Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Wednesday, November 30, 2016

تاریخ

آٹو بائیوگرافی یا خود نوشت عجیب و غریب صنف ہے۔ کچھ لوگ اس کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ اس میں سچ دوسروں کے بارے میں بولا جاتا ہے۔ مارک ٹوئن نے انیسویں صدی کے آغاز میں خود نوشت لکھی اور وصیت کی کہ اسے ایک سو سال کے بعد چھاپا جائے تاکہ جن لوگوں کے بارے میں اس نے سچ لکھا ہے وہ پڑھ ہی نہ سکیں؛ چنانچہ یہ 2010ء کے لگ بھگ چھپی۔ یوں ایک سو سال میں اس ضعیفہ کے نوکیلے دانت سارے گر چکے تھے۔
اصل میں خود نوشت تاریخ کے ان اجزا پر مشتمل ہوتی ہے جو تاریخ میں نہیں پائے جاتے۔ پاکستان جیسے ممالک کی‘ جہاں تاریخ لکھنے والے اکثر و بیشتر جانبدار ہوتے ہیں یا سرکاری بھونپو‘ اصل تاریخ خود نوشتوں ہی سے تیار کی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں سیاستدانوں کی آٹو بائیوگرافیاں پہلے نمبر پر آتی ہیں۔ دوسرے نمبر پر ان سرکاری ملازموں کی خود نوشتیں جو کارِ سرکار میں کِسی نہ کِسی حوالے سے دخیل رہے۔
عبدالخالق سرگانہ صاحب‘ جن سے ہماری پرانی ملاقات ہے‘ ہمیشہ ایسے شریف اور نارمل انسان لگے جو خود نوشت لکھ کر دوسروں کا کچّا چٹھہ نہیں کھولتے۔ اس لیے چند دن پہلے جب انہوں نے اپنی خود نوشت عنایت کی تو تعجب ہوا۔ دل چاہا کہ شکریہ ادا کرنے کے بجائے یہ کہا جائے‘ ’’اچھا توآپ بھی!‘‘ مگر اسے مروّت کے خلاف سمجھ کر صرف شکریے پر اکتفا کیا۔
سرگانہ صاحب نے اعلیٰ تعلیم مکمل کی اور پاکستان ٹیلی ویژن میں ملازم ہو گئے۔ پھر اپنی عمر کے تین بہترین عشرے جمع تین مزید سال پی ٹی وی کو سونپ دیے۔ خود نوشت اسی حوالے سے لکھی ہے۔ چند واقعات قارئین کی نذر کئے جا رہے ہیں۔ ان سے ہماری نفسیات‘ بطورِ قوم‘ سمجھنے میں مدد ملے گی۔
1977ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی اور پی این اے کے درمیان سخت مقابلہ تھا۔ اپوزیشن کی ایک پٹیشن پر عدالت نے حکم جاری کر دیا کہ دونوں فریقوں کو پی ٹی وی پر برابر وقت دیا جائے۔ پی ٹی وی میں یہ روایت رہی ہے کہ وزیر اعظم کے سوا کسی کی سائونڈ استعمال نہیں کی جاتی تھی۔ اب بھی بڑی حد تک اسی روایت پر عمل ہو رہا ہے۔ عدالت کے فیصلے سے یہ بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ساتھ پی این اے کے لیڈر مفتی محمود کی سائونڈ کیسے دی جائے۔ افسرانِ بالا کے لیے یہ بڑی کڑوی گولی تھی؛ تاہم انہوں نے اس کا ایک حل نکالا۔ ایک جلسے میں مفتی محمود نے خطاب کیا۔ جب ان کی سائونڈ دینے کا وقت آیا تو سٹوڈیو میں سائونڈ کم یا زیادہ کرنے والے انسٹرومنٹ (Fader)کو مسلسل آگے پیچھے کیا جاتا رہا‘ جس سے مفتی صاحب کی آواز یا تو بالکل نیچے چلی جاتی تھی یا پھر بلاسٹ ہوتی تھی۔ اس طرح اس بات کا اہتمام کر لیا گیا کہ عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد بھی ہو جائے اور مفتی صاحب کی آواز کِسی کی سمجھ میں بھی نہ آئے۔ اس وقت مسعود نبی نور ایم ڈی تھے۔
چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔ ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ صدر جنرل پرویز مشرف اتفاق سے لاہور میں تھے۔ اگلے دن وہ چوہدری صاحب کے گھر فاتحہ کے لیے جا پہنچے۔ وہ نکلے تو چوہدری پرویز الٰہی نے پی ٹی وی کے نمائندے سے کہا کہ خبر میں یہ بات ضرور شامل ہونی چاہیے کہ صدر پرویز مشرف فاتحہ کے لیے سب سے پہلے پہنچے۔
12اکتوبر 1999ء ملکی تاریخ میں ایک اہم دن تھا۔ اس روز ایک فوجی ڈکٹیٹر نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کا نظم و نسق سنبھالا۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ اس دن شام کو وزیر اعظم نواز شریف نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کر کے جنرل ضیا الدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ نیا آرمی چیف مقرر کرنے کی تقریب وزیر اعظم ہائوس میں منعقد ہوئی اور تقریباً چار ‘ ساڑھے بجے کے قریب اس کی خبر پی ٹی وی پہنچی۔ خبر فوری طور پر خصوصی بلٹن کے ذریعے نشر کر دی گئی ‘پھر تھوڑی دیر بعد 5بجے کے باقاعدہ نیوز بلٹن میں یہ خبر دوبارہ دی گئی۔ اس پر دس‘ بارہ افراد پر مشتمل ایک فوجی دستہ میجر نثار کی قیادت میں نیوز روم پہنچ گیا اور انہوں نے یہ خبر دینے سے منع کیا۔ کچھ دیر کے بعد یہی خبر اور اس کی فلم لے کر پی ٹی وی کے چیئرمین پرویز رشید صاحب ‘اس وقت کے مینجنگ ڈائریکٹر یوسف بیگ مرزا اور وزیر اعظم کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر جاوید ملک ایلیٹ فورس کے ساتھ نیوز روم آ پہنچے۔ بریگیڈیئر جاوید ملک نے میجر نثار کو سرنڈر کرنے کا حکم دیا اور ایلیٹ فورس نے اس فوجی دستے کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔ 6بجے کے انگریزی بلیٹن میں شائستہ زید نے سپورٹس کے بعد یہ خبر دوبارہ پڑھی۔
اس دوران ایک فوجی افسر(غالباً آئی ایس آئی) سفید کپڑوں میں نیوز روم پہنچ گیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ کوئی آدمی اپنی جگہ سے ہلے گا اور نہ فون پر کوئی بات چیت ہو گی۔ انہوں نے پوچھا کہ ٹرانسمیشن کہاں سے ہوتی ہے۔ کسی نے سٹوڈیو تک ان کی رہنمائی کی اور انہوں نے ٹرانسمیشن بند کرنے کا حکم دیا۔ ٹرانسمیشن 7بجے سے لے کر تقریباً11بجے رات تک بند رہی۔ یہ پی ٹی وی کی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا‘ اور جب بحال ہوئی تو صبح تقریباً 1بجے جنرل پرویز مشرف کی تقریر تک صرف ملی نغمے چلتے رہے۔ اس دوران ٹرپل ون بریگیڈ کا ایک دستہ پی ٹی وی پہنچ گیا۔ گیٹ بند تھے۔ فوجی گیٹ اور دیوار پھلانگ کر اندر آ گئے۔ (دیوار پھلانگنے کا یہ شارٹ دنیا بھر میں ٹی وی چینلز پر دکھایا گیا) فوجیوں نے اپنے ساتھیوں کو آزاد کرایا اور ایلیٹ فورس کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔ ایلیٹ فورس کے ان جوانوں کو غالباً اگلے دن آزادی ملی۔ پی ٹی وی سٹاف تقریباً2بجے رات کو اپنے گھروں کو روانہ ہوا۔ اس رات ایلیٹ فورس اور فوجی دستے کے درمیان جھڑپ ہونے کا قوی امکان تھا اور ذرا سی بے احتیاطی سے شدید خون خراب ہو سکتا تھا۔
بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت ختم ہوئی تو نگران حکومت میں سیدہ عابدہ حسین وفاقی وزیر اطلاعات مقرر ہوئیں۔ ایک دن ان کے آفس سے کہا گیا کہ ایک رپورٹر بھیجیں۔ پی ٹی وی کی طرف سے میری ڈیوٹی لگائی گئی۔ ایک رپورٹر اے پی پی سے پہنچ گیا۔ وزیر اطلاعات نے اسلام آباد کنونشن سنٹر کی تعمیر کے بارے میں کچھ حقائق سے آگاہ کیا‘ جن سے یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ اس کی تعمیر کے سلسلے میں کرپشن ہوئی ہے۔ کنونشن سنٹر بینظیر حکومت کے وزیر اطلاعات خالد کھرل کی نگرانی میں تعمیر ہوا تھا۔ عابدہ حسین نے ہدایت کی کہ خبر میرے حوالے سے نہ دی جائے‘ بلکہ سرکاری ذرائع کا حوالہ دیا جائے۔ خبر ٹیلی وژن پر ٹیلی کاسٹ ہو گئی۔ چند دن بعد لاہور سے ایک ماہر تعمیرات نے (جن کا نام بھول رہا ہوں) ہماری کنٹرولر نیوز خالدہ مظہر کو فون کیا اور بتایا کہ کنونشن سنٹر کے ڈیزائن کے لیے جو مقابلہ ہوا تھا‘ وہ اس میں شامل ہوئے تھے‘ اور دراصل ان کا ڈیزائن ہی منظور ہوا تھا اور وہ اس سلسلے میں لاہور میں ایک پریس بریفنگ کا اہتمام کر رہے ہیں‘ اور پی ٹی وی وہاں اپنا نمائندہ بھیجے۔ میں ان دنوں لاہور گیا ہوا تھا۔ خالدہ مظہر نے مجھے فون کیا اور کہا کہ آپ ہی اس بریفنگ میں جائیں کیونکہ آپ اس ایشو پر پہلے ہی خبر دے چکے ہیں۔ میں ایمبیسیڈر ہوٹل پہنچا۔ وہاں اس ماہر تعمیرات نے بتایا کہ کنونشن سنٹر کے لیے ڈیزائن کا مقابلہ ہوا تو وہ اس میں شریک تھے اور محترمہ بینظیر بھٹو نے بطور وزیر اعظم ان کا ڈیزائن منظور کیا تھا؛ البتہ انہوں نے اس میں چند تبدیلیاں تجویز کی تھیں۔ ماہرِ تعمیرات نے کہا کہ لاہور آ کر میں نے ڈیزائن میں مطلوبہ تبدیلیاں کیں اور دوبارہ سارا سامان لے کر مقرر کردہ تاریخ پر اسلام آباد پہنچا۔ اس کے بیان کے مطابق بے نظیر بھٹو ڈیزائن دیکھنے مقررہ جگہ پہنچیں لیکن کچھ ناپسندیدگی کا اظہار کرکے فوراً ہی روانہ ہو گئیں۔ بعد میں نیّر علی دادا کا ڈیزائن منظور کر لیا گیا‘ حالانکہ نیّر علی دادا ڈیزائن کا انتخاب کرنے والی کمیٹی میں شامل تھے۔ پریس کانفرنس میں اس دن کا پی ٹی وی کا خبرنامہ وی سی آر پر دکھایا گیا۔ جس دن بینظیر بھٹو نے اس ماہر تعمیرات کا ڈیزائن منظور کیا تھا‘ پی ٹی وی کی یہ خبر حکومت کے پریس ریلیز پر مبنی تھی جس میں واضح طور کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم نے فلاں ماہر تعمیرات کا ڈیزائن مجوزہ کنونشن سنٹر کی تعمیر کے لیے منظور کر لیا ہے۔
جب صدر فاروق لغاری صاحب نے پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کی تو ایک نگرانی حکومت قائم کر دی گئی۔ ملک معراج خالد وزیر اعظم مقرر ہو ئے۔ انہوں نے ایک دن حکم دیا کہ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کے گھوڑوں سے مشاغل پر فلم بنائی جائے۔ حبیب اللہ فاروقی صاحب نے یہ ذمہ داری مجھے سونپ دی۔ میں ٹیم لے کر وزیر اعظم ہائوس پہنچا تو وہاں ہُو کا عالم تھا۔ جو چند آدمی پھر رہے تھے‘ وہ بھی تعاون کرنے کے موڈ میں نہیں تھے۔ واقعہ یہ تھا کہ آصف علی زرداری نے وزیر اعظم ہائوس میں گھوڑے رکھے ہوئے تھے‘ اور پولو گرائونڈ بنوایا تھا۔ اس پولو گرائونڈ کا کیس بعد میں سی ڈی اے کے دو چیئرمینوں‘ سعید مہدی اور ظفر اقبال صاحب کے خلاف چلتا رہا۔ ہم نے ضروری شوٹنگ کر لی۔ وہاں کسی نے بتایا کہ یہاں ایک گھوڑا ایسا بھی تھا جس کی قیمت ایک کروڑ روپے ہے۔ یاد رہے‘ یہ 90ء کی دہائی کی بات ہے۔ ان قیمتی گھوڑوں کے لیے مخصوص جگہیں ایئرکنڈیشنڈ تھیں۔ ظاہر ہے ان کی خوراک بھی خاص ہی ہوتی ہو گی۔ میں واپس آیا‘ یہ فلم ریفرنس سیکشن میں جمع کروا دی اور فاروقی صاحب کو بتا دیا۔ چونکہ اس قسم کی فلمیں صرف خبرنامے میں استعمال ہوتی تھیں‘ لہٰذا ان کا فیصلہ بھی شام کو لیٹ ہوتا تھا۔ میری ڈیوٹی ختم ہو گئی تھی۔ میں گھر چلا گیا۔ بعد میں ایک کولیگ قمر محی الدین نے اس فلم کی کمنٹری لکھی‘ جس میں بتایا گیا کہ زرداری کے گھوڑے سیب کھاتے تھے۔ رات کو فلم چلی۔ میں گھر سے باہر تھا۔ اپنی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے فلم نہیں دیکھ سکا۔ ظاہر ہے یہ فلم پیپلز پارٹی کے لیے کافی Damaging ثابت ہوئی۔ اور متحرمہ بے نظیر بھٹو نے اس کا بہت بُرا منایا۔ انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ گھوڑے دراصل آصف صاحب کے نہیں‘ بلکہ ان کے ایک دوست ٹوانہ صاحب کے تھے۔ بعد میں ایک دفعہ کسی غیر ملکی جرنلسٹ نے محترمہ سے اسی فلم کے حوالے سے سوال کر دیا کہ آپ کے زمانے میں وزیر اعظم ہائوس میں گھوڑوں کو انسانوں سے بہتر خوراک دی جاتی تھی‘ جس پر محترمہ بہت Irritate ہوگئیں۔

Monday, November 28, 2016

پیکیج ڈیل

اُس محفل میں وہ عقل مند شخص نہ ہوتا تو بحث ہرگز کسی نتیجے پر نہ پہنچ پاتی۔
بحث کے دوران وہ سب کو سنتا رہا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ بولے گا تو دونوں فریق سر ہلا کر سر جھکا دیں گے۔ کالی پتلون اور اورنج رنگ کے ٹویڈ کوٹ میں ملبوس اُس شخص نے سر پر وہ ٹوپی پہنی ہوئی تھی جس سے ملتی جُلتی ہنری کسنجر کے سر پر نظر آتی تھی‘ یہ شخص عباسیوں یا سلجوقیوں کے زمانے میں ہوتا تو اس کے گھوڑے کی باگ پکڑنے کے لیے محل سے باہر سینئر ترین وزیر کھڑا ہوتا مگر یہ اُس زمانے کی بات ہے جب عزت کا سبب فراست تھی۔ اب فراست نہیں‘ دولت ہے جو عزت بخشتی ہے اور دولت ہی فراست کا قائم مقام ہے۔ اب زرداری صاحب جیسے افراد سیاست جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں اور پڑھے لکھوں کی قیادت کرتے ہیں۔ اب حکمرانی کی مسند پر وہ لوگ متمکن ہیں جو دس منٹ کیا پانچ منٹ کسی مسئلے پر بات کرنے سے قاصر ہیں۔
فریق دو تھے‘ ایک طرف کچھ امریکہ پلٹ حضرات تھے جو امریکہ‘ یورپ اور اُن تمام ملکوں کی برائیاں کر رہے تھے جہاں پاکستانی مقیم تھے۔ انہیں وہاں رہ کر اپنے وطن میں خوبیاں ہی خوبیاں نظر آ رہی تھیں۔ دوسرا فریق کہتا تھا کہ جینے کا لطف انہی ملکوں میں ہے۔ سسٹم ہے اور ضابطہ‘ قانون ہے اور انصاف‘ ہٹو بچو کی صدائیں ہیں نہ پروٹوکول کے لیے عوام کے راستے مسدوردکئے جاتے ہیں۔ اس کا جواب دوسرا فریق یہ دیتا تھا کہ اپنے رنگ اور مذہب کی وجہ سے آپ بہرحال وہاں اکثریت سے الگ ہیں‘ بچے ماں باپ کے ساتھ جو زبان بولتے ہیں‘ باہر اُس کا ایک لفظ کوئی نہیں سمجھتا۔ اپنی ثقافت سے دُور‘ گملے میں پودا لگا ہے۔ وہاں کی زمین اجنبی ہے اور اپنی دور…!
پردیس میں ناصبور ہوں میں
پردیس میں ناصبور ہے تُو
ہر کوئی دلائل دے رہا تھا۔ یہاں تک کہ گرم گفتاری گرمی میں بدلتی دکھائی دے رہی تھی۔ آوازیں نسبتاً بلند تر ہو رہی تھیں۔ اضطراب عیاں ہونے لگا تھا۔ دونوں طرف دودھ نہیں‘ پانی بلویا جا رہا تھا اس لیے کہ نتیجے کا مکھن بنتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ تب وہ خاموش شخص گویا ہوا۔ پہلے اس نے سلیقے سے اجازت طلب کی کہ کیا وہ کچھ کہہ سکتا ہے۔ دونوں فریق جیسے کسی مسیحا کے منتظر تھے۔ انہوں نے مداخلت غنیمت سمجھی۔ اس نے کہا کہ دونوں فریق کوئی ایسی بات نہیں کہہ رہے جو حقیقت سے بعید ہو۔ دوسرے لفظوں میں دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ ان ملکوں میں سسٹم ہے اور ضابطہ‘ کام کرانے کے لیے آپ کو دفتروں اور کارپوریشنوں کے چکر نہیں لگانے پڑتے۔ لوڈشیڈنگ ہے نہ گیس لگوانے کے لیے پانچ سال کی دوڑ دھوپ! اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہاں سوشل لائف ہے نہ رشتے دارنہ احباب۔ بچے دو ثقافتوں کے درمیان پس جاتے ہیں۔ پھر اس نے کچھ دیر تامّل کیا اور کہا کہ حضرات! یہ ایک پیکج ڈیل ہے جو آپ قبول کرتے ہیں۔ نقصانات اس پیکج کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ اسی طرح اگر آپ فیصلہ کریں کہ اپنے ملک ہی میں رہیں گے اور ہجرت کا آپشن نہیں استعمال کریں گے تو یہ بھی ایک پیکج ڈیل ہو گا۔ آپ اپنے ماحول میں رہیں گے۔ اپنی ثقافت‘ اپنے عزیزواقارب اور اپنے زندگی بھر کے دوست ہمہ وقت میسّر ہوں گے‘ مگر دوسری طرف یہ بھی طے ہے کہ آپ کو ذرا ذرا سے کام کے لیے دھکے کھانے ہوں گے۔ یو پی ایس کی بیٹریوں کا پانی چیک کرنا ہو گا۔ دکاندار ہیں تو بھتے دیں گے۔ سرکاری ملازم ہیں تو ترقی کے لیے جیب میں پرچی رکھنی ہو گی۔ سیاست دان ہیں تو گھوڑا بننا پڑے گا۔ اب یہ آپ کا انتخاب ہے کہ کون سا پیکج لیتے ہیں۔ مگر یاد رکھیے کہ پیکج‘ پیکج ہے۔ اس میں کچھ الگ کیا جا سکتا ہے نہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا ۔نہیں معلوم کون تھا اور کہاں سے آیا تھا مگر مجھے آج صبح ہی سے یاد آ رہا ہے اور شدت سے یاد آ رہا ہے۔ آج صبح میں ایک اور مجلس میں بیٹھا تھا جہاں دانشور باقاعدہ آہ و زاری کر رہے تھے ان میں سے ایک اس ملک کی صفر حیثیت پر رو رہا تھا کہ امریکی سفارت خانے کی لینڈ کروزر گاڑیوں نے دارالحکومت کے عین وسط میں ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نہ صرف پولیس کے حفاظتی حصار کو توڑا بلکہ جائے واردات سے چلے بھی گئے۔ حکومت سوائے اس کے کچھ بھی نہیں کر سکی کہ سفارت خانے کو احتجاجی خط لکھا کہ آئندہ کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح ایک کمزور شخص کو ایک طاقتور فرد نے ماں کی گندی گالی دی تو کمزور شخص نے ’’دھمکی‘‘ دی کہ اگر حضور نے اس کے بعد میری والدہ کی شان میں گستاخی کی تو میں بھی حضور کی امّی جان خُلد مکانی کی شان میں نازیبا کلمات کہوں گا۔
دوسرا دانشور سنگاپور اور سوئزر لینڈ کی مثالیں دے کر رو رہا تھا کہ قانون پاکستان میں ایک ایسے قالین سے زیادہ کچھ نہیں جس پر بڑے لوگ اپنے گندے جوتوں کے ساتھ چلتے ہیں۔ مکروہ تنزّل کا یہ عالم ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کا سربراہ موٹروے پر پولیس کے کہنے کے باوجود نہیں رکتا اور پھر جب ایک دفعہ اس پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے تو اسی جرم کا دوبارہ ارتکاب کرتا ہے۔ متعلقہ عملے کو توہین آمیز روئیے اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے ان ملازموں کا تبادلہ گوادر کر دیا جاتا ہے‘ پھر یہ مظلوم عدالت میں جاتے ہیں۔ عدالت انہیں سابقہ پوزیشنوں پر بحال کرتی ہے مگر ادارہ عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ مضحکہ خیز حصہ اس سارے قصے کا یہ ہے کہ میڈیا کو یہ بتایا جاتا ہے کہ سزا اس لیے نہیں دی گئی کہ بڑوں کے خلاف کارروائی ہوئی بلکہ اس لیے دی گئی کہ روکنے اور جرمانہ کرنے والے افسروں نے ٹوپیاں نہیں پہنی ہوئی تھیں۔
میں اس عقلمند شخص کو ڈھونڈ رہا ہوں جو کل والی بحث کا فیصلہ کر کے چلا گیا تھا۔ کاش اس مجلس میں بھی وہ موجود ہوتا اور آہ و فغاں کرنے والے ان دانشوروں کو سمجھاتا کہ یہ پیکج ڈیل ہے جس میں کمی بیشی نہیں کی جا سکتی جس ملک میں سیاستدان خود قانون کو ’’شو ہارن‘‘ کے طور پر استعمال کرتے ہوں‘ جس ملک میں حکومت اور سیاست دونوں کا منبع دوبئی‘ جدہ‘ لندن اور نیویارک ہوں‘ جس ملک میں سرکاری ملازمتوں کی تنخواہ پانچ فیصد اور اسمبلیوں میں براجمان بالائی طبقے کی مراعات میں 146 فیصد اضافہ ہو‘ وہاں دارالحکومت کو ایسی ہی پولیس ملے گی جو امریکی سفارت خانے کو سیلوٹ مار کر کہے کہ حضور آپ کی پانچ لینڈ کروزر گاڑیوں نے نہ صرف ٹریفک قوانین کو توڑا بلکہ ہمارے حفاظتی حصار کی بھی ایسی تیسی کر دی۔ جہاں برسر اقتدار خاندانوں پر کوئی قانون‘ کوئی ضابطہ‘ کوئی رول آف بزنس نہیں اپلائی ہو گا وہاں این ایچ اے جیسے اداروں کے سربراہ بھی اسی سلوک کی توقع رکھیں گے جو مقتدر افراد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
وہ شخص اگر عباسیوں یا سلجوقیوں کے زمانے میں ہوتا تو اتنی قدرومنزلت پاتا کہ وزیر اس کے گھوڑے کی لگام پکڑتے۔ یہاں ایسے عقل مندوں کی ضرورت نہیں۔ تنزل پر رونے والوں کو کون بتائے کہ یہ پیکج ڈیل ہے اس ڈیل میں ایسی کوئی گنجائش نہیں کہ ہر طرف لاقانونیت ہو مگر دارالحکومت کی شاہراہوں پر اور موٹروے پر سنگاپور اور سوئزر لینڈ کے مناظر دیکھے جا سکیں۔ اس کے لیے حکمران بھی ایسے لانے پڑیں گے جیسے ان ملکوں میں ہیں جن کے خاندان کے افراد کے نام تک لوگوں کو معلوم نہیں اور جہاں سیاسی جماعت کے سربراہ کو‘ ہر کچھ سال کے بعد تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
تُم نے جو پیکیج لیا ہوا ہے اسی کے ساتھ زندگی بسر کرنا سیکھو!!

Friday, November 18, 2016

ریزے…دسترخوان سے گرے ہوئے ریزے

ایوب جولاہا مرض کی شدت میں رو پڑا۔ گڑگڑایا۔ یاپروردگار! میں اس امتحان کے لائق نہیں! اے بیماری دینے والے اور اے بیماری کو تندرستی میں بدل دینے والے! میں ایوب جولاہا ہوں‘ ایوب پیغمبر نہیں!
سو ہم تو ایوب جولاہے ہیں! کہاں کی شاعری اور کیا عظمت! جناب ہارون الرشید ہمیشہ سے فیاض ہیں۔ جب بھی آئیں جو بھی شے پاس ہو رُکیں تو یہیں چھوڑ جاتے ہیں، دسترخوان وسیع، دل اس سے زیادہ! تعریف کرتے ہیں تو اس میں غالب عنصر محبت کا ہوتا ہے۔ اگرچہ فیض صاحب ان کے لیے یہ بھی کہہ گئے تھے؎
آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
بھولے تو یوں کہ گویا کبھی مہرباں نہ تھے
کچھ بھی نہیں! دامن میں کچھ بھی نہیں! سوائے اُن چند ریزوں کے جو دادا اور والد کے دسترخوان سے نیچے گرے اور اُٹھا کر منہ میں ڈال لیے۔ دسترخوان سے گرے ریزے! آہ! شہرۂ آفاق ناول نگار شیرلیٹ برونٹی یاد آرہی ہے۔ ادب اور تاریخ کے طلبہ کو اس کے وہ خطوط ضرور پڑھنے چاہئیں جو اس نے اپنے محبوب ہیگر کو لکھے تھے! ہماری درس گاہوں میں ان دونوں بہنوں کے تذکرے ان کے دو ناولوں تک محدود ہیں۔ جین آئر اور وُد رِنگ ہائیٹس! مگر درد اور کرب کا قصہ دوسرا ہے! یہ 1842ء کی بات ہے جب دونوں بہنیں، شیرلیٹ اور ایمیلی، انگریزی پڑھانے برسلز گئیں۔ بورڈنگ ہاؤس میں رہائش تھی۔ پیچھے خاندان میں ایک قریبی عزیزہ وفات پا گئیں تو دونوں کو لوٹنا پڑا۔ کچھ ماہ بعد شیرلیٹ برونٹی تنہا برسلز واپس گئی۔ سکول اور بورڈنگ ہاؤس کا مالک ہیگر تھا۔ شیرلیٹ کو فرانسیسی زبان و ادب بھی پڑھاتا تھا۔ بس یہاں سے ستارے گردش میں آئے۔ شیرلیٹ کو ہیگر سے محبت ہوئی اور یوں کہ واپس جا کر جو خطوط ہیگر کو لکھے وہ شہکار بن گئے۔ ان خطوط کا سفر اس کے عشق کے سفر سے بھی زیادہ سنسنی خیز ہے۔ شادی شدہ ہیگر نے یہ خطوط پھاڑ کر ٹوکری میں پھینک دیے۔ اس کی وسیع الظرف بیگم نے پرزے، کوڑے دان سے نکالے۔ پھاڑے ہوئے کاغذوں کو سیا۔ یوں یہ محفوظ ہو گئے۔ شیرلیٹ کی وفات کے چالیس برس بعد، ہیگر کی بیٹی نے یہ خطوط اپنے باپ کی ایک اور شاگرد کو دکھائے۔ پھر اس کے مشورے سے یہ خطوط ہیگر کے بچوں نے 1913ء میں برٹش لائبریری کو دے دیے۔ برٹش لائبریری نے جب مشہور کتاب ’’محبت نامے… رومانس کے دو ہزار سال‘‘ چھاپی تو آسکر وائلڈ، چارلس ڈکنز اور دیگر مشاہیر کے خطوط کے ساتھ شیرلیٹ کے خطوط بھی اس میں شامل کیے۔
دسترخوان سے گرے ریزوں کی بات ہو رہی تھی۔ شیرلیٹ نے ہیگر کو لکھا، ’’موسیو! غریب انسان کو زندہ رہنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں درکار! امیر کے دسترخوان سے گرے ہوئے چند ریزے ہی کافی ہیں! مگر یہ ریزے بھی نہ ملیں تو موت واقع ہو جائے گی!‘‘
گھر میں علم کے دریا موجزن تھے مگر دسترخوان کے گرے ریزوں کے علاوہ کچھ نہ حاصل کیا۔ گاؤں میں تین حویلیاں تھیں۔ ایک بڑی، دو چھوٹی، تینوں کتابوں سے بھری تھیں۔ فارسی سے تعلیم کا آغاز ہوتا تھا۔ جو کتابیں سمجھ میں نہیں آ رہی تھیں، وہ بھی پڑھ ڈالیں۔ کچھ ایسی تھیں جو چُھپ کر پڑھیں! سرگزشت حاجی بابا اصفہانی کا بوسیدہ نسخہ‘ جو تہران کا مطبوعہ تھا! مقامات حمیدی 1936ء کے چھپے ہوئے! انشائے عجیب 1888ء کا نسخہ! منشی کانتا پرشاد کی انشائے بے نقاط، پوری کتاب میں کوئی لفظ نقطے والا نہ تھا۔ نواب قاسم علی خان بہادر قیام جنگ کے درباری سکالر محمد فائق کی انشائے فائق۔ نواب لطف اللہ خان اور نواب کوکلتاش کے فرامین پر مشتمل انشائے مادھورام! ادب عالیہ کا سحر انگیز نمونہ!
تاہم بچپن میں جو ’’توارد‘‘ سب سے زیادہ ہانٹ کرتا تھا وہ اُن تین مثنویوں کا تھا‘ جو ایک ہی بحر میں لکھی گئیں۔ اور تینوں کے پہلے شعر کا دوسرا مصرع بسم اللہ الرحمن الرحیم پر مشتمل تھا۔ وزن کو اعتبار میں رکھنے کے لیے بسم اللہ کے اللہ پر یہاں تشدید نہیں پڑھی جاتی! اس مقابلے کا آغاز نظامی نے کیا تھا۔ اس نے ’’مخزنِ اسرار‘‘ لکھی۔ ابتدا یوں کی:  ؎
ہست کلید درِ گنجِ حکیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یعنی پروردگار کے خزانوں کی کلید بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے۔ سو سال گزر گئے۔ ہندوستان سے امیر خسرو اُٹھے اور ایرانیوں کو حیران کرکے رکھ دیا۔ نظامی کے جواب میں مطلع الانوار لکھی۔ اس فقیر کے پاس جو آبائی نسخہ مطلع الانوار کا موجود ہے‘ وہ 1885ء کا مطبوعہ ہے اور ’’کیسری داس سیٹھ سپرنٹنڈنٹ‘‘ کے اہتمام سے چھپا ہے۔ مشکلات کی تشریح کے لیے حاشیہ مولانا ابوالحسن نے لکھا ہے۔ خسرو نے مطلع الانوار کا آغاز یوں کیا   ؎
خطبۂ قدس است بملک قدیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ڈیڑھ سو برس مزید گزرے۔ عبدالرحمن جامی آئے۔ انہوں نے دونوں کے جواب میں تحفہ الاحرار تصنیف کی۔ وہی موضوع، وہی بحر۔ ویسا ہی مطلع۔   ؎
ہست صلائی سرِ خوانِ کریم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سخی کے دسترخوان پر آوازے لگائے جا رہے ہیں اور وہ آوازہ کیا ہے؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے۔
فارسی کا ذوق تھا۔ فارسی ادب نے، خاص طور پر شاعری نے جکڑ لیا۔ آج تک رہائی نہیں ہوئی۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں اقتصادیات کے ایم اے کا فائنل امتحان تھا۔ دوسرے دن پرائس تھیوری کا پرچہ تھا۔ شام ڈھلے، بستر پر لیٹا، دیوار کی طرف منہ کیے، فیضی کی غزلیات سامنے رکھے، گنگنا رہا تھا۔ دوستوں کا ریلا کمرے میں در آیا۔ اظہارِ افسوس کیا کہ… ’’موصوف آخری لمحات میں بھی فارسی شاعری پڑھ رہے تھے‘‘۔
عربی کی طرف میلان اتنا نہ تھا۔ والد مرحوم کو اس کا قلق تو نہیں کہنا چاہیے، احساس شدید تھا۔ وہ ان چند گنے چنے اساتذہ میں شمار ہوتے تھے جو جاہلی شاعری پڑھنا جانتے تھے۔ صفحوں کے صفحے… حماسہ‘ متنبی اور سبع معلقات کے اُن کی یادداشت پر کھدے تھے۔ سی ایس ایس کرنے کے بعد خاصی سینئر پوزیشن پر آ چکا تھا۔ دفتری مکروہات کے ساتھ ماشاء اللہ کنبے کی ذمہ داری بھی تھی۔ ایک دن تاسف سے فرمانے لگے، ’’بڑے افسر بن گئے۔ شاعری کی کتاب چھپ گئی، مگر جہالت بدستور موجود ہے، عربی ادب سے محروم ہو!‘‘ عرض کیا، ’’ابا جی! اب کیا ہو سکتا ہے، کارِ دنیا میں چھاتی تک دھنسا ہوں‘‘۔ فرمایا، یار اور کچھ نہیں، تو کم از کم… کم از کم، عربی میں ایم اے ہی کر لو!‘‘۔ تعمیل کے لیے کمربستہ ہو گیا۔ ایک ماہ کی چھٹی میں نے لی، ایک ماہ کی چھٹی انہوں نے لی۔ دونوں کمرے میں بند ہو گئے۔ مہینے بعد امتحان ہوا۔ زبانی امتحان ڈاکٹر ظہور احمد اظہر صاحب نے اورنٹیل کالج میں لیا، نتیجہ آیا۔ فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوا تھا۔ بھاگتا ہوا گیا اور خوشی سے خبر سنائی۔ سن کر جیسے ان پر سکتہ طاری اہو گیا۔ چند ثانیے خاموش رہے! بالکل خاموشی۔ پھر فرمایا، ’’تونڈی فرسٹ ڈویژن آئی اے؟ پنجاب یونیورسٹی توں مینڈا اعتماد اُٹھ گیا‘‘۔ تمہیں تو کچھ آتا ہی نہیں! پھر فرمایا… اب کاغذات پر تمہارے نام کے ساتھ ایم اے عربی لکھا جائے گا۔ اب کچھ پڑھ بھی لو! کسی وقت کوئی کچھ پوچھ بیٹھتا ہے!‘‘
ریزے! دستر خوان سے گرے ہوئے ریزے! اور کچھ بھی نہیں!
دامن خالی ہاتھ بھی خالی دستِ طلب میں گردِ طلب
 عمرِ گریزاں عمرِ گریزاں! مجھ سے لپٹ اور مجھ پر رو
 اب احساسِ زیاں کاٹنے کو آتا ہے۔ کاش مقامات حماسہ اور مثنوی سبقا سبقاً پڑھ لیتا! گھر کے صحن میں دریا تھا! صاف شفاف نیلگوں پانیوں والا آسمانی دریا! وائے بدبختی! ہونٹ تر تک نہ کیے؎
عصا در دست ہوں اُس دن سے بینائی نہیں ہے
ستارہ آنکھ میں آیا تھا میں نے کھو دیا تھا
اب کبھی کبھی شام کو پروفیسر معظم طاہر منہاس کے ساتھ بیٹھک ہوتی ہے۔ بیس بائیس سال عربوں کو مشرق وسطیٰ میں انگریزی ادب پڑھایا‘ اڑسٹھ برس میں وکالت کا امتحان پاس کیا اور اب قانون کی گتھیاں سلجھا رہے ہیں۔ جج صاحبان ان کی انگریزی سن کر پہلے ششدر ہوتے ہیں پھر گھائل! پھر وہی احساسِ زیاں غالب آ رہا ہے! کیوں نہ پروفیسر صاحب کے سامنے دو زانو بیٹھ کر شیکسپیئر بالاستیعاب پڑھوں؟ پروفیسر صاحب کبھی کبھی کسی انگریزی معاصر میں کالم لکھتے ہیں۔ موتی ٹانکنے کا کیا فن ہے جو شانِ کریمی نے انہیں فیاضی سے عطا کیا ہے!
کاغذ کا دامن تنگ ہو رہا ہے۔ اسلم کولسری مرحوم کو یاد کرنا تھا، وہ حیات نہیں مگر صحبت باقی۔

Monday, November 14, 2016

’’ایک نصیحت ٹرمپ کے لیے بھی‘‘


طویل قامت علائو الدین کو اس کے پاکستانی دوست اللہ دین کہتے ہیں۔ وہ سوڈانی ہے اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پی رکھا ہے۔ آسٹریلیا آنے سے پہلے مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے ملک کے ایک بڑے ہسپتال میں ڈاکٹر تھا۔ پھر آسٹریلیا ہجرت کر گیا۔ بیگم بھی سوڈان سے ہے اور نفسیاتی مریضوں کی معالج ہے۔ 
ایک دعوت تھی جس میں اس سے ملاقات ہوئی۔ اُن دنوں جنوبی سوڈان کی علیحدگی کا مسئلہ پیش منظر پر چھاپا ہوا تھا۔ پوچھا کہ اُس کے خیال میں مسئلے کی جڑ کہاں ہے: ’’تُم سوڈانی ہو اور مسلمان بھی! تُم نے دنیا دیکھی ہے، تُم کیا سمجھتے ہو کہ اِس بدقسمت تقسیم کی تہہ میں کیا ہے؟‘‘
ساڑھے چھ فٹ لمبے علائو الدین نے پاکستانی بریانی کو‘ جو وہ تناول کر رہا تھا‘ غور سے دیکھا۔ صاف پتا چل رہا تھا کہ اس کی آنکھیں پلیٹ پر تھیں مگر دیکھ کہیں اور رہی تھیں! چند لمحوں بعد اس نے عینک کے شیشوں کے پیچھے سے دیکھا۔ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کہا: ’’اصل سبب بتائوں یا ایسا جواب دوں جس سے تُم پاکستانی خوش ہوتے ہو‘‘۔
ایک نرم اور ملائم احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ’’ پاکستانی یا غیر پاکستانی کا کیا سوال ہے؟ اور سوڈان کے حالات میں پاکستانیوں کے خوش ہونے یا نہ ہونے کا پہلو کہاں سے در آیا؟‘‘
وہ پھر ہنسا۔ یوں تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ مستقل کھیلتی نظر آ رہی تھی مگر اب کے وہ ہنسا: ’’میں مشرق وسطیٰ کے کئی ملکوں میں رہا ہوں اور پاکستانیوں کے بہت قریب! بہت دوستی رہی پاکستانیوں کے ساتھ! پاکستانیوں کے خوش ہونے کے حوالے سے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ آپ حضرات جذباتی بہت ہیں۔ عرب ملکوں میں جب پاکستانی‘ اُمت مسلمہ کے ٹھیکیدار کی حیثیت سے بحث کرتے تھے اور جب بحث کا انجام جھگڑے اور پھر ذاتی تعلقات کی کشیدگی پر ہوتا تھا تو ہم عرب اپنے پاکستانی دوستوں پر ہنستے تھے، خاص طور پر فلسطینی اس صورتِ حال سے بہت محظوظ ہوتے تھے‘‘۔
پھر علائو الدین سنجیدہ ہو گیا اور وہ بات بتائی جس پر حیرت نہیں ہوئی اور ہوئی تو اس لیے ہوئی کہ مسلمانوں میں ابھی ایسے افراد موجود ہیں جو سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہتے ہیں۔ علائو الدین کا جواب تھا کہ جنوبی سوڈان کے غیر مسلم‘ اُس سلوک سے تنگ آ چکے تھے جو مسلمان ایک مدت سے ان کے ساتھ روا رکھے ہوئے تھے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے اس نے ایک واقعہ بیان کیا۔ جزیرہ نمائے عرب کے ایک ہسپتال میں جہاں وہ ایک سینئر ڈاکٹر کے طور پر تعینات تھا‘ ایک شام وہ ڈیوٹی پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اُس کے کمرے میں ایک نوجوان عرب ڈاکٹر نے ایک فلپائنی نرس کو دبوچ رکھا تھا اور وہ اس کے طاقتور ہاتھوں سے نکلنے کی جدوجہد کر رہی تھی۔ علائو الدین کو دیکھ کر اُس نے نرس کو چھوڑ دیا۔ وہ روتے ہوئے کمرے سے بھاگ نکلی۔ علائو الدین نے اپنے ماتحت ڈاکٹر کو لعن طعن کی اور متنبہ کیا کہ اگر ایسا منظر اس نے پھر دیکھا تو وہ اس کے خلاف کارروائی کرے گا۔ اس پر ماتحت ڈاکٹر نے جو جواب دیا‘ علائو الدین کے نزدیک وہی اصل سبب تھا جس نے جنوبی سوڈان کو علیحدگی کی طرف دھکیلا: ’’تم ایک غیر مسلم عورت کی خاطر ایک مسلمان کے خلاف کارروائی کرو گے؟‘‘ 
یہ فقرہ اس کالم نگار نے ایک مصری سے بھی سنا تھا جو پاکستانی دارالحکومت کی ایک یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا۔ کیا پڑھ رہا تھا؟ قرآن اور حدیث! اس نے ایک غیر مسلم خادمہ کو ایک معمولی بات پر پیٹا تھا۔ بات تھانے تک پہنچی تو اس نے تعجب سے کہا: ’’میں مسلمان ہوں اور وہ غیر مسلم! تھانے والے اس کی طرف داری کیوں کر رہے ہیں؟‘‘
ہم پاکستانی غیر مسلموں کے ساتھ جو سلوک روا رکھے ہوئے ہیں‘ وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ منافقت کا یہ عالم ہے کہ گھروں میں کام کرنے والے غیر مسلموں کے برتن الگ رکھے ہیں مگر ولایتی ملکوں میں جا کر‘ ریستورانوں میں انہی غیر مسلموں کے برتنوں میں انہی کے ہاتھوں کا پکا کھا کر قیمت ڈالروں‘ یورو اور پائونڈ میں ادا کرتے ہیں اور فخر سے ادا کرتے ہیں۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا واقعہ بہت سوں نے سنا ہو گا۔ ایک دعوت میں وہ مہمان خاص تھے۔ غیر مسلم خاکروب کو اصرار کے ساتھ‘ ساتھ بٹھایا۔ وہ اس عجیب صورتِ حال کو سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ سید بادشاہ‘ جسے سب جھک کر مل رہے تھے‘ اُسے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلانا چاہتا ہے۔ شاہ صاحب نے پلیٹ سے آلو اٹھایا اور اس کے مُنہ میں ڈالا۔ اس نے دانتوں سے آدھا کاٹا اور کھا لیا۔ شاہ صاحب نے باقی آدھا اپنے مُنہ میں ڈال لیا۔ اُس کا حجاب دور ہوا اور کھانا کھانے لگا۔ روایت ہے کہ اسی شام وہ بیوی کے ساتھ حاضر ہوا اور کلمہ پڑھا۔ اگرچہ شاہ صاحب کا مقصد یہ نہیں تھا۔ وہ تو عملاً مسئلے کی وضاحت کر رہے تھے۔
مگر شاہ صاحب کا یہ انفرادی فعل اور ایسے بہت سے اللہ والوں کے یہ اعمال مسلمانوں کے مجموعی طرز عمل میں کوئی تغیر نہ لا سکے! ٹرمپ کی کامیابی پر مسلمانوں کو جس طرح امریکہ میں اپنا مستقبل مخدوش نظر آ رہا ہے اور جس طرح ’’شیر آیا شیر آیا‘‘ کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں‘ اس پر حیرت بھی ہوتی ہے اور ہنسی بھی آتی ہے۔ جو سلوک مسلمان ملکوں میں غیر مسلموں کے ساتھ ہوتا رہا ہے اور ہو رہا ہے‘ وہ اگر ٹرمپ اور اس کے ہمنوا کریں تو کیا ناروا ہو گا؟ ضرب کلیم میں علامہ اقبال نے ایک باب ’’سیاسیات مشرق و مغرب‘‘ باندھا ہے‘ انٹرنیشنل ریلیشنز کے ہر طالب علم کو یہ باب پڑھنا چاہیے۔ اس میں ایک نظم کا عنوان ہے ’’مسولینی۔۔۔۔اپنے مشرقی اور مغربی حریفوں سے‘‘
آج اقبالؔ حیات ہوتے تو ٹرمپ کے حوالے سے اسی مضمون کی نظم لکھتے:
کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جرم
بے محل بگڑا ہے معصومانِ یورپ کا مزاج
میں پھٹکتا ہوں تو چھلنی کو بُرا لگتا ہے کیوں
ہیں سبھی تہذیب کے اوزار! تو چھلنی میں چھاج
میرے سودائے ملوکیت کو ٹھکراتے ہو تُم
تُم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے زجاج؟
تُم نے لُوٹے بے نوا صحرا نشینوں کے خیام
تُم نے لوٹی کشتِ دہقاں، تُم نے لوٹے تخت و تاج
پردۂ تہذیب میں غارت گری‘ آدم کُشی
کل روا رکھی تھی تُم نے، میں روا رکھتا ہوں آج
ویسے خدا لگتی بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے ترقی یافتہ جمہوری ملکوں سے خوب خوب فائدے اٹھائے۔ اپنے ملکوں میں غیر مسلموں کے عبادت خانوں کو نذر آتش کرنے والے ان مسلمانوں کو نیوزی لینڈ سے لے کر کینیڈا اور امریکہ کے ویسٹ کوسٹ تک مسجدیں بنانے اور آباد کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ جن مذہبی اور تبلیغی گروہوں پر مشرق وسطیٰ کے مسلمان ملکوں میں پابندی لگی ہوئی ہے‘ وہ ’’کافر‘‘ ملکوں میں کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں۔ یہ کالم نگار ایک صاحب کو جانتا ہے جو ایک امریکی ریاست میں اسلامی سنٹر چلا رہے تھے۔ جب بھی پاکستان آتے‘ مدارس سے فارغ شدہ علما ان کے آگے پیچھے پھرتے اور التجائیں کرتے کہ کسی طرح انہیں امریکہ بلا لیں۔ ایسے ایسے مدارس امریکہ کے قلب میں قائم ہیں جہاں طلبہ شلوار قمیض کے علاوہ اور کوئی لباس ہی نہیں پہن سکتے۔ نام کیا لیے جائیں   ؎
افسوس! بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے
کچھ حضرات نے تو ایک ایک لخت جگر مستقلاً اِن کافرانہ ملکوں میں مقیم کیا ہوا ہے۔ ڈالروں کے انبار وہاں سے چندہ کر کے لائے جاتے ہیں۔ ایک معروف حضرت صاحب اکثر و بیشتر امریکی حکومت کے وہاں مہمان ہوتے ہیں!
ظالم ٹرمپ نے اگر مسلمانوں کو امریکہ سے چلتا کر بھی دیا تو پریشانی کی کیا بات ہے؟ آخر ایک نہ ایک دن تو ان بے وقوف گوروں کو عقل آنی ہی ہے‘ ایک دن تو انہوں نے کہنا ہی ہے کہ بھائی صاحب پاندان اٹھائو اور چلتے بنو، بہت ہو چکی! پورے عالم اسلام کا اس پر اجماع ہے اور یہ واحد مسئلہ ہے جس پر اُمت مسلمہ متفق ہے کہ امریکہ مسلمانوں کا دشمن ہے اور یہودیوں کا ہمنوا! تو اس سے اچھی بات کیا ہو گی اگر ٹرمپ کے طفیل اِس دشمن ملک سے مسلمان اپنا بوریا بستر سمیٹ کر اُس پر تین حرف بھیجیں اور اپنا ایمان بچا کر وہاں سے نکل آئیں۔ آخر مشرق وسطیٰ کے کھرب پتی برادر مسلمان ممالک کس دن کام آئیں گے؟ بحیرۂ قلزم سے لے کر شط العرب تک پھیلی ہوئی‘ تیل کی دولت سے مالا مال ریاستیں‘ جن کی آبادی قلیل اور رقبے وسیع ہیں‘ اِن مسلمانوں کے لیے اپنے دروازے کھولنے کے لیے تیار ہیں اور بالکل وہی سہولتیں‘ وہی شہریت‘ ووٹ دینے کا وہی حق‘ جائیدادیں خرید کر اپنے نام کرنے کے وہی حقوق دیں گی جو کافر‘ یہودی نواز امریکیوں نے دے رکھے ہیں!!
ایک نصیحت ٹرمپ کے لیے بھی کہ چھوٹے بھائی! مقدس ملکوں میں جو ’’کفیل سسٹم‘‘ رائج ہے‘ کچھ عرصہ کے لیے امریکہ میں بھی رائج کر دو!!

Friday, November 11, 2016

کچھ شرم تو پتھر کی آنکھ میں بھی ہوتی ہے

ٹرمپ جیت گیا ہے۔ مسلمانوں کے لیے برا ہوا۔
ہیلری ہار گئی ہے۔ یہودی اس کی حمایت کر رہے تھے۔
ہیلری جیت جاتی تو ٹرمپ سے کم نقصان دہ ثابت ہوتی۔
ٹرمپ مسلمانوں کو امریکہ سے نکال دے گا۔
ٹرمپ تباہی مچا دے گا۔
ہیلری اور ٹرمپ میں بس اتنا فرق ہے کہ ایک کھلم کھلا مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کا اظہار کر رہا ہے۔ دوسری دل کے نہاں خانے میں مسلمانوں کے خلاف عناد رکھتی ہے۔
یہ اور اس قبیل کے تبصرے لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں کیے جا رہے ہیں! سوشل میڈیا پر، اخبارات میں، الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے، مراکش سے لے کر مصر تک، مصر سے لے کر سوڈان تک‘ مالی سے لے کر سینی گال تک‘ ترکی سے لے کر جزیرہ نمائے عرب تک‘ ایران سے لے کر مسقط و عُمان تک‘ پاکستان سے لے کر ڈھاکہ تک۔ ہر جگہ امریکی انتخابات پر اور ان انتخابات کے نتائج پر تبصرے ہو رہے ہیں۔ کچھ فلاں کی مخالفت میں ہیں۔ کچھ فلاں کی حمایت میں! اگر یہ ہار جاتا تو یہ ہو نا نہ ہوتا اور اگر وہ جیت جاتی تو ایسا ضرور ہوتا!!
مگر افسوس! صد افسوس! امریکی انتخابات سے جو سبق سیکھنا ہے، اس کی طرف ہم مسلمان نہیں آتے۔ اس لیے کہ اپنے گریبان میں جھانکنا مسلمانوں نے سینکڑوں برس سے ترک کر رکھا ہے۔ دنیا کی ہر قوم میں کیڑے دکھائی دیتے ہیں سوائے ان قوموں کے جو مسلمان ہیں۔
آپ مسلمانوں کی باتیں سنیں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ امریکہ دنیا کا بدترین ملک ہے‘ اس کی بنیاد ہی ٹیڑھی تھی۔ اِن ظالموں نے ریڈ انڈین باشندوں سے دھوکا کیا‘ ان کے ملک پر قبضہ کر کے انہیں محکوم بنا لیا۔ امریکہ میں جب بھی آپ گھر سے باہر نکلیں، جیب میں کم از کم دس ڈالر ضرور رکھیں ورنہ کچھ نہ لوٹ سکنے پر کالا آپ کو چاقو مار دے گا۔ امریکی جمہوریت سب فراڈ ہے‘ بڑی بڑی کمپنیاں امیدواروں کو خرید لیتی ہیں۔ بزنس کارٹل الیکشن مہم کے لیے پیسہ دیتے ہیں اور اپنی من مانی پالیسیاں بنواتے ہیں۔ کانگرس کے ارکان بکے ہوئے ہیں۔ یہ سب سودی نظام کے غلام ہیں۔ یہودی لابی انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ الیکشن جیتنا یا ہارنا اس پر منحصر ہے کہ اسرائیل کے متعلق اُمیدوار کیا کہتا ہے۔ امریکی انتخابات سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے۔یہ صرف مشتے نمونہ از خروارے ہے۔ ورنہ تقریباً ہر مسلمان امریکہ کے خلاف گھنٹوں بول سکتا ہے۔ مسلمانوں کا بچہ بچہ امریکہ کا پوسٹ مارٹم کر سکتا ہے۔ عالم اسلام میں امریکی امور کے ماہرین کی تعداد کم از کم بھی کروڑوں میں ہے۔
یہ کون سی مخلوق ہے جو امریکہ پر صبح و شام تین تین بار لعنت بھیجتی ہے؟ یہ وہ مسلمان ہیں جن سے ابھی تک یہی طے نہیں ہؤا کہ ایک حکمران کی جگہ دوسرا حکمران کیسے آئے گا؟ آپ ابتدا سے حساب لگا لیجیے۔ ٹھنڈے دل سے غور کیجیے۔ چار خلفائے راشدین میں سے صرف ایک شہید نہیں ہوئے۔ پرامن انتقالِ اقتدار صرف دو کے حوالے سے ہو سکا۔ جمہوریت کو دن رات گالی دینے والے بھول گئے کہ چوتھے خلیفۂ راشد سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے بعد موروثی سلسلہ شروع ہو گیا جو ایک دو مسلمان ملکوں کو چھوڑ کر آج تک چل رہا ہے! عباسیوں نے امویوں کی لاشوں پر قالین بچھایا اور ضیافت اڑائی۔ امام مالک کے ساتھ اور امام ابو حنیفہ کے ساتھ اور امام احمد بن حنبل کے ساتھ ’’خلافت‘‘ نے کیا سلوک کیا؟ ان فرشتہ صفت علم و عمل کے میناروں کو جیلوں میں رکھا گیا‘ زہر دیا گیا‘ بازو اکھیڑ دیے گئے‘ اونٹوں پر سوار کرا کے شہروں میں تحقیر کے لیے پھرایا گیا۔
امریکی جمہوریت کو گالی دینے والے بھول گئے کہ ’’خلافت‘‘ عثمانیہ میں علما نے فتوے دیے تھے کہ جو ’’سلطان‘‘ تخت نشین ہو گا اس کے لیے بھائیوں کو قتل کرنا جائز ہے۔ بصورت دیگر تخت نشینی کی جنگوں میں کئی ہزار مسلمان مارے جائیں گے۔ خلافت عثمانیہ کیا تھی؟ باپ کے بعد بیٹا پھر اس کا بیٹا‘ پھر اس کا بیٹا‘ پھر اس کا بیٹا۔ ایران کے صفویوں سے لے کر برصغیر کے مغلوں تک‘ سب خاندانی حکمرانیاں تھیں۔ شاہ جہاں آٹھ سال قید رہا‘ اکثر مسور پکاتا تھا کہ اس میں زہر کی ملاوٹ مشکل ہوتی ہے۔ اورنگ زیب کو تخت حاصل کرنے کے لیے پانچ سال جنگیں لڑنا پڑیں۔ بھائیوں بھتیجوں میں سے کچھ کو تلوار سے اور کچھ کو قید میں رکھ کر پوست پلا پلا کر مارا۔
امریکی جمہوریت فراڈ ہے تو آپ ہی دنیا کو کوئی نظام دے دیتے! اپنے گریبان میں جھانکیے‘ ماضی کو چھوڑیے‘ آج کے دور میں آپ کے ہاں اِس ’’لعنتی‘‘ جمہوریت کا نعم البدل کیا ہے؟ مراکش سے لے کر بحرین تک موروثی بادشاہت! کیا اس پر مسلمان فخر کر سکتے ہیں؟ قذافی 1969ء میں آیا اور 2011ء میں ذلیل ہو کر مرا‘ تب تخت خالی ہوا۔ یہ بیالیس سال کا عرصہ بنتا ہے۔ زین العابدین
 2011ء تک چوبیس سال تونس پر حکمران رہا۔ جمال عبد الناصر چودہ سال اقتدار سے چمٹا رہا‘ مرکر جان چھوڑی۔ پھر انورالسادات گیارہ سال حکمران رہا‘ مرکر جان چھوڑی۔ حسنی مبارک تیس سال سیاہ و سفید کا مالک رہا‘ پھر حیران ہؤا کہ لوگ اس کے خلاف کیوں ہیں؟ عالمِ اسلام کے گوہرِ تابدار پاکستان کا حال دیکھ لیجیے۔ اس ملک کو فخر ہے کہ یہ واحد مسلمان ملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے۔ ایوب خان نے اس وقت جان چھوڑی جب اس نے لڑکوں کو ’’ایوب…… ہائے ہائے‘‘ کے نعرے لگاتے سنا۔ ضیاء الحق گیارہ سال اسلام نافذ کرتا رہا‘ مرکر جان چھوڑی۔ دنیا کی تاریخ میں‘ جی ہاں دنیا کی تاریخ میں یہ اصول پہلی بار طے ہوا کہ اگر کوئی اسلامی نظام چاہتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ صدر ضیاء الحق اتنے برس مزید برسرِ اقتدار رہیں گے! دس برس بادشاہی کرنے والا صدر پرویز مشرف آج ملک میں پاؤں نہیں دھر سکتا۔ رہی پاکستانی جمہوریت، تو اس میں پیپلز پارٹی پر قیادت باپ کے بعد بیٹی کی ہے‘ پھر شوہر کی‘پھر بیٹے کی! مسلم لیگ نون میں جمہوریت یہ ہے کہ شہزادی، بادشاہ کی غیر حاضری میں سفیروں سے ملتی ہے‘ کس حیثیت سے؟ حمزہ شہباز کا پروٹوکول دیکھ کر جمہوریت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
امویوں عباسیوں‘ عثمانیوں ‘قاچاریوں‘ صفویوںاور مغلوں کو چھوڑیے۔ آج کے مسلمانوں کے نظام ہائے حکومت پر غور کیجیے۔ کیا امریکی جمہوریت اس سے بھی بدتر ہے؟ ٹرمپ اگر شیطنت کا مجسمہ ہے تب بھی زیادہ سے زیادہ آٹھ برس حکومت کرے گا۔ کچھ شرم کچھ حیا‘ تو پتھر کی آنکھ میں بھی ہوتی ہے۔ تیسری بار وہ صدارت کا اہل ہی نہ ہو گا۔ ہمارے ہاں وزیراعظم چوتھی باری کی تیاری کر رہا ہے! کیا ٹرمپ کے آٹھ سال قذافی کے بیالیس سالوں، زین العابدین کے چوبیس سالوں جمال عبدالناصر کے چودہ برسوں، انور السادات کے گیارہ برسوں حسنی مبارک کے تیس برسوں، ایوب خان کے گیارہ برسوں اور ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ایک ایک عشرے سے بھی زیادہ غیر جمہوری ہوں گے؟ کیا امریکی جمہوریت اُس وقت مسلمانوں کے لیے لائقِ تحسین ہو گی جب ری پبلکن پارٹی پر بھٹو خاندان اور ڈیمو کریٹک پارٹی پر شریف خاندان مسلط ہو گا؟ 
دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ وہ امریکہ کی ’لعنتی‘‘ جمہوریت کا نعم البدل نہیں پیش کر سکتے!! 1789ء میں جارج واشنگٹن پہلا امریکی صدر بنا۔ اُس وقت سے لے کر اب تک ہر چار سال بعد الیکشن ہو رہے ہیں‘ 58 بار انتخابات ہو چکے ہیں‘ ٹرمپ 45 واں صدر ہو گا۔ دو سو برس سے زیادہ طویل اس عرصہ میں کوئی تخت نشینی کی جنگ نہیں ہوئی۔ ہارے ہوئے کسی امیدوار نے دھاندلی کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی۔ کوئی فوجی ’’انقلاب‘‘ نہیں آیا۔ کسی صدر کے بیٹے یا بیٹی نے وزیروں کو طلب کیا نہ سفیروں سے حاضری لگوائی۔ اس ’’کافرانہ‘‘ جمہوریت میں کسی بیٹی، کسی نواسی، کسی بہن، کسی شوہر، کسی بھتیجے نے کسی پارٹی پر خاندانی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش نہیں کی۔
یہ سسٹم اگر یہودی نواز ہے، اگر اس پر کمپنیوں کا قبضہ ہے، یہ اگر کاروباری اجارہ داریوں (بزنس کارٹلز) کا پروردہ ہے تو آپ اس میں کیڑے نکالنے کے بجائے ایک بہتر سسٹم چلا کر دکھائیے جس میں یہ سارے نقائص نہ ہوں۔ 
گریبان میں جھانکنے کے لیے گریبان کا ہونا لازم ہے۔ آئینہ دیکھنے کے لیے آئینہ موجود ہونا چاہیے۔ آپ کے پاس پچاس سے زیادہ ممالک ہیں۔ سب میں نہیں، نصف میں نہیں، ایک چوتھائی میں نہیں، تین چار میں نہیں، ایک میں‘ صرف ایک میں ہی‘مغربی یا امریکی جمہوریت سے بہتر نظام، حکومت چلانے کا نظام، انتقالِ اقتدار کا نظام، چلا کر دکھا دیجیے۔!!

Thursday, November 10, 2016

سامانِ عبرت

کھڑکی سے پردہ ہٹائیے۔
آپ کی کھڑی کے ساتھ درخت ہے۔ سبز پتوں سے بھرا جھومتی شاخوں سے لہلہاتا۔ ایک شاداب ٹہنی پر چڑیا بیٹھی ہے۔ کان لگا کر سنیے کیا ہی میٹھا گیت گا رہی ہے۔ مجید امجد نے کہا تھا   ؎
ننھی چونچ پہ چوں چرچوں چرچوں کی چونچل بانی
کرن کرن پر ناچ رہی ہے اس کے من کی کہانی
کیا گاتی ہے کیا کہتی ہے کون اس بھید کو کھولے
جانے دُور کے کس ان دیکھے دیس کی بولی بولے
یہ چڑیا‘ یہ ننھی سی جان‘ کس قدر معصوم ہے! کیا یہ جھوٹ بول سکتی ہے؟ کیا یہ دھوکہ دے سکتی ہے؟ کبھی نہیں! دنیا میں اس سے زیادہ معصوم کون ہو گا؟ آپ یہی کہیں گے ناکہ کوئی نہیں! مگر ایک شخص اس چڑیا سے بھی زیادہ معصوم ہے!
کیا دودھ پیتے بچّے سے بھی زیادہ معصوم کوئی ہو گا؟ سانپ کے سر کو مٹھی میں جکڑ لے۔ دہکتا کوئلہ پکڑ کر منہ میں ڈالنا چاہے! طفلِ شیر خوار!! اقبالؔ نے اس کے بارے میں کہا تھا۔ 
میں نے چاقو تجھ سے چھینا ہے تو چلاّتا ہے تو
مہرباں ہوں میں‘ مجھے نامہرباں سمجھا ہے تو
پھر پڑا روئے گا اے نوواردِ اقلیمِ غم
چھو نہ جائے دیکھنا! باریک ہے نوکِ قلم
آہ! کیوں دُکھ دینے والی شے سے تجھ کو پیار ہے
کھیل اس کاغذ کے ٹکڑے سے‘ یہ بے آزار ہے
گیند ہے تیری کہاں؟ چینی کی بلّی ہے کدھر
وہ ذرا سا جانور ٹوٹا ہوا ہے جس کا سر
مگر علامہ کو کیا معلوم تھا کہ ایک مخلوق اس سیارے پر طفلِ شیر خوار سے بھی زیادہ معصوم ہے۔
یہ معصوم ترین مخلوق‘ ایک مٹھی میں سما جانے والی چڑیا سے بھی زیادہ معصوم ہے! اُس بچے سے بھی زیادہ معصوم ہے جس سے چاقو اور پین چھین لیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو زخمی نہ کر بیٹھے! اس وقت زمین کے اوپر فلکِ کج رفتار کے نیچے‘ جنرل پرویز مشرف سے زیادہ معصوم کوئی نہیںٖ پرسوں موصوف ٹیلی ویژن پر انٹرویو دے رہے تھے۔ دعویٰ کیا کہ ان کے عہد میں ایم کیو ایم میں کوئی ایسا ویسا معاملہ نہ تھا! انٹرویو لینے والے نے بتایا کہ آپ ہی کے عہد میں الطاف حسین نے بھارت جا کر تقریر کی تھی کہ پاکستان کا قیام بہت بڑی غلطی تھی۔ جنرل صاحب نے کمال معصومیت سے جواب دیا کہ مجھے تو اس کا علم ہی نہیں! یہ وہ ساعت تھی کہ غیبی قوتوں نے کرۂ ارض پر موجود تمام معصومیت اِدھر اُدھر سمیٹ کر‘ اکٹھی کر کے‘ جنرل صاحب کے چمکتے چہرے پر یوں مل دی جیسے دیوار پر سیاہی ملی جاتی ہے! سبحان اللہ!تاریخ میں اِس ’’معصومیت‘‘ کی کوئی اور مثال ملنا ممکن ہی نہیں!
دو ہی صورتیں ہیں‘ ایک یہ کہ جنرل پرویز مشرف کو واقعی معلوم نہ ہو سکا کہ الطاف حسین نے بھارت جا کر پاکستان کے خلاف تقریریں کیں اگر یہ درست ہے تو پھر پرویز مشرف صاحب جیسا نااہل حکمران شاید ہی کوئی اور گزرا ہو! آپ کو یہی نہیں معلوم ہوا کہ ایک پاکستانی سیاست دان‘ دشمن ملک میں جا کر پاکستان کے قیام کو چیلنج کر رہا ہے! آپ حکمران بننے کے اہل ہی نہ تھے!
اور اگر یہ بات غلط ہے کہ انہیں معلوم ہو نہ سکا تو اس کا مطلب ہے وہ دروغ گوئی سے کام لے رہے ہیں۔ حقیقت کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں! سارے پاکستان کو معلوم ہے کہ اس پاکستان دشمن تقریر کے بعد دہلی میں واقع پاکستانی سفارت خانے کے ارکان بہت مضطرب اور غم زدہ ہو گئے تھے ۔ ایسے میں اسلام آباد سے سفارت خانے کو ہدایات ملیں کہ الطاف حسین صاحب کے اعزاز میں سفارت خانہ سرکاری ضیافت کا انعقاد کرے!
سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگانے والے سابق صدر کو یقیناً بہت سے دیگر حقائق کا علم بھی نہ ہو گا! معصوم جو ٹھہرے! مثلاً انہیں یہ یقیناً معلوم نہ ہو گا کہ ان کی تصنیف دل پذیر میں کسی نے اعتراف کر لیا ہے کہ انسانوں کو فروخت کر کے امریکی سرکار سے ڈالر لیے جاتے رہے۔ انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ خالص دوست پروری کی بنیاد پر تعینات کیا گیا سفیر جکارتہ میں سفارت خانے کی عمارت کواونے پونے فروخت کر رہا تھا۔ سفارت خانے کے ایک افسر نے‘ جو سفیر صاحب کا نائب بھی تھا‘ وزارت خارجہ کو متنبہ کیا کہ غلط کام کیا جا رہا ہے۔ پرویز مشرف صاحب کو تو بوجہ معصومیت علم نہ ہو سکا مگر ان کے فرشتوں نے اُس افسر کو سزا دی۔ اتنی ظالمانہ سزا کہ وہ افسر کئی سال تک بغیر کسی دفتر کے اور بغیر کسی کام کے رہا۔ سال پر سال گزرتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ دیانت دار افسر ریٹائر ہو گیا اور پھر جلد اس صدمے کے باعث جان ہار گیا۔
جنرل پرویز مشرف کو اس ظلم کا علم بھی نہ ہو گا کہ ان کا ایک دوست‘ جس کا وفاقی‘ سول شعبہ تعلیم سے کوئی تعلق نہ تھا۔ سالہاسال وفاقی شعبہ تعلیم کا سربراہ بنا رہا اور جن کا حق تھا وہ عدالتوں میں دھکے کھاتے رہے۔ معصوم ریٹائرڈ جرنیل کو یہ بھی نہ معلوم ہو گا کہ ڈاک کے ادارے پر بھی اپنے ایک ریٹائرڈ فوجی ساتھی کو مسلط کر دیا اور جن کی حق تلفی ہوئی وہ بددعائیں دیتے دیتے ریٹائر ہوتے رہے۔ یہ فقط چند مثالیں ہیں۔ورنہ معصومیت کی داستانیں بے شمار ہیں۔
کوئی پاکستانی‘ بالخصوص کوئی فوجی پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی برداشت نہیں کر سکتا۔ پاکستان کی تاریخ میں جنرل پرویز مشرف پہلے جرنیل ہیں جو بھارت میں کی جانے والی پاکستان دشمن زہریلی تقریر پی گئے! چُوں تک نہ کی۔ پھر ’’حب الوطنی‘‘ کی انتہا یہ کہ پاکستان کے خلاف نجاست بھری تقریر کرنے والے کو پاکستانیوں ہی کے خرچ پر ضیافت بھی دی گئی!
پرویز مشرف اس ملک کے پہلے جرنیل ہیں جو عدالتوں میں حاضر ہونے کے بجائے بیمار بنے رہے۔ لوگ خوب ہنسے۔ ساری بہادری کافور ہو گئی۔ پھر ملک سے باہر بھاگ گئے۔ کوئی اور ہوتا تو عزت کی خاطر خاموش ہو کر وقت گزارتا مگر آپ کو اپنی آواز سننے کا شوق حد سے زیادہ ہے۔ موقع بے موقع بولیں گے۔ بیانات جاری کریں گے۔ انٹرویو دیتے پھریں گے۔ ایک سیاسی جماعت بھی بنا رکھی ہے جو تانگہ پارٹی سے زیادہ نہیں! صفر سے بھی کم قدرو قیمت ہے اس جماعت کی مگر جنرل پرویز مشرف صاحب کمال معصومیت سے اس بھاری بھرکم سیاسی جماعت کے باقاعدہ سربراہ ہیں!سنا ہے سادات کی عزت ہوا کرتی تھی جو عاشقی میں جاتی تھی۔ سادات کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ عزتِ سادات عاشقی کے بغیر ہی چلی گئی!
کیا سابق صدر کا آئی کیو(iQ)اس قدر کم(Low)ہے کہ انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان کی اس بات پر ایک فی صد لوگ بھی یقین نہیں کریں گے؟ کیا وہ اس قدر غبی ہیں؟ جب الطاف حسین نے پاکستان دشمنی سے بھری ہوئی یہ تقریر بھارت میں کی تھی اور پاکستان کے وجود کو غلطی اور حماقت قرار دیا تھا‘ تو پورے ملک میں اس پر احتجاج ہوا تھا۔ معصوم صدر صاحب اس پورے ہنگامے سے بے خبر رہے! جس طرح اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے آپ نے کرپٹ سیاست دانوں کو وزارتیں دیں‘ اسی طرح حکمرانی کی لالچ میں آپ نے الطاف حسین کی وطن دشمنی بھی قبول کر لی‘ انٹرویو لینے والا بھی عجیب شخص تھا! اتنا ہی پوچھ لیتا کہ کیا آپ کو ایجنسیوں نے بھی آگاہ نہ کیا؟
ریٹائرڈ صدر صاحب کا ایک شعبدہ اور بھی ہے۔ بظاہر میاں نواز شریف کے مخالف ہیں اور ان کی حکومت کے بھی! مگر اپنے وفادار ساتھیوں کی اکثریت کو مسلم لیگ نون میں بھیج دیا ہے تاکہ وہ موجودہ وزیر اعظم کے اقتدار کی حفاظت کریں۔ جناب زاہد حامد سے لے کر جناب دانیال عزیز تک اور جناب امیر مقام سے لے کر محترمہ ماروی میمن تک‘ حکومتِ وقت کے ہم نوا‘ جنرل صاحب ہی کے فرستادہ ہیں! اب یہ تو ممکن نہیں کہ جیب سے رومال نکال کر وردی صاف کرنے والے جاں نثار‘ جنرل صاحب سے پوچھے بغیر‘ جنرل صاحب کی مخالف نمبر ایک جماعت میں گُھس گئے اور بلند مقامات پر فائز ہوئے۔ اتنے وفادار ساتھی بھلا جنرل صاحب کو چھوڑ دیں! ناممکن ! وہ یقیناً کسی مشن پر ہیں۔ یہ مشن جنرل صاحب ہی کا دیا ہوا ہو گا! اگر جناب امیر مقام نے مسلم لیگ میں داخل ہو کر اپنا ریوالور سابق صدر صاحب کو ابھی تک واپس نہیں کیا تو یہ بھی جنرل صاحب کی ایک جنگی چال ہو گی!
کوئی ہے جو جنرل صاحب کو قائل کرے کہ اللہ اللہ نہ سہی‘ طبلہ نوازی ہی کر لیں مگر اپنے آپ کو سامانِ عبرت نہ بناتے پھریں۔

Monday, November 07, 2016

BASE? …کون سی BASE ؟

یہ انگریزوں کا زمانہ تھا۔ اُن کے افسر‘ اُن کے مجسٹریٹ‘ اُن کے ڈپٹی کمشنر‘ ہمارے افسروں کی طرح صرف افسر نہیں تھے‘ کام کرتے تھے اور مسلسل کرتے تھے۔ صرف ہر ضلع کے گزٹ (GAZETTEER) ہی کو دیکھ لیجیے۔ تاریخ سے لے کر ایک ایک معاشرتی پہلو تک‘ تحقیق کی اور ضلع وار اس تحقیق کو کتابی شکل دی۔ گھوڑوں پر دور دراز علاقوں کا سفر کیا۔ انگریز ڈپٹی کمشنر کو معلوم تھا کہ اس کی قبر آسام کی دور افتادہ پہاڑیوں میں‘ یا نیپال کی گھاٹی میں‘ یا وانا اور ٹانک کی بے رحم وسعتوں میں یا رنگون کی اجنبی گلیوں میں بننی ہے۔ مگر وہ اپنے ملک کے لیے‘ اپنی ملکہ کے لیے‘ اپنے پرچم کے لیے‘ دیارِ غیر میں مرنے کے لیے تیار ہوتا تھا۔
ایسا ہی ایک ڈپٹی کمشنر تھا۔ گھوڑے پر جا رہا تھا۔ اپنے علاقے کا معائنہ کرنے! راستہ بھول گیا۔ شام پڑ گئی۔ ایک گوٹھ دکھائی دی۔ کسان نے اس کے گھوڑے کو چارہ ڈالا‘ اور مہمان کو چارپائی اور بستر پیش کیا۔ کسان کے پاس بہترین کھانا اُس دن باجرے کی روٹی تھی جو اس کی بیوی نے تنور پر پکائی تھی۔ کھیتوں کھلیانوں میں پلنے والے قارئین کو معلوم ہو گا کہ باجرے کی اور مکی کی بھی‘ جو روٹی تنور میں پکتی ہے سخت ہوتی ہے۔ روٹی کے اوپر کسان کی بیوی نے ساگ رکھا اور صاحب بہادر کو پیش کر دیا۔ انگریز نے ساگ کھا لیا اور روٹی واپس کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ واپس لے لو۔
مگر اب معاملہ الٹ ہے۔ پیزا پیش کیا جاتا ہے تو ’’پلیٹ‘‘ پر پڑا ہوا ’’سالن‘‘ نہیں کھایا جا سکتا۔ باعزت طریقہ یہ ہے کہ اُس کے اُوپر لگائے ہوئے گوشت کے ٹکڑے‘ ٹماٹر کے قتلے‘ پنیر کی تہیں‘ کھرچ کھرچ کر ہٹا دی جائیں‘ نیچے روٹی رہ جائے گی۔ اُسے چائے کے ساتھ یا سالن کے ساتھ کھا لیں! پیٹ بھر لیں اور عزت بچا لیں!
مصیبت تنہا نہیں آتی۔ اس قوم نے صرف چوہدری فضل الہیٰ جیسے ’’فصیح و بلیغ‘‘ خطیب ہی کو نہیں بھگتا‘ رفیق تارڑ جیسے زعیم جن کی وجہ شہرت ہرگز ہرگز کوئی بریف کیس نہیں تھا۔ آصف علی زرداری جیسے سخت ’’دیانت دار‘‘ اور ممنون حسین جیسے ’’عالم فاضل‘‘ جن کے سامنے رادھا کرشن‘ ذاکر حسین اور عبدالکلام جیسے عالم فاضل، ادیب، سائنس دان بھارتی صدر ہیچ نظر آئیں ہی کو نہیں بھگتا۔
بلکہ پیزا کو بھی بھگت رہی ہے!
برصغیر کے مسلمانوں نے پہلے پلائو کے ساتھ کون سا انصاف کیا کہ اب روٹی کے ساتھ کریں۔ تاشقند سمرقند یا بخارا جا کر پلائو کھائیں تو یوں لگتا ہے بادلوں پر بیٹھ کر پرستان کی سیر کر رہے ہیں۔ یہی پلائو وسط ایشیائی برصغیر میں لائے تو اس کی شکل بگاڑ کر جو چیز پیدا کی‘ اُسے بریانی کا نام دے دیا بالکل اسی طرح جیسے آپ مسلّم گوسفند کے بعد مسور کی دال کھائیں! پھر مغلوں کو بریانی کا ایسا چسکا پڑا کہ پلائو پیچھے رہ گیا۔ اورنگزیب کے احوال میں مذکور ہے کہ اس کا بیٹا (غالباً مراد) جب ایک صوبے کا گورنر تھا‘ اُس کے پاس بریانی پکانے والا باورچی تھا جو اپنے کام کا ماہر تھا۔ اورنگزیب اُسے اپنے ساتھ دارالحکومت لے جانا چاہتا تھا۔ مگر عقل مند شہزادہ طرح دے گیا۔ بہرطور جب بھی اورنگزیب بیٹے کے پاس ملاقات کے لیے یا صوبے کے معائنہ کے لیے جاتا تو فرمائش کرتا کہ بریانی اُسی بدبخت کی پکی ہوئی ہو!
اس کالم نگار کو پیزا پسند نہیں خدا کا شکر ہے دیگر عادات بھی اچھی ہیں! پلائو پر بریانی کو ترجیح دینے والوں میں دونوں بیٹیاں شامل ہیں۔ اب پیزا کے معاملے میں نئی صف بندی ہوئی تو ماں بھی بچوں کی ہم نوا نکلی۔ ایک طرف یکہ و تنہا پیزا کا یہ مخالف اور دوسری طرف پورا کنبہ بلکہ سارا خاندان قبیلہ!
پیزا؟ کون سا پیزا؟ اور کیوں؟ اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! پہلے ہی تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوتیں کیونکہ تم ناعاقبت اندیشوں نے مکھڈی حلوے اور زردے کے بجائے ولایتی سویٹ ڈشوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اب روٹی کے اوپر ٹماٹر اور پیزا چسپاں کر کے روٹی کا حلیہ بگاڑ دیا۔ ہماری روایات روٹی کے ضمن میں اتنی بھرپور ہیں‘ اس قدر امیرانہ شاہانہ اور تازگی بخش ہیں کہ پیزا کی کیا حیثیت! کیا آلو بھرے پراٹھے کا یا مولیوں والے پراٹھے کا یا پالک یا گوبھی والے پراٹھے کا کوئی جواب ہے؟ گھروں سے تم نے تنور ختم کیے اور پیزا کھانا شروع کر دیا۔ ہماری خواتین آٹا گوندھتے وقت‘ اس میں پیاز چھوٹے چھوٹے کاٹ کر ڈالتی تھیں۔ اسے پیاز والی روٹی کہتے تھے۔ تنور سے اترتی تھی تو اس پر انگلیوں سے گڑھے بنائے جاتے تھے۔ پھر مکھن کا بڑا سا پیڑا رکھا جاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں پیزا کی حیثیت وہی ہے جو اقبال اور فیض کے مقابلے میں امام دین گجراتی کی ہو! کیا پیزا کھانے میں کام و دہن کی وہ لذت میسر ہے جو مکی کی روٹی‘ مکھن ساگ اور لسی میں ہے؟ روٹی ہی کھانی ہے تو اچار کے ساتھ پراٹھا کھائو‘ ساتھ دہی بھرا چمچ منہ میں ڈالو!
پیزا کی پیدائش نیپلز کی ہے۔ نیپلز شہر کو اطالوی میں ناپولی کہتے ہیں۔ یہ کالم نگار ایک بار سات ماہ نیپلز میں رہا مگر خدا کا شکر ہے پیزا کو اُس وقت بھی دل نہ دیا۔ پسندیدہ خوراک اپنی وہاں مچھلی‘ سپے گتی (SPAGHETTI)‘ مکرانی اور روٹی تھی۔ روٹی کو اطالوی پانے کہتے ہیں۔ جناب سرتاج عزیز اُن دنوں روم میں تھے۔ آپ ہی نے بتایا تھا کہ پیزا خریدتے وقت اگر کہنا ہو کہ پورک والا پیزا نہیں درکار تو اطالوی میں یہ ہدایت دینے کے لیے کہنا ہو گا سینسو میالے یعنی SENSO MIALE اٹلی میں پیزا مارگریٹا بہت مشہور ہے۔ یہاں بھی اب چل پڑا ہے۔مارگریٹا اصل میں اس ملکہ کا نام تھا جو 1889ء میں ، یا اس کے لگ بھگ، سرکاری دورے پر نیپلزآئی۔ بلکہ تین قسم کے پیزا پیش کیے گئے۔ ان میں سے ایک جو ملکہ نے پسند کیا، اطالوی پرچم کے رنگ کا تھا۔ اس کی سطح پر تین رنگ نمایاں تھے۔ سرخ (یہ ٹماٹر کا رنگ تھا) سبز (یہ تلسی کے بیج تھے) اور سفید( یہ پنیر تھا جسے موزاریلا کہتے ہیں) ۔ اس کے بعد اس پیزا کا نام پیزا مارگریٹا پڑ گیا۔ تاہم اس کی وجہ تسمیہ صرف یہی نہیں، اور روایات بھی ہیں، پھر جب اطالوی امریکہ پہنچے ، تو پیزا بھی وہاں پہنچ گیا۔ عالمی جنگوں کے بعد جو امریکی، اٹلی رہ کر آئے تھے، انہوں نے واپس امریکہ پہنچ کر پیزا کی دکانیں ڈھونڈیں اور یوں طلب میں اضافہ ہوا۔ پھرپیزا کے حوالے سے فاسٹ فوڈ میدان میں آئے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ ایک دن میں امریکی آبادی کا تیرہ فیصد حصہ پیزا خوری کا ارتکاب کر رہا ہے۔
امریکی جب کاروبار کرتے ہیں تو اسے آسمان تک لے جاتے ہیں۔ پیزا بیچنے والے فاسٹ فوڈ، امریکہ سے باہر اپنی دکانیں قائم کرنے لگے تو پوری دنیا پرچھا گئے۔ پاکستانی جیسے ملکوں کے سادہ دل اور سادہ لوح لوگ فاسٹ فوڈ کے ان مرکزوں پر ٹوٹ پڑے۔ جوکھانا امریکہ میں مزدور اور نچلے درجے کے ملازم کھاتے تھے، یہاں امارت فیشن اور شان و شوکت کی علامت بن گیا۔ اب یہ کروڑوں کا کاروبار ہے۔ اس میں بہت بڑا عامل رات کو جاگنے کا ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ترقی یافتہ ملکوں سے کچھ سیکھا تو برا ہی سیکھا۔ ان کے کلچر، ان کے کاروبار، ان کے طرز تعلیم اوران کے طرز حکومت میں جوحسنات تھیں ان سے مکمل پرہیز کیا اور جو سیئات تھیں، ان کی تقلید کی۔ ہفتے کے پانچ دن کیا امریکی اور کیا آسٹریلوی اور کیا یورپی، سرشام کھانا کھا لیتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ پھر صبح سویرے اٹھتے ہیں اور آٹھ بجے اپنے دفتروں، کارخانوں، کالجوں، سکولوں کمپنیوں، کارپوریشنوں میں موجود ہوتے ہیں! ان سارے ملکوں میں دکانیں صبح نو بجے کھل جاتی ہیں اور پانچ یا چھ بجے بند ہو جاتی ہیں۔ ہمارے تاجروں کو حکومت بار بار کہہ رہی ہے کہ دکانیں شام کو جلدی بند کرو مگر وہ ہٹ دھرمی سے انکار کر رہے ہیں اور توانائی کے ضیاع کے مرتکب ہو کرملک دشمنی کا ثبوت دے رہے ہیں۔
شہروں اور قصبوں میں رات دیر تک جاگنا عام ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بھر میں کسی دفتر میں چلے جائیں۔ دس بجے سے پہلے کم ہی اہلکار ملیں گے۔ دکانیں تو دن کے ایک بجے کھل رہی ہیں۔ رات کو جاگنے کے لیے کچھ کھانا بھی پڑتا ہے۔ اس کلچر نے ’’پیزا ڈیلیوری‘‘ (Pizza Delivery) کے کاروبار کو جنم دیا۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں رات گیارہ بارہ بجے فون پر آرڈر کرتے ہیں۔ پیزا ہائوس میں میدے کی کچی روٹی پر چند ٹماٹر چسپاں کیے جاتے ہیں۔ گوشت کے تین ٹکڑے نصب کیے جاتے ہیں۔ ایک آدھ زیتون یا مشروم! اوپر سے پنیر کا سفوف چھڑکا۔ لیجیے، پیزا تیار ہے۔ ڈیلیوری والا نوجوان اسے لے کر پہنچ جاتا ہے۔ گھنٹی دیتا ہے۔ نوجوان بہن، بھائی یا میاں بیوی جورات کو الوئوںکی طرح جاگ رہے ہوتے ہیں، دواڑھائی ہزار روپے دے کراس مذاق کو اندر لے آتے ہیں۔ ساتھ کوئی کولا، سامنے لیپ ٹاپ۔ اسی حالت میں پو پھٹتی ہے۔ کہاںکی نماز کون سا وضو، ادھر اذان ہوئی، ادھر نیند نے آدبوچا۔ اب ماں باپ الٹے بھی لٹک جائیں، ان پیزا خوروں نے سہ پہر تین سے پہلے نہیں بیدار ہونا!
گلی گلی محلے محلے پیزا ہائوس کھل گئے ہیں۔ کوالٹی چیک کرنے والا کوئی نہیں۔ کروڑوں کاکاروبار ہے۔ کچھ نفع بیرون ملک Mother Countries میں جا رہا ہے، باقی مقامی تاجروں کی جیب میں! منہ ٹیڑھا کرکے پوچھتے ہیں۔ Base(کنارہ) پتلا رکھنا ہے یا موٹا؟ آرڈر دینے والا دیسی انگریز یا جعلی میم اینگلو انڈین لہجے میں جواب دیتی ہے۔
کیا کبھی کسی نے بیسنی یا مکئی کی روٹی یا آلو بھرے پراٹھے پکاتے وقت پوچھا تھا کہ Base کیا رکھنی ہے؟ پیزا کی بیس تو بتا دی ۔یہ کسی کو فکرنہیں کہ قوم کی اپنی Base کوئی نہیں!
کسی اگلے کالم میں برگر کا پوسٹمارٹم کرنا ہے۔ انتظار فرمائیے۔

Friday, November 04, 2016

زبانیں گھی ٹپکاتی اور دل پتھر جیسے سخت!

کرنل فرانسس ریمنڈ سلوتری تھا! حیوانات کا ڈاکٹر! میرٹھ اور بمبئی میں انگریزی افواج کا حصہ رہا، بنگال ویٹنری کالج کا پرنسپل بھی رہا۔
آپ کا کیا خیال ہے انگریزی عہد میں کتنے سلوتری فوج میں ہوں گے؟ بے شمار! مگر کرنل فرانسس ریمنڈ کا نام تاریخ میں زندہ ہے۔ اس کا سبب اس کا بیٹا ہے۔ نام اس کا بھی ریمنڈ تھا، مگر جیمزہیڈلے چیز کے نام سے پوری دنیا میں مشہور ہؤا۔ اٹھارہ برس کی عمر میں گھر سے نکل آیا۔ کتابیں بیچنا شروع کردیں، گھر گھر، دروازہ کھٹکھٹاتا اور کتابیں بیچتا۔ دو سال میں ایک لاکھ دروازوں پر دستک دی۔ اس کام میں اسے یہ معلوم ہو گیا کہ عوام کس قسم کی کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ اس نے ناول نگاری پر کمر باندھ لی۔ یہ دوسری بین الاقوامی جنگ سے پہلے کا زمانہ تھا۔ عالمی کسادبازاری (گریٹ ڈیپریشن) نے لوگوں کو پاگل کر رکھا تھا۔ شکاگو میں زیرِ زمین گینگ بن گئے، جو جرائم کرتے اور روپیہ کماتے۔ جیمز ہیڈلے چیز نے ابتدا میں انہی کو موضوع بنایا، سو سے زیادہ، جرم و سزا پر ناول لکھے۔ پچاس سے زیادہ ناولوں پر فلمیں بنیں۔ پوری دنیا میں پڑھا گیا۔
دلچسپ ترین حصہ اس کے ناولوں میں، کہانی کا اختتام ہوتا ہے۔ مجرم آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ لوٹ مار کے مال کی تقسیم میں جھگڑے اُٹھتے ہیں۔ پھر وہ ایک دوسرے کو پولیس کے سامنے، دوسرے لوگوں کے سامنے ننگا کرتے ہیں، راز کھولتے ہیں۔
یہی کچھ آج کل سیاست دان کر رہے ہیں۔ لگتا ہے روزِ حساب، جو دنیا میں آنا ہوتا ہے، قریب ہے۔ روزِ حساب جو آخرت میں ہو گا، اس کے بارے میں فرمایا گیا کہ زبان خاموش ہو گی مگر اعضا و جوارح گواہی دیں گے۔ پاؤں بتائیں گے کہاں کہاں گئے۔ ہاتھ بتائیں گے کیا کچھ کرتے رہے۔ آنکھیں بتائیں گی کیسے استعمال ہوئیں۔
کیا ہی عبرت کا مقام ہے کہ وزرا گواہیاں دینے پر آ گئے ہیں   ع
قیامت سے بہت پہلے قیامت ہم نے دیکھی ہے!
سنجیدہ ترین وزیر جناب چوہدری نثار علی خان نے کل کیا انکشاف کیا۔
’’1998ء میں وزیراعظم نے لمبے عرصے تک کابینہ کا اجلاس نہیں بلایا، جس کی وجہ سے وزرا میں سخت اضطراب اور بے چینی پائی جا رہی تھی۔ وزرا کو رنج تھا کہ ان کی وزیراعظم تک رسائی نہیں۔ حلقوں کے مسائل کے حوالے سے ان کی شنوائی کرنے والا کوئی نہیں، سب نے مجھ سے گلہ کیا اور درخواست کی کہ آپ چونکہ وزیراعظم کے قریب ہیں، آپ ان سے اس حوالے سے بات کریں اور ہمارے تحفظات سے آگاہ کریں۔ میں نے وزیراعظم کو صورت حال سے آگاہ کیا اور کابینہ اجلاس بلانے کی درخواست کی۔‘‘
وقت بہترین منصف ہے۔ یہی وہ نقائص ہیں جو غیر جانب دار مبصرین میاں محمد نواز شریف کے اسلوبِ حکمرانی میں نکالتے ہیں۔ یہی وہ قبائلی سٹائل ہے، جو میاں صاحب کا ٹریڈ مارک مشہور ہو چکا ہے۔ ابھی اسی سال بجٹ سے پہلے کابینہ کا اجلاس سات ماہ بعد بلایا گیا۔ 
1998ء میں بھی یہی سٹائل تھا۔ جمہوری حکومتوں میں حکومت کا سربراہ کابینہ کے ذریعے حکومت کرتا ہے۔ ہر شعبے کا وزیر کابینہ کے اجلاس میں رپورٹ کرتا ہے۔ مسائل پر بحث ہوتی ہے اور فیصلے ہوتے ہیں۔ اگر وزیراعظم ’’طویل عرصے‘‘ تک کابینہ کا اجلاس نہیں بلاتے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر حکومت کا کام کس طرح چلتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو مسئلے کا لب لباب ہے۔ یہاں کابینہ کے بجائے قریبی ساتھیوں اور رشتہ داروں کے ذریعے حکومت کا کام چلایا جاتا ہے! بالکل اسی طرح جیسے قبائلی نظام چلتا ہے۔ 
’’حلقوں کے حوالے سے وزرا کی شنوائی نہیں ہوتی۔‘‘
’’وزیراعظم تک رسائی نہیں۔‘‘
غور کیجیے۔ یہ الزامات عمران خان یا بلاول بھٹو یا چوہدری شجاعت نہیں لگا رہے۔ ایسا شخص اس مخصوص طرزِ حکومت کی گواہی دے رہا ہے جو وزیراعظم کا ساتھی ہے۔ اچھی شہرت رکھتا ہے۔ اور اس کے خلاف تادم تحریر کرپشن کا کوئی سکینڈل، کوئی الزام نہیں!
کیا وزیراعظم کے قصیدہ خوان اور مسلم لیگ نون کے زعما بتانا پسند کریں گے کہ 1998ء میں بھی اور 2015-16ء میں بھی بغیر کابینہ کے اجلاسوں کے، فیصلے کہاں ہوتے رہے اور ہو رہے ہیں؟ وزرا کیوں بے بس ہیں؟ اور ’’حلقوں کے مسائل کے حوالے سے ان کی شنوائی کیوں نہیں ہوتی؟‘‘
یہ طرزِ حکومت کوئی ڈھکا چھپا نہیں۔ کون نہیں جانتا کہ وزیراعظم مہینوں، مدتوں قومی اسمبلی میں اور سینیٹ میں نہیں تشریف لاتے اور جب آتے ہیں تو یہ باقاعدہ خبر بن جاتی ہے! 2014ء کے دھرنے کے دوران غالباً یہ اعتزاز احسن تھے جنہوں نے طنز کیا تھا کہ دھرنے کی وجہ سے وزیراعظم نے اسمبلی کو تو اہمیت دی۔ 
بہر طور چوہدری صاحب کے کہنے پر وزیراعظم نے کابینہ کا اجلاس بلا لیا۔ آگے انہی کی زبانی سنیے، ’’ میں ڈر رہا تھا کہ یہ خوفناک اجلاس ہو گا، کہیں وزیراعظم اور وزرا میں تلخی نہ ہو جائے۔ میں اجلاس کو بدمزگی سے بچانے کے لیے تدابیر سوچ رہا تھا۔ اجلاس شروع ہوا تو تمام ناراض وزرا نے باری باری وزیراعظم کی خوشامد شروع کر دی۔ میں حیرانی کے عالم میں ان سب کے چہرے دیکھ رہا تھا۔ جب آٹھ ناراض وزرا اپنے مسائل کے بارے میں وزیراعظم کو آگاہ کرنے کے بجائے قصیدے پڑھ چکے تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا۔‘‘
چوہدری صاحب بتاتے ہیں کہ انہیں بولنے کی اجازت ملی تو انہوں نے تجویز پیش کی خوشامد پر پابندی عاید کر دی جائے اور اس کا اطلاق ابھی سے اسی کابینہ سے کیا جائے۔ ظاہر ہے یہ سن کر کابینہ پر سناٹا ہی چھانا تھا۔
یہاں ایک ضمنی نکتہ اُبھرتا ہے۔ چوہدری نثار علی واحد اہم وزیر ہیں جو وسطی پنجاب سے نہیں ہیں اور اُس خاص برادری سے تعلق نہیں رکھتے، جس کی موجودہ شاہی خاندان کے عہدِ اقتدار میں پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہوتا ہے۔ چوہدری صاحب کو مسلم لیگ نون میں دیکھ کر تاریخ کا طالب علم اسی طرح حیران ہوتا ہے جیسے جنرل نصیر اللہ بابر کو پیپلز پارٹی میں دیکھ کر حیران ہوتا تھا۔
ایک دو نہیں، تین چار نہیں، آٹھ خوشامدی کرنے والے وزیر! کیا کوالٹی تھی کابینہ کی! ایک صاحب نے حضرت عمر فاروق اعظمؓ کی خوشامد کی۔ آپ جھُکے، مدینہ کی کچی گلی کی مٹی اُٹھائی اور اُن صاحب کے منہ میں ڈال دی! کیا بلندی تھی اور کیسی پستی ہے! جگر نے کہا تھا؎
جہلِ خرد نے دن یہ دکھائے
گھٹ گئے انساں، بڑھ گئے سائے
کیا کسی میں ہمت تھی کہ قائداعظم کی خوشامد کرتا؟
جب حکمران ایسے ہوں گے کہ فائل تک خود نہ پڑھیں گے اور میرمنشی عملاً بادشاہ ہو گا تو فنِ خوشامد عروج پر ہی ہو گا؎
لگا ہے دربار، شمع بردار سنگ کے ہیں
ہوا کے حاکم ہیں، موم کے ہیں گواہ سارے
حکمران خوشامد پسند!! 
وزرا چاپلوسی کے فن میں طاق!!
بیوروکریسی میں بھی وہی کامیاب جو قلابے ملائے۔
زبانیں گھی ٹپکاتی اور دل پتھر جیسے سخت!
ناصر کاظمی یاد آ گیا؎
پیڑ بھی پتھر، پھول بھی پتھر
پتا پتا پتھر کا تھا
چاند بھی پتھر جھیل بھی پتھر
پانی بھی پتھر لگتا تھا
لوگ بھی سارے پتھر کے تھے
رنگ بھی ان کا پتھر سا تھا
گونگی وادی گونج اُٹھتی تھی
جب کوئی پتھر گرتا تھا
کوئی ہے جو عبرت پکڑے! آمرِ مطلق جنرل پرویز مشرف کے اعضا و جوارح بھی گواہیاں دے رہے ہیں! چوہدری پرویز الٰہی نے بتایا ہے اور ایک دنیا نے سنا ہے کہ سب کی موجودگی میں جناب دانیال عزیز نے جیب سے رومال نکالا اور صدر پرویز مشرف کی وردی کو (جو انہوں نے پہنی ہوئی تھی) صاف کرنے لگے گئے۔ چوہدری پرویز الٰہی کی روایت ہے کہ انہوں نے یعنی چوہدری صاحب نے کہا کہ گھٹا (پنجاب میں گرد کو کہتے ہیں) تو نظر نہیں آرہا!
ابھی کئی اعضا و جوارح بولیں گے۔ بہت سے حساب کتاب اسی دنیا میں ہونے لگتے ہیں۔ ’’اپنے ہی دوستوں سے ملاقات‘‘ صرف کمین گاہ میں نہیں ہوتی، عدالتوں میں بھی ہوتی ہے۔ میڈیا میں بھی! ایسے ایسے لوگ ایسی ایسی گواہیاں دیں گے کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ سننے والے حیرت سے گنگ رہ جائیں گے۔ کانوں پر یقین نہیں آئے گا، اپنا ہی شعر یاد آرہا ہے؎
یہ آج حُسن ہے جس کا شریک سازش میں
یہ نازنین بنے گی کبھی گواہ مری

Wednesday, November 02, 2016

قربانی کے جانور کا بے عیب ہونا!

جناب پرویز رشید پر پہلی بار ترس اُس وقت آیا تھا جب اُنہوں نے لندن کے اُس محلّے کی برائی کی جہاں بقول ان کے عمران خان کے بچے رہتے ہیں۔
’’صرف اُس ایریا کا نام لے لیں جہاں خان صاحب کے بچے پل رہے ہیں۔ میں اُس ایریا کا نام نہیں لوں گا کیونکہ مسلمان کی زبان پر وہ نام آ جائے تو وضو کرنا پڑتا ہے۔ صرف اتنا بتاتا ہوں آپ کو‘ لیکن خان صاحب سے پوچھیے گا کہ اُس ایریے کا نام کیا ہے۔ خان صاحب اگر وہ نام بتا دیں تو انہیں بھی وضو کرنا پڑ جائے اگر وہ وضو کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘
یہ ایریا مڈل سیکس کائونٹی ہے جو مغربی لندن میں ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کائونٹی میں دو سے تین لاکھ مسلمان رہتے ہیں۔ مسجدیں بھی اسی تناسب سے ہیں۔
جناب پرویز رشید کا یہ بیان فوراً وائرل ہو گیا۔ لاکھوں آدمیوں نے یو ٹیوب پر دیکھا۔ دوسرے دن ایک صحافی نے مڈل سیکس کائونٹی کے رہنے والے مسلمانوں سے اس پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا : جناب پرویز رشید صاحب کے دیئے ہوئے فتویٰ پر ان لوگوں نے جو تبصرے کیے‘ وہ سوشل میڈیا پر موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے یہاں نقل نہیں کیے جا سکتے۔
ترس اس لیے آیا کہ ذہنی پستی کی اور اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا ہے کہ آپ ایک بستی کے نام پر یہ فتویٰ دیں کہ اس کا نام لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ 
یہ سب کچھ اس لیے یاد آیا کہ جناب پرویز رشید کے ’’استعفیٰ‘‘ پر ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے حضرات اُن کی خدمات ان کے ایثار‘ ان کی قربانیوں‘ ان کی ذہانت اور ان کی قابلیت کے بارے میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں!
ہنسی آتی ہے یہ سب کچھ سُن کراور دیکھ کرکیا ایک ایٹمی ملک کے وزیر اطلاعات کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مڈل سیکس میں سیکس کا لفظ وہ نہیں جو جنسی معاملات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وزیر اطلاعات کے پاس بے شمار محکمے ہوتے ہیں۔ ٹی وی‘ ریڈیو‘ پی آئی ڈی‘ انفارمیشن کے کئی ذیلی ادارے اور محکمے۔ ایک سے ایک لائق افسر موجود ہیں۔ کسی کو حکم دے دیتے کہ ذرا ریسرچ کر کے بتائو مڈل سیکس کا نام کیسے پڑا۔ مگر شاہ سے وفاداری اور عمران خان سے دشمنی میں اس قدر شدت اور تیزی اور بیتابی اور اضطراب اور تڑپ اور تپش اور کلبلاہٹ اور تلملاہٹ اور اختلاج اور جوش اور بے چینی اور اضطراب اور شوریدگی تھی کہ نتائج کی پروا کیے بغیر اور یہ سوچے بغیر کہ وہ ایک مشہور ملک کے وفاقی وزیر اور وہ بھی وزیر اطلاعات ہیں‘ پوری دنیا کے سامنے ایسا کمنٹ دے گئے جو بے بنیاد تھا اور جسے سُن کر ایک اوسط ذہانت والا شخص بھی ہنسے بغیر نہ رہ سکا ہو گا!
خدا کے بندو! سیکس کا لفظ مڈل سیکس میں ’’اینگلو سیکسن‘‘ سے آیا۔ اس کے اصل سپیلنگ
 Spelling
 یہ نہیں جو اب مستعمل ہیں یہ 
Middle Saxons 
تھا۔ قدیم انگریزی میں یہ
 Seaxe
 لکھا جاتا تھا۔ اس کا ماخذ اینگلو سیکسن ہے جو قبیلے کا نام تھا۔ 
Essex
 کا جو ایک الگ کائونٹی ہے‘ نام بھی اسی قبیلے کی مناسبت سے ہے۔ دلچسپ ترین حقیقت یہ ہے کہ مڈل سیکس صرف اُس ایک بستی کا نام نہیں جو لندن میں ہے اور جس کا ذکر سابق وزیر اطلاعات نے کیا‘ یہ دوسرے ملکوں میں بھی ہے۔ کینیڈا کے صوبے انٹاریو میں اسی نام کی کائونٹی ہے۔ جمیکا میں بھی ہے۔ امریکہ کی چار ریاستوں میں مڈل سیکس نام کی کائونٹی ہے۔ ورجینیا میں‘ نیو جرسی میں‘ میسا چوسٹس میں اور کنکٹی کٹ میں!
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وضو تو اُس جانور کا نام لینے سے بھی نہیں ٹوٹتا جو مسلمانوں کی ثقافت میں سب سے زیادہ ناپاک اور پلید سمجھا جاتا ہے۔ اس جانور کا نام قرآن پاک میں لیا گیا ہے اس حوالے سے کہ اس کا گوشت حرام ہے۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ تراویح پڑھاتے وقت حافظ صاحب یہ آیت پڑھنے کے بعد وضو کرنے چلے گئے ہوں۔ چودہ سو سال میں یہ نہیں ہوا کہ کلام پاک کی تلاوت کرتے وقت اس لفظ کی وجہ سے کوئی اُٹھ کر دوبارہ وضو کرنے گیا ہو! چہ جائیکہ مڈل سیکس کے نام سے۔
دو تبصرے جناب پرویز رشید صاحب کے استعفیٰ پر دلچسپ ہوئے۔ ایک جناب ہارون الرشید صاحب کا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پرویز رشید صاحب اتھیسٹ ہیں۔ قائداعظم کا مذاق اڑاتے ہیں۔
خدا کو ماننا یا انکار کرنا یہ کسی بھی شخص کا ذاتی مسئلہ ہے مگر اس میں ایک فقہی موشگافی ضرور ہے اس کو وضو کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اس لیے عمران خان کے وضو پر یقین کرنے کا مسئلہ ثانوی ہے۔ بنیادی مسئلہ اُن کا اپنا ہے۔ رہی قائداعظم کا مذاق اڑانے والی بات تو کم از کم وہ قائداعظم ثانی (جناب وزیراعظم) اور قائداعظم ثالث (جناب شہباز شریف) اور قائداعظم رابع (جناب حمزہ شہباز) کے تو عقیدت مند ہیں۔ 
اور ہاں! الحاد کے معاملے کو شاعروں نے تو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ حسن‘ الحاد اور ساتھ بے وفائی‘ معشوق میں یہ ساری صفات یکجا ہوں تو شاعر کی‘ جو عاشق بھی ہے‘ گویا عید ہو جاتی ہے۔ غالب نے تو جھگڑا ہی ختم کر دیا   ؎
ہاں وہ نہیں خدا پرست! جائو وہ بے وفا سہی
جس کو ہو دین و دل عزیز‘ اس کی گلی میں جائے کیوں
مگر مومن کے اعتراضات بھی کم نہیں    ؎
کتنی ہی قضا ہوئیں نمازیں
پر سر کو نہ پائوں سے اٹھایا
آیا نہ کبھی خیال حج کا!
تلوا سو بار گر کھجایا
نیتّ ہی تھی توڑنے کی گویا
گر اس نے نماز میں ہنسایا
افسوس شکستِ صوم یک سو
صد شکر کہ اس نے ساتھ کھایا
دوسرا دلچسپ تبصرہ جناب سراج الحق کا ہے۔ خدا خدا کر کے سراج الحق صاحب نے حسِ مزاح کو بیدار کیا ہے ورنہ جناب منور حسن کے عہدِ ہمایونی میں تو یوں لگتا تھا کہ جماعت نے حس مزاح کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے۔ جیسے حشر میں حساب کتاب کے بعد موت کو مینڈھے کی شکل میں ذبح کر کے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جانا ہے۔ سراج الحق صاحب نے کہا کہ حکومت نے پرویز رشید کی قربانی تو دے دی مگر یہ نہیں سوچا کہ قربانی کے جانور کا بے عیب ہونا ضروری ہے!
جماعت اسلامی کی جو وابستگی شریعت کے ساتھ ہے‘ اس کے پیش نظر یہ فقہی مسئلہ کھڑا کر کے اس نے اپنا فرض ادا کیا ہے۔ اب فقہا یہ بحث کریں کہ جانور کتنا بے عیب تھا اور کیا اس مشکل کا کوئی اجتہادی حل بھی نکل سکتا ہے؟ یہ مشکل اپنی جگہ مگر دوسری طرف کچھ اور سیاپے آن پڑے ہیں! مسلسل دگرگوں ہوتے حالات کے پیش نظر ایاز امیر صاحب نے مسئلے کے حل کی طرف ایک خفیف سا اور لطیف سا اشارہ کر دیا کہ جنرل وحید کاکڑ کا فارمولا آزمایا جا سکتا ہے۔ اس پر ایک باسی کڑھی کو اُبال آ گیا۔ پہلے تو باسی کڑھی نے یہ تذکرہ کرنا ضروری سمجھا کہ ایاز امیر لبرل ازم کے چیمپئن ہیں۔ گویا ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ! تجویز کا لبرل ازم کے مسئلے سے کوئی تعلق نہ تھا مگر اس کا ذکر اس لیے ضروری تھا کہ عناد کو کچھ افاقہ ہو جائے! مذہب کے ان خود ساختہ ٹھیکیداروں کو کون بتائے کہ اسلام نے جب خواتین کے حقوق کی آواز بلند کی تو تب بھی لبرل ازم کا طعنہ دیا گیا۔ ایک عورت آ کر عرض کرتی ہے کہ یارسول اللہ ﷺ! میں طلاق لینا چاہتی ہوں۔ پوچھا‘ کیا وجہ ہے‘ عرض کیا مجھے وہ پسند نہیں! اس پر آپ نے اور کوئی استفسار نہ فرمایا : کیا یہ روشن خیالی نہ تھی؟ بدّو مسجد نبوی کے صحن میں پیشاب کرتا ہے۔ لوگ اسے روکنے کے لیے دوڑتے ہیں مگر بے مثال برداشت کے مالک پیغمبر آخر الزمانﷺ فرماتے ہیں کہ رُکو۔ اسے پیشاب کرنے دو۔ جب وہ کر چکا تو فرمایا پانی بہا دو۔ اگر آج کوئی جاہل یا فاتر العقل اس طرح کرے تو خودساختہ ٹھیکیدار اسے مار ہی ڈالیں!
لبرل ازم کا کوسنا دینے کے بعد دلیل یہ دی گئی کہ اس قسم کی مداخلت جمہوری اصولوں کے خلاف ہو گی اور آئین سے متصادم ہو گی! ان بزرجمہروں سے کوئی پوچھے کہ جب ایک ایم این اے صوبے کا عملاً ڈپٹی چیف منسٹر بنتا ہے اور جب کئی ماہ کی غیر حاضری کے دوران حکومت کی سربراہی‘ شہزادی کے ہاتھ میں آ جاتی ہے جو صرف اور صرف بادشاہت میں ہوتا ہے تو اس وقت جمہوری اصول کہاں جاتے ہیں اور اُس وقت آئین کیوں نہیں یاد آتا؟ کیا ایک صوبائی حکمران کا وزیر خارجہ اور وفاقی وزیر توانائی کے فرائض سرانجام دینا آئین کی روح سے مطابقت رکھتا ہے؟
جناب ارشاد عارف نے کل یہی بات لکھی…’’صورتحال پھر 1993ء سے مشابہ ہے مگر وحید کاکڑ فارمولا کی بات کرو تو جمہوریت دشمنی کا طعنہ ملتا ہے‘ حالات کا رُخ کوئی نہیں دیکھتا۔‘‘
ارشاد عارف صاحب سے گزارش ہے کہ کوئی ڈھال میسّر ہے تو آگے رکھ لیں کیونکہ خاندانی ’’جمہوریت‘‘ کے محافظوں کے تیر اور بھالے اب اُن پر بھی نشانہ بازی کریں گے!!۔

 

powered by worldwanders.com