Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, September 29, 2022

لکھنؤ سے سیالکوٹ اور فتح جنگ تک


قمر ہم جماعت تھا۔ مدت بعد ملا تو بینکار بن چکا تھا۔ میرا دفتر اسی سڑک پر تھا۔ دوپہر کا کھانا ہم اکٹھا کھاتے۔ پھر وہ ہجرت کرکے امریکہ چلا گیا۔ وہیں آسودۂ خاک ہے۔
یاد اُس کی یوں آئی کہ گھر‘ دوپہر کے کھانے میں‘ دال چاول پکے تھے۔ دفعتاً قمر کا چہرا آنکھوں کے سامنے آگیا۔ تھا وہ پنڈی گھیب کا! پتا نہیں‘ یہ رشتہ کیسے ہوا‘ کسی نے کرایا یا اُس کی اپنی پسند تھی۔ بہر طور شادی اس کی سمبڑیال میں ہوئی۔ جن کو نہیں معلوم‘ ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ سمبڑیال ایک قصبہ ہے‘ خاصا بڑا! وزیرآباد اور سیالکوٹ کے درمیان! شادی ہو گئی۔ کچھ دنوں بعد وہ امریکہ گیا تو بیگم کو پنڈی گھیب‘ اپنے آبائی گھر میں چھوڑ گیا۔ فیملی کو امریکہ بلانے کے مراحل طویل تھے اور صبر آزما!
سمبڑیال کی لڑکی پنڈی گھیب میں آگئی۔ گھر میں قمر کے والد بھی تھے یعنی دلہن کے سسر۔ دلہن شام کو ابلے ہوئے چاول سسر کی خدمت میں پیش کرتی‘ ساتھ کبھی دال ہوتی‘ کبھی شلجم کا شوربہ‘ کبھی آلو گوشت‘ کبھی آلو کی بھُجیا۔ بڑے میاں نے تین چار دن تو یہ ''عجیب و غریب‘‘ عشائیہ زہر مار کیا مگر پانچواں دن تھا کہ چھٹا‘ صبر جواب دے گیا۔ انہوں نے ابلے ہوئے سفید برّاق چاولوں والی پلیٹ صحن میں ایک طرف پھینکی اور بھُجیا والی پلیٹ دوسری طرف! ''میں کوئی بیمار ہوں جو ہر روز تم مجھے پھیکے‘ اُبلے ہوئے چاول کھلا رہی ہو؟ مجھے چُوچے کا شوربہ اور تنور کی روٹی چاہیے اور ساتھ مکھڈی حلوہ ہوا کرے‘‘۔ معلوم نہیں اس کے بعد کیا ہوا مگر یہ سلسلہ بہت دلچسپ ہے۔ سمبڑیال اور اس کے تمام نواحی علاقے‘ وزیر آباد‘ سیالکوٹ‘ گوجرانوالہ وغیرہ چاول اگانے کے لیے مشہور ہیں۔ اس پورے خطے کے لوگ شام کو ابلے ہوئے چاول کھاتے ہیں۔ یہی ان کی اہم خوراک (Staple food) کا لازم جُز ہے۔ دوسری طرف پنڈی گھیب‘ جنڈ‘ فتح جنگ‘ اٹک‘ تلہ گنگ کے علاقے میں ابلے ہوئے چاول کھانے کا کوئی تصور نہیں۔ وہاں تو صبح کے وقت پراٹھے اور دوپہر اور شام کو تنور کی روٹی کا رواج ہے۔ بڑے میاں کے فرشتوں کو بھی علم نہ تھا کہ بہو جہاں سے آئی ہے وہاں کی خوراک یہی ہے! اور یہ اس کی مجبوری ہے۔ اس علاقے میں چاول پکاتے ہیں مگر ابلے ہوئے نہیں۔ گاؤں میں تو نام بھی سیدھے سادھے تھے۔ کھیر کو دودھ والے چاول‘ پلاؤ کو گوشت والے چاول‘ زردے کو میٹھے چاول اور صرف گھی اور نمک میں پکائے ہوئے چاولوں کو تڑکے والے چاول کہتے تھے۔ ہاں کھچڑی کو کھچڑی ہی کہتے تھے۔ یہ تو لکھنؤ اور دلّی تھا جہاں بادشاہوں اور نوابوں نے زوال کے زمانے میں شان و شوکت کا مظہر صرف خوراک ہی کو سمجھا تھا۔ زوال کے زمانے میں اس لیے کہ جنگیں لڑنے‘ سلطنت کو وسیع کرنے اور نظم و نسق میں مصروف بادشاہوں کے پاس کھانے پینے کی فرصت کم ہی تھی۔ ہیرلڈ لیم نے جو کتاب امیر تیمور پر لکھی ہے اور بریگیڈیئر گلزار احمد نے جس کا ترجمہ کمال کا کیا ہے‘ اس میں لکھا ہے کہ سفر پر جانے سے پہلے امیر تیمور اور اس کے ساتھیوں اور خاندان نے موٹی روٹیاں گوسفند کے شوربے کے ساتھ کھائیں۔ اورنگ زیب باجرے کی کھچڑی کھاتا تھا۔ ہاں‘ پلاؤ اس وقت تک بریانی کو جنم دے چکا تھا۔ جب حکومتوں کا انتظام ان انگریزوں نے سنبھال لیا جو دلی‘ لکھنؤ‘ حیدر آباد اور دیگر ریاستوں میں ''ریزیڈنٹ‘‘ کے طور پر تعینات تھے تو توجہ فنونِ لطیفہ کی طرف ہو گئی۔ فنونِ لطیفہ کا ایک اہم حصہ خوراک بھی تھی۔ نہ صرف خوراک کو پکانا سائنس بنا دیا گیا بلکہ اسے پیش کرنا بھی! شیر مال اور شامی کباب اسی عہدِ زوال (یا عہدِ زرّیں؟) میں ایجاد ہوئے۔ چاولوں کی بات ہو رہی تھی۔ کیا کیا نام تھے چاول کے پکوانوں کے! سفیدہ‘ موتیا‘ قبولی‘ متنجن‘ بریانی‘ مزعفر‘ طاہری‘ کشمیری پلاؤ اور نہ جانے کیا کیا! یہ لطیفہ تو سبھی نے سنا ہی ہوگا کہ لکھنؤ میں ایک دعوت کا اہتمام تھا۔ مہمانوں میں ایک صاحب پنجاب سے بھی تھے۔ انہوں نے پلاؤ کی طرف اشارہ کرکے میزبان سے کہا کہ ذرا چاول پکڑا دیں۔ میزبان نے خون کے گھونٹ پیتے ہوئے پلاؤ پیش کر دیا مگر ساتھ ہی روٹی بھی! اور کہا کہ گندم بھی حاضر ہے!
سمبڑیال کی لڑکی جس علاقے میں بہو بن کر گئی وہاں کھانے پینے کا کلچر سیالکوٹ اور اس کے گرد و نواح سے یکسر مختلف ہے۔ بلکہ یوں کہیے کہ وسطی پنجاب سے بھی تقریباً مختلف ہی ہے۔ مچھلی کھانے کا رواج نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس خطے کے جو شہر دریا کے کنارے آباد ہیں جیسے ملاحی ٹولہ‘ مکھڈ‘ کالا باغ‘ وہاں بھی گھروں میں مچھلی نہیں پکتی۔ ٹھیکیدار آتے ہیں۔ تھوک کے حساب سے ماہی گیری کرتے ہیں اور بڑے شہروں کو سپلائی کر دیتے ہیں۔ مچھلی کے بارے میں خاص و عام کو اس زمانے میں ایک ہی بات معلوم تھی کہ گرمی کرتی ہے۔ اب تو مچھلیاں پالنے کے لیے تالاب بھی بن گئے ہیں۔ ڈیموں کے ارد گرد‘ پکی ہوئی مچھلی کھلانے کے لیے ریستوران بھی وجود میں آچکے ہیں مگر پھر بھی عام گھروں میں یہ غذا نہیں مقبول ہوئی۔
ازدواج کے کچھ عرصہ بعد ہماری بیگم نے مچھلی کا ذکر کیا تو ہم نے بتایا کہ نانی جان منع کرتی ہیں اس لیے کہ گرمی کرتی ہے۔ پھر مچھلی ہمارے ہاں پکنے لگی۔ ہمارے سمیت کسی کو گرمی نہ ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد ابلے ہوئے سفید چاول اور شلجم گوشت کھانے کی بھی عادت پڑ گئی بلکہ یہ مرغوب غذا بن گئی۔ مگر دال چاول کو اپنانے میں تین عشرے لگ گئے۔ آلو گوشت اور شلجم گوشت کے ساتھ ابلے ہوئے چاول کھانا ایک اور بات تھی مگر دال کے ساتھ چاول! یہ بہت مشکل کام تھا۔ نہلے پر دہلا یہ ہوا کہ دال چاول بچوں کی پسندیدہ ڈِش ثابت ہوئی۔ ہم دال کے ساتھ روٹی کھاتے رہے اور مذاق مذاق میں یہ سنجیدہ بات بھی کہتے رہے کہ بِہار کے ہیں نہ سیالکوٹ کے‘ ہم فتح جنگ کے ہیں! حالانکہ چاول آدھی دنیا کی خوراک ہے۔ بنگال‘ جنوبی ہند‘ تھائی لینڈ! پورا جنوب مشرقی ایشیا۔ چین اور جاپان! سب چاول کھاتے ہیں اور مچھلی! یہ چند سال پہلے کی بات ہے۔ ثابت مسور پکے تھے۔ سفید چاول۔ ساتھ اچار! دیکھا کہ سب مزے سے کھا رہے ہیں۔ ہمارے لیے چپاتی پکوائی گئی تھی۔ نہ جانے کیا ہوا کہ ٹرائی کرنے کو دل چاہا۔ کھانا شروع کیا تو پھر کھاتے ہی گئے۔ اس کے بعد سے یہ ہماری بھی پسندیدہ ڈِش بن گئی۔ آج یہی کھا رہے تھے کہ قمر مرحوم اور بھابی یاد آگئے اور ساتھ ہی بڑے میاں کا برتن توڑ احتجاج بھی!
شلجم اس علاقے میں بھی پکائے اور کھائے جاتے ہیں مگر زیادہ تر پِسے ہوئے۔ ان کے پراٹھے بھی بنتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے پالک کے اور گوبھی کے پراٹھے! کون جانے پچاس یا سو سال بعد خوراک میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں گی! برگر اور پیزا کی حکمرانی تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی! اب نئی خوراک کے لیے قوموں کا اختلاط ضروری نہیں! ٹی وی اور پھر انٹرنیٹ نے سب کو سب کچھ سکھا دیا! اب نئے دور کی بچیاں انٹرنیٹ سامنے رکھ کر کسی بھی ملک کا کھانا پکا سکتی ہیں اور پکاتی ہیں! بیکنگ بھی خوب کرتی ہیں! مگر روایتی کھانے پکانے انہیں زیادہ پسند نہیں! نہ جانے کریلے‘ بینگن‘ مونگرے‘ میتھی کا مستقبل کیا ہے؟ ہمارے بعدکوئی ان کی پذیرائی کرے گا بھی یا نہیں! یا ان کا بھی وہی انجام ہوگا جو وڑیوں‘ گھگھنیوں اور پسندوں کا ہوا ہے!

Tuesday, September 27, 2022

لڑکیاں! جو دو انتہاؤں کے بیچ پِس رہی ہیں


لڑکی پڑھی لکھی تھی اور ماڈرن!
اس نے گھر کو دیکھا اور اپنے رہنے کے لیے پسند کر لیا۔ گھر دکھانے والے نے کہا کہ وہ جھوٹ بالکل نہیں بولے گا اور سب کچھ صاف صاف بتائے گا۔ پھر اس نے تفصیل سے بتایا کہ یہ گھر بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے‘ خاص طور پر اُس کے لیے! اس لیے کہ گھر کی بنیادیں کمزور ہیں۔ تیز ہوا چلے تو چھت لرزنے لگتی ہے۔ دیواروں میں بڑے بڑے شگاف ہیں۔ پہلی نظر ہی میں لوگ جانچ لیتے ہیں کہ گھر رہائش کے قابل نہیں۔ اس نے یہ بھی مشورہ دیا کہ اپنے کسی بڑے کو گھر دکھا کر اس کی بھی رائے لے لے۔ لڑکی نے ایک ہی جواب دیا کہ گھر جیسا بھی ہے‘ بس اُسے پسند ہے۔ وہ اسے خریدے گی اور اسی میں رہے گی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ ماڈرن لڑکی نے گھر خرید لیا۔ چند ماہ ہی گزرے تھے کہ بارشیں شروع ہو گئیں‘ ایک دن چھت گر پڑی۔ لڑکی اس کے نیچے آکر دب گئی۔ ملبہ ہٹایا گیا تو اس کی لاش بر آمد ہوئی۔
شوہر عورت کا گھر ہی ہوتا ہے۔ ایک ماڈرن‘ پڑھی لکھی لڑکی جب ایک ایسے مرد کو اپنے شریکِ حیات کے طور پر پسند کرتی ہے جس کی حیثیت ایک ایسے مکان سے زیادہ نہیں جو گرنے والا ہے‘ تو ایک لحاظ سے وہ خودکشی کی مرتکب ہوتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ میں دو ماڈرن‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیاں‘ وفاقی دارالحکومت میں‘ دو مردوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر چکی ہیں۔ ایک مقتولہ کا دوست تھا‘ دوسرا شوہر! دونوں واقعات میں قتل کرنے والے مرد مستحکم اور قابلِ اعتبار (stable) نہیں تھے۔ پہلے واقعہ میں لڑکی جس مرد کی خاصی پرانی دوست تھی‘ اسی کے ہاتھوں ختم ہوئی۔ دوستی تھی اور اتنی گہری کہ لڑکی کے پاس اس شخص کے گھر کی چابی تھی کہ جب چاہے وہاں آسکے۔ یہ شخص نشے کا عادی تھا۔ تشدد پسند تھا۔ برطانیہ سے اسے‘ مبینہ طور پر‘ آبرو ریزی کے جرم میں نکالا گیا تھا۔ یہ بظاہر ناممکن ہے کہ لڑکی کو اس سارے پس منظر سے آگاہی نہ ہو۔ اتنا لمبا عرصہ دوستی رہی تو کیا اس کا مزاج‘ اس کی افتادِ طبع‘ اس کی تشدد پسندی‘ اس کے نشے کی عادت‘ کیا یہ سب کچھ وارننگ نہ تھا کہ یہ کمپنی چلنے والی نہیں‘ اس سے جان چھڑا لینی چاہیے۔ لڑکی کے والدین یقینا اس صورتِ حال سے با خبر ہوں گے۔
دوسرے واقعہ کے حوالے سے دو باتیں قابلِ غور ہیں۔ ایک تو مبینہ طور پر لڑکے کے والد نے شادی سے قبل لڑکی کو بتایا تھا کہ لڑکے کی دو شادیاں ہو چکی ہیں اور یہ کہ وہ نشے کا عادی ہے۔ اس پر لڑکی نے کہا کہ لڑکے کا ''دل سونے کا ہے‘‘۔ دوسرے‘ کیا شادی کے معاملات میں اور پھر شادی کے موقع پر لڑکی کے والدین شریک تھے؟ قرائن بتاتے ہیں کہ لڑکی نے اس شخص سے شادی کرنے کا فیصلہ خود کیا تھا ورنہ اس کے گھر والے تقریب میں شریک ہوتے۔
کچھ اور کہنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ قتل کا جواز کسی صورت بھی نہیں پیش کیا جا رہا نہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ قاتلوں کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچانا چاہیے اور جلد از جلد پہنچانا چاہیے۔ ہم یہاں جو نکات قارئین کے سامنے اٹھانا چاہتے ہیں وہ سماجیات کے حوالے سے ہیں۔ زیریں طبقات میں تو عورتوں کا قتل ایک معمول بن چکا ہے۔ دیہی کلچر میں شک کی بنا پر عورت کو ہلاک کر دینا عام بات ہے۔ یہ کام‘ شوہر کے علاوہ‘ عورت کے باپ اور بھائی بھی کر دیتے ہیں۔ پھر خاندان والے انہیں سزا سے بھی بچا لیتے ہیں۔ لڑکی (یا لڑکیاں) پیدا کرنے کے بعد بیوی‘ اور بہو‘ یوں بھی زہر لگنے لگتی ہے۔ ہر سال ہزاروں نہیں تو سینکڑوں بیٹیاں‘ بہنیں اور بیویاں قتل کر دی جاتی ہیں۔ کبھی غیرت کے نام پر‘ کبھی شک کی بنیاد پر‘ کبھی وٹے سٹے کے نتیجے میں‘ کاروکاری‘ سوارہ اور وَنی کی جاہلانہ رسمیں اس اسلامی ملک میں پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہیں اور ثقافت اور ریاست دونوں‘ عملاً ان مکروہ‘ ذلت آمیز رسموں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ بالائی طبقے میں پڑھی لکھی‘ ماڈرن‘ لڑکیاں کیوں قتل ہو رہی ہیں؟ یہ دو واقعات‘ یقینا پہلے ہیں نہ آخری! لیکن اگر ان دو واقعات ہی کا تجزیہ کریں تو دونوں میں کچھ پہلو مشترک ہیں۔ اول: دونوں مرد بھلے مانس تھے نہ شریف! بلکہ تشدد پسند تھے اور ناقابلِ اعتبار! دوم: دونوں نشے کے عادی تھے۔ سوم: دونوں لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں اور ماڈرن تھیں۔ چہارم: دونوں لڑکیاں آزاد تھیں یعنی Independent۔ پہلی لڑکی اپنے ماں باپ کے ساتھ رہ رہی تھی مگر اپنی نقل و حرکت میں‘ آنے جانے میں اور وقت باہر گزارنے میں وہ گھریلو ڈسپلن یا پابندی سے آزاد تھی۔ آخری بار بھی‘ جب وہ اپنے گھر میں تھی‘ تو بوائے فرینڈ کے فون کے بعد اُس کے ہاں خود گئی۔ جاتے وقت اس نے ماں یا باپ کو نہیں بتایا کہ کہاں جا رہی ہے۔ اس کے والد نے بعد میں تین ٹیکسٹ بھیجے یہ پوچھنے کے لیے کہ وہ کہاں ہے مگر جواب کوئی نہ ملا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عملاً Independent تھی۔ دوسری مقتولہ نے‘ جو کچھ خبروں سے مترشّح ہوتا ہے اس کے مطابق‘ شادی اپنی مرضی سے کی تھی۔
یہاں تک پہنچنے کے بعد ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ سوال انتہائی اہم اور فیصلہ کن (Crucial) ہے۔ ہو سکتا ہے یہ سوال کچھ نوجوان‘ ماڈرن لڑکیوں کو اچھا نہ لگے مگر سوال پوچھنے سے روکا تو نہیں جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر دوسری لڑکی‘ شادی کرنے سے پہلے اپنے بزرگوں سے مشورہ کرتی‘ اس کے بزرگ لڑکے کو اور اس کی فیملی کو دیکھتے بھالتے تو کیا وہ اس شادی کے حق میں رائے دیتے؟ رہا پہلی بچی کا مسئلہ تو جو اُس لڑکے کے لچھن تھے اور جو اس کی شہرت تھی‘ اس کے پیش نظر‘ اس کے والدین نے‘ ایک دو بار تو ضرور اپنی بیٹی کو اسے ملنے سے منع کیا ہوگا یا اتنا تو ضرور کہا ہوگا کہ یہ لڑکا ٹھیک نہیں!
بدقسمتی سے ہم دو انتہاؤں کے بیچ پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک انتہا یہ ہے کہ لڑکی سے پوچھے بغیر‘ لڑکے کی جھلک تک دکھائے بغیر‘ اسے ایک اجنبی لڑکے کے ساتھ باندھ دیا جائے خواہ تعلیم میں اور عقل میں وہ لڑکی کے پاسنگ بھی نہ ہو۔ ہم نے تو ایسا معاملہ لڑکوں کے ساتھ بھی ہوتے دیکھا ہے۔ ہمارا جاننے والا ایک لڑکا انجینئر بنا۔ اس نے گھر والوں کو بتایا کہ وہ فلاں لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ماں باپ نے انکار کر دیا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ لڑکی کا انتخاب لڑکے نے خود کیوں کیا؟ لڑکے نے شادی کر لی۔ آٹھ دس سال ماں باپ نے تعلق نہ رکھا۔ پھر ملے مگر پوتوں کے بچپن سے لطف اندوز ہونے کا وقت گزر چکا تھا۔ دوسری انتہا یہ ہے کہ لڑکی ماں باپ کو بتائے بغیر‘ ان سے مشورہ کیے بغیر‘ ان کی تجربہ کار رائے لیے بغیر‘ خود ہی لڑکا پسند کرے اور شادی کر لے۔ عام طور پر یہ کورٹ میرج ہوتی ہے۔
یہ دونوں انتہائیں خانہ خرابی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ایسی شادیاں ہر حال میں ناکام ہوں مگر خرابی کا احتمال (Probability) زیادہ ہے۔ بہترین راستہ اعتدال کا راستہ ہے۔ ماں باپ پر لازم ہے کہ بچوں‘ خاص طور پر بچیوں کی پسند کا خیال رکھیں‘ ان پر اپنی مرضی نہ مسلط کریں! اور ماڈرن لڑکیاں زندگی ساز فیصلوں میں اپنے بزرگوں کو شامل کریں

Monday, September 26, 2022

حکومت کا ایک خیراتی اقدام


جو دے اس کا بھلا ‘ جو نہ دے اس کا بھی بھلا

 ‘اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا‘

اللہ آپ کو حج کرائے 

‘یہ اور اس قسم کے جملے ثابت کرتے ہیں کہ مانگنے کے فن کو ہم نے باقاعدہ ایک سائنس بنا لیا ہے‘ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ صدقہ دینے میں اور خیرات کرنے میں اہلِ پاکستان کا کردار ہمیشہ قابلِ رشک رہا ہے۔ یہ جو ہر چوک اور ہر شاہراہ پر گداگروں کا ہجوم ہے‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاں مانگنے والوں کی کثرت ہے وہاں‘ ماشاء اللہ‘ دینے والوں کی بھی کمی نہیں۔ ہر مسجد‘ ہر مزار‘ ہر دربار میں صندوقڑیاں رکھی ہیں اور بھرتی جاتی ہیں۔انفرادی سطح سے ہٹ کر ‘ اجتماعی طور پر بھی خیراتی سرگرمیوں میں پاکستان کا نام مشہور ہے۔ بہت سے فلاحی ادارے رات دن کام کر رہے ہیں۔مذہبی اور غیر مذہبی تنظیمیں مصیبت کے ہر موقع پر لوگوں کے کام آتی ہیں۔ حالیہ سیلاب میں بھی ان فلاحی تنظیموں نے بے شمار افراد کی مدد کی ہے۔
مگر یہ تو نجی شعبے کی بات تھی۔ الحمد للہ اب سرکاری شعبہ بھی صدقہ خیرات میں اپنا کردار ادا کرنے لگ گیا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال وہ حکم ہے جس کی رُوسے پارلیمنٹ کے ارکان کے لیے ہر موٹر وے اور ہر ہائی وے پر ٹول ٹیکس معاف کر دیا گیا ہے۔ یہ بیچارے اس 'خیرات‘ کے مستحق بھی تھے۔ انہیں مبینہ طور پر بیرونِ ملک علاج معالجے کی سہولتیں بھی میسر ہیں۔ پارلیمنٹ بلڈنگ کے کیفے ٹیریا میں انہیں چائے اور کھانا بھی ایسے نرخ پر مہیا کیا جاتا ہے جسے سن کر اپنے کانوں پر یقین نہیں آتا۔ دیگر مراعات بھی ‘ جن میں سے کچھ عوام کے علم میں ہیں اور کچھ نہیں ہیں ‘ ہوشربا ہیں۔ ہوائی سفر کے لیے بھی ان معززین کو اور ان کے خاندانوں کو مفت ( یا رعایتی ٹکٹ) دیے جاتے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ وفاقی حکومت کا یہ ٹول ٹیکس والا خیراتی کام بھی آسمانوں میں قبول ہو اور وفاق عنداللہ ماجور ہو۔
ایک سینیٹر صاحب نے اس حکم کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف سینیٹ میں آواز اٹھائیں گے اور کوشش کریں گے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی یہ امتیازی حکم نامہ واپس لے! سینیٹر صاحب کی یہ تنہا آواز لائقِ تحسین ہے۔ مگر اس سے ہمیں ایک لطیفہ نما واقعہ یاد آگیا ہے۔ مغلوں کے عہدِ زوال میں ایک شہزادہ پیدائش کے بعد کبھی زنان خانے سے باہر ہی نہیں نکلا تھا۔اس کے ارد گرد ہمیشہ شہزادیاں‘ کنیزیں اور خواجہ سرا ہی رہے تھے۔اسی ماحول میں وہ جوان ہوا اور حرم سرا ہی میں رہا۔ ایک بار محل میں سانپ نکل آیا تو جب سب عورتوں نے شور مچایا کہ کسی مرد کو بلاؤ تو شہزادے نے بھی چیخ کر کہا کہ کسی مرد کو بلاؤ! ارے بھائی! حکومت تو اسی جماعت کی ہے جس کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ سینیٹر صاحب پارلیمنٹ میں بیٹھتے ہیں۔ ان کی اپنی حکومت ہی نے یہ حکم نامہ جاری کیا ہے۔ تو وہ احتجاج کس سے کریں گے ؟ اپوزیشن سے ؟ اور آپ کا کیا خیال ہے نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے یہ اتنا بڑا خیراتی کام خود ہی کر دیا ہو گا؟ اتنا بڑا قدم تو کابینہ کی سطح پر ہی اٹھایا جا سکتا ہے۔وزارتِ خزانہ سے پوچھے بغیر ایسی کوئی بخشش ہو نہیں سکتی! اس کا تخمینہ بھی تو لگایا گیا ہو گا کہ اندازاً سالانہ اثر اس کا کتنا ہو گا؟ وزارتِ خزانہ کی زبان میں ‘ یعنی فرنگی زبان میں اسےFinancial Effectکہتے ہیں !!
اس کے بعد صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی باری آئے گی۔ وہ بھی اسی طرح منتخب ہیں جس طرح قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان منتخب ہیں! دفاع والوں کی گاڑیاں ‘ غالباً‘ پہلے ہی اس رعایت سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اور اگر میں غلطی نہیں کر رہا تو جج حضرات بھی!! تو بنیادی طور پر یہ ٹول ٹیکس میں نے اور آپ نے ادا کرنا ہے۔ اس وقت اگر آپ اسلام آباد سے لاہور‘ بذریعہ موٹر وے جائیں تو ٹول ٹیکس ہزار روپے ہے۔ اور جی ٹی روڈ سے جائیں تو ہر تھوڑے سے فاصلے کے بعد کار کو تیس روپے ادا کرنے ہوتے ہیں۔ یوں جب آپ منزل پر پہنچتے ہیں تو تن پر صرف لنگوٹی بچی ہوتی ہے۔ سڑک استعمال کرنے کے لیے آپ ہر بار بھاری رقم ادا کرتے ہیں۔کاغذ پر یہ سڑک‘ یہ موٹر وے‘ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں۔ کسی فرد کی نہ کسی ادارے کی۔ یہ عوام کی سڑک ہے۔ عوام کی ملکیت ہے۔ یہ آپ کی اپنی شاہراہیں ہیں۔ آپ کے بچوں کی ہیں۔ چلیں‘ ٹول ٹیکس بھی لے لیں۔ مگر اس سے بڑی بے عزتی اور بے حرمتی کوئی نہیں ہو سکتی کہ ایک طرف عوام کی جیبوں سے نکالا جانے والا ٹول ٹیکس ہر مہینے‘ بلکہ ہر ہفتے بڑھا دیا جائے اور دوسری طرف مراعات یافتہ طبقوں کو چھوٹ دی جائے۔
کوئی مانے یا نہ مانے‘ طبقے اس ملک میں دو ہی ہیں۔ ایک مراعات یافتہ اور دوسرا عوام! اس میں حزبِ اقتدار یا حزبِ اختلاف کی تخصیص کوئی نہیں۔ عوام کے ٹیکس پر اپوزیشن کی بھی پرورش اور کفالت ہوتی ہے اور خوب خوب ہوتی ہے۔ کروڑوں روپے عمران خان کی سکیورٹی پر خرچ ہو رہے ہیں۔ کے پی کے ہیلی کاپٹر کے اوپر جو پنکھے نصب ہیں وہ ہر وقت گھُوں گھُوں کر کے چل رہے ہیں اور بل عوام کو بھیجے جا رہے ہیں۔ رہی حزبِ اقتدار تو وفاق میں ہے یا صوبوں میں‘ اُس کی چاروں گھی میں ہیں اور سر کڑاہی میں ! نئے وزیر اعظم نے آتے ہی اپنے لاہور والے سلسلۂ محلات کو یقینا کیمپ آفس قرار دے دیا ہو گا۔اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ محترمہ مریم نواز اور جناب بلاول کے پروٹوکول‘ سکیورٹی اور آمد و رفت کے اخراجات بیت المال سے نہیں پورے ہو رہے۔ اور تازہ ترین خبر کے مطابق مولانا طارق جمیل کی سکیورٹی کے لیے بھی پنجاب حکومت نے ایلیٹ فورس کے دس اہلکار متعین کر دیے ہیں جو شفٹوں کی صورت میں‘ ہمہ وقت ان کے ساتھ رہیں گے۔ پہلے تو شاعر نے یہ کہا تھا کہ ؎
مجھے اپنے عمل سے کل نہ ہو انکار کی جرأت
رہے دو دو فرشتے ہمرکاب اول سے آخر تک
مگر اب دس دس باڈی گارڈز کے بغیر ہمارے علما کا پرو ٹوکول بھی پورا نہیں ہوتا۔ مولانا طارق جمیل نے تو ہمیشہ محبت کا پیغام پھیلایا ہے۔ فرقہ واریت کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی ہے۔ وہ ہر مکتبِ فکر میں یکساں مقبول ہیں۔ ان کی حالیہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر ‘ سچی بات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ مثبت بات کرتے ہیں۔ ان کی سکیورٹی کے لیے دس سرکاری اہلکاروں کی تعیناتی سمجھ سے بالا تر ہے۔ وہ خود بھی یقینا اس انتظام کو قبول کرنے سے معذرت کر دیں گے!
یہ جو خبر ہے کہ ٹول ٹیکس معاف کر دیا گیا ہے‘ اس سے اقبالؔ کا وہ شہرہ آفاق قطعہ یاد آرہا ہے جو اس موضوع پر یوں سمجھیے حرفِ آخر ہے اور شرم دلانے کے لیے اکسیر ہے لیکن شرط یہ ہے کہ شرم کی کوئی رمق باقی ہو ؎
میکدے میں ایک دن اک رند زیرک نے کہا
ہے ہمارے شہر کا والی گدائے بے حیا
تاج پہنایا ہے کس کی بے کلاہی نے اسے
کس کی عریانی نے بخشی ہے اسے زریں قبا
اس کے آبِ لالہ گوں کی خونِ دہقاں سے کشید
تیرے میرے کھیت کی مٹی ہے اس کی کیمیا
اس کے نعمت خانے کی ہر چیز ہے مانگی ہوئی
دینے والا کون ہے؟ مردِ غریب و بے نوا!!
مانگنے والا گدا ہے صدقہ مانگے یا خراج
کوئی مانے یا نہ مانے میر و سلطاں سب گدا

Thursday, September 22, 2022

جب کندھا دینے والا کندھا مانگ بیٹھے

!
بھانجے تو پروردگار نے اور بھی عطا کیے ہیں‘ ماشاء اللہ سب لائق فائق‘ مگر عبید کا اپنا ہی مقام تھا۔ کل جب وہ باون سال کی عمر میں مٹی کی چادر اوڑھ کر سو گیا تو یوں لگا جیسے جاتے وقت کہہ رہا ہو ''ماما جی اپنا خیال رکھیں!‘‘ ساری زندگی اپنی نہیں دوسروں کی فکر کی! جب بھی کوئی مسئلہ پیش آتا تو سب سے پہلے اس سے مشورہ ہوتا۔ مامی بھی اسی سے پوچھتی۔ اس کے پاس ہر مسئلے کا حل ہوتا۔ مکان کی تعمیر سے لے کر‘ موبائل فون کی مشکلات تک‘ اسے ہر ماہر شخص کا علم تھا۔�پیدائش سے لے کر کل کی تدفین تک‘ ایک ایک منظر نگاہوں کے سامنے پھر رہا ہے۔ بہت چھوٹا سا تھا تو بیمار پڑ گیا۔ تب اس کے والد صاحب کی‘ جو فوج میں ملازم تھے‘ اٹک شہر میں تعیناتی تھی۔ میں اسے دیکھنے سی ایم ایچ اٹک گیا۔ یاد نہیں کیا مرض تھا مگر ڈاکٹروں نے اس کے ننھے سے گلے میں سوراخ کیا ہوا تھا۔ تیسری سے چوتھی جماعت میں آیا تو اس کی پریشانی آج تک نہیں بھولتی اور وہ کمال کا فقرہ بھی جو اس نے کہا کہ ''میرا کچھ کریں کیونکہ نئی جماعت میں حساب کی اتنی بڑی بڑی رقمیں ہیں!‘‘ دیکھتے دیکھتے بڑا ہو گیا۔ ملازمت مل گئی۔ شادی ہو گئی۔ کچھ عرصہ پہلے جب اس کی خوبصورت مُرَتَّب داڑھی سفید ہو گئی تو میں نے ڈانٹا کہ یہ کیا سفید رنگ کا خضاب لگا لیا ہے؟ کہنے لگا: ما ما جی! میں نے رنگ ونگ کوئی نہیں لگانا۔ بس یہ سفید ہی رہے گی۔ سفید داڑھی میں اور بھی زیادہ خوش شکل ہو گیا۔ تینوں بچے اللہ نے اسے خوبصورت دیے۔ بڑا بیٹا بیرونِ ملک پڑھ رہا تھا اور اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ملازمت بھی کر رہا تھا۔ باپ کی بیماری کا سنا تو پہلی پرواز کے ساتھ وطن پہنچ گیا۔ کل باپ کے زرد‘ خاموش چہرے کو بار بار چوم رہا تھا اور میں‘ آنسوؤں کو روک کر سوچ رہا تھا کہ دس دن پہلے‘ بیرونِ ملک‘ اسے کیا معلوم تھا کہ مقدر میں کیا لکھا ہے۔�ہونی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ موت ایک حقیقت ہے۔ سب حقیقتوں کی ماں! مگر ایک موت وہ ہوتی ہے جو بڑھاپے میں آتی ہے۔ اس کے لیے مرنے والا بھی ذہنی طور پر تیار ہوتا ہے اور لواحقین کو بھی اندازہ ہوتا ہے۔ یہ موت مرحلہ وار اپنی آمد کا پتا دیتی ہے۔ بوڑھا شخص پہلے گھر کے اندر کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ کبھی بر آمدے تک‘ کبھی صحن میں‘ کبھی بیٹھک میں! پھر وہ اپنے کمرے میں مقید ہو جاتا ہے۔ پھر بستر پر دراز ہوتا ہے اور وقت مقررہ پر اس منزل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے جس کے لیے قدرت اسے تیار کر رہی تھی۔ اس کے ماں باپ کبھی کے جا چکے ہوتے ہیں۔ دوستوں میں سے بھی بہت سے چل چلاؤ کے مراحل میں ہوتے ہیں۔ اولاد اور دیگر پس ماندگان روتے ہیں۔ اور کچھ عرصہ بعد دنیا کی مصروفیات میں گم ہو جاتے ہیں۔ ہاں! اولاد نیک ہو تو دعا کرتی رہتی ہے۔ ہر نماز میں پکارتی ہے رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا۔ اے پروردگار! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا۔ اب یہ اپنی اپنی قسمت ہے کہ اولاد کس نیچر کی ہے اور مرنے والے نے اس کی تربیت کیسے کی تھی۔ کوئی مانے یا نہ مانے‘ مگر سچ یہ ہے کہ اکل حلال اور اکل حرام کا اس قرآنی دعا کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ بوڑھے نے جو بیج بویا تھا‘ مرنے کے بعد اسی کا پھل کھائے گا۔ سیب کا بیج سیب لائے گا اور نیم اور اندرائن بوئی تھی تو پھل کڑوا ہوگا! ماں باپ کے لیے دعا بھی وہی بچے کرتے ہیں جن کے جسم میں بننے والا اور وریدوں میں دوڑنے والا خون رزقِ حلال سے بنا ہو۔�آہ! ایک موت وہ ہوتی ہے کہ جانے والے کے ماں باپ حیات ہوتے ہیں۔ جس بچے نے ان کی چارپائی کو کندھا دینا تھا‘ وہ ان کی زندگی میں چلا جاتا ہے۔ آزمائش سی آزمائش! امتحان سا امتحان! وہ کبھی یتیم پوتوں پوتیوں کو دیکھ کر روتے ہیں کبھی ہمیشہ کے لیے جدا ہونے والے بچے کی زندگی کے مختلف مراحل کو یاد کرکے آنسو بہاتے ہیں! کل جب اپنی 77سالہ بہن کو اور ان کے سفید ریش‘ کمزور‘ میاں کو بیٹے کی میت کے پاس دیکھا تو یوں لگا جیسے بے بسی انسانی وجود میں ڈھل کر سامنے آگئی ہے۔ یہ ایسی بے بسی ہے جسے بیان کرنے کے لیے دنیا کی کوئی لغت کام نہیں آتی۔ انسان روئے تو کتنا روئے! آنسوؤں کا ذخیرہ بے کنار نہیں ہوتا۔ آنکھیں ساتھ دینا چھوڑ دیتی ہیں۔ لفظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ پُرسہ تیر بن جاتا ہے۔ ڈھارس برچھی بن کر سینے کے پار ہو جاتی ہے۔ دلاسا نیزے کی اَنی کی طرح چبھتا ہے۔ پاؤں کے نیچے زمین ہوتی ہے نہ سر پر آسمان! خداکسی کو اولاد کی موت نہ دکھائے۔ قدرت کی چکی عجیب ہے۔ کبھی دائیں سے بائیں چلتی ہے تو کبھی الٹی یعنی بائیں سے دائیں! مگر جب بائیں سے دائیں چلتی ہے تو قیامت برپا کر دیتی ہے۔ یہ وہ زلزلہ ہوتا ہے جو زمین کو ایک سمت لے جانے کے بعد دوسری سمت کھینچتا ہے اور سب کچھ ملیا میٹ ہو جاتا ہے۔ جس نے کندھا دینا ہوتا ہے وہ خود چار کندھے مانگ بیٹھتا ہے۔�دو تین دن عبید کہتا رہا کہ طبیعت میں بے چینی ہے۔ یہ بھی انسانی المیہ ہے کہ دل کا مسئلہ ہو یا سٹروک کی آمد‘ دھیان دوسری طرف جاتا ہے۔ کبھی پٹھوں کا درد لگتا ہے کبھی تھکاوٹ تو کبھی سروائیکل! بچے اور بیوی کہتے رہے کہ ہسپتال لے کر چلتے ہیں مگر اس کی افتادِ طبع ایسی تھی کہ کسی کو کام کہتا تھا نہ تکلیف دینے کا روادار تھا۔ پھر جب بازو سن ہو گیا تو ہسپتال لے جایا گیا مگر دیر ہو چکی تھی۔ امید لیکن زندہ رہی! دماغ کی سرجری ہوئی تو ڈاکٹروں نے آس بندھائی کہ آپریشن کامیاب ہوا ہے۔ دعائیں‘ صدقے‘ خیرات‘ قران پاک کے بیسیوں ختم‘ ہر ممکن علاج! سب کچھ کیا گیا۔ اس کے بھائی رات دن تیمارداری میں لگے رہے مگر اجلِ مسمّیٰ ناقابلِ تغیّر ہے!
�جب احمدِ مُرسَل نہ رہے کون رہے گا!
�عجیب بات یہ ہوئی کہ جب تک وہ ہسپتال میں رہا‘ اس کی امی جان مسلسل روتی رہیں! یوں لگتا تھا آنسوؤں سے رخساروں پر نشان پڑ گئے ہیں۔ دن میں کئی بار مجھے فون کرتیں۔ بات تھوڑی کرتیں‘ روتیں زیادہ! مگر وفات کے بعد بالکل نہ روئیں! پہلے‘ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے کہتی رہیں کہ بے ہوش ہوا ہوگا‘ ڈاکٹروں سے کہو اچھی طرح چیک کریں! سب کہہ رہے تھے کہ انہیں رونا چاہیے تاکہ غبار نکلے ورنہ بیمار پڑ جائیں گی۔ جسدِ خاکی آیا تو مسلسل یہ آیت پڑھتی رہیں استعینوا بالصبر و الصلوٰۃ، ان اللہ مع الصبرین۔ چھیالیس برس پہلے میرا اور اُن کا چوبیس سالہ بھائی ایک حادثے میں رحلت کر گیا۔ اس کی مرگ پر مرثیے کہے۔ آج پھر اُن مرثیوں کے اشعار ذہن کا بوسیدہ دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔ پڑھتا ہوں اور روتا ہوں:
�مرتا بھی نہیں، سانس بھی میں لے نہیں سکتا
�اٹکا ہوا شہ رگ میں کوئی تیر عجب ہے!
�ملنا تو ہے اس سے مجھے ہر حال میں اظہارؔ
�لیکن یہ ملاقات میں تاخیر عجب ہے!
�اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا۔ اسی میں ہم تمہیں لوٹا رہے ہیں۔ اور اسی سے ہم تمہیں دوبارہ اٹھائیں گے!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, September 19, 2022

اس خبر کو ’’ مطالعہ پاکستان ‘‘ کے مضمون کا حصہ بنائیے


فارسی کا ایک مشہور مصرع ہے :
قیاس کن ز گلستان من بہارِ مرا
یعنی‘ میرا باغ دیکھ کر اندازہ لگا لو کہ میری بہار کیسی ہو گی !
خبر ایک ہے مگر ایسی ہشت پا خبر ہے کہ آکٹوپس بھی شرما جائے۔ گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ کسی نے پاکستان کی حقیقت دیکھنی اور جاننی ہو تو وزیر آباد سیالکوٹ سڑک پر سفر کرے۔ مگر یہ خبر‘ اُس سڑک کی بھی ماں ہے! اس خبر سے بھی کسی تشریح کے بغیر پاکستان کی حقیقت کا ادراک ہو جاتا ہے۔ یہاں یہ عرض کرنا مناسب ہو گا کہ اب ہمارا ملک اس اعلیٰ درجے پر فائز ہو چکا ہے کہ اس کی حقیقت سمجھانے کے لیے لفظ ناکافی ہیں اور بے بس ! اب تقریر یا تحریر سے کام نہیں چلتا۔ کتنا بولیں گے ؟ گھنٹوں ؟ پہروں ؟ کتنا لکھیں گے ؟ دفتر کے دفتر بھر دیں گے ؟پھر بھی ما فی الضمیر واضح نہیں کر سکیں گے! مگر ایک سڑک‘ یا ایک خبر‘ میں بسا اوقات اتنا ابلاغ ہوتا ہے کہ نہ صرف بات سمجھ میں آجاتی ہے بلکہ چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں!
اب دل تھام کر خبر کا سامنا کیجیے۔ خبر بھی کسی دور افتادہ ضلع یا کسی قصبے یا کسی گاؤں کی نہیں‘ عین وفاقی دارالحکومت کی ہے! یہ بائیس برس پہلے کا واقعہ ہے۔ سال2000ء تھا۔اسلام آباد کے ایک شہری کے گھر کے باہر بجلی کے محکمے نے بھاری ٹرانسفارمر نصب کر دیا۔ بجلی کا ادارہ جو اسلام آباد کو بجلی فراہم کرتا ہے( یا نہیں کرتا ) آئیسکو کہلاتا ہے۔ شہری نے فریاد کی کہ وہ ملک سے باہر رہتا ہے‘گیٹ پر اتنا ہیوی ٹرانسفارمر اس کے گھر والوں کے لیے نہ صرف خطرہ ہے بلکہ آمد و رفت میں بھی پریشانی کا باعث ہے۔ آئیسکو نے ٹرانسفارمر ہٹانے کے لیے چارجز یعنی اخراجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ اس پر شہری وفاقی محتسب کی عدالت میں چلا گیا۔وفاقی محتسب نے آئیسکو کو مسئلہ حل کرنے کا حکم دیا۔ اب یہاں ایک اور کھلاڑی کھیل میں داخل ہوا۔ اس کا نام نیپرا ( یعنی نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ) ہے۔ بجلی اور پانی کی ایک باقاعدہ وزارت ہے۔ یہ اتھارٹی اس کے علاوہ بجلی کے معاملات طے کرتی ہے۔ پھر وزارت کا کیا فائدہ اور کیا کام ؟ اس سوال کا جواب کوئی نہیں دے گا۔ بہر طور‘ نیپرا نے اٹھارہ برس کے بعد یعنی2018ء میں شہری کی درخواست نامنظور کر دی۔ اب یہاں ایک اور مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے اور وہ ہے وفاقی محتسب کا کردار! سینکڑوں ایسی مثالیں ہوں گی جن سے اس ادارے کی حقیقت کا پتا چلتا ہے۔ یہ کالم نگار بھی ایک بار وفاقی محتسب کی عدالت میں فریاد کرنے گیا تھا۔ میرا مقدمہ وفاقی وزارت ِ ہاؤسنگ کے خلاف تھا۔ وفاقی محتسب نے میرے حق میں فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کو وفاقی وزارت اور اس زمانے میں جو‘ اس وزارت کا سیکرٹری تھا اس نے جو اہمیت دی اس پر پنجابی کی ایک مثال صادق آتی ہے لیکن اگر اس مثال کو لکھا گیا تو میرا ایڈیٹر اس کی اشاعت کی ہر گز اجازت نہیں دے گا‘ اس لیے اتنا کہنا کافی ہے کہ وفاقی محتسب کے فیصلے کو وزارت نے ہوا میں تحلیل کر دیا۔ اس مقدمے کی تفصیل پھر کبھی! اصل میں وفاقی محتسب کے فیصلے Recommendatoryہوتے ہیں یعنی یہ مشورہ ہوتا ہے یا تجویز یعنی سفارش۔ یہ فیصلے Mandatoryنہیں ہوتے یعنی ان فیصلوں کی نوعیت لازمی حکم کی نہیں ہو تی۔ کروڑوں کا بجٹ اور فیصلے محض سفارش کے درجے کے ! یعنی محض آنیاں جانیاں!! ہاں ایک فائدہ اس ادارے کا ضرور ہے کہ اونچی پہنچ رکھنے والا کوئی ریٹائرڈ افسر اس کا سربراہ لگ جاتا ہے اور یوں پانچ سال کے لیے سم سم کھل جاتا ہے۔
کبھی جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ سربراہ کے نیچے بھی ریٹائرڈ افسروں کی اس ادارے میں بھرمار ہے۔ یوں یہ ادارہ دارالامان کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ہم ہیوی ٹرانسفارمر کے معاملے کی طرف پلٹتے ہیں۔ نیپرا نے جب شہری کی درخواست مسترد کر دی تو شہری ہائی کورٹ چلا گیا۔ ہائی کورٹ میں آئیسکو نے موقف اختیار کیا کہ ٹرانسفارمر سی ڈی اے( وفاقی ترقیاتی ادارہ) کے منظور شدہ پلان کے مطابق نصب کیاگیاتھا۔عدالت نے سی ڈی اے کو طلب کیا۔ سی ڈی اے نے عدالت کی خدمت میں عرض کیا کہ عالی جاہ! ایسا نہیں ہے۔ بلکہ اس ہیوی ٹرانسفارمر کی تنصیب تو سی ڈی اے پلان کی خلاف ورزی ہے! عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ادارے (آئیسکو اور سی ڈی اے ) ایک ماہ کے اندر اندر اس مصیبت کو شہری کے دروازے سے ہٹا کر کسی مناسب جگہ پر نصب کریں اور شہری کو ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کریں! یہ فیصلہ اب‘ یعنی ستمبر2022ء میں ہوا ہے۔ اندازہ لگائیں‘ بائیس برس بعد۔ جو بچہ اس کیس کے دائر ہوتے وقت پیدا ہوا وہ اب بائیس سال کا گبرو جوان ہو چکا ہے۔ یقینااس اثنا میں فریاد کرنے والے شہری کی کمر یقینا جھک گئی ہو گی۔ بال سفید ہو چکے ہوں گے۔ بائیس سال اس کے ٹھوکریں کھاتے گزر گئے۔ کبھی آئیسکو‘ کبھی وفاقی محتسب‘ کبھی نیپرا۔ کبھی سی ڈی اے اے کبھی ہائی کورٹ! میرا لکھنا اور آپ کا پڑھنا آسان ہے مگر اُس شہری کی بے بسی‘ بے کسی اور حالتِ زار کا اندازہ لگائیے جو انصاف کی تلاش میں بائیس سال‘ پورے بائیس سال‘ دروازوں پر دستک دیتا رہا۔
اب اس کیس کا جائزہ لیجیے۔ یہ ایک پیاز ہے۔ ایک ایک چھلکا اتارتے جائیے اور کانوں کو ہاتھ لگاتے جائیے۔ اوّل: کیا ہیوی ٹرانسفارمر نصب کرتے وقت‘ نصب کرنے والوں اور تنصیب کا حکم دینے والوں کی آنکھوں میں کالا موتیا اترا ہوا تھا کہ ان کو شہری کا مکان اور مکان کا گیٹ نہیں نظر آیا؟ دوم: یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ٹرانسفارمر ہٹانے کے اخراجات‘ مدعی‘ بھرے؟کیا اُس نے لگایا تھا؟ کتنا بھونڈا مذاق ہے یہ! جس افسر یا جس کارندے نے یہ مطالبہ کیا‘ اسے عبرت ناک سزا ملنی چاہیے! سوم: شہری وفاقی محتسب کے دربار میں حاضر ہوا۔ کیا اس کا مسئلہ حل ہوا؟ نہیں! کیوں؟ اس پر غور ہونا چاہیے! اس صورتحال کا مداوا ہونا چاہیے! حضور! عالی جاہ! متعلقہ قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے! یہ تبدیلی کر ڈالیے۔ چہارم: نیپرا نے شہر ی کی درخواست کس بنیاد پر مسترد کی؟ پنجم: عدالت کے سامنے جھوٹ بولا گیا کہ ٹرانسفارمر کی تنصیب سی ڈی اے کے پلان کے مطابق تھی۔ سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ یہ تو پلان کی خلاف ورزی تھی۔ جھوٹ بولنے والے افسر یا کارندے کو سخت سزا ملنی چاہیے۔ جھوٹ بول کر عدالت کے تقدس کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی! ششم: ایک لاکھ روپے کی رقم پر ہم کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ یہ عدالت کا حکم ہے اور ہمیں‘ ہر حال میں‘ عدالت کا احترام ملحوظِ خاطر ہے!
اُن ماہ و سال کا حساب کون دے گا جو شہری نے انصاف کی تلاش کرتے ہوئے دستکوں میں دفن کر دیے۔ ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک! دوسرے دروازے سے تیسرے دروازے تک! تیسرے دروازے سے چوتھے دروازے تک! وہ بھی عین وفاقی دارالحکومت میں! اس سے اندازہ لگا لیجیے کہ دور کے شہروں‘ قصبوں اور قریوں میں کیا ہو رہا ہے!
سکولوں‘ کالجوں‘ یونیورسٹیوں میں ایک مضمون ''مطالعہ پاکستان‘‘ (پاکستان سٹڈیز) کے نام سے پڑھایا جا رہا ہے۔ اس خبر کو اس کورس کا حصہ بنا دیجیے۔ طالبات اور طلبہ آسانی سے سمجھ جائیں گے کہ پاکستان کیا ہے! کیسا ہے؟ اور کیوں ہے؟ بقول جون ایلیا ؎
اس شہر کی حفاظت کرنی ہے ہم کو جس میں
آندھی کی ہیں فصیلیں اور گرد کا مکاں ہے

Thursday, September 15, 2022

آپ اور آپ کا مہمان

آپ وفاقی دارالحکومت میں رہتے ہیں۔ فرض کیجیے آپ کا ایک غیرملکی دوست آپ کے پاس آکر ٹھہرتا ہے۔ وہ پاکستان کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتا ہے۔ پاکستان کے سیاست دانوں کے بارے میں‘ پاکستان کی بیورو کریسی کے بارے میں‘ پاکستان کے عوام کے بارے میں! وہ پوچھتا ہے یہاں کی ایڈمنسٹریشن کیسی ہے؟ یہاں کی حکومت کیسے چل رہی ہے؟ اداروں کی کیا صورتِ حال ہے؟تو آپ کیا کریں گے؟�یہ تو ایسی حکایت ہے جسے بیان کرنے کے لیے مہینوں درکار ہیں۔ اپنے ملک کے سیاست دانوں کے بارے میں آپ بتانے لگیں تو دن راتوں میں اور راتیں دنوں میں بدلنے لگیں گی۔ اور پھر بیوروکریسی! اور پھر عوام! عمرِ نوح چاہیے یہ سب کچھ بتانے اور سمجھانے کے لیے۔ اس کا حل میں بتاتا ہوں۔ آپ کچھ بھی نہ کیجیے۔ ایک لفظ منہ سے نکالنے کی ضرورت نہیں۔ آپ اسے سیالکوٹ لے جائیے۔ اب تو کھرب پتی اہلِ سیالکوٹ نے اپنی ایئر لائن بھی بنا لی ہے۔ جہاز اڑ رہے ہیں مگر آپ نے مہمان کو جہاز پر نہیں لے کر جانا۔ پاکستان فضا میں اڑتا جزیرہ نہیں‘ زمین پر قائم ہے۔ ہاں‘ ایک احتیاط آپ کو کرنا ہو گی۔ روانہ ہونے سے پہلے اسے یہ نہیں بتانا کہ سیالکوٹ ملک کے امیر ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔�2017ء کے اعداد و شمار کی رُو سے سیالکوٹ نے اڑھائی ارب ڈالر کی اشیا بر آمد کیں۔ یہ ملکی برآمدات کا دس فیصد ہے! پوری دنیا میں جتنے فٹ بال درکار ہیں ان کا ساٹھ فیصد سیالکوٹ بناتا اور برآمد کرتا ہے۔ چمڑے کی مصنوعات اور آلاتِ جراحی کا زبردست بین الاقوامی کاروبار اس کے علاوہ ہے۔ مگر یہ سب کچھ آپ نے مہمان کو ابھی نہیں بتانا۔ ابھی صبر سے کام لیجیے۔ ابھی صرف یہ کیجیے کہ اپنی گاڑی نکالیے‘ مہمان کو اس میں بٹھائیے اور سیالکوٹ کی طرف روانہ ہو جائیے۔ واحد نزدیک ترین راستہ جی ٹی روڈ ہی ہے۔ منطقی لحاظ سے بھی یہی راستہ مناسب پڑتا ہے۔ گوجر خان جہلم سے ہوتے ہوئے آپ کھاریاں اور لالہ موسیٰ سے گزرتے ہیں۔ پھر گجرات آتا ہے۔ پھر آپ وزیر آباد پہنچتے ہیں۔ یہاں آپ جی ٹی روڈ چھوڑ دیتے ہیں اور بائیں طرف مڑتے ہیں۔ یہ وہ سڑک ہے جو آپ کو اور آپ کے معزز مہمان کو سیالکوٹ لے کر جائے گی۔ جیسے ہی جی ٹی روڈ کو داغِ مفارقت دے کر آپ وزیر آباد سے سیالکوٹ جانے والے راستے پر چڑھتے ہیں‘ آپ کو ایک ڈرامہ کرنا پڑے گا۔ آپ ظاہر کریں گے کہ آپ تھک گئے ہیں۔ کمر پر ہاتھ رکھ کر برا سا منہ بنائیے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے کندھے دبائیے۔ پھر مہمان سے کہیے کہ اب وہ گاڑی چلائے اور آپ تھوڑا سا بریک لے لیں۔�جیسے ہی گاڑی وزیر آباد سے اُس سڑک پر روانہ ہوگی جس نے سیالکوٹ تک لے کر جانا ہے‘ آپ کے مہمان کی زندگی کا ناقابلِ فراموش تجربہ شروع ہو جائے گا۔ سڑک کا وجود ہی نہیں ہے۔ گڑھے ہیں اور کچھ آثارِ قدیمہ کے نشانات‘ جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں ماضی بعید میں ایک سڑک موجود تھی۔ آپ کا مہمان موٹر کو گڑھوں سے بچاتا ہے تو موٹر سائیکلوں کا جمِ غفیر اس کے در پے ہو جاتا ہے۔ ان سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تو گاڑی گڑھوں میں گرتی ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں آپ کے مہمان کا سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگے گا۔ وہ ڈرائیونگ سیٹ پر اکڑوں ہو کر بیٹھ جائے گا۔ اگر دو تین گھنٹے پہلے بارش ہوئی ہے تو سڑک کے دونوں طرف گھٹنوں گھٹنوں پانی بھی کھڑا ہوگا۔ سڑک کے دونوں طرف دکانیں ہیں۔ بازار کا یہ سلسلہ سارے راستے پر پھیلا ہوا ہے۔ دکانوں اور سڑک کے درمیان پانی ہے۔ اسی پانی سے گزر کر لوگ دکانوں میں جاتے ہیں۔ اسی پانی میں چارپائی بچھا کر رات کو سوتے ہیں۔ چالیس‘ پچاس کلو میٹر کی یہ سڑک‘ یوں لگتا ہے‘ قیامت تک ختم نہیں ہو گی۔ سیالکوٹ پہنچنے تک آپ کے مہمان کے اعصاب ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو چکے ہوں گے۔ کمر دُکھ رہی ہوگی۔ کندھے چٹخ رہے ہوں گے۔ سیالکوٹ آچکا ہوگا۔ اب آپ اپنے مہمان پر رحم کیجیے۔ گاڑی رکوائیے۔ سڑک کے دونوں طرف قدم قدم پر ریستوران ہیں۔ اسے لے کر کسی ریستوران میں بیٹھیے اور چائے کا آرڈر دیجیے۔ پھر اسے بتائیے کہ یہ جو نام نہاد شاہراہ ہے یہ Manifestation ہے‘ یہ تجسیم ہے ہماری صورتِ حال کی۔ یہ تشریح ہے کہ ہمارے سیاست دان کیا ہیں اور کیسے ہیں۔ سڑک نام کا یہ بد ترین راستہ‘ جسے ''ڈبل کیریج وے‘‘ کہتے ہیں‘ سڑک ہی نہیں ہے۔ بس اسی سڑک کو سیاست دان سمجھیے۔ یہی بیورو کریسی بھی ہے۔ عوام بھی یہی ہیں۔ سیالکوٹ‘ سمبڑیال اور وزیر آباد کے بڑے بڑے افسر اس سڑک پر صبح شام چلتے ہیں مگر ان کے کان پر جوں رینگتی ہے نہ انہیں شرم آتی ہے۔ انہی لوگوں سے اہلِ سیاست ووٹ لیتے ہیں۔ رہے عوام تو سڑک کے کنارے کھڑے پانی سے گزر کر دکانوں تک جاتے ہیں‘ سڑک کے دونوں طرف بیٹھے تاجر اپنے سامنے ریزہ ریزہ ہوئی سڑک دیکھتے ہیں اور مچھروں سے بھرا پانی بھی‘ مگر اپنی مدد آپ کے تحت سڑک نہیں بنوا سکتے۔ یہ وہ عوام ہیں‘ یہ وہ تاجر ہیں جو بے حس ہیں اور گندگی میں رہنے پر تیار! جو سیاست دان انہیں مٹی کے ذرے جتنی اہمیت دینے کو تیار نہیں‘ انہی کو یہ ووٹ دیتے ہیں۔ انہی کے نام کے نعرے لگاتے ہیں۔ مہمان کو یہ بھی بتائیے کہ پاکستان کا حال اسی سڑک جیسا ہے۔ ایسی ہی سڑکیں ہیں جو ضلع اور تحصیل لیول پر پائی جاتی ہیں۔ کہیں بھی چلے جائیے‘ یہی تجربہ ہوگا۔ یہی رویہ ہے ہر جگہ سیاستدانوں کا‘ افسرشاہی کا اور عوام کا!�اور اب وقت آگیا ہے کہ آپ اپنے معزز مہمان کو اہلِ سیالکوٹ کی امارت سے آگاہ کریں۔ اسے بتائیے کہ سیالکوٹ کھرب پتیوں سے چھلک رہا ہے۔ یہ بہت بڑے دل والے لوگ ہیں۔ فیاض! وسیع القلب! سیالکوٹ کے ان آسودہ حال صنعت کاروں اور بر آمد کنندگان نے اپنے لیے ایئر پورٹ تک بنوا لیا ہے۔ ڈرائی پورٹ بنوا لی ہے اور چشم بد دور‘ ماشاء اللہ‘ ایئر لائن بھی قائم کر لی ہے۔ فضاؤں میں ان کے اپنے جہاز اُڑ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ یہ چاہیں تو مریخ تک جہاز بھیج سکتے ہیں۔ مگر ایک کام یہ کسی صورت نہیں کر سکتے۔ یہ سیالکوٹ وزیر آباد کی چالیس‘ پچاس کلو میٹر سڑک نہیں تعمیر کر سکتے۔ یہ سڑک سیالکوٹ کو اسلام آباد‘ راولپنڈی‘ گجرات‘ جہلم‘ کھاریاں‘ مری‘ ایبٹ آباد‘ مظفر آباد‘ پشاور اور سارے شمالی علاقہ جات سے ملاتی ہے۔ اور سیالکوٹ کے کھرب پتی یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ وہ خود تو اپنی قائم کردہ نئی نویلی ایئر لائن کے ذریعے اسلام آباد یا پشاور جا سکتے ہیں اور وہاں سے مری‘ نتھیا گلی‘ کاغان‘ ہنزہ‘ سوات اور چترال! مگر وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ سیالکوٹ کے عام لوگ‘ جو جہاز پر جانے کی سکت نہیں رکھتے‘ ان علاقوں میں جا کر تفریح کر سکیں کیونکہ سیالکوٹ وزیر آباد سڑک پر وہی سفر کرے گا جسے سخت‘ بہت سخت‘ شدید مجبوری ہوگی۔ کون چاہے گا کہ اس کے جسم کا انجر پنجر ہل جائے۔ گردے انتڑیوں کی جگہ آ جائیں۔ جگر دل میں اور دل پھیپھڑوں میں پیوست ہو جائے۔�ایک کرم یہ کیجیے گا کہ سیالکوٹ پہنچ کر مہمان کو اقبال منزل ہر گز نہ لے جائیے گا۔ یہ منزل کسی دوسرے ملک میں ہوتی تو پوری گلی ''اقبال عجائب گھر‘‘ میں بدل دی جاتی۔ مگر یہاں تو اقبال منزل میں یو پی ایس تک نہیں۔ خدا آپ پر اور آپ کے مہمان پر رحم کرے!

Tuesday, September 13, 2022

مٹی میں چھپے لعل و جواہر


یہ شباب تھا جب اٹلی اور ہسپانیہ میں زیتون کے باغات دیکھے تھے۔
میلوں تک‘ فرسنگ در فرسنگ‘ زیتون کے سبز پیڑ دیکھ کر لگتا تھا ایک اور ہی دنیا ہے۔ کئی سال بعد مراکش میں بھی یہی مناظر دیکھے۔ رباط سے فاس (Fez) جاتے ہوئے مسحور کن نظارے ملے۔ ٹیلے اور اُن پر زیتون کے باغات۔ حدِ نگاہ تک‘ سواری کے ساتھ دوڑتے باغات! آنکھوں میں ٹھنڈک انڈیلتے باغات! ایک ٹیس دل میں اٹھی! کیا زیتون کے باغات پاکستان میں نہیں لگ سکتے؟ پاکستان میں بھی تو یہی زمین ہے! یہی آسمان ہے! پاکستان کی فضا میں بھی تو یہی بادل ہیں۔ یہی بارش ہے۔ ٹیس حسرت میں بدلی! حسرت خواہش میں! اور خواہش شعر میں ڈھل گئی؛


یہی مٹی سونا چاندی ہے جیسی بھی ہے
یہی مٹی اپنی مٹی ہے جیسی بھی ہے
اسی مٹی سے زیتون کے باغ اگائیں گے
یہی غرناطہ، یہی سسلی ہے جیسی بھی ہے


وقت گزرتا رہا۔ اس شعر کو کہے دس سال گزر گئے۔ پھر‘ بیس سال ہو گئے۔ پھر بائیس برس ہو گئے۔ ایک چھوٹے سے شاعر کا خواب! مگر بڑا خواب! تین دن پہلے عجیب واقعہ پیش آیا۔ پورے بائیس سال بعد شاعر زیتون کے ایک بہت بڑے باغ میں کھڑا تھا! حدِ نظر تک پھیلا ہوا باغ! ٹیلوں پر زیتون کے درخت! ہموار زمین پر زیتون کے درخت اور ندیوں نالوں کے کنارے زیتون کے درخت! یہ خواب کی تعبیر تھی۔
زیتون کا یہ باغ‘ بہت بڑا باغ‘ تلہ گنگ کے نواحی قصبے لاوہ میں ہے۔ یہ ملک فتح خان کا کارنامہ ہے۔ ملک فتح خان زراعت کے ماہر ہیں۔ ان کی مہارت بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی گئی ہے۔ مدتوں ایجنسی فار بارانی ایریاز ڈویلپمنٹ ( آباد) کے سربراہ رہے۔ اب بھی کئی بین الاقوامی اداروں کے مشیر ہیں۔ زیتون کا یہ باغ انہوں نے نو ہزار کنال پر لگایا ہے۔ سولہ ہزار درخت لگ چکے ہیں۔ ہر سال تعداد کو بڑھا رہے ہیں اور خالص سائنسی اور جدید بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ یہ باغ زیتون کی متعدد اقسام پر مشتمل ہے۔ تیل بھی نکالا جا رہا ہے۔ ملک صاحب کا اعلیٰ تعلیم یافتہ فرزند‘ ملازمت چھوڑ کر ہمہ وقت اس کام میں مصروف ہے۔ تاحال حکومت کی طرف سے انہیں کوئی مدد حاصل نہیں۔ پکی سڑک کی شدید ضرورت ہے۔ جتنے زیادہ لوگ یہاں آکر یہ مناظر دیکھیں گے‘ اتنی ہی تشہیر اور ترغیب ہوگی۔ اگر حکومت اس حوالے سے سنجیدگی دکھائے تو وفاقی سطح پر ''ترقیٔ زیتون‘‘ کی باقاعدہ وزارت ہونی چاہیے۔ محنت اور توجہ کے تسلسل سے پاکستان زیتون پیدا کرنے والے ملکوں میں نمایاں مقام پیدا کر سکتا ہے۔ زمین موافق ہے۔
یہ پہلی حیرت تھی جو تلہ گنگ نے تین دن پہلے دکھائی۔ دوسری حیرت جن صاحب نے دکھائی وہ بھی فتح خان ہیں مگر ریٹائرڈ بریگیڈیئر! بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ تلہ گنگ کا خطہ صدیوں سے تعلیم و تعلم کے لیے مشہور تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ یہاں ہر مسلمان قر آن پاک کا حافظ تھا۔ اس میں مرد عورت کی تخصیص نہ تھی۔ عورتیں کنوؤں سے پانی نکالتے وقت‘ تلاوت کیا کرتی تھیں۔ زبانی روایت یہ مشہور ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر اس علاقے سے گزر رہا تھا تو اسے بتایا گیا کہ یہاں ہر مسلمان حافظ ہے۔ اس نے ٹیسٹ کرنے کے لیے ایک گاؤں کے سب مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کیا۔ مرد و زن سب سامنے کھڑے ہو گئے۔ اس نے امتحان لیا تو دعویٰ سچا ثابت ہوا۔ مدارس بھی یہاں کثیر تعداد میں تھے۔ یاد رہے کہ اُس دور میں مدارس میں وہ تعلیم بھی دی جاتی تھی جو آج کل کالجوں‘ یونیورسٹیوں میں دی جاتی ہے۔ انگریز آئے تو سب کچھ بدل گیا۔ خواندگی کی شرح جان بوجھ کر کم کی گئی۔ لوگوں کو جاہل رکھنے کی پالیسی استعمار کی طوالت کے لیے مددگار تھی۔ درمیان میں انگریزی زبان کا پیچ ڈال دیا گیا۔ ناخواندگی غربت پھیلاتی ہے اور غربت بیماریاں لاتی ہے۔ بریگیڈیئر (ر) فتح خان نے ناخواندگی اور غربت‘ دونوں کو چیلنج کرنے کا عزم کیا۔ ان کی دن رات کی کوشش اور شدید محنت کا نتیجہ ہے کہ آج دندہ شاہ بلاول کے قصبے میں بہت بڑا ہسپتال دن رات کام کر رہا ہے۔ اب تک چھ لاکھ سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ ہسپتال میں بہت بڑی لیبارٹری بھی ہے۔ ایکس رے اور الٹرا ساؤنڈ کی سہولتیں اس کے علاوہ ہیں۔ دو ایمبولینسز ہمہ وقت تیار کھڑی ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب نے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا جو اَب ملک بھر میں کام کر رہا ہے‘ جبکہ ان کی بنائی ہوئی ایک تنظیم تعلیم کے لیے کام کر رہی ہے۔ جس ماحول میں لڑکیوں کو اردو میں تعلیم دینے کی مخالفت کی جاتی تھی‘ وہاں اب لڑکیاں انگریزی بول چال کی کلاسیں اٹینڈ کر رہی ہیں اور انگریزی میں تقریریں کر رہی ہیں۔ لوگوں کا مائنڈ سیٹ بدل رہا ہے اور یہی اصل کامیابی ہے۔ نوجوانوں کو کمپیوٹر کی جدید تعلیم دینے کا بند و بست کیا گیا ہے۔ لمز اور نسٹ جیسے اداروں سے نوجوان اس دور افتادہ علاقے میں آکر‘ رضاکارانہ طور پر‘ آئی ٹی پڑھا رہے ہیں۔ حیرت کے ساتھ مسرت بھی ہوئی۔
پھر تیسری حیرت کا سامنا ہوا۔ دندہ شاہ بلاول کے قریب دربٹہ کی بستی ہے۔ یہ ملک سعید اختر کی فلاحی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ ملک سعید اخترسول سروس کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہوئے اور اس کے بعد فلاحی کاموں کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔ علاقے میں سکولوں کا ایک وسیع سلسلہ کام کر رہا ہے‘ اس کی پشت پر ملک سعید اختر کا کردار نمایاں ترین ہے۔ صرف سکولوں کا انتظام ہی نہیں‘ نئے سکولوں کے لیے عمارتوں کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کی تعلیم اور تہذیب کے لیے سعید اختر نے ایک انوکھا کام کیا جس کا ان دور افتادہ قریوں میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا‘ انہوں نے دربٹہ گاؤں میں آل پاکستان مشاعرہ کرنے کا سوچا۔ ان کے احباب ہنسے کہ شہروں سے شاعر یہاں کیوں آئیں گے۔ ملک سعید اختر کا موقف یہ تھا کہ جن نوجوانوں میں ادبی جراثیم ہیں ان کی تربیت کے لیے یہ کام ضروری ہے۔ چنانچہ آل پاکستان مشاعرہ ہوا اور بہت کامیاب ہوا‘ وسیع و عریض میدان میں شائقین کا ہجوم تھا‘ اوپر پورا چاند تھا۔ ارد گرد درخت تھے اور خوشگوار ہوا کے جھونکے! ملتان‘ کراچی‘ پشاور اور اسلام آباد کے شعرا موجود تھے۔ نظم کے نامی گرامی شاعر وحید احمد کو بھی بلایا گیا تھا۔ غیر متوقع بات یہ تھی کہ رات دو بجے تک مشاعرہ جاری رہا اور سامعین میں سے کوئی ایک فرد بھی اٹھ کر نہیں گیا۔ انہی اشعار پر داد دی گئی جن پر دی جانی چاہیے تھی۔ مقامی نوجوانوں نے بہت اچھی شاعری سنائی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ایسی تقریب کا اہتمام ہر سال کیا جائے۔
اس ملک میں ٹیلنٹ کی کمی ہے نہ وسائل کی! کمی ہے تو توجہ کی! جب تک ہم دیہی ترقی پر دھیان نہیں دیں گے‘ صرف شہروں کی ترقی ملک کو آگے نہیں لے جا سکتی! ہماری مٹی میں جو لعل اور جواہر چھپے ہیں انہیں ڈھونڈنے اور چمکانے کی ضرورت ہے۔ ملک فتح خان‘ بریگیڈیئر (ر) فتح خان اور ملک سعید اختر جیسے بے غرض افراد ہر علاقے میں اٹھیں‘ شہروں کی سہولتیں کچھ عرصہ کے لیے ترک کریں اور بستیوں اور قریوں میں تعلیم‘ صحت اور لٹریچر کی روشنی پھیلائیں۔ منزل دور سہی‘ راستہ کٹھن سہی‘ ہمت کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ٹھہر سکتی! 
وادیٔ قیس سلامت ہے تو ان شاء اللہ
سر بکف ہو کے جوانانِ وطن نکلیں گے

Monday, September 12, 2022

بیت المال کی سواریاں


سیاست کے لیے مذہب کا استعمال شروع تو قائد اعظم کی وفات کے فوراً بعد ہو گیا تھا مگر جس طرح مذہب کو عمران خان اور ان کی جماعت نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا اس کی مثال شاید ہی حالیہ تاریخ میں ملتی ہو۔ عمران خان کے ایک قریبی ساتھی نے جس طرح ان کی تقریر کے عین درمیان‘ مداخلت کر کے‘ اسلامی ٹچ دینے کی ہدایت دی ‘ اس کے بعد ان حضرات کا خلوصِ نیت اس ضمن میں عیاں ہو گیا مگر شاید کاتبِ تقدیر نے مکمل برہنگی کی ساعت ابھی نہیں لکھی اور مقلّب القلوب نے دلوں کو پھیرنے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا۔خان صاحب اپنی تقریروں میں شرک سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ دوسری طرف غیر اللہ کی چوکھٹ پر سجدہ کناں بھی ہوتے ہیں۔�سب سے زیادہ جو نعرہ لگا وہ ریاستِ مدینہ کا ہے۔اور اس بے دردی سے لگا اور اس کثرت اور تواتر سے لگا کہ الامان و الحفیظ! رسالت مآبﷺ اور ان کے بعد خلفاء راشدین نے جس طرح کی زندگیاں گزاریں اس کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ بیت المال سے کچھ لیا بھی تو قُوت لا یموت کے برابر! یعنی اس قدر کہ بس گزارہ تنگی سے ہوتا رہے۔ اس سلسلے میں بہت سی مثالیں ہیں جو ‘ کم و بیش‘ ہر مسلمان کے علم میں ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ نے زمانۂ قحط میں گھی کا استعمال ترک کر دیا۔بیت المال کا ایک اونٹ بھاگ گیا تو اسے خود تلاش کرتے رہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ عید کے دن جَو کی روٹی تناول فرما رہے تھے۔ جبھی اقبال نے کہا ہے ؎�تری خاک میں ہے اگر شرر تو خیال فقر و غنا نہ کر�کہ جہاں میں نان شعیر پر ہے مدارِ قوّتِ حیدری�شعیر کا معنی جَو ہے۔خان صاحب نے بطورِ وزیر اعظم جس بے دردی سے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا اس کی شاید ہی کہیں کوئی مثال ملے۔ وہ ہر روز دفتر آنے کے لیے اور واپس بنی گالہ جانے کے لیے فضائی راستہ اختیار کرتے رہے جیسے زمین اور اہلِ زمین سے انہیں کوئی سروکار نہ تھا۔ اس طرز عمل کے ساتھ جب وہ ہر تقریر میں ریاستِ مدینہ کا ذکر زور و شور سے اور شد و مد سے کرتے تو ہنسی بھی آتی اور عوام کی سادہ لوحی پر ترس بھی آتا۔ جب حکمران زمین سے اپنا رشتہ توڑ لے تو اسے زمین اور اہل زمین کی خبر نہیں رہتی۔ حکومت چلے جانے کے بعد خان صاحب مئی میں‘ جلسے سے خطاب کرنے کے لیے ‘ سیالکوٹ گئے تو سواری کے لیے چارٹرڈ ہوائی جہاز کا انتخاب کیا۔ اگر وہ زمینی راستے سے جاتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ وزیر آباد سے سیالکوٹ تک کی سڑک کا عملاً وجود ہی نہیں۔ جہاں کسی زمانے میں سڑک تھی وہاں اب گڑھے ہیں اور سڑک کے نشانات۔سڑک کے دونوں طرف پانی کھڑا رہتا ہے۔ یعنی دونوں طرف جو دکانیں ہیں ‘ ان دکانوں اور سڑک کے درمیان پانی ہی پانی ہے۔اب بھی اگر خان صاحب اپنی پنجاب حکومت سے یہ سڑک بنوا دیں تو وزیر آباد‘ سمبڑیال اور سیالکوٹ کے مکین ‘ اور اسلام آباد سے سیالکوٹ جانے والے مسافر ان کے گرویدہ ہو جائیں۔�تین چار دن پہلے روزنامہ دنیا نے خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے حوالے سے جو خبر شائع کی ہے وہ ہوشربا بھی ہے اور عبرت ناک بھی۔ عمران خان صاحب نے خیبر پختونخوا کے ہیلی کاپٹر کو غیر معمولی طور پر 137بار استعمال کیا۔ وہ سات کروڑ روپے سے زائد کے نادہندہ ہیں۔ جہانگیر ترین نے تین بار ہیلی کاپٹر استعمال کیا۔ خان صاحب کی سابق اہلیہ ریحام خان نے دو بار ‘ شاہ فرمان نے بتیس بار ‘ شوکت یوسفزئی نے نو باراور سکندر حیات شیر پاؤ نے سات بار سرکاری ہیلی کاپٹر کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ امین اسلم نے دس بار‘ افتخار درانی نے نو بار‘ زلفی بخاری نے سات بار اور شفقت محمود نے دو بار استعمال کیا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں مجموعی طور پر ایک سو اٹھائیس افراد کے ناموں سے آگاہ کیا گیا۔مجموعی طور پر غیر مجاز افراد نے خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر کو 577بار استعمال کیا۔ گورنمنٹ ریٹ کے مطابق پانچ ارب آٹھ کروڑ پچھتر لاکھ روپے سے زائد کا نقصان قومی خزانے کو پہنچایا گیا۔ عام کمرشل حساب سے یہ رقم چھ ارب تین کروڑ سے زیادہ بنتی ہے۔�کیا ریاستِ مدینہ میں بیت المال کے گھوڑے اور اونٹ سواری کے لیے خلفاء راشدین اور ان کے ساتھیوں کے استعمال میں ہوتے تھے؟ یہاں کسی حکومت نے بھی سرکاری خزانے پر رحم نہیں کیا۔ آپ بھی جو مرضی ہے کیجیے مگر خدا کے لیے اقتدار کی خاطر مقدس اصطلاحات کو تو استعمال نہ کیجیے۔ ان کی بے حرمتی تو نہ کیجیے۔ ناصر کاظمی کا ایک شعر یاد آگیا؎�مانو مری کاظمی‘ تم ہو بھلے آدمی�پھر وہی آوارگی‘ کچھ تو حیا چاہیے�ایک گھر تو ڈائن بھی چھوڑ دیتی ہے۔ آپ کم از کم مذہب کو تو معاف کر دیتے۔ایک واعظ صاحب بھی تشہیر کر رہے ہیں کہ کسی نے اس سے پہلے ریاستِ مدینہ کی بات نہیں کی اس لیے خان صاحب کا ساتھ دینا چاہیے۔ مگر جب ان سے ٹیلی ویژن پر‘ پوچھا گیا کہ کون کون سے کام خان صاحب کے عہدِ حکومت کے دوران ریاستِ مدینہ کے حوالے سے کیے گئے تو کمال سادگی اور بے پناہ معصومیت سے جواب دیا کہ میں کیا ان کے ساتھ ہوتا ہوں ؟ جیسے آپ پاکستان میں نہیں رہتے!‘ جب ایک دعویٰ کی بنیاد پر ساتھ دینے کا اعلان کیا تو پھر فرض بنتا ہے کہ جائزہ بھی لیجیے کہ دعوے کو عملی جامہ پہنانے کیے کیا کچھ کیا جارہا ہے؟ افسوس ! ساری زندگی کی تبلیغی جدو جہد ‘سیاسی دھڑے بندی کی اور پارٹی بازی کی نذر ہو گئی۔ شبلی نعمانی نے کہا تھا�ہست چل سال کہ بیہودہ نگہ داشتمش�گر نہ بر سنگ زنم شیشۂ تقویٰ چہ کنم�چالیس سال ہوئے کہ خواہ مخواہ ہی تقوے کی دیکھ بھال کرتا رہا‘ اب بھی اگر تقوے کے شیشے پر پتھر نہ ماروں تو کیا کروں۔�مایۂ تقویٰ سی سالہ فراہم شدہ است�ارمغانش بہ نگارے بدہم یا چہ کنم�تیس سالہ تقوے کا مایہ فراہم ہو گیا ہے‘ اسے محبوب کو ہدیہ کر دوں یا کیا کروں؟�جب ان چیرہ دستیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ‘ وہ بھی خلوص اور دلسوزی کے ساتھ‘ تو اکثر احبّا جواب میں یہ کہتے ہیں کہ شریفوں اور زرداریوں نے بھی تو یہ یہ کچھ کیا ہوا ہے! تو پھر۔ آپ کا معیار ‘ آپ کا پیمانہ ‘ کیا شریفوں اور زرداریوں کے کارنامے ہیں؟ ہم اور ہزاروں لاکھوں لوگ ان دو خاندانوں اور ان کی حکومتوں سے مایوس ہو کر ہی تو آپ کے جھنڈے تلے آئے تھے ! آپ اپنے غلط کاموں کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ ہم نے یوں کیا ہے تو کیا ہوا! انہوں نے تو بھی یہ یہ کیا ہے! یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہمیں تو صرف ساڑھے تین سال ملے ہیں۔ تو ساڑھے تین سال میں آپ نے ٹریلر تو چلا دیا۔ اصل فلم لمبی بھی ہوئی تو ظاہر ہے ایسی ہی ہو گی۔ ہمارے علاقے میں ایک محاورہ ہے کہ جو یہاں' بھَیڑے‘ ہیں وہ لاہور پہنچ جائیں تو وہاں بھی' بھَیڑے‘ ہی رہیں گے۔ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔لیاقت کا شروع ہی میں پتہ چل جاتا ہے۔پوت کے پاؤں پالنے ہی میں نظر آجاتے ہیں۔ گجر خاندان کو ساڑھے تین سال سے زیادہ کتنا عرصہ درکار تھا ؟

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, September 08, 2022

……………ورنہ ہماری تو فائل ہی نہ ملتی



وہ ایک بڑی ملٹی نیشنل کارپوریشن کا اعلیٰ عہدیدار تھا۔ بڑا ایگزیکٹو!�کمپنی نے دو گاڑیاں‘ مع دو ڈرائیور‘ دی ہوئی تھیں۔ بہت بڑا گھر ملا ہوا تھا۔ آج کل گھر کی تفصیل بتاتے ہوئے صرف اتنا کہہ دیا جاتا ہے کہ تین بیڈ رومز کا گھر ہے یا چار بیڈ رومز کا۔ مگر گھر کی یہ تعریف یا وضاحت درست نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کمرے کتنے ہیں جہاں بیٹھا جا سکتا ہے؟ تین یا چار تو خواب گاہیں ہو گئیں! اس کے بعد ایک ڈرائنگ روم ہوتا ہے۔ ایک لاؤنج ہوتا ہے جہاں موجودہ زمانے کا جامِ جمشید یعنی ٹی وی رکھتے ہیں۔ پھر طعام گاہ ہوتی ہے یعنی ڈائننگ روم! بہت سے گھروں میں راہداری ہوتی ہے جس سے گزر کر گھر کے اندر جاتے ہیں۔ فرنگی زبان میں اسے Passage کہتے ہیں۔ یہ بھی ایک لحاظ سے کمرہ ہی ہوتا ہے۔ پرانی طرز کے گھروں میں ڈِیوڑھی ہوتی تھی جس سے گزر کر گھر کے اندرونی حصے میں جاتے تھے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تین یا چار بیڈ رومز نہیں‘ گھر میں کم از کم چھ یا سات کمرے ہوتے ہیں۔ آج کل پانچ یا آٹھ یا دس مرلے کے گھروں میں بھی اتنے ہی کمرے ہوتے ہیں‘ سائز ان کمروں کا بے شک چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ فرنگی طرزِ تعمیر کی نقالی کا اثر یہ ہوا کہ رقبہ گھر کا پانچ مرلے ہو تب بھی وہ کوٹھی ہی کہلاتا ہے۔ گھر کا مالک اکثر و بیشتر خود بھی کوٹھی کہہ کر مسرور ہوتا ہے۔�ہم اس شخص کی طرف پلٹتے ہیں جو ملٹی نیشنل ادارے میں بہت بڑا ایگزیکٹو تھا۔ ایک دن‘ شام ڈھلے‘ وہ کام سے واپس آیا تو بیوی نے کہا کہ بیٹا اکھڑا ہوا ہے۔ کہتا ہے کہ گھر میں جگہ ہی نہیں جہاں میں سکون سے بیٹھ کر پڑھوں اور امتحان کی تیاری کروں! بیوی کی بات سن کر وہ خاموش رہا۔ دوسرے دن اتوار تھا۔ ناشتے کے بعد اس نے بیٹے کو بلایا اور بتایا کہ دو پہر کے کھانے کے لیے وہ اسے ایک بہت اچھے ریستوران میں لے جائے گا۔ کھانا بھی کھائیں گے اور باپ بیٹا گپ شپ بھی لگائیں گے۔ دوپہر سے پہلے اس نے صاحبزادے کو جہازی سائز کی اُس گاڑی میں بٹھایا جو اسے کمپنی کی طرف سے ملی ہوئی تھی۔ اسے وہ شہر کے اس حصے میں لے کر گیا جہاں نچلے درجے کے ملازموں کے کوارٹر تھے۔ بیٹے نے پوچھا‘ یہاں کون سا ریستوران ہے؟ باپ مسکرایا اور صرف اتنا کہا کہ یہاں چھوٹا سا کام ہے۔ وہ نمٹا کر چلتے ہیں۔ گاڑی کھڑی کر کے‘ کچھ دیر چلنے کے بعد‘ وہ ایک گلی میں داخل ہوئے۔ گاڑی اس گلی میں نہیں آسکتی تھی۔ گلی کے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے کوارٹر نما گھر تھے۔ وہ گھروں کے نمبر دیکھتا آگے بڑھتا گیا۔ ایک گھر کے سامنے آکر ٹھہر گیا۔ دروازے پر گھنٹی نہیں تھی۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک آدمی باہر نکلا۔ اس نے پہلے تو اس سے معذرت کی کہ اس کے آرام میں خلل انداز ہوا۔ اس کے بعد بتایا کہ فلاں کمپنی کا وہ سینئر ایگزیکٹو ہے۔ یہ گھر اس کے والد کو ملا ہوا تھا۔ تب وہ کالج میں پڑھتا تھا اور اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ اس گھر میں رہتا تھا۔ آج یہ گھر اپنے بیٹے کو اندر سے دکھا نا چاہتا ہے۔ گھر والے نے خندہ پیشانی سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے۔ وہ یوں بھی اس وقت گھر میں اکیلا تھا۔ اس کے بیوی بچے کہیں گئے ہوئے تھے۔�بیٹے کو لے کر وہ گھر میں داخل ہوا۔ گھر میں دو کمرے تھے۔ صرف دو۔ ایک باورچی خانہ تھا۔ ایک غسل خانہ تھا۔ ایک بیت الخلا تھا۔ گھر کی پچھلی طرف چھوٹا سا صحن تھا جس کے ایک کونے میں مالٹے کا درخت تھا۔ وہ ساتھ ساتھ بیٹے کو بتا رہا تھا کہ یہی دو کمرے تھے جو بیڈ روم تھے۔ یہی ڈرائنگ روم تھے۔ یہی ڈائننگ روم تھے۔ یہی لاؤنج تھے۔ یہی راہداری تھے۔ تمہاری پھپھو آتیں تو اپنے بچوں کے ساتھ وہ بھی یہیں رہتیں۔ یہیں میں پڑھتا‘ یہیں امتحان کی تیاری کرتا۔ یہیں میں نے بی اے کا امتحان دیا اور پورے ڈویژن کے چار ضلعوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہیں سے مجھے یورپ کی یونیورسٹی کے لیے سکالر شپ ملا۔ یورپ جانے کے لیے میں اسی ٹوٹل دوکمروں والے گھر سے ایئر پورٹ روانہ ہوا تھا۔ میں نے کبھی اپنے ابو یا امی کو نہیں کہا تھا کہ پڑھائی کے لیے جگہ نہیں ہے۔ یہ جو مالٹے کا درخت صحن میں لگا ہے‘ گرمیوں میں اس کے نیچے لوہے کی یا بان کی چارپائی بچھا کر مطالعہ کرتا۔ میرے پاس میز کرسی نہیں تھی نہ ہی ان دو کمروں میں میز کرسی کی جگہ تھی۔ آج جس گھر میں تم رہ رہے ہو اس میں آٹھ کمرے ہیں۔ باہر بہت بڑا لان ہے۔ ایک کمرہ ''سٹڈی‘‘ کے نام سے اس کے علاوہ ہے۔ بیٹے نے سب کچھ دیکھا۔ سب کچھ سنا۔ اس کے بعد اس موضوع پر کوئی بات باپ نے کی نہ بیٹے نے۔ کھانا باپ نے عمدہ کھلایا۔ بیٹے نے اس کے بعد کبھی جگہ تنگ ہونے کی یا نہ ہونے کی شکایت نہ کی۔�یہ سچا واقعہ کسی پرستان کی کہانی نہیں۔ ارد گرد دیکھیے۔ کئی مثالیں مل جائیں گی۔ لب لباب اس کہانی کا یہ ہے کہ جس بچے یا بچی میں سپارک ہو‘ چنگاری ہو‘ پڑھائی کا شوق ہو‘ محنت اس کے خمیر میں ہو‘ اسے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ مافوق الفطرت داستانیں نہیں۔ گلی کے کھمبے کی روشنی میں پڑھنے والے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ اور آپ کے سامنے وہ بھی ہیں جو لندن میں رہ کر بھی‘ کھرب پتی ہو کر بھی‘ آکسفورڈ یا کیمبرج یا لندن سکول آف اکنامکس کا دروازہ تک نہ دیکھ سکے۔ یہ قلم کار راولپنڈی کے ایک بڑے پرائیویٹ سکول سسٹم میں کام کرنے والی ایک ''مائی‘‘ کو جانتا ہے۔ میاں چار بیٹیوں کو پیچھے چھوڑ کر جہاد کے لیے چلا گیا۔ واپس آیا نہ کوئی اس کی خبر ہی ملی۔ یہ سکول میں نائب قاصد لگ گئی۔ دھن ایک ہی تھی کہ بچیاں پڑھ جائیں۔ آج ایک بچی ڈاکٹر ہے۔ ایک پروفیسر ہے۔ ایک ہیڈ مسٹریس ہے اور ایک کیپٹن ہے۔ یہ قلم کار ایک اور شخص کو جانتا ہے۔ والد اس کا نائب قاصد تھا۔ ماں نے بھینس رکھی ہوئی تھی۔ دودھ بیچ کر بچوں کو پڑھایا۔ آج وہ پی ایچ ڈی ہے۔ بیج اچھا ہو تو زمین کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو‘ زمین کو پھاڑ کر‘ باہر نکلتا ہے اور درخت بن جاتا ہے۔ ٹیلنٹ کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔ اور جس میں چنگاری نہ ہو‘ اس کے باپ کی جاگیر‘ کارخانہ‘ منصب‘ دولت‘ کچھ بھی کام نہیں آتا۔

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ دوران امتحان‘ نقل کرنے والا زیادہ لکھے گا یا وہ جو اپنے ذہن سے لکھ رہا ہے؟ دونوں کی رفتار کبھی برابر نہیں ہو سکتی۔ کسی کو بازو سے پکڑ کر آپ کتنا اوپر لے جائیں گے اور لے بھی گئے تو کب تک تھامے رکھیں گے۔ جیسے ہی آپ نے چھوڑا‘ دھڑام سے نیچے گر پڑے گا۔ شکر ادا کیجیے قسّامِ ازل کا جس نے ذہانت کا خزانہ اپنے پاس رکھا‘ تقسیم اس کی اپنے ہاتھ میں ر کھی اور محنت کی صلاحیت خود بانٹی۔ ورنہ میں اور آپ اپنے اپنے بچوں کی ذہانت کے لیے سرکاری یا نجی شعبے میں عرضی دیتے تو ہماری تو فائل ہی گم ہو جاتی۔ ایک معروف کالم نگار کے بقول قدرت نے اکثر طاقتوروں اور گردن بلندوں کے بچے ''بے عقلے اور بد شکلے‘‘ رکھے ہیں!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, September 06, 2022

کامیاب لیڈری کے چھ اصول

زندگی میں کچھ بننے کی کوشش کی مگر کامیابی اس کے مقدر میں نہ تھی!�بزنس شروع کیا۔ لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔ دکانیں ڈالیں۔ ملازم رکھے۔ اشتہار دیے۔ مگر کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ تدریس میں منہ مارا مگر علم کا فقدان تھااس لیے پڑھانا ممکن نہ تھا۔ بینکاری میں بھی فیل ہو گیا۔ فوج میں جانے کا سوچا مگر ڈر کے مارے گھگی بندھ گئی۔ زراعت کا رُخ کیا مگر محنت کا عادی نہ تھا‘ سو ‘ منہ کی کھائی۔ویلڈنگ سیکھنے کی کوشش کی۔استاد نے دو دن کے بعد ہی نکال دیا۔صوفہ سازی کی طرف گیا مگر کچھ نہ سیکھ سکا۔ تنگ آکر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضرت صاحب اس کے خاندانی بزرگ تھے۔ہر مشکل وقت میں کام آتے۔ تعویذ دیتے۔ پڑھنے کے لیے کچھ بتاتے کبھی چلہ کٹواتے۔ زمین پر سلاتے۔ دنیا داروں کے ساتھ حضرت صاحب کا رات دن کا میل جول تھا۔ دنیا کی اونچ نیچ سے واقف تھے۔اس لیے مشورہ بھی صائب دیتے۔�دو زانو ہو کر اس نے روداد بیان کی کہ کہیں بھی کامیابی نصیب نہیں ہو رہی تھی۔ سب پیشے آزمائے۔ ہر کام کرنے کی کوشش کی۔ مگر بندش ایسی تھی کہ کسی جگہ کام بننے ہی نہیں دے رہی تھی۔ عرضِ مدعا کے بعد اس نے نذرانہ پیش کیا جسے حضرت صاحب نے کمال شفقت سے قبول فرمایا۔لنگر رات دن چلتا تھا اور خلقِ خدا کی شکم پروری کرتا تھا۔اسی لیے حضرت صاحب نذرانے قبول فرماتے تھے وگرنہ دنیا اور اہل دنیا سے انہیں سروکار ہر گز نہ تھا۔ وہ سوچ میں مستغرق ہو گئے۔ سر اٹھایا تو سوالی کے سر پر ہاتھ رکھا۔ فرمایا: مراقبہ کرنا پڑے گا اور کئی بار کرنا پڑے گا۔ پھر اگلے ہفتے آنے کا حکم دیا۔�ایک ہفتے کے بعد حاضر ہوا۔ معتقدین کی خاصی تعداد حاضر تھی۔ خلوت ہوئی تو توجہ فرمائی۔کہا کہ مراقبے اور ایک خاص عمل کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس کے لیے لیڈر کا پیشہ موزوں رہے گا۔ کامیابی اسی میں لکھی ہے۔ اسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ جب وہ معمولی اور آسان شعبوں میں کامیاب نہ ہو سکا تو لیڈری کیسے کر سکے گا۔اس نے ادب کے ساتھ اپنے خدشات کا ذکر کیا۔ مگر حضرت صاحب نے تسلی دی۔ ظفر یابی کا یقین دلایا اور فرمایا کہ لیڈری کے کچھ اصول ہیں اور قواعد و ضوابط ہیں۔ وہ میں تمہیں بتائے دیتا ہوں۔
�پہلا اصول‘ کامیاب لیڈر بننے کا یہ ہے کہ جو اعتراضات مخالفین اٹھائیں اور تمہاری کمزوریاں‘ غلطیاں اور جرائم بیان کریں‘ ان کا کبھی جواب دو نہ ہی ان کا کبھی ذکر کرو۔اپنے اعصاب مضبوط رکھو۔اگر پوری دنیا بھی تم سے پوچھے کہ بتاؤ ایسا کیوں کیا اور ویسا کیوں کیا‘ دوست نوازی کیوں کی؟ نااہل افراد کو کیوں نوازا؟ خزانے میں نقب کیوں لگائی؟ تم کسی سوال کو‘ کسی اعتراض کو خاطر میں نہ لاؤ۔ کسی سوال کا جواب نہ دو۔ اپنے جرائم کے وجود ہی کو تسلیم نہ کرو۔
 دوسرا اصول یہ ہے کہ جب بھی انٹر ویو دینا ہو تو صرف ان صحافیوں کو انٹرویو دو جو تمہارے دائرۂ اثر میں ہوں۔ جو صرف وہی سوال کریں جو تمہیں پسند ہوں۔بال کی کھال نہ اتاریں۔ جرح نہ کریں۔ سوال در سوال (cross- questioning)نہ کریں۔ یاد رکھو کسی آزاد اور غیر جانبدار صحافی نے تمہارا انٹر ویو لیا تو پرخچے اڑا کر رکھ دے گا۔ اُس دن تم بری طرح بے نقاب ہو جاؤگے کیونکہ وہ تمہاری غلطیوں اور تمہارے جرائم کے بارے میں پوچھے گا۔ لازم ہے کہ پریس کانفرنس میں بھی سب صحافی تمہارے ہمدرد اور ہم خیال ہوں۔ کوئی شخص بھی ایسا سوال نہ کرے جو تمہارے لیے شرمندگی کا باعث بنے۔
 تیسرا اصول یہ ہے کہ ہمیشہ جارحیت دکھاؤ۔ غنیم پر مسلسل حملے کرو۔ سچے یا جھوٹے‘ ہوشربا قسم کے الزامات کی بارش کر دو۔ الزامات اس تسلسل کے ساتھ دہراؤ کہ لوگ سچ سمجھنے لگیں۔ ثبوت تو کسی نے تم سے مانگنا نہیں‘ سو‘ جی بھر کر الزامات لگاؤ۔اس ٹیکنیک سے مخالف ہمیشہ دفاعی پوزیشن اختیار کریں گے۔ یوں بھی تمہارا واسطہ اس قوم سے ہے جو ثبوت نہیں مانگتی اور جو ہر چوتھے دن ایک نئی سازش کے خلاف ہوا میں تلواریں چلا رہی ہوتی ہے۔ تم سے کسی نے نہیں پوچھنا کہ اس الزام کا ثبوت کیا ہے۔اگر کوئی پوچھے بھی تو تمہارے شیدائیوں کو چاہیے کہ اس کا بھرکس نکال دیں اور اس کی زندگی جہنم بنا دیں۔ اس سے دوسرے بھی عبرت حاصل کریں گے۔ یوں کسی میں ہمت نہیں ہو گی کہ تمہارے لگائے ہوئے الزامات کا ثبوت طلب کرے۔ 
چوتھا اصول کامیاب لیڈری کا ذرا تفصیل طلب ہے۔ تمہیں غور سے سننا اور اچھی طرح سمجھنا ہو گا۔ جیسا کہ تم جانتے ہو ہماری پبلک کا ذوق عامیانہ ہے۔ٹی وی چینلوں پر جو ڈرامے چل رہے ہیں وہ ہمارے لوگوں کا ذوق بتانے کے لیے کافی ہیں۔ ہر ڈرامے میں ساس‘ بہو‘ نند اور سوکن کے جھگڑے اور سازشیں! اگلی قسط کا لوگ بے تابی سے انتظار کرتے ہیں اور خشوع و خضوع سے دیکھتے ہیں۔اس پبلک کو اپنے جلسوں میں جوق در جوق لانے کے لیے تمہیں ان کی زبان میں بات کرنا ہوگی۔ ٹھٹھے اور مخول کو اپنانا ہو گا۔ابتذال کا انداز اختیار کرنا ہو گا۔ ہمارے لوگ ‘ نام بگاڑنے کو بہت پسند کرتے ہیں۔یہاں ہر اپاہج کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور ہر معذور کا حقارت اور اہانت سے بھرا ہوا نام رکھا جاتا ہے۔ کسی کو ٹنڈا اور کسی کو لنگڑا کہا جاتا ہے۔کوئی بھینگا تو کوئی کانا نام پاتا ہے۔تم بھی اپنے مخالفین کے نام بگاڑو۔انہیں حقارت والے ناموں سے پکارو۔ان کے چہروں‘ آنکھوں‘ داڑھیوں‘ مونچھوں‘ کانوں اور ناک کے حوالے سے ان کا مذاق اڑاؤ۔ان کی تحقیر کرو۔ یقین کرو کہ لوگ خوشی سے پاگل ہو جائیں گے۔ ان کے لیے اس سے بہتر تفریح اور کیا ہوگی۔نام بگاڑنے‘ تضحیک کرنے اور ٹھٹھا کرنے میں تم نے مرد اور عورت کا لحاظ نہیں کرنا۔مخالف صفوں میں کوئی عورت ہے تو اس پر بھی حملہ ضرور کرو خواہ یہ حملہ صنفی ہی کیوں نہ ہو اور اس کے میاں کا ذکر بھی کرو۔ اس سے لوگ بہت محظوظ ہوں گے۔ تمہارے جلسوں میں حاضری بڑھ جائے گی۔ تمہاری تقریریں انٹرٹینمنٹ کا بہترین ذریعہ بن جائیں گی۔مخالفین ظاہر ہے‘ اس سطح پر اترنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ سو‘ دانت پیسنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔
پانچواں اصول یہ ہے کہ بد زبان افراد کا ایک طائفہ تمہاری تحویل میں ہو۔یہ افراد دشنام طرازی میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہوں۔ جس کی طرف تم اشارہ کرو‘ اسے کوسنے دے دے کر‘اس کی بے حرمتی کر کر کے‘ اسے ادھ مؤا کر دیں۔ ان افراد سے لوگ پناہ مانگیں گے اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ عاجز اور خوف زدہ ہو کر کونوں کھدروں میں دبک جائیں گے۔ یہ گویا تمہارا توپخانہ ہو گا جو اگلی صفوں میں رہے گا۔
 اور چھٹا اور آخری اصول یہ ہے کہ تم آنکھیں ماتھے پر رکھنے کے لیے ہر دم‘ ہر ساعت ‘ ہر لحظہ تیار رہو۔ جس سے کام نکل جائے‘ اسے پہچاننے سے انکار کر دو۔ کامیاب لیڈر کے لیے لازم ہے کہ وفا نام کی چڑیا سے دور کا تعلق بھی نہ رکھے۔جاں نثار دوستوں کو سبق سکھانا ہو‘تو ایک ثانیہ ہچکچاہٹ کے بغیر ‘ ان کا کام تمام کر دو۔ جیل بھجوانا پڑے تو بھیج دو۔ یہ ضروری اس لیے ہے کہ ہر شخص تم سے ڈرے اور تمہارے اشارۂ ابرو پر ناچنے کے لیے تیار رہے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, September 05, 2022

……وعدہ خلافی کی تربیت



ساڑھے چار سالہ‘ سالار‘ کنارِ بحر الکاہل سے پاکستان آیا ہوا ہے۔ آنے کا یا لائے جانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس کی اردو شفاف تر ہو جائے۔�تارکینِ وطن کے مسائل پیچ در پیچ اور تہہ در تہہ ہیں۔ جو افراد پاکستان میں پیدا ہو کر‘ لڑکپن یا شباب میں ہجرت کر جاتے ہیں وہ آخری سانس تک وطن کی محبت میں تڑپتے رہتے ہیں۔ جسم نئے ملک میں مگر جان پاکستان میں! دماغ وہاں مگر دل وطن میں! سیاسی بحث میں پوائنٹ سکور کرنے کے لیے ہم کہہ تو دیتے ہیں کہ جہاں گئے ہو وہاں کی سیاست کی فکر کرو مگر سچ یہ ہے کہ ہجرت کے بعد وطن کی محبت میں تارکینِ وطن کی بھاری اکثریت سلگتی رہتی ہے‘ جلتی رہتی ہے اور کُڑھتی رہتی ہے۔ پاکستان میں رہنے والوں کے لیے اُس ناآسودگی کا تصور کرنا بہت مشکل ہے جس سے تارکین وطن کی پہلی نسل گزرتی ہے۔ ہم غریب اسے سمجھتے ہیں جس کے پاس مال و دولت نہ ہو‘ مگر غریب کااصل معنی یہ نہیں ہے۔ لغت میں غریب اُسے کہتے ہیں جو اپنے وطن سے دور ہو۔ دور افتادہ از وطن! ناآشنا‘اجنبی‘ خارجی! مزید تشریح کے لیے غریب الوطن کہتے ہیں! اس پہلی نسل کے کچھ لوگ‘ بہت کم‘ اس حسرت میں رہتے ہیں کہ ان کے بچے اپنی زبان‘ اپنی ثقافت اور اپنی قدروں سے جُڑے رہیں۔اس حسرت کو پورا کرنے کے لیے وہ کوششیں کرتے ہیں۔ کئی قسم کی کوشش اور کئی پہلوؤں سے کوشش! کچھ گھر میں بچوں کے ساتھ اپنی زبان بولتے ہیں۔ کچھ ویک اینڈ پر انہیں پڑھاتے ہیں یا اُن درسگاہوں میں بھیجتے ہیں جہاں یہ زبان پڑھائی جاتی ہے۔ کچھ کوشش کرتے ہیں کہ جب بھی موقع ملے‘ بچوں کو وطن لے آئیں تا کہ ان کی زبان صیقل ہو جائے۔�ساڑھے چار سالہ سالار کو آئے ہوئے کچھ دن ہو گئے ہیں۔ ہر روز میرے ساتھ باہر جانا اس کا معمول ہے۔ دو تین دن پہلے‘ حسبِ معمول‘ صبح اٹھتے ہی اس نے کہا کہ اس نے آئس کریم کھانی ہے اور فلاں جگہ سے‘ یعنی فلاں آؤٹ لَیٹ سے کھانی ہے۔ وعدہ کیا کہ چلیں گے۔ پھر پورا دن مصروفیت اتنی رہی کہ بھمیری بنے رہے۔ شام کو عزیز و اقارب آگئے۔ کھانے پینے کا دور چلتا رہا۔ دیر سے فراغت ہوئی۔ سالار سے کہا کہ بیٹے آج دیر ہو گئی ہے‘ پھر آپ نے بہت سی چیزیں کھا پی بھی لی ہیں‘ تو آئس کریم کے لیے کل چلے جائیں گے! سالار نے یہ سن کر کہا کچھ نہیں‘ مگر اس نے جن آنکھوں سے مجھے دیکھا‘اور کچھ دیر مسلسل دیکھتا رہا‘ میں اُن کی تاب نہ لا سکا۔ ان آنکھوں میں بہت کچھ تھا۔ یہ آنکھیں کہہ رہی تھیں کہ تم بھی وعدہ خلافی کر رہے ہو۔(You Too Brutus?)یوں تو ہر مضمون میں ایفائے عہد کی تلقین کرتے ہو مگر اپنا حال یہ ہے! آنکھیں یہ بھی کہہ رہی تھیں کہ کیا یہ میری تربیت ہو رہی ہے ؟ کیا بڑا ہو کر میں بھی اسی طرح وعدے پورا کروں گا؟ چنانچہ میں اٹھا‘ گاڑی نکالی اور اسے اس کی پسندیدہ جگہ پر لے گیا۔�ہمارے ایک دوست نے‘ جو مشہور کالم نگار ہیں‘ عرصہ ہوا ایک واقعہ لکھا تھا۔ایک ریٹائرڈ امریکی بیو روکریٹ کو ایک دن امریکی صدر کے سٹاف افسر کا ٹیلیفون موصول ہوا۔امریکہ کے صدر اسے آنے والے اتوار کے دن ملنا چاہتے تھے۔ بیوروکریٹ نے معذرت کی کہ وہ اتوار کے دن مصروف ہے۔سٹاف افسر نے پوچھا کہ کیا مصروفیت ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اسے اپنی پوتی کو چڑیاگھر لے کر جانا ہے! یہ سن کر سٹاف افسر ہنسا۔اس نے کہا کہ سر! آپ کمال کرتے ہیں! یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کے صدر سے ملنا زیادہ ضروری ہے یا ایک بچے کو چڑیا گھر لے جانا؟ یہ کام تو آپ کسی اور اتوار کو بھی کر سکتے ہیں۔ بیوروکریٹ نے جواب دیا کہ امریکی صدر ملاقات ختم ہونے کے تھوڑی دیر بعد اس ملاقات کو بھول جائیں گے اور مجھے بھی! مگر میری پوتی کبھی نہیں بھولے گی کہ اس نے دادا کے ساتھ چڑیا گھر دیکھا تھا۔ اور اگر اس کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا نہ کیا تو یہ وعدہ خلافی بھی کبھی نہیں بھولے گی۔�ہم بچوں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہوتے۔جب وہ رو رہے ہوتے ہیں تو انہیں چپ کرانے کے لیے‘ یا ان سے کوئی بات منوانے کے لیے وعدہ کر لیتے ہیں کہ فلاں شے خرید دیں گے یا فلاں جگہ لے کر جائیں گے۔ اس کے بعد بھول جاتے ہیں۔ اکثر اوقات وعدہ کرتے وقت ہی ہماری نیت وعدہ پورا کرنے کی نہیں ہوتی۔ یہ طرزِ عمل دو دھاری تلوار ہے۔ایک طرف بچہ ہم پر اعتبار کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ دوسری طرف وہ وعدہ خلافی سیکھ رہا ہوتا ہے۔ایک ایسا سبق جسے وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔ بچوں کے ساتھ بھی وعدہ وہی کرنا چاہیے جو ہم بعد میں پورا کر سکیں۔�ایک غلط فہمی کا ازالہ۔ ہم نے اپنے یکم ستمبر کے کالم میں لکھا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں خود لکھا کہ ڈالر لے کر پاکستانیوں کو فلاں کے حوالے کرتے رہے۔ اس پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ یہ فقرہ ان کی کتاب میں موجود نہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ مشرف صاحب جب تک اقتدار میں رہے‘ مطلق العنان بادشاہ کی طرح رہے۔ شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ اپنی نام نہاد خود نوشت کے انہوں نے کتنے ایڈیشن شائع کرائے۔ اس ضمن میں الجزیرہ ڈاٹ کام نے 23اکتوبر2006ء کو جو لکھا‘ اس سے حقیقت حال کی وضاحت ہوتی ہے۔یہ اور بات کہ بہت سے لوگ شروع ہی سے اس حقیقت حال سے آگاہ ہیں۔ الجزیرہ لکھتا ہے '' اپنی کتاب‘ اِن دی لائن آف فائر کے اصل انگریزی ایڈیشن میں‘ جس کا افتتاح گزشتہ ماہ نیویارک میں ہوا‘ جنرل پرویز مشرف نے لکھا ہے کہ تین سو پچاس سے زیادہ قیدی حوالے کرنے پر امریکی ایجنسی (سی آئی اے) نے پیسوں کی ادائیگی کی۔ فوجی حکمران نے انگریزی والی کتاب میں لکھا کہ جن لوگوں کی عادت بن گئی ہے کہ ہمیں مطعون کریں کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کافی حصہ نہیں ڈالا‘وہ ذرا سی آئی اے سے پوچھیں کہ اس نے حکومت پاکستان کو کتنی رقم( پرائز منی ) ادا کی ہے ؟ مگر جب مشرف نے اس کتاب کے اردو ترجمے کا سرکاری طور پر افتتاح کیا‘ جس کا نام سب سے پہلے پاکستان رکھا‘ تو یہ دعویٰ کتاب میں نہیں تھا۔ مشرف کے ترجمان نے کہا کہ صدر صاحب پہلے ہی ایک انٹر ویو میں کہہ چکے ہیں کہ یہ ( اعتراف) ایک غلطی تھی۔ ایسا غلطی سے شائع ہوا۔حکومت نے کوئی پیسہ نہیں لیا۔۔ اسی لیے اردو ترجمے میں یہ بات شامل نہیں کی گئی۔ مگر مشرف کے ناقدین کو یقین ہے کہ ایسا نہیں ہے اور یہ کہ اس حصے کو اس لیے حذف کیا گیا کہ اسی میں فائدہ تھا اور سہولت تھی۔اصل بات یہ ہے کہ مشرف نے اس جنگ میں امریکہ کی جو مدد کی اس پر بہت سے پاکستانی نالاں ہیں۔ اگر رقم لینے کا اعتراف اردو ترجمے میں موجود ہوتا تو‘ پاکستانی عوام کی نظر میں امریکی جنگ میں مشرف کے ملوث ہونے کا یہ ایک اور ثبوت ہوتا۔ یہ کتاب بیسٹ سیلر ہے تاہم پاکستانی میڈیا نے‘ عمومی طور پر‘اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔بہت سے سابق جرنیلوں نے بھی تنقید کی ہے کہ اس کتاب میں ریاستی رازوں کو فاش کیا گیا ہے مثلاًاعتراف کیا گیا ہے کہ کارگل کی جنگ میں پاکستانی فوجیوں نے حصہ لیا تھا۔‘

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, September 01, 2022

……تم بھی انتظار کرو! ہم بھی انتظار کرتے ہیں


2018ء کا الیکشن اڑتالیس سال میں پہلا الیکشن تھا جس میں مَیں گھر سے نکلا۔ پولنگ سٹیشن پہنچا۔ قطار میں کھڑا ہوا اور تحریکِ انصاف کو ووٹ دیا۔ ہمارے حلقے سے اسد عمر صاحب امیدوار تھے۔ وہ جیتے اور ہمارے ایم این اے بنے۔ خیر رومانس بہت جلد اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ پہلا دھچکا بزدار صاحب کے انتخاب کا تھا۔ دوسرا بڑا دھچکا اُس دن لگا جب ایک سینئر پولیس افسر کو وزیراعلیٰ کے دفتر (یا گھر) طلب کیا گیا اور بزدار صاحب کی غیرمحسوس موجودگی میں سینئر پولیس افسر سے ''سوال و جواب‘‘ گجر صاحب نے کیے۔ میرے جیسے کم عقل انسان کے لیے یہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت تھی اور ناقابلِ معافی بھی! کہاں عمران خان صاحب کے وعدے‘ دعوے اور مغربی ملکوں کی مثالیں اور کہاں ریاست کے ایک افسر پر گجر صاحب کی حکمرانی! آپ کا کیا خیال ہے برطانیہ امریکہ یا فرانس یا سنگاپور میں ایسا ہونا ممکن ہے؟�خیر‘ رومانس ریزہ ریزہ ہوتا گیا۔ اور بھی عوامل تھے۔ اکثر عوامل سے پڑھنے والے باخبر ہیں؛ تاہم تحریکِ انصاف کے کچھ لیڈر ایسے تھے جن کے حوالے سے دلِ خوش فہم کو‘ رومانس ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد بھی‘ کچھ خوش گمانیاں تھیں! اسد عمر صاحب بھی اُن میں سے ایک تھے۔ یہ اور بات کہ چار سالہ عہدِ حکومت میں انہوں نے اپنے حلقے کے لیے کچھ کیا نہ اسلام آباد ہی کے لیے! فیض آباد سے گاڑی خود چلا کر ایک دن روات چوک تک جاتے تو احساس ہوتا کہ دارالحکومت کے مکین صبح و شام کس قیامت کا سامنا کرتے ہیں۔ اسد عمر صاحب بھی خیر سے اسی کابینہ کا حصہ تھے جس نے وزیراعظم عمران خان کے بند لفافہ لہرانے پر ''آمنا و صدقنا‘‘ کہہ کر چالیس ارب روپے قومی خزانے کے بجائے فردِ واحد کے حساب میں ڈال دیے تھے۔ پھر بھی اسد عمر صاحب اُن حضرات کے مقابلے میں نسبتاً بہتر ہی لگتے تھے جو تعلیم یافتہ نہیں کہلا سکتے۔
�مگر اسد عمر صاحب کا تازہ ترین بیان پڑھ کر سوچ رہا ہوں کہ کاش میں انہیں ووٹ نہ دیتا۔ میں کیا اور میرا ووٹ کیا! میرے ووٹ کے بغیر بھی انہوں نے یقینا جیت جانا تھا مگر آج میں اپنی نظروں میں تو نہ گرتا۔ شوکت ترین صاحب جو مشورہ کے پی اور پنجاب کے وزرائے خزانہ کو دے رہے تھے اور جس کی آڈیو ٹیپ کا چہار سو غلغلہ ہے‘ اس کے بارے میں اسد عمر صاحب کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے! کاش اسد عمر اس بات پر غور کرتے کہ جب پنجاب کے وزیر خزانہ نے شوکت ترین سے پوچھا کہ ریاست کو تو نقصان نہیں ہوگا تو ترین نے کیا جواب دیا؟�آفرین ہے پنجاب کی بیوروکریسی پر جس نے وہ خط لکھنے اور بھیجنے سے منع کیا جس کی ہدایت شوکت ترین‘ پارٹی کی پالیسی کے تحت پہنچا رہے تھے۔ سلام ہے ان محبِ وطن افسروں کو۔ ان افسروں نے‘ مبینہ طور پر‘ متنبہ کیا کہ اگر ایسا خط لکھا گیا تو یہ مجرمانہ سازش ( Criminal Conspiracy) ہو گی اور یہ High treason کا کیس ہوگا۔ شاباش ہے پنجاب کے وزیر خزانہ کو جنہوں نے شوکت ترین کے سامنے سوال اٹھایا کہ اس سے ریاست کو نقصان تو نہیں پہنچے گا؟ کاش کے پی کے وزیر خزانہ بھی ایسا سوال اٹھاتے!�آفرین ہے پاکستان پیپلز پارٹی پر کہ بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا مگر کسی نے یہ نہ کہا کہ (میرے منہ میں خاک) پاکستان کو آگ لگا دیں گے۔ آفرین ہے مسلم لیگ نون پر کہ تین بار اسے وزارتِ عظمیٰ سے نکالا گیا۔ اس کے لیڈر کو جلا وطن کیا گیا مگر کسی نے (میرے منہ میں خاک) قومی پرچم کی توہین نہیں کی! یہ کیسے لوگ ہیں جن کے نزدیک پاکستان صرف اُس صورت میں قابلِ قبول ہے جب حکومت ان کی ہو!�تم اس ملک کی دھوپ اور چاندنی سے لطف اندوز ہوتے ہو۔ اس کی آب و ہوا میں چلتے پھرتے ہو۔ اس کا پانی پیتے ہو۔ اس کی زمین سے اُگی ہوئی گندم اور چاول کھاتے ہو۔ اس ملک نے تمہیں کروڑ پتی بنایا۔ پھر بھی تم اس کے خلاف‘ اس کے مفاد کے خلاف‘ سازش کرتے ہو! تم کہتے ہو ہم نہیں تو کوئی بھی نہیں! ہم نہیں تو کچھ بھی نہیں! تم جس تھالی میں کھا رہے ہو اسی میں چھید کر رہے ہو! یہ ملک نہ ہوتا تو تم اتنے بڑے بینکار بھی نہ ہوتے۔ یہ ملک نہ ہوتا تو تم کسی جرنیل کے صاحبزادے بھی نہ ہوتے! دھرتی تو ماں ہے! افسوس! صد افسوس! تم دھرتی ماں کے ساتھ یہ سب کچھ کر رہے ہو! تم کہتے ہو ہم پر مقدمے چلاتے ہیں تو ریاست کو نقصان تو پہنچے گا۔ مقدمے تو تم پر حکومت چلا رہی ہے! اس کا بدلہ تم ریاست سے لینا چاہتے ہو! انا للہ و انا الیہ راجعون!�قائداعظم سے لے کر لیاقت علی خان تک بڑے بڑے لیڈر چلے گئے۔ یہ ملک قائم ہے۔ ضیا الحق نے سرحدوں کی لکیر مٹا دی۔ لاکھوں غیر ملکیوں اور مسلح جنگجوؤں کو اس ملک کے اندر لا بٹھایا مگر ضیا الحق چلا گیا۔ یہ ملک قائم ہے! پرویز مشرف نے‘ اپنی کتاب میں خود لکھا کہ ڈالر لے کر پاکستانیوں کو فلاں کے حوالے کرتے رہے۔ پاکستان پھر بھی زندہ و سلامت ہے۔ کئی زرداری‘ کئی نواز شریف‘ کئی عمران خان اس ملک پر قربان ہو سکتے ہیں مگر ملک کسی پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ جو یہ سوچتا ہے کہ پاکستان کا وجود اس سے عبارت ہے یا اس کے لیڈر سے عبارت ہے‘ وہ احمقوں کی جنت میں بستا ہے۔ تم جس کی مرضی ہے پرستش کرو‘ جسے چاہو غلطی سے مبرّا قرار دو‘ جسے چاہو مافوق الفطرت سمجھو مگر تم کسی کو اس ملک کا نعم البدل سمجھتے ہو تو تم اپنے پاؤں پر اور اپنی آنے والی نسلوں کے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہو۔ تمہارا نام اس ملک کے بدخواہوں میں لکھا جائے گا۔ تمہیں تاریخ پجاری تو کہے گی‘ محب وطن نہیں مانے گی! ایسا ہی ہوگا۔ تم بھی انتظار کرو! ہم بھی انتظار کرتے ہیں!�تم اگر آج اپنے لیڈر کو مافوق الفطرت سمجھ رہے ہو اور اس کی کوئی غلطی‘ کوئی جرم ماننے کو تیار نہیں تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں! وہ لوگ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر کے ساتھی تھے‘ ان کے صحابی تھے‘ سامری جادو گر کی پیروی کرنے لگ گئے تھے۔ تمہاری تو ایک پیغمبر کے ساتھیوں کے سامنے حیثیت ہی کوئی نہیں! تم اگر کسی کو جرائم سے پاک‘ خطاؤں سے مبرّا اور غلطیوں سے ماورا سمجھتے ہو‘ تم اگر کسی کو وطن سے بھی بالاتر گردانتے ہو تو تاریخ میں ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا۔ تاریخ قسم قسم کے فدائیوں کو کئی بار دیکھ چکی ہے! لوگ ان کے نام سے کانپ اٹھتے تھے۔ آج ان کے نام کوئی نہیں جانتا!�اس ملک کی ہوا‘ دھوپ اور چاندنی تو بہت بڑی بات ہے‘ اس ملک کی مٹی کے برابر بھی کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس ملک کا پرچم ہمیشہ سر بلند رہے گا۔ پرچم کی توہین کرنے والے ختم ہو جائیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی اس ملک کا برا چاہا‘ اس کا انجام عبرتناک ہوا! تم بھی اس ملک کا برا چاہ کر بچ نہیں سکو گے! تم لاکھ تاویلیں پیش کرو‘ ہزار توجیہات کرو‘ تمہاری صفوں میں تمہاری اُس پلاننگ کی وجہ سے کھلبلی مچ چکی ہے جسے تم نے خفیہ رکھا تھا مگر جو سامنے آچکی ہے!

Tuesday, August 30, 2022

آئیے! میرے گھر پر قبضہ کیجیے!


ایک ایڈووکیٹ صاحب نے لاہور ہائی کورٹ میں وفاقی حکومت کے خلاف ایک درخواست دائر کی ہے۔ مدعی کی فریاد یہ ہے کہ حکومت‘ پی آئی اے کے اکاون فیصد حصص‘ اسلام آباد ایئر پورٹ کا کنٹرول اور پی آئی اے کا نیویارک والا ہوٹل‘ قطر کے حوالے کر رہی ہے۔ یہ سب کچھ وزیراعظم صاحب نے دورۂ قطر کے دوران خود ہی طے کر لیا ہے۔ مدعی نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ اس سارے سودے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور یہ کہ اس سودے کو روکا جائے۔�جہاں تک پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا تعلق ہے‘ اس کی روایت ہی کہاں ہے؟ وزیراعظم صاحب کے برادرِ بزرگ اپنے تین ادوارِ حکومت میں کتنی بار پارلیمنٹ میں تشریف لائے اور کتنے اہم معاملات میں پارلیمنٹ کو شریک کیا؟ عمران خان صاحب کے دورِ حکومت میں پارلیمنٹ کی کیا اہمیت تھی؟ سارا کاروبارِ مملکت تو غیر منتخب مشیروں کا طائفہ چلارہا تھا۔ ویسے‘ پارلیمنٹ میں کسی کی ہمت ہے کہ اس قطر والے سودے کے بارے میں سوال ہی پوچھ لے؟ چیلنج کرنا تو دور کی بات ہے!�رہی یہ بات کہ اسلام آباد کے ہوائی اڈے کا کنٹرول ایک دوسرے ملک کو دیا جا رہا ہے تو اگر حکومت ہوائی اڈہ نہیں چلا سکتی تو کیا کرے؟ ایئر لائن کا حال سب کو معلوم ہے۔ فی جہاز ملازمین کی تعداد جتنی یہاں ہے‘ شاید کہیں بھی نہیں۔ یہ تو آغاز ہے۔ ہم تو کوئی کام بھی نہیں کر سکتے! کوئی پاکستانی حکومت ڈیم نہیں بنا سکی۔ جاپان میں لاکھوں ڈیم تعمیر کیے گئے ہیں جن میں تین ہزار بڑے ڈیم ہیں۔ جاپان کو کہا جائے کہ آکر ہمیں ڈیم بنا دے۔ ہم سے ریلوے نہیں چل پا رہی۔ بھارت ریلوے کے سیکٹر میں ہم سے بہت زیادہ آگے ہے۔ مگر شریکوں سے تو مدد نہیں مانگتے۔ ریلوے کینیڈا کے سپرد کر دی جائے کہ آکر چلائیں۔ ہماری کچہریوں میں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس قلمکار کا چیلنج ہے کہ عمران خان‘ شہباز شریف‘ نواز شریف‘ زرداری صاحب‘ کسی کچہری میں عام آدمی کی طرح جائیں اور‘ کارندوں اور افسروں کی چونچ گیلی کیے بغیر‘ زرعی زمین یا جائداد کا انتقال کرا کے دکھائیں۔ ناروے سے کہیں کہ ہماری کچہریوں کو ''رشوت فری‘‘ کر دے۔ ہمیں سٹیل مل روسیوں نے لگا کر دی تھی۔ ہم نے زور لگا لیا مگر ہم سے نہیں چلی۔ انہی کی خدمت میں درخواست دینی ہوگی کہ آئیں اور چلائیں اور مستقل طور پر یہاں رہ کر چلائیں۔ ہم سے اپنا پاسپورٹ نہیں سنبھالا جا رہا۔ کل ہی خبر پڑھی کہ فتح جنگ میں مقامی لوگ غیر ملکی بھائیوں کی بندوق برداری سے عاجز آچکے ہیں۔ کراچی تک یہی صورت حال ہے۔ بہت عرصہ ہوا ایک عجیب و غریب خبر پڑھی تھی۔ خوست میں رہنے والے چند صاحبان نے پاکستانی پاسپورٹ پر حج کیا تھا۔ عجیب و غریب پہلو اس خبر کا یہ تھا کہ یہ صاحبان پاکستان آئے ہی نہیں تھے! ہمارے شناختی کارڈ غیر ملکیوں میں یوں بٹے ہیں جیسے بچوں میں بتاشے تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ڈنمارک سے اپیل کی جائے کہ آکر یہ مسئلہ حل کر دے۔ انڈیا کے پاس دنیا کا ساتواں بہترین زیر زمین ریلوے سسٹم ہے۔ پھر وہی شریکوں والی بات! کیا فرانسیسی بھائی ہمارے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ کراچی‘ لاہور اور پنڈی‘ اسلام آباد میں انڈر گراؤنڈ ریلوے بچھا دیں اور چلا دیں؟ کراچی میں لسانی اور نسلی بنیادوں پر ہم نے اپنی بستیاں الگ الگ بسائی ہوئی ہیں۔ یہی صورت حال آہستہ آہستہ لاہور اور اسلام آباد میں بھی ابھر رہی ہے۔ یہ ایک انتہائی ناقابلِ رشک صورت حال ہے! ازحد خطرناک! سنگاپور میں تین لسانی اور نسلی اکائیاں آباد ہیں۔ چینی‘ مَلے اور انڈین! کسی ایک اکائی کی بھی الگ رہائشی بستی نہیں ہے۔ فلیٹوں اور اپارٹمنٹوں کے ہر بلاک میں تینوں اکائیوں کی تعداد حکومت کی طرف سے مقرر ہے۔ تینوں اکائیاں خلط ملط ہو کر رہ رہی ہیں۔ کوئی کسی اکائی کو ٹارگٹ نہیں کر سکتا۔ ملائیشیا میں 1969ء میں چینیوں اور مَلے کے درمیان فسادات ہوئے۔ اس کے بعد حکومت نے ایسے اقدامات کیے اور ایسی مؤثر اور دور رس اصلاحات کیں کہ آج تک امن و امان ہے۔ اس سے پہلے کہ ہمارے شہروں سے لاوا پھوٹ بہے‘ ہم سنگاپور اور ملائیشیا سے کہیں کہ آکر ہمیں بھی کوئی سسٹم بنا دیں۔ قصہ مختصر یہ کہ ہمیں ہر شعبہ‘ ہر سیکٹر آؤٹ سورس کرنا پڑے گا یعنی دوسرے ملکوں سے چلوانا پڑے گا۔ ٹھیکے پر بھی دے سکتے ہیں۔�کسی کو اچھی لگے یا بری‘ اصل بات یہ ہے کہ انگریز بہادر کے جانے کے بعد‘ ایک آدھ عشرہ تو ان کے دیے ہوئے سسٹم چلتے رہے۔ بڑا ٹرک رکتے رکتے بھی چند فرلانگ تو چل ہی جاتا ہے! اس کے بعد‘ ان کی انتظامی باقیات ختم ہونے لگیں تو ہم بے نقاب ہوتے گئے اور آج ہم پوری طرح برہنہ ہو چکے ہیں۔ کوئی ایک کل بھی نہیں سیدھی! آپ اندازہ لگائیے۔ ہسپتالوں پر حملے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر آئے دن ہڑتالیں کرتے ہیں۔ دل کے مریضوں کو سٹنٹ تک جعلی ڈالے جا رہے ہیں۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔ تھانے میں ایف آئی آر درج کرانا ہمالیہ سر کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ تاجر بد ترین اوقات کار پر مُصر ہیں یعنی ظہر کے بعد بازار کھولتے ہیں اور آدھی رات کو بند کرتے ہیں۔ سارا ملک ناجائز تجاوزات کی وجہ سے بدصورت ہے۔ دکانداروں نے آدھی آدھی سڑکیں قبضے میں لی ہوئی ہیں۔ کسی کی مجال نہیں کہ واگزار کرائے۔ آپ ٹریفک کا حال دیکھ لیجیے۔ شاید ہی کہیں اتنی مادر پدر آزاد ٹریفک ہو! شاہراہوں پر لوگ مکھیوں مچھروں کی طرح مر تے ہیں۔ اسلام آباد ایئر پورٹ بننے میں دس سال سے زیادہ عرصہ لگ گیا۔ اور یہ ایئر پورٹ ہے کتنا بڑا؟ دبئی یا سنگاپور یا کوالالمپور یا دوحہ یا بنکاک ایئرپورٹ کے مقابلے میں گویا ایک چھوٹا سا دیہی ریلوے سٹیشن! آپ غدر دیکھیے کہ ریلوے لائنوں سے لوہا اکھاڑ لیا گیا اور لکڑی کے تختے لوٹ لیے گئے۔ ریلوے کی زمینوں پر دن کے اجالے میں ڈاکے ڈالے گئے۔ سینکڑوں ایکڑ زمین چھین لی گئی۔ جی ٹی ایس ( گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس) کا کیا انجام ہوا؟ ہر بڑے شہر میں جی ٹی ایس کی بسیں چلتی تھیں۔ طالب علمی کے زمانے میں ڈبل ڈیکر پر بیٹھ کر ہم کالج جاتے تھے۔ آج وہ بسیں کہاں ہیں؟ اسلام آباد میں بہت بڑا جی ٹی ایس ڈپو تھا‘ ایکڑوں کے حساب سے! آج کہاں ہے؟ ہڑپ کر لیا گیا! ایک پنڈی میں بھی تھا۔ کیا کسی رپورٹر کی مجال ہے کہ اس پر کچھ لکھے؟ پر جلتے ہیں جناب! ظلم کی انتہا ملاحظہ کیجیے۔ ہر شہر میں پاکستان کونسل برائے قومی یکجہتی کی لائبریری تھی۔ آج کہیں بھی نہیں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ لاکھوں کتابیں کہاں گئیں؟ ردی میں بک گئیں یا  گوداموں میں گل سڑ گئیں؟ تعلیمی ادارے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی کمین گاہیں ہیں! یونیورسٹیوں میں فسادات ہوتے ہیں۔ طلبہ مارے جاتے ہیں۔ ان کے جنازے سیاسی جماعتوں کے قائدین پڑھاتے ہیں۔ ایک صدی کا تین چوتھائی گزر گیا۔ ہم سے سمگلنگ کا مسئلہ نہ حل ہوا۔ سینکڑوں کے حساب سے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنیں۔ کہاں؟ کسی دور افتادہ علاقے میں نہیں! وفاقی دارالحکومت میں! اسلام آباد ایئر پورٹ کی عین بغل میں!�نیا تو کیا بنتا‘ جو انفراسٹرکچر‘ جو ادارے‘ انگریز سرکار چھوڑ کر گئی تھی‘ وہ بھی نہ سنبھالے گئے۔ جنگل تک چوری ہو گئے! ابھی تو ایک چھوٹے سے‘ ننھے منے ہوائی اڈے کا انتظام ایک دوسرے ملک کو سونپا جا رہا ہے‘ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!
بشکریہ روزنامہ دنیا

Monday, August 29, 2022

فرشتے بھی حیران ہوتے ہوں گے


آندھرا پردیش میں چوالیس‘بہار میں چوبیس‘ گوا میں پانچ‘ گجرات میں دس‘ہریانہ میں آٹھ‘ ہماچل پردیش میں نو‘ جموں اور کشمیر( مقبوضہ) میں آٹھ‘ کیرالہ میں بیالیس‘ مہاراشٹر میں دو سو چھہتر‘ تامل ناڈو میں انیس‘ تلنگانہ میں پچھتر۔ یہ ڈیم ہیں اور یہ صرف چند بھارتی ریاستوں کی فہرست ہے۔ ان میں سے نوّے فیصد سے زیادہ ڈیم وہ ہیں جو تقسیم کے بعد تعمیر ہوئے۔ کُل ڈیم پانچ ہزار سے زیادہ ہیں۔ اس ضمن میں چین اور امریکہ کے بعد بھارت کا دنیا میں تیسرا نمبر ہے۔ پاکستان میں کُل ڈیم ایک سو پچاس سے زیادہ نہیں!�ظاہر ہے یہ لازم نہیں کہ ایک ملک میں زیادہ ڈیم ہیں تو دوسرے ملک میں بھی اتنی ہی تعداد میں ہوں! بہت سے عوامل ہیں اور وجوہات‘ جو ڈیموں کی تعداد کا فیصلہ کرتی ہیں۔ بارشیں کتنی ہوتی ہیں؟ دریا کتنے ہیں؟ پہاڑوں سے پگھلی ہوئی برف اور گلیشیروں کا کتنا پانی نیچے اترتا ہے؟ زرعی ضرورت کتنی ہے ؟ یہ طے ہے اور اس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان میں جتنے ڈیموں کی ضرورت تھی اور ہے‘ اتنے ڈیم بالکل نہیں تعمیر کیے گئے۔ بھارت کے ساتھ سندھ طاس کا جو معاہدہ ایوب خان کے عہد میں ہوا تھا اس کی رُو سے مشرقی دریا ( بیاس‘ ستلج راوی ) بھارت کے حصے میں آئے تھے اور مغربی دریا ( چناب‘ جہلم‘ سندھ ) پاکستان کے حصے میں۔ ایک معینہ مدت میں پاکستان کو ڈیم بنانے تھے جو نہیں بنے۔�یہ جو سیلاب کا مسئلہ ہے تو سیلاب ہر سال آتا ہے اور دہائیوں سے آرہا ہے۔ اگر اس قلمکار کا خیال غلط نہیں تو موجودہ پاکستان میں سیلاب‘ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد آنا شروع ہوئے۔ اسے آپ توہم پرستی سے تعبیر کیجیے یا کسی اور چیز سے‘ ہم مغربی پاکستانی‘ مشرقی حصے میں ہر سال آنے والے سیلابوں سے بے نیاز ہی رہا کرتے تھے۔ کہیں یہ اُس لا تعلقی‘ اُس بے نیازی اور اُس سخت دلی کی سزا تو نہیں ؟ بہر طور اتنے عرصے سے سیلاب آرہے ہیں۔ ان کے راستے کم و بیش متعین ہیں۔ موسم کا بھی پتا ہے۔Patternsبھی نئے نہیں۔ یہ ہماری حکومتوں کی مجرمانہ غفلت ہے کہ روک تھام کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ ڈیم بنائے گئے نہ پشتے! لوگوں کو متنبہ کرنے کا نظام تک وضع نہیں کیا گیا۔وفاقی سرکار اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی اس معاملے میں کبھی بھی نہیں رہی۔ یہ ہماری عادت بن چکی ہے کہ مصیبت آئے تو شور مچاتے ہیں۔ بیرونی طاقتوں سے مدد کی بھیک مانگتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ آئندہ کے لیے کوئی منصوبہ بنائیں اور مستقبل کو محفوظ کرنے کی فکر کریں۔ ایک طرف پانی کی کمی کا رونا رو رہے ہیں‘دوسری طرف کروڑوں گیلن پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ سٹور کرنے کا بندو بست صفر ہے!�ورلڈ بینک کی رپورٹیں کچھ اور کہتی ہیں۔ ان رپورٹوں کے مطابق تقریباً چالیس ممالک ایسے ہیں جہاں پانی پاکستان سے بھی کم ہے مگر ان کی واٹر مینجمنٹ(Management )بہتر ہے۔ ان کے انتظامات کا معیار اعلیٰ ہے۔ ہمارے ہاں پانی کے ضیاع کی کوئی حد نہیں۔ نہانے میں‘ کپڑے اور گاڑیاں دھونے میں‘ وضو کرنے میں‘ کفایت شعاری سے کام نہیں لیا جاتا۔ دنیا کے کئی ملکوں میں بارش کا پانی گھروں میں جمع کیا جاتا ہے جو گاڑیاں دھونے اور باغبانی کے کام آتا ہے۔ کچھ ملکوں میں بیسن کا پانی فلش کی ٹینکیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اور عامل بہت اہم ہے۔ ہم سکولوں‘ کالجوں میں بالخصوص‘ اور عوام کو بالعموم‘ ترغیب ہی نہیں دے رہے کہ پانی کفایت شعاری سے استعمال کریں۔ لوگوں کو پانی کی قدرو قیمت کا احساس ہے نہ خبر! مستقبل کے خطرات سے بھی آگاہی نہیں! ہر سال چار ارب افراد‘ یعنی دنیا کی آبادی کا دو تہائی حصہ‘کم از کم ایک ماہ‘ پانی کی شدید کمی کا سامنا کرتا ہے۔ دو ارب افراد اُن ملکوں میں رہ رہے ہیں جو پانی کی قلت کا شکار ہیں۔2025ء تک دنیا کی آدھی آبادی پانی کی قلت کا سامنا کرے گی۔2030ء تک ستر کروڑ افراد کو پانی کی قلت کی وجہ سے اپنے اپنے علاقوں سے ہجرت کرنا پڑے گی۔2040ء تک ہر چار بچوں میں سے ایک بچہ اپنے علاقے میں پانی کی شدید کمی کا سامنا کرے گا۔ ان مصائب کا علاج اس کے سوا کوئی نہیں کہ مستقبل کی ضروریات سامنے رکھ کر مضبوط منصوبہ بندی کی جائے۔ پانی سے متعلق انفرا سٹرکچر پر توجہ دی جائے۔ نئے منابع تلاش کیے جائیں اور آن لائن ذرائع کو استعمال کر کے لوگوں کو پانی ضائع نہ کرنے کی تلقین کی جائے۔�یہ سطور لکھی ہی جارہی تھیں کہ ایک افسوسناک‘ انتہائی افسوسناک‘ خبر ملی۔ یہ کہ خیموں کی قیمتیں‘ مبینہ طور پر‘ بڑھا دی گئی ہیں۔ جو ہمارا‘ بطور قوم‘ کردار ہے اُس کے پیش نظر اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ ہم ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔رمضان میں کفار کے ممالک میں چیزیں مسلمانوں کے لیے ارزاں کر دی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں روزہ داروں کو نوچا اور بھنبھوڑا جاتا ہے۔ غیر مسلم ملک‘ اپنی عید‘ یعنی کرسمس‘ پر سیل لگاتے ہیں جوہمارے ہاں کی جعلی سیل نہیں ہوتی بلکہ اصل سیل ہوتی ہے۔ مگر یہاں عید پر جو مصنوعی مہنگائی کی جاتی ہے اس سے انسانیت شرما کر منہ چھپانے لگتی ہے۔ اس وقت جب ہولناک سیلاب نے قیامت برپا کی ہوئی ہے‘ اور بے گھر خاندانوں کو خیموں کی شدید ضرورت ہے‘ خیموں کی قیمتیں بڑھانا سنگدلی کی انتہا ہے۔ سفاکی‘ بذاتِ خود‘ اس رویے پر رو رہی ہو گی! دنیا سے ہم بھیک مانگ رہے ہیں اور خود متاثرین کی‘ جو زندہ ہیں‘ کھالیں کھینچ رہے ہیں! تُف ہے اس سوچ پر اور ہلاکت ہے اس مائنڈسیٹ پر! کوئی اور ملک ہوتا تو خیمے سستے کر دیے جاتے! کبھی کبھی ذہن میں بلبلہ اُٹھتا ہے کہ سعودی عرب میں کتنے عرصہ سے چائے کے کپ کی‘ پانی کی بوتل کی اور روٹی کی قیمت وہی ہے جو تھی۔ حرمین کے قرب و جوار میں کھانا کھائیں تو ایک فرد کا کھانا دو انسان آسانی کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔ مکہ مکر مہ میں تو‘ اکثر و بیشتر ریستورانوں میں‘ زردہ ساتھ مفت دیتے ہیں۔ لوگوں کی اتنی تعداد اگر ہمارے ملک میں آ جائے تو ہم تو ناروا منافع خوری کی دھن میں باؤلے ہی ہو جائیں۔ وہی کچھ کریں جو رمضان میں اور عید پر اپنے ہم وطنوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ کچھ وڈیروں نے اپنی زرعی زمینیں بچانے کے لیے‘ پانی کا رُخ آبادیوں کی طرف موڑ دیا ہے۔ یقین نہیں آتا کہ انسان پستی کے اس درجے تک گر سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ خبریں درست ہیں تو ایسے لوگ زندگی ہی میں اس ظلم کا نتیجہ بھگتیں گے۔ قدرت کے قوانین کسی جاگیردار کے لیے تبدیل ہوتے ہیں نہ کسی صنعتکار کے لیے نہ کسی حکمران کے لیے۔ بدی کا بدلہ بدی ہی سے ملے گا۔ نظیر اکبر آبادی یاد آگئے؎

دنیا عجب بازار ہے کچھ جنس یاں کی سات لے�نیکی کا بدلہ نیک ہے بد سے بدی کی بات لے�میوہ کھلا میوہ ملے پھل پھول دے پھل پات لے�آرام دے آرام لے دکھ درد دے آفات لے
�ہم‘ شاید‘ من حیث القوم‘ تضادات اور اضداد کا مجموعہ ہیں۔ ہم میں سے کچھ‘ سیلاب زدگاں پر سب کچھ نچھاور کرنے پر تیار ہیں۔ لوگ اپنی قیمتی رضائیاں اور گراں بہا پوشاکیں ایسے مواقع پر دے دیتے ہیں۔ مگر ہم میں سے کچھ اپنا پیٹ بھرنے کے لیے انسانی جسم سے گوشت تک کاٹ لینا چاہتے ہیں! آخر ہم کیسی قوم ہیں! آسمانوں پر فرشتے بھی حیران و پریشان ہوں گے!
بشکریہ روزنامہ دنیا

Saturday, August 27, 2022

اپنے اپنے تیمور

اپنے اپنے تیمور


ایئر پورٹ سے واپسی پر سب سے پہلے نظر اُس بڑے سے شاپنگ بیگ پر پڑی جس میں وہ اپنا ''سامان‘‘ ٹھونستا رہا تھا۔

اپنے خیال میں وہ اپنی پیکنگ کر رہا تھا۔ کانپتے ہاتھوں سے شاپنگ بیگ کو پکڑا۔ اندر جھانکا۔ کھلونے، ریموٹ کنٹرول۔ رنگین پنسلیں،ہائی لائٹر، خالی ڈبّے، بیٹریوں کے سیل، پرفیوم کی ایک خالی شیشی، مختلف قسم کی چابیاںیہ تھا سامان اُس چھ سالہ مسافر کاچھ سالہ تارکِ وطن کاوہ مصر تھا کہ اسے ساتھ لے کر جائے گا‘ مگر بچوں کی سنتا کون ہے؟ دادا، دادی نے سب سے پہلے اٹیچیکیس میں اس کا سامان رکھنا تھا مگر یہ تو ماں باپ تھےماں نے کڑے لہجے میں فیصلہ سنایا کہ اس کاٹھ کباڑ کی گنجائش نہیںہےکاٹھ کباڑ؟؟؟؎

محبت ہے اور اک دیوان ہے اور ایک چھاگل

یہ سامانِ سفر ہے، مرو سے رَے جا رہے ہیں

شاپنگ بیگ اٹھایا، نہ معلوم آنسو کہاں سے آ گئےاحتیاط سے، کمال احتیاط سے، کپڑوں والی الماری میں رکھا۔ جب بھی جانا ہوا، لےکر جائوں گا اور امانت اس کے مالک کے سپرد کروں گا!

ایک ماہ اس کا قیام رہا!؎

یوں گزرا وہ ایک مہینہ 

جیسے ایک ہی پَل گزرا تھا

جیسے ہر روز روزِ عید تھا، ہر شب شبِ براتناشتہ کرنے کے بعد ہم اکثر اُس تین منزلہ پارک میں چلے جاتے جو گھر کے قریب تھا اوراس کی پسندیدہ جگہوں میں سے ایکپہلے ہم نیچے پورا چکر لگاتے۔ یہاں پرندے تھے اور کچھ جانورپھر گھاس کی روشوں پر چہلقدمی کرتے۔ واک کا اسے اتنا ہی شوق ہے جتنا ایک بڑی عمر کے سنجیدہ شخص کو ہو سکتا ہےفوارے چل رہے ہوتے تو ان کا نظارہکرتےپھر وہ بھاگتے بھاگتے، آگے آگے، سیڑھیاں چڑھتا اور اوپر کی منزل پر جا پہنچتا۔ پیچھے پیچھے میںاس کی رفتار کا ساتھدینے کی کوشش کرتا ہوا۔ اوپر کی دونوں منزلوں پر مصنوعی گھاس لگی ہوئی ہے۔ اِدھر اُدھر کوئی کوڑا کرکٹ نظر آتا تو کمنٹ ضروردیتا... ''یہ کتنے گندے لوگ ہیں جو کوڑا ڈسٹ بِن میں نہیں ڈالتے‘‘۔ شام کو اکثر ڈیفنس کلب یا اسلام آباد کلب کا چکر لگتا۔ کچھ وقتوہ ان ڈور کھیلوں والے کمرے میں گزارتا۔ پھر ہم کچھ کھاتے پیتےجن دنوں اس کے کزن بھی آئے ہوئے ہوتے، خوب ہنگامہ رہتا!؎

پوتوں، نواسیوں کے چمن زارواہ واہ!

اولاد پر بہشت کے میوے لگے ہوئے

دن کا کچھ وقت وہ گھر کی اوپر کی منزل پر ضرور گزارتا۔ وہاں کوئی نہ ہوتا سوائے اُس کے، نہ معلوم کیا کرتا رہتا۔ گمان غالب یہ ہےکہ اپنا ''سامان‘‘ تھیلوں اور شاپنگ بیگوں میں پیک کرتا رہتا۔

اصل مزا رات کو آتا۔ اوّل تو سونے کو اُس کا دل نہ کرتا۔ کوشش اس کی یہی ہوتی کہ جتنا وقت کھیل کود میں، مٹر گشت میں،ترپوسیاں لگاتے گزر جائے، اتنا ہی اچھا ہےماں یا باپ دانت صاف کرنے، کپڑے بدلنے اور سونے کا کہتے تو ہر ممکن حد تک اِنکارہائے گراں کو ٹالنے کی کوشش کرتا۔ پھر میں اسے یاد دلاتا کہ سونے سے پہلے کہانی بھی سننی ہےبستر پر آ کر، پہلے ایک بارگلے لگتا، پھر کہتاکہانی سنائیںہمارے بہت سے خیالی کردار ہیںٹِکلُو، پنٹو (Pinto) پنٹو کا کزن ٹونکا، کِٹ کِٹ، کئی بار سوچا کہان سخت دلچسپ Spell binding قسم کی کہانیوں کو ضبطِ تحریر میں لا کر شائع کر دیا جائے تاکہ دوسروں کے پوتے، نواسے بھیمحظوظ ہو سکیں مگر اے بسا آرزوکہ خاک شدہکارہائے بے مصرف کا ہجومکاہلی کی آہنی گرفت اور مزاج میں شہنشاہ ہمایوںجیسا تلوّن!! زیرِ تصنیف خود نوشت بھی انہی مسائل کا شکار ہے!

اکثر و بیشتر وہ پِنٹو کی کہانیوں کی فرمائش کرتا۔ پنٹو ہمارے کرداروں میں سب سے زیادہ شریر اور ناقابلِ اعتبار ہےبہت ماہ پہلے،آسٹریلیا میں اسے کہانی سنائی جس میں پنٹو اپنی بائیسکل پر میلبورن سے پاکستان روانہ ہوتا ہے۔ آسٹریلیا سے بحری جہاز کےذریعے انڈونیشیا پہنچتا ہے، پھر ملائیشیا۔ تھائی لینڈ پہنچ کر وہ مصیبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ سائیکل چوری ہو جاتی ہے۔ اس کےبعد کا سفر جان جوکھوں کا ہے۔ کئی ماہ کے بعد اس نے کہانی لفظ بہ لفظ سنا دی۔ حافظہ کمال کا ہے۔ جو کہانی رات کو سنتا ہے،دوسرے دن، تمام جزئیات کے ساتھ ماں کو سناتا ہےہمارے دوست جناب ہارون الرشید ناموں کے حوالے سے بہت حساس ہیں۔ اس کانام تیمور سنا تو کہاتیمور نے کون سے اچھے کام کیے تھےخیرکچھ اچھے بھی یقینا کیے ہوں گےکم از کم حافظ شیرازی کو توکوئی سزا نہیں دیاُس کا شعر جب سنا ؎

اگر آن ترک شیرازی بدستِ آرد دلِ ما را

بخالِ ہندواش بخشم سمرقند و بخارا را

تیمور کو شکوہ تھا اور غصّہ کہ دنیا بھر سے کاری گر، نقاش، معمار، آہن گر اور شیشہ ساز اکٹھے کر کے اس نے سمر قند اور بخاراکو بہترین شہروں کی صورت بخشی اور یہ تہی دست، بے مایہ شاعر ایک تِل کے بدلے اپنے محبوب کو دے رہا ہےمگر جب حافظؔ نےبتایا کہ اپنی غلط بخشیوں نے تو اسے اس حال تک پہنچایا ہے تو تیمور حاضر جوابی سے محظوظ ہوا!

کم از کم تیمور کا حافظہ میرے تیمور جتنا حیران کُن ضرور ہو گا۔ ہو سکتا ہے اِس سے کچھ کم ہی ہو!! ناموں کے حوالے سے اس کالمنگار کے نزدیک دو صفات ہی ضروری ہیںصوتی تاثّر خوشگوار ہو اور مشکل نہ ہو۔ سننے والا یہ نہ پوچھے کہ کیا کہا؟

میرے پاس سونے میں اور سونے سے پہلے کہانی سننے میں تعطّل اُس وقت آیا جب لاہور سے اس کی ماہ وش پھپھو آ گئی جسے اسکے بھتیجے بھتیجیاں ماش پھپھو کہتی ہیں۔ ماش پھپھو کا نقصان مجھے یہ ہوتا ہے کہ جان چھڑکنے والی پھپھو بچوں کو عجیب غیرمرئی گرفت میں لے لیتی ہےجس دن وہ پہنچی ہے، اُس دن، رات کو تیمور سے کہا کہ چلیں کہانی سُن کر سوئیں تو آنکھیں جیسےماتھے پر رکھ لیں۔ جا کر بازو، پھپھو کی گردن میں حمائل کر دیئے اور کہامیں نے آپ کے پاس سونا ہے!

روانگی سے پہلے، قیام کے آخری ایام میں اس پر بھی میری طرح ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے۔ کبھی کہتا‘ میں یہیں رہنا چاہتاہوں۔ کبھی کہتا‘ آپ کو بہت مِس کروں گاایئر پورٹ کے ریستوران میں بیٹھے تھے کہ آیا اور کہنے لگا‘ مجھے واک کرائیں۔ ہم نے ایئرپورٹ کے برآمدوں، چائے خانوں اور لائونجوں میں واک کیجاتے وقت گلے ملا اور کہاآپ نے جلدی آنا ہےیوں جیسے چھ ساڑھے چھبرس کا نہیں، اپنی عمر سے بہت آگے ہے!!

ایک زمانہ بحری جہاز فراق کا استعارہ تھے۔ عاشق سفر پر نکلتے تو کہتے؎

سمندروں کے سفر پر نکل رہا ہے کوئی

نہ دیکھنا دمِ رخصت پُر آب آنکھوں سے

پھر کفّار نے ریل ایجاد کی۔ مدتوں ریل جدائی کی علامت رہی؎

وہ رینگنے لگی گاڑی وہ ہاتھ ہلنے لگے

وہ رنگ رنگ کے آنکھوں میں پھول کھِلنے لگے

عالمی جنگوں میں برِّصغیر کی مائوں کے بچے ٹرینوں میں بھر بھر کر دساور لڑنے کے لیے بھیجے گئے۔ مگر قیامت تو ہوائی جہاز نےبرپا کیاب عشاق نہیں، معشوق رخصت ہونے لگے؎

جہازاں تے چڑھ گئے او

مار کے باریاں

اَنّھے ہنیرے کر گئے او

یہ ایک تیمور، ایک حمزہ اور ایک اظہارالحق کی کہانی نہیںیہ ہر گھر کی کہانی ہےہر دادا کا تیمور، ہر نانا کا حمزہ سمندر پارہےکانپتے رعشہ زدہ ہاتھ، جھکی کمریں، کمزور بصارتیں، بے رحم ایئر پورٹوں پر اپنے اپنے تیمور، اپنے اپنے حمزہ، اپنی اپنی زہرا کورخصت کرتی ہیںآنسو چھلک چھلک آتے ہیں۔ بوجھل تھکے تھکے قدموں سے بابے گھروں کو پلٹتے ہیں۔ 

کوئی آنسو رخساروں پر بہاتا ہے اور کوئی اندر دل کے رخساروں پر... کہنے کو کرۂ ارض، دوسرے سیاروں کی نسبت چھوٹا ہے مگر اُنسے پوچھو جن کے پارہ ہائے جگر دُوریوں کی زد میں ہیں؎

بیٹے اِسی زمین پہ رہتے رہے مگر

حائل ہمارے بیچ سمندر بہت رہا


ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ دوسرے ملکوں سے لوگ ملازمتیں ڈھونڈنے ہمارے ہاں آیا کریں گےبلا سے دوسرے نہ آئیں، ہمارے اپنےجگر کے ٹکڑے تو واپس آ جائیں، مگر کیسے واپس آئیں۔ میرٹ اب بھی عنقا ہےسفارش اب بھی راج کر رہی ہےاقربا پروری اب بھیاہل کو ملک سے باہر جانے پر مجبور کر رہی ہے تا کہ نااہل کی چاندی ہو جائےکبھی ڈاکٹروں کو پیٹا جاتا ہے کبھی پروفیسروں کوسائنسدان کی اتنی بھی عزت نہیں جتنی پٹواری کی ہے یا ایس ایچ او کی یا سیکشن افسر کیایشین ٹائیگر نہ بنیں ایشین خرگوشیا ایشین بلّی ہی بن جاتے۔ ایسا ماحول ہوتا، ایسے حالات ہوتے کہ باہر گئے ہوئوں (Brain drain) کی واپسی ہو جاتیتب تکایئرپورٹوں سے آنسو بہاتے، واپس آتے رہیےاور آ کر اپنے اپنے تیمور کے کھلونے جمع کرکے، سنبھال کر رکھتے رہیے؎

نشاں کہیں بھی نہ تھے اُس کی انگلیوں کے مگر

میں گھر کی دیکھ کے ایک ایک چیز رویا تھا

 

powered by worldwanders.com