Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, May 19, 2022

چوگان


شہر میں چوگان کا میچ تھا۔ ایک عزیز، جو مدعو تھے، ساتھ لے گئے!
گھوڑے دوڑ رہے تھے۔ ایالیں ان کی بندھی ہوئی تھیں جیسے عورتوں کی چوٹیاں! سوار، پاؤں جن کے رکابوں میں تھے، زینوں پر اُٹھتے تھے، پھر بیٹھتے تھے، پھر اٹھتے تھے۔ سبزہ، گرد کو روکے تھا ورنہ وہی حال ہوتا جو نظامی گنجوی نے سکندر کی لڑائی کا بیان کیا ہے: 
ز سمِّ ستوران دران پہن دشت
زمین شش شد و آسمان گشت ہشت
گھوڑوں کے سُموں سے میدانِ جنگ میں اتنی گرد اٹھی کہ زمین گرد بن کر آسمان کی طرف اُٹھ گئی۔ یوں زمینیں سات کے بجائے چھ رہ گئیں اور آسمان سات کے بجائے آٹھ ہو گئے!
آنکھیں چوگان دیکھ رہی تھیں۔ ذہن انار کلی میں پھر رہا تھا۔ یونیورسٹی کی طرف سے انار کلی میں داخل ہوں۔ لوہاری کی طرف چلیں۔ راستے میں دائیں طرف جانے والی ایک گلی میں وہ شخص مٹی اوڑھ کر سو رہا ہے جسے لاہور بہت پسند تھا۔ جو لاہور کا دلدادہ تھا۔ گلابی جاڑوں کی ایک دوپہر تھی جب چوگان کھیلتے ہوئے آٹھ سو بارہ سال پہلے قطب الدین ایبک گھوڑے سے گرا۔ زین کا فتراک سینے میں پیوست ہو گیا اور جان بدن سے پرواز کر گئی۔ زندگی بھی کیا چیز ہے! ترکستان میں شروع ہوئی۔ نیشا پور کے بازار میں غلام بن کر فروخت ہوا۔ موت بھی کیا شے ہے! لاہور میں آئی جب وہ پورے شمالی ہند کا بادشاہ تھا۔ 
چوگان اصلاً وسط ایشیا کے قبائل کا کھیل تھا۔ کھیل بھی اور اس بہانے جنگ کی تربیت بھی۔ قبل مسیح میں چوگان ایران پہنچا جہاں اس کی خوب پذیرائی ہوئی۔ اعلیٰ طبقات نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ بادشاہوں نے لشکر میں متعارف کرایا۔ یوں یہ اہلِ فارس کا قومی کھیل بن گیا۔ فردوسی سے لے کر بعد کے شعرا تک سب نے اسے اشعار میں باندھا۔ چلیے یہاں ایک وضاحت کیے دیتے ہیں۔ ارے بھئی! یہ چوگان وہی ہے جسے آج کل پولو کہا جاتا ہے۔ اصل میں وہ ہاکی نما سٹک، یا ڈنڈا، جس سے گھُڑ سوار، بال کو مارتا ہے، اُسی کو چوگان کہتے ہیں۔ ہاکی نما سے زیادہ اسے ہتھوڑا نما کہا جا سکتا ہے۔ ایران کے شاعروں نے خم کھاتی زلف کو چوگان سے تشبیہ دی‘ اور عاشق کے دل کو گیند یعنی بال سے! کبھی اپنے آپ کو بال بنا لیا۔ سعدی نے کہا:
آن کہ دل من چو گوی در خم چوگان اوست
یعنی میرا دل گیند کی طرح ہے اور اس کے چوگان کے خم کی دسترس میں ہے۔
بوستانِ سعدی میں محبت کی ایک کہانی ہے۔ ہمارے ہاں محبت کی دو تین کچی پکی Teen ager ٹائپ نظمیں لکھ کر شاعر ہوا میں اڑے پھرتے ہیں۔ کبھی رومی، سعدی، سنائی، صائب، طالب آملی اور ابو طالب کلیم کو پڑھ کر دیکھیے۔ معلوم ہو گا کہ شاعری کسے کہتے ہیں اور محبت کی نظم کیسے کہی جاتی ہے۔ سعدی اس کہانی میں لکھتے ہیں:
بگفت ار خوری زخمِ چوگانِ او
بگفتا بپایش در، افتم چو گو
پوچھا گیا اگر تمہیں محبوب کے چوگان سے زخم لگ گیا تو کیا ہو گا؟ جواب دیا میں اس کے پاؤں میں گیند کی طرح پڑ رہوں گا۔
عرفان و تصوف کے حوالے سے بھی شعرا نے چوگان کی علامت سے خوب فائدہ اٹھایا۔ چوگان تقدیر کی طرح ہے جس کے سامنے ہم گیند سے بڑھ کر کچھ نہیں! رومی کہتے ہیں:
پیشِ چوگانہایِ حکمِ کُن فکان
می دویم اندر مکان و لا مکان
اس کا کن فیکون کا حکم تو چوگان ہے جس کے سامنے ہم مکان اور لا مکان کے اندر گیند کی طرح لڑھک رہے ہیں۔
قصہ مختصر، چوگان نے ایران کے بادشاہوں کو نہال کیا اور شاعروں کے کلام میں رچ بس گیا۔ ( ہمارے دوست پروفیسر ڈاکٹر معین نظامی چاہیں تو فارسی ادب کے طلبہ سے ایک تحقیقی مقالہ فارسی ادب میں چوگان کے موضوع پر لکھوا سکتے ہیں) پھر یہ کھیل ایران سے نکلا۔ مغرب میں قسطنطنیہ پہنچا۔ مشرق میں ہنزہ، لداخ اور تبت، وہاں سے جاپان اور جنوب میں ہندوستان وارد ہوا۔ ترک سلاطین اسے ہندوستان ساتھ لائے۔ قطب الدین ایبک کا احوال آپ نے اوپر پڑھا۔ خلجی، تغلق، لودھی سب اس کے شائق تھے‘ مگر اکبر نے اسے سرکاری سرگرمیوں کا لازمی حصہ بنا دیا۔ شاہی خاندان کے افراد کے علاوہ، وزرا، عمائدین اور بیوروکریٹس کی یہ کھیل کھیلنے کے لیے حوصلہ افزائی کی گئی۔ اکبر نے اس کے قوانین ترتیب دیے۔ ڈنڈوں کے دستوں پر چاندی اور سونے کے دستے لگائے گئے۔ دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ چوگان رات کو کھیلنے کے لیے اکبر نے چمکدار گیند ایجاد کی۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ پالاش نامی درخت کی لکڑی رات کو روشن کی جاتی تھی تا کہ چوگان کا میچ کھیلا جا سکے۔ یہ درخت بہار اور جھاڑ کھنڈ سے نکلا اور بنگال آسام سے ہوتا ہوا کمبوڈیا، ویت نام اور ملائیشیا تک پہنچ گیا۔ اسے جنگل کا شعلہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے پھول بھڑکتے ہوئے شعلے کی طرح ہوتے ہیں۔ ڈھاک اور تیسو بھی اس کے نام ہیں۔ کیا اکبر نے پالاش درخت ہی کی لکڑی سے چمکدار بال ایجاد کیا تھا یا محض پالاش کی لکڑی رات کو روشنی کے لیے جلائی جاتی تھی؟ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا‘ نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کہ اسے اردو اور پنجابی میں کیا کہتے ہیں۔ بہر طور مغلوں کے عہد میں چوگان ثقافت کا ایک اہم حصہ تھا۔ اکبر کا ایک قریبی درباری میر شریف قزوینی چوگان کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گر کر مر گیا۔ اکبر نے اس کا مقبرہ بہت اہتمام سے تعمیر کرایا۔ مغل عہد کی منی ایچرز یعنی مصوری میں چوگان کے میچ عام دکھائی دیتے ہیں۔ مغل دربار کے مشہور مصور عبدالصمد نے چاول کے دانے پر چوگان کا پورا میدان دکھایا جس میں تماشائی بھی دکھائی گئے، گھوڑے بھی اور کھلاڑی بھی!
مغلوں کے زوال کے ساتھ ہی چوگان پر بھی زوال آگیا۔ اس لیے کہ گھوڑوں کے بجائے پالکیاں آ گئیں اور چوگان پالکیوں پر کھیلنا ممکن نہ تھا۔ اب مغل مرغ بازی اور کبوتربازی میں مگن ہو گئے۔ اب علاقوں کے بجائے باورچی فتح ہونے لگے اور مقابلے شطرنج اور مشاعروں کے ہونے لگے۔ پھر انگریز آ گئے۔ اب چوگان نے انگڑائی لی۔ اس نے ہیٹ کوٹ پہنا اور چوگان سے پولو بن گیا۔ چوگان کا یہ ولایتی دور بھی خاصا دلچسپ ہے۔ ہندوستان کی سب سے مشرقی ریاست منی پور میں، جو برما کی سرحد پر ہے، انگریز وں نے چائے کے باغات لگائے۔ وہاں انہوں نے مقامی لوگوں کو پولو کھیلتے دیکھا تو اسے اپنا لیا۔ کلکتہ میں 1862ء میں پولو کلب بنا جو دنیا کا قدیم ترین پولو کلب ہے۔ سات سال بعد پولو کا کھیل برطانیہ پہنچا اور پھر وہاں سے دنیا بھر میں پھیل گیا۔
پاکستان کے شمالی علاقے پولو کا گڑھ ہیں۔ دن کے کسی بھی وقت خپلو جائیں یا شگر یا کسی اور شہر میں، پولو کھیلا جا رہا ہو گا۔ چترال میں شیندور کا سالانہ میلہ پوری دنیا میں مشہور ہے۔ اسے دنیا کا بلند ترین پولو کلب کہہ لیجیے۔ گلگت بلتستان اور چترال کی ٹیموں کے درمیان یہ مشہور عالم میچ ہر سال جولائی میں کھیلا جاتا ہے۔ یہ سرگرمی سکردو کے راجہ علی شیر خان نے 1935ء میں شروع کرائی تھی۔ شیندور کی مرکزی سرگرمی تو پولو میچ ہی ہوتا ہے مگر ساتھ ساتھ لوک موسیقی اور رقص کا بھی بھرپور مظاہرہ ہوتا ہے۔ اگر آپ نے یہ میلہ ابھی تک نہیں دیکھا تو پاکستان کی ایک انتہائی خوبصورت جھلک سے آپ ابھی تک محروم ہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا 

Tuesday, May 17, 2022

صرف دو ماڈل راس آسکتے ہیں


مرزا غالب کسی کے ہاں‘ کچھ روز قیام کرنے‘ تشریف لے گئے۔ غالباً کوئی نواب صاحب تھے۔ مرزا کے قیام کے دوران ہی نواب صاحب کا کہیں جانے کا پروگرام بن گیا۔ انہوں نے جاتے ہوئے مرزا سے کہا ''اللہ کے حوالے‘‘۔ مرزا کہاں چوکنے والے تھے۔ برجستہ جواب دیا ''اللہ نے آپ کے حوالے کیا تھا‘آپ پھر اللہ کے حوالے کر رہے ہیں‘‘۔
ہم نے پیپلز پارٹی ‘ مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ قاف سے تنگ آکر عمران خان کو ووٹ دیا تھا کہ ان پرانے حکمرانوں سے جان چھوٹے گی۔ مگر عمران خان ہمیں پھر انہی حکمرانوں کے حوالے کر کے یہ جا ‘ وہ جا! ایسا ہماری تاریخ میں پہلی بار نہیں ہوا۔ جنرل ضیا الحق دس سال حکمرانی کر گئے تو بھٹو صاحب کی مہربانی سے! ضیا الحق سینئر ترین جرنیل نہیں تھے۔ بھٹو صاحب انہیں نیچے سے اوپر لائے۔پھر جو کچھ ہوا‘ آج تک قوم بھولی ہے نہ پیپلز پارٹی! جنرل مشرف کے اقتدار کی ذمہ داری میاں نواز شریف پر عائد ہوتی ہے۔ میرٹ کو پسِ پست ڈال کر میاں صاحب نے انہیں سپہ سالار مقرر کیا اور پھر نہ صرف بھگتا بلکہ خوب خوب بھگتا۔ اب جو پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن) ‘ جے یو آئی اور دیگر پارٹیاں تخت نشین ہوئی ہیں تو اس مراجعت کی ذمہ داری سو فیصد عمران خان پر عائد ہوتی ہے۔ عمران خان کو حکومت ملی تو آئیڈیل ترین حالات تھے۔ طاقتور ادارے ان کے ساتھ تھے‘ الیکٹ ایبلز ساتھ تھے‘ ایم کیو ایم ساتھ تھی‘ بلو چستان والے ساتھ تھے‘ مسلم لیگ (ق) ساتھ تھی۔ اگر عمران خان عقلمندی سے‘ حوصلے سے‘ برداشت سے‘ رواداری سے اور بردباری سے کام لیتے اور ایک خودسر نوجوان بننے کے بجائے ایک متحمل مزاج بزرگ بن کر حکمت کو بروئے کار لاتے تو آج بھی حکمران ہوتے! حکمرانی کیلئے بڑا دل چاہیے۔ سکندر اعظم کے استاد ‘ ارسطو‘ نے اسے نصیحت کی تھی کہ جن علاقوں کو فتح کرو‘ انہیں ان کے سابقہ حکمرانوں ہی کے سپرد کرو۔ وہ ہمیشہ تمہارے وفادار رہیں گے۔ یہ کام بظاہر تو آسان ہے مگر حقیقت میں اس نصیحت پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔ ایک دشمن ہے جو آپ سے لڑا۔ آپ شکست کھا جاتے تو امکان تھا کہ وہ آپ کو قتل کر دیتا‘ مگر اب وہ مفتوح ہے اور آپ فاتح! آپ کا دل چاہتا ہے اسے موت کے گھاٹ اتاردیں‘ یا زندان میں پھینک دیں! مگر استادِ گرامی فرماتے ہیں کہ اسے مفتوحہ علاقے کا حکمران رہنے دیں! ارسطو کی دور اندیشی کے کیا کہنے ! احسان کا قلاوہ ہمیشہ اس کی گردن میں رہے گا۔ سر ہمیشہ بارِ احسان سے جھکا رہے گا! مغلوں نے‘ اور ان سے پہلے سلاطینِ ہند نے یہی گُر آزمایا اور کامیاب رہے۔ دانا وہ ہوتا ہے جواپنے دشمنوں کی تعداد کم کرے اور دوستوں کی تعداد زیادہ کرے۔ اس کیلئے وسعتِ قلب درکار ہے۔ سعدی نے کہا تھا :
شنیدم کہ مردانِ راہِ خدا
دلِ دشمنان ہم نہ کردند تنگ
ترا کَی میسّر شود این مقام
کہ با دوستانت خلاف است و جنگ
اللہ کے برگزیدہ بندے تو دشمنوں کا دل بھی نہیں دکھاتے تھے۔تمہارا یہ حال ہے کہ دوستوں سے بھی کھٹ پٹ ہے اور لڑائی!
عمران خان صاحب نے اقتدار سنبھالا تو ان کے نقطہ نظر سے حالات انتہائی موافق تھے۔جسے اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے‘ ساتھ تھی‘ عدلیہ وہ تھی جس نے پانامہ کیس میں فیصلہ دیا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر کی انہوں نے خود تعریف کی۔ اپوزیشن منتشر تھی مگر عمران خان صاحب نے ایک ایک کو اپنا مخالف کیا۔ اپوزیشن کو تسلیم ہی نہ کیا۔ چلیے شہباز شریف سے ہاتھ نہ ملاتے‘ کسی کو تو خاطر میں لاتے۔ حالت یہ تھی کہ کراچی جاتے تو وزیراعلیٰ کو خبر ہی نہ ہوتی۔یہ ایک ایسی حکومت تھی جس میں کسی حزبِ اختلاف کا وجود‘ کسی صورت میں قابلِ قبول نہیں تھا۔
اب آئیے ان کے اپنے ساتھیوں کی طرف۔ ان کے ساتھ کیا برتاؤ رہا۔ فرض کیجیے علیم خان کو پنجاب کا وزیر اعلی بنا دیتے اور جہانگیر ترین کو جنوبی پنجاب کے امور کا انچارج مقرر کر دیتے تو ان کا کیا جاتا ؟ صوبہ مضبوط ہاتھوں میں ہوتا۔ مگر خان صاحب اپنے اُن ساتھیوں سے بھی خائف تھے جن میں کچھ دم خم تھا۔انہوں نے ایک کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ چنا جو‘ان کے سامنے تو کیا‘ کسی کے سامنے بھی بات نہیں کر سکتا تھا۔ ایک عرصہ تک یہ راز راز ہی رہا کہ بزدار کس کی دریافت تھے۔ اب یہ حقیقت عام ہوئی ہے‘ سنتا جا شرماتا جا ! اگر اقتدار سنبھالتے وقت خان صاحب کے دوستوں کی تعداد کا اُس تعداد سے موازنہ کریں جو اقتدار کے آخری ایام میں تھی تو ایک عبرتناک صورت حال سامنے آتی ہے۔ جہانگیر ترین‘ علیم خان‘ عون چوہدری‘ محسن بیگ‘ احمد جواد ، یہ تو برگشتگان میں سے وہ نام ہیں جو زبان زدِ خاص و عام ہیں۔ کتنے ہی ایسے افراد ہیں جن کے نام ظاہر نہیں ہوئے۔
قاضی حسین احمد مرحوم کبھی کبھی کالم لکھتے تھے اور افغان جنگ کے رازوں سے ‘ دانستہ یا نا دانستہ‘ کچھ پردے اٹھاتے تھے۔ ایک بار انہوں نے لکھا کہ اگر ملا عمر کی ساری باتیں مان بھی لی جائیں اور وہ دوبارہ اقتدار میں آ بھی جائیں تب بھی ‘ ان کا جو مزاج ہے اور ان کی جو افتادِ طبع ہے‘ اس کے پیش نظر ان کا کسی کے ساتھ گزارہ مشکل ہو گا۔ یہ الفاظ کالم نگار کے ہیں۔ ان کے الفاظ یاد نہیں مگر مفہوم سو فیصد یہی تھا۔ قاضی صاحب مرحوم کے یہ الفاظ اس لیے اہم تھے کہ وہ سیکولر تھے نہ طالبان کے مخالف۔ یہ ان کی جچی تلی دیانت دارانہ رائے تھی۔ کچھ ایسی ہی صورتحال عمران خان صاحب کے ساتھ بھی ہے۔ فرض کیجیے وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں۔یہ بھی فرض کیجیے کہ راولپنڈی میں سب کچھ ان کی منشا کے مطابق ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو وہ خود نامزد کرتے ہیں۔ عدلیہ ان کے ساتھ ایک پیج پر ہے۔ اپوزیشن میں شریف ہیں نہ زرداری! آپ کا کیا خیال ہے کہ ان کی حکومت آرام سے چلتی رہے گی؟ نہیں ! ان کا جو مزاج ہے اور ان کی جو افتادِ طبع ہے‘ وہ انہیں نہیں چلنے دے گی۔ صرف ایک صورت میں وہ خوش رہیں گے۔اور وہ صورت یہ ہو گی کہ ان کے ساتھ کوئی بھی رمق بھر اختلاف نہ کرے۔سب موم کے پتلے ہو جائیں۔ کسی نے اختلاف کیا تو خان صاحب کیلئے ناقابلِ قبول ہو گا۔ اگر اپوزیشن بالکل ضعیف‘ یتیم اور بے زبان ہو تب بھی وہ اس کے ساتھ بیٹھیں گے نہ ہاتھ ملائیں گے۔ شریف اور زرداری تو ان کے بقول چور تھے‘ سندھ کا وزیر اعلیٰ تو چور ڈاکو نہیں تھا۔ کیا کراچی کے کسی دورے میں وہ انہیں ملنے کیلئے آمادہ ہوئے؟
لکھ لیجیے کہ عمران خان صاحب کو صرف دو ماڈل راس آسکتے ہیں۔ ایک شمالی کوریا ماڈل۔ دوسرا ایم بی ایس ماڈل۔یہ ایسے ماڈل ہیں جن میں حزب اختلاف ہے نہ عدلیہ !چیف الیکشن کمشنر ہے نہ کوئی اور! یعنی
حجرے شاہ مقیم دے اک جٹی عرض کرے
میں بکرا دیواں پیر دا جے سر دا سائیں مرے
ہٹی سڑے کراڑ دی جتھے دیوا نِت بلے
کُتی مرے فقیر دی‘ جیڑی چَؤں چَؤں نت کرے
پنج ست مرن گوانڈھناں‘ رہندیاں نوں تاپ چڑھے
گلیاں ہو جان سنجیاں‘ وچ مرزا یار پھرے

Monday, May 16, 2022

ہے کوئی جو اس قتلِ عام کو رکوائے


خاندان کے خاندان ختم ہو رہے ہیں۔ لوگ دن دہاڑے قتل کیے جا رہے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ریاست بے نیاز ہے۔ حکومتی ترجیحات کی فہرست میں عوام کی جان و مال کی حفاظت دکھائی نہیں دیتی۔ پولیس لاتعلق ہے۔ منتخب ایوان اس ضمن میں قانون سازی نہیں کر رہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس خونخوار سفاکی کو سنجیدگی سے لے نہیں رہیں! نتیجہ یہ ہے کہ روک ٹوک کوئی نہیں۔ قاتل دندناتے پھرتے ہیں۔ لوگ مارے جارہے ہیں۔ لوگ ہلاک کیے جا رہے ہیں۔ لوگ ختم ہو رہے ہیں۔ لوگ اپنے پیاروں سے محروم ہو رہے ہیں۔ یتیموں اور بیواؤں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شاید آہیں آسمان تک جا نہیں پا رہیں۔
منتخب ایوانوں کو اگر عوام کی حالت کا احساس ہوتا اور قوم کا درد ہوتا تو قومی اسمبلی کا یاکسی صوبائی اسمبلی کا کوئی رکن تو کھڑا ہو تا اور حکومت سے پوچھتا کہ گزشتہ پانچ سال یا دو سال‘ یا چلو ایک سال ہی میں‘ ٹریکٹروں‘ ٹرالیوں‘ ڈمپروں‘ آئل ٹینکروں اور واٹر ٹینکروں نے کتنے لوگ ہلاک کیے ہیں ؟ کسی منتخب ایوان کی اگر ریڑھ کی ہڈی ہوتی تو وہ اس قتلِ عام پر تشویش کا اظہار کرتا اور اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کرتا‘ مگر المیہ یہ ہے کہ وہ جو منتخب ایوانوں میں بیٹھے ہیں یا جن کے ذمے عوام کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری ہے‘ انہیں کبھی ان ڈمپروں‘ ان ٹرالیوں‘ ان ٹریکٹروں اور ان ٹینکروں کے ہاتھ نہیں لگے۔ ہاتھ لگیں بھی تو کیسے‘ یہ تو مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور مراعات یافتہ طبقے کے ارکان جہازی سائزکی لینڈ کروزروں میں سفر کرتے ہیں۔ ان کی گاڑیوں کے آگے پیچھے اسلحہ بردار گماشتے ہوتے ہیں۔کچھ گاڑیوں پر جھنڈے پھڑ پھڑا رہے ہوتے ہیں۔ ان شاہانہ سواریوں کو دیکھ کر ڈمپر‘ ٹریکٹر‘ ٹرالیاں اور ٹینکر دور ہی سے راستہ تبدیل کر لیتے ہیں۔بھیڑیے شیروں اور چیتوں پر کبھی حملہ نہیں کرتے۔ شیر اور چیتے تو خود چیرنے پھاڑنے والے ہیں اور مراعات یافتہ ہیں۔ بھیڑیے صرف نیل گائیوں‘ غزالوں‘ اور بکریوں پر حملہ کر کے انہیں ہلاک کرتے ہیں۔ڈمپر‘ ٹریکٹر‘ ٹرالیاں اور ٹینکر بھی چھوٹی گاڑیوں‘ موٹر سائیکلوں‘رکشاؤں‘ چنگ چیوں اور ویگنوں کو شکار کرتے ہیں۔ یہ چھوٹی گاڑیاں‘ چنگ چی اور ویگنیں عام لوگوں کی سواریاں ہیں۔ عام لوگوں کو ہلاک کرنے سے کوئی طوفان نہیں اٹھتا۔ کوئی قیامت نہیں آتی۔کسی قانون کے ماتھے پر شکن نہیں پڑتی۔ کوئی طاقت‘ از خود نوٹس نہیں لیتی ؎
نہ مدعی نہ شہادت‘ حساب پاک ہوا
یہ خونِ خاک نشیناں تھا‘ رزقِ خاک ہوا
صرف ایک دن کا سکور ملاحظہ کیجیے۔ فیصل آباد سمندری روڈ پر آئل ٹینکر نے رکشے کو ٹکر ماری اور اس میں سوار ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو چشم زدن میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس کے بیان کی رُو سے ٹینکر کا ڈرائیور تیز رفتاری کا مرتکب ہو رہا تھا۔ پانچ بے گناہ انسانوں کو ہلاک کرنے کے بعد‘ ٹینکر کا ڈرائیور بھاگ گیا۔ دوسری خبر کے مطابق حافظ آباد گوجرانوالہ روڈ پر ڈمپر نے دو مسافر ویگنوں کو ٹکر ماری۔ بارہ انسان مر گئے۔ آٹھ زخمی ہیں۔ یہ حادثہ بھی ڈمپر ڈرائیور کی تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔ مگر اس سے بھی کئی گنا زیادہ دردناک اور بھیانک خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ دونوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیاہے۔ دونوں حکمرانوں نے مرے ہوؤں کے لیے جنت کی اور پسماندگان کے لیے صبر کی دعا بھی کی ہے! سوال یہ ہے کہ کیا دعا کے بعدحکمرانوں کی ذمہ دار ی ختم ہو گئی ؟ افسوس اور دعا تو ان سب لوگوں نے کی ہو گی جنہوں نے خبر سنی یا جو تعزیت کے لیے آئے۔ آپ حکمران ہیں۔ آپ نے صرف افسوس اور دعا نہیں‘ سدِ باب بھی کر نا ہے۔ آپ نے دماغ کا اطلاق بھی کرنا ہے۔ ان گاڑی نما عفریتوں کے لیے راستے مخصوص کر نے ہوں گے یا سزائیں سخت کرنا ہوں گی یا وحشی‘ان پڑھ‘ جلاد صفت ڈرائیوروں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا۔ قانون سازی کرنا ہو گی۔
کراچی میں صورتحال ابتر ہے۔ سال ِرواں کے پہلے چار ماہ کے دوران ٹریفک کے جتنے حادثات ہوئے ان میں سے نصف سے زیادہ کے ذمہ دار ڈمپر‘ٹرالر اور ٹینکر تھے۔ 22 مارچ کو شاہراہ فیصل پر ایک شخص اپنی دو چھوٹی بیٹیوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ ایک سیمنٹ مکسر نے تینوں کو کچل دیا۔ داؤد چورنگی کے پاس ایک واٹر باؤزر‘ یعنی پانی والے ٹینکر کی بریکیں فیل ہو گئیں اور وہ دو موٹر سائیکل سواروں کے اوپر سے گزر گیا۔ کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ بڑی گاڑیاں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پولیس کچھ نہیں کرتی! اصل مسئلہ یہ ہے کہ پولیس کچھ کر نہیں سکتی۔ سزائیں نرم ہیں۔ قوانین میں کمزوریاں ہیں۔ایک ڈرائیور اگر ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی کو موت کے گھاٹ اتار تا ہے تو اسے قتلِ عمد سمجھنا چاہیے نہ کہ قتلِ خطا! جو خاندان خون کے آنسو رو رہے ہیں ان کی حالتِ زار سے سب بے نیاز ہیں!
پوری دنیا میں ٹریفک حادثات کی وجہ سے جتنی اموات ہوتی ہیں اور جتنے لوگ زخمی ہوتے ہیں‘ ان کا نوّے فیصد غیر ترقی یافتہ ملکوں میں ہو رہا ہے۔ اس کی متعدد وجوہ ہیں۔ بھاری گاڑیاں کتنا وزن اٹھا سکتی ہیں؟ کیا ان راکھشس نما گاڑیوں کو باقاعدگی سے چیک کیا جاتا ہے کہ یہ روڈ پر آنے کے قابل ہیں یا نہیں ! اگر بریکیں فیل ہو گئیں تو اس کا مطلب ہے کہ گاڑی سڑک پر چلنے کے قابل نہیں تھی! اسے روکنا جس ادارے کے ذمہ تھا اس نے اپنا کام نہیں کیا ! کیوں ؟ لائسنس ایشو کرتے وقت تمام عوامل کو دیکھا جا رہا ہے یا نہیں ؟ ایسے کئی عوامل ہیں جن پر ہمارے ملک میں کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ بڑے شہروں کا یہ حال ہے تو قصبوں اور بستیوں میں جو کچھ سڑکوں پر ہو رہا ہے اس کا اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔گنّا جب چینی کے کارخانوں میں پہنچایا جاتا ہے تو گنے سے بھری ٹرالیاں سڑکوں پر یوں قابض ہوتی ہیں کہ دوسری ٹریفک کو مشکل ہی سے راستہ ملتا ہے۔ آپ نے بھوسہ لدے ٹرک دیکھے ہوں گے جو مضحکہ خیز لگتے ہیں۔ جتنا بھوسہ ٹرک کے اندر ہوتا ہے اتنا یا اس سے زیادہ ٹرک سے باہر‘ دائیں‘ بائیں اور پیچھے‘ ساتھ ساتھ چل رہا ہوتا ہے۔ یوں عملاً ایک ٹرک سڑک پر دو ٹرکوں کی جگہ لیتا ہے۔ ہے کوئی قانون جو ان ٹرکوں کو وزن یا حجم کے اعتبار سے کنٹرول کرے ؟
ٹرکوں کی بہتات کی بھی وجوہ ہیں۔ جنرل ضیاالحق کے عہدِ ہمایونی میں (کہ مسائل کے اکثر کُھرے اُسی طرف جاتے ہیں) ایک باقاعدہ پلاننگ کے تحت بار برداری کا کام ٹرین سے سڑک کی طرف منتقل کیا گیا۔ایسے محکمے تشکیل دیے گئے جو طاقتور اداروں کے سائے میں تھے مگر کام نجی شعبے میں کرتے تھے۔ ان سے سوال جواب کرنا تو دور کی بات‘ ان کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا۔سچ پر اس ملک میں ہمیشہ مٹی ڈالی جاتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ وہیں سے پاکستان ریلوے کا زوال شروع ہوا۔ ریلوے کی کمائی کا اصل ذریعہ پوری دنیا میں کارگو ہے یعنی مال گاڑیاں۔ جب مال گاڑیاں بیکار کر دی گئیں تو آمدنی کم اور نقصان زیادہ ہونے لگا۔ نہلے پر دہلا یہ ہوا کہ جو شخص بار برداری کے طاقتور ادارے کا مدار المہام تھا اُسی کو ریلوے کا وزیر لگا دیا گیا! اندازہ لگائیے کیا کیا ہوتا رہا اس ملک کے ساتھ ! اور کیا کیا ہو رہا ہے !!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Thursday, May 12, 2022

مرنے کا آسان نسخہ


بہت سے کام ہمارے ملک میں مشکل ہیں؛ تاہم ایک کام آسان ہے۔ حد درجہ آسان! اور وہ ہے مرنا!
بیمار ہیں تو نجی ہسپتال جائیں۔ اتنا نچوڑیں گے کہ آپ کی جان نکل جائے گی۔ سرکاری شفا خانے میں جائیں گے تو عدم توجہی سے مارے جائیں گے۔ سڑک پر گاڑی یا موٹر سائیکل چلائیں گے تو کوئی ڈمپر، کوئی ٹریکٹر‘ کوئی ٹرالی، کوئی پانی کا ٹینکر آپ کو کچل دے گا۔ یہ وہ عفریت ہیں جن پر کوئی پابندی نہیں۔ نیم وحشی، چِٹے ان پڑھ، بے حس ڈرائیور ایسے قاتل ہیں جن پر قتل کی دفعہ ہی نہیں لگتی۔ اس سے بھی زیادہ آسان طریقہ مرنے کا یہ ہے کہ بینک سے کچھ لاکھ روپے نکلوائیں اور چل پڑیں۔ پیدل ہیں یا سواری پر، اس سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔ بچنے کا کوئی امکان نہیں۔ موت کے سوداگر گھیر چکے۔ اب گولی آپ کے سینے میں اور کرنسی نوٹوں کی تھیلی ان کے ہاتھوں میں ہو گی۔ محمد حنیف کے ساتھ یہی ہوا۔ تیس سال سے اخبار فروشی کرنے والے حنیف عباسی کو ڈاکوئوں نے مار ڈالا۔ بینک سے بیس لاکھ کی رقم نکالنے کی حماقت ایک اور شہری نے کی۔ ڈاکو اسے لوٹ رہے تھے کہ حنیف نے ڈاکوئوں پر اینٹوں سے حملہ کر دیا۔ بے وقوف شہری کے تو صرف بیس لاکھ گئے۔ حنیف کی جان چلی گئی۔ بچے اس کے یتیم ہو گئے۔ بیوی اس کی بیوہ ہو گئی۔
ہم کس زمانے میں رہ رہے ہیں؟ دنیا کریڈٹ کارڈ سے بھی آگے نکل چکی۔ ہم ابھی تک کرنسی نوٹ گن رہے ہیں اور نوٹوں کی تھدّیاں تھیلوں میں ڈال کر گھوم پھر رہے ہیں۔ خدا کے بندے! بیس لاکھ اگر کسی کو دینے تھے تو آن لائن ٹرانسفر کرتے۔ ایسا نہیں کر سکتے تھے تو بینک کا چیک دیتے۔ چلو پچاس ہزار نکلوا لو۔ ایک لاکھ نکلوا لو مگر بیس لاکھ؟ یہ علائوالدین خلجی کا دور ہے نہ شیر شاہ سوری کا‘ نہ ہی انگریز بہادر کا کہ کوئی مجرم بچ نہیں سکے گا۔ یہاں تو ایک ایک رات میں بیسیوں ڈاکے پڑ رہے ہیں۔ کار چوری عروج پر ہے۔ گھروں میں کیمرے لگانے کا کام انڈسٹری بن چکا ہے۔ سکیورٹی کمپنیاں الارم لگا کر اربوں کما رہی ہیں۔ گاڑیوں کی انشورنس اور ٹریکر کا سلسلہ آسمان تک پہنچ چکا ہے۔ جس معاشرے میں پانی کے کولر کے ساتھ گلاس کو زنجیر سے باندھنا پڑتا ہے اور راتوں کو کئی بار اٹھ اٹھ کر دروازے چَیک کرنے پڑتے ہیں وہاں آپ بیس لاکھ روپے نقد ہاتھ میں لے کر سڑک پر خراماں خراماں چل رہے ہیں۔ آپ کا دماغ خراب ہے اور آپ کی قسمت بھی! ہمارے ایک قریبی دوست نے چند ماہ پہلے گاڑی بیچی۔ خریدنے والے صاحب روپوں سے بھرا بیگ لائے اور کہا کہ گن لیجیے۔ ہمارے دوست نے بڑے ٹھسے سے جواب دیا کہ اس کام کے لیے میں نے بینک کو ملازم رکھا ہوا ہے۔ یہ میرا اکاؤنٹ نمبر ہے۔ اس میں جمع کرا دیجیے۔ بینک والے خود ہی گن لیں گے۔ وہ جمع کرا آئے تو انہوں نے فون کر کے بینک سے تصدیق بھی کر لی۔ وہ جو غالب نے کہا تھا: 'رہا کھٹکا نہ چوری کا، دعا دیتا ہوں رہزن کو!‘ تو بینک کو دعا دیجیے کہ آپ نے کسی کو ادائیگی کرنی ہے یا کسی سے رقم لینی ہے، دونوں صورتوں میں گننے کا کام بینک ہی کرے گا!
جن ملکوں میں چوریاں اور ڈاکے کم ہیں، جہاں گھروں کے گیٹ ہی نہیں، وہاں بھی کرنسی نوٹ معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ سو ڈالر کا نوٹ دکان دار کو دیں تو حیران ہوتا ہے۔ پلاسٹک روپیہ (plastic money) کا دور دورہ ہے۔ تین ڈالر کی شے خریدنی ہے یا تین سو ڈالر کی، کارڈ مشین پر رکھیے، کوئی دستخط نہیں، کوئی پِن کوڈ نہیں‘ کوئی پاس ورڈ نہیں‘ بلکہ اب تو کریڈٹ کارڈ کی بھی ضرورت نہیں۔ متعلقہ اَیپ اور فنگر پرنٹس کی مدد سے کریڈٹ کارڈ کو موبائل فون میں ڈالیے۔ اب دکاندار کی مشین پر کریڈٹ کارڈ نہ رکھیے۔ کریڈٹ کارڈ کا جو عکس موبائل فون میں ہے، اُس عکس کو مشین پر رکھیے۔ دوسرے لفظوں میں کریڈٹ کارڈ کو جیب میں رکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔
بجلی، گیس، پانی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کے بل آپ گھر بیٹھے، آن لائن ادا کر سکتے ہیں۔ جس بینک میں بھی آپ کا اکاؤنٹ ہے، وہ بینک اپنی ویب سائٹ، یا ایپ پر، آپ کو بل ادا کرنے کی سہولت مہیا کرتا ہے۔ سودا سلف بھی کریڈٹ کارڈ پر مل جاتا ہے۔ اب تو مرغیاں بیچنے والوں نے بھی کریڈٹ کارڈ کی مشین رکھی ہوئی ہے۔ پارچہ فروشوں نے بھی‘ سپر سٹوروں نے بھی، ہسپتالوں، لیبارٹریوں اور دوا فروشوں نے بھی! نقد رقم جیب میں یا گھر رکھنی بھی ہے تو کم سے کم رکھنی چاہیے۔ زمانہ بدلتا ہے تو اس کے اطوار بھی بدل جاتے ہیں۔ کبھی بارٹر ٹریڈ تھی‘ یعنی مال کے بدلے مال۔ گاؤں میں ہماری نسل نے گندم دے کر دکانوں سے سودا خریدا ہے۔ یعنی گندم کو روپے کا درجہ حاصل تھا۔ پھر سکے آئے۔ پھر کرنسی نوٹ! اس اثنا میں ٹریولر چیک بھی روپے کا کردار ادا کرتے رہے۔ اب پلاسٹک منی کا دور بھی آخری ہچکی لے رہا ہے۔ آن لائن سودا خریدا جانے لگا ہے یا موبائل فون کے ذریعے! دو تین منٹ کے اندر اندر آپ رقم کسی بھی بینک اکاؤنٹ میں جمع کرا سکتے ہیں۔ اے ٹی ایم پر انحصار بھی کم ہونے لگا ہے۔
سازشی تھیوریاں ہمارا من بھاتا کھاجا ہیں۔ اس معاملے میں بھی سازشی تھیوری میدان میں اتر چکی ہے اور بھنگڑا ڈال رہی ہے۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے خریداری کریں گے تو امریکہ میں ہر شے ریکارڈ پر آ جائے گی۔ یہ امریکی سازش ہے۔ اس طرح ہماری قوت خرید انہیں معلوم ہو جائے گی۔ نہیں معلوم یہ مؤقف کتنا درست ہے‘ مگر بات یہ ہے کہ اگر امریکہ کو معلوم ہو بھی جائے کہ جمیل خان نے یا عبدالکریم نے یا اظہارالحق نے گھی کا ڈبہ، چائے کی پتی، کپڑے دھونے کا صابن، آٹا اور دالیں خریدی ہیں تو کیا ہو جائے گا؟ اگر امریکہ اس فکر میں گُھلنا شروع ہو گیا ہے کہ جمیل خان یا عبدالکریم یا اظہارالحق کی قوت خرید کیا ہے تو پھر اسے زوال سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ وہی بات جو دوسری جنگ عظیم میں فوجی بھرتی کے حوالے سے عام ہوئی تھی کہ اگر ملکہ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے گامے کمہار کے بیٹے کی محتاج ہو گئی ہے تو پھر اسے ہٹلر سے صلح ہی کر لینی چاہیے۔ سازشی تھیوریاں ہمیں یوں بھی بہت راس آتی ہیں۔ سابق مشرقی پاکستان میں مولانا بھاشانی ایک عوامی لیڈر تھے۔ بائیں بازو کی ترجمانی کرتے تھے۔ ہر خراب شے کا الزام امریکہ پر لگاتے تھے۔ ان کے بارے میں لطیفہ مشہور تھا کہ کسی نے انہیں بتایا کہ ان کے ہاں، یعنی مولانا بھاشانی کے ہاں، بچے کی ولادت ہوئی ہے۔ فوری ردّ عمل یہ تھا کہ امریکہ کی شرارت ہے۔
ملک کی اکثریت کا تعلق گاؤں سے اور چھوٹے قصبوں سے ہے۔ وہاں پلاسٹک روپیہ تو دورکی بات ہے، ابھی عام بینکاری کا رواج بھی نہیں پڑا۔ پورے پورے گاؤں ایسے ہیں جہاں کسی ایک شخص کا بھی کسی بینک میں اکاؤنٹ نہیں۔ قصور دونوں فریقوں کا ہے۔ بینکوں نے اس طرف توجہ نہیں کی۔ پھر، گاؤں گاؤں برانچ کھولنا ان کے لیے نفع بخش بھی نہیں۔ دوسری طرف گاؤں کے مکینوں کو بینک اکاؤنٹ کھولنے کا شوق ہے نہ ضرورت۔ یوں بھی گاؤں میں سکیورٹی، شہروں کی نسبت زیادہ ہے۔ اجنبی عناصر کا وہاں جا کر مذموم ارادوں میں کامیاب ہونا آسان نہیں۔ ڈاکے، کار چوری، اغوا کا کاروبار شہروں ہی میں پھلتا پھولتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا 

Monday, May 09, 2022

قوموں کی تقدیر وہ مردِ درویش



یادش بخیر ، مولانا طارق جمیل کا ایک مختصر سا انٹرویو ایک نجی   ٹیلی ویژن چینل  پر نشر ہؤا۔  اسی سے ملتا جلتا بیان اخبارات میں بھی شائع ہؤا ہے۔ ( روزنامہ دنیا ۲۷۔اپریل ۲۰۲۲ ء )۔   اس بیان میں انہوں نے مندرجہ ذیل باتیں کی ہیں۔  

۱۔۔ یہ کہ ان کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے۔
۲۔۔  یہ کہ وہ سیاست میں بالکل نہیں ہیں۔
۳۔۔ یہ کہ ریاست مدینہ کا تصور  عمران خان نے دیا ۔
۴۔۔یہ کہ ریاست مدینہ کو بنانا ہم نے ، یعنی عوام نے، تھا۔ جھوٹا جھوٹ چھوڑتا، رشوت والا رشوت چھوڑتا، دھوکہ دینے والا دھوکہ چھوڑتا، ظلم کرنے والا ظلم چھوڑتا، فحاشی کرنے والافحاشی چھوڑتا، بدکاری کرنے والا بدکاری چھوڑتا ۔ لڑنے والے قتل و غارت کی دشمنیاں ختم کر کے  صلح کرتے۔اپنانا تو معاشرے نے تھا۔ معاشرے نے یہ تصور قبول نہیں کیا تو عمران خان کا اس میں کوئی قصور نہیں۔
۵۔۔ یہ کہ تحائف کے حوالے سے  مولانا کو   پاکستانی قا نون کے بارے میں پتہ نہیں ہے۔ 

مولانا کے یہ ارشادات پڑھ کر اور سن کر ہمارے  نارسا  ذہن میں کچھ سوالات ابھرے ہیں جو ہم اپنے قارئین کے ساتھ شئیر کرنا چاہتے ہیں۔ اول یہ کہ مولانا کا تعلق، بقول ان کے ،  تبلیغی جماعت سے ہے۔ جہاں تک ہماری ناقص معلومات کا تعلق ہے ، تبلیغی جماعت کے بزرگ کسی حکمران کے ہاں کبھی حاضری نہیں دیتے جبکہ  مولانا اکثرو بیشتر حکمرانوں کے ہاں تشریف لے جاتے ہیں۔ابھی چند دن پہلے، وہ ایوان صدر بھی تشریف لے گئے جہاں انہوں نے صدر صاحب سے ملاقات کی۔  جس “ شبِ دعا”  میں آپ نے شرکت فرمائی وہ بھی  کسی مسجد میں منعقد نہیں ہوئی تھی۔ وہ ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ کے گھر میں منعقد ہوئی تھی اور شرکت کرنے والے صرف اُسی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے ۔سوال یہ ہے کہ کیا تبلیغی   جماعت کی پالیسی اس ضمن میں  بدل گئی ہے؟ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو کچھ مولانا ایک سیاسی جماعت اور اس کے رہنما کے بارے میں  کہتے ہیں کیا وہ جماعت کی طرف سے کہتے ہیں ؟ لگتا ہے کہ وہ اس ضمن میں جماعت ہی کی نمائندگی کرتے ہیں جبھی انہوں نے وضاحت بھی کی ہے کہ ان کا تعلق  تبلیغی جماعت سے ہے۔ اس سے ہم یہ نتیجہ بھی اخذکرنے پر مجبور ہیں کہ وہ  حکمرانوں کے ہاں حاضری، تبلیغی جماعت کے بزرگوں  کی اجازت سے دیتے ہیں۔ دوم، بقول ان کے وہ سیاست میں بالکل نہیں ہیں۔ عمران خان ایک سیاسی جماعت کے رہنما ہیں۔ مولانا خود بھی ان کی حمایت کرتے ہیں اور عوام کو بھی اس کی تلقین کرتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو غیر سیاسی کس طرح کہہ سکتے ہیں؟ اگر ان کا موقف یہ ہے کہ یہ حمایت  وہ ریاست مدینہ کے حوالے سے کر رہے ہیں تو ایک زیادہ دلچسپ سوال  پیدا ہوتا ہے کہ  ملک بھر میں،  کسی بھی  مسلک کے،  کسی اور مشہور  عالم نے عمران خان کی   حمایت نہیں کی ۔ یہ راز صرف مولانا ہی پر کیوں کھُلا کہ  خان صاحب کا ریاست مدینہ کے حوالے سے  دعوی سچائی پر مشتمل ہے اور    محض مذہب کا  سیاسی  استعمال نہیں  ؟ 

سوم۔  یہ بات کہ   ریاست مدینہ کا تصور  عمران خان نے دیا ، بہت عجیب ہے اور امر واقعہ کے خلاف !۔ تاریخ کے ایک عام طالب علم کو بھی معلوم ہے کہ ریاست مدینہ کا تصور اُسی مقدس ہستی نے دیا جس نے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی۔ آپ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ  عمران خان ریاست مدینہ کی، بزعمِ خود، پیروی کرنا چاہتے ہیں۔چہارم ، اس سے بھی زیادہ ناقابل رشک  موقف یہ ہے کہ ریاست مدینہ کے قیام کی ذمہ داری عوام پر تھی، حکمران پر یا حکمران جماعت پر نہیں تھی۔اگرریاست مدینہ صرف عوام کے جھوٹ، فریب کاری اور دیگر برائیاں چھوڑنے سے بننا تھی  تو مکہ سے مدینہ ہجرت کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ یہ سب کام تو مکہ میں بھی ہو سکتے تھے۔ ریاست مدینہ میں حکمران سب سے پہلے معاشرے کے لیے نمونہ بنے۔ انصاف قائم کیا۔ راتوں کو جاگ جاگ کر، گلیوں میں پھِر پھِر کر ، عوام کی حالت کا  خود  براہ راست مشاہدہ کیا۔ حکمران اگر دن کے ایک بجے ہیلی کاپٹر پر سوار ہر کر دفتر پہنچے اور شام کو ہیلی کاپٹر پر سوار ہو کر تین سو کنال کے گھر میں واپس جا بیٹھے اور ریاست مدینہ کے قیام کی  تمام ذمہ داری عوام پر یا معاشرے پر ہو تو پھر حکمران کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ مولانا نے تو حکمران کو سو فی صد بری الذمہ قرار دے دیا۔ 

حضرت مولانا سے بہتر کون جانتا ہے کہ تبلیغ میں امر بالمعروف کے ساتھ نہی عن المنکر کا بھی وجود لازم ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد جب حکمران جماعت نے ریاست مدینہ کا نام لیا اور جب مولانا نے حمایت کی اور عوام کو حمایت کی تلقین کی تو اس کے بعد اگر نہی عن المنکر کا فرض ادا کیا جاتا تو   حالات اُس نہج پر نہ پہنچتے جس پر پہنچے۔ جب عثمان بزدار کو تعینات کیا گیا اور  تحریک انصاف کے ارکان سمیت پورے ملک نے تعجب اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا ، جب ادویات کی قیمتیں کئی سو گنا بڑھ گئیں اور ذمہ داروں کو سزا نہ دی گئی، جب سعودی عرب، امریکہ اور برطانیہ سے دوستوں  اور فنڈ ریزنگ کرنے والوں کو بلا بلا کر اعلی عہدوں پر بٹھا یا گیا، جب انتقام کی چکی میں ایک ایک مخالف کو پیسا جاتا رہا،جب ہاتھ ملانے سے انکار کر کے ، ہاتھ منہ پر پھیرا جاتا رہا کہ چھوڑوں گا نہیں تو نہی عن المنکر کا فرض کیوں نہ ادا کیا  گیا؟ ہاں  اگر ریاست مدینہ کی تفہیم ہی یہ ہو کہ سارا کام معاشرے نے کرنا ہے اور حکمران نے  کچھ بھی نہیں کرنا  تو پھر حکمران کو منکرات پر روکنے اور ٹوکنے کی ضرورت ہی کیا ہے!! ؏ 

بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو  پھر کہیوکہ ہاں کیوں ہو !! 

رہی یہ بات کہ  تحائف یا  توشہ خانے کے حوالے سے پاکستانی  قوانین کا علم  ہی نہیں تو اسے تجاہل عارفانہ کے علاوہ کیا کہا سکتا ہے ! یہ قوانین تو اسی دن بن گئے تھے جب پوچھا گیا تھا کہ  حکمران کا کرتا کیسے بنا؟کیا امیر المومنین کا جواب یہ تھا کہ یہ سیکرٹ ہے اور بتایا نہیں جا سکتا؟ میاں نواز شریف کا یہی  جواب تھا۔ اگر عمران خان نے بھی یہی جواب دینا تھا  تو پھر ریاست مدینہ کی پیروی کہاں گئی ؟ نہی عن المنکر کا فریضہ کدھر گُم ہو گیا؟

بہت کچھ اور بھی عرض کرنے کوہے مگر حدِ ادب  مانع ہے۔ بس اتنی گذارش ہے کہ لوگ سمجھدار ہیں۔ پڑھے لکھے ہیں۔ ریاست مدینہ کی حقیقی تاریخ سے بھی آگاہ ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ریاست مدینہ کی تعریف کیا ہے۔انہیں معلوم ہے  کہ  اہل بیت عظام سے لے کر امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام احمد بن حنبل تک اور مجدد الف ثانی تک ، اہل حق نے کیا کیا تکلیفیں جھیلیں اور کیا کیا سزائیں برداشت کیں ! اگر خلق خدا ادب کی وجہ سے یا مروت کے سبب کچھ نہیں کہتی اور مصلحتا” منہ دوسری طرف کر لیتی ہے  تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حقیقت سے آگاہ نہیں ! اختلاف تو اس بات پر ہے کہ مُردے سنتے اور دیکھتے ہیں یا نہیں؟  جو لوگ زندہ ہیں ان کے دیکھنے، سننے اور جاننے پر تو کوئی اختلاف نہیں۔ یوں بھی اصل بات علامہ   اقبال  کر گئے ہیں ؎

قوموں   کی   تقدیر   وہ   مردِ  درویش 

جس نے نہ ڈھونڈی سلطاں کی درگاہ 

…………………………………………………………………

Tuesday, May 03, 2022

میرے ماں باپ قربان

یہ تو اپنی اپنی قسمت ہے!

کوئی حرمت ِرسول پر جان قربان کر دیتا ہے اور کسی کو اتنا کہنے کی بھی توفیق نہیں ہوتی کہ مسجد ِنبوی میں شورو غوغا اور دنگا فساد کرنے والوں نے برا کیا۔ جو اسلام کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ اسی طرح بے نقاب ہوتے ہیں۔
لیکن اللہ اور اس کے رسول کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہی نہیں! اپنے رسول کی حرمت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے خود اٹھائی ہوئی ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ رکھا جانے والا نام محمد ہے۔ کرۂ ارض پر ‘ ہر وقت‘ کسی نہ کسی جگہ اشہد ان محمد اًرسول اللہ ضرور کہا جا رہا ہے۔ اگر امریکہ میں صبح کی نماز پڑھی جارہی ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں اُس وقت ظہر کی اذانیں ہو رہی ہیں۔ فجی اور آسٹریلیا میں عشا کی نماز کے دوران لوگ السلام علیک ایہا النبی ( سلامتی ہو آپ پر اے نبی ) کہہ رہے ہوتے ہیں تو جنوبی ایشیا میں اس وقت عصر کی نماز میں اللہم صل علیٰ محمد کہہ کر درود بھیجا جا رہا ہوتا ہے۔
ہر قبر اور ہر چوکھٹ پر سجدہ ریز ہونے والوں کو حرمت رسول کا احساس بھی نہیں ہو سکتا۔یہ تو توفیق کی بات ہے اور توفیق دینے والابندوں کو خوب پہچانتا ہے۔اس نے ترکان عثمان کو توفیق دی اور انہوں نے دنیا کو نمونہ بن کر دکھا دیا کہ اُس جگہ کی عزت کیسے کرنی ہے جہاں اللہ کے آخری رسول تشریف فرما ہیں۔ مسجد نبوی کی توسیع اور تجدید کے دوران جو ادب عثمانی ترکوں نے کر کے دکھایا وہ ضرب المثل بن چکا ہے۔ معمار‘ نقاش‘ شیشہ گر‘ سنگ تراش اور دیگر کاریگر تیار کرنے میں انہیں پچیس سال لگ گئے۔ یہ ایک طویل داستان ہے۔ جن جنگلوں سے لکڑی کاٹی انہیں اس سے پہلے کسی نے چھوا نہیں تھا۔ جن کانوں سے پتھر اور مر مر نکالا انہیں سر بمہر کر دیا۔ سنگ تراشی اور ہر وہ کام جس سے شور ہو سکتا تھا ‘ مدینہ منورہ کی حدود سے باہر کیا جاتا۔ گرد سے بچانے کے لیے جالیوں کو کپڑوں میں لپیٹ دیا گیا۔پتھر کو دوبارہ تراشنا پڑتا تو دوبارہ شہر سے باہر بھیجا جاتا! ایسی محبت‘ ایسی عزت‘ اتنا ادب !! اللہ اللہ! قیامت تک ترکوں کا یہ کارنامہ زندہ رہے گا۔ جن کی زبان سے خاتم النبیین کا لفظ درست نہیں نکل سکتا ‘ انہیں ایسی توفیقات کہاں!
معروف محقق اور سکالر حافظ محمود شیرانی کے فرزند‘ مشہور شاعر‘ اختر شیرانی رندِ بلا نوش تھے۔ ان کے حوالے سے شورش کاشمیر ی کا لکھا ہوا یہ واقعہ مشہور ہے: ''عرب ہوٹل میں ایک دفعہ بعض کمیونسٹ نوجوانوں نے جو بلا کے ذہین تھے‘ اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ وہ اس وقت تک شراب کی دو بوتلیں چڑھا چکے تھے اور ہوش قائم نہ تھے۔ تمام بدن پر رعشہ طاری تھا‘ حتیٰ کہ الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر زبان سے نکل رہے تھے۔ ادھر اَنا کا شروع سے یہ حال تھا کہ اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے۔ جانے کیا سوال زیر بحث تھا۔ فرمایا: مسلمانوں میں تین شخص اب تک ایسے پیدا ہوئے ہیں جو ہر اعتبار سے جینئس بھی ہیں اور کامل الفن بھی۔ پہلے ابوالفضل‘ دوسرے اسد اللہ خاں غالب‘ تیسرے ابوالکلام آزاد۔ شاعر وہ شاذ ہی کسی کو مانتے تھے۔ ہمعصر شعرا میں جو واقعی شاعر تھا‘ اسے بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے۔ کمیونسٹ نوجوانوں نے فیض کے بارے میں سوال کیا‘ طرح دے گئے۔ جوش کے متعلق پوچھا‘ کہا: وہ ناظم ہے۔ سردار جعفری کا نام لیا‘ مسکرا دیے۔ فراق کا ذکر چھیڑا‘ ہونہہ ہاں کر کے چپ ہو گئے۔ ساحر لدھیانوی کی بات کی‘ سامنے بیٹھا تھا۔ فرمایا‘ مشق کرنے دو۔ ظہیر کاشمیری کے بارے میں کہا: ''نام سنا ہے‘‘۔ احمد ندیم قاسمی؟ فرمایا ''میرا شاگرد ہے‘‘۔ نوجوانوں نے دیکھا کہ ترقی پسند تحریک ہی کے منکر ہیں‘ تو بحث کا رخ پھیر دیا۔
''حضرت! فلاں پیغمبر کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘
آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ نشہ میں چور تھے۔ زبان پر قابو نہیں تھا‘ لیکن چونک کر فرمایا: ''کیا بکتے ہو؟‘‘۔''ادب و انشا یا شعر و شاعری کی بات کرو۔‘‘ کسی نے فوراً ہی افلاطون کی طرف رخ موڑ دیا۔ ''ان کے مکالمات کی بابت کیا خیال ہے؟‘‘ ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا‘ مگر اس وقت وہ اپنے موڈ میں تھے‘ فرمایا: ''اجی پوچھو یہ کہ ہم کون ہیں۔ یہ افلاطون‘ ارسطو یا سقراط آج ہوتے‘ تو ہمارے حلقہ میں بیٹھتے‘ ہمیں ان سے کیا؟ کہ ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں۔‘‘ اس لڑکھڑاتی ہوئی گفتگو سے فائدہ اٹھا کر ایک قادیانی نوجوان نے سوال کیا۔
''آپ کا محمدﷺ کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘
اللہ اللہ! ایک شرابی‘ جیسے کوئی برق تڑپی ہو‘ بلور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔
''بدبخت ایک عاصی سے سوال کرتا ہے۔ ایک سیاہ رُو سے پوچھتا ہے! ایک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے؟‘‘
تمام جسم کانپ رہا تھا۔ ایکا ایکی رونا شروع کر دیا۔ گھگی بندھ گئی ''تم نے اس حالت میں یہ نام کیوں لیا؟ تمہیں جرأت کیسے ہوئی؟ گستاخ! بے ادب!!
باخدا دیوانہ باش و با محمدﷺ ہوشیار!
اس شریر سوال پر توبہ کرو‘ تمہارا خبث باطن سمجھتا ہوں۔ خود قہر و غضب کی تصویر ہو گئے۔ اس قادیانی کو محفل سے اٹھوا دیا پھر خود اُٹھ کر چلے گئے۔ تمام رات روتے رہے۔ کہتے تھے: یہ بدبخت اتنے نڈر ہو گئے ہیں کہ ہمارا آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں‘ میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنانا چاہتاہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔‘‘
صرف نعت کا سوچیں تو انسانی دماغ سن ہو کر رہ جاتا ہے۔ دربارِ نبوت کے شاعر حضرت حسان بن ثابتؓ سے لے کر آج تک کتنے شاعروں نے مدحِ رسول میں عرض گزاری کی ہو گی! کتنی زبانوں میں!!اور کتنے زمانوں میں ! شمار کا تو ذکر ہی کیا‘ تصور ہی محال ہے۔ کتنے ہی کلمات ہیں جو ان گنت لوگوں کی زبان سے ادا ہوئے اور ادا ہو رہے ہیں۔ صرف سعدی کے ان چار مصرعوں کا ہی سوچئے۔ بلغ العلیٰ بکمالہ‘ کشف الدجیٰ بجمالہ‘ حسنت جمیع خصالہ‘ صلّو علیہ وآلہ
کب سے پڑھے جا رہے ہیں اور پڑھے جاتے رہیں گے ! جامی کی شہرہ آفاق نعت جس کا ڈکشن ہی نرالا ہے اور اسلوب ہی اچھوتا ہے‘ کتنوں کو رُلا چکی ! اور آنے والے زمانوں میں کتنے دلوں میں چھید کرے گی ! کالم کا دامن تنگ ہے۔ اصل فارسی اشعار کے بجائے صرف ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔'' دردِ فراق سے دنیا کی جان نکلنے والی ہے! رحم ! یا نبیَ اللہ ! رحم! ہماری شبِ غم کو دن بنادیجیے۔آپ کے چہرے ہی سے ہمارا دن ظفر یاب ہو سکتا ہے۔ حضور! یمنی چادر سے اپنا مبارک سر باہر نکالیے۔آپ کا روئے مبارک زندگی کی صبح ہے۔ خوشبودار ملبوس زیبِ تن فرمائیے! مبارک سر پر کافوری عمامہ رکھئے۔طائف کے بہترین چرم سے بنے ہوئے جوتے پہنیے۔ ان کے تسمے ہماری زندگیوں کے دھاگے سے بنائیے۔پھر اپنے حجرہ مبارک سے صحنِ حرم میں قدم رنجہ فرمائیے۔ جو آپ کے راستے کی خاک چومتے ہیں ان کے سر پر قدم رکھیے۔ آپ ابرِ رحمت ہیں! کیا ہی اچھا ہو اگر ان پر نگاہِ کرم ہو جائے جن کے ہونٹ خشک ہیں۔
چمگادڑ کے نہ دیکھ سکنے سے سورج کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ آفتابِ رسالت ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔مسجد نبوی دست بستہ ‘ پُرنم ‘ زائرین سے ہمیشہ چھلکتی رہے گی! جہاں لفظوں سے زیادہ آنسو کام آتے ہیں !

Monday, May 02, 2022

با محمدﷺ ہوشیار!!


بال کھول لو، پٹکے کمر کے ساتھ باندھ لو۔ پھر سینہ کوبی کرو۔ یہاں تک کہ تم گر جاؤ اور جان، جان آفرین کے سپرد کر دو۔ اس لیے کہ جینے کا جواز ختم ہو چکا!
اس کائنات میں جتنے جہان ہیں اور جتنے زمانے ہیں اور جتنی دنیائیں ہیں اور جتنی زمینیں ہیں اور جتنے آسمان ہیں اور جتنی کہکشائیں ہیں اور جتنے ستارے ہیں اور جتنے سیارے ہیں، اور جتنے شمسی نظام ہیں اور جو آئندہ بھی اس ہر لحظہ پھیلتی کائنات میں پیدا ہوں گے ان سب میں مقدس ترین مقام وہ ہے جہاں اللہ کے آخری رسول محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں‘ اور وہ شہر مقدس ترین ہے جہاں آپ اپنا وطن چھوڑ کر تشریف لائے اور جو آپ کو اتنا عزیز تھا کہ تا دمِ آخر اس سے جدا نہ ہوئے۔ کیا شہر ہے جہاں کے کنکر موتی ہیں، جہاں کے درخت آسمانی ہیں جس کی مٹی بادشاہوں اور ولیوں اور عالموں کی آنکھ کا سرمہ ہے۔ روضۂ رسول تو روضۂ رسول ہے، مسجدِ نبوی تو مسجدِ نبوی ہے، مدینہ کی تو عام گلی بھی ادب کا اور خاموشی کا اور شرافت کا تقاضا کرتی ہے۔
کاش تم دیکھ سکتے کہ فرشتے وہاں کس حالت میں حاضری دیتے ہیں! اس کائنات کا مالک، خود، ہاں خود، جس ہستی پر درود بھیجتا ہے اور اس کے لاکھوں‘ کروڑوں فرشتے جس پر درود بھیجتے ہیں اور جس سے موت کا فرشتہ اجازت لے کر اپنا فرض ادا کرتا ہے۔ اور جس پر ہر وقت، ہر لحظہ کروڑوں لوگ سلام بھیجتے ہیں، وہ کھربوں لوگ بھی جو دنیا سے چلے گئے اور وہ لا تعداد انسان بھی جو قیامت تک آئیں گے، اُس ہستی کی عظمت کا اور تقدیس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔
تیرہ بختو! تم سے تو لکڑی کا وہ بے جان ستون ہزار گنا افضل ہے جو اُس وقت دھاڑیں مار مار کر رویا جب اس کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دینے کے بجائے اللہ کے رسولﷺ منبر پر تشریف لے گئے۔ تم سے تو وہ کنکر لاکھ درجہ بلند مرتبہ ہیں جنہوں نے آپﷺ کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے کلمہ پڑھا۔ افسوس صد افسوس! تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ تم نے کیا کر دیا۔ ہیہات! ہیہات! تم نے اُس ہستی کے سامنے شور و غوغا کیا جس کے سامنے ابوبکرؓ و عمرؓ اور عثمانؓ و علیؓ جیسے بے مثال انسان دبی زبان میں بات کرتے تھے۔ تم نے اپنا سب کچھ کھو دیا۔ تم گڑھے میں گر گئے۔ تم اگر تائب نہ ہوئے تو اس زمین کے اوپر اور اس آسمان کے نیچے تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہیں! تم نے اُس پروردگار کو ناراض کیا جو اپنے محبوب کی شان میں ایک رمق بھر، ایک رتی جتنی، ایک قطمیر کے برابر گستاخی نہیں برداشت کرتا۔ بد نصیبو! تم اس مقدمے میں پھنس چکے جس کا مدعی، کوئی اور نہیں، خود خداوندِ قدوس ہے! آج تک، ان ساری صدیوں میں، ان سارے برسوں میں، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی گستاخ دنیا ہی میں نشانِ عبرت نہ بنا ہو! آخرت تو پھر آخرت ہے! وہاں کا عذاب تو شدید تر ہے!
کسی امام، کسی عالم، کسی مجتہد، کسی فقیہ، کسی مفسر، کسی محدث کسی مولانا، کسی آیت اللہ کو اس امر میں کوئی شک، کوئی اشتباہ نہیں اور سب اس پر متفق ہیں کہ اگر حرمتِ رسول جان سے بڑھ کر عزیز نہیں، اگر جناب کی ذات اقدس اپنی ماں اور اپنے باپ سے بڑھ کر پیاری نہیں تو ہزار سال کیا، ایک لاکھ سال کی عبادت، سجدے، دعائیں، روزے، حج، عمرے، زکوٰۃ، سب بیکار ہے! جس مسجد میں پلکوں سے جھاڑو دینا خوش قسمتی کی انتہا ہے، وہاں تم نے دنیا کی آلائش بکھیر دی! فرشتے حیران ہیں کہ پتھر برسانے کا حکم کیوں نہیں مل رہا! آندھیاں، زلزلے، طوفان، سیلاب، سب پا بہ رکاب ہیں کہ حکم ملے تو گستاخوں کو گرے ہوئے درختوں کے تنوں کی طرح بے جان کر دیں! اس کائنات کا ہر ذرہ افسردہ ہے! ایک ایک پھول، گھاس کا ایک ایک تنکا پژمردہ ہے۔ عناصر دھرتی الٹنے کو بے تاب ہیں! رعد اور برق فریاد کناں ہیں کہ انہیں کڑکنے اور جلانے کے لیے کیوں نہیں کہا جا رہا! تم نے غضب ڈھایا۔ اپنے آپ پر ظلم کیا۔ تم سے گناہ صادر ہوا! مگر اس سے بھی بد تر یہ ہوا کہ تم نے گناہ پر اصرار کیا۔ اس کی توجیہات اور تاویلات پیش کیں! آئیں بائیں شائیں سے کام لیا! گناہ پر اصرار کر کے، گناہ کو بغاوت میں بدل دیا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ ساری عزت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے! تم کون ہو؟ تمہاری حیثیت کیا ہے؟ اب تم بھی انتظار کرو! ہم بھی انتظار کرتے ہیں! ہم دیکھتے ہیں تمہارے سرپرست تمہیں کب تک بچاتے ہیں! اللہ تدبیریں کرنے والے تمام لوگوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے! مچھر سے لے کر پہاڑ تک، کچھ بھی، کوئی بھی، کسی بھی وقت، سزا نافذ کر سکتا ہے! اپنے محبوب کی شان میں گستاخی کا ردّ عمل دینے کے لیے پروردگار، قیامت کا انتظار نہیں کرتا! اب تمہارے لیے ہر دن قیامت کا دن ہے! تمہارے لیے ہر رات انتظار کی رات ہے۔ بہت جلد تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمہارے دل تمہارے خلاف بغاوت کر رہے ہیں اور تمہارے دماغ تمہارا ساتھ دینے سے انکار کر رہے ہیں۔
ایودھیا میں مسجد کی چھت پر چڑھ کر اس کے گنبد پر حملہ کرنے والا پہلا شخص بلبیر سنگھ تھا۔ جب وہ یہ کارنامہ سرانجام دے کر اپنے شہر پانی پت لوٹا تو اسے ہیرو کا درجہ دیا گیا۔ دوسرے دن ہی وہ ذہنی عذاب میں مبتلا ہو گیا۔ اس کا دماغ اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ اس کا دل جسم کی قید سے نکلنے کے لیے بے تاب تھا۔ اس کی حالت ایسی ہو گئی کہ سب کو یقین ہو گیا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔ ایک بے پناہ، پُراسرار اذیت تھی جس میں وہ گرفتار ہو گیا۔ زمین اس کا بوجھ برداشت کرنے کو تیار نہ تھی۔ آسمان میں کوئی دریچہ وا نہ تھا جس میں داخل ہو کر اسے سکون ملتا۔ بھوک مٹ گئی تھی، نیند اُڑ گئی تھی۔ اسے لگتا تھا دنیا میں کوئی اس کا اپنا نہیں۔ یہ عذاب تب ختم ہوا جب اس نے اسلام قبول کیا اور اپنے آپ سے اور اپنے پروردگار سے عہد کیا کہ ایک مسجد کے بدلے میں ایک سو مسجدیں تعمیر کرے گا۔ نوّے مساجد وہ مکمل کر چکا ہے۔ بلبیر سنگھ سے محمد عامر بننا اور اس کے ایک ساتھی کا بھی مسلمان ہو جانا انتہا پسند ہندوؤں کے گال پر ایک زناٹے دار تھپڑ سے کم نہ تھا۔ ایودھیا مسجد تو بابر نے تعمیر کرائی تھی۔ ایک دنیا دار حکمران! ایک گنہگار بادشاہ! جُوع الارض کا مارا ہوا! ارے خدا کے بندو! بے حرمتی تو اللہ تعالیٰ نے اُس کی بنائی ہوئی مسجد کی بھی برداشت نہیں کی، تو اپنے نبی کے ہاتھوں سے بنائی ہوئی مسجد کی توہین کیسے برداشت کرے گا۔
روئے زمین پر قائم ہر مسجد مقدس ہے اس لیے کہ اَنَّ الْمَسَاجِدَ للہ! مسجدیں اللہ کے لیے ہیں۔ اور وہ مسجد! جس کی زمین آپﷺ نے خود خریدی، اپنے ہاتھوں سے تعمیر کی! جہاں آپﷺ قیامت تک تشریف فرما ہیں! اُس مسجد کو تم کیا سمجھ رہے ہو؟ ہوش کرو! ہوش!
توبہ! اجتماعی توبہ! پوری قوم توبہ کرے! گھروں سے نکلے! میدانوں، پارکوں، باغوں، صحراؤں میں جمع ہو! گڑگڑا کر معافی مانگے اور اُن بدنصیبوں سے قطعِ تعلق کرے جو اس گستاخی میں شامل تھے!

Thursday, April 28, 2022

حیراں سرِ بازار

نیامت اللہ سعید بنگش، سلامت ماشکی، رشیدہ ڈومنی، ایشور کمار، خمیسو، عثمان مسیح کی آخری سانس، موچھے کی پٹائی، ٹنڈو محمد خان، ......
یہ کسی ناول کے ابواب ہیں نہ خاکے، یہ حارث خلیق کی نظمیں ہیں۔ ان نظموں میں مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ یہ ہماری مروّجہ شاعری میں فِٹ نہیں ہوتیں! آج کل اردو شاعری پر عجیب دَورِ فتن آیا ہوا ہے۔ ایک بچی کو، جس میں شاعری کے صحت مند جراثیم واضح طور پر دکھائی دے رہے تھے، بزرگانہ مشورہ دیا کہ بیٹی! ادبی جرائد میں شائع ہونا ضروری ہے! اس نے خود اعتمادی کے ٹیلے پر چڑھ کر جواب دیا کہ سر! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ میری شاعری فیس بک پر بہت پڑھی جا رہی ہے۔ اس کا جواب ما شاء اللہ کے سوا کیا ہو سکتا تھا۔ اب شاعری وٹس ایپ اور فیس بک پر آ چکی ہے۔ اب اسے قارئین کی ضرورت نہیں، بس ناظرین درکار ہیں۔ دوسری افتاد مشاعرہ بازی کا نیا چلن ہے۔ ویسے ہر عشرے میں کچھ مقبول شاعر ابھرتے ہیں۔ پہلے ان کے بیس بیس تیس تیس مجموعے ظاہر ہوتے تھے۔ اب وہ کالجوں یونیورسٹیوں کے مشاعروں میں Entertainers کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ انجام دونوں کا ایک جیسا ہوتا ہے۔ سکندر اعظم کے مانند! یعنی آندھی کی طرح آنا اور طوفان کی طرح غائب ہو جانا!
حارث خلیق کی نظمیں مروجہ شاعری میں فِٹ اس لیے نہیں ہو سکتیں کہ ان میں شبِ فراق کے ٹکڑے شبِ وصال سے جوڑنے کا ذکر ہے نہ عاشقوں کے رونے دھونے کا۔ حارث کی نظموں میں ایک اور ہی دنیا دکھائی دیتی ہے جس میں کمی کمین رہتے ہیں۔ جہاں ماشکی اپنے خون کو پانی میں بدل کر خلقت کی پیاس بجھاتے ہیں۔ جہاں نوکرانیاں بیگمات کے برتن مانجھتی ہیں، ملبوسات استری کرتی ہیں اور اپنے آپ کو بچانے میں ناکام رہتی ہیں۔ جہاں زیردست مانجھیوں کی بیٹیاں زور آور حویلیوں کے دھندلکے میں اپنی شناخت گُم کر دیتی ہیں۔ جہاں نابالغ بچے ورکشاپوں میں استاد کے پانے سے پِٹتے ہیں۔ آپ نے بہت نظمیں پڑھی ہوں گی۔ ذرا حارث خلیق کی نظم کے تیور دیکھیے:
وہ شہرِ بے نہایت سے مفصل کمّیوں کی ایک بستی تھی
جہاں سب چنگڑوں، چوہڑوں، چماروں، نال بندوں
خشت مزدوروں، جنائی دائیوں نے گھر بنائے تھے
مسیحی، بالمیکی اور مسلم ساتھ رہتے تھے
حارث کا مسئلہ ہی اور ہے۔ اس کا غم دوسرے شعرا سے مختلف ہے! یکسر مختلف! اس کے سامنے بہت بڑا کینوس ہے جس پر تاریخ، سماج، مذہبی تفریق، طبقاتی امتیاز اور نظر نہ آنے والی اخوّت اور مساوات کے نشانات ہیں۔ اس کینوس پر سب کچھ ہے سوائے شاعر کی اپنی ذات کے، سوائے شاعر کے اپنے غم کے! اگر وہ ایسی شاعری نہ کرتا تو عبدالستار ایدھی ہوتا۔ اگر عبدالستار ایدھی وہ کام نہ کرتا جو اس نے مرتے دم تک کیا تو بالکل ایسی ہی شاعری کرتا جیسی حارث خلیق نے کی ہے۔ اس کام میں، اس شاعری میں، اپنا وجود گُم کرنا پڑتا ہے۔ وہ جو فیض صاحب کا ابد تاب مصرع ہے، اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا، تو ایدھی اس مصرع کی عملی تفسیر تھے اور حارث اس مصرع کی شاعرانہ تعبیر!
سلاطین کے عنوان سے حارث کے اس مجموعے 'حیراں سرِ بازار‘ میں چھ حصوں پر مشتمل جو طویل نظم ہے، اگر واشگاف لفظوں میں اس کا ذکر کیا جائے تو اُس آمریت کی تاریخ ہے جو ہم نے گزاری ہے‘ مگر بیان کی نازک انگاری، لطافت اور سخن سازی دیکھیے۔ یوں لگتا ہے‘ ماضی کا نہیں حال کا ذکر ہے اس لیے کہ آئین شکنی کیلئے اور مقدس بننے کیلئے اب کے برہنہ آمریت نہیں، ایسی آمریت کے سائے منڈلا رہے ہیں جو جمہوریت کے غلاف میں لپٹی ہوئی ہے
وہ نائبِ ربّ بحر وبر تھا/ وہ زاہدِ خشک و خود نگر تھا/ سپہ گری اور مُلک گیری میں کون تھا جو بلند تر تھا/ خیال و افکار سب اسی کے/ درود و اذکار سب اسی کے/ خود اپنی تقدیس پر اسے تھی یقیں کی خواہش/ شب و سحر آئنے کے آگے وہ باوضو سجدہ ریز رہتا/ اور اس کا کرتا خود اپنی عظمت کے پاس سے عطر بیز رہتا۔
حارث کی ایک نظم ایسی ہے جو روح کو وجود کی گہرائیوں سے کھینچ کر باہر نکال لاتی ہے۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحے پر نظم اور نثر میں بہت کچھ لکھا گیا ہے؛ تاہم گُل شیر کے عنوان سے یہ نظم نوحہ خوانی کا نیا علاقہ دریافت کرتی دکھائی دیتی ہے۔
اسے بہنوں کو سوتے سے جگانے میں مزا آتا/ اسے دادی کی عینک کو چھپانے میں مزا آتا/ اسے امّی کو بس یونہی ستانے میں مزا آتا/ اسے ابو کے پیسے بھی چرانے میں مزا آتا/ مگر اب وہ نہ بہنوں کو جگائے گا/ نہ دادی کی کبھی عینک چھپائے گا/ کہ اب اسکول سے وہ گھر نہ آئے گا۔
حارث کی پنجابی کی نظمیں دیکھ کر حیرت ہوئی۔ اس لیے کہ خیال یہ تھا کہ اس کی جڑیں اُس زمین میں ہیں جو پانی پت کے مشرق میں واقع ہے‘ مگر امریکہ کی طرح برِ صغیر بھی Melting Pot ہے۔ یہاں ماوراالنہر کا چشم و چراغ، مرزا عبدالقادر بیدل پٹنہ میں پیدا ہوتا ہے۔ بولتا بنگالی ہے۔ فارسی شاعری کو آسمان تک لے جاتا ہے اور دفن دہلی میں ہوتا ہے۔ حارث بھی اسی گداز دان (کٹھالی) کا حصہ ہے۔ اس کے اجداد کشمیر سے ہجرت کر کے لکھنؤ آبسے۔ طب میں ان حضرات کا بڑا نام تھا۔ لکھنؤ کا معروف مدرسہ تکمیل الطب انہی نے قائم کیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ حکیم مومن خان مومن کے اجداد بھی کشمیر ہی سے ہجرت کر کے دہلی آبسے اور طبابت ہی ان کا بھی پیشہ تھا! حارث کے والد خلیق ابراہیم خلیق ڈاکو مینٹریز بنانے کے ماہر تھے۔ پاکستان بنا تو ڈیپارٹمنٹ آف فلم اینڈ پبلی کیشنز قائم کرنے میں ان کا بہت بڑا حصہ تھا۔ نہلے پر دہلا یہ ہوا کہ حارث کی والدہ محترمہ بھی معروف ادیبہ ہیں۔ حمرا خلیق کی تصنیف 'مشرق و مغرب کے افسانے‘ میں نے بھی پڑھی ہے۔ کمال کے تراجم ہیں۔ 'کہاں کہاں سے گزر گئے‘ کے عنوان سے ان کی خود نوشت بھی معروف ہے۔ پنجابی کی جاگ حارث کو ننھیال سے لگی جو امرتسر میں تھا۔ بلھے شاہ کا کلام اپنے نانا سے اس نے سبقاً سبقاً پڑھا۔ اس پس منظر کے ساتھ اگر اس نے پنجابی میں سرشار کر دینے والی نظمیں کہی ہیں تو تعجب کیسا! نانی اماں کے عنوان سے نظم دیکھیے:
میں بچیاں نوں ویکھ کے ہسدا /او نئیں ہسدے/ امی مینوں ویکھ کے ہسدی/ میں نئیں ہسدا/ بچے امی کول بیٹھن تے ہسدے رہندے/ میں نانی نوں یاد کراں تے روندا رہندا/ نسلاں دی اے گھمن گھیری سمجھ نئیں آندی/ مینوں نانی اماں دی کوئی خبر نئیں آندی۔
اور یہ شعر ملاحظہ کیجیے:
سارا کچھ اوتھے ہی رکھیا
جتھے ککھ نئیں رکھیا
ستم ظریفی یہ ہے کہ شہرت حارث کی انگریزی کالم نگار کی ہے۔ وہ ایک طویل عرصہ سے انگریزی زبان کے مؤقر ترین معاصر میں باقاعدگی سے لکھ رہا ہے۔ عمر خیام کو ناز اپنی ریاضی دانی اور ستارہ شناسی پر تھا۔ آج دنیا اسے ایک شاعر کے طور پر جانتی ہے۔ رباعی گوئی میں صادقین کی ہمسری شاید ہی اردو شاعری میں کوئی کر سکے مگر کتنوں کو معلوم ہے کہ وہ شاعر تھا؟ یہ فیصلہ کاتبِ تقدیر ہی کرتا ہے کہ کس کو کس حوالے سے پہچان دینی ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

Tuesday, April 26, 2022

دو کشتیوں میں پاؤں نہ رکھو‘ ڈوب جاؤ گے

ایک معروف کالم نگار نے لکھا تھا کہ ایک جلوس امریکہ کے خلاف نکلا ہوا تھا۔ مقررین دھواں دھار تقریریں کرتے اور جلوس میں شامل عوام'' امریکہ مردہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے تھے۔ اچانک سٹیج سے اعلان ہوا کہ جو لوگ گرین کارڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ جلوس سے نکل کر دوسری طرف کھڑے ہو جائیں۔ سب لوگ جلوس سے نکل کر دوسری طرف کھڑے ہو گئے۔
حقیقتِ حال کی غمازی کرنے کے باوجود‘ یہ ایک لطیفہ ہی ہے ! اب اصل واقعہ بھی سن لیجیے۔ جمیل کاظمی میرے کالج کے زمانے کے دوست ہیں۔ میں اپنے قصبے سے میٹرک کا امتحان پاس کر کے راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن کالج میں داخل ہوا۔ جمیل علی گڑھ سے میٹرک کر کے آئے اور اسی کالج میں آن وارد ہوئے۔ کہاں علی گڑھ اور کہاں مغربی پنجاب کا ایک دورافتادہ قصبہ مگر دوستی ہوئی اور ایسی کہ آج اُنسٹھ سال ہو گئے ‘ زمانے کے ہزار پیچ و خم کے باوجود دوستی قائم ہے۔ جمیل اپنے صاحبزادے سے ملنے امریکہ گئے تو کچھ دن کے لیے اپنے ایک عزیز کے ہاں نیو جرسی بھی رہے جو کافی عرصہ سے وہاں مقیم ہیں اور امریکی شہری ہیں۔ یہ عزیز رات دن امریکہ کو کوستے تھے۔ جتنے دن جمیل ان کے ہاں رہے‘ یہ عزیز صبح ہوتے ہی کہانی شروع کر دیتے کہ کس طرح امریکہ نے پاکستانی وزیر اعظم کے خلاف سازش کی اور کس طرح امریکہ ایک شیطان ہے‘ ایک عفریت ہے ایک مُوذی ہے۔ ان کے بقول امریکہ ایک زہریلا اژدہا ہے جو کسی کو بھی ڈس سکتا ہے‘ ان کی رگ رگ سے امریکہ کے خلاف نفرت ابلتی تھی۔ جمیل جو دلیل بھی پیش کرتے اس کا ایک ہی جواب دیتے کہ سازش ہوئی ہے۔ اسی اثنا میں انہیں خبر ملی کہ ان کے ایک قریبی رشتہ دار کی‘ جنہیں یہ اپنے پاس امریکہ بلانا چاہتے تھے‘ گرین کارڈ کی درخواست کو نامنظور کر دیا گیا ہے یا کوئی اعتراض لگا دیا گیا ہے۔ خبر سنتے ہی سارے گھر پر ماتم کی فضا طاری ہو گئی۔ سب کے چہروں پر مردنی چھا گئی۔ ورد وظیفے شروع ہو گئے۔ منتیں مانی گئیں۔ اٹارنی سے مشورے کر کے دوبارہ درخواست داغی گئی۔اب سب کا سانس اٹکا ہوا ہے‘ اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے ‘ کہ دیکھیے نئی درخواست کے ساتھ کیا بنتا ہے!
یہ ہے وہ المیہ‘ وہ Dilemmaوہ دامِ بلا جس میں ہم پاکستانی گرفتار ہیں۔ ہم ہر سازشی تھیوری پر ایمان لے آتے ہیں۔ امریکہ کو پاکستان کے تمام اندرونی اور بیرونی مسائل کا ذمہ دار گردانتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ امریکہ ہجرت کرنے کی تیاری میں لگے رہتے ہیں۔ کبھی امریکی سفارت خانے کے باہر قطار میں کھڑے ہیں۔ کبھی انٹرویو دینے ایمبیسی جا رہے ہیں۔ کبھی لمبے چوڑے فارم بھر رہے ہیں‘ سالہا سال کی محنت اور شدید جانکاہ انتظار کے بعد گوہرِ مقصود ہاتھ آتا ہے اور ہم ‘ ارضِ موعود‘ اپنی Promised Land یعنی امریکہ پہنچتے ہیں۔ پہلے گرین کارڈ ملتا ہے۔ کئی سال کے انتظار کے بعد شہریت ملتی ہے۔ خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ جشن کا سماں ہوتا ہے۔ ایک اجتماعی تقریب منعقد ہوتی ہے جس میں ہم اپنی مذہبی کتاب پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھاتے ہیں کہ:
I hereby declare, on oath, that I absolutely and entirely renounce and abjure all allegiance and fidelity to any foreign prince, potentate, state, or sovereignty, of whom or which I have heretofore been a subject or citizen
امریکی بہت ہشیارہیں۔ اس حلف نامے میں انہوں نے چار الفاظ ڈالے ہیں:Renounce, abjure, allegiance, fidelity۔ آپ کو بازار میں جتنی انگلش اردو ڈکشنریاں ملتی ہیں دیکھ لیجیےRenounceکا مطلب ہے: لا تعلق ہونا‘ دست بردار ہونا‘ چھوڑ دینا یا ترک کر دینا‘ رد کر دینا‘ پھینک دینا‘ نامنظور‘ مسترد کر دینا‘ طلاق دے دینا‘ انکار کرنا۔Abjureکے معنی ہیں : حلفاً دست بردار یا منکِر ہونا‘ قسم کھا کر انکار کرنا‘ حلفاً مسترد کرنا‘با ضابطہ انکار کرنا‘ تائب ہونا‘ ترک کرنا‘ دست کَش ہونا‘ توبہ کرنا۔Allegiance اور fidelity دونوں کا مطلب ہے: وابستگی‘ وفاداری‘ اخلاص‘ تابعداری۔یعنی میں جس ملک سے آیا ہوں یا جہاں کا شہری تھا اُس سے میری جو بھی وابستگی تھی‘ وفاداری تھی‘ تعلق اور اخلاص تھا اس سے مکمل طور پر‘ کْلّی اعتبار سے ‘ دستبردار ہوتا ہوں ‘ اسے رد کرتا ہوں ‘ مسترد کرتا ہوں‘ قسم کھا کر اس سے انکار کرتا ہوں اور باضابطہ دست کَش ہوتا ہوں!
اب ہم امریکی شہری بن گئے۔ ہم نے آسمانی کتاب پر ہاتھ رکھ کر پاکستان سے ہر قسم کی وفاداری اور وابستگی ترک کر دی۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ ہم اپنے نئے ملک کی زمین پر پاؤں جماتے‘ اپنے حلف کی پاسداری کرتے مگر اب ہم پاکستانی سیاست میں دلچسپی لیتے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے امریکہ کی برائیاں کرتے ہیں۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ ہمارے پاؤں کسی زمین پر نہیں جمتے! پاکستان سے دفاداری ترک کرنے کی قسم اُٹھا چکے۔ نئے ملک کے فوائد اٹھاتے ہیں مگر پاؤں اس کی زمین پر نہیں رکھتے۔ کیا یہ قسم جھوٹ موٹ میں اٹھائی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو نفرین ہے ہماری منافقت اور فریب کاری پر۔ اگر سچے دل سے اٹھائی ہے تو پھر کیسا پاکستان اور کون سا پاکستان!
بھائی اب جہاں رہ رہے ہیں ‘ جہاں کے فوائد سمیٹ رہے ہیں‘ وہیں کے بن کر رہیں۔ بہت سے اس کی افواج میں کام کر رہے ہیں۔ بچے‘ بیٹیاں امریکہ کی پولیس میں ہیں‘ خفیہ اداروں میں ہیں۔ یہاں کے معیارِ زندگی سے متمتع ہو رہے ہیں۔ وال مارٹ میں شاپنگ کرتے ہیں۔ سرکاری علاج اور دیگر مراعات حاصل ہیں۔ بڑھاپے میں ریاست دیکھ بھال کرتی ہے۔ امریکی پاسپورٹ پر دنیا بھر میں ویزے کے بغیر جا سکتے ہیں۔ تو پھر دل سے امریکی بنیں۔ کسی کے ساتھ تو نبھائیں۔ جس شہریت کے لیے پاکستان سے وفاداری ختم کرنے کی قسم اٹھائی ‘ اس سے تو وفا کریں۔ اور اگر امریکہ نے سازش کی ہے تو پھر لعنت بھیجیں امریکہ اور اس کی مراعات پر۔ واپس آجائیں۔ مگر ایسا ہم کبھی نہیں کریں گے۔ مزے امریکی زندگی کے اڑانے ہیں اور چسکے پاکستانی سیاست کے لینے ہیں۔ رہتے ورجینیا کے محل میں ہیں اور فکر پاکستان کی ہے!
اس کالم نگار نے بیرونِ ملک مقیم اپنے قریبی عزیزوں سے بھی یہی کہا ہے کہ جہاں گئے ہو وہاں کی زمین پر قدم جماؤ۔ وہاں کی سیاست میں حصہ لو۔ وہاں کے منتخب ایوانوں میں جا کر بیٹھو۔وہاں کی حکومت میں اعلیٰ مناصب پر پہنچو۔ حلف اٹھایا ہے تو اسے نبھاؤ۔ رہا پاکستان تو جو یہاں رہ رہے ہیں‘ یہ ان کا دردِ سر ہے۔ جو یہاں کی ٹریفک میں زندہ ہیں‘ جو یہاں کی لوڈ شیڈنگ میں جی رہے ہیں‘ جو یہاں گیس کنکشن کے لیے برسوں انتظار کرتے ہیں‘ جو یہاں کے تھانوں اور کچہریوں کو جھیل رہے ہیں ‘ وہ یہاں کے مسائل بھی حل کر لیں گے۔ جو پاکستان کی سختیوں سے نجات حاصل کر کے کسی اور ملک میں جا بسے ہیں‘ وہ اُسی ملک کے مسائل کی فکر کریں۔ وہیں کی حکومت کو ٹھیک کریں !
رہی یہ بات کہ ہم ڈالربھیجتے ہیں تو اپنے اعزہ اور اقارب کو بھیجتے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری خزانے کو نہیں بھیجتے۔ جن کے ماں باپ یا بہن بھائی نہیں ہیں‘ کیا وہ پاکستانی بیت المال کو بھیج رہے ہیں؟اب سمندر پار سے گالیوں کی جو بوچھاڑ آئے گی ‘ وہ اس کالم نگار کو پہلے سے معلوم ہے۔ اوریہ بھی معلوم ہے کہ دلیل دینے کے بجائے دشنام طرازی سہل ہے!

Monday, April 25, 2022

اگر عمران خان دوبارہ اقتدار میں آئے


اگر عمران خان کے سر پر اقتدار کا ہما ایک بار پھر بیٹھتا ہے تو جن سوراخوں سے وہ پہلے ڈسے گئے‘ کیا ان سے بچنے کی کوشش کریں گے؟ یہ تو طے ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دوبارہ نہیں بھیجیں گے مگر جن غلطیوں کا ابھی انہوں نے اعتراف نہیں کیا‘ کیا ان سے بھی احتراز کریں گے؟
ان کے حامی جس الزام پر سب سے زیادہ بے بسی کا سامنا کرتے ہیں وہ چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ ان کا اتحاد تھا۔ اپنے مخالفین کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک دوسرے کو چور کہتے تھے‘ مگر وہ خود بھی تو کہتے تھے کہ فلاں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہے۔ پھر اس سے اتحاد کر لیا۔ کیا دوبارہ اقتدار میں آ کر وہ ایسا ہی کریں گے؟ کیا شیخ رشید ہی کو وہ اپنا وزیر داخلہ مقرر کریں گے؟ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا عثمان بزدار ہی کو دوبارہ وزیر اعلیٰ تعینات کریں گے؟ کیا آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ہر چند ہفتوں بعد تبدیل کر دیا جائے گا؟ کیا عثمان بزدار سرکاری بجٹ سے بنی ہوئی کسی عمارت پر دوبارہ اپنے والد صاحب کا نام کَندہ کرائیں گے؟
سابق وزیر اعظم‘ دوبارہ وزیر اعظم بنے تو دفتر سے گھر اور گھر سے دفتر آنے جانے کے لیے کیا سرکاری خرچ پر ہیلی کاپٹر کا استعمال پھر سے شروع کریں گے؟ ان کے لیے حکومت کی طرف سے سرکاری قیام گاہ موجود ہے۔ اگر وہ اس میں رہتے تو قومی خزانہ اٹھانوے کروڑ کے اخراجات سے بچ سکتا تھا! چلیں کراچی تو ایک دور افتادہ مقام ہے۔ اس کے لیے انہوں نے جہاز چارٹر کرایا جس کا کرایہ مبینہ طور پر انتیس لاکھ روپے تھا‘ مگر ان کا گھر تو ان کے دفتر سے زیادہ دور نہ تھا۔ اگر وہ گاڑی میں آتے جاتے تو کیا عجب راستے میں پڑتی آبادیوں کی قسمت بدل جاتی۔
کیا وہ دوبارہ سٹیٹ بینک کو حکومت پاکستان کے بجائے آئی ایم ایف کا دست بستہ چاکر بنا دیں گے؟ کیا دوبارہ آئی ایم ایف کے کسی تنخواہ دار ملازم کو درآمد کر کے سٹیٹ بینک کا گورنر بنائیں گے؟ اور اتنی ہی تنخواہ اور اتنی ہی مراعات پر؟ خان صاحب کی حکومت نے سٹیٹ بینک کے گورنر کے لیے جو تنخواہ اور جو مراعات منظور کی ہیں ان کی تفصیل کالم نگار کے اُس کالم میں پڑھی جا سکتی ہے جو روزنامہ دنیا میں اِسی سال چودہ فروری کو چھپا۔ اگر آپ کے اعصاب نسبتاً کمزور ہیں تو یہ تفصیل پڑھنے سے اجتناب کیجیے۔ عمران خان نے جو مشاہیر اور تجربہ کار افراد اپنی کابینہ میں رکھے تھے‘ کیا انہی کی مدد سے دوبارہ اپنی حکومت کی تشکیل کریں گے؟ کیا عمر ایوب خان‘ اعظم سواتی‘ فہمیدہ مرزا‘ خسرو بختیار‘ فردوس عاشق اعوان‘ ڈاکٹر عشرت حسین‘ زبیدہ جلال‘ حفیظ شیخ‘ اور شوکت ترین کے بغیر ان کی اُس حکومت کی کابینہ مکمل ہو جائے گی جو انہیں قدرت دوسری بار عطا کرے گی؟
عمران خان دوبارہ حکمران بنے تو کیا وہ اتنے ہی منتقم مزاج ہوں گے؟ کیا ان کا تکیہ کلام وہی ہو گا کہ چھوڑوں گا نہیں! بندوق کے نشانے پر رکھوں گا! کیا اپنے مخالفین کو وہ دوبارہ جیل یاترا کرائیں گے؟ کیا صحافیوں‘ اینکروں‘ اور میڈیا ہاؤسز کے مالکوں سے گن گن کر بدلے لیں گے؟ کیا ایف آئی اے کے سربراہ کو طلب کر کے پھر وہی احکام دیں گے کہ فلاں کو پکڑو اور فلاں کے خلاف مقدمہ کھڑا کرو۔ کیا دوسری بار وزیر اعظم بن کر ان کے تکبر کا وہی عالم رہے گا جو پہلی بار بننے کے بعد ان پر غالب رہا؟ کیا وہ اپنے مخالفین سے بات کرنے اور ہاتھ ملانے سے تب بھی انکار کریں گے؟ ان کا موقف یہ تھا کہ ہاتھ ملانے کا مطلب یہ ہو گا کہ ان کی چوری کو قبول کر لیا۔ عمران خان دنیا بھر میں گھومتے پھرتے رہے۔ انہوں نے کئی ہندوئوں‘ کئی یہودیوں اور کئی مسیحیوں سے ہاتھ ملایا ہو گا۔ کیا ان سے ہاتھ ملانے کا مطلب یہ تھا کہ انہوں نے ان کا مذہب قبول کر لیا؟ آخر چودھری پرویز الٰہی سے بھی تو ہاتھ ملاتے رہے۔ رہا معاملہ بات نہ کرنے کا تو ہمارے رسولﷺ اور ان کے اصحاب تو کفار سے بھی بات چیت کرتے رہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عثمانؓ کو تو مکہ بھیجا ہی اس لیے گیا تھا کہ کفار سے بات چیت کریں۔ عمران خان کے عہدِ اقتدار میں جو اپوزیشن کے ارکان تھے‘ وہ جتنے بھی گنہگار ہوں‘ مسلمان تو تھے۔ اگر مکہ کے کفار سے بات ہو سکتی تھی تو اپوزیشن ارکان سے کیوں نہیں ہو سکتی تھی؟ اگر عمران خان دوسری بار حکمران بنے تو کیا دوبارہ وہ اپنے مخالفین کے برے برے نام رکھیں گے؟ اور کیا مفتی تقی عثمانی صاحب اور چودھری شجاعت حسین دوبارہ ان کی توجہ سورۃ الحجرات کی طرف مبذول کرنے کی ناکام کوشش کریں گے؟
سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ دوسری بار تخت نشین ہو کر کیا وہ اپنی تقریروں سے وہ حصے ختم کر دیں گے جنہیں سن سن کر خلقِ خدا عاجز آ گئی تھی۔ یہ کہ انہوں نے ورلڈ کپ جیتا۔ یہ کہ وہ آخری بال تک کھیلیں گے۔ یہ کہ مغرب اور ہندوستان کو جتنا وہ جانتے ہیں اتنا کوئی اور نہیں جانتا۔ یہ کہ فلاں فلاں اور فلاں چور‘ ڈاکو اور لٹیرے ہیں اور یہ کہ انہوں نے بائیس سال جدوجہد کی! اور ہاں دوسری بار سریر آرائے سلطنت ہو کر کیا وہ انہی شعلہ صفت حضرات کو اپنا ترجمان مقرر کریں گے جن کی زبان کی تلواریں ہر چہار طرف مار کرتی تھیں‘ میدان لاشوں سے پٹ جاتے تھے اور کشتوں کے پشتے لگ جاتے تھے۔ کیا دوبارہ حکومت ملنے کی صورت میں سابق وزیر اعظم پھر دوست نوازی کا مظاہرہ کریں گے؟ فنڈز اکٹھا کرنے والے پرانے خدمت گاروں کو کیا ایک بار پھر اعلیٰ مناصب پر فائز کریں گے؟
اور آخری سوال یہ کہ کیا دوبارہ برسرِ اقتدار آ کر عمران خان صاحب امورِ خارجہ کو اسی طرح نمٹائیں گے جس طرح وہ پہلے نمٹاتے آئے ہیں؟ مثلاً یورپی یونین کے بارے میں انہوں نے جو ڈسکشن کی یا جو بحث کی‘ وہ جنوبی پنجاب کے ایک عوامی جلسے میں کی۔ اس جلسے میں حاضرین کی بہت بڑی تعداد کو شاید یہ بھی نہ پتا ہو گا کہ یورپی یونین کیا چیز ہے۔ خارجہ امور کی جو حساس حیثیت ہے‘ اس کے پیش نظر دوسرے ملکوں کے سربراہانِِ حکومت اور صدور وغیرہ لکھی ہوئی تقریر پڑھتے ہیں تاکہ اس میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہ رہے اور بعد ازاں توضیحات کی ضرورت نہ پیش آئے۔ عمران خان صاحب خارجہ امور کی نزاکت کو سامنے رکھے بغیر دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات کو اس طرح ڈسکس کرتے تھے جیسے امورِ خانہ کا ذکر کر رہے ہوں۔ یہ معاملہ تو وزارتِ خارجہ کے ساتھ مل کر‘ ان کی ہدایات کی روشنی میں طے کرنا چاہیے۔ وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو کیا وہ اسی طرح خارجہ امور نمٹائیں گے؟ ہمارے خارجہ تعلقات ان کے دور میں مڈل ایسٹ کے ممالک کے ساتھ بھی اچھے نہیں رہے‘ ترکی کو بھی انہوں نے ایک دفعہ شرمندہ کیا‘ مہاتیر محمد کے ساتھ بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔ یہ بھی ایک بہت بڑا سوال ہے۔
چونکہ تادم تحریر خان صاحب نے ان اقدامات کو غلطیوں میں شمار نہیں کیا‘ اس لیے منطق کہتی ہے کہ یہ سب کام دوبارہ ہوں گے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا 

Thursday, April 21, 2022

ایک بزرگ کے حضور

کمرہ کیا تھا، کٹیا تھی۔
دیواریں مٹی کی تھیں۔ فرش سیمنٹ کا جیسے ہمارے بچپن میں اکثر گھروں کا ہوتا تھا۔ فرش پر چٹائیاں بچھی تھیں۔ ایک طرف پانی کا پرانا سا کولر رکھا تھا جس پر مٹی کا ایک پیالہ اوندھا پڑا تھا۔ چٹائیوں کے ایک طرف دری بچھی تھی۔ اس کے ساتھ ایک عمر رسیدہ گاؤ تکیہ رکھا تھا ۔ یہیں وہ بزرگ تشریف فرما تھے جن کی زیارت کے لیے ایک دوست زبردستی لایا تھا۔ اس دوست کا ہمیشہ سے گلہ تھا کہ تم لوگ بزرگوں کو نہیں مانتے۔ میں ہر بار وضاحت کرتا کہ ایک تو میں وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو! نہ ہی کسی فرقے سے تعلق ہے۔ دوسرا بزرگوں کی بزرگی سے انکار کون کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ بزرگ ہوں، مستقبل کی پیشگوئیاں کرنے والے نہ ہوں۔ بد قسمتی سے آج کل بزرگی اور روحانیت کا مطلب لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مستقبل کا حال بتایا جائے گا۔ میں اپنے مستقبل کا حال معلوم کرنا ہی نہیں چاہتا۔ اگر مستقبل کا حال جاننا میرے لیے مفید ہوتا تو قدرت دوسرے علوم کی طرح یہ علم بھی عطا کرتی۔ دوست نے بتایا کہ یہ بزرگ مستقبل کی پیشگوئیاں بالکل نہیں کرتے نہ انہیں دعویٰ ہے۔ وہ تو علم و حکمت بانٹتے ہیں اور دانش کے موتی بکھیرتے ہیں۔ لوگ سوال کرتے ہیں۔ وہ جواب دیتے ہیں۔
عبا تھی نہ عمامہ! عام لباس پہنے تھے۔ چہرے پر مسکراہٹ تھی اور نرمی! آنکھیں روشن تھیں۔ ماتھا کُھلا تھا۔ سر کے بال سفید تھے نہ سیاہ، کھچڑی تھے۔ گویا سرد و گرمِ زمانہ چشیدہ تھے۔ ہم ایک طرف چٹائی پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے۔ ایک صاحب استفسار کر رہے تھے کہ اولاد کے کیا حقوق ہیں۔ وہ جواب دے رہے تھے، یوں گویا لفظ نہیں زبان سے ستارے نکل رہے ہوں۔ نپے تلے الفاظ! چہرے پر مسلسل مسکراہٹ! سبحان اللہ! کیا نکتہ آفرینی تھی۔ کیا اندازِ تکلم تھا! سمجھانے کا کیا اسلوب تھا! جو ہم سے پہلے بیٹھے تھے، ان سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ خیریت پوچھی۔ پوچھا: کھانا کھایا ہے؟ عرض کیا کہ کھا کر آئے ہیں۔ ایک خادم کو انہوں نے چائے لانے کا اشارہ کیا۔ میں ادب سے گویا ہوا کہ حضور! ہمارا جو قدیم، کلاسیکی ادب ہے، فارسی اور عربی کا، اس میں خاندانی لوگوں کی کچھ علامات بتائی گئی تھیں۔ یہ ادب اگر نایاب نہیں تو اب کمیاب ضرور ہے۔ ہماری دسترس میں تو بالکل نہیں! معاشرے کی قدریں الٹ پلٹ ہو گئی ہیں۔ معززین کونوں کھدروں میں روپوش، عزت بچاتے پھرتے ہیں۔ شُہدے، لُچے، فرنگی صوفوں پر براجمان، خلقِ خدا سے کورنش وصول کر رہے ہیں۔ سب کچھ خلط ملط ہو گیا۔ یہ بتائیے کہ خاندانی انسان کی کیا پہچان ہے! وہ سن کر مسکرائے۔ چائے آ چکی تھی۔ ہمارے احتجاج کے باوجود خود چینک سے ہماری پیالیوں میں انڈیلی! پھر گویا ہوئے:
پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ خاندانی نجابت سے مراد موروثی اقتدار یا امارت یا جاگیرداری نہیں۔ ایک سفید پوش بھی خاندانی ہو سکتا ہے اور ایک امیر زادہ بھی! خاندانی انسان کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے برابر کے لوگوں اور رُتبے میں اپنے سے کمتر لوگوں کے دُکھ میں ضرور شامل ہوتا ہے۔ اپنے سے اونچے سٹیٹس کے لوگوں کے غم اور خوشی میں تو ہر کوئی شامل ہوتا ہے جس کی وجہ ذاتی مفادات بھی ہو سکتے ہیں۔ بڑے مرتبے پر فائز ہو کر، اپنے سے کم حیثیت والوں کے غم میں شامل ہونا اصل نجابت اور اصل شرافت ہے۔ جو خاندانی امرا ہوتے ہیں وہ اپنے کارندوں کے گھر جا کر پُرسہ دیتے ہیں بلکہ غریب کسان کی بھینس بھی مر جائے تو جا کر چٹائی پر بیٹھتے ہیں۔ بادشاہوں کے زمانے میں ہر بادشاہ اپنے جانشین کو اس امر کی نصیحت کر کے جاتا تھا۔ یہ بادشاہ اپنے غلاموں، خادموں، پیشکاروں اور چوبداروں کی ہر موقع پر دلجوئی کرتے تھے۔ کسی کی وفات پر، تعزیت میں شامل نہ ہونا اور جنازے سے احتراز کرنا، خاندانی لوگوں کی نہیں، کم ہمت اور کم ظرف لوگوں کا وتیرہ ہے اور احساس کمتری کی واضح دلیل ہے۔
دوسری نشانی مہمان نوازی ہے۔ جو شخص خاندانی ہو گا وہ اپنے مہمان کی، خواہ مہمان اس سے مرتبے میں کم ہو، ضرور خاطر مدارات کرے گا۔ ایسے لوگ، گھر میں کچھ نہ ہوتو گھر کا سامان بیچ کر مہمان کو کھانا کھلاتے ہیں۔ قیمتی سے قیمتی جانور ذبح کر دیتے ہیں۔ اپنے بچوں کو بھوکا بھی رکھنا پڑے تو دریغ نہیں کرتے۔ عربوں، پختونوں، ازبکوں اور کئی دوسری قوموں کے نزدیک مہمان نوازی زندگی اور موت کا، اور غیرت اور بے غیرتی کا سوال ہے! جو شخص مہمان کی موجودگی میں خود کھائے اور مہمان کو نہ کھلائے وہ جو کچھ بھی ہونے کا دعویٰ کرے، خاندانی نہیں ہو سکتا۔ اس سے زیادہ پست ہمتی اور دنایت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا!
تیسری نشانی خاندانی انسان کی یہ ہے کہ وہ دست سوال نہیں دراز کرتا۔ گھر میں فاقہ ہو تب بھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے گا۔ خاص طور پر مانگے تانگے کی شان و شوکت اور طمطراق کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اپنی سواری نہ ہو تو پیدل چل لے گا، کسی سے سواری مانگے گا نہیں اس لیے کہ اسے معلوم ہے سواری کا مالک کسی بھی وقت اپنی سواری واپس مانگ لے گا۔ ایسے میں جو بے عزتی ہو گی اس بے عزتی کو خاندانی انسان کبھی نہیں برداشت کرے گا۔ اگر وہ عالی شان سواری کا شائق ہے تو خود خرید کر رکھے گا۔ ورنہ دست سوال دراز کرنے سے بہتر یہ سمجھے گا کہ جو سواری اس کی اپنی ہے، جیسی بھی ہے، اسی پر قناعت کرے!
چوتھی نشانی یہ ہے کہ خاندانی انسان کی شہرت، کبھی بھی، ایک جھوٹے انسان کی نہیں ہو سکتی! جھوٹ بولنا انسانی فطرت کا خاصہ ہے مگر کچھ لوگ اس قدر تواتر اور مستقل مزاجی سے جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کی عمومی شہرت ایک دروغ گو کی ہو جاتی ہے۔ خاندانی آدمی ایسی شہرت رکھتا ہے نہ اس کا متحمل ہوسکتا ہے۔ وہ جان تو دے سکتا ہے، اپنی زبان سے نہیں پھر سکتا۔ خاندانی آدمی ایک بار وعدہ کر لے، یقین دہانی کرا دے، کمٹ منٹ کر لے تو پھر پوری دنیا اس پر اعتبار کرتی ہے۔ پھر اگر کوئی عدم اعتماد کی بات بھی کرے تو اس کی بات کوئی نہیں مانتا۔
پانچویں نشانی یہ ہے کہ خاندانی آدمی اپنے دوستوں سے فریب کاری کبھی نہیں کرتا۔ وہ ہر مصیبت میں ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے چہ جائیکہ ان کی پیٹھ میں چھرا بھونکے۔ جس کے دوست اس کا ساتھ چھوڑ دیں اور بہت زیادہ تعداد میں ساتھ چھوڑتے جائیں وہ نجیب نہیں ہو سکتا۔ یہ ہزاروں سال کا آزمودہ فارمولا ہے کہ اگر خلق خدا کہہ دے کہ فلاں کا دنیا میں کوئی دوست نہیں تو سمجھ لو کہ وہ خاندانی آدمی نہیں۔
اور آخری نشانی یہ ہے کہ خاندانی آدمی احسان فراموش نہیں ہو سکتا۔ وہ ایک کم حیثیت انسان کا بھی احسان ہمیشہ یاد رکھتا ہے بے شک وہ احسان معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ جو شخص اپنے محسنوں کو بھول جائے وہ طوطا چشم تو ہو سکتا ہے، حیلہ کار اور بے وفا تو ہو سکتا ہے، عالی نژاد نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے تو فرمایا گیا ہے -ہَلْ جَزَآئُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ‘ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہے۔
بزرگ موتی رول رہے تھے۔ کمرہ لوگوں سے بھر چکا تھا۔ سب ہمہ تن گوش تھے۔ ہم نے اجازت چاہی اور باہر آگئے۔ ایک نور تھا جو باطن میں موجزن تھا۔
بشکریہ روزنامہ دنیا 

Tuesday, April 19, 2022

کچھ’’ سائبان تحریک ‘‘ کے بارے میں

آپ نے جنات کے بارے میں کئی ناقابلِ یقین واقعات سنے ہوں گے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی انسان‘ انسانی شکل ہی میں‘ جن کی طرح کام کرتا ہے! ناقابلِ یقین کام ! حسین مجروح ایک ایسا ہی انسان ہے۔ دیکھنے میں ہمارے جیسا! مگر جب کام کرتا ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ انسان ہے یا جن! اکبر الہ آبادی نے سرسید احمد خان کے بارے میں کہا تھا ؎
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سیّد کام کرتا ہے
نہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں
ہم بھی باتیں کرتے رہے۔حسین مجروح نے ہمیشہ کچھ کر کے دکھا یا۔ ادبی دنیا پر اس کے بہت سے احسانات ہیں۔ یہ الگ بات کہ اس نے یہ احسانات کبھی جتائے نہ ان کے بدلے میں کچھ چاہا۔ پیشے کے لحاظ سے بینکار اور بینکار بھی اعلیٰ مناصب والا۔ادب پر گفتگو کرنے پر آئے تو سننے والوں کو پتا چلتا ہے کہ اس کے پاس صرف فنِ گفتگونہیں‘ علم بھی ہے۔ نثر کمال کی لکھتا ہے اور شاعری ؟ شاعری تو اس کا اصل میدان ہے۔ کیسے کیسے اشعار کہے ہیں مجروح نے ؎
وہ ماشکی ہوں کہ میلے سے ایک شب پہلے
کتر دیا ہو گلہری نے جس کا مشکیزہ
وہ قحطِ مخلصی ہے کہ یاروں کی بزم سے
غیبت نکال دیں تو فقط خامشی بچے
میں سینت سینت کے رکھتا ہوں اپنی گمنامی
کہ کھو گئی تو دوبارہ نہیں ملے گی مجھے
کس طرح گھر کو پلٹ جائیں سرِ شام حضور
عشق میں دفتری اوقات نہیں ہوتے ہیں
حلقہ اربابِ ذوق لاہور سے مجروح کی وابستگی پرانی ہے۔ دو بار اس کا معتمد رہا۔ دونوں بار حلقے کی سرگرمیوں کو عروج پر لے گیا۔جب حلقہ دو لخت ہوا اور کھینچا تانی انتہا کو پہنچ گئی تو مجروح نے حکمت عملی اور محنت شاقہ سے دونوں متحارب گروہوں کو پھر سے یکجا کر دیا۔ ماضی قریب میں تاریخی ادبی مجلے ''ادبِ لطیف‘‘ کا مدیراعلیٰ بنا۔ جو چند پرچے نکالے‘ کمال معیار کے تھے، مگر ہم جو اس کے دوست تھے‘ جانتے تھے کہ یہ کمپنی زیادہ دیر نہیں چلنے کی۔ معیار پر سمجھوتا اس نے نہیں کرنا تھا؛ چنانچہ یہی ہوا۔ کچھ عرصہ بعد وہ علیحدہ ہو گیا۔
گزشتہ سال کے اوائل کی بات ہے۔مجروح لاہور سے اسلام آباد تشریف لایا اور ایک بہت ہی شاندار اورAmbitious ادبی منصوبے کے خدوخال بیان کیے۔عمر ِعزیز مختلف احباب اور عزیزوں سے اس قسم کے بلند بانگ منصوبوں کا ذکر سنتے اور پھر انہیں بِن کھِلے مرجھاتے دیکھتے گزری ہے اس لیے سن کر فقط سکوت اختیار کیا کہ یہ منصوبہ بھی محض منصوبہ بندی ہی کی حد تک زندہ رہے گا۔ کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ حضرتِ مجروح کراچی پہنچے ہوئے ہیں اور ادیبوں اور شاعروں کو اپنے منصوبے سے آگاہ کر رہے ہیں۔پھر پے در پے ایسی خبریں ملیں جن سے واضح ہو گیا کہ مجروح دھن کا پکا ہے۔ جو چاہتا ہے کر کے دکھاتا ہے۔ کئی سنگ ہائے میل اس قلیل مدت میں اس نے پار بھی کر دکھائے !
مجروح کے اس ادبی منصوبے کا نام ''سائبان تحریک‘‘ ہے۔ یہ تحریک ادیبوں اور ادبی جرائد و کتب کے مسائل اور مشکلات کی داد رسی کرے گی۔ اس کے بنیادی اوصاف مندرجہ ذیل ہیں۔
٭ کتاب اور جریدہ کلچر کے فروغ کے لیے مفت خوری کی حوصلہ شکنی اور خرید کر پڑھنے کی عادت کو راسخ کرنا۔
٭ادبی کتابوں کی اشاعت و فروخت کیلئے ایک مربوط نظام کی تشکیل۔
٭ادیبوں اور جریدوں کے استحصال کی مختلف صورتوں کی بیخ کَنی۔ اس ضمن میں عملی اقدامات کرنے کا عزم۔
٭ادبی جریدوں کو قاری تک پہنچانے کے لیے عملی تعاون۔
٭جو ناانصافیاں ادیبوں کے ساتھ ہو رہی ہیں ان کے تدارک کے لیے راست اقدام۔ ان کی جائز شکایات کا ازالہ۔
٭ ادبی معاملات پر بامعنی مکالمے کا اجرا
٭نوجوان ادیبوں کی رہنمائی‘ تربیت اور حوصلہ افزائی کے حوالے سے مساعی۔
٭خواتین ادیبوں کے مسائل کا تدارک۔ ان کی مشکلات کا حل۔ان کے احترام کیلئے فضا استوار کرنے کا اہتمام۔
٭ادبی تنظیموں اور ان تنظیموں کے کارکنان کی مدد اور حوصلہ افزائی۔
ظاہر ہے کہ تمام کتب اور جرائد کی خریداری کسی بھی تنظیم کے لیے آسان ہے نہ ممکن۔ سائبان تحریک اس حوالے سے سینئر ادیبوں کی ایک کمیٹی تشکیل دے گی جو منتخَب مطبوعات کی منظوری دے گی اور مختص کردہ بجٹ کے مطابق کتاب مقررہ تعداد میں خریدی جائے گی۔ نکاسی کیلئے ایک مارکیٹنگ پلان وضع کیا جارہا ہے جس کے مطابق ادیبوں کو رائلٹی دینے کے علاوہ قاری کیلئے بھی رعایت کا بندوبست کیا جائے گا تا کہ خرید کر پڑھنے کی حوصلہ افزائی ہو۔ ناشر حضرات کو قائل کیا جائے گا کہ کتابوں کے سستے ایڈیشن بھی شائع کریں۔ احباب پر زور دیا جائے گا کہ کتاب تحفے میں قبول کرنے کے بجائے خرید کر پڑھنے کی عادت ڈالیں۔اگر مصنف‘ محبت کی وجہ سے کتاب تحفے کے طور پر پیش کرتا بھی ہے تو کم از کم اس کی آدھی قیمت اصرار کر کے ضرور پیش کی جائے۔ حکام سے عرض گزاری ہو گی کہ کتاب دوست پالیسیاں اپنائیں۔ٹیکسوں اور ڈاک ٹکٹ کے سلسلے میں رعایت کا تقاضا کیا جائے گا۔ پبلک اور کارپوریٹ سیکٹر سے کہا جائے گا کہ اشتہارات کا ایک حصہ ادبی مطبوعات کیلئے وقف کیا جائے۔ تحریک کا باقاعدہ آئین اور ضوابط ہوں گے جو تحریری شکل میں موجود ہیں۔ تحریک کو فاؤنڈیشن کے طور پر رجسٹر کرایا جا رہا ہے۔ اس کا صدر دفتر اور ذیلی دفاتر ہوں گے۔ مختلف امور کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔ تجربہ کار‘ متحرک اور ہم خیال ادیبوں پر مشتمل انتظامی کونسل بنائی جارہی ہے۔
کسی بھی تحریک کیلئے آکسیجن کا کام اس کا شعبہ مالیات ہو تا ہے۔ اس سلسلے میں پہل خود مجروح نے کی ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود اس نے اپنی گرہ سے تین لاکھ سے زیادہ کی رقم تحریک کو دی ہے۔ اس کے علاوہ‘ تحریک کو متعارف کرانے کے لیے تمام بڑے شہروں کا سفر اس نے اپنے خرچ پر کیا ہے۔ تعارفی لٹریچر بھی اس نے خود چھپوایا ہے۔ جو دوست اس ضمن میں اپنے وسائل تحریک کے ساتھ شیئر کریں گے انہیں باقاعدہ رسید دی جائے گی۔ فاؤنڈیشن کی سالانہ آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات‘ فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ پر ہر خاص و عام کیلئے مہیا ہوں گی۔
اس قلیل مدت میں سائبان تحریک تین ادبی کتابیں شائع بھی کر چکی ہے جن میں معروف مزاحیہ شاعر اطہر شاہ خان جیدی مرحوم کا کلام بھی شامل ہے۔ سائبان ہی کے عنوان سے ادبی جریدہ بھی نکالا جا رہاہے جس کا پہلا شمارہ منظر عام پر آنے والا ہے۔ کام کٹھن ہے مگر حسین مجروح محض گفتار کا نہیں‘ عمل کا آدمی بھی ہے۔یقینا یہ تحریک کامیاب ہو گی!
یہ جو ہم رونا روتے ہیں کہ کتابیں مہنگی ہو گئی ہیں اور استطاعت سے باہر ہیں‘ سراسر غلط ہے۔ اگر کتاب مہنگی ہے تو سستی یہاں کون سی شے ہے ؟ لباس سے لے کر خوراک تک ہر طرف گرانی کا بھوت ناچ رہا ہے۔ سکولوں کی فیسیں‘ پٹرول‘ مکانوں کے کرائے‘ موبائل ٹیلیفونوں کے کارڈ‘ سواری‘ ہر شے مہنگی ہے۔ مگر ہم یہ سب کچھ خرید رہے ہیں۔ اس لیے کہ یہ اشیا و خدمات ترجیحات کی فہرست میں اوپر ہیں۔ کتاب بیچاری تو اس فہرست میں موجود ہی نہیں اور اگر موجود ہے بھی تو آخر میں ! جس دن یہ معاشرہ کتاب کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے گا اس کی مہنگائی‘ دوسری اشیا کی طرح‘ قابلِ برداشت ہو جائے گی

بشکریہ روزنامہ دنیا 

Monday, April 18, 2022

نصف آبادی کب تک اپاہج رہے گی ؟

چھ دن پہلے جو واقعہ وفاقی دارالحکومت کے ایک تھانے میں پیش آیا وہ بظاہر بہت معمولی ہے۔ یہ کوئی بریکنگ نیوز تھی نہ پرنٹ میڈیا کی سرخی۔ دو تین اخباروں نے چھوٹی سی خبر شائع کی لیکن اس کے باوجود اس واقعہ میں ہمارے لیے سبق ہے اور نشانیاں۔ اس کے ساتھ ہی ماضی کے دو واقعات یاد آرہے ہیں۔ ایک کا کالم نگار خود شاہد ہے۔دوسرا سنا ہے اور راوی ثقہ ہیں۔
اب صحیح یاد نہیں یہ سفر غرناطہ سے بارسلونا تک کا تھا یا بارسلونا سے روم تک کا۔ ٹرین کے ڈبے میں آمنے سامنے دو لمبی سیٹیں تھیں۔ ایک پر کالم نگار بیٹھا تھا۔ سامنے والی سیٹ پر تین لڑکے اور ایک لڑکی براجمان تھی۔ عمر اور وضع قطع سے یہ کسی کالج یا یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ لگ رہے تھے۔ گاڑی چلی۔ یہ آپس میں ہنسی مذاق، ٹھٹھا مخول کر رہے تھے۔ ایک لڑکا لڑکی کے ایک طرف بیٹھا ہوا تھا اور دو دوسری طرف۔ لڑکی کے پاس چاکلیٹ تھی یا کھانے کی کوئی اسی قبیل کی شے۔ اس نے نکالی اور کھانا شروع کردی۔ ایک لڑکے نے کہا کہ مجھے بھی دو۔ لڑکی نے انکار کر دیا۔ اب یہ لڑکی کی چھیڑ بن گئی اور لڑکوں کی ضد۔ لڑکوں نے اس سے چاکلیٹ چھیننا چاہی مگر اس نے نہ چھیننے دی۔ وہ کھاتی بھی رہی اور ایک ہاتھ سے ایک لڑکے کو اور دوسرے ہاتھ سے دوسرے دو لڑکوں کو روکے بھی رکھا۔ یہاں تک کہ اس نے چاکلیٹ ختم کر لی! آپ کا کیا خیال ہے کیا ہماری، یعنی ایک عام پاکستانی لڑکی، تین لڑکوں کا مقابلہ کر سکے گی ؟ دوسرا واقعہ ایک سرکاری دفتر کا ہے۔ایک بڑا افسر تھا۔ ایک خاتون افسر اس کی ماتحت تھی۔ یہ خاتون بہت کم آمیز اور کم گو تھی۔ کسی مرد کے ساتھ چائے پیتی نہ ضرورت کے بغیر بات کرتی۔ بڑا افسر اس دفتر میں نیا نیا وارد ہوا تھا اور وہ جو میر کا مشہور شعر ہے کہ
دل سے شوقِ رُخِ نکو نہ گیا
تاکنا جھانکنا کبھو نہ گیا
تو رُخِ نکو کا اسے بہت شوق تھا۔ خاتون افسر فائل لیے اس کے کمرے میں آئی۔ ضروری بات کی اور اٹھنے لگی تو صاحب نے کہا کہ بیٹھیں! چائے پیتے ہیں۔ خاتون نے شکریہ ادا کر کے معذرت کی۔ صاحب نے اصرار کیا۔ خاتون نے بتایا کہ خواتین کا چائے کا الگ بندو بست ہے اور یہ کہ وہ چائے وہیں پیتی ہے۔ خاتون اُٹھ کھڑی ہوئی۔ صاحب بٹھانے، گپ مارنے اور چائے پلانے پر تُلا ہوا تھا۔ اس نے بازو سے پکڑ کر بٹھانے کی کوشش کی۔ عینی شاہدبتاتا ہے کہ اس کے بعد نہ جانے کیا ہوا۔ جو کچھ بھی ہوا ، برق رفتاری سے ہوا اور صاحب فرش پر چت پڑا ہوا تھا۔ اس لیے کہ خاتون مارشل آرٹ کی ماہر تھی۔اس نے یونیورسٹی سے کراٹے کی بلیک بیلٹ حاصل کی ہوئی تھی۔
چھ دن پہلے ایک ہوٹل کی انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی کہ ان کے پاس ایک غیر ملکی خاتون قیام پذیر ہے جس کے ویزے کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ پولیس اسے پکڑ کر اُس تھانے میں لے آئی جو خواتین کے لیے مخصوص تھا۔ عورت روسی تھی اور مارشل آرٹ کی ماہر۔ روزنامہ دنیا کی رپورٹ کے مطابق اس نے خاتون اے ایس آئی کی درگت بنا دی اور دوسرے اہلکاروں کو بھی مار مار کر ان کا برا حال کر دیا۔ جو کچھ بھی اس غیر ملکی خاتون نے کیا غلط تھا اور غیر قانونی‘ مگر نکتہ یہاں سمجھنے کا یہ ہے کہ ہماری تو پولیس کی اے ایس آئی بھی اس سے پِٹ گئی تو ایک عام لڑکی کسی مرد غنڈے کا کیا مقابلہ کرے گی ؟
ہماری لڑکیاں ، ہماری عورتیں، سخت غیر محفوظ ہیں۔ مرد انہیں چھیڑتے ہیں۔ آوازے کستے ہیں۔ سکول کالج سے نکلتی ہیں تو ان کا تعاقب کرتے ہیں۔ راہ چلتی لڑکیوں کو روک کر انہیں موٹر سائیکل پر بیٹھنے کی پیشکش کی جاتی ہے تو کبھی کار میں سوار ہونے کے لیے کہا جاتا ہے۔ شہروں کی خوشحال آبادیوں کے سوا پورے ملک میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر پرانی وضع کے محلوں ، قصبوں اور شہروں کے قدیم، گنجان آباد حصوں میں۔ جو لڑکیاں بِن باپ کے ہیں یا جن کے سروں پر بھائی کا یا کسی مرد کا سایہ نہیں ، انہیں اکثرو بیشتر ہراساں کیا جاتا ہے۔اس مکروہ سرگرمی کے لیے باقاعدہ پلاننگ کی جاتی ہے۔ ایسی لڑکیوں کی مائیں بھی بے بس ہوتی ہیں اور صبر کرنے اور صبر کی تلقین کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتیں! ایک تو بے بسی اور بے کسی،اوپر سے بدنامی کا خوف! اس بدنامی کے خوف سے قانون کی مدد لینے سے ہچکچاتی ہیں! ہراساں کی جانے والی خواتین میں سے بہت کم ، انتہائی کم، خواتین پولیس میں رپورٹ درج کراتی ہیں۔
اس صورت حال کا سبب کیا ہے اور علاج کیا ہے ؟ المیہ یہ ہے کہ ہم نے لڑکیوں کو چھوئی موئی بنا کر رکھ دیا۔ ہم نے عورت کے لیے ''صنف نازک‘‘ کی اصطلاح وضع کی اور پھر اس عورت کو بے دست و پا کر دیا۔ بازار جائے تو بھائی ساتھ ہو۔ کالج جائے تو باپ چھوڑنے جائے۔ کوئی بد معاش آوازہ کسے یا تعاقب کرے تو واحد دفاع یہ ہے کہ وہ سر جھکا لے، چلنے کی رفتار تیز کر دے، گھر میں داخل ہو کر دروازہ بند کرے، پھر بند دروازے سے پیٹھ لگا کر، دل پر ہاتھ رکھ کر، ایک لمبا سانس لے ! اور اس کے بعد جب بھی باہر نکلنا ہو، خوف سے کانپنے لگ جائے ! ڈراموں میں بھی یہی دکھایا جا رہا ہے کہ بد قماش مرد بند کمرے میں عورت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ عورت خوف زدہ ہو کر، اپنے آپ کو پچھلی دیوار کی طرف گھسیٹتی ہے۔اس پر حملہ نہیں کرتی۔ پردہ، شرم و حیا، چادر، چار دیواری، حجاب، عفت و شرافت، سب بجا! سب لازم ! مگر ان میں سے کوئی چیز بھی لڑکی کو اپنا دفاع کرنے سے منع نہیں کرتی! قرنِ اول میں خواتین گھڑ سواری کرتی تھیں۔ تیر اندازی اور شمشیر زنی سیکھتی تھیں۔ضرورت پڑتی تو خیمے کی میخ سے دشمن مرد کو قتل بھی کر دیتیں۔عورت کو نزاکت اور خود ترحّمی کے اُس حصار سے نکالنا ہو گاجسے اس کے گرد قائم کر دیا گیا ہے۔ اسے اپنا دفاع کرنا سیکھنا ہو گا۔ ہر خاتون کو اس خاتون کی طرح ہونا چاہیے جس نے بزور بٹھانے والے کو چاروں شانے چت کر دیا تھا۔ کوئی اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو جائے تو لڑکی کو اس کے دانت توڑ دینے چاہئیں۔ سبزی بیچنے والا بد معاشی کرے تو ایک کِک اس کے پیٹ میں پڑنی چاہیے۔ کوئی اوباش موٹر سائیکل روک کر بیٹھنے کے لیے کہے تو اسے موٹر سائیکل سمیت زمین پر گرا دینا چاہیے۔ یہاں قانون بے لاگ نہیں۔ یہاں پولیس قابل اعتبار نہیں۔ یہاں معاشرہ تماشا دیکھنے کا عادی ہے، آگے بڑھ کر ظالم کا ہاتھ نہیں روکتا۔ عورت کب تک آسرے ڈھونڈے گی؟ کب تک ذلیل ہو گی ؟ جن کے گھروں میں مرد نہیں وہ کب تک تکیوں میں سر دے کر آنسو بہائیں گی ؟
ہر سکول ، ہر کالج، ہر یونیورسٹی میں لڑکیوں کے لیے جوڈو کراٹے کی تربیت کا انتظام کرنا ہو گا۔ اسے سیلف ڈیفنس سکھانا ہو گا۔ حکومت کو چاہیے کہ اس تربیت کو لازم کرے۔ ماں باپ عقل سے کام لیں اور اس تربیت کی مخالفت کرنے کے بجائے اس کا باقاعدہ مطالبہ کریں۔ سرکاری اداروں میں یہ بند و بست سرکار کرے اور نجی شعبے میں صرف اُس تعلیمی ادارے کو کام کرنے کی اجازت دی جائے جو اس تربیت کا کما حقہ انتظام کرے
بشکریہ روزنامہ دنیا 
 

powered by worldwanders.com