Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, September 28, 2023

اس مٹی میں سونا ہے! خالص سونا!!

دو کمروں کا چھوٹا سا سرکاری کوارٹر تھا جس کے سامنے جہازی سائز کی کار رُکی! 

کار میں سے دو افراد اُترے۔ ایک ادھیڑ عمر شخص اور دوسرا اٹھارہ بیس سال کا نوجوان! ادھیڑ عمر شخص نے دروازے پر دستک دی! کوارٹر سے ایک صاحب نکلے اور کہا: جی! فرمائیے! ادھیڑ عمر شخص نے بتایا کہ وہ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہے۔ اس کوارٹر میں اس نے بچپن اور لڑکپن گزارا ہے۔ یہ سرکار کی طرف سے اس کے والد کو الاٹ ہوا تھا۔ ان کا کنبہ یہاں کئی سال رہا۔ آج وہ اپنے بیٹے کو یہ کوارٹر دکھانے آیا ہے۔ پھر اس نے کوارٹر میں رہنے والے ان صاحب سے کہا کہ اگر ان کے گھر والوں کو زحمت نہ ہو تو وہ بیٹے کو کوارٹر اندر سے دکھانا چاہتا ہے۔ اس نے اجازت دے دی۔ ادھیڑ عمر شخص بیٹے کو اندر لے گیا۔ اسے دکھایا کہ یہ دو کمرے تھے جن میں پانچ افراد رہتے تھے۔ چھوٹا سا باورچی خانہ اور ایک غسل خانہ تھا۔ گیزر قسم کی کوئی شے نہ تھی۔ نہانے اور وضو کرنے کے لیے پانی چولہے پر گرم کیا جاتا تھا اور بالٹی میں ڈال کر غسل خانے میں لے جایا جاتا تھا۔ بیٹا دم بخود ہو کر دیکھتا اور سنتا رہا۔ پھر ادھیڑ عمر شخص نے کوارٹر میں رہنے والے صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں باپ بیٹا کار میں بیٹھے اور ڈرائیور سے چلنے کو کہا!
یہ سو فیصد سچا واقعہ میرے ایک دوست کا ہے۔ لڑکے کو کوارٹر دکھانے کی وجہ یہ بنی کہ ایک شام وہ دفتر سے واپس آیا تو بیوی نے بتایا کہ بیٹا جِز بِز ہو رہا تھا۔ کہہ رہا تھا کہ پڑھنے کے لیے ڈھنگ کی جگہ کوئی نہیں! چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو یہ مکان اس کی کمپنی کی طرف سے ملا ہوا تھا۔ یہ ایک چار بیڈ روم گھر تھا۔ دو لاؤنج تھے۔ ایک بڑا سا ڈرائنگ روم تھا۔ ایک کھانے کا کمرہ تھا۔ ایک بڑی سی راہداری تھی۔ تقریباً ایک کنال کا لان تھا۔ اس نے بیٹے کو کچھ بھی نہ کہا۔ گاڑی میں بٹھایا اور سیدھا اس کوارٹر میں لے گیا جہاں رہ کر اس نے اپنے تعلیمی مدارج طے کیے تھے۔ کوارٹر دکھانے کے بعد وہ بیٹے کو ایک ریستوران میں لے گیا۔ اس کے لیے کچھ کھانے کو منگوایا۔ پھر اسے بتایا کہ اس دو کمروں والے کوارٹر میں وہ اپنے ماں باپ اور بھائی بہنوں کے ساتھ رہتا تھا۔ بس یہی دو کمرے تھے۔ کوئی ڈرائنگ روم تھا نہ لاؤنج‘ نہ کھانے کے لیے الگ کمرہ! اس کوارٹر میں رہ کر وہ ہر کلاس میں ٹاپ کرتا رہا۔ بی کام کیا۔ اسی کوارٹر میں رہ کر اس نے سی اے کیا۔ اس نے ایک دن بھی اپنے ماں باپ سے شکایت نہ کی کہ پڑھنے کے لیے ڈھنگ کی جگہ نہیں ہے اور اب جب وہ ایک محل میں رہتا ہے جس میں کل ملا کر آٹھ نو کمرے بنتے ہیں‘ اس کا بیٹا کہتا ہے کہ پڑھائی کرنے کے لیے گھر میں ڈھنگ کی جگہ کوئی نہیں۔ اس دن کے بعد لڑکے نے کبھی شکایت نہ کی۔
واقعہ سنانے کا مقصد یہ عرض کرنا ہے کہ اس ملک میں مقدر بدلنا ناممکن نہیں! تمام قباحتوں‘ سماجی ناہمواریوں‘ طبقاتی تفریق اور دیگر کئی مسائل کے باوجود ٹیلنٹ کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔ آپ اپنے ارد گرد دیکھیے‘ آپ کو کئی مثالیں ایسی نظر آئیں گی جن میں لوگوں نے عمودی ترقی (Vertical mobility) کی ہے۔ عمودی ترقی اور افقی حرکت (Horizontal mobility) کو سمجھنے کے لیے فرض کیجیے دو لڑکے ہیں۔ دونوں کے باپ ایک دفتر میں کلرک ہیں۔ ایک لڑکا محنت کر کے ڈاکٹر اور پھر سرجن بن گیا۔ یہ عمودی ترقی تھی۔ دوسرا باپ کی طرح کلرک بنا۔ یہ افقی حرکت پذیری تھی۔ میں ایک منظر نہیں بھول سکتا۔ کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کا موقع تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک کیڈٹ کو ایک شخص گلے مل رہا تھا۔ یہ شخص تہمد پوش تھا۔ سر پر پگڑی تھی۔ میں اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ یہ کیڈٹ اس کا کیا لگتا ہے۔ اس نے کہا کہ اس کا بیٹا ہے۔ وہ ایک کسان تھا اور اب ایک سیکنڈ لیفٹیننٹ کا باپ!! تب میں نے اس حوالے سے ''جزیرہ‘‘ کے عنوان سے کالم بھی لکھا تھا۔ اس ملک میں دو ادارے ایسے ہیں جہاں میرٹ کی بنیاد پر عام آدمی کے بچوں کو کیریئر بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایک کاکول۔ دوسرا وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمیشن جو مقابلے کے امتحان کا بندو بست کرتے ہیں۔ عسکری اور سول بیورو کریسی کو برا بھلا کہنا اور گالیاں دینا ہم لوگوں کا مشغلہ ہے۔ اس کالم پر جو کمنٹ آئیں گے ان کا تصور میں اس وقت بھی بخوبی کر رہا ہوں۔ فوجی اور سول بیورو کریسی دونوں نقائص سے پاک بھی نہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی اکثریت بالکل عام گھرانوں سے ہے۔ ہاں جو کامیاب نہ ہو سکے‘ وہ یہ ضرور کہے گا کہ سفارش چلتی ہے۔ سروے کر کے یا کرا کے دیکھ لیجیے۔ عام خاندانوں کے بچے بچیاں زندگی کی دوڑ میں آگے نکل رہے ہیں اور صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر۔ ان کی سفارش ان کی محنت ہے۔ دو تین برس پہلے سب نے میڈیا میں پڑھا اور سنا کہ پانچ بہنیں سول سروس میں آئیں۔ ان کا والد واپڈا میں سترہ یا اٹھارہ گریڈ کا افسر تھا۔ آخر ان کی کون سی سفارش تھی؟ میں بے شمار کامیاب افراد کو جانتا ہوں جن کے فیملی بیک گراؤنڈ میں امارت یا سفارش یا سیاسی کنکشن کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔ میرا ایک دوست بینک کے بہت بڑے عہدے سے ریٹائر ہوا ہے۔ اس کا والد ناخواندہ تھا۔ ایک اور دوست ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی بڑی پوسٹ پر رہا۔ اس کا والد بھی ناخواندہ تھا۔ سی ایس ایس کے ایک پولیس افسر کا والد نائب قاصد تھا۔ آپ ڈاکٹروں‘ انجینئر وں‘ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹوں‘ کامیاب وکیلوں‘ بینکاروں‘ مشہور صحافیوں‘ میڈیا مالکوں‘ سائنسدانوں اور پروفیسروں کا سروے کر لیجیے۔ بھاری اکثریت سونے کا تو کیا‘ تانبے کا چمچ بھی منہ میں لے کر پیدا نہیں ہوئی۔ بہت زیادہ تعداد اوسط آمدنی والے گھرانوں سے اٹھی ہے۔ کامیابی کی وجہ صرف محنت اور ذہانت ہے۔ یہ دونوں چیزیں قدرت نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہیں۔ محنت کرنا ایک صفت ہے جو صرف اور صرف قدرت کا عطیہ ہے۔ اسی طرح ذہانت حاصل کرنے کے لیے گجرات یا رائیونڈ یا لاڑکانہ یا نواب شاہ کی سفارش نہیں چاہیے! 
بیروزگاری موجود ہے مگر ان کے لیے نہیں جو محنت کر کے ٹاپ کی پوزیشنیں حاصل کرتے ہیں۔ ان کے لیے نہیں جو اپنے کیریئر کا انتخاب مارکیٹ کی حالت دیکھ کر کرتے ہیں! جو افراد اندھا دھند‘ سوچے سمجھے بغیر‘ عقلمندوں سے مشورہ کیے بغیر‘ صرف ڈگری لینے کو کامیابی سمجھتے ہیں‘ وہ اپنی بیروزگاری کے ذمہ دار خود ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا ایم اے کرنا لیاقت ہے نہ دانائی! کیریئر صرف گریجوایشن کر کے بھی پلان کیا جاسکتا ہے! جو نوجوان سالہا سال سرکاری نوکری کی تلاش میں جوتے چٹخاتے رہتے ہیں‘ وہ اگر نجی شعبے میں کوئی کام شروع کر دیتے تو اتنے عرصہ میں کہاں سے کہاں جا پہنچتے! آپ اُن ٹیلرز کو دیکھیے جو آج بیس بیس‘ تیس تیس درزیوں کو ملازمت پر رکھے ہوئے ہیں! اُن صوفہ سازوں کو دیکھیے جو اپنی محنت اور درست منصوبہ بندی کے سبب فرنیچر کے عالی شان شوروموں کے مالک ہیں! 
کوئی مانے یا نہ مانے‘ اس ملک کی مٹی میں سونا ہے اور خالص سونا ہے۔ محنت‘ ذہانت‘ درست پلاننگ اور دیانت ! ان خصائص کے مالکوں کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا! ہمت درکار ہے۔ اور اونچی سوچ! تعبیر انہی کو ملتی ہے جو خواب دیکھتے ہیں! نصب العین بلند ہو تو کامیابی ضرور حاصل ہوتی ہے۔ ارادہ ہی یہ ہو کہ بس گزارہ چلتا رہے تو پھر گزارے سے آگے کچھ نہیں ملے گا۔خواجہ حیدر علی آتش بہت پہلے کہہ گئے :
سفر ہے شرط، مسافر نواز بہتیرے 
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے

Monday, September 25, 2023

ہمارے ملک کے شاہی خاندان


جاگیر دار دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو جاگیر کے مالک ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ جن کے پاس جاگیر قسم کی کوئی چیز نہیں ہوتی مگر ماشاء اللہ ذہنیت جاگیرداروں جیسی ہوتی ہے۔ فرنگی زبان میں اسے '' فیوڈل مائنڈ سیٹ‘‘ کہتے ہیں! پست خاندانی پس منظر سے کوئی یکدم بڑے منصب پر پہنچ جائے تو اسی ذہنیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ پست خاندانی پس منظر سے مراد مفلسی نہیں‘ بلکہ تربیت کی کمی اور شرافت و نجابت کا فقدان ہے۔ بسا اوقات امیر زادوں کا خاندانی پس منظر پست ہوتا ہے کیونکہ ادب‘ آداب‘ تمیز‘ خوش اخلاقی اور انکسار سے عاری ہوتے ہیں۔ رویّے سے فرعونیت ٹپکتی ہے۔ بہت سی مثالیں ایسے افراد کی ہیں جو متوسط بلکہ زیریں طبقے سے ہیں مگر خاندانی پس منظر اتنا بڑا ہے کہ کمزوروں کے ساتھ انکسار سے پیش آتے ہیں اور طاقتوروں سے مرعوب نہیں ہوتے! اسی طرح‘ بالکل اسی طرح‘ کچھ افراد شاہی خاندانوں سے ہوتے ہیں۔ مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا کسی شاہی خاندان سے دور دور کا تعلق نہیں ہوتا لیکن احساسِ کمتری اتنا شدید ہوتا ہے کہ رویہ اور طرزِ زندگی شاہی خاندانوں جیسا اختیار کر لیتے ہیں! ویسے جو بادشاہ تھے وہ بھی کہاں بادشاہ تھے! قطب الدین ایبک بازار میں بِکا ہوا غلام تھا۔ احمد شاہ ابدالی‘ جو افغانستان کا پہلا بادشاہ بنا‘ اصلاً نادر شاہ کا سیکرٹری اور بعد میں کمانڈر تھا۔ رضا شاہ پہلوی جو 1925ء میں ایران کا بادشاہ بن بیٹھا‘ قاچاریوں کے زمانے میں محض ایک کرنل تھا! ویسے جو بھد‘ ان نام نہاد شاہی خاندانوں کی فردوسی نے اُڑائی‘ مزے کی ہے۔ محمود غزنوی اصلاً غلام زادہ تھا۔ وہ تو اس کے باپ سبکتگین کی لاٹری نکل آئی کہ اس کے مالک الپتگین نے اپنی بیٹی کی شادی سبکتگین سے کر دی۔ محمود نے جو بدعہدی فردوسی کے ساتھ کی تھی‘ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ فردوسی بھی پھٹ پڑا۔ ایسی ہجو کہی کہ آج تک محمود غزنوی کے ساتھ چمٹی ہوئی ہے۔ 
اگر شاہ را شاہ بودی پدر ؍ بسر بر نہادی مرا تاجِ زر
و گر مادرِ شاہ بانو بُدی؍ مرا سیم و زر تا بزانو بُدی
ز بد اصل چشمِ بہی داشتن ؍ بود خاک در دیدہ انباشتن
کہ اس کا باپ بادشاہ ہوتا تو میرے سر پر سونے کا تاج رکھتا۔ اس کی ماں اگر ملکہ ہوتی تو میں گھٹنوں تک سونے چاندی میں ڈوبا ہوا ہوتا۔ بد اصل سے اچھائی کی امید رکھنا ایسے ہی ہے جیسے اپنی آنکھوں میں مٹی ڈال لینا۔ ایک اور شعر میں فردوسی محمود کو ''پرستار زادہ‘‘ کہتا ہے یعنی غلام کا بیٹا!
پاکستان میں ایسے شاہی خاندانوں کی کمی نہیں جو شاہی خاندانوں سے نہیں ہیں مگر شاہی خاندان ہیں! مطلب تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے! یہاں مجھے وہ طوطا یاد آرہا ہے جو باتیں کرتا تھا۔ اس کے مالک کا ایک خاص دوست جب بھی آتا تو طوطا اس کا خوب مذاق اڑاتا اور تضحیک کرتا۔ دوست نے شکایت کی۔ مالک نے طوطے کو دھمکی دی کہ اس کے بعد اگر میرے دوست کا مذاق اڑایا تو پچھتاؤ گے۔ شام کو مالک کا دوست آیا تو طوطا اسے دیکھ کر صرف ہنسا اور کہنے لگا: ہنسنے کا مطلب تو تم سمجھ ہی گئے ہو گے! چنانچہ جب کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ایسے شاہی خاندانوں کی کمی نہیں جو شاہی خاندانوں سے نہیں ہیں مگر شاہی خاندان ہیں! تو مطلب تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے! یہ شاہی خاندان مختلف شہروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ لاڑ کانہ‘ نواب شاہ‘ ڈی آئی خان‘ ملتان‘ لاہور‘ رائے ونڈ‘ گجرات‘ پشاور اور کچھ اور شہر بھی ! ہم‘ آپ اور ہماری نسلیں ان شاہی خانوادوں کی رعیت ہیں! مستقبل قریب میں ہمارے سٹیٹس کے بدلنے کا امکان صفر ہے۔ ہم رعیت ہی رہیں گے! ایک شاہی خاندان کا لندن آنا جانا اس طرح ہے جیسے ہمارا آپ کا محلے کی دکان تک آنا جانا! کسی زمانے میں محاورہ تھا کہ چل چل کے راستہ بنا دیا۔ کسی سبزہ زار یا بنجر زمین پر جب ایک خاص سمت میں ہر کوئی چلتا ہے تو ایک راستہ‘ ایک ٹریک‘ بن جاتا ہے۔ اس شاہی خاندان کا لندن جانا اور آنا اور پھر جانا اور مسلسل آنا جانا اس قدر زیادہ ہے کہ فضا میں جیسے ٹریک ہی بن گیا ہے جو پاکستان سے سیدھا لندن جاتا ہے۔ عیدیں‘ شبراتیں‘ گرمیاں سردیاں‘ برساتیں‘ سب موسم‘ ساری رُتیں‘ سارے تہوار لندن ہی میں گزرتے ہیں۔ کاروبار بھی وہیں ہیں! ڈومیسائل بھی وہیں کے ہیں۔ لخت ہائے جگر بھی‘ بھائی بھی‘ سمدھی بھی‘ سب وہیں ہیں یا صبح شام جاتے ہیں۔ ہاں! حکومت کرنے کیلئے واپس آنا پڑتا ہے۔کیا ہی مثالی بندو بست ہو اگر حکومت بھی وہیں سے ہو۔یہ ناممکن بھی نہیں! اس ملک پر دبئی سے بھی تو حکومت ہوتی رہی ہے۔ پارٹی تو یوں بھی عرصہ دراز سے لندن ہی سے چلائی جا رہی ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنماؤں پر‘ جن کی عمریں خارزارِ سیاست میں گزری ہیں‘ رحم بھی آتا ہے‘ ہنسی بھی اور غصہ بھی ! جڑیں ان بزرگ سیاستدانوں کی پاکستان میں ہیں اور ہدایات دیار ِ فرنگ سے ملتی ہیں! اقبال نے نصیحت کی تھی۔ اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں ! مگر اقبال کو معلوم نہ تھا کہ فرنگی جائیں گے تو ایسا کھیل کھیلیں گے کہ ہمارے رہنماؤں کو ہی مستقل طور پر لندن میں رکھ لیں گے! پارٹی کی حالت یہ ہے کہ 
میں اتھے تے ڈھولا تھَل وے ؍ مینڈی اللہ خدائی آلی گل وے
اس بار شاہی خاندان نے یہ کمال بھی دکھایا ہے کہ اپنے تین چار وفادار‘ جاں نثاروں کو نگران کابینہ میں وزارتیں دلوا دی ہیں! یوں کہیے کہ نگران کابینہ نگرانی کرتی ہے ! کس کی ؟ شاہی خاندان کے مفادات کی! ایک بات ضرور ہے! ان وفاداروں کے لیے سینیٹ کی نشستیں پکی ہیں! آپ کو یاد ہو گا ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کو اسی خاندان نے وابستگی کا صلہ سینیٹ کی نشست کی شکل میں دیا تھا۔ حال ہی میں ان کی رحلت ہو ئی ہے۔ خدا اُن کی مغفرت کرے! اسی لیے عقلمند کہتے ہیں کہ ملک سے نہیں‘ بے وقوفو! خاندانوں کے ساتھ وفاداری نبھاؤ! 
ایک اور بھی شاہی خاندان ہے۔تعیناتی کوئٹہ میں ہے۔ اعلیٰ ترین سرکاری بنگلہ اسلام آباد میں الاٹ ہواہے۔ اور الاٹ بھی تاریخی پوچھل (دُم ) کے ساتھ ہوا ہے۔ حکومت پاکستان کی پوری تاریخ میں ایسی الاٹمنٹ نہیں ہوئی۔جب بھی کوئی سرکاری مکان کسی کو الاٹ ہوتا ہے تو یہ الاٹمنٹ ''تاحکم ثانی‘‘ ہوتی ہے۔ مگر شاہی خاندان تو پھر شاہی خاندان ہیں۔ یہ الاٹمنٹ آئندہ ستائیس سال کیلئے ہوئی ہے۔ اعلیٰ ترین سرکاری مکان گریڈ اکیس یا بائیس کے سرکاری ملازموں کیلئے مختص ہوتے ہیں۔اس الاٹی کی عمر تینتیس ( 33 ) برس ہے۔ اس عمر میں اکیس یا بائیس گریڈ تک پہنچنا ناممکن ہے جبکہ کئی سینئر سرکاری ملازم‘ اسلام آباد میں تعینات ہو تے ہوئے‘ کئی کئی برسوں سے مکان کیلئے قطار میں کھڑے ہیں۔ اسی دارالحکومت میں یہ بھی ہوا کہ ایک نائب قاصد اپنے افسر کے آگے گڑ گڑایا کہ وہ ریٹائر ہو رہا ہے۔ سرکاری کوارٹر چلا جائے گا تو کہاں سر چھپائے گا۔ اس لیے اس کے بیٹے کو نوکری دی جائے تاکہ کوارٹر بیٹے کے نام منتقل ہو جائے۔افسر نے گھومتی ہوئی کرسی پر جھولا لیا‘ نکٹائی کی ناٹ درست کی اور سگرٹ کا کش لے کر سائل کو بتایا کہ بیٹے کو نوکری تب ملتی ہے جب باپ ملازمت کے دوران مر جائے۔ نائب قاصد اُسی سرکاری عمارت کی چھت پر گیا اور نیچے چھلانگ لگا کر‘ مر کر‘ رحمدل افسر کی شرط پوری کر دی! 
وہ شہسوار بہت نرم دل تھا میرے لیے 
چبھو کے نیزہ‘ زمیں سے اٹھا لیا مجھ کو 
ویسے ستائیس برس کے لیے مکان الاٹ کرانا بڑے دل گردے کا اور مضبوط اعصاب کا کام ہے۔ یہاں تو زندگی کی ضمانت ایک پل کی نہیں۔ 
بلھے شاہ! اسی مرنا ناہیں‘ گور پیا کوئی ہور!
تو گور میں تو عوام جائیں گے! شاہی خاندانوں والے‘ یوں لگتا ہے‘ ہمیشہ زندہ رہیں گے!!

Thursday, September 21, 2023

کیا رخصت کرنے والے بھی آبدیدہ ہوئے؟؟


جس دن میڈیا میں غلغلہ برپا تھا کہ نئے چیف جسٹس نے حلف اٹھاتے وقت اپنی رفیقِ حیات کو اپنے ساتھ کھڑا کیا‘ ٹھیک اسی دن ایک چھوٹی سی خبر یہ بھی چھپی کہ ایک باپ نے غیرت کے نام پر بیٹی کو قتل کر دیا! غور کیجیے! کیسا سلسلہ در سلسلہ معاملہ ہے! عدالت کا سب سے بڑا قاضی عورت کو عزت دیتا ہے! عزت! جو عورت کا حق ہے! اسی عدالت کے دائرۂ اقتدار میں ٹھیک اسی دن ایک عورت باپ کی گولی کا نشانہ بنتی ہے۔ اگر وہ مجرم تھی تو اسے سزا دینا صرف اور صرف قاضی کا اختیار تھا۔ اگر وہ بے گناہ تھی تو اس کے قاتل کو سزا دینا بھی قاضی کا فرض ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر رفیقِ حیات کو ساتھ کھڑا کرنا ایک خاموش جدو جہد کا آغاز ہے تو یہ جدو جہد بہت طویل ہو گی! اس جنگ کے بہت سے میدان ہیں! اور ہر میدان بہادری مانگتا ہے۔ بچی پیدا کرنے پر عورت مجرم! وراثت میں حق مانگنے پر عورت مجرم! آبرو ریزی پر عورت مجرم! تعلیم حاصل کرنا چاہے تو عورت مجرم! شادی کرنا چاہے تو تب مجرم! انکار کرے تو تب مجرم! جرم باپ یا بھائی نے کیا ہے تو سزا عورت کو ملتی ہے! گاؤں گاؤں‘ بستی بستی پنچایتوں کے نام پر متوازی عدالتیں قائم ہیں جن کے فیصلے کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتے! اسی ملک میں چھلکتے ماڈرن مال بھی ہیں اور فیشن شو بھی! اور اسی ملک میں پتھر کا زمانہ بھی موجود ہے! اسی ملک میں مرد باہر جاتے ہوئے مکان کا دروازہ باہر سے مقفل کر جاتے ہیں! جس خطۂ عرب میں اسلام اُترا تھا اس خطۂ عرب میں عورت آج بھی اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہے۔ نہ صرف اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہے بلکہ مرد کو شادی کا پیغام بھی بھیج سکتی ہے۔ طلاق کے لیے عورت کا عدالت جانا وہاں عام سی بات ہے۔ بیوہ عورت زندگی پھر گلے میں بیوگی کا طوق نہیں پہنتی! ہمیں عرب کلچر کی صرف ایک بات یاد رہتی ہے کہ وہ چار شادیاں کرتے ہیں! یہ تین دن پہلے کی بات ہے کہ کویت میں ایک مرد اور ایک عورت شادی رچا کر عدالت سے باہر نکلتے ہیں۔ عورت کے پاؤں کو کسی چیز سے ٹھوکر لگتی ہے۔ وہ گر پڑتی ہے۔ نیا نویلا دولہا اسے بے وقوف کہتا ہے۔ عورت وہیں واپس جج کے پاس جاتی ہے اور نکاح کی تنسیخ مانگتی ہے! جج نکاح منسوخ کر دیتا ہے! اس پورے عمل میں تین منٹ لگتے ہیں! آپ کا کیا خیال ہے کیا ہمارے ہاں ایسا ہو سکتا ہے! مدعا یہ نہیں کہ عرب معاشرہ آج کے دور میں کوئی مثالی معاشرہ ہے۔ عورت کے حوالے سے کئی قباحتیں ہیں مگر وہاں بیٹی کو رخصت کرتے وقت یہ نصیحت نہیں کی جاتی کہ اب سسرال سے تمہاری میت ہی نکلے! شبلی نعمانی نے کہا تھا:
تمہیں لے دے کے ساری داستاں میں یاد ہے اتنا
کہ اورنگ زیب ہندوکُش تھا‘ ظالم تھا‘ ستم گر تھا
پاکستانی مرد کو بھی سارے مشرقِ وسطیٰ میں صرف تعددّ ازدواج کا رواج نظر آتا ہے۔ ضمیر جعفری یاد آگئے:
نہ بینائی پسند آئی نہ دانائی پسند آئی 
مجھے سب جرمنی میں ایک نکٹائی پسند آئی
جس خاتون کو چیف جسٹس صاحب نے اپنے ساتھ کھڑا کیا‘ یہ وہی خاتون تھی جو جسٹس یعنی انصاف حاصل کرنے کے لیے عدالتوں میں‘ عصا در دست ماری ماری پھرتی رہی۔ کبھی ایف آئی اے میں تو کبھی ایف بی آر میں طلب کی جاتی رہی۔ مگر زمانے کی گردش بھی عجیب ہے۔ بقول اقبال:
زمانہ کہ زنجیر ایام ہے
دموں کے الٹ پھیر کا نام ہے 
وتلک الایام نداولھا بین الناس! یہ عجیب بات ہے کہ طاقت کے نشے میں چُور شخص اپنے پیشروؤں کے انجام سے سبق نہیں سیکھتا۔ زمانہ بارہا دکھا چکا ہے کہ آج جس کی تذلیل کی جاتی ہے کل اس کے دروازے پر جانا پڑتا ہے۔ برادرانِ بزرگ جب برادرانِ یوسف کا روپ دھارتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ ان سازشی اور ظالم بھائیوں کو یوسف علیہ السلام کے آگے سجدہ بھی کرنا پڑا تھا۔ عقل مند وہ ہوتا ہے جو زوال سے پہلے ہی عہدِ زوال کا کلچر اپنا لے۔ خاک نشیں اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے محروم‘ خاک نشیں ہی رہتے ہیں! چٹائی اور کھاٹ کے بعد آخر کون سا درجہ ہے! مگر یہ مشکل کام ہے۔ اہلِ دنیا‘ خاص طور پر اہلِ غرض‘ مقتدر حضرات کو طاقت کا نشہ زبردستی پلاتے ہیں اور یہ سوچنے کی مہلت ہی نہیں دیتے کہ سارا کھیل چند دن کا ہے! 
اب تو خیر یہ حکایت عام ہو چکی ہے مگر موجودہ چیف جسٹس کو تب بھی معلوم ہی ہو گا کہ ان کے خلاف جو ریفرنس بنا تھا کن صاحبان کی تصنیف لطیف تھی! ایک بہت ہی معروف کالم نگار اور اینکر پرسن کی روایت ہے اور یقینا ثقہ روایت ہے کہ جنرل باجوہ صاحب نے حلفاً کہا کہ اس ریفرنس کی پُشت پر وہ نہیں تھے۔ یہ بھی ثقہ روایت ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان بھی اس ریفرنس کے حق میں نہیں تھے مگر ان کے وزیر قانون ان پر غالب آگئے۔ کیوں غالب آگئے؟ اس کا جواب تو سابق وزیراعظم خود ہی دے سکتے ہیں۔ بہر حال موجودہ چیف جسٹس صاحب کو ریفرنس کے حوالے سے یہ پامال شدہ شعر ضرور یاد آیا ہو گا:
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف 
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
تاریخ چیخ چیخ کر بتارہی ہے کہ وقت منتقم مزاج ہے۔ جہانگیر نے اکبر کے خلاف بغاوت کی۔ جہانگیر کے دونوں بیٹوں نے باپ کے خلاف بغاوت کی۔ شاہ جہان نے اپنے بھائی خسرو کو قتل کرایا۔ اورنگ زیب نے تینوں بھائیوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔ باپ کو آٹھ سال قید میں رکھا اور اس سارے عرصہ میں اس سے ملاقات تک نہ کی۔ تخت اور قید خانے تاریخ میں ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں۔ کیا اس سے بڑا سبق بھی کوئی ہے کہ جس صدر نے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بھیجا‘ اسی صدر نے قاضی فائز عیسیٰ سے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ کل نون لیگ اور پی پی پی والے زندانوں میں بند تھے‘ آج تحریک انصاف والے قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ کل یہی فلم اُلٹی چلے گی۔
کسی سے شام ڈھلے چھِن گیا تھا پایۂ تخت 
کسی نے صبح ہوئی اور تخت پایا تھا 
تخت سے اُترنے کے بعد یہ کہنا کہ میں ڈوبتا ہوا سورج ہوں‘ کوئی خاص بات نہیں۔ یہ تو سب دیکھ رہے ہیں کہ آپ غروب ہو چکے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب آپ نصف النہار پر تھے تو اُس وقت آپ کا رویہ کیا تھا؟ اُس وقت آپ کا رویہ بتاتا تھا کہ آپ ہمیشہ چمکتے رہیں گے اور کبھی غروب نہیں ہوں گے! کل طاقت میں ڈوبے ہوئے قہقہے نہ ہوتے تو آج آبدیدہ نہ ہونا پڑتا۔ معلوم نہیں شاعر کون ہے مگر قطعہ آبِ زرّیں سے لکھے جانے کے قابل ہے؛
یاد داری کہ وقتِ زادنِ تو 
ہمہ زخندان بُدند و تو گریان؟ 
آنچنان زی کہ وقتِ مُردنِ تو 
ہمہ گریان بوند و تو خندان 
کیا تمہیں یاد ہے کہ جب تم پیدا ہوئے تو سب ہنس رہے تھے اور تم رو رہے تھے؟ زندگی اس طرح بسر کرو کہ تمہاری موت کے وقت سب رو رہے ہوں اور تم ہنس رہے ہو! 
آپ تو رخصت ہوتے وقت آبدیدہ ہوئے! سوال یہ ہے کہ کیا رخصت کرنے والے بھی آبدیدہ ہوئے؟

Tuesday, September 19, 2023

پاکستانی تارکینِ وطن بھارتیوں سے پیچھے رہ گئے! کیوں ؟

 

آج سے کئی برس پہلے ایک رات مانچسٹر میں ٹھہرنا ہوا تھا۔ اپنے پاکستانی میزبان سے پوچھا کہ پاکستانی تارکینِ وطن کی اگلی نسل کس حال میں ہے؟ کیونکہ ان نوجوانوں کے ماں باپ تو پاکستان سے خالی ہاتھ آئے تھے۔ محنت کی‘ مشقت برداشت کی‘ کبھی چٹنی کے ساتھ روٹی کھائی کبھی چائے کے ساتھ! یہاں تک کہ اللہ نے ان پر کرم کیا۔ آسودگی در آئی۔ خوشحال ہوئے۔ اب ان کے بیٹے بیٹیاں تو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں گے‘ وکیل ہوں گے‘ صحافت میں نام کما رہے ہوں گے‘ کئی پی ایچ ڈی کر کے یونیورسٹیوں میں پڑھا رہے ہوں گے‘ کئی ڈاکٹر اور سپیشلسٹ بن گئے ہوں گے! لیکن میرے میزبان کا جواب قطعاًحوصلہ افزا نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی نژاد نوجوان بہت آگے نکل چکے ہیں۔ایک بات جو انہوں نے کہی آج تک ذہن پر کَندہ ہے کہ بہت سے پاکستانی نوجوان اتوار بازاروں میں ٹھیلے ( یعنی ریڑھیاں ) لگاتے ہیں! 
پھر ایک اور چیز نوٹ کی۔ برطانیہ‘ ہسپانیہ اور دوسرے ملکوں کے پاکستانی تارکین ِوطن کیلئے خصوصی ٹی وی چینل چل رہے تھے۔ ان چینلوں پر تعویذ گنڈوں کا کاروبار عام تھا۔ جادو ٹونے کے پروگرام چلائے جاتے تھے۔ ایک بار یہ بھی دیکھا کہ دوپٹے کو ماپنے کی ہدایت دی جا رہی تھی کہ پہلے سے زیادہ نکلا تو جادو کا حملہ ہو چکا ہے۔ نہیں معلوم یہ چینل آج بھی چل رہے ہیں یا نہیں۔ برطانیہ کے بارے میں یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ پیری مریدی کا دھندا وہاں زوروں پر ہے۔ درآمد شدہ گدی نشینوں کی بہتات ہے۔ پاکستان سے جانے والے‘ یا لے جائے جانے والے علما مسلکی بنیادوں پر فرقہ واریت بھی ساتھ ہی لے کر گئے ہیں! 
یہ موضوع چھیڑنے کا سبب ایک دردناک خبر ہے۔ برطانوی حکومت نے سروے کیا ہے کہ برطانیہ میں سب سے کم پڑھے لکھے نوجوان کس کس پس منظر سے ہیں! یہ اعداد و شمار ان نوجوانوں پر محیط ہیں جو سولہ سال سے لے کر چوبیس سال تک کے ہیں۔ خدا نظرِ بد سے بچائے‘ سب سے کم تعلیم یافتہ نوجوانوں میں پاکستان نژاد سب سے زیادہ ہیں۔بے روزگار نوجوان بھی پاکستان نژاد سب سے زیادہ ہیں! بنگلہ دیشی‘ برطانوی سفید فام‘سیاہ فام اور دیگر سب‘ پاکستان نژادوں سے کم ہیں۔ مگر ٹھہریے! خبر کا زیادہ دردناک حصہ رہتا ہے۔ تعلیم و تربیت اور روزگار سے محروم نوجوانوں میں سب سے کم تعداد چین نژاد اور بھارت نژاد نوجوانوں کی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ چین اور بھارت سے تعلق رکھنے والے نوجوان تعلیم و تربیت اور روزگار سے فائدہ اٹھانے میں سب سے آگے ہیں!! 
کیا برطانیہ کے پاکستان نژادوں میں اتنا دم خم ہے کہ اس پسماندگی کے اسباب تلاش کر سکیں؟؟ یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ ان اعداد و شمار سے آگاہ بھی ہیں یا نہیں؟ اور اگر آگاہ ہیں تو ردِ عمل کتنا سنجیدہ ہو گا۔ ایک بات طے ہے کہ جو مائیں یورپ جا کر بھی جادو ٹونوں کے حوالے سے دوپٹے ماپتی پھرتی ہیں اور تعویز گنڈوں کی تلاش میں رہتی ہیں‘ ان کی اولاد تعلیم و تربیت سے دور ہی رہے گی! اُن پاکستانی علاقوں کے نام لینا مناسب نہیں جن کی بھاری تعداد برطانیہ‘ سپین اور سکینڈے نیویا پر چھائی ہوئی ہے۔ ان پاکستانی علاقوں میں بڑے بڑے محلات کی تعداد کثیر ہے۔ بازاروں میں اور شاہراہوں پر کون سا برانڈ ہے جو دکھائی نہیں دیتا۔ شادیوں والی لمبی لمبی لیموزینیں بھی عام نظر آتی ہیں!! مگر تعلیم؟ تعلیم کا خانہ خالی ہے۔ برطانیہ میں پاکستانی ڈاکٹر بہت ہیں۔ مگر ان میں زیادہ تعداد اُن ڈاکٹروں کی ہے جو ایم بی بی ایس پاکستان سے کر کے جاتے ہیں اور وہاں سپیشلسٹ بنتے ہیں۔ پاکستانی تارکین وطن کے بچوں کی تعداد ڈاکٹروں میں بہت ہی کم ہے۔ سروے کر کے دیکھ لیجیے۔ 
بھارت نژاد تارکینِ وطن‘ پاکستان نژاد تارکین ِوطن سے آگے کیوں نکل گئے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارتی تارکینِ وطن آگے کی طرف دیکھتے ہیں اور پاکستانی تارکینِ وطن پیچھے کی طرف۔ معاشیات میں دو دلچسپ اصطلاحات ہیں۔ 

Backward Linkage

یعنی عقبی تعلق! اور

Forward Linkage

یعنی آگے کا تعلق۔ اسکی آسان مثال ٹیکسٹائل انڈسٹری ہے۔ اسے کپڑا بنانے کیلئے دھاگے کی ضرورت ہے۔وہ دھاگہ انڈسٹری سے دھاگہ خریدتی ہے۔ یہ عقبی تعلق ہے یعنی 

Backward Linkage 

دوسری طرف دھاگہ انڈسٹری دھاگہ بنا کر آگے یعنی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بیچتی ہے۔ یہ 

Forward Linkage

ہے۔ ان اصطلاحات کو اگر آپ بھارت نژاد اور پاکستان نژاد تارکین وطن پر منطبق کریں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی عقبی تعلق کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ جبکہ بھارتی 

Forward Linkage

پر یقین رکھتے ہیں۔بھارت نژادوں کی بھاری اکثریت بھارت کی اندرونی سیاست سے بے نیاز ہے۔بھارتی اپنے اپنے نئے ملک کی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں اور حصہ لیتے ہیں۔ میں کئی برسوں سے آسٹریلیا جا رہا ہوں اور کئی کئی ماہ قیام کرتا ہوں۔ پاکستانی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد میرے حلقۂ احباب میں شامل ہے۔ ان میں سے صرف دو صاحبان ایسے ہیں جو مقامی سیاست اور مقامی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ کئی بار وینکوور جانے کا اتفاق ہوا۔ گنتی کے چند پاکستانی مقامی سیاست میں دلچسپی لیتے ہیں جبکہ وہاں مقیم سکھ برادری مقامی سیاست پر چھائی ہوئی ہے۔ چند سال پہلے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے واشنگٹن میں کہا تھا کہ ان کی کابینہ میں سکھوں کی تعداد مودی کی کابینہ میں سکھوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ ظاہر ہے کہ مقامی سیاست میں بھرپور دلچسپی لیے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ اسکے برعکس پاکستان نژاد تارکین وطن مُڑ مڑ کر پا کستانی سیاست کی طرف دیکھتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کیساتھ پاکستانی سیاست کی بنیاد پر ہی بر سر پیکار ہیں۔ بیرون ملک کے اکثر شہروں میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی باقاعدہ شاخیں قائم ہیں! افتخار عارف نے کہا ہے :
تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات 
سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں 
پاکستانیوں کی اکثریت ( سب نہیں ) باہر کے ملکوں میں مقیم ہو کر بھی خانہ بدوش مائنڈ سیٹ سے باہر نہیں نکل رہی۔ بھارتی ہر ممکن طور سے ضم ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ بیرونی کلچر کے کچھ اجزا مسلمانوں کیلئے ممنوع ہیں مگر اصل وجہ پلٹ پلٹ کر پیچھے دیکھنے کا رویّہ ہے۔ جو نعرہ ایک زمانے میں‘ بقول اقبالؔ‘ طارق بن زیاد نے لگایا تھا۔ ہر ملک‘ ملکِ ماست کہ ملکِ خدائی ماست! کہ ہر ملک جو خدا کا ہے‘ ہمارا ملک ہے‘ اُس نعرے پر آج عملاً بھارتی عمل پیرا ہیں! ایک بھارت نژاد برطانیہ کا وزیر اعظم ہے۔ ایک اور بھارت نژد امریکہ کی نائب صدر ہے اور کسی بھی وقت‘ قسمت نے ورق اُلٹا تو‘صدر کی کرسی سنبھال سکتی ہے۔ ایک اور بھارت نژاد‘ آنیوالے امریکی انتخابات میں حصہ لینے کیلئے کوشاں ہے! اس صورتحال کا کریڈٹ بھارتی آئین کو بھی جاتا ہے جس میں ایک بھارتی‘کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے کے بعد‘ بھارتی شہریت رکھنے کا مجاز نہیں! اسے بھارت میں ووٹ ڈالنے کا حق ہے نہ الیکشن میں حصہ لینے کا! یعنی وہ کشتیاں جلا کر باہر جاتا ہے!!اس کے برعکس پاکستانی افسرشاہی اور سیاست میں بے شمار افراد کے پاس بیرونی شہریت ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ وہ اپنے پرانے ملک کے وفادار ہیں یا نئے ملک کے۔ اور تو اور‘ایک آئینی پوسٹ پر بھی ایک ایسے صاحب متمکن رہے ہیں جن کے پاس غیر ملکی شہریت تھی! اس الماری کو کھولیں گے تو بہت کچھ باہر نکلے گا! وہ بھی جو بیان کیا جا سکتا ہے اور وہ بھی جو ناقابلِ بیان ہے!! مگر کھولے گا کون؟ قصہ مختصر۔ ہم پاکستان کے اندر بھی بھارت سے پیچھے ہیں اور پاکستان کے باہر بھی!! ہم سب کو ڈھیروں مبارک!!

Monday, September 18, 2023

بچے کو محض بچہ نہ سمجھیے


ڈیڑھ سالہ بچے نے مجھے تین دن اضطراب میں رکھا! 
یہ '' جوان‘‘ میری چھوٹی بیٹی کا لختِ جگر ہے! چھت کے نیچے رہنا اسے قطعاً پسند نہیں! صحن اس کی پسندیدہ جگہ ہے! صبح بیدار ہونے کے بعد پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ اسے باہر لے جایا جائے۔شاید روح کی گہرائی میں نانا کا دیہاتی پن چھپا ہے! کہاں گرما کی شامیں اور راتیں جو کھلے صحنوں میں گزرتی تھیں اور سرما کی دوپہریں ‘جب سنہری دھوپ زمین پر قالین کی طرح بچھی ہوتی تھی اور اس حرارت کے عوض کوئی بِل آتا تھا نہ کنکشن کاٹے جانے کا نوٹس! عربی مقولے کے مطابق ہر شے اپنے اصل کو لوٹتی ہے! شاید اسی لیے وہ ڈربے میں چلتی پھرتی‘ پانی پیتی‘ مرغیوں اور بطخوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ پودوں اور درختوں کے پتوں کو دلچسپی سے دیکھتا ہے۔ پھول توڑ کر دیں تو پہلے خود سونگھتا ہے پھر اسے میری ناک کے پاس لاتا ہے۔
جس دن کی بات کر رہا ہوں اس دن صبح کا وقت تھا۔ مجھے جانا تھا۔ میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس کی ماں ‘ اسے اٹھائے‘ گاڑی کے باہر کھڑی تھی۔ اس نے جب دیکھا کہ نانا گاڑی میں بیٹھ کر جا رہے ہیں تو دونوں بازو میری طرف پھیلائے۔ میں نے اسے گود میں بٹھا لیا۔میں اسے ہر روز گاڑی میں بٹھا کر ارد گرد کی گلیوں کا ایک چکر لگواتا ہوں۔ وہ یہی سمجھا کہ ابھی‘ روز کی طرح‘ گاڑی میں بٹھا کر سیر کراؤں گا۔مگر میں جلدی میں تھا۔ گود میں بٹھانے کے چند ثانیے بعد ہی میں نے بیٹی سے کہا کہ اسے اٹھا لیجیے کہ مجھے جانا ہے۔ اس کی ماں اسے اٹھانے لگی تو اس نے مدافعت کی۔مدافعت کیا تھی! ننھی ننھی ٹانگوں اور بازؤوں کے ساتھ اس نے اپنی سی کوشش کی کہ گاڑی سے باہر نہ جائے۔ مگر آخر کار ماں نے اٹھا لیا۔ اس نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا۔ اس کے معصوم چہرے پر میری بے وفائی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ میں نے ڈرائیور سے چلنے کو کہا۔
راستے میں میں کچھ ضروری کاغذات دیکھتا رہا۔ ایک دو کام نمٹائے اور اپنے گھر کو لوٹ گیا۔ ایک احساسِ جرم لاحق ہو رہا تھا۔ آتے ہوئے اس کے چہرے کے تاثرات ذہن سے ہٹ نہیں رہے تھے۔ اس کے ننھے سے دل پر کیا گزری ہو گی؟ 
بیگم نے خاموشی کا سبب پوچھا تو میں نے سارا ماجرا بیان کیا۔ انہوں نے بس اتنا کہا کہ رستم آپ پر بہت زیادہ اعتماد کرتا ہے! اس بات نے مجھے مزید سوچنے پر مجبور کیا۔ اس اعتماد کو ہم مان ہی تو کہتے ہیں۔ ہم کسی قابلِ اعتماد شخص کو کہتے ہیں کہ مجھے آپ پر مان ہے۔ یا آپ ہمارا مان ہیں۔ یا اظہارِ افسوس کرتے ہیں کہ فلاں نے میرا مان توڑ دیا۔ ننھے رستم کو بھی مجھ پر مان ہے۔ اندھا اعتماد ہے۔ جب بھی روتا ہوا میرے پاس آتا ہے میں فوراً اسے وہ چیز دیتا ہوں جو اس کی ماں نہیں دے رہی تھی۔ جب بھی اپنی توتلی ‘ نہ سمجھ میں آنے والی زبان سے سمجھاتا کہ باہر صحن میں جانا ہے تو میں سارے کام چھوڑ کر اسے باہر لے جاتا ہوں۔یوں میں اس کی نظروں میں اس کا ایک ایسادوست یا اتحادی بن گیا ہوں جو ہر حال میں اس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ مگر آتے ہوئے جس طرح میں نے اسے گود سے‘ اور گاڑی سے باہر بھیجا اور پھر جن نظروں سے وہ مجھے دیکھ رہا تھا‘یہ سب بہت پریشان کن تھا۔ اس کا مان‘ اس کا اعتماد ٹوٹ گیا۔ 
دوسرے دن میرا ارادہ رستم کے پاس جانے کا تھا مگر کچھ مہمانوں نے آنا تھا۔ اس مصروفیت میں سہ پہر ہو گئی۔شام کو ڈینٹل سرجن کے پاس جانا تھا۔ نہ جاتا تو اگلی ملاقات کا وقت اس نے کئی دن بعد دینا تھا۔ پھر شام اور پھر رات آگئی۔ رستم کا حیرت زدہ چہرا ‘ نیند آنے تک‘ کئی بار آنکھوں کے سامنے آیا۔ یہ انسانی نفسیات ہے کہ ہم جن پر اندھا اعتماد کرتے ہیں اور یقین ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں ہمارا ساتھ نہیں چھوڑیں گے‘ ان کی طرف سے غیر متوقع سلوک شدید صدمے کا باعث بنتا ہے۔ میں نے اپنی سب سے بڑی نواسی‘ زینب کو‘ جو اب ماشاء اللہ ‘ کالج میں داخل ہو رہی ہے‘ جب اس کی زندگی میں پہلی بار ڈانٹا اور بہت زیادہ ڈانٹا تو چند دنوں بعد اس کی ماں کا فون آیا جس میں میرے لیے سبق تھا۔ اس نے کہا '' ابو! وہ جب سے پیدا ہوئی ہے اس نے آپ کا صرف اور صرف پیار دیکھا ہے۔ آپ کے ڈانٹنے کے بعد وہ صدمے میں ہے اور عجیب سی کیفیت میں ہے۔ آپ ذرا اس سے بات کر لیجیے تاکہ اسے آپ کے پیار کی یقین دہانی ہو جائے‘‘۔ اصل واقعہ کی طرف لوٹتے ہیں۔ اس سے اگلا دن بھی گھر کے کاموں میں گزر گیا۔ چھت کی مرمت کا کچھ کام تھا۔ مزدوروں کے ساتھ سر کھپائی رہی۔ تیسرے دن جانا ہوا۔ مجھے دیکھ کر رستم نے بازو وا کیے۔ اسے گود میں لیے‘ گاڑی میں بیٹھا اور ڈرائیور سے کہا کہ سیر کراؤ۔ ارد گرد کی گلیوں کے چکر لگائے۔ وہ بہت خوش تھا۔ کبھی مجھ سے لپٹتا کبھی دونوں ہاتھوں سے تالی پیٹتا۔ خدا خدا کر کے میرا احساسِ جرم ختم ہوا۔
ہمیں اپنا ڈپریشن ‘ اپنی اداسی‘ اپنی مایوسی اور اپنی پریشانی بہت زیادہ نظر آتی ہے۔ بیوی یا ماں باپ ناخوش ہوں تو اس کا بھی فوراً احساس ہو جاتا ہے۔ جہاں کام کرتے ہیں وہاں بھی کوشش ہوتی ہے کہ اوپر والوں ‘ نیچے والوں اور اپنے برابر والوں کے ساتھ تعلقات اچھے رہیں اور ماحول خوشگوار رہے۔ مگر بہت بڑا المیہ ہے کہ یہ احتیاط بچوں کے معاملے میں نہیں ہوتی۔ بچہ ڈیڑھ سال کا ہو یا دس سال کا‘ اپنی پریشانی نہیں بتا سکتا۔اگر وہ ٹینشن میں ہے تو ہم اس سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو بچے کو بتانے یا سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آج باہر لے جانے کا وعدہ نہیں پورا کر سکتے اور یہ کہ کیا مجبوری ہے۔جب بچہ یاد دلاتا ہے کہ آج کا تو یہ پروگرام طے تھا تو ہم کندھے اچکا کر کہہ دیتے ہیں کہ آج نہیں جا سکتے ! یہ بھی ممکن ہے کہ یہ وعدہ خلافی اور یہ عدم توجہی بچے کو ساری زندگی یاد رہے۔کبھی ہم اپنے بچے کے سامنے کسی دوسرے بچے پر‘ بھانجی یا بھتیجی پر‘ زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ بچے کو محسوس ہوتا ہے کہ اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔یوں اسے دوسرے بچے سے نفرت ہو جاتی ہے جو جلد ختم نہیں ہوتی ! 
ہم‘ مجموعی طور پر‘ نفسیات سے ناواقف قوم ہیں! جس بچے کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ اونہہ ! اسے کیا پتہ ! یہ تو بہت چھوٹا ہے! اس بچے کے دماغ میں قدرت نے ویسا ہی طاقتور اور ویسا ہی محیر العقول کمپیوٹر نصب کیا ہوا ہے جو ہمارے دماغ میں لگا ہے۔جو کچھ آپ اس کے سامنے کر رہے ہیں یا کہہ رہے ہیں ‘ وہ اسے زندگی بھر یاد رکھے گا۔ اگر اسے کہا جا رہا ہے کہ باہر جا کہہ دو کہ ابا گھر پر نہیں ہیں تو آپ نے اسے دو ایسے سبق دیے ہیں جو اس کے ذہن پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئے ہیں۔ ایک یہ کہ ابا جھوٹ بولتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ جھوٹ بولنا کوئی بڑی یا بُری بات نہیں !! کیا زمانہ تھا کہ لوگ یتیم بچے کے سامنے ‘ اپنے بچے سے پیار نہیں کرتے تھے کہ اسے باپ کے نہ ہونے کا احساس نہ ہو! آج وہ زمانہ ہے کہ دوسروں کے بچے تو دوسروں کے بچے ہیں‘ اپنے بچوں کی اُداسی‘ ٹینشن اور سراسیمگی کی بھی فکر نہیں! جس افرا تفری اور نفسا نفسی کے دور کی پیش گوئیاں کی گئی تھیں وہ دور شاید یہی ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں!

Thursday, September 14, 2023

کہیے سر گھوما کہ نہیں


سر گھوم رہا ہے! جوش ملیح آبادی کی رباعی یاد آرہی ہے:
سر گھوم رہا ہے ناؤ کھیتے کھیتے
اپنے کو فریبِ عیش دیتے دیتے
اف جُہدِ حیات! تھک گیا ہوں معبود
دم ٹوٹ چکا ہے سانس لیتے لیتے
سر اس لیے نہیں گھوم رہا کہ ضعفِ دماغ ہے یا کوئی اور عارضہ! یہ ملکی خبریں ہیں جنہیں پڑھ کر‘ اور سُن کر‘ سر گھوم جاتا ہے! کاش! کوئی ایسی صورت ہوتی کہ اخبار‘ ٹی وی‘ سوشل میڈیا کا خاتمہ بالخیر ہو جاتا اور زندگی خوشگوار ہو جاتی!ویرانہ ہی کیوں نہ ہوتا! غالب کی زندگی بھی اسی حسرت میں کٹ گئی :
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو
بے درو دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے
کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو
پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار
اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
ایسا بھی نہیں کہ ایک دن میں بجلی گرانے والی خبر ایک ہی ہو۔ شاید ہی کوئی ایسا دن ہو جب اضطراب اور تشویش پیدا کرنے والی خبریں نصف درجن سے کم ہوں! مشرق وسطیٰ کی طاقتور ترین شخصیت نے بھارتی حکومت کے ساتھ پچاس معاہدے کیے ہیں۔ بھارت میں سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس کے لیے ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے۔ تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ '' امت‘‘کا تصور صرف اور صرف روحانی ہے اور امت کا یہ روحانی اتحاد صرف اور صرف حج کے موقع پر حقیقت کا روپ دھارتا ہے۔ وہ جو اقبال کا شعر زبان زدِ خاص و عام ہے :
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں مسلم اتحاد کا حوالہ حرم کی پاسبانی کے لیے آیا ہے‘ ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے نہیں! ابھی تو اس خبر کی روشنائی بھی خشک نہیں ہو پائی کہ ایک ہندو استانی نے مسلمان بچے کو پوری کلاس سے تھپڑ رسید کروائے۔ بھارت میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیاہے۔ مودی حکومت آر ایس ایس کے تعصب کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔ آئے دن مسلمانوں کا قتل عام ہوتا ہے۔ ان کے گھر جلا ئے جاتے ہیں۔ ان کے کاروبار تباہ کیے جا رہے ہیں۔ مگر جنہوں نے ان کے لیے آواز اٹھانا تھی وہ بھارت کے ساتھ معانقے اور معاہدے کر رہے ہیں اور اسرائیل کا وفد پہلی بار‘ کھلم کھلا‘ سعودی عرب میں آچکا ہے۔
اگر ابھی تک آپ کا سر نہیں گھوما تو کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیا آپ نے کسی ایسے شخص کے بارے میں سنا ہے جو اپنے گرتے ہوئے کاروبار پر مزید سرمایہ لگاتا جا رہا تھا اور نقصان مسلسل بڑھ رہا تھا۔ یقینا نہیں سنا ہو گا۔ مگر حکومتِ پاکستان پی آئی اے کے اندھے کنویں میں مسلسل روپیہ ڈال رہی ہے اور ڈالے جا رہی ہے۔ سعدی نے ایک احمق شخص کے بارے میں کہا تھا:
یکی بر سرِ شاخ و بُن می برید
وہ احمق جس ٹہنی پر بیٹھا تھا‘ اسی کو جڑ سے کاٹ رہا تھا۔ ایک ہی دن کی دو خبریں ملاحظہ کیجیے۔پی آئی اے مسلسل خسارے میں جا رہی ہے۔ کُل طیارے تیس ہیں یا شاید اکتیس! ان میں سے پندرہ جہاز‘ یعنی پچاس فیصد‘ غیر فعال حالت میں پڑے ہیں۔ گنجی کے پاس تھا ہی کیا کہ نہاتی اور نچوڑتی! ایک طرف یہ حالت ہے اور دوسری طرف وزارتِ خزانہ نے پی آئی اے کو حکومت کی طرف سے مالی مدد فراہم نہ کرنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔ یعنی حکومت اس سفید ہاتھی پر عوام کی کمائی لٹاتی ہی رہے گی۔ اندھا بھی دیکھ رہا ہے اور بچہ بھی سمجھ رہا ہے کہ قومی ایئر لائن اب قومی ہے نہ ایئر لائن! خسارہ در خسارہ ہے اور فقط بوجھ! علاج ایک ہی ہے کہ اسے نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے جیسا کہ بھارت نے حال ہی میں ایئر انڈیا نجی شعبے کو بیچ دی ہے‘ مگر نصف درجن کے قریب یونینیں اس گائے کو بیچنے نہیں دے رہیں اس لیے کہ گائے دودھ تو مدت سے نہیں دے رہی‘ یونینیں اس کے خون کا آخری قطرہ بھی پینے کے درپے ہیں!کبھی دنیا میں ایسا بھی ہوا ہے کہ تیس میں سے پندرہ جہازوں کے گردے‘ انتڑیاں اور پھیپھڑے ناکارہ ہوں مگر ہزاروں ملازم ان جہازوں کے نام پر ادارے سے تنخواہ لے رہے ہوں! ملازمین کی تعداد‘ فی جہاز‘ ہماری ایئر لائن کی دنیا میں سب سے زیادہ ہے! اور حال یہ ہے کہ اب تو خود پاکستانی بھی اس ایئر لائن سے گریز کرتے ہیں! یہی طور اطوار رہے تو وہ دن دور نہیں جب‘ خدا نخواستہ‘ جہاز ایک بھی نہ ہو گا اور ملازمین کی تعداد اور مراعات پہلے سے زیادہ ہوں گی!
آپ نے وہ قصہ ضرور سنا ہو گا جس میں چند افراد ایک ریستوران میں کھانا کھاتے ہیں۔ بل دینے کا وقت آتا ہے تو سب ایک ایک کر کے کھسک جاتے ہیں! شریف فیملی بالکل اسی ایکٹ کا تماشا دکھا رہی ہے۔ بڑے میاں صاحب تو لندن میں پہلے سے موجود ہیں اور کئی برسوں سے مقیم ہیں۔ ان کا زبردست معیارِ زندگی شاہِ برطانیہ کو حسد کی آگ میں جلا رہا ہے۔ برادرِ خورد‘ شہباز شریف صاحب بھی حکومت ختم کرتے ہی ان کے پاس پہنچ گئے۔ لگتا ہے کہ بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو آخر کار قائل کر ہی لیا کہ '' میاں! پاکستان صرف حکومت کرنے کے لیے ہے۔ حکومت نہ ہو تو لندن ہی میں رہو جیسا کہ میں ایک عرصہ سے کر رہا ہوں‘‘۔ نہلے پر دہلا یہ ہوا ہے کہ حمزہ شہباز صاحب بھی لندن پہنچ گئے ہیں اور ستمبر کا مہینہ‘ خبر کی رُو سے‘ لندن ہی میں گزاریں گے! سنا ہے مونس الٰہی بھی ہسپانیہ سے‘ جہاں وہ مقیم ہیں‘ لندن آتے رہتے ہیں! عوام کو ہر تیسرے دن کہہ دیا جاتا ہے کہ استقبال کی تیاریاں کرو مگر لیڈر ہیں کہ لندن چھوڑنا نہیں چاہتے! اصل بات یہ ہے کہ یہ حضرات صرف پاکستانی عوام کی خاطر اور صرف پاکستانی عوام کے غم میں لندن میں مقیم ہیں! اب تو اسحاق ڈار صاحب کا نام بھی لندن کے عشاق میں شمار کیجیے۔اکثر و بیشتر وہیں پائے جاتے ہیں! اس صدی کادلچسپ ترین بیان بھی کل پرسوں اسحاق ڈار صاحب ہی نے دیا ہے بلکہ داغا ہے! فرماتے ہیں ''دنیا کے کچھ ممالک اس بات سے خوف زدہ تھے کہ میں ڈا لر کو دو سو تک لے آؤں گا‘‘۔ یا وحشت! یا وحشت! تو پھر کیوں نہ لے آئے دو سو تک آپ ؟ کیا امر مانع تھا؟ کاش عدالتِ عالیہ ازخود نوٹس لے اور ڈار صاحب کو طلب کر کے پوچھے کہ یہ کون سے ممالک تھے جو تھر تھر کانپ رہے تھے! اور جن کا ڈر ختم کرنے کے لیے آپ ڈالر کو دو سو تک نہیں لائے!
اگر ابھی تک آپ کا سر نہیں گھوما تو اس کا مطلب ہے آپ سخت جان واقع ہوئے ہیں! مگر میں بھی ایک اکھڑ اعوان ہوں! دھُن کا پکا! جو بات اب بتانے لگا ہوں اس سے آپ کا سر تو یقینا گھومے گا‘ خدشہ ہے آپ گر نہ پڑیں! یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ نگران حکومت مکمل غیر جانبدار ہے! جی ہاں! مکمل غیر جانبدار! مگر آپ یہ نہیں جانتے کہ اس غیر جانبداری پر مُہرِ تصدیق بھی ثبت کر دی گئی ہے! شریف برادران کے دستِ راست فواد حسن فواد صاحب کو بھی بطور وزیر وفاقی کابینہ میں شامل کر لیا گیا ہے! کہیے! سر گھوما کہ نہیں ؟

Tuesday, September 12, 2023

تو کیا یہ بھاری پتھر بھی آرمی چیف نے اٹھانا ہے؟


اُس دن شوہر کا دل پسیجا ہوا تھا۔ اس نے ہر وقت گھر کے کاموں میں مصروف بیوی کو پیشکش کی کہ آج اُس کے لیے چائے وہ بنائے گا۔ تھکی ہوئی بیوی پہلے حیران ہوئی۔ پھر اس نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا اور ٹی وی لگا کر صوفے پر بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد اسے رسوئی سے میاں کی آواز آئی۔ ذرا آنا مجھے چولہا جلا دینا۔ معلوم نہیں ہو رہا کون سے چولہے کی کون سی ناب ہے۔ بیوی اُٹھی۔ چولہا جلا کر دیا پھر آکر صوفے پر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر کے بعد پھر آواز آئی۔ ذرا آکر پتی والا ڈبہ ڈھونڈ دو‘ مجھے مل نہیں رہا۔ بیوی نے آکر پتی والا ڈبہ دیا جو بالکل سامنے پڑا تھا۔ وہ پھر ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئی۔ ایک بار پھر میاں نے مدد کے لیے پکارا۔ چھلنی کہاں پڑی ہے۔ اب کے بیوی نے چھلنی ڈھونڈ کر دینے کے بجائے‘ بہت نرمی سے کہا کہ آپ جا کر ٹی وی دیکھیے‘ میں چائے بنا لیتی ہوں! یہ مثال صادق آتی ہے اس بات پر کہ حکومت سے کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ بجلی کی چوری پکڑنے والے محکمے حکومت کی تحویل میں ہیں مگر یہ کام آرمی چیف کروا رہے ہیں۔ ڈالر کے پر کاٹنے والی ساری قینچیاں حکومت کے پاس ہیں مگر یہ کام بھی فوجی سربراہ کے ذمے ہے۔ تاجروں اور صنعت کاروں کے ساتھ ملاقات بھی آرمی چیف نے کی۔ اصولی طور پر یہ کام بھی حکومت کا تھا۔
اگر بیوروکریسی میں دم خم ہوتا تو یہ سارے کام آرمی چیف کو نہ کرنا پڑتے۔ بیورو کریسی میں دم خم کیوں نہیں؟ اس کی وجہ سیاسی مداخلت‘ اقربا پروری اور سفارش ہے۔ افسر کو ایک سیٹ پر مدت پوری ہی نہیں کرنے دی جاتی۔ آپ کسی سیکرٹری‘ کسی پولیس افسر‘ کسی اے سی‘ کسی ڈی سی‘ کسی اکاؤنٹنٹ جنرل‘ کسی کسٹم افسر‘ کسی ٹیکس افسر کے دفتر کی دیوار پر لگا وہ بورڈ دیکھ لیجیے جس پر اُس دفتر میں تعینات افسروں کے قیام کی مدت درج ہے۔ بورڈ پڑھ کر آپ پر تین رد عمل ہوں گے۔ پہلے آپ حیران ہوں گے۔ پھر ہنسیں گے اور آخر میں روئیں گے۔ کوئی افسر چار ماہ رہا‘ کوئی ایک سال‘ کوئی چند ہفتے اور کوئی چند دن! اس لیے کہ بیورو کریسی میں کیریئر پلاننگ عنقا ہے۔ پہلے وفاق کی بات کرتے ہیں۔ وفاق میں تین ادارے ہیں جو بیورو کریسی کی ترقیوں‘ تبادلوں اور تعیناتیوں کے ذمہ دار ہیں۔ پہلا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن۔ یہ وفاقی وزارتوں میں اور صوبوں میں افسر بھیجتا ہے۔ جو کارپوریشنیں اور نیم سرکاری ادارے وفاق کے ماتحت ہیں ان میں بھی بیورو کریسی کو یہی تعینات کرتا ہے۔ دوسرا آڈیٹر جنرل آف پاکستان۔ یہ صوبوں کے اکاؤنٹنٹ جنرلز کے دفتروں کا ذمہ دار ہے۔ دفاع اور ریلوے میں بھی آڈٹ اور اکاؤنٹس کے افسران بھیجنے اور ہٹانے کا انچارج ہے۔ تیسرا ایف بی آر۔ جو کسٹم اور ٹیکس کے افسران کا مائی باپ ہے۔ ان تینوں اداروں میں کیریئر پلاننگ صفر ہے۔ تعیناتی کا اور تبادلوں کا کوئی اصول ہے نہ معیار۔ بس ایک ہی اصول ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ کچھ کالم نگار جی ایچ کیو کی ملٹری سیکرٹری ( ایم ایس) برانچ کی مثالیں بہت دیتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ایم ایس برانچ کے کام میں اہلِ سیاست دخل اندازی نہیں کر سکتے۔ افواج میں ہر افسر کا کیریئر پلاننگ چارٹ بنتا ہے۔ صرف ایک مثال لے لیجیے۔ اگر ایک افسر کو ملک کے جنوبی زون میں رکھا گیا ہے تو اس کے بعد اسے لازماً وسطی یا شمالی زون میں جانا ہو گا۔ کمانڈ پوسٹ پر رہنے کے بعد سٹاف پوسٹ پر لازماً کام کرنا ہو گا۔ اگر کسی پوسٹ پر تعیناتی کی مدت دو سال ہے تو اسے دو سال سے پہلے وہاں سے ہٹایا نہیں جائے گا سوائے اس کے کہ اس کی ترقی ہو گئی ہے یا ڈسپلن کا معاملہ ہے۔ سول بیورو کریسی میں کسی افسر کو یہ معلوم نہیں کہ اسے کب اٹھا کر کہیں اور پھینک دیا جائے گا۔ کتنا عرصہ فیلڈ میں رکھنا ہے؟ کتنا مرکز میں؟ کتنا صوبوں میں؟ افسر کو معلوم ہے نہ خود ادارے کو! لطیفہ یہ ہے کہ اگر او ایس ڈی بن گیا ہے تو خود حکومت کہتی ہے کہ کہیں سے 
Requisition 
یعنی بلاوا لاؤ اور پوسٹنگ کرا لو۔
سب سے زیادہ افسوسناک کردار اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا ہے۔ اس کی حیثیت صرف ایک ڈاکخانے کی ہے۔ ادھر کا سامان اُس طرف اور اُس طرف کا سامان ادھر! اگر وزیراعظم کا پرنسپل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری کو فون کر کے کہتا ہے کہ فلاں سیکرٹری یا فلاں ایڈیشنل سیکرٹری یا فلاں جوائنٹ سیکرٹری یا فلاں کمشنر یا فلاں آئی جی کا تبادلہ فلاں جگہ کر دو۔ تو کیا سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ معذرت کرے گا؟ اور کیا بتائے گا کہ اس طرح کرنے سے افسر کا کیریئر متاثر ہو گا اور ہم نے جو سسٹم بنایا ہوا ہے اس میں خلل پڑے گا؟ نہیں! ہر گز نہیں! سسٹم کا تو وجود ہی کوئی نہیں! کیریئر پلاننگ صفر ہے۔ وزیراعظم کے میر منشی کے حکم کی فوری تعمیل ہو گی۔ کسی افسر کی لاہور میں پوسٹنگ ہوئی ہے تو بس یوں سمجھیے لاہور سے نکاح ہی ہو گیا۔ جی او آر میں محل مل گیا۔ افسر گویا پا بہ زنجیر ہو گیا۔ اب اگر اسے لاہور سے باہر کہیں اور بھیجا گیا تو قیامت آجائے گی۔ افسر چوہدریوں کے گھر جا بیٹھے گا یا رائے ونڈ کی طرف جائے گا۔ اور تبادلہ رکوا کر رہے گا۔ 
یہ لکھنے والا ایک زمانے میں جی ایچ کیو میں‘ چیف کنٹرولر ملٹری اکاؤنٹس کے طور پر تعینات تھا۔ آرمی کا حساب کتاب کرنے کے لیے دس بارہ کنٹرولر ہیں جو مختلف شہروں میں تعینات ہیں۔ ان میں ایک کنٹرولر پنشن بھی ہے جو لاہور میں بیٹھتا ہے۔ ابھی کنٹرولر پنشن کو اس پوسٹ پر تعینات ہوئے سات آٹھ ماہ ہی ہوئے تھے کہ اسے وہاں سے ہٹانے کے احکام موصول ہو گئے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے دفتر سے اس تبادلے کی وجہ پوچھی گئی تو وہ کوئی جواز نہ دے سکے۔ چیف کنٹرولر نے حکم ماننے سے معذرت کر دی مگر حکم نہ ماننے کے لیے بھی ہمت درکار ہے جو ہر کوئی نہیں کر سکتا۔ 
رہے صوبے تو وہاں احوال بدتر ہے۔ شہباز شریف صاحب کے عہد میں احکام ان کے صاحبزادے کے چلتے تھے اور عمران خان کے دور میں گجر خاندان کے۔ ایک ایک سال میں کئی چیف سیکرٹری‘ کئی آئی جی اور کئی سیکرٹری بدلے گئے۔ کہاں کا نظام اور کون سی کیرئیر پلاننگ؟ رہے ایس ایچ او تو انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کل تو دور کی بات ہے آج شام تک بھی رہ پائیں گے یا نہیں!! آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کے جس افسر نے ریلوے اکاؤنٹس میں ایک دن بھی کام نہیں کیا اسے ریلوے اکاؤنٹس کا سربراہ یعنی ممبر فنانس ریلوے لگایا جا سکتا ہے۔ کیرئیر پلاننگ چارٹ ہو تو اسے ریلوے کاؤنٹس‘ ملٹری اکاؤنٹس‘ سول اکاؤنٹس‘ آڈٹ‘ سفارت خانوں کا آڈٹ‘ وفاق‘ صوبے‘ تمام شعبوں میں کام کرنے کا تجربہ دلوایا جائے گا۔ 
بیورو کریسی کی اس انارکی کو کون دور کرے گا؟ سیاسی مداخلت کس طرح ختم ہو گی؟ پولیس کب آزاد ہو گی؟ آئی جی پولیس کو کب یہ اعتماد حاصل ہو گا کہ پوسٹنگ ٹرانسفر صرف اسی کے اختیار میں رہے گی؟ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں‘ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے دفتر میں اور ایف بی آر میں کیرئیر پلاننگ کے چارٹ کب بنیں گے؟ ایک افسر کو کب یہ یقین ہو گا کہ اسے تین سال سے پہلے نہیں ہٹایا جائے گا اور یہ کہ وہ تین سال کے لیے اپنے کام کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ لسانی اور برادری کی بنیادوں پر نوازشات کی بیخ کنی کب ہو گی؟ تو کیا یہ بھاری پتھر بھی آرمی چیف نے اُٹھانا ہے؟ 
قر عہ فال بنامِ منِ دیوانہ زدند؟؟ 
کیا یہ قرعہ بھی اُسی کے نام نکلنا ہے؟؟

Thursday, September 07, 2023

سو سنار کی یا ایک لوہار کی؟؟

آپ کا کیا خیال ہے بجلی کا موجودہ ہولناک بحران طالبان کی حکومت کو پیش آتا تو طالبان کیا کرتے ؟ 
یقیناآپ اس سوال پر چونک پڑے ہیں کہ طالبان ہی کا ذکر کیوں؟ یہ لکھنے والا کبھی بھی طالبان کا فَین‘ یا عقیدت مند نہیں رہا۔ ہمیشہ تنقید ہی کی! خواتین کے حوالے سے ان کا جو رویہ ہے اس کا اسلامی احکام سے کوئی تعلق نہیں! اس لحاظ سے طالبان کی پالیسی میں تضاد ہے۔ اپنی خواتین کا علاج وہ مرد ڈاکٹروں سے کبھی نہیں کرائیں گے۔دوسری طرف لڑکیوں کو پرائمری سے آگے پڑھنے نہیں دے رہے۔ چلیے! یہ تو ان کا اپنا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے نقطہ نظر سے پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام کو ان سے جو شکوہ ہے اس کا اظہار ہمارے حکمران کئی بار کر چکے ہیں۔ افغانستان کی زمین پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے! اور مسلسل ہو رہی ہے! ہم مسلسل نقصان اٹھا رہے ہیں! 
تو پھر بجلی کے دہشت انگیز بحران کے سلسلے میں طالبان کا ذکر کیوں کر دیا؟ اس کی وجہ ایک خبر ہے۔ طالبان حکومت نے افغانستان میں ڈاکٹروں کی فیسوں کی حد مقرر کر دی ہے۔ سپیشلسٹ ڈاکٹر‘ پروفیسر ڈاکٹر‘ عام ایم بی بی ایس ڈاکٹر‘ ہر ایک کی فیس کا تعین کر دیا گیا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں کلینک سیل کر دیا جائے گا۔ سفارش کا سوال اس لیے نہیں ہو گا کہ اپیل کرنے کی اجازت ہی نہیں دی جائے گی۔ یہ ہے ریاست کا فرض! کہ جب عوام کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہو تو ریاست اپنا کردار ادا کرے ! پاکستان میں ڈاکٹر حضرات کی فیسیں آسمان کو چھُو رہی ہیں۔ ریاست صماٌ بُکماٌ‘ ٹکر ٹکر دیکھ رہی ہے اور یوں بے نیاز بیٹھی ہے جیسے پاکستانی عوام مقامی ہیں اور ریاست ولایتی! کہاں ہے ریاست ؟ سمگلنگ زوروں پر ہے۔ ڈالر سرحد پار بھیجے جا رہے ہیں۔ایرانی تیل کی ریل پیل ہے۔ بجلی اربوں کی چوری ہو رہی ہے۔ ریاست کہاں ہے؟ سو رہی ہے ؟ یا وجود ہی کھو بیٹھی ہے ؟
بجلی کا موجودہ درد ناک بحران طالبان کی حکومت کو پیش آتا تو طالبان تین ایکشن لیتے اور فوراً لیتے! سب سے پہلے طالبان کی حکومت‘ بیک جنبشِ قلم‘ مفت‘ یعنی اعزازی بجلی کی سہولت ختم کرتی۔ عدلیہ ہوتی یا ادارے یا بجلی کے محکمے‘ اس حکم کا اطلاق سب پر‘ کسی استثنا کے بغیر‘ ہوتا۔ دوسرا ایکشن یہ ہوتا کہ بجلی چوری کرنے والوں کو سر عام پھانسی دی جاتی! اس سزا کے بغیر ان چوروں ڈاکوؤں نے باز بھی نہیں آنا تھا! تیسرا قدم وہ یہ اٹھاتے کہ بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں ( آئی پی پی) کو طلب کرتے اور ان کے ساتھ کئے گئے معاہدوں پر فوراً نظر ثانی کرتے اور کرواتے! یہ ہیں حل بجلی کے بحران کے! سعودی عرب کی یا ایران کی حکومت ہوتی تو وہ بھی یہی اقدامات کرتی۔ اس طرح کے بحرانوں میں سو سنار کی نہیں‘ ایک لوہار کی درکار ہوتی ہے! آپ کا کیا خیال ہے پاکستانی حکومت‘ جو بھی ہو‘ ان اقدامات کی اہلیت رکھتی ہے ؟ جس ملک میں قاتل چھوٹ جاتے ہوں اور فریق ثانی کو سنے بغیر امتناعی احکام تھوک کے حساب سے جاری ہوتے ہوں‘ وہاں بجلی چورکو کون ہاتھ لگائے گا۔ اندازہ لگائیے ! لوگ خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ لہو تھوک رہے ہیں‘ مگرکوئی بجلی چور نہیں پکڑا گیا۔ اور نہ پکڑا جائے گا۔ کسی کی مفت بجلی تا دم تحریر بند نہیں کی گئی!لوگ طالبان حکومت کی مثال نہ دیں تو کیا کریں !عوام توقع کر رہے تھے کہ کم از کم عدلیہ اپنی مفت بجلی خود ختم کرے گی مگر۔ 
خواب جھوٹے خواب میرے خواب تیرے خواب بھی 
اس صورتحال میں‘ جب عوام جاں بہ لب ہیں‘ نام نہاد لیڈروں کا رویّہ دیکھیے۔ لندن میں نواز شریف صاحب سے کسی صحافی نے پوچھا کہ پٹرول اور مہنگائی پر پاکستان میں تاجروں نے ہڑتال کی ہے‘ اس پر آپ کچھ کہیں گے؟
اوّل تو ایسا سوال پوچھنے والے صحافی پر ماں صدقے ! ارے بھائی! میاں صاحب کئی برسوں سے لندن میں ہیں۔جب اقتدار میں تھے تو اوسطاً ہر دو‘ پونے دو‘ ماہ بعد لندن کا دورہ کرتے تھے۔ عیدیں بھی وہیں مناتے تھے۔ صاحبزادگان کو بھی وہیں مستقل مقیم کرا دیا ہے۔ انہیں اس سے کیا کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ کون ہڑتال کر رہا ہے اور کون نہیں کر رہا ؟ مہنگائی کتنی ہے؟ صحافی کو صرف ایک سوال پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ پاکستان کیوں نہیں آرہے؟ کم از کم ایک ہی وجہ بتا دیں! چلیے! صحافی نے پوچھ لیا کہ پٹرول اور مہنگائی پر پاکستان میں تاجروں نے ہڑتال کی ہے‘ اس پر آپ کچھ کہیں گے؟ اب جگر تھام کر بیٹھیے اور میاں صاحب کا جواب سنیے۔ ممکن ہو تو پانی اپنے پاس رکھ لیجیے کہ جواب سن کو آپ کو یقینا پانی کا سہارا لینا پڑے گا۔ میاں صاحب نے جواب میں فرمایا کہ مناسب وقت آنے پر ضرور بتاؤں گا ! یعنی ہڑتال اب ہو رہی ہے۔ میاں صاحب اس پر اظہارِ خیال مستقبل میں فرمائیں گے! کسی نے کہا تھا :
گر ہمین مکتب و ہمین مُلّا
کارِ طفلان تمام خواہد شُد 
یہی سکول رہا اور یہی استاد‘ تو بچوں کا خدا ہی حافظ! یہی ہمارے لیڈر رہے تو عوام کا خدا ہی حافظ! ایک نگران وزیر صاحب کا حکمت سے بھرا ہوا بیان سنیے۔ فرمایا ہے کہ پی آئی اے اور سٹیل مل بند نہیں کر سکتے کہ لاکھوں کا روزگار ان سے وابستہ ہے! اوّل تو یہ دونوں ادارے‘ بیان دینے والے وزیر صاحب کے قلمدان کی زد ہی میں نہیں! دوسرے کیا ان اداروں کا مقصد لوگوں کو روز گار فراہم کرنا تھا؟ ہر سال اربوں روپے ان سفید ہاتھیوں پر لٹانے کے بجائے ایک ہی بار کڑوا گھونٹ بھریے اور ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دے کر فارغ کیجیے۔فرض کیجیے یہ ناکام ادارے کسی حکومتی شخصیت کی ذاتی ملکیت میں ہوتے تو کیا نقصان میں جانے کے باوجود صرف اس لیے بند نہ کرتے کہ لوگوں کا روزگار وابستہ ہے؟ یہ ادارے عوام کے ہیں۔ عوام کو ان سے حاصل کچھ نہیں ہو رہا مگر عوام کی جیبوں سے ہر سال اربوں روپے نکال کر مسلسل نقصان میں جانے والے ان سفید ہاتھیوں کا خسارہ پورا کیا جا رہا ہے! اگر یہ ظلم نہیں تو کیا ہے؟ 
ہمارے بہت پرانے دوست جناب انیق احمد ان دنوں نگران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور ہیں۔ سالہا سال مختلف چینلوں پر مذہبی پروگرام کامیابی سے کرتے رہے ہیں۔ علماء کرام سے عالمانہ سطح کی گفتگو کرنا‘ اور مختلف مسالک کے درمیان توازن قائم رکھنا ایسے ہے جیسے تنی ہوئی رسی پر چلنا مگر ایسا کرنا اور کامیابی کے ساتھ احسن طریقے سے کرنا انہی کا حصہ ہے۔ ان کا اپنا مذہبی علم بھی وسیع ہے۔ دل میں اُتر جانے والے انداز سے تلاوت کرتے ہیں۔ موجودہ کابینہ کے اجلاس انہی کی تلاوت سے شروع ہوتے ہیں۔ ایک پیار ان کا اور میرا مشترک ہے اور وہ ہے جون ایلیا سے اور ان کی شاعری سے پیار ! انیق احمد جون ایلیا کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں ! کراچی کے ایک معروف مدرسہ کا دورہ کرتے ہوئے انیق احمد نے بجا طور پر کہا ہے کہ دینی اثاثوں کو مدارس نے محفوظ کر رکھا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ '' کاش سپین میں مدارس قائم ہوتے تو دین کے ساتھ اور مسلمانوں کے ساتھ وہ سلوک نہ ہوتا جو ہوا!‘‘ 
سخن شناس نہ ای دلبرا! خطا اینجاست 
سپین جو مسلمانوں کے عہد میں تمام علوم و فنون کا مرکز تھا‘ یقینامدرسوں سے محروم نہ تھا۔ فقہ کے مالکی مکتبِ فکر کا مسلم ہسپانیہ گڑھ تھا۔ شمالی افریقہ ہمیشہ سے مالکی فقہ کا پیرو کار رہا ہے۔ بالخصوس مراکش! اور اندلس مراکش ہی کی ایک لحاظ سے توسیع تھا۔ یہ ناممکن ہے کہ مسلم ہسپانیہ میں مدارس نہ تھے۔ مگر پاکستان میں تو مدارس کسی بھی دوسرے مسلم ملک سے زیادہ ہیں ! پھر ہمارا حال کیوں ابتر‘ قابلِ رحم اور عبرتناک ہے ؟؟

Tuesday, September 05, 2023

ہم خوش و خرم رہنے والے لوگ

ہم خوش و خرم رہنے والے لوگ !!

بھارت چاند پر پہنچ گیا۔ ہم پیچھے رہ گئے۔ ہو سکتا ہے کچھ احباب کو تعجب ہوا ہو۔ یقین کیجیے مجھے کوئی تعجب نہیں ہوا! رمق بھر بھی نہیں ہوا! 
اس لیے کہ کرکٹ کے علاوہ ہم نے ‘ کبھی ‘ کسی بھی میدان میں‘ ہارنے پر شرم محسوس نہیں کی۔بھارت کو ہم نے ہمیشہ کرکٹ کی عینک سے دیکھا۔ ہماری عزت ‘ بے عزتی کا مسئلہ ہمیشہ کرکٹ تک محدود رہا۔ کرکٹ میں بھارت سے ہارنے پر ہمیں دل کے دورے پڑتے ہیں۔ ہم اپنے ٹی وی سیٹ توڑ دیتے ہیں۔ صفِ ماتم بچھ جاتی ہے۔ جیت جائیں تو چھلانگیں آسمان تک مارتے ہیں۔ مگر دیگر معاملات میں ہم بے حس ہیں! بھارت نے تقسیم ِ ہند کے چار سال بعد‘ جی ہاں ! صرف چار سال بعد‘ زرعی اصلاحات لا کر ملکیت ِزمین کا ڈھانچہ
 (Land ownership pattern)
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ جاگیرداری اور سرداری نظام کی صف لپیٹ دی۔ راجوں‘ مہاراجوں‘ نوابوں کے القابات ختم کر دیے اور کچھ عرصہ بعد ان کی پنشنز اور مراعات بھی ! یہاں تک کہ کچھ کو تو اپنے محلات ہوٹلوں میں تبدیل کرنے پڑے۔ بھارت نے ملکیتِ زمین کی حد مقرر کر دی۔ یہ بہت بڑی مہم تھی جو بھارت نے سر کی۔ ہماری عزتِ نفس تو خیر کیا جاگتی ‘ ہمارے کان پر جوں تک نہ رینگی! زرعی پیداوار میں بھی بھارت نے ہمیں شکست دی۔ ہمارا پنجاب رقبے میں بھارتی پنجاب سے بڑا ہے۔ مگر بھارتی پنجاب گندم نہ صرف پورے بھارت کے لیے پیدا کر رہا ہے بلکہ گندم برآمد بھی ہو رہی ہے۔ 2016 ء میں بھارت نے پانچ کروڑ ڈالر کی گندم برآمد کی۔ 2020ء میں گندم کی برآمد چوبیس کروڑ تیس لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس معاملے میں بھی ہماری نالائقی نے ہمیں بالکل نہ جھنجوڑا۔ عرصہ ہوا ایک ذمہ دار شخص نے بتایا تھا کہ بھارتی کہتے تھے ہم صرف لائل پور کے ضلع سے تمہیں اتنی گندم اُگا کر دے سکتے ہیں کہ تمہارے پورے ملک کے لیے کا فی ہو گی۔ نہ جانے یہ روایت صحیح ہے یا نہیں مگر جو ہمارے لچھن ہیں ان کے پیش نظر ناممکن بھی نہیں۔آئی ٹی سیکٹر میں بھارت دنیا پر قبضہ کر چکا ہے۔ حیدرآباد‘ بنگلور اور چنائی اس حوالے سے مغرب کو مٹھی میں لے چکے ہیں۔ لوکل ٹرانسپورٹ میں ہم صفر سے ذرا ہی اوپر ہیں۔ وہ بھی میٹرو اور اورنج ٹرین کی برکت سے! دوسری طرف بھارت تمام بڑے شہروں میں انڈر گراؤنڈ ریلوے سسٹم قائم کر چکا ہے۔ صرف دہلی کی زیر زمین ریلوے ہی حیرت میں گم کر دیتی ہے۔ 391 کلو میٹر لمبی اس کی ریلوے لائن ہے اور دو سو ستاسی سٹیشن ہیں۔ حال ہی میں بھارت نے اپنی ایئر لائن نجی شعبے کے حوالے کر دی ہے۔ ریلوے ہماری نیچے اور اس کی اُوپر گئی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جمہوریت کے ضمن میں ہم بھارت سے کئی نوری سال پیچھے ہیں۔ اس حوالے سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں! بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہہ کر مسلسل کریڈٹ لے رہا ہے جبکہ ہماری شہرت دہشت گردی اور آمریت کے گرد گھوم رہی ہے۔ خارجہ پالیسی اس کی ہمیں پچھاڑ چکی ہے۔ ایران‘ یو اے ای اور سعودی عرب کے ساتھ اُس کے تعلقات قریبی ہیں۔ وسط ایشیائی ریاستوں پر بھارت سوویت یونین کے زمانے سے چھایا ہوا ہے۔ یہ ریاستیں آزاد ہوئیں تو اس کے بعد بھی ہم نے ان ریاستوں کو نظر انداز ہی کیا ۔آج بھی بھارتی کاروبار وہاں چھایا ہوا ہے! اس پس منظر میں بھارت کا چاند پر جانا ہمارے لیے پہلا دھچکا نہیں ! ہم نے اتنے دھچکے کھائے ہیں کہ یہ صورتحال ہمارے لیے نارمل ہو چکی ہے۔ خلائی میدان میں بھارت کی پلاننگ لمبی چوڑی ہے۔ ہم اپنے آپ کو صرف یہ تسلی دے سکتے ہیں کہ چلو! بھارت کی کامیابی جنوبی ایشیا ہی کی کامیابی ہے! 
پڑھنے والے ایک سوال اٹھا سکتے ہیں کہ آخر پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں ایٹم بم بھی تو بنا لیا ہے! مگر یہ زندگی اور موت کا سوال تھا۔ جب زندگی اور موت کا سوال اٹھے تو ہم پاکستانی کچھ نہ کچھ کر ہی لیتے ہیں لیکن اس کے بعد لمبی تان کر سو جانے کے عادی ہیں۔ ہم تو وہ زندہ دل قوم ہیں کہ‘ بقول ظفر اقبال‘ سسکی کو خراٹے کی شکل دے دیتے ہیں۔ ایٹم بم ہم نے بنا لیا۔ مگر بجلی پیدا کر سکے نہ ڈیم بنا سکے۔ ہر سال سیلاب آتے ہیں اور تباہی پھیلا کر چلے جاتے ہیں۔ ہم اس حوالے سے بھی کوئی قدم نہ اٹھا سکے۔ ہماری مثال اُس سست مزدور کی ہے جو کچھ مہینے کام کر کے کچھ کماتا ہے اور پھر یہ کمائی لے کر گھر میں بیٹھ جاتا ہے۔ جب پیسے ختم ہوتے ہیں تو پھر کام پر آجاتا ہے۔ یوں وہ ساری زندگی اسی دائرے میں گھومتا چلا جاتا ہے۔ ہم نے ایٹمی دھماکا تو کر دیا مگر اس کے بعد سے مسلسل افیون کی پینک میں ہیں ! وہی ہمارا پہلا اور آخری کارنامہ تھا! 
جب بھی ہم کوئی ڈھنگ کا کام کرتے ہیں تو اس کے بعد افیون کھا لیتے ہیں۔ ہم نے پانچ سالہ اقتصادی منصوبے کامیابی سے چلائے۔ جنوبی کوریا نے انہی منصوبوں کی رہنمائی میں بے مثال ترقی کی۔ ہم نے ریورس گیئر لگا لیا۔ ہم نے جرمنی کو قرضہ دیا۔ پھر ہمیں ہاسا آگیا۔ ہم نے سنگاپور ایئرلائن اور ایمیریٹس کو جنم دیا۔ آج ہماری اپنی ایئر لائن سامانِ عبرت کے سوا کچھ نہیں۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ملک جو ہم سے کوسوں پیچھے تھے‘ آج اتنا آگے جا چکے ہیں کہ ہم ان کی برابری کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ سنگاپور‘ ملائیشیا‘ جنوبی کوریا‘ تائیوان‘ چین ‘ دبئی‘ عمان‘ یہ سب ہم سے کم ترقی یافتہ تھے۔ آج ہم ان کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ہم خوش و خرم رہنے والے 
Happy Go Lucky 
قسم کی مخلوق ہیں۔ محنت سے ہم بھاگتے ہیں۔ دفتروں میں دس بجے پہنچتے ہیں۔ بازار ہمارے ظہر کے بعد کھلتے ہیں۔ ہماری ٹرینیں‘ ہمارے جہاز‘ ہماری بسیں پابندیٔ وقت سے ناآشنا ہیں۔ہماری شادی بیاہ کی تقاریب ہماری اصلیت کی آئینہ دار ہیں۔ ہم لباس ہائے فاخرہ زیبِ تن کر کے ایک پلیٹ بریانی کی خاطر شادی ہالوں میں گھنٹوں ہونّقوں کی طرح بیٹھے رہتے ہیں۔ اور تو اور ہمارے سرکاری اجلاس وقت پر نہیں شروع ہوتے۔ ہماری ٹریفک دنیا کی بدترین ٹریفکوں میں شمار ہوتی ہے۔ پچھتر برسوں میں ہم یہی نہیں طے کر سکے کہ چھٹی اتوار کو ہو گی یا جمعہ کے دن۔ پنڈی کا راجہ بازار جمعہ کے دن بند ہوتا ہے اور پنڈی صدر کے بازار اتوار کے دن چھٹی کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ڈالر افغانستان جا رہے ہیں۔ اس مہلک سرگرمی کو روکنا ہمارے اداروں کے بائیں ہاتھ کا کام ہے مگر کوئی نہیں روک رہا۔ ایران سے پٹرول سمگل ہو کر آرہا ہے۔ سب کو معلوم ہے۔ سب مزے سے بیٹھے ہیں۔
سب کر رہے ہیں آہ و فغاں سب مزے میں ہیں
بارڈر ہمارے ساری دنیا کے لیے کھلے ہیں۔ ہم تو وہ لوگ ہیں کہ نادرا جیسے حساس ادارے میں غیر ملکی افراد باقاعدہ ملازمت کرتے پائے گئے۔ ہم مذہب کے نام پر قتل و غارت کرتے ہیں مگر مذہب پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ ہم سے تو یہ فیصلہ نہیں ہو پا رہا کہ حکومت کرنا سیاست دانوں کا کام ہے یا اداروں کا یا ٹیکنوکریٹ صاحبان کا!!
ہسپانیہ میں جب زوال کا زمانہ تھا تو مسلمان حکمران‘ حملہ آور فوج کے کمانڈر کو شطرنج کھیلنے کا چیلنج دیتے تھے۔ بھارت چاند پر پہنچ گیا ہے تو کیا ہوا‘ ہمارا اس کا اصل مقابلہ کرکٹ کے میدان میں ہو گا!

Monday, September 04, 2023

اوپر کی منزل والے

جہاز کے پیندے میں سوراخ ہو چکا ہے۔ نچلی منزل والے ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔ جہاز تا حال لہروں پر رواں دواں ہے۔ اوپر کی منزل والے سوراخ کی خبر سُن چکے ہیں مگر ان میں سے کچھ کو یقین ہے کہ صرف نچلی منزل والے ڈوبیں گے اور کچھ نے ہیلی کاپٹروں کا بندو بست کر رکھا ہے جو انہیں محفوظ ٹھکانوں کی طرف اڑا لے جائیں گے! 
اوپر کی منزل والوں کی بے فکری کے کیا ہی کہنے!! بڑے میاں صاحب لندن میں مقیم ہیں! صاحبزادگان وہیں کے شہری ہیں۔ لندن بھی کیا زبردست ٹھکانہ ہے! سنا ہے کہ جناب مونس الٰہی بھی سپین سے لندن کا چکر لگاتے رہتے ہیں۔ہمارے اخبار کی خبر کے مطابق زرداری صاحب اور چیئر مین بلاول صاحب دبئی چلے گئے ہیں جہاں انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو مشاورت کے لیے طلب کیا ہے۔ لندن کی طرح دبئی بھی کیا زبردست ٹھکانہ ہے! لندن اور دبئی! کیا عالی شان 
Combination
ہے! فرنگیوں نے ایک اور لفظ یا اصطلاح تراشی ہوئی ہے
Lethal Combination

یعنی مہلک مرکب! جو مخالفین کو مار ہی دے ! میاں صاحب لندن میں ہیں! زرداری صاحب اور بلاول صاحب دبئی چلے جاتے ہیں! مخالف دیکھتے رہ جاتے ہیں!
ان صاحبان کے لیے لندن اور دبئی جانا اسی طرح ہے جیسے ایک عام پاکستان کے لیے پنڈی سے لاہور جانا ہے! مگر ٹھہریے! معافی چاہتا ہوں! غلط مثال دے دی! عام پاکستانی پنڈی سے لاہور جاتے وقت اب ہزار بار سوچتا ہے۔ سو بار لیکھا کرتا ہے۔اپنی گاڑی پر جائے تو پٹرول نرخرے سے پکڑتا ہے۔ موٹر وے سے باہر نکلتے ہوئے اب تقریباً ہزار روپے دینے پڑتے ہیں۔ بس یا ریل پر جائیں تو کرایہ منہ کو آتا ہے۔ قصہ کوتاہ یہ کہ عام پاکستانی کے لیے پنڈی سے اسلام آباد جانا مشکل ہے جبکہ میاں صاحب کے لیے لندن جانا اور زرداری صاحب کے لیے دبئی جانا آسان ہے! اور لندن اور دبئی کے کیا ہی کہنے! اگلے زمانے میں کسی نے کشمیر کے حوالے سے کہا تھا ؎ 
اگر فردوس بر روئی زمین است ؍ ہمین است و ہمین است و ہمین است 
کہ اگر زمین پر کوئی جنت ہے تو وہ کشمیر ہی ہے! علامہ اقبال کے زمانے تک بھی کشمیر ہی جنت نظیر تھا۔
رخت بہ کاشمر کشا کوہ و تل و دمن نگر؍ سبزہ جہان جہان ببین‘ لالہ چمن چمن نگر
کہ کشمیر کے لیے رختِ سفر باندھ! پہاڑ ٹیلے اور وادیاں دیکھ۔ ہر جگہ لہلہاتے سبزہ زار دیکھ اور ہر باغ میں گلِ لالہ کے نظارے کر ! مگر یہ قصہ فرسودہ ہو چکا! اب جنت کشمیر نہیں‘ اب جنت لندن اور دبئی ہیں! جہاں پٹرول مہنگا ہے نہ ڈالر آسمان پر ہے! لندن اور دبئی میں کیسی کیسی سیر گا ہیں ہیں‘ کتنے بڑے بڑے مال ہیں اور سپر سٹور۔ ہمارے رہنما‘ عوام کے غم میں‘ عوام کی خاطر‘ لندن اور دبئی میں رہنا گوارا کر رہے ہیں! بیچارے رہنما! اگر وہ چاہتے تو پاکستان میں ہمارا دکھ بانٹ سکتے تھے۔ ہماری طرح بجلی کے بل اپنی جیب سے ادا کرتے۔ پٹرول پمپوں پر آکر‘ ہمارے ساتھ‘ اپنی گاڑیوں میں پٹرول ڈلواتے۔ ہمارے ساتھ بازاروں میں چلتے پھرتے‘ گوشت اور سبزی خریدتے۔ مگر آفرین ہے اُن پر کہ ہماری خاطر‘ یعنی عوام کے غم میں‘ لندن میں رہتے ہیں اور دبئی میں مشاورت کے لیے اجلاس بلاتے ہیں! اتنے مخلص اور دلسوز اور بے غرض رہنما کسی اور ملک کے عوام کی قسمت میں کہاں! چاروں طرف نظر دوڑا لیجیے! بھارت‘ ایران‘ بنگلہ دیش‘ ملا ئیشیا‘ وسط ایشیائی ممالک‘ سب کے رہنما اپنے اپنے ملک میں رہتے ہیں۔ اپوزیشن میں ہوں تب بھی اور اقتدار میں ہوں تب بھی! مشرق وسطیٰ کے حکمران تو اتنے امیر ہیں کہ مشاورت کے لیے چاہیں تو ہر اجلاس بہاما اور ابیزا (Ibiza ) کے پُر تعیش جزیروں میں منعقد کر سکتے ہیں۔ سیر کے لیے جاتے ہوں گے مگر اپنے رفقائے کار کو دوسرے ملکوں میں کوئی نہیں طلب کرتا۔ گھر کے امور گھر کے اندر ہی نمٹاتے ہیں! 
اوپر کی منزل والوں کی کیا ہی بات ہے۔ نچلی منزل والوں کو جان کے لالے پڑے ہیں مگر اوپر کی منزل والے اپنی ہی ہواؤں میں ہیں ! تازہ ترین مثال ملاحظہ فرمائیے۔ تحلیل شدہ قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ نے حالیہ جولائی اور اگست میں اپنے ملازمین کو سولہ کروڑ اٹھارہ لاکھ روپے اعزازی تنخواہوں کی مد میں عطا کر دیے۔ یادرہے کہ اعزازی تنخواہ وہ ہوتی ہے جو اصل‘ باقاعدہ‘ تنخواہ کے علاوہ ملے۔صرف شکم پُری کے لیے‘ یعنی کھانوں کے لیے‘ پونے تین کروڑ روپے دیے گئے۔ مختلف قسم کے الاؤنس بھی فیاضی سے دیے گئے۔ مجموعی طور پر قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ نے‘ ان دو مہینوں میں‘ اسّی کروڑ ستاون لاکھ روپے خرچ کیے!!اب تو بہت کچھ منظر عام پر آچکا! حفیظ جالندھری نے کہا تھا؎
میرے چُپ رہنے کی عادت جس کارن بدنام ہوئی 
اب وہ حکایت عام ہوئی ہے‘ سنتا جا‘ شرماتا جا
پرنٹ میڈیا میں شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ کی رُو سے ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ کے حاضر ججوں کے یوٹیلیٹی بل سرکار ادا کرتی ہے۔ جہاں تک ریٹائرڈ ججوں کا تعلق ہے تو سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج حضرات کو بجلی کے دو ہزار یونٹ ہر مہینے مفت دیے جاتے ہیں اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو آٹھ سو یونٹ! اوپر کی منزل والوں کی بات ہو رہی ہے تو یہ بھی جان لیجیے کہ صدر اور وزیراعظم کے بل تمام کے تمام مفت ہیں۔ ان کی حد بھی کوئی نہیں۔ کسی بھی سابق صدر کی بجلی دو ہزار یونٹ تک مفت ہے۔نیب چیئرمین کو دی جانے والی سہولیات سپریم کورٹ کے جج کے برابر ہیں۔ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو تین سو لٹر پٹرول بھی ہر ماہ مفت ملتا ہے۔ 
نیچے کی منزل میں حالات‘ لمحہ بہ لمحہ‘ خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں! کچھ رو رہے ہیں۔ کچھ چیخ رہے ہیں۔کچھ سمندر میں چھلانگیں لگا رہے ہیں۔ سمندر میں چھلانگ لگانے کے عمل کو خود کشی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ بالائی منزل والوں کے بچنے کا بھی امکان روز بروز کم ہورہا ہے۔ جو پہلے ہی اُڑ کر لندن جا پہنچے ہیں اور وہاں بس گئے ہیں یا دبئی میں اپنے مستقبل کی بنیادیں پختہ کر چکے ہیں اُن کی بات الگ ہے۔ تاہم اکثریت ڈوبتے جہاز کو نہیں چھوڑ پائے گی۔ خشک کے ساتھ گیلا بھی جل جائے گا۔ گھن کے ساتھ گیہوں بھی پِسے گی! غریب کے ساتھ امیر بھی مارا جائے گا! کہ بقول شاعر‘ دھرتی نے دھڑ دھڑ‘ ضرور دھڑکنا ہے اور بجلی نے کڑ کڑ‘ لازماً کڑکنا ہے۔ جو حقیقت اوپر کی منزل والے بھول رہے ہیں یہ ہے کہ جہاز ایک ہی ہے۔ اوپر اور نیچے کی منزلوں کی تقسیم مصنوعی ہے۔ تین چوتھائی صدی تک اس ملک کو نوچا جاتا رہا۔بھنبھوڑا جاتا رہا! صرف اس ایک بات سے حکومتوں کی سفاکی کا اور شقی القلب ہونے کا اندازہ لگائیے کہ قومی ایئر لائن میں دہائیوں تک بھرتیاں چور دروازے سے ہوتی رہیں۔ ہر حکومت نے سفارش‘ دوست نوازی اور اقربا پروری میں کمال دکھایا۔ جو بجلی کا وزیر بنا اس نے واپڈا میں اپنے بندے گھسائے‘ جو ریلوے کا بنا اس نے ریلوے ہی کو کاٹ کھایا۔ قومی اداروں کو یونینیں چاٹتی رہیں۔ ایک ایک دیوار کو کھوکھلا کیا گیا۔ اوپر کی منزل والے اس خوش فہمی میں رہے کہ یہ عیاشیاں ہمیشہ رہیں گی مگر بھول گئے کہ جب حالات اس قسم کے کر دیے جائیں تو کوئی چنگیز خان نمودار ہو جاتا ہے۔ کوئی تیمور‘ کوئی نادر شاہ‘ کوئی احمد شاہ آگھستا ہے۔ کوئی کلائیو یا وارن ہیسٹنگز ظاہر ہوتا ہے جو سب سے پہلے بالائی طبقے پر دانت آزماتا ہے۔ جن کے پاس کچھ نہیں‘ ان سے انہیں ملنا بھی کیا ہے! یہی تو ملکہ سبا نے اپنے عمائدین سے کہا تھا '' بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں اسے خراب کر دیتے ہیں اور وہاں کے سرداروں کو بے عزت کرتے ہیں‘ اور ایسا ہی کریں گے۔‘‘
کوئی اوپر کی منزل والوں کو بتائے کہ اُن کے پاس وقت کم ہے۔

 

powered by worldwanders.com