Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, March 28, 2024

استعفیٰ؟ مگر کس کا؟؟



 
عمران خان کی ساری غلطیوں‘ ساری حماقتوں‘ ساری جلد بازیوں‘ بے پناہ منتقم مزاجی اور تکبر کے باوجود خلقِ خدا اس کے ساتھ کیوں ہے؟
اس لیے کہ ان دونوں خاندانوں کی دوست نوازی اور کرونی ازم حد سے بڑھ گیا ہے! ذاتی وفاداری واحد معیار ہے۔ اور ذاتی وفاداری کا صلہ قومی خزانے سے دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کی اپنی دولت‘ اپنی جائیدادوں‘ اپنے کارخانوں‘ اپنے محلات اور اپنے فلیٹوں کے سلسلے لامتناہی ہیں۔ اندرونِ ملک بھی! بیرونِ ملک بھی! آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق کرونی ازم کا مطلب ہے دوستوں کو اعلیٰ مناصب پر ان کی اہلیت کے بغیر تعینات کرنا!! کرونی ازم‘ میرٹ پسندی کی ضِد ہے! یہ جو ایچی سن کالج کے پرنسپل کے استعفے کا سیاپا پڑا ہے‘ یہ کرونی ازم ہی کا شاخسانہ ہے۔ کیسے؟ یہ ہم آگے چل کر عرض کرتے ہیں۔
اس رسوائے زمانہ جنجال کے پانچ پہلو ہیں۔ پانچوں ہی دردناک ہیں! اور شرمناک بھی!!
پہلا یہ کہ جیسے ہی پرنسپل نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا‘ حکومت کی داڑھی میں تنکا صاف نظر آنے لگا! وزیر‘ امیر سب ایک ایک کرکے اُس سابق بیوروکریٹ اور حال وزیر کا دفاع کرنے لگ گئے جو بکھیڑے کا مرکزی کردار تھا۔ یہ سلسلہ اتنا مضحکہ خیز تھا کہ باقاعدہ ہنسانے والا تھا۔ بکھیڑے کا مرکزی کردار بادشاہ کی پسندیدہ شخصیت تھا اس لیے اس کا دفاع کرنے میں ہزار مصلحتیں تھیں۔ درباری کلچر کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں جنہیں ہم آپ جیسے عامی نہیں سمجھ سکتے!! منتخب حضرات ایک غیرمنتخب کردار کے دفاع پر کمر بستہ ہو گئے۔ دوسرا یہ کہ دروغ گوئی پر کمر باندھ لی گئی۔ یہ کہا جانے لگا کہ فیس نہ دینے کی رعایت صرف سابق بیورو کریٹ کے بچوں کے لیے نہیں‘ سب کے لیے ہے۔ لوگوں کو بے وقوف بنانے والے خود عقل سے بے بہرہ ہو جاتے ہیں۔ یہ دہائیوں کے بعد ''سب‘‘ کے فائدے کا دورہ آج ہی پڑنا تھا جب ایک مخصوص شخصیت کے بچوں کو فائدہ پہنچانا تھا؟ یہ جو قواعد میں تبدیلی کی گئی‘ کیا اس لیے نہیں کی گئی کہ دو مخصوص بچوں کی فکر تھی؟ حیرت ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات کہہ رہے ہیں کہ ''قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ جب وہاں پڑھ نہیں رہے تو پھر نہ پڑھنے کی فیس تو نہیں ادا کی جاتی‘‘۔ کوئی پوچھے کہ یہ قانون کب بنا ہے؟ یہ قانون تو آپ نے اسی خاص کیس میں بنایا ہے! تیسرا پہلو اس معاملے کا یہ ہے کہ کیا گورنر صاحب کسی اور بچے کے لیے بھی اتنی کوشش کرتے؟ اتنا آؤٹ آف وے جاتے؟ کیا کسی اور بچے کی خاطر بھی بورڈ آف گورنرز کا اجلاس اپنے دفتر میں بلاتے؟ جبکہ یہ اجلاس ہمیشہ کالج میں ہوا کرتا ہے! کیا کسی اور بچے کے لیے بھی پرنسپل کو اپنے دفتر میں‘ اپنے حضور‘ طلب کرتے؟ ایک استاد کو‘ ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کو‘ حاکم کا اپنے دفتر میں طلب کرنا!!یہ کیا مائنڈ سیٹ ہے؟ اور استاد بھی وہ جسے آپ باہر سے لائے ہیں۔ جس کی بے مثال کارکردگی کی گواہی بابر علی جیسے سنجیدہ‘ قابلِ اعتبار‘ باعزت‘ بزرگ دے رہے ہیں! ایسا تو بادشاہوں کے زمانے میں بھی نہیں ہوتا تھا۔ ہارون الرشید کے بیٹے اپنے استاد کے قدموں کے آگے ان کے جوتے رکھتے تھے اور اس کے لیے دونوں شہزادے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ چوتھا پہلو‘ پرنسپل کے خلاف چلائی جانے والی مہم نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ شرمناک بھی ہے۔ معلوم نہیں ہماری حکومتیں کب سبق سیکھیں گی؟ شاید بھٹو صاحب کا زمانہ تھا جب چودھری ظہور الٰہی کے خلاف بھینس چوری کا پرچہ کاٹا گیا تھا۔ یہ کہنا کہ پرنسپل اس لیے استعفیٰ دے کر جا رہا ہے کہ اس کی تنخواہ کا آڈٹ کیا جانا ہے اور یہ کہ وہ چالیس لاکھ تنخواہ لیتا ہے اور سال میں سو چھٹیاں کرتا ہے‘ آپ کے اُس مقام سے بہت نیچے کی بات ہے جس پر آپ فائز ہیں!! پرنسپل نے آپ کا ناروا حکم نہیں مانا تو آپ نے گہرے سمندر میں غوطہ لگایا اور اس کے خلاف کیا موتیوں جیسے الزامات نکال کر لائے! سبحان اللہ! سبحان اللہ! کیا کہنے! کیا کہنے! کیا چالیس لاکھ تنخواہ وہ آپ سے گَن پوائنٹ پر لیتا رہا ہے؟ کیا آڈٹ کریں گے اس کی تنخواہ کا آپ؟ کہ اس نے اپنی تنخواہ کہاں اور کیسے خرچ کی؟ رہا 100چھٹیوں کا معاملہ تو پرسوں جب گورنر ہاؤس کے سامنے طلبہ اور ان کے والدین احتجاج کر رہے تھے تو ایک طالب علم سے کسی ٹی وی والے نے پرنسپل کی سو چھٹیوں والے معاملے کا پوچھا۔ طالب علم ہنس دیا کہ گرما‘ سرما‘ عید‘ کرسمس اور کئی دوسری چھٹیاں ملا کر تمام تعلیمی اداروں میں سو کے قریب چھٹیاں تو معمول کی بات ہے! وہ تو غنیمت ہے کہ آپ نے پرنسپل پر یہ الزام نہیں لگایا کہ وہ دفتر میں میز کرسی پر بیٹھتا ہے اور جوتے پہننے سے پہلے جرابیں پہنتا ہے! کسی نے خوب کہا ہے ؎
سکھر کا پُل‘ جہلم کا دریا دونوں ہو گئے چوری
مال گودام سے لے گئی چیونٹی گندم کی اک بوری
پانچواں پہلو اس سارے ہنگامے کی اصل وجہ ہے اور فساد کی جڑ ہے۔ اور وہ ہے کرونی ازم! یہ کرونی ازم ہے جس نے معاملے کو اس نامناسب حد تک پہنچا دیا۔ شاہی خاندانوں کی یہ روایت رہی ہے کہ یہ اپنے ذاتی وفاداروں کو نوازتے ہیں اور نوازتے بھی شاہی خزانے سے ہیں! پہلے یہ ہوتا تھا کہ کسی کا منہ موتیوں سے بھر دیا جاتا۔ کسی کو سونے یا چاندی میں تُلوا دیا جاتا تھا۔ کسی کو جاگیر عطا کی جاتی تھی۔ کسی کو ہاتھی گھوڑے اور خلعت سے سرفراز کیا جاتا تھا۔ اب زمانہ ماڈرن ہے۔ شاہی خاندانوں کے اطوار بھی زمانے کے ساتھ بدل گئے ہیں۔ کوئی افسر ماڈل ٹاؤن فیم ہے تو اسے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ( W.T.O) میں سفیر بنا کر بھیج دیا جاتا ہے۔ وہ اگر ضلعی انتظامیہ سے ہے اور ورلڈ ٹریڈ سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا تو کیا ہوا! پھر اُسی کو ایک بار پھر نوازنا ہو تو ورلڈ بینک میں بھیج دیا جاتا ہے۔ طریقِ واردات یہ تھا کہ جونیئر افسروں کو سینئر پوزیشنوں پر لگا دیا جاتا تھا اور سینئرز کو کُھڈے لائن! وفاداری خریدنے کا یہ بہترین فارمولا تھا۔ اب اگر کسی نے جیل میں مخالفانہ گواہی نہیں دی تو پھر تو اسے عوام کے جمع شدہ ٹیکسوں سے نوازنا فرضِ عین ہو گیا۔ پہلے ایک حکومت میں وزیر بنایا۔ الیکشن کمیشن نے اسے نکلوا دیا۔ اب پھر اپنی حکومت آ گئی۔ فوراً سے پیشتر وزارت کی خلعت زیبِ تن کروائی گئی۔ پیچھے پیچھے سینیٹ کی رکنیت دست بستہ چلی آ رہی ہے! اتنا دم خم کسی میں نہیں کہ پوچھے جناب! ان صاحب کا پارٹی سے کیا تعلق ہے؟ پوچھنا تو در کنار‘ کوئی چوں بھی نہیں کرے گا۔ اب جب یہ ایچی سن کا معاملہ آیا تو شاہی وفادار کے ساتھ وفاداری نبھانے میں ع
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے!!
پرنسپل جس معاشرے سے آیا تھا وہاں وزیراعظم بھی استاد کو اپنے دفتر نہیں بلا سکتا۔ گورے نے صرف اور صرف اس لیے ترقی کی کہ وہاں قانون‘ قانون ہے۔ کسی کے لیے بھی قانون تبدیل نہیں کیا جائے گا! ہم اسی لیے پستی اور غربت میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں کہ استاد کو ہم ذاتی ملازم سمجھتے ہیں اور ڈاکٹر کو ڈی سی کے گھر جانا پڑتا ہے! پھر کیا ہوتا ہے؟ ڈاکٹر اُس ڈاکٹری پر لات مارتا ہے جس پر قوم کے لاکھوں روپے خرچ ہوئے تھے۔ استاد طالب علموں کو خدا حافظ کہتا ہے۔ استاد اور ڈاکٹر دونوں سی ایس ایس کر کے خود حاکم بن جاتے ہیں کہ ایسا ہے تو پھر ایسا ہی سہی!!
کوئی ترقی یافتہ ملک ہوتا تو گورنر صاحب کو بھی مستعفی ہونا پڑتا اور وزیر صاحب کو بھی! مگر یہاں پرنسپل استعفیٰ دیتا ہے! افسوس! ہزار افسوس! ؎
وہ شاخِ گُل پہ زمزموں کی دھُن تراشتے رہے
نشیمنوں سے بجلیوں کا کارواں گزر گیا!!

Tuesday, March 26, 2024

پاکستان، بھارت اور تجارت


وزیر خارجہ اسحاق ڈار صاحب نے کہا ہے کہ پاکستانی تاجر بھارت سے تجارت کرنے کے خواہاں ہیں۔ اور یہ کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تجارت بحال کرنے سے متعلق جائزہ لے گا۔ یہ تعلقات پانچ برس پہلے اُس وقت ختم کیے گئے تھے جب مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ ہم اور تو کچھ کر نہیں سکے‘ تجارتی تعلقات پر کلہاڑا چلا دیا۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح ہمارے قصباتی کلچر میں بات بات پر قطع کلامی کر لی جاتی ہے۔ تجارتی تعلقات ختم کرنے سے مقبوضہ کشمیر کو کیا فائدہ ہوا؟ یا پاکستان نے کیا حاصل کیا؟ کیا بھارت نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا؟ کیا کسی نے ہماری منت سماجت کی کہ جناب! کرم کیجیے! تجارتی تعلقات بحال کر دیجیے۔ پانچ سال کے بعد ہم خود ہی بحال کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں!
چین اور تائیوان کی باہمی دشمنی سے زیادہ آخر کیا دشمنی ہو گی۔ چین تائیوان کو ایک الگ ملک کی حیثیت سے تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اس کا مؤقف ہے کہ یہ چین کا حصہ ہے۔ مگر دونوں کے درمیان تجارت بالکل نارمل انداز میں ہو رہی ہے۔ 2022ء کے اعداد و شمار کی رُو سے چین تائیوان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ چین کے ساتھ تجارت تائیوان کی کُل تجارت کا 23 فیصد ہے جبکہ جاپان کے ساتھ 9.7 فیصد۔ ہانگ کانگ کے ساتھ 7.3 فیصد اور جنوبی کوریا کے ساتھ 6.2 فیصد ہے۔ بھارت اور چین کی مخالفت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ بھارت کے شمال مغربی اور شمال مشرقی‘ دونوں کونے‘ چین کے مؤقف کی رُو سے متنازع ہیں۔ حال ہی میں وزیراعظم مودی نے شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کا دورہ کیا تو چین نے احتجاج کیا۔ چین کا مؤقف یہ ہے کہ اروناچل تبت‘ یعنی چین کا حصہ ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان سرحدی جھڑپیں بھی ہو جاتی ہیں۔ اس کے باوجود دونوں ملکوں میں تجارت روز افزوں ہے۔ گزشتہ ماہ نئے چینی سال کے موقع پر نئی دہلی میں واقع چینی سفارتخانے کی ناظم الامور نے بہت نمایاں انداز سے بتایا کہ 2023ء میں بھارت اور چین کی باہمی تجارت بڑھتے بڑھتے 136.2ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ اُس سے ایک سال پہلے یہ تجارت 135.98 ارب ڈالر تھی۔ بھارت چین سے الیکٹرانکس‘ ٹیلی کمیونیکیشنز‘ مشینری‘ ایٹمی ری ایکٹرز‘ بوائلرز‘ نامیاتی کیمیکل‘ پلاسٹک‘ کھادیں‘ میڈیکل‘ ٹیکنیکل‘ آپٹیکل آلات‘ فوٹو گرافی کے آلات‘ لوہا‘ سٹیل اور گاڑیاں درآمد کرتا ہے جبکہ چین کو صاف شدہ پٹرول‘ خام لوہا اور سمندری خوراک بھیجتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ بھارت اپنی دانست میں چین اور پاکستان‘ دونوں کو مخالف گردانتا ہے۔ ایک کے ساتھ اس کی سالانہ تجارت اربوں ڈالر کی ہے۔ دوسرے کے ساتھ صفر ہے۔ جہاں تک تنازعوں کا تعلق ہے‘ تجارت کے باوجود چین نے اپنا مؤقف بدلا نہ بھارت نے!
اب ذرا چین اور امریکہ کی بات بھی کر لیتے ہیں۔ امریکہ پوری دنیا میں چین کو اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتا ہے۔ لیکن تجارت دونوں کے درمیان زور و شور سے ہوتی ہے۔ عام امریکی سستی چینی اشیا سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ دوسری طرف امریکی کمپنیوں کیلئے چین ایک وسیع و عریض منڈی کا کام دے رہا ہے۔ 2022ء میں دونوں ملکوں کے درمیان 690 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی۔ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بھی تجارت ہو رہی ہے اور خوب ہو رہی ہے۔ ایک طرف ترکیہ حماس کی حمایت کرتا ہے۔ دوسری طرف تجارت اسرائیل سے ہو رہی ہے۔ 1995ء میں ترکی کی برآمدات اسرائیل کو 28 کروڑ ڈالر کی تھیں۔ ستائیس سال بعد 2022ء میں یہ تجارت سات ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد ترکیہ نے یہ اعلان ضرور کیا ہے کہ جو ترک کمپنیاں اسرائیل کے ساتھ تجارت کریں گی‘ پیچیدگی اور مشکلات کی صورت میں ترکیہ کی حکومت ان کی کوئی مدد نہیں کرے گی۔ پابندی نہیں لگائی۔
یہ ہے بین الاقوامی صورتِ حال۔ سیاسی محاذ پر یہ ممالک اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ سفارتی محاذ پر مخالفتیں برپا کر رہے ہیں مگر ساتھ ساتھ اپنے اپنے ملک کے مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں! ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ خواندگی کی شرح خطرناک حد تک کم ہے۔ عوام جذباتی ہیں۔ ایسی جماعتوں کی کمی نہیں جن کا وجود صرف اور صرف تقریروں کا مرہونِ منت ہے۔ اقتدار میں وہ کبھی آئیں نہیں۔ حکومتی مشکلات سے مکمل نا آشنا ہیں۔ بجٹ کی پیچیدگیوں سے کبھی پالا نہیں پڑا۔ نہ معلوم ہے کہ توازنِ ادائیگی کس چڑیا کا نام ہے نہ یہ معلوم ہے کہ توازنِ تجارت کیا ہوتا ہے۔ ان کی بقا صرف اور صرف اس میں ہے کہ عوام کے جذبات سے کھیلا جائے اور جذباتی نعروں کی مدد سے اپنے وجود کو زندہ رکھا جائے۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ملک کا فائدہ کہاں ہے اور عوام کو تکالیف سے کیسے بچایا جائے۔ بھارت کے ساتھ تجارت کھولنے کا زیادہ فائدہ پاکستان کو ہو گا نہ کہ بھارت کو۔ بھارت ایک بہت بڑی‘ وسیع و عریض منڈی ہے جو پاکستانی بر آمد کنندگان کو ملے گی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان چھوٹی منڈی ہے جو بھارتی برآمد کنندگان کو میسر آئے گی۔ لدھیانہ میں ایک خاتون نے خواتین کیلئے پاکستانی کپڑوں کا کاروبار شروع کیا ہے۔ اسے پورے بھارت سے دھڑا دھڑ آرڈر موصول ہو رہے ہیں۔ ملبوسات اور کپڑے کے پاکستانی برانڈز کو اگر بھارتی منڈی تک براہِ راست رسائی مل جائے تو کسی شک و شبہ کے بغیر وہ بھارت پر چھا جائیں گے۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ پاکستان اتنا بھی نحیف و نزار نہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارت کھلے تو موم کی طرح پگھل جائے گا۔اس وقت بھارت اور پاکستان کے درمیان کتابوں اور رسالوں کا لین دین بند ہے۔ بھارت میں کسی کو کوئی کتاب بھیجی جائے تو اول تو اسے ملتی ہی نہیں‘ اور اگر مل بھی جائے تو مہینوں بعد ملتی ہے۔ سب سے زیادہ زَد ادبی کتب و جرائد پر پڑ رہی ہے۔ بھارت میں کئی بین الاقوامی پبلشر بیٹھے ہیں جیسے پین گوئن‘ ہارپر کولنز اور پَین میکملنز۔ ان کی بھارت میں چھپی ہوئی کتابیں پاکستانیوں کو اُن کتابوں کی نسبت ارزاں پڑتی ہیں جو یہی کمپنیاں برطانیہ اور امریکہ میں شائع کرتی ہیں۔ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ پبلشر پاکستان میں اپنی شاخیں کیوں نہیں کھولتے۔ اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے۔ سویڈن کی مشہور عالم کمپنی 
''IKEA‘‘
 کی بھارت میں پانچ برانچیں ہیں اور پاکستان میں ایک بھی نہیں۔ کیوں؟ اس کا جواب بھی حکومت کو دینا چاہیے۔ بھارت اس وقت آئی ٹی کی دنیا کا بادشاہ ہے۔ اگر تجارتی اور دیگر معاشی حالات دونوں ملکوں کے درمیان نارمل ہو جائیں تو پاکستانیوں کو گھر بیٹھے حیدر آباد‘ چنائی اور بنگلور کی آئی ٹی کمپنیوں سے ملازمتیں مل سکتی ہیں!
امریکہ دنیا پر حکومت کر رہا ہے صرف اور صرف علم کی وجہ سے! چین نے دنیا کو اپنی برآمدات کے ذریعے فتح کر لیا ہے۔ بھارت چین سے آگے بڑھنے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے۔ ہم اِس زمانے میں بھی دنیا کو تلوار اور تیر و تفنگ کی مددسے فتح کرنا چاہتے ہیں۔ لال قلعہ سے لے کر وائٹ ہاؤس تک تمام عمارتوں پر ہم سبز ہلالی پرچم لہرانا چاہتے ہیں۔ ترقی کی شرح ہماری دو فیصد ہے، آئی ایم ایف کے سامنے ہم رکوع میں کھڑے ہیں۔ نعرے اور تقریریں ہماری کوئی سنے تو اسے لگتا ہے ترقی یافتہ ممالک ہمارے سامنے ذرّے سے بھی کمتر ہیں!! ہم یہ حقیقت ماننے کیلئے تیار ہی نہیں کہ مضبوط معیشت کے بغیر کوئی نعرہ کام آتا ہے نہ کوئی نظریہ! یہ جو بھارت نے سفارتی محاذ پر مشرقِ وسطیٰ کو فتح کر لیا ہے تو وجہ اس کی مضبوط معیشت ہے! سات سے زیادہ دورے وزیراعظم مودی نے متحدہ عرب امارات کے کیے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے اہم ترین ملک نے اپنا بلند ترین سول ایوارڈ وزیراعظم مودی کو دیا ہے۔ زمانے کی گاڑی کو نعرے چلاتے ہیں نہ جذباتی تقریریں! زمانے کی گاڑی کو روپیہ چلاتا ہے! صرف روپیہ!!

Monday, March 25, 2024

معصوم‘ بے گناہ قیدی


راولپنڈی کچہری چوک سے ہم نے گاڑی جی ٹی روڈ پر ڈالی اور روات کا رُخ کیا۔ سؤاں کیمپ سے ذرا آگے گئے تو بائیں طرف ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا قوی ہیکل‘ عظیم الجثہ گیٹ تھا۔ اس کے پاس ایک شخص کھڑا تھا جس کے کاندھے پر لمبا سا ڈنڈا افقی لحاظ سے رکھا تھا۔ڈنڈے کے دونوں کناروں پر دو پنجرے لٹک رہے تھے۔ان میں چڑیاں قید تھیں۔میں نے گاڑی رکوائی۔ اسے بلایا اور پوچھا کہ ان بے گناہ چڑیوں کو کیوں قید کیا ہوا ہے۔ اس نے کہا :آپ پیسے دے کر انہیں آزاد کرادیں! یہ بات اس نے اتنے عجیب اور طنزیہ لہجے میں کی کہ میں دم بخود رہ گیا۔پوچھا: کتنے پیسے لو گے۔اس نے بتایا کہ ایک پنجرے کی چڑیوں کو چھڑوانے کی یہ قیمت ہے اور دونوں پنجروں کی یہ! میرے پاس اتنی کیش نہیں تھی۔اسے کہا کہ چڑیوں کو چھوڑ دو اور میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھو‘ گھر جا کر تمہیں پیسے دیتا ہوں۔اس نے پہلے ایک پنجرے کا دروازہ کھولا۔ ننھی ننھی چھوٹی چھوٹی چڑیاں ایک ایک کر کے‘ پُھر پُھر کر تی‘ کھلی فضا میں اُڑ گئیں۔پھر اُس نے دوسرا پنجرہ کھولا۔ اس سے بھی اُڑ گئیں۔ میں گاڑی میں ہی بیٹھا ہوا تھا۔وہ نزدیک آیا تو میں نے اسے کہا: تمہارا علاج تو یہ ہے کہ میں تمہیں یہیں چھوڑ کر چلا جاؤں مگر چونکہ وعدہ کیا ہوا ہے اس لیے اب بیٹھو گاڑی میں۔ گھر پہنچنے تک اس سے باتیں ہوتی رہیں۔ پوچھا یہ چڑیاں کہاں سے لیتے ہو۔ کہنے لگا: سرگودھا اور اس کے نواح میں اس کام کا نیٹ ورک ہے۔ وہ لوگ شکاریوں سے خریدتے ہیں۔ پھر ہمیں دیتے ہیں۔ پوچھا: یہ کام کیوں کرتے ہو؟ کہنے لگا :اور کیا کروں؟ کہا :پھلوں کا ٹھیلہ لگا لو یا سبزی منڈی جاؤ وہاں بہت کام مل جاتا ہے۔ نہیں معلوم اس پر کچھ اثر ہوا یا نہیں۔ مگر حیرت ہے کہ یہ عجیب و غریب کاروبار یہاں ہو رہا ہے۔ جن لوگوں کا دل ان بے زبان معصوم قیدیوں کو دیکھ کر پسیج جاتا ہے‘ ان پر ایک قسم کا نفسیاتی حملہ ہے۔ وہ انہیں نہ چھڑوائیں تو بے چین رہیں گے۔ دوسری طرف چھڑوانے سے یہ قبیح کاروبار مزید چمکے گا۔ عجیب دو دھاری تلوار ہے۔ ان سخت دل لوگوں پر حیرت ہے جو یہ بیوپار کر رہے ہیں۔ اگر انہیں چھڑوانا کارِ ثواب ہے تو منطقی بات یہی ہے کہ پھر پکڑنا گناہ ہے۔ تو گناہ کا یہ کام کیوں ہو رہا ہے؟ یہ کیسا ملک ہے؟ پولیس اگر پارکوں اور سیرگاہوں میں بیٹھے جوڑوں سے نکاح نامے طلب کر سکتی ہے تو چڑیاں پکڑ اور خرید کر پنجروں میں بند کرنے والوں کو کیوں نہیں پکڑتی ؟ یہ گھٹیا کاروبار کیوں ہو رہا ہے؟ ان سنگدل انسان نما جانوروں کا بس چلے تو چیونٹیاں اور مکھیاں بھی قید کر کے پیسہ کمائیں!
اب جو بات میں کرنے لگا ہوں بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آئے گی۔ پسند نہ کرنے والوں میں میرے قریبی اعزہ بھی شامل ہوں گے! ایک غریب طوطے کو پنجرے میں بند کر کے گھر میں رکھنے سے کون سی خوشی حاصل ہوتی ہے؟ پالتو جانور رکھنے کی اور بات ہے۔ بلی رکھی جاتی ہے۔ کتا پالا جاتا ہے۔ مگر انہیں پنجروں میں قید نہیں کیا جاتا۔ بلی گھر بھر میں دندناتی پھرتی ہے۔ کتے کو تو سیر بھی کرائی جاتی ہے۔پچاس ساٹھ سال پہلے کبوتر رکھنے کا عام رواج تھا۔ علامہ اقبال کو بھی یہ شوق تھا۔میرے گاؤں میں درجنوں لوگ تھے جن کے پاس کبوتر تھے۔ تب پکانے کے لیے ایک کبوتر ایک روپے میں مل جاتا تھا۔ مگر ان کبوتروں کو بھی پنجروں میں قید نہیں کیا جاتا تھا۔ ایک کنواں نما چیز کھودی جاتی تھی۔اسے ہماری مقامی زبان میں کُھڈی کہتے تھے۔اس میں خانے بنے ہوتے تھے۔ ہر کبوتر کا ایک خانہ ہوتا تھا۔یہ اس کا گھر ہوتا تھاجسے وہ کبھی نہیں بھولتا تھا۔ مالک ان کبوتروں کو اڑاتے تھے۔یہ اُڑ کر دور دور چلے جاتے تھے اور پھر خود ہی اپنے ٹھکانوں کو واپس آ جاتے تھے۔ یہ ظلم جو طوطوں کے ساتھ ہو رہا ہے‘ میرے ادھورے علم کی رُو سے کسی جانور یا پرندے کے ساتھ نہیں ہو رہا۔ بعض اہلِ مذہب سے منقول ہے کہ اگر پرندے کو ایذا نہ دی جائے اور اس کے دانے پانی کا خیال رکھا جائے تواسے پنجرے میں بند کر کے رکھا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسے قید کرنا ایذا نہیں ہے؟ یہی تو ایذا ہے!! اسے اس قید سے اذیت ہوتی ہے۔ وہ تکلیف میں ہے۔ اسے قید و بند کی اذیت دے کر خوش ہونا یا اپنے بچوں کو خوش کرنا ایسا کام ہے جو کسی بھی نرم دل اور رحم دل انسان کے لیے قابلِ قبول نہیں! ہم علامہ اقبال کی وہ دلگداز نظم شاید بھول چکے ہیں جس میں ایک قیدی پرندہ یوں فریاد کر تا ہے۔ 
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی؍ اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا؍ لگتی ہے چوٹ دل پر آتا ہے یاد جس دم؍ شبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مسکرانا؍ وہ پیاری پیاری صورت وہ کامنی سی مورت؍ آباد جس کے دم سے تھا میرا آشیانا؍ آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میں؍ ہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں؍ کیا بد نصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوں؍ ساتھی تو ہیں وطن میں میں قید میں پڑا ہوں؍ آئی بہار کلیاں پھولوں کی ہنس رہی ہیں؍ میں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوں؍ اس قید کا الٰہی دکھڑا کسے سناؤں؍ ڈر ہے یہیں قفس میں میں غم سے مر نہ جاؤں؍ جب سے چمن چُھٹا ہے یہ حال ہو گیا ہے؍ دل غم کو کھا رہا ہے غم دل کو کھا رہا ہے؍ گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے؍ دکھتے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے؍ آزاد مجھ کو کر دے او قید کرنے والے؍ میں بے زباں ہوں قیدی تو چھوڑ کر دعا لے 
بچپن میں ایک کہانی سنی تھی۔ ایک تاجر نے طوطا قید کر رکھا تھا۔ دور دراز کے تجارتی سفر پر جانے لگا تو طوطے کو خدا حافظ کہا۔ طوطے نے کہا: مالک ! میرا ایک کام کر دیجیے گا۔ فلاں ملک کے فلاں جنگل میں فلاں درخت پر میرے قبیلے سے تعلق رکھنے والے طوطے بیٹھے ہوں گے۔ جب آپ کا وہاں سے گزر ہو تو انہیں میرا سلام پہنچا دیجیے گا۔ تاجر نے وعدہ کیا کہ وہ خاص طور پر وہاں جا کر یہ کام کرے گا۔ وہاں پہنچ کر اس نے طوطوں کو اُن کے بچھڑے ہوئے بھائی کا پیغام دیا۔ طوطوں نے تفصیل پوچھی۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ قید میں ہے تو سب کے سب درخت کی شاخوں سے نیچے گرے اور مر گئے۔ تاجر یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ واپس آکر اس نے طوطے کو سارا واقعہ سنایا۔سُن کر طوطا بھی پنجرے میں گرا اور مر گیا۔ مالک نے اسے بیکار سمجھ کر باہر پھینک دیا۔ طوطے نے اڈاری بھری اور درخت کی شاخ پر جا بیٹھا۔ اس نے مالک سے کہا کہ وہ طوطے مرے نہیں تھے۔ انہوں نے مجھے یہ ترکیب بتائی تھی کہ مرنے کا ڈراما کرو تاکہ اس ظالم کی قید سے رہائی ملے۔ جب تم نے سارا واقعہ سنایا تو میں اس خفیہ پیغام کو سمجھ گیا اور جھوٹ موٹ مر گیا!!
انسان نے انسانوں کا تو خون بہایا۔ کبھی مذہب کے بہانے‘ کبھی وطنیت کے نام پر۔ کبھی مال وزر کی لالچ میں اور کبھی سلطنتوں کو وسیع کرنے کے لیے!! افسوس! اس کے ظلم سے پرندے اور جانور بھی نہ بچ سکے!!

Thursday, March 21, 2024

بُلھے شاہ! اساں مرنا ناہیں


وہ تو اچھا ہوا عزت رہ گئی! ورنہ ڈر تھا کہ وہ جو ہماری روایت ہے رُول آف لاء پر چلنے کی‘ جس کے لیے ہم دنیا میں مشہور ہیں‘ کہیں اس حوالے سے ہماری شہرت پر زد نہ پڑے!
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 2010ء میں جب توسیع دی تو عمران خان صاحب نے اس کی مخالفت کی۔ یہاں یہ وضاحت کر دوں کہ توسیع کو ہمارے سابق آقا اپنی زبان میں 

Extension 

کہتے ہیں۔ تو جب عمران خان صاحب نے اس کی مخالفت کی تو میرا تو دل ہی بیٹھ گیا۔ مجھے خان کا یہ اعتراض قطعاً پسند نہیں آیا تھا۔ ارے بھئی! جب ہم قانون کی پیروی کر رہے ہیں اور اپنے معروف اور مشہورِ زمانہ قواعد و ضوابط کے مطابق چل رہے ہیں تو آپ اعتراض کر کے ہمیں سیدھے راستے سے کیوں ہٹانا چاہتے ہیں؟ کچھ عرصہ گزرا تو عمران خان خود سریر آرائے سلطنت ہوئے۔ تب انہوں نے بھی 2019ء میں توسیع کا حکم دیا۔ تب مجھے یک گونہ اطمینان ہوا اور میں نے خدائے بزرگ و برتر کا شکر ادا کیا کہ وہ جو ہماری رول آف لاء پر چلنے کی روایت تھی‘ اسے خان نے برقرار رکھا۔ اس موقع پر ایک خوشگوار اتفاق یہ بھی ہوا کہ اپوزیشن نے‘ بشمول (ن) لیگ‘ خان کی حمایت کی اور توسیع دینے کی زبردست قانونی روایت کو زندہ رکھنے میں اپنا حصہ ڈالا!
اب جب نئے وزیراعظم نے‘ اللہ انہیں سلامت رکھے اور ان کے فیروزیٔ اقتدار کو عمرِ نوح عطا کرے‘ تخت و تاج سنبھالا تو مجھے ایک خدشہ لاحق ہوا۔ یہاں برسبیلِ تذکرہ وضاحت کرتا چلوں کہ یہ جو میں نے اوپر فیروزی کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس سے مراد کامیابی اور ظفرمندی ہے۔ ہماری خواتین کی لغت میں فیروزی ایک رنگ کا نام ہے مثلاً جب وہ ملبوسات کی دکانوں میں جاتی ہیں‘ جہاں سیل کے مواقع پر انہیں آپس میں گتھم گتھا بھی ہو جانا پڑتا ہے‘ تو وہ سیلزمین کو کہتی ہیں ''بھیا! ذرا فیروزی رنگ کی پوشاک دکھاؤ!‘‘ یہ تناقض اس لیے پیدا ہوا کہ فیروزہ ایک قیمتی پتھر کا نام ہے۔ اس کے رنگ کو اُردو میں فیروزی رنگ کہا جانے لگا! عبد العزیز فطرت کا شعر یاد آ رہا ہے ؎
ہم نے پھر اقلیمِ غم تسخیر کی
اس خوشی میں جشنِ فیروزی رہے
یہاں جشنِ فیروزی سے مراد فتح کا جشن ہے!
تو نئے وزیراعظم کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مجھے خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں وہ رول آف لاء کو نظر انداز فرما کر بے ضابطگی پر نہ اُتر آئیں۔ دل میں یہ ڈر پیدا ہو گیا کہ‘ میرے منہ میں خاک‘ کہیں وہ اس صحت مند روایت کو توڑ نہ دیں۔ جب انہوں نے تین مارچ کو وزارتِ عظمیٰ کا چارج سنبھالا تو اسی وقت سے میں مضطرب اور بیقرار رہنے لگا۔ جیسے جیسے وقت گزرنے لگا میری حالت خراب سے خراب تر ہو نے لگی! پہلے گھنٹے اور پھر دن گننے لگا! انہیں تخت و تاج سنبھالے پورے تیرہ دن ہو گئے! میں نے منہ سر پیٹ لیا! غضب خدا کا دو ہفتے ہونے کو ہیں اور ابھی تک کسی کو توسیع نہیں دی! فشارِ خون بلند ہونے لگا۔ کمرے سے لاؤنج کی طرف جا رہا تھا کہ دھڑام سے گر پڑا۔ بس نیم بے ہوشی کی کیفیت تھی۔ بیٹی‘ بہو اور بیگم میرے ہاتھوں کو مَلنے بیٹھ گئیں۔ بیٹوں کو‘ جو دوسرے شہروں میں مقیم تھے‘ اطلاع دی گئی۔ کافی دیر بعد حالت سنبھلی۔ گھر والے ہسپتال لے جانے پر مُصر تھے مگر میں نے انکار کر دیا۔ مجھے معلوم تھا کہ طبیعت کی خرابی کا اصل سبب کیا ہے۔ اس عارضے کا علاج کسی ڈاکٹر‘ کسی طبیب‘ کسی پیر‘ کسی فقیر کے پاس نہیں تھا۔ مجھے صرف اور صرف وزیراعظم کا ایک اعلان شفا بخش سکتا تھا۔ رات بے چینی میں گزری۔ خبروں کے لیے بار بار چینل بدلتا۔ مگر دلی مقصود پورا نہیں ہو رہا تھا۔ پھر مجھے خواب آور گولی دے گئی اور میں نیند کی وادی میں اُتر گیا۔ خدا خدا کرکے اٹھارہ مار چ کی صبح ہوئی۔ بچوں نے اخبارات لا کر سامنے رکھ دیے۔ ہائیں! یا الٰہی! یہ کیا معجزہ ہو گیا۔ بالآخر جناب وزیراعظم نے توسیع عنایت کر دی تھی۔ بے اختیار میرے منہ سے وزیراعظم کے لیے تحسین و آفرین کے کلمات نکلے۔ ع
ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند
جتنا شکر پروردگار کا ادا کیا جائے‘ کم ہے۔ میں نے شکرانے میں دو بکروں کا صدقہ دیا۔ خدا کا لاکھ لاکھ احسان ہے۔ قوموں کی برادری میں ہمارے وقار کو دھچکا نہیں لگا! ہم نے اپنی رول آف لاء پر چلنے کی روایت کو برقرار رکھا اور قانون کی پابندی کرتے ہوئے توسیع دے دی! زندہ اقوام کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماضی کی روایات کو تابندہ رکھتی ہیں۔ ہمارے ایک مردِ مومن مردِ حق تھے جو توسیع پر توسیع دیتے گئے۔ جب توسیع دیتے دیتے تھک گئے اور ہانپنے لگ گئے تو توسیع پر توسیع لینے والے صاحب کو کینیڈا تعینات کر دیا۔ کینیڈا کو اس جوہرِ قابل کی قدر کرنا نہ آئی۔ اندھا کیا جانے بسنت کی بہار! فضول قسم کے اعتراضات لگا کر تعیناتی قبول کرنے سے انکار کر دیا!
تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو!!
اور اے عزیزانِ گرامی! سمجھنا چاہیے کہ توسیع محض ایک حکم نامہ نہیں ہوتا بلکہ بہت سے خوش آئند واقعات اور تبدیلیوں کا مبارک پیش خیمہ ہوتا ہے! اس سے ردِعمل کا ایک سلسلہ 

(Chain Reaction)

 پھوٹتا ہے جو خوشگوار حد تک پھیلتا چلا جاتا ہے۔ اہم ترین ردِعمل یہ ہوتا ہے کہ جس شخصیت کو توسیع دی جاتی ہے‘ اس کے نیچے کام کرنے والوں کا مورال بہت ہائی ہو جاتا ہے۔ ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے بغل گیر ہو ہو کر ایک دوسرے کو مبارک دیتے ہیں۔ مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں۔ وجہ ظاہر ہے۔ جب توسیع دی جاتی ہے تو ماتحتوں کی ترقی کے نئے راستے کھلتے ہیں اور پرانے راستے کشادہ ہوتے ہیں! سارے سیٹ اَپ میں مسرت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ نئے امکانات کے در وا ہوتے ہیں! یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ جس شخصیت کو توسیع دی جاتی ہے اس کی قدر و منزلت اور عزت میں کروڑوں گنا اضافہ ہو جاتا ہے‘ اس کے نیچے کام کرنے والوں کے دلوں میں اس کے لیے محبت کے سوتے پھوٹ پڑتے ہیں۔ وہ اس کی صحت اور طوالتِ عمر کے لیے راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر دعائیں مانگتے ہیں!!
توسیع دینے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ اقدام ایک صحت مند نظیر کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس سے دوسرے لوگوں کے دلوں میں بھی اُمید کے چراغ جل اٹھتے ہیں۔ انہیں بھی یقین ہو جاتا ہے کہ وہ بھی ناگزیر ہیں اور یہ کہ انہیں بھی توسیع مل سکتی ہے اور ملنی چاہیے۔ توسیع سے یہ مبارک خیال ذہنوں میں پختہ ہو جاتا ہے کہ ادارے نہیں‘ شخصیات اہم ہوتی ہیں! یہی ہماری بے مثال ترقی کا راز ہے جس پر جاپان سے لے کر امریکہ تک سب ممالک ہم پر رشک کرتے ہیں! حقیقت بھی یہی ہے کہ ادارے آنی جانی چیز ہیں۔ اداروں کی آخر اہمیت ہی کیا ہے! اصل سرمایہ تو شخصیات ہیں! وہ جو ایک جعلی قسم کا فضول محاورہ ہے کہ قبرستان ناگزیر لوگوں سے بھرے پڑے ہیں‘ تو وہ بالکل غلط محاورہ ہے۔ شخصیات کو آخری دم تک اداروں ہی میں رہنا چاہیے! کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے جانے سے ادارے ختم ہو جائیں! ترقی یافتہ ممالک تو سوچ رہے ہیں کہ ملک الموت سے بھی توسیع کا تقاضا کرنا چاہیے اور کم از کم بھی ہزار یا پانچ سو سال کی توسیع کے لیے اپلائی کرنا چاہیے!
بلّھے شاہ! اساں مرنا ناہیں‘ گور پیا کوئی ہور

Tuesday, March 19, 2024

میری دنیا اور اُن کی دنیا


بہت بڑے ڈاکٹر ہیں۔ بہت بڑے منصب پر فائز رہے! اتنے بڑے منصب پر کہ انہیں دیکھتے ہوئے ٹوپی سر کے پیچھے گرنے کا اندیشہ ہو تا تھا! مگر مزاج میں عجیب معصومیت بھری تھی۔ مریضوں کو عجیب و غریب چھوٹے چھوٹے تحفے دیتے۔ جیسے پلاسٹک کی بطخ جو کبھی دائیں طرف حرکت کرتی تو کبھی بائیں طرف! مریض اسے دلچسپی سے دیکھتا رہتا اور اس کا دل بہلا رہتا! اتوار کو وہ پانی کی بوتل پکڑتے‘ بیگ کاندھے سے لٹکاتے اور چھوٹی سی گاڑی ڈرائیو کرتے راجہ بازار جا نکلتے! پلاسٹک کی کسی دکان سے کوئی نئی شے خریدتے۔ سستی گھڑیاں تلاش کرتے۔ درجنوں کے حساب سے بال پین خریدتے جو سٹاف کو دیتے رہتے۔ ایک بار میں سنگاپور جا رہا تھا۔ مجھے بتایا کہ جب سنگاپور کے جنوبی جزیرے سنتوسا میں جاؤ گے تو ظاہر ہے وہاں چیئرلفٹ پر بھی سواری کرو گے۔ جہاں چیئرلفٹ اتارے گی وہاں‘ سیڑھیاں چڑھ کر ایک دکان ملے گی۔ اس دکان میں ایک ایسی ٹوپی ہے جس پر ماتھے والی سمت بلب لگا ہے‘ جو رات کو پڑھنے کے لیے روشن کیا جا سکتا ہے۔ ان کی یہ ہدایت‘ آج بھی یاد کرتا ہوں تو دلکش لگتی ہے اور وہ طلسمی کہانی یاد آ جاتی ہے جس میں فقیر شہزادے کو اسی قسم کی ہدایات دیتا ہے کہ فلاں پہاڑ کے دامن میں جھونپڑی ہو گی جس میں ایک بوڑھا بیٹھا ہو گا جو تمہاری مدد کرے گا‘ وغیرہ وغیرہ! ایک بار میں بیرونِ ملک سے ان کے لیے ایک لمبا سا شو ہارن لایا۔ ان کی خدمت میں پیش کرنے ان کے گھر گیا۔ فوراً اندر سے میرے لیے بھی ایک شو ہارن لے لائے جو برما کی قیمتی لکڑی ٹِیک سے بنا ہوا تھا اور جو میرے شو ہارن کے ذخیرے میں ایک زبردست اضافہ تھا!
جب بھی شام کو سیر کے لیے نکلتا ہوں‘ ڈاکٹر صاحب یاد آ جاتے ہیں۔ تب میں اپنا رُخ شہر کے گنجان بازار کی طرف کر لیتا ہوں۔ مجھے اُن کی طرح عجیب و غریب اشیا خریدنے کا شوق تو نہیں مگر ان عوامی بازاروں میں مجھے زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ایک چیز جو ہمیشہ نوٹ کی‘ یہ ہے کہ زندگی بیورو کریسی کے کوچہ و بازار میں کٹی مگر ان گنجان‘ عوامی بازاروں میں کبھی کوئی اپنے ساتھ کا یا کوئی جاننے والا‘ بیورو کریٹ کبھی نہیں ملا۔ یہ اصحاب بڑے بڑے فیشن ایبل مالز میں جاتے ہوں گے یا ان کا سودا سلف ان کے خدام لاتے ہوں گے! مغربی ملکوں میں حکمران اور بادشاہ بھی بازاروں‘ عام ریستورانوں‘ بسوں اور ٹرینوں میں نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں جو بارہ جماعتیں پاس کر لے‘ اپنا سامان اٹھانے میں اسے شرم آنے لگتی ہے۔ افسروں اور وزیروں کے دفتروں کے باہر صبح نائب قاصد اور پی اے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ صاحب آئیں تو ان کی گاڑی کا دروازہ کھولیں اور لپک کر بریف کیس پکڑ لیں! گویا صاحب نہ ہوا‘ اپاہج ہو گیا! چو این لائی سے لے کر ہنری کسنجر تک‘ سب نے اپنے بریف کیس خود اٹھائے اور اپنے ملکوں کو ستاروں کی طرح روشن کر دیا! اس بات میں ذرہ بھر مبالغہ نہیں کہ پاکستان کے حکمرانوں اور بیورو کریسی (سول اور خاکی دونوں) کا معیارِ زندگی اور طرزِ زیست ایسا ہے کہ نہ صرف ترقی یافتہ ملکوں کے حکمران اس کا نہیں سوچ سکتے بلکہ شاہجہان‘ جہانگیر‘ اور اودھ کے نواب واجد علی شاہ بھی دیکھیں تو رشک سے مر جائیں! مسئلہ یہ بھی ہے کہ بیروزگاری اس قدر ہے کہ بارہ جماعتیں تو بارہ ہیں‘ دس پڑھے ہوئے کو بھی سامان اٹھانے والا مل جاتا ہے!
واکنگ سٹک پکڑے‘ سر پر ٹوپی اوڑھے‘ کئی موسموں اور کئی برسوں سے گزری ہوئی جیکٹ پہنے‘ جب اس گنجان بازار یا ہفتہ وار اتوار بازار کا چکر لگاتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں اپنے ملک سے اور اپنے لوگوں سے بغل گیر ہو رہا ہوں۔ جیسے یہ سب دکاندار اور یہ سب گاہک اور بازار کی گلیوں اور برآمدوں میں یہ سب چلنے والے میرے پرانے ساتھی ہیں۔ ادھیڑ عمر حاجی نما شخص جو مشین سامنے رکھے چھریاں اور قینچیاں تیز کر رہا ہے۔ پھلوں کا رس بیچنے والا جو گاہکوں کی بھیڑ سے نمٹ رہا ہے۔ ٹوکرے میں کچھ پھل رکھے‘ بوڑھا جو گزرتے گاہکوں کو دیکھے جا رہا ہے۔ قصاب جو بکرے لٹکائے‘ خریداروں سے بحث کر رہے ہیں۔ ریستوران سے باہر بیٹھا لڑکا جو آلو چھیلے جا رہا ہے۔ کباڑیا جو دکان میں پرانے لوہے کے مال و اسباب میں گھرا‘ ردی تول رہا ہے۔ تنگ سی گلی کی چھوٹی چھوٹی ڈربہ نما دکانوں میں‘ قطار اندر قطار بیٹھے درزی جو سر جھکائے سلائی مشینیں چلائے جا رہے ہیں۔ فریموں کی دکان کے اندر‘ تصویروں کو شیشوں کے نیچے فِٹ کرتا نوجوان۔ اے ٹی ایم کے سامنے لائن میں لگے لوگ۔ کھولتے پانی والی کڑاہی میں دوپٹوں کو بھگوتا رنگ ساز۔ خشک میووں کی دکان میں کھڑا بَلتی۔ مخصوص قینچی نما اوزار سے گنڈیریاں کاٹتا ریڑھی بان۔ کونے میں جوتے گانٹھتا موچی‘ بوٹ پالش کرتا سرخ رخساروں والا خوبصورت پیارا سا معصوم بچہ۔ چاٹ کی دکان پر چاٹ اڑاتی لڑکیاں۔ سبزی خریدتے‘ کوٹ پتلون میں ملبوس‘ دفتری بابو۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جن کے دم سے پاکستان آباد ہے۔ ان سب لوگوں میں ایک وصف مشترک ہے۔ وہ یہ کہ اس ملک کو اُس حالت تک‘ جس میں یہ ہے‘ پہنچانے میں ان لوگوں کا ہاتھ نہیں ہے۔ اب میں موبائل کی دکانوں کے بیچ سے گزر رہا ہوں۔ یہاں مڈل کلاس سے لے کر مزدوروں تک‘ سب موجود ہیں۔ ساتھ تِکوں کی خوشبو آ رہی ہے۔ کوئلوں پر مرغیوں کے ٹکڑے رکھے ہیں۔ سڑک کنارے کرسیوں پر بیٹھے لوگ کھانا کھا رہے ہیں! واپسی کے لیے لمبا راستہ اختیار کرتا ہوں اور اتوار بازار کے بیچ سے گزرتا ہوں۔ ہر طرف ازدحام ہے۔ کھوے سے کھوا چھل رہا ہے۔ سموسوں اور پکوڑوں کے سٹالوں پر خوب رش ہے۔ پھلوں کے انبار لگے ہیں۔ بازار کئی حصوں میں منقسم ہے۔ کریانہ‘ گارمنٹس‘ قالینیں‘ پردے‘ جوتے‘ ہاؤزری‘ برتن‘ کانچ اور پلاسٹک کے‘ سٹیل اور ایلومینیم کے! کاش کبھی اس بازار میں ہمارے وزیراعظم‘ ہمارے وزیر خزانہ چلیں‘ ہمارے سی ڈی اے کے سربراہ ہی تشریف لے آئیں اور لوگوں کے ساتھ سودا سلف خریدیں۔ مگر ترقی اور پختگی کی اُس سطح تک پہنچنے میں کئی سو سال لگیں گے۔ احساسِ برتری میں چھپا ہوا احساسِ کمتری رفع ہونے میں صدیاں لگتی ہیں! یہ ہیلی کاپٹروں میں اُڑتے حکمران! جن کے لیے راستے بند کر دیے جاتے ہیں! جن کی دنیا ہی الگ ہے‘ جن کے ککڑ اور بلیاں بھی کھرب پتی ہیں‘ وہ ان عوامی بازاروں میں کیوں آئیں گے!
واکنگ سٹک لہراتا‘ ٹوپی سنبھالتا‘ اتوار بازار کے عقبی دروازے سے باہر سڑک پر نکلتا ہوں۔ لوگ باگ شاپنگ بیگ اٹھائے گھروں کو جا رہے ہیں۔ کچھ موٹر سائیکلوں پر ہیں‘ کچھ گاڑیوں پر! بائیکوں اور ٹیکسیوں والے پُرامید نظروں سے‘ بازار سے باہر آتے لوگوں کو دیکھ رہے ہیں۔ مانگنے والے دو رویہ کھڑے ہیں! یہی میرا پاکستان ہے۔ یہی میری دنیا ہے۔ میں نے اسی میں جینا ہے‘ اسی میں مرنا ہے۔ مجھے کیا غرض کہ رائے ونڈ کے محلات کتنے رقبے میں ہیں؟ ملک میں بلاول ہاؤس کتنے ہیں؟ بنی گالا کا گھر کتنے کنال کا ہے۔ چودھریوں کے کتنے کارخانے ہیں اور شوگر مافیا کتنا طاقتور ہے؟ میری اور اُن کی دنیائیں الگ الگ ہیں! درمیان میں گہری خلیجیں ہیں! ان خلیجوں میں ایسی لہریں ہیں جنہیں میری دنیا والے پار کر سکتے ہیں نہ اُن کی دنیا والے! میں اپنی دنیا میں خوش ہوں! مجھے اُن کی دنیا سے کوئی غرض نہیں اور اُنہیں میری دنیا سے کوئی تعلق نہیں! اس لیے کہ بقول افتخار عارف:
مجھے تو اپنے سمندر کی ریت کافی ہے
تُو اپنے چشمۂ بے فیض کو سنبھال کے رکھ

Monday, March 18, 2024

حماقتوں کی پریڈ



باربرا ٹچ مین مشہور امریکی تاریخ دان تھی۔ 1989ء میں اس کا انتقال ہوا۔ اس کا نانا سلطنت عثمانیہ میں امریکی سفیر تھا۔ باربرا ٹچ مین نے تاریخ کی کتابیں اس انداز سے لکھیں کہ انہیں پڑھ کر عام قاری کو بھی تاریخ میں دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا اسلوب ادبی ہے
 The March of Folly 
(حماقتوں کی پریڈ) اس کی مشہور ترین تصنیف ہے۔ اس میں اس نے اپنا مشہور نظریہ پیش کیا ہے۔ نظریہ یہ ہے کہ عام آدمی اپنے کام سوچ سمجھ کر کرتا ہے۔ اس نے جو کام بھی سرانجام دینا ہو‘ مکان بنانا ہو‘ بچوں کی تعلیم اور شادیوں کے فرائض سرانجام دینے ہوں‘ فیکٹری لگانی ہو‘ ملازم بھرتی کرنے ہوں‘ ہر کام عقل مندی سے کرے گا۔ اس کے مقابلے میں حکومتوں کے کام احمقانہ ہوتے ہیں! اتنے احمقانہ کہ عام آدمی کو بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ حکومت کا یہ کام‘ یا یہ پالیسی غلط ہے اور اس کے نتائج مثبت نہیں نکلیں گے! اس نظریے کے حق میں باربرا نے تاریخ سے کئی مثالیں پیش کیں۔ مثلاً لکڑی کا وہ گھوڑا جو یونانی‘ ٹرائے کے شہر کی فصیل کے باہر رکھ گئے تھے۔ طویل محاصرے کے باوجود جب یونانی شہر کو فتح نہ کر سکے تو انہوں نے یہ چال چلی۔ لکڑی کے اس بڑے سے گھوڑے کے اندر مسلح سپاہی چھپے تھے۔ کئی لوگوں نے سٹی کونسل (یعنی حکومت) کو منع کیا کہ گھوڑا شہر کے اندر لے کر نہ جائیں۔ مگر حکومت نہ مانی۔ گھوڑا شہر کے اندر لے گئے۔ رات کو سپاہی گھوڑے سے باہر نکلے اور شہر کے دروازے کھول دیے۔ شہر پر یونانیوں نے قبضہ کر لیا۔ اس کے علاوہ بھی باربرا نے اس نظریے کے حق میں تاریخ سے کئی ثبوت پیش کیے ہیں۔
یہ نظریہ کہیں اور منطبق ہو نہ ہو‘ ہم پر ضرور منطبق ہو رہا ہے۔ پاکستانی حکومتیں (نظر آنے والی اور نظر نہ آنے والی بھی) پے درپے ایسے ایسے احمقانہ اقدامات کرتی رہی ہیں اور اتنی غلط پالیسیاں تشکیل دیتی رہی ہیں کہ خدا کی پناہ! ان غلط پالیسیوں اور ان احمقانہ اقدامات پر ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ ہم صرف موجودہ حکومت کی‘ جس کو بنے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں‘ حماقتوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
ارسا 
(Indus River System Authority)
 کا ادارہ 1992ء میں پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے وجود میں آیا تھا۔ اس کا کام دریائے سندھ کے آبی نظام کو صوبوں میں تقسیم کرنا ہے۔ ہر صوبے کی نمائندگی ایک ممبر کرتا ہے۔ فیصلہ ووٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ادارے کا چیئرمین باری باری ہر صوبے سے منتخب ہوتا ہے۔ کاکڑ نگران حکومت نے ایک آرڈیننس کا مسودہ صدرِ پاکستان کو بھیجا۔ یہ آرڈیننس ادارے میں بنیادی تبدیلیاں کرنا چاہتا تھا۔ چیئرمین کی تعیناتی کا اختیار وزیراعظم کو دیا جا رہا تھا۔ صوبوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ اصولی طور پر نگران حکومت اس نوع کی بنیادی تبدیلیاں کرنے کی مُجاز ہی نہیں تھی۔ ایسے کام ایک منتخب حکومت ہی کر سکتی ہے۔ بہرطور صدرِ پاکستان نے اس مسودے کو منظور کرنے سے‘ بجا طور پر‘ انکار کر دیا۔ موجودہ وزیراعظم نے اس نامنظور آرڈیننس پر عمل کرتے ہوئے‘ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ کو چیئرمین مقرر کر دیا۔ یہ ایک انتہائی غیر دانشمندانہ اقدام تھا اور ایک بچہ بھی سمجھ سکتا تھا کہ صوبے اس غیر متوازن حکم کو قبول نہیں کریں گے۔ یہی ہوا۔ سندھ نے پُرزور اعتراض کیا اور احتجاج بھی! اخبارات نے اس کے خلاف اداریے لکھے۔ بالآخر وزیراعظم کو یہ فیصلہ واپس لینا پڑا! ظاہر ہے سُبکی ہوئی! اب یہ وزیراعظم کا کام ہے کہ غور فرمائیں اس مشورے‘ یا تجویز کی پشت پر کون خیر خواہ تھے؟
دوسری مثال لیجیے۔ ذرا وفاقی کابینہ کی کمپوزیشن پر غور کیجیے۔ یہ اُنیس رکنی کابینہ ہے۔ انیس میں سے چودہ وزیر‘ جی ہاں چودہ! لاہور اور لاہور کے نواحی اضلاع (سیالکوٹ‘ نارووال‘ شیخوپورہ‘ حافظ آباد‘ گجرات) سے ہیں۔ ایک وزیر کے پی سے ہے۔ ایک بلوچستان سے اور ایک کراچی (ایم کیو ایم) سے ہے۔ دو جنوبی پنجاب سے ہیں! دوسرے لفظوں میں 73.6 فیصد لاہور اور نواحِ لاہور سے ہیں! باقی ملک کا حصہ 26.4 ہے۔ مغربی پنجاب (اٹک‘ میانوالی‘ چکوال‘ جہلم‘ راولپنڈی) کی نمائندگی صفر ہے۔ اسی طرح سندھ کی نمائندگی بھی صفر ہے۔ ایک سابق بیورو کریٹ کو وزیر بنایا گیا ہے جو غیر منتخب ہیں۔ یہ وہی صاحب ہیں جو نگران حکومت میں بھی شامل کیے گئے تھے مگر بعد میں الیکشن کمیشن کے حکم سے فارغ کر دیے گئے تھے۔ یہ بھی نواحِ لاہور سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر جناب وزیراعظم دور اندیشی سے کام لیتے اور وسعتِ نظر کو بروئے کار لاتے تو غیر منتخب شخص کو وزیر بنانا ہی تھا تو اندرونِ سندھ سے کسی کو بناتے!! اس اقدام سے کابینہ میں ایک خوبصورت اور صحت مند توازن پیدا ہو جاتا! مگر انہوں نے ذاتی وفاداری کو زیادہ اہمیت دی!
تیسری مثال! جناب اسحاق ڈار کو وزارتِ خارجہ کا قلمدان دیا گیا ہے۔ وہ ایک لائق اور محنتی شخص ہیں۔ ان کے پاس چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی ڈگری ہے۔ ان کا سارا کیریئر مالیات (فنانس) سے متعلق رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے حوالے سے ان کا کوئی ایکسپوژر نہیں ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے بھارت کا وزیر خارجہ کون ہے؟ ان صاحب کا نام جے شنکر ہے اور ان کا خارجہ امور کا تجربہ 47 برس پر محیط ہے۔ یہ بین الاقوامی تعلقات کے مضمون میں پی ایچ ڈی بھی ہیں۔ انہوں نے سری لنکا‘ ہنگری‘ جاپان‘ سنگاپور‘ چین اور امریکہ میں سفارتکاری کے فرائض سرانجام دیے۔ پھر فارن سیکرٹری رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں آئے۔ اب ممبر پارلیمنٹ ہیں اور پانچ سال سے وزیر خارجہ ہیں۔ باقی حساب کتاب آپ خود کر لیجیے کہ اس کالم نگار کا پوائنٹ کیا ہے؟ جناب اسحاق ڈار کی خدمات کے حوالے سے انہیں کابینہ میں لینا ہے تو ان کی مہارت اور تجربے کی مناسبت سے انہیں کوئی اکنامک منسٹری دینی چاہیے تھی۔ تجارت‘ پٹرولیم اور اکنامک افیئرز جیسی وزارتوں میں ان کے معاشی پس منظر سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہیں وزارتِ خارجہ میں لگانا ان کے ساتھ بھی زیادتی ہے اور خارجہ امور کے ساتھ بھی۔ ایسی تعیناتی کو نرم ترین الفاظ میں بھی 
Human Resource Misallocation 
ہی کہا جا سکتا ہے۔ یعنی افرادی قوت کا غلط استعمال۔ ہر فن کے ماہرین الگ ہوتے ہیں! مگر ہمارے ہاں معیار کچھ اور ہے۔ کیا عجب کل جلیل عباس جیلانی صاحب کو وزیر خزانہ لگا دیا جائے اور طارق فاطمی صاحب زراعت کے منسٹر لگے ہوئے ہوں!
اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ باربرا ٹچ مین کی تھیوری کیا ہے۔ حکمرانوں نے جب اپنے کاروبار اور اپنی فیکٹریوں میں افرادی قوت لگانی ہو تو بہترین افراد کا انتخاب کرتے ہیں۔ خوب چھان پھٹک کرتے ہیں۔ وہاں یہ پروڈکشن کے ماہر کو مارکیٹنگ میں کبھی نہیں لگائیں گے! مارکیٹنگ کے ماہر کو مارکیٹنگ ہی میں لگائیں گے۔ ان کے بچوں اور پوتوں کو بھی بخوبی علم ہے کہ کون سا آدمی کاروبار میں کہاں لگانا ہے! رہی حکومت! رہا ملک! رہی ریاست!! تو جسے نوازنا ہو اسے کہیں بھی لگا دیجیے۔ نقصان ہو گا تو ملک کا ہو گا۔ ذاتی نقصان تو نہیں ہو گا! وہ لطیفہ نما واقعہ آپ نے سنا ہی ہو گا۔ نہ جانے پٹیالہ کی ریاست تھی کہ کوئی اور ریاست‘ وزیر خزانہ چھٹی پر گئے تو ان کا چارج چیف میڈیکل افسر کو دے دیا گیا۔ وزیر خزانہ چھٹی سے واپس آئے تو چیف انجینئر کی پوسٹ خالی تھی‘ انہیں وہاں تعینات کر دیا گیا! ہم بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ ہمالیہ کو بحر الکاہل کے درمیان دکھاتے ہیں۔ برازیل کو ایشیا کے ماتھے کا جھومر بتاتے ہیں!! ہمارے کوتوال نابینا ہیں۔ لکنت زدہ کو ہم داستان گو مقرر کرتے ہیں!

Thursday, March 14, 2024

صدقے جاؤں مگر کام نہ آؤں

پیپلز پارٹی سے کبھی بھی مناسبت اور مطابقت نہیں رہی۔ مگر ایک کریڈٹ اسے ضرور جاتا ہے۔ اس نے مذہبی کارڈ کبھی نہیں کھیلا! پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) نے تو اس ضمن میں ساری حدیں پار کر دی ہیں۔ حدیں پار کرنے کی تفصیلات بتانے کو جی تو چاہتا ہے مگر دل نہیں مانتا کہ بقول میر ؎

کھنچیں میر تجھ ہی سے یہ خواریاں 
نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیں!! 
رہی وہ جماعتیں جو مذہب کے نام پر بنی ہیں‘ وہ تو مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کر ہی رہی ہیں! بلکہ مسلک کے نام پر تشکیل شدہ جماعتیں بھی میدان میں ہیں! گویا سب اسلام کی خدمت کررہی ہیں اور زیادہ خدمت کرنے کے لیے اقتدار میں آنا چاہتی ہیں!
ہم پاکستانی اسلام کے ساتھ کس قدر مخلص ہیں اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ رمضان کی آمد پر ہمارے تاجر بھائی (سوائے تاجرانِ کتب کے) قیمتوں کو آسمان پر لے جاتے ہیں! غیرمسلم ملکوں میں کرسمس پر سیلیں لگتی ہیں اور اب تو رمضان اور عید پر بھی ان ملکوں میں قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں۔ مگر ہمارے ملک میں‘ جہاں لوگ مذہب کے اس قدر دلدادہ ہیں کہ برقع پر عربی رسم الخط میں حلوے کا لفظ بھی نظر آجائے تو برقع پوش کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں‘ رمضان اور عید پر ناجائز نفع خوری انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ ایک ہفتے میں وفاقی دارالحکومت میں سبزیوں کی قیمت میں فی کلو ستر روپے سے زیادہ کا اضافہ کیا گیا۔ لاہور میں لہسن آٹھ سو روپے کلو تک جا پہنچا! طرفہ تماشا یہ ہوا کہ برسرِ اقتدار جماعت کے ایک سرکردہ رہنما نے دہائی دی ہے کہ رمضان کے آنے سے پہلے ذخیرہ اندوز متحرک ہو گئے اور یہ کہ بازاروں میں ڈاکو بیٹھے ہوئے ہیں! اس پر ایک پرانا لطیفہ یاد آگیا جو مولانا احتشام الحق تھانوی مرحوم نے تقریر کرتے ہوئے سنایا تھا۔ مغلوں کے دورِ زوال کی بات ہے۔ ایک شہزادے کی ساری پرورش حرم سرا کے اندر ہوئی۔ یہاں تک کہ شہزادیوں‘ کنیزوں اور خواجہ سراؤں کے درمیان ہی وہ جوان ہوا۔ ایک دن محل میں سانپ آگھسا۔ جہاں عورتوں نے شور مچایا کہ کسی مرد کو بلاؤ تو وہاں شہزادہ بھی کہہ رہا تھا کہ کسی مرد کو بلاؤ! جہاں عام آدمی رو رو کر فریاد کر رہا ہے کہ بازاروں میں ڈاکو بیٹھے ہوئے ہیں‘ وہاں اگر حکومتی عمائدین بھی یہی کہہ رہے ہوں تو لطیفہ تو بنتا ہے! ارے بھئی! حکومت آپ کی ہے۔ آپ ڈاکوؤں‘ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع کھانے والوں کو پکڑیے! اس کام کے لیے تو آپ کو امریکہ کی‘ یا مقتدرہ کی اجازت کی ضرورت نہیں! حکومت کا سب سے بڑا فریضہ بھی یہی ہے کہ عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے! ہر سال یہی تماشا ہوتا ہے! ادھر رمضان کی آمد ہوئی اُدھر قیمتیں آسمان تک پہنچ گئیں۔ عید سے پہلے بچوں کے ملبوسات اور جوتوں کی قیمتیں جس سفاکی اور سنگدلی سے بڑھائی جاتی ہیں اس پر بد دعائیں نہ دی جائیں تو کیا کیا جائے! آخر ہم کیسے مسلمان ہیں؟ ایک طرف شہد سے لے کر نہاری تک‘ ہر شے کے برانڈ کو مذہب کا ٹچ دیتے ہیں‘ دوسری طرف مسلمانوں ہی کا خون چوستے ہیں! گویا مذہب سے ہماری محبت محض دکھاوے کی ہے۔ زندگی ہم نے اپنی مرضی کے مطابق بسر کرنی ہے۔ یعنی صدقے جاؤں مگر کام نہ آؤں!! ہم لوگ مجموعۂ اضداد ہیں! اتنی بلندی اور اتنی پستی کہ دوسرے دیکھ کر عبرت پکڑیں! سوال یہ ہے کہ حکومت کا کیا کردار ہے؟ کیا حکومت صرف ٹک ٹک دیدم‘ دم نہ کشیدم پر عمل کرنے کے لیے ہے؟ روایت ہے کہ سعودی بادشاہ عبد العزیز بن سعود کو معلوم ہوا کہ کچھ نانبائی روٹی کا وزن کم کر دیتے ہیں۔ بھیس بدل کر تنور پر گئے۔ روٹی خریدی۔ وزن کرایا۔ وزن کم تھا! وہیں نانبائی کو تنور میں ڈالنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد روٹی کا وزن کبھی کم نہ ہوا۔ معلوم نہیں یہ روایت کہاں تک درست ہے! مگر یہ طے ہے کہ قانون شکنی انسانی سرشت میں داخل ہے اور اس کا علاج سزاہے۔ ایسی سزا جس کا جسمانی یا مالی یا سماجی درد محسوس ہو!
سنگا پور پہلے ملا ئیشیا کا حصہ تھا۔ الگ ہوا۔ ترقی میں ملا ئیشیا سے آگے نکل گیا۔ ایک وجہ‘ اس ترقی کی‘ قانون کا بے رحمانہ نفاذ بھی ہے۔ سنگا پور کے باشندے بارڈر پار کرکے ملائیشیا پہنچتے ہیں تو قانون توڑ کر انہیں مزہ آتا ہے کیونکہ ملائیشیا میں سزائیں سخت نہیں! ٹریفک کی خلاف ورزی کی مثال لے لیجیے۔ ہمارے ملک میں چالان ہو جائے تو جرمانہ مضحکہ خیز حد تک کم ہے۔ مجرم اسے مذاق سمجھتے ہیں۔ آسٹریلیا میں ایک خاتون گاڑی چلا رہی تھی۔ اس کا چھوٹا بچہ پچھلی نشست پر کارسیٹ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اسے بیلٹ لگی ہوئی تھی۔ ہاتھ سے اس نے بیلٹ کا وہ حصہ جو کندھے پر تھا‘ نیچے کر دیا۔ ٹریفک والے نے روک لیا اور ماں کو بتایا کہ خلاف ورزی ہوئی ہے۔ ماں کا عذر معقول تھا کہ وہ گاڑی چلا رہی تھی اور مُڑ کر پیچھے نہیں دیکھ سکتی تھی۔ مگر ٹریفک والے کی دلیل تھی کہ خلاف ورزی بہر طور ہوئی ہے۔ اس نے چار سو ڈالر کا جرمانہ کیا جو وہاں کے لحاظ سے بھی ایک خطیر رقم ہے! ہم سب جانتے ہیں کہ علاء الدین خلجی کے زمانے میں کم تولنے کی بیماری عام ہو گئی تھی۔ اس نے قانون بنایا کہ کم تولنے والے کے جسم سے گوشت کاٹ کر وزن کی کمی پوری کی جائے گی! کچھ لوگوں کو سزا دی گئی۔ اس کے بعد کس کی ہمت تھی کہ خلاف ورزی کرتا! شیر شاہ سوری کا کڑا حکم تھا کہ لشکر جہاں پڑاؤ ڈالے گا‘ فصل کو ہاتھ تک نہیں لگائے گا۔ ایک سپاہی نے خلاف ورزی کی تو اس کا کان کاٹ کر اسے لشکر میں پھرایا گیا تاکہ دوسرے لشکری عبرت پکڑیں! حکومت چاہے تو کیا نہیں ہو سکتا۔ نیت درست ہو تو راستے کئی نکل آتے ہیں۔ رمضان سے پہلے کی قیمتیں ہر دکان کے باہر بورڈ پر درج ہونی چاہئیں اور رمضان کے دوران کی بھی! یہ پولیس‘ جو ہزاروں کی تعداد میں اشرافیہ کے محلات پر پہرے دے رہی ہے‘ اسے وہاں سے ہٹا کر بازاروں میں تعینات کیا جائے جو قیمتوں پر کڑی نظر رکھے! مجسٹریٹ موقع پر موجود ہو جو وہیں‘ اسی وقت سزا دے اور سزا بھی ایسی کہ دوسرے دیکھ کر عبرت پڑیں! 
بیچارے صارفین‘ سوشل میڈیا پر بائیکاٹ کی ترغیب دیتے رہتے ہیں مگر بائیکاٹ مسئلے کا حل نہیں! ٹوپی بڑی ہو تو سر نہیں کاٹا جاتا بلکہ ٹوپی چھوٹی کی جاتی ہے۔ مہنگائی تاجر کرے اور بائیکاٹ صارف کرے! کیا اس سے بہتر یہ نہیں کہ مہنگائی کو اس کے وقوع سے پہلے روکا جائے! 
غور کیجیے! جتنی من مانی ہمارے ملک میں تاجر برادری کر رہی ہے‘ اتنی من مانی کوئی دوسرا طبقہ کر رہا ہے نہ کر سکتا ہے! ٹیکس یہ چوری کرتے ہیں۔ ٹیکس اہلکاروں کو کرپشن پر یہ لگاتے ہیں۔ اوقات ان کے حد سے زیادہ غیرمنطقی ہیں۔ ظہر کے بعد بازار کھلتے ہیں اور نصف شب تک توانائی کے پرخچے اڑا تے ہیں۔ تجاوزات کے یہ مجرم ہیں! رسید‘ بِن مانگے یہ نہیں دیتے! خریدا ہوا مال یہ واپس نہیں لیتے! بعض تو تبدیل تک نہیں کرتے! رمضان آئے تو ظلم کی انتہا کر دیتے ہیں! فوج سے لے کر بیوروکریسی تک‘ سیاست دانوں سے لے کر گھروں میں بیٹھی ہوئی خواتین تک‘ ہر فرد‘ ہر طبقہ‘ کسی نہ کسی قانون کا پابند ہے۔ صرف تاجر ہیں جو کسی زمینی یا آسمانی قانون کو خاطر میں نہیں لاتے! قانون ایک کو پکڑے تو کوّوں کی طرح سب اکٹھے ہو جاتے ہیں! گاہک جو‘ ان کے رزق کا باعث بنتا ہے‘ اُسی گاہک کی عزت نہیں کرتے! بعض کا سلوک تو بے حد کھردرا ہوتا ہے! صحیح معنوں میں اگر کوئی طبقہ مادر پدر آزاد ہے تو تاجروں کا طبقہ ہے!

Tuesday, March 12, 2024

معاملہ اصل زر اور سود کا

نانی نے نرسری کا چکر لگانا تھا۔ 

ان کا ایک ہی شوق ہے۔ پودے‘ پودے اور پودے! پھل پھول اور سبزیاں! سرکاری گھروں کے آگے پیچھے جگہ کافی ہوتی تھی‘ سو موصوفہ سال بھر کا پیاز اور لہسن اُگا لیتی تھیں۔ اب جگہ زیادہ نہیں ہے پھر بھی خوبانی اور مالٹوں سے لے کر پالک اور بھنڈی تک‘ سپلائی اپنے ہی صحن سے ہو جاتی ہے۔ دسہری آم بھی دو پیٹیوں کے برابر ہو ہی جاتے ہیں۔ پہلے تو کدال سے کھدائی اور کُھرپے سے گوڈی بھی خود ہی کرتی تھیں۔ کیاریاں بھی خود بناتی تھیں۔ اب یہ مشقت باغبان کرتا ہے مگر نگرانی اس کی کڑی ہوتی ہے۔ سرگرمیاں اسی نوع کی ہورہی ہوتی ہیں۔ کھاد منگوائی جارہی ہے۔ مٹی آ رہی ہے۔ گھاس لگ رہی ہے۔ گملے پینٹ ہو رہے ہیں۔ بیلیں رسیوں سے باندھی جا رہی ہیں۔ کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ ہو رہا ہے۔ کہتی ہیں: میرے پودے میرے ساتھ باتیں کر تے ہیں! وہ جو مجید امجد نے کہا تھا۔ ع کاش میں تیرے بُنِ گوش کا بندہ ہوتا! تو میں کہا کرتا ہوں: کاش ہم پودے ہوتے!
جس دن کی بات ہو رہی ہے اس دن نرسری جا رہی تھیں تو رُستم کو بھی ساتھ لے گئیں! پیسے جتنے پاس تھے‘ پودوں پر خرچ ہو چکے تو رستم نے ایک طوطا دیکھ لیا۔ پلاسٹک آف پیرس سے یا مٹی سے‘ یا پتا نہیں کس چیز سے بنایا گیا تھا۔ رستم مچل گیا اور مطالبہ کیا کہ اسے لے کر دیا جائے۔قیمت پوچھی گئی۔ ایک ہزار روپے تھی! نانی کے پاس اب صرف پانچ سو تھے۔ نرسری والا آٹھ سو سے نیچے نہ اُترا۔ ڈرائیور کے پاس بھی‘ بقول اُس کے‘ پیسے نہ تھے۔ اس پر وہ کہانی یاد آرہی ہے۔ایک امیر زادے کو سکول میں کہا گیا کہ مفلسی پر کہانی لکھو! اس نے لکھا کہ ایک شخص بہت غر یب تھا۔ اس کا مالی‘ باورچی‘ چوکیدار‘ خاکروب‘ ڈرائیور سب غریب تھے۔ ہمارا بھی یہی حال ہے۔پیسے ہمارے پاس ہوتے ہیں نہ ہمارے کوچوان کے پاس! میں ایک تقریب کے سلسلے میں مانسہرہ گیا ہوا تھا۔ رات گئے واپس آیا تو بتایا گیا کہ رستم نرسری سے روتا سسکتا بلکتا‘ طوطا طوطاکہتا واپس آیا۔ گھر آکر بھی یہی رٹ لگائے رکھی اور روتے روتے ہی سویا۔ سارا قصہ سنا تو یوں لگا جیسے حلق میں کوئی نوکدار سی شے پھنس گئی ہے۔ عشا کی نماز کے دوران بھی یہی خیال آتا رہا۔رات کو دیر سے سونے کی عادتِ بد‘ دائمی‘ ہے۔ ڈاکٹر یوسف حسین خان ( ڈاکٹر ذاکر حسین خان کے‘ جو بھارت کے صدر رہے‘ بھائی ) کی خود نوشت زیرِ مطالعہ تھی۔پڑھنے کی کوشش کی۔ کچھ پلّے نہ پڑھا۔ ذہن کہیں اور تھا۔ جو صفحہ الٹتا‘ دو سالہ رستم کا روتا چہرا نظر آتا اور ساتھ ایک طوطا! پھر ہنری کسنجر کی تصنیف ''لیڈر شپ‘‘ اٹھائی۔ اس میں کسنجر نے چھ ہم عصر رہنماؤں کی سیاسی زندگی اور زندگی کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ کسنجر کے نقطۂ نظر سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر اس کی وسعتِ مطالعہ! اس کی یاد داشت! اس کی قوتِ تحریر! اس کا اندازِ بیان! توبہ! انسان تھا یا جن! میرے ذاتی خیال میں جو دو باب صدر ڈیگال اور صدر انور السادات پر ہیں‘ کمال کے ہیں! میں سنگا پور کے لی یؤان کیو والے باب پر تھا۔ مگر ذہن آنکھوں کا ساتھ دینے سے انکار کر رہا تھا۔ طبیعت میں عجیب بے چینی اور انتشار تھا۔ کوشش کی کہ رستم اور اس کے حاصل نہ ہونے والے طوطے کا خیال جھٹک دوں مگر اس کوشش میں کامیابی نہ مل سکی۔ ٹیبل لیمپ بجھایا اور آنکھیں بند کر کے دراز ہو گیا۔ نیند نے کیا آنا تھا‘ باڈی کلاک پر ابھی نیند کا وقت ہی نہیں ہوا تھا۔ اب جب کتاب بھی سامنے نہ تھی‘ دھیان مکمل طور پر رستم کی طرف جا رہا تھا۔ اضطراب اور بے چینی میں کئی گھنٹے کروٹیں بدلتے گزر گئے۔ پتا نہیں کب‘ دبے پاؤں‘ نیند آئی۔ خواب میں رستم سے تو ملاقات نہ ہوئی‘ ہاں کئی رنگوں کے طوطے ضرور دکھا ئی دیے۔ صبح اٹھتے ہی پہلا سوال یہ تھا کہ ڈرائیور آ گیا ہے یا نہیں ؟ آیا ہوا تھا۔ اسے آٹھ سو روپے دیے اور کہا: جاکر طوطا لے آؤ۔ وہ نیک بخت لے آیا۔ رستم کو دیا تو اس کی حالت خوشی سے غیر ہو گئی! اسے سینے سے لگائے ادھر ادھر پھرنا شروع کر دیا۔ ساتھ طوطا طوطا کہتا جائے۔ کبھی اس کی سرخ چونچ پر ہاتھ لگائے‘ کبھی اس کے سبز پروں پر! رات آئی۔ طوطے کو اس نے ساتھ سلایا۔ صبح اٹھا تو اسے ہاتھ میں پکڑ کر چارپائی سے اترا! زندگی میں‘ رحمان اور رحیم مالک کا ہزار شکر‘ بہت مسرتیں دیکھی ہیں! اس تماشا گاہ ِدنیا میں بہت مزے اٹھائے ہیں۔ دیس دیس کے کھانے کھائے ہیں۔ ملک ملک کے مناظر دیکھے ہیں۔ خشکی اور تری پر سیر و تفریح کی ہے۔ مگر جو لذت‘ جو خوشی‘ جو سیری‘ جو اطمینان اور جو سکون رستم کو طوطا ہاتھ میں پکڑے ادھر ادھر بھاگتے دیکھ کر حاصل ہوا‘ لا جواب تھا! اپنے بچے جب چھوٹے تھے اور بازار میں کھلونوں کی ضد کر کے روتے تھے تو انہیں بہلا پھسلا کر کام چلایا جاتا تھا۔ گھر پہنچنے تک ان کی ضد اور رونا دھونا‘ ماں اور باپ‘ دونوں بھول چکے ہوتے تھے۔ مگر اب یہ جو بچوں کے بچے ہیں تو ان کی ہر خواہش‘ ہر مطالبہ بڑے میاں اور بڑی بی کے لیے پتھر پر لکیر کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں۔ ایک تو شاید یہ کہ اس عمر میں ہاتھ اتنا تنگ نہیں ہوتا جتنا پہلے ہوتا تھا! دوسرے یہ کہ اعصاب ذرا کمزور ہو جاتے ہیں۔ جوانی میں اعصاب مضبوط ہوتے ہیں۔ رونا دھونا بے اثر ثابت ہوتا ہے۔ اب بچوں کے بچوں کا رونا نہیں دیکھا جاتا!تیسری وجہ وہی ہے جو ہر شخص کہتا اور جانتا ہے کہ اصل کی نسبت سود زیادہ عزیز ہوتا ہے! بچوں کے بچے زیادہ عزیز ہوتے ہیں! اسی فقیر کا شعر ہے ؎
پوتوں نواسیوں کے چمن زار! واہ واہ!
اولاد پر بہشت کے میوے لگے ہوئے!
خلّاقِ عالم نے انسان کی زندگی کو مختلف ادوار میں بانٹا ہے۔ انسانی زندگی کے ہر دور کی خواہشات الگ ہیں! چھوٹے بچے کو کیا پسند ہے؟ پرفیوم کی خالی شیشی! ربڑ کا کھلونا! چھوٹی سی ٹارچ‘ استعمال شدہ سیل! جوں جوں انسان ایک دور سے دوسرے دور میں منتقل ہوتا جاتا ہے‘ اس کی دلچسپیاں ساتھ ساتھ بدلتی جاتی ہیں! جوانی میں بچے نہیں‘ کچھ اور چیزیں اچھی لگتی ہیں! پھر وہ دور آتا ہے کہ بچے‘ نہ صرف اپنے بلکہ دوسروں کے بھی پیارے لگتے ہیں! گفتگو کے موضوعات دیکھ لیجیے۔ ساٹھ کے اوپر کے چار افراد جہاں مل بیٹھیں گے‘ آنکھوں کے آپریشن کی باتیں ہونے لگیں گی اور ساتھ ہی پوتوں‘ پوتیوں اور نواسوں اور نواسیوں کی!! ماں باپ جب کسی تقریب میں جا رہے ہوتے ہیں اور بچوں کو ساتھ چلنے کے لیے حکم دیتے ہیں تو بچے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ وہاں ان کی عمر کا کوئی بچہ نہیں ہو گا اور یہ کہ وہ وہاں بور ہوں گے! بچوں کی اس بات میں وزن ہے۔ ہو سکے تو انہیں مجبور نہیں کرنا چاہئے بشرطیکہ ماں باپ کے چلے جانے کے بعد وہ گھر میں محفوظ ہوں!
بچوں اور بوڑھوں کی باہمی دوستی اور وفاداری قدرت کا ایک معجزہ ہے۔یہ صرف بچے ہیں جو نانا نانی‘ دادا دادی کی ہر بات کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کا سب سے زیادہ انتظار اُنہی کو ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ سیر کو جانا اور ان کے ساتھ سونا انہیں پسند ہوتا ہے۔ گاڑی میں بیٹھنا ہو تو کہیں گے میں نے دادا ابو کے ساتھ بیٹھنا ہے۔ سکول جاتے وقت کہہ جاتے ہیں کہ چھٹی کے وقت دادا ( یا نانا) ہی لینے آئیں! اور یہ دادا دادی ‘نانا نانی ہیں جو بچوں کی ہر بات غور سے سنتے ہیں۔ دن رات ان کی سفارشیں کرتے ہیں اور ان کے ماں باپ سے طعنے سنتے ہیں کہ آپ نے انہیں خراب کر دیا ہے!!

Monday, March 11, 2024

یہ کون ہے جو ملک کو بدنام کر رہا ہے؟

پہلے ہی پاکستان پر دہشت گردی کا دھبہ لگا ہوا ہے۔ اوپر سے دن دہاڑے وفاقی دارالحکومت میں راستے بند کیے جا رہے ہیں! وہ بھی اسلام آباد کے عین دل میں!! ایک طرف پنج ستارہ ہوٹل ہے جہاں غیرملکی ٹھہرتے ہیں! دوسری طرف ڈپلومیٹک انکلیو ہے جہاں سفارت خانے ہیں۔ تیسری طرف مرکزی سیکرٹریٹ‘ سپریم کورٹ اور اہم وفاقی دفاتر ہیں۔ چوتھی طرف کنونشن سنٹر ہے۔ ہر طرف پولیس کھڑی ہے۔ ٹریفک رُکی ہوئی ہے۔ لوگ بے بس ہیں۔ تماشا لگا ہوا ہے!

یہ کس کے اونچے دماغ نے فیصلہ کیا ہے کہ کرکٹ ٹیموں کو اُس ہوٹل میں ٹھہرایا جائے جو وفاقی دارالحکومت کے عین قلب میں واقع ہے؟ اس سے زیادہ غیردانشمندانہ فیصلہ کیا ہو سکتا تھا۔ یہ ''غیر دانشمندانہ‘‘ کا لفظ تو مجبوراً لکھا ہے‘ جو لفظ لکھنا چاہتا تھا اس کی ایڈیٹر نے اجازت نہیں دینا تھی اور وہ لفظ آپ سمجھ گئے ہوں گے!! قربان جائیے اس عقل و دانش کے۔ جڑواں شہروں میں بیسیوں‘ درجنوں ایسے ٹھکانے ہیں جو مصروف شاہراہوں سے ہٹ کر واقع ہیں۔ مسلح افواج کے میس ہیں۔ محفوظ گوشوں میں واقع اور سکیورٹی سے آراستہ! بیسیوں محکموں کے گیسٹ ہاؤسز ہیں! پرائیویٹ مہمان خانے ہیں! ان میں سے کہیں بھی کھلاڑیوں کو ٹھہرایا جا سکتا تھا مگر چونکہ دنیا کو پیغام دینا تھا کہ ہمارے ملک میں ہماری اپنی ٹیمیں محفوظ نہیں اس لیے ایسی جگہ پر ٹھہرایا جہاں دنیا بھر کو یہ مبارک پیغام پہنچ سکے!! جس عالی دماغ نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے اس کی دور اندیشی کو سلام!!
تادمِ تحریر ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں! نگران حکومت نقارہ بجا کر کوچ کر چکی! نئے وزیراعظم حلف لے چکے مگر کابینہ ابھی تک وجود میں نہیں آئی۔ جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں‘ صدر کی حلف برداری کی خبریں چل رہی ہیں۔ اس کے بعد کابینہ بنے گی۔ سو لمحۂ موجود میں حکومت کا کوئی وجود نہیں۔ ایسی صورتحال میں بیورو کریسی ملک چلاتی ہے اور اپنی مرضی سے چلاتی ہے۔ بیورو کریسی کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ عوام پر کیا گزرے گی اور بیرونِ ملک پاکستان کی شہرت کو کتنا دھچکا لگے گا! عوامی نمائندوں کے مقابلے میں افسر شاہی کی وقعت وہی ہے جو دس کے مقابلے میں دو یا تین کی ہے۔ عوامی نمائندہ چِٹا ان پڑھ ہو تب بھی عوام کی نبض پر اس کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کے دن رات اپنے ووٹروں کے ساتھ گزرتے ہیں۔ تھانے میں کیا ہو رہا ہے؟ کچہری میں کیا چل رہا ہے؟ بازار کی کیا صورتحال ہے؟ عوامی نمائندے کو سب معلوم ہوتا ہے۔ اور بیورو کریسی؟؟ جس سطح پر بیورو کریسی فیصلے صادر کرتی ہے اس سطح کے بیورو کریٹ نے تو برسوں سے گھر کا سودا سلف ہی خود نہیں خریدا ہوتا! اسے کیا معلوم عام آدمی کس طرح زندگی بسر کر رہا ہے! وہ رات دن ماتحتوں کے حصار میں رہتا ہے۔ صبح آکر جیب سے کاغذ نکالتا ہے اور ماتحتوں کے سپرد کر دیتا ہے۔ یہ اس کے گھر کے کاموں والا کاغذ ہے۔ کاغذ جانیں اور ماتحت جانیں! اس کے گھر کی بجلی یا گیس یا فون یا پانی کا کوئی مسئلہ درپیش ہو تو سارے دفتر کی کیا‘ پورے محکمے کی دوڑیں لگ جاتی ہیں! اعلیٰ سطح کا بیورو کریٹ ایک ایسی دنیا میں رہتا ہے جس کا حقیقی دنیا سے دور کا تعلق بھی نہیں ہوتا! بس آنکھیں بند کیں اور حکم دے دیا کہ ٹیموں کو فلاں ہوٹل میں ٹھہراؤ اور راستے بند کر دو!
سکیورٹی کا تقاضا یہ ہے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو کہ کھلاڑیوں کا قیام کہاں ہے؟ یہ کامن سینس کی بات ہے! حیرت ہے ساری دنیا کو بتایا جا رہا ہے کہ یہاں‘ اس ہوٹل میں کھلاڑی ٹھہرے ہوئے ہیں‘ اسی لیے ہم اس کے ارد گرد کی شاہراہوں کو بند کر دیتے ہیں۔ یعنی آ بیل مجھے مار! اس سے وہ آدمی یاد آرہا ہے جس نے بینک سے بھاری کیش نکلوایا‘ بیگ میں ڈالا‘ باہر نکل کر بیگ کو سینے سے بھینچ کر لگا لیا اور ساتھ ہی ادھر ادھر‘ دائیں بائیں بار بار یوں دیکھ رہا ہے کہ ہر دیکھنے والا جان جاتا ہے کہ یہ شخص بیگ میں کوئی قیمتی چیز لیے جا رہا ہے۔ یعنی ڈاکوؤں اور اٹھائی گیروں کے لیے دعوتِ عام ہے!! اب بھی آکر کوئی بیگ چھین نہیں رہا تو اس کا اپنا قصور ہے۔ بیگ کا مالک تو چھیننے والوں کو زبانِ حال سے بلاتا پھر رہا ہے!
صدیوں کے تجربوں کے بعد ترقی یافتہ ملک اس نتیجے پر پہنچے کہ شہر کا نظم و نسق چلانے کے لیے بیورو کریٹ نہیں بلکہ عوام کا منتخب کردہ میئر بہتر ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے صدیوں کی بادشاہت کے بعد معلوم ہوا کہ تخت نشینی کی جنگوں اور بھائیوں کو قتل کرنے کے بجائے حکمرانی کا فیصلہ ووٹوں سے کرایا جائے۔ میئر کو معلوم ہے کہ اس نے اگلا الیکشن لڑنا ہے اور یہ کہ اس کے سیاسی مخالف اسے مسلسل جانچ رہے ہیں اور ایک لحاظ سے نگرانی کر رہے ہیں۔ اس نگرانی کی وجہ سے میئر صراطِ مستقیم پر رہتا ہے۔ عوام سے اس کا براہِ راست رابطہ رہتا ہے۔ تعلق ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ وفاقی دارالحکومت کو میئر نصیب ہوا تھا‘ بہت سے اس زمانے میں اچھے کام ہوئے۔ اس کے بعد سے پھر بیورو کریسی کی لمبی اندھیری رات کا راج ہے۔ شہر افسر شاہی کے تصرف میں ہے۔ ترقیاتی ادارے کا سربراہ ہے یا چیف کمشنر‘ یا دونوں مناصب ایک ہی افسر کے پاس ہیں‘ عوام سے رابطہ صفر ہے۔ عام شہری ملاقات تو کیا کرے گا‘ فون پر بات کرنا بھی ناممکن ہے۔ نوکر شاہی کو خول میں بند رہنے کی عادت ہے۔ کہاں وہ روایات کہ شہر کے والی بھیس بدل کر گلیوں بازاروں میں پھرتے تھے اور حالات سے فرسٹ ہینڈ آگاہی پاتے تھے!!
یقینا افسر شاہی میں فرشتہ صفت افراد بھی ہیں مگر آٹے میں نمک کے برابر! یہ اور بات کہ سیاسی مداخلت ایسے افسروں کو دلجمعی سے کام ہی نہیں کرنے دیتی! اس لکھنے والے کو وفاق‘ پنجاب اور خیبر پختونخوا‘ تینوں کی بیورو کریسی کا تجربہ ہے اور عمیق مشاہدہ بھی! سچ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں بیوروکریسی کے دروازے عام لوگوں کے لیے کھلے ہوتے ہیں۔ افسر وہاں پہنچ سے باہر نہیں ہوتے! میں نے بڑے بڑے افسروں کو اپنے ڈرائیور کا کھانا اندر سے لاتے دیکھا ہے۔ ملازم ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ پنجاب میں ڈی سی اور کمشنر تو دور کی بات ہے‘ پٹواری سے مل کر دکھا دیجیے! وفاقی دارالحکومت نزدیک تو پشاور کے ہے مگر بیورو کریسی کا رنگ ڈھنگ لاہور سے ملتا جلتا ہے! خیبر پختونخوا میں افسر فرنگی لباس بھی کم ہی پہنتے ہیں! ان کے اور عام آدمی کے لباس میں کوئی فرق نہیں۔ افسر انگریزی کا رعب جھاڑتے ہیں نہ اردو بولتے ہیں۔ عام آدمی سے ٹھیک اسی کی زبان میں‘ اسی کے لہجے میں بات کرتے ہیں! قبائلی کلچر نے غلامانہ ذہنیت سے مات نہیں کھائی۔ افسروں کو احساسِ برتری ہے نہ عام آدمی کو احساسِ کم تری۔ ( یوں تو احساسِ برتری اصل میں احساسِ کمتری ہی ہوتا ہے!!)۔ علامہ اقبال کی نظم ''خوشحال خان کی وصیت‘‘ کے ایک شعر میں یہی نکتہ بیان کیا گیا ہے؛
مغل سے کسی طرح بھی کم نہیں
کہستاں کا یہ بچۂ ارجمند
جب تک وفاقی دارالحکومت نوکر شاہی کی بے نیاز‘ مست آمریت سے نجات نہیں پاتا‘ اس قسم کی حماقتیں ظاہر ہوتی رہیں گی۔ شہر کے قلب میں شاہراہیں بند ہوتی رہیں گی! بیرونی دنیا کو پیغام جاتا رہے گا کہ دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ حسرت موہانی نے شاید ہمارے لیے ہی کہا تھا ؎
تابہ کجا ہوں دراز سلسلہ ہائے فریب
ضبط کی لوگوں میں تاب‘ دیکھیے کب تک رہے
حسرتِ آزاد پر جورِ غلامانِ وقت
ازرہِ ظلم و عتاب ‘ دیکھیے‘ کب تک رہے

Thursday, March 07, 2024

جانا پڑا رقیب کے در پر

ایک آسودہ حال شخص اپنے محل میں دسترخوان پر بیٹھا اپنی بیوی کے ہمراہ کھانا کھا رہا تھا۔انواع و اقسام کے مشروبات اور ماکولات سامنے رکھے تھے۔ دروازے سے ایک فقیر کی صدا آئی۔ امیر شخص نے بیوی سے کہا‘ فقیر کو کھانا دے آؤ۔ بیوی بہت سا کھانا لے کر باہر گئی۔ وہاں سے اس کی چیخوں کی آواز آئی۔واپس اندر آئی تو اس کی حالت عجیب سی ہو رہی تھی۔ شوہر کے پوچھنے پر اس نے جو بات بتائی ‘ وہ ہوشربا تھی۔اس نے کہا کہ یہ فقیر تو میرا سابقہ شوہر نکلا! پھر اس نے تفصیل بتائی کہ اس کا یہ سابقہ شوہر بہت مالدار تھا۔ ایک دن کھانا کھا رہا تھا تو ایک فقیر نے دروازے پر آکر کھانا مانگا۔ یہ باہر گیا اور فقیر کو مارا پیٹا اور اس کی خوب تذلیل کی۔ کچھ عرصہ بعد اس کا ستارہ گردش میں آ گیا۔ کاروبار فیل ہو گیا۔ جائداد بِک گئی۔کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گیا۔ پھر مجھے بھی چھوڑ دیا اور غائب ہو گیا۔ آج اسے مانگتے دیکھ کر میں کانپ اُٹھی اور افسوس اور حیرت سے چیخ نکل گئی۔ جب بیوی یہ سب کچھ بیان کر چکی تو اس کے شوہر نے کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات بتاتا ہوں۔ میں ہی وہ فقیر ہوں جس کی اس نے تذلیل کی تھی!
یہ ایک بہت ہی مشہور حکایت ہے۔ صدیوں کے تجربے اور مشاہدے نے بتایا ہے کہ جس کی تذلیل کی جائے‘ ایک نہ ایک دن اسی کے دروازے پر جانا پڑتا ہے۔ایسے ایسے واقعات ہیں کہ انسان حیرت سے گنگ ہو جاتا ہے۔ حالات یوں پلٹا کھاتے ہیں کہ سوالی سیٹھ بن جاتا ہے اور سیٹھ سوالی! جس دن خان صاحب نے اچکزئی صاحب کی توہین کی تھی اور ان کی نقل لگاتے ہوئے چادر اوڑھ کر ٹھٹھا کیا تھا‘ اُس دن کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ خان صاحب اپنے ساتھیوں کو اچکزئی صاحب کے دروازے پر صدا لگانے کے لیے بھیجیں گے۔ اچکزئی صاحب نے ماضی کی تلخیوں کا ذکر نہ کر کے‘ کچھ جتائے بغیر ‘ تحریک انصاف کے لیے گھر اور دل ‘ دونوں کے دروازے کھول دیے۔یہ ان کی کشادہ دلی اور اعلیٰ ظرفی ہے۔ کاش ہمارے اہلِ سیاست اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں۔اس وقت سیاسی فضا جتنی مسموم ہے ‘ کبھی نہ تھی۔ پولرائزیشن سیاستدانوں سے ہو کر نیچے ‘ عوام تک پہنچ چکی ہے۔خاندان تقسیم ہو گئے ہیں۔ پرانی دوستیاں داؤ پر لگ گئی ہیں۔ یہ صورت حال پریشان کن ہے۔
اور کیا کوئی تصور کر سکتا تھا کہ ایک دن خان صاحب کے ایلچی مولانا کی ڈیوڑھی میں کھڑے پائے جائیں گے ؟ خان صاحب نے مولانا کا نام بگاڑنے سے لے کر ان کی تضحیک کرنے تک ‘ سب کچھ کیا۔ مولانا تقی عثمانی صاحب سے لے کر چودھری شجاعت حسین تک ہر بزرگ نے سمجھایا کہ نام بگاڑنا قرآنی حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ''آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو! ‘‘ ( القرآن )۔ مگر خان صاحب کب کسی کی سنتے یا مانگتے ہیں! ان کا ایک مخصوص سٹائل ہے۔جس قسم کی زبان وہ استعمال کرتے ہیں‘بد قسمتی سے منڈی میں اسی کی مانگ ہے۔ 
وقت بھی عجیب ستم ظریفیاں دکھاتا ہے! جس کا پیٹ پھاڑنے کا اعلان کیا جائے‘ اس کے لیے‘ اپنی نگرانی میں ‘ چوہتر (74 ) ڈشیں پکوانا پڑتی ہیں ! جسے سب سے بڑا ڈاکو کہا جائے ‘ حکومت بنانے کے لیے‘ اسے ساتھ ملانا پڑ جاتا ہے۔ جسے چپڑاسی لگانے کے قابل بھی نہ سمجھا جائے اور اس کا اعلان بھی کیا جائے اسے داخلہ جیسی ٹاپ کلاس وزارت سے نوازنا پڑ جاتا ہے! کیا عجب خان صاحب کو کسی دن شریفوں اور زرداریوں کی حمایت کیلئے بھی دستِ سوال دراز کرنا پڑ جائے! بقول انشا 
جذبۂ عشق سلامت ہے تو ان شاء اللہ
کچے دھاگے سے چلے آئیں گے سرکار بندھے!
اسی لیے بزرگ ہمیشہ سمجھاتے ہیں کہ کسی کے بارے میں ایسی بات نہیں کرنی چاہیے‘ سامنے نہ پیٹھ پیچھے‘ جس پر بعد میں معذرت کرنی پڑے! تاہم خان صاحب کی جو شخصیت ہے اور جو ان کا مزاج اور افتاد طبع ہے‘ لگتا نہیں کہ انہوں نے کبھی کسی سے معذرت کی ہو !
عمر ایوب صاحب سے کسی نے ان کے دادا کے حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔اول تو یہ سوال ہی ناروا تھا۔دادا کے اعمال کی ذمہ داری پوتے پر کیسے ڈالی جا سکتی ہے اور اس سے جواب طلبی کا کیا جواز ہے؟ ایوب خان نے مارشل لاء 1958ء میں لگایا۔ عمر ایوب اس کے بارہ سال بعد پیدا ہوئے۔ لیکن اگر کوئی ایسا سوال پوچھ ہی لے تو جواب پوری دیانتداری سے دینا چاہیے! خواجہ آصف کے والد خواجہ صفدر مرحوم جنرل ضیا کے ساتھیوں میں سے تھے۔ جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے خواجہ آصف نے اس بات پر معذرت کی تھی یا اظہارِ افسوس کیا تھا۔ عمر ایوب صاحب اور اعجاز الحق صاحب کو چاہیے کہ کم از کم یہ تسلیم کر لیں کہ ایک کے دادا نے اور دوسرے کے والد نے غلطی کی تھی اور یہ کہ انہیں مارشل لاء نہیں لگانا چاہیے تھا۔
حقیقت تسلیم کر لینے سے ان دونوں حضرات کے مرتبے میں کمی نہیں آئے گی بلکہ ان کی شہرت اور وقار میں اضافہ ہو گا! عوام کی نظروں میں ان کا اعتبار بڑھے گا! ویسے عمر ایوب کی استقامت پر حیرت ہوتی ہے۔ وہ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوئے۔ ناز و نعم میں پر ورش پائی۔ ان جیسے شہزادے سے یہ توقع نہ تھی کہ گرفتاری سے بچنے کے لیے پاپڑ بیلیں گے اور مصیبت اور مشقت بر داشت کر لیں گے۔ مگر انہوں نے استقامت دکھائی اور خان صاحب کا ساتھ نہ چھوڑا۔ ہم پی ٹی آئی کے حامی نہیں مگر سچ بہر طور سچ ہے۔عمر ایوب سیماب صفت ماضی کے باوجود ڈٹے رہے۔ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی! شامل تو تحریک انصاف میں اعجاز الحق بھی ہوئے تھے۔مگر وزیر اعظم کے حالیہ انتخاب میں انہوں نے ووٹ شہباز شریف کو دیا ہے۔ ماضی میں وہ مسلم لیگ (ق) میں بھی رہے ہیں۔
تحریک انصاف کو احتجاج کا حق یقینا حاصل ہے۔ مگر ان کا یہ عزم کہ اسمبلی اور حکومت کو چلنے نہیں دیں گے مبنی بر انصاف نہیں۔اس پالیسی سے بد انتظامی اور بد امنی جنم لے گی۔ نقصان عوام کا ہو گا۔(ن) لیگ اور اس کے اتحادی تو اشرافیہ میں سے ہیں۔انہیں کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔پی ٹی آئی کو سسٹم سے باہر نکل جانے پر پہلے بھی نقصان ہوا ہے‘ آئندہ بھی نقصان ہی ہو گا۔ اگر وہ اداروں سے بدظن ہیں تو پارلیمان کو تو اہمیت دیں جس کا وہ خود بھی حصہ ہیں۔ مسائل حل کرنے کے لیے اور جھگڑے نمٹانے کے لیے پارلیمنٹ کے ارکان کی کمیٹیاں بنائیں جس میں تمام جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں۔یہ پالیسی کہ مل کر نہیں بیٹھنااور بات نہیں کرنی بند دروازوں کی طرف جاتی ہے۔ ایک دوسرے سے جنگ کرنے والے ممالک بھی باہمی مذاکرات کر لیتے ہیں! اور یہ تو سب ہم وطن ہیں!
پس نوشت۔ بچوں کے لیے میرا لکھا ہوا ناول '' ٹِکلو کے کارنامے‘‘ ( با تصویر) شائع ہو گیا ہے۔دس سال سے لے کر اَسی سال تک کے بچے اس سے لطف اندوز ہوں گے۔ کوشش کی گئی ہے کہ بچوں کو پاکستان اور دوسرے ملکوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل ہوں اور اُردو زبان پر بھی ان کی گرفت مضبوط ہو سکے۔ ناول کی رونمائی کی تقریب اس کے پبلشر بک کارنر جہلم کے ہاں دس مارچ کو ہو رہی ہے۔

Tuesday, March 05, 2024

اس خزانے کو کون چھاپے گا؟ … (2)


کل ہم نے جعفر طاہر کی معرکہ آرا اور تاریخ ساز تصنیف ''ہفت کشور‘‘ کے حوالے سے چار ملکوں ( ترکی‘ مصر‘ عرب اور عراق) کے متعلق بات کی تھی۔ کتاب کا پانچواں باب ایران کے بارے میں ہے۔ جعفر طاہر نے قدیم تاریخ سے لے کر عہدِ جدید تک ایران کی تاریخ کو دلچسپ انداز میں نظم کیا۔ ایران حسن و جمال کا‘ پھولوں اور چشموں کا‘ قالینوں اور توشکوں کا اور شاعروں اور محبوبوں کا ملک ہے۔ جعفر طاہر کا اس سلسلے میں حُسنِ بیان دیکھیے ؎
دشت در دشت یہ آہو روِشانِ پُرکار
یہ طلسمات سے معمور ختن کیا کہنے
باغ در باغ نسیمِ طرب و بادِ شمال
یہ فرو فالِ حسینانِ چمن کیا کہنے
تاک در تاک مچلتے ہوئے شیریں چشمے
مسکراتے ہوئے یہ کوہ و دمن کیا کہنے
آج تک تیرے حسینوں کا نہیں کوئی جواب
اے ستاروں کے بہاروں کے وطن کیا کہنے
فردوسی کا شاہنامہ ایرانی ثقافت کی جان ہے۔ رستم و سہراب کا قصہ فردوسی نے بے مثل انداز میں بیان کیا ہے۔ جعفر طاہر نے اس کا ذکر کیسے کیا ہے‘ ملاحظہ کیجیے ؎
یہ فردوسیٔ نامور کی زبانی؍
سنو داستانِ جنون و جوانی
عجب قصّۂ حسرت و درد ہے یہ؍ نرالی انوکھی ہے ساری کہانی
سمجھ لو کہ سہراب وہ نوجواں تھا؍ کوئی جس کا مدِّمقابل نہ ثانی
مگس کی طرح اس کے آگے زمانہ؍ کئی پہلوانوں کے پِتّے ہوں پانی
مگر باپ کو اپنے دیکھا نہیں تھا؍ ستم اس پہ احباب کی چھیڑ خانی
ہوا باپ کی جستجو میں روانہ؍ نہ تصویر دیکھی نہ مانگی نشانی
پھرا شہر در شہر اس آرزو میں؍ مہ و سال صحراؤں کی خاک چھانی
ملا باپ سے تو نہ پوچھو محبّو؍ پیامِ قضا بن گئی پہلوانی
الٰہی یہ کیا ہو گیا دو گھڑی میں؍ زمیں ہو گئی خون سے ارغوانی
وہ سینے میں رستم کا خنجر گڑا ہے؍ دریغا جوانی! دریغا جوانی
ایران سعدی اور حافظ کی سرزمین ہے ؎
یہ سعدی کے پُر نور کوچے‘ گلستاں کے اوراق‘ یہ بوستان و بہاراں
انہی شاہراہوں پہ کھیلا ہے وہ شہر یارِ غزل‘ وہ شہیدِ نگاراں
وہ سعدی کہ جس کا سخن آج بھی محفل و مدرسہ کے لیے آبرو ہے
حسینوں کا زیور‘ فقیروں کی دولت‘ تو مستوں کو صہبائے خوش کا سبو ہے
یہاں تجارتی کارواں آتے تھے اور ریشم و کمخواب سے لے کر گھوڑوں اور قالینوں تک‘ دنیا کی ہر شے یہاں بیچی اور خریدی جاتی تھی۔ پھر جعفر طاہر ترک خدوخال کا ذکر کرتے ہیں جو رومان پرور دریچوں کے پیچھے جام و سبو سے کھیل رہے ہیں۔ قباؤں میں بجلیاں سمٹی ہوئی ہیں۔ نقابوں کے اندر شعلوں جیسے رخسار ہیں۔ پھر عمر خیام کی بات کرتے ہیں جو حسن و جوانی کے اسرار سے آگاہ تھا اور زندگی کے بھید جس پر کھلتے تھے۔ اس کی رباعیاں عمرفانی کا نوحہ ہیں اور لمحۂ موجود سے حَظ اٹھانے کی تلقین کرتی ہیں۔ قلیان و قہوہ کی محفلیں منعقد ہوتی ہیں۔ پائلیں چھنکتی ہیں۔ شبنم برستی ہے۔ غمِ دو جہاں کو اس ماحول میں بھلا دیا جاتا ہے۔ پھر وہ مشہد میں امام رضا کے مقدس روضہ کا ذکر کرتے ہوئے دست بستہ ہو جاتے ہیں۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ اب سامنے اور ہی آستاں ہے۔ یہاں زمانہ باادب ہو کر حاضر ہوتا ہے۔ یہاں آنسوؤں سے وضو کیا جاتا ہے۔ یہاں کا ایک ایک ذرہ مقدس ہے۔ پھر وہ اصفہان نصف جہان کا قصیدہ کہتے ہیں جس کے باغات‘ محلات‘ قصر و ایواں اور عمارتوں کے ستون پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ جہاں حیران کر دینے والے مینار اور محراب ہیں۔ جہاں شہزادیاں چاندنی راتوں میں چوگان (پولو) کھیلتی ہیں۔ کہیں سرو و چنار کی چھاؤں ہے اور کہیں ستارہ جبیں نازنینیں دکھائی دیتی ہیں۔
شیر شاہ سوری نے جب ہمایوں سے تخت و تاج چھین لیا تو ہمایوں نے ایران کا رُخ کیا۔ اس کا پہلا پڑاؤ ہرات تھا۔ اس وقت شاہ طہماسپ صفوی ایران کا حکمران تھا۔ قزوین اس کا دارالحکومت تھا۔ طہماسپ نے ہمایوں کا ہرات میں فقید المثال استقبال کرایا۔ ہرات کے گورنر کو اس نے اس ضمن میں جو ہدایات دیں‘ ابو الفضل نے ''اکبر نامہ‘‘ میں یہ ہدایات نقل کی ہیں جو تیرہ صفحات پر مشتمل ہیں۔ ہمایوں کا وفادار مشیر بیرم خان طہماسپ کے دربار میں پہلے پہنچ چکا تھا۔ بیرم خان اور طہماسپ کے درمیان جو گفتگو ہوئی‘ اسے جعفر طاہر نے منظوم ڈرامے کی شکل دی ہے۔ یہ ڈرامہ بھی بہت دلچسپ ہے۔
جعفر طاہر نے جب یہ شہکار کتاب لکھی‘ اُس وقت مشرقی پاکستان‘ پاکستان کا حصہ تھا۔ پاکستان کے باب میں انہوں نے مشرقی پاکستانی ثقافت کا بھر پور تذکرہ کیا ہے۔ وہ ڈھاکہ کی ململ کا‘ باریسال کے چاول کا‘ منشی گنج کے کیلے کا‘ سلہٹ کے مالٹے کا‘ رنگ پور کے تمباکو کا‘ کُمیلا کے حقے کا اور پبنہ کے ٹیکسٹائل کا خاص طور پر ذکر کرتے ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز کا ذکر کرتے ہیں جب مسلمان ہندو اکثریت اور انگریز سامراج کے درمیان پِس رہے تھے۔ ؎
چھا گئی اس ملک پر یہ رات کیا؍ نور کا انجام ہے ظلمات کیا
مٹ گئی دلّی‘ اوَدھ برباد ہے؍ لُٹ گئے بازار کیا محلات کیا
گلشنِ اسلامیاں پامال ہے؍ باغ ہی باقی نہیں تو پات کیا
اس طرف سیّد اٹھا‘ حالی اٹھا؍ سر سلیم اللہ خاں کی بات کیا
کفر و دیں کے درمیاں اب ٹھن گئی؍ بنتے بنتے لیگ ملّت بن گئی
پاکستان کے باب میں ایک خاص تخلیق طویل بحر کی ایک نظم ہے جو جعفر طاہر کے شاعرانہ کمال کا مظہر ہے۔ صرف ایک شعر یہاں نقل کیا جاتا ہے ؎
گُل و گلزار کے اورنگِ ہمہ رنگ پہ یہ نغمہ و آہنگ مرے جھنگ و تلہ گنگ کی بہتی ہوئی مَے
طبلک و چنگ و مزامیر و دف و بربط و الغوزہ و طاؤس و گجر نادیہ طنبورہ و نَے
پھر پاکستان کو مخاطب کرکے کہتے ہیں ؎
تیرے نخل و نوا‘ تری آب و ہوا‘ ترے کھیت ہرے‘ تری گود بھرے
تری ریگِ تپاں کا جو آئے بیاں‘ روئے خَلق پہ مخملِ خواب چمکے
یہ اس عظیم ادبی عجوبے کی چند جھلکیاں تھیں۔ کل ہم نے اس حسرت کا اظہار کیا تھا کہ کاش کوئی پبلشر اس کی اشاعت کا بیڑہ اٹھائے۔ جہاں تک سرکاری ادبی اداروں کا تعلق ہے‘ ان سے یوں تو امید رکھنا عبث ہے مگر حسنِ اتفاق سے اس وقت دونوں بڑے اداروں کے سربراہ ادب کے خیر خواہ ہیں۔ مقتدرہ قومی زبان کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم مظہر محقق اور ادیب ہیں اور ادب دوست بھی۔ اکادمی ادبیات کی چیئر پرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف بھی میرٹ پر کام کرتی ہیں! کیا عجب ان دونوں اداروں میں سے کوئی ایک ہمت کرے اور اس نایاب ادب پارے کو از سرِ نو شائع کر دے!! بقول فراز ؎
دیکھ یہ میرے خواب ہیں‘ دیکھ یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حسابِ جاں بر سرِ عام رکھ دیا
(ختم)

Monday, March 04, 2024

اس خزانے کو کون چھاپے گا؟؟


ایک خزانہ ہے جو دفن ہے۔ کچھ اس سے بے خبر ہیں۔کچھ کھودنے کے لیے تیار نہیں!


جعفر طاہر 1917ء میں جھنگ میں پیدا ہوئے۔ فوج میں نان کمیشنڈ افسر رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ریڈیو سے وابستہ ہو گئے۔ 1977ء میں وفات پائی۔ رائٹرز گلڈ کب بنی‘ کیوں بنی‘ یہ ایک الگ قصہ ہے مگر اس کے ذریعے جعفر طاہر کا ایک ایسا شہکار ظہور پذیر ہوا جس کی اور کوئی مثال اُردو دنیا میں نہیں ملتی۔ یہ ان کی تصنیف ''ہفت کشور‘‘ ہے۔ اس پر انہیں 1962ء میں آدم جی ایوارڈ ملا۔ اس کتاب کا جو نسخہ میرے پاس ہے وہ جولائی 1962ء کا شائع شدہ ہے۔ پاکستان رائٹرز گلڈ کراچی نے اسے شائع کیا۔ میں نے اسے کراچی سے 31 جنوری 1974ء کو خریدا۔ اب یہ کتاب نایاب ہے۔ ایک ویب سائٹ پر موجود ہے مگر ڈاؤن لوڈ نہیں کی سکتی‘ پڑھنا بھی مشکل ہے کیونکہ یہ ویب سائٹ 

User-friendly

 نہیں۔
جن لوگوں نے ''ہفت کشور‘‘ کو کینٹوز 

(Canto)

 کا مجموعہ کہا ہے‘ صریحاً غلط کہا ہے۔ اس میں شاعری کی تمام اقسام موجود ہیں۔ غزل ہے اور نظم کی ساری اصناف ہیں۔ مثنوی‘ آزاد نظم‘ نظمِ معرّیٰ‘ پابند نظم‘ کینٹو‘ منظوم ڈرامہ! مثلث‘ مخمّس‘ مسدّس‘ یہاں تک کہ ترکیب بند اور ترجیع بند سے ملتے جلتے تجربے بھی ملتے ہیں! کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ ترکی‘ مصر‘ عرب‘ عراق‘ ایران‘ پاکستان اور الجزائر! ان ملکوں کی تاریخ‘ ثقافت‘ روایات اور ہم عصر حالات کو جس طرح بیان کیا گیا ہے‘ پڑھنے والا جعفر طاہر کے علم کی گہرائی اور قدرتِ کلام پر حیرت سے گنگ ہو جاتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا منظر! ایک کے بعد شاعری کی دوسری صنف! ایک کے بعد دوسری بحر! دریا کی سی روانی‘ لغت اور معانی کا بے کنار سمندر! سچی بات یہ ہے کہ یہ تصنیف اردو ادب کا عجوبہ ہے!
ترکی کے باب میں جعفر طاہر کہتے ہیں: یہ ترکی ہے جس کی فضاؤں ہواؤں میں شیریں نواؤں کے نغمے رواں ہیں ؍ یہیں مرشدِ روم کا آستاں ہے‘ یہیں سر جھکائے ہوئے آسماں ہیں ؍ بتانِ خجستہ قدم کی طرح ''مارمورا‘‘ کی پُر نور لہریں رواں ہیں ؍ '' ارارات‘‘ کی بخششیں بے کراں، ''باسفورس‘‘ کی یہ بستیاں جاوداں ہیں
قسطنطیہ کی فتح کا احوال منظوم ڈرامے کی شکل میں لکھا ہے۔ قسطنطینِ اعظم پکارتا ہے: صلیبیو! بہادرو! سپاہیو دلاورو! ؍ بڑھو بڑھو بڑھو بڑھو‘ عدو کو آج بھون دو ؍ وطن کی سرزمین کو عدو کا سرخ خون دو! صلیبیو! بہادرو
مرشد روم اور شمس تبریزی کی ملاقات‘ شمس کا مولانا کی کتابوں کو حوض میں پھینکنا‘ پھر خشک حالت میں باہر نکال لانا‘ یہ تمام قصہ منظوم بیان کیا ہے۔
مصر کا باب انوکھا ہے: نیل بہتا رہا نیل گاتا رہا۔ زندگی کے ترانے لٹاتا رہا ؍ عشق اپنی کہانی سناتا رہا۔ حُسن سنتا رہا مسکراتا رہا ؍ نیل بہتا رہا نیل گاتا رہا
حضرت موسیٰ کے بارے میں فرعون اور اس کی ملکہ آسیہ کی باہمی گفتگو کو بھی منظوم کیا ہے۔ مصر میں اسلام کی آمد کے بیان کی ایک جھلک دیکھیے: دینِ محمد کی برکت سے دن بدلے ہیں یاراں... اے ناداراں ؍ ایک نرالے دین کا پرچم‘ خوش نگہانِ فاراں... صدق شعاراں ؍ وادیٔ سینا تجھ کو مبارک حُسن و جمالِ بہاراں... لِحنِ ہزاراں
جامعہ ازہر کے بارے میں کہا: ابنِ خلدون کے جوہر دیکھو ؍ دوستو جامعہ ازہر دیکھو ؍ یہ کہ ہے شہرِ علوم ؍ اس کی عالم میں ہے دھوم ؍ ہو ریاضی کہ نجوم ؍ سب کی تعلیم یہاں پر دیکھو ؍ دوستو جامعہ ازہر دیکھو
صدر ناصر نے 1956ء میں نہر سویز کو قومیایا تو برطانیہ‘ فرانس اور اسرائیل نے مل کر مصر پر حملہ کر دیا۔ صدر ناصر ڈٹے رہے اور نہر سویز مصر کی ہو گئی! حق بحقدار رسید!! اس واقعہ کو جعفر طاہر نے ایک دلکش نظم کی صورت بیان کیا جو تمام مقفّیٰ ہے۔ چند مصرعے یوں ہیں: بستر بند سپاہی لاکھوں عیسائی موسائی ؍ لشکر عسکر فوجیں توپیں ٹینک جہاز ہوائی ؍ بستی بستی وادی وادی گھر گھر آگ لگائی ؍ نیل کے بیٹے رن میں کودے کیا شہری صحرائی ؍ توپوں ٹینکوں بمباروں سے کیا رکتے مولائی ؍ جنگ لڑے اور ایسی یارو داد نبی سے پائی ؍ واہ ناصر یہ تیری ہمت یہ تیری دانائی ؍ نیل کی بیٹی بچ نکلی ناکام گئے بلوائی
پھر عرب کا باب ہے۔ ابتدا یوں کی ہے: یہ ایک صحرائے لق و دق ہے ؍ نہ موجۂ ابر نے شفق ہے ؍ رواں دواں ندیاں لہو کی ؍ اجل کا دیکھو تو رنگ فق ہے ؍ یہاں دلِ دہر پارہ پارہ ؍ بیاض ہستی ورق ورق ہے
حضرت ہاجرہ اور اسماعیلؑ کا ذکر دیکھیے: وہ دوڑنے لگی ہے مروہ و صفا کے درمیاں ؍ وہ پھر پلٹ پڑی خیال آ گیا جو ناگہاں ؍ اجل کی ریت میں نہ کھو گیا ہو گوہرِ گراں ؍ مرے خدا وہ کون ہے ؍ مرے خدا وہ کون ہے
قبل از اسلام کا عرب ملاحظہ ہو: حج کے دن ہیں قبیلے آتے ہیں ؍ مل کے صحنِ حرم سجاتے ہیں ؍ دیوتاؤں کی حمد کرتے ہیں ؍ ناز نینوں کے گیت گاتے ہیں ؍ ہر قبیلے کا اپنا اپنا خدا ؍ جس کے پاؤں پہ سر جھکاتے ہیں ؍ میہمانوں کی پیشوائی کو ؍ رہگذاروں پہ بیٹھ جاتے ہیں
رسالت مآبﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں ایک طویل نظم سے تین اشعار: یہ لوگ شہریارِ بزمِ جان و دو جہاں رہے ؍ زمیں کے پاسباں رہے دلوں پہ حکمراں رہے ؍ اداس راستوں کو ہمکنارِ نور کر دیا ؍ جہاں جہاں یہ مہر و ماہ بن کے ضو فشاں رہے ؍ گرجتے بادلوں کڑکتی بجلیوں پہ چھا گئے ؍ برستی بدلیوں کے ساتھ مل کے نغمہ خواں رہے
تیل نکلا تو سب کچھ بدل گیا: چلی مشین چلی ؍ چلی مشین چلی ؍ تھر تھر تھر تھر صحرا کانپیں انجن شور مچائیں ؍ بَن کے باسی اللہ راسی پِیپے بھرتے جائیں ؍ تیل کے سوداگر یہ سب کچھ دیکھیں اور مسکائیں ؍ کس میں ہمت کون تمہیں سمجھائے بُری بھلی ؍ چلی مشین چلی چلی مشین چلی
عراق کے چیپٹر میں زیادہ ذکر سانحہ کربلا کا ہے۔ یہ تین ایکٹ کا منظوم ڈرامہ ہے۔ جعفر طاہر نے یہاں قلم توڑ کر رکھ دیا ہے۔حضرت مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کا حال نظم کیا۔ حضرت زینبؓ اہلِ کوفہ سے مخاطب ہیں: کہو کہو ساکنانِ کوفہ! ؍ کہو کہ تم میرے پاک نانا کی امت محترم نہیں ہو؟ ؍ کہو کہ اسلام پر نہیں ہو؟ ؍ کہو تمہارا خدا کوئی اور ہے؟ ؍ نہیں تو بتاؤ یہ ظلمِ ناروا کیوں؟ ؍ جفا شعارانِ شہر کوفہ ؍ ڈرو خدا کے عذاب سے؍ روزِ حشر سے‘ یومِ عدل و یومِ حساب سے
ایران‘ پاکستان اور الجزائر کے ابواب کی جھلکیاں ان شا اللہ کل کی نشست میں پیش کی جائیں گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کتاب کا نیا ایڈیشن چھپنا چاہیے۔ یہ ایک خزانہ ہے‘ شاعری کا‘ ادب کا‘ ثقافت کا‘ علم کا‘ تاریخ کا اور غنائیت کا! آج کی نسل کے جو لوگ ادب اور علم سے وابستہ ہیں انہیں یہ میسّر ہونی چاہیے مگر کیسے میسّر ہو؟ پبلشر حضرات رو رہے ہیں کہ کاغذ کی کمیابی اور بے انتہا گرانی نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے! پبلشر یہ بھی کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی یلغار کے بعد شاعری کی اشاعت کا حال پہلے جیسا نہیں رہا۔ بہت کچھ بدل گیا ہے۔ مگر 335 صفحات کی یہ کتاب ''ہفت کشور‘‘ ہماری ادبی تاریخ کا از حد قیمتی حصہ ہے۔ ہے کوئی پبلشر جو اسے از سر نو چھاپے؟ میں اس کے پندرہ نسخے خریدنے کے لیے رضاکارانہ اعلان کرتا ہوں! امید ہے کہ ادب کے رسیا آگے بڑھیں گے اور پبلشر حضرات کے خدشات کو دور کر دیں گے!! (جاری)

 

powered by worldwanders.com