور کے صدر کو فون کر کے سزا منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا‘ مگر سنگا پور ٹس سے مس نہ ہوا۔ امریکی لڑکے کو ایک عام مجرم کی طرح بید مارے گئے۔ اس لیے کہ سنگا پور ایک آزاد ملک تھا۔

ایک عام فرانسیسی کو کسی بھی وقت کسی بھی بیچ پر جانے کا حق حاصل ہے۔ وہ اس حق پر کسی کو ڈاکہ مارنے کی اجازت نہیں دیتا۔ پاکستان میں عام پاکستانی کے حقوق کتنے محفوظ ہیں؟ کئی بڑے شہروں کے ہوٹل گزشتہ ہفتے سے ملک کے شہریوں کے لیے بند ہیں۔ آئندہ تین ہفتوں تک کسی بُکنگ کی اجازت نہیں۔ پہلے سے موجود لوگوں کو بھی ہوٹلوں سے چلے جانے کے لیے آمادہ کیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ نے ہوٹلز خالی کرانے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔ انگریزی معاصر کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے تمام ہوٹلوں کا کنٹرول انتظامیہ نے سنبھال لیا ہے۔ جو غیر ملکی آئیں گے‘ وہ پاکستان میں مختصر قیام کے بعد اپنے اپنے ملک کو روانہ ہوں گے۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایسا فرانس یا امریکہ یا کسی آزاد جمہوری ملک میں ہو سکتا ہے؟ لیکن یہاں اگر راستہ چلنے کا بنیادی حق غصب ہو سکتا ہے، اگر رُوٹ لگ سکتا ہے، اگر سرکاری اہل کاروں کی مدد سے یا کسی دھرنے یا جلوس کے ذریعے ٹریفک بلاک کی جا سکتی ہے‘ تو ہوٹلوں میں بکنگ کیوں نہیں بند کی جا سکتی! یہ جو محاورہ ایجاد ہوا ہے رُوٹ لگنا تو یہ بھی ہمارے ہاں کی خاص بات ہے۔ ایسے محاوروں کا مغربی ممالک سوچ بھی نہیں سکتے! اور پھر اگر یہ ملک ٹرانزٹ کے لیے استعمال ہونا بھی ہے تو یہ افراد یہاں، مبینہ طور پر، تین ہفتے کیوں ٹھہریں گے؟ کیا اگلی فلائٹ سے یہ اپنے ملک کو نہیں جا سکتے؟ کیا گارنٹی ہے کہ ان میں ہمیں نقصان پہنچانے والے لوگ شامل نہیں ہوں گے؟ آخر تین ہفتے یہاں رہنے کا کیا مقصد ہے؟

شادیانے بجائے جا رہے ہیں کہ ہمیں نئے مواقع مل رہے ہیں۔ ہمارا بہت بڑا رول ہے! ہم توجہ کا مرکز بننے جا رہے ہیں۔ ایک نئی Window of opportunity کھل رہی ہے۔ ہر ایسے موقع پر ہم نے یہی کہا اور پرائی آگ میں کُود گئے۔ افغانستان میں روسی آئے تو جنگ کی ذمہ داری ہم نے سنبھال لی۔ سرحد کی لکیر مٹا دی۔ دنیا بھر کے جنگجوئوں کو اپنے ملک کی سر زمین پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دی۔ ملک کے طول و عرض میں اسلحہ اور منشیات کی منڈیاں کھل گئیں۔ راکٹ تک بکنے لگے۔ سرکاری ملازموں کی اولادیں صنعت کار بن گئیں۔ شخصی ایمپائرز کھڑی کر لی گئیں‘ مگر ملک اتنا ہی غریب رہا۔ یہ جو آج پھر بھنگڑے ڈال رہے ہیں کہ دنیا کو ہماری ضرورت پڑ رہی ہے اور نئے مواقع مل رہے ہیں تو ان سے پوچھیے کہ گزشتہ مواقع میں آپ کے نفع و زیاں کا حساب کیا رہا! ضیاالحق اور پرویز مشرف کے زمانوں میں خوب خوب مواقع ملے، دنیا کو ہماری ضرورت پڑی۔ ہم اپنے شہریوں کو ایک ایک ہزار ڈالر میں فروخت تک کرتے رہے تو کیا ہم امیر ہو گئے؟ کیا غیر ملکی قرضے اتر گئے؟ کیا عام آدمی آسودہ حال ہوا؟ یہ کیسے مواقع تھے کہ آج ہم بین الاقوامی مالی اداروں کے پہلے سے بھی زیادہ محتاج ہیں؟ کہاں ہیں وہ ڈالر جو عشروں تک آتے رہے؟ ہمای بیلنس شیٹ میں اسی ہزار شہادتوں اور لاکھوں زخمیوں کے سوا کیا ہے؟

ہم ہمیشہ بیگانی شادی میں دیوانہ وار ناچتے ہیں اور پھر عزت نفس کو تار تار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا ہماری قربانیوں کو تسلیم کرے؟ دنیا نے ہمارے آگے کب ہاتھ جوڑے تھے کہ جناب! کرم کیجیے اور قربانی دیجیے؟ دنیا کیوں تسلیم کرے؟ اگر کوئی قربانی ہم نے دی بھی ہے تو کیا دنیا سے داد لینے کے لیے دی ہے؟ کیا ہم نے ہر قربانی کا معاوضہ نہیں لیا؟ آج پھر ہم اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں! افغانستان کے پڑوس میں ہمارے علاوہ بھی تو ممالک آباد ہیں۔ ایران کو تو خیر کوئی یہ کہنے کی جسارت ہی نہیں کر سکتا کہ ہمارے لیے اپنے ملک کو راہ داری میں تبدیل کر دو‘ مگر تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے بارڈر بھی تو افغانستان کے ساتھ لگتے ہیں! کیا وہاں ہوٹل نہیں؟ کیا ان ہزاروں افراد کا انخلا ان ملکو ں کے ذریعے نہیں عمل میں لایا جا سکتا؟ صرف پاکستان ہی ہر بار کیوں استعمال ہوتا ہے؟ اس لیے کہ پاکستان اپنے آپ کو خود پیش کرتا ہے۔ پھر جب استعمال کرنے والے، استعمال کر کے پھینک دیتے ہیں تو ہم آہ و زاری اور نالہ و فریاد کرتے ہوئے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیا گیا! کبھی ہم سسکیاں بھرتے ہیں کہ ہمیں ٹیلی فون نہیں کیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد پھر ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہوتا ہے۔ ہم پھر کُود پڑتے ہیں۔ ہم عجیب مومن ہیں جو ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جاتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ افغان ہمارے بھائی ہیں۔ ہم ان کی خوشی اور غم میں شریک ہیں۔ ہم ان کے خیر خواہ ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن ہو۔ وہاں کے عوام خوشحال ہوں۔ ترقی کریں۔ تعلیم اور صحت کی وہاں سہولیات ہوں۔ افغان بچوں کے ہاتھوں میں بندوق کیوں ہو؟ کتاب کیوں نہ ہو؟ لیپ ٹاپ کیوں نہ ہو؟ تہذیبی، لسانی، نسلی، ادبی اور ثقافتی لحاظ سے ہم افغانستان سے اٹوٹ رشتہ رکھتے ہیں‘ مگر ہر بار افغانستان کے نام پر ہم یہ امریکی پنجالی اپنی گردن پر کیوں رکھ لیتے ہیں؟ سرسبز و شاداب کھیت میں یہ سانپ ہم سے کیوں لپٹ جاتا ہے؟ افغانستان آتے جاتے ہوئے ہم امریکی کھائی میں کیوں گر جاتے ہیں؟ ہم امریکہ کے ایک ٹیلی فون پر یا تو ڈھیر ہو جاتے ہیں یا ایک ٹیلی فون کے لیے ترستے رہتے ہیں! کبھی انخلا کے لیے استعمال ہوتے ہیں تو کبھی ادخال کے لیے! علامہ اقبال نے افغانوں کو نصیحت کی تھی:
اپنی خودی پہچان، او غافل افغان!
افغان تو علامہ کی نصیحت پر عمل پیرا ہیں۔ ہمارا کیا ہو گا؟ ہم اپنی خودی کب پہچانیں گے؟

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, August 26, 2021

ٹانگ سُوجی ہوئی ہے



ایبٹ آباد نے مدتوں سے اپنی دلکشی کا اسیر کر رکھا ہے۔ کیا شہر ہے اور کیا اس کے مضافات ہیں! شہر کے ارد گرد پہاڑ! جیسے جنوبی اٹلی کے خوبصورت شہر نیپلز کے ارد گرد! فرق یہ ہے کہ جن پہاڑوں نے نیپلز کو حصار میں لے رکھا ہے ان کی چوٹیوں تک ٹرینیں جاتی ہیں اور بسیں بھی! ایسا کوئی امکان ایبٹ آباد کی قسمت میں نہیں! ہاں یہ ضرور ہو رہا ہے کہ ایبٹ آباد کے نواحی پہاڑوں کو ملیامیٹ کر کے جُوع الارض (Land Hunger) کی تسکین کی جا رہی ہے۔ دوسرے ملکوں نے قدرتی حسن کو سہولیات سے مالا مال کیا کہ سیاح کھنچے چلے آئیں اور ہم قدرتی حسن کو ڈائنامائیٹ سے ختم کر رہے ہیں۔ ایبٹ آباد کو علامہ اقبال کی میزبانی کا شرف بھی حاصل رہا ہے۔ علامہ کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد ایبٹ آباد میں بسلسلۂ ملازمت مقیم تھے۔ علامہ 1904 میں ان کے ہاں تشریف لائے۔ ایبٹ آباد کے پہاڑ ''سربن‘‘ کی خوش بختی ہے کہ علامہ کے کلام میں اس نے جگہ پائی
اٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا
سیاہ پوش ہوا پھر پہاڑ ''سر بن‘‘ کا
مگر جو بات کہنی ہے اور ہے۔ ایبٹ آباد کے ماتھے کا جھومر شملہ پہاڑی ہے۔ شباب کے زمانے میں پیدل چوٹی تک جایا کرتے تھے۔ پہلی بار عجیب لگا کہ ہر درخت پر، ہر بنچ پر، ہر کوڑے دان پر، کسی نہ کسی کا نام لکھا تھا۔ اُس وقت ٹیلی فون خال خال تھے۔ چنانچہ یہ طالع آزما صرف اپنا نام اور اپنے شہر یا قصبے یا گاؤں کا نام لکھنے پر اکتفا کرتے تھے۔ اس کے بعد شملہ پہاڑی پر اتنی بار چڑھے کہ ان احمقانہ تحریروں کو دیکھنے کے عادی ہو گئے۔ یہ تحریریں ہماری سائکی کا مظہر ہیں۔ جو جو نقوش ہمارے لوگوں نے لیٹرینوں کی دیواروں پر چھوڑے ہیں، ان کا کیا ہی کہنا! بد اخلاقی اور فحش گوئی کے غلیظ نمونے! اور ساتھ ٹیلی فون نمبر! مگر جو کارنامہ اس حوالے سے تازہ ترین ہے اس نے تو گویا تاریخ رقم کر دی ہے!
یہ پی آئی اے کی بین الاقوامی پرواز تھی۔ جہاز اترا۔ مسافر چلے گئے۔ اس کے بعد، روٹین کے مطابق، جہاز کی صفائی شروع ہوئی۔ صفائی کے دوران دیکھا گیا کہ جہاز کی ایک کھڑکی پر کسی نے اپنا فون نمبر لکھ دیا ہے۔ ایک نہیں دو فون نمبر! صفائی کے انچارج نے ان نمبروں کے مالک کو پیغام بھیجا کہ یہ تم نے کیا چاند چڑھایا ہے! یہ کوئی سکول ڈیسک ہے یا بس؟ اور یہ کہ اس حرکت کی پاداش میں تمہیں عدالت میں بھی بلایا جا سکتا ہے اور جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے‘ اُس عظیم شہری نے معذرت کی ہو گی؟ نہیں! اس نے پوری ڈھٹائی اور بے خوفی سے جواب دیا کہ یہ تو تفریحاً لکھ دیا تھا۔ پھر اس مردِ دانا نے مشورہ دیا کہ مجھ سے ہزار پندرہ سو روپے لے لو اور بازار سے ڈیٹرجنٹ پاؤڈر منگوا کر صاف کر دو‘ اللہ اللہ خیر سلّا!
ایئر لائن کو چاہیے تھا کہ اس مسافر کو سال دو سال کے لیے بلیک لسٹ کر دیتی۔ یقیناً یہ کارنامہ سرانجام دے کر ہم نے ہوا بازی کی بین الاقوامی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے! ایک روشن باب! اور مسافر بھی کوئی ایسا ویسا نہیں تھا، بین الاقوامی پرواز میں تھا۔ اس کی ذہنی سطح کا تصور کیجیے! جب وہ فون نمبر لکھ رہا تھا تو نہ جانے کیا کیا تصوراتی محل اس کے ذہن میں تعمیر ہو رہے تھے۔ یا تو وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ ایسا کر کے وہ تاریخ میں ایک مقام حاصل کر رہا ہے یا اسے گمان تھا کہ کوئی حور وَش، کوئی زہرہ جبیں، کوئی سیم تن ان نمبروں پر فون کرے گی! جہاز کی صفائی کے انچارج نے اسے کہا کہ یہ کوئی ڈیسک تھا یا تم نے اسے بس سمجھا تھا! غور کیجیے تو اس طعنے میں (یا سرزنش میں) ایک جہان معنی چھپا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سکول کے ڈیسک پر یا بس کی دیوار یا کھڑکی پر لکھنا ہمارے ہاں کا معمول ہے! اسے اب برا سمجھا ہی نہیں جاتا! سرکاری بسیں جب عام تھیں تو کھڑکیوں پر کچھ لکھنے کے علاوہ ان کی نشستیں پھاڑ کر اسفنج نکالنا بھی مسافروں کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ جلد ہی بانس رہا نہ بانسری! بسیں غائب ہو گئیں! کسی کو نہیں معلوم کہ کروڑوں اربوں کے یہ اثاثے کس کھائی میں گرے یا کن معدوں میں اترے! وفاقی دارالحکومت کے آئی ایٹ سیکٹر میں ان سرکاری بسوں کا بہت بڑا ڈپو تھا۔ اسے جی ٹی ایس کا ڈپو کہا جاتا تھا۔ یہ اربوں کی قومی جائیداد تھی۔ ترقیاتی ادارے نے اسے پلاٹوں میں تبدیل کر دیا۔ وہی جُوع الارض یعنی لینڈ ہنگر ! جس کا علاج اگر ہے تو صرف قبر کی مٹی ہے۔
اب اگلے مرحلے میں ہوائی جہازوں کی نشستیں پھاڑی جائیں گی اور اندر سے اسفنج یا جو کچھ بھی ہے نکالا جائے گا۔ یہ ہمارا ذوق ہے! یہ ہماری سوچ کی معراج ہے۔ جو کچھ بسوں‘ ویگنوں‘ ٹرکوں، رکشوں یہاں تک کہ پرائیویٹ گاڑیوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے اس سے بھی ہمارے ذوق کا پتہ چلتا ہے۔ تعلیم کا معیار، شاعری کا معیار سب عیاں ہوتا ہے۔ عقیدے دلوں سے نکلے اور کاروں کے عقبی شیشوں پر ثبت ہو گئے۔ آپ یونان سے لے کر چلّی تک اور آئس لینڈ سے لے کر جنوبی افریقہ تک گھوم آئیے کسی گاڑی کے عقبی شیشے سے معلوم نہیں ہو گا کہ گاڑی کا مالک پروٹیسٹنٹ ہے یا کیتھولک! اس قبیل کی اطلاع کی سہولت صرف ہمارے ہاں ہے! ماں کو پتہ نہیں پوچھتا بھی ہے یا نہیں مگر یہ اعلان سارے زمانے میں کرتا پھرتا ہے کہ یہ سب میری ماں کی دعا ہے۔ اور تو اور، کھٹارہ ٹائپ وینوں کے پیچھے ''قصویٰ‘‘ لکھا ہوا بھی دیکھا۔ استغفراللہ! کہاں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ناقۂ مبارک! اور کہاں تمہاری یہ وین! کوئی غیر مسلم یہ حرکت کرتا تو دھر لیا جاتا مگر مسلمان خود جتنی توہین چاہیں کریں ! مکمل آزادی ہے ! ایسی گاڑیاں لا تعداد ہوں اور زرِ خالص کی کیوں نہ بنی ہوں، ناقۂ مبارک کے پاؤں سے اٹھی ہوئی دھول کے ذرے کے برابر بھی نہیں !
کوئی چلّہ، کوئی دم درود! کوئی وظیفہ ! کوئی وِرد! کوئی ٹونہ! کوئی فال! کوئی استخارہ ! کوئی منتر ، کوئی سِحر! کوئی افسوں! کہ ہم سلجھ جائیں ! سدھر جائیں ! ہے کوئی نجومی جو اس قوم کا ہاتھ دیکھے، زائچہ کھینچے اور بتائے کہ یہ قوم ذہنی بلوغت کو کب پہنچے گی؟ پہنچے گی یا نہیں ؟ ہے کوئی طبیب حاذق جو اس مدقوق قوم کو کوئی ایسا کُشتہ تجویز کرے کہ یہ ذہنی لحاظ سے تندرست ہو جائے ! کوئی سرجری ! کوئی پیوند کاری ! کوئی مصنوعی دماغ ! یا پھر ہم لا علاج ہیں! اب تو یہ بھی ممکن ہے کہ طبیب ہماری نبض پر انگلیاں رکھے اور بے ہوش ہو جائے ! ہمارا حال تو اب اُس شخص سا ہے جو ڈاکٹر کے پاس گیا تو اپنی تکلیف بتانے سے پہلے ڈاکٹر سے وعدہ لیا کہ اس کی بیماری کا مذاق نہیں اڑائے گا۔ ڈاکٹر نے یقین دلایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہو گی ! اب اس نے اپنی ٹانگ دکھائی۔ ڈاکٹر ششدر رہ گیا۔ اتنی دُبلی پتلی ٹانگ ڈاکٹر نے زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی۔ بالکل نحیف و نزار ! ماچس کی تیلی جیسی ! یوں لگتا تھا‘ ہاتھ ذرا زور سے لگ گیا تو ٹوٹ جائے گی ! ڈاکٹر کہنے لگا: میں سمجھ گیا ہوں‘ تم چاہتے ہو تمہاری ٹانگ نارمل ہو جائے ! اتنی نحیف، اتنی دبلی پتلی نہ رہے۔ مریض نے سر دائیں بائیں ہلایا! کہنے لگا: نہیں ڈاکٹر صاحب ! یہ سُوج گئی ہے! ہمارا بھی یہی حال ہے۔ ذہنیتیں کم مایہ ہیں اور زعم ارجمندی کا -
بشکریہ روزنامہ پاکستان

Tuesday, August 24, 2021

کس قدر مضبوط اعصاب ہیں ہمارے ! واہ


بہت شور اٹھا تھا۔
ایک سو پچاس سال پہلے جب سرسیداحمد خان نے کہا تھا کہ اگر انگریز ہمیں جانور سمجھتے ہیں تو درحقیقت ہم ایسے ہی ہیں‘ تو بہت شور اٹھا تھا۔ انہیں کرسٹان تک کہا گیا تھا۔ ڈیڑھ صدی گزر گئی۔ اس طویل عرصے میں کیا ہم انسان بن گئے ہیں ؟ یا جانور کے جانور ہی رہے؟ یا اس سے بھی بد تر ہو گئے ہیں؟ ہم میں سے ہر شخص‘ زبان سے اقرار کرے یا نہ کرے‘ اس کا جواب جانتا ہے اور خوب اچھی طرح جانتا ہے۔
یومِ آزادی پر گریٹر اقبال پارک میں جو کچھ ہوا اس کے بعد کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہے نہ کسی کو بتانے کی کہ ہم کیاہیں ؟ انسان یا جانور؟ لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ بڑے بڑے دانشور‘ بڑے بڑے لکھاری‘ اصل بات کی طرف نہیں آرہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ واقعہ اچانک نہیں پیش آیا۔ اس کے پیچھے ہماری نسلوں کی محنت ہے۔ ایک عورت پر‘ خواہ وہ کتنی ہی بری کیوں نہ ہو‘ پِل پڑنا‘ وحشی ہو جانا‘ اسے نوچنا‘ ایک سوچ ہے‘ ایک رویہ ہے! یہ سوچ‘ یہ رویہ‘ پشت در پشت تربیت کا نتیجہ ہے۔ ان چار سو یا چار ہزار افراد کو ان کے گھروں سے‘ ان کے سکولوں کالجوں سے‘ ان کے گلی ‘ محلوں سے‘ ان کے اعزہ و اقارب سے یہی تربیت دی گئی ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ انہیں تربیت شرافت کی دی گئی تھی اور اس کے باوجود وہ جانور بن گئے تو وہ احمق ہے یا منافق۔ جیسا بیج بویا گیا‘ ویسی ہی فصل تیار ہوئی۔شرم آنی چاہیے ان چار سو یا چار ہزار افراد کے ماں باپ کو ‘ ان کے اساتذہ کو اور ان کے گلی محلوں کے بڑوں کو جنہوں نے یہ سلگتے انگارے اس قوم کو دیے!
قوم کو دیے ؟ کون سی قوم ؟ کیا یہ قوم ہے ؟ یا ایک بے سمت‘ بپھرا ہوا ہجوم ! جس کے آگے کوئی عورت‘ کوئی بچہ‘ کوئی بچی محفوظ نہیں! اور جو اقبال پارک کے المیے پر ماتم کر رہے ہیں ‘ ان کی سوچ پر بھی ماتم کرنا چاہیے! کیا باقی سب ٹھیک ہے ؟ کیا وحشت و بربریت کا مظاہرہ صرف اُسی دن ہوا؟ کیا ہماری ٹریفک انسانوں والی ہے ؟ وہ خوش لباس‘ تعلیم یافتہ شخص جو گاڑی کے پیچھے گاڑی کھڑی کر کے غائب ہو جاتا ہے ‘ کیا وہ انسان ہے؟ اس میں اور جانور میں کیا فرق ہے ؟ کیا کسی نے قومی یا صوبائی اسمبلی میں کبھی پوچھا ہے کہ ایک سال میں ڈمپروں‘ ٹریکٹروں اور ٹرالیوں کے ڈرائیور کتنے افراد کو ہلاک کرتے ہیں؟ کیا یہ ڈرائیور انسان ہیں ؟ اور کیا انہیں سڑکوں پر کھلا چھوڑ دینے والے انسان ہیں ؟ کیا وہ شخص جس نے گھر میں جعلی دواؤں کی فیکٹری لگا رکھی ہے اور لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہا ہے‘ کیا وہ انسان ہے ؟
آپ اس بنیادی بات پر غور کیجیے کہ کاؤنٹر پر آپ سودا لے کر ابھی قیمت ادا کر رہے ہیں کہ ایک شخص آکر‘ آپ کی بات کاٹ کر ‘ کاؤنٹر والے کو پیسے دینے کی کوشش کرتا ہے۔کیا وہ دیکھ نہیں رہا کہ ایک گاہک اس سے پہلے کھڑا ہے ؟ ایک انسان میں اتنی سمجھ بوجھ ہونی چاہیے کہ کاؤنٹر والا ایک اور گاہک کو ڈیل کر رہا ہے۔ اگر اس میں اتنی سمجھ بوجھ بھی نہیں تو اسے انسان کس طرح کہا جا سکتا ہے ؟ اور ایسا یہاں ہر جگہ‘ ہر روز سینکڑوں بار ہو رہا ہے۔
اس معاشرے میں کون انسان ہے ؟ کیا وہ انسان ہیں جن کے اکاؤنٹس میں کروڑوں اربوں آجاتے ہیں؟ کہاں سے ؟ کسی کو کچھ معلوم ہے نہ وہ خود ہی بتاتے ہیں۔ ملک کے اندر اور باہر مزے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ شرفا بچوں کے رشتے وہاں طے کرتے ہیں جہاں شرافت ہو۔ یہاں مانے ہوئے ‘ رسوائے زمانہ‘ بد عنوان خاندانوں میں فخر سے بندھن باندھے جاتے ہیں اور یہ لوگ کون ہیں ؟ ہمارے مستقبل کے حکمران ! جتنا جھوٹ ‘جتنی عہد شکنی ‘ جتنی فریب کاری‘ جتنی حیلہ گری اس معاشرے میں ہے اور ہر سطح پر ہے اتنی کس مہذب معاشرے میں ہے ؟ کسی سے شکوہ کریں کہ بھائی آپ نے وعدہ کیا تھا! تو آگے سے پوری ڈھٹائی اور کمال بے شرمی سے کہے گا کہ میں نے وعدہ نہیں کیا تھا‘ میں نے تو ایک بات کی تھی ! ذرا سوچیے دکاندار بھول کر ہمیشہ کم رقم کیوں واپس کرتا ہے ؟ کبھی بھول کر زیادہ کیوں نہیں واپس کرتا؟ ادنیٰ سے ادنیٰ تک اور اعلیٰ سے اعلیٰ تک ‘ یہاں کوئی بھی سیدھا نہیں۔ شفافیت کا نام ونشان نہیں! کثافت کے ڈھیر لگے ہیں۔ جہاں واعظ سادہ لوح  عقیدت مندوں کو تلقین کریں کہ  حجامہ کرواؤ کہ ستر بیماریوں کا علاج ہے اور  بار بار کہیں کہ  اس سے ڈاکٹروں سے جان چھوٹ جائے گی اور خود دل کا عارضہ ہو تو ڈاکٹروں کے پاس جا کر سٹنٹ ڈلوائیں ‘ وہاں ایک عام آدمی کے قول اور فعل میں فرق کیوں نہ ہو ؟ ہمارے قول اور فعل میں تولے یا چھٹانک کا نہیں‘ منوں اور ٹنوں کا فرق ہے! ہمیں اس پر کوئی شرمندگی نہیں! کوئی افسوس نہیں ! کوئی ندامت نہیں!
ہم وہ بدقسمت قوم ہیں جس کے راہبر وں کو راستے کا علم نہیں ! ہم ہجوم کی صورت کبھی ایک کے پیچھے چلتے ہیں کبھی دوسرے کے پیچھے! پھر جس نے غلط راستہ بتایا تھا‘ بار بار اسی سے پوچھتے ہیں! اسی کے پیچھے چلتے ہیں! ہم ایک دوسال نہیں‘ چار پانچ سال نہیں‘ اکیس سال‘ پورے اکیس سال تبدیلی کے لیے جدو جہد کرتے ہیں! پھر جب تبدیلی لانے کا موقع ملتا ہے تو ہم ‘ تبدیلی لانے کا یہ کام شیخ رشید صاحب‘ عمر ایوب صاحب‘ فہمیدہ مرزا صاحبہ‘ زبیدہ جلال صاحبہ‘ فردوس عاشق اعوان صاحبہ‘ غلام سرور خان صاحب‘ اعظم سواتی صاحب ‘ ڈاکٹر عشرت حسین صاحب ‘ خسرو بختیار صاحب‘ فروغ نسیم صاحب‘ میاں محمد سومرو صاحب ‘ حفیظ شیخ صاحب‘ پرویز الٰہی صاحب اور عثمان بزدار صاحب کو سونپ دیتے ہیں۔ یہ قول آئن سٹائن سے منسوب ہے کہ The definition of insanity is doing the same thing over and over again, but expecting different resultsکہ دیوانگی یہ ہے کہ وہی چیز بار بار کی جائے مگر امید یہ رکھی جائے کہ نتیجہ مختلف نکلے گا!
ہم وہ لوگ ہیں جو پانی میں مدھانی ڈالتے ہیں‘ پھر گھنٹوں بلوتے ہیں پھر حیران ہوتے ہیں کہ مکھن نہیں نظر آرہا ! پھر ہم پانی میں نقص نکالتے ہیں یا اسی پانی میں مدھانی نئی ڈالتے ہیں! ہمارا انصاف یہ ہے کہ بے زبان سرکاری ملازم کو گرفتار کر لیتے ہیں اور احباب کو چھوڑ دیتے ہیں ! پٹواری کو پکڑ لیتے ہیں مگر جو ضلع کے ریونیو کا انچارج ہے اسے ڈپٹی کمشنر سے ترقی دے کر کمشنر بنا دیتے ہیں!
راتوں رات کوئی معجزہ برپا ہونے والا نہیں ! جانور راتوں رات انسان نہیں بنتے! یہاں ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا ظاہر جعفر ظاہر ہوتا رہے گا!یہاں اقبال پارک میں جانور عورتوں کو اچھالتے‘ نوچتے ‘ بھنبھوڑتے رہیں گے! یہاں گرنے والے پر قہقہے لگتے رہیں گے! مجرموں کی ضمانتیں ہوتی رہیں گی ! سفید فام ریمنڈ ڈیوس ہی نہیں‘ گندمی رنگت اور سیاہ رنگت والے ریمنڈ ڈیوس بھی رہا ہوتے رہیں گے! اگر گزشتہ ڈیڑھ سو سال ہمیں بدل نہیں سکے تو اگلے ڈیڑھ سو برسوں کو کون سے سرخاب کے پر لگے ہوں گے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم نیچے‘ اور نیچے ‘ اور نیچے جا رہے ہیں! ہمارے تنزل کا کوئی انت نہیں! ہم شفاخانوں پر اپنے باپ کا نام فخر سے لکھتے ہیں مگر ان شفاخانوں کی تعمیر باپ کے پیسے سے نہیں‘ قوم کے خزانے سے کرتے ہیں! پھر ہم یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ دنیا ہمارے سبز پاسپورٹ کی عزت نہیں کرتی ! کس قدر مضبوط اعصاب ہیں ہمارے ! واہ !

Monday, August 23, 2021

افغانستان میں تبدیلی اور ہماری امیدیں



اس میں کیا شک ہے کہ طالبان کی مراجعت ہم عصر تاریخ کا ایک انتہائی اہم واقعہ ہے۔
طالبان اپنے ملک میں کیا کرتے ہیں؟ ان کی پالیسیاں خواتین، موسیقی اور کھیلوں کے بارے میں کیا ہوں گی؟ وہ حکومت میں کون کون سے گروہ شامل کرتے ہیں اور کون کون سے نہیں؟ ان کی حکومت جمہوری ہو گی یا کچھ اور؟ اسلام کی تعبیر وہ کس طرح کرتے ہیں؟ یہ سب افغانستان کے اندرونی مسائل ہیں۔ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ ہم یہ دعا بہر طور کرتے ہیں کہ افغانستان میں، جو زخموں سے چور چور ہے، امن ہونا چاہیے۔ وہاں کے عوام خوش اور خوش حال ہونے چاہئیں۔
ہم پاکستانیوں کی دل چسپی، طالبان کے حوالے سے، اُن امور میں ہونی چاہیے جو پاکستان سے متعلق ہیں۔ ہمارا پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آج تک کسی افغان حکومت نے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کیا۔ ڈیورنڈ لائن 1893 میں دونوں ملکوں کے مابین ایک معاہدے کے تحت کھینچی گئی تھی۔ ایک طرف برطانوی ہند تھا اور دوسری طرف امیر عبدالرحمان خان کا افغانستان!
قیام پاکستان سے پہلے افغانستان ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرتا رہا۔ پاکستان وجود میں آیا تو ایک طرف افغانستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی اور دوسری طرف ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک کسی افغان حکومت نے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کیا۔ ہم پاکستانی امید کرتے ہیں کہ طالبان حکومت اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کر دے گی اور ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرے گی جیسا کہ تقسیمِ ہند سے پہلے کی افغان حکومتیں تسلیم کرتی آئی تھیں۔
ہمارا دوسرا بڑا مسئلہ افغان مہاجرین ہیں جن کی تعداد تیس لاکھ سے کم نہیں۔ جنرل ضیاء الحق کی کوتاہ بین اور غیر متوازن پالیسی کی وجہ سے یہ مہاجرین گلگت کے پہاڑوں سے لے کر کراچی کے ساحلوں تک، پاکستان کے اطراف و اکناف میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان مہاجرین نے پاکستان کی معیشت، معاشرت اور امن و امان پر بہت زیادہ منفی اثر ڈالا ہے۔ عملاً یہ ریاست کے اندر ایک ریاست کی طرح ہیں۔ مثلاً وزیر اعظم کے دفتر سے دس پندرہ منٹ کی ڈرائیور پر ایک معروف بستی عملًا غیر ملکی بستی ہے جہاں باقاعدہ جرگہ سسٹم چلتا ہے۔ اٹک، لاہور اور کئی دیگر مقامات پر جھگڑے ہوئے اور قتل و غارت تک نوبت پہنچی۔ جہاں جہاں بھی مہاجر آباد ہیں، مقامی آبادیوں کے ساتھ ان کی کشمکش رہتی ہے۔ اب جب افغانستان میں امن و امان اور استحکام کی امید آ چلی ہے تو ہمیں یہ توقع رکھنی چاہیے کہ یہ مہاجرین واپسی کی راہ لیں گے۔ طالبان جہاں افغانوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اپنا ملک چھوڑ کر نہ جائیں وہاں انہیں اُن مہاجرین سے بھی، جو پاکستان میں مقیم ہیں، کہنا چاہیے کہ وہ واپس آئیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔
ہمارا تیسرا مسئلہ وہ اینٹی پاکستان عناصر ہیں جو افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ جمعہ کے روز ہماری وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان، آنے والی افغان حکومت سے کہے گا کہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف ایکشن لے۔ ترجمان سے اس خبر کے بارے میں بھی سوال کیا گیا جس کی رُو سے افغانستان میں رہا کیے گئے قیدیوں میں اینٹی پاکستان عناصر بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نے، جو مبینہ طور پر افغان علاقے میں ہے، سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے برملا اعلان کیا کہ اس کی لڑائی ریاست پاکستان سے ہے اور یہ کہ وہ سرحدی علاقوں پر قبضہ کر کے انہیں آزاد سٹیٹس دینا چاہتا ہے۔ صحافی اور سابق سفیر ملیحہ لودھی نے بھی اپنے ایک حالیہ مضمون میں اس دھمکی کا ذکر کر کے آنے والے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔ لمحۂ موجود میں ہمیں طالبان سے امید رکھنی چاہیے کہ وہ ان پاکستان دشمن عناصر کو اپنے ہاں رہنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جس طرح ایک مضبوط افغانستان، پاکستانی بہبود کے لیے لازم ہے، بالکل اسی طرح، افغانستان کا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ اس کے پڑوس میں ایک پُر امن پاکستان ہو۔ اینٹی پاکستان عناصر کی افغانستان میں موجودگی سے بھارت کی آنکھیں تو ٹھنڈی ہو سکتی ہیں، افغانستان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا! ہاں کئی طرح کے نقصانات اور خطرات ضرور لاحق ہو سکتے ہیں۔
ہمارا تیسرا بڑا مسئلہ افغانستان کی معیشت ہے۔ آپ اعتراض کر سکتے ہیں کہ اس تحریر کے آغاز میں ہم نے افغانستان کے اندرونی معاملات میں عدم دلچسپی کا ذکر کیا تھا۔ تو پھر افغانستان کی معیشت ہمارا مسئلہ کیسے ہے؟ مگر ذرا سا بھی غور کیجیے تو جان جائیں گے کہ افغانستان کی معاشی بد حالی کا تمام تر بوجھ پاکستان پر پڑتا ہے۔ پہلے زمانوں میں جب قندھار، غزنی، کابل اور دیگر علاقوں میں اشیائے خور و نوش کی اور زر و سیم کی قلت ہوتی تھی تو وہاں سے لشکر آتے تھے اور اشیائے ضرورت چھین کر لے جاتے تھے۔ جو علاقے آج پاکستان کا حصہ ہیں، وہ ایک طویل عرصہ تک اس تاخت و تاراج کا شکار رہے۔ یہ جو پنجاب میں کہاوت تھی کہ '' کھادا پیتا لاہے دا، تے باقی احمد شاہے دا‘‘ تو اس کہاوت میں افغانستان کی اقتصادی تاریخ کا پورا احوال مستور ہے۔ اب جب لشکروں کی آمد کا سلسلہ منقطع ہے تو سمگلنگ وہی کام کر رہی ہے جو پہلے لشکر کَشی سے ہوتا تھا۔ افغانستان کے باقی پڑوسی ممالک (ایران، چین‘ ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان) کے مقابلے میں پاکستان کا افغان بارڈر طویل ترین ہے‘ اس لیے سمگلنگ کا بوجھ بھی پاکستان پر اسی حوالے سے پڑتا ہے۔
یہ کوئی سیکرٹ نہیں کہ افغانستان کی پیداوار، دو 'پ‘ پر مشتمل ہے۔ پھل اور پوست۔ ازبکستان کے بعد یہ افغانستان ہے جس کے پھل انسان کو حیران کرتے ہیں۔ پاکستان کے مقابلے میں افغانستان کے خربوزے، انگور، خوبانی اور انار کو جو برتری حاصل ہے، وہی برتری ازبک پھلوں کو افغان پھلوں پر حاصل ہے۔ افغان پھلوں کی منڈی پہلے پشاور میں تھی۔ اب پشاور والی منڈی ، نوشہرہ اور پشاور کے درمیان ایک مقام پر شفٹ ہو گئی ہے جسے کالا منڈی کہتے ہیں۔ افغان انگور اگست میں شروع ہو جاتا ہے۔ اکتوبر تک بغیر بیج والا انار بھی پہنچ جاتا ہے۔ خیر یہ جملۂ معترضہ درمیان میں آ گیا۔ المیہ یہ ہے کہ افغانستان میں صنعت نہ ہونے کے برابر ہے۔ گھی، چینی، آٹے، ادویات سے لے کر کپڑا، سیمنٹ، سریا تک پاکستان سے جاتا ہے۔ تجارت کے ذریعے کم اور سمگلنگ کے ذریعے زیادہ! طالبان حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہی اقتصادی حوالے سے ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر وہ کوریا، چین اور جاپان جیسے ملکوں کے صنعت کاروں کو اپنے ہاں کارخانے لگانے کی دعوت دیں اور ٹیکس کی چُھوٹ دیں۔ ٹیکس کی چھوٹ دینے سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ انہیں مکمل حفاظت کی گارنٹی دیں۔
اگر طالبان، افغانستان کا رُخ جنگ و جدل سے موڑ کر صنعت، ٹیکنالوجی اور سائنس کی طرف پھیر دیں تو یہ نہ صرف افغانستان کی بلکہ اسلام کی بھی عظیم خدمت ہو گی۔ اگر فغانستان اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے اور سمگلنگ پر تکیہ کرنا چھوڑ دے تو پاکستان کی معیشت کے لیے یہ نیک فال ہو گی کیونکہ یہ سمگلنگ پاکستان کی معیشت کو گُھن کی طرح کھائے جا رہی ہے۔ پاکستان جو کچھ اپنے لیے پیدا کرتا ہے وہ مغربی سرحد کے پار پہنچ جاتا ہے۔
جذبات، نعرے، جوش، فریفتگی اپنی جگہ، تاہم زندگی حقائق سے عبارت ہے۔ عوام کو روٹی چاہیے۔ روٹی کے لیے نوکری درکار ہے۔ نوکری کے لیے معاشی سرگرمی ضروری ہے۔ معاشی سرگرمی، کارخانوں، منڈیوں، شاپنگ سنٹروں اور لہلہاتے کھیتوں سے نکلتی ہے۔ معاشی سرگرمی کے لیے امن و امان ضروری ہے اور جان کی امان بھی!!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, August 19, 2021

جو نامہ بر رہے ہیں، ڈر رہے ہیں



کراچی، شہروں کا شہر! پاکستان کے ماتھے کا جھومر! اُس زمانے میں وحشت کے نشانے پر تھا۔ میّت کو تب کفن میں نہیں، بوری میں ڈالا جاتا تھا۔ ڈرل مشین سے دیوار میں نہیں، زندہ انسانی جسم میں سوراخ کیا جاتا تھا۔ تئیس سالہ شاہد بھی اسی بربریت کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اسے بے دردی سے قتل کیا گیا اور لاش دریا میں بہا دی گئی۔ شاہد کا باپ شاعر تھا۔ اس نے معاملہ پروردگار کے سپرد کیا اور آنسو شعروں میں پرو دیے۔ اس شاعر کا نام صابر ظفر ہے۔ بیٹے کی المناک موت پر اس نے جو دردناک شاعری کی اس کے مجموعے کا عنوان 'بے آہٹ چلی آتی ہے موت‘ رکھا۔ یہ اشعار دیکھیے:
وہ مجھے چھوڑ گیا دکھ بھری حیرانی میں/ خاک پر قتل ہوا اور ملا پانی میں
.........
میں تو یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا/ تو مری موت پر نہ آئے گا
.........
کسی جگہ کا تعین، میں کرنے والا کون
جہاں بھی تو اسے رکھے تری رضا کے سپرد

سیالکوٹ کی نواحی بستی دولت پور سے تعلق رکھنے والا صابر ظفر بیالیس سال پہلے کراچی آیا تھا۔ سجاد باقر رضوی نے کہا تھا:
جس کیلئے اک عمر کنوئیں جھانکتے گزری/ وہ ماہِ کراچی مہِ کنعاں کی طرح تھا
کراچی کا چاند سمندر سے طلوع ہوتا ہے اور پھر مسافر کو یوں اپنی شعاعوں میں گرفتار کرتا ہے کہ مسافر وہیں کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ شاید یہ شعر کسی نے کراچی ہی کو مخاطب کرکے کہا تھا:
ڈوب گئے اس میں کئی پورے چاند 
درد ترا چاہِ طلسمات تھا

صابر ظفر کو بھی کراچی نے واپس نہ جانے دیا۔ وہ کراچی ہی کا ہو رہا۔
ستّر کی دہائی کے اوائل تھے۔ ایک شعر اکھوے کی طرح پھوٹا اور خوشبو کی طرح ہر سمت پھیل گیا اور پھر کچھ ہی عرصے میں ضرب المثل بن گیا:

گروہِ عاشقاں پکڑا گیا ہے/ جو نامہ بر رہے ہیں، ڈر رہے ہیں

یہ شعر صابر ظفر کا تھا۔ اس کا ایک اور شعر بھی زبان زدِ خاص و عام ہوا:

خزاں کی رت ہے، جنم دن ہے اور دھواں اور پھول
ہوا بکھیر گئی موم بتیاں اور پھول

'ابتدا‘ اس کا اولین مجموعہ کلام تھا۔ یہ محض ابتدا تھی۔ اب تک اس کے چوالیس شعری مجموعے دلدادگاں کے ہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں۔ وہ پبلسٹی سے بے نیاز ہے اور پبلک ریلیشننگ میں ٹُھس! ٹیلی ویژن مشاعروں میں بھی کم نظر آتا ہے۔ بہت ہی کم! اور اس میں کیا شک ہے کہ پی ٹی وی کی طرح نجی الیکٹرانک میڈیا بھی مشاعرے برپا کرنے کے حوالے سے میرٹ کی راہ پر نہ چل سکا اور مخصوص مافیاز کے نرغے میں محصور ہو کر رہ گیا۔مگر صابر ظفر جیسے شاعر صرف اپنے لیے لکھتے ہیں اور صرف اپنے پڑھنے والوں کے لیے۔ بقول غالب: نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا۔ اس بات پر بہت کم لوگ غور کرتے ہیں کہ شعر اپنا مقام خود بناتا ہے اور جہاں اسے پہنچنا چاہیے، پہنچ کر رہتا ہے۔ اسے کسی بیساکھی کی ضرورت ہوتی ہے نہ سیڑھی کی۔
صابر ظفر کی غزل گوئی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ کبھی کبھی اس کا پورا مجموعہ کلام ایک ہی غزل اور ایک ہی موضوع پر مشتمل ہوتا ہے۔ 'رانجھا تخت ہزارے کا‘ ایسا ہی مجموعہ ہے۔ بحر بھی یوں لگتا ہے پنجابی ہی سے لیا ہے۔

باپ مرتے ہی اس طرح بھائی آکڑے، اپنی سب زمیں کے کیے حصے بخرے/
اور رانجھڑے کو دیے کھیت بنجر، بال آگیا اس طرح شیشے اندر/ 

ایک عام سی زندگی کٹ رہی تھی، اور عمر بھی رانجھے کی گھَٹ رہی تھی/
پاتا کیا کسی غیر میں گرمجوشی، سرد مہری تھی خون کے رشتے اندر/

دیکھیں سازشیں ساری ہی بھابیوں کی، لمبی ہو گئی رات بے خوابیوں کی/
دیتیں طعنے وہ روز ہی کاہلی کے، کہتیں کوئی بھی گُن نہیں تیرے اندر

صابر ظفر نے کئی تجربے کیے ہیں۔ غزل میں نئی راہیں نکالی ہیں۔ بنے بنائے ہوئے راستوں سے بچ کر چلا ہے۔ اس کا نظریہ یہ ہے کہ پگڈنڈی ہی سہی، اپنی تو ہو! سندھی اور پنجابی کے الفاظ مناسب انداز سے استعمال کرکے اردو کا دامن وسیع کیا یوں کہ اس کی غزل میں غرابت آئی نہ تغزل مجروح ہوا۔ ایک ہی مجموعے میں غزلیں مختلف زمینوں اور مختلف بحور میں بھی کہیں مگر موضوع ایک ہی رکھا۔ یہ ایک مشکل کام تھا مگر اس نے کامیابی سے کیا۔ اوپر جس مجموعے کا ذکر کیا گیا ہے 'بے آہٹ چلی آتی ہے موت‘ اس میں موت ہی کا موضوع تمام غزلوں میں آتا ہے اور مختلف دروازوں سے آتا ہے‘ اس طرح کہ یکسانیت نہیں محسوس ہوتی نہ ہی اکتاہٹ آتی ہے۔ اس کا تازہ ترین مجموعہ 'کھیتوں کی ریکھاؤں میں‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ تمام کی تمام غزلوں میں پنجاب کا دیہی کلچر، کھیتی باڑی کی فضا، فصل پکنے کی خوشبو اور کاٹی جانے کی مصروفیت بھرپور انداز میں نظر آتی ہے۔ اس میں اردو زبان کا بھی کمال ہے کہ نئے الفاظ اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ذرا لفظیات پر غور کیجیے جو اس مجموعے میں نظر آتی ہیں: جَٹی، کڑاہ، ہالی، مزارع، نہری، کیاری، کٹائی، بیساکھ، ہرا کچور، جھینگر، کماد، گوڈی، سَکھیاں، خوشے اور بہت سے دوسرے الفاظ جو انہی موضوعات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مجموعے سے چند اشعار دیکھیے۔ دیہی پنجاب کا دل آپ کو ان میں دھڑکتا سنائی دے گا:
دانوں بھری بوریاں، لے کے ہوئے جو رواں
کوئی کہیں چھِن گئی، کوئی کہیں چھِن گئی

ہو گیا یوں بھی زوال، یوں بھی ہوا اشتمال
دور کی فصلیں تھیں دور، جو تھیں قریں، چھن گئیں

کھیت اور فصل ہی سے یاری کی
عمر بھر ہم نے کاشت کاری کی

اپنی اراضی الگ، اس کی اراضی الگ
نفرتیں پھر کس لیے دل میں بٹھائی گئیں

وساکھی پر اسے دیکھا تھا پہلی بار ظفر
وہ حُسن جس نے مرے دل پہ حکمرانی کی

جو بیج بوئے تھے ان کی نمو کا وقت آیا
بہار آئی ہے پھولوں کی پتیاں لے کر

مونگرے توڑتے جن کو دیکھا
وہ تھیں جَٹیاں مری دیکھی بھالی

میرا سرتاج ہے ہالی میرا
میری سرکار ہے کرماں والی

غربت کے دن ڈھل جائیں گے، دن ڈھل جائیں گے
آ جائے گی، آ جائے گی، خوشحالی کی شام

یہ زندگی زمیں ہے تو لگتا ہے یوں ظفر
ٹھیکے پہ لی ہوئی کوئی کلّر زمین ہے

دخل جو اک دوسرے کے کھیت میں دیں گے
کیسے رہیں گے تعلقات ہمارے

کُچھ ہالیوں کے اپنے مقدر کا حُسن ہے
کچھ کھیتیوں میں سون سکیسر کا حُسن ہے

ذرا بتائیے کیا اس کا ذائقہ ہو گا
اگر ہو عشق کی تھالی میں دُکھ کی ترکاری

لڑکیاں کھیتوں میں تھیں، پیلے دوپٹے لیے
پھولی وہ سرسوں، لگا، بابِ پرستاں کھلا

عجب ہے طرزِ سخن، جو طرح طرح سے ظفر
لکھا ہے تو نے سبھی کھیتیوں کے مضموں کو

کدالیں رکھ چکے کندھوں پہ ہالی
پرندہ شام کا پر اپنے جھاڑے

بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, August 17, 2021

اعلیٰ سطحی وفد کی ناکامی



ایک عجیب بے برکت اتفاق تھا کہ چار بڑے ملکوں میں بدانتظامی نے بیک وقت ہلّہ بولا۔
انارکی تھی اور ایسی انارکی کہ تاریخ میں اس کی مثال شاید ہی ملے۔ امریکہ ‘ روس‘ برطانیہ اور فرانس ایک ہی وقت میں اس انارکی کا نشانہ بنے۔ وہ جو دنیا پر حکومت کرتے رہے‘ اپنے زعم میں تہذیب سکھاتے رہے اور براعظموں پراپنے اپنے پرچم لہراتے رہے آج چاروں شانے چت گرے ہوئے تھے۔ یہ بد انتظامی‘ یہ انارکی‘ یہ افراتفری‘ یہ نفسا نفسی‘ یہ بدامنی ایک وائرل کی طرح اٹھی۔ سب سے پہلے امریکہ بہادر کھیت ہوا۔ کہاں وہ دن کہ عراق اور افغانستان میں انسانیت اس امریکہ کے ہاتھوں لہو لہان تھی اور یہ کرۂ ارض کا حاکم مطلق بنا پھرتا تھااور کہاں یہ دن کہ کوئی شہر محفوظ نہ تھا۔ جتھے نکلتے‘ غارتگری کرتے اور شہروں کو ویران کر دیتے۔ سکول ‘ کالج‘ یونیورسٹیاں بند ہو گئیں۔ ہسپتال مریضوں سے بھر گئے۔ ڈاکٹر کوئی ملتا نہ تھا۔ ہر کوئی جان بچانے کے لیے چھپتا پھرتا تھا۔ بلوائیوں نے بازار لوٹ لیے۔ لاس اینجلس سے لے کر نیویارک تک شاہراہیں جان بچاتے ‘ بھاگتے قافلوں سے اٹ گئیں۔پھر‘ نہ جانے کیسے‘ یہ ابتری برطانیہ پہنچ گئی۔ کہاں وہ دن کہ ملکہ کی ایمپائر میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور جنوبی افریقہ سے لے کر کینیڈا تک اور ہندوستان سے لے کر نیوزی لینڈ تک‘ ہر جگہ برطانوی جھنڈا لہراتا تھا اور کہاں یہ وقت کہ غدر مچا ہوا تھا۔ کالے‘ گورے‘ ایشیائی ‘ سب گتھم گتھا ہو گئے۔ پولیس خود بلوائیوں کے ساتھ مل گئی۔ یہی حال فرانس اور روس کا تھا۔ ماسکو سے قافلے امن کی تلاش میں سائبیریا کا رُخ کر رہے تھے۔ پیرس شہر نہیں‘ جنگل لگ رہا تھا!
دنیا لرز رہی تھی۔ ہر طرف ایک خوف تھا ! اگر اتنے بڑے بڑے ملک‘ جو دنیاکی قیادت کر رہے تھے‘ بد امنی کے سامنے ہتھیار ڈال چکے تھے تو باقی ملکوں کا حشر سب کے سامنے تھا۔مزید تباہی کا انتظارکرنے کے بجائے ملکوں کے سربراہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ کانفرنسوں پر کانفرنسیں ہونے لگیں۔ریسرچر ‘ تحقیق میں مصروف ہو گئے۔تاریخ کے اوراق پلٹے گئے۔ چین سے لے کر مصر تک اور برازیل سے لے کر جاپان تک ‘ ہر سرزمین کا ماضی کھودا گیا مگر کوئی حل نہ ملا اس لیے کہ ایسی ہمہ گیر انارکی اس سے پہلے تاریخ نے دیکھی ہی نہ تھی۔ پھر دانشوروں کا ایک وفد تشکیل دیا گیا۔ دفد نے پوری دنیا کے چھوٹے بڑے ہر ملک کا دورہ کیا اور ہر ملک کے نظم و نسق کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس ساری مشقت کا بالآخر ایک مثبت نتیجہ نکلا۔وہ یہ کہ ایک چھوٹے سے ملک کو آئیڈیل قرار دیا گیا۔ یہ ملک وسیع سمندر اور اونچے پہاڑوں کے درمیان واقع تھا۔ یوں تو سارا ملک ہی امن و امان اور معیشت کے لحاظ سے بے نظیر و بے مثال تھا مگر ایک صوبہ‘ بالخصوص‘ جنت کا نمونہ تھا۔ اس کا حکمران جینئس تھا۔ حسنِ انتظام اس کا ایسا تھا کہ لوگ خوشحال تھے۔ اشیائے ضرورت ارزاں تھیں۔شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے تھے۔ چوری ‘ ڈاکے‘ اغوا‘قتل‘ ختم ہو گئے تھے۔ شر پسند عناصر کا قلع قمع کر دیا گیا تھا۔ ٹریفک کا سسٹم ایسا کہ دنیا رشک کرے۔ انصاف ایسا کہ نوشیرواں کو لوگ بھول چکے تھے۔ قیمتوں پر کنٹرول ایسا کہ لوگ علائوالدین خلجی کا دورِ حکومت یاد کرنے لگے۔ پھر‘ یہ حکمران لائق بھی بہت تھا۔ بولتا تو دریاؤں کی روانی شرمندہ ہوتی۔ فائلوں پر لکھتا تو علم و حکمت کے موتی لٹاتا۔ یہ سب کچھ سن کر فرانس‘ روس‘ برطانیہ اور امریکہ کے حکمرانوں کے منہ میں پانی آگیا۔ کاش ایسا جینئس ان کے ہاں بھی پیدا ہوتا! امریکہ کے صدر نے سب سے پہلے تجویز پیش کی کہ اسے بلا کر دو سال کے لیے امریکہ کا حکمران بناتے ہیں تاکہ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر امن و امان قائم کرے۔ امریکی صدر کا خیال تھا کہ ایک بار امریکہ کے حالات بہتر ہو گئے تو باقی ممالک اس بہتری سے استفادہ کر سکیں گے۔ مگر باقی تینوں ممالک نے اس تجویز کو امریکہ کی خود غرضی قرار دیا۔ روس برطانیہ اور فرانس میں سے ہر ایک یہی چاہتا تھا کہ پہلے وہ اس عالی مرتبت منتظم کو ادھار لے۔ کئی دن بحث و تمحیص ہوتی رہی۔ آخر کار اس امر پر اتفاق ہوا کہ ان صاحب کو چاروں متاثرہ ممالک کا بادشاہ مقرر کیا جائے گا تا کہ چاروں ممالک ‘ بیک وقت ‘ استفادہ کر سکیں۔ چنانچہ چاروں ملکوں کے اعلیٰ نمائندے اس ملک میں جو سمندر اور اونچے پہاڑوں کے درمیان تھا ‘ آئے۔انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس جینئس حکمران کو اپنے ہاں لے جانا چاہتے ہیں تا کہ وہ اپنی غیر معمولی قابلیت سے ان ملکوں کو بدامنی کے عفریت سے نجات دلوائے۔ مگر عوام نے معزز مہمانوں کی اس خواہش کو یکسر مسترد کر دیا۔ جب اصرار بڑھا تو عوام سڑکوں پر نکل آئے۔انہوں نے سروں پر کفن باندھے ہوئے تھے۔ وہ نعرے لگا رہے تھے '' مر جائیں گے‘ مگر اپنے محبوب حکمران سے جدا ہونا گوارا نہیں کریں گے‘‘۔ کچھ دیوانوں نے وفورِ محبت میں چوراہوں پر خود سوزی بھی کی۔ یوں ایک بحران پیدا ہو گیا۔ ایک عالمی بحران! ایک بین الاقوامی بکھیڑا! پوری دنیا ہول سے تھرانے لگی۔اگر ان چار ملکوں کا امن بحال نہ کیا گیا تو باقی ممالک بھی ایک ایک کر کے انارکی کے اس جہنم میں گر پڑیں گے۔ یہ پوری انسانیت کی بقا کا مسئلہ تھا۔ اور حل ایک ہی تھا۔اور وہ یہ تھا کہ اس جینئس حکمران کو ‘ اس عبقری منتظم کو‘ ان چار ملکوں کا اقتدار سونپ دیا جائے۔ عوام کو سمجھایا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ دنیا کے امن کی خاطر انہیں یہ قربانی دینا ہو گی۔ انہیں اپنے محبوب لیڈر کا فراق برداشت کرنا ہو گا۔ بہت مشکل سے عوام مانے؛ تاہم ساتھ ہی انہوں نے ایک شرط رکھ دی۔ شرط یہ تھی کہ چونکہ ان کا محبوب لیڈر اپنے زیر اقتدار علاقے میں پانچ رہائش گاہیں‘ مختلف شہروں میں‘ رکھنے کا شوق رکھتا ہے اور چونکہ عوام ‘ وفورِ محبت میں‘ ان پانچ رہائش گاہوں کا خرچ‘ اپنے خون پسینے کی کمائی سے یعنی سرکاری خزانے سے ادا کرتے ہیں اس لیے وہاں بھی اس محبوب اور مقبول لیڈر کو پانچ پانچ سرکاری رہائش گاہیں لازماًدینا ہوں گی یعنی پانچ روس میں ‘ پانچ امریکہ میں ‘ پانچ فرانس میں اور پانچ برطانیہ میں !
چاروں ملکوں کی پارلیمنٹس نے اس شرط کو ماننے سے معذوری کا اظہار کیا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ کسی جمہوری ملک میں ایک حکمران کی پانچ رہائش گاہیں رکھنے کا ‘ جو نصف درجن سے صرف ایک کم ہیں‘ وہ بھی قومی خزانے سے‘ کوئی تصور نہیں ! اُس شام چار ملکوں کا اعلیٰ سطحی وفد‘ تھکے تھکے‘ بوجھل قدموں کے ساتھ واپس چلا گیا۔
ضروری وضاحت۔ یہ ایک تصوراتی داستان ہے۔ اِس کا اُس حقیقی خبر سے کوئی تعلق نہیں جو کل پرسوں میڈیا میں چھپی ہے۔ اس حقیقی خبر کی رُو سے وزیر اعظم کی رہائشگاہوں کی سکیورٹی پر دس کروڑ اکتیس لاکھ روپے ‘ وزیر اعلیٰ کے پی کی سکیورٹی پر چودہ کروڑ ستر لاکھ روپے‘ گورنر پنجاب کی سکیورٹی پر گیارہ کروڑ چورانوے لاکھ‘ گورنر کے پی کی سکیورٹی پر پانچ کروڑ چالیس لاکھ روپے ‘ صدرِ مملکت کی سکیورٹی پر پانچ کروڑ سینتیس لاکھ روپے جبکہ صرف وزیر اعلیٰ پنجاب کی پانچ رہائشگاہوں پر چوبیس کروڑ انچاس لاکھ روپے سالانہ کے اخراجات ہیں۔ ان رہائش گاہوں میں تونسہ‘ ڈی جی خان اور ملتان کی رہائش گاہیں بھی شامل ہیں۔ کسی قسم کی مطابقت محض ایک اتفاق ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, August 16, 2021

… 74 سال



74 سال ایک قوم کی زندگی میں بہت بڑی مدت نہیں مگر اتنی کم بھی نہیں!
اور اتنی کم تو ہرگز نہیں کہ کچھ بنیادی مسئلے بھی اس عرصہ میں طے نہ ہو سکتے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم آج تک یہی فیصلہ نہ کر سکے کہ ہفتہ وار چھٹی جمعہ کے دن ہو گی یا اتوار کے دن! ایک ہی بازار میں جمعہ کے دن کچھ دکانیں کھلی ہوتی ہیں اور کچھ بند! اسی طرح اتوار کے دن بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کون سی دکان بند ہو گی اور کون سی کھلی! راولپنڈی میں راجہ بازار اور پرانے شہر کے دوسرے بازار جمعہ کے دن بند ہوتے ہیں‘ مگر صدر میں، جو بذات خود بہت بڑا کاروباری علاقہ ہے، اتوار کے دن چھٹی ہوتی ہے۔ یعنی مکمل کنفیوژن! ذرا سوچیے کیا یہ اتنا بڑا مسئلہ تھا کہ صدی کا تین چوتھائی حصہ گزرنے کے باوجود جوں کا توں ہے؟
ایک اور زبردست کنفیوژن امریکہ کے حوالے سے ہے۔ ان 74 برسوں میں ہمیں یہی معلوم نہ ہوا کہ امریکہ ہمارا دوست ہے یا دشمن! ایک بیوقوفی ہماری یہ ہے کہ ہم ملکوں کو بھی اسی پیمانے سے ماپتے ہیں جس پیمانے سے ذاتی دوستی یا دشمنی کو ماپا جاتا ہے۔ آپ میرے دوست ہیں اور پکے دوست تو دوستی نبھاتے ہوئے اپنا نفع یا نقصان نہیں دیکھیں گے۔ یہ ایک جذباتی رشتہ ہو گا۔ میرے دوستوں کو آپ اپنا دوست اور میرے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھیں گے۔ مگر ملکوں کی باہمی دوستی اس طرح کی نہیں ہوتی! بلکہ یہ دوستی ہوتی ہے نہ دشمنی! یہ اپنے اپنے مفادات کا کھیل ہوتا ہے۔ ہم اس سارے عرصہ میں یہ نکتہ جاننے کے باوجود سمجھ نہیں سکے۔ امریکہ نے آنکھیں پھیریں تو ہم نے معشوق کے تغافل کا شکوہ شروع کر دیا۔ مائل ہوا تو وصال کے گیت گانے لگے‘ حالانکہ اس کا تغافل بھی اس کے اپنے فائدے کے لیے تھا اور ہماری طرف میلان ہوا تو وہ بھی ہمارے فائدے کے لیے نہیں تھا۔ مشرق وسطیٰ کے کسی ملک میں مندر بنا، یا، مودی کی پذیرائی ہوئی تو ہمارے دل میں ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ ہم نے یہ نہ سوچا کہ بھارت ایک وسیع و عریض منڈی ہے‘ اور سرمایہ کاری میں اس کا سٹیمنا ہم سے کہیں زیادہ ہے! امریکہ کے حوالے سے تو ہماری پالیسی سو فی صد دوغلی بھی ہے۔ اسے برا بھلا بھی کہتے ہیں اور گرین کارڈ بھی ہماری آبادی کے غالب حصے کا خواب ہے۔ بے نیازی بھی دکھاتے ہیں اور وہاں سے فون نہ آئے تو آسمان بھی سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ گویا: ؎
با من آویزشِ او الفتِ موج است و کنار
دمبدم با من و ہر لحظہ گریزان از من
یعنی اس کا اور میرا تعلق ایسا ہے جیسے موج کا ساحل کے ساتھ ہوتا ہے۔ ابھی موج ساحل سے گلے مل رہی ہے اور ابھی دور بھاگ رہی ہے!
بھارت نے تقسیم کے بعد شروع کے برسوں میں ہی جاگیر داری اور زمین داری کے سلسلے میں ایک واضح پالیسی بنائی اور اپنائی! نوابوں اور راجوں مہاراجوں کو قصۂ پارینہ میں بدل ڈالا۔ ہم اس سارے عرصہ میں زرعی اصلاحات ہی نہ لا سکے۔ کوشش ہوئی بھی تو چور دروازوں نے اس کوشش کو بے اثر کر ڈالا۔ کوئی مانے یا نہ مانے مگر سچ یہ ہے کہ ہاری، عملاً، نسل در نسل، غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے حقوق صفر ہیں۔ ان کی عورتوں کے ساتھ زمین داروں کی حویلیوں میں جو کچھ ہوتا ہے ہم سب کو معلوم ہے۔ یہ ہاری، یہ مزارع، ووٹ اسے دیتے ہیں جس کے بارے میں انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ شوکت صدیقی کا عہد ساز ناول 'جانگلوس‘ کسی تصوراتی دنیا کی روداد نہیں! آج بھی وہی کچھ ہو رہا ہے جو چالیس سال پہلے اس میں لکھا گیا تھا! زرعی ملکیت کا ڈھانچہ Land ownership pattern میں رمق بھر تبدیلی نہ آ سکی۔ بلوچستان کے سرداری نظام میں ان 74 برسوں میں ایک معمولی سی دراڑ بھی نہیں پیدا ہوئی۔ آج بھی چور کی شناخت جلتے انگاروں پر چلا کر کی جاتی ہے۔ ایک پکا پکا قبائلی نظام! مکمل قبائلی معاشرہ! وزارتیں، گورنریاں، سب سرداروں کی جھولی میں گرتی ہیں!
لیکن سب سے دلچسپ صورت حال نام نہاد قومی زبان کی ہے جس پر اردو کا ٹھپہ لگا ہوا ہے۔ 74 برسوں میں ٹھپہ، ٹھپہ ہی رہا، حقیقت میں نہ بدل سکا۔ انگریز کی غلامی آج بھی ہم میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اندازہ لگائیے ہمارے بجلی، گیس، فون کے بل تک انگریزی زبان میں ہیں۔ ہم سو روپے کا چیک بھی انگریزی میں لکھتے ہیں۔ شادیوں کے دعوتی کارڈ بھی انگریزی میں چھپتے ہیں یہاں تک کہ جو کنبے انگریزی زبان سے نا بلد ہیں وہ بھی شادی کا کارڈ انگریزی میں چھپوانا پسند کرتے ہیں‘ اور اب تو رومن اردو کا کوڑا بھی اردو کی ننگی، زخمی پیٹھ پر تڑاخ تڑاخ مارا جا رہا ہے۔ یہ ہماری نا مرادی کی تازہ ترین شکل ہے۔ مقتدرہ قومی زبان، جس کا اب نام کچھ اور رکھ دیا گیا ہے، اردو کے سرکاری نفاذ کے لیے بنی تھی۔ اس کی سرکاری ویب سائٹ بتاتی ہے کہ ادارۂ فروغِ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) کا قیام 4 اکتوبر 1973ء کو آئین پاکستان 1973ء کے آرٹیکل 251 کے تحت عمل میں آیا تاکہ قومی زبان 'اردو‘ کے بحیثیث سرکاری زبان نفاذ کے سلسلے میں مشکلات کو دور کرے اور اس کے استعمال کو عمل میں لانے کے لیے حکومت کو سفارشات پیش کرے۔
چالاکی یہ کی گئی اور کی جا رہی ہے کہ چونکہ اردو کا نفاذ افسر شاہی نے کرنا ہے اس لئے مقتدرہ پر ایسے اصحاب کو لگایا جاتا ہے جو افسر شاہی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکتے۔ کہاں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور کابینہ ڈویژن کے جغادری سیکرٹری، اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے طاقت ور سربراہان اور کہاں اردو کے اساتذہ! ان محترم اساتذہ کے علم و فضل سے انکار نہیں مگر نفاذ کے لیے بیوروکریسی سے معاملات طے کرنا، اور وہ بھی برابری کی سطح پر طے کرنا، ایک بالکل مختلف معاملہ ہے۔ اسی لیے مقتدرہ قومی زبان ہر وہ کام کر رہی ہے جس کا اردو کے سرکاری نفاذ سے کوئی تعلق نہ ہو۔ سو سال بھی ٹیکس دہندگان کے پیسے سے اخبار اردو نکالتے رہیے، وزارتوں کی فائلوں پر کام انگریزی ہی میں ہوتا رہے گا۔ 2008ء میں جب پروفیسر فتح محمد ملک صاحب مقتدرہ کی صدر نشینی چھوڑ کر اسلامی یونیورسٹی کے سربراہ کی حیثیت سے جا رہے تھے تو مقتدرہ کی سربراہی کے لیے جن تین ناموں کا پینل حکمرانِ اعلیٰ کی خدمت میں بھیجا گیا اس میں ایک نام اس کالم نگار کا بھی تھا۔ میرے ذہن میں ایک واضح اور غیر مبہم پلان تھا کہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وفاقی پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین سے براہ راست معاملات طے کیے جائیں گے اور پھر معاملہ وزیر اعظم کے دفتر تک لے جایا جائے گا۔ اس لیے کہ بیوروکریسی کا چھتیس سالہ تجربہ بھی تھا اور اردو کے نفاذ کا جذبہ بھی دل میں موجزن تھا۔ پہلے مرحلے میں اردو کا پرچہ سی ایس ایس کے امتحان میں لازم کرانا تھا۔ دوسرے مرحلے میں امیدواروں کو اختیار دلوانا تھا کہ چاہیں تو سی ایس ایس کے تمام پرچے (سوائے لازمی انگریزی کے) اردو میں حل کریں اور چاہیں تو انگریزی میں! تیسرے اور فائنل مرحلے میں سی ایس ایس کا سارا امتحان اردو میں دلوایا جانا تھا۔ انگریزی لکھنے اور بولنے کی قابلیت کا بھی امتحان ہوتا مگر صرف ایک مضمون کے طور پر ! رہا امتحان تو اس کا ذریعہ (میڈیم) صرف اردو زبان ہوتی!
کچھ اور بھی بنیادی مسائل ہیں جو ہم اس ساری مدت میں حل نہ کر سکے! مگر خدا کا شکر ہے کہ مجموعی طور پر ہمارا سفر آگے کی جانب ہے!

بشکریہ  روزنامہ  دنیا

Thursday, August 12, 2021

خاتون سیاست دان کا مذاق مت اڑائیے


بنٹا اور سنٹا دو بھائی ہیں ۔دونوں کی شکل میں حیرت انگیز مماثلت ہے۔ ظاہر ہے دونوں کی پرورش، اٹھان، تربیت ایک ہی گھر میں ہوئی ہے۔ دونوں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔ بنٹا کو ایک بار اس کے باس نے صرف اتنا کہا کہ آپ کام پر توجہ نہیں دے رہے۔ بنٹا کے لیے یہ بہت بڑی بات تھی۔ اس نے دو راتیں کرب میں جاگ کر گذاریں۔ پھر اپنی ساری حکمت عملی تبدیل کی۔ ماتحت عملے کی میٹنگ بلائی جہاں کام میں بہتری کی صورتیں سوچی گئیں۔ یہ ساری کوشش نتیجہ خیز ثابت ہوئی یہاں تک کہ باس نے سب کے سامنے بنٹا کی تعریف کی۔ اس پر بنٹا نے شکریہ ادا کیا مگر ساتھ ہی کہا کہ اس بہتری کا کریڈٹ اسکی ساری ٹیم کو جاتا ہے۔ میٹنگ کے بعد اس کے ماتحتوں نے اسے مبارک دی تو اس نے کہا کہ آپ سب لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ آپ کے تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔ سنٹا کی شخصیت بالکل مختلف ہے۔ اسے اس کا باس کام میں بہتری کا کہتا ہے تو وہ سنی ان سنی کر دیتا ہے۔ بھری میٹنگ میں اس کی بے عزتی کی جاتی ہے تو وہ آگے سے ہنستا رہتا ہے۔ دفتر میں بیٹھ کر خوش گپیاں لگا تا ہے۔ اسے بر طرف کر دیا جاتا ہے تو کوئی اور نوکری ڈھونڈ نکالتا ہے۔

غور کیجیے۔ شکلیں ایک جیسی !والدین وہی ! ایک ہی گھر میں پلے بڑھے۔ مگر ذہنی سطح میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دونوں کے مختلف ردِّ عمل آپ دیکھ چکے۔ ہمارے نزدیک اس کا سبب ذہنی ساخت ہے۔ یہ ذہنی ساخت ہی ہے جو سنٹا کو بتاتی ہے کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اس میں غلط کچھ بھی نہیں ۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگ خوشامد اور جی حضوری میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ اس کالم نگار نے ایک شخص کو دیکھا جو ایک عورت کی تدفین کے وقت زارو قطار رو رہا تھا۔ یا ،رونے کی ادا کاری کر رہا تھا۔ اس کا بس چلتا تو میّت کی جگہ لحد میں وہ خود لیٹ جاتا۔یہ میت اس کے باس کے داماد کی خالہ کی تھی۔ پھر جب باس ریٹائر ہؤا تو وہ سب کے سامنے اس کی خوب خوب برائیاں کر رہا تھا۔ اگر کوئی اسے سمجھاتا کہ یہ طرزعمل درست نہیں تو وہ ہر گز نہ سمجھ پاتا۔ اس کی ذہنی ساخت ہی ایسی ہے کہ وہ چاپلوسی اور طوطا چشمی دونوں کو برا سمجھنے سے قاصر ہے۔ کیا آپ نے کسی خوشامد پسند کو خوشامد ترک کرتے دیکھا ہے ؟ شایدکبھی نہیں ! اقدرت نے کچھ لوگوں کے اندر خوشامد کرنے کی صلاحیت شاید اس لیے رکھی ہے کہ خوشامد کیے جانے والے کا امتحان لیا جائے۔روایت ہے کہ ایک صاحب نے امیر المومنین حضرت عمر فاروق کی خوشامد کی۔ آپ نے زمین سے مٹی اٹھائی اور اس کے منہ میں ڈال دی۔ مگر ہر شخص میں خوشامد رد کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ انسانوں کی بھاری اکثریت خوشامد کے جال میں پھنس جاتی ہے۔ یہی امتحان ہے۔ اگر صاحب ِ اقتدار خوشامد پرستوں کو نزدیک نہ آنے دے تو کامیابی اس کا استقبال کرتی ہے ورنہ تاریخ اپنا فیصلہ سنا کر رہتی ہے۔ شیخ مبارک نے، جو بہت بڑا عالم تھا، اور اس کے لائق بیٹوں فیضی اور اور ابوالفضل نے اکبر کی اس قدر تعریف کی ، اس قدر خوشامد کی کہ وہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگا اور دین الہی ایجاد کر بیٹھا۔ قصیدہ گوئی خوشامد ہی کی ایک شکل ہے۔اگر آپ نے خوشامد کی انتہا دیکھنی ہو تو فارسی اور اردو ادب میں محفوظ کیے گئے قصائد پڑھیے ۔غالب بادشاہ کی تعریف میں کہتے ہیں ؎
تو آب سے گر سلب کرے طاقتِ سیلاں
تو آگ سے کر دفع کرے تاب شرارت
ڈھونڈے نہ ملے موجۂ دریا میں روانی
باقی نہ رہے آتشِ سوزاں میں حرارت

یعنی بادشاہ سلامت پانی سے بہنے کی اور آگ سے جلانے کی خاصیت چھین سکتے ہیں۔ مشہور فارسی شاعر قاآنی بادشاہ کی تعریف میں کہتا ہے کہ تمہارے غیض و غضب کی آگ سے اگر ایک چنگاری بھی جل اٹھے تو اُس چنگاری سے سات دوزخ وجود میں آجاتے ہیں ۔ اقبال کی نظم مکڑا اور مکھی ہم سب نے پڑھی ہے ۔ مکھی نے بہت مدافعت کی ۔ مگر مکڑے نے خوشامد کی تو ڈھیر ہو گئی؎
سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں
دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندہ

آج کل قصاید کا دور نہیں۔ نہ ہی گھوڑا، ہاتھی، یا خلعت دینے کا رواج ہے۔ مگر خوشامد کرنے والے اور خوشامد کے جال میں پھنسنے والے ہر زمانے میں موجود تھے اور آج بھی موجود ہیں۔آج دربار اور قصیدے کی جگہ ٹیلی ویژن نے لے لی ہے جس کے ذریعے خوشامد کرنے والے اپنے مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں۔ ٹاک شو پر “ کار کردگی “ اچھی ہو تو وزارت مل جاتی ہے۔ حکومت کے حق میں مہم چلائیں تو منصب مل جاتا ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ خوشامد کرنے والے اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ٹیلی ویژن پر حقِ نمک ادا کرنے والوں سے لوگ کس قدر نفرت کرتے ہیں اور انہیں کتنا برا سمجھتے ہیں۔ مگر یاد رکھیے خوشامد کرنے والا صرف اور صرف اپنے مقصد پر فوکس کرتا ہے اور مقصد ہے فائدہ اٹھانا۔ لوگ کیا کہتے ہیں ؟ اس سے وہ بے نیاز ہے اور یکسر بے نیاز۔ چاپلوسی اور عزت نفس ، یہ دونوں ایک انسان میں یکجا نہیں ہو سکتیں۔ یہ آگ اور پانی کا کھیل ہے۔

دو تین دن پہلے معروف خاتون سیاستدان کو پنجاب اسمبلی کے اندر جانے سے روک دیا گیا۔ اس پر خوب خوب تبصرے ہوئے۔ وی لاگرز کی تو جیسے چاندی ہو گئی! اللہ دے اور بندہ لے! انہوں نے لمبے لمبے پروگرام کیے۔ سننے والوں نے بھی خوب چسکے لیے۔ مگر وہ یہ بھول گئے کہ محترمہ ایسے واقعات کو بُرا گردانتی ہیں نہ دل پر لیتی ہیں۔کیوں ؟ اس لیے کہ ان کی ذہنی ساخت ہی قدرت نے ایسی بنائی ہے۔ وہ ہر حال میں مقتدَر رہنا چاہتی ہیں۔ کسی بھی پارٹی کے طفیل! کسی بھی قیمت پر ! کہیں بھی ! صوبے میں یا مرکز میں ! انہیں قدرت نے اعصاب اس قدر مضبوط دیے ہیں کہ اجازت نہ دیے جانے پر ، انہوں نے ، وہیں کھڑے ہو کر، میڈیا سے کہا کہ یوں بھی دیر ہو گئی تھی۔ اور کورم پورا ہے۔ اسمبلی کے اندر مجھے بیٹھنا نہیں تھا! اقتدار حاصل کرنے کی جدو جہد میں ایسے کئی مقامات آتے ہیں۔ انہیں اگر عزت بے عزتی کا مسئلہ بنا لیا جائے تو پھر مل چکا قتدار ! ان کا یہ قول مشہور ہے کہ جو بھی فلاں پارٹی سے نکلتا ہے” تو وہ دنیا اور آخرت میں رسوا ہوتا ہے اور تاریخ اس کی گواہ ہے “۔یہ موقعہ وہ تھا جب یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے اور ان کے وزیر خارجہ مستعفی ہو ئے تھے۔ خاتون سیاست دان اُس وقت بر سر اقتدار پارٹی کا حصہ تھیں ۔ مستعفی ہونے والے وزیر خارجہ کو انہوں نے” سیاسی خانہ بدوش” کا خطاب دیا تھا اور دعا کی تھی کہ” وہ کسی ایک جگہ مستقل پڑاؤ کر لیں ! “

سیاست ہو یا بیورو کریسی، یا کوئی اور شعبہ، ایسے کردار ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ کابینہ کا تجزیہ کر کے دیکھ لیجیے۔ کتنے خانہ بدوش ہیں اور کتنے مستقل پڑاؤ کرنے والے ! ہماری تاریخ ایسے کرداروں سے اٹی پڑی ہے۔ دن کے وقت جو ہمایوں کے کیمپ میں ہوتے تھے، رات کی تاریکی میں شیر شاہ سوری کو مل کر “ معاملات “ طے کرلیتے تھے۔ ایسے کرداروں کو مرفوع القلم سمجھنا چاہیے۔ ان کا مذاق مت اڑائیے ۔انہی سے تو رونقِ بازار قائم ہے۔
………………………………………………………………………
 

powered by worldwanders.com