Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Sunday, February 17, 2019

میں کن کو اَن فرینڈ کرتا ہوں




اس میں کیا شک ہے کہ سوشل میڈیا جس مقدار اور جس رفتار سے سروں پر سوار ہوا ہے اس سے پناہ مانگنے کو جی چاہتا ہے۔ ایک شترِ بے مہار! جو مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ یہاں تک کہ آپ کے گھر کے اندر‘ آپ کی خواب گاہ میں اور پھر آپ کے بستر پر آبراجمان ہوا ہے۔ 


مگر جہاں مہمیز لگی ہے‘ وہاں لگام بھی خوش قسمتی سے آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے‘ آپ یہ لگام کسی بھی وقت کھینچ کر سوشل میڈیا کے حملے کو بہت حد تک بے اثر کر سکتے ہیں۔ 


مکروہ ترین خلل وہ تاجر ڈالتے ہیں جو اپنی اشیا فروخت کرنے کے لئے آپ کے موبائل فون پر اشتہار بھیجتے ہیں۔ اس عذاب پر کچھ دن پہلے یہ کام نگار تفصیل سے لکھ چکا ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) اس کا سدباب کر دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی اے میں نچلی اور درمیانی سطح پر کوئی شنوائی نہ ہوئی مگر اس وقت خوشگوار حیرت ہوئی جب ادارے کے نئے سربراہ جنرل عامر نے ٹیلی فون کال کا باقاعدہ جواب دیا اور یقین دہانی کرائی کہ اس مکروہ خلل کا سدباب کرنے میں ان کا ادارہ کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا ہے نہ کرے گا۔ آپ کو جس نمبر سے اشتہارات موصول ہو رہے ہیں۔ پی ٹی اے کے متعلقہ شعبے کو اطلاع کیجیے۔ وہ اس نمبر کو بلاک کر دے گا۔ 


رہا فیس بک کا معاملہ تو وہ ایک سمندر ہے جس میں مگرمچھ اور کیکڑے سے لے کر ویل اور شارک تک اور رنگین خوبصورت مچھلیوں سے لے کر جواہر تک سب کچھ موجود ہے۔ جو پسند نہ آئے اسے اَن فالو کر دیجیے۔ میسنجر پر آپ جب کسی کو ’’اگنور‘‘ کرتے ہیں تو آئندہ کے لئے اس کے پیغامات براہ راست ردی کی ٹوکری میں چلے جاتے ہیں۔ اس ترکیب کی خوبی یہ ہے کہ ارسال کنندہ کو معلوم نہیں ہو پاتا کہ اس کا دل ہی نہ ٹوٹ جائے۔ 


کچھ احباب کو اپنی تشہیر اور اپنی پروجیکشن کا اس قدر خبط ہے کہ وہ اپنی ’’تخلیقات‘‘ اپنی ٹائم لائن پر لگانے کے بجائے آپ کے اِن باکس میں بھیجتے ہیں۔اپنی نظمیں‘ اپنی غزلیں‘ اپنی تصویریں اپنے ویڈیو کلپ وہ یہ نہیں سوچتے کہ ان میں ہر شخص کے لئے دلچسپی کا سامان نہیں ہو گا۔ اس کا آسان علاج ہے کہ آپ ان کی ڈاک کو ’’اگنور‘‘ کے خانے میں ڈال دیجیے۔ باقی کام فیس بک کا میکانزم خود کر لے گا۔ 


ایک اور فیشن یہ چل نکلا ہے کہ جو دعائیں رب العالمین کے حضور مانگنی ہیں وہ آپ کو بھیجی جا رہی ہیں۔ دعا کا اصول قرآن حکیم میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّ عًا وَّ خُفْیَہْ۔ کہ اپنے رب کو عاجزی سے اور چپکے سے پکارو۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کو ربِّ کریم حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ مگر یہاں یہ رجحان دن بدن زیادہ ہو رہا ہے کہ دعائوں کی دعائیں دوسروں کو بھیجی جا رہی ہیں۔ ہر شخص اپنی پسند‘ اپنے ذوق‘ اپنے مبلغ علم اور اپنی ضروریات کے حساب سے دعا مانگتا ہے۔ آپ کسی کو اپنی پسند کی دعا مانگنے پر کیسے آمادہ کر سکتے ہیں؟ یہ تو خالق اور مخلوق کا باہمی معاملہ ہے اور ٹاپ سیکرٹ کی کیٹیگری میں آتا ہے۔ ایک دوست نے مسلسل دعائیں بھیجنا شروع کیں۔ پوچھا یہ زحمت کیوں کر رہے ہیں۔ کہنے لگے آپ یہ دعائیں مانگا کریں۔ انہیں جواب دیا کہ جو دعائیں قرآن پاک میں سکھائی گئی ہیں اور احادیث میں وارد ہوئی ہیں۔ وہ کیوں نہ مانگی جائیں؟ آپ اپنی پسند کی دعا خود مانگیں اور یہ معاملہ اپنے اور اپنے پروردگار کے درمیان رکھیں۔


 خود نمائی کی ایک مضحکہ خیز قسم یہ بھی ہے اپنی بیماریوں کا ڈھنڈورا پیٹا جائے۔ معمولی سردرد سے لے کر زیادہ خطرناک بیماری تک کے اعلانات فیس بک پر کئے جاتے ہیں کچھ تو ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد کی تصویر بھی پوسٹ کرتے ہیں۔ دارالحکومت کے ایک شاعر کے بارے میں جو مرحوم ہو چکے ہیں‘ مشہور تھا کہ لخت جگر کی میت گھر پڑی تھی مگر وہ خبر لگوانے کے لئے اخبارات کے دفاتر کے چکر لگا رہے تھے۔ اس زمانے میں تشہیر کا یہی ذریعہ تھا۔ ایک زمانے میں ایسے شاعر ہوا کرتے تھے جو محبوب کے سامنے‘ دل کے مقام پر ہاتھ رکھ کر درد کی شکایت کرتے تھے۔ یہ مضحکہ خیز عمل اب سوشل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے۔ کچھ تو دل کی دھڑکن تیز ہونے اور آنکھ پھڑکنے کی خبر بھی شیئر کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ 


افسوس ناک ترین عمل اپنی نیکی کی تشہیر ہے۔ احرام باندھتے ہی سب سے پہلے سیلفی لی جاتی ہے جو فوراً فیس بک پر ظاہر ہوتی ہے۔ پھر ایئر پورٹ پہنچنے کی تصویر! یہ فکر نہیں کہ مناسک بخیرو خوبی تکمیل کو پہنچیں اور یہ عبادت قبولیت کا شرف حاصل کر لے۔ انسان پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں جب طواف کعبہ کے دوران سیلفیاں لیتے ہوئے زائر‘ اپنے عمرے کو خود ہی غیر سنجیدہ کر لیتے ہیں۔ اس نرگسیت کا ماشاء اللہ دیگر ملکوں کے مسلمان بھی شکار ہیں۔ اپنی نیکی کی تشہیر ہمارے کلچر کا افسوس ناک حصہ‘ ویسے بھی ہو چکی ہے۔

 ’’میں اتنے روزے رکھتا ہوں‘‘ 

’’میں اتنی تسبیحات پڑھتا ہوں‘‘

 ’’میں اتنی خیرات کرتا ہوں‘‘ 

ایسی گفتگو اکثر سننے میں آتی ہے۔ سیاست دان اس خودنمائی میں حصہ یوں ڈال رہے ہیں کہ کسی بیوہ کو مشین دیتے وقت‘ یا کسی غریب دلہن کو جہیز دیتے وقت تصویر کھنچواتے ہیں جو میڈیا پر اچھالی جاتی ہے۔ 


عمرہ اور حج عبادات کا حصہ ہیں۔ عبادت کی تشہیر کرنا ریا کاری میں شمار ہوتا ہے۔ کیا عجب اب نماز پڑھتے ہوئے بھی ایسے اصحاب تصاویر کھینچوانا شروع کر دیں اور پوسٹ کے نیچے عنوان اس قسم کا ہو’’نماز ظہر کی ادائیگی‘‘ یا نماز جمعہ کے لئے مسجد میں ورود‘‘!ایسے احمقوں کو اگر ان فرینڈ یا اَن فالو نہ کیا جائے تو پھر یہ جو سہولت ہے ان فرینڈ یا اَن فالو کرنے کی تو یہ کس دن کام آئے گی؟ 


کچھ مکروہ پوسٹیں ایسی بھی ہیں جن کے لگانے والوں کو محض اَن فرینڈ کرنا یا اَن فالو کرنا کافی نہیں! اس کیٹیگری میں سرِ فہرست وہ بدبخت ہیں جو دشنام طرازی کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں جس سیاسی یا مذہبی شخصیت سے اختلاف ہے‘ اسے گالی دیتے ہیں وہ بھی فیس بُک پر۔ کچھ لوگ کمنٹس لکھتے وقت بھی مغلظات بکتے ہیں۔ یعنی لکھتے ہیں! ان میں متشرع چہرے بھی شامل ہیں‘ ظاہر ہے وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں‘ جہاں عدم برداشت کا دور دورہ ہے! اس میں کیا شک ہے کہ دشنام طرازی عدم برداشت کی بدترین صورت ہے۔ اختلافِ رائے کا۔ یہ اسلوب غیر انسانی اور سراسر وحشیانہ ہے۔ یہ کالم نگار گالی دینے والے کو‘ خواہ کسی کو بھی دی گئی ہو۔ بلاک کر دیتا ہے۔ جن سے اختلاف ہے اور اختلاف بھی شدید ان کے خلاف بھی دشنام طرازی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ 


لسانی‘ مسلکی اور گروہی اختلافات کو ہوا دینے والوں کو بھی بلاک کر دینا چاہیے کچھ لوگ ایسی احمقانہ پوسٹیں لگاتے ہیں کہ ان میں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علما کی تصاویر ہوتی ہیں۔ پھر پوچھتے ہیں کہ آپ ان میں سے کس کو پسند کرتے ہیں۔ یہ بھی مسلکی اختلافات پھیلانے کی ایک مکروہ صورت ہے۔ ایسے حضرات ذہنی طور پر ناپختہ اور قابل اصلاح ہیں۔ یہ اور بات کہ فیس بک پر انہیں سمجھانے کا مطلب بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا ہے! 


مگر شاعر ہونے کے حوالے سے میرے نزدیک خارج از وزن شاعری لکھنا ناقابل معافی جرم ہے۔ ایسے نام نہاد شعرا کو بلاک نہ کیا جائے تو سعدی سے لے کر غالب تک تمام شعرا کی ارواح بے چین ہوں گی! 


یہ سب کچھ تو ہے مگر یہ بتائیے کہ کیا جمعہ مبارک کا پیغام بھیجنے والوں اور ہر روز صبح گلدستہ ارسال کرنے والوں سے بھی آپ تنگ آ رہے ہیں؟ 







Saturday, February 16, 2019

صرف ایمان نہیں!جہان بھی چاہیے جناب وزیراعظم

 









سگِ خانہ خراب بھی بیٹھتا ہے تو بیٹھنے سے پہلے جگہ کو دُم سے صاف کر لیتا ہے۔ 


دارالحکومت کھنڈر کا سماں پیش کر رہا ہے کیا وزیر اعظم نے ان کے عمائدین نے‘ ان کے وزراء اور امرا نے وہ بڑے بڑے ڈائنو سار جتنے ڈھانچے نہیں دیکھے جو شاہراہ کشمیر کے دائیں کنارے اور بائیں کنارے ایک ایسے شہر کا منظر پیش کر رہے ہیں جس کی آبادی نقل مکانی کر کے کہیں اور جا بسی ہو! 


گائوں کا لڑکا افسر بن گیا تو ایک دن اس کے ایک بزرگ اس سے ملاقات کو آئے۔ انہوں نے اسے وہ فارمولا بتایا جس کی وزیر اعظم عمران خان کو اشد ضرورت ہے! کہا:برخوردار! جب کوئی اقتدار کی کرسی پر بیٹھتا ہے تو لوگ اپنے مسئلے لے کر اس کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ اگر وہ سائل کا کام نہیں کرتا‘ ہاں چائے پانی کا اچھی طرح پوچھتا ہے تو سائل باہر جا کر اس کے بارے میں مشہور کرتا ہے کہ اس کا ایمان تو خوب ہے مگر افسوس! جہان اس کا خراب ہے! اگر وہ سائل کا کام کر دیتا ہے مگر چائے پانی کا‘ خیر خیریت کا نہیں پوچھتا تو سائل اس کی شخصیت کا خاکہ یوں کھینچتا ہے کہ جہان تو اس کا اچھا ہے مگر ایمان نہیں ہے۔ پھر اگر وہ کام بھی کر دے اور مہمان نوازی کا فریضہ بھی سرانجام دے تو سائل اس کا ایمان اور جہان دونوں قابل رشک قرار دیتا ہے۔ کچھ ایسے سوختہ بخت بھی ہوتے ہیں کہ بے فیض رہتے ہیں! کام کیا کریں اور کرائیں گے‘ پانی تک کا نہ پوچھیں! سائل باہر آ کر خلق خدا کو بتاتا ہے کہ اس لکڑی کے بت کے پاس ایمان ہے نہ جہان! 


جناب وزیر اعظم! آپ کا ایمان خوب ہے آپ کرپشن کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ آپ دل سے چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے۔ آپ کا اپنا کاروبار ہے نہ ذاتی مفاد! نیب اور سپیکر نیشنل اسمبلی سوالیہ نشانوں کا روپ دھار لیتے ہیں مگر پھر بھی آپ کی خواہش ہے اور کوشش کہ جَمَعَ مَالاً وَ عَدَّدَہ جنہوں نے قومی مال میں خیانت کی۔ جمع کیا اور گن گن کر رکھا وہ کیفر کردار کو پہنچیں‘ آپ نے ایک خصوصی کارپرداز‘لوٹا ہوا قومی سرمایہ بیرون ملک سے واپس لانے کے لئے بھی تعینات کیا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ؎ 


اب اُس کا کرم ہے گھٹا بھیج دے 

کہ ہم نے تو جو بیج تھے بو دیے 


مگر جناب وزیر اعظم! یہ سب تو ایمان کا حصہ ہے اور ایمان کا قصہ ہے! آپ کی نیت آپ کی کوشش‘ آپ کی خواہش ! سب بجا مگر بندہ پرور! آپ کا جہان کہاں ہے؟وہ تو نظر ہی نہیں آ رہا! خلقِ خدا باہر آ کر دہائی دے رہی ہے وزیر اعظم کا ایمان اچھا ہے مگر جہان؟ جہان کا خانہ افسوس ناک ہے! 


ملک انفراسٹرکچر کے بغیر نہیں چلتے! آپ کی حکومت نے آ کر نئے تعمیراتی منصوبے تو کیا بنائے تھے۔ جو جاری تھے۔ وہ بھی مکمل فُل سٹاپ کی نذر کر دیے! کیا آپ کشمیر ہائی وے پر سفر کر کے ایئر پورٹ نہیں جاتے؟ دنیا جب دارالحکومت کے ہوائی اڈے سے آتی ہے اور واپس جاتی ہے تو دیکھتی ہے کہ بڑے بڑے سٹرکچر بڑے بڑے ڈھانچے پڑے ہیں۔ یہ وہ تعمیراتی کام ہے جو گزشتہ حکومت نے ایئر پورٹ کی میٹرو بس کے لئے شروع کیا تھا۔ ستون اور سیڑھیاں کشمیر ہائی وے کے درمیان بس کے لئے الگ راستہ جس کے دونوں طرف جنگلہ ہے۔ بڑے بڑے پلیٹ فارم۔ یہ سارا کام رک گیا۔ 


شریفوں کے جاتی امرا کا تو بال بھی بیکا نہ ہوا۔ لندن کی جائیدادوں سے ایک اینٹ واپس پاکستان نہ آئی۔ بچہ بچہ اس خاندان کا آج بھی کھرب پتی ہے۔ سب کچھ ایسے ہی ہے جیسا پہلے تھا۔ مگر انہوں نے جو کام خلق خدا کے لئے شروع کئے تھے وہ رک گئے۔ دارالحکومت کے ہوائی اڈے کی میٹرو بس کے انفراسٹرکچر پر کروڑوں روپے لگے۔ مکمل نہ ہوا۔ اب کوئی اس کا والی ہے نہ وارث! 


حضور!یہ سب کچھ چیچو کی ملیاں میں نہیں ہوا نہ چیچہ وطنی میں! یہ سب اس شاہراہ کے کناروں پر دیکھا جا رہا ہے جس کے ذریعے لاکھوں لوگ ملک بھر سے اور دنیا بھر سے ہر روز دارالحکومت آتے ہیں اور جاتے ہیں۔ غیر ملکی سیاح حکومتوں کے سفیر۔ سلطنتوں کے سربراہ ‘ عمائدین کیا سوچتے ہوں گے۔ کیا کہتے ہوں گے؟ کہ یہ کام‘ عوام کی سہولت کے لئے شریفوں نے شروع کیا تھا۔ عمران خان کی حکومت نے ان کی دشمنی میں آ کر اسے بھی بند کر دیا!! ؎


 سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا 

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا


 چاہیے تو یہ تھا کہ آپ تخت پر بیٹھتے ہی حکم دیتے کہ یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے کہ عام لوگوں کو ایئر پورٹ پر جانے کے لئے وسیلہ مل جائے ! مگر افسوس! صد افسوس! حکومت کے سربراہ سے لے کر وزیروں تک‘ اعلیٰ نوکر شاہی سے لے کر ادنیٰ اہلکاروں تک کسی کو یہ بھی پروا نہیں کہ ان بدنما ڈھانچوں کا کیا بنے گا؟ یا انہیں اکھاڑ دیجیے اور ملبہ پورے شہر میں بکھیر دیجیے خواہ اس انہدام پر کروڑوں مزید لگ جائیں۔ نانی نے خصم کیا۔ بُرا کیا۔ کر کے چھوڑ دیا اور بھی بُرا کیا!!


 آپ کے اعلیٰ خیالات کرپشن کے خلاف قابلِ قدر ہیں مگر زندگی کے حقائق‘ اس سے آگے ‘ کچھ اور بھی چاہتے ہیں ؎ 


بھرا نہ مر مر و اطلس سے پیٹ خلقت کا 


یہ بدنہاد اب آب و گیاہ‘ مانگتی ہے 


آسمانی من و سلویٰ بنی اسرائیل کو مطمئن نہ کر سکا۔ انہیں پیاز اور مسور درکار تھی! سعدی نے کہا ؎ 


شَبِ جو عقدِ نماز می بندم 

چہ خورد بامراد فرزندم



عابد ہو یا زاہد ! رات کو نماز کے لیے نیت باندھتا ہے تو ذہن اس مشکل میں الجھا ہوتا ہے کہ صبح اہل و عیال کے نان نفقہ کا کیا بنے گا؟ شریف حکومت نے دارالحکومت کی حبل الورید۔ یعنی رگِ گلو۔ کو جسے ایکسپریس ہائی وے کہتے ہیں‘ بنایا۔ آدھی سے زیادہ بنا ڈالی۔ زیرو پوائنٹ سے لے کر فیض آباد تک۔ پھر فیض آباد سے گلبرگ تک مکمل ہو گئی۔ اب جو چند کلو میٹر کا حصہ رہتاہے۔ اس کے بننے کے کوئی آثار نہیں! لاکھوں لوگ بے پناہ اذیت سے دوچار ہیں۔ کوئی نہیں جو وزیر اعظم کو بتائے کہ چکوال اور جہلم کے ‘روات اور گوجر خان کے ‘ مندرہ اوردینہ کے‘ بحریہ ‘ ڈیفنس ‘پی ڈبلیو ڈی اور بیسیوں دیگر آبادیوں کے لوگ تحریک انصاف کو اس شاہراہ کی وجہ سے ووٹ نہیں دیں گے۔ جب آپ لوگوں کے پیٹ پر مکہ ماریں گے تو چہرے پر غازہ ملنے کا کوئی فائدہ نہیں! 


کیا اس سے بڑی ناکامی بھی کوئی ہے کہ لوگ ادھورے منصوبے دیکھ کر شریف حکومت کو یاد کریں کہ آج ہوتے تو یہ کام مکمل ہو چکے ہوتے! 


جہان کی فکر کیجیے! جناب وزیر اعظم! جہان کی!! صرف ایمان سے کام نہیں بنے گا! اب بھی وقت ہے ! اپنی ترجیحات پر نظرثانی کیجیے کہ کل عوام ایمان نہیں‘ جہان دیکھ کر فیصلہ کریں گے! 





Thursday, February 14, 2019

خطرناک ترین حملہ



رات بھر نیند نہ آئی۔ حملہ ہونے میں صرف دو دن رہ گئے تھے - 


اگلا   دن بھی اضطراب میں گزرا۔ شام ڈھلی تو کرب میں اضافہ ہو گیا۔ رات پھر پیچ و تاب میں بسر ہوئی۔ کل صبح اٹھا تو سب سے پہلے کیلنڈر دیکھا۔ امتِ مسلمہ پر خوف ناک حملہ ہونے میں چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت رہ گیا تھا۔ 


وہ تو اخبار کھول کر دیکھا تو جان میں جان آئی!اللہ! تیرا شکر ہے ہمارے علماء خبردار اور ہوشیار ہیں۔ جنہوں نے اس سیلاب کے آگے بند باندھ دیا۔ ورنہ مذہب، ملت، قوم، پاکستان سب کچھ بہہ جاتا۔ 


جنہوں نے یہ خبر سن لی ہے وہ سجدہ ریز ہو جائیں، اور جوتاحال لا علم ہیں، وہ جان لیں کہ ایک نہیں، دو نہیں، پانچ نہیں، دس نہیں، پورے پچاس علماء نے ویلنٹائن ڈے کے حملے کے آگے بند باندھ دیا ہے۔ 


علما اور مفتیانِ کرام نے اپنے اجتماعی شرعی اعلامیہ میں جو نکات بیان فرمائے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔ 


اوّل:ویلنٹائن ڈے غیر اسلامی، مغربی اور اخلاق سوز تہوار ہے۔ 


دوم: حکومت اس پر پابندی لگائے۔ 


سوم:اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں مغربی ماحول پیدا کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ 


چہارم:پوری قوم اور مسلم نوجوان ویلنٹائن ڈے کا بائی کاٹ کریں۔ ی


پنجم:مشترکہ بیان میں دکانداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ویلنٹائن ڈے سے متعلق اشیاء کو اپنی دکانوں پر فروخت نہ کریں۔ 


ہم ان سطور کے ذریعے مفتیان کرام کے اس اعلامیہ کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ ان مفتیانِ مذہب نے قوم کو بروقت متنبہ کر کے دین کا حق ادا کر دیا ہے۔ جب تک ہمارے مفتیانِ کرام سلامت ہیں، کوئی میلی آنکھ سے ہمارے مذہب کو نہیں دیکھ سکتا۔ 


تاہم اس ضمن میں کچھ عقل سے بے بہرہ لوگ اعتراض کریں گے۔ ایک اعتراض یہ ہو گا کہ ویلنٹائن ڈے منانے والا طبقہ تعداد میں انتہائی قلیل ہے۔ بڑے شہروں اور بڑے قصبوں میں رہنے والے چند فیشن زدہ مرد اور عورتیں ویلنٹائن ڈے مناتی ہیں۔ علماء کرام کا دوسری طرف حکم ہے کہ پوری قوم ویلنٹائن ڈے کا بائی کاٹ کرے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک مریض کو ڈاکٹر نے متنبہ کیا کہ دن میں دو سے زیادہ سگرٹ نہ پئے۔ اگلی بار ڈاکٹر کے پاس آیا تو اپنی مشکل بیان کی کہ میں تو سگرٹ نوشی کا عادی نہ تھا۔ آپ نے ایک دن میں دو سگرٹ پینے کا حکم دیا تو بہت مصیبت میں ہوں۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ میں سگرٹ نہ پیوں؟ 


اب اگر پوری قوم نے اس دن کا بائیکاٹ کرنا ہے تو لازم ہے کہ پہلے پوری قوم کو اس دن سے متعارف کرایا جائے۔ چھوٹے چھوٹے گائوں لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ شہروں میں بھی کثیر تعداد ویلنٹائن ڈے کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ علماء کرام کی خدمت میں اس اعتراض کا توڑ ہم پیش کیے دیتے ہیں۔ وہ یوں کہ تمام ائمہ اور خطیب حضرات جمعہ کے خطبات اور روزانہ کے درس میں اپنے اپنے حاضرین سے ویلنٹائن ڈے کا تعارف کرائیں۔ اس دن مغرب میں اور ہمارے ہاں مغرب زدہ طبقہ کیا کرتا ہے، یہ سب تفصیل سے بتایا جائے۔ اس طرح پوری قوم ویلنٹائن ڈے کے نام اور کام سے روشناس ہو جائے گی۔ اس کے بعد مفتیان کرام کا یہ حکم سنایا جائے کہ اب جب تم ویلنٹائن ڈے کے بارے میں سب کچھ جان چکے ہو تو اب بائی کاٹ کرو۔ 


اس کے جواب میں دلیل دی جا سکتی ہے کہ اب ویلنٹائن ڈے کا مسئلہ صرف شہروں اور بڑے قصبوں تک محدود نہیں، سوشل میڈیا نے اس مکروہ رسم کو گلی گلی، گھر گھر پہنچا دیا ہے۔ مگر یہ اعتراض سطحی ہے۔ 2018ء کے سروے کی رُو سے پاکستان کی کُل آبادی کا صرف بائیس فیصد حصہ انٹرنیٹ تک رسائی رکھتا ہے۔ یہ تو رسائی رکھنے والے ہوئے۔ ان میں سے تمام انٹرنیٹ استعمال نہیں کرتے۔ انٹرنیٹ کو باقاعدگی سے استعمال کرنے والے پوری آبادی کا صرف اٹھارہ فی صد ہیں، رہا موبائل فون سے انٹرنیٹ کا استعمال۔ تو وہ صرف سولہ فیصد لوگ کر رہے ہیں۔ عملی مشکل یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے جو لوگ ویلنٹائن ڈے سے واقفیت رکھتے ہیں وہ سولہ فیصد سے زیادہ نہیں! اب جو اس بلا سے واقف ہی نہیں، وہ کیسے بائیکاٹ کریں؟ 


میں نے تو اس شرعی حکم کو بلا چون و چرا ماننے کا عزم کر لیا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ اپنے محلے میں، زیر تعمیر مکانوں میں کام کرنے والے تمام مزدوروں، اردگرد کے ریڑھی بانوں اور دیگر ان پڑھ لوگوں کو اکٹھا کر کے ویلنٹائن ڈے کے بارے میں تفصیل سے بتائوں گا اور پھر شرعی اعلامیہ سنا کر ان سے بائی کاٹ کی اپیل کروں گا۔ 


کچھ نا عاقبت اندیش یہ بھی کہیں گے کہ ہمارے دکاندار ایک عرصے سے ایسی اشیا فروخت کر رہے ہیں جو انسانوں کو ہلاکت میں ڈال رہی ہیں۔ خوفِ خدا سے بے نیاز یہ تاجر خوراک میں ملاوٹ کر رہے ہیں۔ مرچوں سے لے کر آٹے تک، چائے کی پتی سے لے کر شہد اور دودھ تک۔ بیسن سے لے کر گھی تک۔ ہر شے ناخالص بیچ رہے ہیں۔ ادویات جعلی بنا اور فروخت کر رہے ہیں، یہاں تک کہ یہ ظالم معصوم شیر خوار بچوں کا دودھ تک خالص نہیں بیچتے۔ مگر آج تک ہمارے مفتیانِ عظام نے ان تاجروں کو اس حرام کاری اور حرام خوری سے منع نہیں کیا۔ یہ کم تولتے ہیں۔ بیچتے وقت شے کا نقص نہیں بتاتے۔ پورے ملک میں ناجائز تجاوزات پر قبضہ کر رکھا ہے۔ فٹ پاتھ، برآمدے، سڑکوں کی سڑکیں، انہوں نے ہڑپ کر رکھی ہیں۔ ٹیکس نہیں دیتے۔ پوری دنیا میں بازار صبح نو بجے کھلتے ہیں اور غروب آفتاب کے وقت بند ہو جاتے ہیں مگر یہ دیدہ دلیر دن کے بارہ بجے دکانیں کھولتے ہیں اور آدھی رات تک برقی روشنی استعمال کرتے ہیں، علماء کرام نے آج تک اس اسراف سے انہیں منع نہیں کیا۔ 


ان کم عقل معترضین کو ہم یہ جواب دینا چاہتے ہیں کہ بے وقوفو!جرم کی نوعیت پر غور کرو! ناخالص خوراک،جعلی ادویات اور معصوم بچوں کے لیے خراب دودھ بیچنا کوئی اتنا بڑا جرم نہیں، زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟ لوگوں کے گردے خراب ہوں گے۔ پھیپھڑے ناکارہ ہو جائیں گے۔ دل کی بیماریوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔ معصوم بچے ملاوٹ والا دودھ پی کر زیادہ سے زیادہ مر ہی تو جائیں گے۔ اب ان معمولی معمولی غلطیوں پر دکانداروں کو کیا ٹوکنا! رہا ویلنٹائن ڈے تو بیوی یا منگیتر کو یا کلاس فیلو کو پھول پیش کرنے سے بڑا تباہ کن گناہ کیا ہو گا۔ 


پھر یہ بھی ہے کہ ویلنٹائن ڈے سال میں ایک بار منایا جاتا ہے۔ جب کہ ملاوٹ، کم تولنے اور ناجائز نفع خوری کا مکروہ کاروبار سارا سال جاری رہتا ہے۔ علماء نے تاجروں کو ملاوٹ سے اور دوسرے گناہوں سے اس لیے منع نہیں کیا کہ جو گناہ سارا سال کیا جاتا ہے وہ کم نقصان دہ ہوتا ہے۔ ویلنٹائن ڈے زیادہ خطرناک ہے اس لیے کہ یہ سال میں صرف ایک دن کے لیے ہے۔ یہ باریک نکتہ یہ احمق سمجھتے تو اعتراض نہ کرتے۔ 


ہاں ایک عرض علماء کرام کی خدمت میں ہم بھی ضرور کریں گے کہ یہ جو حکم فرمایا ہے کہ دکاندار ویلنٹائن ڈے سے متعلق اشیا اپنی دکانوں پر فروخت نہ کریں، تو ازراہ لطف و کرم اگر ان اشیاء کی فہرست بھی شرعی اعلامیہ کے ساتھ جاری کر دی جائے تو تعمیلِ حکم میں سہولت رہے گی۔

Tuesday, February 12, 2019

شکنجا جو کسا جانے والا ہے




وہی ہوا جس کا ڈر تھا


 وہی ہونے جا رہا ہے جو ہوتا آیا ہے۔ 


آئی ایم ایف نے واضح کر دیا ہے کہ قرضہ لینا ہے تو روپکی قدر مزید گھٹائو۔ بجلی مہنگی کرو۔ گیس کے نرخ بڑھائو! کس کو نہیں معلوم کہ آئی ایم ایف ترقی پذیر ملکوں کے لئے بدترین ساہوکارہ ہے۔ یہ اندرونی معاملات میں کھلم کُھلا مداخلت کرتا ہے۔ ہاتھ پائوں باندھ دیتا ہے۔ اس کا پسندیدہ کلہاڑا جو یہ قرض خواہ ملک پر چلاتا ہے’’سٹرکچرل(Structural)ریفارمز‘‘ کہلاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے سیاسی اور اقتصادی پالیسیوں کو اپنی مرضی سے تبدیل کرنا۔ 


آئی ایم ایف کی سخت گیر سربراہ کرسٹائن لگارڈے اصلاً فرانس سے ہے۔ فرانس میں کئی وزارتوں کی انچارج رہی۔2011ء میں آئی ایم ایف کی سربراہ بنی۔ جن ملکوں نے اس کے انتخاب کی حمایت کی ان میں بھارت بھی تھا! اس کے مقابلے میں میکسیکو کے بینک کا گورنر تھا۔ ہسپانیہ سمیت لاطینی امریکہ کے ملکوں نے اس کا ساتھ دیا۔ اگر وہ منتخب ہو جاتا تو آئی ایم ایف کا پہلا غیر یورپی سربراہ ہوتا مگر یورپ نے یہ سرداری اپنے ہاتھ سے نہ نکلنے دی۔ امریکہ نے بھی یورپ کا ساتھ دیتے ہوئے اس سخت گیر خاتون کی حمایت کی۔ 


اس وقت یونان کی اقتصادی حالت زبوں تھی۔ آئی ایم ایف کا سربراہ بنتے ہی لگارڈے نے یونان کے اندرونی معاملات میں براہ راست مداخلت شروع کر دی۔ 


’’واحد پیغام جو میں آج یونان کو دینا چاہتی ہوں یہ ہے کہ یونان کی اپوزیشن جماعتیں‘ حکومت کی حمایت کریں۔‘‘ 


اس نے یونانی عوام کو مُشکیں کسنے کی خوش خبری سنائی۔2016ء میں یونان کی اقتصادی حالت مزید ابتر ہوئی تو یورپ کے ’’یورو‘‘ استعمال کرنے والے ملکوں نے یونان کے لئے ایمرجنسی امداد کی مہم چلائی مگر آئی ایم ایف نے کسی قسم کی امداد دینے سے انکار کر دیا۔ کیوں کہ آئی ایم ایف کے بقول۔’’یونان نے مناسب اقدامات نہیں لیے تھے۔‘‘ 


یہ مناسب اقدامات کیا ہوتے ہیں؟ یہی کہ ملک اپنی لگام آئی ایم ایف کے ہاتھ میں دیدے۔ پھر یہ آئی ایم ایف کی مرضی ہے کہ جدھر چاہے موڑے۔ ملک کی تمام اقتصادی‘ سیاسی‘ سماجی پالیسیاں اس کے ہاتھ میں آ جاتی ہیں۔ کرنسی کی قیمت گر جاتی ہے۔ ٹیکس ظلم کی حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ گیس ‘ پانی‘ بجلی ٹیلی فون کے نرخ‘ وہ ملک خود نہیں‘ آئی ایم ایف طے کرتا ہے۔ یہ ایک شکنجہ ہوتا ہے جس میں قرض لینے والا ملک پھنس جاتا ہے۔ آئی ایم ایف شکنجہ کستا جاتا ہے۔ عوام کی ہڈیاں ٹوٹنے کی آوازیں آتی ہیں مگر جہاں آئی ایم ایف کے کان بند ہوتے ہیں وہاں قرضہ لینے والی حکومت بھی کانوں میں روئی ٹھونس لیتی ہے۔ پھر مزید اقدامات ۔ مزید قرضہ۔ مزید مہنگائی پھر وہ ملک کبھی بھی اس شکنجے کی گرفت ڈھیلی نہیں دیکھ سکتا! ۔


یونان کی مصیبت کم نہ ہوئی۔ حالات بدتر ہوتے گئے ۔ مرے کو مارے شاہ مدار، لگارڈے نے بیان دیا کہ یونان عیش کرتا رہا مگر اب قیمت ادا کرنے کا وقت ہے۔ پھر الزام لگایا کہ یونانی ٹیکس نہیں ادا کرتے۔ یونان کے نائب وزیر اعظم نے اس بیان کو یونانی عوام کی بے عزتی قرار دیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں لگارڈے کی ہمدردی کی کوئی ضرورت نہیں! اُسی دن لگارڈے نے فیس بک پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے دفاع میں لکھا کہ میں تو یونانیوں کی ہمدرد ہوں۔ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اس پر دس ہزار لوگوں نے کمنٹس دیے جن میں گالیاں بھی شامل تھیں! جہاں تک اس کے اس طعنے کا سوال تھا کہ یونانی عوام ٹیکس نہیں دیتے تو اس کے جواب میں یونیورسٹی آف لندن کے ایک پروفیسر نے کہا کہ اخلاقی طور پر لگارڈے ایسا کہہ نہیں سکتی کیونکہ وہ خود بھاری تنخواہ(468000ڈالر سالانہ) وصول کر رہی ہے اور اس پر ایک پائی ٹیکس نہیں دیتی! 


یہ ہے وہ آئی ایم ایف کی سربراہ جس سے وزیر اعظم عمران خان نے دبئی میں ملاقات کی ہے! کیا وہ اصل میں اس ملاقات ہی کے لئے گئے تھے؟ اس کا جواب حکومت تو انکار ہی میں دے گی مگر قرائن بتاتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ کیوں کہ آئی ایم ایف کے سربراہ کی پوزیشن اس وقت غریب ملکوں کے لئے ایسی ہی ہے جیسے استعماری حکومت کا وائسرائے ہوتا ہے۔ مناسب تو یہی تھا کہ وزیر اعظم خود نہ ملتے، ان کا وزیر خزانہ یا کوئی سرکاری ٹیم ملتی!


 اس ملاقات کے بعد ‘ آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے اپنی شرائط میں کوئی نرمی نہیں پیدا کی۔ یعنی وہ بدستور بضد ہے کہ ٹیکس مزید لگائے جائیں اور گیس اور بجلی کے نرخ بڑھائے جائیں۔ آئی ایم ایف کی سربراہ نے اپنے اس سٹاف کے مطالبات کی حمایت کی جو نیچے کی سطح پر پاکستانی حکومت کے کار پردازوں کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کر رہا ہے دو مطالبات ہوش ربا ہیں۔ گیس اور بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ اور روپے کی قدر میں مزید کمی۔ جس کا مطلب ہے کہ ڈالر کی قیمت ایک سو پچاس یا ایک سو ساٹھ روپے کے لگ بھگ ہو! اس سے ایک تو پاکستان کی ساکھ کو بین الاقوامی سیاسیات میں مزید دھچکا لگے گا۔ دوسرے عوام پس کر رہ جائیں گے۔ اخباری کاغذ مزید مہنگا ہو گا۔ تیل کی قیمت بڑھے گی۔ لائف سیونگ ادویات مزید گراں ہوں گی کیوں کہ ان کا خام مال درآمد کرنا ہوتا ہے۔ دوسری طرف اشیائے تعیش کی درآمد پر حکومت کوئی پابندی لگانے کے موڈ میں نہیں! گاڑیوں کی قیمتیں پہلے ہی آسمان پر پہنچی ہوئی ہیں یہ مزید بڑھیں گی اور چھوٹی سے چھوٹی کار بھی مڈل کلاس کی دسترس سے باہر ہو جائے گی۔ موٹر سائیکل خریدنے کا خواب دیکھنے والے مزید دل شکستہ ہوں گے۔ آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ قرض کے لئے ہمارے حضور حاضر ہونے سے پہلے یہ اقدامات کرو۔ پھر آئو!


 کتنا بدبخت ہے یہ ملک جس کے امرا‘ تاجر‘ جاگیر دار ٹیکس نہیں دیتے اور عوام آئی ایم ایف کے شکنجے میں اپنی ہڈیاں ٹوٹنے کی آوازیں سنتے ہیں۔ ستر برس سے یہی ہو رہا ہے۔ آج تک کوئی ملک آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنس کر باہر نہیںنکل سکا۔ 


زرداری خاندان‘ شریف خاندان‘ ترین خاندان‘ گجرات کا چودھری خاندان‘ علیم خان‘ منشا گروپ اور درجنوں ایسے کھرب پتی خاندان اور افراد ہیں جو اپنی اپنی دولت کا آٹھواں حصہ بھی ملک کو دیں تو آئی ایم ایف کے پاس کشکول بدست نہ جانا پڑے۔ ٹیکس ہی پورا دے دیں تو کام بن جائے۔ بیرون ملک محلات میں نوٹ گننے کی مشینیں نصب ہیں اور ملک بھیک مانگ رہا ہے۔ کبھی سعودی عرب سے، کبھی چین سے، کبھی متحدہ امارات سے اور اب بدترین سامراجی قوت سے جس کا نام آئی ایم ایف ہے!


 حکومت ایک طرف رونا روتی ہے کہ آبادی کا آٹھ فیصد حصہ ٹیکس دیتا ہے۔ دوسری طرف ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کا کوئی پلان تاحال قوم کے سامنے نہیں پیش کر سکی۔ ڈاکٹر‘ وکیل‘ مکانوں کے نقشے بنانے والے کروڑ پتی آرکیٹکٹ۔ گلی گلی پیسہ بٹورنے والے ہومیو پیتھ۔ میلوں تک پھیلی جاگیروں اور باغات کے مالک جاگیردار اور سب سے بڑھ کر تاجر، جو خریدار کو رسید تک نہیں دیتے۔ ان میں سے کوئی بھی ٹیکس نہیں دیتا۔ فخر سے بتایا جاتا ہے کہ یہ ملک خیرات و صدقات کے حوالے سے نمایاں ترین مقام رکھتا ہے! غنی کاشمیری یاد آ گیا ؎ 


غنی روزِ سیاہِ پیرِ کنعاں را تماشا کن 

کہ نورِ دیدہ اش روشن کند چشمِ زلیخا را 


کنعان کا بوڑھا بینائی کھو بیٹھا کہ

افسوس !!  اس کا نورِ چشم زلیخا کی آنکھیں ٹھنڈی کر رہا ہے! 






Sunday, February 10, 2019

خدا کا نام لیجیے وزیر اعظم صاحب !

خدا کا نام لیجیے وزیراعظم صاحب!

………………………………………

 



نہیں! جناب وزیراعظم! نہیں! 


آپ وہی کچھ کر رہے ہیں جو پہلوں نے کیا اور کچھ نتیجہ نہ نکلا۔ وہی پامال راستے‘ وہی گھسے پٹے نسخے‘ وہی افرادی پاٹ پوری جو ہر حکمران کے سامنے میز کے اردگرد بیٹھی نظر آئی ع 


میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہوگا


 ویٹی کن میں جا کر حرم مکی کی توسیع پر تبادلہ خیال۔ 


مودی سے ملت اسلامیہ کے لیے مشورے‘ 


بلیوں کے ذمے دودھ کی سلطنت کا انتظام‘ 


واہ‘ واہ‘ ارادے وزیراعظم کے نیک‘ ان ارادوں کی تکمیل کے لیے کدال‘ تیشے مٹی کے‘ مٹی بھی وہ جو کچھ نہ اگا سکے۔ ایسا کرنا ممکن ہوتا تو ستر سال کے سامراجی دور میں ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ کے نواح میں روسی میلوں تک خوبانی اور آڑو کے باغات لگا دیتے مگر ووڈکا کے علاوہ وہاں کچھ نہ حاصل ہوا۔ 


نئی نسل کو اسلامی تاریخ اور علامہ اقبال کے فلسفے سے روشناس کرانے کے لیے وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس ہوا۔ اللہ‘ اللہ۔ اب شفقت محمود اور یوسف بیگ مرزا جیسے ’’ماہرین‘‘ اسلامی تاریخ اور فلسفہ اقبال پر کام کریں اور کرائیں گے۔ چیونٹیوں کے کندھوں پر گندم کی بوریاں لاد دیجیے۔ گودام ماشاء اللہ بھر جائیں گے۔ 


عمران خان صاحب کا مسئلہ ہی تو یہی ہے کہ نیا کام ان لوگوں سے لینا چاہتے ہیں جنہوں نے ستر سال سے کوئی کام سرے سے ہونے ہی نہیں دیا۔ پرسوں اس ٹاسک فورس سے آپ نے خطاب فرمایا جو سول سروس میں اصلاحات کے لیے بنائی گئی ہے۔ پہلے خطاب کے چیدہ چیدہ نکات دیکھیے۔ ٭ 


:-احتساب اور میرٹ ہی نظام میں بہتری لانے کے اصول ہیں۔ 

:-٭ وسائل کے ضیاع کو روکنا ہوگا۔ ٭ سپیشلائزیشن کا دور ہے۔ ہر شعبے میں ماہر افراد ہی کام کرسکتے ہیں۔ ٭ 

:-لوکل گورنمنٹ کا ایسا ماڈل لا رہے ہیں جس میں مقامی نمائندے عوامی فلاح و بہبود میں بھرپور کردار ادا کریں۔ 

٭ :-سیاستدانوں کی ٹریننگ بھی ضروری ہے تاکہ سول سروس کو سیاسی مداخلت سے بچایا جا سکے۔ 

:-٭ ہر تقرری صرف میرٹ کی بنیاد پر کی جائے۔ ٭ 

:-بیوروکریسی کو سیاسی مداخلت سے بچانا ہمارا مشن ہے۔ 


٭ ہر واقف حال شخص احتجاج کر چکا ہے کہ اس ٹاسک فورس کا سربراہ ڈاکٹر عشرت حسین کو بنانا ایسے ہی ہے جیسے ایک ایسے درخت کو پانی دینا جس کی جڑیں کٹ کر زمین سے باہر آ چکی ہیں۔ عمران خان‘ ڈاکٹر عشرت حسین سے یہ تو پوچھ لیتے کہ بھائی میاں ڈاکٹر صاحب! صدر پرویز مشرف کے زمانے میں بھی آپ نے یہی کام سنبھالا تھا۔ ذرا اس کا نتیجہ‘ اس کے ثمرات تو دکھا دیجئے۔ 


ہمیشہ ان رہنے کے شوقین ڈاکٹر صاحب نے شہبازشریف کے دور ہمایونی میں ایک کتاب تصنیف کی جس کی افتتاحی تقریب اور تشہیر کے لیے ’’سائنسی‘‘ بنیادوں پر مہم چلائی گئی۔ اس تصنیف لطیف میں ڈاکٹر صاحب نے شہبازشریف کے انداز حکمرانی کو خراج تحسین پیش کیا۔ پرسوں جب وزیراعظم عمران خان نے ٹاسک فورس سے خطاب کیا تو ٹاسک فورس کے سدا بہار سربراہ عشرت حسین صاحب نے وزیراعظم کو یقینا بتایا ہو گا کہ شہبازشریف صاحب ہی کا انداز حکمرانی آئیڈیل ہے۔ 


ٹاسک فورس کے بشمول ڈاکٹر عشرت حسین‘ انیس ارکان ہیں۔ ان میں سے بارہ یعنی چونسٹھ فیصد‘ اسی بیوروکریسی سے تعلق کھتے ہیں جس کی اصلاح کی جانی ہے۔ اس بیوروکریسی کو اس حالت تک پہنچانے میں ان حضرات نے اپنی عمریں صرف کردیں۔ پھر بیوروکریسی کے مختلف شعبوں سے نہیں‘ صرف ایک شعبے سے‘ صرف ایک ٹکڑے سے‘ نمائندے شامل کئے ہیں۔ یہ بیوروکریسی کا وہی مخصوص گروپ ہے جو ہر دور میں حکرانوں کا حاجب رہا اور ہر دور میں سٹیٹس کو کا مضبوط ترین نمائندہ رہا۔ اس ٹاسک فورس میں فارن سروس کا کوئی نمائندہ ہے نہ پولیس کا‘ ایف بی آر کا ہے نہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا۔ پاکستان ریلوے کا ہے نہ دفاع کے محکمے کا‘ کامرس اینڈ ٹریڈ کا ہے نہ اطلاعات یا مواصلات کا نہ صوبائی سول سروس کا۔


 پھر مکھی پر مکھی مارنے کی بدترین مثال دیکھئے کہ ٹاسک فورس کے ارکان میں نوکرشاہی کی شمولیت بھی خالص پامال شدہ انداز میں کی گئی ہے۔ 

ٹاسک فورس کا گیارہواں رکن سیکرٹری کابینہ یا اس کا نامزد۔ 

بارہواں رکن سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ یا اس کا نامزد۔ 

تیرھواں رکن سیکرٹری پلاننگ یا اس کا نامزد۔ 

چودھواں رکن سیکرٹری خزانہ یا اس کا نامزد۔ 

پندرھواں رکن چیف سیکرٹری یا ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب۔ 

سولہواں رکن چیف سیکرٹری یا ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ۔ 

سترھواں رکن چیف سیکرٹری یا ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے پی کے۔ 

اٹھارھواں رکن چیف سیکرٹری یا ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلوچستان۔ 


انیسویں رکن کا انتخاب تو کمال کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ پوری ٹاسک فورس کا سیکرٹری کون ہوگا؟ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کا تعینات کردہ سرکاری بابو۔ ماں صدقے۔ 


وزیراعظم صاحب‘ اس سے زیادہ بے فیض اور پامال شدہ چنائو کیا ہو گا؟ انہی سیکرٹریوں نے‘ انہی کے نمائندوں نے‘ صوبوں میں تعینات انہی چیف سیکرٹریوں اور ایڈیشنل چیف سیکرٹریوں نے ہی تو سول سروس کو اس پاتال میں پھینکا ہے جس سے نکالنے کی آرزو آپ کر رہے ہیں۔ یہ چیف سیکرٹری‘ یہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کون ہیں؟ یہ وہی ہیں جو چودہ چودہ انسانوں کو گولیوں سے بھون کر بیرون ملک ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں سفیر لگ جاتے ہیں۔ 


اس ٹاسک فورس میں کیبنٹ‘ اسٹیبلشمنٹ‘ خزانہ اور فنانس کے سیکرٹری اپنے نامزد افسروں کو بھیجیں گے جو جوائنٹ سیکرٹری کی سطح کے بابو ہوں گے۔ اس خدا کی قسم‘ جس نے عمران خان کو تبدیلی لانے کا موقع دیا ہے یہ سرکاری بابو ان اجلاسوں میں بول ہی نہیں سکتے۔ ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جس نے کسی دوسرے ملک کی بیوروکریسی کے سیٹ اپ کا مطالعہ کیا ہو‘ ان میں سے اکثر تو کتاب پڑھنا ہی گناہ گردانتے ہیں۔ یہ فائلوں پر As Proposed یا Submitted for approval لکھنے کے ماہر ہیں۔ ان کا تو تکیہ کلام ہی یہ ہے کہ ’’جب میں ڈپٹی کمشنر تھا‘‘ ان میں سے کتنوں کو معلوم ہے کہ کامیاب ترین ماڈل سنگاپور کا ہے اور کیوں ہے؟ 


پھر ان کی سربراہی بھی ایک ایسا شخص کر رہا ہے جو انہی کی کلاس سے تعلق رکھتا ہے ع


 وہی دیرینہ بیماری وہی نا محکمی دل کی 


وہی شدید احساس کمتری‘ وہی اہل علم سے گریز کا رجحان‘ نہاں خانہ دل میں تبدیلی کی وہی شدید مزاحمت۔ 


جو اس نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں کیا وہ اس نظام کو بدلیں گے؟ جو مسئلے کا حصہ ہیں‘ کیا وہ مسئلے کو حل کریں گے؟ 


خدا کا نام لیجیے وزیراعظم صاحب۔ خدا کا نام لیجیے۔ آپ نے سول سروس ریفارم کے لیے جو ٹاسک فورس بنائی ہے وہ تعفن کی گٹھڑی سے زیادہ کچھ نہیں‘ کچھ بھی نہیں۔ 





Saturday, February 09, 2019

اب از خود نوٹس فرشتے ہی لیں گے




علیم خان کی گرفتاری’’توازن‘‘ برقرار رکھنے کے لیے ایک رسمی کارروائی ہے یا واقعی غیر جانب دارانہ احتساب کی طرف ایک بڑا قدم ہے؟ 


قومی اسمبلی کے سپیکر وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں یا دنیائے انصاف کی تاریخ میں ایک بلند مقام کے لیے کوشاں ہیں؟ 


تحریک انصاف کے جو وابستگان ٹکٹوں سے محروم ہوئے یا ٹکٹ لے کر ظفریاب نہ ہو سکے انہیں اب ادارے سونپے جا رہے ہیں۔ یہ خبر درست ہے یا محض افواہ ہے؟ 


دبائو سے مجبور ہو کر شہباز شریف پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی سے مستعفی ہوتے ہیں یا نہیں؟ 


یہ سب تو اس ملک میں ہوتا رہے گا۔ مگر یہ اصل پاکستان نہیں۔ یہ محض پاکستان کا وہ چھوٹا سا ٹکڑا ہے جو اخباروں کی شہ سرخی بنتا ہے اور جس کے بارے میں بنائو سنگھار سے لدی اینکرائیں اور روپوں کے تھیلوں سے بھری خود اعتمادی سے گردنوں کو بلند رکھنے والے اینکر چوبیس گھنٹے سکرین پر رہتے ہیں۔ 


اصل پاکستان وہ ہے جہاں اینکر جاتے ہیں نہ اینکرائیں! جہاں وزراء قدم رنجہ فرماتے ہیں نہ بیورو کریٹ!آئیے! اُس اصل پاکستان کی ایک ہلکی سی جھلک دیکھیے! جس اصل پاکستان کو کوئی ضیاء الحق، کوئی بھٹو، کوئی پرویز مشرف، کوئی شریف، تبدیل نہیں کر سکا۔ اور کوئی عمران خان بھی جس کا بال بیکا نہیں کر پائے گا۔ 


یہ خیر پور ہے۔ ایک سابق وزیر کے بھانجے نے ایک کسان کی بیٹی کو کاروکاری کے الزام میں قتل کر دیا ہے۔ مقدمہ درج ہوا تو مقتولہ کے ماں باپ بھی ’’غائب‘‘ ہو گئے۔ پندرہ سالہ لڑکی کو طاقت ور قاتل نے اس کے گھر میں گھس کر ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں، نو گولیاں ماریں۔ اصل پاکستان کی اس جھلک میں پنچایت کا ذکر بھی ہے اور اس حقیقت کا بھی کہ قاتل کی جاگیر میں داخل ہونے میں پولیس کو چھ گھنٹے لگے۔


 یوں بھی وفاق سے لے کر صوبائی حکومت تک۔ وزراء سے لے کر بیورو کریسی تک، علماء سے لے کر این جی اوز تک کوئی اس معاملے میں آواز نہیں اٹھائے گا۔ دینی طبقہ تو یوں بھی ہر اُس شے سے بیزار ہے جس میں عورت کی مظلومیت کا ذرا سا بھی ذکر ہو، اِلاّماشاء اللہ! ایک بہت بڑی مذہبی پارٹی، جس نے سیاست کا تار تار لبادہ بھی اوڑھ رکھا ہے، اس معاملے میں روایتی مُلاّ سے بھی دو قدم آگے ہے۔ اس کے ایک سابق سربراہ نے ڈنکے کی چوٹ کہا تھا کہ آبرو ر یزی کے بعد عورت کو چاہیے کہ خاموش رہے! یہ کلپ یو ٹیوب پر آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ 


اس سے آپ اس خوش گمانی میں نہ پڑیں کہ وہ جو ماڈرن طبقہ ہے، سوٹ پر نکٹائی کس کر باندھنے والا، یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ، وہ اس اصل پاکستان سے ہمدردی رکھتا ہے۔ ٹیلی ویژن کے ایک ٹاک شو میں ایک پروفیسر صاحب سے واسطہ پڑا جو ایک بڑی یونیورسٹی میں برسوں ’’تعلیم‘‘ دینے کے بعد، اب ایک اور بڑی یونیورسٹی میں اسی ’’خدمت‘‘ پر مامور ہیں۔ بلوچستان کے قبائلی سرداروں کا ذکر چھڑا تو حضرت نے ان کے حق میں اس دلسوزی سے دلائل دیئے کہ فضا میں اٹکے بادل بھی گریہ کناں ہو گئے۔ ایک وجہ وہ عصبیت بھی تھی جو قبیلے کی رکنیت کے باعث رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی تھی۔ قارئین کو اس سابق وزیر کا نام بھی یاد ہو گا جس نے ایک سابقہ عہد میں، اسمبلی میں کھڑے ہو کر، کہا تھا کہ یہ ہماری روایات ہیں۔ کسی نے چوں تک نہ کی! آسمان سے پتھر برسے نہ زمین نے گندھک اُگلی۔ 


اس اصل پاکستان پر، یقین رکھیے، تبدیلی کا سایہ تک نہیں پڑ سکتا۔ اس کی پنچایتیں ہمیشہ قائم و دائم رہیں گی۔ اس کے جرگے سدا بہار ہیں، یہ متوازی نظامِ انصاف، غریب بے سہارا عورتوں کو قتل کرواتا رہے گا۔ طاقت ور قاتل انگلیوں سے فتح کا نشان بناتے رہیں گے۔ کوئی افتخار چودھری، کوئی بھگوان داس، کوئی کارنیلس، کوئی ثاقب نثار، کوئی چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اس اصل پاکستان کو نہیں بدل سکتا۔ ونی اور اسوارہ کے جھنڈے بلند ہی رہیں گے۔ کاروکاری کا قاتلانہ کاروبار کبھی مندا نہیں ہو گا۔ 


ہمارے دوست، جن کے قلم میں آسمانوں کا زور ہے، ہر روز اورنج ٹرین، میٹرو بسوں، پلوں، شاہراہوں اور ہائوسنگ سوسائٹیوں کے ٹائی کونوں کی یاد میں آہ و زاری کرتے ہیں، کبھی ان بے سہارا بے کس حوّا کی بیٹیوں کے بارے میں صحافت کی جادوگری نہیں دکھاتے جن کی لاشوں کو کفن تک نصیب نہیں ہوتا۔ یہ لاشیں ریگستانوں میں ٹیلوں کے نیچے دفن ہو جاتی ہیں۔ پھر جب آندھیاں ریت کو اُڑا لے جاتی ہیں تو ہڈیاں، بال اور کھوپڑیاں بکھر جاتی ہیں۔ یہ لاشیں اگر گھروں کے اندر ہوں تو انہیں اٹھانے کی جرأت کوئی نہیں کرتا۔ ان کے جنازے کوئی نہیں پڑھتا۔ ان کی تدفین رات کے اندھیرے میں چھپ کر کی جاتی ہے۔ 


کئی عشرے ہوئے تہمینہ درانی نے اپنی کتاب ’’مینڈا سائیں‘‘ میں لکھا تھا کہ جنوبی پنجاب کے جاگیردار اپنے خدام کو قتل کرتے ہیں تو ان کی میتیں اُبال کر اونٹوں کو کھلا دیتے ہیں۔ کھروں،لغاریوں، مزاریوں، قریشیوں، مخدوموں، کھوسوں اور بزداروں کے قدموں تلے صدیوں سے روندا جانے والا یہ علاقہ وہی ہے جہاں مجبور و مقہور ماں باپ چار چار سال کے لخت ہائے جگر کو مشرق وسطیٰ بھیج دیتے ہیں جہاں انہیں سرپٹ بھاگتے اونٹوں کی کوہانوں کے ساتھ باندھا جاتا ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں کے نوجوان پیٹ کے ہاتھوں عاجز ہو کر دہشت گردوں کے اوزار بن جاتے ہیں۔ نسل در نسل، زمینداروں کی مہیا کردہ چھتوں کے نیچے رہنے والے یہ بے زبان خاندان اپنی عورتوں کو ان حویلیوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں۔ جہاں سے چیخیں باہر آتی ہیں نہ عزت واپس آتی ہے۔ 


جہاں چھوٹے چودھری چھوٹے سردار چھوٹے سائیں چھوٹے ملک کا پیدائشی حق ہے کہ جسے چاہے مار دے، جسے چاہے برہنہ سر کر دے، جسے چاہے رکھیل بنا لے۔ جہاں زمین ہی رکھیل ہو، وہاں زمین زادیاں کیوں نہ رکھیل ہوں۔ 


انتظار کرو اُس وقت کا جب نو گولیوں سے چھلنی ہونے والے انسانی جسم کا از خود نوٹس فرشتے لیں! 






Thursday, February 07, 2019

واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب

………………………………………………




دو فروری کے کالم میں اس کالم نگار نے لکھا تھا:


 ’’عجم کے ساتھ جنگ آزمائی سے پہلے امیرالمومنین عمر فاروقؓ حسرت سے کہا کرتے تھے کہ کاش آگ کا پہاڑ ہمارے اور ان کے درمیان ہوتا۔ وہ ادھر رہتے اور ہم اس طرف۔ تو کیا امیرالمومنینؓ عجم کی قوت سے خائف تھے نہیں! وہ جنگ کی ہولناکیوں سے اپنے عوام کو ہر ممکن حد تک بچانا چاہتے تھے۔‘‘ 


اس پر کمنٹ کیا گیا کہ


 ’’موصوف کا یہ تجزیہ حضرت عمرؓ پر اتنی بڑی تہمت اور بہتان ہے بلکہ انہیں فلسفہ جہاد و قتال سے نفرت کا علم بردار ثابت کرنے کی ایک بھونڈی سی کوشش ہے۔‘‘ 


اس الزام کے علاوہ


 ’’مادہ پرست، ظالم، بے حس، بزدل، فریب خوردہ، مرعوب، خوف زدہ “


کے اسمائے صفت بھی فیاضی سے استعمال کئے گئے۔ اس سطح پر جواب دینا توممکن نہیں۔ ہاں دلیل سے اور حوالہ جات سے واضح کیا جائے گا کہ جو کہا گیا وہ درست ہے یا نہیں؟ 


مولانا شبلی نعمانی نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’الفاروق‘‘ میں یہی کچھ کہا جو اس کالم نگار نے تحریر کیا۔ صرف کتاب کا نام لکھنا کافی نہ سمجھتے ہوئے سال اشاعت اور صفحہ نمبر بھی بیان کیا جارہا ہے۔ ہمارے سامنے ’’الفاروق‘‘ کا جو نسخہ ہے اسے دارالاشاعت اردو بازار کراچی نے شائع کیا ہے۔ سال اشاعت 1991ء ہے۔ صفحہ 150 ہے۔ باب کا عنوان ہے۔ ’’ایران پر عام لشکر کشی 21 ہجری‘‘ شبلی نعمانی لکھتے ہیں: 


’’اس وقت تک حضرت عمرؓ نے ایران کی عام تسخیر کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ اب تک جو لڑائیاں ہوئیں وہ صرف اپنے ملک کی حفاظت کے لیے تھیں۔ عراق کا البتہ ممالک محروسہ میں اضافہ کیا گیا تھا۔ لیکن وہ درحقیقت عرب کا ایک حصہ تھا۔ کیونکہ اسلام سے پہلے اس کے ہر حصے میں عرب آباد تھے۔ عراق سے آگے بڑھ کر جو لڑائیاں ہوئیں، وہ عراق کے سلسلہ میں خودبخود پیدا ہوتی گئیں۔ حضرت عمرؓ خود فرمایا کرتے تھے کہ ’’کاش ہمارے اورفارس کے بیچ میں آگ کا پہاڑ ہوتا کہ نہ وہ ہم پر حملہ کرسکتے نہ ہم ان پر چڑھ کر جا سکتے۔‘‘ لیکن ایرانیوں کو کسی طرح چین نہیں آتا تھا۔ وہ ہمیشہ نئی فوجیں تیار کر کے مقابلے پر آتے تھے اور جو ممالک مسلمانوں کے قبضے میں آ چکے تھے وہاں غدر کروا دیا کرتے تھے۔ نہاوند کے معرکے سے حضرت عمرؓ کو اس پر خیال ہوا اور اکابر صحابہؓ کو بلا کر پوچھا کہ ممالک مفتوحہ میں بار بار بغاوت کیوں ہوتی ہے۔ لوگوں نے کہا جب تک یزد گرد ایران کی حدود سے نکل نہ جائے، یہ فتنہ فرو نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جب تک ایرانیوں کو یہ خیال رہے گا کہ تخت کیان کا وارث موجود ہے اس وقت تک ان کی امیدیں منقطع نہیں ہو سکتیں۔ اس بنا پر حضرت عمرؓ نے عام لشکر کشی کا ارادہ کیا۔‘‘ 


شبلی نعمانی کی اس تحریر سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ آگ کے پہاڑ والی بات امیرالمومنینؓ نے ’’ایران کی تہذیبی یلغار سے متعلق‘‘ نہیں فرمائی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران پر حملہ مسلمانوں کی دفاعی جنگ تھی۔ حضرت عمرؓ یہ جنگ نہیں چاہتے تھے۔ مگر مجبوری یہ تھی کہ ایرانی مسلمانوں کے علاقوں میں مسلسل فتنہ انگیزی کر رہے تھے۔ اس فتنہ انگیزی کا علاج اکابر صحابہؓ کے مشورے سے یہ طے پایا کہ ایرانیوں کا اور یزد گرد کا مکمل قلعہ قمع کیا جائے۔ 


امیرالمومنین عمر فاروقؓ پر، شبلی کی الفاروق کے بعد، دوسری مشہور ترین تاریخ محمد حسین ہیکل کی تصنیف ’’عمر فاروق اعظم‘‘ ہے۔ یہاں یہ وضاحت بے جا نہ ہوگی کہ یہ محمد حسین ہیکل ہیں۔ حسنین ہیکل نہیں۔ موخرالذکر صحافی تھے اور الاہرام کے مدیر۔ جبکہ اول الذکر یعنی محمد حسین ہیکل صحافی ہونے کے علاوہ مورخ بھی تھے۔ ان کی تصانیف ’’حیات محمدؐ‘‘ اور ’’ابوبکرصدیق اکبرؓ‘‘ بھی مشہور ہیں۔ عمر فاروق اعظم ؓ کا ترجمہ حکیم حبیب اشعر دہلوی نے کیا ہے۔ جیساکہ اپنے قارئین سے یہ بات پہلے بھی شیئر کی جا چکی ہے۔ یہ ترجمہ بذات خود ایک ادبی شاہکار ہے۔ حکیم صاحب مرحوم نے اس روانی اور ایسے اسلوب خاص سے عربی کو اردو میں ڈھالا ہے کہ یہ طبع زاد تصنیف لگتی ہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ یہ ترجمہ مولانا ابوالخیر مودودی نے کیا۔ یا حکیم صاحب نے ان سے استفادہ کیا مگر اس روایت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔


 ہمارے سامنے اس کتاب کا جو نسخہ ہے وہ ’مکتبہ میری لائبریری لاہور‘‘ سے بشیر احمد چوہدری نے 1987ء میں شائع کیا ہے۔ صفحہ 359 پر پندرھویں باب کا آغاز ہوتا ہے۔ باب کا عنوان ’’ایرانی فتوحات میں توسیع‘‘ ہے۔ مصنف لکھتے ہیں:


 ’’حضرت عمرؓ کی سیاست یہ تھی کہ فتوحات کے قدم عراق و شام کی حدود میں رک جائیں۔ ان سے آگے نہ بڑھیں۔‘‘ 


آگے چل کر رقم طراز ہیں:


 ’’فتح مدائن کے بعد جب حضرت سعد ؓ بن وقاص نے ان سے پہاڑوں کے اس طرف ایرانیوں کا تعاقب کرنے کی اجازت چاہی تو حضرت عمرؓ نے جواب میں تحریر فرمایا ’’کاش! سواد اور پہاڑ کے درمیان ایک دیوار کھڑی ہو جائے کہ نہ وہ ہماری طرف آ سکیں اور نہ ہم ان کی طرف جا سکیں۔ ہمارے لیے سواد کی شاداب زمینیں کافی ہیں۔ میں مسلمانوں کی سلامتی کو مال غنیمت پر ترجیح دیتا ہوں۔‘‘ حضرت عمرؓ اپنی اس سیاست میں بالکل پر خلوص تھے اور درحقیقت یہ اسلامی سیاست میں ایک نیا قدم تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی انتہائی خواہش تھی کہ جزیرۃ العرب اور اس کی سرحدیں اتنی محفوظ ہو جائیں کہ ایران اور روم اس پر چڑھائی نہ کرسکیں۔ آپؐ چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کسریٰ اور قیصر اور مصر و شام و عراق کے فرماں روائوں کو جنگ و پیکار کے بغیر اسلام کی توفیق ارزانی فرمائے اور یہی حضرت ابوبکرؓ کی سیاست تھی ……………… اس سے آگے جو روم و ایران کی سرزمین تھی اس پر چڑھائی کرنے اور فتح پانے کی کوئی تمنا پہلے اور دوسرے خلیفہ کے دل میں نہ تھی۔‘‘ ’’


میری لائبریری‘‘ کا یہ ایڈیشن اب نایاب ہے۔ قارئین کی سہولت کے لیے، تاکہ وہ الزام اور حقیقت کے درمیان فرق کرسکیں، اس نئے ایڈیشن کا حوالہ بھی یہاں دیا جاتا ہے جو آج کل بازار میں دستیاب ہے۔ ’’عمر فاروق اعظم‘‘ کا یہ ترجمہ جو حبیب اشعر نے کیا، نئے سرے سے اب بک کارنر جہلم نے شائع کیا ہے۔ یہ اقتباس اس کے صفحہ 382 پر درج ہے۔ 


تو کیا شبلی نعمانی اور محمد حسین ہیکل نے بھی حضرت عمرؓ پر تہمت اور بہتان لگایا ہے؟ اور کیا ان دونوں مورخین نے بھی ’’انہیں فلسفہ جہاد و قتال سے نفرت کا علم بردار ثابت کرنے کی ایک بھونڈی سی کوشش‘‘ کی ہے؟ 


پھر جب حالات تبدیل ہوئے، اور امیرالمومنین نے دیکھا کہ ایرانی مسلسل سازشیں کرکے مسلمانوں کے مفتوحہ علاقوں میں شورشیں برپا کروا رہے ہیں تو اکابر مسلمانوں سے مشورہ کرنے کے بعد آپ نے اس خطرے کے مکمل استیصال کا ارادہ کرلیا۔ پھر آپ نے پوری قوت اور عزم صمیم کے ساتھ جہاد کا حکم دیا۔ مدینۃ النبی میں بیٹھ کررات دن نگرانی کی۔ قاصدوں کا شدت سے انتظار کرتے۔ ایسے ہی ایک موقع پر آپ قاصد کے ساتھ ساتھ دوڑتے رہے اور بے تابی کے ساتھ حالات پوچھتے رہے۔ 


اختلاف کرنا ہر شخص کا حق ہے مگر اختلاف دوسروں کو ’’ظالم، بے حس، بزدل، فریب خوردہ، مرعوب اور خوف زدہ‘‘ کہے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے۔ گنہگار سے گنہگار مسلمان بھی نہیں سوچ سکتا کہ خلیفہ راشد ؓ پر بہتان باندھے یا تہمت لگائے یا نعوذباللہ انہیں ’’فلسفہ جہاد سے نفرت کا علم بردار‘‘ ثابت کرے۔ 


پڑھنے والے سچ اور غلط کا فیصلہ خود کرسکتے ہیں۔ بہرطور یہ کالم نگار اس امر سے خدا کی پناہ مانگتا ہے کہ دوست تو دوست، کسی دشمن کے لیے بھی ایسے الفاظ استعمال کرے جس سے اس کی دل آزاری ہو۔ 





 

powered by worldwanders.com